وسطی چین میں واقع ووہان (صوبہ ہوٗبے کا صدر مقام) کے چار باشندے ۲۶دسمبر ۲۰۱۹ء کو بخار، کھانسی، اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایت لے کر ڈاکٹر ژینگ جکسیان کے پاس پہنچے۔ ڈاکٹر ژینگ نے ان مریضوں میں ایک پُراسرار قسم کے نمونیہ کی دریافت کی۔ انھی دنوں ووہان سینٹرل ہاسپٹل کے ڈاکٹر لی وینلیانگ نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ایک نئے وائرس سے خبردار کیا۔لیکن اگر ڈاکٹر لی وینلیانگ کو ہراساں کرنے کے بجاے ان کی تنبیہہ پر کان دھرا جاتا تو کیا حالات بہتر ہوتے؟ اس سوال کا جواب فی الحال حتمی طور پر نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن اس کے بعد سے جو ہورہا ہے، وہ ہمارے لیے خبر اور آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ بنتا جارہا ہے۔ ووہان شہر میں نئے وائرس سے متاثر مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ زیادہ تر متاثرین کا تعلق سمندری غذاؤں کے ایک بازار سے تھا، جہاں مچھلیوں و دیگر بحری جان داروں کے گوشت کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے بھالو، چوہے، بندر، سانپ، گلہری، چمگادڑ، مگرمچھ، کتے، گدھے، لومڑی، خنزیر، کچھوے اور بھیڑیے وغیرہ کا گوشت بھی ملتا تھا۔ چند ہی روز بعد چین نے بازار بند کرکے کئی مؤثر قدم اٹھائے۔ لیکن یہ وائرس بلائے جان بن کر دنیا پر ٹوٹ پڑا۔ مشرق سے لے کر مغرب تک شاید ہی کوئی ملک ہو جو اس کی زد سے محفوظ ہو۔۲۹؍اپریل تک کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کا انفیکشن ۱۹۸ممالک میں پھیل چکا ہے۔ اب تک تقریباً ۲۸ لاکھ افراد اس مرض سے(جسے COVID-19 کا نام دیا گیا) متاثر ہوئے ہیں۔ دنیا کے ہر خطے میں ان متاثرین میں سے ایک لاکھ ۹۰ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں اور ان اعداد و شمار میں ہر آن اضافہ ہورہا ہے۔ اس مضمون کا مقصد اس بیماری کے تعلق سے کوئی نیا انکشاف نہیں ہے۔ یہاںاس وبا سے پیداشدہ حالات پر چند خیالات کو یک جا کیا جارہا ہے۔ مضمون کے پہلے حصے میں، تحدیث نعمت کے طور پر، اس بات کا مختصر ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو جو دفاعی نظام عطا کیا ہے، وہ کیسے کیسے دشمنوں سے کس کس طرح ہماری حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ انسان اپنی ساخت پر غور کرے تو اس کے دل میں اللہ کے شکر کا جذبہ پیدا ہو۔ ساتھ ہی کورونا وائرس کے ذریعے پیدا شدہ بیماری کے تعلق سے چند بنیادی باتوں کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ دوسرے حصے میں، زور اس بات پر ہے کہ ان پریشان کن حالات کا سامنا مومنانہ کردار اور مثبت طرز فکر کے ساتھ کیسے کیا جائے؟ جسم کی مستعد اور طاقت ور فوج اُس ملک میں امن و امان اور خوش حالی کا ڈیرا نہیں ہوسکتا ،جہاں اندرونی و بیرونی دشمن اپنی ریشہ دوانیوں کے لیے آزاد ہوں۔ ملک کی بقا اور سالمیت کے لیے ضروری ہے کہ اندرونی دشمن سے نبٹنے کے لیے پولیس اور بیرونی دشمنوں کے قلع قمع کے لیے فوج مستعد ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس اور فوج، دشمن اور دوست میں تمیز کرنا جانتے ہوں۔ کیونکہ پولیس اگر چور، ڈاکو اور قاتلوں کو چھوڑ کر شہریوں کی دشمن بن جائے اور فوج دہشت گردوں اور دشمن افواج کو چھوڑ کر ملکی سیاست میں دخل اندازی کا راستہ اختیار کرے، تو ایسے ملک کی خیر نہیں۔ انسانی جسم کی بھی یہی صورتِ حال ہے۔ اندرونی و بیرونی حملوں سے حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو جو صلاحیت دی ہے، اسے قوتِ مدافعت (Immune System)کہتے ہیں۔ آئیے اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں: ہمارے جسم میں کوئی بن بلایا بیرونی عنصر داخل ہونا چاہے تو ہماری جلد اسے اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ناک کے راستے دھول یا کوئی ذرہ داخل ہوجائے تو وہ بلغم اور چپچپے مادے میں اُلجھ کر رہ جاتا ہے، اندر داخل ہوکر نقصان نہیں پہنچا پاتا، بعد ازاں اسے چھینک کے زور سے دھکے مار کر باہر نکال دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے ذرات آنکھوں میں پڑ جائیں، تو بھی انھیں تباہی مچانے کی اجازت نہیں ملتی، کچھ ہی دیر میں آنسو انھیں گرفتار کرلیتے ہیں اور اپنی سرحدوں سے باہر دھکیل دیتے ہیں۔ کھاتے وقت ہم فائدہ مند چیزوں کے ساتھ ساتھ بہت سی مضر اشیا بھی کھالیتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کو توڑ پھوڑ کر کام کی چیزوں کو الگ کرنے اور فضول چیزوں کو جسم سے خارج کردینے کا ایک پورا نظام پیٹ میں موجود ہے۔ کبھی آپ نے غور کیا ہوگا کہ مچھر وغیرہ کے کاٹنے پر وہ جگہ تھوڑی سی سوج جاتی ہے، اور سرخ نشان پڑجاتا ہے۔یہ مچھر کی جانب سے داخل کیے گئے کیمیائی مادے پر جسم کے مدافعتی نظام کا ردعمل ہے۔ جسم کے خلوی سپاہی جب تک مرمت کے اس کام سے فارغ نہیں ہوجاتے چین سے نہیں بیٹھتے۔ کوئی زخم ہوجائے اور خون بہنے لگے، تو بھی یہ نظام حرکت میں آتا ہے اور زخم کے مقام پر خون جم جاتا ہے، تاکہ زیادہ مقدار میں خون کے نکل جانے سے جسم کو کوئی خطرہ نہ لاحق ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی وائرس جسم میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے، تو بہت دیر تک وہ رنگ رلیاں نہیں منا پاتا۔ جسم کا مدافعتی نظام فوراً حرکت میں آتا ہے اور ایمرجنسی کا اعلان کردیتا ہے۔ اس چیز کو آپ بخار، نزلہ و زکام کہتے ہیں۔ جسم کا درجۂ حرارت زیادہ ہو تو وائرسس کو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں پریشانی ہوتی ہے اور جسم کے سپاہیوں کو انھیں ڈھونڈ کر ٹھکانے لگادینے میں آسانی ہوتی ہے۔ یہی صورت نزلہ و زکام کی بھی ہے؛ بہتی ناک دراصل اس جنگ کا نتیجہ ہے، جو جسم کی افواج کی نقصان دہ جرثوموں سے ہوتی ہے۔ بس اتنا ہی نہیں، جسم کے اس مدافعتی نظام کی ایک بہترین خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے پرانے دشمنوں کو یاد رکھتا ہے۔ چنانچہ جب وہی دشمن دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو بڑی آسانی سے انھیں کھدیڑ دیا جاتا ہے اور کسی نئی خونیں جنگ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ وہ اصول ہے جسے سائنس دانوں نے بہت سی خطرناک بیماریوں کے ٹیکے بنانے میں استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر چیچک کی وبا جب پھیلتی تھی تو پہلے پہل ہزاروں لاکھوں لوگ اس کا شکار ہوجاتے تھے، لیکن اب اس کا ٹیکہ لگادیا جاتا ہے۔ اس کا ٹیکہ گائے میں پائی جانے والی (نسبتاً کم خطرناک) چیچک کے پس سے بنایا جاتا ہے۔ جب اسے متعین مقدار میں انسان کے جسم میں پہنچایا جاتا ہے تو جسم کا مدافعتی نظام بڑی آسانی سے اس کا مقابلہ کرلیتا ہے اور پھر یہ نظام(یا متعین الفاظ میں Memory Cells ) اس ’حملے‘ کو یاد کرلیتے ہیں اور آیندہ اگر کبھی چیچک کے وائرس کا حملہ ہوتا بھی ہے، تو جسم بڑی آسانی سے اسے شکست دے دیتا ہے۔ انسانی جسم کے ننھے دشمن جسم کا یہ مدافعتی نظام لگاتار کام کرتا ہے۔ اس کے خاص دشمن جن کا تذکرہ یہاں مقصود ہے چھوٹے، بہت چھوٹے بلکہ بہت ہی زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں۔ اتنے چھوٹے کہ وہ انسانی آنکھوں سے نظر بھی نہیں آتے۔ جسامت کی بات کریں تو ’بیکٹیریا‘ (Bacteria) کی جسامت (مختلف قسموں کے اعتبار سے) 3.0 سے لے کر 5 مائکرومیٹر تک ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ ایک میٹر میں ۱۰ لاکھ مائکرومیٹر ہوتے ہیں۔ یہ اتنی چھوٹی جسامت ہے کہ مٹی کے ایک گرام میں عام طور پر ۴کروڑ بیکٹیریا ہوتے ہیں۔ وائرس کو ناپنے کے لیے مائکرو میٹر کی یہ چھوٹی اکائی بھی بہت بڑی ہے۔ چنانچہ انھیں نینو میٹر میں ناپا جاتا ہے۔ ایک میٹر میں ایک ارب (یعنی ایک کے بعد نو صفر) نینو میٹر ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں نے ایسے وائرسس کا پتا بھی لگایا ہے، جن کی جسامت صرف ۱۷ نینو میٹر ہوتی ہے۔ ’سارس‘ کے وائرس کی جسامت، جو کورونا وائرس سے کافی مماثل ہے، ۱۲۰ نینو میٹر ہوتی ہے۔ یہ اتنی چھوٹی جسامت ہے کہ اگر بیکٹیریا کی آنکھ ہوتی تو بھی اسے وائرس نظر نہیں آتے۔ اس چھوٹی سی جسامت کا تصور کرنے کے لیے اپنے ناخنوں پر ایک نظر ڈالیے۔ آپ کے ناخن ہرسیکنڈ میں تقریباً ایک نینومیٹر بڑھ جاتے ہیں۔ ’وائرس‘ دراصل ایک متعدی عامل (infectious agent) ہے، جس میں کسی زندہ وجود میں داخل ہوکر افزایش کی حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے۔ روس کے عالمِ نباتیات دمتری ایوانووسکی (Dmitri Ivanovsky) نے ۱۸۹۲ء میں تمباکو کے پودوں کی ایک بیماری کا مطالعہ کرتے ہوئے بتایاکہ اس بیماری کا سبب بیکٹیریا سے بھی چھوٹے جراثیم ہیں۔ بعد میں انھی کو وائرس کا نام دیا گیا۔ وائرس بذات خود زندہ ہے یا کسی زندہ مخلوق میں داخل ہونے پر اس میں جان پڑجاتی ہے؟ اس سوال پر سائنس دانوں کے درمیان اختلاف ہے۔ احتیاط کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وائرس میں زندگی کی واضح علامات اس وقت دکھائی پڑتی ہیں، جب وہ کسی جان دار میں داخل ہوکر اپنی افزایش شروع کرتا ہے۔ وہ اتنی کثیر تعداد میں بڑھتا ہے کہ اگر اس کی روک تھام نہ کی جائے تو اس جان دار کی زندگی کا وجود ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے جس کے تمام وسائل پر دھیرے دھیرے یہ طفیلی وائرس قبضہ کرتا چلا جاتا ہے۔ وائرس انسان اور جانوروں کے علاوہ نباتات، حتیٰ کہ جراثیموں جیسی انسانی آنکھوں سے نظر نہ آنے والی مخلوقات پر بھی تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کورونا وائرس سے متعلق چند باتیں جس وبا سے پوری دنیا پریشان ہے اسے Corona VIrus Disease 2019 (COVID-19) کا نام دیا گیا ہے۔ جو وائرس اس وبا کے لیے ذمہ دار ہے اسے، ’سارس‘ کے وائرس سے مماثلت کی مناسبت سے، Severe Acute Respiratory Syndrome Corona Virus 2 (SARS-CoV-2) کا نام دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں معلومات کا خلاصہ درج ذیل ہے: سب سے پہلے اس وائرس کا پتا چین کے ووہان شہر میں چلا۔ سائنس دانوں کی ابتدائی تحقیق کے مطابق یہ وائرس چمگادڑوں اور سانپوں سے انسانوں میں آئے ہیں۔ انسانوں سے انسانوں میں یہ وائرس کھانسی یا چھینک میں خارج ہونے والے تنفسی قطروں (Respiratory Droplets) کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔ یہ وائرس پلاسٹک یا اسٹیل پر تین دن، کاغذ پر ایک دن، اور تانبے پر چار گھنٹوں تک ’زندہ‘ رہ سکتا ہے۔ تیز بخار کے ساتھ سوکھی کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف کچھ واضح علامات ہیں، جو ’کورونا وائرس‘ کے انفیکشن کو ظاہر کرتی ہیں۔ پاکیزگی و صفائی کا خیال رکھا جائے تو وائرس کے انفیکشن سے بچا جاسکتا ہے۔ انسانی جلد پر وائرس ہو تو بھی وہ اپنے افزایشی عمل کو شروع نہیں کرسکتا۔ لیکن انسان جب اپنے ہاتھ کو آنکھ، ناک، یا منہ تک لے جاتا ہے تو وائرس کو جسم میں داخلے کی راہ مل جاتی ہے۔ اس لیے ہاتھوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دلائی جارہی ہے۔ اسی طرح کھانستے اور چھینکتے وقت بھی اگر اسلامی آداب کا خیال رکھا جائے تو انفیکشن کے پھیلنے پر بڑی حد تک روک لگائی جاسکتی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ۸۴ فی صد لوگ جو کورونا وائرس کے انفیکشن کا شکار ہوئے تھے، صحت یاب ہوچکے ہیں۔ جنھیں اس وقت انفیکشن ہے، ان میں سے صرف ۴ فی صد کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار آپ www.worldometers.info/coronavirus پر دیکھ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح دو سے چار فی صد ہے۔ بری خبر البتہ یہ ہے کہ کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک بہت بڑی تعداد کا دو سے چار فی صد بھی بڑی تعداد ہوتی ہے، لہٰذا اس معاملے کو ہلکا نہیں لیا جاسکتا۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر کورونا وائرس تیزی سے پھیل جائے تو دنیا کے کئی ممالک کا طبی و شفائی نظام اس بوجھ کو برداشت نہیں کرسکے گا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے فرض کیجیے کہ ایک شہر میں صرف دس اسپتال اور ہر اسپتال میں اوسطاً پچاس مریضوں کو داخل کرنے کی گنجایش ہے۔ اس شہر میں اچانک ۳ہزار لوگ بیمار ہوجائیںتو شہر میں اسپتال، بستر، ڈاکٹر، نرس سے لے کر دواؤں تک کا قحط پڑ جائے گا، کیونکہ اس شہر کا طبی نظام بیک وقت صرف پانچ سو مریضوں کی نگہداشت اور علاج کی حیثیت و صلاحیت رکھتا ہے۔ اب یہ اضافی مریض، چاہے کسی عام سے مرض میں ہی کیوں نہ مبتلا ہوں، مگر علاج نہ ملنے کی صورت میں (یا کماحقہٗ نہ ملنے کی صورت میں) بڑا نقصان اٹھائیں گے۔ لیکن یہی تین ہزار مریض اگر ایک ہی دن بیمار ہونے کے بجاے ایک مہینے کے نسبتاً طویل عرصے میں بیمار ہوئے ہوتے تو سبھی کو علاج میسر آتا اور معاشرے کو مجموعی طور پر ہونے والا نقصان بہت کم ہوتا۔ اسے اصطلاحی زبان میں flattening of the curve کہا جاتا ہے۔ انسانوں کے بڑے پیمانے پر اکٹھا ہونے اور سفر کرنے پر جو پابندیاں لگائی جارہی ہیں، اس کا ایک بنیادی مقصد یہی ہے کہ وائرس کو تیزی کے ساتھ پھیلنے سے روکا جاسکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بیک وقت ملک کے طبی نظام پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ ہمارے کرنے کا کام l اللہ کی نشانیوں پر غور کریں۔ ساری کائنات اللہ کی نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک مومن ان نشانیوں پر غور کرتا ہے اور سبق حاصل کرتا ہے۔ جب ہم قرآن میں پڑھتے ہیں کہ ابابیلوں کے ایک جھنڈ نے ہاتھیوں کے ایک عظیم لشکر کا صفایا کردیا تو اس واقعے میں ہمیں اللہ کی نشانی نظر آتی ہے۔ جب واعظ ہمیں مچھر کے ذریعے نمرود کی شکست کا قصہ سناتا ہے، تو ہمیں اس میں اللہ کی نشانی نظر آتی ہے۔ آج دنیا بھر کے انسان، وقت کی سوپر پاورز سمیت، جس طرح اس چھوٹے سے وائرس سے پریشان ہیں، کیا اس میں ہمارے لیے کوئی نشانی نہیں ہے؟ یہ ’حقیر‘ وائرس ہمیں اللہ کی قوتِ تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سائنس کی تمام تر ترقیوں کے باوجود خالقِ کائنات کی مشیت کے سامنے انسان کی بے بسی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، اور انسان کا سر بے اختیار احکم الحاکمین کے سامنے عجز ونیاز سے جھک جاتا ہے اور بقول غالب: دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو جو انسان دوسرے انسانوں کو اس آفت سے بچانے کے لیے دن رات لگے ہوئے ہیں، ان کے کردار کی عظمت پر بھی غور کیجیے۔ جو انسانی ذہن اس وائرس سے لڑنے کی تدبیریں کررہے ہیں، تجربات کررہے ہیں، ان کے ذہن و صلاحیت پر رشک کیجیے۔ ان تمام لوگوں کے لیے ہدایت و مغفرت کی دعائیں کیجیے۔ یہ رجوع الی اللہ کا وقت ہے۔ انسانوں پر آنے والی یہ مصیبتیں انسانوں ہی کی اپنی کمائی ہیں۔ اللہ تو بہت سے گناہ یونہی معاف فرمادیتا ہے، لیکن کبھی کبھی انھیں ان کے اعمال کا مزا بھی چکھادیتا ہے (ملاحظہ فرمائیے: سورئہ روم: ۴۱، سورۂ شوریٰ: ۳۰)۔ توبہ کیجیے، استغفار کیجیے، خالق کے سامنے گڑگڑائیے۔ اللہ کی ان نشانیوں کو اپنے ایمان میں اضافے کا سبب بنالیجیے۔ ہمارے دل کا حال اس چٹان کا سا نہ ہو، جس پر بارش کا کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ اس زرخیز زمین کا ساہو، جس پر بارش ہو تو فصلیں لہلہا اٹھتی ہیں۔ l اعتدال کا دامن تھامیں۔ ایسے واقعات جب رونما ہوتے ہیں، تو بہت سے لوگ دو قسم کی انتہا پسندی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ’’موت برحق ہے اور ہم اللہ سے ڈرتے ہیں، کسی وائرس سے نہیں‘‘۔ اور پھر ان بذاتِ خود صحیح باتوں سے احتیاط نہ کرنے کا غلط جواز برآمد کرلیتے ہیں۔ موت بالکل برحق ہے، لیکن سڑک پر جب کوئی گاڑی آپ کی طرف آتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ جی ہاں!ہٹ جاتے ہیں۔ آپ کا یہ ہٹنا ایمان کے منافی نہیں ہے۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو (سورۂ بقرہ: ۱۹۵)۔ رزق اللہ دیتا ہے، اور اس بات پر ہمارا ایمان ہے، مگر کون بے وقوف ہے، جو حصولِ رزق کے لیے کوشش نہیں کرتا؟ رزق کے لیے کوشش کرنا، اللہ کے رازق ہونے پر ایمان کے منافی تو نہیں ہے۔ اس کے برخلاف کچھ دوسرے لوگ ہیں، جو حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ گھبرا کر عجیب و غریب فیصلے لینے لگتے ہیں۔ خود ڈرتے ہیں اور دوسروں میں بھی خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر یوں بھی کچھ احتیاط کے ساتھ بتائی جاتی ہیں، لیکن یہ اس ’احتیاط‘ میں بھی ’اجتہاد‘ کرکے دس درجہ زیادہ محتاط ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ سڑکوں اور بازاروں میں جانے کی ممانعت ہو تو یہ کمرے سے باتھ روم کا سفر اختیار کرنے میں بھی دائیں بائیں دیکھ کر ماسک وغیرہ صحیح کرلیتے ہیں۔ بوڑھے اور بیماروں کو مسجد آنے سے منع کیا جائے تو تندرست و توانا ہوکر بھی باجماعت نماز نہیں پڑھتے۔ پہلے گروہ کی غلطی یہ ہے کہ وہ مسبب الاسباب پر ایمان لاکر یہ بھول جاتا ہے کہ اسی خدا نے اسباب پیدا بھی کیے ہیں، دنیا کو دارالاسباب بھی بنایا ہے، اور انسان کو اسباب اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ چنانچہ غزوۂ بدر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بغیر فوج اور ہتھیاروں کے آکر کھڑے نہیں ہوگئے تھے کہ آج پھونکوں سے معرکہ سر ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ سارے اسباب اختیار کیے گئے، جو کیے جاسکتے تھے ۔ دوسرے گروہ کی غلطی یہ ہے کہ وہ سبب کچھ اس طرح اختیار کرتا ہے کہ وہ سبب ہی پر ایمان لایا ہوا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ سبب کو پیدا کرنے والا مسبب الاسباب بھی ہے، جو چاہے تو آگ گرمی اور جلانے کا نہیں بلکہ ٹھنڈی ہوجائےاور سلامتی کا سبب بن جائے (سورۂ انبیاء۲۱: ۶۹)۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ غزوۂ بدر میں اللہ کے رسولؐ نے سارے اسباب اختیار کیے، لیکن بھروسا اللہ پر کیا، دعائیں اور مناجات اللہ سے کیں، اور فتح بھی یوں حاصل ہوئی کہ مومنین کو اللہ کی تائید اور اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں کی حمایت حاصل تھی۔ یہ اعتدال کی روش ہے۔ ہمارا ایمان اور یقین اللہ پر ہو، اس کی بنائی ہوئی تقدیر پر ہو، اس بات پر ہو کہ مصیبت اللہ کی مرضی ہی سے آتی ہے (سورۂ تغابن: ۶۴، سورۂ حدید: ۲۲)۔ لیکن یہ ایمان ہمیں تدبیر اور عمل سے غافل نہ کرے بلکہ اس کے لیے مہمیز ثابت ہو۔ یقین اس بات پر بھی ہو کہ مصیبت کو دور کرنے والا بھی اللہ ہی ہے، وہی علیم و خبیر ہے، اور ایمان والوں کے دلوں کو مصیبت میں سکون و طمانیت اور ہدایت بھی اسی سے حاصل ہوتی ہے (سورۂ فتح: ۴،سورۂ تغابن:۶۴ )۔ یعنی رسولؐ اللہ کے ارشاد کے مطابق ہم اونٹ باندھ کر اللہ پر توکل کریں۔ اسلام کا فلسفۂ توکل یہ نہیں ہے کہ اللہ پر توکل کرنے کے بجاے رسی پر توکّل کیا جائے، بلکہ یہ بات بھی ہے کہ اونٹ کو باندھے بغیر سمجھا جائے کہ اللہ پر توکّل کیا جارہا ہے۔ l لایعنی، لاحاصل اورفضول باتوں سے بچیں۔ انسانوں میں ایک گروہ ایسا ہے، جسے باتیں بگھارنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ بات جتنی بیکار ہو، بے سر پیر کی ہو، بے مقصد ہو، اس میں انھیں اتنا ہی لطف آتا ہے۔ چنانچہ ’کورونا وائرس‘ کے حوالے سے ہم سنتے ہیں کہ یہ ’یہودی سازش‘ ہے۔ ’یہ چین کی سازش ہے‘۔ ’یہ چین کے خلاف امریکا کی سازش ہے‘ وغیرہ۔ ہم کو اس سے انکار نہیں ہے کہ اخلاق و کردار سے عاری حکمراں اور پالیسی ساز، اپنے قومی مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں لیکن بات مستند بھی تو ہو۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کون سا ذریعۂ علم آپ کے پاس ہے، جس کے ذریعے حکمت کے یہ موتی چائے کی چسکیوں کے ساتھ بکھیرے جارہے ہیں؟ اگر ایسا کوئی مستند ذریعۂ علم ہے، جو کسی اور کے پاس نہیں تو مہربانی کرکے ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیجیے تاکہ ان حقائق سے پردہ اٹھ سکے۔ لیکن اگر ایسا کوئی مستند ذریعۂ علم نہیں ہے، تو خود بتائیے محض وہم و گمان اور ’وٹس ایپ‘ کے فارورڈز کی بنیاد پر ہونے والی ان خوش گپیوں کی کیا حیثیت ہے؟ آئیے، اس بات پر ایک دوسرے طریقے سے غور کریں۔ آپ کے کہنے سے وہ تین چار لوگ، جن سے آپ گفتگو فرمارہے ہیں، وہ مان بھی گئے کہ یہ امریکی (یا یہودی یا چینی) سازش ہے، تو آپ کو اور ان کو کیا حاصل ہوگیا؟ یہ لاحاصل گفتگو وقت کا ضیاع نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی طرح کچھ لوگ (جب تک ان کے شہر یا ملک پر آفت نہ آجائے) حکم صادر کردیتے ہیں کہ ’یہ اللہ کا عذاب ہے‘۔ میرے بھائی! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ منہ سے نکلی ہوئی باتوں کا قیامت میں حساب دینا ہوگا؟ سامری اور ابولہب کو جو بیماری لاحق ہوئی وہ اللہ کے غیض و غضب کی ایک شکل تھی۔ حضرت ایوبؑ کو جو بیماری لاحق ہوئی وہ اللہ کی ایک آزمایش تھی، جس سے وہ سرخرو نکلے۔ آج یہ باتیں ہم یقین سے اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسولؐ کے واسطے سے یہ باتیں ہمیں بتائی ہیں۔ لیکن آج کوئی بیماری، کوئی وبا، کوئی حادثہ: عذاب ہے یا آزمایش، ہم کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہ کسی کے لیے عذاب بھی ہوسکتا ہے؛ کسی کی آزمایش بھی ہوسکتی ہے؛ کسی کو غوروفکر پر آمادہ کرنے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے؛ کسی کے لیے تنبیہ ہوسکتی ہے؛ کسی کے گناہوں کے جھڑنے کا اور کسی کے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ لاحاصل بحثوں میں پڑے بغیر ہماری توجہ اس بات پر کیوں نہیں ہوتی کہ جن حالات سے بھی ہمیں سابقہ ہے، ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ذاتی طور پر میری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اسلام مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ میں ایسا کیا کروں کہ رضاے الٰہی کے نصب العین سے کچھ اور قریب ہوسکوں؟ وغیرہ وغیرہ۔ l فراغت کے ان لمحات سے بھرپور استفادہ کریں۔ ہم میں سے ہر ایک کو ہروقت مصروف رہنے کا ملال رہتا ہے۔ ایسے میں حکومتوں کی جانب سے احتیاطاً کیے گئے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ہمیں جو فرصت کے لمحات ملے ہیں، وہ نعمت غیر مترقبہ ہیں۔ جس طرح ہر نعمت کا خدا کو حساب دینا ہے، اسی طرح فرصت و فراغت کے ان لمحات کا حساب بھی دینا ہوگا۔ خدارا، ان قیمتی لمحات کو موبائل میں ویڈیوز دیکھنے میں اور پوسٹ لائیک شیئر، کھیلنے میں ضائع نہ کیجیے گا۔ ہر ایک نے کبھی نہ کبھی یہ منصوبہ بنایا ہے کہ فرصت ہوتی تو فلاں تفسیر کا مطالعہ کرلیتا، فلاں سیرت کی کتاب پڑھ لیتا، فلاں حدیث کی کتاب پڑھتا، مگر کالج کی پڑھائی سے یا آفس کی ہنگامہ آرائی سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔ کبھی چھٹی ہوتی بھی تھی تو اس کے الگ منصوبے ہوتے تھے۔ اب یہ جو فرصت و فراغت کے لمحات بالکل غیرمنصوبہ بند طریقے پر میسر آئے ہیں، انھیں غنیمت جانیے، مطالعہ کیجیے اور اپنے علم میں اضافہ کیجیے۔ کیا پتا ان چند دنوں کے مطالعے سے آپ کی شخصیت میں کوئی بہتر تبدیلی آجائے۔ قرآن و حدیث کے لگاتار مطالعے کا جذبہ اور توفیق میسر آجائے۔ پھر دینی کتب سے فیض حاصل کرنے کا یہ سلسلہ عام دنوں تک بھی دراز ہوجائے۔ l اسی طرح نوافل کا اہتمام کیجیے۔ تسبیح و تہلیل کا اہتمام کیجیے۔ اگر ہم سے کوئی ایسا بدنصیب ہے، جو روزمرہ کی مصروفیات کے دوران پنج وقتہ نمازوں کی پابندی نہیں کرپاتا، تو وہ فرصت کے ان لمحات میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور نمازوں پر اپنے دل کو آمادہ کرے۔ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اگر مسجد جانا ممکن نہ ہو، تو گھروں میں باجماعت نماز کا اہتمام کریں۔ عورتوں کو اور بچوں کو بھی شریک کریں۔ نمازیں پڑھنے والے کوشش کریں کہ وہ اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا کریں، نئی سورتیں یاد کریں، قرآن پر غور و فکر کریں، لمبی نمازیں پڑھیں اور اس بات پر غور کریں کہ اپنے خدا سے کیا کہہ رہے ہیں۔ قیام اللیل کا خیال عام طور پر جب آتا ہے تو شیطان صبح کی مصروفیات کے حوالے سے بہکاتا ہے، اب شیطان کے کسی نئے حربے کا شکار بننے کے بجاے جی کڑا کرکے قیام اللیل کا اہتمام کریں۔ رمضان المبارک کی اپنی نعمتیں ہیں۔ نفل روزوں کا اہتمام بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس طرح سے ہم نے اپنی ذہنی کیفیات پر، اپنے علم پر، اپنی عبادات اور نمازوں پر سنجیدگی سے کام کیا تو ان شاء اللہ اپنی شخصیت میں دوررس مثبت تبدیلیوں کو پیدا ہوتا دیکھیں گے۔ l اسی طرح گھروالوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ بچوں کی تربیت کے لیے انھیں انبیا و صحابہ کے قصے سنائیں۔ دسترخوان پر انھیں ساتھ کھلائیں۔ مختلف دعائیں یاد کرائیں۔ موقع غنیمت جان کر بڑوں کی خدمت کریں اور ان کی دعائیں لیں۔ l مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے اخلاق میں بلندی پیدا کریں۔ شیطان کے بہکاوے میں آکر بہت سے لوگ مشکلات و مصائب میں خود غرضی اور کمینگی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں اپنے ازلی دشمن ابلیس لعین کے جھانسے میں نہیں آنا ہے۔ اس وبا کے دوران دنیا بھر میں انسانوں نے جہاں بلند اخلاقی کے نمونے پیش کیے، وہیں پست اخلاقی کے شرمسار کردینے والے نمونے بھی سامنے آئے۔ لوگوں نے آنے والی پریشانی کی بو سونگھتے ہی جس طرح روزمرہ کی ضروری اشیا کا ذخیرہ کرنا شروع کردیا، اس سے کئی مقامات پر نہ صرف یہ کہ اشیاے ضروریہ کی قلت محسوس کی گئی، بلکہ خوف و ہراس کا ماحول بھی پیدا ہوا۔ کئی لوگ افواہوں کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کرتے رہے۔ بہت تو ایسے تھے، جنھوں نے اپنے بھائیوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاکر اپنی جیبیں بھرنے کی اسکیمیں سوچیں۔ چنانچہ ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے ماسکس اور سینی ٹائزر کا ذخیرہ کرکے ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچادیں، اور لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاکر ان اشیا کی اصل سے کئی گنا زیادہ قیمتوں پر انھیں فروخت کیا۔ اخلاق کی ایسی پستی اشرف المخلوقات کے شایانِ شان نہیں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مصیبت کے اس وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آئیں۔ حتی المقدور انفاق فی سبیل اللہ کریں۔ ماتحت کام کرنے والوں کو کام نہ کرپانے کے باوجود تنخواہیں دیں۔ کسی کو نقد رقم کی یا قرض کی ضرورت ہو تو اس کی ضرورت پوری کریں۔ اپنے آس پاس رہنے والے ان لوگوں کا خاص خیال رکھیں ،جو یومیہ کماتے تھے اور اب ان حالات نے ان کی روزی روٹی کو متاثر کردیا ہے۔ اسی طرح ان طلبہ اور نوکری پیشہ افراد کے کھانے و دیگر ضروریات کا خیال رکھیں، جو اپنے گھروالوں سے دور رہتے ہیں۔ اگر وہ فاقہ کریں گے اور آپ پیٹ بھر کر کھائیں گے تو قیامت کے روز اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی ضروریات سے زائد ذخیرہ کررکھا ہے، لیکن تب بھی دوسروں کو نہیں پوچھتے ،حالانکہ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ’’اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ، خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں‘‘ (سورۃ الحشر: ۹)۔ ہمیں جانچنا ہوگا کہ اخلاقی بلندی کے اس قرآنی معیار پر ہم کہاں تک پورے اترتے ہیں؟ l طہارت و نظافت کا خیال رکھیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاکی و صفائی پر اتنا زور دیا کہ اسے نصف ایمان قرار دیا، لیکن ان کی امت آج گندا رہنے کے لیے مشہور ہے۔ خدارا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا پاس و لحاظ رکھیں، پاک و صاف رہیں، ہروقت باوضو رہنے کی کوشش کریں، دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ کریں۔ طہارت کے اسلامی آداب کا تفصیلی مطالعہ کریں اور اپنی زندگی میں ان آداب کی مکمل پاسداری کی کوشش کریں۔ گھروالوں کو بھی ان پر کاربند کریں۔ اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو ان باتوں کی طرف متوجہ کریں۔ گھروں اور محلوں میں بھی ستھرائی اور صفائی کا خیال رکھیں، صرف اس ہنگامی موقعے پر نہیں، ہمیشہ رکھیں۔ اس سلسلے میں مل جل کر کوشش کریں۔ جسم اور ماحول کی صفائی، روحانی پاکیزگی کی پہلی سیڑھی ہے اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کا آزمودہ نسخہ بھی۔ l دعوت کا کام کریں۔ انبیا ؑکا اسوہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایک مومن ہر حال میں دعوتِ دین کا کام کرتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام جیل میں ہوتے ہوئے بھی فریضۂ دعوت سے غافل نہیں ہوئے۔ ہمیں بھی اس فریضے سے غافل نہیں ہونا ہے۔ موبائل اور مختلف سوشل میڈیا ایپس سے بہت سے بے وقوف صبح و شام صرف گناہ بٹورتے ہیں، سنی سنائی اور بے سروپا ’خبریں‘ اور معلومات، بلاتحقیق آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے برعکس عقل مند جانتے ہیں کہ ان کا ڈھنگ سے استعمال کیا جائے تو بہترین انداز میں دعوت و اصلاح کا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔ ’کورونا وائرس‘ کے پھیلنے، بلکہ اس طرح کے تمام تر واقعات کے نتیجے میں لوگ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ تازیانے لوگوں کو ان کی روزمرہ کی بے فکری کی زندگی سے نکال کر، کچھ سنجیدہ سوالات پر غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔ عام دنوں کی بہ نسبت ان اوقات میں ہدایت پر غور کرنے اور اسے قبول کرنے کا داعیہ کچھ بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ موت کا خیال اور خدا کی یاد دلوں کو نرم کردیتی ہے۔ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی بہترین رہنمائی کرتا ہے۔ موقع و محل کی مناسبت سے اسلامی تعلیمات کا تعارف کرایا جائے، تو بہت سے ذہن متاثر ہوسکتے ہیں، اور بہت سی سعید روحوں کو ان شاء اللہ ہدایت قبول کرنے کی توفیق مل سکتی ہے۔ l مثال کے طور پر، یہ بات دیدۂ بینا رکھنے والے بہت سے شریف النفس لوگوں کو اپیل کرے گی کہ اللہ نے پاک چیزوں کو حلال کیا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام فرمایا ہے(سورۂ مائدہ: ۵، سورۂ اعراف:۱۵۷)۔ جب انسان ان ناپاک چیزوں کو استعمال کرتا ہے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ کبھی وہ چمگادڑ اور سانپوں کے ذریعے کورونا وائرس کا شکار بنتا ہے؛ کبھی چوہوں کے ذریعے ’ہنٹا وائرس‘ کا، کبھی خنزیر کے ذریعے سوائن انفلوئنزا وائرس کا؛ اور کبھی اپنی حرام کاریوں کی وجہ سے ایچ آئی وی وائرس کا۔ اسی طرح طہارت و نظافت کے تعلق سے اسلامی تعلیمات، جو اس وقت دی گئیں، جب انسانیت ’بیکٹیریا‘ اور وائرسوں کے وجود سے انجان تھی، بہت متاثر کن ہیں۔ استنجا، وضو، غسل، اور تیمم وغیرہ کی ان تعلیمات کو معمولی نہ سمجھیے۔ ان کی حکمتوں پر غور کیجیے۔ انسان اگر ان تعلیمات پر صحیح انداز سے عمل کرے، تو بہت سی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ وباؤں اور متعدی امراض کے تعلق سے حدیث نبویؐ میں نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تعلیمات ملتی ہیں وہ بھی انبیائی حکمت پر مبنی ہیں۔ ایک انسان اگر کھلے ذہن سے ان باتوں پر غور کرے تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ہم میں سے جو لوگ سوشل میڈیا پر اپنی تخلیقات کے لیے جانے جاتے ہیں، اگر وہ ان موضوعات پر ویڈیوز بنائیں یا شان دار ڈیزائن کے ساتھ کچھ پوسٹر بنائیں تو شاید یہ باتیں بہت زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔ l اپنے جسم کی قوتِ مدافعت کو مضبوط کریں۔ جس طرح پیروں کو کنکر سے بچانے کے لیے ساری دنیا سے کنکر ختم کردینا نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب، بلکہ چپل پہن لینے میں عقل مندی ہے۔ بالکل اسی طرح پوری دنیا سے سارے بیکٹیریا اور وائرسس کو ختم کردینا نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب۔ عقل مندی یہ ہے کہ ہم اپنے جسم کو اتنا قوی بنائیں کہ ضرررساں جراثیم اگر حملہ آور ہوں، تو جسم اپنا دفاع آپ کرسکے۔ اپنے جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کیا جائے۔ l ہمیں چاہیے کہ اچھی اور صحت مند غذا کھائیں۔ ایسی متوازن غذاؤں کا استعمال کریں کہ جسم میں کسی وٹامن کی کمی نہ ہو۔ وقت پر کھانا کھائیں اور بہت زیادہ نہ کھائیں۔ یوں کھانے کے اسلامی آداب اور دعائیں جو ہم نے بچپن میں سیکھی تھیں، ان پر عمل پیرا ہوں۔ اسی طرح ورزش کریں اور روزانہ کریں۔ اگر ورزش کی عادت نہیں ہے تو ہلکی پھلکی ورزشوں سے شروعات کریں۔ اس ضمن میں صبح کی چہل قدمی پر خصوصی دھیان دیں، تاکہ سورج سے وٹامن ڈی بھی وافر مقدار میں حاصل ہو۔ عمارتوں اور کانکریٹ کے جنگلوں میں شہری زندگی گزارنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہے جس کے جسم کی قوت مدافعت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اچھے نظامِ مدافعت کے لیے بہترین نیند شرطِ لازم ہے، لہٰذا جلد سونے اور جلد اٹھنے کی عادت ڈالیں۔ نامکمل نیند جسم کی قوت مدافعت کو کمزور کردیتی ہے۔ جلدی سونے کے لیے ضروری ہے کہ سونے سے ایک دو گھنٹے قبل سے موبائل کا استعمال نہ کریں۔ بستر پر لیٹنے سے پہلے آدھا گھنٹہ کسی دینی کتاب کے مطالعے کی کوشش کریں۔ l کسی مسلمان سے امید نہیں کی جاتی کہ وہ پنج وقتہ نمازیں نہ پڑھتا ہو، لیکن اگر کوئی ان فرائض سے غافل ہے تو ان کے اہتمام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ اسی طرح کسی مسلمان سے اس بات کی توقع بھی نہیں کی جاتی کہ وہ شراب، نشے وغیرہ کی لت میں گرفتار ہوگا، لیکن کوئی اگر شیطان کے نرغے میں ہے، تو اللہ کے غضب، آخرت کی پکڑ، اور دنیا میں اپنی صحت و کامیابی کا خیال کرے اور ان ضرررساں چیزوں سے مکمل پرہیز کرے۔ اسی طرح ایک مسلمان سے اس بات کی توقع بھی نہیں کی جاتی کہ وہ ڈپریشن اور ذہنی تناؤ (Stress)جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو۔ کیونکہ مومن تو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اپنی کوششیں کرتا ہے، نتائج اللہ پر چھوڑتا ہے۔ نتیجہ اچھا نکلے تو شکرگزار ہوتا ہے؛ بُرا نتیجہ نکلے تو صبر اور نماز سے مدد لیتا ہے، اپنا احتساب کرتا ہے، اور پھر کوشش کرتا ہے۔ یوں مومن ہر حال میں راضی بہ رضا رہتا ہے، کبھی مایوس نہیں ہوتا اور صبرو شکر کا دامن نہیں چھوڑتا۔ اس مومنانہ طرز فکر کو اپنائیں بھی اور فروغ بھی دیں۔ جسم کی قوت مدافعت پر ٹینشن کا غیر معمولی اثر ہوتا ہے، لہٰذا اس سے بچائو ضروری ہے۔ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی، مسکراتے رہنے کی، اور چیزوں کے مثبت پہلو پر توجہ دینے کی عادت ڈالیں۔ یہ خوشیوں بھری زندگی کی شاہ کلید ہے۔ l نظام طب و صحت کا احتساب کریں۔ یہ حالات دعوت دیتے ہیں کہ ہم اجتماعی طور پر اپنے طبی نظام کا جائزہ لیں۔ اس طرح کی ناگہانی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے ملک کا نظام طب و صحت کس حد تک تیار ہے، اس کا احتساب کریں۔ ہمارے ہاں ہسپتالوں اور بستروں کی تعداد زیادہ ہوتی اور دیگر طبی سہولیات بھی خاطر خواہ ہوتیں تو ہمارے لیے flattening of the curve والا عمل (جس کا ذکر پیچھے گزرا ہے) نسبتاً آسان ہوتا۔ ٹی کے ارون زور دیتے ہیں کہ’’ ہمیں مستقبل کے وبائی حملوں کے لیے تیار رہنا ہوگا‘‘۔ اس ’تیار رہنے‘ کا مطلب ہے کہ ہمارے نظام صحت میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ دسیوں لاکھ مریضوں کا بیک وقت علاج کرنے کے قابل ہوں۔ اسپتالوں میں یہ انتظام بھی ہونا چاہیے کہ ہنگامی حالات میں نارمل وارڈز کو انتہائی نگہداشت یونٹس (Intensive Care Units) میں تبدیل کیا جاسکے۔ اسی طرح پبلک ہیلتھ انجینیرنگ کی بھی ضرورت ہے تاکہ صحت کے حوالے سے لوگوں میں بیداری پیدا ہو۔ متوازن اور مقوی غذا، صاف پانی،صحت کے لیے نقصان دہ عادتوں سے اجتناب اور صحت مند طرز زندگی اختیار کرکے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ کیا جائے۔ جرمنی، جنوبی کوریا، کیوبا اور بالخصوص تائیوان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ حکمراں اگر بیدار اور دوراندیش ہوں تو آفات کا سامنا کیسے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر جیسن وانگ (ڈائرکٹر، سینٹر فار پالیسی آؤٹکمس اینڈ پریوینشن، اسٹنفرڈ یونی ورسٹی) کے مطابق تائیوان نے دسمبر کے مہینے ہی سے اس آنے والی بلا سے لڑنے کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ موجودہ صدی کے اوائل میں جب ’سارس‘ کی وبا پھیلی، تو بہت سے ممالک کی طرح تائیوان میں بھی ایک نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر بنایا گیا تھا۔ ’کورونا وائرس‘ کے خلاف بھی اسی سینٹر کی خدمات حاصل کی گئیں، جس کے ذریعے ملک کی مختلف ایجنسیوں کے درمیان تعاون میں آسانیاں پیدا ہوئیں۔ تائیوان میں ووہان سے آنے والے مسافروں کی ہوائی جہازوں سے اترنے سے پہلے ہی جانچ کی جانے لگی، تاکہ ان میں سے کوئی وائرس سے متاثر ہو تو وہ انفیکشن پھیلا نہ سکے۔ ڈاکٹروں میں اتنی بیداری پیدا کی گئی کہ جب وہ کسی مریض کی عام سی شکایت کا علاج بھی کرتے، تو اس سے اس کے سفر اور روابط وغیرہ کے تعلق سے دریافت کرتے؛ اگر پتا چلتا کہ مریض نے ووہان کا سفر کیا ہے یا وہاں سے حالیہ دنوں میں پلٹ آنے والے کسی فرد سے ملاقات کی ہے، تو اس کے عام بخار کو بھی بہت سنجیدگی سے لیتے اور پوری جانچ پڑتال کرتے؛ ٹیسٹ مثبت ہونے پر اس کے متعلقین کی جانچ بھی کرتے۔ ڈاکٹر وانگ مزید کہتے ہیں کہ تائیوان میں جن لوگوں کو قرنطینہ (Quarantine) کے عمل سے گزرنا تھا، ان کی موبائل فون لوکیشن ڈیٹا کے ذریعے نگرانی کی گئی۔ افسرانِ صحت انھیں دن میں دو تین مرتبہ فون کرکے مرض کی علامات (symptoms)میں مثبت و منفی تبدیلی کے بارے میں پوچھتے۔ اگر کوئی منفی تبدیلی آتی تو انھیں معالجین تک پہنچانے کا نظم کیا جاتا۔ بصورت دیگر وہ گھر ہی میں رہتے اور وہیں ان کے لیے کھانا پہنچایا جاتا۔ اگر وہ قرنطینہ کے خلاف ورزی کرتے تو ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا۔ اتنا ہی نہیں، بعد میں حکومت نے قرنطینہ کے عمل سے گزرنے والوں کو وظیفہ دینا بھی شروع کیا۔ حکومت نے لوگوں کو گھر بیٹھنے کے لیے پیسے دیے تاکہ وہ خاندان کی غذائی ضرورتوں یا مکان کے کرایے وغیرہ کے لیے پریشان نہ ہوں۔ حکومت نے شہریوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے اہم قدم اٹھائے ،حتیٰ کہ ماسک بنانے اور تقسیم کرنے کی ذمہ داری بھی اپنے سر لی، تاکہ کسی قسم کی حقیقی یا مصنوعی قلت نہ پیدا ہو۔ جن مریضوں کے تعلق سے وائرس انفیکشن کا خدشہ ہوا، ان کے ٹیسٹ اور علاج کے لیے بالکل علیحدہ انتظامات کیے گئے، تاکہ انفیکشن نہ پھیل سکے۔ عوامی مقامات پر ایسے اسکینر لگائے گئے، جو آنے والوں کے جسمانی درجۂ حرارت کو ناپ لیتے۔ بخار میں مبتلا کسی فرد کو عمارتوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ڈاکٹر وانگ کے الفاظ میں: ’’صحت عامہ کے حوالے سے مستعدی کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں صحت عامہ کا ایسا ڈھانچا (Infrastructure) ہو کہ اس کے ذریعے آپ کسی بھی بحران کا سامنا کرسکیں‘‘۔ یہ صحت عامہ کے حوالے سے ایک بیدار مغز حکومت کے اقدامات تھے، جس کی وجہ سے چین کے بالکل پڑوس میں واقع تائیوان نے اس وبا پر قابو پالیا۔ چین میں ہونے والی ۳ہزار سے زائد اموات کے بالمقابل تائیوان میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد صرف دو ہے۔ ہمارے ملک کے لیڈر اب تک نفرت کی بنیادوں پر بانٹ کر ووٹ لیتے آئے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کا احتساب کیا جائے اور صرف ایسے سیاستدانوں کو حکومت میں آنے کا موقع ملے جو مفاد عامہ میں کام کریں۔اس کے لیے برادران وطن میں بڑے پیمانے پر بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وائرس کے انفیکشن سے لڑنے کے لیے ہمیں پورے ملک کو بند کرنا پڑ رہا ہے اور ایک لاک ڈاؤن کے ختم ہونے سے پہلے ہی دوسرے لاک ڈاؤن کا اعلان ہورہا ہے۔ عوام میں یہ بیداری کیوں نہیں ہے کہ وہ یہ پوچھیں کہ کیوں ہمارا نظام صحت اتنا ناکارہ ہے کہ ہمارے سامنے ایک طرف انسانی جان اور دوسری طرف انسان کے نقل و حمل، سماجی تعلقات، اداروں کے کام کاج، معاشی سرگرمیوںاور روزمرہ زندگی کے دیگر لوازم میں سے ایک کو چننے کی نوبت آگئی ہے؟ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی پر ماہرین نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس بیماری کا Asymptomatic transmission بہت کم ہے۔ یعنی زیادہ تر وائرس منتقل کرنے کا کام وہی لوگ کرتے ہیں، جن میں مرض کی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں۔ یہ خدشہ بہت کم ہے کہ بظاہر صحت مند لوگ وائرس منتقل کرتے رہیں۔ ایسے میں بیمار لوگوں کی ٹیسٹنگ اور انھیں قرنطینہ کے عمل سے گزارنا صحیح حکمت عملی ہے، نہ کہ پورا ملک بند کردینا۔ مائیکل اوسٹرہوم (ریجینٹس پروفیسر و ڈائرکٹر، سینٹر فار انفیکشیس ڈیزیز ریسرچ اینڈ پالیسی، یونی ورسٹی آف مینی سوٹا) کہتے ہیں کہ’’ اس طرح کے مکمل لاک ڈاؤن کے معاشی نتائج بہت بھیانک ہوں گے۔ یہ خام خیالی ہے کہ تمام لوگ گھروں میں بیٹھے بھی رہیں اور لوگوں کی بنیادی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں۔ایسے میں کیا ہمارا ملک فانشنل ایمرجنسی کی طرف جارہا ہے؟ کیا ہماری حکومت اپنی معاشی ناکامیوں کے ساتھ کورونا وائرس کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے؟ لاک ڈاؤن کے بدلے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کی حکمت علمی کو کیوں اختیار نہیں کیا جارہا ہے؟ اگر اس حکمت عملی کو اختیار کرنے کے لیے درکار وسائل ہمارے ملک میں نہیں ہیں تو اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ ایسے سوالات کو پوچھنا ضروری ہے، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے! آفتوں سے محفوظ رہنے کے لیے کثرت سے ذکر کریں، مسنون دعاؤں کا بھی اہتمام کریں: l بِسْمِ اللہِ الَّذی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْئٌ فی الْأَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَائِ وَ ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیْمُ’’ اللہ کے نام سے کہ جس کے نام سے زمین یا آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی، اور وہ خوب سنتا اور جانتا ہے‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی) l اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَ مِنْ سَیِّیِٔ الأَسْقَامِ ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص سے، جنون سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بُری بیماریوں سے‘‘۔ (ابوداؤد) _______________