ڈاکٹر جنید ایس احمد


ایک خاص قسم کے ’معتدل‘ مسلم ’عالم‘ کو سامراج بے حد پسند کرتا ہے۔ ایسا عالم کہ جس کے لہجے میں خاص قسم کی نرمی و خودسپردگی، دھونس اور یلغار کے سامنے مزاحمت سے چِڑ بظاہر مذہبی متون پر عبور، اور ہمیشہ اس بات کے لیے آمادہ اور ’خدمت کے لیے حاضر‘ ہو کہ مظلوموں کو سمجھائے کہ ان کی بے چینی اور اضطراب ایک ’بغاوت‘ غیر عملی، قبل اَز وقت، جذباتی، غیر اخلاقی اور مناسب حساب کتاب سے عاری ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے نائن الیون [۱۱ /۹ ]کے بعد کے دور میں اسی کردار کو کمال کے درجے تک پہنچایا ہے جسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ وہ محض ’اعتدال پسندی‘ کے علَم بردار نہیں، بلکہ ایک ’ہمہ پہلو شکست‘ کے نظریہ دان ہیں۔

ایک پوڈکاسٹر شہزاد غیاث کے ساتھ حالیہ دنوں میں ریکارڈ کردہ انٹرویو کے دوران انھوں نے اپنے آپ کوکسی باریک بین سیاسی مفکر کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسے ذہن کی عکاسی کی ہے، جو تجرید کو گہرائی، شکست خوردگی کو حقیقت پسندی، اور سامراجی فہم کو قانونِ الٰہی سمجھ بیٹھا ہے۔ یہ انٹرویو سیاسی تجزیہ کم اور نوآبادیاتی مسلمانوں کے لیے ایک تربیتی نصاب زیادہ ہے، جس میں یہ پیغام پایا جاتا ہے: ’’درجہ بندی کو قبول کرو، خلل سے بچو، خاموشی سے تعمیر کرو، اور براہِ کرم طاقت وروں کے لیے زحمت کا باعث نہ بنو‘‘۔

موصوف نے بار بار ’دنیا کے قوانین‘ کا حوالہ دیا، گویا جغرافیائی سیاست کششِ ثقل جیسے کسی اخلاقی اصول کے تابع ہو، نہ کہ پابندیوں، قبضوں، قتل ، فوجی اڈوں، کٹھ پتلی بادشاہتوں اور امریکی ’ضابطۂ کاری‘کی وہ دلکش اصطلاح میں چھپا وہ جبر، جس کا مطلب ہے: ’’سب قوانین تمھارے لیے،مگر ہرسطح پر کھلا استثنا ہمارے لیے ہے‘‘۔ یہ تجرید ’معصوم‘ نہیں، بلکہ اس کا ایک مقصد ہے۔ سامراج دُنیا کو اپنے وضع کردہ ’دُنیا کے قوانین‘ کے نیچے لاکر جکڑتا ہے، اور اپنے متعین کردہ ’ملزموں‘ کو ’مجرم‘ قرار دے کر منظر سے غائب کردیتا ہے، اور ان کے لیے اپنی بات کہنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا۔ ایسے بے رحم موسم میں وہ خاص طور پر مسلم دُنیا کی قیادتوں کو اُبھارتا، سہارا دیتا اور اختیار تھماتا ہے۔

اسی لیے غامدی صاحب کے طرزِ فکر میں، مسلم دُنیا کی سیاست اکثر بے دانت، گونگی، بہری مگر عملاً سفاک بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی مزاحمت کے نتائج پر تو طویل گفتگو ئیں کرتے ہیں، لیکن وہ اُن پر قبضے، محاصرے، نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ یا ریاستی دہشت گردی پر بات کرنے کے بجائے ’دُور اندیشی‘ کے لفظ سے آلودہ دکھائی دیتی ہیں۔ مظلوموں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ احتیاط سے حساب لگائیں، جب کہ ظالم کو ایک اٹل حقیقت مان لیا جاتا ہے۔ اسرائیل بمباری کرتا ہے، امریکا پابندیاں لگاتا ہے، بہت سے مسلم ممالک کے حاکم اپنے شہریوں کو غائب کرنے سے نہیں چُوکتے، بادشاہ تباہی کو مالی مدد کا سہارا دیتے ہیں اور غامدی صاحب پوچھتے ہیں کہ ’’کیا متاثرین نے قوت کے توازن کا درست اندازہ لگا لیا تھا؟‘‘

یہ حقیقت پسندی نہیں، ’من مانی موقف پسندی‘ ہے۔ ایسی موقف پسندی، جو کمزوروں کی مزاحمت پر غور کرتے وقت نہایت سخت گیر ہو جاتی ہے، اور طاقت وروں کے جرائم پر بات کرتے وقت عجیب طرح سے شاعرانہ اور فاختانہ طرزِعمل میں ڈھل جاتی ہے۔

ایران کے بارے میں کہتے ہیں: ایران نے انقلاب سے پہلے ’اسرائیل کو قبول‘ کر لیا تھا اور اس لیے کوئی قابلِ ذکر تنازع نہ تھا۔ لیکن وہ اس حقیقت کو گول کرجاتے ہیں کہ شاہ کا ایران کوئی غیر جانب دار جنت نہ تھا کہ جسے مذہبی حکمرانوں نے بگاڑ دیا ہو۔ وہ مغرب کی پشت پناہی سے چلنے والی ایک پولیس ریاست تھی، جو اندرونی جبر اور بیرونی سامراجی وابستگی پر قائم تھی۔ اس کا ’استحکام‘ دراصل اس جوتے کا استحکام تھا، جو معاشرے کی گردن پر جما کر رکھا ہوا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر جوتا واشنگٹن میں پالش کردہ ہو تو کچھ لوگ اسے ’تہذیب‘ سمجھ لیتے ہیں۔

نرم سے نرم الفاظ میں بھی بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے، ان کا فکری سانچا نوآبادیاتی مزاحمت کی حرکیات کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہے، کیونکہ ان کے فکری ڈھانچے میں ’نوآبادیات فہمی‘ کے لیے کوئی سنجیدہ جگہ نہیں ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ’’مسلمان علم اور اجتماعی اخلاق میں ناکامی کے باعث زوال پذیر ہوئے‘‘۔ ایک جملے میں یہ کتنا ’روشن خیال‘ موقف ہے۔ اس دانش ورانہ ڈانٹ میں، نوآبادیاتی تشدد، پس منظر کے ساتھ گم ہو جاتا ہے، بغاوتیں حاشیہ بن کر رہ جاتی ہیں، پابندیاں محکمہ موسمیات کا حال بن جاتی ہیں، اور قبضہ ہی ایک کھرا سچ رہتا ہے۔ یورپی و امریکی درندگی کے ساتھ سارے مظلوم، جہالت کی گٹھڑی بن کر اس خطبے میں گم ہو جاتے ہیں، جو تہذیبی ناکامی پر ملامت کرتا ہے۔ گویا، اگلا خطبہ غالباً یہ ہوگا کہ ’’غزہ کے محکوم عوام کو اپنی پڑھائی بہتر کرنی چاہیے تھی‘‘۔

یہ کہنا کہ ’’مسلمانوں نے پانچ صدیوں میں علم کے میدان میں کوئی معنی خیز حصہ نہیں ڈالا‘‘، کوئی تجزیہ نہیں بلکہ تہذیبی سینہ کوبی ہے، جو سنجیدگی کا لبادہ اُوڑھ کر خود کو کوڑے مارنے کی رضاکارانہ مشق ہے۔ یہ وہ مبالغہ ہے جو اس وقت تک کوئی سنجیدہ فرمان لگتا ہے، جب تک یہ یاد نہ آئے کہ قوموں کو محض سلطنتوں کے چارٹس اور نوبیل انعامات کی گنتی میں نہیں تولا جا سکتا۔ مسلم معاشروں نے نوآبادیاتی تباہی اور آمرانہ گھٹن کے باوجود سائنس دان، شاعر، فقہا، انجینئر، فلسفی، انقلابی اور اہلِ فکر پیدا کیے ہیں۔ مگر موصوف کا مقصد تاریخی صحت کا اعتراف نہیں، بلکہ ایک مخصوص خودسپردگی پر مبنی تربیتی حکمتِ عملی تھونپنا ہے: ’مسلمانوں کو پہلے رُسوا کیا جائے تاکہ اگلے قدم میں انھیں رام کیا جاسکے‘۔

غامدی صاحب کی سیاسی لغت اور فکریات،اخلاقی توجہ کو طاقت کے ڈھانچوں سے ہٹا کر مزاحمت کرنے والوں کی ’بے احتیاطی‘ پر مرکوز کر دیتی ہے۔ اُن کے فرمان کے مطابق: فلسطین، صہیونی آبادکار نوآبادیات اور نسلی تباہی، محاصرے اور نسلی امتیاز کی خونیں تفصیل کے بجائے خود فلسطینیوں کی ناقص حکمتِ عملی کی مثال بن جاتا ہے۔ کشمیر پر قبضہ ایک ڈپلومیٹک اور عسکری ناکامی، بے بسی اور بے بصیرتی کا قصہ نہیں رہتا ہے بلکہ نادانی کا سبق بن جاتا ہے۔ ایران عشروں کے دباؤ، گھیرا بندی اور تخریب کا نشانہ نہیں رہتا، بلکہ انقلابی زیادتیوں کا نشان بن جاتا ہے۔

کتنا سلیقہ مند ، کتنا مہذب ، کتنا کارآمد

اس فکر کی سب سے نمایاں پہچان، اس کی سفاکانہ سنگ دلی ہے۔ بلاشبہ مزاحمتی تحریکوں کے کسی پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے طریقوں پر تنقید بھی ہوسکتی ہے، حتیٰ کہ بعض اقدامات کی مذمت بھی کی جاسکتی ہے۔ مگر غزہ، لبنان، ایران، کشمیر یا افغانستان کے بارے میں کسی ایک تجزیہ کار کا جذبات سے عاری ہوکر بات کرنا، پرلے درجے کی اخلاقی بے حسی ہے۔ بچے ملبے تلے دفن ہو رہے ہیں، خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ رہے ہیں، قیدیوں پر وحشیانہ تشدد ہو رہا ہے، معاشرے بھوک اور ننگ کا شکار ہیں اور ’معتدل‘ عالم یاد دلاتا ہے کہ اسکول کی ڈگری اور گنتی کی صلاحیت اہم ہے۔

یقیناً صلاحیت و تعلیم اہم ہے، حکمتِ عملی اہم ہے اور نتائج بہت اہم ہیں۔ مگر یک جہتی کے بغیر حکمت، حکمت نہیں، جسم و جان اور روح و تہذیب میں رچی بزدلی کا درس ہے۔ وہ ’احتیاط‘ جو کبھی طاقت سے ٹکراتی نہیں، وہ مزاجاً ظلم اور ظالم سے تعاون بن جاتی ہے۔ اور وہ مخصوص ’الٰہیات‘ جو مظلوم کو غیر معینہ مدت تک صرف جینے کی تلقین کرے، مگر مزاحمت کا کوئی سنجیدہ نظریہ نہ دے، وہ نبویؐ احتیاط نہیں بلکہ روحانی خود سپردگی و بزدلی کا نقارہ ہے۔

اسی لیے نائن الیون کے بعد مذکورہ صاحب کا کردار و بیان اہم ہے۔ وہ ایک ایسے دور کے لیے کچھ طاقت ور حلقوں کے ’محبوب‘ مصلح کے طور پر سامنے آئے، جو ’طاقت ور‘ حلقے متن سے دُوری پر رکھتے، اور لبرل اشرافیہ کے لیے باعثِ اطمینان بن کر ’اچھے‘ اور ’خطرناک‘ مسلمانوں میں فرق کی گنتی کرتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی نام نہاد ’روشن خیالی و اعتدال پسندی‘ کے تحت یہ طرزِ فکر اُس ریاست کو خودساختہ مذہبی جواز فراہم کرتا رہا ہے، جو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ تھی۔ اور اب یہی منطق عوامی مزاحمت کے بارے میں شکوک کو ہوا دیتی ہے۔

یہ سفر حادثاتی نہیں ہے۔ سامراج کو درکار ’معتدل مسلمانوں‘ کی کھیپ کی تیاری مطلوب ہے۔ وہ مسلمان جو محض نام نہاد ’انتہاپسندی‘ کا مخالف نہیں ہوتا۔(اگرچہ انتہا پسندی نہ قابلِ تعریف ہے اور نہ نظرانداز کرنے کے قابل، بلکہ یہ لفظ سامراجی لغت میں مخصوص پس منظر کے ساتھ مخصوص حلقوں پر ہی تھوپا جاتا ہے) مگر صرف اس حد تک نہیں رُکتا بلکہ وہ اس کھڑکی سے فائدہ اُٹھا کر پورا کھیل کھیلتا ہے اور ’انتہاپسندی‘ کی تعریف کو اس قدر وسیع کردیتا ہے کہ ہرسطح کی مزاحمت اپنی جگہ مشکوک بن جاتی ہے۔ وہ مسلم غصے کی شدت سے مذمت کرتا ہے اور سامراجی یا سامراج نواز مقامی عناصر کے تشدد و سفاکیت کی مذمت کرتے وقت الفاظ اس کے گلے میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔

موصوف کے مداح ہماری ان گزارشات کو ’ناانصافی‘ قرار دیتے ہوئے کہیں گے کہ ’وہ مستقل مزاج ہیں‘۔ واقعی ان کی یہ ’مستقل مزاجی‘ اس بات میں ہے کہ وہ مستضعفین اور زمین کے دبے کچلے لوگوں کو اپنی سیاسی فکریات کا نقطۂ آغاز بنانے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ مخصوص لفاظی کا کھیل کھیلتے ہوئے ترتیب، استحکام، صلاحیت اور نتائج کی اصطلاحوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ یہ سب الفاظ اور اُمور  اہم ہیں، مگر جب یہ سب اصطلاحیں اور الفاظ ظالم کا ہتھیار بن جائیں تو انصاف ایک جھوٹا خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ مظلوم کو تھپکی دے کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک وہ آزادی کا ’اہل‘ نہ ہو جائے۔

تاریخ، انتظار کرنے والوں نے نہیں بنائی۔ نوآبادیاتی حاکمیت اور جبر کے خلاف جدوجہد ہمیشہ خطرے، غلطیوں، قربانیوں اور ناممکن فیصلوں سے آگے بڑھی ہے۔ اس جدوجہد میں تخیل اور عزم شامل تھا، وہی شے جو غامدی صاحب کی سیاست میں گم ہے۔ ان کی دنیا اُن جامد درجہ بندیوں کے بھیس میں سامنے آتی ہے: ’’طاقت ور عمل کرتا ہے، کمزور برداشت کرتا ہے، اور ’عالم‘ وضاحت کرتا ہے‘‘۔

مگر اب دنیا بدل رہی ہے۔ سامراج مطلق العنان نہیں، صہیونیت ناقابلِ شکست نہیں، مسلم حکمران اور مسلم عوام ایک نہیں، اور کوئی ایسا مدرسہ نہیں جہاں شکست خوردہ بچّے ایسے ’ناصحین‘ کی نصیحت کے منتظر ہوں۔ یہ ایک زخم زخم تاریخی قوت ہے زندہ اور دھوکا کھائی ہوئی، مگر خاموش ہرگز نہیں۔ ان صاحب کا المیہ یہ نہیں کہ وہ احتیاط کی تلقین کر رہے ہیں، احتیاط تو بہرحال ضروری ہے۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کی احتیاط سیاسی خاموشی اور موت میں ڈھلنے کا درس دیتی ہے، اور یہ گونگاپن اور اطاعت انگیز فکریات، غلامی کا شکنجہ کسنے سے زیادہ کچھ نہیں۔انھوں نے خودکشی سے بچنے کے حکم کو، مقابلے سے بچنے کا حکم سمجھ لیا ہے، اخلاقی پسپائی کو حکمتِ عملی کی فالج زدگی سے خلط ملط کردیا ہے، اور اعتدال کو مخملی پٹے سے باندھ کر رکھ دیا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں کو بے باک ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم فکر کو محض اس نصیحت تک محدود کر دینا چاہیے کہ مظلوم، جبر کے باڑے میں بند مجبور بھیڑ بکریوں کا سا رویہ اختیار کریں؟ موصوف کا جواب غالباً ’ہاں‘ ہے۔ سامراج اس سے بہتر خطیب اور خطبہ نہیں مانگ سکتا تھا! (ترجمہ: س م خ)

 _______________

مئی ۲۰۲۵ء کے پہلے بارہ دنوں میں دنیا نے انڈین دہشت گردی کی ایک ایسی خون آشامی کا مشاہدہ کیا، جو ریاستی حکمت عملی کی آڑ میں چھپی ہوئی تھی۔ ۲۲؍اپریل کو پہلگام (مقبوضہ کشمیر) میں ہونے والے ایک مہلک حملے میں ۲۶ ؍انڈین ہندو،مسلم سیاح ہلاک ہوئے۔ کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہ کی، کوئی تفتیش نہ کی گئی اور نہ کوئی ثبوت منظر عام پر آیا۔ مگر نئی دہلی نے، حقائق کی عدم موجودگی کے باوجود، الم ناک و اقعے کے صرف آدھ گھنٹے کے اندر اندر اپنی مرضی کا بیانیہ تشکیل دے ڈالا۔ اتنی عجلت میں تمام مرحلوں کا طے کر ڈالنا ریاستی ڈرامے کے خالقوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، کہ انھیں نہ سچائی مطلوب تھی اور نہ ضروری ہی تھی۔ صرف ایک چیز اہم تھی کہ برق رفتاری سے — کشیدگی کی طرف بڑھتے ہوئے، تشدد پر تیار کردہ اپنے عوام کی نفسیاتی تسکین کا سامان کیا جائے۔ 

۷ مئی کی رات، انڈیا کے جنگی طیارے لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے اندر مبینہ شدت پسند ٹھکانوں پر بمباری کر چکے تھے۔ اس کارروائی کا نام ہی ’سندور‘ تھا، یعنی وہ سرخ سفوف جو ہندو عورتیں اپنے شادی شدہ ہونے کی علامت کے طور پر لگاتی ہیں۔ — یہ اپنی جگہ خود ایک علامتی اعلان بھی تھا۔ یہ محض فوجی کارروائی نہ تھی، بلکہ مذہبی علامتوں میں لپٹی سیاسی نمائش تھی___ زعفرانی قوم پرستی اور فضائی بالادستی کا ایک دکھاوا بھرا امتزاج۔ یہ بدلہ نہ تھا، بلکہ رسم تھی۔ یہ حکمت عملی نہ تھی، بلکہ ایک خونیں تماشا تھا۔ یہ قومی دفاع نہ تھا، بلکہ یہ زعفرانی تھیٹر تھا۔ 

اس پوری کارروائی کی منطق سکیورٹی نہیں تھی، بلکہ بہکانا تھا۔ اصل ہدف رائے دہندہ تھے۔ جنگی جہاز، انتخابی مہم کے ہتھیار تھے، مقتولین کو انتقام کے رقص میں شریک کر لیا گیا اور آگے بڑھ کر  بہاولپور، مظفرآباد، مریدکے میں ایک ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا۔جہاں قریب رہنے والوں، گھروں کے بچّے اور عورتیں بھی جاں بحق ہوئیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اس انڈین حملے پر عالمی ردِعمل غصے کا نہیں تھا — بلکہ بےحسی کا تھا۔ ایسا ردعمل، جو ہر نئے ظلم کے ساتھ مزید مکروہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آج کی ظالم جیوپولیٹیکل دنیا میں کس کا خون اہم ہے اور کس کا اہم نہیں، یہ ظلم کی شدت سے نہیں بلکہ گروہی یا نسلی وابستگی سے طے ہوتا ہے۔ 

  • جنگ، نظریاتی خونیں تماشا: ہم اس دور میں جی رہے ہیں، جہاں جنگ لڑی نہیں جاتی — بلکہ ترتیب دی جاتی ہے۔ ہر متعددی ’بم‘ کو سوشل میڈیا پر ’وائرل‘ کرنے کے لیے مرتب اور ایڈٹ کیا جاتا ہے۔ ہر حملے کے ساتھ ہیش ٹیگ ہوتا ہے۔ ہرلاش کو ایک فلٹر سے گزارنا لازم ہے —۔  کیا وہ قابلِ افسوس ہے یا نہیں؟ کیا وہ ’اسٹرےٹیجک‘ ہے یا نہیں؟ پہلگام میں جب سیاح قتل ہوئے، نئی دہلی نے انصاف کا راستہ اختیار نہیں کیا، اس نے اپنی مرضی کا مذموم منظرنامہ چنا۔ نہ کوئی عدالتی تحقیق ہوئی اور نہ فرانزک تجزیہ ہوا۔ صرف ایک بےساختہ اداکاری ہوئی —، اور جنگ بطور تماشا اور ظلم بطور الگورتھم۔ 

بہاولپور ،مظفرآباد اور مریدکے میں مسجد پر حملہ کوئی حادثہ نہ تھا، وہ ایک پیغام تھا۔ وہ مودی کی جانب سے نیتن یاہو کے خون آلود اسکرپٹ کی تکرار تھی۔ اسرائیل میں فلسطینیوں کا منظم قتلِ عام ’اپنے خودار دفاع‘ کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ انڈیا میں کشمیری جانوں کی تباہی کو ’انسدادِ دہشت گردی‘ کا لیبل دیا جاتا ہے۔ دونوں جگہ، شہریوں کا دُکھ جھٹلایا جاتا ہے یا پھر لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ مزاحمت کو جرم بنادیا جاتا ہے، اور ماتم کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض فوجی حکمت عملی نہیں، — یہ ایک خونیں نظریاتی تھیٹر ہے۔ 

  • ’صہیونیت ‘ اور ’ہندوتوا‘ کی مماثلت:کشمیر میں جو کچھ ہوا، وہ انڈیا کی انفرادی کوشش نہیں تھی بلکہ یہ ایک نوآبادیاتی شیطانی اور فرعونی عمل کی تکرار ہے۔ یہ ’صہیونیت‘ کے ظالمانہ باب کو ’ہندوتوا‘ کی موجودہ خواہش کے لیے اپنانے کا اعلان اور عمل ہے۔ نیتن یاہو کی غزہ میں جاری نسل کشی — اسپتالوں، اسکولوں، پناہ گزین کیمپوں کی تباہی، — ایک بے لگام بدمعاش ریاستی طاقت کے وحشیانہ مظاہرے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مودی نے اس ریاستی بدمعاشی کو دیکھا، اس سے متاثر ہوا، اس سے سیکھا اور اس پر عمل کرنے کے لیے چل پڑا۔ 

یہ مشابہتیں محض اتفاقیہ نہیں — بلکہ باقاعدہ طریق کار کا حصہ ہیں۔ نیتن یاہو کا مستقل جنگ جاری رکھنے کا نظریہ، مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہدفی قتل، مغربی تہذیبی درندگی، اور صلیبی جوش و تعصب کا وحشیانہ استعمال، — یہ سب نئی دہلی میں صرف سراہا ہی نہیں جا رہا، بلکہ عملی طور پر اپنایا بھی جا رہا ہے۔ انڈیا اب اسرائیلی نگرانی (Survillence)کا سافٹ ویئر، ڈرون، حتیٰ کہ مخصوص ’جنگی اخلاقیات‘ درآمد کر رہا ہے۔ 

نیتن یاہو اپنے تشدد کو ’یہودی بقا‘ کی زبان میں چھپاتا ہے، جب کہ مودی اسے ’ہندو مظلومیت‘ کے نام پر تقدیس عطا کرتا ہے۔ دونوں اپنے افسانوی اور خیالی ماضی کے صدموں کو حال کے مظالم کا جواز بناتے ہیں۔ دونوں خوف کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، دونوں اپنے دشمن تخلیق کرتے ہیں، اور دونوں مذہب کو نجی عقیدہ نہیں، بلکہ اژدہا بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ صہیونیت اور ’ہندوتوا‘ نہ صرف سانجھے طریقے استعمال کرتے ہیں — بلکہ ایک کائناتی تصور بھی بانٹتے ہیں۔ اسرائیل میں بالادستی مقدس ہے، اور فتح نجات، پھر ’قبضے سے جلاوطن تک‘ غزہ جس اذیت سے گزر رہا ہے، کشمیر تو اس برہمی نسل پرست عقیدے کو مدتوں سے جانتا ہے، انیسویں صدی سے تو مسلسل ۔ 

لیکن اب، قبضہ ایک اور بھیانک رُوپ اختیار کر چکا ہے — یعنی ’جلا ڈالو‘۔ ۲۰۱۹ء میں جب آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے  کو منسوخ کیا گیا، تو یہ کوئی حکومتی اقدام نہ تھا — بلکہ ایک آئینی چال میں لپٹی ہوئی، دُنیا سے بغاوت تھی۔ اُس دن سے، مقبوضہ کشمیر اجتماعی سزا کی تجربہ گاہ بن چکا ہے: اجتماعی گرفتاریاں، مواصلاتی بلیک آؤٹ، ماورائے عدالت قتل۔ جس میں ہر مظاہرہ بغاوت قرار پاتا ہے، ہر کشمیری مشتبہ، باغی اور گردن زدنی ٹھیرتا ہے۔ 

یہ محض جبر نہیں، — یہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی ہے۔ اسرائیلی ڈرونز جو خان یونس پر منڈلاتے تھے، وہ اب کپواڑہ پر بھی منڈلاتے ہیں۔ تل ابیب میں تیار کردہ چہرہ شناس سافٹ ویئر اب سری نگر میں متحرک ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی، حیاتیاتی ڈیٹا کی شناخت، اور پیش گوئی پر مبنی پولیس گردی، — جو کبھی فلسطینیوں پر آزمائی گئی تھی، اب انڈین ریاست کے ہتھیار بن چکی ہے۔ یہ محض فوجی ہم آہنگی نہیں، بلکہ بے حساب ظلم کی عالمی توسیع ہے۔ نسل کشی (Genocide)اب ایک برانڈ بن چکی ہے، جس کے فرنچائز ہر سمت کھل رہے ہیں۔ اس بارے کسی کو  غلط فہمی نہ ہو، یہ ایک عریاں نسل کشی ہے۔ ایسی نسل کشی جو ہمیشہ گیس چیمبر یا اجتماعی قبروں سے شروع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ نسل کشی خاموش بیوروکریسی، معیشت کے گلا گھونٹنے، اور الگورتھمی نقاب میں مسلط کی جاتی ہے۔ ایک قوم کو صرف جغرافیہ سے نہیں، بلکہ یادداشت سے بھی مٹا دیا جاتا ہے۔ 

  • ظلم کا ’معمول‘ بن جانا:نیتن یاہو اور مودی دونوں یہ بات خوب سمجھتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں ظلم کو چھپانے کی ضرورت نہیں، — صرف از سر نو پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ مظلوموں کو بدنام کر دو، اور اُن کے دُکھ کو نئے کوڈ میں لکھ دو۔ غزہ کے تمام مسلمان ’حماس کے ہمدرد‘ بتائے جاتے ہیں۔ سارے کشمیری ’دہشت گردوں کے ہمسائے‘ ٹھیرائے جاتے ہیں۔ ایک بار یہ لیبل لگ جائے، تو جواز خود بخود پیدا ہو جاتا ہے اور دس مزید حملوں کا ’نظریہ‘ بن جاتا ہے۔ 

امریکا و مغرب، جو برسوں سے اسرائیل کی بے لگام درندگی کے شریکِ کار رہے ہیں، انڈیا کو ایک منافع بخش شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسرائیل، امریکی ہتھیاروں سے شہریوں کا قتلِ عام کرتا ہے اور انڈیا یہی کام اسرائیلی ٹکنالوجی سے کرتا ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی زبان کو بے اثر کردیا گیا ہے۔ — وہ محض ’تحمل‘ اور’مذاکرات‘ جیسی مبہم اپیلوں تک محدود ہو چکی ہے۔ واشنگٹن، لندن، جنیوا اور پیرس میں تجارتی معاہدے جنگی جرائم سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جنگی مجرم ’مصلح‘ دکھائی دیتے ہیں۔ نسل پرست قاتل، جمہوریت پر لیکچر دیتے ہیں۔ میڈیا خونریزی کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرتا ہے، تاریخ، اخلاق، اور انجام کی ارتھی اُٹھائے مہاشوں کا ہجوم!یہ صرف اخلاقی انحطاط نہیں — یہ بازاری منطق ہے۔ یعنی قتل، اگر ’درست انداز‘ میں پیش کیا جائے، تو منافع بخش چال ہے۔ 

  • تصادم، پھر جواب:لیکن اس بار پاکستان نے صرف زخم نہیں سہے۔ ۸ مئی کو اسلام آباد نے راجوری اور سانبہ میں انڈین فوجی تنصیبات پر درست جوابی حملے کیے۔ یہ صرف بیان بازی نہ تھی — بلکہ سوچا سمجھا پیغام تھا۔ یہ ایک وارننگ تھی کہ اگر مہم جوئی بڑھی، تو اس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔ یہ میدانِ جنگ میں ایک سفارت کاری تھی، — آواز کی رفتار سے تیز سفارت کاری۔ 

اب جنوبی ایشیا ایک خطرناک کنارے پر کھڑا ہے۔ دو ایٹمی ریاستیں، ایک ایسی قیادت کے ہاتھوں یرغمال ہیں، جو مذہبی اور قومی نسل پرستی کے خواب میں مدہوش ہے۔ ایک غلطی، ایک غلط اندازہ، اور پورا برصغیر پاک و ہند راکھ ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی ڈراوا نہیں، — یہ ریاضی کا ایک سیدھا جواب ہے۔ علاقہ جوہری تاب کاری میں بھڑکنے اور قیادت بھڑنے کی دہلیز پر ہے۔ اور دنیا، حسبِ معمول، اپنی ہی دُنیا میں گم۔مودی اور نیتن یاہو جو کچھ کھیل رہے ہیں، وہ صرف اپنے دشمنوں کی تقدیر سے نہیں —، ہم سب کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں۔ 

  • ’ہسبارہ‘ اور ’ہندوتوا‘ ایک زہریلا امتزاج:اسرائیل اسے ’ہسبارہ‘ کہتا ہے، یعنی — ریاستی جھوٹ، پردہ پوشی اور انکار کا نظام۔ انڈیا اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ مودی کے انڈیا میں سچ جرم بن چکا ہے، صحافت غداری ہے، حقیقت کی جانچ اشتعال انگیزی ہے اور اختلاف رائے ملک دشمنی ہے۔ جو میڈیا مہم کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ریاستی نگرانی میں بدل چکا ہے۔ 

مودی کے انڈیا میں افسانہ قانون بن چکا ہے، اور قانون محض افسانہ۔ نیوز اینکر خبریں نہیں دیتے، نعرے لگاتے، چیختے اور چنگھاڑتے ہیں۔ مؤرخین تشریح نہیں کرتے، — وہ نشانے باندھتے ہیں۔ یونی ورسٹیاں علم کی جگہ نہیں فکری غلامی کے کارخانے بن چکی ہیں۔ ’ہندوتوا‘ کوئی قدامت پسند نظریہ نہیں، — یہ نسلی برتری کا وحشیانہ مذہب ہے۔ یہ ایک ایسا ہندو ریاستی خواب دیکھنا ہے جو مسلمان، عیسائی، دلت، اور اختلاف رائے، سب کو آلودگی قرار دے کر ان کے خاتمے اور کچلنے کا پیغام دیتا ہے۔ ’ہندوتوا‘ کا منصوبہ، صہیونیت کی طرح، صرف تابع داری نہیں چاہتا — بلکہ خاتمہ۔ اسے صرف غلبہ نہیں چاہیے — بلکہ یکسانیت چاہیے۔ انڈیا اور اسرائیل دونوں میں ریاست اب ادارہ نہیں — مذہبی قربانی کی مقتل گاہ بن چکی ہے۔ 

  • جب ماتم مزاحمت ہوجائـے:غزہ میں بچّے منہدم کنکریٹ کے نیچے دفن ہو رہے ہیں، اور نیتن یاہو فوجی اڈوں کے دورے پر کیمروں کے سامنے مسکرا رہا ہے۔ بہاولپور، مظفرآباد، مریدکے میں بچّے مسجد میں شہید ہوتے ہیں، اور انڈین اینکر اسے ’سرجیکل کامیابی‘ قرار دیتے ہیں۔ کشمیر میں مائیں اپنے بیٹوں کا ماتم کرتی ہیں، جنھیں ’دہشت گرد‘ قرار دے کر لاشیں واپس نہیں کی جاتیں۔ یہ خون آلود واقعاتی یکسانیت حادثاتی نہیں بلکہ پالیسی ہے۔ شہری محض چھوٹے موٹے نقصان سے گھائل نہیں — بلکہ خاتمے کا نشانہ ہیں۔ ماتم خود ایک مزاحمت بن چکا ہے۔ یہ بغاوت ایک ایسی ریاست کے خلاف کھڑی ہے جو صرف خاموشی چاہتی ہے۔یہ جنگ نہیں، نسلی تطہیر ہے، ہیش ٹیگ کے ساتھ۔ یہ ایک ’غیر مطلوب قوم‘ کی رسمِ قتل ہے — مذہبی حوالے سے ’جائز‘ اور عالمی طاقتوں کے ذریعے مالی امداد یافتہ۔  
  • یہ مشق نہیں ___ یہ حقیقت ہـے:غزہ اور کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ عالمی نظام سے انحراف نہیں — بلکہ اسی کا لازمی نتیجہ ہے۔ مودی صرف نیتن یاہو کو دیکھ نہیں رہا، — وہ اسے پڑھ رہا ہے، نقالی کر رہا ہے، اور اس کے ہتھیاروں کو نکھار رہا ہے۔ نیتن یاہو صرف فلسطینیوں کو قتل نہیں کر رہا — وہ ظالموں کی نئی عالمی نسل کی تربیت کر رہا ہے۔ یہ ’نیتن مودی‘ صرف اتحاد نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے: مذہبی علامتوں اور سمارٹ بموں کے ساتھ جدید فسطائیت کا۔ 

اور جب دنیا خوفناک تباہی کے کنارے پہنچ چکی تھی، ۱۰ مئی کو ایک جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ انڈیا اور پاکستان نے مزید کشیدگی روکنے پر اتفاق کیا۔ تب میدان میں داخل ہوا ڈونلڈ ٹرمپ، خود ساختہ ’امن کا پیغامبر‘۔ جس نے فوراً یہ کریڈٹ لیا کہ ’اس نے برصغیر کو پُرسکون کر دیا‘۔ دو جوہری ممالک کی قسمت ایک کھوکھلے لیڈر کے کریڈٹ شو کی نذر ہو جائے، یہ ایک مضحکہ خیز اور شرمناک منظر ہے۔مگر دھوکا نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ یہ جنگ بندی کسی امن کی تمہید نہیں۔ — یہ محض وقفہ ہے۔ غزہ میں اب بھی شعلے بھڑک رہے ہیں۔ کشمیر میں اب بھی نگرانی کے ٹاور غرا رہے ہیں۔ اور جو نظریہ اس قتل گاہ کو چلارہا ہے، وہ اب بھی پھیل رہا ہے تیزرفتار — کینسر کی طرح۔ 

  • اسٹیج جل رہا ہـے:تاریخ اُن لوگوں کے ساتھ نرمی نہیں برتے گی: جنھوں نے یہ سب دیکھ کر کچھ نہ کیا، اُن سفیروں کے ساتھ جنھوں نے کھوکھلے بیانات دیے، اُن میڈیا اداروں کے ساتھ جنھوں نے جھوٹ کو دہرایا، اور اُن شہریوں کے ساتھ جنھوں نے صرف اس لیے منہ پھیر لیا کہ لاشیں ’سفید فام‘ نہ تھیں۔ 

یہ ان سب کے لیے پکار ہے، جو انصاف کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وقت گزر چکا ہے۔ مظلوم محض علامتیں نہیں، — وہ بیٹے، بیٹیاں، خاندان اور مستقبل ہیں۔ غزہ اور کشمیر میدانِ جنگ نہیں، نسل پرست — جرم کے منظرنامے ہیں۔ اور اگر اس پر کھل کر، بے خوف ہو کر، اکٹھے ہو کر آواز نہ اٹھائی — تو ہم تماشائی نہیں رہیں گے —، ہم شریکِ جرم بن جائیں گے۔اگلا باب بلوچستان، کراچی، سری نگر، یا رفح میں کھل سکتا ہے۔ 

سوال اب یہ نہیں کہ ہم عمل کریں گے یا نہیں، — بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم میں اتنی اخلاقی ہمت ہے کہ ہم تباہی کے اس انجن کو روک سکیں؟ اس سے پہلے کہ یہ ہمیں بھی کچل کر چلا جائے۔ کیونکہ یہ کھیل کا اختتام نہیں۔ — یہ وہ لمحہ ہے جب ناظرین فیصلہ کرتے ہیں:کیا وہ کھڑے ہوکر اپنے آپ کو بچائیں گے؟ یا جلتے اسٹیج کے ساتھ جل جائیں گے؟