مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۲۶

ہر معاشرے کی سماجی اور قومی زندگی میں شہریوں کو متعدد مشکلات اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ سنجیدہ، دوراندیش اور سمجھ دار لوگ اور ان کی قیادتیں، یقینا ان مشکلات کو دور کرنے اور معاشرے میں پھیلی اُلجھنوں کا مداوا کرنے کے لیے بہتر سے بہتر حل تلاش کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں۔ صبرو تحمل، فکری بیداری، نظم و ضبط اور دلیل کے ساتھ راستہ بناتی اور حصولِ منزل کی شاہراہ پر چلتی ہیں۔

اس کے برعکس عجلت پسند قوتیں، معاشرے کی ان ہی کمیوں اور کمزوریوں کو لے کر، مبالغے کی یلغار اور جذبات کی آگ کے الائو کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیںکہ حالات خود ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ بعض بدنصیب تو ان شعلوں کو بھڑکانے کے لیے اپنے ہاتھوں اپنوں تک کو بھی اس کش مکش کی بھینٹ چڑھانے سے باز نہیں آتے۔

جون ۲۰۲۶ء کے پہلے عشرے میں آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں اسی نوعیت کے افسوس ناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ جہاں سراسر ایک آئینی اور سماجی مسئلہ تصادم کا پیش خیمہ بن گیا۔ مگر افسوس کہ آزاد کشمیر حکومت اور سول انتظامیہ اس چیلنج کا کامیابی سے جواب دینے کے بجائے، عجلت پسندی میں اس طرح اُلجھ کر رہ گئی کہ حالات کا تلخ اور منفی پہلو سارے منظرنامے پر حاوی ہوگیا۔ یوں منفی بیانیے کو بے جا طور پر عالمی سطح پر پذیرائی ملنے کا موقع مل گیا۔

پریشان کن صورتِ حال کا بنیادی سبب

آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہر صاحبِ ضمیر انسان کا دل رنجیدہ ہے۔ خون جس کا بھی بہے، اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسانی جان کا ضیاع ایک اجتماعی المیہ ہوتا ہے اور اس پر سیاست کے بجائے تدبر، احتساب اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاشبہ آزاد کشمیر میں یہ منظرنامہ ایک غیرذمہ دارانہ سیاسی کھیل کا نتیجہ ہے کہ جس میں گذشتہ برسوں حزبِ اختلاف اور حکومت نے مل کر اقتدار کے مزے لوٹے۔ خاص طور پر گذشتہ پانچ برسوں میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ اس مدت میں چونکہ حزبِ اختلاف نے اپنا منصبی کردار ادا نہیں کیا، اور اقتدار کی ’میوزیکل چیئر‘ کا ایک کردار ہی بنی رہی، اس لیے اپوزیشن کا کردار اس کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ کسی بھی ریاست میں اضطراب کو کم کرنے کے اصل ذمہ دار بہرحال ریاست کے حکمران ہوتے ہیں۔ اور یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو بروقت سمجھے، اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرے اور ایسے حالات پیدا نہ ہونے دے جن سے تصادم، انتشار اور خون ریزی جنم لے۔لیکن افسوس کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور حکومت سازی سے منسلک کردار اس صورتِ حال کو سنبھال نہیں سکے۔

عوامی ایکشن کمیٹی جس نے آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل اور مطالبات کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بنیادی ایجنڈے پر احتجاج اور جواب در جواب تشدد حاوی ہوتا گیا۔ بدقسمتی سے آج اس کے پلیٹ فارم پہ چند علیحدگی پسند داخل ہوکر ایسے مطالبے کرنے لگے ہیں، جیسے 

  • آزاد کشمیر سے ’غیرملکی فورسز‘ کا انخلا کیا جائے 
  • آزادکشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں 
  • آئین سے الحاق پاکستان کی شق نکال دی جائے 
  • ممبران اسمبلی کے حلف سے الحاق پاکستان کی نسبت ختم کی جائے
  • پاکستان کی ’عمل داری‘ ختم کی جائے 
  • الگ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کیے جائیں، وغیرہ وغیرہ۔ آزاد کشمیر کے عوام کے معاشی اور سماجی مسائل کو حل کرنے کی ایک قابلِ قدر اور معقول جدوجہد میں ان باتوں کی شمولیت نے ماحول سخت تلخ بنادیا ہے۔ 

ابتدا میں جب عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کے مسائل پر جدوجہد کا آغاز کیا تھا تو جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے اس کے ساتھ نہ صرف یکجہتی کا اظہار کیا، بلکہ ساتھ بھی دیا۔ لیکن جیسے ہی اس پلیٹ فارم سے ان نکات کو کبھی دھیمی اور کبھی بلندآواز میں کچھ لوگوں نے اپنی تقریروں اور سوشل میڈیا کا حصہ بنانا شروع کیا اور ایک قدم آگے بڑھ کر تشدد کا راستہ اپنایا تو یہ طرزِعمل دیکھ کر جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے ایکشن کمیٹی سے علیحدگی اور دُوری کا اعلان کردیا۔ تاہم، ایکشن کمیٹی کے آئینی اور جائز مطالبات کی جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی حمایت کی تھی اور مستقبل میں بھی جائز مطالبات اور پُرامن جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گی۔جماعت اسلامی آزاد کشمیر، تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ ایسے کسی منفی نعرے کی حمایت نہیں کر سکتی، جو پاکستان کی سلامتی اور جہادِ آزادی کے لیے صدمے کا باعث بنے۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص بارہ نشستیں ایک عرصے سے سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع بنتی چلی آ رہی ہیں۔ ان نشستوں کے طریقِ انتخاب میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی بنیاد پر اور حکومت سازی میں ان کے کردار پر تلخ آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ تو ہوا اس مسئلے کا ایک پہلو۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان نشستوں کا وجود خود مسئلۂ کشمیر کا نتیجہ ہے۔ اگر مسئلۂ کشمیر حل ہو چکا ہوتا تو نہ یہ نشستیں وجود میں آتیں اور نہ یہ تنازع پیدا ہوتا۔یہ نشستیں دراصل اُن لاکھوں کشمیریوں کی سیاسی شناخت اور تاریخی جدوجہد کی علامت ہیں، جو۱۹۴۷ء کے بعد اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں سے محروم ہوئے، اور آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں۔ اس لیے بارہ نشستوں کا معاملہ محض انتخابی یا انتظامی مسئلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلۂ کشمیر کی تاریخ، تاریخی جدوجہد اور کشمیریوں کے سیاسی تشخص کا مظہر ہے۔

حکومت آزاد کشمیر کا مطلوبہ کردار

آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی کا موقف یہ ہے کہ انڈیا کی جانب سے اگست۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت اور اسمبلی قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے ضروری آئینی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی نے پاکستان میں

  •  مقیم مہاجرین کی نشستوں کے تعین کو ووٹرز کی تعداد سے منسلک کرنے،
  •  جموں اور وادی کی تخصیص ختم کرنے، lترقیاتی فنڈز اور تقرریوں و تبادلوں کے اختیارات کے خاتمے،
  • حریت کانفرنس، متحدہ جہاد کونسل اور مہاجرین ۱۹۸۹ء کی نمائندگی،
  • کابینہ کے حجم میں کمی، lمیرٹ پر تقرریوں، lعدالتی اصلاحات،
  • نظامِ زکوٰۃ و عشر کی بہتری اور شفافیت، lپن بجلی کے وسائل سے عمومی استفادے،
  • خوراک اور لائیو اسٹاک میں خود کفالت، lصحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات،
  • بلدیاتی اداروں کے استحکام، lآمدورفت کے انفراسٹرکچر کی ترقی،
  •  میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ڈرائی پورٹ کے قیام،
  • منگلا ڈیم کے متاثرین کے مسائل کے حل، 
  • عوامی نمائندوں کی مراعات کے خاتمے، 
  • کشمیر پراپرٹی کے تحفظ جیسے اہم نکات بھی اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پیش کر کے عوام کے دُکھ درد اور جائز مطالبات کو زبان دی ہے۔ ان مسائل میں سے متعدد کا تعلق براہِ راست عام آدمی کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ جب کہ بجلی، صحت، انصاف، روزگار، انفراسٹرکچر، مقامی حکومتوں اور گڈ گورننس کے حوالے سے پیش کی گئی یہ تجاویز سنجیدہ غور و فکر اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کا تقاضا کرتی ہیں، تاکہ منفی پراپیگنڈے، جذباتیت اور اشتعال انگیزی پر مبنی سیاست سے بچا جا سکے۔

حُریت کانفرنس کا رِدعمل

مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت اسلامی جو آزاد کشمیر جماعت اسلامی سے بالکل جداگانہ نظام، قیادت اور پروگرام رکھتی ہے، اس کی تقریباً ساری قیادت گذشتہ آٹھ، نو برسوں سے جیلوں میں قیدہے اور اس پر ظالمانہ پابندی عائد ہے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں جماعت اسلامی سے وابستگان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی سخت آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے لاکھوں کشمیری تہہِ تیغ کیے جا چکے ہیں۔ان کے لیے مسئلۂ کشمیر کی نظریاتی اساس پر کسی قسم کا حملہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

ممتاز کشمیری راہنما غلام محمد صفی، کنونیر کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادکشمیر کے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے بجاطور پر کہا: ’’ہم جموں وکشمیر میں جس حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ جدوجہد صرف مقبوضہ کشمیر کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ مقبوضہ کشمیر، آزاد جموں وکشمیر، گلگت، بلتستان اور اس پوری ریاست کے لیے ہے، جس ریاست کا ایک حصہ آزاد جموں وکشمیر بھی ہے۔ اس لیے مقبوضہ جموں وکشمیر میں طویل جدوجہد کرنے اور انڈین فورسز اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو برداشت کرنے اور بربادی و تباہی کا سامنا کرنے والے لوگ جب یہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ہم تو ایک بڑے حق حقِ خودارادیت کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری طرف بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقہ اس پوری ریاست کے صرف ایک حصے میں کچھ حقوق کی بات کرتا ہے تو انھیں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے۔ وہ مسئلہ جو سب کا مشترکہ اور سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور جس پر برس ہا برس سے ایک جدوجہد جاری ہے، اور جس کی بنیاد پر انڈیا، جموں وکشمیر کے عوام پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج بھی ظلم ڈھا رہا ہے، اسے نظرانداز کرکے یہ بات کی جا رہی ہے۔

’’ ہم یہ سمجھتے ہیں آزاد کشمیر کے افراد کے جائز روز مرہ کے مسائل اور حقوق بلاشبہ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یاد رہنا چاہیے کہ حقِ خود ارادیت اپنی جگہ مرکزیت کا حامل مسئلہ ہے۔ لیکن جب اس بڑے مسئلے کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور اُٹھانے کی جدوجہد میں دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوجائے تو پھر بات بگڑ جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ ہوں یا آزاد کشمیر کے بھائی، ہم سب کی یہی کوشش رہی ہے کہ ہم دُنیا بھر کی ہرپارلیمنٹ، ادارے، تھنک ٹینک، ابلاغ عامہ کے پلیٹ فارم اور دانش وروں کے مراکز میں جاکر انڈیا کے مظالم کو اُجاگر کریں اور کشمیریوں کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے بیان کریں۔ مگرآج آزاد کشمیر میں چند لوگوں نے عجلت پسندی اور چند مقامی مسائل کی بنیاد پر پاکستان کو، انڈیا کے ہم پلہ کہنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا کے بدترین اور انسانیت سوز مظالم، یوں لگتا ہے کہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

’’اس پس منظر میں ہم حریت کانفرنس کی طرف سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے آزاد کشمیر کے بھائیوں کا یہ مسئلہ تشدد اور تصادم اور مبالغہ آمیزی سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ حل ہو گا تو بات چیت کے ذریعے سے ہوگا۔ حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور ایکشن کمیٹی، کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پُرامن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ پیش کردہ مطالبات میں سے بہت سے پہلے ہی مان لیے گئے ہیں، اور جو مطالبات قانونی اور آئینی ہیں، ان کو بہرحال آئینی اداروں ہی میں بیٹھ کر حل کرنا ہوگا۔ اس طرح جگ ہنسائی کا کھیل ختم کر کے، حقِ خودارادیت کی جدوجہد پر متحدومتحرک ہونا ہوگا‘‘۔

جماعت اسلامی پاکستان کا موقف

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے آزاد کشمیر کے ان واقعات پر واضح الفاظ میں کہا ہے:

  • یہ بات ہر صاحب ِ اختیار کے ذہن میں پیوست رہنی چاہیے کہ عوامی اُمنگوں کو کچلنے اور سیاسی نظام کو جکڑنے کے نتیجے میں ایسی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے کہ جس سے پورے قومی موقف اور وجود کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔اس لیے حکومتی ذمہ داروں کو ایسے کھیل میں قوم کو اُلجھانے سے باز رہنا چاہیے۔
  • پاکستان، کشمیری بھائیوں کا ہے اور کشمیر، پاکستان سے کوئی الگ اکائی نہیں ہے۔ یہ باہم ایک ہی وجود ہے۔اس لیے انھیں ایک دوسرے پر اعتماد کرکے اور ایک دوسرے کے دُکھ درد کا ساتھی اور ہمدرد بن کر راستہ نکالنا اور منزل کی طرف چلنا ہوگا۔
  • ہم سب پر لازم ہے کہ کشمیر اور اہل کشمیر کے حقِ خودارادیت کے مسئلے کو مرکزی موضوع بنائیں، اور اُس کے حصول کی طرف پوری توجہ مرکوز رکھیں۔
  •  روزمرہ کے مسائل کا حل باہم مذاکرات اور افہام و تفہیم میں ہے۔ بُرا بھلا کہنے، تعصب پھیلانے اور گولی چلانے میں تباہی کے سوا کچھ نہیں، اور نہ بدامنی پھیلانے اور جواب در جواب تشدد سے کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے۔
  •  کشمیر کے نوجوانوں پر یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ پورا پاکستان اُن کے لیے کھلا ہے۔ تعلیم، ملازمت، ہنر، تجارت وغیرہ کے لیے ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ 
  •  مقامی مسائل جن طبقوں نے پیدا کیے ہیں وہ صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پورا پاکستان اور پاکستان کے شہری اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان طبقوں کی گرفت کمزور کرنے اور اختیار حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ ایک جگہ کے لوگ دوسرے مقام کے ہم وطنوں ہی کے خلاف نفرت اور دشنام کا راستہ اختیار کریں۔

بحران سے نکلنے کا راستہ

آزاد کشمیر میں درپیش صورتِ حال سے نکلنے کے لیے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھنا چاہیے:

  •  جائز مطالبات پیش کرنا، ایکشن کمیٹی کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن اس کے ساتھ سیاسی و احتجاجی عمل کو پُر امن رکھنا بھی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
  • آزاد کشمیر کے بعض مقامات پر عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم، آنسو گیس، فائرنگ، حساس اداروں کا گھیراؤ اور انسانی جانوں کا ضیاع سخت باعثِ تشویش ہے۔ خون جس کا بھی بہے، وہ پوری قوم کا نقصان ہے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق بہرصورت ہونا چاہیے۔ ان سانحات کی عدالتی تحقیقات، ذمہ داران کے تعین کے لیے حکومت ِ پاکستان، حکومت ِ آزاد کشمیر اور سیاسی قیادت کے مابین فوری مشاورت اور تعاون ہونا چاہیے۔ یہی پہلا قدم معاملے کا کوئی پائیدار حل نکال سکتا ہے۔
  • تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کرنے والا خطۂ آزاد جموں و کشمیر نہ صرف اس تحریک حقِ خودارادیت کا عظیم بیس کیمپ ہے بلکہ انڈین ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کی رگِ جاں بھی ہے۔ اس خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کشمیر کاز اور پاکستان کے قومی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
  •  موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے انتظامی مشینری اور سیاسی قیادت کو مفادات کی سیاست اور اقتدار کی کش مکش سے بلند ہو کر جرأت مندانہ، جمہوری اور مصالحانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ 
  • مہاجرین کی نشستوں اور ان کی نمائندگی کےموجودہ نظام کار پر تنقید ایک فطری امر ہے۔ جس پر تصادم نہیں بلکہ باہمی مشاورت سے اصلاحات ہونی چاہییں اوردیگر متنازع امور کو بھی مذاکرات اور آئینی ذرائع سے ہی حل کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
  •  آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ موجودہ صورتِ حال کا بہترین حل انتخابات کے بروقت اور منصفانہ انعقاد میں ہے۔ انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر مزید خرابیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے انتخابات ہر صورت اپنے مقررہ نظام الاوقات کے مطابق منعقد ہونے چاہییں۔ مطالبات پیش کرنے والے، جمہوری عمل کا حصہ بنیں اور ایوان میں پہنچ کر قانون سازی کے ذریعے متنازع معاملات حل کریں۔
  • ایک طرف ریاستی اصلاحات، گڈ گورننس اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ذمہ دارانہ پیش رفت ہونی چاہیے، تو دوسری طرف آزاد کشمیر کے امن، استحکام، مسئلۂ کشمیر کے بنیادی مقدمے اور پاکستان کے ساتھ تاریخی و نظریاتی رشتے کو ہر حال میں مقدم سمجھنا اور رکھنا چاہیے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاسی توانائی کا بڑا حصہ ایک دوسرے کو زیر کرنے، سیاسی برتری ثابت کرنے اور اختیارات کی کش مکش میں صرف ہو رہا ہے، جب کہ بنیادی مسئلہ پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اگر اس توانائی کا نصف بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف سیاسی، سفارتی اور عوامی جدوجہد پر صرف کیا جائے تو کشمیر کا مقدمہ کہیں زیادہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ جب قومیں اپنا اصل مقصد بھول جاتی ہیں تو چھوٹی چھوٹی چیزیں اصل مقصد کی جگہ لے لیتی ہیں۔

اصل توجہ مرکزی مسئلے پر مرکوز رہنی چاہیے۔کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں، بھارتی تسلط کے خاتمے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل پر پوری قوت صرف ہونی چاہیے۔

اختلاف اور احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ لیکن جذبات میں بے قابو ہو کر شاخوں کے جھگڑے میں جڑ کاٹنے پر چڑھ دوڑنا نہایت نامناسب ہے۔ کشمیر کا مقدمہ صرف ایک خطے کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے حقِ خودارادیت، شناخت اور انصاف کا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے کی کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ باہمی اختلافات کو آئینی دائرے میں رکھ کر حل کریں اور قومی مفادات اور تاریخی ذمہ داری کو کبھی فراموش نہ کریں جو آزاد کشمیر کے ہرہرشہری اور تمام سیاسی و اجتماعی قوتوں کے کندھوں پر ہے۔(س م خ)

_______________

اللہ تعالیٰ نے سورئہ مائدہ میں دین کی تکمیل اور اتمام کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝۰ۭ (المائدہ۵:۳) آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔

یہ تحریر،اس جزوِ آیت کے الفاظ و تراکیب اور متعلقہ نکات کو سمجھنے کی کوشش ہے۔

اس آیت کی شرح میں یہ روایت صحیح بخاری کے مختلف ابواب میں، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن نسائی اور مسند احمد میں معمولی اختلاف کے ساتھ بیان ہوئی ہے:

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ  مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ  شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ،  أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ ،  قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، قَالَ : أَيُّ آيَةٍ ؟ قَالَ : اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝۰ۭ سورة المائدة آية ۳ ، قَالَ عُمَرُ : قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ  (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان و نقصانہ) حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، ایک یہودی نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! تمھاری کتاب (قرآن) میں ایک ایسی آیت ہے جسے تم پڑھتے رہتے ہو، اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن ٹھیرا لیتے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: وہ کون سی آیت ہے؟ یہودی بولا یہ آیت: ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور دین اسلام کو تمھارے لیے پسند کر لیا۔‘‘ حضرت عمر ؓ نے کہا: ’’ہم اس دن اور اس مقام کو جانتے ہیں جس میں یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ یہ آیت جمعہ کے دن اتری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں کھڑے تھے‘‘۔

شانِ نزول

 الیوم سے مراد ہے وہ دور اور زمانہ جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔ مستند روایات ہیں کہ اس حدیث میں مذکورہ سورۃ المائدۃ کی یہ آیت ۱۰ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پرنازل ہوئی۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حج تھا جس کے تین ماہ بعد آپ ؐدنیا سے تشریف لے گئے۔

سورۃ المائدہ میں جس جگہ یہ آیت ہے، وہ سلسلۂ کلام صلح حدیبیہ کا ہے جو ۶ھ میں ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں بھی، یہ آیت پوری طرح مربوط ہے۔ مفسرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ۶ھ میں ایک دفعہ نزول کے بعد ،عرب کی تسخیراور اسلام کے غلبے کے بعد اس آیت کا ۱۰ھ میں دوبارہ نزول ہوا ہو۔ جیسا کہ دیگر آیات کے زمانۂ نزول کے متعلق بھی ایک سے زیادہ روایات ہوتی ہیں۔( تفہیم القرآن)

تکمیلِ دین کا مفہوم

اس آیت میں اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ  کے الفاظ کے ذریعے دین کی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ تکمیل دین کے مفہوم میں درج ذیل پہلو شامل ہیں:

۱- اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری احکام اور حلال و حرام کو آخری شکل میں واضح فرمادیا ہے۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد حلال و حرام کا کوئی بنیادی حکم نازل نہیں ہوا [فتح الباری (شرح صحیح بخاری)]۔یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ۸۱ دن پہلے نازل ہوئی اور نو دن پہلے آخری آیت وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْہِ اِلَى اللہِ۝۰ۣۤ (البقرہ ۲:۲۸۱)’’اُس دن کی رُسوائی و مصیبت سے بچو، جب کہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے‘‘ نازل ہوئی، جو تقویٰ کا عمومی حکم ہے۔ علامہ بدرا لدین عینی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ سورۃ المائدۃ کی اس آیت کو سن کر رو پڑے تھے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن مکمل ہوچکا ہے، اور ’تکمیل‘ کے بعد اب ’جدائی‘ کا وقت قریب ہے (عمدۃ القاری،شرح صحیح بخاری)۔ اس سے صحابہ کرامؓ کے فہم کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبار صحابہ اس آیت کے نزول سے یہ سمجھ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام مکمل ہونے کے بعد ،دنیا سے رخصتی کا وقت قریب ہے۔

۲- یہ دین جامع نظامِ فکر و عمل پر مبنی ہے۔ یہ روحانی اور عملی، انفرادی اور اجتماعی،اصول اور جزئیات،سب پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، اور ہر لحاظ سے مکمل تہذیب و تمدن کا حامل ہے۔ ’’دین کو مکمل کردینے سے مراد اُس کو ایک مستقل نظام فکر و عمل اور ایک ایسا مکمل نظام تہذیب و تمدن بنادینا ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لیے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے‘‘ (تفہیم القرآن)۔ یہ دین جامع ہونے کے ساتھ ساتھ بہت معقول اور انسانی فطرت کے بالکل مطابق ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی مکمل ہے کہ یہ ایک کل ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے سے مربوط اور پیوست ہیں۔ ’’اس کے اخبار و قصص میں پوری سچائی، بیان میں پوری تاثیر، اور قوانین و احکام میں پورا توسط و اعتدال موجود ہے‘‘۔(تفسیر عثمانی)

۳-ایک مفہوم کے مطابق اس دین پر جامعیت کے ساتھ عمل ہی اکمال (تکمیل)ہے۔ اسی طرح علامہ عینیؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو باب زیادۃ الایمان ونقصانہ کے تحت اس لیے ذکر کیا تاکہ یہ ثابت کریں کہ ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا:آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا، تو اس سے مراد شرائع (احکامات اور واجبات) کی تکمیل ہے۔ اگر کوئی شخص ان مکمل شدہ احکامات میں سے کسی کو چھوڑتا ہے، تو اس کے ایمان کے کمال میں کمی آ جاتی ہے۔ (عمدۃ القاری)

۴- پچھلی شریعتوں کے بعض احکام بعد میں آنے والی شریعتوں سے منسوخ ہوتے رہے،  لیکن شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پچھلی سب شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔ ’’دین حق اور نعمت الٰہی کا انتہائی معیار جو اس عالم میں بنی نوع انسان کو عطا ہونے والا تھا، آج وہ مکمل کردیا گیا۔ گویا حضرت آدم ؑ کے زمانہ سے جو دین اور نعمت الٰہیہ کا نزول اور ترویج شروع کی گئی تھی اور ہر زمانہ اور ہر خطہ کے مناسب حال اس نعمت کا ایک حصہ اولادِ آدم کو عطا ہوتا رہا، آج وہ دین اور نعمت مکمل صورت میں خاتم الانبیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت کو عطا کردی گئی‘‘۔(معارف القرآن)

۵- شریعتِ محمدیؐ میں بھی کچھ شروع کے احکام کو ، بعد والے احکام منسوخ کرتے تھے۔ لیکن اس آیت کے بعد شریعتِ محمدی ؐکا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا، اور یہ قیامت تک کے لیے ناقابلِ تبدیلی ہے۔ اس میں اضافوں و ترمیمات کی نہ اجازت ہے ، نہ ضرورت اور نہ ایسے ہونا ممکن ہے۔ 

۶- یہ مکمل ہے کیونکہ اس میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔ اصولِ دین میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں کی جا سکتی، البتہ انھی کی توضیح میں اجتہادی فروعی مسائل ہوں گے۔ اس دین میں باطل جدید نظریات کی گنجائش بھی نہیں ہے ، اور بدعات کی قبولیت بھی نہیں ۔

۷- یہ دین اس لحاظ سے بھی مکمل ہے کہ خود اس میں کوئی کم تر چیز نہیں ہے اور اس سے بہتر کوئی چیز موجود نہیں ہے کہ اس سے باہر دیکھنے کی ضرورت ہو۔ علامہ بدر الدین عینی نے اس حدیث کی شرح میں حضرت عمرؓ کے جواب کی حکمت بیان کی ہے اور اس کے لیے امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کی جو تفسیر کی ہے ، اس کا حوالہ دیا ہے ۔ وہ یہ کہ ’’یہ امت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے لیے ان کا دین مکمل کر دیا، اب انھیں کسی دوسرے دین کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اپنے نبی کے سوا کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہے‘‘۔(عمدۃ القاری،شرح صحیح بخاری)

۸- اس میں تبدیلی کاامکان اس لیے نہیں ہے کیونکہ اس کو اسی طرح رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ دین کی حفاظت اللہ تعالیٰ کررہے ہیں۔ اللہ کی ہدایت قرآن حکیم کا حرف حرف محفوظ کردیا گیا۔ اس کی عملی شکل یعنی سیرت اور حدیث کے ذخیرے کی حفاظت کا بھی شاندار انتظام کیا گیا۔مشیتِ الٰہی سے ، دورِ نبوی ؐمیں انسانی معلومات، وسائل اور تمدن اس مرحلے پر پہنچ چکے تھے کہ ہدایت کے ان سب ذرائع کا بوجھ اٹھاسکتے تھے،اور اس کی حفاظت بھی کرسکتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اُمت کو  حفاظت کی ذمہ داری دی ہے اور دین کو اس شکل میں بھی محفوظ کردیا ہے کہ نقب زنی مشکل ہے۔ اس کی حفاظت اللہ یوں بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین کا حامل گروہ ہمیشہ اس دنیا میں رکھتے ہیں ، جو اس دین کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ ہر وقت اس کا دفاع کرتا رہتا ہے۔یہ دین اس گروہ میں کمال درجے پر موجود رہتا ہے اور ان کی زندگیوں میں محفوظ رہتا ہے اور وہ گروہ اس امانت کو آگے منتقل کرتا رہتا ہے (بحوالہ فی ظلال القرآن)۔حفاظت کے ان سب ذرائع کے باعث، تحریف کی کوششوں کے باوجود، دین اصل صورت میں اور مکمل موجودہے۔

۹- اس کے شارع اور شارح نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، نبوت کے سلسلے کو مہر لگادی گئی کہ اس دین کی کوئی نئی تشریع اور تشریح نہیں ہوسکتی۔ آپ ؐکے خاتم النبیین ہونے کو عقیدے کا حصہ بنادیا گیا۔

۱۰-اس دین کی تکمیل یہ بھی ہے کہ یہ بہترین دین صرف کتابوں یا نظریاتی بحث کی شکل میں نہیں رہ گیا،بلکہ اس پر عمل بھی ہوا اور اس کا ایک ایک اصول عملی شکل میں بروئے کار آیا۔

۱۱-اس دین کی تکمیل ایسے بھی ہوئی کہ اس کے شارع کی زندگی میں ہی اس دین کا اظہارہوا، غلبہ و نفاذ ہوا، اور اقامت ہوئی اور ہر گوشے اور شعبے میں اس کا اطلاق کیا گیا۔ 

۱۲- اس کی تکمیل کا پہلو یہ بھی ہے کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ہزاروں سے متجاوز خدا پرست، جانباز اور سرفروش ہادیوں اور معلموں کی ایسی عظیم الشان جماعت تیار ہوچکی تھی جس کو قرآنی تعلیم کا مجسم نمونہ کہا جاسکتا تھا‘‘۔ (تفسیر عثمانی)

۱۳-  یہ اصول، ان پرعمل، ان کی اقامت اور ان کی عملی تفسیریں اس لحاظ سے بھی مکمل تھیں کہ ان کے ساتھ پختہ بنیادیں موجود تھیں۔ ان کے ساتھ وہ دل تھے جو مسخر ہوچکےتھے اور وہ دماغ تھے جو تسلیم کرچکے تھے۔شعائر الٰہیہ کا ادب و احترام قلوب میں راسخ ہوچکا تھا۔ ( تفسیر عثمانی)

۱۴-اس دین کے مکمل ہونے کا مظہر یہ بھی ہے کہ یہ شریعت ہر زمانےمیں قابلِ عمل رہی۔

۱۵- سارے خطوں اور ملکوں کی متنوع قوموں اور گروہوں نے اس پر عمل کیا۔ تقدیرِ ازلی کے مطابق ،ذرائع سفر و مواصلات کی ترقی کے ساتھ جغرافیائی خطوں میں رابطے کا دور آیا۔اور اس کے ساتھ اس دین کے اصول عالم گیریت کے لحاظ سے بھی مکمل تھے۔ حقیقتاً یہ ایسا دین ہے جو یکساں اصولوں پر نسلِ انسانی کو جمع کرنے والا ہے۔

۱۶- اس دین کو پہنچانے والی اورقائم کرنے والی ہستی کو بھی قرب کے اس مرتبہ پر پہنچادیا گیا، جو تمام اگلے پچھلے باکمال انسانوں کے لیے قابلِ رشک ہے۔ (تفسیر مظہری)

۱۷- ’اس میں تمام انبیا و رسل کے زمرہ میں سیّد الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی سعادت اور امتیازی شان کا تو اظہار ہے ہی لیکن اس کے ساتھ تمام امتوں کے مقابلے میں اُمت مسلمہ کی بھی ایک خاص امتیازی شان کا واضح ثبوت ہے۔(معارف القرآن)

 تکمیلِ دین کے تقاضے

۱- ہمیں جو مکمل دین ملا ہے، اس کی قدر کریں،اور اس کو قیمتی سمجھیں۔دنیوی علوم و فنون میں کتب و ضوابط(codes/guidelines) کے جدید ایڈیشنز اور versions آتے رہتے ہیں اور ان علوم کے ماہرین متفکر رہتے ہیں کہ جدید ترین ورژن یا معلومات سے آگاہ رہیں۔ لیکن اللہ کے دین کے متعلق ہمیں اطمینان ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کا آخری ورژن آچکا ہے۔

۲- اس پر عمل کے ساتھ اس کے اظہار اور اقامت کو مشن بنائیں۔

۳۔ اس دین کی حفاظت کا اہتمام کریں اور تحریف کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔

۴-اس مکمل دین کو پکڑ لیں اور اپنے قیاس، کسی کی جامد تقلید اوربدعات سے بچیں۔

 اتمامِ نعمت کا مفہوم

اسی آیت میں وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي کے الفاظ میں اتمامِ نعمت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔  اتمامِ نعمت کا مطلب ہے نعمت کو تمام یاپورا کرنا۔ جن قرآنی آیات و احادیث میں اتمامِ نعمت کا ذکر آیا ہے،ان پرتفکر سے اس ترکیب’اتمامِ نعمت‘ کے یہ مفہوم نکلتے ہیں:

  •  نعمتوں کا جزئیات کے ساتھ اتمام:انسانی زندگی کے ہر پہلو ، ہر گوشے میں نعمت کا جزئیات کے ساتھ اتمام کے بارے میں فرمایا گیا: وَاللہُ جَعَلَ لَكُمْ مِّـمَّاخَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرَّ وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ۝۰ۭ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ۝۸۱ (النحل۱۶:۸۱)’ ’اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمھارے لیے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں میں تمھارے لیے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمھیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہیں۔ اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرماں بردار بنو‘‘۔

یہ اور اس سے پچھلی آیت میں مختلف پناہ گاہوں اور پوشاکوں کا ذکر ہے۔ تغذیہ کےذکر کے بعد ان چیزوں کے اہتمام کو، اتمامِ نعمت کہنے کا مطلب ہے کہ انسانی زندگی کے ہرگوشے میں ہرپہلو سے ، جزئیات کے ساتھ نعمتیں دی گئی ہیں۔

  • نعمت ہدایت کی تکمیل : ساری نعمتوں کی تکمیل، نعمتِ ہدایت سے ہونا کے بارے میں فرمایا: يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ۝۰ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوْا۝۰ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْہُ۝۰ۭ مَا يُرِيْدُ اللہُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَہِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۶‎ (المائدہ۵:۶) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ ۔اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو ۔اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو‘‘۔ طہارت جسمانی وروحانی پہلو رکھتی ہے۔ نفس و جسم کی طہارت کی ساری ہدایات، اتمام ِنعمت ہیں۔
  •  نعمت ہدایت کا بھی درجۂ تکمیل: سورۃ المائدۃ کی آیت ۳کا یہی مفہوم نکلتا ہے کہ نعمت ہدایت کی تکمیل کردی گئی ہے۔ ہدایت کے ساتھ ’تمام ہونے‘ کا ذکر قرآن میں اس طرح بھی ہے:وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا۝۰ۭ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِہٖ۝۰ۚ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝۱۱۵ (الانعام۶:۱۱۵)’’تمھارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔ 

’ربّ کے کلمات کے تمام ہونے‘ کے ساتھ صدق اورعدل کا ذکر ہے۔وہ ربّ سچا ہے اور اس کے کلمات بھی سچے ہیں۔ وہ رب حکم دینے اور منع کرنے میں عدل والا ہے، اور اس کے کلمات میں بھی عدل ہے اور کوئی تضاد نہیں ہے۔اور صدق اور عدل کلمات کامل ہیں۔

ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ ‎(الانعام۶:۱۵۴) ’’ پھر  ہم نے موسٰی کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہرضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں‘‘۔اس آیت میں ’کتاب کے ساتھ تمام‘ کا لفظ ہے، جو کہ پچھلی الہامی کتب کے، اپنے دور کے لحاظ سے مکمل ہدایت ہونے کا بیان ہے۔

  •  قوموں کی امامت و پیشوائی:اتمامِ نعمت میں قوموں کی امامت اور پیشوائی بھی شامل ہے:وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۝۰ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَہٗ۝۰ۙ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــۃٌ۝۰ۤۙ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ۝۰ۤ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ۝۰ۤ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۝۱۵۰ (البقرہ۲:۱۵۰) ’’اور جہاں سے بھی تمھارا گزر ہو، اپنا رُخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نما ز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمھارے خلاف کوئی حجت نہ ملے، ہاں جو ظالم ہیں، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو اُن سے تم نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے‘‘۔

 ہدایت یافتہ ہونے کے بعد، نعمت کا اتمام یہ ہے کہ حق کی دعوت اور شہادت و اقامت کے لیے، اس گروہ کو قوموں کا امام و پیشوا بنایا جائے۔یہاں اتمامِ نعمت کا ذکر ہے اور امتِ مسلمہ کو یہ منصب ملنے کی علامت تحویلِ قبلہ کا حکم دینا ہے۔

  •  دُنیا میں غلبہ و عروج ، ہدایت میں اضافہ اور ثبات: سورئہ فتح میں فتح و نصرت کی خوش خبری سناتے ہوئے فرمایا گیا: لِّيَغْفِرَ لَكَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكَ وَيَہْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا۝۲ۙ ‎(الفتح۴۸:۲) ’’ تاکہ اللہ تمھاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تمھیں سیدھا راستہ دکھائے‘‘۔

سورۃ الفتح کی اس آیت سے پہلے فتح، اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ کی نصرت کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ اس سورۃ کے پسِ منظر میں صلح حدیبیہ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اتمامِ نعمت میں یہ اُمور شامل ہیں:

  •  مسلم گروہ کی خوف اور مزاحمت سے آزادی، اہلِ باطل پر دباؤ اور ان کا کڑھنا، دوسروں پر رعب اور ان کا متاثر ہوجانا۔
  •  دعوتِ اسلام کا عام ہوجانا اور لوگوں کا جوق در جوق دین میں داخلہ۔(سورۃ النصر)
  •   کفر وفسق کے غلبے سےنجات ، اللہ کا کلمہ بلند ہوجانا اوراہلِ حق کو عزت ملنا، امن اور خوش حالی ہونا۔(سورۃ القریش)
  •  مسلم سیاسی و تمدنی زندگی کی تنظیم۔
  •  ہدایت کے راستے پر چلتے ہوئےاگلی پچھلی لغزشوں سے مغفرت اور ہدایت میں اضافہ، مزاحمت کے خاتمے کی وجہ سے سیدھے راستے پر ثبات میں آسانی۔ کثیر تعداد میں لوگوں کے دین میں داخلے کا اجر۔ 

قرآنی آیات میں ’اللہ کے کلمات اور نور کے تمام ہونے‘ کا ذکر ہے، جو ان معنوں میں ہے:

  •  وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا۝۰ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝۰ۥۙ بِمَا صَبَرُوْا۝۰ۭ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ۝۱۳۷ (اعراف ۷:۱۳۷)اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کاوارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالامال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے ربّ کا وعدۂ خیر پورا ہوا (کلمات تمام ہوئے)کیونکہ اُنھوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اُ س کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے۔
  •  يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَيَاْبَى اللہُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۝۳۲  (التوبہ ۹:۳۲) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل (اتمام) کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
  • يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۝۸ (الصف۶۱:۸) یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا (اتمام) پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔

علامہ عینیؒ نے اپنی شرح میں اکملت اور اتممت  کے درمیان فرق کی وضاحت کی ہے کہ ’اکمال‘ کا تعلق دین کے قواعد و ضوابط کی تکمیل سے ہے،جب کہ ’اتمامِ نعمت‘ سے مراد مسلمانوں کو دشمنوں پر غلبہ دینا اور مکہ کی فتح جیسی نعمتوں کا پورا ہونا ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ’’کسی چیز کا ’اکمال‘ اور ’تکمیل‘ اس کو کہتے ہیں کہ اس چیز سے جو غرض اور مقصود تھا وہ پورا ہوگیا۔ اور لفظ ’اتمام‘ کے معنی یہ ہیں کہ اب دوسری چیز کی ضرورت اور حاجت نہیں رہی۔ اسی لئے ’اکمالِ دین‘ کا حاصل یہ ہوا کہ قانون الٰہی اور احکام دین کے اس دنیا میں بھیجنے کا جو مقصد تھا وہ آج پورا کردیا گیا۔ اور ’اتمامِ نعمت‘ کا مطلب یہ ہوا کہ اب مسلمان کسی کے محتاج نہیں۔ ان کو خود حق تعالیٰ جل شانہٗ نے غلبہ، قوت اور اقتدار عطا فرما دیا جس کے ذریعے وہ اس دینِ حق کے احکام کو جاری اور نافذ کرسکیں‘‘۔(معارف القرآن)

 _______________

اللہ تعالیٰ جب دُنیا میں انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو منتخب فرماتا ہے تو انھیں نبوت کے عظیم الشان منصب پر مامور فرماتا ہے اور انھیں بچپن ہی سے غیرمعمولی ذہانت و فراست، غوروفکر اور استدلال و استنباط کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ وہ پیش آمدہ واقعات اور اپنے مشاہدات و تجربات سے نتائج اخذ کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ دین کا پیغام محکم دلیل و بُرہان کے ساتھ لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس برس کی عمر میں منصب ِ نبوت پر فائز فرمایا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے کتابِ ہدایت دے کر یہ ذمہ داری عائد فرمائی کہ آپؐ کتاب اللہ کے علوم و احکام کی تعلیم لوگوں کو ناصحانہ (۱) انداز میں دیں، اور قرآن حکیم کی تعلیمات و احکام کو اپنی زندگی میں اپنا کر لوگوں کے سامنے عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام فرائض منصبی کو بہت احسن طریقے سے انجام دیا۔

قرآن حکیم کو تو اللہ تعالیٰ نے مصاحف میں، اہل ایمان کے سینوں میں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کے ساتھ بے شمار صحابہ کرامؓ کی عملی زندگیوں میں محفوظ فرما دیا۔ کتاب اللہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کے علما کو بھی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے بہت محنت اور جانفشانی سے اور مکمل جرح و تعدیل کے بعد پوری احتیاط کے ساتھ ذخیرۂ احادیث کو بھی جمع کر دیا۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپؐ کا اسوئہ حسنہ بھی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہوگیا۔ قرآن حکیم اور سنت ِ رسولؐ اس اُمت کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ جب تک اُمت مسلمہ دین کے ان بنیادی ماخذ کو مضبوطی سے تھامے رہے گی ، اور اپنی عملی زندگی میں ان پر عمل پیرا رہے گی وہ بھٹکنے اور انحرافِ دین سے محفوظ رہے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصب ِ نبوت پر فائز ہونے کے بعد دعوتِ دین کا کام شروع کیا، تو جواب میں تین طرح کے لوگ سامنے آئے۔ کچھ تو سلیم الفطرت لوگ تھے جو حق کی طلب اور جستجو رکھتے تھے۔ انھوں نے آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور پورے جذبے اور لگن کے ساتھ آپؐ کے مشن میں شریک ہوگئے۔ کچھ ایسے لوگ تھے جو تذبذب کا شکار رہے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ آپؐ کی دعوت کے کیا نتائج نمودار ہوئے ہیں ۔ تیسرا گروہ وہ تھا جس نے کھل کر مخالفت کی اور پوری طرح دشمنی پر اُتر آیا۔

منصب ِ نبوت پر کسی انسان کا فائز ہونا اور انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اس کا مامور ہونا اللہ تعالیٰ کا انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔ یہ واحد احسان ہے جس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کیا ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۱۶۴ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴) اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر بڑا احسان فرمایا کہ ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کے دلوں کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔

اس آیت ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دُنیائے انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا اظہار فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت انسان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے جس کی انسانوں کو قدر کرنا چاہیے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے منصب پر فائز ہوئے تو پہلا فریضہ یہ قرار پایا کہ آپؐ لوگوں کو ہرقسم کے شرک اور بُت پرستی سے روکیں اور لوگوں کو خالص اللہ تعالیٰ کی توحید کی تعلیم دیں۔ عبادت کی مستحق صرف ایک ذات ہے۔ انسان صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوسکتا ہے، یہی عبدیت کا تقاضا ہے۔

سرزمین عرب کے لوگ بڑی تعداد میں نہ صرف بُت پرستی میں مبتلا تھے بلکہ جاہلانہ توہم پرستی اور مشرکانہ رسوم و رواج کا بھی شکار تھے۔ انھوں نے رسول ؐ اللہ کی دعوتِ توحید کی شدت کے ساتھ مخالفت شروع کر دی، لیکن رسولؐ اللہ نے ان کی تمام تر مخالفت بلکہ مزاحمت کے باوجود دعوتِ دین کا فریضہ پوری استقامت، تحمل اور صبر کے ساتھ جاری رکھا۔

انبیا علیہم السلام کی دعوت و تعلیم کا انداز ناصحانہ ہوتا ہے۔ وہ علم و حکمت کی بات تہذیب و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دلیل و ثبوت کے ساتھ پیغامِ الٰہی کو انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ 

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ آپؐ کے منصب ِ رسالت پر فائز ہونے سے پہلے کی زندگی بھی انسانوں کے لیے اسوئہ کامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ بچپن کا زمانہ اگر نہ بھی شمار کیا جائے تو بھی آپؐ نوعمری اور جوانی کے زمانہ سے معلم اخلاق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپؐ کی یہ حیثیت سب کے نزدیک مسلّم رہی ہے۔ آپؐ کے خلق عظیم کو اپنوں نے تسلیم کیا، اغیار نے بھی مانا، دوست و دشمن اور خاندان کے لوگ بھی آپؐ کے اخلاقِ کریمہ کے مداح تھے اور بدترین دشمن بھی آپؐ کے اعلیٰ کردار کو تسلیم کرتے تھے۔ اعلانِ نبوت کے بعد جب قریش مکہ کے سردار کھل کر دشمنی پر اُتر آئے ، یہاں تک کہ آپؐ کو قتل کرنے کے ارادے سے گھر کا گھیرائو کرلیا، لیکن اس وقت بھی انھیں یقین تھا کہ حالات جو بھی ہوں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت و دیانت میں ذرہ برابر کمی نہیں آسکتی۔ اس یقین کے پیش نظر ان کی امانتیں رسولؐ اللہ کے پاس محفوظ تھیں ، اور آپؐ نے بھی قتل کے ارادے سے آنے والوں کی امانتوں کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا ہوا تھا۔ آپؐ کے انھی اخلاقِ حسنہ کی شہادت قرآن مجید نے دی ہے: وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝۴ (القلم ۶۸:۴) ’’یقینا آپؐ اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں‘‘۔

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جوانی کی عمر میں پہنچے تو آپؐ کو سلسلۂ معاش کی تلاش ہوئی۔ اس زمانہ میں مکہ مکرمہ میں کسب ِ معاش کا اہم اور باعزّت ذریعہ تجار ت تھا۔ قریش مکہ کے اکثر بڑے بڑے سردار پیشۂ تجارت سے وابستہ تھے، نہ صرف مرد بلکہ بعض خواتین بھی تجارت میں شہرت کی حامل تھیں۔ ان خواتین میں حضرت خدیجہؓ بنت خویلد اسدی سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ ان کے والد بھی بڑے تاجر تھے اور ان کے پہلے شوہر بھی تاجر تھے۔ اسی لیے بیوہ ہونے کے بعد انھوں نے تجارت ہی کو ذریعۂ معاش بنایا۔ حضرت خدیجہؓ نے بہت سے تجارت پیشہ لوگوں کو اپنے مالِ تجارت میں نفع کی بنیاد پر شریک کیا ہوا تھا جو ان کا مال لے کر مختلف ممالک میں تجارت کے لیے جایا کرتے تھے۔

حضرت خدیجہؓ اپنی تجارت کو وسعت دینا چاہتی تھیں۔ اس لیے انھیں اعلیٰ اخلاق و کردار کے لوگوں کی تلاش رہتی تھی، خاص طور پر ایسے افراد کی جو صادق و امین ہوں اور عہد کی پاسداری کرتے ہوں، تاکہ ان کے ذریعےاپنا مالِ تجارت مختلف ممالک کو برآمد کرسکیں۔

حضرت محمد ؐ بن عبداللہ کو اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارتی سفر کرنے اور تجارتی اصول سیکھنے کا موقع مل چکا تھا۔ اس لیے حضرت خدیجہؓ نے انھیں اپنا مالِ تجارت دے کر شام بھیجنے کی تجویز کی جو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کرلی۔

تجارتی سفر اور کاروباری معاملات کی وجہ سے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے تاجروں، تجارتی منڈیوں میں کام کرنے والوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں سے ملنے اور معاملات کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ تجارتی اور کاروباری رابطے تھے، لیکن ان رابطوں کے ذریعے لوگوں کو یہ موقع ضرور ملا کہ وہ کاروبار اور تجارتی معاملات میں ایسے کردار کا مشاہدہ کریں جو صداقت، امانت داری اور عہد کی پاسداری کا کامل نمونہ ہو۔ اس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے ہی عام لوگوں اور خاص طور پر تاجروں کے لیے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش فرمایا۔

خاندانی پس منظر

حضرت خدیجہؓ کا نسبی تعلق قبیلہ قریش ہی سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بھی اسی قبیلہ سے ہے۔ آپؐ قریش کی شاخ بنوہاشم سے ہیں اور حضرت خدیجہؓ کا تعلق بنواسد سے ہے۔ البتہ دونوں کا سلسلۂ نسب رسولؐ اللہ کے اجداد میں قُصی پر جا کر مل جاتا ہے۔(حکیم محمد ادریس فاروقی، سیرت خدیجۃ الکبریٰؓ، لاہور، ۲۰۱۵ء، ص ۲۷)

حضرت خدیجہؓ کے خاندان بنواسد کے پاس شہرمکہ کی بعض انتظامی ذمہ داریاں بھی تھیں۔ شہرمکہ کے مسکینوں اور بے کسوں کی مدد بنواسد کی ذمہ داری تھی۔ حضرت خدیجہؓ کے والد خویلد نے یہ ذمہ داری بحسن و خوبی نباہی۔ کامیاب تجارت کی وجہ سے خویلد بن اسد کے گھر میں دولت کی خوب فراوانی تھی۔ ساتھ ہی اس خاندان میں وہ تمام خوبیاں بھی تھیں جو مکہ مکرمہ کے شرفاء اور سرداروں میں ہوتی تھیں، مثلاً سخاوت، مہمان نوازی، صداقت و امانت داری وغیرہ۔ خاندان بنواسد کے لوگ رذائل سے دُور رہتے تھے اور بعض ان بُرائیوں سے بھی بچے ہوئے تھے جو عام طور پر دورِجاہلیت کے قبائل میں پائی جاتی تھیں، جیسے لڑکیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھنا، بُت پرستی اور توہم پرستی میں مبتلا ہونا۔ 

حضرت خدیجہؓ کے گھرانہ میں بچیوں کو نہ نجس سمجھا جاتا تھا نہ انھیں منحوس تصور کیا جاتا تھا۔ بنواسد کے خاندان میں بچیوں کی پرورش شفقت و محبت کے ساتھ کی جاتی تھی۔ ان کی تربیت کا پوری طرح خیال رکھا جاتا تھا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی تربیت بھی اسی ماحول میں ہوئی۔ اچھی تربیت کی وجہ سے انھیں دورِ جاہلیت میں بھی ’طاہرہ‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ عقائد کے بارے میں ان کا ذہن و دماغ بُت پرستی کوقبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ انھوں نے بتوں کے آگے کبھی سر نہیں جھکایا۔ ان کے خاندان کے کچھ لوگ بُت پرستی سے متنفر ہوکر مسیحیت کی طرف مائل تھے، اس لیے کہ عیسائیت ہی اس زمانہ میں آسمانی مذہب کے طور پر مقبول تھا۔ حضرت خدیجہؓ کے چچا نوفل بن اسد بُت پرستی چھوڑ کر مسیحیت قبول کرچکے تھے، مگر عیسائی مذہب اختیار کرنے کے باوجود وہ عقیدۂ تثلیت کے قائل نہیں تھے۔

نکاح کی بنیاد

حضرت خدیجہؓ بنت خویلد کو اللہ تعالیٰ نے خاندانی شرف اور عزّت و احترام کے ساتھ عقل و فراست ، ذہانت اور تدبر و تحمل کی دولت سے بھی نوازا تھا۔ وہ بیوہ ہوئیں تو قریش مکہ کے بہت سے دولت مند سرداروں نے رشتہ کے لیے پیغام بھیجے لیکن حضرت خدیجہؓ نے کوئی پیغام قبول نہیں کیا۔ اس لیے کہ انھیں جس فکرو کردار اور جن اوصاف کے حامل شخص کی تلاش تھی قریش کے مال دار سرداروں میں وہ صفات مفقود تھیں۔ انھوں نے بیوہ ہونے کے بعد دس سال انتظار کیا اور جب حضرت محمد ؐ بن عبداللہ کی شخصیت میں یہ ساری صفات نظر آئیں تو حضرت خدیجہؓ نے ان کو نکاح کا پیغام ان خیالات کے ساتھ بھجوایا:

اِنِّی رَغْبتُ فِیْکَ لِقِرَابَتِکَ  وَ وَسْطَتِکَ فِی قَوْمِکَ وَأَمَانَتِکَ وَحُسْن خَلْقِکَ وَصِدْقِ حَدِیْثِکَ ، مجھے آپؐ کے ساتھ نکاح کی خواہش، آپؐ سے قرابت داری،(۳) خاندانی شرف و فضیلت، آپؐ کی امانت داری، اعلیٰ اخلاق اور گفتگو میں صداقت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱،ص۲۰۰)

حضرت خدیجہؓ کے ان الفاظ میں غور کیجیے۔ ان کلمات سے ان کی فہم و فراست کا، اور خیروبھلائی کی طرف ان کی رغبت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے اَزدواجی تعلق قائم کرنے کے لیے دوباتوں کی طرف توجہ دی ۔ ایک خاندانی شرافت اور دوسرے اعلیٰ اخلاق و کردار۔ دوسری طرف حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی بھرپور جوانی کی عمر میں ایک ایسی خاتون سے نکاح کرنا منظور کیا جو بیوہ تھیں اور عمر میں بھی آپؐ سے پندرہ برس بڑی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر بھی نکاح کا مقصد محض خواہشِ نفس کی تکمیل نہیں تھا، بلکہ حضرت خدیجہؓ کی خاندانی شرافت، ذاتی اخلاق اور عفت و پاکدامنی تھا۔ نیز یہ کہ نکاح کا اصل مقصد نیک مزاج اور ذہین و سمجھ دار اولاد کا حصول ہے۔ صالح اور صاحب ِ اخلاق و کردار والدین کے اچھے اثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں۔ اعلیٰ اخلاق و کردار رکھنے والے والدین اپنے بچوں کی بہت عمدہ تربیت کرسکتے ہیں۔ 

مثالی اَزدواجی زندگی

مشیت ِ الٰہی بھی یہی تھی کہ آیندہ آنے والی نسلوں کے سامنے نکاح کا صحیح مقصد بھی واضح ہوجائے اور اَزدواجی زندگی کا بہترین مثالی نمونہ بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائے جو رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کے اَزدواجی تعلق میں نظر آتا ہے۔

حضرت خدیجہؓ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح کے بعد نزول وحی تک پندرہ برس تک کا عرصہ گزارا۔ اس دوران اپنے شوہر کی عملی زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ حضرت خدیجہؓ کی قوتِ مشاہدہ بہت زبردست تھی۔ لوگوں کے مزاج و طبیعت اور ان کی نفسیات کو سیکھنے کی بھی عمدہ صلاحیت تھی۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہؓ کے درمیان اَزدواجی تعلق کا پچیس سالہ عرصہ اُمت مسلمہ کی تاریخ کا بہت ہی سبق آموز زمانہ ہے۔ اس پچیس سالہ دور میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کبھی بھی شوہر و بیوی کے درمیان ناگواری یا ناراضگی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ اس کے برعکس باہمی اُلفت و محبت، ایک دوسرے کا خیال و احترام اور ایک دوسرے کے احساسات و جذبات کا خیال رکھتے ہوئے چوتھائی صدی ایک ساتھ گزاری۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ کے ساتھ اپنی طویل اَزدواجی زندگی کے تجربے سے اُمت کی اصلاح کے لیے دو نتیجے اخذ کیے: ایک یہ کہ اگر گھر کو مکتب و درس گاہ بنا لیا جائے تو بچوں اور گھر میں موجود لوگوں کی بہتر تعلیم و تریت کا انتظام ہوسکتا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب شوہر اور بیوی دونوں معلم و مربی بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دوسرا نتیجہ یہ تھا کہ گھر آباد کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کا شریک ِ حیات ایسا ہو جو خاندان میں بحیثیت معلم و مربی بہتراور مؤثر کردار ادا کرسکے۔ اس طرح شوہر اور بیوی مل کر بہترین اور مہذب خاندان کی تشکیل کرنے کے قابل ہوں گے، اس لیے کہ علم و عمل اور اخلاقِ کریمہ سے آراستہ خاندان ہی اچھے معاشرہ کی تعمیر میں ممدومعاون ہوتے ہیں۔

فہم و فراست

حضرت خدیجہؓ کی قوتِ مشاہدہ اور فہم و فراست کی تصدیق اس واقعہ سے ہوتی ہے جو پہلی وحی کے نزول کے موقع پر پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی مرتبہ وحی کا نزول ہوا تو کلام اللہ کی عظمت و ہیبت اس قدر زیادہ تھی کہ آپؐ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ آپؐ گھر تشریف لائے تو گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں تھے، جسم پر کپکپی طاری تھی۔ رسولؐ اللہ نے سارا واقعہ حضرت خدیجہؓ کو بتایا اور اس اندیشہ کا اظہار بھی کیا کہ آپؐ کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔(۴)

جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھرآکر اپنی سخت پریشانی کااظہار کیا اور ہلاکت کا اندیشہ تک ظاہر فرمایا تو یہ سب کچھ سن کر حضرت خدیجہؓ پر کسی قسم کی پریشانی یا گھبراہٹ کے آثار نمایاں نہیں ہوئے، بلکہ وہ بہت پُرسکون اور مطمئن رہیں۔ حالانکہ جب شوہر اور بیوی کے درمیان محبت و اُلفت کا گہرا رشتہ قائم ہو اور شوہر باہر سے آکر کسی سخت پریشانی کا اظہار کرے تو بیوی شوہر کی بہ نسبت زیادہ پریشان ہوجاتی ہے۔ یہاں اس کے برعکس مکمل سکون و اطمینان کی کیفیت طاری ہے۔ جب انھوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تو  انھوں نے نہایت سکون کے ساتھ وہ تاریخی الفاظ کہے جو خدیجۃ الکبریٰؓ جیسی عظیم المرتبت خاتون ہی کہہ سکتی تھیں:

کَلَّا! وَاللہِ لَا یُخْزِیْکَ  اللہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِـمَ ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ المَعْدُوْمَ ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ  عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ (ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۹۱) ہرگز نہیں! خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی رُسوا نہیں کرے گا، اس لیے کہ آپؐ ہرحالت میں صلہ رحمی کرتے ہیں۔ ناداروں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں، محروم لوگوں کو خود کما کر کھلاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملہ میں مصائب برداشت کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں۔

ان کلمات کی ترکیب اور الفاظ کو غور سے دیکھیے کہ حضرت خدیجہؓ کس قدر اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنی مصمم رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ اپنی بات پر زور دینے اور مخاطب کو یقین دلانے کے لیے قسم کھائی ہے۔ پھر پہلے ہی جملہ کے آخر میں ابدا  کا لفظ استعمال کیا ہے، یعنی صرف اسی موقع پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ آپؐ کو آئندہ بھی کبھی رُسوا نہیں کرے گا۔

اگلے جملے میں جس میں آپؐ کی صلہ رحمی کی عادت کا ذکر ہے، اس جملہ کا آغاز بھی اِنَّ  اور لام تاکید کے ساتھ ہو رہا ہے، یعنی آپ ہر صورت اور ہرحالت میں یقینی طور پر صلہ رحمی کرتے ہیں۔ رشتہ داروں میں باہمی اُلفت و محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و تعاون کا جذبہ قائم رکھنے کے لیے مخلصانہ صلہ رحمی بہت ضروری ہے۔ صلہ رحمی کا ہرعمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتاہے، اس لیے باہمی مقابلہ کا انداز نہیں ہوتا۔

حضرت خدیجہؓ کے اس مختصر اور جامع کلام میں حقوق العباد کا تذکرہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس معاشرے میں حقوق العباد کی ادائیگی کا خیال رکھا جاتا ہے وہ معاشرہ ذلّت و رُسوائی کا شکار نہیں ہوتا۔ معاشرہ میں امن و سکون اور ترقی و خوش حالی کا راز اس اصول پر موقوف ہے کہ وہاں پر لوگ حقوق العباد کی ادائیگی اپنا فرض اور عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہوں۔(ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ص ۹۱)

حضرت خدیجہؓ نے انھی عادات و اخلاق کا تذکرہ کیا ہے جنھیں ایک سلیم الفطرت انسان اپنا سکے۔ انھوں نے کسی خارق عادت چیز کا، کسی معجزہ اور کرامت کا ذکر نہیں کیا جو نبوت کا خاصہ ہیں اور عام انسانوں کے بس سے باہر ہیں۔ (علی محمد الصلابی، السیرۃ النبویۃ،ص ۸۹-۹۰)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ سن کر حضرت خدیجہؓ نے اندازہ کرلیا تھا کہ آپؐ ہی اللہ کے وہ آخری رسولؐ ہیں جن کا تذکرہ قدیم آسمانی کتب میں موجود ہے، اور جن کا ذکر نسطورا راہب نے حضرت خدیجہؓ کے خادم میسرہ سے اس وقت کیا تھا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تجارتی سفر پر شام گیا تھا۔(ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ص۴۰-۴۱)

اسی وجہ سے حضرت خدیجہؓ پُرسکون اور مطمئن رہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان دلانے کے بعد حضرت خدیجہؓ آپؐ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور سارا واقعہ انھیں بتایا۔ ورقہ نے آپؐ کو تسلی دی کہ غار میں آپؐ کے پاس آنے والا وہی فرشتہ ہے جو آپؐ سے پہلے انبیا علیہم السلام تک اللہ تعالیٰ کا پیغا م لے کر آتا رہا ہے۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۲۵۲، ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۹۱)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور اسلام کی دعوت دی تو حضرت خدیجہؓ نے بغیر کسی تامل اور بلاکسی جھجک کے فوراً اسلام قبول کرلیا اور رسولؐ اللہ کے ساتھ نماز پڑھنا اور عبادت کے احکام سیکھنا بھی شروع کر دیے۔

تعلیم وتربیت کا پہلا مرکز

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہؓ نے ابتدا میں اپنے ایمان کا اظہار نہیں کیا بلکہ اسے مخفی رکھا۔ ایک روز حضرت علیؓ گھر میں آئے تو انھوں نے دونوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا عمل ہے؟ اس سوال کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی وضاحت کی۔ حضرت علیؓ اُس رات دین کی اس وضاحت پر غور کرتے رہے اور صبح سویرے مطمئن ہوکر انھوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔(۵)

اس طرح تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ پہلی طالبہ قرار پائیں جنھوں نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سورئہ علق کی ابتدائی پانچ آیات سنیں۔ ان آیات میں جو زورِ کلام ہے اور حصولِ علم کو جس قوت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، حضرت خدیجہؓ نے اسے اچھی طرح سمجھا اور اسی وقت سے رسول ؐ اللہ کے ساتھ تعلیم و تربیت کے کام میں شریک ہوگئیں۔

سورئہ علق کی ابتدائی آیات اُمت مسلمہ کے لیے پہلا اور اہم سبق تھا، جسے اُم المومنین حضرت خدیجہؓ نے پوری گہراائی اور وسعت کے ساتھ سمجھا۔ اُم المومنین ؓ نے اچھی طرح اندازہ کرلیا کہ پہلی وحی میں جس انداز سے تعلیم و تعلّم، بحث و تحقیق اور کتاب و قلم پر زور دیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آیندہ مسلم معاشرے کے ارتقا اور اس کی فلاح و بہبود کا دارومدار علم وعمل اور بحث و تحقیق کے لیے جدوجہد میں مضمر ہوگا۔

تعلیم و تربیت کے لیے پہلا مدرسہ جو وجود میں آیا وہ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کا گھر تھا جہاں ابتدا میں تمام تعلیمی اُمور خفیہ طور پر انجام دیے جاتے تھے، اس لیے کہ باہر کے حالات ابھی سازگار نہیں تھے۔ گھر کے افراد میں حضرت علیؓ کے بعد چوتھا فرد جس نے اسلام قبول کیا وہ زیدبن حارثہؓ(۶) تھے۔

مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے لکھا ہے کہ دوسرے فرد جنھوں نے حضرت خدیجہؓ کے بعد اسلام قبول کیا وہ ورقہ بن نوفل تھے۔(محمد ادریس کاندھلوی، سیرۃ المصطفیٰ، ۱/۱۴۶، بحوالہ ابن حجر، الاصابۃ ۴/۲۸۱)

ورقہ بن نوفل حضرت خدیجہؓ کے چچازاد بھائی تھے اور حضرت خدیجہؓ کا ان سے رابطہ رہتا تھا۔ 

حضرت خدیجہؓ کا گھر نزولِ وحی سے قبل بھی لوگوں کے لیے تربیت گاہ کی حیثیت رکھتا تھا جہاں معلم اخلاق حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی زوجہ حضرت خدیجہؓ اپنے گھر میں آنے والے احباب اور رشتہ داروں کے لیے اخلاقِ کریمہ کی عملی تربیت فرماتے تھے۔ نزولِ وحی اور اعلانِ نبوت کے بعد یہ گھر عقیدئہ توحید، اسلام اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم کا مرکز بن گیا۔ رسولؐ اللہ کے گھر میں جو بچّے آپؐ کی زیر کفالت تھے ان سب کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

حضرت خدیجہؓ کی زیر تربیت ان کے وہ بچّے بھی رہے جو پہلے شوہر ابوہالہ بن النباش سے پیدا ہوئے۔ یہ تین بچّے تھے: ہند، طاہر اور ہالہ۔ ان کے دوسرے شوہر عتیق بن عائز سے ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ اس کا نام ہند تھا۔ یہ سب بچّے رسولؐ اللہ کی زیرکفالت رہے۔ پھر حضرت خدیجہؓ کے وہ بچّے جو رسولؐ اللہ سے نکاح کے بعد پیدا ہوئے ان میں دو صاحبزادے اور چار بیٹیاں تھیں۔ بیٹوں کا تو بچپن ہی میں انتقال ہوگیا، البتہ بیٹیوں کی تربیت حضرت خدیجہؓ ہی نے کی۔ ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا اندازہ تو ان کے حالاتِ زندگی کے مطالعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ان سب کے حالاتِ زندگی تحریر کرنا ممکن نہیں۔

ہند بن ابی ہالہ جو حضرت خدیجہؓ کے پہلے بیٹے تھے، انھوں نے اسلام قبول کیا۔ وہ رسولؐ اللہ کے حلیہ کے بارے میں روایت کرنے والے سب سے اہم راوی ہیں۔ ان کا مشاہدہ بھی اپنی والدہ محترمہ کی طرح بہت گہرا تھا۔ انھیں ’وصّاف النبی‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انھوں نے غزوئہ اُحد میں رسولؐ اللہ کی زیرقیادت جہاد میں بھی شرکت کی۔(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲:۲۵۱، محمود احمد غضنفر، سیرت اُمہات المومنین،دارالابلاغ، ۲۰۱۳۔ حضرت خدیجہؓ کی کنیت انھی کے نام پر اُمِ ہند ہے)

خواتین کی تعلیم و تربیت کی درس گاہ

درس گاہ ’دارِ خدیجۃ الکبریٰ‘ میں اچھی خاصی تعداد میں لوگ تعلیم و تعلّم میں مصروف تھے۔ ان میں اپنے بچوں کے علاوہ زیرکفالت موالی، خدام، یتیم بچّے وغیرہ شامل ہیں۔ رسولؐ اللہ کی آیا اُمِ ایمن جنھیں رسولؐ اللہ نے آزاد کر دیا، بعد میں رسولؐ اللہ نے ان کا نکاح زیدبن حارثہ سے کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک بیٹا دیا جس کا نام اسامہ بن زید تھا۔ رسول ؐ اللہ کی تربیت ہی کی وجہ سے زید اس قابل ہوئے تھے کہ انھیں رومیوں کے خلاف جنگ ِ موتہ میں ایک لشکر کا امیر مقرر کیا گیا۔ اسی جنگ میں انھوں نے شہادت پائی۔ اُمِ ایمن نے اپنے دونوں بیٹوں ایمن اور اسامہ کو غزوئہ حُنین میں شرکت کے لیے تیار کیا۔ دونوں بہت جواں مردی اور بہادری سے لڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے ان کا بڑا بیٹا ایمن دادِ شجاعت دیتا ہوا شہید ہوا۔(بخاری، الجامع الصحیح، کتاب المغازی، باب غزوئہ موتہ من ارض الشام، رقم: ۴۲۶۱، ۴۲۶۳، اُمِ ایمن کے بارے میں دیکھیے: ابن الاثیر، اسدالغابۃ، ۵:۴۲۴، ابن حجر، الاصابۃ، ۸:۱۶۹)

اُمِ ایمن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی اسلام قبول کرلیا تھا مگر ان کے شوہر عبیدبن زید نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ان کے اسلام سے انکار کے بعد اُمِ ایمن اور عبید میں جدائی ہوگئی۔ رسولؐ اللہ نے ان کا نکاح زید بن حارثہ سے کر دیا۔ اس طرح اُمِ ایمن کو رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ سے سیکھنے اور دین کو سمجھنے کا خوب موقع ملا۔ خود زید بن حارثہؓ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے۔

حضرت خدیجہؓ کے گھر بعض دیگر خواتین کی بھی آمدورفت رہتی تھی۔ وہ کچھ وقت رسول ؐ اللہ کے گھر میں گزارتیں۔ دورانِ قیام انھیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملتا۔ ان خواتین میں حضرت حلیمہ سعدیہؓ بھی تھیں جو آپؐ کی رضاعی والدہ تھیں اور اکثر آیا کرتی تھیں۔ رسولؐ اللہ بہت عزّت و احترام کے ساتھ انھیں خوش آمدید کہتے۔ حضرت خدیجہؓ انھیں تحفے تحائف پیش کرتیں۔ اسی تعظیم و تکریم کے ساتھ انھیں بہت کچھ دین و اخلاق کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کا موقع ملتا۔ اسی طرح رسولؐ اللہ کی رضاعی والدہ حضرت ثویبہؓ بھی آیا کرتی تھیں۔انھوں نے بھی بچپن میں نبی کریم ؐ کو دودھ پلایا تھا۔ یہ بھی رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کے پاس کچھ وقت گزارتیں۔ رسولؐ اللہ کی آزاد کردہ باندی حضرت سلمہؓ بھی بہت شوق و محبت کے جذبے کے ساتھ تشریف لاتیں۔ رسولؐ اللہ نے ان کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام ابورافع سے کردی تھی۔ سلمہ ایک تجربہ کار دایہ تھیں۔ انھوں نے حضرت خدیجہؓ کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے موقع پر بطور دایہ فرائض انجام دیئے۔ (محمد یٰسین مظہر صدیقی، نبی اکرمؐ اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ، نشریات، ۲۰۱۱ء، ص۱۲۳)

دعوتِ دین میں معاونت

دارِ خدیجہ اس طرح ایک مؤثر درس گاہ بن چکا تھا۔ اگرچہ دعوت و تعلیم کا کام ابھی خفیہ ہی تھا اور اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بھی کم ہی تھی لیکن بتدریج بڑھ رہی تھی۔ جو لوگ اسلام قبول کرچکے تھے وہ پورے اخلاص اور یقین محکم کے ساتھ اپنے عقیدہ پر جمع ہوئے تھے۔ مشرکین مکہ کو بہرحال اندازہ ہوگیا تھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نےتوحید کی دعوت شروع کردی ہے اور بُت پرستی کو لغوکہہ کر مکمل طور پر رَد کر دیا ہے۔ اس لیے انھوں نے دعوت کے کام میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ وہ خاص طور پر حضرت خدیجہؓ کے گھر آنے جانے والوں پر نظر رکھتے اور رکاوٹیں پیداکرنے کی کوشش کرتے۔

اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دارالارقم کا انتخاب کیا، اور وہاں پر خفیہ طریقے سے تعلیم و تربیت کا کام شروع کر دیا۔ رسولؐ اللہ جس زمانے میں دعوتی اُمور دارالارقم میں انجام دے رہے تھے، حضرت خدیجہؓ یہی کام اپنے گھر پر انجام دے رہی تھیں۔ اس لیے کہ وہاں اعزہ و اقارب اور خواتین کی آمدورفت کا سلسلہ جاری تھا۔ یہ تمام زائرین حضرت خدیجہؓ کے علم و عمل سے مستفید ہوتے رہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم نازل ہوا: وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۝۲۱۴ۙ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۲۱۵(الشعراء۲۶:۲۱۴-۲۱۵) ’’آپؐ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو متنبہ کیجیے، اور ایمان لانے والے جو آپ کی اِتباع کریں ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آیئے‘‘۔اس حکم کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ دین کے لیے مختلف طریقے اپنائے۔ ان میں ایک طریقہ یہ تھا کہ سب رشتہ داروں کو گھر پر دعوت دی جائے، اور گھر میں جمع ہونے والے لوگوں کو دین کے بارے میں بتایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہؓ کے مشورہ سے اپنے گھر پر دعوت کا اہتمام فرمایا جس میں تقریباً چالیس رشتہ داروں نے شرکت کی۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد رسول ؐ اللہ نے بہت اچھے انداز میں توحید کا پیغام پہنچایا۔ اس دعوت و تعلیم کے سارے انتظام میں حضرت خدیجہؓ کا بھرپور تعاون حاصل رہا (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۳:۳۳۹)۔ حقیقت یہ ہے کہ خاتونِ خانہ کے تعاون کے بغیر گھر پر اس دعوت کا اہتمام بہت مشکل تھا۔

معاشرتی مقاطعہ اور استقامت

دعوتِ دین اور عبادت کا سلسلہ جب تک خفیہ رہا حضرت خدیجہؓ اس وقت اور حالات میں بھی پوری ہمت و استقامت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کارِخیر میں شریک رہیں۔ جب بھی اس راہ میں کوئی مشکل وقت آتا تو نہ صرف یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتیں بلکہ خود بھی صبروتحمل کے ساتھ تکالیف برداشت کرتیں۔ خاص طور پر جب یہ حکم نازل ہوا: فَاصْدَعْ  بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ۝۹۴ (الحجر۱۵:۹۴)’’آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اسے کھل کر بیان کیجیے اور مشرکین سے اعراض کیجیے‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے کھل کر اسلام کا اظہار کیا تو قریش مکہ کی جانب سے ہر طرح کی رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔جہاں کہیں وہ ظلم و تشدد کرسکتے تھے، انھوں نے کسر نہ چھوڑی۔ اس سارے عرصہ میں حضرت خدیجہؓ کا کردار بڑا مثالی رہا۔ وہ دعوت و تعلیم کے کام میں اسی طرح جذبہ اور ولولہ کے ساتھ مصروف رہیں۔

نبوت کے ساتویں سال جب قریش مکہ نے بنوہاشم اور بنومطلب کے خلاف معاشرتی مقاطعہ کیا اور رسولؐ اللہ کا مکمل ساتھ دیا۔ شعب ابی طالب میں رسولؐ اللہ کو جہاں ایک طرف اذیت اور فاقہ کشی کا سامنا تھا، وہاں آپؐ کو تعلیم و تربیت کے لیے خوب وقت اور فرصت ملی۔ رسول ؐ اللہ نے دن رات اسی مقصد کی تکمیل میں صرف کیے۔ تعلیم و تربیت کے کاموں میں حضرت خدیجہؓ بھی بہت انہماک کے ساتھ مصروف رہیں۔ حضرت خدیجہؓ کے ساتھ حضرت اُمِ ایمنؓ بھی تھیں جن کی تعلیم و تربیت حضرت خدیجہؓ ہی فرماتی رہی ہیں۔ رسول ؐ اللہ کی چچی، حضرت عباسؓ کی زوجہ حضرت اُم الفضل بھی موجود تھیں۔ اُم الفضلؓ قدیم الاسلام خاتون تھیں۔ ان کے ساتھ رسول ؐ اللہ کے دوسرے چچا حضرت حمزہؓ کی زوجہ خولہ بنت قیسؓ بھی حضرت خدیجہؓ اور اُم الفضلؓ کے ساتھ تھیں۔ ان سب خواتین کا تعاون حضرت خدیجہؓ کو حاصل رہا۔شعب ابی طالب میں موجود مرد و خواتین کے حوصلے بلند رکھنے میں ان خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شعب ابی طالب میں دن رات کی محنت اور آپؐ کے ساتھ موجود ان خواتین کی مخلصانہ جدوجہد کی وجہ سے شعب ابی طالب کا قیام ایک تعلیمی اور تربیتی کیمپ کی حیثیت اختیار کرگیا۔ ایمان و اخلاق کی تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش نے جو معاشرتی مقاطعہ غیرمعینہ مدت کے لیے کیا تھا وہ تین سال میں ہی ختم ہوگیا۔وہاں موجود لوگوں نے بہت حوصلہ، صبروتحمل سے کام لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اخلاقی رویے نے کفارِ مکہ کو مجبور کیا کہ وہ اس ظالمانہ مقاطعہ کو ختم کریں۔

حضرت خدیجہؓ شعب ابی طالب میں سماجی و معاشی مقاطعہ کے دوران جو مشقت اور تکالیف برداشت کرتی رہیں، اس کے اثرات ان کی صحت پر بھی پڑے۔قریش مکہ کا مقاطعہ تو ختم ہوگیا لیکن اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی صحت ٹھیک نہیں رہی۔ بالآخر شعب ابی طالب سے باہر آنے کے بعد، نبوت کے دسویں سال اُمت مسلمہ کی عظیم محسنہ اور رسولؐ اللہ کی محبوب ترین زوجہ اس دارِفانی سے کوچ کر گئیں، لیکن اپنے پیچھے خدمت ِ دین کی خاطر ایثاروقربانی کی لازوال تاریخ مرتب کرگئیں___  رضی اللہ عنھا ونوَّرَ قبرھا۔

 _______________

حواشی

(۱) انبیا علیہم السلام کا منہج تعلیم ناصحانہ ہوتا ہے۔ اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ۝۶۸ (اعراف ۷:۶۸)’’میں تم کو اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمھارا امانت دار خیرخواہ ہوں‘‘۔ اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (النحل ۱۶:۱۲۵) ’’اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلوبِ تعلیم ناصحانہ اور حکیمانہ تھا جو بہت مؤثر ثابت ہوا۔ تعلیم بالعمل بھی ابلاغ و دعوت کا بہت اہم اور مفید ذریعہ ہے۔ ناصحانہ اسلوب کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک تبشیری پہلو ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کی بنیادی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو فلاح و سعادت کی خوش خبری سناتے ہیں۔ دوسرا تنذیری پہلو ہے کہ رسول ؐ اللہ لوگوں کو شاہراہِ زندگی میں درپیش خطرات سے آگاہ کرتے ہیں۔

(۲) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (احزاب ۳۳:۲۱) ’’درحقیقت تم لوگوںکے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔

(۳)حضرت خدیجہؓ بنت خویلد کا سلسلۂ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جدِ امجد قُصی سے ملتا ہے۔

(۴) لقد خشیت علٰی نفسی (مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے)۔ یہ واقعہ کتب سیرت، حدیث اور تاریخ میں مذکور ہے۔

(۵) حضرت علیؓ کی عمر اُس وقت دس برس تھی لیکن رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے اس اہم مسئلے پر اپنے والد سے مشورہ کرنے کا اظہار بھی کیا اور مسئلے پر غوروفکر بھی کیا، پھر مکمل اطمینان کے بعد اسلام قبول کیا۔

(۶) حضرت زید بن حارثہؓ کو حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے شام کے علاقہ سے خریدا تھا، اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کو خدمت کے لیے پیش کردیا۔ حضرت خدیجہؓ نے حضرت زیدبن حارثہؓ کو اپنے شوہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تاکہ یہ ان کی خدمت کرے (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲۶۴)۔بعد میں رسولؐ اللہ نے انھیں آزاد کر دیا لیکن انھوں نے رسولؐ اللہ کی خدمت میں رہنا ہی پسند کیا۔ پھر رسولؐ اللہ کی زندگی میں آپؐ کے ساتھ ہی رہے۔حضرت زید بن حارثہؓ اُن افراد میں شامل ہیں جنھیں رسولؐ اللہ نے دُنیا میں جنّت کی بشارت دی۔ دیکھیے: ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲:۴۹۔ مواخواۃ مدینہ میں رسولؐ اللہ نے حضرت زیدؓ کو حضرت حمزہؓ کا بھائی قرار دیا۔

مسلمانوں کو مغربی دنیا سے زخم کھاتے ہوئے ایک ہزار سال ہوگئے مگر آج بھی مسلمانوں کی عظیم اکثریت مغرب کے بارے میں ’نیک خیالات‘ رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمارا سیاسی نظام مغرب سے آیا ہوا ہے۔ ہمارا معاشی نظام مغرب کی عطا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام مغربی علوم و فنون پر کھڑا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام مغرب کی نقل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہماری خواہشیں، آرزوئیں، تمنائیں اور مثالیے (Ideals) تک مغرب سے آئے ہیں۔ 

جو تھوڑے بہت لوگ مغرب کو کچھ سمجھتے ہیں وہ اس خیال کے حامل ہیں کہ مغرب کا مسئلہ ’بنیاد پرست مسلمان‘ ہیں۔ حالانکہ ایک ہزار سال کی تاریخ گواہ ہے کہ مغرب کا اصل مسئلہ مسلمان نہیں ’اسلام اور پیغمبرؐ اسلام‘ ہیں۔ کل بھی مسلمانوں کے سلسلے میں مغرب کی پوزیشن یہی تھی اور آج بھی اس کی پوزیشن یہی ہے۔ ابھی کچھ سال پہلے تک مغرب ’سُنّی افغانستان‘ کو کچل رہا تھا اور آج وہ ’شیعہ ایران‘ کو بھنبھوڑ رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے عرض کیا ہے کہ مغرب کا مسئلہ ’یہ مسلمان‘ یا ’وہ مسلمان‘ نہیں۔ اس کا مسئلہ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ اس حوالے سے مغرب کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔

یہ ۱۰۹۵ء کی بات ہے۔ اس وقت عیسائیت کی سب سے بڑی شخصیت فرانسیسی نژاد پوپ اُربن دوم (۱۰۳۵ء-۱۰۹۹ء)تھے۔ انھوں نے چرچ میں کھڑے ہو کر کہا کہ خدا نے یہ بات میرے قلب پر القا کی ہے کہ اسلام ایک ’شیطانی مذہب‘ ہے اور عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ اس مذہب اور اس کے ماننے والوں کو صفحۂ ہستی سے مٹادیں‘‘۔ اس سلسلے میں پوپ اُربن دوم نے کوئی ’عقلی دلیل‘ پیش کی اور نہ نقلی شہادت۔ نہ قرآن کی کسی آیت کا حوالہ دیا اور نہ کسی حدیث نبوی کی مثال پیش کی، اور نہ اپنے بقول: مسلمانوں کے کسی ’شیطانی طرزِ عمل‘ کا ثبوت پیش کیا۔ پوپ نے صرف اپنے ’وہم‘ و ’الہام‘ پر بھروسا کیا۔ بہرحال، پوپ کی اس تقریر کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۰۹۹ء میں یورپ کے تمام ملک اور اقوام ایک صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہوئیں اور انھوں نے ان صلیبی جنگوں کا آغاز کیا، جو کم و بیش دو سو سال جاری رہیں۔ یہاں نوٹ کرنے کے لائق بات یہ ہے کہ اسلام پر حملہ کسی عام مغربی شخص نے نہیں خود مغرب کی سب سے طاقت ور اور مذہبی شخصیت نے کیا۔ اس نے مسلمانوں پر بعد میں اور ایک مفروضہ گھڑ کر اسلام پر پہلے حملہ کیا۔

مغربی دنیا نے چودھویں صدی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا کہ آپ معاذ اللہ جھوٹے تھے۔ چنانچہ چودھویں صدی عیسوی کے ایک عیسائی بادشاہ مینوئل دوم نے ایک موقعے پر یہ کہا کہ ’’اسلام صرف تلوار کے زور سے پھیلا ہے‘‘۔ یہاں پر بھی نوٹ کرنے کی اہم بات یہ ہے کہ اہل مغرب نے اسی تسلسل میں صرف مسلمانوں کو نہیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدفِ تنقید بنایا۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغرب کے ممتاز اطالوی شاعر دانتے [م: ۱۳۲۱ء]نے معاذ اللہ ایک نظم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوزخ میں پڑا ہوا دکھایا ہے۔ دانتے اگر عام مسلمانوں کو دوزخ میں پڑا ہوا دکھاتا تو یہ کوئی خاص بات نہ ہوتی، مگر دانتے نے بھی مسلمانوں پر نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا۔ 

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ مغرب عیسائی بادشاہ مینوئل دوم کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے گئے الزامات کو کبھی نہیں بھولا۔ چنانچہ ۲۰۰۹ء میں اس وقت کے پوپ بینی ڈکٹ شانزدہ نے مینوئل دوم کا بیان دُہرایا۔ اس پر مسلم دنیا میں شدید ردعمل ہوا تو پوپ بینی ڈکٹ نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔

مغرب نے ۱۸ ویں اور ۱۹ ویں صدی میں مسلم دُنیا پر مشتمل علاقوں پہ قبضہ کیا تو اس نے اپنی محکوم مسلم دنیا میں جدیدیت زدگان (Moderinists) کا ایک ایسا طبقہ پیدا کیا، جو نام کا مسلمان تھا اور ان کا باطن مغرب کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ برصغیر میں اس کی بڑی مثال سرسیّد احمد خان ہیں۔ سرسیّد نے مفسر قرآن کہلانے کے باوجود قرآن میں بیان معجزات کا انکار کیا ہے۔ انھوں نے معراج کی تفصیلات کو ’خلافِ عقل‘ کہا۔ سرسیّد نے ابرہہ کے لشکر کی ہلاکت کے بارے میں لکھا کہ وہ پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک نہیں ہوا تھا بلکہ ابرہہ کے لشکر میں چیچک پھوٹ پڑی تھی اور اس کا پورا لشکر اسی چیچک سے ہلاک ہوا۔ اسی طرح سرسیّد حدیث کے کسی بھی مجموعے کو مستند نہیں سمجھتے تھے۔ یوں سرسیّد نے مسلمانوں کے پورے تفسیری علم کو بھی مسترد کردیا تھا (آج کچھ نام نہاد ’اسکالر‘ اپنی چرب زبانی سے پہلو بدل بدل کر سرسیّد کے نقش قدم پر عمل پیرا نظر آتے ہیں)۔

مغرب کے فکری مرید سرسیّد نے جو مغربی علوم و فنون مسلمانوں پر مسلط کیے، انھوں نے مسلمانوں کے عقائد، نظریات، خیالات اور طرز عمل پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔ ان مغربی علوم نے مسلمانوں میں خدا کے وجود پر شکوک پیدا کیے تو اکبر الٰہ آبادی نے کہا:

خدا کی ہستی پہ شبہ کرنا اور اپنی ہستی کو مان لینا

پھر اس پہ طرّہ اس ادّعا کا کہ ہم ہیں اہلِ شعور ایسے

کفر نے سائنس کے پردے میں پھیلائے ہیں پائوں

بے زباں ہے بزمِ دل میں شمعِ ایماں ان دنوں

نئی تعلیم کو کیا واسطہ ہے آدمیت سے

جنابِ ڈارون کو حضرتِ آدمؑ سے کیا مطلب

مذہب کبھی سائنس کو سجدہ نہ کرے گا

انسان اُڑیں بھی تو خدا ہو نہیں سکتے

نائن الیون، اکیسویں صدی کا واقعہ ابھی کل کی بات ہے، مگر اس واقعے نے بھی اسلام اور اسلامی تہذیب سے مغرب کی نفرت کو ایک بار پھر آشکار کردیا ہے۔ یہ امر واضح ہے کہ نائن الیون کے ذمے دار اسامہ بن لادن تھے، چنانچہ مغرب کا سارا ملبہ بھی ایک فرد یا ان کی تنظیم القاعدہ پر پڑنا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا، مغرب ایک بار پھر اسلام پر حملہ آور ہوگیا۔ تب امریکا کے صدر جارج بش نے نائن الیون کے بعد عملاً مسلمانوں پر حملہ شروع کرتے وقت اپنی قوم سے خطاب میں یہ اعلان کیا: ’’ہم نے ’کروسیڈ یعنی صلیبی جنگ کا آغاز کردیا ہے‘‘۔ اس اصطلاح کے استعمال پر مسلمانوں نے اعتراض کیا تو جارج بش کے ترجمان نے وضاحت کی کہ جارج بش کی زبان پھسل گئی تھی۔ حالانکہ جارج بش لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ جارج بش کی زبان پھسل گئی تھی تو اس کے بارے میں مغرب کے ممتاز ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے کہا ہے کہ ’’زبان پھسلنے کا بھی ایک نفسیاتی پس منظر ہوتا ہے‘‘، لیکن جارج بش کے بعد اٹلی کے وزیراعظم [۲۰۰۱ء-۲۰۰۶ء]سلویو برلسکونی نے بھی اسامہ بن لادن پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام پر حملہ کیا۔ اس نے کہا: ’’مغربی تہذیب، اسلامی تہذیب سے برتر ہے، کیونکہ مغربی تہذیب کے اقداری نظام نے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے‘‘۔ امریکا کا اٹارنی جنرل ایش کرافٹ تو اٹلی کے وزیراعظم سے بھی آگے نکل گیا۔ اس نے نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن یا ’القاعدہ‘ پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام کے خدا پر حملہ کرتے ہوئے کہا: ’’عیسائیت کا خدا، اسلام کے خدا سے برتر ہے، کیونکہ اسلام کا خدا اپنی عظمت کے اظہار کے لیے مسلمانوں سے جان کی قربانی مانگتا ہے،جب کہ عیسائیت کا خدا ایسا خدا ہے، جس نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنے بیٹے عیسیٰ کی قربانی دے دی‘‘۔ ناٹو کے سابق کمانڈر جنرل کلارک نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہا: ’’مغرب کی جنگ اسلام کی حقیقت طے کرنے کے لیے ہے۔ مغرب کو طے کرنا ہے کہ آیا اسلام ایک پُرامن مذہب ہے یا یہ اپنے ماننے والوں کو تشدد پر اُکساتا ہے؟‘‘

مغرب کتنا ’انسان دوست‘ ہے اس بات کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ امریکا کے سفید فاموں نے امریکا میں ۸ کروڑ سے زیادہ ریڈ انڈینز کو قتل کردیا۔ آسٹریلیا میں مغرب کے سفید فاموں نے آسٹریلیا پر قبضہ کرنے کے لیے ۴۵ لاکھ سے زیادہ ایب اوریجنلز کو مار ڈالا۔ امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے خلاف دو ایٹم بم استعمال کر ڈالے۔ اسرائیل نے امریکا کی سرپرستی میں غزہ کے اندر ۸۵ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی زخمی کردیے، اور سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد وں کو امریکا نے پانچ بار ویٹو کیا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔ مذاکرات جاری تھے کہ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرکے علی خامنہ ای سمیت ایران کے قائدین کی بڑی تعداد کو شہید کردیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مغرب، ابلیس سے بھی بڑا شیطان ہے، بے رحم، مکار اور خونخوار شیطان!

 _______________

اسلام، اللہ کا عطا کردہ وہ کامل دین ہے جو انسان کی پوری زندگی کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اسلام نے نہ صرف ارکانِ اسلام میں داخل ایمانیات، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج بلکہ زندگی کے تمام باقی معاملات، معیشت، معاشرت، تہذیب و تمدن، سیاست، ریاست، سائنس، ٹکنالوجی سمیت زندگی کے ہر شعبے کے لیے اصول و احکام بیان فرمائے ہیں۔ ان احکام کا بنیادی سر چشمہ قرآن مجید اور سنت نبویؐ ہیں۔ لہٰذا قرآن و سنت سے مسائل اخذ کرنے کے لیے کچھ ایسے اصول و ضوابط کی ضرورت ہے جن کے ذریعے ہر دور میں نئے مسائل کا شرعی حل معلوم کیا جا سکے۔ اسی ضرورت کی تکمیل علم اصولِ فقہ سے ہوتی ہے جو اسلامی قانون کا بنیادی علم ہے۔ یہ وہ علم ہے جو مجتہد کو یہ صلاحیت بخشتا ہے کہ وہ قرآن و سنت کی نصوص کو صحیح انداز میں سمجھ کر ان کے معانی و مقاصد کو متعین کرتے ہوئے ان سے احکام شرعیہ اخذ کرسکے۔ اگر فقہ اسلامی احکام کا عملی نظام ہے تو اصول فقہ اس کی فکری و علمی بنیاد ہے۔ گویا اصول فقہ کی بنیاد کے بغیر فقہ کی ذیشان عمارت قائم نہ ہوسکتی تھی اور نہ قائم رہ سکتی ہے۔

اصول اصل کی جمع ہے جس کے معنیٰ قاعدہ اور اساس کے ہیں یعنی جس پر کسی چیز کی بنیاد ہو۔ بالکل ویسے ہی جیسے چھت اور دیواروں کے لیے ’بنیاد‘ اصل اور اساس ہے۔ لہٰذا اصول فقہ سے مراد ان قواعد و ضوابط کا علم ہے جن پر فقہ کی بنیاد ہے اور جن کے ذریعے قرآن و سنت اور دیگر مصادر شریعت سے تفصیلی دلائل کی بنیاد پر شرعی احکام اخذ کیے جاتے ہیں۔

اصول فقہ کی تدوین بتدریج ہوئی اور مختلف اَدوار سے گزرتے ہوئے یہ ایک مستقل علم بن گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب وحی نازل ہورہی تھی، لوگ پیش آمدہ مسائل کے لیے نبی کریمؐ سے رجوع کرتے تھے۔ ان سوالات پر کبھی حضوؐر کو براہِ راست وحی کے ذریعے ہدایات مل جاتی تھیں تو کبھی آپؐ خود (اجتہاد کے ذریعے) حل بتا دیتے تھے۔ وحی الٰہی کے ذریعے ان اجتہادات کی توثیق ہو جاتی تھی یا درکار تبدیلیوں کی طرف رہنمائی فرما دی جاتی تھی۔ اصولِ فقہ کے بنیادی اصول عہد رسالت مآبؐ میں بھی موجود تھے۔ جب فتوحات کو وسعت ملی تو متعدد صحابہ کرامؓ کو قاضی بنا کر مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔ جب ان کے سامنے کوئی مسئلہ آتا تو وہ پہلے کتاب اللہ میں دیکھتے۔ اگر اس مسئلے کا کتاب اللہ میں براہِ راست حل نہ پاتے تو سنت رسول ؐ میں تلاش کرتے، اس میں بھی اگر مسئلے کا براہِ راست حل نہ پاتے تو پھر وہ قرآن و سنت کی نصوص سے اجتہاد کرکے اس کا فیصلہ کرتے۔ اس عمل کی تربیت اور اجازت انھیں نبی کریمؐ سے ملی تھی۔ 

مشہور حدیث ہے کہ جب نبی کریمؐ نے معاذ بن جبلؓ کو یمن کا قاضی بنا یا تو بوقت رخصت ان سے پوچھا: جب تمھارے سامنے کوئی معاملہ آئے گا تو کیسے فیصلہ کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا کہ کتاب اللہ سے۔ پھر سوال کیا کہ اگر اس میں نہ پاؤ؟ عرض کیا کہ سنت رسول ؐسے۔ فرمایا کہ اگر اس میں بھی نہ پاؤ؟ عرض کیا کہ اجتہاد سے فیصلہ کروں گا اور اس عمل میں کوتاہی نہیں کروں گا۔ یہ جواب سن کر نبی کریم ؐ نے ان کے سینے پر دست مبارک رکھ کر دعا دی کہ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اللہ کے رسولؐ کو اس چیز کی توفیق دی جس سے اس کا رسول خوش ہوا۔ (ترمذی، ابوداؤد)

 یہ حدیث اجتہاد اور قیاس کی مشروعیت میں اصل کی حیثیت رکھتی ہے۔اسی طرح سے عہدرسالت میں بہت سے ایسے واقعات پیش آئے کہ جن میں صحابہؓ کسی مسئلے میں اتفاق رائے رکھتے تھے اور رسولؐ اس کی تائید فرماتے تھے جس سے بعد میں حجت ِ اجماع کا اصول بنا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفائے راشدین ؓکے دور میں جب صحابہ کرامؓ کو نئے نئے مسائل سے واسطہ پڑا تو انھوں نے قرآن و سنت اور قیاس و اجتہاد سے اسی طرح رہنمائی حاصل کی جیسے وہ عہد رسالت میں کرتے تھے۔ البتہ آپؐ کے بعد صحابہؓ نے کتاب و سنت کے بعد قیاس یا اجتہاد کے بجائے اجماع کو تیسرا درجہ دیا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں ممتازتابعی میمون بن مہران کہتے ہیں کہ جب آپ کے پاس کوئی مقدمہ لایا جاتا تو سب سے پہلے آپ قرآن کریم میں حکم دیکھتے۔ اگر اس صورتِ حال سے متعلق کوئی حکم قرآن کریم سے مل جاتا تو فیصلہ کر دیتے۔ اگر قرآن سے کوئی واضح حکم نہ ملتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور فیصلوں کی طرف رجوع کرتے، اگر اس میں بھی کوئی بات نہ ملتی تو صحابہؓ کے اہل علم کو جمع کرکے ان کی رائے لیتے اور ان کے اتفاق رائے کی بنیاد پر فیصلہ کردیتے۔ اگر صحابہؓ کے اہل علم میں کسی معاملے میں اتفاق رائے نہ ہوپاتا تو پھر اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرتے۔ خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرؓکے عہد خلافت کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس دور میں قانون سازی، اجماع اور قیاس کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا گیا۔آپ کے عہد خلافت میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ مانعین زکوٰۃ کا تھا جن کے خلاف آپ نے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے یہ اعتراض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے،جب کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لا الہ الا اللہ کہنے تک قتال کرو، جس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا اس نے اپنی جان و مال کی حفاظت کرلی اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓ نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کی فرضیت کا حکم قرآن کریم کی اس آیت سے استدلال کرکے بیان فرمایا: فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَـهُـمْ (التوبۃ۹:۵)’’اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑدو‘‘۔اس آیت سے یہ اصول اخذ کیا گیا کہ نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ لازم و ملزوم ہے۔ ان میں سے ایک فرض بھی ساقط ہوا تو قتال کا حکم باقی رہے گا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰۃ کو نماز پر قیاس کرتے ہوئے فرمایا: بخدا میں اس شخص سے ضرور جہاد کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ کے درمیان تفریق کی۔ ان کے اس اجتہاد سے یہ واضح ہوا کہ قرآن و حدیث سے مسئلہ اخذ کرنے کا اسلوب کیا ہوگا اور یہ کہ مشترکہ علت کی بنیاد پر ایک مسئلہ کو دوسرے پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ 

حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں بھی یہی طریقہ کار فرما رہا۔ آپ نے اہم مسائل پر غور و فکر کے لیے مجتہد صحابہ کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس میں اجتماعی غور و فکر کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جاتا تھا۔ خلیفۂ راشد ثانی حضرت عمرؓکے دور میں جب مدینہ میں قحط پڑا، کھانے کی اشیاء کی کمی ہو گئی تو اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اجتہاد کے ذریعے چوری کی سزا موقوف کردی حالانکہ قرآن نے چوری کی سزا قطع ید مقرر کی ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ اجتہاد اس حدیث کی بنیاد پر کیا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سفر میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے ‘‘ (سنن نسائی)۔ حضرت عمرؓکے اس اجتہاد سے درء الحدود بالشبہات  (شبہات کی وجہ سے حدود کو ساقط کرنا) کا اصولی قاعدہ سامنے آیا۔ یعنی فیصلوں میں یہاں تک کہ حد نافذ کرنے کے فیصلے میں بھی، حالات و ظروف کا خیال رکھا جائے گا۔ قحط کے دوران اس بات کا قوی امکان تھا کہ کسی شخص نے بھوک سے مجبور ہوکر مضطر حالت میں چوری کی ہو، لہٰذا حد کی سزا وقتی طور پر معطل کردی گئی۔ 

خلیفۂ راشد ثالث عثمان غنیؓاور خلیفۂ راشد چہارم حضرت علی مرتضیٰؓ کے دور میں بھی یہی طریقۂ کار رائج رہا۔ اس کے علاوہ انفرادی طور پر بھی صحابہ کرامؓ فقہی و قانونی معاملات میں فتاویٰ جاری کرتے تھے۔ عربی، صحابہ کرامؓ کی مادری زبان تھی۔ وہ فصاحت و بلاغت کے اصولوں، زبان کے اسلوب و ضوابط، پیچیدگیوں اور گہرائیوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ شریعت کے اسرار و رُموز، آیات کے اسباب نزول اور احادیث کے موقع و محل سے بھی بخوبی واقف تھے۔ اللہ نے انھیں ذہانت و فطانت سے بھی نوازا تھا۔ علاوہ ازیں نبی کریمؐ کی صحبت نے ان کے اندر ایک غیرمعمولی فقہی ذوق بھی پیدا کردیا تھا۔ لہٰذا وہ قرآن و سنت سے فطری طور پر احکام مستنبط کرتے تھے۔ اس میں انھیں کوئی دِقّت پیش نہ آتی تھی۔فقہی قاعدے ان کے ذہنوں میں اسی طرح موجود تھے جس طرح انسان کے ذہن میں مادری زبان کے قواعد فطری طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔ انھی قواعد کی روشنی میں وہ فقہی مسائل کا استنباط کرتے تھے، البتہ ان کی باضابطہ تدوین بعد میں ہوئی۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے کہ جس حاملہ عورت کا شوہر فوت ہو چکا ہو اس کی عدت وضع حمل ہے، اور وہ اپنے اس قول کی تائید اس آیت سے کرتے تھے: وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۝۰ۭ (الطلاق ۶۵:۳)’’حمل والیوں کی عدت ان کے بچے کا پیدا ہوجانا ہے‘‘۔ وہ کہتے تھے کہ سورۂ طلاق کی یہ آیت سورۃ البقرہ کی اس آیت کے بعد نازل ہوئی جس میں اس عورت کی عدت کے بارے میں جس کا شوہر فوت ہو جائے یہ حکم ہے کہ: وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا۝۰ۚ  (البقرہ ۲:۲۳۴)’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن تک روکے رکھیں‘‘۔ ان کا یہ استدلال اصول فقہ کے اس قاعدے کے مطابق تھا کہ بعد میں نازل ہونے والا حکم پہلے والے حکم کی تخصیص کر دیتا ہے، حالانکہ انھوں نے اپنے موقف کو اس اصولی زبان میں بیان نہیں کیا۔  

اسی طرح جب امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے شراب نوشی کی حد کے معاملے میں صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا تو حضرت علیؓ نے حد قذف نافذ کرنے کا فتویٰ دیا اور فرمایا:جب وہ شراب پیے گا تو لازماً یاوہ گوئی کرے گا، ہذیان بکے گا، اور جب یاوہ گوئی کرے گا تو افترا پردازی بھی کرے گا۔ لہٰذا، اس کو وہ سزا دی جائے جو قاذف کو دی جاتی ہے۔ تمام صحابہ کرامؓ نے اس استدلال کو پسند کیا اور حضرت عمرؓنے تمام اکابرین کی رائے سے اس سزا کو نافذ کر دیا۔ اس استدلال سے اصولِ فقہ کے دو قواعد کی بنیاد قائم ہوئی: اوّل حکم بالمآل ،یعنی کسی بھی فقہی مسئلے کا فیصلہ کرتے وقت صرف اس کے ظاہری احوال کو نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے نتائج کو بھی سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ دوم سد الذرائع ، یعنی برائی کو روکنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ اس کے دروازے بند ہو جائیں اور ایسا ماحول باقی نہ رہے جس میں برائی کو پنپنے کا موقع ملے۔

ان واقعات سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ گرچہ صحابہ کرامؓ اصولوں کی صراحت نہ کرتے تھے لیکن ان کا اجتہاد اصول و قواعد کی روشنی ہی میں ہوتا تھا۔ 

صحابہؓ کے بعد تابعین کا دور بھی اسی طرح گزر گیا۔ دوسری صدی ہجری کے آخر میں تبع تابعین کے بعد کے زمانے میں جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے لگا، نئے نئے مسائل پیش آنے لگے، عرب و عجم کے اختلاط سے فطری طور پر عربی زبان کا شُستہ ذوق اپنی اصل پر باقی نہیں رہا، بحث و مباحثہ اور شکوک و شبہات بڑھنے لگے تو فقہاء و مجتہدین نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ اجتہاد کے قواعد مدون کردیے جائیں تاکہ اختلاف کی صورت میں مجتہدین ان کی طرف رجوع کر سکیں۔ لہٰذا فقہا نے قرآن و سنت سے احکام اخذ کرنے کے لیے عربی زبان کے اندازِ بیان، شریعت کے مقاصد و مصالح اور صحابۂ کرامؓ کے طریقۂ استدلال کو سامنے رکھتے ہوئے اصولِ فقہ کے قواعد مرتب کیے۔ بعد میں یہی اصول ایسے معیارات بن گئے جن پر ہر فقیہ اپنے اجتہادی موقف کی بنیاد رکھتا اور اپنے دلائل و ماخذ کی وضاحت کرتا۔

شروع میں یہ قواعد مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی باقاعدہ تدوین کا آغاز امام شافعیؒ کی تصنیف الرسالۃ سے ہوا۔ امام رازیؒ کے بقول انھوں نے اس میں دلائل شریعت کے فہم کا قانونِ کلی وضع کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان دلائل کے کیا مراتب ہیں اور ان کو ایک دوسرے پر کیا ترجیح حاصل ہے۔ لہٰذا الرسالۃ  کو علم اصول فقہ کی تاسیس اور اس کے نشو و ارتقا میں امتیازی مقام حاصل ہے۔ اس کے بعد اس فن میں مختلف علماء و فقہاء نے کتابیں تصنیف کیں۔ ان کتابوں میں بعض مختصر ہیں، بعض متوسط اور بعض مفصل و تحقیقی۔ مختلف فقہی مذاہب کے علما نے اپنے اپنے اصولی مناہج کے مطابق یہ تصانیف مرتب کیں۔ جن میں سے چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

  ۱-الفصول في الأصول (امام ابو بکر جصاص)،

۲- الإحكام في أصول الأحكام  (سیف الدین آمدی) ،

۳- الموافقات  (امام ابو اسحاق شاطبی) ،

۴- المستصفى (امام ابو حامد غزالی) ،

۵- ارشاد الفحول (امام شوکانی)

اگر فقہ اسلامی احکام کا عملی نظام ہے تو اصولِ فقہ اس نظام کی فکری اور علمی بنیاد ہے۔ یہی علم مجتہدین کو اعتدال، حکمت اور بصیرت کے ساتھ اجتہاد کی راہ دکھاتا ہے۔ اس علم کے ذریعے طالب علم یہ سمجھتا ہے کہ امر، نہی، عام، خاص، مطلق، مقید اور ناسخ و منسوخ جیسے اصول کس طرح شرعی احکام کے فہم میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب طالب علم ان اصولوں سے واقف ہوتا ہے تو وہ فقہا کے اختلافات کی حکمت کو بھی سمجھنے لگتا ہے اور تنگ نظری یا تعصب سے بچتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ علم دین کے مقاصد، یعنی عدل، رحمت، آسانی اور مصلحت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ موجودہ دنیا چونکہ تیزی سے بدل رہی ہے، لہٰذا مسلسل نئے نئے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں، جن کا براہِ راست ذکر قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے اور موجودہ فقہی کتابوں میں بھی ان کا حل ملنا مشکل ہے۔ اس لیے آج اصولِ فقہ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ لہٰذا اسلامی علوم کے ہر طالب علم اور ہرسنجیدہ داعی الی اللہ کے لیے اس علم کا سیکھنا نہایت ضروری ہے، تاکہ وہ شریعت کے مقاصد اور اسلامی قانون کی حکمت کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔ اور اس کی روشنی میں قرآن و سنت اور دیگر مصادر شریعت سے نہ صرف نئے نئے مسائل کا حل تلاش کرسکے بلکہ قرآن و سنت کی دعوت حکمت کے ساتھ انسانیت تک پہنچانے کا فریضہ احسن انداز میں پورا کرسکے۔

 _______________

سیرت ایک مکمل نظام ہے جو ایک خاص قسم کے ارادی افعال سے ترتیب پاتا ہے۔ سیرت کا استحکام کسی مسلسل غالب نظریے سے ہوتا ہے۔سیرت کردار کی بنیاد ہوتی ہے اورکردار عام طور پر حالات کی حدبندیوں میں سیرت کا اظہار کرتا ہے۔ سیرت بالآخر انسان کی فطرت بن جاتی ہے۔ اس کا کچھ حصہ اس کی اصل فطرت ہوتی ہے اور کچھ حصہ ایسی فطرت ہوتی ہے جس کی پرورش عادات سے ہوتی ہے اور یہ عادات ہی ہیں جو انسان کی سیرت کی تشکیل کرتی ہیں۔

کسی کام کو خاص ڈھنگ سے بار بار کرنے کے میلان کو عادت کہتے ہیں۔ عادتیں بذاتِ خود تو فطری نہیں ہوتیں، لیکن ہر عادت کی اساس کوئی نہ کوئی جبلت، بنیادی خواہش یا فطری داعیہ ہی ہوتا ہے۔ عادتیں وہبی نہیں بلکہ کسبی ہوتی ہیں۔ ماحول کے اثر سے پڑتی ہیں۔ فطری نہیں ہوتیں لیکن جب باربار کی مشق سے مستحکم ہوجاتی ہیں تو پھر مشکل ہی سے چھوٹتی ہیں۔ لیکن چونکہ اس کے اظہار کے طریقے، تقلید، تجربے، تربیت اور عقل و فہم کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں اور یہی طریقے رفتہ رفتہ مستحکم ہوکر عادات و اَطوار اور سیرت و کردار میں یکسانیت کی بجائے شدید اختلافات پیدا کردیتے ہیں۔

  • سیرت سازی میں بنیادی کردار:سیرت سازی میں والدین اور اساتذہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بچوں کی سیرت کی تشکیل اور شخصیت کی تعمیر میں استاد کا حصہ والدین سے زیادہ ہے۔ استاد بچوں کو محض معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ ان میں روح کی بلندی، ذہن کی پختگی اور کردار کی رفعت بھی پیدا کرتا ہے۔ انھیں صحیح معنوں میں انسان بناتا ہے۔ اگر استاد کا کردار بے داغ اور مثالی ہو تو وہ بیک وقت سیکڑوں طلبہ کی سیرت کی تشکیل کرسکتا ہے۔ وہ ایک مہربان، شفیق اور ہمدرد دوست ہے۔ وہ ان کا رہنما بھی ہے اور اسلامی تعلیمات کا عملی پیکر بھی۔ بچّے اپنے استاد کو دُنیا کا سب سے بڑا آدمی سمجھتے ہیں۔ اس کی ہربات پر غیرمعمولی اعتماد کرتے ہیں۔ اس کی سیرت و کردار کو اپنے لیے قابلِ تقلید سمجھتے ہیں۔ بچوں کی اخلاقی تعمیر میں معلّم کی شخصیت کو سب سے زیادہ دخل حاصل ہے کیونکہ بچّے اسے شمع ہدایت تصور کرتے ہیں۔ ایک اچھے معلّم کے طفیل اپنے خیالات اور اخلاق و عادات میں استواری پیدا کرتے ہیں۔

علّامہ محمد اقبال کی رائے میں استاد حقیقت میں قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو خدمت کے قابل بنانا انھی کی قدرت ہے۔ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور سب کارگزاریوں سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلّم کی کارگزاری ہے۔ معلّم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔ کیونکہ تمام اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اسی کے ہاتھ میں ہے اور ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔ اقبال کے نزدیک فلسفۂ تعلیم کا بنیادی نظریہ سیرت و کردار سازی ہے۔ وہ طالب علم کے رُوپ میں ایسے کردار کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں بچہ زندگی کی گراں باریوں کو خندہ پیشانی سے جھیلنے کا عادی ہوجائے۔ وہ ایسے کردار کے خواہاں ہیں جس میں طاقت بھی ہو اور جسارت بھی، بلندنظری بھی ہو اور جرأت تسخیر بھی۔ خودنمائی بھی ہو اور آشکار آرائی بھی، عزم و ہمت بھی ہو اور جرأت بھی۔ صبروقناعت بھی ہو اور سخت کوشی بھی۔ شوخی ٔ طبع بھی ہو اور جدّت نظر بھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسرارِ کائنات کا متلاشی بھی ہو۔ وہ اسے تصرف میں لاکر اِک نیا جہان بسائے جس کی آب و تاب دیکھ کر مہ و خورشید بھی سراپا حیرت بن جائیں۔ یہ ہرآدمی کے بس کی بات نہیں کہ وہ محض اپنی کوششوں سے علم حاصل کرے۔ علم و دانش کے حصول اور تشکیل سیرت کے لیے استاد کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

  • استاد کا کلیدی کردار:درس گاہ اور استاد کی حیثیت اساسی اور مرکزی ہوتی ہے اور استاد شاگرد کے نزدیک ایک ایسی ساحرانہ ہستی ہوتا ہے جس کی تقلید کو وہ اپنے لیے باعث ِ فخر سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد اور اس کا کردار طلبہ کی تشکیلِ سیرت و کردار میں نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ اساتذہ اپنی سیرت، بلندکردار اور پاکیزہ اَطوار سے معاشرہ کو زیادہ منظم کرسکتے ہیں اور طلبہ کی ایسی تربیت کرسکتے ہیں جس کے اثرات تاحیات قائم رہیں۔

مسلمان استاد کو تعمیرِ سیرت کاکٹھن کام انجام دیتے ہوئے طلبہ میں پسندیدہ عادات کو زنجیریں بناکر راسخ کرنا اور ناپسندیدہ عادات کو کمالِ حکمت سے ترک کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ عادات کی زنجیریں دیکھنے میں چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ اتنی مستحکم اور بڑی ہوجاتی ہیں کہ ساری زندگی توڑنے سے نہیں ٹوٹتیں۔

یہ امرِواقعہ ہے کہ ’’پہلے ہم عادتیں بناتے یا بگاڑتے ہیں اور پھر یہی عادتیں ہمیں بناتی یا بگاڑتی ہیں۔ اس لیے استاد کا یہ اوّلین فرض ہے کہ وہ طلبہ میں پاکیزہ اور پسندیدہ عادات پیدا کرے۔ جسم اور لباس کی صفائی، وقت کی پابندی، نماز، کھیل، مطالعہ اور ورزش کی عادت، سلام کرنا، مزاج پوچھنا، مناسب گفتار و رفتار، مناسب طریقے سے کھانا پینا، سچ بولنا، ایمانداری برتنا، خندہ پیشانی سے پیش آنا، غلطی کا اعتراف کرلینا، بھول چوک پر معذرت کرلینا، بولنے، سوال کرنے، جواب دینے، کوئی چیز لینے یا دینے میں اپنی باری کا انتظار کرنا۔ فرائض کی پابندی، باقاعدگی، وعدہ پورا کرنا، خدمت خلق کرنا اور معذوروں و مجبوروں کی خبرگیری کرنا، اجازت لے کرآنا، شکریہ اداکرنا، شائستگی سے گفتگو کرنا، ادب سے نام لینا، ہرموقع کے آداب کا لحاظ رکھنا، سب پسندیدہ عادات کے زمرے میں آتے ہیں۔

بچپن ہی سے اگر پسندیدہ عادات راسخ کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو فرد کو ترقی کی منزلیں طے کرنے میں بہت سہولت ہوجاتی ہے۔ ایک فرد جو وقت پر کھانے، کھیلنے، سونے جاگنے کا عادی ہو۔ مطالعے اور محنت و مشقت کے کاموں پر پابندی سے وقت صرف کرسکتا ہو۔ مختلف مواقع کے آداب کا پابند ہو۔ اس کی صحت، اخلاق اور سیرت بھی درست ہوگی اور آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع بھی نصیب ہوں گے۔

  • سیرت سازی کے لیے اقدامات:سیرت سازی کے لیے سب سے پہلے بچّے کو سادہ اور عام فہم انداز میں قصے کہانیوں، پوسٹروں، تصویروں، واقعات اور مشاہیر کی سوانح حیات وغیرہ کی مدد سے کسی عادت کے فوائد، اہمیت اور ضرورت محسوس کرائی جائے۔ پھر مختصر اور متعین الفاظ میں یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ اس ضمن میں کیا کیا مطلوب ہے اور مطلوب بآسانی کس طرح حاصل ہوسکتا ہے؟ طلبہ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر بھرپور کوشش کرنے اور عمل کا عہد بھی لیا جائے۔  اس کے علاوہ طلبہ کے لیے اپنے اندر محبت، ہمدردی و دل سوزی کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے۔ مربی کو اصلاح کی طرف سے مایوسی سے خود بھی بچنا ہوگا اور طلبہ کو بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔ بچّے کی عزّتِ نفس، غیرت، خودداری کا پاس و لحاظ رکھنا ہوگا۔ زیرِ تربیت طلبہ کی عملی، اخلاقی، ذہنی اور جسمانی حالت کا جائزہ لے کر نمایاں خوبیوں اور خامیوں کا ایک چارٹ مرتب کیا جائے۔

اساتذہ اپنے آپ کو عملی نمونہ کے طور پرطلبہ کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ اچھی عادات اپنانے میں تقلید کرسکیں۔ دوسروں کے سامنے بچّے کی تنقیص، شکایت یا بے جا تنقید ہرگز نہ کی جائے۔ طفلانہ شوخیوں کے لیے گنجائش دی جائے اور نادانی کے باعث ہونے والی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے۔ دوسروں کے سامنے بچوں کی صرف خوبیوں کا تذکرہ کیا جائے۔ اچھے کاموں پر شاباش دی جائے۔ تعمیرواخلاق کی نشوونما اور ناپسندیدہ حرکات سے محفوظ رکھنے کے لیے بچوں کی عمر اور دلچسپیوں کی مناسبت سے ہم نصابی سرگرمیوں کا بندوبست کیا جائے۔

ہم نصابی مشاغل سے طلبہ کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے۔ جذبۂ قیادت اُبھرتا ہے۔ اشتراکِ عمل کا جذبہ پیدا ہوتاہے۔ سماجی اَطوار بہتر اور تدریسی کام میں انہماک پیدا ہوتا ہے۔ قوتِ اظہار اور خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ وقت اور نظم و ضبط کی پابندی کی عادت راسخ ہوتی ہے۔ وہ سماجی اقدار کو سمجھتے ہوئے معاشرہ کا مفید رکن بن کر زندگی بسر کرسکتا ہے۔ فرصت کے اوقات کو عمدہ اور تعمیری انداز میں بسر کرنے کی تربیت ملتی ہے۔ ارتباط باہمی بچّے کو صداقت پسندی ، راست گفتاری اور قانون کا احترام سکھاتا ہے۔

طلبہ کے لیے عام کھیل کود کے علاوہ صحت مند ادبی و سماجی مشاغل کا انتخاب کیا جائے۔ قومی اور معاشرتی تقریبات کو اسلامی رنگ میں منایا جائے۔ مجموعی طور پر اسکول میں عملی سرگرمیوں، نظم و ضبط، صفائی، طرزِگفتگو، اخلاقی اقدار اور آدابِ معاشرت کا ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس کا اثر غیرمحسوس طور پر طلبہ کی شخصیت کو اسلامی رنگ میں ڈھال دے۔

  • ناپسندیدہ عادات سے چھٹکارا: ناپسندیدہ عادات و اَطوار کو ترک کروانے کے لیے اساتذہ کو چاہیے کہ سب سے پہلے طلبہ کی ناپسندیدہ عادت واَطوار میں چند بنیادی اور نمایاں خرابیوں کو نوٹ کریں۔ پھر باری باری ہر بُری عادت کے اصل محرکات کا جائزہ لے کر دُور کرنے کی فکر کریں۔ مناسب موقع تلاش کرکے عام فہم انداز میں سبق آموز قصّے کہانیوں وغیرہ کی مدد سے  اس بُری عادت کے نقصانات اور بُرے نتائج ذہن نشین کرائیں۔ اس کے بعد ترک کرانے کی آسان تدابیر اپنائیں۔ بچّے کو اچھی طرح آمادہ کرکے بُری عادت ترک کرنے کا عہد لیں۔ اگر وہ اپنی خوشی سے بدی، بدعہدی پر سزا مقرر کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ اصلاح کی طرف سے مایوس نہ ہوں۔ بچّے میں خوداعتمادی کا اتنا جذبہ پیدا کیا جائے کہ اسے یقین ہوجائے کہ وہ اسے ترک کرسکتا ہے۔ جبروتشدد سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے بعض دوسری خراب عادتیں پیدا ہوجاتی ہیں، مثلاً چوری کے ساتھ جھوٹ اور دھوکا دہی وغیرہ۔ بُری عادات کے خاتمے کے لیے اور اصل اسباب کے ازالہ کے لیے بچّے کی آمادگی اور قوت ارادی ضروری ہے۔ ماحول ایسا فراہم کیا جائے کہ بُری عادت سے نفرت ہونے لگے۔ اجتماعی کی بجائے انفرادی توجہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ خلاف وزی کا موقع نہ دیں۔ کامیابی پر شاباش دیں، جھوٹ بولنے کے بجائے سچ بولنے کے فوائد اور اچھے نتائج ذہن نشین کرائے جائیں۔

کمزوروں، ناداروں یا ذہنی طور پر کمزور افراد کو ستانے کی بُری عادت کی روک تھام کے لیے ان کی خبرگیری اور امداد پر آمادہ کیا جائے۔ پس استاد کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کی بُری عادات ترک کروانے اور پسندیدہ عادات ان کی طبیعت میں راسخ کرنے کی کوشش میں سچّی لگن سے مصروف رہے، تاکہ ان کی ہم آہنگ نشوونما اور متوازن سیرت و کردار کی تشکیل ہوسکے۔

  • بچوں کے رجحانات کو پیش نظر رکھنا:اساتذہ تعلیمی و تربیتی عمل میں بچوں کی خواہشات اور رجحانات کو مدنظر رکھیں۔ باربار بُراکہنے سے بچوں کی عزّتِ نفس کو صدمہ پہنچتا ہے اور خود اعتمادی مجروح ہوتی ہے۔ وہ بدظن ہوجاتے ہیں اور پھر منفی رویہ اپناتے ہیں۔ سزا کے معاملے میں امام غزالی نے نفسیاتی اور ابن خلدون نے معاشرتی انداز اپنانے کی تلقین کی ہے۔ دونوں ماہرین بچّے کی شخصیت کے احترام اور محبت و شفقت کے قائل ہیں اور جبروتشدد کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد نہ صرف تعلیم کے منافی ہے بلکہ بچّے کے ذہن اور اخلاق پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے۔ اس سے ان میں مکروفریب، جھوٹ، ریاکاری جیسی بُری عادات پیدا ہوجاتی ہیں۔ استاد کو چاہیے کہ وہ کلاس ٹیچر کی حیثیت سے مندرجہ ذیل ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نبھانے کی کوشش کرے۔ پابندی سے وقت پر اپنے درجے کی حاضری لینا، پابندی سے وقت پر حاضر ہونے کے لیے طلبہ کو اُبھارنا، نیز ضرورت ہو تو سرپرستوں کو توجہ دلا کر پابندی کروانا، تاکہ بغیر عُذر کے وہ غیرحاضر نہ ہوں۔ طلبہ سے درجے کے آداب کی پابندی کرانا، مثلاً فرش پر بیٹھے ہوں تو جوتے ایک طرف سلیقے سے رکھنا اور سلیقے سے سوال کرنا اور جواب دینا۔ اپنی بیٹھنے کی جگہ کو صاف ستھرا اور اپنے سامان کو ترتیب سے رکھنا، کوڑا کرکٹ ٹوکری میں ڈالنا۔ استاد کا فرض ہے کہ طلبہ کے تعلیمی سامان، کتب، کاپیوں وغیرہ کا جائزہ لے کر ان کی حفاظت، ترتیب اور صفائی کے لیے ضروری ہدایات دے۔ عام صحت و صفائی کا جائزہ لے کر جسم اور لباس کی صفائی کے متعلق ہدایات دے۔ ہفتہ وار دیگر اجتماعات میں طلبہ کو تقریر کرنے پر آمادہ کرے۔ انفرادی طور پر عادات و اَطوار سے متعلق قابلِ توجہ اُمور کی طرف توجہ دلائے۔ طلبہ کے سرپرستوں سے رابطہ رکھے اور انھیں طلبہ کی تعلیم و تربیت سے متعلق مناسب مشورے دے۔

تشکیلِ سیرت میں استاد کا کردار مرکز و محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیرت و کردار کی تعمیر کا ذریعہ تعلیم و تربیت ہے جو اساتذہ کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ طلبہ میں مثبت اقدار اور آدابِ زندگی کا راسخ کرنا، استاد کے فرائض میں شامل ہے۔ استاد مدارس کے کُل مشاغل کا سرچشمہ ہوتا ہے۔   وہ طلبہ کو تربیت دیتا ہے۔ ان کے مشاغل میں ان کی رہنمائی کرتا ہے، جس کا اثر اندرون و بیرون مدرسہ طلبہ کے لیے فکرونظر، علم و عمل اور سیرت و کردار پر متواتر ہوتا ہے اور یہ اثر تاحیات قائم رہتا ہے۔ مدرس وہ ہے جو بچوں کے ذہنوں کو علم کے نُور سے منورکردے اور ان کے سینوں کو فروغ شعلۂ طور سے بھردے۔ جو راز ہستی کی تفسیر بتلائے، جو خوابِ زندگی کی تعبیر بتلائے۔

  • جدید تعلیمی رجحانات کا تقاضا:جدید نظریۂ تعلیم نے بچّے کو عملِ تعلیم میں مرکزی حیثیت دے کر اساتذہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔کیونکہ ان کا کام صرف تدریس ہی نہیں بلکہ تعمیرِسیرت ہے۔ تعلیم کا پیشہ روحانی صفات کا حامل ہے۔ معلّم کی ذاتی خوبیاں بچوں کی تشکیلِ سیرت کے لیے اَزحد ضروری ہیں۔ معلّم کو صرف زبانی حد تک ہی نیکی و اچھائی کا پرچار کرنے کے بجائے طلبہ کے لیے نیکی اور اچھائی کا عملی نمونہ ہونا چاہیے جس کی طلبہ تقلید کرسکیں۔ کیونکہ اقوال دل میں اترتے ہیں لیکن اعمال کو آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے اور آنکھوں کی تعداد دلوں سے زیادہ ہے۔

طلبہ کی سیرت و کردار پر سب سے زیادہ اثر اساتذہ کی اخلاقی و عملی زندگی کا ہوتا ہے۔ اساتذہ میں سے بھی خاص طور پر وہ اپنے کلاس ٹیچر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جن خوبیوں یا خامیوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے،وہ ان کی شعوری اور لاشعوری طور پر تقلید کرتے ہیں۔ اگر اساتذہ کے قول و فعل میں مطابقت نہ ہو تو طلبہ کی سیرت بے حد متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے خصوصاً اصول و ضوابط کی پابندی، شائستہ طرزِ تکلّم ، اسلامی وضع قطع ، خوش اخلاقی، ہمدردی، ایثار و تعاون اور فرائض کی انجام دہی میں لگن اور انہماک وغیرہ کے ضمن میں اساتذہ کوبہترین نمونہ پیش کرنا چاہیے۔

کامیاب استاد وہ ہے جس کے طلبہ اسلامی اخلاق و عقائد اور اسلام کے جملہ بنیادی اصولوں اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ہرشعبۂ زندگی میں محنت، لگن اور دیانت داری سے کام لیں۔ اپنے خاندان، معاشرے اور قوم کے وفادار شہری بنیں۔ بزرگوں کا احترام کریں۔ خدمت و اطاعت ان کا شعار ہو۔ انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ اخلاق و کردار، صبروضبط، بُردباری، جذبۂ ایثار اور اسلامی آدابِ معاشرت سے واقف ہوں۔ کوشش پیہم، ان تھک محنت، تگ و دو عمیق مشاہدہ اور تحقیق و جستجو طلبہ کا شعار ہو۔ ان کے دل میں بُرائی سے نفرت اور نیکی کے بارے میں محبت پائی جائے۔ وہ معاشرے کے باضمیر اور غیرت مند افراد ہوں۔ ان کے معاملات میں دیا نت داری، باتوں میں نرمی اور عادات میں پاکیزگی و وقار نمایاں ہو۔ انھیں حسد، تعصب، زرپرستی، فحاشی، دھوکا دہی، لالچ اور دوسری اخلاقی بُرائیوں کا احساس ہو۔ وسیع النظر، فراخ دل، نیک نیت اور معاشرے کے باکردار افراد ہوں۔ وہ اسلامی طرزِزندگی گزارنے کا سلیقہ رکھتے ہوں۔ حلال و حرام کی تمیز کرسکتے ہوں۔ رنگ و نسل قومیت و فرقہ واریت کے تعصبات سے بالاتر ہوں۔ اس کے طلبہ میں سادگی و انکساری، راست بازی اور خلق خدا کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے۔ گویا مضبوط سیرت و کردار کے افراد تیار کرنا مسلمان استاد کا اصل فریضہ ہے۔

 _______________

قیامِ پاکستان ہی کے زمانے سے کسی نہ کسی عنوان اور کسی نہ کسی حیثیت میں ، مَیں دستورسازی سے منسلک رہا ہوں۔ اس لیے احباب کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں کچھ مشاہدات بتائوں کہ پاکستان کی دستور سازی میں غیرمعمولی تاخیر کیوں ہوئی؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام جن اغراض کے تحت عمل میں آیا تھا، ان میں ایک غرض یہ بھی تھی کہ یہاں اسلام کے مطابق نظامِ حکومت قائم کیا جائے۔ پاکستان کی تحریک ایک بہت طویل تحریک کے آخری باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ طویل تحریک اس طرح شروع ہوئی کہ انیسویں صدی میں یہاں مسلمانوں کا سیاسی زوال جب اپنی انتہا کو پہنچ گیا، تو لوگوں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اب ہمارا مستقبل کیا ہے اور زوال کے مسئلے کو ہم کس طرح درست راستے پر ڈال سکتے ہیں اوراپنی شوکتِ رفتہ کی بازیابی کے لیے کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں مفکرین،علما، ادبا، شعرا سبھی اپنے اپنے طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ یوں مختلف جہتوں میں یہ جدوجہد شروع ہوئی، جو آخرکار قائداعظمؒ کی قیادت میں ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی۔

اس تحریک کے دوران یہ مقصد بھی سامنے آتا رہا کہ اگر ایک مملکت مسلمانوں کو ملے گی تو وہاں مسلمان اپنے دین، اپنے ایمان، اپنی اقدار اور اپنی تہذیب و ثقافت کے مطابق نظمِ حکومت قائم کریں گے اور یہ ان کا دینی حیثیت سے فریضہ بھی ہوگا۔ اسی کے ساتھ ساتھ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، ان کے لیے بھی قوت ثابت ہوں گے، اور اتحاد عالم اسلامی کے لیے بھی ایک مؤثر طاقت بن سکیں گے۔ بہرحال تحریک پاکستان کے یہ مختلف مقاصد تھے۔

استحکامِ پاکستان کے خلاف سازشیں

قیامِ پاکستان ایک معاہدے کے ذریعے عمل میں آیا۔ اس معاہدے میں مسلمانوں کے علاوہ دو اور فریق [ہندو اور انگریز]بھی تھے، لیکن ان کی نیتیں صاف نہیں تھیں، یعنی جو بات طے ہورہی تھی اس پر ان دونوں کا دل رضامند نہیں تھا اور وہ چیز ان کی زبانوں پر بھی آگئی۔ اس لیے ان کے عمل سے ظاہر ہوتا رہا اور ان کی یہ کوشش بھی رہی کہ پاکستان کو بنتے ہی ختم کر دیا جائے۔ پھر ان کے بڑے ذمہ دار لوگوں نے کہا کہ یہ بن تو گیا ہے، لیکن اس کو صفحۂ ہستی سے مٹاکے دوبارہ ہندوستان کو ایک کر لیں گے۔ گویا پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا گیا۔ 

اس طرح جن کے ہاتھ سے پاکستان نے اقتدار لیا تھا، ان کی ریشہ دوانیاں اور مختلف سطحوں پر سازشیں بھی جاری رہیں۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ اتنی بڑی ایک مسلم مملکت بن رہی ہے، اسے ابتداء ہی میں جتنا زیادہ سے زیادہ کمزور کیا جا سکے، جتنا بے دست و پا کیا جا سکے، وہ کردیا جائے۔ پاکستان اس حالت میں وجود میں آیا کہ شروع ہی سے پڑوس کی مملکت اس کو مٹانے کی تگ و دو میں مصروف ہوگئی۔ دوسری بدقسمتی یہ بھی ہوئی کہ ایک پڑوسی مسلم ملک نے بھی پہلے روز سے اسے کھلے دل سے تسلیم نہ کیا، بلکہ بین الاقوامی ادارے میں اس کے خلاف تقریریں بھی کیں اور جب موقع ملا نقصان پہنچایا۔ ان حالات میں پاکستان قائم ہوا۔ پھر بے سر وسامانی کا جو عالم تھا، آج اگر اس کو کوئی لفظوں میں بیان کرنا چاہے تو حقیقت یہ ہے کہ اسے ٹھیک ٹھیک بیان کر نہیں سکتا۔

بعض اوقات لوگ انڈیا سے مقابلہ کرتے ہیں کہ ’’وہاں تو اتنے تھوڑے عرصے میں دستور بن گیا‘‘۔حالانکہ انڈیا میں زمینی حقیقت یہ تھی کہ کچھ لوگ انگریز وائسرائے لاج کے دفتر سے نکلے اور انڈیا کی دستورساز اسمبلی میں جاکر بیٹھ گئے۔ انھوں نے دستور بنالیا اور ان کی حکومت بن کر کام کرنے لگی، مگر پاکستان میں یہ صورتِ حال نہیں تھی۔ یہاں تو نہ قلم دوات تھا، نہ کاغذ، سیاہی اور پنسل، نہ لوگوں کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے، نہ ٹھیرنے کی مناسب جگہ۔ بہرحال، سچی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان سنبھل گیا تو قائد اعظم مرحوم کا عزم اور ان پر مسلمانوں کو جو اعتماد تھا، اور اللہ کے فضل کی بنا پر ہی یہ ممکن ہوسکا۔ پھر خود مسلمانوں کے اندر جو ولولہ پیدا ہوا تھا کہ ہر تکلیف اٹھا کے اور ہرقیمت پر پاکستان کو بچانا ہے، اس جذبے نے ملک کو سنبھالنے میں مدد دی۔ لہٰذا، پہلا کام پاکستان کے سامنے یہ نہیں تھا کہ دستور بنا دیا جاتا، بلکہ پہلا کام یہ تھا کہ کسی طرح زندہ رہنے کی سبیل پیدا ہو، اور دوسری طرف سے کوشش ہو رہی تھی کہ یہ بنتے ہی ختم ہو جائے۔ لوگوں کو پیسے دے دے کر یہاں سے بھگایا گیا کہ یہاں کی معاشی زندگی کے انتظام کا گلا ہی گھونٹ دیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔ خیر، اللہ تعالیٰ نے اس کو برقرار رکھنا تھا، اس لیے اس کی بقا کا سامان ہوتا گیا اور ان مختلف دشواریوں پر رفتہ رفتہ قابو پایا جاتا رہا۔

ان حالات میں ملکی نظم و نسق کو چلانے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی قانونی ڈھانچے کی ضرورت تھی کہ کوئی دستوری ڈھانچا ہو جس پر نظم مملکت چل سکے۔ اس طرح وہی قانون [۱۹۳۵ء کا ایکٹ] جو پہلے سے چل رہا تھا، اسی میں تھوڑی بہت ترمیم کر کے آگے بڑھے۔ ان وجوہ کی بناپر اوّلین ترجیح اور اوّلیت اس مسئلے کو نہیں دی جا سکی تھی۔ 

ایک چیز اور قابلِ غور یہ ہے کہ پہلے اعلان کے مطابق جون ۱۹۴۸ء میں پاکستان کو وجود میں آنا چاہیے تھا، لیکن ایک فریق نے یہ سازش کی کہ ۱۰ مہینے پہلے یہ قدم اُٹھا لیا جائے اور آزادی دے کر کامن ویلتھ میں شریک ہوجائیں۔ یہ پیش کش ہندوؤں کی طرف سے کی گئی، اور انگریزوں نے اسے منظور کر لیا اور یہ اعلان کر دیا کہ جون ۱۹۴۸ء کے بجائے اگست ۱۹۴۷ء میں حکومت مسلمانوں کے حوالے کر دی جائے گی اور باقی ہندستان کانگریس کے حوالے۔ 

اب ظاہر ہے کہ اُس وقت مسلمانوں کے لیے یہ صورت تو ممکن نہ تھی کہ وہ کہتے، کہ نہیں آپ ابھی اور ٹھیریئے۔ خاص طور پر اُس وقت، جب کہ ان کے بارے میں ویسے ہی ہر طرف سے ہندو اخبارات یہ پروپیگنڈ ا کررہے تھے کہ یہ نہیں چاہتے کہ انگریز یہاں سے جائیں، لہٰذا یہ بات کہنے کا موقع نہیں تھا۔ اب مملکت کی تعمیر و استحکام کے لیے جو تھوڑی بہت تیاری کا وقت  مل سکتا تھا،اسے انھوں نے روکنا تھا کہ مسلمان کسی قسم کی تیاری کر نہ سکیں۔ دوسری جانب ہندو انڈیا کے پاس تربیت یافتہ لوگ اور ہردرجے میں بنا ہوا ڈھانچا اور چلتا ہوا نظامِ ریاست و مملکت موجود تھا اور وسائل بھی خاصّے زیادہ تھے۔ چنانچہ وہاں دستور سازی پہلے سے ہو رہی تھی، دستوری خاکے بن چکے تھے اور بڑے اچھے اچھے دماغ ایک مربوط ریاست میں موجود تھے۔ 

دستور سازی کا پس منظر اور مشکلات

پاکستان کی دستورسازی کی صورتِ حال بہت پیچیدہ بن گئی تھی۔ انڈیا نے برطانیہ کے پارلیمانی نظام کو بطورِ وراثت اپنا لیا، کچھ اپنے ملک کے حالات کے لحاظ سے، اور کچھ اپنے نظریات تھوڑے بہت اِدھر اُدھر کرکے جیسے گائوکشی کے تحفظ وغیرہ کو رکھ کر دستور بنالیا۔

اس پورے پس منظر میں ہمارا معاملہ بہت مختلف تھا۔ اس لیے کہ ہم ایک ایسا نظام حکومت لانا چاہتے تھے جس کی اس وقت اور آج کے دور میں صفحۂ ہستی پہ کوئی نظیر موجود نہیں تھی۔ پہلے یقینا وہ نقش قائم ہوا تھا، لیکن آج حالات بہت مختلف تھے۔ مسئلہ یہ درپیش تھا کہ آج کے دور میں اس کو کیسے منطبق کیا جائے؟ موجودہ حالات میں اس موضوع پر بہت زیادہ لٹریچر اور ایسا کوئی بنا بنایا نقشہ بھی موجود نہیں تھا۔ رفتہ رفتہ اس مسئلے پر بحث شروع ہوئی۔ بہرحال اس سب کے باوجود اکتوبر ۱۹۴۸ء میں یعنی، پاکستان بننے کے سوا برس بعد یہ صورتِ حال پیدا ہو گئی کہ ہم اپنے دستور کا بنیادی پتھر رکھ سکیں اور ایک ’قرارداد مقاصد‘ میں ان اصولوں کو واضح کردیں، جن پر دستور بننا اور نظم مملکت کو چلنا چاہیے۔ 

قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد سب سے پہلے جو بڑا سانحہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ پاکستان کی سب سے عظیم شخصیت اور پاکستان کے بانی قائد اعظم کا انتقال ہوگیا۔ یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ اس وقت لوگوں کا خیال تھا کہ اب پاکستان کو سنبھالنا مشکل ہوگا، لیکن بہرحال اللہ کو منظور تھا کہ ملک سنبھل جائے اور لیاقت علی خاں نے اسے سنبھالنے کے لیے پوری جدوجہد کی اور پوری قوم ان کے ساتھ تھی۔ 

 غالباً نومبر ۱۹۴۸ء ہی میں ’قرارداد مقاصد‘ تیار ہو گئی تھی، لیکن یہ طے ہوا کہ اسے دستور ساز اسمبلی کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ اگلا اجلاس مؤخر ہوتے ہوتے مارچ۱۹۴۹ء تک آگیا، اور اس میں یہ قرارداد پیش کی گئی اور منظور ہوئی۔ اب اس کی بنیاد پر دستور بننا تھا۔ پھر اس موضوع پر مختلف لوگوں نے لکھنا شروع کیا اور اپنی حد تک وہ سمجھتے رہے کہ جو ہم لکھ رہے ہیں وہ گویا حرفِ آخر اور بالکل طے شدہ بات ہے۔ اس طرح متضاد باتیں سامنے آتی رہیں، جو زیادہ تر کتابی علم پر مبنی تھیں۔ ان میں قیاس آرائی کی یلغار اور خیالات کی جولانی تھی، لیکن عملاً بنیادی سوال یہ اُٹھایا جارہا تھا کہ دستور کو آج ان حالات میں کیسے نافذ کیا جائے؟ 

 دوسری دشواری یہ تھی کہ ایک ایسا دستور ہونا چاہیے، جو ایک طرف قدیم طرزِ فکر کے علما کو مطمئن کر سکے اور وہ سمجھیں کہ یہ اسلامی دستور ہے، اور دوسری جانب ان ذہنوں کو بھی مطمئن کرسکے جو بہرحال اسلام کے ساتھ اپنی حمیت اور وابستگی کا اظہار کرتے، لیکن ان کا ذہن مغربی تعلیم کی وجہ سے بہت بدل چکا ہے۔ گویا ایسا دستور بننا چاہیے جو علما اور جدید ذہن کے لوگوں کو مطمئن کرسکے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ان دونوں مکاتب فکر میں سارے ہی غیرمخلص لوگ تھے۔ بیش تر لوگ مخلص ہی تھے اور تھوڑے بہت لوگ مخلص نہیں تھے۔ لیکن ان دونوں میں یہ کمی تھی کہ وہ ایک نظم مملکت چلانے کا کوئی خاص تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے کہ ایک عرصے سے یہ کام ہوا ہی نہیں تھا۔ علما کے درسیات میں بھی یہ چیزیں نہیں تھیں اور درسیات میں ہوتی بھی کیوں؟ اس لیے کہ جب اس مسئلے سے واسطہ ہی نہیں پڑ رہا تھا، کہیں اسلامی حکومت ہی نہیں تھی، تو نظمِ حکومت پر کتابیں اور اس پر بحثیں ایک غیرمتعلق چیز تھی۔ جن چیزوں سے روز مرہ کام پڑتا تھا، انھی کے علما ہمارے ہاں تیار ہوتے تھے۔ دوسرے فریق کا قصہ یہ تھا کہ اس میں جذباتی سطح پر تعلق ضرور تھا ، لیکن  اسلام سے کوئی گہری واقفیت نہیں تھی، اور اصلی ماخذ تک ان کی رسائی نہیں تھی۔ پھر بہت کچھ مستشرقین سے انھوں نے سیکھا تھا، یا پھر اپنے ذاتی مطالعے سے سمجھا تھا۔ 

ان دو متضاد ذہنوں کو بیک وقت مطمئن کر کے ہی آگے بڑھا جاسکتا تھا۔ ان دونوں میں ایک بھی اگر غیر مطمئن رہتا تو پاکستان کے قیام اور اس کی بقا کے لیے بڑی خطرناک صورت پیدا ہوجاتی۔ اس کش مکش سے ہمیں گزرنا پڑا۔ پھر ایک دشواری یہ پیدا ہوگئی کہ یہاں پر وہ یک جہتی ورثے میں نہ ملی جو ہندوؤں میں موجود تھی۔ بلاشبہ قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانوں میں وحدتِ عمل قائم ہوئی تھی، جو اس منزل کو پانے کے بعد برقرار نہ رہ سکی۔ پھر کچھ لوگوں کی نظریں متروکہ مالِ غنیمت جمع کرنے کی طرف پھسل گئیں۔ کچھ لوگوں کی توجہ اپنے مقامی، صوبائی اور دوسرے طبقاتی مفادات کی طرف ہوگئی۔ اس وجہ سے پیچیدگیاں ایک سیلاب کی صورت اُمڈ آئیں۔ 

عام طور پہ تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ ’جولوگ برسرِاقتدار تھے، وہ اسلام کے نفاذ کے لیے تیار نہیں تھے، اس وجہ سے دستور سازی میں دیر ہوتی رہی‘، مگر صحیح صورت حال یہ نہیں ہے۔ جتنی مرتبہ تاخیر ہوئی اور معاملہ مؤخر اور ملتوی کیا گیا، اس کی بنیاد صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور مرکز اور صوبوں کے تعلقات کا قصّہ تھا۔ یہ پہلو پوری طرح منظر عام پر نہیں آیا، لیکن اندرونی سطح پر جو بحران بھی پیدا ہوتا، اس کا بنیادی سبب یہی ہوتا تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کبھی یہ فارمولا آیا اور کبھی وہ فارمولا آیا۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے بہرحال ۱۹۵۴ء میں ایک دستور بن گیا، مگر اس وقت چونکہ ہم نے برطانوی پارلیمانی نظام اپنا لیا تھا اور شخصیتوں کے باہم تصادم کے ساتھ ساتھ دو نظاموں کا تصادم بھی ہو گیا اور وہ بنابنایا دستور اٹھا کے پھینک دیا گیا۔ اس وقت یہ بھی کش مکش موجود تھی کہ فلاں صوبے کو کیا مل رہا ہے اور فلاں صوبے کو کیا نہیں مل رہا؟ چنانچہ ۱۹۵۴ء کا دستور اٹھا کر پھینک دیا گیا اور اسمبلی بھی ختم کر دی گئی۔

اس سے پہلے بانیانِ پاکستان میں جو ممتاز شخصیتیں تھیں، ان میں سے لیاقت علی خاں کو ۱۹۵۱ء میں شہید کردیا گیا۔ علما میں مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ جن کا قراردادِ مقاصد منظور کرانے میں بڑا نمایاں حصہ رہا، ان کا بھی ۱۹۴۹ء میں انتقال ہو چکا تھا۔ اب قومی قیادت میں کوئی اتنی بڑی شخصیت باقی نہ تھی اور دوسری جانب افرا تفری بڑھتی چلی جارہی تھی۔

 ۱۹۵۶ء میں ایک دوسرا دستور آیا۔ اگر آپ غور کریں تو وہ اس لیے بن سکا کہ کسی نہ کسی طرح صوبائی مسئلہ اس میں ایک خاص انداز سے حل کیا گیا۔ اگرچہ سب لوگ اس پر بھی مطمئن نہیں تھے، لیکن بہرحال کچھ حکومت کی کوشش اور کچھ حکومت کے اثرات اور کچھ جبر اور کچھ ترغیب و ترہیب سے وہ دستور بن گیا۔ اب اس عرصے میں چوٹی کے سیاست دان اور سیاست دانوں سے میری مراد ان لوگوں سے ہے، جو قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے، وہ میدان سے ہٹ چکے تھے۔ لیکن اگر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھنے والے کچھ لوگ موجود تھے تو وہ ثانوی درجے کے لوگ تھے۔ اس طرح خلفشار بڑھتا گیا اور طالع آزما اور اقتدار کے بھوکے لوگ سازشیں کرنے لگے۔ اس طرح وہ پورا دور چلتا رہا ہے۔یہ دستور سازی کے عمل کا تاریخی پس منظر ہے۔ 

اگر پاکستان کی بقا اور اس کے استحکام اور اسلام کے فروغ کے نقطۂ نظر سے سوچا جائے تو دستور کا نفاذ اور اس پر عمل درآمد کوئی ایسی دشواربات نہیں تھی اور نہیں ہے۔ تاہم، بیرونی خطرات تو اپنی جگہ تھے، اندرونی خدشات بھی اس عرصے میں بڑھ چکے تھے۔ مگر یہ معاملہ پہلے دور کی حد تک ختم نہیں ہوا، آج تک برقرار ہے۔اس لیے کہ باہر کی طاقتوں نے ہمارے قومی وجود میں کافی ریشہ دوانیاں کرلی ہیں اور اپنے آدمی پیدا کرلیے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود کوئی مسئلہ ایسا لاینحل نہیں ہے، بشرطیکہ اخلاص ہو۔ یعنی ایک طرف اخلاص ہو اور دوسری طرف کچھ کر گزرنے کی پوری قوت بھی ہو۔ اب ایک آدمی مارشل لا میں برسرِاقتدار آتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ساری طاقت اسی کے پاس ہو۔اس کے اعوان و انصار کیا مشورہ دیتے ہیں اور کیا نہیں دیتے؟ اس چیز کا علم باہر نہیں ہوتا مگر مشورہ دینے والے وہ لوگ اگر ملّی، دینی، قومی سوچ رکھ کر مشورہ دیں تو اصحابِ اختیار انھیں ماننے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں، لیکن افسوس کہ اہل حل و عقد دیانت دارانہ اور بروقت مشورہ دینے سے اجتناب کرکے انتہا درجے کا ظلم کرتے ہیں۔

دستور سازی کے بارے میں قائداعظم کا نقطۂ نظر

بعض لوگ سوال اُٹھاتے ہیں کہ قائد اعظم نے کیا کبھی پاکستان کے دستور کے متعلق کچھ سوچا اور ایسی کوئی چیز اپنے رفقا سے کہی کہ جس کے متعلق مَیں بتا سکوں؟ اس حوالے سے یہ کہوں گا: قائد اعظم کے سوچنے کا ایک خاص ذہن تھا اور وہ یہ تھا کہ کسی مسئلے کو وہ قبل اَز وقت نہیں اٹھاتے تھے، اور یہ بڑی دانش مندی کی بات تھی۔ اس لیے کہ ایک مسئلے کو قبل اَز وقت اٹھا دیا جائے تو جو اس وقت کا موجودہ ایشو ہو، اس میں اُلجھن پیدا ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر دہلی میں،آل انڈیا مسلم لیگ کے منعقدہ اجلاس میں مَیں شریک تھا۔ اس موقعے پر ایک صاحب نے یہ ریزولوشن پاس کرانا چاہا کہ یہاں کا نظام حکومت اسلامی ہوگا اور وہ خلافت راشدہ کی بنیاد پر ہوگا۔ قائد اعظم نے انھیں سمجھایا کہ ’’آپ اسے اس وقت نہ پیش کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مسلمان ایک ملک کے حصول کے لیے ہندوؤں اور انگریزوں سے ایک متعین ہدف کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہمیں اس وقت اپنی پوری توجہ صرف اس ایک بڑے مسئلے پر مرکوز کرنی چاہیے۔ لیکن اگر اس وقت، اس کے ساتھ ہم اس ایشو کو اٹھاتے ہیں کہ جس میں لازماً مختلف آراء سامنے آئیں گی تو پھر مسلمانوں کا ذہن تقسیم ہو جائے گا، اور وہ یکسوئی جو بڑے ہدف کے لیے مطلوب ہے اور منزل تک پہنچنے کے لیے ناگزیر ہے، وہ حاصل نہیں ہو سکے گی‘‘۔ 

پھر جیسے ہی پاکستان کا قیام عمل میں آگیا، تو اُس وقت ہر طرف سے یورش ہو رہی تھی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کو کسی طرح کا استحکام نہیں مل رہا تھا۔ پھر قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم صرف ۱۲ماہ زندہ رہے۔ لٹے پٹے مہاجرین کی قیامت خیز تباہی اور بے سروسامانی، اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کا بے گھر ہونا، اتنا بڑا قتل عام، اور مہاجرین کو آباد کرنا، بہت بڑے مسائل تھے۔ انگریزوں کی طرف سے اور ہندوؤں کی طرف سے سازشیں بھی ہورہی تھیں۔ اُس وقت فوری طور پر دستور سازی کا کام ممکن نہیں تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظم نے کچھ چیزیں نوٹ کی تھیں مگر وہ کبھی منظر عام پر نہیں آئیں، اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کہیں محفوظ بھی ہیں یا نہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ انھیں فرانسیسی طرز کا دستور پسند تھا۔ مگر اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بہرحال، وہ فرانسیسی دستور تو خود فرانس میں بھی محفوظ نہیں رہا۔ 

قائداعظم سے دستور کے حوالے سے جب بار بار سوال کیے جاتے تھے، تو وہ چونکہ بڑا قانونی اور دستوری ذہن رکھتے تھے، اس لیے وہ جواب میں واضح طور پر یہی بات کہتے تھے کہ ’’دستور ساز اسمبلی کا یہ حق ہے کہ وہ دستور بنائے اور میں نہیں سمجھتا کہ ایک دستور ساز اسمبلی جو مسلمانوں کی غالب اکثریت پر مشتمل ہو، وہ کوئی ایسا دستور بنائے گی کہ جو اسلامی اصولوں پر مبنی نہ ہو‘‘۔ یہ بات کئی جگہ انھوں نے کہی ہے اور یہ بھی کہا کہ پاکستان بنانا فی نفسہٖ ہی مقصود نہیں بلکہ یہ ایک ذریعہ ہے اسلامک آئیڈیالوجی کو محفوظ اور مستحکم کرنے کا۔ اس طرح کی باتیں انھوں نے مسلسل اور بہت بار کہی ہیں۔ 

یہ باتیں قیامِ پاکستان سے پہلے بھی کہیں اور قیام پاکستان کے بعد بھی کہی ہیں، جس سے ان کی سوچ کا رُخ واضح طور پر معلوم ہوتا تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اسلامی حکومت کو لوگ تھیاکریسی سمجھتے ہیں تو اسلام میں تھیاکریسی نہیں ہے۔ اسلامک ڈیموکریسی اور سوشل جسٹس، اسلامک سوشل جسٹس کے الفاظ وہ اپنی گفتگو میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ مگر کوئی واضح تحریری نقشہ کہ اس طرح کا دستور ہونا چاہیے، میرے علم میں نہیں ہے۔

 _______________

پاکستان اس وقت جس بحران سے دوچار ہے، وہ محض معاشی یا سیاسی نہیں، بلکہ نسلی اور فکری بحران ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہو۔تقریباً ۶۴فی صد آبادی ۳۰ سال سے کم عمر ہے،مگر یہی نوجوان سب سے زیادہ بے یقینی، بے سمتی اور محرومی کا شکار ہیں۔ یہ کسی بھی معاشرے کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ بحران صرف بیروزگاری کا نہیں، بلکہ ریاست پر عدم اعتماد، قومی شناخت کے ابہام اور مستقبل کے لیے امید کے فقدان کا ہے۔ آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست اور سیاسی قوتوں کے پاس نوجوانوں کے لیے کوئی سنجیدہ، عملی اور پائیدار منصوبہ بھی ہے؟

  •  نوجوان بطور’بوجھ‘ یا ’سرمایہ‘؟ :پاکستان کی نوجوان آبادی ایک ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ (آبادیاتی اثاثہ) ہے، مگر اسے ڈیموگرافک ڈیزاسٹر (آبادیاتی تباہی) میں بدل دیا گیا ہے۔ اس آبادی کو نہ معیاری تعلیم میسر ہے اور نہ نصاب جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ انھیں مارکیٹ سے جڑا ہنر نہیں سکھایا جاتا، جس کے نتیجے میں ڈگریاں بے کار ثابت ہوتی ہیں۔ باعزّت روزگار کے مواقع موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فقدان ہے۔ کوئی واضح قومی سمت یا نظریاتی رہنمائی موجود نہیں ہے جو نوجوانوں میں جذبہ اور مقصد پیدا کر سکے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان یا تو بیرونِ ملک روزگار کے حصول کو نجات سمجھتا ہے، جس سے ملک کا قیمتی انسانی سرمایہ باہر چلا جاتا ہے، یا ڈیجیٹل دنیا میں گم ہو کر بے مقصدیت کا شکار ہو جاتا ہے، یا پھر غصے، مایوسی اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ یہ صورت حال معاشی بحران کے ساتھ ساتھ ایک سماجی و اخلاقی بحران کا سبب بھی ہے۔

  •  جنریشن Z: نعرے نہیں، عملی مواقع مانگنے والی نسل:آج کی جنریشن Z (وہ نسل جو ۱۹۹۷ء کے بعد پیدا ہوئی) ماضی سے یکسر مختلف ہے۔ یہ نسل ڈیجیٹل دور میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی ہے۔ انٹرنیٹ ان کا بنیادی تعلیمی اور سماجی میدان ہے۔ عالمی معیار سے خود کو جوڑتی ہے۔ وہ ملائیشیا، ترکی، سعودی عرب یا مغربی ممالک کے نوجوانوں سے اپنا موازنہ کرتی ہے۔ روایتی سیاست اور لمبی تقریروں سے بدظن ہے۔ ان کے لیے خالی نعرے اور وعدے بے معنی ہیں۔ یہ نسل جلسوں سے متاثر نہیں ہوتی، بلکہ ایک سادہ سا سوال پوچھتی ہے: ’’آپ ہمیں کیا کرنا سکھا سکتے ہیں؟ آپ ہمارے مستقبل کے لیے کیا عملی راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتیں ناکام ہو جاتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر اور روزگار کا کوئی مربوط منصوبہ نہیں ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا امتیاز یہ ہے کہ وہ جنریشن Z کو محض ووٹ بینک نہیں، بلکہ فیصلہ کن قوت اور مستقبل کا معمار سمجھتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی روایتی سیاسی بیانیے سے ہٹ کر ہے، جس میں تین بنیادی ستون ہیں:

  •  نوجوان کو ہنر دو: جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل اور تکنیکی ہنر سے آراستہ کیا جائے۔
  •   نوجوان کو خودمختاری دو: انھیں معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ دوسروں کے محتاج نہ رہیں۔
  •   نوجوان کو قیادت کے قابل بناؤ: ان میں ذمہ داری، نظم اور خدمت کا جذبہ پروان چڑھایا جائے۔

 یہ نقطۂ نظر جماعت اسلامی کی روایتی دعوتی و سیاسی سرگرمیوں میں ایک اسٹرے ٹیجک ارتقاء کی علامت ہے، جس کا مرکز نوجوان کی عملی ترقی اور اسے ہنرمند بنانا ہے۔

  •  بنوقابل پروگرام: ایک جامع ماڈل اور حکمت عملی:’بنو قابل پروگرام‘ محض ایک ٹریننگ اسکیم نہیں، بلکہ پاکستان کے نوجوانوں کے بحران کا عملی، جامع اور قابلِ تقلید منصوبہ ہے۔ یہ پروگرام تین سطحوں پر ہم آہنگی سے کام کرتا ہے:

۱-  ہنر کی ترقی (اسکل ڈویلپمنٹ): یہ روایتی ہنر کے بجائے مارکیٹ بیسڈ اور ڈیجیٹل مہارتوں پر زور دیتا ہے، جیسے گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، ای کامرس، کوڈنگ وغیرہ۔ یہ نوجوانوں کو عالمی ویب سائٹس پر کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔

۲-ذہنی و فکری ترقی (مینٹل ایمپاورمنٹ): یہ پروگرام نوجوان کو ’بے روزگار اور بے مقصد‘ فرد سے ’بااختیار اور پُراعتماد‘ شہری میں تبدیل کرتا ہے۔

۳- سماجی و اخلاقی انضمام (سوشل انٹیگریشن): بنو قابل میں ہنر کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، نظم و ضبط، وقت کی پابندی، دیانت داری اور اجتماعی ذمہ داری کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد نوجوان کو صرف اچھا کمانے والا نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار شہری، اچھا بیٹا/بیٹی بنانا ہے۔

  •  اب تک کے اہم نتائج:  ۸۷ہزار سے زائد نوجوان تربیت یافتہ ہو چکے ہیں۔ ہزاروں نوجوان فری لانسنگ اور ڈیجیٹل روزگار سے منسلک ہو کر ماہانہ آمدن کما رہے ہیں۔ خواتین، متوسط اور پسماندہ طبقے کو خاص توجہ دی گئی ہے، جس سے سماجی شمولیت کو تقویت ملی ہے۔ یہ نتائج ریاستی اعلانات اور قرض دینے والی اسکیموں سے کہیں بہتر اور پائیدار ہیں۔
  •  بنوقابل پروگرام کی بنیاد اور ارتقاء:بنو قابل محض ایک اتفاقی پروگرام نہیں، بلکہ یہ جماعت اسلامی کے فکری سفر کا ایک منطقی تسلسل ہے۔ اس کی بنیاد ۲۰۱۸ء میں رکھی گئی، لیکن اس کی جڑیں جماعت اسلامی کے تعلیمی و تربیتی مشن میں پیوست ہیں۔ یہ دراصل ’خواندگی مہم‘ اور ’طلبہ تنظیم‘ کے بعد ایک تیسرا اور جدید ترین مرحلہ ہے۔ محترم حافظ نعیم الرحمٰن کے دورِ امارت میں اسے ایک تصور سے ایک قومی سطح کے قابلِ عمل پروگرام میں تبدیل کیا گیا ہے۔ 
  •  اثرات کا جائزہ اور پیش رفت:کمیونٹی لیول پر اثرات: تربیت یافتہ نوجوانوں کے گھروں میں ماہانہ آمدن میں ۴۰-۶۰ فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے پورے خاندان کی معاشی حالت بدل رہی ہے۔ہنر مند نوجوان اب اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی تربیت دلا رہے ہیں، جس سے ایک مثبت سلسلہ شروع ہوا ہے۔۳۵ فی صد خواتین شرکاء کے ساتھ روایتی صنفی کردار میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ خواتین اب گھر بیٹھے عالمی مارکیٹ سے منسلک ہو رہی ہیں۔
  •  معاشی اثرات: فری لانسنگ اکانومی: تربیت یافتہ نوجوانوں نے اپریل ۲۰۲۰ء سے مارچ ۲۰۲۴ء تک تقریباً ۵ ملین ڈالر زرِمبادلہ کمایا ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک اہم حصہ ہے۔ مقامی کاروبار: کچھ نوجوانوں نے اپنے چھوٹے ڈیجیٹل اسٹارٹ اپ شروع کیے ہیں، جس سے مقامی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ بین الاضلاعی تعاون: مختلف اضلاع کے نوجوان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مل کر کام کر رہے ہیں، جس سے ایک نیا ورچوئل معاشی نیٹ ورک وجود میں آ رہا ہے۔

 کامیابی کے اہم واقعات

  • ایک نوجوان معراج (راولپنڈی): بی ایس سی کرنے کے بعد تین سال بے روزگار رہے، خاندان پر بوجھ سمجھے جاتے تھے۔بنو قابل سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی چار ماہ کی تربیت حاصل کی۔ اب دو بین الاقوامی کلائنٹس (امارات اور کینیڈا سے) کے ساتھ کام کرتے ہیں، ماہانہ آٹھ سوڈالر سے زیادہ آمدن، اور پانچ دیگر نوجوانوں کو تربیت دے رہے ہیں۔
  •  عائشہ (کوہاٹ): گھریلو خاتون، گھر کی محدود آمدن پر گزارہ تھا۔ ہینڈ اینڈ فٹ ویئر ڈیزائننگ کی تربیت حاصل کی۔ اب ۳۰ سے زائد خواتین کی ٹیم کی سربراہ، جو مقامی ہنرمندوں کو برآمدی معیار کا سامان تیار کرنا سکھا رہی ہیں۔ ان کی مصنوعات اب مقامی ہوٹلوں اور برآمد کنندگان کو فروخت ہو رہی ہیں۔
  •   ایک تربیت یافتہ نوجوان عمران کے بقول: ’’بنو قابل نے مجھے بے روزگار سے بزنس مین بنادیا۔ میں اب نہ صرف خود کما رہا ہوں بلکہ دوسروں کے لیے روزگار بھی پیدا کر رہا ہوں‘‘۔

چیلنجز اور ان کا حل

  •  وسائل کی کمی: زیادہ نوجوانوں کے لیے تربیتی مراکز اور جدید آلات کی کمی۔
  •   ڈیجیٹل رسائی: دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور جدید آلات تک محدود رسائی۔
  •   بینک اکاؤنٹس: نوجوانوں کے لیے فری لانسنگ کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنا اور عالمی ادائیگیاں وصول کرنا مشکل۔
  •  حل کے لیے اقدامات: موبائل ٹریننگ یونٹس: دور دراز علاقوں میں تربیت دینے کے لیے موبائل یونٹس کا قیام۔
  •   پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ: مقامی کاروباریوں کے ساتھ تعاون سے تربیتی مراکز قائم کرنا۔
  •   آن لائن پلیٹ فارم: ’ہنر پورٹل‘ کا آغاز، جہاں تربیتی ویڈیوز اور مواد مفت دستیاب ہے۔

2024-2030 کا روڈ میپ

  •  l ۱۰لاکھ نوجوانوں تک تربیت کی توسیع:’بنو قابل انکیوبیشن سنٹرز‘ کا قیام، جہاں نوجوان اپنے اسٹارٹ اپ شروع کر سکیں اور ابتدائی رہنمائی حاصل کر سکیں۔
  •   بین الاقوامی پارٹنرشپ: متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور سعودی عرب کے اداروں کے ساتھ تربیتی معاہدے، تاکہ نوجوان براہ راست بین الاقوامی مارکیٹ سے جڑ سکیں۔
  •  تحقیقی جائزہ اور اعداد و شمار:آزاد تحقیقات کے نتائج کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق، بنو قابل کے نوجوانوں میں روزگار کی شرح ۶۷ فی صد ہے، جو قومی اوسط سے ۲۸ فی صد زیادہ ہے۔

 تربیت یافتہ نوجوانوں کی ۸۲ فی صد نے خود کو ’ذہنی طور پر مطمئن اور پُرامید‘ قرار دیا۔  تربیت کے ۶ ماہ بعد ۷۴ فی صد نوجوانوں نے باقاعدہ آمدن حاصل کرنا شروع کر دی۔

  •  ہنرمند پاکستان کی منزل:اگر پاکستان کو موجودہ بحران سے نکلنا ہے اور ایک مستحکم مستقبل کی تعمیر کرنی ہے تو:· نوجوانوں کو بوجھ نہیں، سب سے بڑا قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا۔· سیاست کو ذاتی مفاد سے نکال کر خدمت، صلاحیت اور نظام سازی سے جوڑنا ہوگا۔· جنریشن Z کی سوچ، صلاحیتوں اور جذبات کو سنجیدگی سے سمجھنا اور انھیں مرکزِ توجہ بنانا ہوگا۔

’بنو قابل‘ محض ایک پروگرام نہیں، یہ ایک ممکنہ قومی ماڈل ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ درست رہنمائی، عملی تربیت اور اخلاقی بنیادوں پر پاکستان کا نوجوان دنیا کی کسی بھی قوم کا مقابلہ کرسکتا ہے اور ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہی حقیقی انقلابِ ہنر کی بنیاد ہے۔

’بنو قابل پروگرام‘ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تربیت، اعتماد اور موقع کی کمیونی کیشن کسی بھی نعرے سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ یہ محض ایک پروگرام نہیں، بلکہ ایک ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان کو جب درست سمت مل جائے تو دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ پروگرام ایک قومی تحریک بن جائے، جو پورے ملک کے نوجوانوں کو ’بوجھ‘ سے ’سرمایہ‘ میں تبدیل کردے۔

  •  مہارت اور تربیت ساتھ ساتھ:کسی بھی قوم کی ترقی صرف ٹیکنیکل مہارتوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ اگر ان مہارتوں کے ساتھ نظریاتی سمت، اخلاقی شعور اور مقصدِ حیات واضح نہ ہو۔ ہنر اگر کردار سے خالی ہو تو وہ فرد کو وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر معاشرے کو عدل، امانت اور خیر نہیں دے سکتا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے اسلامی فکر نے ہمیشہ پیشِ نظر رکھا ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہیں: ’’انسان کی اصل قدر اس کی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس مقصد میں ہے جس کے لیے وہ اپنی صلاحیت استعمال کرتا ہے‘‘۔( تنقیحات)

’بنو قابل پروگرام‘ کی سب سے نمایاں اور منفرد خصوصیت یہی ہے کہ یہاں نوجوانوں کو صرف ڈیجیٹل مہارت نہیں سکھائی جاتی بلکہ ان کی فکری اور اخلاقی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں میں دیانت داری، وقت کی پابندی،نظم و ضبط،اجتماعی ذمہ داری، بامقصد زندگی اور خدمت ِ خلق کا شعورپیدا کرنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ تربیتی نشستوں، رہنمائی سیشنز اور اساتذہ کے عملی رویّوں کے ذریعے نوجوان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کا ہنر محض ذاتی کمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم اور معاشرے کے لیے ایک امانت ہے۔

یوں بنو ’قابل پروگرام‘ کے تحت اسکل ٹریننگ اور نظریاتی تربیت کے ذریعے ایک متوازن، باوقار اور ذمہ دار نوجوان نسل کی تشکیل پیش نظر ہے، جو نہ صرف عہدِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرسکے بلکہ ملک و ملّت کے لیے سرمایۂ افتخار بن سکے۔

 _______________

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قیام پاکستان سے تین روز قبل ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا تھا، وہ مالی خیانت، معاشی بدنظمی، اقرباپروری اور علاقہ پرستی تھی۔ افسوس کہ ہمارے اہل سیاست و دانش نے اس سارے سبق کو بھلا کر مذکورہ تقریر کا صرف ایک جملہ یاد کر لیا اور یہ سبق دیا کہ قائداعظم نے اس اجلاس میں بس ایک ہی بات فرمائی تھی۔ اس طرح باقی تمام ہدایات کو نظر انداز کرنے کے لیے اس رویے یا پردے کے پیچھے مالی بدنظمی اور بے ضابطگی بہت سے اصحابِ اختیار نے اپنا حق سمجھ لیا۔

پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ بہ سلسلہ سال ۲۰۲۵ء-۲۰۲۶ء سے چند حوالہ جات کا اگر ایک مختصر جائزہ لیں، تو قومی اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگی، کمزور نگرانی، عدم وصولی یا غیر مجاز اخراجات دیکھنے میں آئے ہیں۔

پائے دار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام (SAP)، جسے ارکانِ پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیمیں کہا جاتا ہے، کے تحت وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیےمختص۷۵؍ ارب روپے کے استعمال پر رپورٹ نے بڑا سنجیدہ سوال اٹھایا ہے۔ آڈٹ کے مطابق، کابینہ ڈویژن، منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے اداروں سے لازمی ماہانہ پیش رفت رپورٹیں اور تکمیل کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسکیم کے لحاظ سے اور علاقے کے لحاظ سے اعداد و شمار کی عدم دستیابی کے باعث اس بات کی تصدیق نہ کی جاسکی کہ فنڈز کی تقسیم اور استعمال متوازن علاقائی ترقی کے مقصد کے مطابق تھا یا نہیں۔ متعدد آڈٹ اعتراضات اٹھانے اور یاد دہانیوں کے باوجود کابینہ ڈویژن نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آڈیٹروں نے سفارش کی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو دی جانے والی ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز کی تقسیم اور استعمال کی نگرانی کے لیے ایک شفاف مرکزی ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے۔

رپورٹ میں اقتصادی امور ڈویژن کے خلاف بڑے مالی اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ جن کے مطابق، ۳۰؍ جون۲۰۲۵ء تک بیرونی قرضوں کے اصل زر اور ایکسچینج رِسک واجبات کی مد میں۱ء۹۲۷؍ کھرب روپے مختلف ریاستی اداروں سے وصول نہ کیے جا سکے، اور اس پر ظلم یہ کہ انتظامیہ نے آڈٹ اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

شعبۂ تعلیم سے متعلق 

اگرچہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن، وزارت سائنس اور ٹکنالوجی اور تعلیم ڈویژن کے بارے میں مجموعی طور پر اعتراضات پر مشتمل پیراگراف درج کیے گئے ہیں، لیکن یہاں پر قائداعظم یونی ورسٹی کے حوالے سے نشان دہی کی جارہی ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی جانب سے قائداعظم یونی ورسٹی کو الاٹ کی گئی۱۷۰۹؍ ایکڑ اراضی میں سے۲۹۸؍ ایکڑ پر گذشتہ تقریباً ۵۰ برس سے نجی قابضین کا غیر قانونی قبضہ پوری قوت سے برقرار ہے۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کو بار بار ہدایت کی گئی کہ وہ اس اراضی کو واگزار کرانے کے لیےمؤثر اقدامات کرے۔ کچھ پیش قدمی نہیں ہوئی۔ پھر یونی ورسٹی نے منہا کردہ انکم ٹیکس کی مد میں۱۷۷ ملین روپے بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائے۔اس کے علاوہ ۳۵۶  ملین روپے کے اسکالرشپ فنڈز خرچ کرنے کے بجائے اس رقم سے سرمایہ کاری کی گئی۔ اس پر یونی ورسٹی کا موقف ہے کہ ’’یہ فنڈز عطیہ دہندگان کی شرائط کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں‘‘۔ اسی طرح قائداعظم یونی ورسٹی کے مختلف مراکز کی جانب سے بغیر منظور شدہ پالیسی کے ۲۸۱ ملین روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق اعتراض پر یونی ورسٹی نے کوئی جواب فراہم نہیں کیا___ اس کے علاوہ، لاہور کے سینٹر آف ایکسی لینس اِن مالیکیولر بائیولوجی نے مالی سال کے اختتام پر غیراستعمال شدہ فنڈز حکومت کو واپس کرنے کے بجائے ۵۰۰ ملین روپے کی سرمایہ کاری کر دی، جس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

پانی اور بجلی کے منصوبوں کی صورتِ حال

رپورٹ کے مطابق داسو ہائیڈرو پاور، دیامر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامیوں کے باعث قومی خزانے پر تقریباً۳۹ کھرب روپے کا بوجھ بنیں گے۔ توانائی کے یہ اہم منصوبے صرف مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ہی براہِ راست نقصانات، آمدنی میں کمی اور۳۵۸؍ارب کے خسارے کا سبب بنے چلے آ رہے ہیں۔ داسو منصوبے میں لاگت ۲۵۷ فی صد بڑھ گئی۔ جو تخمینہ۴۸۶؍ارب روپے تھا یہ بڑھ کر ۷۳۷,۱؍ارب ہو گیا ہے۔ دیامربھاشاڈیم کے منصوبے نے بھی بری طرح جکڑ لیا ہے جس کا بجٹ۴۷۹؍ارب تھا، لیکن اب بجلی بنانے کے لیے۱۴۲۴؍ارب مزید چاہئیں۔ توانائی کے یہ اہم منصوبے اس ایک مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ہی براہِ راست نقصانات، آمدنی میں کمی اور غیر منظور شدہ بجٹ اضافوں کی مد میں۳۵۸؍ارب روپے سے زائد کے مالی خسارے کا سبب بنے ہیں، جب کہ اس سے پہلے کا خسارہ الگ سے موجود ہے۔

بڑھتی لاگت کے ساتھ ساتھ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی بھاری آپریشنل نقصانات کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کو سالانہ ۲۹؍ ارب روپے کا خالص نقصان ہو رہا ہے، جب کہ پلانٹ کی بندش کے باعث کاروباری تعطل کا نقصان ۹۹؍ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں، ٹیرف کی منظوری نہ ملنے کے باعث۳۴۶ء ۷۷ ؍ارب روپے کی آمدنی کا خسارہ بھی سامنے آیا ہے، جس سے نیلم جہلم منصوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ اس وقت اس کے موجودہ واجبات، موجودہ اثاثوں سے ۸۹۴ء۳۰۷ ؍ارب روپے زیادہ ہیں۔داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو عمل درآمد میں شدید ناکامیوں کا سامنا ہے۔

آڈٹ کے مطابق منصوبے کی عملی پیش رفت صرف ۲۶ء۰۸ فی صد ہے، حالانکہ اصل مالی مختص رقم کا ۸۳ء۸۴ فی صد استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں منصوبے کی تکمیل کی مدت۲۰۱۹ءسے بڑھ کر نومبر۲۰۲۸ء تک جا پہنچی ہے۔ جون۲۰۲۵ء تک پہلے مرحلے پر ۴۱۲ء۲۸۹ ؍ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جب کہ ترقیاتی بجٹ کی مجموعی مختص رقم ۶۹۵ء۰۶۶ ؍ارب روپے تھی۔ عملی سطح پر منصوبہ۱۱سال گزرنے کے باوجود مطلوبہ تمام زمین حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پاکستان ریلویز

پاکستان ریلویز کو مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران۶۱ ؍ارب روپے سے زائد کا خالص نقصان برداشت کرنا پڑا، جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں۹ ؍ارب روپے یا۱۹ء۱۱ فی صد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ءمیں پاکستان ریلویز کو ۶۰ ارب روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا،جب کہ آپریٹنگ نقصان کی شرح۶۵ فی صد تک پہنچ گئی۔گذشتہ پانچ مالی برسوں کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ مالی سال۲۵-۲۰۲۴ء میں مجموعی آمدنی ۹۲ء۷؍ارب روپے رہی،جب کہ کل آپریٹنگ اخراجات تقریباً ۱۵۳؍ارب روپے تک پہنچ گئے۔ آڈٹ کے دوران پاکستان ریلویز اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے خلاف مجموعی طور پر ۳۴ء۴۲ ؍ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس پس منظر میں ریلوے کی طویل المدتی منافع بخش ہونے کی صلاحیت شدید متاثر نظر آتی ہے۔

یہ تو محض چند مثالیں ہیں، اگرچہ ان کی مزید تفصیلات دیکھی جائیں تو ہوش ربا صورت سامنے آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجی ٹلائزیشن ناگزیر ہے۔ ان بدعنوانیوں اوربدانتظامیوں کا ایک بڑا سبب کاغذی نظام کے تحت لین دین ہے۔ اگر سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجی ٹلائز کیا جائے تو بدعنوانی اورسُست روی کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتاہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلیں ضائع کردی جاتی ہیں۔ بدعنوانی اور رشوت ستانی کو فروغ دینے کے لیے شہریوں اور صارفین کو باربار چکّر لگانے پر مجبور کیا جاتاہے۔ بغیر رسیدکے لین دین کیا جاتاہے، جس میں رشوت ستانی کا بڑا پھاٹک کھلا رہتاہے۔ اس لیے سرکاری مالی خدمات کو آئن لائن منتقل کیا جائے، وصولیوں میں بہتری لائی جائے۔ مالی لین دین میں فراڈ کی روک تھام کی جائے۔

 _______________

سوئٹزرلینڈ کی خوب صورت جھیل لوسرن کے کنارے واقع برجن اسٹاک ریزورٹ میں جب پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق تڑکے کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، تو دنیا کی نظریں اس شیشے کی عمارت پر لگی ہوئی تھیں، جہاں جدید تاریخ کا سب سے بڑا جیو اسٹرے ٹیجک ڈراما اپنے انجام کو پہنچ رہا تھا۔ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان مسلسل ۱۸ گھنٹوں تک جاری رہنے والے اعصاب شکن اور طویل ترین مذاکرات کے بعد بالآخر ایک ایسے مفاہمت نامے کا خاکہ تیار ہو چکا تھا، جس نے نہ صرف تہران اور تل ابیب کی جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کیا بلکہ واشنگٹن کی عشروں پر محیط خارجہ پالیسی کے محور کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

اس کے فوراً بعد امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو اگلے ۶۰ دنوں کے لیے خام تیل کی پیداوار، فروخت اور نقل و حمل کے لیے ایک جامع جنرل لائسنس جاری کر دیا ۔ اس  اجازت نامے میں نہ صرف تیل بلکہ اس سے وابستہ بینکنگ، انشورنس اور شپنگ سروسز کو بھی استثنا دیا گیا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، جن کے ہمراہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ترین مشیر اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے۔ دوسری طرف ایرانی سفارت کاروں کی ٹیم تھی، جن کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔

  • مذاکرات کی پس پردہ کہانی: یہ مذاکرات اس وقت شدید بحران کا شکار ہوئے جب ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹرتھ سوشل‘ اور ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایران کو شدید فوجی نتائج اور نئی بمباری کی دھمکیاں رسید کردیں۔ ایرانی وفد نے اس پر سخت احتجاج کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ ابتدائی اسلام آباد مفاہمت نامے کی شق نمبر۱  کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، جس کے تحت مذاکرات کے دوران کسی بھی فریق کی طرف سے طاقت کے استعمال یا دھمکی کی ممانعت تھی۔ایرانی عہدے داروں نے صحافیوں کو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ان دھمکیوں کے خلاف احتجاجاً مذاکرات کا بائیکاٹ کر کے تہران واپس جا رہے ہیں۔

لیکن پس پردہ کہانی اس سے بھی مختلف تھی۔ ایک ثالث ملک کے اعلیٰ سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ایرانیوں کا واک آؤٹ صرف ایک سیاسی عمل تھا۔ انھوں نے احتجاج تو ضرور کیا، مگر عملی طور پر، وہ میز سے نہیں اٹھے۔ وہ جانتے تھے کہ امریکی دباؤ میں ہیں اور خود امریکی سفارت کار بھی ٹرمپ کے بیانات پر اندرونی طور پر پریشان تھے او ر قطر اور پاکستان کے ذریعے ایرانیوں کو منانے اور رام کرنے میں مصروف تھے‘‘۔

بات چیت کے ابتدائی دور الگ الگ کمروں میں ثالثوں کے ذریعے ہو رہے تھے۔ یہ ابتدائی بات چیت بھی اس وقت انتہائی تلخ اور اعصاب شکن ہوگئی تھی، جب ایران نے اسرائیل کی طرف سے لبنان میں جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ قطر اور پاکستان کے ثالثوں نے،  الگ الگ ملاقاتیں کرکے دونوں فریقین کے درمیان شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے برف پگھلائی۔اس کے بعد ہی براہِ راست ملاقاتوں کا ایک اور اعصاب شکن دور شروع ہوگیا۔

اٹھارہ گھنٹے کی اس میراتھن کا نتیجہ ایک ایسے ۶۰ روزہ روڈ میپ کی صورت میں نکلا جس نے فی الحال ایک بڑی عالمی تباہی کو ٹال دیا ہے۔اس سے قبل جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پچھلی بدھ کی آدھی رات کو قرارداد مفاہمت پر الیکٹرانک دستخط کیے، تو تہران کی فضاؤں میں سائرن کی آوازیں گونجیں، لیکن یہ کسی فضائی حملے کا الارم نہیں تھا، بلکہ مہینوں کے خوف اور معاشی جمود کے بعد، ایرانی نوجوان اپنی گاڑیوں کی کھڑکیوں سے باہر نکل کر ایرانی پرچم لہرا رہے تھے۔ یہ جشن  ایک ہولناک اور وجودی بقا کی جنگ سے بچ نکلنے کا سکون تھا۔ تہران کے ایک بوڑھے تاجر رضا کے مطابق ’’ہم کو معلوم ہے کہ یہ معاہدہ کوئی مستقل امن نہیں ہے، اور امریکا پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ کچھ کم ہے کہ کم از کم ہم زندہ ہیں۔ بمباری رُک گئی ہے اور ایران اپنے پائوں پر کھڑا ہے‘‘ ۔

  • تل ابیب میں مایوسی:دوسری طرف تہران سے تقریباً ۱۵۰۰ کلومیٹر دور، اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور خاص طور پر رابن اسکوائر کے قریبی کیفے میں ماحول اس کے بالکل برعکس تھا۔ اسرائیلیوں کے چہروں پر چھائی مایوسی، شرمندگی اور ہوائیاں واضح دیکھی جا سکتی تھیں۔ وہاں گفتگو کا رُخ اس معاہدے کے نکات پر کم اور واشنگٹن کی طرف سے ملنے والے’دھوکے‘ پر زیادہ تھا۔اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر ایال، جو حال ہی میں شمالی محاذ سے ڈیوٹی ختم کر کے لوٹے تھے، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو کوس رہے تھے: وہ (نیتن یاہو) ہمیں بتارہا تھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے گا اور آیت اللہ گھٹنے ٹیک دیں گے۔ لیکن آج کا دن دیکھو! ایران کا ایٹمی ڈھانچا جوں کا توں ہے، اس کے پاس یورینیم کا ذخیرہ بھی موجود ہے، حزب اللہ کی قیادت اب بھی سرگرم ہے، اور صدر ٹرمپ نے ہمارے تحفظات کو پسِ پشت ڈال کر تہران کے ساتھ تیل کی ڈیل کر لی۔ یہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے‘‘۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے کٹر حامیوں کے لیے یہ معاہدہ ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ وہ جنگ کو صرف ایک فوجی مہم نہیں سمجھ رہے تھے، بلکہ ایک ایسے عظیم تزویراتی منصوبے کا حصہ سمجھ رہے تھے جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اب، جب ٹرمپ نے اچانک اپنا راستہ بدلا، تو نیتن یاہو کا وہ پورا بیانیہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، جس پر وہ اپنی سیاست چمکا اور دھونس جما رہا تھا۔اس پورے سفارتی عمل کا سب سے بڑا موڑ اور ایران کی سب سے بڑی کامیابی ’آبنائے ہرمز کو بطور تزویراتی ہتھیار‘ استعمال کرنا تھا۔ جب جنگ کے دوران ایران پر دباؤ حد سے بڑھا، تو تہران نے اپنی روایتی میزائل پاور کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے نازک معاشی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ دنیا بھر کے تیل کی کُل سپلائی کا تقریباً ۲۰سے ۳۰ فی صد گزرتا ہے۔جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیج میں جہاز رانی کو روکنے اور آبنائے کو بند کرنے کا عملی پتا کھیلا، تو عالمی انرجی مارکیٹ میں ہاہاکار مچ گئی۔ نیویارک اور لندن کی اسٹاک ایکسچینج میں خام تیل کی قیمتیں چند گھنٹوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

  • امریکی معیشت پر دباؤ: واشنگٹن کے باخبر ذرائع کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیروں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ امریکا کے پاس موجود 'اسٹرے ٹیجک پیٹرولیم ریزرو اور عالمی اتحادیوں کے ذخائر صرف چند ہفتوں کے تعطل کو برداشت کر سکتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز مزید دس دن بند رہتی، تو امریکا میں گیسولین (پٹرول)کی قیمتیں دوگنی ہو جاتیں، جس کا سارا ملبہ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم الیکشن میں ری پبلکن پارٹی پر گرتا۔ ٹرمپ نے بعد میں خود اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:’’دنیا معاشی طور پر الٹ پلٹ ہو جاتی۔ اگر ہم اس راستے پر چلتے رہتے، تو ہمارے اپنے ملک کے اندر پٹرول پمپوں پر لائنیں لگ جاتیں اور امریکی معیشت تباہ ہو جاتی‘‘۔ اس پس منظر میں ٹرمپ نے اسرائیل کی نظریاتی جنگ پر امریکی معیشت کی بقا کو ترجیح دی۔
  • معاہدے کے اہم نکات:برجن اسٹاک ریزورٹ کے پریس ہال میں پیر کی صبح جب پاکستان اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا، تو بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس دستاویز کی ایک ایک سطر کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ یہ محض ایک روایتی جنگ بندی یا عارضی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک طے شدہ اسٹرے ٹیجک فریم ورک ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اس مشترکہ اعلامیے میں جس لچک اور سفارتی باریکی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کی توقع چند روز قبل تک کوئی نہیں کر رہا تھا۔معاہدے کا سب سے اہم اور فوری قابلِ عمل حصہ وہ ۶۰روزہ روڈ میپ ہے، جس کے تحت دونوں فریقین نے اگلے دو ماہ کے اندر ایک حتمی اور جامع جوہری معاہدے تک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس عبوری دورانیے کا مقصد دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ یورینیم کے ذخائر اور پابندیوں کے خاتمے کی باریکیوں پر تفصیلی بحث کرسکیں۔ 

سب سے بڑا بریک تھرو (Breakthrough) ایران کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) کے انسپکٹرز کو اپنی تنصیبات میں فوری طور پر واپس بلانے کا اصولی فیصلہ تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے امریکی حکام کو ایک بند کمرے کی بریفنگ میں بتایا کہ تہران نے نہ صرف معائنہ کاروں کی واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے، بلکہ افزودہ کیے گئے موادکی درجہ بندی اور نگرانی کے نئے طریقۂ کار پر بھی رضامندی دی ہے۔ 

اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک 'ہائی لیول پولیٹیکل اوور سائیٹ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو براہِ راست دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو جوابدہ ہوگی۔ اس کمیٹی کے ماتحت تین ورکنگ گروپس کام کریں گے۔ پہلا ایٹمی فائل پر، دوسرا پابندیوں کے خاتمے پر، اور تیسرا تنازعات کے حل کے طریقۂ کار پر۔اگرچہ ایٹمی پروگرام اس پورے تنازع کا مرکزی نکتہ دکھائی دیتا تھا، لیکن برجن اسٹاک میں ہونے والی گفتگو کا ایک بڑا حصہ لبنان میں جاری زمینی جنگ اور حزب اللہ و اسرائیلی افواج کے درمیان ہونے والے خونریز تصادم کے گرد گھومتا رہا۔

  • لبنان کے مسئلے پر شدید دباؤ:ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے مطابق، لبنان کے موضوع پر ہونے والی بحث اس قدر ’شدید اور تناؤ سے بھرپور‘ تھی کہ کئی بار ایسا لگا کہ مذاکرات معطل ہو جائیں گے۔ایران نے اصرار کیا کہ جب تک لبنان پر اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے اور تہران کو اس کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں ملتی، وہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا حکم جاری نہیں کرے گا۔ اس گرہ کو کھولنے کے لیے ایک غیر معمولی اسٹرے ٹیجک فیصلہ کیا گیا، جسے مشترکہ اعلامیے میں لبنان ڈی کانفلکشن سیل کا نام دیا گیا ہے۔اس سیل کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان دستخط شدہ اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت لبنان میں فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کی نگرانی کرنا ہے۔ لیکن اس پورے میکانزم کی سب سے حیران کن بات اس کی رکنیت ہے۔ اس سیل میں امریکا، ایران، پاکستان، قطر اور لبنانی حکومت شامل ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا شاید پہلا واقعہ ہے کہ اسرائیل کی سرحد پر ہونے والی جنگ بندی اور سیکیورٹی انتظامات کے فیصلے واشنگٹن اور تہران مل کر کر رہے ہیں، اور اس میں تل ابیب کو شاملِ مشورہ تک نہیں کیا گیا۔
  • اسرائیلی ماہرین کا تجزیہ:اسرائیل کے مقتدر ترین اخبار ہاریٹز کے سینئر کالم نگار گڈیون لیوی نے اس صورتِ حال کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا :’’ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ واشنگٹن کا اسرائیل کے ساتھ اتحاد ہمیشہ غیر مشروط نہیں ہوتا۔ جب امریکی صدر کو اپنے ملک کے اندر پٹرول کی قیمتوں، مہنگائی اور انتخابات میں شکست کا خوف ستاتا ہے، تو وہ تل ابیب کے سیکیورٹی خدشات کو ایک طرف رکھنے میں دیر نہیں کرتا۔ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ وہ کسی بیرونی طاقت کے بل بوتے پر پورے خطے کو مستقل جنگ کی آگ میں نہیں جھونک سکتا‘‘۔ اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جو پشیمانی ظاہر کی، وہ پوری اسرائیلی قیادت کی اندرونی کہانی سناتی ہے: ’’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اس فوجی مہم جوئی کا آخری نتیجہ تہران کو معاشی ریلیف اور واشنگٹن کے ساتھ اس کی براہِ راست ڈیل کی صورت میں نکلے گا، تو ہم شاید اس جنگ کا آغاز ہی نہ کرتے‘‘۔
  • پاکستان اور قطر کا کردار:اس معاہدے کی کامیابی کے پیچھے دوحہ اور اسلام آباد کی ہفتوں پر محیط خاموش سفارت کاری اور شٹل ڈپلومیسی کا بڑا ہاتھ ہے۔ قطر نے روایتی طور پر مالیاتی اور سفارتی چینلز فراہم کیے،جب کہ پاکستان نے اپنے تزویراتی تعلقات اور علاقائی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی میں پل کا کردار ادا کیا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمت نامہ‘ دراصل اس پورے عمل کی بنیاد تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے پہلے ہی الیکٹرانک دستخطوں کے ذریعے ایک دوسرے پر حملے نہ کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا عہد کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سوئس ریزورٹ میں ٹرمپ کے بیانات کی وجہ سے تعطل پیدا ہوا، تو پاکستانی اور قطری سفارت کاروں نے تہران اور واشنگٹن میں موجود اعلیٰ ترین فیصلہ سازوں سے براہِ راست رابطے کر کے اس بحران کو سنبھالا۔ 
  • خلیجی ممالک کے لیے اسٹرے ٹیجک چیلنج:برجن اسٹاک ریزورٹ کے مشترکہ اعلامیے کے بعد جہاں واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین تلخیاں ابھر کر سامنے آئیں، وہیں اس معاہدے کے اثرات نے خلیج فارس کے حکمرانوں اور عرب دارالحکومتوں کو بھی ایک نئی سوچ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ عشروں سے خلیج کی سیکیورٹی کا پورا ڈھانچہ اس مفروضے پر قائم تھا کہ امریکی فوجی طاقت خطے میں عرب مفادات اور توانائی کی سپلائی لائنز کی حفاظت کی حتمی ضامن ہے۔ تاہم حالیہ ہولناک تنازع اور آبنائے ہرمز کی عارضی ناکہ بندی نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران کے پاس اس امریکی مانیٹرنگ اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کے باوجود عالمی معیشت کو مفلوج کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ 

۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے واقعات سے قبل، واشنگٹن اور تل ابیب کا مشترکہ تزویراتی منصوبہ یہ تھا کہ ’ابراہیمی معاہدات‘ کا دائرہ وسیع کر کے اس میں سعودی عرب کو شامل کیا جائے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد اسرائیل کے محور پر (Israel-centric) ایک ایسا سیکیورٹی نیٹ ورک بنانا تھا جو خطے میں ایران کو سیاسی، معاشی اور فوجی لحاظ سے مکمل طور پر الگ تھلگ کر دے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے بعد سعودی عرب کی شمولیت کو اس منصوبے کی حتمی فتح سمجھا جا رہا تھا۔تاہم، حالیہ جنگ کی ہولناکیوں، غزہ کی تباہی اور بالآخر امریکا کی ایران کے ساتھ اس براہِ راست ڈیل نے اس پورے اسٹرے ٹیجک کارڈ کو الٹ کر رکھ دیا۔

دوحہ کے ایک سینیئرافسر نے خلیج کے عوامی اور حکومتی جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے کہا: ’’دہائیوں سے ہم سمجھتے تھے کہ ہماری خوشحالی اور سیکیورٹی دائمی ہیں۔ لیکن اس جنگ نے دکھا دیا کہ جب ہرمز بند ہوتا ہے اور انشورنس کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو دوحہ اور دبئی کے چمکتے ہوئے ایئرپورٹس اور تجارتی مراکز چند دنوں میں ویران ہو سکتے ہیں‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور مصر جیسے بڑے کھلاڑیوں نے اس بحران کے دوران تل ابیب کا ساتھ دینے کے بجائے مسلسل خطے میں کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ خلیجی ممالک اب یہ جان چکے ہیں کہ ایران کو خطے سے مٹایا نہیں جا سکتا، وہ ایک مستقل جغرافیائی حقیقت ہے۔ چنانچہ، ایران کو مستقل دیوار سے لگانے کی پالیسی کے بجائے، اب عرب ممالک تہران کے ساتھ بقائے باہمی اور سفارتی مکالمے کو زیادہ پائیدار آپشن سمجھ رہے ہیں۔ ’ابراہیمی معاہدات‘ کا خواب اب تاریخ کے سرد خانے کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

  • تہران پر اندرونی دباؤ:دوسری طرف اگرچہ تہران کی گلیوں میں معاشی پابندیوں کے عارضی خاتمے اور تیل کی فروخت کی اجازت پر عام لوگ مطمئن نظر آ رہے ہیں، اور صدر مسعود پزشکیان اور سابق وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف اسے تاریخی فتح قرار دے رہے ہیں، لیکن تہران کے سیاسی ایوانوں کے اندر سب کچھ پرسکون نہیں ہے۔اس سوئس معاہدے نے ایران کے سخت گیر قدامت پسند بلاک (Hardliners) کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایران کے بااثر ترین سخت گیر اخبار 'کیہان (Kayhan) نے اپنے اداریے میں خبردار کیا ہے کہ ایرانی وفد نے عارضی معاشی فوائد اور محض ۶۰دن کے آئل لائسنس کے بدلے اپنے قیمتی تزویراتی پتے داؤ پر لگا دیے ہیں۔ کئی ارکانِ پارلیمنٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی اے ای اے (IAEA) کے انسپکٹرز کو دوبارہ ایٹمی سائٹس تک رسائی دینا ۲۰۱۵ء کے جے سی پی او اے (JCPOA) کی غلطیوں کو دہرانے کے مترادف ہو سکتا ہے، جس سے امریکا کو دوبارہ جاسوسی کا موقع ملے گا۔ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر یہ بحث اس گہرے تضاد کو ظاہر کرتی ہے کہ تہران کس طرح ایک طرف اپنے انقلابی نظریات اور سیکیورٹی کارڈز کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف ایک عملی ڈیل کرنے پر مجبور ہے۔
  • امریکی پسپائی اور کثیرقطبی نظام:برجن اسٹاک کا یہ مفاہمت نامہ بین الاقوامی سیاست میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے جسے ماہرین 'کثیر القطبی نظام یا ملٹی پولر ورلڈ کہتے ہیں۔ اب وہ دور گزر چکا جب مشرقِ وسطیٰ کے تمام اہم فیصلوں کی ڈوریاں صرف وائٹ ہاؤس سے ہلائی جاتی تھیں۔ اس بار، جب بحران سنگین ہوا، تو قطر، پاکستان اور ترکیہ جیسے علاقائی کھلاڑیوں نے فرنٹ سیٹ سنبھالی۔ سابق بھارتی خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ نے اس بدلتے ہوئے منظرنامے پر ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھایا کہ اب درمیانی درجے کی علاقائی طاقتیں ان تنازعات کے نتائج کو وضع کر رہی ہیں جن کا فیصلہ ماضی میں صرف سپر پاورز کیا کرتی تھیں۔ پاکستان کی جانب سے اس پورے عمل میں ثالثی اور 'لبنان ڈی کانفلکشن سیل میں شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد کا سیکیورٹی اور سفارتی کردار مشرقِ وسطیٰ کے لیے کتنا ناگزیر ہے۔مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا رُخ نظریاتی کم، کاروباری و علاقائی استحکام پر زیادہ مرکوز ہے۔ خلیج کے پانیوں میں اب امریکی بالادستی کے سائے دھندلا رہے ہیں اور خطے کے ممالک اپنے تحفظ کے لیے نئی شراکت داریاں قائم کر رہے ہیں۔
  • غزہ کا المیہ نظرانداز:سوئس جھیل کے پُرسکون کنارے جب سفارت کار کافی کے مگ ہاتھوں میں لیے مسکرا رہے تھے، اس وقت بھی غزہ کی پٹی پر بارود کی بو اور معصوم بچوں کی چیخیں تھمی نہیں تھیں۔ یہ اس معاہدے کا وہ تاریک پہلو ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی طاقتیں جب اپنے مفادات کا سودا کرتی ہیں، تو کمزوروں کے حقوق اکثر پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ایرانی وفد نے مذاکرات کے ابتدائی سیشنز میں غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی، اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا معاملہ اٹھایا تھا۔ تاہم، امریکی وفد، بالخصوص جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس نے اس پر کسی بھی قسم کی حتمی شق کو شامل کرنے سے صاف انکار کر دیا۔امریکا کا مؤقف تھا کہ غزہ کے معاملہ پر پہلے ہی ایک ڈیل ہوچکی ہے، جس میں قطر، مصر، اور حماس شامل ہیں۔ وہ اب اسے ایران کے ساتھ جوہری یا علاقائی سیکیورٹی ڈیل کا حصہ نہیں بنا سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدے میں لبنان کے لیے تو 'ڈی کانفلکشن سیل بن گیا، آبنائے ہرمز کے لیے ہاٹ لائن قائم ہو گئی، لیکن غزہ کا انسانی المیہ، وہاں کی سویلین ہلاکتیں، یرغمالیوں کی رہائی اور امدادی راہداریوں کا کنٹرول اب بھی مکمل طور پر تشنہ اور غیر واضح ہے۔
  • اسرائیل کی ہزیمت: تاریخ کے پنڈولم کو پیچھے گھماکر ذرا دیکھیے: ۱۹۷۳ءکی 'یوم کپور جنگ یاد دلاتی ہے جب مصر کے اچانک حملے نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے اس غرور کو پاش پاش کر دیا تھا، جو اس نے ۱۹۶۷ءکی چھ روزہ جنگ کی یک طرفہ فتح سے حاصل کیا تھا۔۱۹۷۳ء کے اسی جھٹکے کا نتیجہ تھا کہ اسرائیل بالآخر زمین کے بدلے امن کے فارمولے پر راضی ہوا، جس کے بعد مصر کے ساتھ ’کیمپ ڈیوڈ معاہدہ‘ طے پایا اور بعد ازاں فلسطینیوں کے ساتھ ’اوسلو امن معاہدے‘ کی راہ ہموار ہوئی، جس میں پہلی بار دو ریاستی حل کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

امریکی سفارت کار مارٹن انڈک نے ہنری کسنجر کی جو سوانح حیات ترتیب دی ہے، اس میں لکھا ہے کہ ’’مصر ۱۹۷۰ءسے ہی اسرائیل کے ساتھ کسی معاہدہ کی خواہش ظاہر کر چکا تھا، مگر تل ابیب انکار پر بضد تھا۔ لہٰذا ہنری کسنجر نے اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کے غرور کو توڑنے کا تہیہ کیا۔ اس جنگ میں ابتدائی ہزیمت اور مصر کی طرف سے نہرسوئز اور صحرائے سینا کو واپس لینے کے بعد ہی امریکا ، اسرائیل کی مددکےلیے آگے آیا۔مگر جیسے ہی اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور جدید ترین ٹکنالوجی کے بل بوتے پر اپنی ناقابلِ تسخیر برتری کا دوبارہ زعم ہوا، وہ ان تمام امن معاہدوں سے مکر گیا‘‘۔

گذشتہ دو عشروں سے تل ابیب میں یہ بیانیہ حاوی رہا کہ وہ فلسطینیوں کو کچل کر اور ان کے وجود کو نظرانداز کر کے بھی عرب دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کر سکتا ہے۔ موجودہ ایران امریکا معاہدے نے اسرائیل کے اسی زعم کو ایک بار پھر پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ سچائی اب تل ابیب کے رابن اسکوائر سے لے کر فوجی ہیڈکوارٹرز تک گونج رہی ہے کہ فوجی طاقت سے وقتی طور پر عمارتیں تو گرائی اور نسل کشی تو کی جاسکتی ہے ، لیکن سیاسی اور تزویراتی نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ 

 _______________