’ہراسانی‘ سے عورت کا بچائو

تزئین حسن

پچھلے دنوں فیس بک پر عورتوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے خلاف ایک پوسٹ پر کچھ ایسا رد عمل دیکھنے میں آیا: ’’عورت کا دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ اگر وہ گھر سے نکلے گی تو اس کے ساتھ یہ تو ہوگا، کیوںکہ یہ مرد کی فطرت ہے‘‘۔ یعنی جنسی ہراسانی اور دوسرے مسائل کا حل یہ ہے کہ صنف نازک کو گھر تک محدود رکھا جائے ورنہ ان برائیوں کا سد ِباب نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی کہا گیا کہ: ’’ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ عورتیں نامناسب لباس میں نکلتی ہیں‘‘۔ پوسٹ پر بہت بڑی تعداد میں پردہ دار خواتین نے (جن کی پوری زندگی نقاب اور حجاب میں گزری، یہاں تک کہ جنھوں نے کینیڈا، امریکا ، برطانیہ میں رہ کر بھی نقاب اور حجاب کو نہیں چھوڑا) گواہی دی کہ انھوں نے پردے کے باوجود پاکستان کی سڑکوں پر جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے۔ بعض انصاف پسند مردوں نے بھی اس بات کی گواہی دی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جنسی ہراسانی کا موضوع عام طور سے نظر انداز رہتا ہے، اس وقت ہم بحث کا موضوع اس نکتے تک محدود رکھیں گے کہ ’’کیا واقعی اسلام، عورت کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے اسے محض گھر تک محدود کرنا چاہتا ہے؟‘‘
ہراسانی سے متعلق یہ دیکھتے ہیں کہ مغربی تعبیر کیا ہے: ’’جنسی ہراسانی، جنس کی بنیاد پر، کوئی بھی ایسا قولی یا جسمانی رویہ اختیار کرنا، جس سے دوسرے فرد کو اس کی مرضی کے خلاف کوئی ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچے‘‘۔ اسلام اس ضمن میں فرد کی مرضی کی نفی کرتا اور جائز حدود سے تجاوز کی ممانعت کرتا ہے۔ صرف قانون ہی کو حرکت میں نہیں لاتا بلکہ آخرت میں دردناک عذاب کی وعید

o ایڈمنٹن ، کینیڈا

بھی سناتا ہے۔ہراسانی میں سڑکوں پر یا اسکول کالج یونی ورسٹی یا گھروں میں دوسری صنف کو نامناسب طریقے سے گھورنا، فقرے کسنا، غلط طرزتخاطب استعمال کرنا، تعلقات میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنا، موقع ملنے پر چھونے کی کوشش کرنا، یا اس سے آگے بڑھ کر اور کوئی نا مناسب رویہ اختیار کرنا شامل ہو سکتا ہے، جس سے دوسرا فریق اذیت محسوس کرے۔ یاد رہے، ضروری نہیں کہ ایسا رویہ خواتین کے خلاف ہی اپنایا جاتا ہو۔ اس موضوع پر ہماری تحقیق کے دوران ایک نو عمر لڑکے نے بھی اپنی استاد کے ہاتھوں ہراسانی محسوس کرنے کی شکایت کی۔ تیسری صنف نے بھی اس حوالے سے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ایسے تلخ رویوں کی شکایات کی۔ افسوس کہ معاشرے میں اس حوالے سے تربیت یا اقدار کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
پاکستان میں مردوں کی عظیم اکثریت شریف النفس ہے۔ اس کے باوجود ہماری سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو اپنے گھر کے علاوہ باقی خواتین کی عزت کرنا نہیں جانتے۔ یہ مسئلہ اس وقت اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے، جب ایسا کرنے والے کو معاشرے یا خود متاثرین کی خاموشی کی وجہ سے رد عمل کا کوئی خوف باقی نہ رہے۔
ہراسانی پر عمومی رویہ
یہ رویہ ہمارے معاشرے میں عام ہے، لیکن اسے کوئی قابل ذکر مسئلہ شاید اس لیے نہیں سمجھا جاتا، کہ ان کا شکار عموماً خواتین ہوتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں شرم و حیا کے معیارات کچھ ایسے ہیں کہ ان میں اس مسئلے پر بات کرنا ممکن نہیں۔ چہ جائیکہ وہ اپنے اُوپر گزرنے والی واردات کی روداد کا کچھ ذکر بھی کر سکیں۔ تیسری صنف کے لوگ اس کے خلاف آواز اٹھانے کی مقدور بھر کوشش کرتے رہے ہیں اور بعض بیرونی این جی اوز ان کی مظلومیت کے بل پر اپنی روزی روٹی کا بندوبست کر رہی ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ ان مظلوموں کو بھی مذاق سے زیادہ اہمیت دینے پر راضی نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بیرونی این جی اوز سے پہلے ہم خود اس کے خلاف ہراسانی پر آواز اٹھاتے، لیکن سنجیدہ حلقوں کی توجہ اس طرف نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر شریف خاندانوں کے مرد حضرات اپنی ہی ماؤں، بہنوں، اور بیٹیوں پر گزرنے والے ایسے واقعات سے مکمل طور پر بے خبر رہتے ہیں۔ خود خواتین کے لیے ان واقعات پر خاموشی کے علاوہ کسی اور رد عمل کی ہمت اور اختیار نہیں ہوتا۔
ہمارے معاشرے میں ان موضوعات پر بات کرنا اہم صرف اس وقت ہوتاہے جب ہم ’زینب قتل کیس‘ کی طرح کا کوئی سنسنی خیز دل دہلا دینے والا واقعہ سنتے ہیں۔ ایک عام لڑکی، سڑکوں اور پبلک مقامات پر کیسا محسوس کرتی ہے؟ اسے ہم عموماً ایک عام سا رویہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ خود خواتین نوجوانی کے دوران اس جبر کو معاشرے کا عمومی چلن سمجھ کر خاموش رہتی ہیں۔
ہمارے دیہی اور شہری علاقوں میں بیش تر خواتین ایسے تکلیف دہ تجربات سے گزرتی ہیں۔ پھر سڑکوں، گلیوں، پبلک مقامات پر خواتین کو ہراسانی سے بچانے کے لیے انھیں گھر بٹھا لینا ہی مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے، لیکن اس حقیقت کو بھلا دیا جاتا ہے کہ یہ عملاً ممکن نہیں اور نہ ہمارا دین ہمیں اس کا یہ حل بتاتا ہے۔
الحمدللہ ، ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بہت تحفظ دیا جاتا ہے۔ شہروں کا ماحول دیہی علاقوں سے مختلف ہے، لیکن کبھی اُن بچیوں کے چہروں پر حسرت دیکھیے جو صرف اس لیے اسکول یا دینی مدرسے نہیں جا سکتیں کہ گاؤں کی گلیوں میں ایسے نوجوان موجود ہیں، جن سے ان کی عزت محفوظ نہیں اور لڑکیوں کے گھر والے، محلے دار اور گاؤں والے بجاے اس مسئلے کو حل کرنے کے، بچیوں کو گھر بٹھا لیتے ہیں۔ ضلع صوابی کے ایک گاؤں میں قیام پذیر ایک خاتون نے بتایا: ’’ہمارے گاؤں میں لڑکیوں کا اسکول تو موجود ہے، لیکن گاؤں کی گلیوں میں نوجوانوں کی فقرے بازی کی وجہ سے لوگ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے کے بجاے گھر بٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں‘‘۔ چترال سے ایک نوجوان ٹیچر نے بتایا: ’’ویسے تو کوئی بچی ہراسانی کی شکایت کی ہمت نہیں کرتی، لیکن اگر کہیں ایسا ہوجائے تو باقی اساتذہ یہی کہتے ہیں کہ لڑکی کا کوئی قصور ہوگا، لڑکی ٹھیک ہو تو اسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا‘‘۔ یہ اذیت ناک جملہ ہمارے ہاں ضرب المثل کی طرح بولا جاتا ہے۔

بڑے شہروں میں رہنے والی بچیوں کو مختلف صورتوں میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ معاشرتی برائی بچیوں کی پوری زندگی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے اور کرتی ہے۔ آبادی کا بہت بڑا حصہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں مقیم ہے۔بڑے شہروں میں رہنے والی خواتین، دیہی خواتین کے مسائل کو اپنے محدود تناظر میں دیکھنے کی عادی ہیں۔ شہر کی عورت، گاؤں کی عورت کے مقابلے میں زیادہ بااختیار نظر آتی ہے۔ اس کی آواز بھی توانا ہے، اس لیے اسے نسبتاً ایسے رویے کا کم ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک عمومی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ’’یہ ساری دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے‘‘۔ لیکن عمومی مشاہدے کے مطابق سعودی عرب، مصر، ترکی، مغربی یورپ، اور شمالی امریکا میں سڑکوں یا پبلک مقامات پر ایسی حرکتیں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں، جو ہمارے مسلم اور مشرقی معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
بلاشبہہ مغرب میں جنسی جرائم ہوتے ہیں اور بڑے ہولناک ہوتے ہیں، مگر وہ اکثر ریکارڈ پر آجاتے ہیں، اور پھر اُن کے قوانین کے مطابق وہاں اخلاقی جرائم کے اکثر متاثرین کو آسانی سے انصاف ملتا ہے۔ ’می ٹو موومنٹ‘ نے مغربی معاشرے کی بچی کھچی اخلاقیات کی ساری قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ترکی جیسے دیگر مسلم ممالک میں جنسی ہراسانی جیسی اخلاقی برائی سرے سے پائی ہی نہیں جاتی ہوگی، لیکن راقمہ نے محسوس کیا کہ معاشی اعتبار سے امیر دنیا میں اس مسئلے پر مکالمہ موجود ہے۔ اسے مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے اقدار کا ایک نظام بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور متاثرہ کو ترچھی نظر سے نہیں بلکہ ہمدردی سے دیکھا جاتا ہے۔ انفرادی جرائم ہوتے ہیں لیکن قانون اور معاشرہ بہ حیثیت مجموعی ان غلط رویوں کا دفاع نہیں کرتا۔ دیکھا جائے تو ہراسانی کے کلچرل دیوالیہ پن کی مناسبت سے ہمارا معاشرہ مغرب کے مقابلے میں بھارتی معاشرتی بدتہذیبی سے قریب تر ہے۔
ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات اور حیا کے فطری تقاضوں کی پاس داری کے لیے بچیوں کو چھوٹی عمر سے ہی دوپٹہ یا چادر لینے اور بغیر محرم گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا جاتا ہے، جو بہت ضروری اور بہت بنیادی اقدامات ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اہلِ خانہ یا محرم کے ساتھ نکلنے پر بھی اور پردے کی پابندی کے ساتھ نکلنے پر بھی، ہراسانی کا سامنا بہرحال ہوتا ہے۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ قابلِ ذکر مسئلہ زیربحث نہیں لایا جاتا، اس لیے اس کے خلاف کوئی عوامی رد عمل موجود نہیں۔
پھر معاشرے میں خواتین کے پردے کی کمی کو اس اخلاقی فتنے کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے، اور صنف نازک ہی کو مردوں کے اس غیر اخلاقی طرز عمل کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے۔ لڑکوں کے ایسے کسی طرزِعمل کے بارے یہ تک کہہ دیا جاتا ہے کہ ’’یہ مرد کی فطرت ہے اور خواتین کا دائرۂ کار ان کا گھر ہے۔ جب خواتین گھر سے نکلیں گی تو ان کے ساتھ یہ تو ہوگا‘‘۔

قرآن و سنت سے رہنمائی
قرآن و سنت نے چودہ سو سال پہلے ان مسائل کو معاشرے کے اہم مسائل قرار دے کر حدود اور قیود واضح کر دی تھیں۔ ہم وہ امت ہیں، جنھیں چودہ سو سال پیش تر ان ا قدار کے لیے مرد و عورت کے اختلاط کے مقامات پر غضِ بصر اور پردے جیسی ہدایات فراہم کر دی گئی تھیں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قرآن، اختلاط سے متعلق برائیوں کے خاتمے کی ذمہ داری مرد اور عورت دونوں پر ڈالتا ہے، لیکن معاشرہ عام طور سے مرد کے اخلاقی انحطا ط کی سزا بھی عورت ہی کو دینا چاہتا ہے۔
سورۂ نور آیت۳۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے‘‘۔
اس سے اگلی آیت ۳۱ میں ارشاد فرمایا گیا:’’اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بناؤسنگھار نہ ظاہر کریں، مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوں نے چھپا رکھی ہو، اس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔ اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے‘‘۔
یہ تو وہ احتیاطیں ہیں، جو مرد اور عورتوں دونوں کو گھر سے باہر نکلنے اور نا محرموں سے بات چیت اور معاملات کے حوالے سے بتا دی گئی ہیں۔ مرد کو نظر نیچی رکھنے، اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا،جب کہ عورت کو سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رکھنے کا بھی اور اپنی زینت چھپانے کا بھی۔ اور ان محرم رشتوں کی تفصیل بھی بتا دی گئی ہے، جن سے باہر ہر رشتے میں یہ احتیاط ملحوظ رکھنا ہے۔

سورۂ احزاب آیت ۳۲ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو‘‘۔
یہاں خواتین کو نا محرم مردوں سے بات کرتے ہوے اپنے لہجے کو راست، واضح اور سخت رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حدود میں رہ کر ضرورت کے مطابق بات چیت کی اجازت ہے۔ اسلام بات کرنے پر پابندی نہیں عائد کرتا، اس کی تہذیب سکھاتا ہے۔
اس سے اگلی آیت ۳۳ میں ارشاد ہے:’’اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیت ِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے‘‘۔
یہ دو آیتیں بظاہر تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو مخاطب کرتی ہیں، لیکن ایک عام اصول کے تحت اس کا اطلاق تمام مسلمان عورتوں پر ہوتا ہے۔ کیوںکہ نبیؐ کی بیویاں ہمارے لیے مثال ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت ہمارے معاشرے اور خصوصاً دینی طبقات وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ کا جو مطلب لیتے ہیں، کیا دورِ نبویؐ میں بھی اس کا مفہوم وہی تھا، یا اس معاملے میں آج کے مسلم معاشرے اور خصوصاً بر صغیر جنوب مشرقی ایشیا کی مسلم معاشرت افراط و تفریط کا شکار ہے؟
جہاں تک قرآن کے اس حکم کا تعلق ہے کہ’’اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ بیٹھو۔ دورِجاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو‘‘، تو دورِ رسولؐ کی مختلف مثالوں سے یہ بات واضح ہے کہ اس سے مقصد بناؤ سنگھار دکھانا اور بے پردہ نکلنے ہی کی ممانعت تھی ورنہ اسلامی تاریخ پر معمولی نظر رکھنے والا بھی اس امر سے واقف ہے کہ اس دور میں گھر سے باہر خواتین کے آنے جانے اور خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں حصہ لینا عام تھا، بلکہ جو حدود و قیود اسلا م عورت کے لیے متعین کرتا ہے، وہ خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کا باہر نکلنا مطلقاً منع نہیں۔ البتہ عورتوں کی تربیت کے ساتھ مردوں کی تربیت کا سامان بھی اسلام پیش کرتا ہے۔