بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یکے بعد دیگرے سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزرنے کے نتیجے میں ملکِ عزیز ایک گہرے نظریاتی بحران کی طرف جا رہا ہے۔ اس غیریقینی صورتِ حال میں نوجوان مروجہ جمہوریت سے بیزار ہو کر تبدیلی کے دیگر نظریات کو اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔ معاشی پریشانی جو ہماری اپنی پیدا کردہ ہے اور بر سرِ اقتدار گروہ کی نا عاقبت اندیشی اور نا اہلیت کی اذیت ناک مثال ہے۔ ملک کے بعض ماہرینِ معاشیات کے مطابق صرف سات سال میں ہم اس سے نجات حاصل کر سکتے ہیں، لیکن ضرورت صرف پختہ عزم ،صیحح سمت کے تعین اور اخلاص و قربانی کے ساتھ حصولِ مقصد کی جدوجہد ہے۔ بڑے دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صاحبِ اقتدار افراد، وہ دورِ فراعنہ کے ہوں یا دورِ جدید، ہمیشہ قوت کو ہر مسئلہ کا حل سمجھتے رہے ہیں اور تاریخی تجربات سے سبق لینے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے عروج و زوال کے جو قوانین پوری کائنات میں نافذ کیے ہیں ،انسان ان سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر ایک جنگل میں شیر اپنی خونخواری کے خوف کی بنا پر بقیہ جانوروں کو خائف رکھ کر ان پر حکومت کرتا ہے، تو اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتا اور ہرآہٹ پر انجانے خطرات اسے گھیرے رہتے ہیں۔
اس وقت سب سے اہم معاملہ قومی،ملکی اور علاقائی یک جہتی کا ہے۔ عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول ہے کہ ملک دشمن بیرونی عناصر ملک کے اندر محرومیت کا احساس رکھنے والے قائدین اور نوجوانوں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ ان کے جذبات کی شدت میں جتنا ممکن ہو اضافہ کرتے ہیں، اور ساتھ ہی اپنی طرف سے مکمل مادی، اخلاقی اور سیاسی حمایت کا یقین دلا کر علیحدگی پسندی کی طرف دھکیل دینے میں لگے ہوتے ہیں۔ ملک کے بعض صوبوں کے مقامی قائد جو کل تک قومی مسائل کے حل کی امید رکھتے تھے،اپنی سخت نا امیدی کا اظہار کرتے ہوئے ملک چھوڑ کر جانے پر آمادہ ہیں، لیکن بلند ایوانوں کے مکین شیش محل کو آہنی قلعہ تصور کیے اپنی روش بدلنے پر آمادہ نظر نہیں آتے ۔
حال ہی میں بنگلہ دیش جن تکلیف دہ مراحل سے گزرا اور جس عظیم انسانی جانی قربانی کے بعد ان نوجوانوں نے جنھیں گذشتہ ۵۰ برس سے صرف پاکستان دشمنی کا سبق پڑھایا گیا تھا۔ انھی نوجوانوں نے اس فرد کو جس نے بنگلہ دیش بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا، اس کےمجسمے کو اپنے ہاتھوں سے توڑ کر اپنی سیاسی آزادی کا اعلان کیا ۔یہ تاریخ کا پہلا موقع نہیں ہے کہ جب بھی ناانصافی، استحصال، جمہوری حقوق کی پامالی ،قید و بند اور قوت کے ذریعے اقتدار پر قائم رہنے کی کوشش کی جائے گی، اس کا رد عمل جلد یا بدیر سامنے آئے گا۔ اکثر ایسا رد عمل شدید اور خون آشام ہوتا ہے ، جس کے ممکنہ طور پر واقع ہونے سے برسراقتدارطبقہ ہمیشہ غافل رہتا ہے۔
سیاسی دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ قبل اس کے کہ صبر و برداشت کی حدیں پار کر کے عوام خصوصاً نوجوان ایک ناقابلِ واپسی مقام پر آ جائیں، ملکی سالمیت اور انسانی جان کے احترام کے پیش نظر مسائل کا حل غرور و تکبر کی جگہ گفت و شنید اور مفاہمت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ جب بھی ذاتی اَنا کسی معاملے میں آڑے آئے گی، حالات خراب سے خراب تر ہوں گے۔
نہ صرف نوجوان بلکہ عوام بھی آج گہری مایوسی کا شکار ہیں۔ یہ مایوسی نہ صرف اُن نام نہاد نمائندوں سے ہے، جو انتخابات کے نتائج کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غاصبانہ طور پر پارلیمان تک پہنچے، بلکہ یہ مایوسی نظام سے بھی ہے۔وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ نہ صرف آج بلکہ ماضی میں بھی اس سے ملتے جلتے تماشے سابقہ ممبران پارلیمان کرتے رہے ہیں۔ گویا جمہوریت کے نام پر ایک ڈراما جاری ہے،جس کے کردار ہر تھوڑے عرصے کے بعد تبدیل ہو جاتے ہیں ، یا وہی کردار دوسرا بھیس بدل کر چہروں کو رنگ اور روغن کے ذریعے تبدیل کر کے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں۔ نظام اور اداروں پر سے اس طرح اعتماد کا اٹھ جانا ملک وملت کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اگر پاسبان خود راہزن بن جائے تو پھر قانون اور عدل و انصاف کے خوب صورت تصورات بے معنی ہو جاتے ہیں اور ہر فرد اپنے آپ کو قانون کی قید سے آزاد سمجھنے لگتا ہے۔ اس نفسیاتی کیفیت کا عملی تجربہ اگر کرنا ہو تو اسلام آباد ہو یا لاہور یا کوئی اور شہر کے کسی بھی چوراہے پر کھڑے ہو کر مشاہدہ کیجیے کہ جب ٹریفک کا اشارہ سرخ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے صبر کرو اور دوسرے اطراف کی ٹریفک کو گزرنے دو۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ اس وقت بھی کچھ افراد سرخ بتی کا احترام کیے بغیر اسے توڑتے ہوئے بغیر کسی احساسِ جرم کے اپنی گاڑیاں تیز رفتاری سے لے جاتے ہیں ، کیونکہ ان کی گاڑی اونچی اور زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان کی تقلید میں بہت سے موٹر سائیکل سوار اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیاں بھی اپنا حق سمجھتے ہوئے اشارہ توڑ کر گزر جاتی ہیں۔ اس روش کے نتیجے میں ہر مصروف سڑک اور چوراہا قانون شکنی کی تصویر بنا ہوا ہے۔
ایک عام شہری میں جب قانون کے احترام کا جذبہ سرد پڑ جائے تو وہ ٹریفک کی سرخ بتی کی پروا نہیں کرتا۔ جس کے نتیجے میں سڑکوں پر افراتفری ، اذیت انگیز بدنظمی پھیل جاتی ہے ۔ ایسے ہی کسی بھی ادارے کا سربراہ جب دستور کے احترام کے بجائے دستور شکنی کی روش اختیار کرتے ہوئے کبھی اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع، کبھی غیر قانونی مراعات و مالی و دیگر مفادات کے حصول اور زیادہ سے زیادہ مدت کے لیے اقتدار میں رہنے کی ہوس کا شکار ہو کرآئین و قانون کی پابندی کی سرخ لکیر سے آگے نکلتا ہے، تو اس کے نتیجے میں اداروں کی سطح پر بد نظمی ، بے قاعدگی اور آئینی و دستوری افراتفری کی صورت حال جنم لیتی ہے ۔ جس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
ہماری قومی تاریخ ذاتی مفادات کے لیے بدترین آئین و قانون شکنی کے تلخ واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ جس کے نتیجے میں ملک بھی دو لخت ہوا اور عوام الناس کو بھی جان ومال کے بدترین نقصانات اٹھانے پڑے ۔آج بھی ملک کے اکثر حصے آئین اورقانون کے عدم احترم اور اداروں کی بے راہ روی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ان واقعات کا تسلسل اہلِ اقتدار اور اداروں کے ذمہ داروں کی بے حسی ، خود پرستی اور ملک و قوم سے کیے جانے والے آئینی حلف سے رُوگردانی کی نشان دہی کرتا ہے۔ جب قوم جبرو نا انصافی اور اصحابِ اقتدار کی بے حسی اور قانون شکنی کو دیکھتی ہے، تو وہ بھی قاعدوں اور ضابطوں کی سرحدیں عبور کر جاتی ہے۔
لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اداروں کو اپنی حدود میں رہنا سیکھنا چاہیے اور ہر شہری میں قانون اور دستور کے احترام کا جذبہ ہمہ وقت زندہ رہنا چاہیے۔ ابلاغ عامہ اور تعلیم دو ایسے ذرائع ہیں جو اس احساس کو جگانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قوم کو تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ دستور اور قانون کے احترام کو بحال کیا جائے۔ بلاشبہہ معاشی پریشانی کے شکار افراد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان کی پریشانی چاہے وہ بجلی کے بل کی بنا پر ہو، یا اشیائے خورد و نوش کی گرانی کی وجہ سے، یا اس معاشرتی بگاڑ کی بنا پر جس میں خاندان کے ادارے کو سخت دھچکا پہنچا ہےاوربے شمار خطرات کا سامنا ہے۔ملکی افراتفری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دفتری ، کاروباری اور ادارہ جاتی زبوں حالی اور تنزل اور عدم اطمینان کے نتیجے میں عوام کی گھریلو زندگی شدت سے متاثر ہو رہی ہے۔ قریبی رشتوں میں قربت کی جگہ کھنچاؤ اور بدگمانی سے رشتوں میں فاصلے پیدا ہو رہے ہیں۔
ان تمام مسائل کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس وقت ریاست اور قوم کی اوّلین ترجیح جغرافیائی سالمیت ہونی چاہیے۔دو صوبے اور آزاد کشمیر جس کش مکش سے گزر رہے ہیں، شاید اربابِ اقتدار کو اس کی سنگینی کا احساس نہیں ہے۔ یہی خام خیالی کی نفسیات ۱۹۷۰ء میں ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ہوئے سول اور فوجی حکمرانوں کو تھی۔ وہ مطمئن تھے کہ ملک میں سب چین ہی چین ہے۔ وہ دیوار پہ لکھی تحریر جانتے بوجھتے بھی نہیں پڑھنا چاہتے تھے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے سوئے رہے تھے، جس کا خمیازہ ملک کو دولخت ہونے، ہزاروں فوجیوں کی ہزیمت انگیز گرفتاری اور ہزاروں لوگوں کی جانوں کی قربانی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ بدقسمتی سے آج پھر حکمران طبقہ کی جانب سے وہی تاریخ دوہرائی جار ہی ہے۔
اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کی اوّلین ترجیح ملکی سالمیت کو ہونا چاہیے۔ جس کے لیے سیاسی آزادیوں کی بحالی ،عوامی جذبات کا احترام اور سابقہ انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا تدارک کسی تاخیر کے بغیر ہونا ضروری ہے تاکہ مفاہمت کی فضا پیدا ہو سکے۔ ملکی سالمیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب محروم طبقات کو ان کا حق دیا جائے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں سب سے زیادہ ناخواندگی بلوچستان میں ہے۔ تقریباً ۶۰ فی صد تعلیم کی عمر رکھنے والے بچوں کو تعلیم کی سہولت میسر نہیں۔ یہی حال دیگر تعلیمی سہولیات اور ضروریات کا ہے۔ اسکولوں میں پینے کا پانی، چار دیواری، کمرئہ جماعت، بیت الخلا کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تربیت یافتہ اساتذہ اور تعلیمی سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث پس ماندہ علاقوں کے عوام معاشی بد حالی کا شکار ہیں۔ معاشی طور پر جو امیدیں چین کی شاہراۂ تجارت (سی پیک)کے بننے سے وابستہ تھیں، وہ حکمران طبقہ کی ناعاقبت اندیشی اور چچا سام کی غلامی سے عملاً ناکام ہو چکی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے ہم اپنے ہمدردوں کو بڑی مہارت سے اپنا مخالف بنانے کے عادی ہیں۔ افغانستان ہو یا چین، ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کہ وہ ہم سے بدگمان ہو کر ہمارے دشمن کو اپنا دوست بنانے پر آمادہ ہوں۔
انڈیا اور بعض دیگر ممالک بلوچستان کی صورتِ حال کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان مخالف عناصر کو ہر قسم کی امداد فراہم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر فوج جو آگے بڑھ کر محاذوں کی حفاظت کرنے کی عادی ہوتی ہے، وہ اپنے ہی ملک میں ، خود اپنے آپ کو ریت کی بوریوں کے پیچھے محفوظ بنانے میں لگی ہو، تو ملکی سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟
ہر ادارے کو احساسِ جواب دہی کے ساتھ اپنے کام کو ذمہ داری کے ساتھ کرنا ہوگا، جب ہی ملکی سالمیت برقرار رہ سکتی ہے۔ عدلیہ کا کردار جس طرح مشتبہ بنانے میں خود عدلیہ نے کام کیا ہے،وہ ایک ناقابلِ یقین حقیقت ہے۔ کوئی ادارہ اپنا اتنا دشمن نہیں ہو سکتا، جتنا عدلیہ نے اپنے ساتھ کر کے دکھایا ہے۔ ملک کے قانون دانوں کا فرض ہے کہ وہ دستوری ذرائع سے عدلیہ کے احترام کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
۱- تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میثاق تحفظِ دستور اور جغرافیائی وحدت پر نہ صرف متفق ہو کر دستخط کریں بلکہ بلوچستان ، خیبر پختون خوا ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جا کر عوام اور دانش وروں کے ساتھ براہِ راست تبادلۂ خیالات کے ذریعے صوبائی آزادی کی تحریک کی جگہ ملکی وحدت کے تصور کو حکمت کے ساتھ ذہنوں میں جاگزیں کریں ۔
۲- فوری طور پر گوادر کی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات اور چین کی شاہراۂ تجارت (سی پیک) کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی اور معاشی اقدامات کیے جائیں، تاکہ گوادر منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کو روکا جا سکے ۔
۳- ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے سلسلے میں فوری مذاکرات کے ذریعے معاملات کو بہتر بنایا جائے اور امریکی مفاد کی جگہ پاکستان کے مفاد کو اوّلیت دی جائے ۔
۴- تمام سیاسی کارکنوں کو جیلوں سے اور جنھیں جبری لاپتا یا اغوا کیا گیا ہے، اگر وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، تو انھیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر انھیں باعزّت طور پر رہا کیا جائے ۔
۵- اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ دستور میں وقتی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی تبدیلی کو برداشت نہ کیا جائے ۔
۶- ملکی معاشی پالیسی پر یونی ورسٹیوں اور تحقیقی اداروں سے وابستہ ماہرینِ معاشیات کو مدعو کرکے جامع مشاورتی عمل کا آغاز کیا جائے۔ جس میں زراعت، پانی کے وسائل اور صنعتوں کے مسائل خصوصاًفیصل آباد اور سیالکوٹ کی مقامی صنعتی پہچان کو بحال کیا جائے۔ زرعی زمینوں کو رہائشی سہولیات میں تبدیل کرنے کو سخت قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے، اور جو زرعی زمین گذشتہ تین برسوں میں رہائشی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی ہے، اس میں زراعت کے نظام کو بحال کیا جائے ۔
۷- تعلیمی زبوں حالی اور خصوصاً آئی ٹی کے ذریعے فاصلاتی نظامِ تعلیم اور براہِ راست تعلیم کو ملا کر تعلیم عام کرنے کے مشن کو عملی شکل دی جائے۔ اس میں اساتذہ اور طلبہ کو بطور رضاکار استعمال کیا جائے اور انھیں بغیر کسی معاشی معاوضہ کے بعض سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ یہ کام خوشی کے ساتھ کر سکیں ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۱ۙ لَيْسَ لِوَقْعَتِہَا كَاذِبَۃٌ۲ۘ (الواقعہ ۵۶:۱-۲) جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اُس کے واقع ہونے کو جھٹلانے والا نہ ہوگا۔
یہ سورئہ واقعہ کی آیات ہیں۔ سورئہ واقعہ کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بیان ہے کہ یہ سورئہ طٰہٰ کے بعد اور سورئہ شعرا سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ سورئہ طٰہٰ کے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ ہجرتِ حبشہ کے زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ اس لیے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ سورہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے پانچویں یا چھٹے سال میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ تفصیل کے ساتھ عالمِ آخرت کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ نیز جنت اور اہلِ جنت کا حال اور دوزخ اور اہلِ دوزخ کا حال بیان کیا گیا ہے۔توحید اور قرآن کے متعلق کفارِ مکّہ کے شبہات کی تردید کی گئی ہے۔
فرمایا گیا: جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو اس کے واقع ہونے کو جھٹلانے والا کوئی متنفس نہ ہوگا۔ ہونے والی بات سے مراد قیامت ہے۔ وہ تہ و بالا کردینے والی آفت ہوگی۔ زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔
آغازِ کلام خود اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے کچھ خاص حالات تھے، جن کے پیش نظر یکایک یہ بات اس طرح شروع کی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن چیزوں کے ماننے کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے ان میں ایک اللہ تعالیٰ کی توحید اور دوسری چیز تھی آخرت۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر بھی لوگ ناک بھوں چڑھاتے تھے، لیکن سب سے زیادہ جس چیز کو بڑے اچنبھے اور بہت حیرت سے وہ سنتے تھے اور جس چیز کا مذاق اُڑاتے تھے، اور جسے بالکل ناممکن اور مشتبہ سمجھتے تھے، وہ آخرت تھی۔
آغازِ کلام بتا رہا ہے کہ اس بات کے لوگوں میں چرچے ہو رہے ہیں اور آخرت کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ حیرت سے لوگ کہتے ہیں: بھلا یہ ایک عجیب بات سنائی جارہی ہے کہ زمین اور سورج اور چاند، یہ سب ختم کردیے جائیں گے اور سارے انسان ایک دم ختم ہوجائیں گے اور اس کے بعد دوبارہ وہ اُٹھائے جائیں گے اور یہ زمین و آسمان پھر بنیں گے۔ ان ساری چیزوں کے اُوپر لوگ حیرت کا اظہار کر رہے تھے۔
آغازِ کلام اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ ہونے والی بات جب پیش آئے گی، اس وقت کوئی متنفس اس کو جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ یعنی آج اس کو تم جھٹلا رہے ہو، اس کو غلط قرار دے رہے ہو، اور یہ کہہ رہے ہو کہ یہ محض زبان کی جادوگری ہے، اور عجیب عجیب باتیں ہیں جو سنائی جارہی ہیں۔ لیکن جس وقت تمھاری آنکھوں کے سامنے وہ واقعہ پیش آجائے گا اوراپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ وہ واقعہ موجود ہے، اس وقت کسی کی یہ ہمت نہیں ہوگی اور کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی شخص اس کو جھٹلا سکے اور یہ کہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔
آج اس دنیا میں جیساکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اتنا عظیم الشان سورج فضا میں معلّق ہے۔ یہ زمین اور چاند فضا میں معلّق ہیں۔ آدمی کو کیوں نہیں حیرت ہوتی؟ کیوں نہیں کوئی شخص ان چیزوں کو جھٹلاتا؟ اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ سورج نکلا ہوا ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم غلط بات کہتے ہو۔ ایک چیز جب آنکھوں کے سامنے موجود ہے، چاہے وہ پہلے کتنی ہی حیرت انگیز آدمی کو معلوم ہوتی ہو، لیکن جب آنکھوں کے سامنے موجود ہے تو پھر کوئی شخص اسے جھٹلا نہیں سکتا۔
اب اس کے بعد قیامت کے متعلق مختصر الفاظ میں بتایا جاتا ہے:
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۱ۙ (الواقعہ ۵۶:۱) جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔
مراد ہے آخرت اور قیامت۔ قیامت کے لیے یہاں واقعہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور کہیں سعہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ سعہ سےمراد گھڑی، یعنی وہ مقررہ وقت جو دنیا کے ختم کرنے کے لیے طے کردیا گیا ہے، اور واقعہ کے معنی ہیں ہونے والی بات، یعنی جس کا ہونا بالکل یقینی ہے۔ مراد یہ ہے کہ جب وہ ہونے والی بات پیش آجائے گی۔
لَيْسَ لِوَقْعَتِہَا كَاذِبَۃٌ۲ۘ (۵۶:۲)کوئی اس کے واقع ہونے کو جھٹلانے والا نہ ہوگا۔
اس کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ اس کے واقع ہوجانے کے بعد کسی شخص کے بس میں نہیں ہوگا کہ اس کو جھٹلا سکے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تم اس کو جھٹلا رہے ہو، اس کا مذاق اُڑا تے ہو، لیکن جب وہ واقع ہوجائے گی تو کسی کے بس میں یہ نہیں رہے گا کہ اس کا انکار کرسکے اوراس کو جھٹلا سکے۔ وہ آنکھوں کے سامنے ہوگی اور لوگ خود اس کو بھگت رہے ہوں گے۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ کسی میں یہ طاقت نہیں ہوگی کہ اس واقعہ کو غیر واقعہ بنا دے، یعنی اس کے واقع ہوجانے کے بعد کوئی اس کا ٹالنے والا نہیں ہوگا۔ کوئی اس کا روکنے والا نہیں ہوگا۔ کسی میں اتنا زور نہیں ہوگا کہ قیامت جب واقع ہورہی ہو تو اس کو وہ تھام لے اور روک دے اور اس کو واقع نہ ہونے دے۔
اس میں خود بخود ایک چیلنج پوشیدہ ہے۔ یہ الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ کچھ لوگ اس کو جھٹلا رہے تھے اوراس کو ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ گویا ان کے لیے اس کے اندر ایک چیلنج ہے کہ آج تم اس کو جتنا جھٹلا سکتے ہو جھٹلا لو، لیکن جب وہ واقع ہوجائے گی تو تمھارے بس میں نہ رہے گا کہ تم یہ کہو کہ یہ اب واقع نہیں ہوئی، اور نہ یہ ہوسکے گا کہ اس کو واقعہ سے غیرواقعہ بنا دو۔
خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ۳ۙ (۵۶:۳) وہ تہ و بالا کردینے والی آفت ہوگی۔
یہاں وہ کیفیت بیان کی جارہی ہے کہ جب قیامت آئے گی تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟
پہلی بات تو یہ فرمائی گئی کہ وہ اُٹھانے والی اور گرانے والی ہوگی۔ ایک مطلب تو اس کا صاف ہے کہ وہ تہہ و بالا کردینے والی ہوگی۔ جیسے ہم اُردو زبان میں بھی بولتے ہیں تہہ و بالا کردینا۔
دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ ایک ایسی چیز ہو گی کہ جو آج اس دُنیا میں بہت بڑے بنے ہوئے ہیں وہ چھوٹے بن کر رہ جائیں گے اور جو چھوٹے بنے ہوئے ہیں وہ بڑے بن جائیں گے۔
گویا دُنیا میں جو کچھ بھی لوگوںکے مراتب اور مناصب اور ان کی حیثیتیں قائم ہیں، یہ وہاں قائم رہنے والی نہیں۔ اس دُنیا میں لوگوں کی حیثیتیں نامعلوم کس کس طرح قائم ہوتی ہیں۔ کسی کے پاس دولت ہے، اس وجہ سے وہ بڑی شخصیت بنا ہوا ہے درآں حالیکہ وہ آدمی کی حیثیت سے نہایت ذلیل اور نہایت گھٹیا انسان ہے۔ کسی کو اللہ نے اقتدار دے دیا ہے اور وہ بڑی چیز بن گیا ہے درآں حالیکہ انسان ہونے کی حیثیت سے بہت گرا ہوا آدمی ہے۔ کوئی آدمی ذلیل و خوار بن کے رہ جاتا ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں سمجھی جاتی حالانکہ اخلاقی حیثیت سے وہ بڑا گریٹ آدمی ہے۔ لہٰذا جب قیامت آئے گی تو اس وقت دُنیا کے یہ غلط اور مصنوعی مرتبے سب ختم ہوجائیں گے۔ حقیقت میں کسی انسان کا جو مرتبہ ہے، وہ اس کے مطابق reduce ہوکر رہ جائے گا۔ دُنیا میں اگر کوئی آدمی بہت بڑی چیز بنا ہوا ہے، تو وہاں اس کی ساری بڑائی ختم ہوکر رہ جائے گی اور اس کی اصل حیثیت باقی رہے گی۔ اگر کوئی آدمی اس دُنیا میں گراکر رکھا گیا ہے لیکن آخرت میں وہ اُٹھایا جائے گا اور اُس حیثیت پر پہنچایا جائے گا جو اُس کی اصل حیثیت ہے۔
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا۴ۙ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۵ۙ فَكَانَتْ ہَبَاۗءً مُّنْۢبَثًّا۶ۙ (۵۶:۴-۶) جب زمین پھڑپھڑائے گی اور بُری طرح پھڑپھڑائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔
اب چند الفاظ میں قیامت کی کیفیت یہ بیان کی گئی ہے کہ زمین ہلا ماری جائے گی، یعنی ایک شدید زلزلہ ہوگا۔ اس نوعیت کا زلزلہ نہیں ہوگا جیسے کہ اس دنیا میں ہوتے ہیں کہ کسی ایک حصے میں آگیا اور وہ بھی اس شدت کا نہیں ہوگا بلکہ ایک معمولی حرکت ہے کہ جس سے بستیاں کی بستیاں اُلٹ جاتی ہیں۔ اُس وقت پوری زمین ہلا ڈالی جائے گی۔ پورے کرئہ زمین کے اُوپر زلزلہ آئے گا اور یہ اس قدر زبردست زلزلہ ہوگا کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس طرح سے ریزہ ریزہ ہوں گے جیسے پراگندہ غبار ہوں۔ وہ اتنے باریک ذرات ہوں گے کہ ہوا اُنھیں اڑائے پھرے گی۔ ان بلندوبالا پہاڑوں کی حالت ایسی ہوگی جیسے گردوغبار۔
اب اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسانوں کا وہاں کیا انجام ہوگا؟
وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً۷ۭ فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ۰ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ۸ۭ وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَۃِ۰ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَۃِ۹ۭ (۵۶:۷-۹) تم لوگ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہوجائو گے: دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا۔ اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بدنصیبی) کا کیا ٹھکانا۔
اس روز تمام انسان تین حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔یہ تقسیم سراسر اخلاقی بنیادوں پر ہوگی۔ یہ تقسیم اس لحاظ سے نہیں ہوگی کہ کسی کا نسب کیا ہے اور کون کس کی اولاد ہے، نہ اس لحاظ سے ہوگی کہ اس کے پاس دولت کتنی ہے، نہ اس لحاظ سے ہوگی کہ اس کو خطابات کیا ملے ہوئے ہیں؟ یہ تقسیم ان حیثیتوں پر نہیں ہوگی بلکہ خالص اخلاقی بنیادوں پر انسان تین اقسام میں منقسم ہوں گے۔ اب وہ قسمیں بتائی جارہی ہیں:
فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ۰ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ۸ۭ (۵۶:۸) دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا۔
ایک گروہ وہ ہوگا جو اصحابِ میمنہ ہے۔ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ۸ۭ اصحابِ میمنہ کے کیا کہنے۔ میمنہ کو اگر یُمن سے لیا جائے تو اس کے دو ہی روٹس ہوسکتے ہیں: یُـمْن اور یَمین۔میمنہ کا لفظ اگر یُـمْن سے لیا جائے تو یَمین کے عربی زبان میں معنی ہیں سعادت اور خوش حالی اور نیک بختی۔ اس مفہوم میں یہ نیک فال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی وہ لوگ کہ جو دنیا میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے وہاں اُمیدوار ہیں کہ ہمارا انجام اچھا ہوگا۔ گویا اصحاب المیمنہ کے معنی یہ ہوئے کہ وہ لوگ کہ جو Optimist ہیں،یعنی اچھی توقعات رکھتے ہیں، اللہ کی رحمت کے اُمیدوار ہیں، مایوس نہیں ہیں۔ ایک معنی اصحاب میمنہ کے یہ ہیں۔
اگر اس لفظ کو یَمین سے لیا جائے تو عربی زبان میں یَمین سیدھے ہاتھ کو کہتے ہیں۔ عربی زبان کے محاورے کی رُو سے سیدھے ہاتھ پر کسی شخص کو لینا یا بٹھایا جانا یہ معنی رکھتا ہے کہ آپ اس کو عزّت دے رہے ہیں، اور بائیں ہاتھ پر کسی شخص کو لینا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس کا درجہ گرا رہے ہیں اور اس کی حیثیت کم کر رہے ہیں۔ یہ گویا عربوں کے ہاں دستور ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ کسی کو سیدھے ہاتھ والا کہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ بلند درجے کا ہے اور کسی کو بائیں ہاتھ والا کہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ پست درجے اور کم درجے کا ہے۔ یہ دونوں معنی اصحاب المیمنہ کے ہیں۔
اصحاب میمنہ کو اگر یَمین سے لیا جائے تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کواللہ تعالیٰ دائیں جانب جگہ دیں گے، اور اگر یُمن سے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ کہ جو پہلے سے اعمال اور اپنے اخلاق اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کی بناپر اُمیدوار ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا معاملہ کیا جائے جس کو انگریزی میں Pessimistic اور Optimistic کہتے ہیں، یعنی ایک وہ آدمی ہے کہ جو اچھی اُمید رکھتا ہے اور ایک وہ آدمی ہے جو پہلے ہی سے مایوس ہے۔ جس آدمی کو پہلے سے اپنا بُرا انجام نظر آرہا ہے وہ اصحاب مَشْـَٔــمَۃِ ہیں۔ شُؤْم کہتے ہیں نحوست اور بدبختی کو۔ اور جو شخص بُرے انجام کے خطرے میں مبتلا ہو، گویا وہ شُؤْم میں مبتلا ہے۔ اصحابِ میمنہ وہ لوگ ہیں جو اُمیدوا ر ہیں اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ ان سے اچھا معاملہ کرے۔ جو اپنے اعمالِ نیک کی وجہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ میں نہیں بھیجے گا۔
گویا اصحاب المیمنہ کےیہ معنی بھی ہیں کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجے پر رکھے جائیں گے، جن کو عزت دی جائے گی، شرف دیا جائے گا۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ جو آخرت میں اپنے نیک انجام کے متوقع ہوں گے اور جن پر عالمِ یاس طاری نہیں ہوگا۔
وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَۃِ۰ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَۃِ۹ۭ(۵۶:۹) بائیں بازو والے، تو بائیں بازوں والوں (کی بدنصیبی) کا کیا ٹھکانا۔
مَشْـَٔـــمَہ کا لفظ شُؤْم سے نکلا ہے۔ شُؤْم کے معنی بدفالی کے ہیں۔ اصحابِ مَشْـَٔـــمَہ سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جو عالمِ آخرت میں جب اٹھائے جائیں گے تو ان پر یاس کی حالت طاری ہوگی اور کوئی نیک اُمید نہیں ہوگی جس کو pesimistic کہتے ہیں ۔ وہ کوئی اچھی اُمیدیں نہ رکھتے ہوں گے۔ ان کو یہ خیال ہوگا کہ ہم دنیا میں جو کچھ کر کے آئے ہیں اس وجہ سےہمارا انجام بُرا ہوگا۔
مرنے کے بعد ہی آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ میں یہاں کس حیثیت میں آیا ہوں بلکہ عین مرنے کے وقت ہی آدمی کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہاں میں کس حیثیت سے آیا ہوں؟ یہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے کوئی مجرم ہو اور جب پولیس اس کے دروازے پر اس کو پکڑنے کے لیے آتی ہے، تو وہ آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ پولیس والے ہتھکڑی لیے ہوئے آئے ہیں۔ اس وجہ سے اسی وقت اس کو معلوم ہوجاتا ہے کہ میں آج مجرم کی حیثیت سے پکڑا جائوں گا۔ اگر کسی آدمی کو کسی بڑے دربار میں کوئی بڑا رُتبہ دینے کے لیے اس کو بلایا جاتا ہے، تو جو لوگ اس کو لینے کے لیے آتے ہیں ان کو دیکھتے ہی اس کو معلوم ہوجاتا ہے کہ میں عزّت کے ساتھ لے جایا جارہا ہوں۔ اسی طرح مرنے کے وقت ہی آدمی کو پتہ چل جاتا ہے کہ کس قسم کے فرشتے، کس شکل و صورت میں آئے ہیں۔ اسی وقت معلوم ہوجاتا ہے کہ گویا میں مجرم کی حیثیت سے جارہا ہوں یا میں مہمان کی حیثیت سے جارہا ہوں۔ اس وجہ سے اصحابِ مشئمہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو اوّل روز سے یہ معلوم ہے کہ ہم مجرم کی حیثیت سے آئے ہیں اور ہمارا انجام خراب ہے۔ اصحابِ میمنہ وہ ہیں جن کو اوّل روز سے اُمید ہے کہ ہمارے ساتھ اچھا ہی معاملہ کیا جائے گا۔ ہم مہمان کی حیثیت سے جارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ بُرا معاملہ نہیں کرے گا۔
فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ۰ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ۸ۭ (۵۶:۸) دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا۔
اصحاب میمنہ کے کیا کہنے؟ جیسے ہم اُردو زبان میں بولتے ہیں کہ اس کے کیا کہنے۔ اس کاتو بڑا ہی مزہ ہے۔
وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَۃِ۰ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَۃِ۹ۭ (۵۶:۹) اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بدنصیبی) کا کیا ٹھکانا۔
اصحاب المشئمہ ان کا کیا پوچھتے ہو؟جیسے ہم اُردو میں بولتے ہیں اس کا کیا پوچھتے ہو؟ مطلب یہ ہے کہ اس کا تو بُرا حال ہی ہوگا۔
وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ۱۰ۚۙ (۵۶:۱۰) اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔
سابقون سے مراد یہ نہیں ہے کہ جو لوگ پہلے ایمان لائے، بلکہ سابقون سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جو اللہ کے دین کے معاملے میں، نیکی اور بھلائی کے معاملے میں دوڑ کر اور لپک کر حصہ لیں۔سب سے پہلے وہ حصہ لینے والے ہوں جیسے ہم کہتے ہیں کہ وہ لوگ صف ِ اوّل کے لوگ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو ہر معاملے میں پیش پیش ہوں۔ نیکی اور بھلائی میں تو سابقون کا لفظ ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، مثلاً لوگوں کے اُوپر اگر کوئی آناً فاناً مصیبت آئی ہو، تو سب سے پہلے جو لوگ نکل کر آئیں گے اور دوڑیں گے اس بات کے لیے کہ جاکر ان کو اس مصیبت سے بچائیں، وہ سابقون ہیں۔اسی طرح سے مثلاً دینِ اسلام کے اُوپر کوئی سخت وقت آگیا ہے، دشمنوں کا کوئی نرغہ ہے یا اعدا کا کوئی حملہ ہے۔ سب سے آگے بڑھ کر جو لوگ سینہ سپر ہوں گے وہ سابقون ہوں گے۔ غرض جو لوگ نیکی اور بھلائی کے ہرمعاملے میں سبقت کرنے والے ہیں اور خدا کے دین کے ہر کام میں سبقت کرنے والے ہیں، وہ سابقون ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۱۱ۚ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۱۲ (۵۶:۱۱-۱۲) وہی تو مقرب لوگ ہیں جو نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔
وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہیں۔ ان کی حیثیت مقربین کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نزدیک ان کو لے آئے گا۔
ثُـلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۱۳ۙ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۱۴ۭ (۵۶:۱۳-۱۴) اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم۔
ایک جم کثیر ہوں گے اوّلین میں سے اور ایک قلیل گروہ ہوگا آخرین میں سے۔ یہ اوّلین اور آخرین اس لحاظ سے نہیں ہے کہ تاریخ کے ابتدائی دور میں وہ بہت تھے اور تاریخ کے آخری دور میں وہ کم تھے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہرنبیؑ کی اُمت میں ابتدائی دور کے جو لوگ ہیں ان میں ایسے سابقون کی تعداد بہت ہوگی اور اس نبی کی اُمت کے آخری دور میں ان کی تعداد کم ہوگی۔
نبوت جب واقع ہوتی ہے اور کوئی نبی جب کھڑا ہوتا ہے تو اس کے اُوپر جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کے سامنے حقائق خوب ٹھوک بجاکر پوری طرح سے اس طرح سے واضح ہوجاتے ہیں کہ ان کی بہت بڑی کثیر تعداد سچّے دل سے ایمان لاتی ہے۔ نبی جن حالات میں مبعوث ہوتا ہے اور جن حالات میں کام کرتا ہے، ان میں کوئی کچا آدمی اس کے ساتھ چل نہیں سکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی کچا آدمی اس کے ساتھ چل سکے۔ نبی کی اُمت کے اُو پر آفتیں ٹوٹتی ہیں، سخت سے سخت مظالم اس کے اُوپر ہوتے ہیں، بلکہ احادیث میں آتا ہے کہ بعض لوگوں کو آروں سے چیر دیا گیا۔ اب ان حالات میں کون نبی کا ساتھ دے گا؟ صرف وہ شخص ساتھ دے گا کہ جو یہ یقین رکھتا ہو کہ یہ بندئہ خدا جو حقیقت لے کر آیا ہے بالکل سچی ہے، اور اس کے ساتھ جس کا دل یہ گواہی دیتا ہو کہ جب یہ سچائی ہے تو اس کے لیے دُنیا بھر سے لڑ جانا چاہیے۔ جب یہ سچائی ہے تو اس کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینا چاہیے، ہرتکلیف کو برداشت کرجانا چاہیے۔ اس کے بغیر کوئی شخص نبی کا ان حالات میں ساتھ نہیں دے سکتا۔ اس وجہ سے ان میں کثیر تعداد مخلصین و مومنین کی ہوتی ہے۔ اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو خدا اور اس کے دین اور اس کے رسول کی خاطر ہرخطرے، ہرنقصان اور ہرتکلیف کو اُٹھاتے ہیں۔
پھر نبی کی تربیت سے وہ لوگ براہِ راست فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ نبی سے خدا کے دین کو براہِ راست سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سےسے وہ علم کے اعتبار سے بھی دین کو زیادہ سمجھنے والے ہوتے ہیں، اخلاق کے اعتبار سے بھی وہ دین کے منشا کے مطابق جیسا انسان ہونا چاہیے ویسے انسان ہوتے ہیں، اور اس کے ساتھ یہ کہ اللہ کے دین کے لیے تکلیفیں اُٹھانے میں بھی سب سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ اس بناپر نبی کی اُمت کے ابتدائی گروہ میں سابقون کی اکثریت ہوتی ہے۔ بعد کے دور میں جب نبی کا مشن کامیاب ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو دُنیا میں فتح و نصرت عطا کرتا ہے، اس کے بعد ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں کی آجاتی ہے کہ جو چلتی ہوئی گاڑی میں سوار ہونے والے ہیں، گاڑی چلانے والوں میں شامل نہیں ہیں۔ گاڑی چلانے میں جو خطرات ہیں وہ دوسرے بھگت چکے ہوتے ہیں۔ جب گاڑی چل چکی ہوتی ہے، خوب تیز رواں ہوتی ہے، اس وقت ہرایک سوار ہونے کو تیار ہوتا ہے۔
اس وجہ سے اس کے بعد پھر ان لوگوں کی تعداد جو سبقت کرنے والے ہیں، کم رہ جاتی ہے۔ اگرچہ خدا کا دین چلتا انھی سبقت کرنے والوں کی وجہ سے ہے۔ سبقت کرنے والے ہی اپنی جانیں لڑاتے ہیں اور سبقت کرنے والے ہی اس کا جھنڈا بلند کرتے ہیں اور سبقت کرنے والے ہی اس کی تبلیغ کرتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ یہ کام برابر جاری رہتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی ان کی اقلیت ہوتی ہے، اکثریت نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ ابتداً اُمت میں اکثریت سابقون کی ہوتی ہے اور بعد میں اُمت میں ان کی قلیل تعداد رہ جاتی ہے۔ اسی بات کو یہاں بیان کیا گیا ہے کہ اُمت کے ابتدائی دور میں سابقون کثیر تعداد میں ہوں گے اور بعد کے دور میں قلیل تعداد میں(جاری)۔(ریکارڈنگ :حفیظ الرحمٰن احسن ،و تدوین: امجد عباسی)
_______________
عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ۱۵ۙ مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْہَا مُتَقٰبِلِيْنَ۱۶ (۵۶:۱۵-۱۶) مرصع تختوں پر تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔وہ ایسے تختوں پر بیٹھے ہوں گے جو جڑائو ہوں گے۔
یعنی جو بادشاہوں کے تخت ہوتے ہیں، اس طرح کے تخت ہر اس جنّتی کو جو وہاں بھیجا جائے گا اس کے لیے مہیا ہوگا۔
مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْہَا ، ان پر وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ مُتَقٰبِلِيْنَ سے مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے کے سامنے منہ کیے ہوئے ہوں گے۔ یعنی کوئی کسی کی طرف پیٹھ کرنے والا نہیں ہوگا، بلکہ سب اگر ایک مجلس میں بیٹھیں گے تو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔
يَطُوْفُ عَلَيْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۱۷ۙ بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ۰ۥۙ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ۱۸ۙ (۵۶:۱۷-۱۸) ان کی مجلسوں میں ابدی لڑکے شراب چشمۂ جاری سے لبریز پیالے اور کنڑ اور ساغر لیے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔ ان کی خدمت کے لیے دوڑتے پھرتے ہوں گے ایسے لڑکے جو مخلد ہوں گے۔
مخلد سے مراد دائمی ہے، یعنی وہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ان کی عمر میں اضافہ ہو اور وہ بوڑھے جن کے …؟؟ مثلاً اگر وہ بارہ برس کا لڑکا ہے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بارہ برس ہی کا لڑکا رہے گا۔ ان کی خدمت کے لیے یہ خادم جو دائمی اور ابدی لڑکے ہوں گے، یہ ان کی خدمت کے لیے وہاں حاضر ہوں گے۔
کسانوں میں جو بچّے بلوغ کی عمر کو پہنچنے سے پہلے مرجائیں وہ چاہے کافر و مشرک کے ہوں، چاہے مسلمان کے، بہرحال وہ دوزخ میں جانے والے نہیں۔ اور جن کے والدین جنّت میں جائیں گے ان کے بچّے والدین کے ساتھ پہنچا دیئے جائیں گے۔ قرآن مجید میں بھی صراحت ہے کہ ان کی اولاد کو ان کے ساتھ لا ملایا جائے گا لیکن جن کے والدین جنّت میں نہیں جائیں گے ان کے بچوں کو جہاں تک میرا اندازہ ہے اگرچہ قرآن مجید میں اس کی صراحت نہیں، البتہ بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ ان بچوں کو اہل جنّت کا خدمت گار بنا دیا جائے گا، خواہ وہ کافر و مشرک کے بچّے ہوں یا ایسے مسلمانوں کے بچّے ہوں جو دو زخ میں جائیں گے۔ خدا ہرمسلمان کو اس سے بچائے۔ پس اگر کوئی مسلمان دوزخ میں جائے گا تو اس کی اولاد جو نابالغ ہے وہ دوزخ میں نہیں جائے گی۔ ان کو اہل جنّت کا خادم بنا دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جو عمر اُن کے لیے تجویز فرما دے گا کہ یہ عمر ان کی ہونی چاہیے تاکہ یہ اہل جنّت کی بہتر خدمت کرسکیں، بس وہی عمر ان کی ہمیشہ رہے گی۔
بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ۰ۥۙ ، وہ پیالے لیے ہوئے اور ٹوپی دار صراحیاں لیے ہوئے پھرتے پھریں گے۔
اکواب ، کوب کی جمع ہے۔کوب وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں کپ کہتے ہیں اور یہ کپ لفظ کوب ہی سے نکلا ہے۔ انگریزی میں وہ عربی زبان سے آیا ہے۔ ان بے چاروں کے پاس کپ بھی نہیں تھے۔ یہ مسلمانوں سے ان کو حاصل ہوئے۔ ابریق کہتے ہیں لوٹے کی وضع کی ایک صراحی جس کے ساتھ ایک ٹوپی لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اباریق اس کی جمع ہے۔
وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ۱۸ۙ اور ایسی شراب کہ جو چشموں سے نکلی ہو۔
جنّت کی شراب کسی چیز کو سڑاکر کشید کی ہوئی نہیں ہوگی بلکہ جنّت میں جو شراب ہوگی وہ چشمے کی شکل میں ہوگی۔ یہ قرآن مجید میں بھی وضاحت ہے اور یہاں تو بالکل صاف طور پر معین کالفظ استعمال کیا گیا ہے۔معین کہتے ہیں ہر آدمی اس کو بالکل گوارا کرے گا اور یہ پاک اور صاف ہوگی۔ وہ کسی چیز کو سڑا کر نہیں بنائی جائے گی بلکہ چشمے کی شکل میں ہوگی، اور ہوسکتا ہے کہ مختلف اقسام کی شرابیں ہوں کہ جو مختلف چشموں سے نکلتی ہوں۔
لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا يُنْزِفُوْنَ۱۹ۙ (۵۶:۱۹) جسے پی کر نہ ان کا سر چکّرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا۔
اس سے نہ ان کو دردِ ِ سر لاحق ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے۔
یعنی دُنیا کی شراب کا جو بڑے سے بڑا فائدہ ہے جس کی خاطر انسان شراب کی تکلیفیں اُٹھاتا ہے اس کے نقصانات برداشت کرتا ہے وہ صرف سُرور ہے اور اس سُرو ر کی خاطر انسان شراب کو استعمال کرتا ہے۔ لیکن دُنیا کی شراب کا یہ سُرور انسان کو اتنا مہنگا پڑتا ہے کہ جیسے ہی وہ قریب آتی ہے اس وقت سے اس کی تکلیفیں شروع ہوجاتی ہیں۔
شراب جیسے ہی قریب آتی ہے پہلے تو اس کی سڑانڈ آتی ہے۔ اس کی بُو کسی بھلے آدمی کو دُور بھگا دیتی ہے کہ کسی بُرے آدمی کو بھی اس کی بُو پسند نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد اس کا مزہ تلخ ہوتا ہے۔ پھر جب وہ حلق سے گزرتی ہے تو معدے تک کاٹتی ہوئی جاتی ہے۔ پھر آدمی کو دردِ ِ سر لاحق ہوتا ہے۔ زیادہ پی جائے تو قے ہوتی ہے اور نامعلوم کیا کیا تکلیفیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہاں یہ بتا رہا ہے کہ وہ شراب ہوگی لیکن شراب ایسی نہیں ہوگی جس کے نقصانات اور اس کی تکلیفیں وہ ہوں جو اس دُنیا میں ہوتی ہیں کہ اس کو پی کر دردِ سر لاحق ہواور آدمی اس کو پی کر بہکے، اُول فول بکے اور اپنے ہوش و حواس میں نہ رہے۔
وَفَاكِہَۃٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَ۲۰ۙ وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَہُوْنَ۲۱ۭ (۵۶:۲۰-۲۱) اوروہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے کہ جسے چاہیں چُن لیں، اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں استعمال کریں۔
ایک اور مقام پر قرآن مجید میں صرف گوشت کا ذکر ہے اور یہاں پرندوں کے گوشت کا ذکر ہے۔میرا اندازہ ہے کہ جس طرح سے جنّت کی شراب مصنوعی نہیں ہوگی بلکہ قدرتی طور پر چشموں سے نکلے گی اور جس طرح سے جنّت کا شہد وہ بھی مگس کی قے نہیں ہوگا بلکہ وہ بھی چشموں کی شکل میں نکلا ہوا ہوگا، اور جنّت کا دودھ بھی جانوروں کے تھنوں سے دوھا ہوا نہیں ہوگا بلکہ چشموں کی شکل میں نکلے گا اور نہر کی شکل میں بہہ رہا ہوگا اور یہ قرآن مجید میں بھی ہے اور احادیث میں بھی۔ اسی طرح سے میرا خیال یہ ہے کہ اگرچہ اس کی صراحت مجھے کہیں نہیں ملی ہے لیکن مَیں اندازہ کرتا ہوں کہ وہاں کا گوشت بھی جانوروں کو ذبح کرکے حاصل کیا ہوا نہیں ہوگا بلکہ وہ قدرتی طور پر پایا جائے گا۔وہ جس چیز کے گوشت کی حیثیت سے بھی آدمی کے سامنے گا، مزے میں بہترین ہوگا۔ اگر ہرن کے گوشت کی حیثیت سے آئے گا تو ہرن کا جو بہترین گوشت ممکن ہے وہ مزا ہوگا لیکن وہ کسی ہرن کو ذبح کرکے حاصل کیا ہوا نہیں ہوگا۔ کسی ہرن کو گولی مار کر حاصل کیا ہوا نہیں ہوگا۔ اسی طرح سے پرندوں کا گوشت ہے۔ یہ بھی گویا قدرتی طور پر پیدا ہوگا جانوروں کو ذبح کرکے اور اس کے پَر نوچ کے حاصل کیا ہوا نہیں ہوگا۔
وَحُوْرٌ عِيْنٌ۲۲ۙ كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـؤِ الْمَكْنُوْنِ۲۳ۚ (۵۶:۲۲-۲۳) اور ان کے لیے خوب صورت آنکھوں والی حُوریں ہوگی، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔
آدمی نفیس ترین چیز کو چھپا کر رکھتا ہے۔ حُوریں ایسے موتیوں کی طرح ہوں گی جن کو چھپاکر رکھا جاتا ہے۔
جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۲۴ (۵۶: ۲۴) یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا کے طور پر انھیں ملے گا جو وہ دُنیا میں کرتے رہتے تھے۔
یعنی یہ بدلہ ہوگا ان کے ان اعمال کا جو وہ دُنیا میں کرکے آئے ہیں۔
لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا۲۵ۙ (۵۶: ۲۵) وہاں وہ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے۔
یعنی جنّت کی ساری نعمتوں کو بیان کرنے کے بعد آخر میں گویا یہ ایک عظیم ترین نعمت کا ذکر کیا ہے۔ جنّت کی بہت بڑی نعمت یہ ہوگی کہ آدمی کے کان میں کوئی بے ہودہ بات نہیں پڑے گی۔ آدمی کوئی گناہ کی بات نہیں سنے گا۔ کوئی فحش بات نہیں سنے گا۔ اس دُنیا میں ایک نیک آدمی جس کے اندر فی الواقع کوئی ذوقِ سلیم موجود ہو اور جس کی روح میں کوئی طہارت اور پاکیزگی موجود ہو، اس کے لیے انتہائی اذیت کی چیز ہوتی ہے کہ انسانی بستی میں گزر رہا ہے تو اِدھر سے گالی کی آواز پڑرہی ہے اور اُدھر سے کسی کی غیبت کی گفتگو سن رہا ہے۔ اِدھر سے کوئی بیگم صاحبہ کوئی فحاش گانا گارہی ہیں اور کہیں کسی اور طرح سے بیہودہ باتیں ہورہی ہیں۔ اس بھلے آدمی کے لیے یہ پریشانی ہوگی کہ ان بستیوں میں کہاں رہے؟ کہاں اپنے آپ کو لے کر جائے اور کہیں اپنی اولاد ضرور اپنے بال بچوں کو لے کر جائے کہ ان بلائوں سے محفوظ رہے۔ جنّت کی یہ نعمت ہوگی کہ وہاں آدمی کے کان بُرائیوں سے محفوظ رہیں گے۔ آگے چل کر الفاظ ہیں:
اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۲۶ (۵۶:۲۶)جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔
سلام کا لفظ قریب قریب اسی معنی میں ہے جس کو انگریزی میں sane کہتے ہیں، یعنی جو کچھ بھی سنیں گے معقول اور صحیح بات سنیں گے۔ ایسی بات سنیں گے کہ جس کے اندر کسی قسم کی کوئی بُرائی نہیں ہوگی۔
وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ۰ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ۲۷ۭ (۵۶:۲۷) اور دائیں بازو والے، اور بائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا۔
یعنی دائیں ہاتھ والے لوگ یا اچھی اُمیدیں رکھنے والے لوگ تو ان کا کیا کہنا۔
فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۲۸ۙ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۲۹ۙ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۳۰ۙ وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ۳۱ۙ (۵۶:۲۸-۳۱) وہ بے خار بیریوں اور تہ بر تہ چڑھے ہوئے کیلوں اور دُور تک پھیلی ہوئی چھائوں، اور ہر دم رواں پانی۔
وہ ایسے باغوں میں ہوں گے کہ جن میں بے خار بیر ہوں گے۔ یعنی اس دُنیا میں عام طور پر جو بیر ہوتے ہیں وہ بہت گھٹیا قسم کے ہوتے ہیں لیکن اعلیٰ درجے کے بھاری بیر بعض اوقات سیب کے بچّے معلوم ہوتے ہیں۔ گویا ایسی بیریاں ہوں گی جن کے اندر خار نہیں ہوگا، کسی قسم کا کوئی کانٹا نہیں ہوگا۔
وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۲۹ۙ ، جن میں کیلے ہوں گے جن کی بیلیں تہ در تہ چڑھی ہوئی ہوں گی۔
وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۳۰ۙ ،اور دراز سایہ ہوگا، یعنی بڑے گھنے باغ ہوں گے کہ جن کو آدمی دیکھے تو دُور دُور تک اس کا سایہ ہی سایہ ہو اور دھوپ نہ پڑتی ہو۔
وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ۳۱ۙ ،اور دائماً بہنے والا پانی۔
وَّفَاكِہَۃٍ كَثِيْرَۃٍ۳۲ۙ لَّا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ۳۳ۙ (۵۶: ۳۲-۳۳) اور کبھی ختم نہ ہونے والے اور بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھل۔
لَّا مَقْطُوْعَۃٍ ، ان باغوں کے پھلوں کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ یعنی ان کے لیے کوئی موسم مقرر نہیں ہوگا کہ ہر پھل کسی خاص موسم میں پیدا ہو اور موسم گزرنے کے بعد ختم ہوجائے بلکہ ان کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔ ہرپھل جو ان کو پسند ہے وہ ہمیشہ ان کو ملے گا۔
وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ۳۳ۙ ،اور نہ ان کے اُوپر کسی قسم کی پابندی ہوگی یعنی دُنیا کے باغوں کی طرح کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی جہاں سے جتنا چاہیں کھائیں۔
وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ۳۴ۭ (۵۶: ۳۴) اور اُونچی نشست گاہوں میں ہوں گے۔
اور ان کے لیے زمین سے اُٹھے ہوئے بلند بستر ہوں گے۔
اِنَّآ اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَاۗءً۳۵ۙ فَجَــعَلْنٰہُنَّ اَبْكَارًا۳۶ۙ (۵۶: ۳۵-۳۶)اور ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انھیں باکرہ بنادیں گے۔
وہاں جو حُوریں اور جو بیویاں ان کو ملیں گی ہم نے ان کو پیدا کیا ہے۔
فَجَــعَلْنٰہُنَّ اَبْكَارًا،اور اس کو ہم نے باکرہ بنایا۔ ہم نے ان کو خاص طریقے سے پیدا کیا ہے۔ انسان کا خاص طریقے پر پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دُنیا میں جو عورت کسی کی بیوی تھی اگر وہ اس کے ساتھ جنّت میں جائے گی تو اللہ تعالیٰ گویا اس کو نئے سرے سے پیدا کرے گا چاہے دُنیا میں وہ بوڑھی ہوکر مری ہو اور اللہ تعالیٰ اسے نئے سرے سے جوان بنائے گا۔ اگر دُنیا میں وہ خوب صورت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ اس کو نہایت خوب صورت بنائے گا مگر اس طرح سے کہ معلوم یہ ہوگا کہ وہی عورت ہے جو دُنیا میں اس کی بیوی تھی، یعنی اس کے فیچرز محفوظ ہیں اور اس کو خوب صورت بنایا جارہا ہے۔ اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان کو خاص طور پر بنایا ہے۔
فَجَــعَلْنٰہُنَّ اَبْكَارًا۳۶ۙ عُرُبًا اَتْرَابًا۳۷ۙ (۵۶: ۳۶-۳۷) اور ان کو باکرہ بنادیں گے، اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن۔
عربا کے معنی ہیں شوہر کو چاہنے والی اور اتراب سے مراد ہے ہم سن، یعنی وہاں وہ ان کی ہم سن بنا دی جائیں گی اور وہ اپنے شوہر سے نہایت محبت کرنے والی ہوں گی۔
لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ۳۸ۭۧ (۵۶: ۳۸) یہ سب کچھ اصحاب ِ یمین کے لیے ہوگا۔
گویا دو قسم کے جنّتی ہوں گے: ایک جنّتی وہ ہیں جو سابقین ہیں اور دوسرے جنّتی وہ ہیں جو اصحاب میں ہیں۔ سابقین کے متعلق وہاں فرمایا گیا کہ وہ اُمت کے ابتدائی دور میں کثیر ہوں گے اور بعد کے اَدوار میں وہ قلیل ہوں گے۔ قلیل کے متعلق پھر میں وضاحت کردوں کہ قلیل کا مطلب مجموعہ میں قلیل ہونا ہے ، تعداد میں قلیل ہونا نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ نبیؑ کی دعوت کے ابتدائی زمانے میں مثلاً دو ہزار اس طرح کے لوگ ہیں لیکن چونکہ اُمت کی تعداد ہی کم تھی اس لیے وہ اُمت میں عظیم اکثریت تھے۔ ہوسکتا ہے کہ آگے چل کر وہ دس لاکھ ہوں لیکن اُمت اگر کروڑوں کی ہے تو وہ اقلیت ہیں۔اس بات کو ملحوظ رکھیے۔ یہ مت سمجھیے کہ قلیل سے مراد ہے تعداد میں قلیل سے مراد ہے اقلیت میں ہونا۔یہاں فرمایا:
ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ۳۹ۙ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۴۰ۭ (۵۶:۳۹-۴۰)وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بھی بہت۔
یعنی کثیر تعداد اوّلین میں اور کثیر تعداد آخرین میں۔اب یہاں یہ ہے کہ گویا اُمت کے اندر ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہوگی۔ ہر دور میں اصحابِ یمین ہوں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ اُمت ساری کی ساری دوزخیوں پر مشتمل ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اُمت کے اندر اصحابِ یمین کی بہت ہی تھوڑی اقلیت باقی رہ جائے۔ نہیں، اُمت میں کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اصحابِ یمین ہیں۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے اس بات کو بھی ملحوظ رکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایک مرتبہ کہ جو لوگ میرے زمانے میں موجود ہیں اگر انھوں نے جو ان سے دین میں مطلوب ہے اگر انھوں نے اس کے دس حصوں میں سے نو حصے کیے ہوں تب بھی ان سے بازپُرس ہوگی کہ انھوں نے ایک حصہ بھی کیوں چھوڑا ہے؟ لیکن ایک ایسا دور آئے گا کہ ان دس حصوں میں سے اگر کسی آدمی نے ایک حصے پر عمل کیا ہے تو اس پراجر پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بتایا گیا ہے کہ بعد کے دور میں کثیرتعداد ہوگی آخرین کی۔ اگر ایک زمانہ ایسا آجائے کہ جس میں خدا کا نام لینا بھی شرمناک ہوجائے۔ ایک آدمی سےی ہ توقع کی جائے گی کہ وہ خدا کا نام زبان پر نہ لائے۔ اگر وہ خدا کا نام زبان پر لاتا ہے تو گردوپیش کے لوگ اس کو دیکھتے ہیں کہ یہ کیسا رجعت پسند آدمی ہے کہ جو اس زمانے میں خدا کی باتیں کر رہا ہے۔ جب ایسی حالت آجائے تو اس میں اگر کوئی شخص خدا کا نام لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں، میں خدا کو مانتا ہوں اور ایک مانتا ہوں تو یہ جہاد کر رہا ہے اور اجر کا مستحق ہے۔
ایک ایسا زمانہ خود ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب ایک آدمی کو کھلے میدان میں یا کسی پارک وغیرہ میں نماز پڑھتے ہوئے شرم آتی تھی۔ وہ سوچتا تھا کہ کیا کروں اور کہاں جائوں؟ اگر یہاں نماز پڑھوں گا تو سیکڑوں آدمی مجھے دیکھ رہے ہیں۔ وہ میرا مذاق اُڑائیں گے۔ اس حالت میں جن لوگوں نے نمازیں پڑھی ہیں ان کی نماز کا کیا اجر۔ ظاہر بات ہے کہ اس دور کی نمازوں سے بہت زیادہ ہے کہ جس دور میں اگر کوئی آدمی نماز نہ پڑھتا تھا تو نکو بن جاتا تھا۔ آج نماز پڑھنے والا نکو ہو جاتا ہے تو جو آدمی اُس دور میں نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز کے اجر کا کیا پوچھنا۔ یہ اس دور کی نماز کی بہ نسبت زیادہ ہوگا۔ جب نماز نہ پڑھنے والا نکو بن جاتا تھا جہاں حالت یہ تھی کہ واذا کان صلوٰۃ……یہ منافقین کی تعریف ہے۔ منافقین کے متعلق قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ وہ نماز کے لیے اُٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اُٹھتے ہیں۔یہ ہے علامت منافقین کی۔
اب نماز نہ پڑھنے والا مسلمانوں کے اندر ہے۔ اس وقت نماز کے لیے کسمساتے ہوئے اُٹھنے والا منافق تو اس طرح کے مختلف حالات کے اعتبار سے اعمال کا وزن اللہ تعالیٰ کے ہاں قرار پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اعمال کا وزن صرف اس لحاظ سے نہیں ہے کہ اس نے بھی چار رکعتیں پڑھیں اور اس نے بھی چار رکعتیں پڑھیں۔ رکعت اور رکعت میں حالات کے لحاظ سے زمین آسمان کا فرق ہوجاتا ہے۔ جس میں اس نے پڑھی ہے اور نامعلوم کیا کیا چیزیں ہیں کہ جو مل جل کر اللہ کی نگاہ میں اعمال کی قدر بڑھاتی یا گھٹاتی ہیں۔ اسی وجہ سے فرمایا کہ اصحاب الیمین، نبی ؐ کی اُمت کے ابتدائی دور میں بھی بہت ہوں گے اور آخری دور میں بھی، البتہ سابقون نبیؐ کی اُمت کے ابتدائی دور میں زیادہ ہوں گے اور بعد کے اَدوار میں کم ہوں گے۔
عطا بن یسار (م:۱۰۳ھ)مشہور تابعی اور راویٔ حدیث ہیں۔ انھوں نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے ملاقات کی اور پوچھاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات توریت میں بیان ہوئی ہیں وہ مجھے بتلائیے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض صفات جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں وہ توریت میں بھی موجود ہیں اور وہ صفات یہ ہیں:
اے نبیؐ! ہم نے آپ کو گواہ بناکر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور اہل عرب کے لیے پشت پناہ بناکر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں۔ میں نے آپ کا نام متوکل یعنی اللہ پر بھروسا کرنے والا رکھا ہے۔ نہ آپ تندخو ہیں، نہ سخت مزاج ہیں، نہ بازاروں میں شور مچانے والے ہیں اور نہ بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دیتے ہیں، بلکہ معاف کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک آپ کی روح قبض نہیں کریں گے جب تک کہ آپؐ کے ذریعے ٹیڑھی قوم کو سیدھا نہ کردیں اور وہ لاالٰہ الا اللہ کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کے ذریعے اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور بند دلوں کوکھول دے گا۔ (صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب کراہیۃ الصخب فی الاسواق)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توریت کی جن آیات کا حوالہ دیا ہے، ان سے ملتی جلتی آیات قرآن میں اس طرح وارد ہوئی ہیں: يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا۴۵ۙ وَّدَاعِيًا اِلَى اللہِ بِـاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا۴۶ (الاحزاب۳۳:۴۵-۴۶) ’’اے نبیؐ! بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے دعوت دینے والا اور روشن چراغ بناکر بھیجا ہے‘‘۔
مذکورہ آیات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ صفات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اوّل یہ کہ آپؐ شاہد یعنی گواہ ہیں۔ دوم یہ کہ آپؐ جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ سوم یہ کہ آپؐ دوزخ کے عذاب سے ڈراتے ہیں ۔ چہارم یہ کہ آپؐ اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں۔ پنجم یہ کہ آپؐ روشن چراغ ہیں ۔ اسی طرح سورۃ الفتح میں کہا گیا ہے: اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا۸ۙ (الفتح۴۸: ۸) ’’بے شک ہم نے آپؐ کو شاہد اور مبشر اور نذیر بناکر بھیجا ہے‘‘۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خالق کائنات کی طرف سے دنیا میں بھی گواہ ہیں اور آخرت میں بھی گواہ ہوں گے۔ دنیا میں آپ کی شہادت کاحوالہ دیتے ہوئے قرآن پاک میں اہل عرب سے کہا گیا ہے: اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاہِدًا عَلَيْكُمْ كَـمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۱۵ۭ (المزمل۷۳: ۱۵) ’’ہم نے تمھاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تمھارے اوپر گواہ ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا‘‘۔
دوسری جگہ مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۰ۭ (البقرہ۲: ۱۴۳) ’’اور اسی طرح ہم نے تم لوگوں کو معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں‘‘۔
لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت دو طرح کی ہے۔ ایک قولی شہادت اور دوسری عملی شہادت۔ قولی شہادت یہ ہے کہ آپؐ نے آغاز نبوت سے لے کر وفات تک خدائے وحدہٗ لاشریک لہٗ کی گواہی دی، اس کے علاوہ ہر معبود کا انکار کیا اور اس کے سوا کسی کو خالق ومالک نہیں مانا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خلاقیت اور الوہیت کے ساتھ فرشتوں کی عبدیت اور معصومیت، انبیائے سابقین کی حقانیت، آسمانی کتابوں کی صداقت، حیات بعدالموت کی حقیقت، جنت وجہنم کی واقعیت اور جزا وسزا کے برحق ہونے کی گواہی دی۔ اسی طرح اللہ کے دین، شریعت اور احکام کی گواہی دی اور اس کے حلال وحرام کے ضابطوں اور قضا وقدر کے فیصلوں کی گواہی دی۔
دنیا کی طرح آخرت میں بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہوں گے۔ آخرت کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن پاک میں ایک جگہ کہا گیا ہے: وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّۃٍ شَہِيْدًا عَلَيْہِمْ مِّنْ اَنْفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَہِيْدًا عَلٰي ہٰٓؤُلَاۗءِ۰ۭ (النحل۱۶: ۸۹) ’’اور جس روز ہم ہراُمت میں ان کے اندر سے ایک گواہ اٹھائیں گے جو ان پر گواہی دے گا اور اے محمدؐ آپ کو ان لوگوں پر گواہ کی حیثیت سے لائیں گے‘‘۔
دوسری جگہ قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے:فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍؚبِشَہِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي ہٰٓؤُلَاۗءِ شَہِيْدًا۴۱ (النساء۴: ۴۱)’’وہ منظر کیسا ہوگا جب ہم ہرامت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپؐ کو ان تمام لوگوں پر گواہ بناکر کھڑا کریں گے‘‘۔
آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت اپنی امت کے اعمال پر بھی ہوگی اور انبیائے سابقین کی امتوں پر بھی ہوگی۔ اس کی تفصیل متعدد روایات میں وارد ہوئی ہے۔ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے فرمایا کہ تم قرآن کی تلاوت کرکے سناؤ۔ انھوں نے عرض کیا کہ قرآن تو آپؐ پر نازل ہوا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سناؤں؟ رسولِ کریم ؐ نے جواب دیا: ہاں، تم پڑھو اور میں سنوں گا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے سورۃ النساء کی تلاوت کرنی شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچے: فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍؚ بِشَہِيْدٍ ، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس کرو۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو حضوؐر آنسوؤں سے رو رہے تھے۔ (صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب قول المقری للقاری حسبک)۔
تیسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ کفروشرک، نفاق ،الحاد اور نافرمانی پر اللہ کے غضب اور عذابِ جہنم سے ڈراتے ہیں۔ یہ دونوں صفات تمام انبیا ؑ میں مشترک ہیں۔ سارے انبیاؑ لوگوں کو کفروشرک اور بُرے اعمال کے انجام سے ڈراتے تھے اور عقیدۂ توحید اور اچھے اعمال کرنے پر جنت کی بشارت دیتے تھے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ۰ۚ (الکہف۱۸: ۵۶)’’ہم رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نبی بناکر بھیجتے ہیں‘‘۔دوسری جگہ ارشاد ہے:رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللہِ حُجَّــۃٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ۰ۭ (النساء۴: ۱۶۵)’’ہم نے رسول بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے، تاکہ رسولوں کے آجانے کے بعد لوگوں کو اللہ پر حجت کرنے کا موقع نہ ملے ‘‘۔
دوسری جگہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا ہے:اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا۰ۭ وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِيْہَا نَذِيْرٌ۲۴ (الفاطر۳۵: ۲۴)’’بے شک ہم نے آپؐ کو برحق بشیر ونذیر بناکر بھیجا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو‘‘۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بشارت کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ آپؐ لوگوں کو مایوس اور متنفر نہیں کرتے تھے بلکہ امید، شوق اور یقین پیداکرتے تھے۔ اللہ کی رحمت اور جنت کی بشارت دیتے تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جب لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے تومیں ان میں پہلا شخص ہوں گا، جب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف وفد کی شکل میں جائیں گے تو میں ان کا متکلم ہوں گا، اور جب لوگ مایوس ہوجائیں گے تو میں ان کو خوشخبری دوں گا‘‘۔ (سنن ترمذی، ابواب المناقب)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرامؓ کو بھی ہدایت فرماتے تھے کہ وہ خوشخبری دینے والے بنیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا۴۵ۙ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان کو ہدایت کی: انطلقا فبشرا ولاتنفرا و یسرا ولا تعسرا، تم دونوں (یمن) جاؤ اور خوشخبری سناؤ، نفرت نہ پیدا کرو، آسانی فراہم کرو اور دشواری میں نہ ڈالو۔ (معجم طبرانی بحوالہ تفسیر ابن کثیر، سورئہ احزاب: ۴۶)
انبیائے سابقین بھی اپنی قوموں کے لیے بشیر ونذیر تھے لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے بشیر ونذیر ہیں۔ چوںکہ آپؐ آخری نبی ہیں اور رہتی دنیا تک آپؐ ہی کے پیغام کو لائحہ عمل بننا ہے، اس لیے آپ کی انذار اور تبشیر کی صفت کو نمایاں کرکے بیان کیا گیاہے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے: وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا (السبا۳۴:۲۸)’’ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر ونذیر بناکر بھیجا ہے‘‘۔ یعنی گذشتہ انبیائے کرام ؑ وقتی اور زمانی طور پر بشیر ونذیر تھے، جب کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم دائمی اور آفاقی طور پر بشیر ونذیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کو صحیفۂ ہدایت قرآن کریم عطا کیا اور اسے صاف ستھری آسان زبان میں نازل کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اسے خوشخبری دینے اور ڈرانے کے لیے استعمال کریں اور آپؐ کے بعد لوگ قرآن سے بشارت حاصل کریں اور خوفِ خدا اختیار کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا۹۷ (مریم۱۹: ۹۷)’’بے شک ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے خدا ترس لوگوں کو خوشخبری دیں اور جھگڑالو قوم کو اس کے ذریعے ڈرائیں‘‘۔
اس کے برخلاف حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص قوم یا محدود زمانے کے لیے داعی بن کر نہیں آئے، بلکہ دنیا کی ساری قوموں اور آخری زمانے تک کے لیے داعی بن کر آئے۔ ان کی دعوت قیامت تک کے لیے کافی ہے۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اسی لیے ان کا لقب ’نبی آخر الزماں‘ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو دائمی اور عالمگیر دعوت کا اعلان کرنے کے لیے فرمایا:قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۰ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَيُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۰۠ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَكَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۱۵۸ (اعراف۷: ۱۵۸) ’’اے محمدؐ! آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کی بادشاہت ہے آسمانوں او رزمین میں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول نبی امی پر جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے سارے کلام پر اور اس کی پیروی کرو شاید تم ہدایت یاب ہو‘‘۔
یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کا خالق ومالک ہے، اسی طرح حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت بھی تمام انسانوں کے لیے عام ہے۔ کسی قوم یا ملک کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں تمام انبیا علیہم السلام کی دعوت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ لہٰذا ان کی دعوت کو قبول کرنا صرف ایک نبی کی دعوت کو قبول کرنا نہیں ہے بلکہ تمام انبیا علیہم السلام کی دعوت کو قبول کرنا اور ان کے بتائے ہوئے راستہ کو اختیار کرنا ہے۔
حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم خود ساختہ داعی نہیں تھے کہ ان کے دل میں لوگوں کے عقیدہ وعمل کو درست کرنے کا جذبہ پیدا ہوا، اور وہ اس کام کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آفاقی دعوت کے لیے کھڑا کیا اور اس جوکھم بھرے کام کے لیے ان کو منتخب کیا۔ اسی لیے داعیًا الی اللہ کے ساتھ باذنہ کا لفظ بھی شامل کیا گیاہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دنیا والوں کو توحید کی دعوت دینے پر صرف مامور نہیں کیا بلکہ اس راہ کے نشیب وفراز سے بھی آگاہ کیا اور اس کی مشکلات سے باخبر کیا۔ اس کی حکمت سے روشناس کیا اور مرحلہ بہ مرحلہ اس دعوت کے لیے آپؐ کی تربیت کی۔ اس کے روحانی اور اخلاقی ضابطوں کی پابندی کرنے کی ہدایت کی۔ گویا اللہ تعالیٰ نے دعوت الی اللہ کی ضرورتوں، تقاضوں، مشکلات اور کامیابی کے امکانات سے پوری طرح اپنے نبی کو آگاہ کیا اور اسی کے مطابق تیار کیا۔ رسولؐ کی دعوت کے اسی طریق کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن پاک میں کہاگیا ہے:قُلْ ہٰذِہٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللہِ ۰ۣؔ عَلٰي بَصِيْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ۰ۭ وَسُبْحٰنَ اللہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۱۰۸ (یوسف ۱۲: ۱۰۸)’’آپؐ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے کہ میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور میرے متبعین بھی۔ پاک ہے اللہ کی ذات اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں‘‘۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آفاقی دعوت کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے: ’’دیکھو میرابندہ جسے میں سنبھالتا، میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے، میں نے اپنی روح اس پر رکھی۔ وہ تمام قوموں کے درمیان عدالت جاری کرائے گا، اس کا زوال نہ ہوگا اور نہ مسلا جائے گا، جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرے اور بحری ممالک اس کی شریعت کی راہ تکیں‘‘۔ (یسعیاہ، باب:۴۲، آیت: ۱-۴)
اس بشارت کی مزید وضاحت انجیل میں حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان مبارک سے اس طرح کی گئی ہے:’’یسوع نے ان سے کہا: کیا تم نے کتاب مقدس میں نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا، یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے لیے پھل لائے دے دی جائے گی، اور جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے مگر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا‘‘۔ (متی، باب: ۲۱، آیت: ۴۲-۴۳)
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو سراجِ منیر کہا، شمس منیر نہیں کہا۔ حالاںکہ سورج چراغ سے زیادہ روشنی دیتا ہے اور اس کی روشنی عالم گیر ہوتی ہے۔ حکمت اس میں یہ ہے کہ ایک سورج سے دوسرا سورج پیدا نہیں کیا جاسکتا، جب کہ ایک چراغ سے ہزاروں چراغ جلائے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور دعوت سے ہزاروں چراغِ ہدایت روشن ہوسکتے ہیں۔
امام رازی نے لکھا ہے:’’اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سراج کا لفظ استعمال کیا ہے، سورج کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ حالاںکہ سورج میں چراغ سے زیادہ روشنی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج سے کوئی دوسرا سورج نہیں پیدا کیاجاسکتا، جب کہ چراغ سے دوسرا چراغ جلایا جاسکتا ہے۔ اگر ایک چراغ بجھ جائے تو دوسرے چراغ سے روشنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ نے آپؐ سے ہدایت کی روشنی حاصل کی جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میرے صحابہؓ ستاروں کی طرح ہیں۔ تم ان میں سے جن کی بھی پیروی کروگے ہدایت یاب ہوگے‘‘۔ اسی طرح ان کے بعد تابعین بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نُورِ ہدایت حاصل کرتے ہیں، اور مجتہدین بھی سب کے سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے روشنی حاصل کرتے ہیں‘‘۔ (تفسیر الکبیر، سورۃ الاحزاب: ۴۶)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کو بھی اللہ نے انذار وتبشیر کا مصدر بنایا ہے۔ رسول کریمؐ کے دنیا سے گزر جانے کے بعد قرآن ہمیشہ کے لیے بشیر ونذیر کی حیثیت سے موجود اور منور ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِہِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا۱ۭ۫ قَيِّـمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا حَسَـنًا۲ۙ (الکہف۱۸:۱-۲)’’تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔ ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے، اور ایمان لاکر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کہ اُن کے لیے اچھا اجر ہے‘‘۔
خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آخری نبی بنایا۔ آپؐ کی سیرت وکردار کو دوسرے انسانوں کے لیے معیار اور نمونہ بنایا۔ آپؐ کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ اجمالاً گذشتہ آسمانی کتابوں میں فرمایا اور تفصیلاً قرآن کریم میں کیا۔ آپؐ کو خاتم النبیین بنایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب، مقام اور ذمہ داریوں کی صراحت فرمائی۔ لوگوں کو آپؐ کے حقوق سے آگاہ کیا، آپؐ کی دعوت کو آفاقی اور شریعت کو دائمی بنایا۔ اس دعوت میں انسانوں کے لیے راحت، بشارت اور نجات ہے۔
اُمت مسلمہ نازک دور سے گزر رہی ہے۔ اس ماحول میں اُمت کی حالت ِ زارکو سنبھالنے اور بہتر بنانے کا چیلنج مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے تاریخ کی حقیقت یا زمانے کا ’جبر‘ سمجھا جائےکہ وہ لوگ جو مسلم دُنیا سے تعلق رکھتے ہیں، مگر اپنی فکری اور سماجی کج روی کے باعث اکثر اس تعلق کی ڈور سے کٹ جانے کا عندیہ دیتے ہیں۔ اُن کے راہِ فرار کے باوجود زمانہ انھیں بھی اُمت ہی کا حصہ سمجھ کر معاملہ کرتا ہے۔ چنانچہ مسلمان جو مسلم دُنیا میں آبادی کے اکثریتی ممالک میں ہیں یا آبادی کے اقلیتی ممالک میں، ان کے سامنے یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے:
عصرحاضر میں ایک جانب مسلم اکثریتی ملکوں میں اور دوسری طرف مسلم اقلیتی ممالک میں اسلامی احیاء کے لیے کون کون سے فکری اور عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں؟
اس سوال کے جواب میں جن اہلِ علم کی تحریریں اگست ۲۰۲۴ء میں شائع کی گئیں، ان میں شامل تھے:
اور ستمبر کے شمارے میں
کی تحریریں شائع ہوئیں۔ اب تیسری قسط پیش ہے (مضمون نگاروں کی نظرثانی کے بعد انھیں کتابی شکل دی جارہی ہے)۔ یہ جوابات اور تجزیات مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کرتے ہیں، جن سے ادارہ ترجمان کا اتفاق ضروری نہیں ہے۔ تاہم، قارئین ان افکار و خیالات سے مستفید ہوکر بہتر نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔(ادارہ)
غزوۂ تبوک، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں نو ہجری کو ہوا۔ اس جنگ نے جزیرہ نمائے عرب سے خوف اور بے یقینی کی فضا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اب مسلم معاشرے کو اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے خندقیں کھودنے اور پہاڑی درّوں میں پناہ لینے کی ضرورت نہ رہی تھی۔ مسلمانوں کے افکار، کردار اور افواج کو عرب کی سرزمین میں آگے بڑھنے کے لیے جن رکاوٹوں کا سامنا تھا، ایک ایک کر کے زمیں بوس ہونے لگیں۔
مگر صرف ایک عشرہ قبل کے حالات پر ذرا نظر دوڑائیے، جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو ظلم، جبر اور بے بسی میں اپنی جانیں گنواتے دیکھ کر یہ فرما رہے تھے: ’’صبر کرو اے اہل یاسر! صبر کرو‘‘۔ پھر وہ لمحہ آیا، جب انھیں اور ان کے وفادار ساتھیوں کو اپنے گھر بار اور اموال چھوڑ کر پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی اور پھر خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ سے ہجرت کا راستہ اختیار فرمایا۔ مدینہ پہنچ کر بھی خوف کے سائے مسلمانوں کے سروں پر منڈلاتے رہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی ساری توجہ اس مدت میں صرف اپنے دفاع پر مرکوز رہی۔ مسلمانوں کا ہر فرد سپاہی تھا اور کسی بھی جانثار کو کسی بھی وقت ڈیوٹی پر بلایا جاسکتا تھا۔
غزوۂ تبوک نے سارا منظر نامہ بدل دیا۔ اہلِ عرب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا (عین الیقین کر لیا) کہ اسلام کو اب پھیلنے، پنپنے اور نظام کی صورت میں قائم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اب اسلام کو فقط جنگجو سپاہیوں ہی کی نہیں بلکہ قانون سازوں، مالیاتی ذمہ داروں، علاقائی گورنروں، عدالتی ججوں اور فقیہوں کی بھی شدید ضرورت تھی۔ اب ان سارے تقاضوں کو پورا کرنے کا وقت آچکا تھا، جو ایک خوش گوار اور پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری تھے۔
چنانچہ غزوۂ تبوک سے واپسی کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایات ’وحی‘ کی صورت میں نازل ہوئیں، اس میں یہ فرمایا گیا کہ اب ہر شخص کو جنگوں میں شریک ہونے کی ضرورت نہیں۔ مسلمان قبائل میں ایسے چنیدہ افراد باہر نکلنے چاہییں، جو اپنی خداداد صلاحیتیں اور توانائیاں اللہ کے عطا کردہ نظام زندگی کو سمجھنے، غور و فکر کرنے اور پھر اپنے اپنے علاقوں میں اس کے نفاذ کی منصوبہ بندی میں لگا دینے کے لیے تیار ہوں: لِّيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْہِمْ (التوبہ ۹:۱۲۲)
چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ ان احکامات کے نزول کے فوری بعد ایک بہت ہی قلیل مدت میں نئی اسلامی ریاست کا عدالتی نظام، دفاعی نظام، مالیاتی نظام، تعلیمی نظام اور معاشی کفالت کا نظام تشکیل پا کر ادارہ جاتی شکل اختیار کرچکا تھا۔ تاریخ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ وہ سرزمین جہاں اسکولوں، مدرسوں اور یونی ورسٹیوں کا نام و نشان تک نہ تھا، بلکہ کاغذ و قلم کی شکل بھی کم کم ہی دکھائی دیتی تھی، وہاں چند ہی برسوں میں ہر شعبۂ زندگی کے قوانین مرتب ہو گئے۔ عدالتی ججوں اور فوجی جرنیلوں کے لیے ضابطۂ اخلاق طے پا گئے۔ مالیات اور معیشت کا ایک ایسا نظام وجود میں آگیا، جس کا بنیادی ہدف محروم طبقات کی ضرورتیں پوری کرنا اور انھیں اوپر اٹھانا تھا۔ ہر شعبۂ زندگی میں شفافیت ترجیح اوّل ٹھیری اور یوں چند ہی برسوں میں ایک ایسا سماجی اور معاشرتی ڈھانچا وجود میں آگیا، جس میں رنگ، نسل، زبان اور مالی حیثیت کی بنیاد پر مراتب طے نہ ہوتے تھے بلکہ صلاحیت اور کردار اس میرٹ کی بنیاد بنے تھے۔
ہم نے یہاں پر مسلمانوں کے دورِ اوّل کا اختصار سے یہ جائزہ اس لیے پیش کیا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد اور اختیار کردہ حکمت عملی کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہ حکمتِ عملی تین مراحل پر مشتمل تھی:
اسلامی احیاء کی جدوجہد کسی جامد فارمولے کی مرہونِ منت نہیں۔ اس کا نصب العین اور مقاصد تو ہمیشہ ایک تھے اور ایک ہی رہیں گے۔ مگر اس کی حکمت عملیاں، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ سے پہلے بھی اور بعد میں بھی وقت، زمانے اور حالات کے اثر کے باعث مسلسل بدلتی رہی تھیں اور بدلتی رہیں گی۔ عرب کی سرزمین قبائلی طرزِزندگی پر مشتمل تھی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو اس خطے میں ایران اور روم کی طرز کی کوئی مضبوط بادشاہت موجود نہ تھی۔ ذرا سوچیے، اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول ایران یا روم میں بھیجا ہوتا تو کیا احیائے اسلام کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی اُس سرزمین پر بھی ایسی ہی ہوتی؟ مجھے امید ہے کہ آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ وہ پالیسی اور حکمت عملی اُسی خطے اور حالات کے مطابق ہوتی اور سرزمین عرب میں اختیار کی گئی حکمتِ عملی سے یقیناً کئی حوالوں سے مختلف ہوتی۔
قرآنِ مجید نے جہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ۲۳ سالہ جدوجہد کے خدوخال کا تفصیلی احوال ہمارے سامنے رکھا ہے، وہیں گذشتہ اَدوار کے جلیل القدر انبیا ؑ کی جدوجہد اور حکمت عملیوں کو بھی نمایاں کر کے ہمارے سامنے پیش کیا ہے، تاکہ آنے والے زمانوں کے سوچنے سمجھنے اور اسلامی احیاء کے لیے جدوجہد کرنے والے اس روشنی سے نئی راہیں تلاش اور تراش سکیں۔ ہردور کے انسان کی یہ ضرورت رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق نظمِ زندگی کو سنوارنے کے لیے مسلسل سوچ بچار کرتا رہے، رب کے عطا کردہ شعور اور علم کی بنیاد پر معلومات اکٹھی کرتا رہے اور معاشرتی اُلجھنوں اور پیچیدگیوں کی بند گرہوں کو اپنے ربّ کے عطا کردہ علم و بصیرت سے کھولنے کی جدوجہد کرتا رہے ۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اسلامی احیاء کی تدابیر اختیار کرنے سے قبل وہ اس دور کے تمدنی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی احوال سے بھی پوری طرح واقف ہو۔ آج کی دنیا جیسی بھی سہی مگر ایک ’گلوبل ویلج‘ (عالمی گائوں) بن چکی ہے۔ جس میں معلومات تک رسائی اور مادی وسائل کی دستیابی بہت آسان ہو گئی ہے۔ اب لوگوں تک بات پہنچانے کے لیے پہاڑیوں کی چوٹی پر چڑھ کر آواز لگانے کی ضرورت نہیں، صرف ’یوٹیوب‘ کی راہ داریوں پر انگلیوں کی پوریں ایک ترتیب سے دبانے سے آپ کروڑوں انسانوں تک آسانی سے اپنی بات پہنچا سکتے ہیں۔ اس بدلی ہوئی فضا اور ماحول میں اب نئی مہارتوں اور لیاقتوں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اس گلوبل ویلج میں جہاں کروڑوں، اربوں انسان بستے ہیں، جہاں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں، جہاں سیکڑوں آزاد اور نیم آزاد مملکتیں موجود ہیں اور جہاں درجنوں بڑے بڑے مذاہب کے ماننے والے لوگ کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں، وہاں کسی فرد یا افراد کے کسی گروہ کے لیے اتنی متنوع سوسائٹی کی خاطر اسلامی احیاء کی حکمت عملی مرتب کرنا کچھ آسان نہیں۔ اور نہ اس کے لیے صرف ایک حکمت عملی پر عمل کرنا ممکن ہے۔
تاہم، کچھ ایسے اہم میدانوں اور نکات کی نشاندہی ضرور ممکن ہے، جس پر پالیسی سازی کے لیے اہلِ دانش غور و فکر اور تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں۔ غور و فکر کے ان میدانوں کی نشاندہی سے قبل کچھ بنیادی معلومات بھی ضرور ہمارے پیش نظر رہنی چاہییں___ • اس وقت دنیا میں تقریباً آٹھ ارب انسان آباد ہیں، جس میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب کے لگ بھگ ہے۔ گویا مسلمان دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی ہیں۔l• مسلم آبادی کا سب سے بڑا حصہ (۶۲کروڑ) جنوبی ایشیا (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان وغیرہ) میں رہائش پذیر ہے۔ l•دوسرا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ (عرب ممالک، مصر، ایران اور ترکی وغیرہ) کا ہے، جہاں ۴۵ کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ l•تیسرا حصہ مشرقِ بعید (انڈونیشیا، ملائشیا وغیرہ) ہے جہاں ۲۵ کروڑ مسلمان موجود ہیں۔ l•چوتھا بڑا حصہ وسطی ایشیائی ملک (ازبکستان، تاجکستان، قازقستان، ترکمانستان وغیرہ) ہیں، جہاں سات کروڑ مسلمان رہائش پذیر ہیں اور l•پانچواں بڑا حصہ یورپ اور شمالی امریکا کاہے، جہاں چھ کروڑ مسلمان آباد کار پچھلی صدی کے آخر اور موجودہ صدی میں جا کر آباد ہوئے ہیں۔ • l•مسلم اقلیتی ممالک میں چین، روس اور برما وغیرہ ایسے ممالک ہیں جہاں مسلم اقلیتوں کو بہت ہی محدود مذہبی رسومات و عبادات کی سہولت میسر ہے۔ جہاں دین اسلام کی تبلیغ، لٹریچر کی اشاعت اور دیگر سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔ البتہ یورپ، شمالی امریکا اور آسٹریلیا میں وہاں کے رائج نظام کے باعث مذہبی سرگرمیوں، عبادت گاہوں کی تعمیر، لٹریچر کی اشاعت اور اجتماعات کی آزادی موجود ہے، جس سے مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق پورا پورا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
۱- وہ مسلم اکثریتی ممالک جہاں تحریر و تقریر اور ادارہ سازی کی آزادیاں میسر ہیں۔ وہاں کی احیائی تحریکیں، مزاحمتی سیاست کے ساتھ ساتھ، ایسی طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں، جہاں جان دار علمی اور تحقیقی کام کے لیے مؤثر ادارے وجود میں آئیں، تاکہ ایسے ماہرین کی تیاری کا کام ہوسکے، جو منصوبہ سازی پر گہرےاثرات مرتب کر سکیں (پاکستان، بنگلہ دیش، ترکی، ملائشیا، انڈونیشیا، ایران وغیرہ کی سرزمینیں اس کام کے لیے موزوں ہیں)۔
۲- وہ مسلم اکثریتی ممالک جہاں جبر نے اپنے مضبوط پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ وہاں کے ہزاروں باشعور نوجوانوں کو آزاد ملکوں کے با مقصد سفر پر آمادہ کیا جائے تاکہ وہ وہاں پہنچ کر علم اور مہارتیں سیکھ سکیں اور مستقبل میں اپنے ممالک میں آنے والی تبدیلیوں سے پہلے خاصی بڑی تعداد میں متبادل ٹیم کا کردار ادا کر سکیں (بیش تر عرب مملکتیں،مصر اور افریقی ریاستیں)۔
۳- وہ اقلیتی مسلم ممالک جہاں جمہوری اور انسانی قدریں مقابلتاً بہت بہتر ہیں۔ وہاں موجود احیائی تحریکیں ان ممالک کو اپنا گھر سمجھیں۔ بے شمار معاشرتی اُلجھنوں کے باوجود، وہ ان معاشروں کو اپنا خیر خواہ اور اپنے آپ کو ان کا خیر خواہ بنانے کی کوشش کریں۔ ٹکراؤ کی پالیسی سے بچیں، سیرت کے پیغام اور دین کی دعوت کو عام کریں۔ اپنے بچوں اور خاندانوں کے ذریعے ان معاشروں کو کچھ دینے والے بنیں، محض معاشی مفاد سمیٹنے والے بن کر نہ رہ جائیں۔ سائنسی ورثے اور ٹکنالوجی کو اپنانے کے لیے اپنے بچوں کو تیار کریں (امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک)۔
۴- وہ اقلیتی مسلم ممالک جہاں جبر کی فضا ہے۔ وہاں کے لیے پالیسیاں مرتب کرنا شاید سب سے دشوار کام ہوگا۔ مگر ذرائع ابلاغ کے تیز تر نیٹ ورک کے ذریعے وہاں کے لوگوں تک ان کی مقامی زبان میں پیغام رسانی اور دعوت کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کے اقدامات کرنا، دین کے بنیادی لٹریچر اور معلومات کو ان تک پہنچانا، شاید اُن کے لیے ایک اچھی حکمت عملی ہو۔
آج سے تقریباً دس سال قبل ہم تین لوگ (ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن صدر الخدمت فاؤنڈیشن، پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق، پشاور میڈیکل کالج کے پرنسپل، اور راقم) دوحہ ،قطر میں علّامہ محمد یوسف القرضاوی مرحوم و مغفور کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر نجیب الحق نے علامہ القرضاوی سے پوچھا:’’شیخ آپ سے رہنمائی درکار ہے۔ آج کی اسلامی تحریکوں کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟‘‘۔
علّامہ محمد یوسف القرضاوی نے بے ساختہ جواب دیا:’’مسلم اکثریتی خطوں میں علم کا فروغ اور مسلم اقلیتی ممالک میں دعوتِ دین‘‘ اور ہم تینوں، تشنگانِ علم، اس جملے کے معنی و مطالب سے دیر تک سیر ہونے کی کوشش کرتے رہے۔
علامہ القرضاوی کے نزدیک علم کے فروغ کا مطلب یقیناً شرح خواندگی میں اضافہ نہ تھا بلکہ دینی رہنمائی سے سرشار کرتے ہوئے علم کے مراکز کو ایم آئی ٹی اور ہارورڈ، کیمبرج اور اوکسفرڈ سے بخارا اور سمرقند، بغداد، قاہرہ، استنبول اور جکارتا، ڈھاکا، لاہور میں منتقل کرنے کی جدوجہد سے تھا۔ دعوتِ دین بھی ایسی، جیسے کسی فوج کشی کے بغیر (محض کردار کے زور پر) مشرقِ بعید (ملائیشیا اور انڈونیشیا یا بنگال) کی سرزمین کو بدل دیا گیا تھا۔ یہ دونوں کام آسان نہیں، مگر علّامہ القرضاوی کی دُوراندیش نگاہوں نے رہنمائی کا حق ادا کردیا۔ اسلامی تحریکیں اس کے عملی تقاضوں پر غور و فکر کریں اور اس طرح کا بنیادی ڈھانچا استوار کرنے کا آغاز کر لیں تو یہ ایک شان دار پیش رفت ہوگی۔
اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے: ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۰ۭ وَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًا۲۸(الفتح ۴۸:۲۸) ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے‘‘۔
اللہ کا دین اسلام ایک زندئہ جاوید نظامِ حیات ہے۔ قرآن میں اس کے ’احیا‘ کی بات نہیں آئی بلکہ ’غلبہ‘ کا حکم ہے۔ اسلام کے ساتھ تعلق کا دعویٰ رکھنے والے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے غلبے کے مکلف ہیں۔ اگر وہ اپنی زندگیوں میں اسے غالب کرلیں تو پوری زمین پر وہ غالب آجائے گا۔
اللہ ربّ العزت نے ہمارے جدِامجد حضرت آدم علیہ السلام کو پروانۂ خلافتِ ارضی عطا فرماتے ہوئے نہ صرف اکتسابِ علم کے لیے عقل و فکر کی استعداد عطا فرمائی بلکہ انسانی عقل و فکر کی محدودیت اور مابعد الطبیعیاتی اُمور میں نارسائی کے پیش نظر یہ وعدہ فرمایا کہ عقل وفکر کی رہنمائی کے لیے اپنی جانب سے رہنما ہدایات پہنچاتے رہیں گے۔ پس جو بھی اس ہدایت کو قبول کرتے ہوئے اس کا اِتباع کرے گا تو اس کے لیے کوئی خوف اور غم نہیں۔ گویا اسے دُنیا و آخرت کی کامرانیاں حاصل ہوں گی (البقرہ۲:۳۸)
یہ وعدہ انبیا علیہم السلام کی بعثت کے ذریعے پورا ہوتا رہا، حتیٰ کہ اس کی تکمیل خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی۔
سورئہ فتح کی درج بالا آیت اسی وعدے کی تکمیل کا اعلان ہے۔ سورئہ صف اور سورئہ توبہ میں اس اعلان کے ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ بنی نوع انسان میں ایک طبقہ (مشرکین) دینِ حق کے نزول کو ناگوار جانے گا بلکہ وہ اس کے نفاذ کے راستہ میں مزاحم ہوگا (التوبہ ۹:۳۲)، لہٰذا ہدایت الٰہی کے غلبے کے لیے اہل حق کو باطل کے خلاف سینہ سپر ہونا ہوگا۔
دین حق ہی ’اسلام‘ ہے: اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ۰ۣ (اٰل عمرٰن۳:۱۹)۔ اس دین کا اِتباع کرنے والوں کو ’مسلمین‘ کا نام دیا گیا (الحج۲۲:۷۸)۔ حکم ہوا اس دین سے وابستگی کا دعویٰ کرنے والوں کو اس میں پورے کا پورا داخل ہونا ہوگا (البقرہ ۲:۲۰۸)۔ اس کے مقابلے میں دیگر تمام ادیان خطوات الشیطٰن ہیں،’اتباع ہویٰ‘ پر قائم ہیں، جن کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے (الکہف۱۸:۲۸)۔ ان کی ظاہری شان و شوکت محض دھوکا ہے، عارضی ہے، ان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھنے سے بھی منع کر دیا گیا ، کجا کہ ان سے مرعوب ہوں (طٰہٰ ۲۰:۱۳۱)۔ بتایا گیا کہ ہمارے لیے ہمارے ربّ کا عطا کردہ رزق (ہدایت، مادی و روحانی رزق) ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔
سورئہ الانفال میں ارشاد ہے: ’’یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں مٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے تمھیں جائے پناہ مہیا کردی۔ اپنی مدد سے تمھارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمھیں اچھا رزق پہنچایا، شاید کہ تم شکرگزار بنو‘‘ (۸:۲۶-۲۸)۔تاریخ گواہ ہے کہ حق تعالیٰ کی رہنمائی قبول کرنے والی اپنے دور کی ایک کمزور قوم چند ہی برسوں میں دُنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔
سورئہ انفال میں غلبۂ دین حق کے لیے تین اہم صفات اپنانے کا حکم دیا گیا: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو‘‘ (انفال۸:۲۸)۔مزید فرمایا: ’’اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیںورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمھاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ (انفال ۸:۴۶)
ان آیاتِ کریمہ میں تین اہم اُمور کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا:
ان تینوں صفات کو مسلم معاشرے میں انفرادی و اجتماعی سطح پر عملاً نافذ کرنے کے لیے تین کام کرنا ہوں گے:
اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرنا ہے اور درپیش مسائل میں شاہ ولی ؒ اللہ نے اُمت مسلمہ کے دورِ ابتلاء کے آغاز میں ہی اُمت کے مسائل کا جو حل تجویز کیا، آج بھی وہی تریاق ہے:
سرچشمۂ ہدایت قرآن وسنت کو سعی وعمل کی بنیاد بنائے بغیر کوئی منزل حاصل نہیں ہوسکتی۔ قرآن وہ بصیرت عطا فرماتا ہے کہ پھر ظلم و ناانصافی، دین و اخلاق سے انحراف اور دوست دشمن کے مابین فرق نظر آنے لگتا ہے۔قرآن ہی وہ چشم بینا دیتا ہے جو دورِ جدید کے تصوّرات کو اللہ جل شانہٗ کی ہدایت کے پیمانے پر پرکھتے ہوئے اہل جہاں کو شیطانی جال کا شکار ہونے سے بچانے کی تدابیر کی جانب رہنمائی کرسکے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے علوم و فنون کو قرآن پر استوار کریں۔ ہمارا نظامِ تعلیم قرآن و سنت کی رہنمائی میں تشکیل پائے تاکہ ہماری درس گاہوں سے وہ افراد تیار ہوکر نکلیں جن کی نگاہیں تہذیب ِ حاضر کی چکاچوند سے خیرہ نہ ہوں، بلکہ اس کی خباثتوں اور کثافتوں کو پہچاننے کی اہلیت رکھتے ہوئے دُنیا کو پاکیزہ راستہ دکھا سکیں۔ حق کے بارے میں ان کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کا ازالہ کرسکیں۔ ہماری مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ، عسکری قیادت ان قرآنی علوم میں رسوخ حاصل کرکے خود کو ان اوصاف سے متصف کرلے جو مطلوب ہیں۔ ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو جاہلانہ مرعوبیت سے بچانے کے لیے اپنی زبان، لباس، بودوباش، نصاب، سب قرآن و سنت کے تابع رکھنا ہوں گے۔ قرآن ہمارے اندر جو اوصاف پیدا کرتا ہے وہ اتنے نمایاں ہوں کہ دشمن بھی ان کی گواہی دے۔
صلح حدیبیہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دور کے مقتدر سربراہان کو خطوط لکھے جن میں انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی۔ قیصرِروم کو خط ملا تو اس نے تحقیق کی غرض سے قریش مکہ کے سردار ابوسفیان کو (جو اتفاقاً اس کے دارالحکومت میں موجود تھے) دربار میں مدعو کیا اور آپؐ کے بارے میں سوال پوچھے۔ اس کا آخری سوال تھا: ’’وہ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟‘‘
ابوسفیان نے جواب دیا: ’’وہ ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہیں۔ وہ نماز کا حکم دیتے ہیں، صدق کی تلقین کرتے ہیں، ’عفاف‘ کا حکم دیتے ہیں اور ’صلہ‘ کا حکم دیتے ہیں‘‘۔ غور کیجیے اسلام کا یہ تعارف ایک ایسا شخص کروا رہا ہے جو دشمن گروہ کا سردار ہے۔ گویا یہ صفات اہل ایمان میں اتنی نمایاں تھیں کہ دشمن بھی اس کی گواہی دیتا۔
آج ہم ان صفات ہی کے لحاظ سے اپنا اپنا جائزہ لے لیں۔ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت نہ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ محبت کے سطحی دعوئوں کے بجائے ان کے احکام پر عمل ہوتا نظر آئے۔ قرآن و سنت کے علوم میں رسوخ کے بغیر جاہلانہ افکارو نظریات کو پہچاننا ممکن نہیں۔
حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے: ’’مجھے خطرہ ہے کہ وہ شخص اسلام کی کڑیاں بکھیر دے گا جس نے اسلام میں نشوونما پائی مگر جاہلیت کی پہچان نہیں رکھتا‘‘۔
ایسے افراد ہی تمدن اور قوانین طبیعی سے حاصل شدہ وسائل کو تہذیب ِ انسانی کا خادم بنا سکتے ہیں، ان کی معیشت اور معاشرت کو منکرات سے پاک کرکے ایک پاکیزہ جہاں ترتیب دے سکتے ہیں۔
اللہ ربّ العزت کا حکم ہے: ’’امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو‘‘۔ (النساء ۴:۵۸)
امانت کی تفصیل میں ہرمنصب اور ذمہ داری کو امانت کہا گیا۔ مشورہ امانت قرار دیا گیا (ترمذی)۔ مجلسوں میں باہم گفتگو، بحث و مباحثہ، بے لاگ درست مشورہ، رازوں کی حفاظت، سب امانت ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت میں خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیا۔ ارشاد ہے: ’’جب امانتوں میں خیانت ہونے لگے تو بس قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ (بخاری)
ایک طویل حدیث میں قربِ قیامت کی علامات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’امانت اُٹھ جائے گی،مسلمانوں کی بڑی بڑی آبادیاں ہوں گی مگر پوری بستی میں بمشکل ایک امین ہوگا‘‘۔
کسی شخص کی تعریف ہوگی کہ کیسا عقل مند، کیسا خوش مزاج اور کیسا بہادر ہے درآں حالیکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری ، کتاب النفس)
امانت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ’’جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی۔ پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی و تعلق کے پیش نظر دے دیا۔ اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس کا فرض قبول ہے نہ نفل، یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہوجائے۔(جمع الفوائد)
امانت کا صحیح شعور، اس کے ادا کرنے کی فکر، احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے ہمہ گیر و ہمہ جہت اہتمام کی ضرورت ہے۔
آج کے دور کا ایک بڑا المیہ ہے کہ انسان کو گروہوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ نسلی، لسانی، جغرافیائی، مسلکی گروہ بندیاں تو تھیں ہی ،اب تو عورت کو مرد کے خلاف اور اولاد کو والدین کے خلاف صف آرا کردیا گیا ہے۔
تہذیب ِ جدید کا سبق یہ ہے کہ ’اپنے حقوق کی خاطر کھڑے ہوجائو‘۔ معاشرے میں فرد کے کردار اور ذمہ داریوں کی بات ہی نہیں۔ عالمی کنونشن ہر گروہ کے صرف حقوق کی بات کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر کوئی اپنے ’حق‘ کے لیے دوسرے سے برسرِپیکار ہے، اور خاندان کا ادارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
یہ بیماری اُمت مسلمہ میں بھی آموجود ہوئی۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اُمت کو خاص طور سے متنبہ کیا ہے: یہ طرزِعمل صفوں میں انتشار پیدا کرے گا، تم کمزور ہوجائو گے، تمھاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ دشمن پر تمھارا رُعب ختم ہوگا، وہ تم پر چڑھ دوڑے گا۔
ہمیں سورئہ حجرات میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں اپنا، اپنے ذرائع ابلاغ کا، اپنے اجتماعی اداروں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے بھائی کے لیے ویسا ہی طرزِعمل اختیار کریں جیسا اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔
فقہی معاملات میں بھی باہم مکالمے کے ذریعے خیرخواہی اور محبت کے جذبے کے تحت، بدگمانیوں کو دُور کرنے اور متفق علیہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
سورئہ آل عمران اور سورئہ انفال کی روشنی میں تین بڑی رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے:
’محکمات‘ عمل کا حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا نفع و نقصان وابستہ ہے۔ ’متشابہات‘ میں مشغولیت اپنے اوقات لایعنی اُمور میں ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ اسلام کا حُسن یہ ہے کہ لایعنی اُمور کو ترک کردیا جائے۔
اپنی اَنا اور اپنی خواہشات انسان کے لیے مصیبت بن جاتی ہیں۔ اپنی اولاد کی محبت، مال و دولت کی حرص، حق کے غلبے میں بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ دُنیا میں فتنہ وفساد، حرص و ہوس کے نتیجے ہی میں برپا ہے۔ جوع الارض کی کوئی حد نہیں۔ معاشرے سے امانت رخصت ہوجاتی ہے۔ باہم جنگ و جدل کی نوبت آجاتی ہے۔
انسان اپنے دوست سے متاثر ہوتا ہے۔ اللہ کی خاطر دوستی کرنے والوں کو اللہ عزّوجل کے سائے میں جگہ پانے کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اللہ کے دشمن اللہ والوں کے دشمن ہیں۔ ان سے اظہار برأت کیے بغیر حق کا نفاذ مشکل ہے۔
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رومی ، کبھی پیچ و تابِ رازی
ماہ نامہ ترجمان القرآن کے سوال میں ’نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر‘ کا اضطراب ہے۔ خلافت ِ عثمانیہ کی صرف عسکریت پسندی سے آغازپانے والی مسلم بے حسی نے مسلمانوں کو جغرافیائی شکل میں ہی تقسیم نہیں کیا ہے بلکہ فکری طور پر بھی تتر بتر کردیا ہے۔ پچھلی صدیوں میں اور خاص طور پر اکیسویں صدی کے پہلے مغربی استعمار نے مسلمانوں سے ان کی فکری شناخت چھین لی ہے۔ کوئی منزل نہیں ہے، کوئی نصب العین نہیں ہے۔
فروری ۱۹۷۴ء میں لاہور میں منعقدہ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس سے توقعات تھیں کہ مسلم دُنیا ایک سیاسی، سماجی اتحاد کی طرف بڑھے گی۔ پھر اس کے شرکا کا ایک ایک کرکے جسمانی طور پر خاتمہ کردیا گیا۔ یہ نائن الیون کے بعد کا ذکر ہے، جب دسمبر ۲۰۰۱ء میں جنگ گروپ کے زیراہتمام ہم نے سہ روزہ سیمینار منعقد کیا۔ اس سیمینار میں ملائشیا، انڈونیشیا، مصر، سعودی عرب، ترکیہ سے اسکالروں نے شرکت کی۔ لیکن یہ سلسلہ بھی آگے نہیں بڑھ سکا، جب کہ امریکا اور یورپ کے مصنفوں نے اسلام کا تاریخی جغرافیائی مطالعہ کیا۔ مسلم اَدوار پر بہت سی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔
عرب دُنیا کے احساسِ برتری نے مسلم ملکوں کے میڈیا کا کوئی اشتراک نہیں ہونے دیا۔ اب جب فلسطینیوں کی نسل کشی ہورہی ہے، اسکولوں میں ہی نہیں، رحمِ مادر میں بھی فلسطینی نسل کو نیست و نابود کیا جارہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ پرمسلم مخالف مالکان اور فکری قوتوں کا غلبہ ہے۔ مغرب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے طور پر، مشترکہ خاندان کا اسلامی تصور اقتصادی بنیادوں پر ختم کررہا ہے۔ اخبارات، ٹی وی، یوٹیوب، سوشل میڈیا پر اسلامی شناخت پر ایک یلغار ہے۔ ہمارے مسلم سربراہ اور مسلم سپہ سالار، امریکا کے زیراثر ہیں۔ نیٹو کی فوجی طاقت مسلم عسکری قوتوں کو تباہ کررہی ہے، مگر زیادہ تر مسلم ممالک، امریکا کے اتحادی ہیں۔
میری آرزو ہے کہ مسلم ملکوں کے درمیان ابلاغی اور دفاعی معاہدہ ہو۔ ایک میڈیا ہائوس ہو، جس میں تمام مسلم ممالک کے صحافی اور ایڈیٹر اصولی کمیٹی کے ارکان ہوں۔ ہمہ پہلو علوم و فنون کی تدریس و تحقیق کا مرکز ایک اسلامی یونی ورسٹی ہو، جس کے کیمپس ہرمسلم ملک میں ہوں۔ اسلامی یونی ورسٹی سے ملحقہ کالجوں، اسکولوں کے لیے ایک نصاب پہلی سے لے کر گریجوایشن (From KG to PG )تک کا طے کیا جائے۔ اس کے لیے ہرملک کی مادری زبان میں کتابیں مرتب کی جائیں۔ مسلم اسکالروں کی سالانہ کانفرنسیں مختلف ممالک میں باری باری منعقد ہوں۔
ترکیہ، پاکستان ، ملائشیا کے اسکالرز اس کے محرک بن سکتے ہیں۔ مسلم بادشاہتیں اس میں رکاوٹ بنیں گی۔ اس کے لیے کچھ عملی اقدامات حفظ ماتقدم کے طور پر سوچے جائیں۔
اطلاعات یہ ہیں کہ مسلم نوجوانوں میں بہت بے چینی ہے۔ ذہنوں میں کش مکش زوروں پر ہے۔ یہی وقت ہے جب اس اضطراب کو ایک سمت اور ترتیب عطا کی جائے۔ اس احساسِ زیاں کو ایک اثاثہ سمجھ کر اس کو اصلاحِ احوال کا نقطۂ آغاز قرار دیا جائے۔
آج اگر استعماری قوتیں مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے مستقبل کی صورت گری کا اختیار رکھے ہوئے ہیں، تو اس کی بظاہر وجہ یہی ہے کہ یہ قوتیں ہماری دنیاوی کمزوری کی وجہ سے ہم پر حاوی ہوگئی ہیں ۔ غیر ملکی استعمار کے مقابلے میں دنیاوی طاقت حاصل کرنا ہمارا اور ہمارے حکمرانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ مگردوسری طرف ہمارے یہی حکمران، ہمارے ہاں مسلط غاصب طبقے میں بھی شامل ہیں، الا ماشاءاللہ ۔ غاصب طبقے کی اجارہ داری کی وجہ شاید آج کی مسلم امہ کی علمی و ذہنی پس ماندگی اور فکری انتشار ہے۔ اوراگر یہ غاصب طبقہ اسلام کے لیے رکاوٹ بھی ہے تو یہ مغرب کی سائنسی ترقی سے مرعوبیت کی وجہ سے ہے –۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ طبقہ مسلمان اقلیتوں کا بھی سیاسی اور ثقافتی راہنما ہے۔ (ترجمان القرآن، اکتوبر ۲۰۰۱ء )
ہماری پسماندگی معاشی ہو، سائنسی ہو یا ذہنی، ایک دنیاوی کمزوری ہے۔ دنیاوی حالت کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کی مثال صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے، جس کاذکر مولانا مودودیؒ نے تفہیمات (حصہ اول) کے مضمون ’آزادی کا اسلامی تصور‘ میں کیا ہے، اور پھر ’رسولؐ کی حیثیت شخصی وحیثیت نبوی‘ میں۔ پہلے مضمون میں مولانا مودودی مرحوم لکھتے ہیں: ’’ایک مرتبہ حضور نے مدینے کے باغبانوں کو کھجور کی کاشت کے متعلق ایک مشورہ دیا۔ لوگوں نے اس پر عمل کیا مگر وہ مفید ثابت نہ ہوا۔ آپؐ سے اس بارے میں عرض کیا گیا تو جواب میں آپؐ نے فرمایا:تمھیں اپنے دُنیوی معاملات کا زیادہ علم ہے‘‘۔ آخری فقرہ اور حوالہ دوسرے مضمون میں ہے۔ یہ ایک دنیاوی مسئلہ تھا، جو ایک دنیاوی تجربہ چھوڑنے سے پیدا ہوا۔ دنیاوی علم کا ذکرصرف ایک حدیث میں ہی نہیں۔ ایسی پانچ مزید احادیث مبارک مولانا کےاِس پہلے مضمون ہی میں ہیں۔
مولانا مودودی بتاتے ہیں کہ جنگ ِ بدر کے موقع پرخیموں کی جو جگہ حضرت خباب بن منذرؓ نے (دنیاوی تجربے سے )تجویز کی اس پر عمل بھی کیا گیا۔ پیوندکاری اور خیموں کے علم کو عقلی علم کہیں، دنیاوی کہیں، یا آج سائنسی یاتجرباتی علم کہیں،یہ قرآن وسنت یا اسلامی علم سے مختلف ہے۔ ایسا کہنا ایک زُمرہ بندی(categorization) ہے۔ یہ تقسیم کوئی سیکولرزم یا گمراہی نہیں قراردی جاسکتی۔ سیکولرزم تب ہے اگر دنیاوی علم دین کے خلاف استعمال کیا جائے ۔ اسلامی روایت میں نقلی اور عقلی (دینی اور دنیاوی) علوم کے تعلق پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ان دونوں طرح کے علوم میں کوئی فرق تو ہے جس کی وجہ سے یہ بحث کرنا پڑی۔ اس لیے یہ فرق ماننا نہ گمراہی ہے اور نہ سیکولرزم۔
دنیاوی علم اسلامی حدوں کا منطقی تقاضا ہے، کیونکہ ایک پابندی کی پیروی کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً اسلام نے کھانے پینے میں حرام سے منع کیا ہے۔ اب حرام کی کوئی فہرست یہ نہیں بتاتی کہ حلال کیا کیاہے؟ مثلاً ’سُور نہیں کھانا‘ ایک پابندی ہے۔ مگر اِس(اور دوسری اسلامی پابندیوں) کی خلاف ورزی کیے بغیر آپ جائز میں سے کچھ بھی کھا سکتے ہیں، جیسے چاول ، روٹی، سالن، پھل، سبزی، وغیرہ۔ ( بدر میں خیموں کی جگہ کی طرح) جائز کھانوں میں انتخاب ایک دوسرے ’علم‘ (جیسے میڈیکل سائنس )کا موضوع تو ہوسکتاہے، اسلام کا نہیں۔ یہ ایک علم میں دوسرےعلم کی گنجایش کی مثال ہے ۔
اسلام بہت سی تفصیلات انسانی تجربے(دوسر ے علم) کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ ہم دو جائز کاموں میں سے اُس کا انتخاب کرسکتے ہیں، جس کے حق میں تجرباتی گواہی زیادہ ہو۔ اسلام میں سائنس کی گنجائش اس طرح سے ہے ۔ اسلام میں مباح (جائز)کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس میں سائنس اور دیگر انسانی علوم کو وہ پوری آزادی مل سکتی ہے، جو ان کے لیے ضروری ہے۔ مسلمانوں کی دنیاوی کمزوری دُور کرکے انھیں اتنا طا قت ور بنانا کہ استعماری قوتیں ان پر حاوی نہ رہیں ، ایک دنیاوی مسئلہ ہے۔ اس کو حل کرنا سائنس یا سماجی علوم کا بھی کام ہے۔ اور یہ بھی شاید ایک دنیاوی یا انسانی مسئلہ ہی ہے کہ مسلمانوں میں اتنی قابلیت کیسے پیدا کی جائے کہ غاصب طبقے انھیں بے وقوف نہ بنا سکیں؟
اگست ۲۰۲۴ء کے ترجمان القرآن میں مضمون نگار سید سردار علی صاحب، اسلامی تہذیب کودرپیش مشکلات کے انسانی حل کی بات کرتے ہیں، اور سائنس ایک انسانی علم ہے۔ سردار علی لکھتے ہیں: ’’کوئی سابھی اخلاقی نظام ہو، انسان اپنے اظہار کے لیے بہرحال اسی مادی دنیا کے اسباب اوروسائل کا محتاج ہوتا ہے …اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ ان کی وہ تمام کوششیں، جو مسلم دنیا اور مسیحی مغرب کے درمیان فوجی طاقت، مادی دولت، اور ثقافتی اثر و رسوخ کےمسلسل بڑھتے ہوئے فرق کی تشخیص کے لیے تھیں، سودمند ثابت ہوتیں کیونکہ یہ تشخیص انسانی معاشروں کے عروج و زوال کے معروضی اور آفاقی پیمانوں کے بجائے صرف عقائد کے زیرِ اثر ، جزوی، یا سطحی مفروضوں پر مبنی تھی‘‘۔
آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’دُنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صرف دینِ اسلام کی راہ سے بھٹکنا ان کی اس کمزوری کا سبب نہیں ہے…جب تک مسلمان تجزیے اور اصلاحِ احوال کی کوششوں کوان مبادیاتی غلطیوں سے پاک نہیں کریں گے، اُس وقت تک، اپنی عظمتِ رفتہ کی بازیافت کے لیے مسلمانوں کی سب کوششیں ماضی کی طرح لا حاصل ہی رہیں گی…مسلمانوں کے اندر ایسے نظریات نہیں پنپ سکے جو انھیں اطمینان دلاتے کہ سائنس، عقل اور سماجی ارتقاء سے حاصل کیے گئے ذرائع کا استعمال کوئی غیر اسلامی عمل نہیں ہے… جدید ٹکنالوجی، جدید تصورات اور جدید ادارے جب کبھی مسلم معاشروں میں راہ پاتے ہیں تو ان کو بے دلی سے اپنایا جاتا ہے، جس سے کسی بہتری کا امکان نہیں پیدا ہوتا ‘‘۔ مادی دنیا کے اسباب کا مطالعہ سائنس کا موضوع ہے۔ اس میں انسانی معاشروں کے عروج و زوال کے معروضی اور آفاقی پیمانوں کا مطالعہ سماجی علوم (سوشل سائنسز )کاکام ہونا چاہیے، جن میں معاشیات ، بشریات، نفسیات، معاشریات اور سیاسیات شامل ہیں۔ یہ صرف دوافرا د یعنی راقم اور سیّد سردار علی کی تشخیص اور رائےنہیں ہے۔
یہی بات جب اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام حسـن الہضـيبی نے اپنی کتاب دعـاة لا قضـاة (ہم داعی ہیں قاضی نہیں )میں لکھی ہے تو بہت سی ایسی مثالیں دی ہیں جن کا سائنس ہونا واضح ہے۔ اس کتاب کی چوتھی فصل (بعنوان:اِنِ الْحَكُمْ اِلَّا لِلهِ) میں لکھا ہے: ’’شریعت میں اعمال فرض ، حرام یا جائز ہیں۔ جو چیز فرض ہے… کسی انسان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ یہ واجب نہیں ہے…اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے، وہ قیامت تک حرام ہے… جہاں تک مباحات (جائز امور) کا تعلق ہے، مسلمانوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق ان میں ضابطے بنائیں، چاہے وہ فیصلہ ہو، قرارداد ہو، یا قانون ہو،تاکہ ان اصولوں کو نافذ کیا جا سکے جو عمومی مقاصد کے حصول کے لیے ضروری ہیں… اسی طرح عوامی سڑکوں پر ٹریفک کے قوانین، صحت سے متعلق حفاظتی قوانین، زرعی آفات کا مقابلہ کرنے کے قوانین، پانی کے ذرائع کے استعمال کے ضوابط، تعلیم سے متعلق قوانین، مختلف پیشوں جیسے میڈیکل سائنسز، انجینئرنگ، اور فارمیسی کے قوانین، اور ان کو انجام دینے والوں کے لیے مقرر کردہ شرائط بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، انتظامی اداروں کو منظم کرنے اور ہرایک کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو متعین کرنے کے قوانین…یہ اس بات کی نفی کے لیے کافی ہے کہ ’’قانون سازی صرف اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے‘‘۔
دنیاوی قوانین، دنیاوی علم کا حصہ ہیں، اور یہ علم ہم نے انسانی تجربے اور منطق سے سیکھنا ہے۔ دنیاوی علوم سیکھے بغیر امت کا احیاء ممکن نہیں ، چاہے یہ علوم ان کے پاس ہوں جواس وقت ہمارے دشمن ہیں ۔ اس صورت حال پر ایک اچھا تبصرہ اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے سابق استاد اور معروف اسلامی محقق ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب کا ہے۔ یہ تحریر ’متاع گم گشتہ‘ کے عنوان سے ان کی فیس بک پر ہے:
’’انسانی تہذیب کے ارتقاء میں ہر عہد اور ہر خطے کے لوگوں نے حصہ ڈالا۔ مسلمانوں نے اس کی آخری ترقی یافتہ شکل کو لے کر اس پر اضافے شروع کردیے۔ وہیں سے مغرب نے اس کا آخری سرا پکڑا اور اسے آگے بڑھانے میں جت گیا۔ آج ہم تسخیر کائنات کے ناقابلِ تصور مقام پر کھڑے ہیں۔ لیکن اگر ہم اسے مغرب کی تہذیب کہہ کر رد کریں گے تو واپس غاروں میں چلے جائیں گے۔ یہ پوری انسانیت کا مشترک اثاثہ ہے اور اس کی پرورش میں ہم نے بھی خون جگر جلایا ہے۔ اس پر ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے، جتنا مغرب یا کسی دوسری قوم کا ہے۔ کسی بھی انسانی ورثے کو کسی قوم کی طرف منسوب کر کے اسے ترک کرنے کی تلقین کرنا جہالت اور بے نصیبی کے سوا کچھ نہیں‘‘۔
ڈاکٹر طفیل ہاشمی مزید لکھتے ہیں: ’’البتہ جس طرح درخت ارتقائی مراحل میں بےمصرف برگ و بار اٹھا لیتے ہیں، یا انسان کے بال ناخن وغیرہ بڑھ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح تہذیب میں بھی کچھ ایسے عناصر شامل ہو جاتے ہیں، جو ماینفع الناس کے زمرے میں نہیں آتے ۔ صرف انھی کو الگ کرنا ہوتا ہے۔ مغرب میں مدون بے شمار قوانین، ادارے، نظام اسی زمرے میں آتے ہیں کہ وہ مشترکہ انسانی اثاثے ہیں اور تزئین گلستاں میں ہمارا خون بھی شامل رہا ہے۔ اس لیے جہاں آپ کھڑے ہیں اور جن قوتوں کے مالک ہیں، جو خزانے آپ کے پاس آ چکے ہیں انھیں ’دوسروں کا مال‘ کہہ کر رد کرنے کے بجائے اپنی متاع گم گشتہ سمجھ کر اس میں اضافے کی سعی کریں۔ ایک بار ہم نے فیڈرل شریعت کورٹ میں پاکستان پینل کوڈ کا مطالعہ شروع کیا۔ اس ٹیم میں میرے اور ڈاکٹر محموداحمد غازی صاحب کے علاوہ اور بھی متعدد احباب شامل تھے۔ ہم نے دیکھا کہ یہ قانون جو یہاں برٹش پینل کوڈ کے تحت رائج تھا، اس کی [کم و بیش ہر] دفعہ کسی نہ کسی اسلامی فقہ سے ہم آہنگ ہے۔ کئی صدیاں پہلے ہونے والی اس کی تدوین میں فقہ مالکی کے سکالر بھی شریک رہے‘‘۔
بوسنیا کے پہلے( مسلمان) صدر اور معروف مصنف علیجاہ عزت بیگووچ [م:۲۰۰۳ء] نے اپنی کتاب Islam Between East and West کے دوسرے باب میں یہی بات اس طرح لکھی ہے: ’’ترقی civilization میں ہوتی ہے، جس کا اہم حصہ سائنس اور بہت سے ادار ے ہیں، جب کہ مذہب اور کئی ’اخلاقی اقدار‘ cultureکا حصہ ہیں‘‘۔ اردو میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ترقی ’تمدن‘ میں ہوتی ہے اور اسلام ہماری تہذیب کی بنیادہے۔ تہذیب تو اسلامی یا غیراسلامی ہو سکتی ہے ، مگر ’تمدن‘ اسلامی غیراسلامی نہیں ہوتا۔ تمدن صرف قدیم یا جدید ہوتا ہے۔ جدید تمدن کو صرف اس وجہ سے رَد کرنا کہ اس پر مغربی تہذیب کے اثرات پڑگئے ہیں، کوتاہ نظری ہے ۔
’تمدن‘ کا لفظ زیادہ استعمال نہیں ہوتا، اس لیے طفیل ہاشمی صاحب نے اسے مغربی تہذیب کہا ہوگا۔ استعماری قوتیں مسلمانوں کے مستقبل کی صورت گری کا اختیار اپنے پاس اس لیے رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آج مسلمان کمزور ہیں، یعنی ہم ’تمدن‘ میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ یہ مسئلہ کسی ایک گروہ یا جماعت کا نہیں ہے، اوراسے حل کرنے میں ہر ایک کو حصہ ڈالنا ہے۔ کسی پس ماندہ ملک میں ایک عام فرد کروڑوں میں سے ایک ہوسکتا ہے ۔ ایک پڑھا لکھا انسان لاکھوں میں سے ایک ہو تو ترقی کی کوشش میں اس کا لاکھواں حصہ ہونا چاہیے۔ ایک اہم سیاسی پارٹی سیکڑوں یا درجنوں قوتوں میں سے ایک ہوگی۔ اس کو ترقی کے لیے سو میں ایک یا درجن میں سے ایک حصہ ڈالنا چاہیے۔
ترقی کرنے کا کوئی طریقہ اگر اسلام کے خلاف ہو تو اس کا کوئی ایسا متبادل راستہ بھی ہوگا جس میں اسلام کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ یہ دوسرا متباد ل اختیار کیا جائے نہ کہ پہلا۔ اس کام کے لیے جدوجہد شایدصرف اسلام دوست طبقے ہی کریں۔ مسلم اکثریتی ملکوں میں اس مقصد کےلیے دباؤ برقرار رکھا جانا چاہیے۔
مسلم اقلیتی ملکوں کے کچھ عملی مسائل ایسے ہیں، جن کا حل شایدمقامی حالات کے مطابق ہی سوچا جاسکتا ہے۔ فکری اقدامات اس صورت حال کے لیے سوچے جا سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی دنیاوی حالت مناسب ہو اور ان کا بڑا مسئلہ اپنے عقائد اور تہذیب کی حفاظت ہو۔ ایک وقت میں بھارت میں بھی مسلمان اس مسئلے پر توجہ دینے کے قابل تھے، اور وہاں ڈاکٹر ذاکر نائیک اور دیگر افراد نے اسلامی عقائد کے پھیلاؤ کے لیے بڑا مؤثر اور چیلنجنگ کام کیا۔ بھارت میں اسلام پر پابندیاں زیادہ شکلوں میں سامنے آئی ہیں، مگر فرانس وغیرہ میں بھی کچھ کم نہیں ہیں۔
تاہم، مغربی ممالک میں اپنا پیغام پھیلانے کی آزادی ہے۔ یہاں اگر مذہب کے خلاف لکھا اورکہا جارہا ہے تو مذہب کی حمایت میں بھی آوازیں اورتحریر یں کچھ کم نہیں ۔ دونوں طرف پہلا موضوع عیسائیت ہی ہے۔ لیکن اگر ایک عیسائی مبلغ اِن عقائد کے حق میں اچھا اور مؤثر لکھے جو اسلام اور عیسائیت میں مشترک ہیں (جیسے خدا کا وجود، انسانی روح اور کچھ مذہبی اخلاقیات)، تو ہم اس مشترکہ کام کو استعمال کرسکتے ہیں، کم از کم فلسفے ، ریاضی اور سائنس کے نام سے ان پیچیدہ سوالوں کے جواب دینے میں جہاں خود آج کے بہت سے مسلمان علما تفصیلات میں جانے کی قابلیت نہیں رکھتے۔
مسعودہ بانو کی کیمبرج یونی ورسٹی سے شائع شدہ کتاب (۲۰۲۰ء):The Revival of Islamic Rationalism کا ایک مجموعی تاثر یہ ہے کہ: مشرق کے مقابلے میں مغربی معاشروں میں زیادہ ذہین افراد اسلامی علوم حاصل کرنے کے لیے زندگیاں لگا رہے ہیں اور کئی تعلیمی ادارے بھی قائم کرچکے ہیں۔ اس کی وجہ مغرب میں نسبتاًمعاشی بے فکری ہوسکتی ہے۔ اسلامی عقائد کے لیے جس طرح ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھار ت میں کام کیاتھا، اب یورپ میں حمزہ زوٹز (Hamza Tzortzis) اور دیگر حضرات یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ مغرب میں مذہب کے حق میں دلائل کا منطقی معیار ہے۔ مگریہ سارا علمِ کلام ابھی تک روحانیت ، مناظرہ بازی یا موجود تحریریں اکٹھا کرنےسے اُوپر اُٹھ کر انسانی تمدن کے ارتقاء کو اسلامی راہنمائی دینے کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اس مختصر تحریر میں ہم یہ عرض کرچکے ہیں کہ اسلام میں ایک دوسرے علم( سائنس) کی گنجایش ہے۔ اسی انداز سے سائنس اور تمدن کے ارتقاء کے ساتھ ایک تہذیب اور ہدایت کی منطقی گنجایش کی نشان دہی کی جاسکتی ہے اور لازمی طور پر کی جانی چاہیے (ایک سائنسی اصول کی پیروی بھی کئی طرح سےممکن ہے)۔ انسانی، روحانی، معاشرتی اور تہذیبی زندگی میں رہنمائی کے لیے اسلام نے جو ہدایت عطا فرمائی ہے، اس کا فہم اور روحِ عصر کا چیلنج ہمارے سامنے رہنا چاہیے۔
بہرصورت،امت مسلمہ کی احیاء کی کسی بھی بحث میں پہلاموضوع ’اسلام اور دنیاوی علوم کا تعلق‘ ہونا چاہیے۔ دُنیاوی علوم میں سائنس، سماجی علوم اور انسانی اقدار شامل ہیں۔ مسلم اکثریتی ممالک میں یہ بھی دیکھناہے کہ اسلام کی خلاف ورزی کیے بغیر دنیاوی علو م کو ترقی کے لیے کیسے استعمال کیا جاسکتاہے
اکتوبر کا مہینہ تھا جب پاکستان میں جمہوریت پر پہلا شب خون مارا گیا۔
۲۳؍ اکتوبر ۱۹۵۴ء کا وہ پُر آشوب دن جب اُس زمانے کے نئے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ امریکا کا دورہ اچانک ادھورا چھوڑ کر لندن کے راستے کراچی واپس آئے تو ہوائی اڈے سے انھیں پولیس کے سخت پہرے میں عملی طور پر ایک قیدی کی طرح سیدھے گورنر جنرل ہائوس لے جایا گیا، جہاں گورنر جنرل ملک غلام محمد، فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان اور اس زمانے کے مشرقی پاکستان کے گورنر، جنرل [اعزازی] اسکندر مرزا صلاح مشورہ کر رہے تھے۔
ہوائی اڈے پر موجود ہم چند صحافیوں نے وزیر اعظم بوگرہ سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن صاف منع کر دیا گیا، حتیٰ کہ پرنسپل انفارمیشن افسر کرنل مجید ملک بھی بے بس تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہوائی اڈے سے واپسی پر جب کراچی میں بھاری تعداد میں فوج کے دستوں کو نقل و حرکت کرتے دیکھا تو ماتھا ٹھنکا۔ طرح طرح کی افواہوں کا بازار گرم تھا اور قیاس آرائیوں کا زور تھا۔ وہ ایک پُرآشوب رات تھی۔ پوری رات صحافی اَن جانے ’اہم اعلان‘ کا انتظار کرتے رہے۔
گورنر جنرل ہائوس میں تین کے ٹولے کے طویل صلاح مشورے اور منصوبہ بندی کے بعد وزیر اعظم محمدعلی بوگرہ کو فوجی افسروں اور پولیس کی معیت میں بندر روڈ پر ریڈیو پاکستان کے اسٹوڈیو لے جایا گیا، جہاں سے انھوں نے ملک میں ’ہنگامی حالت کے نفاذ‘ اور پہلی ’دستور ساز اسمبلی‘ کی تحلیل کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب دستور ساز اسمبلی نے آئین کے ’بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘ (BPC)کی رپورٹ منظور کر لی تھی اور ملک کے پہلے آئین کا مسودہ چھ روز بعد ایوان میں پیش کیا جانے والا تھا۔
پاکستان کی نو زائیدہ جمہوریت پر یہ پہلا بھرپور اور کاری وار تھا، جو اُس زمانے میں سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے بننے والے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو توڑ کر، ملک کو ان بھول بھلیوں میں دھکیل دیا تھا جن سے وہ آج تک نہیں نکل سکا ہے۔ ملک غلام محمد انگریز دور کی بیوروکریسی کے نیابت دار تھے اور مالی معاملات میں مہارت کی بنیاد پر پاکستان کی پہلی کابینہ میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے شامل کیے گئے تھے۔ وہ نہ مسلم لیگ کے رہنما تھے اور نہ ان کا کوئی سیاسی پس منظر اور دائرہ اثر تھا۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں کے قتل کے بعد بیوروکریسی نے اقتدار پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کے تحت اُس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو اس عہدے سے ہٹا کر انھیں وزیر اعظم کے عہدے پر مقرر کیا گیا اور ان کی جگہ ملک غلام محمد کو گورنر جنرل کے عہدے پر فائز کردیا گیا۔
اس امر کا کہیں ثبوت موجود نہیں ہے کہ یہ عمل جمہوری طریقے سے ہوا تھا۔ نہ تو اس زمانے میں حکمران مسلم لیگ کی کسی سطح پر اس معاملے پر غور کیا گیا اور نہ کابینہ میں اس مسئلے پر بحث ہوئی۔ یہ فیصلہ اس زمانے کے سیکرٹری جنرل چودھری محمد علی اور بیوروکریسی میں ان کے قریبی ساتھیوں اور مشیروں نے کیا تھا۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد رکھنے کے باوجود ان پر کوئی الزام عاید کیے یا کوئی وجہ بتائے بغیر برطرف کر کے امریکا میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم مقرر کرنے کا اقدام، دراصل فوج کی مدد اور اعانت سے کیا تھا، جس کے عوض فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو نئی کابینہ میں وزیر دفاع مقرر کیا گیا۔ پاکستان میں یہ پہلا موقع تھا، جب وزیر دفاع فوجی وردی میں ملبوس کابینہ کے اجلاس میں شریک ہوا۔ یہ درحقیقت ملک کے اقتدار میں فوج کی شراکت اور آخر کار ملک کے اقتدار پر براہِ راست فوج کے تسلط کا دروازہ کھولنے کی ابتدا تھی۔
۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴ء کو گورنر جنرل ملک غلام محمد کی طرف سے دستور ساز اسمبلی توڑنے کے اقدام کے پس پشت سب سے بڑی وجہ ملک میں آبادی اور طاقت کے لحاظ سے صوبوں کے درمیان عدم توازن تھا۔ دستور ساز اسمبلی نے سات سال کے طویل عرصے کے بعد ملک کے پہلے آئین کے خاکہ کے بارے میں ’بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘ کی جو رپورٹ منظور کی تھی، دستور ساز اسمبلی میں پنجاب سے مسلم لیگ کے اراکین، جن کی قیادت ملک فیروز خان نون کر رہے تھے، اس کے سخت خلاف تھے۔ انھیں خدشہ تھا کہ اس رپورٹ پر مبنی نئے آئین کا بڑی حد تک جھکائو مشرقی پاکستان کے حق میں رہے گا، جس کے نتیجے میں نہ صرف سیاسی میدان میں بلکہ بیوروکریسی اور فوج میں بھی پنجاب کے مفادات کو سخت زک پہنچے گی۔
پنجاب کا یہ خدشہ اُس وقت اور شدت اختیار کر گیا، جب مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ نورالامین کی شہ پر سندھ کے وزیر اعلیٰ عبد الستار پیرزادہ نے گورنر جنرل کے وسیع اختیارات کو چیلنج کیا اور ان کے اختیارات کو کم کرنے کے لیے ایک آئینی ترمیم پیش کی۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد اس پر سخت طیش میں آگئے تھے۔ اسی کے ساتھ بیوروکریسی، فوج اور پنجاب کا مفاد پرست طبقہ اس اقدام پر لرز اٹھا۔ اسے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ ’’اگر ملک میں جمہوری ڈھانچے کے تحت مشرقی پاکستان کو آبادی کی بنیاد پر بالادستی حاصل ہوگئی اور وہ ملک کے دوسرے تین چھوٹے صوبوں کے ساتھ کسی معاملہ پر یک رائے اور متحد ہو جائے تو پنجاب سیاسی طور پر بے بس ہو جائے گا‘‘۔ چنانچہ گورنر جنرل ملک غلام محمد کی شہہ پر ۵؍اکتوبر ۱۹۵۴ء کو ایک اجلاس میں دستور ساز اسمبلی میں پنجاب مسلم لیگ پارٹی نے تین مطالبات پر مشتمل ایک الٹی میٹم پیش کیا ،جس میںکہا گیا تھا کہ ’’اگر ان کے یہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ۲۸؍ اکتوبر کو دستور ساز اسمبلی کے اجلاس سے قبل پارٹی سے [پنجاب]کے تمام اراکین، اسمبلی سے اجتماعی طور پر مستعفی ہو جائیں گے‘‘۔
پنجاب مسلم لیگ اسمبلی پارٹی نے یہ تین مطالبات پیش کیے تھے: پہلا مطالبہ تھا کہ آئین میں مرکز کے پاس صرف چار سبجیکٹس ہونے چاہییں: دفاع، اُمورِ خارجہ، کرنسی اور بین الاقوامی تجارت، بین الصوبائی مواصلات۔ دوسرا مطالبہ تھا کہ ان امور کے علاوہ تمام امور صوبوں کو تفویض کرنے کے لیے تمام صوبوں کے نمایندوں کی کمیٹی فیصلہ کرے۔ تیسرا مطالبہ تھا کہ اگلے پانچ برس تک نئے آئین پاکستان میں کوئی ترمیم اُس وقت تک نہیں ہو سکتی، جب تک کہ اس کے لیے تمام صوبوں میں ۳۰ فی صد اراکین کی حمایت حاصل نہ ہو۔
اس دوران گورنر جنرل ملک غلام محمد نے ملک فیروز خان نون کو بڑی عجلت میں زیورخ [سوئٹزرلینڈ] بھیجا، جہاں عوامی لیگ کے سربراہ حسین شہید سہروردی زیر علاج تھے۔ اس پورے کھیل میں سہروردی صاحب کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ گئی تھی کہ ۱۹۵۴ء کے اوائل میں مشرقی پاکستان کے انتخابات میں عوامی لیگ کی قیادت میں ’جگتو فرنٹ‘ [United Front]فاتح رہی تھی، اور سہروردی صاحب کو یہ احساس تھا کہ پنجاب سے ہاتھ ملائے بغیر انھیں اقتدار میں شراکت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اُس زمانے میں یہ کھلا راز تھا کہ زیورخ میں سہروردی اور فیروز خان نون کے درمیان ایک سودا طے پا گیا ہے جس کے تحت سہروردی صاحب نے مغربی پاکستان کے تینوں صوبوں اور چھے ریاستوں کو ایک یونٹ میں ضم کرنے کے بارے میں تین کے ٹولے کی تجویز کی اس شرط پر حمایت کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ مشرقی پاکستان میں ’جگتو فرنٹ‘ کی حکومت، جسے جنرل اسکندر مرزا نے برطرف کر دیا تھا بحال کردی جائے۔
’سہروردی نون ملاقات‘ کے بعد زیڈ اے سلہری جو اُس زمانے میں ٹائمز آف کراچی نکالتے تھے، نہ جانے کس کے ایما پر زیورخ گئے اور سہروردی صاحب کا ایک انٹرویو لے کر آئے، جو انھوں نے اپنے اخبار میں جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا۔ اس انٹرویو میں سہروردی صاحب نے ’’دستور ساز اسمبلی کو غیر نمایندہ قرار دے کر اسے توڑنے کا مطالبہ کیا تھا‘‘۔ بلاشبہہ اس انٹرویو سے گورنر جنرل کے منصوبے کو تقویت پہنچی۔ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۵۴ء کو جب گورنر جنرل نے دستور ساز اسمبلی توڑی تو اس اقدام پر پورا ملک دم بخود رہ گیا اور سیاست دانوں پر ایسی دہشت طاری ہوگئی کہ سب مفلوج ہو کر رہ گئے۔
دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے اس اقدام کو سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کیا۔ دہشت کا عالم یہ تھا کہ مولوی تمیز الدین خان، گرفتاری سے بچنے کے لیے برقع پہن کر گورنر جنرل کے اقدام کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سندھ چیف کورٹ گئے تھے۔ سندھ چیف کورٹ نے جب مولوی تمیز الدین خان کے حق میں فیصلہ دیا تو ملک بھر میں خوشیاں منائی گئیں اور لوگوں کو جمہوریت کی بقا کے امکانات روشن دکھائی دینے لگے۔ لیکن ان امکانات کو اُس وقت زبردست زک پہنچی، جب حکومت کی اپیل پر فیڈرل کورٹ نے سندھ چیف کورٹ کا فیصلہ رد کردیا۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس محمد منیر کا جو رول رہا اور انھوں نے جس مصلحت کوشی سے کام لیا اس کو آج تک ہدف ملامت بنایا جاتا ہے۔ چیف جسٹس کے عہدے سے سبک دوش ہوتے وقت جسٹس منیر نے اپنے فیصلے کا یہ کہہ کر دفاع کیا تھا کہ ’’اگر مَیں حکومت کے خلاف فیصلہ دیتا تو ملک میں افراتفری اور نراجیت پھیلنے کا خطرہ تھا‘‘۔ لیکن غالباً انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ ان کے اس فیصلے کے جمہوریت کے مستقبل پر کس قدر مہلک اثرات مرتب ہوں گے اور ملک فوجی آمریت کے ایک ایسے چنگل میں پھنس جائے گا کہ اس سے نکلنا محال ہو جائے گا۔
بہت کم لوگوں کو اس کے سنگین مضمرات کا ادراک تھا۔ لیکن بعض سیاست دانوں کو اس کے پیچھے ملک کے دو لخت ہونے کا خطرہ بھی نظر آرہا تھا۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے خلاف مولوی تمیز الدین کے مقدمے کی سماعت کے دوران ہم چند صحافی سندھ چیف کورٹ کے چائے خانے میں بیٹھے تھے کہ وزیر تجارت فضل الرحمٰن جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا قریب سے گزرے۔ ہم نے انھیں چائے کی میز پر بلایا اور پوچھا کہ ’’اب کیا ہوگا؟‘‘ ان کے جواب نے ہم سب کو دہلا دیا۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت دُور اندیش ہیں اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ فضل الرحمٰن صاحب نے کہا کہ ’’اب ملک دو ٹکڑے ہو جائے گا‘‘۔ سب صحافیوں نے بیک آواز کہا کہ ’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’میرا یہ تجزیہ حقیقت پر مبنی ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’گورنر جنرل نے دستور ساز اسمبلی فوج کی قوت کے بل بوتے پر توڑی ہے اور اب فوج اقتدار پر قبضہ کر لے گی اور اس صورت میں مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے فوج کی حکمرانی تسلیم نہیں کرے گا اور الگ ہو جائے گا‘‘۔
فضل الرحمٰن صاحب کی یہ سنگین پیش گوئی ۱۷سال بعد درست ثابت ہوئی۔ پاکستان میں جمہوریت پر یہ پہلا شب خون تھا، جس نے پاکستان کی تقدیر بدل کر رکھ دی اور شاید یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں فوجی طالع آزمائوں کے لیے دروازے کھل گئے اور اب بھی ہمہ وقت فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا خطرہ رہتا ہے۔
یہ کہانی ہے ۱۸۴۶ء میں ’امرتسر معاہدئہ فروخت‘ (Amratsir Sale Deed)کے تحت کشمیر کی ڈوگرہ راجا گلاب سنگھ کو فروخت کرنے کی۔ ان کے مظالم اور پھر جموں اور کشمیر میں شاہی ریاست کا قیام کیسے عمل میں آیا؟ کشمیر کن شرائط پر بیچا گیا اور اس کا کشمیریوں پر کیا اثرات پڑے؟ یہ سب سمجھنے کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ کشمیر کی تاریخ حملہ آوروں سے بھری ہوئی ہے۔ انڈیا کی طرف جانے والے حملہ آور بھی کشمیر کے راستے ہی ہندوستان پہنچتے تھے، جن میں ۳۲۶ قبل مسیح میں مقدونیہ سے آنے والے سکندراعظم اور سائتھنز جیسے کچھ وسطی ایشیائی قبیلے بھی شامل تھے۔
کشمیریوں نے کئی صدیاں پانڈو، موریا، کوشان، گوناندیا، کرکوٹا، اتپالا اور لوہارا جیسے بیرونی حکمرانوں کے تحت گزاریں۔ کشمیر کی تاریخ کو عام طور پر چار ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے: ہندو راجاؤں کا قدیم دور، جس کی تفصیل کلہن پنڈت کی کتاب راج ترنگنی ' میں ملتی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے دور کو سلاطینِ کشمیر کا دور کہا جاتا ہے، مغل دور کو ’شاہان مغلیہ‘ کا دور کہا جاتا ہے، اور پٹھانوں کے دور کو ’شاہان درانی‘ کا عہد کہا جاتا ہے۔
ان اَدوار میں جو بات مشترک تھی، وہ کشمیریوں کا استحصال ہے، جو تاریخ کی کئی کتابوں میں درج ہے۔ چودھویں صدی میں اسلام کشمیر میں پہنچا اور آبادی کا ایک بڑا حصہ مسلمان ہوگیا۔
۱۸۳۹ءمیں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد گلاب سنگھ کا مقام مزید نمایاں ہو گیا۔ ۱۸۴۵ءمیں برطانیہ نے یہ کہہ کر جنگ چھیڑ دی کہ ’’راجا رنجیت سنگھ کے ساتھ ۱۸۰۹ء میں طے پانے والے ’معاہدۂ امرتسر‘ کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس کے ذریعے سکھ سلطنت کی مشرقی سرحدیں طے ہوئی تھیں‘‘۔اس جنگ میں سکھ مہاراجا جنگ ہار گیا اور ۹مارچ ۱۸۴۶ء کے ’معاہدۂ لاہور‘ کے تحت طے ہونے والا جرمانہ ادا نہیں کر سکا،اور اسے کشمیر ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کے نام کرنا پڑا۔
اس وقت ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کے گورنر جنرل سر ہنری ہارڈنج نے ۲مارچ ۱۸۴۶ء کو اپنی بہن کو لکھے خط میں گلاب سنگھ کو ’ایشیا کا سب سے بڑا بدمعاش‘ کہہ کر متعارف کرایا۔ گلاب سنگھ کو مہاراجا بنانے کی وجہ گورنر جنرل نے خط میں یوں بیان کی: ’بدقسمتی سے اس کی مدد کرنا لازمی ہے کیونکہ اس نے ہمارے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیا اور اس کی سرحدیں ہماری سرحدوں سے ملتی ہیں۔ ہم بغیر کسی مشکل کے اس کی حفاظت کر سکتے ہیں اور سکھوں کی سلطنت میں سے اسے ایک ٹکڑا دے کر سکھوں کے مقابلے میں اس کی طاقت کو تھوڑا بڑھا سکتے ہیں۔‘
۱۸۲۲ءمیں رنجیت سنگھ نے گلاب سنگھ کو، جس کا تعلق ہندو ڈوگرہ برادری سے تھا، اس کی خدمات کے عوض جموں کا راجا بنا دیا۔۱۸۴۶ء کے ’معاہدۂ امرتسر‘ پر، جسے عام زبان میں ’سیل ڈیڈ‘ بھی کہا جاتا ہے، ۱۶مارچ ۱۸۴۶ءکو دستخط کیے گئے۔ جموں کے مہاراجا گلاب سنگھ اور برطانیہ کی طرف سے دو ارکان، فریڈرک کیوری اور بریور میجر ہنری مونٹگومری لارنس اور اس پر ہارڈنج کی مہر لگائی گئی۔ اس معاہدے کا اطلاق ’دریائے سندھ کے مشرق اور دریائے راوی کے مغرب کے پہاڑی خطے اور اس کے ماتحت علاقوں، بشمول چھمب پر تھا لیکن اس میں ’لاہول‘ کا علاقہ شامل نہیں تھا، جس پر ۹مارچ۱۸۴۶ء کے ’معاہدۂ لاہور‘ کے آرٹیکل چار کے تحت برطانوی کمپنی کا دعویٰ تھا۔
گلاب سنگھ کو دیے جانے والے اس سارے خطے کی مشرقی سرحدوں کا تعین کرنے کے لیے دونوں اطراف کے ارکان پر مشتمل ایک ٹیم کو سروے کرنے کا ذمہ دیا جانا تھا۔ سرحدوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کے لیے برطانوی حکام کی رضامندی لازمی تھی۔ پھر مہاراجا اور ہمسایہ ریاستوں کے درمیان ہرقسم کا جھگڑا بھی برطانوی حکام نے ہی طے کرنا تھا۔
معاہدے کے تحت مہاراجا اور ان کے وارثوں کی فوجیں ’پہاڑوں کے اندر‘ یا اس سے متصل علاقوں میں ضرورت پڑنے پر برطانوی فوجیوں کا ساتھ دینے کی پابند بنائی گئیں۔
ایک شق یہ بھی تھی کہ مہاراجا برطانوی حکومت کی رضامندی کے بغیر کسی بھی برطانوی، یورپی شخص کو اپنی خدمت میں نہیں رکھے گا۔
برطانوی حکومت نے عہد کیا کہ وہ ’اس کے دشمنوں سے اس کے علاقوں کی حفاظت کرنے میں‘ مہاراجا گلاب سنگھ کی مدد کرے گی۔ برطانوی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے مہاراجا گلاب سنگھ نے ہر سال برطانوی حکومت کو ’ایک گھوڑا، منظور شدہ شال بنانے والی نسل کے بارہ بکرے (چھے نر اور چھے مادہ) اور پشمینہ شالوں کے تین جوڑے‘ دینے کا عہد کیا۔
۱۸۵۷ءمیں انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد، جو ہندوستان کی آزادی کی پہلی جنگ بھی ہے، برطانیہ نے کچھ دیگر حقوق بھی ان ریاستوں کو منتقل کر دیے۔ ایسا تب ہوا جب برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا [م: ۱۹۰۱ء] نے ۱۸۵۸ء میں ایک اعلامیے میں کہا کہ ’ہم مزید علاقوں پر قبضے کے خواہش مند نہیں ہیں‘۔لیکن اس کے بعد ۱۹۲۸ء میں ’میمورینڈم آف پرنسلی سٹیٹس پیپل‘ کے تحت برطانیہ کو اقتدار کے غلط استعمال کی صورت میں ان ریاستوں میں دخل اندازی کا حق حاصل ہوا۔
برطانیہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ گلاب سنگھ، چین کے علاقوں پر دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے برطانوی اقتصادی مقاصد خاص طور پر تبت سے اُون کی تجارت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ اسی لیے ’معاہدۂ امرتسر‘ میں واضح طور پر یہ لکھا گیا کہ ’’برطانوی رضامندی کے بغیر سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی‘‘۔
یہاں تک کہ۱۹۵۹ء میں انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو [م: ۱۹۶۴ء] نے بھی کہا کہ اکسائی چن میں سرحدوں کا تعین نہیں کیا گیا، تاہم اکسائی چن کا تمام علاقہ انڈیا کی حدود میں آتا ہے‘۔
پونچھ دراصل گلاب سنگھ کے چھوٹے بھائی دھیان سنگھ کو رنجیت سنگھ سے بطور جاگیر ملا تھا۔ یہ تمام علاقے جموں کشمیر کی شاہی ریاست کا حصہ بن گئے۔پونچھ ایک مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور وہاں کے رہائشیوں اور ڈوگرہ حکام کے درمیان ۱۸۳۰ء کے عشرے میں کئی جھڑپیں ہوئیں۔ تاہم، گلاب سنگھ نے طاقت کا استعمال کرکے ان ’بغاوتوں‘ کو کچل دیا۔ ۱۸۴۳ءمیں دھیان سنگھ کی وفات کے بعد گلاب سنگھ پونچھ، بھمبر اور میرپور کو اپنی ملکیت سمجھنے لگا، تاہم کبھی کنٹرول نہیں کر پایا۔
’معاہدۂ امرتسر‘ کے تحت کشمیر کے ساتھ ساتھ گلگت ایجنسی کو بھی بیچا گیا تھا، البتہ ڈوگرہ سلطنت کبھی اس پر مؤثر حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ۱۸۵۲ءمیں ایک قبائلی بغاوت کے بعد وہاں ڈوگرہ حکمرانی پوری طرح ختم ہو گئی۔ ۱۸۶۰ء میں راجا رنبیر سنگھ (گلاب سنگھ کے بیٹے) نے گلگت پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ پھر ۱۹۳۶ء میں راجا ہری سنگھ نے پونچھ پر قبضہ کر لیا۔
زمینوں پر قبضے اور سرحدوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ڈوگرہ حکمرانوں نے قانون سازی کر کے ۱۹۳۹ء کے جموں کشمیر آئین ایکٹ کا نقشہ بنا کر، اپنی فوج قائم کر کے اور کئی معاہدوں کے ذریعے اپنی طاقت کو مضبوط کیا۔جب گلاب سنگھ نے کشمیر کا کنٹرول سنبھالا تو اس وقت تقریباً ۷۵فی صد آبادی کا انحصار کاشت کاری پر تھا، اور یہی ریاست کی آمدنی کا مرکزی ذریعہ بھی تھا۔ گلاب سنگھ نے خود کو کشمیر کی تمام زمینوں کا مالک بنا دیا۔
رابرٹ تھورپ ہندوستان میں برطانوی فوج کے ایک افسر نے لکھا کہ ’’یہ اتنی بڑی ناانصافی ہے کہ اس سے ’جدید تہذیب کی روح کی نفی ہوتی ہے اور یہ چیز اس مذہب کے ہر اصول کے بھی بالکل اُلٹ ہے، جس کے پیروکار ہونے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں‘۔
ڈاکٹر ایلمسلی ایک اسکاٹش مشنری ڈاکٹر نے کشمیر میں بہت وقت گزارا، لکھا: ’’لوگوں کا شرمناک استحصال۔ ہم انگریزوں کے لیے شرمناک ہے کیونکہ ہم نے اس ملک کو اس کے موجودہ ظالم حکمرانوں کو بیچ دیا، ہزاروں جیتے جاگتے انسانوں کے ساتھ، جنھیں ہم نے دائمی غلام بنا دیا‘‘۔
جب گلاب سنگھ نے کشمیر کا کنٹرول سنبھالا تو اس وقت تقریباً ۷۵ فی صد آبادی کا انحصار کاشت کاری پر تھا اور یہی ریاست کی آمدنی کا مرکزی ذریعہ بھی تھا۔ گلاب سنگھ نے سکھوں کے دور کے نظام کو جاری رکھا اور خود کو کشمیر کی تمام زمینوں کا مالک قرار دیا کیونکہ وہ ’معاہدۂ امرتسر‘ کے ذریعے کشمیر کو خرید چکا تھا۔ کسانوں سے ان کی زمینوں کی وہ ملکیت تک چھین لی گئی، جو افغانوں اور سکھوں کے دور سے ان کے پاس تھی۔ یعنی اب کسان مالک نہیں کرایہ دار تھا اور زمین پر کام کرنے کے لیے اسے ٹیکس دینا پڑتا تھا، جسے ’حق مالکان‘ کہا جاتا تھا۔ مگر کسی وجہ سے ’حق مالکان‘ کی ادائیگی نہیں ہو پاتی، تو کسان کو زمین سے خارج کر دیا جاتا تھا۔
یہ بات واضح ہے کہ ۱۸۴۶ء کے بعد ڈوگرہ دور میں کئی ایسی پالیسیاں اور عمل متعارف کرائے گئے، جن سے کشمیری عوام اور خاص طور پر مسلمان کاشت کاروں کو بہت نقصان پہنچا۔ کسانوں سے ان کی زمینوں کی ملکیت تک چھین لی گئی۔
۱۹۳۰ءمیں جاگیرداروں کو اجناس پر ٹیکس دینے کے نظام اور اس کی وجہ سے ہونے والے استحصال کے خلاف کاشت کاروں کا احتجاج شروع ہوا۔حکومت نے مسئلے کے حل کے لیے ایک ’جاگیردار کمیٹی‘ بنائی، لیکن تماشا یہ کہ اس کے تمام ارکان خود جاگیردار تھے۔کمیٹی نے جاگیر میں کرایہ داروں کے حقوق اور جاگیرداروں کے حقوق اور فرائض وضع کیے۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ محصولات کو اجناس کی جگہ نقد کی شکل میں وصول کیا جائے اور اس کی وجہ سے جاگیرداروں کو ہونے والے ممکنہ نقصان کا ازالہ انھیں نئی جاگیریں دے کر کیا جائے‘‘۔
ان سفارشات کو حکومت نے تسلیم کر لیا، تاہم زرعی شعبے میں اس تبدیلی کا غلط فائدہ اٹھایا گیا، جس کے نتیجے میں کاشت کاروں کا فائدہ ہونے کے بجائے ان کے حالات مزید بگڑ گئے۔ جاگیرداروں نے اکثر نقصان دکھا کر نئی جاگیریں حاصل کر لیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے حکومت مخالف جذبات نے پُرتشدد رخ اختیار کر لیا۔
تب سے ۱۳ جولائی کشمیر میں ’یوم شہدا‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، ایک ایسا دن جب عام کشمیری اپنے حقوق اور عزّتِ نفس کے لیے شہید ہوئے۔ اس کے بعد پابندیوں کو سخت کرتے ہوئے دفعہ ۱۴۴ بھی نافذ کردی گئی، جس کے تحت پورے کشمیر میں میٹنگوں، مظاہروں اور جلوسوں پر پابندی لگا دی گئی۔ساتھ ہی کشمیر دربار نے اپنے ایک بیان میں پولیس کی فائرنگ کو جائز قرار دیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ حکومت کشمیر کے اس رویے پر ریاست کے باہر بھی سخت تنقید ہوئی۔ ریاست کے اندر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ۱۳ جولائی کے اس المیے پر غیر جانب دار تفتیشی کمیٹی بنائے جانے کا مطالبہ کیا گیا، جسے حکومت نے نظر انداز کر دیا۔
راجا ہری سنگھ کا اصرار تھا کہ ’’میری بنائی ہوئی انکوائری کمیٹی غیر جانب دار ہے۔ اس کمیٹی نے پولیس کارروائی کو جائز قرار دیا، جس سے کشمیریوں کا غصہ اور بڑھ گیا۔اسی دوران کشمیر میں جاری شورش پر قابو پانے کے لیے راجا ہری سنگھ کو ’معاہدۂ امرتسر‘ کے آرٹیکل نو کے تحت ہندوستان کی انگریز حکومت سے مدد ملی۔ ’رائفل بریگیڈ‘ کو جموں میں ’بارڈر ریجمنٹ‘ کو میرپور اور ’ہسارز‘ کو جموں اور سرحدوں کی پٹرولنگ کے لیے تعینات کیا گیا۔
یہاں اس بات کو ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ ہندوستان کے برعکس، کشمیر کی تحریک، برطانوی راج کے خلاف نہیں تھی۔ کشمیر کی تحریک ایک مسلمان اکثریتی آبادی پر ہندو ڈوگرہ حکمرانوں کے مظالم کا نتیجہ تھی۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ ڈوگرہ حکمرانوں نے ہندو پنڈتوں کے ایک بااثر طبقے کو کافی مراعات دے رکھی تھیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ مظالم کے خلاف اس انقلاب میں مسلمانوں کے ساتھ کشمیری ہندوئوں کا ایک حصہ بھی شامل تھا۔ اس تحریک کی قیادت شیخ محمد عبداللہ اور پریم ناتھ بزاز کے ہاتھ میں تھی۔
اس رسالے میں ریڈنگ روم پارٹی کے ارکان کی طرف سے ملنے والی معلومات کی بنا پر کشمیریوں کی حالت زار پر آرٹیکل شائع ہونے لگے، جس سے کشمیر کے باہر بھی کشمیر کی بات ہونے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک وسیع ہوتی گئی۔ ۱۹۳۲ میں شیخ محمد عبداللہ نے آزادی کی اس تحریک کی قیادت سنبھالی اور اسی سال آل جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس کا بھی قیام عمل میں آیا۔ دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ انھوں نے ۱۹۳۲ء میں کسان کو اس کی زمین پر ملکیت کے حق کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
اسی سال شیخ محمدعبداللہ کو گرفتار کیا گیا، ان پر مقدمہ چلا اور انھیں قصوروار ٹھیرایا گیا۔ ان پر مجرمانہ سازش، حکومت کے خلاف جنگ کرنے، جنگ کی نیت سے اسلحہ جمع کرنے، غداری، منافرت پھیلانے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کے الزام لگائے گئے۔ اس کیس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ محمد عبداللہ کو جیل بھیج دیا گیا لیکن پھر رہا کر دیا گیا۔ تاہم، تب تک کشمیر کی تحریک کافی زور پکڑچکی تھی۔ کشمیریوں نے اپنی شکایات کی تفتیش کے ساتھ ساتھ سیاسی، معاشی اور مذہبی حقوق کے اپنے مطالبات بھی جاری رکھے۔
مہاراجا نے آخر کار یہ اعلان کیا کہ وہ ’مناسب‘ مطالبات کو پورا کرے گا اور پھر سربی جے گلینسی کی صدارت میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں اور دوسروں کی شکایات کی تفتیش کرنا تھا۔اس کمیشن نے ۲۲ مارچ ۱۹۳۲ء کو اپنی رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق تشدد کی وجوہ میں کئی سیاسی اور معاشی مسائل تھے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کشمیری مسلمانوں کے لیے تعلیم میں اسکالرشپ اور ریاستی نوکریوں میں ملازمت کے ساتھ ساتھ سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کی سفارش بھی کی۔
’گلینسی رپورٹ‘ کے بعد کشمیر میں آئینی اصلاحات کے لیے ’کشمیر کانسٹی ٹیوشنل ریفارمز کانفرنس‘ تشکیل دی گئی، جس کے بعد فرینچائز کمیٹی بھی بنی۔ ان کمیٹیوں کی سفارشات کی بنا پر ۱۹۳۲ء میں راجا ہری سنگھ نے ایک آئینی ایکٹ متعارف کرایا، جس کے تحت ’پرجا سبھا‘ کے نام سے ایک قانون ساز اسمبلی کا قیام ممکن ہو گیا، جس کے پاس قانون سازی کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو اور عدالتی اختیارات بھی تھے۔
’گلینسی کمیشن‘ نے دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ان کی زمینوں کی ملکیت واپس کرنے کی اور ان ریاستی زمینوں کی منتقلی اور انھیں کرائے پر دینے کے حقوق کی، جن کی ملکیت تو حکومت کی پاس ہے، لیکن جو عام شہریوں کے زیر استعمال ہیں، سفارش بھی کی تھی۔مہاراجا نے ان سفارشات پر عمل کرتے ہوئے زمینیں ان کسانوں کے نام کرنے کا اعلان کیا، جن کے پاس تب تک صرف ان زمینوں کو استعمال کرنے کا حق تھا۔ جموں صوبے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
تاہم، ’گلینسی کمیشن‘ کی سفارشات مجموعی طور پر ناکام رہیں، کیونکہ ان پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔ تیس اور چالیس کے عشروں میں کشمیر میں مہاراجا کے خلاف تحریک بھی چلتی رہی اور حکومت کی طرف سے اسے دبانے کی کوششیں بھی۔
۱۹۴۱ء میں غلام عباس نے مسلم کانفرنس کو دوبارہ منظم کیا اور نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس دونوں نے ہی اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دیں۔۱۹۴۳ء میں بغاوت کے خدشے سے مہاراجا نے آئینی اصلاحات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے۔ اس کمیشن کا مقصد ریاست کی حفاظت، سالمیت اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے ساتھ تمام برادریوں کا ایک دوسرے کے قریب لانا، معیشت کی ترقی اور بدعنوانی کا خاتمہ بتایا گیا۔
۱۹۴۰ء کے عشرے میں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس دونوں نے کشمیر کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی اور ڈوگرہ انتظامیہ میں نمائندگی کی کمی کو واضح کیا۔ ۱۹۳۰ء کے بعد سے شروع ہونے والی آئینی اصلاحات سے عوام کو کسی حد تک ریاستی انتظامی نظام میں حصہ لینے کا محدود موقع ملا۔ ان اصلاحات سے کشمیریوں میں سیاسی شعور اور آگاہی بھی پیدا ہوئی۔
مہاراجا نے جن اصلاحات کا آغاز کیا تھا ممکن ہے کہ ان سے آگے چل کر کشمیر میں ایک منتخب حکومت اور اسمبلی وجود میں آتی، تاہم برطانوی ہندوستان کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال اور شاہی ریاستوں کے الحاق کے سوالات کا کشمیر پر گہرا اور دیرپا اثر پڑا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد انتخابات میں برطانیہ میں چرچل کی کنزرویٹو پارٹی ہار گئی اور لیبرپارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ برطانیہ شدید اقتصادی مشکل میں تھا اور اس کے دیوالیہ ہونے کا بھی خدشہ تھا۔اس صورت حال کی وجہ سے وزیر اعظم ایٹلی نے برطانیہ کی انڈیا پالیسی تبدیل کر دی۔
۱۹فروری۱۹۴۶ءکو برطانیہ نے تین وزرا کو انڈیا بھیجنے کے فیصلے کا اعلان کیا، ان کے ذمے ’مسئلہ انڈیا‘ کا حل تلاش کرنا تھا۔اس ’کیبنٹ مشن‘ کا ایک مقصد مقامی راجوں مہاراجوں اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنا بھی تھا۔۲۴؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو ’کیبنٹ مشن‘ سرینگر پہنچا تو شیخ محمد عبداللہ نے انھیں ایک میمورنڈم بھیجا۔ اس میں لکھا تھا کہ ’ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس رشتہ پر نظر ثانی نہایت اہم ہے کیونکہ تقریباً ایک سو سال پہلے کشمیر کی زمین اور اس کے عوام کو برطانیہ نے بیچ دیا تھا۔ کشمیری عوام اپنی تقدیر بدلنے کے لیے پُرعزم ہیں اور ہم برطانوی مشن سے ہمارے مقصد کے منصفانہ کردار اور اس کی طاقت کو پہچاننے کی اپیل کرتے ہیں۔ آج کشمیری عوام کا ’قومی مطالبہ‘ محض ایک ذمہ دار حکومت کا قیام نہیں، بلکہ ’مکمل آزادی‘ ہے‘۔
آزادی کے اس مطالبے کے بعد ۱۲ مئی ۱۹۴۶ء کو ’کیبنٹ مشن میمورنڈم‘ پاس کیا گیا۔ اس کے پانچویں پیراگراف میں لکھا ہے: ’ریاست کے وہ حقوق جو اسے برطانوی تاج کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے حاصل ہیں ان کا وجود اب ختم ہوتا ہے‘۔اس کے بعد راجا ہری سنگھ کے پاس تین راستے تھے: انڈیا کے ساتھ الحاق، پاکستان کے ساتھ الحاق، یا خود مختاری۔ راجا ہری سنگھ نے فوری طور پر انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان نہ کر کے بظاہر خود مختار رہنے کا فیصلہ کیا۔ مگر چند ہفتوں بعد صورتِ حال تبدیل ہوگئی۔