رسائل و مسائل

مولانا رضی الاسلام ندوی

قرآن مجید کا ادب و احترام
سوال : گذشتہ دنوں میں نے دیکھا کہ اجتماعی مطالعۂ قرآن کے موقعے پر کچھ لوگ مسجد کے فرش پر پالتی مار کر بیٹھ گئے اور انھوں نے قرآن مجید کو اپنی پنڈلیوں اور ٹخنوں پر اس طرح رکھا کہ درمیان میں جزدان ، کوئی کپڑا یا ان کی ہتھیلیاں بھی نہ تھیں ۔ میں نے توجہ دلائی کہ یہ خلافِ ادب ہے تو کہا گیا کہ اس بابت کوئی حکم نہیں ہے ۔ کیا اس طرح قرآن مجید رکھ کر پڑھنا بے ادبی نہیں ہے؟
جواب :قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ اس بنا پر مصحف کا ادب و احترام لازم ہے ۔ الحمد للہ، مسلمانوں کے دلوں میں مصحف کا غیر معمولی احترام پایا جاتا ہے ۔ وہ اس کی ذرا بھی بے ادبی برداشت نہیں کر تے ۔ چنانچہ اگر کسی موقعے پر شر پسند علی الاعلان یا چھپ کر مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور قرآن مجید کے نسخوں کو اِدھر اُدھر پھینک یا جلا دیتے ہیں تو ان کا غیظ و غضب بھڑک اٹھتا ہے۔
قرآن مجید کے ادب و احترام کا تقاضا ہے کہ اسے پاک و صاف اور بلند جگہ پر رکھا جائے اور تلاوتِ قرآن کرتے وقت مصحف قرآنی کو ہاتھ میں اس طرح لیا جائے کہ اس کا ادب نمایاں ہو اور توہین و استخفاف کا شائبہ بھی نہ معلوم ہو ۔
قرآن کی تلاوت اور مطالعے کے وقت اسے پنڈلیوں اور ٹخنوں پر رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں قرآن و حدیث میں بظاہر کوئی صراحت یا اشارہ موجود نہیں ہے اور صحابہ ، تابعین اور بعد کے علما نے بھی جواز یا عدم جواز کے بارے میں کوئی راے نہیں دی ہے ۔ لیکن بہرحال انھوں نے یہ اصولی بات ضرور کہی ہے کہ ہر حال میں قرآن کا ادب و احترام پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ _میری ذاتی راے یہ ہے کہ اس سلسلے میں ادب و احترام کے سماجی رویوں کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ عام مسلمانوں کے نزدیک مصحف کو پنڈلیوں اور ٹخنوں پر رکھ کر پڑھنا خلافِ ادب سمجھا جاتا ہے ۔ وہ ہمیں ایسا کرتے ہوئے دیکھیں گے تو ہمارے بارے میں اچھا تاثر قائم نہیں کریں گے۔ اس لیے جواز یا عدم جواز کی بے جا بحث میں پڑے بغیر دعوتی و اصلاحی نقطۂ نظر سے ہمیں ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ تاہم، بعض معاصر علما نے قرآن مجید کو گھٹنے سے اوپر ران پر یا گود میں رکھنے کو مضائقے سے خالی بتایا ہے۔ _ اس بنا پر کہ یہ بے ادبی میں شمار نہیں ہوتا ہے ۔

تشہّد میں انگلی کو حرکت دینا؟
سوال : بعض حضرات تشہد میں انگشتِ شہادت کو مسلسل حرکت دیتے رہتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ براہِ کرام رہنمائی فرمائیں۔
جواب :بعض احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تشہد کے دوران میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اس کو حرکت دیتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت یہ بتائی ہے کہ آپ ؐ جب قعدہ میں بیٹھتے تھے تو اپنے بائیں پیر کو اپنی ران اور پنڈلی کے درمیان کر لیتے تھے اور دائیں پیر کو بچھا لیتے تھے۔ بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے تھے اور انگلی سے اشارہ کرتے تھے: وأشار باصبعہ( مسلم : ۵۷۹)
حضرت وائل بن حجر ؒ نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی ہے: ’’ آپ ؐاپنا بایاں پیر بچھا لیتے تھے اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھتے تھے اور اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک دائیں ران پر رکھتے تھے، پھر ہاتھ کی دو انگلیوں کو سکیڑ کر حلقہ بناتے تھے، پھر ایک انگلی اٹھا کر اسے حرکت دیتے تھے اور دعا کرتے تھے۔ (نسائی:۸۸۹)
اس مضمون کی اور بھی احادیث ہیں ۔ ان کی روشنی میں فقہا کے مسالک درج ذیل ہیں: احناف کے نزدیک تشہد میں کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے لاالٰہ پر انگلی اٹھائی جائے گی اور اِلَّااللہ پر گرادی جائے گی۔ شوافع کے نزدیک اِلَّااللہ پر انگلی اٹھائی جائے گی۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہونے تک نمازی انگلی کو دائیں بائیں حرکت دیتا رہے گا۔ حنابلہ کے نزدیک نمازی انگلی کو حرکت نہیں دے گا، بلکہ جب بھی ’اللہ ‘ کا نام آئے گا وہ انگلی سے اشارہ کرے گا۔