اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

’آسیہ اندرا بی کیس‘:فیصلہ یا عدالتی قتل؟

سلیم منصور خالد | اپریل ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

انڈیا اور جموں و کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھی خواتین کے لیے سزا کا حکم نامہ فوجداری قانون،اصولِ قانون (جیورس پروڈنس)،اور آئینی آزادیوں کے سنگم پر ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔۲۴مارچ ۲۰۲۶ء کو دہلی کی ایک عدالت نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی صاحبہ دُختر مرحوم ڈاکٹر سیّد شہاب الدین یاسین اندرابی (عمر۶۴سال) نے ہوم اکنامکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے عربی پاس کیا ہے۔ ناہیدہ نسرین صاحبہ دُختر مرحوم شیخ نورالدین (عمر ۵۸ سال) نے ایم ایس سی زوالوجی اور ایم اے اسلامیات کیا ہے، جب کہ فہمیدہ صوفی دُختر مرحوم محمد صدیق صوفی (عمر ۴۵ سال) بی ایس سی پاس ہیں۔ 

جج چندر جیت سنگھ کی عدالت کے جاری کردہ فیصلے کا گہرا مطالعہ، بالخصوص پیرا گراف ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۶ ایک ایسی منطق کو ظاہر کرتے ہیں جو مسلّمہ قانونی اصولوں سے ہٹ کر غیر مذہبی، عصبیتی اور موضوعی (subjective) میدان میں داخل نظر آتی ہے۔ 

اس فیصلے کے مرکزی تصور میں دو شدید تر عوامل (Aggravating Factors) موجود ہیں: پہلا، اقامتِ دین‘ کی دعوت و تبلیغ اور دوسرا، ملزمان کا اپنی ان سرگرمیوں پر ندامت کا فقدان۔ ان دو عوامل پر فیصلے کی بنیاد استوار کرنا باریک بین جائزے کا متقاضی ہے۔ 

پہلے بات کرتے ہیں ’اقامتِ دین‘ پر۔ عدالت یہ درج کرتی ہے کہ سزا یافتہ خواتین سے وابستہ ’تنظیم دخترانِ ملت‘ (DeM) ’اقامت ِ دین کی علَم بردار‘ تحریک ہے۔ تاہم، اس دعوے سے قطع نظر، فیصلے میں اس تصور کی نہ تو کوئی بامعنی تعریف کی گئی ہے اور نہ اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی فکری تعبیر اور تاریخ سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا گیا، نہ مسلّمہ تشریحات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ عقیدے اور غیر قانونی طرزِ عمل کے درمیان فرق کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔ 

اس کے بجائے، عدالتی استدلال ایک متعصبانہ بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے۔ عدالت نے خود اس تصور کی گہرائی میں اترنے کے بجائے، قاضی عبدالودود (پی ایچ ڈی اسکالر) اور ڈاکٹر محمد معاویہ خان (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان کیمپس، پاکستان) کے ایک مقالے بعنوان ’اقامت ِ دین کا مفہوم اور عصری عہد میں اس کا نفاذ‘ پر تکیہ کیا ہے جو ’الحیات ریسرچ جنرل‘ ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔اس غیرمعیاری ماخذ پر انحصار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔ 

عدالتوں سے، خاص طور پر حساس مذہبی یا نظریاتی تصورات سے نمٹتے وقت، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستند اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ علمی کاموں سے استفادہ کریں۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد جیسے بلندپایہ مفکرین کی کتب میں اقامت ِ دین پر علمی ذخیرہ موجود ہے۔ 

یہ تحریریں اس تصور کو ایک وسیع تر اخلاقی، سماجی اور ریاستی و قانونی فریم ورک کے اندر پیش کرتی ہیں، جن کی بنیاد پر اکثر اخلاقی اصلاح، فلاحِ عامہ اور روحانی نظم و ضبط پر مبنی ایک ’طرزِ زندگی‘ کو پیش اور بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہ فیصلہ اس بھرپور فکری روایت کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔ 

اس کے برعکس، یوں لگتا ہے کہ ایک نسبتاً غیرمعروف اور نہایت ثانوی درجے کے تعلیمی مقالے کو آن لائن سرچ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ سابقہ انڈین عدالتی نظائر کے ساتھ اس کا تضاد نمایاں ہے۔ ۱۹۹۵ء کے ’ہندوتوا‘ کے بارے فیصلے میں، چیف جسٹس جے ایس ورما کے ماتحت سپریم کورٹ نے ’ہندوتوا‘ کو ایک ’طرزِ زندگی‘ قرار دیا تھا، جس کے لیے مولانا وحید الدین خان جیسی معروف شخصیات سمیت تشریحات کے ایک وسیع حلقے سے استفادہ کیا گیا تھا، نہ کہ خود کو کسی محدود اور غیرمعروف مآخذ تک محدود رکھا گیا۔ 

تاہم، یہاں پر ’اقامت ِ دین‘ کو ایک خاص (مجرمانہ) نیت کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، بغیر یہ دیکھے کہ کیا واقعی یہ تصور بذاتِ خود لازمی طور پر غیر قانونی ہے؟ اس طرح کے تجزیے کی عدم موجودگی میں ایک وسیع مذہبی تصور کو محض استغاثہ کے بیانیے میں ضم کر دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ 

یہ نکتہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب اسے فیصلے کے پیرا گراف ۱۰ تا ۱۲ میں استغاثہ کے ان دعوؤں کے ساتھ پڑھا جائے، جن میں پاکستان سے سازش، نظریاتی حرکیات اور غیر قانونی مقاصد کی تشہیر کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن یہ محض دعوے ہیں، جن کے لیے غلط نیت کا ثبوت اور ان کے واضح نتائج کا پیش کیا جانا ضروری ہے۔ انھیں محض ایک موہوم مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں باور کیا جاسکتا، جو ابھی تک غیر واضح اور متنازع ہے۔ 

خواتین نے دفاع کرتے ہوئے اپنی تحریری گذارشات میں اس خلا کو بڑی درستگی کے ساتھ اجاگر کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ استغاثہ مبینہ افعال اور کسی حقیقی نقصان کے درمیان کوئی ٹھوس نتیجہ یا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی نمایاں ضرر اور نقصان کی عدم موجودگی سزا کے تعین میں ایک اہم تخفیفی عنصر (Mitigating Factor) ہونی چاہیے۔  

تاہم، فیصلے میں اصولی، قانونی اور منطقی بنیاد کے بجائے نظریاتی فریم ورک کو وزن دیا گیا ہے۔اس عدالتی استدلال کا دوسرا ستون کھڑا کیا گیا ہے ’ندامت کا فقدان‘ ۔یہ دلیل مساوی طور پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ 

’انڈین تعزیری قانون‘ واضح ہے کہ سزا متناسب، انفرادی حالات کے مطابق اور معروضی عوامل پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سزا سناتے وقت عمر، صحت، پس منظر اور جرم کے اصل نتائج، جیسے تخفیفی حالات کو مدنظر رکھیں۔ 

خواتین نے اپنی دفاعی گذارشات میں اس بات کو دُہرایا کہ سزا دینا کوئی مشینی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں انصاف اور تناسب کا عکس نظر آنا چاہیے۔ 

’ندامت کا فقدان‘ 

اس کے باوجود، فیصلے میں برملا ندامت کی عدم موجودگی کو سزا میں اضافے کے لیے ایک فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا ہے۔یہ سوچ اور فیصلہ کئی لحاظ سے تشویش ناک فکر کی نشان دہی کرتا ہے۔ ندامت فطری طور پر ایک موضوعی امر (Subjective Factor) ہے نہ کہ قانونی استدلال۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جسے آسانی سے ناپا یا پرکھا نہیں جاسکتا۔ مگر اسے ایک مرکزی حیثیت دینا ملزم کو اس بات کی سزا دینے کے مترادف ہے جس پر وہ یقین رکھتا ہے یا جس کا اظہار نہ کرنے کا وہ انتخاب کرتا ہے، بجائے اس کے جو قانوناً ثابت ہو چکا ہے۔ 

یہ خود کو مجرم ٹھیرانے کے خلاف حق (Right Against Self-incrimination) اور اس وسیع تر اصول پر بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے فیصلے کا انحصار شواہد پر ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس کردہ ظن و تخمین پر۔ 

سیاسی فکر، مجرمانہ نیت یا کشمیر اور اقامتِ دین کا قانونی پہلو 

فیصلے کا ایک اور تشویشناک پہلو کشمیر کی نسبت سے ملزمان کے سیاسی موقف کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ استغاثہ نے مسئلہ کشمیر پر ان کے بیان اور نظریاتی کمٹمنٹ کو انڈیا کی خودمختاری کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم، فیصلے کے پیراگراف ۱۶ کے مطابق زیرحراست خواتین کی سیاسی رائے اور پُرتشدد طرزِ عمل کے درمیان تعلق متعین نہیں کیا جاسکا۔ وکلائے دفاع نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان کی سرگرمیاں نظریاتی اظہار اور ایک دیرینہ قومی سیاسی متنازع مسئلے پر تبصرے تک محدود تھیں، نہ کہ براہِ راست پُرتشدد کارروائیوں سے منسوب۔ 

جمہوری نظامِ عدل میں، کسی سیاسی نظریے کو رکھنا یا اس کا اظہار کرنا، —خواہ وہ ریاست کے سرکاری موقف کو چیلنج ہی کیوں نہ کرتا ہو، —بذاتِ خود مجرمانہ فعل نہیں بن سکتا، جب تک کہ اس کا تعلق واضح طور پر اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اقدام سے نہ جڑا ہو۔ 

کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم اسے تاریخی اور سفارتی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کشمیر کو عشروں سے عالمی سطح پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تصفیہ طلب مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں، بالخصوص قرارداد نمبر ۴۷، اس مسئلے کے سیاسی حل اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ 

انڈین قیادت کا اپنا ریکارڈ بھی اسی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے لیڈر اور پہلے انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے وعدوں سے لے کر، بی جے پی سے وابستہ انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کے فلسفے تک، اور ۹جولائی ۲۰۱۵ء کے ’اوفا اعلامیے‘ (Ufa Declaration) تک، —جہاں انڈیا اور پاکستان نے تمام باہمی حل طلب مسائل پر بات چیت کے عزم کا اعلان کیا، —یہ سب اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بھی جب آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کو حاصل کرنے کی بات کرتی ہے، تو وہ بالواسطہ یہ بات ہی تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ جغرافیائی اور سیاسی حدود ابھی حتمی نہیں ہیں اور ایک باہم تنازع موجود ہے۔ 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست خود اسے ایک حل طلب مسئلہ تسلیم کرتی ہے، تو کسی شہری یا گروہ کی جانب سے اسی مسئلے پر ایک الگ سیاسی یا نظریاتی موقف رکھنا ’مجرمانہ سازش‘ کیسے بن سکتا ہے؟ جمہوری نظامِ عدل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی نظریہ تشدد پر نہیں اکساتا یا اسے بزورِ شمشیر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، محض اس سوچ یا نظریے کو رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور نہ اس کو ’ندامت کے فقدان‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ 

کشمیر کو حل طلب مسئلہ ماننے اور اقامت دین کے فلسفہ پر اعتقاد رکھنے سے بھلا کیسے کوئی مجرم بن سکتا ہے؟ 

اقامت ِ دین کے تصور کو مجرمانہ رنگ دینا بھی قانونی تضادات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف انڈیا میں ہندو راشٹرا یا ہندو دیش بنانے کی مہمات کو بعض اوقات حکومتی سرپرستی یا آشیر واد حاصل ہوتا ہے اور اسے ایک ’تہذیبی حق‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اقامتِ دین جیسے مذہبی و اخلاقی تصور کو —جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی اور اخلاقی اصلاح کا نام ہے، اسے کیسے انڈین —ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ 

قانون کی نظر میں یہ دوہرا معیار، عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ’ہندوتوا‘ کو ایک طرزِ زندگی (Way of Life) کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تو اقامت ِ دین کو، جو کہ اپنی اصل میں روحانی بالیدگی اور سماجی بہبود کا داعی ہے، محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مجرمانہ نیت سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ جب تک استغاثہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس نظریے کے تحت براہِ راست کسی پُرتشدد کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، اسے سزا کی بنیاد بنانا دراصل ’فکری آزادی‘ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ کسی سیاسی تنازعے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر رائے رکھنا ’اختلافِ رائے‘ (Dissent) تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے ’غداری‘ یا ’دہشت گردی‘ سے وابستہ کرنا آئینی حقوق کی روح کے خلاف ہے۔ 

دفاعی گذارشات میں کئی تخفیفی عوامل ریکارڈ پر لائے گئے: سزا یافتہ افراد کی ڈھلتی عمر، ان کا تعلیمی پس منظر، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور یہ حقیقت کہ وہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال قید کاٹ چکی ہیں۔ یہ کوئی معمولی انحرافِ عدل و اخلاق کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ مذکورہ عوامل اس اصولِ تناسب (Principle of Proportionality) کی روح ہیں جو جدید نظامِ سزا کی بنیاد ہے۔ 

پھر کسی واضح نقصان کا ثبوت نہ ہونے کا مسئلہ بھی اس میں موجود ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ریکارڈ سے بھی مبینہ افعال اور کسی حقیقی بدامنی یا تشدد کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ فوجداری قانون میں، خاص طور پر سنگین جرائم میں، ایسا تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ 

اس لیے مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بنیادی اور تشویش ناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔ 

کیا کوئی عدالت ایک پیچیدہ مذہبی تصور کی تشریح کے لیے کسی محدود اور گمنام علمی مآخذ پر بھروسا کر سکتی ہے؟ کیا اقامتِ دین جیسے وسیع مذہبی نظریے کو اس کے مسلّمہ معانی پر غور کیے بغیر مجرمانہ نیت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ اور کیا ’ندامت کی عدم موجودگی‘ عمر، صحت اور واضح نقصان کی کمی جیسے معروضی تخفیفی عوامل پر بھاری پڑ سکتی ہے؟ 

ایک آئینی جمہوریت میں، عدالتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھیں۔ لیکن جب عدالتی استدلال عقیدے اور جرم، یا ثبوت اور تشریح کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتا ہے، تو وہ توازن خطرے میں پڑجاتا ہے۔ 

اس فیصلے سے پیدا ہونے والے خدشات اور مابعد اثرات صرف ایک کیس تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اس بات کے مرکزی نکتے سے بحث کرتے ہیں کہ عدالتیں نظریات کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟ ملزمان کی نیت کا اندازہ کیسے لگاتی ہیں؟ اور انصاف و تناسب کے اصولوں کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں؟ اور تعصب اور عدل شکنی کی راہ پر چلتے چلتے عدل کو قتل کرنے کی آلۂ کار بن کر رہ جاتی ہیں؟