کتاب نما

روح الامین کی معیّت میں کاروانِ نبوتؐ (جلد۸)، پروفیسر ڈاکٹر تسنیم احمد۔ ناشر: مکتبہ دعوۃ الحق، ۱۹۳-اے، اٹاوہ سوسائٹی، احسن آباد۔ کراچی- ۷۵۳۴۰۔ فون: ۲۱۲۰۸۶۸-۰۳۱۴۔ صفحات:۲۱۳۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔
مصنّف نے سیرت النبیؐ کو تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا بیڑا اُٹھایا تھا۔ سات جلدوں میں مکّی دور کا بیان مکمل ہوا اور اب زیرنظر آٹھویں جلد نزولِ قرآن کے پس منظر میں، مدنی دور کے کارہاے نبوت اور تاریخ اسلام کی تفصیلات بیان کرنے کی ابتدا ہے۔
بقول مصنّف: ’’گذشتہ چودہ سو برس میں یہ بالکل ایک منفرد کوشش ہے‘‘۔ سیرت کی عام کتابوں کی طرح اس میں صرف واقعات کے بیان پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ سیرت کو نزولِ قرآن کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی سعی کی گئی ہے۔ چنانچہ یہ ایک اعتبار سے قرآنِ حکیم کی تفسیر بھی ہے۔ متنِ قرآن کے ترجمے میں بعض علامات دی ہیں، جن سے رواں ترجمے کے ساتھ لفظی ترجمہ بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ ہم اسے قافلۂ دعوتِ حق کی تاریخ بھی کہہ سکتے ہیں۔
زیرنظر جلد میں مدنی دور کے چند نبوی کارناموں کا ذکر ہے(یہ سلسلہ آگے چلے گا)۔ یہ آٹھویں جلد ۱۳؍ابواب میں منقسم ہے، جن کے تحت مدینہ کے یہود سے پیش آمدہ معاملات ، اسلام کے مخالفین اور منافقین کے رویّے اور مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام و استحکام کے لیے رسولِ اکرمؐ کی جدوجہد وغیرہ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
نستعلیق و نسخ کمپوزکاری، اعراب و علامات، عنوانات، طباعت اور جلدبندی میں غیرمعمولی اہتمام و کاوش نے کتاب کو بہ ہرطور ایک معیاری پیش کش بنادیا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
اسلامی تحریک کے ۳۰ بنیادی اصول، خلیل الرحمٰن چشتی۔ ملنے کا پتا: مکان ۶۴۴، مین ڈبل روڈ، سیکٹر ای، ۳/۱۱ (NPF)، اسلام آباد۔ فون: ۵۵۶۰۹۰۰-۰۳۰۰۔ صفحات: ۱۳۶۔ قیمت:۲۰۰ روپے

عصرِحاضر میں دعوتِ دین اسلام کے لیے مختلف سطحوں پر بڑی جان دار کوششیں ہورہی ہیں۔ کہیں ایک رُخ پر زور ہے تو کہیں دین کو مکمل طور پر دعوتِ دین کا مرکز و موضوع بنایاگیا ہے۔ زیرنظر کتاب دعوتِ دین کی اس دوسری لہر کو زیربحث لاتی اور اس کے کارکنوں، رضاکاروں اور قائدین کو مخاطب کرتی ہے۔
محترم مؤلف نے قرآن، سنت، حدیث کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ کے تجربات و اسباق کو بڑی خوبی کے ساتھ اختصار اور قابلِ فہم انداز میں، ایک فطری ترتیب کے ساتھ مرتب کر دیا ہے۔مرتب کا اسلوبِ بیان جان داراور کسی بھی نوعیت کی معذرت خواہی سے پاک ہے۔ وہ مخاطبین کو ہمدردی کے ساتھ سبق یاد دلاتے اور عمل پر اُبھارتے ہیں۔(س م خ)
اقبال، بچوں اور نوجوانوں کے لیے، عنایت علی۔ناشر: بک کارنر، اقبال لائبریری روڈ، جہلم۔ صفحات ۱۹۳۔ قیمت: ۴۸۰روپے۔
مؤلف نے ’اسفارِ اقبال کے بعد بچوں اور نوجوانوں کے لیے علامہ اقبال کی مجلسی اور نجی زندگی سے کچھ منتخب واقعات مرتب کیے ہیں جو دل چسپ ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہیں اور یہ صرف بچوں اور نوجوانوں کے لیے ہی نہیں، بڑوں کے لیے بھی بہت معلومات افزا ہیں۔ جیساکہ مؤلف نے ’پیش لفظ‘ میں لکھا ہے: ’’حیاتِ اقبال کی خوب صورتی یہ ہے کہ علّامہ اپنی عملی اور نجی زندگی میں بھی و یسے ہی دیانت دار، قناعت پسند، عاشقِ رسولؐ اور اُمت کے بہی خواہ تھے، جیسے وہ اپنے کلام میں نظر آتے ہیں‘‘۔
مؤلف نے علامہ اقبال کی ۳۵ سوانحی اور ملفوظاتی کتابوں سے واقعات اور اقتباسات اخذکرکے اُنھیں ابواب وار حوالوں کے ساتھ یک جا کیا ہے۔ مختلف روایات کی مدد سے مؤلف نے بتایا ہے کہ بچوں سے اقبال کا رویہ ہمیشہ محبت، شفقت اور سرپرستی کا ہوتا تھا۔ اِسی طرح ملازمین سے بھی اُن کا سلوک قابلِ قدر تھا۔ طبعاً نہایت سادگی پسند تھے۔ بناوٹ، نمودونمایش یا ٹھاٹھ باٹھ سے دُور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ طبیعت میں انکسار بہت تھا۔
کتاب کے شروع میں اقبال کے اہلِ خانہ، اساتذہ اور بعض احباب کی تصاویر شامل ہیں اور آخر میں بچوں کی دل چسپی کے لیے دنیا بھر میں بیادِ اقبال جاری ہونے والے ڈاک ٹکٹوں کی تصاویر اور ٹکٹوں کے کوائف بھی شامل ہیں۔ مزیدبرآں اقبال سکّوں، کرنسی نوٹوں اور اقبال کے کوائف بھی شامل ہیں۔ مزیدبرآں اقبال سکّوں، کرنسی نوٹوں اور اقبال میموریل فنڈ کے کوپنوں کی تصاویر بھی منسلک ہیں۔ بچّے، جوان یا بوڑھے جملہ قارئین اسے دل چسپ پائیں گے۔ کتاب خوب صورت چھاپی گئی ہے اور قیمت قدرے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)

آیاتِ الٰہی کا نگہبان، محمد الیاس کھوکھر۔ ناشر: مکتبہ فروغِ فکر اقبال، ۹۷-نظام بلاک، علامہ اقبال ٹائون، لاہور۔ فون: ۸۰۷۶۹۱۸-۰۳۳۲۔ صفحات:۳۷۹۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔ زیرنظر کتاب کے تقریظ نگار جسٹس (ر) نسیم اخترخان کے بقول: ’’یہ کتاب آیاتِ الٰہی کے نگہبان [مسلمان]کی رُودادِ غم ہے‘‘۔ مصنّف کے نزدیک: ’’کلامِ اقبال کا سب سے بڑا موضوع انسان ہے اور اس بڑے موضوع کا سب سے اہم باب مسلمان‘‘ (ص۱۱۲)۔ مسلمان صدیوں سے ابتلا و آزمایش اور مشکلات و مصائب کا شکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’اس وقت آیاتِ الٰہی کے نگہبان مسلمانوں کے ۶۰ سے کچھ اُوپر آزاد ملک ہیں، مگر وہ ذہنی اور تہذیبی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ان آزاد اسلامی ملکوں میں ایک مربع میل [بھی]ایسا نہیں جس پر نظامِ اسلامی نافذ ہو‘‘ (ص ۱۰۳-۱۰۴)۔ ان کے خیال میں اقبال نے مسلمانوں اور انسانوں کو تہذیبی غلامی اور مصائب و مشکلات سے نجات دلانے کی بھی جدوجہد کی ہے۔ اُمت کے ملّی اور اسلامی تشخص کی بحالی، اقبال کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ ہے۔ ان کی دانست میں مسلمان اللہ سے دُور ہوگیا ہے اور قرآن سے انحراف کی زندگی بسر کررہا ہے (اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر)۔ اقبال کی شاعری: ’’اللہ سے رُوٹھے ہوئے انسان کو اللہ سے ملانے کی شاعری ہے‘‘۔ (ص ۱۱۸)
مختلف مباحث میں، مصنّف نے مولانا مودودی کے اقتباسات سے تائید حاصل کی ہے۔ عام قاری کے لیے اقبال کی زندگی، اُن کے مقاصد ِ حیات اور اُن کی آرزو ئوں اور تمنائوں کو سمجھنے کے لیے کھوکھرصاحب کی یہ کاوش بہت مفید ہے۔تاہم کتاب کے عنوان سے ہمیں اتفاق نہیں ہے کیوں کہ آیاتِ الٰہی کا نگہبان خود باری تعالیٰ ہے: (فَاللّٰہُ خَیْرٌ حٰفِظًا) نہ کہ مسلمان یا انسان۔(رفیع الدین ہاشمی)