عہد ِ رسالتؐ اور خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں فقہ اسلامی (اجتہاد جس کا ایک اہم باب ہے) ہرقسم کے حالات میں زندگی کے تمام دائروں کے تمام معاملات سے متعلق قرآن و سنت کی تعلیمات یا دوسرے الفاظ میں اسلامی نظامِ حیات کے گہرے اور جامع فہم و ادراک کو سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسولؐ اللہ کی تعلیم و تربیت کے زیراثر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوںپر، ہرطرح کے حالات میں، وحی الٰہی کی روشنی میں غوروفکر کرنے کے عادی تھے۔خود رسولؐ اللہ بھی ان معاملات میں جہاں وحی الٰہی خاموش ہوتی، صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرماتے، ان کی آراء کو غور سے سنتے اور باہمی مشاورت سے مسائل کا حل فرماتے۔
عہدِ رسالت مآبؐ میں اُمت کے معاملات و مسائل کا حل تلاش کرنا زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔ اس لیے کہ آپؐ کو منصب ِ نبوت پرفائز ہونے کی بناپر مؤید بالوحی ہونے کی وجہ سے فیصلہ کن حیثیت حاصل تھی۔ لیکن رسولؐ اللہ نے اپنے اعلیٰ ترین منصب کے باوجود نہ صرف اپنے اصحاب کے ساتھ مشاورت کی بلکہ عموماً ان کی رائے کو قبول بھی فرمایا اور فیصلے ان کی رائے کے مطابق فرمائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد خلفائے راشدینؓ نے اس سنت پر پوری طرح عمل جاری رکھا۔اُمت کے معاملات میں انھوں نے اجتماعی یا مشاورتی اجتہاد کا اسلوب اپنایا۔ خلفائے راشدینؓ نے اجتہادی رائے قائم کرتے ہوئے شریعت کے بیان کردہ احکام کی حکمتوں اور اُمت مسلمہ کی مصلحتوں کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھا۔ انھوں نے اپنے دور میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کا حل ہمیشہ قرآن و سنت کے طے کردہ اصولوں ، مصالح اور ہدایات کی روشنی میں ہی تلاش کیا۔ خلفائے راشدینؓ کے فیصلوں کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ ان کے دل و دماغ میں شریعت کے مقاصد اور حکمتیں بھی واضح تھیں اور فیصلہ سازی میں اُمت مسلمہ کی مصلحتوں کو ملحوظ رکھنے کا تصور بھی واضح تھا۔
دورِ رسالت مآبؐ اور خلافت راشدہ کے عہد میں مقاصد شریعہ اور اجتہاد اور ان کے باہمی تعلق کا تصور بہت واضح تھا لیکن بعد میں ملوکیت کے زیراثر یہ تصور کمزور پڑنے لگا۔ بعد کے اَدوار میں جب مسلمان حکمرانوں میں ملوکیت کے رجحانات مزید بڑھے اور ان میں اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ اور اختیارات کو وسعت دینے کا شوق غالب ہوا، تو انھوں نے اسلامی تعلیمات و احکام کو مسجدو محراب تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف فقہ اسلامی کی مباحث محدودیت کا شکار ہوئیں بلکہ اجتہادی عمل بھی جمود کا شکار ہوگیا اور اُمت میں جمود اور تقلیدِ محض کا رجحان بڑھنے لگا۔
چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں بعض فقہاء نے اَزسرنو مقاصدِ شریعہ کی طرف توجہ دلائی۔ امام الحرمین الجوینی (م:۴۷۸ھ) اور ان کے شاگرد امام غزالیؒ (م:۵۰۵ھ) نے اپنی تحریروں میں مقاصدِ شریعت پر بحث کی۔ عزالدین السلمیؒ (م:۶۶۰ھ) اور امام ابن قیمؒ نے بہت ہی علمی انداز میں مقاصدالشریعہ اور مصالح عامہ کے تصور پر کام کیا۔ امام شاطبی ؒ (م:۷۹۰ھ) کا کام مقاصد الشریعہ کے موضوع پر بہت وقیع ہے۔ انھوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ اسے فقہ اسلامی کے ایک مستقل موضوع کی حیثیت سے متعارف کرایا۔
عصرحاضر میں اُمت کا درد رکھنے والے بعض اہل علم نے اُمت مسلمہ کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اصلاحِ احوال کی طرف توجہ دی ہے۔ انھوں نے اجتماعی اور مقاصدی اجتہاد پر علمی انداز میں کام کیا ہے۔ یہ علمی تحقیقی کام اسلام کی نشاتِ ثانیہ کی جدوجہد میں مصروف اسلامی تحریکات کی قیادت اور کارکنان کے لیے تحریکی جدوجہد کو ٹھوس اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے اور عصرحاضر کے چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے مطلوب فکری، علمی و عملی تربیت کی اساس ہے۔
مسلم اہل علم اور فقہا مقاصد الشریعہ پر مختلف زاویوں سے لکھ رہے ہیں، خاص طور پر المعہد العالمی للفکر الاسلامی (امریکا) اور فقہ اکیڈمی (دہلی) نے اس موضوع پر بہت وقیع کام کیا ہے۔
فقہا ئے اسلام نے مقاصد الشریعہ کو تین قسموں: ’ضروریات‘، ’حاجیات‘ اور’ تحسینیات‘ میں تقسیم کیا ہے اور ہرقسم پر عمدہ بحث کی ہے۔ ہم نے اس مقالہ میں مسلم اُمہ کی موجودہ ضروریات اوران کی مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ’ضروریات‘ کے تحت آنے والے مقاصد ِ خمسہ کی تشریح و وضاحت تک اپنی بحث کو محدود رکھا ہے،اور کوشش کی ہے کہ مقاصد و مصالح کی اس انداز سے تشریح کی جائے کہ ہماری مقننہ، قانون ساز ادارے اور ملکی نظم و نسق کے ذمہ دار اہل حل وعقد موجودہ حالات میں درپیش مسائل و تحدیات کے حل کے لیے رہنمائی حاصل کرسکیں۔
’ضروریات‘ میں انسان کی وہ بنیادی ضرورتیں شامل ہیں، جن کے بغیر زندگی کا تصور مشکل ہے۔ ان میں: دین کا تحفظ، جان کا تحفظ، مال کا تحفظ، عقل و ذہانت کا تحفظ اور نسل کا تحفظ شامل ہیں۔ بعض فقہاء نے عزّت و آبرو کے تحفظ کو بھی ’ضروریات‘ میں شامل کیا ہے۔
تحفظِ دین کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے دو حصے ہیں: پہلا حصہ ارکانِ اسلام پر مشتمل ہے۔ جس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام اہل ایمان کے لیے قرآن و سنت کے مطابق کیا جاتا ہے، جب کہ غیر مسلم شہری اپنے اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق اپنی عبادت گاہوں اور مذہبی تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں۔ البتہ جان و مال، عزت و آبرو، عقل و ذہانت اور نسل وغیرہ کے تحفظ کا حق ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حاصل ہے۔
تحفظِ دین کی ہم اس طرح بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق ارکانِ اسلام اور وحی وغیرہ سے ہے، اس کی تعلیم کا اہتمام مسلمانوں کے لیے ان کے عقیدے کے مطابق کیا جاتا ہے، اور غیر مسلم شہریوں کو آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کرنے اور اپنے مذہب کی تعلیم کا اہتمام کریں۔ البتہ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق علم و اخلاق سے ہے، وہ سب کے لیے مشترک ہے۔
ارکان اسلام سے ہٹ کر بھی علم کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہر فرد کو حصولِ علم کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ حکومت اور معاشرے کی ذمہ د اری ہے کہ وہ ہر شخص کو تعلیمی سہولتیں مہیا کرے۔ علم و فن کے تمام شعبوں میں تعلیم و تعلّم اور بحث و تحقیق کا سلسلہ آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ حفاظتِ دین کے لیے تمام علوم میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مہارت اور کمال حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس میں ملک کے تمام شہریوں کو شرکت کا موقع ملنا چاہیے۔ اسی طرح فضائلِ اخلاق کی تعلیم بھی تحفظِ دین کے لیے ضروری ہے۔ اس میں بھی مملکت کے تمام باشندوں کو شریک رکھنا ضروری ہے۔
دین کے تحفظ کے لیے دو قسم کے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اقدام ایجابی (Affirmative) کہلاتا ہے۔ ایجابی اقدام کے ذریعے ان تمام علوم و فنون کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا ضروری ہے، جو ملک کی تعمیر و ترقی اور شہریوں کی تہذیب و تربیت کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس فریضے کو انجام دینے کےلیے حالات اور زمانے کے مطابق تمام وسائل و ذرائع کو انتہائی ذہانت اور سمجھ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل کے زمانے میں تو بعض ممالک ذرائع ابلاغ کو جنگی مقاصد اور مملکتوں میں انتشار پھیلانے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اب جنگیں صرف میدانِ جنگ میں یا سرحدوں پر ہی نہیں لڑی جاتیں، بلکہ جنگ کی بہت سی نئی نئی صورتیں اختیار کرلی گئی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا استعمال مختلف علاقوں میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے بھی ہو رہا ہے۔ ان سب سے نمٹنے کے لیے نہ صرف دفاعی تیاریوں کی ضرورت ہے بلکہ اقدامی صلاحیت پیدا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جو ملک اقدامی صلاحیت سے محروم ہو وہ اپنے دفاع کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے۔ علم کے اس شعبے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مسلم ممالک مسلسل نقصان اُٹھا رہے ہیں۔
مسلم ممالک میں معاشرتی استحکام اور تہذیبی روایات کو مستحکم کرنے اور لوگوں کی فکر و اذہان میں اخلاقی حِس کو بیدار کرنے اور شعور کو اجاگر کرنے کے لیے اخلاقی تربیت کے نظام کو فروغ دینے کی انتہائی ضرورت ہے۔ اخلاقی تربیت دراصل بنیادی طور پر والدین کی ذمہ داری ہے۔ والدین اپنے بچوں کے لیے مثال اور نمونہ ہوتے ہیں۔ بچّے اپنے والدین کے عمل اور ان کی تعلیم و تربیت سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کے اثرات بہت دیر پا ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں خاندانی نظم کو مضبوط کرنے اور گھریلو نظم کو ایک مکتب اور تربیت گاہ بنانے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ گھر کے ساتھ اور گھر کے باہر تعلیمی اداروں کا کردار شروع ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں تعلیمی اداروں کو تربیت گاہوں میں تبدیل کرنا ہوگا، تاکہ ہمارے طلبہ مثبت فکر، تعمیری کردار اور بلند فکر و نظر کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بن سکیں۔
عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور لوگوں کے درمیان معاملات کو درست رکھنے کے لیے لوگوں کی فکری پختگی اور اخلاقی بالادستی بہت ضروری ہے۔ اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ علمی بحث و تحقیق کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ اس لیے علوم و فنون میں ارتقائی منازل طے کرنے اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد و منافع انسانوں تک پہنچانے کے لیے اجتہادی بصیرت سے کام لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ابلاغ کی نئی نئی صورتوں کو دریافت کرنا اور انھیں معروف، خیر اور نیکی کے قیام اور منکرات، شر اور بدی کی روک تھام کے لیے استعمال کرنا اور ابلاغ کے ذرائع پر مکمل دسترس حاصل کرنا بھی تحفظِ دین کے لیے ضروری ہے۔
تحفظِ دین کے لیے دوسرا اقدام سلبی (Preventive) ہے۔ سلبی اقدام کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے، جب معاشرے میں موجود شر کی قوتیں انسانی جانوں، مال، عزت و آبرو اور ملک کے نظم و نسق کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ معاشرے میں ارتکابِ جرائم اور فتنہ و فساد کی روک تھام کے لیے حالات و ضروریات کے مطابق سزاؤں کا مؤثر نظام ہر مہذب معاشرے کی اجتماعی و سماجی زندگی کی مسلسل تعمیروترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔
انسانی معاشرے میں، خواہ وہ معاشرہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، وہاں کچھ نہ کچھ شر کی قوتیں بھی موجود ہوتی ہیں، جو جرائم کا ارتکاب کرکے معاشرے کے ماحول کو خراب کرتی ہیں۔ جرائم میں مبتلا لوگوں کو سزا دینے اور ان کی اصلاح کا عمل ساتھ ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ معاشرتی جرائم اور شر کی قوتوں کے خلاف سزاؤں اور پابندیوں سے متعلق قانون سازی کا کام بہت حکمت اور مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اُمت کے ذمّہ اصل کام تو انسان کی اصلاح و تربیت ہے۔ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزاؤں کا مقصد بھی اصلاح کرنا ہی ہے، لہٰذا مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجتہادی عمل کے ذریعے سزاؤں کا ایسا نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جس میں جرم کرنے والوں کے حالات اور نفسیات وغیرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیم و تربیت کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرنا مؤثر ہوسکے۔ ہمارے خیال میں ملک میں رائج جیلوں کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہم جیلوں کو قید خانوں کے بجائے تعلیم و تربیت کی درس گاہوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے بہت مثبت اور مفید نتائج برآمد ہوں گے۔
وہ جرائم جن کی سزائیں قرآن و سنت میں مقرر کر دی گئی ہیں، وہ تو اسی طرح جاری کی جائیں گی، البتہ ان سزاؤں کو نافذ کرتے ہوئے ہمدردی اور یُسْر کے پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے علاوہ باقی تمام جرائم کی سزاؤں کے لیے قوانین، وقت و حالات اور ضرورت کے مطابق ہر دور میں فقہاء، عدلیہ اور قانون سازی کے ادارے اجتماعی طور پر طے کر سکتے ہیں۔
مسلمان فقہاء اور اہل علم نے ابتدائی چا رپانچ صدیوں میں بہت سے نئے نئے علوم سے دنیا کو متعارف کروایا، اور بحث و دریافت کی نئی نئی صورتیں سامنے لائے۔ یہ سب کچھ ان کی اجتہادی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ علم اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، جرح و تعدیل اور تصوف کے سلسلے، اجتہاد ہی کے مرہونِ منت ہیں۔
اجتہاد کے عمل میں فقہائے احناف کا یہ اصول بھی بہت اہم ہے کہ ’’فقیہ آنے والے زمانے پر نظر رکھے اور مستقبل میں پیش آنے والے مسائل اور چیلنجوں کا پہلے سے اندازہ کرکے حل تجویز کردیا جائے‘‘۔ اس اصول کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کا حل بھی پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ البتہ اجتہادی امور میں اس بات کی گنجائش ہوتی ہے کہ کسی واقعے کی حقیقت کو دیکھتے ہوئے رائے میں مناسب ترمیم کر لی جائے۔
تحفظِ دین کے سلسلے میں جو بھی مشکلات اور مسائل پیش آئیں، ان سے نمٹنے کے لیے غیرذمہ دارانہ رد عمل کا مظاہرہ کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ مشکلات جو بھی ہوں، مسائل جتنے بھی شدید ہوں، ان سے نمٹنے اور ان سے نکلنے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ ان سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کے لیے مسائل کو تحمل اور بصیرت و حکمت کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اہل علم جب اجتہادی عمل میں مصروف ہوتے ہیں تو انھیں مسائل کے حل کی بہت سی صورتیں مل جاتی ہیں۔
مقاصد شریعہ اصولی طور پر تحفظِ دین کی طرف توجہ دلاتے ہیں، لیکن تحفظِ دین کی صورتوں کا احاطہ کرکے انھیں محدود نہیں کرتے۔ تحفظِ دین کی صورتوں کی دریافت ہر دور اور زمانے کے فقہاء کی ذمہ داری ہے۔ تحفظِ دین کی دو صورتیں بہت اہم ہیں:
وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۰ۚ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۰ۚ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۰ۭ (الانفال۸: ۶۰) ان کے مقابلے کے لیے تم اپنی استطاعت کے مطابق جس قدر قوت اور جنگی تیاری کرسکتے ہو، ضرور کرو۔ اپنے گھوڑے تیار رکھو، اس قدر تیاری کرو کہ تمھارے دشمنوں اور اللہ سے دشمنی کرنے والوں پر تمھاری ہیبت طاری ہوجائے [ان دشمنوں پر بھی جنھیں تم جانتے ہو]، اور ان پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے، ہاں اللہ تعالیٰ انھیں خوب جانتے ہیں۔
جہاد کی تیاری ہر زمانے میں وقت اور بین الاقوامی صورت حال کے تناظر میں کی جاتی ہے۔ سورۂ انفال کی مذکورہ آیت مبارکہ میں جنگ کی زیادہ سے زیادہ تیاری کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس قوت و طاقت کو بلا ضرورت استعمال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ تیاری کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ دشمن پر ہیبت طاری رہے اور وہ مسلم مملکت پر حملہ آور ہونے سے اجتناب کرے۔ لیکن جب جنگ ناگزیر ہوجائے تو پھر پورے عزم و ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے میدانِ جنگ میں اُتر یں اور کامیابی کے لیے دشمن کا استقامت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
کسی ملک کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا فیصلہ دُور رس نتائج کا حامل ہوتا ہے، لہٰذا جنگ شروع کرنے سے پہلے نہ صرف اپنی تیاریوں کا جائزہ لینا ضروری ہے بلکہ دشمن کی جنگی صلاحیت اور اس کی تیاریوں پر بھی کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اور بین الاقوامی حالات، اہم ممالک کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں اور ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے جنگ کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا جاسکتا۔
فقہاء اجتہاد کی تعریف بَذْلُ غَایَةِ الْجُهْدِ سے کرتے ہیں یعنی حتمی رائے قائم کرنے میں اپنی ساری فکری صلاحیتوں کو صرف کر دینا اجتہاد ہے۔ یہی عمل آج کے دور میں جنگ کا آغاز کرنے سے پہلے دہرانا ضروی ہے۔ جنگ کا فیصلہ فردِواحد نہیں کرسکتا بلکہ اجتماعی طور پر باقاعدہ شورائی انداز میں فیصلہ کرنے کے لیے اُمورِ حرب میں مہارت اور تجربہ رکھنے والوں کے علاوہ ایسے اہلِ علم فقہاء کی شرکت بھی ضروری ہے، جو قرآن و سنت پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ بین الاقوامی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہوں، بین الاقوامی سیاست کو بھی سمجھتے ہوں۔ جہاد کا باقاعدہ اعلان حکومتِ وقت ہی ماہرین کی مشاورت سے کرے گی۔ کسی فرد، گروہ یا جماعت کو جہاد (جنگ) کا اعلان کرنے کا کوئی حق نہیں۔
موجودہ زمانے میں مختلف ممالک کے درمیان جنگوں نے مختلف صورت حال اختیار کر لی ہے۔ اب جنگیں میدانِ حرب میں اسلحہ و بارود کے ذریعے کم اور سیاست و معیشت، تجارت، سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں زیادہ لڑی جا رہی ہیں۔ بہت سے ممالک کے خفیہ ادارے اپنے حریف ممالک میں دہشت گردی، تخریب کاری یا غلط معلومات فراہم کرکے اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان پر نظر رکھنا اور ان کی چالوں سے ملک و قوم کی حفاظت کرنا دفاعی تیاریوں کا لازمی حصہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دفاعی یا اقدامی امور سے متعلق تمام معاملات کو انتہائی پوشیدہ رکھتے تھے۔ سیرت طیبہ کا یہ پہلو آج کے دور میں امت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ آج کل خفیہ ادارے نہ صرف حریف ممالک بلکہ دوست ممالک کے بھی راز چُرانے اور ان کے خلاف خفیہ سازشیں کرکے نقصان پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹکنالوجی اور آلات کو استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا مسلم امہ کو ان کی سازشوں سے بچنے کےلیے جدید ترین ٹکنالوجی اور سائنس پر عبور حاصل کرنے اور اپنے بچاؤ کے لیے حفاظتی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
مقاصدِ شریعہ میں جان یا انسانی زندگی کی حفاظت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ جان کی حفاظت کا اہتمام اس وقت سے شروع ہوجاتا ہے جب بچّہ رحمِ مادر میں نطفہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ ماں اور اس کے حمل کی دیکھ بھال اور ضرورت کے مطابق مناسب غذا اور طبی دیکھ بھال کا اہتمام کرنا اس لیے ضروری ہے کہ صحت مند بچہ دنیا میں آئے اور اس کی پرورش کی ذمہ دار ماں بھی صحت مند زندگی گزارے۔ پھر ولادت اور ولادت سے لے کر بلوغ کی عمر تک والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو وہ تمام ضروریات مہیا کریں جو اس کی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
قرآن حکیم نے ایک انسانی جان کے قتل کو پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے:
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ۰ۚۛؔ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۰ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۰ۭ (المائدہ۵: ۳۲) اس لیے ہم نے بنی اسرائیل پر لازم کر دیا کہ جو شخص کسی ایسے شخص کو قتل کر دے جو نہ کسی کے قتل میں ملوث تھا، نہ زمین ہی میں فساد برپا کر رہا تھا، تو وہ ایسا ہے گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کیا۔ اور جو شخص کسی ایک جان کو بچائے وہ ایسا ہے گویاکہ اس نے تمام انسانوں کی زندگی بچائی۔
قرآن حکیم کی متعدد آیات انسانی جان کو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کو حرام قرار دیتی ہیں۔(بنی اسرائیل ۱۷:۳۱، ۳۳، النساء ۴:۹۳)
فقہاء عام طور پر اس مقصد کے ثبوت کے لیے وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں قانونِ قصاص یا دیت کو بیان کیا گیا ہے (البقرہ۲:۱۷۸، المائدہ ۵:۴۵)۔ حقیقت یہ ہے کہ تحفظِ نفس کا مقصد انسانیت کا تحفظ ہے۔ اس اصول کا احترامِ انسانیت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ بہت سے فقہاء نے انسانی غیرت و وقار کے تحفظ کو ایک مستقل مقصد کے تحت بیان کیا ہے۔ اس لیے کہ شریعت نے اس شخص کے خلاف جو کسی پاک باز انسان کی عزت و آبرو کو پامال کرنے کی کوشش کرے، اسّی کوڑوں کی سزا مقرر کی ہے۔(دیکھیے: النور ۲۴: ۴،۶،۲۳)
قرآن حکیم نے اولادِ آدم کو نہ صرف قابلِ احترام قرار دیا ہے بلکہ دیگر مخلوقات پر اس کی برتری کو بھی بیان کیا ہے (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰)۔ لہٰذا انسان کی عزت و احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔ احترامِ انسانیت ہی کا تقاضا ہے کہ نہ صرف یہ کہ انسانی حیات کو تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ اس کی عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنا بھی واجب ہے۔ جس طرح کوئی مجرم کسی انسان کو قتل کرے یا اس کے کسی عضو کو نقصان پہنچائے، تو یہ قابلِ سزا (قصاص و دیت) جرم ہے، اسی طرح انسان کی عزت و آبرو پر حملہ بھی جرم ہے۔
انسانی جان اور عزّت و آبرو کے تحفظ کے لیے تمام تدابیر اختیار کرنے اور اس کے لیے مؤثر قانون سازی کرنے کی ذمہ داری معاشرہ اور حکومت ِوقت پر عائد ہوتی ہے۔ جب کبھی انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہونے لگیں تو خطرات سے بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے جو بھی امکانات پائے جاتے ہوں انھیں اختیار کرنا اور معاشرہ کو تحفظ فراہم کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ بعض معاصر فقہاء تحفظِ عزّت کے لیے حفظ کرامۃ البشریہ یعنی انسانی عزت و آبرو کی حفاظت کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں۔ (جاسم عودہ، فقہ المقاصد ، المعہد العالمی للفکر الاسلامی، ہارڈن، امریکا، ۲۰۰۶ء، ص۲۳)
حیاتِ انسانی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر دور اور ہر زمانے میں ضرورت اور حالات کے مطابق قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن قانون اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب معاشرے میں نظامِ قضا و عدل مضبوط ہو اور لوگوں کا اخلاقی شعور بیدار ہو۔
حیاتِ انسانی کے تحفظ کا ایک اہم شعبہ صحت اور علاج و معالجہ کا شعبہ ہے۔ علمِ طب میں اُمتِ مسلمہ بہت پیچھے رہ گئی ہے، حالانکہ یہ شعبہ خدمتِ خلق اور تحفظِ حیاتِ انسانی کے لیے بہت بنیادی ہے۔ مقاصد شریعہ میں جان کے تحفظ کے جس حق کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض قتل کی سزا میں قصاص یا اعضائے انسانی کو نقصان پہنچانے کی صورت میں دیت تک محدود نہیں۔ انسانی حیات کو تحفظ دینے کے لیے ایسی بیماریوں کا علاج و معالجہ بھی ضروری ہے، جو حیاتِ انسانی کے لیے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ بہت سی بیماریاں آج بھی ایسی ہیں جن کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہوا۔ ایسی مہلک بیماریاں جن کا شکار ہو کر لوگ یا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر معذور ہو کر بےبسی کی زندگی بسر کرتے ہیں، ان کا علاج دریافت کرنا شرعاً واجب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:
مَا اَنْزَلَ اللهُ دَاءً اِلَّا اَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً (سنن ابن ماجہ، ۴۳۴۱) ، اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے، اس کے شفا کی صورت بھی پیدا کی ہے۔
قدرت نے ہر بیماری کا علاج بھی پیدا کیا ہے۔ انسان بحث و تحقیق اور تلاش و جستجو کے ذریعے اس کا علاج دریافت کر سکتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:
لِکُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَاِذَا اُصِیْبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَـرَأ بِـاِذْنِ اللهِ تَعَالٰى (مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الطب، باب لکل داء، حدیث: ۵۷۴۱)،ہر مرض کا علاج موجود ہے۔ جب صحیح دوا مرض تک پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاء ہوجاتی ہے۔
جس طرح مقاصد کی تکمیل ضروری ہے، اسی طرح حصولِ مقاصد کے لیے اسباب کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ اسباب کو اختیار کیے بغیر نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ وہ امراض جو لا علاج تصور کیے جاتے ہیں، ان کا علاج دریافت کرنے کے لیے بحث و تحقیق کا انتظام کرنا بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ علم طب کے مسلم ماہرین پر پوری تندہی کے ساتھ اس اسلامی ذمہ داری کو ادا کرنا فرض ہے۔
دُنیا بھر میں تیز رفتار ذرائع نقل و حمل کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ان کی وجہ سے بھی انسانی زندگی کے لیے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بسا اوقات ٹریفک قوانین سے مجرمانہ غفلت بھی انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے قابلِ عمل ٹریفک قوانین بنانا اور ان پر عمل کو یقینی بنانا بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی اسلامی نقطۂ نظر سے تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں ٹریفک کے قوانین کو قوانین شریعت کے طور پر نافذ کرنا چاہیے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب لوگ ان قوانین پر عمل دین کا تقاضا سمجھ کر کریں گے تو حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔
سائنس کی ترقی نے انسانوں کے لیے بہت سی سہولتیں مہیا کی ہیں، نفع مند ایجادات سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن سائنس نے تعمیر و ترقی کے علاوہ تخریب و تباہی کا بھی بہت کچھ سامان مہیا کیا ہے۔ ایٹم بم، تباہ کن میزائل، زہریلی گیسیں وغیرہ کی ایجاد نے انسانی زندگی کو تباہی کے خطرات سے دوچار کیا ہے۔ اب تو بعض آلاتِ ابلاغ کو بھی معصوم لوگوں کی تباہی کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔ بعض ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مختلف ممالک میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے مہلک ہتھیار اور آلات دہشت گردوں کو مہیا کر رہی ہیں۔ بعض ممالک کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ خفیہ طور پر لیبارٹریز میں مہلک قسم کے جراثیم تیار کرتے ہیں تاکہ ان ممالک کے لوگوں میں جراثیم پھیلائے جائیں جو ان کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ ایسے جرائم ہیں، جنھیں کوئی ایک ملک اپنے طو رپر ختم نہیں کر سکتا۔ اقوام عالم کی یہ ذمہ داری ہے کہ مل جل کر ایسے ضابطے اور قوانین بنائیں جو سائنس اور ٹکنالوجی کے غلط استعمال کو روک سکیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) پر آج کل بہت کام ہو رہا ہے۔ اس سے بہت سے مفید کام لیے جاسکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے ہم علمِ طب، انجینئرنگ اور بعض فنی علوم میں فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، اور اپنی صنعت و حرفت کو بھی اس کی مدد سے ترقی دے سکتے ہیں۔ لیکن جہاں اس کے کچھ فوائد ہیں وہاں نقصانات کا بھی اندیشہ ہے۔ مصنوعی ذہانت تعمیر کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور تخریب و تباہی کے لیے بھی۔ چند ممکنہ نقصانات کی طرف مختصراً ذکر کرنا ضروری ہے:
۱- سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ انسان میں غور و فکر اور اپنی ذہانت کو استعمال کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جائے گی۔ ہمارا دین ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنی عقل و ذہانت اور استدلال و استنباط کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں، اور اپنے علم وفکر سے انسانیت کی رشد و ہدایت کی طرف رہنمائی کریں۔
۲- غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈا تیزی سے پھیلا کر تخریب کاری کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
۳- فرقہ پرستی اور تعصبات کو ابھارنے کے لیے اس کا استعمال ہوسکتا ہے۔
۴- لوگوں کے راز تیزی سے افشاں ہوں گے۔ چادر اور چاردیواری کا تقدس ختم ہوجائے گا۔
۵- مصنوعی ذہانت کی مہارت اور ٹکنالوجی چند سرمایہ دار کمپنیوں کے قبضہ میں ہوگی۔ وہ کمپنیاں بعض سرمایہ دار ممالک کو بلیک میل کرکے اپنے ساتھ ملائیں گی، پھر اس ٹکنالوجی کو کمزور اور چھوٹے ممالک کا استحصال کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔
یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کا منفی استعمال نہ صرف انسانی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ انسانی زندگی اور اس کی عقلی صلاحیتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لہٰذا، وہ اہلِ علم جو مصنوعی ذہانت سے متعلق فن میں مہارت حاصل کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئی منفی ذہنیت رکھنے والا یا تخریب کار اس فن کا غلط فائدہ نہ اٹھاسکے۔ اُمت کے اہل علم کی اسلامی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی تباہی یا فساد پھیلانے کے لیے اسے استعمال کرنا چاہے تو ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہونی چاہیے، تاکہ کسی بھی ممکنہ جرم کی بروقت روک تھام کی جاسکے۔
تحفظِ مال
مال کی طلب ایک فطری خواہش ہے۔ ہر انسان اپنی ضروریات پورا کرنے اور اپنی زندگی کو سہل اور پُرسکون بنانے کے لیے مال کا محتاج ہوتا ہے۔ اسلام نے حصولِ مال کے لیے عمل، کسب اور محنت پر زور دیا ہے۔ کسب ِمال کے طریقوں میں جائز و ناجائز کا امتیاز پیدا کیا ہے۔ جو مال حلال و جائز طریقے سے کمایا جائے، قرآن حکیم اسے خیر اور فضل کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔ (البقرہ ۲:۲۷۲، العٰدیٰت ۱۰۰:۸، المائدہ ۵:۳، الجمعہ ۶۲:۱۰)
مقاصدِ شریعہ میں تحفظِ مال سے صرف یہی مراد نہیں جو مال حلال و جائز طریقہ سے حاصل کیا جائے، اس کی حفاظت کا اہتمام کیا جائے یا کسی شخص کو کسی کا مال غیر قانونی طریقے سے حاصل کرنے کا اختیار نہ ہو۔ یقینی بات ہے کہ ایک ذمہ دارمملکت اور معاشرہ اس کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ’تحفظ مال‘ کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس سے مراد نظم معیشت میں تحفظِ مال کے لیے منصوبہ بندی، ملکی وسائل و معدنیات کی حفاظت اور ان کا بہتر استعمال بھی اس میں شامل ہے۔ ملک میں موجود تمام اموال و ذخائر امانت ہیں۔ انھیں پوری دیانت داری کے ساتھ استعمال کرنا اور ان کی حفاظت کرنا معاشرہ اور مملکت دونوں کی ذمہ داری ہے۔
فرد کی انفرادی زندگی ہو یا قوموں کی اجتماعی زندگی، دونوں کا دارومدار مال پر ہے۔ ہرانسان کو خوراک، لباس اور دیگر ضروریات زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے شرعاً یہ ضروری ہے کہ اموال اور وسائلِ اموال کی گردش کسی مخصوص طبقہ تک محدود نہ رہے، بلکہ معاشرہ کے تمام افراد تک اس کی عادلانہ رسائی ہوتی رہے۔ اسی لیے شریعت نے انفاق پر بہت زور دیا ہے۔
شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے سرمایہ کاری (Investment) بھی ’انفاق‘ کی ایک صورت ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص کاروباری عمل شروع کرتا ہے، یا کوئی کمپنی قائم کرتا ہے تو اس کے اس عمل کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔اس طرح معاشی عمل کے ساتھ خیر اور فلاح و بہبود کے اعمال بھی شروع ہوجاتے ہیں۔
’انفاق‘ کے مفہوم میں خیر کا پہلو غالب رہتا ہے۔ خیر کے کاموں میں وہ لوگ بہتر طریقہ سے حصہ لے سکتے ہیں جن کے پاس وسعت اور سرمایہ ہو۔ انفاق کا عمل سرمایہ کاری کی صورت میں جس قدر بڑھے گا فلاح و بہبود کے کام بھی اسی لحاظ سے بہتر طور پر انجام پائیں گے۔
شریعت میں صدقہ (نیکی کا عمل) کی اصطلاح بھی وسیع مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔ حلال کمائی کی نیت سے ملک و معاشرہ کی بھلائی کے لیے جو کام کیا جائے، وہ صدقہ کے مفہوم میں آتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تاجر کے بارے میں جو صداقت و امانت داری کے ساتھ کاروبار کرتا ہے فرمایا کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے ہاتھ کی دو انگلیاں۔ پھر آپؐ نے اپنے ہاتھ سے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملاکر اشارہ فرمایا۔ تاجر کو یہ بلند مقام اس وجہ سے ملاکہ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ ملک و معاشرہ کی معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
امام ترمذیؒ نے یہ روایت نقل کی ہے: التَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَاء ’’سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے روز انبیا، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا‘‘ (جامع الترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی التجار، حدیث: ۱۲۰۹)۔ شرط یہ ہے کہ نیت صحیح ہو، سرمایہ کاری کا عمل دین کے دائرے میں رہتے ہوئے، حلال وحرام اور جائز و ناجائز میں امتیاز رکھتے ہوئے کیا جائے۔ ایسا عمل (سرمایہ کاری) ہماری رائے میں انفاق اور صدقہ کے مفہوم میں شامل ہے۔ واللہ اَعلم !
تحفظِ عقل کا مقصد انسان کی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں یہ بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے انسان کو بہترین ذہن اور عمدہ دماغ عطا فرمایا ہے۔ انسان اپنے فہم و فراست کی وجہ سے نہ صرف اپنے حال کے معاملات کو سمجھنے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے شریعت انسان کی فطری صلاحیتوں کے تحفظ اور ان کی نشو و نما کی طرف توجہ دینے کو لازمی قرار دیتی ہے۔
عقل و دانش کی حفاظت اور نشو و نما کے لیے دین اسلام مختلف پہلوؤں سے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ فقہاء انھیں ایجابی و سلبی یا وجودی و عدمی پہلوؤں سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایجابی پہلوؤں میں تعلیم و تربیت کا وہ اسلوب مطلوب ہے جو انسان میں اجتہادی بصیرت، غور و فکر اور مشاہدہ کی صلاحیت کو بہتر بنائے۔ عقلِ انسانی کو تمام تر ڈیٹا حواس کے ذریعے ملتا ہے، اس لیے حواس کی کارکردگی اور صلاحیتوں کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر انسانی حواس میں ارتقاء کی صلاحیت رکھی ہے۔ انسان اپنی سمع و بصر کی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ وہ اپنے حواس کو جس قدر توجہ کے ساتھ مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے، حواس اسی لحاظ سے بہتر کام کرنے لگتے ہیں۔ انسانی حواس کی صلاحیت جس قدر مضبوط ہوگی، عقلی استدلال اور نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت بھی اسی لحاظ سے بہتر ہوگی۔
تحفظِ عقل کا دوسرا پہلو سلبی یا عدمی کہلاتا ہے۔ اس کی رُو سے وہ تمام اشیاء ممنوع قرار دی گئی ہیں، جو انسان کی فکری اور دماغی صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہوں۔ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ انسان کی ذہنی اور دماغی صلاحیتوں کو معطل کیا جائے یا انھیں نقصان پہنچایا جائے۔ اسی لیے تمام منشیات اور وہ اشیاء جو انسان کے ادراک کی قوت کو نقصان پہنچاتی ہوں، حرام قرار دی گئی ہیں، بلکہ نشہ آور اور دماغی صحت کے لیے مضر اشیاء کی تیاری اور کاروبار وغیرہ بھی ممنوع ہیں۔ ممنوعہ اشیاء کی تیاری کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی ضروری قرار دی گئی ہے۔ شراب نوشی کی سزا تو قرآن حکیم میں بیان کی گئی ہے، دیگر منشیات کو فقہاء شراب پر قیاس کرتے ہوئے ان کی وہی سزا تجویز کرتے ہیں جو شراب نوشی کی سزا ہے۔ موجودہ دور میں منشیات کی بہت سی نئی نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ مقاصد شریعہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسی تمام اشیاء کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے۔ محض قانون سازی کافی نہیں ہوتی بلکہ قانون کے نفاذ کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
پُرسکون زندگی گزارنے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے انسان اجتماعی زندگی کا محتاج ہے۔ خاندان، معاشرہ کی اجتماعی زندگی کی ایک بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشرہ کی بنیادی اکائی مستحکم ہے تو معاشرہ بھی مستحکم ہوگا، اور اگر خاندان کی اکائی میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو سارے معاشرے میں اس کے بُرے اثرات سرایت کر جائیں گے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے خاندان کی اصلاح و تربیت اور استحکام کے لیے بہت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ ہدایات دی ہیں۔
نسل کی حفاظت کے لیے بھی فقہ اسلامی میں دو قسم کی ہدایات ملتی ہیں: ایجابی اور سلبی۔ ایجابی اسلوب میں خاندان کی تشکیل کے لیے بہت حکیمانہ انداز میں ہدایات ملتی ہیں، مثلاً نکاح اور نکاح کے مقاصد، شوہرو بیوی کے باہمی تعلقات اور ایک دوسرے کے فرائض و ذمہ داریاں، تربیت اولاد، نفقہ، کفالت وغیرہ کے احکام۔ اگر بعض معقول وجوہ کی بنا پر باہم مل جل کر رہنا مشکل ہوجائے تو خوش اسلوبی کے ساتھ ازدواجی تعلق کو ختم کرنے کے احکام بھی وضاحت کے ساتھ ملتے ہیں۔
تحفظ نسل کا دوسرا پہلو ’سلبی‘ کہلاتا ہے۔ اس کی رُو سے اللہ کا دین ان تمام افعال کو جرم قرار دیتا ہے، جو خاندان کی عزّت و آبرو کو نقصان پہنچاتے ہوں یا وہ افعال جو حفاظتِ نسل کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اور اس کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف سخت سزا مقرر کی ہے، اس لیےکہ زنا کا ارتکاب نہ صرف خاندان کی عصمت اور اس کے شرف کو داغ دار کرتا ہے بلکہ نسب کو بھی مشکوک بناتا ہے۔ حدِ زنا پر فقہاء نے تفصیل سے بحث کی ہے اور اس سے متعلق احکام کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
بےحیائی اور فحاشی کے بارے میں قرآن مجید نے اچھوتا اسلوب اختیار کیا ہے۔ ان آیات میں زورِ بیان کے ساتھ ہر قسم کی بےحیائی اور بدکاری کے محرکات کا دروازہ بند کیا گیا ہے۔ نفسِ انسانی کو بھڑکانے، ہیجان اور شہوت پیدا کرنے والی تمام چیزیں، خواہ زبان و بیان کی صورت میں ہوں یا تحریری شکل میں ہوں، تصاویر ہوں یا ڈرامائی تمثیل کی صورت میں ہوں، فحاشی کی طرف جانے والا ہر راستہ بند کرنا ضروری ہے۔
فحاشی کے سدباب اور منکرات کی روک تھام کے لیے اسلام کی تعلیمات میں شرم و حیا کا تصور نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ فضائلِ اخلاق میں اسے روح کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے کہ شرم و حیا برائی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اَلْـحَیَاءُ مِنَ الْاِیْمَانِ ’’حیا ایمان کا جزو ہے‘‘۔ (بخاری، الجامع الصحیح، کتاب الایمان، باب الحیاء من الایمان، حدیث: ۱۲۴)
امام مسلم نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اَلْـحَیَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْاِیْمَانِ ،’’حیا ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی صحیحین میں موجود ہیں: اَلْـحَیَاءُ خَیْرٌ کُلُّهٗ، ’’حیا سراسر خیر ہے‘‘۔
محدثین حیا کو ایمان کی ایک اہم خصلت تسلیم کرتے ہیں۔ یہ وہ اہم خصلت ہے جو اعمالِ خیر کے لیے دلوں میں شوق اور رغبت پیدا کرتی ہے اور منکرات و فواحش کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اسلام کا مقصد نسب کی حفاظت کے ذریعے خاندان کو تحفظ فراہم کرنا اور نسل انسانی کو فحاشی کی تباہ کاریوں سے بچانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے نکاح کا جائز اور پاکیزہ طریقہ مقرر کرکے ناجائز طریقوں کے تمام راستے بند کر دیے۔ اولاد کے حصول میں جائز طریقوں کا استعمال ہی خاندان کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے۔
’ضروریات‘ کے تحت بیان کردہ تحفظات افراد معاشرہ کے وہ بنیادی حقوق ہیں جو ہرفرد کو بلاتفریق ملنے چاہئیں۔ دوسری طرف یہ برسرِ اقتدار طبقہ کے بنیادی فرائض ہیں جن کی ادائیگی کے لیے وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے بلکہ معاشرہ کے باشعور لوگوں کے سامنے بھی جواب دہ ہے۔
_______________
آج کے دور میں جہاں اور بہت سی بُرائیاں اور بداخلاقیاں ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھارہی ہیں، ان میں ایک بہت بڑی بیماری افواہیں پھیلانے کی ہے۔ شاید افواہیں پھیلانے والوں کو یہ اندازہ بھی نہ ہو کہ بسااوقات اس کے منفی اثرات معاشرے اور مملکت دونوں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں، اور جس کے تباہ کن اثرات سے خود افواہ سازی کا کام کرنے والے بھی نہیں بچ سکتے۔
شرعی نقطۂ نظر سے افواہیں پھیلانا یا افواہوں کے ذریعے معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلانا ایک بدترین جرم ہے۔ اس لیے کہ افواہیں بغیر کسی بنیاد کے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان نہ صرف نفرت و حقارت پیدا کرتی ہیں، بلکہ بسااوقات بلاوجہ لڑائی جھگڑے کا سبب بھی ہوتی ہیں۔ افواہوں کے مہلک اور مضر اثرات کے پیش نظر اسلامی مملکت کے شہریوں پر یہ فریضہ شرعاً عائد ہوتا ہے کہ وہ خود کسی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں، بلکہ افواہیں پھیلانے والوں پر بھی کڑی نظر رکھیں اور انھیں بھی افواہیں نہ پھیلانے دیں۔ من گھڑت اور جھوٹی باتیں نہ صر ف دُنیوی اعتبار سے جرم ہیں،بلکہ آخرت میں بھی اس جرم کی پاداش میں سخت سزا بھگتنا پڑے گی۔
افواہیں خواہ حکومت کے خلاف ہوں یا کسی ادارے کے، جماعت مسلمین کے کسی فرد کے خلاف ہوں یا اُمت ِ مسلمہ کے کسی طبقے کے خلاف، ہرحالت میں قابلِ مذمت ہیں۔ تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ چندافراد کی پھیلائی ہوئی باتیں پوری قوم کے لیے شرمندگی اور پریشانی کا باعث بن گئیں، اور اس کے سنگین نتائج آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے۔
عہد ِ نبویؐ میں افواہیں پھیلانے کا کام منافقین کیا کرتے تھے۔منافقین نہ ملّت اسلامیہ کے خیرخواہ تھے اور نہ مملکت اسلامیہ کے۔ وہ ہرقت اس تاک میں رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے تو ملّت اسلامیہ پر بھرپور وار کریں۔ خصوصاً ان حالات میں جب مسلمانوں پر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہوتا تھا تو ان کی تخریبی سرگرمیاں مزید تیز تر ہوجاتی تھیں۔ منافقین کبھی خوف و ہراس پھیلانے کے لیے افواہیں پھیلایا کرتے تھے اور کبھی کسی واقعی خطرے کو چھپانے کے لیے غلط قسم کا اطمینان پیدا کرنے کے لیے بے بنیاد اور مبالغہ آمیز خبریں پھیلاتے تھے۔ قرآنِ حکیم نے اس کا سدّباب کرنے کے لیے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب اس قسم کی غیرمصدقہ خبر یا افواہ پہنچے تو اُسے ہرگز لوگوں میں نہ پھیلایاجائے، بلکہ اس قسم کی بے بنیاد خبروں اور افواہوں کے بارے میں ارباب حل و عقد کو آگاہ کرنا چاہیے، تاکہ وہ اس قسم کی افواہوں کا جائزہ لیں اور ٹھیک ٹھیک صورتِ حال سے ملّت کو آگاہ کریں۔ اگر کوئی بات صحیح ہے اور اُمت کو اس سے آگاہ کرنا ضروری ہے تو حکومت خود اس خبر کی اشاعت کرے گی، اور معاشرے میں محض بے چینی یا فتنہ و فساد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور افواہوں کے مضر اثرات کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات اُٹھائے گی۔
قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:
وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ۰ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ۰ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا۸۳(النساء ۴:۸۳) اور جب اُن کو کوئی بات امن یا خطرے کی پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولوالامر کے پاس پہنچا دیں تو وہ بات ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچ جائیں اور صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کے سوا تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔
اس آیت میں افواہیں پھیلانے کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اور ذمہ دار شہریوں پر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ کوئی افواہ سنیں تو اربابِ حل و عقد کو اِس سے آگاہ کریں، خود اس افواہ کو بیان کر کے نہ پھیلائیں۔ بلاوجہ سنی سنائی بات کو لوگوں میں بیان کر کے اس مقصد میں شریک نہ ہوں، جو کوئی بدکردار اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والا فرد افواہ پھیلا کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا سنہری اُصول بیان فرمایا ہے، جو ایک دستوری ہدایت بھی ہے:
کَفٰی بِالْمَرءِ اِثْمًا اَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ط (سنن ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی التشدید فی الکذب، حدیث:۴۳۶۱ ) گناہ کے لیے یہ بات کافی ہے کہ انسان ہرسنی سنائی بات بیان کرنے لگے۔
قرآنِ حکیم اصلاحِ معاشرہ کے لیے جہاں ضروری ہدایات دیتا ہے ، وہاں ایسی باتوں کا بھی قلع قمع کرتا ہے جو معاشرے کے پُرامن اور پُرسکون ماحول کو بگاڑنے کا سبب ہوں۔
سورئہ بنی اسرائیل کی اس آیت ِ مبارکہ کو غور سے پڑھیے ، جو نہ صرف یہ کہ بے بنیاد باتوں کے پیچھے نہ لگنے کا حکم دے رہی ہے،بلکہ ذمہ داری کا شعور بھی بیدار کر رہی ہے:
وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۰ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْہُ مَسْــــُٔــوْلًا۳۶ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۶) جس چیز کا تمھیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔ یقینا کان، آنکھ اور دل سب کی بازپُرس ہوگی۔
یعنی جس چیز کے بارے میں تمھیں کامل اطمینان اور پوری طرح علم نہ ہو تو محض اٹکل اور گمان کی بنا پر اس کے پیچھے نہ لگ جایا کرو۔ تہمتیں، بدگمانیاں اور افواہیں سب ایک ہی قبیل کی بُرائیاں ہیں۔ ایک اچھے اور مہذب معاشرے کو ان بُرائیوں سے پاک ہونا چاہیے۔ اسلام جو معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے، اس کی بنیاد باہمی تعاون، اعتماد اور حُسنِ ظن پر ہوتی ہے۔لہٰذا، کسی معاملے میں کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جو محض افواہ پر مبنی ہو، اور بدگمانی کی وجہ سے کسی کے بارے میں کوئی غلط بات نہ کہی جائے جس کی وجہ سے کسی فرد، جماعت، ادارہ یا طبقے کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچتا ہو، یا کچھ لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہو۔
سورۃ الحجرات میں اُمت مسلمہ کی اجتماعی اور شہری زندگی کے لیے ایک جامع ضابطۂ اخلاق پیش کیا گیا ہے۔ اس سورہ میں ان تمام بُرائیوں سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فتنہ و فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے لوگوں کے باہمی تعلقات خراب ہوتے ہیں اور رنجشیں پیدا ہوتی ہیں، مثلاً ایک دوسرے کا مذاق اُڑانا، طعن و تشنیع کرنا، لوگوں پر پھبتیاں کسنا ، یا ان کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرنا، لوگوں کی غیبت کرنا، عیب جوئی کرنا وغیرہ۔ یہ سب وہ افعال ہیں جو صراحتاً گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑو فساد پیدا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام بُرائیوں کو نام بنام ذکر کرکے انھیں حرام قرار دیا ہے۔
موضوع کی مناسبت سے یہاں سورئہ حجرات کی ایک آیت خاص طور پر قابلِ توجہ ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۶ (الحجرات ۴۹:۶) اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمھیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔
اِس آیت مبارکہ میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی خبر یا اطلاع ناقابلِ اعتماد ذرائع سے آئے تو بغیر تحقیق و تصدیق اسے من و عن نہیں ماننا چاہیے، بلکہ خوب اچھی طرح اس کی تحقیق کرلینی چاہیے کہ آیا واقعی اس خبر میں کوئی صداقت ہے؟ بغیر کسی تحقیق اور بغیر کامل اطمینان کے اگر کسی ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا تو اس کا نتیجہ سواے رُسوائی اور ذلّت کے کچھ نہیں ہوگا۔
مفسرین نے اس آیت کا جو پس منظر بیان کیا ہے وہ بھی اس مسئلے کی وضاحت کرتا ہے ۔ عہدنبویؐ میں بعض لوگوں نے قبیلہ بنی المصطلق کے بارے میں رسولِ کریمؐ اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو غلط اطلاع دی تھی کہ اس قبیلے نے مرکز کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ اور یہ کہ انھوں نے مرکز کو زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن مدینہ منورہ کی جانب سے کسی کارروائی سے قبل خود اس قبیلے کے سردار حارث بن ضرارؓ رسولِ کریمؐ کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے تمام حقیقت بیان کی اور بتایا کہ اس قبیلے کے کسی فرد نے بھی زکوٰۃ کی ادایگی سے انکار نہیں کیا، اور نہ مرکز کی جانب سے بھیجے گئے محصِّل کو کسی نے قتل کی دھمکی دی ہے۔ دراصل قبیلہ بنو المصطلق سے مخالفت رکھنے والے بعض افراد نے غلط اطلاعات پھیلا کر مرکز کو اس قبیلے کے خلاف کارروائی پر اُبھارنے کی کوشش کی تھی۔ اصل حقائق معلوم ہونے پر مرکز نے بنو المصطلق کے خلاف کارروائی کا ارادہ موقوف کر دیا۔ قرآنِ حکیم نے اس موقعے پر یہ حکم دیا کہ اس قسم کی جب کوئی خبر یا اطلاع ملے تو اربابِ حل و عقد کو چاہیے کہ اس کی خوب تحقیق کرلیا کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات سے مغلوب ہوکر یا جذبات میں آکر کسی بے گناہ طبقے کے خلاف اقدام کربیٹھیں جس پر بعد میں پچھتانا پڑے۔
عہد نبویؐ میں منافقین اور یہودی افواہیں پھیلانے اور اُمت مسلمہ کے مختلف طبقات کے درمیان منافرت پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اس کے لیے وہ ہرحربہ استعمال کرتے تھے۔ عبداللہ بن ابی نے انصار و مہاجرین کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لیے علاقائی تعصب بھی اُبھارنے کی کوشش کی۔ انصار و مہاجرین کے درمیان خوش گوار تعلقات اور اسلامی اخوت و محبت نے مدینہ منورہ میں جو وحدت پیدا کر دی تھی اس میں عبداللہ بن ابی کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ وہ باہمی نفرت پیدا کر کے اپنی قیادت کو آگے بڑھانا چاہتا تھا ۔ غزوئہ بنو مصطلق سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کے بارے میں عبداللہ بن ابی نے یہ دھمکی آمیز الفاظ کہے تھے:
لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَۃِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ ۰ۭ (المنافقون ۶۳:۸) اگر ہم مدینہ لوٹ جائیں تو وہاں سے عزت والے لوگ بے حیثیت لوگوں کو نکال باہر کریں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان منافقین کی حرکتوں پر کڑی نظر رکھتے تھے اور ان کی تمام تخریبی حرکات کو اپنی حکمت عملی اور بصیرت سے غیرمؤثر بناتے رہے۔ منافقین کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور سرگوشی کے انداز میں آپ سے باتیں کرتے۔ ان کی سرگوشیوں کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ عام لوگوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی اور قریبی تعلقات ہیں۔ یہ تاثر پیدا کرکے وہ جو بات رسولِ کریمؐ کی طرف منسوب کرکے پھیلائیں گے عام لوگ اسے مان لیں گے۔
اسی طرح عام جگہوں پر کھڑے ہوکر سرگوشی کے انداز میں گفتگو کرتے تھے، جس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ کوئی خاص بات ہے جس کا صرف ان لوگوں کو علم ہے، یا شاید کوئی راز کی بات ہے جو انھیں معلوم ہوئی ہے۔ اس طرح ذہنی اور نفسیاتی طور پر راہ ہموار کی جاتی تھی، تاکہ جب کوئی افواہ پھیلائی جائے تو لوگ اس پر یقین کرلیں۔ یہ لوگ خفیہ اجتماعات بھی کرتے تھے جس کا مقصد اپنی تخریبی پالیسیوں کا جائزہ لینا اور ان کو عملی شکل دینے کی تدابیر کرنا ہوتا تھا۔ قرآنِ حکیم نے منافقین کے خفیہ اجتماعات کے تین مقاصد کا ذکر کیا ہے۔ یہ لوگ گناہ کے کاموں، ظلم و زیادتی اور رسول کریمؐ کی نافرمانی کے لیے اس قسم کے اجلاس کرتے تھے۔ منافقین کے اس طرزِعمل کی وجہ سے قرآنِ حکیم نے سرگوشیاں کرنے اور رازداری کے انداز میں گفتگو کرنے پر پابندی لگا دی، تاکہ یہ لوگ عام لوگوں میں کوئی غلط تاثر پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
قرآن کریم نے فرعون کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ بہت غرور میں مبتلا تھا، اپنے اقتدار کی خاطر لوگوں میں نسلی امتیاز پیدا کرتا تھا، اور ان میں پھوٹ ڈال کر ان پر حکومت کرتا تھا:
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِيَعًا يَّسْتَضْعِفُ طَاۗىِٕفَۃً مِّنْہُمْ يُذَبِّحُ اَبْنَاۗءَہُمْ وَيَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَہُمْ۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۴ (القصص ۲۸:۴) فرعون نے زمین میں سر اُٹھا رکھا تھا۔ اس نے وہاں کے باشندوں کو فرقوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اُن میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا۔ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا اورلڑکیوں کو زندہ رکھتا، یقینا وہ فساد برپا کرنے والوں میں تھا۔
اس آیت مبارکہ میں فرعون کے بھیانک جرائم کو فساد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اُوپر ہم نے منافقین کی تخریبی حرکتوں کو بیان کیا ہے جن میں افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانا بھی شامل ہے۔ سورئہ بقرہ میں منافقین کی ان حرکتوں کو فساد سے تعبیر کیا گیا ہے:
وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۱۱ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ۱۲ (البقرہ۲:۱۱-۱۲) اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلائو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کررہے ہیں۔ خبردار! یہی لوگ فسادی ہیں ، مگر انھیں شعور نہیں۔
فساد اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں:
وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۲۰۵ (البقرہ ۲:۲۰۵) اور اللہ تعالیٰ فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔
اخلاقی نقطۂ نگاہ سے غور کریں تو بھی افواہیں پھیلانا بہت گھٹیا اور مذموم حرکت ہے۔ اس لیے کہ غیبت کرنا، تہمتیں لگانا، جھوٹ بولنا، لوگوں کی کردار کشی کرنا اور تحقیر و تذلیل نہ صرف گناہِ کبیرہ ہیں، بلکہ وہ بُرائیاں ہیں جنھیں تمام اخلاقی نظام غیراخلاقی حرکت تصور کر کے رد کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ افواہیں پھیلانے میں ان تمام بُرائیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اسلام کا اخلاقی ضابطہ تو ایسے کردار کی تعمیر و تشکیل کرتا ہے جس کی بنیاد صداقت، امانت و دیانت داری، باہمی اخلاص و محبت، اعتماد اور عدل و انصاف پر ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہرانسان فطرتاً اچھا ہے، بدگمانی گناہ ہے۔ حدیث نبویؐ میں ہے کہ اہلِ ایمان کے بارے میں اچھا گمان رکھو۔ بلاوجہ تجسّس اور عیب جوئی بھی جائز نہیں ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ قرآن و سنّت کی رُو سے افواہیں پھیلانا، بے بنیاد خبریں شائع کرنا قطعاً جائز نہیں۔ اس قسم کی حرکتوں میں جو لوگ ملوث ہوں گے وہ جرم میں ملوث تصور کیے جائیں گے۔ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ قرآن و سنت میں جہاں اس قسم کی مذموم حرکتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، وہاں مملکت کے عام اور ذمہ دار شہریوں پر بھی یہ فریضہ عائد کیاگیا ہے کہ وہ بھی افواہوں کی روک تھام اور ملک و ملّت کی سلامتی کے معاملات میں پورا پورا تعاون کریں۔
افواہوں کی روک تھام میں حکومت کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ خاص طور پر نشرواشاعت کے وہ ادارے جو حکومت کی زیرنگرانی کام کر رہے ہیں، مثلاً ریڈیو یا ٹیلی ویژن وغیرہ۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کام یہ کرناہوگا کہ یہ ادارے عوام میں اپنا اعتماد پیدا کریں تاکہ لوگ ان اداروں کی مہیا کردہ اطلاعات پر بھروساکرسکیں۔ یہ ادارے کردار سازی کا تو کام کریں، لیکن کردار کشی کے لیے استعمال نہ ہوں۔ ان اداروں پر اعتماد بحال ہونے سے افواہ سازوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ہماری ملکی اور ملّی صحافت پر بھی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہمارے بعض اخبارات کا طرزِعمل تو بہت ہی غیرمحتاط ہوتا ہے۔ وہ غیرمصدقہ اور بے بنیاد خبریں شائع کرکے معاشرے اور مملکت دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اخبارات کو چاہیے کہ وہ ایسی خبریں جن کا براہِ راست اثر ملک و ملّت پر پڑتا ہو، یا جن سے ہمارے ملّی ادارے متاثر ہوتے ہوں، یا افراد کے کردار پر ان کا اثر پڑتا ہو، بلاتحقیق شائع نہ کریں۔ صرف ان چیزوں کو شائع کرنا چاہیے، جن کی اشاعت واقعی ضروری ہو اور ان کی اشاعت سے منفی اثرات معاشرے میں نہ پیدا ہوتے ہوں۔
اگر ہمارے ذرائع ابلاغ اِن آیاتِ قرآنی اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں ایک ضابطۂ اخلاق طے کرلیں، تو یقینا مثبت اور صحت مند صحافت بھی افواہ سازی کے خلاف اپنا کردار ادا کرسکے گی۔