مدیر کے نام

پٹنہ (بھارت)
انٹرنیٹ پر ترجمان القرآن (اکتوبر۲۰۱۹ء) کا حرف حرف پڑھا، جو اچانک اور بلاارادہ میری رسائی میں آیا۔ اس شمارے نے مجھ پر جموں و کشمیر کے مسئلے کی حقیقت کے وہ گوشے روشن کیے ہیں کہ تحقیق کی دنیا سے تعلق کے باوجود آج سے پہلے وہاں تک رسائی حاصل نہ تھی۔ پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے ’اشارات‘ میں مسئلے کی تاریخ کو ایسے علمی، قانونی، مدلل ، منطقی اور غیرجذباتی انداز سے پیش کیا ہے کہ یہ مضمون ہندی میں خود بھارت کے طول و عرض میں فراہم کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح شکیل رشید ، افتخار گیلانی اور ڈیویکا ایس کی تحریریں کشمیر کے المیے کو اُجاگر کرنے کی راہ میں بڑے بڑے مضمونوں پر بھاری ہیں۔

کراچی
حیرت ہے کہ ڈاکٹر رشیداحمد (لاہور) نے (اکتوبر ۲۰۱۹ء، ص ۱۱۱) مفتی منیب الرحمٰن صاحب کے مضمون کو کھلے دل سے پڑھنے اور سمجھنے کے بجاے اُلٹا اس پر اعتراض وارد کر دیا ہے۔ مفتی صاحب نے کہیں پر بھی فہم قرآن کی نفی نہیں کی، لیکن حفظ و تلاوت کلامِ الٰہی کی قرار واقعی اہمیت ضرور اُجاگر کی ہے۔ اگر محض قرآنی زبان کا جاننا ہی ایک اعلیٰ قدر ہوتی ، تو ابولہب اور ابوجہل اُس زبان کا ٹھیک ٹھیک فہم رکھنے کے باوجود اس مقامِ عبرت پر نہ ہوتے۔ ثابت ہوا کہ ایمان اور عمل صالح کے لیے زبان دانی کی اہمیت کے باوجود، اس سے برتر چیز ایمان اور تفقہ فی الدین ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک بے معنی پھبتی ہے کہ مدارسِ دینیہ میں قرآن نہیں پڑھایا جاتا۔

حبیب الرحمٰن چترالی ، اسلام آباد
محترم ایچ عبدالرقیب صاحب کا معلوماتی مضمون: ’زکوٰۃ اور اسلامی سرمایہ کاری کا عالمی کردار‘ (ستمبر۲۰۱۹ء) پڑھا۔ جس میں پاے دار ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ۱۹۱ممبر ممالک کے متعین کردہ ’ترقی کے معیارات‘ اور ’ہزار سالہ ترقیاتی اہداف‘ کے حوالے سے، مجھے مضمون نگار کی راے سے سخت اختلاف ہے۔ فریضۂ زکوٰۃ کے عالمی کردار کو ہمیں اقوامِ متحدہ کے معیارات پر نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ مقاصد کے اعتبار سے ان مقامروں [جواریوں] کو اقبالؒ نے ’کفن چوروں‘ سے تشبیہہ دی ہے۔ مسلم دنیا کے معدنی وسائل اور اقتدارِ اعلیٰ پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد اب عالمِ اسلام کے دینی مناسبت سے معاشی وسائل کو بھی اپنے مقاصد اور عزائم کی تکمیل میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مطلوب یہ ہے کہ مقاصد تو اسلام کے ہوں، اور مسلم دنیا کے وسائل اِن کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں۔ وہ وسائل جن کے لیے ’تم میں سے ہوں‘ کی شرط بیان کرکے اسلام، مسلم معاشروں کو ہدایت دیتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ، شریعت ِ محمدی کے نام سے یا مقاصد ِ شریعت کے نام سے یہ وسائل اپنے تصوراتِ ہیومن اَزم (Humanism) کے لیے استعمال کرے گی، تو اس طرح دینی اور شرعی مقاصد و اہداف کی تکمیل ہرگز نہ ہوسکے گی۔
اقوام متحدہ غالباً یہ چاہتی ہوگی کہ ۲۲ فی صد مسلمانوں کی توحیدی قوت بھی ۱۹۱ ممالک کی تکثیری قوت کے تابع ہوجائے، تاکہ مسلم دنیا کے اقتدار پر قابض سیکولر، دولت پرست اور مغرب نواز حاکموں کے ہاتھوں شریعت ِ محمدی کے اپنے متعین کردہ معاشی و معاشرتی اہداف کی تکمیل تو درکنار، زکوٰۃ کے آٹھ مصارفِ شرعی بھی انھی کے مقرر کردہ ملینیم گول کی نذر کر دیے جائیں ۔ اقوام متحدہ ’شارع‘ بن کر اپنے متعین کردہ اہداف کے لیے شریعت اور زکوٰۃ کو بطورِ وسیلہ استعمال کرنا چاہتی ہے۔ یہ چیز شرکِ جلی کی خطرناک صورت ہے اور مسلم معاشروں کے معاشی وسائل کے استحصال کی ایک نئی صورت بھی۔اگرچہ مضمون نگار نے تو اس کارگزاری کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن ہم ان کے شکرگزار ہیں کہ اُن کےذریعے فی نفسہٖ ایک زہریلی چیز سے آگاہ ہوئے ہیں، جس پر مسلم دنیا کے متعلقہ اداروں کو اپنا ٹھیک ٹھیک کردار ادا کرنا چاہیے۔