نظامِ حیات

 

اسلام میں انسانی حقوق کا تصور

ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

 

اسلام نے فرد کو فکرونظر کی پوری آزادی عطا کی۔ اس نے انسان کو جبری غلامی، معاشی استحصال، سیاسی جبر اور مذہبی اکراہ کی بندشوں سے پوری طرح آزاد کیا۔ آج جدید دور میں فکری آزادی کا سہرا فرانسیسی مفکر و فلسفی جان جاک روسو (۱۷۷۸ء۔۱۷۱۲ء) کے سر باندھا جاتا ہے، جس نے کہا تھا: انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر آج وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ درحقیقت یہ اُس فرمان کی صداے بازگشت ہے، جو امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب نے اپنے گورنر مصر حضرت عمرو بن العاص کو تنبیہہ کرتے ہوئے جاری کیا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایاتھا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کر دیا حالانکہ اُن کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا؟

اسلام نے آزادیِ ضمیر کی خاطر انسان کے شعور احساس کو بیدار کیا اور قانون سازی کے ذریعے خارجی حالات کو بھی سازگار بنایا۔ اللہ پر ایمان، اُمت مسلمہ کی وحدت، افراد کے اندر ذمہ داریوں کے اشتراک کا تصور، ساری انسانیت کی وحدت اوراس میں باہمی کفالت کا اصول، یہ وہ بنیادی قدریں ہیں جن پر زور دے کر اسلام کامل آزادیِ ضمیر کا نعرہ بلند کرتا ہے۔

عقیدۂ توحید کے ذریعے قرآن انسانی ضمیر کو غیراللہ کی عبادت و اطاعت سے آزاد کرتا ہے۔ وہ اس فکر کو ذہن نشین کراتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو انسان پر اقتدار حاصل نہیں ہے۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو اسے مارتا جِلاتا ہو۔ کوئی دوسرا نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس کائنات میں بس وہی ایک ہستی ہے جو رزق عطا کرتی ہے اس کے سوا سب اس کے بندے ہیں مجبور اور بے بس۔

اسلام نے نبیوں کو بھی یہ حق نہیں دیا کہ ان کی پرستش کی جائے یا اُن کے تئیں مراسمِ عبودیت بجا لائے جائیں۔ اللہ رب العزت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن خلقِ خدا کے سامنے واضح کردیں اور اپنا درست موقف علانیہ پیش کر دیں:

اے نبی! کہو کہ میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ کہو میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا۔ کہو مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جاے پناہ پاسکتا ہوں۔ (الجن ۷۲:۲۰۔۲۲)

قرآن ہر طرح کے تقدس اور اُلوہیت پر ضربِ کاری لگاتا ہے تاکہ انسان شرک سے پوری طرح محفوظ رہے۔ شرک کا عقیدہ انسان کے ضمیر کو کچل دیتا اور اس کے وجدان کو دبا دیتا ہے اور آخرکار اسے اللہ کے بندوں ہی میں سے کسی کا بندہ بناکر رکھ دیتا ہے۔ اسلام کا پورا زور اس بات پر ہے کہ بندے اور اللہ کے درمیان براہِ راست تعلق مستحکم ہو۔

انسانی ضمیر بندوں کی غلامی سے آزاد ہوکر اور خدا سے براہِ راست رابطہ قائم کر کے، ہرقسم کے اندیشوں، خطرات، وسوسوں سے بلند ہوجاتا ہے۔ جان و مال اور شرف و کرامت کو لاحق خطرے انسان کی خودداری اوراس کی عزتِ نفس کو مجروح کر دیتے ہیں، اِسے ذلت کو انگیز کرنے اور اپنے جائز حقوق سے دست بردار ہوجانے پر مجبور کردیتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس کی انسانیت کو بھی چھین لیتے ہیں۔ اسلام ہرقیمت پر عزتِ نفس اور خودداری کی حفاظت کرنے کی تلقین کرتا ہے اور انسانوں کے عزوشرف کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ وہ یہ عقیدہ انسان کے ذہن نشین کرتا ہے کہ زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے۔

تاریخ کی شہادت

اسلام کی اِن تعلیمات اور اقدار کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ نمودار ہوا جس کا ہر فرد آزادیِ ضمیر کا نمونہ تھا۔ کیا حکمراں، کیا رعایا، سب خوددار، عزتِ نفس سے مالا مال، اظہارِ حق میں جری و بے باک تھے۔ انھیں کوئی لالچ یا خوف بزدل نہیں بناسکتا تھا۔ امام ابویوسف نے کتاب الخراج میں حضرت عمر فاروق کا یہ واقعہ نقل کیا ہے:

۞ حضرت عمر نے اپنے گورنروں کو فرمان بھیجا کہ وہ حج کے موقع پر مکّہ میں اُن سے آکر ملیں۔ جب سب جمع ہوگئے تو حضرت عمر نے تقریر کی: لوگو! میں ان عُمَّال کو اس لیے مقرر کرتا ہوں کہ راست رَوی کے ساتھ تمھاری سرپرستی اور حفاظت کریں۔ میں نے انھیں اس لیے ہرگز مقرر نہیں کیا ہے کہ تمھاری جان و مال اور عزت و آبرو پر دست درازی کریں۔ لہٰذا اگر تم میں سے کسی کو کسی عامل کے خلاف ظلم و زیادتی کی شکایت ہو تو کھڑا ہو جائے۔

لوگوں کے درمیان سے ایک شخص آگے نکل کر آیا اور اس نے کہا: امیرالمومنین! آپ کے گورنر نے مجھے ناحق ۱۰۰ کوڑے مارے ہیں۔

حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم اسے ۱۰۰ کوڑے مارنا چاہتے ہو؟ آؤ اور اس سے انتقام لو۔

اس پر حضرت عمرو بن العاص کھڑے ہوگئے۔ انھوں نے احتجاج کیا: امیرالمومنین! اگر آپ نے اپنے گورنروں کے ساتھ یہ عمل شروع کر دیا تو انھیں سخت گراں گزرے گا۔ یہ ایک مستقل طریقہ بن جائے گا جس پر آپ کے بعد بھی لوگ عمل کریں گے۔

حضرت عمر نے فرمایا: پھر کیا میں اِس آدمی کو بدلہ نہ دلواؤں، جب کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اپنی ذات سے بدلہ دلواتے دیکھا ہے۔ پھر اُس آدمی کو خطاب کر کے حکم دیا: آؤ اور اس گورنر سے بدلہ لو۔ عمرو بن العاص نے درخواست کی کہ ہمیں اجازت دیجیے کہ اس آدمی کو راضی کرلیں۔ حضرت عمر نے کہا: تمھیں اجازت ہے۔ ان لوگوں نے مظلوم کو ۲۰۰ دینار کے بدلے میں راضی کرلیا۔

۞ حضرت عمر ہی کا دوسرا واقعہ ہے۔ آپ مسجد میں خطاب فرما رہے تھے۔ دورانِ تقریر آپ نے فرمایا کہ لوگو، اگر میرے اندر کوئی کجی دیکھو تو مجھے سیدھا کردینا۔ نمازیوں کے درمیان سے ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے کہا: عمر! اگر ہم نے تیرے اندر کوئی کجی دیکھی تو اپنی تلوار کی دھار سے تجھے سیدھا کردیں گے۔ حضرت عمر نے صرف اتنا فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے عمر کی رعایا میں ایسے افراد بھی پیدا کیے ہیں جو اُسے اپنی تلوار کی دھار سے سیدھا کرسکتے ہیں۔

۞ عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور (م ۱۵۸ھ/۱۷۷۵ء) کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مشہور محدث سفیان ثوری اس کے دربار میں جاکر اسے نصیحت کرتے ہیں: امیرالمومنین! آپ نے اللہ اور اُمت محمدیہ کا مال اُن کی مرضی و اجازت کے بغیر خرچ کیا ہے۔ آپ اس کی کیا توجیہہ کرسکتے ہیں؟ حضرت عمر نے ایک بار حج کیا جس میں اُن پر اور ان کے ساتھیوں پر ۱۶ دینار خرچ ہوئے۔ انھوں نے محاسبہ کیا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ ہم نے بیت المال پر زیادہ بار ڈال دیا ہے۔ امیرالمومنین! آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ منصور ابن عمار نے ہم کو کیا حدیث سنائی ہے کیونکہ آپ اس مجلس میں موجود تھے اور سب سے پہلے آپ ہی نے اسے قلم بند کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق تصرفات کرنے والے کچھ لوگ ہیں جن کے لیے کل کو نارِ جہنم مقدر ہے۔

یہ سن کر ابوعبید نامی ایک کاتب جو خلیفہ کا مقرب خاص تھا، بول اُٹھا: امیرالمومنین سے اس انداز میں گفتگو؟ سفیان ثوری نے ڈانٹ کر کہا: خاموش، فرعون نے ہامان کو ہلاک کیا اور ہامان نے فرعون کو۔ اور پھر سفیان ثوری غصے میں اُٹھ کر باہر چلے آئے۔

جابر بادشاہ کتنا ہی خودمختار ہو، کسی ایسے شخص پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا جو دنیا اور متاعِ دنیا کو اپنی ٹھوکروں میں رکھتا ہو اور ضروریات سے بلند ہوکر اللہ کے لیے فارغ ہو۔

مذہبی جبر کی مخالفت

بلاشبہہ اسلام اللہ کا بھیجا ہوا آخری دین ہے جو انسانوں کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے۔ یہ وہی دین ہے جسے تاریخِ انسانی کے ہر دور میں مختلف انبیا مختلف قوموں اور تہذیبوں میں انسانوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے پیش کرتے رہے۔ ان شریعتوں کو ماننے والوں کے درمیان قوانین میں اختلاف ہوا کہ ہردور کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، مگر دین اپنی روح کے اعتبار سے اور اپنی مجموعی حیثیت میں ایک ہی رہا۔ اُسی دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے حضرت آدم  تشریف لائے۔ حضرت نوح مبعوث ہوئے۔ حضرت ابراہیم، حضرت موسٰی ، حضرت عیسٰی غرض یہ کہ سارے نبی ایک ایک کرکے اپنی قوم میں آتے رہے اور وحدانیت کا پیغام دیتے رہے۔

سورۂ مائدہ میں قرآن کی دو صفات بیان ہوئی ہیں: یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے اُن تعلیمات کی جو اس سے پہلے الکتاب میں سے موجود ہیں، اور اس کی محافظ اور نگہبان ہے۔ (۵:۴۸)

قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کی تصدیق بھی کرتا ہے اور جو تحریفات اور تبدیلیاں اُن کے پیروکاروں نے ان کے اندر کر دی تھیں اُن کی نشان دہی کرتا اور اُن سے نوعِ انسانی کو بچاتا ہے۔ مگر قرآن کا امتیاز یہ ہے کہ وہ کسی شخص پر اپنے عقیدے کو مسلط نہیں کرتا۔ وہ افہام و تفہیم اور تعلیم و تلقین کا قائل ہے اور جبر و اِکراہ، تشدد اور دھونس دھاندلی کو بالکل مسترد کردیتا ہے۔ اپنی صداقت اور حقانیت پر پوری طرح مطمئن ہونے کے باوجود وہ اعلان کرتا ہے کہ: دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ (البقرہ ۲:۲۵۶)

اسلام نے دنیا میں پہلی بار ہرشخص کو یہ آزادی عطا کی کہ کفروایمان میں سے جو راہ وہ چاہے اختیار کرے۔ مکہ کے ۱۳ سالہ دور میں مسلمانوں نے ہر ظلم و جبر کو برداشت کیا، اِسی مذہبی آزادی کے حق کو حاصل کرنے کے لیے اور بالآخر یہ حق حاصل ہوکر رہا۔ مسلمانوں نے یہ حق جس طرح اپنے لیے حاصل کیا، اسی طرح دوسروں کے لیے بھی اس کا پورا پورا اعتراف کیا۔

وسق رومی کا واقعہ

یہاں خلیفۂ ثانی حضرت عمر کے دور کا ایک واقعہ نقل کرنا مفید ہوگا۔ یہ واقعہ اُس شخص کا ہے جو دنیا کی ایک بہت بڑی مملکت کا سربراہ تھا۔ جس کے جلال و جبروت کا یہ عالم تھا کہ روم و فارس کی دوعظیم طاقتیں اس کے ذکر سے لرزتی تھیں۔ ملوک و سلاطین اس کے سامنے ہانپتے کانپتے حاضر ہوتے تھے، مگر وہ مقتدر اور باجبروت شخص اپنے غلام کا مذہب اپنی مرضی کے مطابق تبدیل نہ کرسکا۔ علامہ ابوبکر جصاص احکام القرآن میں اس واقعے کو بیان کرتے ہیں: ہلال الکائی روایت کرتے ہیں وسق الرومی سے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: میں عمر کا غلام تھا۔ انھوں نے مجھ سے فہمایش کی کہ اسلام قبول کرلے۔ اگر تو مسلمان ہوجائے تو مسلمانوں کی امانت کے سلسلے میں تو میرا مددگار ہوجائے گا، کیونکہ جو شخص مسلمان نہ ہو اُس سے یہ کام لینا مناسب نہیں ہے۔ مگر میں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ نے فرمایا: لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے)۔ جب آپ کا وقتِ مرگ قریب آیا تو آپ نے مجھے آزاد کر دیا اور فرمایا: تیرا جہاں جی چاہے چلا جا۔

اسلام کے نظریۂ رواداری کی بہترین ترجمانی قرآن پاک کی یہ آیت کرتی ہے:

لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْتَّبَیَّنَ الرُّشْدُمِنَ الْغَیِّ (البقرہ ۲:۲۵۶) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔

یہاں دین سے مراد وہ عقیدہ ہے جس کی بنیاد خالصتاً توحید پر رکھی گئی ہے اور وہ نظامِ زندگی ہے جو اس عقیدے پر بنتا ہے۔ اللہ کا واضح فرمان ہے کہ اسلام کا یہ عقیدہ اور اس کا اعتقادی، اخلاقی اور عملی نظام کسی پر زبردستی نہیں ٹھونسا جاسکتا۔ یہ ایسی چیز ہی نہیں ہے جو کسی کے سر جبراً منڈھی جاسکے۔

قرآن کی وسیع المشربی

عقیدہ و مذہب کی آزادی، دوسرے مذاب، تہذیبوں اور روایات کے تئیں وسیع المشربی و رواداری اسلام کی ایک اہم ترین قدر ہے جس پر قرآن کریم نے مختلف انداز میں اور متنوع پیرایے میں زور دیا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:

ہم نے تم انسانوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی ہے۔ اگر تمھارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔(المائدہ ۵:۴۸)

ہر اُمت کے لیے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے نبی، وہ اِس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں تم اپنے رب کی طرف دعوت دو۔(الحج ۲۲:۶۷)

قرآن کریم نے یہ صراحت بھی کر دی کہ اگر اللہ کی خواہش یہ ہوتی کہ اس کی زمین میں کفرونافرمانی کا سرے سے وجود ہی نہ ہو تو اس کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ تکوینی جبر سے کام لے کر سب کو صاحبِ ایمان بنا دے۔ مگر وہ ایمان لانے یا نہ لانے کے معاملے میں سارے انسانوں کو آزاد رکھنا چاہتا ہے اور اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے اللہ نے وضاحت فرما دی کہ نبی کی ذمہ داری کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کی نہیں ہے اور نہ اللہ کو جبری ایمان مطلوب ہے۔ فرمایا:

اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں؟(یونس ۱۰:۹۹)

اسلام نے صرف نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے ہی کو واجب قرار نہیں دیا، بلکہ ایک مسلمان کے لیے لازم قرار دیا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے تمام نبیوں اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان کی صداقت و حقانیت کو تسلیم کرے اور اُن کے درمیان اس لحاظ سے کوئی تفریق نہ کرے کہ فلاں نبی حق پر تھا اور فلاں حق پر نہ تھا، یا یہ کہ وہ فلاں کو مانتا ہے اور فلاں کو نہیں مانتا۔ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر بھی آئے، سب کے سب ایک ہی صداقت اور ایک ہی راہِ راست کی طرف بلانے آئے۔ اب جو شخص حق پرست ہے اُس کے لیے تمام پیغمبروں کو برحق تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ جو لوگ کسی پیغمبر کو مانتے اور کسی کا انکار کرتے ہیں وہ حقیقت میں کسی پیغمبر کو نہیں مانتے۔ انھوں نے اُس عالم گیر صراطِ مستقیم کو نہیں پایا جسے حضرت موسٰی  یا حضرت عیسٰی یا کسی دوسرے پیغمبر نے پیش کیا تھا، بلکہ وہ محض باپ دادا کی تقلید میں ایک پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اُن کا اصل مذہب نسل پرستی کا تعصب اور آبا و اجداد کی اندھی تقلید ہے، نہ کہ کسی پیغمبر کی پیروی۔ قرآن کہتا ہے:

مسلمانو! کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اُس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم ، اسماعیل ، اسحق ، یعقوب اور اولادِ یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسٰی اور عیسٰی اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم اُن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں۔ (البقرہ ۲:۱۳۶)

قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مسلمانوں کے ذہن میں اس تعلیم کو راسخ کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس دنیا میں داعی اور مبلّغ بنا کر بھیجے گئے ہیں اور کوتوال اور داروغہ بناکر نہیں بھیجے گئے۔ اُن کا کام لوگوں کو روشنی دکھانا ہے زبردستی ہاتھ پکڑ کر خواہی نخواہی کسی کو راہِ راست پر لانا اُن کا مشن نہیں ہے:

اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ تم کو ہم نے ان پر پاسبان نہیں مقرر کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو۔ اور (اے مسلمانو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انھیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کوگالیاں دینے لگیں۔ ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے۔ پھر انھیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ انھیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔(الانعام ۶:۱۰۷۔۱۰۸)

رواداری کی نبوی مثال

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ، خلفاے راشدین کا عہدمسعود اور تاریخِ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں، حتیٰ کہ دشمنوں سے بھی رواداری کا سلوک کیا گیا اور یہی اسلامی رواداری، تبلیغ و دعوتِ دین کا اہم عنصر بن گئی۔

مسلم کی حدیث ہے اور امام بخاری نے بھی انھی الفاظ اور اسی مفہوم کے ساتھ ذرا مختصراً اسے بیان کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا۔ اہلِ لشکر بنوحنیفہ کے ایک شخص کو جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور جو اہلِ یمامہ کا سردار تھا، پکڑ کر لائے۔ لشکروالوں نے اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُدھر سے گزر ہوا تو اس سے پوچھا: تیرے پاس کیا ہے؟ ثمامہ نے جواب دیا: اے محمد، میرے پاس بھلائی ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جو قتل کیے جانے کا مستحق ہے، اور اگر انعام کریں گے تو ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو شکرگزاری جانتا ہے، اور اگر آپ مال کے طلب گار ہیں تو حکم دیجیے جو کچھ مانگیں آپ کو ملے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی حالت میں چھوڑ دیا اور آگے بڑھ گئے۔

دوسرا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی سوال کیا: اے ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟

ثمامہ نے کہا: وہی جو میں کہہ چکا ہوں۔ اگر آپ انعام کریں گے تو ایک شکرگزار شخص پر انعام کریں گے، اور اگر قتل کا حکم دیں گے تو میں مستحقِ قتل ہوں، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جو حکم ہوگا ادا کیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی کارروائی نہ کی اور آگے بڑھ گئے۔ تیسرا دن آیا تو پھر یہی مکالمہ دہرایا گیا۔ آخرکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ لشکر سے کہا: ثمامہ کو چھوڑ دو۔

رہائی کے بعد ثمامہ مسجد کے قریب ایک کھجور کے درخت کے پاس گیا۔ وہاں اس نے غسل کیا۔ پھر مسجد میں داخل ہوا اور اعلان کیا: اَشْھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہ وَرَسُوْلُہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

پھر ثمامہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا: اے محمد! خدا کی قسم! اس زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ قابلِ نفرت نہ تھا اور اب آپ کا چہرہ دنیا کے تمام چہروں سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ خدا کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین بھی میرے لیے قابلِ نفرت نہ تھا اور اب آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان سے زیادہ میرے لیے محبوب ہے۔ خدا کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر بھی میرے لیے نفرت انگیز نہیں تھا، اور اب آپ کا شہر دنیا کے تمام شہروں سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ آپ کے لشکر نے مجھے اس حالت میں آلیا کہ میں عمرہ کا ارادہ کر رہا تھا۔ اب آپ کا کیا حکم ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اسے خوش خبری دی اور اجازت دی کہ وہ عمرہ کرلے۔ جب وہ مکہ واپس آیا تو اس کے مشرک ساتھیوں نے کہا: کیا تو صابی (بے دین) ہوگیا ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں، بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا اور مسلمان ہوگیا ہوں۔

امن و سلامتی کا قیام

اسلام کے تصورِ امن پر گفتگو کے لیے ناگزیر ہے کہ قرآن کریم کی اُن آیات پر پہلے بحث کی جائے جو جنگ و جدال کو موضوع بناتی ہیں اور جنھیں مغربی مصنفین نے آیاتِ سیف (sword verses) کا نام دیا ہے۔ اِن آیات میں سے بہترین انتخاب سورۂ انفال کی ۵۵ تا ۶۱ آیتیں ہیں کیونکہ یہ موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں:

یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا، پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔ پس یہ لوگ اگر تمھیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد دوسرے جو لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں اُن کے حواس باختہ ہوجائیں۔ توقع ہے کہ بدعہدوں کے اس انجام سے وہ سبق لیں گے۔ اور اگر کبھی تمھیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ منکرین حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے۔ یقیناًوہ ہم کو ہرا نہیں سکتے اور تم لوگ، جہاں تک تمھارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے دشمنوں کو خوف زدہ کردو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمھاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمھارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔ اور اے نبی! اگر دشمن صلح وسلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجاؤ اور اللہ پر بھروسا کرو۔ یقیناًوہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ (انفال ۸:۵۵۔۶۱)

علما نے صراحت کی ہے کہ قرآن میں جہاں قتال و جہاد کا حکم دیا گیا ہے اور مخالفوں کو سختی سے کچلنے کی تاکید کی گئی ہے: اس سے مراد وہ کفار و مشرکین ہیں جنھوں نے آغازِ اسلام سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والے صحابہ کرام کی بھرپور مخالفت کی۔ انھیں مکہ میں تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھا اور اپنی ریشہ دوانیوں سے اسلام کو کچلنے کی سازش کی۔ اپنے مسلسل ظالمانہ اقدامات سے مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ ۶۱۵ء۔۶۱۶ء میں حبشہ کی طرف ہجرت کریں اور ۶۲۲ء میں اپنا وطن ترک کر کے مستقل طور سے مدینہ منورہ کو اپنا مستقر بنائیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو ایک اندازے کے مطابق ۹۰ جنگی مہموں میں پھنسایا جن میں سے ۲۷ جنگوں کی قیادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود کرنا پڑی۔ اگرچہ ان جنگی مہموں میں دشمنوں کے کُل ۲۱۶ افراد مارے گئے اور ۱۳۸مسلمان شہید ہوئے۔ اعلانِ جنگ کی یہ مسلسل کیفیت کفار و مشرکین کی جانب سے تھوپی ہوئی تھی اور مسلمانوں کو اپنے دفاع پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود مکّہ کے ۱۳ سالہ دور میں انھیں سخت تاکید تھی کہ ظلم کے جواب میں ہتھیار نہ اُٹھائیں:

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ (النساء ۴:۷۷) تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔

اور دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت اور تفہیم و تلقین کے راستوں سے اس قرآن کے ذریعے جہاد کریں:

فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہ جِھَادًا کَبِیْرًاo (الفرقان ۲۵:۵۲) اے نبی! کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔

ہجرتِ مدینہ کے بعد جب اسلامی ریاست قائم ہوگئی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میثاقِ مدینہ کے مطابق اُس ریاست کا بلانزاع حاکمِ مطلق اور مقتدرِ اعلیٰ تسلیم کر لیا گیا تب ذی الحجہ یکم ہجری میں انھیں ظلم کے جواب میں مدافعانہ جہاد کی اجازت مل سکی:

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْر (الحج ۲۲:۳۹) اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناًاُن کی مدد پر قادر ہے۔

سورۂ انفال کی آیات ۵۵۔۶۱ میں جن منکرین حق کے خلاف اعلانِ جنگ کیا گیا ہے اور انھیں سبق سکھانے کا حکم دیا گیا ہے اُن سے مراد مفسرین کرام کی تصریحات کے مطابق یہودِ مدینہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف آوری کے بعد سب سے پہلے اُنھی کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا اور یہ کوشش کی تھی کہ ان سے تعلقات خوش گوار رہیں۔ دینی و مذہبی حیثیت سے ویسے بھی یہودی اور عیسائی مشرکین کے مقابلے میں قابلِ ترجیح قرار دیے گئے تھے مگر مدینہ کے یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک اور مشن کو کبھی کھلے دل سے قبول نہ کیا اور انھوں نے اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرات و نتائج کو روکنے کے لیے ہمیشہ خفیہ وعلانیہ سازشیں کیں۔ منافقوں کے ساتھ مل کر اہلِ ایمان کے خلاف سازباز کی۔ اوس و خزرج کے انصاری قبیلوں کے درمیان پرانی عداوتوں کو ہوا دی۔ جنگِ بدر کے بعد جب مسلمانوں کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی تو اُن کے سینوں میں حسد کی جو آگ پہلے سے موجود تھی وہ بھڑک اُٹھی۔ یہودیوں کا لیڈر کعب بن اشرف خود مکّہ گیا اور اس نے اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر قریش کے جذبۂ انتقام کو ہوا دی اور آخر میں قبیلۂ بنوقینقاع نے مسلمان خواتین سے اپنی بستیوں اور بازاروں میں چھیڑچھاڑ کرنا شروع کر دیا اور جب انھیں لعنت ملامت کی گئی تو انھوں نے جنگ کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ ایسے بدعہد اور سازشی دشمنوں کے خلاف اسلامی حکومت کو کارروائی کرنے اور میدانِ جنگ میں انھیں سزا دینے کا فیصلہ ہوا۔

غیر مسلموں کے ساتھ حُسنِ سلوک

مجرد کفر اور شرک کسی کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ کسی شخص کے خلاف پُرتشدد کارروائی اور طاقت کا استعمال اِس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مسلمان نہیں ہے اور کفروشرک پر اُس کا اعتقاد ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس پر علماے کرام، محدثین اور فقہا کا اتفاق رہا ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو بزور یا طاقت کے استعمال سے دین اسلام میں داخل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ قرآن تو یہاں تک کہتا ہے کہ جو غیرمسلم اہلِ ایمان کے ساتھ عداوت نہیں رکھتا اور اُن پر ظلم کرنے والوں میں وہ شامل نہیں ہے اُس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، اور عام انسانی حقوق کی ادایگی کے معاملے میں مسلمان اور غیرمسلم میں فرق نہ کیا جائے۔ ایسے لوگ مسلمانوں کے حسنِ سلوک کے مستحق ہیں:

اللہ تمھیں اِس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(الممتحنہ ۶۰:۸)

محبّتوں کی بستی

اسلام افراد کے ضمیر میں، خاندانی نظام میں، ملکی قانون میں، بین الاقوامی تعلقات و روابط میں، ہر جگہ زندگی کے ہر شعبے میں امن و سلامتی اور محبت و اخوت کے پھول کھلانا چاہتا ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے باہمی معاملات کی استواری اور ان کے درمیان اُلفت اور بھائی چارے کے فروغ کی مثال دیتے ہوئے فرمایا: تم دیکھو گے کہ مسلمانوں کے درمیان محبت، ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کی مثال ایک جسم کی مانند ہے۔ جب اس کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (بخاری، کتاب الادب، حدیث ۲۷)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مسلمانو! ایک دوسرے سے بُغض نہ رکھو، آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو۔ اے اللہ کے بندو، بھائی بھائی بن کررہو۔ (بخاری)

اللہ اپنی صفت رحمن، رحیم، سلام، مومن اور مہیمن بتاتا ہے اور بار بار قرآن کریم میں تکرار کے ساتھ ان اسماے حسنیٰ کا تذکرہ کرتا ہے تاکہ اس کے بندوں میں اس کا عکس دکھائی دے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ اپنے اس احسانِ خصوصی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ رحیم، نرم خو، شفیق اور مہربان ہیں:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ( اٰل عمرٰن ۳:۱۵۹) اے پیغمبر! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تُندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے۔

لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ o (التوبہ ۹:۱۲۸) دیکھو، تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمھارا نقصان میں پڑنا اُس پر شاق ہے، تمھاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔

یہ رحمت و مہربانی اور شفقت صرف اہلِ اسلام کے لیے مطلوب نہیں ہے،اس کے مخاطب سارے انسان ہیں خواہ وہ کسی مذہب کے ماننے والے ہوں اور کسی بھی ملک کے باشندے ہوں۔ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا: زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ (ترمذی)

دیگر مذاھب کا احترام

کسی انسان کے اندر رحمت و شفقت اور مہربانی کے جذبات کو اُبھارنے کی اِس سے آخری حد کیا ہوسکتی ہے؟ یہ کارنامہ اُسی عقیدہ کا ہوسکتا ہے جو خالق کی وحدانیت اور مخلوق کی وحدت پر ایمان رکھتا ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے اعلان فرمایا ہے: ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا خاندان ہے۔ تمام لوگوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو اُس کے خاندان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرے۔ (رواہ ابویعلٰی، والبزاز باسناد ضعیف)

حضرت جابر عبداللہ کہتے ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہم بھی کھڑے ہوگئے۔ پھر ہم نے گزارش کی: یارسول اللہ! یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ ایک انسانی جان نہ تھی؟ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ۔ (بخاری)

حقوقِ نسواں کا تحفظ

قرآن کریم نے چھٹی صدی عیسوی میں مرد اور عورت کے درمیان فرق و امتیاز کو ختم کر کے انھیں یکساں عزت و احترام اور وقار و تمکنت سے ہم کنار کرنے کا جو قدم اٹھایا وہ اتنا انقلاب آفریں تھا کہ اس کے نتیجے میں فکرونظر کی دنیا ہی بدل گئی۔ عورت کی حیثیت اور مقام و مرتبہ کے تعین میں اسلام نے تمام مذاہب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اسلام کے سایے میں عورت کے بارے میں مردوں کا پورا نقطۂ نظر اور عملی رویہ بدل گیا، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد خواتین نے ایک نئی تاریخ رقم کی جس کی مثال پہلے بھی موجود نہ تھی اور آج کے نام نہاد ترقی یافتہ دور میں بھی ناپید ہے۔ قرآن نے پورے زورو شور سے اعلان کیا:

لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اُن دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔ اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔(النساء ۴:۱)

قرآن نے صراحت کر دی کہ مرد اور عورت دونوں ایک جان سے پیدا کیے گئے ہیں اس لیے اُن میں سے کوئی برتر یا کم تر نہیں ہے۔ نہ مرد افضل ہے اور نہ عورت حقیر اور ذلیل ہے۔ دونوں کی اہمیت اور مقام و مرتبہ ایک ہے۔ قرآن دوسرے مذاہب کے اِس خیال کی تائید نہیں کرتا کہ مرد کی بہ نسبت عورت کو ایک حقیر مادے سے پیدا کیا گیا ہے اور عورت کو کم تر مقام اور طفیلی کا درجہ دیا گیا ہے۔

عورت کے خلاف ایک اور زہر بھرا تصور ماضی میں موجود رہا ہے اور اس کی نشانیاں آج بھی کلاسیکی ادب میں موجود ہیں، وہ یہ کہ عورت گناہ کی جڑ ہے۔ اس تصور کے مطابق مردہر گناہ سے محفوظ اور پاک ہے۔ یہ عورت ہے جو اس کو گناہ کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔ ان حضرات کے مطابق شیطان براہِ راست مرد کو گمراہ نہیں کرسکتا۔ وہ عورت کو واسطہ بناکر مرد کو ورغلاتا ہے۔ شیطان پہلے عورت کو پھسلاتا ہے اور پھر عورت مرد کو دعوتِ گناہ دیتی ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آدم کو شیطان نے ورغلایا تھا اور نتیجے کے طور پر انھیں جنت سے نکلنا پڑا تھا۔ اس میں بھی حوا ہی واسطہ بنی تھیں۔

قرآن نے ان تمام نظریات کی تردید کی اور اعلان کیا کہ سارے انسان ایک جان سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان سب کی اصل ایک ہے۔ پیدایشی طور پر نہ کوئی شریف ہے نہ رذیل، نہ اُونچی ذات کا ہے نہ نیچی ذات کا، نہ برتر ہے نہ کم تر۔ سارے انسان برابر ہیں۔ خاندان، قبیلہ، رنگ و نسل، ملک و قوم، زبان، پیشہ اور صنف کی بنیاد پر اُن کے درمیان کوئی تفریق کرنا غلط ہے۔

قرآن جب حضرت آدم کے قصے کا تذکرہ کرتا ہے تو یہ تسلیم نہیں کرتا کہ شیطان نے یا سانپ نے حوا کو گمراہ کیا اور حوا آدم کی گمراہی کا سبب بنیں۔ وہ ایک الگ ہی منظر کا نقشہ پیش کرتا ہے جس میں آدم و حوا دونوں برابر کی ذمہ دار شخصیت ہیں۔ شیطان نے دونوں کو دھوکا دیا اور دونوں اس سے دھوکا کھا گئے اور انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل چکھ لیا۔ اللہ کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے دونوں سے خدا کی حفاظت اُٹھا لی گئی، اُن کا پردہ کھول دیا گیا اور اُنھیں خود اپنے نفس کے حوالے کردیا گیا کہ اپنی پردہ پوشی کا انتظام خود کریں۔ جب اُن دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انھوں نے فوراً کسی تاخیر کے بغیر توبہ و ندامت کی راہ اپنا لی۔ اللہ کے حضور دونوں معافی کے خواست گار ہوئے۔ اللہ نے دونوں کی توبہ قبول کی اور انھیں معاف کر دیا۔ پھر خلافتِ ارضی کے خدائی منصوبے میں رنگ بھرنے کے لیے دونوں کو جنت سے اُتار کر اس زمین پر بھیجا گیا اور دونوں نے مل کر اس کائنات کی بزم سجائی۔

صنفی تفریق کا خاتمہ

قرآن نے اس جاہلانہ تصور کی بھی بیخ کنی کی کہ عورت خدا کا قرب حاصل نہیں کرسکتی، اور یہ کہ عورت ہونے کا مطلب نصف شیطان ہونا ہے، اور یہ کہ وہ برائی کی جڑ ہے۔ قرآن نے پوری قوت کے ساتھ باورکرایا کہ خدا کا قرب اور جنت میں داخلہ کسی مخصوص جنس کے لیے نہیں ہے۔ اس کی بنیاد تو عملِ صالح ہے خواہ مرد نے کیا ہو یا عورت نے۔ قرآن کہتاہے:

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo (النحل ۱۶:۹۷) جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔

یہاں قرآن کریم نے اس غلط فہمی کو رفع کیا ہے کہ دیانت اور پرہیزگاری کی زندگی گزارنے والوں کی دنیا ضرور بگڑتی ہے، بھلے ہی اُن کی آخرت سنور جاتی ہو مگر دنیا میں وہ ناکام و نامراد رہتے ہیں۔ حیاتِ طیبہ کی یہ قابلِ فخر زندگی اور آخرت میں ملنے والے بہتر سے بہتر اجر اور اُونچے سے اُونچا مرتبہ ہر شخص کو ملے گا جو اِس دنیا میں حسنِ ایمان اور حسنِ عمل سے آراستہ ہوگا۔ اس میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے۔

قرآن عورت کو بیٹی، بہن، بیوی اور ماں بناکر اس کا مرتبہ اس طرح بلند کرتا ہے کہ ان حیثیتوں میں اس کو تمام سماجی، معاشی، مذہبی اور تعلیمی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رویے اور عمل سے تمام شعبوں میں عورت کو تمام حقوق اس طرح عطا کیے جس طرح مرد کو عطا کیے گئے تھے تاکہ وہ بھی مرد کی طرح اپنے فرائض کی ادایگی میں ہمہ وقت کوشاں رہے۔

فرائض کی فطری تقسیم

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد اور عورت کے فرائص یکساں ہیں۔ زندگی کے دو بازو اور شریکِ کار ہونے کے سبب دونوں کے بطور انسان یکساں حقوق و اختیارات ہیں، لیکن عملی میدان میں دونوں کے کام کی نوعیت اور ہیئت میں واضح فرق ہے، اور اس فرق کا سبب دونوں جنسوں کے جسمانی، نفسیاتی، طبی اور فطری عوامل میں پوشیدہ ہے۔ یہاں یہ نکتہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ ان دونوں کے اختلافِ کار کا مقصد کسی ایک جنس کا برتر اور دوسری جنس کا کم تر ہونا نہیں ہے۔ یہ تو دونوں کی الگ الگ قدرتی صلاحیتوں، رجحانات،میلانات، جذبات و محرکات، استعداد اور فضیلتوں کی بدولت تقسیم کار ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں قرآن نے خاندان کی معاشی کفالت کی ذمہ داری کا بوجھ مرد کے مضبوط کندھوں پر رکھا ہے اور اسے نگراں اور قوّام بنایا ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ ط (النساء ۴:۳۴) مرد عورتوں پر قوّام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔

ورنہ قرآن مردوں اور عورتوں کو یکساں سمجھتا ہے۔ وہ دونوں کو بنی نوع انسان تسلیم کرتا ہے اور دونوں کو یکساں حقوق و مراعات عطا کرتا ہے۔ بطور مثال چند آیات یہاں نقل کی جارہی ہیں، جن میں مردوں اور عورتوں کی ذمہ داری واضح کی گئی ہے:

مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوکر رہے گی۔ یقیناًاللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔ (التوبہ ۹:۷۱)

بالیقیں جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزے رکھنے والے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔(احزاب۳۳:۳۵)

سماجی زندگی میں شرکت

اسلام نے عورتوں کی سرگرمیوں کو گھر میں امن و سکون کی افزایش اور بچوں کی دینی تعلیم و تربیت نیز علمی و فکری خدمات تک محدود نہیں رکھا بلکہ انھیں ایک وسیع میدان فراہم کیا تاکہ وہ عملی جدوجہد میں برابر کی شرکت کرسکیں۔ خواتین جس طرح شعروادب اور علم و فن کے ذریعے ترقی کرسکتی ہیں اسی طرح وہ زراعت، تجارت اور دوسرے میدانوں میں بھی معاشرے کی ضرورت اور وقت کی پکار کے مطابق اپنا حصہ ادا کرسکتی ہیں۔

اسلام میں انسانی حقوق کے اس تصور سے یہ حقیقت اُجاگر ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی انسانی حقوق کا اگر کوئی ضامن ہے تو وہ اسلام ہی ہے، نہ کہ جدید مغرب کہ جہاں حجاب پر پابندی عائد کی جارہی ہے، اور مساجد کو دہشت گردی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جو ہرشخص کو آزادی عطا کرتا ہے کہ وہ کفرواسلام میں سے جس راہ کو چاہے منتخب کرسکتا ہے اور اس کے لیے اس پر کوئی جبر نہیں۔ کیا مغرب اپنے تمام تر جدید افکار کے ساتھ اس رواداری کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟

______________