شریعت کا نفاذ، ہماری منزل

حسن البنا شہیدؒ

یہ ایک طویل مکتوب کا ترجمہ ہے، جو حسن البنا شہیدؒ نے ۱۹۳۷ء میں مصر کے وزیرقانون کے نام تحریر کیا تھا۔ پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنے یا اس مقصد سے ہمدردی رکھنے والے افراد اس خط کو بالکل آپ بیتی محسوس کریں گے۔ حتیٰ کہ اس میں دوچار جگہ جہاں ’مصر‘ کا لفظ اگر ’پاکستان‘ کے لفظ سے بدل دیں تو یہ یوں لگتا ہے کہ یہ داستان مصر نہیں بلکہ پاکستان سے متعلق ہے۔ادارہ
ہم اس بات پر مکمل طور پر یقین رکھتے ہیں کہ ہماری قوم کی نجات اسی میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہرگوشے میں اسلام کی تعلیمات و ہدایات کااِتباع کرے۔ اس کے حق میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ آپ کے سامنے ان دلائل کے دُہرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ الحمدللہ آپ اس نظریے کے خود بھی قائل ہیں۔ اسلامی تعلیمات کا اوّلین اور اہم ترین شعبہ قانون ہے۔ اس وقت ہم اور آپ میدانِ عمل میں ہیں اور ہمارے لیے ناگزیر ہے کہ ہم حقائق کا سامنا کریں۔
آج وزارتِ قانون کا قلم دان آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ اس بات کا اختیار رکھتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کی اُن تمنائوں اور آرزوئوں کو بارآور کریں، جن کے لیے وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے پر آمادہ ہیں۔ مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ مصر کے قانون اور عدالتی نظام کو اسلامی شریعت کی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ چونکہ آپ بھی ایک دائرے میں رعیت کے راعی ہیں، اس لیے اس سلسلے میں آپ اللہ اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔
اس قوم کے افرادجب یہ دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں اللہ کے قانون کے خلاف فیصلے کیے جاتے ہیں، تو وہ اپنے دلوں میں سخت تنگی محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں صبر کا پیمانہ لبریز ہوکر چھلک جاتا ہے اور اندر ہی اندر جو لاوا پک رہا ہوتا ہے وہ بسااوقات پھوٹ نکلتا ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک تصادم کی صورت اسی وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ ایک قوم کا ذہن حق کے حصول اور باطل کے نظریات پر اصرار کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ ہمارے موجودہ ملکی قوانین اور اسلام کےقوانین ایک دوسرے کی ضد ہیں اوردونوں جابجا ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اہلِ وطن کے دل و دماغ میں ایک اضطراب اور بے چینی رُونما ہورہی ہے، اور وہ اس تضاد کو بُری طرح محسوس کررہے ہیں، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آپ مسلمانوں کو قوانین کی بے احترامی اور خلاف ورزی پر مجبور نہ کریں اور حالات کو بدلنے کی کوشش کریں۔ آیئے، ہم اللہ کے حضور میں حاضرہوں اوراس بارے میں اُس کےارشادات کوسنیں۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں ہے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا۝۶۵ (النساء۴:۶۵) پس نہیں، تیرےربّ کی قسم! وہ نہیں ایمان لاسکتے جب تک کہ وہ تجھے حَکم نہ بنالیں اپنے متنازعہ فیہ معاملات میں، پھروہ اپنےدلوں میں تنگی بھی نہ محسوس کریں تیرے فیصلے پر اور سرتسلیم خم نہ کردیں۔
وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللہُ اِلَيْكَ۝۰ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّصِيْبَہُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِہِمْ۝۰ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ۝۴۹ اَفَحُكْمَ الْجَاہِلِيَّۃِ يَبْغُوْنَ۝۰ۭ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۝۵۰ (المائدہ ۵:۴۹-۵۰) اور یہ کہ تم فیصلہ کرو اُن کے مابین اُس کے مطابق جسے اللہ نے اُتارا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور اُن سے چوکنے رہواور تمھیں بہکا دیں تم پر اللہ کے نازل کردہ بعض احکام سے۔ اگر وہ منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ انھیں ان کے بعض گناہوں پر عذاب دینا چاہتا ہے۔ اوریقینا لوگوں میں بہت سے فاسق ہیں۔ کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور کون ہےبہتراللہ سےفیصلے میںیقین رکھنے والوں کے لیے۔
مذکورہ بالا آیات سورئہ مائدہ کے جس رکوع سے لی گئی ہیں، وہ سارا اسی موضوع پر ہے۔ اس کے شروع میں اللہ تعالیٰ نےفرمایا ہے کہ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں، وہی ظالم ہیں، وہی فاسق ہیں:
اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ وَلَا تَكُنْ لِّلْخَاۗىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا۝۱۰۵ۙ (النساء۴:۱۰۵) ہم نے نازل کی ہے تم پر کتاب حق کے ساتھ تاکہ تم فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان اُس کے مطابق جوتمھیں اللہ نے دکھایا ہے اور خائنوں کے طرف دار نہ بنو۔
یہ تو ہیں کُلّی اورعمومی احکام، لیکن ان کے علاوہ قرآن میں بہت سے تمدنی، تجارتی، فوجداری، بین الملّی اور اسی نوعیت کےدوسرے احکام ہیں، جو جزئیات سے متعلق ہیں اور ان کی مزید تفصیل وتائید احادیث میں ملتی ہے۔ ان تمام احکام کی غرض یہی ہے کہ مسلمان ان پرعمل پیرا ہوں اور اپنےتنازعوں کا فیصلہ ان کے مطابق کریں۔ اب اگر آپ اپنے ملک کے دستور اور قانون پر نگاہ ڈالیں، توآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ اُن کا مآخذ اور سرچشمہ کتاب وسنت نہیں بلکہ یورپی ممالک (بلجیم، فرانس، اٹلی وغیرہ) کے دساتیر و قوانین ہیں۔ یوں ہمارادستور وقانون، کلیات کے اعتبار سے بھی اور جزئیات کے لحاظ سے بھی، اسلام سے صریح طور پرمتصادم اور برعکس ہے۔ اب غور کیجیے کہ اگر ایک مسلمان کے سامنے ایسا معاملہ آتا ہے جس کافیصلہ اسلام کی رُو سے کچھ اور ہے، اورموجودہ قانون کی رُو سے کچھ اور، تو اُس وقت وہ مسلمان کون سا موقف اختیار کرےگا؟ پھرغور کیجیے کہ اس ملک کے مجسٹریٹ، جج،چیف جسٹس اور وزیر قانون و عدل کے لیے احکم الحاکمین کے احکام کی مخالفت کیسے جائز اور حلال ہوگی؟
میں آپ سے پُرزور درخواست کرتا ہوں کہ آپ اس تضاداور دو رنگی کو دُورکریں۔ ہمیں اس کرب و بلا سے نجات بخشیں اور اعمال اورعقائد کے اس ٹکرائو کو ختم کریں۔ یہ چیز میرےعلم میں ہے کہ بکثرت مسلمان اپنے جائز جانی ومالی حقوق سے دست بردار ہوجاتے ہیں اور بہت سے نقصانات کو محض اس لیے گوارا کرلیتے ہیں کہ وہ ایسی عدالت اور ایسے جج کے سامنے جانا حرام سمجھتے ہیں، جو خلاف ِ شریعت فیصلے صادر کرے۔ اس صورتِ حال کے نتائج بڑے خوفناک ہیں اور اللہ اپنے محاسبے میں بڑا سخت گیر ہے۔میرا یہ فرض ہے کہ آپ کوتوجہ دلائوں اوریاد دہانی کرائوں۔ اللہ کے سامنے عُذرات کچھ کام نہیں آئیں گے۔ اللہ کی نظر اعمال پر بھی ہے اور نیتوں پر بھی!
یہ تو اس معاملے کاباطنی پہلو ہے، جس کا تعلق ہمارے ایمان اورعقیدے سے ہے۔ لیکن اگر قانون کے خالص ظاہری نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تب بھی ملکی و غیرملکی، مسلم و غیرمسلم دونوں قسم کے ماہرین قانون نے اعتراف کیا ہے کہ اسلامی شریعت، قانون سازی کا ایک نہایت شاداب، جامع اوربیش قیمت ذخیرہ ہے۔ فرانس کے متعدد قانون دانوں نے اپنی قوم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں اسلامی شریعت کے مطابق ترمیم کریں اور کئی بین الاقوامی اجتماعات میں قانون سازوں نے اسلامی قوانین کی تعریف کی ہے اور تسلیم کیا ہے کہ شریعت کی تعلیمات، قانون سازی کے بارے میں ہرطرح سے تقاضے پورے کرتی ہیں۔
یورپ کے غیر اسلامی قوانین کو ہم مصر میں ایک مدت تک برت کر دیکھ چکے ہیں۔ ان کا حاصل جرائم کی کثرت اور اضافے کے سواکچھ نہیں ہے۔ سنگین وارداتیں چاروں طرف رُونما ہورہی ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ موجودہ قوانین ہمارے امراض کا علاج نہیں ہیں اور ہمارے ماحول اور قومی مزاج سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے جن چند ممالک میں شرعی قوانین نافذ ہیں، وہاں ملک کے امن و اخلاق پر ان کے اچھے نتائج مترتب ہورہے ہیں۔ کیا سرزمینِ مصر کو اس کا موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ بھی اسلامی قوانین کی برکات سے استفادہ کرسکے؟
l شبہات و اعتراضات:یہ مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبارسے بالکل واضح ہے، تاہم کچھ لوگ ہیں جو نیک نیتی یا بدنیتی کی بنا پر اس اصلاح کےراستے میں حائل ہیں اور عموماًچند شبہات پیش کرتے ہیں:
m ان میں سے پہلا شبہہ یہ ہے کہ: ’’مصر میں کچھ غیرمسلم اقلیتیں ہیں۔اگر یہاں اسلامی احکام نافذ کردیے جائیں تو اس سے اُس مذہبی آزادی میں مداخلت واقع ہوگی، جس کی دستوری طور پر ضمانت دی جاچکی ہے اور اگر غیرمسلموں کوان احکام سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تو یہ حقوقِ شہریت میں ایک ناپسندیدہ امتیاز ہوگا، جس سے ہم چھٹکارا حاصل کرچکے ہیں‘‘۔ اس شبہے کے دو اجزا ہیں۔ اگر ملک میں اسلامی احکام نافذ کیے جائیں تو اس سے مذہبی آزادی پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ دستور میں اقلیتوں کو جس چیز کی ضمانت دی جاتی ہے، وہ عقیدہ، عبادت، شعائر اور شخصی حقوق کی آزادی ہے۔ ملکی قانون بہرحال اکثریت کی مرضی کا آئینہ دار اور ان کے نظریات کا مظہر ہوتا ہے ۔ اس بارے میں اقلیت کو اکثریت کی بات مانے بغیر چارہ نہیں ہے۔
یورپی اقوام اس بات پر فخر کااظہار کرتی ہیں کہ وہ شخصی حقوق کا بہت احترام کرتی ہیں اور جمہوریت کی علَم بردار ہیں۔ لیکن وہ بھی اپنی اقلیتوں کے ادیان و عقائد کا لحاظ کیے بغیر اپنی منشا کے مطابق قوانین وضع کرتی ہیں۔فرانس، برطانیہ، جرمنی وغیرہ میں ایک فرد خواہ پناہ چاہنےوالا ہو، خواہ اس کا تعلق ایسی اقلیت سے ہو جس کا دین اکثریت کے دین سے مختلف ہے، وہ ملک کے قانون کی پابندی کرتا ہے۔ اس کے بغیر جمہورکی آزادی اورداخلی و خارجی استقلال متحقق نہیں ہوسکتا۔ اگر غیرمسلم اپنے شخصی معاملات میں فیصلے اپنے پرسنل لا کے مطابق کریں اور بقیہ معاملات میں قانونِ موضوعہ پر عمل کریں، تو اس سے کوئی ایساامتیاز نہیں پیدا ہوتا جو کسی خدشے یا اعتراض کا موجب ہوسکے۔
ہم کسی غیرمسلم کو اس امر پر مجبور نہیں کرتے کہ وہ اپنے پرسنل لا کی پابندی کرے، بلکہ ہم اس کا انتظام اُس کی اپنی خواہش اورمرضی کی بنا پر کرتے ہیں۔ اس سے مقصود کوئی ناروا پابندی یا حق تلفی نہیںہے۔ دوسری طرف اگر ہم ملکی قانون کو اقلیت کے مسلک اور نظریےکے مطابق بنائیں تو یہ اکثریت کے حقوق پر ایک شدید ظلم اور زیادتی کےمترادف ہوگا۔ پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سےمسیحی برادرانِ وطن نے بھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ بلاامتیاز تمام معاملات میں شرعی احکام کو اُن پر بھی نافذ کیا جائے اور اس بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰـتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۝۰ۭ (المائدہ ۵:۴۴) ’’پس، تم مت ڈرو لوگوں سے بلکہ ڈرو مجھ سے اور مت لومیری آیات کے عوض حقیر قیمت‘‘۔
l دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ’’اسلامی قوانین کا اجرا عملاً ناممکن ہے‘‘۔مثلاً یہ کہتے ہیں کہ ’’ہم سود کا خاتمہ کیسے کرسکتے ہیں، جب کہ ہم بین الاقوامی اقتصادی نظام کی جکڑبندیوں میں بندھے ہوئے ہیں؟‘‘لیکن یہ اعتراض بھی بالکل بے اصل ہے، کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض مضبوط عزائم کی حامل قوموں نے اپنے لیے مخصوص طور پر منفرد معاشی نظام وضع کیے ہیں اور ساری دنیا کو مجبور کردیا ہے کہ وہ ان کا احترام کریں۔ اس معاملے میں فیصلہ کن شے حکومت کی قوتِ ارادی اورقوم کی عملی استعداد ہے۔ اس بارے میں ہماری راہ میں اصل رکاوٹ صرف عزم کی کمزوری اورموہوم خطرات کابے جا خوف ہے۔ ہماری قوم اللہ کے فضل سے ہرمشکل کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ ہم زندگی کی جملہ ناگزیر ضروریات خود پیدا کرسکتے ہیں اور اس بارے میں ہمیں اغیار کادست ِ نگر بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہمارے ارادے مضبوط ہوجائیں تو ہم اقوامِ عالم کے علی الرغم اپنے مالی نظام کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
آپ نےدیکھا ہے کہ اٹلی پر ایک وقت ایساآیا تھا ، جب اُس پرچاروں طرف سے ۵۲؍اقوام نے یورش کر دی تھی اور ان میں دنیا کی طاقت ور ترین سلطنتیں بھی شامل تھیں۔ انھوں نے مل کر اٹلی پر تاوان عائد کیے تھے، لیکن آخرکار اٹلی کی عزیمت کے سامنے ان سب کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اور قومی غیرت کےسامنے بندوق اور تلوار کی کچھ پیش نہ گئی۔ اسی طرح آپ کو معلوم ہے کہ [جرمن نسل پرست] ہٹلر نے یہ فرمان صادر کردیا تھا کہ ’’جرمنی کا سونا اور سکّہ جرمنی سے باہر نہیں جائے گا‘‘۔ کیا اس سے دوسرے ممالک کے ساتھ جرمنی کا لین دین ختم ہوگیا تھا؟ ہرگز نہیں، بلکہ دوسری قوموں نے اس فیصلے کا احترام کیا،اور مبادلے کے اصول پر جرمنی سے معاملہ کرنا شروع کردیا۔
یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ دونوں قومیں طاقت ور تھیں اور ہم کمزور ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں فوج کشی اور لشکر آرائی تک نوبت شاذونادر ہی پہنچتی ہے۔ خریدوفروخت اور لین دین کے مسائل میں کوئی قوم خواہ کتنی ہی ضعیف کیوں نہ ہو، وہ اس میدان میں بالکل آزاد ہے بشرطیکہ وہ یکسو ہوکر اپنے مطمح نظر کوواضح کردے اور پھر ثابت قدمی کے ساتھ اپنے موقف پر جم جائے۔
دوسری قومیں تو صرف یہ چاہتی ہیں کہ ہم اُن کے ساتھ شریف لوگوں کا سا معاملہ کریں۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ قرض کا کاروبار کرنےوالے بہت سے بنک اوردوسرے ادارے برابر کے لین دین پر رضامند ہوجاتے ہیں، بشرطیکہ ادایگی یقینی ہوجائے۔ اس لیے ایک طرف اگر ہم سود کو قانوناً ممنوع قرار دے دیں اوردوسری طرف واجبات کی پوری پوری ادایگی کا شدت سے اہتمام کریں، تو دوسری حکومتیں اس پر راضی ہوجائیں گی اور اداے حقوق کی ضمانت کے بعد وہ سودی لین دین پر اصرار نہیں کریں گی،خصوصاً، جب کہ انھیں بتایا جائے گا کہ سود تمام مذاہب ِ عالم کے نزدیک حرام ہے۔ آخرکیوں نہ مصر کو اس شرف میں سبقت حاصل ہو کہ وہ دنیا کو سود کی لعنت اور خباثت سے نجات دلانے کی جدوجہدکرے اور کیوں نہ مصری حکومت نوعِ انسانی کے لیے اس نوید ِ رحمت کی پیامبر ثابت ہو؟
ایک زمانہ تھا کہ یورپ کی قومیں انسانی خریدوفروخت کواپنی تہذیب و معاشرت کے لیے بالکل اسی طرح ضروری سمجھتی تھیں، جس طرح آج وہ سود کو سمجھتی ہیں۔ انھی میں سے بعض نے اس کاروبار کو ختم کرنے کا بیڑا اُٹھایا تھا۔ اورآخرکار دوسری قوموں نے بھی اس کی نامعقولیت کو تسلیم کیا، اور ہمیشہ کے لیے ترک کر دیا۔ کل اگر بردہ فروشی کے خلاف علَم بلند کیا جاسکتا تھا تو آج کیا سود کے خلاف جہاد نہیں کیا جاسکتا؟ اس میں آخر خوف ویاس ہمیں کیوں لاحق ہو؟ کیا ہم انسانیت کی خدمت سے بالکل عاجز ہوچکے ہیں؟ حالانکہ کل تمام دنیا میں علم وعرفان کی روشنی پھیلانے والے ہم ہی تھے۔ یہ محض شاعری یا خیال آرائی نہیں ہے، بلکہ یہ حقائق ہیں جنھیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
اگر ہم سودکو ترک کردیں تو یہ امر ہماری اقتصادی خودمختاری کا باعث ہوگا اور ہماری قوم جو اغیار کے سہاروں پر جینے کی عادی ہوچکی ہے، اس میں خود اعتمادی،عزّتِ نفس اور دوسروں سے بے نیازی کا جذبہ پیدا ہوگا۔اس مقصد کے حصول کے لیے اس سے زیادہ موزوں اورقیمتی موقع آخر کون ساہوگا ۔ ہماری قوم ایک دینی مزاج رکھتی ہے اور اسے متحرک اور آمادئہ عمل کرنے کے لیے دینی عوامل سب سے زیادہ کارگر ہوسکتے ہیں۔ سودکی تحریم سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہوگا کہ ہماری غریب قوم انسانیت کے قاتلوں، سود خوار لٹیروں اورقزاقوں سے گلوخلاصی حاصل کرلےگی۔
l ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ’’اگرشرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا، تو چوروں کے ہاتھ کٹنے شروع ہوجائیں گے اور زانیوں کو سنگسار کیا جایا کرےگا۔ ہماری قوم دورِوحشت کی طرف لوٹ جائے گی، ترقی کی رفتار رُک جائے گی اور ہمارا شمار غیرتہذیب یافتہ قوموں میں ہونے لگےگا‘‘۔
یہ اعتراض بھی بالکل بے حقیقت ہے، اوردراصل یہ ایسے افراد کے ذہن کی پیداوار ہے جو اجتماعی نظم کو درہم برہم کرنے کے درپے ہیں اورزندگی کےہرگوشے میں مطلق اباحیت اور بےقیدی کے خواہش مند ہیں۔وہ دوسروں کی جان و مال اور عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں اور اس اندیشے نے ان کی نیند حرام کررکھی ہے کہ کہیں اسلام کی قربان گاہ پر سب سے پہلے انھی کی خواہشات کو بھینٹ نہ چڑھا دیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ جرائم کی کثرت کو تمدن و ارتقا کی علامت قرار دے دینا صحیح ہے اور نہ اُس قانون کو رجعت پسندانہ اورسنگ دلانہ سمجھ لینا درست ہے ، جو جرائم و فواحش کا استیصال کرے۔ ایسا قانون توتہذیب و ترقی کا عین مظہرہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان فاسد افکارو نظریات کو ختم کیا جائے۔ مصلحین اسلام کے لیے یہ موقع شرمانے کا نہیں بلکہ آگے بڑھ کرکام کرنے کا ہے۔ آج کل نظریات میں قانون کی ہمدردی مجرم کے حق میں زیادہ اورمعاشرے کے حق میں کم ترہوگئی ہے۔ مجرم کے ساتھ سختی کے بجاے نرمی کا برتائو کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہولناک جرائم چاروں طرف پھیل چکے ہیں اور پھیل رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں قانون بالکل عاجز اور بے بس ہے۔ قومی کمائیوں اور محنتوں کا بیش تر حصہ پولیس، قیدخانوں اور عدالتوں میں صرف ہورہا ہے، لیکن کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہورہا۔ اس وقت فلسفۂ جرم سے متعلق خوش نما بحث اور بے فائدہ استدلال کی اتنی ضرورت نہیں ہے، جتنی ضرورت جرم کے عملی سدباب اور روک تھام کی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’اسلامی قوانین کے نافذ کرنے میں ایک عملی مشکل یہ ہے کہ ایسی جامع شخصیتوں کا ملنا محال ہے، جو بیک وقت اسلامی علم وعمل سے آراستہ ہوں۔ حاملینِ دین قانون کی تدوین و تنفیذ کے جدید تقاضوں سے بے خبر ہیں اورقانون دان دین کا علم نہیں رکھتے اور جب تک مردانِ کار پیدا نہ ہوں، اسلامی قانون کو مفید اور مناسب شکل میں کیسے رائج کیا جاسکتا ہے؟‘‘
لیکن یہ شبہہ بھی بےبنیاد ہے اور اس مشکل پرقابو پالینا بالکل آسان ہے۔ اللہ کے فضل سے ایک طرف ہمارےعلماے دین میں بہت سے حضرات ایسے ہیں، جن کی جدید قانون پربھی وسیع نظر ہے، اوردوسری طرف ہمارے ہاں قانون کےبہت سے ماہرین ایسے موجود ہیں، جنھیں اسلامی فقہ و تشریع سے پورا پورا شغف ہے، اور جنھوں نے اس سلسلے میں بڑی محنت سے اسلامی اور غیراسلامی قانون کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور اپنی تحقیق کے نتائج ہمارے سامنے پیش کیے ہیں۔
پھر ایک اعتراض ایسا بھی وارد کیا جاتا ہے جو خالص مادی نقطۂ نظر اور شخصی مصالح اور تعصب کی بنیاد پر کیاجاتا ہے کہ’’ شرعی قانون پر اصرار کرنے والے درپردہ عدالت ہاے شرعیہ پر قابض ہونا چاہتے ہیں اوران کے ارادے یہ ہیں کہ عدالتوں میں کام کرنے والوں کی کثیر تعداد کو بالکل بے کار و بے روزگار بنادیں، اوریہ چاہتے ہیں کہ ایک خاص گروہ سارے عدالتی مناصب سنبھال لے، اور دوسروں کو ان سے بالکل محروم کردے۔عدالتوں کا نظام بہت وسیع، دقیق اور ہمہ گیر ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ شرعی عدالتوں کے چند جج ایسی کٹھن ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں؟‘‘ یہ اعتراض بھی بالکل لغو، مہمل اور پوچ ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ایک خاص قسم کا علم کیا کسی خاص طبقے کی نسلی میراث ہے؟ کیا ہر ذہین آدمی کی رسائی ہرعلم وفن تک نہیں ہوسکتی؟
ہمیں اس بارے میں مکمل اطمینان ہے کہ دونوں قسم کی عدالتوں کے مجسٹریٹ اور جج صاحبان اگرچہ چند ماہ بھی باہمی تدریس و تربیت پر صرف کریں تو وہ قانون کے سارے شعبوں پرحاوی ہوجائیں گے۔ آدمی جس راہ پر بھی پیش قدمی کرنے کا پختہ ارادہ کرلے، تو وہ راہ اس کے لیے ہموار ہوجاتی ہے۔ ہم کسی بھی فرد یا گروہ کی بے جا طرف داری یاعداوت میں مبتلا نہیں ہیں۔ ہم تو اس تفریق اور دوعملی کو سرے سے مٹادینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سیکولر اور شرعی امتیازات یکم قلم ختم کر دیے جائیں اورعدالت کا ایک کُلّی اور وحدانی نظام قائم کیا جائے اور اُس کے لیے اصل بنیاد اور ماخذ شریعت الٰہی کوقرار دیا جائے۔
یہ چند شبہات جو میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیںاوران کے مختصر جوابات بھی دے دیےہیں، جن سے بآسانی اندازہ ہوجاتا ہے کہ قانونِ شرعیہ کے نفاذ سے متعلق جن شکوک و شبہات کااظہار کیا جاتا ہے،وہ کتنے بے اصل اور بے بنیاد ہیں۔ یہی حال ہر ا س اعتراض کا ہوتا ہےجس کی پشت پرنفسانی اغراض اور حق سے اعراض کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔
الاخوان المسلمون کا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری حکومت، شریعت اسلامیہ کی طرف لوٹے اور مصری قانون کے نظام کو فوراً شریعت کی بنیادوں پر استوار کرے۔ ہم ایک مسلم قوم ہیں۔ ہم نے عزم کرلیا ہے کہ ہم صرف اللہ کے قانون، قرآن اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی حکمرانی اور بالادستی تسلیم کریں گے، خواہ اس کی بھاری سے بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑے اوربڑی سے بڑی قربانی بھی پیش کرنا پڑے۔ ایک آزاد اور خودمختار مسلمان قوم ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارا فطری حق ہے، اور سیاسی و اجتماعی شوکت و استقلال کا کوئی دوسرا مظہر اس کابدل اور قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ آپ بھی اس حق کے حصول میں ہماری مدد کیجیے۔ اس صورتِ حال کو بدلنے کی کوشش کیجیے اور قوم کو مجبور نہ کیجیے کہ وہ کسی ایسے راستے پر پڑ جائے جس پرمایوسی کی حالت میں قومیں پڑ جایا کرتی ہیں۔
_______________