دینی مدارس: حکومتی پالیسی اور مطالبے؟

ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

پاکستان کی وفاقی حکومت ’دینی مدارس کوقومی دھارے میں لانے‘ کے دعوے کے ساتھ مذاکرات، بیانات اور دبائو کو بروے کار لارہی ہے۔ اتحاد تنظیماتِ مدارس دینیہ کے نمایندہ وفد کی یکم اپریل ۲۰۱۹ء کو آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور ۲؍اپریل کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقاتوں سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔ پھر وفاقی وزارتِ تعلیم اور وفاق ہاے مدارس کے مابین ۶مئی ۲۰۱۹ء کو ایک اہم اجلاس ہوا جس کی رپورٹ اخبارات میں یوں چھپی:
وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت دینی مدارس کے حوالے سے ایک اہم اجلاس میں اتحاد تنظیماتِ مدارس پاکستان کے سربراہان اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ :
۱- تمام دینی مدارس و جامعات، اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے ساتھ طے شدہ رجسٹریشن فارم کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹریشن کرانے کے پابند ہوں گے۔
۲- اس مقصد کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت پورے ملک میں۱۰؍ریجنل دفاتر رجسٹریشن کے لیے قائم کرے گی۔
۳- وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مدارس و جامعات کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کی مجاز اتھارٹی ہو گی۔

۴- جو مدارس و جامعات وفاقی وزارتِ تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ نہ ہوں گے، وفاتی حکومت اُنھیں بند کرنے کی مجاز ہو گی۔
۵- جو مدارس و جامعات رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے ، اُن کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔
۶- وہ مدارس و جامعات جو وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گے، اُنھیں بنکوں میں اکاؤنٹ کھولنے کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم معاونت کرے گی۔
۷- وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس وجامعات ہی غیر ملکی طلبہ کو تعلیم کی سہولت مہیا کر سکیں گے ۔ اس سلسلے میں وزاتِ تعلیم کی سفارش پر ان طلبہ کو اُن کی مدتِ تعلیم (جو زیادہ سے زیادہ ۹ سال ہوگی) اور حکومتی قواعد وضوابط کے مطابق ان کے لیے ویزوں کے اجرا میں معاونت کرے گی۔
۸- ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے وزارت کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس وجامعات میٹرک اور ایف اے کے بعد فنی تعلیمی بورڈ کے ساتھ الحاق کر سکیں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، نائب صدر’وفاق المدارس العربیہ، مُفتی محمد رفیع عثمانی ،ناظمِ اعلیٰ وفاق المدارسُ العربیہ، پاکستان‘ مولانا محمد حنیف جالندھری، صدر ’تنظیم المدارس اہل سُنّت‘، مفتی مُنیب الرحمٰن، جنرل سیکرٹری ’وفاق المدارس السّلفیہ، مولانا محمد یٰسین ظفر ،نائب صدر’ وفاق المدارس الشیعہ، سیّد قاضی نیاز حسن نقوی، جنرل سیکرٹری، رابطۃ المدارس الاسلامیہ، ڈاکٹر عطاء الرحمٰن ،جنرل سیکریٹری’وفاق المدارس الشیعہ‘، مولانا محمد افضل حیدری اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ (روزنامہ نواے وقت، ۷مئی ۲۰۱۹ء)
چند روز قبل اسی فیصلہ کی بازگشت دوبارہ یوں سنی گئی:
’’وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود{ FR 654 } نے اعلان کیا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ملک بھر میں ۱۲ مراکز کھولے جائیں گے اور مدارس کے مسائل کا حل وزارتِ تعلیم مقامی انتظامیہ سے

پاکستان تحریک ِانصاف کی حکومت میں وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود اپنے مذہبی رجحانات میں آزاد رو ہیں۔ (دیکھیے: اسلام آباد ہائی کورٹ، مقدمہ ، ۳۸۳۲/ ۲۰۱۷ء)

مل کر نکالے گی۔ ’ایک قوم ایک تعلیم ‘ہمارا ہدف ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن سے نہ صرف مدارس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے گی بلکہ اس سے یکساں تعلیمی نصاب رائج کرنے میں بھی آسانی ہوگی‘‘۔(روزنامہ نواے وقت ، ۲۷ جولائی ۲۰۱۹ء)
مذاکرات کے دوسرے دور میں ۱۶جولائی کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باوجوہ سے ملاقات ہوئی۔۱۷ جولائی ۲۰۱۹ء کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سابقہ فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ طلبہ مدارس کی میٹرک اور ایف کی اسناد کے لیے یہ ہدایت کی گئی کہ:ان کے جملہ امتحانات وفاقی ثانوی تعلیم بورڈ (فیڈرل بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) کے تحت منعقد کروائے جائیں گے۔ اساتذہ اور ممتحن حضرات کی خصوصی تربیت کی جائے گی۔ تاہم، وفاق ہاے مدارس کے اتفاق نہ کرنے پر، حکومت کی طرف سے: ’’ان امتحانات کو صرف اُن پرچوں تک محدود کرنے کا کہا گیا، جو حکومت کی طرف سے بطورِ لازمی مضمون پڑھائے جاتے ہیں‘‘۔ اس سلسلے میں وفاق ہاے مدارس سے کہا گیا کہ وہ اپنی مجلس شوریٰ سے اس پر منظور ی حاصل کریں۔ مذاکرات کا تیسرا دور ۱۹؍اگست ۲۰۱۹ء کی نشست سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں مدارس اپنا موقف پیش کریں گے۔
مدارس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طلبہ و طالبات کے لیے ایم اے کی سند تو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دور۱۹۸۲ءمیں منظور ہوئی تھی، جس میں ایم اے کو تمام میدانوں کے لیے جامع تر کرنے اور اس کی بنا پر گریجوایشن کرنے کا طریقہ بھی طے کیا گیا تھا۔ تاہم، صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس پر کچھ شرائط عائد کی گئیں۔ حال ہی میں ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ (HEC) نے بی اے کی سند کے بارے بھی ایک اعلامیہ{ FR 655 } جاری کیا ہے۔ اُصولاً ۱۹۸۲ء میں ایم اے معادلہ (Equivalence) کے فوری بعد ہی مدارس کے باقی تعلیمی مراحل کی اسناد کی منظوری کی طرف پیش قدمی ہونا چاہیے تھی، لیکن ۳۷برس گزر جانے کے بعد بھی تاحال، پاکستان میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے میٹرک اور ایف اے کی سند کے اعتراف کا کوئی باضابطہ نظام نہیں بن سکا۔

ایچ ای سی کی ’اسناد کو مساوی اور معتبر قرار دینے والی کمیٹی‘ نے ۲فروری۲۰۱۷ء کو فیصلہ کیا، اور نوٹیفکیشن نمبر 8(61)/A&A/2017/HEC ، ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء جاری کیا۔(دیکھیے: ماہنامہ محدث ، اکتوبر۲۰۱۷ء ،ص ۱۷)

جنرل مشرف دور کے جاری کردہ حکم نامے ۲۰۰۵ء کے مطابق وفاق ہاے مدارس سے ایم اے کی سند کا معادلہ انھی کو ملتا تھا، جن کے پاس مدارس کی میٹرک، ایف اے اور بی اے مراحل کی سند موجود ہوتی۔ اگر پہلی دو اسناد پر کوئی سخت پابندی لگا دی جاتی ہے، تو باقی اسناد (بی اے اورایم اے یعنی الشهادة العالمية) کا مرحلہ آنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اسی طرح اگر مدارس کی ابتدائی اسناد کے ساتھ ان کی رجسٹریشن بھی وزراتِ تعلیم کے ہاتھ میں ہوجائے تو وفاق ہاے مدارس کے پورے ۳۷ سالہ نظام کا ہی بوریا بستر لپیٹا جاسکتا ہے۔
اُصولی اور مستقل لائحہ عمل
۱- سرکاری اور نجی یونی ورسٹیوں کو حکومتی گرانٹس بھی ملتی ہیں، اور یہ ادارے اپنے منظور شدہ نظام تعلیم کے ساتھ دیگر کالجوں کو بھی ملحق (affiliate)کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف دینی مدارس پر پاکستان کی وفاقی یا صوبائی حکومتیں عمارتوں، یوٹیلٹی بلز، اساتذہ وعملہ کی تنخواہوں اور نصابی کتب کی مد میں کچھ خرچ نہیں کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں برطانوی او لیول اور اے لیو ل کی تعلیم جاری ہے۔ پھر فرانس کے اسکولوں وغیرہ میں مروّجہ انٹربیچلوریٹ کورس بھی کرایا جاتا ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹس کے انٹر اور بیچلر مرحلے کے کورسوں اور ڈپلوموں کے امتحانات بھی منعقد ہوتے ہیں۔ اور حکومتِ پاکستان ان کورسوں کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دیتی اور ان کی عطا کردہ اسناد کو بھی منظور کرتی ہے۔ انھی اسناد کی بنا پر اُنھیں قومی جامعات میں داخلے اور ملازمت کی سہولت بھی دیتی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان تمام مراحل مثلاً اے لیول اور آئی بی کی انٹرڈگریوں میں قومی نظامِ تعلیم کے تقاضوں کی پاس داری بھی نہیں کی جاتی اور ان میں لازمی مضامین: اُردو، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان سمیت انگریزی زبان کی لازمی تعلیم بھی نہیں دی جاتی۔
اس لیے اگر دینی مدارس پر قومی وسائل کا کوئی حصہ بھی صرف نہیں کیا جاتا، تو پھر ان پر ملک میں جاری دیگر نظاموں کی طرح قومی نصابِ تعلیم کے لازمی تقاضے عائد نہ کیے جائیں۔ جو رعایت برطانیہ، فرانس، اور کامرس کے عالمی اداروں کو حاصل ہے، وہی استثنا دینی مدارس کو بھی حاصل ہونا چاہیے۔حالانکہ مذکورہ متوازی تعلیمی نظاموں کے برعکس دینی مدارس مسلم معاشرے پر عائد لازمی دینی تعلیم کے فریضے کی تکمیل میں مدد کررہے ہیں، جو دراصل پاکستان جیسے ملک کا

بنیادی تقاضا ہے۔ اس بنا پر حکومت کا یہ مطالبہ بنیادی طور پر درست نہیں کہ باقی نظام ہاے تعلیم کو چھوڑ کر، صرف مدارس کو قومی تعلیمی نظام کا پابند کیا جائے۔
۲- عصری مضامین پر حکومت کے اصرار پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ صرف دو چار مضامین کی بات نہیں ہے بلکہ میٹرک کے لازمی مضامین میں مذکورہ بالا چار لازمی مضامین کے ساتھ سائنس وریاضی (یعنی کل چھے مضامین) کا امتحان ضروری ہے۔{ FR 656 } تاہم، مولانا محمد حنیف جالندھری لکھتے ہیں: ’’عصری مضامین، یعنی میٹرک میں انگریزی، ریاضی، اُردو اور مطالعہ پاکستان، جب کہ انٹرمیڈیٹ میں انگریزی، اُردو اور مطالعہ پاکستان کا امتحان وفاقی تعلیمی بورڈ لے اور دینی مضامین کے نمبروں کو شامل کرکے نتیجہ اور ڈگری جاری کرے‘‘۔(ماہ نامہ وفاق المدارس، ملتان، اگست ۲۰۱۹ء)
اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مدارس میں پڑھائے جانے والے ۸،۹ بھاری مضامین کا وزن{ FR 657 } کیا رہ جاتا ہے؟پھر اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ وفاقی تعلیمی انٹر بورڈ اپنے اصل مطالبے کو سامنے رکھتے ہوئے، جیسا کہ اجلاس میں بتایا گیا، ملحق ہوجانے کے بعد اس امتحان کو مستقبل قریب میں اپنے معروف طریقۂ کار کے مطابق باقی تمام مضامین تک وسیع نہ کر دے؟ محترم مولانا جالندھری کے الفاظ سے بھی پتا چلتا ہے کہ: ’’فی الوقت وفاقی بورڈ نے ہی لازمی عصری مضامین کے ساتھ وفاق کے امتحانات پر انحصار واعتماد کرتے ہوئے دینی مضامین کی سند جاری کرنا ہے‘‘۔
۳- وفاقی تعلیمی بورڈ کے امتحان لینے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ تعلیمی ادارہ اور مدرسہ اُن کے پاس رجسٹرڈ ہو، تاکہ وہ اسے اپنے ساتھ ملحق کرسکے۔جب مدارسِ دینیہ کی بنیادی سندوں کی منظوری ہی اس بات سے مشروط کر دی گئی کہ وفاقی تعلیمی بورڈا ن کے بنیادی لازمی مضامین کا

۱۶؍ اگست ۲۰۰۵ء کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس محمد افتخار چودھری نے فل بنچ کے سربراہ کے طور پر قرار دیا کہ ’’ صرف انھی دینی مدرسوں کی سندیں قابل قبول ہوں گی، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ ہوں اور یہ سندیں میٹرک کے مساوی اس وقت سمجھی جائیں گی جب طالب علم نے کسی بورڈ سے انگریزی، اُردو اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین پاس کیے ہوں‘‘۔

ماضی میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کا درسِ نظامی گروپ اسی بنا پر زیادہ پذیرائی حاصل نہ کرسکا، کیونکہ اس میں بھی مڈل سے لے کر ایم اے تک کے نصاب میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ میٹرک ، ایف اے اور بی اے میں بھاری جدید نصاب رکھا گیا تھا۔

مستند امتحان لے کر سند جاری کرے ، توپھر وفاق کے آیندہ اعلیٰ امتحان بھی گویا وفاقی انٹربور ڈ کے رحم وکرم پر ہوگئے، اور اس طرح ان اعلیٰ اسناد کی مستقل حیثیت پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔
۴-ایک طرف حکومتی موقف میں کوئی معقولیت نہیں کہ اس میں مدارس کے ساتھ امتیازی سلوک پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف اس سلسلے میں سیکورٹی ’اداروں ‘کا کردار اپنے دائرۂ عمل سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی شان دار خدمات کے اعتراف کے ساتھ، پاکستانی ریاستی دستور ان کو تعلیمی وسیاسی اُمور کے بجاے صرف دفاع تک محدود کرتا ہے۔ اس صورت میں وزارت ِ تعلیم یا وزراتِ مذہبی اُمور کے دائرۂ عمل میں ان ’اداروں‘ کی شرکت کا جواز نہیں۔
۵- اسی طرح وفاقی وزارت ِ تعلیم کا پاکستان بھر کے مدارس کے معاملات کو طے کرنا، ان کے آئینی کردار سے تجاوز ہے، کیونکہ اٹھارھویں ترمیم کے بعد: ’’تعلیم ، وفاق کے بجاے صوبوں کے دائرۂ عمل میں ہے، اور تعلیمی معاملات کی نگرانی ہر صوبائی حکومت کرتی ہے‘‘۔
۶- اس صورتِ حال میں وفاق ہاے مدارس کو باضابطہ آئینی طریقۂ کار کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں تنظیماتِ وفاق نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ بلکہ معاہدہ{ FR 658 } بھی کررکھا ہے کہ: ریاستی سطح پر ایسا آئینی بورڈ منظور کیا جائے گا، اور حکومت سے منظور شدہ بورڈ کے تحت تما م مسالک کے مدارس اپنی اسناد کے امتحان لیں گے۔{ FR 659 } لیکن حکومت نے ان کے مطالبات کا سنجیدگی سے

مسلم لیگ ن کی حکومت میں وزیر مملکت (براے وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ) بلیغ الرحمٰن کا اتحادِتنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے ساتھ معاہدہ جولائی ۲۰۱۶ء کو قومی اخبارات میں رپورٹ ہوا۔ اس کی رُو سے مدارس کے طلبہ کو مختلف مراحل میں جدید سائنسی مضامین، انگلش اور مطالعہ پاکستان کے مضامین پڑھائے جائیں گے۔ اس کے بدلے میں حکومت ان طلبہ کے امتحانات کے بعد اُنھیں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیم کے مساوی تسلیم کرے گی۔ مدارس کی تعلیم کو ’ایکٹ آف پارلیمنٹ ‘ کے تحت تسلیم کیا اور ۳۵ ہزار مدارس کو اس نظام میں لایا جائے گا (ماہ نامہ محدث، اکتوبر ۲۰۱۷ء، ص ۱۶)۔ اس معاہدے میں سرکاری بورڈوں کے بجاے مدارس کی تعلیم کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت اپنے بورڈ بنانے کی منظوری کا معاہدہ کیا گیا تھا، جس سے موجودہ حکومت منحرف ہوگئی۔

وزیر مملکت بلیغ الرحمٰن نے کہا: ’’اس سلسلے میں امتحانی بور ڈز کے ڈھانچے کو پورا کرنا ہو گا اور اتحادِ تنظیمات مدارس کے بورڈز کو قانونی شکل دینے کے بارے میں ضروری مراحل طے کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں گے‘‘۔(روزنامہ نوائے وقت،۱۴ جولائی ۲۰۱۶ء)

جواب نہیں دیا۔
یہ ضروری ہے کہ تمام وفاق ہاے مدارس مل کر، آئینی بورڈ اور یونی ورسٹی کی درخواست کے مطلوبہ رسمی تقاضے پورے کریں۔ پہلے ایک بورڈ کے تحت جملہ مسالک کے خصوصی نصابات کو تحفظ دیا جائے، پھر بہ تدریج اپنے اپنے مستقل بورڈوں کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ جب پاکستان میں ڈیڑھ سو سے زائد پرائیویٹ یونی ورسٹیاں چارٹر منظور کراسکتی ہیں، تو پھر دینی مدارس کو اس کی طرف پیش قدمی میں کیا رکاوٹ ہے؟
مدارس کے اپنے مستقل بورڈوں کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ ایف اے کے بعد ،بی اے اور ایم اے کی روایتی تعلیم کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے،اور روایتی بی اے/ایم اے کا مستقبل (جو پرائیویٹ امتحان کی سہولت دیتا تھا) پاکستان میں ختم ہورہا ہے۔
یہاں پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ دستورِ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان یہاں کی حکومتوں کو اسلامی تعلیم و تربیت کی طرف متوجہ کرتا ہے،جس کی پابندی ہرحکومت کی قانونی ذمہ داری ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیے دستورِ اسلامی جمہوریہ پاکستان:
دفعہ۳۱: (۱) : پاکستان کے مسلمانوں کو، انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انھیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیےاقدامات کیے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔
(۲) پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی:
الف :قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا۔
ب:اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیارات کی پابندی کو فروغ دینا ۔
ج: زکوٰۃ، عشر ، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔
حکومتی مطالبوں کے لیے وقتی اور فوری حکمتِ عملی
ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت سے مکالمے کے دوران میں یہ پہلو بھی پیش نظر رکھے جائیں:

اجلاس کے ایجنڈے میں ’وفاقی تعلیمی بورڈ سے الحاق‘ کے لیے کہا گیا ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی تعلیمی بورڈ سے ان کا باقاعدہ الحاق کیا جائے جیساکہ پاکستان میں تمام سرکاری سکول ، اِنھی بورڈوں سے منسلک ہوکر بطورِ باقاعدہ طالب علم میٹرک اور ایف اے کا امتحان دیتے ہیں۔ جب کو ئی تعلیمی ادارہ یا مدرسہ، کسی بورڈ سے الحاق کرتا ہے ، تو سرکاری روایت کے مطابق بورڈ ان پر اپنے قوانین لاگو کرتے اور پھر وہ ایسی بے رحمی سے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہیں کہ ملحقہ ادارے بلبلا اٹھتے ہیں۔ سکول یا مدارس تو چلیے کم زور تعلیمی ادارے ہیں، بڑی بڑی پبلک یا پرائیویٹ یونی ورسٹیوں کے سامنے جب ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ اپنے ہرآن بدلتے قوانین نافذ کرتا ہے ، تو ان اربوں کے بجٹ والی یونی ورسٹیوں کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ عمارتوں کی انسپکشن، ہرسال تجدید کے لیے فیسوں ، ان کے عملے کی بے جا مداخلتوں اور بلیک میلنگ جیسے تکلیف دہ معاملات سامنے آتے رہتے ہیں۔ الحاق کی صورت میں تمام پرچوں کے امتحانات، ان کے شیڈولز، پرچوں کی تیاری اور پھر ان کی چیکنگ، بورڈوں کے افسران اور ان کے منظورِنظر ممتحن کرتے ہیں۔ اور یہ ممتحن جس بے دلی، بے دردی اور سفاکی سے پرچوں کی جانچ کرتے ہیں، اس پر ایک زمانہ گواہ ہے۔اگر کسی مرحلے پر طلبہ کی تعداد میں کوئی اضافہ یا کسی ضابطے میں کوئی کوتاہی ہوجائے، تو ایسے تعلیمی بورڈوں کے افسران نئے داخلوں پر بندش سے لے کر سند جاری کرنے میں رکاوٹ تک کے تمام قانونی اقدامات کرتے ہیں۔ اس لیے مدارسِ دینیہ کا مکمل طور پر کسی سرکاری بورڈ سے یوں ملحق ہونا کہ ان کے طلبہ بطور ریگولر طالب علم میٹرک ، اور ایف اے کے امتحان میں شریک ہوں، گویا اپنی خود مختاری گروی رکھنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے بہرصورت گریز کرنا چاہیے۔قومی تعلیمی ادارے خالصتاً مادی تعلیم پر یکسو ہیں۔ ان کی پیروی اختیار کرنے والے اداروں میں علومِ نبوت کا علم و عمل بہت مشکل ہوگا۔
۲-پاکستان کے اکثر دینی مدارس عصر کے بعد، یعنی سیکنڈ شفٹ میں مستقل اساتذہ کے ذریعے مڈل، میٹرک، ایف اے اور بی اے کی تیاری کراتے ہیں۔ یہ طلبہ کسی بورڈ میں پرائیویٹ اُمیدوار کے طورپر تمام پرچوں کا امتحان دیتے ہیں کہ اس وقت تک دینی مدارس کے طالب علم کے لیے قومی نظام تعلیم سے سند حاصل کرنے کا یہی بہترین طریقہ رہا ہے ۔

ویسے بھی پہلے ہی وفاق المدارس کے تحت میٹرک ، ایف اے اور بی اے میں حکومت نے طلبۂ مدارس کے لیے جتنے بنیادی مضامین لازمی کر دیے ہیں، یعنی:
l میٹرک میں چھے : انگریزی، اُردو، جنرل ریاضی، جنرل سائنس، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات
l ایف اے میں چار :انگریزی، اُردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات
l بی اے میں چھے:انگریزی، اُردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات، سماجیات کے دو مضامین (بی اے ویسے ہی ختم ہورہا ہے)۔
اس سوچ میں افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت نے مدارس کے بھاری اور معیاری نصاب کو (جو اصل العِلم کا مصداق ہے) ’بے وقعت‘ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔مدارس کے اپنے نظام الاوقات کی پابندی کے ساتھ مذکورہ بالا تمام سرکاری امتحانات کو مختلف مہینوں میں دینا، دینی طالب علم کے لیے پریشانی پیدا کرتا ہے۔ دینی مدرسے کا طالب علم مدرسے کے داخلی امتحان، وفاق کے امتحان کے ساتھ، تیسرا سرکاری تکمیلی امتحان بھی دے تو یہ چیز اس کے لیے مشکل تر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے مجوزہ لازمی یا جبری اور جزوی امتحان کے اپنی جگہ بہت سے مسائل ہیں، جن پر سرکاری حکام کوئی بات سننے کے روادار نہیں ہیں۔
اس لیے پرائیویٹ سطح کے کلی سرکاری پرائیویٹ امتحانات کو بہر طور ترک نہیں کرنا چاہیے۔ میٹرک، ایف اے کی حد تک تو پرائیویٹ امتحان کی سہولت باقی ہے۔ تاہم، اس طریقۂ کار پر پابندی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وفاق ہاے مدارس کی ثانویہ، عامہ، خاصہ اور عالیہ کی اسناد کا نظام مزید بے وزن ہوجائے گا، کیونکہ طالب علم اپنی متوازی اسناد کے لیے میٹرک، ایف اے اور بی اے کے پرائیویٹ امتحان پر ہی پورا انحصار کرلے گا، اور بی اے کے بعد پرائیویٹ ایم اے کرلینا بھی چنداں مشکل نہیں ہے۔
بی اے اور ایم اے کا پرائیویٹ امتحان
حکومت کے ایک حکم نامے میں ایف اے کے بعد مزید تعلیمی مراحل میں تمام قومی یونی ورسٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دسمبر ۲۰۱۸ء کے بعد اُصولی طور پر بی اے ختم اور اس کی جگہ ریگولر طلبہ کے لیے سمسٹرسسٹم پر مشتمل دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADP) کا اجرا ، جس میں سابقہ

چارلازمی مضامین کے ساتھ مغربی سماجی علوم کا ایک بڑا حصہ بھی لازماً شامل ہوگا۔ جیساکہ قومی اخبارات میں آیا ہے:
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں، ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز سے کہا گیا ہے کہ ۳۱دسمبر ۲۰۱۸ء کے بعد سے کیے جانے والے بی اے اور بی ایس سی انرولمنٹ، رجسٹریشن اور ڈگری کو ہائر ایجوکیشن کمیشن تسلیم نہیں کرے گا، جب کہ ۲۰۲۰ء میں ایم اے اور ایم ایس سی پروگرام بھی ختم کر دیا جائے گا۔(روزنامہ جنگ ، ۲۵؍اپریل ۲۰۱۹ء)
اس کے بعد ۱۷ جولائی ۲۰۱۹ء کو ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ کی طرف سے ایک حتمی نوٹس جاری کیا گیا:’’ملک کی تمام سرکاری اور نجی جامعات اور ان سے منسلک کالجز کو آیندہ تعلیمی سال سے دو سالہ گریجویٹ پروگرام (بی اے ؍بی ایس سی) ختم اور ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADP) شروع کرنے کے لیے حتمی نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔حکم نامے کے مطابق بی اے اور بی ایس سی پروگراموں میں ۳۱ دسمبر ۲۰۱۸ء سے قبل داخلہ لینے والے طلبہ کو ۳۱ دسمبر ۲۰۲۰ء تک اپنی ڈگری مکمل کرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، جو طالب علم اس میں ناکام رہیں اُنھیں ڈگری دینے والے کالجوں اور یونی ورسٹیوں کی شرائط پر پورا اُترنے کے بعد ایسو سی ایٹ ڈگری تفویض کی جائے گی۔ چنانچہ جو طالب علم ایسوسی ایٹ ڈگری مکمل کریں گے وہ چار سمسٹرز کے برابر ہوگی، اور وہ چار مزید سمسٹرز مکمل کر کے بی ایس کی ڈگری حاصل کرسکیں گے‘‘۔(ڈیلی ڈان، ۱۷جولائی ۲۰۱۹ء)
اس اقدام پر صوبائی وزارت تعلیم کے علاوہ یونی ورسٹیوں کو شدید تحفظات ہیں، جیسا کہ: ’’ایڈیشنل سیکرٹری اکیڈمک پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) طارق بھٹی نے کہا کہ ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ نے بی اے ؍بی ایس دو سالہ ڈگری پروگرام پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے مشاورت نہیں کی۔ اس فیصلے پر کوئی بھی اقدام مشاورت کے بعد کریں گے۔(روزنامہ دنیا، ۲۷؍اپریل ۲۰۱۹ء)
امرواقعہ یہ ہے کہ: ’’یونی ورسٹیوں اور کالجوں کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ سمسٹر سسٹم کی ضروریات کو پورا کرسکیں اور ابھی بھی مختلف تعلیمی ادارے مطلوبہ ضروری صلاحیت نہ ہونے

کی وجہ سے سمسٹر سسٹم پر عمل درآمد کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے فیصلوں پر بنیادی ضروریات کو پورا کیے بغیر عمل درآمد نہیں ہوسکتاہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تمام ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز کے وائس چانسلروں نے ایچ ایس سی کے چیئرمین کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس حوالے سے کچھ شیخ الجامعات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان نیوز کو بتایا کہ وہ ایچ ای سی کو بی اے؍بی ایس سی اور ایم اے؍ایم ایس سی پروگرامز کو مکمل طور پر ختم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے تحریری طور پر لکھیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ کے چیئرمین کو بتایا گیا ہے کہ یہ ان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز کو شروع کریں کیونکہ ان کے پاس اس مقصد کے لیے مطلوب وسائل نہیں ہیں‘‘۔ (ڈیلی ڈان، ۲۹جولائی ۲۰۱۹ء)
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ایف اے کے بعد ہونے والے بی اے اور ایم اے کے نظام تعلیم اور اس سطح کے پرائیویٹ امتحانات پر اس وقت شدید مباحثہ جاری ہے۔ پاکستان کی قدیم ترین جامعہ ، پنجاب یونی ورسٹی کے ۹؍اگست ۲۰۱۹ء کو جاری کردہ نوٹی فکیشن میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ’’بی اے ، بی ایس سی اور بی کام کی دو سالہ ڈگری میں کسی بھی قانونی ونصابی نوعیت کی تبدیلی کے بغیر، اس کا نام ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کرکے اسے جاری کردیاگیا ہے۔ اس کے سالانہ اور ضمنی امتحانات میں ماضی کی طرح ریگولر وپرائیویٹ اُمیدوار شریک ہوسکتے ہیں۔ مستقبل میں یونی ورسٹی کی قائم کردہ کمیٹی اس میں ضروری اصلاحات کی ضرورت اور مطالبوں کا جائزہ لیتی رہے گی‘‘۔(پنجاب یونی ورسٹی، ۹؍اگست ۲۰۱۹ء،R/D/612 )
چیئرمین ایچ ای سی نے دینی وفاقوں کے ذمہ داران کو مدارس کا ایف اے کے بعد بی ایس ماڈل پر (عالیہ اور عالمیہ پر مشتمل ) چار سالہ کورس تشکیل دینے کے لیے کہا ہے۔ گویا ایچ ای سی کے نئے نظام کے بعد جس طرح قومی یونی ورسٹیوں میں بی اے ،ایم اے کا منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے، اسی طرح طلبہ مدارس کی بی اے اور ایم اے اسناد کا اُصولی فیصلہ ہونا بھی باقی ہے۔
۳- وفاق ہاے مدارس کو اس سلسلے میں بھی حکومت کے سامنے درج ذیل تجاویز کو زیربحث لانا چاہیے ، کیونکہ اس کے بغیر یہ حکومتی اقدام ناقابل قبول ہے:

ایسے امتحانات کے پرچوں کو بنانے، ان کی جانچ اور نگرانی کاکام ایک ایسی کمیٹی کے سپرد ہو، جس میں پانچوں وفاقوں کے نمایندے موجود ہوں۔
۲- یہ امتحانات وفاقی تعلیمی بورڈ کے بجاے، صوبائی سطح پر بورڈوں کے تحت لیے جائیں، تاکہ طلبہ کے لیے اپنے اپنے صوبوں میں آمد ورفت آسان ہوسکے۔
۳- ان امتحانات کا شیڈول مدارس کے وفاقوں کی منظوری سے طے کیا جائے اور اُنھیں ایسے دنوں میں رکھا جائے جب طلبہ مدارس کے لیے ان میں شریک ہونا آسان ہو۔
۴-وفاقی تعلیمی بورڈ کا نظام، فیسیں، کتب کی قیمت اور نصاب بھی تمام دیگر انٹربورڈز کی نسبت مشکل تر ہے۔ طلبۂ مدارس کو اس مشکل سے بچانا چاہیے۔
۵-یہ امتحانات اُردو زبان میں منعقد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
۶-ایف اے کے بعد بی ایس سطح پر ایچ ای سی کے چندسال قبل تجویز کردہ چار سالہ تعلیمی پروگرام میں بھی دینی مدارس کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، تاکہ دینی مدارس کے لیے قومی نظام تعلیم سے ہم آہنگ ہونا ممکن ہو۔ جیسے مغربی سماجی علوم کی ایک تہائی لازمی شرح کو کم کرتے ہوئے مزید معیاری اسلامی کورسز کا اضافہ، بی ایس میں داخلہ کے لیے ثانویہ خاصہ (ایف اے) کی اُصولی رعایت دینا اور امتحانی پرچے بنانے والی کمیٹی میں علما کے نمایندوں کی شمولیت وغیرہ۔
معقول بات یہی کہ حکومت کو نئے اقدامات کے بجاے سابقہ معاہدوں کی طرف متوجہ کیا جائے، جب کہ نئے اقدامات کے لیے تمام وفاقوں کی مشاورت اور تائید سے کام کیا جائے۔