سلیم منصور خالد


یہ امر واقعہ ہے کہ جلد بازی میں اور خوب سوچ بچار کے بغیر مسلط کیے گئے فیصلے قوموں اور ملکوں کی زندگی پر دُور رس منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یوں بظاہر کوئی چھوٹا سا فیصلہ ،بعض اوقات ملکوں کے مستقبل کا نقشہ بدل دیتا ہے۔جموں وکشمیر کاقضیہ، جدید بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں ایک دہکتا ہوا انگارہ ہے۔ اقوام متحدہ کی بے بسی، عالمی طاقتوں کی ظالمانہ لاتعلقی اور بھارت کی عہدوپیمان شکنی اور کشمیر کے مظلوم عوام پر بدترین فوج کشی نے دنیا کے سامنے ایسا منظر پیش کیا ہے، جس پر ہر درد مند انسان خون کے آنسو روتا ہے۔
بھارت میں برسراقتدار راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بی جے پی کی نسل پرست فسطائی حکومت نے اس ماحول کو حددرجہ درد ناک بنا دیا ہے۔ اسی پس منظر میں عالمی اداروں کی بے حسی سے شہ پا کربھارتی حکومت نے ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو ایک تباہ کن یلغار کے ذریعے پورے جموں و کشمیر کو ایک قتل گاہ اور بدترین بڑی جیل میں تبدیل کر دیا۔اس جارحیت پر حکومت پاکستان کی ذمہ داری تھی کہ پوری قوت سے مسئلے پر عالمی راے عامہ کو متحرک کرتی۔ مگر روایتی سستی اور ترجیحات کی دیرینہ خرابی آڑے آئی۔ بجائے اس کے کہ بھارتی عہد شکنی اور جموں و کشمیر کی وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی روش کے خلاف سراپا احتجاج بن کر دنیا کو ہم نوا بنایا جاتا، پاکستان میں ایک دوسرا ہی منظر ابھرتا دکھائی دیتا ہے، اور وہ ہے شمالی علاقہ جات، یعنی گلگت و بلتستان کو پاکستان کا عارضی صوبہ بنانے کا خطرناک منصوبہ۔ اس ضمن میں ہم نہایت درد مندی سے برسرِاقتدار اور فیصلہ سازی کے ذمہ دار سرگرم افراد اور اداروں کو متنبہ کرتے ہوئے ، بلاکم وکاست اپنی رائے پیش کر رہے ہیں:
        تمام بین الاقوامی، سیاسی، تاریخی اور جغرافیائی شواہد کے مطابق شمالی علاقہ جات ، ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہیں۔ جموں وکشمیر ایک ایسی وحدت ہے جس میں لداخ ، جموں ،وادیِ کشمیر اور شمالی علاقہ جات شامل ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت سے لے کر آج تک، پاکستان کا یہی موقف ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اسی پوزیشن اور قومی اتفاق راے کی بات کی ہے، اور آزاد کشمیر اسمبلی نے تو ۲۰۱۴ء میں ایک متفق علیہ قرارداد کے ذریعے نہ صرف اس کا اعتراف و اظہار کیاہے ، بلکہ اسے پاکستان اور کشمیری عوام کی جانب سےمسئلہ کشمیر پرموقف کا لازمی حصہ قرار دیا ہے، نیز اسی موقف کو اقوام عالم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تسلیم کر رکھا ہے۔
        ۱۶جنوری ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ۲۲۸ ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، تب پاکستان کے وزیرخارجہ سرظفراللہ خاں نے کہا تھا:
The population of Kashmir is distributed community as follows: in Kashmir proper, apart from Jammu, 93.5 percent are Muslims. 62 percent of the population of Jammu are Muslims. Gilgit, which is the high mountain in region is entirely Muslim. The total area of the state, which is largely composed of high mountains and barren hills, is 82000 square miles.
کشمیر کی آبادی اس طرح سے ایک منقسم آبادی ہے: جموں کے علاوہ کشمیر میں ۹۳ء۵ فی صد مسلمان ہیں۔ جموں کی ۶۲ فی صد آبادی مسلمان ہے۔ گلگت جو بلندپہاڑی خطہ ہے، مکمل طور پر مسلمان ہے۔ ریاست کا کُل رقبہ جو بڑے پیمانے پر اُونچے اوربنجرپہاڑوں پر مشتمل ہے، ۸۲ہزارمربع میل ہے۔
        ریاست جموں و کشمیر کے شمالی علاقہ جات ۷۲ ہزار۹سو ۷۱ مربع کلو میٹر سے زیادہ وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں،جن کی آبادی ۱۸ لاکھ ہے۔ اورجب بھی جموں و کشمیر میں استصواب راے ہوا، تو یہ سبھی ووٹ ان شاء اللہ، پاکستان سے الحاق کے حق میں جائیں گے۔
        پیپلز پارٹی کے چوتھے دور حکومت (۲۰۰۸ء-۲۰۱۳ء) میں صدر آصف علی زرداری صاحب نے اگست ۲۰۰۹ ء کے دوران میں’ گلگت بلتستان امپاور منٹ اینڈ سیلف گورنس‘ ، کے نام سے داخلی خود مختاری ، کا حکم نامہ جاری کیا ۔ اس حکم نامے کے تحت’ شمالی علاقہ جات‘ کو ’گلگت بلتستان‘ کا نام دیتے ہوئے، گورنر اور وزیر اعلیٰ کے انتظامی عہدے تفویض کیے، جب کہ قانون سازی و مالیاتی اختیارات اس کی مجوزہ منتخب اسمبلی کو دیے گئے، اور اس کی کونسل کا چیرمین وزیر اعظم پاکستان کو قرار دیا گیا۔
        ذرا پیچھے چل کر دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۷۲ء میں ’شملہ معاہدے‘ کے بعد بیوروکریسی نے تب صدر پاکستان جناب ذوالفقارعلی بھٹو کو بھی یہ تجویز دے کر قائل کرلیا تھا کہ ’’گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنایا جائے‘‘۔ لیکن جیسے ہی انھوں نےاس تجویز پر عمل درآمد کے منفی اثرات پر جوابی دلائل سنے تو اس تجویز پر پیش رفت روک دی۔ اب انھی سے وابستگی کی دعوے دار پارٹی ایک غلطی کرنے کے بعد، اپنی غلطی کا ازالہ کرنے سے گریز کررہی ہے۔
        جلدبازی میں اٹھائے گئے اس قدم پر آزاد کشمیر ، مقبوضہ جموں و کشمیر اور خود شمالی علاقہ جات کی بیش تر سیاسی و سماجی پارٹیوں نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔
       حکومت پاکستان نے ، خود پاکستان کے کئی علاقوں کی طرح، ا س علاقے کے لوگوں کے بھی سیاسی ، سماجی ، تعلیمی ، معاشی اور صحت عامہ کے حقوق کی بجا آوری سے پہلو تہی کا رویہ اختیار کیے رکھا تھا۔ جب یہاں کے شہری معاشی تنگ دستی پر چیخ اُٹھے تو اس کا ملبہ آزاد کشمیر حکومت پر ڈال دیا، اور یہ فلسفہ تخلیق کیا گیا کہ’ پاکستان اس علاقے کو ضم کرے گا تو سماجی، عدالتی، دستوری اور معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے‘۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بے معنی اوربودا عذر تھا۔ پیپلزپارٹی حکومت کے عاجلانہ فیصلے کے گیارہ برس گزرنے کے باوجود، وہاں حالات جوں کے توںہیں۔ حکومت کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ آزاد کشمیر اور اس سے وابستہ شمالی علاقہ جات کی تعمیر وترقی کے لیے آزاد کشمیر کی فراخ دلانہ مدد کرتی، لیکن افسوس کہ کم و بیش ہرحکومت نے اس معاملے میں سرد مہری کا رویہ اختیار کیا، اور بجائے اس کے کہ خرابی کو دُور کیا جاتا، ایک غلط راستے پر چلنے کے حیلے بہانے تلاش کرنے شروع کر دیے۔
        بلاشبہہ گلگت بلتستان اور اس کے ساتھ آزاد کشمیر کے سبھی حصوں کے احساسِ محرومی کو ختم ہونا چاہیے۔ لیکن خاص طور پر اس علاقے کی معاشی محرومیوں کو دُور کرنے کے نام پر اختیار کیا جانے والا یہ ایک انتہائی نامناسب راستہ ہوگا، جس سے مسئلہ کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ سوال یہ ہے کہ قضیۂ کشمیر اور اس کے بارے میں پاکستان کے اور اسٹرے ٹیجک موقف کو نقصان پہنچائے بغیر یہاں کے عوام کو معاشی، سیاسی اورسماجی طورپر کیوں اُوپر نہیں اُٹھایا جاسکتا؟ اگرپس ماندہ علاقوں کی بہتری کےنام پر دستورِ پاکستان سے ہٹ کر حل تلاش کرنے کے لیے ایسی روایت اپنا لی گئی تو معاملات گرفت سے باہر نکل جائیں گے۔ جس طرح آزاد کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ وہ مسئلہ حل ہونے تک پاکستان کی زیرنگرانی ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان بھی آزاد کشمیر کا حصہ ہونے کی حیثیت سے یہی مقام رکھتا ہے، اور ان کے مستقبل کا فیصلہ مسئلہ کشمیر کے حل سے منسلک ہے۔
        پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ’ ’عالمی مالیاتی ادارے یا بڑے سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں۔ ان کا اعتراض دُورکرنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے‘‘۔ یہ عذر تو حددرجہ پست ہے۔ کیا کسی معاشی منصوبے کی تکمیل کے لیے ملک کے سیاسی اور تاریخی موقف کی قربانی دینا کوئی معقول راستہ ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ سرمایہ کاری کو قومی مفاد کے تابع رکھتے ہوئے قابلِ قبول بنایا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے اَن تھک سفارتی، مذاکراتی اورعلمی سطح پر تگ ودو کی ضرورت ہے،اور یہ کام ہماری اعلیٰ سول اور سیاسی قیادت کو کرنا چاہیے۔
مسئلے کی نزاکت اور غورطلب پہلو
یہ ہے وہ پس منظر، جس میں گذشتہ چند ہفتوں سے راولپنڈی میں چیف آف دی آرمی اسٹاف کی زیر صدارت پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں سے مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جس میں جموں وکشمیر کے شمالی علاقہ جات، یعنی گلگت بلتستان کو عبوری طور پر پاکستان کے پانچویں صوبے کی شکل دینے کی تجویز پر عملاً ڈکٹیشن دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں ہم یہ اُمور وضاحت سے بیان کرنا چاہتے ہیں:
        یہ بات صاف لفظوں میں ہرخاص و عام پر واضح رہنی چاہیے کہ پاکستان میں کاروبارِ ریاست و حکومت انھی اصولوں کے مطابق چلا یا جائے گا، جو دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں طے شدہ ہیں۔ مطلب یہ کہ اس نوعیت کے امور منتخب حکومت، پارلیمنٹ اور دستور کے تابع زیر بحث آئیں گے اور تمام اداروں کو اپنے حدود کار میں ریاست اور قوم کی خدمت کی بجاآوری کرنا ہوگی۔ انتظامیہ ، مقننہ ، عدلیہ ، عسکری اداروں اور سول ملازمین کو متعین شدہ دائرے میں خدمات انجام دینا ہوں گی، اور اسی چیز کا حلف، دستور کے مطابق سبھی ذمہ داران ریاست نے اٹھایا ہے۔  
         چیف آف دی آرمی اسٹاف ، دفاع وطن کے حوالے سے ایک بڑے محترم اور حددرجہ حساس منصب پر فائز ہیں۔ انھیں سیاسی امور کی بحثوں میں شرکت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اپنی آرا ، وزارت دفاع کی وساطت سے یا دستور میں طے شدہ سلامتی کے اعلیٰ فورم کے ذریعے حکومت کو پیش کرنی چاہییں۔ پھر ان اُمور کو طے کرتے وقت حکومت ،وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ اور وزارت قانون کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمت عملی طے کرتے وقت بجاطورپر مسلح افواج کے مشوروں اور آرا کو بھی زیر غور لائے اور کھلے عام بحث کے بعد مناسب فیصلے کیے جائیں، جن پر ان کی روح کے مطابق، مگر لازمی طور پر دستورِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے عمل کیا جائے۔
       اس ضمن میں بعض ’دانش مندوں‘ کا یہ کہنا کہ ’’قومی مسلح اداروں نے تو اس معاملے میں محض سہولت کاری کی ہے، کیونکہ حکومت اور اپوزیشن میں کھلا مکالمہ نہیں ہورہا‘‘۔ یہ بہت عجیب اور نہایت کمزور مفروضہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ کل سپریم کورٹ اپنا کام چھوڑ کر سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں سے مذاکرات کرکے کسی ’اتفاق راے‘ کو ڈھو نڈنے نکلے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بدقسمتی سے موجودہ حکومت ضد اور اَنا کے باعث اپنی منصبی ذمہ داری ادا کرنے،سب کو سننے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے سے معذور ہے تو اس کا حل نئے     قومی انتخابات ہیں نہ کہ ریاستی آئینی ڈھانچا تلپٹ کر دینا اور غیرآئینی روایات قائم کرناکوئی معقولیت ہوگی۔
        ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ’جوں کے توں‘ (stand still) منظر نامے کو تبدیل کرنا اوراس سے چھیڑ چھاڑ کرنا، بھارتی منصوبہ سازوں کی پرانی خواہشات کی تکمیل ہوگا۔ پاکستان کا اصولی موقف یہ ہے کہ ’’اقوام متحدہ کی متفقہ قرار داد وں کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا  فیصلہ کریں گے‘‘۔البتہ بھارت کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ ’’پاکستان ، اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے سرِ مو انحراف کر کے ، جموں و کشمیر کی وحد ت کے ٹکڑے بانٹنے کی میز سجائے‘‘۔ پاکستان نے بھارت کی اس چال کو ہمیشہ ناکام بنایا اور بھارت نے ہر بار یہی کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان ،سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے متن سے باہر نکلے اورپھر بھارت یہ اعلان کرے کہ ’’پاکستان نے قرار دادوں سے دست برداری اختیار کر لی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ اس طرح پاکستان کے اصولی موقف کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا، بلکہ موقف سرے سے ختم ہوجائے گا۔
         اگرچہ پاکستان کے بعض عجلت پسند سفارت کاروں نے مختلف اوقات میں مسئلہ کشمیر پر نہایت خطرناک بیان دیے ، لیکن ان افراد کی حماقتوں پر پاکستان کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف صاحب بازی لے گئے۔ انھوں نے ۱۸ دسمبر ۲۰۰۳ء کو عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ایک طرف رکھ کر بھارت سے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنا چاہتا ہے ‘‘، اور پھر اسی آمر مطلق اور خود ساختہ حاکم نے پاکستان آبزرور کو انٹر ویو دیتے ہوئے انکشاف کیا:’’ میں نے بھارتی وزیرخارجہ نٹور سنگھ سے کہا ہے کہ آیئے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے سانچے سے باہر رکھ کر ایک سال کے اندر حل کر دیتے ہیں‘‘۔ جواب میں نٹور سنگھ نے کہا:’’ہم کو اس قدر جلدی نہیں ہے‘‘۔ (روزنامہ پاکستان آبزرور،۳۱ جولائی ۲۰۰۵ء)۔ اسی احمقانہ مہم جوئی کو تب وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری صاحب نے ’آؤٹ آف باکس‘کوشش قرار دیا۔ حالانکہ پاکستان کے کسی بھی حاکم کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ، کشمیر کے عوام کو نظرانداز کر کے ایسا کوئی قدم اٹھائے، کوئی عہدوپیمان کرے جو مسلّمہ موقف کے برعکس ہو۔  
         جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف ایسے بیانات دے کر، بلکہ جموں و کشمیر کے متنازع علاقے میں بھارت کو باڑ لگانے کی اجازت دے کر، اور عملاً بھارتی فوج کی مدد کرکے کشمیر اور پاکستان کے عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ افسوس کہ اسی نوعیت کی منصوبہ سازی اب گلگت بلتستان کی ’معاشی بہتری‘ وغیرہ کے نام سے نئے صوبے کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ جنرل مشرف کا قدم مسئلہ کشمیر کی اصولی حیثیت پر خود کش حملہ تھا، تو  اب دباؤ ڈال کر یہ فیصلہ لینا، پاکستان اور کشمیری عوام کی تاریخی جدوجہد سے غداری کی طرف لے جائے گا، جس سے واپسی کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔  
        اس منصوبے کے پیش کاروں کی طرف سے یہ ایک بالکل بے معنی عذر پیش کیا جا رہا ہے: ’’سی پیک‘‘ (چین پاک معاشی راہداری) کے لیے چین بھی یہ چاہتا ہے کہ شمالی علاقہ جات کو یک طرفہ طور پر پاکستان کا حصہ قرار دیا جائے‘‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی جمہوریہ چین کے پالیسی ساز ایسا غیرمنطقی اور غیر آئینی مطالبہ نہیں کر سکتے کہ جس سے پاکستان کے قومی مفادات پر ضرب کاری لگے اور جموں و کشمیر کی ۷۳ سال پر پھیلی طویل، دلیرانہ جدوجہد اور مظلومانہ قربانیوں کی تاریخ دریابرد ہو جائے۔ آخر ’شاہراہ قراقرم‘ (KKH) اسی ’جوں کی توں‘ صورت حال میں جموں و کشمیر کے متنازع علاقے سے گزر رہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ’شاہراہِ قراقرم‘ سے بہتر شاہراہ کی تعمیر نے کون سے اور کس طرح سے نئے تقاضے لا کھڑے کیے ہیں کہ بین الاقوامی اور قومی معاملات کوتہہ و بالا کردیا جائے؟یاد رہے ۲۰۰۹ء میں عوامی جمہوریہ چین نے کشمیر ی باشندوں کی چین آمد کے لیے اپنی ویزہ پالیسی تبدیل کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا ، ’’جموں و کشمیر کے لوگ بھارتی پاسپورٹ کے بجائے سادہ کاغذ پر حلف نامے کے ذریعے چین کا ویزا لے سکتے ہیں‘‘۔ اس پر بھارتی حکومت نے احتجاج کیا تو چین نے بڑا مختصر جواب دیا: ’’کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے ، جو بھارتی یونین کا حصہ نہیں ہے‘‘(روزنامہ The Nation ، ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء)۔
        اگر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے ، گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دے کر عارضی [اورپھر مستقل] صوبہ بنانے کا فیصلہ کر لیا، تو اس طرح بین الاقوامی سرحد تبدیل ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں پوری لائن آف کنٹرول، خودبخود بین الاقوامی سرحد میں ڈھل جائے گی۔ اس صورت میں سارے علاقے سے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین ہٹ جائیں گے، اور ان مبصرین کو ہٹانا بھارت کا پرانا مطالبہ ہے۔ یہ سب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۹۱ (۱۹۵۱)اور قرارداد ۱۲۲، ۱۲۶ (۱۹۵۷) کے یکسر منافی ہوگا، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے انہدام کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت بھی مقبوضہ جموںو کشمیر کی صورتِ حال پر عالمی عہدوپیمان کو یکسر توڑنے کا اعلان کرکے، مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانے اور آزاد کشمیر پر دست درازی کے جواز کے لیے حکمت عملی وضع کرے گا۔ پاکستان اپنی ناقابلِ فہم عجلت پسندی سے بین الاقوامی تحفظ کے تمام وعدوں سے بھی محروم ہوجائے گا۔ یوں ایک گناہ بے لذت کے طور پر کشمیر کا مسئلہ ، بھارتی خواہشات کے مطابق، ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دفن ہو جائے گا۔
        ایک مغالطہ یہ بھی پھیلایا جاتا ہے کہ ’بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس رویہ اختیار کرکے کشمیر کی انتظامی اور آئینی حیثیت کو تبدیل کر دیا ہے، تو جواب میں اگر پاکستان بھی آزادکشمیر کے ایک محدود علاقے میں ایسا کچھ کرلے تو کون سی قیامت آجائے گی؟‘‘ یہ مفروضہ بھی سخت شرانگیزی کا شاخسانہ ہے۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو وہ یک طرفہ طور پر بین الاقوامی عہدوپیمان سے رُوگردانی کررہا ہے، مگراس کے ایسے منفی رویے سے قراردادیں اور عالمی فیصلے تبدیل نہیں ہوئے۔ لیکن جب دوسرا فریق بھی اسی عہدشکنی کا راستہ اختیار کرے گا تو قراردادوں کی بنیاد ڈھے جائے گی اور عالمی عہدوپیمان کی ساکھ ختم ہوجائے گی۔ مسئلہ کشمیر کی متنازع بین الاقوامی حیثیت صرف اور صرف تقسیم ہند کے اصولوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر قائم ہے، اور بھارت یہ چاہتا ہے کہ ان بنیادوں کو ختم کر دیا جائے۔
        جموں و کشمیر کی وحدت پر اس دست درازی کو زیربحث لاتے ہوئے کشمیر کی مزاحمتی قیادت، جس میں سیّدعلی شاہ گیلانی، محمد یاسین ملک، میرواعظ عمرفاروق اور دوسرے محترم قائدین شامل ہیں، ان سب کی متفقہ رائے ہے کہ ’’گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوئی بھی تجویز ناقابلِ قبول ہے۔ کیونکہ یہ قدم جموں و کشمیر کی وحدت اور بین الاقوامی پوزیشن کو تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا‘‘۔اسی طرح آزادکشمیر کی قیادت، جس میں مسلم لیگ نون، مسلم کانفرنس، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی شامل ہیں، انھوں نے ۲۰۱۴ء میں آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور کرکے اس ’پانچویں صوبے‘ کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔ اگر بھارت نے دھونس جماکر ایک غلط قدم اُٹھایا ہے تو اس کی غلطی کے جواب میں پاکستان کی جانب سے غلطی کا ارتکاب کہیں زیادہ بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہوگا۔   
        ہم ذرا ماضی میں جائیں تومعلوم ہوتا ہے کہ اکتوبر ۲۰۱۵ء میں نون لیگ حکومت کی قائم شدہ ’سرتاج عزیز کمیٹی‘ نے ’گلگت بلتستان کی پاکستان میں اس طرح شمولیت کی تجویز دی تھی کہ ’’این ایف سی، ایکنک وغیرہ کے ساتھ پاکستانی پارلیمنٹ میں بھی یہاںسے نمایندے لیے جائیں اور دیگر صوبوں کے مساوی حیثیت دی جائے‘‘۔ یوں پانچویں صوبے کا غلغلہ بلند ہوا، تو جموںو کشمیر کے طول و عرض میں اضطراب پھیل گیا اور کشمیری قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ جواب میں وزیراعظم محمدنواز شریف نے ۱۶مارچ ۲۰۱۶ء کو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کے نام خط میں وضاحت کی: ’’پاکستان، گلگت بلتستان سے وابستہ حساس اُمور سے پوری طرح واقف ہے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان، جموں و کشمیر کے تنازع پراپنے اصولی موقف پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا، وہی موقف کہ جو سلامتی کونسل کی قراردادوں پرمبنی ہے‘‘۔ { FR 1176 }
        پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲۵۷ میں قومی پالیسی اور اس کے بنیادی اجزا کو نپے تلے الفاظ میں درج کردیا گیا ہے۔ اس کی روشنی میں گلگت اور بلتستان کو کسی شکل میں بھی پاکستان کا ایک صوبہ بنانا، اوروہاں سے پارلیمنٹ میں نام نہاد نمایندگی دینا، دستورِ پاکستان کی کھلی کھلی مخالفت اورقضیۂ کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا ذریعہ ہوگا۔ دستور کے الفاظ ہیں: ’’جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کریں گے، تو پاکستان اور اس ریاست کے درمیان تعلقات، اُس ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیےجائیں گے‘‘۔
        ۱۹۷۳ء کے دستور پاکستان میں درج یہی الفاظ، ۱۹۵۶ء کے دستورِ پاکستان میں بھی شامل تھے۔ اس تسلسل سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع اور ناقابلِ تقسیم وحدت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھارت نے نام نہاد الحاق کے نام پر اپنے دستور میں جموں و کشمیر کے بارے میں دفعہ ۳۷۰ رکھی، تو پاکستان نے اس پر شدید احتجاج کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس بھارتی اندراج کو تسلیم نہیں کیا ، اور اسے متنازع علاقہ قرار دیتے ہوئے پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔
        پاکستان کی حکومت، پارلیمنٹ اور تمام ریاستی ادارے اس امر کے پابند ہیں کہ دستور ی طور پر طے شدہ وعدے کے مطابق ، مسئلہ کشمیر اور اس سے منسلک علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ جموں و کشمیر پر مشتمل وحد ت کی مرضی کے مطابق حل کرنے میں مدد دیں،اور اس عہدوپیمان کا احترام کریں۔ پاکستان اور بھارت دونوں مل کر یا الگ الگ ، جموں و کشمیر کے مستقبل کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں، تاآنکہ جموں و کشمیر کے مسلّمہ شہری ایک آزادانہ استصواب راے سے اپنی مرضی کا فیصلہ کریں۔
اندریں حالات، ہم پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتوں کے ساتھ ساتھ، ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران اوردانش وروں سے اپیل کریں گے کہ وہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی اداروں کو دستور اور قانون کا پابند بننے پر مجبور کریں اور جو سیاسی پارٹیاں اپنے غیر دانش مندانہ فیصلوں کے تحت محدود سیاسی فائدے کی اسیر ہیں، انھیںاپنی نا مناسب پالیسی پر نظر ثانی کرنے کا درس دیں ۔ اگر آج روایتی کاہلی اور عجلت پسندی سے معاملات کو بگاڑا گیا تو آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

 

 

آج کل ’یکساں نصابِ تعلیم‘ اور پھر اس میں اسلامیات کے نصاب، اور جولائی۲۰۲۰ء میں ’تحفظ ِ بنیاد اسلام ایکٹ‘ (پنجاب حکومت)کی بحث نے ماضی کے اُفق روشن کردیے۔ پاکستان کا قیام اور نظریۂ پاکستان کی بنیاد دین اسلام اور کلمۂ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔اس بنیاد کو متنازع بنانے کے لیے سیکولر عناصر نے ہمیشہ اہلِ دین ہی میں غلط فہمی پیدا کرکے پیدا شدہ کش مکش کو عام لوگوں میں بددلی پھیلانے کا کام کیا۔ سادہ لوح علما کا ایک طبقہ، ان عناصر کو ایسے شیطانی کھیل میں آلۂ کاربننے کے لیے ہرمرحلے پر ملتا رہا ہے۔ اسی نوعیت کی ایک تشویش ناک کارروائی کا احوال ہماری تاریخ کا حصہ ہے، جس میں بہت سے سبق پوشیدہ اور عبرت کے نشانات نمایاں ہیں۔

یہ ۱۹۷۵ء کے اواخر کی بات ہے۔ میں پنجاب یونی ورسٹی کا طالب علم تھا اور اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب کی تنظیمی ذمہ داری کے لیے، مولانا مودودیؒ کی رہایش گاہ ۵-اے، ذیلدار پارک کے سامنے ۴-ذیلدار پارک میں روزانہ آیا کرتاتھا۔ تب ہم تمام نمازیں مولانا مودودیؒ  کے ساتھ  اُن کے گھر کے لان میں پڑھا کرتے تھے۔ جب مولانا محترمؒ کی طبیعت ٹھیک ہوتی تو وہ نمازِ عصر کے بعد وہیں صفوں پر بیٹھے ملاقاتیوں کے سوالات کے جواب دیتے اور ہلکی پھلکی گفتگو رہتی۔ یہ سلسلہ مغرب سے کچھ دیر پہلے تک چلتا۔

ایک روز ہم نے دیکھا کہ ایک پُرجوش خوبرو نوجوان، خطیبانہ لہجے میں مولانا مودودیؒ سے کہنے لگے: ’’مولانا، بھٹو صاحب کی حکومت نےتو اسلام کو بھی تقسیم کردیا ہے۔چودہ سوسال سے اُمت ایک کلمے پرمتفق چلی آرہی ہے، لیکن اب تو کلمۂ طیبہ بھی شیعہ اور سُنّی میں تقسیم کر دیا گیا ہے‘‘۔

مولانا نے فرمایا: ’’ایسا حادثہ کب ہوا؟‘‘

نوجوان نے بتایا: ’’مولانا، یہ دیکھیے نہم، دہم اسلامیات لازمی کی کتاب میں کلمہ کے عنوان میں ’کلمہ‘ کے بجاے یہ نوٹ درج ہے: ’’اساتذۂ کرام کلمہ راہنمائے اساتذہ گائیڈ سے دیکھ کر پڑھائیں‘‘۔ اب دیکھیے مولانا ، یہ ہے مرکزی وزارتِ تعلیم اسلام آباد کی شائع کردہ گائیڈ بُک، جس میں سُنّی اور شیعہ طلبہ کے لیے الگ الگ کلمہ درج ہے‘‘۔نوجوا ن کے ہمراہ آنے والے بزرگ نے کہا: ’’مولانا، ہم آپ سے رہنمائی کے لیے حاضر ہوئے ہیں‘‘۔

مولانا نے فرمایا: ’’یہ دونوں کتابیں میرے پاس چھوڑ دیں اور کل مغرب کے بعد آئیں‘‘۔

اس واقعے کے بعد میں نے جب اس نوجوان، اور بزرگ کے علاوہ ایک وکیل صاحب کو مولانا مودودیؒ کے ہاں وقتاً فوقتاً ملاقات کے لیے آتے جاتے دیکھا، تو ایک روز نوجوان سے تعارف حاصل کیا۔ معلوم ہوا، وہ مولانا محمد شفیع جوش، ماڈل ٹاؤن ایف بلاک مسجد کے خطیب ہیں۔ ان کے ساتھ جو بزرگ ہیں ان کا نام پیر سیّد ابرارمحمد صاحب ہے اور وکیل صاحب کو ہم جانتے تھے ارشاد احمد قریشی ایڈووکیٹ۔

میں نے محمد شفیع صاحب سے پوچھا: ’’اُس روز کی گفتگو پر مولانا نے کیا رہنمائی فرمائی ہے؟‘‘

شفیع جوش صاحب نے بتایا: ’’مولانا نے کہا ہے کہ ’اس مسئلے کو سڑکوں پر احتجاج اور   باہم کشیدگی پیدا کرنے کے بجاے آئینی اور قانونی سطح پر حل کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں‘۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ’قانونی معاونت کے لیے میں ارشاد احمد قریشی ایڈووکیٹ کی ذمہ داری لگاتاہوں‘۔ پھر یہ بھی کہا کہ ’اس مسئلے میں ، مَیں علمی، قانونی اور مالی سطح کی تمام ذمہ داریوں کو پورا کروں گا۔آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ عدالت میں پیش ہوں اور پوری ایمانی قوت اور اللہ کی تائیدسے جم کر کھڑے رہیں‘‘۔

ان دنوں وہ تینوں حضرات، رہنمائی حاصل کرنے اوررٹ کی تیاری کے علاوہ قومی سطح پریک جائی کی حکمت عملی بنانے کے لیے مولانا مودودی کے ہاں آیا کرتے تھے: ’’پھر چند ہفتوں کے بعد ایک نہایت جامع رٹ جنوری ۱۹۷۶ء میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی، جو بنیادی طورپر مولانا مودودی مرحوم و مغفور ہی کی تحریر پرمبنی تھی، تاہم اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ کیا گیا‘‘۔

اُسی ملاقات میں شفیع جوش صاحب نے مجھ سے کہا: ’’مولانا مودودی نےسختی سے ہدایت کی ہے، کہ لوگوں سے میرا ذکر نہ کیا جائے، کہ اس صورت میں عدالتی عمل کے پاؤں لڑکھڑانے کا خدشہ ہے، جس سے پیش نظر مقصد کو نقصا ن پہنچے گا‘‘۔ یوں نوجوان، جوش صاحب نے ہم عمری کی بے تکلفی سے اس نازک رازداری کا حصے داربنالیا (اس رٹ اور اس کے نتیجے میں عدالت کے فیصلے کو اس تحریر کے آخر میں ملاحظہ فرمایئے)۔

اس واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے ۴۵برس بعد مولانا محمد شفیع جوش صاحب سے گذشتہ دنوں جو ملاقات ہوئی، تو اس میں متعلقہ اُمور کی وضاحت ممکن ہوئی، جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے: محترم شفیع صاحب نے بتایا: ’’رٹ دائر کرنے کے بعد مولانا مودودی نے مشورہ دیا کہ اب آپ مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ (م:۱۲ مارچ ۱۹۹۸ء) لاہور، مفتی محمد شفیع ؒصاحب (م: ۶؍اکتوبر ۱۹۷۶ء) کراچی، خواجہ قمرالدین سیال شریف (م: ۲۰ جنوری ۱۹۸۱ء) سے بھی جاکرملیں اورمقدمے کی صورتِ حال پر ذاتی سطح پر بات کریں‘‘۔

 ان اکابر علما سے ملنے کے بعد ہم نے راولپنڈی میں مولانا غلام اللہ خان (م: ۲۶مئی ۱۹۸۹ء) اور پیراختر حسین شاہ علی پوری (م: ۱۶؍اکتوبر ۱۹۸۰ء) سے بھی ملاقات کی، جنھوں نے اپنا تعاون پیش کرتے ہوئے بہ اصرار ہمیں مالی معاونت لینے کے لیے کہا تو ہم نے بڑے ادب سے ان کو بتایا: ’’کلمۂ طیبہ کے تحفظ کے لیے جملہ سفری اور عدالتی اخراجات کا کُلی ذمہ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ذاتی طورپراُٹھا لیا ہے، اس لیے اس ضمن میں کسی فرد یا جماعت سے مالی ضرورت کی حاجت نہیں رہی‘‘ تو ان حضرات نےمولانا کی عظمت اور ان کے جذبۂ اسلامی کو سراہتے ہوئے مولانا کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ ہم نے واپسی پر یہ تشکر بھرے جذبات جب مولانا مودودی کی خدمت میں پہنچائے تو مولانا مودودیؒ نے ہمیں انھی قدموں ان حضراتِ علما کے پاس اپنے خرچ پر واپس بھیجا اورفرمایا: ’’انھیں وعلیکم السلام کہیں اور میری طرف سےشکریہ ادا کریں‘‘۔ اکابرین ملّت اسلامیہ کے اس اسوہ کا ایمان افروز مظاہرہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش واقعہ ہے‘‘۔

شفیع صاحب نے مزید کہا:’’اتفاق سے ان دنوں امام مسجد نبوی مدینہ منورہ، پاکستان آئے ہوئے تھے اور اُنھوں نے بادشاہی مسجد لاہورمیں نماز جمعۃ المبارک کی امامت فرمائی ، جس میں پنجاب بھرسے لاکھوں اہلِ ایمان شریک ہوئے۔ اس موقعے پر لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ رٹ کا اُردو ترجمہ ایک لاکھ کی تعداد میں ہم نے شائع کرکے تقسیم کیا، جو پورے پاکستان میں پھیل گیا۔ تب ذوالفقارعلی بھٹو صاحب کا دورِ حکومت تھا۔ اسی دوران شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی بھی پاکستان آئے [۸مارچ ۱۹۷۶ء] تھے۔ ہمارا قیاس ہے کہ انھوں نے دیگراُمور کے علاوہ اس موضوع پر بھی بات کی ہوگی۔ مولانا مودودی کی ہدایت پر ہم نے رٹ دائر کرنے سے قبل ہی محترم آیت اللہ محمدکاظم شریعت مداریؒ [م: ۳؍اپریل ۱۹۸۹ء]، ایران سےفتویٰ حاصل کرکے شیعہ موقف بھی رٹ میں شامل کرلیا تھا کہ شیعہ بھائیوں کے نزدیک بھی کلمۂ اسلام صرف ’لا الٰہ الا اللہ محمدرسول اللہ‘ ہے‘‘۔

مولانا جوش صاحب نے بتایا: ’’لیکن حکومت پاکستان دوسری جانب سے دباؤ میں نظر آرہی تھی، جس کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمداقبال [م: ۵مئی ۲۰۰۸ء] کو اسلام آباد طلب کرکے بہرقیمت مقدمے کا فیصلہ کرنے سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اسی طرح ہمیں بھی خوف اور لالچ سے مقدمے کی پیروی سے باز رکھنے اور دوسری جانب مقدمے کو طوالت کا شکار کرنے کا کام شروع ہوا۔ اسی دوران آل پاکستان شیعہ کانفرنس کے صدراور چند روزپہلے تک فرانس میں پاکستان کے سفیر آغا مظفرعلی خاں قزلباش صاحب [م: ۲۱ستمبر۱۹۸۲ء] نے ایک جلسے میں کلمۂ اسلام کی رٹ دائر کرنے پر ہم دونوں کو ’کانگریسی مُلّا اور پاکستان کا مخالف قراردیتے ہوئے کلمۂ اسلام مقدمے کو پاکستان توڑنے کی سازش‘ قرار دیا۔ آغا قزلباش صاحب کوسابق چیف جسٹس محمد منیر [م: ۲۶جون ۱۹۸۱ء]کی معاونت حاصل تھی۔ ان کو باور کرایا گیا کہ ’’رٹ کنندہ محمد شفیع کی پیدایش تو ستمبر ۱۹۴۷ء میں ہوئی تھی، ان پر پاکستان کی مخالفت کا الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے؟‘‘ اس طرح یہ الزام اپنی موت آپ مرگیا۔ سماعت سے پہلے ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ یہ رٹ واپس لی جائے، کہ کلمۂ طیبہ پہلی ہی صورت میں نصاب کے اندر شامل کردیا جائے۔ چیف جسٹس سردار محمد اقبال صاحب نے ہمیں چیمبر میں بلایا اور قومی حالات کی طرف توجہ دلا کر فرمایا: ’’یقین دلاتا ہوں واحد کلمے کی بحالی ہوجائے گی، اس لیے رٹ واپس لے لیں اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو میں رٹ خارج کردوں گا‘‘۔ اسی طرح ایک صوبائی سیکرٹری نے کہا کہ ’’رٹ واپس لینے کی صورت میں آپ کو حکومت کچھ انعام و اکرام سے بھی نوازنے کا ارادہ رکھتی ہے۔خواہ مخواہ مسئلے کو آگے نہ بڑھائیں‘‘۔

مولانا شفیع صاحب نے بتایا: ’’جب لاہور ہائی کورٹ کے سربراہ اور حکومت کے ایک سیکرٹری کی جانب سے دباؤ بڑھا تو ہم نے سوچنے کے لیےوقت مانگا اور اگلی تاریخ کی استدعا کی، جو صرف اگلے روز تک منظور کرلی گئی۔ یوں صرف ایک رات کے وقفے میں ہم نے مولانا مودودی کی خدمت میں حاضر ہوکرساری رُوداد بیان کی۔ ارشاد احمد قریشی صاحب بھی ہمراہ تھے۔ ہم نے مولانا مودودی سےعرض کیا: ’’حکومت ِ پاکستان نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ کلمۂ اسلام سابقہ پوزیشن پر نصاب میں بحال کردیا جائے گا۔ اور یہ کہ مجوزہ نظرثانی شدہ کتب نصاب، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی پیش کردی گئی ہیں کہ آیندہ کچھ عرصے میں مطالبہ پورا ہورہا ہے،اس لیے رٹ واپس لے لیں‘‘، وغیرہ وغیرہ۔

مولانا مودودی نے گہری توجہ اور فکرمندی سے تفصیل سننے کے بعد ہم سے ارشادفرمایا: ’’یہ ایک مضبوط مقدمہ ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ حکومت غلطی کا احساس کرکےازالہ کررہی ہے، مگروہ یہ سب باتیں آف دی ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح آپ رٹ واپس لے لیں گے اور آیندہ نصاب میں اگرکبھی ایسی حرکت ہوئی تو پھررجوع کرنا بہت مشکل ہوجائے گا، اب لہٰذا یہ ’رٹ‘  آپ کا ذاتی معاملہ نہیں رہا ہے بلکہ یہ ملّت اسلامیہ کی ترجمانی اور ایک امانت ہے۔ آپ کو ’رٹ‘ واپس لینے کا شرعی اختیار نہیں ہے۔ اس لیے آپ مکمل ثابت قدمی اختیار کریں اور عدالت میں جاکر کہیں کہ وہ آئین اور قانون کے تحت فیصلہ کرے‘‘۔

اگلے روز ۱۰ بجے سردار محمد اقبال چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے کمرئہ عدالت میں مجھ سے استفسار کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’آپ کا مطالبہ مان لیا گیا ہے، اس لیے رٹ واپس لے لیں‘‘۔ گذشتہ رات مولانا مودودی کے بیان کردہ الفاظ نے ہمیں ایک ایمانی قوت عطا کردی تھی، اس لیےبھری عدالت میں اعلیٰ حکام، وکلا اور جج صاحب کو مخاطب کرکے رٹ واپس لینے کے بجاے میں نے بیان ریکارڈ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ چیف جسٹس نے غصّے میں فرمایا:’’حکومت تو نصاب  درست کرنے کا مطالبہ مان رہی ہے، تو اب آپ لوگ اور کیا چاہتے ہیں؟‘‘ میں نے معلوم نہیں کس طرح بھری عدالت میں بلندآواز میں عرض کیا: ’’جناب عزّت مآب چیف جسٹس صاحب! رٹ کلمۂ اسلام پر دعویٰ استقرارِ حق قرار دیا جائے کہ کلمۂ اسلام صرف لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے۔ اس لیے فیصلہ دے کر ایمان بچا لیں یا مسترد کرکے نوکری بچالیں‘‘۔ اس پر بھری عدالت میں سناٹا چھاگیا۔ چیف جسٹس صاحب نے غصّے میں عدالت برخواست کردی۔ ہم ہائی کورٹ سے نکل کر سیدھے مولانا مودودی صاحب کے پاس پہنچے۔ شرفِ ملاقات پر مولانا کو مختصر ترین کارروائی کی یہ رُوداد سنائی تو محترم مولانا مودودی نےمسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب فیصلہ جو بھی ہو، آپ اور ہم بری الذمہ ہیں‘‘۔

مولانا شفیع صاحب نے مزید بتایا: ’’جسٹس صاحب اس روز خلافِ عادت ہائی کورٹ سے ۱۱بجے دن گھرپہنچے تو خود جسٹس سردار اقبال صاحب نے ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد مجھے بتایا کہ ’’یوں گھر خلافِ معمول آمد پر میری اہلیہ نے پوچھا: طبیعت تو ٹھیک ہے، آج آپ بہت جلد گھرآگئے ہیں‘‘۔ کہا کہ ’’ٹھیک نہیں ہے۔ ایک مولوی جو عدالتی آداب سے یکسرناواقف ہے، اس نے بھری عدالت میں مجھے کہا: ’’رٹ کلمہ منظور کرکے ایمان بچالیں یا مستردکرکے نوکری بچالیں۔ کیسے غیرمہذب ہوتے ہیں یہ مولوی لوگ۔ یہ سن کر طبیعت موزوں نہیں رہی تو گھر آگیا ہوں اور ساتھ ہی وہ فائل قریب رکھے ٹیبل پر دے ماری۔ میری اہلیہ گویا ہوئیں: ’’آپ رٹ منظورکرکے ایمان محفوظ کرلیں، نوکری کی فکر نہ کریں، اللہ مالک ہے‘‘ ۔ سردار اقبال صاحب نے بتایا کہ بیگم کے اس بے ساختہ اورمعصومانہ مشورے نے مجھے پریشانی سے نجات دلا کر غصہ ختم کردیا‘‘۔

شفیع صاحب کے بقول: ’’چیف جسٹس سردار محمد اقبال نے کہا: ’’پھر آپ کو معلوم ہے کہ میں نے کلمۂ طیبہ کیس ایک روز کی سماعت کے بعد منظور کرلیا اور اس ایمانی فیصلے سے طبیعت بحال و مطمئن ہوئی‘‘۔اور اس کے بعد یہ بھی امرواقعہ ہے کہ چند ہی روز بعد حکومت پاکستان کی ناراضی کے باعث، اس ترمیم کی بنیاد پر (کہ چیف جسٹس چارسال تک ہوگا) سردار محمد اقبال صاحب بطورِ چیف جسٹس فارغ کر دیے گئے [یاد رہے کہ حکومت نے جسٹس اقبال صاحب سے کہا تھا کہ آپ سینیر جج کے طور پر عدالت میں کام کرتے رہیں، مگرسردارصاحب نے صرف۵۴برس کی عمر میں عدالت کا منصب چھوڑ کر گھر آجانا پسند فرمایا۔ جو ہماری عدالتی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے،مرتب]۔ واقعی بیگم عفت اقبال کے ایمانی مشورے سے جسٹس سردار محمد اقبال نے رٹ منظور کرکے ایمان بچانے کا ثبوت دیا اور نوکری ختم کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ڈال دی‘‘۔

مولانا محمد شفیع صاحب نے بتایا: ’’میں نے سردار محمد اقبال صاحب سے کہا: میں بھی آج آپ کو بتا رہا ہوں کہ اس مقدمے کے پیچھے دراصل خاموشی سے مولانا مودودی تھے‘‘۔ اس پر سردار صاحب نے کہا: ’’یہ تو بہت ہی اچھاہوا کہ اُس وقت مجھے یہ بات معلوم نہ ہوئی، اوراگر یہ پتا چل جاتا تو مقدمے کے ساتھ میرا رویہ مختلف ہوتا‘‘۔ یوں انھوں نے اُس بے خبری پر مسرت کا اظہار کیا۔

’’سردار محمد اقبال صاحب نے اسی ملاقات میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر کلمۂ پاک کی خدمت میں آپ کو روزِقیامت اجرملے تو مجھےبھی یاد رکھنا۔ یہ کہہ کران کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور مجھ جیسے گنہگار نے نم پلکوں سے وعدہ کیا کہ اگراللہ ربّ العالمین نے میری خطاؤں سے چشم پوشی کرتے ہوئے کلمۂ اسلام کی برکت سے، کرم وفضل سے نوازا تواپنے ربّ سے عرض نوا ہوں گا کہ اس میں پہلے چیف جسٹس محمد اقبال اور اُس کے بعد جو مالک و محبوب کو منظورہو‘‘۔

اب پیش ہے رٹ اور مقدمے کا فیصلہ!

___’رٹ پٹیشن‘___

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 رٹ درخواست نمبر ۷۶/۱۵۹/۱۹۷۶ء، لاہور ہائی کورٹ

پیرابرار محمدو محمدشفیع جوش بنام حکومت ِ پاکستان بوساطت سیکرٹری تعلیم اسلام آباد (مسؤل الیہ)

رِٹ درخواست براے قراردیے جانے کہ اصل اورحقیقی کلمۂ اسلام لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  ہے۔ اور مسؤل علیہ کا اقدام جس کے ذریعے اس نے ملک کے اندر نہم ودہم جماعت کے طالب علموں کے لیے ایک مختلف کلمہ تجویز اور شائع کیا ہے ، کوئی قانونی جواز اور قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

مؤدبانہ گزارش ہے:

۱- یہ کہ پاکستان مسلمانانِ بر صغیر کی ان مساعی کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا، جو انھوں نے اسلامی نظام قائم کرنے اور اسلامی احکام کے مطابق ایک حکومت قائم کرنے کے لیے کیں۔

۲- یہ کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۲ میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا اور آرٹیکل نمبر ۱ میں اسے ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کا نام دیا گیا ہے۔

۳- یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطابق اسلام کے پانچ ستون ہیں ، جنھیں ارکان اسلام کہا جاتا ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

بُنِیَ الْاِسْلَامٌ عَلٰی خَمْسٍ شَھَادَۃِ  اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ ، وَاِقَامِ الصَّلوٰۃِ  وَاِیْتَاءِ الزَّکٰوۃِ  وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ (بخاری، جلد اول ) اسلام کی پانچ بنیادیں ہیں : اوّل: شہادت دینا اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ دوم: نماز قائم کرنا، سوم: زکوٰۃ ادا کرنا۔ چہارم: حج کرنا۔ پنجم: رمضان کے روزے رکھنا۔

پیغمبر کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور مستند حدیث میں درج انھی پانچ چیزوں کو اسلام قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں:

اَلْاِسْلَامُ اَنْ   تَشْھَدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ  وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ وَتُقِیْمَ الصَّلوٰ ۃَ وَتُؤْتِیْ الزَّکٰوۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا (مسلم، جلد اول کتاب الایمان) اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر طاقت ہو۔

۴-یہ کہ مذکورہ بالا حوالہ جات سے بالکل واضح ہے کہ ایک غیر مسلم کو اسلام میں داخل ہونے کے لیے سب سے اوّل کلمے کا علانیہ اقرار کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا، خواہ وہ مذکورہ بالا دیگر چارشرائط پوری کرتا ہو۔ اس لیے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کلمے کو اس کے الفاظ اور معانی کے ساتھ تحفظ دیا جائے، اور کلمے کے الفاظ میں کسی قسم کی تبدیلی یا اضافے کی نہ تو اجازت دی جائے، اور نہ ایسا کوئی اقدام برداشت ہی کیا جائے۔

۵- یہ کہ مدّعا علیہ نے اسلامیات کے مضمون کو، جو کہ ثانوی سکول کے امتحانات طلبہ و طالبات کے لیے لازمی ہے، دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، جن میں سے ایک سُنّی مکتبِ فکر کے طالب علموں کے لیے اور دوسرا شیعہ مکتبِ فکر کے لیے تجویز کی گئی ہیں۔

۶- یہ کہ کتاب موسومہ اسلامیات لازمی، جو شیعہ مکتب فکر کے نہم و دہم جماعت کے طالب علموں کے لیے شائع کی گئی ہے، اس کے صفحہ ۴۶ پر ’عبادات‘ کے عنوان کے تحت کلمے کے بارے میں درج ذیل الفاظ تحریر کیے ہیں:

’’استاد صاحب شیعہ بچوں کو ان کے مسلک کے مطابق رہنمائے اساتذہ  میں دیکھ کر کلمہ بتائیں گے‘‘۔

۷- یہ کہ مدّعا علیہ نے رہنمائے اساتذہ  نام کی ایک کتاب نہم ودہم کے اسلامیات کے نصاب کے اساتذہ کی رہنمائی کے لیے شائع کی ہے (یہ بات قابل ذکر ہے کہ شیعہ اور سُنّی طبقے سے متعلق طالب علموں کے لیے تجویز کردہ کتب اسلامیات میں کلمۂ اسلام کا متن درج ہی نہیں کیا گیا ہے ) اور اساتذہ اسے صرف رہنمائے اساتذہ   نامی کتاب کی مدد سے پڑھائیں گے۔

۸- یہ کہ رہنمائے اساتذہ   نامی کتاب کے صفحہ ۳۵ پر کلمے کا ایک باب ہے، جس کے پہلے پیرا گراف میں مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہیں:

’کلمہ ‘اسلام کے اقرار اور ایمان کے عہد کا نام ہے ۔ کلمہ پڑھنے سے کافر، مسلمان ہوجاتا ہے ۔ کلمہ میں توحید ورسالت ماننے کا اقرار امامت کے عقیدے کا اظہار ہے۔ ان عقیدوں کے مطابق عمل کرنے سے مسلمان مومن بنتا ہے۔ کلمے کے تین حصے ہیں‘‘۔

اسی باب میں صفحہ ۳۶ پر کلمہ کا متن درج ذیل الفاظ میں درج ہے:

لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ

۹- یہ کہ رہنمائے اساتذہ   کے مذکورہ بالا باب سے یہ بالکل واضح ہے کہ وہ شخص جو اس باب میں دیے (لکھے )گئے کلمہ کا علانیہ اقرار وتصدیق نہیں کرتا ،مسلمان نہیں بن سکتا ۔ اس کی رُو سے زمانۂ رسالتؐ سے لے کر قیامت تک کے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد غیر مسلم اور کافر قرار پاتی ہے۔

۱۰- یہ کہ مذکورہ بالا کلمہ کی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمۂ اسلام کے طور پر کبھی تعلیم نہیں دی اور نہ اس کا کبھی اعلان کیا۔ نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ حیات طیبہ میں اسلام میں داخل ہونے والے کسی شخص نے اس کلمے کا اقرار کیا۔ پھر یہ کلمہ ہرگز وہ کلمہ نہیں ہے، جسے: حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ،  حضرت ابو بکر صدیق ؓ ، حضرت علی بن ابی طالب ؓ اور حضرت زید بن حارثہ ؓ نے کہ جو نبوت کے ابتدائی دنوں پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام میں داخل ہونے والوں میں اوّلین افراد تھے، کبھی پڑھا ہو۔ اس کلمے کا شیعہ مکتب فکر کی مستند کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی ذکر تک نہیں ملتا ۔ درحقیقت کلمے کے الفاظ اور حروف (متن )کے بارے میں آغاز اسلام سے گذشتہ چند برسوں تک مختلف مکاتب ِفکر کے مسلمانوں کے مابین کوئی اختلاف نہیں رہا ہے۔ کچھ عرصہ پیش تر بلاجواز کلمے میں درج ذیل الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے:

عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ

مذکورہ بالا اضافی الفاظ بجاے خود اس حقیقت کا ثبوت پیش کرنے کے لیے کافی ہیں کہ وہ اصل اور حقیقی کلمے کا حصہ نہیں ہو سکتے اور یہ کہ اُن کا بعد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس بحث کے حق میں اہلِ تشیع علما کی تصنیف کردہ کتابوں کے (جن پر شیعہ مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مکمل اعتماد ہے) مندرجہ ذیل اقتباسات کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے :

                  (۱)            عَنْ جَمِیْلِ بْنِ  دَرَاجٍ  قَالَ سَاَلْتُ اَبَا عَبْدِاللہِ   عَنِ الْاِ یْمَانِ  فَقَالَ شَھَادَۃُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا عَمَلٌ قَالَ بَلٰی فَقُلْتُ فَالْعَمَلُ مِنَ الْاِیْمَانِ؟  قَالَ لَا یَثْبُتُ لَہُ  الْاِیْمَانُ اِلَّا بِالْعَمَلِ وَالْعَمَلُ مِنْہُ (اصول کافی، جلددوم، ص ۵۵) جمیل بن دراج سے روایت ہے کہ میں نے ابوعبداللہ (امام جعفر صادق علیہ السلام) سے ایمان کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: ’’گواہی دینا اس کی، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسولؐ ہیں‘‘۔ راوی نے کہا کہ کیا یہ عمل نہیں، فرمایا: ’’ہاں ہے‘‘۔ میں نے کہا تو کیا عمل ایمان کا جزوہے ؟فرمایا : ’’ایمان بدونِ عمل ثابت نہیں ہوتا اور عمل اس کا جزو ہے۔

                  (۲)            فَلَمَّا اَذِنَ اللہُ لِمُحَمَّدٍ فِی الْخُرُوْجِ مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃَ  بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ شَھَادَۃِ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ  وَرَسُوْلُہٗ  وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ   وَ اِیْتَاءِ الزَّکٰوۃِ وَحَـجِّ  الْبَیْتِ وَصِیَامِ شَہْرِ رَمَضَانَ (اصول کافی، جلد دوم، ص ۴۶)

                                    جب اللہ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی تو اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی:۱-گواہی دینا اس کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے عبد اور رسولؐ ہیں،۲- قائم کرنا نماز کا ،۳-زکوٰۃ دینا، ۴-حج کرنا اور، ۵-ماہِ صیام میں روزے رکھنا۔

                  (۳)            پھر وحی کی کہ اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )لوگوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ : لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  کا اقرار کریں(حیات القلوب، ج ۲، ص ۴۳، مؤلفہ: علامہ مجلسی ، ترجمہ مولوی سید بشارت حسین کامل)

                  (۴)            اگر کافر شہادتین بگوید ، یعنی بگوید: اَشْھَدُ  اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ  وَرَسُوْلُہٗ  مسلمان می شود (توضیح المسائل مجموعہ فتاوٰی، سید محمد کاظم شریعت مداری، ایران ص۳۹)

۱۱- یہ کہ تمام اسلامی مکاتب ِفکر کی مذہبی کتابوں میں اس کلمے کا کہیں ذکر نہیں جو مذکورہ بالا کتاب رہنمائے اساتذہ  (مطبوعہ:حکومت پاکستان، اسلام آباد ۱۹۷۵ء)کے ص ۳۶ پر درج ہے۔

۱۲- یہ کہ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۳۱ کے تحت مدعا علیہ پر یہ لازم ہے کہ وہ ایسے اقدام کرے، جو مسلمانانِ پاکستان کے لیے اسلام کے بنیادی عقائد اور اصولوں کے مطابق اپنی زندگی مرتب کرنے میں معاون ہوں اور ایسی سہولتیں فراہم کرے جن کے ذریعے وہ قرآن مجید اور سنت کی منشا کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھیں،مگر اس کے برعکس مدعا علیہ کا یہ فعل آئین کی مذکورہ بالا دفعات کے منافی ہے۔

۱۳-یہ کہ مدعا علیہ اس کلمے کے سوا، جس کی تعلیم پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، کسی اور کلمے کے جاری کرنے کا قانونی طور پر مجاز نہیں ہے۔

۱۴- یہ کہ مدعا علیہ کا فرض ہے کہ نہم ودہم کے طلبہ کے لیے اسی کلمے کی تعلیم دے ، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے مسلمانوں کو پڑھایا ہے۔

۱۵- یہ کہ مدعیان کے لیے سواے اس رٹ پٹیشن گزارنے کے اور کوئی چارۂ کار نہیں رہا ہے۔ ان حالات میں نہایت ادب سے استدعا کی جاتی ہے کہ اس امر کا اعلان کیا جائے کہ اصل اور حقیقی کلمۂ اسلام لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  ہے ۔ اور مسؤل علیہ کا اقدام جس کے ذریعے اس نے مختلف کلمہ تجویز کیا ہے یعنی لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ کوئی قانونی جواز نہیں رکھتا۔

مزید درخواست کی جاتی ہے کہ مدعا علیہ کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہم دہم کے طلبہ کے لیے مخصوص اسلامیات (لازمی) اور مذکورہ بالارہنمائے اساتذہ  کی کتابوں میں (ہدایات کے مطابق ) مناسب ترامیم کریں۔

نیز یہ بھی استدعا کی جاتی ہے کہ مسؤل علیہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے علاوہ کسی دیگر کلمے کا اجرا کرنے ، تسلیم یا شائع کرنے یا طالب علموں کے کورس میں شامل کرنے سے منع کر دیا جائے۔

سائلان

پیر سید ابرار محمد ، محمد شفیع جوش

بذریعہ ارشاد احمد قریشی ایڈووکیٹ

___فیصلہ ، اُردو ترجمہ ___

از:جناب محمد اقبال چیف جسٹس

۱۹۷۵ء میں حکومت پاکستان نے وزارت ِ تعلیم کے ذریعے ایک کتاب بنام رہنمائے اساتذہ  شائع کی، تا کہ اس سے ثانوی مدارس کے اساتذہ کی رہنمائی کے لیے خطوط مقرر ہوں۔

اس کتاب کا پہلا حصہ تمہیدی ہے اور بتایا گیا ہے کہ طلبہ کی نوجوان نسل کو کیوں اور کس طریق پر اسلامیات کی تعلیم دی جائے؟ کتاب کے حصہ دوم میں اسلام کے کچھ بنیادی اصول جن پر اہل سنت والجماعت کے مختلف مکاتبِ فکر کا اتفاق ہے، درج کیے گئے ہیں ۔ کتاب کا حصہ سوم صرف شیعہ طلبہ کے لیے ہے۔

کتاب کے حصہ سوم میں جو صفحہ ۳۵ سے شروع ہوتا ہے ، سبق پڑھانے والے استاد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے شاگردوں پر کلمے کی اہمیت اچھی طرح واضح کرے۔ آگے چل کر کتاب کے اسی صفحہ ۳۵ پر من جملہ اور باتوں کے ، یہ کہا گیا ہے:

کلمہ، اسلام کے اقرار وایمان کے عہد کا نام ہے ، کلمہ پڑھنے سے کافر، مسلمان ہو جاتا ہے ۔ کلمہ میں توحید ورسالت ماننے کا اقرار اور امامت کے عقیدے کا اظہار ہے۔   ان عقیدوں کے مطابق عمل کرنے سے مسلمان مومن بنتا ہے۔

پھر صفحہ ۳۶ کے آخر کے نزدیک بتایا گیا ہے کہ کلمہ یہ ہے:

لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ

اس کا ترجمہ جو صفحہ ۳۷ پر دیا گیا ہے ،یہ ہے:

یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور حضرت علیؑ، اللہ تعالیٰ کے ولی اور رسول کریم کے وصی اور بلا فاصلہ خلیفہ ہیں۔

۲- موجودہ رٹ درخواست میں جو ۲۱ جنوری ۱۹۷۶ء کو پیر سید ابرار محمد صدر تنظیم الائمہ لاہور (خطیب جامع مسجد دارالحق ، ٹاؤن شپ سکیم ، لاہور)اور مولانا محمد شفیع جوش (مہتمم مرکز اشاعت اسلام جامع مسجد ایف بلاک ، ماڈل ٹاؤن ، لاہور)کی طرف سے دستورِ پاکستان کے آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت دائر کی گئی ہے ، مدعیان نے کلمے کی اس صورت پر: جس میں وہ محولہ بالا کتاب رہنمائے اساتذہ  کے صفحہ ۳۶ پر درج ہے، اور اس کے ترجمے پر جو صفحہ ۳۷ پر ہوا ہے، اور صفحہ ۳۵ کی اس تحریر پر جو فیصلہ ہٰذا کے پہلے پیراگراف میں دیا گیا ہے ، اعتراض کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ عدالت یہ قرار دے کہ اصل اور حقیقی کلمۂ اسلام لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  ہے اور مسؤل علیہ کا وہ اقدام جس کے ذریعے اس نے ایک مختلف کلمہ تجویز کیا ہے، یعنی لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ کوئی قانونی جواز نہیں رکھتا۔

۳- اس سے پہلے درخواست کی سماعت کے لیے کوئی تاریخ مقرر کی جا سکتی ، درخواست گزاروں نے آئین کی دفعہ ۲۰۴ کے تحت ۲ مارچ ۱۹۷۶ء کو ایک درخواست توہین عدالت (۷۶-۳۱- w) دائر کر دی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ’’کل پاکستان شیعہ کانفرنس کے صدر مظفر علی قزلباش نے ۲۷فروری ۱۹۷۶ء کو شیعہ رہنماؤں اور کارکنوں کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی، اور زیر تصفیہ رِٹ درخواست کے نفس مضمون کا حوالہ بھی دیا‘‘۔ اس درخواست میں مزید کہا گیا کہ ’’اس معاملے پر الزام علیہ کی طرف سے اظہار راے، جب کہ وہ ابھی عدالت میں زیرِ سماعت تھا، عدالت ہٰذا کی سنگین اور سخت توہین کے مترادف ہے۔ لہٰذا، اسے مناسب سزا دی جائے‘‘۔

۴- شیخ مظہر علی جاوید، جنرل سیکرٹری شیعہ میوچل سوسائٹی پاکستان (رجسٹرڈ) نے بھی ایک درخواست توہین عدالت (۷۶-۳۲- w) گزاری ہے، جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ’’عوام میں رٹ درخواست کے مندرجات کی نقول تقسیم کر کے بہت زیادہ تشہیر کی گئی، نیز یہ کہ رٹ درخواست کا ترجمہ اردومیں کیا گیا، اور اس کی نقلیں عوام میں وسیع پیمانے پر اس اپیل کے ساتھ تقسیم کی گئیں کہ  وہ ۷ مارچ کو اس مقدمے کی کارروائی سنیں‘‘۔ اس درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’’مقدمے کی تاریخ سماعت کے مقرر کیے جانے سے پہلے اردو اور انگریزی میں رٹ درخواست کی اشاعت اور اس کی تقسیم پاکستان کی ایک خاصی بڑی آبادی کے خلاف ایک تحریک کی صورت پکڑ گئی، چونکہ رٹ درخواست پیش کرنے والوں، ان کے قانونی مشیر اور طابع (قیصر پرنٹرز لاہور) کا یہ فعل مقدمے کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتا ہے، لہٰذا ان کے خلاف آئین کی دفعہ ۲۰۴ کے مطابق عدالتی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اب میں ان تینوں مقدمات کا فیصلہ، یعنی رٹ درخواست ۱۵۹ بابت ۱۹۷۶ء ،فوجداری اصل نمبر ۳۱  ڈبلیو بابت ۱۹۷۶ء اور فوجداری اصل نمبر ۳۲ ڈبلیو بابت ۱۹۷۶ ء اپنے حکم کے ذریعے کر رہاہوں۔

۵- یہ معاملہ جناب وزیراعظم [ذوالفقار علی بھٹو] کے علم میں آیا، تو انھوں نے فرقہ وارانہ اختلافات کے خاتمہ کے لیے، جو قومی سالمیت اور مختلف طبقات میں ہم آہنگی کے لیے لازم ہے، حسب معمول جذبے سے کام لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ۔ چنانچہ شیعہ اور سُنّی مکاتب ِفکر کے علما کا ایک اجلاس [وفاقی] وزیر تعلیم کی سرپرستی میں طلب کیا گیا اور معقول بحث وتمحیص کے بعد ایک نئی کتاب اسی نام یعنی رہنمائے اساتذہ کے ساتھ شائع کی گئی ۔ دونوں کتابوں کے فرق کو نمایاں کرنے کے لیے متعلقہ اقتباسات کو ذیل میں ایک دوسرے کے بالمقابل درج کیا جاتا ہے:

پہلے شائع شدہ کتاب

نئی (ترمیم شد ہ )کتاب

’’کلمہ، اسلام کے اقرار اور ایما ن کے عہد کا نام ہے۔ کلمہ پڑھنے سے کافر، مسلمان ہو جاتا ہے۔ کلمہ توحید ورسالت ماننے کا اقرار اور امامت

’’کلمۂ طیبہ، اسلام کے اقرار کا نام ہے۔ کلمہ  توحید ورسالت کا اقرار ہے‘‘۔ (ص ۳۵)

پہلے شائع شدہ کتاب

نئی (ترمیم شد ہ )کتاب

کے عقیدے کا اظہار ہے۔ ان عقیدوں کے مطابق عمل کرنے سے مسلمان مومن بنتا ہے‘‘۔ (ص ۳۵)

کلمہ: لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ (ص ۳۶) ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسولؐ ہیں اور حضرت علی علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے ولی اوررسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی اوربلافاصلہ خلیفہ ہیں۔(ص ۳۷)

کلمۂ طیبہ: لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ سے کافرمسلمان ہوتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہیں مانتے، اور حضرت محمدمصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے آخری رسولؐ ہیں۔اُن کے بعد کوئی نبی و رسولؐ نہیں آئے گا۔

لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ  سے شیعہ، توحید و رسالت کے علاوہ امامت کا اقرار اورشیعیت کا اظہار کرتے ہیں‘‘ (ص ۳۶)

رہنمائے اساتذہ  کے ترمیم شدہ ایڈیشن کے ساتھ ہی حکومت نے دو اور کتابیں شائع کیں، جن کا نام ’’اسلامیات (لازمی ) ہے، اور جو نویں اور دسویں جماعتوں کے شیعہ اور سنی طالب علموں کے درسی نصاب پر مشتمل ہیں۔ سنی طلبہ کی کتاب فیصلہ ہٰذا کے ساتھ بطور ’ضمیمہ سی ‘اور شیعہ طلبہ کی کتاب بطور ’ضمیمہ ڈی ‘ منسلک ہیں ۔ضمیمہ جات ’سی ‘ و ’ڈی‘ میں جو کلمۂ طیبہ علی الترتیب صفحات ۴۸ اور ۵۲ پر درج ہوا ہے، وہ لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ ہے ۔

۶- مقدمات ۹ جون ۱۹۷۶ء کو سماعت کے لیے پیش ہوئے تو مدّعیان نے اپنی رٹ درخواست میں مندرجہ ذیل بیان دیا:بیان منجانب :

(۱) پیر سید ابرار محمد ولد پیر سید اعجاز محمد صدر تنظیم الائمہ لاہور، خطیب جامع مسجد دارالحق، ٹاؤن شپ سکیم لاہور۔

(۲) مولانا محمد شفیع جوش ولد مولانا محمد اعظم، مہتمم مرکزِ اشاعت اسلام جامع مسجد ایف بلاک، ماڈل ٹاؤن لاہور۔

(۱) ہم نے رِٹ درخواست نمبر۱۵۹/۱۹۷۶ کے ذریعے کتاب رہنمائے اساتذہ کی  مندرجہ ذیل تحریروں پر، جو اس کے صفحات ۳۵،۳۷ پر درج ہیں، اعتراض کیا تھا ، یہ کتاب مدّعا علیہ نے وزارت تعلیم کے شعبۂ نصابات کی ری پروڈکشن یونٹ کے ذریعے ۱۹۷۵ء میں اسلام آباد سے شائع کی:

کلمہ :اسلام کے اقرار اور ایمان کے عہد کا نام ہے ۔ کلمہ پڑھنے سے کافر، مسلمان ہوجاتا ہے ۔ کلمہ میں توحید ورسالت ماننے کا اور اقرار امامت کے عقیدے کا اظہار ہے۔ ان عقیدوں کے مطابق عمل کرنے سے مسلمان مومن بنتا ہے۔

کلمہ: لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ ،یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور حضرت علی علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے ولی اور اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی اور بلا فاصلہ خلیفہ ہیں‘‘۔

(۲)  یہ رِٹ درخواست ابھی عدالت میں زیر تصفیہ تھی کہ مدّعا علیہ نے ایک اور کتاب اسی نام کے ساتھ شائع کی، جس کا حصہ سوم صرف شیعہ طالب علموں کے لیے ہے۔

اس کے صفحات ۳۵-۳۶ پر مندرجہ ذیل تحریر چھپی ہے :

’’کلمۂ طیبہ، اسلام کے اقرار کا نام ہے ۔ کلمہ میں توحید ورسالت کا اقرار ہے‘‘۔

کلمۂ طیبہ : لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  سے کافر، مسلمان ہو جاتا ہے ، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مانتے اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے آخری رسول ہیں، ان کے بعد کوئی نبی ورسول نہیں آئے گا‘‘۔

لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  کے بعد عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ  سے شیعہ توحید ورسالت کے علاوہ امامت کا اقرار اور شیعیت کا اظہار کرتے ہیں۔

چونکہ اس کتاب میں یہ بالکل واضح کردیا گیا ہے کہ کلمۂ طیبہ صرف لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  ہے،اس لیے وہ اعتراض جو ہم نے پہلے اُٹھایا تھا، اب باقی نہیں رہتا۔

دوسرے بیان لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ کے بعد عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ سے شیعہ توحید و رسالت کے علاوہ امامت کا اقرر اور شیعیت کا اظہار کرتے ہیں‘‘ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ یہ صرف شیعہ طالب علموں کے لیے ہے۔

(۳) چونکہ نئی کتاب کے شائع ہونے سے ہماری شکایت کا تدارک ہوگیا ہے، اس لیے ہم اپنی رٹ درخواست پر کارروائی کے لیے اصرار نہیں کریں گے۔ لہٰذا ، اس کا فیصلہ ہمارے بیان کے مطابق کردیا جائے۔سیّد افضل حیدر اور سیّد ولایت حسین حیدری نے بھی (جو شیخ مظہرعلی جاوید کی طرف سے درخواست توہین عدالت نمبر۳۲، ڈبلیو، بابت ۱۹۷۶ء میں وکیل ہیں) مندرجہ ذیل بیان داخل کیا:

’’ہم نے کتاب موسومہ رہنمائے اساتذہ کے نئے ترمیم شدہ ایڈیشن کا مطالعہ کیا جس کے حصہ سوم کے ص ۳۶ پر شیعہ طلبہ کے لیے درج ہے:

کلمۂ طیبہ: لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ سے کافر مسلمان ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں مانتے اور حضرت محمدمصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے آخری رسول ہیں۔ اُن کے بعد کوئی نبی و رسولؐ نہیں آئے گا۔ لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ کے بعد عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ سے شیعہ توحید و رسالت کے علاوہ امامت کا اقرار اورشیعیت کا اظہار کرتےہیں۔

۶- ہم نے پیر سید ابرار محمد اور مولانا محمد شفیع جوش کے بیانات رِٹ درخواست نمبر ۷۶/۱۵۹ میں اور مسٹر ارشاد احمد قریشی کا بیان درخواست توہین عدالت نمبر ۷۶ w  ۳۱ میں سن لیا ہے ۔ بطور اظہار خیر خواہی ہم بھی فوجداری اصل نمبر۳۲ ڈبلیو ۱۹۷۶ء پر اب کوئی مزید کارروائی نہیں چاہتے ،لہٰذا درخواست کا فیصلہ بھی ایسے ہی ہو جائے گا‘‘۔

فوجداری اصل نمبر ۳۱ ڈبلیو بابت ۱۹۷۶ء میں مدّعیان کے وکیل مسٹر ارشاد احمد قریشی نے بھی ایک بیان ان الفاظ میں دیا:

 نئی تالیف کے شائع ہونے کے پیش نظر میرے مؤکلوں نے رِٹ درخواست نمبر ۷۶/۱۵۹ میں یہ بیان دیا ہے کہ اب چونکہ ان کی شکایت کا تدارک ہو گیا ہے، اس لیے وہ اپنی رِٹ درخواست پر مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ جذبۂ خیر سگالی کے اظہار کے لیے میں بھی درخواست توہین عدالت میں مزید کارروائی نہیں چاہتا۔ اس کا فیصلہ بھی ایسے ہی کر دیا جائے۔

۷- اس حقیقت کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ تمام مسلمانوں کا کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  ہی ہے ۔ جہاں تک سُنّی مکتب ِ فکر کا تعلق ہے، اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ البتہ رہنمائے اساتذہ  کی پہلی کتاب کے تحت شائع ہونے پر یہ شبہہ ہوا کہ گویا شیعہ مکتب ِ فکر کے مطابق کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ  ہے، لیکن یہ خیال نہ تو حکومت کے نقطۂ نظر سے کوئی مطابقت رکھتا ہے اور نہ شیعہ علما نے کبھی اس کی تائید کی ہے، کہ کلمۂ طیبہ سواے لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ   کے کچھ اور بھی ہے ۔ حکومت کے ما بعد رویے سے کہ اس غلطی کو درست کرنے کے لیے فوری کارروائی کی گئی، یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ ایک معصومانہ غلطی تھی۔ شیعہ مکتب ِفکر کی نیک نیتی اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے، جس میں سید افضل حیدر نے (جو اس عدالت کے ایک سینئر ایڈووکیٹ ہیں) اور سید ولایت حسین ایڈووکیٹ نے غیر مبہم الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ’’کلمۂ طیبہ صرف لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  ہے۔ اگر شیعہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ وخلیفتہ بلا فصل  پڑھتے ہیں تو یہ اس لیے نہیں کہ وہ کلمے کا حصہ ہے بلکہ اس سے وہ محض ’امامت ‘کا اقرار اور ’شیعیت‘ سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس لیے اگر شیعہ عقیدے کے متعلق کوئی شکوک کتاب رہنمائے اساتذہ کی پہلی اشاعت سے پیدا ہوئے بھی تھے، تو اب وہ دُور ہوگئے ہیں۔ اب کسی کے دل میں شیعہ عقیدے کے متعلق اس بارے میں کوئی شبہہ نہیں رہنا چاہیے‘‘۔

حافظ کفایت حسین [م:۱۴؍اپریل ۱۹۶۸ء]نے کہ جن کا شمارچوٹی کے شیعہ علما میں ہوتا ہے، تحقیقاتی عدالت کے رُوبرو جو ’پنجاب فسادات (پبلک تحقیقات) ایکٹ مجریہ ۱۹۵۳ء‘ کے تحت وجود میں آئی تھی، مسئلہ زیربحث کے متعلق درج ذیل بیان دیا تھا، جو خصوصی توجہ کے قابل ہے:

ہر اُس شخص کو مسلمان کہلانے کا حق حاصل ہے جو: (۱) توحید (۲) نبوت اور (۳)قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ وہ تین بنیادی عقیدے ہیں، جن پرمسلمان کہلانے کے لیے یقین رکھنا ضروری ہے۔ ان تین بنیادی عقائد کے متعلق شیعہ اور اہلِ سنت میں کوئی اختلاف نہیں۔

تمام مکاتب ِ فکر کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ کلمۂ طیبہ لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  ہے۔ اس کے ذریعے ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے پیغمبر ہیں۔ مسلمان ہونے کے لیے کلمۂ طیبہ یعنی لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ  پرایمان لانا ضروری ہے، نیز اس کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کے ختم ہوجانے کا قطعی اور بلاشرط ایمان رکھنا لازم ہے۔

۸- کتاب رہنمائے اساتذہ  کی نئی اشاعت کےپیش نظر مدّعیان نے یہ بیان دیا ہے کہ ان کی شکایت رفع ہوچکی ہے، اس لیے وہ اپنی رٹ درخواست پر مزید کارروائی کے لیے زورنہیں دیتے۔ درخواست توہین عدالت ۷۶/w   ۳۱ و ۷۶/w  ۳۲ میں ہردوفریق کے وکلا کا بیان ہے کہ وہ جذبۂ حُب الوطنی کے تحت ان پر کارروائی کے لیے زور نہیں دیتے، لہٰذا ان کا فیصلہ ان کے بیانات کے مطابق کیا جاتا ہے۔

۹- مقدمے کے اختتام سے قبل مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس رٹ درخواست کے تصفیے کو  کسی ایک فریق کی کامیابی یا دوسرے کی ناکامی نہ سمجھا جائے۔اس امر پر مکمل اتفاق راے ہے کہ کلمۂ طیبہ لَآ اِلٰہَ  اِلَّا  اللہُ مُحَمَّدٌ  رَّسُوْلُ اللہِ ہے۔

مدعیان کا دعویٰ بھی یہی ہے ، حکومت نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے اور شیعوں کا عقیدہ اوراقراربھی یہی ہے۔

۹جون ۱۹۷۶ء         دستخط /محمداقبال

رٹ درخواست منظور کی گئی چیف جسٹس

(بحوالہ PLD ، جلد: XXVIII ، لاہور، ص ۱۱۲۸ - ۱۱۳۵)

_______________

[مولانا محمد شفیع جوش اُس زمانے میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن اور اسلامی نظریاتی کونسل کشمیر کے ممبر تھے۔ آج کل جوہرٹاؤن، لاہور میں مقیم ہیں]۔

کورونا کی تباہ کاریاں دُنیا بھر میں موت کے سائے پھیلا رہی ہیں، لیکن بھارت کی نسل پرست فسطائی حکومت، جموں و کشمیر میں خون کی بارش اور ظلم و زیادتی کی جملہ کارروائیوں میں، پہلے سے بڑھ کر مصروف ہے۔ یہاں پر چار مختصر مضامین میں حالات کی تصویر پیش کی جارہی ہے۔ ادارہ

رمضان میں شہادتیں

سلیم منصور خالد

یہ رمضان المبارک بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں مظلوم عوام کے لیے تشدد، بے حُرمتی، ظلم، گھروں کی آتش زدگی اور گولیوں کی بوچھاڑ میں ۲۵شہادتوں اور ۲۴۹زخمیوں کا دُکھ دے کر گیا ہے۔ تاہم، یہاں پر دو مثالیں پیش ہیں:

۶مئی ۲۰۲۰ء (۱۲رمضان) کو حزب المجاہدین کےچیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو اپنے ایک ساتھی عادل کے ساتھ، اپنے ہی گاؤں میں بڑے خون ریز معرکے میں شہید کردیے گئے۔ موضع بیگ پورہ اونتی پورہ، ضلع پلوامہ (مقبوضہ جموں و کشمیر) میں پیدا ہونے والے ریاض شہید کی زندگی اپنے اندر عمل اور عزیمت کے پہاڑ سمیٹے ہوئے ہے۔ انھوں نے ڈگری کالج پلوامہ سے بی ایس سی کی تعلیم مکمل کرکے، ایک نجی اسکول میں بطور استاد پڑھانا شروع کیا۔ان کا ارادہ ریاضی میں ایم ایس سی اور پھر پی ایچ ڈی کا تھا کہ بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں ۲۰۱۰ء میں گرفتارکرکے جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنائے گئے۔ اور پھر رہائی کے ۲۰ روز بعد ۲۰۱۲ء میں حزب کا حصہ بن کر جدوجہد کے لیے اسکول اور گھر چھوڑ کر گھنے جنگلوں میں نکل گئے۔

وہ بُرہان مظفروانی کے قریبی ساتھی تھے۔ بُرہانی وانی کی شہادت کے چند ہی روز بعد ۱۳؍اگست ۲۰۱۶ء کو جب حزب کے چیف آپریشنل کمانڈر منصور الاسلام شہید ہوگئے تو یہ ذمہ داری ریاض نائیکو کے سپرد کی گئی، جنھوں نے خاص طور پر جنوبی وادیِ کشمیر میں جاں بازوں کو منظم کرنے اور ان کی مزاحمتی صلاحیت کو مؤثر بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

ریاض شہید کے والد صاحب نے ایک بار بی بی سی کے نمایندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میرے بیٹے نے جس راستے کا انتخاب کیاہے، وہ درست راستہ ہے،مجھے اپنے بیٹے پر فخرہے۔ ہم ہروقت اس کی شہادت کی خبرسننے کے لیے ذہنی طورپر تیارہیں‘‘۔

ریاض ایک سنجیدہ معلّم اور متوازن طبیعت کے حامل نوجوان تھے۔ وہ نمایاں ہونے کے بجاے پیچھے رہ کر اور خاموشی سے مصروفِ کار رہنے پر کاربند تھے۔ تاہم، دو سال قبل ’الجزیرہ‘ کے نمایندے نے بڑی کوشش کرکے ان سے رابطہ کیا، تو انھوں نے اس سے گفتگو میں یہ الفاظ کہے تھے: ’’غاصبوں کے خلاف آزادی کی تحریکوں میں نشیب وفراز آتےرہتے ہیں ، لیکن پورے خلوص کے ساتھ اگر نگاہیں منزل پر لگی رہیں اورقدم اُس سمت بڑھ رہے ہوں، تو اللہ تعالیٰ ضرور کامیابی عطا فرماتا ہے اور ہماری منزل دُور نہیں ہے، ان شاء اللہ‘‘۔

اپنی اس جدوجہد کے دوران وہ کئی مرتبہ بھارتی سیکورٹی فورسز کے گھیرے میں آئے، لیکن کامیابی سے گھیراتوڑ کر اگلی منزل کی طرف گامزن ہوئے۔ یہ ۲۰۱۸ء کی بات ہے کہ ان کے والدگرامی کو بھارتی انتظامیہ نے گرفتار کرلیا۔ تب اسی سال ستمبر میں ریاض نائیکو نے اتنے جبر اور بہت سارے ناکوں کے باوجود ایک پولیس افسر اور گیارہ اہل کاروں اور رشتے داروں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ جس پر قابض بھارتیوں نے ان کے والدصاحب کو رہا کردیا۔ ساتھ ہی ریاض شہید نے ان لوگوں کو رہا کر دیا اور رہائی کے بعد ان لوگوں نے بتایا کہ ’’ہمارے ساتھ مجاہدین نے کوئی بُرا سلوک نہیں کیا‘‘۔ اس دوران ریاض شہیدنے کئی ویڈیو اور آڈیو پیغام سوشل میڈیا پرنشر کیے، جن میں جموں و کشمیر پولیس اہل کاروں کو آزادی کی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی باربار اپیل کی۔

یہ جدوجہد چونکہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے، اس لیے اس دوران جہاں دشمن کے مسلح ادارے اور خفیہ ایجنسیاں ریاض شہید کا تعاقب کرتی رہیں وہاں بھارتیوں کا ایک دام ہم رنگ بھی برابر متحرک رہا۔ یاد رہے ۱۹۹۲ء میں بھارت نے مجاہدین کشمیر کو بدنام کرنے کے لیے’الاخوان‘ کے نام سے اپنے آلہ کاروں اور قاتلوں کا گروہ تیار کیا تھا، جنھوں نے ایک جانب مجاہدین کے بہت سے قیمتی افراد کو شہید کیا، تو دوسری جانب مجاہدین کی جدوجہد کوبدنام کرنے کے لیےکبھی صحافیوں کو اغوا کیا اور کبھی یورپی سیاحوں کو اُٹھا لیا اور پھر انھیں قتل کرکے مجاہدین کو بدنام کیا۔ اس امرکی سیّدعلی گیلانی اورمجاہدقیادت نے باربار مذمت کی اور بتایا کہ اخوان المسلمون کے نہایت محترم نام کو بدنام کرنے اور حُریت پسندوں میں پھوٹ ڈالنے اور بے اعتمادی پیدا کرنے کے لیے یہ گھناؤنی کارروائیاں کی جارہی ہیں اور یہ ایک بھارتی سازش ہے، جس سے حُریت پسندوں کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ افسوس کہ گذشتہ تین برسوں سے بالکل یہی کام’داعش‘ کےنام ، پرچم اور نشان کو استعمال کرکے کیا جارہا ہے، حالانکہ جموں و کشمیر میں برسرِ زمین کہیں داعش موجود نہیں ہے۔ لیکن بھارتی ایجنسیاں اپنی وضع کردہ تصاویر میں، خاص طور پر داعشی نشان دکھا کر،مجاہدین آزادی کو بدنام کرنے کی کوشش کرتی آرہی ہیں، جن سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

ریاض نائیکو گذشتہ آٹھ برسوں میں دوسری بار اپنی والدہ سے ملنےخفیہ طور پر اپنے گھر آئے، تو داعش کے رُوپ میں مخبروں نےبھارتی ایجنسیوں کو خبر دے دی۔ اس موقعے پر یہ چار مجاہد: ریاض احمد، جنیدصحرائی ، ڈاکٹرسیف اللہ اور محمد عادل بھٹ موضع بیگ پورہ (پلوامہ) میں موجود تھے۔ ریاض نےفیصلہ کیا کہ بھارتی فوجیوں کا مقابلہ اس طرح کیا جائے گا کہ دومجاہد جنیدصحرائی اورسیف اللہ اس گھیرے کو توڑ کر نکل جائیں ، جب کہ محمد عادل بھٹ ان کے ہمراہ مقابلہ کرکے غاصب فوجیوں کو مصروف رکھیں۔ جنید اور سیف اپنے کمانڈر کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے،لیکن ریاض نے سختی سے حکم دےکر انھیں نکل جانے کو کہا۔

ریاض نے گھرکےنچلے کمرے اورعادل نے مکان کے اُوپروالےکمرے سے مقابلہ شروع کیا۔ اسی دوران قصبے کے سیکڑوں نوجوان اپنے گھروں سے نکل آئے اور جارح فوجیوں کے خلاف احتجاج اور پتھراؤ کرنے لگے۔ جواب میں پیلٹ گن فائرنگ، آنسوگیس اورفائرنگ کے نتیجے میں احتجاجی دباؤ کم ہوا۔ اسی دوران میں چاروں طرف سے گھیرکر بے تحاشا فائرنگ کرکے ریاض اور عادل شہید کردیے گئے۔ بھارتی فوجیوں نے ان دونوں کی میتیں قبضے میں لے لیں۔ انھیں لواحقین کے سپرد نہیں کیا اور ضلع گاندربل میں سونہ مرگ کے مقام پردفن کردیا۔

پھر ۱۹مئی کو جنید صحرائی اور طارق احمد کو بھارتی فوجیوں نے سری نگر میں گھیرے میں لیتے ہوئے اس طرح شہید کردیا کہ اس کارروائی کے دوران ۱۵ گھروں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے تباہی مچادی۔ یاد رہے جنید صحرائی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ(ایم بی اے) ۲۹سالہ نوجوان تھے، جنھوں نے ۲۰۱۸ء میں عسکریت کا راستہ منتخب کیا۔ وہ تحریک حُریت کے نہایت محترم رہنما اشرف صحرائی کے بیٹے ہیں۔ یادرہے کہ صحرائی صاحب، محترم سیّد علی گیلانی کے دست ِ راست اور کئی عشروں سے رفیق کار ہیں۔

کشمیر: پیلٹ گن پرعدالتی پابندی سے انکار

غازی سہیل خان

۱۱مارچ ۲۰۲۰ء میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے ایک عدالتی فیصلے نے کشمیریوںاور انسانی حقوق کے کارکنوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے ۔ہائی کورٹ نے پیلٹ گن (Pellet Gun) پر پابندی لگانے کے لیے دائر کی گئی ایک اپیل کو مسترد کر دیا۔ پیلٹ گن پر پابندی لگانے کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ ’’بے قابو بھیڑ کو طاقت سے قابو کرنا نا گزیر ہوتا ہے ‘‘۔

جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں وادیِ کشمیر میں مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے فورسزاہل کاروں کی طرف سے پیلٹ گن استعمال کرنے کے خلاف یہ درخواست جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار   ایسوسی ایشن کے ذریعے ۲۰۱۶ء میں اس وقت دائر کی گئی تھی، جب وادی میںمعروف عسکری کمانڈر برہان مظفروانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جس میں بھارتی فورسز اہل کاروں نے احتجاج کو قابو کرنے کے لیے پیلٹ گن کا استعمال کیا تھا، جس کے سبب بہت سے زخمیوں کو اپنی بینائی مکمل یا جزوی طور پر کھونا پڑی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’’کس جگہ، کس طرح سے طاقت کا استعمال کرنا ہے، یہ اس جگہ کے انچارج پر منحصر ہے ،جو اس جگہ تعینات ہے جہاں ہنگامہ ہو رہا ہوتا ہے‘‘ ۔

’پیلٹ گن‘ کشمیر میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف استعمال میں اُ س وقت لائی جانے لگی جب ۱۱ جون ۲۰۱۰ء کو طفیل متو، راجوری کدل، سرینگرمیں آنسوگیس شل لگنے سے جاں بحق ہوا۔ تب وہ کوچنگ کلاس میں جا رہا تھا۔اس سے قبل ۱۳ سالہ ایک اور طالب علم وامق فاروق جنوری ۲۰۱۰ء میں نزدیک سے ایک آنسو گیس شل کا شکار ہو کر جاں بحق ہوگیا تھا۔

ان اموات کے بعد نہ تھمنے والے احتجاج کو روکنے کے لیے بھارتی فورسز نے پیلٹ گن کا استعما ل کرنا شروع کیا تھا۔ پھر زخمیوں اور بینائی سے محروم نوجوانوںکی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ پیلٹ بندوق ایک بار چلانے سے اس میں سے ۵۰۰ پیلٹ ایک بار آگے کی سمت میں نکل کربکھر جاتے ہیں۔ جو کوئی بھی ان چھرّوں کی زد میں آتا ہے وہ زخمی ہو جاتا ہے ۔پیلٹ کے چھرّے لگنے کے بعد انسان زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ شدید قسم کا درد محسوس کرتاہے ۔پیلٹ چھرّے دُور سے انسان کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے، لیکن جب یہ ۵۰۰میٹر کی دُوری سے چلائے جائیں توشدید نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور سے جب یہ انسان کے نازک حصوں پہ جا کے لگتے ہیں، جن میں آنکھیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

۲۰۱۰ء سے آج تک کشمیر میں ہزاروں نوجوان پیلٹ بندوق کی چھرّہ فائرنگ سے جزوی اور ایک سو سے زائد نوجوان کلی طور پر اپنی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے ہیں اور ابھی تک پیلٹ گن کی وجہ سے ۱۴؍ افراد کی موت بھی واقع ہوچکی ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق: ’’حکومت ہند، اس ہتھیار کو پیلٹ گن کہتی ہے، لیکن اصل میںیہ پمپ ایکشن شاٹ گن Pump Action Shotgun)) ہے‘‘ ۔ایمنسٹی کا مزید کہنا ہے کہ:’ ’یہ اکثر جنگلی شکار کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ ہتھیار احتجاج کو قابو کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا ہے‘‘۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے بارہا حکومت ہند سے کہا ہے کہ اس مہلک ہتھیار پر پابندی عائدکریں ۔

 وادیِ کشمیر میں پیلٹ گن کی وجہ سے خواتین ،بزرگ اور پیر و جواں سب متاثر ہوئے ہیں، تاہم متاثرین میں اکثریت نوجوانوں کی ہے ۔۲۰۱۸ء میں جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والی کم عمر بچی حبہ نثار پیلٹ لگنے کی وجہ سے اپنی ایک آنکھ کی بینائی کھو بیٹھی۔اسی طرح سے ایک اور بچی انشاء مشتاق بھی ۲۰۱۶ء میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے اپنی دونوں آنکھوں کی روشنی سے محروم ہوکر محتاج ہو گئی ہے۔ یوں درجنوں نوجوان بینائی سے محرومی کے سبب زندگی محتاجی کے عالم میں گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

شمالی کشمیر سے ایک پیلٹ متاثر ہ نوجوان نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر انتہائی افسوس اور مایوسی کااظہار کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ’’ یہ ایک اُمید تھی وہ بھی چلی گئی اور ہم چاہتے تھے کہ اب کوئی نوجوان کشمیر میں اندھا نہ ہو، کوئی نوجوان زندگی بھر کے لیے محتاج نہ ہو، مگر عدالتی فیصلے نے ہم کو مزید مایوسی کا شکار بنا دیا ہے‘‘۔متاثرہ نوجوان کی دونوں آنکھیں پیلٹ لگنے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہو گئی ہیں۔ اس نے کہا کہ’’ جب کوئی نوجوان پیلٹ کی وجہ سے اپنی آنکھوں کی بینائی کھو دیتا ہے تو وہ لازماً ذہنی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے،وہ محتاج ہوجاتا ہے اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا، جس کی وجہ سے کبھی کبھی ایسے نوجوان خودکشی کی بھی کوشش کرتے ہیں‘‘۔

متاثرہ نوجوان نے بتایاکہ میرے ایک جاننے والے پیلٹ متاثر ہ نے گذشتہ سال خود کشی کرنے کی کوشش اس لیے کی کہ ان کے گھر میں دوپہر کا کھانا نہیں تھا اور یہ نوجوان اس گھر کا واحد کمانے والا فرد تھا، جس کی خود اپنی زندگی اب دوسروں کی محتاج ہو گئی ہے اور دیگر افراد خانہ بھی دو وقت کی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ کشمیر میں ایک تحقیق کے مطابق: ’’پیلٹ متاثرین میں سے ۸۵ فی صد نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔جس میں۲۵ء۷۹ فی صد معاشرے میں احساس تنہائی کا شکار،۱۵ء۷۹ فی صد پوسٹ ٹرامیٹک سٹرس ڈس آرڈر،۲۱ء۹ فی صد شدید پریشانی کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں‘‘۔ ڈاکٹروں نے ۳۸۰پیلٹ متاثرین کی تشخیص کے دوران نوٹ کیا: ’’۲۰۱۶ء کے بعد پیلٹ متاثرین مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں۔

پیلٹ گن متاثرین میں سے ۹۳ فی صد افراد ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ بہت سارے متاثرین نفسیاتی امراض کے ماہرین کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں‘‘۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بے شمار متاثرین اپنے آپ کو ذہنی امراض کا شکار نہیں سمجھتے ۔تاہم، بہت سارے مریضوں کی کونسلنگ اور دیگر ادویات کے ذریعے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر کشمیر میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عوام میںناراضی کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ عدالت ہی ایک ذریعہ ہے، جس کے ذریعے اس مہلک ہتھیار سے نوجوانوں کو بچایا جا سکتا تھا ،لیکن اب اس عدالتی فیصلے نے وادی میں مایوسی پھیلا دی ہے اور انتظامیہ کو من مانی کے لیے مزید کھلی اجازت مل گئی ہے۔

کشمیر کا لاک ڈاؤن اور کورونا لاک ڈاؤن؟

سہیل بشیر کار

چند دن قبل ایک معروف ٹی وی اینکر رویش کمار پروگرام میں کہہ رہے تھے کہ ’’  Covid 19 لاک ڈاؤن اور کشمیر کے لاک ڈاؤن کا موازنہ نہیں ہوسکتا۔ اصل میں کچھ لوگ غیر حقیقت پسندانہ طور پر ان دونوں لاک ڈاؤنز کوبرابر کی چیز قرار دے رہے ہیں‘‘۔ رویش نے کہا کہ ’’کشمیر کا  لاک ڈاؤن کچھ اور ہی تھا، بے مثل تھا، یعنی کہ جبر اور ظلم کی بے مثال صورت‘‘۔ یہ سن کر جی چاہا کہ کیوں نہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کا نقشہ کھینچوں اور کیوں نہ یہ پہلو بھی بیان ہو کہ کشمیریوں نے مصیبتوں کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے اور وہ بڑے بھیانک اَدوار کو برداشت کرکے نہ صرف زندہ رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوئے۔

یوں تو کشمیر میں ۹۰ کے عشرے سےہی ظلم و جبر کا سلسلہ چل رہا ہے، لیکن کشمیر نے کچھ ایسے اَدوار اور واقعات بھی دیکھے جن سے یوں لگا کہ شاید اس دور سے باہر آنا ناممکن ہے۔ چاہے وہ Catch and Kill آپریشن ہو، یا حکومت کی پشت پناہی میں اخوانی دہشت گردوں کا ظلم و قہر۔ چاہے ایک منصوبے کے تحت خواتین کی عصمت دری ہو یا ۱۰ ہزار سے زائد نوجوانوں کو اس طرح غائب کرنا کہ ان مظلوموں کا نام و نشان بھی نہ ملے۔

 کئی برسوں تک بغیر کسی مقدمے کے لوگوں کو نظربند رکھنا، یا تفتیشی سنٹروں میں لوگوں کو ناقابلِ بیان اور شرم ناک اذیتیں دینا، یہ سب کشمیریوں نے دیکھا، بھگتا اور مسلسل برداشت کرتے آرہے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود لوگ پُرعزم اور زندہ رہے ہیں۔ جس علاقے میں ہزاروں جواں بیٹوں کی میّتوں کو ان کے باپ کندھا دیں، اس علاقے کے لوگ کیسے جی رہے ہوں گے؟ یہ سوچ ہی اذیت ناک حدتک انسان کو مضطرب کر دیتی ہے، لیکن کشمیریوں نے یہ اندوہناک مناظر بھی انگیز کیے۔

گذشتہ برسوں میں بھارتی حکومت نے کچھ ایسے اقدامات کیے، جن سے نہ صرف ظلم کی ساری حدود پار ہوگئیں بلکہ کشمیریوں کو نہ ختم ہونے والے اندھیرے میں دھکیل دیا گیا۔ اگرچہ ۲۰۱۶ء سے ہی حکومت نے سخت اقدامات شروع کیے، جن میں حریت قائدین کو فرضی مقدمات میں پھنسانا وغیرہ وغیرہ، لیکن جولائی ۲۰۱۹ء کے آخری ہفتہ سے ہی وادیِ کشمیر میں بھارتی حکومت نے کچھ ایسی سرگرمیاں شروع کیں کہ ہر کشمیری کہنے لگا: ’’کچھ انہونی ہونے والی ہے‘‘۔ اگست کی پہلی تاریخ سے ان اقدامات میں اور شدت آئی تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ بہت کچھ خراب ہونے والا ہے، خوف و دہشت کا ماحول چاروں طرف چھا گیا، ۱۰ لاکھ فوجیوں کے باوجود یہاں اضافی طور پر پیراملٹری فورسز منگوائی گئی۔

۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو سویرے ہر طرف کرفیو کا اعلان ہونے لگا۔ لینڈلائن، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سب بند تھا، حتیٰ کہ کیبل نیٹ ورک بھی بند۔ جماعت اسلامی پر تو بہت پہلے ہی پابندی لگادی گئی تھی۔ جے کے ایل ایف پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی اور اس کے اکثر کارکن گرفتار تھے۔ حریت کی چھوٹی اور بڑی قیادت کو نظر بند کیا گیا تھا۔ ۵؍اگست کو مختلف ذرائع سے معلوم ہونے لگا کہ کشمیر میں ۱۸ ہزار افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، حتیٰ کہ دہلی نواز لوگوں کو بھی۔ تین سابق وزراےاعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، اور محبوبہ مفتی نظر بند کیے گئے۔ وہی محبوبہ مفتی جو کچھ ہی مہینوں پہلے بی جے پی کی حکومت میں ساتھی اور حلیف تھیں۔ شاہ فیصل جو کبھی ’نوجوان قیادت‘ کی حیثیت سے کُل ہند میں اُبھارے جارہے تھے، وہ بھی نظر بند کر دیے گئے ۔ انھوں نے کچھ مہینے قبل بھارتی سول سروس سے استعفا دیا تھا اور کشمیر کے مسئلے کے لیے اپنے انداز سے میدان میں اتر چکے تھے۔

 ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ جس کسی فرد کی ۵۰  یا اس سے زیادہ افراد پر گرفت تھی وہ گرفتار کرلیا گیا ۔ایسا لاک ڈاؤن کہ کسی کو کسی کی خبر نہ تھی۔ لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا تھا۔ دکانیں، کاروباری ادارے آٹھ ماہ تک بند رہے۔ میرے ماموں حج پر تھے، ہمیں یا انھیں ہماری کوئی اطلاع نہ تھی۔ میرے انتہائی قریبی دوست اپنی اہلیہ جو کہ حاملہ تھی اور کافی بیمار بھی، کے ساتھ سری نگر میں تھے، ان کی کوئی اطلاع نہ تھی۔ ان کے نوزائیدہ بچے کا انتقال ہوگیا اور اس کی اطلاع دینے کے لیے انھیں خود میرے گھر آنا پڑا۔ ان واقعات سے اندازہ ہوگا کہ لوگوں کو کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ ۷۱  دن تک فون بند تھے۔ آج کے دور میں کوئی تصور کر سکتا ہے ایسی زندگی کا؟ اب بھی انٹرنیٹ محض 2G سپیڈ پر چل رہا ہے۔

 اخبارات کے مالکان کو یہ حکم دیا گیا کہ ’’خبر وہی چھپے جو حکومت کے خلاف نہ ہو‘‘۔ کئی دنوں تک تو اخبارات کی اشاعت بھی روک دی گئی۔ پھر اخبارات میں اداریہ لکھنا اور شائع کرنا بھی بند کیا گیا۔ انھیں سخت ہدایت دی گئی کہ کوئی ایسا مضمون نہ چھپے، جس میں موجودہ حالات کا تذکرہ ہو۔ بی بی سی نے جب مقامی احتجاج کی رپورٹ کی، تو کشمیر کے گورنر نے کھلے عام انھیں دھمکی دی۔ ایسے حالات میں کشمیریوں نے نہایت ہی دانش مندانہ رویہ دکھایا۔ وہ کسی بڑے احتجاج کے لیے باہر نہیں نکلے۔ وہ جانتے تھے کہ ہندستان اپنی طاقت کا بے دریغ استعمال کرے گا۔ ہزاروں جانیں لے گا اور دنیا کو ذرائع ابلاغ پر اس شدید پابندی کے باعث کوئی خبر بھی نہ ہوگی۔

اگرچہ ہر کوئی دُکھی اور مجروح ہے، لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ ہمیں جینا ہوگا، ہماری جدوجہد طویل ہوگی۔ ان مشکل حالات میں کشمیر کے لوگوں نے اگرچہ دکانیں بند رکھیں، لیکن سڑکوں پر نہیں آئے۔ انھوں نے معاشرے کے کمزور افراد کا خاص خیال رکھا۔ معمولات اگرچہ متاثر رہے لیکن زندگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اسکول بند رہے، لیکن یہ قوم جانتی ہے کہ ترقی اور عروج کے لیے تعلیم کس قدر اہم ہے، لہٰذا اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم یافتہ افراد نے مفت ٹیوشن سنٹر کھولے، جہاں بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دی جانے لگی۔ انھیں معلوم ہے کہ انھیں طویل جدوجہد کرنی ہے، اور تازہ دم ہونے کے لیے کبھی پلٹنا بھی پڑتا ہے، غرض کشمیریوں نے جینا سیکھا۔

‌ آج پوری دنیا میں لاک ڈاؤن ہے، لیکن گرفتاریاں نہیں ہیں، ظلم و جبر نہیں ہے، انٹرنیٹ چل رہا ہے، لوگ فون کے ذریعے اپنوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، حکومتی امداد ہے۔ ایسا لاک ڈاؤن کشمیریوں کے لیے سخت ہولناک لاک ڈاؤن کے مقابلے میں کچھ بھی نسبت نہیں رکھتا۔ کشمیری تو سخت جاں آزمایش میں بھی جینا سیکھ چکا ہے۔کہاں وہ لاک ڈاؤن اور کہاں یہ والا کورونا لاک ڈاؤن!

کشمیر کی شناخت پر بھارتی حملہ؟

عارف بہار

بھارتی حکومت نے کشمیر کی قومی، نسلی اورجغرافیائی شناخت کی تبدیلی اور خصوصی قوانین کے خاتمے کے آٹھ ماہ بعد اپنے اصل منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔ ’جموں وکشمیر ری آگنائزیشن آرڈر۲۰۲۰‘ کے نام سے جاری کردہ ایک حکم نامے کے ذریعے ریاستی ڈومیسائل کی نئی تشریح کی گئی، جس کے تحت کشمیر میں پندرہ سال تک مقیم رہنے والے، اور یہاں سات سال تک تعلیم حاصل کرنے، اور دسویں اور بارہویں جماعت کا امتحان دینے والے ملازمت کے حق دار ہوں گے۔

 ماضی میں ۳۵-اے کے تحت ان تمام قوانین کی تدوین اور تیاری کا اختیار کشمیر اسمبلی کو حاصل تھا۔ ان دفعات کے خاتمے کے بعد اب بھارتی حکومت نے یہ سارے کام اپنے ذمے لے لیے ہیں۔ ڈومیسائل قانون کی نئی تشریح کے مطابق اب بھارتی حکومت کے کشمیر میں سات سال تک تعینات رہنے والے اعلیٰ افسروں، آل انڈیا سروس آفیسرز، بھارتی حکومت کے کشمیر میں نیم خودمختار اداروں، کارپوریشنوں، پبلک سیکٹر بنکوں، بھارتی یونی ورسٹیوں کے اہل کاروںکے بچے اور وہ خود یہاں کشمیر کے لیے مختص اسامیوں پر ملازمت کرنے کے اہل ہوں گے۔ فوری طور پر نافذالعمل اس قانون کے تحت بھارتی باشندے کشمیر میں مشتہر کردہ اور غیر مشتہر شدہ اسامیوں پر درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ اس قانون کے نفاذ کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا، جب دنیا کی توجہ کورونا بحران کی طرف ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے ٹویٹر پیغامات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے کہ ’’ نریندر مودی کورونا کی جانب دنیا کی توجہ مبذول ہونے کا فائدہ اُٹھاکر کشمیر میں اپنے فاشسٹ ’ہندوتوا‘ ایجنڈے پر عمل درآمد کررہا ہے، اور دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے‘‘۔

وزیراعظم پاکستان نے اس قانون کو’’ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے اسے ’’چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا‘‘، اور ’’بھارت کے نئے قانون کو کلی طور پر مسترد کردیا ہے‘‘۔آزادکشمیر کے صدر مسعود خان، اور وزیراعظم فاروق حیدرنے بھی بھارت کے نئے قانون کی مذمت کی ہے۔

اس قانون کی زد چونکہ بلا تمیز مذہب اور علاقہ ریاست جموں وکشمیر کے تمام باشندوں پر پڑ رہی تھی، اس لیے کشمیری مسلمانوں سے زیادہ جموں کی ہندو آباد ی اور نوجوان نسل نے بھی اس فیصلے کے خلاف بے چینی ظاہر کرنا شروع کردی ہے۔ جموں کے ہندو نوجوانوں کو اس وقت وادی کے پریشان حال مسلمان طلبہ سے مسابقت درپیش ہے، اور وادی کی تین عشروں سے مخدوش صورتِ حال نے جموں کے ہندو طلبہ کے لیے مقابلے میں آسانی پیدا کردی ہے۔ مگر جب پورے بھارت سے ایک نئی کلاس یہاں مقابلے اور مسابقت میں اتر رہی ہے تو جموں کی ہندو آبادی اور نوجوان نسل کے لیے ایک نیا دردِ سر سامنے کھڑا نظر آیا۔

اس خطرے کو جموں میں پوری طرح محسوس کرتے ہوئے جموں کے علاقے کے ہندو طلبہ و طالبات نے مودی حکومت کو برسرِ عام ویڈیو پیغامات میں دھمکانا شروع کیا کہ ’کورونا وائرس‘ کا معاملہ ختم ہونے دو، پھر دیکھنا پورا جموں سڑکوں پر ہوگا۔ خود کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اس فیصلے کی یک زبان ہوکر مخالفت کی۔ اس طرح مخالفانہ ماحول کو اُبھرتا دیکھ کر بھارتی حکومت نے فوراً ہی اس قانون میں مزید ترمیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ ’’گریڈ ایک سے ۱۷ تک تمام اسامیاں جموں وکشمیر کے پشتینی باشندوں کے لیے ہی مختص رہیں گی‘‘۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے احتجاج اور مفاد کو دو مختلف زاویوں سے دیکھتی اور عمل کرتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اس قانون کی زد صرف وادی کے نوجوانوں کے مفاد پر پڑتی تو نریندر مودی حکومت احتجاج اور مطالبات کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہ دیتی۔

اس دوران بھارت میں آباد کشمیری پنڈت اور معروف اداکار انوپم کھیر نے کشمیری زبان میں کشمیری مسلمانوں کو ایک زہر آلود پیغام دیا ہے۔ یادرہے انوپم کھیر مسلمان دشمن بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہائی قریب ہے۔ اس نے کشمیری زبان کے تین الفاظ ’’رلو(ہم سے مل جاؤ)، گلیو (مرجاؤ)، ژلیو(بھاگ جاؤ)‘‘ پر مشتمل پیغام میں کشمیری مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ ’’تمھیں بھارت میں  گھل مل جانا چاہیے، بصورتِ دیگر تمھارے سامنے مرنے یا بھاگ جانے ہی کے دوراستے ہیں‘‘۔ انوپم کھیر کی یہ سوچ ایک فرد کے خیالات کی نہیں، بلکہ ایک پورے نسل پرست فسطائی نظام اور  نفرت انگیز ذہنیت کی عکاس ہے، اور بھارتی حکومت کے تمام اقدامات کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے۔ اس سوچ میں وہی ہٹلر، مسولینی اور راتگو ملادیچ جھلکتے اور جھانکتے نظر آرہے ہیں، جن کی جانب حکومت ِ پاکستان ۵؍ اگست کے بعد سے دنیا کی توجہ مبذول کراتی آئی ہے۔

بھارت کے نئے قانونِ کشمیر پر بھارت کا اصل اور طویل المیعاد ایجنڈا فلسطین اسٹائل پر عمل درآمد کا آغاز کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی اور مسلم شناخت کو آبادی کے تناسب کی تبدیلی کے ذریعے بدلنا تھا۔ بھارت ۷۱برس تک اس راستے پر کبھی کچھوے، تو کبھی خرگوش کی چال چلتا رہا۔ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے بعد نریندر مودی نے اس سمت میں خرگوش کی چال سے پیش قدمی کرنا شروع کی ہے۔

بھارت جس طرح کشمیر میں اپنا ایجنڈا یک طرفہ طور پر نافذکرنا چاہتا ہے، یہ دنیا کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اس سے صاف لگتا ہے کہ امریکا اور کچھ دوسری طاقتیں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر، حقیقت میں بھارت کو کشمیر میں ہندوتوا ایجنڈے پر عمل درآمد کرواتے ہوئے اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی ٹھوس بنیادیں رکھنے کا موقع فراہم کررہی ہیں۔ اب بھارت نے کورونا کا فائدہ اُٹھا کر اس جانب عملی پیش قدمی شروع کردی ہے۔ یہ کشمیری مسلمان آبادی کو اپنے علاقے میں اقلیت میں بدلنے کی جانب اُٹھایا جانے والا ایک ٹھوس قدم ہے۔ اس کے بعد بھارت کے بڑے کاروباری گروپ کشمیریوں سے اونے پونے داموں زمینوں کی خریداری کرکے اس منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کردیں گے۔ یہ وہ خطرہ ہے جس کی مدتوں سے نشان دہی کی جاتی رہی۔ بھارت کی اس منظم کوشش کو حالات کی قید میں پھنسے صرف کشمیری ناکام نہیں بنا سکتے۔ اس کام کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کی ضرورت ہے۔ حکومتِ پاکستان کو اس سلسلے میں بیان بازی سے آگے بڑھ کر کوئی پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔

عصرِحاضر جسے زعم ہے کہ وہ’جدید‘ ہے، لیکن ظلم و زیادتی کے باب میں یہ ’جدید‘ اُتنا ہی بھیانک اور قدیم ہے، جتنا کہ ظلم و ستم سے لتھڑا تاریک ماضی ہوا کرتا تھا۔ ظلم کی طرف داری اور ظلم کی پردہ داری کےلیے عصرِحاضر کے مقتدر ملکوں، طبقوں اور ’غیرسرکاری تنظیموں‘ کی سیاہ کاری کا گندا کھیل برابر عروج پر ہے۔ اس ظلم کی ایک شرم ناک مثال بنگلہ دیش میں موجودہ عشرے میں برابر پیش کی جارہی ہے۔ لیکن عالمی ادارے، ملکوں کے حکمران اور انسانی حقوق کے ’سوداگر‘ سب خاموشی سے آنکھیں بند کیے دکھائی دیتے ہیں۔ ظلم کے اس طوفان نے ایک اور سعید روح مولانا عبدالسبحان کو نگل لیا ہے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا عبدالسبحان ۱۹فروری ۱۹۳۶ء کو مومن پارہ، ضلع پبنہ مشرقی بنگال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی نعیم الدین احمد ایک دینی اسکالر تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم رام چندر پور سے حاصل کی، ۱۹۵۲ءمیں مدرسہ عالیہ سراج گنج سے فاضل اور ۱۹۵۴ء میں کامل کی سند اس اعزاز سے حاصل کی کہ مدرسہ بورڈ کے مشرقی پاکستان بھر کے امتحان میں ساتویں پوزیشن پر آئے۔ بنگلہ کے علاوہ، عربی، اُردو میں دسترس کے ساتھ انگریزی اور فارسی کا اچھا فہم رکھتے تھے۔ فاضل کی سند لیتے ہی خداداد قابلیت کی بنیاد پر ، اپنے مدرسے میں تدریسی ذمہ داریاں ادا کرنے لگے، اور اس کے ساتھ مزید تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔ اسی زمانے میں مولانا مودودی کی کتب اورکلامِ اقبال سے والہانہ عشق پیدا ہوا، اورپھر جماعت اسلامی کے قافلے کے ہراوّل دستے میں دعوت، تربیت اور خدمت پر مبنی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ مولانا عبدالسبحان ضلع پبنہ میں جماعت اسلامی کے دعوت و تنظیم میں تاسیسی رہنما تصور کیے جاتے تھے۔
۱۹۶۵ء میں پبنہ شہر منتقل ہوگئے، جہاں جماعت کے تنظیمی اور رفاہی نظم و ضبط کے ذمہ دار مقرر ہوگئے اور کچھ ہی عرصہ بعد جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستانی حکمرانوں کی بے تدبیری، سیاست دانوں کی خودغرضی اوربھارتی پشت پناہی سے شروع ہونے والی بدامنی اور تخریب کاری کے دوران امن کمیٹی پبنہ کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ اس دوران مولانا عبدالسبحان نے غیربنگالی اہلِ وطن کو عوامی لیگی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل و غارت سے بچانے کے لیے اپنی جان تک داؤ پر لگادی اور تخریب کاری روکنے کے لیے شہری سطح پر انتظامات کیے۔ دسمبر ۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہجرت کرکے مغربی پاکستان آگئے اور پھر ۱۹۷۵ء میں واپس بنگلہ دیش چلے گئے۔
۲۰۰۱ء کے پارلیمانی انتخابات میں پبنہ سے پانچویں بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور اس کے دو سال بعد۲۰۰۳ء میں ، یعنی ۱۹۷۱ء کے ۳۲برس بعد عوامی لیگ نے ان کے خلاف اچانک ایک فوجداری ’مقدمہ‘ درج کرا دیا، جس میں کہا گیا کہ:’’ اپریل تا اکتوبر ۱۹۷۱ء انھوں نے ۴۵۰؍افراد کو قتل کیا، جن میں زیادہ تر ہندو تھے۔ گھروں کو آگ لگائی اور لوٹ مار کی‘‘۔ جب حسینہ واجد (عوامی لیگ) کی حکومت ایک باقاعدہ سازش کے تحت قائم کی گئی تو اس حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف تواترکے ساتھ مقدمات چلانے کے لیے ۲۰۱۰ء میں نام نہاد کرائمز ٹریبونل (ICT) بنائے۔
اِس شیطانی کھیل کو آگے بڑھانے کے لیے ۲۰ستمبر ۲۰۱۲ء کو، جب مولانا عبدالسبحان ڈھاکہ سے اپنے گھر پبنہ شہر جارہے تھے کہ راستے میں پڑنے والے بنگ بندو پُل پر انھیں گرفتار کرلیا گیا، اور یہ بتایا گیا: ’’۲۰۰۳ء کے قائم شدہ مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔ اگلے روز خصوصی ٹریبونل میں پیش کرکے مقدمے کی کارروائی شروع کی۔
اس خانہ ساز عدالت نے ۳۱دسمبر ۲۰۱۳ء کو مقدمے کا ڈراما شروع کیا اور ۱۸فروری ۲۰۱۵ء کو آپ کو سزاے موت سنائی۔ ۱۸مارچ ۲۰۱۵ء کو مولانا عبدالسبحان نے جھوٹے مقدمے، یک طرفہ کارروائی اور سرکاری گواہوں پر جرح کرنے کے حق کو سلب کرنے کو بنیاد بناکر سپریم کورٹ میں اپیل دائرکی۔ظاہر ہے کہ جب سب چیزیں ہی ایک جہل اور حددرجہ جعل پر مبنی تھیں تو شریک ِ جرم بنگلہ دیش سپریم کورٹ کیسے اپیل کا میرٹ پرفیصلہ دیتی؟ یوں اپیل مسترد ہوئی اور  مولانا عبدالسبحان تب سے اب تک جیل کی پھانسی گھاٹ کوٹھڑی میں قید تھے اور کسی بھی وقت تختۂ دار کے لیے بلیک وارنٹ کے اجرا کے منتظر تھے۔
بڑھاپے اور مسلسل قید کی وجہ سے مولانا عبدالسبحان متعدد امراض کے شکارہوچکے تھے۔ ۲۴جنوری ۲۰۲۰ء کو جب صحت کی حالت بہت زیادہ بگڑگئی تو جیل حکام کی سفارش پرڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ۱۴فروری ۲۰۲۰ء کو دن ڈیڑھ بجے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے نائب امیر ، بزرگ پارلیمنٹیرین ، دینی رہنما اور ۸۴سال کے بزرگ مولانا عبدالسبحان انتقال فرماگئے۔ یوں ۱۹۷۱ء میں برہمنی سامراجیت کےخلاف کھڑے رہنے اور پھر آخردم تک بھارت کی طفیلی اور ’را‘ کی پروردہ حکومت کے سامنے ڈٹ کر دیوار بننے اور اسلامی اُمت کے موقف کی تائید کرنے والے مجاہد نے جان کانذرانہ دے کر عہد ِ وفا نبھایا۔  
ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جو انسانی حقوق کے نام پر دکان سجاتے ہیں، انھیں نہ ایسے بے معنی فوجداری مقدمات میں کوئی خرابی نظر آتی ہے، نہ انھیں جعلی عدالتی عمل میں کچھ قباحت دکھائی دیتی ہے، اور نہ ایسی اموات اور پھانسیوں پر ان کے ضمیر پہ کچھ بار پڑتا ہے۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے تعزیتی بیان میں کہا: ’’مولانا عبدالسبحان صاحب ایک متنازعہ اور سیاسی تعصب سے آلودہ انتقامی مقدمے میں جعلی اور عوامی لیگی گواہیوں کی بنیاد پر سزاے موت سے منسوب کیے گئے۔ وہ گذشتہ آٹھ برس سے جیل میں قید تھے۔ حالانکہ ۱۹۷۲ء سے لے کر اب سے چند برس پہلے تک، بنگلہ دیش میں کبھی کسی نے، مولانا عبدالسبحان کو کسی فوجداری جرم کا ملزم قرار نہیں دیا تھا۔ اس دوران میں انھوں نے بنگلہ دیش کی سیاسی، سماجی، تعلیمی، معاشی اور دینی ترقی کے لیے بے پناہ خدمات انجام دیں۔ بنگلہ دیش میں اسلامی شعائر کی سربلندی اور عدل و انصاف کا دور دورہ دیکھنا ان کا خواب تھا۔ ایک مدت سے وہ شدید بیمار تھے۔ اہلِ خانہ نے بار بار اپیل کی کہ انھیں علاج کی سہولت مہیا کی جائے، لیکن موجودہ حکومت نے   کسی اپیل پر دھیان نہ دیا۔ اور جب حالت بہت بگڑگئی تو چند روز کے لیے اس طرح ہسپتال بھیجا کہ علاج ان کے لیے بے معنی ہو کر رہ گیا‘‘۔

پاکستان اور عالم اسلام ،عوامی جمہوریہ چین کے بارے میں دوستانہ رجحان اور خوش گوار سوچ رکھتا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چین کے بارے میں یہ تصور موجود ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے سیاسی معاملات میں عدم مداخلت اور توسیع پسندانہ طریقوں سے اپنے آپ کو بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی معروف ہے کہ چین دوسرے ملکوں کے تعلقات میں ان کی قومی عزت نفس اور وقار کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر پاکستان سے چین کے اور چین سے پاکستان کے تعلقات کی ایک قابلِ قدر تاریخ ہے۔ ان تمام امور کی بنیاد پر ہم عوامی جمہوریہ چین کی تعمیر ، امن اور یک جہتی کو دوستی کا مرکزی نکتہ تصور کرتے ہیں۔ 
اسی طرح ہم یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ چین کی دور اندیش قیادت واقعات اور حوادث کو مدنظر رکھتے اور اپنی پالیسیاں تشکیل دیتے وقت چند پہلوئوں پر نظرثانی کرے۔ بلاشبہہ عمومی طور پر انھیں مذہب اور مذہبی جذبات سے کچھ نسبت نہیں، لیکن بہرحال، وہ انسانی تہذیب اورانسانی معاشرے میں مذہب کے گہرے اثرات سے واقف ہیں۔ 
اسی طرح باریک بین چینی حاکموں کو اس چیز کا بھی علم ہے کہ ستاون ،اٹھاون مسلمان حاکم، مسلم اُمت کے جذبات سے جتنے بھی دُور اور سامراجیوں کے قریب تر ہوں، وہ ایک الگ اکائی ہیں۔ حاکموں کے بر عکس مسلم امت کے دل ایک وجود کی حیثیت سے دھڑکتے ہیں۔ رنگ ونسل اور علاقے یا زبان کی تقسیم کو نظر انداز کرتے ہوئے، وہ ایک تہذیب ہیں۔ یہ بات بھی چین کے دُوراندیش حاکم جانتے ہیں اور پھر زمینی حقائق بھی یہ ہیں:چینی ترکستان ،وسطی ایشیا ، ترکی، جنوبی ایشیا، انڈونیشیا سے بوسنیا اور مراکش تک ایک جغرافیائی وحدت ،مسلم اُمہ کے نام سے منسوب ہے۔ یہ وحدت نہ امریکا کی ہمسایہ ہے اور نہ یورپ سے منسلک، بلکہ اس کی بڑی آبادیاں چین ہی سے متصل اور قریب تر ہیں (جیسے مسلمانوں کے تینوں بڑی آبادیوں کے ممالک ،انڈونیشیا ،پاکستان، بنگلہ دیش)۔ اس لیے ،ایک تو اس فطری ہمسائیگی کا تقاضا ہے کہ ہمسایے کے جذبات کا پاس ولحاظ رکھا جائے۔ اور دوسرا یہ کہ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے مسلمان حاکموں کے بجاے کھیتوں، قصبوں، کہساروں،میدانوں اور صحرائوں میں بسنے والے مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو سمجھنے کے لیے، جغرافیائی سرحدوں سے بالا تر ہوکر ، غور وفکر کی کوشش کریں۔
جیسا کہ اُوپر ذکر ہوا ہے، ہم چین کی جغرافیائی وحدت کا احترام کرتے ہیں۔اس کی ترقی پر خوشی محسوس کرتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی ہم کہنا چاہتے ہیں کہ: چینی حکومت ،چین سے منسلک سنکیانگ اور وہاں بسنے والے اویغور مسلمانوں کے ساتھ شفقت، احترام اور ان کی اقدار کے پاس ولحاظ کی راہ پر چلے، تو یہ قدم نہ صرف چین کے داخلی استحکام ،بلکہ خود مسلم امت سے چین کے خوش گوار تعلقات کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے ساتھ ہی بعض مغربی ممالک کے اس پراپیگنڈے کا سدِّباب بھی ہوسکے گا جو وہ جدید چینی سلطنت میں پیدا ہونے والے تضاد کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں ۴۰۳ صفحات پر مشتمل خود چین کے جو خفیہ سرکاری کاغذات The Xinjiang Papers  کے نام سے دنیا کے سامنے آئے ہیں ۔ ہم ان کی تفصیلات اور جزئیات پر بحث سے قطع نظر، یہاں پر پاکستان کے مؤقر روز نامہ Dawn  کا اداریہ پیش کر رہے ہیں، تاکہ معاملے کی گمبھیرصورتِ حال کا اندازہ ہو سکے:
’’یہ ۳۰۴ صفحات، بہت واضح الفاظ میں ایک ایسا ہوش ربا اور منجمد کر دینے والا منظر پیش کرتے ہیں، جس سے یہ نظر آتا ہے کہ چینی مسلمانو ں پر مشتمل اقلیت کی شناخت کو مٹادینے کا پروگرام پیش نظر ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر بدقسمتی کی بات یہ سامنے آ رہی ہے کہ انھیں نکال پھینکنے کی یہ حکمت عملی چینی حکومت کی پالیسی کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی ان خفیہ دستاویزات کو ایک گم نام ذریعے نے نیویارک ٹائمز [۱۶نومبر ۲۰۱۹ء] کے ذریعے بے نقاب کیا ہے ، اور یوں اس سوچ اور اس عمل پر روشنی ڈالی ہے، جس کے تحت چینی مسلمانوں اور خاص طور پر اویغور مسلمانوں کو ’دوبارہ سبق سکھانے‘ [یا پڑھانے] کی غرض سے بڑے پیمانے پر نظر بند کیا گیا ہے اور انھیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کاغذات سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ چین، پُرامن باشعور مسلمانوں اور انتہا پسندوں سے متصادم ہے، جسے مذہبی حوالے سے جبر کی خالص ترین شکل کہا جا سکتا ہے۔ خفیہ صفحات میں ان تقاریر کے متن بھی شامل ہیں، جن میں مبینہ طور پر صدر ژی چن پنگ نے سنکیانگ میں انتہا پسندی کے خلاف قومی سلامتی کے اداروں کے ذریعے کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح کی ایک تقریر میں ’انتہا پسندی ‘ سے ’متاثر‘ افراد کی امداد کے لیے ’تکلیف دہ علاج معالجے ‘ کی حمایت کی جارہی ہے اور کہا جا رہا ہے ’ہرگز رحم نہیں کرنا ‘۔ منظر عام پر آنے والی دستاویزات کے مطابق سرکاری اہل کاروں کی رہنمائی کے لیے ایک گائڈ کا کردار سامنے آتا ہے کہ جب پریشان حال اور دکھی اویغور [مسلمان]اپنے خاندان کے لوگوں کی ’گم شدگی ‘ کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، تو وہ [گائڈ] بتاتا ہے کہ ’’سرکاری حکام کی ہدایت ہے کہ وہ لوگ اسلام پسندانہ وائرس اور ’انقلابیت‘ سے ’متاثر‘ ہو چکے تھے، اس لیے ان کی صحت کی درستی اور انھیں ٹھیک کرنے کے لیے ’قرنطینہ ‘[متعدی امراض سے بچائو کے مرکز ] میں رکھنے کی ضرورت تھی‘‘۔ مزید برآں ، نہ چاہنے کے باوجود اویغور افراد خانہ کے پاس، سرکاری اہل کاروں کے ان بیانات کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ زیادہ پریشانی واضطراب کا مظاہرہ کریں گے تو ان کے عزیزواقارب کی نظر بندی کا زمانہ زیادہ لمبا ہو سکتا ہے ۔
’’کچھ عرصے سے مغربی ذرائع ابلاغ پر یہ بات بڑے تسلسل سے سامنے آ رہی ہے کہ ’نظربندی‘ یا حراستی کیمپوں میں ۱۰ لاکھ اویغور قیدوبند سے دو چار ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت [چین ] سے اعلیٰ معاشی مفادات وابستہ رکھنے والے ممالک ، ان اطلاعات کو عام طور پر پراپیگنڈا کہانیاں کہہ کر نظر انداز کرتے ہیں ، اور انھیں مسترد کر دیتے ہیں ۔ خود چین نے ان پیپرز کو ’بے نقاب‘ کرنے والے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ انتہا پسندی کے خلاف ہماری جدوجہد کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، جسے سنکیانگ میں ہی بڑی کامیابی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے‘‘۔ جو دراصل رحم کی قدر سے مکمل طو ر پر خالی ہے۔ تاہم، اس میں اہم ترین بات یہ ہے کہ [چین نے ] ان دستاویزات کو متنازعہ کہنے سے گریز کیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس نے چینی مسلمانو ں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے بے خبری ظاہر کرنے کو ایک مشکل کام بنا دیا ہے۔ دوسرے بہت سے ملکوں کی طرح اگرچہ خود پاکستان میں بھی انسانی حقوق کا باب داغ دار ہے، لیکن اس کے باوجود جب وہ کشمیریوں اور روہنگیا [مسلمانوں ] کے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بات کر سکتا ہے، تو کیا وہ اویغور وں کے بارے میں خاموش رہ سکتا ہے ؟‘‘ (اداریہ روز نامہ Dawn، کراچی،۲۰ نومبر ۲۰۱۹ء ) 
’چینی دستاویزات‘ اور اس اداریے کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ چینی مسلمانوں اور اویغور مسلم آبادی ، دونوں ہی کے حوالے سے یہ دستاویزات، مخصوص ریاستی رجحان کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان دستاویزات میں ’سخت تادیبی کارروائی‘ اور ’دماغ درست‘ کرنے کا اسلوبِ بیان واضح ہے۔ تیسرا یہ کہ لفظ ’انتہا پسندی‘ کو مسلمانوں کے قائم مقام کے طور پر برتنے کا مغربی رجحان یہاں پر بھی موجود ہے۔چوتھا یہ کہ  دنیا کے ممالک اپنے مادی مفادات کو عزیز تر رکھتے اور انسانی مسئلے کو نظر انداز کرتے ہیں۔ پانچواں یہ کہ دنیا اور پاکستان کو اس معاملے میں تادیب اور تعذیب سے بچانے کے لیے ہمدردانہ کوششیں کرنی چاہییں۔ چھٹا یہ کہ چین نے ان دستاویزات کی مذمت تو کی ہے لیکن متنازعہ نہیں کہا۔
دنیا کے حالات اور خصوصاً ہمارے اس علاقے کے حالات جس رخ پر جا رہے ہیں ، ان کا تقاضا ہے کہ نہ صرف چین میں بقاے باہم کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے، بلکہ اویغور مسلمانوں کے داخلی وتہذیبی تشخص کا اعتراف واحترام کیا جائے۔ مبینہ طور پر اویغور مسلمانوں کی نسلی تطہیر اور غالب ’ہان چینی نسل‘ کی سنکیانگ میں آبادکاری، ممکن ہے کہ چند برسوں میں ممکن بناکر مقامی آبادی کا توازن تبدیل کردیا جائے، لیکن اس کاوش کے منفی اثرات بہت دُور رس ہوں گے۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ اویغور آبادی کو ہمدردی سے اپنے مذہبی، ثقافتی اور معاشی معاملات چلانے کے لیے شریک ِ سفر بنایا جائے ، جس طرح کہ چین کی جرأت مند حکومت نے ’ایک ملک، اور دو نظام ‘ کا تجربہ کر کے    نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسی طرح ضرورت یہ ہے کہ ’ایک ملک اور باہم احترام‘ کے راستے پر بھی چلاجائے۔ اس طرح چین زیادہ مضبوط ہو گا اور ان تضادات کو گہرا کرنے کی مغربی سازشوں کو ناکام بھی بنا یا جاسکے گا اور مسلم اُمت میں تشویش کو ختم کیا جاسکے گا۔
_______________
 

بنگلہ دیش میں انتخابی عمل، ہوبہو تصویر ہے مقبوضہ کشمیر کے نام نہاد انتخابی ڈراموں کی۔ بنگلہ دیش کا ۱۱واں پارلیمانی الیکشن ایک ایسا کھیل تھا کہ جس میں ہر مدمقابل کھلاڑی کے ہاتھ بندھے تھے، جب کہ محبوب کھلاڑی کے ہاتھ کھلے ہوئے تھے اور پھر منصف بھی کھلے ہاتھ والی ٹیم کا رکن تھا۔ حسینہ واجد کی قیادت میں عوامی لیگ ۲۰۰۹ء میں برسرِاقتدار آئی، جس نے ۲۰۱۴ء میں جعلی مینڈیٹ کی بنیاد پر اگلے پانچ سال حکمرانی کی، اور اب اسے تیسری مرتبہ بھی ووٹ کی ضرورت تھی۔ حقائق اور واقعات چیخ چیخ کر گواہی دیتے ہیں کہ اس انتخابی ڈرامے کو عملاً بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے ڈیزائن کیا۔
گذشتہ سات برسوں کے دوران حسینہ واجد حکومت نے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو پھانسیاں دینے کے لیے افسانوی مقدموں کو نام نہاد ’خصوصی عدالتوں‘ میں چلایا۔ پھر جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر(اسلامی جمعیت طلبہ )کے کارکنوں کو جیلوں میں ڈالنے، بہیمانہ تشدد کرکے سیکڑوں کارکنوں کو معذور اور اپاہج بنانے، ملازمتوں سے برطرف کرنے کے علاوہ، جماعت کے اداروں اور نجی کاروباروں کو تباہ کرنے کے لیے ایڑی چوڑی کا زور لگا دیا۔ پھر جماعت اسلامی کی حلیف ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ (بی این پی) کی قیادت کو میدان سے نکال باہر کرنے کے لیے، اس کی سربراہ خالدہ ضیا بیگم کو ۱۷سال کی سزا سنا کر جیل میں ڈال دیا۔
اس پس منظر میں بنگلہ دیش میں ۳۰دسمبر ۲۰۱۸ء کو ایسا نام نہاد انتخاب ہوا کہ پارلیمنٹ کی ۳۰۰نشستوں میںسے ۲۸۸ سیٹیں جتوا کر، ۹۸ فی صد کامیابی حکمران عوامی لیگ کے نام کی گئی، جسے ہر عاقل انسان اور حسِ انصاف رکھنے والے فرد نے مسترد کیا۔ تاہم، نئی دہلی اور بیجنگ حکومتوں نے سربراہی سطح سے فوری طور پر انتخابی نتائج کو قبو ل کرکے مبارک باد کے پیغامات روانہ کیے، اور چند روز بعد ’اسلامی تعاون تنظیم‘(OIC) کے سیکرٹری جنرل نے بھی یہی کیا۔
حزبِ اختلاف نے اگرچہ الیکشن سے پہلے ہی دنیا بھر کی حکومتوں کے سامنے اور ذرائع ابلاغ پر یہ دہائی دی تھی کہ قبل از انتخاب دھونس دھاندلی کا طوفان اُٹھایا جا رہا ہے۔ ستمبر۲۰۱۸ء میں  ’ڈجیٹل سیکورٹی ایکٹ‘ پاس کر کے اخبارات و ذرائع ابلاغ کی آزادی  سلب کرلی گئی۔ پھر مدمقابل پارٹیوں کے اُمیدواروں اور لیڈروں کو قیدوبند، مقدمات کی بھرمار اور پولیس یا باقاعدہ منظم غنڈوں کے ذریعے ڈرا دھمکا کر انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی مہم چلائی گئی۔ حتیٰ کہ کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، اور جب کاغذات داخل ہوگئے تو آدھے سے زیادہ حلقوں میں اُمیدواروں کو ایک روز کے لیے بھی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اور جس روز رسمی انداز سے الیکشن کا انعقاد ہوا، اسی روز : ’’اندرونِ ملک مختلف حلقوں میں عوام کو ڈرا دھمکا کر عوامی لیگ کے انتخابی نشان ’کشتی پر مُہر لگانے پر مجبور کیا گیا‘۔(ڈیلی اسٹار، ڈھاکا، یکم جنوری ۲۰۱۹ء)
۳۰ دسمبر یومِ انتخاب کو بی بی سی کے نمایندے نے آنکھوں دیکھا حال دنیا بھر میں پہنچایا اور سنایا کہ: ’’ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی بیلٹ بکس بھر کر پولنگ اسٹیشنوں میں لائے جارہے ہیں‘‘۔ اور جب بنگلہ دیش کے دوسرے بڑے شہر چٹاگانگ میں متعین بی بی سی کے نامہ نگار نے  لکھن بازار میں ایک بھرا بیلٹ بکس، قبل از الیکشن دیکھ کر پریذائیڈنگ افسر سے سوال کیا: ’جناب یہ کیا ہے؟‘ تو متعلقہ افسر نے جواب دینے سے انکار کردیا۔ چٹاگانگ کے اس پولنگ اسٹیشن پر صرف سرکاری پارٹی کا نمایندہ موجود تھا، اور یہی حال دوسرے پولنگ اسٹیشنوں کا ہے‘‘(بی بی سی ویب سائٹ، ۳۰دسمبر ۲۰۱۸ء)۔’’خود ڈھاکا شہر کے متعدد مقامات پر عوامی لیگ نے انتخابات شروع ہونے سے پہلے ہی بیلٹ بکس، ووٹوں سے بھر دیے، اور لوگوں کو مصروف رکھنے کے لیے گھنٹوں تک لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا رکھا گیا، تاکہ ہجوم سے تنگ اور تھکن سے مجبور ہوکر لوگ ووٹ ڈالے بغیر خود ہی گھروں کو واپس لوٹ جائیں‘‘۔(ڈیلی ساؤتھ ایشین مانیٹر، یکم جنوری ۲۰۱۹ء)
انتخابات کے روز بھی لوگ اس ظلم پر بڑے پیمانے پر چیخ پکار کرتے رہے، لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی: ’’یاد رہے، قانون نافذ کرنے والے چھے لاکھ سیکورٹی اہل کاروں کی نگرانی میں انتخابات ہورہے تھے۔ انتخابی عملے اور کئی جگہوں پر سیکورٹی اہل کاروں نے عوامی لیگ کے لیے مُہریں لگاکر ’انتخاب‘ کو ’محفوظ‘ بنایا۔ ڈھاکا یونی ورسٹی میں قانون کے پروفیسر آصف نذرل نے بیان کیا : بہت سے پولنگ اسٹیشنوں پر عوامی لیگ کے علاوہ کسی دوسری پارٹی کے اُمیدواروں کو  ذاتی طور پر یا ان کے پولنگ ایجنٹوں تک کو نہ بیٹھنے دیا گیا اور نہ انتخابی عمل کے معائنے کی اجازت دی گئی۔ اور جو پولنگ ایجنٹ کسی طرح، کسی مقام پر بیٹھنے میں کامیاب ہوگئے، ان کی اکثریت کو گنتی شروع کرتے وقت بھگا دیا گیا۔ بنگلہ دیش کے لوگ احمق نہیں ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ  ان کے ووٹ پر کس انداز سے، اُن کی آنکھوں کے سامنے ڈاکا زنی کی گئی ہے۔اس طرح عملاً  ایک پارٹی کی حکومت مسلط کی جارہی ہے‘‘۔(ڈیلی ساؤتھ ایشین مانیٹر، یکم جنوری ۲۰۱۹ء)
حزبِ اختلاف نے بدانتظامی، بدنظمی اور بددیانتی تمام مظاہر کو دیکھ کر، اس انتخابی ڈھونگ کو فراڈ، جعل سازی اور دھاندلی زدہ ڈراما قرار دیا، مسترد کیا اور کہا کہ: ’’یہ موت کے سکوت اور خوف کے بھوت کا کھیل تھا‘‘ (ڈیلی واشنگٹن پوسٹ ، یکم جنوری ۲۰۱۹ء)۔ یاد رہے کہ الیکشن کے روز ۲۲؍افراد قتل کر دیے گئے اور سیکڑوں افراد کو زخمی کرکے دہشت پھیلائی گئی۔ ملک کے سنجیدہ حلقے بنگلہ دیش میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے شدید صدمے اور مایوسی سے دوچار ہیں۔
بنگلہ دیش لیفٹ ڈیموکریٹک الائنس (LDA)نے ۸۲اُمیدواروں کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا۔ اس کی قیادت نے ڈھاکا پریس کلب میں بتایا: ’’پورا ملک عینی شاہد ہے کہ حکمران ٹولے نے انتخابی عمل کو برباد کرکے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھا ہے‘‘۔ اور کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش (CPB) کا موقف ہے: ’’عوامی لیگ نے الیکشن سے پہلے، الیکشن کے دوران اور الیکشن کے بعد جبر، دھوکے، دھاندلی اور جھوٹ کا طوفان برپا کیا۔ (ڈیلی اسٹار، ۱۲جنوری۲۰۱۹ء)
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW)نے انتخابات سے قبل، حسینہ حکومت کی بدنیتی کی نشان دہی کر دی تھی، اور الیکشن کے بعد اس کے ڈائرکٹر ایشیا، مسٹربریڈ ایڈمز نے گواہی دی: ’’حزبِ اختلاف کے اہم لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے، بعض کو قتل کر کے اور بعض کو لاپتا کرکے جس خوف اور گھٹن کا ماحول پیدا کیاگیا، اس میں کسی بھی لحاظ سے یہ قابلِ اعتبار انتخابات نہیں ہیں‘‘ (بی بی سی لندن، ۳۱دسمبر ۲۰۱۸ء)۔ بنگلہ دیش میں سابق امریکی سفیر اور ولسن سنٹر کے سینئر اسکالر ولیم بی میلان نے کہا: ’’بنگلہ دیش کے انتخابات پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ یہ انتخابات سراسر بددیانتی کی ایک مجسم مثال ہیں اور حسینہ واجد کی حکومت غیرقانونی ہے‘‘ (ڈیلی نیونیشن، ڈھاکا، ۱۷جنوری ۲۰۱۹ء)۔’’برطانیہ، امریکا اور یورپی یونین نے بھی انتخابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا‘‘(رائٹر، ۲جنوری ۲۰۱۹ء)۔ البتہ اپنا روایتی’ریکارڈ‘ برقرار رکھتے ہوئے یہ ممالک چند ہفتوں بعد اس جعلی انتخاب کو تسلیم کرکے حسب ِ معمول تعاون شروع کردیں گے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی ان انتخابات کی صداقت کو مشکوک اور فساد زدہ قرار دیا ہے کہ: ’’جس میں بدعنوانی کے بے شمار شواہد اپنی کہانی آپ بیان کر رہے ہیں‘‘ (ڈیلی بی ڈی نیوز۲۴، ۱۶جنوری ۲۰۱۹ء)۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے جمع کردہ حقائق کی بنیاد پر بیان دیا: ’’بنگلہ دیش کے موجودہ انتخابی نتائج کو مسترد کرنے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے کے لیے منطقی اور اصولی بنیادیں موجود ہیں‘‘۔ (ڈیلی نیو ایج، ڈھاکا، ۱۷ جنوری ۲۰۱۹)
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گڑیس نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات درست نہیں ہوئے۔ ہم بنگلہ دیش میں سیاسی عمل اور شہری زندگی کو پُرسکون بنانے کے لیے بامعنی کردار کی ضرورت پر زور دیتے ہیں‘‘۔(ڈیلی نیو ایج، ۱۹ جنوری ۲۰۱۹)
امرِواقعہ ہے کہ خاص طور پر۲۰۰۹ء کے بعد، جب سے حسینہ واجد کی عوامی لیگ برسرِاقتدارہے، بنگلہ دیش پہلے سے بھی کہیں زیادہ بھارتی گرفت میں جکڑا گیا ہے۔ وہ بہت سے مفادات جو بھارت ابتدائی ۳۷برسوں میں حاصل نہ کرسکا تھا، گذشتہ ۱۰ برسوں میں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ جس میں خاص طور پر شمال مشرقی ریاستوں (اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ، تری پور اور سکم) تک، بنگلہ دیش کی سرزمین سے گزر کر نئی دہلی انتظامیہ کی براہِ راست رسائی ہے۔ اسی لیے حسینہ واجد نے کہا کہ: ’’ہمارے برسرِاقتدار رہنے سے بھارت سے تعلقات مضبوط اور باثمر ہوں گے اور تجزیہ نگار ہرانمے کارلیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ:’’ ضیاء الرحمان، حسین محمد ارشاد اور خالدہ ضیا کے اَدوارِ حکومت میں بنگلہ دیش، بھارت سے فاصلے پر اور پاکستان سے قربت کی طرف گیا تھا‘‘ (ڈیلی دی پانیئر، نئی دہلی، ۶جنوری ۲۰۱۹ء)۔ اسی اخبار نے بھارتی مقتدر قوتوں کی خواہشات کے آئینہ دار مضمون Why We need Hasina?  میں وضاحت سے بتایا کہ: ’’خالدہ ضیا نے کبھی بھارتی مفادات کے لیے کام نہیں کیا ہے بلکہ یہ جماعت اسلامی کی حمایت سے برسرِاقتدار آتی ہے اور بھارتی مفادات کے برعکس پاکستان سے قربت کی طرف بڑھتی ہے‘‘۔(ڈیلی دی پانیئر، نئی دہلی، ۷جنوری ۲۰۱۹ء)
بھارت اور دوسری طاقتیں بنگلہ دیش کو تجرباتی طور پر اسلامی قوتوں کی بیخ کنی کا میدانِ کارزار بنانا چاہتی ہیں۔ جب اسلامی شناخت کا ذکر آتا ہے تواس علاقے میں خودبخود پاکستان کا نام نمایاں ہوتا ہے۔ یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ حسینہ واجد کے لیے تیسری بار اقتدارکا راستہ ہموار کرنے میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بنگلہ دیشی نیشنلسٹ قیادت کو بُری طرح دبایا، منتشر اور بے اثر کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ ۲۰۲۱ء کو، جب کہ بنگلہ دیش کے قیام کے ۵۰سال مکمل ہوں، تو اس مناسبت سے پاکستان کے خلاف زیادہ منظم طریقے سے، تسلسل کے ساتھ مہم چلاکر اسے بدنام کیا اور دبائو میں لایا جائے۔
حسینہ واجد کے سیاسی مشیر اور ’آبزرور ریسرچ فائونڈیشن‘ کے ایچ ٹی امام نے برملا کہا:  ’’بی این پی نے جماعت اسلامی سے تعاون جاری رکھا ہے۔ اور ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ پارٹی چین اور پاکستان کی حامی ہے، اس لیے بنگلہ دیش کی سیاست میں بھارت کسی بھی صورت، بی این پی پر بھروسا نہیں کرسکتا‘‘(دی اسٹار آن لائن، ۱۶ جنوری ۲۰۱۹ء)۔ یہ سوچ بنگلہ دیش سے زیادہ بھارت کے ان استعماری رویوں کی گواہی پیش کرتی ہے کہ برسرِزمین نئی دہلی کس انداز سے بنگلہ دیش کی سیاست اور ریاست کے معاملات میں دخیل ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے حسینہ واجد سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے مبارک دُہرائی اور کہا کہ: ’’حسینہ واجد کی صورت میں، بھارت کے لیے مشرقی محاذ محفوظ اور مامون ہے‘‘ (ڈیلی ایشین ایج، ۱۷جنوری)۔ دیکھیے: ’’حکومت ِ ہند اور بھارتی سیاست دان اور میڈیا کے لوگ بہت مسرور ہیں کہ عوامی لیگ کی کامیابی کی وجہ سے بنگلہ دیش، اسلامی بلاک میں جانے سے بچ گیا ہے‘‘۔ (سہ روزہ دعوت، نئی دہلی، ۱۴جنوری۲۰۱۹ء)
بنگلہ دیش کے اخبارات کے مطابق نئی حکومت کی شروعات کے طور پر بنگلہ دیش کے وزیرقانون انیس الحق نے کہا: ’’عوامی لیگ کی حکومت ایسی قانون سازی کرے گی کہ جس کے تحت جماعت اسلامی کو سزا دینے کا عمل تیزتر ہوگا۔ اس قانونی ترمیم کا مسودہ، وزیراعظم حسینہ واجد کی ہدایات کی روشنی میں ترتیب دیا جارہا ہے اور جلد کابینہ میں پیش کر دیا جائے گا۔ اس ترمیم کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ تاحال بنگلہ دیش جماعت اسلامی کو پوری طرح سزائیں نہیں دی جاسکیں۔ فروری ۲۰۱۳ء کے ترمیمی ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ میں افراد کو سزائیں دینے کا ذکر ہے، مگر پارٹی کو عبرت کا نشان بنانے کا معاملہ مذکور نہیں ہے۔ اب ہمارے پیش نظر یہ ہدف حاصل کرنا ہے‘‘ (ڈیلی اسٹار،۱۰جنوری ۲۰۱۹ء)۔یاد رہے کہ: ’’حسینہ واجد کی حکومت، بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے کئی اہم لیڈروں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کے باوجود جماعت اسلامی کی کمر نہیں توڑ سکی‘‘ (سہ روزہ دعوت، نئی دہلی، ۱۴ جنوری ۲۰۱۹ء)۔ یہ نامرادی نئی دہلی اور ڈھاکا کی حکومتوں کے لیے غصّے اور شرمندگی کا باعث ہے۔
اس تسلسل میں شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھی اور عملاً ریٹائرڈ زندگی گزارنے والے بھارت نواز ڈاکٹر کمال حسین نے منصوبے کے مطابق پہلے تو ایک جعلی انتخاب کو قابلِ قبول بنانے کے لیے، بڑی مہارت سے سیاسی پارٹیوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کا کام کیا۔ اور پھر منصوبہ سازی شروع کی ہے کہ: ’’بی این پی کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ جماعت اسلامی سے اپنے ۱۵سالہ اتحاد و اتفاق کو ترک کرکے، جماعت سے الگ ہوجائے‘‘ (ڈیلی سن، ڈھاکا، ۱۲جنوری ۲۰۱۹ء)۔حسینہ واجد نے سیاسی پارٹیوں کو مذاکرات کی دعوت دی، جس پر تمام پارٹیاں شرکت کرنے یا شرکت نہ کرنے پر غور کرر ہی ہیں، لیکن کمال حسین نے فوراً شرکت کا عندیہ دیا۔(ڈیلی اسٹار، ۱۴جنوری۲۰۱۹ء)
یہ تمام حقائق اور حوادث بتاتے ہیں کہ بھارت کسی صورت نہیں چاہتا کہ بنگلہ دیش میں ایسی امن و سکون کی فضا پروان چڑھے کہ وہاں کے لوگ امن اور خوش حالی کی زندگی بسر کرسکیں۔  اس طرح وہ بھارت کا دست ِ نگر رہے۔ دوسرا یہ چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری نہ آئے اور باہم فاصلے بڑھتے رہیں۔ تیسرا یہ کہ جماعت اسلامی کے تنظیمی ہیکل کو تباہ اور بی این پی کے سیاسی وجود کو ختم کیا جائے۔ ان حالات میں مسلم اُمہ کے فہمیدہ افراد اور اداروں کو بنگلہ دیشی بھائیوں کی اس انداز سے دست گیری کرنی چاہیے کہ وہ بھارتی تسلط سے آزاد اور مسلم اُمت سے قریب تر ہوسکیں۔

پروفیسرفواد سیزگین (Fuat Sezgin )موجودہ زمانے کے ایک عظیم محقق اور اسلامی اسکالر تھے۔ مقصد سے لگن، کام کے حجم اور حددرجہ محنت کے حوالے سے ان کا مقام و مرتبہ ناقابلِ فراموش رہے گا۔افسوس کہ وہ بر صغیر پاک و ہند میں معروف نہیں تھے، جس کی وجہ یہی ہے کہ وہ جرمن زبان میں لکھتے تھے اور ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ عربی اور فارسی سے بے بہرہ اور انگریزی کی حاکمیت سے مرعوب ہیں، اس لیے انگریزی کے علاوہ دیگرزبانوں میں علوم تک رسائی نہیں رکھتے۔

فواد سیزگین ۲۴؍اکتوبر ۱۹۲۴ء کو مشرقی ترکی کے صوبے بطلیس میں پیدا ہوئے۔ انٹرسائنس تک تعلیم اناطولیہ کے شہر ارض روم (Erzurum ) میں حاصل کی۔ ۱۹۴۲ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انجینیرنگ فیکلٹی استنبول یونی ورسٹی میں داخلہ لیا۔ اسی دوران میں ایک واقعے نے زندگی کا دھارا بدل دیا، اور وہ انجینیرنگ کے بجاے دوسرے عظیم ترین میدان کی طرف چلے آئے۔ ان دنوں ایک مشہور جرمن مستشرق ڈاکٹر ہیلمیٹ ریٹر (۱۸۹۲ء-۱۹مئی۱۹۷۱ء) اورینٹل فیکلٹی استنبول یونی ورسٹی میں پڑھا رہے تھے، جنھیں عربی، فارسی اور ترکی زبان پر دسترس حاصل تھی۔ وہ تصوف اور فلسفے پر اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ ایک روز فواد کے قریبی عزیز نے کہا کہ: ’کسی روز یونی ورسٹی میں ہیلمیٹ نامی جرمن ماہر علوم اسلامیہ کا لیکچر سنو‘۔ اس ہدایت پر فواد نے ہیلمیٹ کے ایک سیمی نار میں شرکت کی۔ دورانِ گفتگو پروفیسر ہیلمیٹ نے کہا کہ: ’’اسلامی تاریخ اور عربی ادب کی عظمتوں اور وسعتوں کا کوئی حساب نہیں۔ مسلمانوں نے سائنس میں جو کارنامے انجام دیے ہیں، ان سے دُنیا ناواقف ہے، کاش! کوئی اس طرف توجہ دے؟‘‘فواد نے متاثرکن استاد کی یہ بات سن کر اسی وقت دل میں   عہد کیا: ’’میں یہ کام کروں گا‘‘ اور اگلے روز انجینیرنگ چھوڑ کر اورینٹل فیکلٹی میں داخلے کے لیے درخواست دے دی، اور یہ سوچا تک نہ کہ داخلے کی تاریخ ختم ہوچکی ہے۔ پھر پروفیسر ہیلمیٹ سے  التجا کرکے داخلہ لے لیا۔ استاد نے کہا: ’’عربی سیکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔ لیکن جب شاگرد کو پُرعزم پایا تو استاد نے فواد کو سب سے پہلے قدیم عربی میں دسترس کی طرف متوجہ کیا، جو واقعی ایک مشکل کام تھا۔ تاہم وفورِشوق میں فواد نے ۱۷، ۱۷ گھنٹے عربی سیکھنے پر صرف کیے۔

اسی دوران دوسری جنگ ِعظیم میں۱۹۴۳ء میں ہٹلر کی فوجیں بلغاریہ تک آپہنچیں، تو یونی ورسٹی طویل عرصے کے لیے بند ہوگئی۔ ان چھٹیوں میں فواد نے عربی سیکھنے کے ساتھ تفسیرطبری کو  براہِ راست عربی سے پڑھنا اور قرآن پر غوروفکر شروع کیا۔ چھے ماہ بعد جب یونی ورسٹی کھلی تو استاد نے عربی میں استعداد جانچنے کے لیے امام غزالیؒ (۱۰۵۸ء-۱۱۱۱ء)کی احْیَاء عُلُومُ الدِّین سامنے رکھی۔ فواد نے اس کے مقامات پر اس طرح گفتگو کی جیسے کوئی روزنامہ پڑھ رہے ہوں۔ اس چیز سے متاثر ہوکر استاد نے ایک اور پہاڑ لاسامنے کھڑا کیا: ’’اگر علم اور مسلمانوں کی کوئی خدمت کرنا چاہتے ہو تو ساتھ ساتھ ہرسال ایک نئی زبان سیکھنے کی کوشش بھی کرو اور کم از کم ۳۰زبانیں تو ضرور سیکھو۔ یہ لسانی علم تمھیں فکر، دانش اور معلومات کی ان دُنیائوں تک لے جائےگا، جس کا کوئی شمار نہیں کرسکتا‘‘۔ اس توجہ پر بھی فواد نے عملی طور پر کام شروع کر دیا۔یوں ترکی کے علاوہ جرمن، فرانسیسی، عربی، لاطینی، سریانی، عبرانی اور انگریزی سیکھ لی، البتہ لکھنے کا زیادہ تر کام جرمنی زبان میں کیا۔

انجینیرنگ کا سابق طالب علم اب پوری دل جمعی سے دینی اور عربی علوم کے ہفت خواں طے کر رہا تھا۔ جب ۱۹۵۰ء میں ایم اے علومِ اسلامیہ پاس کرنے کے بعد اعلیٰ تحقیق کا مرحلہ آیا تو  فواد اس نتیجے پر پہنچے کہ مستشرقین اور پادری حضرات، دین اسلام پر حملہ کرتے وقت بنیادی ہدف  ذخیرۂ حدیث کو بناتے اور کہتے ہیں: ’سنی سنائی باتوں کا علم‘، اور بخاری ان کے نشانے پر ہوتی ہے۔ فواد نے بدنیتی پر مبنی اس حملے کا جواب علمی سطح پردینے کا عزم کیا۔ پروفیسر ہیلمیٹ کی رہنمائی میں تحقیق کرتے ہوئے البخاری   کے ماخذ کے موضوع پر ۱۹۵۴ء میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ جب ۱۹۵۶ء میں استنبول سے یہ تحقیقی مقالہ شائع ہوا تو علمی حلقوں کی توجہ کا موضوع بنا۔

ڈاکٹر فواد نے ذخیرئہ حدیث کی تدوین پر ’محض زبانی سنے سنائے‘ علم کے تاثر کا جواب دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ: ’’مجموعہ ہاے حدیث میں ابتدائی زمانوں ہی سے لفظ کتاب  بطوراصطلاح مکاتبت کے معنوں میں استعمال ہواہے، جس سے مراد روایت ِ حدیث کو زبانی سنے سنائے بغیر تحریری شکل میں منتقل کرنا ہے۔ اس امر کی وضاحت کے لیے اسناد میں  کتب الی  یا من کتاب کے الفاظ استعمال کیے جاتے تھے۔ یوں اسناد بظاہر زبانی روایت کا حوالہ رکھنے کے باوجود بسااوقات باقاعدہ تصانیف سے حرف بہ حرف نقل اور اقتباس کی جاتی تھیں‘‘۔

ڈاکٹر خورشید رضوی کے بقول : ’’ڈاکٹر سیزگین کی شہرت کا ایک خصوصی حوالہ علمِ حدیث میں اسناد کے طریق کار اور اس کی حقیقت و اہمیت کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر ہے، جس نے مغرب کے علمی حلقوں میں بازگشت پیدا کی اور گولڈ زیہر [۱۸۵۰ء-۱۹۲۱ء] کے گمراہ کن نتیجۂ فکر اور دیگر مغربی تحقیق کاروں کے تصورات پر سنجیدہ تجزیے اور محاکمے کی ضرورت کا احساس دلایا‘‘۔

اس دوران ڈاکٹر فواد اورینٹل فیکلٹی، استنبول یونی ورسٹی میں بطورِ استاد خدمات انجام دیتے رہے کہ۲۷مئی ۱۹۶۰ء کو ترک جرنیل جنرل جمال گرسل (۱۸۹۵ء-۱۹۶۶ء)نے فوجی انقلاب برپا کیا۔ یہ انقلاب سخت گیر لادینی نظریات کا علَم بردار تھا۔ یہ وہی جنرل گرسل ہیں، جنھوں نے ۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۰ء تک دومرتبہ منتخب ترک وزیراعظم عدنان میندریس (پ:۱۸۹۹ء) کو برطرف کیا  اور ۱۷ستمبر ۱۹۶۱ء کو، عدنان کابینہ کے وزیرخارجہ فطین رشدی زورلو (پ:۱۹۱۰ء) کے ہمراہ پھانسی دے دی تھی۔ عدنان میندریس شہید کا ایک ’جرم‘ یہ بھی تھا کہ انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں ۱۷جون ۱۹۵۰ء کو عربی میں اذان پر پابندی ختم کی، پھر مسجد یں کثرت سے تعمیر کیں، حج پر عائد پابندیاں ختم کیں اور محکمہ مذہبی امور قائم کیا۔ اس محکمے نے نئی اور پرانی اسلامی کتب کی اشاعت کے ساتھ، مولانا مودودیؒ (م:۱۹۷۹ء)اور سیّد قطبؒ (شہادت:۱۹۶۶ء)کی بھی چند کتب ترکی زبان میں شائع کیں۔

 ’ترک فوجی حکومت‘ نے ۱۴۷ پروفیسروں کو ترکی یونی ورسیٹیوں سے نظریاتی اختلاف بلکہ اسلامی غیرت و حمیت کی پاداش میں برطرف کردیا، جن میں فواد سیزگین بھی شامل تھے۔ مارشل لا حکومت سے انصاف مل نہیں سکتا تھا، اس لیے فواد نے جلاوطنی اختیار کی۔ جرمنی چلے گئے اور فرینکفرٹ یونی ورسٹی میں استاد مقررہوئے۔ ۱۹۶۵ء میں انھوں نے فلسفی، ریاضی دان اور کیمیا دان جابر بن حیان [۷۲۱ء-۸۱۵ء]پر دوسری ڈاکٹریٹ حاصل کی، تو پروفیسر کے درجے میں ترقی   مل گئی۔پھر ۱۹۶۷ء میں ایک ذہین اور محنتی نومسلم جرمن مستشرقہ ارسل سے شادی کی۔ ان کے ہاں ۱۹۷۰ء میں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام ’ہلال‘ رکھا۔ (مغربی دنیا میں ’ہلال‘ [کریسنٹ] اسلام کی علامت ہے اور نام رکھتے وقت یہی پہلو پیش نظر تھا)۔

پروفیسر سیزگین کا یادگار کارنامہ عربی زبان میں علمی ذخیرے کی کیفیت کی تدوین ہے۔ جس میں ہر کتاب کے بارے اشاعت، عدم اشاعت کے ساتھ تفصیل مذکور ہے کہ یہ مخطوطہ کہاں موجود ہے۔ اس کام کی ابتدا محمد بن اسحاق الندیم (م:۹۹۵ء ) نے الفہرست کے نام سے کی تھی۔ درحقیقت ڈاکٹر فواد کا کام جرمن محقق کارل بروکلمان (Carl Brockelmann: ۱۸۶۸ء- ۱۹۵۶ء) کی اسی نام سے کتاب Geschichte der Arabischen Litteratur کی تکمیل ہے، جو ۱۸۹۸ء میں دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ اس زمانے میں اکثر کتب خانوں کی فہرستیں تیار اور    شائع شدہ نہیں تھیں، اس لیے بروکلمان کی کتاب میں بہت سی کمیاں رہ گئی تھیں۔ حتیٰ کہ استنبول میں موجود قیمتی مخطوطات کا بھی ذکر نہیں تھا۔

اس بھاری بھرکم کام کی ابتدا فواد سیزگین نے ۱۹۵۴ء میں پروفیسر ہیلمیٹ ریٹر کی خواہش پر کی تھی۔ انھوں نے مجوزہ کتاب Geschichte des Arabischen Shrifttums [تاریخ التراث العربی، عربی ورثے کی تاریخ) پر ۱۹۶۱ء میں باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا۔ اس کی پہلی جلد ۱۹۶۷ء میں اور ۱۷ویں جلد فروری ۲۰۱۸ء میں شائع ہوئی۔ اب وہ ۱۸ویں جلد کی اشاعت پر کام کر رہے تھے کہ زندگی کی ساعتیں ختم ہوگئیں۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھے جانے والے ایک بڑے علمی ورثے کا احاطہ کرتی ہے، جس میں: قرآن پاک،تفسیر، حدیث، تاریخ، فقہ، علم کلام، عربی شاعری، طب، علم حیوان، کیمیا، زراعت، نباتیات، ریاضیات، فلکیات، موسمیات، تصوف، نفسیات، فلسفہ، اجتماعیات، نحو، بلاغت، لغت، کائناتی مطالعہ، منطق، ارضیات، موسیقی، ادویہ سازی، حیوانیات، نجوم، عربی زبان، جغرافیہ، نقشوں جیسے گوناگوں علوم پر عربی مخطوطات و کتب کا تذکرہ شامل ہے۔

پروفیسر فواد سیزگین نے ۱۹۸۲ء میں جرمنی کی گوئٹے یونی ورسٹی میں ’عربی واسلامی تاریخ انسٹی ٹیوٹ‘ کی بنیاد رکھی۔۱۹۸۴ء میں تحقیقی مجلّے Journal of Arab and Islamic Sciences  کا اجرا کیا اور مدت تک ادارت کی۔ سائنسی علوم کے بارے میں مسلمان علما و فضلا کے لکھے چار لاکھ قدیم مخطوطوں کے آثار اور قدیم کتب کو، ۳۰سال کی مدت میں، یورپ، افریقہ، بھارت، ترکی، ایران، مصر، روس اور مشرق وسطیٰ کی لائبریریوں، ذاتی کتب خانوں اور دیہات تک میں پہنچ کر اکٹھا کیا یا معلومات لیں۔ جمع شدہ کتب کی تعداد ۴۵ہزار سے زیادہ ہے، جب کہ ۱۳ سو اصل مخطوطے اور ۷ہزار مخطوطات کے عکس شامل ہیں۔پھر ان مخطوطات و معلومات کو ایک ہزار مطبوعات کی صورت میں شائع کیا۔

ایک مشہور جرمن ماہر طبیعیات اور سائنسی علوم کے مؤرخ ڈاکٹر ایلہارڈ ویڈمین (۱۸۵۳ء-۱۹۲۸ء) نے ۱۸۹۹ء میں طے کیا کہ:’ ’میں مسلمانوں کے ایجاد کردہ ان سائنسی آلات کو جن کا تذکرہ کتب میں پڑھا ہے، عملی شکل اور نمونوں (ماڈلوں) کی صورت دوں گا‘‘۔ ڈاکٹر ایلہارڈ نے ۱۹۲۸ء تک ۳۰برسوں کی شبانہ روز کاوش سے ایسے پانچ ماڈل تیار کیے۔ اس مثال کوسامنے رکھ کر پروفیسر فواد نے دوستوں سے کہا : ’’میں کوشش کروں گا کہ کم از کم ۳۰ ماڈل اور آلات کے نمونے بناکر اس کمرے کی خالی جگہ کو پُر کروں‘‘۔ پھر اسی انسٹی ٹیوٹ میں انھوں نے اگلے سال ایک میوزیم قائم کیا، جس میں مسلمانوں کے سنہرے دور میں ایجاد اور استعمال ہونے والے آٹھ سو (۸۰۰) سائنسی آلات اور مشینوں کے اصل کے مطابق نمونے بنواکر رکھے۔

جرمن حکومت نے پروفیسر سیزگین کے ذاتی کتب خانے کو قومیا لیا تھا اور بدلے میں    معقول مالی معاوضہ دیا تھا۔ ترکی منتقل ہونے کے بعد پروفیسر سیزگین نے دوبارہ ایک ایک کتاب اکٹھی کر کے استنبول میں ایک عظیم الشان کتب خانہ بنایا۔ ترکی کی موجودہ حکومت اس لائبریری کے لیے استنبول میں ایک خصوصی بلڈنگ تعمیر کر رہی ہے۔ یہاں پر ۲۰۰۸ء میں ایک میوزیم بھی قائم کیا۔  اس میوزیم میں انھوں نے اسی طرح کے ۷۰۰ماڈل اور آلات تیار کر کے رکھوائے جیسے جرمن میوزیم میں رکھے تھے۔ پھر ۲۰۱۰ء میں استنبول میں اسلامی وعربی تاریخ کا ٹرسٹ قائم کیا۔

پروفیسر فواد نے متعین کیا ہے کہ :’’ کرسٹوفر کولمبس [م: ۱۵۰۶ء]سے بہت پہلے عربوں نے شمالی امریکا دریافت کیا تھا اور ۱۸ویں صدی کے اوائل تک دنیا کے تمام نقشے مسلمانوں ہی کے بنائے ہوئے نقشوں کی نقل تھے‘‘… پھر بتایا کہ: ’’عباسی خلیفہ مامون الرشید [م: ۸۳۳ء] نے تقریباً ستّر جغرافیا دانوں کو پوری دنیا کے مطالعے کے لیے بھیجا، جنھوں نے کئی برس گھوڑوں، اُونٹوں اور سمندری جہازوں پر گھوم پھر کر دنیا بھر کے بارے معلومات اکٹھا کیں اور نقشے بنائے‘‘۔

پروفیسر سیزگین کہا کرتے تھے: ’’ مجھے اتنی سی بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں عربوں اور مسلمانوں نے جو کارنامے انجام دیے ہیں آج ہم محض انھی پر فخر کریں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ آج کے مسلمان سمجھیں کہ ان کے آباء کتنے عظیم لوگ تھے، جو صرف اپنی انگلیوں پر گنتی کرکے اتنی زیادہ ترقی کرگئے۔ ہم ان سے اور دوسروں سے بہت کچھ سیکھ کر خوداعتمادی سے اپنی مشکلات پر قابوپا سکتے ہیں۔ ہم کو ان علما سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جنھوں نے ہم سے کہیں زیادہ محنت کی اور لکھا۔ اتنی مشقت کے باوجود وہ زندگی میں ہم سے کہیں زیادہ خوش تھے‘‘۔

پروفیسر سیزگین نے لکھا ہے: ’’مسلمانوں میں نتیجہ خیز فکری و عملی سرگرمی کا آغاز پہلی صدی ہجری ہی میں ہوگیا تھا۔ علم کے بارے میں اہلِ اسلام کا رویہ بڑا فراخ دلانہ تھا۔ انھوں نے بغیر کسی نفسیاتی رکاوٹ کے، اپنے پیش روؤں کے علوم کو قبول کیا۔ اس طرح اسلامی تہذیب، مختلف قوموں کی ثقافتوں ، زبانوں اور علمی میراث کا نقطۂ اتصال ثابت ہوئی، جس سے انسانی فکر کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ مسلمان اپنے پیش روؤں کے مقلّد محض نہ تھے بلکہ جانچ پرکھ اور تنقید کے صحت مند معیارات کے قائل تھے۔ مسلمانوں نے اجنبی اقوام سے علمی فیض حاصل کرنے کا آغاز ان قوموںسے کیا جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے،اس لیے ان کے استفادے میں تعصب کا عنصر نہیں پایا جاتا تھا، لیکن اس کے برعکس لاطینیوں[اہل مغرب] نے عربوں کو اپنا دشمن سمجھ کر ان کے علوم سے استفادہ کیا، جس نے ان میں نفسیاتی اُلجھائو، تعصب اور سرقے کی روایت پیدا کی۔ اس طرح اعتراف کے بجاے دانستہ طور پر مسلمانوں کی دریافتوں کا سہرا بھی مغربیوں کے سر باندھنے کا رویہ شامل ہوگیا‘‘۔

پروفیسر فواد سیزگین کے کارناموں کو دُنیا بھر کے اہل علم نے سراہا۔ ۱۹۷۹ء میں جب  ’شاہ فیصل ایوارڈ‘ کا اجرا ہوا تو پہلے ہی سال سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کو اسلام کے لیے خدمات پر اور پروفیسر فواد سیزگین کو ان کی کتاب تاریخ التراث العربی (عربی ورثے کی تاریخ) پر یہ ایوارڈ  دیا گیا۔ اسی طرح جرمن حکومت نے اعلیٰ ترین اعزاز ’آرڈر آف میرٹ آف جرمنی‘ دیا۔ ’اسلام میں سائنسی اور تکنیکی علوم‘ (پانچ جلدوں) پر ایک خوب صورت کتاب پر ایران نے ۲۰۰۶ء میں ’کتاب کا عالمی ایوارڈ‘ دیا۔ یہ کتاب علمی تفصیلات کے ساتھ تصویروں اور خاکوں سے مرصع ہے، اور جرمن، ترکی، انگریزی اور فرانسیسی میں شائع ہوچکی ہے۔

۱۹۷۹ء میں امام محمد بن سعود اسلامی یونی ورسٹی ، ریاض کی دعوت پر ڈاکٹر فواد نے سات خطبے دیے، جو محاضرات فی تاریخ العلوم کے عنوان سے شائع ہوئے۔ پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے ان خطبات کا اُردو ترجمہ تاریخ علوم میں تہذیب اسلامی کا مقام  کے نام سے کیا، جسے ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد نے ۱۹۹۴ء میں شائع کیا ہے۔

پروفیسر فواد نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’علومِ اسلامیہ کے مطالعے اورعربی فہمی کے لیے یکسوئی عطا کرنے میں میرے استاد پروفیسر ہیلمیٹ ریٹر کا مجھ پر بے حد احسان ہے۔  جن علمی کاموں کے لیےمیں نے قدم اُٹھایا، ان راہوں کی مشکلات کو دیکھ کر ممکن ہے دوسروں کو گھبراہٹ محسوس ہوتی ہو۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے باطن کی دنیا میں گہری طمانیت اور  تشکر کے جذبات رکھتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے خوش نصیب ترین بندوں میں سےہوں، کہ جس  کی توفیق اور مدد سے یہ کام کر رہا ہوں‘‘۔

پروفیسر فواد سیزگین ۳۰ جون ۲۰۱۸ء کو ۹۵ برس کی عمر میں استنبول کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ جامع سلیمانیہ میں ان کی نمازِ جنازہ  میں ترکی کے صدر طیب اردوان بھی موجود تھے، جنھوں نے حاضرینِ جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا: ’’میں اللہ سے دُعا کرتا ہوں کہ ہمارے عظیم محسن پروفیسر فواد کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ ہمارا وہ محسن کہ جس نے ہمیں، اسلامی تاریخ اور اسلامی تہذیب کے حوالے سے بیداری کی بہترین دولت دی۔ ہمارا وہ محسن کہ جس نے سائنسی علوم میں، زمانوں پر پھیلی ہوئی اسلامیانِ عالم کی خدمات کو وضاحت سے پیش کیا۔ میں ۲۰۱۹ء کو فواد سیزگین کے سال سے منسوب کرتا ہوں کہ : جب ہم اپنی نسل کو اسلامی علوم کی واقفیت دینے اور شوق پیدا کرنے کے لیے کانفرنسیں، سیمی نار، نمایشیں اور علمی پروگرام کریں گے‘‘۔

ایمان، عزم ، ارادے، محنت اور اَن تھک جستجو کے زادِراہ سے سفر کا آغاز کرنے والے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ جو بسترمرگ پر بھی علمی فریضہ انجام دیتا رہا۔ اس اکیلے فرد نے حالیہ زمانے میں وہ کارنامہ انجام دیا، جو کئی ادارے بھی مل کر انجام نہ دے سکے۔ کیا ہماری نوجوان نسل، عشق و جنوں کی اس وادی میں قدم رکھنے کے لیےتیار ہے؟

بھارتی وزیراعظم کے نام

یہاں بھارت سے ۴۹چوٹی کے سابق اعلیٰ افسروں [جن میں مسلمان صرف تین ہیں]کا مشترکہ خط پیش ہے۔ یہ خط انھوں نے کٹھوعہ (جموں) اور اناؤ (یوپی) میں جنسی زیادتی کے ہولناک اور گھنائونے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے، بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی بے حسی کے خلاف بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو لکھا۔ اس خط کے تین پہلو ہیں: lپہلا یہ کہ بدترین جبری ماحول، نام نہاد جمہوریت اور برہمنی فسطائیت کے باوجود ایسے باضمیر لوگ موجودہ ہیں، جو اپنی جان و مال کی پروا کیے بغیر مظلوموں کا ساتھ دینے کے لیے ہم آواز کھڑے ہیں۔

  • دوسرا یہ کہ ان واقعات نے ایک ایسی صورتِ واقعہ پیدا کی ہے کہ جس میں بھارت میں بسنے والے مظلوم مسلمانوں، دلتوں، عیسائیوں وغیرہ کی حالت ِزار کو پیش کرنے کے لیے توجہات مرکوز کی جانی چاہییں۔ lتیسرا یہ کہ  خود جموں و کشمیر کے مظلوم اور مقہور عوام کے حق خود ارادیت کا حصول اور وہاں پر خوف ناک حد تک انسانی حقوق کی پامالی اور بھارتی مسلح افواج کی وحشت پر مبنی حکمرانی کا پول کھولنا چاہیے___ اس پس منظر میں قلم، زبان، تحقیق کا سہارا لے کر عالمی راے عامہ کو ہم نوا بنانا وقت کی اوّلین ضرورت ہے۔(ادارہ)

عزت مآب وزیر اعظم!

ہم سرکاری خدمات سے سبک دوش افسروں کا ایک گروپ ہیں، جو ’انڈین دستور‘ میں موجود سیکولر اور جمہوری قدروں میں لگاتار گراوٹ (decline)پر تشویش کا اظہار کرنے کے لیے گذشتہ سال اکٹھا ہوئے تھے۔ایسا کرکے ہم مزاحمت کی ان آوازوں کے ہم آواز ہیں، جو سرکاری نظام کی سرپرستی میں نفرت، ڈراور بےرحمی کے خوف ناک ماحول کے خلاف اُٹھ رہی ہیں۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا اور اب دوبارہ کہتے ہیں، ہم نہ تو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں، نہ کسی سیاسی نظریے کے پیروکار ہیں، سواے ان قدروں کے جو ہمارے آئین میں موجود ہیں۔

 آپ نے بھی چوں کہ آئین کو قائم رکھنے کا حلف لیا ہے، اس لیے ہم امید رکھتے تھے کہ آپ کی حکومت اور وہ سیاسی جماعت جس کے آپ ممبر ہیں، اس خطرناک رجحان سے باخبر ہونے کی کوشش کریں گے ، اس پھیلتی سڑاند کو روکنے کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں گے اور سب کو   اعتماد دلائیں گے، بالخصوص اقلیت اور کمزور طبقے کو کہ وہ اپنے جان و مال اور انفرادی آزادی کے حوالے سے بے خوف رہیں۔ مگر افسوس کہ یہ اُمید مٹ چکی ہے۔ اس کے بجاے، کٹھوعہ اور اناؤ کے حادثات میں پائی جانے والی ناقابل بیان دہشت اہلِ وطن کو یہ بتاتی ہے کہ [آپ کی] حکومت اپنے بنیادی فرائض سرانجام دینے میں بالکل ناکام رہی ہے۔

ایک ایسا ملک کہ جس کو اپنی اخلاقی، روحانی اور ثقافتی وراثت پر بڑا ناز رہا ہے اور جس نے مدتوں تک اپنی تہذیبی رواداری اور ہمدردی جیسی قدروں کو سنبھال کر رکھا، افسوس کہ اسے برقرار رکھنے میں ہم سب ناکام رہے ہیں۔ ’ہندوؤں کی عظمت قائم کرنے‘ کے نام پر ایک انسان کے حق میں، جب کہ دوسرے انسانوں کے لیے جانوروں جیسی بےرحمی پالنے کی روش اپنانے کا ہرلمحہ ہماری انسانیت کو شرمسارکر رہا ہے۔ ایک آٹھ سال کی بچی سے وحشیانہ طور پر جنسی درندگی اور قتل کا اندوہ ناک واقعہ یہ دکھاتا ہے کہ ہم کمینگی کی کن گہرائیوں میں ڈوب چکے ہیں۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد یہ سب سے بڑا اندھیر ہے، جس میں ہماری حکومت اور ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کا رد عمل ناکافی اور مُردنی و بے حسی لیے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہے وہ مقام کہ جہاں پر ہمیں اندھیری سرنگ کے آخر میں کوئی روشنی کی کرن نہیں دکھائی دیتی ہے اور ہم بس شرم سے اپنا سر جھکائے ہوئے ہیں۔

ہماری شرمندگی میں اس وقت اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے کچھ جوان دوست بھی، جو ابھی حکومتی و ریاستی مشینری میں خدمات انجام دے رہے ہیں، بالخصوص وہ جو اضلاع میں کام کر رہے ہیں اور قانونی طور پر دلتوں (شیڈیول کاسٹ) اور کمزور لوگوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لیے پُرعزم ہیں، وہ اپنا فرض نبھانے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم صاحب، ہم یہ خط آپ کو صرف اپنی اجتماعی شرم کی وجہ سے یا اپنی تکلیف یا  غم کو آواز دینے یا اپنی ثقافتی قدروں کے خاتمے کا ماتم کرنے کے لیے نہیں لکھ رہے ہیں، بلکہ ہم لکھ رہے ہیں اپنے غصّے کا اظہار کرنے کے لیے، معاشرے کی خوف ناک تقسیم اور نفرت کو بڑھاوا دینے کے اس ایجنڈے کے خلاف، جو آپ کی پارٹی اور اس کے بےشمار وقت بےوقت پیدا ہوتے معروف ،غیر معروف اداروں نے ہمارے سیاسی قواعد میں، ہماری ثقافتی و سماجی زندگی اور روز مرہ میں شامل کر دیا ہے۔

یہی ہے نفرت کی وہ آگ اور اسی کے نتیجے میں کٹھوعہ اور اناؤ جیسے گھنائونے واقعات کو سماجی حمایت حاصل ہوتی اور جواز ملتا ہے۔ کٹھوعہ میں، ’سنگھ پریوار‘ کے ذریعے پُرجوش اکثریت کی جارحیت اور ان کی بداخلاقی نے نسل پرست وحشی عناصر کو اپنے گھناؤنے ایجنڈے پر آگے بڑھنے کی ہمت دی ہے۔ دراصل وہ جانتے ہیں کہ ان کی بداخلاقی کوان سیاست دانوں کی حمایت حاصل رہے گی، جنھوں نے خود ہندو مسلم تفریق کو گہرا کر کے اور ان میں پھوٹ ڈال کر اپنی سیاسی کامیابی حاصل کی ہے۔ ایسے مافیا اور غنڈوں کے سہارے پر ووٹ اور سیاسی اقتدار کو طول دینے کا نتیجہ   یہ سامنے آیا ہے کہ ان کے کارندوں کو ریپ، قتل ،زورزبردستی اور لوٹ کھسوٹ کی کھلی آزادی حاصل ہوئی ہے اور انھیں اپنی طاقت کو جمانے اور پھیلانے کے لیے شہ ملی ہے۔

لیکن، اقتدار کے اس غلط استعمال سے زیادہ کلنک کی بات، [جموں کی] ریاستی حکومت کے ذریعے متاثرہ فیملی کے بجاے مبینہ ملزم کی پشت پناہی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ سرکاری نظام کتنا خراب اور گل سڑچکا ہے۔ انائو کے شرم ناک واقعے پر یوپی ریاستی حکومت نے تبھی کچھ کیا، جب عدالت نے اس کو مجبور کیا۔ یہ ایک ایسا فعل ہے، جس سے [یوپی] حکومت کے ارادوں کا فریب صاف ظاہر ہوتا ہے۔دونوں اندوہ ناک واقعات ان ریاستوں میں پیش آئے ہیں، وزیراعظم! جہاں آپ کی پارٹی حکمراں ہے۔ آپ کی جماعت میں آپ کی برتری اور آپ کے مرکزی کنٹرول کی وجہ سے، اس خوف ناک صورتِ حال کے لیے کسی اور سے زیادہ آپ ہی کو ذمہ دار ٹھیرایا جا سکتا ہے۔

ان واقعات کی سچائی تسلیم کرنے اور متاثرین کے آنسو پونچھنے کے بجاے آپ مسلسل خاموش رہے۔ آپ کی خاموشی اس وقت ٹوٹی جب ملک اور غیرممالک میں عوامی غصے نے اس حد تک زور پکڑا کہ جس کو آپ کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔تب بھی آپ نے بدکاری کی مذمت اور شرم کا اظہار تو کیا ہے، مگر آپ نے اس کے پیچھے گھٹیا نسلی فرقہ پرستی کی مذمت نہیں کی ہے، نہ آپ نے ان سماجی، سیاسی، انتظامی حالات کو بدل دینے کا عزم کیا ہے کہ جن کے زیرسایہ نسل پرستانہ فسطائیت پھلتی پھولتی ہے۔

ہم محض ڈانٹ، پھٹکار اور انصاف دلوانے کے وعدوں سے عاجز آ چکے ہیں، جب کہ ’سنگھ پریوار‘ کی سرپرستی میں پلنے والے رنگ دار کارندے،نسل پرستانہ نفرت کی ہانڈی کو لگاتار اُبال رہے ہیں۔وزیر اعظم صاحب، یہ دوحادثے محض معمولی جرائم نہیں ہیں کہ گزرتے وقت کے ساتھ جس سے ہماری سماجی چادر کے داغ دُھل جائیں گے، ہماری قومیت اور اخلاقیات پر لگے زخم بھر جائیں گے، اور پھر وہی رام کہانی شروع ہو جائے گی بلکہ یہ ہمارے وجود پر اُمڈ آنے والے بحران کا ایک موڑ ہے۔ اس میں [آپ کی] حکومت کا رد عمل طے کرے گا کہ ایک ملک اور جمہوریت کے روپ میں کیا ہم آئینی قدروں، انتظامی اور اخلاقی نظام پر ٹوٹ پڑنے والے بحران سے نمٹنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ فوری طور پر ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ درج ذیل کارروائی کریں :

  •  اناؤ اور کٹھوعہ کے متاثر ین تک پہنچ کر ہم سب کی طرف سے، ان سے معافی مانگیں۔
  • کٹھوعہ معاملے میں فوری استغاثہ کروائیں اور اناؤ معاملے میں بہانے تراشنے کے بجاے عدالت کی متعین کردہ رہنمائی کے مطابق اسپیشل جانچ ایجنسی کی تشکیل کریں۔
  •  ان بھولےبھالے معصوم بچوں اور نفرت انگیز جرائم کے شکار دوسرے لوگوں کے دُکھ درد کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہوں کہ مسلمان، دلت، دیگر اقلیتوں، خواتین اور بچوں کو خصوصی تحفظ اور اعتماد دیا جائے گا،تاکہ وہ اپنی جان ومال اور شہری آزادی کے حوالے سے بے خوف رہیں، اور ان کو درپیش ہر قسم کے خطروں کو حکومت پوری طاقت سے ختم کرے گی۔
  •  حکومت سے ان تمام لوگوں کو برطرف کیا جائے، جو نفرت بھرے جرائم اور نفرت آمیز تقریروں سے جڑے رہے ہیں۔
  • نفرت آمیز جرائم سے سماجی، سیاسی اور انتظامی طور پر نمٹنے کے لیے ایک کل جماعتی اجلاس بلائیں۔

ممکن ہے کہ یہ دیر آید درست آید نہ ہو، مگر اس سے نظام کچھ تو دوبارہ قائم ہوگا اور کچھ   تو بھروسا ملے گا کہ بدنظمی اور مسلسل گراوٹ کو اب بھی روکا جا سکتا ہے۔ ہم پُرامید ہیں۔ [The Deccan Chronicle، حیدرآباد، ۱۶؍اپریل ۲۰۱۸ء، The Outllook India، نئی دہلی، ۱۶؍اپریل ۲۰۱۸ء، اُردو ترجمہ: سلیم منصور خالد]

جب کوئی ہم نفس، ہم مقصد ساتھی زندگی کا سفر مکمل کر کے چلاجاتا ہے تو بہت کچھ کھونے کے صدمے، تنہائی اور اجنبیت کے احساس میں شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوستی کی نعمت تو۳۰برس کی عمر سے پہلے ہی ملتی ہے، بعد میں ممکن ہے بہت سے اچھے لوگ حلقۂ احباب میں شامل ہوں، لیکن دوستی کی تعریف پہ کم ہی پورے اُترتے ہیں۔ انسانی زندگی، دوستی کی خوشبو سے معطر نہ ہو تو وہ بجاے خود ایک بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے، او ر بے بسی کا پہاڑ اپنی ہیبت طاری کرتا دکھائی دینے لگتاہے۔

صفدر علی چودھری اپنے منصب اور مصروفیات کے اعتبار سے جماعت اسلامی پاکستان کے ناظمِ نشرواشاعت تھے، لیکن مزاجاً وہ دوستیاں بنانے اور پالنے والے شخص تھے__ سب کے دوست اور سب سے دوستی۔ ہرفرد کا اپنا تجربہ ہوگا۔ راقم کے سامنے مشاہدات و تعلقات کی ایک کہکشاں ہے، اور اس ’منوہر‘ بھائی کے طرزِ تعلقات، مقصد کی لگن اور ایثار و قربانی کے پہلو اس قدر پھیلے ہوئے ہیں کہ انھیں بیان کرنا مشکل اور ان کی شدت و گہرائی کو لفظوں میں سمونا مشکل ترین عمل ہے۔

صفدر چودھری صاحب فی الحقیقت کارکن تھے اور ایسا کارکن کہ جس میں قیادت کی صلاحیت تو موجود ہو مگر وہ کارکن کی حیثیت سے آگے بڑھ کر قدم رکھنا نہ چاہے۔ وہ کہا کرتے تھے: ’’میں نہ صاحب ِ قلم ہوں، نہ عالم ہوں، نہ کچھ صحافتی تجربہ رکھتا ہوں، اور نہ مکالمے کی صلاحیت ہے، لیکن اس کے باوجود نعیم صدیقی صاحب اور مصباح الاسلام فاروقی صاحب کی نشست پر دھکا دے کر بٹھا دیا گیا ہوں‘‘۔

سوال کیا:

’’جب یہ ذمہ داری پڑگئی ہے تو پھر اسے نبھانے کا ڈھنگ کیسے اپنایا ہے؟‘‘ جواب میں کہنے لگے: ’’اس زیادتی کا ایک ہی حل سوچا ہے کہ اس میدان میں بھاگ بھاگ کر لکھنے والوں کی خدمت کروں، اگر کوئی میرے مقصد ِ زندگی کی تائید میں ایک جملہ بھی لکھے تو اس کا خادم بن جائوں اور اگر وہ سنگ زنی کرے تو اس کے پتھر کو چُوم کر ایک طرف رکھ دوں اور کہوں: میرے بھائی! مزا نہیں آیا، ایک اور مگر ذرا زور سے۔ ممکن ہے وہ اس صبر کے نتیجے میں شرمندہ ہوکر دوسرا پتھر نہ مارے اور مارے تو زیادہ شدت سے نہ مارے‘‘۔

یہ گفتگو ۱۹۷۲ء کے نومبر میں ہوئی تھی، جب میں سالِ سوم کا طالب علم اور اسلامی جمعیت طلبہ گوجرانوالہ کا کارکن تھا۔ تب وہاں سے البدر  کے نام سے ایک رسالہ نکالا۔ مولانا مودودیؒ کو لکھا کہ رسالے کے لیے پیغام عنایت کریں۔ جوابی پیغام ڈاک کے ذریعے نہیں آیا، بلکہ دستی طور پر دینے کے لیے صفدر صاحب بس کا سفر کرکے تشریف لائے۔ میری حیرانی و ندامت دیکھ کر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’بھائی، میں نے رضاکارانہ طور پر یہ اپنی ذمہ داری   سمجھ رکھی ہے کہ پاکستان میں جہاں کہیں بھی پڑھنے لکھنے کا شوق رکھنے والے ساتھی کی موجودگی دیکھوں تو اُس سے جاکر ملوں‘‘۔ یہ سن کر مَیں مزید زیربار ہوگیا کیوں کہ یہاں لکھنے پڑھنے والی تو کوئی بات نہیں تھی، مگر وہ سراب کو دیکھ کر نکل پڑے تھے۔ بہرحال، اُس روز سے دوستی کا ایسا رشتہ قائم ہوا کہ آخر دم تک برقرار رہا اور اس سارے عرصے میں کبھی دُوری محسوس نہ ہوئی۔

جب مَیں لاہور آگیا تو دیکھا کہ مولانا مودودی اُن سے اپنے بیٹوں کی طرح محبت کرتے ہیں۔ صفدرصاحب دبے دبے لفظوں میں بے تکلفی سے باتیں کرتے اور انتہا درجے کی برخورداریت سے خدمت کرتے۔ کتنی ہی بار وہ مولانا کے پاس مجھے لے کر گئے اور ان کے ساتھ مولانا کی شفقت ِپدری دیکھ کر رشک آتا۔

ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا دورِ حکومت [۱۹۷۲ء- ۱۹۷۷ء] سخت تکلیف دہ اور خوف و دہشت کی علامت بلکہ سراپا دَورِ فسطائیت تھا۔ یہ زمانہ صحافت کے لیے بڑی کٹھن بلکہ تاریک رات کا ہم معنی تھا۔ آزمایش میں گھِرے صحافیوں کی دل جوئی کے لیے صفدر صاحب اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر جیلوں، حوالاتوں اور ان کے اہلِ خانہ تک پہنچتے۔ اس ضمن میں ان کے نزدیک جماعت اسلامی کے حامی یا مخالف کی کوئی تفریق نہ تھی، وہ سبھی کے لیے سراپا خدمت ہوتے۔

صفدر صاحب کی ذمہ داری تو نشرواشاعت کی تھی، لیکن وہ بہ یک وقت غیراعلان شدہ  ناظم تنظیم اور سیاسی و سماجی رابطہ کار بھی تھے، بلکہ درست لفظوں میں وہ ناظم خدمت ِ خلق اور ناظم مہمان داری بھی تھے۔ منصورہ میں ان کا گھر اسلامی جمعیت طلبہ کے دُور دراز سے آنے والے کارکنوں کے لیے ’نعمت کدہ‘، اسلامی جمعیت طالبات کے لیے ’اپنا گھر‘، صحافیوں کی بے تکلفانہ گفتگو کے لیے ’پریس کلب‘، بیماروں کے لواحقین کی رہنمائی کے لیے ’پڑائو‘، حتیٰ کہ جماعت کے کارکنوں کا تعاقب کرنے والے پولیس اہل کاروں کو ٹھنڈا پانی پلانے کی ’سبیل‘ تھا!

وہ صحافی برادری کی خدمت کے لیے ہمہ تن مصروف رہتے اور اس مقصد کے لیے ذاتی سطح پہ مالی طور پر زیربار ہونے سے بھی نہ گھبراتے۔ کئی بار ناظمِ مالیات (پہلے شیخ فقیر حسین صاحب ، پھر مسعود احمد خاں صاحب اور ابراہیم صاحب) کو خبردار کرتے دیکھا اور سنا: ’’صفدرصاحب، آپ پر قرض چڑ ھ گیا ہے اور آپ اگلے مہینے کا اعزاز یہ بھی لے چکے ہیں، کیسے اُتاریں گے یہ قرض؟‘‘

قصّہ دراصل یہ ہوتا کہ کسی صحافی بھائی کے والدین کی عیادت کرنے جاتے تو صفدربھائی  علاج کے لیے کچھ رقم دے آتے، کسی کی شادی پر جاتے تو کوئی تحفہ پیش کردیتے۔ ایسے تحفے وصول کرنے والے صحافی سمجھتے تھے یا سمجھتے ہوں گے کہ یہ ’جماعت کے کسی فنڈ‘ سے ہورہا ہے، لاریب، جماعت نے اپنے بجٹ میں ایسا کوئی فنڈ نہیں رکھا تھا۔ صفدر صاحب یہ سب کچھ اپنے  بیوی بچوں کے حق اور اپنی ضروریاتِ زندگی کی قربانی دے کر ایسا بار بار کرتے تھے۔ وہ اس خدمت کا کہیں تذکرہ بھی نہ کرتے کہ کسی کی عزتِ نفس زیربار نہ ہو، مگر قربت کے سبب ہم کبھی کبھی معاملہ جان لیتے۔

یہ منظر میرے مشاہدے میں کئی مرتبہ آیا کہ صحافی بھائیوں کا ایک حلقہ تو بے تکلفانہ احترام سے انھیں پکارتا اور دوسرا گاہے بے تکلفانہ بدتمیزی سے مخاطب ہوتا۔ ایک روز میں نے جل کر کہا: ’’صفدر صاحب، فلاں صاحب نے جس توہین آمیز طریقے سے آپ کو پکارا ہے، میرے لیے یہ ناقابلِ برداشت ہے‘‘۔ ایک دم میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور سینے سے لگاکر کہنے لگے:’ایک بات ذہن میں رکھیں، یہ شہر ہے۔ جب میں نے مولانا کی ہدایت پر اس شہر کو اپنا مسکن بنایا تو اسی وقت خوب سوچ سمجھ لیا تھا کہ: ’’عزّت، نامی چیز تو ایک اضافی شے ہے، جو آپ کو اپنے گائوں برادری ہی میں مل سکتی ہے۔ یہاں تو کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ہوگا، اس لیے یہ دونوں کھانے پڑیں گے۔ مجھے عزّت عزیز ہوتی تو اپنے گائوں میں، اپنی برادری ہی میں رہتا۔ اس لیے عزّت کی توقع کسی سے نہیں رکھتا۔ کوئی عزّت کرے تو اس کی مہربانی، نہ کرے تو جہاں رہے خوش رہے۔ آپ میرے بارے میں پریشان نہ ہوں، بلکہ اپنے پلے بھی اسی بات کو باندھ رکھیں، زندگی کا سفر اچھا کٹے گا‘‘۔ اور پھر اپنا روایتی گھٹاگھٹا قہقہہ فضا میں بکھیر دیا۔

ان کا گھر، وقت بے وقت، اِکا دُکا یا بڑی تعداد میں، تحریکی دوستوں کی مہمان نوازی کا مرکز بنا رہتا۔ ایک روز بے چین ہوکر میں نے پوچھا: ’’چلیے، آپ تو یہ خدمت انجام دے رہے ہیں، مگر آپ کے بیوی بچوں کا کیا قصور کہ انھیں رات دن چولھے کچن میں جھونکے رکھتے ہیں اور ان کے حقِ زندگی کی زبردستی قربانی لیتے ہیں؟ گھر والے دوپہر یا رات گئے آرام کر رہے ہوتے ہیں تو چائے روٹیاں پکانے کے لیے اُٹھا دیتے ہیں، بچے کمرے میں سوئے ہوتے ہیں تو انھیں بے آرام کرکے اندر دھکیل دیتے ہیں۔ یہ بڑی نامناسب بات ہے‘‘۔

کہنے لگے: ’’اس گھر میں ہم سب ایک ہیں، جس میٹھی آگ میں مَیں جلوں گا، اس کی تپش سے بھلا وہ کس طرح الگ رہ سکتے ہیں؟‘‘ پھر مسکرا کر کہنے لگے: ’’وہ بھی خوش رہتے ہیں کہ میں خوش ہوں، اور آپ بھی آکرخوش ہوا کریں‘‘۔ اسی بناپر قاضی حسین احمد مرحوم ، صفدرصاحب کے گھر کو ’خوش حال گھرانا‘ کہا کرتے تھے۔

شعبہ نشرواشاعت میں ہم نے کئی پوسٹر تیار کیے، بہت سے پمفلٹ اور کئی بیانات لکھے۔ پوسٹر کی تیاری اور کتابت کے لیے وہ کاتب اور ڈیزائنر کو اپنی جیب سے اضافی طور پر بھی ہدیہ دیا کرتے تھے کہ: ’’تخلیق کار کی تالیف ِ قلب ضروری ہے‘‘۔ البتہ کاغذ کے تاجروں سے رقم کم کرانے کے لیے متعدد دکانوں پر جاکر باقاعدہ بحث کرتے تھے۔ ۱۹۸۳ء میں انھوں نے اجتماعِ ارکان کے موقعے پر ایک پوسٹر تیار کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپتے ہوئے کہا: ’’اس پر کیا خاص بات لکھی جائے؟‘‘ عرض کیا:’’اس بار پوسٹر پر آیت دیتے ہیں: اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً‘‘۔ صفدرصاحب نے اتفاق کیا۔ اسے پیش کرنے کے لیے کوئی آئیڈیا ہمارے ذہن میں نہیں تھا، بس پوسٹر کی تیاری پیش نظر تھی۔ نیشنل کالج آف آرٹس کے طالب علم اور محترم دوست سیّد مبین الرحمٰن صاحب کے پاس حاضر ہوا، اور مدعا بیان کیا۔ مبین صاحب نے دو تین روز بعد پوسٹر تیار کیا۔ چاند اور خانہ کعبہ کے ساتھ آیت ِ مقدسہ کو ایک خاص اسلوب میں نقش کیا۔ میں جب پوسٹر کا یہ ڈیزائن لے کر منصورہ آیا ، تو اسے دیکھ کر صفدرصاحب پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔ کھینچ کر گھر لے گئے، بڑے جوش سے کھانا کھلایا اور ڈیزائن کو دیکھ کر بار بار کہتے رہے: ’’سبحان اللہ! سبحان اللہ!‘‘

میں نے پوچھا: ’’کیا ہوگیا ہے؟ ڈیزائن ہی تو ہے‘‘۔ کہنے لگے: ’’جماعت اسلامی کا مونوگرام نہیں تھا۔ آج جماعت کو اپنا مونوگرام (طغرا) مل گیا ہے۔ میں اسے چلا دوں گا‘‘۔ صفدر صاحب نے اسے بڑے تسلسل کے ساتھ جماعت اسلامی کی مطبوعات پر شائع کرنا شروع کر دیا۔ ایک سال میں یہ ڈیزائن اتنا استعمال کیا کہ اس کے بعد سے یہ جماعت اسلامی پاکستان کی پہچان اور جماعت کا پارٹی مونوگرام بن گیا ہے___ سیّد مبین الرحمٰن کا ڈیزائن اور صفدر صاحب کا انتخاب۔

صفدر صاحب کی شخصیت جہاں خلوص سے سرشار تھی، وہیں ان کے چہرے پر ہرآن موجِ تبسم کھیلتی تھی۔۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو ان کا جوانِ رعنا، دوسرا بیٹا مظفرنعیم، جہادِ کشمیر میں حصہ لیتے ہوئے سوپور میں شہید ہوگیا۔ وہ ہمارے سامنے کھیلتے کھیلتے جوان ہوا تھا۔ سروقامت، سدابہار مسکراہٹ اور اپنی پیاری شخصیت کے باعث جدائی کا گہرا گھائو لگاگیا۔ ہم احباب گریۂ جدائی پر قابو نہ رکھ سکے، مگر صفدر صاحب سب کو اس وقار سے دلاسہ دے رہے تھے کہ نہ آنسو اور نہ آہیں بلکہ خلوصِ نظر کا وقا ر انھیں تھامے رہا۔

تحریکیں اور خاص طور پر نظریاتی تحریکیں ایسے ہی کارکنوں کے دم سے آباد، شاداب اور ثمربار بنتی ہیں۔ صفدر صاحب پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد، ۱۹۶۸ء سے ۱۹۸۷ء تک جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی ناظم نشرواشاعت رہے (ازاں بعد ناظم تعلقاتِ عامہ اور پھر جنوری ۱۹۹۰ء سے جولائی ۱۹۹۶ء تک ہفت روزہ ایشیا کے مدیر رہے)۔ ۱۹برس کی نظامت میں، بطور ناظم نشرواشاعت اُن کے زیادہ سے زیادہ پانچ یا چھے محض چند سطری وضاحتی سے بیان آئے۔ اس گریزپائی و بے نیازی کے بارے میں انھوں نے کہا: ’’کارکن بیان نہیں دیا کرتا، یہ کام قیادت کا ہے‘‘۔ خلوص و محبت کی یہ گھنگھور گھٹا جو ۱۹۴۱ء میں  ضلع جالندھر کے گائوں کرتارپور (بابا گورونانک کا مقامِ وفات) سے اُٹھی تھی، برستے برستے ۱۳جنوری ۲۰۱۸ء کو لاہور میں چھٹ گئی۔ لیکن یہ گھٹا جاتے جاتے ایک سوال چھوڑ گئی کہ کیا زندگی بھر اپنی جان گھلانے، دوسروں کی عزت کرنے اور احترام بانٹنے والے کارکن دمِ واپسیں اور زمانۂ معذوری میں محبت، توجہ اور احترام کا بھی کچھ حق رکھتے ہیں؟

سرزمین بنگال کی قسمت میں قربانی، سازش اور ظلم ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل انگریزوں اور ہندوئوں کے ظلم سہتے ہوئے بنگالی مسلمانوں نے گراں قدرقربانیاںپیش کیں اور غیرت و حمیت پر آنچ نہ آنے دی۔ لیکن قیامِ پاکستان کے بعد انھی ہندوئوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے لیے مشرقی پاکستان کی بڑی سیاسی قوت نے خودسپردگی کا ایک ایسا رویہ اختیار کیا، جس نے انھیں تاحال سکون اور قومی خوداختیاری کی دولت سے محروم رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی عوامی لیگی حکومت نے کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں، جن پر یہ معروضات پیش ہیں:

o

اگرچہ جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کو عوامی لیگی حکومت مسلسل نشانۂ ستم بنائے ہوئے ہے ، لیکن ستمبر کے آخری ہفتے میں جماعت اسلامی پر عتاب کا نیا وار کرتے ہوئے جماعت کے کارکنوں کی اچانک پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ ۲۷ستمبر کو ضلع پبنہ کی سانتھیا تحصیل کے امیرمستفیض الرحمٰن فیروز اور جماعت اسلامی کی حلقہ خواتین کی فعال کارکنان کو بلاجواز گرفتار کرلیا۔ اسی طرح ضلع سرسنگدی کی تحصیل پولاش کے امیر مولانا امجد حسین کو بھی زیرحراست لے لیا گیا۔

۹؍اکتوبر کو نمازِ عشاء سے تھوڑی دیر پہلے، حکومت نے جماعت اسلامی کے امیر مقبول احمد، نائب امیر و سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پروار اور سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، محمد شاہ جہاں (امیرچٹاگانگ)، نذرالاسلام، سیف الاسلام، جعفرصادق اور نذرالاسلام ثانی کو گرفتار کرلیا۔ جماعت اسلامی نے تمام حکومتی مظالم، دھاندلیوں اور خوف ناک زیادتیوں کے باوجود جمہوری، پُرامن اور ایک اصولی پارٹی کے طور پر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا ہے۔ ان قائدین کو گرفتار کرتے وقت الزام یہ لگایا گیا کہ ’’ڈھاکا کے ایک گھر میں دہشت گردی کا منصوبہ بنایا جارہا تھا‘‘، جب کہ جماعت کے ترجمان نے اس شرم ناک الزام کی تردید اور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ: ’’وہ ایک گھر کے احاطے میں سماجی تقریب میں شریک تھے، خفیہ یا تخریب کاری جیسے گھنائونے الزام کی کوئی حقیقت نہیں۔ ہم ایک جمہوری پارٹی ہیں اور جمہوری طریقوں سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باوجود اس کے کہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کو جھوٹے الزامات اور غیرمنصفانہ اور یک طرفہ مقدمات میں مطیع الرحمٰن نظامی سمیت جماعت اسلامی کے پانچ مرکزی رہنمائوں (سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد، ڈپٹی سیکرٹری جنرل قمرالزمان خان، اسسٹنٹ سیکرٹری عبدالقادر مُلّا، مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن میرقاسم علی) کو پھانسی پر لٹکادیا گیا، مگر جماعت نے کوئی غیرقانونی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اور جو پُرامن احتجاج کیے، ان میں بھی جماعت کے بہت سے کارکنوں کو حکومت کے ایما پر گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ پھر شہید مطیع الرحمٰن نظامی کی پھانسی کے بعد منتخب امیرجماعت اسلامی بنگلہ دیش مقبول احمد صاحب نے بوجوہ بڑے جلسوں میں شرکت سے گذشتہ پورے سال کے دوران میں اجتناب برتا ہے، مگر اس کے باوجود انھی پر شرم ناک الزام لگانا، حکومتی حلقوں کا ذہنی دیوالیہ پن ہے‘‘۔ یاد رہے ۲۰۱۳ء سے جماعت اسلامی پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ: ’’جب تک وہ اپنے دستور اور منشور کو سیکولر نہیں بناتی وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی‘‘۔

جناب مقبول احمد کی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی نے سابق ممبر پارلیمنٹ پروفیسر مجیب الرحمٰن کو قائم مقام امیر اور جناب اے ٹی ایم معصوم کو قائم مقام سیکرٹری جنرل مقرر کیا ہے۔

۹؍اکتوبر ہی کو بنگلہ دیش سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی کے تین لیڈروں کی نظرثانی کی اپیلوں پر کارروائی ۲۱نومبر تک ملتوی کی گئی۔ یاد رہے کہ ان میں اے ٹی ایم اظہرالاسلام، سیّدمحمد قیصر اور عبدالسبحان کو بنگلہ دیش کی خصوصی [جعلی] عدالتیں سزاے موت کی سزا سنا چکی ہیں۔ (روزنامہ ڈیلی اسٹار، ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)

قائم مقام امیرجماعت اسلامی کی اپیل پر ۱۲؍اکتوبر کو پورے ملک میں پُرامن ہڑتال کی گئی۔ابتدا میں تو نہیں، البتہ ہڑتال کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر دیا (NTV ڈھاکا، ۱۲؍اکتوبر)۔ اسی دوران میں جماعت کے بہت سے احتجاجی کارکنوں کو گرفتار کرکے تھانوں میں بند کردیا گیا۔ نیڑو تحصیل کے امیر ماسٹر نذرالاسلام ، سراج گنج کے امیر پروفیسر شاہدالاسلام اور رنگ پور سے تین مقامی لیڈروں کو پولیس نے اُٹھا لیا۔ ۱۵؍اکتوبر کو ست خیرا میں جماعت کے امیر پروفیسر عبدالغفار کو گرفتار کرلیا۔  اسی طرح کومیلا کے امیر قاضی دین محمد سمیت گیارہ ارکان، چاندپورسے امیرجماعت محمد حسین اور یہیں سے حلقہ خواتین کی ناظمہ فردوسی سلطانہ اور سیکرٹری فرزانہ اختر کو قید کر دیا گیا۔یاد رہے ریمانڈ کا پروانہ لے کر کارکنوں کو پولیس ٹارچر سیلز میں لے جاتی اور انسانیت سوز مظالم ڈھاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ظلم پر میڈیا خاموش، عدالت تماشائی اور قوم بے بس نظر آتی ہے۔

جماعت اسلامی کے ۸۰ سالہ امیر جماعت مقبول احمد کی جیل میں صحت بُری طرح خراب ہے۔ وہ ذیابیطس ، بلڈپریشر اور امراضِ دل میں مبتلا ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی میں شدید درد کے باعث ان کے لیے سیدھے کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں سخت مشکل پیش آتی ہے، اس لیے روزانہ فزیوتھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ادویات میں بے قاعدگی، پرہیزی خوراک کے خاتمے اور جسمانی مشق کی کمی کے باعث ان کی صحت بگڑ گئی ہے، مگر حکومت آج ۲۵؍اکتوبر تک انھیں ہسپتال بھیجنے کے لیے تیار نہیں۔

حسینہ واجد کی کٹھ پتلی حکومت نے اخلاق اور جمہوری روایات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ۱۸؍اکتوبر کو ڈھاکا سے اسلامی جمعیت طالبات بنگلہ دیش (اسلامی چھاترو شنگھستا) کی ۲۱ کارکنان اور عہدے داران کو درسِ قرآن کی ہفتہ وار کلاس سے گرفتار کرلیا۔ یہ طالبات اعلیٰ درجوں میں میڈیکل، سماجیات اور انجینیرنگ کے شعبہ جات سے وابستہ ہیں۔ اس ’روشن خیال اور لبرل‘ حکومت کے مطالبے پر ڈھاکا ہائی کورٹ نے طالبات کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انھیں پولیس کے ریمانڈ میں دے دیا، اور دو روز کے ریمانڈ کے بعد جیل بھیج دیا۔

راج شاہی یونی ورسٹی سے اسلامی چھاترو شبر کے آٹھ کارکنان کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور دہشت گردی کا الزام لگایا۔ اسلامی چھاتروشبر کے مرکزی صدر یاسین عرفات نے اس پر کہا ہے کہ: ’’ایک غیرقانونی حکومت، اندھی قوت کے نشے میں بدمست ہوکر گھٹیا الزام لگاتے ہوئے اخلاق، قانون اور قومی اداروں کو تباہ کررہی ہے۔ یہ گرفتاریاں، تشدد اور پھانسیاں تحریک ِ اسلامی کا راستہ نہیں روک سکتیں‘‘۔

o

حسینہ واجد حکومت نے پہلے بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدلیہ کو اپنی باج گزار بناکر اس سے   خاص طور پر ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ کی کارروائی کی تائید اور انصاف کے قتل کے لیے زرخرید غلاموں کی طرح کام لیا۔ یوں بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے آنکھیں بند کرکے، نام نہاد خصوصی ٹریبونلی فیصلوں پر ایک ایک کر کے عمل کرایا اور جماعت اسلامی کے پانچ رہنمائوں اور صلاح الدین قادر چودھری کو پھانسی پر لٹکا دیا، جب کہ قائدتحریک اسلامی پروفیسر غلام اعظم اور ان کے دو رفقا کو   جیل کے اندر ہی موت کی وادی میں اُتار دیا۔ حالیہ عرصے میں اسی بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کے  چیف جسٹس سریندر کمار سنہا نے سات ججوں سمیت بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کی ۱۶ویں ترمیم کو اس کی اصل شکل میں نامنظور کرتے ہوئے، ۳جولائی ۲۰۱۷ء کو ۷۹۹صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا اور ۳؍اگست ۲۰۱۷ء کو ۳۹نکاتی فارمولا تجویز کرتے ہوئے متفقہ فیصلے کا اعلان کیا۔

عوامی لیگی حکومت کی طرف سے دراصل یہ ترمیم اس مقصد کے لیے کی گئی تھی کہ :’’آیندہ پارلیمنٹ کے ارکان، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا مواخذہ (impeachment) کرسکیں گے‘‘۔ فیصلے کے  متن میں چیف جسٹس نے ایک جگہ ۱۹۷۱ء کے ہنگامی حالات میں شیخ مجیب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ یہ جملہ بھی لکھا کہ ’’وہ جدوجہد فردِ واحد کا ثمر نہیں تھی بلکہ اس میں پوری قوم نے حصہ لیا تھا‘‘۔ اس جملے کو عوامی لیگ نے مجیب کی توہین قرار دے کر چیف جسٹس کے خلاف مخالفانہ بلکہ توہین آمیز مہم چلانے اور دبائو بڑھانے کا آغاز کیا ،تاکہ وہ استعفا دیں۔

یہ مسئلہ اُس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گیا، جب جسٹس سنہا نے چند روز قبل ایک عدالتی کارروائی کے دوران یہ کہہ دیا کہ: ’’ہمیں جذبات پر قابو رکھنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے تو وزیراعظم نواز شریف کو برطرف کر دیا ہے، لیکن کیا وہاں پر سپریم کورٹ کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے؟‘‘ اس جملے کا میڈیا پہ آنا تھا کہ حسینہ واجد نے اسی روز شدید غصے اور برہمی میں چیف جسٹس سنہا کا نام لیے بغیر کہا:’’اسے اب سپریم کورٹ چھوڑنا ہی پڑے گا، اس لیے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کا موازنہ کیا ہے۔ کسی معاملے میں پاکستان کی مثال پیش کرنا ہمارے لیے توہین آمیز اور ناقابلِ برداشت فعل ہے‘‘۔ مزید کہا: ’’عوام کی عدالت زیادہ بڑی عدالت ہے۔ کوئی فرد عوام کی عدالت کو نظرانداز نہیں کرسکتا، میں عوام ہی کی عدالت سے انصاف کی طالب ہوں‘‘۔ حسینہ واجد کے مذکورہ بیان کے چند گھنٹوں بعد ۱۹۶۹ء کی عوامی لیگی اسٹوڈنٹ لیڈر موتیا چودھری،  جو آج کل وزیرزراعت ہیں، نے بیان داغا: ’’چیف جسٹس کو ملک چھوڑ دینا چاہیے یا پھر دماغی امراض کے ہسپتال سےعلاج کرانا چاہیے‘‘۔ اُدھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی مذمت کی کہ: ’’عوامی لیگی حکومت نے عملاً چیف جسٹس کو قیدی بنا رکھا ہے‘‘۔ (India TV News Desk، ۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)

ڈھائی ماہ پر پھیلی اس دھماچوکڑی کے بعد ۱۳؍اکتوبر کو چیف جسٹس سنہا نے ایک ماہ کی رخصت پر آسٹریلیا جاتے ہوئے اخبار نویسوں کو چند سطروں پر مشتمل یہ تحریر دی: ’’میں بیمار نہیں ہوں بلکہ صحت مند ہوں۔ میں بھاگ نہیں رہا بلکہ واپس آئوں گا۔ اگرچہ مجھے حکومتی رویے سے دُکھ پہنچا ہے لیکن عدلیہ کا سرپرست ہونے کی حیثیت سے میں اپنا کردارادا کروں گا‘‘ (ڈیلی نیوایج، ۱۴؍اکتوبر)۔ چیف جسٹس کی پرواز کے صرف تین گھنٹے بعد ان کے خلاف گیارہ الزامات کی فہرست جاری کردی گئی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ میں ان کے متعدد ساتھی ججوں نے ان الزامات کی موجودگی میں چیف جسٹس کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ (بی ڈی نیوز، ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)

مزید یہ کہ قائم مقام چیف جسٹس محمد عبدالوہاب میاں نے چیف جسٹس سریندرکمار سنہا کے آسٹریلیا روانہ ہونے کے ۴۸گھنٹے کے اندر اندر سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے ۲۵اعلیٰ افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر تبادلے کر دیے ہیں۔ ان عدالتی افسروںمیں جسٹس سنہا کے قریبی رفقا شامل ہیں۔ اس اقدام سے ایک ہی روز قبل وزیرقانون انیس الحق اور اٹارنی جنرل محبوب عالم نے بیان دیا تھا کہ ’’قائم مقام چیف جسٹس تمام اقدامات اور فیصلے کرسکتا ہے‘‘۔(بی ڈی نیوز۲۴، ۱۶؍اکتوبر)

جماعت اسلامی  کے قائم مقام سیکرٹری جنرل اے ٹی ایم معصوم نے اس صورتِ حال کو: ’’عدالتی معاملات میں حکومت کی سیاسی، حکومتی اور غیراخلاقی مداخلت قرار دیا، اور کہا کہ دراصل حسینہ حکومت عدالتی افسروں، ججوں اور عدالتی عمل پر مکمل گرفت قائم کرنا چاہتی ہے‘‘،جب کہ   قائم مقام چیف جسٹس نے یہ بیان داغ دیا ہے کہ: ’’جسٹس سنہا کو جاتے جاتے منصب کے احترام میں ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا‘‘ (ڈیلی اسٹار ، ۱۷؍اکتوبر)۔ پیش نظر رہے کہ جسٹس سنہا نے ڈھائی ماہ تک عوامی لیگی طوفانی پروپیگنڈے، گندے کارٹونوں اور گھنائونے الزامات کے جواب میں صرف یہی تین جملے لکھے۔

اس صورتِ حال سے یہ اندازہ ہوتا ہے، بھارت اپنی نوآبادی بنگلہ دیش کا نظام ٹھیک طور سے نہیں چلنے دینا چاہتا۔ اس کی یہی کوشش ہے کہ ۱۶کروڑ آبادی کا یہ ملک ہرآن کسی نہ کسی افراتفری کا شکار رہے ، تاکہ معاشی، سماجی اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں وہ ایک مجبور اور غیرمستحکم ریاست کے طور پر تاجِ دہلی کا دست ِ نگر رہے۔ اس آئینے میں، اس خطّے ہی کے نہیں بلکہ خود   عرب دنیا کے نام نہاد علاقائی قوم پرستوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب بڑی طاقت ، نفرت کے بل پر نام نہاد آزادی دلاتی ہے تو بنیادی کنٹرول اپنے ہاتھ ہی میں رکھتی ہے۔ اپنی ملّت سے غداری کرنے والوں کو محض علامتی اختیار دیتی ہے اور لیلاے اقتدار سے نہیں نوازتی۔

o

 بنگلہ دیش کے ہمسایہ ملک برما (میانمار) میں ایک عرصے سے مسلمانوں کی نسل کشی کا گھنائونا کھیل جاری ہے۔ اس دوران عوامی لیگی حکومت نے بھی عزت، آبرو اور جان بچاکر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کو سمندر میں دھکیل کر موت کی لہروں کے سپرد کیا۔ تاہم، گذشتہ چندماہ میں بنگلہ دیشی حکومت کے رویے میں مثبت تبدیلی آئی، جس کا بڑا سبب عالمی اور ملکی راے عامہ کا دبائو بھی تھا۔

روہنگیا مسلمانوں کی وحشیانہ نسل کشی کے خلاف راے عامہ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حتی المقدور کوششیں شروع کیں۔ جماعت اسلامی کے امیرمقبول احمد نے روہنگیا مسلمانوں کی ناقابلِ بیان صورتِ حال، میانمار حکومت، میانماری فوج اور بدھ بھکشوئوں کی جانب سے بدترین قتل و غارت گری و بے چارگی پر دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے ہم وطن اہلِ درد سے اپیل کی کہ وہ مظلوموں کی مدد کریں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق، دنیابھر کے مؤثر اداروں کے دروازے کھٹکھٹائیں۔ مقبول احمد صاحب نے اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا: ’’روہنگیامسلمانوں کے سفاکانہ قتل عام کو رُکوانے میں وہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔ میں عالمی تنظیموں، مسلمان ملکوں اور رفاہی تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مدد  کے لیے تڑپتے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے بنگلہ دیش کا ہاتھ بٹائیں۔ اس بحران میں پوری بنگلہ دیشی قوم یک آواز اور ہم قدم ہے‘‘۔(بی ڈی نیوز ۲۴، ۱۲ستمبر ۲۰۱۷ء)

عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) کے مطابق:’’ ۲۰ستمبر تک میانمار میں مسلمانوں کے ۲۴۴ گائوں مکمل طور پر تباہ کردیے گئے تھے‘‘(ڈیلی نیونیشن، ۲۰ستمبر)۔ بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ۵لاکھ ۳۶ہزار روہنگیا مہاجر بنگلہ دیش آچکے ہیں۔  اسی دوران حسینہ واجد کے سیاسی مشیر حسان توفیق امام نے مغالطہ انگیزی پیدا کرتے ہوئے کہا:  ’اراکان روہنگیا مجاہدین آزادی‘، بنگلہ دیش اور برما دونوں کے دشمن ہیں، ہم انھیں قدم نہیں جمانے دیں گے‘‘(مِزما نیوز،میانمار، ۲۱ستمبر)۔ اس کاغذی تنظیم کا تذکرہ کرکے بنگلہ دیشی حکومت نے روہنگیا مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کی اور ان کے دُکھ درد میں اضافہ کیا۔ یہ  طرزِ بیان بھارت کی بی جے پی، آر ایس ایس اور برمی فوج کا ہے، جسے ڈھاکا حکومت نے اپنی طرف سے  نشر کیا۔ حسینہ واجد حکومت کے اسی دوغلے پن کو نظام احمد نے اپنے مضمون: ’ڈھاکا دہلی رومانس  اینڈ روہنگیا‘ میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا(ڈیلی آبزرور ، ۲۰ستمبر)۔ پھر ۲۰ روز بعد روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی تین رفاہی تنظیموں: مسلم ایڈ بنگلہ دیش ، اسلامک ریلیف اور علامہ فضل اللہ فائونڈیشن پر پابندی عائد کر دی گئی اور صحافیوں نے اس انتہائی اقدام کا سبب جاننا چاہا، تو ڈائرکٹر رجسٹریشن نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔(بی ڈی نیوز ۲۴، ۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۷ء)

درحقیقت بنگلہ دیشی حکومت ، جہاں ایک طرف روہنگیا مسلمانوں کی حالت ِ زار کے نام پر دنیا سے مدد حاصل کر رہی ہے، وہیں نہ صرف عالمی سطح کی بلکہ مقامی رفاہی تنظیموں کو بھی ان کی مدد کے لیے ہاتھ بٹانے سے روک رہی ہے۔ روزانہ کوئی نئے سے نیا حکم نامہ آکر، بے لوث خادموں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کردیتا ہے۔ بنگلہ دیش کے صحافتی حلقے یہ بات برملا کہتے ہیں کہ: ’’ستمبر سے بنگلہ دیش جماعت اسلامی پر قیدوبند کی حالیہ یلغار کے پیچھے ایک یہ سبب بھی ہے کہ کہیں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی اَن تھک کوششوں سے اس کی نیک نامی میں مزید اضافہ نہ ہوجائے اور حکومتی اداروں کی بدانتظامی کا پول کھل نہ جائے‘‘۔

کسی قوم، معاشرے یا اجتماعیت پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان ہوتا ہے کہ اس میں اصحابِ علم و دانش کی فراوانی ہوتی ہے اور ارباب تدبر و تفکر کا وجود پایا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی اجتماعیت میں یہ جنس گراں مایہ کم ہو یا موجود ہی نہ ہو، تو سمجھ لیجیے کہ اس کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، چاہے ظاہربین نظریں اس کی شان و شوکت، ہائوہو اور کثرتِ تعداد سے کتنا ہی دھوکا کھا بیٹھیں۔

مسلم اُمہ کے لیے عام طور پر اور اسلامی تحریک ِ احیاے اسلام کے لیے خاص طور پر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری ایسی ہی سرمایۂ ملّت ہستی تھی۔ ایک صاحب ِ علم و فضل اور تحریک ِ پاکستان سے وابستہ عظیم شخصیت مولانا ظفراحمد انصاری صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ لڑکپن میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے وابستہ ہوئے، اور اس تنظیم کی علمی، فکری اور تہذیبی تشکیل کا بنیادی کردار ادا کرنے والی سہ رکنی ٹیم (دو ارکان خرم مراد اور خورشیداحمد) میں کارہاے نمایاں انجام دیے۔ جمعیت کا انگریزی ترجمان Student's Voice درحقیقت خورشیداحمد صاحب اور ظفرصاحب کی رفاقت کا چشمۂ فیض تھا۔ اسی عرصے میں جناب خرم مراد، جمعیت کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے تو جمعیت کے دستور کی تدوین و تشکیل کا بنیادی کام بڑی جاں کاہی کے ساتھ اسی سہ رکنی ٹیم نے انجام دیا۔

 ظفراسحاق تعلیم مکمل کرکے تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہوئے۔ گیارہ برس کراچی یونی ورسٹی میں پڑھایا، ڈاکٹریٹ کے لیے میک گل یونی ورسٹی کینیڈا گئے اور پھر تدریس و تحقیق کے لیے بیرونِ ملک بھی خدمات انجام دیں۔ دل و جان، فکروخیال اور مال و حال کی دولت لیے زندگی کی آخری ساعت تک تحریک ِ اسلامی کا حصہ بنے رہے۔ تاہم، اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنا میدانِ کار، جلسہ اور جلوس کے بجاے تعلیم، تربیت، تحقیق اور رابطے کو اپنی توجہات کا مرکز بنایا اور پوری زندگی اسی مورچے پر ڈٹے رہے اور اسی عالم میں ۲۴؍اپریل ۲۰۱۶ء کو رحلت فرمائی، انا للّٰہ  وانا الیہ راجعون۔

ماہ نامہ تعمیرافکار، کراچی کے مدیر جناب سیّد عزیز الرحمٰن شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے قارئین کو ایسی دل کش، علم پرور او ر تہذیب و شائستگی سے مملو شخصیت سے متعارف کرانے کے لیے یہ اشاعت ِ خاص پیش کی ہے۔ وہ آغاز میں لکھتے ہیں: ’’یہ اشاعت دراصل ڈاکٹر صاحب کو ایک طالب علمانہ خراجِ عقیدت ہے، اور بس۔ گزرنے والوں کو یاد رکھنا اور بھول جانے والوں کو  ان گزرے ہوئوں کی یاد دلاتے رہنا… اور کسی اِدعا کے بغیر یہ خدمت انجام دینا، اس اشاعت [کا مقصد] ہے… حضرت ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا دائرہ وسیع بھی تھا اور متنوع بھی۔ ہم اس کا احاطہ تو کیا، سرسری تذکرہ بھی نہیں کرسکے۔ یہ صرف ابتدائی نوعیت کا یادنامہ ہے‘‘(ص۹)۔ ہمارے خیال میں یہ سرسری تذکرہ نہیں بلکہ بے قدری اور مردم ناشناسی کے سنگین ماحول میں، ایک بھرپور خراجِ عقیدت ہے، جس پر جناب عزیز الرحمٰن مبارک باد کے مستحق ہیں۔

یہ خصوصی شمارہ جناب ظفر اسحاق انصاریؒ کی یاد میں مطبوعہ اور کچھ غیرمطبوعہ مضامین کے علاوہ ان کی چند تحریروں، کچھ دیباچوں اور خطوط پر مشتمل ہے۔ مشمولہ مضامین کی خوشبو کا رچائو، شخصی خوبیوں کے اعتراف کا بہائو اور ایک رشکِ دوراں شخصیت کی اُلفت، قاری کے ہم رکاب ہوتی ہے۔ ان احوال و آثار پر مشتمل ۲۸مضامین میں سے چند اقتباسات مطالعے کے لیے حاضر ہیں:

ظفرصاحب کے ۶۷ برس کے رفیق لبیب، پروفیسر خورشید احمد کہتے ہیں:  ’’راجا بھائی [ظفراسحاق] اور خرم بھائی، تحریکِ اسلامی میں میرے پیش رو ہی نہیں بلکہ راستہ دکھانے والے بھی تھے۔خرم بھائی کو قرآن سے عشق تھا اور راجا بھائی سیاست اور اجتماعی علوم پر گہری نظر رکھتے تھے۔ جب وہ بی اے کے طالب علم تھے، اس وقت کراچی کے ایک روزنامے کی عملاً ادارت کے فرائض انجام دیتے تھے‘‘ (ص ۴۸)۔ ڈاکٹرسیّد سلمان ندوی نے بتایا ہے: ’’وہ مجلسی آدمی نہیں تھے، لیکن علمی راے پیش کرنے اور مدلل گفتگو کا عمدہ سلیقہ رکھتے تھے۔ انھوں نے تفہیم القرآن کا انگریزی ترجمہ کیا… [جو] قرآنِ کریم کے چند بہترین انگریزی ترجموں میں سے ایک ہے‘‘ (ص ۳۹، ۴۰)۔ پروفیسر خورشید احمد کے بقول: ’’مولانا مودودی نے ترجمۂ قرآن، اُردوے مبین میں کیا تھا، اور ظفراسحاق نے اسے انگریزیِ مبین میں ڈھال دیا، جو ایک سدابہار یادگاری کارنامہ ہے‘‘۔ (ص ۵۱)

طبعی طور پر: ’’[ظفرصاحب] ان چند افراد میں سے ایک تھے، جو اکثر و بیش تر وقت، کسی گہری سوچ بچار اور اسے احاطۂ تحریر میں لانے میں صرف فرماتے ہیں اور دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنا سرمایۂ تحریر، صدقۂ جاریہ کے طور پر چھوڑ جاتے ہیں‘‘ (ڈاکٹر حافظ افتخار احمد،ص ۲۵)۔   ایک کرم فرما کہتے ہیں: ’’ان کی دل چسپی صرف فقہی احکام تک محدود نہیں تھی، وہ دین کے تمام بنیادی تصورات کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے تھے‘‘ (ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، ص ۷۲)۔  سچی بات یہ ہے کہ: ’’انصاری صاحب کا شمار اہلِ علم کے قبیلے کے ان معدودے چند افراد میں ہوتا ہے، جو جدید مغربی علوم اور افکار و علومِ اسلامی دونوں پر یکساں دسترس رکھتے ہیں‘‘ (احمد حاطب صدیقی، ص ۱۴۸)۔ اسی طرح مفتی محمد زاہد بیان کرتے ہیں: ’’ان کے انہماکِ علمی کا اندازہ تو ان کے علمی و تحقیقی کام کی وسعت اور گہرائی سے لگایا جاسکتا ہے… ایک طرف تو علم و تحقیق میں فنائیت کی حدتک پہنچا ہوا   یہ انہماک، دوسری طرف ملنساری اور خوش خلقی ایسی کہ اس علمی انہماک نے خشکی نام کی کوئی چیز ان [کے مزاج] میں پیدا نہیں ہونے دی‘‘ (ص ۸۳)۔ پھر یہ کہ: ’’وہ زندگی کے آخری لمحات تک علمی کام کرتے اور دوسروں کو علمی کام پر [لگاتے] رہے۔ شدید بیماری کے زمانے میں بھی انھوں نے علمی کام مکمل کیے‘‘۔ (علی طارق، ص ۱۵۹)

کتب کی ترتیب و تدوین میں انھوں نے زندگی کا بڑا حصہ صرف کر دیا، یعنی دوسروں کی تحریروں کے معیار کو بلند تر بنانے کے لیے انتہا درجے تک محویت اور لگن کی راہ اپنائی۔ نصیراحمد سلیمی بتاتے ہیں: ’’کتب کی ایڈیٹنگ میں ان جیسی محنت کرنے والا خوش ذوق شاید ہی کوئی ہوگا۔ وہ ایک کتاب کے مسودے پر اتنی بار نظرثانی کرتے کہ اصل متن نظروں سے اوجھل ہوجاتا۔ ان کی ایڈیٹنگ کے ساتھ چھپنے والی کتب پر مختلف مصنّفین کے نام لکھے ہیں، لیکن حقیقت میں مصنّف کہلانے کے حق دار انصاری صاحب ہی تھے‘‘۔ (ص ۱۰۸)

خود میرا بھی ایک تجربہ ہے۔ یہ ۱۹۷۷ء کی بات ہے۔ میں نے ذاتی شوق کے تحت جمعیت کے ناظم اعلیٰ عبدالملک مجاہد صاحب سے اجازت لی، اور اسلامی جمعیت طلبہ کے دستور کا انگریزی ترجمہ کرنے کے لیے پروفیسر عبدالحمد صدیقی صاحب سے درخواست کی۔ انھوں نے علالت کے باعث انگریزی کے ایک پروفیسر صاحب کو یہ کام سونپ دیا۔ جوں ہی ترجمہ ہاتھ میں آیا،تو میں نے زندگی میں پہلی بار تخاطب کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے ازراہِ احتیاط وہ ترجمہ انصاری صاحب کو سعودی عرب بھیج دیا۔ پھر کیا تھا، جناب! انھوں نے مذکورہ ترجمے کی ایک ایک سطر ادھیڑ کر رکھ دی۔ سارا ترجمہ جگہ جگہ سے تبدیل کر کے واپس بھیجا۔ میں نے کمپوز کرایا تو خط آیا: ’’جوں ہی پروف نکلیں دوبارہ بھیجیں‘‘۔ ایک بار بھیجا اور پھر دوبارہ، سہ بارہ بھیجا، قصّہ کوتاہ ڈیڑھ سال میں آٹھ پروف انھوں نے ٹھیک کرکر کے واپس بھیجے۔ شائع ہونے کے بعد اپنی دل چسپی کے لیے میںنے بنیادی مسودے کے ساتھ موازنہ کیا تو سواے دفعات کی گنتی اور جمعیت کے نام کے، ہر چیز تبدیل تھی۔ یہ محنت، یہ توجہ، یہ جز رسی اور ایسی ذمہ داری کہ مثال پیش کرنا ممکن نہیں۔

تہذیبی ترفع ظفرصاحب کی شخصیت کا امتیازی پہلو تھا: ’’سلام میں پہل، مسکرا کر ملنا، محبت سے مصافحہ اور تمام متعلقین کے حال اَحوال دریافت کرنا ان کی مخصوص عادتیں تھیں…ایک مرتبہ جب وہ بہ طور صدرِ جامعہ (بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی) فرائض انجام دے رہے تھے، اطلاع ملی کہ طلبہ کے احتجاجی جلوس میں مخلوط ماحول دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کا انھوں نے فوری نوٹس لیا اور سختی سے ہدایت کی کہ آیندہ اس قسم کا ماحول جامعہ میں برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘ (ڈاکٹر سہیل حسن، ص۷۹)۔ اور یہ کہ: ’’ڈاکٹر صاحب بلاشبہہ ایسے خوش نصیبوں میں سے تھے، جو حق کو دائرۂ شعور کا زندہ مرکز بنا لیتے ہیں اور خیر کو دائرۂ وجود کا… بارہا دیکھا کہ کسی نے منہ پر ان کی تعریف کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے ابتدائی فقرہ بھی پورا نہ ہونے دیا۔اپنی مدح سننے سے گریز کا یہ عمل رسمی عاجزی کے ساتھ نہیں، بلکہ بے تکلفی اور قدرے ناگواری کے ساتھ ہوا کرتا تھا‘‘ (احمد جاوید، ص ۴۴)۔  پھر یہ کہ: ’’ایک بہترین انسان اور تحقیق و تعلیم میں ہمہ تن مشغول رہنے والی شخصیت تھے، جو کسی طبعی علالت کو علمی و تحقیقی کام میں سنگِ گراں نہیں بننے دیتے تھے‘‘۔ (ڈاکٹر جمیلہ شوکت، ص ۹۱)

طبیعت میں ایسی انسان پروری، شگفتگی اور دل آویزی کہ: ’’یوں ہی خیال آتا ہے کہ اگر مولانا مودودی صاحب کے پیش کردہ نظریا ت کے نتیجے میں [ظفراسحاق] انصاری صاحب جیسے لوگ پیدا ہونے لگیں، تو ہم جیسے [تصوف کے طرف دار] لوگ اسی پر مطمئن ہوجائیں، کیوںکہ تصوف کا منشا بھی تو یہی ہے کہ ایسا معاشرہ قائم ہو، جس میں انسان انسان کی ڈھال بنے، اس کے لیے تلوار نہ بن جائے‘‘۔ (ڈاکٹر نجیبہ عارف، ص ۱۱۹)

قرآنِ عظیم سے محبت اور سیرتِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے شیفتگی کے مظاہر ان کی زندگی میں کئی حوالوں سے سامنے آتے ہیں: ’’ڈاکٹر صاحب انتہائی رقیق القلب تھے۔ میں نے خود دیکھا جب ایک محفل میں نعت ِ رسولؐ پڑھی جارہی تھی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے‘‘ (ڈاکٹر ضیاء الدین رحمانی، ص ۱۴۶)۔ ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمٰن لکھتے ہیں: ’’نعتیہ اشعار سناتے وقت ان کی آنکھوں میں تیرتے آنسو، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے والہانہ عشق کے غماز ہوا کرتے تھے۔ گاہے کوئی پسندیدہ شعر سنانے کو جی چاہتا تو دفتر بلواتے اور محبت سے سناتے۔ ایک مرتبہ آسی جونپوری کا ایک شعر رندھی ہوئی آواز میں سنایا  ؎

وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد

تیرے نام کی رَٹ ہے ، خدا کے نام کے بعد

ایک مرتبہ طلب فرمایا اور ماہرالقادری کا یہ شعر سنایا:

تاروں سے یہ کہہ دو کوچ کریں، خورشید منور آتے ہیں

قوموں کے پیمبر آ تو چکے، اب سب کے پیمبر آتے ہیں

(ص ۶۷)

وہ ایک بہترین مترجم، شان دار مصنّف،اعلیٰ پاے کے دانش ور، شفیق استاد اور نجیب الطرفین انسان تھے۔ کارِ تحقیق اور اشاعت ِ دین ہی کے جذبے نے انھیں اُردو کے علاوہ عربی، فارسی، انگریزی، جرمن اور فرانسیسی زبانوں پر دسترس کے حصول پہ اُبھارا۔ان کی وفات پر جناب مجیب الرحمٰن شامی نے دُکھ کا اظہار اس آہ کی صورت میں کیا: ’’ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری رخصت ہوئے تو اربابِ صحافت اور سیاست کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ کسی نے ایک کان سے سنا بھی، تو دوسرے سے اُڑا دیا۔ نہ صدر مملکت کا کوئی بیان نظر سے گزرا، نہ وزیراعظم کی توجہ ہوئی، اور  سراج صاحب بھی لاتعلق نظر آئے… شوروغوغا کو زندگی سمجھ لینے والے معاشرے بالآخر کہاں پہنچ جاتے ہیں، یہ جانے والے کے لیے نہیں، یہاں رہ جانے والوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے‘‘۔ (ص ۹۶)

اس مختصر تبصراتی مضمون میں اسی قدر ذکرِ یار ممکن ہے، جب کہ راہروانِ عشق، اس داستانِ لذیذ کو مذکورہ اشاعت کے مطالعے ہی سے آویزئہ گوش بنا سکتے ہیں۔ [اشاعت ِ خاص، ماہ نامہ تعمیرافکار، کراچی]، مدیر:سیّد عزیز الرحمٰن۔ ناشر: زوّار اکیڈمی پبلی کیشنز ۔ فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰- ۰۲۱۔ صفحات: ۳۰۴۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

ہر موسم کے اپنے پھل اور ہر زمانے کے اپنے ’نمونے‘ (ماڈل) ہوتے ہیں۔ ہمارے موجودہ زمانے کا نمونہ ’بیانیہ‘ سے منسوب ہے۔ خورشید ندیم صاحب نے ۱۵؍اپریل ۲۰۱۷ء کو ایک غیر معروف مصنف کی شرانگیزی کو ایجابی طور پر اپنے ’بیانیہ‘ میں پیش کیا اور ایمن الظواہری سے منسوب قول دہرایا: ’’سید قطب کی کتابیں وہ بارود تھیں، جنھوں نے امت میں جہادی سوچ پیدا کی… [سید قطب] کی کتب اور رسائل میں بہت سے مقامات پر تکفیر کی تپش محسوس ہوتی ہے‘‘۔

یہ نقل کرنے کے بعد ندیم صاحب نے لکھا ہے: ’’میں اگر یہ پڑھ کر چونکا تو اس کا سبب سید قطب کے خیالات نہیں ہیں۔ [ان] کی کتاب معالم فی الطریق  کا اردو ترجمہ میں نے بچپن میں پڑھا [تھا، جس] کے تعارف میں لکھا ہے، جب فوجی عدالت نے سید قطب سے پوچھا کہ اُن کے اور مولانا مودودی کی دعوت میں کیا فرق ہے؟ سید صاحب نے جواب دیا ’لافرق‘ (کوئی فرق نہیں ہے)‘‘۔ موصوف نے اپنے ’بیانیے‘ میں زور پیدا کرنے کے لیے لکھا ہے: ’’میں سید قطب کے ان خیالات سے بہت پہلے سے واقف ہوں۔ یہ بحث بھی نئی نہیں ہے کہ دور جدید میں جہادی اور تکفیری سوچ کے بانی سید قطب ہیں… اخوان کی فکر اور تنظیم ہی سے دوسری انتہا پسند تنظیمیں وجود میں آئیں، جو مسلمان حکمرانوں کو مرتد قرار دیتی ہیں، اور ان کی تکفیر کرتی ہیں۔دیکھیے، اب جماعت اسلامی کا کیا موقف سامنے آتا ہے؟ وہ بھی خود کو اس سوچ سے الگ کرتی ہے یا پھر بدستور ’لافرق‘ کے نقطۂ نظر ہی کو اختیار کرتی ہے‘‘۔ (روزنامہ دنیا، ۱۵؍اپریل۲۰۱۷ء)

درحقیقت یہ کالم ایک چارج شیٹ سے بڑھ کر ایک تہمت ہے، جس میں یہ متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ فی زمانہ مسلمانوں سے منسوب جتنی قتل و غارت گری ہورہی ہے، اس کا منبع سیّد قطب شہید اور اخوان المسلمون کی فکر ہے۔ چوںکہ سیّدقطب نے اپنے آپ کو مولانا مودودی کا ہم خیال قرار دیا ہے، اس لیے جماعت اسلامی والے اس ’مذموم سوچ‘ سے اپنی علیحدگی کی وضاحت کریں ورنہ وہ بھی اس قتل و غارت گری کے ذمہ دار ہیں۔

کسی فرد کے لکھنے اور بولنے پر تو کوئی قدغن نہیں لگا سکتا۔ یہ مشاہدے کی بات ہے کہ موصوف اپنے ہر اس کالم میں، جو وہ اہلِ مذہب کی ’اصلاح‘ کے جذبے سے لکھتے ہیں، ان میں اِدعا کی کثافت اور سرزنش کا انداز پایا جاتا ہے، اور اکثر احساسِ ذمہ داری سے بے نیاز ہو کر لکھا جاتا ہے۔ افسوس کہ انھوں نے اس تحریر میں ہوشیاری بلکہ سفاکی سے، مغرب کے اُس بیانیے کو دُہرا ڈالا ہے، جسے وہ گذشتہ ۲۵برس سے ہر آن مسلم دانش کے سرتھوپے چلے جا رہا ہے، اور سید قطب شہید کو حالیہ زمانے کی تمام ’دہشت گردی کا مرکز‘ بنا کر پیش کر رہا ہے۔

مولانا مودودی اور سیّد قطب شہید کے حوالے سے پہلی بات یہ ذہن نشین کر لیجیے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی تکفیر اور کفرسازی کا اسلوب اختیار نہیں کیا، بلکہ اس سے ہمیشہ پہلو بچایا ہے۔ کیا کالم نگار کا کوئی ہم نوا یہ بے بنیاد دعویٰ کرسکتا ہے کہ مولانا مودودیؒ نے تکفیری فکر کی ترویج  یا تائید کی ہے؟ جس طرح سید مودودیؒ کے بارے میں برعظیم جنوبی ایشیا کا کوئی باشعور شخص یہ دعویٰ تسلیم نہیں کرسکتا، بالکل اسی طرح سید قطب شہید کا لٹریچر ان الزامات کا جواب خود دیتا ہے۔

ذرا ماضی میں جھانکتے ہیں:یہ ۱۹۳۶ء کی بات ہے کہ چند جیّد علما کی طرف سے مولانا شبلی نعمانی اور مولانا حمیدالدین فراہی کے خلاف کفر کا فتویٰ شائع ہوا۔ مولانا مودودی نے تڑپ کر اس کے جواب میں لکھا: ’’مومن کو کافر کہنے میں اتنی ہی احتیاط کرنی چاہیے، جتنی کسی شخص کے قتل کا فتویٰ صادر کرنے میں کی جاتی ہے، بلکہ یہ معاملہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کسی کوقتل کرنے سے کفر میں مبتلا ہونے کا خوف تو نہیں ہے، مگر مومن کو کافر کہنے میں یہ خوف بھی ہے کہ اگر فی الواقع وہ شخص کافر نہیں ہے، اور اس کے دل میںذرہ برابر بھی ایمان موجود ہے، تو کفر کی تہمت خود اپنے اوپر پلٹ آئے گی۔ پس، جو شخص اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہو، اور جس کو اس کا کچھ بھی احساس ہو… وہ کبھی کسی مسلم کی تکفیر کی جرأت نہیں کر سکتا… جو شخص، مسلمان کی تکفیر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی اُس رسی پر قینچی چلاتا ہے، جس کے ذریعے سے مسلمانوں کو جوڑ کر ایک قوم بنایا گیا ہے… اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ علماے دین میں کافروں کو مسلمان بنانے کا اتنا ذوق نہیں، جتنا مسلمانوں کو کافر بنانے کا ذوق ہے‘‘… (ماہ نامہ ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۳۶ء)

ہم دیکھتے ہیں، سیّد قطب شہید نے سہ طرفہ جبر، یعنی: مغربی سامراجی سازشیوں،اشتراکیت کے پرچم برداروں اور عرب قوم پرستی کے نشے میں مدہوش عرب فوجی حاکموں کا جبر دیکھا اور اس کا سامنا بھی کیا، مگر اس کے باوجود سید قطب نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ: ’’میرے ہم نواؤ، اُٹھو اور سوشلسٹ عرب قوم پرست ڈکٹیٹر ناصر کی حکومت اور اس کے اہل کاروں کو قتل کر ڈالو‘‘۔ نہ یہ کہا کہ: ’’جہاں کوئی امریکی یا یہودی نظر آئے، اسے پھڑکا دو‘‘۔ نہ انھوں نے اُس جاہلیت کوجو اشتراکیت، سرمایہ دارانہ مادہ پرستی اور نسلی قوم پرستی کے مرکب سے سرطان کا پھوڑا بن چکی ہے اور اس نے نوعِ انسانی کو کرب میں مبتلا کررکھا ہے، اس کے بارے میں کہا کہ: ’’اِس کے فرستادوں کو اڑا دو‘‘۔ ہرگز نہیں، بلکہ انھوںنے اس کے لیے دعوت، تنظیم اور اخلاقی تربیت ہی کو بنیاد بنانے کی دعوت دی۔

دوسری طرف مولانا مودودی نے اپنے عزیز از جاںکارکنوں [اللہ بخش ۱۹۶۳ء لاہور، محمدعبدالمالک ۱۹۶۹ء ڈھاکہ ، ڈاکٹر نذیراحمد۱۹۷۲ ء ڈیرہ غازی خان] کی لاشیں اُٹھا کر بھی بار بار یہی تلقین کی: ’’ہم نے کسی صورت تشدد کا راستہ اختیار نہیںکرنا، دعوت کا راستہ ہی اصلاح اور تبدیلی کا راستہ ہے۔ ہم نے کسی سازش کا حصہ نہیں بننا اور آئینی و جمہوری راستے ہی سے منزل کی طرف گامزن رہنا ہے‘‘۔ مولانا مودودی نے ۹مئی ۱۹۶۳ء کو مکہ مکرمہ میں عرب نوجوانوں سے خطاب میں ہدایت فرمائی تھی: ’’اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے‘‘ (ماہ نامہ ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۳ء، تفہیمات، سوم، ص ۳۶۲)۔جماعت اسلامی تو اگست ۱۹۴۱ء میں بنی، لیکن مولانا مودودی کی وہ تحریریں، جو انھوں نے اپنے دورِ نوجوانی میں اخبارات مسلم اور الجمعیۃ میں ۱۹۲۲ء سے ۱۹۲۸ء کے زمانے میں لکھیں، ان میں بھی تشدد کے عمل کی تائید و تحسین نہیں کی، بلکہ گرفت اور مذمت کی۔

کالم نگار نے جماعت اسلامی کو اپنا ’موقف واضح‘ کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ عرض یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی تاریخ، عمل اور اس کا دستور اس پر واضح ہیں۔ ’دستور جماعت اسلامی پاکستان‘ کی دفعہ ۵ (شق۳،۴) میں درج ہے: ’’جماعت اپنے پیش نظر اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی۔ جماعت اپنے نصب العین کے حصول کی جدوجہد خفیہ تحریکوں کی طرز پر نہیں کرے گی بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی‘‘۔(دستور، ص ۱۵)

اسی طرح سیّد قطب کے فکری وارثوں، یعنی الاخوان المسلمون نے کبھی بغاوت اور تکفیر اور قتل و غارت کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اخوان کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کا یہ تاریخ ساز جملہ اخوانی فکر کا حقیقی عکاس ہے، جو انھوں نے اگست ۲۰۱۳ء کو قاہرہ کے میدان رابعہ میں فرمایا تھا کہ: ’’ہم پُر امن ہیں، پُرامن رہیں گے، اور ہمارا پُرامن رہنا تمھاری گولیوں اور توپوں سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوگا‘‘۔ مرشد عام اور ان کے ۴۵ ہزار جاں نثار آج بھی، مصر کی جیلوں میں صبر و ثبات کا نشان بن کر ہمارے معذرت خواہی کے دل دادہ دانش وروںکی تخیل آفرینی کا عملی جواب ہیں۔

سیّد قطب شہید نے اپنی کتاب معالم فی الطریق  میں یہ اصولی بات بیان کی ہے: ’’اسلام، جاہلیت کے ساتھ نیمے دروں نیمے بروں نوعیت کی کوئی مصالحت قبول نہیں کرسکتا۔ معاملہ خواہ اس کے تصور اور نظریے کا ہو اور خواہ اس تصور اور نظریے پر مرتب ہونے والے قوانینِ حیات کا۔ اسلام رہے گا یا جاہلیت‘‘ (اردو ترجمہ: جادہ و منزل، ص ۳۶۴-۳۶۵)۔ یہ اصولی بات سیّدقطب نے قرآن اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تتبّع میں کہی ہے، جس کی بازگشت صحابہؓ اور صلحاؒ کے ہاں بھی سنائی دیتی ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ’’اور حق اور باطل کو گڈمڈ نہ کرو‘‘ (البقرہ۲: ۴۲)۔ مزید فرمایا: ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اس کو سارے ادیان پر غالب کردے، ان مشرکوں کے علی الرغم‘‘ (التوبہ۹:۳۳)۔ یہ ابدی حقیقت قرآن میں موجود ہے تو سیّدقطب اپنی شہادت کے ۵۰سال بعد بھی کیوں گردن زدنی ہیں؟

اگر ایمن ظواہری نے اپنی صواب دید پر یہ کہا ہے کہ انھوں نے سیّد قطب کی تحریروں سے اپنی منزل کا سراغ پایا ہے، تو کسی بھی فرد کی جانب سے ایسا من مانا دعویٰ کوئی انوکھی بات نہیں۔ ماضی میں خوارج نے ایک منفی رول ادا کیا تھا اور آج منکرینِ حدیث یا درست لفظوں میں امریکی مرضی کے مطابق ’اسلام پیش کرنے والے‘ بھی قرآن ہی کو اپنے لیے ’ذریعۂ رہنمائی‘ قرار دینے کا دعویٰ کرکے اُمت کے سینے پر مونگ دَل رہے ہیں۔ تو اب کیا یہ کہا جائے گا کہ خارجیوں اور منکرینِ  حدیث کی جدید ترین قسموں کا ذمہ دار (نعوذباللہ) قرآن ہے؟ اگر ایک فرد، سیّدقطب شہید یا علامہ محمد اقبال یا مولانامودودی کی تحریروں سے وہ شگوفہ نکالتا ہے، کہ جس پودے کو کبھی انھوں نے پانی دیا ہی نہیں تھا، تو وہ، ایسے کم فہم فرد یا شرانگیز گروہ کی حرکات کے کیسے ذمہ دار قرار پاتے ہیں؟

معذرت خواہ دانش ور، نہ تو سیّد قطب شہید کے عہد کے جبر کو جان سکتے ہیں، نہ وہ زمان و مکان اُن کے تجزیے کی گرفت میں آسکتے ہیں، جن میں انھوں نے پھانسی کے پھندے کو چوم کر بھی اللہ اور اس کے رسولؐ سے وفاداری کا ثبوت دیا۔ شکوک و شبہات کی فصلیں بونے والے قلم کار، بھلا نہتے کارکنوں کی قتل و غارت گری کا ادراک کیسے کرسکتے ہیں؟ یک قطبی امریکی سامراجی عہد میں سانس لینے والے ’مغرب زدہ علما‘ کے لیے انسانی حقوق، امن، عدل، رواداری کے کاغذی الفاظ میں ’بڑی قوت‘ ہے، مگر ناصر اور سیسی کی جیلوں میں سسکتی انسانیت اور صلیبوں پر لٹکتے لاشے اور جیل میں کتوں کے جبڑوں میں بھنبھوڑی جاتی عفت مآب خواتین کی کوئی آوازکانوں سے نہیں ٹکراتی۔

ہمارے  ان پارا صفت قلم کاروں کو نہ توسامراجی سلطنتوں میں وسعت لانے والی مغربی سامراجی طاقتیں یاد آتی ہیں ، نہ اقوامِ متحدہ کی بارگاہ سے نازل ہونے اور قتل و غارت مسلط کرنے والی خونیں قراردادیں متوجہ کرتی ہیں، اورنہ ڈیزی کٹر اور بموں کی ماں یاد آتی ہے۔یاد آتا ہے تو بس یہ کہ کسی طرح شرق و غرب کے غاصبوں کو چیلنج کرنے والی کوئی آہ، چیخ بن کر فضا کو نہ چیر دے۔

یہی کالم نگار اس سے قبل متعدد بار لکھ چکے ہیں کہ ’سیاسی اسلام‘ یا ’اسلام کی سیاسی تعبیر موجودہ المیے کی ذمہ دار ہے،سوال پیدا ہوتا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ دو عشروں سے پہلے انھی اصحابِ قلم کی تحریروں نے وہ قیامت کیوں نہ ڈھائی، جو آج ان کے سر تھوپی جارہی ہے؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ان مظلوم مفکرین نے نہ وہ ’نظریہ‘ دیا تھا اور نہ وہ ’تنظیمیں‘ بنائی تھیں، جنھیں آج ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ دراصل یہ دانستہ مغالطہ انگیزی اس حقیقی مجرم اور سامراج کو بچانے کی یاوہ گوئی ہے، جس سے اصل قاتل سے توجہ ہٹاکر قتل اور آلۂ قتل کو، خود مقتول کے ذمے لگایا جارہا ہے۔

اہلِ صدق و صفا جانتے ہیں کہ ایسی وعدہ معاف دانش کی عمر مچھر کی زندگی سے زیادہ حقیر ہے۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے اگرچہ سیدقطب شہید دل اور سیّد مودودی دماغ کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن ہم ان کی باتوں کو آخری سند نہیں مانتے، یہ مقام تو صرف کلام اللہ اور سنت اور حدیث رسولؐ اللہ کو حاصل ہے۔