اپریل۲۰۲۲

فہرست مضامین

کیا کوئی سوچنے کے لیے تیار ہے؟

پروفیسر خورشید احمد، سلیم منصور خالد | اپریل۲۰۲۲ | اشارات

وطنِ عزیز کے موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات پر نظر ڈالیں تو سخت تشویش ناک منظر سامنے آتا ہے۔

۲۳ کروڑ آبادی کا ملک بے یقینی اور بداعتمادی کا شکار ہے۔ لاکھوں انسانوں کی کتنی عظیم قربانیوں کے بعد یہ وطن حاصل ہوا؟ یوں لگتا ہے کہ اس سوال کو پاکستان کی دوسری اور تیسری نسل کے ذہنوں سے کھرچ کر مٹا دیا گیا ہے۔ عوام بظاہر بے بس ہیں لیکن وہ اتنے بے گناہ بھی نہیں۔ آخری ذمہ داری بہرحال عوام کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بگاڑ کو فروغ دینے میں ہرکسی نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اخبار، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا اور سماجی محفلوں میں بیٹھیں تو تعمیر کی بات خال خال ہوتی ہے، اور تخریب، جنگ و جدل اور انتقام در انتقام کا تذکرہ ہرچیز پر حاوی ہوجاتا ہے۔ اور ایوانِ حکومت و سیاست کسی مچھلی منڈی کا منظر پیش کررہا ہے۔ اہلِ اختیار نے قوم کو ایک ایسی اندھی سرنگ میں دھکیل دیا ہے، جس کے دوسرے سرے پر روشنی کی کوئی کرن بمشکل نظر آتی ہے۔

ہم نہایت اختصار کے ساتھ، قارئین کے سامنے چند معروضات پیش کر رہے ہیں:

  • کچھ بھی کہا جائے، پاکستان کے حالات کو بگاڑنے میں کلیدی کردار اُن مؤثر سیاست دانوں نے ادا کیا، جنھوں نے ملازمینِ ریاست (سول اور فوجی) کو اپنی حدود سے باہر نکل کر اقتدار کے کھیل کا کھلاڑی بننے کا نہ صرف موقع دیا، بلکہ اس میں شریک رہے۔ اگر ہماری سیاسی قیادت اپنے وقتی اقتدار اور ذاتی و گروہی مفاد کی سطح سے بلند ہوکر، قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں آئین سازی پر توجہ مرکوز رکھتی، اور صحیح جمہوری اصولوں کے مطابق ملک کی نظریاتی بنیادوں کو معاشی و سماجی عدل کی بنیاد پر مستحکم کرتی، اور نظامِ حکومت کو اچھی کارکردگی کے ساتھ چلاتی تو عوامی اقتدار کے ایوانوں اور راہداریوں میں غیرسیاسی عناصر کے ناجائز تجاوزات کا وہ ہنگامہ برپا نہ ہوتا، جس کے نتائج قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ مراد یہ ہے کہ پہلے تو ہماری سیاسی قیادت نے دستور سازی میں غفلت برتی اور بعد میں صدقِ دل سے دستور پر عمل نہ کرکے عملاً دستور کو تسلیم کرنے سے نہ صرف پہلوتہی برتی بلکہ اس سے کھلم کھلا انحراف کیا۔

پھر انھی سیاست دانوں نے آنے والے اَدوار میں، اقتدار اور سیاست کو اعلیٰ قومی و تہذیبی  مقاصد و اہداف کے حصول کا ذریعہ بنانے کے بجائے، محض حصولِ اقتدار، جلب ِ زر اور اپنے سماجی رُتبے کی بلندی کا ذریعہ بنایا۔ قومی و عالمی حالات سے واقفیت، علم و دانش میں وسعت اور مسائل و معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت کو نچلی سطح سے بھی کم تر درجے کا مقام دیا گیا۔ اس طرح کی ناخواندہ اور اَن پڑھ سیاسی قیادت نے اپنے مقام و مرتبہ کو کچھ ملازمین کے ہاتھوں رہن رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ سیاسی قیادتوں کا اپنی پارٹیوں میں آمریت مسلط کرنا، میرٹ کے بجائے اقرباپروری اور خوشامد کو اوّلیت دینا، مشاورت کی روح کچلنا اور اپنے مفادات کے لیے دن رات وفاداریاں تبدیل کرتے رہنا___ ان علّتوں نے اعتماد اور تعاون کے سرچشموں کو گدلا کر کے رکھ دیا۔

  • دوسری ذمہ داری ہماری اعلیٰ فوجی قیادت پرآتی ہے، جس نے جنرل محمد ایوب خاں کے زمانے سے اقتدار میں بالواسطہ اور پھر بلاواسطہ دراندازی اختیار کی۔ پھر رفتہ رفتہ سیاسی پارٹیوں، صحافیوں اور سول ملازمین میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دی اور آخرکار اقتدار پر قابض ہوگئے۔ فوجی حکمران بظاہر تو چار اَدوار میں تقسیم ہیں، یعنی محمد ایوب خاں، آغا یحییٰ خان ، محمد ضیاء الحق، پرویز مشرف اور اقتدار شماری کے ۳۳برس___  مگر یہ گنتی حدرجہ غیرحقیقی ہے۔ حقائق کی دُنیا میں، براہِ راست اور بالواسطہ یہ اقتدار کم و بیش ۶۵برس پر پھیلا ہوا ہے۔ اس چیز نے ایک طرف وطن عزیز کی دفاعی صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب خود قومی فوج نہ صرف بار بار متنازع بنی بلکہ سول میدان میں تعامل کے نتیجے میں کئی خرابیوں سے بھی دوچار ہوئی۔ اگرچہ اسی فوج نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بڑے پیمانے پر پیش کیا ہے، اور بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جو ہماری تاریخ کا قابلِ فخر باب ہے۔ مگر سیاسی کھیل میں اس براہِ راست یا بالواسطہ شرکت نے مسلح افواج کے کردار کو گہنانے میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ چونکہ یہ بات ایک روشن سچ ہے اس لیے ہر آمر اور اس کے ساتھیوں نے وقت گزرنے کے بعد اس مہم جوئی کی مذمت ضرور کی۔
  • تیسری ذمہ داری ہماری اعلیٰ عدلیہ پر آتی ہے۔ ہرچند کہ عدلیہ نے بہت قابلِ ذکر خدمات انجام دی ہیں، مگر ملک کو دستور، اصول اور قاعدے کی پٹڑی سے اُتارنے اور ماورائے دستور حکمرانی کی افزایش میں اعلیٰ عدلیہ سے ایسے اقدام بھی سرزد ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں دستور و قانون کی بالادستی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔اسی طرح عدالتی فعالیت نے عوام کی داد رسی کم اور بیان بازی کے کلچر کو زیادہ فروغ دیا ہے۔ یہ سب چیزیں ہمارے عدالتی نظام کو ضُعف پہنچانے کا سبب بنی ہیں۔
  • چوتھی ذمہ داری اہلِ صحافت اور اصحابِ دانش پر عائد ہوتی ہے۔ کسی قوم کا حدردرجہ قیمتی طبقہ اس کے اہلِ صحافت اور دانش وروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد ہماری صحافت، گروہی تقسیم کی اُن گھاٹیوں میں گم ہوئی کہ عوام کو مبالغہ آمیزی کی خوراکیں دی گئیں، تسلسل کے ساتھ جھوٹ سنایا گیا، اور سچ کو بڑی عیّاری سے چھپایا گیا۔ چند قابلِ احترام صحافت کاروں کو چھوڑ کر، ہماری قومی اور علاقائی صحافت، پاکستان میں سیاسی و قومی تخریب کا ذریعہ بنی۔

اہلِ دانش، درحقیقت کسی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور اس کے مستقبل اور وقار کا تاج ہوتے ہیں۔ بلاشبہہ قدرتِ حق نے ہمیں دانش سے آراستہ افراد عطا کیے۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ پاکستان کے سادہ لوح شہریوں کو، جن میں تمام علاقوں کے لوگ شامل ہیں، انھی مؤثر دانش وروں نے لڑانے، نفرت کو بڑھاوا دینے اور تعمیر و ترقی کا راستہ روکنے میں وہ رویہ اختیار کیا، جس پر سوائے افسوس کے کیا کہا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فساد کی صورتِ حال میں وہ کوئی مؤثر قومی خدمت انجام نہ دے پائے۔

  • قومی تعمیر میں اساتذہ، بالخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کا کردار بڑا مرکزی ہوتاہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں یونی ورسٹی اساتذہ، قومی پالیسیوں کی تشکیل میں بہت قیمتی حصہ ڈالتے ہیں اور اس سے بڑھ کر وہ اپنے ہونہار شاگردوں کی صورت میں قوم کو ایسی ٹیم تیار کر کے دیتے ہیں، جو قدم قدم پر قوم کو رہنمائی دینے میں اہم حصہ ادا کرتی ہے۔مگر ہمارے اساتذہ کی اکثریت نے اپنے فرائض سے غفلت برتی۔ اسی لیے جب ہم اپنی اعلیٰ درس گاہوں کے احوال دیکھتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے۔ یہ درس گاہیں ڈگریوں کی افزائش میں تیز تر، لیکن اعلیٰ ذہن تخلیق کرنے میں سُست تر نظر آتی ہیں۔
  • چھٹی ذمہ داری سول ملازمین (بیوروکریسی) پر عائد ہوتی ہے، کہ ان میں بہت سے مؤثر ملازمین نے اقتدار پرست طبقوں کی ہوس پورا کرنے میں اُنھیں تحفظ دیا اور یوں قوم کو خوار کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ نوکر شاہی کے ان کارندوں نے فوجی اور سیاسی قیادت کو غیرقانونی افعال چھپانے کے گُر سکھائے۔ عوام سے غلاموں کا سا سلوک روا رکھا، اور زندگی کے معاملات مستعدی سے چلانے کے بجائے سُست روی کا رویہ اپنایا۔ یوں اپنے نوکر شاہانہ اقتدار کومستحکم کیا۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان چھے طبقوں کے نامناسب رویوں نے وہ صورتِ حال پیدا کردی ہے، جس سے ہم دن رات گزر رہے ہیں۔ اہلِ سیاست اور صاحب ِ اختیار گروہوں اور طبقوں کی نظر میں اگر کوئی سب سے زیادہ بے وزن چیز ہے تو وہ دستورِاسلامی جمہوریہ پاکستان اور پاکستانی عوام ہیں۔ انھیں اس چیز سے کچھ غرض نہیں کہ ان کی جنگ ِ اقتدار کے نتیجے میں ملک کا کتنا نقصان ہوتا ہے؟ انھیں کچھ فکر نہیں کہ ان کی ضد اور محض ہوس اقتدارکے نتیجے میں قوم کے مستقبل کی راہ میں کون کون سے ہمالہ کھڑے ہورہے ہیں؟ ہرگز نہیں! یہ تو بس یہ سمجھتے ہیں کہ ۲۳کروڑ عوام محض اُن کی غلامی کے لیے ان کو ورثے میں ملے ہوئے ہیں۔ انجامِ کار بدانتظامی، معاشی بے تدبیری ، قانونی شکنی اور نفرت آمیزی نے فساد کی آگ کو بھڑکا رکھا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اس طرح کی صورتِ حال میں پاکستان امن و سکون اور تعمیروترقی کا گہوارہ بن سکے۔ ذرا سوچیے تو!