سلیم منصور خالد


جنرل محمدضیاء الحق کے دورِ اقتدار (۱۹۷۷ئ-۱۹۸۸ئ)میں نجی شعبۂ تعلیم کو پوری قوت سے قدم جمانے کے لیے راستہ دیا گیا۔ اگلے قدم کے طور پر جنرل پرویز مشرف کے زمانۂ اقتدار (۱۹۹۹ئ-۲۰۰۸ئ)میں ذرائع ابلاغ اور بالخصوص برقی ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک میڈیا) کو ایک طوفان کی سی تیزی کے ساتھ معاشرے کے قلب و دماغ اور فکروثقافت کو مسخر کرنے کے مواقع عطا کیے گئے۔ یہ دونوں کام کسی مناسب نظم وضبط کی ضرورت کو بالاے طاق رکھتے ہوئے کیے گئے۔ ان کے لیے نہ کوئی ضابطۂ کار مرتب ہوا اور نہ کوئی ضابطۂ اخلاق وضع کیا گیا۔ پھر جس نے اس آزادی سے جو حیثیت اختیار کرلی، وہ اسے چھوڑنے اور دوسری کوئی بات سننے کے لیے روادار نہ ٹھیرا۔ نجی شعبۂ تعلیم نے قوم کی کس انداز سے خدمت کی اور کس پہلو سے تخریبِ فکروتہذیب کا زہر پھیلایا ہے؟ سرکاری شعبے نے کیا خدمت کی اور کس حوالے سے بربادی کے کھیل میں آگے بڑھ کر معاونت کی؟ ذرائع ابلاغ نے کردار، ایمان، تاریخ، طرزِحیات اور تہذیب و ثقافت کو کیا چرکے لگائے اور کس حد تک  ان سب کو مسخ کیا؟بلکہ ان کا مُثلہ کیا؟___ یہ سوالات اس تحریر میں زیربحث نہیں ہیں۔ زیربحث    یہ امر ہے کہ آج ہمارے نجی تعلیمی ادارے کس کلچر کو فروغ دیتے ہوئے ہمیں کس موڑ پہ لے آئے ہیں؟

جیساکہ عرض کیا ہے ضیاء الحق کے دورِحکومت میں جب نجی تعلیمی اداروں کو کام کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دی گئی، تو پہلے ہی ایک دو سال کے دوران ان میں سے اکثر بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں نے بطورِ فخر ہماری تہذیبی روایات و اقدار کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ٹیلی ویژن یا فلمی اداکاروں یا اداکارائوں کو اپنی تقریبات میں بلاکر مہمانِ خصوصی کا اعزاز بخشا۔ گویا بچوں کو بتایا گیا کہ یہ ہیں آپ کے رول ماڈل۔ مزیدبرآں بعض اداروں نے موسیقی کی تربیت دینے کے لیے پرائمری کے بچوں کو ہدف بنانے کا راستہ اختیار کیا۔ پھر یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے یہاں پہنچا کہ مخلوط تعلیم کے اداروں نے اپنا دائرہ اسکول سے اعلیٰ تعلیم تک پھیلا دیا اور ذرائع ابلاغ کے تعاون سے بعض نجی تعلیمی اداروں نے بلاانقطاع موسیقی کے سالانہ پروگرام ترتیب دینے شروع کیے۔ والدین نے اس بات پر غور کیے بغیر کہ یہ عمل اندر ہی اندر کیا طوفان مچارہا ہے؟ اپنے ضمیر کو تھپک تھپک کر سلا دیا۔ شاید اس لیے کہ اس سوال کی جانب توجہ دینے کا مطلب ’دقیانوسیت‘ اور ’ملائیت‘ کی پھبتی کا نشانہ بننا ہے، اس لیے چاروں طرف خاموشی کی سی فضا نظر آتی تھی مگر اس صورتِ حال کا نتیجہ، ۹ اور ۱۰ جنوری ۲۰۱۲ء کی درمیانی شب قذافی اسٹیڈیم لاہور سے متصل الحمرا کلچرل کمپلیکس میں ایک نہایت الم ناک سانحے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس دردناک حادثے کی رپورٹنگ مختلف اخبارات نے مختلف زاویوں سے کی تھی، اس لیے یہ تفصیل اخبارات ہی کی زبانی ملاحظہ کیجیے:

  • الحمرا کلچرل کمپلیکس میں ایک نجی کالج کے زیراہتمام میوزیکل کنسرٹ کے اختتام پر کالج انتظامیہ کی غلط حکمت عملی اور سیکورٹی گارڈز کی طرف سے لاٹھی چارج کے باعث طالبات میں شدید بھگدڑ مچ جانے سے تین طالبات جاں بحق ہوگئیں، سات شدید زخمی، جب کہ درجنوں بے ہوش ہوگئیں۔ بھگدڑ کے باعث الحمرا کلچرل کمپلیکس کے باہر بچیوں کو لینے کے لیے آنے والے ورثا دیوانہ وار بچیوں کو تلاش کرتے رہے، اور نہ ملنے پر روتے پیٹتے ہوئے ہسپتال پہنچ گئے، جہاں پر ایک بچی کی شناخت ہوگئی اور اس کا والد ٹیلی ویژن کا سینیر اداکار ہے، وہ بچی کی لاش دیکھ کر بے ہوش ہوگیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد پولیس اور انتظامیہ کے افسران موقع پر پہنچے۔ کنسرٹ صرف طالبات کے لیے تھا، اور طالبات کی تعداد ۱۰ہزار کے قریب تھی۔ (روزنامہ نئی بات، لاہور،۱۰ جنوری ۲۰۱۲ئ)
  •  واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشن لاہور غلام محمود ڈوگر نے بتایا کہ نجی کالج نے سیکورٹی کے لیے پولیس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا، کمپلیکس کے اندر سیکورٹی کی ذمہ داری نجی کالج کی تھی۔(ایکسپریس،۱۰جنوری ۲۰۱۲ئ)
  • ڈی آئی جی کے مطابق ۴ہزار کی گنجایش کے ہال میں ۷ہزار طالبات جمع تھیں۔ جب اختتام پر عاطف سے آٹوگراف لینے کے لیے طالبات اُمڈیں تو یہ حادثہ ہوا۔ (ڈان، ۱۰جنوری۲۰۱۲ئ)
  • اس حادثے کے دوران جب بچیاں خوف زدہ ہوکر گیٹ سے باہر بھاگ رہی تھیں، تو وہاں پہلے سے کھڑے لڑکوں نے ان لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی کی۔ اس کھینچاتانی میں بعض طالبات کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔ عینی شاہدوں کے مطابق اوباش نوجوان، طالبات کو کھینچ کر گاڑیوں میں بٹھانا چاہتے تھے۔(روزنامہ آواز، ۱۰جنوری۲۰۱۲)

یہ تو تھیں مختلف اخبارات میں اس حادثے کی رپورٹیں۔ اب دو تین اداریے ملاحظہ کیجیے (یاد رہے انگریزی اخبارات نے اس واقعے پر کوئی ادارتی سطر لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی):

  • روزنامہ نواے وقت نے اپنے ادارتی شذرے میں لکھا کہ والدین بڑی بڑی فیس برداشت کرکے اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اس اعتماد کے ساتھ بھجواتے ہیں کہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ وہ محفوظ بھی رہیں گے لیکن جب کسی بھی غیرذمہ داری یا غفلت کے باعث بچے یا بچی کی نعش گھر پہنچتی ہے تو والدین پر ایک قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ جس تقریب میں ۷ہزار افراد شریک ہوں، اس کو محفوظ تر بنانے کے لیے متعلقہ ادارے کی انتظامیہ کو خصوصی اقدامات کرنے چاہییں تھے۔ طالبات کو ہر صورت ڈسپلن قائم رکھنے کی بریفنگ دی گئی ہوتی تو بھگدڑ مچنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ .... اس کے لیے نہ صرف حکومت طلبہ و طالبات کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے سخت ضوابط بنائے، بلکہ تعلیمی اداروں کو خود بھی اصلاحی اقدامات تجویز کر کے لاگو کرنا چاہییں اور والدین کو ایسے معاملات میں دل چسپی لینا چاہیے۔ (۱۱جنوری ۲۰۱۲ئ)
  • ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے شوز کا اہتمام کرنے والے ادارے تمام حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی طرف توجہ دیں۔ (ادارتی شذرہ، روزنامہ جنگ، ۱۱ جنوری۲۰۱۲ئ)

اس افسوس ناک واقعے پر اخبارات ہی کے صفحوں سے اتنا لوازمہ نقل کرنے کا ایک واضح مقصد یہ ہے کہ آزادیِ اظہار اور ریاست کا چوتھا یا پانچواں ستون قرار دینے والے ذرائع ابلاغ پر  اس پہلو سے بھی نظر ڈالنی چاہیے کہ وہ کس انداز سے مچھر چھانتے اور کس کاریگری سے اُونٹ نگل جاتے ہیں۔ دیکھیے، کم و بیش سبھی اخبارات نے اس نجی گروپ آف کالجز کا نام شائع کرنے سے اجتناب برتاہے۔ البتہ ایک انگریزی اور ایک اُردو اخبار نے لکھ دیا کہ یہ ’پنجاب گروپ آف کالجز‘کے زیراہتمام میوزک شو تھا، اور متاثرین اس کی طالبات تھیں۔

  • اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں نے ادارے کا نام لینے اور اس الم ناک واقعے پر تحقیقی رپورٹیں دینے سے اس لیے اجتناب برتا کہ مذکورہ گروپ آف کالجز ، تعلیم کی تجارت کے ساتھ ساتھ ایک عدد ٹیلی وژن چینل اور اخبار کا مالک بھی ہے۔ اس لیے صحافتی برادری نے اپنی برادری کے ساتھی کو تحفظ دینے کی کوشش کی، یا اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ ادارے اخبارات کو لاکھوں روپے کے اشتہارات دیتے ہیں، اور اخبارات اپنے کاروباری معاون کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔
  • اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی اتنی بڑی تعداد کس خوشی اور بے خوفی سے اپنی بچیوں کو گانے بجانے کے پروگراموں میں رات دیر تک باہر جانے کی اجازت دینے کا حوصلہ رکھنے کے عادی ہوتی جارہی ہے، اور یہ امر ایک واضح ثقافتی اور تہذیبی تبدیلی کا بھی مظہر ہے۔
  • یا پھر یہ ہے کہ بچے، بچیاں اتنے منہ زور ہوگئے ہیں کہ بے بسی کے باعث والدین کے لیے اُن کی مرضی کے آگے ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
  • یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ طالبات کی ایک بڑی تعداد اپنے ’محبوب گلوکار‘ سے آٹوگراف لینے یا بہت قریب سے اس کی جھلک دیکھنے کے لیے اُمڈ پڑی، جس پر بدنظمی اور سانحہ رونما ہوا۔
  • پھر سفّاکیت کا یہ مظہربھی ملاحظہ کیجیے کہ طالبات بدحواسی اور خوف میں اس شہرلاہور میں جان بچانے کے لیے بھاگ رہی ہیں اور ’بھیڑیوں‘ کی مانند آوارہ نوجوان اُن پر جھپٹ رہے ہیں۔ یہ سب وہی ’روشن خیالی‘ ہے، جس کا ڈول جنرل مشرف نے ڈالا، ذرائع ابلاغ نے اس آگ کو بھڑکایا اور نجی تعلیمی اداروں نے بڑی بڑی فیسیں اینٹھ کر اس آوارگی کو ’ہم نصابی سرگرمی‘ بنادیا۔
  • ٹیلی ویژن چینلوں اور اخبارات نے موسیقی کے اس جنون کو دینی و اخلاقی پہلو سے زیربحث لانے کے برعکس یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ جیسے یہ چیزیں اب طے شدہ ہیں اور ہوتی رہنی چاہییں۔

ایسے واقعات آنکھیں کھولنے کے لیے رونما ہوتے ہیں، مگر مفلس کی آہ کی طرح یہ ناشنیدہ ہی رہتے ہیں اور اکثر و بیش تر فنا کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں۔ بہرحال نقّارخانے میں طوطی کی آواز کہیں، کسی درجے میں سنی جاسکے اور اس پر کسی روک ٹوک کے بارے میں سوچنا ہی شروع کر دیا جائے تو غنیمت ہوگا۔۲۴جنوری کو پنجاب اسمبلی میں تعلیمی اداروں میں میوزک پروگراموں کے خلاف متفقہ قرارداد کی منظوری اور پھر میڈیا کی جوابی یلغار کے جواب میں حکومت پنجاب کی پسپائی، پھر ۲۵جنوری کو قرارداد کی واپسی میں عبرت کا پیغام پوشیدہ ہے۔

انسانی جان کتنی قیمتی ہے اور انسانی حُرمت کیا معنی رکھتی ہے، قرآن حکیم نے دوٹوک الفاظ میں وضاحت کر دی ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا (المائدہ ۵:۳۲) ’’جس نے ایک بے گناہ کو قتل کیا، اس نے گویا ساری انسانیت کو قتل کر دیا‘‘۔ مراد یہ کہ بے گناہ انسانوں کا قتل کوئی بھی کرے، یہ ایک ایسا گھنائونا جرم ہے کہ کوئی اور جرم اس کی سنگینی کو نہیں پہنچتا۔ اگر مقتولین کی تعداد دوچار نہیں، دس بیس بھی نہیں،سیکڑوں اور ہزاروں بھی نہیں بلکہ لاکھوں میں ہو تو معاملہ اور بھی نازک اور سنگین ہوجاتا ہے۔ اس معاملے کی وضاحت ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے المیے اور بنگلہ دیش کی تشکیل میں قتل و غارت کے مبالغہ آمیز اعداد و شمار کے حوالے سے پیش کی جارہی ہے۔ یہ اعداد و شمار دروغ گوئی کی آخری حدود سے بھی متجاوز ہیں اور یہ سلسلہ بڑے دھڑلّے سے گذشتہ ۳۹برسوں سے جاری ہے۔ آیئے حقائق کی روشنی میں اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یک طرفہ پروپیگنڈے کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے عمل (۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء) کے ساتھ ہی اُوپر تلے مختلف اعداد و شمار فضا میں گردش کرنے لگے۔ مثال کے طور پر: ’’مشرقی پاکستان سے ایک کروڑ بنگالی، بھارت میں  پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں، ان کی گزربسر بڑی اذیت ناک ہے، انھیں دنیا بھر سے امداد کی ضرورت ہے‘‘۔ ’’پاکستانی فوج نے لاکھوں بنگالی مار دیے ہیں‘‘۔۱۰لاکھ، نہیں ۲۰ لاکھ، نہیں ۳۰ لاکھ، یہ بھی نہیں ۳۵لاکھ مار دیے ہیں‘‘ بلکہ ’’۵۰لاکھ سے بھی زیادہ مار دیے ہیں‘‘___ ’’۲لاکھ بنگالی  عورتوں کو زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا‘‘۔ ’’۳ لاکھ، نہیں ساڑھے تین لاکھ بنگالی عورتوں سے زیادتی کی گئی‘‘___ ۸ جنوری ۱۹۷۲ء کو پاکستان توڑنے کی سازش کے مرکزی کردار شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان سے رہائی پاکر لندن پہنچتے ہی دعویٰ کیا: ’’بنگلہ دیش میں ۱۰لاکھ انسان مارے گئے ہیں‘‘۔ (دی ٹائمز، ڈیلی ٹیلی گراف، لندن، ٹائمز آف انڈیا، دہلی، پاکستان ٹائمز، لاہور ۹جنوری ۱۹۷۲ء) لیکن لندن سے براستہ دہلی، ڈھاکا جاتے ہوئے شیخ مجیب کے ’فہم‘ اور ’معلومات‘ میں حیرت انگیز اضافہ ہوا، اور ۱۰جنوری کو ڈھاکا کی سرزمین چھونے کے بعد موصوف نے کہا: ’’۳۵لاکھ بنگالی مارے گئے ہیں‘‘ (جیوتی سین گپتا، بنگلہ دیش میں تحریکِ آزادی، ۱۹۴۷ء تا ۱۹۷۳ء (انگریزی) کلکتہ، ۱۹۷۴ء، ص ۴۴۵)۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد انھوں نے ۳۵ لاکھ کے عدد میں ذرا کمی کرکے: ’’۳۰ لاکھ مارے گئے اور ۳ لاکھ عورتوں سے بالجبر زیادتی (ریپ) کی گئی‘‘ کے عدد پر جم جانا مناسب سمجھا اور پھر یہی موقف نجی، عوامی اور بین الاقوامی سطح پر دہرانا وظیفۂ زندگی بنا لیا۔

معروف صحافی ڈیوڈ فراسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے جسے ۱۸ جنوری ۱۹۷۲ء کو نیویارک   ٹیلی ویژن نے ٹیلی کاسٹ کیا تھا، اس میں بھی شیخ مجیب نے ۳۰لاکھ افراد کے قتل کا دعویٰ کیا تھا   اس سے ایک روز قبل ٹائم میگزین  کو انٹرویو میں مجیب نے بتایا تھا: ’’آج اگر ہٹلر زندہ ہوتا تو اپنی کارکردگی پر شرم سار ہوتا‘‘ (۱۷ جنوری ۱۹۷۲ء)۔ اور پھر ۳۰ لاکھ کا عدد ایک قومی نغمے یا بنگالی لوک گیتوں کا حصہ بن گیا، جس کا دہرانا ہرکس و ناکس نے اپنے اُوپر لازم کرلیا۔

اس تجزیے کے لیے ہمارا بیش تر انحصار خود بنگلہ دیش کے تحقیق کاروں اور مغربی صحافیوں کی رپورٹوں پر مبنی ہے۔ یہ تحقیق کار اگرچہ پاکستان کے حامی نہیں ہیں، مگر اس پروپیگنڈے پر بحث کے دوران میں وہ اپنے نتیجۂ فکر کو ضرور قلم بند کرتے ہیں۔

پہلے اس منظر کو دیکھیے: مشہور اطالوی صحافی خاتون آریانا فلاسی (Oriana Fallaci) لکھتی ہے: ’’میں مجیب کے گھر [فروری ۱۹۷۲ء میں] انٹرویوکرنے پہنچی، وہاں برآمدے میں ۵۰افراد کھڑے تھے۔ میں نے کہا: اندر اطلاع کیجیے۔ میری اس درخواست کے جواب میں وہاں کھڑے ایک آدمی نے نہایت غصیلے بلکہ خوف ناک انداز میں غراتے ہوئے کہا: ’انتظار کرو‘۔ میں انتظار میں بیٹھ گئی۔ ایک گھنٹہ، دوگھنٹے، تین گھنٹے، چار گھنٹے گزرے، حتیٰ کہ رات کے آٹھ بج گئے۔ پھر ساڑھے آٹھ بجے یہ کرشمہ رونما ہوا کہ مجھے مجیب کے کمرے میں جانے کی اجازت ملی، جہاں ایک آرام دہ صوفہ اور دوکرسیاں پڑی تھیں۔ مجیب نہایت بے ڈھنگے انداز میں ٹانگیں پسارے صوفے پر قابض تھا اور باقی دونوں کرسیوں پر، دو موٹے موٹے وزیر دھنسے ہوئے تھے۔ میں داخل ہوئی تو نہ کسی نے کوئی سلام کیا اور نہ میری آمد کا کوئی نوٹس لیا۔ میں حیران گم سم کھڑی تھی کہ اچانک مجیب نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’بیٹھ جائو‘۔ میں اسی کے صوفے کے ایک بازو کے ساتھ دبک کر بیٹھ گئی اور تیزی سے اپنے ٹیپ ریکارڈر کو متحرک کرنے لگی، لیکن ابھی میں نے بٹن دبایا بھی نہیں تھا کہ مجیب نے  گرج دار آواز میں مجھ سے کہا: ’’جلدی کرو، جلدی کرو، میرے پاس وقت نہیں ہے۔ ہاں، پاکستانیوں نے ۳۰ لاکھ بنگالیوں کو مارا ہے اور یہی سچ ہے۔ ۳۰ لاکھ، ۳۰ لاکھ، ۳۰ لاکھ‘‘۔ میں حیران تھی کہ وہ کس طرح ۳۰لاکھ انسانوں کے مارے جانے کے اعداد و شمار تک پہنچا ہے؟ میں نے کہا: ’’جناب وزیرعظم…‘‘ مگر وہ کوئی بات سننے کے بجاے پھر گرج دار آواز میں دھاڑنے لگا: ’’انھوں نے ہماری عورتیں اپنے شوہروں کے سامنے ماری ہیں ۔ شوہر، بیٹوں اور بیویوں کے سامنے مارے ہیں… دادا اور نانا اپنے پوتوں، نواسوں کے سامنے، چچیاں، چچوں کے سامنے…‘‘۔ میں نے فوراً کہا: ’’جناب وزیراعظم… میں چاہوں گی…‘‘ مگر مجیب نے میری بات مکمل ہونے سے قبل اسی بپھرے انداز میں وزیروں کی طرف رُخ کرتے ہوئے کہا: ’’اس کو سنو، یہ کیا چاہتی ہے؟ تمھیں کوئی حق نہیں چاہنے کا، سمجھی، جو میں کہہ رہا ہوں وہی سچ ہے‘‘۔ (آریانا فلاسی، لایورپیا، روم، ۲۴فروری ۱۹۷۲ء بحوالہ ڈاکٹر عبدالمومن چودھری Behind the Myth of Three Million [۳۰ لاکھ کی کہانی کے پیچھے]، الہلال پبلشرز،لندن، ص۶،۷)

آیئے، دیکھتے ہیں کہ اعداد و شمار کا یہ اُتار چڑھائو کس طرح وجود میں آیا ہے؟: ۷جنوری ۱۹۷۲ء کو پریس ٹرسٹ آف انڈیا (PTI) نے بنگلہ دیش کے نئے وزیراطلاعات و نشریات      شیخ عبدالعزیز کے حوالے سے کلکتے سے اعلان کیا: ’’۱۰لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں‘‘۔ اسدچودھری کی نظم رپورٹ ۱۹۷۱ء ان تمام واقعات و حوادث کی تفصیل پر مبنی قرار دی جانے لگی، جس میں دعویٰ کیا گیا: ’’ہم کو آزادی کے لیے ۱۰ لاکھ شہیدوں کا لہو دینا اور ۴۰ ہزار عورتوں کی عزت قربان کرنا پڑی‘‘۔ ۳۰ لاکھ کی کہانی کے پیچھے کے مطابق: سابق بھارتی سپہ سالار جنرل مانک شا کے نزدیک: ’’مجیب کے بقول ۳۰ لاکھ‘‘ اور مشرقی محاذ کے کمانڈر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے مطابق: ’’جیساکہ ہم جانتے ہیں پاکستانی فوج نے ۱۰لاکھ افراد کو مارا، لیکن جہاں تک شیخ مجیب کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ ۳۰ لاکھ مارے گئے، ایک ناممکن سی بات ہے۔ مجیب منتظم کے بجاے  ایک شورش پسند (ایجی ٹیٹر) انسان تھا، جس نے ظلم کی داستان کو بڑھاوا دینے کے لیے ۳۰لاکھ کا دعویٰ کیا، حالانکہ مجیب کا یہ دعویٰ ناممکن سی بات ہے، کیونکہ پاکستانی فوج کو بہ یک وقت ملک کے اندر اور ملک کی سرحدوں پر لڑنا پڑ رہا تھا‘‘۔ (لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا، Remimiscences of Bangladesh War، وِڈیو انٹرویو، ماس کمیونی کیشن سنٹر، جامعہ ملّیہ، دہلی، ۱۹۹۴ء)۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کی تخلیق کے ایک اہم کردار میجر جنرل ڈی کے پیلٹ نے بھی ۱۰ لاکھ کا عدد دہرایا، حالانکہ اس کے لیے وہ کوئی تائیدی ثبوت تک نہ پیش کرسکا۔ اس جنگ کے حوالے سے ان تینوں جرنیلوں یعنی مانک، اروڑا اور پیلٹ نے صرف دولفظوں کا سہارا لیا ہے: ’’یہ ایک معروف بات ہے‘‘ یا ’’جیساکہ ہم جانتے ہیں‘‘۔ یا ’’مجیب نے کہا‘‘ اتنے اہم معاملے پر ایسی سہل انگاری پر مبنی اسلوب اختیار کرنا بذاتِ خود غیرذمے دارانہ رویہ ہے اور بددیانتی پر مبنی انداز ہے۔

بقول ڈاکٹر عبدالمومن چودھری: دراصل ۳۰ لاکھ کے افسانے کو وضع کرنے کے پیچھے روزنامہ پوربودیش ڈھاکا کے مدیر احتشام حیدر چودھری اور اشتراکی روس کے سرکاری اخبار روزنامہ پراودا ماسکو کا نمایندہ متعینہ دہلی، صاف صاف دکھائی دیتے ہیں۔ پوربودیش میں احتشام حیدر نے ۲۲دسمبر ۱۹۷۱ء کو اداریہ ’’یحییٰ حکومت کو پھانسی دو‘‘ میں لکھا: ’’پاکستانی فوج نے ۳۰لاکھ بنگالی اور ۲۰۰ دانش ور مارے‘‘، جب کہ اسی اخبار نے صرف ایک روز قبل یعنی ۲۱ دسمبر ۱۹۷۱ء کو آٹھ کالم پر مشتمل ایک فیچر، جسے سرخ رنگ کی سرخیوں سے مزین کیا گیا تھا، یہ عنوان جمایا تھا: ’’بنگال کے کتنے لوگ مارے گئے؟‘‘ اور فیچر میں یہ بحث کی گئی: ’’بنگال میں ہر جگہ یہ سوال پوچھا جارہا ہے کتنے لوگ قتل ہوئے: ۱۰، ۲۰، ۳۰، ۴۰ یا ۵۰ لاکھ؟ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ لوگوں کو اس کا جواب چاہیے اور ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہوگا‘‘۔ (پوربودیش، ۲۱ دسمبر ۱۹۷۱ء)۔ پھر ایک ہی رات گزرنے کے بعد وہ جواب کی ’تلاش و تحقیق‘ مکمل کرلیتا ہے اور اگلے روز یہی اخبار جواب دیتا ہے: ’’۳۰لاکھ سے کم نہیں‘‘ (۲۲دسمبر ۱۹۷۱ء)۔ پھر اسی خبر کو پراودا کا خصوصی نمایندہ دہلی، اپنے مرکز ماسکو بھیجتا ہے، جہاں خبر اس طرح شائع ہوتی ہے: ’’۳۰ لاکھ سے زیادہ‘‘۔ اور پھر پراودا کے حوالے سے ۵جنوری ۱۹۷۲ء کو ڈھاکا اور دہلی کے اخباروں پر خبر شائع کی جاتی ہے: ’’۳۰ لاکھ سے زیادہ بنگالیوں اور ۸سو بنگالی دانش وروں کو مارا گیا‘‘۔ یوں پندرہ روز میں،اور افراتفری کے عالم میں دو صحافی ایک افسانہ تراشنے میں پوری طرح کامیاب ہوجاتے ہیں۔ پھر ۱۰جنوری ۱۹۷۲ء کو شیخ مجیب نے ڈھاکا ایئرپورٹ پر اُترتے وقت پورے طمطراق سے یہ اعلان کردیا: ’’پاکستانیوں کے ہاتھوں ۳۵لاکھ بنگالی مارے گئے اور ۳ لاکھ بنگالی عورتوں سے زیادتی کی گئی‘‘۔

اسی دوران میں خود بھارتی حکومت بھی بہ عجلت تمام کہہ دیتی ہے: ’’۳۰ لاکھ افراد کو قتل کیا گیا‘‘ (ماہ نامہ نیشنل جیوگرافک، ستمبر ۱۹۷۲ء)۔ رابرٹ پاینی نے اپنی کتاب Tragedy of Bangladesh (میکملن، ۱۹۷۳ء، نیویارک) میں اسی بات کو تحقیقی رنگ دینے کے لیے یہ افسانہ تراشا: ’’۲۲فروری ۱۹۷۱ء کو جرنیلوں کے ایک اجلاس میں صدر پاکستان جنرل یحییٰ خان نے کہا تھا: ۳۰لاکھ بنگالیوں کو مار دو تو امن ہماری جھولی میں ہوگا‘‘ (ص ۵۰) یعنی ایک سال پہلے ہی جنرل یحییٰ نے قتل کی گنتی مکمل کرلی۔ یہاں سے وہاں تک ۳۰ لاکھ کا عدد کس کس روپ میں گھڑا، دکھایا اور پھیلایا گیا۔

جوہری کا نام بنگلہ دیش کے مشہور صحافی کی حیثیت سے تسلیم شدہ ہے۔ انھوں نے اپنی بنگلہ کتاب The Riddle of Thirty Lakh [۳۰ لاکھ کا معمّہ] (ڈھاکا، ۱۹۹۴ء) میں لکھا ہے: ’’یہ بات فہم سے بالاتر ہے کہ آٹھ ماہ اور بارہ روز کی ایک گوریلا جنگ میں ۳۰ لاکھ انسان مارے جائیں، اور یہ بات بھی وہم و گمان سے کوسوں دُور ہے کہ اس دوران میں دو لاکھ سے زیادہ عورتوں سے بالجبر زیادتی کی گئی ہو۔ میں نے ملک کے مختلف اضلاع کے ۵۰۰ افراد کا انٹرویو کیا، اور ان سے پوچھا ہے: ’’آپ کے خاندان کے دُور و نزدیک میں، یا آپ کے جاننے والوں میں یا پھر آپ کے گائوں محلے میں، کسی پاکستانی فوجی نے جنسی بے حُرمتی کی ہو تو ایسا کوئی واقعہ آپ بتا سکتے ہیں؟‘‘ ان میں سے ہر فرد نے کہا: ’نہیں‘۔ ممکن ہے وہ اپنے خاندان کے بارے میں ایسی بات بتاتے وقت شرماتے ہوں، مگر گائوں، محلے کے بارے میں گواہی دینے میں کسی فرد کے لیے کوئی امرمانع نہیں ہوسکتا تھا۔ البتہ چند بدکرداروں کے ہاتھوں ایسے واقعات ہوئے، مگر ان چند کو پھیلا کر ۲لاکھ بنا دینا کیسے ممکن ہوا ہے؟ پھر ملک بھر سے ان اعداد و شمار کو صرف ایک ہفتے میں فیصلہ کن شکل دینا کیسے ممکن ہوا؟ کس نے یہ سروے کیا؟‘‘ (ایضاً، ص ۱۴)

ولیم ڈرومنڈ (William Drummond)، نمایندہ خصوصی روزنامہ گارڈین لندن  رقم طراز ہے: ’’۳۰ لاکھ افراد کا قتل ایک غیرحقیقی داستان سرائی ہے، جسے دنیا بھر کے اخبارات میں اُچھالا گیا۔ میں نے بنگلہ دیش کے بہت سے دورے کیے۔ اس دوران بے شمار لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں کرنے، سیکڑوں دیہات کا سفر کرنے اور اُوپر سے لے کر نچلی سطح تک حکومتی اہل کاروں سے تبادلۂ خیال کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ۳۰لاکھ افراد کے قتل کی بات ایک انتہا درجے کی مبالغہ آمیزی ہے (گارڈین، ۶ جون ۱۹۷۲ء)۔ ایک اور صحافی پیٹرگل نمایندہ خصوصی روزنامہ ٹیلی گراف، لندن (۱۶؍اپریل ۱۹۷۳ء) نے لکھا ہے: ’’شیخ مجیب کا یہ دعویٰ کہ ۳۰لاکھ بنگالی افراد مارے گئے ایک ایسی مبالغہ آمیز کہانی ہے، جس میں نقصان کو ۲۰فی صد زیادہ، بلکہ ۵۰،۶۰ فی صد تک بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے‘‘۔

عبدالمہیمن ضلع نواکھالی کے معروف سیاسی رہنما، ۱۹۷۰ء میں قومی اسمبلی کے منتخب رکن اور شیخ مجیب الرحمن کے طویل عرصے تک قریبی دوست رہے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۹۰ء میں یحییٰ مرزا کو انٹرویو میں بتایا: ’’بنگلہ دیش کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا رکن ہوتے ہوئے میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ میں نے ضلع نواکھالی کے طول و عرض میں، پولیس اسٹیشنوں اور یونین کونسلوں میں گھوم پھر کر بڑی باریک بینی سے ۱۹۷۱ء کے مقتولین کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہیں۔ جن کے مطابق ضلع نواکھالی میں ۷ہزار سے کم افراد مارے گئے اور اگر [متحدہ پاکستان کے حامی] مقتول رضاکاروں کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد ساڑھے سات ہزار سے ہرگز زائد نہیں بنتی۔  یاد رہے کہ ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے اضلاع کی تعداد ۱۹ تھی، اور تمام اضلاع اس جنگ سے برابر کی سطح پر متاثر نہیں ہوئے تھے، جب کہ نواکھالی وہ ضلع تھا جو جنگ سے بہت زیادہ متاثر اضلاع میں شمار ہوتا تھا۔ مراد یہ ہے کہ اگر ضلع نواکھالی سے جمع کردہ اعداد و شمار کو پیش نظر رکھیں اور تمام اضلاع میں مقتولین کی تعداد کا اوسط نکالیں تو اس کے باوجود یہ تعداد ایک لاکھ ۲۵ ہزار سے ہرگز زیادہ نہیں ہوسکتی‘‘۔ (بحوالہ ۳۰ لاکھ کا معمّہ، از جوہری، ص ۴۸،۴۹)

بنگلہ دیش کے محقق پروفیسر نعیم مہیمن نے اپنے مقالے Accelerated Media and 1971 میں اس پر بحث کی ہے: ’’۳۰ لاکھ کے اس عدد کو بنگلہ دیش کی سرکاری تاریخ میں تقدیس اور ایمان کا درجہ حاصل ہوگیا۔ یوں برسوں سے اس تعداد کو کسی بھی دائرۂ تحقیق میں اعتراض اور تجزیاتی چیلنج سے یک سر آزاد سمجھ لیا گیا۔ البتہ حالیہ زمانے کے تجزیہ کاروں نے دلیل دی ہے کہ پاکستانی فوج کے لیے ان سات مہینوں کے عرصے میں ۳۰لاکھ انسانوں کو قتل کرنا قطعی  طور پر ناممکن ہے۔ اگر یوں انسانوں کو مارنا مقصود ہوتا تو اُس کے لیے باقاعدہ کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا۔ مثال کے طور پر جرمنی کے آمر فیوہرر ہٹلر نے مبینہ طور پر اپنی پوری قوت سے ۶۰لاکھ یہودیوں کو چھے برسوں میں مارا، اور اس کے لیے باقاعدہ قتل گاہیں بنائی گئیں۔ گیس چیمبرز اور لانے لے جانے کے لیے سڑکوں کے جال سے استفادہ کیا گیا۔ مگر پاکستان کے حوالے سے ہمیں کہیں بھی ایسا پروگرام دکھائی نہیں دیتا اور نہ پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں نسل کشی (ethnic cleansing) کا کوئی منصوبہ تشکیل دیا۔ اس لیے ان چند مہینوں میں، مشینی قتل گاہوں، نسل کشی کے کیمپوں کی عدم موجودگی میں ۳۰لاکھ انسانوں کو مارنا، ناممکن ہے‘‘۔ (ص۱۰، اس مقالے کا ایک حصہ۔Economic & Political Weekly ،ممبئی، ۲۶ جنوری ۲۰۰۸ء میں بھی شائع ہوا)

یاد رہے ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کی آبادی ۶ کروڑ ۹۷ لاکھ ۷۴ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ جہاں ۶۸ہزار ۳ سو ۸۵ دیہات اور ۴ہزار ۴ سو ۷۲ یونین کونسلیں تھیں۔ جیسے ہی ۳۰ لاکھ کا نمبر فضا میں اُچھالا گیا تو متعدد آزاد ذرائع نے اپنی تحقیقی کاوشوں سے ثابت کیا کہ یہ اعداد و شمار سخت مبالغہ آمیز ہیں___ ضلع جیسور، کلکتہ کی جانب، مشرقی پاکستان کا ایک سرحدی ضلع ہے۔ اس کے معروف سماجی رہنما خوندکر ابوالخیر بتاتے ہیں: ’’ہمارے پورے ضلعے سے ۲۰، ۲۵ سے زیادہ افراد، فرار ہوکر بھارت نہیں گئے۔ خود میرے گائوں اور مضافات کے دیہات میں پاکستانی فوج سے کہیں ایک جگہ بھی لڑائی کے واقعے اور کسی قسم کے قتل و غارت کی نوبت نہیں آئی‘‘۔ (۳۰ لاکھ کی کہانی کے پیچھے، ص ۲۰)

اس طرح دیکھا جاسکتا ہے کہ آزاد ذرائع ہی نہیں بلکہ شیخ مجیب کے قریبی ساتھی بھی لاکھوں کے اعداد و شمار کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف خود بنگلہ دیش حکومت نے ۷جنوری ۱۹۷۲ء سے مقتولینِ آزادی کے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلائی۔ ۱۶جنوری ۱۹۷۲ء کو شیخ مجیب نے عوامی لیگ کے کارکنوں اور اسمبلی کے ارکان کو حکم دیا کہ وہ اپنی پہلی فرصت میں ’مقتولینِ آزادی‘ کی تفصیلات اکٹھی کریں، اور دو ہفتے کے اندر اندر عوامی لیگ کے مرکزی دفتر جمع کرائیں (روزنامہ بنگلہ دیش آبزور، ۱۶ جنوری ۱۹۷۲ء، بحوالہ ۳۰ لاکھ کی کہانی، ص ۲۳)۔ پھر شیخ مجیب نے ۲۹ جنوری ۱۹۷۲ء کو سرکاری سطح پر ایک ۱۲ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس کے سربراہ عبدالرحیم، ڈی آئی جی پولیس تھے، جب کہ ارکان کمیٹی میں عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی گروپ) کے لیڈر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تجربہ کار ارکان شامل تھے۔ سرکاری گزٹ میں اس کمیٹی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ کمیٹی کے ذمے یہ کام تھا کہ: وہ مقتولین اور املاک کے نقصان کا جائزہ لے اور شرپسندوں کی نشان دہی کرے۔ ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا کہ مذکورہ کمیٹی: ’’اپنی رپورٹ ۳۰ اپریل ۱۹۷۲ء تک لازماً پیش کرے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام وسائل بروے کار لائے‘‘۔

’’عبدالرحیم انکوائری کمیٹی‘‘ نے بڑی تن دہی سے کام کیا، ایک ایک یونین کونسل اور ایک ایک پولیس اسٹیشن سے رابطہ کرکے کوائف جمع کیے، اور انفرادی گواہیوں کو بھی قلم بند کیا۔ روزنامہ گارڈین لندن کا نمایندہ خصوصی ولیم ڈرومنڈ جو مستقل طور پر ڈھاکا میں مقیم تھا، بیان کرتا ہے: ’’مارچ کے تیسرے ہفتے تک انکوائری کمیٹی کے سامنے صرف ۲ہزار افراد کے قتل کی رپورٹیں پیش ہوسکیں کہ: انھیں پاکستانی افواج نے مارا تھا‘‘ (روزنامہ گارڈین، لندن، ۶ جون ۱۹۷۲ء)۔ تاہم جب انکوائری کمیٹی نے رپورٹ مکمل کی تو معلوم ہوا کہ پورے بنگلہ دیش میں اس ساڑھے آٹھ ماہ کی بغاوت، خانہ جنگی، بلوے، لوٹ مار اور گوریلا جنگ میں ۵۶ہزار ۷ سو ۶۳افراد کے قتل کے ثبوت فراہم کیے جاسکے ہیں۔ بقول ولیم ڈرومنڈ: ’’جوں ہی انکوائری کمیٹی کے سربراہ نے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی تو جلد مشتعل ہوجانے والا جذباتی مجیب آپے سے باہر ہوگیا، اور اس نے رپورٹ پکڑ کر فرش پہ دے ماری اور غصے میں چلّانے لگا: ’’میں نے ۳۰ لاکھ کہے ہیں ۳۰ لاکھ۔ تم لوگوں نے یہ کیا رپورٹ مرتب کی ہے؟ یہ رپورٹ اپنے پاس رکھو، جو میں نے کہہ دیا ہے، بس وہی سچ ہے‘‘۔ (گارڈین، لندن، ۶ جون ۱۹۷۲ء)

بنگلہ دیش قومی اسمبلی میں وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق یہی نمایندہ آگے چل کر رقم طراز ہے کہ: ’’مجیب نے مقتولین کی مدد کے لیے ۲ ہزار ٹکہ فی کس کا جو اعلان کیا تھا، اس کے حصول کے لیے ۷۲ہزار افراد نے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں ۵۰ہزار مقتولین کے لیے رقم حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، اور ان درخواستوں میں متعدد جعلی درخواستیں بھی شامل تھیں‘‘۔ (گارڈین، لندن، ۶جون ۱۹۷۲ء)

یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ عوامی لیگ کی پروپیگنڈا مشین کے مطابق: ’’بھارت میں پناہ گزین بنگالیوں میں سے لاکھوں افراد بھوک اور بیماری سے مارے گئے‘‘۔ اس طرح جن لوگوں نے مذکورہ بالا دعوے کے ساتھ رقوم وصول کیں، ان میں بہت سے وہ لوگ بھی شامل تھے جو بھارتی کیمپوںمیں مارے گئے تھے۔ (عبدالغفار چودھری، مضمون: ’ہمیں ہمت سے سچ کا سامنا کرنا چاہیے‘، روزنامہ جنپد، ڈھاکا، ۲۰ مئی ۱۹۷۳ء، بحوالہ ۳۰ لاکھ کی کہانی کے پیچھے، ص ۲۹، ۳۰)

شیخ مجیب نے جھوٹ کی جو آلودگی پھیلائی تھی، وہ ذہنوں کو مسموم کرتی رہی۔ پھر ۱۵جون ۱۹۹۳ء کو بنگلہ دیش قومی اسمبلی میں کرنل اکبر حسین (جو جنرل ضیا الرحمن اور خالدہ ضیا کی حکومتوں میں وزیر رہ چکے تھے) نے یہ کہہ کر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا کہ: ’’عوامی لیگ نے ۳۰لاکھ مقتولینِ آزادی کا افسانہ گھڑا، جب کہ حقیقت اس کے صرف ۱۰ فی صد کے قریب ہے‘‘۔ اس پر عوامی لیگ کے رکن اسمبلی عبدالصمد آزاد نے اسمبلی میں جواب دیا: ’’یہ بات ہم نے اپنے لیڈر شیخ مجیب سے سنی ہے اور اسے ہی ہم درست سمجھتے ہیں‘‘۔ پھر ہندو رکن اسمبلی شدھن گھشو شیکر نے چیلنج کرتے ہوئے سوال اُٹھایا: ’’اکبر حسین اپنے دعوے کا ثبوت پیش کریں‘‘۔ تب وزیر اکبرحسین نے کہا: ’’بنگلہ دیش بننے کے بعد حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جس جس گھرانے کا کوئی فرد بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے یا لاپتا ہوا ہے،و ہ گھرانہ متعلقہ فرد کا نام پتا بتا کر ۲ہزار ٹکے بطور امداد وصول کرے۔ اس اپیل کے جواب میں بنگلہ دیش بھر سے صرف ۳ لاکھ افراد نے نام درج کرائے۔ اگر وہ ۳۰لاکھ ہوتے تو لازماً وہ بھی نام درج کراتے، مگر ایسا نہیں ہوا، باقی ۲۷ لاکھ کہاں گئے؟ جب یہ جواب ملا تو پورے ایوان پہ خاموشی چھا گئی‘‘۔(بنگلہ دیش قومی اسمبلی کی روداد، ۱۵، ۱۶ جون ۱۹۹۳ء بحوالہ ۳۰لاکھ کی کہانی کے پیچھے، ص ۵)

مجیب حکومت سقوطِ مشرقی پاکستان کے فوراً بعد نقصان، اموات اور جرائم کے ذمہ داران کے تعین کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہوگئی۔ یوں ۲۲دسمبر ۱۹۷۱ء کو کلکتہ سے مجیب کی جلاوطن حکومت نے اعلان کر دیا تھا: ’’جن خواتین کے ساتھ پاکستانی فوجیوں نے زیادتی (ریپ) کی ہے وہ ’بنگالی ہیروئنیں‘ ہیں۔ پھر مجیب کی آمد پر جنوری ۱۹۷۲ء میں ڈھاکا میں ایک بہت بڑا ’بنگالی ہیروینز کمپلیکس‘ قائم کر دیا گیا، جس کا سربراہ مجیب کے رشتے دار جہانگیر حیدر کو مقرر کیا گیا۔ اس کمپلیکس کے لیے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات کے ذریعے بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کرٹ والڈ ہایم نے ’ہیروینز کمپلیکس‘ کا دورہ بھی کیا، لیکن یہ کمپلیکس ایک روز کے لیے بھی آباد نہ ہوسکا۔ کتنی بنگالی ہیروینیں یہاں رجسٹرڈ ہوئیں؟ آج تک کسی کو یہ عدد معلوم نہ ہوسکا۔ کیونکہ اس باب میں دعوے کے لیے کوئی قابلِ ذکر ثبوت فراہم نہ ہوسکا۔ یوں خجالت میں چند ماہ بعد یہ منصوبہ اور کمپلیکس اچانک ختم کر دیا گیا‘‘۔ (۳۰ لاکھ کی کہانی کے پیچھے، ص۲۵، ۳۰)

ازاں بعد تحریک آزادیِ ہند کے معروف رہنما اور بنگالی نژاد سبھاش چندرابوس کی بھتیجی پروفیسر ڈاکٹر شرمیلا بوس (بھارتی بنگالی اور ہاورڈ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی) نے جون ۲۰۰۵ء میں اپنے تحقیقی مقالے Problem of Using Women as Weapons in Recounting the Bangladesh War [بنگلہ دیش کی جنگ میں عورتوں کا بطور ہتھیار استعمال] میں لکھا ہے: ہمیں سچ بتانا چاہیے اور سچ یہ ہے کہ پاکستانی افواج پر بنگالی عورتوں کی اس پیمانے پر بے حُرمتی کا الزام مبالغہ آمیز حد تک بے بنیاد ہے۔ پاکستانی فوج نے ایک منظم قوت کے طور پر اپنی ڈیوٹی انجام دی جس میں عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا۔ میں نے وسیع پیمانے پر انٹرویو، مکالموں اور تحقیق سے یہی بات دیکھی ہے کہ پاکستانی فوج نے عورتوں کو یک سر نظرانداز کرکے، صرف مقابلہ کرنے والے جوانوں کو نشانہ بنایا‘‘۔ اس پر روزنامہ ڈیلی ٹائمز لاہور نے ۲ جولائی ۲۰۰۵ء کو اپنے اداریے New Impartial Evidence [نیا غیر جانب دارانہ ثبوت]میں لکھا: ’’پروفیسر شرمیلا بوس نے چشم دید گواہوں کی گواہی اور گہرے تحقیقی کام کی بنیاد پر برسوں سے لگنے والے اس الزام کی تردید کی ہے کہ پاکستان نے بنگالی عورتوں کو بالجبر زیادتی کا نشانہ بنایا‘‘۔

یہاں ایک مرتبہ پھر اطالوی صحافی خاتون آریانا فلاسی کے مکالمے سے رہنمائی لیتے ہیں،  جس نے اپریل ۱۹۷۲ء میں (تب) صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کا انٹرویو لیا، جو اس کی کتاب    Interview With Historyمیں شامل ہے۔ فلاسی کے جواب میں بھٹو نے کہا: ’’مجیب الرحمن ایک پیدایشی جھوٹا شخص ہے۔ یہ اس کے بیمار ذہن پر ہے کہ وہ کب کیا بات کر دے، مثلاً   وہ یہ کہتا ہے کہ اس قتلِ عام میں ۳۰ لاکھ لوگ مارے گئے تھے۔ وہ پاگل ہے___ وہ سب لوگ پاگل ہیں۔ بہ شمول اخبارات کے جو اس کی بات کو دہراتے ہیں کہ ۳۰ لاکھ لوگ مارے گئے، ۳۰ لاکھ قتل ہوگئے۔ بھارتیوں نے کہا تھا کہ ۱۰ لاکھ لوگ مارے گئے تھے۔ شیخ مجیب نے پہلے ۱۰کو ۲۰ کیا اور پھر ۳۰ لاکھ بنا دیا۔ وہ تو طوفان سے مرنے والے لوگوں کی تعداد بھی اسی طریقے سے ضرب تقسیم کر کے بڑھاتا رہتا تھا۔ بھارتی صحافیوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ۶۰ سے ۷۰ ہزار تھی، جب کہ کچھ مشنری لوگوں کے مطابق ۳۰ ہزار لوگ مارے گئے تھے، اور جہاں تک میری اطلاعات ہیں تقریباً ۵۰ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ چاہے اس ملٹری ایکشن کا کوئی بھی جواز پیش کیا جائے، میں حالات کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ میں محض چیزوں کو حقیقت کی طرف واپس لا رہا ہوں، کیونکہ ۵۰ہزار اور ۳۰ لاکھ لوگوں کے مرنے میں بہت بڑا فرق ہے___ مشرقی پاکستان سے بھارت جانے والے پناہ گزینوں کے بارے میں [بھارتی وزیراعظم] اندرا گاندھی کہتی ہیں کہ یہ ایک کروڑ لوگ تھے۔انھوں نے جان بوجھ کر ایک کروڑ کا نمبر دیا، تاکہ اسے جواز بناکر مشرقی پاکستان پر حملہ کرسکے، لیکن جب ہم نے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ [بنگالی] پناہ گزینوں کی تعداد چیک کر کے بتائے تو بھارت نے ہمارے اس مطالبے کی شدید مخالفت کی۔ اگر ایک کروڑ کا عدد ٹھیک تھا تو انھیں اقوام متحدہ سے چیک کرانے سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اصل بات ایک کروڑ یا دو کروڑ کی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آرمی آپریشن میں جو لوگ مارے گئے ہیں، ان کی تعداد غلط ہو، لیکن پناہ گزینوں کی تعداد کے بارے میں میرے پاس موجود اعداد و شمار غلط نہیں تھے۔ ہمیں اچھی طرح پتا تھا کہ کتنے لوگ مشرقی پاکستان سے بھارت گئے تھے۔ اب یہ بات کہ وہاں کتنی عورتوں کے ساتھ بالجبر زیادتی کی گئی اور کتنی قتل ہوئیں؟ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہاں بہت زیادتیاں ہوئی تھیں۔ اس پورے عرصے میں اس طرح کی زیادتی کے صرف چار کیس رپورٹ ہوئے، اگر ان کو دس سے ضرب دیں تو ان کیسوں کی تعداد ۴۰ ہوجاتی ہے۔ پھر بھی ہم ان اعداد تک نہیں پہنچ سکتے جو مجیب اور اندرا گاندھی پوری دنیا میں پھیلاتے تھے‘‘ (ایک سیاست کئی کہانیاں، میں مذکورہ انٹرویو کا ترجمہ از رؤف کلاسرا، ص ۳۶۲، ۳۶۳)۔ ڈھاکا ہی سے نعیم مہیمن کے مطابق: ’’۱۹۷۱ء میں بھارت جانے والے بنگالیوں کی تعداد ۱۲ لاکھ سے ایک کروڑ ، بلکہ دو کروڑ تک بیان کی جاتی رہی۔ پھر ایک فلم ساز لیرلیون نے اس خودساختہ کہانی پر فلم بناکر انتہائی مبالغہ آمیزی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا‘‘۔(مقالہ مذکورہ، ص ۱۴)

واشنگٹن میں بنگلہ دیش کے سفیر شمشیر ایم چودھری نے کہا کہ:’’۱۹۷۱ء کی جنگ کے حوالے سے ہمارے ہاں جو مبالغہ آمیز اعداد و شمار گردش کر رہے ہیں، ان میں غلطی اور شرارت دونوں چیزوں کا عنصر شامل ہے۔ سچ کی تلاش اور الزام تراشی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کی حکومتیں مل کر ایک ایسا کمیشن مقرر کریں، جو اس المیے کے دوران پیدا شدہ حقائق کو ایک رپورٹ کی صورت میں مرتب کرے‘‘۔ (روزنامہ ڈان، کراچی، ۷جولائی ۲۰۰۵ء)

یہاں پر دوبارہ اس امر کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ کسی ایک فرد کی جان اور ایک فرد کی آبرو اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کہ پوری قوم کی جان اور آبرو۔ مسئلہ اعداد و شمار کا نہیں لیکن اعداد و شمار کے بل پر جو طوفان اُٹھا کر اس خطۂ ارضی کے مسلمانوں کے درمیان نفرت اور خلیج پیدا کر کے باہمی دشمنی کو ہوا دینے کی کوشش ہورہی ہے، اسے زیربحث لانا اور ریکارڈ درست کرنا بے حد ضروری ہے۔اس مختصر مضمون میں اسی بڑے مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اوّلاً یہ کہ جھوٹ گھڑ کر، کروڑوں انسانوں اور بیسیوں قوموں میں ملکِ پاکستان کے بارے میں نفرت اور حقارت کی آگ سلگائی جارہی ہے، جسے افسانوی پٹرول چھڑک کر بڑے پیمانے پر پھیلایا جاتا ہے، نتیجے میں پاکستان اور اہلِ پاکستان کو اس نفرت کی قیمت دینا پڑتی ہے۔

ثانیاً یہ کہ اس مبالغہ آمیز طرزِ بیان نے بالخصوص ان لوگوں کو جو، ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے لیے سربکف تھے، وہ ’پاکستانی دلّالی‘ کے ’الزام‘ اور اس پروپیگنڈے کی تپش میں خود اور ان کی آیندہ نسلیں جل رہی ہیں۔ اس طرح ان کے لیے اپنے مادرِ وطن میں زندگی بسر کرنا ایک اذیت ناک تجربہ بنا دیا گیا ہے۔

ثالثاً یہ کہ جھوٹ کے بل بوتے پر جس تاریخ کو گھڑا اور پھر ’حقیقت‘ کے طور پر ذہنوں، نصابوں اور کتابوں میں نقش کیا گیا ہے، ان کا نتیجہ ایک نہ ختم ہونے والی نفرت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ آج بنگلہ دیش کی مقتدر حکومت اور پالیسی ساز ادارے اسی خانہ ساز نفرت میں اپنے ’اقدام‘ کا جواز پاتے ہیں۔

ظاہر ہے یہ الفاظ فضا میں تحلیل ہوکر تو نہیں رہ گئے۔ ان الفاظ نے اپنا ایک اثر دکھایا ہے، اور بنگلہ دیش کی نئی نسل کے ذہن میں: پاکستان اور مسلمان کی ایک تصویر بھی بنائی۔ ایسی تصویر جسے خود پاکستان کی لسانی قوم پرست تحریکیں پسند کرتی ہیں اور ان کے سایے میں اپنی منزل دیکھتی ہیں۔ اسی تصویر کے خدوخال کو گہرا اور نمایاں کرنے کے لیے بھارتی لابی، ہندو کمیونٹی کی مؤثر قیادت اور وہ اشتراکی لابی سرگرم عمل رہی ہے، جسے پاکستان کا وجود ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ بلکہ اس کے نزدیک سب خرابیوں کا مرکز پاکستان ہی ہے۔

تاریخ کا یہ ایک ایسا بوجھ ہے جسے بحیثیت قوم، اہلِ پاکستان کو اٹھانا ہے، مگر بوجھ اتنا ہونا چاہیے، جتنا ہے۔ ایسا بے حدوحساب بوجھ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اسے وضاحت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔ گناہ پہ ندامت اور چیز ہے، لیکن ناکردہ گناہوں کے بوجھ تلے کچلا جانا دوسری بات ہے۔ آیئے، دیکھتے ہیں،اعداد و شمار اور پروپیگنڈے کی یہ آگ کس طرح لمحہ بہ لمحہ بھڑکتی ہوئی یہاں تک پہنچی کہ آج عالمی پروپیگنڈے اور تاریخی و ادبی لٹریچر کا حرفِ معتبر بن گئی ہے، مگر جواب اور وضاحت کے لیے کوئی سامنے نہیں آتا۔ اس طرح یک طرفہ پروپیگنڈے کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

یہاں یہ امر بھی زیربحث نہیں ہے کہ اس قتل و غارت کا کیا جواز تھا اور کیا جواز نہیں تھا۔ اور یہ بھی جائزہ نہیں پیش کیا جا رہا کہ ۲۵ اور ۲۶ مارچ ۱۹۷۱ء کی درمیانی شب شروع ہونے والے ’آپریشن سرچ لائٹ‘ کی کیا قانونی حیثیت تھی۔ اسی طرح یہاں یہ جائزہ بھی پیش نہیں کیا جا رہا کہ یکم مارچ سے ۲۵ مارچ ۱۹۷۱ء تک کتنے ہزار غیربنگالی، پنجابی، پٹھان پاکستانیوں، خصوصاً بہار سے ہجرت کر کے آنے والے عام غریب مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں پر کیا بیتی؟ (صرف ایک مثال ملاحظہ کیجیے: ’’۳ اور ۴ مارچ کی درمیانی شب چٹاگانگ کی فیروزشاہ کالونی کو جہاں اُردو بولنے والے رہتے تھے اسے عوامی لیگ کے کارکنوں نے چاروں طرف سے گھیر کر ۷۰۰ گھروں کو آگ لگا دی۔ جو عورتیں اور بچے آگ سے بچنے کے لیے باہر نکلے ان کو گولی مار دی جاتی۔ اس طرح صرف ایک جگہ پر لگ بھگ ۲ ہزار افراد کو زندہ جلامارا گیا‘‘) اور آپریشن کے ایک ہفتے کے بعد وہ مسلسل مقامی مسلح افراد اور بھارتی شرپسندوں کے کس کس ظلم کا نشانہ بنائے گئے؟ (ملاحظہ کیجیے: ’’مشرقی پاکستان میں لاکھوں غیر بنگالی بری طرح پھنس کر رہ گئے ہیں اور وہ بنگالیوں کے انتقام کا نشانہ ہیں‘‘۔ (روزنامہ سٹیٹسمین، نئی دہلی، ۴؍اپریل ۱۹۷۱ء)۔ ’’مشرقی پاکستان میں جگہ جگہ غیربنگالیوں کے گھروں کو جلایا، ان کے مردوں اور عورتوں کو مارا اور ان کی بے حُرمتی کی جارہی ہے۔ میمن سنگھ کی صرف ایک مسجد میں ۱۵۰۰ ایسی غیربنگالی بیوہ عورتوں نے پناہ لی، جن کے شوہروں کو ذبح کر کے مار دیا گیا‘‘۔ (سیلون ڈیلی نیوز، کولمبو، ۱۵ مئی ۱۹۷۱ء)

پھر سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ان غیربنگالی اور ان کے ساتھ ’متحدہ پاکستان‘ پر یقین رکھنے والے بنگالی شہریوں پر کیا گزری؟ دنیا بھر کے اخبارات ان مظلوموں کی چیخ و پکار اور خون کے آنسوئوں سے لکھی مظلومیت کی گواہی پیش کرتے رہے، مگر ان کی تائید و ہمدردی میں کہیں سے نحیف سی آواز بھی نہیں اُبھری، کہیں کوئی پتّا تک نہیں ہلا۔ یاد رہے آرمی آپریشن کے بعد غیربنگالی پاکستانیوں کو عوامی لیگ اور بھارتی پشت پناہی سے تیار کردہ مکتی باہنی (جس کا مؤثر آپریشنل حصہ بھارتی فوج پر مشتمل تھا)کو پاکستانی فوج اور غیربنگالیوں کے قتلِ عام کے لیے اذنِ عام مل گیا، جس نے ۱۶دسمبر سے پہلے اور پھر بعد میں خون کی ہولی کھیلی۔ اور ساتھ ہی ۱۹۷۲ء کے دستورِ بنگلہ دیش میں یہ تحفظ بھی لے لیا کہ اس آزادی کی تحریک میں حصہ لیتے وقت آزادی کے سپاہیوں نے جو کچھ بھی کیا ہے، اسے کہیںچیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ گویا اُن کے ہرقسم کے قتل و غارت گری کے جرائم کو دستوری تحفظ اور عام معافی دے دی گئی___ یوں اگر یہ کہا جائے کہ مشرقی پاکستان میں حقیقی معنوں میں قتل عام عوامی لیگ ہی نے کیا تو اسے مبالغہ آمیزی قرار نہیں دینا چاہیے۔ نعیم مہیمن اپنے مقالے Accelerated Media and 1971میں ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہیں: ’’ایک طرف بھارتی فوج نے اپنی سرزمین پر مکتی باہنی کے لیے مشرقی پاکستان سے عوامی لیگی جوانوں اور چین نواز سوشلسٹوں کو گوریلا تربیت دی، تو دوسری جانب ۱۹۷۱ء کے اسی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، عوامی لیگ کی تائید اور اپنے اسٹرے ٹیجک مفادات کی تکمیل کے لیے انھی سوشلسٹ گوریلوں کو منظم طریقے سے ذلیل کرنا اور انجام تک پہنچانا شروع کر دیا۔[اضافہ از مضمون نگار: پھر اپنی پروپیگنڈا مشینری سے قتل کے ان واقعات کا سارا الزام پاکستان اور متحدہ پاکستان چاہنے والے بنگالیوں کے کھاتے میں ڈال دیا]۔ اس شاطرانہ چال کو سمجھنے کے لیے عوامی لیگ کے اس رویے کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کے بعد جوں ہی عوامی لیگ کو اقتدار پر قبضہ مضبوط کرنے کا موقع ملا تو اس نے ڈیڑھ دو سال کے اندر اندر سوشلسٹ بنگالیوں کو نہ ختم ہونے والی گندی جنگ کی بھینٹ چڑھایا‘‘ (ص ۸)۔ وہ عوامی لیگ جس کے چہرے پر ۱۹۷۱ء اور ۱۹۷۲ء میں بے گناہ غیربنگالیوں کے خون کے دھبے صاف نظر آتے ہیں: ’’اسی عوامی لیگ نے اپنے پہلے دورِاقتدار میں چٹاگانگ کے پہاڑی علاقے [ہل ٹریک] میں آباد بدھ مت کے ہزاروں شہریوں کو قتل کیا‘‘ (نعیم مہیمن، ص ۹)۔ مگر امن کے کسی دیوتا نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ ان بے چاروں کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ عوامی لیگ کی طرح برہمن نواز نہیں تھے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یکم مارچ ۱۹۷۱ء کے بعد ہزاروں کی تعداد میں غیربنگالیوں کا قتل عام بھلا دینے والی بات تھی؟ اور کیا اس خون کا جواب لینے والا اس دنیا میں کوئی نہیں؟

کیا پاکستان کے تحقیقی اداروں اور یونی ورسٹیوں کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ پاکستان توڑنے، پاکستانیوںکو مارنے اور پاکستان کو بدترین الزامات کا نشانہ بنانے والے اقدامات کا معروضی اور تحقیقی انداز سے جائزہ لیں؟

اگر یہ سمجھ کر چپ سادھ لی جائے کہ الزام فلاں پہ لگ رہا ہے تو وہی بھگتے، ایسا بے رُخی پر مبنی رویہ اختیار کرنا کم از کم تحقیقی اداروں کے شایانِ شان نہیں ہوسکتا۔ آج پاکستان کے حوالے سے انتہا درجے کا منفی پروپیگنڈا پورے بنگلہ دیش کے وجود میں خون کی طرح گردش کر رہا ہے۔ جماعت اسلامی، مسلم لیگ، پاکستان جمہوری پارٹی اور نظامِ اسلام پارٹی کے وہ لوگ جو متحدہ پاکستان چاہتے تھے اور جائز طور پر ’ایک پاکستان‘ چاہتے تھے، آج وہی لوگ اس نفرت کی آگ میں جلائے جارہے ہیں۔ اگر ریاست اور ریاست کے اداروں کا یہی رویہ رہا تو مستقبل میں خود اس پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے لیے نکلتے وقت لوگ کیا سوچیں گے؟

 

یہ عہد ظلم اور ظلم کی طرف داری کا عہد ہے۔ اس عہد میں سیکولر دہشت گردی اپنے عالمی سرپرستوں اور مقامی سطح پر ذہنی افلاس کی شکار دانش وری کے زور پر سیاہ کو سفید قرار دینے پر مُصر ہے۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سابق مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے پہلے تو ۱۹۶۸ء میں اگر تلہ سازش کے ذریعے پاکستان توڑنے کے لیے بھارت سے سازباز کی، مگر چند اقتدار پرستوں اور سیاست کے زور پر وہ مقدمہ رفت گزشت ہوا۔ پھر ۱۹۶۹ء میں تعلیمی اداروں میں   عوامی لیگ اور اس کی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس لیگ (چھاترو لیگ) نے اسلامی اور پاکستانی سوچ کے حامل طلبہ پر کھلم کھلا حملے شروع کیے، مگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ۱۹۷۰ء کو اسی عوامی لیگ نے پورے مشرقی پاکستان میں کسی بھی مدمقابل سیاسی جماعت کو اپنی انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی اور ان کے جلسوں پر حملے کر کے الٹا دینے اور سامعین کو  قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ تب اس کی پشت پر بھارت نواز سیکولر، روس نواز کمیونسٹ اور صاحب ِ ثروت ہندو موجود تھے۔ سیاسی حریفوں کا کھلے سیاسی عمل اور دلیل کے میدان میں مقابلہ کرنے کے بجاے عوامی لیگ نے بدترین فسطائیت کا راستہ چُنا اور اس طرح یک طرفہ انتخابی نتائج حاصل کیے۔

پھر اسی سیکولر قوم پرستی کا بدترین ناگ اس وقت آگ اُگلنے لگا۔ یوں یکم مارچ سے ۲۵مارچ ۱۹۷۱ء کے دوران میں پورے مشرقی پاکستان میں اُردو، پنجابی اور پشتو بولنے والے     ہم وطنوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس المیے کا دستاویزی ثبوت مارچ ۱۹۷۱ء کے عالمی اخبارات اور قرطاس ابیض میں موجود ہے کہ عوامی لیگ، مسلح غنڈوں اور مکتی باہنی کے درندوں نے صرف ۲۵یوم میں ۳لاکھ پاکستانیوں کو ذبح کرنے کے لیے باقاعدہ مذبح خانے بنائے، ان کی بہوبیٹیوں کی عزت و ناموس کو پامال کرنے کا اذنِ عام دیا، مگر افسوس کہ ان مظلوم انسانوں کا خون، عزت، ناموس اور جانیں بس رزقِ خاک بن کر رہ گئیں۔ پاکستان کے یہ ایسے مظلوم و مقتول ہیں کہ    جن کے قتل کا دعویٰ کرنے کے لیے اس دنیا میں نہ کوئی حکومت ہے اور نہ کوئی تنظیم۔

یہی وجہ ہے کہ جب مارچ ۱۹۷۱ء کے بعد بھارت کی فوجی مدد سے عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کا عمل شروع کیا تو اُس وقت بھی ہمارے ہاں ساری سیکولر دانش مکمل طور پر خاموش رہی، بلکہ ان قاتلوں اور غداری کا ارتکاب کرنے والے عوامی لیگیوں اور مکتی باہنی کے غنڈوں کو ’ضمیر کے سپاہی‘ قرار دیتی رہی۔

ازاں بعد مکتی باہنی نے اپنے ہاتھوں قتل کیے جانے والے ۳ لاکھ مظلوم پاکستانیوں کے الزام کا داغ دھونے کے لیے، پہلے تو دسمبر ۱۹۷۱ء میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس جنگ میں ۳لاکھ بنگالی عورتوں کی بے حُرمتی ہوئی ہے اور ۱۰لاکھ کو قتل، مگر ۲۰ روز بعد شیخ مجیب الرحمن نے رہا ہوتے ہی   بے حرمتی کی تعداد کو ۱۰لاکھ بنا دیا اور بھارت کی مسلط کردہ جنگ میں مارے جانے والے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی تعداد کو ۳۰ لاکھ تک بڑھا دیا۔ دنیابھر نے لفظوں کی یہ حیرت انگیز جادوگری دیکھی، مگر کسی نے اس بدترین جھوٹ کا جواب دینے کی کوشش نہ کی۔ اِدھر مغربی پاکستان میں نہایت منظم یونی ورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی بڑے پیمانے پر موجودگی کے باوجود کسی نے جواب دینے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ کیا زندوں کی کوئی بستی ایسے صریح ظلم پر خاموش رہ سکتی ہے؟ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے نصاب اس تخریب اور جارحیت کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔دوسری جانب صورت یہ ہے کہ عریاں جھوٹ پر مبنی اعداد و شمار بنگلہ دیش کی نئی نسل کے ذہنوں میں راسخ، دنیا کی دستاویزات کا حصہ اور پاکستانی سیکولر لابی کا ہتھیار بن چکے ہیں۔

اب دیکھیے اس تصویر کا دوسرا پہلو___ گذشتہ تین برسوں کے دوران میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو جس سیاسی،ابلاغی اور پُرتشدد یلغار کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس پر خود یہاں پاکستان کی سیکولر لابی کے فعال کارندے شاداں و فرحاں نظر آتے ہیں، اور بنگلہ دیش میں تو اسی سیکولر بنگلہ قومیت کی کوکھ سے جنم لینے والی عوامی لیگی حکومت کے نزدیک سب سے بڑا ہدف ہی یہ ہے کہ وہ کسی طرح جماعت اسلامی کو ختم کردے، اس کی قیادت کو پھانسی پر لٹکا دے اور اسلامی لٹریچر کو نیست و نابود کردے۔ ان شاء اللہ یہ دیوانگی اپنی موت آپ مرے گی۔

اس سیکولر لابی کا یہ نامۂ اعمال کس درجے میں آتا ہے؟ مثال ملاحظہ کیجیے: بیرسٹر عبدالرزاق، بنگلہ دیش سپریم کورٹ کے ایک نہایت سینیر قانون دان ہیں۔ انھوں نے ۱۹۸۰ء میں بیرسٹری کی ڈگری لندن کی لنکن اِن سے، جب کہ سرمائیکل ہاورز چیمبرز اور لارڈ پیٹر رالنسن چیمبرز سے قانونی مہارت حاصل کی۔ انھوں نے اپنے وطن بنگلہ دیش واپسی پر، ملک کی تاریخ کا ایک مشہور مقدمہ لڑا بنگلہ دیش بنام پروفیسر غلام اعظم (46 DLR)۔ جماعت اسلامی کے قائد پروفیسر غلام اعظم کی شہریت کا یہ مقدمہ انھوں نے جیتا۔ اسی طرح انھوں نے چٹاگانگ پہاڑی سلسلے پر ’علاقائی کونسل ایکٹ‘ کو عدالتِ عظمیٰ میں قانونی طور پر ختم کرایا۔ پھر اخبار اماردیش پر پابندی کا خاتمہ کرایا۔ اس اعتبار سے قومی سطح پر دیگر بہت سے مقدمات میں کامیابی نے انھیں مرکزی حیثیت دلا دی۔ یہی نہیں بلکہ ناداروں کو مفت قانونی و عدالتی مدد فراہم کرنے کے لیے وہ ہردم مستعد رہتے ہیں۔

بیرسٹر عبدالرزاق جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل بھی ہیں، اور گذشتہ مہینوں میں عوامی لیگی حکومت نے جماعت اسلامی کے پانچ مرکزی رہنمائوں کو فی الحقیقت پھانسی دینے کے لیے جس گھنائونے ڈرامے کا آغاز کیا ہے، اس ڈرامے کو ناکام بنانے کے لیے، سپریم کورٹ میں عبدالرزاق مذکورہ پانچ لیڈروں کے وکیلِ دفاع ہیں۔ لیکن دیکھیے اس قابلِ احترام قانون دان کے ساتھ بھارت نواز فسطائی حکومت کا کیا رویہ ہے؟ دی ڈیلی اسٹار ڈھاکا لکھتا ہے: ’’۵جولائی ۲۰۱۰ء کو جس وقت بیرسٹر عبدالرزاق سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہے تھے، اسی وقت ان کے چیمبر میں سادہ پوش پولیس اہل کار آن دھمکے، اور ان کے معاون کوثر حمید ایڈووکیٹ کو زدوکوب کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’تمھارے دفتر میں بم بنائے جاتے ہیں، ہم تلاشی لیں گے‘‘۔ کوثرحمید نے جواب دیا: ’’بھائی، یہاں صرف قانون کی کتابیں ہیں، آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ لیکن پولیس والے توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کے ساتھ دفتر میں اتھل پتھل کرکے چلے گئے۔ کوثرحمید نے قریبی پولیس اسٹیشن میں فوجداری رپورٹ درج کرانا چاہی مگر تھانے کے سربراہ نے رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا‘‘ (اخبار مذکور، ۶ جولائی ۲۰۱۰ئ)۔ پولیس کے اس رویے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری نے احتجاج کیا اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے ہنگامی اجلاس میں اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ (ایضاً، ۷جولائی ۲۰۱۰ئ)

۲۶ جولائی ۲۰۱۰ء کو بیرسٹر عبدالرزاق نے اُس نام نہاد ’جنگی جرائم کے ٹربیونل‘ کی حیثیت اور اہلیت کو چیلنج کرتے ہوئے رٹ پیٹشن (۵۳۹۱، ۲۰۱۰ئ) دائر کی۔ اگلے روز ۲۷جولائی جب عبدالرزاق سپریم کورٹ سے اپنے چیمبر ۶۷ نیاپلٹن آرہے تھے کہ پولیس والے پھر ان کے دفتر آن دھمکے اور ان کی آمدورفت کے اوقات کا شیڈول نوٹ کرکے لے گئے۔ ۱۲؍اگست کو دو پولیس افسران پوری گارد کے ساتھ بیرسٹر عبدالرزاق کے گائوں بیانی بازار، سلہٹ جاپہنچے اور خاندان کے ایک ایک فرد کے کوائف اکٹھا کرنے کی کارروائی کے دوران علاقے بھر میں دہشت پھیلائے رکھی۔ اس نوعیت کی یہ پے درپے کارروائیاں دراصل ملک کے اس مایہ ناز قانون دان کو اعصابی طور پر ہراساں کرنے اور اپنی منصبی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنمائوں کے دفاعی اور عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالنے کا حربہ ہیں۔ اس امر پر ڈھاکا سپریم کورٹ کے وکلا میں گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ ممکن ہے بیرسٹر عبدالرزاق کو کسی جھوٹے مقدمے میں پھانس کر چندماہ کے لیے منظر سے ہٹا دیا جائے، یا پھر فسطائیت کا نشانہ بناکر ویسے ہی ختم کر دیا جائے۔

اس شرم ناک صورتِ حال کو بے نقاب کرنے کے لیے بنگلہ دیش کے بہت سے منصف مزاج حضرات تو یک زبان ہیں، لیکن سیکولر، قوم پرست، عوامی لیگی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں کی سیکولر صحافی لابی، اس ظلم و زیادتی میں عوامی لیگ کی ہم نوا ہے۔ وہ جنھوں نے ۱۹۷۱ء میں تین لاکھ غیربنگالی پاکستانیوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی، اور ان کے دستاویزی اور تصویری ثبوت تک موجود ہیں، وہ اس وقت حکومت اور پارٹی کی  اہم مسندوں پر براجمان ہیں، اور جنھوں نے کوئی جرم نہیں کیا، انھیں یک طرفہ طور پر ملزم و مجرم  قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ کیا تہذیب و شائستگی اور عدل و انصاف کے الفاظ یوں ہی بے توقیر ہوتے رہیں گے؟

ظلم اور جھوٹ کو راستہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ظلم اور جھوٹ کے لیے کوئی حد اور کوئی اخلاقی قدر رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی۔ تہذیب، اخلاق، قانون اور ضابطے کو ماننے والے ہی حدود کی پاس داری اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ کل کے پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش میں جس   بے دردی سے سچ اور عدل کا خون کیا جا رہا ہے وہ دنیا بھر کے باشعور لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔

عوامی لیگ جس نے پاکستان توڑنے اور بھارتی حکومت اور فوج کی پشت پناہی سے لاکھوں ہم وطنوں کو قتل کرنے کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، جنوری ۲۰۰۹ء سے پھر برسرِاقتدار ہے۔ اس کا یہ اقتدار امریکا اور بھارت تزویراتی سرپرستی کا مظہر ہے۔ بنگلہ دیش کے کروڑوں عوام جنھیں عوامی لیگ نے سنہرے مستقبل کا خواب دکھلا کر پاکستان سے توڑا تھا، وہ انھیں خوش حالی تو نہ دے سکی، لیکن وہ مسائل جو آج کے بنگلہ دیش کے مسائل نہیں انھیں مسائل بناکر، ایک جوا کھیلنے کے لیے میدان میں اُتر آئی ہے۔

گذشتہ تین برس سے الفاظ: ’’پاکستان، اسلام اور مسلم‘‘، اس کی اندھی اور بے رحم طاقت کا نشانہ ہیں۔ اس مناسبت سے عوامی لیگ حکومت نے جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی   (بی این پی) کو اپنا اوّلین ہدف بنا رکھا ہے۔ جنوری ۲۰۱۰ء سے داروگیر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جس میں اخلاق، قانون اور ضابطے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں۔

آخرکار ایک جھوٹے اور خانہ ساز مقدمے میں ۲۹جون کو بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے ۷۰سالہ امیر مطیع الرحمن نظامی، ۶۵سالہ سیکرٹری جنرل علی احسن مجاہد اور۶۸سالہ ہر دل عزیز مفسرِقرآن مولانا دلاور حسین سعیدی کو گرفتار کرلیا۔ اگلے روز عدالت نے انھیں ضمانت پر رہا کیا تو فوراً کچھ نئے بے سروپا مقدموں میں گرفتار کر کے ۱۶دن کے ریمانڈ پر پولیس کے سپرد کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش سے جماعت اسلامی، بی این پی اور اسلامی چھاترو شبر کے ہزاروں کارکنوں کی پکڑدھکڑ شروع کردی۔ اس حوالے سے قیدی رہنمائوں اور کارکنوں کو اپنے وکیلوں تک رسائی کو ناممکن بنادیا گیا۔ ملک کے ممتاز قانون دان بیرسٹر عبدالرزاق کے دفتر پر دھاوا بول دیا، تاکہ وہ قانونی معاونت سے باز رہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی کارکنوں نے پُرامن احتجاج کرنا چاہا تو انھیں عوامی لیگ کے مسلح غنڈوں نے سخت بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا، مگر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ بعدازاں زخمی احتجاجی کارکنوں کو پولیس نے ٹرکوں میں پھینک کر پولیس اسٹیشنوں میں بند کر دیا۔ اس سے قبل ۲۷جون کو بی این پی کے سابق وزیرمملکت مرزا عباس کو ان کے اہلِ خانہ اور خواتین سمیت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

روزنامہ آماد دیش کے مدیر محمودالرحمن کو اس جرم میں گرفتار کیا گیا کہ انھوں نے   حزبِ اختلاف کی خبریں کیوں شائع کیں۔ پھر ٹیلی ویژن چینل ’چینل نمبر۱‘ کو بند کر دیا۔ ٹیلی ویژن ’بنگلہ وژن‘ پر پابندی عائد کی کہ وہ بحث و نظر کے پروگرام نشر نہیں کرسکتا۔ ’دیگنتا ٹیلی ویژن‘ کو ایسی دہشت کا ہدف بنایا کہ اس کے لیے صحافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔ بنگلہ دیش آبزور، ڈھاکہ سے نکلنے والا انگریزی کا ایک قدیمی اخبار ہے، جسے زبردستی بند کر دیا گیا ہے۔ بانی جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ کی کتابوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام کتابوں کو مدرسوں اور مساجد کی  ۲۴ہزار لائبریریوں سے ہٹانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔یہ وہ اوچھے ہتھکنڈے ہیں، جنھیں حسینہ کے والد مجیب الرحمن نے اختیار کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں ایک پارٹی کی آمریت اور پابند میڈیا کو     رواج دینے کی کوشش کی، مگر انجامِ کار جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

یاد رہے کہ اس وقت حسینہ واجد کی حکومت اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کی اُس احمقانہ سیاسی حکمت عملی کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس میں آمرانہ کے قانون کا نفاذ، آزادانہ اظہار راے پر پابندی اور اسلامی پارٹیوں کے وجود کا مکمل خاتمہ تھا۔ پھر اس حکومت نے بہ عجلت تمام ’مسٹر قدرتِ خدا تعلیمی کمیشن‘ کے نام سے پیش کردہ سفارشات کا سہارا لے کر اسلامی مدرسے اور اسلامیات کی تعلیم کو بنگلہ دیش سے ختم کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔

پاکستان کے عوام اور مقتدر طبقوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اس بھارت نواز حکومت نے نہایت قلیل مدت میں بھارت سے دُوررس اثرات کے حامل ایسے معاہدے کیے ہیں، جنھوں نے بنگلہ دیش کی رہی سہی آزادی کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر چٹاگانگ کی بندرگاہ تک  براہِ راست رسائی، مونگلا اور آشور گنج دریائی بندرگاہوں کو بھارتی دسترس میں دیناوہ اقدام ہیں، جن کے تزویراتی اثرات کا مداوا ممکن نہیں ہوسکے گا۔ مزیدبرآں فرخاڈیم کی طرح بھارت کو  دریاے بارک پر ٹیپائی مُکھ ڈیم تعمیر میں مدددینا بھی اسلامیانِ بنگلہ دیش کے سینے میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ ان مختلف معاہدوں پر حسینہ واجد نے دہلی کے دورے میں دستخط کیے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عوام میں اس پر شدید غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے، جسے جماعت اسلامی اور بی این پی نے درست  سمت عطا کرکے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ مگر بھارت اور امریکا کی گماشتہ حکومت تمام جمہوری اور اخلاقی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے، ان سیاسی پارٹیوں کو نیست و نابود کرنے کے راستے پر چل نکلی ہے۔

اب مطیع الرحمن نظامی، علی احسن مجاہد اور اسسٹنٹ سکریٹری جنرل محمد قمرالزماں اور عبدالقادر کو ’۱۹۷۱ء کے جرائم‘ کے نام پر ایک خصوصی ٹریبونل میں پیش کر کے، ان کے لیے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ تین ماہ قبل، حسینہ کی حکومت نے مجیب الرحمن کے قتل کے نام پر ۳۵سال بعد چھے سابق فوجی افسروں کو پھانسی دے دی تھی، اور اب یہی کھیل جناب نظامی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور اس مقصد کے لیے ۲؍اگست سے ایک نام نہاد ٹریبونل کارروائی کرنے جارہا ہے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں اور انصاف پسند انسانوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ فسطائیت اور بیرونی مداخلت کی اس گھنائونی کارروائی کو کس طرح روکتے ہیں۔ خاص طور پر اہلِ پاکستان کو جاننا چاہیے کہ اگر یہ ماڈل، بنگلہ دیش میں تھوڑی سی بھی کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو آنے والے کل میں اس کا اگلا شکار سری لنکا کے مسلمان، بھارت کے مسلمان اور پھر خود پاکستان کی دینی قوتیں ہوں گی۔ اسی طرح یہ بھی جاننا چاہیے کہ بھارت کی یہ پیش رفت چند افراد کا لہو پینے تک محدود نہ ہوگی، بلکہ خود سارک ممالک میں بھارتی بالادستی قائم کرنے کے قوم پرستانہ بھارتی ایجنڈے کا فیصلہ کن وار ثابت ہوگی۔ کیا پاکستانی عوام، دانش ور اور مقتدر طبقے اس صورت حال سے لاتعلق رہیں گے؟

حکومت کے معاملات اور نظامِ کار کو چلانے کی واحد ذمہ داری حکومت پر نہیں، بلکہ یہاں کے تمام اداروں اور شہریوں پر بھی آتی ہے۔ لیکن پالیسیوں کے نفاذ، نظم و ضبط کو قائم کرنے اور عدل و انصاف کے ساتھ متوازن انداز سے روزمرہ معاملات کو چلانے کی آخری ذمہ داری حکومت ِ وقت ہی پر آتی ہے۔ تاہم حکومت ِصوبہ پنجاب کے مشیروں کی غالب تعداد، درحقیقت حکومت کے  مسائل اور عوام کی مشکلات دُور کرنے کے بجاے،انھیں اُلجھانے کی جانب دھکیل رہی ہے۔ یہاں پر تعلیمی شعبے کے ساتھ کیے جانے والے ظلم و زیادتی پر مبنی کھیل اور تجربات کی بھینٹ چڑھانے کی روش کی جانب توجہ مبذول کرائی جاتی ہے (رفتہ رفتہ یہ آگ پورے پاکستان کے تعلیمی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی)۔

  • گذشتہ برس پنجاب ۲۶ کالجوں میں بی اے کے کمزور نتائج پر، ان کالجوں کے مسائل کو سمجھنے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے بجاے ۲۶ پرنسپلوں کو بہ یک جنبش قلم معطل کر دیا گیا۔ اس چیز نے اصلاح سے زیادہ خوف اور بددلی پھیلانے کا کام کیا اور آخری قیمت خود طالب علموں کو دینا پڑی۔ یوں بہت سے طلبہ و طالبات داخلہ بھیجنے سے محروم رہ گئے۔
  • اس سال کے شروع میں یک لخت یہ اعلان کر دیا گیا کہ صوبہ پنجاب کے تمام اسکولوں میں انگریزی، پہلی کلاس سے لازم کردی گئی ہے۔ اعلان کرنے سے کون کسے روک سکتا ہے، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ خود کالجوں میںانگریزی کے استاد نہایت قلیل تعداد میں موجود ہیں، کہاں پنجاب کے ہزاروں اسکولوں میں، انگریزی کے ایسے بخار کو مسلط کر دینا کہ جس کے جواز اور عمل کے بارے میں بے شمار سنجیدہ سوالات جواب طلب ہیں، جہاں تربیت یافتہ اساتذہ کا فقدان اور سہولیات کا فقدان پھن پھیلائے ناگ کی طرح کھڑا ہے، وہاں پر ایسا غیرحقیقت پسندانہ اعلان ایک عاجلانہ اقدام تھا۔ نتیجہ یہی ہوا کہ ایک دو ماہ بعد حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ جس چیز کا بہرحال حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ (یاد رہے ایسا ہی اعلان ۱۹۹۴ء میں پیپلزپارٹی کے حمایت یافتہ وزیراعلیٰ منظوروٹو نے کیا تھا اور چار ماہ خاک اُڑانے کے بعد اس غیر دانش مندانہ فیصلے کو واپس لیا تھا)۔
  • آمرمطلق جنرل پرویز مشرف کے زمانے ۲۰۰۲ئ-۲۰۰۳ء میں، سابق فوجیوں، بیوروکریٹوں اور این جی اوز کے مالی و نظریاتی شکاریوں کو نوازنے کے لیے، کالجوں اور ہسپتالوں میں بورڈ آف گورنرز مسلط کرنے، اور اس پردے میں درحقیقت ان تعلیمی اداروں کو پرائیویٹائز کرنے کے احمقانہ منصوبے پر کام شروع کیا گیا۔ لیکن ڈاکٹروں، پروفیسروں اور طالب علموں کی بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں، اس ڈاکا زنی کا راستہ روک دیا گیا۔ تمام سیاسی قوتوں بہ شمول پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی نے استادوں، ڈاکٹروں اور طالب علموں کی اس تحریک کی بھرپور حمایت کی اور مزاحمت کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

اب، جب کہ جمہوری حکومت، باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے، معلوم نہیں اس میں شامل وہی پارٹیاں، جو بجاطور پر ماضی میں اس گھنائونے کھیل کی مخالف تھیں، انھوں نے کس طرح خود ۲۶کالجوں میں بورڈ آ ف گورنرز قائم کر کے، اور پھر اس راستے پر چلتے ہوئے مزید اداروں کا تیاپانچا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پھر یہ کہ  انھیں ایک ایسی انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑنے اور اس علاقے کے ہزاروں طالب علموں کے تعلیمی مستقبل کو تاریک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کیا واقعی کوئی جمہوری حکومت ایسے تعلیم دشمن اقدام کا فیصلہ کرسکتی ہے؟

  • ان کالجوں میں بورڈ آف گورنرز قائم کرکے، چار سالہ بی ایس ڈگری کورس کے اجرا کا خوش نما خواب دکھایا گیا ہے۔ یہاں پر حکومت کے مشیروں کو اس امر کی وضاحت کرنی چاہیے کہ جن چند تعلیمی اداروں کو گذشتہ ۱۵ برس کے اندر اس نوعیت کے تجربے کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے، وہ ادارے اپنا شاندار ماضی رکھنے، اساتذہ کی بڑی تعداد اور وسائل کا اچھا خاصا اثاثہ رکھنے اور بے تحاشا قومی وسائل ہڑپ کرنے کے باوجود، تعلیمی زبوں حالی کا شکار کیوں ہیں۔ بہت سی جگہوں پر اب تک کورس کی آئوٹ لائن نہیں بن سکی، کہیں سمسٹرسسٹم کے نام پر دھاندلی اور انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے، اور کہیں سہولیات کا فقدان سوالیہ نشان ہے۔ پھر ان مذکورہ اداروں کا اصل زور پڑھائی پر نہیں وسائل کے مالِ غنیمت کو جمع کرنے پر ہے، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کثیرتعداد غیرتربیت یافتہ اور چند ہزار روپوں پر استادوں کی بھرتی یا ریٹائرڈ اساتذہ کو کچھ وظیفہ دے کر کام چلانے کا کلچر روزافزوں ہے۔ چونکہ کسی مقتدرہ یا اتھارٹی کے پاس ان سے سوال جواب کرنے کی فرصت نہیں، اس لیے آخری ہدف بے چارے طالب علم کا وقت، اس کے والدین کی جیب اور پاکستان کا مستقبل ہے۔ اگر لاہور جیسے بڑے شہر کے بڑے کالجوں میں یہ تجربہ عبرت کا نشان بن چکا ہے، تو پھر مضافات میں اور وہ بھی تھوک کے حساب سے کالجوں میں یہ نظام لانا، کس تعلیمی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پنجاب یونی ورسٹی جیسے باوقار تعلیمی ادارے نے بھی دوچار سال بعد، سالِ رواں سے بہت سارے شعبہ جات میں سمسٹرسسٹم ختم کر دیا ہے۔ لیکن حکومت کے مشیر، وزیراعلیٰ پنجاب کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ: ’’آپ بورڈ آف گورنرز اور چار سالہ ڈگری کورس مع سمسٹر سسٹم پنجاب بھر میں پھیلا دیجیے۔ اس طرح ایشیائی ٹائیگر بن جائیں گے‘‘۔  یاد رہے اس سسٹم میں جو پڑھاتا ہے، وہی پرچہ بناتا ہے اور خود ہی پرچے کے نمبر لگاتا ہے۔ نمبروں کے اس جمعہ بازار کے بل پر ڈگریاں لینے والے لوگوں کے سامنے تو کئی غیرڈگری یافتگان کے   سر فخر سے بلند ہوجائیں گے، کہ بھائی ہم تم سے بہتر ہیں۔

  • اس سسٹم کو نافذ کرنے کے نتیجے میں، ان کالجوں میں دو سالہ ڈگری کورس کے جن   طلبہ و طالبات کا داخلہ ختم ہوجائے گا، ان کے مستقبل کا کیا بنے گا؟ نئے استاد، ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگریوں کے ساتھ کس اعزازیے پر تشریف لائیں گے اور چار سالہ ڈگری کے طلب گار طالب علم، کیسا فیضِ علم پائیں گے، اس کا فیصلہ تو سال بھر میں ہوجائے گا، لیکن ہزاروں طالب علموں کے تعلیمی مستقبل کو جو صدمہ پہنچے گا، اس کی تلافی کوئی پنجاب اسمبلی اور کوئی سپریم کورٹ نہ کرسکے گی، جب کہ اس ڈگری کے لیے ہر بورڈ آف گورنر اپنی من مانی کے ساتھ مہنگی فیسوں کا طوفان برپا کرتا رہے گا۔ کیا حکومت پنجاب، عوام کے نام پر، عوام کے بچوں کے تعلیمی اداروں کو نئے ساہوکاری نظام کی نذر کرنا چاہتی ہے؟ عقل اس منطق کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر جائے گا کہ دو سالہ ڈگری حاصل کرنے والے طالب علموں کا کیا مستقبل ہے؟ کیونکہ ۲۵،۳۰ کالجوں میں مہنگی تعلیم اور من مانے نمبر حاصل کرنے والے امیرزادے تو ان بے زر   طالب علموں کو پچھاڑ کر آگے نکل چکے ہوں گے۔
  • اسی طرح مبینہ طور پر حکومت اس فیصلے کو بھی آخری شکل دے رہی ہے کہ پنجاب کے ۴ہزار کالج پروفیسروں کوجبری طور پر ریٹائر کردیا جائے، تاکہ خزانے پر سے بوجھ کم ہو۔ ایک طرف خزانے سے بوجھ ہٹانے کا یہ ظالمانہ منصوبہ اور دوسری جانب ٹھیکے (یعنی کنٹریکٹ) پر غیر تربیت یافتہ اور اپنے تدریسی مستقبل کے بارے میں خوف زدہ استادوں کی بھرتی___ کیا اس نوعیت کے فیصلے سے پنجاب میں علم و ہنر کے پھول کِھلیں گے یا تعلیم و دانش کا دیوالیہ نکلے گا؟
  • شریف حکومت اپنے مرکزی حلیفوں کے ساتھ مل کر متضاد رویوں کی عکاس ایک تعلیمی پالیسی کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں انٹر کی کلاسیں رفتہ رفتہ اسکولوں میں منتقل کردی جائیں گی، جہاں نہ لیبارٹریاں موجود ہیں اور نہ اس درجے کا تربیت یافتہ عملہ۔ دوسری جانب سوال یہ ہے کہ کالجوں کے اتنے بڑے رقبوں اور عمارتوں کا کیا بنے گا؟ جواب صاف ظاہر ہے کہ انھیں کوئی بیکن ہائوس، کوئی سٹی ٹائپ یا کوئی اور گروپ آف کالجز وغیرہ اُچک لیں گے۔ رسمی سا کرایہ دیں گے اور کسی کنگرو اسمبلی کی چھوٹی سی قرارداد سے وہ رسمی رقم بھی ہمیشہ کے لیے معاف کرا لیں گے۔ کیا اس اندھیرنگری کی طرف اسی جمہوری دور میں سفر کرنا تھا؟ یاد رہے ریلوے کے بڑے بڑے اسکول، جہاں مزدوروں کے بچے پڑھا کرتے تھے۔ آج ان کی ملکیت یا کنٹرول تبدیل ہوجانے کے سبب وہ بچے ان اسکولوں کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتے۔
  • پنجاب حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر ایک ٹاسک فورس اس سلسلے میں بھی کام کررہی ہے کہ جن جن کالجوں میں بی کام کی تعلیم دی جارہی ہے، اس بی کام کی تعلیم کو نجی شعبے کے حوالے کردیا جائے۔ کیا حکومت نے پولیس اور عدلیہ کو بھی رفتہ رفتہ نجی شعبے کے ہاتھوں بیچنے کا فیصلہ کرلیا ہے!

اگر پنجاب حکومت کے اعلیٰ دماغ ایسا نہیں چاہتے، تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے والا یہ کھیل کیوں کھیل رہے ہیں؟

 

’’ایک ،دو، تین___ نہیں، یہ تو چار، پانچ، چھے درجن سے بھی زیادہ ہیں، جنھوں نے  بی اے کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات میں نشستیں حاصل کی ہیں‘‘۔ یقینی بات ہے کہ خود ہارنے والے امیدواروں کی بھی ایک بڑی تعداد نے ایسے ہی حلفیہ بیان داخل کرائے ہوں گے، جس میں غلط اعداد و شمار کے سچا ہونے کی قسم کھائی گئی تھی۔ یاد رہے کہ ایسے جھوٹے ارکانِ اسمبلی کی ایک قابلِ لحاظ تعداد کے ساتھ گذشتہ اسمبلیاں (۰۷-۲۰۰۲ئ) پانچ سال مکمل کرچکی ہیں، اور دوسری اسمبلیوں نے دو سال پورے کرلیے ہیں۔

یہ امر جس قدر افسوس ناک ہے، اپنے نتائج کے اعتبار سے اس سے بہت زیادہ سنگین ہے۔ جعلی ڈگریوں کے اجرا سے پیدا شدہ جرائم کا یہ سلسلہ، ان جعلی اور جھوٹے دعووں سے جاملتا ہے، جنھیں بعض مہاجرین نے متروکہ املاک کو ہتھیانے کے لیے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اس لوٹ کھسوٹ میں چند بااثر تو مال و متاع لے اُڑے، مگر مہاجرین کی بہت بڑی تعداد اپنے جائز حق سے بھی محروم رہ گئی۔ نتیجہ یہ کہ حسرت، ناکامی اور محرومی کے اس زہر    نے ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کو ڈس لیا۔ جھوٹ کے اس کاروبار نے آنے والے دنوں میں  قسم قسم کی سماجی بیماریاں پیدا کیں۔ مثال کے طور پر:

۱- پس ماندہ علاقوں کے بچوں کے لیے کوٹے کی محفوظ نشستوں پر شب خون مارنے    کے لیے جعلی ڈومیسائل تیار کر کے اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینیریا سول سرونٹ بنانا۔

۲- پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگریاں حاصل کر کے معاشرے پر دھونس جمانا، ملازمت میں ترقیاں پانا، گریڈ حاصل کرنا، اور ماہانہ دس پندرہ ہزار روپے بھتہ وصول کرنا (اس قماش کی دھاندلی زدہ ڈگریوں میں خون پسینہ ہمسایے کا، سفارش دوست کی، ماہانہ وظیفہ ریاست کا اور صرف نام اپنا استعمال ہوتا ہے)۔

۳- صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے ۲۰۰۲ء میں لازم کیا گیا کہ کم از کم گریجوایٹ فرد اس انتخاب میں حصہ لے سکے گا۔ اس قانون کا احترام کرنے اور معقول طریقے سے اس کو تبدیل کرانے کے بجاے، قومی قیادت کے لیے سامنے آنے والوں کی ایک تعداد نے جعل سازی کا ارتکاب کیا اور جعلی ڈگریوں کے ساتھ کاغذات نامزدگی داخل کرائے اور الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔

خاص طور پر ۱۹۵۵ء کے بعد وحدتِ مغربی پاکستان (ون یونٹ) کے زمانے سے، اور پھر بعد میں بھی جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر، پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے، سیاست دانوں اور اعلیٰ سرکاری ملازمین کی ملی بھگت نے پس ماندہ علاقوں میں احساسِ محرومی کو    نہ صرف بڑھایا، بلکہ اس کے نتیجے میں مرکز گریز قوتوں کو وجود بخشا اور تقویت دی۔ دیکھا جائے تو اس دھاندلی سے محض چند سو طالب علموں نے حق داروں کی حق تلفی کی، لیکن جوابی ردعمل میں وہاں سے ملک کے کروڑوں شہریوں کو نفرت کا پیغام ملا۔ جن لوگوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے، اور جو ریاست کے معاملات کے امین ہیں، ان کا یہ اقدام ملک سے بے وفائی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دھاندلی کا مرتکب قرار پایا، مگر قوم بے بسی میں ان کا احتساب تک نہ کرسکی۔

جعلی ڈگریوں کے اجرا میں اس نوعیت کی مثالیں سامنے آئی ہیں:

پہلی یہ کہ کچھ لوگوں کو وہم ہے کہ نام کے ساتھ ’ڈاکٹر‘ لگانے سے غالباً عزت میں اضافہ ہوتا ہے یا اس سے زندگی ذرا لمبی ہوجاتی ہے۔ حالانکہ یہ دونوں فضول وہم ہیں۔ جنرل محمد ضیا الحق مرحوم کی حکومت میں وزیرخزانہ ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم نے پی ایچ ڈی کرنے والوں کے لیے چند ہزار روپوں کا اضافی الائونس دینے کا اعلان کیا، تو اس چیز نے ’عزت‘ کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ’جیب‘ گرم کرنے کا دروازہ بھی کھول دیا۔ یوں جائز، اہل اور محنتی محققین کے ساتھ فراڈ، نالائق اور جعلی ’ڈاکٹروں‘ کی بھی ایک فصل تیزی سے پک پک کر تیار ہونا شروع ہوئی۔

حکومت نے لوگوں کو تحقیق کے راستے پر چلنے کے لیے اُبھارا مگر یونی ورسٹیوں کے   بعض اساتذہ نے یہاں بھی جرم کا ارتکاب کیا، انھوں نے اپنے ہاتھوں سے متعدد جعل سازوں کو ڈاکٹریٹ کی عباے فضیلت پہنانے کا گناہ کیا۔ اس ضمن میں اپنے گروہ کو نوازنے کے ’بے لوث‘ جذبے اور تعلقات کی برکھا نے جل تھل کردیا۔ ایسی ’پی ایچ ڈیوں‘ میں عموماً شعبہ ہاے اسلامیات، اور شعبہ ہاے ادبیات، پھر سماجیات، نمایاں نظر آتے ہیں۔ اگر گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو  مذہبی طبقے کے ایک گروہ نے ایسی ڈاکٹریٹ حاصل کرنے میں زیادہ سرگرمی دکھائی ہے۔ بعض مقالے تو کسی ’گھوسٹ محقق‘ نے لکھے، پروف دوسرے لوگوں نے پڑھا اور بعض مقالے دس بارہ لوگوں نے انٹ شنٹ ٹکڑے جوڑ کر تیار کیے اور مستقبل کے ڈاکٹر صاحب نے، محض کمپوزنگ کرانے اور جِلد بنوانے کا کرب برداشت کیا۔ دوسری طرف ۵سو ڈالرفیس دے کراسپین یا امریکا سے ڈگریاں حاصل کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ طرفہ تماشا دیکھیے کہ ایسے مقالات پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا اعلان کرنے کے ساتھ، مقالے کی قدروپیمایش کرنے والے محققین کی اس راے کا پورا احترام کیا جاتاہے: ’’ڈگری دے دی جائے، مقالہ شائع کرنے کی اجازت نہ دی جائے‘‘۔ کیا ایسے مقالات میں ریاست کا کوئی خفیہ راز پوشیدہ ہوتا ہے یا کوئی مخرب اخلاق حوالہ؟ اصل میں یہ مقالے اس قابل نہیں ہوتے کہ اشاعت کے بعد یونی ورسٹی کی نیک نامی کا سبب بن سکیں۔ بعض دُوراندیش ڈاکٹر صاحبان تو انتظامیہ سے ملی بھگت کرکے اپنے مقالے کی کاپی لائبریری تک پہنچنے ہی نہیں دیتے، اور مقالے کا اسقاط اپنے یا یونی ورسٹی کلرکوں سے کراد یتے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں: آزادی! کس وقت شوکت تھانوی کا افسانہ ’سودیشی ریل‘ یاد آیا ہے۔

ان دوسری قسم کا تعلق بعض مذہبی عناصر سے جڑتا ہے۔ اگرچہ دینی مدارس کے اساتذہ کرام، تقویٰ، للہیت اور علم و ایثار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اور یہی وجہ ہے کہ جب وہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لکھ کر دے دیا کرتے تھے کہ: ’’اس برخوردار سے مَیں نے سنا اور اسے پڑھانے کی اجازت دی‘‘ تو وہ فرد علما کی صف میں شامل ہوجاتا تھا۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے بجاطور پر  دینی مدارس سے درسِ نظامی پاس کرنے والے طالب علموں کو ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے برابر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ، تو اس چیز پر اظہارِ تشکر کے بجاے، مختلف فرقہ وارانہ مسالک نے اپنے امتحانی نظام میں لچک پیدا کی یا نمبر دینے میں سخاوت کا مظاہرہ کیا، یا اپنے ہم مسلکوں کو ڈگری دینے میں فراخ دلی کا ثبوت دیا۔ اس طرح وہ فضا پیدا ہوئی، جس میں خود دینی مدارس کے   علماے کرام کو سخت دل گرفتگی میں یہ کہنا پڑا: ’’اس ایم اے کے برابر درجے کی ڈگری نے تو ہمیں سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اس دوڑ میں شرکت کی خواہش نے حصولِ علم کی خواہش کو بُری طرح پامال اور گریڈ ۱۷ کی نوکری حاصل کرنے کی بھوک میں اضافہ کیا ہے‘‘۔ پھر ایسا بھی ہوا کہ بعض دینی مدارس کے بورڈوں نے اور بعض منتظمین نے وہ راستہ اختیار کیا، جس پر ندامت کے پسینے کے سوا اور کیا بہایا جاسکتا ہے۔ ان جملوں سے یہ نہ سمجھا جائے کہ تمام وفاق یا دینی مدارس کا ہرطالب علم اسی طرح کر رہا ہے، حاشا وکلا ایسا نہیں ہے، مگر اُوپر جو صورت بیان کی گئی ہے، اس کے بھی خاطرخواہ شواہد موجود ہیں۔ نقل یا دھاندلی ہر جگہ جرم ہے، لیکن اگر اس بیماری کا چلن مذہبی طبقے میں جڑ پکڑ لے تو صورت حال دھماکا خیز ہوجاتی ہے۔

تیسری قسم ہماری یونی ورسٹیوں اور کالجوں کے ان پروفیسر صاحبان پر مشتمل ہے، جنھوں نے ترقیاں پانے کے لیے، ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حصول میں ایسی خیانت کاری (plagarism) کی مثالیں پیش کی ہیں کہ سر ندامت سے جھک جاتا ہے۔ ان ’ڈاکٹروں‘ نے مقالوں کی تیاری میں حددرجہ جادوگری دکھائی ہے۔ یہ ایسا موضوع ہے جس پر الگ مضمون کی گنجایش ہے۔

پھر چوتھی صورت یہ سامنے آئی کہ جب بی اے کی ضرورت پورا کرنے کے لیے براہِ راست ایم اے کی ڈگری کے برابر مذہبی وفاق کی ڈگری مل سکتی ہے تو اس سے کیوں نہ استفادہ کیا جائے۔ اسی باعث ایک تعداد نے مذہبی بورڈوں کی ڈگری سے اپنی امیدواری کو ’جائز‘ بنایا۔ اگرچہ ایسی مثالیں درجن بھر ہی کیوں نہ ہوں، مسند ِ ارشاد و تقویٰ کے وارثوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کی ساکھ کو کن ظالموں نے نقصان پہنچا کر جگ ہنسائی کا سامان مہیا کیا ہے۔

اس کے بعد ہے باری اُس نوعیت کی، جس کے تحت بی اے کی جعلی ڈگریاں لے کر دھڑلے سے انتخابات میں حصہ لیا گیا۔ ایسے ہرکیس کو بدترین جعل سازی بلکہ ڈاکا زنی اور   دہشت گردی کا کیس تصور کرتے ہوئے تحقیقات کی جانی چاہیے۔ اگر پارلیمنٹ، سقراط کے الفاظ میں: ان لوگوں کا گڑھ نہیں ہے جو عوام کے بجاے صرف اپنے ہی مفاد پر نظر رکھتے ہیں۔ تو پھر انھیں اس بارے میں قانون سازی کرنا ہوگی۔ وگرنہ عدالت، عوام اور میڈیا اپنا راستہ خود تلاش کرلیں گے۔ اس پس منظر میں صرف ۲۰۱۰ء کی چند خبریں ملاحظہ فرمایئے:

  • ۲۸ مارچ ۲۰۱۰ء دی نیوز انٹرنیشنل اسلام آباد میں عثمان منظور نے رپورٹ کیا: ’’جعلی ڈگریوں کے حامل مزید ارکانِ پارلیمنٹ خطرے کی زد میں آگئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے   رکن قومی اسمبلی جمشید دستی اور مسلم لیگ ق کے رکن اسمبلی نذیر جٹ نے سپریم کورٹ میں جعلی ڈگری ثابت ہونے کے بعد استعفا دے دیا ہے، مگر یہیں پر ایک دل چسپ منظر یہ بھی دیکھیے: صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب آصف علی زرداری کی جانب سے یہ چیز ریکارڈ پر لائی گئی تھی کہ انھوں نے پیڈنٹن [Pedinton] اسکول، لندن سے ’کاروباری انتظامیات‘ اور معاشیات میں ڈگری لی تھی۔ تاہم ۲۰۰۸ء کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی ویب سائٹ سے یہ ثبوت ہٹا دیا گیا۔ دراصل تحقیق کاروں نے پیڈنٹن اسکول کو لندن ہی نہیں بلکہ پورے برطانیہ میں تلاش کرنے کی بارہا کوشش کی، مگر کسی جگہ اس ادارے کو موجود نہ پایا گیا۔ برٹش کونسل نے بھی برطانیہ میں ایسے کسی ادارے کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم اس سے ملتا جلتا ایک ادارہ پیڈنگٹن [Pedington] سڈنی، آسٹریلیا میں مل گیا، مگر وہاں پر صرف نرسری سے انٹرمیڈیٹ تک تدریس ہوتی ہے۔  اندریں اثنا صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ ڈاکٹر عذرا صاحبہ نے دی نیوز کے رپورٹر عمرچیمہ کو بتایا کہ: ’’میرے بھائی آصف نے سینٹ پیٹرکس کالج کراچی سے ڈگری کا امتحان پاس کیا تھا‘‘، مگر معلوم کرنے پر کالج انتظامیہ نے اپنے ریکارڈ میں ایسے کسی فرد کا نام نہ پایا۔

اسی طرح پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر عدل و قانون جناب بابر اعوان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے بارے میں قوی شکوک و شبہات موجود ہیں، جب کہ وہ اس بات سے انکاری ہیں۔ بابر اعوان نے مونٹی سیلو [Monticello] یونی ورسٹی سے ڈگری لینے کا دعویٰ کر رکھا ہے، اور صورت یہ ہے کہ امریکی ایجوکیشنل فائونڈیشن (USEF) نے تصدیق کی ہے کہ: ’’یہ یونی ورسٹی نہ تو ڈگری پروگرام کرا سکتی ہے اور نہ پی ایچ ڈی کے کورس ہی پیش کرسکتی ہے، بلکہ اس نام نہاد    یونی ورسٹی کو ۲۰۰۰ء میں اس نوعیت کے فراڈ کرنے پر ۱۷ لاکھ ڈالر جرمانہ کرکے بند کر دیا گیا تھا‘‘۔ پھر ہائرایجوکیشن کمیشن بھی اس یونی ورسٹی کو جعلی قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ق) فارورڈ بلاک کے رکن قومی اسمبلی میاں طارق محمود (گجرات) کی ڈگری بھی مشکوک ہے۔ اس میں     دل چسپ امر یہ ہے کہ میاں طارق محمود (پیدایش: ۵مئی ۱۹۵۵ئ) ۱۹۷۱ء میں سرگودھا بورڈ سے میٹرک کا امتحان دینے کے لیے رجسٹرڈ ہوئے، مگر وہ میٹرک کا امتحان پاس نہ کرسکے۔ انھوں نے جس طارق محمود کی ۲۰۰۳ء کی گریجوایشن کی ڈگری جمع کروا کے نامزدگی منظور کرائی، اس طارق محمود کی تاریخ پیدایش ۲مارچ ۱۹۷۸ء ہے، اور اس نے گوجرانوالہ بورڈ سے ۱۹۹۵ء میں انٹر کا امتحان پاس کیا تھا۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی حاجی ناصر ایسی جعلی مذہبی ڈگری لینے کے جرم میں نااہل قرار پاچکے ہیں۔ جنرل مشرف کابینہ کے دو وزراے مملکت بھی جعلی ڈگریوں سے آراستہ تھے۔ سابق سینیٹر پری گل آغا کی ڈگری کو بھی چیلنج کیا گیا، مگر کوئی جواب دینے کے بجاے ۱۷ویں ترمیم جیسا کارنامہ انجام دے کر، وہ اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوئی ہیں۔ (روزنامہ، دی نیوز انٹرنیشنل، ۲۸ مارچ ۲۰۱۰ئ)

  • پنجاب صوبائی اسمبلی کے ۲۹ ارکان کی جعلی ڈگریوں پر مشتمل کیس لاہور ہائی کورٹ کے انتخابی ٹریبونل میں زیرسماعت ہیں، جس میں تینوں پارٹیوں مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) اور پیپلزپارٹی کے وابستگان شامل ہیں۔ یاد رہے ان مبینہ ۲۹ ملزم ارکانِ اسمبلی میں پانچ خواتین  ارکانِ اسمبلی بھی جعلی ڈگریوں کی حامل قرار دی جارہی ہیں (The Peninsula،قطر، ۲ مئی ۲۰۱۰ئ)
  • منڈی بہائوالدین سے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی محمدطارق تارڑ، ملتان یونی ورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے دعوے دار ہیں، مگر وہ اپنا نام تک انگریزی میں نہیں لکھ سکتے۔ ان کا مقدمہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں زیرسماعت ہے ( دی نیشن، لاہور، ۱۲ مئی ۲۰۱۰ئ)
  • مسلم لیگ (ن) نے پنجاب صوبائی اسمبلی کے ان ۵۴ ارکان اسمبلی کی فہرست تیار کی ہے، جو اگرچہ مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں، مگر ان میں قدر مشترک ایک ہی ہے، اور  وہ ہے گریجوایشن کی جعلی ڈگریاں۔ (روزنامہ ڈیلی ٹائمز، لاہور، ۷مئی ۲۰۱۰ئ)

ذرا غور کیجیے کہ جن لوگوں نے جھوٹ کے بل بوتے پر حقِ نمایندگی حاصل کیا، ان کے ہاتھوں قانون سازی کی حیثیت کیا ہوگی۔ حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو ایسے لوگوں کو دوبارہ اپنی پارٹیوں میں نہ صرف شامل کر رہے ہیں، بلکہ انھیں پارٹی ٹکٹ اور عہدے بھی دے رہے ہیں (جعل سازی پر نااہل قرار پانے والے جمشید دستی کو بڑی دیدہ دلیری سے پیپلزپارٹی نے پھر   قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نامزد کیا اور وہ جیت بھی گئے)۔ اس میں زیادہ افسوس ناک طرزِعمل الیکشن کمیشن کا رہا ہے کہ جس نے ایسی عذرداریوں کی سماعت کے لیے سال ہا سال ضائع کیے، حالانکہ یہ مقدمے دو، تین پیشیوں سے زیادہ بحث و تفتیش کے متقاضی نہ تھے۔ یعنی یہی معلوم کرنا تھا کہ فلاں فرد نے جو بی اے کی ڈگری جمع کرائی ہے، کیا متعلقہ یونی ورسٹی اسے اپنے ریکارڈ کے مطابق درست قرار دیتی ہے؟ (ارکانِ اسمبلی کی ایسی دستاویزات کے اندرجات الیکشن کمیشن اپنی ویب سائٹ پر بھی مہیا کرسکتا تھا)۔ اسی طرح مذہبی بورڈوں سے منسوب ایسے مشکوک امیدواروں سے، عدالت میں قرآن، حدیث اور سبع معلقہ سے آٹھ آٹھ سطروں کا ترجمہ سن کر ان کی اہلیت کو متعین کیا جاسکتا تھا، بلکہ خود براہِ راست دینی امور پر بحث بھی اُن کی حقیقت کو بے نقاب کرسکتی تھی۔ (یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے میڈیکل کالجوں اور انجینیرنگ یونی ورسٹیوں میں داخلے کے لیے حافظِ قرآن امیدواروں کی محض سند کی بنیاد پر اہلیت کا فیصلہ نہیں کیا جاتا، بلکہ    تین رکنی بورڈ براہِ راست ان امیدواروں سے قرآن سن کر ان کی اہلیت کا فیصلہ کرتا ہے)۔ لیکن افسوس کہ ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا، اور یہ نمایندے فریب کاری کرتے ہوئے، عزت کے مقام اور قانون سازی کی مسند پر بیٹھے مزے اُڑاتے رہے۔

یہاں لازم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کو دیکھیں: ارشاد ہے:

  • ’’ایک بندئہ مومن کی فطرت میں خیانت اور جھوٹ کا وجود ممکن نہیں‘‘ (مسنداحمد، بیہقی)۔
  • ’’یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی جھوٹی بات بیان کرو، حالانکہ وہ تم کو اس بیان میں سچا سمجھتا ہو‘‘(ابوداؤد)۔
  •  ’’جس شخص نے حاکم کے سامنے جھوٹی قسم کھائی، تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال مار لے، تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حال میں اس کی پیشی ہوگی کہ اللہ اس پر سخت غضب ناک اور ناراض ہوگا‘‘(بخاری، مسلم)۔ l ’’جو شخص خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپائے تو وہ بھی اسی [خیانت کار] کی مانند ہے‘‘ (ابودائود)___ ان احادیث مبارکہ سے ایسے جعل ساز ڈگری یافتگان کی حیثیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اور اب یہ خبر ملاحظہ ہو:

  •  ’’پاکستان الیکشن کمیشن نے ان ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کے بارے میں، جنھوں نے جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیا، انھیں سبق سکھانے اور سیاسی عمل سے باہر نکال دینے کے لیے حکم جاری کیا ہے۔ قائم مقام چیئرمین الیکشن کمیشن جسٹس جاوید اقبال نے ہدایت کی ہے کہ جعلی ڈگریوں والے ممبران اسمبلی کے خلاف فوج داری مقدمات درج کیے جائیں، ایسے مقدمات قانون کے مطابق فوری طور پر نمٹائے جائیں، اور انھیں آیندہ الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے۔ جعلی دستاویزات اور جھوٹے بیاناتِ حلفی داخل کرنا سنگین بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے، ان کے خلاف عوامی ایکٹ ۱۹۷۶ء (سیکشن ۷۸) کے تحت سیشن جج کے روبرو جانا لازم ہے‘‘ (روزنامہ ایکسپریس، نواے وقت، جنگ، ۷ مئی ۲۰۱۰ئ)

کیا جناب جاوید اقبال کی اس خواہش کا حشر بھی ’این آر او‘ والے فیصلے پر عمل درآمد کے نام پر بلی چوہے کا کھیل تو نہیں بنا دیا جائے گا؟ مگر ظاہر ہے دعوے کا جواب دعویٰ بھی ہوتا ہے اور بقول ہیگل: Thesis کا Anti-Thesis۔ اسی کا نتیجہ دیکھیے کہ چیئرمین الیکشن کمیشن کے بیان کے چھے روز بعد اسی الیکشن کمیشن کے سیکرٹری صاحب فرماتے ہیں: ’’فروری ۲۰۰۸ء کے عام انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن میں ۷۰ پیٹشنز جعلی ڈگریوں سے متعلق تھیں۔ الیکشن کمیشن ان میں سے ۲۴ پر فیصلے دے چکا ہے۔ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر گذشتہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے نااہل نہیں ہیں‘‘ (روزنامہ نواے وقت، لاہور، ۱۳ مئی ۲۰۱۰ئ)۔ اس اُڑتی ہوئی دھول میں چیئرمین صاحب کا فرمایا سچ سمجھا جائے یا سیکرٹری صاحب کو معتبر جانا جائے۔ قانون کا احترام کیا جائے یا احکامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس داری کی جائے۔

موشگافیوں کو چھوڑ کر حکومت کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کو، جو جعلی ڈگریاں لے کر مسندِ تدریس پر بیٹھے ہیں یا مسندِ حکومت پر براجمان ہیں، ان کو نااہل قرار دینے کے ساتھ، ان سے تمام وصول شدہ تنخواہوں، الائونسوں اور تحفوں کو نہ صرف واپس لے، بلکہ بھاری جرمانے بھی وصول کرے۔ مزید یہ کہ فراڈ کے جرم کی جو سخت ترین سزا ممکن ہے، اسے بھی ان پر نافذ کرے۔ احتساب اور شفافیت نے آخر کہیں سے تو اپنے سفر کا آغاز کرنا ہے۔ پاکستان کے عوام اس قافلۂ عدل کے مدتوں سے منتظر ہیں۔ شاید وہ گھڑی آن پہنچی ہے ، جب کہہ سکیں کہ ’ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘۔

اسلامی چھاترو شبر کے تین کارکن شہید اور:’’ سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاریاں ڈھاکہ، سلہٹ، چٹاگانگ، راج شاہی، پبنہ، تنگائل، برہمنا باڑیہ، چاندپور، رنگ پور وغیرہ سے  عمل میں لائی گئیں‘‘ (دی ڈیلی اسٹار، ۱۳ فروری۲۰۱۰ئ)۔ فروری کا مہینہ بنگلہ دیش میں طالب علموں کی اسلامی تحریک اور جماعت اسلامی کے لیے ابتلاو آزمایش کا کڑا موسم لے کر آیا۔

اگرچہ گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران میں عوامی لیگ کا بنیادی ہدف بنگلہ دیش جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر ہی رہی ہے، لیکن یہ ساری یلغار منفی پروپیگنڈے، بیانات اور دھمکیوں تک محدود تھی۔ تاہم فروری ۲۰۱۰ء کے پہلے عشرے میں لیگی حکومت نے ان پر دائرۂ حیات کو تنگ کرنے کے لیے گوناگوں اقدامات شروع کیے۔ ان واقعات کے ذکر سے ذرا پیچھے نظر دوڑاتے ہیں تو     یہ حقائق سامنے آتے ہیں۔

بھارت کا تھنک ٹینک سائوتھ ایشین اینلسز گروپ (SAAG) اپنی ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کی تحقیقی رپورٹ نمبر۲۲۷۵ میں بھارت اور بنگلہ دیش کی حکومتوں کو ’خبردار‘ کرتا ہے: ’’بنگلہ دیش میں جمہوریت کے لیے خطرہ: اسلامی چھاترو شبرہے‘‘۔ بھارت کی سرزمین سے اس نوعیت کی پروپیگنڈا رپورٹ میں لکھا ہے: ’’۱۹۷۱ء میں جب بنگالی عوام نے پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے ہتھیار اُٹھا لیے تھے، تو اسلامی چھاتروشبر کی پرانی تنظیم اسلامی چھاترو شنگھو (اسلامی جمعیت طلبہ) نے اس کی مزاحمت کی تھی… اسلامی چھاترو شبر فروری ۱۹۷۷ء کوڈھاکہ یونی ورسٹی کی جامع مسجد میں تشکیل دی گئی، اور اس نے ۱۹۸۲ء میں چٹاگانگ یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا الیکشن جیت کر تعلیمی اداروں میں اسلامی فکر کی ترویج کا کام شروع کیا۔ آج وہ بنگلہ دیش میں جمہوریت اور سیکولرزم کے لیے خطرہ بن چکی ہے‘‘___ اس طرح بھارت کی طرف سے واضح ہدف دیا گیا کہ آیندہ کیا کرنا مطلوب ہے، یعنی شبر اور جماعت اسلامی کو نشانہ بنانا۔ یہ ہے وہ کھیل جوقدم بہ قدم آگے بڑھتا ہوا آج کے بنگلہ دیش کو ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا منظر بھی دیکھیے۔ ۲۰۰۸ء سے بنگلہ دیش جماعت اسلامی اور چھاترو شبر مسلسل عوامی لیگ کے نہایت زہریلے بلکہ گالیوں اور بے ہودہ الزامات سے آلودہ پروپیگنڈے کی زد میں رہیں، کیونکہ وہ سال انتخابات کا سال تھا۔ اسی سال الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ سے متعلق اپنے دستور، منشور اور لائحہ عمل میں تبدیلی کرے۔ یہ نفسیاتی، ابلاغی اور اداراتی سطح پر عجیب نوعیت کا دبائو تھا، جس نے جماعت اور اس کی برادر تنظیمات کے لیے پریشانی پیدا کی۔

۱۹ جنوری ۲۰۱۰ء کو جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن نظامی نے ’بنگلہ دیش- بھارت مشترکہ اعلامیے‘ کو اہلِ بنگلہ دیش کی معاشی زندگی کے لیے بُری طرح نقصان دہ معاہدہ قرار دیا اور اعلان کیا کہ ’’جماعت اسلامی: بھارت-بنگلہ دیش معاہدے، آئین میں پانچویں ترمیم کی منسوخی اور مجوزہ تعلیمی پالیسی کے منفی پہلوئوں کے خلاف عوام میں بیداری پیداکرنے کی مہم چلائے گی‘‘(دی ڈیلی اسٹار، ۲۰ جنوری ۲۰۱۰ئ)۔ اس بیان کے صرف پانچ روز بعد، یعنی ۲۴ جنوری کو ’’بنگلہ دیش الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھا کہ وہ جماعت اسلامی کا چارٹر تبدیل کریں، اپنے پروگرام میں سے اس نکتے کو حذف کریں کہ جماعت، بنگلہ دیش میں منظم جدوجہد کے ذریعے اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔ پھر جماعت اسلامی کے دستور کی ان بہت سی دفعات کو ختم کیا جائے جو اپنے وابستگان کو اسلامی نظام کے نفاذ کی راہیں دکھاتی ہیں، ایسا لائحہ عمل ریاستی دستور کے مزاج کے یک سر منافی ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی نے اپنے دستور میں اور تمام تنظیمی سطحوں پر قائم شدہ کمیٹیوں میں عورتوں کو ۳۳ فی صد نمایندگی دینے کا بھی اہتمام نہیں کیا ہے۔ پھر جماعت اسلامی نے غیرمسلموں کو پارٹی ممبرشپ دینے کے اعلان کے باوجود انھیں پارٹی پروگرام کا پابند بنایا ہے، اور وہ پروگرام اسلامی نظام کا نفاذ ہے، یہ بات ان غیرمسلموں سے امتیازی سلوک روا رکھنے کی دلیل ہے۔ ان تمام نکات کی روشنی میں اگر جماعت اسلامی نے اپنے معاملات کو دی گئی ہدایات کے مطابق درست نہ کیا توری پریزنٹیشن آف دی پیپلزآرڈر (RPO) کے تحت جماعت اسلامی کی موجودہ حیثیت تحلیل کر دی جائے گی‘‘ (ایضاً، ۲۵ جنوری ۲۰۱۰ئ)

ابھی الیکشن کمیشن کے اس نادر شاہی حکم کی صداے بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ آناً فاناً ۳فروری کو ڈھاکہ یونی ورسٹی میں ایم اے کے طالب علم اور اسلامی چھاترو شبر کے کارکن ابوبکر صدیق کو قتل کر دیا گیا۔ ۱۱فروری کو پولیس ہی کی موجودگی میں اسٹوڈنٹس لیگ کے غنڈا عناصر نے راج شاہی یونی ورسٹی میں اسلامی چھاترو شبر کے کارکن اور ایم اے فائنل کے طالب علم حفیظ الرحمن کو گردن میں گولی مار کر قتل کیا، اور دیر تک میت کو گھیرے رکھا مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی۔ ۱۲فروری کو چٹاگانگ یونی ورسٹی میں اسلامی چھاترو شبر کے کارکن محی الدین کو قتل کر دیا گیا، اور تادمِ تحریر تدفین کے لیے میت نہیں دی گئی۔ ساتھ ہی اسلامی چھاترو شبر کے کارکنوں کو چٹاگانگ میڈیکل کالج، چٹاگانگ یونی ورسٹی اور محسن کالج سے گرفتار کرنا شروع کیا ،اور پہلے ہی ہلے میں ۹۶کارکنوں کو جیل میں دھکیل دیا گیا۔ ۹فروری کو راج شاہی یونی ورسٹی میں چھاترولیگ کا حامی  جاں بحق ہوا، اور اس واقعے کو بنیاد بناکر پورے ملک میں جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کے کارکنوں کی اندھادھند گرفتاریوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن، اخبارات، وزرا اور پولیس افسران کے بیانات نے فضا کو مزید دھواںدار بنا دیا۔ داخلہ امور کے وزیرمملکت شمس الحق ٹوکو نے کہا: ہم راج شاہی یونی ورسٹی اور راج شاہی شہر سے اسلامی چھاترو شبر اور جماعت اسلامی کو ختم کر کے دم لیں گے‘‘۔ اس کے پہلو بہ پہلو یہ خبر بڑے تسلسل کے ساتھ نشر کرنا شروع کی گئی: ’’امریکا، اسلامی چھاترو شبر کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کر رہا ہے‘‘۔

جماعت اسلامی کے امیرمطیع الرحمن نظامی اور جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے بیانات میں مطالبہ کیا کہ ’’راج شاہی یونی ورسٹی کے الم ناک واقعے کے ساتھ دیگر تعلیمی اداروں میں قتل و غارت گری کے تمام واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ذمہ داران کا تعین ہوسکے، اور اس منفی پروپیگنڈے سے پیدا شدہ فضا کو صاف اور حقائق کو منظرعام پر لایا جاسکے۔ جماعت اسلامی پُرامن، جمہوری، عوامی اور دعوتی پروگرام پر یقین رکھتی ہے، جس میں تشدد کا راستہ اپنانے کی کوئی گنجایش نہیں۔ (ایضاً، ۱۲فروری ۲۰۱۰ئ)

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمن نظامی نے اس کرب ناک صورت حال پر ۱۷فروری کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا: ’’جوں ہی مَیں نے ’بنگلہ دیش بھارت معاہدے‘ پر نقدو جرح کی تو بنگلہ دیش کی اسلامی قوتوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اسلامی چھاترو شبر کے کارکنوں کو قتل کیا گیا، جماعت اسلامی اور شبر کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، کالجوں اور ہاسٹلوں سے پکڑ کر جیل خانوں میں پھینکا گیا ہے۔ حکمران عوامی لیگ نے اپنی پارٹی کے مسلح غنڈوں کو من مانی، پُرتشدد کارروائیاں کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے‘‘۔ اس مضمون میں بیان کردہ دیگر واقعات کا تذکرہ کرنے کے بعد جناب نظامی نے یہ بھی بتایا کہ: ’’۱۱فروری کو جہاں ایک طرف اسلامی چھاترو شبر کے کارکنوں کو مارا گیا، وہاں دوسری جانب راج شاہی میں جماعت اسلامی کے امیر اور اسکول ٹیچر عطاء الرحمن کو کمرۂ امتحان سے تشدد کرتے ہوئے گرفتار کیا، اور پانچ روزتک ٹارچر سیل میں رکھا گیا۔ ۱۲ فروری کو جماعت اسلامی چٹاگانگ کے امیر اور ممبر پارلیمنٹ شمس الاسلام کو پُرامن احتجاجی جلوس کی قیادت کرنے پر اس حالت میں گرفتار کیا کہ عوامی لیگ کے مسلح کارکنوں نے پولیس کی موجودگی میں جلوس پر دھاوا بول دیا اور ۱۰۰ سے زیادہ کارکنوں کو مارتے پیٹتے ہوئے جیل میں دھکیل دیا۔ ۱۲ فروری ہی کو جماعت اسلامی سلہٹ کے پُرامن اجلاس پر لاٹھی چارج کیا گیا اور عوامی لیگ کے مسلح افراد نے حملہ کرکے بیسیوں کارکنوں کو پکڑپکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ مسلح غنڈوں نے جماعت اسلامی اور اسلامی شبر کے کارکنوں کے گھروں پر حملے کیے، دکانوں اور تعلیمی اداروں میں گھس کر کارکنوں کو سڑکوں پر لایا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس موقعے پر پولیس خاموشی سے تماشا دیکھتی رہی۔ یہ واقعات فسطائیت کی تصویر اور جمہوریت کی توہین اور انسانیت کی تذلیل ہیں، جنھیں کوئی باشعور فرد برداشت نہیں کرسکتا‘‘۔

ان واقعات کی کڑیوں کو ملانے سے پیداشدہ صورت حال، مستقبل کے ایک سنگین منظرنامے کی طرف توجہ دلاتی ہے:

                ۱-            سیکولر قوتیں، موجودہ عالمی فضا سے فائدہ اُٹھا کر، دینی قوتوں کو میدان سے باہر نکالنے کے لیے ہرمنفی حربہ استعمال کریں گی۔

                ۲-            اس شاطرانہ عمل کے لیے امریکا اور بھارت سے ہمدردی کا دم بھرتے ہوئے ، ان کی ڈپلومیٹک حیثیت سے فائدہ اٹھائیں گی۔

                ۳-            مسلم دنیا میں چونکہ ایسی پٹھو حکومتوں کو امریکا، بھارت اور اسرائیل وغیرہ کی پشت پناہی حاصل ہے، اس لیے ان کے لیے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کرنا سلامتی کونسل کی نظر میں جائز تصور ہوں گے۔

                ۴-            اسلام اور اسلامی پروگرام کی اشاعت و ترویج کے جملہ اداروں کے خاتمے کے لیے مسلم قومی حکومتیں کسی بھی انتہا تک جاسکتی ہیں۔

                ۵-            یہ حکومتیں، اسلامی پارٹیوں کے پروگرام کے چھوٹے سے چھوٹے جملوں تک کے خاتمے کی کوشش کریں گی۔ جہاں جہاں اسلامی تحریک، مقتدر قوتوں کے لیے سیاسی چیلنج بنیں گی، وہاں پر انھیں اسی نوعیت کے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

                ۶-            مسلم اُمہ میں اس صورت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا گیا تو یہی ماڈل دیگر مسلم ممالک میں بھی روبۂ عمل آسکتا ہے۔

اندریں حالات بنگلہ دیش میں اسلامی تحریک کے مظلوم کارکنوں اور حامیوں سے یک جہتی کے ساتھ اس سوال پر غوروفکر کی ضرورت ہے کہ ایسے کسی خطرے کا مداوا کس طرح کیا جائے؟___ اس سوال کا جواب ایک ہی ہے: اور وہ یہ کہ: ’’ایمان اور کردار کی مضبوطی، تنظیم کی پختگی، دعوتِ دین کا شوق، علم و فضل میں گہرائی اور اپنے دائرے میں سمٹنے کے بجاے معاشرے کے اندر پھیل جانے کا جذبہ‘‘۔ اگر یہ چیزیں وافر مقدار میں موجود ہوں گی تو یقینا ایسی یلغار کو روکا بلکہ پسپا ہونے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

امریکا اور مغرب یا ان کے چہیتے حکمرانوں کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کتنی حقیقی ہے اور کتنی خودساختہ، ان مفروضوں پر بحث سے قطع نظر ایک اور سخت اذیت ناک چیلنج درپیش ہے۔ اس چیلنج کو ’مغرب کی عریاں دہشت گردی‘ کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے!

ایک زمانہ تھا کہ مسلم خواتین مکمل حجاب کااہتمام کرتیں، اور اس مقصد کے لیے برقعہ پہنتیں۔ مگر آج کا ’مہذب مغرب‘ ان باحیا و پاک باز خواتین سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ برقعہ اتاریں، حجاب کو نوچ کر پرے پھینکیں، بلکہ ’دہشت گردی‘ کی نام نہاد جنگ میں مغرب کا خوف دُور کرنے کے لیے خود کو بے لباس کرکے تصویریں بنوائیں۔ جدید تعلیم اور ابلاغی یلغار کے زیراثر برقعہ و حجاب پر نرم رویہ اختیار کرنے کے لیے وہ بڑی حد تک تیار دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس تیسرے حملے کو برداشت کرنے کے لیے ہرگز ہرگز تیار نہیں ہوسکتیں، بلکہ اس کاتصور کرکے زندہ رہنے سے زیادہ وہ موت کے انتخاب کوترجیح دینے سے بھی گریز نہ کریں گی۔ یہ فیصلہ تو مسلم خواتین کا ہے___ مگر امریکا یہ کہتا ہے: ’’تم اپنی جگہ غیرت کو محفوظ رکھو، مگر ہم مشینوں کے ذریعے تمھیں بے لباس کرکے تصویریں بنائیں گے‘‘۔ صاحبو، آج امریکی فضائی اڈوں پر ایسی مشینوں (naked body scanners)کی تنصیب کر دی گئی ہے (اور تیزی سے اس تنصیباتی عمل کو وسعت دی جارہی ہے) تاکہ خوف زدہ مغربیوں کے ہاتھوں حیا کا پردہ تار تار ہوتا رہے، اور پھر دنیا کے مظلوم اور مسلم اُمہ کے مجبور عوام اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرلیں۔

اپنی سرزمین پر یہ بیہودہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ خودمسلم ممالک سے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں سے امریکا جانے والے مسافروں کو ’مکمل جسمانی سکین‘ کر کے طیاروں میں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ آخرکار منصوبہ یہ ہے کہ تمام ہوائی اڈوں پر فضائی مسافروں کی عریاں اسکیننگ کی مشینیں لگا دی جائیں۔ لوگ حیران و پریشان ہیں کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے؟

جواب میں امریکی حکام کہتے ہیں کہ: دسمبر ۲۰۰۹ء کے کرسمس کے موقع پر نائیجیریا کے ۲۳سالہ افریقی مسلمان عمرفاروق عبدالمطلب کو مبینہ طور پر آتش گیر پائوڈر کمر سے باندھے ہوئے ڈیٹرایٹ (مشی گن) کے ہوائی اڈے سے گرفتار کرنے کا واقعہ ہی اس جبر کا باعث بنا ہے۔ (یاد رہے یہ مسافر ایمسٹرڈم کے ہوائی اڈے سے طیارے (فلائٹ ۲۵۳) پر سوار ہوا تھا، اور سیکورٹی کی ذمہ داری اسی ہوائی اڈے کے حکام پر تھی)۔ جواب میں مسلم رہنما کہتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک ڈراما تھا، جسے اسٹیج کر کے ایک بہانہ تراشا گیا تاکہ مذکورہ پروگرام کے نفاذ کا جواز پیدا کیاجاسکے اور اس شک کی بنیاد بڑی مضبوط ہے۔

مبینہ طور پر یہ واقعہ تو دسمبر ۲۰۰۹ء میں ہوتا ہے، مگر سی این این نے اب سے سات ماہ   پیش تر ہی یہ خبر دے دی تھی کہ: ’’مسافروں کی عریاں تصویرکشی (naked pictures) کی جاری ہے‘‘ (۱۸ مئی ۲۰۰۹ء، cnn.com)۔ اسٹاف رپورٹر جرمی حسو نے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا: ’’جسم کی مکمل تصویرکشی کی مشینوں سے، فرد کے کپڑوں کے نیچے سے ہر دھاتی اور غیردھاتی چیز دیکھی جاسکتی ہے بلکہ زیرجامہ نقوش تک نظر کے سامنے آجاتے ہیں اور یہ ۳ ڈی عکس بندی چند سیکنڈ میں کرلی جاتی ہے‘‘ (یکم اپریل ۲۰۰۹ء، livescience.com)۔ آگے چلیے، معروف صحافی جیفری لایب نے تو اس سے بھی ایک سال پہلے دی ڈینورپوسٹ میں بتایا تھا: ’’ڈینور بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ امریکا کے دیگر پانچ ہوائی اڈوں پر مکمل جسمانی عریاں تصویر سازی کی مشینیں لگادی گئی ہیں‘‘۔(۲۹ مئی ۲۰۰۹ء، denverpost.com)

اسی طرح تھامس فرینک نے اب سے ڈیڑھ سال قبل ۶جون ۲۰۰۸ء کو امریکا کے مشہور جریدے یو ایس ٹوڈے میں رپورٹ دی تھی کہ: ’’انسانی بدن کو اسکین کرنے والی وہ مشینیں، جو لوگوں کے کپڑوں سے بھی نیچے کی تصویریں بنا سکتی ہیں، معروف ترین ہوائی اڈوں پر نصب کر دی گئی ہیں‘‘ (۶ جون ۲۰۰۸ء- USA Today)۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مغربی اور امریکی حکمرانوں کی بدنیتی اور قانون شکنی تو کب سے اپنا رنگ دکھا رہی تھی، مگر اس شیطانی سلسلے کو    بڑے پیمانے پر روبہ عمل لانے کے لیے ’کرسمس ڈراما ۲۰۰۹ء‘ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہاں پر مسلم دنیا سے نہیں بلکہ خود امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ ہی سے چند تجزیاتی رپورٹوں کے اقتباسات اور بیانات پیش کیے جاتے ہیں:

  • پال ایڈورڈ پاکر کے مطابق: ’’یہ اسکینر مشینیں، کپڑے پہننے کے باوجود، مسافروں کی کپڑوں سے بے نیاز تصویر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘‘(۳۱دسمبر ۲۰۰۹ء، progo.com)۔ اس ضمن میں ٹیلی ویژن ایسی رپورٹیں پیش کر کے، کہ جن میں اسکینر سے گزرنے والے لوگوں کے چہروں اور تناسلی اعضا (genitals) کو دھندلا کردکھایا جا رہا ہے، عام ناظرین کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ پیچھے کمرے میں بیٹھ کر دیکھنے والے عملے کے لوگ، اس عکس کو ایک معمولی سے اُلٹ پلٹ (inversion) کے عمل سے بالکل اس طرح دیکھ سکتے ہیں، جیسے وہ بالکل عریاں کیفیت میں، اپنے حقیقی خدوخال اور رنگ و حالت میں ان کے سامنے ہوں۔ اور ان کی یہ تصویریں، اسی حالت میں ہوبہو ریکارڈ کا مستقل حصہ بھی بن جاتی ہیں‘‘۔ (۸ جنوری ۲۰۱۰ء، پال جوزف واٹسن، prisionplanet.com)
  • ’’مکمل انسانی جسم کی اس خفیہ تصویرکشی کا ایک خوفناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہوائی اڈے سے سفر شروع کرنے یا سفر مکمل کر کے باہر نکلنے والا مسافر خطرناک ریڈیائی لہروں میں غسل کرکے نکلتا ہے۔ افسوس کہ اس انتہائی نقصان دہ عمل کے باوجود امریکی انتہاپسند (نیوکونز) اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ ایسی مشینیں بڑے پیمانے پر نصب کی جائیں‘‘۔ (۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء، infowars.com)
  • خود امریکا میں ’ٹکنالوجی اور آزادی‘کے عنوان سے شائع شدہ ایک فکرانگیز مضمون بتاتا ہے کہ:’’یہ ٹکنالوجی، انسان کی آزادی، خلوت اور پوشیدہ وجود پر براہِ راست حملہ ہے۔ جس کے ذریعے خواتین و حضرات کو ان کی مرضی کے بغیر اور ان کی سفری مجبوریوں سے ناجائز طور پر    فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان کی شرم گاہوں تک کی تصویرکشی کی جاتی ہے۔ عملی شکل یہ ہے کہ سفر کے   دوران میں ایئرپورٹ کی چیک پوسٹ سے گزرتی سواری کو یہ مشینیں عریاں حالت میں چلتا دکھاتی ہیں۔ یہ انسانوں کی نجی زندگی اور وقار پر ایک بدترین جارحیت ہے۔ مانا کہ کچھ افراد دوسروں کے سامنے عریاں ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے، مگر انسانوں کی عظیم ترین اکثریت، اس بے حیائی کو   نفرت سے دیکھتی ہے۔ اس طرح یہ سارا قصہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ ایسے  توہین آمیز عمل کو کوئی بھی مہذب انسان برداشت نہیں کرسکتا۔ یاد رہے کہ سفری حفاظت کے ادارے میں ۴۳ہزار افسران اور لاتعداد خفیہ ایجنٹ، صرف امریکا کے ۴۵۰ ہوائی اڈوں پر روزانہ ڈیوٹی دیتے ہیں، جب کہ امریکا ہوائی اڈوں پر روزانہ ۲۰ لاکھ مسافر، سفر کی غرض سے آتے ہیں‘‘۔ (۸جنوری ۲۰۱۰ء، aclu.org)
  • ’’مانچسٹر ایئرپورٹ (برطانیہ) پر ایک سال سے تجرباتی طور پر عریاں تصویرکشی کرنے والی ان مشینوں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی ایسی تصویریں نہ بنائیں، کیونکہ اس طرح ’بچوں کی عریاں کشی کے قانون‘ کی خلاف ورزی ہوتی ہے‘‘ (mailonsunday.co.uk)۔ اسی خبر کو اخبار دی گارڈین، لندن (۴ جنوری ۲۰۱۰ء) نے زیادہ تفصیل سے پیش کیا۔
  • ’’سفری حفاظت کی انتظامیہ (TSA) یہ بھی کہتی ہے کہ اس تصویری مواد میں دیگر جسمانی تفصیلات پر زور نہیں دیا جاتا، بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کسی فرد نے جسم کے ساتھ اسلحہ تو نہیں باندھ رکھا، حالانکہ یہ بہانہ گمراہ کن ہے۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ وہ یہ تصویریں سامنے سے اور عقب سے بناتے ہیں اور ان تصویروں کو جتنا چاہیں بڑا کر کے دیکھا جاسکتا ہے‘‘۔ (۸؍اپریل ۲۰۰۹ء، ولیم سیلٹن، slate.com)
  • جینی میسریو اور مائیک اہلرز کی رپورٹ کے مطابق: ’’سفری حفاظتی انتظامیہ (TSA) لوگوں کو جتنا چاہے دھوکا دے لے، لیکن امرواقعہ یہی ہے کہ انسانی شرف اور احترام کی تذلیل کا یہ پورا بندوبست ہے۔ خود ٹی ایس اے کی دستاویزات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان اسکینر مشینوں میں یہ بھرپور صلاحیت ہے کہ وہ مسافروں کی [عریاں] تصویریں بناکر محفوظ رکھیں اور دوسری جگہ منتقل کریں۔ ایسی تصویریں جو زیب تن کپڑوں کے نیچے کی عکس بندی کرلیتی ہیں۔ کمپیوٹر ہیکروں یا دوسرے کارکنوں کے ہاتھوں ان تصویروں کے غلط طور پر استعمال ہونے کا ہرآن خدشہ موجود رہے گا‘‘۔ (۱۱ جنوری ۲۰۱۰ء، cnn.com)
  • یہ امرواقعہ ہے کہ انتظامیہ اپنے شہریوں کے ساتھ دھوکا دہی کا ثبوت دیتے ہوئے دوسری بات کہہ رہی ہے، حالانکہ یہ بات ایک معلوم حقیقت کا درجہ رکھتی ہے کہ ’جسمانی جائزے‘ کے ان اسکینروں سے بنے ہوئے عکس آپ کی عریاں حالت میں تصویر بناکر، آپ کے تناسلی اعضا تک کی باریک سے باریک تفصیل کو ریکارڈ کرلیتے ہیں۔ (godlikeproductions.com)
  • ’’ایسے بہت سے منصوبوں کے طرف دار یہودی تک اس صورتِ واقعہ پر تڑپ   اُٹھے ہیں۔ مثلاً صہیونی اخبار دی یروشلم پوسٹ کے نمایندہ میتھیو ویگز نے رپورٹ کیا: ’’یہودی مذہبی رہنمائوں کے مطابق مکمل جسمانی اسکیننگ سے عورتوں کی حیا اور احترام پر بہت منفی اثر پڑے گا‘‘ (۷جنوری ۲۰۱۰ء، jpost.com)۔ اسی طرح جرمنی کی ’پائی ریٹ پارٹی‘ نے بھی عریاں اسکینروں کے خلاف مظاہرہ کیا‘‘۔ (۱۱ جنوری ۲۰۱۰ء، thelocal.de)
  • ’’ہالینڈ میں سلامتی کے مشیر نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ جلد از جلد فنڈز جاری کرے تاکہ ’عریاں جسمانی‘ تصویرکشی کے ایسے سفری (موبائل) اسکینرز استعمال میں لائے جائیں کہ جن کے ذریعے بازاروں میں چلنے، فٹ بال کھیلنے اور اسٹیڈیم وغیرہ میں کھیلوں سے لطف اندوز ہونے والے تماشائیوں وغیرہ تک کو عریاں حالت میں دیکھا، پرکھا اور ریکارڈ کیا جاسکے۔ (۲۰جنوری ۲۰۱۰ء، dutchnews.nl)
  • ایک اسکینر جو ایک لاکھ ۳۰ ہزار ڈالر سے ایک لاکھ ۷۰ ہزار ڈالر کی قیمت رکھتا ہے، امریکا کے ۱۹ ہوائی اڈوں پر ۴۰ کی تعداد میں نصب اور زیراستعمال ہیں۔ ۱۵۰ مزید نصب کیے جارہے ہیں، جب کہ امریکا کے ۴۵۰ ہوائی اڈے ہیں (۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء، progo.com)۔ اسی طرح سی این این نے ان تفصیلات کی تائید کرنے کے ساتھ یہ خبر دی ہے: ’’۲۰۱۱ء تک پورے امریکا میں یہ مشین لگا دی جائیں گی۔ (۱۱ جنوری ۲۰۱۰ء، cnn.com)
  • ایک جانب ’سفری حفاظت کی انتظامیہ‘ کے ترجمان کرسٹن لی نے یہ کہا ہے: ’’ہم یہ اقدامات سلامتی کی غرض سے کر رہے ہیں، ہمیں کسی مذہب یا قومیت سے کچھ نہیں لینا دینا‘‘ (۴جنوری ۲۰۱۰ء،cnn.com)۔ دوسری طرف دنیا کی معروف اخباری ایجنسی اے ایف پی  کے مطابق: ’’جن ممالک کے باشندوں کو خاص طور پر ان مشینوں کے ذریعے دیکھا، پرکھا اور ریکارڈ کیا جارہا ہے، ان میں شامل ہیں: سعودی عرب، پاکستان، ایران، سوڈان، شام، افغانستان، الجزائر، عراق، لبنان، لیبیا، صومالیہ، یمن، نائیجیریا اور کیوبا‘‘ (france24.com)۔ امریکی ٹیلی ویژن سی این این نے ۴ جنوری ۲۰۱۰ء کو انھی ممالک کے نام ایک اعلیٰ امریکی افسر کے حوالے سے دہراے ہیں۔ [یاد رہے کہ ان میں۱۳ مسلم ممالک کی کل آبادی ۷۰ کروڑ نفوس پر مشتمل ہے]
  • امریکی مسلمانوں کی تنظیم ’کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز‘ (CAIR) کے نیشنل ایگزیکٹو نہاد عواد (Nihad Awad) نے اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی این این کو بتایا: ’’ان اسکینروں کی تنصیب کے تحت مسلم اکثریتی آبادی رکھنے والے ۱۳ممالک کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پھر ان میں سے بھی خصوصی ہدف وہ لوگ ہیں، جو اَب امریکی قومیت اختیار کرچکے ہیں، مگر ان کی پیدایشی اور نسلی شناخت ان ۱۳ ملکوں سے منسوب ہے۔ یوں نسلی اور اعتقادی سطح پر وہ بجاطور پر مسلم دنیا سے فطری اور روحانی وابستگی رکھتے ہیں۔ اس بندوبست کے بعد یہ امریکی مسلمان جب کبھی کبھار اپنے پیدایشی ملک میں عزیزوں سے ملنے جائیں گے تو ایسی تضحیک کا ہدف بنیں گے، اور وہ بھی خودبخود مذکورہ تذلیل کا نشانہ بنیں گے جو حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب کا سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچیں گے‘‘ (۴جنوری ۲۰۱۰ء، cnn.com)

مغرب کے خوف زدہ حکمرانوں نے دنیا بھر میں ایک ہسٹیریائی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ اسی کیفیت میں وہ اپنے مذموم سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ کرتے اور اعلیٰ انسانی اور تہذیبی اقدار کو کچلے جارہے ہیں۔ اُوپر مذکورہ اسکیننگ مشینوں کے اس استعمال کا مطلب یہ ہے کہ:

                ۱-            اہلِ مغرب کے خیال میں حیا اور انسانی حق خلوت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

                ۲-            خاص علاقے اور نشان زدہ مذہب کے لوگ اہلِ مغرب کی نظر میں ملزم کا درجہ رکھتے ہیں۔

                ۳-            مغربی حکمرانوں کو بلاروک ٹوک یہ حق حاصل ہے کہ وہ اقتدار اور قوت پر قابض ہونے کی بنیاد پر، جب، جس طرح اور جس پیمانے پر چاہیں___ انسانی جان، مال اور آبرو پر حملہ کرسکتے ہیں۔

                ۴-            اپنے اقتدار کی بھیک مانگنے والے مسلم حکمران، مغرب کی ظالم حکومتوں کے اندھے، بہرے اور وحشی قوانین کے نفاذ ہی کو ’روشن خیالی‘ تصور کرتے ہیں۔

کیاانسانی تاریخ نے کبھی پہلے بھی یہ منظر دیکھا تھا؟ کیا جنگل میں درندوں نے بھی کبھی ایسے ظالمانہ اختیار کو استعمال کیا تھا؟ کیا اکیسویں صدی کا انسان اتنا بے بس، مجبور اور مقہور ہے کہ چند انسان، چند ادارے اور چند مشینیں انھیں مَسل کر رکھ دیں۔ اور اگروہ اُف بھی کریں تو انھیں وحشی، غیرمہذب، تہذیب دشمن، تنگ نظر اور دہشت گرد کہہ کر، ان کا منہ بند کردیں؟ کیا ایسے  توہین آمیز اقدامات کے نتیجے میں دنیا کو امن کی فضا مل جائے گی؟ معمولی سی بھی عقل رکھنے والے انسان کا جواب ہوگا: ’نہیں‘___ یہ انسانی تاریخ کا سبق ہے کہ ذلت، جبر اور ظلم کرنے والے    اگر ایک دروازہ بند کرتے ہیں توردعمل کے لیے مظلوم دس مزید دروازے کھول لیتے ہیں۔ اس لیے اگراصلاح اور انسانیت کی فلاح مطلوب ہے تو پھر قوموں کے حق حکمرانی کا احترام کیا جائے، ان پر جارحیت و استعماریت ختم کی جائے تو خود بخود ’خوف‘ کے یہ بادل چھٹ جائیں گے۔

اندریں حالات بے حیائی، تذلیل اور ظلم کے اس بندوبست کو مسلم دنیا کا شدید ترین احتجاج ہی روک سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ مسلم دنیا میں اس حوالے سے لاتعلقی،بے بسی، یا چشم پوشی کا رویہ ایک عذاب کی صورت مسلط ہے۔ ہاں، البتہ امریکا کے بالکل قریب ایک چھوٹے سے کمیونسٹ ملک کیوبا نے ۶جنوری ۲۰۱۰ء کو ضرور امریکا سے احتجاج کیا ہے، یا پھر ایک بے بس عراقی مسلمان خاتون نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اس تقابلی صورت حال کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا میں مذکورہ مسئلے پر باخبر کرنے کی مہم چلائی جائے۔ احتجاج منظم کیا جائے اور علمی وفکری سطح پر شرفِ انسانیت کے بھولے سبق کو یاد دلایا جائے، کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، جانور نہیں!

مسلم دنیا کی سیکولر قوتوں کا عجب معاملہ ہے۔ دنیا بھر کے وسائل، بڑی طاقتوں کی سرپرستی اور ذرائع ابلاغ کی معاونت کے باوجود، میدان میں کھلے اور پُرامن مقابلے سے جی چرانا ان قوتوں کا کلچر ہے۔ ریاستی مشینری پر قبضہ جماکر مدمقابل قوتوں کو باندھ کر اُکھاڑے میں اُترنا،ان سورمائوں کا طرزِ حکمرانی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کا ہے۔

وہ عوامی لیگ جو پاکستان توڑنے کے لیے بھارت کی فوجی امداد کے ساتھ میدان میں اُتری، اب اسی عوامی لیگ نے مقامی ہندو آبادی کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک اور   اوچھا ہتھکنڈا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایک جانب مغربی ملک سویزرلینڈ میں اینٹوں سے بنے چند فٹ بلند میناروں سے یورپی سیکولرزم لرزہ براندام ہے تو دوسری جانب بنگلہ دیش جیسے مشرقی اور مسلم اکثریتی ملک میں لفظ اسلام کی پہچان سے کام کرنے والی سیاسی یا دینی پارٹیوں کا وجود ناقابلِ قبول ہے۔ کیا یہ اتفاقِ زمانہ ہے یا شرارِ بولہبی کی نفرت بھری آگ؟

عوامی لیگ نے اگرچہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لیے ہندوئوں، کمیونسٹوں اور بھارت کی مدد لی تھی، مگر اس پارٹی کے دل میں یہ خوف گہری جڑیں پیوست کرچکا ہے کہ اس نے اسلامیانِ بنگال سے بے وفائی کرکے اسے بھارت کا طفیلی ملک بنایا ہے، سو اس کے خلاف ردعمل بہرحال اسلامی قوتوں ہی کی جانب سے اُٹھے گا۔ اس لیے ان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کرنے کے بعد اگست ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیش کی منظم ترین اسلامی پارٹی: جماعت اسلامی کے کارکنوں پر ۳۷ سال پہلے سقوطِ مشرقی پاکستان کے دنوں میں پاکستان کا ساتھ دینے کے اقدام کے خلاف مقدمے چلائے گی۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد بدترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والی عوامی لیگ سے کچھ اور بن نہ پایا تو اس نے اعلان کر دیا: بنگلہ دیش میں کوئی پارٹی، مذہبی پہچان کا نام نہیں    رکھ سکے گی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ۴؍جنوری ۲۰۱۰ء کو عوامی لیگ حکومت کے وزیرقانون شفیق احمد نے کہا: ’’سپریم کورٹ نے ۵ویں ترمیم کو غیر قانونی قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو قانون سے ماورا قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں جو پارٹی بھی مذہبی پہچان کا نام رکھے گی، اس پر پابندی عائد کردی جائے گی‘‘۔ اس اعلان پر بنگلہ دیش کے عام شہری ششدر رہ گئے۔

وہ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی بنیاد دوقومی نظریے پر وجود پانے والی تقسیم بنگال کے فیصلے پر رکھی گئی ہے۔ دو قومی نظریے کا مرکزی نکتہ ہی یہ ہے کہ مسلم اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، اور اسی مقصد کے حصول کے لیے ۱۹۰۶ء میں خود ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ گویا کہ اس آزادی کو وجود بخشنے والی پارٹی کا نام ہی مذہبی پہچان، یعنی ’مسلم‘ کے لفظ سے موسوم ہے۔ پہلے پہل، یعنی قیامِ پاکستان کے بعد انھی بنگالی قوم پرستوں کا ایک دھڑا جب مسلم لیگ سے الگ ہوا تو اس نے اپنا نام ’عوامی مسلم لیگ‘ رکھا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہندوئوں کے زیراثر لفظ ’مسلم‘ کو اُڑا کر اسے عوامی لیگ بنا دیا۔

خود عوامی لیگ بھی یہ جانتی ہے کہ ۹۱ فی صد مسلم آبادی کے اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے کسی مذہب کے حوالے سے کوئی سیاسی پارٹی موجود نہیں ہے، اور بجاطور پر مسلمان وطن عزیز کی بنیاد اور پہچان کی مناسبت سے اپنی پارٹیوں کے ناموں میں ’اسلام‘، ’مسلم‘، ’اسلامی‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جو ان کا آئینی اور دنیابھر میں مانا ہوا مسلّمہ حق ہے۔ اس خانہ زاد فیصلے کی روشنی میں، جو بہرحال سیاسی دبائو میں کیا گیا ہے، عوامی لیگ چاہتی ہے کہ دنیا میں آبادی کے   لحاظ سے تیسرے سب سے بڑے مسلم ملک میں مذکورہ پارٹیوں پر پابندی عائد کرے۔

’اسلام‘ نہ عوامی لیگ کا وضع کردہ ہے اور نہ لفظ ’مسلمان‘عوامی لیگ کی ٹکسال میں گھڑا گیا ہے۔ یہ لفظ اللہ، اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن عظیم نے عطا کیا ہے اور انھی   کے احکام کی اِتباع میں دنیا کے گوشے گوشے میں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اسلام اپنا ایک مکمل نظامِ عبادات، بھرپور نظامِ فکر، قابلِ عمل نظام زندگی رکھتا ہے۔ جس کے نفاذ کی کوشش کرنے اور  ان کی تنظیم و رہنمائی کے لیے اجتماعی کوششوں کی پہچان بہرحال اسلام،اسلامی اور مسلم وغیرہ الفاظ ہی سے متعین ہوگی۔ اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ چند سیاسی طالع آزما اپنے دل کے چور کی تسکین کے لیے اسلامیانِ عالم اور اسلامیانِ بنگلہ دیش اپنے حقِ شناخت سے دست بردار ہوجائیں؟

دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیرقانون کے اسی بیان میں یہ حصہ متضاد حوالہ رکھتا ہے کہ: ’’دستور کے آغاز میں ’بسم اللہ‘ اور ریاست کے مذہب کا ’اسلام‘ ہونا برقرار رکھا جائے گا‘‘۔ ایک جانب اسلامی پہچان کے ناموں سے پارٹیوں پر پابندی اور دوسری جانب ان دو چیزوں کو برقرار رکھنے کی بات، اسلامیانِ بنگلہ دیش کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ دراصل وزیرموصوف کے  اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی لیگ، اسلامی افکار و اقدار کی علَم بردار جماعتوں کو قومی زندگی اور سیاست سے باہر نکال دینے کے شیطانی منصوبے پر عمل کرنا چاہتی ہے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے اس اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’اگر بہت سے نظریات پر مشتمل سیاسی پارٹیاں کام کرسکتی ہیں تو صرف اسلام کے مقاصد حیات اور طرزِ زندگی کو پیش کرنے والی پارٹیوں پر کیوں پابندی لگائی جائے گی؟ خود بنگلہ دیش کے ہمسایے میں بھارت اور یورپ کے کتنے ممالک میں، برطانیہ و جرمنی میں مذہب کی شناخت سے پارٹیاں برسرِکار ہیں۔ اس لیے ایسی کوئی بھی حکومت، جو جمہوریت اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہو، بنگلہ دیش میں اسلامی پارٹیوں پر پابندی عائد نہیں کرسکتی، جہاں متعدد پارٹیاں سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ یہ ایسا ملک ہے جس کے شہریوں نے جمہوریت کے پودے کو سینچنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس لیے یہاں کے شہری ایسے کسی غیرجمہوری فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے‘‘۔

پاکستان میں پالیسی سازی پر وقتی، ہنگامی اور عارضی اقدامات کا سایہ مدتوں سے چھایا ہوا ہے۔ پہلی تعلیمی کانفرنس نومبر،دسمبر ۱۹۴۷ء نے جو رہنما اصول متعین کیے تھے، اگر انھیں خوش دلی سے اپنا لیا جاتا اور راستہ بنانے کی کوشش کی جاتی تو تیرہ بختی سے بچاجاسکتا تھا، مگر تعلیم، بدقسمتی سے ثانوی درجے کا موضوع ہی رہا۔ پیپلزپارٹی کی چوتھی حکومت نے ۹ستمبر ۲۰۰۹ء کو جو تعلیمی پالیسی منظور کی ہے، اس کا مطالعہ سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس میں متعدد مثبت چیزیں ہیں، کئی منفی چیزیں ہیں اور بہت سی چیزیں غیرواضح اور مبہم ہیں۔

  •   پالیسی کے پہلے باب میں تسلیم کیا گیا ہے: ’’اہلِ پاکستان کی اکثریت اپنی تہذیب و ثقافت اور اسلام سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ اس لیے نظامِ تعلیم کو سماجی، ثقافتی اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے مضبوط بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ پاکستان کے نظامِ تعلیم کی حقیقی اساس مذہب اور ایمان پر ہی قائم ہوسکتی ہے‘‘ (ص ۹)۔ آگے چل کر کہا گیا ہے: ’’اسلامی اقدار کی اہمیت کو یہ پالیسی تسلیم کرتی ہے، جس کے تمام عناصر اس امر کا پاس و لحاظ رکھیں گے کہ دستورِ پاکستان کے آرٹیکل ۲۹، ۳۰، ۳۱، ۳۳، ۳۶، ۳۷ اور ۴۰ کی روح کے مطابق اس عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ یہی ضابطے قابلِ فخر پاکستانیوں اور دین اسلام پر مضبوط ایمان اور عمل کے ساتھ پاکستانی ثقافت اور معاشرت کی اعلیٰ قدروں کو ترقی دے سکتے ہیں‘‘۔ (ص ۹)

اسی سلسلۂ کلام کو باب چہارم میں ’اسلامی تعلیم‘ کے زیرعنوان زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان (ص۳۱-۳۳) کیا گیا ہے: ’’اسلامی نظریہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیادوں میں موجود ہے، جس کی وضاحت قرارداد مقاصد ۱۹۴۹ء میں کر دی گئی ہے اور اسی قرارداد مقاصد نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور بنایا ہے، جو اس امر کا اہتمام کرے گا کہ اہلِ پاکستان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات اور قرآن وسنت کے مطابق بنائیں۔ قرآن کی تعلیمات اور اسلامیات کو لازمی بنایا جائے۔ عربی زبان کی ترویج کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں‘‘ (ص ۳۱)۔ ’’اسلامی تعلیمات کو نصاب میں سمونے کے علاوہ، ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ ثانوی درجے تک اسلامی تعلیمات اور نظریۂ پاکستان کو بامقصد طریقے سے پڑھایا جائے گا‘‘۔ (ص ۳۲)

پالیسی کے ’منصوبہ عمل‘ میں وعدہ کیا گیا ہے: ’’اسلامیات کی تدریس میں اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ مسلمانوں کے تمام بچوں کو اسلام کے بنیادی اصولوں اور قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے گا‘‘ (ص ۳۲)۔ درجہ اول سے کلاس ہفتم اور پھر گریجوایشن اور پیشہ ورانہ اداروں تک، اسلامیات لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جائے گی (کلاس اول اور دوم میں مربوط مضمون اور کلاس سوم سے اگلے درجوں تک اسے الگ مضمون کی حیثیت دی جائے گی)۔ اسلامیات کا اعلیٰ نصاب نویں، دسویں اور گیارہویں بارہویں جماعت میں بطور اختیاری مضمون بھی دستیاب ہوگا‘‘ (ص ۳۲)۔ اس کے ساتھ نصابی تقسیم کی تفصیلات درج ہیں، جن میں: قرآن، عبادات، سیرتِ طیبہ، اخلاقیات و حُسنِ سلوک، حقوق العباد شامل ہیں۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے: ’’تربیت اساتذہ اور تربیت کے دوسرے اداروں کے نصاب میں اسلامی تعلیمات کو حصہ بنایا جائے گا۔ اس امر کا خصوصاً خیال رکھا جائے گا کہ نصابی اور تدریسی لوازمے میں اسلامی تعلیمات اور ضابطوں کے بارے میں متنازع فیہ چیزیں شامل نہ ہوں۔ غیرمسلم طلبہ کو اسلامیات کے متبادل کے طور پر اخلاقیات کی تعلیم دی جائے گی‘‘۔ (ص ۳۳)

واقعہ یہ ہے کہ اس امر کا تفصیل سے اعلان کر کے وفاقی حکومت نے عوامی اُمنگوں کی بجاطور پر پاسداری کی ہے، جس کی تحسین کرنا اور اس اعلان کو تقویت دینا ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جنرل مشرف دور کی تعلیمی پالیسی دستاویزات، وائٹ پیپرز اور پھر ۲۰۰۸ء سے ۲۰۰۹ء تک تعلیمی پالیسی کی جاری کردہ دونوں دستاویزات رسمی طور پر بھی ایسے کسی اعلان اور عزم سے کوسوں دُور تھیں۔ حکومت نے اپنی آئینی ذمہ داری اور عوام کے مطالبے کو تسلیم کر کے بجاطور پر ان عزائم کو پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ تاہم، اس ضمن میں دو قابل توجہ پہلو ضرور ہیں: پہلا یہ کہ اس امر کی جانب کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ اعلیٰ طبقاتی تعلیمی سسٹم (جس کا تعلق بیرونِ پاکستان امتحانی نظام سے ہے) میں اسے کس طرح سمویا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں کیا ’معیاری یا کوالٹی کی تعلیم‘پانے والے طالب علم، اس فیصلے سے فارغ البال ہی رہیں گے۔ سو،اس جانب عملی اقدامات کے لیے وضاحت سے بات آنی چاہیے۔

دوسری قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سیکولر اور نام نہاد ’روشن خیال اقلیت‘ کو اس پالیسی کے انھی حصوں نے سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی ہے، جس میں پاکستان کی نظریاتی بنیاد اور اسلامی تعلیم کے حوالے سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ مثلاً پالیسی کا اعلان ہونے کے اگلے روزانگریزی روزنامہ ڈان نے اداریے میں لکھا (۱۱ستمبر): آخرکار تعلیمی پالیسی کا اعلان کردیا گیا ہے، لیکن بہت سی تعلیمی این جی اوز اس پر خوش نہیں ہیں، کیونکہ انھوں نے اصلاحِ تعلیم کے لیے جو تجاویز دی تھیں وہ اس کا حصہ نہیں بنائی گئیں۔ پالیسی بنانے والوں نے پیشہ ور عناصر کی آرا پر توجہ دینے کے بجاے سیاسی اپروچ کو ترجیح دی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی اس پر بحث کرے اور میڈیا اس بحث کو اُبھارے۔ پالیسی کا وہ پہلو اپنے اندر گہرے مضمرات رکھتا ہے، جس میں نظریاتی آہنگ کی بات کرتے ہوئے اسے دستاویز میں سمویا گیا ہے۔ نصابات میں اسلامی تعلیم کا اہتمام سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ ہم روشن خیالی کو پروان چڑھانے کی توقع رکھتے تھے، مگر یہاں پر تو معاملہ دوسرا سامنے آیا ہے۔ (قرآنی سورتوں کو) حفظ کرانے پر تو زور دیا گیا ہے مگر مذہب کے نام پر فہم بڑھانے کی بات نہیں کی گئی‘‘۔ [ظاہر ہے آخری چند سورتیں تو یاد ہی کی جائیں گی اور فہم دین کو بڑھانے کے لیے پالیسی میں وضاحت موجود ہے، جسے اخبار نے دانستہ نظرانداز کیا ہے]۔ اسی طرح انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز نے اداریے (۱۱ستمبر) میں لکھا ہے: ’’اسلامیات اور مطالعہ پاکستان، پاکستان کو بھرپور طریقے سے مذہبی رنگ دینے والے ایک جیسے مضامین ہیں، جن کا ایک بار پھر اعلان کردیا گیا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جو پہلے ہی انتشار کا شکار ہے، اس میں ایسے مضامین کو اس مفروضے پر شامل کیا جا رہا ہے کہ شاید عقیدے کی تلقین پر اندھادھند زور نہ دینے کے نتیجے میں یہ انتشار پیدا ہوا ہے، حالانکہ یہ درست اپروچ نہیں‘‘۔

  •  طبقاتی نظامِ تعلیم کی وجہ سے امیر اور غریب طبقے کے درمیان خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے: نادار بچوں کا حد سے بڑا احساس عدمِ تحفظ اور امیر بچوں میں آسمانوں کو چھوتا احساسِ برتری، نفرت کی آگ پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ اس میں بنیادی کردار تعلیم ادا کر رہی ہے۔ پالیسی دستاویز میں جابجا اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ نجی شعبے کی ترقی کا موجودہ رُخ اس فساد کو بڑھا رہا ہے، لیکن اس پر کوئی معقول قدغن لگانے یا تحدید کرنے کا کوئی بامعنی نظام تجویز کرنے کے بجاے، اُلٹا اسی نجی شعبے کو پروان چڑھانے کا پیغام دیا گیا ہے۔
  •  اسی طرح اس پالیسی کا سب سے کمزور پہلو یکساں نظامِ تعلیم کی وضاحت سے منسلک ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو سمجھنا نہیں چاہتے۔ یکساں نظامِ تعلیم سے مراد نصاب، امتحان، ذریعۂ تعلیم اور سہولیات میں یکساں معیار پیش کرنا ہے۔ جس کے بعد ہر ادارہ اور ہر فرد اپنی صلاحیت کے مطابق اس میں اضافہ کرنے کی آزادی برت سکے۔ مگر یہاں پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرملکی امتحانی نظام سسٹم کو برقرار رکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے کہ ہم یکساں نظامِ تعلیم کی جانب بڑھ رہے ہیں تو یہ خود فریبی ہے۔ یکساں نظامِ تعلیم کے لیے لازم ہوگا کہ اس غیرملکی امتحانی سسٹم کو بے دخل کر کے اپنے امتحانی نظام کو بہتر اور مؤثر بنایا جائے۔ نصاب کو جامع اور سہولیات کو وافر تعداد میں مہیا کیا جائے۔ لیکن اگر یہ چیزیں نہیں ہوتیں تو محض یہ کہہ دینا کہ ہم اپنے نصاب کو اے لیول تک پہنچا کر دم لیں گے، دیوانے کی بڑ سے زیادہ وزن نہیں رکھتی، کیونکہ اُس نصابی سسٹم کے اپنے تقاضے ہیں، جنھیں پورا کرنا حکومت کے بس میں نہیں، البتہ اپنے سسٹم کو بنانا ممکن ہے۔
  •  ’ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم، کے باب میں اس تجویز نے تو اہلِ پاکستان کو چکرا کر رکھ دیا ہے کہ: ’’گیارھویں اور بارھویں جماعت کا تعلق اب کالج کی سطح پر تعلیم سے نہیں ہوگا، بلکہ اسے موجودہ ہائی اسکولوں میں ضم کردیا جائے گا… تفصیلی مطالعے اور جائزے کے بعد اس فیصلے پر عمل کیا جائے گا، کہ اس نوعیت کی کوششیں ماضی میں ناکام کیوں رہیں‘‘ (ص ۳۸)۔ یہاں پر ڈیڑھ سو سال کی اس تعلیمی انتظامی تقسیم کو بہ یک جنبش قلم ختم کرنے کی خواہش کے پیچھے کم علمی یا حد سے بڑھی مرعویت اور مغرب زدگی کارفرما ہے۔

یہ چند سو انگریزی میڈیم اسکولوں کا شاخسانہ ہے کہ اہلِ حل و عقد کو چاروں طرف اُسی نوعیت کی چیزیں بھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ بارھویں تک کلاسوں کو ہائی اسکولوں کے سپرد کرنے کی تجویز کے پیچھے کسی باقاعدہ مطالعے کو پیش نہیں کیا گیا۔ چونکہ تجویز کنندگان برطانوی جی سی ای (A/O) سسٹم ہی سے واقف ہیں، اور وہ سسٹم بہرحال اسکول ہی میں بارھویں تک تعلیم کی ذمہ داری لیتا ہے، اس لیے انھوں نے یہاں کے لیے بھی اسی لاٹھی کو گھماکر بلاسوچے سمجھے تعلیمی معیار بلندکرنے کا خواب دیکھا اور زمینی حقائق کو بالکل ہی نظرانداز کردیا۔

یہاں بدقسمتی سے اسکول کی تعلیم پر خوف اور ڈر کے سایے حاوی رہتے ہیں۔جونہی  طالب علم اسکول سے نکل کر کالج کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اسے کچھ آزادی اورآسودگی نصیب ہوتی ہے۔ یہ چیز اس کی ذہنی ترقی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ تجویز اس فضا کا خاتمہ کر دے گی۔ پھر اسکولوں کی لائبریری، لیبارٹریاں، اساتذہ کی علمی اور تربیتی استعداد، ہرچیز میں موجود کمی کو نظرانداز کرکے یہ کہہ دیا ہے کہ انٹرکلاسوں کا کالج سے تعلق نہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ اسکولوں میں اتنے بڑے پیمانے پر کالج کے اساتذہ کو کس معیار پر تبدیل کرکے بھیجا جائے گا، یا ان اسکولوں کے لیے انٹر کے مزید اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کلاسیں ہائی اسکولوں میں چل سکیں گی یا نہیں چل سکیں گی، مگر یہ ضرور ہوگا کہ دو چار سال میں ایک نسل کے دو پورے گروپ تباہ کرنے کے بعد دوبارہ انھی کالجوں میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسوں کو لایا جائے گا۔ اس نوعیت کے اُلٹے تجربے اسی بے چارے قومی نظامِ تعلیم کے ساتھ روا رکھے جا رہے ہیں، اور اب تو وہ بھی عوامی نمایندوں کے ذریعے۔ مزید یہ بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کالجوں کی عمارات اور سہولیات سے کیا کام لیاجائے گا؟ پالیسی اس باب میں خاموش ہے۔ اگر چارسالہ ڈگری کورس کالجوں میں متعارف کرانا ہے تو اس کے لیے ۳۰ ارب روپے سے زیادہ رقم اور کم از کم چار سال کی تیاری درکار ہے۔ مگر ایسے کسی متبادل بندوبست کو بھی پالیسی میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کالج کی انٹرکلاسوں کو اسکولوں میں دفن کر کے کالجوں کی باقی عمارتیں، ڈیڑھ ارب سالانہ امریکی ڈالروں کے ذریعے ’سرکاری نجی شراکت‘ کے ہاتھوں این جی اوز یا پراپرٹی مافیا کی بھینٹ چڑھ جائیں گی (یاد رہے امریکا نے حکم دیا ہے کہ وہ یہ خطیر رقم حکومتی ایجنسیوں یااداروں کے ذریعے نہیں بلکہ امریکی سفارت خانہ براہِ راست پاکستان کے نجی اداروں کو دے گا۔ اور افسوس کہ کشکول بکف حکمرانوں نے یہ ذلت آمیز حکم نامہ بھی تسلیم کرلیا ہے)۔ ظاہر ہے کہ ڈگری کالج کی اتنی بڑی عمارت سو ڈیڑھ سو بی اے کے طالب علموں کے لیے مخصوص کرکے، باقی حصے کو بھوتوں کا مسکن تو نہیں بنایا جائے گا۔ اور جب اسکولوں سے انٹرکلاسیں خوار ہونے کے بعد آخرکار واپس کالج میں آئیں گی تو واقعی عالمی بھوتوں نے اس کالج کے خاصے بڑے حصے پر قبضہ جما لیا ہوگا اور ان کے ہاتھوں میں حکومت سے معاہدے کی دستاویزات ہوں گی، جنھیں آئینی تحفظ مل چکا ہوگا۔ یقین نہیں آتا کہ ایک عوامی جمہوری حکومت، تاک میں بیٹھے مفاد پرستوں کی اس سازش سے بے خبر ہوگی۔ یہ بھی درحقیقت اسی نوعیت کا تماشا ہے کہ کبھی نہم دہم اور گیارھویں بارھویں کا امتحان الگ الگ اور کبھی دو دو سال بعد، پھر چند برسوں بعد وہی سالانہ امتحان بورڈ کے تحت۔ یہ ظالمانہ تجربے اس جاں بہ لب سرکاری نظامِ تعلیم پر ہی کیے جاتے ہیں جیسے اس کا کوئی والی وارث نہ ہو، اور اعلیٰ طبقاتی تعلیمی نظام کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔

  •  اساتذہ کے حوالے سے بہت سی عملی تجاویز پالیسی میں درج ہیں۔ مثال کے طور پر: ’’دیہی اور دُور دراز علاقوں میں جانے والے اساتذہ کو اضافی الائونس دیے جائیں گے‘‘ (ص ۴۴)۔    یہ ایک درست قدم ہے۔ پھر یہ کہ ’’پبلک سروس کمیشن سے منتخب کردہ لیکچروں کو قبل از ملازمت ۶ماہ کی تدریسی تربیت دی جائے گی‘‘ (ص ۶۰)۔ اسی طرح متعدد مثبت تجاویز پیش کی گئی ہیں، لیکن تربیت اساتذہ کے بہت سے سرکاری اداروں کی موجودگی میں: ’’تربیت اساتذہ کے لیے ’سرکاری نجی شعبے کی شراکت‘ سے کام کرنے‘‘ (ص ۴۴) کی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ دراصل اس ’معصوم‘ تجویز کے ذریعے تربیت اساتذہ کے سیکڑوں ادارے، این جی اوز اور نجی شعبے کے دست برد میں آجائیں گی (یاد رہے کہ ان اداروں کی نہایت قیمتی جگہیں، عمارتیں اور ہاسٹل شہروں کے قلب میں واقع ہیں)۔ یوں بڑی تیزی سے تربیت اساتذہ کا شعبہ بھی کسی یو ایس ایڈ یا ان کی کسی این جی او کے ذریعے عالمی ساہوکاری کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ مناسب صورت یہی ہے کہ ان سرکاری تربیتی اداروں کے نصاب، معیار اور سہولتوں کو بہتر بناکر اساتذہ کو تربیت دی جائے، اور نجی شعبے کے تعاون کی مذکورہ کثافت سے قوم کو محفوظ رکھا جائے۔
  •  تعلیمی اداروں میں طالب علموں کی منتخب یونینوں کے قیام کا مطالبہ ایک مدت سے اٹھایا جا رہا ہے۔ فروری ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیاء الحق کی مارشل لا حکومت نے معیارِ تعلیم میں بلندی اور تعلیمی اداروں میں تصادم کی فضا ختم کرنے کے دعوے سے یہ پابندی عائد کی تھی۔ مگر حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی حلقوں نے اس پابندی کے نتیجے میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بجاے، اسے: تعلیمی نج کاری، نجی شعبے کی گرفت کو مضبوط بنانے، تعلیم کے نام پر لوٹ کھسوٹ کے عمل کو تیز کرنے، فیسوں میں من مانے اضافے کرنے، ورلڈ بنک کے ’تعلیمی ذمہ داری سے دُور بھاگو‘ منصوبے پر عمل درآمد اور تعلیمی ذمہ داری سے حکومت کے فراری رویے کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا۔ ۲۰۰۷ء میں پیپلزپارٹی نے انتخابی منشور میں وعدہ کیا کہ وہ اسٹوڈنٹس یونین کے ادارے کو بحال کرے گی، تاہم اس سمت میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ زیربحث پالیسی دستاویز میں اس وعدے کو ایفا کرنے کی نیت کا ان الفاظ میں اظہار کیا گیا ہے: ’’ایک ضابطہ اخلاق تجویز کیا جائے گا، جس کے تحت اسٹوڈنٹس یونین تعلیمی اداروں کا ماحول متاثر کیے بغیر صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دے سکے گی‘‘(ص ۴۹)۔ گویا کہ فیصلہ اب بھی بحالی کا نہیں ہوا، اور نہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسٹوڈنٹس یونین صرف سرکاری اداروں میں کام کریںگی یا ان کا انعقاد نجی تعلیمی اداروں اور نجی یونی ورسٹیوں میں بھی ہوگا؟ اگر یہ صرف سرکاری شعبے تک محدود رکھی جاتی ہیں تو اس ادارے کی بحالی کا مقصد فوت ہوجائے گا۔
  •  نصابی اصلاحات کے باب میں یہ بات درست نہیں ہے :’’۲۰۰۵ء میں اسکولوں کے نصاب کے جامع تجزیے کا کام شروع کیا گیا، جس میں پہلی سے ساتویں جماعت تک کے ۲۵بنیادی مضامین کا جائزہ لیا گیا‘‘ (ص ۴۴)۔ درحقیقت نصابی جائزے کے اس عمل پر ماہرین تعلیم کو شدید اختلاف اور بجا طور پر ذہنی تحفظات تھے کہ یہ آئینی طریقے اور ضابطے کی کارروائی سے ہٹ کر، مخصوص لابی کا عمل تھا۔ جس نے تاریخ، اخلاق اور متن کے حوالے سے شدید خرابیاں پیدا کردی تھیں، ایسے متنازع عمل کی تحسین ایک نامناسب قدم ہے۔ تاہم پالیسی ایکشن کے تحت یہ درست بات کہی گئی ہے: ’’نصابی ترقی اور تجزیے مع نصابی کتب کے جائزے کا کام ۱۹۷۶ء کے تعلیمی ایکٹ کی روشنی میں کیا جائے گا‘‘ (ص ۴۵)۔ یہی درست طریق کار ہے، جسے ضابطے اور جمہوری روح کے مطابق روبہ عمل آنا چاہیے۔ آگے چل کر یہ کہا گیا ہے: ’’انٹرپراونشنل اسٹینڈنگ کمیٹی آن ٹیکسٹ بک پالیسی قائم کی جائے گی جو متعلقہ معاملات کی نگرانی کرے گی‘‘ (ص ۴۷)۔ ایسی کمیٹی لازمی طور پر تضیع اوقات، پیچیدگی اور بے جا اختلاف کو پیدا کرنے کا سبب بنے گی، موزوں طریقہ وہی ہے کہ: ’’۱۹۷۶ء کے فیڈرل سپرویژن آف کریکولا، ٹیکسٹ بکس اینڈ مینٹی ننس آف سٹینڈرڈز آف ایجوکیشن ایکٹ کے دائرۂ عمل کو بروے کار لایا جائے گا‘‘۔
  •  ’’وسائل کو تعلیم کی طرف موڑنے کے لیے: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘‘ (ص ۲۰) پر زور دیا گیا ہے۔ یہ تجویز ایسی دو دھاری تلوار ہے کہ جس میں اُونٹ کی زبردستی والی کہاوت کے صادق آنے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ مناسب یہی ہوگا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو سرکاری انتظام ہی میں وسائل اور سہولیات کی فراہمی کا اہتمام کیا جائے اور نجی شعبے کو کسی ضابطے کے تحت اور ریاستی قوانین کی پاس داری کرتے ہوئے تعلیمی خدمات میں حصہ ادا کرنے کو کہا جائے۔ لیکن یہ سرکاری اداروں میں نجی شعبے کی شراکت، بیرونی مداخلت اور آخرکار قبضے کا راستہ کھولے گی اور سرکاری شعبہ رفتہ رفتہ سکڑ کر رہ جائے گا اور خود حکومت بھی یہ سمجھ کر چپ سادھ لے گی کہ چلیں ادارے کا نظام کسی نہ کسی شکل میں نجی شعبہ چلا رہا ہے، اس لیے اس کو چلنے دیا جائے، مگر یہ جان چھڑانے والا رویہ درست نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی تعلیمی اثاثہ جات کی حفاظت کرے اور انھیں ترقی دینے کے لیے موزوں حکمت عملی ترتیب دے، نہ کہ این جی اوز کو سپرد کر کے پُرسکون ہوبیٹھے۔
  •  ’’یونی ورسٹیاں چارسالہ مربوط ڈگری پروگرام متعارف کرائیںگی‘‘ (ص ۵۹)۔ یہ عجیب شتر گربگی ہے کہ پاکستان میں بہ یک وقت دو سالہ اور چار سالہ ڈگری پروگرام چل رہے ہیں۔ اگر چار سالہ پروگرام چلانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو اسے مناسب تیاری کے ساتھ پورے ملک میں بہ یک وقت شروع کرنا چاہیے، لیکن اگر اس کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں تو پھر انھیں محض چند  یونی ورسٹیوں کی مرضی پر چھوڑ دینا مناسب نہیں ہوگا (چار سالہ ڈگری کورسوں کا متعدد اداروں میں جو حشر ہو رہا ہے، اگر اس کا تحقیقی مطالعہ کیا جائے تو عقل دنگ رہ جائے گی)۔ گویا کہ مہنگے تعلیمی اداروں میں فیس دینے والا چار سالہ کورس پڑھے اور غریب و نادار دو سالہ ڈگری پروگرام پاس کر کے بے کار بیٹھے۔ یہ ہماری تعلیمی زندگی کا نہایت اہم پہلو ہے، جس میں لاکھوں طالب علم معلق ہوکر رہ گئے ہیں۔
  •  ’’فرار ذہانت (brain drain) پاکستان کا سخت تکلیف دہ مسئلہ ہے‘‘ (ص ۵۷)۔ پالیسی میں یہ نوحہ تو لکھ دیا گیا ہے، مگر پوری پالیسی درحقیقت تیاری ہی اس چیز کی کر رہی ہے کہ پاکستان سے انسانی جوہرخالص فرار ہوجائے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ اعلیٰ طبقاتی تعلیمی ادارے ایسی نسل کو تیار کرنے میں ناکام ہیں جو تعلیم حاصل کر کے پاکستان میں رہنا پسند کرے۔ یہ اے /او لیول کے فارغ التحصیل  طالب علم اپنی تعلیم کے ابتدائی زمانے ہی سے پیرس، لندن اور شکاگو کے خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، اور پھر ان کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لیے ہمارے پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے معاون بھی ثابت نہیں ہوتے۔ یوں بڑی خوشی سے پڑھی لکھی سستی لیبر ہر سال باہر دھکیل دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’فرار ذہانت‘ کے المیے سے نمٹنے کے لیے قومی تعلیمی پالیسی کو نہ صرف مضبوط، توانا اور ترقی یافتہ بنانے والی دستاویز کی شکل دی جائے بلکہ اسے اسلامی اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار بھی کیا جائے۔ مگر افسوس کہ خود حکمران طبقہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کے اعلیٰ طبقاتی نظامِ تعلیم کی طرف کوئی انگلی اُٹھائے۔ تعلیمی پالیسی کے اعلان ہونے کے دوسرے روز پاکستان کے ایک دانش ور نے وفاقی وزیرتعلیم سے کہا: ’’جناب سرکاری تعلیمی ادارے اس وقت درست ہوجائیں گے جب مقتدر طبقہ، سیکرٹری حضرات اور ارکانِ پارلیمنٹ و وزرا اپنے بچوں کو ان اداروں میں پڑھنے کے لیے بھیجیں گے‘‘۔ اس پر جناب وزیرتعلیم ہزارخاں بجارانی نے فوراً کہا: ’’ہم اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں نہیں بھیج سکتے‘‘(روزنامہ جنگ، ۱۱ستمبر ۲۰۰۹ء)۔ ان کا یہ بے ساختہ ردعمل ہی قومی تعلیمی نظام کے بارے میں حکمرانوں کی سنجیدگی کو ظاہر کردیتا ہے۔
  •  ذریعہ تعلیم کے مسئلے کو بھی اس پالیسی میں ابہام کی نذر کیا گیا ہے۔ انگریزی کی اچھی تعلیم سے کوئی انکاری نہیں، لیکن جس انداز سے انگریزی کی تعلیم دی جارہی ہے، وہ قوم کو فاضل بنانے کے بجاے، محرومی، ناکامی اور مایوسی کے غار میں دھکیلنے کا ذریعہ ہے۔ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ ابتدائی زمانے ہی میں انگریزی کا بوجھ لاد دیا جائے۔ ابتدائی زمانے میں بچوں کو قومی زبان میں پڑھنے اور زیادہ دوستانہ ماحول میں سمجھنے کی سہولت دی جائے۔ قومی زبان میں دین، اخلاقیات، تاریخ، روایات، کلچر وغیرہ کے بارے زیادہ سے زیادہ ذخیرہ الفاظ، بچوں کی یادداشت کا حصہ بنا دیا جائے، تاہم جماعت ششم سے انگریزی کی تدریس کو زیادہ بہتر بنایا جائے۔ یہ چیز ان میں لیاقت پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔ محض انگریزی کے چند ابواب کو پانچویں تک پڑھا دینے سے انگریزی میں کوئی بہتر استعداد پیدا نہ ہوگی۔ لیکن افسوس کہ غیرحکیمانہ طریقے سے مسئلے کا حل یہی سمجھ لیا گیا ہے کہ انگریزی کو پہلی سے لازم کردیا گیا تو تمام دکھوں کا مداوا ہوجائے گا۔ یہ ایک غیرسائنسی اور غیرتعلیمی رویہ ہے۔ اس پالیسی میں بھی اسی کے آثار دکھائی دیتے ہیں جن پر نظرثانی ضروری ہے۔
  •  صحت، صفائی اور علاج معالجے کی بنیادی معلومات ایک پڑھے لکھے فرد کے لیے ضروری ہیں، تاہم اس ضرورت کے نام پر جب یہ کہا جاتا ہے: ’ایڈز اور خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں نصاب میں لوازمہ شامل کیا جائے گا‘‘ (ص ۴۵) تو بات دوسری سامنے آتی ہے۔ اور وہ یہ کہ اسکولوں کالجوں میں جنسی تعلیم دی جائے گی۔ ابھی یہ پالیسی لوگوں کے ہاتھ میں نہیں پہنچی کہ: ’’سندھ حکومت نے کالجوں میں جنسی تعلیم کے پروگرام پر عمل درآمد کی ہدایت کردی ہے‘‘ (روزنامہ ڈان، ۱۶ستمبر ۲۰۰۹ء)۔ کمرۂ تدریس میںیہ تفصیلات کس اسلوب میں بیان کی جائیں، اس پر کچھ زیادہ بحث کی ضرورت نہیں، البتہ ’روشن خیالی‘ کی ایک اور منزل ضرور سر ہوجائے گی۔
  •  اسی طرح زیرنظر تعلیمی پالیسی نے مسائل کا جامع حل پیش کرنے کے بجاے کوئی نصف درجن کمیٹیوں اور کمشنوں کی نوید سنائی ہے کہ جو مختلف مسائل کا حل پیش کریں گے۔اگر تمام اہم معاملات پر تحقیق اور فیصلے کرنے ابھی باقی ہیں، تو پھر اس ادھوری پالیسی کو پیش کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا باقی تمام مرکزی موضوعات (مثلاً ذریعہ تعلیم، نصاب، اسٹوڈنٹس یونین، امتحانی نظام، چارسالہ ڈگری وغیرہ) بعدازاں ایک سیکشن آفیسر کے آرڈر سے پالیسی بننے جارہے ہیں؟ اس ایڈہاک ازم کے بجاے مناسب ہوگا کہ پالیسی دستاویز کو ان معاملات کے حل کے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے، تاکہ جامع پیکج پر قوم کے نمایندے کوئی فیصلہ کرسکیں۔

پاکستان کا مستقبل محض تعلیمی تجربات و خوش کن اعلانات سے تابناک نہیں ہوسکتا۔ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پالیسی کو تشکیل دینا ہوگا۔ اسے مثالی پالیسی قرار دینا اس لیے ممکن نہیں کہ مختلف ٹکڑے غیرمربوط انداز سے جوڑکر پیش کر دیے گئے ہیں۔ تاہم، اس کے اچھے پہلو قابلِ تحسین ہیں اور مبہم یا منفی پہلوئوں میں بہتری لانی چاہیے۔ یاد رہنا چاہیے کہ یہ پالیسی کسی پارٹی کا وثیقہ نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کی امانت ہے، اور اسے قرار واقعی توجہ ملنی چاہیے۔ اس لیے حقائق کی دنیا سے اس پالیسی کا تعلق جوڑنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

 

انسانی معاشرہ کسی جامد چیز کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک زندہ وجود کا نام ہے۔ جس طرح انسان اچھی یا بُری چیز سے تاثر لیے بغیر نہیں رہتا، اسی طرح ایک معاشرہ بھی اچھی یا بُری قدروں سے لازماً متاثر ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھیں تو پاکستانی معاشرہ بھی ہر دو طرح کے رویوں سے اثرپذیری کا زندہ ثبوت پیش کرتا ہے۔ ایک جانب اگر اسلامی تہذیب، معاشرت اور اخلاقیات سے بغاوت اور اباحیت پسندی کا رویہ طوفان اُٹھا رہا ہے، تو دوسری جانب نمازِ جمعہ کی طرف رجوع، عمرے اور حج کا شوق، اعتکاف کے لیے تڑپ، نعت کی شبینہ مجالس کی کثرت، مذہبی اجتماعات اور مذہبی پارٹیوں سے وابستگی کا رجحان بھی روز افزوں ہے۔

دوسری طرف یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مذہبی شعائر پر عمل کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود، دینی اور اسلامی تہذیبی اقدار کے مخالف عناصر، ماضی کی نسبت کہیں زیادہ جارحیت اور  بے باکی کا رویہ اپنائے نظر آتے ہیں، اور ان کے مقابلے میں اسلامی اور تہذیبی اقدار کے علَم بردار طبقے اور افراد عمومی طور پر لاتعلق، بے حِس یا اس یلغار کے سامنے بے عمل نظر آتے ہیں، یعنی اکثریت بے بسی کی تصویر اور اقلیت جارحیت کے جذبے سے سرشار اور درجہ بہ درجہ آگے بڑھنے کی علامت۔ یہ تو نہیں کہ جارحیت کا جواب جارحیت سے دیا جائے، مگر یہ ضروری ہے کہ اسلامی تہذیبی اقدار پر اس جارحانہ یلغار کو جرأت، دلیل، بالغ نظری اور منظم طریقے سے بے نقاب کیا جائے۔مثال کے طور پر:

۱- ہمارے ہاں، نجی شعبے میں موجود سفری سہولتوں (کوچز، بسوں اور ویگنوں) میں اگرچہ پہلے تو ٹیپ ریکارڈر پر گانوں کے شور نے اذیت ناک صورت حال پیدا کر رکھی تھی، لیکن جب ٹرانسپورٹروں اور ڈرائیور حضرات نے دیکھا کہ معاشرے نے خاموشی کے ساتھ اس طوفانِ بدتمیزی کو ہضم کر لیا ہے تو اگلے قدم کے طور پر ان میں وی سی آر پر فلموں کی نمایش کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں ذرا جھجک تھی تو کچھ ڈراموں، کارٹون اور دستاویزی فلموں سے ابتدا کی گئی، مگر جلد ہی بھارتی فلموں اور گانوں کی نہ ختم ہونے والی ریکارڈنگ نے جگہ لے لی۔ آج حالت یہ ہے کہ کوئی معقول انسان اس بے حیائی کے ہم قدم سفر کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ان آلایشوں کے ساتھ سفر کرنا تو ناممکنات میں شامل ہوچکا ہے۔ انسان مجبوری کے تحت سفر کرتا ہے، غصہ پی کر  رہ جاتا ہے۔ اُس کی اس مجبوری پر آوارگی اور بے حیائی حملہ آور ہوتی ہے تو وہ بے بسی میں خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ دورانِ سفر اگر کوئی فرد ہمت کرکے کہہ بیٹھے کہ ’’ڈرائیور صاحب اسے بندکردیجیے‘‘، تو پہلے ڈرائیور صاحب اور پھر متعدد مسافر اس فرد کو یوں دیکھتے ہیں، جیسے یہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہے۔ ایک دو تو آوازہ بھی کس دیتے ہیں، حالانکہ اس کوچ میں اکثریت ان  لوگوں کی ہوتی ہے جو اسے دیکھنا نہیں چاہتے، مگر وہ سب غیرت اور حیا کو تھپک کر سلاتے اور پھر آنسو بہاکر شیطنت کا نظارہ کرنے یا اہلِ خانہ کو نظارہ کرانے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

ایسا ہی معاملہ بعض اوقات ان گانوں کی شکل میں سامنے آتا ہے، جنھیں ڈرائیور حضرات پوری آواز کے ساتھ مسافروں کے کانوں میں انڈیل رہے ہوتے ہیں، اور اس پر غضب یہ کہ نہایت لچر اور واہیات بول آگ برسا رہے ہوتے ہیں۔ مگر اپنی بے بسی کا ماتم کرتے ہوئے، مجسم غلامی کی تصویر سواریاں خاموشی سے سفر کرتی رہتی ہیں۔ اب مصیبت یہ دَر آئی ہے کہ چھوٹی ویگنوں میں بھی چھوٹی اسکرین پر گانے دکھانے اور دھماچوکڑی کا ظلم ڈھانے کا کلچر ترقی کر رہا ہے۔ یوں رفتہ رفتہ  یہ چیزیں ہماری سماجی زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہیں اور شرافت منہ چھپا کر کڑھنے کو اپنا نصیب قرار دے رہی ہے۔ کیا واقعی حیا اور شرافت کا مطلب بے بسی اور بے عملی ہے؟

۲- اسی طرح بڑے اور چھوٹے شہروں میں خواتین کے کپڑے فروخت کرنے والوں کی دکانوں پر عورتوں کی شبیہیں، بت یا ڈمّیاں (dummies) بہ کثرت دکھائی دیتی ہیں۔ ان    دکان داروں نے یہ تصور کرلیا ہے کہ ان بتوں کے سہارے ہی ان کا کاروبار چل سکتا ہے۔     ایسی اُمت کہ جس کے رسولؐ نے فتح مکہ کے موقع پر بتوں کو گرایا، انھی کے نام لیوا دولت کی ہوس کے لیے نہ صرف بتوں بلکہ شرمناک بتوں کا سہارا لیتے اور اسے ’کاروباری مجبوری‘ قرار دیتے ہیں    ؎

بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

اب سے ۲۵، ۳۰ سال قبل جن دکانوں پر ایسے ماڈل رکھے ہوتے تھے، لوگ انھیں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے اور توجہ بھی دلاتے تھے، مگر اب یہ ’ڈمی کلچر‘ اس پیمانے پر پھیل چکا ہے کہ بت شکن اُمت کی نئی نسل یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ شاید روزِ اوّل سے کاروبارِ زندگی میں یوں ہی ہوا کرتا تھا، حالانکہ یہ چیز حالیہ عشروں میں ہمارے ہاں زبردستی در آئی ہے۔ ان مظاہر کا سامنا کرتے ہوئے کوئی بھی معقول انسان نظریں نیچی کیے اور شرمندگی کے پسینے میں نہائے بغیر رہ نہیں سکتا۔

۳- خاص طور پر بڑے شہروں کے بس اسٹاپوں پر بعض اوقات یہ مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ کوئی خاتون یا طالبہ بس، ویگن کے انتظار میں کھڑی ہے۔ اچانک کسی کار یا موٹرسائیکل پر سوار کوئی مرد اسے گُھورتا، گاڑی کو کبھی آگے اور کبھی پیچھے کرکے، ایسی گھٹیا نظروں سے اشارے کرتا نظر آئے گا کہ بے چاری خاتون تو سہم جائے گی اور شرمندگی کے احساس میں کانپ رہی ہوگی، مگر   اسی بس اسٹینڈ پر کھڑے بیسیوں نوجوان، شریف اور باوقار مرد اس جارحانہ ڈرامے سے لاتعلق دکھائی دے رہے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ نہایت ضروری کام اور مجبوری کے ہاتھوں اگر کوئی شریف زادی سواری کا انتظار کرنے کے لیے اسٹاپ پر کھڑی ہے تو وہ ایسے توہین آمیز رویے کو کیسی بے بسی میں برداشت کرے گی اور شریف اکثریت، ریت میں منہ دھنسائے اپنی راہ لے گی؟ کیا غنڈا کلچر کے سامنے شرافت نے یوں ہی زندگی بسر کرنی ہے؟

۴- کیبل سروس کے ذریعے بیسیوں چینل ایک انگوٹھے کی ضرب سے تمام برے بھلے پروگراموں کے ذریعے ٹیلی ویژن اسکرین پر آموجود ہوتے ہیں۔ یہ امر بھی سامنے رہے کہ اکثر ٹیلی ویژن اور اخبارات نے منظم دبائو کے ساتھ پورے معاشرے کو فکری اور تہذیبی طور پر یرغمال بنالیا ہے۔ پریس کی آزادی کے تمام تر احترام اور ایک صحت مند معاشرے کے لیے اس کی کماحقہٗ ضرورت کا پاس و لحاظ رکھنے کے باوجود، یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا تہذیب اسی کو کہتے ہیں کہ اس سے وابستہ چند سو افراد، ۱۷ کروڑ افراد کو جس انداز سے چاہیں، ہانکتے چلے جائیں مگر یہ عظیم اکثریت ان سے سوال کربیٹھے تو ’آزادیِ صحافت‘ پر حملے کی دہائی دی جاتی ہے۔

کیبل سروس کے حوالے سے دو باتیں قابلِ غور ہیں: اوّل یہ کہ کیبل آپریٹر کون سے چینل فراہم کر رہا ہے اور دوم: یہ کہ خود کیبل کے ذریعے در آنے والے ٹیلی ویژن چینل کیا دکھا رہے ہیں؟ ان چینلوں پر نمایاں طور پر تین چیزیں توجہ طلب ہیں: اشتہارات، ڈرامے اور ٹاک شو___ اشتہارات کے سلسلے میں یہ بات توجہ طلب ہے کہ جب تک اشتہار لچرپن سے آلودہ نہیں ہوگا، وہ اپنا مدعا بیان نہیں کرسکے گا؟ خصوصاً کثیر قومی (multi national) کمپنیوں کے اشتہار، وہ کمپنیاں جو دنیا بھر سے مال ودولت جمع کرکے اپنی تجوریاں بھرنے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کے نزدیک اصل چیز پیسہ ہے، وہ جس طرح اور جس قیمت پر بھی آئے۔ ان کے نزدیک صارف ممالک کی رعایا، ان کے سامنے بے بس اور ’بے وقوف شکار‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ ان کے ہاں   اخلاقی یا تہذیبی قدروں کا مسئلہ تو سرے سے خارج از بحث ہے۔

اب اہلِ وطن کو سوچنا ہے کہ ہم اپنا پیسہ دینے اور فنی سہولت حاصل کرنے کے ہمراہ، تہذیبی اور ایمانی سطح پر کیا لے رہے ہیں؟ ماہرین ابلاغیات کے نزدیک اشتہار ایک مختصر، مگر نہایت مؤثر ڈراما ہوتا ہے اور اس ڈرامے کے سب سے بڑے شکار بچے ہوتے ہیں اور پھر دوسرے درجے میں خواتین۔ ان اشتہاروں میں متعدد ایسے ہیں کہ جنھیں کوئی غیرت مند انسان ایک بار بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتا، مگر وہ بار بار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دوسری جانب بچے ان کی گرفت میں مسحور ہوکر رہ جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا پورا معاشرہ ان عالمی ساہوکاروں کے سامنے محض ایک ایسا گونگا گاہک ہے، جو حمیت، دولت اور تہذیب کو ان کی چوکھٹ پہ قربان کرنے پر مجبور ہے!

ایک اور اہم چیز ٹی وی کے ڈرامے ہیں جن کا ہماری عمومی سماجی زندگی سے تو تعلق نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، مگر گلیمر، فیشن، بے ہودہ لباس، بے باکی اور بدیسی طرزِ زندگی کا ایک   چلتا پھرتا سرکس بن کر یہ ڈرامے انسانوں کو فتح کرنے اور اپنے رنگ میں رنگنے کا پیغام دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ ڈراما بہرحال مقامی ڈراما نویسوں اور مقامی پروڈیوسروں کے دماغ کی اختراع ہوتا ہے۔ اسی طرح دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کی معاشرت میں اس طبقے کا کیا حجم ہے کہ جہاں بیٹی چیخ اور چلّا کر اپنے ابّا اور امّی سے یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ: ’’زندگی میری ہے، جیسے چاہوں اسے بسر کروں‘‘۔ یا یہ جملہ کہے: ’’ٹھیک، شادی نہیں کرتے، مگر اچھے دوستوں کی طرح تو ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں گے‘‘۔ یہ دو جملے جس طرزِ زندگی اور طرزِ فکر کی نشان دہی کرتے ہوئے، نوجوان بچوں اور بچیوں کو اپنی تقلید کی طرف مائل کرتے ہیں، کیا وہ یہاں کے کروڑوں انسانوں کی زندگی کا چلن ہے یا ایک نہایت قلیل اباحیت پسند ٹولے کا ذہنی فتور؟ انھی ڈراموں میں غیرحقیقی امیرانہ شان و شوکت اور بے زاری و بے قراری کے طوفان___ کہاں ہے یہ پاکستانی معاشرے کی تصویر؟ مگر بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ’سفلی محبت‘ کے ان ریفریشر کورسوں کو درست سمت عطا کرنے کے لیے کتنے شرفا نکلتے، لکھتے یا اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہیں؟ شاید کوئی بھی نہیں۔

اسی طرح مباحث یا ’ٹاک شوز‘ میں اکثر توازن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کسی ایک ہی فکر کے لوگوں کی کثرت ہوتی ہے اور اکثر تو خود ’اینکرپرسن‘ کا رویہ نہایت تحکمانہ اور گاہے توہینِ آمیز ہوتا ہے، جب کہ بحث میں حصہ لینے والے حضرات اور گلی میں لڑتے جھگڑتے بچوں کے طرزِعمل میں کوئی بنیادی فرق نہیں نظر آتا۔ ظاہر ہے ٹیلی ویژن، استاد کی طرح بڑے پیمانے پر افکار کی تشکیل کرنے اور شائستگی یا ناشائستگی سکھانے کا کام انجام دے رہا ہے۔ مذکورہ صورت حال کسی صحت مند مستقبل کی طرف نہیں، بلکہ عدمِ برداشت کے کلچر کی طرف لے جانے کا کام کرتی ہے۔ کیا کوئی توانا اور باوقار آواز اس رویے کو درست کرنے کے لیے توجہ دلاتی نظر آتی ہے؟ شاید کوئی نہیں۔

۵- اگرچہ بدکاری ایک معاشرتی ناسور کی شکل میں موجود تھی، تاہم نومبر ۲۰۰۷ء میں  ’روشن خیال‘ جنرل مشرف کی زیرقیادت مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے حدود قوانین کا جو حلیہ بگاڑا ہے، اس نے اس گھنائونے جرم کی رفتار کو بہت تیز کردیا ہے۔ اس کاروبار کی حرکیات اور مظاہر پر تفصیلات بیان کرنے کی یہاں گنجایش نہیں، فقط ایک دوحوالوں سے معروضات پیش ہیں:

پہلی بات تو یہ کہ ’حدود قوانین‘ میں ترمیم ۲۰۰۷ء کے بعد عمومی سطح پر یہی تاثر عوام تک منتقل ہوا کہ: ’’اب بالرضا بدکاری، قابلِ دست اندازیِ پولیس نہیں رہی ہے۔ اور اس تاثر کو گہرا کرنے کے لیے روزنامہ جنگ، جیو ٹیلی ویژن اور خودساختہ ’علماے کرام‘ کی دو سال پر محیط جارحانہ، یک رُخی اور مسلسل مہم نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اس قانون کی منظوری کے بعد لاری اڈوں، بازاروں، بعض ہوٹلوں اور کئی گیسٹ ہائوسوں تک میں بے باکی اور ’کاروباری فعالیت‘ کے مناظر ترقی پانے لگے۔ اس تاثراتی دبائو کے نتیجے میں خود پولیس دس قدم پیچھے ہٹی ہے، اور انسانیت کی تذلیل کے ایجنٹ بیس قدم آگے بڑھے ہیں۔

دوسری بات: اس ناسور کی جارحیت کا اندازہ اہلِ پاکستان کو اُس وقت ہوا جب جولائی ۲۰۰۹ء میں کراچی میں جنسی کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی بہت سی تفصیلات بیان کرنا قرین مصلحت نہیں ہیں، بہرحال بی بی سی لندن نے ۲۲ جولائی ۲۰۰۹ء کو اس کنونشن کے بارے میں جو رپورٹ نشر کی، اس کے چند اقتباسات اُس کے نمایندے ارمان صابر کے حوالے سے پیش ہیں:’’جنسی کارکنوں کے کنونشن کی ایک ۲۸سالہ مندوب نے بتایا: اب معاشرے نے ہمارے وجود کا احساس کرلیا ہے، تاہم بدکاری ابھی تک اس مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں غیرقانونی دھندا ہے۔ اگرچہ اس کا   وجود تو صدیوں سے ہے، مگر کبھی اس کے لیے سپاس و اعتراف کا اظہار نہیں کیا گیا۔ ہرچند کہ  گذشتہ دوعشروں کے دوران میں، پاکستان میں اسلامیت میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمارا یہ دھندا بھی ترقی پا رہا ہے۔ پہلے ہم چوری چھپے یہ کاروبار کرتے تھے، لیکن اس کنونشن نے ہمیں مل بیٹھنے، تبادلۂ خیال کرنے اور اپنے تجربات بیان کرنے کا موقع اور تقویت دی ہے۔ہمیں کشادہ روی کا احساس دیا ہے۔ اب ہم اپنے حقوق کے لیے بھی آواز اُٹھا سکیں گے‘‘۔

بی بی سی کے نمایندے کے بقول: این جی او، جینڈر اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ فورم (GRHF) نے یہ کنونشن اقوامِ متحدہ کے ادارے فنڈ فار پاپولیشن (UNFP) سے مل کر منعقد کیا ہے۔ ایک سو طوائفوں پر مشتمل اس کنونشن کے احوال بیان کرتے ہوئے نمایندے نے رپورٹ دی ہے:

کنونشن میں شریک پیشہ وروں میں سے بہت سی ایسی تھیں، جنھوں نے کیمرے کی تصویر بنانے سے روک دیا اور کہا: ’’ہمیں خوف ہے کہ اپنے اہلِ خاندان کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے‘‘۔ بہت سی کہہ رہی تھیں: ہمارے خاوند اور اہلِ خانہ نہیں جانتے کہ ہم اس کاروبار سے منسلک ہیں، وہ یہی جانتے ہیں کہ ہم نجی کمپنیوں میں ملازم ہیں‘‘۔ ایک مقامی این جی او کے سروے کے مطابق کراچی میں ایسی فاحشہ عورتوں کی تعداد ایک لاکھ ہے، لاہور میں ۷۵ ہزار اور فوجیوں کے شہر راولپنڈی میں ۲۵ ہزار‘‘۔

اسی رپورٹ کو انگریزی روزنامہ دی نیوز نے ۴؍اگست ۲۰۰۹ء کو ہوش ربا تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہی گروپ آیندہ لاہور اور دوسرے شہروں میں ’کنونشن‘ منعقد کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو ایک این جی او ’عمل ہیومن ڈویلپمنٹ نیٹ ورک‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ: ’’ہم نے ۲۰۰۶ء میں ایسی ۹۱۸ شرکا کی، ملک بھر میں ’تربیت‘ کی تھی۔ اس    تربیتی پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوتا تھا‘‘۔

جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ یہاں بہت سی تفصیلات عمداً بیان نہیں کی جارہی، فقط چند سطور  نقل کی گئی ہیں۔ اس مناسبت سے چند امور توجہ طلب ہیں:

___ پہلا یہ کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی دیکھ کر نہ صرف اس جرم میں اضافہ ہورہا ہے، بلکہ اس جرم کو ایک ’کاروبار‘ اور ’کارکن‘ یا ’مزدوری‘ سے منسوب کرکے، ایک معمول کی چیز کا قرار دیا جا رہا ہے۔

___ دوسرا یہ کہ عالمی اداروں کی امداد پر چلنے والی این جی اوز معاشی اور سماجی استحصال سے پاک معاشرے کے قیام سے زیادہ دل چسپی اس امر میں رکھتی ہیں کہ جو خرابی موجود ہے، اسے جوں کا توں رہنے دیا جائے، تاہم کچھ آرایشی اقدامات کرکے سبک دوش ہوا جائے۔ انھیں اس چیز کی کوئی فکر نہیں کہ کسی ستھرے متبادل کاروبار کا بندوبست کیا جائے، بلکہ دل چسپی اس سے ہے کہ گندگی خوش نما نام سے برقرار رہے۔

___ تیسرا یہ کہ اپنے ہدف کی ایسی مبالغہ آمیز تصویر پیش کی جائے کہ عامۃ الناس    ذہنی شکست سے دوچار ہوجائیں۔ ایسے مبالغہ آمیز اعداد وشمار کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں، تاہم اُوپر بیان کردہ رپورٹ کے اعداد و شمار کا ذرا تجزیہ کریں، مثلاً کراچی کی آبادی ایک کروڑ ۱۰لاکھ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں ہرعمر کی خواتین کی تعداد تقریباً ۵۵ لاکھ ہوگی۔ تو کیا مذکورہ رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ ایک لاکھ عورتیں اس ’کاروبار‘ کا حصہ ہیں تو گویا وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہر۱۰۰میں ۲عورتیں ایسی ہیں۔ کیا عقل اور مشاہدہ ان گھنائونے اعداد و شمار کی تائید کرتا ہے؟ بالکل یہی فی صد لاہور کے بارے میں پیش کیا گیا ہے اور اسی سے ملتی جلتی شرح راولپنڈی سے منسوب کی گئی ہے۔ یہ کون سی این جی اوز ہیں، اور ان کی ایسی مبالغہ آمیز تصویرکشی کے کیا مقاصد ہیں؟     یہ ثابت کرنا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اخلاق باختہ اور اخلاقی و جنسی اعتبار سے گندا ملک ہے۔ یہ کہ یہاں اس صورت حال کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت بھی کرلیا گیا ہے اور ایسی مبالغہ آمیز صورت  کے سامنے اخلاقی اور دینی پہچان رکھنے والی قوتیں عملاً شکست کھاچکی ہیں۔

___ چوتھا یہ کہ بی بی سی کی رپورٹ نے ’ بے نقاب‘ ہونے سے بچنے کے لیے شرکا کی جس ’مجبوری‘ کی طرف اشارہ کیا ہے، اس نے توگویا محنت، دفتر اور ہُنر سے وابستہ دیگر خواتین کی ساکھ کو دائو پر لگا دینے کی کوشش کی ہے۔ شک، بے اعتمادی اور جرم کے اس منظرنامے کو پیش کرکے این جی او نے کارکن اور محنت کش خواتین کی پوزیشن خراب کی ہے۔

___ پانچواں یہ کہ ان لوگوں کو: ’’ایسے پروگراموں سے تقویت ملی ہے اور وہ معاشرے میں اپنی تمام آلایشوں کے باوجود ’’باقاعدہ حقوق کے امیدواربھی ہیں‘‘۔

ان افسوس ناک اور شرم ناک حالات میں اہلِ ایمان کا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟

یہ سوال دنیا میں کامیابی اور آخرت میں جواب دہی دونوں اعتبار سے اہم ہے۔ تاریخ کا ناقابلِ فراموش سبق یہ ہے کہ برائی کو اگر برداشت کیا جائے تو وہ پنپتی اور بڑھتی ہے اور اگر نیکی کی قوتیں اس کا مقابلہ کریں تو بالآخر اسے پسپا ہونا پڑتا ہے۔ خاموشی اور بے غیرتی سے برائی کو گوارا کرنا اگر ایک طرف اخلاقی جرم ہے تو دوسری طرف تہذیبی بگاڑ اور اجتماعی تباہی کا ذریعہ اور    پیش خیمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہرمسلمان اور بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دے کر بگاڑ کے غلبے کا راستہ بند کیا ہے۔ منکر کے مقابلے میں مداہنت محض بے غیرتی ہی کا رویہ نہیں بلکہ ایمان کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔ اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے اپنی تعلیمات اور اسوئہ مبارکہ دونوں کے ذریعے اہلِ ایمان کو بدی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے سے روکا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ صرف انفرادی نیکی ان کو اجتماعی تباہی اور آخرت کی جواب دہی سے نہیں بچاسکتی۔

جس معاشرے میں خدا کی نافرمانی اور فحش کا رواج عام ہوجائے اس کے دن گنے جاتے ہیں اور اس معاشرے کے وہ افراد جو صرف اپنے دامن کو بدی سے بچانے پر قناعت کرلیتے ہیں اور بدی سے معاشرے کو پاک کرنے کی مناسب سعی و جہد نہیں کرتے وہ بھی اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ جن اصولوں کو بیان کیا گیا ہے، ان میں دو چیزیں بہت نمایاں ہیں: ایک یہ کہ برائی، بدی، فحش اور بداخلاقی، اخلاقی اور اجتماعی جرم ہیں اور ان سے بچنا   دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ صرف خود بچنا کافی نہیں  بلکہ معاشرے کو ان سے پاک کرنا اور ان کے فروغ کے آگے بند باندھنا ایمان کا تقاضا اور   اجتماعی زندگی کو بگاڑ اور تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

  •  اے نبیؐ! ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام ___ خواہ کھلے ہوں یا چھپے ___  اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمھیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے۔(الاعراف ۷: ۳۳)
  •  نیز ارشاد ربانی ہے کہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں     فحش پھیلے، وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (النور ۲۴: ۱۹)___ فحش اور منکر شیطان کے حربے ہیں اور ان سے بچنا اور اللہ کے بندوں کو ان سے بچانا ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے۔
  •  اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ (النور ۲۴: ۲۱)
  •  پھر یہ صاف صاف انتباہ کہ اگر تم انفرادی نیکی پر قناعت کرو گے اور اجتماعی بگاڑ سے معاشرے کو پاک کرنے کی سعی و جہد نہ کرو گے تو اس تباہی سے نہ بچ سکو گے جو اس بگاڑ کا لازمی نتیجہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسولؐ کی پکار پر لبیک کہو، جب کہ رسولؐ تمھیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جائو گے۔ اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔(الانفال ۸: ۲۴-۲۵)

اس قاعدہ کلیے کو مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ تفہیم القرآن میں اسی آیت کی تشریح میں یوں بیان کرتے ہیں: ’’اس سے مراد وہ اجتماعی فتنے ہیں جو وباے عام کی طرح ایسی شامت لاتے ہیں جس میں صرف گناہ کرنے والے ہی گرفتار نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں جو  گناہ گار سوسائٹی میں رہنا گوارا کرتے رہے ہوں۔ مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیے کہ جب تک کسی شہر میں گندگیاں کہیں کہیں انفرادی طور پر چند مقامات پر رہتی ہیں، ان کا اثر محدود رہتا ہے اور ان سے وہ مخصوص افراد ہی متاثر ہوتے ہیں جنھوں نے اپنے جسم اور اپنے گھر کو گندگی سے آلودہ کر رکھا ہو۔ لیکن جب وہاں گندگی عام ہوجاتی ہے اور کوئی گروہ بھی سارے شہر میں ایسا نہیں ہوتا جو اس خرابی کو روکنے اور صفائی کا انتظام کرنے کی سعی کرے تو پھر ہوا اور زمین اور پانی ہر چیز میں سَمِیّت [زہریلاپن] پھیل جاتی ہے، اور اس کے نتیجے میں جو وبا آتی ہے اس کی لپیٹ میں گندگی پھیلانے والے اور گندہ رہنے والے اور گندے ماحول میں زندگی بسر کرنے والے سب ہی آجاتے ہیں۔ اسی طرح اخلاقی نجاستوں کا حال بھی ہے کہ اگر وہ انفرادی طور پر بعض افراد میں موجود رہیں اور صالح سوسائٹی کے رعب سے دبی رہیں تو ان کے نقصانات محدود رہتے ہیں۔ لیکن جب سوسائٹی کا  اجتماعی ضمیر کمزور ہوجاتا ہے، جب اخلاقی برائیوں کو دبا کر رکھنے کی طاقت اُس میں نہیں رہتی، جب اس کے درمیان بُرے اور بے حیا اور بداخلاق لوگ اپنے نفس کی گندگیوں کو علانیہ اُچھالنے اور پھیلانے لگتے ہیں، اور جب اچھے لوگ بے عملی (passive attitude) اختیار کر کے اپنی انفرادی اچھائی پر قانع اور اجتماعی برائیوں پر ساکت و صامت ہوجاتے ہیں، تو مجموعی طور پر پوری سوسائٹی کی شامت آجاتی ہے اور وہ فتنۂ عام برپا ہوتا ہے جس میں چنے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ رسولؐ جس اصلاح و ہدایت کے کام کے لیے اُٹھا ہے، اور تمھیں جس خدمت میں ہاتھ بٹانے کے لیے بلا رہا ہے، اسی میں درحقیقت شخصی و اجتماعی دونوں حیثیتوں سے تمھارے لیے زندگی ہے۔ اگر اس میں سچے دل سے مخلصانہ حصہ نہ لو گے اور ان برائیوں کو جو سوسائٹی میں پھیلی ہوئی ہیں برداشت کرتے رہو گے، تو وہ فتنۂ عام برپا ہوگا جس کی آفت سب کو لپیٹ میں لے لے گی، خواہ بہت سے افراد تمھارے درمیان ایسے موجود ہوں جو عملاً برائی کرنے اور برائی پھیلانے کے ذمہ دار نہ ہوں، بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھلائی ہی لیے ہوئے ہوں‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ص ۱۳۸-۱۳۹)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اصولی ہدایت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ: اللہ عزوجل خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامۃ الناس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے بُرے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہارِ ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور پھر کوئی اظہارِ ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (مسنداحمد، ۴؍۱۹۲، مشکوٰۃ المصابیح)

  •  اندریں حالات اس امر کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گونگی شرافت، اپاہج نیکی اور جمود زدہ حیا کے لشکری اس سیلابِ بلا کو نہیں روک سکتے بلکہ اس مقصد کے لیے شرافت، نیکی اور حیا کی قوتوں کو منظم، فعال اور گروہی سطح سے بلند ہوکر چلنا پڑے گا۔۱؎
  •  یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ بے حیائی کا تعلق اس وطن سے نہیں ہے۔ یہاں کے شہریوں کو بے حیائی کے مقابلے میں اجنبی بن کر رہنے کے بجاے، اس لعنت کے تمام ماڈلوں (مقامی، بھارتی، مغربی) کو دیس سے نکالنا ہوگا۔ اس جدوجہد کے لیے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ پہلے ایمان اور شعور کا جذبہ بیدار اور قوی کیا جائے، پھر تنظیم اور دلیل کی قوت سے یہ مسئلہ حل کرنے کی تدبیر کی جائے۔
  •  حدود قوانین اور شعائر دینی کے مخالف چند سو افراد منظم ہوکر اور پورے پاکستانی معاشرے کو یرغمال بناکر من مانے فیصلے کرا سکتے ہیں، تو کیا یہاں کی عظیم اکثریت ایمانی اورجمہوری بنیاد پر اس اقلیت کی ایسی پیش رفت کا مداوا نہیں کر سکتی؟

۱- سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ریاست پاکستان نے ٹریفک کے کیا اصول وضع کیے ہیں؟ کیا ان قوانین کے تحت سڑک پر دوڑتی گاڑیوں میں ریکارڈنگ اور فلم بینی کی گنجایش موجود ہے؟ اگر قوانین میں سقم ہے تو اسے بدلوانے کے لیے کاوش کرنا ہوگی اور اگر پابندی ہے تو انھی قوانین کی بنیاد پر ٹریفک پولیس، ہائی وے پولیس، موٹروے پولیس وغیرہ کو فون کر کے مسلسل اطلاع دینا ہوگی۔ اس شعور کی بیداری کے لیے قوانین اور ٹیلی فون نمبروں پر مشتمل پمفلٹ اڈوں پر تقسیم کرنے ہوں گے۔ جب بھی گاڑی میں بیٹھیں، گاڑی کا نمبر نوٹ کر کے بیٹھیں اور اگر ایسی بے راہ روی ہو تو فون کر کے پولیس کو اطلاع کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ انتہائی نرمی سے ڈرائیور یا کنڈکٹر سے کہیں کہ آپ کی مہربانی ہوگی، یہ نہ چلائیں۔ ڈرائیور الجھنا چاہے تو الجھنے سے اجتناب کریں۔ ممکن ہو تو اکیلے بات کرنے کے بجاے کسی اور سواری کو بھی ساتھ لے لیں۔ ممکن ہے آپ کی فوری طور پر یہ کاوشیں کامیاب نہ ہوں، لیکن اس کے باوجود اس کوشش کا اثر ضرور ہوگا۔

۲- دکانوں پر عورتوں کی ڈمیاں رکھنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے: اگر دکان دار رشتہ دار ہیں تو سمجھائیں، اگر محلے دار ہیں تو جاکر توجہ دلائیں، اگر بازار میں ہیں تو کچھ شہریوں پر مشتمل، کسی بھی نام کی انجمن کی شکل میں، اکٹھے جاکر متوجہ کریں۔ اگر گاہک ہیں تو سودا لیتے وقت یا سودا لینے کے بعد مالکِ دکان سے کہیے۔ اگر اس کام کو تسلسل کے ساتھ بار بار لوگ کریں گے تو لازماً اس کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔ اگر استاد ہیں تو اپنے طلبہ و طالبات کے ذہن نشین کرائیں کہ اس خرابی کو پروان چڑھتے یوں ہی دیکھتے رہے تو یہ بت فروش اور بت پرست معاشرہ بن کر رہ جائے گا۔

۳-بس اسٹاپوں پر جو لوگ خواتین کو اس طرح تنگ کریں، انھیں سمجھانے کے لیے آگے بڑھیں۔ اگر جذبات پر کنٹرول رکھ کر متوجہ کریں گے تو یقینا جھگڑا نہیں ہوگا۔ اگر آگے بڑھ کر روک نہیں سکتے تو کم از کم ان کی گاڑیوں کے نمبر نوٹ کرکے پولیس کو ۱۵ پر اطلاع کریں۔

۴- کیبل والوں سے جاکر اجتماعی طور پر بات کی جاسکتی ہے کہ کن چینلوں کو آگے نہ بھیجیں۔ اسی طرح ٹیلی ویژن کے مالکان یا ان کے علاقائی دفاتر کولگاتار فون کرکے، وفود کی  صورت میں مل کر اور میمورنڈم بناکر بھی متوجہ کیا جاسکتا ہے کہ کون سے اشتہار قابلِ اعتراض ہیں۔ مخربِ اخلاق پروگرام کون سے ہیں اور کون سے ٹاک شو دینی، تہذیبی اور قومی حوالے سے غلط پیغام پہنچا رہے ہیں۔ پھر مختلف کمپنیوں سے کہا جاسکتا ہے کہ آپ کے یہ اشتہار اور مخرب اخلاق ماڈلوں پر مشتمل بڑے بڑے ہورڈنگ ہماری معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ تاجر لوگ آپ کے ایسے چند سو ٹیلی فونوں کی بنیاد پر اپنی اشتہاری مہم کو تبدیل کردیںگے۔ پھر اشتہار بنانے والی کمپنیوں سے مرد حضرات، خواتین کے وفود اور طالب علموں کی ٹیمیں جاکر ملیں، دلیل سے بات سمجھائیں تو یقینا اس کا اثر ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ٹیلی ویژن چینلوں کے پتے، افراد کے رابطہ نمبر، کثیر قومی کمپنیوں کے دفاتر اور ڈائرکٹروں، ڈراما نویسوں اور پروڈیوسروں کے رابطہ نمبر اور اشتہارساز کمپنیوں کے پتے، پمفلٹوں کی صورت میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔

۵- بے راہ روی کے اڈوں یا کرداروں کے بارے میں بھی یہی حکمت عملی مناسب رہے گی کہ اہلِ محلہ اس بارے میں مشترکہ کاوش کریں، پہلے سمجھائیں ورنہ انتظامیہ کو اطلاع دیں۔ یہی رویہ بازاروں میں اپنانا چاہیے۔

نہایت اہم بات یہ ہے کہ یہ ساری جدوجہد، آئین، قانون اور اخلاقی دائرے کے اندر رہتے ہوئے مگر زوردار اور دبنگ انداز میں ہونی چاہیے۔اگر قانون کو ہاتھ میں لیں گے تو نتائج ضائع ہوسکتے ہیں۔ اس سمت میں پیش رفت کے لیے لازم ہے کہ تشدد کا راستہ ہرگز نہ اپنایا جائے اور بے جا اشتہاربازی سے اجتناب کیا جائے۔ تحقیق و تجزیے اور ضروری معلومات کی فراہمی کے لیے انتظامی دفاتر، اور وکلا سے مدد لی جاسکتی ہے، جب کہ استدلال کے لیے اجتماعی بحث و تمحیص مددگار ہوسکتی ہے۔ ان پانچوں نکات کے بارے میں تمام مکاتبِ فکر کے علما کو اعتماد میں لیا جائے، اساتذہ کو متوجہ کیا جائے، اپنے اپنے محلے، قصبے یا گلی میں درسِ قرآن (مردوں اور عورتوں) کے حلقوں میں شعوری طور پر خیر پھیلانے کی جانب راغب کیا جائے۔ اس کام کو گروہی اور سیاسی مفادات سے بالاتر رہتے ہوئے، تمام شہریوں کی مدد سے آگے بڑھایا جائے۔

بلاشبہہ معاشرے کی اصلاح اور اسے اخلاق سے عاری رویوں اور حرکات سے پاک رکھنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولیں ذمہ داری ہے، لیکن اجتماعی زندگی کی اصلاح کے تمام کام صرف حکومت اور انتظامیہ پر نہیں چھوڑے جاسکتے۔ جس طرح کہ گھر کو آگ لگ جائے تو فائربریگیڈ کی آمد سے پہلے آگ بجھانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور سیلاب آجائے تو انتظامیہ کی مدد آنے سے پہلے جان و مال کو بچانے کے لیے کاوشیں کی جاتی ہیں، بالکل اسی طرح ایمان، اخلاق، تہذیب اور خاندان کے ادارے کو بچانے کے لیے ہرشہری کو اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ معاشرے کے سنجیدہ طبقوں کو بھی قانون اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اپنے جس فرض کو انتظامیہ پورا نہ کر رہی ہو، اس کی تکمیل کے لیے امداد باہمی سے منزل سر کی جاسکتی ہے۔

 

سیکولر قوم پرستی کتنی بزدل اور موقع پرست ہوتی ہے، اس کی مثالیں مسلم دنیا میں بڑی کثیر تعداد میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ آج کے پاکستان میں اس کی قابلِ ذکر مثال مہاجر قوم پرستی کی صورت میں سامنے ہے اور پاکستان میں سب سے پہلے سر اُٹھانے والی بنگلہ قوم پرستی، ایسی موقع پرستی اور بزدلی کے ثبوت قدم قدم پر پیش کر رہی ہے۔ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان وجود میں آیا، جو سابقہ ہندستان میں مسلم اکثریت کے دو خطوں پر مشتمل تھا: ایک موجودہ پاکستان جسے مغربی پاکستان کہتے تھے اور دوسرا مشرقی بنگال، جسے مشرقی پاکستان کہتے تھے۔ ایک تلخ حکومتی کلچر، بنگلہ قوم پرستی اور بھارت کی براہِ راست مداخلت کے نتیجے میں مشرقی پاکستان، بھارت کی فوجی یلغار اور عوامی لیگ کی زیرقیادت بنگلہ قوم پرستی کی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان سے الگ ہوکر ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو   بنگلہ دیش بن گیا۔ بنگلہ دیش میں بہت سے سیاسی نشیب و فراز آئے، لیکن ۳۸ برس گزرنے کے بعد  آج ایک نئے روپ میں بنگلہ قوم پرستی جو راگ الاپ رہی ہے، اس کا ایک نمونہ یہ اعلامیہ ہے:

بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ۱۹۷۱ء کی جدوجہدِ آزادی کی مخالفت کرنے اور پاکستانی فوج و حکومت کا ساتھ دینے والوں پر ’جنگی جرائم‘ کے مقدمے چلانے میں مدد دے۔ بنگلہ دیش حکومت کے وزیرقانون شفیق احمد نے کہا: اس حوالے سے ہمیں سیکڑوں افراد مطلوب ہیں۔ ہم نے اپنے انتخابی منشور میں اس امر کا عہد کر رکھا ہے کہ یہ مقدمات ہم ضرور چلائیں گے۔  شیخ مجیب نے [۱۹۷۲ء میں] اس ضمن میں ۳۷ ہزار افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں بڑی تعداد اسلام پرستوں (اسلامسٹوں) پر مشتمل تھی، جو نہ تو [مشرقی پاکستان کی] پاکستان سے علیحدگی چاہتے تھے، اور نہ بنگلہ دیش کو ایک سیکولر ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ ان گرفتار شدگان میں سے چند ایک پر مقدمے بھی چلائے گئے، تاہم بعدازاں شیخ مجیب نے ۱۱ ہزار افراد کو معاف کر دیا، جب کہ دوسرے ۲۶ ہزار افراد کو شیخ مجیب الرحمن کے قتل [۱۵؍اگست ۱۹۷۵ء] کے بعد رہا کر دیا گیا۔ ایک نجی تحقیقاتی کمیٹی نے ایسے ۱۵۹۷ افراد کی فہرست تیار کی ہے، جو جنگی مجرم ہیں۔ ان مجرموں میں جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت بھی شامل ہے۔ ہم اپنی مدتِ حکومت کے دوران ان مقدمات کا فیصلہ کریں گے (One World South Asia،۲۸ جنوری ۲۰۰۹ء)

یہ ہیں وہ عزائم، جنھیں عوامی لیگ کی قیادت ایک سیاسی سٹنٹ اور شوشے کے طور پر وقتاً فوقتاً اچھالتی آرہی ہے اور اس کے مددگار اس کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ ۱۰ ماہ کے اخبارات، عوامی لیگ کی اس پروپیگنڈا مہم سے سیاہ نظر آتے ہیں۔ دسمبر ۲۰۰۸ء کے بنگلہ دیشی   عام انتخابات میں بھی عوامی لیگ نے اس مسئلے کواپنی انتخابی تقاریر میں مرکزی حیثیت دے رکھی تھی۔ ہر قاری اور ناظر کے لیے یہ سوال دل چسپی کا باعث ہے کہ ۳۸برس بعد اچانک یہ مسئلہ کیوں   بنگلہ دیش کی سیاست میں زندگی اور موت کا موضوع بنایا جا رہا ہے جس میں عوام کے دکھوں کا کوئی مداوا نہیں ہے۔ عوامی لیگ کہ جس نے بنگلہ دیش جیسی عظیم مسلم اکثریتی ریاست کو بھارت کی   تابع مہمل اور اقتداراعلیٰ کی نچلی سطح پر کھڑی ریاست بنا رکھا ہے، وہاں کے لوگ عوامی لیگ سے اپنی قومی خودمختاری اور غیرت و حمیت پر مبنی زندگی کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر وہ اس سیدھے سوال کا جواب دینے کے بجاے، ۴۰سال پرانے واقعات پر مبنی جھوٹے مقدمات چلانے کو تمام قومی مسائل کا حل قرار دے رہی ہے۔ دراصل یہ مسئلہ اتنا سادا نہیں، بلکہ اس بنگلہ دیشی قوم پرستی کی پشت پناہی، درپردہ بھارتی اور امریکی حکومتیں بھی کر رہی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ان اسلامیانِ مملکت کو اجتماعی زندگی سے کاٹ کر الگ کر دیا جائے، جو اپنے اپنے معاشروں میں، قومی غیرت و حمیت کا تحفظ اور اپنے قومی دکھوں کا مداوا چاہتے ہیں اور کسی غیر ملکی قوت کی غلامی نہیں چاہتے۔ اس لیے عوامی لیگ کی جارحانہ پروپیگنڈا مہم بھی نام نہاد امریکی جنگ دہشت کا ایک شاخسانہ ہے۔

البتہ اس کی فوری و جہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ ۲۰۰۱ء کے قومی انتخابات میں ’چار جماعتی اتحاد‘ میں شامل جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے بھرپور کامیابی حاصل کی (جماعت کے ۱۷ ارکان اور چار خواتین پارلیمنٹ کی ارکان منتخب ہوئیں)۔ جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کو حکومت میں دو وزارتوں کے قلم دان سونپے گئے۔ ان میں مطیع الرحمن نظامی (امیرجماعت اسلامی بنگلہ دیش) وزیر زراعت اور علی احسن مجاہد (سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی بنگلہ دیش) وزیر سماجی امور مقرر ہوئے۔ ان دونوں وزرا نے پانچ برس تک بنگلہ دیش میں جس لگن، دیانت داری، بے پناہ خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر وزارتی ذمہ داریاں ادا کیں، انھوں نے پورے ملک کے سوچنے سمجھنے والے حضرات پر گہرے مثبت اثرات مرتب کیے، جب کہ بنگلہ  قوم پرستی کی علَم بردار عوامی لیگ کے ریکارڈ میں کرپشن اور بددیانتی پر مبنی بُری حکومت گردی کے گہرے داغ، مٹائے نہیں مٹ پاتے۔ اس صورت حال نے بھی عوامی لیگ اور اس کے سرپرستوں کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا، کہ کسی طرح وہ جماعت اسلامی کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیں۔

اس مضمون کے شروع میں عوامی لیگ کا جو جارحانہ پالیسی بیان دیا گیا ہے ، اس کو دیکھیں تو یہ نکات سامنے آتے ہیں: 

  • ۱۹۷۱ء میں پاکستان سے علیحدگی کی تحریک کا ساتھ نہ دینے والے قومی مجرم ہیں، ان پر مقدمے چلائے جائیں گے۔ 
  • علیحدگی کے مخالفین کی بڑی تعداد اسلامی سوچ کی حامل تھی۔ 
  • ان ملزموں کو پکڑنے کے لیے اقوامِ متحدہ مدد کرے۔
  • شیخ مجیب نے ایک تہائی افراد کو معاف کیا تھا، جب کہ دیگر افراد شیخ کے قتل کے بعد رہا ہوئے۔
  • ایک نجی تنظیم کے مطابق ایسے جنگی مجرموں کی تعداد ۱۵۹۷ ہے۔ 
  • جنگی مجرموں میں جماعت اسلامی کی قیادت شامل ہے۔   یہ فہرست تو صرف اس بیان کی بنیاد پر بنائی گئی ہے، وگرنہ عوامی لیگ کی اس فہرست میں ہر دوسرے روز کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جس سے بدنیتی اور شرانگیزی واضح ہے۔

اس ’فردِ جرم‘ کی حقیقت پر بات کرنے سے پیش تر چند باتوں کو بیان کرنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ ۱۹۷۰ء کی انتخابی مہم کے دوران میں عوامی لیگ نے پورے مشرقی پاکستان میں غنڈا گردی کا ایسا بازار گرم کیے رکھا کہ کوئی بھی مدِمقابل پارٹی کھل کر اپنی انتخابی مہم نہ چلا سکی۔ دوسرا یہ کہ اس فضا میں بلاشرکت غیرے تمام نشستوں پر وہ انتخاب جیت گئی۔ تیسرا یہ کہ صدر جنرل یحییٰ خان، مغربی پاکستان سے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو اور مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن [والد: حسینہ واجد] نے جس غیرلچک دار رویے کو اپنایا، اس نے دو ماہ کے اندر اندر مشرقی پاکستان کی سیاسی فضا کو سخت کشیدہ بنا دیا۔ چوتھا یہ کہ جب بھٹو صاحب کے ایما پر جنرل یحییٰ نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا تو عوامی لیگ کے اُکسانے پر پورے مشرقی پاکستان میں یکم مارچ سے ۲۴ مارچ ۱۹۷۱ء کے دوران میں ایسی سول نافرمانی شروع ہوئی کہ جس میں عوامی لیگیوں نے اُردو بولنے والے ہم وطنوں کے ساتھ پنجابی اور پٹھان پاکستانیوں کا بے دریغ قتلِ عام کیا۔ عورتوں کی بے حرمتی کی، ان کے بے لباس جلوس نکالے، بڑے بڑے مذبح خانے بناکر ان مظلوم ہم وطنوں کی گردنیں کاٹیں، ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینکیں اور ان کے خون سے بڑے بڑے ڈرم بھر ڈالے۔ یہ تمام شرم ناک تفصیلات سیکولر قوتوں کے لیے بائبل کا سا درجہ رکھنے والے رسائل (ٹائم، نیوزویک، لائف، اکانومسٹ وغیرہ) کی مارچ ۱۹۷۱ء کی اشاعتوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان لاکھوں بے گناہ مظلوموں کے بہیمانہ قتل میں عوامی لیگ کی مرکزی قیادت شامل تھی۔ مگر اس خون کا حساب کوئی مانگ نہیں رہا۔ پانچویں یہ کہ ۲۵ مارچ کو جنرل یحییٰ خاں نے فوجی ایکشن کا آغاز کیا، جس کے بعد ۱۲ روز کے دوران بڑی تعداد میں بنگالی شہری مارے گئے۔ چھٹے یہ کہ اپریل ۱۹۷۱ء سے ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کے دوران میں بھارتی فوج کی کھلی اور چھپی پشت پناہی کے ساتھ مکتی باہنی اور بھارتی گوریلا فورس نے مل کر گوریلا جنگ شروع کی۔ ساتویں یہ کہ پاکستانی فوج اور محب وطن بنگالیوں کے خلاف یہ    بے بنیاد اور انتہائی فحش پروپیگنڈا کیا گیا کہ ۳۰ لاکھ بنگالیوں کو مارا اور ۳ لاکھ عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔ ایسے چند انتہائی افسوس ناک واقعات کو لاکھوں میں تبدیل کر دینا، سیکولر روشن خیالی کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ آٹھواں یہ کہ۲۱ نومبر ۱۹۷۱ء کو بھارت نے کھلے عام مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا۔ نواں یہ کہ ۱۶ دسمبر کو پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد پھر مکتی باہنی نے بھارتی فوج کے تعاون سے محب وطن بنگالیوں، اسلامی عناصر اور غیربنگالی پاکستانیوں کے خون کی ہولی کھیلی۔ اس قتلِ عام کا کوئی حساب نہیں۔

یادرہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تحفظ اور بھارتی فوج کی مزاحمت کرنے کے لیے جن قوتوں نے اپنے دوٹوک اصولی موقف کا اعلان کیا، ان میں جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ، نظامِ اسلام پارٹی، پاکستان جمہوری پارٹی اور جمعیت العلما شامل تھے۔ تاہم بنگلہ دیش بن گیا اور پاکستان دو لخت ہوگیا۔ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن کی بلاشرکت غیرے حکومت قائم ہوگئی۔ انتقامی کارروائیوں کا دور دورہ شروع ہوا۔ ایک مدت تک قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔ پاکستان کے ۹۰ہزار جنگی قیدی (فوجی اور سویلین) بھارت کی جیلوں میں منتقل ہوگئے۔

۲۴ جنوری ۱۹۷۲ء کو شیخ مجیب کی حکومت نے کولیبوریٹرز ایکٹ (Collaborators Act) بناکر ان افراد کی پکڑدھکڑ شروع کی، جنھوں نے پاکستان توڑنے کی مہم کا ساتھ دینے کے بجاے، ایک پاکستان کا ساتھ دیا، اور بھارتی افواج کی مدد کر کے دہشت گردی کی کارروائیوں کا حصہ نہیں بنے۔ اس ایکٹ کے تحت ۳۴ہزار ۴ سو ۷۱ افراد پر چارج شیٹ لگائی گئی۔ ۳۰ہزار ۶سو ۲۳ افراد کے نام فہرستوں میں تو لکھے مگر ان پر کوئی الزام نہ عائد کیا جاسکا۔ کُل ۲ہزار۸سو ۴۸ افراد پر مقدمہ چلایا گیا۔ ان میں سے بھی ۲ ہزار ۹۶ افراد پر کوئی جرم ثابت نہ کیا جاسکا، اس لیے ان کو رہا کردیا گیا۔ جب کہ ۷۵۲ افراد کو مجرم قرار دیا گیا۔ اس مشق کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے نومبر ۱۹۷۳ء میں عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ: ’’ماضی کو دفن کرتے ہیں، اب ہم سب مل کر بنگلہ دیش کی تعمیروترقی کا کام کریں گے۔ آج کے بعد یہ باب بند ہوتا ہے‘‘ (تاہم جماعت اسلامی کی سرگرمیوں پر پابندی عائد رکھنے اور جماعت کے مرکزی قائد پروفیسر غلام اعظم [پ: ۷ نومبر ۱۹۲۲ء] کی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان برقرار رکھا)۔ اس طرح بنگلہ دیش کے بانی نے ’جدوجہدِ آزادی‘ کی حمایت یا مخالفت کرنے والوں کی تقسیم کے انتقامی کلچر کو ختم کرنے کا عہد کیا۔ گویا کہ تقریباً دو سال تک بھرپور ریاستی طاقت استعمال کرکے انھوں نے ۷۵۲ افراد کو سزا کے لیے چن لیا تھا۔ یہ تمام پیش کردہ اعداد و شمار خود مجیب حکومت نے پیش کیے تھے، لیکن دوسری جانب عوامی لیگ کے نئے وزیرقانون شفیق احمد جنوری ۲۰۰۹ء میں جن اعداد و شمار کو پیش کر رہے ہیں، انھیں مجیب کے اعداد و شمار سے کوئی نسبت نہیں۔ معلوم نہیں ان میں درست کون ہے اور غلط کون؟ (تاہم ۷ نومبر ۱۹۷۵ء کے تیسرے فوجی انقلاب میں مکتی باہنیکے ہیرو جنرل ضیاء الرحمن نے عنانِ حکومت سنبھالی اور ۳۱ دسمبر ۱۹۷۵ء کو اس کولیبوریٹر ایکٹ کو صدارتی آرڈر کے ذریعے منسوخ کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نومبر ۱۹۷۳ء سے لے کر دسمبر ۱۹۷۵ء کے دوران میں اس ایکٹ کے تحت نہ کوئی مقدمہ قائم ہوا، اور نہ کسی قیدی کو سزا ہوئی۔ اس لیے منطقی طور پر یہ ایکٹ اپنی افادیت کھو چکا تھا)۔

۱۷؍ اپریل ۱۹۷۳ء کو شیخ مجیب الرحمن نے پارلیمنٹ میں ایک خصوصی ٹریبونل بنانے کا اعلان کیا، اور یہ کہا: ’’پاکستانی افواج اور ان کے مددگار عناصر کے ہاتھوں بنگالیوں کے قتلِ عام، انسانی بے حرمتی اور دیگر جرائم کی تحقیقات کرنے اور جنیوا کنونشن کے آرٹیکل ۳ کی روشنی میں مقدمات چلانے کے لیے ۱۹۵ افراد کی فہرست تیار کرلی گئی ہے اور مئی ۱۹۷۳ء کے اواخر تک اس ٹریبونل کے سامنے مذکورہ تمام جنگی مجرموں کو پیش کر دیا جائے گا‘‘ (مجیب حکومت کی اس فہرست میں درج ذیل تمام افراد کا تعلق مسلح افواج پاکستان سے تھا اور وہ تمام مغربی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں سے ایک نام بھی کسی سویلین مغربی پاکستانی یا سویلین بنگالی کا شامل نہیں تھا)۔

اس مقصد کے لیے پہلے تو ۱۵ جولائی ۱۹۷۳ء کو ان شہری حقوق کو سلب کیا گیا کہ جو اسے تنظیم سازی، آزادی راے اور دفاعِ ذات کا حق دیتے ہیں، پھر ۱۹ جولائی ۱۹۷۳ء کو بنگلہ دیشی پارلیمنٹ نے انٹرنیشنل کرائمز ایکٹ پاس کیا، تاکہ ۱۹۵ پاکستانی فوجی افسروں کے خلاف جنگی مقدمات چلائے جاسکیں۔ لیکن اس دوران میں پاکستان اور بھارت کے درمیان وزارتی سطح کے مذاکرات شروع ہوگئے۔ بھارت کی نمایندگی سردار سورن سنگھ اور ڈی پی دھر نے کی، جب کہ پاکستان کی نمایندگی عزیز احمد اور آغا شاہی کر رہے تھے۔ بعدازاں بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ کمال حسین بھی ان مذاکرات کا حصہ بن گئے اور ۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو نئی دہلی میں بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت میں معاہدہ طے پا گیا۔ اس معاہدے کے آرٹیکل ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ کے مطابق مذکورہ ۱۹۵ جنگی ملزموں کو بھی عملاً معاف کر دیا گیا اور اس مسئلے کو ریاستی سطح پر حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا (یاد رہے کہ ان ۱۹۵ افراد میں کوئی ایک فرد بھی جماعت اسلامی سے متعلق نہیں تھا)۔

اسی طرح یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مدتوں تک جماعت اسلامی کی قیادت کو کسی ’مجرمانہ سرگرمی‘ میں ماخوذ نہیں کیا گیا کہ مقدمات چلائے جاتے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت دینی، سماجی، سیاسی اور آئینی اصلاحات و خدمات کی سرگرمیوں میں بھرپور انداز سے شریک رہی۔ ان میں سے اکثر قائدین نے قومی دھارے کی سیاست میں حصہ  لیا اور انتخابات میں اہم کردار ادا کیا۔ ۱۹۷۳ء کے انتخابات میں اس لیے حصہ نہ لیا کہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد تھی، لیکن ۱۹۷۹ء کے عام انتخابات میں ’’اسلامک ڈیموکریٹک لیگ‘‘ (IDL) کے نام سے حصہ لیا اور چھے نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۸۶ء کے عام انتخابات میں ۱۰ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۹۱ء کے انتخابات میں ۱۸ نشستوں پر جماعت اسلامی کے ممبران اسمبلی منتخب ہوئے۔ ۱۹۹۶ء میں ۳ نشستیں جیتیں اور پھر ۲۰۰۱ء کے انتخابات میں بی این پی (خالدہ) کے ساتھ مل کر دو تہائی اکثریت سے کامیابی ملی۔ عوامی لیگ، ہندو کمیونٹی اور مغربی ایجنڈے کی حامل این جی اوز کے نہایت زہریلے پروپیگنڈے کے باوجود دسمبر ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں بھی جماعت کے تمام قائدین نے حصہ لیا۔ بنگلہ دیش میں امیدواری کے قوانین کے مطابق جنگی جرائم میں ماخوذ کوئی فرد انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ لیکن چونکہ جماعت کے قائدین ایسے جرائم میں ملوث نہیں تھے، اس لیے ان میں سے کسی ایک امیدوار کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد نہ ہوئے۔

دراصل یہ ’جنگی جرائم کا ڈراما‘ رچایا صرف اس مقصد کے لیے جا رہا ہے کہ کسی نہ کسی  طرح جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی قوتوں کو قومی دھارے سے نکال باہر کیا جائے، جب کہ جماعت اسلامی جمہوری، پُرامن، آئینی اور خدمتِ خلق کی جدوجہد کا وسیع ریکارڈ رکھتی ہے۔ اسے کسی طور عوامی رابطے سے روکنا ممکن نہیں رہا ہے۔

یاد رہے اس سے قبل جماعت اسلامی کو ایک بڑی صبرآزما آزمایش سے گزرنا پڑا اور وہ آزمایش تھی بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے ہر دل عزیز اور مرکزی لیڈر پروفیسر غلام اعظم کی شہریت کا مسئلہ۔ نومبر ۱۹۷۱ء میں پروفیسر غلام اعظم، مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لاہور آئے تھے کہ دوسرے روز بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا۔ اس طرح ڈھاکہ جانے کے تمام فضائی رابطے کٹ گئے، اور وہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد مغربی پاکستان میں معلق ہوکر رہ گئے۔ دو سال کے بعد سعودی عرب گئے اور پھر لندن منتقل ہوگئے۔ بعد میں جنرل ضیاء الرحمن نے جماعت اسلامی پر عائد پابندیاں ختم کرکے پروفیسر غلام اعظم کو پاکستانی پاسپورٹ پر ڈھاکہ آنے کی اجازت دے دی۔ لیکن جب وہ جولائی ۱۹۷۸ء میں وطن واپس آئے تو ایک عرصے تک انھیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حق سے محروم رکھا گیا کہ: ’’وہ بنگلہ دیشی شہریت نہیں رکھتے‘‘۔ پھر ایک عرصے تک انھیں قیدوبند سے گزرنا اور سخت عدالتی عمل کا سامنا کرنا پڑا، جس میں بنیادی سوال ان کی شہریت کا تھا۔ ڈھاکہ ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس محمد اسماعیل الدین سرکار نے ان کی اپیل پر فیصلے میں لکھا: ’’درخواست گزار، پروفیسر غلام اعظم کو پریس فوٹو میں بلاشبہہ پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خاں اور جنرل ٹکا خاں سے ملاقات کرتے دیکھا گیا ہے، مگر کسی جنگی اقدام میں ان کا کوئی کردار ریکارڈ پر موجود نہیں ہے، اس لیے ان کی شہریت کے حق کو تسلیم کیا جاتا ہے‘‘ (غلام اعظم بنام بنگلہ دیش Dhaka Law Report، نمبر۴۵، ہائی کورٹ ڈویژن، ص ۴۳۳)۔ اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے حکومت سپریم کورٹ میں گئی۔ سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے، پروفیسر غلام اعظم کی شہریت کو بحال رکھنے کا حکم جاری کیا۔ (غلام اعظم بنام بنگلہ دیش Dhaka Law Report، نمبر۴۶، اپیلیٹ بنچ ، ص ۱۹۲)

اگر تاریخ کے ریکارڈ کو دیکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق کے تحفظ اور آئین کی عمل داری کے لیے جماعت اسلامی اور عوامی لیگ نے پہلے مشرقی پاکستان میں اور پھر بنگلہ دیش میں مل جل کر جدوجہد کی۔ شفاف انتخابات کے لیے ’نگران حکومت‘ کے قیام کی تجویز پروفیسر غلام اعظم نے پیش کی، جس کی تائید تقریباً تمام پارٹیوں نے کی اور وہ تجویز دستور کا حصہ بن گئی۔ ۱۹۹۱ء کے عام انتخابات میں بی این پی (خالدہ) نے ۱۴۰ نشستیں جیتیں، عوامی لیگ نے ۸۸ اور جماعت اسلامی نے ۱۸ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جماعت نے بی این پی کی حمایت کی جس سے یہ حکومت ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۶ء تک قائم رہی۔ اس عمل سے عوامی لیگ ناراض ہوگئی۔ آخرکار عوامی لیگ، جاتیوپارٹی (ارشاد) اور جماعت اسلامی نے ۱۹۹۶ء میں پارلیمنٹ سے استعفے دے دیے اور تینوں پارٹیوں نے مل کر سیاسی جدوجہد کی۔ مطیع الرحمن نظامی اور علی احسن مجاہد، حسینہ واجد کے گھر اجلاسوں میں جماعت اسلامی کی نمایندگی کرتے رہے، مشترکہ جلوس نکالتے اور پریس کانفرنسیں کرتے رہے۔ تب موصوفہ کو ان رہنمائوں کے چہروں پر ’جنگی جرائم‘ کا کوئی داغ دکھائی   نہ دیا۔ لیکن جوں ہی ۲۰۰۱ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی نے بی این پی کے ساتھ چار جماعتی اتحاد میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی تو عوامی لیگ کو ۱۹۷۱ء کی یاد ستانے لگی، حالانکہ ان کے والدگرامی اس دریا کو عبور کر چکے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اپنی گھٹی میں پڑے فاشی اور آمرانہ جذبے کے ہاتھوں مغلوب ہوکر جون ۱۹۷۵ء میں تمام سیاسی پارٹیوں پر پابندی عائد کرکے    واحد سیاسی پارٹی: ’بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ‘ (BKSAL) قائم کی اور تمام اخبارات پر پابندی عائد کر کے صرف چار سرکاری اخبارات کی اشاعت کی اجازت برقرار رکھی۔ صرف ڈھائی ماہ ہی گزرے تھے کہ فوج نے بغاوت کر کے ۱۵ اگست ۱۹۷۵ء کو انھیں اہلِ خانہ سمیت قتل کر دیا۔

بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن نظامی [پ: ۳۱ مارچ ۱۹۴۳ء] نے   عوامی لیگ کی اس تازہ پروپیگنڈا مہم کے جواب میں Probe میگزین کو بتایا: ’’گذشتہ مدتِ حکومت کے دوران میں جماعت اسلامی کی کامیابی اور دو وزارتوں میں کامیاب حکمرانی نے سیکولر قوتوں کے اوسان خطا کردیے۔ پہلے انھوں نے اسٹیج کردہ دھماکوں میں بددیانتی سے جماعت اسلامی کو ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی۔ کوئی فرد جماعت کے لٹریچر سے ایسا ایک لفظ بھی نہیں پیش کرسکتا کہ جس میں تشدد پسندی کو فروغ دینے اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کا کوئی جواز اور حوالہ پیش کیا جاسکتا ہو۔ اسی طرح عوامی لیگ دومرتبہ حکومت میں رہی، سب سے پہلے ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۵ء تک، جب کہ اس کے سربراہ خود شیخ مجیب الرحمن تھے اور دوسری مرتبہ ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۱ء کے دوران میں، جب کہ اس کی سربراہ حسینہ واجد تھیں۔ پہلے دور میں تو کوئی فرد انھیں چیلنج بھی نہیں کرسکتا تھا۔ کیا اُس زمانے میں وہ جماعت اسلامی کے خلاف کوئی ایک مقدمہ بھی دائر کرسکے؟ ایک بھی نہیں۔ اسی طرح جب میجر رفیق وزیرداخلہ نے جنگی مجرموں کی فہرست تیار کی تو جماعت اسلامی کے کسی ایک رکن کا بھی نام اس میں شامل نہ کرسکے۔ اس لیے یہ مقدمات چلانے کی سطحی نعرے بازی دراصل جماعت اسلامی کو خوف زدہ کرنے کے لیے سیاسی مخالفین کی ایک اوچھی چال اور سیاسی دہشت گردی ہے۔ یہ کیسی عجیب منطق ہے کہ ساتھ دو تو ٹھیک، اور ساتھ نہ چلو تو مجرم۔ جنرل حسین محمد ارشاد کی فوجی آمریت کے خلاف عوامی لیگ کے ۱۵ پارٹی اتحاد اور خالدہ ضیاء کے سات پارٹی اتحاد سے مل کر ہم نے جمہوریت کے لیے جدوجہد کی، اور پھر ’کیر ٹیکر گورنمنٹ‘ [نگران حکومت] کا قانون پاس کرانے کے لیے بھی جماعت اسلامی سے عوامی لیگ نے مل کر خالدہ ضیاء حکومت پر دبائو ڈالا کہ وہ دستور میں ترمیم کریں‘‘(۲۷ اگست ۲۰۰۷ء)۔ اسی طرح ٹائمز آف انڈیا (۷ مئی)کو انٹرویو دیتے ہوئے، مطیع الرحمن نظامی نے کہا: ’’۱۹۷۱ء میں پاکستان ایک ملک تھا اور برملا ہم اس کے ساتھ وفادار تھے۔ اب بنگلہ دیش ایک ملک ہے، اور ہم اس کے شہری ہوتے ہوئے، اس کے ساتھ حب الوطنی سے وابستہ ہیں۔ البتہ سوچنے کا مقام ان لوگوں کے لیے ہے جو سیاسی دیوالیہ پن کے شکار ہیں اور اپنی فاشی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے جا الزام تراشی پر اُتر آئے ہیں‘‘۔

اب بنگلہ قوم پرستی کے اس سیکولر دھارے کے ان اقدامات اور عزائم پر نظر ڈالیں:

  •  بھارت کے احسان تلے دبی عوامی لیگ، غیر متعلق مسائل کو اُچھال کر دراصل اپنے ان اقدامات پر پردہ ڈال رہی ہے جن کے نتیجے میں اس نے عملاً بنگلہ دیش کو بھارت کی کالونی اور ایک طفیلی ریاست بنا کر رکھ دیا ہے۔ ۸ فی صد بنگالی ہندوئوں کی خوشی اور حمایت حاصل کرنے کے لیے اسلامی قوتوں کو مسلسل ہدف بناکر اپنی بھارت نوازی کا ثبوت فراہم کرنا اس کی حکمت عملی ہے۔
  •  ۲۵ جون ۲۰۰۹ء کو بنگلہ دیش مسلح افواج کے بریگیڈیئر عبداللہ الاعظمی کو کوئی جواز بتائے بغیر، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل معین نے برطرف کر دیا۔ بریگیڈیئر اعظمی، نیشنل ڈیفنس کالج کے سربراہ تھے۔ ان کی شہرت ایک انتہائی ذہین، ایمان دار، شریف النفس، محب وطن اور فرض شناس افسر کی تھی۔ البتہ ’جرم‘ صرف ایک ہی تھا اور وہ یہ کہ وہ جماعت اسلامی کے بزرگ رہنما پروفیسر غلام اعظم کے بڑے بیٹے ہیں، جنھیں تنگ نظر قوم پرستی نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا ہے۔
  •  بعدازاں ۹ جولائی ۲۰۰۹ء کو بنگلہ دیش پارلیمنٹ نے وار کرائمز ایکٹ ۲۰۰۹ء منظور کیا ہے، کہ جس کے تحت گڑے مُردے اُکھاڑنے، اور ۴۰ سال پرانے الزامات گھڑتے ہوئے، اُبھرتی اسلامی قوت جماعت اسلامی کو دبانا مطلوب ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ اس حکمت عملی سے جہاں ایک طرف جماعت اسلامی کی قیادت شخصی سطح پر نقصان پہنچ سکتا ہے، وہاں دوسری جانب خود اسلامیانِ بنگلہ دیش میں ان کی پذیرائی کے دائرے میں بے پناہ وسعت آئے گی، اور مشرق سے اُبھرتے ہوئے مسلم قومیت و توانا اسلامیت کے اس سورج پر ڈالی جانے والی  یہ کمندیں، موم کی رسیاں ثابت ہوں گی، ان شاء اللہ!