اپنی مظلوم بیٹی کے نام!

علامہ یوسف القرضاوی

میری چہیتی بیٹی ’عُلا، میرے جگر کے ٹکڑے، میرے دل کی زندگی، میر ی روح کی ٹھنڈک،
میری پیاری بیٹی! تم پر میرا دل نثار ہے، میرے دل کی ساری محبت نثار ہے، میری محبت کی ساری صداقت نثار ہے، اور میری صداقت کا سارا خلوص نثار ہے۔ میری پیاری بیٹی، سودن سے زیادہ ہوگئے، تمھیں باغیوں اور سرکشوں کی جیلوں میں رہتے ہوئے۔ آہ! مظلوم کے اُوپر ظلم کے دن کتنے بھاری گزرتے ہیں،ایک دن ایک برس کے برابر لگتا ہے۔ مگر تسلی رکھو، اللہ نے چاہا تو ظلم کے یہ دن بھی ختم ہوں گے۔ تم اور تمھارے شوہر اپنے گھر والوں اور اپنے بچوں کے درمیان ضرور لوٹو گے، اس طرح کہ سلامتی تم پر سایہ فگن ہوگی، اور اللہ کی رحمت کی تم پر بارش ہوگی۔ تم نے سوچا ہوگا کہ ظالموں کا دھیان تمھاری طرف نہیں جائے گا، کیوں کہ تم ہمیشہ ان سے دُور رہی، نہ ان کے ملک میں پیدا ہوئی، نہ ان کے اسکول اور کالج میں داخلہ لیا، نہ ان کے محکمے میں نوکری کی، پھر ان سے تمھارا کیا لینا دینا ؟
تم ایک بیوی ہو، ایک ماں اور ایک دادی ہو، ایک امن پسند عورت ہو، اپنے ملک کے سفارت خانے میں ملازم ہو، جس کی تمھارے پاس شہریت ہے، ان کا تمھاری ملازمت سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر تمھارا سیاست سے بھی کوئی تعلق نہیں رہا، البتہ تمھارے شوہر کا سیاست سے ضرور تعلق رہا، مگر وہ بھی کسی ممنوعہ پارٹی سے نہیں، بلکہ وسط پارٹی سے، جو ملک کی ہر طرح سے تسلیم شدہ اور قانونی پارٹی ہے۔ اس کے باوجود تمھارے شوہر کو ان ظالموں نے دوسال سے زیادہ عرصہ جیل میں بند رکھا، عدالت میں مقدمہ چلایا، جب کچھ نہیں ملا تو پھر کافی عرصے بعد رہا کیا، اور اب پھر

انھیں جیل میں ڈال دیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ تمھارے شوہر ہیں۔ ہرانسان اصولی طور سے قانون کی نگاہ میں بے گناہ ہوتا ہے۔ ہرقانون میں، ہر ملزم بھی بے گناہ ہوتا ہے ، جب تک کہ منصف عدالت اسے مجرم قرار نہ دے دے۔ اس کے بعد بھی اسے اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور اعلیٰ عدالت بھی اس وقت تک اُس کے ساتھ ہوتی ہے، جب تک اس کی بے گناہی یا جرم کا فیصلہ نہ ہوجائے۔ یقینا اللہ تعالیٰ کی ذاتِ واحد ہرچیز سے باخبر ہے۔
میری بیٹی، آخر یہ ظالم تمھارے ساتھ ایسی سنگ دلی کا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ انھوں نے تم کو ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں تنہا کیوں قید کر رکھا ہے؟ جہاں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ کب دن کا اُجالا آیا اور کب رات کی تاریکی اُتری؟ بلکہ میرا سوال یہ ہے کہ تم کو قید ہی کیوں کیا گیا؟ اور عدالتی کارروائی کے دوران تمھارے خلاف اس قدر پروپیگنڈا کیوں کیا گیا؟ تم کو بنیادی حقوق سے کیوں محروم رکھا گیا؟ نہ کوئی تم سے مل سکتا ہے اور نہ تمھاری صحت اور دوا کا کوئی خیال اور انتظام ہے۔ تم نے تو کوئی بڑا گناہ تو کیا کوئی چھوٹا گناہ بھی نہیں کیا،نہ دین کے معاملے میں اور نہ دنیا کے سلسلے میں، نہ کسی مظاہرے میں حصہ لیا اور نہ کسی مہم جوئی میں شریک ہوئی۔ کتنے سال سے تم اس ملک میں رہتی بستی، ضابطے اور قانون کے مطابق سفر بھی کرتی رہیں، تمھارے ریکارڈ پر کبھی کوئی حرف نہیں آیا، پھر اب ایسا کیا ہوگیا؟
لگتا ہے کہ اچانک انھیں یاد آگیا کہ تم قرضاوی کی بیٹی ہو۔ میری بیٹی، تمھارا باپ بھی کون ہے؟ زندگی بھر دنیا والوں کے بیچ دین کا دامن تھامے چلتا رہا، لوگوں کو دین سکھانے کا کام کرتا رہا، داعی اور معلم، شاعر اور مصنف۔ کبھی اپنی اُمت کے ساتھ اس نے خیانت نہیں کی۔ کبھی اس نے اپنی اُمت کے مشن کے ساتھ بے وفائی نہیں کی۔ جب سے لوگوں نے اسے جانا ہے، اور نوّے سال سے زیادہ عمر ہوجانے تک زندگی میں ایک بار بھی اس نے اپنی اُمت کو کوئی دھوکا نہیں دیا۔ تمام براعظموں کا سفر کیا، سارے اہم ملکوں کا دورہ کیا، لیکن کہیں بھی اُمت کے کسی مسئلے کو فراموش نہیں کیا۔ مسلمانوں کے تعلق سے اپنی کسی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹا۔ اگر یہ سب کچھ انھیں اچھا نہیں لگا، اور اس لیے اچھا نہیں لگا، کیوں کہ انھیں نہ تو اسلام کی فکر ہے، نہ اُمت مسلمہ کی فکر ہے، نہ اسلامی تہذیب کی فکر ہے، تو آخر اس میں تمھارا کیا قصور ہے؟ تمھیں

یہ کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ یا تم پر ظلم کے پہاڑ توڑ کرتمھارے باپ کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ انھوں نے تمھارے باپ پر بھی مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ الزام یہ لگایا ہے کہ اس نے ۸۵سال کی عمر میں جیل میں گھس کر اس جیل سے قیدیوں کو نکال بھگایا تھا، جس کا نام بھی اس نے پہلے کبھی نہیں سنا۔ خود ا س الزام کو بھی اس کی خبر نہیں ہے!
یہ ظالم اپنے دل کا کینہ اور نفرت اب ایک آزاد خاتون پر انڈیل رہے ہیں، اسے شکست دینا چاہتے ہیں، لیکن اللہ انھیں شکست دے گا۔مجھے یقین ہے، میرا رب میری بیٹی کی نگہداشت کرے گا، اپنی اس آنکھ سے جو سوتی نہیں ہے۔ میرا ربّ اس کی حفاظت کرے گا، اپنی اس پناہ میں رکھے گا جہاں کسی کی پہنچ نہیں ہے۔ میری بیٹی عُلا!تمھارے نام کا مطلب بلندی ہے، تو سمجھ لو کہ اللہ نے چاہا ہے کہ تمھارے نام کی برکت تمھیں حاصل ہوجائے۔ اس نے چاہا ہے کہ دنیا اور آخرت میں تمھارے درجات بلند کرے۔ ان آزمایشوں سے تمھاری نیکیوں کا ترازو بھاری کرے۔ تم جیل کی تنگ کوٹھڑی میں رہتے ہوئے اللہ کے نزدیک اُونچے محل میں رہنے والے سرکش ظالم کے مقابلے میں بہت بلند ہو، اور اللہ کو اور اللہ کے بندوں کو اس کے مقابلے میں بہت زیادہ محبوب ہو۔ تصور کرو، دنیا کے کونے کونے میں مومن مرد اور عورتیں تمھارے لیے استغفار کر رہے ہیں، تمھارے لیے اللہ سے دُعا کر رہے ہیں۔ اللہ تمھیں اور تمھارے تمام مظلوم بھائیوں اور بہنوں کو جلد رہائی عطا کرے، اور ان ظالموں کو ان کے ظلم کا مزہ چکھائے۔ ان کی یہ دُعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی، ضرور رنگ لائیں گی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ تمھاری اور تمھارے شوہر کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، تمھارے دلوں کو سکون ملے، تمھارے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلے۔
میری بیٹی! یقین رکھو کہ ان جیلوں میں ستائے جانے والے مظلوموں کی ایک دُعا اتنی تاثیر رکھتی ہے کہ ظالموں کی ساری دنیا تباہ و برباد کرڈالے، اور انھیں ناکام و نامراد کردے۔ تسلی رکھو کہ تمھارا ربّ ان کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے، اور ظالموں کو ضرور معلوم ہوجائے گا کہ انھیں کس انجام سے دوچار ہونا ہے!
تمھارے ابو!
یوسف القرضاوی