اجتماعی تبدیلی اور تحریک اسلامی کا کردار

پروفیسرڈاکٹر انیس احمد

قرآن کریم اپنے بارے میں جونام استعمال کرتا ہے ان میں الکتاب کے ساتھ ، الہدیٰ، ذکریٰ ، الفرقان ،البرہان، البیان، سب ہی اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جو حق و باطل کے فرق کو بین اور واضح کر دیتی ہے ۔الفرقان ظن ، گمان اوروہم سے مکمل طور پر نجات دلاکر دل و دماغ کو ایمان اوریقین سے منور کر کے عین الیقین کی کیفیت پیدا کرتا ہے، تاکہ کلام عزیز کا ہر طالب علم اس عظیم ہدایت پر مکمل اعتماد کے ساتھ ذہن کو شک و شبہہ سے پاک کرکے عمل پیرا ہو سکے۔ قرآن کریم اہل ایمان کو بار بار متوجہ کرتا ہے:
<ب>يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ</ب> ۰ۭ (النساء۴:۱۳۶)اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولؐ پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسولؐ پر نازل کی ہے، اور ہر اُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔
یعنی ایک مرتبہ شہادت حق دے کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جانا کافی نہیں، بلکہ خود ان کو بھی جو خود کو صاحب ِایمان کہتے ہیں بار بارایمان کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
ایمان کا براہِ راست تعلق اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی بندگی اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی سے ہے۔ اس لیے ہر لمحہ ایمان کو تازہ کرنے کے لیے قرآن و سنت کے بتائے ہوئے نسخے پر عمل ہی ہمیں صراط مستقیم اور ہدایت پر قائم رکھ سکتا ہے۔ ایک مرتبہ زبانی شہادت دینا کافی نہیں، بلکہ ہرلمحے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارا عمل کس بات کی شہادت دےرہا ہے اور ہماری ترجیحات میں اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ؐکی ترتیب کیا ہے؟ ہمارے گھریلو معاملات ہوں، تلاش معاش ہو یا اقامت دین کے لیے سیاسی سرگرمی میں شرکت ہو، ان سب معاملات میں کہاں تک ان کا حوالہ صرف اور صرف اللہ کی رضا، آخرت کی کامیابی اور کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کی اطاعت اور وفاداری ہے۔
مسلمان اور مومن کے ایمان کو جانچنے کے لیے قرآن نے چار عملی صورتوں کا ذکر کیا ہے: اس کے ایمان کی شہادت اورایمان کے وجود کا ثبوت، اس کی صلوٰ ۃ ،قربانی اور مراسمِ عبودیت، نیز اس کی زندگی اور موت___ ان سب کا مقصد اگرصرف اللہ کی رضا کا حصول ہے تو ایمان محفوظ ہے۔ ایمان کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنی نماز ، اپنی قربانی ، اپنی زندگی اور اپنی موت کو صرف اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے لیے خالص کر دے:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ(الانعام ۶:۱۶۲) کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربُّ العالمین کے لیے ہے۔
حق وباطل کو واضح کر دینے کے ساتھ قرآن کریم اہل ایمان اور کفار و مشرکین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو بھی وضاحت سے سمجھاتا ہے۔ شرک سے مکمل اجتناب کے ساتھ مشرکین کی کفر میں شدت کی بنا پر ان سے مایوس ہوکر انھیں ان کے حال پر نہ چھوڑا جائے، بلکہ مستقل طور پر دین کی دعوت حکمت کے ساتھ دے کر انھیں عذاب سے بچانے اوراللہ کی رحمت کے سایے میں لانے کی کوشش کی جائے۔ یہ مسلسل دعوتی عمل زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر ہر حالت میں کیا جائے گا۔ دعوتِ دین دینے اور اگر حصول مقصد میں حضرت نوح علیہ السلام کی طرح نو سو سال مسلسل جدوجہد کے باوجود بھی منزل کا حصول نہ ہو سکا ہو ،جب بھی داعی کی اصل کامیابی اس کا خلوصِ نیت کے ساتھ نتائج سے بے پروا ہوکر اپنی تمام قوتِ کار کو اقامت دین کی جدوجہد میں لگا دینا ہے۔ اس کے بعد اگر اپنی خصوصی رحمت سے ارحم الراحمین دنیا میں کامیابی دے دے تو یہ صرف اس کا فضل ہے ورنہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی کا وعدہ ہے۔ سالہا سال کی جدوجہد، دعوتِ دین اور شہادتِ حق کے فریضے کی ادایگی میں کسی قسم کی مداہنت اور کفر و شرک کے ساتھ مصالحانہ رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا ۔ اصولوں پر کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ اسلام کا بنیادی دعوتی مزاج مطالبہ کرتا ہے کہ مخالف کے طرزِ عمل سے قطع نظر اہل ایمان اپنا دعوتی فریضہ ہر حالت میں ادا کرتے رہیں ۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ انھیں کب کامیابی سے نوازتا ہے؟ یہ اس کے طے کرنے کا معاملہ ہے۔ تمام انسانی اندازے قیاس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
اقامت دین کی جدوجہد میں مشکلات ،مصائب اور رکاوٹوں سے گھبرانے یا ان سب کے نتیجے میں مایوس ہونے اور مطلوبہ نتائج میں تاخیر کی بنا پر اپنی دعوت اور طریقۂ کار پر شک و شبہہ کا کوئی امکان اسلام میں نہیں پایا جاتا۔استقامت کا مطلب ہے کہ دعوت ہر صورت حال اور ہرمرحلے میں جاری رکھی جائے۔ مکی دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام تر مخالفت اور دعوت کو رد کرنے کے باوجود ابو جہل ، عتبہ اور دیگر سردارانِ قریش کو دعوتِ دینا معطل نہیں کیا تھا اور نہ اپنے طریقۂ دعوت پر شک وشبہہ محسوس کیا، بلکہ ہر ممکن موقعے کو اپنا فرض ادا کرنے کے لیے استعمال فرمایا۔

طاغوت اور کفر کا ایک ملت ہونا
قرآن کریم حق وباطل کے معرکے میں طاغوت اور کفر کی قوتوں کو حزبِ شیطان اور ملت ِواحدہ سے تعبیر کرتا ہے اور اس کے مقابل حق کی قوتوں کو بنیان مرصوص، یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے تعبیر کرتا ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ منکر کو مٹانے کے لیے اہل ایمان کو بھی ایک منظم جماعت کی شکل اختیار کرنی ہوگی، یعنی شہادت ِحق کے لیے تعمیر کردار کے ساتھ تنظیمِ افراد بھی مطلوب ہے۔ طاغوتی جماعت کی کثرت کے باوجود حق پر مبنی جماعت اپنی قلت تعداد کے باوجود منکر کے ساتھ اصولوں پر کوئی مفاہمت نہیں کرے گی۔
تحریک اقامت ِدین ایک اصولی اور نظریاتی تحریک ہے۔ اس کی بنیاد قرآن و سنت سے اخذ کردہ عالم گیر اصول ہیں۔ اس بنا پر یہ وقت کے ساتھ اپنی بنیادی فکر میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔ تاہم، دعوتِ دین کے ابلاغ واشاعت کے لیے ان تمام اسالیب اور طریقوں کو استعمال کر سکتی ہے، جو ہردور میں حاصل ہوں، البتہ وہ اس کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہوں،مثلاً سوشل میڈیا کا استعمال، انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے پیغام کی اشاعت ، غیر اسلامی تنظیموں یا افرادسے مکالمہ اور مذاکرہ وغیرہ۔لیکن ابلاغ کے وہ ذرائع جو شخصیت پرستی کی طرف لے جائیں، یا جو دوسروں کی نقالی کرتے ہوئے اختیار کیے جائیں، جس میں اختلاف کے باب میں اخلاقی اصولوں اور آداب کا لحاظ نہ رکھا جائے، مثلاً اسٹیج پر گانے بجانے کا استعمال یا خطابات میں تضحیک آمیز انداز میں دوسروں کا تمسخر اڑانا، انھیں بُرے القاب سے یاد کرنا وغیرہ۔ ان سب طریقوں کی تحریک اسلامی میں کوئی گنجایش نہیں پائی جاتی۔ سورئہ حجرات نے واضح طور ان چیزوں کو ممنوع قرار دیا ہے۔قولِ لیّن (نرمی سے گفتگو) قرآن کریم کا وہ حکم ہے جسے انبیا ؑ اور ان کے ماننے والوں پر فرض کر دیا گیا ہے۔دعوتِ دین کا تقاضا ہے کہ اپنی بات دلوں میں اتارنے کے لیے نرم گفتاری اور بے لوثی کے ساتھ کام کیا جائے اور بھلائی کے کاموں میں نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم کے ساتھ بھی تعاون کا رویہ رکھا جائے۔اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ (اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔ النحل ۱۶:۱۲۵) ہی تحریک اسلامی کا شعار اور اس کی پہچان ہے۔

نیکی کے کام میں تعاون
قرآن کریم حکمت ِدعوت کے پیش نظر حق و باطل میں امتیاز کی وضاحت کے ساتھ ایسے معاملات میں جہاں بر، نیکی ، تقویٰ اور بھلائی کو تقویت پہنچتی ہو صرف نیکی کی حد تک غیر مسلموں سے بھی تعاون کی اجازت دیتا ہے:
وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝۰۠ (المائدہ ۵:۲)جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو، اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔
دعوت و اصلاح کے لیے اگر ایسا مرحلہ درپیش ہو کہ قوت نافذہ داعیان حق کے ہاتھ میں نہ ہو اور مستقبل قریب میں اتنی اکثریت حاصل کرنا کہ تحریک خود بعض اصلاحات نافذ کر سکے ممکن نظر نہیں آ رہا ہو، تو کیا جو نظام موجود ہو اس پر صرف گرفت کافی ہو گی یا خود اس نظام کے زبانی دعوؤں کو بنیاد بنا کر برسراقتدار جماعت کی نظریاتی امداد، اسلامی نقطۂ نظر سے تعلیم ، ابلاغ عامہ ، صحت، معیشت اور معاشرت میں اصلاح کا منصوبہ بنا کر فراہم کیا جانا مصلحت عامہ کا تقاضا ہو گا، تاکہ اتمامِ حجت کردیا جائے۔ گو، اس طرح کے تعاون میں دنیا میں اس کا کوئی اجر (credit) حاصل نہ ہو۔
تفصیلات میں جائے بغیر حضرت یوسف علیہ السلام کا اصلاحِ احوال میں اپنا کردار ادا کرنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ’حلف الفضول‘ کے حوالے سے مشرکین کے ساتھ تعاون کرنے کی خواہش کا اعلان فرماناظاہر کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود بعض متعین بھلائی کے کاموں میں اشتراکِ عمل کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کے تناظر میں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر مروجہ سیاسی نظام ایسا ہو کہ اس میں مستقبل قریب میں زمامِ کار تحریک کے ہاتھ میں آنا ممکن نظر نہ آتا ہو، تو کیا حزبِ اقتدار کے بھلے عناصر کے ساتھ تعاون کا راستہ تلاش کر کے برسرِ اقتدار گروہ کے ذریعے اصلاحات کے نفاذ کی کوشش وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى کی ایک شکل ہوگی؟ اوریہ جاننے کے باوجود کے ان اصلاحات کا تحریک کو کریڈٹ نہیں ملے گا ، کیا ایسا کرنا دعوتی حکمت عملی ہوگی؟ اگر مکمل نظام کو تبدیل کرنے کے لیے تحریک کے پاس انسانی ، معاشی اورسیاسی وسائل موجود نہ ہوں، تو کیا برسرِاقتدار جماعت کے ذریعے حالات میں تبدیلی لانے کا عمل مصلحتِ عامہ کے اصول پر عمل ہو گا؟کیا اس طرح کا تعاون تحریک کی اصلاحی اور دعوتی تصویر کو بہتر بنائے گا اور طویل دورانیے میں تحریک کو اس کا سیاسی فائدہ ہو گا ؟
تحریک کو ان سوالات پر غور ضرور کرنا چاہیے کیونکہ تحریک کا مقصد نظامِ زندگی کی اصلاح ہے۔ اگر مکمل نظام کی تبدیلی قریب المعیاد نگاہ میں مشکل نظر آرہی ہو، تو جزوی تبدیلی سیاست شرعیہ، مصلحتِ عامہ اورکم تر خرابی پر عمل کے اصول کے پیش نظر اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔

نظام کی اصلاح کے لیے اسلوبِ دعوت
داعی کا دعوتی اسلوب خود حق وباطل ، ہدایت اور گمراہی ، شرک و توحید ، بندگیِ نفس اور بندگیِ رب میں فرق کو واضح کر دیتا ہے اور یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے ، جب اہل ایمان اپنے آپ کو دیگر انسانوں سے کاٹ کر الگ ہو کر نہ بیٹھ جائیں بلکہ انھیں خیر خواہی کے ساتھ ہدایت و فلاح کی طرف بلاتے رہیں (الدین نصیحہ، رواہ مسلم، دین تو نصیحت اور خیر خواہی ہے)۔ اس کام میں شارع علیہ السلام کی قائم کی ہوئی تدریجی حکمت عملی اہمیت رکھتی ہے ۔ یعنی کلمۂ حق، دعوت خیر و فلاح و سعادت صرف اور صرف اللہ کے لیے ہو ،اللہ کے رسولؐ کے لیے ہو، اور پھر جو صاحب ِامر ہوں ان کی اور عامۃالمسلمین کی اصلاح اور مصلحت عامہ کے لیے ہو۔
دعوت اسلامی کے علَم برداروں بلکہ عام کارکنوں کی بھی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ طاغوت اور کفر و شرک کے خلاف شدت کے ساتھ اپنی آواز بلند کریں۔ بلاشبہہ ایمان اور کفر میں کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی ، لیکن اسلام کی دعوت کا مزاج مخالف کو اپنی قوت سے شکست دینے کی جگہ دلیل کی قوت اور نرمی ومحبت سے دل جیت کر دائرہ اسلام میں شامل کرنے کا ہے ۔اس لیے دعوت کی زبان میں شدت کی جگہ نرمی اسلام کا شعار ہے ۔ رب کریم نے حضرت موسٰی کو واضح ہدایت فرمائی:
اِذْہَبَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰى۝۴۳ۚۖ فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّہٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى۝۴۴(طٰہٰ ۲۰:۴۳-۴۴) جائو تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔
فن خطابت اور سیاست کاری کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کس طرح مخالف کو دباؤ میں لاکر گفت و شنید پر آمادہ کیا جائے ۔ قرآن کریم غور و فکر اور آیاتِ کائنات اور اپنے وجود پر غور کی دعوت دے کر ہمدردی کے ساتھ نصیحت اور تذکیر کا اسلوب اختیار کرتا ہے ۔اس لیے اسلام کا داعی اور کارکن اپنے مخالف کو تضحیک واستہزا کا نشانہ نہیں بنا سکتا۔ وہ اسے چور اچکا کہہ کر مخاطب نہیں کرسکتا ،گو زبان کے ذریعے دعوت ایک معروف طریقہ ہے لیکن قرآن کریم اس سے بھی زیادہ مؤثر طریقے کی طرف متوجہ کرتا ہے، یعنی اپنے عمل کے ذریعے دعوتِ دینا۔ اسی لیے وہ کہتا ہے کہ:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۝۲ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۝۳(الصف ۶۱:۲-۳)اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔
اس آیت کی روشنی میں دعوت کا بہترین اسلوب ایک داعی کا اپنا طرز عمل ہے کہ وہ اپنی سیرت وکردار سے کیا پیغام دے رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے داعی کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ جس بات کی دعوت دیتا ہے اس پر پہلے خود عمل کر کے اس کے قابلِ عمل ہونے کو اپنے طرزِ عمل سے ثابت کر تا ہے ۔
عملی شہادت ہی دعوت کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔ اپنے آخری خطاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کی طرف اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر تمام حاضرین سے یہ شہادت لی تھی کہ آپؐ نے اپنے عمل و کردار کے ذریعے کیا اس علمِ ہدایت اور پیغام کو پہنچا دیا جو بطور امانت آپ کے سپرد کیا گیا تھا؟
فریضۂ اقامت دین ہی تحریکات اسلامی کے وجود کا سبب ہے اور اس کی صحیح ادایگی ہی آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے ۔دین کا مذاق اڑانے والوں اور کفر وشرک کے علم برداروں کو دعوت الیٰ اللہ دینا تحریک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم، مخالفین کو کس طرح مخاطب کیا جائے؟ اس سلسلے میں قرآنی اخلاق کی اعلیٰ ترین مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہے کہ کس طرح طاغوت کے نمایندہ کے ساتھ بھی قول لیّن اختیار کیا جائے ۔ شرک ظلم عظیم ہے۔اس کاردّ پوری قوت سے کیا جائے اور منکر کو مٹانے کے لیے اپنی تمام قوت لگا دی جائے، لیکن مشرکین کے خداؤں کو ایسے ناموں سے نہیں پکارا جائے جو انھیں مشتعل کرکے نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے پر اُبھار دیں۔ دین ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ ہم مخالفینِ دعوت کو بھی بُرے القاب سے نہ پکاریں۔ ان ہدایات پر عمل ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔
قرآن کریم ہمارے لیے جو لائحہ عمل تجویز کرتا ہے ، اس میں دانشمندی ، حکمتِ دعوت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور دین مداہنت، موقع پرستی اور تجاہل عارفانہ کو ناپسند کرتا ہے کیوں کہ اس کا اصل ہدف کفر و شرک ، گمراہی اور ضلالت ہے،کسی کی ذات نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ فرد کو برائی سے نکال کر غم گساری اور نرمی کے ساتھ حقیقی کامیابی سے روشناس کرادے۔یہ کام فرد کوہدف اور نشانہ بنا کر نہیں ہو سکتا۔اس میں فرد کی جگہ نظام پر گرفت و تنقید اور متبادل نظام کا پیش کیا جانا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔قرآن کریم اپنی دعوت کا آغازباطل نظام کی نفی سے کرتا ہے اور متبادل نظامِ عبودیت کو اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ پیش کر کے برہانِ قاطع کی حیثیت سے اپنی بات کو انجام تک پہنچاتا ہے۔
اسلام کا اصل کارنامہ کوئی فلسفیانہ نظام پیش کرنا نہیں تھا بلکہ ایسی قابلِ عمل اخلاقی، معاشرتی، سیاسی ، ثقافتی تعلیمات کا پیش کرنا ہے جن کی عملی تفسیر داعی کی ذاتی زندگی ، گھر میں اہل خانہ کے ساتھ تعلق ، پڑوسی کے حقوق کا ادا کرنا ،حتیٰ کہ راستے کے حقوق پر عمل کرنا کہ راستے تک میں کوئی غلاظت اور رکاوٹ نہ ہو، جس سے راہگیر پریشان ہوں۔ تجارت میں کس طرح حلال و حرام میں تمیز، صارف کے ساتھ رویہ، غرض تجارتی، معاشرتی ،سیاسی معاملات میں کس طرح کا رویہ اختیار کیا جانا ہے۔
گویا اسلامی نظام حیات ایک جانب کفر اور شرک پر مبنی نظام پر سخت فکری تنقید کرتا ہے اور دوسری جانب عملاً ایک متبادل نظام کو خاندان اور معاشرے میں نافذ کر کےمعروف اور نیکی کی برتری کو ایک قابل محسوس شکل دے دیتا ہے۔

فرد اور نظام میں فرق
قرآن و سنت کی تنقید و احتساب کا ہدف باطل نظام ہے ۔ لیکن باطل نظام میں بھی ایسے پاک نفوس پائے جاسکتے ہیں جن کو دعوتِ حق حکمت اور محبت سے دی جائے تو دائرۂ حق اور اسلام میں داخل ہو جائیں ۔ یہ کام طنز، طعن اور تضحیک یا تحقیر سے نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لیے اعلیٰ ظرف کے ساتھ دعوتِ حق دینے کی ضرورت ہے کہ لوگوں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور وہ تحریکِ اسلامی کے پرچم تلے آنے میں رکاوٹ محسوس نہ کریں ۔ اس کام میں شفقت ، رحمت، عفو و درگزر اور اللہ کے لیے مخالفین کے ہر ظلم کو بھلا دینا ہی دعوت کی حکمت عملی ہے۔
اسلام اور کفر و ظلم کے مقابلے میں دین کا مدعا کسی فریق کو شکست دے کر چت کر دینا نہیں ہے، بلکہ فریقِ مخالف کے دل کو جیتنا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی اَنا کی بنیاد پر بہت سے معاملات میں عقل کے خلاف کام کرنے میں بھی حرج نہیں محسوس کرتا ۔داعی کا کام یہی ہے کہ وہ مخالف کی مصنوعی اَنا کو مجروح کیے بغیر، اسے نشانۂ تضحیک و تذلیل بنائے بغیر اپنی وسعت قلب کے ساتھ دائرہ حق میں ظلمات سے نور کی طرف لے آئے۔ دین اپنی تعلیم و فہم کے ذریعے دین کی دعوت کی عظمت و حقانیت سے آگاہ کرتا ہے اور ایسے افراد بھی جو صدیوں سے اپنی برادری کی عظمت اور چودہراہٹ کے شکار رہے ہوں داعی کی ہمدردی ، غمگساری اور محبت کے اسیر ہو جاتے ہیں ۔ وہ اہل مکہ جو اپنی قبائلی عصبیت و برتری اور معاشی خوش حالی اور مذہبی قیادت کے سہ آتشہ نشے اوررعونت کےشکار تھے ۔ ایسے اَنا زدہ افراد بھی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، نرمی، عفوودرگزر کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکے ۔آج تحریکات اسلامی کو یہی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ قول لَیِّن ہی وہ برہان قاطع ہے ، جس سے دلوں کی دنیا فتح کی جاسکتی ہے اور جس کی تعلیم خود خالق کائنات نے اپنے انبیا ؑکو دی ۔
انبیاے کرامؑ کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ مشرکین کے بتوں کو اور مشرکین کو سخت الفاظ سے مخاطب کرتے اور انھیں چور، ڈاکو ، قاتل ، شیطان جو چاہتے کہتے اور ان کا یہ کہنا نامناسب بھی نہ ہوتا۔ –اس کے برخلاف انبیاے کرامؑ نے اور خصوصاً نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی انسانیت کو بنیاد بنا کر بار بار انھیں دعوت کی طرف متوجہ کیا ۔ قرآن کریم کی یہ دعوتی نفسیات انبیاے کرامؑ کے طریق دعوت کاحصہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کل تک جو اپنے ظلم ، جہل اور گمراہی کی بنا پر طاغوتی تھا، دین کی دعوت اور نصیحت نے اسے اللہ کا مددگار بنا دیا اور جان کے دشمن، جاں نثاروں میں تبدیل ہوگئے۔
دعوتِ قرآن نے جس شدت کے ساتھ جاہلیت ، استحصا ل ،ظلم اور کفر کو رد کیا وہیں اس سے زیادہ دلیل کی قوت کے ساتھ اسلام کے نظامِ عدل اجتماعی ،انفرادی ، مالی اور سیاسی تزکیہ کے اصول پیش کر کے ایک مکمل متبادل نظامِ حیات سامنے لا کر رکھ دیا کہ اس نور و ہدایت کی وجہ سے ظلمتِ کفر و شرک سکڑنے پر مجبور ہو جائے ۔حق آجائے اور باطل کوقطعی شکست ہو جائےکیونکہ باطل تو شکست کھانے ہی کے لیے ہے۔ چنانچہ نور حق کفر و شرک پر غالب آگیا اور ایک قابل محسوس اسلامی معاشرہ ، اسلامی خاندان ، اسلامی تجارت و معیشت و کاشتکاری ، اسلامی نظامِ عدل، اسلامی بین الاقوامی قانون کے وجود نے باطل نظام کو ایک اعلیٰ اخلاقی نظام سے تبدیل کر دیا۔

غیرمتعصبانہ رویہ اور تعمیری کردار
تحریکات اسلامی کے لیے ایک قابل غور امر یہ بھی ہے کہ طویل عرصہ حزبِ اقتدار پر تنقید و احتساب کرتے کرتے اس کا اپنا طرزِ عمل کہاں تک غیر متعصبانہ رہا ہے کہ وہ پانی کے نصف بھرے گلاس کو ہمیشہ نصف خالی قرار دے یا نصف بھرا ہوا؟دعوت کی نفسیاتی حکمت یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی معمولی سی خیر پائی جائے ، اس خیر کو بنیاد بنا کر اس کی ہمت افزائی کر کے برائی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اسی کا نام مثبت تعمیری فکر ہے جو تحریک اسلامی کا امتیاز ہے اور جو قرآن بار بار یا ایھا الناس کہہ کر ہمیں یاد دہانی کراتا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ روایتی حزب اختلاف کے طرز عمل سے ہٹ کر ہم اپنی پہچان حق گو جماعت کی حیثیت سے تسلیم کرائیں۔ اس طرح ہماری بات میں مزید وزن اور اہمیت پیدا ہو گی۔
اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ تعمیری طرز فکر کے ساتھ تحریک اپنا منشور صرف انتخابات کے زاویے سے نہیں، بلکہ اپنی تعمیری تجاویز کو عملی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی بنیاد پر مرتب کرے۔ نیز حزبِ اقتدار کو بھی ان امور کو نافذ کرنے کی دعوت دے کیوں کہ تحریک کا مقصد اور ہدف اپنی ذاتی کامیابی کا سرٹیفکیٹ لینا نہیں ہے، بلکہ معاشرے میں اسلام اور اسلامی نظامِ عدل و انصاف کے نفاذ کی جدوجہد کرنا ہے۔ اگر یہ کام کسی اور کے ہاتھ سے ہو جائے تو یہ بھی تحریک کی کامیابی ہے۔ اگر اسلامی نظامِ معیشت ، معاشرت ، ابلاغ عامہ وغیرہ کا نفاذ حزبِ اقتدار کر دیتی ہے، تو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ تحریک اسلامی کی شکست ہو گی یا کامیابی ؟ اپنے اہداف کے حصول کے لیے تحریک اسلامی کو کسی ایک لگے بندھے طریقے کا پابند نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نفاذِ شریعت اور اسلامی نظامِ عدل کے قیام کے لیے ہر ممکنہ ذریعے کو استعمال کرنا چاہیے۔ اس عمل کے دوران جہاں کہیں اسے معمولی سا اختیار بھی حاصل ہو، اس چند میٹر رقبے پر خود اسلامی نظام کو قائم کر کے عملی مثالیں پیش کرنی چاہییں۔ مثلاً اگر کسی یونین کونسل میں تحریک کا اثر ہے اور تحریک وہاں سڑکوں کی صفائی ، صاف پانی کی فراہمی ، دکانوں پر ناپ تول کے نظام کی درستی کے لیے اقدامات ، فحاشی کے مراکز کاخاتمہ ، اسکولوں میں بچوں کی صحت اور تعلیم کے معیار کی بہتری کا اہتمام کر لیتی ہے، تو یہ نیکی کے چند قابل مشاہدہ جزیرے اسلامی نظام پر طویل اور مدلل تقاریر سے زیادہ مؤثر دعوتی پیغام پہنچا سکتے ہیں ۔دعوتی کام کا یہ طریقہ صرف ان مقامات تک محدود نہیں ہے جہاں تحریک کا کوئی اثر پایا جاتا ہو، بلکہ ان مقامات پر بھی جہاں اس کے متاثرین کی اکثریت نہ ہو۔ کراچی میں بلدیہ کے تحریکی میئر نے جس خلوص اور توجہ سے اصلاحات کیں، ان کا اعتراف تحریک کے مخالفین نے بھی کیا اور عوام کو اعتماد ملا کہ اگر وہ اپنا ووٹ صحیح افراد کو دیں تو ملک میں اصلاح ہو سکتی ہے۔
دعوت وہ نرم قوت (soft power) ہے جو سنگلاخ چٹانوں کو موم کی طرح نرم بنا سکتی ہے۔ قرآن کریم نے جہاں شقاوت قلب کا تذکرہ کیا ہے وہاں خشیت قلبی کو بھی بیان کیا ہے اور خاشعین ہی کو اپنا انسانِ مطلوب قرار دیا ہے ۔ تحریک کے کارکنوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح ہر ممکنہ صورتِ حال (opportunity ) کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بھی جب صاحبِ اختیار اسلام کی تعلیمات کے نفاذ کا زبانی وعدہ کررہے ہوں۔کیا ان کی نیت پر شک کا اظہار کیا جانا ضروری ہے؟ جہاں احتساب ضروری ہے، وہیں یہ بھی مطلوب ہے کہ ایک ظاہر بات کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے مقصد کے حصول کے لیے تحریک کی جانب سے ایسی تجاویز کو باقاعدہ منصوبۂ عمل کی شکل میں پیش کر دیا جائے جس کے نفاذ سے ملک میں اسلامی نظام عدل کے قیام کا امکان بڑھ جائے۔ –تحریکات اسلامی نے اس حکمت عملی کو مصر ،سوڈان اورترکی میں جزوی طور پر اختیار کیا ۔اس پہلو سے تنقیدی جائزے کی ضرورت ہے اور پاکستان کے تناظر میں مکمل تبدیلیِ نظام کی جدوجہد کرتے ہوئے تبدیلی کے لیے متعین دائروں میں کون سی اصطلاحات کی جاسکی ہیں ان کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ بالفرض یہ پُرخلوص کوشش کسی بناپر مطلوبہ نتائج پیدا نہ بھی کرسکے، تو تحریک عند اللہ جواب طلبی سے اپنے آپ کو بچا سکتی ہے کہ جو اس کے اختیار میں تھا اس نے اس میں کوئی کمی نہیں کی۔
معروف کے قیام ، بر اور تقویٰ کے حصول کے لیے جو کوشش بھی رضاے الٰہی کے لیے کی جائے گی وہ ربِ کریم کےعلم میں ہوگی۔ اس کا مقصد نہ کوئی کریڈٹ لے کر سیاسی کامیابی ہوگی، نہ یہ دعوتِ اسلامی کے طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہوگی، بلکہ حکمت دعوت کے قرآنی اصول کی تطبیق اور اتمامِ حجت کی ایک شکل ہوگی۔ اس حکمت عملی کے ذریعے مصلحت عامہ کا حصول، دعوت کی کامیابی اور اس کی اصولی فتح ہوگی کہ اقتدار سے باہر رہتے ہوئے بھی اس نے پیشہ ور حزبِ اختلاف کی جگہ قرآنی اصول پر عمل کرتے ہوئے، اپنی سیاسی تصویر (image )کی پروا کیے بغیر اللہ کے بندوں کی بھلائی اور دین کی اقامت کی غرض سے اقتدار کے وسائل کو صحیح راہ پر لانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔

معروف میں تعاون کی حکمت عملی
قرآن کریم کے اصولوں پر مبنی اس حکمت عملی کو نہ مداہنت کہا جاسکتا ہے اور نہ اپنے اصولوں سے انحراف۔ دعوت کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ جو کل تک اس دعوت کا مذاق اڑاتا رہا ہو وہ خود اس دعوتی ابلاغ اور دعوتی اسلوب کو اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے۔ مولانا مودودیؒ کا کارنامہ محض اسلام کی اجتماعی دعوت کو مدلل انداز میں پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کے لہجے اور اسلوب کا وہ اثر ہے کہ آج وہ لوگ بھی جو اپنی عملی زندگی میں اسلامی طرزِ حیات کی مکمل پیروی نہ کرتے ہوں، اسلامی نظریۂ حیات ،مدینہ کی اسلامی ریاست اور بلاسودی بینک کاری کے تصورات کو بار بار دُہرا کر نظریۂ پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے۔دعوت اور دعوتی فکر کا یہ وہ نفوذ ہے جو دعوت کے حق ہونے اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ہاں مقبول ہونے کی ایک علامت ہے اور تحریک کے لیے اُخروی کامیابی کی ایک شکل ہے کہ ایوان اقتدار سے باہر رہتے ہوئے بھی وہ صاحب ِاقتدار افراد سے وہ کام کروانے میں کامیاب ہو گئی جو شاید ۵۰سال بعد اس کی مسلسل سیاسی جدوجہد کے بعد وہ خود اپنے ہاتھ سے کر سکتی۔ ایک چھوٹی سی مثال سے یہ بات زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔ تحریک اسلامی خود ایک فکری ، تربیتی و دعوتی تحریک ہونے کی بنا پر تعلیم و تعمیر کردارکوتبدیلیِ نظام اور پورے ملک میں تبدیلی لانے کا بنیادی ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس بنا پر گذشتہ ۷۲ برسوں سے مسلسل مطالبہ کررہی ہے کہ حکومت وقت اسلامی نظام تعلیم کو سرکاری سکولوں میں نافذ کرنے کا اعلان کرے لیکن اس کی یہ خواہش اور تمنا پوری نہیں ہوسکی۔ اس کے سامنے تین واضح امکانات اور عمل در آمد کی شکلیں ہیں۔اوّل: وہ اس وقت تک اس نصاب تعلیم،نصابی کتب اور تربیت یافتہ اساتذہ کو اپنے دامن میں لیے رہے جب تک اقتدار میں نہ آ جائے، اور جیسے ہی اسے اقتدار ملے وہ اپنے کیے ہوئے ہوم ورک کو نافذ کر دے۔ یہ آئیڈیل شکل ہے۔ دوسری شکل یہ ہوسکتی ہے کہ وہ حکومت پرمستقلاً گرفت ، تنقید ، احتساب کرتی رہے۔ نظامِ تعلیم کی تبدیلی کے مطالبے کے ساتھ جہاں جس حد تک اصلاح ممکن ہو اس کی راہیں تلاش کرے۔
ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ کے اصول کی روشنی میں اپنے تیار کردہ تعلیمی منصوبے، نصابی کتب ،تربیت استاد کا نظام، طلبہ کی تعمیر سیرت کے لیے عملی پروگرام، غرض جو بنیادی کام (home work) اس نے کیا ہے وہ سب ایک ایسی حکومت کے سامنے رکھ دے جو بظاہر تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ اگر حکومت اصلاح کے پروگرام کو کُلی طور پر نہ سہی جزوی طور پر اختیار کرلیتی ہے ، تو کیا یہ تحریک کی کامیابی نہ ہوگی؟
ایک آخری شکل وہ بھی ہے جس پر ایک حد تک عمل ہورہا ہے، یعنی تحریک کی فکر سےمتاثر پورے ملک کے مختلف صوبوں میں جہاں جہاں بھی اسلامی فکر رکھنے والے تعلیمی ادارے ہیں، یا کم از کم وہ ادارے جن کے بانی حضرات کبھی تحریک کے کارکن یا ذمہ دار رہے ہوں وہ اپنے زیراثر تمام اداروں میں مخلوط تعلیم کو یکسر ختم کر دیں ۔ ان کے کالج اور یونی ورسٹی میں طالبات اور طلبہ کے لیے الگ الگ سرگرمیاں ہوں۔ کالج کے مباحثے مشترک نہ ہوں یا طلبہ و طالبات کے ریسرچ پراجیکٹ الگ الگ ہوں ۔ تمام طلبہ و طالبات کی اخلاقی تربیت کے لیے ٹائم ٹیبل میں مستقل جگہ رکھی گئی ہو ۔ ان کے اساتذہ کے لیے سال میں مناسب تعداد میں تربیتی کورس رکھے جائیں ۔ان کے تمام اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں اسلامی نظریۂ حیات پر مبنی معاشرتی علوم ،تطبیقی علوم، ہرشعبۂ علم قرآن و سنت کی تعلیمات کو نفسِ مضمون کے ساتھ اس طرح یک جا کر دیا جائے کہ طلبہ و طالبات کیمسٹری ہو یا طبیعات اور علم سیاست، ہر مضمون کے حوالے سے اسلامی اصول اور فکر سے مکمل طورپر آگاہ ہو سکیں ۔یہ تمام ادارے باہمی مشورے سے اپنی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اور ایک نظریاتی نظام تعلیم کو ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ (HEC) اور دیگر بورڈوں کی عمومی ہدایات کے اندر رہتے ہوئے اپنی فکر اور دعوت کوجس حد تک ممکن ہو، نافذ کریں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ان تینوں طریقوں پر بیک وقت بھی عمل کیا جائے۔ اگر صرف یہ کام کر لیا جائے تو ایک عام پاکستانی اپنی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے کہ تحریک کل ایوان اقتدار میں آکر نہ صرف تعلیم کو معیاری ، اخلاقی اور عالمی پیمانوں پر لے جا سکتی ہے، بلکہ معیشت اور قانون کا نفاذ بھی کر سکتی ہے ۔
تحریکات اسلامی کا تصور ان افراد کے ذہن میں جو اپنے آپ کو روشن خیال یا بعض اوقات سیکولر مسلمان کہتے ہیں یہی ہے کہ یہ نماز پڑھا سکتے ہیں اور عام طور پر جھوٹ نہیں بولتے، مالی معاملات میں اکثر شفاف ہیں لیکن حکومت ان کے بس کا کام نہیں ہے۔ اس کا ایک سبب تحریک کا بعض مسلکی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرنا بھی ہے۔ سیکولر یانام نہاد روشن خیال طبقہ ان جماعتوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔تحریک کا ان سے تعاون تحریک کے تصور کو ان کی نگاہ میں مجروح کرتا ہے لیکن اگر تحریک سے وابستہ افراد کے ادارے ایک کامیاب مثال پیش کریں تو تحریک کی صلاحیت، خلوص اور معاشرتی اہمیت، ہرشہری کی نگاہ میں مستحکم ہوسکتی ہے۔
اس کے ساتھ اگر تحریک آگے بڑھ کر ایک تفصیلی دستاویز معاشی ، ابلاغی ، صحت عامہ، معاشرتی ، دفاعی پالیسی یا ملکی اور بین الاقوامی حکمت عملی مرتب کرکے پیش کرے جو عملی مسائل پر اسلامی راہنمائی فراہم کرتی ہو، تو کوئی وجہ نہیں کہ تحریک کے بارے میں موجود منفی تاثر مثبت رویے میں تبدیل نہ ہو جائے ۔ یہ کام نہ صرف محنت طلب ہے ، بلکہ اس میں صبر و استقامت بنیادی شرط ہے۔ نتائج سے بے پروا ہو کر اس کام کو مسلسل کرنا ہی تحریک کی اصل کامیابی ہے ۔
تعلیم کے علاوہ معیشت کے میدان میں بھی تحریک سے وابستہ یا ہم خیال افراد کے صرف چند تجارتی ادارے اگر سود میں ملوث ہوئے بغیر کام کرکے ایک کامیاب تجارتی ماڈل پیش کریں، تو کوئی وجہ نہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل تحریک اپنی مطلوبہ تبدیلی کی مثال پیش کر کے عوام کو اپنی دعوت کے قابلِ عمل ہونے پر قائل نہ کرسکے۔ اگر ۱۰؍اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آیندہ ۵۰ برسوں میں صرف دو اعلیٰ تعلیمی نجی ادارے وہ ہوں جو اسلامی ماحول اور اسلامی اصولوں کو اپنے نصابات میں سموکر طلبہ وطالبات کو علمی صلاحیت اور سیرت وکردار سے مزّین کر دیں اور یہ طلبہ و طالبات اپنے تعلیمی معیار اور اخلاقی طرزِ عمل میں مثالی ہوں اور ان دو جامعات میں مخلوط تعلیم نہ ہو، تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
تحریک اسلامی کے لیے قرآنی منہج بڑا واضح ہے کہ وہ پہلے وہ کام کر دکھائے جس کی طرف دعوت دے رہی ہے۔ آغاز ان ا داروں سے ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو تحریکی فکر سے قریب سمجھتے ہیں ۔ پاکستان انسانی دولت سے مالا مال ہے ۔ یہاں وہ پاک نفوس کثرت سے ہیں جنھیں ہم نے آج تک تلاش نہیں کیا۔ ہمیں اپنے محدود حلقے سے نکل کر محض ووٹ کے لیے نہیں، بلکہ دعوتِ دین اور اقامت دین کے لیے ان پاک نفوس تک پہنچنا ہے جن تک دعوتِ حق پہنچانے کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے، اور جو ہمارے لیے آخرت میں کامیابی یا ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔
تحریک ِ اسلامی کی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے اسلامی نظام معیشت ، نظام سیاست ، نظام معاشرت، نظام ابلاغ عامہ،نظام صحت و تحفظ حیات ، نظام ماحولیات، غرض ہرہر شعبے میں نظام عمل کا تفصیلی خاکہ تیار کر کے عوام اور حزب اقتدار کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ آج جہاں بھی کسی ادارے میں تحریکی فکر سے ہم آہنگی پائی جائے، اس ادارے کو مثالی ادارہ بنا کر اپنی دعوت کی عملی شکلی پیش کرنا آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔