ایران پر جاری بلاجواز اسرائیلی اور امریکی حملے اُس وقت شروع کیے گئے جب کہ ایران، امریکا ہی کی دعوت پر اس کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھا۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ء سے ان حملوں میں ایران کی شہری آبادی، فوجی تنصیبات اور تاریخی مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آغاز ہی میں ان دہشت گردانہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ان کے اہل خانہ سمیت شہید کر دیا گیا۔ ایران کی فوجی قیادت اور دیگر ذمہ دارانِ ریاست کو نشانہ بناتے ہوئے بچیوں کے ایک اسکول پر حملہ کرکے ۱۸۰ معصوم بچیوں کو بھی شہید کردیا گیا۔
جوابی کارروائی میں ایران نے مقبوضہ فلسطین میں واقع اسرائیل کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ اُن امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جو مختلف عرب ریاستوں میں قائم ہیں۔ اس دوران پٹرول کی ریفائنریوں، جاسوسی کے مراکز اور بحری جہازوں کو زبردست نقصان پہنچا اور عملاً مسلم دُنیا کی سیاسی قیادت تقسیم ہوکر رہ گئی۔ اس عظیم فساد کی بنیاد اسرائیل کاوہ شیطانی منصوبہ ہے، جس کا ہدف مسلم دُنیا کے اتحاد میں دراڑ ڈال کر انھیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا، مسلم دُنیا کے وسائل کو ایک ایک کرکے بربادکرنا، اور شہری سطح پر نفرت کو فروغ دے کر ان کی دفاعی قوت کو تباہ کرتے ہوئے وسیع تر اسرائیل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ افسوس کہ مسلم ممالک کی ریاستی اور سیاسی قیادتیں اس پھندے میں سادگی، مجبوری یا حماقت میں پھنستی چلی جاتی نظر آرہی ہیں۔ اگرچہ دُور اندیش حلقے اپنے حکمرانوں کو برابر خبردار کررہے ہیں، مگر افسوس کہ ان آوازوں پر کان کم ہی دھرا جارہا ہے۔
ایران کم از کم گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے براہِ راست امریکی اور اسرائیلی یلغار کا نشانہ بناہوا ہے، اور اس کا واحد قصور ان دو بدمعاش (Rogue) ریاستوں کی نظر میں صرف یہ ہے کہ اس نے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا، اور شیعہ سُنّی کی تفریق سے بالاتر رہ کر اہل غزہ کی حمایت کا برملا اظہار کیا۔ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی سمجھ دار حکمران کا سا رویہ اپنانے کے بجائے ایک کھلنڈرے، بددماغ، دروغ گو اور ’اپسٹین فائلز‘ کے مطابق اوباش حکمران کی مانند دُنیا کے امن کو مسلسل خطرے میں ڈالنے کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ آج پوری دُنیا امن، توانائی اور انصاف کے بحران میں مبتلا ہے۔ جنگ کے پھیل کر بدترین تیسری عالم گیر جنگ میں تبدیل ہوجانے کا خطرہ مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتاہے تو اس کی براہِ راست ذمہ داری امریکا، اسرائیل اور ان بلاواسطہ یا بالواسطہ حلیف یا خاموش طرف دار ریاستی قیادتوں پر آئے گی۔
یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ مسلم دُنیا میں تباہی کے اس سفر کی ایک تاریخ ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ ایران پر امریکی، اسرائیلی حملے کے فوراً بعد کم از کم پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقے نے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی و اسرائیلی ریاستی درندگی کا استقبال کیا، اس چیز نے مسلم دُنیا میں متحرک ففتھ کالم کو بے نقاب کرنے میں مدد کی (حالانکہ دوسری طرف ایران میں حزبِ اختلاف کے لوگ، حکومت کے ساتھ مل کر دفاع کی راہ پر چل رہے ہیں)۔
تاریخ سے بے خبر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اہل مغرب یا مغرب سے متاثر ’جدید انسان‘ مسلمانوں کو تہذیب اور دُنیا کے ساتھ چلنے، بسنے کا سلیقہ سکھانا چاہتا ہے۔ پھر اسی کج فہمی اور مغربی این جی اوز کے زیراثر کچھ نام نہاد ’عالم‘ کہلائے جانے والوں کا ایک ایسا گروہ مسلم دُنیا میں موجود ہے، جو کبھی قرآن کا مفہوم بدلنے کی جسارت کرتا ہے اور کبھی احادیث کے ذخیرے کی بے قدری کرکے مسلمانوں کو اس اثاثے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ گروہ اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم میں، فلسطین پر صہیونیت کے قبضے کو جائز قراردینے کی حماقت کا ارتکاب بھی کرتا رہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ’مغربی اقدار‘ یا مغربی جبر کے زیراثر مسلم آبادیوں میں تابع مہمل حکمران طبقے، اس کے سوا کوئی پہچان نہیں رکھتے کہ ذاتی شہرت و اقتدار اور اس کے تحفظ کے لیے یہود و نصاریٰ کی بستہ برداری کریں۔ اس مقصد کے لیے، ایسے عناصر کی باتوں، گھاتوں اور وارداتوں کا ایندھن اپنے بے اختیار اور مجبور مسلم عوام ہی بنتے ہیں۔
مغرب جو صلیبی جنگوں کے زمانے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گہری نفرت کی آگ بھڑکاتا چلا آرہا ہے، اس کی سیاسی و مذہبی مقتدرہ کے لیے ہر وہ مسلمان گالی اور تباہی کا مستحق ہے، جو یہود و نصاریٰ کی اس نفرت کا رمز شناس ہے اور اسے سمجھتا ہے۔ مسلم آبادیوں اور مسلم اقوام میں مجموعی طور پر ، اہل مغرب کے اس طرزِعمل کے بارے میں گہرا ذہنی تحفظ پایا جاتا ہے۔ ان کا ضمیر اپنے ہاں پائے جانے والے ایسے لوگوں کی حکمرانی، قیادت اور نام نہاد راہ نمائی کو قبول کرنے کے لیے کبھی دل سے تیار نہیں ہوتا۔
جو مذموم طبقہ، مغرب کی زبان بولتا ہے، اور مغرب ہی کی عینک سے دیکھتے ہوئے اپنے لوگوں پر دھونس جماتا ہے، سازشیں کرتا ہے اور دشمن کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اپنوں ہی کو مارتا، تباہ کرتا اور دشنام کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسے مقتدر مگر دشمن کے بالواسطہ یا بلاواسطہ مددگاروں کے نزدیک ہر وہ باشعورمقامی فرد، جو ایسی ڈاکازانی کو جانتا ہے، اس کے لیے مغربی پالیسی سازوں اور ان کے مقامی طرف داروں نے چند گالیاں تجویز کر رکھی ہیں، جن میں شامل ہیں: انتہاپسند، قدامت پرست، رجعت پسند، بنیادپرست، دقیانوس، اسلامسٹ وغیرہ وغیرہ۔ یہ لیبل چسپاں کرنے کے لیے وہ خود مسلمانوں کے معاشروں سے ایسے افراد تلاش کرتے یا تیار کرلیتے ہیں جو اُن کی ایسی اصطلاحوں کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں۔ انھی میں سے بعض گروہ اسلام کے صحیح تصور کے بجائے گروہی، فرقہ وارانہ، اور انتہاپسندانہ حد تک ظاہر پرستانہ طرزِعمل اختیار کرکے تشدد کا راستہ بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے منصوبہ سازوں کو کئی گماشتے میسر آجاتے ہیں۔
مغربی جاہلیت اور حاکمیت کی غلامی نہ ماننے والے مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنے دین و تہذیب کے تحفظ اور اپنے حقِ اختیار کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، اور اپنے قومی و قدرتی وسائل کو دشمن کا نوالۂ تر بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر وہ دشمن کے طرف داروں بلکہ غدارچہروں کو بھی اچھی طرح جانتے، پہچانتے اور اس پہچان کو اپنی آیندہ نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔
آج ہمارے گردوپیش عالمی سامراجیوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کی بھڑکائی ہوئی آگ سے بلند ہوتے شعلوں میں یہ افسوس ناک منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔ اسی منظرکا :lایک شاخسانہ مسلم دُنیا کے ممالک پر آمریتوں اور نام نہاد جمہوریتوں کا دور دورہ ہے، جس میں یہاں کے عوام کی کوئی حصہ داری اور مرضی شامل نہیں۔ lدوسری جانب بین الاقوامی سامراجی اور مالیاتی لیڈروں کی نمائندگی و سہولت کاری کے لیے ہروقت اور ہرقیمت پر حاضر نااہل قیادت و سیاست کی حاکمیت ہے۔ lتیسری جانب مسلم دنیا کے مختلف حصوںپر استعماریوں کی قبضہ گیری کی خونیں رات ہے۔ lچوتھی جانب مراکز دانش و تحقیق میں بے عملی اور ابلاغ وراہ نمائی کی فرسودگی ہے۔ lپانچویں طرف علما کے طبقے میں ایک گروہ کی فرقہ پرستانہ سوچ اور فساد گردی ہے___ یہ صورتِ حال آگے بڑھتی ہے تو غزہ میں قتل عام، بلقانی مسلم ریاستوں میں خونِ مسلم کی اَرزانی، افریقہ میں مسلم بستیوں کی پامالی اور کشمیر کی طرح کئی مسلم خطوں پر ہونے والے عشروں کا ظلم، خون کی ندیاں بہاتا نظر آتا ہے۔ یہ طغیان بڑھتے بڑھتے ۲۸فروری ۲۰۲۶ء کو ایران پر امریکا و اسرائیل کی وحشیانہ یلغار میں بدل گیا ہے۔
ایران پر صہیونی و مسیحی سیاسی قیادتوں اور فوجی قوتوں کا حملہ بدترین سفاکیت، عالمی مروجہ اصولوں کی پامالی اور انسانیت کی تذلیل کا ایک الم ناک باب ہے۔ یاد رہنا چاہیے کہ ایران ۴۶سالہ عالمی پابندیوں کے باوجود ایک دفاعی قوت اور قومی یکجہتی کی علامت بن کر اُبھرا ہے۔ تاحال جنگ جاری ہے، اور حتمی نتائج تک پہنچنے میں وقت لگے گا، مگر فی الوقت صاف ظاہر ہے کہ ایران نے ایسی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر دُنیا بھر کو حیران و ششدر کردیا ہے کہ جس میں کوئی بھی مسلم ملک ایران کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی نہیں دیتا (چند مسلم ممالک محض فاصلے پر رہ کر اظہارِ ہمدردی تک محدود ہیں)۔ لیکن اس کے برعکس مسلم ممالک کے عوام رنگ و نسل اور شیعہ سُنّی کی تفریق سے بالاتر ہوکر ایران کے ساتھ ہم آواز ہیں۔ مسلم دُنیا ہی نہیں، مغرب اور مشرق کے عوام بھی ایران کے حقِ دفاع کے طرف دار اور اس ظلم کی مذمت میں اس کے ہم قدم ہیں۔
اسرائیل نے درحقیقت پہلے مصر، سوڈان، امارات، اُردن اور خلیجی ریاستوں کو رام کرکے مسلم یک جہتی کو توڑا، پھر عراق، لیبیا، شام وغیرہ کی فوجی و سیاسی قوت کو ملیامیٹ کیا۔ عالمی صہیونیت کے کاسہ لیس بعض مسلم حکمرانوں نے ’اسلامی تعاون تنظیم‘(OIC) کو ایک مُردہ گھوڑا بنا کر رکھ دیا ہے۔ عرب ممالک کے معدنی وسائل کی دولت کو اُونچی عمارتوں کی تعمیر، تجارتی کشاکش، عیاشانہ زندگی کے چلن اور نسل پرست انڈیا کے ہاتھوں معیشت و نظم ریاست کو جکڑنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ حاکم تصور کرتے آئے کہ، ہم توامریکا و یورپ کے محبوبِ نظر بن رہے ہیں، حالانکہ وہ سب اس راہ پر چلتے ہوئے اپنے مستقبل کو قبر میں اُتارنے کا عمل ہی کرتے رہے ہیں۔ اسی دوران انھوں نے اخوان المسلمون اور حماس کو کچلنے کا سامان فراہم کیا، حالانکہ یہی وہ قوت ہے، جس میں مسلمان ملّت کے قدرتی وسائل کو مغربی جاہلیت کے خون آشام منصوبوں سے بچانے کا شعور ہے۔ ان کے برعکس اُن لبرل، سیکولر، قوم پرست طبقوں پر اعتبار کیا جارہا ہے، جو پہلے ہی دین و ایمان مغرب کو بیچ چکے ہیں۔ایسے ہی منافقین نے ایران کی فکری، سیاسی، اور علمی قیادت کو قتل کرنے کے لیے اسرائیل و امریکا کی مدد کی۔ایسے لوگ نقابوں کے پیچھے چھپے ہوئے آستین کے سانپ ہیں۔
ہمارے نزدیک یہ جنگ سامانِ عبرت ہے، جس نے واضح کر دیا ہے کہ:
۱- امریکا، صلیبیت اور صہیونیت کا طرف دار ہے، جس کے شانہ بشانہ برہمنیت کھڑی ہے۔
۲- اہلِ مغرب کی قیادتیں خود غرضی، سنگ دلی، بداخلاقی اور بدعہدی کی شرمناک سطح پر کھڑی ہیں۔
۳- ’صہیونیت‘ (نہ کہ تمام یہودی) مغربی اور مسلم دُنیا کی پالیسی سازی میں دخیل ہے۔
۴- صہیونیت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے دولت، دھوکے، میڈیا، جنسی بے راہ روی اور پروپیگنڈا کو بطورِ ہتھیار برتتی چلی آرہی ہے۔
۵- مسلم دُنیا کی معدنی دولت کو تعلیمی ترقی، سائنسی جستجو اور دفاعی آلات و حکمت عملی کو اسلامی تعلیمات کے تناظر میں پروان چڑھانے پر صرف کرنے کے بجائے آسائشوں کے پھیلائو اور بے جان عمارتی ڈھانچوں کی تعمیر اور اسلامی شعائر کی بے حُرمتی پر صرف کرنے کو کامیابی بناکر پیش کیا جارہا ہے۔
۶- اپنے عوام کو پالیسی سازی میں شرکت دینے کے برعکس، خوف کی حکمرانی قائم کر کے اپنے خانگی اقتدار کے استحکام ہی کو زندگی کا حاصل سمجھا گیا ہے۔
۷- اسلامی قوتوں کو کچلنے اور ان کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششوں کو فروغ دیا گیا ہے۔
۸- اسرائیل سے قربت اور امریکا کے سامنے خود سپردگی کا راستہ اپنایا گیا ہے۔
یہ اور اسی نوعیت کے مزید درجن بھر اُمور فساد، خرابی و کج فہمی کا نصاب ہیں۔ اس فساد بھرے منظرنامے میں دانش کی یہی بات ہے کہ:
۱- ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC)کو حق اور عدل کی بنیاد پر واقعی اُمت کی ترجمان تنظیم بنانے اور اُمت کے معاملات کا اَزسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
۲- اسرائیل اور امریکا کی دھونس (dictation)کو تسلیم کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
۳- براہِ راست جنگ کے خطرے سے دوچار ملکوں کو اَناپرستی کی قید سے نکل کر آگے بڑھتے ہوئے امن کا پرچم اُٹھانا، اور اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دیانت دار مسلم اہل دانش کا کمیشن مقرر کرنا چاہیے۔
۴- فلسطین کے مسئلے پر جامع، دو ٹوک اور منصفانہ موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
۵- اس افسوس ناک جنگ کا روشن پہلو یہ ہے کہ جون ۱۹۶۷ء سے قائم اسرائیل کے اس دعوے اور ہوّےکا دامن تار تار ہوگیا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے (اس کارنامےکے لیے اہلِ ایران کی جرأت اور قربانی واقعی سنہرے حروف سے لکھی جائے گی)۔
۶- اقوام متحدہ کے غیرمؤثر ہونے کی وجہ سے لازم ہے کہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ ایک ’اُمۃ عدالت انصاف‘ قائم کرے، جس کے ارکان مسلم دُنیا کے قابل جج ہوں اور وہی مسلم دُنیا کے مابین تنازعات اور شکایات کو دُور کریں۔
۷- ’مسلم مالیاتی فنڈ‘ (مسلم مانیٹری فنڈ)تشکیل دیا جائے، جو مغرب اور یورپ میں بکھرے مسلم مالی ذخائر کو ایک جگہ منتقل کرکے، مسلم دُنیا کی تحقیقی، تعلیمی، تجارتی، صنعتی، سائنسی، سماجی، دفاعی، طبّی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے باہمی تعاون کا مستحکم نظام بنائے۔
۸- ’پاکستان ایران پائپ لائن معاہدے‘ پر عمل درآمد شروع کیا جائے اور امریکا کی جانب سے بے جا طور پر مسلط کردہ معاشی و تجارتی غلامی سے نکلا جائے۔
یہ جان لینا چاہیے کہ بیسویں صدی کے ابتدا میں یہودیوں، برطانویوں اور فرانسیسیوں کے اشتعال دلانے سے جس ’عرب قوم پرستی‘ کے بُت کو تراشا اور اس کو پوجا گیا تھا، اُس نے کمزور عثمانی خلافت کے پرخچے تو اُڑائے ہی تھے، مگر عرب دُنیا کو سوائے چند مجبور مملکتوں کے، کوئی قابلِ فخر اثاثہ نہ دیا۔ کیا ایک سو سال کے اس تلخ تجربے سے سبق سیکھنے کا ابھی وقت نہیں آیا؟
اسرائیل اور امریکا کی پوری کوشش یہی ہے کہ وہ کسی طرح خود اس جنگ کی آگ سے باہر نکل جائیں اور اس کے بجائے ایران اور بعض مسلم ممالک کے درمیان ایک خوںریز تصادم شروع کرا دیں۔ایسی صورتِ حال امتِ مسلمہ کے لیے تباہ کن، اسرائیل کے لیے بہت بڑی راحت اور امریکی اسلحہ ساز صنعت کے لیے سنہری موقع ثابت ہو گی۔اب مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کی اس عیارانہ سازش کو سمجھیں، تصادم کے پھندے میں نہ پھنسیں اور امت کو اس خطرناک جال سے بچا کر کامیاب بنائیں۔
اس ماحول میں پاکستان کے لیے بہت گہرے چیلنج اُبھر کر سامنے آئے ہیں، جن میں حکومت ِ پاکستان بظاہر پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے ہوئے ’تزویراتی توازن‘ (Strategic Balance) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے:
۱- اصولی مذمت اور خود مختاری کا دفاع:پاکستان نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
۲- ایران سے تعلقات: پاکستان کی ہرلحاظ سے یہ ضرورت ہے کہ ایران سے سرحدی کشیدگی پیدا نہ ہو، اور عرب دُنیا سے تعاون صرف عرب سرزمین کی جغرافیائی حدود تک محدود رہے، نہ کہ اقدامی اور جارحانہ شکل اختیار کرے۔پاکستان کو ایران کے خلاف ’امریکی، اسرائیلی مہم جوئی‘ میں اپنی زمین یا فضائی حدود فراہم کرنے سے ہر حالت میں سختی سے انکار کرنا چاہیے۔ یہی غیرجانب داری اور اصولی موقف پاکستان کے بقا کی ضمانت ہے۔
۳- سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ :ایک طرف ایران پڑوسی ملک ہے، تو دوسری طرف پاکستان نے ۲۰۲۵ء میں سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدہ کررکھا ہے۔ سعودی پاک دفاعی معاہدے کے بارے میں محترم حافظ نعیم الرحمٰن (امیر جماعت اسلامی پاکستان) نے جماعت اسلامی کی پالیسی، مؤقف اور اتحادویکجہتی کے فروغ کے لیے دُور اندیشی پر مبنی راہ نمائی دیتے ہوئے کہاہے کہ ’’اس معاہدے میں توسیع لاتے ہوئے سب سے پہلے ایران اور ترکیہ کو اس میں شامل کیا جائے، اور پھر مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ جس روز اس وسعت کے ساتھ یہ معاہدہ معرضِ وجود میں آگیا، اسی روز سے اسرائیلی اور سامراجی مداخلت اور بلیک میلنگ کا باب بند ہونے کا آغاز ہوجائے گا۔
۴-سفارتی پُل کا کردار: پاکستان خود کو ایکBridge Builder کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور تہران، ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انصاف، عدل اور غیرجانب داری کی بنیاد پر یہ کوششیں آگے بڑھتی ہیں، تو پاکستان کے لیے اعزاز کا درجہ رکھیں گی۔ مناسب ہوگا کہ پاکستان، ترکیہ،انڈونیشیا اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایسا ’سفارتی بلاک‘ بنائے جو تہران اور ریاض کے درمیان غلط فہمیوں کو دُور کرے۔
۵- تــزویراتی خود مـختاری :پاکستان کو کسی بھی صورت میں مشرقِ وسطیٰ کی ’گروہی سیاست‘ (Bloc Politics) کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی ’محدود ہم آہنگی، اور ’عسکری مداخلت سے گریز‘ پر مبنی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سفارتی طور پر ایران کے ساتھ ہے، اور دفاعی طور پر سعودی عرب کے ساتھ، مگر عسکری طور پر غیرجانب دار رہنا چاہتا ہے۔تاہم ’سلامتی کونسل‘ میں ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری کے دوران پاکستان کا کردار سفارتی حلقوں کے خیال میں ناقابلِ فہم رہا، اور یہی معاملہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ میں ایران کے خلاف یک طرفہ موقف کے دوران دیکھنے میں آیا۔
پاکستان پر حددرجہ نازک ذمہ داری ہے، جس میں وہ دُنیا اور عالم اسلام کو ناقابلِ تصور صدمے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اصولی، اخلاقی اور قانونی موقف پر جم کر بات کرنے کے بجائے اگر دولت اور طاقت کی دھونس میں آکر کمزور ناقابلِ فہم لب و لہجہ اختیار کیا گیا تو یہ چیز ملک و ملّت اور دُنیا کے لیے خسارے کا سودا ہوگا۔
کیا اس بات میں کوئی شک رہ گیا ہے کہ امریکا نے ایران کو مذاکرات میں اُلجھا کر، اس پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی جاری رکھی، اور حملہ کرکے سیاسی قیادت کو ختم کرنے کا راستہ اپنایا۔ وہ ایران کہ جس کے ۹کروڑ انسانوں پر ۳۶برس سے معاشی، تجارتی، سماجی پابندیاں عائد کیے رکھیں۔ ساتھ ہی مسلم ممالک کے درمیان جنگوں کو بھڑکایا، اور جب ۲۸فروری کو مجرمانہ حملہ کیا تو بوکھلاہٹ میں مسلسل جھوٹ بولے اور پینترے بدل بدل کر جہالت اور دھوکا دہی کا ارتکاب کیا۔ کیا یہ کسی معقول یا مہذب ریاست کا رویہ ہوسکتاہے؟ کیا یہی ملک ہے مغربی تہذیب کا نمائندہ اور چہرہ؟ (س م خ)
ابھی میں چھوٹا بچہ ہی تھا کہ میں قرآن پڑھنے لگا۔ اس کے مضامین کے گوشوں تک میری پوری طرح رسائی نہ تھی اور نہ اس کے بلند اغراض ہی کو میرا فہم احاطہ کرسکتا تھا۔ تاہم، میں اس کے کچھ اثرات اپنے دل میں محسوس کرتا تھا۔ میرا سیدھا سادہ ذہن تلاوتِ قرآن کے دوران بعض خیالی صورتیں اخذ کرتا جو بظاہر بڑی معمولی سی ہوتیں۔ لیکن میرے نفس میں اشتیاق اور حواس میں لذت پیدا کرتی تھیں۔ میں دیر دیر تک فرحت و نشاط کے ساتھ ان سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔ ان سادہ تصویروں میں سے جو اس وقت میرے ذہن میں مرتسم ہوا کرتی تھیں، ایک وہ تصویر ہے جو اس آیت کو پڑھتے وقت میرے ذہن میں منقش ہوا کرتی تھی:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللہَ عَلٰي حَرْفٍ۰ۚ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِہٖ۰ۚ وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْہِہٖ۰ۣۚ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃَ ۰ۭ (الحج۲۲:۱۱) اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر سے کرتاہے، پس اگر اسے بھلائی پہنچے تو وہ اس (عبادت) پر مطمئن رہتاہے، لیکن اگر اسے کوئی آزمائش پیش آجائے تو وہ (عبادت سے) اپنا منہ موڑ لیتا ہے۔ ایسا آدمی دُنیا و آخرت دونوں طرف سے خسارے میں رہا۔
اس خیالی تصور کو اگر میں کسی کے سامنے پیش کروں تو شاید وہ اس کی ہنسی اُڑائے۔ یہ تصویر یوں بنی کہ میں ایک گائوں میں رہتا تھا اور گائوں کے قریب ہی وادی کا ایک خاص ٹیلہ میری نگاہ میں تھا۔ اسے دیکھ کر میرے تصور میں یہ بات آتی تھی کہ گویا ایک شخص ہے جو ایک جھکے ہوئے بلند مکان کے کنارے پر یا تنگ سے ٹیلے کی چوٹی پر کھڑا نماز پڑھ رہا ہے، لیکن وہ اپنی حالت ِ قیام پر قابو نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنی ہرحرکت کے دوران میں یوں کانپ رہا ہے ، گویا کہ گرا ہی چاہتا ہے۔ میں اس کے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا ہوں، اس کی حرکات پر غور کرتا ہوں اور عجیب کیف و نشاط محسوس کرتا ہوں۔
ایسی ہی سادہ اشکال میں سے ایک تصوراتی منظر وہ ہے جو اس آیت کو پڑھتے وقت میرے ذہن میں جاگزیں ہوا تھا:
وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰہُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ۱۷۵ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰكِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ۰ۚ فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ۰ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْہِ يَلْہَثْ اَوْ تَتْرُكْہُ يَلْہَثْ۰ۭ (اعراف ۷: ۱۷۵- ۱۷۶) اور (اے نبیؐ) ان کو پڑھ کر سنایئے اُس شخص کا حال کہ جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں اور وہ ان کی پابندی سے بھاگ نکلا، پھر اسے اپنے پیچھے لگا لیا شیطان نے اور وہ گمراہوں میںشامل ہوگیا۔ اگر ہم چاہتے تو ہم اسے ان آیات کے ذریعے بلندی عطا کرتے لیکن وہ تو خود ہی زمین سے چپک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشوں کے پیچھے پڑگیا۔ سو (اب) اس کی مثال ایک کتّے کی سی ہے ۔ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔
میں اس آیت کے مضامین اور اغراض کو تو نہ سمجھتا تھا لیکن یہ نقشہ میرے خیال میں ضرور آتا تھاکہ ایک شخص ہے جس کا منہ کھلا ہوا ہے، زبان لٹک رہی ہے اور وہ کتّے کی طرح مسلسل ہانپ رہا ہے۔ میری نظریں اس سے نہ ہٹتی تھیں۔ لیکن میں یہ نہ سمجھ سکا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ میں اس کے قریب جانے کی جرأت بھی نہ کرسکتا تھا۔ اس طرح کی مختلف صورتیں میرے کوتاہ ذہن میں منقش ہوتی تھیں اور میں ان میں غوروفکر کرتے ہوئے لطف اندوز ہوتا۔ اس وجہ سے میرا دل قرآن کریم کی تلاوت کا مشتاق رہتا تھا۔قرآنِ مجید پڑھتے وقت اس کی وادیوں میں ایسی تصاویر کو تلاش کرتا رہتا تھا۔ یہ دن وہ تھے جو انھی عمدہ یادوں اور سادہ تخیلات کے ساتھ بیت گئے۔
اس کے بعد وہ زمانہ آیا جب میں نے علمی اداروں میں تحصیل علم کا آغاز کیا اور تفاسیر کی کتابوں سے قرآن کریم سمجھنے کی کوشش کی۔ اساتذہ سے قرآن کی تفسیر سنی لیکن اس پڑھنے اور سننے میں مجھے وہ بے مثال لذت حاصل نہ ہوتی جو مجھے بچپن میں حاصل ہوتی تھی۔ افسوس! قرآن میں حُسن کے وہ سب نشانات مٹ گئے اور لذت و اشتیاق سے قرآن خالی ہوگیا۔ کیا یہ دو قرآن ہیں؟ ایک بچپن کا قرآن جو شیریں، سہل اور شوق افزا تھا اور دوسرا جوانی کا قرآن، جو مشکل، پیچیدہ اور بظاہر غیرمربوط! شایدیہ تاثرات مقلدانہ اندازِ تفسیر کا کرشمہ تھے۔
میں نے اب قرآن کو تفسیروں کی مدد سے پڑھنے کے بجائے خود قرآن کی مدد سے پڑھنا شروع کیا تو پھر مجھے وہی محبوب اور دل خوش کن قرآن میسر آگیا۔ قرآن سے شوق و محبت پیدا کرنے والی وہی سرورآفریں تصاویر مجھے پھر مل گئیں۔ لیکن اب یہ پہلے کی طرح سادہ نہ تھیں، کیونکہ میرے فہم میں تغیر آگیا تھا۔ اب میں ان کے اغراض و مقاصد کو سمجھ رہا تھا اور جانتا تھاکہ وہ زندگی میں پیش آنے والے بعض واقعات کی مثالیں ہیں جو نمایاں کی جارہی ہیں، لیکن ان کی اثرآفرینی اور جاذبیت لازوال اور دائمی ہے۔
الحمدللہ! میں نے قرآن کو پالیا!
اب میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں اس پہلو سے کچھ بحثیں بطورِ نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کروں۔ چنانچہ مجلہ المقتطف میں ۱۹۳۹ء کو التصویر الفنی فی القرآن کے عنوان سے میں نے ایک مضمون شائع کیا۔ اس میں مَیں نے قرآن کی چند تصاویر حقائق لے کر منعکس کیں اور ان کے فنی حُسن و جمال کو واضح کیا اور خدائے قادر کی عظیم قدرت کی نشان دہی کی، جو الفاظ کی وساطت سے ایسی مصوری کرتی ہے کہ جس سے رنگین مُوقلم اور کیمرے عاجز ہیں۔ میں نے سمجھا کہ یہ مضمون ایک مستقل کتاب کے لیے موضوع بحث بن سکتا ہے۔ کئی سال گزر گئے اور قرآن کی یہ تصاویر میرے خیالات میں بنتی جارہی تھیں اور اُن میں فنی اعجاز نمایاں نظر آتے تھے اور جب میں ان کو بغور دیکھتا تو میرا یہ خیال پختہ ہوجاتا کہ میں اس کام کو اپنے ذمّے لوں، اسے پایۂ تکمیل تک پہنچائوں اور جہاں تک ممکن ہو اسے وسعت دوں۔ وقتاً فوقتاً میں قرآنی مطالعہ میں منہمک رہا اور اس سے براہِ راست تصاویر اخذ کرتارہا اور اس موضوع کو زیربحث لانے کا شوق میرے ذہن میں اور زیادہ پختہ ہوتا گیا۔ لیکن اس معاملے میں کچھ ایسے موانع بار بار پیش آجاتے کہ یہ چیزبس ایک دلی حسرت اور ذہنی اشتیاق بن کر رہ جاتی۔
آخرکار پورے پانچ سال بعد مجلہ المقتطف میں اس سلسلہ کی پہلی کڑی شائع کرنے کا موقع ملا۔ میں نے بحث کا آغاز کیا تو میرا پہلا کام یہ تھا کہ میں قرآن میں سے فنی تصویروں کو جمع کروں، انھیں پیش کروں اور پھر اس ادبی مصوری کی خوبیوں کو اُجاگر کروں اور خصوصاً فنی پہلوئوں کو واضح کروں کیونکہ اس مبحث میں میرا مقصد دیگر قرآنی مباحث و مطالب پیش کرنا نہ تھا بلکہ خالص فنی پہلو زیرتوجہ تھا۔
مگر اب کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نئی حقیقت ہے میرے سامنے اُبھر کر آگئی ہے۔ وہ یہ کہ قرآنی تمثیلات قرآن کے دیگر اجزا و عناصر سے کوئی مختلف حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ قرآن کریم کا اسلوبِ بیان ہی ادبی تصویر نگاری ہے۔ یہ ایسا اسلوبِ بیان ہے، جسے سوائے تشریعی احکام بیان کرنے کے،باقی تمام اُمور کی وضاحت کے لیے اختیار کیا گیاہے۔ اب میرے سامنے چند ادبی تصویروں کے جمع کردینے اور ان کو مرتب کردینے کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ سرے سے اصول تعبیرہی کی ایک نئی راہ اُجاگر کرنا میرا موضوع بن گیا۔ توفیق الٰہی سے، ایک غیرمترقبہ نعمت تھی جو میرے مقدر ہوگئی۔
سو، اسی بنیاد پر اس کتاب کے مباحث کا آغاز ہوا۔ اس کتاب میں جو کچھ ہے وہ اسی متذکرہ نظریہ کو واضح کرنے کے لیے ہے اور طریق تعبیر قرآنی کی ایک اہم خصوصیت کو کھول کر بیان کرنا مقصود ہے۔
جب یہ مطالعہ میں نے مکمل کرلیا تو محسوس کیا کہ جیسے قرآن میرے دل میں نئے رُوپ کے ساتھ اُترا ہے اور قرآن کو اس طرح پایا جس طرح پہلے کبھی نہ پایا تھا۔ قرآن میرے دل میں ایک حسین و جمیل شکل میں تھا۔ بالیقین وہ پہلے بھی ایسے ہی حسین و جمیل تھا، لیکن منتشرو متفرق حالت میںاور آج وہ ایک خاص مضبوط بنیاد پر قائم ہے___ ایک ایسی بنیاد جس میں کیف آور ربط ہے، جس کی مجھے پہلے سمجھ بوجھ نہ تھی اور جس کا میں نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا!
اگر مجھے اِن قرآنی تصاویر کو منتقل کرنے اور پیش کرنے میں اپنے ذہنی تصورات اور ضمیر کے احساس کی پوری ترجمانی کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے، تو پھر یہی چیز بلاشبہ اس کتاب کی مکمل کامیابی کی ضامن ہوگی۔
’صحابی‘ کے معنی ساتھی اور رفیق کے ہیں اور یہ اصطلاحاً وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنھوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت و محبت اختیار کی اور جس دین کو آپ لے کر آئے تھے،اسے نہ صرف خود قبول کیا بلکہ اسے دُنیا میں قائم و نافذکرنے میں اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ صحابہؓ اُمت مسلمہ کا سب سے اعلیٰ گروہ، ممتاز طبقہ اور افضل ترین جماعت ہیں۔ یہ حضرات روشنی کے مینار اور پہاڑی کے چراغ ہیں۔ وہ سیرت و کردار کے ہر اُس اعلیٰ معیار پر بھی پورے اُترتے ہیں جو کسی انسان کے لیے مقرر کیا جاسکتا ہے۔ ان کی زندگی کا ہر گوشہ مثالی حیثیت رکھتا ہے خواہ اس کا تعلق معاشرت سے ہو یا معاملات سے، سیاست سے ہو یا عبادات سے۔
صحابہؓ کو ایک طرف تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھیں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی سعادت میسر آئی۔ وہ قرآن کے اوّلین مخاطب بنے اور ان میں سے بعض کو اس دُنیا میں ہی جنّت کی بشارت دے دی گئی ۔ دوسری طرف ایک اور اعزاز اور سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا و خوشنودی کا اعلان کیا۔ کسی بندہ کی اس سے بڑھ کر اور خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ فاطر ارض و سما اس سے راضی ہوجائے۔ قرآن میں اس رضا کا صاف اعلان ہے:
اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ (المائدہ ۵:۱۱۹)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اعلانِ نبوت فرمایا تو جیسے زمین و آسمان اجنبی بن گئے۔ آپ کا یہ اعلان اہلِ قریش کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ’صادق و امین‘ یکایک ان کے لیے ’خطرہ‘بن جائے گا اور وہ’شرم و حیا کا پُتلا‘ جس کی نگاہیں ہمیشہ نیچی رہتی تھیں، اس قدر ’بے باک‘ ہوجائے گا کہ اپنے آباواجداد کے مذہب تک کو چیلنج کر گزرے گا۔ اس اعلان کا صاف مطلب یہ تھا کہ نہ صرف اہلِ مکہ بلکہ پورے عرب معاشرے سے اعلانِ جنگ کیا جارہا ہے۔ سو وہ ہوا، پورامعاشرہ ایک اکیلی جان کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہر طرف سے مخالفت کا طوفان اُمنڈ آیا۔ یہ بڑا سخت وقت تھا۔ ایسے حالات میں اس ’داعیِ حق‘ کی حمایت و نصرت کے لیے کسی شخص کا آواز بلند کرنا موت کے ہم معنی تھا۔ مگر زندہ ضمیر افراد ایک ایک کر کے اپنے سر ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔ اس کے ہمدم، ہمراز، ہمراہی ، پشت پناہ، ساتھی اور مددگار بنے۔ انھوں نے ہرمصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ہر آزمائش کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اہل مکہ کے ہرظلم وستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انھیں ستایا گیا اور اہل مکہ کے ہرظلم و ستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انھیں ستایا گیا، کوڑوں کی ضربیں لگائی گئیں، دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، زنجیریں باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹا گیا، تختۂ دار پر کھینچا گیا، مقتل کی سیر کرائی گئی، لوہے کے گرم گرم اوزاروں سے داغ لگائے گئے، بوجھل پتھروں کے نیچے دابے گئے، غرض وہ سب کچھ ہوا جس کا ظلم کے عنوان سے ایک انسان تصور کرسکتا ہے۔ یہ آزمائشیں ان لوگوں کی راہ کھوٹی نہ کرسکیں۔ ان ’صاحبانِ عزم و استقلال‘ نے کسی قیمت پر بھی داعیِ حق صلی اللہ علیہ وسلم کی مفارقت گوارا نہ کی۔ معیت و مصاحبت کو ترک نہ کیا۔ اور ایک مرتبہ جس رشتۂ رفاقت و اُلفت میں منسلک ہوگئے تھے، پھر اس پر کوئی حرف نہ آنے دیا۔ یہ حضرات آپؐ کے ایسے ساتھی اور رفقا تھے کہ دن رات کا کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں آپؐ سے جدا ہوتے ہوں۔ پھر ان صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محض ’تعلق‘ نہ تھا، ’عشق‘ تھا۔ یعنی ایک طرف تو مقصد کی ہم آہنگی، رفاقت اور تعاون کا تقاضا تھا کہ کسی لمحہ ساتھ نہ چھوڑا جائے اور دوسری طرف ’دل کے تقاضے‘ تھے کہ محبوبِ نظر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔ اس عشق کے آداب قرآن میں یوں سکھائے گئے ہیں:
اے نبیؐ! کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اوراس کی راہ کی جدوجہد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے۔(التوبہ۹:۲۴)
صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اعزہ و اقارب، بلکہ دُنیا کے تمام رشتوں سے زیادہ تھی۔ وہ اس بات کو گوارا کرنا تو بڑی بات ہے، اس کا تصور تک نہ کرسکتے تھے کہ حضورؐ کو کانٹا بھی چبھے اور وہ آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے رہیں۔ صحابہ کایہ عشق ہمہ گیر تھا۔ آپؐ کی ذات و شخصیت سے بھی تھا اور آپؐ کے پیغام و دعوت سے بھی۔ وہ آپؐ پر ایمان لائے، آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور آپؐ کی خاطر تکلیفیں اُٹھائیں، ہجرت کی اور ہرمرحلے میں دوش بدوش چلے۔ ان کی یہ محنتیں رائیگاں نہ گئیں۔ اُس کا انھیں بدلہ بھی خوب ملا:
جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کی راہ میں گھربار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنھوں نے پناہ دی، اور مدد کی، وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطائوں سے درگزر ہے، اور بہترین رزق ہے اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آئے اور تمھارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے، وہ بھی تم میں شامل ہیں۔(الانفال ۸:۷۴)
جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے وہ افضل خلائق (تمام مخلوقات میں سب سے افضل) ہیں۔ ان کا بدلہ ان کے ربّ کے یہاں یہ ہے کہ بسنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ (بدلہ)ملتا ہے(ہر) اس (شخص) کو جو اپنے ربّ سے ڈرتا ہے۔(البینہ۹۸:۸)
انھوں نے اسلام کی خاطر اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا اور یہ ساری متاعِ دُنیا دراصل ہے بھی بے مایہ، اُس معاوضہ کے مقابلہ میں جو انھیں حاصل ہوا:
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے (جنّت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے۔ تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پوراکرنے والا ہو۔(التوبہ ۹:۱۱۱)
لیکن اسلام کے لیے اپنی ان عالی خدمات کی بناپر انھیں مطلق یہ احساس نہ تھا کہ وہ بھی ’کچھ‘ ہیں۔ سب کچھ قربان کرنے کے باوجود غرورو تکبر اور بڑائی کا’وسوسہ‘ تک صحابہؓ کے دل میں پیدا نہ ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ سب ’کارنامے‘ ہماری کوششوں کا حاصل نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ کم ظرف ہوتے ہیں وہ کسی مقصد کے لیے اپنی ذرا سی ’خدمت‘ پر پھول جاتے ہیں، اور بہت سارے حقوق و مراعات اپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر ان جان نثاروں کا حال یہ نہ تھا۔ ہرلمحہ سہمے سہمے اور خوفزدہ رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی کوتاہی کی وجہ سے یہ خدمات قبولِ بارگاہ نہ ہوسکیں۔ پھر آخرت میں اجرکے ایسے حریص تھے کہ ڈرتے تھے کہ کہیں ہمیں اس دُنیا میں ہی ساری کوششوں کا صلہ نہ مل جائے کہ وہاں خالی ہاتھ رہیں۔ اسی بناپر وہ ہرلمحہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور استغفار کیا کرتے تھے، تاکہ اس جدوجہد میں بربنائے بشریت جو لغزشیں ہوگئی ہوں، ان کی تلافی ہوجائے۔ وہ پکار اُٹھتے:
مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطائوں سے درگزر فرما اور ہمیں آتشِ دوزخ سے بچالے۔ یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں۔ فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دُعائیں مانگا کرتے ہیں۔(اٰل عمرٰن ۳: ۱۶-۱۷)
اور حقیقت میں یہ ممکن بھی نہ تھا کہ جن نفوسِ قدسیہ کی تعلیم و تربیت آغوشِ نبوت میں ہوئی تھی، اس میں رذائلِ اخلاق کی کوئی آلائش باقی رہتی۔ کیونکہ جن بھٹیوں میں سے گزر کر وہ کندن بنے تھے، اس عمل میں غرور، تکبر، حسد اور دوسری بُرائیاں جل کر خاک ہوگئی تھیں۔
صحابہؓ کی نجی اور مجلسی زندگی بھی بہت پاکیزہ تھی۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنے ظاہروباطن میں یکساں ہوتے ہیں؟ اور کتنے اشخاص ہیں جو اپنی نجی و انفرادی زندگی میں اسی طرح میزان پر پورے اُترتے ہیں جس طرح اپنی مجلسی و اجتماعی زندگی میں؟ بس ایک صحابہؓ کا گروہ ہے جو اپنی انفرادی اور اجتماعی دونوں زندگیوں میں اس طرح پاکباز ہے کہ متقیون ، مفلحون اور فائزون کے الفاظ انھی پر زیب دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کے یہ دونوں پہلو اِن آیات سے جھلک رہے ہیں:
جو اُٹھتے بیٹھتے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غوروفکر کرتے ہیں۔ (اٰل عمرٰن ۳: ۱۹۱)
اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو بُرائیاں ہم میں ہیں انھیں دُور کردے، اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۹۳)
یقینا فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو:
’مومن مرد اور مومن عورتیں‘ یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں۔ زکوٰۃدیتے ہیں اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ (التوبہ ۹:۷۱)
رحمٰن کے (سچّے) بندے وہ ہیں جو:
ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے ربّ کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔(السجدہ ۳۲:۱۶)
آپؐ کے ربّ کو معلوم ہے کہ آپؐ کے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات (نماز میں) کھڑے رہتے ہیں۔(المزمل ۷۳:۲۰)
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسولؐ ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو انتہائی سخت ہیں، لیکن آپس میں انتہائی رحم دل اور (شفیق) ہیں۔ (اے دیکھنے والے) تم ان کو دیکھتے ہو کہ خدا کے آگے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ کثرتِ سجود سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں مرقوم ہیں اوریہی اوصاف انجیل میں پائے جاتے ہیں۔(الفتح ۴۸: ۲۹)
اور کمال یہ ہے کہ معاملہ انفرادی نوعیت کا ہو یا اجتماعی نوعیت کا، غفلت کوشی کسی سمت سے راہ نہیں پاتی۔ اپنے مقصد ِ حیات کو وہ کسی وقت فراموش نہیں کرتے۔ اللہ کی یاد ان کے دلوں سے کسی لمحہ محو نہیں ہوتی۔ ہرآن ربّ العالمین کی رضا اور خوشنودی کی طرف ہی قدم بڑھتے ہیں:
ایسے لوگ جنھیں نہ تجارت غفلت میں ڈالتی، نہ خریدوفروخت اللہ کی یاد سے اور نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے (باز رکھتی)۔وہ ڈرتے رہتے ہیں۔ (النور ۲۴:۳۷)
پس سیرت و کردار کا یہی وہ نمونہ ہے جس کے متعلق مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے: ’’ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پاجائو گے‘‘۔
اللہ ربّ العزت کی توفیق اور اس کے بے پایاں احسانات میں سے ایک احسان یہ ہے کہ ہمیں رمضان المبارک سے فیض یاب فرمایا اور پھر اس کے بعد ہمیں مسرت اور خوشی کے اظہار کا دن’عید الفطر‘ عطا فرمایا۔ عید اللہ کے حضور اظہارِ تشکر اور اس کے سامنے عجز و نیاز اختیار کرنے کا دن ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی من جملہ ان بے پناہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو وہ ہر آن، ہر لمحے اور ہرساعت ہمارے اوپر نچھاور فرما رہا ہے۔ ہم تو ان نعمتوں کا ادراک بھی نہیں کر سکتے چہ جائیکہ ہم ان کا شکر ادا کر سکیں۔ یہ موقع بالعموم ہمارے معاشرے کے اندر خوشی اور مسرت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس موقعے پر لوگ خوشی اور شادمانی کا اظہار کرتے ہیں۔ خوشی کے ان مواقع پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ انسان راہ اعتدال سے کچھ تجاوز کر جائے۔ کسی جگہ اس کے قدم ڈگمگا جائیں۔ وہ نیکی کے راستے پہ چلتا چلتا کہیں کسی معصیت اور کسی نافرمانی کی راہ پر چل نکلے۔
انسان کی اس نفسیات کے پیش نظر پیغمبر علیہ السلام نے ہمیں خوشی کے ضوابط اور مسرت کے آداب سے روشناس فرمایا ہے۔ ان مواقع پر لوگوں کو اس بات کی کھلی چھوٹ دینا کہ جو پابندیاں تمھارے اُوپر لاگو کی گئی تھیں وہ اب ختم ہو گئی ہیں، اور اب تم آزاد ہو اور اس آزادی کے اندر جو بھی کام کرو اور جس طرح کا رویہ بھی اختیار کرو اس کے بارے میں تمھارے اوپر کوئی قانون اور ضابطہ عاید نہیں ہوتا۔ یہ وہ چیز ہے انسانی نفس جس کی خواہش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے اور وہ خود اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے بھی کرے اور اپنی خوشی کے منانے کا جو انداز بھی اسے بھلا لگے اس کو اختیار کرے۔ لیکن فی الحقیقت ایک مومن کی زندگی کے اندر اس طرح کی بے مہار آزادی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔
قرآن مجید کے اندر اس ضابطے کو بے شمار اسالیب سے سمجھایا گیا ہے۔ کہیں ایک اصول کے طور پر یہ بات انسان کو سمجھا دی کہ جِنّ و انس کو تو میں نے صرف اس بنا پر پیدا کیا ہے کہ وہ میری غلامی اور بندگی کریں۔ غلام کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اللہ ربّ العزت نے انسان کو اپنے غلام کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی جو تلقین فرمائی ہے، اس کا نتیجہ یہی ہے کہ حالت کیسی بھی کیوں نہ ہو، غم کی کیفیت ہو یا آزمائش کی کیفیت ہو، یا خوشی اور شادمانی کی کیفیت، اس کی حیثیت بالآخر اللہ کے سامنے ایک غلام کی ہے اور غلام کبھی بھی اپنی مرضی نہیں کرتا۔ اس کو نہ اس بات کا اختیار ہوتا ہے اور نہ اس کے اندر خود جذبات اتنے توانا ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مقابلے میں اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرنا شروع کر دے۔
شریعت نے غم، خوشی، تکلیف اور آزمائش کے بھی آداب مقرر کر کے انسان کی رہنمائی فرمائی ہے ۔ غم، تکلیف اور آزمائش کے موقعے پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ انسان راہِ اعتدال سے ہٹ جائے اور اس کی زبان سے کچھ ایسے کلمات نکل جائیں جو اللہ کی ناراضی کا موجب بننے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں ان کا شمار ہوتا ہو۔ کچھ ایسی حرکات بھی انسان سے سرزد ہو سکتی ہیں کہ جن کے نتیجے میں اللہ کے ہاں انسان ایک مجرم کے طور پہ پیش ہو۔ اسی طرح سے جب خوشی اور فرحت کا موقع ہوتا ہے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ انسان بدمست ہو جائیں، خوشی کو مناتے ہوئے فخروغرور اور نفرت و تکبر کے اظہار میں اتنا آگے بڑھ جائیں کہ اس سےخلق خدا کو بھی تکلیف ہو اور اللہ ربّ العزت کی ناراضی بھی اس کے نتیجے میں سامنے آئے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا پابند بنایا ہے کہ انسان کسی بھی کیفیت میں ہو، اس کا معاملہ خیر پر مبنی ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبا لامر المؤمن فان امره كله خير ’’مومن کا معاملہ ہرحال میں تعجب انگیز ہوتا ہے‘‘۔ یہ تعجب اس بنا پر کہ اس کے سارے کے سارے معاملات خیر کے اوپر مبنی ہیں۔ کوئی منفیت اس کے اندر نظر نہیں آتی۔ پیغمبر علیہ السلام خود فرما رہے ہیں کہ اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے اوپر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ ربّ العزت کی رضا اور اس کا فیصلہ سمجھ کر اس کے اوپر خاموشی اختیار کرتا ہے۔ اللہ پر توکّل کرکے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ جب اسے کوئی خوشی اور مسرت کا موقع میسر آتا ہے تو اللہ ربّ العزت کے سامنے سر بسجود ہو جاتا ہے۔ عجز و نیاز کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ صبر اور شکر دونوں صفات انسان کو جنت میں لے جانے والی ہیں اور جہاں حقیقی معنی میں صبر ہوتا ہے وہاں یقینی طور پہ شکر بھی اس کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اور جس جگہ شکر موجود ہو اس شخص کے اندر یقینا صبر کا جذبہ بھی اسی طرح سے موجود ہوگا۔
خیال رہے کہ وہ پابندیاں جو رمضان المبارک میں ہمیں برداشت کرنا پڑیں وہ اب ختم نہیں ہو گئی ہیں۔ کھانے پینے کی وہ پابندی جو ہمیں رمضان المبارک کے اندر برداشت کرنا پڑی وہ خود انسانی عقل، سوچ اور فہم کے نتیجے میں کسی نہ کسی طرح سے انسان کے اوپر باقی زندگی کے اندر بھی برقرار رہتی ہے۔ انسان اگر ان پابندیوں کے نہ ہونے کی بنا پہ آزاد روی کا طریقہ اختیار کرلے اور کھانے پینے کے اندر حد سے زیادہ تجاوز کرے تو اس کی صحت برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسی لیے اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید میں یہ اصول بیان فرمایا ہے:كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ (الاعراف۷:۳۱)’’کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو‘‘۔ یہ حکم صرف رمضان سے متعلق نہیں ہے بلکہ عام زندگی کے لیے بھی ایک قانون اور ضابطہ ہے۔ انسانی صحت کے جتنے بھی اصول و آداب ہیں اور جن کے نتیجے میں انسانی صحت برقرار رہ سکتی ہے، اور کسی علاج و دوا کے استعمال کے بغیر انسانی صحت تکالیف، مصیبتوں، اور امراض سے محفوظ رہ سکتی ہے، وہ اسی اصول پر مبنی ہے۔ عید کا دن فی الحقیقت پہلا اور سب سے زیادہ اہم دن ہوتا ہے کہ اس اصول کو انسان اپنے سامنے رکھے۔ پھر توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم نے رمضان کے ۳۰ دن اللہ ربّ العزت کے اکرامات اور فیضانات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی کوشش کی۔ رمضان المبارک کے مہینے میں چاروں طرف پھیلے ہوئے انوار و برکات سے اپنے قلب و دماغ کو منور کیا۔ قرآن پاک کی تلاوت کی صورت میں، حُسنِ خُلق کی صورت میں، عبادات کی صورت میں، نوافل کی ادائیگی کی صورت میں، شب بیداری کی صورت میں، قیام اللیل کی صورت میں،صدقہ و خیرات کو فروغ دینے کی صورت میں، غرض جتنے محاسن بھی انسانی زندگی کو خوش نما بنا سکتے ہیں رمضان کے اندر ہم نے بھرپور کوشش کی کہ ان کو اختیار کیاجائے۔
اللہ ربّ العزت نے اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں زندگی عطا کیے رکھی، ہمیں شعور اور صحت سے نوازے رکھا۔ لہٰذا بطور شکر اس بات کا انتظام کرنا نہایت ضروری ہے کہ ہم اللہ ربّ العزت کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکا دیں اور سجدۂ شکر بجا لائیں۔ یہ نماز عید فی الحقیقت خوشی کے آداب کی ادائیگی ہی کا ایک اظہار ہے۔ یہ اسی اخلاق کا حصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا کہ تمھاری خوشی کے دن کا آغاز بھی اللہ کے شکر کی ادائیگی سے ہونا چاہیے۔ تم اپنی پیشانیوں کو اللہ کے سامنے جھکا کر اور سربسجود ہو کر اس بات کا اعلان کرو کہ پابندیوں کے دن ہوں یا آزادیوں کے، اے اللہ! ہم تیرے غلام ہیں، اے اللہ! ہم تیرے حکم کے پابند ہیں۔ اے اللہ! ہم تیرے فرامین کے اوپر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر دم تیار اور ہر وقت حاضر ہیں۔ یہ کیفیت درحقیقت اگر کسی مومن کے اندر پیدا ہوجائے تو اس کے نتیجے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی بھلائیوں، اچھائیوں، نیکیوں اور حُسن خُلق کو اپنانے اور ان کے اوپر عمل کرنے اور ان کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے ایک بہترین انسان ثابت ہو سکتا ہے۔
اس موقع پر اس اہتمام کی بھی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر حاصل ہونے والے اسباق اور تربیت کے ان اعمال کو جو ہم نے رمضان المبارک میں سیکھےہیں اور رمضان المبارک نے ہمیں جن چیزوں اور کاموں کا عادی بنا دیا، ان کو ذہن میں تازہ رکھیں، تاکہ ہمیں یہ یقین ہو کہ اس پر عمل کا مرحلہ ختم نہیں ہوگیا بلکہ رمضان تو سیکھنے کا مرحلہ تھا، اب عمل کا گیارہ مہینوں پر محیط طویل مرحلہ باقی ہے۔ اس مرحلے کے اندر ہم نے مسلسل انھی تربیتی پہلوؤں کو اپنے زیر عمل رکھنا ہے۔ انھی اسباق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے اور انھی دروس سے اپنی زندگی کو روشن کرنا ہے۔
ہمیں اس بات کا بھی اختصار کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر ہمیں سب سے زیادہ اخلاصِ نیت کا سبق روزانہ حاصل ہوتا رہا۔ ہم اللہ ربّ العزت کو راضی کرنے کے لیے روزے رکھتے رہے۔ خلق خدا میں سے کسی کی خوشنودی ہمارے پیش نظر نہیں تھی۔ اسی بات کو توجہ، یکسوئی اور حنیفیت کہا گیا ہے۔ اس کے بغیر کوئی عمل قابلِ اعتبار نہیں۔ کسی انسان کی زندگی اگر توجہ، یکسوئی اور انہماک سے خالی ہو تو وہ شخص کبھی کامیاب اور کارآمد انسان نہیں بن سکتا۔ رمضان المبارک ہمیں روزانہ اس یکسوئی اور حنیفیت کی تعلیم دیتا رہا کہ ہم خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اللہ ربّ العزت کے ساتھ ربط قائم رکھیں۔
ہمیں ہر وقت اللہ سے ڈرنے اور خشیت اختیار کرنے کی بنا پر اور اللہ کے ہمہ وقت حاضر و ناظر ہونے کی صفت سے اس بات کا سبق ملتا رہا ہے اور ہم خود بھی رمضان المبارک کے اندر ہمہ وقت اس کا ثبوت دیتے رہے کہ کھانے پینے کی چیزیں سامنے موجود ہوتی تھیں، پیاس لگی ہوتی تھی، تھکن بھی محسوس ہو رہی ہوتی تھی لیکن ہم میں سے کبھی کسی نے ان کی جانب اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا، ایک قطرۂ آب بھی اپنے حلق سے نیچے اترنے نہیں دیا۔ یہ صرف اور صرف اللہ ربّ العزت کی وہ خشیت اور خوف تھا اور اللہ کے حکم کا احترام تھا جو اللہ ربّ العزت کی حیثیت اور اس کے مقام کی وجہ سے ہم اپنے اندر محسوس کرتے رہے۔ خلوت ہو یا جلوت روزہ دار کبھی کسی معصیت کی طرف نگاہ بھی نہیں اُٹھاتا۔ یہ ٹریننگ اور تربیت صرف رمضان سے متعلق نہیں ہے بلکہ ما بعد رمضان کے دن بھی اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمارے سینے اللہ ربّ العزت کے خوف اور اس کی خشیت سے اسی طرح سے لرزاں و ترساں رہیں اور اسی طرح بیدار رہیں۔
رمضان المبارک کے اندر ہم نے ڈسپلن اور نظم و ضبط بھی سیکھا۔ ہم نے ہر کام کو اس کے مقرر شدہ اوقات کے اندر انجام دینے کی تربیت حاصل کی۔ ہم نے یہ سیکھا کہ جتنے گھنٹوں کا روزہ تھا اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکی۔ جس وقت نماز تراویح کی ادائیگی ہونا طے ہوئی تھی اسی وقت ہوتی رہی۔ افطاری کا جو وقت مقرر تھااسی وقت افطاری ہوتی رہی۔ سحری بند ہونے کا بھی وقت مقرر تھا اور وہ بھی اسی نظام الاوقات کے مطابق بند ہوتی رہی۔ ان تمام پابندیوں پر عمل کرنے کے بعد ہم نے اپنے وقت کو درست استعمال کرنا سیکھا ہے۔ وقت کی اہمیت کا جو اندازہ ہمیں عام دنوں میں نہیں ہوتا رمضان المبارک نے ہمیں روزانہ یہ احساس دلایا کہ وقت بہت قیمتی ہے۔ اگر ایک لمحہ اور ایک ساعت بھی گزر گئی تو پھر یہ پورا روزہ خراب ہو سکتا ہے۔ اس میں نہ جلدی ہو سکتی ہے نہ تاخیر۔ پھر شیطانی وسوسے اور شیطانی اخلاق جو حرص، لالچ، انتقام اور غصے کی صورت میں انسان کو اپنی گرفت میں لیے رکھتے ہیں، اللہ ربّ العزت نے ہمیں اس رمضان کے اندر یہ تربیت دی کہ ہم ان منفی جذبات و ہیجانات سے کیسے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے نفس کے اوپر کیسے قابو پا سکتے ہیں۔ ہم اپنے غصے کو کس طرح سے دبا سکتے ہیں۔ ہم کس طرح سے اپنے جذبات کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور ہم کس طرح سے اپنے دل کو حرص اور لالچ کے زنگ سے پاک صاف کر سکتے ہیں۔
رمضان میں ہم نے ایثار، قربانی اور اپنے رزق کے اندر کسی دوسرے کو شریک کرنے کا جو جذبہ سیکھا ہے، یہ فیاضانہ طبیعت، یہ جود و سخا فی الحقیقت اللہ ربّ العزت کی صفات اور سنتیں ہیں اور اللہ کی ایسی صفات اور سنتوں کو اپنانے اور اختیار کرنے کے لیے رمضان المبارک میں اللہ ربّ العزت نے ہماری تربیت کی ہے۔ ہمیں سکھایا کہ ہم کس طرح سے فیاضی کر سکتے ہیں۔ ہم بخل سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ہم انتقام اور غصے کے منفی اظہار اور نفاذ سے کس طرح اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے شر سے دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے کے سارے نسخوں اور طریقوں پر ہم ان ۳۰ دنوں میں عمل پیرا رہے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کے اندر ہم نے غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی ضرورت اور ان کی تکلیف کا احساس اور اس کا شعور اپنے دل کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے لذیذ افطاری تیار کر کے اور اپنی جیب سے صدقہ و خیرات کے لیے رقم نکال کر، تلاش کر کے کسی مستحق و مسکین کے پاس جا کر اس کے ہاتھ میں تھمایا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان تمام شیطانی جذبات کا مقابلہ کیا جو فی الحقیقت ساری زندگی انسان کو اُلجھائے رکھتے ہیں۔ اس کو خیرات کرنے اور اس کے اجر و ثواب کے حصول سے، ایثار اور قربانی سے اس کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رمضان المبارک نے ہمارے دلوں کو اس تربیت کے نتیجے میں دھو کر بالکل صاف کر دیا ہے۔ اب یہ دھلا ہوا دل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ ہر قسم کی آلودگی سے آیندہ محفوظ رہنا چاہیے۔ یہی رمضان اور عیدالفطر کا سبق ہے۔
ہم سب دعا کرتے ہیں، اور رات دن کرتے ہیں۔ یہ دُعائیں اپنی ذات ، اپنے بچوں ، دیگر اہلِ خانہ ، رزق میں کشادگی ، صحت و تندرستی اور مرحومین کی مغفرت وغیرہ کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی طرح اُمت کی بھلائی و حفاظت ، مظلوموں کی داد رسی ، ملک کے امن و امان ، مسلم اُمہ کی گُم شدہ ناموس کی بحالی اور دیگر اجتماعی مقاصد کے لیے بھی دُعائیں ہوتی ہیں۔ یہ دُعائیں ہم نمازوں میں کرتے ہیں، نمازوں کے بعد کرتے ہیں، روزے کی حالت میں کرتے ہیں، افطار کے وقت کرتے ہیں، لیلۃ القدر میں کرتے ہیں، جمعہ، عیدین ، حج اور دیگر اجتماعات میں کرتے ہیں، ہمارے خطباء اور امام کرتے ہیں، جو راتوں کو اُٹھ سکتے ہیں وہ ربّ سے سرگوشی کے انداز میں کرتے ہیں، آنسو بہا کر کرتے ہیں۔
حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تمھارا ربّ تبارک و تعالیٰ بہت حیا والا اور بڑا کریم ہے۔ جب اس کا بندہ اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ انھیں خالی واپس لوٹا دے‘‘ (سنن ابی داؤد: ۱۴۸۸، جامع ترمذی: ۳۵۵۶)۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ دُعائیں قبول نہیں ہوتیں، ہماری دعائیں بے اثر سی ہوگئی ہیں؟ پھر ذہن میں خیال آتا ہے کہ کیا اللہ ہماری سنتا نہیں؟ یا ہم سننے کے قابل نہیں رہے؟ جب کہ اللہ تو خود اعلان کرتا ہے: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۰ۭ (المؤمن۴۰: ۶۰) ’’تمھارا رب کہتا ہے ’’مجھے پکارو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا‘‘۔ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ۰ۭ اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۰ۙ (البقرہ۲: ۱۸۶)’’اور اے نبیؐ ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں ، تو انھیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھ پکارتا ہے ، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں‘‘ ۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟
آئیے ہم اور آپ مل کر اُن وجوہ اور ان کے سدِّ باب کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری دُعائوں کی قبولیت میں رکاوٹ ہوسکتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ چھوڑ دے، استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ مسلسل گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یہی وہ رَانَ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورئہ مطففین کی آیت ۱۴ میں کیا ہے:’’ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے‘‘۔(جامع ترمذی: ۳۳۳۴)
لہٰذا جب گناہوں کا تسلسل قائم رہے اور توبہ نہ کی جائے تو دل سیاہ پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً دل سخت ہوجاتا ہے، دعا بے اثر ہونے لگتی ہے، عبادت میں لذت باقی نہیں رہتی، اور معاشرہ بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ ہم گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا معمول نہ بنائیں، اور کبھی انسان ہونے کے ناتے گناہ سرزد ہوجائے تو حضرت آدمؑ کی طرح توبہ کرنے میں تاخیر نہ کریں، اور ہمیشہ اپنے باطن کا محاسبہ جاری رکھیں کیونکہ زندہ دل ہی اللہ کی طرف پلٹ سکتا ہے۔
ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر کیا: ’’جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندا اور جسم غبار آلود ہے ۔دُعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہاتھ پھیلاتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جب کہ اس کا کھا نا حرام کا ہے، اس کا پینا حرا م کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دُعا کیسے قبول ہوگی؟‘‘(صحیح مسلم: ۱۰۱۵)
حرام رزق صرف مال کو آلودہ نہیں کرتا، یہ دل کا نور بھی چھین لیتا ہے، عبادت کی لذت بھی ختم کر دیتا ہے، اولاد کی تربیت پر اثر ڈالتا ہے اور دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی دُعاؤں کی قبولیت چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی کمائی کو پاک کرنا ہوگا، کیونکہ جس گھر کی بنیاد حرام پر ہو وہاں سکون اور برکت ٹھہر نہیں سکتی۔
یاد رکھیے! قبولیت ِ دُعا کا راستہ یہ ہے کہ دعا سے پہلے دل کو نرم کیا جائے، گناہوں پر شرمندگی ہو، عاجزی اختیار کی جائے اور یقینِ کامل کے ساتھ رب کے حضور کھڑا ہوا جائے، کیونکہ زندہ دل کی آہ آسمان چیر دیتی ہے، جب کہ غافل دل کی آواز خود اپنے سینے سے باہر نہیں نکل پاتی۔
آج ہماری کیفیت یہ ہے کہ ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ دنیا میں طاقت ور کمزور پر چڑھ دوڑتا ہے۔ کبھی یہ انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور کبھی ریاستی سطح پر لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ ظلم شاید دوسرے کے ساتھ ہی ہونا ہے اور ہم اس سے محفوظ رہیں گے۔ سود، رشوت اور بے حیائی کو معمول سمجھ لیتے ہیں، اور ’’مجھے کیا؟‘‘ کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اجتماعی گناہ پر خاموشی بھی گناہ ہے۔وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨاۙ اللہُ مُہْلِكُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا۰ۭ قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ۱۶۴ (اعراف۷: ۱۶۴)’’ اور جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے‘‘تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’’ہم یہ سب کچھ تمھارے ربّ کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس اُمید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں‘‘۔
اس آیت کی تشریح میں صاحبِ تفہیم القرآن رقم طراز ہیں کہ ’’ ایک بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرتِ ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بےحرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہِ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہِ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے اپنی برأت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے خدا کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا جس نے اپنی برأت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے‘‘۔(تفہیم القرآن، دوم،ص ۹۱)
جس بستی میں علانیہ احکام الہٰی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل مواخذہ ہوتی ہے، اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر مواخذہ سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ اسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حدِ استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہا تھا۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّۃً۰ۚ (الانفال۸: ۲۵) ’’اور ڈرو اس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو‘‘۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’اللہ خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامتہ الناس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور کوئی اظہار ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کردیتا ہے‘‘۔ (ترمذی)
یہ سب اور ان جیسی دیگر بہت سی آیات حقوق العباد کی پامالی سے متعلق ہیں اور ان پر قرآن نے سخت وعید اور اللہ کی ناراضی بیان کی ہے۔ ان میں معاشی ، معاشرتی ، مالی حقوق اور یتامٰی و مساکین کے حقوق شامل ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن میں جا بجا والدین کے حقوق، اقربا کے حقوق ، پڑوسیوں کے حقوق، دوستوں، اور مسافروں کے حقوق سے متعلق بھی احکامات ملتے ہیں۔ آج اپنی دُعاؤں کے قبول نہ ہونے کےلیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں دانستہ یا غیر دانستہ ہم حقوق العباد غصب کرنے کے مجرم تو نہیں ہیں؟ کہیں ہم نے کسی بہن ، بھائی یا کسی اور عزیز کے حقِ وراثت پر ڈاکا تو نہیں مارا، کسی پڑوسی کے ساتھ تو زیادتی نہیں کی، اپنے والدین کی نافرمانی کے مرتکب تو نہیں ہوئے، اپنے غریب رشتہ دار کو زندگی کے لیے ترستا ہوا تو نہیں چھوڑا ، کہیں بیوی اور بچوں کے حقوق تو ادا ہونے سے نہیں رہ گئے ۔
یاد رکھیے ! اگر ہم مجرم ہیں تو پھر مجرم کی زندان میں شنوائی کیسی؟ اُس کا کام تو زندان میں دُہائی دینا ہی ہوسکتا ہے۔ زندان سے باہر وہ جب ہی آسکتا ہے جب اُس کی سزا پوری ہوجائے یا اُس کا زندان میں کردار اتنا اچھا ہو کہ سرکار اُس کی سزا میں تخفیف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ حقوق العباد سے متعلق مشہور حدیث ’مفلس کون‘ ہمیں ہمیشہ یاد رہنی چاہیے، تاکہ ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ کوئی مال و متاع۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کے نیک اعمال میں سے ایک (حق دار) کو دیے جائیں گے، پھر دوسرے کو دیے جائیں گے۔ پھر اگر اس کے ذمے حقوق باقی رہ جائیں اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔ (صحیح مسلم : ۲۵۸۱)
حقوق العباد کی عدم ادائیگی وہ خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، یہ معاملہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، یہ آخرت کا سنگین حساب ہے۔ جب تک ہم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، معافی نہیں مانگتے اور ظلم کی تلافی نہیں کرتے، تب تک ہماری عبادتیں بھی خطرے میں رہتی ہیں، کیونکہ اللہ اپنے حق کو تو معاف کر سکتا ہے، مگر بندوں کے حق کا فیصلہ بندوں کے درمیان ہی ہوگا۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی اندرونی چپقلش ۱۲۵۸ء میں سقوط بغداد کا سبب بنی جب منگولوں نے بغداد پر قبضہ کیا، اسی طرح ۱۴۹۲ء میں سقوطِ اُندلس دیکھنا پڑا جب تقریباً ۸۰۰ سالہ مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ہم نے اُندلس پلیٹ میں رکھ کر عیسائیوں کو پیش کیا۔ اسی طرح ۱۷۵۷ء میں پلاسی کے میدان میں نواب سراج الدولہ کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شکست دی اور یوں برِّ صغیر میں باقاعدہ برطانوی سیاسی بالادستی کی بنیاد پڑی۔ ۱۸۵۷ء میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور برطانوی راج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اور پہلی عالمی جنگ کے بعد ۱۹۲۴ء میں عثمانی سلطنت کے خاتمہ نے ایک علامتی اتحاد کی دھجیاں بھی بکھیر دیں۔ ماضی قریب میں دیکھیں تو افغانستان، عراق، کشمیر، لیبیا، شام، یمن، فلسطین ، سوڈان اور اب ایران ہمارے انتشار کی بد ترین مثالیں ہیں۔
یاد رکھیے! جب دل ایک نہ ہوں، نیتیں صاف نہ ہوں، اور ہم ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں تو اجتماعیت کے لیے کی گئی دعاؤں میں وہ تاثیر کیسے پیدا ہوگی؟ اختلافِ رائے فطری ہے، مگر دلوں کی دوری اور دشمنی تباہ کن ہے۔ جب تک اُمت اپنے دل صاف نہیں کرے گی، ایک دوسرے کو معاف کرنا نہیں سیکھے گی اور مشترکہ مقاصد پر جمع نہیں ہوگی، تب تک اجتماعیت کے لیے دعا میں وہ قوت پیدا نہیں ہوگی جو آسمان کے دروازے کھول دیتی ہے۔ اتحاد برکت لاتا ہے، اور انتشار دُعاؤں کی قبولیت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اس باب میں مفکّرِاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:’’جب حکمران اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چھوڑ دیں تو اسلام کا پہلا مضبوط بندھن ٹوٹ جاتا ہے‘‘ ۔ صاحبِ تفہیم القرآن کہتے ہیں کہ ’’ اسلام دراصل ایک مکمل نظام زندگی ہے جس میں عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاشرت، معیشت، عدالت، حکومت سب شامل ہیں‘‘۔ جب تک یہ سب چیزیں قائم رہیں، اسلام ایک مکمل نظام کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ آج بدقسمتی سے کیفیت یہ ہے کہ مسلم اُمہ یہ بات بھول بیٹھی ہے یا دوسری اقوام کی طرح یاد رکھنا بھی نہیں چاہتی کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو عقیدہ و خیال سے لے کر عبادات تک کا خوشبودار گلدستہ ہے۔جتنی بھی مسلم حکومتیں ہیں کوئی بھی اسلام کے نظام کا عملی نمونہ نہیں ہے۔
ہمارا حال ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی بیماری سے صحت یابی کے لیے کسی ڈاکٹر سے معائنہ کروائے مگرجب ڈاکٹر اُس کے لیے کوئی نسخہ تجویز کرے تو اُس نسخہ کو پسِ پشت ڈال کر اپنی مرضی کی دوائیں کھاتا رہے اور پھر شفا کی اُمید رکھے۔ اب بتائیےاُسے شفا کہاں سے ملے گی؟ لہٰذا دُعا اور عمل میں ہم آہنگی اتنی ہی ضروری ہے جتنا ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے مطابق دوائی کا استعمال ضروری ہے۔ جب تک فرد اور معاشرہ اللہ کے دیے ہوئے نظام کی تعلیمات کو اپنائے بغیر صرف الفاظ کی دعائیں کرتا رہے گا، قبولیت کی راہیں تنگ رہیں گی۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ دین کو صرف عبادت گاہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ زندگی کے نظام میں بھی رب کی حاکمیت کو جگہ دی جائے!
یہ سوال کہ ’موجودہ ماحول انسانی تربیت پر کیا اثرات ڈالتا ہے؟‘ اس سیدھے سادے مختصر سوال کا جواب مختصر نہیں ہوسکتا۔ موجودہ ماحول انسانی اکثریت میں جو اثرات پیدا کرتا ہے، ان کا اندازہ ان خبری معلومات سے کیا جاسکتا ہے جو ہر روز میڈیا اور اخبارات ہمارے سامنے لارکھتے ہیں۔ اس دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہرجگہ الحاد، مادہ پرستی اور آخرت فراموشی کے ساتھ دوسروں کی خدمت اور خیرخواہی کا خاتمہ ہورہا ہے اورملکوں ملکوں میں ذلّت آمیز مناظر اُبھر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ عقل کی ساری طرازیوں کے باوجود انسان کے اندر چھپا ہوا حیوان انسانیت کے خول سے باہر آکر آفات کا ایک طوفان اُٹھا رہا ہے۔ پچھلے چار پانچ سو سال کی تاریخ کا ہر دور اپنے سے پہلے زمانے کے مقابلے میں زیادہ پستی، شر اور ذلّت کا دور ہے۔ اور آج ہم تاریخ کے انتہائی گندے دور میں گھرے ہوئے ہیں۔
موجودہ مادہ پرستانہ ماحول نے انسانی اکثریت میں جو آفات پھیلا دی ہیں وہ یہ ہیں: بُتِ دولت کی پرستش، معیارِ زندگی بڑھانے کا جنون، خواہشات و لذات کی غلامی، عہدوں، شہرت اور تعیشات سے دلچسپی، انسانی اخلاقیات سے دُوری، معاملات میں حرام و حلال اور جائز و ناجائز کی تمیز کا خاتمہ، عام طریقوں سے آمدنی یا کثیر دولت نہ ملے تو جرائم، قتل اور ڈاکے، چھیناجھپٹی، قبضہ گروپ کا نیاکھیل، چوری، بنکوں پر ڈاکے، ہیروئن اور دیگر منشیات کا کاروبار، رشوت و خیانت، کام چوری، جعل سازی، اپنی تہذیبی اقدار اور شعار کی پامالی، بے پردہ مخلوط معاشرت اور جنسی اُکساہٹوں والے فنون اور ابلاغیات کی چاٹ، بڑھتی ہوئی بدکاری کے علاوہ، جنسی اُکساہٹوں کے سبب علی الاعلان گندی حرکات اور کمینگی کے مظاہرے___ علم و تحقیق، ادبی و شعری تخلیقات، نیز سائنسی علوم میں اکتشافات میں کم از کم ہم مسلمانوں میں کارناموں کا خانہ خالی نظر آنا۔ دشمنِ اسلام نظریوں اور تہذیبوں کی اندھی غلامی، نظامِ تعلیم کا غلامی کے دور سے اب تک جکڑے رہنا اور معاشرے کی فلاح و ترقی کے لیے کوئی کردار ادا نہ کرسکنا___ یہ ہے چارج شیٹ ماحول کے خلاف۔
پھر اگر یہ دیکھا جائے کہ ’ہمارے ماحول میں بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کون سے ہیں؟‘ توسرسری طور پر یہ کہا جاسکتا ہے:
۱- ملکی اور غیرملکی پریس کا نگارشاتی، تصویری اور نشریاتی مواد۔
۲- الیکٹرانک نشریات کے وہ پروگرام جن کی اکثریت یا تو تفریحی مواد پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں کوئی حدود و قیود نہیں، حالانکہ ہمارے پاس اسلام کے دیئے ہوئے معیارات، جو زندگی کے ہرمعاملے میں موجود ہیں، یا ایسے پروگرام جن میں حقیقتیں، چاہے وہ قرآن و حدیث کی ہوں، ایسے دلچسپ اور لطیف انداز میں لانے کی کوششیں جس کی وجہ سے عوام متوجہ ہوں۔ انھیں سوچنے اور بروئے کار لانے کی کوشیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس کے برعکس عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کی اندھی اور بداخلاقی پر لگی دوڑ میں حکمت اور حیا دونوں برباد ہورہے ہیں۔ اس طرح ٹیلی ویژن اور میڈیا، سو وہ تو ہرگھر میں ایک پروفیسر یا ڈاکٹر کی طرح ڈیوٹی کے لیے موجود رہتا ہے۔ وہ لفظ، طور طریقے، ہنسی مذاق، رقص و سُرود، بے حیائی اور بے پردگی، فیشن اور اَطوار جو ان کو سکھانا چاہے سکھا رہا ہے۔ ان سے ماں باپ بچوں کو نہیں بچاسکتے ہیں بلکہ وہ تو خود اسی مدرسے کے طالب علم ہیں۔ نہ مسجد کی اذان، نہ قرآن کے سبق ۔ مغربی الحاد اور اس سے پیدا ہونے والی تہذیب نے ہمارے گھروں میں کیمپ لگا دیئے ہیں۔
۳- تیسرا سبب ماں کی گود اور باپ کے سایۂ شفقت میں جو بنیادی درس حاصل کرنا ضروری تھا، اس کا سلسلہ دونوں کی ملازمت نے یا پھر میڈیا دیکھنے کی مشغولیتوں نے ختم کر دیا۔
۴- اشتہارات کی یلغار، ڈراموں اور فلموں کے اداکاروں کی تصاویر بھی نئی نسل پر اثر ڈالتی ہیں۔
۵- بچوں کے، لڑکوں اور نوجوانوں کے لیے ان کی عمروں کے مطابق اور ان کی دلچسپیوں کا خیال رکھ کر کافی لٹریچر کا موجود نہ ہونا۔
۶- نظامِ تعلیم کا مغربی نظریہ الحاد و مادہ پرستی پر مبنی، تاریخ، ادب، اجتماعیات، معاشیات، نفسیات، سائنس وغیرہ کا نصابی سلسلۂ کتب ایسا مہیا کرنا، جو ہمارے طلبہ کے نظامِ عقائد میں خلل ڈال کر غلط افکار کا انھیں قائل بنالینا اور مذہبی جذبے کو ذبح کردینا یا پَر نوچ کر شدید مجروح کردینا۔ پھر جو نصابی کتابیں انھی کتابوں سے مواد لے کر لکھی جاتی ہیں، یا گائیڈبکس وغیرہ سب وہی کام کرتی ہیں۔ ستم یہ کہ مغربی افکار و علوم کے ہرشعبہ اور ہراہم مصنف یا کتاب کے متعلق ایسا تنقیدی لٹریچر ہماری قوم پیدا نہیں کرسکی، جو بیرونی افکار سے آویزش پیدا کردیتا، تو ہمارے نوجوان اور ضمناً حکمران اور لیڈر اور عوام سوفی صدی سرینڈر تو نہ کردیتے۔
۷- مجموعی معاشرہ (جس کا پہلا یونٹ محلّہ ہوتا ہے) پورے کا پورا ایک درس گاہ ہے ، جو چوبیس گھنٹے کام کرتی رہتی ہے۔ ہربچہ اور ہرنوجوان اس کے اندر سے نہ صرف گزرتا بلکہ اس میں گھرا رہتا ہے۔ اس معاشرے کے بازار میں گالی سے لے کر گولی تک اور جھوٹ سے لے کر لوٹ مار تک، غلاظت سے لے کر عدم تحفظ تک، ایک عجب زندگی کا ہر سودا چاروں طرف سجا ہوا موجود ہے۔ یا یہ کہیے کہ سبق لکھے ہوئے ہیں، سڑک پر چلتے ہوئے، کسی دکان سے سودا لیتے ہوئے، کسی طعام گاہ میں کھانا کھاتے ہوئے، وہ جو کچھ سنتا، دیکھتا اور بھگتتا ہے، یہ کتابی دُنیا سے زیادہ مختلف اور مؤثر ہوتا ہے۔ اس کے سامنے انتخابات ہوتے ہیں۔ وہ لیڈروں کے بیانات پڑھتا ہے، اسمبلی کی بحثوں کی اسے خبر ملتی ہے، باہر سے آنے والے وفود کا اسے علم ہوتا ہے۔ لوگوںکو دنگافساد کرتے دیکھتا ہے، جلوسوں کی توڑپھوڑ اس کے سامنے آتی ہے، وہ انتہائی امیروں کو اور بھکاری بچّے کو بھی دیکھتا ہے۔ غرضیکہ کہاں تک بیان کیا جائے، وہ آہستہ آہستہ عملی زندگی کی کتاب پڑھ لیتا ہے۔ کبھی گھر میں وہ جھوٹ اور وعدہ خلافی کی باتیں سنتاہے، کبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ آج ابّو رشوت کی مٹھائی لائے ہیں، کبھی اس کے سامنے مذہب یا آخرت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔
یہ سب وہ طریقے ہیں جن سے معاشرہ اپنے افراد کو ایک خاص نہج پر ڈھالتا ہے۔ شاذونادر بعض افراد اس کی غلاظتوں اور پستیوں سے بچ نکلتے اور تھوڑا بہت اصلاح و خدمت کا کام کرتے ہیں۔
یہ سب عناصر ہمارے فکروعمل اور ہمارے عقائد و نظریات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ عقائد اگر بے جان، خوابیدہ، دھندلے اور یقینِ کامل کی روح سے خالی ہوجائیں تو وہ کوئی اثر نہیں ڈال سکتے۔ ہاں، اگر وہ زندہ ہوں، بیدار ہوں، روشن ہوں، ایمانی مرتبے پر ہوں، تو وہ ہمارے تمام افکار و اعمال کی جڑیں بن جاتے ہیں اور ان کی دی ہوئی غذا سے ساری زندگی نشوونما پاتی ہے۔ جو لوگ مسلمان رہ کر بھی غیراسلامی زندگی گزارتے ہیں، ان کے اصل عقائد زندہ و بیدار نہیں رہتے، لہٰذا دوسرے نظاموں کے عقائد اور تہذیبوں کے اثرات خاموشی سے آکر ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔
انسانی تربیت میں والدین کا کردار بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بچّے کی تربیت کا پہلا ادارہ گھر کا ادارہ ہے، جس کے کارپرداز والدین (اور دوسرے بزرگ یا بھائی بہن) ہوتے ہیں۔ والدین کے سامنے اگر اپنی اولاد کو انسانیت کے بہترین معیار تک پہنچانا اور اسلامی فکروعمل سے آراستہ کرنا ہو تو ایسے دُور اندیش اور ذمہ دار والدین، بچّے کی پیدائش سے پہلے سارا منصوبہ بنالیتے ہیں۔
والدین اسے زبان سکھاتے ہیں اور زبان اور گفتگو کی خرابیوں سے بچاتے ہیں۔ وہ سونے سے لے کر جاگنے تک اور پھر دن میں گھر کے روز مرہ مشاغل میں شرکت کراتے وقت بچّے کو صحیح آداب کی تربیت دیتے، اقدار اور شعائر سے مالامال کرتے ہیں۔ گندگی سے بچنے کی تربیت دیتے ہیں۔ ہاتھ منہ صاف، ناخن درست، لباس دُھلا ہوا ہو اور اگر کہیں سے پھٹا ہو تورفو کیا جائے، جوتے پالش کیے ہوئے اور مٹی سے صاف، پورے جسم کی صفائی، دانتوں کی صفائی، سر کے بالوں کو کنگھی سے درست کرنا، بڑوں کاادب اور ان کا حکم ماننا، چھوٹوں سے محبت کرنا، گھر میں اور گھر کے باہر جہاں ضرورت ہو مدد پہنچانا اور خدمت کرنا، خدا کو پہچاننا، اس کے دین کی تعلیم آہستہ آہستہ حاصل کرنا، قرآن پڑھنا، نماز ادا کرنا، مقررہ اوقات میں اچھے اخلاق کے شریف بچوں کے ساتھ کھیلنا، اسکول کا دور ہو تو آموختہ یاد کرنا، اگلے سبق کی تیاری کرنا، جو کام کرنے کو استادوں نے بتایا ہو، خوش خطی سے لکھنا اور صفائی سے کرنا، گالی، جھوٹ، وعدہ خلافی سے بچنے کی تربیت ماں باپ کرتے ہیں۔
یہ معلوم کرنا کہ دُنیا میں اچھائی بھی پائی جاتی ہے اور بُرائی بھی، اور کبھی کبھی بُرائی بہت دلکش ہوتی ہے، جیسے سانپ کی لہردار جِلد بہت کشش رکھتی ہے۔ بچّے کو والدین آہستہ آہستہ تلقین کر کے جہاں یہ بتائیں کہ بُرائی اور اچھائی کی کیا کیا شکلیں ہیں، وہاں ان کو بُرائی سے بچنے اور ہوسکے تو دوسروں کو بھی بچانے یا سرے سے مٹانے کی کوشش کرنا، اچھائی میں چمک دمک کم ہو تو بھی اسے قبول کرنا اور پھیلانا بتائیں۔ حرام و حلال کا فرق سمجھائیں۔
والدین ان کے سامنے تاریخ کی روشن شخصیتوں کے حالات بیان کریں اور اس طرح شہرت یافتہ ظالموں اور بے انصاف بادشاہوں، یا بُری عادتوں کی وجہ سے برباد ہونے والے بڑے لوگوں کا بھی نقشہ کھینچیں۔ خبروں پر گفتگوکرکے انھیں سمجھائیں کہ اچھا کیا ہے اور بُرا کیا۔ ان کے لیے مفید اثرات رکھنے والی دلچسپ کہانیوں، نظموں اور معلوماتی قسم کی کتابیں عمر کے لحاظ سے فراہم کرتے رہیں۔ ان کے لیے گھر میں چھوٹی سی لائبریری خود ان کے ہاتھوں سے تیار کرائیں جو بڑھتی رہے۔ انھیں سیر کرائیں، میوزیم، چڑیا گھر، پریس اور دوسرے کارخانے، نیز مساجد اور تاریخی یادگاریں اہتمام سے دکھائیں۔ جس شہر میں بھی جانا ہو، وہاں بھی دینی اور دُنیوی معلومات سے ان کو آراستہ کریں۔
ان ساری کوششوں کے ساتھ اپنی خداپرستانہ تہذیب کی اعلیٰ قدروں ___ صداقت، انصاف، تواضع ، حیا، ہمدردی، رحم وغیرہ کو اُبھاریں۔یہی چیزیں عملی شکل اختیار کر کے اخلاقِ عالیہ کی سطح تک پہنچتی ہیں۔ ان کو تربیت دیں کہ وہ معاشرے اور ماحول کے بُرے حالات، دنگے فساد، لُوٹ مار، کھانے کی ناقص مگر ظاہراً دلکش اشیاء، عمارتوں اور گاڑیوں پرنگاہِ غلط انداز ڈالتے ہوئے جلد گزر جائیں اور کوئی بُرااثر نہ لیں۔ وہ صرف اپنے خدا کی خوشنودی کو سامنے رکھیں۔ تعلیم گاہ کا ادب کریں، اساتذہ کا احترام کریں اور قواعد و ضوابط اور وقت کی پابندی کریں۔ اگر مکتب اور کالج کی تعلیم کے ساتھ والدین کی یہ مساعی جاری رہیں اور دونوں یکساں انداز سے کام کریں تو بہت اچھا نتیجہ ہوسکتا ہے ورنہ گھر اور درس گاہ میں اگر تضاد ہو تو بچّے میں بامعنی زندگی کے لیے اچھا کردار پیدا نہیں ہوسکتا۔
اسلوبِ بیان بدل بدل کر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آج، جب کہ پوری دُنیا ایک محلّہ اور گائوں بن گئی ہے، تو دُنیائے اسلام، اپنے گھر، محلّے، شہر، ملک اور ساری دُنیا کے ماحول کاتحفظ کس طرح کرسکتی ہے؟
دُنیا ایک ہوکر سامنے آئے،یا الگ الگ ملکوں اور معاشروں کا معاملہ ہو۔ ان میں بگاڑ چاہے خوفناک حدوں تک پھیل جائے اور زوداثر اور تیزرفتار ذرائع ابلاغ اور ان کا بنایا ہوا ماحول حددرجہ بگڑ جائے، تو پھر بھی اصلاح و تعمیرِنو کا صرف ایک راستہ ہے۔ وہ یہ کہ کوئی فرد پیغمبر کی تعلیم سے روشنی حاصل کرکے انھی کے طریق پر (جس کے لیے کامل اور واضح نمونہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) تن تنہا دعوتِ حق لے کر اُٹھ کھڑا ہو، اور دوسرا ساتھی تیار کرے۔ پھر اسی فکرو تحریکِ اصلاح کو وہ دونوں آگے بڑھائیں، یہاں تک ایک سے زیادہ گروہ منظم کام کرنے میں لگ جائیں۔ اس طرح ایک ایک فرد صحیح عقیدہ و فکر اور صحیح راہِ عمل اختیار کرتا چلا جائے، یہاں تک کہ ملکی یا عالمی معاشرہ میں ایک وقیع طاقت، علوم سے آراستہ اورکردار کی پاکیزگی سے مزین، نئی دینیات تیار کرنے اور نیا انسان بنانے کی مہم کو پھیلاتی چلی جائے۔تاآنکہ لوگ متوجہ ہوں، اس کے متعلق بحثیں پیدا کریں، کہیں جبروستم بھی ان لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، اور اس طرح یہ طرزِفکروعمل اتنا عام ہوجائے کہ معاشرے کی سیاست، معیشت، معاشرت اور ثقافت بے تُکے طریق سے چل نہ سکے۔ اس معاملے میں ایک طویل کش مکش کام کرسکتی ہے، جس کے اثرسے اور زیادہ لوگ تحریک اصلاح کے گرد جمع ہوں۔ اس کا آخری نتیجہ انقلاب ہوگا، چاہے کسی بھی راستے اور طریقے سے واقع ہو۔
اصلاح ہمیشہ اس اصول پر ہوتی ہے کہ گھٹاٹوپ اندھیرے میں کہیں ایک چراغ جلتا ہے، پھر ایک اور، پھر اور ___ یہاں تک کہ شعاعوں اور روشنیوں کے لشکر ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔ خاصی تعداد جب اس کام کے لیے تیار ہوجائے تو چاہے وہ انقلاب کا راستہ اختیار کریں اور چاہے انتخاب کا، کامیابی صرف اتنی ہوگی جس تناسب سے اصلاح یافتہ اور علَم بردارانِ اصلاح افراد تیار کیے جاچکے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کام جلدی سے کرلینے کا نہیں۔ جس میں بھی جلدی اقتدار حاصل کرنے اور اس کے لیے ہردرجے، ہرسطح اور ہر ذہن کے لوگوں کے تعاون سے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوجائے، وہ اقتدار حاصل کرکے بھی معاشرے کی بے شمار مخالف اصلاح قوتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور نہ وہ دین کے لیے غلبہ کا سامان کرسکتا ہے۔ جتنا جتنا معاشرے میں فضا تیار ہوگی، صرف اتنا ہی کام کرنا ممکن ہوگا۔ نہ یہ کہ چند نشستیں زیادہ مل جانے سے ظلم کا استیصال ہوجائے گا اور نیکی کی صبح طلوع ہوجائے گا۔ اس پر یہ مصرع صادق آتا ہے کہ: عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
معاشرے میں تبدیلی کے لیے فضا اور نوجوانوں میں اس کی اُمنگ پیدا کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اگر کام کیا جائے تو اس کا نقطۂ آغاز نظامِ تعلیم کی درستی ہے۔پھر نظامِ تعلیم کو اتنی مرکزی اہمیت دی جائے کہ یونی ورسٹیوں کے کرتا دھرتا مل کر یہ طے کریں کہ نئے نظام تعلیم کے ذریعے ہم کیسے افراد تیار کرنا چاہتے ہیں، کن طور طریقوں کو رائج کرنا چاہتے ہیں، ہمارے سامنے تہذیبی قدریں کون سی ہیں اور ہم کیا نصب العین تعلیم کے ذریعے قوم کو دینا چاہتے ہیں؟ پھر ان ساری چیزوں کے متعلق وہ بچوں کے والدین، اخبارات کے ایڈیٹروں، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے کارپردازوں، فلم سازوں اور ناشرین کتب و جرائد اور مشتہرین اور آرٹسٹوں کو آگاہ کردیں کہ ہمارے ان تعلیمی تقاضوں کی خلاف ورزی نہ کی جائے بلکہ ان کو تقویت بہم پہنچائی جائے۔ اس کے لیے ضروری قانون سازی ہونی چاہیے۔
کچھ عرصہ پہلے گلگت بلتستان کے لوگوں کی طرف سے مرکزی شاہراہ پر لگائے گئے ایک بِل بورڈ نے ذہن کو معطر کر دیا۔ا سکارف میں ملبوس ایک تصویر کے نیچے لکھا تھا:
’’ حجاب ہماری تہذیب ہے، اس کا احترام کرکے اپنے احترام میں اضافہ کیجئے‘‘۔
پاکستان کی کسی شاہراہ پر ایک مدت بعد ایسا مثبت پیغام دیکھ کر بے پناہ خوشی ہوئی۔ پھر یاد آیا آج سے کئی سال پہلے میں نے امریکا کی ایک بڑی شاہراہ پر وہاں کی ایک مسلم تنظیم اِکنا (ICNA) کی طرف سے ایک بل بورڈ پر اسی طرح کا ایک خوب صورت پیغام درج دیکھاتھا:
HIJAB is the dress of Marry ’’حجاب تو حضرت مریمؑ کا لباس ہے‘‘۔
عیسائی دنیا میں حضرت مریم ؑکی جتنی شبیہیں بنائی جاتی ہیں، وہ سبھی باحجاب ہوتی ہیں ۔
مگر آج اُن معاشروں میں کہ جہاں اب برہنگی ہی کو لباس سمجھا جانے لگا ہے، ایسے اشتہارات بہت سی نظروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے، دلوں کو چُھوتےاور انھیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ابھی گلگت بلتستان کے اس خوب صورت اشتہار کی چاشنی سے لطف اندوز ہو ہی رہا تھا کہ ایک اور خبر ، ایک اور ویڈیو دیکھنے کو ملی اور پھر’جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے‘۔
ترکی کے صدر طیب اردگان ،امریکی صدر جو بائیڈن سے سوئیزر میں ملاقات کر رہے تھے۔ ملاقات میں ایک خاتون جس نے بہت سلیقے سے اپنا سر اسکارف سے ڈھانپ رکھا تھا، دونوں صدور کے درمیان ترجمانی کے فرائض انجام دینے میں مصروف تھی۔
دونوں صدور کے درمیان اسکارف پہنے ترجمانی کرتی ہوئی اس خاتون کا پس منظر بہت ہی دلچسپ ہے۔ ۱۹۸۸ء میں نجم الدین اربکان انتخاب جیت کر ترکی کے وزیر اعظم بنے۔ ترکی کا دستور سیکولر تھا اور ترکی کی فوج اس دستور کی خود ساختہ نگہبان تھی ۔ پارلیمنٹ میں ماروی نامی ایک ایسی خاتون بھی منتخب ہو کر آئیں، جوا سکارف کو مسلم شناخت سمجھ کر اوڑھا کرتی تھیں۔ سیکولر فوج مشتعل ہوئی، وزیر اعظم کو معزول کر دیا گیا اور ماروی کی نہ صرف پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر دی گئی بلکہ اس کی شہریت بھی ختم کر کے اسے جلا وطن کر دیا گیا۔ ماروی صاحبہ نے امریکا میں سیاسی پناہ لے لی۔ پھر وہاں کے قیام کے دوران ایک ترک تاجر سے شادی کی اور کئی سال بعد اس شادی کی بنیاد پر اپنے ہی ملک ترکی کی دوبارہ شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ٹھیریں۔
امریکی قیام کے دوران محترمہ ماروی کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔جس کے لیے اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی اخلاقی تربیت کا اہتمام بھی کیا گیا۔ بیٹی نے بڑے ہو کر امریکا کی جارج واشنگٹن یونی ورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کی، مگر والدہ کی دی گئی تربیت اور اسکارف کو زندگی بھر کا شعار بنا لیا۔ تین دہائیاں قبل اسکارف اُورڑھنے کے ’جرم‘ میں جسےپارلیمنٹ کی رکنیت اور اپنے ہی وطن کی شہریت سے ہاتھ دھونا پڑے، اسے اللہ نے وفا اور حوصلے کا یہ پھل دیا کہ اس کی بیٹی کو نہ صرف ترکی اور امریکی صدور کا ترجمان بنا دیا بلکہ اسے اور اس کی بیٹی کو مسلم خواتین کا سمبل بھی بنا دیا۔
ہم جس دنیا میں زندہ ہیں وہاں ، جہاں بادِ نسیم کے خوشگوار جھونکے ہمیں چھُو کر گزرتے ہیں، وہاں بادِ سموم کے گرم تھپیڑے بھی کبھی کبھار برداشت کرنے کو ملتے ہیں۔
میں اِن بِل بورڈ ز اور ویڈیو کے مسرور کُن لمحوں سے لطف اندوز ہونے میں مگن تھا کہ بادِ سموم کا ایک گرم تھپیڑا بھی یادداشت کے دریچے پر گزرتا محسوس ہوا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک مغربی اخبار کو انٹرویو میں کہا:’’مرد روبوٹ نہیں ہوتے، خواتین کا لباس مختصر ہو گا تو جذبات میں ہیجان ایک فطری عمل ہو گا‘‘۔ اس پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔
پیپلزپارٹی سے لے کر لیفٹ اور لبرلز کی ترجمانی کرنے والوں نے چیخ چیخ کر آسمان سر پہ اُٹھا لیا تھا۔ قطع نظر یہ کہ تب وزیراعظم کے جملے کی ساخت کیسی تھی؟ ہمارا موضوع تو حیا اور حجاب کے پس منظر میں وہ ذہنی آوارگی ہے، جسے عورت کی حساسیت سے منسوب کر دیا گیاہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ تہذیبوں کی موجودہ کش مکش میں مغرب کی غالب تہذیب، عورت ہی کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے اور پلٹ کرعورت ہی پر مہلک وار بھی کرتی رہتی ہے۔ اس خوفناک تہذیبی جنگ میں عورت کےلباس کے اختصار کو اختیار وآزادی کی علامت بناکر پیش کرنے کے لیے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی ساری توانائیاں اسی ایک کام پہ جھونکی جا رہی ہیں ۔ اشتہارات میں عورتوں کے چہروں کے خدوخال کو پالش کرکے جس طرح پیش کیا جاتا ہے، اس کے زہر آلود نتائج تو اب خود مغرب بھی بُری طرح محسوس کر رہا ہے۔
بے حجابی اور لذت نگاہی بھی ہر دوسرے نشے کی طرح ایک نشہ ہے اور جیسے ’تھوڑی سی پینے والے‘ پھر’تھوڑی سی‘ پر رُک نہیں پاتے اور اُسی طرح بے حجابی و لذت نگاہی کے نشئی بھی ایسے ہی انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ حجاب اور حیا لازم و ملزوم ہیں اور ہر اس شخص کو جو خدا پرست تہذیب کو عام کرنے پہ ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ بے حجابی و بے حیائی کی تہذیب کی جدید شکلوں کو پوری طرح سمجھے، اور سیاسی و گروہی جکڑ بندیوں سے بالا تر ہو کر ایک بڑی صف بندی کے لیے خود کو شعوری طور پر آمادہ و تیار کرے۔
تہذیبی جنگ، سیاسی محاذ آرائی کی تنگ گلیوں میں لڑنا ممکن نہیں۔ اس کے لیے فکری، ادبی اور ابلاغی سطح پر بڑے بڑے ملکی و بین الاقوامی اتحاد بنانا ہوں گے۔ پھر نئے اور پیچیدہ مسائل سے روشناس ہونا ہوگا۔
یہ ثقافتی و تہذیبی جنگ اسکولوں اور کالجوں میں لڑی جانی ہے۔ ہسپتالوں اور ایئرپورٹس کے ماحول کو سمجھ کرلڑی جانی ہے۔ فوج اور پولیس کی ضرورتوں اور تقاضوں کو سمجھ کر لڑی جانی ہے۔ اِس جنگ کے سپاہیوں کو ابلاغ کی نئی ٹکنالوجی اور تکنیکی صلاحیتوں سے لیس ہوکر یہ جنگ لڑنا ہو گی۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے ربّ نے ،جو سب سے اہم کام ہمارے سپرد کیاہے، وہ ’بلاغِ مبین‘ ہے:m ایسا ’ابلاغ‘ جو ہر صاحبِ شعور کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ m ایسا ’ابلاغ‘ جو وقت کے تقاضوں پہ پورا اُترے۔ m ایسا ’ابلاغ‘ جو دشمن کے رسّی نما سانپوں کو اژدھا بن کر نِگل جائے۔ m اور ایسا ’ابلاغ‘ جووما علینا الا البلاغ المبین کہلانے کے پوری طرح قابل ہو۔
قرآن نے فتح و نصرت کے مفہوم کو اُس تصور سے مختلف انداز میں پیش کیا ہے جو بیش تر لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ فتح و نصرت کے قرآنی مفاہیم کو سمجھنا دلوں کو مایوسی اور نااُمیدی سے بچانے کا مضبوط حصار ہے ۔ یہی تصور مسلمانوں کو ان کی مختلف صلاحیتوں اور مختلف مقامات کے مطابق متحرک کرسکتا ہے۔ قرآن حکیم کے اسی تصور نے ایک فعال، متحرک اور آزاد امت تشکیل دی۔
نصرت دشمن کو پسپا کر کے یا ہلاک کر کے اس کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ اس کی کئی صورتوں میں سے صرف ایک صورت ہے، بلکہ یہ نصرت کی کئی صورتیں حاصل ہوجانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔لہٰذا، یہ سوال اٹھانے کی گنجائش نہیں رہتی کہ کیا فلاں جنگ میں مسلمان غالب آئے یا شکست کھا گئے؟ کیونکہ نصرت کا معیار تو واضح طور پر مقصد ہے کہ وہ کہاں تک ، اور کس کس شکل میں پورا ہوا ہے ۔
بنیادی طور پر فتح یہ ہے کہ آپ تمام رکاوٹوں پر قابو پالیں تاکہ آپ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے مطابق اللہ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔
اگر آپ ان مختلف شعبوں میں اپنی ممکن کوششیں صرف نہیں کرتے جن میں اللہ نے آپ کو بااختیار بنایا ہے، تو مادی یا معنوی فتح حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، چاہے اس کی وسعت اور شکل کچھ بھی ہو، کیونکہ آپ کو ذاتی فتح حاصل نہیں ہوسکی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے احتساب کا ایک معیار مقرر کیا ہے جو قرآن کے بیان کردہ قوانین میں سے ایک قانون میں ظاہر ہوتا ہے: وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى۳۹ (النجم ۵۳:۳۹) ’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے‘‘۔ لہٰذا جو کچھ آپ نے خرچ نہیں کیا وہ آپ کو واپس نہیں ملے گا، اور جو کچھ آپ نے نہیں کیا اس کے نتیجے سے آپ ربّ کے ہاں فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كُلُّ نَفْسٍؚ بِمَا كَسَبَتْ رَہِيْنَۃٌ۳۸ (المدثر ۷۴:۳۸) ’’ہرشخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے‘‘۔
قرآن حکیم کے مطابق فتح دراصل ایک الٰہی قانون ہے جو کبھی نہیں بدلتا، لیکن جب امت اس کے تقاضوں سے منہ موڑ لیتی ہے تو اس کا وعدہ بھی مؤخر ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۰ۭ(الرعد۱۳:۱۱) ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔
اسی طرح شکست بس ہتھیاروں سے مغلوب ہوجانا نہیں ہوتی ، بلکہ شعور، ارادے اور ایمان کی شکست اصل شکست ہوتی ہے۔سیّد قطب رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ہم اپنی تلواروں کے ٹوٹ جانے سے شکست نہیں کھاتے، بلکہ اس وقت شکست کھاتے ہیں جب ہمارے دل صبر و ثبات اور اللہ کے وعدے پر یقین کی دولت سے محروم ہوکر ٹوٹ جائیں‘‘۔
حقیقی فتح اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ لوگوں کےدلوں کو کھول دیتا ہے، تاکہ وہ حق کے پیغام کو جذب کریں، ہدایت کو اپنائیں اور حق کا علم اٹھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی تعریف فرمائی تو ان کی کامیابی کی نمایاں علامت کا ذکر کیا:
وَجَعَلَہَا كَلِمَۃًۢ بَاقِيَۃً فِيْ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۲۸(الزخرف ۴۳:۲۸) اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۴۰ (الرعد۱۳:۴۰) اور اے نبیؐ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اُن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمھارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمھیں اُٹھا لیں، بہرحال تمھارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔
چنانچہ شہیدوں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا، مخلص علما نے اسلام کا کلمہ پہنچا دیا، اور انبیائے کرام جنھیں بنی اسرائیل نے قتل کیا، انھوں نے اللہ کا کلمہ پہنچا دیا۔ لہٰذا ان کی موت، شہادت، ان کا قتل،انتخاب (چُن لیا جانا)، اور ان کا انجام، سب کچھ فتح و نصرت قرار پایا۔
اللہ کی راہ میں شہادت’فتح‘ کی سب سے زیادہ شاندار صورت ہے، جہاں انسان اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے، اپنا جھنڈا اٹھائے ہوئے، اپنے محاذ پر صبر سے کام لیتے ہوئے جان دیتا ہے۔ شہادت کوئی ایسی مصیبت نہیں کہ اس پر آہ و بکا کی جائے، اور نہ کوئی آفت ہے کہ اس پر افسوس کیا جائے، بلکہ یہ خالص الٰہی انتخاب اور چناؤ (اجتباء و اصطفاء) ہے۔ یہ دنیاوی تصادم کے میدان سے ربّ العالمین کے ہاں اعزاز کے میدانوں کی طرف نہایت باعزّت منتقلی ہے۔
آپ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو دیکھ لیجیے کہ سر زمین مزاحمت سے متعلق ان کے جھوٹے دعوے کہاں دفن ہوگئے؟ حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے نعرے اور جھوٹ کس وادی میں گم ہو گئے؟ بچوں کے حقوق کے اداروں کو دیکھیے کہ اللہ نے ان کے چہروں کی بدصورتی کیسے عیاں کی؟ جمہوریت کے علَم برداروں کا مت پوچھیں کہ اس بت کا کیا حشر ہوا جسے وہ ایک عرصے سے تراش رہے تھے اور لوگوں کو اس کے عظیم فائدے کی خوشخبری دے رہے تھے،کہ بہادر مزاحمت نے انھیں اچانک آ لیا اور ان کے اس بت کو پاش پاش کر دیا۔اس مزاحمت نے تمام جھوٹ، فریب اور کھوکھلے نعروں کو بے نقاب کر دیا، اور معبد کے پجاریوں، مفاد پرستوں، دھوکے بازوں اور مجرم سرکشوں کو رُسوا کر کے رکھ دیا۔
سب سے بڑی اور مطلق فتح و نصرت ، تو وہ ہے جس کے نتائج اللہ سے ملاقات کے دن ظاہر ہوں گے۔ اس دن سب کچھ جاننے والے بادشاہ نے حق کا ترازو نصب کر رکھا ہوگا :
فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۱۸۵) کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کر دیا جائے۔
اسی طرح حقیقی خسارہ وہ نہیں جو دنیا کی دولت سے ہو، بلکہ وہ ہے جو اس عظیم دن انسان اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کے نتیجۂ اعمال میں دیکھے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَقَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۰ۭ اَلَآ اِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ۴۵ (الشوریٰ۴۲:۴۵) اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنھوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا۔ خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے۔
سبقت لے جانے کی آخری انتہا، اور کامیابی کی بلند ترین چوٹی رضائے الٰہی کا حصول ہے، اور اسی سے نصرت الٰہی کا عمل مکمل ہوتا ہے، جو دنیا میں مدد سے لے کر ہمیشہ کی جنتوں میں داخلے کی صورت میں تکمیل کو پہنچتا ہے :
اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ۵۱ (المؤمن ۴۰:۵۱) یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔
صرف آلات ، ذرائع ، اسباب اور اتحادوں کے دائروں میں فتح و نصرت کی تلاش انسان کو اس وقت مایوس کر دیتی ہے جب اسباب کم ہوں یا صلاحیتیں ناکافی ہوں۔ بلکہ بعض اوقات انسان اس کے حصول کی کوشش ہی ترک کر کے مایوسی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔
لیکن جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ نصرت کا سرچشمہ ایک ہی ہے، اور اس کے حاصل ہونے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی راہ کے، تو وہ یقین کے میدانوں میں کھڑے ہو کر پڑھتا ہے: وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔
اس وقت وہ اسباب پر انحصار کرنے سے زیادہ اللہ کے دروازے پر مناجات کرنے والا اور عاجزی دکھانے والا بن کر کھڑا ہوتا ہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ اسباب استعمال کے لیے ہیں نہ کہ ’دینے‘ اور’روکنے‘ کے لیے۔ تب اس کا رب اسے نصرت حاصل کرنے کے دروازے الہام کرتا ہے، اور اس کے لیے ربانی ہدایت کے چراغ روشن کر دیتا ہے۔ سوچ، منصوبہ بندی، اللہ پر بھروسا، اس کے حکم کے سامنے سرجھکا دینا، اور جو تکلیف اسے پہنچتی ہے یا وہ جو کوشش بھی کرتا ہے اس پر اللہ سے اجر کی اُمید رکھتا ہے، چنانچہ نصرت کی یہ طلب عبادت اور قربانی میں بدل جاتی ہے۔
نصرت الٰہی کا قانون، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے شروع ہوتا ہے: وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے‘‘۔ یہ محض ایک وقتی مقولہ نہیں ہے جسے صرف سختیوں میں دُہرایا جائے، بلکہ یہ ایک مضبوط بنیادی عقیدہ ہے، جو صاحب ِایمان کو سبب پیدا کرنے والے اللہ کے ہاتھ میں ایک سبب بنا دیتا ہے۔
فتح و نصرت کوئی غنیمت نہیں جس کو محض انسانی چالاکی سے حاصل کیا جا سکتا ہو ، بلکہ یہ ایک آسمانی تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ زمین میں اپنے دین اور اپنے عظیم مقاصد کو قائم کرنے کے لیے عطا کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ خواہشات کو اعزاز بخشا جائے یا ذاتی و شخصی تنگ نظری کے حسابات برابر کرنے میں صرف کیا جائے ۔ میدانِ جنگ میں اللہ تعالیٰ اہل حق کو جو ثبات و استقامت عطا کرتا اور دشمنوں کی چالوں کو بے نقاب کرتا ہے، وہ اللہ کی مدد اور تائید ہے:
فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ قَتَلَہُمْ۰۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ رَمٰى۰ۚ (الانفال۸: ۱۷) پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔
اس پختہ عقیدے کا مطلب بندے کی جدوجہد اور کوشش کو کالعدم کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمام اسباب، چاہے وہ کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اسباب سے زیادہ اللہ کی ذات پر بھروسا کیا جائے۔
جب بندے کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ فتح ایک الٰہی تحفہ ہے نہ کہ انسانی تدابیر کا نتیجہ، تو دل مخلوقات کی غلامی اور خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ایمان کا حق یہ ہے کہ شرعی اور عقلی تقاضوں کے مطابق مکمل تیاری کی جائے، اور نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ اسباب کو ترک کرنا توکّل نہیں، لیکن انھی پر مکمل بھروسا کرلینا شرکِ خفی کی پھسلن ہے۔
یہ بھی حکمت عملی کی کامیابی نہیں ہے کہ کچھ لوگ یہ گمان کرلیں کہ ان کی فتح کا انحصار ظالموں سے طاقت حاصل کرنے، یا قابضین کے ساتھ معمول کے تعلقات بناکر اختیار حاصل کرنے، یا مشرق یا مغرب سے مدد مانگنے پر ہے۔ اسی طرح کامیابی حاصل کرنے میں جلد بازی یا اس کی تاخیر سے مایوس ہونا ایک نفسیاتی کمزوری ہے۔ بعض اوقات تاخیر اور امتحان نفوس کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاکہ وہ ایمان اور استقامت کے بلندمقام پر ہوتے ہوئے اقتدار کو حاصل کریں۔
یقیناً سیرتِ نبویؐ اس بات پر شاہد ہے کہ فتح و نصرت کی عملی راہیں اس وقت کھلتی ہیں جب ظاہری اسباب ختم ہو جائیں اور دل صرف آسمان کی طرف متوجہ ہو جائیں۔
حضرت نوح علیہ السلام پر زمین کی تمام تدبیریں بند کر دی گئیں، تو ان کے پاس عاجزانہ مناجات کے سوا کچھ نہ تھا۔اور جب موجیں خوف سے ٹکرائیں، تو موسیٰ علیہ السلام نے ہر دُنیاوی منطق کو ترک کر دیا اور یقینِ مطلق کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا۔
سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں، ’بدر‘ اور’حدیبیہ‘ کے واقعات اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ فتح و نصرت کے طریقے کئی ہوتے ہیں: کبھی وہ آسمانی مدد ہوتی ہے جو لشکروں کو مٹا دیتی ہے، اور کبھی وہ ایسی صلح کے پردے میں فتح ہوتی ہے جو بظاہر شکست نظر آتی ہے۔
مسافرانِ حق کو معلوم ہونا چاہیے کہ نصرت کا وعدہ جامع حکمت کے ساتھ مربوط ہے، صرف موجودہ لمحے کو دیکھنے کی تنگ نظری تک محدود نہیں ہے۔
اس میثاق الٰہی میں پہلا قدم دل کی اصلاح ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس فتح یاب جھنڈے کی کیا قیمت جسے ایک کمزور دل نے اُٹھا رکھا ہو؟ اللہ کی نصرت کو وہ سب سے بڑا معیار بنائیے جس سے ہرسیاست شروع ہو اور جس پر منصوبوں کی عمارتیں کھڑی کی جائیں۔ پھر تیاری کے امانت دارانہ قانون کے مطابق مادی طاقت کی بِنا اٹھایئے، اور ناقابلِ بحث حکمت کے تابع معنوی طاقت پیدا کیجیے ،تاکہ اداروں اور ریاستوں کو معلوم ہو کہ زمینی حکمت عملیاں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتیں جب تک کہ ان میں ربانی مقاصد کا اُفق شامل نہ ہو۔
وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے‘‘ کا اعلان محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک دائمی مدار(orbit)ہے جو دل کو توحید کے محور سے باندھ کر رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی عادلانہ میزان ہے جو اسباب کے بوجھ اور نتائج کی سبکی کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ ایک مستقل اور دائم مدرسہ ہے جو اُمت کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی حقیقی عزّت ربّ کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں پوشیدہ ہے، نہ کہ زمینی طاقتوں کے سحر میں مبتلا ہونے میں! لہٰذا جس نے عہد کو سچ کردکھایا اور میثاق پورا کیا اس کے لیے ابدی وعدے کا جھنڈا گاڑ دیا گیا:
كَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ۰ۭ (المجادلہ ۵۸:۲۱) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسولؑ غالب ہو کر رہیں گے !
مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے مواقع آتے رہے ہیں جس میں امت کی عمومی بےحسی کی سزا صدیوں تک امت مسلمہ کےدینی، سیاسی اور تہذیبی زوال کا سبب بنی۔ ڈھائی سال پہلے جب غزہ کا چپّہ چپّہ تباہ کردیا گیا اور یہ تباہی ابھی جاری ہے، تو مسلمان حکمرانوں نے تاریخی بے حسی کا ثبوت دیتے ہوئے اہل غزہ سے رسمی طور پر ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اخلاقی اور سیاسی حمایت‘ کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی اداروں کے اندازے کے مطابق صہیونی ریاست اسرائیل کےغزہ پر گرائے گئے بموں کی طاقت جاپان میں ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم کے مقابلے میں کم ازکم پانچ گنا زیادہ تھی اور تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ تقریباً پانچ کروڑ ٹن ہے جس میں وہ بم بھی شامل ہیں جو پھٹ نہ سکے، جب کہ ملبہ صاف کرنے میں ۱۵ سے ۲۰ سال لگیں گے۔
اسرائیل غزہ اور فلسطینیوں کی شناخت ختم کرنے اور بیت المقدس پر مکمل قبضہ کرکے ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے پر تیزی سے کارفرما ہے۔ بظاہر ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو اس کے راستے میں حائل ہے۔ اب امریکا اور اسرائیل نے مل کر مختلف بہانوں سے ایران کے خلاف جنگ شروع کردی ہے۔ غزہ کی طرح یہاں بھی تمام انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جارہاہے اور ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بدقسمتی سے ایران کے معاملے میں بھی مسلمان حکمرانوں کا رویہ غزہ کے سانحے سے کم نہیں ۔ امریکا مشرق وسطیٰ کے ممالک کی حفاظت کے بہا نے انھیں بھی اس جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس نازک موڑ پر امت مسلمہ کے اتحاد کی جتنی ضرورت آج ہے ،حالیہ تاریخ میں شاید اس سے پہلےکبھی نہ تھی۔
ارشاد خداوندی ہے: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۰۠(اٰل عمرٰن ۳:۱۰۳) ’’سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔ اس آیتِ مبارکہ کی تشریح میں مولانا مودویؒ فرماتے ہیں:’’اللہ کی رسّی سے مراد اس کا دین ہے، اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ اس رسّی کو ’مضبوط پکڑنے‘ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت ’دین‘ کی ہو، اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دلچسپیاں جزئیات و فروع کی طرف منعطف ہوئیں، پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ و اختلاف رُونما ہوجائے گا جو اس سے پہلے انبیا علیہم السلام کی امتوں کو ان کے اصل مقصد حیات سے منحرف کر کے دنیا اور آخرت کی رُسوائیوں میں مبتلا کرچکا ہے‘‘۔(تفہیم القرآن، جلداوّل، ص ۲۷۶-۲۷۷)
تاریخِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان قرآن و سنت کے سائے میں متحد رہے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں عزت، قوت اور سربلندی نصیب فرمائی، اور جب باہمی اختلاف اور تفرقہ نے ان کے دلوں میں جگہ بنا لی تو کمزوری اور زوال ان کا مقدر بنا۔عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہی حقیقت نمایاں نظر آتی ہے۔ اتحاد کمزور پڑنے کے سبب مسائل اور مصائب نے جنم لیا۔ آج مشرقِ ِ وسطیٰ میں بالخصوص اور دیگر مسلم خطوں میں پائے جانے والے سیاسی و مسلکی اختلافات، داخلی تنازعات اور باہمی عدم اعتماد نے امت کو کمزور کررکھا ہے۔ اس صورتِ حال سے بیرونی قوتیں فائدہ اٹھارہی ہیں۔ ایسے نازک حالات میں قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں دوبارہ اخوت، اتحاد اور باہمی تعاون کے راستے کی طرف بلاتی ہیں۔ دین اسلام ہی دلوں کو جوڑنے اور معاشروں کو متحد کرنے کی غیر معمولی قوت رکھتا ہے۔ مدینہ منورہ کی تاریخ اس حقیقت کا زندہ نمونہ ہے۔ اسلام سے قبل اوس اور خزرج کے قبائل باہمی دشمنی میں مبتلا تھے، مگر جب اسلام کا نور ان کے دلوں میں اترا تو وہ دشمنی محبت میں بدل گئی اور وہ ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔
صدافسوس کہ آج مسلمان اُمت ایک کتاب اور ایک رسول کوماننے کے باوجود شیعہ، سُنّی اور کئی دوسرے فرقوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر فرقے میں کئی کئی ذیلی گروہ بھی بنے ہوئے ہیں۔ اسی حالت کے بارے میں علّامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں
ایک مرتبہ انھوں مفتی محمد شفیع ؒ سے نہایت افسوس کے ساتھ فرمایا کہ’عمر ضائع کردی‘ اور پھر اس کی تفصیل میں فرمایا کہ ’’ ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں، امام ابوحنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروںکا اور علمی زندگی کا! قبر میں منکر نکیریہ نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھایا ترک رفع یدین حق تھا ؟ آمین بالجبر حق تھی یا بالسّر حق تھی؟ نہ برزخ میں اورنہ قبر میں یہ سوال ہو گا۔ اللہ تعالیٰ شافعی کو رُسوا کرے گا، نہ ابو حنیفہ کو، نہ مالک کو، نہ احمد بن جنبل کو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے۔ میدان محشر میں یہ معلوم نہیں کرےگا کہ ابوحنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھا یا اس کے بر عکس ،تو جس چیز کا نہ برزخ میں اور نہ محشر میں پوچھا جائے گا ، اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی، اور جو صحیح اسلام کی دعوت اورسبھی کے مابین متفقہ مسائل تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیا کرام علیہم السلام لے کر آئے تھے اور جسے عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور جن منکرات کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج یہ دعوت نہیں دی جارہی۔ معاشرے میں الحاد، اخلاقی انحطاط اور دینی کمزوری بڑھتی رہی، گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آ رہا ہے ، شرک و بت پرستی چلی آرہی ہے ،حرام و حلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے لیکن ہم ان فرعی و فروعی بحثوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی لیے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی‘‘۔ (وحدت امت ، مفتی محمدشفیع)
ائمہ کرام نے ایک مسئلے کی مختلف فقہی تشریحات کر کے امت کے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں، تاکہ دین پر چلنے میں آسانی پیدا ہو اور ضرورت کے وقت مختلف آپشنز(options) موجود ہوں لیکن بوجوہ اسے اختلاف کی بجائےمخالفت (بلکہ کفر اور اسلام ) کا مسئلہ بنادیاگیا، حالانکہ عقائد میں اختلاف نہ ہونے کے برابر ہے۔ قرآن آیاتِ محکمات کو ہی کتاب (دین اسلام) کی اصل بنیاد قرار دیتا ہے:
ھُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْہُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۷)وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں : ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں، اور دوسری متشابہات ۔
قرآنِ مجید میں تین مقامات (سورۂ توبہ آیت ۳۳ ، سورۂ فتح آیت ۲۸ اور سورۂ صّف آیت۹) پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْـرِكُوْنَ۳۳’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔ دین ہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر مسلمان اکٹھے ہو سکتے ہیں ، پھر اسلام کو غالب کرنے میں ہررکاوٹ ختم ہوجائے گی اور زندگی کے تمام مروجہ لادینی نظاموں کا اختتام ممکن ہو گا۔
’دین‘ ان بنیادی عقائد کا نام ہے جو قرآن سنت میں بیان ہوئے،تاکہ مسلمان ان کےمطابق اپنی زندگی گزاریں۔’شریعت‘ عقائد کے ان اصولوں کے مطابق زندگی کی سیدھی راہِ عمل متعین کرتی ہے جو ہمیں اصل منزل تک پہنچاتی ہے۔ ’مذہب‘(مسلک) وہ مختلف طریقے ہیں جو سارے اس منزل کی طرف جاتے ہیں اور ’ذوق‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے وہ اعمال (سنتِ زوائد) ہیں جن کا براہِ راست تعلق دین سے نہیں اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی عادت کے طور پر اختیار کیے، جیسے رنگ یا کھانے پینےمیں آپؐ کی پسند یا ناپسند وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےپوری زندگی ’دین‘ کی تعلیم اور تبلیغ میں گزاری اور ہم نے مذہب/مسلک میں الجھ کر دین کو پس پشت ڈال دیا ہے، بلکہ اس پوری ترجیح کو ہی الٹا کرکے رکھ دیا ہے اور اب بحثیں دین اور شریعت کی بجائے سفید ، کالی یا سبز رنگ کی پگڑی پہننے پر ہوتی ہیں۔
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ۰ۭ
(اٰل عمرٰن ۳:۱۰۵ ) کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے ۔
بہت سی اُمتوں کے ساتھ تاریخ میں یہی ہوا کہ انھوں نے اللہ کے پیغمبروں سے دینِ حق کی صاف، سیدھی اور جامع تعلیمات حاصل کیں، مگر کچھ زمانہ گزرنے کے بعد انھوں نے دین کی اصل بنیادوں کو پسِ پشت ڈال دیا اور ضمنی و فروعی مسائل کو بنیاد بنا کر الگ الگ گروہ اور فرقے تشکیل دینا شروع کر دیے۔ پھر حال یہ ہو گیا کہ وہ بے فائدہ اور لایعنی بحثوں اور جھگڑوں میں اس قدر اُلجھ گئے کہ نہ انھیں اس عظیم ذمہ داری کا احساس رہا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی تھی، اور نہ عقیدہ اور اخلاق کے ان بنیادی اصولوں کی طرف توجہ باقی رہی جن پر درحقیقت انسان کی حقیقی فلاح اور سعادت کا دارومدار ہے۔بدقسمتی سےبسا اوقات اس طرح کا تفرقہ علم کی کمی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پسِ پردہ ضد، مسلکی تعصب اور دنیاوی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔
یہ آیت اُمت کی اجتماعی زندگی کا ایک نہایت اہم اصول بیان کرتی ہےکہ جب قومیں آپس کے اختلافات اور نزاعات میں مبتلا ہو جاتی ہیں تو ان کی قوت، وقار اور اثر و رسوخ رفتہ رفتہ ماند پڑ جاتا ہے۔ تاریخ میں بے شمار قومیں صرف اس وجہ سے زوال کا شکار ہوئیں کہ وہ داخلی اختلافات اور باہمی کش مکش میں الجھ گئیں۔ قرآنِ حکیم نہایت وضاحت کے ساتھ یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمھارا رعب دشمن کے دلوں پر قائم رہے، تمھاری اجتماعی قوت برقرار رہے اور تمھارے اتحاد و اتفاق کی بنیادیں متزلزل نہ ہوں، تو تمھیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہوگا۔، یہی وہ مضبوط ڈھال ہے جس کے سہارے تم خواہشاتِ نفس اور دنیاوی اغراض کے تیروں کا مقابلہ کر سکتے ہو۔لیکن افسوس کہ آج کچھ لوگ اُمت کے اندر پھیلنے والے انتشار اور افتراق کی اصل وجہ کو سمجھنے کے بجائے عجیب و غریب تاویلات پیش کر کے مختلف اسباب بیان کرتے ہیں اور قرآن وسنت سے دُوری بلکہ رُوگردانی کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور بے جانکتہ آفرینیوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۱۰ۧ (الحجرات۴۹:۱۰)بے شک مومن آپس میں بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
یہ آیت دنیا کے تمام مسلمانوں کی ایک عالمگیر برادری قائم کرتی ہے اور یہ اسی کی برکت ہے کہ کسی دوسرے دین یا مسلک کے پیروؤں میں وہ اخوت نہیں پائی گئی ہے جو مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اس حکم کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بکثرت ارشادات میں بھی بیان فرمایا ہے اور مسلمانوں کو باہمی محبت اور اتحاد کی تلقین فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا:’’آپس میں حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ‘‘(متفق علیہ)۔ ایک دوسری حدیث میں فرمایا:’’ایک مومن دوسرے کے لیے ایک عمارت کی مانند ہےجس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اس سے جنگ کرنا کفر‘‘ (بخاری)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان، مال اور عزّت حرام ہے‘‘ (ترمذی) ۔ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’مومنوں کی مثال آپس کی محبت، وابستگی اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کے معاملے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کی حالت ہوتی ہے کہ اس کے کسی عضو کو بھی تکلیف ہو تو سارا جسم اس پر بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)
مسلمانوں کا اتحاد قرآن و سنت کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے سے ہی مضبوط ہوسکتا ہے، اور اسی سے عالمی سطح پر مسلمانوں کی قوت اور وقار بحال ہو سکتا ہے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے برحق فرمایا تھا:’’ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی،اگر ہم نےعزت کو اسلام کے علاوہ کسی اور نظام میں تلاش کیا تو اللہ ہم کو ذلیل کر دے گا‘‘۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عنقریب کوئی فتنہ برپاہوگا اور اس سے بچنے کی صورت کتاب اللہ کو تھامنا ہےجس میں تمھارے امور ومعاملات کا حکم وفیصلہ بھی موجود ہے، اور وہ دوٹوک فیصلہ کرنے والی ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔جس نے اسے سرکشی کرکے چھوڑدیا، اللہ اسے توڑدے گا اورجو اسے چھوڑکر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کردے گا۔ جو اس کے مطابق بولےاورعمل کرے اسے اجرو ثواب دیاجائے گا ، جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا،اورجس نےاس کی طرف بلایا اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی‘‘۔(ترمذی)
آج اُمتِ مسلمہ فرقہ واریت کے شدید بحران سے دوچار ہے، مسلکی اختلافات جو کبھی علمی اور فکری حدود تک محدود تھے، اب تعصب، نفرت اور دشمنی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اگر مسلمان پھر سے دنیا میں ایک اعلیٰ مقام اور غلبہ چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن وسنت کی طرف پلٹنا ہوگا اوراسے انفرادی اور اجتماعی نظام میں نافذ کرنا ہوگا۔ یہی اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور فلاح کی بنیاد ہے۔ اس اہم اور نازک موڑ پر بھی ہم اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد نہ ہوسکے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
علّامہ اقبال ہماری عصری تاریخ کی عظیم ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ انھیں ہم صدیوں کے تہذیبی عمل کا حاصل کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ان کی عہد ساز شاعری ہمارے اجتماعی شعور کی صورت گری اور پیش گوئی کی ایسی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے بغیر بڑی شاعری کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال کی اصل فکر ان کی شاعری میں ملتی ہے۔ مذہبی، تاریخی اور تہذیبی حوالے سے اقبال کی فکر کا سب سے اہم پہلو مغربی تہذیب و تمدن کا تنقیدی جائزہ ہے۔ اکبر الٰہ آبادی کے بعد اقبال ہمارے دوسرے شاعر ہیں جن کے یہاں مشرق و مغرب کی آویزش اور اسلامی و جدید مغربی تہذیب کے اساسی تصورات ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوکر ایک دوسرے کی حدود اور ماہیت متعین کرتے نظر آتے ہیں۔ اس اعتبار سے اقبال ہمارے پہلے مفکر ہیں جنھوں نے مغرب کے فکری چیلنج سے نظربچا کر چلنے کے بجائے پوری شدت سے اس کا جواب دیا۔
اقبال کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ مغربی فکر سے ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ ان کی پوری زندگی، شاعری، نثر اور مجلسی گفتگوئوں میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بسر ہوگئی۔ اقبال کے جواب سے کسی کو اتفاق ہو یا اختلاف، لیکن یہ جواب اتنا اہم ہے کہ اگر اس کو نظرانداز کر دیا جائے تو ہماری گرہ میں صرف اکبر کی وہ شاعری رہ جائے گی، جسے ہم میں سے اکثر اپنے جہل مرکب کے باعث مزاحیہ شاعری سمجھتے ہیں۔ اور اگر اکبر کو بھی ایک طرف رکھ دیا جائے تو دو صدیوں کا گونگا پن ہمارے تعاقب میں ہوگا۔
اگرچہ اقبال کی اُردو کلیات اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے اساسی تصورات کے موازنے سے بھری پڑی ہے لیکن اس سلسلے میں ان کے شعری مجموعے ضربِ کلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ شعری مجموعہ مغربی مفکر کی گردن پر رکھی ہوئی تلوار ہے اور اس کے ہرصفحے پر تہذیبوں کے درمیان برپا معرکہ جاری نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کے جوش و جذبے کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ انھوں نے ضربِ کلیم کے پہلے صفحے پر مجموعے کے نام کے نیچے یہ فقرہ لکھنا ضروری سمجھا:’’یعنی اعلانِ جنگ دورِ حاضر کے خلاف‘‘۔
آج ہم تہذیبوں کے تصادم کو رو رہے ہیں یا روتے روتے نظر بچاکر ایک طرف نکلنا چاہتے ہیں اور اقبال جنگ کا اعلان کر رہے ہیں۔ تصادم، جنگ کے مقابلے میں چھوٹی بات ہے۔ ظاہر ہے کہ عہدِ حاضر میں صرف مغربی تہذیب ہی سانس نہیں لے رہی، دنیا کی دوسری تہذیبیں بھی موجود تھیں، مگر چونکہ مغربی تہذیب ہی عصر کا تعین کر رہی تھی، اس لیے عصرِ حاضر سے اقبال کی مراد صرف مغربی تہذیب اور اس کا پیدا کیا ہوا عہد تھا۔
بظاہر اقبال نے ضربِ کلیم کے پہلے صفحے پر صرف ایک فقرے میں اعلانِ جنگ کیا ہے، لیکن اس ایک فقرے کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ اس لیے کہ یہ اقبال جیسی شخصیت کا فقرہ ہے، کسی ’شوقیہ قلمی فنکار‘ کی کارستانی نہیں ہے۔ اقبال نے یہ فقرہ لکھنا کیوں ضروری سمجھا، جب کہ ضربِ کلیم کے اندرونی صفحات مغرب کی تنقید سے بھرے ہوئے تھے؟ اس کا جواب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ اقبال قاری کے شعور کو پہلے صفحے ہی سے اس جنگ کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے، جو ان کے نزدیک اُمتِ مسلمہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اقبال نے اس فقرے کو ’ طبلِ جنگ‘ کے طور پر برتا ہے۔
چونکہ اقبال کے یہاں تہذیبوں کے تصادم کا مطالعہ شروع ہو چکا ہے، اس لیے جن لوگوں کا تہذیبی و تاریخی حافظہ کچھ کمزور ہے، انھیں ایک بار پھر یہ یاد دلا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اقبال کے یہاں یہ تہذیبی تصادم سیموئل ہن ٹنگٹن کے نام نہاد Clash of Civilizations ، فوکویاما کے The End of the Historyاور امریکا کے نیوکونز (Neo Cons)اور ’نائن الیون‘ سے بہت پہلے کی بات ہے۔ یہ چیزیں بیسویں صدی کے اواخر میں ظہور پذیر ہوئیں اور اقبال کی شاعری بیسویں صدی کے اوائل کی داستان ہے۔ اس سے قبل کہ ہم آگے بڑھیں، اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ کیا اقبال جدید مغربی تہذیب کو تہذیب قرار دیتے تھے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جدید مغربی تہذیب تو تہذیب ہی نہیں ہے۔ مگر بہتر ہوگا کہ اس سوال کے جواب کے لیے خود اقبال ہی سے رجوع کرلیا جائے۔
اس سلسلے میں کلیاتِ اقبال کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اقبال نے ۲۸ مقامات پر جدید مغربی تہذیب کو ’تہذیب‘ قرار دیا ہے۔ یہاں پر اقبال کی گواہیوں کی مثالیں پیش کرنا مفید مطلب ہے:
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا
______
ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا
لا کے کعبے سے صنَم خانے میں آباد کیا
______
نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
______
کچھ غم نہیں جو حضرتِ واعظ ہیں تنگ دست
تہذیب نَو کے سامنے سر اپنا خم کریں
ان اشعار سے یہ ثابت ہے کہ اقبال مغرب پر بے پناہ تنقید کے باوجود جدید مغربی تہذیب کے لیے ’تہذیب‘ ہی کی اصطلاح پسند و استعمال کرتے ہیں۔
سلیم احمد نے اپنی تنقیدی کتاب اقبال __ ایک شاعر میں اقبال کی نظم ’لا الٰہ الا اللہ‘ کو اقبال کی شاعری کی ’سورۂ اخلاص‘ قرار دیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں الٰہیات یا تصورِ توحید کے حوالے سے سورۂ اخلاص کی جو اہمیت ہے، وہی اہمیت اقبال کی شاعری میں مذکورہ نظم کو حاصل ہے۔ یہی اقبال کی شاعری کا الٰہیاتی پہلو یا Ontological Dimension ہے۔ یہ نظم آپ نے سیکڑوں بار پڑھی یا سنی ہوگی۔ آج ایک بار پھر پڑھ لیجیے:
خودی کا سِرِّ نہاں لا الٰہ الا اللہ
خودی ہے تیغ ، فساں لا الٰہ الا اللہ
یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں ، لا الٰہ الا اللہ
کیا ہے تُو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سُود و زیاں ، لا الٰہ الا اللہ
یہ مال و دولتِ دنیا ، یہ رشتہ و پیوند
بُتانِ وہم و گماں ، لا الٰہ الا اللہ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُنّاری
نہ ہے زماں نہ مکاں ، لا الٰہ الا اللہ
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں ، لا الٰہ الا اللہ
اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں ، لا الٰہ الا اللہ
گمان ہے کہ سات شعروں پر مشتمل اس نظم کے معنی سبھی کو معلوم ہوں گے، لیکن جن لوگوں کے لیے نظم کی تفہیم میں کوئی مشکل ہے، ان کے لیے نظم کو آسان کر لیتے ہیں۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ شاید یہ ہے کہ ہر شعر کو الگ الگ نثر کے قالب میں ڈھال لیا جائے:
۱- ’خودی‘ یعنی Selfکا پوشیدہ اسرار (Hidden Mystery)یہ ہے: نہیں ہے کوئی الٰہ سوائے اللہ کے۔ خودی اگر تلوار ہے تو لا الٰہ الا اللہ اس کی دھار ہے۔
۲- ہمارے زمانے کو اپنے ابراہیم کی تلاش ہے، اس لیے کہ جہاں بت خانہ ہوگا، وہاں لا الٰہ الا اللہ کی صدا ضرور بلند ہوگی۔
۳- تُو نے فائدے اور نقصان کے دھوکے میں پڑ کر (ملّی) وقار کا سودا کرلیا اور سمجھ لیا کہ فائدہ باقی رہنے والا ہے۔ حالانکہ باقی رہنے والی حقیقت تو صرف لا الٰہ الا اللہ ہے۔
۴- دنیا کا سارا مال و متاع اور اس سے تعلق کی صورتیں وہم و گمان کے بتوں کے سوا کچھ نہیں۔
۵- عقل نے زمان و مکان کے تصور کو پوجنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ زمان و مکان کا وجود ہی نہیں۔
۶- لا الٰہ الا اللہ کی شہادت حالات کی محتاج نہیں۔ حالات اچھے ہوں یا بُرے، اس حقیقت کی گواہی لازم ہے۔
۷- خبردار رہ، کسی بھی اجتماعیت سے وابستگی میں خطرات ہیں۔ مت بھول کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ یعنی کسی بھی اجتماعیت کو اپنے لیے الٰہ نہ بنا لینا۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس نظم میں ماجرا کیا پیش آیا ہے۔چنانچہ اقبال نے لا الٰہ الا اللہ کو ایک کسوٹی اور پیمانہ بنا کر پیش کیا ہے اور نظم میں جدید مغربی تہذیب کے پورے تہذیبی اور فکری کینوس کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔
اقبال کی شاعری میں ’خودی کا تصور‘ بنیادی اور اسلامی فکر سے ماخوذ ہے۔ لیکن اقبال کو معلوم ہے کہ جدید مغربی تہذیب بھی ’خودی‘ یا Selfکا ایک تصور رکھتی ہے اور یہ تصور بھی مغربی تہذیب کے دائرے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ مغرب میں اس حوالے سے ’سماجی اَنا‘ (Social Self) اور ’اقتصادی اَنا‘ (Economic Self) کی اصطلاحیں ملتی ہیں، وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’انسانی اَنا‘ کی جڑیں سماجیات اور معاشیات میں پیوست ہوسکتی ہیں۔ لیکن اقبال اس Selfکو مصنوعی یا کم سے کم ’ثانوی اَنا‘ سمجھتے ہیں اور اس نظم کے پہلے شعر میں دونوں تصورات کا ایک موازنہ (Contrast) وجود میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ اقبال کہتے ہیں کہ حقیقی خودی کا راز لا الٰہ الا اللہ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’ثانوی اَنا‘ اگر تلوار ہے تو لا الٰہ الا اللہ اس کی دھار ہے اور جب تک انسان کو یہ دھار فراہم نہ ہو، انسان کا بچنا محال ہے۔ اس بحث کے ڈانڈے لفظِ شخصیت (Personality)کے معنی کی بحث سے بھی جا ملتے ہیں۔
شخصیت (Persona) مغربی تہذیب میں نظر آتے اُس ’ماسک‘ زدہ چہرے کوکہتے ہیں، جو ادکار اسٹیج پر اداکاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس لیے شخصیت ایک اوڑھی ہوئی چیز ہے اور اس کا اصل ’اَنا‘ اور ’خودی‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ اقبال نے نظم کے دوسرے شعر میں اس عہد کے تصورات کو بت خانہ قرار دیا ہے اور ابراہیم کی تلمیح کے استعمال سے پیغمبرانہ روایت سے رجوع کی اہمیت واضح کی ہے۔ اس لیے کہ کفر اور شرک کا علاج، کسی چھوٹے کفر اور شرک کے مقابلے پر بڑا کفر یا شرک لانے سے نہیں ہوسکتا، اس کا علاج تو صرف ایمان بالغیب ہے۔
تیسرے شعر میں اصل مسئلہ ’فریبِ سود و زیاں‘ کا ہے۔ جدید مغربی فکر نے پوری دنیا میں افادیت پسندی کی وبا عام کر دی ہے اور افادیت پسندی کا فائدے اور نقصانات کے عمومی تصور سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک باضابطہ فلسفہ ہے، جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ انسان کو وہی کام کرنا چاہیے جس میں فائدہ ہو۔ یعنی فی نفسہٖ نہ کوئی کام اچھا ہے نہ بُرا ہے اور نہ مطلق نیکی کا وجود ہے نہ مطلق برائی کا بلکہ صرف فائدہ ہی قابلِ لحاظ ’قدر‘ ہے۔ یہ ضابطہ اقبال کے دور میں فلسفہ تھا، اب ہمارا تجربہ و مشاہدہ ہے۔ چنانچہ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ یہ دنیا ایک دھوکا ہے اور اس کے چکر میں پڑ کر تو انفرادی یا اجتماعی وقار کا سودا نہ کر۔ کیونکہ فائدہ اور نقصان تو وہی ہے جس کو خدا نے فائدہ یا نقصان قراردیا ہے، چاہے خدا کے بتائے ہوئے فائدے میں بظاہر تجھے نقصان ہی ہو رہا ہو۔
خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ہر اُمت کا ایک فتنہ ہے اور میری اُمت کا فتنہ مال ہے اور مال کا فتنہ دنیا کی محبت سے پیدا ہوتا ہے اور دنیا کی محبت آل اولاد کی محبت سے جنم لیتی ہے‘‘۔ اقبال نے چوتھے شعر میں ان تمام کو وہم و گمان کے ’بُت‘ قرار دیتے ہوئے ان پر خطِ تنسیخ پھیر دیا ہے اور ہمیں اصل حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اقبال کے زمانے میں یہ فتنہ اس لیے اہم ہوگیا تھا کہ مسلمان غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور اقتصادی مشکلات نے مسلمانوں کو گویا تاک لیا تھا۔
اقبال کے عہد کی ایک خاص بات زمان و مکان کا وہ مغربی فلسفہ تھا، جو مادے اور وقت کو خدا کے مقام پر فائز کر چکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ زندگی اور کائنات کی توجیہ کے لیے انسان کو اب خدا کے تصور کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ اگرچہ یہ مغربی فلسفہ تھا، لیکن نو آبادیاتی دور میں یورپی اقوام ساری دنیا پر مسلط تھیں اور ان کے توسط سے یہ فلسفہ ساری دنیا میں عام ہو رہا تھا اور اس نے ایک بڑے فکری بت کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔
اسلامی فکریات میں خدا کا ’ارادہ‘ اور اس کی ’مشیت‘ نہ کسی زمان (Time)کی پابند ہے نہ مکان (Space)کی۔ وہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے۔ معجزے کا اصول یہی ہے۔ لیکن جدید مغربی فکر انسان کو معجزے کی روایت سے کاٹ کر اس کی عقل کو علت و معلول کا اسیر بناچکی تھی۔ اقبال کے نزدیک ’خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنّاری‘ کا یہی مفہوم ہے۔
یورپی اقوام کی غلامی اور سیاسی زوال نے مسلمانوں کو اس اندیشے میں مبتلا کر دیا تھا کہ نعوذ باللہ کہیں ان کا دین بھی تو ’زمانی‘ نہیں تھا اور یہ کہ کہیں کلمۂ حق کی شہادت کے تقاضے بھی تو آزادی سے مخصوص نہیں تھے۔ اقبال نے انھیں یاد دلایا کہ اس اندیشے کی کوئی اصل نہیں۔ مسلمان جس حال میں بھی ہوں، ان پر شہادتِ حق واجب ہے ’’بہار ہو کہ خزاں لا الٰہ الا اللہ‘‘۔
اقبال کے آخری شعر میں ’جماعت‘ سے مراد گروہ بھی ہے، مسلک بھی، فرقہ بھی ہے، تنظیم بھی، قوم بھی، قبیلہ و ریاست بھی ہے اور محض ادارہ بھی۔ یہاں تک کہ اس کا اطلاق رنگ اور نسل پر بھی ہوتا ہے۔ اقبال کا عہد تو یوں بھی قوم پرستی اور نسل پرستی کا دور تھا اور یہ بلائیں مغرب سے آئی تھیں۔ یہ بلائیں موجود تو اس سے پہلے بھی رہی ہیں، لیکن مغرب نے انھیں فکری اور فلسفیانہ بنیادیں فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، چنانچہ یہ اور بھی خطرناک ہوگئی تھیں۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلام ماورائے قومیت، رنگ، نسل ایک حقیقت ہے، چنانچہ مسلمان کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ کسی ایک دائرے میں محدود ہو کر اس کے مفادات کا ترجمان اور نگہبان بن جائے۔
آپ نے دیکھا کہ اقبال کی اس چھوٹی سی نظم میں کس بلا کا تہذیبی معرکہ برپا ہوا ہے اور دوتہذیبیں کیسی ہولناک عدم مطابقت کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہیں۔
مذکورہ سطور سے اقبال کی شاعری میں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے الٰہیاتی اصول یا Ontological Principleکی نشاندہی اور ان کی کھلی عدم مطابقت ثابت ہوگئی ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کی شاعری میں اسلام اور مغرب کی نہادِ علم (Epistimology) کا کیا تصور ملتا ہے اور دونوں تہذیبوں کے تصورِ علم میں کیسی ہولناک جنگ برپا ہے؟ لیکن اس سے پہلے ہم یہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہم پینٹ شرٹ اور شلوار قمیص کی سطح پر تہذیبوں کا موازنہ نہیں کررہے بلکہ ہمارا موازنہ تہذیبوں کی روح اور ان کے اصل الاصول کی سطح پر ہے۔ یہ وہ سطح ہے جس کے بغیر ہم مذہبی تو کیا کافرانہ اور مشرکانہ تہذیب کا بھی تصور نہیں کرسکتے۔ اب آئیے اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے اصولِ علم کے سلسلے میں اقبال کے شعروں پر نظر ڈالتے ہیں:
محسوس پر بِنا ہے علومِ جدید کی
اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش
تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہ
ناداں ہیں جن کو ہستیِ غائب کی ہے تلاش
______
دانشِ حاضر حجابِ اکبر است
بت پرست و بت فروش و بت گر است
[عہدِ حاضر کا علم( حقیقتِ اولیٰ اور انسان کے درمیان) سب سے بڑا حجاب یا پردہ ہے۔ یہ بت پرست، بت فروش اور بت بنانے والا ہے۔]
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
______
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نُما
لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ
’’تخم دیگر بکف آریم و بکاریم زِنو
کانچہ کشتیم ز خجلت نتواں کرد درو‘‘
[ہم ایک اور بیج حاصل کرکے اسے نئے سرے سے بوئیں کیونکہ ہم نے جو کچھ بویا تھا، شرمندگی کے مارے اسے کاٹ نہیں سکتے۔]
شیدائی غائب نہ رہ ، دیوانۂ موجود ہو
غالب ہے اب اقوام پر معبودِ حاضر کا اثر
______
تعلیم مغربی ہے بہت جُرأت آفریں
پہلا سبق ہے ، بیٹھ کے کالج میں مار ڈینگ
نہادِ علم سے متعلق اقبال کے یہ چند اشعار ہیں، جن میں کہیں اقبال نے علم کی نہاد کی نشاندہی کی ہے اور کہیں علم کا تجزیہ کیا ہے، تو کیا اب ان تمام اشعار کی تشریح کی جائے؟ غالباً زیربحث موضوع کے سلسلے میں اقبال کا صرف ایک شعر ہی کافی ہے:
محسوس پر بنا ہے علومِ جدید کی
اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش
آسان لفظوں میں اقبال نے اس شعر میں یہ بتایا ہے کہ جدید مغربی تہذیب کا ’تصورِ علم‘ حواس یا محسوسات پر کھڑا ہوا ہے۔ اقبال کے یہ دو مصرعے دراصل دومصرعے نہیں، دو تہذیبوں کی فوجیں ہیں اور اقبال صاف کہہ رہے ہیں کہ جو جدید علم کے سرچشمے اور اس سے پیدا ہونے والے علوم میں رچ بس جائیں گے، ان کے مذہبی عقائد زیر و زبر ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اسلامی عقائد اس عالم سے تعلق رکھتے ہیں جہاں تک حس یا حواس کی رسائی ہی نہیں ہے۔ اس تک رسائی کے لیے انسان ’وحی‘ کا محتاج ہے۔ چونکہ جدید مغربی تہذیب کا تصورِ علم وحی کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے وہ مذہبی عقائد کا انکار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مذہبی عقائد کی تحقیر کرتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر پھر پڑھ لیجیے:
تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہ
ناداں ہیں جن کو ہستیِ غائب کی ہے تلاش
اس شعر میں اس جاہلانہ مغربی تصور کو بیان کرتے ہیں:وہ شخص ’ناداں‘ یا احمق ہے جس کو ہستیٔ غائب یعنی خدا کی تلاش ہے۔ آخرت اور جنت و دوزخ کا بھی کوئی وجود نہیں___ اس سے خیر و شر، نیکی و بدی اور حسن و قبح تک کے پیمانے بدل کر رہ جاتے ہیں۔
یہاں اس امر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حواس کی اطلاع یا ان کا علم بجائے خود کچھ نہیں۔ عقل اس کو مرتب کرکے اس سے نتائج نکالتی ہے لیکن عقل کا معاملہ یہ ہے کہ اسے جیسی اطلاع ملے گی، وہ ویسا ہی نتیجہ نکالے گی۔ یہ ڈیٹا اور کمپیوٹر والا معاملہ ہے کہ انھیں جیسا ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے، وہ ویسا ہی نتیجہ نکالتے ہیں۔ علم رسائی ہے لیکن انھی وجوہ کی بنا پر اقبال جدید مغربی فکر کو رسائی کے بجائے ’حجابِ اکبر‘ کہتے ہوئے اسے مسترد کر دیتے ہیں۔ اقبال نے تو اس تعلیم کے نتائج دیکھ کر عرشی کے فارسی شعر کے توسط سے یہ تک کہہ دیا ہے کہ ’’اب ہمیں اپنے علم کا ایک نیا بیج بونا پڑے گا کیونکہ مغربی علم کے بیج نے تو ہمیں وہ چیزیں دی ہیں جن پر ہم شرمندہ ہی ہوسکتے ہیں‘‘۔ یہ مسلم دنیا میں ایک نئی ’علمیات‘ (Epistimology) کے لیے بلند ہونے والی سب سے توانا آواز ہے اور یہ آواز کل پرسوں نہیں، بیسویں صدی کے پہلے عشروں میں بلند ہو چکی تھی مگر ہم نے اقبال کی آواز تک پر کان نہیں دھرے۔
اس سلسلے میں ہماری بے اعتنائی مجرمانہ بلکہ کافرانہ ہے اور اس جرم اور کفر میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں۔ ہم مسلم عوام اور خواص کو یہ تک نہیں بتا سکتے کہ اسلامی تہذیب اور جدید مغربی تہذیب کا تصورِ علم ایک دوسرے کی ضد ہے اور ہمیں اپنے تصورِ علم کے مطابق اپنے علوم کا احیا کرنا ہوگا۔ اقبال کے بعد یہ حقیقت جس شخصیت نے نہ صرف سمجھی بلکہ پوری قوت سے بیان بھی کی، وہ سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے، جنھوں نے مغربی علوم کی نہاد یا مغربی علمیات (Epistimology) کی وجہ سے جدید تعلیمی اداروں کو نئی نسل کی قتل گاہیں قرار دیا تھا۔ اقبال اور سیّد مودودی کے ذکر سے ہمیں اکبر الٰہ آبادی یاد آگئے جنھوں نے کہا تھا:
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
اسی طرح اقبال کی شاعری کا سرسری مطالعہ کرنے والوں پر بھی یہ حقیقت منکشف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ اقبال کے یہاں عقل اور دل، یا خرد اور عشق کے درمیان ایک گہرا تضاد پایا جاتا ہے، جو کئی صورتوں میں شدید تصادم کا رنگ اختیار کرلیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقبال کا ذاتی مسئلہ ہے؟ یا اس چیز کا اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب اورجدید فکر اور مغربی تہذیب سے کوئی تعلق ہے؟
اس سوال کا جواب واضح ہے۔ یہ اقبال کا ذاتی مسئلہ نہیں۔ جدید مغربی تہذیب نے اپنی تاریخ کے ایک مرحلے پر عقل کا ایک خاص تصور وضع کیا اور پھر اسی کی اسیر ہوکر رہ گئی۔ یہ تصور اسلامی فکر میں موجود عقل کے تصور کی تقریباً ضد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری عقل و خرد کی مذمت اور تنقید سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی شاعری میں ان تصورات کے لیے تحقیر کا پہلو بھی ملتا ہے۔ اس کے برعکس عقل و خرد کے مقابلے میں اقبال ’عشق‘ اور ’دل‘ کو لاتے ہیں اور ان دونوں حقیقتوں کا بیان اقبال پر ایک سرشاری اور سرمستی طاری کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اقبال کے یہاں عقل و خرد کی مذمت اور تحقیر کیوں پائی جاتی ہے اور اس کی مختلف صورتیں کیا ہیں؟
خِرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے
بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے
خدا جانے مجھے کیا ہوگیا ہے
خِرد بیزار دل سے، دل خرد سے
پہلے شعر میں اقبال نے ’خرد‘ پر الزام لگاتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی ہے اور دوسرے شعر میں اپنے اندر برپا معرکے اور اس سے پیدا ہونے والی کیفیت کا ذکر کیا ہے:
عقل ’عیّار‘ ہے ، سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملاّ ہے نہ زاہد نہ حکیم!
______
آہ! یہ عقلِ زیاں اندیش کیا چالاک ہے
اور تاثر آدمی کا کس قدر بے باک
______
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
______
عقل گو آستاں سے دُور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں
______
عقل بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبُوں کارِ حیات
______
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے
______
عقل کو ملتی نہیں اپنے بتوں سے نجات
عارف و عامی تمام بندۂ لات و منات
______
خوار ہُوا کس قدر آمِ یزداں صفات
قلب و نظر پر گراں ایسے جہاں کا ثبات
______
اقبال کے ان شعروں کو پڑھ کر خیال آتا ہے کہ اب ’مجرّدعقل‘ کے خلاف کہنے کو رہ کیا گیا ہوگا؟ لیکن اقبال کا آخری وار سب سے کاری ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
عشق تمام مصطفےٰؐ ، عقل تمام بولہب
اور پھر اس کے بعد مغربی تہذیب سے متعلق اقبال نے کہا ہے:
تڑپ رہا ہے فلاطوں میانِ غیب و حضور
اَزل سے اہلِ خِرد کا مقام ہے اعراف
پھر پوری مغربی تہذیب کی روح کا صرف ایک مصرع میں بیان:
فرنگِ دل کی خرابی خرد کی معموری
دل کی خرابی تو خیر پھر بھی کچھ سمجھ میں آنے والی بات ہے، لیکن ’خرد کی معموری‘ کیا بلا ہے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ مغربی تہذیب دل کی خرابی میں مبتلا ہونے کے بعد سے صرف عقل کو پالنے پوسنے میں لگی ہوئی ہے۔ یعنی افلاطون تو بے چارہ غیب اور حضور کے درمیان تڑپ ہی رہا تھا مگر اقبال کے زمانے تک آتے آتے مغربی فکر ’غیب‘ سے بے نیاز ہو کر صرف ’حضور‘ پر مرتکز ہوگئی۔
محمد حسن عسکری نے اپنی مشہور تصنیف جدیدیت یعنی ’مغربی فکر کی گمراہیوں کا خاکہ‘ میں لکھا ہے کہ افلاطون تک مغرب ’عقلِ کلّی‘(Intellect) اور ’عقلِ جزوی‘ (Reason) کے فرق سے واقف تھا لیکن اس کے شاگردِ رشید ارسطو کے بعد مغرب اس فرق کو بھولتا چلا گیا اور بالآخر اس نے ’عقلِ جزوی‘ ہی کو سب کچھ سمجھ لیا۔ لیکن ان دونوں کا بنیادی فرق کیا ہے؟
’عقل جزوی‘ دراصل تجزیہ کار عقل ہے اور وہ چیزوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے انھیں سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا فہم ادھورا اور تقسیم شدہ ہوتا ہے، شے کی کلّی تفہیم نہیں ہوتی۔ یہ عقل حواس کی فراہم کردہ معلومات سے آگے جانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس ’عقلِ کلّی‘ یا وجدان اور الہام کے ذریعے شے کی پوری حقیقت کو سمجھ لیتی ہے اور اسے تجزیے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی۔
آپ نے اقبال کے یہاں عقل کی مذمت اور اس کے معنی ملاحظہ کرلیے۔ اب ذرا ان کے یہاں عشق، جنوں اور دل کا بیان بھی دیکھ لیجیے:
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعلِ راہ
کسے خبر کہ جُنوں بھی ہے صاحبِ ادراک
______
دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری
مِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری
عشق کی اِک جَست نے طے کر دیا قصّہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
______
دل کی آزادی شہنشاہی، شِکّم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے ، دل یا شکم!
______
عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
______
قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
غور کیا جائے تو اقبال کے یہاں ’عشق‘ اور’ دل‘ اسلامی تہذیب کے تناظر میں انسانی وجود کی کلیت کے استعارے اور عقلِ کلّی کی علامتیں ہیں۔ چونکہ اقبال کے زمانے تک آتے آتے یہ علامتیں مٹتی جارہی تھیں، اس لیے اقبال نے ان کی بحالی اور انھیں ایک بار پھر زندہ کرنے کے لیے اپنے وجود کی پوری تخلیقی قوت صرف کر دی۔انھوں نے ’عقل اوردل‘ اور ’عقل اور عشق‘ کو ایک دوسرے کےمقابل لاکر دکھایا کہ ہم کیا ہیں اور مغرب اور مغربی فکر کیا ہے؟
پھر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اقبال نے ہر جگہ عقل پر دل اور عشق کی فوقیت ثابت کی ہےاور اپنی تہذیبی روایت پر ہمارا اعتماد بحال کیا ہے۔ دو تہذیبوں کے دو اساسی تصورات کی یہ ’عدم مطابقت‘ اور یہ ’تصادم‘ کلیاتِ اقبال میں تو موجود ہے اور کلیاتِ اقبال کو لگنے والی دیمک تک بھی اس سے آگاہ ہے، مگر افسوس کہ خود مردِ مسلمان اس سے واقف نہیں! اور مردِ مسلماں کی عشق سے محرومی کا نتیجہ یہ بیان کرتے ہیں:
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
مغرب میں ایک بات بار بار دُہرائی جاتی ہے کہ ریاست اسرائیل کا قیام ایک خدائی منصوبہ ہے،اور اس کے ثبوت میں بائبل کی ایک آیت پیش کی جاتی ہے:’’میں نے تمھاری نسل کو یہ زمین دی دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک‘‘۔(پیدائش ۱۵: ۱۸)
پہلی نظر میں بات سیدھی لگتی ہے۔ خدا نے زمین دی،تو پھر ریاست بھی بن سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
آیت کیا کہتی ہے؟ ’’تمھاری نسل کو زمین دی‘‘۔
اور تعبیر کیا کہتی ہے؟’صرف ایک نسل‘ یعنی صرف اسحاق کی نسل کو۔ یہاں ایک چھوٹی سی تبدیلی پوری کہانی بدل دیتی ہے۔
اب ایک سادہ سوال: ابراہیم ؑکے کتنے بیٹے تھے؟
دو: اسحاق ؑاور اسماعیلؑ۔ اب میراث یا وراثت (inheritance ) کا اصول کیا کہتا ہے؟
جو چیز باپ کو دی جائے وہ اس کی اولاد میں برابر کی تقسیم ہوتی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ زمین صرف ایک کو کیوں؟
یہ وہ سوال ہے جو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ اور پھر سمجھے بغیر ایک پوری کہانی مانتے گئے۔
اب ذرا اسماعیل علیہ السلام کی طرف دیکھیے۔ بائبل خود کیا کہتی ہے؟’’میں اسماعیل کو برکت دوں گا اسے بارآور کروں گا اور اس کی نسل کو بڑھاؤں گا‘‘۔ (پیدائش۱۷: ۲۰)
گویا اسماعیلؑ کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ انھیں بھی برکت دی گئی۔
اب یہاں ایک لمحے کو رک کر سوچیں: اگر برکت دی گئی تو زمین کیوں نہیں؟ یہاں اصل مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
متن کیا کہتا ہے: ’’اسماعیل کوقبولیت دی گئی، برکت دی گئی‘‘۔
اور تعبیر کیا کرتی ہے؟ مرکزی حیثیت صرف ایک نسل کو دے دیتی ہے۔
اسماعیلؑ کو نکالا نہیں گیا، مگر انھیں مرکز سے ہٹا دیا گیا۔ انھیں محروم نہیں کیا گیا، مگر خاموشی سے نظر انداز کر دیا گیا۔ اور یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کسی چیز کو کھل کر رَد کرتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے، لیکن جب آپ اسے خاموشی سے نظر انداز کرتے ہیں تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، اور یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک نظریے کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو کہتا تو ہے کہ ہم متن پر ہیںلیکن حقیقت میں وہ اپنی تعبیر پر کھڑا ہوتا ہے___ گھڑی ہوئی تعبیر پر۔
اب ذرا قرآن کی طرف آئیں۔ قرآن ایک جملے میں پوری بحث بدل دیتا ہے: لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِــمِيْنَ۱۲۴ (البقرہ ۲:۱۲۴)یعنی’’میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچتا‘‘۔
اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ تم کس نسل سے ہو؟ سوال یہ ہو جاتا ہے:تم کیا کر رہے ہو؟
یعنی:وعدہ نسل سے نہیں عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کوئی ظلم کرے تو وہ ابراہیم ؑکی نسل میں ہوکر بھی اس وعدے کا حق دار نہیں رہتا۔اور اگر کوئی عدل پر ہو تو وہ اس وعدے کے قریب ہوجاتا ہے۔ گویا قرآن ہمیں بتاتا ہے: زمین ’میراث‘ (inheritance )میں نہیں ملتی بلکہ ذمہ داری سے ملتی ہے۔
اب یہاں ایک بہت اہم بات سمجھ آتی ہے۔ اگر خدا کا وعدہ اخلاق سے مشروط ہے، تو پھر ایک اصول نکلتا ہے: کوئی بھی ظلم کسی بھی دعوے کو باطل کر دیتا ہے۔
یعنی: صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’یہ ہمارا حق ہے‘‘۔
اصل سوال یہ ہے: کیا تم اس حق کے قابل بھی ہو؟
اور یہی وہ اصول ہے جو پوری سیاسی تعبیر کو چیلنج کرتا ہے۔
یہاں ایک اور چونکانے والی بات سنیئے :کیا آپ جانتے ہیں کہ خود یہودی مذہبی روایت اس مسئلے پر کیا کہتی ہے؟
’تلمود‘ میں ایک تصور آتا ہے،جسے تین قسموں یا (Three Oaths) سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہ کیا ہیں؟ یہ وہ اصول ہیں جو بنی اسرائیل کے لیے طے کیے گئے، جب وہ اپنی سرزمین سے نکل گئے تھے: l اوّلاً: انھیں کہا گیا:تم زبردستی واپس نہیں جاؤ گے، یعنی طاقت کے زور پر ریاست قائم نہیں کرو گے۔lثانیاً: تم اقوام کے خلاف بغاوت نہیں کرو گے، یعنی سیاسی طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل نہیں کرو گے۔lثالثاً: اور تم انتظار کرو گے ماشیاح (Mashiach: مسیحا) کا۔
یعنی بات بہت صاف ہے کہ ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا، بلکہ اسے ایک الٰہی وقوعے کے طور پر ہونا تھا۔
اب یہاں ایک فطری سوال سامنے آتا ہے۔ اگر یہ اصول خود یہودی مذہبی روایت میں موجود ہے تو پھر یہ ریاست کیسے بنی؟ کیا مسیحا آ گئے تھے؟ یا پھر انسان نے خود وہ کام اپنے ذمہ لے لیا جسے اس کی اپنی روایت منع کر رہی تھی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب اور سیاست ٹکرا جاتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں کہانی ٹوٹ جاتی ہے۔
اب تاریخ کی طرف آئیے۔ انیسویں صدی میں یورپ میں یہودیوں پر ظلم ہو رہا تھا۔ ان کے خلاف بہت نفرت تھی، عدم تحفظ کا احساس تھا۔ یہ سب ایک مذہبی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ ایک سماجی اور سیاسی بحران تھا۔ اس ماحول میں ایک شخص اٹھتا ہے، سامنے آتا ہے، اس کا نام ہے تھیوڈر ہرٹزل ۔ وہ ایک سوال اٹھاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ یہودیوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ اور پھر خود ہی جواب بھی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں ایک ریاست چاہیے لیکن یہاں ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ وہ تورات کا حوالہ نہیں دیتا، وہ اسے خدا کا حکم نہیں کہتا، وہ سیدھی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے اور ہمیں اس کا سیاسی حل چاہیے۔
اب یہاں ایک چونکانے والی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اس وقت فلسطین کا بھی حتمی طور پر تعین نہیں کیا گیا تھا۔ مختلف جگہیں زیر غور تھیں: یوگانڈا، ارجنٹائنا، مدگاسکر، قبرص یعنی زمین کا انتخاب کوئی آسمانی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ممکنہ انتخاب تھا۔ اب ذرا سوچیں اگر یہ واقعی خدا کا وعدہ ہوتا تو اتنے سارے آپشنز نہ ہوتے۔ جگہ نہیں بدلتی۔ کیا خدا کے وعدے آپشنز میں آتے ہیں؟ نہیں۔ لیکن چونکہ یہ وعدہ نہیں تھا، یہ ایک منصوبہ تھا، انسانی منصوبہ تھا، ایک ایسا منصوبہ جو ایک مسئلے کے حل کے لیے بنایا گیا تھا اور بعد میں اسے مذہب کا لباس پہنا دیا گیا۔
اب کہانی ایک اور رُخ لیتی ہے۔ یورپ میں ایک بڑا المیہ ہولوکاسٹ کی صورت میں پیش آتا ہے۔ لاکھوں یہودی قتل کیے جاتے ہیں۔ صدیوں کا ظلم ایک انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ یورپ کے ضمیر پر ایک بوجھ آ جاتا ہے، ایک احساس گناہ، ایک شرمندگی، ایک ندامت۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا ازالہ کہاں ہونا تھا؟ کیا یورپ اپنی زمین دیتا یا وہ اپنے نظام کو بدلتا؟ بھئی ہونا تو یہی چاہیے تھا۔ لیکن اس نے ایک اور راستہ چنا۔ اس بوجھ کو اٹھایا اور اسے فلسطین کی سرزمین پر رکھ دیا۔
یہاں ایک فیصلہ ہوا ۱۹۱۷ء میں ’بالفور ڈیکلریشن‘ کے نام سے۔ برطانیہ نے کہا کہ ہم یہاں ایک ’جیوش ہوم لینڈ‘ (یہودی ریاست) کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زمین کس کی تھی؟ ارے بھئی وہاں پہلے سے لوگ آباد تھے۔ ایک معاشرہ تھا، ایک تاریخ تھی، مگر ان سے پوچھا نہیں گیا۔ فی الحقیقت یہ ایک کولونیل ٹرانسفر تھا۔ بنیادی طور پر تو یہ ایک یورپی مسئلہ تھا، مگر یورپ کے اجتماعی گناہ کا بوجھ ایک عرب سرزمین پر منتقل کر دیا گیا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک کولونیل پروجیکٹ (سامراجی منصوبہ) شروع ہوا۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک سیاسی منصوبہ تھا تو اسے مذہب کا رنگ کیوں دیا گیا؟ جواب بہت سادہ ہے مگر ہم اکثر اسے نظرانداز کر دیتے ہیں، قانونی حیثیت (Legitimacy) کی خاطر۔ ’قانونی حیثیت‘ کا مسئلہ یعنی لوگوں کو یہ یقین دلانا کہ جو آپ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اگر آپ کہیں کہ یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے تو لوگ فوراً سوال کریں گے: کیوں؟ کیسے؟ اس کا اخلاقی جواز کیا ہے؟
لیکن اگر آپ کہیں کہ یہ خدا کا وعدہ ہے تو کیا ہوتا ہے؟
سوال ختم ہو جاتے ہیں، تنقید رُک جاتی ہے اور مخالفت گناہ بن جاتی ہے۔ کیونکہ اب یہ سیاست نہیں رہی، یہ ایمان کا مسئلہ بن گیا۔
اب ذرا ایک اور مثال دیکھیں ۱۹۶۷ء کی بات ہے۔ عرب اسرائیل جنگ ہوتی ہے، جسے ہم ’چھے روزہ جنگ‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ صرف چھے دنوں میں ایک چھوٹی ریاست بڑی بڑی افواج پر غالب آ جاتی ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ اور یہ تھا کیا؟ بنیادی طور پر یہ ایک فوجی کامیابی تھی۔ ایک اسٹرے ٹیجک برتری تھی اسرائیل کی۔
اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اس کامیابی کی تشریح کی جاتی ہے۔ اس کامیابی کو کیسے پیش کیا گیا؟ کہا گیا کہ یہ خدا کی مدد تھی۔ اب ذرا غور کریں کہ ایک انسانی پلاننگ، ایک فوجی اسٹرے ٹیجی، ایک عملی تنفیذ (ایگزیکیوشن ) اور اسے بدل دیا گیا ایک الٰہی مداخلت (ڈیوائن انٹرونشن) میں۔ یہاں ایک خطرناک تبدیلی ہوتی ہے۔ طاقت تقدس بن جاتی ہے۔ جو چیز انسان نے حاصل کی تھی اسے خدا کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ اور جب ایسا ہو جائے تو سوال ختم ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب آپ حکومت سے نہیں خدا سے سوال کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اخلاق بدل جاتا ہے، ظلم ظلم نہیں رہتا، وہ حق بن جاتا ہے۔ قبضہ قبضہ نہیں رہتا، وہ وعدۂ الٰہی بن جاتا ہے۔ طاقت طاقت نہیں رہتی وہ مقدس مشن بن جاتی ہے۔ اور جب طاقت مقدس مشن بن جائے تو اس کے خلاف کھڑا ہونا صرف سیاسی مخالفت نہیں رہتا بلکہ گناہ بن جاتا ہے۔
اب ایک اور کہانی بھی سن لیجیے۔ اس سے بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ اسی دوران امریکا میں بائبل کی ایک خاص تشریح عام ہونے لگتی ہے جسے ’اسکوفیلڈ ریفرنس بائبل‘ کہتے ہیں۔ یہ صرف بائبل نہیں تھی، یہ بائبل کی ایک مخصوص ریڈنگ تھی، اور اسی ریڈنگ سے ایک نظریہ پیدا ہوتا ہے جسے کہتے ہیں Dispensationalism [نظریہ اَدوارِ الٰہی]۔ یہ نظریہ کیا کہتا ہے؟ یہ تاریخ کو مختلف اَدوار میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں کچھ مخصوص واقعات لازمی ہیں۔ اور اگر یہ ہو جائیں تو مسیح کی واپسی قریب ہو جائے گی۔ یعنی ایک سیدھا فارمولا: اسرائیل بنے گا تو مسیح آئیں گے۔ اب غور کریں یہاں مذہب کیا بن گیا؟ ایک عقیدہ، ایک انتظار، ایک پروفیٹک ٹائم لائن۔
یہاں پر ایک اور اہم نکتہ سمجھیں۔ یہ اصل عیسائیت نہیں ہے بلکہ اس کی ایک جدید تعبیر ہے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں سامنے آئی۔ یعنی یہ کلاسیکی مسیحی الٰہیات ( کلاسیکل کرسچین تھیولوجی) نہیں ہے بلکہ ایک خاص گروہ کی ریڈنگ ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ امریکا میں لاکھوں لوگ اس نظریے پر ایمان لے آئے۔ اور پھر اسرائیل کی حمایت صرف سیاسی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک مذہبی فریضہ بن گئی۔ نتیجہ ؟ نتیجہ یہ نکلا کہ اربوں ڈالر کی فنڈنگ، اندھی سیاسی حمایت اور ایک ایسا مذہبی جوش جو سوال سے ماورا۔ کیونکہ جب کوئی چیز خدا کے منصوبے کا حصہ بن جائے تو اس پر سوال اٹھانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔
اب یہاں ایک بہت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ صرف باہر کے لوگ نہیں ہیں جو اس ریاست پر سوال اٹھاتے ہیں۔ خود یہودی مذہبی حلقوں کے اندر بھی اس پر شدید اختلاف موجود ہے۔ مثلاً نیتوری کارتا ایک مذہبی یہودی گروہ ہے جو کھل کر یہ کہتا ہے کہ یہ ریاست مذہبی طور پر غلط ہے۔ ہمیں اس ریاست کے قیام کا کوئی حق تھا ہی نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے نزدیک ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا بلکہ اسے ایک الٰہی وقوعے کے طور پر ہونا تھا۔ یعنی وہی بات جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ طاقت کے زور پر ریاست قائم کرنا خود ان کی مذہبی روایت کے خلاف ہے۔ اب صرف مذہبی حلقے ہی نہیں کچھ بڑے یہودی مفکرین بھی اس پورے معاملے پر سوال اٹھاتے ہیں، مثلاً مارٹن بوبر، یہ ایک بڑا نام ہے، اور دوسرے ابراہم جوشواہ حیشل۔ یہ لوگ ایک بنیادی اصول دیتے ہیں: زمین انصاف کے بغیر بے معنی ہے۔ یعنی اگر آپ کے پاس زمین ہے مگر انصاف نہیں ہے تو وہ زمین مذہبی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی، کیونکہ خدا کا تعلق زمین سے نہیں انصاف سے ہوتا ہے۔ بندہ، خدا اور انصاف سے وابستہ ہوتا ہے، زمین سے نہیں۔
اب اس پوری تصویر کو ایک ساتھ دیکھیں جو میں نے کئی چیزیں ایک ساتھ آپ کے سامنے رکھیں، جستہ جستہ۔ اب اس کو ایک پورے تناظر میں دیکھیں۔ ہوا کیا؟ ایک آیت جس کی من پسند تعبیر کی گئی، ایک سیاسی منصوبہ جسے استعماری طاقتوں نے نافذ کیا اور پھر اس کے اوپر مذہب کا غلاف چڑھا دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذہب ہے؟ نہیں، یہ مذہب نہیں تھا۔ مذہب کو استعمال کیا گیا تھا۔ اور جب مذہب استعمال ہوتا ہے تو وہ ہدایت نہیں رہتا ہتھیار بن جاتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہودیت نہیں بدلی، اس کے نام پر ایک نئی تعبیر گھڑی گئی، ایک ایسی تعبیر جو طاقت کو تقدس میں بدل دیتی ہے، جہاں ظلم حکمِ خدا بن جاتا ہے اور قبضہ وعدۂ الٰہی کہلانے لگتا ہے۔ اب یہاں آکر سوال اسرائیل کا نہیں رہتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم مذہب کو سمجھ رہے ہیں یا ہمیں مذہب کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟ اور اگر بے وقوف بنایا جا رہا ہے تو ذرا رُک کر سوچئے کہ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے اور کیوں؟ اس مقام پر ایمان اور فریب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔
سلطنتوں کے عروج و زوال کے مطالعے نے مؤرخین کو حیرتوں کے جہان کی سیر کرا ڈالی ہے۔ اس موضوع نے اہل دانش کو غور و فکر پر اُبھارا ہے۔ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف صدیوں میں دانش کے چراغ روشن کرنے والے مفکرین ابنِ خلدون [م:۱۴۰۶ء]، ایڈورڈگبن [م:۱۷۹۴ء]، آرنلڈ ٹائن بی [م:۱۹۷۵ء]، اوسوالڈ سپینگلر[۱۹۳۶ء]، پال کینیڈی [پ:۱۹۴۵ء]، ول ڈیورانٹ [م:۱۹۸۱ء] اور جدید دور کے ایرک ہوبسباوم [م:۲۰۱۲ء]اور جان میئرشہائیمر[پ:۱۹۴۷ء] ایک فکر انگیز نکتے پر متفق نظر آتے ہیں: ’’سلطنتیں عام طور پر محض اچانک کسی آفت یا بیرونی حملے کی وجہ سے نہیں گرتیں۔ بلکہ، وہ اپنی کامیابی سے پیدا ہونے والے سست اور مجموعی عمل کے ذریعے اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔ ’طاقت‘ توسیع کو جنم دیتی ہے، توسیع ذمہ داریوں میں اضافہ کرتی ہے۔ سماجی ہم آہنگی میں پیچیدگی، اداروں اور اخلاقی مقاصد کے اہداف کو کمزور کر دیتی ہے‘‘___ جیسا کہ ول ڈیورانٹ نے کہا تھا:’’ایک عظیم تہذیب باہر سے اُس وقت تک فتح نہیں ہوتی جب تک کہ وہ خود کو اپنے اندر سے تباہ نہ کر لے‘‘۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ کوئی اخلاقی کہاوت نہیں بلکہ ایک ساختیاتی قانون ہے۔
ابنِ خلدون کے ہاں ’عصبیت کا تصور‘ یعنی مشترکہ سختیوں سے پیدا ہونے والی سماجی یک جہتی، شاہی عروج و زوال کی اثر انگیز وضاحتوں میں سے ایک ہے۔ اپنی کتاب مقدمہ میں انھوں نے استدلال کیا کہ سیاسی اقتدار گروہی یک جہتی سے اُبھرتا ہے۔ یہ گروہی یک جہتی جو عام طور پر آباد مراکز کے بجائے سرحدی علاقوں میں پروان چڑھتی ہے۔ سلطنتیں اس وقت اُبھرتی ہیں، جب متحدگروہ زوال پذیر مراکز کو فتح کر لیتے ہیں، اور ان کا زوال تب شروع ہوتا ہے جب خوش حالی نظم و ضبط کو ختم کردیتی ہے، عیاشی سادگی کی جگہ لے لیتی ہے اور حکمران رضامندی کے بجائے جبر کا سہارا لیتے ہیں۔ قدیم ایرانی سلطنت اس متحرک عمل کی ایک مثال ہے۔ ’سائرس‘ اور ’دارا‘ کے دور میں، فارس (ایران) کی طاقت صرف فوجی فتوحات پر نہیں بلکہ ایک ایسی جامع شاہی اخلاقیات پر مبنی تھی، جو مقامی رسوم کا احترام کرتی تھی اور اشرافیہ کو شامل کر کے وسیع علاقوں میں وفاداری پیدا کرتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، درباری عیش و عشرت، شاہی سازشوں اور کرائے کے فوجیوں پر انحصار نے فارس کے اتحاد کو ختم کر دیا۔ جب سکندر اعظم فتوحات کرتا وہاں پہنچا، تو فارس کے پاس وسائل بلاشبہ بے پناہ تھے، لیکن ان کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے داخلی اتحاد اور اخلاقی عزم کی کمی تھی۔
ایڈورڈ گبن نے، روم پر لکھتے ہوئے، اسی رجحان کو شہری فضیلت (Civic Virtue) کے خاتمے کے پس منظر میں بیان کیا۔ گبن کے نزدیک: ’’روم کا زوال کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ بڑے شاہانہ کرّوفر کا فطری اور ناگزیر‘ نتیجہ تھا۔ جمہوری نظم و ضبط، شہری فوجوں اور عوامی فرض کے کلچر نے روم کے عروج کو ممکن بنایا تھا، لیکن شاہی حد سے تجاوز (Imperial Overreach) نے شہریوں اور سپاہیوں کو ’کرائے کے فوجیوں‘ میں بدل کر رکھ دیا۔ سلطنت کی سرحدیں اس کی مالی اور سماجی استطاعت سے زیادہ تیزی سے پھیلیں، جس نے اسے زوال کے گھاٹ اُتار دیا‘‘۔ پال کینیڈی نے کہا: ’’روم ایک لمحے میں نہیں گرا___ یہ صدیوں تک فوجی اخراجات، بیوروکریٹک جمود اور گرتے ہوئے عوامی اعتماد کے بوجھ تلے کھوکھلا ہوتا رہا‘‘۔
منگول سلطنت، ابنِ خلدون کے فکری دائرے کی ایک تیز رفتار شکل پیش کرتی ہے۔ اس کا عروج تاریخ کی شاید شدید ترین’عصبیت‘ پر مبنی تھا، جو قابلیت کے سختی سے کیے گئے اعتراف اور کرشماتی قیادت کے ذریعے پیدا ہوئی تھی۔ پھر چنگیز خان نے اس اتحاد کو فوجی لچک میں بدل دیا اور آگے بڑھ کر تیزرفتار منگول توسیع نے ہی اس کے استحکام کو نقصان پہنچایا۔ جب فتوحات کے بعد نظم و نسق کا وقت آیا، تو یہ اتحاد، خاندانی اور علاقائی تقسیم میں بکھر گیا۔ عیاشی نے سادگی کی جگہ لے لی اور سلطنت ایسی خانقاہوں میں تقسیم ہو گئی جن میں وہ اصل سماجی جڑاؤ (Social Glue) موجود نہ تھا۔ یہاں ٹائن بی کا نکتہ قابلِ غور ہے: ’’تہذیبیں اس لیے زوال پذیر نہیں ہوتیں کہ وہ شکست کھا جاتی ہیں، بلکہ اس لیے زوال آشنا ہوتی ہیں کہ وہ نئے چیلنجوں کا تخلیقی جواب دینے میں ناکام رہتی ہیں‘‘۔
عثمانی سلطنت نے ثابت کیا ہے کہ بقا کا انحصار ادارہ جاتی لچک پر ہے۔ اس کا عروج سرحدی یک جہتی، مذہبی جواز اور انتظامی جدت کا مجموعہ تھا، خاص طور پر متنوع آبادیوں کی لچکدار شمولیت اور ایک پیشہ ور بیوروکریسی کے ذریعے ممکن ہوا۔ صدیوں تک عثمانیوں نے بدلتی ہوئی فوجی، جغرافیائی اور سیاسی حقیقتوں کے ساتھ کامیابی سے مطابقت پیدا کی۔ لیکن ان کا زوال تب شروع ہوا جب ادارے جمود کا شکار ہو گئے، اصلاحات نے مقتدر اشرافیہ کو خطرے میں ڈال دیا اور اقتصادی طاقت بحرِ اوقیانوس کی دنیا کی طرف منتقل ہو گئی۔ ٹائن بی کا یہ انتباہ کہ ’’تہذیبیں قتل ہونے کے بجائے خودکشی سے مرتی ہیں‘‘ عثمانی سلطنت اس کی ایک درست مثال ہے۔
پال کینیڈی کا برطانوی سلطنت کا تجزیہ معاشی ڈھانچے کو سامنے لاتا ہے۔ برطانیہ بحری غلبے، صنعتی پیداوار اور نسبتاً جامع سیاسی اداروں کے ذریعے اُبھرا، جنھوں نے سرمائے اور جدت کو متحرک کیا۔ برطانوی سلطنت کا انحصار قبضے سے زیادہ تجارت، مالیات اور سمندری کنٹرول پر تھا۔ تاہم، اس کامیابی نے عالمی وعدوں کو جنم دیا، جو برطانیہ کی معاشی استطاعت سے بڑھ گئے۔ دوعالمی جنگوں اور عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی لاگت نے اس کی مالی بنیاد اور ساکھ کو ختم کر دیا۔ جیساکہ پال کینیڈی نے خبردار کیا تھا: ’’فوجی طاقت معاشی بنیادوں کے ساتھ ابھرتی اور گرتی ہے۔ برطانیہ کا زوال اہلیت یا ہمت کی ناکامی نہیں تھی، بلکہ حساب کتاب (Arithmetic) کی ناکامی تھی‘‘۔
ایرک ہوبسباوم اس دلیل کو مزید گہرا کرتے ہوئے شاہی عروج و زوال کو سرمایہ داری کے طویل چکروں کے اندر سمو دیتے ہیں: سلطنتیں محض سیاسی اکائیاں نہیں ہوتیں، وہ مخصوص معاشی نظاموں کا اظہار ہوتی ہیں۔ انیسویں صدی کی یورپی سلطنتیں صنعتی سرمایہ داری اور شاہی طاقت کے ذریعے فعال عالمی منڈیوں سے لازم و ملزوم تھیں۔ ان کا خاتمہ محض اخلاقی زوال کے سبب نہیں ہوا، بلکہ اس معاشی نظام کی تھکن کی وجہ سے ہوا جس نے انھیں سہارا دیا تھا۔ ہوبسباوم کے نزدیک: ’’بیسویں صدی نے ایک ساختیاتی دراڑ پیدا کی۔ عوامی سیاست، قوم پرستی اور صنعتی جنگ نے سلطنت کو سیاسی طور پر غیر قانونی اور معاشی طور پر ناقابلِ برداشت بنا دیا۔ عالمی جنگیں کوئی اتفاقی واقعات نہیں بلکہ نظامی بحران کی علامات تھیں‘‘۔
یہ فریم ورک آج کی اندھی، بہری اور منہ زور امریکی طاقت کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکا سابقہ سلطنتوں سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ اس کی رسمی کالونیاں نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کی غیر رسمی سلطنت، ڈالر کی بالادستی، فوجی اڈوں، عالمی اداروں اور ثقافتی تسلط پر مبنی ہے، جو کسی نوآبادی سے کم نہیں۔ یہ امریکی برتری ایک غیر معمولی سنگم سے پیدا ہوئی: براعظمی پیمانے پر وسائل، صنعتی بالادستی، دوسری عالمی جنگ میں فتح اور حریف طاقتوں کی تباہی۔ ۱۹۴۵ء کے بعد دُنیا کا نظم و ضبط اس بات کی عکاسی کرتا ہے جسے ہوبسباوم نے سرمایہ داری کا ’سنہرا دور‘ کہا تھا، جب امریکی پیداواری صلاحیت، سماجی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی قیادت ایک ساتھ جمع تھے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے سے اس معاشی ماڈل کے کٹاؤ نے صنعتی زوال، مالیاتی استحصال (Financialisation) اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے ذریعے امریکی بالادستی کی مادی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے، اُمڈتا ہوا امریکی زوال بنیادی طور پر اقدار یا قیادت کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ تیزی سے نازک ہوتی ہوئی معاشی بنیاد پر شاہانہ وعدوں کو برقرار رکھنے کا نتیجہ ہے۔
جہاں ہوبسباوم نے تاریخی ڈھانچا فراہم کیا ہے، وہیں جان جوزف میئرشہائیمر نے طاقت کی سیاست کی سفاکانہ منطق فراہم کی ہے۔ اپنی کتابThe Treagedy of Great Power Politics میں میئرشہائیمر کا استدلال ہے کہ بین الاقوامی سیاست انارکی کے تابع ہے۔ کسی اعلیٰ اتھارٹی کی عدم موجودگی میں، بڑی طاقتیں بقا کو یقینی بنانے کے لیے غلبہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ تنازعہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ طاقت کی منتقلی کا ایک ساختیاتی نتیجہ ہے۔ چیلنجوں کا عروج لازمی طور پر غالب طاقت میں خوف پیدا کرتا ہے، قطع نظر یہ کہ اس کے ارادے کیا ہوں۔ ادارے اور اصول رویے میں اعتدال تو لا سکتے ہیں، لیکن وہ نظام کے بنیادی تضادات کو ختم نہیں کر سکتے۔
یہ حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر تھوسیڈائڈز (Thucydides) کی قدیم بصیرت کو مزید واضح کرتا ہے۔ چین کا عروج، ایتھنز یا جرمنی کے عروج کی طرح، حکمران طاقت میں خوف پیدا کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ چیلنج منفرد طور پر جارحانہ ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں موجودہ عالمی نظامِ مراتب (Hierarchy) کے لیے خطرہ ہیں۔ چین کو روکنے کی امریکی کوششیں اور امریکی طاقت کو مشرقی ایشیا سے نکالنے کی چینی کوششیں محض پالیسی انتخاب نہیں ہیں، بلکہ یہ ساختیاتی ضرورتیںاور تقاضے ہیں۔
میئرشہائیمر ایک مکرر شاہی بیماری کو بھی بے نقاب کرتے ہیں: زوال پذیر طاقتیں اکثر نتائج کو کنٹرول کرنے کی اپنی صلاحیت کا غلط اندازہ لگاتی ہیں، چیلنجوں کے عزم کو کم سمجھتی ہیں، اور ایسی حکمتِ عملی اپناتی ہیں جو ان کے خلاف توازن پیدا کرنے کے عمل کو تیز کردیتی ہیں۔ اس لحاظ سے’حد سے تجاوز‘ نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی (Strategic) بھی ہوتا ہے۔
جب اس مشترکہ تاریخی اور حقیقت پسندانہ عینک سے دیکھا جائے، تو امریکی سلطنت کے لیے یہ آثار فکر انگیز ہیں۔ ابنِ خلدون اور فوکویاما کمزور ہوتی ہوئی اندرونی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی لچک کو نوٹ کریں گے، گبن بے پناہ بڑائی کے خطرات کو پہچانے گا، پال کینیڈی حد سے بڑھے ہوئے وعدوں کی نشاندہی کرے گا، ہوبسباوم مٹتی ہوئی معاشی بنیادوں پر زور دیں گے، اور میئرشہائیمر خبردار کریں گے کہ طاقت کی منتقلی فطری طور پر خطرناک ہوتی ہے۔ تاہم، برطانیہ کی طرح، ریاستہائے متحدہ امریکا کے اچانک گرنے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ وہ ایسی دنیا میں اپنی بلامقابلہ برتری برقرار رکھ سکے، جہاں معاشی غلبہ اور تزویراتی عزم مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
دوسری طرف، چین کا عروج ان بہت سی خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جو ابتدائی شاہی عروج سے وابستہ ہیں: معاشی تحرک، تکنیکی ترقی، مضبوط ریاستی صلاحیت، اور قومی استقلال و ترقیاتی کامیابی پر مبنی ’عصبیت‘ کی جدید شکل۔ تاہم، تاریخ احتیاط کا مشورہ دیتی ہے۔ جیسے جیسے چین امیر اور پیچیدہ ہوتا جائے گا، اسے عدم مساوات، داخلی سطح پر آبادیاتی دباؤ، ادارہ جاتی جمود اور حد سے تجاوز کے انھی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جنھوں نے تمام بڑی طاقتوں کے وجود کو جھنجھوڑا ہے۔
عالمی شاہی تاریخ کا دائمی سبق یہ نہیں ہے کہ زوال ناگزیر ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت اپنے اندر اپنے ہی کٹاؤ کے بیج رکھتی ہے۔ سلطنتیں یک جہتی، لچک اور جامع اداروں کے ذریعے ابھرتی ہیں، وہ تب زوال پذیر ہوتی ہیں، جب کامیابی اتحاد کو کھا جاتی ہے، ذمہ داریاں وسائل سے بڑھ جاتی ہیں، اشرافیہ اصلاحات کے خلاف مزاحمت کرتی ہے اور معاشرے نئی حقیقتوں کا تخلیقی جواب دینے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ جیسا کہ ابنِ خلدون، گبن، ٹائن بی ،ہوبسباوم اور میئرشہائیمر ہمیں مختلف انداز میں یاد دلاتے ہیں کہ سلطنتیں تاریخ سے فرار حاصل نہیں کرتیں ، وہ اس کے تابع ہوتی ہیں۔ المیہ یہ نہیں ہے کہ طاقت ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اکثر اپنی بنیادوں کی حدود کو تب پہچانتی ہیں، جب تبدیلی مشکل اور تنازعہ یقینی ہو جاتا ہے۔(ترجمہ: س م خ)
اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی تھا اور تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا رہا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ نیوزایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء کے پہلے پندرہ دنوں میں ایران کے ۱۲۷۰، لبنان کے ۴۸۸ اور غزہ کے ۳۶ فلسطینی اپنی جانیں ہار گئے۔ موت کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً ۱۰ لاکھ لبنانی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
جنوبی غربِ اُردن ہی کے علاقے اُم الخیر میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملہ کرکے مرغیوں کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے ہزاروں مرغیاں اور چوزے جل کر مرگئے۔
اسی دوران عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس بم استعمال کیے گئے۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو جلا دیتا ہے اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس کے بم استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ،عرب لیگ کی خاموشی افسوس ناک ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس کے خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی ہے۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔ مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا: ’نیتن یاہو کو جیل بھیجو‘۔پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرین کی بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کھودیں جارہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ جب ہرخبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدہم کیوں تھی؟
۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کی صبح ایران پر بلااشتعال اسرائیلی امریکی حملے کے نتیجے میں رہبر اسلامی جمہوریہ ایران علی خامنہ ای کے اہل خانہ اور ۱۸۰ طالبات کی شہادت پر جہاں دُنیا بھر میں احتجاج ہوا، وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی شدید احتجاج ہوا۔ کیونکہ یہ حقیقت سبھی کے سامنے بے نقاب ہے کہ انڈیا، اسرائیل کا طرف دار، حلیف اور سہولت کار ہے اور اس حملے سے دو روز قبل نریندر مودی نے اسرائیل میں صہیونی نسل پرست حکومت کے ساتھ گہرے تعاون کا اعلان اور ہرسطح پر تعاون کا وعدہ کیا تھا۔
اس پس منظر میں جموں و کشمیر میں احتجاج کی یہ لہر محض غم اور اشتعال کے ایک لمحے سے کہیں زیادہ گہری اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درحقیقت اس مظلوم خطے کے نفسیاتی منظر نامے میں ایک خاموش مگر واضح تبدیلی کا پیغام ہے۔ ۲۰۱۹ء کے بعد سے، مقبوضہ کشمیر کی روزمرہ زندگی پر خوف کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی تھی۔ وہ سڑکیں جو کبھی جدوجہدِ آزادی کے اظہار سے گونجتی تھیں، اب نگرانی، گرفتاریوں، قتل و غارت، تشدد کے زیرِ اثر ایک بے چین خاموشی میں ڈوب گئیں کہ اختلافِ رائے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ تاہم، اب جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ فضا ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف دبا دی گئی تھی۔
اس احتجاج میں جو بات سب سے نمایاں دکھائی دی وہ محض اس کی وسعت نہیں، بلکہ اس کی نوعیت ہے۔ اگرچہ فوری اشتعال کشمیر سے دور الم ناک واقعات سے جڑا ہوا ہے، لیکن بین الاقوامی معاملات سے جڑے اس زمینی ردِعمل نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو کہیں زیادہ مقامی اور پائے دار ہے۔ لوگ ایک اکائی کے طور پر باہر نکلے اور ان مسلکی تقسیموں سے بالاتر ہو گئے جو اکثر ان کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اتحاد بذاتِ خود ایک وزن رکھتا ہے۔ یہ اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو نچلی سطح پر برقرار رہا اور دوبارہ ظاہر ہونے کے لیے کسی موقعے کا منتظر تھا۔
اس میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر سری نگر کے لال چوک میں ہجوم کا نمودار ہونا تھا۔ گذشتہ سات برس سے انڈیا اس جگہ کو ہندو توا غنڈوں اور مقامی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنی فتح کی علامت کے طور پر استعمال کرتا آرہا تھا۔ عام لوگوں کا اس جگہ اچانک دوبارہ پوری قوت سے ظاہر ہونا دراصل یادداشت، جذبات اور عوامی آواز کی بحالی کا مظاہرہ تھا۔ جب ایسی جگہ دوبارہ زندہ ہوتی ہے، تو وہ ایک ایسا پیغام دیتی ہے جسے آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔
اس لمحے کو محض 'احتجاج ' قرار دینا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ یہ دراصل جمود توڑنے کا پیغام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ خوف جب ذہنوں میں جڑ پکڑ لے تو وہ راتوں رات ختم نہیں ہوتا۔ لیکن جب لوگ اس کے باوجود قدم اٹھانا شروع کر دیں، تو یہ پہلے آہستہ آہستہ اور پھر اچانک مٹ سکتا ہے۔ یہی چیز اس لمحے کو اہم بناتی ہے۔ یہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاموش کرانے کے لیے بنائے گئے انڈین جابرانہ ریاستی ڈھانچے، کشمیریوں کے بنیادی عزم کو بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی تنظیم سازی یا کسی ایک بیانیے کی رہنمائی کے بغیر پروان چڑھا ہے۔ یہ جذبہ پہلے سے موجود تھا، جو عوام کے تجربات اور تلخ یادوں میں بسا ہوا تھا۔ جو چیز بدلی، وہ اس کا اُبھر کر سامنے آنا تھا، اور جب ایسا جذبہ نظر آنے لگے، تو یہ ان لوگوں کے لیے ناقابلِ انکار چیلنج بن جاتا جو اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سب کچھ بدل چکا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ کشمیر ایک بے رحم فوجی قبضے تلے سانس لے رہا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، اس طرح کے لمحات اپنے فوری سیاق و سباق سے کہیں آگے تک گونج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کی اجتماعی قوت اور اخلاقی و اصولی موقف کی یاد دلاتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے، وہ اس تصور کو بدل دیتے ہیں کہ کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔
اس لحاظ سے، یہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کنٹرول اور خاموشی کی تہوں کے نیچے، کشمیر کے بنیادی سیاسی اور جذباتی دھارے پوری طرح زندہ ہیں۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیری صحافی عرفان معراج کی رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا ہے اور۲۰۲۰ء سے حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائی کا بھی مطالبہ دُہرایا ہے۔
’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی قیادت میں ۳۴ سول سوسائٹی تنظیموں کے ایک اتحاد بشمول ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘، ’ہیومن رائٹس واچ‘، ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘، ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ ان وولنٹری ڈس ایپیئرنسز‘ اور دیگر نے ۱۹مارچ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا: عرفان معراج کو ۲۰مارچ ۲۰۲۳ء کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انڈین پینل کوڈ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں لیا تھا۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی اور میگزین ایڈیٹر عرفان معراج نے کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل پر بڑے پیمانے پہ لکھا ہے اور انڈین ایکسپریس، الجزیرہ، ساؤتھ ایشین اور ڈوئچے ویلے سے قلمی تعاون کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے نزدیک دونوں کے خلاف الزامات ’سیاسی طور پر بنائے گئے‘ اور ’من گھڑت‘ ہیں۔ہماری تنظیمیں بھارتی حکام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے ظالمانہ قوانین کو ختم کریں اور جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے لیے ایک سازگار ماحول قائم کریں تاکہ وہ آزادانہ اور خودمختار طور پر کام کر سکیں‘‘۔
مزید یہ کہا ہے:’’بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ انڈین حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کی پاسداری کرے۔ عرفان معراج، خرم پرویز اور دیگر تمام حراست میں لیے گئے انسانی حقوق سے محروم کارکنوں کو رہا کرے‘‘۔
انڈیا کے معروف ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک دی وائر نے بہت پہلے رپورٹ کیا تھا کہ عرفان معراج کو ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے دوران پہلے این آئی اے آفس بلایا گیا اور پھر حراست میں لے لیا گیا، جیسا کہ ان کے خاندان نے بتایا۔
ان کے والد عرفان معراج الدین بھٹ نے ۲۰۲۳ء میں گرفتاری کے ایک دن بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا: ’’میرا بیٹا ایک کہانی پر رپورٹنگ کر رہا تھا جب انویسٹی گیٹرز نے ان کے موبائل پر کال کی اور کہا کہ صرف پانچ منٹ کے لیے آفس آ جائو۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے گرفتار کرکے دہلی بھیج دیا گیا ہے‘‘۔
گرفتاری پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولور، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پریس کلب آف انڈیا اور دیگر حقوق اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے اس لاقانونیت پر شدید تنقید کی تھی۔ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے کے استعمال پر بار بار تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ آزاد میڈیا کی رپورٹنگ میں کشمیر میں صحافیوں کو پولیس کی طرف سے طلب کرکے، پوچھ گچھ کرنے اور ہرایک سے ’اچھے رویے‘ کے پیشگی ضمانت ناموں پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرنے کے متعدد واقعات دستاویزی طور پر سامنے آئے ہیں۔
’اسکرول ڈاٹ‘ کے مطابق: چار صحافیوں کو سری نگر میں پولیس اسٹیشنوں پر بلاکر دھمکایا گیا۔ نیوز لانڈری نے رپورٹ کیا ہے: گذشتہ سال میں تقریباً ۲۵کشمیری صحافیوں کو بار بار پوچھ گچھ کے دوران ہراساں کیا گیا۔
دی وائر سے وابستہ صحافی جہانگیر علی کا فون پولیس نے ضبط کرلیا۔ اس مقصد کے لیےنہ تو کوئی ایف آئی آر کاٹی گئی، نہ وارنٹ جاری ہوئے اور نہ کسی عدالت کا حکم سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات اور الیکٹرانک آلات رکھنے کے عالمی تسلیم شدہ اصولوں کے برعکس یہ اقدام کیا گیا۔
۱۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فری لانسرز اور مقامی اخبارنویس جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔دوسری طرف لوگوں کے ذاتی فون اچانک اُچک کر انتظامیہ تفتیش شروع کر دیتی ہے۔ عوامی سطح پر اس چیز نے سخت اضطراب پیدا کردیا ہے۔
انڈیا اور جموں و کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھی خواتین کے لیے سزا کا حکم نامہ فوجداری قانون،اصولِ قانون (جیورس پروڈنس)،اور آئینی آزادیوں کے سنگم پر ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔۲۴مارچ ۲۰۲۶ء کو دہلی کی ایک عدالت نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی صاحبہ دُختر مرحوم ڈاکٹر سیّد شہاب الدین یاسین اندرابی (عمر۶۴سال) نے ہوم اکنامکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے عربی پاس کیا ہے۔ ناہیدہ نسرین صاحبہ دُختر مرحوم شیخ نورالدین (عمر ۵۸ سال) نے ایم ایس سی زوالوجی اور ایم اے اسلامیات کیا ہے، جب کہ فہمیدہ صوفی دُختر مرحوم محمد صدیق صوفی (عمر ۴۵ سال) بی ایس سی پاس ہیں۔
جج چندر جیت سنگھ کی عدالت کے جاری کردہ فیصلے کا گہرا مطالعہ، بالخصوص پیرا گراف ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۶ ایک ایسی منطق کو ظاہر کرتے ہیں جو مسلّمہ قانونی اصولوں سے ہٹ کر غیر مذہبی، عصبیتی اور موضوعی (subjective) میدان میں داخل نظر آتی ہے۔
اس فیصلے کے مرکزی تصور میں دو شدید تر عوامل (Aggravating Factors) موجود ہیں: پہلا، اقامتِ دین‘ کی دعوت و تبلیغ اور دوسرا، ملزمان کا اپنی ان سرگرمیوں پر ندامت کا فقدان۔ ان دو عوامل پر فیصلے کی بنیاد استوار کرنا باریک بین جائزے کا متقاضی ہے۔
پہلے بات کرتے ہیں ’اقامتِ دین‘ پر۔ عدالت یہ درج کرتی ہے کہ سزا یافتہ خواتین سے وابستہ ’تنظیم دخترانِ ملت‘ (DeM) ’اقامت ِ دین کی علَم بردار‘ تحریک ہے۔ تاہم، اس دعوے سے قطع نظر، فیصلے میں اس تصور کی نہ تو کوئی بامعنی تعریف کی گئی ہے اور نہ اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی فکری تعبیر اور تاریخ سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا گیا، نہ مسلّمہ تشریحات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ عقیدے اور غیر قانونی طرزِ عمل کے درمیان فرق کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔
اس کے بجائے، عدالتی استدلال ایک متعصبانہ بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے۔ عدالت نے خود اس تصور کی گہرائی میں اترنے کے بجائے، قاضی عبدالودود (پی ایچ ڈی اسکالر) اور ڈاکٹر محمد معاویہ خان (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان کیمپس، پاکستان) کے ایک مقالے بعنوان ’اقامت ِ دین کا مفہوم اور عصری عہد میں اس کا نفاذ‘ پر تکیہ کیا ہے جو ’الحیات ریسرچ جنرل‘ ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔اس غیرمعیاری ماخذ پر انحصار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔
عدالتوں سے، خاص طور پر حساس مذہبی یا نظریاتی تصورات سے نمٹتے وقت، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستند اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ علمی کاموں سے استفادہ کریں۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد جیسے بلندپایہ مفکرین کی کتب میں اقامت ِ دین پر علمی ذخیرہ موجود ہے۔
یہ تحریریں اس تصور کو ایک وسیع تر اخلاقی، سماجی اور ریاستی و قانونی فریم ورک کے اندر پیش کرتی ہیں، جن کی بنیاد پر اکثر اخلاقی اصلاح، فلاحِ عامہ اور روحانی نظم و ضبط پر مبنی ایک ’طرزِ زندگی‘ کو پیش اور بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہ فیصلہ اس بھرپور فکری روایت کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، یوں لگتا ہے کہ ایک نسبتاً غیرمعروف اور نہایت ثانوی درجے کے تعلیمی مقالے کو آن لائن سرچ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ سابقہ انڈین عدالتی نظائر کے ساتھ اس کا تضاد نمایاں ہے۔ ۱۹۹۵ء کے ’ہندوتوا‘ کے بارے فیصلے میں، چیف جسٹس جے ایس ورما کے ماتحت سپریم کورٹ نے ’ہندوتوا‘ کو ایک ’طرزِ زندگی‘ قرار دیا تھا، جس کے لیے مولانا وحید الدین خان جیسی معروف شخصیات سمیت تشریحات کے ایک وسیع حلقے سے استفادہ کیا گیا تھا، نہ کہ خود کو کسی محدود اور غیرمعروف مآخذ تک محدود رکھا گیا۔
تاہم، یہاں پر ’اقامت ِ دین‘ کو ایک خاص (مجرمانہ) نیت کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، بغیر یہ دیکھے کہ کیا واقعی یہ تصور بذاتِ خود لازمی طور پر غیر قانونی ہے؟ اس طرح کے تجزیے کی عدم موجودگی میں ایک وسیع مذہبی تصور کو محض استغاثہ کے بیانیے میں ضم کر دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ نکتہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب اسے فیصلے کے پیرا گراف ۱۰ تا ۱۲ میں استغاثہ کے ان دعوؤں کے ساتھ پڑھا جائے، جن میں پاکستان سے سازش، نظریاتی حرکیات اور غیر قانونی مقاصد کی تشہیر کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن یہ محض دعوے ہیں، جن کے لیے غلط نیت کا ثبوت اور ان کے واضح نتائج کا پیش کیا جانا ضروری ہے۔ انھیں محض ایک موہوم مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں باور کیا جاسکتا، جو ابھی تک غیر واضح اور متنازع ہے۔
خواتین نے دفاع کرتے ہوئے اپنی تحریری گذارشات میں اس خلا کو بڑی درستگی کے ساتھ اجاگر کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ استغاثہ مبینہ افعال اور کسی حقیقی نقصان کے درمیان کوئی ٹھوس نتیجہ یا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی نمایاں ضرر اور نقصان کی عدم موجودگی سزا کے تعین میں ایک اہم تخفیفی عنصر (Mitigating Factor) ہونی چاہیے۔
تاہم، فیصلے میں اصولی، قانونی اور منطقی بنیاد کے بجائے نظریاتی فریم ورک کو وزن دیا گیا ہے۔اس عدالتی استدلال کا دوسرا ستون کھڑا کیا گیا ہے ’ندامت کا فقدان‘ ۔یہ دلیل مساوی طور پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
’انڈین تعزیری قانون‘ واضح ہے کہ سزا متناسب، انفرادی حالات کے مطابق اور معروضی عوامل پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سزا سناتے وقت عمر، صحت، پس منظر اور جرم کے اصل نتائج، جیسے تخفیفی حالات کو مدنظر رکھیں۔
خواتین نے اپنی دفاعی گذارشات میں اس بات کو دُہرایا کہ سزا دینا کوئی مشینی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں انصاف اور تناسب کا عکس نظر آنا چاہیے۔
اس کے باوجود، فیصلے میں برملا ندامت کی عدم موجودگی کو سزا میں اضافے کے لیے ایک فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا ہے۔یہ سوچ اور فیصلہ کئی لحاظ سے تشویش ناک فکر کی نشان دہی کرتا ہے۔ ندامت فطری طور پر ایک موضوعی امر (Subjective Factor) ہے نہ کہ قانونی استدلال۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جسے آسانی سے ناپا یا پرکھا نہیں جاسکتا۔ مگر اسے ایک مرکزی حیثیت دینا ملزم کو اس بات کی سزا دینے کے مترادف ہے جس پر وہ یقین رکھتا ہے یا جس کا اظہار نہ کرنے کا وہ انتخاب کرتا ہے، بجائے اس کے جو قانوناً ثابت ہو چکا ہے۔
یہ خود کو مجرم ٹھیرانے کے خلاف حق (Right Against Self-incrimination) اور اس وسیع تر اصول پر بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے فیصلے کا انحصار شواہد پر ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس کردہ ظن و تخمین پر۔
فیصلے کا ایک اور تشویشناک پہلو کشمیر کی نسبت سے ملزمان کے سیاسی موقف کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ استغاثہ نے مسئلہ کشمیر پر ان کے بیان اور نظریاتی کمٹمنٹ کو انڈیا کی خودمختاری کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم، فیصلے کے پیراگراف ۱۶ کے مطابق زیرحراست خواتین کی سیاسی رائے اور پُرتشدد طرزِ عمل کے درمیان تعلق متعین نہیں کیا جاسکا۔ وکلائے دفاع نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان کی سرگرمیاں نظریاتی اظہار اور ایک دیرینہ قومی سیاسی متنازع مسئلے پر تبصرے تک محدود تھیں، نہ کہ براہِ راست پُرتشدد کارروائیوں سے منسوب۔
جمہوری نظامِ عدل میں، کسی سیاسی نظریے کو رکھنا یا اس کا اظہار کرنا، —خواہ وہ ریاست کے سرکاری موقف کو چیلنج ہی کیوں نہ کرتا ہو، —بذاتِ خود مجرمانہ فعل نہیں بن سکتا، جب تک کہ اس کا تعلق واضح طور پر اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اقدام سے نہ جڑا ہو۔
کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم اسے تاریخی اور سفارتی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کشمیر کو عشروں سے عالمی سطح پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تصفیہ طلب مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں، بالخصوص قرارداد نمبر ۴۷، اس مسئلے کے سیاسی حل اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
انڈین قیادت کا اپنا ریکارڈ بھی اسی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے لیڈر اور پہلے انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے وعدوں سے لے کر، بی جے پی سے وابستہ انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کے فلسفے تک، اور ۹جولائی ۲۰۱۵ء کے ’اوفا اعلامیے‘ (Ufa Declaration) تک، —جہاں انڈیا اور پاکستان نے تمام باہمی حل طلب مسائل پر بات چیت کے عزم کا اعلان کیا، —یہ سب اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بھی جب آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کو حاصل کرنے کی بات کرتی ہے، تو وہ بالواسطہ یہ بات ہی تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ جغرافیائی اور سیاسی حدود ابھی حتمی نہیں ہیں اور ایک باہم تنازع موجود ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست خود اسے ایک حل طلب مسئلہ تسلیم کرتی ہے، تو کسی شہری یا گروہ کی جانب سے اسی مسئلے پر ایک الگ سیاسی یا نظریاتی موقف رکھنا ’مجرمانہ سازش‘ کیسے بن سکتا ہے؟ جمہوری نظامِ عدل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی نظریہ تشدد پر نہیں اکساتا یا اسے بزورِ شمشیر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، محض اس سوچ یا نظریے کو رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور نہ اس کو ’ندامت کے فقدان‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔
کشمیر کو حل طلب مسئلہ ماننے اور اقامت دین کے فلسفہ پر اعتقاد رکھنے سے بھلا کیسے کوئی مجرم بن سکتا ہے؟
اقامت ِ دین کے تصور کو مجرمانہ رنگ دینا بھی قانونی تضادات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف انڈیا میں ہندو راشٹرا یا ہندو دیش بنانے کی مہمات کو بعض اوقات حکومتی سرپرستی یا آشیر واد حاصل ہوتا ہے اور اسے ایک ’تہذیبی حق‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اقامتِ دین جیسے مذہبی و اخلاقی تصور کو —جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی اور اخلاقی اصلاح کا نام ہے، اسے کیسے انڈین —ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
قانون کی نظر میں یہ دوہرا معیار، عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ’ہندوتوا‘ کو ایک طرزِ زندگی (Way of Life) کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تو اقامت ِ دین کو، جو کہ اپنی اصل میں روحانی بالیدگی اور سماجی بہبود کا داعی ہے، محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مجرمانہ نیت سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ جب تک استغاثہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس نظریے کے تحت براہِ راست کسی پُرتشدد کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، اسے سزا کی بنیاد بنانا دراصل ’فکری آزادی‘ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ کسی سیاسی تنازعے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر رائے رکھنا ’اختلافِ رائے‘ (Dissent) تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے ’غداری‘ یا ’دہشت گردی‘ سے وابستہ کرنا آئینی حقوق کی روح کے خلاف ہے۔
دفاعی گذارشات میں کئی تخفیفی عوامل ریکارڈ پر لائے گئے: سزا یافتہ افراد کی ڈھلتی عمر، ان کا تعلیمی پس منظر، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور یہ حقیقت کہ وہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال قید کاٹ چکی ہیں۔ یہ کوئی معمولی انحرافِ عدل و اخلاق کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ مذکورہ عوامل اس اصولِ تناسب (Principle of Proportionality) کی روح ہیں جو جدید نظامِ سزا کی بنیاد ہے۔
پھر کسی واضح نقصان کا ثبوت نہ ہونے کا مسئلہ بھی اس میں موجود ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ریکارڈ سے بھی مبینہ افعال اور کسی حقیقی بدامنی یا تشدد کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ فوجداری قانون میں، خاص طور پر سنگین جرائم میں، ایسا تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بنیادی اور تشویش ناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا کوئی عدالت ایک پیچیدہ مذہبی تصور کی تشریح کے لیے کسی محدود اور گمنام علمی مآخذ پر بھروسا کر سکتی ہے؟ کیا اقامتِ دین جیسے وسیع مذہبی نظریے کو اس کے مسلّمہ معانی پر غور کیے بغیر مجرمانہ نیت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ اور کیا ’ندامت کی عدم موجودگی‘ عمر، صحت اور واضح نقصان کی کمی جیسے معروضی تخفیفی عوامل پر بھاری پڑ سکتی ہے؟
ایک آئینی جمہوریت میں، عدالتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھیں۔ لیکن جب عدالتی استدلال عقیدے اور جرم، یا ثبوت اور تشریح کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتا ہے، تو وہ توازن خطرے میں پڑجاتا ہے۔
اس فیصلے سے پیدا ہونے والے خدشات اور مابعد اثرات صرف ایک کیس تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اس بات کے مرکزی نکتے سے بحث کرتے ہیں کہ عدالتیں نظریات کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟ ملزمان کی نیت کا اندازہ کیسے لگاتی ہیں؟ اور انصاف و تناسب کے اصولوں کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں؟ اور تعصب اور عدل شکنی کی راہ پر چلتے چلتے عدل کو قتل کرنے کی آلۂ کار بن کر رہ جاتی ہیں؟
میری والدہ، سیّدہ آسیہ اندرابی کو تین بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جو درحقیقت موت کی سزا کے مترادف ہے۔ یہ سزا ان دفعات کے تحت دی گئی ہے، جنھیں انڈیا کے نافذ کردہ سیاہ ترین قوانین (UAPA) میں شمار کیا جاتا ہے (یہ قانون کشمیر میں عوامی رائے کچلنے کے لیے بنایا گیا ہے)۔ کشمیر میں یہ پہلی مثال ہے کہ تحریکِ خود ارادیت میں شمولیت کی پاداش میں کسی کشمیری خاتون کو عمرقید کی سزا دی گئی ہے۔
میری والدہ کے ساتھ ان کی دو ساتھیوں، ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ کو بھی تیس تیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان تینوں کو۲۰۱۸ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور یہ مقدمہ آٹھ سال تک جاری رہا ہے۔ میری والدہ نے اپنی زندگی کی ۱۵ سال سے زائد مدت مختلف بھارتی جیلوں میں گزاری ہے۔ جس میں سے زیادہ تر وقت ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ (PSA) کے تحت گزارا گیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ میں اس کرب سے گزر رہا ہوں۔ دو عشرے قبل، اسی طرح کے ایک کمرۂ عدالت میں، ایک چھوٹے بچے کی حیثیت سے میں نے اپنے والد، ڈاکٹر قاسم فکتو کے خلاف عمرقید کی سزا کا حکم سنا تھا (وہ ۳۳ برس سے مسلسل قید میں ہیں)۔ انھیں ایک جھوٹے مقدمے میں الجھایا گیا، لیکن حقیقت میں یہ سزا تحریک حقِ خود ارادیت میں ان کی شمولیت کی وجہ سے تھی۔ میرے والد، جو اطالوی سوشلسٹ دانشور گرامچی (Gramsci)کے الفاظ میں ایک ’نامیاتی دانشور‘ (Organic Intellectual) ہیں، اب تک ۳۳سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار چکے ہیں۔ انھوں نے جیل کی کوٹھری سے۲۰ سے زائد کتابیں لکھیں اور وہیں سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
میرے والدین اب اپنے گھر، اپنے بچوں اور ایک دوسرے سے سیکڑوں کلومیٹر دور دوالگ الگ جیلوں میں قید ہیں۔ میری والدہ کے خلاف سزا کا حکم نامہ روایتی عدالتی لفاظی اور ان مبینہ جرائم کی قانونی دفعات سے بھرا ہوا ہے، جو ان تینوں خواتین پر عائد کی گئی ہیں۔ یہ کیسی خون کے آنسو رُلانے والی بات ہے کہ نئی دہلی حکومت کے پاس کشمیری زندگیوں کے لاتعداد برس چھین لینے کا اختیار ہے، جیسے ان کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ وہ کیسے ہمارے گھر اُجاڑ دیتے ہیں، ہمارے خاندانوں کو بکھیر دیتے ہیں، اور پھر خود اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو بھی لیتے ہیں؟
ہمارے گھر میں والد صاحب کے لیے ایک کمرہ ہے، ایک ایسا گھر کہ جس میں وہ ایک دن بھی نہیں رہے۔ عشروں پر پھیلی ان کی قید کے بعد، اب ہمارے گھر میں ایک لائبریری موجود ہے، جو ہماری زندگیوں میں ان کی موجودگی اور غیر موجودگی، دونوں کی علامت ہے۔
اردو میں ’شریکِ حیات‘ کا مطلب ہے کہ جس کے ساتھ زندگی بانٹی اور گزاری جائے۔ میری والدہ نے اپنے ایمان اور اپنی ہمت کے ساتھ کہا کہ اب وہ صحیح معنوں میں میرے والد کی ’شریکِ حیات‘ بن گئی ہیں، کیونکہ اب وہ دونوں عمر قید کی زندگی ایک ساتھ گزار رہے ہیں۔
بھارت کس طرح سرگرمی (Activism) کو جرم قرار دیتا ہے؟
میری والدہ کو عمر قید کی سزا سنانا ان تمام زمروں کی فضولیات کو بے نقاب کرتا ہے، جس کے تحت کہا جاتا ہے: تشدد پسند، یا عدم تشدد پسند،جنگجو یا غیر جنگجو،عسکریت پسند یاسرگرم کارکن۔ یہ وہ تفریق ہے جسے لبرل دنیا بڑے اعتماد کے ساتھ وضع کرتی ہے، لیکن جب اسے نوآبادیاتی ریاستوں کے ظالمانہ نظام کے سامنے پرکھا جائے تو یہ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، اور سامنے خونخوار آنکھوں والا گدھ (Vulture)نظر آتا ہے۔
میری والدہ نے کبھی زندگی بھر ہتھیار نہیں اٹھایا۔ اس لیے عدالت نے انھیں جنگ اور عسکریت پسندی کی مالی معاونت کے الزامات سے بری کر دیا۔ مگر ان کے الفاظ، ان کی وابستگیوں اور ان کے نظریات کی پاداش میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
تشدد اور عدم تشدد کی وہ حدیں جن پر لبرل دنیا اصرار کرتی ہے، ایک نوآبادیاتی ریاست کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ مگر میری والدہ کو ملنے والی سزا کسی مسلح جنگجو سے کم نہیں، بلکہ برابر ہے۔ کیونکہ سزا کا ہدف مزاحمت کا طریقہ کار نہیں، بلکہ خود ’مزاحمت‘ ہے۔ یہ عشروں تک، عوامی سطح پر، برملا اور سچ کی بولنے سزا ہے۔ سزا کے حکم نامہ میں لکھا گیا ہے کہ میری والدہ کے ساتھ نرمی برتنا: ’’ایک ایسی روح میں نئی جان ڈالنے کے مترادف ہوگا جس کا مقصد انڈیا کے اٹوٹ انگ کی علیحدگی ہے‘‘۔
ان خواتین کے اسی پختہ یقین نے انڈین انتظامیہ کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔ انڈیا کے نزدیک میری والدہ، ان کی ساتھی، میرے والد اور سیکڑوں دیگر قیدی محض انسان نہیں، بلکہ وہ ’عبرت کے نشان‘ اور عام لوگوں کے لیے ’انتباہ‘ ہیں، جنھیں پوری کشمیری آبادی تک پہنچانے کی بھونڈی حرکتیں کی جارہی ہیں۔ پیغام واضح ہے: ’’اگر ہم۶۴ سالہ ایک بیمارخاتون کو تین بار عمر قید سنا سکتے ہیں، تو تمھیں کون بچائے گا؟‘‘
کنیائی دانشور نگوگی وا تھیونگو (م:۲۰۲۵ء)، جو خود ایک ایسی ریاست میں قید رہے، جس نے نوآبادیاتی طریقے سیکھ رکھے تھے، اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے۔ اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتابWrestling with the Devil: A Prison Memoirمیں انھوں نے لکھا کہ قید صرف سزا نہیں بلکہ ایک ڈرامائی تماشا ہوتی ہے۔ سیاسی قید کا کام ایک ’رسمی علامت‘ کے طور پر ہوتا ہے۔ ریاست قید سے صرف مزاحمتی وجود کو معاشرے سے ختم نہیں کرنا چاہتی، بلکہ وہ اسے اندر سے توڑنا چاہتی ہے اور پھر اس ٹوٹ پھوٹ کی چاروں طرف نمائش کرنا چاہتی ہے۔
اگر نوآبادیاتی ریاست ایسے لوگوں کو جیل میں اپنی جرأت کے برعکس معذرت اور معافیاں مانگتے ہوئے اور اپنے مقصد سے دست بردار ہوتے ہوئے لوگوں کے سامنے پیش کر سکے، تو حکمران سمجھتے ہیں کہ ہم نے طاقت کے ذریعے قید سے بڑھ کر حاصل کر لیا ہے کہ اس نے ’اعترافِ جرم‘ کر لیا، اور ماضی کے تمام جبر کو جواز فراہم کرکے مستقبل کے لیے بھی راستہ صاف کر دیا ہے۔ ٹوٹا ہوا قیدی پھر ایک ’’اصلاح یافتہ پیغام بر‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یا انسانی ملبے کے طور پر دکھایا جاتا ہے، تاکہ آنے والے انقلابی دیکھ لیں کہ کوئی بھی اتنا فولادی نہیں کہ یہ سب سہہ سکے۔
عدالت نے خواتین کے لیے سزا میں سختی کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان تینوں خواتین میں اپنے طرزِ عمل پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں ملتا۔ انھیں اپنی جدوجہد پر فخر ہے اور وہ دوبارہ یہی کریں گی۔ عدالت نے اس پختہ ارادے کو ان کے ’خطرناک‘ اور ’ناقابلِ اصلاح‘ ہونے کے ثبوت کے طور پر لیا۔ میری والدہ نہیں ٹوٹیں۔ وہ سبق جو ریاست سکھانا چاہتی تھی، وہ الٹا پڑ گیا۔ اسی لیے ریاست نے وہ آخری حربہ استعمال کیا، جو اس کے پاس تھا: ایک ہی زندگی میں تین بار عمر قید!
گھر میں اُگے ہوئے پودینے کی خوشبو میری والدہ کی خوشبو کی مانند ہے۔ مَیں آج بھی انھیں گھر میں پودینے کے پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں۔ ان کے ہاتھ ہر پتّے کی پرورش کرتے ہوئے نہایت نرم مگر پُرعزم ہوتے تھے۔ ریاست، میری والدہ کو ’موت کا فرشتہ‘ کہتی ہے، کیونکہ وہ اس عزم و ایمان سے مزاحمت کرتی ہیں، جو کبھی کمزور نہیں پڑتا۔ برسوں کی قید کے بعد بھی وہ کشمیر کی جدوجہد حق خود ارادیت پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ میں اپنی والدہ سے ان کی مکمل ہستی، ان کی انسانیت، ان کے جاہ و جلال اور ان کی شفقت کی وجہ سے محبت کرتا ہوں۔ وہ ظلم کے سامنے آہنی دیوار ہیں، مگر اپنے بچوں، اپنے خاندان، اپنے لوگوں اور ہاں، اپنے پودینے کے پودوں کے لیے بے حد مہربان ہستی ہیں۔ وہ انھیں پیار سے ’میرا پودینہ‘ کہا کرتی تھیں۔
کاش! میری امّی جلد اپنے گھر میں اپنے پودینے کے پودوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔ پودینے کی خوشبو سے رچی فضا میں اپنے ’پودینہ بچوں‘ سے پیار کرکے دل کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک دے سکیں۔(انگریزی سے ترجمہ: س م خ)
سوال : عورت کے محرم کے بغیر حج پر جانے کے بارے میں علمائے کرام کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ آپ براہِ کرم مختلف مذاہب کی تفصیل سے آگاہ فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کے نزدیک قابلِ ترجیح مسلک کون سا ہے؟
جواب : عورت کے بلامحرم حج کرنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔اس معاملے میں چار مسلک پائے جاتے ہیں جنھیں مختصراً یہاں بیان کیے دیتا ہوں:
۱- عورت کو کسی حال میں شوہر یا محرم کے بغیر حج نہ کرنا چاہیے۔ یہ مسلک ابراہیم نخعیؒ، طاؤسؒ، شعبیؒ اور حسن بصریؒ سے منقول ہے اور حنبلی مذہب کا یہی فتویٰ ہے۔
۲- اگر حج کا سفر تین شبانہ روز سے کم کا ہو تو عورت بلامحرم جاسکتی ہے، لیکن اگر تین دن یا اس سے زائد کا سفر ہو، تو شوہر یا محرم کے بغیر نہیں جاسکتی۔ امام ابوحنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ کا یہی مذہب ہے۔
۳- جو عورت شوہر یا محرم نہ رکھتی ہو وہ ایسے لوگوں کے ساتھ جاسکتی ہے جن کی اخلاقی حالت قابلِ اطمینان ہو۔ یہ ابن سیرینؒ، عطاءؒ، زہریؒ ، قتادہؒ اور اوزاعیؒ کا مسلک ہے اور امام مالک ؒ اور امام شافعیؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام شافعیؒ نے ’قابلِ اطمینان رفیقوں‘ کی مزید تشریح اس طرح کی ہے کہ اگر چند عورتیں بھروسے کے قابل ہوں اور وہ اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں، تو ایک بے شوہر اور بےمحرم عورت ان کے ساتھ جاسکتی ہے۔ البتہ صرف ایک عورت کے ساتھ اُسے نہ جانا چاہیے۔
۴- ان سب کے خلاف ابن حزمؒ ظاہری کا مسلک یہ ہے کہ بے محرم عورت کو تنہا ہی حج کے لیے جانا چاہیے۔ اگر وہ شوہر رکھتی ہو اور وہ اُسے نہ لے جائے تو شوہر گناہ گار ہوگا، مگر عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اُس کے بغیر حج کو چلی جائے۔
میں ان چاروں مسالک میں سے تیسرے مسلک کو ترجیح دیتا ہوں، کیوں کہ اس میں ایک دینی فریضے کو ادا کرنے کی گنجائش بھی ہے اور اس فتنے کا احتمال بھی ہے جس کی وجہ سے حدیث میں عورت کے بلامحرم سفر کرنے کو منع کیا گیا ہے۔ ( ستمبر ۱۹۵۲ء)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اصولی ہدایت دی کہ جب کوئی اہمیت رکھنے والی خبر، جس پر کوئی بڑا نتیجہ مترتب ہوتا ہو، تمھیں ملے، تو اس کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ خبر لانےوالا کیسا آدمی ہے؟ اگر وہ کوئی فاسق شخص ہو، یعنی جس کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ اس کی بات اعتماد کے لائق نہیں ہے، تو اس کی دی ہوئی خبر پر عمل کرنے سے پہلے تحقیق کرلو کہ امرواقعہ کیا ہے؟
اس حکم ربانی سے ایک اہم شرعی قاعدہ نکلتا ہے جس کا دائرۂ اطلاق بہت وسیع ہے۔ اس کی رُو سے مسلمانوں کی حکومت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی کارروائی ایسے مخبروں کی دی ہوئی خبروں کی بنا پر کرڈالے جن کی سیرت بھروسے کے لائق نہ ہو۔ اسی قاعدے کی بنا پر محدثین نے علمِ حدیث میں جرح و تعدیل کا فن ایجاد کیا، تاکہ اُن لوگوں کے حالات کی تحقیق کریں، جن کے ذریعے سے بعد کی نسلوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پہنچی تھیں، اور فقہا نے قانونِ شہادت میں یہ اصول قائم کیا کہ کسی ایسے معاملے میں جس سے کوئی شرعی حکم ثابت ہوتا ہو، یا کسی انسان پر کوئی حق عائد ہوتا ہو، فاسق کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے۔
البتہ اس امر پر اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ [روز مرہ کے]عام معاملات میں یہ قاعدہ جاری نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ کسی کے ہاں جاتے ہیں اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں، اندر سے کوئی آکر کہتا ہے کہ آجائو، آپ اس کے کہنے پر اندر جاسکتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ صاحب ِ خانہ کی طرف سے اِذن کی اطلاع دینے والا فاسق ہو یاصالح۔ اسی طرح اہل علم کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ جن لوگوں کا فسق جھوٹ اور بدکرداری کی نوعیت کا نہ ہو، بلکہ فساد عقیدہ کی بناپر وہ فاسق قرار پاتے ہوں، [روز مرہ کے معاملات میں] ان کی شہادت بھی قبول کی جاسکتی ہے اور روایت بھی۔ (تفہیم القرآن، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۵، عدد۲،اپریل ۱۹۶۶ء،ص۲۵)