کتاب نما

دَربرگِ لالہ وگُل، [کلامِ اقبال میں مطالعۂ نباتات]دوم، ڈاکٹر افضل رضوی۔ ناشر: بقائی یونی ورسٹی پریس، سپر ہائی وے، کراچی۔ فون:۳۴۴۱۰۲۹۳-۰۲۱۔ صفحات: ۳۴۹۔ قیمت (مجلد ): ۹۵۰ روپے ۔
اقبالیات کے ایک نادر موضوع پر زیرنظر کتاب کی پہلی جلد دسمبر ۲۰۱۶ء میں شائع ہوئی تھی، اور اب اس کی دوسری جلد سامنے آئی ہے۔ پہلی جلد میں ۱۸نباتات کا ذکر تھا اور دوسری جلد میں ۲۴نباتات کا تذکرہ ہے۔ مصنف تیسری جلد پر بھی کام کر رہے ہیں۔
جیساکہ ہم نے جلداوّل پر تبصرے (ترجمان: اگست ۲۰۱۷ء) میں بتایا تھا: ’’مصنف بنیادی طور پر نباتیاتی سائنس دان ہیں اور آج کل آسٹریلیا کے محکمۂ تعلیم میں خدمات انجام دے رہے ہیں‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ اقبال نے شاعری کو احیاے ملّت کے ابلاغ کا ذریعہ بنایا۔ قوم کو اُمیدوارتقا کا پیغام دیا اور جہد ِ مسلسل کی ترغیب دلائی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے عناصرِ فطرت اور برسرِزمین اور زیرِزمین جمادات کے ذکر سے بھی کام لیا۔
زیرنظر جلد کا آغاز ’پھول‘ سے ہوتا ہے اور پھر اسی تسلسل میں: تاک، جھاڑی، چوب، حنظل، حشیش، حنا، خیابان، ریاض، غنچہ، فصل، کلی، گلاب، گلستان،گلزار، مرغزار، نیستان اور نخل وغیرہ کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔افضل رضوی صاحب کا مطالعہ عمیق اور فکر راست ہے۔ ان کی یہ کتاب ایک اعتبار سے اقبال کے فارسی اور اُردو کلام کی نہایت عمدہ شرح بھی ہے۔ اس کتاب کے ایک تقریظ نگار ڈاکٹر عابد خورشید کی نظر میں: ’’یہ غیرمعمولی کارنامہ ہے، جسے افضل رضوی نے بخوبی انجام دیا ہے‘‘۔(رفیع الدین ہاشمی)
سفینۂ حجاج کے دو مسافر، میاں محمد اسلم۔ ناشر: جمال الدین سنز اینڈ کمپنی، ۴۴-عمرمارکیٹ، لنک ریلوے روڈ،لاہور۔ فون: ۳۷۶۵۷۲۵۲-۰۴۲۔ صفحات:۳۵۵ ۔ قیمت(مجلد): ۷۰۰ روپے
سفرِ حج بیت اللہ ، سفرِ شوق ہے اور سفرِسعادت بھی جس کے لیے ہزاروں برسوں سے پروانے لپک لپک کر خانہ کعبہ حاضری کے لیے رواں دواں رہتے ہیں۔

ماضی میں سب سے بڑا اور مشکل مرحلہ خود مکہ مکرمہ پہنچنا تھا اور اس مقصد کے لیے زائرین چھے چھے مہینے پیدل یا قدیمی روایتی سواریوں پر روانہ ہوتے، اور پھر اسی طرح واپس آتے تھے، یا پھر بحری جہازوں کے ذریعے سفر کرتے تھے۔آج حجاج ہوائی جہازوں میں اُڑان بھرتے اور چند گھنٹوں میں جدہ یا مدینہ منورہ پہنچتے اور سُرعت سے فریضۂ حج ادا کرکے دنوں میں واپس آجاتے ہیں۔
زیرنظر کتاب ۵۵برس پہلے، حج کے ایک سفر کی رُوداد ہے، جب حاجی بحری جہاز سے جدہ جایا کرتے تھے۔ میاں محمداسلم ایڈووکیٹ نے ۱۹۶۸ء میں حج کی سعادت حاصل کی۔ مصنف نے سفر کے دوران مختلف کیفیات اور دل چسپ معلومات کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ ۵۵برس پہلے حرمِ کعبہ کے نواح میں کس طرح کا ماحول تھا اور اُس مشکل دور میں حجاج کی مصروفیات و مشکلات کیا ہوتی تھیں۔ اس رُوداد میں ایمان کی حلاوت ہرصفحے پر ثبت نظر آتی ہے۔ یاد رہے فاضل مصنف اس سے پہلے طفیل قبیلہ لکھ چکے ہیں، جو جماعت اسلامی پاکستان کے دوسرے امیر [۱۹۷۲ء- ۱۹۸۷ء] محترم میاں طفیل محمدؒ کے بارے میں ہے۔ (س م خ)
اسلام کا خاندانی نظام، ایک تقابلی مطالعہ، زہرہ جبین۔ ناشر: مکان نمبر۴، گلی نمبر۹، بلال ٹائون، ایبٹ آباد۔ فون: ۰۹۵۳۸۸۹-۰۳۳۵۔ صفحات:۲۲۲۔ قیمت: درج نہیں۔
مصنفہ قانون کی استاد ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں عائلی نظام سے متعلقہ قوانین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ فقہ، قانون اور سماجیات کے مطالعے کی بنیاد پر رہنمائی دی ہے کہ اسلام کس طرح کا خانگی نظام قائم کرتا ہے؟ اس میں کن راہوں سے رخنہ اندازی پیدا ہوتی ہے؟ پھر ہمارا قانون کس انداز سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ درحقیقت خواتین کے لیے مددگار کتاب کا درجہ رکھتی ہے، جو یہ معلوم کرسکتی ہیں کہ دیگر تہذیبوں میں خواتین کس انداز سے زندگی گزار رہی ہیں اور ایک مسلمان خاتون کو زندگی کن راہوں پر چلتے ہوئے گزارنی چاہیے؟(س م خ)
مریم جمیلہ، نقاد تہذیب مغرب ، روبینہ مجید۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۴۷۶-۰۴۲۔ صفحات: ۲۵۶۔ قیمت (مجلد): ۲۶۵ روپے۔

مریم جمیلہ (سابقہ مارگریٹ مارکوس: ۲۲ مئی ۱۹۳۴ء ، ریاست نیویارک۔ ۳۱/اکتوبر ۲۰۱۲ء، لاہور) ایک خوش نصیب روح تھیں، جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ وہ یہودیت ترک کرکے ۲۴مئی ۱۹۶۱ء کو دائرۂ اسلام میں داخل ہوئیں۔ ۲۶برس کی عمر میں ۲۴جون ۱۹۶۲ء کو اپنا وطن امریکا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے پاکستان آگئیں۔ یہاں ۸؍اگست ۱۹۶۳ء کو مولانا مودودی کے رفیق محمدیوسف خان صاحب سے ان کی شادی ہوئی، جو پہلے سے شادی شدہ اور صاحب ِ اولاد تھے۔
محترمہ مریم جمیلہ کی نجی اور علمی زندگی، اسلام سے وابستگی اور اسلام کے لیے زندگی گزارنے کی اُمنگ وہ پہلو ہیں کہ انھیں جتنا جاننا، سمجھنا اور پڑھنا شروع کر یں، اسی قدر ان کی قدرومنزلت بڑھتی اور اپنے دائرۂ اثر میں لیتی جاتی ہے۔ انھوں نے مغرب میں پروان چڑھ کر مغربی تہذیب کی انسانیت کش بنیادوں اور مادی تہذیب کی سفاکیوں کو جس گہری نظر سے دیکھا اور پھر آزادانہ فیصلے سے اسے مسترد کیا، وہ سب ایک روحانی، تہذیبی اور علمی سفر کا دبستان ہے۔
مصنفہ نے بڑی خوبی سے محترمہ مریم جمیلہ کی زندگی کے ان پہلوئوں پر تحقیق اور تجزیات پر مبنی مقالات مرتب کیے ہیں۔ ان میں مرکزی مضامین ’اسلام اور مغربی تہذیب و تمدن‘ اور ’مریم جمیلہ بحیثیت نقاد تہذیب ِ مغرب‘ ہیں۔کتاب میں تقریباً تمام ضروری معلومات ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کتاب پڑھتے ہوئے قاری اس شرمندگی اور کم مائیگی کے احساس کی گرفت محسوس کرتا ہے ع ’پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے‘ ۔ ہم نے مسلم گھرانوں میں پیدا ہوکر وہ کچھ نہ سیکھا اور وہ کچھ نہ کرسکے، جو ہزاروں کلومیٹر دُور سے ہجرت کر کے آنے والی قابلِ رشک خاتون نے کردکھایا۔ (س م خ)
اقبال کا ایوانِ دل، محمد الیاس کھوکھر۔ ناشر: نگارشات، ۲۴ مزنگ روڈ، لاہور۔ فون: ۹۴۱۴۴۴۲-۰۳۲۱۔ صفحات:۵۴۴۔ قیمت: ۱۰۰۰ روپے۔
اقبال سوتے ہوئوں کو جگانے اور عمل پر اُبھارنے والی شخصیت ہیں۔ انھوں نے اپنے پیغام کو قرآن، سیرتِ نبویؐ اور تاریخِ اسلام کے گہرے مطالعے کے علاوہ عصرِحاضر کے مشاہدے سے اخذ کیا اور بستی بستی اس کو پھیلایا۔ کتنے بدقسمت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اس حیات بخش پیغام کو محض مغنیوں کی آوا ز سے سنا، چند نظموں اور کچھ اشعار کو زمانۂ طالب علمی میں درسی جبر کے ساتھ ہی پڑھا، مگر اس مطالعے اور سماعت نے ان کی زندگی اور زندگی کے چلن پر کچھ اثر نہ ڈالا۔

مصنف نے بجاطور پر کلامِ اقبال اور حیاتِ اقبال میں خاص کشش محسوس کی ہے۔ پھر اپنے دل پر گزرنے والی اس فکری اور روحانی واردات کو ۱۸ مضامین کی شکل میں مرتب کرکے، قوم کو متوجہ کیا ہے۔ یہ مضامین گہرے مطالعے، فہم اقبال کی وسعت، اور بے پایاں لگن کے مظہر ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ کتاب کسی محکمانہ ترقی کی ضرورت کے تحت نہیں لکھی گئی بلکہ تعلیم و تربیت کی غرض سے تحریر کی گئی ہے۔ زبان سادہ اور عام فہم ہے۔(س م خ)
خدمات علماءِ سندھ اور جمعیت العلما، مولانا محمد رمضان پھلپوٹو۔ ناشر: جمعیت علماءِ اسلام، کریم پاک ، راوی روڈ، لاہور۔ صفحات:۴۴۸۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔
علماے کرام نے دعوتِ دین کے چراغ روشن کرنے کے لیے، بے پناہ ایثار اور یکسوئی کے ساتھ پوری پوری زندگیاں اللہ کی راہ میں لگادی ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں، وہ عقائد کی دنیا ہو یا عمل کا میدان، افراط و تفریط کا مشاہدہ قدم قدم پر دکھائی دیتا ہے۔ کہیں عصبیت اور کہیں غلو۔ یہ کتاب ان دونوں پہلوئوں پر بحث کرتی ہے۔
زیرنظر کتاب میں فاضل مرتب نے خدماتِ علما کا ریکارڈ مرتب کیا ہے: خطۂ سندھ میں جمعیت علماے اسلام اور دارالعلوم دیوبند کی دینی، تعلیمی اور تربیتی روایت نے کون کون سے کارہاے نمایاں انجام دیے؟ ایک جگہ فرمایا ہے کہ ’’جمعیت علماے اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسری سیاسی یا مذہبی جماعت میں شامل ہونے کو مَیں سیاسی کفر سمجھتا ہوں،کیونکہ موجودہ دور میں جمعیت، قرآن و سنت میں بیان کردہ الجماعۃ کی مصداق ہے‘‘(ص ۲۴۹)۔ بڑے احترام سے عرض ہے کہ اس عقیدے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دینی تعلیم و تربیت کے لیے علماے کرام کی کاوشوں کو برگ و بار اور وسعت عطا فرمائے۔ مجموعی طور پر یہ کتاب معلومات افزا ہے۔ (س م خ)