محمد مبارک شاہ


تحریکِ آزادیِ جموں و کشمیر اس وقت اپنے تاریخی سفر کے ایک ایسے سنگ میل پر کھڑی ہے جہاں روایتی اسلوبِ سیاست اور معاصر عالمی حرکیات کے درمیان ایک گہرا تصادم دکھائی دیتا ہے۔ اگست ۲۰۱۹ء میں دفعہ ۳۷۰  اور ۳۵-اے کے یکطرفہ خاتمے، کشمیری مقتدرہ کے تاریخی جغرافیائی بکھراؤ، اور بعد ازاں ستمبر ۲۰۲۱ء  میں قائد ِ تحریک سید علی شاہ گیلانیؒ کی رحلت نے وادی کے سیاسی اُفق پر بظاہر ایک بڑا خلا پیدا کیا۔ اس خلا کو بنیاد بنا کر اور نوآبادیاتی حصار کے بل بوتے پر انڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوچکا ہے۔ مگر تاریخِ انسانی کا یہ مسلمہ قانون ہے کہ جب جبر کا دباؤ حد سے بڑھ جائے، تو حق کی تحریکیں فنا نہیں ہوتیں بلکہ معاصر تقاضوں کے تحت اپنا رنگ، زبان اور حکمتِ عمل تبدیل کر لیتی ہیں۔ یہ دراصل اس قرآنی اصول کا مظہر ہے کہ حق کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے، لیکن اسے مٹایا نہیں جاسکتا۔

کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو امید اور مایوسی کی داخلی کش مکش سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ سطحی طور پر دیکھا جائے تو وادی کے اندر ایک گہرا جمود اور فکری گھٹن موجود ہے۔ ’آل پارٹیز حریت کانفرنس‘ (APHC) کی بنیادی قیادت، برسوں سے تہاڑ جیل جیسی عقوبت گاہوں میں اسیر ہے اور ان کا روایتی تنظیمی ڈھانچا مفلوج ہو چکا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کی سرگرمیاں بھی شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔ عوامی سطح پر سخت ترین مواصلاتی نگرانی اور جدید ترین ٹکنالوجی کے باعث روایتی سرگرمیاں کم ترین سطح پر آ چکی ہیں۔ مسلسل جانی و مالی نقصان اور طویل مواصلاتی بندشوں نے عام کشمیری میں ایک عارضی تھکن ضرور پیدا کی ہے، جسے بعض مبصرین مایوسی کا نام دیتے ہیں۔

لیکن اس تزویراتی خاموشی کے بطن سے ایک گہری امید جنم لے رہی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کے سیاسی منظرنامے نے ثابت کیا کہ کشمیری عوام نے بائیکاٹ کی روایتی لکیر سے ہٹ کر انتخابی اور آئینی محاذ کو غاصبانہ ایجنڈے کے خلاف ایک ’دفاعی ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ روایتی جماعتوں کو دیا جانے والا عوامی مینڈیٹ یا جیلوں سے اُبھرنے والے متبادل چہروں پر اعتماد کا اظہار، دراصل اس بیانیے پر کاری ضرب ہے کہ کشمیریوں نے یک طرفہ اقدامات کو دل سے قبول کر لیا ہے۔

  •  سیاسی و فکری تبدیلی:کشمیر کی آزادی کی تحریک اس وقت ایک اہم ’سیاسی و فکری ارتقاء‘ سے گزر رہی ہے۔ یہ ارتقاء جذباتی نعروں سے نکل کر اسٹرے ٹیجک پختگی کی طرف سفر ہے:
  •   نوجوان نسل کی نئی سوچ: مقبوضہ کشمیر کی موجودہ نوجوان نسل اب گلیوں میں جذباتی احتجاج کے بجائے قلم، قانون، اور علم کو اپنا ہتھیار بنا رہی ہے۔ وہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹرز، اور جنیوا کنونشن کا گہرا مطالعہ کر کے دلیل کی زبان میں دنیا سے مخاطب ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ فکری اور علمی طور پر مضبوط ہوئے بغیر جدید استعمار کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔
  •    تحریک کا تنظیمی منظرنامہ: عالمی مالیاتی قوانین، بین الاقوامی معاشی دباؤ، اور خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس نے روایتی سیاسی و تنظیمی ڈھانچے کے لیے کئی نئی حدود متعین کردی ہیں۔ اب تحریک کو ایسے دانش وروں، قانون دانوں اور سفارت کاروں کی ضرورت ہے جو عالمی فورمز پر حقائق کی بنیاد پر دباؤ بڑھا سکیں۔
  • سماجی بقا کا سب سے بڑا چیلنج: آبادیاتی تبدیلی:آج کشمیر کا سب سے بڑا اور سنگین ترین ایشو ان کی اپنی آبادیاتی بقا (Demographic Survival) ہے۔ نئے ڈومیسائل قوانین کے ذریعے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کی شہریت دینا، مقامی لوگوں سے زمینیں چھین کر نوآبادیاتی مقاصد کے لیے منتقل کرنا، اور انتخابی حلقہ بندیوں کے ذریعے مسلم اکثریت کی سیاسی طاقت کو اقلیت میں بدلنا، یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جو کشمیریوں کے وجود کو مٹانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ اب محض ایک سیاسی آزادی کی جنگ نہیں، بلکہ اندلس اور فلسطین کی طرح اپنی دھرتی پر اپنی اسلامی و تاریخی شناخت برقرار رکھنے کی فکری معرکہ آرائی ہے۔
  • ابلاغی صورتِ حال اور نمائندگی کا تضاد:خارجی میڈیا کے بیانیے اور کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کو پیش کرنے کے انداز میں ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے:
  •   مواصلاتی قدغنیں: وادی کے اندر طویل ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اور آن لائن سنسرشپ نے نوجوانوں کو شدید تعلیمی اور معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے اندر بھی معاشی و سیاسی مطالبات پر مبنی حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران طویل انٹرنیٹ کی بندش اور زمینی مشکلات نے عام زندگی اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کیے رکھا۔
  •    عالمی میڈیا کی خاموشی: بین الاقوامی ابلاغی ادارے صرف اس وقت سرگرم ہوتے ہیں جب کشمیر میں کوئی اچانک بڑا بحران پیدا ہو۔ وہ اس پیچیدہ انسانی حقوق کے بحران کو محض دو پڑوسیوں کے درمیان ایک روایتی ’دو طرفہ سرحدی تنازعے‘ کے محدود فریم ورک میں پیش کرتے ہیں۔
  •    پاکستانی میڈیا کی حدود: یہ میڈیا مستقل سفارتی و اخلاقی موقف تو برقرار رکھتا ہے، لیکن کشمیری نوجوانوں کے داخلی، سماجی و معاشی ارتقاء یا خود آزاد جموں و کشمیر کے اندرونی عوامی مظاہروں کی باریکیوں کو اس گہرائی سے پیش کرنے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
  • مختلف محاذوں کے تقاضے:اگر آزادی کی تحریک کو عالمی دھارے میں شامل کرنا ہے اور موجودہ سیاسی خلا کو پُر کرنا ہے، تو میڈیا تنظیموں اور کارکنان کو درج ذیل اہم محاذوں پر کام کرنا ہوگا:
  •    بین الاقوامی قانون کا فریم ورک: کشمیر کے مسئلے کو چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت ’سیٹلر کولونیل ازم‘ (Settler Colonialism) کے تحت اسے نوآبادیاتی نظام کے طور پر پیش کیا جائے، جہاں ایک طاقت مقامی آبادی کا تناسب زبردستی بدل رہی ہے۔
  •    محفوظ فکری اشتراکِ عمل (انکرپٹڈ ماڈل): وادی کے اندر موجود وکلا اور صحافی زمینی شواہد اور اعداد و شمار کو جدید ترین محفوظ ڈیجیٹل ایپس (جیسے Signal یا Session وغیرہ) کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن تک پہنچائیں۔ بیرونی گروپس ان کا انٹرنیٹ کا حوالہ ختم کر کے اسے اپنے نام سے عالمی میڈیا کے سامنے پیش کریں، تاکہ وادی کا نوجوان بھی محفوظ رہے اور پیغام بھی عام ہو۔
  • ہمہ جہت ذمہ داریاں:تحریکِ کشمیر کے اس جدید دور میں، مختلف جغرافیائی خطوں میں موجود نوجوانوں اور بین الاقوامی ڈائیسپورا پر الگ الگ اور انتہائی اہم فریضہ عائد ہوتا ہے:
  •   مقبوضہ کشمیر کے نوجوان (ڈیجیٹل بقا اور فکری حصار): وادی کے اندر موجود نوجوانوں کے لیے سب سے پہلا اصول ’حفاظت اوّل‘ ہے۔ انھیں گمنام ڈیجیٹل شناختوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ ان کی بنیادی ذمہ داری مقامی تاریخ، دستاویزی شواہد، اور زمینی حقائق کو محفوظ کرنا اور انھیں محفوظ ترین خفیہ ذرائع سے بیرونی دنیا تک منتقل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انھیں تعلیمی اور علمی میدانوں میں خود کو اس حد تک مضبوط کرنا ہے کہ وہ نوآبادیاتی نظام کی فکری و تہذیبی غلامی کا شکار نہ ہوں۔
  •   آزاد جموں و کشمیر کے نوجوان (تحریک کا ابلاغی توازن):ان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی آواز کو عالمی سطح پر بلند کرنے کے لیے ایک پُل کا کردار ادا کریں۔ جہاں وہ اپنے مقامی معاشی، سیاسی اور انتظامی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، وہیں انھیں یہ توازن برقرار رکھنا ہوگا کہ ان کی مقامی تحریکیں مقبوضہ وادی کی بنیادی تحریکِ آزادیِ کشمیر کے عظیم تر مقصد اور عالمی مقدمے سے اوجھل نہ ہوں۔
  •   پاکستان میں موجود نوجوان (تکنیکی پشت پناہی اور علمی دفاع): پاکستانی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ روایتی نعرے بازی یا انٹرنیٹ پر بھارتی آئی ٹی سیل کے ساتھ لاحاصل بحثوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے وادی کے نوجوانوں کو سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن کی تکنیکی تربیت فراہم کریں۔ انھیں انگریزی، عربی اور فرانسیسی زبانوں میں معلوماتی بلاگز اور فیکٹ شیٹس بنا کر عالمی تھنک ٹینکس تک پہنچانی چاہئیں۔
  •   عالمی لابنگ اور قانونی چارہ جوئی: بیرونِ ملک مقیم کشمیری تارکینِ وطن اس تحریک کی عالمی سفارتی چھتری ہیں۔ ڈائسپورہ کے نوجوانوں اور قانون دانوں کو چاہیے کہ وہ مغربی دنیا کی یونی ورسٹیوں میں علمی بیانیے کو عام کریں۔ وہ عالمی انسانی قوانین (IHL) کے تحت بیرونی عدالتوں میں انسانی حقوق پامال کرنے والے حکام کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کریں اور معاشی و تکنیکی استحکام کے لیے قانونی فاؤنڈیشنز قائم کریں۔
  • پاکستان - اسٹرے ٹیجک فریضہ:پاکستان اس وقت جیو پولیٹیکل، معاشی اور بیرونی محاذوں پر شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ملکی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے لیے مسئلہ کشمیر پر سرد مہری، خاموشی یا عارضی مفاہمت پسندانہ منصوبوں کو قبول کرنا ایک فاش تزویراتی اور تاریخی غلطی ہوگی۔
  •    دفاع اور جغرافیے کا مستقل خطرہ: کشمیر پر کسی بھی قسم کی پسپائی یا خاموشی سے غاصبانہ عزائم تھمیں گے نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اپنے جغرافیائی اور دفاعی حدود پر مستقل خطرات اور سیکیورٹی دباؤ میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
  •    مذہبی و سماجی جماعتوں کے لیے رہنما خطوط : پاکستانی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر ایک مستقل اور اٹل ’قومی اتفاقِ رائے ‘ (National Consensus) پیدا کریں۔ موجودہ ملکی دباؤ کا حل سرد مہری یا لاپروائی نہیں، بلکہ اسمارٹ اور ڈیٹا پر مبنی سفارت کاری ہے۔ پاکستان کی مذہبی اور سماجی تنظیموں کو اپنے ملک گیر اور بیرونی نیٹ ورکس کو متحرک کر کے عالمی فورمز پر ’سیٹلر کولونیل ازم‘ کے خلاف قانونی و فکری پشت پناہی فراہم کرنی چاہیے، تاکہ وادی کی نئی نسل کو ایک مضبوط اور پائیدار سفارتی تحفظ میسر آ سکے۔ یہ دراصل اُمتِ مسلمہ کے اس فریضے کی ادائیگی ہے جس کا حکم قرآن نے مظلوموں کی نصرت کے لیے دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی اپنے روایتی دور کو پیچھے چھوڑ کر ایک جدید، علمی اور ٹکنالوجیکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ شخصیات کی وفات یا گرفتاری سے پیدا ہونے والا خلاعارضی ہے، کیونکہ کشمیریوں کا جذبۂ خودارادیت اب ان کی اپنی بقا کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہ معرکہ اب صرف روایتی مزاحمت کا نہیں، بلکہ مستند ڈیٹا، عالمی قانون کی کتاب، اور اسٹرے ٹیجک ابلاغی مہم کا ہے۔ مقبوضہ وادی کی خاموش مزاحمت، آزاد کشمیر کی بیداری، پاکستان کے نوجوانوں کی تکنیکی پشت پناہی، اور بین الاقوامی سطح پر لابنگ مل کر ایک ایسا تزویراتی تال میل بناسکتے ہیں، جو مایوسی کے اندھیروں کو چیر کر مستقبل کی تاریخ کا رخ موڑنے کا اہل ٹھیرے گا۔

 _______________

۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کا دن تاریخِ کشمیر میں ایک ایسے تاریک موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے خطے کی جغرافیائی اور سیاسی حرکیات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انڈیا کی جانب سے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کا یک طرفہ خاتمہ محض ایک قانونی ترمیم نہیں تھی، بلکہ یہ وادیِ جموں و کشمیر پر مستقل سیاسی، جغرافیائی اور نظریاتی تسلط قائم کرنے کے اس طویل مدتی ’ہندوتوا ایجنڈے‘ کا نقطۂ آغاز تھا، جس کے سدباب کے لیے نئی دہلی کی حکومت، عشروں سے پَر تول رہی تھی (یہ حکومت بی جے پی کی ہو یا کانگریس کی، دونوں میں بدنیتی کا عنصر غالب طور پر دیکھا جاسکتاہے)۔ آج، برسوں بعد، وادیِ کشمیر ایک ایسے جدید محاصرے میں ہے جہاں گولیوں کی گھن گرج سے زیادہ قانون، بیوروکریسی اور آبادیاتی تبدیلیاں ایک پوری قوم کی شناخت کو خاموشی سے نگل رہی ہیں۔

اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں، تو اگست سے نومبر ۱۹۴۷ء کے دوران پونچھ اور جموں میں ہونے والا مسلمانوں کا لرزہ خیز قتلِ عام یاد آتا ہے، جہاں مسلم اکثریتی خطے کو ہندو اکثریت میں بدلنے کے لیے دو لاکھ سے زیادہ نفوس کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ موجودہ دور میں، ڈیجیٹل میڈیا، سیٹلائٹ نگرانی اور عالمی برادری کی موجودگی کے باعث انڈیا کے لیے وادی میں ایسا ننگا اور براہِ راست فوجی قتلِ عام کرنا سفارتی سطح پر نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن اب یہی کام ’قانونی اور بیوروکریٹک نسل کشی‘ کے ذریعے، مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے مسلسل کیا جارہا ہے۔

نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت لاکھوں غیر کشمیری ہندوؤں، مزدوروں اور ریٹائرڈ انڈین فوجیوں کو وادی کی مستقل شہریت دینا اور مسلم علاقوں میں خصوصی بستیاں قائم کرنا، اسرائیل کے مغربی کنارے والے آباد کاری کے ماڈل کی ہو بہو عکاسی ہے۔ اس مہم کا واحد مقصد مسلم اکثریت کو اپنے ہی گھر میں معاشی اور سیاسی طور پر اقلیت بنانا ہے، تاکہ مستقبل میں استصوابِ رائے یا سیاسی عمل کو ہمیشہ کے لیے بے اثر کیا جا سکے۔

ہندوتوا نظریاتی اور تعلیمی یلغار

  •  نئی دہلی کے مقاصد صرف زمین پر قبضے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کا سب سے بڑا نشانہ کشمیریوں کا فکری، ثقافتی اور مذہبی تشخص ہے۔ جموں و کشمیر میں نافذ کردہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے پردے میں نصابی کتابوں سے مسلم حکمرانوں اور کشمیر کی اپنی تاریخی شناخت کے ابواب حذف کیے جا رہے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں مسلم طلبہ کے لیے صبح کی اسمبلی میں ہاتھ جوڑ کر ہندو مذہبی بھجن گانا اور سوریا نمسکار (سورج کی پوجا) جیسے ہندوانہ طور طریقے لازمی کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد نئی نسل کے عقائد کو کمزور کرنا ہے۔

اس کے ساتھ ہی، کشمیر کی صدیوں پرانی تعلیمی اور رابطہ زبان ’اردو‘ کو بتدریج پسِ پشت ڈال کر، ہندی اور انگریزی کو زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ نئی نسل اپنی تحریری تاریخ اور لٹریچر سے کٹ جائے۔

  •  اس فکری و تعلیمی یلغار کا سب سے بڑا نشانہ وادی کا وہ مضبوط ترین نیٹ ورک بنا ہے، جو کشمیری بچوں کو روایتی و اسلامی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی کر رہا تھا۔ انڈین حکومت نے ایک سوچی سمجھی تعزیری اور تادیبی حکمتِ عملی کے تحت جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر اور اس کے تعلیمی ونگ ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ (FAT) پر نہ صرف سخت ترین پابندی عائد کی، بلکہ ان کے خلاف ایک بے رحم اور انتقامی کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔

اس تادیبی رویے کے تحت ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ کے زیرِ انتظام چلنے والے سیکڑوں نجی اسکولوں اور ’جامعہ سراج العلوم‘ جیسے بڑے تعلیمی اداروں اور مدارس کو ’انسدادِ دہشت گردی‘ کے کالے قوانین کے تحت جبراً سیل کر دیا گیا۔ ان اسکولوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے اور ان کی اربوں روپے مالیت کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی و مقامی قائدین اور اساتذہ کو بے بنیاد مقدمات میں جکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

  • ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ کے متوازی، انڈین حکومت نے کشمیر میں ایک وسیع سرکاری اسکول نیٹ ورک کو انتہائی منظم انداز میں متحرک کیا ہے۔ یہ نیٹ ورک ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ کے بالکل الٹ، ایک ایسی نسل تیار کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جو اپنے روایتی اسلامی عقائد سے بیزار اور فکری طور پر ’ہند موافق‘ ہو۔

ان اسکولوں میں سیکولرازم اور جدید تعلیمی اصلاحات کے نام پر بچوں کو مذہب سے دور کرنے والا مادہ پرستانہ ذہن تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں اسلامی شعائر کو پسماندگی کی علامت اور انڈین قوم پرستی کو ترقی کا واحد راستہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نصاب اور تدریسی سرگرمیوں کا ڈھانچا اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ طلبہ کے دلوں سے کشمیر کے دیرینہ سیاسی کاز اور مذہبی حمیت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ مقامی دانش ور اس عمل کو ’تعلیمی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہیں، جس کے ذریعے لاکھوں کشمیری طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا کر انھیں نفسیاتی طور پر مغلوب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مذہبی آزادی اور اوقاف پر قبضہ

کشمیر کا مسلم اکثریتی تشخص ہمیشہ سے انڈین قوم پرستی کے راستے میں سب سے بڑی نظریاتی دیوار رہا ہے۔ اس دیوار کو گرانے کے لیے حال ہی میں ’وقف بورڈ ترمیمی ایکٹ‘ متعارف کروایا گیا ہے۔ اس کے تحت مساجد، خانقاہوں اور مزارات کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کو انڈین بیوروکریسی کے ماتحت کیا جا رہا ہے، اور ان مسلم بورڈز میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت کا قانونی راستہ بھی ہموار کیا گیا ہے، جسے مقامی علما اپنی مذہبی خودمختاری پر سیدھا حملہ قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔

وادی کی مساجد کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور خطباتِ جمعہ کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جاتی ہے، تاکہ کشمیر کی آزادی یا انسانی حقوق پر کوئی آواز بلند نہ ہو سکے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کی بار بار تالہ بندی اور اہم اسلامی تہواروں پر پابندیاں اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ وادی میں اسلامی راہ نمائی کو ایک سیکیورٹی رسک سمجھ کر دبایا جا رہا ہے۔

اسرائیل کی عسکری سرگرمیوں کا تفصیلی احاطہ

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈیا کی اس طویل مدتی مہم کو جس بیرونی عسکری و تکنیکی شراکت داری سے سب سے زیادہ توانائی مل رہی ہے، وہ اسرائیل ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، کشمیر کا خطہ اس وقت اسرائیل کی جدید ترین جنگی ٹکنالوجی اور جنگی نظریات کی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ اسرائیل کی عسکری سرگرمیاں اور اشتراک درج ذیل پانچ بڑے ستونوں پر کھڑا ہے:

  1.  فضائی جاسوسی اور ’ڈرون وارفیئر‘ (Drone Warfare): لائن آف کنٹرول اور مقبوضہ وادی کے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر چوبیس گھنٹے کڑی نظر رکھنے کے لیے انڈین فوج اسرائیل کے تیار کردہ ہیرون (Heron) اور سرچر (Searcher) ڈرونز کا استعمال کر رہی ہے۔ یہ ڈرونز تھرمل امیجنگ اور جدید ترین سنسرز سے لیس ہیں، جو عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ مقامی شہریوں کی روزمرہ زندگی کی جاسوسی کے لیے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
  • اربن وارفیئر اور کمانڈو ٹریننگ (Urban Warfare Training): بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز اور اسپیشل فورسز کے دستوں کو تل ابیب کی خصوصی فوجی تنصیبات میں تربیت دی جاتی ہے۔ اسرائیلی دفاعی فورسز انڈین فوجیوں کو ان عسکری ہتھکنڈوں کی تربیت دیتی ہیں، جو وہ غزہ اور مغربی کنارے کے گنجان آباد مسلم علاقوں میں فلسطینیوں کی مزاحمت کچلنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس میں گھروں کا محاصرہ کرنا، آبادی کو یرغمال بنانا، اور شہری علاقوں میں گوریلا جنگ لڑنا شامل ہے۔
  •  اسمارٹ فینسنگ اور بارڈر کنٹرول سسٹم: مقبوضہ کشمیر کے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے نام پر لائن آف کنٹرول پر جو جدید باڑ اور الیکٹرانک سیکیورٹی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں، وہ خالصتاً اسرائیلی ٹکنالوجی سے تیار کی گئی ہیں۔ اس میں حرکت کو محسوس کرنے والے سنسرز، لیزر گنز، اور نائٹ ویژن کیمرے شامل ہیں، جو اسرائیل کی اس متنازع ’سکیورٹی دیوار‘ کی نقل ہیں، جو اس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بنا رکھی ہے۔
  • جدید انفرادی اسلحہ اور صوتی ہتھیار: انڈین فوج کشمیر میں کارروائیوں کے لیے روایتی روسی کلاشنکوف کے بجائے اسرائیل کی تیار کردہ ’تاوور‘ (Tavor) اسالٹ رائفلز اور جدید کاربائنز کا استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ عمومی مظاہروں کو کچلنے کے لیے اسرائیل سے درآمد شدہ صوتی ہتھیار اور پیلٹ گنز کی جدید ترین شکلیں استعمال کی جا رہی ہیں، جو انسانی اعضاء کو ناکارہ بنا دیتی ہیں۔

۵- تعزیری مسماری (Punitive Demolitions): اسرائیل کی جانب سے فلسطینی حریت پسندوں کے خاندانوں کے گھروں کو بلڈوز کرنے کی عسکری حکمتِ عملی کو بھارتی فوج نے کشمیر میں ہو بہو اپنایا ہے۔ عسکریت پسندی کی حمایت کے شبہ میں کشمیری مسلمانوں کے مکانات، کاروباری دکانوں اور جائیدادوں کو دھماکوں سے اڑانا یا مسمار کرنا، اسی اسرائیلی جارحانہ ماڈل کا حصہ ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کی ہولناک رپورٹس

اقوامِ متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، فریڈم ہاؤس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ سالانہ رپورٹیں، مقبوضہ وادی کی مخدوش صورتِ حال پر شدید احتجاج کر رہی ہیں۔ ان عالمی اداروں کے مطابق، عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کے نام پر اب تک ۲۸۰۰ سے زائد صحافیوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کو ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ جیسے کالے قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ معلومات تک رسائی کو مکمل طور پر بلاک کرنے کے لیے۸ہزار سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں اور ۲۵ سے زائد اہم کتابوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ حراستی اموات اور تشدد کے منظم واقعات وادی کے سیاسی منظرنامے کو مزید بھیانک بنا رہے ہیں۔

پاکستان کی ریاست اور دینی تنظیموں کا فرض

ایسے وقت میں، جب کہ پاکستانی ریاست اندرونی معاشی و سیاسی عدم استحکام اور بین الاقوامی اسٹرے ٹیجک دباؤ کے باعث کشمیر پالیسی پر ایک غیر معمولی دفاعی خاموشی اختیار کیے ہوئے دکھائی دیتی ہے، پاکستان کی دینی اور نظریاتی تنظیموں کی ذمہ داری دگنی ہو جاتی ہے۔ اس ماحول میں جماعت ِ اسلامی جیسی منظم نظریاتی جماعتیں، جن کا کشمیر کی تحریکِ آزادی کے ساتھ ایک طویل، فکری اور خون کا رشتہ رہا ہے، اپنا یہ تاریخی فرض ادا کر رہی ہے۔ مگر یہ چیلنج جتنا بڑا ہے، اسے دیکھ کر ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کشمیر کے مقدمے کو عوامی اور عالمی فورمز پر زندہ رکھنے کے لیے نئے سرے سے صف بندی کی جائے اور تسلسل قائم رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان کے مذہبی اداروں اور علمائے کرام کو مساجد، منبر و محراب اور عوامی سیمی ناروں کے ذریعے پاکستانی عوام، بالخصوص نئی نسل میں کشمیر کی نظریاتی تڑپ کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی، اوورسیز نیٹ ورکس اور عالمی مسلم تنظیموں کے ذریعے انڈیا کے ’ثقافتی اور تعلیمی جبر‘ کو بے نقاب کرنا، اور آئینی دائرے میں رہ کر ریاستی پالیسی پر پرامن دباؤ قائم رکھنا وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے وادی کے مظلوم مسلمانوں کو تنہائی اور مایوسی کے اندھیروں سے نکالا جاسکتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے۔ اگر عالمی ضمیر، انسانی حقوق کے علَم برداروں ، اُمتِ مسلمہ، خصوصاً مملکت خدا داد پاکستان نے انڈیا کی اس خاموش، قانونی اور آبادیاتی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی برقرار رکھی، تو جغرافیائی نقشے پر وادیِ کشمیر کا نام تو شاید موجود رہے، لیکن اس کا صدیوں پرانا اسلامی، ثقافتی اور تاریخی تشخص ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ یہ وقت سطحی بیانات کا نہیں، بلکہ علمی، قانونی، سفارتی اور عوامی سطح پر اس فکری و جغرافیائی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط اور پائیدار بند باندھنے کا ہے۔

_______________