کتاب نما

پروفیسرڈاکٹر انیس احمد

سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات، خلیق احمد نظامی۔ ناشر: مجلس ترقی ادب، ۲-کلب روڈ، لاہور۔فون: ۹۹۲۰۰۸۵۶-۰۴۲۔ صفحات:۴۸۶۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔
خلفاے راشدین کے دور میں نظامِ حکومت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےبناکردہ اصولوں پر استوار رہا، مگر دورِ بنی اُمیہ میں حکومت و سیاست کی بنیادیںہل گئیں۔اگرچہ خلیفہ، بادشاہ بن گیا (تاہم، وہ خود کو خلیفہ ہی سمجھتا تھا)۔ ان کے برعکس سلاطینِ ہند نے اس روش سے اجتناب برتنے کی کوشش کی۔ زیرنظر کتاب میں قطب الدین ایبک (سے لے کرالتمش، فیروز شاہ، ناصرالدین محمود، غیاث الدین، معزالدین کیقباد، جلال الدین خلجی، غیاث الدین تغلق، محمد تغلق، سکندر لودھی وغیرہ تک) کے مذہبی رجحانات کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔
فاضل مصنف علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور مصر میں حکومت ِ ہند کے سفیر بھی۔ مگر اصلاً وہ ایک وسیع النظر عالم اور غیر جانب دار مؤرخ تھے۔اپنی وقیع اور بلندپایہ تصانیف کی تحریر و تدوین کے لیے انھوں نے عربی، فارسی اور انگریزی مصادر سے براہِ راست استفادہ کیا۔
ڈاکٹر نظامی بتاتے ہیں کہ: یہ سلاطین عدل و انصاف، عبادات میں انہماک، علما و صوفیا سے عقیدت، اشاعت ِ اسلام اور احترامِ شریعت جیسے قابلِ قدر اوصاف کے ساتھ مخالفین کے قتل، شراب نوشی، رقص و سرود میں دل چسپی میں بھی ملوث نظر آتے ہیں۔ اسی طرح بعض ذاتی زندگی میں بہت متقی، پرہیزگار اور تہجدگزار بھی تھے۔ ان میں غازی ملک غیاث الدین تغلق جیسا ’مناقب ِ جمہور‘ سے متصف شخص بھی تھا، جس کی مؤرخین نے جی بھر کر تعریف کی ہے۔ محمدشاہ تغلق جیسا نابغہ بھی تھا، مگر نہایت متضاد اوصاف کا مالک اور عجیب و غریب حکمران۔
مؤرخین نے ان میں سے بعض سلاطین پر طرح طرح کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ نظامی صاحب نے تجزیہ کرکے بہ دلائل ان کی تصدیق یا تردید کی ہے۔ مجموعی طور پر ان بادشاہوں کے ہاں مذہبیت غالب تھی اور ان کے مذہبی رجحانات قوی تھے۔ اس کی ایک وجہ اس دور کے نڈر اور بے باک علما و صوفیا اور باعمل مشائخ بھی تھے۔یہ کتاب بہت پہلے بھارت میں چھپی تھی، مجلس نے اس کا عکسی ایڈیشن شائع کرکے ایک علمی خدمت انجام دی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
تذکار بگویہ، جلد پنجم، مرتب و ناشر: ڈاکٹر انوار احمد بگوی۔ چیف ایگزیکٹو، منصورہ ٹیچنگ ہسپتال، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۶۰۸۔ قیمت:درج نہیں۔
بھیرہ کا خاندانِ بگویہ اپنی علمی، تبلیغی اور اصلاحی خدمات کی وجہ سے پورے برعظیم میں ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خاندان میں ایسے متعدد عالم، محدث، فقہی اور صاحب ِ قلم بزرگ گزرے ہیں، جن کی زندگیوں کا مقصد ِ وحید دینِ اسلام کی حفاظت اور فروغ تھا۔ دین کے یہ بے لوث خادم ہمیشہ سرکار، دربار سے گریزاں اور صاحبانِ اقتدار سے فاصلے پر رہے۔ دنیاوی مناصب اور عہدوں سے انھیں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ایک طرف انھوں نے تحریک ِ خلافت، تحریک ِ پاکستان اور تحریک ِ مدحِ صحابہؓ کی تائید کی اور حسب ِ استطاعت ان میں حصہ بھی لیا۔ دوسری طرف معاصر گمراہ کن تحریکوں اور شخصیات کی تردید میں اپنا بھرپور اثرورسوخ استعمال کیا۔ بگویہ علما نے بھیرہ میں مجلس حزب الانصار، دارالعلوم عزیزیہ اور کتب خانہ عزیزیہ قائم کیے، اور شمس الاسلام کے نام سے ایک دینی رسالہ بھی جاری کیا۔
مولانا ظہور احمد بگوی اس خانوادے کے علما میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ زیرنظر کتاب میں ان کی ۲۵سال کی تحریروں کو جمع کیا گیا ہے۔ جو مضامین، مقالوں، تجزیو ں اور اداریوں کی صورت میں ماہنامہ شمس الاسلام میں بکھرے ہوئے تھے۔
اس کتاب کے مؤلف ڈاکٹر انوار احمد بگوی ڈاکٹر ہیں اور ایک ہسپتال کے کُل وقتی سربراہ بھی۔ اس ہمہ پہلو مصروفیت کے ساتھ ایسی علمی کتاب کی تدوین، وقت کی تنظیم اور استعمال کے باب میں ان کی سلیقہ مندی کو ظاہر کرتی ہے۔ چار جلدیں وہ قبل ازیں مرتب اور شائع کرچکے ہیں۔ یہ علمی کارنامہ بظاہر تو اپنے ذوق و شوق اور اپنے بزرگوں کے کارناموں کو تاریخ کے اَوراق میں منضبط کرنے کے خیال سے انجام دیا گیا ہے، لیکن درحقیقت ایک قیمتی اثاثے کو آیندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
STRAIGHT TALK، [سیدھی بات]، ذوالفقار احمد چیمہ۔ ناشر: ماورا پبلشرز، ۶۰-شارع قائداعظم، لاہور۔ فون: ۳۶۳۰۳۳۹۰-۰۴۲۔صفحات: ۲۵۲۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔ اچھا سوچنا ایک اعلیٰ قدر ہے اور اس سوچ کو تعمیری تحریر میں ڈھالنا باعث ِ سعادت۔ ذوالفقار احمد چیمہ معروف اور نیک نام سول افسر رہے ہیں۔ انھوں نے معاشرے کے جملہ تضادات کو باریکی سے دیکھا، پرکھا اور ہمدردانہ دانش سے ان کا علاج تجویز کیا ہے۔
ہم بنیادی طور پر ایک ظاہردار اور تہذیبی اعتبار سے بیمار معاشرہ ہیں۔ اس بیماری کا سب سے بڑا مظہر اپنی قومی زبان اُردو کو دھکے دے کر علمی اور قانون ساز اداروں، سرکاری دفتروں اور عدالتوں سے باہر نکال پھینکے کا جرمِ عظیم ہے۔ جرمِ عظیم کہنا اس لیے درست ہے کہ ہمارا کم و بیش تمام تر تہذیبی، دینی، ادبی اور علمی اثاثہ اُردو میں ہے۔ لیکن یہ زبان دفتر اور عدالت، اسکول اور مارکیٹ، تعلقات اور معاشرے کے دائرے سے باہر اور ایک قابلِ رحم بھکارن کے رُوپ میں دکھائی دیتی ہے۔
جناب ذوالفقار نے اس کتاب کی بیش تر تحریریں اُردو میں لکھیں، لیکن وہ یہ دیکھ کر سخت صدمے سے دوچار ہیں کہ نئی نسل کا ایک قابلِ لحاظ حصہ اپنے ملکِ عزیز میں بھی اُردو سے بیگانہ اور لاتعلق ہے۔ چنانچہ انھوں نے کتاب کے کچھ مباحث کو انگریزی میں ڈھالا، تاکہ آنے والی نسل کے دل و دماغ پر ہتھوڑا بن کر برسنے والے بدیسی، سیکولر، اسلام گریزی اور پاکستان دشمن بیانات و خیالات کے برعکس دوسرا پہلو بھی سامنے آسکے۔
کتاب میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے لے کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے پُرنور گوشے، علامہ اقبال کے پیغامِ زندگی سے لے کر قائداعظم کے وژن اور ۱۱؍اگست کی تقریر کی بحث تک، تاریخ کے اسرار و رُموز سے لے کر انتظامیات کے پیچ و خم پر پھیلے ۴۰موضوعات کو سمیٹا گیا ہے۔ انگریزی زبان رواں، شُستہ اور عام فہم ہے اور تاثیر انگیز۔ (س م خ)

پروفیسرڈاکٹر انیس احمد