۶۰ سال پہلے

یہ اجتہاد نہیں!
یہ بات بہت افسوس ناک ہے کہ پہلے اپنے ملکی قوانین (Public Law) کے لیے کتاب اللہ اور سنت ِ رسولؐ کو چھوڑ کر مغربی مآخذ کی طرف جن مسلمان ملکوں نے مسلمان ہونے کے باوجود رجوع کیا تھا، وہ اب ہرجگہ احوالِ شخصیہ کے متعلق اسلامی قانون (Personal Law) میں بھی مغرب ہی کے نقطۂ نظر کو قبول کرکے ترمیمات کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔
کفّار اپنے دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر یہ زیادتی نہ کرسکے تھے کہ ہمارے نکاح و طلاق بھی ہماری شریعت کے مطابق نہ ہوسکیں۔ یہ زیادتی اب ہم پر خود مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ہورہی ہے۔ پہلے یہ قدم ترکی اور البانیا میں اُٹھایا گیا تھا۔ اب مصر اور تیونس اس راہ پر جارہے ہیں اور افسوس ہے کہ پاکستان کے قدم بھی اسی راہ پر اُٹھ رہے ہیں۔
اس سلسلے میں مصر کے قوانین شخصیہ کی تازہ ترمیمات میں نے دیکھیں [اور] یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ بیش تر ترمیمات اسلامی فقہ اور کتاب و سنت کے احکام کے بالکل خلاف ہیں۔ دراصل، اس طرح کی ترمیمات ’اجتہاد‘ کی تعریف میں نہیں آتیں، کیونکہ ’اجتہاد‘ کہتے ہیں کتاب وسنت سے احکام مستنبط کرنے کو۔ لیکن یہ ترمیمات مغربی افکار و نظریات اور خود اپنی خواہشِ نفس سے احکام اخذ کرکے کی گئی ہیں اور انھیں قانونِ اسلام کے نام سے زبردستی مسلمانوں پر ٹھونسا جارہا ہے (رسائل و مسائل، سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد۵۴، عدد۲، مئی ۱۹۶۰ء، ص۴۴-۴۵) ۔

admin

Read Next

’کورونا وائرس‘ کی عالمی وبا اور اسلام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *