اللہ تعالیٰ نے سورئہ مائدہ میں دین کی تکمیل اور اتمام کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۰ۭ (المائدہ۵:۳) آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔
یہ تحریر،اس جزوِ آیت کے الفاظ و تراکیب اور متعلقہ نکات کو سمجھنے کی کوشش ہے۔
اس آیت کی شرح میں یہ روایت صحیح بخاری کے مختلف ابواب میں، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن نسائی اور مسند احمد میں معمولی اختلاف کے ساتھ بیان ہوئی ہے:
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ ، قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، قَالَ : أَيُّ آيَةٍ ؟ قَالَ : اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۰ۭ سورة المائدة آية ۳ ، قَالَ عُمَرُ : قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان و نقصانہ) حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، ایک یہودی نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! تمھاری کتاب (قرآن) میں ایک ایسی آیت ہے جسے تم پڑھتے رہتے ہو، اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن ٹھیرا لیتے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: وہ کون سی آیت ہے؟ یہودی بولا یہ آیت: ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور دین اسلام کو تمھارے لیے پسند کر لیا۔‘‘ حضرت عمر ؓ نے کہا: ’’ہم اس دن اور اس مقام کو جانتے ہیں جس میں یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ یہ آیت جمعہ کے دن اتری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں کھڑے تھے‘‘۔
الیوم سے مراد ہے وہ دور اور زمانہ جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔ مستند روایات ہیں کہ اس حدیث میں مذکورہ سورۃ المائدۃ کی یہ آیت ۱۰ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پرنازل ہوئی۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حج تھا جس کے تین ماہ بعد آپ ؐدنیا سے تشریف لے گئے۔
سورۃ المائدہ میں جس جگہ یہ آیت ہے، وہ سلسلۂ کلام صلح حدیبیہ کا ہے جو ۶ھ میں ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں بھی، یہ آیت پوری طرح مربوط ہے۔ مفسرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ۶ھ میں ایک دفعہ نزول کے بعد ،عرب کی تسخیراور اسلام کے غلبے کے بعد اس آیت کا ۱۰ھ میں دوبارہ نزول ہوا ہو۔ جیسا کہ دیگر آیات کے زمانۂ نزول کے متعلق بھی ایک سے زیادہ روایات ہوتی ہیں۔( تفہیم القرآن)
اس آیت میں اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ کے الفاظ کے ذریعے دین کی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ تکمیل دین کے مفہوم میں درج ذیل پہلو شامل ہیں:
۱- اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری احکام اور حلال و حرام کو آخری شکل میں واضح فرمادیا ہے۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد حلال و حرام کا کوئی بنیادی حکم نازل نہیں ہوا [فتح الباری (شرح صحیح بخاری)]۔یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ۸۱ دن پہلے نازل ہوئی اور نو دن پہلے آخری آیت وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْہِ اِلَى اللہِ۰ۣۤ (البقرہ ۲:۲۸۱)’’اُس دن کی رُسوائی و مصیبت سے بچو، جب کہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے‘‘ نازل ہوئی، جو تقویٰ کا عمومی حکم ہے۔ علامہ بدرا لدین عینی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ سورۃ المائدۃ کی اس آیت کو سن کر رو پڑے تھے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن مکمل ہوچکا ہے، اور ’تکمیل‘ کے بعد اب ’جدائی‘ کا وقت قریب ہے (عمدۃ القاری،شرح صحیح بخاری)۔ اس سے صحابہ کرامؓ کے فہم کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبار صحابہ اس آیت کے نزول سے یہ سمجھ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام مکمل ہونے کے بعد ،دنیا سے رخصتی کا وقت قریب ہے۔
۲- یہ دین جامع نظامِ فکر و عمل پر مبنی ہے۔ یہ روحانی اور عملی، انفرادی اور اجتماعی،اصول اور جزئیات،سب پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، اور ہر لحاظ سے مکمل تہذیب و تمدن کا حامل ہے۔ ’’دین کو مکمل کردینے سے مراد اُس کو ایک مستقل نظام فکر و عمل اور ایک ایسا مکمل نظام تہذیب و تمدن بنادینا ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لیے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے‘‘ (تفہیم القرآن)۔ یہ دین جامع ہونے کے ساتھ ساتھ بہت معقول اور انسانی فطرت کے بالکل مطابق ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی مکمل ہے کہ یہ ایک کل ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے سے مربوط اور پیوست ہیں۔ ’’اس کے اخبار و قصص میں پوری سچائی، بیان میں پوری تاثیر، اور قوانین و احکام میں پورا توسط و اعتدال موجود ہے‘‘۔(تفسیر عثمانی)
۳-ایک مفہوم کے مطابق اس دین پر جامعیت کے ساتھ عمل ہی اکمال (تکمیل)ہے۔ اسی طرح علامہ عینیؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو باب زیادۃ الایمان ونقصانہ کے تحت اس لیے ذکر کیا تاکہ یہ ثابت کریں کہ ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا:آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا، تو اس سے مراد شرائع (احکامات اور واجبات) کی تکمیل ہے۔ اگر کوئی شخص ان مکمل شدہ احکامات میں سے کسی کو چھوڑتا ہے، تو اس کے ایمان کے کمال میں کمی آ جاتی ہے۔ (عمدۃ القاری)
۴- پچھلی شریعتوں کے بعض احکام بعد میں آنے والی شریعتوں سے منسوخ ہوتے رہے، لیکن شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پچھلی سب شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔ ’’دین حق اور نعمت الٰہی کا انتہائی معیار جو اس عالم میں بنی نوع انسان کو عطا ہونے والا تھا، آج وہ مکمل کردیا گیا۔ گویا حضرت آدم ؑ کے زمانہ سے جو دین اور نعمت الٰہیہ کا نزول اور ترویج شروع کی گئی تھی اور ہر زمانہ اور ہر خطہ کے مناسب حال اس نعمت کا ایک حصہ اولادِ آدم کو عطا ہوتا رہا، آج وہ دین اور نعمت مکمل صورت میں خاتم الانبیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت کو عطا کردی گئی‘‘۔(معارف القرآن)
۵- شریعتِ محمدیؐ میں بھی کچھ شروع کے احکام کو ، بعد والے احکام منسوخ کرتے تھے۔ لیکن اس آیت کے بعد شریعتِ محمدی ؐکا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا، اور یہ قیامت تک کے لیے ناقابلِ تبدیلی ہے۔ اس میں اضافوں و ترمیمات کی نہ اجازت ہے ، نہ ضرورت اور نہ ایسے ہونا ممکن ہے۔
۶- یہ مکمل ہے کیونکہ اس میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔ اصولِ دین میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں کی جا سکتی، البتہ انھی کی توضیح میں اجتہادی فروعی مسائل ہوں گے۔ اس دین میں باطل جدید نظریات کی گنجائش بھی نہیں ہے ، اور بدعات کی قبولیت بھی نہیں ۔
۷- یہ دین اس لحاظ سے بھی مکمل ہے کہ خود اس میں کوئی کم تر چیز نہیں ہے اور اس سے بہتر کوئی چیز موجود نہیں ہے کہ اس سے باہر دیکھنے کی ضرورت ہو۔ علامہ بدر الدین عینی نے اس حدیث کی شرح میں حضرت عمرؓ کے جواب کی حکمت بیان کی ہے اور اس کے لیے امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کی جو تفسیر کی ہے ، اس کا حوالہ دیا ہے ۔ وہ یہ کہ ’’یہ امت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے لیے ان کا دین مکمل کر دیا، اب انھیں کسی دوسرے دین کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اپنے نبی کے سوا کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہے‘‘۔(عمدۃ القاری،شرح صحیح بخاری)
۸- اس میں تبدیلی کاامکان اس لیے نہیں ہے کیونکہ اس کو اسی طرح رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ دین کی حفاظت اللہ تعالیٰ کررہے ہیں۔ اللہ کی ہدایت قرآن حکیم کا حرف حرف محفوظ کردیا گیا۔ اس کی عملی شکل یعنی سیرت اور حدیث کے ذخیرے کی حفاظت کا بھی شاندار انتظام کیا گیا۔مشیتِ الٰہی سے ، دورِ نبوی ؐمیں انسانی معلومات، وسائل اور تمدن اس مرحلے پر پہنچ چکے تھے کہ ہدایت کے ان سب ذرائع کا بوجھ اٹھاسکتے تھے،اور اس کی حفاظت بھی کرسکتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اُمت کو حفاظت کی ذمہ داری دی ہے اور دین کو اس شکل میں بھی محفوظ کردیا ہے کہ نقب زنی مشکل ہے۔ اس کی حفاظت اللہ یوں بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین کا حامل گروہ ہمیشہ اس دنیا میں رکھتے ہیں ، جو اس دین کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ ہر وقت اس کا دفاع کرتا رہتا ہے۔یہ دین اس گروہ میں کمال درجے پر موجود رہتا ہے اور ان کی زندگیوں میں محفوظ رہتا ہے اور وہ گروہ اس امانت کو آگے منتقل کرتا رہتا ہے (بحوالہ فی ظلال القرآن)۔حفاظت کے ان سب ذرائع کے باعث، تحریف کی کوششوں کے باوجود، دین اصل صورت میں اور مکمل موجودہے۔
۹- اس کے شارع اور شارح نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، نبوت کے سلسلے کو مہر لگادی گئی کہ اس دین کی کوئی نئی تشریع اور تشریح نہیں ہوسکتی۔ آپ ؐکے خاتم النبیین ہونے کو عقیدے کا حصہ بنادیا گیا۔
۱۰-اس دین کی تکمیل یہ بھی ہے کہ یہ بہترین دین صرف کتابوں یا نظریاتی بحث کی شکل میں نہیں رہ گیا،بلکہ اس پر عمل بھی ہوا اور اس کا ایک ایک اصول عملی شکل میں بروئے کار آیا۔
۱۱-اس دین کی تکمیل ایسے بھی ہوئی کہ اس کے شارع کی زندگی میں ہی اس دین کا اظہارہوا، غلبہ و نفاذ ہوا، اور اقامت ہوئی اور ہر گوشے اور شعبے میں اس کا اطلاق کیا گیا۔
۱۲- اس کی تکمیل کا پہلو یہ بھی ہے کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ہزاروں سے متجاوز خدا پرست، جانباز اور سرفروش ہادیوں اور معلموں کی ایسی عظیم الشان جماعت تیار ہوچکی تھی جس کو قرآنی تعلیم کا مجسم نمونہ کہا جاسکتا تھا‘‘۔ (تفسیر عثمانی)
۱۳- یہ اصول، ان پرعمل، ان کی اقامت اور ان کی عملی تفسیریں اس لحاظ سے بھی مکمل تھیں کہ ان کے ساتھ پختہ بنیادیں موجود تھیں۔ ان کے ساتھ وہ دل تھے جو مسخر ہوچکےتھے اور وہ دماغ تھے جو تسلیم کرچکے تھے۔شعائر الٰہیہ کا ادب و احترام قلوب میں راسخ ہوچکا تھا۔ ( تفسیر عثمانی)
۱۴-اس دین کے مکمل ہونے کا مظہر یہ بھی ہے کہ یہ شریعت ہر زمانےمیں قابلِ عمل رہی۔
۱۵- سارے خطوں اور ملکوں کی متنوع قوموں اور گروہوں نے اس پر عمل کیا۔ تقدیرِ ازلی کے مطابق ،ذرائع سفر و مواصلات کی ترقی کے ساتھ جغرافیائی خطوں میں رابطے کا دور آیا۔اور اس کے ساتھ اس دین کے اصول عالم گیریت کے لحاظ سے بھی مکمل تھے۔ حقیقتاً یہ ایسا دین ہے جو یکساں اصولوں پر نسلِ انسانی کو جمع کرنے والا ہے۔
۱۶- اس دین کو پہنچانے والی اورقائم کرنے والی ہستی کو بھی قرب کے اس مرتبہ پر پہنچادیا گیا، جو تمام اگلے پچھلے باکمال انسانوں کے لیے قابلِ رشک ہے۔ (تفسیر مظہری)
۱۷- ’اس میں تمام انبیا و رسل کے زمرہ میں سیّد الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی سعادت اور امتیازی شان کا تو اظہار ہے ہی لیکن اس کے ساتھ تمام امتوں کے مقابلے میں اُمت مسلمہ کی بھی ایک خاص امتیازی شان کا واضح ثبوت ہے۔(معارف القرآن)
۱- ہمیں جو مکمل دین ملا ہے، اس کی قدر کریں،اور اس کو قیمتی سمجھیں۔دنیوی علوم و فنون میں کتب و ضوابط(codes/guidelines) کے جدید ایڈیشنز اور versions آتے رہتے ہیں اور ان علوم کے ماہرین متفکر رہتے ہیں کہ جدید ترین ورژن یا معلومات سے آگاہ رہیں۔ لیکن اللہ کے دین کے متعلق ہمیں اطمینان ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کا آخری ورژن آچکا ہے۔
۲- اس پر عمل کے ساتھ اس کے اظہار اور اقامت کو مشن بنائیں۔
۳۔ اس دین کی حفاظت کا اہتمام کریں اور تحریف کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔
۴-اس مکمل دین کو پکڑ لیں اور اپنے قیاس، کسی کی جامد تقلید اوربدعات سے بچیں۔
اسی آیت میں وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي کے الفاظ میں اتمامِ نعمت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اتمامِ نعمت کا مطلب ہے نعمت کو تمام یاپورا کرنا۔ جن قرآنی آیات و احادیث میں اتمامِ نعمت کا ذکر آیا ہے،ان پرتفکر سے اس ترکیب’اتمامِ نعمت‘ کے یہ مفہوم نکلتے ہیں:
یہ اور اس سے پچھلی آیت میں مختلف پناہ گاہوں اور پوشاکوں کا ذکر ہے۔ تغذیہ کےذکر کے بعد ان چیزوں کے اہتمام کو، اتمامِ نعمت کہنے کا مطلب ہے کہ انسانی زندگی کے ہرگوشے میں ہرپہلو سے ، جزئیات کے ساتھ نعمتیں دی گئی ہیں۔
’ربّ کے کلمات کے تمام ہونے‘ کے ساتھ صدق اورعدل کا ذکر ہے۔وہ ربّ سچا ہے اور اس کے کلمات بھی سچے ہیں۔ وہ رب حکم دینے اور منع کرنے میں عدل والا ہے، اور اس کے کلمات میں بھی عدل ہے اور کوئی تضاد نہیں ہے۔اور صدق اور عدل کلمات کامل ہیں۔
ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ (الانعام۶:۱۵۴) ’’ پھر ہم نے موسٰی کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہرضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں‘‘۔اس آیت میں ’کتاب کے ساتھ تمام‘ کا لفظ ہے، جو کہ پچھلی الہامی کتب کے، اپنے دور کے لحاظ سے مکمل ہدایت ہونے کا بیان ہے۔
ہدایت یافتہ ہونے کے بعد، نعمت کا اتمام یہ ہے کہ حق کی دعوت اور شہادت و اقامت کے لیے، اس گروہ کو قوموں کا امام و پیشوا بنایا جائے۔یہاں اتمامِ نعمت کا ذکر ہے اور امتِ مسلمہ کو یہ منصب ملنے کی علامت تحویلِ قبلہ کا حکم دینا ہے۔
سورۃ الفتح کی اس آیت سے پہلے فتح، اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ کی نصرت کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ اس سورۃ کے پسِ منظر میں صلح حدیبیہ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اتمامِ نعمت میں یہ اُمور شامل ہیں:
قرآنی آیات میں ’اللہ کے کلمات اور نور کے تمام ہونے‘ کا ذکر ہے، جو ان معنوں میں ہے:
علامہ عینیؒ نے اپنی شرح میں اکملت اور اتممت کے درمیان فرق کی وضاحت کی ہے کہ ’اکمال‘ کا تعلق دین کے قواعد و ضوابط کی تکمیل سے ہے،جب کہ ’اتمامِ نعمت‘ سے مراد مسلمانوں کو دشمنوں پر غلبہ دینا اور مکہ کی فتح جیسی نعمتوں کا پورا ہونا ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ’’کسی چیز کا ’اکمال‘ اور ’تکمیل‘ اس کو کہتے ہیں کہ اس چیز سے جو غرض اور مقصود تھا وہ پورا ہوگیا۔ اور لفظ ’اتمام‘ کے معنی یہ ہیں کہ اب دوسری چیز کی ضرورت اور حاجت نہیں رہی۔ اسی لئے ’اکمالِ دین‘ کا حاصل یہ ہوا کہ قانون الٰہی اور احکام دین کے اس دنیا میں بھیجنے کا جو مقصد تھا وہ آج پورا کردیا گیا۔ اور ’اتمامِ نعمت‘ کا مطلب یہ ہوا کہ اب مسلمان کسی کے محتاج نہیں۔ ان کو خود حق تعالیٰ جل شانہٗ نے غلبہ، قوت اور اقتدار عطا فرما دیا جس کے ذریعے وہ اس دینِ حق کے احکام کو جاری اور نافذ کرسکیں‘‘۔(معارف القرآن)
_______________