بھارتی جارحیت کے خلاف ڈٹ جایئے!

سیّد علی گیلانی

ریاست جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ پوری ریاست کو ایک قید خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ساری حُریت اور سیاسی قیادت اسیر یا نظربند ہے۔ شہروں اور دیہات سے تشویش ناک اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ اس قیدخانے میں اشیاے خوردونوش کی قلّت کے باعث فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے۔ ادویات اور علاج معالجے کے تعطل سے اموات واقع ہورہی ہیں۔ لیکن بھارتی حکومت نے اس ظلم،درندگی اور وحشت ناکی سے باہر کی دنیا کو بے خبر رکھنے کا پورا پورا انتظام کیا ہے۔ ریاست کے مواصلاتی نظام کو بند کرکے، یہاں ہونے والے ظلم وجبر کو چھپانے کے قاہرانہ حربوں کے ساتھ ہمارے مقامی میڈیا پر بھی غیر علانیہ سینسر عائد کی گئی ہے۔ ریاست میں کہاں کیا ہورہا ہے؟ بھارتی فوج کے ظلم وستم، ہزاروں جوانوں کی گرفتاری اور ہلاکتوں کے بارے میں کوئی بھی خبر شائع نہیں ہورہی۔بھارتی حکمران روزِ اوّل سے جھوٹ اور فریب کے ذریعے عالمی راے عامہ کو گمراہ کرنے کی بزدلانہ کوشش کرتے چلے آرہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے بھارت کو ان بدنام ملکوں میں شامل کیا ہے، جہاں انسانی حقوق کی پاس داری اور تحفظ کی خاطر کام کرنے والوں کو قتل، تشدد، دھمکی اور خواتین کارکنوں کو جنسی زیادتیوں کی دھمکیوں کا

ستمبر کے شمارے کے لیے مدیرعالمی ترجمان القرآن ، مسئلہ کشمیر پر ’اشارات‘ لکھ رہے تھے، لیکن طبیعت کی ناسازی کے باعث سردست مکمل نہیں کرسکے، ان شاء اللہ آیندہ اشاعت میں پیش کیے جائیں گے۔(ادارہ)

سامنا ہے۔ ان اہل کاروں کو قدم قدم پر قانونی اور انتظامی مشکلات سے دوچار کیا جاتا ہے۔
بھارتی حکمرانوں کی تمام پابندیوں کے باوجود، اس وقت مسئلہ کشمیر کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ جس کا ایک بڑا ثبوت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کے اجلاس میں کشمیر پر بحث اور عالمی ذرائع ابلاغ پر خبروں کی اشاعت ہے۔ اسی سلسلے میں چندباتیں پیش خدمت ہیں:
O
جموں وکشمیر کے میرے عزیز ہم وطنو!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
۵؍اگست [۲۰۱۹ء]سے شروع کیے جانے والےحالیہ اقدامات سے بھارت کا مکروہ اور پُرفریب چہرہ، پہلے سے کہیں زیادہ بھیانک صورت میں دنیا کے سامنے آچکا ہے۔ جس کے تحت وہ اشاروں کنایوں کے بجاے کھل کر یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے پر اُتر آیا ہے۔ طاقت کے نشے کی بدمستی اور اکثریتی ووٹ کے غرور نے دہلی کے حکمرانوں سے انسانیت، اخلاقیات اور جمہوریت کی ساری قدریں چھین لی ہیں۔ اور وہ اپنے فوجیوں کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ کرکے یہاں کی محکوم آبادی کو یرغمال بناتے ہوئے من مانے فیصلے کرنے چڑھ دوڑے ہیں۔
ریاست جموں و کشمیر کے حصے بخرے کرنے اور اسے دہلی کے زیرِ انتظام لانے کے اقدام سے، بھارتی دہشت گرد اور توسیع پسند حاکموں نے جموں و کشمیر کو نوآبادیاتی کالونی بنانے کے لیے اپنی نام نہاد جمہوریت کا جنازہ بھی نکال دیا ہے۔ حددرجہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ وہ اس گھناؤنے اقدام پر ماتم کرنے کے بجاے خوشیاں منا رہے ہیں۔ اس مذموم اقدام سے پہلے پوری ریاست جموں و کشمیر کو ایک پریشان کن اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا کرتے ہوئے، پکڑدھکڑ اور غیرانسانی، غیرقانونی اور غیراخلاقی پابندیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا گیا۔ پھر ایک جنگی صورت حال پیدا کرکے، یہاں کے عوام کو اپنی مسلح افواج کے حوالے کیا۔ پھر تمام انسانی اور سماجی رابطے منقطع کردینے جیسے بزدلانہ عمل سے اپنی ’بہادری‘ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔
بھارتی جارحیت پسندوں نے، آزادی پسند قیادت اور حُریت پسند کارکنوں کو ہی نہیں، بلکہ برسوں سے اپنے پالے ہوئے ایجنٹوں اور قومی غیرت کے سوداگروں کو بھی ان کی حیثیت یاد دلا کر

حفاظتی حراست‘ میں لے رکھا ہے۔ اس سے بڑھ کر حق وصداقت کی کامیابی اور کیا ہوگی کہ اب اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے علاوہ ان فریب خوردہ عناصر کے پاس بھی کوئی اور موقف نہیں رہا۔ ’بھارتی سسٹم پر بھروسا‘ کرنے کا مسلسل سبق پڑھانے والوں اور ہندستان کو اپنا ملک کہتے ہوئے کبھی نہ تھکنے والوں کو بھی اس بات کا احساس ہوجانا چاہیے کہ بھارت کو یہاں کے عوام کے جینے مرنے سے کوئی غرض نہیں ہے۔ انھیں صرف اور صرف یہاں کی زمین چاہیے۔ اسی کو ہتھیانے کے لیے انھوں نے اپنے ہی حاشیہ برداروں کو ٹشوپیپر کی طرح استعمال کرکے، کوڑے دان میں پھینک دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج ان سب بھارت نواز ہم وطنوں کے لیے یہ ایک آخری اور سنہری موقع ہے کہ وہ اغیار کی خاطر اپنے عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کے بجاے، قوم کے شانہ بشانہ اس جدوجہد میں شامل ہوجائیں۔ ایسی جدوجہد کہ جس کا مقصد صرف اپنے بنیادی حقوق کی بازیابی اور غاصب طاقتوں سے مکمل آزادی ہے۔ اگر یہ لوگ ایسا کریں گے اور بحیثیت قوم یکسو اور یک جان ہوکر دشمن کا مقابلہ کریں گے، تو ان کے ماضی کی تمام غداریاں معاف ہوسکتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ حق وصداقت اور یکسوئی و یک جہتی کے سامنے تیروتفنگ، اسلحے، گولے بارود اور فوجوں کے ٹڈی دَل نے ہمیشہ مات کھائی ہے۔ حوصلہ، صبر، نظم ونسق ایک نہتی قوم کے وہ ہتھیار ہیں، جن سے وہ بڑی بڑی فوجی طاقتوں کو زیر کرسکتی ہے۔
آپ خواتین و حضرات کو یہ دردمندانہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بھارتی عہد شکن حاکموں کے اس شب خون کے دوران ہمیں ہاتھوں پہ ہاتھ دھرکر دشمن کے لیے ترنوالہ نہیں بننا۔ اس عریاں جارحیت کے خلاف سینہ سپر ہوکر کھڑے ہونا، قوم کے ہرفرد کی ذمہ داری ہے، کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق قدمے، درمے، سخنے مزاحمت اور آزادی کے اس کاررواں میں شامل رہے۔ اس جارحیت کے خلاف ایمانی قوت، جواں مردی اور ہمت سے مزاحمت کرے کہ آزادی کے حصول کے لیے مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں باقی بچا۔ پُرامن احتجاج، جلسے اور جلوس معمول ہونا چاہیے۔ تخریب اور تشدد کے نتیجے میں، دشمن کو ہمیں جانی اور مالی نقصان پہنچانے کا بہانہ مل جاتا ہے اور اسے ایسا کوئی موقع فراہم کرنے کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔
سرکاری ملازمین، خاص کر پولیس کے اہلکاروں سے اپیل ہے کہ وہ غیرت اور حمیت کا

مظاہرہ کریں۔ انھیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اپنے ہی لوگوں کو تہہ تیغ کرتے رہنے کے باوجود بھارت ان پر بھروسا نہیں کرتا۔ اسی لیے انھیں غیر مسلح کرکے پوری کمانڈ اپنے فوجیوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اگر اس ذلت سے بھی آپ کی رگِ غیرت نہیں پھڑکتی، تو اپنے ضمیر اور ایمان کا ماتم کرتے ہوئے، ہندنواز سیاست دانوں کی طرح اپنے انجام کا انتظار کرنا چاہیے۔
ریاست جموں و کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ دیارِغیر میں رہ کر اپنے وطن کی صورتِ حال سے خود کو باخبر رکھیں۔ آپ میں سے ہرفرد یہاں کی ستم رسیدہ قوم کے لیے سفیر بن کر اپنے لوگوں کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہاں ہونے والی مسلمانوں کی نسل کُشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا کو آگاہ کرنا، آپ کی دینی، قومی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ آپ اپنے بھائیوں کے دُکھ درد کو محسوس کریں اور بھارتی جارحیت کے نشۂ طاقت میں کیے جانے والے ظلم اوردرندگی کے تمام حربوں کو ایک ایک دروازے پر دستک دے کر بے نقاب کریں۔ اس مقصد کے لیے تحریر، تقریر، مکالمے اور دُعا سے کام لیں۔
اسی طرح میں ہندستان کے ایک ارب تیس کروڑ بھائیوں پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری یہ جدوجہد ہندستان یا اُس کے عوام کے خلاف نہیں ہے۔ ہم تو صرف اور صرف اپنے جائز، قانونی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حق کہ جسے برہمن حاکمیت کے پرستار بھارتی حکمرانوں نے غصب کررکھا ہے۔ ہم بھارت میں بسنے والی مظلوم اقلیتوں، دلتوں اور جبر سے دبائی گئی قوموں کے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھارت کا ہرانصاف پسند شہری ہماری مبنی برا نصاف جدوجہد کی حمایت اور تائید کرتا ہے۔
خاص طور پر پاکستان کے عوام، ان کے حکمرانوں سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اپنے نجی اور فروعی معاملات میں الجھنے کے بجاے مصیبت میں گھری اس محکوم، مظلوم اور نہتی قوم کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ آپ اس مسئلے کے اہم اور بنیادی فریق ہیں۔ اگر آج آپ غیر سنجیدگی کا شکار ہوکر ذاتی مصلحتوں کے گرداب میں پھنس گئے، تو نہ تاریخ آپ کو معاف کرے گی اور نہ آپ کی آنے والی نسلیں محفوظ رہیں گی۔ اس لیے پورے عزم اور ہمت کے ساتھ دشمن کی فریب کاریوں اور مکاریوں کا آپ نے ہرسطح پر منہ توڑ جواب دینا ہے کہ اسی میں پوری ملت کی بقا اور کامرانی ہے۔

ریاست جموں وکشمیر کے غیور عوام سے مخلصانہ گزارش ہے کہ چاہے آپ ریاست کے کسی بھی کونے میں رہ رہے ہوں، جموں شہر یا وہاں کے پہاڑوں میں سکونت پذیر ہوں، وادی کے سبزہ زاروں میں رہ رہے ہوں، لداخ اور کرگل کے کوہساروں یا برف زاروں میں بس رہے ہوں، چناب اور پیرپنچال کی چوٹیوں میں زندگی گزار رہے ہوں___ جان لیں کہ بھارت ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے، جسے صرف یہاں کی زمین ہڑپ کرنے سے دل چسپی ہے۔ وہ اسرائیلی غاصبوں کے نقش قدم پر چلتے اور اسی کی مدد سے راستہ بنانا چاہتا ہے۔ وہ اسرائیل کہ جس نے مقبوضہ فلسطین کے ہم وطنوں کو بے دخل کرنے جیسے گھنائونے طرزِ عمل کا ارتکاب کیا۔ اس ظالم ریاست کی مدد سے اب جموں و کشمیر کی شناخت، یہاں کی پہچان اور یہاں کے باہمی بھائی چارے کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ لیکن، ان شاء اللہ، ہم اس گھناؤنی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ بھارتی تسلط جتنا تکلیف دہ وادی کے مسلمانوں کے لیے ہے، اسی طرح جموں کی ڈوگرہ برادری اور لداخ کے بودھ بھائیوں کے لیے بھی کسی خوشی کا باعث نہیں ہے۔ اس لیے ہر ایک کو اپنی ڈیموگرافی، اپنی آبادی، اور اپنا تشخص بچانے کے لیے اس تحریک مزاحمت کا ساتھ دینا ہوگا۔
ہمیں اپنی اپنی سطح پر اس تحریک ِ مزاحمت کا حصہ بن کر اس کی رفتار کو تیز کرنا اور اس کے ساتھ دوڑنا ہوگا۔ اگر دوڑنے کی سکت نہیں ہے، تو چلنا ہوگا، اور اگر چلنے کی بھی سکت نہیں تو رینگنا ہوگا، لیکن کاروا ِن مزاحمت میں شامل ہوکر اپنے حصے کی ذمہ داری ہرصورت میں نبھانی ہوگی۔یہی واحد راستہ ہے۔
جب قوم پورے عزم، ولولے اور نظم وضبط کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑی ہوتی ہے، تو کوئی طاقت اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بھارتی حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ وہ اگر ۱۰ لاکھ کے بجاے اپنی پوری فوج کو بھی یہاں لاکر ڈال دیں گے،تب بھی یہاں کے عوام اپنے حقوق سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ اللہ ہمار حامی و ناصر ہو!