ذوقِ فرار

اصلاح و تعمیر کے کام میں قوت بجاے خود ایک اہم ضرورت ہے۔ لیکن اجتماعی دائرے میں کوئی انقلاب آج تک بجز اس صورت کے نہیں آیا کہ اس کے علَم بردار اپنے آپ کو مضبوط اور غالب و برتر ثابت کردیں۔مجرد مذہب جسے انسانی زندگی کے صرف ایک چھوٹے سے خانے سے واسطہ ہوتا ہے، اسے لے کر چلیے تو وعظ اور فیضانِ نظر سے بڑھ کر کسی سرگرمی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اُوپر کوئی سا نظام اپنا سایہ پھیلائے ہوئے ہو اور معیشت و معاشرت کے معاملات کسی بھی نہج پر چل رہے ہوں، لوگوں کے ذہنوں میں کچھ بھلے سے عقائد کی جگہ بھی نکالی جاسکتی ہے، ان کو کچھ جاپ اور منتر اور وظیفے سکھائے جاسکتے ہیں،اور ان کو مسکینی و تواضع اور رحم دلی و ہمدردی جیسی خوبیوں سے بھی کسی نہ کسی حد تک آراستہ کیا جاسکتا ہے۔
ایک فاسد اور ظالمانہ نظام میں اپنی خدمات کھپاتے ہوئے اور اس کے بنائے ہوئے نہاہت ہی انسانیت کش راستوں سے رزق اور مفادات حاصل کرتے ہوئے ضمیر میں جو گھائو پڑتے رہتے ہیں، صوفیانہ طرز کے انفرادی مذاہب اور ان کے بتائے ہوئے پیری مریدی کے ادارے ان کو ساتھ کے ساتھ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے دیتے رہتے ہیں اور ان پر مرہم لگے پھاہے رکھتے ہیں۔ بدترین تمدن کے اندر چھوٹا سا گوشۂ عافیت نکال لینے والے مذاہب بھی درحقیقت انسان کے ذوقِ فراریت کی تخلیق ہیں۔ وہ اجتماعیت کے دائرے میں بڑے بڑے جرائم کرنے اور خو فناک مظالم میں حصہ لینے کے بعد انفرادیت کی کٹیا میں بیٹھ کر اپنے خدا کو راضی کرتا اور اپنے رُوٹھے ہوئے ضمیر کو مناتا ہے۔
لیکن ، جو دین غیرالٰہی نظامِ زندگی کے گاڑھے میں یادِ خدا کے مخمل کا ذرا سا پیوند لگا کر مطمئن نہ ہوتا ہو، بلکہ جسے پوری زندگی کو اپنے ہی رنگ میں رنگنا ہو، اس کا کام نرے لجاجت آمیز وعظموں، خلوت پسندانہ ریاضتوں اور خدمت ِ خلق کے محدود جذبوں سے نہیں چل سکتا۔ اسے باطل کے قفس کو توڑنے، ظلم کے دست و پا کو باندھ دینے اور امن و انصاف کے دورِ تمدن کی طرح ڈالنے کے لیے قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اجتماعی تبدیلیاں بغیر مزاحمتوں کے نہیں واقع ہوتیں اور مزاحمتیں توڑنے کے لیے نرے وعظ کافی نہیں ہوتے (’محسن انسانیتؐ،، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۵۳، عدد۶، مارچ ۱۹۶۰ء،ص ۱۷-۱۸) ۔