اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

قرآن اور اصحابِ رسولؐ

ڈاکٹر نثار احمد | اپریل ۲۰۲۶ | فہم قرآن

Responsive image Responsive image

’صحابی‘ کے معنی ساتھی اور رفیق کے ہیں اور یہ اصطلاحاً وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنھوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت و محبت اختیار کی اور جس دین کو آپ لے کر آئے تھے،اسے نہ صرف خود قبول کیا بلکہ اسے دُنیا میں قائم و نافذکرنے میں اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ صحابہؓ اُمت مسلمہ کا سب سے اعلیٰ گروہ، ممتاز طبقہ اور افضل ترین جماعت ہیں۔ یہ حضرات روشنی کے مینار اور پہاڑی کے چراغ ہیں۔ وہ سیرت و کردار کے ہر اُس اعلیٰ معیار پر بھی پورے اُترتے ہیں جو کسی انسان کے لیے مقرر کیا جاسکتا ہے۔ ان کی زندگی کا ہر گوشہ مثالی حیثیت رکھتا ہے خواہ اس کا تعلق معاشرت سے ہو یا معاملات سے، سیاست سے ہو یا عبادات سے۔ 

صحابہؓ کی  عظمت 

صحابہؓ کو ایک طرف تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھیں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی سعادت میسر آئی۔ وہ قرآن کے اوّلین مخاطب بنے اور ان میں سے بعض کو اس دُنیا میں ہی جنّت کی بشارت دے دی گئی ۔ دوسری طرف ایک اور اعزاز اور سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا و خوشنودی کا اعلان کیا۔ کسی بندہ کی اس سے بڑھ کر اور خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ فاطر ارض و سما اس سے راضی ہوجائے۔ قرآن میں اس رضا کا صاف اعلان ہے:  

اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ (المائدہ ۵:۱۱۹) 

  • وہ مہاجر و انصار جنھوں نے سب سے پہلے دعوتِ ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیزوہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔(التوبہ ۹:۱) 
  • بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے راضی ہوا، جب کہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔ (الفتح ۴۸:۱۸) 
  • اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ (حزب اللہ) ہیں۔ خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔(المجادلہ۵۸:۲۲) 
  • ظاہر ہے کہ ایک انسان کی زندگی کا حاصل اور ایک مسلمان کی کش مکشِ حیات کا آخری ہدف یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرلے۔ تخلیق انسان کا مقصد، عبادات کی غرض و غایت اور اسلام کا مُدعا یہی ہے اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام جس تعلیم کو لے کر آئے اس کا آخری سبق یہی ہے۔ اس اعتبار سے صحابہؓ کی زندگی مثال اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ 

صحابہؓ کی شانِ رفاقت 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اعلانِ نبوت فرمایا تو جیسے زمین و آسمان اجنبی بن گئے۔ آپ کا یہ اعلان اہلِ قریش کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ’صادق و امین‘ یکایک ان کے لیے ’خطرہ‘بن جائے گا اور وہ’شرم و حیا کا پُتلا‘ جس کی نگاہیں ہمیشہ نیچی رہتی تھیں، اس قدر ’بے باک‘ ہوجائے گا کہ اپنے آباواجداد کے مذہب تک کو چیلنج کر گزرے گا۔ اس اعلان کا صاف مطلب یہ تھا کہ نہ صرف اہلِ مکہ بلکہ پورے عرب معاشرے سے اعلانِ جنگ کیا جارہا ہے۔ سو وہ ہوا، پورامعاشرہ ایک اکیلی جان کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہر طرف سے مخالفت کا طوفان اُمنڈ آیا۔ یہ بڑا سخت وقت تھا۔ ایسے حالات میں اس ’داعیِ حق‘ کی حمایت و نصرت کے لیے کسی شخص کا آواز بلند کرنا موت کے ہم معنی تھا۔ مگر زندہ ضمیر افراد ایک ایک کر کے اپنے سر ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔ اس کے ہمدم، ہمراز، ہمراہی ، پشت پناہ، ساتھی اور مددگار بنے۔ انھوں نے ہرمصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ہر آزمائش کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اہل مکہ کے ہرظلم وستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انھیں ستایا گیا اور اہل مکہ کے ہرظلم و ستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انھیں ستایا گیا، کوڑوں کی ضربیں لگائی گئیں، دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، زنجیریں باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹا گیا، تختۂ دار پر کھینچا گیا، مقتل کی سیر کرائی گئی، لوہے کے گرم گرم اوزاروں سے داغ لگائے گئے، بوجھل پتھروں کے نیچے دابے گئے، غرض وہ سب کچھ ہوا جس کا ظلم کے عنوان سے ایک انسان تصور کرسکتا ہے۔ یہ آزمائشیں ان لوگوں کی راہ کھوٹی نہ کرسکیں۔ ان ’صاحبانِ عزم و استقلال‘ نے کسی قیمت پر بھی داعیِ حق صلی اللہ علیہ وسلم کی مفارقت گوارا نہ کی۔ معیت و مصاحبت کو ترک نہ کیا۔ اور ایک مرتبہ جس رشتۂ رفاقت و اُلفت میں منسلک ہوگئے تھے، پھر اس پر کوئی حرف نہ آنے دیا۔ یہ حضرات آپؐ کے ایسے ساتھی اور رفقا تھے کہ دن رات کا کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں آپؐ سے جدا ہوتے ہوں۔ پھر ان صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محض ’تعلق‘ نہ تھا، ’عشق‘ تھا۔ یعنی ایک طرف تو مقصد کی ہم آہنگی، رفاقت اور تعاون کا تقاضا تھا کہ کسی لمحہ ساتھ نہ چھوڑا جائے اور دوسری طرف ’دل کے تقاضے‘ تھے کہ محبوبِ نظر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔ اس عشق کے آداب قرآن میں یوں سکھائے گئے ہیں: 

اے نبیؐ! کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اوراس کی راہ کی جدوجہد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے۔(التوبہ۹:۲۴) 

صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اعزہ و اقارب، بلکہ دُنیا کے تمام رشتوں سے زیادہ تھی۔ وہ اس بات کو گوارا کرنا تو بڑی بات ہے، اس کا تصور تک نہ کرسکتے تھے کہ حضورؐ کو کانٹا بھی چبھے اور وہ آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے رہیں۔ صحابہ کایہ عشق ہمہ گیر تھا۔ آپؐ کی ذات و شخصیت سے بھی تھا اور آپؐ کے پیغام و دعوت سے بھی۔ وہ آپؐ پر ایمان لائے، آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور آپؐ کی خاطر تکلیفیں اُٹھائیں، ہجرت کی اور ہرمرحلے میں دوش بدوش چلے۔ ان کی یہ محنتیں رائیگاں نہ گئیں۔ اُس کا انھیں بدلہ بھی خوب ملا: 

جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کی راہ میں گھربار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنھوں نے پناہ دی، اور مدد کی، وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطائوں سے درگزر ہے، اور بہترین رزق ہے اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آئے اور تمھارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے، وہ بھی تم میں شامل ہیں۔(الانفال ۸:۷۴) 

جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے وہ افضل خلائق (تمام مخلوقات میں سب سے افضل) ہیں۔ ان کا بدلہ ان کے ربّ کے یہاں یہ ہے کہ بسنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ (بدلہ)ملتا ہے(ہر) اس (شخص) کو جو اپنے ربّ سے ڈرتا ہے۔(البینہ۹۸:۸) 

انھوں نے اسلام کی خاطر اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا اور یہ ساری متاعِ دُنیا دراصل ہے بھی بے مایہ، اُس معاوضہ کے مقابلہ میں جو انھیں حاصل ہوا: 

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے (جنّت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے۔ تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پوراکرنے والا ہو۔(التوبہ ۹:۱۱۱) 

لیکن اسلام کے لیے اپنی ان عالی خدمات کی بناپر انھیں مطلق یہ احساس نہ تھا کہ وہ بھی ’کچھ‘ ہیں۔ سب کچھ قربان کرنے کے باوجود غرورو تکبر اور بڑائی کا’وسوسہ‘ تک صحابہؓ کے دل میں پیدا نہ ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ سب ’کارنامے‘ ہماری کوششوں کا حاصل نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ کم ظرف ہوتے ہیں وہ کسی مقصد کے لیے اپنی ذرا سی ’خدمت‘ پر پھول جاتے ہیں، اور بہت سارے حقوق و مراعات اپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر ان جان نثاروں کا حال یہ نہ تھا۔ ہرلمحہ سہمے سہمے اور خوفزدہ رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی کوتاہی کی وجہ سے یہ خدمات قبولِ بارگاہ نہ ہوسکیں۔ پھر آخرت میں اجرکے ایسے حریص تھے کہ ڈرتے تھے کہ کہیں ہمیں اس دُنیا میں ہی ساری کوششوں کا صلہ نہ مل جائے کہ وہاں خالی ہاتھ رہیں۔ اسی بناپر وہ ہرلمحہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور استغفار کیا کرتے تھے، تاکہ اس جدوجہد میں بربنائے بشریت جو لغزشیں ہوگئی ہوں، ان کی تلافی ہوجائے۔ وہ پکار اُٹھتے:  

مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطائوں سے درگزر فرما اور ہمیں آتشِ دوزخ سے بچالے۔ یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں۔ فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دُعائیں مانگا کرتے ہیں۔(اٰل عمرٰن ۳: ۱۶-۱۷) 

اور حقیقت میں یہ ممکن بھی نہ تھا کہ جن نفوسِ قدسیہ کی تعلیم و تربیت آغوشِ نبوت میں ہوئی تھی، اس میں رذائلِ اخلاق کی کوئی آلائش باقی رہتی۔ کیونکہ جن بھٹیوں میں سے گزر کر وہ کندن بنے تھے، اس عمل میں غرور، تکبر، حسد اور دوسری بُرائیاں جل کر خاک ہوگئی تھیں۔ 

صحابہؓ کا یک رنگ کردار 

صحابہؓ کی نجی اور مجلسی زندگی بھی بہت پاکیزہ تھی۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنے ظاہروباطن میں یکساں ہوتے ہیں؟ اور کتنے اشخاص ہیں جو اپنی نجی و انفرادی زندگی میں اسی طرح میزان پر پورے اُترتے ہیں جس طرح اپنی مجلسی و اجتماعی زندگی میں؟ بس ایک صحابہؓ کا گروہ ہے جو اپنی انفرادی اور اجتماعی دونوں زندگیوں میں اس طرح پاکباز ہے کہ متقیون ، مفلحون  اور فائزون کے الفاظ انھی پر زیب دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کے یہ دونوں پہلو اِن آیات سے جھلک رہے ہیں: 

جو اُٹھتے بیٹھتے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غوروفکر کرتے ہیں۔ (اٰل عمرٰن ۳: ۱۹۱) 

اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو بُرائیاں ہم میں ہیں انھیں دُور کردے، اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۹۳) 

یقینا فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو: 

  •  اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ 
  •  لغویات سے دُور رہتے ہیں۔ 
  •  زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔ 
  •  اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملکِ یمین میں ہوں کہ ان پر (استفادہ کرنے میں) وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔ 
  •  اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھتے ہیں۔ 
  •  اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔(المؤمنون ۲۳:۱-۹) 

 ’مومن مرد اور مومن عورتیں‘ یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں۔ زکوٰۃدیتے ہیں اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ (التوبہ ۹:۷۱) 

رحمٰن کے (سچّے) بندے وہ ہیں جو: 

  •  زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ 
  •  اپنے ربّ کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ 
  •   جو دُعائیں کرتے ہیں، جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل بلکہ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں۔ 
  •  جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔ 
  •  اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے ہیں۔ 
  •  نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ 
  •  جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔ 
  •  کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ 
  •  جنھیں اگر ان کے ربّ کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔ (الفرقان۲۵: ۶۳ - ۷۳) 

ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے ربّ کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔(السجدہ ۳۲:۱۶) 

آپؐ کے ربّ کو معلوم ہے کہ آپؐ کے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات (نماز میں) کھڑے رہتے ہیں۔(المزمل ۷۳:۲۰) 

محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسولؐ ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو انتہائی سخت ہیں، لیکن آپس میں انتہائی رحم دل اور (شفیق) ہیں۔ (اے دیکھنے والے) تم ان کو دیکھتے ہو کہ خدا کے آگے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ کثرتِ سجود سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں مرقوم ہیں اوریہی اوصاف انجیل میں پائے جاتے ہیں۔(الفتح ۴۸: ۲۹) 

اور کمال یہ ہے کہ معاملہ انفرادی نوعیت کا ہو یا اجتماعی نوعیت کا، غفلت کوشی کسی سمت سے راہ نہیں پاتی۔ اپنے مقصد ِ حیات کو وہ کسی وقت فراموش نہیں کرتے۔ اللہ کی یاد ان کے دلوں سے کسی لمحہ محو نہیں ہوتی۔ ہرآن ربّ العالمین کی رضا اور خوشنودی کی طرف ہی قدم بڑھتے ہیں: 

ایسے لوگ جنھیں نہ تجارت غفلت میں ڈالتی، نہ خریدوفروخت اللہ کی یاد سے اور نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے (باز رکھتی)۔وہ ڈرتے رہتے ہیں۔ (النور ۲۴:۳۷) 

پس سیرت و کردار کا یہی وہ نمونہ ہے جس کے متعلق مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے: ’’ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پاجائو گے‘‘۔