تاریخی پس منظر

اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں برعظیم کے مسلمانوں کو اپنے ملّی تشخص کے حوالے سے شدید کش مکش کا سامنا تھا۔ سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے بعد برطانوی سامراج نے مسلمانوں کو سیاسی، معاشی، مذہبی، اخلاقی، ثقافتی، ہر حیثیت سے غلام بنانے کی کوشش کی۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور جدوجہد کی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی اور سیداحمدشہیدؒ کی تحریکِ جہاد اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

انیسویں صدی کے اواخر میں مسلمانوں کی حالت ایک ہاری ہوئی فوج کی سی تھی جو مغربی فکر سے مغلوب ہوچکی تھی۔ لیکن مجموعی طور پر مسلمانوں نے اس راستے کو اختیار نہیں کیا تھا۔ ایک کش مکش جاری تھی۔ ایک گروہ نے نئے تقاضوں سے بالکل آنکھیں بند کر کے ماضی کی تقلید کا فیصلہ کرلیا تھا۔

بیسویں صدی میں برعظیم کے حالات نے ایک نیا رُخ اختیار کرلیا۔ نئی تحریکیں اُبھر کر سامنے آئیں۔ سیاست کا انداز بدلنے لگا، جمہوری طریقے فروغ پانے لگے۔ انگریز سے نجات اور آزادی کی تحریک آگے بڑھتی محسوس ہورہی تھی۔ ہندو مسلم اتحاد کا چرچا تھا، مسلم قومیت کا مسئلہ بھی درپیش تھا، جمہوری طریقے پر انتخابات کے نتیجے میں ہندو غلبہ واضح تھا۔ مسلمان اپنے ملّی تشخص اور تہذیب و تمدن کا تحفظ بھی چاہتے تھے مگر ان کو کوئی راہ نہیں سوجھ رہی تھی ۔ ایسی قیادت بھی سامنے نہیں تھی جو صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکے۔ سیاسی طور پر قیادت کرنے والا گروہ اسلام کے تصور اور تہذیبی و تمدنی تقاضوں سے نابلد تھا اور مغربی اور جمہوری انداز میں مسائل کا حل چاہتا تھا۔ علما ماضی میں ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے تھے مگر وہ نئے حالات اور جدید تقاضوں سے ناواقف تھے اور اب اس پوزیشن میں بھی نہ رہے تھے کہ قیادت کر سکیں۔ ایک نیا انقلاب تھا جو ہر صاحبِ فہم کو بصیرت کی آنکھوں سے اُمڈتا ہوا نظر آرہا تھا۔ ان حالات میں مسلمانوں کو صحیح خطوط پر رہنمائی کی ضرورت تھی مگر صحیح فکر اور درست سمت میں رہنمائی کے لیے قیادت کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان ایک مخمصے کا شکار تھے۔

ان حالات میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے احیاے اسلام اور ملت اسلامیہ کی صحیح سمت میں فکری رہنمائی اور جدوجہد کے لیے قلم و قرطاس اور صحافت کے میدان کو چُنا۔ ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ وہ پرچہ تھا جس سے آپ نے اس تحریک کو آگے بڑھایا۔

مولانا مودودیؒ کی ادارت میں پہلا شمارہ محرم ۱۳۵۲ھ/ مئی ۱۹۳۳ء میں شائع ہوا۔ پہلے اداریے میں انھوں نے ان خیالات کا اظہار کیا تھا کہ پیش نظر کام قرآنِ مجید کے پیغام کو اس کی اصلی صورت میں پیش کرنا، اور اس کے حقائق و معارف کو اس سیدھے سادے طریقے سے سمجھانا ہے جس طرح قرنِ اوّل کے سچے مسلمان سمجھتے اور سمجھاتے تھے۔

یہ ’ترجمان القرآن‘ کی ابتدا تھی۔ بہ تدریج اس تاریخ ساز رسالے نے ایک عہد کی تعمیر کی اور ملّت اسلامیہ کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔

’ترجمان القرآن‘ نے علمی و عقلی بنیادوں پر اسلام کے تصور کو اُجاگر کیا، عصرِجدید کے تقاضوں کے مطابق مسائل زندگی کا حل پیش کیا اور اسلام کو ایک نظامِ زندگی کے طور پر واضح کیا۔ اس نے اس فکر کے حاملین کو عملاً مجتمع اور منظم کرنے اور اسلامی تعلیمات کے نفاذ اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے ’’جماعت اسلامی‘‘ کے قیام میں کلیدی کردار بھی ادا کیا۔ ’ترجمان القرآن‘ کے ذریعے ہی مولانا مودودیؒ نے حساس ذہنوں اور دردمند دلوں کو احیاے اسلام کے لیے تیار کیا اور عملاً ایک تحریک برپا کر دی۔

’ترجمان القرآن‘ آج بھی اس مشن کو آگے بڑھا رہا ہے۔ سید مودودیؒ کے بعد عبدالحمید صدیقیؒ اور نعیم صدیقیؒ نے اس فکر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ۹۰ کے عشرے میں’ترجمان القرآن‘ ایک نئی آن بان کے ساتھ خرم مرادؒ کی ادارت میں سامنے آیا اور اُمت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اسی طرح فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دینے لگا۔ جیساکہ سیدمودودی مرحوم کی زندگی میں اس کا نمایاں وصف رہا تھا۔

۱۹۹۷ء سے پروفیسر خورشیداحمد کی ادارت میں ’ترجمان القرآن‘، قرآن کے مفاہیم، حدیث کا فہم، اسوۂ حسنہ، سیرت النبیؐ کا پیغام، فقہی مسائل میں رہنمائی، تزکیہ و تربیت، مغرب اور اسلام کی کش مکش اور اُمت مسلمہ کو درپیش مسائل کا علمی وفکری حل پیش کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔