وہ لوگ بے حد خوش نصیب ہیں جنھیں ’معلّم‘ کا منصب ملا۔ یہ وہ منصبِ جلیلہ ہے جس پر اللہ حکیم و علیم نے انسانیت کی تعلیم و تربیت کے لیے انبیاؑ کی مقدس شخصیتوں کو مامور فرمایا۔ یہ انبیا ؑ تاریخ کے مختلف اَدوار میں بنی نوع انسان کو اپنے قول و عمل سے حق کی تعلیم دیتے اور انھیں لازوال صداقتوں کی طرف بلاتے رہے۔ ان عظیم معلّمین انسانیت کی آخری کڑی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جنھوں نے انبیائے سابقین ؑ کی طرح اپنے قول و عمل سے انسانیت کو نیکی اور راستی کی تعلیم دی۔ انسان کے کردار کو جلابخشی اور اس کی فکری سطح کو عظیم رفعتوں سے ہمکنار کیا۔ بلاشبہ حضوؐر انسانیت کے معلّمِ اعظم ہیں۔ آج اُمت مسلمہ کا جو بھی فرد اسلامی نظامِ فکروعمل کی روشنی میں تعلیم و تدریس کے میدان میں سرگرمِ عمل ہے، درحقیقت وہ انبیاؑ کے منصب کا وارث ہے اور حضور اکرمؐ کی تعلیمی تحریک کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔
تعلیم کا عمل اپنی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے نہایت ہی مؤثر معاشرتی عمل ہے اور اس وجہ سے ہر دور کے مفکرین اس عمل کو زیادہ جامع اور مفید نتائج کا حامل بنانے کے لیے اپنے افکار پیش کرتے رہے ہیں۔ یہ عمل درحقیقت انسان کی ذہنی اور اخلاقی تدریج کا عمل ہے اور اس کے پیداکردہ نتائج ہی خود انسان کی ترقی کا پیمانہ قرار پاتے ہیں۔ آج کا دور بھی ہمیشہ کی طرح مختلف نظریاتی لہروں اور فکری سمتوں کی باہمی آویزش اور ٹکرائو کا دور ہے۔ تصادم اور کش مکش کی اس فضا میں کمزور نظریاتی بنیادوں پر کھڑی اقوام آج زبردست خطرے میں ہیں، کیونکہ میڈیا اور ٹکنالوجی کے موجودہ دور میں طاقت ور اقوام کی طرف سے فکری اور ثقافتی یلغار نے بھرپور حملے کا رنگ اختیار کرلیا ہے۔ ان پُرآشوب حالات میں کوئی ایسی قوم اُبھر ہی نہیں سکتی جو دوسروں کے ذہنی افکار کی دریوزہ گری کرتی پھرے، اور جس کے پاس ایک مضبوط فکری انقلاب بپا کرنے کے لیے مُنَزَّل مِنَ اللہ ہدایت پر مبنی کوئی نظریاتی سرمایہ نہ ہو۔
ایک آزاد اسلامی ملک کے باشندے اور مسلم سوسائٹی کے فرد کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے نظامِ تعلیم کو ایک ایسی نئی نسل کی تعمیر کا ذریعہ بنائیں جو اسلامی فکروعمل کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو۔ جو الحاد، مادہ پرستی، منافقت، خیانت اور ظلم کے خلاف جہاد کے عظیم جذبے سے سرشار ہو۔ گویا ہماری درس گاہوں کو شعوری اور عملی طور پر ایسے انسانیت ساز اداروں کا کردار اپنا لینا چاہیے جو ہرشعبۂ زندگی میں اسلامی طرزِفکروعمل کو جاری و ساری کرسکیں۔ استاد اس عظیم تحریک کا مرکز و محور ہے اور اسے موجودہ عہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے معلّمِ اعظمؐ کے اسوئہ تعلیم کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی تصورِ تعلیم کی عمارت تین ستونوں پر استوار ہوتی ہے: (الف) مقاصد کا تعین (ب) نصابِ تعلیم اور (ج) حکمتِ تدریس۔ ان میں پہلے دو اجزاء یعنی مقاصد اور نصاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اسلامی نظام کے حوالے سے حکمتِ تدریس کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
اسلامی معاشرہ میں تدریسی عمل ایک بے حس، جامد اور میکانکی عمل کا نام نہیں، جو ریڈیو، ٹی وی یا ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے مطلوبہ معلومات منتقل کرتا رہے، بلکہ اسلامی معاشرہ میں استاد کونہایت ہی اہم اور ارفع مقام حاصل ہے۔ اگر صحیح طور پر تجزیہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے معلّم ایک مقدس روحانی احساس کی مانند تعلیمی عمل کی باقی تمام چیزوں پر حاوی ہے۔ گویا آسان لفظوں میں ہم یہ بات اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا معلّم، مقاصد تعلیم اور نصابِ تعلیم کے پہلو بہ پہلو محض ایک تیسری اکائی کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہ خود ایسے اندازِ فکروعمل کا حامل ہوتا ہے جس میں مطلوبہ مقاصد کا رنگ جھلکتا ہے اور زیربحث نصاب کی خوشبو اس کی زندگی کے ہرپہلو میں رچی بسی ہوتی ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ سے حضوؐر کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُم المومنینؓ کا انتہائی مختصر لیکن مفہوم کے لحاظ سے جامع جواب یہ تھا: کَانَ خُلَقُہُ القُرآن، حضوؐر کا اخلاق تو عین قرآن تھا (صحیح البخاری)۔ گویا معلّم انسانیتؐ محض نصاب (قرآن) کی تفہیم نہیں فرما رہے تھے بلکہ خود اس نصاب کی تعلیمات کا عملی پیکر تھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ایک مسلم سوسائٹی کے استاد کو پورے تعلیمی عمل کا انتہائی مؤثر اور کارگر جزو بنادیتا ہے۔
انسان کی فطرت کچھ اس طور واقع ہوئی ہے کہ وہ مجرد کتابی تعلیم سے کوئی غیرمعمولی فائدہ نہیں اُٹھا پاتا۔ اس کو علم کے ساتھ ایک انسانی معلّم اور رہنما کی بھی حاجت ہوتی ہے۔ جو نہ صرف اپنی تعلیم سے اس علم کو دلوں میں بٹھا دے بلکہ وہ اس تعلیم کا مجسمہ بن کر اپنے عمل سے لوگوں میں وہ روح پھونک دے جو اس تعلیم کا حقیقی منشا ہے۔ آپ کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہ مل سکے گی کہ تنہا کسی کتاب نے انسانی معلّم کی ہدایت اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی ذہنیت اور زندگی میں انقلاب پیدا کیا ہو۔ جن راہنمائوں نے قوموں کے افکارو اعمال میں زبردست انقلاب پیدا کیے ہیں، اگر وہ خود اپنی تعلیم کا مکمل عملی نمونہ نہ ہوتے اور صرف ان کی تعلیمات اور ان کے اصول، کسی کتاب کی شکل میں شائع ہوجاتے، تو انسانی فطرت کا کوئی رازدان یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ محض اس کتاب سے وہی انقلاب رُونما ہوپاتے جو ان راہنمائوں کی عملی تعلیم سے ہوئے۔
رسولؐ اللہ کی معلّمانہ حیثیت اور آپؐ کی حکمتِ تدریس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یقینا آپؐ کے طرزِ تعلیم کا ایک ایک نکتہ ہمارے لیے منارئہ نُور ہے لیکن زیرنظر مضمون میں صرف حضوؐر کی حکمتِ تدریس کے ایک خاص گوشے کا تذکرہ کیا گیا ہے اور وہ ہے آپؐ کا ادیبانہ اسلوب اور تشبیہات و استعارات، نیز مثالوں کی مدد سے نفس مضمون کو زیادہ پُرکشش اور بامعنی بناکر پیش کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ استاد کی شخصیت کی جامعیت میں حُسنِ بیان کا پہلو خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔احترام، شفقت، محبت اور حکیمانہ انداز کے ساتھ زبان کی شگفتگی، جملوں کی متناسب ساخت، اندازِ بیان کا بانکپن، لہجے کا اُتار چڑھائو اور گفتگو کا شعری آہنگ، یہ سب ہی چیزیں بہت اہم ہیں۔
گویا استاد کا کام طلبہ کی تربیت و اصلاح، معلومات کی منتقلی اور اپنے مثالی کردار کی تاثیر کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ ٹھوس حقائق کو بے رنگ انداز میں بیان نہ کر ڈالے، بلکہ اپنی شگفتہ بیانی اور شیریں مقالی سے اپنے درس کو دلچسپ اور پُرکشش بھی بنائے۔
حضورؐ کی حکمتِ تدریس میں شیریں بیانی ایک بنیادی وصف کا درجہ رکھتی تھی۔ آپؐ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر تھے کہ علم کا حصول اور علم کا انتقال دو اہم عمل ہیں۔ چنانچہ آپؐ نے ربّ العزت کی عطا و تعلیم کردہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے تدریس کی اسی حکمت عملی کو اپنایا جو خود خالق کائنات نے اپنی آخری نازل کردہ کتاب (قرآن کریم) میں ملحوظ رکھی۔ یعنی کائنات کے بنیادی حقائق کے اظہار کے لیےبیان کی شگفتگی، گذشتہ اقوام، نیز مختلف مظاہر کائنات کی مثالیں، روزمرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی تشبیہات، بلیغ استعاروں کے برمحل استعمال سے اسلوب کی کشش، اور اس کے ساتھ ساتھ ہرفکری سطح کے انسانوں کو متوجہ رکھنے کے لیے بشارت و وعید کا انداز۔
حضوؐر کی معلّمانہ حکمت عملی کے اس پہلو کے بارے میں جناب نعیم صدیقیؒ نے اپنے معروف مقالہ ’محسن انسانیتؐ بحیثیت معلّم انسانیت‘ میں ان نکات کو واضح کیا ہے جو حضورؐ نے ایک ہمہ گیر تہذیبی انقلاب اور تعلیمی تحریک کے لیے اپنے پیش نظر رکھے۔ بقول نعیم صدیقی قرآن کریم میں حضوؐر کے لیے معلّمانہ ذمہ داری کو بلاغِ مبین سے مقید کیا گیا ہے۔ یعنی وضاحت سے بات پہنچا دینا اور تفہیم کا حق ادا کردینا ہر سچّے معلم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حضوؐر نے اپنے مخاطب گروہ کی توجہات کو اپنی بات کی طرف مرتکز کرنے کے لیے مختلف مؤثر صورتیں اختیار فرمائیں، مثلاً کبھی چونکا دینے والی کسی بات سے آغازِ کلام کیا گیا۔ کبھی سوال سے گفتگو شروع فرمائی، کبھی کوئی حیرت زدہ منظر ذہنوں کے سامنے آراستہ فرما دیتے، یعنی حکمت حضورؐ کے طریق تدریس کا بنیادی نکتہ تھی۔ اس ضمن میں قرآن حکیم نے آپؐ کی اس طرح رہنمائی فرمائی:
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۰ۭ (النحل ۱۶:۱۲۵)اے نبیؐ! اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔
گویا قرآن حکیم نے جس تعلیمی حکمت عملی پر زور دیا ہے، اس کے تین اساسی اصول ہیں: نمبر۱: حکمت، نمبر۲: نصیحت، نمبر۳: جدال اَحسن۔
سورئہ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت کو ایک اور پیرائے میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ ۰ۤۖ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ (العنکبوت ۲۹:۴۶) ’’اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں‘‘۔
اس آیت کی تشریح میں مفسرین لکھتے ہیں: مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ مہذب و شائستہ زبان میں اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے، تاکہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہوسکے۔ مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اُتار دے اور راہِ راست پر آنے میں اس کی مدد کرے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مدمقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے، بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گیری کرنی چاہیے، جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہروقت یہ بات ملحوظ رکھتا ہے کہ اس کی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ نہ بڑھ جائے، اور وہ اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفایاب ہوجائے۔
یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے۔ مگر یہ ہدایت اہلِ کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید کی متعدد آیات میں دی گئی ہے مثلاً:
مگر جو لوگ نرمی اور حکمت کے ساتھ احسن طریقے پر دی گئی اسلامی دعوتِ فکروعمل کے جواب میں ظلم کا رویہ اختیار کریں، ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کی مناسبت سے مختلف رویہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہروقت، ہرحال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلے میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دُنیا داعی حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیروئوں کو شائستگی، شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا، کہ وہ ہرظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہ جائیں۔
پس مؤثر تدریس کے لیے یہ ضروری ہے کہ استاد ایسا اسلوب اختیار کرے جو درج بالا اساسی اصولوں کا حامل ہو ، کیونکہ اس کے بغیر اعلیٰ نصب العین کا حصول ممکن نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآنِ مجید کا مخصوص اسلوب اسلام کی ترویج و ترقی میں بے حد مؤثر ثابت ہوا۔ چنانچہ حضوؐر کا انداز بھی ان ہی نکات سے آراستہ تھا اور حکیم مطلق نے جو طریقِ ہدایت اپنی عظیم کتاب میں اختیار فرمایا تھا اسی کی پیروی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے تھے۔ آپؐ کی گفتگو، ادبی لطافتوں، بلیغ استعاروں اور خوب صورت مثالوں سے اس انداز میں گلے ملتی تھی کہ معنی و مفہوم کی گرہیں کھلتی چلی جاتی تھیں اور مخاطب اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک بار آپؐ نے خشیت الٰہی کے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: اِذَا اقْشَعَرَّ جِلْدُ الْعَبْدِ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ ، تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ عَنِ الشَّجَرَةِ الْبَالِيَةِ وَرَقُهَا’’جب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت سے کسی بندے کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو اس وقت اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے کسی پرانے سوکھے درخت کے پتّے جھڑ جاتے ہیں‘‘۔ (مسند البزاز:۱۱۷۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے کہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ رسمی یا غیر رسمی سننے والوں کے لیے بیزاری یا اُکتاہٹ کا باعث نہ بن جائے۔ آپؐ کی گفتگو ہمیشہ سننے والوں کی ذہنی اُپج اور ان کے فکری معیار کے مطابق ہوتی تھی۔ آپؐ عظیم اخلاقی نکتے بالکل سادہ، عام فہم اور روزمرہ زندگی سے گہری قربت رکھنے والے حوالوں کی مدد سے بیان فرماتے۔ حضوؐر کی شیریں مقالی تو بے مثال ہے۔ آپؐ نے کبھی اُونچے لہجے میں بات نہ کی۔ آج کے معلم کو بھی یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے کہ لہجے کی کرختگی اس کے مقام کو مجروح کرتی اور تعلیمی عمل کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اس طرح کا تشبیہاتی انداز درج ذیل احادیث سے مزید اُجاگر ہوتا ہے:
مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ ’’اللہ کی قسم! دُنیا آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں انگلی ڈالے اور اس کے بعد یہ دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے‘‘۔ (جامع الترمذی:۲۳۲۳)
لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ اِلَى اللهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ، قَطْرَةٍ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللهِ وَقَطْرَةِ دَمٍ تُهْرَاقُ فِي سَبِيْلِ اللہِ’’اللہ کو دو قطروں سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں: ایک آنسو کا وہ قطرہ جو اللہ کی عظمت کے احساس سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو جہاد فی سبیل اللہ میں بہے‘‘۔ (جامع الترمذی:۱۶۶۹)
يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيْهِمْ عَلٰى دِيْنِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ ’’انسانوں پر ایک ایسا وقت آجائے گا جب دین پر جمے رہنا انگارے کو ہاتھ میں لینے کی طرح ہوگا‘‘۔ (جامع الترمذی :۲۲۶۰)
یہ تشبیہاتی انداز ہمارے سامنے ایسی موجود اور مقررہ شکلوں کو لاتا ہے جن سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ ہمارے ذہن کی لوح پر ایک خاص منظر کی تصویر اُبھرتی ہے۔ ہم اپنے تجربہ و مشاہدہ سے اس منظر کے تمام پہلوئوں سے کماحقہٗ واقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ معلوم سے نامعلوم کا تعلیمی اصول رُوبہ عمل آتا ہے اور اس طرح ہم تجرباتی حوالے سے اس نکتے کا فہم حاصل کرتے ہیں جو نصاب کا حصہ ہوتا ہے۔ آیئے حضوؐر کی اس حکمت تدریس کی ایک اور مثال دیکھیں:
اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِى اللهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى اِنَّمَا هِىَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِى دِيْنِ اللهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِى اللهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِى أُرْسِلْتُ بِهِ ’’اللہ عزّوجل نے جس جامع ہدایت اور کامل علم کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال زمین پر برسنے والی بارش کی طرح ہے۔ پس اس (زمین) کے طیّب (دل کو بھانے والے یعنی زرخیز) قطعہ نے اس پانی کو قبول کیا اور اس سے بہت سارا گھاس اور سبزہ اُگا، اور زمین کا جو قطعہ کڑا سخت تھا اس نے پانی کو جمع کرلیا، پس اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے انسانوں کو نفع پہنچایا، پس انسانوں نے اس سے خود بھی پیا، دوسروں کو بھی پلایا اور (کھیتوں کو) سیراب بھی کیا۔ اور یہی بارش زمین کے کچھ ایسے حصے پر بھی برسی جو چٹیل میدان تھا، جو نہ پانی کو جمع رکھتا ہے اور نہ سبزہ اُگاتا ہے۔ پس یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین کا گہرا فہم حاصل کیا اور اللہ نے جس جامع ہدایت و کامل علم کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا، اس سے اس کو نفع پہنچایا۔ پس اس نے اس سے خود بھی سیکھااور دوسروں کو بھی سکھایا۔ اور (دوسری) مثال اس شخص کی ہے جس نے اس جامع ہدایت کو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنایا، اس کی طرف سراُٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور اسے قبول نہیں کیا‘‘۔(صحیح مسلم:۶۰۹۳)
اس اسلوبِ تدریس کی واضح جھلک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان میں بھی ملتی ہے۔ آپؐ نے ایک مجلس میں نماز کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے صحابہؓ سے فرمایا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ؟ قَالُوا : لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّهُ بِهٖ الْخَطَايَا’’تم کیا کہتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہے گا؟صحابہؓ نے عرض کیا: اس کے بدن پر کوئی میل نہیں رہے گا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نماز کی یہی کیفیت ہے۔ اللہ اس کے ذریعے آدمی کی خطاؤں (صغیرہ گناہوں)کو مٹا دیتا ہے‘‘۔ (صحیح البخاری:۱۱۵، مسلم:۱۵۵۴)
شعر و ادب کا بنیادی وصف یہ ہے کہ بات عمومی انداز سے ذرا ہٹ کر اُچھوتے پن کی حامل ہوتی ہے۔ اس میں لفظ کو ذرا منفرد انداز میں برتا جاتا ہے اور ایک ایک لفظ کے اندر معنی و مفہوم کی کتنی ہی پرتیں چھپا دی جاتی ہیں۔ سپاٹ اور بے رنگ اندازِ گفتگو عموماً بالکل غیرمؤثر رہتا ہے، بالخصوص اگر لفظ و معنی کا رشتہ لگے بندھے معمول کے طریق کے مطابق مرتب کیا گیا ہو۔ مؤثر تعلیم و تعلّم کے ضمن میں دیکھا گیا ہے کہ استفہامیہ انداز قاری یا سامع کی توجہ کو کئی گنابڑھا دیتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضوؐر نے لاتعداد مواقع پر اسی استفہامیہ انداز کو اپنایا: مثلاً کیا میں تمھیں بھلائی کا راستہ بتائوں؟ کیا تم فلاں بات جاننا چاہتے ہو؟ کیا تمھیں معلوم ہے یہ کون سا شہر ہے؟ یہ کون سا مہینہ ہے؟ یہ کون سا دن ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
اس استفہامیہ انداز کو تعلیمی و تدریسی میدان میں ہم بلاشبہ ایک ایسے کارگر اور مؤثر طریقے کا نام دے سکتے ہیں جس میں شاعری اور ادبی رنگ آمیزی بھی ہوتی ہے۔ طالب علم کی خود سپردگی کی تحقیق بھی اور بھرپور ذہنی آمادگی بھی۔ اس ضمن میں حضوؐر کی حیاتِ طیبہ کے اس واقعے سے بھی بڑی رہنمائی ملتی ہے:
ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: اِنَّ مِنَ الشَّجَر شَجَرَۃً لَا یَسْقَطُ وَرَقُھَا ، وَ اِنَّھَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُوْنِی مَا ھِیَ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِی شَجَرِ البَوَادِی، قَالَ عَبدُاللہ وَوَقَعَ فِی نَفْسِیْ اَنَّھَا النَّخْلَۃُ ، فَاسْتَحْیَیْتُ ، ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا ھِیَ یَارَسُوْلَ اللہ؟ فَقَالَ ھِیَ النَّخْلَۃ ’’بے شک درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ جس کے پتّے جھڑتے نہیں اور جو مسلمان سے مشابہت رکھتا ہے۔ مجھے بتایئے کہ وہ کون سا درخت ہے؟مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ مختلف جنگلی درختوں کے بارے میں سوچنے لگے (کسی نے کوئی درخت بتایا اور کسی اور نے دوسرا۔ مگر آپؐ نے ان سب سے انکار کیا)۔ عبداللہ بن عمرؓ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ یہ درخت کھجور کا ہے (مگر عمر میں چھوٹا ہونے کی بناپر بڑوں کی موجودگی میں جواب دینے سے میں شرما گیا)۔ پھر لوگوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ ہی بتائیں وہ کون سا درخت ہے؟۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح مسلم)
اس تمثیلی سوال سے آپؐ یہ بتانا چاہتے تھے کہ کھجور کا درخت ایک ایسا درخت ہے جس میں سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے۔ وہ سایہ بھی دیتا ہے۔ اس کا پھل بھی کھایا جاتا ہے۔ گٹھلیاں اُونٹوں کے کام آتی ہیں۔ پتوں سے چٹائیاں بنائی جاتی ہیں۔ تنے اور شاخیں مکان کی تعمیروغیرہ کے کام آتے ہیں اور انھیں ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ غرض یہ درخت ہرپہلو سے نفع ہی کا باعث ہے۔ پھر اس کی ضروریات بھی محدود ہیں اور نسبتاً ناموافق آب و ہوا اور نامساعد حالات میں بھی نشوونما پاتا ہے اور پھلتا پھولتا ہے اور کبھی عریاں نہیں ہوتا۔ یہی حال مسلمان کا ہے۔ اس کی زندگی اور شخصیت، اس کے اقوال و افعال،کوئی بھی بیکار اور بے معنی نہیں۔ وہ دوسروں کا مددگار ہوتا ہے اور ان کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتا ہے۔ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ دُنیا کے لیے اس کا وجود رحمت کا باعث بنتا ہے، زحمت کا نہیں۔ غرض اس بلیغ مثال میں حضوؐر نے تعلیمی نصب العین، نصاب اور طریقۂ تعلیم کی بڑے اَحسن اور لطیف انداز میں وضاحت کی ہے۔
یہ اشاراتی، تشبیہاتی، استعاراتی یا تمثیلی انداز معلّم کو محض ایک آلۂ تدریس نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے ایک پُرتاثیر، شیریں اور دل کش اندازِ گفتگو کا حامل معلّم بنا دیتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ لطیف اور دلنشیں اسلوبِ تدریس اختیار کرنے کی ذمہ داری صرف ادیبات یا زبان کے استاد پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ کسی بھی معلّم کے لیے بنیادی وصف قرار پاتی ہے۔ گویا یہ ہرفرد کی بنیادی مہارت ہونی چاہیے جسے وہ تدریسی عمل کے دوران خوش اسلوبی سے استعمال کرتا رہے۔ سماعت پر گراں گزرنے والا لہجہ، ناہموار الفاظ کا کھردراپن، زیربحث نصاب کا بے رنگ، سپاٹ اور خشک معروضی جائزہ اور طلبہ میں بیزارکن اُکتاہٹ پیدا کرنے والا میکانکی انداز استاد کی شخصیت کے لیے بھی ضررر ساں ہے اور تعلیمی مقاصد کے لیے بھی۔
المختصر! آج کے معلّم کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ تعلیمی کے دیگر پہلوئوں کے علاوہ آپؐ کا شگفتہ ادبی انداز، تمثیلی اور استعاراتی اسلو ب اور انسانی نفسیات سے ہم آہنگ لطیف لہجہ، جو آپؐ کی حکمتِ تدریس کا ایک منور گوشہ ہے، یقینا مشعل راہ ہے۔
_______________
عصرِحاضر میں جس مغربی اصطلاح نے زندگی کے ہر شعبے میں ایک فیشن بلکہ ایک مستقل فکر کی صورت اختیار کرلی ہے، وہ ’لبرل ازم‘ کا فلسفہ ہے۔ ’لبرلسٹ‘ اس نعرے کے ساتھ نوجوان نسل میں کام کرتا ہے کہ ’’سچائی کا ماخذ صرف عقلی اور تجربی ذریعہ ہے اور یہی برتر اور قطعی سرچشمۂ علم ہے۔ لہٰذامذہبی اقدار اور روایات سے جتنی کنارہ کشی بلکہ بغاوت کی جائے، اتنا ہی معاشرے کے لیے بہتر ہے‘‘۔
ستم یہ ہوا کہ لبرلزم محض فکروفلسفہ تک محدود نہ رہا۔ بلکہ آگے بڑھ کر ایک مستقل سیاسی ایجنڈا بناکر پورے جبر کے ساتھ اپنے جدید ابلاغی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے بالخصوص مسلم دنیا پر حملہ آور ہوگیا۔مغرب کے اس فکری اور علمی پروگرام نے ایک جارح امپریل ازم (سامراجیت) کی واضح شکل اختیار کرلی اور یوں اس سامراج نے اپنی ثقافتی دھونس اور اپنے سیاسی فریب سے مسلم دُنیا کے تعلیمی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس طرح نئی نسل کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی گئی کہ ’’یہی مادی دُنیا سب کچھ ہے اور اس دُنیا سے متعلق حیاتیاتی یا جبلی ضروریات ہی نصابِ تعلیم کا مرکز و محور ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے‘‘۔ بقائے ذات اور اس حوالے سے مادی منفعت کو ہی اصل تعلیمی مقصد تسلیم کرتے ہوئے آخرت میں جواب دہی کے عقیدے کو تعلیمی نظام سے الگ تھلگ کردینے کی تلقین کی گئی۔ اسی مقصد کے زیراثر اس نظریے کو غالب کرنے کا پروگرام تشکیل دیا گیا کہ ’’دین و اخلاق سے بے نیاز تعلیم ہی وقت کی ضرورت اور ترقی کا راستہ ہے‘‘۔
لبرلسٹوں نے بظاہر علمی اصطلاحوں کا سہارا لے کر سب سے بڑا حملہ مسلم تاریخ کے ماضی پر کیا، جس کی جڑیں دینی اقدار میں ہیں۔ اس نے اقدار کی یہ کسوٹی طے کی کہ ’’ہرجدید خیر ہے اور ہرقدیم شر ہے‘‘۔ خیروشر کے اس مادی پیمانے نے زندگی کے ہرشعبے میں نفس پرستی، خواہش پرستی، مفاد پرستی اور دولت پرستی کو پروان چڑھایا۔ عصرِحاضر میں لبرل ازم کے سب سے بڑے نمایندے امریکا نے اس فکر کو صرف اپنے اتحادیوں تک محدود نہ رکھا، بلکہ اسے ایک عالمی نظام اور اپنی بالادستی کے عنوان سے مسلم دنیا کے تہذیبی نظام کو نشانہ بنانے کےلیے تیربہدف بنایا۔ مغرب، دلیل میں شکست کھانے کے بعد اب دھونس، دھمکی بلکہ زبردستی ہم سے یہ بات منوانے کی کوشش کرنا چاہتا ہے کہ ’’زندگی کا اصل نظریہ تو صرف مادی افادیت اور مصلحت پسندی ہے۔ لہٰذا، اگر تم اپنی اقدار، اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنے ادب اور اپنے دین پر ڈٹے رہو گے توتم متعصب ، رجعت پسند، قدامت پسند اور دہشت گرد کہلائو گے۔ لیکن اگر تم اپنے تہذیبی نظریے میں لچک پیدا کروگے اور اپنی اخلاقی اقدار کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کرکے زندگی کے انفرادی اور اجتماعی اُمور میں لادینیت، مذہب بیزاری اور اسلامی شعائر سے تضحیک کا مظاہرہ کروگے یا کم از کم تعلیمی اداروں میں بظاہر تعلیمی معیارِ زندگی کے نام پر، لیکن درحقیقت دین دار اساتذہ اور طلبہ کی نظریاتی قوت کو نقصان پہنچاکر اسلامی نظریے کے فروغ میں ایک مزاحم قوت بنو گے، تو تم نہ صرف ’علم دوست‘، ’روشن خیال‘، ’انسان دوست‘ اور ’ترقی پسند‘ کہلائو گے، بلکہ لبرل خواہشات کی تکمیل کے لیے ایک آزاد فضا کی راہ بھی ہموار کرو گے۔ البتہ اس کا فوری طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی وضع قطع، اپنی زبان، اپنے کھانے پینے کے انداز، اپنے سلام دُعا کے طریقے، غرض اپنے لائف اسٹائل میں ہمارے مقلد بن جائو‘‘۔
مغرب درحقیقت اپنے اس آزمودہ طریقۂ واردات کی روشنی میں اپنے لبرل ثقافتی پروگراموں کو رائج کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ آہستہ آہستہ لوگوں کی آنکھوں سے حیا چھن جائے، کیونکہ اسے بخوبی علم ہے کہ مسلمان اگر ایک بار حیادارانہ جذبات سے عاری ہوگئے، تو سیاسی شکست ان کا مقدر ہے۔
لبرل ازم کی اس متنوع یلغار کا اصل ہدف دین،دینی تعلیمات اور دینی شعائر ہیں۔ اس نے مذہب کو مطعون کرنے اور اسے ایک قصۂ پارینہ ثابت کرنے کے لیے جدید اصطلاحوں میں لپٹے بے خدا نظریات پیش کیے۔ یوں لبرل ازم کے پروپیگنڈے کے سامنے کئی تہذیبیں پہلے ہلّے میں ہی شکست کھا گئیں۔ البتہ یہ تہذیبیں محض اپنی ظاہری رسوم و عبادات کے بچائو کا ایک طریقہ سیکولرزم کی صورت میں سامنے لے کر آئیں۔ حقیقت میں ان تہذیبوں کا سیکولرزم کے لیے پرچار مروت یا انسان دوستی کی بنیاد پر نہ تھا بلکہ اپنی بے بسی کو چھپانے کی ایک شاطرانہ چال تھی۔ اس لیے کہ ان تہذیبوں کے پاس انسانی مسائل کے حل کا مکمل ضابطہ موجود نہیں تھا۔ اس طرح ان کے لیے کوئی اور چارئہ کار نہ رہا کہ یا تو وہ مذہب کو خیرباد کہہ دیں یا اسے نجی معاملہ بناکر اجتماعی نظام یا سیاسی، معاشرتی، قانونی، تعلیمی، اخلاقی، غرض ہر شعبۂ زندگی سے مکمل طور پر خارج کردیں۔
بہرحال تاریخ کی اس ساری کش مکش میں صرف اسلامی تہذیب و کلچر ہی وہ سخت جاں نظام فکروعمل ثابت ہوا، جس نے نہ تو کسی بے خدا نظریے سے مصالحت کی اور نہ سیکولرزم یا اس حوالے سے کسی اور ازم کو تسلیم کیا۔ بلکہ باوجود شدید مزاحمتوں کے، ہرمحاذ پر بڑی جرأت سے ان تمام بے خدا تہذیبوں کو چیلنج کرتے ہوئے وحدتِ الٰہ، شرک کی نفی، وحدتِ انسانی اور تصورِ آخرت کی بنیاد پر یہ پروگرام پیش کیا کہ یہی ایک معیاری تہذیب ہے، جو پوری انسانیت کی (مادی اور روحانی) فلاح و بہبود کا ایک مستقل پیمانہ دیتی ہے۔ اس طرح چاہے کوئی سا بھی زمانہ ہو یا کوئی سا بھی علاقہ ، یہ تہذیب بلاامتیاز رنگ و نسل اور بغیر کسی لسانی تعصب کے، بنیادی انسانی حقوق اور عدل کی ضامن ہے اور صحیح معنوں میں یہی احترامِ آدمیت کو اپنا نصب العین بناتی ہے۔
البتہ اس عالم گیر تہذیب کی اُٹھان اس اصول پر ہوتی ہے کہ برتر اور قطعی ذریعۂ علم وحی الٰہی اور باقی سارے عقلی اور حسی ذرائع اس کے تابع ہیں۔ اسی معیار کی روشنی میں ہردور میں تجدید و احیائے دین کا کام ہوا۔ اس اجتہادی کام کے لیے مفکرین نے مسلسل اس ہدایتِ الٰہی کو پوری انسانیت کے سامنے پیش کیا کہ ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً ۰۠ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۰ۭ (البقرہ ۲:۲۰۸)’’تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو‘‘۔ انھوں نے اس ہدایت کی روشنی میں یہ نقطۂ نظر دُنیا کے سامنے رکھا کہ اللہ تعالیٰ، کائنات اور انسان کے بارے میں مجموعی اسلامی فکر کے اندر رہتے ہوئے ادراکی قوتوں کا بھرپور استعمال ہی صحیح نظریۂ علم ہے۔ چنانچہ آج اسی نظریۂ علم پر مبنی اسلامی تہذیب کا احیا ہی پوری انسانیت کی ایسی جامع فلاح کی راہ ہے، جو جدت اور ترقی کے ہرگز خلاف نہیں، البتہ تمام ترقیات کو الہامی ہدایت کے تابع رکھتی ہے اور تمام علوم کو یَنْفَعُ النَّاسَ (الرعد ۱۳:۱۷) کے معیار پر پرکھتی ہے۔
لبرل مفکرین ، معروضیت (Objectivity) کا پرچار کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔ مگر وہ خود اپنے ہی متعین کردہ ریاضیاتی کلیہ کے پیش نظر اس بات کا جائزہ لیں کہ آج پوری انسانیت کے لیے کس تہذیبی ماڈل میں جامعیت اور توازن ہے؟ اور کون سا ماڈل دُنیا کے لیے زیادہ مفید ہے؟ ہرچند کہ وہ اس طرح کے جائزے تو مرتب کر رہے ہیں کہ دُنیا میں لبرل ازم اور دوسرے لفظوں میں مغربی تہذیب کا اصل حریف کون ہے؟ مثلاً معروف امریکی دانش ور پروفیسر سیموئیل ہن ٹنگٹن نے یہ نقطۂ نظر پیش کیا کہ ’’بیسویں صدی کے اختتام پر عملاً اب صرف دو تہذیبیں ہی رہ گئی ہیں، جو ایک دوسرے کی نظریاتی رقیب ہیں۔ ایک مغربی تہذیب اور دوسری اسلامی تہذیب‘‘۔ ہن ٹنگٹن مغرب کو اسلامی تہذیب کے ممکنہ غلبہ سے خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’اکیسویں صدی میں اصل جنگ ان دوتہذیبوں میں ہی ہوگی جس میں یہ فیصلہ ہوگا کہ بالآخر غلبہ کسے حاصل ہونا ہے؟‘‘ اسی مقالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر برائن بیڈہیم نے یہ رائے پیش کی: ’’مقابلے کی اس فضا میں اس بنیادی نکتے کو بہرحال بڑی اہمیت حاصل ہوگی کہ کس تہذیب کی اساس کن دائمی قدروں پر ہے؟‘‘۔
لبرل ازم کے پرستار دانش وروں نے اس صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے، بڑی شدت کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ ’’ان کا اصل ہدف تو اسلامی تہذیب ہی ہے‘‘۔ اس تہذیبی جنگ میںخاص طور پر اس وقت اور تیزی آگئی جب دسمبر ۱۹۹۱ء میں کمیونزم کو بدترین شکست کا سامنا کرکے اپنی بساط لپیٹنا پڑی۔ چنانچہ اب ’کیپٹل ازم‘ کی علامت امریکا اپنی حلیف قوتوں کو ساتھ ملا کر پوری دُنیا پر مادی یا حسی تہذیب کی صورت میں اپنی حکمرانی چاہتا ہے۔ اس تہذیبی فکر کے سیاسی علَم برداروں کو یہ خوب علم ہے کہ ان کا اصل حریف کون ہے؟ انھیں معلوم ہے کہ اگرچہ سائنس اور ٹکنالوجی میں اُمت مسلمہ پیچھے ہے، لیکن وہ ایک ایسے نظامِ حیات کی حامل ہے، جو اگر مکمل حالت میں دُنیا کے سامنے آگیا تو ان کے کھوکھلے تہذیبی قلعے مسمار ہونے شروع ہوجائیں گے۔ لہٰذا، اگراس کا تدارک نہ کیا گیا تو بہت جلد پوری دُنیا کی قیادت اُمت مسلمہ کے پاس ہی ہوگی۔
مغرب کی یہ دل چسپ منطق بھی دیکھیے کہ ایک طرف تو اس کے مفکرینِ تعلیم یہ کہتے ہیں کہ ’’دُنیا کو صرف فزیکل اور نیچرل سائنسز کی ضرورت ہے۔ باقی علوم چاہے عمرانی ہوں یا خالصتاً مذہبی، ان کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ علوم کے انتخاب اور دیگر علمی تحقیقات اور سائنسی ایجادات میں اصل معیار تو مادی نظریۂ افادیت ہے۔ لہٰذا، اس سوچ کے تحت وہ ترقی یافتہ قوم صرف اسی کو تسلیم کریں گے جو طبعی یا جدید علوم کو اپنی دسترس میںلے گی ‘‘۔ لیکن ان جدید علوم میں جب کوئی چھوٹا ملک بالخصوص کوئی مسلم ملک ایک اہم مقام حاصل کرلے تو اہلِ مغرب کی جھنجھلاہٹ دیدنی ہوتی ہے، کیونکہ اس سے ان کی اجارہ داری پر حرف آتا ہے۔
بالکل اس فیوڈل لارڈ، نواب اور جاگیردار کی طرح، جس کی جاگیر کے اندر ایک عام کسان کا بیٹا اگر تعلیمی، معاشرتی یا معاشی لحاظ سے کوئی بہتر مقام حاصل کرلے ،تو وڈیرہ برداشت ہی نہیں کرسکتا کہ کل کلاں یہی شخص اس کے مقابل کرسی پر بیٹھے گا یا اس کا یہ نفسیاتی خوف کہ کہیں مستقبل میں یہ اس کا حکمران ہی نہ بن جائے۔ حقیقت میں جاگیردارانہ ذہنیت صرف اتنی بات پر منحصر نہیں ہے کہ کسی کے پاس ایکڑوں زمین یا وسیع کاروباری سلطنت ہے اوراس کی چودھراہٹ میں باقی سب مزارع اور ہاری ہیں، بلکہ جاگیرداریت دراصل ایک ذہنیت ہے، جو مادیت سے متاثرہرشخص کی زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ اس ذہنیت کی بھرپور نمایندگی مغرب کرتاہے، جو باقی دنیا بالخصوص مسلم دُنیا پر اپنی ثقافتی برتری اور سیاسی و معاشرتی حکمرانی کے خواب کی فوری تعبیر چاہتا ہے۔
یہاں تفصیل سے واقعات بیان کرنا جو مغرب ثقافتی محاذ پر کر رہا ہے، مقصود نہیں، البتہ اپنے ہاں صرف این جی اوز کی ہی مثال لے لیجیے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ۷۲ہزار این جی اوز کام کر رہی ہیں۔ ان غیر سرکاری قومی اور رفاہی تنظیموں میں بلاشبہہ بعض بڑا مثبت کردار ادا کررہی ہیں، لیکن غیرملکی اداروں کے براہِ راست مالی تعاون یا مادر پدر آزاد فکر دانش وروں کے زیراثر چلنے والی سو دو سو این جی اوز ایسی بھی ہیں، جو بظاہر تعلیم و تحقیق، زبان وادب، صحت و ثقافت، انسانی حقوق اور دیگر سہولیات کے مقصد تلے کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن عملاً ان کا کردار مغرب کے اس مخفی سیاسی ایجنڈے کی تکمیل ہے کہ وہ یہاں کے عوام کی ملّی حمیت اور قومی وحدت کو متزلزل کریں۔ اس طرح انھیں تہذیبی غلامی کے شکنجے میں جکڑ کر بالآخر ملک کے ریاستی کردار کو کمزور کریں۔
چنانچہ گلوبلائزیشن یا عالم گیریت کے اس دور میں اگر ہمیں اپنامنفرد تشخص قائم رکھنا ہے، تو ہمیں لازماً اپنے تمام معاشرتی اداروں بالخصوص تعلیمی اور ابلاغی اداروں کو اسلامی تہذیب کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا… اور پھر اسی کی روشنی میں سائنٹفک ، ٹیکنالوجیکل اور دیگر علوم میں ترقی حاصل کرنا ہوگی۔ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ لبرل تہذیب نے ثقافتی یلغار کے لیے اپنا پسندیدہ میدان تعلیمی اداروں کا منتخب کیا ہے۔ اس لیے مستقبل میں ثقافتی جنگ کا دائرہ ’تعلیمی ادارہ‘ اور موضوعِ بحث ’لبرل ازم‘ ہی ہوگا، کیونکہ مغرب کے سیاسی ایجنڈے کی اصل فکری اساس لبرل نظریہ ہے ، جسے وہ تعلیمی اور ابلاغی پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کے ذہنوں میں راسخ کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ تعلیمی مقاصد، نصاب، بلکہ طریقہ ہائے تدریس تک کی ایسی تعبیر نو چاہتا ہے، جس کے لیے آزاد محفوظ تعلیمی فضا کا قیام، تزکیہ و تربیت سے مکمل طور پر گریز، بقائے ذات کے حوالے سے صرف جبلی ضروریات کی غلامی سے متعلق علوم اور انگریزی زبان کی مکمل بالادستی ضروری ہو۔ خود اس کے ’گلوبل ویلج‘ کی مخفی غایت بھی یہی ہے کہ ہم یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ ہماری کوئی تاریخ ہے، کوئی تہذیب ہے، کوئی زبان ہے، ہمارا کوئی لباس ہے، کوئی ملک ہے، کوئی نقطۂ نظر ہے؟… یوں ایک ’گم شدہ معلّم‘ تیارہو جو نئی نسل کو اپنے سارے تہذیبی ورثے سے بیگانہ کرکے اسے بے خدا عالمی نظام کا ایک ’مقامی ایجنٹ یا گماشتہ‘ بناکر رکھ دے۔
امریکی سرپرستی میں حاکمیت کے پرچارک اس زعم میں مبتلا ہیں کہ مغربی تہذیب ہی پوری دنیا کے لیے ایک قابلِ تحسین ماڈل ہے۔ لیکن اگر صرف بیسویں صدی کے سارے عالمی دورِ وحشت کا مطالعہ کیا جائے، تو نام نہاد لبرل تعلیم کے پھیلائو کے زیرسایہ انسانیت کی بے حسی اور شیطنت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ تمام دُنیا میں خاندان کی شکست و ریخت، جرائم، ماردھاڑ اور لاشوں کا تناسب ہی دیکھ لیجیے۔ ظالمانہ قومیں پوری ڈھٹائی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ انسانوں سے مختلف نوع کی زیادتیوں کے واقعات کی فراوانی، یہ سب اخلاقی گراوٹ کی نشانیاں ہیں۔
نظریۂ ارتقاء کے دعوے داروں نے تو یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’’انسان جوں جوں آگے بڑھےگا، اس کے سماجی ارتقاء میں بھی اضافہ ہوگا‘‘۔ لیکن اخلاقیات کے بحران نے جو تباہ کن صورتِ حال پیدا کردی ہے، درحقیقت یہی نظریۂ ارتقاء کی شکست ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نے انسان کے اخلاقی اور اعتقادی وجود کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے حیوانی وجود سے متعلق ضروریات کو ہی اہمیت دی اور اسی پر اپنے نظامِ تعلیم کو استوار کیا۔ چنانچہ اس فلسفے کے زیراثر خود ہمارے ’تعلیمی دانش ور‘ بھی ’افادی اور معیاری تعلیم‘ کے نام پر نصابات میں تاریخ، جغرافیہ، عربی، قومی زبان، تعمیری ادب، مطالعہ پاکستان اور دین اسلام کی اہمیت کو کم کررہے ہیں، تاکہ اپنی تہذیب سے بے خبر ایک ایسی بے مقصد اور بے سمت نوجوان نسل تیار ہو، جو خلیج نژاد (Generation Gap) عارضہ میں مبتلا ہوکر اپنے بزرگوں سے کٹے اور غیروں کی غلامی کا طوق خوشی خوشی اپنے گلے میں ڈالنے کو تیار ہو۔
یہاں اس نقطۂ نظر کو یاد دلانا ضروری ہے کہ ہم پوری دُنیا کی علمی ترقیات اور جدید عالمی زبانوں بالخصوص انگریزی زبان پر دسترس کے ہرگز خلاف نہیں ہیں۔ ہمیں اگر اختلاف ہے تو لسانی استعماریت سے ہے، جس کے تحت انگریزی زبان کی بالادستی کو جبر سے نافذ کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو ان کی تہذیبی زبانوں سے نفرت یا شرمندگی سکھائی جاتی ہے۔ بلاشبہہ ہمیں دُنیا میں کی گئی علمی تحقیقات سے استفادہ بھی کرنا ہے لیکن غالب، خلّاق اور نقاد ذہن کے ساتھ بلکہ صرف استفادے تک ہی محدود نہیں رہنا، خود آگے بڑھ کر سائنسی اور عمرانی علوم میں قیادت کا منصب سنبھالنا ہے۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خود علمی جمود اور مرعوبیت کا شکار ہوکر اندھے مقلد بن رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مغرب بڑے جارحانہ انداز سے اپنی فکر ہم پر ٹھونسنا چاہتا ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ آخرکار اس کے تیار کردہ افراد اسی پریشان نظری کا شکار ہوکر منتشر شخصیت کیوں بنتے ہیں؟
یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے جس پر ہمارے سب اساتذہ کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور اس صداقت کا بھی کامل ادراک کرنا ہوگا کہ علّامہ اقبالؒ اور قائداعظم ؒکی محنت شاقہ سے پاکستان اس لیے وجود میں نہیں آیا تھا کہ یہ لبرل ازم کے علَم برداروں کی ثقافت نقل کرنے کا ایک چاک بورڈ بن جائے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی ادارے ایسے کرائے کا ہال بھی نہیں کہ اس میں لبرل ازم کے نام پر اس کے نام نہاد دانش وَر جب چاہیں، پاکستان کے اساسی نظریہ کے خلاف اپنے دل کا غبار نکالتے رہیں۔ اب ان مقامی اور عالمی لبرل دانش وروں کو بھی یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ قانونِ قدرت کے عین مطابق پوری انسانیت کے لیے سوائے اسلامی تہذیب کے کوئی اور متبادل تہذیب نہیں۔
ان شاء اللہ نئی نسل میں اس شعور کی بیداری کے لیے اور عالمی ثقافتی جنگ میں اسلامی تہذیب کے احیا کے لیے سالارِ اعظم کا کردار اساتذہ ہی کو ادا کرنا ہوگا۔ اساتذہ نے ہی صالح فکر اور صالح عمل سے، بے خدا تہذیب کو شکست دینا ہے۔ لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں جمود اور تساہل سے نکل کر علمی اور اخلاقی قیادت کے منصب کو سنبھالنا ہوگا۔ انھیں اپنی بھی اور اپنے طلبہ کی تربیت بھی اس رُخ پر کرنا ہوگی کہ مطالعہ وتحقیق،تنقید و تطبیق اور تحقیق و دریافت ہی زندہ تعلیم کی علامتیں ہیں۔ انھیں اپنے اور اپنے طلبہ کے ذہنوں سے فکری لادینیت کو کُلی طورپر کھرچنا ہوگا اور بالآخر اس نقطۂ نظر کو راسخ کرنا ہوگا کہ اسلام ہی خالق کائنات کا وہ نازل کردہ دین کامل ہے، جو ایک مکمل ضابطۂ زندگی ہے اور جو ہر دور اور ہر علاقے میں انسانی فطرت اور اس کے تقاضوں سے واقف ہے۔
ہمارے طلبہ اور اساتذہ، مغرب کی سائنسی، تکنیکی اور تحقیقی کوششوں سے ضرور مستفید ہوں، لیکن اس یقین کے ساتھ کہ قیاس اور حواس سے برتر سرچشمۂ علم ’وحی الٰہی‘ ہی ہے، جو قرآن حکیم اور سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ لہٰذا، علم کی ساری ترقیاں ہمارے نزدیک وہی ہوں گی، جو اسلامی تہذیب و اخلاق کے تابع ہوں۔ ہمیں اس نقطۂ نظر میں بہت واضح اور دلیر ہونا چاہیے۔ اس وجدان سے بے خبر اساتذہ، اسلامی ریاست کے کسی کام کے نہیں۔ ڈرے ڈرے، سہمے سہمے، کاہل، مغرب کے نیازمند اور احساسِ کمتری کے دائمی مریض اساتذہ، لبرل ازم کے چیلنج کا ہرگز مقابلہ نہیں کرسکتے۔
اس کے لیے جری اساتذہ کی ضرورت ہے جو پوری علمی اور پیشہ ورانہ تیاری، کردار کی پاکیزگی،تحقیقی مہارت، حکیمانہ جرأت، اخلاقی قوت، اجتہادی صلاحیت اور بھرپور عزم و ہمت کے ساتھ تعلیم و تدریس کا فریضہ سرانجام دیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ قرآن و سنت کے سائے تلے علم واخلاق کی روشنی ہی اسلامی تہذیب کا سرچشمہ ہے اوراس کے احیا کے لیے حکمت و دانش کے ساتھ ساتھ دین سے گہری وابستگی اور پاکستان سے لازوال محبت ہی حال ومستقبل کے لیے کارگر حکمت عملی ہے۔