اقبال اور چند مسلم شخصیات

ڈاکٹر معین الدین عقیل

فکرِاقبال میں جدید دنیاے اسلام کے تقریباً تمام مسائل، افکار اور تحریکات کی بازگشت پائی جاتی ہے۔ اقبال نے ایک تو جدید دنیاے اسلام کو پیش آنے والے مسائل پر اپنا نقطۂ نظر بیان کیا ہے، یا جو تحریکیں جدید دنیاے اسلام میں اصلاحی و تعمیری مقاصد کے تحت رُونما ہوئیں، ان کی تائید و تحسین کی ہے،یا ایسی شخصیات جن کے افکار دنیاے اسلام کو متاثر کرنے کا سبب بنے، اقبال کی فکر کو بھی کسی نہ کسی طور متاثر کرتی نظر آتی ہیں۔
بہت بڑے بڑے مسائل، افکار اور تحریکات کے علاوہ خود اقبال کے عہد میں بعض ایسی شخصیات، ان کے افکار اور ان کی تحریکیں پیدا ہوئیں، جن کی اقبال نے یا تو تائید و حمایت کی، یا ان میں دل چسپی لی۔ ایسی شخصیات اور تحریکات کا مقصد چونکہ مجموعی طور پر احیاے اسلام رہا ہے، اس لیے اقبال نے احیاے اسلام، مسلمانوں کی فلاح و بہبود، ترقی اور بیداری کا ذکر کرتے ہوئے اور اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان شخصیات و تحریکات کی تعریف و تحسین کی، یا بطورِ مثال ان کا حوالہ دیا ہے۔ اس ضمن میں ایسی شخصیات، جنھوں نے اپنی راسخ فکر اور اپنی مفید کاوشوں سے دنیاے اسلام کو متاثر کیا، متعدد ہیں اور اقبال نے ان میں سے بیش تر کا ذکر کیا ہے۔ لیکن بعض شخصیات اور ان کے کارنامے اقبال کی نظروں میں زیادہ پسندیدہ اور زیادہ قابلِ توجہ رہے:
l ٹیپوسلطان: (۱۷۵۰ء-۱۷۹۹ء) ٹیپو سلطان کی شخصیت اور ان کی جدوجہد اقبال کے لیے بڑی پسندیدہ اور مثالی تھی۔ ٹیپو کی شہادت کو وہ دنیاے اسلام کی تاریخ میں بے حد اہم سمجھتے تھے۔

o سابق صدر شعبۂ اُردو، کراچی یو نی ورسٹی

ان کے خیال میں ٹیپو کی شہادت کے بعد مسلمانوں کو ہندستان میں سیاسی نفوذ حاصل کرنے کی جو اُمید تھی، اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔۱ اور پھر تقریباً ربع صدی بعد ۲۰؍اکتوبر ۱۸۲۷ء ’جنگ نوارنیو‘ لڑی گئی، جس میں برطانوی اتحاد نے سلطنت عثمانیہ ترکی کا بحری بیڑا تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں اقبال کے خیال میں ایشیا میں مسلمانوں کا انحطاط اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔۲ اور اسی کے زیراثر وہ سمجھتے تھے کہ جدید اسلام اور اس کے مسائل ظہور میں آئے۔۳
اقبال کو ٹیپو سے جو عقیدت تھی، اس کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ جب وہ دسمبر ۱۹۲۸ء کے آخری ایام اور جنوری ۱۹۲۹ء کے اوائل میں جنوبی ہند کے سفر پر گئے، تو میسور میں بالخصوص ٹیپو کے مزار پر پہنچے۔۴
اسی عرصے میں اقبال ٹیپو پر ایک نظم لکھ کر اپنی کتاب جاوید نامہ میں شامل کرنا چاہتے تھے، جسے وہ اپنی زندگی کا ماحصل بنانا چاہتے تھے۔۵ چنانچہ جاوید نامہ (اشاعت ۱۹۳۲ء) میں اقبال نے زندگی کی حقیقت، موت اور شہادت کے موضوع پر جو خیالات بیان کیے ہیں، وہ جاوید نامہ کے اہم مقامات میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ اقبال نے ضربِ کلیم (اشاعت ۱۹۳۵ء) میں بھی ایک نظم ’سلطان ٹیپو کی وصیت‘ کے عنوان سے لکھی۔ اس نظم میں انھوں نے ٹیپو کی سیرت کے حوالے سے ان اصولوں کی وضاحت کی ہے، جن پر ٹیپو ساری عمر کاربند رہے۔
l مہدی سوڈانی (۱۲؍اگست ۱۸۴۴ء- ۲۲جون ۱۸۸۵ء)۶ :ان کی شخصیت اور جدوجہد کے حوالے سے اقبال کی یہ آرزو رہی کہ مسلمانوں کے انتشار اور زوال کے اس دور میں کاش! کوئی ایسا شخص پیدا ہوجائے، جو اپنے پیغام سے قوم کے دل میں جہاد کا ولولہ پیدا کردے ؎

آں حدی کو ناقہ را آرد بوجد

سارباں یاراں بہ یثرب ما بہ نجد

[سارباں دوست، مدینہ منورہ پہنچے ہوئے ہیں، اور ہم اس شہر مقدس سے دور نجد میں ہیں۔ وہ حُدی خواں کہاں ہے، جو ہمارے ناقے کو وجد میں لاکر (جلد وہاں پہنچادے)۔]
جاوید نامہ میں اقبال نے مہدی سوڈانی کے حوالے سے مسلمانوں کو جہاد اور سخت کوشی کی تلقین کی ہے اور عالمِ عرب کے سرکردہ رہنمائوں کو مخاطب کرکے سوال کیا ہے کہ: تم کب تک اس طرح تفرقے کا شکار بنے رہو گے؟ کب تک اپنی ذاتی ترقی کے لیے کوشاں رہو گے؟ کب تک  ملّت اسلامیہ کے عمومی مفاد سے غافل رہو گے؟ اب وقت آگیا ہے کہ تم اپنے اندر سوز پیدا کرو اور اسلام کی سربلندی کے لیے متحد ہوجائو۔ اس مقام پر وہ سوڈان کے مسلمانوں سے بڑی اُمیدیں وابستہ کرتے ہوئے انھیں انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ اسی ذیل میں وہ فرعون کی روح کے حوالے سے انگریز جنرل ہربرٹ کچنر سے سوال کرتے ہیں کہ مہدی سوڈانی کی قبر کو کھود کر اور ایک مردِ مومن کی نعش کی بے حُرمتی کرکے تمھاری قوم کی حکمت میں کیا اضافہ ہوا؟۷
l سعید حلیم پاشا (۱۸۶۳ء-۱۹۲۱ء): ۸ علامہ اقبال ان سے، بالخصوص قومیت اور تہذیب و معاشرت میں ان کے خیالات سے بہت متاثر تھے۔ چنانچہ اپنے خطبے The Principle of Movement in the Structure of Islam [الاجتہاد فی الاسلام] میں ترک وطن پرستوں کے لادینی نظریۂ سیاست کی تردید کرتے ہوئے سعید حلیم پاشا کے خیالات کی تائید اور تعریف کی ہے۔ خصوصاً قومیت کے تعلق سے ان کے یہ خیالات کہ: ’’اسلام کا کوئی وطن نہیں ہے___ اور نہ کسی ترکی اسلام کا کوئی وجود ہے، نہ عربی، ایرانی اور ہندی اسلام کا‘‘۔۹ اقبال کے خیال میں وہ نہایت ہی بابصیرت صاحب ِ قلم تھے ۔۱۰ اور ان کا طرزِ فکر سراسر اسلامی تھا۔۱۱
جاوید نامہ میں بھی اقبال نے ایسے خیالات پیش کیے ہیں کہ جن میں مغربی تہذیب سے گریز کا پیغام ملتا ہے۔ حلیم پاشا کے حوالے سے اقبال کہتے ہیں کہ تقلید ِمغرب کی بجاے مسلمانوں کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن کے مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوجائے گا کہ: ’’اسلام ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے، جو دنیا میں کسی اور قوم کے پاس نہیں۔ اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو ساری دنیا ان کے قدموں پر جھک سکتی ہے‘‘۔
اسی موقعے پر انھوں نے ترکوں کی اس روش پر تنقید کی کہ: ’’وہ قرآن سے بیگانہ ہوکر مغرب کی تقلید کر رہے ہیں‘‘۔ آگے چل کر ایک اور مقام پر اقبال، حلیم پاشا کے توسط سے علما اور صوفیہ کو ان کی اہمیت جتاتے ہوئے انھیں مسلمانوں کو ماضی سے روشناس کرانے اور انھیں ان کے مقام اور مقاصد سے آگاہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔۱۲
l مفتی عالم جان بارودی (۱۸۵۷ء-۱۹۲۱ء): ۱۳ اقبال ان کی مساعی کے بھی قدردان تھے۔ انھوں نے روس میں مسلمانانِ وسط ایشیا کی فکری رہنمائی کی اور مسلمانوں کی پستی کا

علاج جدید تعلیم کو قرار دیا تھا۔۱۴ اقبال کا خیال تھا کہ وہ غالباً محمد بن عبدالوہاب سے متاثر تھے۔۱۵ چونکہ ان کے بارے میں اقبال کی معلومات محدود تھیں، اس لیے انھیں تفصیلات معلوم کرنے کا اشتیاق رہا۔ مولانا سیّد سلیمان ندوی سے انھوں نے اس ضمن میں استفسار کیا تھا کہ مفتی عالم جان کی تحریک کی اصل غایت کیا تھی؟ یہ محض ایک تعلیمی تحریک تھی یا اس کا مقصود مذہبی انقلاب بھی تھا؟۱۶ چنانچہ رسالہ معارف (اعظم گڑھ، مئی ۱۹۲۲ء) میں مفتی عالم جان کے حالات پر مشتمل ایک مضمون ’علماے روس‘شائع ہوا تو اقبال نے سیّد سلیمان ندوی کو لکھا کہ وہ ’میری آرزو سے بڑھ کر ہے‘۔۱۷
اقبال کو اُس تحریک ِ انقلاب سے بھی دل چسپی رہی جو چینی ترکستان کے مسلمانوں میں نمودار ہورہی تھی۔ ۱۹۱۴ء میں وہاں چینی منصفوں کے تقرر اور حکومت کی طرف سے وہاں کی آبادی پر، جو تقریباً سب مسلمانوں پر مشتمل تھی، چینی زبان مسلط کرنے کی وجہ سے بڑی بے چینی پھیل گئی تھی۔ مسلمان یہاں عرصے سے چینیوں کے ظلم و ستم برداشت کرتے آئے تھے۔ اس کے نتیجے میں بعد میں جو بغاوت ۱۹۳۰ء میں شروع ہوئی، اس کی قیادت ماچونگ ینگ نامی ایک کم سن مسلمان نے کی۔ اقبال اس کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’چنگیز، تیمور اور بابر کا وطن اب بھی اعلیٰ درجے کا بہادر سپہ سالار پیدا کرسکتا ہے‘‘۔۱۸اقبال سمجھتے تھے کہ: ’’اس تحریک کی کامیابی سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ چینی ترکستان میں، جہاں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۹۹ فی صد ہے، ایک خوش حال اور مستحکم اسلامی مملکت قائم ہوجائے گی اور اس طرح وہاں کے مسلمان ہمیشہ کے لیے چینیوں کے برسوں کے ظلم و ستم سے نجات حاصل کرسکیں گے۔۱۹اور اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہندستان اور روس کے درمیان ایک اور اسلامی مملکت کے قیام سے اشتراکیت، مادہ پرستی، دہریت کے خطرات اگر وسط ایشیا سے بالکل نہ مٹے تو کم از کم ہندستان کی سرحدوں سے زیادہ دُور ہوجائیں گے۔۲۰
l ابومحمد مصلح (۱۸۷۸ء- ۳۰ستمبر۱۹۶۸ء):۲۱ اقبال کو ہندستان کے بعض زعما کی اصلاحی، تبلیغی اور احیائی مساعی سے بھی دل چسپی رہی،مثلاً مولوی ابومحمد مصلح کی تحریک ِ قرآن جس کا مقصد قرآنِ حکیم کی تعلیم، معنی اور مطلب کے ساتھ عام اور لازمی کرنا تھا۔ انھوں نے اس کی تائید و تحسین کی تھی۔۲۲
ابومحمد مصلح کے نام اپنے ایک خط میں انھوں نے لکھا تھا کہ قرآنی تحریک کا مقصد مبارک ہے۔ اس زمانے میں قرآن کا علم ہندستان سے مفقود ہوتا جارہا ہے۔ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں نئی زندگی پیدا کی جائے۔ کیا عجب کہ آپ کی تحریک بارآور ہو اور مسلمانوں میں قوتِ عمل پھر عود کرآئے۔۲۳ اسی ضمن میں اقبال نے اُن کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جو وہ ترویجِ تعلیم قرآن کے سلسلے میں انجام دیتے رہے۔ انھیں تحریک قرآن کی رفتار سے بھی دل چسپی رہی۔۲۴
ان کے ایک خط سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے فرزند جاوید اقبال کے لیے وہ ان کا مرتب کیا ہوا قاعدہ حاصل کرنا چاہتے تھے، جس میں، ان کی تحریر کے مطابق، بچوں کو قرآن پڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کیا گیا تھا۔۲۵
l سیّد ابوالاعلٰی مودودی (۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء): اقبال نے مولانا مودودی کی تحریک کو بھی، جو گو کہ ابھی اپنے تشکیلی اور ابتدائی مراحل میں تھی۔ ان کی تصانیف بالخصوص الجہاد فی الاسلام اور تنقیحات اور ان کے مجلے ترجمان القرآن میں ان کی تحریروں سے اس تحریک کا آغاز ہوچکا تھا،۲۶اپنی آخری عمر میں اپنی توقعات کا انھیں مرکز بنالیا تھا۔ اس عرصے میں ان کی یہ خواہش ہوگئی تھی کہ ایک ایسا ادارہ قائم کریں اور کچھ ایسے افراد کو جو جدید علوم سے بہرہ ور ہوں چند ایسے لوگوں کے ساتھ یک جا کردیں، جنھیں دینی علوم میں مہارت حاصل ہو، تاکہ یہ لوگ اپنے علم اور اپنے قلم سے اسلامی تمدن کے احیا کے لیے کوشاں ہوسکیں۔۲۷
اقبال چاہتے تھے کہ کسی پُرسکون مقام پر ایک ایسی مختصر سی بستی کی بنیاد رکھی جائے، جہاں خالص اسلامی ماحول پیدا کیا جائے اور وہاں بہترین دل و دماغ کے نوجوانوں کو ایسی تربیت دی جائے، جس سے ان میں مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کی اہلیت پیدا ہوجائے۔۲۸ چنانچہ ان کی ا س خواہش کے پیش نظر چودھری نیاز علی خان نے پٹھان کوٹ کی اپنی اراضی میں سے ایک قطعہ اس کے لیے وقف کر دیا اور اقبال سے باہمی صلاح و مشورہ کے بعد۲۹مولانا مودودی کو، جو اس وقت حیدرآباد دکن میں مقیم تھے، پٹھان کوٹ منتقل ہونے کی دعوت دی۔ چنانچہ مولانا مودودی مارچ ۱۹۳۸ء میں نقل مکانی کرکے پٹھان کوٹ پہنچ گئے۔
اقبال، مولانا مودودی کے خیالات سے بڑی حد تک متفق تھے اور ترجمان القرآن میں ان کے مضامین کی تحسین و تعریف کرتے تھے۔۳۰علمی کاموں میں اس وقت اقبال کے پیش نظر فقہ کی تدوین کا کام تھا، اور وہ خود بھی اس کام کے دوران گاہے گاہے دارالاسلام (پٹھان کوٹ) جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔۳۱ لیکن اقبال کی زندگی میں وہ مقصد ابتدائی مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا، جسے کچھ عرصے بعد جماعت اسلامی کے قیام اور تحریک ِ اسلامی کے فروغ سے مولانا مودودی نے پورا کرنے کی جدوجہد کی۔

– حرفِ اقبال، مرتبہ: لطیف احمد خان شیروانی (لاہور، ۱۹۵۵ء) ،ص ۱۴۲
۲- ایضاً، ص ۱۴۷، ۳-ایضاً،ص ۱۴۲
۴- گفتارِ اقبال، مرتبہ: محمد رفیق افضل (لاہور، ۱۹۶۹ء)، ص ۲۲۹؛ انوارِ اقبال ، مرتبہ: بشیراحمد ڈار (کراچی، ۱۹۶۷ء)، ص ۲۲۷- ۲۲۸
۵- اقبال بنام محمد جمیل (۴؍اگست ۱۹۲۹ء) مشمولہ اقبال نامہ، مرتبہ: شیخ عطاء اللہ ، حصہ دوم (لاہور، ۱۹۵۱ء) ، ص ۹۱-۹۳؛ اسی مکتوب میں اقبال نے مکتوب الیہ سے ٹیپو کے ایک روزنامچے کا علم ہونے پر اسے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
۶- سیّد محمد احمد، سوڈان کے ایک مصلح، مجاہد اور درویشوں کی تحریک کے بانی تھے۔ سوڈان کو انگریزوں اور خدیو مصر سے آزاد کرایا اور ایک فلاحی مملکت قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی وفات کے بعد عبداللہ بن محمد نے ان کے خلیفہ کے طور پر ۱۸۸۵ء سے ۱۸۹۸ء تک حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالیں، لیکن مصری حکومت نے برطانوی جنرل ہربرٹ کچنر کی قیادت میں ۱۸۹۸ء میں سوڈان پر حملہ کرکے اس اقتدار کو ختم کر دیا اور سوڈان پر پھر مصری اور برطانوی تسلط قائم ہوگیا۔
۷- کلیاتِ اقبال (فارسی) اشاعت دوم (لاہور، ۱۹۷۵ء) ، ص ۶۸۴-۶۸۶
۸- دولت عثمانیہ کے مصری نژاد وزیراعظم، ممتاز مدبر، سیاست دان اور احیاے اسلام کے موضوع پر متعدد کتابوں کے مصنف اور مغربی سیاست، تہذیب اور قومیت کے مخالف اور اسلامی تہذیب، اتحاد اور اخلاقیات کے مبلغ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ: ’’مسلمانوں کا صرف وہی وطن ہے جہاں شریعت نافذ ہو‘‘۔
۹- The Reconstruction of Religious Thought in Islam ، (لاہور، ۱۹۵۱ء)، ص ۱۵۶
۱۰- ایضاً ۱۱- ایضاً، ص ۱۵۶-۱۵۷
۱۲- کلیاتِ اقبال (فارسی)، ص ۶۵۳- ۶۵۴، ۶۶۴- ۶۶۵
۱۳- قازان (وسط ایشیا) میں جدید طرز کی اسلامی یونی ورسٹی کے بانی۔ اس درس گاہ نے روسی مسلمانوں کے انقلاب و ترقی میں نمایاں اثر پیدا کیا۔ مسلمانوں کی بیداری کی سرگرمیوں کے نتیجے میں زار کی حکومت نے انھیں قیدوبند کی صعوبتیں دیں، لیکن ان کی تحریکات کو نقصان نہ پہنچا۔ سلطان عبدالمجید خاں نے ان کی رہائی کے لیے کوشش کی۔ چنانچہ زار نے انھیں ترکی بھیج دیا، وہاں سے وہ ۱۹۱۱ء میں روس لوٹے اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں All Russia Muslim Democratic Party قائم ہوئی۔ ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلابِ روس کا انھوں نے خیرمقدم کیا۔ لیکن ان کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر اشتراکیوں نے ان کو قید کر دیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد رہائی ملی تو مئی ۱۹۱۸ء میں روسی مسلمانوں کے ایک نمایندہ وفد میں شریک ہوکر ماسکو گئے اور اشتراکی اکابر کے سامنے مسلمانوں کا یہ مطالبہ پیش کیا کہ مسلمانوں کے اداروں کو مداخلت سے پاک رکھا جائے۔
۱۴- حرفِ اقبال، ص ۱۴۸ ۱۵- ایضاً
۱۶- مکتوب بنام ، سیّد سلیمان ندوی، مؤرخہ یکم مئی ۱۹۲۴ء ، مشمولہ اقبال نامہ، مرتبہ : شیخ عطاء اللہ، حصہ اوّل (لاہور، ۱۹۵۱ء) ، ص ۱۲۸-۱۲۹
۱۷- مکتوب مؤرخہ ۲۹ مئی ۱۹۲۲ء، مشمولہ ایضاً، ص ۱۱۸
۱۸- Speeches, Writings and Statements of Iqbal مرتبہ: لطیف احمد شیروانی (لاہور، ۱۹۷۷ء)، ص ۲۲۸
۱۹- ایضاً، ص ۲۳۰ ۲۰- ایضاً
۲۱- نام وزیر علی خاں، کنیت ابومحمد مصلح تھی۔ ۱۹۰۰ء میں دیوبند گئے۔ مولانا انورشاہ کشمیری سے تلمذ حاصل ہوا۔ تحریک ِ خلافت میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ سہسرام ہی سے اپنی اصلاحی تحریک کا آغاز کیا اور الاصلاح کے نام سے رسالہ جاری کیا۔ حیدرآباد دکن منتقل ہوگئے، جہاں ’ادارئہ عالم گیر تحریک قرآنی‘ قائم کیا اور اس کے ساتھ ساتھ رسالہ ترجمان القرآن جاری کیا۔ ۱۹۳۶ء میں لاہور منتقل ہوئے اور علامہ اقبال کے انتقال (اپریل ۱۹۳۸ء)تک وہیں رہے اور پھر حیدرآباد دکن چلے گئے۔ وہاں سے قرآنی دنیا کے نام سے انگریزی اور اُردو میں مجلہ جاری کیا۔ قرآن کی تعلیم کو عام کرنے میں زندگی بھر مستعدی سے حصہ لیا۔ مستعد، حوصلہ مند، منتظم اور دین دار عالم تھے۔ (ماہنامہ ذکریٰ، رام پور، اپریل ۱۹۸۲ء، ص۵۲-۵۴)، ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی اقبال کی صحبت میں، (لاہور، ۱۹۷۷ء)،ص ۴۶۶-۴۶۷، ابومحمد مصلح اقبال اور قرآن ، (لاہور ، سنہ ندارد)
۲۲- کچھ تفصیلات کے لیے : اقبال اور قرآن، ص ۱۳-۱۴
۲۳- مکتوب، مشمولہ ایضاً، ص ۱۵ ۲۴- ایضاً، ص ۱۸
۲۵- ’’مجھے اس کتاب کی ضرورت ہے، جس میں انھوں نے بچوں کو قرآن پڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ اس قاعدے کی جاوید کے لیے ضرورت ہے‘‘۔ مکتوب بنام ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی، مؤرخہ اکتوبر ۱۹۳۶ء، مشمولہ اقبال نامہ، حصہ دوم، ص ۳۳۶-۳۴۰۔غالباً یہ قاعدہ قرآنِ مجید معہ بچوں کی تفسیر کے نام سے شائع ہوا۔ اس کا ذکر ابومحمد مصلح نے کیا ہے۔ (ص ۱۷-۱۸)
۲۶- سیّدابوالاعلیٰ مودودی، مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش، حصہ سوم (پٹھان کوٹ، بارسوم) ، ص۴
۲۷- مکتوب، بنام مصطفیٰ المراغی، مؤرخہ ۵؍اگست ۱۹۳۶ء، مشمولہ خطوطِ اقبال،مرتبہ: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی (لاہور، ۱۹۷۶ء)، ص ۲۸۵؛ نیز مکتوب دیگر ، مشمولہ ، اقبال نامہ ، حصہ اوّل، ص ۲۵۱-۲۵۳
۲۸- چودھری نیاز علی خان ، دارالاسلام کی حقیقت بحوالہ قاضی افضل حق قرشی، ’نادراتِ اقبال‘ مشمولہ صحیفہ (لاہور)، اقبال نمبر ، ۱۹۷۳ء، حصہ اوّل، ص ۲۲۹-۲۳۰۔
۲۹- جس کی تفصیل ایضاً، ص ۲۳۰، سیّد نذیر نیازی ’علامہ اقبال کی دعوت پر مولانا مودودی پنجاب میں‘ مشمولہ ہفت روزہ ایشیا ، لاہور، ۱۷؍اپریل ۱۹۶۹ء، نیز ’’ کیا مولانا مودودی علامہ اقبال کی دعوت پر پنجاب آئے؟‘‘ (مشمولہ ایضاً، ۱۹؍اپریل ۱۹۷۰ء)۔
۳۰- مکتوبِ مولانا مودودی، مشمولہ سیّد اسعد گیلانی، مولانا مودودی سے ملیے، (سرگودھا، ۱۹۶۲ء)، ص ۳۳۸ ۳۱- ایضاً، ص ۲۵۳-۲۵۶