ذکر اور عمل

عبدالغفار عزیز

رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے۔ ایک صحابیؓ نے نماز میں شریک ہوتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کے بعد نسبتاً بلند آواز میں کہا: اللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلہِ کَثِیْرًا وَسُبْحٰنَ اللہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا ’’اللہ کی بڑائی اتنی بیان کرتا ہوں جتنا کہ بڑائی بیان کرنے کا حق ہے۔ انتہائی کثرت سے اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں اور صبح وشام اسی کی تسبیح کرتا ہوں‘‘۔ آپؐ نے سلام پھیرنے کے بعد پوچھا: ’’یہ کلمات کن صاحب نے کہے تھے ؟‘‘ ایک صحابیؓ نے عرض کیا : میں نے یارسولؐ۔ آپ ؐ نے فرمایا : عَجِبْتُ لَھَا ، فُتِحَتْ لَھَا اَبوَابُ السَّمَاءِ’’مجھے ان کلمات پر بڑا تعجب ہو رہا ہے۔ ان کے لیے تو آسمانوں کے دروازے کھول دیے گئے‘‘۔ صحیح مسلم میں روایت کی گئی یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کی ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں: میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے، اس کے بعد سے نماز میں یہ کلمات کہنا نہیں چھوڑے۔
ایک اورموقعے پر آپ ؐ امامت کروا رہے تھے ۔ رکوع سے اٹھتے ہوئے آپ نے سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ (جس نے اللہ کی حمد بیان کی، اللہ نے اسے سن لیا)فرمایا تو مقتدیوں میں سے ایک صحابی بے اختیار پکار اٹھے: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، حَمْدًا کَثِیْرًا، طَیِّبًامُبَارَکًا فِیْہِ ’’اے ہمارے رب اور ساری تعریفیں تو ہیں ہی آپ کے لیے۔ بے انتہا تعریفیں ، پاکیزہ اور برکتوں والی تعریفیں‘‘۔ نماز ختم ہونے کے بعد آپؐ نے پوچھا یہ کن صاحب نے کہا تھا ؟صحابیؓ نے جب بتایا کہ میں نے یارسولؐ اللہ، تو آپؐ نے فرمایا: میں نے ۳۰سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے پہلے یہ کلمات لکھنا چاہتے تھے۔ (بخاری، حدیث: ۷۹۹، عن رفاعہ بن رافعؓ) ایک صبح آپؐ نے حضرت بلال رضی اللہ کو بلایا اور پوچھا: بِمَ سَبَقْتَنِیْ اِلَی الْجَنَّۃِ الْبَارِحَۃَ ، سَمِعتُ خَشخَشَتَکَ اَمَامِیْ، ’’رات میں نے جنت میں خود سے آگے آپ کے قدموں کی چاپ سنی ، آپ اپنے کس عمل کی وجہ سے مجھ سے آگے نکل گئے ؟‘‘ ایک امتی بھلا کیسے رحمتہ للعالمینؐ سے آگے نکل سکتا ہے؟ لیکن صحابیؓ کی حوصلہ افزائی اور امت کو ترغیب دینا مقصود تھا۔ جناب بلالؓ نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا: یا رسولؐ اللہ !جب بھی اذان دیتا ہوں تو دو رکعت نماز ادا کر لیتا ہوں اور جیسے ہی وضو کی حاجت ہوتی ہے، وضو تازہ کر لیتا ہوں۔ آپ نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا :بِھَذَا،’’یقینا اسی عمل کی وجہ سے ‘‘۔

اس موقعے پر وہ تمام احادیث بھی ذہن میں تازہ کر لیں جن میں آپؐ نے بعض اعمال اور تسبیحات واذکار کا ڈھیروں اجر بتایا ہے مثلاً: کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ خَفِیفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ والی حدیث کلمے ادا کرنے میں تو بہت آسان ، روز قیامت میزان میں بہت وزنی اور رحمٰن کو انتہائی پسندیدہ ہیں اور ان کے اجر سے زمین وآسمان کے مابین ساری فضا بھر جاتی ہے۔ اور وہ ہیں : سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحْمَدِہِ سُبْحٰنَ اللہِ الْعَظِیْمِ (بخاری، کتاب التوحید، حدیث:۱۲۹۳)
اب ایک طرف یہ ایمان افروز واقعات و فرمودات ہیں، آسان عبادات کا اجر عظیم ہے، اور دوسری جانب آپؐ اور صحابہ کرامؓ کی حیات طیبہ میں ہمہ پہلو جہاد، جہد مسلسل ، سنگین ابتلائیں اور آزمایشیں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ دونوں میں سے کون سا راستہ اختیارکرنا چاہیے؟ ہمارے معاشرے میں بد قسمتی سے دونوں جانب اس قدر افراط وتفریط کا رویہ اختیار کر لیا جاتا ہے، کہ یا تو چند اذکار ہی کو دین کامل سمجھ لیا جاتا ہے ، یا بزعم خود جہاد وجہدِ مسلسل میں اتنا مصروف ہو جاتے ہیں کہ اور ادو اذکار تو کجا، فرائض وسنن تک کی اہمیت عملاً ثانوی لگنے لگتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں پہلوئوں پر یکساں اور بھرپور توجہ دی جائے۔ دونوں پہلو لازم و ملزوم اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔ ایک معدوم ہوا تو دوسرا بھی کالعدم قرار پاجاتا ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کے الفاظ میں: ’’ یہ کام جس کے لیے ہم ایک جماعت کی صورت میں اٹھے ہیں، یہ تو سراسر تعلق باللہ کے ہی بل پر چل سکتا ہے۔ یہ اتنا ہی مضبوط ہو گا، جتنا اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق مضبوط ہو گا۔ اور یہ اتنا ہی کمزور ہو گا جتنا خدانخواستہ اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق کمزور ہو گا‘‘۔

سابق الذکر ان تینوں واقعات ہی کو دیکھ لیجیے ۔ جنت میں حضرت بلالؓ کے قدموں کی چاپ ان کے ہمیشہ با وضو رہنے کی وجہ سے سنائی دی، لیکن اس سے قبل یہی بلالؓ مکہ کے ریگ زاروں پر گھسیٹے گئے ۔ تنور کی طرح دہکتی ریت پر لٹا کر ، انگاروں کی طرح جھلستے پتھر سینے پر رکھ دیے گئے، لیکن اللہ کا وہ بندہ ایک ہی نغمہ ء توحید بلند کرتا رہا: اَحَدٌ … اَحَدٌ…اَحَدٌ ۔ اسی طرح جن صحابہؓ نے بے ساختہ دوران نماز حمد وتسبیح کے کلمات ادا کیے ، وہ خود کو دینِ کامل میں اس طرح کھپا دینے والے تھے اور ہر دم ایک ہی تڑپ تھی کہ کسی طرح اپنے رب کی حمد وثنا زیادہ سے زیادہ کی جائے ۔ خود آپؐ نے اپنی ساری جمع پونجی میدان بدر میں پیش کر دی اور پھر رات بھر اپنے رب سے مناجات ودعائیں کرتے رہے۔ غزوۂ خندق میں جب اہل ایمان کی پوری جماعت بری طرح ہلا ڈالی گئی، دل حلق میں آن اٹکے ، صحابہ کرامؓ نے آپ سے کوئی دعا اور ذکر بتانے کی درخواست کی۔ آپؐ نے فرمایا: آپ کہیں اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا ، اے اللہ ہماری کمزوریوں کا پردہ رکھ لے اور خوف کو امن میں بدل دے‘‘۔ صحابہ کرامؓ نے انھی الفاظ میں درخواست پیش کی اور اللہ تعالیٰ نے قبول فرماتے ہوئے پانسہ پلٹ دیا۔
تعلق باللہ کے اس راستے کا سیّد مودودیؒ ’عملی طریقہ‘ بتاتے ہیں: ’’اور وہ عملی طریقہ ہے احکام الٰہی کی مخلصانہ اطاعت اور ہر اُس کام میں جان لڑا کر دوڑ دھوپ کرنا جس کے متعلق آدمی کو معلوم ہو جائے کہ اس میں اللہ کی رضا ہے۔ احکام الٰہی کی مخلصانہ اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ جن کاموں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کو بادل نخواستہ نہیں، بلکہ اپنے دل کی رغبت اور شوق کے ساتھ خفیہ اور علانیہ انجام دیں اور اس میں کسی دنیوی غرض کو نہیں، بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی کو ملحوظ خاطر رکھیں ، اور جن کاموں سے اللہ نے روکا ہے ان سے قلبی نفرت وکراہت کے ساتھ خفیہ وعلانیہ پرہیز کریں اور اس پرہیز کا محرک کوئی دنیوی نقصان کا خوف نہیں، بلکہ اللہ کے غضب کا خوف ہو۔
سیّد مودودیؒ تعلق باللہ میں اضافے کی اہمیت وضرورت کو واضح کرتے ہوئے ، اور اس کے لیے مختلف وسائل بیان کرتے ہوئے ، نماز کی اہمیت بیان کرنے کے بعد ذکر الٰہی پر توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’ذکر الٰہی جو زندگی کے تمام احوال میں جاری رہنا چاہیے ۔

اس کے وہ طریقے صحیح نہیں جو بعد کے ادوار میں صوفیا کے مختلف گروہوں نے خود ایجاد کیے یا دوسروں سے لیے، بلکہ بہترین اور صحیح ترین طریقہ وہ ہے جو نبی ؐ نے اختیار فرمایا اور صحابہ کرامؓ کو سکھایا۔ آپ حضور ؐ کے تعلیم کردہ اذکار اور دعائوں میں سے جس قدر بھی یاد کر سکیں یاد کر لیں۔ مگر الفاظ کے ساتھ ان کے معانی بھی ذہن نشین کیجیے اور معانی کے استحضار کے ساتھ ان کو وقتاًفوقتاً پڑھتے رہا کیجیے۔ یہ اللہ کی یاد تازہ رکھنے اور اللہ کی طرف دل کی توجہ کو مرکوز رکھنے کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہے‘‘۔
الاخوان المسلمون کے بانی امام حسن البناؒ اسی لیے اپنے تمام ساتھیوں کے لیے قرآنی اور مسنون دعائوں کا وہ خزانہ جمع کر گئے جن سے آج بھی ان کا ہر تحریکی ساتھی روزانہ استفادہ کرتا ہے۔ کیا ہم سب بھی اس کا باقاعدہ اہتمام کر سکتے ہیں؟ آئیے آغاز میں بیان کیے گئے تین واقعات ہی سے ابتدا کر لیتے ہیں۔ ذرا حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی بات بھی دوبارہ تازہ کر لیں کہ ’’میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے، اس کے بعد سے نماز میں یہ کلمات کہنا نہیں چھوڑے‘‘۔