معاشرہ کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ زندگی اور موت، تعمیر اور تخریب کا معاشرتی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ تاہم جب موت کے سایے گہرے اور تخریب کے حوالے بڑھ جائیں تو معاشرہ بیماری کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس صورت حال میں زندگی اور تعمیر کی قوتوں کے لیے ناگزیر ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا بھرپور اورمثبت کردار ادا کرکے معاشرے کو زندگی اور تعمیر کا نمونہ بنائیں۔
پاکستانی معاشرہ بھی اسی طرح کی کش مکش سے دوچار ہے۔ یہاں ایک طرف اگر تعمیر کا نشان بلند ہوتا ہے تو ساتھ ہی تخریب کی موجیں اسے زیرآب لے جانے کے لیے اُمڈ آتی ہیں۔ پاکستان کی نئی نسل کے لیے آج کے حالات کی شدت بے مثال ہے، لیکن انھیں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ: ’ہم لائے ہیں طوفاں سے کشتی نکال کے‘ بھی ایک حقیقت ہے۔ ہمارا معاشرہ آج اچانک کسی عفریت کے جبڑوں میں نہیں جکڑا گیا، بلکہ یہ کام بہت پہلے شروع ہوا، اور یہ عفریت اپنی کینچلی اور رنگ بدل بدل کر اس معاشرے کی کمرتوڑنے کے درپے رہا ہے۔ یہ سب کچھ یکایک رُونما نہیں ہوگیا بلکہ اس میں درجہ بدرجہ بہت سی قوتوں نے حصہ ڈالا ہے، بالخصوص طاقت ور منفی طبقوں نے!
یہاں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ (۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ئ-۲۲ستمبر ۱۹۷۹ئ)کی چند تحریروں اور بیانات کی روشنی میں پاکستانی تاریخ کے اوراق اُلٹے ہیں کہ اس موسمِ خزاں نے گلستانِ وطن کو کس کس طرح اُجاڑا ہے۔
پاکستان میں دستور سازی کا عمل ابتدائی منازل طے کررہا تھا، مگر طاقت کے حریص طبقے، ملک و قوم کے مستقبل سے بے پروا ہوکر باہم جنگ و جدل میں مصروف تھے۔ مغربی پاکستان سے جاگیردارانہ پس منظر کے حامل سیاست دان، کھلے عام اعلیٰ سول افسروں سے مل کر اور پس پردہ اعلیٰ فوجی افسروں سے سازباز کرکے، زیر تشکیل دستور میں نقب لگا رہے تھے۔ وہ اس امر سے بے پروا تھے کہ اس کا نتیجہ مشرقی پاکستان میں کیا نکلے گا اور خود یہاں مغربی پاکستان میں کیا عذاب آئے گا۔ جدید تعلیم یافتہ اور انگریزی طور طریقوں کا رسیا یہ حاکم طبقہ اپنی دُھن میں ہرچیز کو تہس نہس کر رہا تھا۔ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۵۰ء کو مولانا مودودی نے قوم کو متنبہ کرتے ہوئے لاہور میں خطاب کے دوران کہا تھا:
کسی زندہ قوم کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ چند آدمیوں کے ہاتھ میں دے کر خاموش بیٹھ جائے، اور ان کی مرضی پر چھوڑ دے کہ وہ جس طرح چاہیں ملک کے نظام کو ڈھال دیں۔(سیّد مودودی: دستوری سفارشات پر تنقید و تبصرہ،ص ۴۱)
دراصل وہ خبردار کر رہے تھے کہ قومی معاملات کو چند ہاتھوں میں دے دینے کا نتیجہ محلاتی سازشوں اور ان کے نتیجے میں تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ ظاہر ہے کہ ملک میں لاقانونیت اور غیردستوری کلچر کے فروغ سے ظلم کے علاوہ کون سی فصل برگ و بار لاسکتی ہے؟ اور جب مسئلہ ملک کے دفاع کا ہو تو حسِ انصاف کو بیدار رکھنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے، بجاے اس کے کہ جنگی صورتِ حال میں عدل کو بھی گولی کا نشانہ بنادیا جائے۔ یہاں مولانا مودودی کی ایک طویل تقریر سے اقتباس دیا جا رہا ہے۔ یہ تقریر انھوں نے ۲۲جولائی ۱۹۵۱ء کو لاہور میں کی تھی۔ تب بھارتی افواج، پاکستان پر حملے کے لیے تیار کھڑی تھیں اور ملک سخت ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھا۔ مولانا نے بنیادی اخلاقی اصولوں کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے فرمایا تھا:
یہ بات ہرجگہ ذہن نشین کرانے کی کوشش کریں کہ [قومی] مورال کے بحال رکھنے کے لیے جھوٹ کے بجاے سچ کا ہتھیار استعمال کیا جائے۔ خالی خولی پُرجوش باتوں سے مورال اگر بحال ہو بھی جائے تو یہ مستقل نہیں، عارضی ہوتا ہے۔
ایک اور چیز جسے دفاع کے معاملے میں خاص اہمیت حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ ملک کے اندر ظلم و ستم اور بے انصافیوں اور حق تلفیوں کو قطعی طور پر بند ہونا چاہیے۔ ظلم سے بڑھ کر قومی دفاع کو کمزور کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سرزمین [پاکستان] ہمارا نہیں بلکہ اسلام کا گھر ہے۔ ہمارے لیے یہ سب سے بڑی نعمت ہے، اور ہم ہرقیمت پر اس کی حفاظت کے لیے تیار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ہرمسلمان میں اس نعمت کی قدر کا جذبہ پیدا کریں، اور اس کے قلب و روح میں یہ خیال جاگزیں کردیں کہ اس نعمت کی حفاظت میں کوئی قربانی بھی گراں نہیں ہے۔l(اخبار سہ روزہ کوثر، لاہور، ۲۸جولائی ۱۹۵۱ئ)
اس تقریر میں مولانا مودودی نے جنگی صورتِ حال میں جھوٹے پروپیگنڈے کی اشاعت اور ’نظریۂ ضرورت‘ کے تحت محض جوشیلے طرزِ بیان کی نفی کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بتایا ہے کہ بھلے لوگو، جب ملک جنگی صورتِ حال سے دوچارہو تو اپنے معاشرے میں اور زیادہ عدل و انصاف کی دولت لٹائو، نہ کہ عدل و انصاف کو صدمہ پہنچائو، اور یہ بھی کہ اسلام کے گھر کے مانند پاکستان کی حفاظت کرنے کے لیے ہر آن تیار بھی رہو۔
اس تقریر کو اڑھائی ماہ اور پاکستان کو قائم ہوئے ابھی چار برس گزرے تھے کہ اوّلین وزیراعظم لیاقت علی خاں کے قتل (۱۶؍اکتوبر ۱۹۵۱ئ) نے پاکستان کو خونیں دلدل میں دھکیل دیا۔ تلوار اور تشدد کے اس پہلو کو مولانا مودودی نے ’قاضیِ شمشیر‘ کی اصطلاح سے منسوب کیا، اور جماعت ِ اسلامی کے کُل پاکستان اجتماع منعقدہ کراچی میں خطاب کے دوران فرمایا:
کسی ملک کے لیے اس سے بڑھ کر اور کوئی بدقسمتی نہیں ہوسکتی کہ اس میں فیصلے کا آخری اختیار عقل، شعور، دلیل اور راے عام سے چھین کر ’قاضیِ شمشیر‘ کے سپرد کردیا جائے۔ یہ قاضی کوئی عادل اور صاحب ِ فکر قاضی نہیں ہے۔ یہ اندھا، بہرا اور گونگا قاضی ہے۔ اس سے جب کبھی فیصلہ چاہا گیا ہے ، اس نے حق اور انصاف دیکھ کر نہیں، بلکہ خون کی رشوت لے کر فیصلہ کیا ہے، اور جس نے بھی زیادہ خون چٹا دیا، اسی کے حق میں اس نے فیصلہ دیا ہے، خواہ وہ حق پر ہو یا ناحق پر، خواہ وہ نیک ہو یا نہ ہو۔
کوئی قوم جو خود اپنی دشمن نہ ہو، اور جس کی عقل کا دیوالیہ نہ نکل چکا ہو، ایسی بے وقوف نہیں ہوسکتی کہ اپنے معاملات کا فیصلہ: شعور و استدلال کے بجاے تلوار کے اندھے قاضی کے سپرد کردے۔ اگر ہم اپنا مستقبل تاریک نہیں کرنا چاہتے تو ہمیںپوری قوت کے ساتھ اپنے ملک کے حالات کو اس خطرناک رُخ پر جانے سے روکنا چاہیے۔(۱۰نومبر ۱۹۵۱ئ، رُوداد جماعت اسلامی،ششم: ص ۵۴)
مولانا مودودی کی جانب سے ’قاضیِ شمشیر‘ کا یہ اشارہ ہر اس اندھی بہری قوت کی طرف ہے، جو عدل کے نام پر عدل کوقتل کرے یا تشدد کے لیے خودساختہ اُصولوں کی بنیادپر دوسروں کی جان لینے کے بہانے گھڑے اور وسیلے تراشے۔ یہ فعل کسی کے بھی ہاتھوں رُونما ہوسکتا ہے: سیاسی لبادے میں ایم کیو ایم جیسے طائفے ہوں یا ’محرومی‘ کے نام پر قوم پرستوں کی پُرتشدد خفیہ تنظیمیں، یا مذہب کے نام کو استعمال کرنے والے خونیں گروہ، یا پھر عدل و انصاف کے مسلّمہ اصولوں سے بالاتر ادارے۔ انسانی جان لینے کے کھیل میں یہ سب ’قاضیِ شمشیر‘ بن جاتے ہیں۔
جب وزیراعظم لیاقت علی خاں کا قتل ہوا تو اُس وقت ملک میں دستورسازی اور اختیارات کی تقسیم کا معاملہ زیربحث تھا۔زیربحث کہنا درست نہیں، درست بات یہ ہے کہ دستورسازی کے موقعے پر مختلف طاقت ور گروہ زیادہ سے زیادہ اختیارات چھیننے کی دوڑ میں باہم معرکہ آرا تھے۔ ان حالات میں ۳۰جنوری ۱۹۵۳ء کو لاہور کے جلسۂ عام میں مولانا مودودی نے زیربحث بہت سی دستوری سفارشات کے بعض پہلوئوں پر مفصل تبصرہ کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے بارے میں چنداصولی نکات ارشاد فرمائے۔ یاد رہے کہ اُن کی تقریر کا یہ حصہ عام (سویلین) شہریوں کے حوالے سے نہیں بلکہ خود فوجیوں کے بارے میں اور فوجی عدالتوں کے حوالے سے تھا۔ انھوں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’دستوری سفارشات کی رپورٹ‘ میں فوجی عدالتوں کے مقدمات کے خلاف سماعت کرنے سے سپریم کورٹ کو روک دیا گیا ے۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیںآتی، حالانکہ خود انگلستان میں، سپریم کورٹ میں ہرعدالت کے [فیصلے کے] خلاف اپیل کی جاسکتی ہے، حتیٰ کہ فوجی عدالت کے خلاف بھی، اور پھر یہ بات کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر ہمارے سپاہی کس پاداش میں انصاف سے محروم رکھے جائیں؟ جس طرح سے ایک عام آدمی کے لیے ملک کی آخری عدالت سے انصاف حاصل کرنے کا امکان ہے، اسی طرح سے ہمارے فوجیوں کے لیے بھی انصاف کے حصول کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ کوئی شخص کہتا ہے کہ اس طرح فوج میں ڈسپلن قائم نہیں رہتا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ فوج میں بے انصافی سے ڈسپلن کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری فوج کے بھی ہرسپاہی کو پوری طرح سے یہ اطمینان حاصل ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ بے انصافی کبھی نہیں ہوسکے گی، اور یہ ایسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ وہ کورٹ مارشل کے مقابلے میں سپریم کورٹ سے اپیل کرسکے۔ دستور میں کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گنجایش نہ رکھنا قطعی طور پر اسلامی اصولِ عدل کے خلاف ہے۔ (ماہ نامہ چراغِ راہ، کراچی، مدیر: نعیم صدیقی، خصوصی ضمیمہ، جولائی ۱۹۵۳ئ)
یاد رہے یہ اُس وقت کی بات ہے جب پاکستان کا نظامِ حکومت ۱۹۳۵ء کے برطانوی ترمیم شدہ ایکٹ کے تحت چل رہا تھا اور ابھی تک دستورسازی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ اب، جب کہ دستور بن چکا ہے اور ۶۰برس کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد دستوری روایات اور عدالتی عمل اپنی گہری بنیادیں استوار کرچکے ہیں، تو فوج کے داخلی نظام میں فوجی عدالتوں کا معاملہ اور ان کا اختیارِ سماعت کہیں زیادہ واضح انداز میں طے ہوچکا ہے۔
اس دستور ی بحث کے دوران ۱۹۵۳ء کے ابتدائی مہینوں میں صوبہ پنجاب ’فتنۂ قادیانیت‘ کے مسئلے پر ہنگاموں میںگِھر گیا (ان ہنگاموں کی صورت گری کرنے والے چہروں سے کب کا نقاب اُترچکا، مگر ہمارا مقبوضہ میڈیا ان کے نام لینے سے شرماتا ہے)۔ پنجاب کے حاکم آگے بڑھے، سول اور فوجی اعلیٰ افسروں سے مل کر لاہور میں ۶مارچ کو مارشل لا لگادیا۔ اس اقدام سے ’قاضیِ شمشیر‘ نے اقتدار کا ذائقہ چکھا اور اپنی قوت کا اندازہ بھی لگایا۔ فوجی عدالت لگی، سرسری سماعت ہوئی اور ۱۱مئی ۱۹۵۳ء کے روز مولانا مودودی کو سزاے موت سنانے کا فیصلہ صادر ہوا۔ ازاں بعد شدید عوامی اور بین الاقوامی ردّعمل اور احتجاج کے نتیجے میں یہ سزا عمرقید میں تبدیل ہوگئی۔ وہ مولانا مودودی جو صرف ساڑھے چار ماہ قبل فوجیوں کے لیے انصاف اور اپیل کا حق مانگ رہے تھے، چند ہی ماہ بعد خود اُنھیں فوجی عدالت میں دھر لیا گیا اور اعلیٰ سول عدالت میں اپیل کے حق کا تو کوئی سوال ہی نہ تھا۔
انھی ہنگاموں کی تحقیقات کے لیے جسٹس محمد منیر (م: ۱۹۷۹ئ) اور جسٹس ایم آر کیانی (م:۱۹۶۲ئ) پر مشتمل ایک ’تحقیقاتی عدالت‘ ۱۹جون ۱۹۵۳ء کو قائم کی گئی۔ اس خصوصی عدالت میں ۱۳فروری ۱۹۵۴ء کو مولانا مودودی نے اپنا تیسرا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے فرمایا:
ایک جمہوری نظام میں یہ بات نہیں مانی جاسکتی کہ قوم خود اپنے مفاد کی دشمن ہے، اور اس کے مفاد کو [فقط] چند افسرزیادہ جانتے ہیں۔
دراصل یہ نشان دہی تھی اس خطرے کی، کہ ملک کے کاروبارِ حکومت اور فیصلہ سازی کے عمل کو چند (سول یا فوجی) افسروں کے ہاتھ میں دے دینے کا نتیجہ جمہوری بساط کے لپٹنے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ پہلے مارشل لا کی فوجی عدالتوں نے سول شہریوں کو سزائیں سنائیں، پھر تحقیقات کے نام پر انڈین سول سروس کے تیار کردہ عدالتی افسروں نے مذکورہ بالا تحقیقاتی عدالت کی ایک رپورٹ مرتب اور ۱۰؍اپریل ۱۹۵۴ء کو جاری کی گئی، جس میں دینی اصولوں اور علما کا مذاق اُڑایا گیا تھا اور بہت سی غیرمتعلقہ بحثیں بھی ٹھونس دی گئیں۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کی یہ واحد تحقیقاتی رپورٹ ہے جو سرکاری طور پر بیک وقت انگریزی، اُردو اور بنگلہ زبان میں بڑے پیمانے پر شائع کی گئی (اور اب بھی لاہور کے فٹ پاتھوں سے دستیاب ہوجاتی ہے)۔ یہ رپورٹ دراصل تحقیقات سے زیادہ سیکولرزم کے جواز کا مقدمہ پیش کرنے کی دستاویز تھی، جسے سیاسی مقتدرہ اور اعلیٰ افسرشاہی نے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
رپورٹ کی بے سروپا اور حددرجہ متنازع باتوں کا مولانا مودودی نے جیل ہی میں بیٹھ کر جواب لکھا، جو ۱۹۵۵ء میں تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ کے نام سے شائع ہوا۔ مولانا مودودی نے برطانیہ میں اصولِ قانون کے مایہ ناز پروفیسر البرٹ وین ڈائسی (Dicey: ۱۸۳۵ئ-۱۹۲۲ئ) کی معروف کتاب The Law of Constitution (طبع نہم) کے حوالے سے لکھا:
مارشل لا کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ملک کی یا اس کے کسی حصے کی حکومت عارضی طور پر فوجی عدالتوں کے ذریعے چلائی جائے… سپاہی ایک فساد کو اسی طرح دباسکتے ہیں جس طرح وہ ایک بیرونی حملے کو دفع کرسکتے ہیں۔ وہ باغیوں سے اسی طرح جنگ کرسکتے ہیں، جس طرح وہ غیرملکی دشمنوں سے کرسکتے ہیں۔ مگر وہ [یعنی فوجی] ازروے قانون اس کا کوئی حق نہیں رکھتے کہ فساد یا بدامنی کی سزا لوگوں کودیں۔ امن قائم کرنے کی کوشش کے دوران میں لڑتے باغیوں کو قتل کیا جاسکتا ہے، اور قیدیوں کو اگر وہ بھاگ نکلنے کی کوشش کررہے ہوں گولی سے ماراجاسکتا ہے، مگر کوئی ایسی سزاے موت، جو ایک کورٹ مارشل کی طرف سے دی جائے، غیرقانونی ہے بلکہ اصولاً ایک مجرمانہ قتل ہے۔(ایضاً،ص ۲۹۳).... جب باقاعدہ عدالتیں کھلی ہوں اور مجرموں کو ان کے حوالے کیا جاسکتا ہو، تاکہ وہ عام قانون کے مطابق ان کے بارے میں کارروائی کرسکیں، تو تاج [ریاست]کو دوسرا کوئی طریق کارروائی اختیار کرنے کا حق نہیں ہے۔ (ایضاً، ص ۱۹۸)
مولانا مودودی کسی بھی درجے میں ریاست یا ریاستی اداروں کوعدل اور انصاف کے مسلّمہ اصولوں سے ہٹ کر چلنے سے روکتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ریاست اور حکومت ایک مہذب حوالہ ہیں، جنھیں قانون شکن اور عدل کے قاتل باغیوں کے برعکس راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اسی لیے وہ مذکورہ تبصرے میں ڈبلیو فورسائیتھ کی کتاب Cases and Opinions on Constitutional Law کے حوالے سے لکھتے ہیں:
۱۸۶۶ء میں جمیکا کی بغاوت کو کچلنے کے لیے جو مارشل لا لگایا گیا تھا، اس پر انگلستان کے دو ممتازماہرین قانون بحث میں لکھتے ہیں: بغاوتوں کو فوجی طاقت سے دبانا بلاشبہہ قانونی فعل ہے، مگر غیرقانونی [یعنی فوجی] عدالتوں کے ذریعے سے جرائم کے مرتکبین کو سزا دینا ایسی کارروائی ہے جو ’دستاویز حقوق‘ (Petition of Rights) کے ذریعے ممنوع ہے۔ فوجی حکام کا یہ فرض تھا کہ قیدیوں کو دیوانی اقتدار کے سپرد کردیتے… اگر مسٹرگورڈن نے فی الواقع غداری کی بھی تھی تو وہ [یعنی فوجی حکام] اس کو سزا دینے کا کوئی حق نہ رکھتے تھے۔ ان کا دائرۂ اختیار صرف طاقت کے ذریعے دبا دینے تک محدود تھا، نہ کہ وہ جرائم کی سزا بھی دینے لگیں۔
قانون کے سب ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جہاں عام ملکی عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، یا کھل سکتی ہوں، وہاں فوجی عدالتیں قائم کر کے لوگوں کو سزائیں دینا بالکل ناجائز ہے۔(تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ، ص ۶۰)
آگے بڑھنے سے پیش تر تاریخ کا یہ باب دیکھنا مفید ہوگا۔وزیراعظم محمدعلی بوگرہ [م:۱۹۶۳ئ] قوم کو یہ خوش خبری سناچکے تھے کہ: ’’۲۵دسمبر ۱۹۵۴ء کے روز قوم کو دستور کا تحفہ دیں گے‘‘۔ مگر منفی قوتوں کی شرانگیزی متحرک ہوئی، جسے یہاں پر ڈاکٹر صفدرمحمود کی کتاب مسلم لیگ کا دورِ حکومت سے نقل کیا جارہا ہے۔ یہ نثرپارہ بلاتبصرہ بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ یاد رہے ۲۸؍اکتوبر کو اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کا اعلان ہوچکا تھا کہ:
گورنر جنرل [ملک] غلام محمد نے ۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴ء کو [پاکستان کی] مرکزی وزارت کو برطرف کر دیا، دستور ساز اسمبلی کوتوڑ دیا۔ یہ اقدامات فوج کے سربراہ [جنرل محمد ایوب خان] اور بیوروکریسی کی مکمل حمایت سے کیے گئے۔ امریکا میں خفیہ مواد کے سامنے آنے سے پتا چلا ہے کہ دستور سازاسمبلی کو واشنگٹن کی آشیرباد اور منظوری کے بعد توڑا گیا تھا۔ عملی اقدام سے پہلے اسکندر مرزا اور واجد علی (امریکا میں پاکستانی سفیر امجدعلی کے بھائی) نے امریکی سفیر [متعینہ پاکستان] کو اپنے ارادوں، منصوبوں اور سخت اقدامات سے آگاہ کیا، اور اسے بتایا کہ: ’’اس اقدام کا مقصد پاکستان کو مُلّاازم سے بچانا ہے‘‘ (ص ۲۳۵)۔ جب غلام محمد نے، جو عوام کے منتخب نمایندے نہیں تھے، نے دستورساز اسمبلی کو منسوخ کردیا تو… اسے [مسلح افواج پاکستان کے]کمانڈر انچیف محمدایوب خان کی بھی حمایت حاصل رہی (مسلم لیگ کا دورِ حکومت، ناشر: جنگ پبلشرز، لاہور، مارچ ۱۹۹۳ئ، ص ۲۳۶)
[ملک] غلام محمد کبھی کبھی اپنے فیصلوں پر ریوالور کی رہنمائی میں بھی عمل کرایا کرتے تھے۔ [سابق وزیراعظم] چودھری محمد علی (مسلم لیگ کا دورِ حکومت) اور اسکندر مرزا (غیرمطبوعہ سوانح عمری) دونوں راوی ہیں، امریکا سے واپسی پر [وزیراعظم] محمدعلی بوگرہ کو[گورنر جنرل ملک] غلام محمد کے سامنے پیش کیا گیا، تو غلام محمد نے تکیہ کے نیچے سے ریوالور نکال لیا اور جب تک بوگرہ نے [دستور ساز اسمبلی توڑنے کی] تجویز سے اتفاق نہ کرلیا غلام محمد انھیں قتل کی دھمکیاں دیتے رہے۔ اس کارروائی کے دوران [جنرل محمد] ایوب خان ریوالور ہاتھ میں پکڑے پس پردہ کھڑے رہے۔ ( خوشامدی ادب اور سیاست، القمر انٹرپرائزز، لاہور،۱۹۹۴ئ، ص ۲۷)
اس دعوے کی تردید کبھی سامنے نہیں آئی۔ اس میں سے ریوالور کی بات کو نظرانداز کر بھی دیں تو ’طاقت ور‘ کے قلم اور چھڑی میں بہرحال ریوالور سے زیادہ طاقت ہوتی ہے۔
اس دستور ساز اسمبلی کے توڑنے کے واقعے پر تڑپ کر میاں طفیل محمد (سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان) کراچی پہنچے اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر چودھری غلام محمد کے ہمراہ تمیزالدین (م: ۱۹۶۳ئ) اسپیکردستور ساز اسمبلی کو بڑی مشکل سے آمادہ کیا کہ وہ اس آمرانہ اور ملکی سالمیت کے لیے تباہ کن اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں۔ میاں طفیل محمد اپنی کتاب مشاہدات (نومبر۲۰۰۰ئ) میں تفصیل (ص ۲۳۲-۲۴۴) سے بیان کرتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے وکلا کی فیس تک کے لیے مالی وسائل جماعت اسلامی نے فراہم کیے اور سندھ ہائی کورٹ میں اس اقدام کو کس طرح چیلنج کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے گورنر جنرل غلام محمد کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا، مگر سپریم کورٹ نے پاکستانی سیکولر لابی کے نظریہ ساز رہنما چیف جسٹس محمدمنیر کی سربراہی میں گورنر جنرل کے فیصلے کو ایک کے مقابلے میں چار کی اکثریت سے سند ِ جواز عطا کی ۔ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تائید اور جسٹس منیر کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے وہ واحد رکن جسٹس اے آر کارنیلیس تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء میں لاہور میں نافذ ہونے والا مارشل لا عملی سطح پر سیاست دانوں کی ناکامی کا اعلان اور فوجی اقتدار کی ریہرسل تھا۔ چنانچہ اس کامیاب ریہرسل کے بعد، صدر اسکندر مرزا (م: ۱۹۶۹ئ) نے ۷؍اکتوبر ۱۹۵۸ء کو اسمبلیاں توڑ کر اور سول حکومتیں برطرف کر کے پورے پاکستان میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ مسلح افواج کے کمانڈرانچیف جنرل محمد ایوب خان کو وزیراعظم اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا۔ (یاد رہے کہ ’قائد عوام‘ ذوالفقار علی بھٹونے اس مارشل لائی کابینہ میں وفاقی وزیر کا عہدہ حاصل کیا تھا)۔ ۲۰روز بعد ۲۷؍اکتوبر ۱۹۵۸ء کو جنرل ایوب خان، صدر اسکندرمرزا کو برطرف کر کے کرسیِ صدارت پر بھی متمکن ہوگئے۔ یاد رہے اس مارشل لا کے نفاذ سے قبل یہ اعلان ہوچکا تھا کہ فروری ۱۹۵۹ء میں عام انتخابات ہوں گے۔اس مارشل لا سے صرف دوماہ قبل سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی زیرادارت ماہ نامہ ترجمان القرآن، لاہور (اگست ۱۹۵۸ئ) میں جو اداریہ (اشارات) شائع ہوا، اس کے انتباہ کو ملاحظہ کیجیے کہ کس قدر دُوراندیشی سے آنے والے خطرات سے قوم کو خبردار کیا گیا تھا، کس اندازسے سیاست دانوں کو جھنجھوڑا گیا تھا اور کن الفاظ میں اعلیٰ فوجی قیادت کو عقل و خرد کی بات سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لکھا تھا:
اسے مسلمان ممالک کی بدقسمتی کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ دنیا نے آج تک اجتماعی زندگی کے بارے میں جتنے مفید سبق سیکھے ہیں، نہ صرف ان سب کو بھلا دیا جاتا ہے بلکہ اُن غلطیوں کو باربار دُہرایا بھی جاتا ہے۔ مثال کے طور پر فوج کے غلط استعمال کو ہی لیجیے۔ ہرمعمولی عقل و خرد رکھنے والاآدمی بھی اس حقیقت سے واقف ہے کہ فوج اپنے ملک پر حکومت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملک کو بیرونی دشمنوں سے بچانے کے لیے منظم کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے دنیا کے تمام عقل مند لوگ ملکی معاملات میں فوج کی دخل اندازیوں کو پسند نہیں کرتے، مگر ہماری شومیِ قسمت کہ جو لوگ ہمارے ہاں اقتدار پر قابض ہیں، وہ چونکہ عوامی تائید کی قوت سے محروم ہیں، اس لیے وہ اس کمی کو فوج کی طاقت اور پشت پناہی سے پورا کرتے ہیں۔ جہاں کسی حلقے میں اضطراب یا عدم اطمینان دکھائی دیا، اُسے فوراً فوج کی مدد سے دبا دیا۔ بظاہر یہ نسخہ بڑا سستا اور آسان ہے، لیکن اس کے نتائج ملک، قوم، اصحابِ اقتدار اور خود فوج کے حق میں نہایت مہلک ہوتے ہیں۔ اس کا پہلااثر یہ پڑتا ہے کہ ملک کے باشندے خود اپنی فوج سے بوجوہ متنفر ہوجاتے ہیں اور ملک کی حفاظت کے لیے فوج اور قوم کا تعاون ممکن نہیں رہتا۔ یہ صورتِ حالات ’سامراجی من چلوں‘ کے لیے بڑی ہی حوصلہ افزا ثابت ہوتی ہے اور اس سے بسااوقات ملک کی آزادی پر آبنتی ہے۔
فوجی افسروں کے منہ کو جب ایک دفعہ اقتدار کا [ذائقہ] لگ جاتا ہے، تو پھر پوری فوج کا نظم تہ و بالا ہوجاتا ہے۔ ملک کے یہ پاسبان ہمیشہ اس تاک میں رہتے ہیں کہ باہر چاہے انھیں کچھ فتح کا موقع ملے یا نہ ملے، مگرانھیں گھر کو ضرور فتح کرڈالنا چاہیے۔ اگر اخلاقی حیثیت سے اس معاملے کو دیکھا جائے تو یہ بے حد افسوس ناک ہے۔ اس سے بڑی غداری اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک فوج جن لوگوں کے روپے سے منظم اور مسلح ہوتی ہے، وہ طاقت پاکر خود اپنی قوم کی گردن پر ہی سوار ہوجائے اور سنگین کی نوک پر ملک میں اپنا حکم منوانا شروع کردے۔
معاملہ صرف ایک انقلاب تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ فوجی انقلاب ایک ایسا شیطانی چکر ہے کہ کوئی ملک بدقسمتی سے اس میں ایک دفعہ گرفتار ہوجائے تو اس سے بچ نکلنے کی کوئی اُمید باقی نہیں رہتی۔ ایسا ملک پیہم انقلاب اور ناگہانی تغیرات کی آماج گاہ بن جاتا ہے، اور کش مکش اور چھین جھپٹ کی بیماری سیاسی پارٹیوں سے نکل کر فوج کے مختلف طبقوں میں سرایت کرنا شروع کردیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے جو معاملات بساطِ سیاست پر سیاسی جوڑتوڑ سے طے کیے جاتے تھے، اب ان کے فیصلے کے لیے ’قاضیِ شمشیر ‘کی طرف رجوع کرنا بالکل ناگزیر ہوجاتا ہے، اور یہ قاضی اپنے مزاج کے اعتبار سے اس قسم کا بے حس واقع ہوا ہے کہ اسے اگر ایک مرتبہ عدالت کی کرسی پر متمکن کردیا جائے تو پھر یہ اُس وقت تک چین نہیں لیتا، جب تک کہ سارا ملک تاخت و تاراج نہ کردیا جائے۔
اس کے علاوہ فوجی انقلاب کے وقت خواہ نعرے کتنے ہی خوش کُن اور احساسات و جذبات خواہ کتنے پاکیزہ ہوں، لیکن یہ انقلاب اپنی کامیابی اور بقا کے لیے اس بات پر مجبور ہے کہ کسی ایسے جابرانہ نظام کو جنم دے، جس میں نہ صرف لوگوں کے جسم گرفتار ہوں بلکہ ان کی روح بھی پابہ زنجیر رہے۔ اور لوگ دم بخود ہوکر ان فوجی آمروں کے افعال و اعمال دیکھتے چلے جائیں۔ پوری قوم بھیڑ بکریوں کا ایک بے زبان گلہ بن کر رہے جسے یہ ’مصلحین قوم‘ میکانکی طور پر جس طرف چاہیں ہانک کرلے جائیں۔
اس صورت ِ حال کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے پہلے فوجی آمر کے کارناموں کو بڑے ہی مصنوعی اندازسے بڑھاچڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ یہ آمر ایک عام انسان کے بجاے فوق البشر دکھائی دے اور قوم اُسے اپنا واحد نجات دہندہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو۔ چنانچہ دیکھیے، ان فوجی آمروں کی کارگزاریوں کو کس مبالغہ آمیزی کے ساتھ مختلف طریقوں سے نشر کیا جاتا ہے اور قوم کے ذہن میں یہ خیال راسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے کارنامے بالکل غیرمعمولی ہیں۔ دوسرے قوم کی ذہنی تربیت کے لیے ایک ایسا پروگرام طے کیا جاتا ہے، جس سے وہ ہرمعاملے کو فہم و فراست کی معتدل میزان پر تولنے کے بجاے اُسے جذبات کی شعلہ فشانیوں سے حل کرتی ہے اور اندھی پیروی کی اتنی خوگر بنادی جاتی ہے کہ تباہ کن حوادث میں مبتلا ہونے کے بعد بھی اُس کی آنکھیں کھلنے نہیں پاتیں۔
اس قسم کی تلاطم خیز ذہنی کیفیت پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جذبات کے سمندر میں طوفان اُٹھائے جائیں۔ یہ کام معمولی طریقوں سے تو سرانجام نہیں پاسکتا، اس کے لیے بڑے ہی غیرمعمولی حربے استعمال کیے جاتے ہیں، مثلاً سب سے پہلے پوری قوم کو ٹھوس حقائق کی دنیا سے نکال کر سپنوں کی ایسی فضا میں آباد کیا جاتا ہے، جہاں وہ صرف آرزوئوں اور تمنائوں پر مرنا سیکھتی ہے ۔جہاں وہ عقل کی بات بتانے والوں کو دشمن اور خوش کن باتیں بنانے والوں کودوست سمجھنے لگتی ہے۔ جہاں صرف خواب و خیال کی پرستش ہوتی ہے اور جہاں رہبرانِ قوم کے اخلاقی اور ذہنی اوصاف نہیں دیکھے جاتے بلکہ صرف اس بات کا اندازہ کیا جاتا ہے کہ وہ لاف گزاف میں کس قدر مشّاق اور زبان کے استعمال میں کس حد تک مطلق العنان ہیں۔
پھر اس قوم کے بارے میں اس بات کا بھی التزام کیا جاتا ہے کہ اُس کے دل و دماغ پر مستقل خوف کی کیفیت طاری رہے تاکہ وہ اپنے بچائو اور حفاظت کے لیے ایک فوجی آمر کی آمریت بخوشی قبول کرلے۔ اس صورتِ حال کے نتائج دیکھ کر ہر حساس مسلمان تڑپ اُٹھتا ہے۔ آئے دن کے تغیرات نے بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ آخر مسلمانوں کو وہ کیا بیماری لاحق ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال نہیں کرسکتے اور اپنی قومی طاقت کو آپس کی کش مکش میں تباہ کردیتے ہیں۔
یہ وہ وقت ہے، جب کہ ہمارے فرماں روائوں کو اپنی آنکھیں کھولنی چاہییں۔ اپنے محلات میں بیٹھ کر وہ یہ نہ سمجھیں کہ آج سے ہزار سال پہلے کی فضا، جیسی کہ اُن کے محلوںکے اندر ہے، ویسی باہر بھی موجود ہے۔ زمانہ قیامت کی چال چل گیا ہے، باہر انقلاب کی بڑی بڑی موجیں اُٹھ رہی ہیں، وہ ان کے دروازوں پر دستک دے رہی ہیں۔ ان سے صرفِ نظر کرکے چلنا کوئی دانش مندانہ فعل نہیں۔ ملکی اقتدار یا قیادت، خواہ وہ کسی نوعیت کی ہو، اُس کے بچائو کی صورت صرف یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس جمہوری دور کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے عوام کو اُن کے پورے پورے جمہوری حقوق بہم پہنچانے میں قطعاً بخل سے کام نہ لے۔ نیز عوام کے حقیقی مسائل کو سمجھے اور اپنی عیاشیوں میں مست رہنے کے بجاے اُن کی ضروریات کو پورا کرنے کا انتظام کرے… ہر شخص اور ہرملّت کے صبر کا ایک پیمانہ ہوتا ہے۔ اس میں خواہ کتنی ہی وسعت ہو، مگر ایک حد ایسی ضرور آتی ہے جہاں پہنچ کر وہ اپنی ساری وسعتوں کے باوجود چھلک پڑتا ہے۔ یہ حد بڑی ہی خطرناک اور ہلاکت خیز ہوتی ہے۔ اس سے ہمارے اصحابِ اقتدار کو بچنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اگر یہ حضرات وقت کے اس مطالبے کو پورا نہیں کریںگے تو زمانے کی کروٹ انھیں اس مطالبے کی تعمیل پر مجبور کرے گی اور یہ تعمیل اکثروبیش تر بہ نوکِ شمشیر ہی ہوا کرتی ہے۔(ماہنامہ ترجمان القرآن، لاہور، اگست ۱۹۵۸ئ)
اور پھر یہی ہوا کہ ملک میں ایسے مادرپدر آزاد انتخابات ہوئے، کہ جن میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کی عوامی لیگ کو کھلی چھٹی دی گئی۔ مارشل لا حکومت کے زیرسایہ یہ فسطائیت خوب تروتازہ ہوئی، اور دھاندلی و غنڈا گردی کے زور پر پورا انتخاب ہی لُوٹ کر لے گئی۔ پھر نہ اُس ’دستورساز اسمبلی‘ کا اجلاس ہوا اور نہ آئین بنا، البتہ پاکستان ضرور ٹوٹ گیا۔
گذشتہ برس پاکستان کی وفاقی حکومت کی ہٹ دھرمی اور اس کے جواب میں دھرنا کریسی نے عملاً ریاست اور جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔ حاکموں اور حاکموں سے لڑنے والوں کی کم فہمی کا یہ نتیجہ ہے یا پس پردہ قوتوں کی جادوگری کہ سیاست دانوںکو نااہل ثابت کردیا جائے، جیسا سوال یہاں زیربحث نہیں لا رہے، مگر نتیجہ تو یہی نکلا ہے۔ اس کھیل کے لیے کس نے کس کا کندھا استعمال کیا، یا کس نے اپنا کندھا پیش کیا، عملی سطح پر طاقت کے سرچشمے اپنی جگہ سے سرک کر وہاں جاپہنچے ہیں، کہ جہاں سے انھیں درست جگہ پر لانے کے لیے بڑی قربانیاں دی گئی تھیں۔
ہمہ وقتی وزیرخارجہ کو مقرر نہ کرنا، وزارتِ دفاع کا قلم دان ایسی شخصیت کو تھمانا کہ جن سے دفاعی ادارے ویسے ہی مغائرت محسوس کرتے ہیں، پالیسیوں کو عارضی (ایڈہاک) بنیادوں پر چلانا، بھارت سے تجارتی تعلقات کے لیے شوق و ذوق کا مظاہرہ کرنا اور فیصلہ سازی کو گنتی کی چند رکنی ٹیم کا کھیل بنانا، بہرحال کسی سازش کا نتیجہ نہیں، البتہ کم فہمی کا ثمرہ ہے۔ حماقت ایسی بلا ہے کہ جو بہت سی بلائوں کو جنم دیتی ہے۔ پھر وطن عزیز ایک جانب حالت ِ جنگ میں ہے تو دوسری جانب میڈیا گروپ ۲۴گھنٹے سنگ زنی میں مشغول ہیں، دلیل اور دلیل سے عاری گوناگوں میزائلوں سے لیس ہیں۔ اس عالم میں بے چاری جمہوریت کی کمزور سی عمارت کہاں تک ان حملوں کا مقابلہ کرتی۔ پھر طویل عدالتی جنگ کے نتیجے میں عدل کے ایوانوں کی کسی حد تک جو آزادی بحال ہوئی تھی، اسے ریاست و حکومت کی جانب سے اعانت کی ضرورت تھی، لیکن شاہانہ اندازِ حکومت نے بھی گویا ایک ایک کرکے اختیار کے سارے پتے بکھیر دینے کی ٹھان رکھی تھی۔ اور دکھائی یہ دیتا ہے کہ ریاستی اختیار و اقتدار کے قلم دان عملاً دوسری جگہ منتقل ہوچکے ہیں۔ آج اخبارات اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں کہیں دبے الفاظ میں اور کہیں کھلے الفاظ میں کہا جا رہا ہے کہ: ’’سیاست دان نااہل، کرپٹ اور نالائق ہیں، یہ ملک نہیںچلاسکتے‘‘۔
ان جملوں میں پیغام صاف ظاہر ہے۔ اس طرح نہ صرف معاملات کوخاص جانب دھکیلا جارہا ہے، بلکہ ایک ایک کرکے حد توڑی جارہی ہے، اور ہر کام خود سیاست دانوں سے کرایا جا رہا ہے۔ ماضی میں اسی قسم کے شوروغوغے پر مولانا مودودی نے سبھی کو متنبہ کیا اور ۲۹؍اگست ۱۹۶۲ء کو چوک یادگار پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا:
جب انتقام کے جذبے سے مغلوب قوم پرست بھگوڑے اور ان کے ہم نوا بھتّاخور ایک کمزور جمہوری حکومت کا مذاق اُڑاتے ہوئے کھلے عام فوج کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دیتے ہیں تو انھیں مولانا مودودی کا یہ انتباہ یاد رکھنا چاہیے:
یہ کہنا کہ ملکی اقتدار کی آخری ذمہ داری فوج پر ہے، ایک غلط پالیسی ہے۔ فوج کی ذمے داری ملک کوبیرونی حملہ آوروں سے بچانے کی ہے، نہ کہ ملک چلانے کی۔ ملک فوج کا نہیں بلکہ اپنے باشندوں کا ہے۔ اور یہ باشندوں کا اپنا ہی کام ہے کہ وہ اپنے گھر کے معاملات کو چلائیں بھی اور بگڑ رہا ہو تو اسے درست بھی کریں۔ ملازمین خواہ فوج کے ہوں یا سول، ان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ملک کا نظامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔(تحریکِ جمہوریت: اسباب اور مقاصد، ۱۹۶۷ئ،ص ۹)
یہ عاقبت نااندیش عناصر صرف دعوتِ اقتدار ہی نہیں دیتے بلکہ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ فوج کھلے عام فوجی آپریشن کرے۔ ظاہر ہے کہ کچھ آپریشن تو ہوچکے اور کچھ آپریشن ہو بھی رہے ہیں، مگر معاملات سلجھنے کے بجاے اُلجھ رہے ہیں۔ اسی قسم کے خطرات کو بھانپتے ہوئے مولانا مودودی نے فرمایا تھا:
اس سے زیادہ غلط کام کوئی نہ ہوگا، اور اس ملک کا کوئی بدخواہ ہی ایسا کام کرسکتا ہے کہ ملک کی فوج کو ملک کے عوام سے لڑا دے۔ اگر فوج سے ہم وطنوں پر گولیاں چلانے کا کام لیا گیا تو اس سے فوج اور قوم دونوں کو نقصان پہنچے گا۔ بڑا ظالم ہوگا وہ حاکم، جو ملک کی فوج کو اپنے عوام کے سامنے لاکھڑا کرے۔ (۵-اے، ذیلدار پارک، اوّل: مرتبہ: مظفر بیگ،ص ۲۴۳)
درحقیقت جو عناصر قومی افواج کو سول آبادی میں آپریشن اور اقتدار سنبھالنے پر اُبھارتے ہیں، و ہ بظاہر دوست بن کر، لیکن عملاً دشمن کا سا کردار ادا کرتے ہیں۔ ۳۵برس تک فوج ملک کے سیاہ و سفید کی مالک رہ چکی ہے، مگر اس دوران میں معاملات کی کوئی کل سیدھی نہ ہوسکی، بلکہ ایسے ایسے اُلجھائو پیدا ہوئے کہ عشرے گزر جانے کے باوجود تار سلجھائے نہیں جاسکے۔
پاکستان میں ۲۱ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں جو فوجی عدالتیں قائم ہوئی ہیں ، ان کے بارے میں روزنامہ The Newsنے اپنی رپورٹ ۴جنوری ۲۰۱۵ء میں لکھا ہے:
دہشت گردی کے ملزموں پر پاکستان آرمی ایکٹ (PAA) کے تحت مقدمے چلائے جائیں گے، جنھیں کسی بھی سول عدالت میں اپیل کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔ سینیروکیل کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحمن کے بقول دہشت گردوں کو فوج گرفتار کرے گی، تفتیش کرے گی اور بند کمرے میں مقدمے کی سماعت کرے گی۔ پاکستان آرمی ایکٹ کے مطابق کورٹ مارشل کے فیصلوں کے خلاف کوئی دادرسی نہ ہوسکے گی۔ تاہم دفعہ ۱۴۳ کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف ہی سزامیں کمی یا معافی کا اختیار رکھتے ہیں۔
یقینا بہت سوچ بچار کے بعد یہ اصول وضع کیے گئے ہوںگے، مگر یوں انصاف اور صفائی کے اصولوں کی کس حد تک پاس داری ممکن ہوگی؟ ایک نازک سوال ہے۔ اور کیا اس کے نتیجے میں واقعی معاملات سلجھ جائیںگے یا پھر عجلت میں سخت فیصلے، کسی اور بڑے ردعمل کی فصل بوئیں گے؟
جن تشدد پسندوں اور دہشت گردوں نے ملک کے امن کو تباہ کیا ہے، ان کی سرکوبی پر قوم میں اتفاق پایا جاتا ہے۔ ان عناصر کی ہمدردی یا اعانت کے لیے کوئی قابلِ ذکر آواز پاکستانی معاشرے میں سنائی نہیں دیتی۔ لیکن کیا انصاف کے طے شدہ ضابطوں کے برعکس اس بیماری کا علاج صرف گولی ہے؟ اس ضمن میں مولانا مودودی بڑی وضاحت کے ساتھ اسلام کا اصول بیان کرتے ہیں:
شریعت ِ الٰہی کسی بُرائی کو محض حرام کردینے یا اسے جرم قرار دے کر اس کی سزا مقرر کردینے پراکتفا نہیں کرتی، بلکہ وہ ان اسباب کا بھی خاتمہ کردینے کی فکر کرتی ہے جو کسی شخص کو اس بُرائی میں مبتلا ہونے پر اُکساتے ہوں، یا اُس کے لیے مواقع بہم پہنچاتے ہوں یا اس پر مجبور کردیتے ہوں۔
نیز شریعت، جرم کے ساتھ اسبابِ جرم، محرکاتِ جرم اور رسائل و ذرائع جرم پر بھی پابندیاں لگاتی ہے، تاکہ آدمی کو اصل جرم کی عین سرحد پر پہنچنے سے پہلے کافی فاصلے ہی پر روک دیا جائے۔ وہ اسے پسند نہیں کرتی کہ لوگ ہر وقت جرم کی سرحدوں پر ٹہلتے رہیں اور روز پکڑے جائیں اور سزائیں پایا کریں۔
وہ [شریعت ِ الٰہی] صرف محتسب (prosecutor) ہی نہیں ہے، بلکہ ہمدرد، مصلح اور مددگار بھی ہے۔ اس لیے تمام تعلیمی، اخلاقی اورمعاشرتی تدابیر اس غرض کے لیے استعمال کرتی ہے کہ لوگوں کو بُرائیوں سے بچنے میں مدد دی جائے۔(تفہیم القرآن، سوم، سورۃ النور، حاشیہ ۲۳،ص ۳۷۲)
اندریں حالات معاشرے کی تمام مقتدر اور ذمہ دار قوتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ باہم تصادم کے بجاے اس خطرناک صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کریں، ٹھنڈے دل و دماغ سے کوششیں کریں، اور جو عناصر ان کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے یا گہری دلدل میں دھکیلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ان کی شرانگیزی سمجھنے کی بصیرت حاصل کریں۔
اس تمام صورتِ حال کو پیش نظر رکھیں تو پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ’شمشیر‘ اور ’قاضیِ شمشیر‘ کے ہاتھوں یہ مسائل حل ہونے مشکل ہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے قانون کی عمل داری اور جمہوری راستے کے سوا ہرراستہ سواے خرابی کے کچھ بھی نتیجہ نہ دے سکے گا۔مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کے سامنے لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے ۱۹۵۷ء میں واضح طور پر یہ فرمایا تھا:
تیسری یہ کہ ایک آئینی و جمہوری نظام میں رہتے ہوئے تبدیلیِ قیادت کے لیے کوئی غیرآئینی راستہ اختیار کرنا شرعاً آپ کے لیے جائز نہیں ہے اور اسی بناپر آپ کی جماعت کے دستور نے آپ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ آپ اپنے پیش نظر اصلاح و انقلاب کے لیے آئین و جمہوری طریقوں ہی سے کام کریں۔(تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل، ۱۹۵۷ئ، ص ۱۳۸)
ہم بنگلہ دیش کی معاشی خوش حالی، قومی آزادی اور سیاسی خودمختاری کے حامی ہیں اور دعاگو ہیں۔ لیکن عوامی لیگ کی غیرقانونی اور غیرنمایندہ حکومت کے تحت بنگلہ دیش میں آج کل بخار کی سی جو کیفیت پائی جاتی ہے جس میں یہ آوازیں بلند ہورہی ہیں: ’’یہ پاکستان کا ایجنٹ ہے۔ اس کی کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ اس نے ایجنسیوں سے پیسے لے کر کتاب لکھی ہے۔ ملکی آزادی اور اقتدارِ اعلیٰ کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ تاریخ کی حفاظت کے لیے اس پر پابندی لگائی اور شائع شدہ کتاب کو ضبط کرلیا جائے۔ مصنف پر غداری کا مقدمہ چلایا اور سخت سزا دی جائے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ یہ واویلا ہے بنگلہ دیش کے ایئروائس مارشل (سابق) عبدالکریم خوندکر کی کتاب بیٹوری بیرے: ۱۹۷۱ء [۱۹۷۱ء، اندر اور باہر کی کہانی] میں شائع ہونے والے ایک جملے کے خلاف۔
ذرا آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اصولی طور پر چند پہلو سامنے رکھ لیے جائیں اور تاریخ کے دوچار ورق بھی پلٹ لیے جائیں۔ جھوٹ تو ویسے بھی ایک ایسی لعنت ہے کہ جسے شرک کا دستاویزی ثبوت سمجھنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دیکھا جائے تو لسانی، علاقائی یانسلی قوم پرستی کا سب سے بڑا ہتھیار بھی یہی جھوٹ ہوتا ہے۔ نفرت کی آگ بھڑکانے کے لیے اعداد و شمار کا جھوٹ، معاملات فہمی کی جڑ کاٹنے کے لیے جھوٹ کی کاری ضرب اور پروپیگنڈا کا الائو بھڑکانے کے لیے جھوٹ کے پٹرول کا مسلسل چھڑکائو۔ گویا کہ اس طرح نفرت کے دیو کو بے قابو کرکے دین، اخلاق،کردار، انسانیت اور شائستگی کے قتلِ عام کا گھنائونا کھیل کھیلنا نسلی قوم پرستی کا وتیرا ہے۔ بنگلہ دیش کی تشکیل اور پاکستان کی تخریب کا یہ کھیل ہماری آنکھوں کے سامنے کھیلا گیا۔ اس پس منظر میں جزوی معاملات کو جھوٹ کے رنگ میں یوں رنگا گیا کہ ہنستی بستی زندگی خون آلود ہوگئی۔ معمولی درجے کی پھنسیاں جھوٹ کے بل بوتے پرسرطان کے رستے ناسور دکھائی دینے لگے۔ معاشی اعداد و شمار کو مبالغہ آرائی کے لباس میں یوں بناسنوار کر پیش کیا جاتا رہا کہ حقائق کے ٹیلے، ہمالہ کی چوٹیاں دکھائی دینے لگیں۔ بلاشبہہ جہاں انسان بستے ہیں، معاملات میںا فراط و تفریط ہوتی ہے، جنھیں احسن طریقے سے حل کیا جاتا ہے اور حل کیا جانا چاہیے۔ مگر ایسا شاید ہی ہوا ہو کہ اس بدمستی میں اپنوں کو دشمن اور دشمنوں کو اپنا سمجھ لیا گیا ہو۔ مگربنگلہ دیش کی تشکیل کے وقت ایسا ہی ہوا تھا۔ یوں جھوٹ کی بنیاد پر شروع کیا جانے والا سفر ۴۳برس گزرنے کے بعد بھی جھوٹ کا سہارا مانگتا ہے اور سچائی کو قتل کرنے کے لیے متحرک رہتا ہے۔
۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء کو بنگلہ دیش بننے سے چار سال قبل کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جنوری ۱۹۶۸ء میں مشرقی بھارت کے صوبے ’تری پورہ‘ کے شہر ’اگرتلہ‘ میں، خفیہ طور پر عوامی لیگ کی قیادت اور بھارتی انٹیلی جنس بیورو نے مل کر ایک سازش تیار کی۔ عوامی لیگ کے نمایندے شیخ مجیب کے ایما پر یہاں پہنچے تھے۔ ان خفیہ اجلاسوں میں طے پایا کہ: ’’مشرقی پاکستان کو پاکستان سے کاٹ کر الگ کر لیا جائے گا اور اس ضمن میں بھارت، سازشیوں کی مدد کرے گا۔ حکومت پاکستان کو اس سازش کا علم ہوا تو اس نے عوامی لیگ کے ۳۵ افراد کو گرفتار کرکے سازش کی تفصیلات قوم کے سامنے پیش کردیں۔ مگر اگلے ہی لمحے بنگالی قوم پرست، نام نہاد ترقی پسند اور آزاد خیال اخبارات نے پاکستان بھر میں شور مچا دیا کہ: ’’ایسی کوئی سازش تیار نہیں کی گئی، یہ مغربی پاکستانی حکمرانوں کا جھوٹا الزام ہے اور انسانی بنیادی حقوق کا قتلِ عام ہے‘‘۔
تاہم، صدر ایوب خاں حکومت کو اپنے موقف کی سچائی پر یقین تھا، جنھوں نے پاکستان کے نیک نام سابق چیف جسٹس ایس اے رحمن (۱۹۰۳ء-۱۹۹۰ء) کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹربیونل قائم کردیا۔ لیکن ڈھاکہ میں جوں ہی اس خصوصی عدالت نے کارروائی شروع کی تو قوم پرستانہ فاشزم حرکت میں آیا، تاکہ سچائی کا گلا گھونٹا جاسکے، اور عوامی لیگی مسلح غنڈوں نے حملہ کرکے نہ صرف ریکارڈ کو نقصان پہنچایا، بلکہ جسٹس ایس اے رحمن کو مشکل سے جان بچانا پڑی۔ پھر پاکستان مسلم لیگ کے صدر ممتاز محمد خاں دولتانہ کے بے پناہ اصرار پر فروری ۱۹۶۹ء میں ان مقدمات پر کارروائی معطل کرکے مجیب کو رہا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ اس پورے عرصے کے دوران ’روشن خیال‘ صحافی، مجیب کی ’بے گناہی‘ کا ماتم کرتے رہے۔ لیکن جوں ہی بھارتی فوج کی مدد سے مشرقی پاکستان کو کاٹ کر بنگلہ دیش بنادیا گیاتھا تو مجیب الرحمن نے اعتراف کیا: ’’ہم اس علیحدگی کے لیے برسوں سے بھارت کے ساتھ رابطے میں تھے‘‘۔ اسی بات کا چند برس پہلے حسینہ واجد نے بھی اعتراف کیا اور پھر ۲۲فروری ۲۰۱۱ء کو عوامی لیگی ڈپٹی اسپیکر پارلیمنٹ شوکت علی (جو اگر تلہ سازش کے ملزموں میں شامل تھا) نے اعترافِ عام کیا کہ: ’’ہمارے خلاف اگر تلہ سازش کے حوالے سے حکومت نے درست مقدمہ بنایا تھا، ہم نے شیخ مجیب کی قیادت و رہنمائی میں ’سنگرام پریشد‘ بناکر علیحدگی کے لیے عملی پروگرام بنایا تھا‘‘۔
۱۹۷۰ء کے پورے سال انتخابی مہم میں ایک جانب تو عوامی لیگ نے اپنے مدمقابل جماعتوں: جماعت اسلامی، پاکستان جمہوری پارٹی اور مسلم لیگ کو جلسے تک نہ کرنے دیے، اور دوسری جانب اپنے منشور میں اور جلسوں کی تقاریر میں باربار یہ کہا کہ ہمارا پروگرام ’پاکستان کو مضبوط بنائے گا، ہم وحدت پاکستان پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔ لیکن جوں ہی انتخابی نتائج سامنے آئے جو یک طرفہ تھے، کیونکہ انتخابات کے روز، پولنگ اسٹیشنوں پر عوامی لیگ کے مسلح لوگوں کا قبضہ تھا اور انتظامیہ بے بس تماشائی تھی۔ نتیجہ یہ کہ جن دو تین حلقوں پر وہ یوں ظالمانہ قبضہ نہ کرسکے، وہاں سے راجہ تری دیوراے اور نورالامین قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔ یہاں ایک اور قابلِ غور بات دیکھیے کہ ویسے تو صدر جنرل یحییٰ خاں کو ساری قوم کے ساتھ یہ بقلم خود ’روشن خیال طبقے‘ بھی بُرا کہتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ برملا یہ فتویٰ بھی دیتے ہیں: ’’پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ شفاف اور غیرجانب دارانہ انتخابات ۱۹۷۰ء میں جنرل یحییٰ خاں کے زیرقیادت ہی میں منعقد ہوئے تھے‘‘۔کیا وہ شفاف انتخابات تھے یا روشن دن میں کھلے عام ڈاکازنی تھی؟
یکم مارچ ۱۹۷۱ء کو جب صدر جنرل یحییٰ خاں نے دستور ساز اسمبلی کا اجلاس، ذوالفقار علی بھٹو کے دبائو میں چند روز کے لیے ملتوی کیا تو شیخ مجیب نے چشم زدن میں مشرقی پاکستان میں ’سول نافرمانی‘ کی تحریک شروع کرکے ایسا غنڈا راج قائم کردیا جس میں ہم وطن غیربنگالی پاکستانیوں (اُردو بولنے والوں، پنجابیوں، پٹھانوں) کی خواتین، اجتماعی عصمت دری اور قتل و غارت گری کی خاطر بنگالی قوم پرست مسلح جتھوں کے لیے ’حلال‘ قرار پائیں۔ مردوں اور بچوں کا قتلِ عام شروع ہوا۔ لُوٹ مار سکہ رائج الوقت ہوگیا۔اسی فضا میں ۷مارچ ۱۹۷۱ء کو ریس کورس گرائونڈ ڈھاکہ میں ایک بڑے جلسے سے فسطائی سیاست کے دیوتا مجیب الرحمن نے خطاب کیا۔ اس مضمون کے شروع میں جس الزامی بارش کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کا نشانہ عبدالکریم خوندکر ہیں، اور ان کا جرم یہی جلسہ عام ہے۔
ایئروائس مارشل (سابق) اے کے [عبدالکریم] خوندکر، جو ۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۵ء تک بنگلہ دیش فضائیہ کے چیف آف ایئرسٹاف رہے، یہ صاحب ۱۹۷۱ء کے دوران علیحدگی کی تحریک میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ۱۹۷۶ء سے ۱۹۸۲ء تک آسٹریلیا میں اور ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۶ء تک ہندستان میں بنگلہ دیش کے سفیر رہے۔ ۱۹۸۶ء میں پارلیمنٹ کا الیکشن جیتا اور عوامی لیگ حکومت میں قومی منصوبہ سازی کے دو مرتبہ وزیر رہے۔ موجودہ ستمبر میں انھوں نے اپنی کتاب’ بیٹوری بیرے ۱۹۷۱ء‘ میں لکھا ہے کہ: ’’۷مارچ ۱۹۷۱ء کو ڈھاکہ میں بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن نے آزادی کا اعلان نہیں کیا تھا بلکہ تقریر کے اختتام پر ’جئے پاکستان‘ (پاکستان زندہ باد) کا نعرہ بلند کیا تھا‘‘۔ ظاہر ہے کہ اس واقعے کے لاکھوں گواہ موجود ہیں، مگر بُرا ہو قوم پرستانہ دروغ گوئی کا، کہ وہ سچائی کی روشنی میں آنا نہیں چاہتی۔ اسی لیے ستمبر کی دوتاریخ کو مذکورہ کتاب کے شائع ہوتے ہی بنگلہ دیش میں عوامی لیگ اور ہندو اسٹیبلشمنٹ نے خوف ناک طوفان برپا کردیا۔ یہاں اُس کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں:
مسئلہ دراصل یہ ہے کہ بھارتی پشت پناہی سے تقویت حاصل کرنے کی رسیا عوامی لیگ کے کارندے اپنے لیڈر مجیب کو شیر کی کھال پہنانا چاہتے ہیں، مگر بدقسمتی سے وہ مجیب کے وجود پر پوری نہیں آتی۔ اس لیے وہ ہر اُس فرد پر چڑھ دوڑتے ہیں جو کہتا ہے کہ: ’’یہ شیر نہیں ، شیر کی کھال ہے‘‘۔ آج عوامی لیگی تڑپ رہے ہیں کہ ۷مارچ ۱۹۷۱ء کی تقریر کے آخر سے، مجیب کے کہے جانے والے الفاظ ’پاکستان زندہ باد‘ کو اگر درست تسلیم کرلیا جائے تو اُن کے لیے اس تقریر کی بطور ’اعلانِ آزادی‘ حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔ حالانکہ مجیب نے ’پاکستان زندہ باد‘ ہی پر تقریر کا اختتام کیا تھا اور اُس کا یہ کہنا ایک درجے میں بزدلی یا منافقت کا شاہکار تھا۔
وجہ صاف ظاہر ہے کہ مجیب نے ۱۹۷۲ء کے بعد یہ بات بار بار ریکارڈ پر لانے کی کوشش کی ہے کہ: ’’میں بہت مدت سے علیحدگی کے لیے کام کر رہا تھا‘‘۔ مگر ۷مارچ ۱۹۷۱ء کو یہی شیربنگال، بھیگی بلی بن کر، ان الفاظ کو منہ سے نکالنے کی ہمت نہ کرسکا۔صرف یہ نہیں بلکہ جب اگست ۱۹۷۱ء میں، یعنی مارچ ۱۹۷۱ء کے چھے ماہ بعد مجیب کو خصوصی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تو ان کے وکیل اے کے بروہی مرحوم کے بقول: ’’مجیب نے جو حلفیہ بیان عدالت میں جمع کرایا، اس کے مطابق مجیب نے ثبوتوں، گواہوں اور اپنے دستخطوں کے ساتھ یہ تسلیم کیا کہ مَیں مشرقی پاکستان کو علیحدہ نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کے وفاق کو مضبوط کرنے اور صوبائی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کر رہا ہوں، اور ایک پاکستان کا حلفیہ لیڈر اور شہری ہوں‘‘۔ یہ دستاویز آج تک ہمارے حقیقی حکمران طبقے کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ گویا کہ عوامی لیگ کی طرف سے دعویٰ کردہ نام نہاد اعلانِ آزادی کے چھے ماہ بعد اور بھارتی حملے کے بل پر علیحدگی حاصل کرنے سے چار ماہ پہلے تک’عظیم بنگالی لیڈر‘ مجیب الرحمن نے باربار جھوٹ کہا تھا کہ میں پاکستان قائم رکھنا چاہتا تھا۔ مراد یہ ہے کہ یہ کیسا لیڈر ہے جو موت کو سامنے دیکھ کر سراسر جھوٹ بولنے لگتا ہے اور وہ بھی بار بار۔ یہی پے درپے غلط بیانی عوامی لیگ کی علیحدگی کی تاریخ کی بنیاد تھا۔ اسی افسانہ طرازی کی بنیاد پر عوامی لیگ، بنگلہ دیش کی نئی نسل کو گمراہ کر کے پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کی آج تک کوشش کررہی ہے۔ اسی بے جا اور بے بنیاد اساس پر مجیب کو ’عظیم لیڈر‘ قرار دلوانے کے لیے تاریخ کا قتل کرنے پر تلی ہوئی ہے،اور ہر اس شخص کی زبان گدی سے کھینچ دینے کے لیے آمادہ جنگ رہتی ہے، جو سچائی کی ذرا سی خوشبو بھی پھیلانے کی کوشش کرے، اور عوامی لیگی جھوٹ کی نشان دہی کرے۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے چند ہفتوں بعد مجیب الرحمن نے بے سوچے سمجھے ۳۰لاکھ بنگالیوں کے قتل کا الزام پاکستانی افواج پر تھوپ دیا،اور جب خود مجیب کی مقرر کردہ تحقیقاتی ٹیم نے کہا کہ:’’ تمام مقتولین کی تعداد اس پورے عرصے میں ۵۰ ہزار کے لگ بھگ تھی (جن میں خود عوامی لیگی مکتی باہنی کے ہاتھوں غیربنگالی مقتولین بھی شامل تھے)‘‘، تو اُس رپورٹ کو مجیب نے فرش پر دے مارتے ہوئے کہا: ’’میں نے ۳۰ لاکھ کہا ہے، اس لیے ۳۰ لاکھ ہی لکھو اور کہو‘‘۔ اسی طرح ۳لاکھ بنگالی خواتین کی بے حُرمتی کا افسانہ۔ لیکن جب ڈاکٹر شرمیلابوس نے طویل تحقیقی جدوجہد کے بعد اپنی کتاب Dead Reckoning میں دلائل و شواہد کے ساتھ ثابت کیا کہ: ’’یہ ۳۰ لاکھ اور ۳لاکھ کے اعداد و شمار بے ہودہ پروپیگنڈے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتے‘‘، تو اُس ہندو اور بھارتی خاتون کو پاکستانی ایجنٹ قرار دیا اور اس کی کتاب پر بنگلہ دیش میں پابندی لگادی۔ حیرت کی بات ہے کہ آزادی راے اور مجیب کا دم بھرنے والے ’روشن خیال‘ صحافی اور دانش ور اس ظلم پر بالکل چپ سادھے بیٹھے ہیں۔
یہاں پر اس کو بھی ریکارڈ پر لاناضروری ہے کہ وہی شیخ مجیب جو متحدہ پاکستان میں کالے قوانین کی منسوخی، انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کا سب سے بڑا لیڈر تصور کیا جاتا تھا، وہی صاحب جب خوابوں کی جنت بنگلہ دیش کا کرتا دھرتا بنا تو اسے حکمرانی کا کچھ مزا نہ آیا۔ اسی لیے شیخ مجیب نے چوتھی ترمیم کے ذریعے ۲۵ جنوری ۱۹۷۵ء کو تمام سیاسی پارٹیوں کو قانونی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دستوری ترمیم کے ذریعے ملک میں پارلیمانی کے بجاے صدارتی نظام رائج کیا۔ اعلیٰ عدلیہ کی آزادی سلب کی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ سماعت و اختیار کو محدود تر کرایا۔ یہی نہیں بلکہ خود پارلیمنٹ کے اختیارات میں بھی کمی کردی۔ ۲جون ۱۹۷۵ء کو اپنی عوامی لیگ کے نام میں دو لفظوں کا اضافہ کر کے واحد حکمران پارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس پارٹی کا نام تھا: ’بنگلہ دیش مزدور کسان عوامی لیگ‘ (BKSAL: بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ)۔ جمہوریت کے اس قتل عام اور فسطائیت کے تحفظ کے لیے چوتھی ترمیم کو مجیب نے ’دوسراانقلاب‘ بھی قرار دیا۔ پھر اپنی اس سیاسی پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی میں حاضر ملازمت فوجی جرنیلوں کو رکن مقرر کیا، جن میں ایک ایئروائس مارشل عبدالکریم خوندکر بھی تھے۔ بہرحال اس انتہا کا انجام صرف ڈھائی ماہ بعد اس وقت ہوا، جب ۱۵؍اگست ۱۹۷۵ء کو فوجی انقلاب نے مجیب کے پورے خاندان کو گولیوں سے بھون ڈالا، اور حسینہ واجد اس لیے بچ رہی کہ ملک سے باہر تھی۔ہمارے ’انقلابی‘ اور ’ترقی پسند‘ اپنے محبوب مجیب کی اس بدترین عہدشکنی اور آمریت کے تذکرے کو بھی گول کرجاتے ہیں۔
۲۰۰۹ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عوامی لیگی حکومت نے نام نہاد جنگی جرائم کی خصوصی عدالتیں (ICT) قائم کیں، جہاں جماعت اسلامی کے بزرگ رہنمائوں اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے لیڈروں کو سزاے موت دلوانے کے لیے جعلی مقدمے شروع کیے گئے اور یہ عمل آج تک جاری ہے۔ اپنے وطن پاکستان کے دفاع کرنے کے جرمِ بے گناہی میں ملوث کیے جانے والے ان ملزموں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے نہ متعلقہ ریکارڈ تک رسائی دی گئی ہے، نہ گواہوں کو پیش کرنے دیا گیا ہے اور نہ وکلا کی پوری طرح مددلینے دی گئی ہے۔ پھر ان نام نہاد عدالتوں میں بیٹھے قصابوں کے ہاتھوں دھڑادھڑ موت کی سزائیں سنانے کا عمل شروع کرایا گیا۔ سچائی کی قاتل عوامی لیگ نے اپنے مسلح غنڈوں کو ریاستی پشت پناہی کے ساتھ ’شاہ باغ مورچہ‘ لگانے کے لیے ڈھاکہ میں موقع فراہم کیا، تاکہ کنگرو عدالت اگر غلطی سے بھی صفائی کی کسی دلیل کو سن کر متاثر ہونے لگے تواُسے بیرونی دبائو میں لایا جائے۔ اس فسطائی غنڈا گردی کی بدترین مثال شہید عبدالقادر مُلا کی سزا ہے، جنھیں خصوصی عدالت نے عمرقیدسنائی، مگر اس غنڈا مورچے کے دبائو کے تحت پہلے تو حسینہ واجد نے مؤثر بہ ماضی آرڈی ننس جاری کر کے بدترین دھاندلی کی ، اور پھر سپریم کورٹ نے سزاے موت سنادی اور چند گھنٹوں بعد اُس سزا پر عمل کرکے عبدالقادر کو پھانسی دے دی گئی۔
اسی طرح خود بنگلہ دیش میں عوامی لیگی حکومت نے گذشتہ چار برسوں میں دو مرتبہ مولانا مودودی کی کتابوں مع تفہیم القرآن، سرکاری تعلیمی اداروں اور مسجدوں کی لائبریریوں میں ترسیل و مطالعے پر پابندی عائد کی ہے۔ ہندو آقائوں کو خوش کرنے اور بے دینی کو فروغ دینے کی علَم بردار عوامی لیگ سے اس کے سوا کیا اُمید کی جاسکتی ہے۔ مگر ہمارا سوال خود پاکستان کی اس ’روشن خیال‘ ، ’انسانی حقوق کی علَم بردار‘ اور ’کشادہ دل‘ اشرافیہ سے ہے، جو اسلامیانِ پاکستان کی زبان کاٹنے اور یادداشت سے ہر مثبت چیز کھرچنے کے لیے ہر آن متحرک رہتی ہے۔ جس کے نزدیک عوامی لیگ، روشن خیالی، حقوق کی ’کامیاب‘ جنگ جیتنے کی علامت ہے، لیکن یہ کیا ماجرا ہے کہ وہ اپنی محبوب حکومت کی جانب سے کتابوں پر پابندیوں، تحقیق کاروں پر دائرۂ حیات تنگ کرنے اور ہاتھ پائوں باندھ کر مقدمے چلاچلا کر ذبح کرنے جیسے گھنائونے افعال پر خاموش ہیں؟ کیا ان کے بارے میں یہ تصور کرنا درست نہیں کہ، یہ ہیں پورس کے ہاتھی اور تاریخ کے قاتل! مہذب اصطلاحوں کے پردے میں دشمن کی ہاں میں ہاں ملانا ان کا مذہب ِ عشق ہے اور اپنوں کے خون اور جذبات کی ہولی کھیلنا ان کا من بھاتا کھاجا ہے۔ یہ ہے ہماری ’روشن خیال تعلیم یافتہ‘ اشرافیہ، جس کی موجودگی میں بیرونی دشمنوں کو کچھ زیادہ تگ ودو کی ضرورت نہیں۔
مسلم دنیا یوں توبہت سے داخلی اور خارجی مسائل اور بحرانوں سے دوچارہے، لیکن ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ صورتِ حال وہ ہے، جس میں خود ہم وطن اور ہم نسل مسلمان ، اپنے ہی ہم وطنوں سے ظلم وتشددکارویہ اختیارکرتے ہیں، اور پھراس بہتے ہوئے خون اور تباہ کی جانے والی زندگیوں کواپنی قومی ترقی کا وسیلہ بتاتے ہیں۔ اس سفاکی اور شرمناکی کے لیے بے غیرتی اور غداری سے کم لفظ استعمال کرنا ممکن نہیں۔
عالم اسلام اور خصوصاً عالم عرب میں اسرائیل کے نام سے ایک ناجائز حکومت کے ہاتھوں امریکا ویورپ جو حیوانی کھیل کھیل رہے ہیں، اسی سے ملتاجلتاحیوانی اور غیرانسانی رویہ، ہندوقوم پرست ریاست ہندستان اپنائے ہوئے ہے۔ اس نے ایک جانب ۶۸برس سے کشمیرکے مسلمانوں کو محکوم بناکرظلم کے پہاڑتوڑے ہیں تودوسری جانب بنگلہ دیش کی مسلم ریاست کواپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس سیاہ رات کے اندھیرے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے محبِ وطن، اسلام دوست اور مسلم قوم پرست بنگلہ دیشی اپنے ملک میں ایک عذاب سے گزررہے ہیں، جس کا ماسٹرمائنڈ بھارت ہے اور اس کے ایجنڈے کو بنگلہ دیش میں نافذ کرنے کا ذریعہ عوامی لیگ اور اس کی مددگارتنظیمیں ہیں۔
عوامی لیگ نے دسمبر۲۰۰۸ء میں اقتدارحاصل کرنے کے بعد سے بنگلہ دیش کی قومی سلامتی کو بھارتی مفادات کے سامنے سرنڈرکرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن کی بنگلہ دیش کے دُوراندیش اور اپنی قومی آزادی واسلامی تہذیبی تشخص کو تحفظ دینے والے افراد اور تنظیموں نے کھل کر مخالفت کی۔ جواب میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیر اثربنگلہ دیش کی متعدداین جی اوزاور عوامی لیگی حکومت نے بڑے پیمانے پر ریاستی مشینری کو استعمال کرکے ان آوازوں کو کچلنے کا راستہ اختیار کیاہے۔
حکومت نے سب سے پہلے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے خلاف عدالتی ڈرامے کا آغازکیا۔ اُس کے بزرگ رہنماؤں اور فعال کارکنوں کو گرفتارکرکے نام نہاد ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ (ICT) قائم کرکے مقدمات چلانے شروع کیے۔ اس خصوصی عدالت پر بنگلہ دیش کے قانونی حلقوں، راست فکر دانش وروں اور صحافتی تنظیموں نے زبردست احتجاج کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ (HRW) اور دیگربین الاقوامی تنظیموں نے اس انتقامی ڈرامے کو مستردکردیا۔ مگر عوامی لیگی حکومت نے پوری ڈھٹائی سے ، سزاے موت سنائے جانے والے فیصلوں کا نہ صرف اعلان کیا، بلکہ ۱۲دسمبر۲۰۱۳ء کو عبدالقادرمُلّا کو پھانسی دے بھی دی۔ اس عدالتی قتل عام پر دنیابھر نے برملا احتجاج کیا، لیکن یہ انتقامی عدالتی عمل رک نہیںسکا۔اس وقت بھی جماعت اسلامی اور بنگلہ دیشن نیشنلسٹ پارٹی (BNP)کے قائدین کو سزائیں سنائی جارہی ہیں، اور انھیں اپنے دفاع کے لیے آزادانہ طور پر بنیادی عدالتی سہولیات تک بھی میسر نہیں ہیں۔
یادرہے کہ اس نام نہاد عدالت (ICT) کے چیف جج مسٹرنظام کی شرمناک گفتگوکو ۲۰۱۲ء میں سکائپ سے ریکارڈکر کے اکانومسٹ لندن اوربنگلہ دیش کے اخبارات نے شائع کرکے بتایاکہ یہ عدالت حکومت کی ہدایات پر فیصلے کررہی ہے نہ کہ قانون اور عدل کے مسلّمہ اصولوں کے مطابق۔
اسی طرح بنگلہ دیش میں اظہارراے کے ذرائع پر بری طرح پابندیاں عائد ہیں، جس کی چندمثالیںدیکھ کراندازہ ہوسکتا ہے کہ وہاں جبروظلم کاراج کس طرح اپنے شہریوں کی زندگی کو عذاب بنارہاہے۔ ۲۷؍اپریل ۲۰۱۰ء کو نجی شعبے میں سب سے بڑے ٹی وی نیٹ ورک ’چینل ون‘ کو اس لیے بندکردیاگیاکہ وہ حزب اختلاف کی خبریں نشرکرتا ہے۔ ۲۲؍اگست ۲۰۱۱ء کواطلاعاتی ترسیل کے سب سے مؤثرنجی ادارے ’شیرشا نیوز‘(Sheersha News) کوکام کرنے سے روک دیا، اور اس کا سبب بھی حزبِ اختلاف کی خبریں نشرکرنا تھا۔ ۱۶ فروری کوحکومت کی بھارت نواز پالیسیوں پرتنقیدکرنے والے’سوناربلاگ‘ کو بندکردیاگیا۔ ۱۱؍اپریل ۲۰۱۳ء کو بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف کے سب سے بڑے حامی اخبار اماردیش (Amar Desh) کے مدیرکواس بنا پر گرفتارکرکے تشددکانشانہ بنایاگیاکہ انھوں نے نام نہادعدالتی جج مسٹرنظام کی غیرقانونی اور غیراخلاقی گفتگوکو شائع کیا تھا، حالانکہ یہ گفتگو اکانومسٹ لندن بھی شائع کرچکاتھا۔ ۱۴؍اپریل۲۰۱۳ء کو حکومتی مسلح ایجنسیوںنے اسلامی قوتوں کے سب سے بڑے اور قدیم اخبار سنگرام کے دفاترپرحملہ کردیا۔
۵مئی ۲۰۱۳ء کو ’ڈی گنتا ٹیلی وژن‘ (Diganta TV) اور ’اسلامک ٹیلی ویژن‘ پر اس لیے پابندی عائد کردی کہ انھوں نے ’حفاظتِ اسلام‘ تنظیم کے پُرامن احتجاجی دھرنے کو کچلنے کے حکومتی قتلِ عام کی تصاویر دکھائی تھیں۔حفاظت اسلام نامی تنظیم‘ جو علما اور دینیطالب علموں پرمشتمل ہے، کے پُر امن احتجاج ۵مئی ۲۰۱۳ء کو ۱۰ہزار مسلح اہل کاروں کے ذریعے کچل دیاگیا۔ بیسیوں طالب علموں کی لاشوں کا آج تک نشان نہیں ملا۔صحافیوں کو ڈرانے، اخبارات کی اشاعت کو معطل کرنے اور میڈیا کی نشریات کوخراب کرنے کا کھیل پوری قوت سے جاری ہے۔ اس جارحیت پر۱۶قومی اخبارات کے ایڈیٹروں نے ایک مشترکہ بیان میں حکومتی کارروائیوں کی مذمت کی اور مطالبات پیش کیے، جنھیں بھارتی کٹھ پتلی حکومت نے مستردکردیا۔درحقیقت عوامی لیگ حکومت کی جڑ ڈھاکہ میں نہیں، نئی دہلی سے خوراک حاصل کرتی ہے۔
ایک غیرآئینی اور غیر اخلاقی حکومت کی سربراہ حسینہ واجد درحقیقت اپنے والد شیخ مجیب کی جابرانہ انتقامی پالیسیوں کاتسلسل ہے، جس نے فروری۱۹۷۵ء میںپورے بنگلہ دیش میں سیاسی پارٹیوںکوختم کرکے ایک پارٹی کی حکومت قائم کی تھی اور پھر۷جون ۱۹۷۵ء کودستورمیں چوتھی ترمیم کرکے ایک پارٹی اورایک اخبارکا کالاقانون نافذ کیا گیاتھا۔ ان اقدامات کے لیے اسے دہلی سرکارکی سرپرستی حاصل تھی۔ اسی طرح جولائی ۲۰۱۴ء میں مولانا مودودی کی کتب کو مساجد اور تعلیمی اداروں کی ۲۴ہزار لائبریریوں میں رکھنے پر پابندی لگا دی گئی۔پھر حسینہ واجد نے ۱۷؍اگست ۲۰۱۴ء کو دستور میں ۱۶ویں ترمیم کا مسودہ کابینہ سے منظور کرایاہے، جس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ ، عملاً اس طرح حکومت کے رحم و کرم پر ہوگی کہ ججوں کا مواخذہ عدالتی کمیشن نہیں کرے گا بلکہ براہِ راست پارلیمنٹ ہی ججوں کی قسمت کا فیصلہ کیا کرے گی۔
بنگلہ دیش کوایک بڑے جیل کی شکل دے کرہزاروں سیاسی بلکہ سماجی کارکنوں تک کو جیلوں میں ٹھونسا جا چکاہے۔ بنگلہ دیش میں اس وقت ۶۲۹پولیس اسٹیشن ہیں جہاں پر صرف ۲۰۱۲ء میں ۲لاکھ ۲۹ہزار ۵سو ۸۵ افراد کو گرفتارکرکے مختلف اوقات میں تشددکانشانہ بنایاگیا۔ ۲۰۱۳ء میں یہ تعداد دگنا ہوگئی۔ جیلوں میںقیدبزرگوں ، لیڈروں اور کارکنوں کوقانونی ، طبی اور بنیادی سہولتیں تک میسرنہیں۔
جماعت اسلامی اور طالب علموں کی تنظیم اسلامی چھاتروشبر (اسلامی جمعیت طلبہ) کے ہزاروں کارکنوں کو جیلوں میں بند‘ سیکڑوں کارکنوں کو زخمی اور درجنوں کارکنوں کو گولی مار کر قتل کیاجاچکاہے، جب کہ سیکڑوں کارکن طالب علموں کو تعلیمی اداروں سے بے دخل کیاجاچکاہے۔
اسلامی چھاتروشبرکے کارکنوں پر تشددکے لیے RAB (ریپڈایکشن بٹالین)، بارڈرگارڈز بنگلہ دیش(BGB)، پولیس اورعوامی لیگ کے غنڈاعناصراورچھاترولیگ کے دہشت گردوںکی مشترکہ ٹیم متحرک ہے۔ شبر کے جن سیکڑوں کارکنوںکوزخمی کیاگیاہے ان میں سے بہت سوں کو زندگی بھرمعذوربنانے کے لیے ‘ ان کی دونوں ٹانگوں پر قریب سے گولیاں مار کر اپاہج کردیاگیاہے، یاپھرکہنیوںمیں گولیاں مارکرہاتھوں سے معذورکردیاگیاہے۔ اس نوعیت کے خوف ناک تشدداورباقاعدہ اندازسے ظلم کی مثالیں عصرِ حاضر میں کہیں نہیں دیکھی گئیں۔ مگرافسوس ہے کہ دنیا میں اس کے خلاف آوازبلندنہیں ہورہی۔
گذشتہ برس ایک طالب علم دلاورحسین کو، جو اسلامی چھاتروشبرسے تعلق رکھتے ہیں، ڈھاکا سے گرفتار کرکے ۳۵۲ مقدمات میں ملوث کیا۔ ۴۵روز تک تشددکے دوران ان کے ہاتھ اور پاؤںکے ناخن جڑسے اکھاڑ لیے گئے اور اتنا تشددکیاکہ دلاور کے جسم کا آدھاحصہ مفلوج ہوگیاہے۔ یہ ایک مثال نہیں بلکہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ جنھیں بیان کرتے ہوئے روح کانپ اُٹھتی ہے۔
۲۰۱۴ء کے جون میں اسلامی چھاتری شنگھستا (اسلامی جمعیت طالبات) کی۳۲کارکنان کو بھی توہین آمیزطریقے سے گرفتارکرکے جیلوںمیں بندکردیاگیا۔
معلومات کے اس برق رفتارزمانے میں یہ سب کچھ ہورہاہے اور کوئی اس ظلم کا ہاتھ روکنے والانہیں۔ یہ سب کچھ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور بے حرمتی ہے اور انسانی حقوق کا تعلق سرحدوں کی قید سے مشروط نہیں۔ اس لیے دنیا کے کونے کونے سے عوامی لیگی کٹھ پتلی حکومت کے اس ظلم کے خلاف آواز بلندہونی چاہیے۔ نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کو توڑاجائے۔ گرفتارشدگان کو رہاکیاجائے۔ جعلی انتخاب کی پیداوارحکومت کو برطرف کرکے نئے انتخابات کرائے جائیں اور بھارتی تسلط سے بنگلہ دیش کے عوام کو آزادی دلائی جائے۔
مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی ۲۵ستمبر ۱۹۰۳ء کو اورنگ آباد، حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح آپ کے آباو اجداد کا تعلق حضرت ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں تشکیل پانے والے چشتیہ سلسلے سے تھا۔ آپ کے بزرگوں میں سے خواجہ محمد (۹۴۳ء-۱۰۲۰ء) ان مجاہدین میں شامل تھے، جنھوں نے سلطان محمود غزنوی کے سومنات پر آخری اور فیصلہ کن معرکے میں شرکت کی سعادت حاصل کی تھی۔ ازاں بعد انھی کی اولاد سے خواجہ قطب الدین مودود چشتی (م:۱۱۳۳ء ) نے خدمت دین کے چراغ روشن کیے۔ مولانا مودودی کے والد سید احمد حسن کے نانا محسن الدولہ احمد کو انگریزوں نے ۱۸۵۷ء میں جنگ آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں پھانسی دے دی۔
مولانا مودودی نے ہوش سنبھالتے ہی جدید اور دینی تعلیم کے سرچشموں سے فیض پانے کے مواقع پائے۔ اس ضمن میں ان کے والد سید احمد حسن مودودی کی توجہ اور فکر مندی قابل ذکر تھی۔ والد کے ہاتھوں تربیت کے نتیجے میں مودودی صاحب کی اخلاقی، دینی، علمی اور سماجی شخصیت اس سانچے میں ڈھلی کہ وہ بیسویں صدی میں مفکرِ اسلام، مفسرِ قرآن اور قائد تحریک اسلامی کی حیثیت سے جانے اور پہچانے گئے۔ جنھوں نے لاکھوں لوگوں کے دلوں کی دنیا بدلی، افکار و خیالات کی دنیا میں حق بینی اور حق گوئی کا بیج بویا۔
مولانا مودودی نے لڑکپن میں جس حادثے یا المیے کے نتیجے میں اپنی ذات میں تحقیق و تحریر کی جس بے پناہ قوت کا اندازہ لگایا، اس صورتِ حال کا تعلق کم و بیش ہمارے موجودہ عہد سے ملتا جلتا تھا۔ وہ یہ کہ تب اسلام اور مسلمانوں کو ایک جانب تو افریقا اور ترکی میں کچلا جا رہا تھا۔ دوسری جانب ہندوئوں اور یورپی عیسائی سامراجیوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اسلام اور مسلمان خون آلود ماضی اور خون آلود لائحہ عمل رکھتے ہیں۔ اس حد درجہ سفاکانہ پراپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے ۲۴برس کی عمر میں مولانا مودودی نے الجہاد فی الاسلام لکھنا شروع کی۔ جو بعدازاں ایک معرکہ آرا کتاب کی صورت میں اہل علم کی تحسین اور توجہ کا مرکز بنی، اور اسی کتاب نے علامہ محمداقبال کو مولانا مودودی کی جانب متوجہ کیا۔ اس موقعے پر اقبال نے فرمایا تھا: اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانون صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے، اور میں ہر ذی علم کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔ اقبال ہی نے بعد ازاں چودھری نیاز علی خاں کے وقف (پٹھان کوٹ،پنجاب) میں منتقل ہونے کی دعوت دی۔
مولانا مودودی نے جہاں اسلام کے دیگر پہلوؤں پر قلم اٹھایا اور عصرِ حاضر کے چیلنجوں کا جواب دیا، وہیں انھوں نے جنوری ۱۹۴۲ء میں قرآن کریم کی تفسیر تفہیم القرآن لکھنا شروع کی۔ اور ۳۰برس پانچ ماہ کی مدت میں ۷جون ۱۹۷۲ء کو اسے مکمل کیا۔
کسی بھی زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا ایک مشکل کام ہے، لیکن جب معاملہ قرآن کریم جیسی الہامی کتاب اور الٰہی پیغام کا ہو، تو اس ذمہ داری کی نزاکت بے حدو حساب ہوجاتی ہے۔ مولانا مودودی سے قبل قرآن کریم کے اردو میں اکثر ترجمے لفظی سانچوں کے قریب رہ کر کیے گئے تھے، مگر ان میں کمی یہ تھی کہ قرآن کا مفہوم، پڑھنے والے تک منتقل نہیں ہو پاتا تھا۔ تاہم، مولانا فتح محمد جالندھری مرحوم کا ترجمہ کئی حوالوں سے بہتر اور عام فہم تھا۔ لیکن اسے عام فہم بنانے کے لیے انھوں نے قوسین میں بہت سی اضافی عبارتوں کا سہارا لیا تھا۔ جب کہ مولانا مودودی نے ترجمہ قرآن کے لیے قرآنی آیات کی ترجمانی کا راستہ اختیار کیا، اور کلام الٰہی کی حدود کا حد درجہ خیال رکھا کہ اسی دائرے میں رہتے ہوئے کلام پاک کو اردو خواں طبقے تک منتقل کریں۔ ماہرین لسانیات کے بقول مولانا مودودی نے قرآن سمجھنے کے لیے اپنے قاری کی بے پناہ دست گیری کی ہے۔ ترجمے میں روانی، ربط، عام فہم اور بامحاورہ بنا کر پیش کرتے ہوئے دل کش انداز اختیار کیا ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن عظیم کی تفسیر تفہیم القرآن لکھتے وقت، مولانا مودودی نے کلاسیکی اسلوب تفسیر سے ذرا ہٹ کر، لیکن تفسیری روایت اور قرآن و حدیث کے متن سے جڑ کر تفسیری خدمت انجام دی ہے۔ تفسیر لکھنے سے پہلے انھوں نے اعلیٰ پاے کے تفسیری ادب اور امہات تفاسیر کا مطالعہ کیا۔ احادیث نبوی کے ہزاروں صفحات پر پھیلے لوازمے کا مطالعہ کر کے موضوعات کا اشاریہ بنایا، مسلم تاریخ اور فقہی لٹریچر کی بنیادی کتب کے مباحث اور کلامی معرکوں کو ذہن نشین کیا۔ دوسری جانب اپنے آپ کو عصرِ حاضر سے جوڑتے ہوئے مغربی افکار و نظریات اور برسرپیکار عالمی و مقامی تحریکات مثلاً :نسل پرستی، سرمایہ داری، اشتراکیت، لادینیت، استعماریت، اور نام نہاد آزاد خیالی کے نام پر سٹراند پیدا کرتی عریانی و فحاشی کے سرچشموں کو گہرائی میں جا کر پرکھا۔
مولانا مودودیؒ خود لکھتے ہیں: ’’اس سلسلے میں میں نے ویدوں کے تراجم لفظ بلفظ پڑھے۔ بھگوت گیتا لفظ بلفظ پڑھی۔ ہندو شاستروں کو پڑھا۔ بدھ مذہب کی اصل کتابیںجو انگریزی میں ترجمہ ہوئی ہیں، ان کو پڑھا۔ بائبل پوری پڑھی اور پادری ڈومیلو کی تفسیر کی مدد سے پڑی۔ یہودیوں کی اپنی کتابوں کو پڑھا۔ تالمود کے جتنے حصے مل سکے وہ سب پڑھے‘‘۔ یاد رہے مولانا مودودیؒ کو اردو، عربی، انگریزی اور فارسی پر تو دسترس حاصل تھی، اس کے ساتھ انھوں نے جرمن زبان بھی سیکھی تھی۔
اس کے پہلو بہ پہلو خود مسلمانوں میں در آنے والی آبا پرستی، الحاد، انکار حدیث، فرقہ پرستی اور اس کے ساتھ بدترین بغاوت انکارِ ختم نبوت کے کانٹوں بھرے جنگل کو صاف کرنے کے لیے چومکھی لڑائی لڑی۔ اس جان جوکھم معرکے اور اس مطالعاتی عمل کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تفسیر لکھنے کا عمل بھی جاری رکھا۔ اس دوران میں مولانا مودودی پے درپے گرفتاریوں کا نشانہ بنے اور سزاے موت کا بھی سامنا کیا، جو بعد میں عمر قید میں تبدیل ہو گئی۔
تفہیم القرآن کے لکھے جانے سے پہلے اور پھر بعد میں بہت سے علماے کرام نے بھی کمال درجہ محنت، اور تفقہ فی الدین کے ساتھ تفسیر قرآن کی خدمات انجام دیں۔ اس کے باوجود تفہیم القرآن کو دوسری تفاسیر سے متعدد حوالوں سے امتیاز حاصل ہے۔ پروفیسر خورشید احمد کے مطابق: تفہیم القرآن میں اس نقطۂ نظر سے قرآن کا مطالعہ کیا گیا ہے کہ یہ کتاب صحیفۂ ہدایت ہے، جو ہر فرد اور پوری امت میں غور و فکر اور مطالعے کا ایک خاص انداز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ تفہیم نے اس امر کی وضاحت پیش نظر رکھی ہے، کہ قرآن کریم، زمانے کے تغیر اور تبدیلی کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے ایک مکمل ضابطۂ حیات فراہم کرتا ہے۔ اس مجموعی نقشے کے مطابق انسانی معاشرتی زندگی کے پورے دھارے کا رخ موڑنے کی قوت پیش کرتا ہے۔
تفہیم القرآن کے اوراق پر پھیلے مباحث سے یہ پیغام روشنی کی طرح پھوٹتا ہے کہ قرآن کریم ایک الہامی اور عظیم کتاب ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ابدی ہدایت اور پیغام دعوت ہے۔ دعوت قبول کرنے والوں کے لیے زندگی بھر کی جدوجہد کا ایک واضح اور نکھرا ہوا نصاب ہی نہیں بلکہ صراطِ مستقیم کا زادِ راہ بھی ہے۔
اسی طرح تفہیم القرآن نے سورتوں کے باہمی ربط اور سورتوں کے متن میں پوشیدہ وحدت کو بیان کرنے کے لیے کسی فلسفیانہ تقریر کے بجاے صاف اور عام فہم انداز میں نمایاں طور پر قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔ مولانا مودودی نے ہر سورت کے پس منظر اور مرکزی موضوعات کو آغاز میں بیان کر کے قاری کے لیے سہولت دے کرقرآن فہمی سے اس کی وابستگی کو مضبوط بنا دیا ہے۔
تفہیم القرآن کا ایک بڑا کمال یہ ہے کہ اس نے فقہی مسائل کو اس توازن، اعتدال اور وسیع البنیاد رنگ میں حل کیا ہے کہ امت میں اتحاد اور بقاے باہم کی خوشبو بکھرتی ہے۔ انھوں نے کسی ایک فقہ کے وکیل صفائی بننے کے بجاے قرآن، سنت، حدیث اور اکابرین ملت اسلامیہ کے متفق علیہ فیصلوں اور افکار کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔
تفہیم القرآن میں تقابل ادیان کا موضوع خصوصی شان کا حامل ہے۔ اس ضمن میں مولانا مودودی نے اسرائیلی خرافات سے آلودہ روایات سے دینی لٹریچر، خصوصاً تفسیری ادب کو پاک کرنے کا کارنامہ انجام دینے والوں میں اہم مقام پایا ہے۔
تفہیم القرآن میں قدیم اور جدید کا توازن برقرار رکھا گیا ہے۔ مولانا مودودی نہ تو جدیدیت کا رنگ اختیار کر کے مغرب زدہ معذرت خواہی کی راہ پر چلے اور نہ قدامت سے چمٹ کر عصرِ حاضر سے بے خبر رہے۔ اس نازک سفر میں انھوں نے قرآن و سنت کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور جدید عہد کے سوالوں کا جرأت ایمانی اور دانش برہانی سے مدلل اور شافی جواب دیا۔
اس عظیم تفسیر کے انسائی کلوپیڈیا محاسن کو ایک مختصر مضمون میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ تاہم، یہ امر پیش نظر رہے کہ اب تک اس تفسیر کے ۶ لاکھ ۴۰ ہزار سے زیادہ سیٹ ( ۳۸لاکھ اور ۶۰ہزار جلدوں سے زیادہ ) اردو میں شائع ہو چکے ہیں، جب کہ اس کے مکمل ترجمے دنیا کی حسب ذیل زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں: انگریزی، ترکی، بنگالی، روسی، فارسی، پشتو، جرمن اور سندھی۔ جن زبانوں میں ترجمے تکمیل کے قریب ہیں، ان میں ہندی، چینی، جاپانی، انڈونیشنی، ہسپانوی اور عربی شامل ہیں۔
تفہیم القرآن کی اس مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری کے شاگرد مولانا محمد چراغ نے فرمایا تھا:ـ تفہیم القرآن کا پیرایۂ بیان اس قدر سلجھا ہوا ہے کہ انسان دورِ حاضر کے فتنوں کی اصل حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہو جاتا ہے۔ ملّاواحدی نے اعتراف کیاـ: ’’مولانا مودودی سمجھنے اور سمجھانے دونوں اوصاف سے بہرہ ور ہیں۔ سمجھنے کا وصف تو کسی نہ کسی قدر اکثر لوگوں میں ہوتا ہے، مگر سمجھانے کے وصف سے بہت کم لوگ نوازے جاتے ہیں۔ تفہیم القرآن جدت دکھاتی ہے، تاہم حدود اور اعتدال کے دامن کو پکڑے رہتی ہے‘‘۔ پروفیسر زینب کا کاخیل کے مطابق: ’’مولانا مودودی کا اصل مقصد کلام الٰہی کی صحیح ترین تفسیر بیان کرنا ہے، نہ کہ کسی خاص مکتب فکر کی تقویت یا آبیاری کرنا‘‘۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین جسٹس محمد افضل چیمہ نے کہا: تفہیم القرآن کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ صرف طرز استدلال میں نہایت معقول اور سائنٹی فک انداز اختیار کیا گیا ہے بلکہ مناسب مقامات پر فلسفہ، طبیعیا ت، علم الکیمیا، فلکیات اور دیگر جدید سائنسی علوم کا براہِ راست تجزیہ کرتے ہوئے بات کی گئی ہے۔ جس سے ایک متجسس طالب علم کی علمی حس مطمئن ہوتی اور شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمان نے اعتراف کیا ہے: تفہیم القرآنمیں مولانا مودودی اس عہد کی زبانِ علم میں، اس عہد کے لوگوں سے مخاطب ہیں۔ میں نئی نسل کو تفہیم کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج والدین کے لیے، اپنی اولاد کو پیش کرنے کے لیے تفہیم القرآن ایک بہترین تحفہ ہے، جو ایمان کو مضبوط، اسلامی تہذیب کو بارآور اور صراطِ مستقیم کے سفر کو آسان بنا دیتا ہے۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی جس ابتلا و آزمایش سے گزررہی ہے، اس کی جڑیں سرزمینِ بنگلہ دیش میں نہیں بلکہ اس طوفانِ کرب و بلا کا مرکز سرحدپار موجود ہے۔ بنگلہ دیش میں اس نفرت کے سوداگر عوامی لیگ، بنگالی قوم پرست، مقامی ہندو اور سیکولر طبقات ہیں۔ حسب ذیل تحریر ملاحظہ کیجیے:
میں ذاتی سطح پر جماعت اسلامی کے بارے میں ۱۹۷۱ء کی مناسبت سے کوئی اچھی راے نہیں رکھتا۔ لیکن اس لمحے جب بنگلہ دیش میں دانش وروں اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد جماعت اسلامی پر سنگ باری کر رہی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مجھے سچ کہنے میں بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
بہت سے مقامات پر، بہت سے لوگوں سے ملنے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ عوامی لیگ خود دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے، ان جرائم کا الزام جماعت اسلامی پر دھر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ، بے شمار تحریروں اور تصانیف کے مطالعے کے بعد، جب میں [بنگلہ دیش کے حوالے سے] بھارت کے موجودہ طرزِعمل کا جائزہ لیتا ہوں، تو مجھے صاف دکھائی دیتا ہے کہ ۱۹۷۱ء میں [مشرقی پاکستان پر مسلط کردہ] جنگ بھارت کی مسلط کردہ تھی، اور جو فی الحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW) کا پراجیکٹ تھا۔ اسی طرح جب میں عوامی لیگ اور ذرائع ابلاغ کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، تو مجھے اس یلغار کے پسِ پردہ محرکات کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ بنگلہ دیش میں فی الواقع جماعت اسلامی ہی وہ منظم قوت ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی دھونس اور مداخلت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گویا کہ ۱۹۷۱ء میں ہماری آزادی کے حصول کی جدوجہد کے دشمن، آج ہماری آزادی کے تحفظ کے بہترین محافظ ہیں۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہد کی مخالفت کرنے کے باوجود میں محسوس کرتا ہوں کہ اس پارٹی کا وجود ہماری آزادی کے تحفظ کے لیے اشد ضروری ہے۔ بھارت نے ہمارے صحافیوں، سیاست دانوں، قلم کاروں اور فوجیوں کو خرید رکھا ہے، لیکن میں واشگاف کہوں گا کہ وہ جماعت اسلامی کو خریدنے میں ناکام رہا ہے۔
یہ تحریر بنگلہ دیش کے سابق وزیر بیرسٹر شاہ جہاں عمر کی ہے، جو ایک ماہر معاشیات بھی ہیں اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما اور خالدہ ضیا کے مشیر بھی ۔ پاکستان سے علیحدگی کی جدوجہد میں حصہ لینے کے اعتراف میں بنگلہ دیش نے انھیں دوسرے سب سے بڑے قومی اعزاز ’بیراتم‘ سے نوازا ہے۔ انھوں نے یہ احساسات اپنے فیس بک اکائونٹ پر ۱۸جنوری ۲۰۱۴ء کو مشتہرکیے۔ انھی بیرسٹر شاہ جہاں عمر نے عبدالقادر کی شہادت کے دو روز بعد ۱۴دسمبر ۲۰۱۳ء کو لکھا تھا:
وہ لوگ جو عبدالقادر کی شہادت پر مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے، ان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ نہ تھی، اور یہ لوگ ایک غیرانسانی اور وحشیانہ عمل کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ لیکن ان ایک ہزار پاگلوں کے مقابلے میں ۱۰۰ سے زیادہ مقامات پر لاکھوں لوگوں نے عبدالقادر کی شہادت پر غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرکے اس ابدی سچائی کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا کہ وہ ایک مظلوم انسان تھا، جسے انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی درحقیقت اُس نام نہاد ’امن کی آشا‘ کے سامنے ایک آہنی چٹان ہے، جسے ڈھانے کے لیے برہمنوں ، سیکولرسٹوں اور علاقائی قوم پرستوں کے اتحادِ شرانگیز نے ہمہ پہلو کام کیا ہے۔ اس ضمن میں ان کا حقیقی سرمایہ جھوٹا پروپیگنڈا اور اسلام کی تضحیک ہے۔ بھارتی کانگریس کے لیڈر اور گذشتہ ۱۰ برسوں سے حکمران وزیراعظم من موہن سنگھ اس مناسبت سے ایک دل چسپ کردار ہیں۔ جنھوں نے: بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو بے دست وپا کرنے، مولانا مودودیؒ کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے اور دو قومی نظریے کی حامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو دیوارسے لگانے کے لیے حسینہ واجد حکومت کی بھرپور سرپرستی کی۔ دوسری جانب خود بھارت میں مسلم نوجوانوں کو جیل خانوں اور عقوبت کدوں میں سالہا سال تک بغیر کسی جواز اور عدالتی کارروائی کے ڈال دینے کا ایک مکروہ دھندا جاری رکھا ہے۔ افسوس کہ پاکستانی اخبارات و ذرائع ابلاغ اس باب میں خاموش ہیں۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے اس بیان کو پڑھیے، جو انھوں نے بنگلہ دیش میں اپنے مجوزہ دورے سے قبل۳۰جون ۲۰۱۱ء کو نئی دہلی میں بنگلہ دیش اور بھارت کے ایڈیٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا تھا:
بنگلہ دیش سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ہمیں اس چیز کا لحاظ رکھنا پڑے گا کہ بنگلہ دیش کی کم از کم ۲۵ فی صد آبادی اقراری طور پر جماعت اسلامی سے وابستہ ہے اور وہ بہت زیادہ بھارت مخالف ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش کا سیاسی منظرنامہ کسی بھی لمحے تبدیل ہوسکتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ عناصر جو جماعت اسلامی پر گرفت رکھتے ہیں، بنگلہ دیش میں کب کیا حالات پیدا کردیں۔
وزیراعظم من موہن سنگھ کی اس ’فکرمندی‘ اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو کچلنے کی خواہش کو معلوم نہیں پاکستانی وزارتِ خارجہ کس نظر سے دیکھتی ہے، تاہم عوامی لیگ، حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں کی حیثیت محض ایک بھارتی گماشتہ ٹولے کی سی ہے۔ جسے بنگلہ دیش کے مفادات سے زیادہ بھارتی حکومت کی فکرمندی کا احساس دامن گیر ہے۔ گذشتہ تین برسوں پر پھیلے ہوئے عوامی لیگی انتقام کو پاکستانی سیکولر طبقے ۱۹۷۱ء کے واقعات سے منسوب کرتے ہیں، حالانکہ بدنیتی پر مبنی اس یلغار کا تعلق حالیہ بھارتی پالیسی سے ہے۔ وہ پالیسی کہ جس کے تحت بھارت اپنے ہمسایہ ممالک میں نوآبادیاتی فکر اور معاشی و سیاسی بالادستی کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت یہ کام کھل کر ، کررہی ہے اور پاکستان میں یہ ظلم ’مادرپدر آزاد میڈیا‘ اور وفاقی حکومت میں گھسے کچھ عناصر انجام دے رہے ہیں جس کے تحت انجام گلستان صاف دیکھا جاسکتا ہے۔
ظلم اور وہ بھی انصاف کے نام پر، ہمیشہ فسطائی اور ظالم قوتوں کا ہتھیار رہا ہے۔ جب ایسے ظلم کو میڈیا اور سامراجی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہوجائے تو پھر سوال اور جواب کی گنجایش کم ہی رہ جاتی ہے۔
ایسا ہی ظلم بنگلہ دیش میں ۶۵سالہ عبدالقادر مُلّا، اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے ساتھ روا رکھا گیا ہے، جنھیں ۵فروری ۲۰۱۳ء کو قانون کی من مانی تاویل کرتے، من پسند عدالت سجاتے اور دفاع کے جائز حق سے محروم رکھتے ہوئے عمرقید سنائی گئی۔ وہ اس ظلم پر اپیل کے لیے سپریم کورٹ گئے، مگر ساڑھے سات ماہ تک بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے عجیب و غریب تاریخ رقم کی۔ بنگلہ دیش کے معروف قانون دان محمد تاج الاسلام کے بقول: ’’جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک ٹرائل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کو سپریم کورٹ نے بڑھا کر سزاے موت میں تبدیل کردیا ہے‘‘۔ مگر یہ تماشا ہوا ہے۔
عبدالقادر مُلّا کا جرم کیا ہے؟ یہی کہ جب ۱۹۷۱ء میں، دنیا بھر کی برادری میں ایک تسلیم شدہ ملک پاکستان کے مشرقی حصے میں ہندستانی فوج کی زیرنگرانی تربیت یافتہ دہشت گردوں کی مسلح کارروائیوں نے زورپکڑا، تب ملک توڑنے، بھارتی افواج کا ساتھ دینے، پُرامن شہریوں کو قتل کرنے اور قومی اِملاک کو تباہ کرنے والی مکتی باہنی کے مقابلے میں مسلح طور پر نہیں، بلکہ محض تبلیغ اور افہام و تفہیم کے ذریعے پُرامن رہنے اور شہری زندگی کو بحال کرنے کی جدوجہد میں عبدالقادر نے اپنی بساط کے مطابق کھلے عام رابطہ عوام مہم چلائی۔ اُس وقت وہ ایم اے کے طالب علم تھے۔ ان کا یہی ’جرم‘ آج ۴۲سال بعد ’جنگی جرم‘ بلکہ ’انسانیت کے خلاف جرم‘ بنا دیا گیا۔ عوامی لیگ نے اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے، ہندو آبادی کو خوش کرنے اور بھارت نواز سیکولر قوتوں سے تعاون لینے کی غرض سے اس مقدے بازی کا ڈراما رچایا۔
جوں ہی عبدالقادر مُلّا کو جنگی جرائم کی نام نہاد عدالت نے سزاے عمر قید سنائی، حسینہ واجد سپریم کورٹ میں گئیں اور کہا:’’عبدالقادر کو عمرقید کے بجاے سزاے موت دی جائے‘‘۔ اور سیکولر لابی کے وہ کارکن جو سزاے موت کو ویسے ہی ختم کرنے کا علَم تھامے نظر آتے ہیں، وہ بھارتی سرکاری پشت پناہی (یہ الزام نہیں بلکہ اس بات کی گواہی بھارت کے معتبر اخبارات بھی پیش کرچکے ہیں) میں ’’عمرقید نہیں، سزاے موت چاہیے‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے۔ سڑکوں پر کیا آئے، خود حکومت کے اہل کاروں نے، عوامی لیگ کے عہدے داروں اور کابینہ میں بیٹھے وزیروں نے، اداکاروں اور گلوکاروں نے، پولیس کی حفاظت میں، اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پکنک کا ماحول پیدا کرنے کے لیے شاہ باغ چوک کو سرکس کا گڑھ بنایا گیا، اور آخرکار ۱۸ستمبر ۲۰۱۳ء کو اپنی ’روشن دماغ‘ عدلیہ سے یہ فیصلہ لے لیا کہ ’’عبدالقادر مُلّا کو سزاے موت دی جائے‘‘۔
برطانوی دارالامرا کے رکن لارڈ الیگزنڈ ر چارلس کارلائل نے ۲۰ستمبر ۲۰۱۳ء کو مسٹر ایچ ای ناوی پلے، ہائی کمشنر اقوام متحدہ براے انسانی حقوق، سوئٹزرلینڈ کے نام خط میں تحریر کیا:
میں نے برطانیہ کے کُل جماعتی گروپ براے انسانی حقوق کے رکن کی حیثیت سے ۷جون ۲۰۱۳ء کو آپ کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی تھی کہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی صورتِ حال سخت ابتر ہے، اور یہ حالات روز بروز بدترین شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں خاص طور پر عرض کیا تھا کہ اس المیے کا سب سے بڑا محرک وہاں پر انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کا قیام اور اس کی کارروائی ہے۔
مجھے ذاتی طور پر آپ کے اس طرزِعمل پر حیرت ہوئی کہ آپ نے گذشتہ دنوںجنیوا میں خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کی بے حُرمتی کے مراکز کے طور پر شام، مصر اور عراق کا نام تو لیا، مگر عجیب بات ہے کہ انسانی حقوق کی ان قتل گاہوں میں آپ نے بنگلہ دیش کا نام نہیں لیا۔
[بنگلہ دیش کے] عام انتخابات سے صرف چند ماہ پیش تر ، یہاں کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور گرفتاریوں کی یلغار کرنے کے لیے پورا زور لگارہی ہے۔ جسے بڑھاوا دینے کے لیے اس حکومت کے قائم کردہ کرائمز ٹریبونل کے جانب دار اور سیاسی طور پر متحرک ججوں نے اپنے کھیل سے، بنگلہ دیشی معاشرے کو بدامنی کی آگ میں دھکیلنے کا پورا بندوبست کررکھا ہے۔ صفائی کے گواہوں کا اغوا اور دیگر غیرمہذب اقدامات نے عدالتی کارروائی جیسے جائز اور مقدس عمل کو تباہی سے دوچار کرا دیا ہے۔
جیساکہ میں نے اپنے جون کے خط میں آپ کو لکھا تھا کہ ’جرائم کے خلاف عالمی انصاف‘ کو لازماً جرائم کے خلاف محض قومی سطح پر دائرۂ سماعت میں نہیں آنا چاہیے، بلکہ اس کے ساتھ لازمی طور پر عالمی سطح پر انسانی حقوق کے معیارِ انصاف اور کارروائی کے عالمی معیار اور شفافیت کے مسلّمہ اصولوں پر بھی پورا اُترنا چاہیے۔ اس ضمن میں کسی بھی کم تر معیار کو اپنانے کا مطلب عدل و امن کے مجموعی ہدف کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہوگا۔
تاہم، اس ہفتے عبدالقادر مُلّا کے مقدمے میں بنگلہ دیش سپریم کورٹ کے فیصلے نے سخت پریشانی سے دوچار کیا ہے، جس میں سپریم کورٹ نے گذشتہ عرصے میں دائر کی گئی درخواست پر ایک قدم آگے بڑھ کر عمرقید کو سزاے موت میں تبدیل کردیا ہے اور اپیل کا حق بھی سلب کرلیا گیا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے اقوام متحدہ کے گروپ براے ’من مانی نظربندی‘ کی گذشتہ برس کی اس رپورٹ کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا ہے، جس میں یہ بات واضح کی تھی کہ وہاں پر عالمی انصاف کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں اور اب اس فیصلے نے پیش قدمی کرتے ہوئے اس سزا یافتہ قیدی کے نظرثانی کے حق اپیل کو سلب کرکے بین الاقوامی ضوابط کو روند ڈالا ہے، جس کی مذمت کرنا لازم ہے۔
میں عبدالقادر مُلّا کے اس فیصلے کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ (HRW) کے اس تجزیے کی پُرزور تائید کرتا ہوں کہ:
Bangladesh: Death Sentence Violates Fair Trial Standards, 18th September (بنگلہ دیش میں ۱۸ستمبر کو سزاے موت کا فیصلہ مقدمات کے منصفانہ معیار کی خلاف ورزی ہے)۔
انھوں نے بجا طور پر اس معاملے کی نشان دہی کی ہے کہ [بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے زیرسماعت مقدمات کے بارے] بعد از وقت قوانین کی تبدیلی، مقدمے کی شفاف کارروائی کے بین الاقوامی قانونی نظریے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
[امریکی] وزیرخارجہ جان کیری کی جانب سے وزیراعظم حسینہ واجد اور ان کی مدّمقابل خالدہ ضیا کو بات چیت کے ذریعے معاملات کا حل نکالنے کی دعوت خوش آیند ہے۔ تاہم، پاے دار امن کے لیے ضروری ہے کہ ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ کو لازماً بین الاقوامی نگرانی میں اپنی کارروائی کرنی چاہیے۔
لارڈ الیگزنڈر کارلائل، نہ پاکستانی ہیں اور نہ جماعت اسلامی کے رکن اور کارکن وغیرہ، بلکہ وہ ایک پارلیمنٹیرین، مذہباً غیرمسلم اور پیشے کے اعتبار سے قانون دان ہیں۔انھوں نے اس مقدمے کو خالصتاً قانونی، انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر دیکھا تو چیخ اُٹھے کہ: ’’یہ کیا ظلم ہو رہا ہے؟‘‘ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود ہمارے ہاں کے انسانی حقوق کے علَم برداروں کی حسِ انصاف کو کیا ہوا، اور خود ہمارے حکمرانوں اور مقتدر طبقوں کی قومی حمیت کو کیوں گھن لگ گیا ہے؟
عبدالقادر مُلّا ۱۴؍اگست ۱۹۴۸ء کو ضلع فریدپور (مشرقی پاکستان حال بنگلہ دیش) کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۶۸ء میں راجندر کالج، فریدپور سے گریجویشن کے بعد ڈھاکہ یونی ورسٹی میں ایم اے میں داخلہ لیا۔ اسی دوران یونی ورسٹی کے ایک ہاسٹل میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم منتخب ہوئے۔ وہ ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد کبھی اپنے ملک سے باہر نہیں گئے۔ اسی معاشرے میں کھلے عام رہے اور عملی زندگی میں بطور صحافی خدمات انجام دیں۔ معروف اخبار روزنامہ سنگرام ڈھاکہ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر، اور بنگلہ دیش نیشنل پریس کلب کے رکن منتخب ہوئے۔
۵فروری کو جب نام نہاد عدالت نے عبدالقادر کو ڈیڑھ گھنٹے پر محیط وقت میں مقدمے کا فیصلہ سنایا تو اس روز بی بی سی لندن کے نمایندے کے مطابق: ’’عبدالقادر نے بلندآواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بلند کیا اور ججوں کو مخاطب کرکے کہا: ’’ایسا غیرمنصفانہ فیصلہ کرنے پر تمھیں کوئی اچھے نام سے یاد نہیں کرے گا‘‘۔ اور ان کے وکیل بیرسٹر عبدالرزاق نے کہا: ’’یہ عدالت کے رُوپ میں ایک شکاری چڑیل ہے‘‘۔ تاہم، جب باہر نکلے تو برطانوی اخبار دی انڈی پنڈنٹ کے نمایندے فلپ ہشز کے بقول: ’’عبدالقادر مُلّا، عدالت کے فیصلے پر واضح طور پر خوش نظر آرہے تھے، اور انھوں نے عدالت سے نکلتے وقت فتح کا نشان بلند کیا‘‘۔(۱۹فروری ۲۰۱۳ء)
جیساکہ بتایا جاچکا ہے کہ ان کی عمرقید پر بھارت نواز لابی اور بنگالی قوم پرست سیکولر لابی نے ’سزاے موت دو‘ مہم چلانا شروع کردی اور آخرکار ۱۷ستمبر کو سزاے موت کا فیصلہ لے لیا۔ ۲۰ستمبر کو عبدالقادر مُلّا کے بیٹے نے جیل میں ان سے ملاقات کے بعد بتایا کہ: ’’میرے ابا نے کہا ہے، بیٹا! میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ لڑکپن سے جس موت کی دعا مانگا کرتا تھا، اللہ کی خوش نودی سے وہ موت میرے سامنے ہے۔ اس پر غم نہ کرو، بلکہ اس کی قبولیت کے لیے رب کریم سے دعا مانگو‘‘۔ آج صورت یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں یہ خبر ہر خاص و عام میں گرم ہے کہ: ’’عوامی لیگ کم از کم عبدالقادر مُلّا کو تو سب سے پہلے سزاے موت ضرور دے گی‘‘___ مگر کیوں؟ جواب بڑا واضح ہے کہ ملک میں بدامنی کا ایک ایسا دور شروع ہوجائے کہ عوامی لیگ کی حکومت جو اگلے ماہ اپنی مدت ختم کررہی ہے وہ براہِ راست راے دہندگان سے بچ جائے اور وہاں کی عدلیہ، فوج اور ٹیکنوکریٹ کا ایک عبوری دورِحکومت ان انتقامی کارروائیوں کو جاری رکھ سکے۔
جماعت اسلامی کے خلاف مقدمات کے فیصلے تو اُوپر تلے آہی رہے ہیں، اور اب ۲۲ستمبر کو اسی کرائمز ٹریبونل نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ایک بزرگ رہنما عبدالعلیم کے خلاف بھی ’۱۹۷۱ء میں انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی سماعت مکمل کرلی ہے اور کسی بھی وقت یہ فیصلے کا اعلان کرسکتی ہے۔ یاد رہے، عبدالعلیم، بنگلہ دیش کے مرحوم صدر ضیا الرحمن کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔
۲۱ستمبر کو حسینہ واجد نے معروف صحافی ڈیوڈ فراسٹ (الجزیرہ ٹی وی) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ: ’’خالدہ ضیا کی بی این پی سے ہمارا نظریاتی اختلاف ہے، اس لیے ہم کبھی آپس میں نہیں مل سکتے‘‘۔ یہ نظریاتی اختلاف تین دائروں میں دیکھا جاسکتا ہے: l بی این پی ، بنگلہ دیش کے دستور میں اسلامی شقوں کو لانے اور ان کا تحفظ کرنے والی پارٹی ہے، جب کہ عوامی لیگ نے آتے ہی ان دستوری شقوں اور قوانین کو ختم کردیا ہے۔lبی این پی، بنگلہ دیشی قومیت کی علَم بردار ہے (جس کا مطلب دو قومی نظریہ ہے)، جب کہ عوامی لیگ بنگلہ قوم پرستی کی پرستار ہے، جو دو قومی نظریے کی نفی ہے۔ lبی این پی، بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر اور بنگلہ دیش کے اقتدارِاعلیٰ کے تحفظ کی علَم بردار ہے لیکن عوامی لیگ، بھارتی حکومت کے سامنے خود سپردگی اور تابع مہمل رہنے کے لیے بے تاب ہے۔
یہ ہیں وہ نظریاتی اختلافات، جن کے نتیجے میں جماعت اسلامی اور بی این پی آپس میں حلیف ہیں اور عوامی لیگ ان کی دشمنی کے لیے ہرلمحے اور ہرقیمت پر مائل بہ جنگ ۔
’۹۱سالہ پروفیسر غلام اعظم کو دینی تو سزاے موت چاہیے، مگر صحت اور عمر کا خیال کرتے ہوئے ہم ۹۰سال قید کی سزا سناتے ہیں، جو تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی یا پھر ان کی موت تک برقرار رہے گی‘۔
یہ الفاظ فضل کبیر، جہانگیر حسن، انوارالحسن پر مشتمل نام نہاد ’جنگی جرائم کے ٹربیونل‘ کے فیصلے میں درج ہیں، جو ۱۵جولائی ۲۰۱۳ء کو سنایا گیا۔اس عدالتی ڈرامے کے اسٹیج کو بنگلہ دیش کے اہلِ دانش اور قانون دانوں نے واضح طور پر مسترد کردیا تھا، تاہم بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کو کسی نے مان کر نہ دیا۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
علاوہ ازیں یورپ، ملایشیا اور ترکی وکلا کی تنظیموں نے اس سارے سلسلے کو قانون کے ساتھ صریح مذاق قرار دیا، اور اسی مضحکہ خیز ’عدالت‘ نے بنگلہ دیش ہی نہیں، بلکہ عالمِ اسلام کے ایک بزرگ، عالمِ دین اور رہنما پروفیسر غلام اعظم کے لیے عملاً سزاے موت کی سزا کا اعلان کیا ہے۔
پروفیسر غلام اعظم ۷نومبر ۱۹۲۲ء کو پیدا ہوئے۔ زمانۂ طالب علمی میں تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ۱۹۵۰ء میں ڈھاکا یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے، پھر بنگلہ زبان تحریک میں حصہ لیا اور ۱۹۵۵ء میں جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے۔ انھوں نے پاکستان میں دعوتِ دین، دستور سازی، بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے بھرپور جدوجہد کی اور متعدد بار قیدوبند کی آزمایشوں سے گزرے۔غلام اعظم صاحب کی جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد، مشرقی پاکستان جماعت اسلامی کی ترقی اور پھیلائو کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اُن کی پُرکشش اور دل نواز شخصیت نے اپنوں اور غیروں کے دلوں کو جس طرح فتح کیا، یہی خوبی دشمن کے لیے کانٹا بن گئی۔
یکم سے ۲۴ مارچ ۱۹۷۱ء تک عوامی لیگ نے غیربنگالیوں کا قتلِ عام کیا ، اُردو بولنے والوں کی عورتوں کی سرعام بے حُرمتی کی، ہزاروں بہاری ، پنجابی اور پٹھان مسلمانوں کو چُن چُن کر ذبح کیا۔ پھر ۲۵مارچ ۱۹۷۱ء کو پاک آرمی نے جوابی آپریشن کیا تو، پروفیسر غلام اعظم ان مرکزی شخصیات میں شامل تھے، جنھوں نے ’امن کمیٹی‘ قائم کرکے شہری زندگی کی بحالی کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے بھارتی فوج کے پشت پناہ مداخلت کاروں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے، مشرقی پاکستان کے تمام اضلاع اور اکثر تحصیل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ پروفیسر صاحب کے رفیقوں میں بزرگ سیاست دان نورالامین، فضل القادر چودھری، مولوی فریداحمد، خواجہ خیرالدین، شفیق الاسلام وغیرہ شامل تھے۔ ان کاوشوں سے حالات میں تبدیلی آئی، مگر بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان میں بھیجی جانے والی بھارتی آلۂ کار مکتی باہنی اور کمیونسٹ تخریب کاروں کی مدد سے پاکستان توڑنے کے اس موقع سے پورا فائدہ اُٹھایا۔ بھارتی جرنیلوں کی کتابیں گواہ ہیں کہ وہ مارچ سے دسمبر تک پوری طرح مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد میں مصروف تھے۔ آخرکار ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء کو پاکستان توڑنے کا منصوبہ مکمل کیا۔
پروفیسر غلام اعظم ۲۱دسمبر ۱۹۷۱ء کو مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) جارہے تھے کہ بھارتی افواج نے مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا، اس لیے ان کا طیارہ کولمبو سے واپس مغربی پاکستان آگیا۔ اس کے بعد وہ ۱۹۷۴ء تک پاکستان میں رہے۔ ۱۸؍اپریل ۱۹۷۳ء کو مجیب حکومت نے اُن کی شہریت منسوخ کردی۔ ایک طویل عرصہ جلاوطنی گزارنے کے بعد پروفیسر صاحب ۱۱؍اگست ۱۹۷۸ء کو ڈھاکہ واپس چلے آئے اور ۲۰برس تک عدالتی جنگ لڑنے کے بعد اعلیٰ عدلیہ نے پروفیسر صاحب کی شہریت بحال کی، اور وہ جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوئے۔
۱۱جنوری ۲۰۱۲ء کو بھارت نواز حسینہ واجد حکومت نے انھیں گرفتار کیا اور خراب صحت کے باوجود پہلے پہل طبی سہولت دینے سے انکار کیا۔ پھر انھیں قرآن پاک تک اپنے پاس رکھنے کے لیے عدالتوں میں درخواست دائر کرنا پڑی ، اور چھے ماہ کی جدوجہد کے بعد قرآن،سیرتِ رسولؐ ، حدیث کے انتخاب پر مشتمل اور دعائوں پر مبنی ایک ایک کتاب فراہم کی گئی۔
ان کے مقدمے کی کارروائی کو عالمی اخبارات نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ برطانیہ اور ترکی سے وکلا کی تنظیموں نے غلام اعظم صاحب کے مقدمے کی پیروی کے لیے آنا چاہا، مگر نام نہاد ٹربیونل نے انھیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ غلام اعظم صاحب کی طرف سے ۲ہزار گواہوں نے عدالت میں پیش ہونے کے لیے اپنے نام درج کرائے، مگر صرف ۱۲؍افراد کو گواہی کی اجازت دی گئی اور ان میں سے بھی متعدد افراد کو دھمکایا ڈرایا گیا، حتیٰ کہ ایک ہندو گواہ شکھو رنجن کو اغوا کرلیا۔ ایک اطلاع کے مطابق اُسے اغوا کرکے کلتّے لے جایا گیا ہے۔ دوسری جانب استغاثے پر گواہ پیش کرنے کے لیے کوئی پابندی نہ لگائی۔ یہی نہیں بلکہ انڈین ایجنسی ’را‘ (RAW) کے ایجنٹ شہریار کبیر کو ایک معزز اتھارٹی کے طور پر تسلیم کیا۔ یہ وہی فرد ہے، جسے پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن کے بھارت نواز پروپیگنڈا مینیجرز نے گذشتہ برس بلاکر لیکچر کرائے تھے۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب کو اس گرفتاری کے دوران اپنے مرحوم بھائی کی نمازِ جنازہ میں شرکت تک کی اجازت نہ دی گئی، جب کہ گرفتاری سے قبل پروفیسر صاحب کے بیٹے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ اعظم کو بغیر کسی وجہ کے فوج سے برطرف کردیا گیا۔پروفیسر غلام اعظم کی اس سزا نے پورے بنگلہ دیش کو ہلا کر رکھ دیا، مگر وزیراعظم حسینہ واجد نے ۱۶جولائی کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ہم خوش ہیں کہ غلام اعظم کو سزا ملی ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ ہم اپنی مدتِ حکومت میں سزائوں پر عمل درآمد کرائیں گے۔ میں ججوں کی جرأت کو سلام پیش کرتی ہوں کہ انھوں نے عالمی اور مقامی دبائو کو مسترد کردیا ہے، اور یہ ہماری بہت بڑی قومی کامیابی ہے‘‘۔ یہ وہ ’کامیابی‘ ہے جس کی کوئی اخلاقی اور قانونی حیثیت نہیں ہے، مگر افسوس تو پاکستان کے حکمرانوں اور دانش وروں پر ہے۔ حکومت اور دفترخارجہ اس پر کوئی ردعمل نہیں دے رہے، جب کہ پروفیسر صاحب کو سزا دی گئی ہی اس جرم کی بنا پر ہے کہ ’’انھوں نے ۱۹۷۱ء میں پاکستان کا ساتھ دیا‘‘___ اور پاکستان ہے کہ خاموش!
اگر فیصلے کو پڑھا جائے تو وہ تمام تر اخباری رپورٹوں پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ اُس وقت ملک پر مارشل لا نافذ تھا اور سنسرشپ کے باعث پروفیسر صاحب کے حکومت وقت پر تنقیدی بیانات کی اشاعت ممکن نہ تھی۔ پھر غلام اعظم صاحب پر براہِ راست الزام لگانے کے بجاے، جماعت اسلامی کو ’مجرم‘ قرار دینے کے لیے استغاثے کے مخالفانہ سیاسی بیانات سے مقدمے کو سجایا گیا ہے۔ درحقیقت یہ فیصلہ پروفیسر صاحب کی زندگی سے کھیلنے اور آخرکار جماعت اسلامی، آج کی جماعت اسلامی کے لیڈروں اور لٹریچر پر پابندی لگانے کا فیصلہ ہے۔
وہ لوگ جو آج یہاں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں، چاہے وہ اسٹیبلشمنٹ ہو یا حکومتی کارندے، انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ مقدمے بنگلہ دیش کی نمایشی حکومت کے مقدمے نہیں، بلکہ یہ بھارت کے سیاسی پروپیگنڈے اور فوجی یلغار کا ایک محاذ ہیں۔ آپ دیکھیں پہلے یہ مقدمے دو، پھر چار، اس کے بعد ۱۱؍افراد پر چلنے شروع ہوئے۔ اب ان کا دائرہ ان لوگوں تک پھیلا دیا گیا ہے، جو امریکا یا برطانیہ کے شہری بن چکے ہیں۔ جس نام نہاد بنگلہ دیشی ایکٹ کی بنیاد پر یہ ٹربیونل بنایا گیا ہے اس کی یہ شق قابلِ غور ہے: ’’یہ ٹربیونل ہر اس فوجی، دفاعی یا رضاکار فرد یا گروہ پر مقدمہ چلانے کا اختیار رکھتا ہے، جس نے بنگلہ دیش کی سرزمین پر جنگی جرم کیا، چاہے وہ کسی بھی قومیت سے تعلق رکھتا ہو‘‘۔ اور پھر یہ پے درپے مقدموں کے جعلی فیصلے مستقبل کے ڈرامے کا رُخ دکھاتے ہیں۔بنگلہ دیش تو محض ایک دکھلاوا ہے، اصل ڈائریکٹر بھارت ہے۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب نے حق کی شہادت دے کر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ کیا اس شہادت کی شہادت دینے والے کسی غیبی مدد کا انتظار کریںگے یا قافلۂ حق میں شہادتِ حق ادا کریں گے!
۱۷جولائی کو اسی خانہ ساز عدالت نے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد کو سزاے موت سنائی۔ سزاے موت کا اعلان سننے کے بعد وہ پُرسکون انداز سے کھڑے ہوئے اور اعلان کرنے والے سے مخاطب ہوکر کہا: ’’آپ کا فیصلہ سو فی صد بددیانتی پر مبنی ہے اور میں سو فی صد بے گناہ ہوں۔ ہاں، میرا ایک جرم ہے اور وہ یہ کہ میں اسلامی تحریک کا کارکن ہوں‘‘۔
علی احسن محمد مجاہد گذشتہ دورِ حکومت میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے شاندار کارکردگی کے باعث بنگلہ دیش کی بیوروکریسی اور پالیسی ساز اداروں اور دانش وروں کی نگاہوں میں ایک دیانت دار، پُرعزم، محنتی اور معاملہ فہم رہنما کی حیثیت سے اُبھرے ہیں۔ اُن کی یہ متاثر کن کارکردگی حسینہ واجد حکومت کو ہضم نہ ہوسکی۔
اس سال کے آغاز سے فیصلے سنائے جارہے ہیں۔ سب سے پہلے ۲۱جنوری کو جماعت اسلامی کے رہنما ابوالکلام آزاد کو سزاے موت سنائی گئی۔ اس کے بعد اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عبدالقادر ملّا کو ۵فروری کو عمرقید کی سزا سنائی گئی۔ ۲۸فروری کو جماعت کے مرکزی رہنما اور بنگلہ دیش کے مقبول ترین مذہبی راہنما دلاور حسین سعیدی کو سزاے موت دی گئی۔ قیدیوں کو شرمناک حالت میں رکھا گیا ہے۔ غلام اعظم صاحب ۸فٹ کی کوٹھڑی میں تھے۔ انھیں ڈھاکے سے دُور دوسری جیل میں منتقل کر کے اب علی احسن مجاہد اس میں لائے گئے ہیں۔ غلام اعظم صاحب نے کہا: ایسا لگ رہا ہے کہ قبر سے نکلا ہوں۔
علی احسن مجاہد کی سزا کے بعد اب مولانا مطیع الرحمن نظامی کے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ اس کے بعد ابوالکلام محمد یوسف، مولانا عبدالسبحان، ازہرالاسلام اور میرقاسم علی کے مقدمات پر فیصلے ہوں گے۔
یہ فیصلے اور یہ ڈرامے ایک طرف، مگر پاکستان کادفترخارجہ کہہ رہا ہے کہ ’’یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے‘‘ حالانکہ یہ تمام فیصلے پاکستان پر الزام تراشی کا دفتر اور متحدہ پاکستان کی حمایت کا ’جرم‘ کرنے والوں کے لیے پھانسی کے اعلانات ہیں۔ اس بے رحمانہ انداز سے مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کرکے مسلم لیگ کی حکومت نے پاکستان اور تحریکِ پاکستان سے مذاق کیا ہے۔
آج ۲۸فروری اور پاکستان میں صبح سوا بارہ بجے کا وقت ہے۔ بنگلہ دیش میں ’جنگی جرائم‘ کے ٹربیونل کا ایک جج فضلِ کبیر اپنے دوساتھیوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا ہے، سامنے کٹہرے میں مفسرِقرآن، بنگلہ دیش میں لاکھوں دلوں کی دھڑکن ، جماعت اسلامی کے نائب امیر دلاور حسین سعیدی کھڑے ہیں، جن کا چہرہ مطمئن اور دائیں ہاتھ میں قرآن کریم ہے۔
جج کے رُوپ میں انصاف کا قاتل ۱۲۰ صفحے کا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہتا ہے: ’’دلاور حسین کے خلاف ۲۷،اور حمایت میں ۱۷ گواہ پیش ہوئے۔ چونکہ ۲۰ الزامات میں سے آٹھ الزامات ثابت ہوئے ہیں، اس لیے:He will be hanged by neck till he is dead. (انھیں پھانسی کے پھندے پر اس وقت تک لٹکا رہنے دیا جائے جب تک یہ مر نہیں جاتے)۔
اگلے ہی لمحے ڈھاکا میں کمیونسٹوں کا اخبار ڈیلی سٹار انٹرنیٹ ایڈیشن میں سرخی جماتا ہے: Sayeed to be hanged ۔ اور انڈین ٹیلی ویژن NDTV مسرت بھرے لہجے میں بار بار یہ سرخی نشر کرتا ہے: Senior Jamaat leader gets death sentence۔
علامہ دلاور حسین سعیدی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے ہیں اور چپ چاپ، جلادوں کے جلو میں پھانسی گھاٹ جانے والی گاڑی کی طرف مضبوط قدموں کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔
۱۹۷۶ء سے دلاور حسین سعیدی، اسلامیانِ بنگلہ دیش کے دلوں پر راج کرنے اور قرآن کا پیغام سنانے والے ہر دل عزیز خطیب ہیں، جو متعدد بار پارلیمنٹ کے رکن بھی منتخب ہوچکے ہیں۔ انھیں ۲۹ جون ۲۰۱۰ء کو حسینہ واجد کی حکومت نے گرفتار کیا۔ ڈھائی برس کے عدالتی ڈرامے کے بعد آج سیاہ فیصلہ اس حال میں سنایا کہ پورا ڈھاکا شہر اور دوسرے بڑے شہر ’بارڈر گارڈ بنگلہ دیش‘ (بی جی بی) اور ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘(آر اے بی) کی سنگینوں تلے کرفیو کا منظر پیش کر رہے تھے۔ دوسری طرف شاہ باغ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیراہتمام مظاہرہ پروگرام چل رہا ہے کہ ’’مارچ میں جماعت کے لیڈروں کو پھانسی دو‘‘۔ فیصلے کے اعلان کے بعد احتجاجی مظاہرہ کرنے والے اسلامی جمعیت طلبہ کے ۳۰ کارکنوں کو گولی مار کر شہید کر دیا، سیکڑوں کو زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔
پنڈت جواہر لال نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی اپنی مجلسوں میں کہا کرتی تھی: ’’میری زندگی کا حسین ترین لمحہ وہ تھا، جب میں نے پاکستان میں مداخلت کر کے بنگلہ دیش بنایا‘‘۔ لیکن دوسری طرف عجب معاملہ ہے۔ سابق مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ ۱۹۷۱ء کے المیے کو اپنا کارنامہ قرار دیتی ہے، ۴۰برس بعد ان لوگوں کو قابلِ گردن زنی قرار دیتی ہے، جنھوں نے دشمن ملک کے حملوں کے خلاف اپنے وطن کا دفاع کیا۔ آج کے بنگلہ دیش میں اسی اندرا کے پرستار حکمران پاکستان کا نام لے کر اسلام اور اسلامیانِ بنگلہ دیش کے خلاف آگ اُگل رہے ہیں اور اسلامی سوچ کے حامل افراد کو خون میں نہلا رہے ہیں۔ ۱۰ فی صد ہندو آبادی ان بلوائیوں کا مؤثر حصہ ہے اور دہلی نواز عوامی لیگ کے کارکن اور نیم فوجی تنظیمیں ان کی پشت پناہ ہیں۔ ہندستانی خارجہ پالیسی سے حرارت حاصل کرنے والے ذرائع ابلاغ اس صورتِ حال کو دہکتے الائو میں تبدیل کرنے کے لیے ہرلمحہ مستعد ہیں۔
نومبر ۲۰۱۲ء میں جب نام نہاد ’انٹرنیشنل وار کرائمز‘ ٹربیونل ( ICT) کے صدر جج نظام الدین کی غیراخلاقی، غیرقانونی اور دھاندلی آمیز گفتگو کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹا، اور اس نام نہاد ’جج‘ کو استعفا دے کر گھر کی راہ لینا پڑی تو نئی دہلی اور ڈھاکہ میں حکمران پارٹیوں نے بہ عجلت ِتمام ایک ڈراما اسٹیج کرنے کی ٹھانی۔
سب سے پہلا کام یہ کیا کہ وہ نام نہاد، ٹربیونل‘ جو بار بار سرکاری وکلا کی حماقتوں اور خانہ ساز گواہوں کے جعلی پن کے ہاتھوں دنیابھر میں رسوا ہو رہا تھا، اس نے جماعت اسلامی کے قائدین کے خلاف جعلی مقدموں کی کارروائی کو تیز تر کر دیا، تاکہ عوامی لیگ کے ’سیکولرانصاف‘ کی مزید دھجیوں کو بکھرنے سے بچایا جاسکے۔ یوں ۲۲جنوری ۲۰۱۳ء کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ایک رہنما ابوالکلام آزاد کو سزاے موت دینے کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے سے بنگلہ دیش کی سیاسی فضا میں بھونچال آگیا۔ ملک بھر میں اس فیصلے کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے۔ حکومت نے ان مظاہروں سے توجہ ہٹانے اور دہشت طاری کرنے کے لیے عوامی لیگ کے کارکنوں کو مسلح کر کے گلی کوچوں میں پھیلانا شروع کر دیا، جن کی مدد کے لیے ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ (RAB) اور ’بارڈر گارڈ بنگلہ دیش‘ (BGB) کے باقاعدہ دستے متعین کردیے۔
ابھی یہ کش مکش جاری تھی کہ جماعت اسلامی کے دوسرے رہنما عبدالقادر کو عمربھر قید بامشقت کی سزا سنا دی۔ سزاے موت کے برعکس عبدالقادر کو عمرقید سزا سنانے کا جو مقصد تھا وہ اگلے ہی روز بے نقاب ہوگیا۔ عوامی لیگیوں، کمیونسٹوں اور ہندوئوں نے فوراً یہ مطالبہ اُٹھا دیا کہ ’عبدالقادر کو سزاے موت دی جائے، اور اس مطالبے کے لیے ڈھاکہ کے ایک چوراہے ’شاہ باغ‘ کو ان مظاہروں کا مرکز بنانا شروع کر دیا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر سیکولر قوم پرست بلاگروں نے: اسلام، قرآن، رسول کریمؐ اور اللہ تعالیٰ کے حوالے سے غلیظ ترین جملے لکھنا اور پھیلانا شروع کردیے ( راقم کے لیے ان میں سے ایک جملہ بھی نقل کرنا ممکن نہیں۔ ان جملوں کو پڑھ کر خون کھولتا اور آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں)۔ یہ کارٹونسٹ اور بلاگر ’شاہ باغ‘ مظاہروں کے نمایاں لیڈروں کے طور پر سامنے آئے۔ انھی میں سے ایک اہم بلاگر طارق شنٹو دل کا دورہ پڑنے سے بے ہوش ہوگیا، جسے شیخ مجیب الرحمن میڈیکل یونی ورسٹی ہسپتال لے جایا گیا، مگر وہ ملعون جاں بر نہ ہوسکا ۔ طارق شنٹو سبھی لوگوں کے سامنے ایڑیاں رگڑتے ہوئے مرا، لیکن حسینہ واجد نے اس کی موت کو المیہ قرار دیا اور آخرت میں نجات کے لیے دعا مانگی (روزنامہ انڈی پنڈنٹ ڈھاکہ، ۲۰فروری ۲۰۱۳ء)۔ اسی طارق شنٹو کے مرنے کو دینی جماعتوں پر قتل کے الزام کی صورت میں پھیلایا گیا۔
۱۹فروری کو کاکسس بازار میں جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے تین کارکنوں کو سرِبازار گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ ۱۸ فروری کو ’شاہِ باغ‘ چوک کو پُرونق بنانے کے لیے فلمی دنیا کے طائفے کو بھرپور تشہیر کے ساتھ لایا گیا جنھوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کی دینی جماعتوں کے خلاف زہرآلود تقریریں کیں۔ ۱۹ فروری ہی کو عوامی لیگ نے مطالبہ کر دیا کہ: ’’بنگلہ دیش کو جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ سے صاف کیا جائے‘‘۔ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ’’مارچ ۲۰۱۳ء کے وسط تک مقدمے کو مکمل کرکے ملزموں کو پھانسی دی جائے‘‘۔
۲۰فروری کو عبدالقادر کو سزاے موت دینے کے لیے اپیل دائر کی گئی۔ اسی روز بنگلہ دیش حکومت کے وزیر بے محکمہ سرنجیت سین گپتا نے کہا: ’’ہمیں ۱۹۷۲ء کا اصل دستور بحال کرنا چاہیے (یاد رہے، اس دستور میں ایک پارٹی سسٹم اور غیرسرکاری اخبارات پر پابندی کا قانون ہے)۔ جماعت اسلامی پر ہرسطح پر پابندی لگانی چاہیے اور اس کے رہنمائوں کو موت کی سزا دی جائے‘‘۔ اسی وزیر نے شیخ مجیب کے سابق ساتھی قانون دان اور بنگلہ دیش کے اوّلین وزیرخارجہ ڈاکٹر کمال حسین اور نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’یہ لوگ جماعت اسلامی کے رہنمائوں کے لیے سزاے موت کی تائید نہ کرکے قومی جرم کا ارتکاب کررہے ہیں‘‘۔ (روزنامہ انڈی پنڈنٹ، ڈھاکہ، ۲۱فروری ۲۰۱۳ء)
۲۲فروری بروز جمعہ بنگلہ دیش کے شہر شہر اور قصبہ قصبہ اسلامی قوتوں نے اسلامی شعائر کی توہین اور اسلامی قوتوں کی کھلے عام جدوجہد پر پابندی لگانے کی حکومتی مہم کی مذمت کی تو عوامی لیگ کی قیادت میں جوابی حملہ آوروں نے کئی جگہوں پر مساجد کو گھیرے میں لے لیا۔ ڈھاکہ کی مشہور مسجد بیت المکرم کے سامنے باقاعدہ میدانِ جنگ بنا رہا اور چارکارکنوں کو گولی مار کر شہید اور سیکڑوں کو زخمی کر دیا۔
اسی طرح ۲۴فروری کو اسلامی قوتوں نے پورے بنگلہ دیش میں ہڑتال کی اپیل کی، جسے ناکام بنانے کے لیے پولیس، پیراملٹری فورس اور عوامی لیگ کے مسلح افراد نے صبح ہی سے مختلف جگہوں پر مظاہرین حملے شروع کردیے، جس میں ۱۰ کا رکن شہید ہوگئے۔
طرفہ تماشا یہ کہ خود مار بھی رہے ہیں اور ساتھ یہ مطالبہ بھی کرتے جارہے ہیں کہ جماعت اسلامی پر پابندی لگائیں۔ اس سے بڑا مذاق یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کی تمام سیکولر قوتیں اور انسانی حقوق کی علَم بردار پارٹیاں اس ظلم پر خاموش ہیں۔ پاکستان کے دفترخارجہ کے اہل کاروں کے منہ میں گویا کہ زبان ہی نہیں کہ جو اُس ہرزہ سرائی کا جواب دے، جو روزانہ پاکستان کو گالیوں کی صورت میں سنائی جارہی ہے۔
آج کا بنگلہ دیش سنگین صورتِ حال سے دوچار ہے۔ بھارت اور اس کے زیرسایہ عوامی لیگ کی حکومت، بنگلہ دیش کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ دیگر مظاہر کے علاوہ وزیراعظم حسینہ واجد کا ۲۱دسمبر کو دیا جانے والا یہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے : ’’فوج، انتظامیہ اور عوام سے مَیں یہ کہتی ہوں کہ جو لوگ ’جنگی جرائم‘ کے ٹربیونل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، آپ آگے بڑھ کر انھیں عبرت کی مثال بنا دیں‘‘۔
کیا کوئی جمہوری حکومت: فوج اور انتظامیہ اور عوام کو اس اشتعال انگیز انداز سے اُبھارکر، اپنے ہی شہریوں پر حملہ آور ہونے کی دعوت دے سکتی ہے؟ لیکن سیکولر، جمہوری، ترقی پسند اور بھارت کے زیرسایہ قوت حاصل کرنے کی خواہش مند عوامی لیگی حکومت اسی راستے پر چل رہی ہے۔ انتقام کی آگ میں وہ اس سے بھی عبرت حاصل نہیں کر رہی کہ ایسی ہی غیرجمہوری، آمرانہ اور بھارت کی تابع مہمل ریاست بنانے کی خواہش میں ان کے والد شیخ مجیب الرحمن، ہم وطنوں کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنے تھے۔
سوال یہ ہے کہ اس تلخ نوائی کا سبب کیا ہے؟ عوامی لیگی حکومت کی ہمالیائی ناکامیاں، بدعنوانی کا سیلاب اور اگلے سال عام انتخابات کا سر پر آنا سبب تو ہے ہی، لیکن فوری وجہ نام نہاد جنگی جرائم کے ٹربیونل (ICT) کی پے درپے ناکامی اور جگ ہنسائی ہے۔ ذرا چند ماہ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس عجیب الخلقت ٹربیونل کے بارے میں یورپی یونین کی انسانی حقوق کی کمیٹی اور برطانیہ کے نمایاں قانون دانوں کی انجمن یہ کہہ چکے ہیں کہ: ’’بنگلہ دیش کا یہ ٹربیونل، عدل کے بین الاقوامی اور مسلّمہ تقاضوں سے یک سر عاری ہے‘‘۔ یہی بات ترکی اور امریکا کے وکلا کہہ چکے ہیں، بلکہ خود بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسے مسترد کیا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش میں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین میزان الرحمن نے ۱۵؍اگست ۲۰۱۲ء کو جوابی طور پر کہا: ’’جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل‘ آزادانہ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کام نہیں کر رہا، وہ بھیانک غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ پھر یہی صاحب ۱۳؍اکتوبر کو کہتے ہیں: ’’یہ ٹربیونل منفرد شان کا حامل ہے اور قومی پشت پناہی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ ٹربیونل عالمی عدالت انصاف کے متبادل کی حیثیت سے کارِنمایاںانجام دے رہا ہے، تاہم قوم اس کی رفتارِکار سے مطمئن نہیں، کہ فوری نتائج سامنے نہیں آرہے‘‘۔ (ڈیلی اسٹار، ڈھاکہ)
انسانی حقوق کے ان بنگلہ دیشی علَم برداروں کی بے چینی اگر ایک جانب دیدنی تھی تو دوسری جانب عوامی لیگ حکومت کا یہ پروگرام تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے ۱۶دسمبر ۲۰۱۲ء تک جماعت اسلامی کے دو تین رہنمائوں کے لیے سزاے موت کا اعلان حاصل کرلیا جائے۔ مگر صورت یہ بنی کہ حکومت کے وکلا اور خانہ ساز گواہوں کو جماعت اسلامی کے وکلاے صفائی کی جانب سے شدید قانونی دفاعی حکمت عملی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کے گواہ بھی منحرف ہورہے ہیں۔ خود ٹربیونل کے سربراہ جسٹس محمد نظام الحق اس اعتبار سے ایک متنازع شخصیت ہیں کہ اب سے ۲۰سال قبل جب وہ ابھی وکیل تھے، تو انھوں نے ’عوامی عدالت‘ لگاکر جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو سزاے موت دینے کا اعلان کیا تھا، مگر اب تو وہ ’ترقی‘ کر کے جج بن بیٹھے ہیں اور اعلیٰ عدالتی مسند پر تشریف فرما ہیں۔
لیکن ان کی ساری کاوش اور بدنیتی کا بھانڈا اس وقت بیچ چوراہے پھوٹا، جب انٹرنیٹ اسکایپ (skype) پر ان کی ۱۷گھنٹے کی گفتگو اور ۲۳۰برقی خطوط(ای میل) قوم کے سامنے آگئے۔ حادثہ یہ ہوا کہ جسٹس محمد نظام الحق نے بریسلز میں ایک بنگالی قانون دان محمد ضیاء الدین سے اس طویل گفتگو اور خط کتابت میں یہ بات بڑی ڈھٹائی سے کہی: ’’حسینہ واجد حکومت تو چاہتی ہے کہ میں جلد سے جلد فیصلہ دوں، اور اس خواہش میں یہ لوگ پاگل لگتے ہیں۔ تم ہی بتائو، جب استغاثہ نالائقوں پر مشتمل ہے، اور ان سے صحیح طریقے سے کیس پیش نہیں ہورہا، تو اس میں مَیں کیا کروں؟ مَیں انھیں کمرئہ عدالت میں ڈانٹتا ہوں، مگر ساتھ ہی پرائیویٹ چیمبر میں بلا کر کہتا ہوں، بھائی ناراض نہ ہوں، یہ سب ڈراما ہے تاکہ غیر جانب داری کا کچھ تو بھرم باقی رہے۔ پھر انھیں یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ کیا کہیں۔ اب تم ہی رہنمائی دو میں کس طرح معاملے کو انجام تک پہنچائوں‘‘۔
یہ گفتگو ثبوتوں کے ساتھ اکانومسٹ لندن کے خصوصی نمایندے نے رسالے کو چھپنے کے لیے دی، تو اکانومسٹ نے فون کر کے جسٹس نظام صاحب سے پوچھا کہ ہمارے پاس یہ رپورٹ ہے، مگر وہ جواب میں کہنے لگے: ’’ایسا نہیں ہوسکتا، ہم تو عدالتی معاملات اپنی بیوی کے سامنے بھی زیربحث نہیں لاتے‘‘۔ لیکن اکانومسٹ نے ڈنکے کی چوٹ ڈرامے کا پول کھول دیا، اور دسمبر ۲۰۱۲ء کے ابتدائی شمارے میں خلافِ معمول رسالے کے مدیر نے اپنے ادارتی نوٹ کے ساتھ ساری کہانی شائع کردی جس نے بنگلہ دیش میں بالخصوص اور اہلِ دانش میں بالعموم تہلکہ مچادیا۔ اس پر جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اپنے بیانات میں کہا: ’’ہم پہلے سے یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ جج نہیں قاتل ہیں۔ یہ انصاف دینے والے نہیں انصاف کے قتل کرنے والے ہیں اور ان کی سرپرستی کرنے والی حکومت بھی انصاف اور انسانیت کی قاتل ہے‘‘۔ اس پر جسٹس محمدنظام الحق نے ۶دسمبر ۲۰۱۲ء کو حکم دیا کہ اکانومسٹ کے دو ارکان ان کے ٹربیونل کے سامنے پیش ہوکر توہین عدالت کا سامنا کریں۔ دوسری جانب بنگالی اخبار اماردیش (ہمارا وطن)، ڈھاکا نے وہ ساری بنگلہ گفتگو حرف بہ حرف شائع کردی۔ انجامِ کار جسٹس نظام الحق نے جو اس ڈرامے کا مرکزی کردار ہیں، ۱۱دسمبر ۲۰۱۲ء کو ٹربیونل کی سربراہی سے استعفا دے دیا۔
اس خبر نے حسینہ واجد کو شدید صدمہ پہنچایا، لیکن شرمندگی کا کوئی احساس کرنے کے بجاے، انھوں نے پلٹ کر جماعت اسلامی اور بی این پی کے کارکنوں کو بے رحمانہ انداز سے ریاستی جبر کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
اس وقت بھی اگرچہ جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کے ۶ہزار سے زائد کارکن جیلوں میں بند ہیں لیکن حکومت نے ۱۷دسمبر کو سیاہ کاری کا وہ نشان بھی عبور کرلیا کہ جس کا آج تک پاکستان کی کسی بدترین حکومت نے بھی ارتکاب نہیں کیا تھا۔ اس روز سہ پہر کے وقت ڈھاکہ میں اسلامی جمعیت طالبات (اسلامی چھاتری شنگھستا) کے دفتر پر چھاپا مار کر، جمعیت طالبات کی ۲۰باپردہ کارکنوں اور ۵۵سالہ محترمہ ثروت جہاں (جن کے شوہر عبدالقادر گذشتہ ڈیڑھ سال سے مذکورہ ٹربیونل کے سامنے گرفتاری کے بعد مقدمے کا سامنا کررہے ہیں) کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا، اور الزام لگایا کہ: ’’جمعیت طالبات کے دفتر میں جہاد پر مبنی لٹریچر تھا‘‘۔حیرت کا مقام ہے کہ پاکستان میں کسی اخبار اور ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اس واقعے کا نوٹس تک نہیں لیا۔
دوسری طرف نظر دوڑائیں تو ڈھٹائی اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ مثالیں تو بہت سی ہیں، لیکن ۲۳دسمبر ۲۰۱۲ء کے اخبار ڈیلی اسٹار کی یہ رپورٹ کس درجہ شرم ناک مثال پیش کرتی ہے: ’’فورم فار سیکولر بنگلہ دیش اینڈ ٹرائل آف وار کریمنلز ۱۹۷۱ء کے صدر شہریار کبیر نے مطالبہ کیا ہے کہ: ان لوگوں کے خلاف عبرت ناک کارروائی کی جائے، جنھوں نے جسٹس نظام الحق کی گفتگو اسکایپ سے پکڑی (ڈائون لوڈ کی) ہے۔ اماردیش نے یہ گفتگو چھاپ کر جرمِ عظیم کیا ہے۔ ان تمام ذمہ داران کو سخت ترین سزا دی جائے‘‘۔
’ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے‘ بجاے اس کے کہ یہ لوگ شرمندگی سے اپنا منہ نوچتے اور ایک بے معنی مقدمے کے ڈرامے کی بساط لپیٹتے، وہ کہہ رہے ہیں کہ: ’’ہاں، ہمیں انصاف اور عدل سے بددیانتی کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم جو چاہیں کریں، کوئی ہم سے پوچھ ہی نہیں سکتا‘‘۔ یاد رہے یہ شہریار کبیر ۲۰۱۲ء کے اوائل میں پاکستان آئے تھے، تاکہ پروفیسر غلام اعظم، مطیع الرحمن نظامی اور جماعت اسلامی کے دیگر رہنمائوں کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلا کر، یہاں کی سیکولر شخصیات کے بیان حاصل کریں۔ ان کا استقبال کرنے کے لیے عاصمہ جہانگیر اور اقبال حیدر گروپ کا نام نہاد ہیومن رائٹس کمیشن پیش پیش تھا۔ لیکن جب یہ امر سامنے آیا کہ شہریار کبیر تو بھارتی ایجنسی ’را‘ (RAW) کا بدنامِ زمانہ آلۂ کار ہے، تو یہ مہم دھیمے سُروں میں چلی گئی اور یہ صاحب لاہور، اسلام آباد آنے کے بجاے کراچی ہی سے رفوچکر ہوگئے۔
مسئلے کی سنگینی کو نمایاں کرنے کے لیے دیگر اُمور بھی پیش نظر رہنے چاہییں۔آنے والے عام انتخابات کے بارے میں ستمبر ۲۰۱۲ء کو ٹائمز آف انڈیا یہ خبر دے چکا ہے کہ: ’’حسینہ واجد کی نااہل اور بھارت نواز حکومت اگلے عام انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار ہوگی‘‘۔ اس چیز نے بھی بھارتی حکمرانوں کی نیند حرام کر رکھی ہے۔ اسی لیے ۱۸دسمبر ۲۰۱۲ء کو ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمشنر نے خلافِ معمول یہ کہا: ’’ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنھوں نے ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش بننے کی حمایت نہیں کی تھی، ہماری حکومت ان کے ساتھ نہیں چل سکے گی۔ اس طرح دوطرفہ لین دین کے سارے معاہدے غیرمؤثر ہوجائیں گے‘‘۔ یاد رہے بنگلہ دیش کا بال بال بھارتی معاہدوں میں بندھا ہوا ہے۔ اس تناظر میں یہ بیان دراصل بلیک میلنگ کا حربہ اور جماعت اسلامی کی اس متوقع گرفت کو کمزور کرنے کا بھارتی ردعمل ہے کہ جس حقیقت کو وہ دیوار پر لکھا دیکھ رہے ہیں۔ ذہن میں رہے کہ ستمبر ۲۰۱۱ء کو بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ڈھاکا جانے سے قبل بنگلہ دیش کے ایڈیٹروں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: ’’بنگلہ دیش ایک غیریقینی ملک ہے، جہاں کسی بھی وقت کوئی حکومت تبدیل ہوسکتی ہے، اور سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وہاں پر جماعت اسلامی کو ۲۵ فی صد لوگوں کی حمایت حاصل ہے، جو کوئی بھی ناپسندیدہ صورت حال پیدا کرسکتے ہیں‘‘۔
چونکہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش گذشتہ دو ماہ سے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر کامیاب عوامی رابطے کی مہم چلا رہی ہے، جس میں کامیاب ہڑتالوں اور نوجوانوں کے زبردست مظاہروں نے حکومت کو ہلا دیا ہے۔ اسی لیے پولیس نے عوامی لیگ کے کارکنوں سے مل کر جماعت اور جمعیت کے کارکنوں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا، گرفتار کیا بلکہ کھلے عام گولیاں مار کر شہید بھی کیا۔ اسی طرح خالدہ ضیا کی پارٹی بی این پی کے ساتھ جماعت اسلامی کا اتحاد عوام کو متحرک کرنے میں کامیابی حاصل کر رہا ہے، جس سے بوکھلا کر وزیراطلاعات حسن الحق نے کہا ہے: ’’بی این پی اور خالدہ ضیا براہِ راست جماعت اسلامی کا ساتھ دے رہی ہیں تاکہ جنگی جرائم کے مقدمے کو ناکام بنادیا جائے۔ ان کا یہ عمل جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ بنگلہ دیش کے محب وطن اور ترقی پسند لوگ متحدہوکر مقدمے کو تکمیل تک پہنچائیں۔ اسی طرح بی این پی کو چاہیے کہ جماعت اسلامی کو اپنے اتحاد سے نکال باہر پھینکے‘‘۔ (ڈیلی اسٹار، ڈھاکہ، ۲۳ دسمبر۲۰۱۲ء)
یہ ہے وہ خوف، جو بھارتی حکمرانوں اور ان کی طفیلی حسینہ واجد حکومت کو کھائے جا رہا ہے۔ اس لیے وہ جماعت اسلامی کی درجہ اوّل کی قیادت پروفیسر غلام اعظم، مطیع الرحمن نظامی، علی احسن مجاہد، علامہ دلاور حسین سعیدی، میرقاسم علی، قمرالزمان، عبدالقادر اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل صلاح الدین قادر (جو فضل القادرچودھری کے بیٹے ہیں) کو پھانسی گھاٹ میں پہنچانے اور ملک کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیلنے پر مائل ہے۔
برمی مسلمانوں کا بے رحمانہ قتل عام اور بے بسی کی زندگی، ایک پتھر دل انسان کو بھی گہرے دکھ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ بدھ مت کے پیروئوں کے اکثریتی ملک برما (میانمار) میں درندگی کے اس کھیل نے بدھ مت کی اُس بناوٹی اور افسانوی اصلیت کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے کہ: ’’بدھ مت تو امن کا گیت اور صلح کا مذہب ہے‘‘۔
۳جون ۲۰۱۲ء کو برپا ہونے والے اس خونیں طوفان میں بدھ بھکشووں کی درندگی نے ہزاروں مسلمانوں کو ذبح کر دیا، بچ جانے والوں کو زخمی، بے گھر کیا اور ان کے گھروں کوآگ لگا دی۔ بے بس عورتوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا، بہت سوں کو زندہ جلا دیا اور بچ رہنے والوں کو دھکیل کر سمندر کی لہروں کے سپرد ہونے پر مجبور کیا گیا۔ یہ سب کچھ آج کے اس ترقی یافتہ دور اور فعال ومتحرک میڈیا کی آنکھوں کے سامنے کیا گیا ہے۔
میانمار کی فوجی حکومت بظاہر اس منظرنامے میں تماشائی دکھائی دیتی ہے، لیکن حکومت اور انتظامیہ کی ہرحرکت یہ بتاتی ہے کہ وہ براہِ راست اس قتل عام اور درندگی کے کھیل میں برابر کی شریکِ کار ہے۔ برمی بدھ لیڈروں اور عبادت گزاری کے نام پر فارغ بدھ بھکشوئوں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی دبی چنگاری نے آناً فاناً، غیظ و غضب کی آگ میں تبدیل ہوکر پورے اراکان کواپنی لپیٹ میں ہی نہیں لیا، بلکہ اس کو بڑھانے کے لیے وہاں مسلسل فضا بنائی گئی ہے۔ ۱۴جولائی کو برمی صدر تھین سین نے برملا اعلان کیا: ’’روہنگیا مسلمانوں کو لازماً، میانمار سے نکالا اور اقوامِ متحدہ کے کیمپوں میں دھکیلا جائے گا۔ اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے‘‘۔ (تہران ٹائمز، ۱۵ جولائی ۲۰۱۲ئ)
اس قتل عام پر منافقانہ سنگ دلی کا رویہ اُس خاتون نے بھی اختیار کیا ہے، جسے لوگ آنگ سان سو کوئی کے نام سے جانتے ہیں، جو اپنے ملک میں فوجی حکمرانوں پر انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے ایک بے نیام تلوار قرار دی جاتی ہے، مگر مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کے لیے اس کے پاس دو بول تک نہیں۔ اسے اس بات سے کوئی غرض ہے اور نہ کوئی پریشانی کہ فوجی حکمران، فسادی بدھوں کے سرپرست ہیں۔ بلکہ نوبیل انعام یافتہ آنگ سان بھی برمی مسلمانوں کو برما کا شہری تسلیم نہیںکرتی۔ اس نے لندن اسکول آف اکنامکس (LSE) میں، جون ۲۰۱۲ء کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’روہنگیا مسلمانوں کو برما کا شہری نہیں تسلیم کیا جانا چاہیے‘‘۔ پھر ڈائوننگ سٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے پر ایک حرف نہ کہا، لیکن جب صحافیوں نے سوال اُٹھایا تو صرف اتنا کہا: ’’اس نسلی فساد کا دانش مندی سے جائزہ لینا چاہیے‘‘۔
برما (میانمار) کے شمال مغربی صوبے کا نام ’اراکان‘ ہے۔ یہاں رہنے والے مسلمانوں کو ’روحنگیا‘کہا جاتا ہے۔ ’روحنگ‘ اصطلاح، لفظ ’رحم‘ (ہمدردی) سے پھوٹی ہے۔ روحنگی مسلمانوں کی یہاں آبادی کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا، جب عرب تاجر اور ملاح، چین جاتے ہوئے یہاں رُکے۔ اُن کے حُسنِ سلوک اور قابلِ رحم جذبے سے متاثر ہوکر مقامی لوگوں نے انھیں مسلمان کے نام سے یاد کرنے سے زیادہ ’رحم کرنے والے‘ لوگوں سے پہچانا اور پکارا۔ اس طرح نہ صرف یہاں کے لوگوں میں اسلام پھیلنا شروع ہوا، بلکہ مسلمانوں کے نام کے ساتھ ’روحنگ‘ اور ’روحنگیا‘ کا لاحقہ بھی منسلک ہوگیا۔ اتنی صدیاں گزرنے کے بعد اُن عربوں کے یہاں کوئی آثار نہیں، لیکن ’روحنگی‘ زبان عربی رسم الخط میں بھی لکھے جانے کی گنجایش اس تعلق کی ایک یادگار ضرور ہے۔ عجب بات ہے کہ جب یہاں کے لوگ ایمان کی دولت سے فیض یاب ہوئے، تو یہی دولت ان کے حقِ زندگی کے خلاف قتل کا جواز بھی بنا ئی گئی۔ اراکانی مسلمانوں میں، چین کے صوبے ’یونان‘ کے علاوہ ہندستان اور کچھ بنگالی النسل مسلمان بھی موجود ہیں۔ ان کی آبادی ۱۰لاکھ سے زیادہ ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق: ’’روہنگی مسلمان دنیا کی مظلوم ترین اقلیتوں میں شمار ہوتے ہیں‘‘۔
برمی مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرست بدھوں کی یلغار کے آثار، گذشتہ صدی کے دوسرے عشرے سے نمایاں ہونے شروع ہوئے، جو تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد فسادات کی صورت میں پھوٹتے رہے ہیں۔ گذشتہ ۳۵برس کے دوران میں جو بڑے واقعات ہوئے، ان میں: ۱۹۷۸ء میں ۲لاکھ برمی مسلمانوں کو بنگلہ دیش دھکیل دیا گیا۔ پھر ۱۹۹۲ء میں ڈھائی لاکھ کو ملک بدر کیا گیا۔ افسوس ناک یہ صورت ہے کہ ان تباہ حال مسلمانوں کو بنگلہ دیش جیسا مسلمان ملک بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اور جو لوگ جان بچاکر تھائی لینڈ کی طرف گئے، انھیں تھائی ساحلی پولیس نے فائرنگ کرکے چھوٹی کشتیوں میں، کھلے سمندر میں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ۱۶مارچ ۱۹۹۷ء کو ڈیڑھ ہزار بدھ بھکشوئوں کا ایک جلوس مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے بلند کرتا سڑکوں پر نکل آیا، جس نے سب سے پہلے مسجدوں پر حملہ کرکے آگ لگائی، پھر مسلمانوں کی دکانوں کو لُوٹ مار کے بعد نذرِ آتش کیا، اور گھروں کو آگ لگا دی۔ لائبریریوں میں قرآن کریم کے نسخے چُن چُن کر جلائے گئے اور بعدازاں تمام کتابوں پر تیل چھڑک کر جلا دیا گیا۔ کینگ ڈن اور منڈالے کے شہر اس سے بُری طرح متاثر ہوئے۔ ۱۵ مئی ۲۰۰۱ء کو ٹااونگو شہر میں بھکشوئوں نے مسلمانوں کے خلاف ہزاروں پمفلٹ تقسیم کیے، اور سورج غروب ہونے سے پہلے مسلمانوں کو گھیر گھیر کر جلایا، مارا اور لُوٹا گیا، جب کہ عورتوں کی بے حُرمتی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
۳جون ۲۰۱۲ء سے اُٹھنے والی حالیہ خونیں یلغار کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے، جس میں وہاں کی حکومت، حزبِ اختلاف، میڈیا اور فوج پوری طرح شریکِ کار ہیں۔ الم ناک پہلو یہ ہے کہ :l۲۸ہزار سے زیادہ مسلمان موت کے گھاٹ اُتارے گئے ہیں۔
بے خبری میں سرزد ہونے والا غیر قانونی قدم بھی قانون کی نظر میں جرم ہی قرار پاتا ہے۔ قانون اس دلیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے کہ: ’’ملزم بے چارے نے بے خبری میں ارتکابِ جرم کیا تھا‘‘۔
اہلِ پاکستان کے سامنے مسلسل یہ ڈراما پیش کیا جا رہا ہے کہ حکمران تاریخ کا کوئی زیادہ گہرا شعور نہیں رکھتے، اس لیے جوشِ جذبات میں اگر وہ کوئی غلط اقدام کر بیٹھیں، تو انھیں کام کے دبائو اور بے خبری کی رعایت دے کر معاف کر دیا جاتا ہے___ یہ معاملہ اور یہ ظلم، اس مظلوم اور مجبور قوم کے ساتھ مسلسل کیا جا رہا ہے۔ قوم اس لیے بھی ’مظلوم‘ اور ’مجبور‘ ہے کہ اس کے اکثر صحافی اور اینکر پرسن بے لگام ہیں، اور قوم کے معاملات میں ان کا رویہ ذاتی پسند و ناپسند کے گرد گھومتا ہے۔ اگر واقعی وہ قوم اور اہل وطن کے بہی خواہ ہوتے، تو نئی پود کے مستقبل کے اس تعلیمی قتل عام پر خاموش نہ بیٹھتے اور پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومتوں کی جانب سے انگریزی کی نام نہاد بالادستی کے ذریعے قوم کے برباد ہوتے ہوئے مستقبل کو یوں ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کرتے۔ غالباً ہماری حکومتوں نے یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ ہر چمکتی چیز کے پیچھے بھاگو، اور ہر سراب کی طرف لپکو، چاہے یہ بھاگ دوڑ کسی کھائی میں ہی کیوں نہ جاگرائے۔
اس طرزِ عمل کا ایک افسوس ناک نمونہ، صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی موجودہ حکومت کے ہاتھوں سامنے آیا ہے اور وہ معاملہ ہے پنجاب بھر میں، پرائمری سے انگریزی ذریعہ تعلیم کے نفاذ کا آمرانہ فیصلہ، جو نہایت عجلت میں بغیر سوچے سمجھے اور ماہرین تعلیم سے مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے۔ حالانکہ مذکورہ سیاسی پارٹی نے اپنے ۲۰۰۸ء کے انتخابی منشور میں ’انگریزی ذریعۂ تعلیم‘ کی شق شامل نہیں کی تھی۔ پھر اس غیرحکیمانہ فیصلے کے نفاذ کا اعلان کرنے سے متوسط طبقے کی اس قیادت نے نے صوبائی اسمبلی میں موجود سیاسی پارٹیوں سے بھی کوئی تبادلۂ خیال نہیں کیا ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سوچا، یا کسی عاقبت نااندیش نے انھیں ایسا سوچنے کی راہ سجھائی اور موصوف نے فقط چند جونیئر، ناتجربہ کار بیوروکریٹوں سے مشورہ فرما کر، شاہانہ اعلان کر دیا کہ پنجاب بھر میں آیندہ تعلیم انگریزی میں ہوا کرے گی۔ یہ نہ سوچا کہ کیوں؟ اور پھر انگریزی کس طرح تمام بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما اور تعلیم و تربیت کا ذریعہ بن سکے گی؟
پنجاب کی صوبائی حکومت کا یہ حکم نامہ (۶۷) ۲۸مارچ ۲۰۰۹ء کو جاری ہوا: ’’چونکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے انگریزی میڈیم کے نام پر قوم کا استحصال کر رہے ہیں، اس لیے اس صورت حال کو درست کرنے کے لیے نچلے درجے تک تمام اسکولوں میں انگریزی میڈیم کیا جا رہا ہے۔ یکم اپریل ۲۰۰۹ء سے منتخب اسکولوں میں انگریزی میڈیم میں تعلیم دی جائے گی۔ ‘‘
دو دن کے نوٹس پر حکمِ حاکم کی اطاعت کی معجزانہ توقع رکھنے والی حکومت نے ۱۸ستمبر ۲۰۰۹ء کو اپنے اگلے حکم نامے نمبر ۱۷۶ میں نوید دی : ’’حکومت پنجاب ، ہر اسکول میں سائنس اور ریاضی انگریزی میں پڑھائے گی۔ پہلے مرحلے میں ۵۸۸ ہائی اسکول، ۱۱۰۳ گورنمنٹ کمیونٹی ماڈل گرلز پرائمری اسکول، انگریزی میڈیم میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں یکم اپریل ۲۰۱۰ء تک یہ تعداد دوگنا کی جائے گی، اور آخر کار یکم اپریل ۲۰۱۱ء تک پنجاب کے تمام اسکولوں میں ریاضی اور سائنس کے مضامین انگریزی میں پڑھانے شروع کر دیے جائیں گے‘‘۔ یہی حکم نامہ سلسلۂ کلام کو جاری رکھتے ہوئے بتاتا ہے:’’ابتدائی درجے میں ۱۷۶۴ اسکولوں میں یکم اپریل ۲۰۱۰ء تک انگریزی میڈیم میں تعلیم کا آغاز کر دیا جائے گا۔جس کے تحت: نرسری، اول اور دوم کلاسوں سے ان بچوں کو معلومات عامہ، ریاضی، سائنس کی تعلیم انگریزی میں دی جائے گی‘‘۔
حکم نامہ چونکہ شاہانہ ہے، اس لیے پیراگراف نمبر ۵ میں خسروانہ عنایت کرتے ہوئے ان الفاظ میں اجازت عطا کرتا ہے: ’’ یہ بات صاف لفظوں میں بیان کی جاتی ہے کہ پرائمری سے لے کرہائی اسکولوں تک کے ہیڈماسٹر صاحبان، اس امر کے لیے مکمل طور پر با اختیار ہیں۔ انگریزی میڈیم کو نافذ کرنے کے لیے انھیں کسی اتھارٹی سے اجازت لینے کے ضرورت نہیں ہے‘‘۔ (no permission is required from any authority for this purpose)
یہ اور اس قسم کے حکم نامے، اعلانات اور اخبارات کو جاری کردہ کروڑوں روپے کے اشتہارات نے پرویز الٰہی دور کی ’پڑھا لکھا پنجاب‘ مہم کی یاد تازہ کردی ہے۔ جنابِ وزیر اعلیٰ اس کارنامے کی انجام دہی کے وقت بھول گئے کہ ایسی حماقت اُن سے قبل ۱۹۹۴ء میں اقلیتی پارٹی کے پیپلز پارٹی نواز وزیر اعلیٰ پنجاب منظور احمد وٹو فرما چکے تھے، اور یہ غنچے کھلنے سے قبل ہی مرجھا گئے تھے، یعنی معاملہ رفت گذشت ہوگیاتھا۔ معلوم نہیں کس دانش مند نے انھیں یہ سبق پڑھایا کہ انگریزی میڈیم کا اعلان کر دینے سے طبقاتی نظام تعلیم کے فسادِ آدمیت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ جس چیز نے پہلے ہی قومی وجود کو سرطان زدہ کر رکھا ہے، اس غیر حکیمانہ اور تعلیمی دانش سے عاری اقدام سے جسدِ اجتماعی پر فسادِ خون مکمل طور پر حاوی ہوجائے گا۔
بچے کو اگر بچپن ہی سے اپنی زبان میں سوچنے اور اپنی زبان میں بات کرنے سے روک دیں گے تو اس طرح آپ نہایت سفاکی سے، اس کے تخلیقی وجود کو قتل کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ دنیا کی کون سی قوم ایسی ہے، کہ جس نے سائنس، ٹکنالوجی، میڈیکل، عمرانیات اور ادبیات میں اپنی زبان کے علاوہ کسی بدیسی زبان میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو؟ تخلیق کا جو ہر تو کھلتا ہی اُس زبان میں ہے، جو آپ کے خواب اور آپ کے ماحول اور معاشرت کی زبان ہوتی ہے، اور جس میں آپ بے تکلف تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں۔
پورے یقین و اعتماد کے ساتھ ہم آج بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم پاکستان کی تعمیر و ترقی اور تحقیق سے متعلق تمام شعبہ جات میں کام کرنے والوں میں انگریزی میڈیم کے تعلیم یافتہ طبقے کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حاکمانہ وسیلے سے انگریزی میڈیم چہروں کو اداروں کی سربراہی سونپ دی جاتی ہے، لیکن نیچے اتر کر دیکھیں تو سائنسی،زرعی، ایٹمی، اسلحہ سازی، میڈیکل، عمرانی علوم، صحافت اور اچھی تعلیم کے دیگر شعبہ جات تک میں نہایت بڑی تعداد انھی دیسی اسکولوں سے پڑھ کر نکلنے والوں کی ہے۔ نہ صرف یہ لوگ اس سخت ناہموار اور ناقدر شناس ماحول میں کام کر رہے ہیں، بلکہ پاکستانی قوم کو کسی نہ کسی درجے میں آزادی اور عزت کا سانس لینے کی نعمت بھی عطا کر رہے ہیں۔
وہ مسلم لیگ جس کی سربراہی قائداعظمؒ نے کی، اور جنھوں نے تحریک پاکستان کی بنیاد: ’’اسلام، مسلم قومیت اور اردو زبان‘‘ پر رکھی تھی،انھی قائد محترم کی نام لیوا پارٹی، وطن عزیز میں جہالت اور بے خبری کے اندھیروں کو گہرا کرنے کے لیے انگریزی میڈیم کے نام پر تعلیمی بربادی کے غیر شریفانہ اقدام کا باعث بن رہی ہے۔ خادمِ اعلیٰ ذرا معلوم کرکے دیکھیں تو سہی کہ اُن کے اس ایک فیصلے نے کتنے لاکھ بچوں کی آنکھوں سے علم کا نور چھین لیا ہے۔ اُن کے اس ایک تجربے نے کتنی زندگیوں کو تعلیم اور تخلیق کی نعمت سے دور کر دیا ہے؟ چاہیے تو یہ تھا کہ انگریزی میڈیم کے نام پرجو ڈراما ہمارے معاشرے کے اسکولوں میں اسٹیج کرکے والدین کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے، اسے کسی کمیشن کے ذریعے تحقیق و تجزیے کے تحت دستور پاکستان اور شہداے پاکستان کی امنگوں کے مطابق ڈھالا جاتا اور سرکاری اسکولوں کو یتیم خانوں کے بجاے تعلیم گاہوں میں تبدیل کیا جاتا، اُلٹا ان اداروں کو بے تعلیمی کی آماج گاہ بنایا جا رہا ہے۔ پھر ان اداروں کو سنبھالا دینے کے بجاے پرائیویٹ شعبے کو اندھی چھوٹ دینے کے لیے ایک سے ایک بڑھ کر اقدام کیے جارہے ہیں (بذاتِ خود پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے کروڑوں روپے کے وظائف اس مقصد کے لیے جھونکے جا رہے ہیں کہ سرکاری اسکول ختم ہوں اور نام نہاد انگریزی میڈیم نجی اسکول قائم ہوں بلکہ پھلیں پھولیں)۔ اُردو ذریعۂ تعلیم کو ختم کرکے تعلیم کو بازیچۂ اطفال بنانے والوں کے پیچھے غالباً کوئی اور بھی ہے۔ اندازہ ہورہا ہے کہ سرکاری اداروں کو برباد کرنے والے، تعلیم دشمن بڑی تعداد میں ہمارے اردگرد منڈ لا رہے ہیں۔
اس سارے قضیے میں ایک اور معاملہ گہرے غور وفکر کا تقاضا کرتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت تو جمہوریت کے نام پر قائم ہے مگر تعلیم کے معاملات میں فیصلے محض دوچار بے دماغ افراد کی آمریت کرتی ہے۔ فوجی آمریتوں پر چار حرف بھیجئے، بجا ہے، مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والی حکومتیں کیا کر رہی ہیں؟ یہی کہ صوبائی اور مرکزی حکومت میں صرف دو چار افراد اپنی من مانی کرتے، حکومت چلاتے اور قوم کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ حالانکہ پارلیمانی نظام حکومت کی اصل خوبی یہی ہے کہ اُس میں چیزیں، کہیں زیادہ وسیع مشاورت کے ساتھ طے کی جاتی ہیں۔ لیکن یہاں سول پارلیمانی جمہوری حکومتوں کا مرغوب طرزِ حکمرانی بھی فوجی آمروں کا سا ہے۔ اس رویے نے جمہوری نظام کو نام نہاد جمہوری اور دراصل آمرانہ جمہوری تماشے میں بدل دیا ہے۔ضرورت یہ ہے کہ ناتجربہ کار، غلامی کے رسیا اور شہزادگی کے خوگر حکمرانوں کے بجاے جہاں دیدہ، مستقبل بین، دانش مند اور زیرک حکمران اور سول سرونٹ سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسی پالیسیاں بنائیں جو قوم کے اجتماعی مفاد میں ہوں۔ بھارت نے اب سے ۵۵ برس پیش تر زبان کے مسئلے پر اپنی قومی پالیسی مرتب کر لی، مگر ہمارے ہر دستور نے آج کے کام کو کل پر ڈال کر اپنا بوجھ اگلے لوگوں پر ڈال دیا اور آنے والے راہ فرار اختیار کر بیٹھے۔ اس مسئلے میں دیکھیے: کہ ۱۹۶۲ء کے دستور میں کہا گیا تھا: ۱۹۷۲ء تک اردو سرکاری زبان کے طور پر نافذ ہو جائے گی (ظاہر ہے کہ ذریعۂ تعلیم اس کا حصہ ہونا تھا، مگرعمل نہ ہوا)۔ پھر ۱۹۷۳ء کے دستور میں طے کیا کہ :۱۹۸۸ء تک اردو سرکاری زبان ہو گی، لیکن جنرل ضیاء الحق نے ۱۹۸۲ء میں (خدا جانے کس مجبوری یا مصلحت کے تحت)نجی اور انگریزی میڈیم سرکاری اداروں کو کھلی چھوٹ دے کر اس سب کیے کراے پر پانی پھیر دیا۔ ازاں بعد آنے والے بھٹو اور شریف خاندانوں نے سکھ کا سانس لیا۔
قیام پاکستان کے بعد بظاہر گورے انگریز حاکموں سے جان چھوٹ گئی، لیکن ان کے جاتے ہی انگریزی کی حاکمیت نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس حاکمیت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔ مقابلے کے امتحانات اور ترقی کے مواقع کو انگریزی سے اس طرح مربوط کر دیا گیا کہ ملک کالے اور کرپٹ انگریزوں کی سفاکانہ حاکمیت میں سسکنے لگا۔ آج عدالتوں ، دفتروں، افواج اور کاروبار ریاست کی زبان انگریزی ہے۔ اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ استعماری حاکمیت کو دوام ملے۔ اگر اردو کو اس طرح دن دیہاڑے قتل کرنے کا عمل یوں ہی جاری رہا، تو وہ ملک جو پہلے ہی ہچکولے کھا رہا ہے، انتشار اور افتراق کے گہرے عذاب سے کبھی نہ نکل سکے گا۔
افسوس کا مقام ہے کہ اس قوم کے جسدِ ملی کو یہ زخم کسی دشمن ملک کے جرنیل یا ان کے آلہ کار سیاست دان نہیں لگا رہے، بلکہ محب وطن مگر نادان حکمران یہ ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں، جو سنجیدگی کے ساتھ کسی مسئلے پر مشاورت کرنے سے گریزاں رہتے ہیں اور اپنی سوچ کی کچی پکّی لہر کو حکم نامے کی شکل دے کر نافذ کردیتے ہیں۔