جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ایران، امریکا مذاکرات پر ایک نظر

افتخار گیلانی | جولائی ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

سوئٹزرلینڈ کی خوب صورت جھیل لوسرن کے کنارے واقع برجن اسٹاک ریزورٹ میں جب پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق تڑکے کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، تو دنیا کی نظریں اس شیشے کی عمارت پر لگی ہوئی تھیں، جہاں جدید تاریخ کا سب سے بڑا جیو اسٹرے ٹیجک ڈراما اپنے انجام کو پہنچ رہا تھا۔ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان مسلسل ۱۸ گھنٹوں تک جاری رہنے والے اعصاب شکن اور طویل ترین مذاکرات کے بعد بالآخر ایک ایسے مفاہمت نامے کا خاکہ تیار ہو چکا تھا، جس نے نہ صرف تہران اور تل ابیب کی جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کیا بلکہ واشنگٹن کی عشروں پر محیط خارجہ پالیسی کے محور کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

اس کے فوراً بعد امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو اگلے ۶۰ دنوں کے لیے خام تیل کی پیداوار، فروخت اور نقل و حمل کے لیے ایک جامع جنرل لائسنس جاری کر دیا ۔ اس  اجازت نامے میں نہ صرف تیل بلکہ اس سے وابستہ بینکنگ، انشورنس اور شپنگ سروسز کو بھی استثنا دیا گیا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، جن کے ہمراہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ترین مشیر اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے۔ دوسری طرف ایرانی سفارت کاروں کی ٹیم تھی، جن کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔

  • مذاکرات کی پس پردہ کہانی: یہ مذاکرات اس وقت شدید بحران کا شکار ہوئے جب ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹرتھ سوشل‘ اور ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایران کو شدید فوجی نتائج اور نئی بمباری کی دھمکیاں رسید کردیں۔ ایرانی وفد نے اس پر سخت احتجاج کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ ابتدائی اسلام آباد مفاہمت نامے کی شق نمبر۱  کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، جس کے تحت مذاکرات کے دوران کسی بھی فریق کی طرف سے طاقت کے استعمال یا دھمکی کی ممانعت تھی۔ایرانی عہدے داروں نے صحافیوں کو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ان دھمکیوں کے خلاف احتجاجاً مذاکرات کا بائیکاٹ کر کے تہران واپس جا رہے ہیں۔

لیکن پس پردہ کہانی اس سے بھی مختلف تھی۔ ایک ثالث ملک کے اعلیٰ سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ایرانیوں کا واک آؤٹ صرف ایک سیاسی عمل تھا۔ انھوں نے احتجاج تو ضرور کیا، مگر عملی طور پر، وہ میز سے نہیں اٹھے۔ وہ جانتے تھے کہ امریکی دباؤ میں ہیں اور خود امریکی سفارت کار بھی ٹرمپ کے بیانات پر اندرونی طور پر پریشان تھے او ر قطر اور پاکستان کے ذریعے ایرانیوں کو منانے اور رام کرنے میں مصروف تھے‘‘۔

بات چیت کے ابتدائی دور الگ الگ کمروں میں ثالثوں کے ذریعے ہو رہے تھے۔ یہ ابتدائی بات چیت بھی اس وقت انتہائی تلخ اور اعصاب شکن ہوگئی تھی، جب ایران نے اسرائیل کی طرف سے لبنان میں جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ قطر اور پاکستان کے ثالثوں نے،  الگ الگ ملاقاتیں کرکے دونوں فریقین کے درمیان شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے برف پگھلائی۔اس کے بعد ہی براہِ راست ملاقاتوں کا ایک اور اعصاب شکن دور شروع ہوگیا۔

اٹھارہ گھنٹے کی اس میراتھن کا نتیجہ ایک ایسے ۶۰ روزہ روڈ میپ کی صورت میں نکلا جس نے فی الحال ایک بڑی عالمی تباہی کو ٹال دیا ہے۔اس سے قبل جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پچھلی بدھ کی آدھی رات کو قرارداد مفاہمت پر الیکٹرانک دستخط کیے، تو تہران کی فضاؤں میں سائرن کی آوازیں گونجیں، لیکن یہ کسی فضائی حملے کا الارم نہیں تھا، بلکہ مہینوں کے خوف اور معاشی جمود کے بعد، ایرانی نوجوان اپنی گاڑیوں کی کھڑکیوں سے باہر نکل کر ایرانی پرچم لہرا رہے تھے۔ یہ جشن  ایک ہولناک اور وجودی بقا کی جنگ سے بچ نکلنے کا سکون تھا۔ تہران کے ایک بوڑھے تاجر رضا کے مطابق ’’ہم کو معلوم ہے کہ یہ معاہدہ کوئی مستقل امن نہیں ہے، اور امریکا پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ کچھ کم ہے کہ کم از کم ہم زندہ ہیں۔ بمباری رُک گئی ہے اور ایران اپنے پائوں پر کھڑا ہے‘‘ ۔

  • تل ابیب میں مایوسی:دوسری طرف تہران سے تقریباً ۱۵۰۰ کلومیٹر دور، اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور خاص طور پر رابن اسکوائر کے قریبی کیفے میں ماحول اس کے بالکل برعکس تھا۔ اسرائیلیوں کے چہروں پر چھائی مایوسی، شرمندگی اور ہوائیاں واضح دیکھی جا سکتی تھیں۔ وہاں گفتگو کا رُخ اس معاہدے کے نکات پر کم اور واشنگٹن کی طرف سے ملنے والے’دھوکے‘ پر زیادہ تھا۔اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر ایال، جو حال ہی میں شمالی محاذ سے ڈیوٹی ختم کر کے لوٹے تھے، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو کوس رہے تھے: وہ (نیتن یاہو) ہمیں بتارہا تھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے گا اور آیت اللہ گھٹنے ٹیک دیں گے۔ لیکن آج کا دن دیکھو! ایران کا ایٹمی ڈھانچا جوں کا توں ہے، اس کے پاس یورینیم کا ذخیرہ بھی موجود ہے، حزب اللہ کی قیادت اب بھی سرگرم ہے، اور صدر ٹرمپ نے ہمارے تحفظات کو پسِ پشت ڈال کر تہران کے ساتھ تیل کی ڈیل کر لی۔ یہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے‘‘۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے کٹر حامیوں کے لیے یہ معاہدہ ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ وہ جنگ کو صرف ایک فوجی مہم نہیں سمجھ رہے تھے، بلکہ ایک ایسے عظیم تزویراتی منصوبے کا حصہ سمجھ رہے تھے جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اب، جب ٹرمپ نے اچانک اپنا راستہ بدلا، تو نیتن یاہو کا وہ پورا بیانیہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، جس پر وہ اپنی سیاست چمکا اور دھونس جما رہا تھا۔اس پورے سفارتی عمل کا سب سے بڑا موڑ اور ایران کی سب سے بڑی کامیابی ’آبنائے ہرمز کو بطور تزویراتی ہتھیار‘ استعمال کرنا تھا۔ جب جنگ کے دوران ایران پر دباؤ حد سے بڑھا، تو تہران نے اپنی روایتی میزائل پاور کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے نازک معاشی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ دنیا بھر کے تیل کی کُل سپلائی کا تقریباً ۲۰سے ۳۰ فی صد گزرتا ہے۔جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیج میں جہاز رانی کو روکنے اور آبنائے کو بند کرنے کا عملی پتا کھیلا، تو عالمی انرجی مارکیٹ میں ہاہاکار مچ گئی۔ نیویارک اور لندن کی اسٹاک ایکسچینج میں خام تیل کی قیمتیں چند گھنٹوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

  • امریکی معیشت پر دباؤ: واشنگٹن کے باخبر ذرائع کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیروں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ امریکا کے پاس موجود 'اسٹرے ٹیجک پیٹرولیم ریزرو اور عالمی اتحادیوں کے ذخائر صرف چند ہفتوں کے تعطل کو برداشت کر سکتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز مزید دس دن بند رہتی، تو امریکا میں گیسولین (پٹرول)کی قیمتیں دوگنی ہو جاتیں، جس کا سارا ملبہ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم الیکشن میں ری پبلکن پارٹی پر گرتا۔ ٹرمپ نے بعد میں خود اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:’’دنیا معاشی طور پر الٹ پلٹ ہو جاتی۔ اگر ہم اس راستے پر چلتے رہتے، تو ہمارے اپنے ملک کے اندر پٹرول پمپوں پر لائنیں لگ جاتیں اور امریکی معیشت تباہ ہو جاتی‘‘۔ اس پس منظر میں ٹرمپ نے اسرائیل کی نظریاتی جنگ پر امریکی معیشت کی بقا کو ترجیح دی۔
  • معاہدے کے اہم نکات:برجن اسٹاک ریزورٹ کے پریس ہال میں پیر کی صبح جب پاکستان اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا، تو بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس دستاویز کی ایک ایک سطر کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ یہ محض ایک روایتی جنگ بندی یا عارضی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک طے شدہ اسٹرے ٹیجک فریم ورک ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اس مشترکہ اعلامیے میں جس لچک اور سفارتی باریکی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کی توقع چند روز قبل تک کوئی نہیں کر رہا تھا۔معاہدے کا سب سے اہم اور فوری قابلِ عمل حصہ وہ ۶۰روزہ روڈ میپ ہے، جس کے تحت دونوں فریقین نے اگلے دو ماہ کے اندر ایک حتمی اور جامع جوہری معاہدے تک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس عبوری دورانیے کا مقصد دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ یورینیم کے ذخائر اور پابندیوں کے خاتمے کی باریکیوں پر تفصیلی بحث کرسکیں۔ 

سب سے بڑا بریک تھرو (Breakthrough) ایران کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) کے انسپکٹرز کو اپنی تنصیبات میں فوری طور پر واپس بلانے کا اصولی فیصلہ تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے امریکی حکام کو ایک بند کمرے کی بریفنگ میں بتایا کہ تہران نے نہ صرف معائنہ کاروں کی واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے، بلکہ افزودہ کیے گئے موادکی درجہ بندی اور نگرانی کے نئے طریقۂ کار پر بھی رضامندی دی ہے۔ 

اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک 'ہائی لیول پولیٹیکل اوور سائیٹ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو براہِ راست دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو جوابدہ ہوگی۔ اس کمیٹی کے ماتحت تین ورکنگ گروپس کام کریں گے۔ پہلا ایٹمی فائل پر، دوسرا پابندیوں کے خاتمے پر، اور تیسرا تنازعات کے حل کے طریقۂ کار پر۔اگرچہ ایٹمی پروگرام اس پورے تنازع کا مرکزی نکتہ دکھائی دیتا تھا، لیکن برجن اسٹاک میں ہونے والی گفتگو کا ایک بڑا حصہ لبنان میں جاری زمینی جنگ اور حزب اللہ و اسرائیلی افواج کے درمیان ہونے والے خونریز تصادم کے گرد گھومتا رہا۔

  • لبنان کے مسئلے پر شدید دباؤ:ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے مطابق، لبنان کے موضوع پر ہونے والی بحث اس قدر ’شدید اور تناؤ سے بھرپور‘ تھی کہ کئی بار ایسا لگا کہ مذاکرات معطل ہو جائیں گے۔ایران نے اصرار کیا کہ جب تک لبنان پر اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے اور تہران کو اس کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں ملتی، وہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا حکم جاری نہیں کرے گا۔ اس گرہ کو کھولنے کے لیے ایک غیر معمولی اسٹرے ٹیجک فیصلہ کیا گیا، جسے مشترکہ اعلامیے میں لبنان ڈی کانفلکشن سیل کا نام دیا گیا ہے۔اس سیل کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان دستخط شدہ اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت لبنان میں فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کی نگرانی کرنا ہے۔ لیکن اس پورے میکانزم کی سب سے حیران کن بات اس کی رکنیت ہے۔ اس سیل میں امریکا، ایران، پاکستان، قطر اور لبنانی حکومت شامل ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا شاید پہلا واقعہ ہے کہ اسرائیل کی سرحد پر ہونے والی جنگ بندی اور سیکیورٹی انتظامات کے فیصلے واشنگٹن اور تہران مل کر کر رہے ہیں، اور اس میں تل ابیب کو شاملِ مشورہ تک نہیں کیا گیا۔
  • اسرائیلی ماہرین کا تجزیہ:اسرائیل کے مقتدر ترین اخبار ہاریٹز کے سینئر کالم نگار گڈیون لیوی نے اس صورتِ حال کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا :’’ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ واشنگٹن کا اسرائیل کے ساتھ اتحاد ہمیشہ غیر مشروط نہیں ہوتا۔ جب امریکی صدر کو اپنے ملک کے اندر پٹرول کی قیمتوں، مہنگائی اور انتخابات میں شکست کا خوف ستاتا ہے، تو وہ تل ابیب کے سیکیورٹی خدشات کو ایک طرف رکھنے میں دیر نہیں کرتا۔ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ وہ کسی بیرونی طاقت کے بل بوتے پر پورے خطے کو مستقل جنگ کی آگ میں نہیں جھونک سکتا‘‘۔ اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جو پشیمانی ظاہر کی، وہ پوری اسرائیلی قیادت کی اندرونی کہانی سناتی ہے: ’’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اس فوجی مہم جوئی کا آخری نتیجہ تہران کو معاشی ریلیف اور واشنگٹن کے ساتھ اس کی براہِ راست ڈیل کی صورت میں نکلے گا، تو ہم شاید اس جنگ کا آغاز ہی نہ کرتے‘‘۔
  • پاکستان اور قطر کا کردار:اس معاہدے کی کامیابی کے پیچھے دوحہ اور اسلام آباد کی ہفتوں پر محیط خاموش سفارت کاری اور شٹل ڈپلومیسی کا بڑا ہاتھ ہے۔ قطر نے روایتی طور پر مالیاتی اور سفارتی چینلز فراہم کیے،جب کہ پاکستان نے اپنے تزویراتی تعلقات اور علاقائی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی میں پل کا کردار ادا کیا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمت نامہ‘ دراصل اس پورے عمل کی بنیاد تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے پہلے ہی الیکٹرانک دستخطوں کے ذریعے ایک دوسرے پر حملے نہ کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا عہد کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سوئس ریزورٹ میں ٹرمپ کے بیانات کی وجہ سے تعطل پیدا ہوا، تو پاکستانی اور قطری سفارت کاروں نے تہران اور واشنگٹن میں موجود اعلیٰ ترین فیصلہ سازوں سے براہِ راست رابطے کر کے اس بحران کو سنبھالا۔ 
  • خلیجی ممالک کے لیے اسٹرے ٹیجک چیلنج:برجن اسٹاک ریزورٹ کے مشترکہ اعلامیے کے بعد جہاں واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین تلخیاں ابھر کر سامنے آئیں، وہیں اس معاہدے کے اثرات نے خلیج فارس کے حکمرانوں اور عرب دارالحکومتوں کو بھی ایک نئی سوچ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ عشروں سے خلیج کی سیکیورٹی کا پورا ڈھانچہ اس مفروضے پر قائم تھا کہ امریکی فوجی طاقت خطے میں عرب مفادات اور توانائی کی سپلائی لائنز کی حفاظت کی حتمی ضامن ہے۔ تاہم حالیہ ہولناک تنازع اور آبنائے ہرمز کی عارضی ناکہ بندی نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران کے پاس اس امریکی مانیٹرنگ اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کے باوجود عالمی معیشت کو مفلوج کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ 

۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے واقعات سے قبل، واشنگٹن اور تل ابیب کا مشترکہ تزویراتی منصوبہ یہ تھا کہ ’ابراہیمی معاہدات‘ کا دائرہ وسیع کر کے اس میں سعودی عرب کو شامل کیا جائے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد اسرائیل کے محور پر (Israel-centric) ایک ایسا سیکیورٹی نیٹ ورک بنانا تھا جو خطے میں ایران کو سیاسی، معاشی اور فوجی لحاظ سے مکمل طور پر الگ تھلگ کر دے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے بعد سعودی عرب کی شمولیت کو اس منصوبے کی حتمی فتح سمجھا جا رہا تھا۔تاہم، حالیہ جنگ کی ہولناکیوں، غزہ کی تباہی اور بالآخر امریکا کی ایران کے ساتھ اس براہِ راست ڈیل نے اس پورے اسٹرے ٹیجک کارڈ کو الٹ کر رکھ دیا۔

دوحہ کے ایک سینیئرافسر نے خلیج کے عوامی اور حکومتی جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے کہا: ’’دہائیوں سے ہم سمجھتے تھے کہ ہماری خوشحالی اور سیکیورٹی دائمی ہیں۔ لیکن اس جنگ نے دکھا دیا کہ جب ہرمز بند ہوتا ہے اور انشورنس کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو دوحہ اور دبئی کے چمکتے ہوئے ایئرپورٹس اور تجارتی مراکز چند دنوں میں ویران ہو سکتے ہیں‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور مصر جیسے بڑے کھلاڑیوں نے اس بحران کے دوران تل ابیب کا ساتھ دینے کے بجائے مسلسل خطے میں کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ خلیجی ممالک اب یہ جان چکے ہیں کہ ایران کو خطے سے مٹایا نہیں جا سکتا، وہ ایک مستقل جغرافیائی حقیقت ہے۔ چنانچہ، ایران کو مستقل دیوار سے لگانے کی پالیسی کے بجائے، اب عرب ممالک تہران کے ساتھ بقائے باہمی اور سفارتی مکالمے کو زیادہ پائیدار آپشن سمجھ رہے ہیں۔ ’ابراہیمی معاہدات‘ کا خواب اب تاریخ کے سرد خانے کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

  • تہران پر اندرونی دباؤ:دوسری طرف اگرچہ تہران کی گلیوں میں معاشی پابندیوں کے عارضی خاتمے اور تیل کی فروخت کی اجازت پر عام لوگ مطمئن نظر آ رہے ہیں، اور صدر مسعود پزشکیان اور سابق وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف اسے تاریخی فتح قرار دے رہے ہیں، لیکن تہران کے سیاسی ایوانوں کے اندر سب کچھ پرسکون نہیں ہے۔اس سوئس معاہدے نے ایران کے سخت گیر قدامت پسند بلاک (Hardliners) کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایران کے بااثر ترین سخت گیر اخبار 'کیہان (Kayhan) نے اپنے اداریے میں خبردار کیا ہے کہ ایرانی وفد نے عارضی معاشی فوائد اور محض ۶۰دن کے آئل لائسنس کے بدلے اپنے قیمتی تزویراتی پتے داؤ پر لگا دیے ہیں۔ کئی ارکانِ پارلیمنٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی اے ای اے (IAEA) کے انسپکٹرز کو دوبارہ ایٹمی سائٹس تک رسائی دینا ۲۰۱۵ء کے جے سی پی او اے (JCPOA) کی غلطیوں کو دہرانے کے مترادف ہو سکتا ہے، جس سے امریکا کو دوبارہ جاسوسی کا موقع ملے گا۔ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر یہ بحث اس گہرے تضاد کو ظاہر کرتی ہے کہ تہران کس طرح ایک طرف اپنے انقلابی نظریات اور سیکیورٹی کارڈز کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف ایک عملی ڈیل کرنے پر مجبور ہے۔
  • امریکی پسپائی اور کثیرقطبی نظام:برجن اسٹاک کا یہ مفاہمت نامہ بین الاقوامی سیاست میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے جسے ماہرین 'کثیر القطبی نظام یا ملٹی پولر ورلڈ کہتے ہیں۔ اب وہ دور گزر چکا جب مشرقِ وسطیٰ کے تمام اہم فیصلوں کی ڈوریاں صرف وائٹ ہاؤس سے ہلائی جاتی تھیں۔ اس بار، جب بحران سنگین ہوا، تو قطر، پاکستان اور ترکیہ جیسے علاقائی کھلاڑیوں نے فرنٹ سیٹ سنبھالی۔ سابق بھارتی خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ نے اس بدلتے ہوئے منظرنامے پر ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھایا کہ اب درمیانی درجے کی علاقائی طاقتیں ان تنازعات کے نتائج کو وضع کر رہی ہیں جن کا فیصلہ ماضی میں صرف سپر پاورز کیا کرتی تھیں۔ پاکستان کی جانب سے اس پورے عمل میں ثالثی اور 'لبنان ڈی کانفلکشن سیل میں شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد کا سیکیورٹی اور سفارتی کردار مشرقِ وسطیٰ کے لیے کتنا ناگزیر ہے۔مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا رُخ نظریاتی کم، کاروباری و علاقائی استحکام پر زیادہ مرکوز ہے۔ خلیج کے پانیوں میں اب امریکی بالادستی کے سائے دھندلا رہے ہیں اور خطے کے ممالک اپنے تحفظ کے لیے نئی شراکت داریاں قائم کر رہے ہیں۔
  • غزہ کا المیہ نظرانداز:سوئس جھیل کے پُرسکون کنارے جب سفارت کار کافی کے مگ ہاتھوں میں لیے مسکرا رہے تھے، اس وقت بھی غزہ کی پٹی پر بارود کی بو اور معصوم بچوں کی چیخیں تھمی نہیں تھیں۔ یہ اس معاہدے کا وہ تاریک پہلو ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی طاقتیں جب اپنے مفادات کا سودا کرتی ہیں، تو کمزوروں کے حقوق اکثر پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ایرانی وفد نے مذاکرات کے ابتدائی سیشنز میں غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی، اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا معاملہ اٹھایا تھا۔ تاہم، امریکی وفد، بالخصوص جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس نے اس پر کسی بھی قسم کی حتمی شق کو شامل کرنے سے صاف انکار کر دیا۔امریکا کا مؤقف تھا کہ غزہ کے معاملہ پر پہلے ہی ایک ڈیل ہوچکی ہے، جس میں قطر، مصر، اور حماس شامل ہیں۔ وہ اب اسے ایران کے ساتھ جوہری یا علاقائی سیکیورٹی ڈیل کا حصہ نہیں بنا سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدے میں لبنان کے لیے تو 'ڈی کانفلکشن سیل بن گیا، آبنائے ہرمز کے لیے ہاٹ لائن قائم ہو گئی، لیکن غزہ کا انسانی المیہ، وہاں کی سویلین ہلاکتیں، یرغمالیوں کی رہائی اور امدادی راہداریوں کا کنٹرول اب بھی مکمل طور پر تشنہ اور غیر واضح ہے۔
  • اسرائیل کی ہزیمت: تاریخ کے پنڈولم کو پیچھے گھماکر ذرا دیکھیے: ۱۹۷۳ءکی 'یوم کپور جنگ یاد دلاتی ہے جب مصر کے اچانک حملے نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے اس غرور کو پاش پاش کر دیا تھا، جو اس نے ۱۹۶۷ءکی چھ روزہ جنگ کی یک طرفہ فتح سے حاصل کیا تھا۔۱۹۷۳ء کے اسی جھٹکے کا نتیجہ تھا کہ اسرائیل بالآخر زمین کے بدلے امن کے فارمولے پر راضی ہوا، جس کے بعد مصر کے ساتھ ’کیمپ ڈیوڈ معاہدہ‘ طے پایا اور بعد ازاں فلسطینیوں کے ساتھ ’اوسلو امن معاہدے‘ کی راہ ہموار ہوئی، جس میں پہلی بار دو ریاستی حل کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

امریکی سفارت کار مارٹن انڈک نے ہنری کسنجر کی جو سوانح حیات ترتیب دی ہے، اس میں لکھا ہے کہ ’’مصر ۱۹۷۰ءسے ہی اسرائیل کے ساتھ کسی معاہدہ کی خواہش ظاہر کر چکا تھا، مگر تل ابیب انکار پر بضد تھا۔ لہٰذا ہنری کسنجر نے اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کے غرور کو توڑنے کا تہیہ کیا۔ اس جنگ میں ابتدائی ہزیمت اور مصر کی طرف سے نہرسوئز اور صحرائے سینا کو واپس لینے کے بعد ہی امریکا ، اسرائیل کی مددکےلیے آگے آیا۔مگر جیسے ہی اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور جدید ترین ٹکنالوجی کے بل بوتے پر اپنی ناقابلِ تسخیر برتری کا دوبارہ زعم ہوا، وہ ان تمام امن معاہدوں سے مکر گیا‘‘۔

گذشتہ دو عشروں سے تل ابیب میں یہ بیانیہ حاوی رہا کہ وہ فلسطینیوں کو کچل کر اور ان کے وجود کو نظرانداز کر کے بھی عرب دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کر سکتا ہے۔ موجودہ ایران امریکا معاہدے نے اسرائیل کے اسی زعم کو ایک بار پھر پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ سچائی اب تل ابیب کے رابن اسکوائر سے لے کر فوجی ہیڈکوارٹرز تک گونج رہی ہے کہ فوجی طاقت سے وقتی طور پر عمارتیں تو گرائی اور نسل کشی تو کی جاسکتی ہے ، لیکن سیاسی اور تزویراتی نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ 

 _______________