۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کی صبح ایران پر بلااشتعال اسرائیلی امریکی حملے کے نتیجے میں رہبر اسلامی جمہوریہ ایران علی خامنہ ای کے اہل خانہ اور ۱۸۰ طالبات کی شہادت پر جہاں دُنیا بھر میں احتجاج ہوا، وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی شدید احتجاج ہوا۔ کیونکہ یہ حقیقت سبھی کے سامنے بے نقاب ہے کہ انڈیا، اسرائیل کا طرف دار، حلیف اور سہولت کار ہے اور اس حملے سے دو روز قبل نریندر مودی نے اسرائیل میں صہیونی نسل پرست حکومت کے ساتھ گہرے تعاون کا اعلان اور ہرسطح پر تعاون کا وعدہ کیا تھا۔
اس پس منظر میں جموں و کشمیر میں احتجاج کی یہ لہر محض غم اور اشتعال کے ایک لمحے سے کہیں زیادہ گہری اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درحقیقت اس مظلوم خطے کے نفسیاتی منظر نامے میں ایک خاموش مگر واضح تبدیلی کا پیغام ہے۔ ۲۰۱۹ء کے بعد سے، مقبوضہ کشمیر کی روزمرہ زندگی پر خوف کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی تھی۔ وہ سڑکیں جو کبھی جدوجہدِ آزادی کے اظہار سے گونجتی تھیں، اب نگرانی، گرفتاریوں، قتل و غارت، تشدد کے زیرِ اثر ایک بے چین خاموشی میں ڈوب گئیں کہ اختلافِ رائے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ تاہم، اب جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ فضا ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف دبا دی گئی تھی۔
اس احتجاج میں جو بات سب سے نمایاں دکھائی دی وہ محض اس کی وسعت نہیں، بلکہ اس کی نوعیت ہے۔ اگرچہ فوری اشتعال کشمیر سے دور الم ناک واقعات سے جڑا ہوا ہے، لیکن بین الاقوامی معاملات سے جڑے اس زمینی ردِعمل نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو کہیں زیادہ مقامی اور پائے دار ہے۔ لوگ ایک اکائی کے طور پر باہر نکلے اور ان مسلکی تقسیموں سے بالاتر ہو گئے جو اکثر ان کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اتحاد بذاتِ خود ایک وزن رکھتا ہے۔ یہ اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو نچلی سطح پر برقرار رہا اور دوبارہ ظاہر ہونے کے لیے کسی موقعے کا منتظر تھا۔
اس میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر سری نگر کے لال چوک میں ہجوم کا نمودار ہونا تھا۔ گذشتہ سات برس سے انڈیا اس جگہ کو ہندو توا غنڈوں اور مقامی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنی فتح کی علامت کے طور پر استعمال کرتا آرہا تھا۔ عام لوگوں کا اس جگہ اچانک دوبارہ پوری قوت سے ظاہر ہونا دراصل یادداشت، جذبات اور عوامی آواز کی بحالی کا مظاہرہ تھا۔ جب ایسی جگہ دوبارہ زندہ ہوتی ہے، تو وہ ایک ایسا پیغام دیتی ہے جسے آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔
اس لمحے کو محض 'احتجاج ' قرار دینا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ یہ دراصل جمود توڑنے کا پیغام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ خوف جب ذہنوں میں جڑ پکڑ لے تو وہ راتوں رات ختم نہیں ہوتا۔ لیکن جب لوگ اس کے باوجود قدم اٹھانا شروع کر دیں، تو یہ پہلے آہستہ آہستہ اور پھر اچانک مٹ سکتا ہے۔ یہی چیز اس لمحے کو اہم بناتی ہے۔ یہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاموش کرانے کے لیے بنائے گئے انڈین جابرانہ ریاستی ڈھانچے، کشمیریوں کے بنیادی عزم کو بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی تنظیم سازی یا کسی ایک بیانیے کی رہنمائی کے بغیر پروان چڑھا ہے۔ یہ جذبہ پہلے سے موجود تھا، جو عوام کے تجربات اور تلخ یادوں میں بسا ہوا تھا۔ جو چیز بدلی، وہ اس کا اُبھر کر سامنے آنا تھا، اور جب ایسا جذبہ نظر آنے لگے، تو یہ ان لوگوں کے لیے ناقابلِ انکار چیلنج بن جاتا جو اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سب کچھ بدل چکا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ کشمیر ایک بے رحم فوجی قبضے تلے سانس لے رہا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، اس طرح کے لمحات اپنے فوری سیاق و سباق سے کہیں آگے تک گونج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کی اجتماعی قوت اور اخلاقی و اصولی موقف کی یاد دلاتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے، وہ اس تصور کو بدل دیتے ہیں کہ کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔
اس لحاظ سے، یہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کنٹرول اور خاموشی کی تہوں کے نیچے، کشمیر کے بنیادی سیاسی اور جذباتی دھارے پوری طرح زندہ ہیں۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیری صحافی عرفان معراج کی رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا ہے اور۲۰۲۰ء سے حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائی کا بھی مطالبہ دُہرایا ہے۔
’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی قیادت میں ۳۴ سول سوسائٹی تنظیموں کے ایک اتحاد بشمول ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘، ’ہیومن رائٹس واچ‘، ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘، ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ ان وولنٹری ڈس ایپیئرنسز‘ اور دیگر نے ۱۹مارچ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا: عرفان معراج کو ۲۰مارچ ۲۰۲۳ء کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انڈین پینل کوڈ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں لیا تھا۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی اور میگزین ایڈیٹر عرفان معراج نے کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل پر بڑے پیمانے پہ لکھا ہے اور انڈین ایکسپریس، الجزیرہ، ساؤتھ ایشین اور ڈوئچے ویلے سے قلمی تعاون کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے نزدیک دونوں کے خلاف الزامات ’سیاسی طور پر بنائے گئے‘ اور ’من گھڑت‘ ہیں۔ہماری تنظیمیں بھارتی حکام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے ظالمانہ قوانین کو ختم کریں اور جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے لیے ایک سازگار ماحول قائم کریں تاکہ وہ آزادانہ اور خودمختار طور پر کام کر سکیں‘‘۔
مزید یہ کہا ہے:’’بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ انڈین حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کی پاسداری کرے۔ عرفان معراج، خرم پرویز اور دیگر تمام حراست میں لیے گئے انسانی حقوق سے محروم کارکنوں کو رہا کرے‘‘۔
انڈیا کے معروف ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک دی وائر نے بہت پہلے رپورٹ کیا تھا کہ عرفان معراج کو ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے دوران پہلے این آئی اے آفس بلایا گیا اور پھر حراست میں لے لیا گیا، جیسا کہ ان کے خاندان نے بتایا۔
ان کے والد عرفان معراج الدین بھٹ نے ۲۰۲۳ء میں گرفتاری کے ایک دن بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا: ’’میرا بیٹا ایک کہانی پر رپورٹنگ کر رہا تھا جب انویسٹی گیٹرز نے ان کے موبائل پر کال کی اور کہا کہ صرف پانچ منٹ کے لیے آفس آ جائو۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے گرفتار کرکے دہلی بھیج دیا گیا ہے‘‘۔
گرفتاری پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولور، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پریس کلب آف انڈیا اور دیگر حقوق اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے اس لاقانونیت پر شدید تنقید کی تھی۔ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے کے استعمال پر بار بار تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ آزاد میڈیا کی رپورٹنگ میں کشمیر میں صحافیوں کو پولیس کی طرف سے طلب کرکے، پوچھ گچھ کرنے اور ہرایک سے ’اچھے رویے‘ کے پیشگی ضمانت ناموں پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرنے کے متعدد واقعات دستاویزی طور پر سامنے آئے ہیں۔
’اسکرول ڈاٹ‘ کے مطابق: چار صحافیوں کو سری نگر میں پولیس اسٹیشنوں پر بلاکر دھمکایا گیا۔ نیوز لانڈری نے رپورٹ کیا ہے: گذشتہ سال میں تقریباً ۲۵کشمیری صحافیوں کو بار بار پوچھ گچھ کے دوران ہراساں کیا گیا۔
دی وائر سے وابستہ صحافی جہانگیر علی کا فون پولیس نے ضبط کرلیا۔ اس مقصد کے لیےنہ تو کوئی ایف آئی آر کاٹی گئی، نہ وارنٹ جاری ہوئے اور نہ کسی عدالت کا حکم سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات اور الیکٹرانک آلات رکھنے کے عالمی تسلیم شدہ اصولوں کے برعکس یہ اقدام کیا گیا۔
۱۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فری لانسرز اور مقامی اخبارنویس جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔دوسری طرف لوگوں کے ذاتی فون اچانک اُچک کر انتظامیہ تفتیش شروع کر دیتی ہے۔ عوامی سطح پر اس چیز نے سخت اضطراب پیدا کردیا ہے۔
انڈیا اور جموں و کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھی خواتین کے لیے سزا کا حکم نامہ فوجداری قانون،اصولِ قانون (جیورس پروڈنس)،اور آئینی آزادیوں کے سنگم پر ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔۲۴مارچ ۲۰۲۶ء کو دہلی کی ایک عدالت نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی صاحبہ دُختر مرحوم ڈاکٹر سیّد شہاب الدین یاسین اندرابی (عمر۶۴سال) نے ہوم اکنامکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے عربی پاس کیا ہے۔ ناہیدہ نسرین صاحبہ دُختر مرحوم شیخ نورالدین (عمر ۵۸ سال) نے ایم ایس سی زوالوجی اور ایم اے اسلامیات کیا ہے، جب کہ فہمیدہ صوفی دُختر مرحوم محمد صدیق صوفی (عمر ۴۵ سال) بی ایس سی پاس ہیں۔
جج چندر جیت سنگھ کی عدالت کے جاری کردہ فیصلے کا گہرا مطالعہ، بالخصوص پیرا گراف ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۶ ایک ایسی منطق کو ظاہر کرتے ہیں جو مسلّمہ قانونی اصولوں سے ہٹ کر غیر مذہبی، عصبیتی اور موضوعی (subjective) میدان میں داخل نظر آتی ہے۔
اس فیصلے کے مرکزی تصور میں دو شدید تر عوامل (Aggravating Factors) موجود ہیں: پہلا، اقامتِ دین‘ کی دعوت و تبلیغ اور دوسرا، ملزمان کا اپنی ان سرگرمیوں پر ندامت کا فقدان۔ ان دو عوامل پر فیصلے کی بنیاد استوار کرنا باریک بین جائزے کا متقاضی ہے۔
پہلے بات کرتے ہیں ’اقامتِ دین‘ پر۔ عدالت یہ درج کرتی ہے کہ سزا یافتہ خواتین سے وابستہ ’تنظیم دخترانِ ملت‘ (DeM) ’اقامت ِ دین کی علَم بردار‘ تحریک ہے۔ تاہم، اس دعوے سے قطع نظر، فیصلے میں اس تصور کی نہ تو کوئی بامعنی تعریف کی گئی ہے اور نہ اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی فکری تعبیر اور تاریخ سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا گیا، نہ مسلّمہ تشریحات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ عقیدے اور غیر قانونی طرزِ عمل کے درمیان فرق کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔
اس کے بجائے، عدالتی استدلال ایک متعصبانہ بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے۔ عدالت نے خود اس تصور کی گہرائی میں اترنے کے بجائے، قاضی عبدالودود (پی ایچ ڈی اسکالر) اور ڈاکٹر محمد معاویہ خان (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان کیمپس، پاکستان) کے ایک مقالے بعنوان ’اقامت ِ دین کا مفہوم اور عصری عہد میں اس کا نفاذ‘ پر تکیہ کیا ہے جو ’الحیات ریسرچ جنرل‘ ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔اس غیرمعیاری ماخذ پر انحصار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔
عدالتوں سے، خاص طور پر حساس مذہبی یا نظریاتی تصورات سے نمٹتے وقت، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستند اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ علمی کاموں سے استفادہ کریں۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد جیسے بلندپایہ مفکرین کی کتب میں اقامت ِ دین پر علمی ذخیرہ موجود ہے۔
یہ تحریریں اس تصور کو ایک وسیع تر اخلاقی، سماجی اور ریاستی و قانونی فریم ورک کے اندر پیش کرتی ہیں، جن کی بنیاد پر اکثر اخلاقی اصلاح، فلاحِ عامہ اور روحانی نظم و ضبط پر مبنی ایک ’طرزِ زندگی‘ کو پیش اور بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہ فیصلہ اس بھرپور فکری روایت کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، یوں لگتا ہے کہ ایک نسبتاً غیرمعروف اور نہایت ثانوی درجے کے تعلیمی مقالے کو آن لائن سرچ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ سابقہ انڈین عدالتی نظائر کے ساتھ اس کا تضاد نمایاں ہے۔ ۱۹۹۵ء کے ’ہندوتوا‘ کے بارے فیصلے میں، چیف جسٹس جے ایس ورما کے ماتحت سپریم کورٹ نے ’ہندوتوا‘ کو ایک ’طرزِ زندگی‘ قرار دیا تھا، جس کے لیے مولانا وحید الدین خان جیسی معروف شخصیات سمیت تشریحات کے ایک وسیع حلقے سے استفادہ کیا گیا تھا، نہ کہ خود کو کسی محدود اور غیرمعروف مآخذ تک محدود رکھا گیا۔
تاہم، یہاں پر ’اقامت ِ دین‘ کو ایک خاص (مجرمانہ) نیت کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، بغیر یہ دیکھے کہ کیا واقعی یہ تصور بذاتِ خود لازمی طور پر غیر قانونی ہے؟ اس طرح کے تجزیے کی عدم موجودگی میں ایک وسیع مذہبی تصور کو محض استغاثہ کے بیانیے میں ضم کر دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ نکتہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب اسے فیصلے کے پیرا گراف ۱۰ تا ۱۲ میں استغاثہ کے ان دعوؤں کے ساتھ پڑھا جائے، جن میں پاکستان سے سازش، نظریاتی حرکیات اور غیر قانونی مقاصد کی تشہیر کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن یہ محض دعوے ہیں، جن کے لیے غلط نیت کا ثبوت اور ان کے واضح نتائج کا پیش کیا جانا ضروری ہے۔ انھیں محض ایک موہوم مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں باور کیا جاسکتا، جو ابھی تک غیر واضح اور متنازع ہے۔
خواتین نے دفاع کرتے ہوئے اپنی تحریری گذارشات میں اس خلا کو بڑی درستگی کے ساتھ اجاگر کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ استغاثہ مبینہ افعال اور کسی حقیقی نقصان کے درمیان کوئی ٹھوس نتیجہ یا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی نمایاں ضرر اور نقصان کی عدم موجودگی سزا کے تعین میں ایک اہم تخفیفی عنصر (Mitigating Factor) ہونی چاہیے۔
تاہم، فیصلے میں اصولی، قانونی اور منطقی بنیاد کے بجائے نظریاتی فریم ورک کو وزن دیا گیا ہے۔اس عدالتی استدلال کا دوسرا ستون کھڑا کیا گیا ہے ’ندامت کا فقدان‘ ۔یہ دلیل مساوی طور پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
’انڈین تعزیری قانون‘ واضح ہے کہ سزا متناسب، انفرادی حالات کے مطابق اور معروضی عوامل پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سزا سناتے وقت عمر، صحت، پس منظر اور جرم کے اصل نتائج، جیسے تخفیفی حالات کو مدنظر رکھیں۔
خواتین نے اپنی دفاعی گذارشات میں اس بات کو دُہرایا کہ سزا دینا کوئی مشینی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں انصاف اور تناسب کا عکس نظر آنا چاہیے۔
اس کے باوجود، فیصلے میں برملا ندامت کی عدم موجودگی کو سزا میں اضافے کے لیے ایک فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا ہے۔یہ سوچ اور فیصلہ کئی لحاظ سے تشویش ناک فکر کی نشان دہی کرتا ہے۔ ندامت فطری طور پر ایک موضوعی امر (Subjective Factor) ہے نہ کہ قانونی استدلال۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جسے آسانی سے ناپا یا پرکھا نہیں جاسکتا۔ مگر اسے ایک مرکزی حیثیت دینا ملزم کو اس بات کی سزا دینے کے مترادف ہے جس پر وہ یقین رکھتا ہے یا جس کا اظہار نہ کرنے کا وہ انتخاب کرتا ہے، بجائے اس کے جو قانوناً ثابت ہو چکا ہے۔
یہ خود کو مجرم ٹھیرانے کے خلاف حق (Right Against Self-incrimination) اور اس وسیع تر اصول پر بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے فیصلے کا انحصار شواہد پر ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس کردہ ظن و تخمین پر۔
فیصلے کا ایک اور تشویشناک پہلو کشمیر کی نسبت سے ملزمان کے سیاسی موقف کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ استغاثہ نے مسئلہ کشمیر پر ان کے بیان اور نظریاتی کمٹمنٹ کو انڈیا کی خودمختاری کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم، فیصلے کے پیراگراف ۱۶ کے مطابق زیرحراست خواتین کی سیاسی رائے اور پُرتشدد طرزِ عمل کے درمیان تعلق متعین نہیں کیا جاسکا۔ وکلائے دفاع نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان کی سرگرمیاں نظریاتی اظہار اور ایک دیرینہ قومی سیاسی متنازع مسئلے پر تبصرے تک محدود تھیں، نہ کہ براہِ راست پُرتشدد کارروائیوں سے منسوب۔
جمہوری نظامِ عدل میں، کسی سیاسی نظریے کو رکھنا یا اس کا اظہار کرنا، —خواہ وہ ریاست کے سرکاری موقف کو چیلنج ہی کیوں نہ کرتا ہو، —بذاتِ خود مجرمانہ فعل نہیں بن سکتا، جب تک کہ اس کا تعلق واضح طور پر اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اقدام سے نہ جڑا ہو۔
کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم اسے تاریخی اور سفارتی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کشمیر کو عشروں سے عالمی سطح پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تصفیہ طلب مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں، بالخصوص قرارداد نمبر ۴۷، اس مسئلے کے سیاسی حل اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
انڈین قیادت کا اپنا ریکارڈ بھی اسی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے لیڈر اور پہلے انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے وعدوں سے لے کر، بی جے پی سے وابستہ انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کے فلسفے تک، اور ۹جولائی ۲۰۱۵ء کے ’اوفا اعلامیے‘ (Ufa Declaration) تک، —جہاں انڈیا اور پاکستان نے تمام باہمی حل طلب مسائل پر بات چیت کے عزم کا اعلان کیا، —یہ سب اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بھی جب آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کو حاصل کرنے کی بات کرتی ہے، تو وہ بالواسطہ یہ بات ہی تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ جغرافیائی اور سیاسی حدود ابھی حتمی نہیں ہیں اور ایک باہم تنازع موجود ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست خود اسے ایک حل طلب مسئلہ تسلیم کرتی ہے، تو کسی شہری یا گروہ کی جانب سے اسی مسئلے پر ایک الگ سیاسی یا نظریاتی موقف رکھنا ’مجرمانہ سازش‘ کیسے بن سکتا ہے؟ جمہوری نظامِ عدل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی نظریہ تشدد پر نہیں اکساتا یا اسے بزورِ شمشیر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، محض اس سوچ یا نظریے کو رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور نہ اس کو ’ندامت کے فقدان‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔
کشمیر کو حل طلب مسئلہ ماننے اور اقامت دین کے فلسفہ پر اعتقاد رکھنے سے بھلا کیسے کوئی مجرم بن سکتا ہے؟
اقامت ِ دین کے تصور کو مجرمانہ رنگ دینا بھی قانونی تضادات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف انڈیا میں ہندو راشٹرا یا ہندو دیش بنانے کی مہمات کو بعض اوقات حکومتی سرپرستی یا آشیر واد حاصل ہوتا ہے اور اسے ایک ’تہذیبی حق‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اقامتِ دین جیسے مذہبی و اخلاقی تصور کو —جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی اور اخلاقی اصلاح کا نام ہے، اسے کیسے انڈین —ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
قانون کی نظر میں یہ دوہرا معیار، عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ’ہندوتوا‘ کو ایک طرزِ زندگی (Way of Life) کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تو اقامت ِ دین کو، جو کہ اپنی اصل میں روحانی بالیدگی اور سماجی بہبود کا داعی ہے، محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مجرمانہ نیت سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ جب تک استغاثہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس نظریے کے تحت براہِ راست کسی پُرتشدد کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، اسے سزا کی بنیاد بنانا دراصل ’فکری آزادی‘ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ کسی سیاسی تنازعے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر رائے رکھنا ’اختلافِ رائے‘ (Dissent) تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے ’غداری‘ یا ’دہشت گردی‘ سے وابستہ کرنا آئینی حقوق کی روح کے خلاف ہے۔
دفاعی گذارشات میں کئی تخفیفی عوامل ریکارڈ پر لائے گئے: سزا یافتہ افراد کی ڈھلتی عمر، ان کا تعلیمی پس منظر، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور یہ حقیقت کہ وہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال قید کاٹ چکی ہیں۔ یہ کوئی معمولی انحرافِ عدل و اخلاق کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ مذکورہ عوامل اس اصولِ تناسب (Principle of Proportionality) کی روح ہیں جو جدید نظامِ سزا کی بنیاد ہے۔
پھر کسی واضح نقصان کا ثبوت نہ ہونے کا مسئلہ بھی اس میں موجود ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ریکارڈ سے بھی مبینہ افعال اور کسی حقیقی بدامنی یا تشدد کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ فوجداری قانون میں، خاص طور پر سنگین جرائم میں، ایسا تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بنیادی اور تشویش ناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا کوئی عدالت ایک پیچیدہ مذہبی تصور کی تشریح کے لیے کسی محدود اور گمنام علمی مآخذ پر بھروسا کر سکتی ہے؟ کیا اقامتِ دین جیسے وسیع مذہبی نظریے کو اس کے مسلّمہ معانی پر غور کیے بغیر مجرمانہ نیت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ اور کیا ’ندامت کی عدم موجودگی‘ عمر، صحت اور واضح نقصان کی کمی جیسے معروضی تخفیفی عوامل پر بھاری پڑ سکتی ہے؟
ایک آئینی جمہوریت میں، عدالتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھیں۔ لیکن جب عدالتی استدلال عقیدے اور جرم، یا ثبوت اور تشریح کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتا ہے، تو وہ توازن خطرے میں پڑجاتا ہے۔
اس فیصلے سے پیدا ہونے والے خدشات اور مابعد اثرات صرف ایک کیس تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اس بات کے مرکزی نکتے سے بحث کرتے ہیں کہ عدالتیں نظریات کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟ ملزمان کی نیت کا اندازہ کیسے لگاتی ہیں؟ اور انصاف و تناسب کے اصولوں کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں؟ اور تعصب اور عدل شکنی کی راہ پر چلتے چلتے عدل کو قتل کرنے کی آلۂ کار بن کر رہ جاتی ہیں؟
بنگلہ دیش اس وقت قومی زندگی کے نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف تیرھویں قومی انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے، تو دوسری جانب ان انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔عوامی لیگ کی ۱۵ سالہ فسطائی حکومت کے خاتمے (اگست ۲۰۲۴ء) کے بعد دستور، قانون اور حکومتی انتظام کے تضادات پوری قوت سے اُبھر کر سامنے آئے، جنھیں درست کرنے کے لیے ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت نے ڈیڑھ سال کے دوران بہت سی کوششیں کیں، مگر یہ چیلنج اس قدر گہرا، ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے کہ عبوری حکومت، خواہش کے باوجود اس کام کو تسلی بخش طریقے سے انجام نہیں دے سکی۔
اس کے چار اسباب تھے: پہلا یہ کہ حکومت میں شامل افراد پہلے سے کوئی ریاستی و انتظامی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ دوسرا یہ کہ بیش تر افراد مختلف این جی اوز کے پس منظر سے متعلق تھے، جن میں فکری ہم آہنگی نہیں تھی کہ وہ مل کر زیادہ اعتماد سے کام کرتے۔ تیسرا یہ کہ انھیں اس چیز کا احساس تھا کہ ان کے پاس عوام کا مقبول مینڈیٹ نہیں، جس کے سبب وہ زیادہ پُراعتماد اقدام نہ کرپائے، اور چوتھا یہ کہ پورے ریاستی نظام میں، عوامی لیگی اور انڈین اثرات کے تحت اہل کاروں سے اپنی بات منوانا مشکل ثابت ہوا۔
یہ وہ اسباب تھے کہ جنھوں نے انتخابات سے قبل قومی سطح پر قانون اور ضابطے کی درستی اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے منظم ڈھانچے کو بے نقاب کرنے کے لیے اصلاحات کا خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ۱۲فروری کو انتخابات کے روز ایک جانب لوگ اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں گے، تو دوسری جانب آئینی اصلاحات کی نسبت سے چند بنیادی نکات پر ریفرنڈم میں اپنی رائے دیں گے۔
عوامی لیگ کے قومی جرائم کے سبب، عبوری حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے، جس کے بعد عملاً میدان میں دو قوتیں برسرِ انتخاب ہیں: ایک بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP: بی این پی)اور دوسری بنگلہ دیش جماعت اسلامی۔
قومی زندگی میں بی این پی کی گہری جڑیں ہیں، اور تین مرتبہ حکومت میں رہنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ ماہ قبل اس کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کا انتقال ہوا تو تدفین کے موقعے پر بلاشبہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہوا۔ ان کے بیٹے طارق رحمان (پ: ۱۹۶۵ء) ایک طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپس آئے اور اب وہ پُراعتماد حیثیت سے پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ملک میں آمد کے موقعے پر عبوری حکومت نے عملاً انھیں ایک سربراہ کی طرح پروٹوکول دیا، جس سے انتخابات میں حکومت کی غیر جانب داری کے دعوے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس چیز کو تمام حلقوں نے محسوس کیا ہے اور قومی سطح پر اس پہ اعتراض بھی اُٹھایا ہے۔ لیکن ریاستی انتظامی ڈھانچے نے فی الحقیقت انھیں مستقبل کے حکمران کے طور پر ہی سمجھنا اور پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
پارلیمنٹ کے تین سو کے ایوان میں دو سو سے زیادہ نشستوں پر بی این پی نے نمائندے کھڑے کیے ہیں۔ طارق رحمان نے انتخابی مہم میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہورہے ہیں، لیکن جس تاثر کے ساتھ بی این پی انتخابات جیتنے کا دعویٰ رکھتی ہے، اُس نسبت سے لوگ جلسوں میں نہیں آرہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں بی این پی اور جماعت اسلامی کم و بیش برابر یا کسی جائزے میں بی این پی قدرے بہتر نتیجے کے ساتھ نمایاں نظرآتی ہے، مگر بہت کم فرق کے ساتھ۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ بی این پی کی تائید کے لیے کمیونسٹ لابی، ہندو برادری کے طاقت ور گروہ، عوامی لیگ کے حامیوں کی بڑی تعداد، این جی اوز کی مشینری اور اس کے ساتھ ساتھ انڈیا کے مؤثر حلقوں کی آشیرباد واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ اسی سول اور فوجی انتظامیہ کے ساتھ میڈیا کے فعال عناصر بھی اس کی جانب جھکائو رکھتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی ہے، جس کے دامن میں خلوص، محنت، دیانت، خدمت اور ملک و قوم کے لیے قربانیوں کی بہترین روایت ہے۔ اس کی بے داغ قیادت نے قوم میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔بلاشبہ ملک بھر میں سب سے بڑے انتخابی جلسے جماعت اسلامی ہی کے ہورہے ہیں، جس کی تائید کے لیے نو چھوٹی بڑی جماعتیں شریک کار ہیں۔ ان پارٹیوں میں طلبہ کی ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (NCP)بھی شامل ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی اور اس کے اتحاد کی حمایت کرنے والوں میں چالیس سال سے کم عمر کے رائے دہندگان کی بڑی تعداد شامل ہے۔ پھر یہ پہلو بھی سامنے رہے کہ یونی ورسٹیوں کے تمام انتخابات جماعت اسلامی کی حامی ’اسلامی چھاترو شبر‘ کے اُمیدواروں نے واضح اور بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے، اور اپنے مدمقابل ’چھاترو دل‘ (بی این پی کے حامی طلبہ) کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ گویا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کی جانب ووٹ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ حالانکہ گذشتہ کئی عشروں سے جماعت اسلامی کے خلاف ابلاغی، نصابی اور قومی سطح پر ہمہ گیر مہم کی سرپرستی کی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح اب سے چند روز قبل علما کے ایک معروف گروپ نے جماعت اسلامی کے اتحاد سے الگ ہوکر انتخابات میں اُترنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یقینا جماعت اسلامی کے حامی ووٹروں کی قوت تقسیم ہوگی۔
جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن (پ:۱۹۵۸ء) قومی سطح پر ایک مرکزی راہ نما کے طور پر اُبھرے ہیں۔ ان کی تقاریر میں ٹھیرائو، تدبر، وسعت ِ نظری اور سنجیدگی نے عوام و خواص میں گہرا تاثر قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب انتخابی تقاریر اور عوامی پروگراموں میں الزام تراشی اور مخالفین پر طعن و الزام کے بجائے مثبت انداز سے اپنا پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ جس میں انصاف، سماجی فلاح اور معاشی استحکام کو مرکزیت حاصل ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی انتخابی مہم قدم قدم پر مالی وسائل کی کمی کے ساتھ چلتی دکھائی دیتی ہے اور بی این پی کی مہم شاہانہ اخراجات کا نمونہ ہے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ اگر انتخابات غیر جانب دارانہ ہوں تو جماعت اور بی این پی برابر، برابر نشستیں لیں گی، اوریہ بھی ممکن ہے کہ جماعت اسلامی سادہ اکثریت حاصل کرلے۔ لیکن دھاندلی سے یہ نتیجہ تبدیل کرکے بی این پی کی جانب جھکایا بھی جاسکتاہے۔ تاہم جماعت اسلامی نے یہ پیش کش کر رکھی ہے کہ وہ کامیابی کی ہرصورت میں قومی حکومت بنا کر تعمیروترقی کے لیے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
وطن عزیز میں ’طاقت اور اختیار کا کھیل‘ اپنی تمام کثافتوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ دیکھنے میں چلاآرہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کھیل کے کھلاڑی غالباً ہرآن یہی سوچتے ہیں کہ ’طاقت و اختیار‘ کا کب کتنا مزید حصہ حاصل کرنا ہے۔ باقی رہی قوم اور قوم کے روزمرہ اُمور، یا مستقبل کے معاملات، تو اُن کے بارے میں جب فرصت ملی تو سوچ لیا جائے گا۔
قوم کے اعصابی مراکز پر فائز قوتیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا عسکری، عدالتی ہوں یا سول، اپنے کردار سے کم و بیش اسی کھیل میں کبھی تیزگامی اور کبھی سُست رفتاری اختیار کرنے کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ مقتدر طبقوں کی یہی وہ لَت تھی جس نے قیامِ پاکستان کے بعد دستور بنانے میں قوم کے نوسال ضائع کردیئے، اور انھی ۹برسوں میں ایسے ایسے امراض قومی وجود کو لاحق ہوگئے کہ پہلے انھوں نے دسمبر۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ دکھایا، اور پھر باقی پاکستان کو بھی مسلسل خطرات کے گرداب میں رکھا ہے۔ یہ پریشان کن تبصرہ بے وجہ نہیں۔ اس لیے کہ سیاسی قوتوں کی آمریت پسندی اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کبھی عسکری قوتوں سے گٹھ جوڑ اور کبھی اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ سازباز کا چلن سب کے سامنے ہے۔ یہ سب ’بے زبان‘ قوم کی تاریخ کے سیاہ باب ہیں۔
اس تمہید کا ایک تلخ پہلو فروری۲۰۲۴ء کے وہ انتخابات بھی ہیں، جن میں عدالت عظمیٰ کے ذریعے ایک پارٹی کا نشان سلب کرکے قبل اَز انتخابات دھاندلی کا ظلم شامل کیا گیا، اور پھر من پسند لوگوں کو ’فارم ۴۷‘کے کٹھولے میں بٹھا کر پارلیمنٹ میں پہنچایا گیا۔ مشہور کہاوت ہے کہ ’غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی، وہ نئی غلطی کو جنم دیتی ہے‘۔ یہی کام یہاں بھی ہوا کہ سالِ انتخابات ۲۰۲۴ء ختم ہونے سے پہلے ہی ۲۶ویں ترمیم کا ایسا ڈول ڈالا گیا کہ جس نے خود آئینی ترمیم کے طریق کار کو ہی مشکوک نہیں بنایا، بلکہ اُس کے متعدد منفی نتائج بھی سیاسی و قانونی کلچر کی خرابی کی بنیاد بنے، اور اس کی ضربِ کاری کا اصل نشانہ اعلیٰ عدلیہ ہی بنی۔ چونکہ اس ترمیم میں بدنیتی کے کئی عوامل موجود تھے، اس لیے ’ھل من مزید‘ کی پیاس نے ۲۰۲۵ء کے خاتمے تک ۲۷ویں آئینی ترمیم کی یلغار کرادی۔ یہ ترمیم کیا ہے؟جزوی چیزوں کو چھوڑ کر درحقیقت عدل و انصاف پر ایک غیراسلامی، غیراخلاقی اور غیر جمہوری خودکش حملہ ہے۔
اس ترمیم میں عدلیہ کو مقتدرہ کے ہاتھوں یرغمال بنانے اور مسلسل دہشت زدہ رکھنے کا بارود رکھا گیا ہے، اور مقتدرہ کے کچھ مناصب پر فائز افراد کو ’تاحیات استثناء‘ دے کر، اسلام اور انصاف کے اصولوں کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ پھر اس ترمیم کے ذریعے ’قراردادِ مقاصد‘ کی روح کچل کر رکھ دی گئی ہے۔’قراردادِ مقاصد‘ تحریک پاکستان کے لیے مسلمانانِ برصغیر کے عمرانی معاہدے کی غماز اور آئینِ پاکستان کی بنیاد ہے۔جو واضح طور پر متعین کرتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے، اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقررہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے۔اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا مملکت تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اللہ کی امانت کے طور پر استعمال کریں گے، اور متفقہ قومی دستور نے کہا ہےکہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا، اور اگر کوئی ایسا متصادم قانون ہوگا تو چیلنج کرکے تبدیل کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ قائم کیے گئے ہیں۔
حالیہ ۲۷ویں ترمیم کے ذریعے دستور میں صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری اور دیوانی مقدمات سے دیا گیا تاحیات استثناء سراسر قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ قرآن و سنت میں تویہ استثناء رسولِ معصوم عن الخطاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفائے راشدینؓ کو بھی حاصل نہیں۔یہ غیر اسلامی اور غیر عادلانہ دفعہ مسلّمہ جمہوری و مہذب اصولوں یعنی مساوات، عدل کی گردن اُڑانے کا اعلان بھی ہے اور اختیار بھی۔ یہ دفعہ اسلام کے ان اصولوں، جن میں سماجی انصاف اور برابری کے اصولوں کو مرکزیت حاصل ہے، پامال کرنے کی جسارت بھی ہے۔
مزید ملاحظہ فرمایئے کہ ۲۷ویں ترمیم بھی اسی طرح اناڑی پن، عجلت پسندی اور اَدھوری ڈرافٹنگ کی بھونڈی تصویر پیش کر رہی ہے، جس انداز سے ۲۶ویں ترمیم کی گئی تھی (غلطیوں اور اَدھورے پن کے اسی تسلسل میں اب ۲۸ویں ترمیم لانے کے لیے ذہن سازی کی جارہی ہے)۔ اس ترمیم کے مطابق ایک ’وفاقی آئینی عدالت‘ (فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جسے ۲۶ویں ترمیم میں چند حلیفوں کو غچہ دینے کے لیے واپس لیا گیا تھا، مگر ’زخم مندمل‘ ہونے اور اس دوران مزید پارلیمانی نمبر حاصل کرلینے کے بعد اب اس بلّی کو تھیلے سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ اس نومولود عدالت کے جج حضرات کو اب انتظامیہ اور مقننہ مل کر چُنے گی اور ظاہر ہے چناؤ کے فیصلے کا وزن مقتدر قوتوں کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ایسی عدالت سے بھلا کوئی شہری، ریاست کی جابرقوت کے خلاف عدل کی اُمید کیسے باندھ سکتا ہے؟ جب کہ اس نومولود عدالت کو مقرر کرنے والی قوت وہی ہو، جس کے جبر یا ناانصافی کے خلاف اسے ایوانِ عدل میں دستک دینے کی ضرورت محسوس ہو؟ اسی طرح یہ عدالت ہو یا اعلیٰ عدلیہ، اس کے ججوں کی دوسری جگہوں پر منتقلی، تقرر یا برطرفی کے لیے کوئی واضح معیار مقرر نہیں کیا گیا، مگر بازو مروڑنے کا راستہ رکھا گیا ہے۔ ایسے فیصلوں کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے، جس میں انتظامیہ کا پلڑا بھاری ہوگا۔
یاد رہے، دستور کی دفعہ ۲۰۰ میں درج تھا کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو دوسری جگہ تبدیل کرنے کے لیے، متعلقہ جج صاحب کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔ لیکن موجودہ ۲۷ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جج صاحب کی مرضی کے بغیر بھی انھیں تبدیل کیا جاسکے گا، اور اگر وہ یہ حکم یا ہدایت ماننے سے انکار کریں تو اُن کے خلاف ۳۰ روز کے اندر ’اعلیٰ عدالتی کونسل‘ (SJC) میں تادیبی کارروائی ہوگی، اور انھیں کام کرنے سے منع کردیا جائے گا۔
اس ’آئینی عدالت‘ کو غیرآئینی کام کرنے کے لیے یہ کہہ کر پوری سہولت بہم پہنچا دی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں سابقہ عدالتی نظائر (فیصلوں) کی پابند نہ ہوگی، ان کے سامنے سابقہ فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اس طرح انسانی سماج کے تجربات سے حاصل شدہ راہ نمائی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ایسی صاف سلیٹ پر من پسند آئینی عدالت کو اختیارات کا ڈنڈا پکڑا کر، دراصل یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ وہ پرانے ’ناپسندیدہ‘ تجربات کو نظرانداز کرنے کی ’شرمندگی‘ سے بچ سکیں۔
۲۶ویں ترمیم میں اس کج روی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ۹مئی ۲۰۲۵ء کو دس رکنی ’آئینی بنچ‘ نے سپریم کورٹ کے جولائی ۲۰۲۴ء کے اس فیصلے کو پلٹ کر کالعدم کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمے چلانا دستور کی دفعہ ۱۰-الف (منصفانہ مقدمے اور قانونی حق) کی خلاف ورزی ہوگی۔درحقیقت نئی ’آئینی عدالت‘ کا یہ وجود عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ، پارلیمانی قانون سازی کے اسلامی اور عدالتی ریویو اور جائزے کے اختیار کو بھی سلب کرنے کا اعلان ہے۔
نومبر ۱۹۸۵ء میں ’آٹھویں ترمیم‘ اور دسمبر۲۰۰۳ء میں ’سترھویں آئینی ترمیم‘ میں شامل ۵۸(۲-الف) کا غیرجمہوری حق، مقتدر قوتوں نے مارشل لا کے فیصلوں کو تحفظ دینے کی دھونس برت کر حاصل کیا تھا کہ اس کے بغیر ان کے سابق دور کے فیصلے بے وجود ہوجاتے۔ لیکن اب ۲۶ویں اور ۲۷ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایسے فیصلوں کے لیے تو کوئی دبائو بھی موجود نہیں ہے، تو پھر پارلیمنٹ نے یہ غیرآئینی اور غیر جمہوری اور غیر عادلانہ اقدام کیوں کیے ہیں؟
ان ترامیم نے فی الحقیقت مستقبل کے معاشی اُمور کو بھی داغدار کر دیا ہے، اور قومی زندگی میں سیاسی ساکھ اور اعتماد کا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ ان ترامیم سے انتظامی اور عسکری غلبے کو آئینی تحفظ ملنے سے طاقت وروں کے اختیارات اور قوت میں مزید اضافہ ہواہے، جب کہ جمہور کی طاقت میں بڑی کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس کے تقرر کے لیے میرٹ یا معیار کے بجائے انتظامیہ کی پسند و ناپسند کو راہ دی گئی ہے، جس سے عدل کے ایوان گروہ بندی اور سیاسی جھکائو کے اندھے گڑھے میں گرائے جاسکتے ہیں۔ آئینی بنچوں کی تشکیل میں سیاسی مداخلت کا سامان فراہم کرکے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو سوالیہ نشان بنا ڈالا گیا ہے۔
وطنِ عزیز میں جمہوری قدروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطلب معاشرے کو توازن سے روشناس کرانا ہے۔ لیکن اگر عدل کے حصول کا راستہ کھوٹا ہوگا اور رکاوٹ زدہ ہوگا تواس سے مایوسی پیدا ہوگی۔ اس کے لیے تمام طبقوں کو درست بات حکامِ بالا اور عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔تمام سیاسی اور دینی قوتوں کے ساتھ وکلا اور صحافیوں کو غیرجذباتی انداز سے اس ضمن میں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔
دین سے وابستگی اور دین کی خدمت کی توفیق، اللہ تعالیٰ کے بہترین انعامات میں سے ایک انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر میںبہت سے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ سعادت عطا فرمائی ہے۔ انھی خوش نصیب قافلوں میں ایک معتبر قافلے کا نام جماعت اسلامی ہے، جو دُنیا بھر میںمعروف ہے۔
جماعت اسلامی اپنی دعوت اور اپنی منزل کے حصول کی جدوجہد میں، انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قافلے کے اِتباع اور صلحائے امتؒ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنے والی ایک منظم تحریک ہے۔
جماعت اسلامی آج سے ۸۵ برس قبل ۲۶؍اگست۱۹۴۱ء کو لاہور میں قائم ہوئی تھی۔ آج یہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت پورے جنوب مشرقی ایشیا میں اپنا گہرا اثر و نفوذ رکھتی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر اور ان کی قیادت میں جب اس قافلے نے سفر کا آغاز کیا تو اس میں صرف ۷۵ افراد شامل تھے۔ مگر ان کے خلوص اور دینی جذبے نے اس تحریک کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ رفتہ رفتہ یہ کارواں عالم گیر صورت اختیار کرتے ہوئے فکروعمل کی دُنیا میں گہرے نقوش ثبت کرتا آرہا ہے۔
جماعت کی تاسیس کے وقت بمشکل ۷۴ روپے سے بیت المال قائم ہو سکا۔ مگر اس قافلے کی رفتارِکار کی راہ میں نہ مالی وسائل آڑے آئے اور نہ افرادی قوت کی کمی کوئی نفسیاتی رکاوٹ پیدا کرسکی۔ اسلام کے یہ جاں نثار پورے ہند میں پھیل گئے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کے متعین کردہ مقاصد کے شعور سے مالا مال اور حکمت عملی سے وابستہ کارکنان کی اجتماعیت دنیا کے مختلف حصوں میں مصروفِ عمل ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد کے ذریعے، اللہ کی رضا کے حصول اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں لاکھوں مرد و زن اور پیروجوان متحرک ہیں۔
جماعت اسلامی نے اسلام کی جو دعوت پیش کی اس کو قبول کرتے ہوئے ایک تعداد اس سے عملاً وابستہ ہوئی۔ دوسری بڑی تعداد نے اسے اچھا تو سمجھا، لیکن اس کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ نہ کرپائی۔ اسی طرح ایک تیسری تعداد نے اس کا راستہ روکنے کے لیے الزام تراشی، اِتہام بازی اور ظلم و زیادتی کا طرزِعمل اپنایا۔ ان سبھی کے لیے ہم خیروعافیت کی دُعا کرتے ہیں۔ بہرحال، زندگی کے ان مختلف دائروں کے پہلو بہ پہلو جماعت اسلامی آج دنیا میں ایک حوالہ ہے، خیر، تعمیر اور حق کی گواہی کا، خدمت، خلوص اور امانت داری کا۔ اسی جماعت کا کل پاکستان اجتماع عام ۲۱-۲۳ نومبر ۲۰۲۵ء کو لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔
مسلم اُمہ اس وقت جن مصائب، بحرانوں اور غلامی کی نئی قسموں سے دوچار ہے، ان میں یہ اجتماع، زندگی بخش راہوں کو کشادہ کرسکتا ہے۔ وطن عزیز جن اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے، اُن میں ہم آہنگ جذبۂ عمل دے سکتا ہے۔ سیاسی ابتری، معاشی فساد اور ماورائے دستور حکمرانی کی حقیقت کو آشکار کرسکتا ہے۔ مخصوص این جی اوز کے ذریعے ملک و ملّت کی فکری و نظریاتی تخریب کا جو سامان کیا جارہا ہے اور شریعت ِ اسلامی پر حملہ آور ہونے کے لیے جس ’میٹھے زہر‘ کو نام نہاد ’مذہبی اسکالروں اور اصلاح پسندوں‘ کی سرپرستی کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے، اس فکری ارتداد سے باخبر رہنے کا اسلوب دیا جاسکتا ہے۔
آنے والا کل جن فکری، علمی اور کلامی چیلنجوں کے ساتھ یلغار کرتا چلا آرہا ہے، اس تباہی کا احساس بیدار کرنا پہلی ضرورت ہے۔ اس کا جواب دینے کے لیے میدانِ عمل میں آنا دوسری ضرورت ہے، اور عمل و رَدعمل سے بڑھ کر مثبت انداز سے ایک نظامِ فکر اور لائحہ عمل پیش کرنا تیسری اور سب سے اہم ضرورت ہے۔
جماعتوں اور پارٹیوں کے اجتماعات میں مذہبی یا سیاسی ہنگامے ہوتے ہیں، لیکن ان سب سے بالکل مختلف انداز اور امتیازی شان کے ساتھ جماعت اسلامی کا اجتماع عام منعقد ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیمی اور تحریکی زندگی میں مرکزی اجتماع کی کیا اہمیت ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں سے ۱۶۶کلومیٹر کے فاصلے پر دارالاسلام میں منعقد ہونے والے پہلے کُل ہند اجتماع میں ۱۹؍اپریل ۱۹۴۵ء کو فرمایا تھا:
مختلف گوشوں سے، موجودہ زمانے کے پُر صعوبت سفر کی تکلیفیں برداشت کرکے یہاں جمع ہو کر آپ نے میری طاقت میں بھی اضافہ کیا ہے اور اپنی طاقت میں بھی۔ [اگر آپ] ایسا نہ کرتے تو میں اپنی جگہ کم زور ہو جاتا اور آپ اپنی جگہ۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہماری یہ تحریک جو ایک بڑے عزم کا اظہار ہے، آپ اپنی جگہ ٹھٹھر کر رہ جاتی۔ آپ جب کسی ایک شخص کو، ایک مقصدِ عظیم کے لیے خود اپنا امیر بناتے ہیں، تو اس کی اطاعت کر کے دراصل اپنی ہی طاقت کو مضبوط کرتے ہیں، اور جتنی کم اطاعت کا ا ظہار آپ سے ہوگا، اس کمزوری کی وجہ سے آپ کی جماعت کی طاقت ضعیف ہوگی۔ [مگر] اس کے برعکس جس قدر زیادہ آپ کے قلب و دماغ پر اپنا مقصد حاوی ہوگا، اور جتنا زیادہ اپنے مقصد کی خاطر اطاعتِ امر کا صدور آپ سے ہوگا، اُسی قدر زیادہ آپ کا مرکز قوی ہوگا اور آپ کی تنظیمی طاقت زبردست ہوگی۔
مولانا محترمؒ نے اپنے خطاب میں اس چیز کی طرف توجہ دلائی ہے کہ: lآپ نے مالی، سفری اور صحت کی مشکلات برداشت کرکے یہاں جمع ہونے کا قدم اٹھایا lاس طرح آپ نے نظم جماعت، جماعت اور خود اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے lیوںآپ نے مقصدِ عظیم سے وابستگی کا اظہار کیا ہے lاوراطاعتِ نظم کا قدم اٹھا کر مقصد کی قوت میں اضافہ کیا ہے ___ دراصل یہی ہے وہ روح، جس کے تحت جماعت کے نظم کی دعوت پر ہم تمام کارکنان لبیک کہتے ہوئے اس اجتماع میں شرکت کریں گے۔ اس طرح ہم نظم ہی کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی مضبوط بنائیں گے، ان شاء اللہ۔
جماعت اسلامی، قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر چھوٹے بڑے تنظیمی اجتماعات کا انعقاد معمول کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اور یہی ذیلی اجتماعات جماعت کی ہم آہنگی، ترقی، تربیت اور ہمہ پہلو پھیلائو کا ذریعہ ہیں۔ مگر قومی سطح پر بڑے اجتماع کا انعقاد فکری، تربیتی، روحانی اور تحریکی تجدید کا طاقت ور مظہر بھی ہوتاہے اور ذریعہ بھی۔ اس بڑے اجتماع سے متعدد فوائد حاصل ہونے کی اُمید ہوتی ہے:
دوسرے لفظوں میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام کوئی روایتی میلہ یا جلسۂ عام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچر کا روحانی و انقلابی عکس ہوتا ہے۔ اس لیے ہر سطح کےکارکنوں پر لازم ہے کہ وہ اجتماع میں شرکت کے لیے خود بھی شعوری طور پر تیار ہوں، اور اپنے اہل خانہ ، خاندان اور قریبی لوگوں کو بھی تیار کریں۔
سیّد مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپریل ۱۹۴۵ء میں اسی طرح کے ملکی اجتماع میں فرمایا تھا:
آپ کے اجتماعات میں خواہ کتنا ہی بڑا مجمع ہو، مگر خیال رکھیے کہ بھیڑ اور ہڑبونگ، اور شوروہنگامہ کی کیفیت کبھی رونما نہیں ہونی چاہیے۔
جو کام ہم نے اپنے ہاتھ میںلیا ہے، یعنی اخلاقی اصولوں پر دنیا کی اصلاح کرنا، دنیا کے نظم کو درست کرنا، اس کا تقاضا ہے کہ اخلاقی حیثیت سے ہم اپنے آپ کو دنیا کا صالح ترین گروہ ثابت کر دکھائیں۔
جس طرح ہمیں دنیا کے بگاڑ پر تنقید کا حق ہے، اسی طرح دنیا کو بھی یہ دیکھنے کا حق ہے کہ ہم انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کیسے رہتے ہیں؟ کیا برتائو کرتے ہیں؟ کس طرح جمع ہوتے ہیں اور کس طرح اپنے اجتماعات کا انتظام کرتے ہیں؟
اگر دنیا نے یہ دیکھا کہ ہمارے اجتماعات میں بدنظمی ہے، ہمارے مجمعوں میں انتشار اور شوروغل ہوتا ہے۔ ہمارے رہنےا ور بیٹھنے کی جگہیں بدسلیقگی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اور جہاں مشورے کے لیے جمع ہوتے ہیں، وہاں مذاق، قہقہے اور جھگڑے برپا ہوتے ہیں، تو دنیا خدا کی پناہ مانگے گی۔
اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے اجتماعات کے دوران نظم، باقاعدگی، سنجیدگی و وقار، صفائی و طہارت اور حسنِ اخلاق اور خوش سلیقگی کا ایسا مکمل مظاہرہ کریں، جو دنیا میں نمونہ بن سکے.... ایک منظم گروہ کی طرح اٹھیے اور بیٹھیے، کھائیے اور جمع ہو جائیے اور منتشر ہو جائیے۔
جہاں آپ جمع ہوں، وہاں آپ کی دیانت و امانت بالکل ایک محسوس و مشہود شکل میں نظر آنی چاہیے۔ [وہاں]کسی شخص کو اپنے سامان کی حفاظت کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت پیش نہ آئے۔ جس کا مال اور سامان جہاں رکھا ہو، بغیر کسی نگران اور محافظ کے محفوظ پڑا رہے۔
بانی ٔ جماعت کے ان الفاظ میں اجتماع اور شرکائے اجتماع کے اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی پہلو کو انفرادیت بخشنے کا بہترین سبق موجود ہے۔
اسی طرح سیّد مودودی علیہ الرحمہ نے معاشرے، ماحول، سوچ کے زاویے اور عمل کی دُنیا کی تبدیلی کا درس دیتے ہوئے فرمایا تھا:
اس وقت ہماری حقیقی ضرورت یہ ہے کہ وہ سارانظامِ زندگی تبدیل کیا جائے، جو انگریز نے سرمایہ داری، استعماریت اور مادہ پرستی کی بنیاد پر قائم کیا تھا اور جو آج بھی جوں کا توں ہمارے ملک پر قائم ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، کوئی تکلیف، کوئی شکایت اور کوئی خرابی کُلی طور پر رفع ہونا ممکن نہیں ہے۔ خرابیوں کا اصل علاج یہ ہے کہ سارا نظام اپنی نظریاتی اور اخلاقی بنیادوں کے ساتھ بدلا جائے اور اس کو اسلامی، اخلاقی و نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا جائے، جو اجتماعی انصاف کی ضامن ہوں۔ جب نظامِ زندگی بدلے گا تو عدل و انصاف خود قائم ہوجائے گا اور لوگوں کی مشکلات اور شکایات آپ سے آپ دُور ہوجائیں گی۔
اجتماع میں شرکت اور اجتماع کی تمام تر کارروائی اسی فرسودہ نظامِ کار کو بدلنے کی تمہید ہے۔ جب کہ اجتماع کے بعد کارکنوں اور شرکائے اجتماع کی اپنے اپنے مقامات پر واپسی ، ان شاء اللہ نظام کو بدلنے کی واضح حکمت عملی سے آگاہی اور جذبہ و تحرک کی سرشاری کا عنوان بنے گی۔
ایک ’غزہ‘ کا مقتل ساری دُنیا کے سامنے ہے، دوسرے ’غزہ‘ کے بارے میں خود اس کے ہمسائے میں بسنے والے بھی بے خبر، لاتعلق یا مجرمانہ غفلت کاشکار ہیں۔ اس غزہ سے مرادہے مقبوضہ جموں و کشمیر پر ٹوٹنے والی قیامت اور لمحہ بہ لمحہ مسلط کی جانے والی برہمنی توسیع پسندانہ درندگی!
دُنیا بھر میں عام لوگ بجاطور پر اہل غزہ کے غم کی ٹیسیں روح کی گہرائیوں تک محسوس کررہے ہیں، جو انسانی دردمندی کا ایک قیمتی پہلو ہے، جب کہ انھی قوموں کے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمران، سنگ دلی کے عنوان اور ہرجگہ ظلم کے معاون ہیں۔ برہمنی سامراج نے دُنیا کے سامنے جھوٹ، دھوکے اور مادی مفادات کے لالچ پھیلا کر ان حکمرانوں پر اندھا پن مسلط کررکھا ہے۔ دوسری طرف قلم اور کیمرے نے بھی اپنی گواہی پیش کرنے کے بجائے اس سفاکیت کو بیان کرنے سے رخصت لے رکھی ہے۔ انڈیا نے ہمیشہ عالمی بحرانی حالات میں اپنےایجنڈے کے حصول کی کوشش کی ہے۔ نائن الیون کے افسوس ناک واقعے کے بعد، جب امریکی سربراہی میں دُنیا کی ریاستی قیادتیں، مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں تو انڈیا نے ایک طرف کشمیر میں حُریت اور آزادی کی جدوجہد کو کچلنے میں شدت برتی، تو دوسری طرف خود انڈیا کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف ’ہندوتوا گردی‘ کی درندگی کو پروان چڑھایا۔
اس تحریر میں جموں و کشمیر میں ایک خاص انداز سے انڈین حکومت اور فوج کی اس پالیسی کو دیکھنے کے لیے کچھ تفصیلات دی جارہی ہیں، جو گذشتہ ڈیڑھ دو ماہ میں اخبارات اور ابلاغ کے دیگر ذرائع سے سامنے آئیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف یہی کچھ روا رکھا گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ محض چندمثالیں ہیں۔ ان اطلاعات اور خبروں کو چند لفظوں کا مجموعہ سمجھ کر نظرانداز کرکے، سرسری طور پر دیکھ کر آگے بڑھ جانا انتہائی غفلت اور سنگ دلی ہوگی۔ کاش! پڑھنے اور جاننے والے، ان مظلوم کشمیری بھائیوں کے روز افزوں دُکھ کو محسوس کرسکیں۔
ان تفصیلات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس انداز سے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے صبح و شام گزر رہے ہیں:
۲۲؍اگست ۲۰۲۵ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا:
’’چونکہ وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند نے ۲۸ فروری ۲۰۱۹ء اور بعدازاں ۲۷فروری ۲۰۲۴ء کے تحت جماعتِ اسلامی ، جموں و کشمیر کو ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیا تھا۔ چونکہ ایجنسیوں نے ایسے متعدد اسکولوں کی نشان دہی کی جو براہِ راست یا بالواسطہ جماعت ِ اسلامی / ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ سے منسلک پائے گئے، اور چونکہ ان ۲۱۵؍ اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کے بارے ایجنسیوں کی جانب سے ان پر منفی رپورٹ دی گئی ہے۔جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ: ان ۲۱۵؍ اسکولوں کی انتظامی کمیٹیاں، متعلقہ ضلع مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر کے زیرانتظام لی جائیں۔ متعلقہ ضلع مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر، ان اسکولوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں‘‘۔
نسل پرست انڈین حکومت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں، رفاہی سلسلوں اور اخباروں پر پابندیاں لگانے کے ساتھ انھیں تباہ کرنے اور قبضے میں لینے کے لیے جارحیت کا ارتکاب کر رہی ہے، اور اسرائیل کے ماڈل پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے۔ مذکورہ بالا حکم نامے میں جن تعلیمی اداروں پر قبضہ جمانے کا اعلان کیا گیا ہے، یہ تعلیمی ادارے عام لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیے ہیں اور ان میں پڑھایا جانے والا نصاب کوئی خفیہ کتابوں پر مشتمل نہیں۔ ان کے معیاری تعلیمی، تربیتی اور تدریسی ماحول سے یہاں کے لوگ خوش بھی ہیں اور اعتماد بھی کرتے ہیں۔ لیکن انڈین حکومت ہرسطح پر اور ہردرجے میں کشمیری مسلمانوں کو کچلنے کے لیے، ایک کے بعد دوسرا قدم اُٹھاتی چلی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حالیہ فیصلے کے خلاف کشمیر بھر میں غم و غصے کی لہردوڑ گئی ہے۔
پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (PDP)کی سربراہ، سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نئی دہلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے: ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کے ۲۱۵؍اسکولوں پر قبضے کا حکم فوری طور پر واپس لیا جائے۔ یہ قدم بدترین ظلم کی ایک شکل ہے، جس کا مقصد کشمیری نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل کو سبوتاژ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ زمین، وسائل اور ملازمتوں پر من مانی کرنے کے بعد اب اہل کشمیر کی تعلیم کو نشانہ بنانے سے ہمارے مستقبل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ ان اداروں میں ۵۱ہزار سے زیادہ معصوم بچوں کا مستقبل اور تعلیمی ترقی خطرے میں پڑگئے ہیں۔ حکومت اپنا یہ انتقامی فیصلہ فوری طور پر منسوخ کرے اور ٹرسٹ کو بغیر کسی مداخلت کے دوبارہ تعلیمی انتظام سنبھالنے اور تدریسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے‘‘۔
جموں و کشمیر میں ’اپنی پارٹی‘ کے سربراہ الطاف بخاری نے ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کے اسکولوں پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’جماعت اسلامی سے کسی کا سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن یہ بات ناقابلِ تردید ہے کہ ’فلاحِ عام ٹرسٹ‘ اسکولوں نے کئی عشروں کے دوران تعلیم کے شعبے میں مثبت اور قابلِ ستائش کردارادا کیا ہے، اس لیےموجودہ بلاجواز قدم کو واپس لیا جائے اور بچوں کے مستقبل سے نہ کھیلا جائے‘‘۔
’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ فرنٹ‘ نے اس قدم کو ’انتظامی زیادتی، انتقامی کارروائی اور عوامی اعتماد کی پامالی‘ قرار دیا۔ ’عوامی اتحاد پارٹی‘ کے لیڈر انعام النبی نے الزام لگایا: ’حکومت ۵۱ہزار سے زیادہ بچوں کے تعلیمی اور سماجی مستقبل سے کھیل رہی ہے‘‘۔ ’عوامی کانفرنس‘ کے صدر سجاد لون نے ان تعلیمی اداروں کو ’غریب طلبہ کے خدمت گار اور معیاری ادارے‘ قرار دیتے ہوئے، ان کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
گذشتہ ڈیڑھ دو ماہ کے دوران جن واقعات کی مختصر تصویر مضمون کے پہلے حصے میں پیش کی گئی ہے، اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کے زمینی حقائق کا ایک معمولی حصہ سمجھاجائے کہ جو کسی نہ کسی صورت میں لوگوں کے سامنے آگیا ہے۔ ورنہ سلسلہ وار طریقے سے پورے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ ظالمانہ واقعات نہایت تسلسل، بڑی تیزی سے اور وسیع پیمانے پر،سخت بے رحمی سے ہورہے ہیں۔ جن سے دُنیا بھی بے خبر ہے، اور ’بیس کیمپ‘ (آزاد کشمیر) اور پاکستان بھی مجموعی طور پر احساسِ ذمہ داری کے معاملے میں بے حسی کی صورت پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
ریاست پاکستان اور آزاد کشمیر کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم و زیادتی کے بارے میں عوامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر، ابلاغی، سفارتی اور رفاہی سرگرمیوں میں اپنا قرارِواقعی کردار ادا کریں۔ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے اور دفاعی نظام پر بہرصورت یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار پوری قوت اور مکمل احساسِ ذمہ داری سے ادا کریں۔ یہی ذمہ داری تمام سیاسی اور دینی پارٹیوں کو ادا کرنی چاہیے۔ ابلاغِ عامہ کے اداروں اور یونی ورسٹیوں کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان کے عوام جس طرح اُمت مسلمہ کے ہرملّی مسئلے پر تڑپتے اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں، اسی طرح پوری اُمت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر مظلوم اہلِ کشمیر کا ساتھ دیں۔یہ نہ ہو کہ ’دوسرا غزہ‘ تڑپتا رہ جائے اور راوی اپنی اپنی جگہ سُکھ، چین، فتح کے شادیانے بجاتا رہے۔
ملک عزیز بڑی اُمنگوں اور کاوشوں سے وجود میں آیا۔ بڑی محنتوں اور بڑی قربانیوں سے آزادی کی منزل اور الگ وطن نصیب ہوا۔ خوش قسمتی سے ہمیں اُس نسل سے براہِ راست حالِ دل سننے اور پڑھنے کاموقع بھی ملا، جس نسل نے آزادی کا معرکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جس کے افراد خون اور آگ کا دریا پار کر کے اپنی منزلِ پاکستان پر پہنچے تھے۔ بے بہا جذبوں سے لبریز اور ٹوٹے ہوئے خوابوں سے چُور، ان گواہوں میں کچھ کو دل برداشتہ پایا، کچھ کو حالات کا دھارا موڑنے کے لیے پُرعزم دیکھا۔ کچھ ایسے بھی تھے اور شاید ان کی تعداد زیادہ تھی، جنھوں نے سب کچھ بھلا کر آسائش و مال کی دوڑ کو اپنا مقصد ِ زندگی بنالیا۔ تحریک آزادی کے گواہوں پر مشتمل یہ تینوں طبقے اسی معاشرے میں متحرک اور فعال کردار ادا کرکے، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں ربّ العالمین کی عدالت میں پہنچ گئے اور ہم انھیں سننے، دیکھنے والے بھی منزلِ وداع کے قریب آن لگے ہیں۔
بنیادی سوال اپنی جگہ ہے کہ وطن عزیز کا کیا بنا؟ کیسے بنا؟ اور کون کس درجے میں ذمہ دار ٹھیرا؟
امرواقعہ ہے کہ بڑی جاں گسل جدوجہد کے بعد ملک کو آزادی نصیب ہوئی، اور پہلی نسل کے ایک حصے نے بے پناہ محنت کرکے ٹوٹتے خوابوں کو سنبھالا، بکھری اینٹوں کو اکٹھا کیا، قربانیاں دے کر دوسروں کو جینے کا درس بھی دیا اور عمل کرکے قوم کو سنبھالنے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ اس چھوٹی سی اقلیت کے احسانات کا پھل یہ ہے کہ وہ پاکستان جسے تحریک ِ پاکستان کے دوران دیوانے کا خواب کہا جاتا تھا، خواب سے حقیقت میں ڈھلتا ڈھلتا اقوامِ عالم کے نقشے پر ایک باوقار ملک کی صورت میں اُبھرا۔
محنت، دانش اور عزم سے سرشار اس اقلیت کے کارنامے برگ و بار لا رہے تھے کہ ان کے پیچھے تعاقب کرتے ٹڈی دَل فصل کو چاٹنے لگے۔ قربانیوں کے ہیکل اور ابتدائی تعمیری کاوشوں کی قوت نے گاہے ان حشرات کا منہ موڑا، اور ان کی تباہ کن رفتار کو روکا، مگر پھر بھی کئی بار یہ غالب آگئے۔ آج تک قوم، ملک اور سلطنت پاکستان اسی داخلی کش مکش سے گزر رہے ہیں، جب کہ بیرونی قوتیں مثل گدھ (Vulture) کوئی نہ کوئی حصہ اُڑانے کے لیے تاک لگائے بیٹھی ہیں۔ کچھ کامیاب رہی ہیں اور کچھ منتظر ہیں۔
ہمارے مشاہدے و تجزیے کے مطابق اس المیے کو جنم دینے اور مسلسل تقویت فراہم کرنے والوں میں سیاسی، انتظامی، سول، عسکری، عدالتی، صحافتی اور تعلیمی قیادتوں نے غیرذمہ داری کا راستہ اختیار ہی نہیں کیا بلکہ غیرذمہ داری کی بیماری کو چھوت کی طرح پورے معاشرے میں پھیلا دیا اور چھوت کی طرح پھلنے والی یہ بیماری اُس جاں باز اقلیت کی کاوشوں کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔
ملک ِ عزیز بنا تو واضح چیلنج کے طور پر معاشی بحران سے بچنا ممکن دکھائی نہ دیتا تھا، لیکن قائداعظم محمدعلی جناحؒ اور لیاقت علی خانؒ کی قیادت میں بننے والی پہلی حکومت نے بے پناہ محنت سے ملکی اقتصادی گاڑی چلانے کے لیے حیران کن کرشمے دکھا کر ثابت کیا کہ وہ اخلاص اور وژن کی دولت سے سرشار ہیں۔ تاہم، اسی قیادت کے دائیں اور بائیں، آگے اور پیچھے، خود انھی سے تعلق رکھنے والے مفاد پرست افراد اور گروہوں نے وہ دھماچوکڑی مچائی کہ تباہی کے آثار اور تھور کے زہریلے پودے اُگنے شروع ہوگئے۔
قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے پہلی دستور ساز اسمبلی میں ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو تقریر میں بڑے دردِ دل سے اور واضح الفاظ میں چند بنیادی اُمور پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
دو چیزیں میرے ذہن میں ہیں، وہ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں: پہلی اور سب سے اہم بات جو زور دے کر کہوں گا،وہ یہ ہے کہ آپ خودمختار قانون ساز ادارہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ کس طرح فیصلے کرتے ہیں۔ ایک حکومت کا پہلافریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے، تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور اُن کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت ہندستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دُنیا کے دوسرے ممالک اس سے پاک ہیں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہماری حالت بہت ہی خراب ہے، وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے۔ دراصل یہ ایک زہر ہے، اور ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہیے۔
چور بازاری دوسری لعنت ہے۔مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ آپ کو اس لعنت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑاجرم ہے۔ جب کوئی شہری چور بازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھنائونے جرم کا ارتکاب کرتاہے۔ یہ چور بازاری کرنے والے افراد باخبر، ذہین اور عام طور پر ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں، اور جب یہ چور بازاری کرتے ہیں تو میرے خیال میں انھیں بہت کڑی سزا ملنی چاہیے۔ اس بُرائی کو سختی سے کچل دینا ہوگا۔ یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربا پروری کو برداشت کروں گا، اور نہ کسی اثرورسوخ کو قبول کروں گا، جو مجھ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ پر، ہرگز ہرگز اسے گوارا نہیں کروں گا۔
اگر ہم مملکت پاکستان کو خوش و خرم اور خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کردینی چاہیے، بالخصوص عوام الناس اور غریبوں کی جانب۔ اگر آپ باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں گے تو کامیابی یقینا آپ کے قدم چُومے گی۔
اسی خطاب میں آگے چل کر قائداعظمؒ نے ملک میں بڑے پیمانے پر پھیلے ہندو مسلم خونیں فسادات کے ہولناک منظرکو پیش نظر رکھتے ہوئے، یہ فرمایا:
اب اس مملکتِ پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ آپ مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب ، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔
یہ خطبہ پاکستان کے قیام سے تین روز قبل دیا گیا ، اور اپنے پیغام و تصور کے اعتبار سے یہ ایک بہترین خطبہ تھا۔ لیکن ایک آنکھ سے دیکھنے والی ’دانش‘ نے اس کے ایک حصے پر اپنی توجہ مرکوز کرکے اسے من مانے معانی پہنانے کا کاروبار شروع کر دیا، اور قائد ِ محترم کی ۱۱؍اگست کی اس تقریر کے مجموعی پیغام کو نظرانداز کرکے اور اس کے آخری حصے کو سیاق وسباق سے کاٹ کر من مانا مطلب اخذ کرکے پیش کرنے کا کاروبار مسلسل چلایا جارہا ہے۔
قائد نے ۱۱؍اگست کی اس تقریر میں کرپشن، بدعنوانی، امن و امان، چور بازاری اور اقربا پروری کے ناسوروں پر جس شدت سے نشتر چلایا، وہ اس مخصوص ’دانش‘ کو بالکل یاد نہ رہا یا اچھا نہیں لگا۔ حالانکہ اسی چیز نے ملک کے سیاسی،سماجی، معاشی اور آخرکار جغرافیائی منظرنامے کو بدنُما اور داغ دار بناکر رکھ دیا ہے۔ قائد نے قیامِ وطن سے پہلے ہی انگلی رکھ کر اُن امراض کی نشاندہی کی اور انھیں مٹانے کے لیے سخت ایکشن اور کچل دینے کا پیغام دیا۔ لیکن حیران کن حد تک ہماری سیاسی، فکری، عسکری، سول، عدالتی، انتظامی اور صحافتی قیادت کو ان میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی، اور کبھی کسی کو قائد کے یہ الفاظ دُہراتے نہ دیکھا گیا اور نہ سنا گیا۔
البتہ اس خطبے کے آخر میں ’مسلم، ہندو رواداری‘ پر جو فرمایا، اس کے بارے میں یہ مقتدر طبقے بلائیں لیتے اور نہال ہوتے ضرور نظر آتے ہیں۔ جو غنیمت ہے کہ چلیے کسی حوالے سے قائد کے لیے کچھ توجہ اور کچھ تحسین کی گنجائش پیدا ہوئی۔
قائد محترم کی اسی ۱۱؍اگست کی تقریر میں اسمبلیوں کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میںدی گئی ہدایات کی نسبت سے، ہمارے مخصوص دانش وَر طبقے میں مکمل خاموشی اور تغافل پایا جاتا ہے۔ آج ان اسمبلیوں کی جو حالت ِ زار ہے، اُن کے بارے میں سقراط کی معاصر یونانی اسمبلیوں جیسی کیفیت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، جو بقول سقراط: عوام کے مفاد میں سوچنے کے بجائے، ارکانِ اسمبلی کے مفادات کی نگہبان، اور ایسی ایسی تدابیر سوچنے کے اڈے ہیں کہ کس طرح اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنائیں۔
ان اسمبلیوں کو قائد کے وہ جملے اپنی دیوار پر کندہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، جس میں اُنھوں نے بدعنوانی کے ان محافظوں کی سرزنش کی تھی۔ اَدھورے پن کا یہی تضاد ہماری قومی و سماجی زندگی کا گہرا ناسور ہے، جو رِستے رِستے سرطان بن چکا ہے۔
اسی تسلسل میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ہمارے ہاں پائے جانے والے مخصوص سیکولر دانش وروں کو پاکستان کے بانیان پر مشتمل اسی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’قرارداد مقاصد‘ بھی سخت ناپسند ہے، جو اپنی جگہ جمہوریت، انصاف، رواداری اور تحفظ کی ضامن تاریخی دستاویز ہے۔ اس قراردادِ مقاصد کی بنیاد پر نہ تو کسی ظالم، غاصب اور بدعنوان فرد یا طبقے کو تحفظ ملا اور نہ اس قرارداد نے انھیں تحفظ دینے کا جھنڈا اُٹھایا۔ اس کے برعکس ان ’کرم فرمائوں‘ کو ۱۱؍اگست کو قائد کا وہ ہوشیار باش پیغام نظر نہیں آیا جس میں انھوں نے ’کرپشن‘ اور ’بدعنوانی‘ پر خبردار کیا تھا۔
آج پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ یہی بدعنوانی ہے۔ بدعنوانی ایک کثیرالجہتی شیطانی وجود کا نام ہے۔ بدعنوانی کے جسم سے: مالی بدعنوانی، میرٹ تباہ کرنے کی بدعنوانی، اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے کی بدعنوانی، اپنی منصبی ذمہ داری کو محنت و دیانت سے ادا کرنے کے بجائے دوسری ذمہ داریوں میں ٹانگ اُڑانے کی بدعنوانی، حق کی گواہی نہ دینے کی بدعنوانی، سچائی پر قائم نہ رہنے کی بدعنوانی اور مالی و مادی خوف میں مبتلاہونے کی بدعنوانی شامل ہے۔
ذرا چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھیے کہ قائد کے اس فرمان کی دھجیاں کون کون اور کس کس حیلے سے اُڑا رہا ہے؟ شاید ہی کوئی چہرہ اس میزان پہ سرخرو نظر آئے۔ اگر رویہ یہی ہے اور یقینا ایسا ہی ہے، تو پھر ’یومِ آزادی‘ کو بطور ’یومِ تجدید ِ عہدو احتساب‘ منانا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ کہ پاکستان کی ’نظریہ ساز‘ سیکولر اقلیت کے نزدیک قائداعظمؒ کی ذات، کلام، فکر میں کوئی اور بات قابلِ ذکر نہیں۔ ظاہر ہے کہ قائداعظمؒ ۱۱؍اگست سے پہلے بھی زندہ، پوری تحریکِ آزادی چلا رہے تھے اور اس کے بعد بھی ایک برس زندہ رہے۔ انھوں نے تحریکِ پاکستان کے دوران بہت کچھ کہا اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی فکری راہ نمائی دی۔ ایک سوچار مرتبہ ’اسلامی شریعت‘ سے وابستگی کو بطورِ دلیل اور بطورِ عہد دُہرایا۔ ان کی وہ تمام تقاریر ہر خاص و عام کی دسترس میں ہیں مگر مجال ہے کہ ہماری یہ ’فکری مقتدرہ‘ ان باتوں کو کچھ وزن دے۔
قائد نے مذکورہ تقریر قیامِ پاکستان سے تین روز پہلے کی تھی اور اسی قائد کی آخری تقریر یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو ہوئی، جس میں انھوں نے کراچی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا:
معاشرتی اور معاشی زندگی کے اسلامی تصورات سے بنکاری کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں آپ جو کام کریں گے، میں دلچسپی سے اس کا انتظار کروں گا۔ اس وقت مغربی معاشی نظام نے تقریباً ناقابلِ حل مسائل پیدا کر دیئے ہیں، اور شاید کوئی کرشمہ ہی دُنیا کو اس بربادی سے بچاسکے، جس کا اسے اس وقت سامنا ہے۔ یہ نظام افراد کے اور قوموں کے درمیان ناچاقی دُور کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ مغربی دُنیا اس وقت میکانکی اور صنعتی اہلیت کے باوصف جس بدترین ابتری کا شکار ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔مغربی اقدار، نظریئے اور طریقے، خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا، اور دُنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی اساس و بنیاد انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچّے اسلامی تصور پر کھڑی ہو۔ اس طرح ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کرسکیں گے، اور بنی نوع انسان تک امن کا پیغام پہنچا سکیں گے۔ صرف یہی راستہ انسانیت کو فلاح و بہبود اور مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔
یہ تقریر درحقیقت قوم کے نام قائد کی آخری وصیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دیجیے کہ قائد کا ایک ایک لفظ کیا پیغام دے رہا ہے؟ کیا یہ تقریر کوئی انتخابی خطبہ ہے؟ یا پھر یہ تقریر ایک معاشی لائحہ عمل پر چلنے کی پکار، دعوت اور حکم ہے؟ اور یہ بھی گواہی دیجیے کہ کیا اس تقریر کا منشا پاکستانی معیشت کو سود اور معاشی استحصال سے پاک اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کا پیغام نہیں؟
درحقیقت قائد کی ۱۱؍اگست کی تقریراسلامی ریاست کے ذمہ دار کی حیثیت سے بیان کی گئی ریاستی پالیسی تھی، جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق تھی اور اس کا آخری حصہ اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہریوں کے تحفظ اور مذہبی اور سماجی حقوق کے بارے میں اسلامی تعلیمات ہی کا اعادہ ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضع کردہ ’میثاقِ مدینہ‘ میں موجود ہیں۔
۱۱؍اگست کو دستور ساز اسمبلی میں قائد کی صدارتی تقریر تھی، جب کہ تین روز بعد ۱۴؍اگست کودستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائدمحترم نے اپنے موقف کی مزید وضاحت فرما دی، جس میں وائسرائے ہند ماؤنٹ بیٹن نے قائد کو مغل بادشاہ اکبر کی مثال دے کر ’رواداری کا درس‘ دینے کی کوشش کی۔
قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے اس باقاعدہ افتتاحی اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن کی تقریرکا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
شہنشاہ اکبر نے تمام غیرمسلموں کے ساتھ رواداری اور حُسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس کی ابتدا آج سے تیرہ سو سال پہلے ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کردی تھی۔ آپؐ نے زبان سے ہی نہیں، بلکہ عمل سے یہودیوں اور مسیحیوں پرفتح پانے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کے ساتھ رواداری برتی اور ان کے عقائد کا احترام کیا۔ مسلمان جہاں بھی حکمران رہے، ایسے ہی رہے۔ ان کی تاریخ دیکھی جائے تو وہ ایسی انسانیت نواز اور عظیم المرتبت اصولوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، جن کی ہم سب کو تقلید کرنا چاہیے۔ (بحوالہ اسٹار آف انڈیا، ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء، قائداعظم: تقریر و بیانات، چہارم، مرتبہ: اقبال احمد صدیقی، بزمِ اقبال، لاہور، ۱۹۹۸ء، ص ۳۶۳، ۳۶۴)
قائداعظم نے اس خطاب میں اپنا موقف بالکل واضح فرما دیاکہ یہ بات مَیں کوئی آج نہیں کہہ رہا، اور نہ وائسرائے کی مثال کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں، بلکہ یہ بات میں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی براہِ راست سنت سے اخذ کرکے کہہ رہا ہوں۔ قائد محترم کا یہ خطاب نوآموز سیکولر ’دانش‘ کی طرف سے ۱۱؍اگست کی تقریر کے اس حصے کو بنیاد بناکر پھیلائے جانے والے ابہام کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
قائدمحترم نے زندگی بھر فتوے کی زبان استعمال نہیں کی۔ وہ مشورے، راہ نمائی اور دعوتِ فکر دیتے تھے، ان سب چیزوں کا مرکز اپنی ذات کے بجائے ہمیشہ اسلام، قرآن، سیرتِ پاکؐ، اسلامی تہذیب، اسلامی شریعت اور قانون کو ہی قرار دیتے تھے۔
بلاشبہ اسلام اور اسلامی شریعت کی تعبیر و تشریح کے لیے، شریعت کے مآخذ قرآن و سنت ہی ہمارے عمل کی بنیاد ہوں گے۔ علّامہ محمد اقبال ؒ ہوں یا قائداعظم محمد علی جناح ؒ، دونوں میں سے کسی نے اپنے آپ کو کبھی دین و شریعت سے بالاتر نہیں قرار دیا۔ ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلام اور تعمیرِ پاکستان کی منزل کے حصول کے لیے انھی مآخذ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔(س م خ(
سات عشروں سے زیادہ عرصہ گزر چکا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم لوگ، انڈیا کے بے رحم تسلط تلے زندگی گزار رہے ہیں۔اُن کے چاروں طرف دہشت، بارود، گولی، بے حُرمتی، پھانسی، جیل، تذلیل اور انسانی زندگی کی بے توقیری روز کا معمول ہے۔اقوام متحدہ نے ۱۹۴۸ء سے ان کا خود ارادیت کا حق تسلیم کیا ہے ۔ لیکن نہ ویٹو کلب نے اپنے فیصلے کو نافذ کرایا اور نہ انڈیا نے عالمی برادری کے فیصلے کو کسی احترام کے قابل سمجھا۔ نتیجہ یہ کہ اس جبر کے خلاف جدوجہد میں، ۱۹۸۹ء سے اب تک تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں کو جبری طور پر غائب کیا گیا، حراست میں رکھا، یا بھارتی فورسز کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۴۷ (۱۹۴۸ء) — غیر جانب دارانہ رائے شماری کا مطالبہ کرتی ہے — ، اسے ایک طرف پھینکتے ہوئے، انڈیا نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی اور کشمیری آواز کو دبانے کا عمل جاری رکھا۔ اسی دوران ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو ایک سنگین موڑ لیا، جب وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰، اور ۳۵-اے کو منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ اس اقدام کے نتیجے میں فوجی لاک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، کرفیو اور طویل مواصلاتی بلیک آؤٹ ہوا۔
آج ۹ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی، خطے میں دندنا رہے ہیں۔ اس طرح کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوج زدہ علاقہ بن چکا ہے۔ ۲۰۱۹ء کے مذکورہ بالا کریک ڈاؤن کے بعد، ۱۳ ہزار سے زائد نوجوان کشمیریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) جیسے سخت وحشیانہ قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا، جو بغیر مقدمہ چلائے حراست کی اجازت دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی ۵۵۰ دن سے زائد عرصے تک بندش نے مواصلات، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور مقامی معیشت کو مفلوج کر دیا۔
ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے نگران اداروں نے انڈیا کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ ۲۰۱۹ء کے OHCHR رپورٹ میں وسیع پیمانے پر بدسلوکیوں کی تفصیل دی گئی،جن میں من مانی گرفتاریاں، تشدد، اور چھرّے والی بندوقوں کا استعمال، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد شہریوں، جن میں زیادہ تر نابالغ تھے، مستقل اندھے ہو گئے۔
ان خدشات میں اضافہ کرتے ہوئے، انڈیا نے ۲۰۱۹ء سے غیر مقامی افراد کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں ۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو خطے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ ایسی آبادیاتی انجینئرنگ، چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، جو مقبوضہ علاقوں کی آبادی کی ساخت میں تبدیلی کی ممانعت کرتا ہے۔
اپریل ۲۰۲۵ء میں، پہلگام میں تشدد کے افسوس ناک واقعے کو بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف دشمنی بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاہم، پاکستان کے مضبوط سفارتی اور فوجی ردعمل نے اب تک مزید تصادم کو روکا ہے۔ اس کے باوجود، ’ہندوتوا‘ قوم پرستی کی شاہراہ پر چلنے والی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہٹ دھرمی پر مبنی اسٹرے ٹیجک جرم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے، جو کشمیر کے اس تنازعے کے طے شدہ قانونی حل کے بجائے موت اور خون کی طرف دُنیا کو دھکیل سکتا ہے۔
انڈیا اور پاکستان دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں۔ کشمیر پر ایک بھی غلط قدم تباہ کن علاقائی یا عالمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ عالمی برادری اب خاموش تماشائی بننے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، یورپی یونین، اور عالمی طاقتیں فیصلہ کن مداخلت کریں تاکہ طویل عرصے سے موجود ’اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل‘ (UNSC) کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
کشمیر صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں ہے، یہ عالمی برادری کی بے حسی کا جرم اور انڈیا کی علاقائی غنڈا گردی کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ انسانی حقوق، انصاف اور وقار کا سوال ہے۔ اگر دنیا نے اس تنازع سے نظریں پھیرنا جاری رکھا تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا سے کہیں آگے جا سکتے ہیں، — جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا دنیا تباہی کو روکنے کے لیے اٹھے گی — یا اسی طرح خاموشی سے شریکِ جرم رہے گی؟
دُنیا بھر میں امن کو برباد کرنے اور انسانوں کے قتل عام میں دلچسپی رکھنے والی ریاست امریکا نے انڈیا کی درخواست پر، وہ جنگ جو انڈیا نے شروع کی تھی، اور اب خوفناک تباہی کا عنوان بن رہی تھی، رکوا دی۔درحقیقت اس پیش رفت کا دوسرا پہلو، امریکا کی جانب سے اپنے ایشیائی ’پولیس مین‘ ملک کو سبکی اور ذلّت سے بچانا بھی تھا۔ اسی مرحلے پر مختلف سطحوں پہ یہ نظریہ زور پکڑنے لگا کہ ’امریکی ثالثی‘ سے مسئلہ کشمیر حل کرا لیا جائے۔
ہمارے نزدیک ’امریکی ثالثی‘ کا آپشن اختیار کرنے سے کشمیر تنازعہ کے حل میں کئی ممکنہ تباہ کن نقصانات کشمیریوں اور پاکستانیوں کے لیے اُمڈ آئیں گے، خاص طور پر جب اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں سے ہٹ کر دیکھا جائے گا۔ ذیل میں چند اہم نکات پیش ہیں:
امریکا کی جانب سے غیر جانب دار(نیوٹرل) ثالث ثابت ہونا ، تاریخ کا ایک عجوبہ ہوسکتا ہے۔ درحقیقت وہ یقینا پاکستان ہی پر دبائو ڈالے گا کہ پاکستان اپنی اصولی اپوزیشن سے پیچھے ہٹے، بلکہ پسپا ہو۔ انڈیا کے ساتھ اس کے گہرے معاشی اور فوجی تعلقات پاکستان کے لیے غیر منصفانہ نتائج کا باعث بنیں گے۔
اقوام متحدہ کے فریم ورک پر قائم رہتے ہوئے پاکستان اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کے لیے زور دینا چاہیے، کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک تسلیم شدہ حل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ’امریکی ثالثی‘ پر انحصار کرنے یا اسے اپنے ہاتھ کاٹ کر دینے کے بجائے، ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) اور دیگر غیر جانب دار فورمز (جیسے یورپی یونین) کو متحرک کرکے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے دبائو بڑھایا جائے۔
کشمیریوں اور پاکستانیوں کو عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں (جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل) کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی یک طرفہ ثالثی کو چیلنج کیا جاسکے (حالات و واقعات نے ثابت کیا ہے کہ امریکا، ثالثی جیسے ’ڈرامے‘ میں ظالم فریق کا طرف دار ہی ہوتا ہے، اور مظلوم کو مزید کچلنے کے لیے شیرہوتا ہے، غزہ کا منظر آنکھوں کے سامنے رہے)۔
’امریکی ثالثی‘ سے کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت، پاکستان کی سفارتی پوزیشن، اور خطے میں استحکام، خطرے میں پڑجائیں گے۔ یہ سفارتی عیاشی بھارت کے اقدامات کو جائز قرار دینے اور کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کا باعث بن جائے گی۔ انڈیا بظاہر لیت و لعل سے کام لے کر، آخرکار ’امریکی ثالثی‘ پر آمادہ ہوجائے گا، کیونکہ انڈیا کو معلوم ہے کہ یہ ثالث، فی الحقیقت اس کا فرنٹ مین ہی ہے۔ اس کے برعکس، اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت عالمی برادری کی شمولیت زیادہ منصفانہ اور پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔
اسی طرح سفارتی پسپائی اختیار کرتے ہوئے، انڈیا اپنی دوسری دفاعی لائن ’خودمختار کشمیر‘ یا ’تیسرے آپشن‘ کا دائو بھی کھیلنے سے نہیں چُوکے گا۔ اس جال میں پھنسنے سے بچنے کے لیے کشمیری قیادت، پاکستانی سیاسی و فوجی مقتدرہ اور رائے عامہ کو ہوشیار و بیدار رہنا ہوگا۔ گذشتہ ڈیڑھ دوسو سال کی تاریخ نے ایک بات تو بار بار ثابت کی ہے: ’’مسلمان، مذاکرات کی میز پر دھوکے میں آتا ہے اور مار بھی کھاتا ہے‘‘۔
منگل، ۲۷ مئی ۲۰۲۵ء کی صبح چیف جسٹس سید رفعت احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف بنگلہ دیش کے سات رکنی فل بنچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے اے ٹی ایم اظہرالاسلام کی رہائی کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس سید رفعت احمد کی سربراہی میں قائم سات رکنی بنچ نے ۸ مئی کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ۲۷ مئی کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی۔اس سے قبل، ۲۲ ؍اپریل کو اظہرالاسلام کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کے لیے عدالت نے ۶ مئی کی تاریخ مقرر کی تھی۔ مقررہ دن سماعت کا آغاز ہوا اور اظہرالاسلام کے وکیل نے دلائل دیے۔ جس کے بعد عدالت نے ۸ مئی کو مزید سماعت کی، اور فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ۲۷ مئی کی تاریخ متعین کی گئی۔
اپیل کنندہ کی جانب سے وکیل محمد منیر نے دلائل دیے، جب کہ ان کے ساتھ سید محمد ریحان الدین بھی موجود تھے۔ ریاست کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اے آر حق اور پراسیکیوٹر غازی ایم ایچ تمیم نے دلائل پیش کیے۔
یاد رہے کہ ۳۰دسمبر ۲۰۱۴ء کو حسینہ واجد حکومت کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد ’بین الاقوامی جرائم ٹریبونل‘ (ICT)نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے مرکزی سیکرٹری جنرل اے ٹی ایم اظہرالاسلام کو ’۱۹۷۱ء کی جنگِ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف انھوں نے ۲۸ جنوری ۲۰۱۵ء کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔بعد ازاں، ۳۱ ؍اکتوبر ۲۰۱۹ء کوبنگلہ دیش سپریم کورٹ نے ان کی سزائے موت برقرار رکھی، اور ۱۵مارچ ۲۰۲۰ء کو اس فیصلے کی باقاعدہ تفصیلی کاپی بھی جاری کر دی گئی، جس کے بعد اظہرالاسلام نے ۱۹ جولائی ۲۰۲۰ء کو نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ بعدازاں وہ مسلسل جیل میں قید رہے اور حسینہ واجد کی حکمرانی کے دوران ہروقت اُن پر سزائے موت کے باقاعدہ عمل درآمد کا خطرہ موجود رہا۔ مگر مشیت ِ خداوندی کے تحت، وقت گزرتا گیا، حتیٰ کہ اگست ۲۰۲۴ء میں سیاسی حالات تبدیل ہوئے اور ۲۶ فروری ۲۰۲۵ءکو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرکے فریقین کو دو ہفتوں کے اندر سمری جمع کرانے کا حکم دیا۔ سمری جمع ہونے کے بعد اپیل پر یہ سماعت ہوئی، اور فیصلہ سنایا گیا ہے۔
۱- سپریم کورٹ نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمات میں ماضی میں دیے گئے فیصلوں کے ذریعے نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پورے برصغیر کی فوجداری عدالتی نظام کی بنیادی ساخت کو بدل کر رکھ دیا گیا تھا، جو کہ ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم تھا۔
۲- سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جناب اے ٹی ایم اظہرالاسلام کو سزا دیتے وقت ان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور ثبوتوں کی منصفانہ جانچ کیے بغیر ہی سزائے موت سنادی گئی تھی۔
۳- سپریم کورٹ نے اسے ’تاریخ میں سچائی کے ساتھ ایک سنگین مذاق‘ (travesty of truth) قرار دیا، یعنی انصاف کے نام پر کھلم کھلا ناانصافی۔
۴- عدالت کا کہنا تھا کہ زیرسماعت مقدمے میں جو شواہد اور ثبوت پیش کیے گئے ہیں، ماضی میں ان کی اپیل پر عدالت نے درست اور دیانتدارانہ جائزہ لینے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
یہ امرواقعہ ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف ایک انفرادی مقدمے میں انصاف کی بحالی ہے بلکہ یہ بنگلہ دیش میں خصوصاً عوامی لیگی فسطائی حکومت کے دورِ حکمرانی میں عدالتی نظام میں ماضی کی سنگین لغزشوں، گناہوں اور جرائم کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
تشکر کے اس موقعے پر ڈاکٹر شفیق الرحمان، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا: ’’آج بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ہماری نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے میں ہمارے قابلِ احترام مظلوم لیڈر اور ہمارے پیارے بھائی اے ٹی ایم اظہر الاسلام کو اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ کتنے صدمے کی بات ہے کہ اس طرح کی جعلی فیصلہ سازی سے ہمارے نہایت عظیم ساتھیوں اور ملّت و قوم کے راہ نمائوں کو پھانسیاں دے کر ہم سے جدا کردیا گیا۔اگر وہ رہنما جو ہماری قوم کے سرتاج ہیں، قومی بحران کے اس لمحے میں زندہ ہوتے تو اپنی دانش مندی، دُور اندیشی اور تجربے سے اس قوم کو راستہ دکھا سکتے تھے۔ کینگرو کورٹ نے انھیں ایک ایک کر کے مار دیا۔ آج دنیا میں کوئی بھی انھیں ہمارے پاس واپس نہیں لا سکتا۔ لیکن اللہ کے دین کے لیے ان کی قربانی اور خدمات ہمیشہ باقی رہیں گی‘‘۔
یاد رہے ان مقدمات کو نمٹانے میں لامحدود دھوکا دہی اور جعل سازی کا سہارا لیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سریندرکمار سنہا نے ستمبر ۲۰۱۸ء میں اپنی کتاب A Broken Dream: Rule of Law, Human Rights & Democracy میں اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے کس طرح جھوٹ کا سہارا لیا۔ اس وقت کی عدلیہ اور حکومت نے مشترکہ طور پر ایک منصوبہ بنایا کہ منظم طریقے سے جماعت کے ان مرکزی رہنماؤں کو قتل کیا جائے۔عدالتی ڈرامے کے ذریعے پھانسی پانے والا اللہ کی عدالت میں چلاگیا ہے۔ ان ظالموں نے اسی پر بس نہ کیا، بلکہ ان کے لواحقین اور گھروالوں کو بھی وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ عبدالقادر مُلّا کو جس رات پھانسی دی گئی، اسی رات ان کے گھر پر حملہ کیا، ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انھیں جنازے میں شرکت کی اجازت دینے کے بجائے دھکے دیتے اور تشدد کرتے ہوئے جیل میں ڈال دیا گیا۔ یوں پھانسیاں پانے والے تمام خاندانوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیا گیا۔
قتل کاری کے اس عدالتی عمل کے دوران ’اسکائپ اسکینڈل‘ کو دیکھ کر پوری دنیا نے مذمت کی۔ ان مقدموں کے دوران دو ٹارچر سیل بنائے گئے: ایک کا نام ’سیف ہوم‘ تھا، اور دوسرے کا نام ’سیف ہاؤس‘ تھا۔ ’سیف ہوم‘ میں متاثرہ رہنماؤں کو ہراساں کیا گیا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر انھیں ’سیف گھر‘ میں رکھا گیا اور کئی دنوں تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جماعت کے کارکنوں نے اسے خاموشی سے برداشت کیا۔ احتجاج کی کوشش کی، مگر سیاسی غنڈوں کے حملوں کا انھیں سامنا کرنا پڑا۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مختلف رفاہی تنظیموں نے ان مقدموں کی مذمت کی۔ لیکن حکمرانوں اور ان کے پروردہ ججوں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر منصفانہ مقدمات کی کارروائی چلی تو وہ قتل کی اجازت نہیں دے گی، مگر یہ بات کسی نے نہیں سنی۔
ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے۔ ہمارے پیارے لیڈر بھی اس ملک سے محبت کرتے تھے۔ اسی محبت کی وجہ سے انھوں نے ملک کی بہتری کے لیے جدوجہد کی۔ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بنگلہ دیش میں صحت مند سیاست کا فروغ چاہتے تھے۔ نہ صرف انھوں نے سڑکوں پہ سیاسی جدوجہد کی بلکہ حکومت کا حصہ بننے کے بعد بھی انھوں نے حکومتی انتظام کو بہتر بنانے کی مثالی کوششیں کیں۔ پوری قوم گواہ ہے، دووزیروں نے مثالی انداز سے تین وزارتیں چلائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے پوری ایمانداری اور مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دیئے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے عوام کے لیے روشن وصیت نامہ چھوڑا ہے اور شان دار مثال قائم کی ہے‘‘۔
جب ہم ماضی میں دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ سارے بنگلہ دیش اور پوری دُنیا کے سامنے عوامی لیگی خصوصی عدالت میں کیس نمٹاتے ہوئے ان خاندانوں کی طرف سے کسی سے کوئی گواہی نہیں لی جن کے نام لے لے کر قتل کے مقدمے چل رہے تھے۔ بلکہ ایسے مقدمے کی بنیاد بننے والے ایک مقتول کا بھائی گواہی دینے آیا تو سادہ لباس پولیس نے عدالت کے احاطے میں اس فرد کو وکیل کی گاڑی سے کھینچ کر اغوا کرلیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور انڈیا کی سرزمین پر چھوڑ دیا گیا۔ وہ مذہباً ہندو اور عملاً سچّی گواہی دینے کی غرض سے عدالت پہنچنے کی کوشش میں طویل عرصہ جیل میں رہنے کے بعد وطن واپس آیا ہے۔ یہ گواہ علامہ دلاور حسین سعیدی کے حق میں گواہی دینے کے لیے آیا تھا۔
اظہر الاسلام کی موجودہ اپیل کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے کہا کہ ’’مطیع الرحمان نظامی کو ایک دن یا ایک منٹ بھی سزا دینے کی گنجائش نہیں تھی، مگر انھیں سزائے موت دی گئی۔ ان عدالتوں نے جماعت اسلامی کے لیڈروں پر ظلم کیا ہے۔ فیصلے پر عمل درآمد سے پہلے ہی سازشیں رچائی گئیں‘‘۔
جماعت کے پھانسی پانے اور جیلوں میں انتقال فرمانے والے قائدین سب کے سب ثابت قدم تھے۔ وہ اپنے ایمان میں مضبوط تھے، وہ حق پر قائم تھے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہوئے پھانسی کے تختے پر کھڑے ہوگئے، یا جیل میں سسکتے رہے، لیکن ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انھوں نے یہ سکھایا ہے کہ اگر ایک باوقار قوم سچائی پر ڈٹی رہتی ہے تو پھانسی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ موت توصرف ایک بار آنی ہے، مگر وہ موت ذلت آمیز موت نہیں بلکہ بہادری کی موت ہونی چاہیے۔ ان کی شہادت اور موت بہادری کی موت تھی۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا: ’’ان مقدمات کو چلاتے ہوئے بین الاقوامی روایتی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی اور ساتھ ہی ملکی قانون کی بھی پاسداری نہیں کی گئی۔ جو ثبوت قانون کے تحت موجود تھے ان پر بالکل عمل نہیں کیا گیا۔ حکمران طبقے کے لیے آئین کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، قانون کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جن کے کہنے پر عدالت کی کارروائی چلی، انھی کی مرضی قانون تھا، انھی کی مرضی کا فیصلہ تھا۔ چاہے وہ قانونی ہو یا غیر قانونی۔ اس طرح جماعت اسلامی کو نشانہ بنایا گیا‘‘۔
معین الدین چودھری جنھیں انھی کینگرو عدالتوں نے سزائے موت سنائی تھی، ان کے مقدمے پر برطانوی سپریم کورٹ نے گذشتہ برس فیصلہ دیتے ہوئے لکھا تھا: ’’بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے مقدمات انصاف کے نام پر ایک سنگین مذاق ہیں۔ یہ فیصلے نہیں، یہ انصاف کی نسل کشی ہے۔ ان میں انصاف کا قتل عام کیا گیا ہے‘‘۔ انھوں نے ’کلنگ آف دی جسٹس‘ نہیں کہا۔ کیونکہ اگر یہ ایک ہی کیس ہوتا تو وہ کہتے کہ یہ قتل ہے، لیکن یہاں تو ایک سے زیادہ کیس تھے۔ اسی لیے برطانوی سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ’انصاف کی نسل کشی‘ ہے۔ لیکن اُس وقت کی بنگلہ دیشی عدالت نے ایسا نہیں لکھا تھا۔ تاہم، بنگلہ دیشی عدالت نے ۲۷مئی کو اپنے فیصلے کے ذریعے یہ بات دُہرائی ہے جو برطانوی سپریم کورٹ نے متعین کی تھی۔
جماعت اسلامی کے شہید قائدین میں: سابق امیر پروفیسر غلام اعظم، سابق نائب امیر ابوالکلام محمد یوسف، سابق امیر شہید مولانا مطیع الرحمان نظامی، سابق سیکرٹری جنرل شہید علی احسن محمد مجاہد، سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل شہید قمر الزمان، سابق رکن مرکزی مجلس شوریٰ میرقاسم علی، سابق اسسٹنٹ سیکرٹری شہید عبدالقادر مُلّا، نائب امیردلاور حسین سعیدی، سابق نائب امیر سابق ایم پی مولانا عبدالسبحان رحمہ اللہ، سابق رکن مرکزی مجلس شوریٰ عبدالخالق رحمۃ اللہ علیہ، جنھیں ناحق قتل کیا گیا۔ وہ دنیا سے تو مٹ گئے ہیں، لیکن اہل حق کے دلوں سے نہیں نکل سکتے۔ اہل باطل نے اس قیادت کو انصاف کی نسل کشی کے ذریعے ختم کر کے ملک اور جماعت کو قیادت سے محروم کرنے اور عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کی ظالمانہ کوشش کی ہے، مگر ۲۷مئی کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سچائی بادلوں کو چیر کر روشنی کی چمک لاتی ہے اور وہ سچ آج دُنیا پہ ظاہر ہے۔
؍اپریل کی دوپہر فون موصول ہوا:
’’آپ سے کہا تھا، ’جب وہ ناظم اعلٰی تھے‘ کے پہلے تین حصے بھجوا دیں، اس کا کیا کیا ہے؟‘‘
’’عرض کیا: فائونڈیشن آنے والے ایک صاحب کو دے دیئے ہیں، ۲۰؍اپریل تک ان شاء اللہ وہ پہنچا دیں گے‘‘۔
پھر دریافت فرمایا: ’’اچھا، تو مئی کے شمارے کے لیے کون کون سے موضوعات پیش نظر ہیں؟‘‘
عرض کیا:’’غزہ کی تازہ ترین صورتِ حال اور انڈیا میں مسلم وقف کے خلاف پارلیمنٹ کے فیصلے کی نسبت سے اور…‘‘ لفظ ’اور‘ کہا تھا کہ فون کا سگنل کٹ گیا، لیکن پھر فون بحال ہوا تو ’اور‘ سے آگے انھوں نے خود بات مکمل فرمائی:
’’بلو چستان پر ضرور تحریر آنی چاہیے، صورتِ حال بڑی تکلیف دہ ہے۔ معلوم نہیں کیوں پورے ملک میں بے فکری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے؟‘‘
یہ آخری فون تھا، جس کے تین دن بعد۱۳؍اپریل ۲۰۲۵ء کی شام ۶بج کر ۱۸ منٹ پر پروفیسر خورشیداحمد صاحب کے بیٹے حارث احمد صاحب کا پیغام فون کی اسکرین پر نمودار ہوا: Abbu has returned back to his Creator ___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ!
یوں انسانی وجود میں وہ چراغِ راہ بجھ گیا۔ انھوں نے شعوری طور پر ۱۹۴۹ء سے کردار، افکار اور پیکار کی دُنیا میں قدم رکھا اور پھر ہرلمحہ اور ہرقدم پڑھتے، لکھتے، معرکوں کا حصہ بنتے اور صف بندی کرتے ہوئے اپنے ربّ کے حضور پیش ہوگئے۔
پروفیسر خورشید صاحب نے یوں شعوری زندگی کے پورے ۷۶ برس، سکون کو ایک طرف جھٹکتے ہوئے اس راہِ شوق پہ چلتے چلتے زندگی گزار دی۔ وہ زندگی جس میں:
ذرا پیچھے چلیں تو یہ اپریل ۱۹۹۰ء کی بات ہے کہ میں نے محترم پروفیسر صاحب سے پوچھا: ’’ آپ نے سب سے پہلے مولانا مودودی کو کب دیکھا تھا؟‘‘
فرمایا: ’’یہ غالباً ۱۹۳۸ء سے پہلے کی بات ہے۔ میں اسکول کا طالب علم تھا۔ مولانا مودودی، میرے والد صاحب کی دعوت پر دہلی ہمارے گھر تشریف لائے۔ والد صاحب نے ضمیربھائی اور مجھے اُن سے ملاتے ہوئے کہا: یہ میرے نہایت قابلِ احترام دوست اور بہت بڑے عالم ہیں، ان کو نظم سنایئے۔ میں پہلے ذرا جھجکا اور پھر بڑے جوش سے ہاتھ کے اشاروں کے ساتھ نظم سنائی:
اسلام کا ہم سکّہ دُنیا پہ بٹھا دیں گے
توحید کی دُنیا میں، اِک دھوم مچا دیں گے
گونجیں گی پہاڑوں میں تکبیر کی آوازیں
تکبیر کے نعروں سے، دُنیا کو ہلا دیں گے
اسلام زمانے میں، دبنے کو نہیں آیا
تاریخ میں یہ مضمون ، ہم تم کو دکھا دیں گے
اسلام کے شیروں کو ، مت چھیڑنا تم ورنہ
یہ مٹتے مٹاتے بھی، ظالم کو مٹا دیں گے
اسلام کی فطرت میں، قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ اُبھرے گا، جتنا کہ دبا دیں گے
مولانا مودودی نے شفقت سے پاس بلاکر دُعا دیتے ہوئے چند پیسے بطور انعام دیئے۔ یہ مولانا کو پہلی مرتبہ دیکھنے کا واقعہ ہے اور پھر دسمبر ۱۹۴۷ء میں اچھرہ، لاہور میں مولانا سے ملے‘‘۔
مارچ ۱۹۴۰ء میں قرارداد لاہور منظور ہونے کے بعد دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تحریک پاکستان شروع ہوئی۔ جناب خورشیداحمد کے والد گرامی نذیراحمد قریشی ، جو ایک طرف مولانا محمد علی جوہر کے دوست رہے تھے، دوسری طرف قائداعظم محمدعلی جناح اور علامہ اقبال سے محبت کا تعلق تھا، اور تیسری جانب مولانا مودودی سے برادرانہ مراسم تھے۔ اس آسودگی، علم دوستی اور ملّی و قومی درد مندی سے رچی فضا میں پروان چڑھتے نوخیز خورشیداحمد نے دہلی کے رہائشی علاقے قرول باغ میں، ’بچہ مسلم لیگ‘ کا یونٹ قائم کیا، اور بچوں سے مل کر تحریک پاکستان کے نغمے، ترانے اور نعرے بلند کرنا شروع کیے۔
۷ تا ۹ ؍اپریل ۱۹۴۶ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس اینگلوعریبک کالج ہال، دہلی میں منعقد ہوا، جس میں ’قراردادِ لاہور‘ میں درج مطالبے ’مسلم اسٹیٹس‘ (Muslim States) کو ’مسلم اسٹیٹ ‘ (State) میں تبدیل کرنے کی متفقہ قرارداد منظو ر کی گئی اور اسلام سے وفاداری کے حلف نامے پر قرآن کریم کی آیات پڑھ کر قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کی ساری قیادت نے دستخط کیے۔ اس اجلاس میں ۶۹’کل ہند مندوبین‘ کی خدمت پر مامور طالب علموں میں خورشیداحمد بھی شامل تھے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’’اس دوران میں نے مسلم لیگ کی پوری قیادت کو دیکھا اور خاص طور پر قائداعظم کی شخصیت کے وقار، رُعب اور بزرگی کا گہرا تاثر آج تک دل و دماغ پر نقش ہے‘‘۔
یہی خورشیداحمد اپنے والدین کے ہمراہ ۱۹۴۷ء میں دہلی سے ہجرت کرکے لاہور پہنچے اور مسلم ٹائون میں عارضی رہائش اختیار کی اور کالج میں داخلہ لیا۔یہاں بہار سے ہجرت کرکے آنے والے ان کے ہم جماعت اور دوست اقبال احمد (۹۹- ۱۹۲۳ء) تھے، جو بعدازاں ایک لبرل دانش ور کی حیثیت سے معروف ہوئے۔مئی ۱۹۴۹ء میں خورشیدصاحب کے اہل خانہ لاہور سے کراچی منتقل ہوئے۔ یہاں پر اُنھوں نے نو مبر میں پہلا مضمون لکھا اور پھر زندگی کے آخری حصے تک فکر، قلم اور کاغذ کا یہ تعلق کبھی ٹوٹنے نہ دیا۔ ۱۹۴۹ء ہی میں ان کے بڑے بھائی ضمیراحمد، جو کراچی اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم تھے، ان سے ملنے والے جمعیت کے رفقا نے خورشیدصاحب کو سماجی تعلقات کی دُنیا میں سمولیا اور انھیں تحریک اسلامی کا مجسم و متحرک کارکن، لیڈر ، ترجمان اور مفکر بنادیا۔
پروفیسر صاحب کے علم و فضل اور شخصیت کے حُسنِ کمال پر لکھنے والے بہت کچھ اور بہت مدت تک لکھیں گے۔ ذاتی حوالے سے داستان سرائی سے گریز کے باوجود ایک عرض کرتا ہوں کہ فروری ۱۹۷۰ء میں مجھے انتہائی مخالف کیمپ سے اللہ تعالیٰ نے موڑ کر اسلامی جمعیت طلبہ، وزیرآباد کے دفتر کا رستہ دکھایا۔ میٹرک کا امتحان ہونے میں ابھی ایک ماہ باقی تھا۔ جیسے تیسے امتحان دیا، اور پھر مئی کا مہینہ آیا۔ گائوں کی دوپہر میں جھلساتی لُو، شیشم تلے، رات کو کبھی لالٹین اور کبھی چاند کی روشنی میں اسلامی لٹریچر پڑھنے اور جذب کرنے کی پیاس بجھانے کی کوشش کرتا، تو یہ پیاس اور زیادہ بھڑکتی چلی جاتی۔ جون کا مہینہ آیا میں نے جمعیت سے کیا پایا؟ سے خرم مراد اور خورشید صاحب کے مضامین پڑھے تو دونوں شخصیات سے محبت کے رشتے میں بندھ گیا، اور جب کڑاکے کی گرمی شروع ہوئی تو پروفیسر خورشیداحمد صاحب کی گرفتاری میں گزرے روز و شب کی رُوداد تذکرہ زندان زیرمطالعہ آئی۔ جس نے شگفتہ بیانی، ادب کی تراوت اور اسلامی احیا کی مٹھاس سے یک جان کردیا۔ اگست میں، سالِ اوّل میں داخلہ لیا۔
اس سے اگلے ماہ پروفیسر صاحب کا پتہ معلوم کروا کے وزیرآباد کے مضافات میں اپنے گائوں کٹھوہر سے انھیں انگلینڈ خط لکھا، جس میں درج تھا: ’’میں نے سالِ اوّل داخلے میں انگریزی ایڈوانس کامضمون اس لیے لیا ہے کہ بڑا ہوکر مولانا مودودی کی کتابوں کا انگریزی میں اور سیّد قطب شہید کی انگریزی ترجمہ شدہ کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کروں۔ آپ سے راہ نمائی اور دُعا چاہتا ہوں‘‘۔
نومبر ۱۹۷۰ء کا مہینہ قومی انتخابی ہنگامے کے عروج کا مہینہ تھا۔ وہ خط جو انھیں چھے سات بدخط سی سطروں میں لکھ کر ارسال کیا تھا، اس کے جواب میں پروفیسر صاحب کا ایروگرام موصول ہوا جس میں انھوں نے لکھا تھا: ’’عزیزم، آپ کے جذبے کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی اور ذاتی طور پر بڑی تقو یت محسوس ہوئی ہے، وہ تقویت جو اقبال نے اس طرح بیان کی ہے:
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بُو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
گئے دن کے تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مِرے رازداں اور بھی ہیں
اس کے ساتھ ساتھ ہی مطالعے ، محنت اور یکسوئی کے لیے، تنظیم سے وابستگی اور تربیت کی پیاس بڑھانے کے لیے مشورے دیتے ہوئے لکھا: ’’نصاب پر بھرپور توجہ دینا بہ حیثیت طالب علم آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک اچھا طالب علم بن کر ہی اسلام، قوم اور ملّت کی خدمت کرسکتے ہیں۔ پھر گنجائش پیدا کرکے ترتیب اور سلیقے سے قرآن، سیرت، ادب، اقبال، تاریخ اور مولانا مودودی کی کتب کا مطالعہ کریں‘‘۔ پھر یہ بھی لکھا کہ ’’علمی کاموں میں اپنے آپ کو ڈھالنے کے لیے ادب کی اصناف افسانہ اور ناول پڑھنا ضروری ہے کہ ان اصناف میں داخلی اور خارجی کیفیات کا اظہار سادہ اور براہِ راست اسلوب میں ہوتا ہے‘‘___دو تین بار خط پڑھا، تو اس کا متن یاد ہوگیا۔ میرے لیے بڑی حیرانی کی یہ بات تھی کہ ایک عام دیہاتی سے لڑکے کو، جو ابھی سالِ اوّل کا طالب علم ہے۔ اتنے بڑے استاد نے کس طرح دل کے قریب لاکر، اپنے دل میں بٹھا لیا ہے!
اس طرح نومبر ۱۹۷۰ء میں پروفیسر خورشیدصاحب سے قلم کا جو رشتہ قائم ہوا، وہ ۱۹۷۹ء کے بعد روحانی ربط، ذاتی تعلق میں ڈھل گیا۔ ۱۹۷۴ء میں ملاقات بھی ہوئی اور ازاں بعد آپ کی تقریروں اور تحریروں کو مرتب یا ترجمہ کرنے کی سعادت ملی۔
دسمبر ۱۹۹۶ء میں خرم مراد صاحب کے انتقال کے بعد محترم قاضی حسین احمد نے پروفیسر صاحب کو ماہ نامہ ترجمان القرآن کا مدیر مقررکیا۔ ان دنوں سڑک پہ حادثے کے سبب جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے ساتھ لوہے کے شکنجے میں جکڑا، مَیں گھر میں بستر پر پڑا ہوا تھا۔ پروفیسر صاحب نے رسالے کی ذمہ داری سنبھالتے ہی جنوری ۱۹۹۷ء کو پہلی مشاورتی میٹنگ ہمارے گھر، لاچار مریض کے ’ہوم کیئربیڈ‘ کے قریب بیٹھ کر منعقد کی۔ محبت و اُلفت، بزرگی و سرپرستی کے کس کس ورق کو پلٹا جائے؟ یہ ممکن نہیں۔ حوصلہ افزائی کے لیے انھوں نے کیا کیا جملے کہے یا لکھے، کیوں کر بیان کروں؟ ناممکن!
البتہ ایک واقعہ ترجمان القرآن میں شائع ہوگیا تھا۔ محترم خر م مراد کی یادداشتوں کو لمحات کے زیرعنوان مرتب کرنے کے بعد محترم میاں طفیل محمد صاحب کی یادداشتوں کو مشاہدات کی صورت میں مرتب کیا۔ اس کتاب کی تعارفی تقریب منصورہ میں منعقد ہوئی، جہاں محترم میاں طفیل محمد، محترم قاضی حسین احمد اور محترم پروفیسر صاحب نے خطاب کیا۔ پروفیسر صاحب نے میاں صاحب کی کتاب کے مندرجات کا شاندار الفاظ میں تعارف کرانے کے بعد، ذرا لطیف پیرائے میں فرمایا: ’’مشاہداتکو میں اس پہلو سے بڑی اہمیت دیتا ہوں کہ محترم میاں صاحب نے اس میں ایک پورے دور کو جس سادگی سے مفصل اور مؤثرانداز میں پیش کر دیا ہے، وہ ہماری تحریکی زندگی اور تجربات کا خلاصہ ایک بڑا ہی قیمتی تحفہ ہے۔ مَیں علامہ اقبال کی طرح شکوہ تو نہیں کرسکتا، لیکن اپنی اس خواہش اور تمنا کا اظہار کرتا ہوں کہ کاش! سلیم منصور خالد دس سال پہلے پیدا ہوئے ہوتے، اور مولانا مودودی سے بھی ان کی باتوں کو اسی طرح جمع کر لیا ہوتا‘‘۔ (اگست ۲۰۰۱ء)
ماہانہ بنیادوں پر ترجمان القرآن کی تدوین اور اس کے علاوہ تین خصوصی نمبروں کی ترتیب کے دوران صر ف ایک موقعے پر پروفیسر صاحب نے رسالہ دیکھ کر، ایک جملے میں اپنی ناراضی کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ’’کیا یہ مضمون دینا ضروری تھا؟‘‘ میں نے وضاحت کی کہ تاریخ کے ایک ریکارڈ کے طور پر دے دیا ہے۔ یہ مضمون ایک ممتاز تاریخ دان اور بزرگ صحافی کا تھا، جس میں انھوں نے اپنے ہم مسلک رسالے کے مدیر کو لکھا تھا:’’مولانا [مودودی]نے جب واضح طور پر کہہ دیا کہ’’جو الفاظ مجھ سے منسوب کیے گئے [ہیں] وہ میں نے نہیں کہے‘‘،تو پھر سمجھ میں نہ آیا کہ آپ نے اس بحث کو اس درجہ طول دینے کی ضرورت کیوں محسوس فرمائی؟ گویا آج آپ کے لیے اس کے علاوہ کوئی [اور] مسئلہ ہے ہی نہیں، جس پر توجہ فرمائی جائے‘‘۔ دراصل پروفیسر صاحب اس بات کو اچھا نہیں سمجھ رہے تھے، دو افراد کی باہمی خط کتابت کو ہم اپنی ضرورت کے لیے درج کریں۔
ہر مہینے ترجمان القرآن جب بھی آپ کو لسٹر ملتا تو ۴ تاریخ کے بعد دو تین بار فون کر کے فرماتے: ’’ابھی تک پرچہ نہیں ملا۔ شدت سے انتظار کر رہا ہوں‘‘۔ اور جب پرچہ مل جاتا تو سب سے پہلے فون پر ’جزاک اللہ‘ کہتے۔ پھر پرچے کے مجموعی تاثر پر دو تین جملے کہتے اور اس کے بعد کم و بیش ہرمضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ تک اعتراف کرتے کہ ’انھوں نے جو یہ بات لکھی ہے مجھے پہلی بار معلوم ہوئی ہے‘، ’ان کی یہ دلیل بہت باکمال ہے‘، ’یہ مضمون ذرا طویل ہے‘، ’اس مضمون پر انھیں میری طرف سے شکریے کا فون کریں یا شکریے کا خط لکھیں‘، ’انھیں کہیے کہ مزید لکھیں‘، ’مضمون میں چند پہلو تشنہ رہ گئے ہیں، کہیے کہ ایک نئے مضمون میں وہ پہلو بھی زیربحث لائیں‘۔ یوں تقریباً دس پندرہ منٹ میں پورے رسالے کا جائزہ بیان کرتے۔
اس کے علاوہ مہینے میں سات آٹھ بار ایسا ہوتا کہ اپنے زیرمطالعہ اخبارات، رسائل اور کتب سے مضامین کی تصویر بنوا کر، ان پر اپنے قلم سے کمنٹ لکھتے اور مختلف مقامات نشان زد کرکے بھیجتے۔ جن پر اس نوعیت کی ہدایت ہوتی: ’بہت اہم مضمون ہے‘، ’اس کا ترجمہ کرکے ترجمان میں دیں‘، ’ا س کا ترجمہ و تلخیص کرلیں‘، ’اسے محفوظ رکھ لیں‘، ’اس کا ترجمہ تو نہ دیں مگر ذاتی طور پر توجہ سے مطالعہ کریں‘، ’بہت مفید معلومات اور تجزیہ ہے،مضمون طویل ہے، اخذ کر کے مضمون مرتب کرلیں‘، ’یہ مضمون امیرجماعت کو مطالعے کے لیے دیں‘ وغیرہ___ وہ برطانیہ، امریکا، پاکستان، انڈیا کے اخبارات و جرائد کے علاوہ الجزیرہ اور مختلف معروف تھنک ٹینکس کے مضامین مطالعے کے لیے ارسال کرتے۔ اتنی مشقت کے بعد پورا اعتبار کرتے کہ ہدایت پر عمل کرلیا ہوگا۔ اسی طرح قائداعظم، تحریک پاکستان اور اقبال کے بارے میں کتب خرید کر تحفہ عطا فرماتے۔
مختلف بزرگوں، جماعت سے باہر کے حلقے کے حضرات، دانش وروں اور صحافت کاروں کی صحت کے بارے میں دریافت کرتے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج صاحب کے سخت سوالات اور تبصرے ٹیلی ویژن اور اخبارات میں دیکھے تو فروری ۲۰۱۸ء میں مجھے ہدایت فرمائی: ’’انھیں جاکر میرا پیغام دیں کہ قانون اور ضابطے کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے نتیجۂ فکر کو فیصلوں میں ضرور لکھیں، مگر عدالتی کارروائی کے دوران تلخ اور بلند آہنگ تبصروں سے گریز کریں۔ جج کی اصل قوت درست فیصلہ ہے، نا کہ زبانی و قولی تبصرہ‘‘۔انھیں اعلیٰ عدلیہ کی تبصراتی روش پر شدید دُکھ تھا کہ ’’اس سے عدالت کا وقار، فیصلے اور مقام و مرتبہ متاثر ہوگا۔ اس طرزِعمل نے اعلیٰ عدلیہ کو بازیچۂ اطفال بنا دیا ہے، جس سے لاقانونیت اور انتشار میں اضافہ ہوگا‘‘۔
جب کبھی کسی فرد کے انتقال کی خبر ان تک پہنچاتا تو ’انا للہ وانا الیہ راجعون‘ کہہ کر ان کی خوبیوں کے بارے میں ایک دو جملے کہتے اور مغفرت کے دُعائیہ کلمات ادا فرماتے۔ مشرقی پاکستان سے جماعت اسلامی کے راہ نمائوں کی پھانسیوں پر انھیں بڑے کرب کے ساتھ سنا۔ یکم ستمبر ۲۰۲۱ء کی شب سیّد علی گیلانی صاحب کے انتقال کی خبر دی: ’ابھی پندرہ بیس منٹ پہلے گیلانی صاحب انتقال فرما گئے ہیں‘۔ پروفیسر صاحب نے انا للہ وانا الیہ راجعون تین بار دُہرایا اور کہا: ’’گذشتہ دو گھنٹے سے میری حالت ایسی تھی کہ جیسے جان نکل رہی ہے۔ ذہن مائوف تھا، طبیعت میں سخت اضطراب تھا، اور دماغ چکرا رہا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ اب معلوم ہوا کہ گیلانی صاحب سفرِآخرت کی سمت روانہ تھے۔ بہت صدمہ ہوا، بہت بڑا نقصان ہوگیا ہے، اللہ مالک ہے‘‘۔
مگر ان سب کیفیات سے ہٹ کر ۲۴؍اپریل ۲۰۱۶ء کو مختلف انداز سے اظہار ہوا، جب فون پہ ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری صاحب کے انتقال کی خبر کا تبادلہ ہوا تو فرمانے لگے: ’’دو گھنٹے پہلے انیس نے بتایا تھا۔ اُس وقت سے اکیلا بیٹھا ہوں اور قرآن میرے سامنے ہے۔ سلیم، سچّی بات ہے کہ راجا [ظفراسحاق]کے جانے سے دل ٹوٹ گیا ہے‘‘ اور فون بند کردیا۔ پھر تقریباً دو گھنٹے بعد ان کا اپنا فون آیا: ’’غم کی اس شدت میں قرآن کی مسلسل تلاوت نے مجھے سہارا دیا ہے۔ یاد رکھیں دُکھ اور درد کی گھڑی میں قرآن کے سوا کوئی چیز سہارا نہیں دے سکتی۔ قرآن ہی ایک مسلمان کو سنبھالتا ہے‘‘۔
پروفیسر صاحب ہر مہینے دو مہینے بعد پاکستان اور انڈیا سے شائع ہونے والی کتابوں کی ایک فہرست لکھواتے کہ ’’یہ بھجوا دیں، میں پیسے بھیج دیتا ہوں‘‘۔ گذشتہ تین برسوں میں سب سے زیادہ کتب قرآن کی تشریح کے بارے میں منگوائیں۔ پھر سیرتِ رسولؐ پر، اس کے بعد قانون اور یادداشتوں پر مشتمل کتب کا تقاضا کیا۔ کتب ملنے پر باقاعدہ شکریے کا فون کرتے۔ ہرعید کو لازماً ظہر کے بعد فون آتا، مبارک اور دُعائیں دیتے۔ جب کبھی انھیں طبیعت کی خرابی کی خبر ملتی تو کہتے: ’’بہترین علاج کرائیں، اس بارے میں تساہل سے کام نہ لیں‘‘۔ چند مواقع پر یہ فون آیا: ’’کام تو کوئی نہیں، بس خیریت معلوم کرنی تھی۔ اگر کبھی کوئی پریشانی ہو تو مجھے ضرور بتائیں، دُعا کے ساتھ دوا کرسکا تو مجھے دلی خوشی ہوگی‘‘۔
پروفیسر صاحب کو جتنا بھی قریب سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ جذبے کی گہری آنچ رکھنے کے باوجود، غصّے اور جذبات سے کوئی کلمہ اُن کی زبان سے نہیں چھلکتا۔ اجتماعی زندگی کے معاملات پر واضح رائے رکھنے کے باوجود وہ کبھی نظم کی حد سے آگے بڑھ کر کوئی بات نہیں کرتے بلکہ نظم اور تحریک کی پالیسی کے دفاع کے لیے بڑٰے توازن سے پوری قوت لگا دیتے ہیں۔ حقیقت میں وہ قائد تھے لیکن ان کے سراپے میں ایک بہترین صابر و شاکر کارکن متحرک تھا۔
مطالعے کے لیے راہ نمائی دیتے ہوئے فرماتے: ’’دینی لٹریچر کا آپ مطالعہ کرتے رہیں لیکن خاص طور پر اقبال کے کلام، خطوط اور نثری اثاثے کا مطالعہ کریں اور قائداعظم کی تقاریر اور خطوط کو بڑی توجہ، باریک بینی اور ترتیب سے پڑھیں۔ ان میں تاریخ اور رہنمائی بھی ہے اور ہمارے سماجی اُمور کو سمجھنے اور سلجھانے اور قانون کے راستے سے حل تلاش کرنے کا لائحہ عمل بھی‘‘۔ ایک روز فرمایا: ’’یاد رکھیں پاکستان کے بدخواہوں میں اتنی ہمت تو نہیں کہ اسلام اور پاکستان پر براہِ راست حملہ کرسکیں، مگر وہ اپنے مذموم مقصد کو پورا کرنے کے لیے اُوچھے اور گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اقبال، قائداعظم اور مولانا مودودی کو ہدف بناتے ہیں۔ اس لیے درست انداز سے حقائق کو پیش کرتے ہوئے ان کی مدافعت کے لیے ہروقت بیدار، تازہ دم اور متحرک رہیں‘‘۔
ایک روز فرمایا: ’’جولائی ۱۹۴۸ء میں مَیں نے لاہور میں کالج کی لائبریری میں ڈان سے قائداعظم کی تقریر پڑھی، جو انھوں نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقعے پر کی تھی۔ چونکہ میرا رجحان معاشیات پڑھنے کی طرف تھا، اس لیے میں نے یہ سمجھا کہ اس تقریر کا مخاطب میں بھی ہوں، اور ساتھ ہی اسلامی معاشیات کے بارے موہوم سے سوالات اُٹھنے لگے۔ سال بھر کے بعد مولانا مودودی کے ہاں معاشیات کی اسلامی تفہیم و تشریح پڑھی تو دل ودماغ مکمل یکسوئی کے ساتھ اسلامی معاشیات سے وابستہ ہو گئے‘‘۔
یاد رہے قائداعظم نے یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو کراچی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقعے پر اپنی آخری تقریر میں فرمایا تھا: ’’معاشرتی اور معاشی زندگی کے اسلامی تصورات سے بنکاری کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں آپ جو کام کریں گے، میں دلچسپی سے اس کا انتظار کروں گا۔ اس وقت مغربی معاشی نظام نے تقریباً ناقابلِ حل مسائل پیدا کر دیئے ہیں، اور شاید کوئی کرشمہ ہی دُنیا کو اس بربادی سے بچاسکے، جس کا اسے اس وقت سامنا ہے۔ یہ نظام افراد کے درمیان انصاف اور قوموں کے درمیان ناچاقی دُور کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ مغربی دُنیا اس وقت میکانکی اور صنعتی اہلیت کے باوصف جس بدترین ابتری کا شکار ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔مغربی اقدار، نظریئے اور طریقے، خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا، اور دُنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی اساس و بنیاد انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچّے اسلامی تصور پر کھڑی ہو۔ اس طرح ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کرسکیں گے، اور بنی نوع انسان تک امن کا پیغام پہنچا سکیں گے۔ صرف یہی راستہ انسانیت کو فلاح و بہبود اور مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرسکتا ہے‘‘۔
اس طرح انٹرمیڈیٹ کے طالب علم خورشیداحمد نے اپنے قومی اور فکری قائدین سے، اپنے من کی دُنیا میں جو عہد کیا تھا، ساری زندگی اسی عہد کی تکمیل کے لیے تج دی۔ ۱۹۵۸ء میں اکنامکس پر پہلی کتاب Essays on Pakistan Economy لکھی اور ۱۹۶۱ء کو علی گڑھ یونی ورسٹی میں پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی کے نام خط لکھا: ’’کراچی یونی ورسٹی میں میرا تقرر ہوگیا ہے۔ Economic Planning اور Agricultural Economics پڑھا رہا ہوں۔ ’پلاننگ‘ کا پرچہ فائنل میں اور ’ایگریکلچرل‘ پر یویس میں۔ دُعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان نئی ذمہ داریوں کو اُٹھانے کی توفیق دے۔ پہلے بھی کام بہت تھے، اور اب تو بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ دو پرچوں [مراد ہیں اقبال اکادمی کا اُردو/ انگریزی Iqbal Review اور ماہ نامہ چراغِ راہ]کی ادارت، یونی ورسٹی، اجتماعی کام، ذاتی مصروفیات، ترجمہ و تالیف ___ خدا ہی ہمت دے اور ان کاموں کو بخیروخوبی انجام دلائے‘‘۔
سفرِشوق کی کٹھن راہوں پر چلتے ہوئے مسافر تھکا نہیں۔ ملازمت کے گوشے تک محدود رہنے کے بجائے اس طرزِفغآں کو پورے گلشن میں عام کرنے کے لیے مسلسل کوشش جاری رکھی، جس میں نوماہ جیل میں بھی گزارے، مگر نگاہیں منزل پر جمی رہیں۔ ۲۷؍اپریل ۱۹۶۸ء کو نجات اللہ صدیقی صاحب کو خط لکھا: ’’الحمدللہ، ہماری کوششوں سے ایک بہت بڑی کامیابی ہوئی ہے، وہ یہ کہ کراچی اور پنجاب کی یونی ورسٹیوں نے ایم اے [اکنامکس] کی سطح پر Economics of Islam کا ایک پورا پرچہ ۱۰۰ نمبر کا متعارف کردیا ہے۔ آپ کو کراچی اور پنجاب کے سلیبس بھیج رہا ہوں، تاکہ آپ اس پر غور کرسکیں اور ہماری کچھ مدد کرسکیں‘‘۔
بعدازاں قومی اور عالمی سطح پر معاشیاتِ اسلام اور اسلامی بنکاری کے لیے کانفرنسوں، سیمیناروں کے انعقاد اور اداروں کی تشکیل و تعمیر، اور افراد سازی کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج مغربی علمی دُنیا انھیں ’فادر آف دی اسلامک اکنامکس‘ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔
یہ ان کے لڑکپن کی بات ہے خورشید احمد صاحب، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا دستوری مسودہ تیار کرکے ارکان کو پیش کرنے والی سہ رکنی کمیٹی کے رکن تھے (دوسرے ارکان میں خرم مراد اور ظفر اسحاق انصاری شامل تھے)۔ خورشید صاحب نے بتایا: ’’جمعیت کے دستور کی تدوین کے وقت حلفِ رکنیت میں زندگی کے مقصد کے اظہارواعلان کے لیے جس قرآنی آیت کا انتخاب کیا گیا، وہ خرم بھائی اور راجا بھائی [ظفراسحاق]ہی کی تجویز کردہ تھی، اور جب انھوں نے تجویز کی تو اپنی کم علمی کے باوجود میری زبان سے بے ساختہ نکلا: ’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ آیت مبارکہ ہے: اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱۶۲ۙ (الانعام ۶:۱۶۲)’’کہو،میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے‘‘۔
پروفیسر صاحب نے اپنے دونوں مجوز ساتھیوں کی طرح اس عہد کو لکھا، پڑھا اور آخر دم تک نبھایا۔ اکتوبر ۲۰۱۶ء میں آنکھ کا آپریشن کرایا تو دائیں آنکھ ضائع ہوگئی لیکن اس تکلیف کے باوجود کمزور نظر اور محدب عدسے کی مدد سے مطالعہ کو جاری رکھا اور انتقال سے تین چار روز پہلے تک قلم سے رشتہ قائم رکھا___ دوسری تیسری کلاس کے بچّے نے مولانا مودودی کو جو نظم تحت اللفظ میں اور ہاتھ کے پُرجوش اشاروں کے ساتھ سنائی تھی، اس نظم کو اپنی زندگی کا ساز بنا لیا۔ اور پھر اس مغنی نے دُنیا کے گوشے گوشے میں اس نغمے کی گونج پھیلانے کے لیے تن من دھن لگادیا:
اسلام کا ہم سکّہ دُنیا پہ بٹھا دیں گے
توحید کی دُنیا میں اِک دھوم مچا دیں گے
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ اُبھرے گا، جتنا کہ دبا دیں گے
نتائج پیدا کرنا اللہ کی مشیت اور حکمت پر منحصر ہے، مگر شعوری طور پر زندگی لگادینا فرد کی ذمہ داری ہے۔ پھر لاہور میں قائداعظم کی آخری تقریر اخبار سے پڑھ کر جو عہد اپنے خالق سے باندھا تھا، پوری زندگی اس عہد کو نبھانے کے لیے وقف کر دی، جس کے روشن نقوش پوری دُنیا کی مالیاتی زندگی میں ایسے فرزانوں کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر علم کا علَم بلند کریں: مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَيْہِ ۰ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ۰ۡۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا۲۳ۙ (احزاب ۳۳:۲۳) ’’اُن میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ اُنھوں نے اپنے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘۔
پروفیسر خورشید احمد تحریک اسلامی کے اس قافلے کا آخری ستون تھے، جس قافلے کے سالار اور مجاہد اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرکے اللہ کے حکم پر ابدی دُنیا کو لوٹ گئے۔ وہ قافلہ جو فکر بھی تھا، طریقۂ زندگی بھی، جس نے سماجی اور اجتماعی زندگی کو ایک قرینہ عطا کیا ہے، جس قافلے نے طوفانوں کے سامنے کھڑا ہونے اور ایمانی و علمی اور منطقی اپروچ سے شائستگی و بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنے کا انداز سکھایا ہے، جس نے عددی قوت کی کمی کو کبھی نفسیاتی مسئلہ نہیں بننے دیا ہے اور اس کے ایک ایک فرد نے ہزار ہزار انسانوں کی سی عزیمت کو سر کا تاج بنایا۔ تربیت، تنظیم اور جہد ِ مسلسل کو زندگی اور زندگی کی معراج بنایا ہے۔ اس روایت کے آخری فرد تو بلاشبہ خاکی وجود میں خورشید احمد صاحب تھے،مگر الحمدللہ، وہ قافلہ نئے آہنگ اور نئے میدانوں میں ، نسلِ نو کے ساتھ معرکہ زن ہے ع
اِک روشنی کے ہاتھ میں ہے روشنی کا ہاتھ
اکثر دن کے تین سے چار بجے کے درمیان پروفیسر صاحب کے فون کا انتظار رہتا تھا۔ اب اس مہربان ہستی کا فون نہیں آئے گا۔دُنیا کی اسکرین سے بھی انسان اسی طرح چلا جاتا ہے، رہ جاتی ہے اس کی یاد اور صدقۂ جاریہ۔ کاش! ہم صدقۂ جاریہ بن سکیں اور مہلت ِ عمر کو اس دُنیا کی باثمر زندگی اور آخرت کی کامیابی زندگی بنا سکیں۔
یہ سوال پیدا ہوتا ہے: ’’امریکا کی نام نہاد ’وار آن ٹیرر‘ کیا ختم ہو گئی ہے ؟ یہ امریکی کھیل کب تک جاری رہے گا ؟ اس جنگ کی نوعیت اور شکل کیا ہے ؟‘‘
اُردن کی حکومت نے ۲۳؍ اپریل کی سہ پہر ملک کی سب سے مؤثر جماعت ’اخوان المسلمون‘ پر مکمل پابندی عائد کرنے سے ایک ہفتہ پہلے اس کے خلاف ایک نفرت انگیز مہم چلا رکھی تھی، اور پھر پابندی عائد کرتے ہی اس کے تمام دفاتر کو بند کرکے اس کے اثاثے ضبط کر لیے۔ وزیرِ داخلہ مازن فرایہ نے اعلان کیا: ’’یہ فیصلہ جماعت کے ایک رہنما کے بیٹے کے ہمراہ پندرہ افراد کی گرفتاری کے بعد کیا گیا ہے۔ اخوان المسلمون کی تمام سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے اور جو کوئی بھی اس کے نظریات اور کتب کو پھیلائے گا، اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ اس پابندی میں جماعت کے دفاتر اور املاک کی بندش اور ضبطی شامل ہے۔ اخوان نے غیرقانونی طور پر اپنا دفتری ریکارڈ تلف کیا ہے‘‘۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر اخوان کی حمایت یا اس کی کسی سرگرمی کو پھیلانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
پابندی کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے ہی پولیس نے اخوان المسلمون کے مرکزی دفتر کا محاصرہ کرکے تلاشی شروع کردی تھی۔ اخوان کئی عشروں سے اُردن میں قانونی طور پر سرگرم ہے اور تمام بڑے شہروں میں اسے وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے۔
اُردن، طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں استحکام کی علامت سمجھا جارہا ہے۔ اُردن نے ۱۹۹۴ء میں اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی فلسطینی نژاد ہے۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف عوامی غم و غصے کی لہر موجود ہے، جس کا فائدہ اخوان المسلمون اور اس سے وابستہ جماعتوں کو عوامی حمایت کی صورت میں ملا ہے۔ تھنک ٹینک ’مڈل ایسٹ آئی‘ (MEE) کی ۲۷؍اپریل کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق: ’’اُردن میں اخوان کے خلاف یہ مہم سعودیہ، امارات اور اسرائیل کے مربوط دبائو کے تحت چلائی جارہی ہے۔ یاد رہے گذشتہ ۱۸ ماہ سے اُردن میں اسرائیل کے خلاف تقریباً روزانہ عوامی مظاہرے ہورہے ہیں‘‘۔
اسی طرح مشرق وسطیٰ کے کئی عوامی اور سیاسی و علمی حلقوں نے اخوان المسلمون کے خلاف ان اقدامات کی مذمت کی ہے۔ مغربی ممالک کی انجمنوں نے بھی اس اقدام کو سیاسی دباؤ اور آزادیوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے کہ ایسی کارروائیاں معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی کو نقصان پہنچاتی ہیں اور علاقے میں مزید تناؤ کو جنم دیتی ہیں۔
درحقیقت یہ سب ایک پرانا کھیل دُہرایا جا رہا ہے، جیسا کہ ۲۰۰۳ء میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر بش نے عراق کو صریحاً جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کرکے لاکھوں انسانوں کے قتل و غارت کا کھیل کھیلا تھا۔اب وہی عالمی سامراجی عناصر مسلم دُنیا میں جگہ جگہ اسلامی قوتوں کو نشانہ بنانے کے لیے من گھڑت الزامات عائد کر کے اور کمزور مسلم حکمرانوں کو ڈرا کر، انھیں اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف ایسے اقدامات پر اُبھارتے ہیں۔
۲۳؍اپریل کی شام تل ابیب سے انٹرنیٹ پر شائع شدہ اخباری اطلاع میں یروشلم پوسٹ نے اخوان پر پابندی کو اطمینان کی نظر سے دیکھتے ہوئے لکھا :’’اخوان المسلمون نے اُردن کی رائے عامہ کو اسرائیل کے خلاف کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بڑے پیمانے پر جلسے جلوس منعقد کیے تھے۔ یہ چیز اسرائیل کے لیے خطرہ بڑھا رہی تھی‘‘۔اسی طرح اُردن کی سیاسی اشرافیہ، اخوان کو خارجہ اور داخلہ سطح پر ایک بوجھ سمجھتی ہے اور علاقے کے طاقت ور ملکوں کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اس سے چھٹکارا پانے اور اسرائیل سے تعلقات بڑھانے میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امکانات دیکھتی ہے۔
ابتدا میں جو سوال اُٹھایا گیا تھا،وہی سوال سب اہل دل کے لیے غور طلب ہے کہ مسلم دُنیا کے تمام دینی اور قومی حلقے اس نام نہاد جنگ کے علَم برداروں کی اوچھی حرکتوں کو غور سے دیکھیں اور ان کی گھاتوں،وارداتوں کو سمجھیں۔ اظہارِ رائے اور انعقادِ اجتماع اور انجمن سازی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے بارے میں بیدار رہیں۔
نام نہاد جمہوریہ انڈیا کی نسل پرست اور فسطائی حکومت نے تہذیب و شائستگی کی تمام حدوں کو پامال کرتے ہوئے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو حالیہ اقدامات کیے ہیں، انھوں نے انڈین سیکولرازم اور جمہوریت کے داغ دار چہرے کو اور زیادہ بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیر کے طول و عرض میں انڈین پولیس اور عسکری عہدے داروں کی نگرانی میں عملے نے درجنوں دکانوں پر چھاپے مار کر دینی و سماجی موضوعات پر بڑے پیمانے پہ کتب ضبط کرلی ہیں۔ اسی طرح کئی جگہوں پر جماعت اسلامی کے فعال کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہوئے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ یہ سب کارروائیاں انڈیا نے اپنے زیرانتظام کشمیر کے علاقے میں اختلاف رائےدبانے کے لیے کی ہیں۔
انڈیا کے اخبار دی وائر (۱۴فروری ۲۰۲۵ء) کے مطابق: ’’سری نگر کے سب سے بڑے کاروباری مرکز لال چوک میں کتب کے ایک تاجر کے بقول: جمعرات (۱۳ فروری) کو ساڑھے تین بجے پولیس کا ایک گروہ ہماری دکان پر آن دھمکا اور اس کے افسر نے کہا: بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا(BNSS) ۲۰۲۳ء کی دفعہ ۱۲۶ کے تحت ہم مولانا مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی کی کتب ضبط کریں گے، اور اس کے بعد کچھ کہے سنے بغیر دکان پر دھاوا بول دیا‘‘۔
روزنامہ گارجین لندن (۱۹فروری ۲۰۲۵ء) نے لکھا ہے: ’’سیّد مودودی بیسویں صدی کے جید عالم ہیں، جن کی تحریریں دُنیا بھر میں پڑھی جاتی ہیں۔ کتابوں کی دکانوں پر یہ چھاپے سری نگر سے شروع ہوئے اور پھر دوسرے بڑے چھوٹے قصبوں تک پھیل گئے۔ یہ کتب زیادہ تر مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی نے شائع کی ہیں۔ جماعت اسلامی برصغیر (پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش، جموں و کشمیر) کی سب سے بڑی دینی و سیاسی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے‘‘۔
ڈان نیوز (۲۰ فروری) کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے قصبوں سے مولانا مودودی کی کتب ضبط کرتے ہوئے پولیس نے کہا: ’’ابوالاعلیٰ کی تمام کتابوں کو ہم اس لیے ضبط کر رہے ہیں کہ ان پر پابندی ہے اور جماعت اسلامی سے وابستہ اس ممنوعہ لٹریچر کی تشہیر اور گردش کو روکنے کے لیے ہم سخت جانچ اور عملی اقدامات کرتے ہوئے ان کتب کے خلاف سخت کارروائی کریں گے‘‘۔
یاد رہے فروری ۲۰۱۹ء میں نسل پرست اور دہشت گرد تنظیم ’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘ (RSS) کی تابع فرمان بی جے پی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ پر پابندی عائد کردی تھی۔ پھر اسی سال ۵؍اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو مختلف انتظامی حصوں میں تقسیم کرکے جبروظلم کے تمام ریکارڈ مات کر دیئے تھے، جس کے بعد اس پورے علاقے میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں شدت آگئی تھی۔
مقبوضہ کشمیر کے مختلف رہنمائوں، اخبار نویسوں، وکیلوں، یونی ورسٹی استادوں، ادیبوں اور دانش وروں نے مولانا مودودی کی کتب کی ضبطی اور ان پر پابندی کو غیرمنصفانہ، غیرآئینی قدم اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس فسطائی حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ یہ کتب ایک سو سال سے نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دُنیا میں شائع ہورہی ہیں اور پڑھی جارہی ہیں۔ انڈین حکومت کا یہ قدم غیر مہذبانہ اور غیرمنصفانہ ہے۔
اخبار دی وائر کے مطابق:جماعت اسلامی کا دفاع کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کی جماعت ’پیپلزڈیموکریٹک پارٹی‘ (PDP) کی لیڈر التجامفتی نے الزام لگایا: ’’کتابوں کی یہ ضبطی، مطالعے کی آزادی پر حملہ ہے‘‘۔ نیشنل کانفرنس (NC)کے رکن پارلیمنٹ آغا سیّد روح اللہ مہدی کے بقول: ’’یہ جموں و کشمیر کے عوام کے مذہبی معاملات میں مداخلت ہے۔ جس کے تحت مولانا مودودیؒ کی کتب ضبط کرلی گئی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب [انڈین] ریاست کشمیریوں کو یہ بتائے گی کہ وہ کیا پڑھیں، کیا سیکھیں اور کس پر ایمان و یقین رکھیں؟ یہ ناقابلِ تصور ہے، اسے فوراً منسوخ کیا جائے‘‘۔
اخبار دی ہندو کے مطابق سیّد روح اللہ مہدی نے مزید (ٹویٹر) ’ایکس‘ پر لکھا: ’’ریاست [انڈیا] کی جانب سے کشمیریوں کو ہراساں کرنے سے باز رہنا چاہیے اور ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت بند کرنی چاہیے ،کیونکہ اس غیر ذمہ دارانہ اقدام کی بھاری قیمت چکانا ہوگی‘‘۔
میرواعظ عمرفاروق نے اس کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’اسلامی لٹریچر پر حکومت کا یہ کریک ڈائون نہایت قابلِ مذمت، حددرجہ افسوس ناک اور سخت مضحکہ خیز فعل ہے۔ اس طرح کتابوں کو ضبط کرکے اور خیالات پر پہرے بٹھا کر دھونس جمانا قطعی طور پر ایک بے معنی عمل ہے، خاص طور پر ایسے زمانے میں، جب کہ معلومات ’ورچول ہائی ویز‘ سے دُنیا بھر میں آسانی سے دستیاب ہیں‘‘۔ ’الجزیرہ‘ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق: ’’عمر فاروق نے مزید کہا: ’’ضبط کی گئی کتابیں قانونی طور پر نئی دہلی سے شائع ہورہی ہیں اور جب پورے خطّے میں کتابوں کی دکانوں پر فروخت ہورہی ہیں تو ان پر کشمیر ہی میں پابندی کیوں؟‘‘
روزنامہ نوائے وقت کے مطابق ’’شمیم احمد نے کہا ہے: ’’مولانا مودودی کی یہ کتب لوگوں کے اخلاق سنوارنے اور ذمہ دار شہری بننے کی تعلیم دیتی ہیں۔ ان پر کریک ڈائون کرنا، ایک ناقابلِ فہم اور غیرمنطقی قدم ہے‘‘۔
اس افسوس ناک انڈین قدم پر وزارتِ خارجہ پاکستان کے ترجمان شفقت علی خاں نے کہا ہے: ’’یہ عمل اختلاف رائے کو کچلنے اور مقامی لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے مسلسل اقدامات کی کڑی ہے۔ اپنی پسند کی کتب پڑھنے کی آزادی کشمیریوں کا حق ہے‘‘۔
مولانا مودودی کی کتب کے ساتھ سیّد علی گیلانی مرحوم کی کتب بھی ضبط کی گئی ہیں۔ اس پابندی اور ضبطی کے افسوس ناک واقعے کے علاوہ جو دوسرا حددرجہ اذیت ناک قدم مودی حکومت نے اُٹھایا ہے، وہ یہ کہ ۱۴فروری کو سیّد علی گیلانی مرحوم و مغفور کی رہائش گاہ میں ان کے ذاتی کمرے کو سربمہر کردیا گیا ہے، اور ان کے ذاتی کاغذات، مسودات ، خطوط اور ڈائریاں وغیرہ قبضے میں لے لی ہیں۔ یہ کارروائی اُس وقت کی گئی جب محترم گیلانی صاحب کی اہلیہ اپنی بیٹی سے ملنے نئی دہلی گئی ہوئی تھیں۔ یہ اقدام گھر کے کسی فرد کے نوٹس میں لائے اور اجازت کے بغیر کیا گیا ہے۔ یہ تمام واقعات دُنیا بھر کے اہلِ دانش کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔