کشمیر: پنڈت گردی، زبان اور ضمانتی جبر!

افتخار گیلانی

کشمیر ی قوم پر اس وقت جو آفت آن پڑی ہے اور جس طرح بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے ان کے تشخص اور انفرادیت پر کاری وار کیا ہے، ہونا تو چاہیے تھا کہ مذہبی عناد سے اوپر اٹھ کر اس کا مقابلہ کیا جاتا۔ افسوس کا مقام ہے کہ کشمیری پنڈتوں (ہندوئوں) کے بااثر طبقے اور اکثریت نے ایک بار پھر اپنے ہم وطنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر تاریخ کے مختلف اَدوار کو دہرایا، اور ظلم و جبر کے آلات (Instruments of Tyranny) بننے کا کام کیا۔ سابق انڈین ایئر وائس مارشل کپل کاک، مقتدر اسپورٹس صحافی سندیپ، اشوک بھان، نتاشا کول، فلم میکر سنجے کاک اور ایم کے رینہ وغیرہ کے علاوہ پنڈت برادری، کشمیریو ں پر آئی اس آفت پر جھوم اٹھی ہے۔ قومی میڈیا میں موجود اسی کمیونٹی کے تین افراد، سیکورٹی کے ہمراہ کشمیر میں گھوم کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ: ’’کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے کشمیری خوش ہیں اور کسی بھی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کر رہے ہیں‘‘۔ یہ تو بھلا ہو بین الاقوامی میڈیا کا، جس نے ان کا پول کھول دیا۔
حیرت کا مقام ہے کہ جہاں بقیہ تمام میڈیا ، انٹرنیٹ، فون کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے دست و پا ہوگیا تھا، یہ تین افراد لمحہ بہ لمحہ تصویریں اور رپورٹیں سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کر رہے تھے۔ وہ کشمیر کو بھول کر نسل پرستی کے پیمانے سے معاملات کو جانچ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ: ’’۱۹۹۰ء میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، آج مودی حکومت نے اس کا بدلہ چکادیا ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ چند افراد کے مبینہ افعال کی سزا اجتماعی طور پر پوری کشمیری قوم کو کیسے دی جاسکتی ہے؟ ویسے ۱۹۹۰ء سے لے کر اب تک کشمیر میں تو بھارت ہی کی عمل داری ہے۔ جن لوگوں نے کشمیری پنڈتوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا، ان کے خلاف تادیبی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ بلکہ اس کو محض پروپیگنڈا کا ہتھیار بنایا گیا۔ یہ خود کشمیری پنڈتوں کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے۔
یہ سچ ہے کہ۱۹۸۹ء میں کشمیر میں عسکری تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی خوف کی فضا طاری ہوگئی تھی۔ عسکریت پسندی پر کسی کا کنٹرول نہ ہونے کے باعث، آوارہ اور غنڈا عناصر نے بھی اس میں پناہ لی۔ کئی افراد توبغیر کسی مقصد کے یا کسی سے بدلہ چکانے کی نیت سے بھی عسکریت میںشامل ہوگئے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) اور حزب المجاہدین کو چھوڑ کر، ایک وقت تو وادی میں ایک سو سے زائد عسکری تنظیمیں تھیں۔اس طوائف الملوکی کو مزید ہوا دینے میں بھارتی ایجنسیوں نے بھی بھر پور کردار ادا کیا۔ ۱۹۸۹ء میں گورنر بننے کے فوراً بعد نئی دہلی حکومت کے گورنر جگ موہن نے پوری سیاسی قیادت کو ، جو حالات کنٹرول کر سکتی تھی، گرفتار کرکے بھارت کے دُور دراز علاقوں کی جیلوں میں بند کردیا۔بھارت نواز سیاسی قیادت تو پہلے ہی فرار ہوکر جموںاور دہلی منتقل ہوچکی تھی۔ وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ بھی اپنے خاندان کے ساتھ لندن منتقل ہوگئے تھے۔ اس انارکی کا خمیازہ کشمیری پنڈتوں کو ہی نہیں بلکہ مقامی اکثریتی آبادی مسلمانوں کو بھی بھگتنا پڑا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق: ’’۳۰سالوں میں۲۵۰ پنڈت قتل ہوئے، جس کی وجہ سے [مبینہ طور پر] ڈھائی لاکھ کی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوگئی‘‘۔اگر یہ نسل کشی ہے تو اس دوران کشمیر میں اندازاً جو ایک لاکھ مسلمان بھی شہید کیے گئے، وہ کس کھاتے میں ہیں؟ جموں خطے کے دُور دراز علاقوں میں مجموعی طور پر ۱۵۰۰ کے قریب غیر پنڈت ہندو ، جو زیادہ تر دلت، اور راجپوت تھے، قتل عام کی وارداتوں میں ہلاک ہوئے، مگر اس کے باوجود ان خطوں سے آبادی کا کوئی انخلا نہیں ہوا۔
چونکہ میں خود ان واقعات کا چشم دید گواہ ہوں، اس لیے مکمل ذمہ داری کے ساتھ یہ تحریر کرسکتا ہوں کہ گورنر جگ موہن، پنڈتوں کے انخلا میں براہ راست ملوث ہوں یا نہ ہوں، مگر انھوں نے حالات ہی ایسے پیدا کیے کہ ہر حساس شخص محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور تھا۔ اگر معاملہ صرف پنڈتوں کی سلامتی کا ہوتا، توسوپور اور بارہ مولا کے پنڈت خاندانوں کو پاس ہی بھارتی فوج کے ۱۹ویں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر منتقل کیا جا سکتا تھا۔ایک تو اپنے گھروں کے ساتھ ان کا رابطہ بھی رہتا اور حالات ٹھیک ہوتے ہی واپس بھی آجاتے۔جگ موہن کے آتے ہی افواہوں کا بازار گرم تھا، کہ: ’’آبادیوں پر بمباری ہونے والی ہے‘‘۔ کوئی ان افواہوں کی تردید کرنے والا نہیں تھا۔
۱۹۹۰ء کے اوائل میں انارکی اور عسکریت کی وجہ سے، کئی بے گناہوں کی جانیں گئیں۔ مرنے والوں میں پنڈت بھی شامل تھے اور کشمیری مسلمان بھی۔ تاہم، کشمیر ی پنڈتوں کی گھر واپسی کے موضوع پر جہاں بھارتی حکومت سے لے کر بھارتی میڈیا کے بااثر حلقے تک، اکثریتی طبقے کے جذبات کو منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ پنڈتوں کو مارنے والے وہ بندوق بردار جب تائب ہوئے تو انھیں بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا۔
کشمیر کی آزاد حیثیت کو زیر کرکے جب مغل بادشاہ اکبر نے آخری تاج دار یوسف شاہ چک کو قید اور جلا وطن کیا، تو مغل اگرچہ مسلمان تھے، مگر اس خطے میں ان کی سیاسست کا انداز سامراجیوں جیسا تھا۔ چونکہ کشمیر میں مسلمان امرا نے ہی مغل فوج کشی کی مزاحمت کی تھی، اسی لیے انھوں نے کشمیری پنڈتوں کی سرپرستی کرکے اقلیت گری (minority complex) کو ابھارا اور مسلمان امرا کو نیچا دکھانے کے لیے کشمیری پنڈتوں کو اپنا حلیف بنایا۔ بقول شیخ محمد عبداللہ :’’پنڈتوں کے جذبۂ امتیاز کو تقویت دینے کے لیے آدتیہ ناتھ بٹ کو ان کی مراعات کا نگہبان مقر ر کیا۔ جنوبی و شمالی کشمیر میں کشمیری پنڈت ہی گورنر بنائے گئے‘‘۔

زبان و ادب پر یلغار
ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرنے کے بعد اب کشمیری عوام کی غالب اکثریت کے تشخص، تہذیب و کلچر پر کاری ضرب لگانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ جہاں ابھی حال ہی میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شا نے: ’’ہندی کو قومی زبان قرار دینے کا عندیہ دیا‘‘، وہیں دوسری طرف حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے چند عہدےداروں نے ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ: ’’علاقائی زبانوں کا اسکرپٹ، یعنی رسم الخط دیوناگری، یعنی ہندی میں تبدیل کرکے ملک کو جوڑا جائے‘‘۔ اس کی زد میں براہ راست کشمیری (کاشئر) اور اردو زبانیں آتی ہیں، جو فارسی، عربی، یعنی نستعلیق رسم الخط کے ذریعے لکھی اور پڑھی جاتی ہیں۔ یہ مہم تو کئی برسوں سے جاری ہے، مگر حال ہی میں بی جے پی کے لیڈروں ، بشمول دہلی میں مقیم چند کشمیر پنڈت گروپوں نے اس کو مہمیز لگائی ہے۔ بھارت کے موجودہ قومی سلامتی مشیر اجیت دوبال نے عرصے سے کشمیر کو سیاسی کے بجاے تہذیبی جنگ کا مرکز‘ قرار دیا ہے۔ چند برس قبل حیدر آباد (تلنگانہ، بھارت) کی تقریب سے خطاب میں اجیت دوبال نے کہا تھا: ’’اس مسئلے کا حل تہذیبی جارحیت اور اس خطے میں ہندو ازم کے احیا میں مضمر ہے‘‘۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال کشمیر میں گورنر انتظامیہ نے کشمیری ثقافتی لباس پھیرن پر پابندی لگادی تھی۔ پہلے تو اسے سیکورٹی رسک قرار دیا گیا، جس کے بعدتعلیمی و سرکاری اداروں میں عام لوگوں اور صحافیوں کے پھیرن پہن کر داخل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ کسی قوم کو ختم کرنے کے لیے صدیوں سے قابض طاقتوں کا طریقہ رہا ہے کہ اس کو اس کی تاریخ و ثقافت سے دور کردو۔ کشمیریوں کی نسل کشی (ethnic cleansing)کے ساتھ کشمیر کی ثقافت کو بھی ختم کرنا اسی منصوبے کا حصہ ہے۔
ایک منصوبے کے تحت ’’کشمیر کی ۶۴۷سالہ مسلم تاریخ کو ایک تاریک دور‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ویسے ان چھے صدیوں میں کشمیری مسلم سلاطین کا دور تو صرف ۲۴۷برسوں تک ہی محیط تھا، باقی وقت تو بیرونی حکمرانوں نے ہی کشمیر پر گورنروں کے ذریعے حکومت کی ہے۔ کشمیری زبان کے رسم الخط کو قدیمی شاردا اور پھر دیوناگری میں تبدیل کرنے کی تجویز اس سے قبل دوبار۲۰۰۳ء اور پھر ۲۰۱۶ء میں بھارت کی وزارت انسانی وسائل نے دی تھی، مگر ریاستی حکومت نے اس پر سخت موقف اپنا کر اس کو رد کردیا تھا۔ بی جے پی کے لیڈر اور اس وقت کے مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی نے ۲۰۰۳ء میں تجویز دی تھی: ’’کشمیری زبان کے لیے دیوناگری کو ایک متبادل رسم الخط کے طور پر سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے اور اس رسم الخط میں لکھنے والوں کے لیے ایوارڈ وغیرہ تفویض کیے جائیں۔ یوں کشمیری زبان کا قدیمی شاردا اسکرپٹ بھی بحال ہو جائے گا‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر کشمیری زبان کا اسکرپٹ شاردا میں بحال کرنا ہے، تو سنسکرت اور دیگر زبانوں کا بھی قدیمی رسم الخط ہی بحال کرو، یہ کرم صرف کشمیری زبان پر ہی کیوں؟
وزیر موصوف نے یہ دلیل بھی دی تھی، چونکہ بیش تر کشمیری پنڈت پچھلے ۳۰ برسوں سے کشمیر سے باہر رہ رہے ہیں، ان کی نئی جنریشن اردو یا فارسی رسم الخط سے نا آشنا ہے۔ اس لیے ان کی سہولت کی خاطر ہندی رسم الخط کو کشمیر ی زبان کی ترویج کا ذریعہ بنایا جائے‘‘۔ اس میٹنگ میں مرحوم وزیرا علیٰ مفتی محمد سعید نے پروفیسر مرلی منوہر جوشی کو قائل کرلیا کہ ان کے فیصلے سے پچھلے برسوں سے وجود میں آیا کشمیری زبان و ادب بیک جنبش قلم نابود ہو جائے گا۔ مجھے یاد ہے کہ ’’کشمیری زبان کے چند پنڈت اسکالروں نے بھی وزیر موصوف کو سمجھایا کہ کشمیری زبان میں ایسی چند آوازیں ہیں ، جن کو دیو ناگری رسم الخط میں ادا نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان آوازوں کو فارسی رسم الخط کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں بھی خاصی تحقیق و مشقت کرنی پڑی ہے۔ ان کو اب قدیمی شاردا اسکرپٹ میں بھی ادا نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔ کشمیری زبان میں ۱۶حروف علت یا واولز اور۳۵حروف صحیح ہیں،نیز چھے ڈیگراف یا Aspirated Consonents ہیں۔ وزیرموصوف، جو خود بھی ایک اسکالر تھے، کسی حد تک قائل ہوگئے اور یہ تجویز داخل دفتر کی گئی۔
مودی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد جب شمال مشرقی صوبہ اڑیسہ میں بولی جانے والی اوڑیہ زبان کو کلاسک زبان کا درجہ دیا، تو کشمیر کی ادبی تنظیموں کی ایما پر ریاستی حکومت نے بھی کشمیر ی زبان کو یہ درجہ دینے کے لیے ایک یادداشت مرکزی حکومت کو بھیجی۔ فی الحال تامل، سنسکرت، کنڑ، تیلگو، ملیالم اور اوڑیہ کو بھارت میں کلاسک زبانوں کا درجہ ملا ہے۔ کلاسک زبان قرار دیے جانے کا پیمانہ یہ ہے کہ زبان کی مستند تاریخ ہو اور اس کا ادب وتحریریں ۱۵۰۰سے ۲۰۰۰سال قدیم ہوں۔ اس کے علاوہ اس کا ادب قیمتی ورثے کے زمرے میں آتا ہو۔ نیز اس کا ادب کسی اور زبان سے مستعار نہ لیا گیا ہو۔ چونکہ ان سبھی پیمانوں پر کشمیر ی یا کاشئر زبان بالکل فٹ بیٹھتی تھی، اس لیے خیال تھا کہ یہ عرض داشت کسی لیت و لعل کے بغیر ہی منظور کی جائے گی۔ عرض داشت میں بتایا گیا تھا کہ ’’کشمیر ی زبان سنسکرت کی ہم عصر رہی ہے نہ کہ اس سے ماخوذ ہے‘‘۔
بھارت میں جہاں آج کل تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے، وہیں مختلف زبانوں کے مآخذ بھی سنسکرت سے جوڑے جارہے ہیں۔ خیر اس عرض داشت پر مرکزی حکومت نے بتایا کہ ’’کشمیری واقعی کلاسک زبان قرار دیے جانے کی اہل ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس کے لیے اس کا رسم الخط سرکاری طور پر دیوناگری، یعنی ہندی تسلیم کرناہوگا‘‘۔ اس کے فائدے یہ بتائے کہ ہر سال دواہم ایوارڈ ان زبانوں کے فروغ کا کام کرنے والے اسکالروں کو دیے جاتے ہیں۔ نیز ان کی ترویج کے لیے ایک اعلیٰ ریسرچ سینٹر کا قیام اور یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کی طرف سے چند یونی ورسٹیوں میں چیئرز کی منظوری دینا شامل ہے۔
آخر بھارتی حکومت کو کشمیری زبان کے رسم الخط کی تبدیلی پہ اصرار کیوں ہے؟

کشمیر کے آخری تاجدار یوسف شاہ چک کی ملکہ حبہ خاتون (زون) ہو یا محمود گامی یا عبدالاحد آزاد ، غلام احمد مہجور یا مشتاق کشمیری چونکہ عام طور پر سبھی کشمیری شاعروں نے اس خطے پر ہوئے ظلم و ستم کو موضوع بنایا ہے اور تحریک آزادی کو ایک فکری مہمیز عطا کی ہے، اسی لیے شاید ان کے کلام کو بیگانہ کرنے کے لیے زبان کے لیے تابوت بنایا جا رہا ہے۔ پچھلے سات سو سالوں میں علمدار کشمیر شیخ نورالدین ولی ہو یا لل دید، رسو ل میر، وہا ب کھار یا موجودہ دو ر میں دینا ناتھ نادم ، سوم ناتھ زتشی رگھناتھ کستور، واسدیو ریہہ وغیرہ ، غرض سبھی نے نستعلیق کو ہی اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔
۲۰۱۱ءکی مردم شماری کے مطابق وادیِ کشمیر اور وادیِ چناب میں۸۰ لاکھ ۶۰ہزار افراد کشمیری زبان بولنے والے رہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے نیلم اور لیپا کی وادیوں میں مزید ایک لاکھ ۳۰ہزار افراد کشمیری کو مادری زبان گردانتے ہیں۔ علاقوں کی مناسبت کے لحاظ سے کشمیری زبان کی پانچ بولیاں یا گفتار کے طریقے ہیں۔ کسی کشمیری کے گفتار سے ہی پتا چلتا ہے کہ وہ ریاست کے کس خطے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان میں: مرازی(جنوبی کشمیر)کمرازی (شمالی کشمیر) یمرازی (وسطی کشمیر)، کشتواڑی (چناب ویلی) اور پوگلی(رام بن ) ہیں۔
جرمنی کی لیپزیگ یونی ورسٹی کے ایک محقق جان کومر کے مطابق کشمیر ی زبان آرین زبانوں کی ایک مخصوص فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قواعد اور تاریخی جائزوںکے مطابق اس کا ایرانی یا انڈین زبانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ سنسکرت اور کشمیری زبانیں ہم عصر رہی ہیں، اس لیے لفظوں کی ادلا بدلی موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری کو انڈو۔داردک فیملی کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ اس گروپ میں چترالی، شینا، سراجی، کوہستانی، گاوی اور توروالی زبانیں آتی ہیں۔ گو کہ کشمیر کی قدیم تاریخ راج ترنگنی سنسکرت میں لکھی گئی ہے، مگر اس میں کشمیری زبان بہ کثرت استعمال کی گئی ہے۔
کشمیری وازہ وان، یعنی انواع قسم کے پکوانوں کے ساتھ ساتھ کشمیر ی زبان اور اس کا ادب بھی کشمیر کے باسیوں کی ہنرمندی اور ان کے ذوق کی پہچان ہے۔مگر و ہ وقت دور نہیں، جب یہ بھارت کی ثقافتی یلغار اور دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ بھارت کے اندر اور باہر انسانی حقوق کے عالمی اداروں، خاص طور پر حکومت پاکستان کو اس کا نوٹس لے کر اس امر کا ادراک کروانا چاہیے کہ کس طرح دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ، سیکولرزم کے دعووں کے پسِ پردہ ایک قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اس صورتِ حال کو اُجاگر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے ضروری ہیں۔

ضمانتی جبر کا شاخسانہ
اب بھارت کی جانب سے، کشمیر کے صف اوّل کے رہنمائوں سمیت کشمیر میں سیاسی گرفتارشدگان کو اپنی رہائی کے لیے شرط کے طور پر ایک ضمانت نامے (bonds) پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ریاست میں ’حالیہ واقعات‘کے متعلق بات نہیں کریں گے۔
ڈیلی ٹیلی گراف ، انڈیا کے مطابق،دوگرفتارشدہ خواتین جنھیں حال ہی میں رہا کیا گیا ، انھیں ضابطہ فوجداری کی شق ۱۰۷ کے ایک ضمانت نامے پر چھپی دستاویز پر دستخط کرنے پڑے، جو عام طور پر ان مقدمات میں استعمال ہوتی ہے، جب ایک ضلعی مجسٹریٹ کسی کو حفاظتی حراست میں لینے کی خاطر اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ اس ضمانت کی عمومی شرائط کے مطابق،قیدی کو یہ عہد کرنا ہوتا ہے کہ وہ’امن میں خلل نہیں ڈالے گا،یا کسی بھی ایسے فعل کا مرتکب نہیں ہوگا جس کے باعث امن میں خلل واقع ہونے کا امکان ہو‘۔ اس عہد کی کوئی بھی خلاف ورزی کرنے پر اس شخص کی ایک غیرمتعین کردہ رقم ریاست کے حق میں ضبط کر لی جاتی ہے۔
تاہم، زیربحث نئے ضمانت نامے میں دوپہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے:
پہلا یہ کہ دستخط کنندگان عہد کرتے ہیںکہ وہ ’’ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت پیش آئے واقعات کے متعلق ایک برس تک کوئی بات نہیں کہے گا، یا عوامی سطح پر کوئی تقریر نہیں کرے گا، یا کسی عوامی اجتماع میں شرکت نہیں کرے گا۔
دوسرے یہ کہ ’’انھیں ضمانت نامے کی خلاف ورزی کی صورت میں’ضمانت‘کے طور پر ۱۰ہزار روپے جمع کرانے ہوںگے اور مزید ۴۰ہزار روپے جمع کرانے کا اقرار کرنا ہو گا۔اس عہد کی خلاف ورزی کے باعث انھیںدوبارہ بھی حراست میںلیا جا سکتاہے‘‘۔ ذہن میں رہے کہ اس وقت ہزاروں بے گناہ بچے، جوان، بوڑھے، حتیٰ کہ خواتین بھارتی انتظامیہ کی قید میں ہیں۔ ان میں حقِ خود ارادیت کے علَم بردار لیڈر بھی شامل ہیں اور عشروں سے بھارت کے ساتھ وابستگی رکھنے اور سہولت کاری کرنے والے بھارت نواز سیاسی لیڈر بھی ہیں۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ نئی شرائط حددرجہ پریشان کن اور غیرآئینی ہیں۔ معروف ماہر قانون گوتم بھاٹیا کے مطابق آئین کی شق۱۹(۲)کے مطابق، آزادیِ تقریر پر محض اس وقت پابندی عائد کی جاسکتی ہے، جب کہ متوقع تشدد کے لیے کسی کو اُکسایا جائے۔ سپریم کورٹ نے بارہا یہ فیصلہ دیا ہے کہ آزادیِ تقریر، حتیٰ کہ انقلابی نظریات کے اظہار کی اس وقت تک اجازت ہے، جب تک اس کے ذریعے کسی کو تشدد پر نہ اکسایا جائے۔اس لیے مجموعہ ضابطہ فوجداری کو ایک ایسے طریقے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا جس کے ذریعے آزادیِ تقریر کے حق کو غیرآئینی پابندی کا شکار بنایا جائے‘‘۔
ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اجتجٰی مفتی نے اپنی والدہ کے ٹویٹر اکائونٹ سے پیغام بھیجا ہے: ’’حکام، قیدیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر ضمانت ناموں پر دستخط کروا رہے ہیں، والدہ نے اس ضمانت نامے پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے‘‘۔
ان خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں کو اپنی رہائی کی شرط کے طور پر اس ضمانت نامے پرد ستخط کرنے ہوتے ہیں ۔ جب ڈیلی ٹیلی گرافنے ریاستی ایڈووکیٹ جنرل، ڈی سی رائناسے رابطہ کیا،تو انھوں نے ضمانت نامے کادفاع کیا اور کہا کہ’’: اس کی زبان ذرا مختلف ہے لیکن روح عام ضمانت نامے کے مطابق ہی ہے‘‘۔اسی طرح سینیر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بشیراحمد ڈار نے تو سرے سے انکار کر دیا ہے کہ ’’ایسا کوئی ضمانت نامہ جاری ہوا ہے‘‘۔
جموں وکشمیرہائی کورٹ کے وکیل الطاف خان،جو ایک ایسی خاتون کے وکیل تھے، جس نے اس ہفتے اس نئے ضمانت نامے پردستخط کیے،کہتے ہیں:’’یہ آئین کی خلاف ورزی ہے‘‘۔ یاد رہے خرم پرویز نے ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا: گذشتہ دوماہ کے لاک ڈائون کے دوران گرفتارکیے جانے والوں کو نئے ضمانت نامے کی شرائط پر رہا کیا گیا، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سوا کچھ نہیں‘‘۔

افتخار گیلانی