عبدالرشید صدیقی مرحوم

ڈاکٹر زاہد پرویز

ہمارے عزیز دوست اور سرپرست محترم عبدالرشید صدیقی، ۲۳دسمبر ۲۰۱۹ء کو انتقال فرما گئے: اِنَّـا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ! مجھے اُن کے ساتھ ۱۹۸۵ء سے بہت قریب رہ کر کام کرنے کا موقع ملا، خصوصاً ’ینگ مسلمز‘ (YM)، اسلامک سوسائٹی آف بریٹن (ISB) اور یوکے اسلامک مشن (UKIM) میں تو وہ ہمارے مربی، استاد اور رہنما تھے۔ اُن کی پارسائی، للہیت، بلندخلقی، فروتنی، مخلصانہ سرپرستی اور محبت آگیں رفاقت، وہ جوہری خوبیاں تھیں، جنھوں نے مجھے بے پناہ متاثر کیا اور دینی جذبے کی آنچ سے روشناس کرایا۔
وہ نجی ملاقاتوں میں اور زندگی کے رسمی اور غیررسمی مراحل اور مواقع پر قرآنِ عظیم کی آیات، احادیث کے اسباق اور سیرتِ طیبہ کے واقعات کو بروقت اور اس قدر دل نشین انداز سے تازہ کرتے، سدابہار مسکراہٹ سے دُہراتے اور اس پیارے انداز سے دل میں اُتارتے کہ جی چاہتا: وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ وہ مزید کچھ بتائیں اور ان مقدس تعلیمات کے زیرسایہ وقت گزارنے کا موقع عنایت فرمائیں۔ یہ تو ایک بڑا روشن پہلو ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو میں نے ذاتی زندگی کے معاملات اور بحرانوں اور پریشانیوں میں رہنمائی کے لیے جب بھی ان سے رجوع کیا، تو انھوں نے کمالِ شفقت، بڑے خلوص، سراپا ہمدردی اور دُور اندیشی سے میری دست گیری کی۔ ان کی راے ہمیشہ صائب، مضبوط اور متوازن ہوتی۔
عبدالرشید صدیقی صاحب ستمبر ۱۹۳۲ء میں ممبئی میں پیدا ہوئے اور ۱۹۶۳ء میں نقل مکانی کرکے برطانیہ تشریف لائے۔ اُن کی صالح فطرت نے انھیں یہاں پہنچنے کے پہلے ہی روز سے اسلامی تنظیموں سے وابستہ رکھا، اور پھر اس دیارِغیر میں انھوں نے زندگی کے ۶۰برس، دعوتِ دین، تزکیہ و تربیت اور تحقیق و تالیف کی سرگرمیوں میں اس طرح گزارے کہ ان کا نام برطانیہ میں خدمت ِ دین کا استعارہ بن گیا۔ مذکورہ بالا تینوں تنظیموں میں بڑا اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ طویل مدت تک دی اسلامک فائونڈیشن،لیسٹر (TIF) اور مارک فیلڈ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن (MIHE) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن بھی رہے۔ مزید یہ کہ ۵۵برس تک ان اداروں کی رہنمائی اور نگرانی کے لیے بہت سی مرکزی ذمہ داریاں بھی ادا کیں، جن میں سینیر نائب صدر، سیکرٹری جنرل، سربراہ شعبۂ دعوت اور صدر شعبۂ منصوبہ سازی شامل ہیں۔
عبدالرشید صدیقی صاحب اپنے حُسنِ اخلاق، اَن تھک ریاضت، کامل یکسوئی، اعلیٰ تحقیقاتی قابلیت کے سبب اور اس سے بڑھ کر مطالعۂ قرآن اور مطالب ِ قرآن میں گہری نظر کی وجہ سے ہم سب کے مرکز نگاہ بن گئے تھے۔ وہ دعوتِ دین اور تربیت ِدین کی مصروفیتوں میں دلی سکون اور طمانیت محسوس کرتے تھے۔
انھوں نے اپنی زندگی کے سفر میں اہم موڑ کی نشان دہی ان لفظوں میں کی ہے: ’’بمبئی میں کالج کی تعلیم کے دوران میں زندگی کے معاملات اور سماجی مسائل سے لاتعلق سا تھا۔ اسی دوران میں میرے ایک عزیز دوست ذاکر علی صدیقی نے مجھے مولانا مودودیؒ کی کتب سے متعارف کرایا، جن کے مطالعے نے طبیعت پر گہرا اثر ڈالا۔ اسی زمانے میں جماعت اسلامی کے ممتاز مربی مولانا شمس پیرزادہؒ کے حلقۂ درسِ قرآن میں باقاعدگی سے شریک ہونے لگا۔ امرواقعہ ہے کہ ان بلندپایہ اور علم وفضل سے مالا مال دروسِ قرآن نے نقطۂ نظر اور مقصد ِ زندگی میں یک سر تبدیلی پیدا کردی اور یہ شعور دیا کہ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ غوروفکر کرنے اور زندگی کو اس کے زیراثر گزارنے کے لیے ہے۔ اسی سلسلۂ درس میں مجھے معلوم ہوا کہ قرآن کریم اس وقت تک سمجھ میں آنہیں سکتا، جب تک کہ سنت اور حدیث کے فہم سے انسان کورا اور لاتعلق ہو۔ اس پہلو نے مجھے دینی علوم کی روشنی میں پڑھنے، سمجھنے، لکھنے اور سمجھانے کی راہیں دکھائیں‘‘۔
محترم صدیقی صاحب نے مزید بتایا: ’’شروع میں تو اجلاسوں کی رپورٹیں لکھنے اور پریس ریلیز مرتب کرنے کا کام بڑے شوق سے کرتا رہا۔ پھر اسٹڈی سرکلز چلانے میں مصروف ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی درسِ قرآن دینے پر زور دیا جانے لگا۔ طبیعت میں جھجک تھی اور آواز بھی کچھ تیز تھی، اس لیے حوصلہ نہیں پاتاتھا۔ تاہم، ۲۵برس کی عمر میں بمبئی جیسے بڑے شہر میں ناظم مقرر کردیا گیا۔ اس ذمہ داری نے لازمی طور پر وہاں درس دینے اور اسٹڈی سرکل چلانے کے لیے مطالعے میں وسعت پیدا کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک، مؤثر انداز میں ابلاغ کی ذمہ داری ادا کرنے پر اُبھارا،جس نے بہت سی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا‘‘۔
یاد رہے زندگی کے ابتدائی عرصے میں عبدالرشید صدیقی صاحب نے معاشیات، سیاسیات اور قانون کی تعلیم بمبئی یونی ورسٹی سے حاصل کی تھی۔ اس کے بعد لندن میں لائبریری سائنس میں ماسٹرز کی سند ِ فضیلت لی۔ وہ لیسٹر یونی ورسٹی میں ۱۹۶۶ء سے ۱۹۹۷ء تک لائبریرین کے منصب پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس مدت میں یونی ورسٹی میں جمعہ کا خطبہ دینے کی ذمہ داری بھی باقاعدگی سے ادا کرتے رہے۔
بقول صدیقی صاحب: ’’جب برطانیہ آیا تو اسلامک مشن کی تشکیل کے بعد اس کے ترجمان پیغام کا مدیر مقرر ہوا۔ اداریہ نویسی کے ساتھ مضامین لکھنے، لکھوانے اور خبروں کو مرتب کرنے کی لازمی مشق بھی شروع ہوئی۔ اس چیز نے لکھنے اور لکھوانے کی منصوبہ سازی کی تربیت دی‘‘۔
تحریرو تصنیف کے ذیل میں عبدالرشید صدیقی صاحب نے بہت قیمتی کتب صدقۂ جاریہ کے طور پر چھوڑی ہیں، جن میں: *Living in Allah’s Presence *Treasurers of the Quran *Key to al-Fatihah *Key to Al-Imran *Tazkiyah: The Islamic Path of Self-Development *Quranic Keywords: A Reference Guide *Lift up Your Hearts *Man and Destiny *Shariah: A Divine Code of Life وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح انھوں نے مختلف اسکالروں کی کتب کو بہت اعلیٰ معیار پر مرتب و مدون کیا۔(ترجمہ: س م خ)