مدد کرنے والے خوش نصیب!

ایک حدیثِ قدسی میں ہے : اللہ تعالیٰ روزِ قیامت بندے سے فرمائے گا : میں بیمار تھا ، لیکن تو نے میری دیکھ بھال نہیں کی تھی ۔ بندہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں کیسے تیری دیکھ بھال کرتا ، تو تو سارے جہاں کا نگہبان ہے؟
اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا _؟ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو نے اس کی دیکھ بھال کی ہوتی تو مجھے اس کے پاس پاتا ؟
(پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا) میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ، مگر تو نے مجھے نہیں کھلایا تھا۔ _ بندہ کہے گا : اے میرے رب ! میں تجھے کیسے کھلاتا، تو تو سارے جہاں کا پالن ہار ہے؟
اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ، مگر تو نے اسے نہیں کھلایا تھا؟ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اسے کھلاتا تو اسے میرے پاس پاتا؟
(پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا) میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، مگر تو نے مجھے نہیں پلایا تھا ۔ بندہ کہے گا : اے میرے رب ! میں تجھے کیسے پلاتا، تو تو سارے جہاں کا پالن ہار ہے؟
_ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، مگر تو نے اسے نہیں پلایا تھا۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اسے پلاتا تو اسے میرے پاس پاتا؟ ( مسلم :۲۵۶۹)
اس حدیث پاک سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں خدمتِ خلق کو کتنا عظیم مقام دیا گیا ہے۔ _ ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی مدد کرتا ہے ۔وہ بھوکے ہوں تو ان کے لیے راشن یا کھانے کا نظم کرتا ہے۔ پیاسے ہوں تو ان کے لیے پانی کا انتظام کرتا ہے۔ بیمار ہوں تو ان کے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا کرنے والے فرد نے انسانوں کی مدد نہیں کی ، بلکہ خود اللہ کی مدد کی ہے۔ اس نے انسانوں کا علاج نہیں کیا ، بلکہ خود اللہ کا علاج کیا ہے۔ اس نے انسانوں کو کھانا نہیں کھلایا، بلکہ خود اللہ کو کھلایا ہے۔ اس نے انسانوں کو پانی نہیں پلایا ، بلکہ خود اللہ کو پلایا _ ہے۔
اس تصوّر کو قرآن و حدیث میں بہت نمایاں کرکے پیش کیا گیا ہے کہ یہ _ مال و دولت اور آسودگی، اللہ کا دیا ہوا انعام ہے۔ لیکن جب ایک بندۂ مومن اسے انسانوں کی ضروریات پر خرچ کرتا ہے، تو اللہ اسے اپنے ذمے قرض کی حیثیت دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ روزِ قیامت اسے خوب بڑھا چڑھا کر خرچ کرنے والے کو واپس کرے گا۔ _ قرآن کریم میں ہے :
کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسن دے ، تاکہ اللہ اُسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے؟ (البقرہ۲ :۲۴۵)
اسی طرح ایک حدیث میں ہے : جب انسان اپنی پاکیزہ کمائی میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسے خوب اہتمام سے پروان چڑھاتا ہے ، جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے پالتو جانور کے بچے کی نگہ داشت اور پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس نے ایک کھجور کا صدقہ کیا ہو تو وہ اللہ کی نگرانی میں بڑھتے بڑھتے پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے (بخاری:۱۴۱۰، مسلم: ۱۰۱۴)۔
’ کورونا‘ نامی وبائی مرض کے پھیلاؤ کے موقعے پر جو لوگ خدمتِ خلق کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں، وہ انتہائی عظیم مشن کے خوش نصیب راہی ہیں:
l اس مرض کی خطرناکی سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود جو لوگ علاج معالجے کی خدمت انجام دے رہے ہیں، ان کا کام بلامبالغہ ‘’جہاد‘ کے مثل ہے _۔
l جو لوگ اس کام میں اپنی زندگی ہار بیٹھیں، وہ بلاشبہہ ’شہادت‘ کے منصب پر فائز ہوں گے۔ _
l جو لوگ اس موقعے پر خوب بڑھ چڑھ کر خیرات و صدقات دے رہے ہیں، وہ درحقیقت اللہ کو قرض دے رہے ہیں۔ جسے خوب بڑھا چڑھا کر واپس کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اور اللہ کا وعدہ پورا ہونا یقینی ہے۔ _
l جو لوگ اس موقعے پر غذائی اشیا ضرورت مندوں تک پہنچانے کی خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ حقیقت میں اللہ کی مدد کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اپنے کاموں کا بھر پور بدلہ پائیں گے _۔
بھوکوں کو کھانا کھلانا، ایک عظیم خدمت
ہمارے ملک میں آج کل لاک ڈاؤن سے جو صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے وہ خون کے آنسو رُلانے والی ہے۔ _ اپنے گھر سے باہر نکلیے یا فون پر کسی عزیز سے بات کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہرطرف قدم قدم پر ایسے مرد، عورت ، بوڑھے ، جوان ، لڑکے ، لڑکیاں، بچیاں اور بچے نظر آتے ہیں جو فاقوں سے دوچار ہیں _۔ ان کے مُرجھائے ہوئے چہرے ان کی بے چارگی کی گواہی دیتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد یاد آجاتا ہے :
سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے کو کھانا کھلادو ( بیہقی، فی شعب الایمان: ۳۳۶۷، الترغیب والترہیب: ۲/۹۲)۔
امن کی حالت اور شکم سیری اللہ تعالیٰ کی دو بہت بڑی نعمتیں ہیں (قریش ۱۰۶ :۴)۔ ان کے مقابلے میں خوف اور بھوک اللہ کی نعمتوں پر ناشکری کی سزا بھی ہے، جس سے اللہ انسانوں کو دوچار کرتا ہے (النحل۱۶ :۱۱۲) اور اس کی طرف سے کی جانے والی آزمایشیں بھی ہیں ، جو انسانوں کو لاحق ہوتی ہیں _ (البقرۃ۲:۱۵۵)۔
انسان اپنی دیگر ضروریات کو ٹال سکتا ہے ، اس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو تو کچھ صبر کرسکتا ہے ، مکان نہ ہو تو کھلے آسمان کے نیچے گزارا کرسکتا ہے ، لیکن بھوک کو زیادہ وقت تک ٹالنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ بچوں کا معاملہ تو اور بھی دگرگوں ہوتا ہے کہ وہ بھوک برداشت نہیں کرپاتے۔ چنانچہ رونے پیٹنے اور واویلا کرنے لگتے ہیں اور انھیں دیکھ کر والدین کا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے___ _ رفاہی کاموں کی بے شمار صورتیں ہیں ، لیکن آج کل بھوکوں کو کھانا کھلانا ایک انتہائی اہم اور ضروری کام ہے، جس کی طرف اصحابِ خیر کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے _۔
یہ غور طلب بات ہے، جس میں اجمالی طور پر کہا جاسکتا تھا: ’’اللہ کی راہ میں خرچ کرو، غریبوں اور محتاجوں کی ضروریات پوری کرو ، ان کے کام آؤ‘‘۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب کیوں دی؟ اور اس کے آخری رسول (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) نے کھانا کھلانے کو عظیم صدقہ کیوں قرار دیا؟
قرآن مجید میں مسکینوں کو کھانا کھلانے کی مختلف صورتوں کا بیان ہے۔ _جو شخص روزہ نہ رکھ سکے، اس کا فدیہ مسکین کو کھانا کھلانا ہے _(البقرہ۲:۱۸۴ )۔ قسم کا کفّارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _(المائدہ۵:۸۹)۔ حرم میں کوئی شخص شکار کرے تو اس کا کفّارہ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _(المائدہ ۵:۹۵)۔ ظِہار (بیوی کو ماں کہہ دینے) کا کفّارہ ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے _(المجادلۃ ۵۸:۴)۔ پریشانی کے دن یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کو عظیم عمل کہا گیا ہے _(البلد۹۰: ۱۴-۱۶)۔ اہلِ جنت کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا کہ وہ دنیا میں اللہ کو خوش کرنے کے لیے مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے _(الدھر۷۶:۸)۔ اسی طرح جہنم کا ایندھن بننے والوں کا ایک جرم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ نہ خود مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے اور نہ دوسروں کو اس نیک کام پر ابھارتے تھے _(الفجر۸۹:۱۸، الماعون۱۰۷:۳) ۔
اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاداتِ گرامی ہیں:
l بھوکے کو کھانا کھلاؤ _ ( بخاری :۳۰۴۶) ۔
l کھانا کھلانے والے جنت میں جائیں گے(مسند احمد :۸۲۹۵) ۔
l جو شخص کسی بھوکے کو کھانا کھلائے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جنّت کے پھلوں میں سے کھلائے گا (المجموع للنووی :۶/۲۳۵)-
l صدقے کی ایک صورت یہ ہے کہ تم بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ (سیر اعلام النبلاء،الذھبی۱۶/۴۵۹)۔
l وہ شخص مومن نہیں جو خود تو آسودہ ہو ، لیکن اس کا پڑوسی بھوکا ہو (الترغيب و الترھیب ۳/۳۲۳)۔
ان آیات اور احادیث میں خاص طور پر کھانا کھلانے کا تذکرہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے وجوہِ خیر میں اس عمل کو بارگاہ الٰہی میں بہت زیادہ پسندیدگی سے دیکھا گیا ہے _۔
ان اطلاعات سے بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ پورے ملک میں بہت سے اصحابِ خیر نے بھوکوں کو کھانا کھلانے کے خصوصی انتظامات کیے ہیں اور بلا تفریق مذہب و ملّت وہ سب کو فیض یاب کررہے ہیں۔ بعض علاقوں میں جماعت اسلامی کی جانب سے کھانے کے پیکٹس کی تقسیم کا نظم دیکھنے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ جماعت کے علاوہ بھی بہت سے لوگ اس کارِ خیر کو انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب اپنی گاڑیوں میں پکے ہوئے کھانے کے پیکٹس بھر کر لاتے ہیں اور مسافروں ، راستہ چلتے ہوئے لوگوں اور جھگیوں جھونپڑیوں کے مکینوں میں تقسیم کرتے ہیں _۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس وقت کی بہت بڑی ضرورت پوری کررہے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو خوش کررہے ہیں اور جو کچھ کررہے ہیں اس کا بدلہ صرف جنّت ہے _۔
سفید پوشوں کی خبر لیجیے
لاک ڈاؤن کے نتیجے میں عوام جس بھوک اور افلاس کا شکار ہیں، اس کے تدارک کے لیے اصحابِ خیر کا جذبۂ انفاق ماشاء اللہ جوش میں ہے۔ _ وہ بڑے پیمانے پر کھانا پکاکر بھی تقسیم کررہے ہیں اور راشن کے پیکٹ اور پیکج تیار کرکے بھی مستحقین تک پہنچا رہے ہیں۔ _ ان کی یہ جدّوجہد بڑی قابلِ مبارک باد اور لائقِ تحسین ہے۔ _ اس موقعے پر ایک اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلانی مقصود ہے کہ کہیں وہ نظر سے اوجھل نہ رہ جائے۔ _ وہ ہے ان لوگوں کی طرف دستِ تعاون بڑھانا، جو اپنی ضرورت مندی کا اظہار اپنی زبان سے نہیں کرسکتے۔ جن کی سفید پوشی ان کے منہ پر تالے ڈال دیتی ہے ، جو فاقوں پر فاقے تو کرسکتے ہیں ، لیکن اپنے فقر کی بھنک اپنے قریبی لوگوں کو بھی دینا گوارا نہیں کرتے۔
قرآن مجید میں دو مقامات پر اہل ایمان کے کچھ اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ _ ان میں سے ایک وصف یہ ہے :
وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۝۲۴۠ۙ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ۝۲۵ (المعارج۷۰: ۲۴-۲۵) اور جن کے مالوں میں ایک حق مقرر ہے ، سائل (مانگنے والے) کا بھی اور محروم کا بھی _۔
_ یہی مضمون ایک لفظ (معلوم) کی کمی کے ساتھ سورئہ ذاريات(آیت۱۹) میں بھی آیا ہے۔ _
ان آیات میں دو الفاظ خصوصی توجہ کے مستحق ہیں : ایک ’حق‘ اور دوسرا ’محروم _ کا حق‘۔ مطلب یہ ہے کہ ’اہل ایمان جب اپنی کمائی میں سے کسی کو کچھ دیتے ہیں، تو یہ نہیں سوچتے کہ وہ اس پر احسان کر رہے ہیں ، بلکہ ان کے ذہن میں یہ بات روزِ روشن کی طرح صاف دکھائی دے رہی ہوتی ہے کہ ’’ان کے مال میں یہ ان کا حق ہے۔ _ اس طرح انھیں دے کر وہ ان کے حق سے سبک دوش ہو رہے ہیں ۔ ان آیات میں ’محروم‘ کا لفظ ‘’سائل‘(مانگنے والا) کے مقابلے میں آیا ہے۔ جس سے اس کے معنیٰ متعین ہوتے ہیں۔ _ اس کا مطلب ہے وہ شخص جو ضرورت مند ہونے کے باوجود مانگنے کی ہمّت نہ کرسکے اور ہاتھ نہ پھیلائے _۔
ہمارے ارد گرد معاشرے میں بہت سے سفید پوش ہوسکتے ہیں، جن میں: ہمارے رشتے دار، ہمارے دوست احباب ، ہمارے دفتروں میں کام کرنے والے ملازمین ، محلوں میں پھیری لگاکر روزمرّہ کا سامان بیچنے والے اور خوانچا فروش ، وغیرہ۔ _ ہم اپنے دماغ پر تھوڑا سا زور دیں تو ایسے متعدد سفید پوشوں کی تصویریں ہمارے سامنے آجائیں گی۔ _ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ان کی غیرت اور خود داری کو مجروح نہ ہونے دیں، اور اس موقعے پر ان سے اس طرح تعاون کریں کہ انھیں شرمندگی کا ذرا بھی احساس نہ ہو ۔ ہم عام صدقات و خیرات کے علاوہ زکوٰۃ سے بھی ان کی مدد کرسکتے ہیں ۔ دینے والی کی نیت ہونی چاہیے کہ وہ ’زکوٰۃ‘ ادا کررہا ہے۔ _ جس کو زکوٰۃ کی رقم دی جارہی ہے اس کا جاننا ضروری نہیں کہ اس کو دی جانے والی رقم زکوٰۃ ہے _۔
شریعت میں مستحق کو مدد دیتے وقت انفاق کے معاملے میں پوشیدگی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ _ روزِ قیامت جو لوگ اس وقت عرش الٰہی کے سایے میں ہوں گے ، جب اس کے سایے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان میں ایک وہ شخص بھی ہوگا، جو اس طرح خرچ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہونےپائے کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے _ ( بخاری :۶۶۰، مسلم:۱۰۳۱)۔
موجودہ بحران میں بہت سے لوگ دل کھول کر اپنا مال لُٹا رہے ہیں _۔ انھوں نے بڑے بڑے لنگر کھول رکھے ہیں ، جن کے ذریعے بلا تفریق مذہب و ملّت انسانوں کی بھوک مٹا رہے ہیں۔ _ ایسے میں وہ لوگ بارگاہِ الٰہی میں خصوصی اجر کے مستحق ہوں گے جو بہت خاموشی سے معاشرے کے ایسے سفید پوشوں کی مدد کررہے ہیں، جن کی خودداری انھیں ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتی اور جن پر عموماً اصحابِ خیر کی نظر نہیں پڑتی _۔
صدقےکی ہزار صورتیں
ایک مرتبہ غریب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا : مال دار لوگ ہم سے بازی لے گئے: _ وہ نماز پڑھتے ہیں ، ہم بھی پڑھتے ہیں۔ _ وہ روزہ رکھتے ہیں ، ہم بھی رکھتے ہیں۔ _ وہ صدقہ کرتے ہیں ، لیکن ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ صدقہ کرسکیں _۔
رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ نے تمھارے لیے صدقہ کی بہت سی صورتیں بتائی ہیں ۔
ایک اور حدیث میں ہے ،کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ابن آدم کے ہر جوڑ، ہڈی، پور کے حساب سے روزانہ اس پر صدقہ کرنا لازم ہے۔ _ صحابہ نے عرض کیا : ہم اتنا صدقہ کیسے کرسکتے ہیں؟ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت سے اعمال کا تذکرہ کیا اور انھیں صدقہ قرار دیا _۔یہ احادیث بہت سی کتبِ حدیث میں مروی ہیں _ (چند حوالے ملاحظہ ہوں : بخاری ۲۷۰۷،۲۸۹۱،۲۹۸۹،مسلم: ،۷۲۰،۱۰۰۹،۱۵۵۲، ابوداؤد :۱۲۸۵،۱۵۶۷،۵۲۴۳ ، ترمذی: ۱۹۵۶ ، نسائی : ۲۵۳۸ ،ابن ماجہ :۲۴۱۸، احمد :۲۱۴۷۵، ۲۱۴۸۲وغیرہ)۔
ان احادیث میں صدقے کی جو صورتیں بیان کی گئی ہیں، وہ درج ذیل ہیں :
l اللہ کی پاکی بیان کرنا (سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے _ l _ اللہ کی کبریائی بیان کرنا صدقہ ہے _l _ لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے _ l اللہ کی حمد بیان کرنا (الحمد للہ کہنا) صدقہ ہے _ l نماز پڑھنا صدقہ ہے _ l دو رکعت چاشت کی نماز پڑھنا صدقہ ہے _ l روزہ رکھنا صدقہ ہے _ l حج کرنا صدقہ ہے _ lجنازہ کے پیچھے چلنا صدقہ ہے _ l _ مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے _ lکسی کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے _ l _راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے _ l _راستے سے ہڈّی ، پتھر ، کانٹا ہٹا دینا صدقہ ہے _ l _ ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے _ l _ اچھی بات کی تلقین کرنا صدقہ ہے _ lکسی غلط کام سے روکنا صدقہ ہے _ l _ میاںبیوی کا صنفی تعلق صدقہ ہے _ l _ تنگ دست مقروض کو مہلت دینا صدقہ ہے _ lکسی کم زور کی مدد کرنا صدقہ ہے _ l _کوئی آدمی اونچا سنتا ہو ، زور سے بول کر اسے کوئی بات سنا دینا صدقہ ہے _ lکسی شخص کی بینائی کم زور ہو ، اس کی کوئی ضرورت پوری کردینا صدقہ ہے _ l کوئی شخص کمزور، لاچار ہو ، اپنی طاقت سے اس کا کوئی کام کردینا صدقہ ہے _ l _کوئی شخص اپنی بات صحیح طریقے سے نہ رکھ سکتا ہو ، اپنی قوتِ بیانی سے اس کی بات صحیح طریقے سے پیش کردینا صدقہ ہے _ lکسی کا لباس بوسیدہ ہوگیا ہو ، اسے لباس فراہم کردینا صدقہ ہے _ lکسی ننگے کو کپڑا پہنا دینا صدقہ ہے _ lکسی نابینا کو صحیح راستے پر پہنچادینا صدقہ ہے _ l _ _ اپنے بھائی سے مسکرا کر بات کرنا صدقہ ہے _ lاپنے برتن سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے _ l _کوئی شخص بھٹک گیا ہو تو اسے صحیح راستہ بتادینا صدقہ ہے _ l _ _ لڑائی جھگڑا کرنے والے دو افراد کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردینا صدقہ ہے _ lکسی شخص کو سواری پر بیٹھنے میں مدد دینا صدقہ ہے _ l _ _ سواری پر بیٹھے ہوئے کسی شخص کا سامان اٹھاکر اسے دے دینا صدقہ ہے _ l _ _ اچھی بات صدقہ ہے _ l _ _ نماز کے لیے مسجد کی طرف اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے _ lکسی کو راستہ نہ معلوم ہو ، اسے راستہ بتا دینا صدقہ ہے _ lکسی کے درخت / کھیتی سے کوئی شخص کچھ کھا لے ، یہ اس کی طرف سے صدقہ ہے _ _ lکسی کے درخت / کھیتی سے کوئی جانور یا پرندہ کچھ کھا لے ، یہ اس کا صدقہ ہے _ lکسی مسافر کی راہ نمائی کردینا صدقہ ہے _ lکسی کاری گر کو اس کے کاروبار میں مدد کرنا صدقہ ہے _ lکسی کو پانی پلادینا صدقہ ہے _ lکسی کام میں اپنے بھائی کی مدد کردینا صدقہ ہے _ l_آدمی جو خود کھائے (حلال روزی) وہ صدقہ ہے _ l _ آدمی جو اپنے بچوں کو کھلائے ، وہ صدقہ ہے _ _ l آدمی جو اپنے خادم کو کھلائے وہ صدقہ ہے _ l کوئی پریشان حال مدد کا طالب ہو ، اس کے ساتھ جاکر اس کی پریشانی دور کردینا صدقہ ہے _ l _ اپنی جان اور عزّت و آبرو کی حفاظت کرنے کی جدّوجہد کرنا صدقہ ہے _ lکسی کو اپنی ذات سے نقصان نہ پہنچانا بھی صدقہ ہے _۔
صدقہ کی ان تمام صورتوں کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے۔ _ ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے صرف چند ہی حقوق اللہ سے متعلق ہیں ، زیادہ تر کا تعلق انسانوں کے حقوق سے ہے، _ جن میں اہل خانہ ، رشتے دار ، عام مسلمان ، غیر مسلم ، حتی کہ حیوانات بھی شامل ہیں۔
ان احادیث کی رو سے کورونا کی وبا کی وجہ سے پوری دنیا میں جو افراتفری برپا ہے ، اس میں کسی بھی حیثیت سے کسی انسان کی مدد کردینا صدقہ ہے _۔
_______________

admin

Read Previous

تحریک ِ آزادی کشمیر کا فیصلہ کن مرحلہ __ ہماری ذمہ داری

Read Next

روزہ اور طبّی مسائل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *