کتاب نما

سیرتِ نبی ؐ رحمت (ماہتابِ عالمؐ)، امتیاز احمد۔ ملنے کا پتا: دارالنوادر، الحمد مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار ، لاہور۔ فون: ۸۸۹۸۶۳۹-۰۳۰۰۔ صفحات: ۵۴۴۔ قیمت: ۷۵۰ روپے۔
سیرت النبیؐ پر بلامبالغہ ہزاروں ہی کتابیں لکھیں اور چھپی ہوں گی اور یہ سلسلہ جاری ہے کیوں کہ بقول مصنف: ’’بنی نوع انسان کے افضل ترین انسان کی حیاتِ طیبہ کو پڑھنا، سمجھنا، لکھنا اور پیش کرنا، ایک بہت بڑا اعزاز اور سعادت ہے‘‘۔ پس یہی وجہِ جواز ہے، زیرنظر کتاب کی تحریر و اشاعت کی۔ اس کی تحریر و تصنیف مدینۃ النبیؐ میں ہوئی۔ بقول مصنف: ’’مدینہ منورہ میں بیٹھ کر آپؐ کی حیاتِ طیبہ لکھنے میں اور ہی مٹھاس ہے‘‘۔ مصنف نے سیرتِ پاکؐ شعوری طور پر سیدھے سادے اسلوب اور آسان زبان میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس اُمید کے ساتھ کہ ’اُمت مسلمہ کے بچوں تک کے لیے مفید ہوگی‘۔
فاضل مؤلّف، برطانیہ اور امریکا میں زیرتعلیم رہے، پھر کئی برس تک درس و تدریس اور ساتھ ہی دعوتِ دین میں مصروف رہے۔ یہ کتاب ان کے وسیع مطالعہ قرآن و حدیث اور سیرت و تاریخ کا حاصل ہے۔ انھوں نے آں حضوؐر کو خراجِ عقیدت پر مبنی مغربیوں کے بیانات بھی نقل کیے ہیں۔
سیرت کی ترتیب زمانی ہے۔ واقعات، بیانات اور آپؐ کے ملفوظات سے نتائج اخذ کرکے انھیں نمبروار بیان کرتے ہیں، مثلاً غیرمسلم حکمرانوں کے نام آپؐ کے خطوط نقل کرکے، بطور نتائج چند اہم نکات پیش کیے ہیں: mخطوط کا مقصد،بادشاہوں تک دعوت پہنچانا تھا، mخطوط مختصر مگر جامع تھے mہرخط بسم اللہ سے شروع ہوتا ہے، اس لیے یہ سنت ہے mخطوط کے لیے مُہربنوائی، پس ہر زمانے کے رواج پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے(ص ۳۰۵)۔
اسی طرح جنگ ِ موتہ کے بعد آں حضوؐر کے طرزِعمل سے، مؤلف حسب ذیل نتائج اخذ کرتے ہیں:mکسی کی وفات پر تین دن تک مرحوم کے اہلِ خانہ و اعزہ کے لیے کھانا بھیجنا چاہیے۔ mکسی کی وفات پر تین دن ہم رو سکتے ہیں، مگر چیخنا چلّانا منع ہے mمرحوم کے اہلِ خانہ کے پاس تعزیت کے لیے جانا چاہیے mتین دن کے بعد افسوس نہیں کرنا چاہیے،البتہ مرحوم کی بیوی چارماہ دس دن تک عدّت میں رہے گی (ص۳۱۴)۔
اُردو کے ذخیرۂ سیرت النبیؐ میں زیرنظر کتاب ایک اچھا، قابلِ قدر اضافہ ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)

سلطان الخطاطین حافظ محمد یوسف سدیدیؒ، مرتب: ڈاکٹرانجم رحمانی۔ ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، لاہور ۔ صفحات: ۳۷۹، آرٹ پیپر پر خطاطی کے نمونے ۴۸ صفحات۔ قیمت: ۱۲۰۰روپے
کم ہی ناظرین نے غور کیا ہوگا کہ جامع مسجد منصورہ کے ہال کی (اندرونی و بیرونی) خطاطی، مسجدشہدا، مینارِ پاکستان، قطب الدین ایبکؒ کے مقبرے، سیّد علی ہجویریؒ کے مزار اور اسلامک سمٹ مینار کی خطاطی کس خوش نویس کے موقلم کا شاہکارہے؟ یہ نمونے تو صرف لاہور کے چند ایک نمایاں مقامات کے ہیں۔ سلطان الملک حافظ محمد یوسف سدیدی (۱۹۲۶ء-۱۹۸۶ء) کے کمالِ فن کے بے مثل نمونے نہ صرف پاکستان کے دیگر شہروں، بلکہ بیرونی دنیا میں بھی بکھرے ہوئے ’ثبت است برجریدئہ عالم دوامِ ما‘ کا نقش پیش کررہے ہیں۔
زیرنظر کتاب اس درویش صفت خطاط کی شخصیت اور اس کے احوال و آثار کی تفصیل پیش کرتی ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی، حافظ صاحب کو درویش، انکسار اور کمالِ فن سے متصف شخصیت کے طور پر یاد کرتے ہیں مگرزیرنظر کتاب میں شامل ان کے حالات، خصوصاً اُن کی آپ بیتی پڑھتے ہوئے ربِّ ذوالجلال کی خلّاقی پرایمان پختہ تر ہوجاتا ہے، جس نے حافظ محمد یوسف جیسے انسانوں کو گوناگوں اوصاف و صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔ص ۳۴۴ پر روایت ہے کہ جامع مسجد منصورہ کی خطاطی مکمل ہوئی (تقریباً ۳۵ برس پہلے، اور یہ لکھائی بقول : انجم رحمانی: ’’بخط ِ کوفی و ثلث لکھائی، ایک لاجواب مثال ہے‘‘) تو انھیں ۷۰ہزار روپے کا ہدیہ پیش کیا گیا، جو انھوں نے شکریے کے ساتھ واپس کر دیا۔ حافظ صاحب مساجد کے کتبے لکھنے کا معاوضہ یا ہدیہ قبول نہیں کرتے تھے۔ البتہ مقبروں، قبروں، دکانوں، مکانوں، سرورقوں کی عبارات لکھنے کی جو رقم پیش کی جاتی، خاموشی سے لے لیتے۔
ڈاکٹر انجم رحمانی کہتے ہیں کہ بیش تر خطاط تین یا چار رسم الخطوں میں مہارت رکھتے ہیں، مگر حافظ صاحب وہ خطاط ہیں جنھیں تقریباً تمام قدیم و جدید خطوط پر دسترس حاصل تھی۔ کتاب میں ۴۸صفحات پر مشتمل ان کی خطاطی کے نمونے شامل ہیں۔ [افسوس کہ جامع منصورہ میں حافظ صاحب کی خطاطی کے نمونے (ص ۳۰)مناسب انداز سے شائع نہیں ہوئے۔ادارہ]
سوانح و شخصیت کا حصہ تفصیلی ہے، جس میں مرحوم کی خودنوشت بھی شامل ہے۔ ان کے مضامین اور خطوط سے آپ کی شخصیت کے بعض پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ (ص ۲۷۳ تا ۲۹۲ کے خطوں کی حیثیت مرحوم کے تبرک کی ہے۔ کچھ معلومات تکرار کی حیثیت رکھتی ہیں)۔ڈاکٹر انجم رحمانی نے بڑی محنت سے کتاب مرتب کی ہے۔ تعلیقات و تشریحات (ص۲۹۸ – ۳۶۵) سے فنِ خطاطی کی نوعیت، تاریخ اور صاحبانِ فن سے بخوبی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ کتابیات اور اشخاص و مقامات کے اشاریے، کتاب کی وقعت اور اعتبار میں اضافہ کرتے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)