مقبوضہ کشمیر میں املاک کی فروخت پر فتویٰ-۲

گذشتہ شمارے میں ’مقبوضہ جموں و کشمیر میں املاک کی فروخت‘ کے بارے میں محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب کا فتویٰ شائع ہوا تھا، جس پر سری نگر سے موصولہ برقی خط اور اس کا جواب مطالعے کے لیے دیا جارہا ہے۔(ادارہ)
حضرت مفتی منیب الرحمٰن صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بر کاتہ!
آپ نے ماہ نامہ عالمی ترجمان القرآن ( اپریل ۲۰۲۰ء) میں ایک مظلوم اور محکوم کشمیری بھائی کے استفسار پر، محکم دینی دلائل ، آثار اور شواہد کے ساتھ اسلامیان جموں و کشمیر کو بڑےایمان افروز الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہ: وہ خرید وفروخت کا حق رکھنے کے باوجود ، راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ(RSS) کی سفاک حکومت کے فسطائی اقدامات اور اندھی بہری یلغار کو ناکام بنانے کے لیے، اپنی املاک، جایدادیں اور زمینیں، جارح بھارتیوں اور کافروں کو فروخت نہ کریں۔ آپ کی اس دردمندانہ توجہ پر اہل کشمیر آپ کی ایمان پروری کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں۔
تاہم، اسی پس منظر میں چند امور آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کیونکہ ’استفتاء‘ میں یہاں کی زمینی صورت حال کی پیچیدگی پوری طرح واضح نہیں ہو رہی۔ یہ چیزیں ہمیں شدید اضطراب ، ناقابل بیان دکھ اور منڈلاتے گھمبیر خطرات و خدشات سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ ان مصائب و آلام سے چھٹکارے کے لیے ،جن جن مسلم قوتوں پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان کے لیے آپ دین اسلام اور شعائر اسلام کی روشنی میں کیا لائحہ عمل تجویز فرماتے ہیں؟ اس ضمن میں حسب ذیل نکات پیش خدمت ہیں، جو پیش نظر رہنے چاہییں:
۱- کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے پشتینی باشندے ( پنڈت،ڈوگرہ اور سکھ)رہتے ہیں۔جن کی تعداد ۱۹۴۷ء کے بعد کافی حد تک بڑھا دی گئی ہے۔مگر اس کے باوجود ہماری تمام دینی اور سیاسی قیادت یہ برملا مطالبہ کرتی ہے کہ ’’نقل مکانی کرنے والے پنڈت جموںو کشمیر میں واپس آجائیں‘‘۔
۲-صورت حال یہ ہے کہ یہاں کی سرکاری مشینری میں کام کرنے والے افراد کی فی الحال اکثریت انھی لوگوں پر مشتمل ہے ، جو روزی روٹی کماتے ہیں اور مختلف مراعات حاصل کرتے ہیں ۔ بھارتی تسلط سے بے زاری تو ان مقامی لوگوں کے اندر بھی کم و بیش اسی شدت سے موجود ہے ،لیکن نہ چاہنے کے باوجود وہ کام تو بھارتی مشینری ہی کے اہداف کی تکمیل اور تقویت کے لیے کرتے ہیں۔
۳- جس طرح سوئی کی مثال دے کر آپ نے ضمیروں کو جھنجوڑا ہے، اور بھارتی مقتدرہ قوتوں سے کسی بھی سطح کی معاونت کی نفی اور حوصلہ شکنی فرمائی ہے، وہ حد درجہ لائق تحسین ہے ۔لیکن سوئی تو دُور کی بات ہے، یہاں پر اس وقت ہربرادری کے لوگوں کی ایک مخصوص تعداد فوج، نیم فوج اور مقامی پولیس میں کام کر رہی ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو بھارت کے سیاسی اور صحافتی خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں۔ اگر اس پہلو سے ان کی پوزیشن کا بھی بکمال و تمام فتوے میں تذکرہ آجائے تو کم سے کم دینی مسئلے کے طور پر ایک مکالمہ شروع ہوجائے۔
۴-زمین نہ بیچنے کا مطلب تو ایک طرح سے سول نافرمانی ہے۔ اس صورتِ حال میں پسی، کچلی اور بے بس آبادی کی طرف سے سول نافرمانی کس طرح نتیجہ خیز ہو سکے گی؟ جب کہ ہمیں چاروں طرف سے مقید کیا گیا ہے اور ہمارے تمام وسائل کو بھارت اپنی وحشیانہ قوت سے اُوپر تلے روندے چلے جا رہا ہے، اور دوسری طرف عظیم الشان مسلم ریاستوں کے عیش پرست اور آخرت کی جواب دہی سے بے نیاز حکمران ،ان سفاک قاتلوں اور وحشیوں کی ناز برداریاں کر رہے ہیں۔
۵-یہاں مقبوضہ کشمیر میں تو ہزاروں ایکڑ زمینیں، جنگلات، آبی وسائل اور پہاڑ وغیرہ انھی برہمن نسل پرست حاکموں کے قاہرانہ قبضے میں ہیں ،جن کو وہ کسی بھی بزنس مین اور نام نہاد کارپوریشنوں کے نام منتقل کر سکتے ہیں۔ سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ریاستی اسمبلی میں بیان کے مطابق: اس وقت تک ۴لاکھ۳۰ ہزار ۹ سو۲۷ کنال زمین تو پہلے ہی سے دہلی کے قابض حکمرانوں نے سراسر غیرقانونی طور پر، اپنے فوجیوں، نیم فوجیوں اور سرکاری اہل کاروں کے حوالے کر دی ہے۔ یہ زمین یہاں کی کسی کٹھ پتلی حکومت نے نہیں دی بلکہ دہلی حکومت نے زور زبردستی سے غیر مقامیوں کو دی ہے۔اس وسیع پیمانے کی بندر بانٹ اور لُوٹ مار کے مقابلے میں میرا اور چند کنال رکھنے والے معمولی معاشی حیثیت کے مالک کسی مقامی مسلمان کا زمین یا جایداد غیر مقامیوں کو فروخت نہ کر نا ، فتوے میں بیان کردہ غرض و غایت کے تقاضوں کو کہاں تک برقرار رکھ سکتا ہے؟
۶- پھر اگر دہلی کی فاشسٹ حکومت ، مسلمانوں کی املاک کو ضبط کر لے ، جیسا کہ عملی طور کیا جارہا ہے تو اس صورت میں ہم کیا کریں؟
۷- یہاں پر’ہندوؤں کو زمین نہ فروخت کرنے‘ کا مطلب بہت سادہ الفاظ میں نہیں لیا جائے گا، اس کے اثرات بھارت میں مسلمانوں پر بھی پڑسکتے ہیں۔ اس لیے ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کی بھارتی نو آبادیاتی بدمعاشی کو بھانپتے ہوئے، بزرگ حُریت قائد سیّد علی شاہ گیلانی صاحب نے جموں و کشمیر میں رہنے والوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ’’غیر مقامیوں اور ریاست کے باہر سے آنے والوں کو اپنی جایدادیں فروخت نہ کریں‘‘۔ یہ جملہ معاملے کی نزاکت ظاہر کرتا ہے۔
۸- درحقیقت میں جو بات عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ بھارتی سامراجیوں کی ان سفاکیوں، دھاندلیوں اور انسانیت سوز خباثتوں کے خلاف پنجہ آزمائی کے کہیں زیادہ مؤثر میدان اب وادیِ کشمیر یا سری نگر کے بجاے دنیا بھر کے دارالحکومت ہیں، سوشل میڈیا کی نظر نہ آنے والی شاہراہیں اور عالمی اداروں و ذرائع ابلاغ کے ایوان ہیں۔ وہاں پر یہ جنگ ، ہم اکیلے پسے، کچلے، مجبور، تباہ حال اور قیدی نہیں لڑ سکتے (تاہم، جو اور جس قدر لڑ رہے ہیں، اس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی)۔ اس مقابلے کی ذمہ داری دنیا بھر کی مسلم حکومتوں، تنظیموں اور انفرادی طور پر مسلمانوں پر آتی ہے۔ خدا کے لیے ان ضمیروں کو بھی جھنجوڑئیے۔ ہماری التجا ہے کہ پاکستان کے سفارت خانوں اور حکومتوں کوتازیانے مارئیے کہ یہاں برہمنی نسل پرستی سیلاب کی طرح امڈی چلی آرہی ہے___ ہے کوئی بندباندھنے والا؟
۹-جو مسلمان تنظیمیں،مسلمان حکومتیں، ادارے اور موثر افراد اس تناظر میں خاموشی سے ہمارے کچلے جانے کا تماشا دیکھنے میں مگن ہیں، براہ کرم ان کی غیرتِ ایمانی اور مقامِ مسلمانی کو جھنجھوڑنے کے لیے قرآن و سنت کے احکامات یاد دلائیے۔
محترم مفتی صاحب، مسلم امت جسد واحد ہے، ہمارے اس دکھ درد کی گہری ٹیسیں کب اور کس طرح عصر حاضر کےمسلمان کی روحوں کو تڑپائیں گی اور انھیں عمل پر اُبھاریں گی؟
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبر کاتہ
ظفر خالد،سری نگر
m
محترم جناب ظفر خالد صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے مقبوضہ کشمیر میں موجود افراد واشخاص کے حوالے سے فتویٰ دیا تھاکہ وہ لالچ میں آکر اپنی زمینیں ہندوئوں کے ہاتھ فروخت نہ کریں۔یہ دو اشخاص کے درمیان بیع وشراء کے معاملات سے متعلق تھا۔آپ نے مقبوضہ کشمیر کا پورا منظرنامہ (Scenario) پیش کیا ہے، یہ ایک پیچیدہ اور گھمبیر مسئلہ ہے۔یہی مسئلہ تحریکِ آزادیِ فلسطین ’ الفتح‘کو درپیش تھا۔ ان کا موقف بھی یہی تھاکہ بلا امتیازِ مذہب، خواہ وہ مسلمان ہوں ،یہود ہوں یا مسیحی، فلسطین اُس کے اصل باشندوں کا وطن ہے۔ اس طرح یہ آزادیِ وطن کی ایک سیکولر تحریک بن جاتی ہے ،اگرچہ اصل اہلِ فلسطین میں بھی تناسب کے اعتبار سے مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے اورپورے جموں وکشمیر میں حتیٰ کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھی تاحال مسلمانوں کی آبادی غالب ترین ہے اور ظاہر ہے کہ اگر اللہ کی تقدیراور غیبی مدد سے استصوابِ راے (Plebiscite)کی منزل آجائے، تو یہ حق پورے جموں وکشمیر کے باشندوں کو دیا جائے گا،اور اس کے نتیجے کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔
آپ کا یہ بیان درست ہے کہ جموں وکشمیر میں مسلمان اکثریت کے ساتھ ساتھ ہندو پنڈت، ڈوگرہ اور سکھ باشندے بھی تھے، جن میں سے بعض پنڈت ترکِ وطن کر کے ہندستان چلے گئے۔لیکن یہ حقیقت آپ کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ جب استصوابِ راے کی منزل آئے گی تو استصوابِ راے مقبوضہ اور آزادجموں وکشمیر میں ایک ساتھ کرایا جائے گااور آرایس ایس اور مودی سرکار کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود ان شاء اللہ مسلمانوں کو واضح اکثریت حاصل رہے گی۔
مکالمے میں تمام امکانات ،جن میں سے بعض ہماری نظر میں ناپسندیدہ قرار پاسکتے ہیں، لیکن دشمن پر اپنے موقف کی معقولیت اور حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے اُن کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے ،کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ جموں وکشمیر پر حکمرانی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق اُس کے اصل باشندوں کو حاصل ہے،اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ قراردادوں کی روشنی میں بھارت سمیت پوری دنیا اس میثاق کی پابند ہے، تو اپنے موقف کو قوت بخشنے کے لیے یہ کہاجاتا ہوگا کہ اصل کشمیری باشندے اگر کسی بھی وجہ سے ترکِ وطن کر کے چلے گئے ہیں، تو اُن کے حق کو ہم تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آئیں! جموں وکشمیر میں رہایش اختیار کریں اور پھر وہ ووٹ دینے کے حق دار ہوں گے، البتہ بھارت میں رہتے ہوئے اُن کا یہ استحقاق نہیں بنتا۔
بھارتی حکومت اور اُن کی مسلّح افواج کی حیثیت ناجائز قابضین کی ہے، لہٰذا اگر انھوں نے جبراً بعض زمینوں پر قبضہ کیا ہے ، تو یہ ایک بالفعل (De facto)عارضی پوزیشن ہے۔یہ کسی بھی صورت میں بالحق، یعنی دستوری اورقانونی (De jure)طور پرتسلیم نہیں کی جاسکتی،کیونکہ جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ کسی چیز کی حقیقی حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔
’زمین نہ بیچنے‘ کا مطلب کسی بھی صورت میں سول نافرمانی نہیں ہے، کیونکہ اپنی ملکیتی چیز کو اپنی آزادانہ مرضی سے فروخت کرنا یا نہ کرنا، یہ ہر فرد کا دستوری اور آئینی حق ہے، اور قانونِ بین الاقوام بھی اسے تسلیم کرتا ہے ،لہٰذا ہمیں اپنے حق پر ہمیشہ اصرار کرتے رہنا چاہیے۔
آزادیِ وطن کے لیے ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی طویل جِدّوجُہد، عزیمت اور استقامت کو سلام کرتے ہیں کہ وہ ایک طاقت ور ظالم وجابر طاقت کے سامنے کوہِ استقامت بن کر کھڑے ہیںاور اپنے فطری ،دستوری ،شرعی اور قانونی حق کو نہ ترک کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ اُس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اورتقریباً ستاون مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بے حسی اور ملّی بے حمیّتی کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً انھیں جھنجھوڑ تے رہتے ہیں کہ شاید کبھی اُن کی دینی وملّی حمیّت کا جذبہ بیدار ہوجائے، اور وہ مقبوضہ جموں وکشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے نتیجہ خیز سیاسی ،سفارتی اور اقتصادی اقدامات کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا۝۰ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا۝۰ۚۙ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا۝۷۵ۭ (النسآء:۷۵)اور(اے مسلمانو!)تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتال نہیں کرتے، حالانکہ بعض (بے بس اور)کمزورمرد ،عورتیں اور بچے دعا کررہے ہیں :اے ہمارے پروردگار! ہمیں ظالموں کی اس بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنی جانب سے کوئی کارساز بنادے اورکسی کو ہمارے لیے اپنے پاس سے ہمارا مددگار بنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(۱) تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الجَسَدِ، إِذَا اشْتَكٰی عُضْوًا تَدَاعٰى لَهٗ سَائِرُ جَسَدِهٖ بِالسَّهَرِ وَالحُمّٰى (صحیح بخاری:۶۰۱۱)تُو مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحم کرنے ،باہم محبت کرنے اورایک دوسرے کے ساتھ شفقت سے پیش آنے میں ایک جسم کی مانند پائے گا کہ جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
(۲) اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيْهٖ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهٖ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ‘‘(صحیح بخاری:۲۴۴۲)
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ،نہ وہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ دشمن کے رحم وکرم پر چھوڑتا ہےاورجو اپنے بھائی کی حاجت روائی کرے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو کسی مسلمان سے تکلیف کو دور کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیفوں میں سے کسی تکلیف کو دور فرمائے گا اور جو مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ج (البقرہ:۲۸۶) ’’اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا‘‘۔
سو ،فرد ہویا جماعت ، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس بات کے مکلَّف ہیں کہ اپنی بساط کے مطابق باطل کا مقابلہ کریں۔صحابۂ کرام رضوان اللہ اجمعین کی عزیمت کی بعض مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں، لیکن ہرایک اپنی ہمت کے مطابق باطل کا مقابلہ کرنے کا پابند اور جواب دہ ہے۔
میں قارئین سے التجا کرتا ہوں کہ وہ سورۂ بقرہ کی آخری آیت : لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْہَا مَااكْتَسَبَتْ۝۰ۭ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا۝۰ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَـمَا حَمَلْتَہٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۝۰ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ۝۰ۚ وَاعْفُ عَنَّا۝۰۪ وَاغْفِرْ لَنَا۝۰۪ وَارْحَمْنَا۝۰۪ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۝۲۸۶ۧ کو ہمیشہ اس کی پوری معنویت کے ساتھ اپنے قلب وذہن میں جذب کر کے دعا کرتے رہا کریں،یقیناً اللہ تعالیٰ کی نصرت شاملِ حال ہوگی۔
مسلم حکومتوں سے توقعات باندھنا خوش فہمی کہی جاسکتی ہے۔جوکام عالمی سطح پر کیا جاسکتا ہے ،وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایسی تنظیمیں جن کا نیٹ ورک مغربی دنیا اور عالَمِ عرب میں ہے، وہ ایک فنڈ قائم کریں اورپھر مغربی ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیموں تک رسائی حاصل کریں ، وہاں سیمی نار منعقد کریں ،مقبوضہ جموں وکشمیر کے احوال کے بارے میں ایک مختصر اور مؤثر دستاویزی فلم بنائیں، جس کے ذریعے بریفنگ دی جاسکے اور وہ دیکھنے والوں کو حقیقت کے قریب تر محسوس ہو، صرف مبالغہ آرائی پر مبنی باتیں نہ ہوں۔ انسانی حقوق کے پہلوئوں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے۔ امریکا میں انتخابی سال ہے، وہاں کانگریس کے اراکین کے ساتھ اور انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ سیمی نار منعقد کریں، اور یہ بھی کوشش کریں کہ حقائق کو معلوم کرنے والا ایک آزاد( Facts-finding mission) مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے ، نیز Doctors Beyond Bordersاور Journalists Beyond Bordersتنظیموں کو متحرک کریں اور ان کے وفود کو مقبوضہ کشمیر جانے کے لیے اسپانسرکریں۔اس طرح یہ مسئلہ زندہ رہے گا، نیز مغرب کےاُن مذہبی رہنمائوں کے ساتھ جواپنے حلقوں میں مستند ومعتبر اور قابلِ احترام مانے جاتے ہوں، تعامُل (Interaction)کے راستے نکالیں،اس طرح اس مسئلے میں انسانی بنیادوں پرجان پڑسکتی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ!
۱۵؍اپریل۲۰۲۰ء مفتی منیب الرحمٰن
رئیس دارالافتاء جامعہ نعیمیہ کراچی
_______________

admin

Read Previous

رمضان المبارک اور ہم

Read Next

مولانا محمدسراج الحسن مرحوم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *