’ضبط ِ ولادت‘ کے موضوع پر ، پروفیسر خورشیداحمد صاحب کی یہ تحریر محترم مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی کتاب ضبطِ ولادت: عقلی و شرعی حیثیت سے (دارالاشاعت، کراچی، جنوری ۱۹۶۱ء) کے آغاز میں بطورِ ’مقدمہ‘ شائع ہوئی تھی۔ تاہم، مولانا عثمانی صاحب نے مذکورہ کتاب کے تازہ ایڈیشن میں اسے شامل نہیں کیا۔ حالانکہ اصل کتاب کے مقدمے میں خورشیدصاحب سے ممنونیت کا واضح الفاظ میں ذکر موجود تھا، جیساکہ خود خورشیدصاحب کے مقدمے کے آخری جملوں میں بھی کلماتِ تحسین درج ہیں۔ ۶۵برس گزرنے کے بعد آج بھی پاکستان میں مغرب کے کاسہ لیس، ضبط ِ ولادت کی نسبت سے انھی گھسے پٹے ’دلائل‘ کی جگالی کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔(ادارہ)
قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ۱۶ۙ ثُمَّ لَاٰتِيَنَّہُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَيْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِہِمْ۰ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَہُمْ شٰكِرِيْنَ۱۷ (الاعراف ۷:۱۶-۱۷) بولا’’اچھا تو جس طرح تُو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تُو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا‘‘۔
تاریخ شاہد ہے کہ شیطان ہر دور اور ہر زمانے میں آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہرسمت سے حملہ آورہوا ہے، اور اس نے طرح طرح کےجال انسان کو گمراہ کرنے کے لیے بچھائے ہیں۔ دورِجدید میں جو حسین اور دل کش فریب شیطان نے انسان کو دیئے ہیں، ان میں سے ایک غربت و افلاس کے ڈر سے قطع نسل اور تحدیدِ نسل بھی ہے۔ بظاہر تو یہ منصوبہ بڑا سادہ اور معصوم سا معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ اسلامی تہذیب و تمدن پر ایک بڑا ہی گہرا وار ہے، اور اس کی زد عقیدے اور ایمان، اخلاقی اقدار اور معاشرتی روایات، سماج اور تمدن سب پر پڑتی ہے، بلاشبہہ: ع
ترے نشتر کی زد شریانِ قیس ناتواں تک ہے
یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ مسلم ممالک بھی آہستہ آہستہ شیطان کے اس نئے حملے کے آگے سپر ڈالنے لگے ہیں، اور اس معاشی مغالطے کا شکار ہورہے ہیں، جس کا تانا بانا ابلیسی فکر نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ بنا ہے۔
تحدید ِ نسل کا مسئلہ اصلاً ایک معاشی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ جن حضرات کی نگاہ حالاتِ جدیدہ پر ہے، وہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ دورِ جدید میں یہ دراصل ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کی پشت پر بڑی خطرناک ذہنیت کام کر رہی ہے۔
تاریخ کا ہر طالب علم اس بات کو جانتا ہے کہ کثرتِ آبادی کی بڑی سیاسی اہمیت ہے۔ ہرتہذیب نے اپنے تعمیری اور تشکیلی دور میں آبادی کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مشہور مؤرخ وِل ڈورانٹ (Will Durrant) نے اسے تہذیبی ترقی کا ایک بڑا اہم سبب قرار دیا ہے۔ ٹائن بی (Toynbee) بھی کثرتِ آبادی کو ان چیلنجوں میں سے ایک قرار دیتا ہے جو تہذیب کے ارتقاء کا باعث ہوتے ہیں۔ تاریخ کی ان تمام اقوام نے، جنھوں نے کوئی عظیم کارنامہ انجام دیا ہے ہمیشہ تکثیر آبادی ہی کی پالیسی اختیار کی ہے۔ اس کے برعکس زوال پذیر تہذیبوں میں آبادی کی قلّت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور آبادی کی قلّت بالآخر اجتماعی قوت کے اضمحلال پر منتج ہوتی ہے۔ اور وہ قوم جو اس حالت میں مبتلا ہوجائے، آہستہ آہستہ گمنامی کے غار میں گر جاتی ہے۔ تہذیب کے جتنے بھی قدیم مراکز ہیں، ان تمام کی تاریخ کے مطالعے سے یہی حقیقت سامنے آتی ہے۔ خود اسلامی تاریخ میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کے عروج کا زمانہ بھی وہی تھا جب ان کی قوم میں نیا خون تیزی کے ساتھ شامل ہورہا تھا اور ان کی تعداد برابر بڑھ رہی تھی۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ سب سے سچے انسان (فداہٗ ابی و امّی) نے فرمایا تھا کہ ’’ایسی عورت سے نکاح کرو جو محبت کرنے والی اور بچّے جننے والی ہو‘‘۔
اور خود ہمارے زمانے میں بھی جرمنی اور اٹلی اسی پالیسی پر عامل رہے ہیں، اور روس اور چین آج بھی اس پر شدت سے عمل کر رہے ہیں۔ وہ آبادی کو اپنا قومی اثاثہ سمجھتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنی سیاسی سطوت تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ تاریخ کا بے لاگ فتویٰ ہے کہ آبادی اور سیاسی قوت و اقتدار ساتھ ساتھ جاتے ہیں۔ ایک تہذیب کے تعمیروترقی کے دور میں آبادی بڑھتی ہے اور اس کے انحطاط کے زمانے میں آبادی میں کمی آتی ہے۔فطرت کا یہی قانون جدید مغرب میں بھی اپنا عمل دکھا رہا ہے۔
دُنیا میں آبادی کی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ ایشیا اور عالمِ اسلام آبادی کے سب سے بڑے مراکز ہیں۔ ان ممالک کے مقابلے میں مغربی ممالک کی آبادی نمایاں طور پر کم ہے۔ گذشتہ پانچ سو برسوں میں مغرب کی سیاسی قیادت و بالادستی کی بنیاد وہ سائنسی اور میکانیکی فوقیت تھی جو اسے مشرقی ممالک پر حاصل تھی، اور جس کی وجہ سے اس نے آبادی کی کمی کے باوجود سیاسی حکمرانی قائم کرلی، اور اس غلط فہمی کا شکار ہوگیا کہ اب آبادی کی اہمیت زیادہ نہیں ہے __ لیکن نئے حالات اور حقائق نے غلط فہمی کے اس طلسم کو چاک کردیا ہے۔
مغربی اقوام کی آبادی کے مسلسل کم ہونے سے ان کی سیاسی طاقت میں بھی انحطاط آنا شروع ہوا اور پہلی جنگ عظیم کے موقعے پر یہ احساس عام ہوگیا کہ تحدید آبادی کا مسلک سیاسی اور اجتماعی حیثیت سے بڑا مہنگا پڑ رہا ہے۔ فرانس نے اپنی عالمی پوزیشن آہستہ آہستہ کھودی اور مارشل پٹین نے اس امر کا اعتراف کیا کہ فرانس کے زوال کا ایک بڑا بنیادی سبب آبادی کی کمی ہے۔ برطانیہ کے متعلق سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کے صاحبزادے مسٹر رینڈ الف چرچل نے جو خود پارلیمنٹ کے ممبر اور ایک مشہور سیاسی مبصر اور صاحب ِ قلم ہیں۔ اس بات کا اظہار کیا کہ: ’’میں نہیں سمجھتا کہ ہماری قوم بالعموم اس خطرے سے آگاہ ہوچکی ہے کہ اگر ہماری شرح پیدائش اسی طرح گرتی رہی تو ایک صدی میں برطانیہ کی آبادی صرف ۴۰ لاکھ رہ جائے گی اور اتنی کم آبادی کے بل بوتے پر برطانیہ دُنیا میں ایک بڑی طاقت نہ رہ سکے گا‘‘۔
اس وجہ سے یورپ کی تقریباً تمام ہی اقوام نے اپنی پالیسی کو بدلا اور گذشتہ ۳۰ برس سے وہ آبادی کو بڑھانے کے مسلک پر عمل پیرا ہیں اور حکومت افزائش نسل کی ہرممکن حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ فرانس نے اسقاطِ حمل اور تحدید نسل کی تمام کارروائیوں کو قانوناً ممنوع کیا۔ ہٹلر اور مسولینی کے تحت جرمنی اور اٹلی نے انھیں نہ صرف سخت ترین جرم قرار دیا بلکہ مثبت قانونی، معاشرتی اور معاشی تدابیر سے بچوں کی تعداد بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی۔
سویڈن نے ایک سرکاری کمیشن مقرر کیا کہ وہ حالات کا جائزہ لے اور اس کمیشن کی سفارشات پر ’بڑے خاندان‘ کی پالیسی اختیار کی گئی۔ شادی شدہ لوگوں کے لیے ٹیکس کی شرح کم کی گئی اور بے شمار دوسری مراعات بچوں کے لیے فراہم کی گئیں۔انگلستان کے وزیرداخلہ ہربرٹ موریسن نے ۱۹۴۳ء میں یہ ہدف قوم کے سامنے رکھا کہ ہر خاندان میں کم از کم ۲۵ فی صد کا اضافہ ہونا چاہیے۔ یہی پالیسی امریکا نے اختیار کی اور اس وقت مغربی دُنیا کے تمام ممالک یہی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں شرحِ پیدائش برابر بڑھ رہی ہے اور اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے ہوسکتا ہے:
اس وقت مغرب کی تمام ہی اقوام اپنی آبادی کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن یہ اضافہ مشرقی اقوام کی آبادی کے اضافہ کے مقابلے میں کم ہے۔ محض اس کے سہارے مغربی اقوام کو اپنا سیاسی اقتدار قائم رکھنا مشکل نظر آتا ہے۔ پھر وہ فنی، سائنسی اور تکنیکی معلومات جو آج تک مشرق پر مغرب کی بالادستی قائم رکھے ہوئے تھیں اور جن سے مشرقی ممالک کو بڑی کوشش کے بعد محروم رکھا گیا تھا، آج ان ممالک میں بھی عام ہورہی ہیں۔ چونکہ ان ممالک کی آبادی بھی مغربی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے نئے مشینی آلات سے آراستہ ہونے کے بعد اقوام کے محکوم رہنے کا کوئی امکان نہیں، بلکہ فطری قوانین کی وجہ سے اس انقلاب کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مغرب کی سیاسی قیادت کے دن گنتی کے رہ جائیں گے اور نئی عالمی قیادت ان مقامات سے اُبھرے گی جہاں آبادی بھی زیادہ ہے اور جو فنی اور تکنیکی مہارت رکھتے ہیں۔ ان حالات میں مغرب اپنی سیادت کو قائم رکھنے کے لیے ایک ایسا کھیل کھیل رہا ہے، جو فطرت کے قانون کے خلاف ہے اور جو خود اس کے لیے بھی طویل عرصے میں نقصان دہ ثابت ہوگا، یعنی مشرقی ممالک میں تحدید نسل اور ضبط ِ ولادت کے ذریعے آبادی کو کم کرنے کی کوشش اور فنی معلومات کی ترویج میں رخنہ اندازی___ ہم یہ بات کسی تعصب کی بنا پر نہیں کہہ رہے بلکہ ہم خود مغربی ذرائع ہی سے اسے ثابت کرسکتے ہیں۔ مغرب میں آبادی کے مسئلے پر بیسیوں کتابیں ایسی آئی ہیں، جو آبادی کی کمی کے سیاسی اثرات کو واضح کررہی ہیں اور جن کے اثر کے طور پر خود حکومتی پالیسی میں تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ سارا لٹریچر ہمارے دعوے کے لیے ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح پروفیسر فرینک نوٹینسن ٹین مشہور امریکی رسالے Foreign Affairs میں لکھتے ہیں:
اب اس کا کوئی امکان نہیں کہ شمالی مغربی یا وسطی یورپ کی کوئی قوم دُنیا کو چیلنج کرسکے۔ جرمنی دوسری یورپی اقوام کی طرح اس دور سے گزر چکا ہے جب وہ دُنیا کی غالب طاقت بن سکے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اب فنی اور تکنیکی تہذیب ان ممالک میں بھی پہنچ گئی ہے، جن کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ (اپریل ۱۹۴۴ء)
دراصل یورپ کی سیاسی قیادت کو بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں ایشیا اور عالمِ اسلام کی بڑھتی ہوئی آبادی سے شدید خطرہ ہے۔ امریکی رسالہ ٹائم اپنی ۱۱جنوری ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:
کثرتِ آبادی (Over-Population) کے متعلق امریکا اور یورپی اقوام کی بوکھلاہٹ اور ان کے تمام وعظ و نصیحت بڑی حد تک بے نتیجہ ہیں۔ اُن سیاسی نتائج و اثرات کے احساس کا جو نئے حالات اور ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کی آبادی کے بڑھنے اور غالب اکثریت حاصل کرلینے کی بناپر متوقع ہیں۔
یعنی مستقبل میں غالب قوت ان ممالک کو حاصل ہوگی، جن کی آبادی زیادہ ہے اور جو نئی تکنیک سے بھی آراستہ ہیں۔ اب اس کا تو کوئی امکان نہیں کہ نئی تکنیک سے ان ممالک کو مزید محروم رکھا جائے۔ اس لیے مغربی سیادت و قیادت کو قائم رکھنے والی صرف ایک چیز ہوسکتی ہے اور وہ ہے ان ممالک میں تحدید نسل اور ضبط ِ ولادت! یہی وجہ ہے کہ تمام مغربی ممالک، مشرقی ممالک میں پروپیگنڈا کی بہترین قوتوں سے مسلح ہوکر یہاں ضبط ولادت کی تحریک کو ترقی دے رہے ہیں اور سادہ لوح مسلمان اس چال میں خود پیش قدمی کرکے پھنس رہے ہیں: ؎
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات!
لیکن اب بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے۔ اگر اب ہم نے دھوکا کھایا تو پھر کل ہمارا کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہوگا، اور ہمارے جو ’ہمدرد‘ آج پوری شفقت کے ساتھ ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کا درس دے رہے ہیں، کل یہی ہماری کمزوری سے فائدہ اُٹھا کر ہم پر اپنا تسلط قائم کریں گے اور ہم اُف بھی نہ کرسکیں گے۔ اسی خطرے کو حکیم الامت علّامہ اقبال نے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور قوم کو تنبیہہ کی تھی کہ اس سے ہوشیار رہے ۔ ان کے یہ الفاظ آج بھی ہمیں دعوتِ فکر وعمل دے رہے ہیں:
عام طور پر اب ہندستان میں جو کچھ ہورہا ہے یا ہونے والا ہے، وہ سب یورپ کے پروپیگنڈے کے اثرات ہیں۔ اس قسم کے لٹریچر کا ایک سیلاب ہے جو ہمارے ملک میں بہہ نکلا ہے۔ بعض دوسرے وسائل بھی ان کی تشویق و ترویج کے لیے اختیار کیے جارہے ہیں، حالانکہ ان کے اپنے ممالک میں آبادی کو گھٹانے کے بجائے بڑھانے کے وسائل اور تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ اس تحریک کی ایک بڑی غرض میرے نزدیک یہ ہے کہ یورپ کی اپنی آبادی، اس کے اپنے پیدا کردہ حالات کی بناپر جو اس کے اختیار و اقتدار سے باہر ہیں، بہت کم ہورہی ہے اور اس کے مقابلے میں مشرق کی آبادی روز بروز بڑھ رہی ہے اور اس چیز کو یورپ اپنی سیاسی ہستی کے لیے خطرئہ عظیم سمجھتا ہے۔(رسالہ الحکیم، لاہور، ماہ نومبر ۱۹۳۶ء، بحوالہ ہمدرد صحت ، دہلی، جولائی ۱۹۳۹ء، ص ۱۸۲)
یہ ہے اس مسئلے کی اصل حقیقت! پھر ہمارے ملک کے لیے تو کچھ خاص حالات کی بنا پر آبادی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ٹھیٹھ دفاعی نقطۂ نظر سے ہماری حیثیت بتیس دانتوں کے درمیان ایک زبان کی سی ہے۔ ایک طرف ہندستان ہے جس کی آبادی ہم سے چارگنا زیادہ ہے۔ دوسری طرف روس ہے جس کی آبادی ہم سے تین گنا زیادہ ہے، اور تیسری طرف چین ہے جس کی آبادی ہم سے آٹھ گنا زیادہ ہے اور تینوں کی نگاہیں ہمارے اُوپر لگی ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں ہمارے دفاع کا حقیقی تقاضا کیا ہے؟ آیا یہ کہ ہم آبادی کو کم کرکے اپنی قوت کو اور بھی مضمحل کرلیں یا ہرممکن ذریعے سے اپنے کو اتنا قوی اور مؤثر بنالیں کہ کوئی دوسرا ہماری طرف بُری نگاہ ڈالنے کی ہمت بھی نہ کرسکے۔
اگر یہ کہا جائے کہ آج کی جنگ میں انسان کے مقابلے میں آلات زیادہ اہم ہیں، تو ہم یہ کہیں گے کہ ایٹمی ترقیات کے بعد پھر انسان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ آخر اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ کوریا کی جنگ میں چین نے محض اپنی عدد ی کثرت کی وجہ سے امریکا کے بہترین ہتھیاروں کو بھی بے اثر کردکھایا تھا۔ اس لیے آج آبادی کی دفاعی اہمیت کا ایک نیا احساس پیدا ہوگیا ہے اور عالمِ اسلام کو محض آنکھیں بند کرکے مغرب کی نقالی میں کوئی ایسی روش اختیار نہ کرنی چاہیے، جو اس کے لیے ملی خودکشی کے مترادف ہو۔
آبادی کی یہ دفاعی اہمیت صرف پاکستان ہی کے لیے نہیں ہے، عرب دُنیا کے لیے بھی اس کی اہمیت کچھ کم نہیں۔ وہاں اسرائیل اپنی آبادی کو بڑھانے کی پالیسی پر عامل ہے اور اس کے مقابلے کے لیے پورے عالم اسلام کو تیار ہونا ہے۔ اسی طرح مغربی دُنیا اور اشتراکی دُنیا میں جو کش مکش جاری ہے، اس میں بھی عالمِ اسلام کا ایک مرکزی رول ہے۔ اگر یہاں کی آبادی برابر کم ہوتی ہے تو اس کا فائدہ کمیونسٹ ممالک کے علاوہ کسی کو نہ پہنچے گا۔ یہاں کی آبادی کی تحدید کرکے مغربی اقوام ایک موہوم منفعت عاجلہ کے لیے ایک حقیقی خطرہ مول لے رہی ہیں، جو خود ان کی دفاعی لائن کو بڑا کمزور کردے گا۔
ہماری اس بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج آبادی کا مسئلہ اصلاً ایک سیاسی مسئلہ ہے، اور اسے پوری سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ حل کرنا چاہیے، اور وہ مسلک اختیار کرنا چاہیے جس سے ہم اور پورا عالم اسلام نہ صرف اپنی آزادی کو قائم رکھ سکیں بلکہ بین الاقوامی اُمور میں اپنا صحیح کردار اداکرنے لگیں۔ ہمیں پرائے شگون پر اپنی ناک کٹانے کی حماقت ہرگز نہ کرنی چاہیے۔
آبادی کے مسئلے کی سیاسی نوعیت کو ہم نے اُوپر واضح کر دیا ہے، لیکن ضروری ہے کہ اس بڑی بنیادی غلط فہمی کو بھی دُور کیا جائے، جس کا راگ ضبط ِ ولادت کے مؤیدین صبح و شام الاپتے ہیں، یعنی ’یہ اصل مسئلہ معاشی ہے اور پیداوار کی قلت کا واحد حل تحدید نسل ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو زمین پر تل دھرنے کی جگہ نہ رہے گی اور سخت تباہی مچے گی‘۔ یہ استدلال بھی اپنی کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس کی حیثیت محض پروپیگنڈے سے زیادہ نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات گویبلز کے اس اصول پر کام کر رہے ہیں کہ ’’ایک جھوٹ کو اس کثرت سے نشر کرو کہ دُنیا اس کو سچ جان لے‘‘۔
یورپ میں تحدید نسل کی تحریک کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔ مالتھس نے آبادی کا معاشی پہلو واضح کیا تھا لیکن تحدید نسل کا کوئی پروگرام اس کے لیے پیش نہ کیا۔ انگلستان میں سب سے پہلے فرانسس پیلس نے ۱۸۲۲ء میں ایک کتاب آبادی کے مسئلہ کی تفصیلات اور اس کے ثبوت لکھی۔ اور فرانسس پیلس، جان اسٹورٹ مل اور ٹی جے وولر نے اس تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ اس زمانے (۱۸۲۵ء) میں ایک کتاب محبت کیا ہے؟ لکھی گئی، جس کا مصنف رچرڈ کارلائل تھا۔ (اسے مشہور مؤرخ تھامس کارلائل نہ سمجھا جائے)اور اس نے بڑی بے باکی اور بے غیرتی کے ساتھ ضبط تولید کے ذریعے آسان اور بے ضرر محبت کا نظریہ پیش کیا۔
انگلستان میں یہ تحریک آٹھ دس سال تک بڑے زوروشور سے چلی، لیکن ابھی اخلاقی قدریں اتنی بے وزن نہیں ہوئی تھیں کہ یہ تحریک پائوں جماسکتی،اس لیے حباب کے مانند اُبھری اور دب گئی۔ یہ تحریک انیسویں صدی کے ربع آخر میں دوبارہ اُبھری۔ اب اس نے باقاعدہ ایک تنظیم کی شکل بھی اختیار کرلی۔ انگلستان میں مالتھوسین لیگ (Malthusean League) قائم ہوئی اور یورپ کے دوسرے ممالک میں ایسی ہی تنظیمیں قائم ہونے لگیں۔ ۱۸۷۶ء میںچارلس بریڈلا (Charles Bredlaugh) اور مسٹر اینی بسنٹ (Annie Basant) نے یہ ’جہاد‘ شروع کیا اور جلدہی اس تحریک کو مقبولیت حاصل ہوئی، خصوصیت سے طبی حلقوں نے اس کی بڑی رہنمائی کی اور ڈاکٹرڈریسڈیل اور ان کی اہلیہ نے تو اس مہم میں اپنی جان ہی کھپادی۔
امریکا میں رابرٹ ڈیل اووین نے ۱۸۳۰ء میں ایک کتاب Moral Physialogy (اخلاقی افعال الاعضاء) لکھی۔ ۱۸۳۲ء میں ڈاکٹر چارلس ناولٹن نے Fruits of Philosphy (ثمراتِ فلسفہ) کے نام سے ضبط ِ تولید کے نظریات کو پیش کیا اور آزاد خیالی کا سہارا لے کر اس تحریک کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر ناولٹن کا تعلق طبّی پیشے سے تھا، لیکن اس کی کتاب مبلغانہ انداز میں لکھی گئی۔ ان تحریرات نے فضا کو اس تحریک کے لیے سازگار بنایا، لیکن باقاعدہ تنظیم بند ی کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا، جب کہ اس تحریک کی سب سے سرگرم کارکن مسز مارگریٹ سنیگر نے [مارچ ۱۹۱۴ء میں] The Woman Rebel (باغی عورت )کے نام سے ایک رسالہ نکالا [جس کا نعرہ تھا: No Gods, No Masters]۔ ۱۹۲۱ء میں ایک ملکی کانفرنس کی اور بالآخر ’برتھ کنٹرول لیگ‘ قائم کی۔ ۱۹۲۳ء سے کلینک بھی قائم ہونا شروع ہوئے اور ۱۹۳۹ء میں پورے ملک کی ضبط ِ تولید کی تنظیموں کی فیڈریشن قائم ہوئی۔ ۱۹۴۳ء میں اس فیڈریشن کا نام بدل کر Planned Parenthood Federation of America کردیا گیا اور جب ہی سے ضبط ِ تولید کی جگہ ’خاندانی منصوبہ بندی‘ کا زیادہ ’معصوم‘ نام مستعمل ہونے لگا۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مغربی ممالک میں یہ تحریک وسط انیسویں صدی سے شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ تمام یورپ اور امریکا میں پھیل گئی، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ان ممالک میں پیداوار کی قلّت تھی؟ کیا رفتار پیداوار سُست تھی؟ کیا فی کس آمدنی برابر گر رہی تھی؟___ اس لیے کہ اگر یہ تحریک معاشی وجوہ کی بناپر اختیار کی گئی تھی تو ان سوالات کا جواب اثبات میں ہونا چاہیے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس زمانے میں ان تمام ممالک میں دولت کی ریل پیل تھی۔ پیداوار بڑی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ صنعتی انقلاب اور اس کے تضمنات کی وجہ سے قومی آمدنی اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہورہا تھا ، اور ہرحیثیت سے خوش حالی کا دور دورہ تھا۔ مثال کے طور پر انگلستان میں ۱۸۳۸ء-۱۸۶۰ء کے درمیان فی کس آمدنی میں ۲۳۱فی صد کا اضافہ ہوا تھا اور عام خوش حالی کا معیار بلند ترین تھا۔ ۱۸۴۰ء اور ۱۸۸۶ء میں فی کس صرفہ (Per Capita Consumption) میں بھی نمایاں فرق ہوا، جس کا اندازہ مندرجہ ذیل جدول سے ہوسکتا ہے:
یہ جدول عام خوش حالی کوظاہر کرتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دولت بڑھ رہی تھی، پیداوار میں اضافہ ہورہا تھا ، اُجرت بھی روز افزوں تھی اور عام خوش حالی کا معیار بھی بلندتر ہورہا تھا تو پھر تحدید نسل کی معاشی ضرورت کہاں پائی جاتی تھی؟
یہی حال امریکا کا ہے۔ امریکا میں ۱۸۰۹ء- ۱۹۲۹ء کے درمیان کل ملکی دولت ۷؍ارب ڈالر سے بڑھ کر ۷۹۵؍ ارب ڈالر پر پہنچ گئی تھی۔ اگر آبادی کے اضافے کو بھی شامل کرلیا جائے تو فی کس آمدنی (Per Capita Income) اس زمانے میں ۱۳۱ ڈالر سے بڑھ کر ۶۵۴ ڈالر ہوگئی تھی، یعنی یہاں بھی تقریباً ۵۰۰ فی صد کا اضافہ ہوا۔ ایسی حالت میں ضبط ِ تولید کی آخر کون سی معاشی وجوہ موجود تھیں؟
اگر یورپ اور امریکا کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ غلط فہمی بالکل دُور ہوجاتی ہے کہ اس تحریک کی معاشی بنیادیں بھی تھیں۔ دراصل معاشی دلائل کی حیثیت محض ہاتھی کے ظاہری دانتوں کی سی تھی جن کی کوئی حقیقی اور عملی اہمیت نہ تھی اور جنھیں صرف فضا کو سازگار کرنے اور کم علم لوگوں کو بہکانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور یہی صورت آج بھی ہے۔ مشہور انگریز معاشی مفکر پروفیسر کولن کلارک (Colin Clark)نے اس سلسلے میں بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’آبادی کو ہّوا بناکر پیش کرنے والے محض پروپیگنڈا باز(Propagandist) ہیں اور ان کے ذہنوں کی تہ میں ’مخالف مذہب‘ مفروضات موجود ہیں‘‘۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان کا نقطۂ نظر ساینٹی فک ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں کہنا پڑے گا کہ شاید صفحۂ ہستی پر سائنس دانوں کا ایسا کوئی اور گروہ موجود نہیں جس کی معلومات ان حقائق کے متعلق جن سے ان کا سابقہ ہے، اس درجہ غلط ہو۔بہت سے مالتھوسنیوں کو تو آبادی کے متعلق بنیادی حقائق کی عام معلومات تک نہیں ہیں اور جو آبادی کی شماریات میں کچھ شُدبُد رکھتے ہیں وہ بھی سب کے سب بلاشبہ معاشی فکر سے بالکل نابلد ہیں۔ (Colin Clark, Population growth and hiving .....)
آج بھی دُنیا کے معاشی وسائل بے انتہا ہیں اور نہ صرف موجودہ آبادی بلکہ اس سے ۱۰گنا آبادی تو صرف معلوم وسائل کے ذریعے مغربی ممالک کے اعلیٰ معیار پر زندگی گزار سکتی ہے۔ یہی حالت خود ہمارے اپنے ملک کی ہے، جہاں دولت کے خزانے خوابیدہ پڑے ہیں۔ ان ہاتھوں کا انتظار کر رہے ہیں جو انھیں بیدار کرسکیں۔
]اس موضوع پر اسلام اور ضبط ِ ولادت از مولانا مودودی شائع ہوچکی ہے۔ اصل کتاب کے تازہ ایڈیشن میں اضافوں کے لیے مَیں نے مولانا محترم کی معاونت کی تھی اور پھر خود انھوں نے اس کتاب میں میرا ایک مضمون جس میں تفصیل سے اس پہلو کا جائزہ لیا گیا ہے، کتاب کے ضمیمے کے طورپر شاملِ اشاعت کیا ہے۔جو حضرات اس مسئلے پر مغربی مصنّفین کو پڑھنا چاہیں وہ J.D Barned کی کتابWorld Without War (۱۹۵۸ء) اور ڈڈلی سٹامپ کی کتاب Our Developing World (۱۹۶۰ء)کامطالعہ کریں۔[اسی طرح ایلن وائزمین کی کتاب The World Without Us (۲۰۰۷ء) بھی اسی موضوع پر ہے۔]
ضبط ِ تولید کے سلسلے میں ایک بات مزید سامنے رکھنی چاہیے کہ خاص حالات میں انفرادی طور پر اسے اختیار کرنے اور اسے ملک و قوم کی عام پالیسی بنالینے میں بڑا فرق ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ صحت یا دوسرے معقول وجوہ کی بناء پر ایک شخص کبھی اس قسم کا کوئی ذریعہ اختیار کرے، لیکن اس رویّے کو ملک کی عام پالیسی بنا دینا ، دینی، اخلاقی اور معاشی ہرحیثیت سے مہلک ہوگا۔
اس موضوع پر مسلمان اہل علم اور اہل قلم نے قوم کی ہرمرحلے پر رہنمائی کی ہے اور ہمارے اپنے زمانے میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کا مقالہ اسلام اور ضبطِ ولادت بڑے معرکے کی چیز ہے۔اس بات کی ضرورت تھی کہ نئے حالات اور نئے مسائل کے مطابق اس مسئلے پر اَزسرنو بحث کی جائے اور مجھے خوشی ہے کہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کے ہونہار اور نوعمر فرزند عزیزی میاں محمد تقی سلمہٗ نے اس موضوع پر قلم اُٹھایا ہے اور شرعی اور عقلی ہر پہلو سے اس پر سیرحاصل بحث کی ہے۔ ان کا یہ مقالہ ہرحیثیت سے جامع ہے اور ان کی نوعمری کے پیش نظر تو ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور اس مقالہ میں جو نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے اسے قبولیت ِ عامہ بخشے۔ وما توفیقی اِلَّا باللہ۔
۱- نیو کوئنس روڈ خورشیداحمد
کراچی ۴؍جنوری ۱۹۶۱ء
اپریل کا مہینہ اب ’یاد اقبال‘ کے لیے وقف سا ہو گیا ہے۔ ہم خاص مواقع پر خصوصی پروگراموں کے مخالف نہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارا سال تو ہم اقبال کو بھولے رہتے ہیں۔ اِدھر ۲۱؍اپریل آئی، اُدھر مختلف گوشوں سے طرح طرح کی آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ سب اقبال کا پیغام یاد دلاتے ہیں اور اس پر عمل کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن فی الحقیقت نہ کوئی اس کے پیغام کو بیان کرتا ہے، اور نہ خود اس پر عمل کی کوئی روشن مثال قائم کرتا ہے۔ پورا ہنگامہ ہوا ہو ایک ڈراما سامعلوم ہوتا ہے، جس کے بیش تر اداکار مصنوعی ہوں اور جن کے پیش نظر بس ایک ڈراما اسٹیج کرنا ہو۔
پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر حلقے اور ہرگوشے سے اقبال کی ایک نئی تعبیر ابھر رہی ہے۔ کم ہی لوگوں کو اس امر میں دلچسپی ہے کہ اقبال نے کیا کہا تھا؟ ہر کوئی اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ اپنی بات کی تائید میں اقبال کو پیش کرے اور خود اقبال کا حال آج یہ ہے کہ:
شد پریشاں خوابِ من از کثرت تعبیر
برگِ کل چوں بوئے خویش
جو حضرات اقبال کے ساتھ خلوص کا تعلق رکھتے ہیں، وہ فطری طور پر اس صورت حال پر کبیدہ خاطر ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے دانشوروں کے غوروفکر کے لیے چند معروضات پیش کریں:
پہلی بات تو یہ سامنے رہنی چاہیے کہ کسی ملک کے دانش وروں کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ ان کے کندھوں پر قوم کی ذہنی اور فکری قیادت کا بوجھ ہوتا ہے۔ اگر وہ سچائی کے پرستار اور حق کے خادم کا رول ادا نہیں کریں گے، تو اپنے فرض میں کوتاہی کریں گے، اور بہت سی گمراہیوں کے فروغ کا باعث ہوں گے۔ حقیقی دانش ور وہ ہیں جو خلوص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنا قومی فرض ادا کرتے ہیں، اور خوف اور لالچ سے اپنا دامن بچا کر قومی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔
وہ حضرات جو ’دان‘ کے چکر میں ’شور‘ مچاتے ہیں ان کو ’دانشور‘ نہیں کہا جاسکتا، خواہ ان کے نام کتنے ہی بڑے، القاب کتنے ہی لمبے، عہدے کتنے ہی اونچے اور اثرات کتنے ہی وسیع کیوں نہ ہوں۔ خواہ دنیا ان کے پیچھے ہو یا تماشا ان کے آگے! حقیقی دانش ور وہی ہیں، جن کی اصل دلچسپی حق اور سچائی کے ساتھ ہے، جو سچائی پر سنجیدگی سے غوروفکر کرتے ہیں۔ ایمان داری سے نتائج و آراء مرتب کرتے ہیں اور بے خوف ہو کر ان کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اس قوم کا ضمیر ہیں اور اس کے حقیقی محسن۔ اس کی فکری زندگی انھی کے دم سے قائم ہے۔
ہم اس ملک کے پڑھے لکھے طبقے سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو محسوس کرے کہ قومی زندگی میں اہلِ دانش کا اصل کردار کیا ہونا چاہیے؟ اور پھر اس کردار کو ادا کرنے کے لیے اپنے کو تیار کرے۔ اس کے بغیر اس ملک میں کسی کے ساتھ بھی انصاف نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہر شخص اسے اپنے مفید مطلب استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کا روبار میں خلوص، فکری دیانت اور علمی وفاداری کو بڑی فراخ دلی سے قربان کیا جارہا ہے۔ یہ کھیل اسی وقت ختم ہو سکتا ہے، جب دانش ور اپنا فرض پہچانیں اور فکرِ اقبال کو کرگسوں کے اس حملے سے محفوظ کریں۔
ایک بلند آہنگ گروہ ایسا بھی ہے، جو اقبال کو تغیر اور تجدّد کے علم بردار کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے اور اس کا نام لے کر روایات کو توڑنے، ثقافتی اقدار کو پامال کرنے، منکرات و فواحش کو عام کرنے اور تمدنی ورثے کو دریا برد کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اسے اس بات کا خیال بھی نہیں آتا کہ اس قسم کے تخریبی تجدد کے لیے اقبال نے بہ صراحت کیا کچھ کہا ہے اور اس وضاحت پر مبنی سب چیزیں اس کے کلام اور اس کی تحریرات میں محفوظ ہیں۔ اسی طبقے کو جو آج اقبال کا بہت بڑا کرم فرما ہے، وہ مخاطب کر کے کہتا ہے:
ترا وجود سرا پا تجلّیِ افرنگ
کہ تُو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر
مگر یہ پیکرِ خاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تُو، زرنگار و بے شمشیر
ایک گروہ وہ ہے، جس کا مسلک ہر چڑھتے سورج کی پوجا ہے۔ اسے آج کل اقبال کی شاعری میں جمہوریت کی مخالفت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
ایک اور گروہ ’آشفتہ سر، آشفتہ خو‘ تھا۔ اس کی نگاہ میں اقبال اشتراکیت کاحامی اور سوشلسٹ انقلاب کا نصیب تھا۔ اس گروہ میں سے کچھ اتنے پردہ دار بھی تھے، جو اقبال کو ’ننگی اشتراکیت‘ کا نہیں ’اسلامی سوشلزم‘ کا علم بردار بتاتے رہے اور کچھ یہ پردہ بھی باقی نہیں رکھتے تھے۔ پھر حد یہ ہے کہ پیر، فقیر اور وزیر سب ہی سے یہ گروہ فائدہ اٹھا کر اقبال کے کندھوں پر سرخ پرچم لادنے میں مصروف رہا۔ اوربات قلم سے بڑھ کر فلم تک پہنچ گئی۔ نام اقبال کا ہے اور بات سرخ انقلاب کی۔
بلاشبہ اقبال کو مذہبی جمود اور تنگ نظری سے کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن وہ تجدد، آمریت، نسل پرستی، سرمایہ داریت، پیری، کٹھ مُلائیت، اشتراکیت سب کا مخالف تھا اور اس نے ان کے خلاف کھلی جنگ لڑی۔ اقبال کو ان میں سے کسی کی ہمنوائی میں پیش کرنا اقبال پر بہت بڑا ظلم ہے۔ اور اس کی روک تھام ہونی چاہیے۔
ہماری نگاہ میں اقبال کے ساتھ انصاف اسی وقت ہو سکتا ہے جب اقبال پر بولنے اور لکھنے والے کم از کم ان تین باتوں کا خیال رکھیں:
۱- اقبال نہ تو محض ایک شاعر تھا اور نہ صرف ایک فلسفی اور انسانی زندگی سے الگ تھلگ مفکر۔ اس کی شخصیت بلاشبہ ان عناصر سے مل کر بنی ہے۔ اگر اس کو صرف ایک مفکر کی میزان پر پرکھا جائے گا تو بظاہر بہت سے تضادات نظر آئیں گے۔ اور اگر محض اسے ایک شاعر سمجھا جائے گا، تو اس کا اصل پیغام نگاہوں سے اوجھل رہے گا۔ شاعر کے سوچنے اور اپنے مدعا کا اظہار کرنے کا انداز خاص قسم کا ہوتا ہے۔ اس بات کو ملحوظ رکھے بغیر فکرِ اقبال کی گتھیاں نہیں سلجھائی جاسکتیں۔ اس لیے فہمِ اقبال کے لیے ضروری ہے کہ اس بنیادی حقیقت کوسامنے رکھا جائے۔
۲- اقبال کے کلام اور اس کی نثری تحریرات کا مطالعہ اقبال کے فکری، سیاسی اور تمدنی پس منظر اور اقبال کے ذہنی ارتقاء کے مراحل کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ ان میں سے جس کو بھی جس قدر نظر انداز کیا جائے گا، اقبال کو سمجھنا اتنا ہی مشکل ہوگا۔ بلاشبہ اقبال، وطنی قومیت کا حامی بھی رہا ہے، لیکن یہ اس کی فکری ارتقاء کے اوّلیں مرحلے کی بات ہے۔ جس طرح اس نے کبھی اسکول میں بھی پڑھا تھا، اسی طرح اس کے کچھ افکار پر بھی طفولیت کا دور گزرا ہے۔ فکر کی پختگی کے ساتھ اس نے بہت سے تصورات کو بدلا ہے۔ ’نیا شوالا‘ بچہ کا لباس (BABY's FROCK) تھا، جسے ’’باقیات اقبال‘‘ کے میوزیم میں تو جگہ دی جاسکتی ہے، لیکن اقبال کی بالغ فکر میں اس کا کوئی مقام نہیں۔ سوشلسٹ انقلاب روس کی چکا چوند میں شاعر مشرق کو بھی افق پر روشنی کی ایک کرن نظر آئی تھی، اور شاعر نے اپنے ان جذبات کو ’حجاب‘ میں نہیں رکھا بلکہ برملا اور واشگاف اظہار کرنے میں کوئی تاخیر نہ کی۔ لیکن جب چشمِ شاعر نے یہ دیکھا کہ سرخی بام و در مظلوموں کے خون کی پیدا کردہ ہے، تو اُفق پر رونما ہونے والی ننھی کرن تاریکیوں کو چھاٹنے سے پہلے ہی ان کے سینے میں دفن ہوگئی۔ اگر فکر ِاقبال کے مختلف ارتقائی مراحل کو سامنے نہ رکھا جائے تو بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں اور مخصوص مفادات کے پرستار اقبال کی فکر کو اس کے پس منظر سے کاٹ کر لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور سادہ لوح طالب علم بھی اس کی بنا پر غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اقبال کے ساتھ انصاف اسی وقت ہو سکتا ہے، جب اس کی فکر کو اس کے اصل پس منظر میں رکھ کر سمجھا جائے۔
۳- آخری اور بنیادی چیز یہ ہے کہ اقبال کے مرکزی تصورات اور اس کے نظامِ فکر کو سمجھے بغیر اس کے مختلف اشعار کو سمجھنا محال ہے۔ کسی بھی شخص کے ساتھ انصاف اسی وقت ہو سکتا ہے جب اس کے مختلف افکار کو اس کے نظامِ فکر کے سانچے میں رکھ کر سمجھا جائے، اور تشریح و تاویل کے لیے خود اس کے افکار و تصورات ہی سے مدد لی جائے۔ کسی بھی فکر کو سمجھنے کے لیے یہ حددرجہ ضروری بھی ہے اور مفکر کے ساتھ دیانت کا معاملہ کرنےکے لیے بھی اہم تر۔
اگر ان تین بنیادی باتوں کو سامنے رکھا جائے تو پھر اقبال کے ساتھ انصاف کیا جاسکتا ہے۔ وہ بھانت بھانت کی بولیاں بند ہو سکتی ہیں، جن کی وجہ سے فکری انتشار اور ژولیدگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ہم اپنے ملک کے دانشوروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے اصل مقام کو محسوس کریں اور اقبال کے ساتھ وہ معاملہ کریں جو حق و انصاف پر مبنی ہے۔
رمضان کا بابرکت مہینہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابۂ کرامؓ اور صلحائے امت ؒ بڑی بے چینی سے رمضان کا انتظار کرتے تھے اور پھر اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔
’صوم‘ کا معانی ہے ’رُک جانا‘، ’اپنے آپ کو روک لینا‘، ’کچھ کر ڈالنے سے روکنا‘۔ ظاہری طور پر اس کا مطلب ہے کھانے، پینے اور اور جنسی داعیہ پورا کرنے سے پرہیز کرنا۔
قرآن کریم میں آٹھ آیات ہیں، جو ’صوم‘(روزہ) کی مختلف جہتوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ روزہ تمام انبیاؑ کی شریعتوں کا جزو رہا ہے۔
روزہ ایک عظیم عبادت اور دین کے ان ستونوں میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے، جن پر اس کی پوری عمارت مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزہ اللہ رب العزت کا اپنے بندوں پر ایک بہت ہی عظیم الشان انعام ہے اور اس نعمت کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
روزہ صرف اللہ کے لیے ہے اور وہی اس کا گواہ ہے۔ اس طرح بندے کے ربّ سے تعلق کا یہ پہلو روزے کی امتیازی شان ہے___کہ جلوت اور خلوت، سب اللہ کے حکم اوراس کی رضا کے پابند ہیں۔ گویا روزہ اپنے تمام اجتماعی پہلوؤں کے باوجود صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ربِّ کریم نے یہ مژدہ بھی سنا دیا ہے کہ صرف وہ اس کا اصل اجر دینے کا ذمہ دار ہے۔ لہٰذا روزہ بندے اور رب کے بلاواسطہ تعلق کا عنوان ہے اورصرف رب کا بندہ بن جانے کی علامت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اسے اسلام کی روح اور اس کے اصل جوہر کا مظہر بناتی ہے۔
صرف اللہ کا بندہ بننے اور اس کی رضا کے لیے بھوک پیاس اور شہوت کی جائز ذرائع سے تسکین سے بھی اجتناب، انسان کو تقویٰ کی اُس نعمت سے مالا مال کرتا ہے کہ جو دُنیا اورآخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے، اور انسان میں وہ صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو اسے اللہ کی ہدایت سے فیض یاب ہونے میں معاون ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی ہدایت کے لیے جن کو اہل قرار دیا ہے وہ اصحا بِ تقویٰ ہی ہیں۔ (البقرہ ۲:۲)
روزہ انسان کے اندر وہ تقویٰ پیدا کرتا ہے جو اسے ہدایت ربانی سے مستفید ہونے اور اس کا علَم بردار بننے کے لائق بنا تا ہے:يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۱۸۳ۙ (البقرہ۲: ۱۸۳) ’’اے ایمان لانے والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہو سکے‘‘۔
رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے اور روزے اور قرآن کا تعلق یک جان اور دو قالب جیسا ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۰ۚ فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ۰ۭ (البقرہ۲: ۱۸۵) ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے‘‘۔
ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ نزول قرآن کا آغاز غارِ حرا میں ہوا، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل عبادت فرماتے اور روزے رکھتے تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب تورات سے نوازا گیا تو ان ایام میں آپ بھی روزے کا اہتمام فرما رہے تھے۔ روزہ اور قرآن کا یہی ناقابلِ انقطاع تعلق ہے جس کا تجربہ اور جس کی شہادت امت مسلمہ ماہِ رمضان میں قرآن سے تعلق کی تجدید کرکے کرتی ہے۔ اس طرح روزہ ہماری زندگیوں میں ہدایتِ ربانی کوحرزِ جان بنانے کا ذریعہ ا ور وسیلہ بن جاتا ہے۔ یہ اللہ کا عظیم ترین انعام نہیں تو اور کیا ہے؟
بندہ کے اپنے رب سے تعلق کے تین پہلو ہیں: lپہلا اور سب سے اہم رب کو پہچاننا، اس سے عہدِ وفا باندھنا، ہر لمحے اس عہد کا ادراک رکھنا اور ہر دوسری غلامی اور وفا داری سے نجات پا کر صرف اللہ، اپنے خالق اور مالک کا بندہ بن جانا ہے۔ lدوسرا پہلو فرد کی اپنی ذات کی تربیت، تزکیہ اور ترقی ہے تا کہ وہ اپنے رب کے انسانِ مطلوب سے زیادہ سے زیادہ قربت حاصل کر سکے۔ اس کے لیے نمونہ اللہ کے پیارے رسولؐ کا اسوۂ مبارکہ اور سنت ِمطہرہ ہے۔ اپنی ذات کی مسلسل اصلاح اور صفاتِ محمودہ کے رنگ میں اپنے کو رنگنے اور صفاتِ مذمومہ سے بچنے کی مسلسل کوشش اصلاحِ ذات اور بندگیِ رب کا اولیں اور مستقل تقاضا ہے۔ lتیسر اپہلو دنیا اور اس کے رہنے والوں سے تعلق کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اللہ کی ہدایت ہی یہ رہنمائی بھی دیتی ہے کہ دوسرے انسانوں، معاشرہ، ریاست، انسانیت اور کائنات، ہرایک سے کس طرح معاملہ کیا جائے، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو، اور حق و انصاف کے قیام کے ذریعے انسانوں کی زندگی خیر و فلاح کا نمونہ بن جائے۔
اسلام ان تینوں جہتوں کے باب میں صحیح تعلق اور صحیح رویے کا نام ہے۔ یہ سب اللہ کی بندگی کے ایک ہی دائرے کا حصہ ہیں اور کسی بھی جہت کو نظرانداز کرنا یا عبدیت کے دائرے سے باہر تصور کرنا شرک، بغاوت اور طاغوت کا بندہ بننے کے مترادف ہے۔ روزہ ان تینوں میدانوں میں بیک وقت بندہ کا تعلق اپنے رب سے جوڑنے اور اس تعلق کی روشنی میں زندگی کے ہر دائرے اور پہلو کو ہدایتِ الٰہی کے مطابق گزارنے اور نورِ ربانی سے منور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
روزے کا مقصد دو چیزوں کا حصول ہے، جن کی طرف قرآن متوجہ کرتا ہے: ہدایت اور تقویٰ ___ قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا، ہدایت لے کر، جو انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پھر ہے، تقویٰ۔ تقویٰ ایک بنیادی اور عقدہ کشا اصطلاح ہے۔ عمومی طور پر تو اس کا معنی ’خوف‘ لیا جاتاہے۔ لیکن کس کا خوف؟ اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ خوف ہے اللہ کی خوشی کھو دینے کا، اللہ کی ناراضی مول لینے کا اور قربٍ الٰہی سے محرومی کا۔ تقویٰ کے اس معنی و اثر کی وجہ سے ہم ایسی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کی موجودگی کا احساس ہو۔ چنانچہ ہم ہروہ کام کر گزریں جسے کرنے کا اللہ کہے اور ہر اس کام سے رُک جائیں جس سے اللہ روکے، تاکہ ہم اس کی خوشنودی پالیں۔
روزہ سب سے پہلے آپ کو نظم و ضبط سکھاتا ہے، کہ آپ اپنی عادتوں کو درست کریں۔ جو کام آپ معمول کے مطابق کرتے رہتے ہیں، ایک معمول اور ایک عموم کے طور پر۔ رمضان میں آپ پر ان کے سلسلے میں کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ آپ وہ کام نہیں کرتے یا کرنے سے رُک جاتے ہیں۔ تاہم جوں ہی افطار کا وقت ہوتا ہے، آپ کے لیے جو چیز لمحہ بھر پہلے ممنوع تھی، اب جائز ہو جاتی ہے۔ اصل نکتہ زندگی میں نظم و ضبط (Discipline) لانا ہے۔ ایسی زندگی گزارنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرماںبرداری سے عبارت ہو اور قرآنی ہدایت پر استوار ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص روزہ رکھتا ہے مگر جھوٹ بولنے، لڑنے جھگڑنے، اور بُرے کام کرنے سے نہیں رُکتا تو اللہ کو اس کے بھوکے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، حدیث ۱۹۰۳)
جو چیز اللہ کو مطلوب ہے وہ تو فرماں برداری اور نظم و ضبط ہے۔ یہی بات تو افطار و سحر سے واضح ہوتی ہے۔ سحری سے پہلے آپ کھاتے پیتے رہتے ہیں، مگر فجر کی اذان سنتے ہی رُک جاتے ہیں اور افطار کے وقت تک رُکے رہتے ہیں۔ اس سب سے آپ کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ سب تنہائی میں نہیں ہوتا،بلکہ دنیا بھر میں پھیلے مسلمان ایک ہی مہینے میں روزہ رکھتے اور اس کی پابندیوں پر عمل کرتے ہیں۔ اس سے معاشرے اور خاندان تک ایک بھرپورماحول بن جاتا ہے، جس سے ہر خاص و عام ، روزہ کی برکتوں سے فیض یاب ہوتا ہے۔
رمضان کی اہمیت کے حوالے سے ایک قابل توجہ پہلو اس مہینے میں تین چیزوں کا جمع ہونا ہے: ۳۰ روزے، شبِ قدر اور آخری عشرے کی طاق راتیں۔ ایک ماہ کے مسلسل روزے ایک بھرپور تربیتی ورزش کا موقع دیتے ہیں۔ شبِ قدر رمضان کی ایک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا: اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ۱ۚۖ (القدر ۹۷:۱) ’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا‘‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور عمل کے مطابق یہ رات نماز، تلاوتِ قرآن اور دُعا میں بسر ہونی چاہیے۔ یہ اللہ کے حضور دُعا کرنے اور اس کی قبولیت کا بہترین موقع ہے، بلکہ اسی وجہ سے تو اسے ’قدر‘ کی رات کہا جا سکتا ہے، جب قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں اور تقدیر لکھی جاتی ہے۔
آخری عشرہ، یعنی آخری دس روزے اور ان میں پانچ طاق راتیں(۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ویں)، شبِ قدر ان راتوں میں سے ایک رات ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ شبِ قدر کی عبادت محض ایک رات کی نہیں بلکہ ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی بہتر ہے: لَيْلَۃُ الْقَدْرِ۰ۥۙ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۳ۭؔ (القدر۹۷:۳) ’’شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔
اس رات کو ہم جو عبادت اور دعا کریں گے وہ ایک ہزار ماہ یا ۸۳ سال، بالفاظ دیگر پوری زندگی، کی عبادت سے بھی زیادہ بہتر ہوگی۔ یہ اللہ کی ہم پر خاص عنایت ہے۔
فرماںبرداری، تقویٰ، صبر اور استقامت ہم کو اللہ کے قریب کرنے والی خوبیاں ہیں۔ پھر تلاوتِ قرآن، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی، جو اگرچہ فرض تو نہیں، تاہم تہجد اور تراویح قرآن سے تعلق کا اہم ذریعہ ہیں۔ مسلم تاریخ میں تراویح رمضان کے پورے دن کے پروگرام کا حصہ رہا ہے، ایک ادارہ اور ایک مستحکم روایت۔ دن بھر کے روزہ کے بعد، رات کو آپ تراویح کے لیے اللہ کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آٹھ رکعات ہوں یا ۲۰، قرآ ن کی تلاوت اور سماعت پورے مہینے جاری رہتی ہے اور قرآن کے پیغام کو سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر نیکی کا بدلہ ہے دس گنا، ستّر گنا، سات سو گنا، یا اس سے بھی زیادہ، مگر روزہ کا بدلہ اور اجر دینا میری خاص عنایت ہے۔ اس کا اجر لا محدود ہوگا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے سوائے روزہ کے، کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم،۱۹۰۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ’’اگر کوئی تمھیں بُرا بھلا کہے، یا گالم گلوچ کرے، یا لڑے جھگڑے، تو اس کی بات یا حرکت کا جواب نہ دو بلکہ کہو کہ ’’میں تو روزے سے ہوں‘‘۔ روزہ تو تزکیۂ نفس ہے، اخلاقی تربیت ہے: فَاِنْ سَا بَّهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ اِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، ۱۹۰۴) ’’اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں‘‘۔
روزے کا ظاہری پہلو یہ ہے کہ بھوک لگنے پر آپ کو ان لوگوں کا اور ان کی حالت کا خیال آتا ہے جو معاشرے میں ہمارے درمیان موجود تو ہیں مگر بھوکے پیاسے اور سہولتوں سے محروم۔ ہم میں ان کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ہم زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں، یا نہیں کرتے، اس کے اثرات کا ہمیں ہمیشہ احساس رہنا چاہیے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصولِ ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اورثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔(صحیح بخاری، کتاب الصوم، ۱۹۰۱)
خلاصہ یہی ہے کہ روزہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان بہت ہی خاص، ذاتی اور بلاواسطہ تعلق قائم کرتا ہے۔ اس کو کوئی نہیں دیکھتا، مگر اللہ اس کا گواہ ہوتا ہے۔ اس سے تزکیہ، اپنے آپ کو پاک صاف کرنے اور رکھنے، کا کام ہوتا ہے۔ نتیجہ میں پاک صاف اور نظم و ضبط والے معاشرے کا ماحول بنتا ہے۔
اس مہینے کا اپنا ہی ماحول ہوتا ہے، اپنی ہی الگ فضا۔ اسی لیے وہ لوگ بھی جو عام طور پر نماز نہیں پڑھتے یا ہر کام شعور کے ساتھ اسلام کے مطابق نہیں کرتے، وہ بھی اس مہینے میں ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور حتی الوسع رمضان کے احترام میں عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ رمضان کی آمد پر ہمیں اس ماحول اور فضا کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا ایک بار پھر موقع مل رہا ہے۔ رمضان تو ایک آئینہ کی طرح ہے جس میں مسلمان افراد اور قوم سب ہی اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں!
’پرانے یہودیوں‘ (اسرائیل) کے حصے میں تاریخ کی لعنت وملامت آئی، اور دوسری طرف ’نئے یہودیوں‘ (انڈیا) کے لیے تاریخ کا تازیانہ تیار ہے۔ آج ظالموں کے خلاف فلسطینی عوام کی فداکاریوں کے تذکرے عام ہیں آسمانوں میں، تو دوسرے ظالموں کے خلاف ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری مظلوموں کا خون عالمی ضمیر کی عدالت میں سراپا سوال ہے۔ تقسیم ِہند کے نامکمل ایجنڈے کا یہ باب ۱۹۴۷ء سے آج ۲۰۲۵ء تک حل طلب ہے۔
سقوط مشرقی پاکستان (۱۶دسمبر۱۹۷۱ء)سے پہلے بھی وہاں نوجوانوں کو ہم سمجھاتے رہے، جھنجھوڑتے اور پکارتے رہے کہ’ ’ہمدردی کے زہر میں لپٹی دشمن کی یہ سرپرستی درحقیقت غلامی کا شکنجہ ہے۔ یہاں گھر میں اپنے بھائیوں سے لڑ جھگڑ کر حقوق لیے جا سکتے ہیں، لیکن دشمن کی نام نہاد ہمدردی کے نام پر حاصل کردہ غلامی سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہو گا۔‘‘ اور آج صورت حال یہ ہے کہ نفرت کا الائو بھڑکانے والے نام نہاد آزادی کے علم بردار مجیب اور ان کی بیٹی حسینہ واجد کے ہاتھوں، اسی سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش کا بال بال غلامی کی زنجیروں سے جکڑا ہوا ہے۔ حکومت تو تبدیل کر لی گئی ہے، لیکن معاشی، تہذیبی، سیاسی، جغرافیائی اور دفاعی آزادی کے حصول کے لیے بنگلہ دیشی بھائیوں کو ابھی کئی دریا عبور کرنے ہوں گے۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستانی فریم ورک میں حقوق کا حصول دوچار سال میں ممکن نظر آتا تھا، لیکن اب نصف صدی بھسم کرنے کے بعد بھی بے بسی کا نیا شکنجہ، وہاں کے قومی وجود کو گرفت میں لیے سب کے سامنے ہے۔
وہ نوجوان جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہیں، یا آزاد کشمیر اور بیرون پاک و ہند میں ہیں، انھیں خوب اچھی طرح یہ بات جان لینی چاہیے کہ ’خود مختار کشمیر‘ انڈیا کی دوسری دفاعی لائن ہے، بنگلہ دیش سے بھی زیادہ بے بس سیاسی وجود۔ انڈیا کے پالیسی سازوں کی یہ پوری کوشش رہی ہے کہ استصواب رائے (Plebiscite) نہ ہو، اور اگر بظاہر پیچھے ہٹنا پڑے تو ثالثی یا سودا بازی کرکے پورے کشمیر کو ’خودمختار‘ کا درجہ دیتے ہوئے، اپنی ایک باج گذار گماشتہ ریاست بنا لیا جائے، جیسے بھوٹان وغیرہ۔ اسی لیے بڑی تیزی سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام پر دن رات کام کیا جا رہا ہے، اور آبادی کا تناسب بڑی تیزی سے بگاڑا جا رہا ہے۔
اس پس منظر میں ہم دعوت دیتے ہیں کہ نئی نسل ہوش کا دامن تھام کر، دشمن سے ملنے والی چمک کو روشنی نہیں بلکہ ظلمت کی سیاہی سمجھ کر جان ومال اور صلاحیت لگائے۔ جو مسائل ہیں، انھیں پاکستانی فریم ورک میں حل کرنا آسان بھی ہوگا اور فطری ومعقول بھی۔ کسی چیز میں کمی بیشی ممکن ہے، لیکن بہرحال پاکستان ہی نے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیا، جب کہ دشمن نے ۱۹۴۷ء سے پہلے اور ۱۹۴۷ء کے بعد بھی جان ومال کی قربانی لی ہے۔ اس لیے دور اندیشی اور سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، بنگلہ دیش کے تجربے سے سبق سیکھیں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کے طے شدہ فارمولے ہی پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آزاد کشمیر حکومت، محض آزاد علاقے کی حکومت نہیں ہے، بلکہ پورے جموں و کشمیر کی آزاد حکومت ہے، بدقسمتی سے جو اپنا کردار ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ اس کی منصبی ذمہ داریوں کا ادراک اور اس کے اصل کردار کا احیا وقت کی ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر میں خواندگی کی سطح، پاکستان کے کسی بھی صوبے سے بلند تر ہے۔ مگر حکومت آزاد کشمیر کی بے سمتی کا یہ نتیجہ ہے کہ ان پڑھے لکھے لوگوں میں اپنے محکوم کشمیری بھائیوں کے لیے دکھ درد کے احساس کی وہ کسک ایک تحریک کی صورت میں دکھائی نہیں دیتی، کہ جو یہاں پیدا ہونی چاہیے تھی، اور اسے مجبور بھائیوں کی آواز بن جانا چاہیے تھا۔
پھر آزاد کشمیر حکومت نے کم و بیش ایسا رویہ اختیار کیا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح کے پروگراموں کو پروان چڑھانے کے لیے شب و روز کوششیں کرنے کے بجائے ذاتی اور گروہی مفاد کو زندگی کی کامیابی سمجھ لیا ہے۔ اس رویے کو تبدیل کرنے کے لیے کشمیری اہلِ اقتدار کو اپنا طرز عمل بدلنا چاہیے اور یہ جو وقفے وقفے سے یہاں پر بظاہر چند مطالبات کے لیے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اس کی اصل بنیاد کو سمجھنا اور اس کے حل کے لیے بامعنی کوششیں کرنی چاہئیں۔ محض نوجوانوں کی پکڑدھکڑ، حکومت آزاد کشمیر کی بے عملی کا جواب نہیں۔ ایسا مریضانہ رویہ دشمن کے مقاصد پورا کرنے کے لیے زرخیز زمین تیار کرتا ہے اور قومی مفاد کو بربادی کی تصویر بنانا ہے۔
تاریخ میں بہت زیادہ دور جانے کے بجائے ہم اس المیے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں، جس نے بعض ا وقات کھلنڈرے پن سے مسئلہ کشمیر اور جدوجہدِ آزادی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جس طرح کہ مطلق العنان حاکم جنرل پرویز مشرف نے کشمیر میں ۷۶۷کلومیٹر طویل کنٹرول لائن پر باڑ لگانے کے لیے انڈیا کو یک طرفہ سہولت دی۔ انڈیا نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان بجلی سے لیس خاردار تاروں کی باڑ نصب کرکے اس میں بجلی کی ہائی وولٹیج رو دوڑائی ہے، ساتھ ساتھ باردوی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، اور جس جگہ باڑ نہیں لگ سکتی، وہاں پر لیزر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس باڑ کو لگانے کی اجازت دینے کا کوئی جواز نہیں تھا کہ بطور سرحد اسے دونوں ملک تسلیم نہیں کرتے، مگر یک طرفہ انڈیا کو سہولت دینا کسی بھی اصول اور قاعدے کے مطابق معقول حرکت نہیں تھی۔ پھر انھوں نے ’آؤٹ آف باکس‘ مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ حالانکہ پاکستان کے کسی بھی حکمران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کشمیر کے عوام کو نظرانداز کرکے کوئی ایسا قدم اُٹھائے، جو ہمارے اصولی اور بین الاقوامی طے شدہ موقف سے ٹکراتا ہو۔
اسی طرح فروری ۲۰۲۱ء میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے اچانک فوجی کمانڈروں کی سطح پر مذاکرات کیے۔ پھر دو ماہ بعد چند صحافیوں کو کھانے پر بلا کر یہ کہا: ’’ہم بیک ڈور مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہمیں ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے‘‘۔ ان چیزوں کو ’باجوہ ڈاکٹرائن‘ بھی کہنا شروع کیا۔ یہ سب وہ چیزیں تھیں جن سے حکومت اور قوم دونوں بے خبر تھے۔ان اقدامات نے پاکستان کے دفاعی دبدبے (deterrence) کو سخت نقصان پہنچایا اور دشمن کے حوصلے بلند کیے اور اپنے حقِ خودارادیت کے لیے کوشاں تمام متعلقہ حلقوں کو مایوس کیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی سوچ کی برملا اور واضح الفاظ میں نفی کی جانی چاہیے، تاریخ اور قوم کے موقف کو روندنے کے ہرعمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔
۵؍اگست۲۰۱۹ء کو انڈیا کی جانب سے آرٹیکل ۳۷۰اور ۳۵-اے کی یک طرفہ منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات نے تیزی سے پلٹا کھایا۔ ’نسل پرست ہندوتوا‘ نے اپنی سرپرست آرایس ایس کی نگرانی میں یہ قدم کسی الگ تھلگ عمل کے لیے نہیں اٹھایا تھا، بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ سلسلہ وار اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ جن کے مطابق:
اس صورت حال میں حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام پر لازم ہے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے مظلوم بھائیوں کو یاد رکھتے ہوئے:
اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو وقت تیزی سے گزرتا جائے گا اور کشمیر دوسرا اسپین بن کر رہ جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت پاکستان، یہاں کے اہل حل و عقد اور خردمند اس المیے کا کردار بننا چاہتے ہیں؟
اسلام محض ایک روایتی مذہب نہیں___ یہ ایک مکمل دین اور جامع نظام زندگی ہے، جو عقیدے، عبادات، انفرادی اخلاق، اجتماعی نظام، قانون، عدالت، دعوت و تبلیغ اور ان کے زیر اثر وجود میں آنے والی عالم گیر اور درخشاں تاریخی روایت سے عبارت ہے۔ اسلام کی یہ جامعیت ایک نظری و عملی حقیقت اور اس کی امتیازی شان ہے۔
جہاں اس امر واقعہ کا احساس اور اس پر افتخار بجا ہے، وہاں اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے، کہ آج بڑی حد تک مسلم دنیا میں اور خصوصیت سے پاکستان میں مسلم معاشرہ اپنی اصل شان کھو رہا ہے۔ بنیادی طور پر ایک ’اسلامی معاشرے‘ کے بجائے آج ہمارا واسطہ ایک ایسے مخلوط معاشرے سے ہے، جس میں اسلام اور جاہلیت گڈمڈ نظرآتے ہیں۔ ایک طرف اسلامی تعلیمات اور ہماری تہذیبی روایات کی روشن جھلکیاں ہیں، تو دوسری طرف قدیم روایت کے جاہلی تاریخی اثرات اور مغربی تہذیب و ثقافت کے بڑھتے ہوئے تاریک سائے ہیں۔ بہت سی خیر اور بظاہر بڑی قیمتی دینی علامات کی موجودگی کے باوجود بڑے پیمانے پر معاشرہ غفلت کا شکار ہے۔ اسلامی روح اور اس جوہر کی کمی نظر آتی ہے، جو فکر و نظر اور معاشرے اور تمدن کو امتیازی اسلامی شان عطا کرتا ہے۔ بقول علّامہ محمداقبال ؎
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں، تو باقی نہیں ہے
اس غفلت اور محرومی کا احساس اس وقت شدید ترہو جاتا ہے، جب معاشرے میں کوئی چونکا دینے والا واقعہ رونما ہو جاتاہے اور سارے دل خوش کن دعوؤں اور احساسات کے باوجود، ایک لمحے کے لیے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ کہیں ہمارا حال بھی خوش فہمی میں مبتلا اس خودپسند بادشاہ کا سا تو نہیں، جو برہنہ ہونے کے باوجود اس زعم میں مبتلا تھا کہ وہ قیمتی لباس میں ملبوس ہے، اور ایک بچے کے معصوم مگر بے باک اظہارِ خیال نے کہ ’’بادشاہ تو ننگا ہے‘‘، اس کی خود پسندی اور خودستائی کا سارا طلسم کافور کر دیا۔بالکل اسی طرح معاشرے میں اچانک رونما ہونے والے حادثات، ہمارے معاشرتی افلاس کا بھانڈا پھوڑ دیتے ہیں۔
چند برس پہلے ہماری عدالت اور ہماری صحافت ایک ایسے ہی چونکا دینے والے واقعے کے مالہ و ماعلیہ سے نبرد آزما رہی ہے___ جس میںوالدین کے خلاف ایک دینی گھرانے کی نوجوان لڑکی کی بغاوت، ’’پسند کی شادی‘‘، گھر سے فرار، تھانے اور کچہری کے چکر، مقدمہ بازی، قیدورہائی، اپنوں کی گراں باریاں، نام نہاد این جی اوز کی کارستانیاں، انسانی حقوق کے نام لیوائوں کی کرم فرمائیاں، میڈیا کی کرشمہ سازیاں، ملکی ہی نہیں بین الاقوامی ایجنسیوں کی دلچسپیاں___ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک تکلیف دہ واقعے کا عدالتی تصفیہ مطلوب نہیں بلکہ اسلام، اس کے ’عائلی قانون‘ (Family Law)بلکہ پوری مسلم تہذیبی روایت پر تارکول پھیرنے کی کوشش اور وہ بھی میڈیا ٹرائل کی شکل میں اصل ہدف ہے۔ ایک خاندان ہی نہیں پورا ملک اس کرب ناک عمل سے گزرا ہے، اور عدالت کے فیصلے کے بعد بھی میڈیا ٹرائل جاری رہا۔ گویا دو نظریات اور دو تہذیبی روایات دست و گریبان ہیں!
اس طرح یہ واقعہ محض ایک فرد یا ایک خاندان کا مسئلہ نہ رہا، بلکہ ایک ایسی بحث کا عنوان بن گیا، جس کی زد میں ہمارا خاندانی نظام بلکہ پوری اسلامی معاشرت آئی۔ نیز اجتماعی اصلاح اور بگاڑ کے سلسلے میں والدین، عدالت اور صحافت کے رول اور ذمہ داریوں کے بارے میں بھی غوروفکر کے متعدد گوشے اس قضیے میں سامنے آئے۔ ان تمام پہلوئوں پر تفکر اور عبرت کی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے، تاکہ اصلاحِ احوال کے لیے مناسب تدابیر اور اقدامات کی نشان دہی کی جا سکے۔
زندگی کے ان تلخ حقائق اور معاشرے کے رستے ہوئے ناسوروں سے صرفِ نظر کرنا یا ان پر پردہ ڈالنا مسائل کا حل نہیں___ آنکھیں بند کرنے سے خطرات کبھی ٹلا نہیں کرتے، ان کا بہادری سے مقابلہ ہی تاریکیوں کو روشنی میں بدل سکتا ہے۔ آج بھی ضرورت ہے کہ ٹھنڈے دل سے مرض کی تشخیص اور صبر و ہمت سے علاج کا سامان کیا جائے۔
جن خاندانی، معاشرتی اور تہذیبی مسائل سے اس وقت ہمارا معاشرہ دو چار ہے، وہ محض کسی خاص فرد یا چند افراد اور خاندانوں کا معاملہ نہیں اور مسئلہ بھی صرف یہ نہیں ہے کہ: ’’ایک مسلمان لڑکی اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے یا نہیں؟ــ’’یا ولی کی مرضی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟‘‘
بلاشبہ یہ معاملات بھی اپنی جگہ اہم ہیں اور شریعت نے ان کے بارے میں بہت واضح رہنمائی فراہم کی ہے، لیکن اس وقت سب سے اہم یہ سوالات ہیں کہ:
کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہمیں دعوتِ عمل نہیں دے رہا:
جب کچھ لوگ کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کر رہے ہوں تو کشتی کے دوسرے لوگوں کو خاموش اور بے نیاز نہیں رہنا چاہیے…اب اگر وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہیں تو اسے بھی بچاتے ہیں اور خود بھی بچتے ہیں۔ لیکن اگر اسے چھوڑ دیتے ہیں (یعنی کشتی میں سوراخ کرنے دیتے ہیں) تو اسے بھی ہلاک کرتے ہیں اور خود بھی ہلاک ہوتے ہیں۔ (مشکوٰۃ)
ہم پورے شرح صدر کے ساتھ اور مشرق و مغرب کا ذاتی مشاہدہ کرنے کے بعد یہ اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ آج کا مسلم معاشرہ اپنی تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود اپنے اندر بڑا خیر رکھتا ہے اور اخلاق اور سماجی استحکام کے اعتبار سے مغرب کے نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے مقابلے میں بدرجہا بہتر ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے، بلکہ اس کا اعتراف نہ کرنا کفرانِ نعمت کے مترادف ہوگا۔
جن لوگوں کی نگاہ مغربی تہذیب اور اس کے جلو میں آنے والی اخلاقی تباہی، خاندانی نظام کی زبوں حالی، عصمت و عفت کی تحقیر و تذلیل اور بے حیائی اور بے وفائی کی توقیر، بچوں کی کسمپرسی، بے باپ گھرانوں کی کثرت، طلاق کی فراوانی اور ان کے جلو میں رونما ہونے والے طوفانوں پر ہے۔ وہ پکار رہے ہیں ؎
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرت انسان کے لیے اس کا ثمر موت
نوبیل پرائز یافتہ فرانسیسی سائنس دان الیکس کاریل (Alexis Carrel) ۱۹۳۵ءمیں اس نسبت سے علامہ محمد اقبال کا ہم نوا ہو کر اپنی کتاب Man The Unknown (انسان نامعلوم) میںکہتا ہے:
ہم جائز و ناجائز کی تمیز کھو چکے ہیں، ہم نے طبیعی قوانین کی خلاف ورزی کرکے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کا مرتکب سزا پائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جب بھی کوئی شخص زندگی سے ناجائز امر کی اجازت لیتا ہے، زندگی اس کے جواب میں اسے کمزور بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ [مغربی] تہذیب رُوبہ زوال ہے۔
لیکن یہ کیاستم ہے کہ آج اس رُوبہ زوال مغربی تہذیب و ثقافت کے تاریک سائے ہمارے نظامِ معاشرت و تمدن پر بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور ہماری بنیادی اقدار اور روایات بھی ان کی زد میں ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقفیت اور اس حقیقت سے پہلو تہی ہے کہ فی الواقع ہمارا اپنا معاشرہ حقیقی اسلامی معاشرہ نہیں بلکہ ایک ایسا مخلوط معاشرہ ہے، جس میں اسلامی تعلیمات اور روایات کے ساتھ قدیم ہندو جاہلی تہذیب کی بہت سی روایات مل جل گئی ہیں۔
اسلام کے احکامات اور تعلیمات کے کچھ اجزا ضرور ہماری روایت کا حصہ ہیں، لیکن اس کے بہت سے دوسرے نہایت اہم اجزا ہم نے شعوری یا غیر شعوری طور پر ترک کردیے ہیں۔ اس طرح شریعت کے مقاصد اور اس کے اصل مشن اور روح سے ہم بے پروا ہو گئے ہیں۔ اس سب پر مستزاد مغربی افکار و اقدار کے اثرات ہیں،جو ہماری معاشرت کا شیرازہ منتشر کیے چلے جا رہے ہیں۔ یہ تباہی صرف مغرب کی فکری یلغار اور میڈیا کے سامراجی حملوں ہی کے ذریعے نہیں آ رہی بلکہ ہم ہی میں سے کچھ عناصر اس مغربی ثقافتی امپزیلزم کے کارندوں اور اس دور کے میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو جاہلی اثرات سے بالکل نمایاں طور پر واضح کیا جائے۔ خاندان اور معاشرت کے حقیقی اسلامی تصور کو اسلامی احکام اور ان کی روح کے مطابق سمجھا اور نافذ کیا جائے۔ مغرب کی اندھا دھند نقالی سے پرہیز کیا جائے اور خالص اسلامی بنیادوں پر فرد اورمعاشرے کی تعلیم اور تشکیلِ نو کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اسلام کی تمام برکتوں سے فیض یاب ہو سکیں گے اور وقت کے چیلنج کا جواب دینے کے لائق بن سکیں گے۔
اسلامی معاشرے کی بنیاد مسلمان فرد اور مسلمان خاندان ہے۔
اسلام نے انسانی اجتماعی زندگی کے ان دونوں بڑے مسائل یعنی: مرد اور عورت کے رشتے اور فرد اور اجتماع کے تعلق___ کو بڑی خوش اسلوبی سے حل کیاہے۔ بلاشبہ انسانی تاریخ کے بڑے بڑے تہذیبی فتنے انھی دونوں رشتوں میں بگاڑ، افراط و تفریط اور کمزوری و انتشار کے پیدا کردہ ہیں۔
اسلام نے اپنی دعوت کا اوّلیں مخاطب فرد کو بنایا ہے اور اس کے قلب و نظر کو ایمان کا گہوارہ قرار دیا ہے۔ ہر فرد کی سیرت سازی اس کا پہلا ہدف ہے۔ اسلام ہر مرد اور عورت کو ایک اسلامی شخصیت سے آراستہ کر کے ہی معاشرتی اور تہذیبی انقلاب برپا کر تا ہے۔ فرد کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اسلام اس کا رشتہ معاشرے سے جوڑتا ہے اور اس کے لیے ایسے ادارے قائم کرتا ہے، جو زندگی میں استحکام پیدا کر سکیں اور تمام انسانوں کی قوت وصلاحیت کو تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کرسکیں۔ اسلامی اجتماعیت میں فرد، معاشرے اور ریاست کے درمیان تعلق کش مکش اورمحض حقوق کی جنگ سے عبارت نہیں ہے، بلکہ اس کی اصل بنیاد ہمدردی، تعاون، احترام، ایثار اور تکافل کا رشتہ ہے۔ شریعت کی روشنی میں دونوں کے رول متعین ہیں اور دونوں ایک ہی مقصد___ یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے مصروفِ کار ہیں۔
اس طرح مرد اور عورت کا رشتہ بھی الہامی ہدایت کے تحت استوار کیا گیا ہے۔ خاندان کا نظام محض انسانی تجربے کا حاصل اور ٹھوکریں کھانے کے بعد کسی موہوم معاشی مفاد کے حصول کا ذریعہ نہیں (جیسا کہ کارل مارکس، اینجلز اور درکھیم نے اپنے اپنے انداز میںکہا ہے) بلکہ یہی پہلا انسانی ادارہ ہے، جسے وحی الٰہی کے تحت قائم کیا گیا اور جس سے انسانی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ اللہ کی شریعت نے اس ادارے کے مقاصد اور خطوطِ کار متعین کر دیے ہیں اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا پودا تناور اور پھل دار درخت اس بیج کی پیداوار ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
یہاں زوجی رشتے اور نسل کے تخلیقی عمل کے تعلق کو واضح کر کے خالق کائنات نے اس ادارے کی ابدی حکمت کی طرف انسان کو متوجہ کیا ہے۔
پھر قرآنِ عظیم میں خاندان کے دوسرے وظیفے یعنی محبت، مودت اور سکینت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
اسلام نے خاندان کے نظام کو جو تقدس عطا کیا ہے، وہ منفرد ہے۔ یہ محض انسان کی تلاش و جستجو اور تجربے سے حاصل ہونے والا ادارہ نہیں بلکہ اللہ کا قائم کردہ نظام ہے، جو انسان کی فطرت کا تقاضا ہے اور معاشرے اور تہذیب وتمدن کا گہوارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس الہامی طور پر قائم ہونے والے ادارے کے بارے میں ساری ضروری ہدایات خود اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں فراہم کر دی گئی ہیں۔
قرآن پاک میں جو قانونی احکام ہیں، ان کا دو تہائی حصہ صرف خاندان کے مسائل کے بارے میں ہے۔ مسلم معاشرے کو آج تک اسلام کی بنیاد پر قائم رکھنے اور ہر انحراف کے بعد اصل کی طرف رجوع کی تحریک پیدا کرنے والے عوامل میں سب سے اہم، قرآن و سنت کی موجودگی کے بعد خاندان ہی کا ادارہ ہے، جو ہمارا اصل قلعہ اور مامن رہا ہے۔ جس کے حصار میں اس امت نے بڑے سے بڑے فتنے کے مقابلے میں پناہ لی ہے اور جس سے وہ انسان پیدا ہوتے رہے ہیں، جن کے ہاتھوں تجدید واحیا کی نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔
مسلمان خاندان اور خصوصیت سے ’مسلمان ماں‘ وہ اہم ترین جائے پناہ رہی ہے، جس نے اس امت کو راہِ ثواب پر قائم رکھا ہے اور ہر پستی کے بعد نئی بلندی کی راہیں ہموار کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دشمن انھی چیزوں کو خاص نشانہ بنا رہا ہے، یعنی وحی اور الہامی ہدایت (قرآن و سنت اور خاندان کا نظام)۔ اس کا ہدف مسلمان عورت کو اس کے دین سے برگشتہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی پروگراموں سے لے کر مخصوص ایجنڈے کی حامل غیر ملکی اور ملکی این جی اوز اس تخریبی کام میں مصروف ہیں۔
اسلام میں خاندان کے نظام کا اپنا مخصوص مزاج اور متعین نظام ہے۔ اسے انسانی تہذیبوں کے دوسرے نمونوں(models) سے گڈمڈ اورکنفیوز نہیں کیا جانا چاہیے۔ خواہ ہندو مذہب اور سماج میںپروان چڑھنے والا تصور خاندان ہو، یا یونان، روم اور کلیسا کے دور کا خاندانی نظام، یا صنعتی انقلاب اور مغربی اقدار کے زیر اثر رونما ہونے والا مختصر بلکہ منتشر خاندان کا یورپی اور امریکی نمونہ___ ان سب کے مقابلے میں اسلام نے خاندان کا جو تصور دیا ہے، وہ بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ اسے تاریخ کے پدری (partiachal) نظام یا مغربی ممالک کی نشات ثانیہ کے زیر اثر آزاد محبت گیری (romantic love) سے کوئی نسبت نہیں۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے اسلام کے خاندانی نظام کی حقیقت اور اس کی روح کو اچھی طرح سمجھا جائے اور نئی نسلوں میں اس کی صحیح تفہیم پیدا کی جائے۔
اسلام میںنکاح محض شہوت کی تسکین کا ایک ذریعہ نہیں، اگرچہ جنسی عمل اور فطرت کے حقیقی تقاضوں کی جائز تسکین اس کا حصہ ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ ایک نئے خاندان کے قیام کا ذریعہ ہے۔ دوخاندانوں میں نئے روابط کی ایک صورت، اور معاشرے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے اور استوار رکھنے کا ایک تخلیقی عمل ہے۔ اسی لیے ناجائز سے بچنے اور جائز ذریعے کو لائق اجر عمل قرار دیا گیا ہے۔
نکاح کی حیثیت اسلام میں ایک سنت اور کچھ حالات میں سنت موکدہ کی ہے۔ پھر نئے خاندان کے قیام کے عمل کو محض وقتی جذبات پر نہیں چھوڑا گیا، بلکہ اس کے لیے بڑے واضح اصولوں، ضابطوں اور ایسے تحفظات کا اہتمام کیا گیا ہے، جو خاندان کے قیام کو محض ایک کھیل اور تجربہ نہ بننے دیں۔
اسلام نے اپنے پوری عائلی نظام کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی ہے، وہ یہ ہیں:
۱-اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، انسان کی خدائی کی جگہ رب العالمین کی حاکمیت کو تسلیم کرنا اور بندگی اور اطاعت کے راستے کو خوش دلی سے اور والہانہ انداز میں اختیار کرنا۔
۲-اللہ کی حاکمیت کے عقیدے کا لازمی نتیجہ انسانوں کی مساوات اور برابری، حقوق و فرائض کی پاس داری اور ایک ہی مقصد اور منزل کی جستجو میں رفاقت اور ہم سفری کا احساس اورتجربہ ہے۔ یہ تمام انسانوں کو، مرد اور عورت کو، شوہر اور بیوی کو، والدین اور اولاد کو، بزرگوں اور بچوں کو، غرض معاشرے کے ہر فرد کو ایک دوسرے سے ایک نئے رشتہ میں جوڑ دیتا ہے اورزندگی گزارنے کے لیے ایک نئے اسلوب اور آہنگ سے روشناس کرتا ہے، جسے قرآن نے بڑے خوب صورت انداز میں کامیابی کے معیار کی صورت میں پیش کیاہے:
دنیا اورآخرت میں برتری اور کامیابی کا معیار نہ تو جنس (gender)ہے، نہ نسب، نہ دولت اور نہ اقتدار، بلکہ مرد اور عورت سب کے لیے صرف تقویٰ ہی واحد معیار ہے:
اور پھر سورۂ توبہ میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا رفیق اور مددگار بتایا ہے۔ دونوں کے لیے کارگۂ حیات میں ذمہ داریاں متعین کی ہیں، اور دنیا اور آخرت میں اصل کامیابی کا ایک ہی راستہ اورایک ہی معیار اس دو ٹوک انداز میں بیان فرما دیا:
مسلم خاندان اور مسلم معاشرہ زندگی اور کامیابی کے اسی انقلابی اصول پر قائم ہوتا ہے اوریہ مسلم امت کو ان تمام گمراہ کن بحثوں سے نجات دے دیتا ہے، جن میں دورِ غلامی سے لے کر، عصرِ حاضر کی مادر پدر آزادی تک کے انسانی سماج میں وہ اُلجھا رہا ہے۔ اسلام نے زندگی گزارنے کے لیے جو میدان (matrix) ہمارے لیے بنایا ہے، اور وہ سب سے جدا اور سب سے امتیازی نشان والا ہے۔
۳-اسلام کے عائلی نظام کی تیسری بنیاد مہرو محبت اور صلہ رحمی ہے۔ نکاح دراصل اخلاق اور عصمت کے تحفظ کے لیے قلعے کی مانند ہے اور اس قلعے کے مکین ایک دوسرے کے لیے تسکین، محبت اور رحمت کا سرچشمہ ہیں: لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً (الروم ۳۰:۲۱)۔ اور اس رشتے کو ایک دوسرے کے لباس کے قریبی رشتے سے تعبیر کیا گیا ہے: ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ(البقرہ۲:۱۸۷)۔اور پھر اس رحمت اور محبت کو ازواج یا اولاد تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ صلہ رحمی کے حکم کے ذریعے وسیع تر خاندان اور تمام دوسرے رشتہ داروں کو بھی اس کی ٹھنڈک اور مٹھاس میں شریک کر لیا گیا ہے۔
۴-اللہ کی حاکمیت، اس کے تحت رونما ہونے والی مساوات اور شرکتِ مقاصد، عصمت کی حفاظت اور محبت اور رحمت کے بعد چوتھی بنیاد عدل و انصاف ہے۔ اسلام میں کوئی انسان کسی بھی دوسرے انسان کی ملکیت نہیں ہے اور کوئی کسی کا تابع مہمل نہیں ہے۔ سب حقوق و فرائض کے ایک الہامی اور منصفانہ نظام کے پابند ہیں۔ اور اگر ایک طرف اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم اور خاندانی نظام کے کامیاب نظم کی خاطر مرد کو ایک درجہ فوقیت دی گئی ہے، تودوسری طرف اس کا اختیار بھی قانون کے تابع اور جواب دہی کے نظام سے مشروط ہے۔ جبراور من مانی کا اختیار (arbitrary power) شریعت الٰہی کے نظام میں کسی کو حاصل نہیں، نہ مرد کو، نہ عورت کو:
وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ (البقرہ۲:۲۲۸) عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔
ہر فرد اپنے اعمال کا ذمہ دار اور ان کے لیے جواب دہ ہے:
وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْاُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا(النساء۴:۱۲۴)اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔
اختیارات ذمہ داریوں اور جواب دہی کے اس نظام کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے دل نشیں انداز میں بیان فرمایا ہے:
تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ امام، نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پُرس ہوگی، آدمی اپنے اہل پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی، اورعورت اپنے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی۔(بخاری)
اس پس منظر میں آیت کریمہ: وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ(الشوریٰ۴۲:۳۸)نے الٰہی قانون کے تحت منظم اور مرتب ہونے والے اس ادارے کے مزاج اور طرزِ کار کو بالکل واضح کردیا ہے۔ جس طرح اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرہ ایک شورائی ریاست اور شورائی معاشرہ ہیں، اسی طرح اسلام میں خاندان بھی ایک شورائی ادارہ ہے۔ مولانا مودودی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں:
اسلامی طرزِ زندگی یہ چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتا جائے، گھر کے معاملات ہوں تو ان میں میاں اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں، اور بچے جب جوان ہو جائیں تو انھیں بھی شریکِ مشورہ کیا جائے۔ خاندان کے معاملات ہوں تو ان میں کنبے کے سب عاقل و بالغ افراد کی رائے لی جائے۔(تفہیم القرآن، جلدچہارم، ص۵۰۹)
۵- عدل و انصاف اور مشاورت کے اس نظام کو مستحکم کرنے کے لیے مسلمان خاندان کی پانچویں بنیاد فرد کی معاشی آزادی اوراجتماعی تکافل کا ایک ایسا نظام ہے، جو مرد اور عورت کی عزّتِ نفس اور آزادی کی مکمل ضمانت کے ساتھ ان کے درمیان تعاون اور شراکت کا رشتہ استوار کرتا ہے۔ دونوں کو اپنی اپنی مِلک پر پورا اختیار دیتا ہے۔ مرد کو نان نفقہ کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اورعورت کو محض بچوں کی پرورش کرنے والی اور جبری طور پر گھر کا کام کاج کرنے والی نہیں بناتا، بلکہ ان تمام معاملات کو ان کی اہمیت اور خاندانی نظام کی ضرورت کے مطابق حقوق کی باہم پاس داری کے ساتھ انجام دلانا چاہتا ہے۔
اس کے ساتھ گھر کے اندر بھی اور خاندان اور معاشرے کے وسیع تر میدان میں ایک ایسا نظام قائم کرتا ہے، جو بھی مالی اعتبار سے مضبوط ہو، وہ مالی اعتبار سے کمزوروں کی مدد، ان کے ایک حق کی ادائیگی کے جذبے سے کرے۔ یہ عمل زندگی اور موت دونوں صورتوں میں جاری رہے، یعنی نفقہ، صدقات، صلہ رحمی، وراثت، ولایت، اور نفقہ الاقارب کے قوانین اور ہدایت کی روشنی میں۔
مسلم خاندان کی ان امتیازی خصوصیات پر اگر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے: lیہ نظام دوسری تہذیبوں اور معاشروں میں پائے جانے والے خاندانی نظام سے بہت مختلف ہے۔ lیہ ایک دینی اور شرعی ادارہ ہے۔ اس کی حد بندی اور کارکردگی خود الہامی ہدایت کی روشنی میں اورآخرت کی کامیابی کے جذبے سے کی جاتی ہے۔ lیہ عصمت و عفت کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہے۔ lیہ انسانی فطرت کے تقاضوں کی تسکین اور تکمیل کے لیے ایک موزوں اور دل کش انتظام ہے۔ lیہ نئی نسلوں کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے بہترین گہوارہ ہے۔ lیہ جسم اورروح کو محبت، مودت اور سکینت سے شاد کام کرنے اور اس پاکیزہ فضا میں نئی نسلوں کو پروان چڑھانے کا ادارہ ہے۔ lیہ اپنے دین، تہذیب اور تمدن اور انسانی معاشرے کے علوم و فیوض سے روشناس کرانے کا ایک نظام ہے۔ lیہ معاشی تکافل اور سوشل سکیورٹی کا ایک فطری نظام ہے، جس میں عزّتِ نفس کی مکمل پاسداری کے ساتھ خاندان کے افراد ایک دوسرے کے لیے سہارا بنتے ہیں اور سب کو معاشی دوڑ میں شرکت اور وسائل سے استفادے کا موقع دیتے ہیں۔ lخاندان کا یہ نظام سیرت کے نکھار، معاشرتی استحکام اور تہذیبی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔
ملت اسلامیہ کا اصل مشن ایسے خاندانی نظام کا قیام اور استحکام ہے، جو ان اصولوں کی جیتی جاگتی تصویر ہو۔ آج جس بگاڑ سے ہم دو چار ہیں، وہ اچانک رونما نہیں ہوا اور محض کسی ایک سبب کی بنا پر پیدا نہیں ہوا ہے۔ خرابی کی اصل جڑ دین کے علم کی کمی، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور تعلیمات سے عدم واقفیت اور عملی غفلت ہے۔ مقصد ِزندگی کے شعور کی کمی، جاہلی افکار کا غلبہ، مؤثر قیادت کا فقدان اور معاشی ذمہ داریوں سے اغماض کا نتیجہ ہے۔ دورِ غلامی کے اثرات اور مغربی ثقافت کے زیر اثر حالات کا مزید بگاڑ، مفاد پرستی، محض معاشی اور مادی ترقی کے بتوں کی پوجا ہے۔ علما، مشائخ، اساتذہ، والدین اور میڈیا کا اپنے اصل فرائض کی انجام دہی میںکوتاہی برتنا اور بہت سے غلط اثرات کے فروغ کا ذریعہ بن جانا ہے۔ یہ ہیں وہ چند موٹے موٹے اسباب، جن کی وجہ سے یہ صورت حال رُونما ہوئی ہے۔
اصلاح کا راستہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی انفرادی واجتماعی ترجیحات کو درست کریں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کی طرف خلوص اور یکسوئی کے ساتھ مراجعت کریں۔ اس وقت تو حال یہ ہے کہ ہم متضاد سمتوں کی طرف لپک رہے ہیں اور یوں دکھائی دیتاہے ؎
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
ہم میں سے ہر شخص کو ان حالات پر بڑی سنجیدگی اور دل سوزی سے غور کرنا چاہیے اوربحیثیت فرد اور من حیث القوم یکسو ہو جانا چاہیے کہ ہماری منزل کیا ہے؟ کسی فرد اورکسی قوم کے لیے اس سے زیادہ تباہی کا راستہ کیا ہوگا کہ بقول غالب اس کا حال یہ ہوجائے کہ ؎
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے ، نہ پا ہے رکاب میں
اگر ہماری منزل اسلام ہے اور یقینا اسلام ہی ہے، تو پھر دورنگی اور عملی تضاد کو ترک کرنا ہوگا۔ ایمان اور جہل ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسلام تو علم کی روشنی میں زندگی گزارنے کا راستہ ہے۔ کتنے تعجب کی بات ہے کہ مسلمان معاشرے کی اکثریت کو دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی آگہی نہیں۔ نئی نسلوں کو اسلامی آداب اور شعائر سے آشنا نہیں کیا جا رہا۔ میڈیا بالکل دوسری ہی تہذیب اور ثقافت کا پرچارک ہے، جو ذہنوں کو مسلسل مسموم بنا رہا ہے اور اخلاق اور معاشرت کو انتشار کا شکار کر رہا ہے۔
بااثر افراد کا ایک گروہ بڑے منظم طریقے پر نوجوانوں کو بے راہ روی اور اباحیت پسندی کی طرف لے جا رہا ہے۔ ہمارے علما، دانش ور اور اربابِ سیاست اپنے اپنے ذاتی، گروہی، مسلکی اور سیاسی مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں۔ طبقۂ علما اور سیاست دانوں کو فرصت ہی نہیں کہ ان معاشرتی ناسوروں کے علاج کی فکر کریں۔
عدالتیں، اینگلوسیکسن قانونی روایت کی تقلیدمیں قانون کے الفاظ کو انصاف کے حصول پر فوقیت دے رہی ہیں۔ جن معاملات کو گھر کی چار دیواری اور خاندان کے حصار میں طے ہونا چاہیے ان کو تھانے اور کچہری کی نذر کیا جارہا ہے۔ صحافت اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا فواحش کی تشہیر کی خدمات انجام دیتے ہوئے اس گندگی کو ملک کے طول وعرض میں پھیلانے کا کردار ادا کررہے ہیں۔
ان حالات میں ملک کے تمام سوچنے سمجھنے والے عناصر اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ ملک و ملّت کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دیں۔ سیاست محض نعروں کی تکرار کا نام نہیں، سیاست تو تدبیرِ منزل سے عبارت ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ایک گروہ اصلاح کے لیے عملاً میدان میں اُتر آئے۔ خیر و شر میں تمیز کے احساس کو بڑے پیمانے پر بیدار کرنا، وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ بلاشبہ حکومت کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، لیکن اگر حکومت اپنی اس ذمہ داری کو ادا نہیں کر رہی، تو کیا حالات کو تباہی کی طرف جانے کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے؟ اس کشتی میں تو ہم سب ہی بیٹھے ہیں۔ اس کو بچانے کی ذمہ داری بھی ہم سب کی ہے۔ اگردوسرے اس میں چھید کررہے ہیں، تو ہم ان سب کو ڈبونے کا موقع کیسے دے سکتے ہیں؟ اس سلسلے میں سب سے بڑی ذمہ داری اسلامی فکر سے سرشار اور معاشرے کے سوچنے سمجھنے والے قابلِ قدر افراد کی ہے۔
ہماری پہلی ضرورت منزل کے صحیح تعین اور اس کے حصول کے لیے یکسو ہو کر جدوجہد کرنے کی ہے۔ مغربی ثقافت کی نقالی اور تہذیبِ نو کی یلغار کے آگے ہتھیار ڈالنا ہمارے لیے موت کے مترادف ہے۔ جو کش مکش آج برپا ہے اور جس کا ایک ادنیٰ ساعکس ایک خانگی حادثے پر عدالتی فیصلے اور اس کے تحت رو نما ہونے والی بحثوں میں دیکھا جا سکتا ہے، وہ ہمیں دعوتِ غوروفکر ہی نہیں، دعوتِ عمل و جہاد بھی دیتی ہے۔
آئیے، سب سے پہلے اپنی منزل کے بارے میں یکسو ہو جائیں۔ اگر وہ اسلام ہے، اوراسلام کے سوا کوئی دوسرا راستہ زندگی کا راستہ ہو ہی نہیں سکتا، تو پھر بیک وقت دو مختلف سمتوں میں جانے والی کشتیوں میں سواری کرنے کا احمقانہ ہی نہیں بلکہ خطرناک راستہ بھی ہمیں ترک کرنا ہوگا۔ فرد کی ذاتی تربیت سے لے کر خاندان کے نظام کی تشکیل، معاشرے کا سدھار، معیشت کی تنظیم نو، صحافت، سیاست، قانون اور عدالت کے نظام کی اصلاح اس کا لازمی حصہ ہیں۔
وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور مہلت بہت کم ہے۔ ہم ملک کے اہلِ نظر کو دعوت دیتے ہیں کہ ان بنیادی مسائل کے بارے میں عوام کی مؤثر رہنمائی کریں۔ ناخوش گوار واقعات پر سے صرف کبیدہ خاطر ہو کر گزر نہ جائیں، بلکہ اصلاح کے لیے منظم طور پر عملی اقدام کریں۔
دُنیائے اسلام کے اہل فکر میں اس وقت یہ عام احساس پایا جاتا ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے شدید ترین دورِ اضطراب سے دوچار ہیں۔ گذشتہ صدی کے دوسرے نصف میں، پرانے مغربی نوآبادیاتی نظام کے شکنجے سے نکل کر ایک طرف مسلم ممالک آزادی سے ہم کنار ہوئے اور ان ملکوں کو ملنے والی آزادی اپنے دامن میں تعمیرِنو (Reconstruction)کے مسائل کا ایک ہجوم لے کر سامنے آن کھڑی ہوئی۔ دوسری طرف مغرب کا ذہنی، فکری، معاشی، فوجی اور ثقافتی غلبہ اپنی انتہا کو پہنچا۔ نوجوانوں کے ذہن شک و تردّد کی آماج گاہ بنے۔سیاسی قیادت کی مداہنت پسندی، مغربیت زدہ تعلیم کی خود سپردگی، نئی نسلوں کو ملّی روایات اور اسلامی تہذیبی ورثے سے کاٹ کر، ہمارے معاشرے کی بیخ کنی کرنے پر پوری قوت سے تُل گئی۔ اس سب کے نتیجے میں رائج الوقت فلسفۂ حیات کے حملوں نے ذہنی اطمینان اور قلبی سکون کو پامال کرکے رکھ دیا ہے اور قوم کے ذہین و فعّال طبقے عقیدہ و عمل، دونوں کے اعتبار سے نیم مسلمان، بلکہ بعض حالات میں نامسلمان بنتے چلے گئے۔
بڑے دُکھ کی بات ہے کہ آج مسلم اُمت کی حالت اس جہاز کی سی ہے، جس کے سامنے ایک عظیم سفر کے امکانات تو موجود ہیں، لیکن جس کے لنگر ٹوٹ چکے ہیں اور اس قافلے کی سی حالت ہے، جس کے پاس یہاں وہاں، جوان ہمتیں تو موجود ہیں، مگر جو منزل کا پتا بھول گیا ہے۔ تاریخ کا یہ عجیب دوراہا ہے، جہاں ایک ارب ۸۰کروڑ مسلمانوں کی عظیم عددی قوت، اپنی ۵۷ آزاد مملکتوں کے ذریعے ایک شان دار عالمی کردار ادا کرسکتی ہے۔ لیکن اپنی اندرونی کمزوری، ذہنی غلامی، فکری انتشار، سیاسی غلامی اور نشۂ جاہلیت کی وجہ سے محض گھبراہٹ اور سراسیمگی کا شکار ہے۔
آج مسلمان اِس عظیم چیلنج کا جواب دینے کے لیے کھڑے ہیں: کیا عصرحاضر کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے اُٹھ کر صف بندی کرسکتے ہیں یا نہیں؟ صحیح حکمت عملی اور دانش مندانہ جدوجہد کے ذریعے تاریخ کا رُخ بدل کر ایک نئے دور کے بانی بن سکتے ہیں یا نہیں؟ خبردار ہونا چاہیے کہ اگر فکرودانش کی کمزوری اور تدبیر کی غلطی کے باعث عملی چیلنج کے جواب میں ہمارے قدم اُکھڑ گئے تو خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے اور پھر معلوم نہیں کب سنبھل سکیں گے۔
وقت کے اس چیلنج کا مقابلہ جن محاذوں پر کیا جانا ہے، ان میں سے اہم ترین محاذ علم و ادب اورفکروفن اور تحقیق و جستجو اور مکالمہ و استدلال کے میدان ہیں۔ بے شک انسانی زندگی میں افکارونظریات کو حکمران قوت کی حیثیت حاصل ہے۔ جس طرح انسان کے جسم میں دماغ کی حیثیت حکمران کی ہے۔ بالکل اسی طرح ایک نظامِ تہذیب میں افکار و نظریات اور عقائد و خیالات سب سے مؤثر اور رہنما قوت کا مقام رکھتے ہیں، پھر تمام معاشی، سیاسی اور عمرانی اُمور اسی کے زیراثر طے ہوتے ہیں۔ وہی زمانے کا مزاج بناتے ہیں، وہی اقدار اور معیارات دیتے ہیں، انھی سے سوچنے کے انداز، غوروفکر کے زاویے اور عمل کے ضابطے مقرر ہوتے ہیں۔
اسی لیے اسلام اپنی اصلاحی دعوت کا آغاز ایمان سے کرتا ہے اور پوری زندگی کی اصلاح کو ایمان کی قدر اور پختگی سے وابستہ کرتا ہے۔ آج جس وجہ سے صورتِ حال بہت زیادہ تشویش ناک ہوگئی ہے، وہ یہ ہے کہ بگاڑ صرف ماحول پر ہی تباہ کن اثر نہیں ڈال رہا ہے، بلکہ ایمان و یقین بھی کمزور ہورہا ہے۔ مغربی جاہلی فکری غلبے کا سب سے بڑا نشانہ ایمان اور عقائد ہیں، اور پھر وسائل و اختیار۔
پچھلی چند صدیوں سے مغربی فکروفلسفہ کے ذریعے مسلمانوں کے افکارونظریات کو ہدف بنایا گیا ہے، ان کے دل و دماغ کو زہرآلود کیا جارہا ہے، اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کوششیں اپنے نتائج سامنے لارہی ہیں۔ یہ حملہ فلسفہ اور سائنس کے ہتھیاروں سے بھی کیا جارہا ہے اور تعلیم و تربیت کے اسلحے سے بھی، پھر نشرواشاعت اور اثرونفوذ کے تمام ذرائع کو پوری طرح استعمال کیا جارہا ہے۔
ذرائع ابلاغ اور تقریر و تحریر کا ہرحربہ اس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے جواب میں اگرچہ محدود کوششیں تو ہوتی رہی ہیں، لیکن منظم اور ہمہ گیر جدوجہد کا فقدان چلا آرہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مؤثر طبقوں میں دُور دُور تک اس چیز کا احساس بھی نہیں پایا جاتا۔ ضرورت ہے کہ نئی نسل میں اعتماد بحال کرنے کے لیے درج ذیل ناگزیر اقدامات اُٹھائے جائیں:
۱- اسلام کے فلسفۂ زندگی اور اس کے نظامِ حیات کا تحقیقی مطالعہ کیا جائے اور اس کی تعلیمات کو ایمانی اور عقلی دلائل کے ساتھ آج کی زبان میں پیش کیا جائے،تاکہ اسلام کی شاہراہِ مستقیم بالکل واضح اور نمایاں ہوکر سامنے آجائے۔ ہماری مشکلات کا ایک بڑا ذریعہ جہالت اور بے خبری ہے۔ اسلام کا علمی سرمایہ جن زبانوں میں ہے ان تک ہماری نئی نسلوں کی رسائی نہیں اور جن اصطلاحات میں ہے، اس سے آج کے لوگ نامانوس ہوگئے ہیں۔ اگر اسلام کی حقیقی تعلیمات کو آج کی زبان میں مختلف علمی سطحوں پر لوگوں کے سامنے پیش کردیا جائے، تو دین اسلام سے انحراف اور مغرب کی غلامی کا ایک بڑا سبب دُور ہوسکے گا۔
۲- مغربی علوم و فنون اور نظامِ تہذیب و تمدن کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ علمِ جدید کے پورے سرمائے کا کھلی آنکھوں اور ناقدانہ ذہن کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور بتایا جائے کہ اس میں کیا کچھ غلط اور قابلِ ترک ہے؟ اور کیا کچھ صحیح اور قابلِ اخذ؟بلاشبہہ خود مغرب کی ذہنی ترقی مسلمانوں کے اثرات کی پیدا کردہ ہے، لیکن ایک غلط نظامِ تہذیب اور خالص مادہ پرستانہ زاویۂ نظر نے علوم و فنون کی ترقی کو بالکل غلط رُخ پر ڈال دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ فکروفلسفہ کا عمومی مزاج زہرآلود ہوگیا ہے اور درست سمت میں ترقی نہیں کر رہا ہے۔ آج بہت بڑی ضرو رت یہ ہے کہ غلامانہ ذہنیت کو ترک کرکے مغربی افکار کا مطالعہ کیا جائے۔
۳- تمام علوم کو دین اسلام کی دی ہوئی اقدار پر مرتب اور مدون کیا جائے، اور صحیح سمت میں ان کو ترقی دی جائے۔ اسلام کا نقطۂ نظر بڑا وسیع ہے، وہ تمام علوم و فنون کی ترقی چاہتا ہے اور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ یہ ترقی صحیح بنیادوں پر ہو اور مسلسل ہو۔
۴- آج کی دُنیا میں، خصوصیت سے معیشت، معاشرت، سیاست، انتظامیات اور قانون کے میدانوں میں جو نئی پیچیدگیاں رُونما ہوئی ہیں، ان کا مطالعہ بیدارذہن کے ساتھ اور بالغ نظری کے ساتھ کیا جائے۔ پھر پو ری وضاحت کے ساتھ بتایا جائے کہ اسلام کے اصولوں کو زمانۂ حال کے مسائل و معاملات پر منطبق کرکے ایک صالح اور ترقی پذیر تمدن کی تعمیر کس طرح ہوسکتی ہے، اور اس میں ایک ایک شعبۂ زندگی کا عملی نقشہ کیا ہوگا؟ اسلامی اصولوں کے تحت آج کا سیاسی نظام کیا ہوگا؟ معیشت کا ڈھانچا کیسے بنے گا؟ سود کیونکر ختم کیا جاسکے گا؟ معاشی استحصال کیسے روکا جاسکے گا؟ اخلاقی ذوق کی آبیاری اور معاشی ترقی میں توازن کس طرح پیدا کیا جائے گا؟ قانونِ تجارت، قانونِ فوجداری، قانونِ شہادت وغیرہ کی شکل کیا بنے گی؟ بین الاقوامی سیاست کے ضابطے کیا ہوں گے؟ معاشرتی زندگی کی گتھیوں کو کس طرح سلجھایا جائے گا؟ فنونِ لطیفہ کس طرح صحت مند انسانی معاشرے کی تشکیل کرسکتے ہیں؟ آج مسلم معاشرے میں پیش آنے والے عملی مسائل کو اسلام کی رہنمائی میں کس طرح حل کیا جاسکتا ہے؟ انھی علمی و فکری کاوشوں سے زندگیوں کے رُخ کو تبدیل کیا جاسکے گا اور وہ تہذیبی نظام قائم ہوسکے گا جو اسلام چاہتا ہے۔
یہ کام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان نیک بندوں اور اسلامی تحریکوں پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے، جنھوں نے اس کام کو انجام دینے کی کوشش کی ہے، اور ذہنی غلامی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کے لیے اپنی اور زندگی بھر کی ساری صلاحیتیں اور تمام قوتیں کھپا دی ہیں۔ لازم ہے کہ اس کام کو منظم طریقے سے اور وسیع پیمانے پر انجام دیا جائے۔ایسے ادارے قائم کیے جائیں، جو اپنی ساری قوتوں کو اس علمی اور فکری جہاد کے لیے صرف کردیں۔ اعلیٰ صلاحیت کے حامل نوجوانوں کی ایک کھیپ اپنی زندگیوں کو اس عظیم کام کے لیے وقف کردے۔ صرف اسلام کی خدمت کو اپنا مشغلۂ حیات (Career) بنالے اور اس کے لیے اپنی زندگیوں کو یکسو کر دے۔
آزاد اور خودکار نظام کے تحت معیاری ،تحقیقی اور تربیتی اداروں کا قیام بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے اداروں کو قائم کرتے وقت ماضی کے قائم شدہ اداروں کی کارکردگی، تجربات اور کامیابیوں، ناکامیوں کا بے لاگ جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔ اس جائزے کی روشنی میں یہ ادارے علم و فکر کے میدان میں اسلام کے دفاع اور ترجمانی کی خدمات انجام دینے کی جدوجہد کریں، جن کا ذکر اُوپر کیا گیا ہے۔ ان اداروں کا پروگرام یہ ہونا چاہیے:
یہ کام ان علمی و فکری اداروں کے پیش نظر ہونے چاہییں، اور ان میں نگرانی، حوصلہ افزائی اور احتساب کا مؤثر نظام قائم کرنا چاہیے۔ جمود زدہ ماحو ل کو تحفظ دے کر اور باہم بے فیض کارگزاریاں دکھاکر ایک دوسرے کو بے خبر رکھنے کی روش ترک کی جانی چاہیے۔
اسلام کسی ایسے مذہب کا نام نہیں ہے جو صرف انسان کی نجی اور انفرادی زندگی کی اصلاح کرتا ہو اور جس کا کُل سرمایۂ حیات کچھ عبادات، چند افکار اور چند رسوم و رواج پر مشتمل ہو۔ اس کے برعکس یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو خدائے بزرگ و برتر اور اس کے نبی صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبوں کی صورت گری کرتا ہے، اور حیاتِ انسانی کے ہرپہلو کو خداکے نُور سے منور کرتا ہے۔ خواہ وہ پہلو انفرادی ہو یا اجتماعی، معاشرتی ہو یا تمدنی، مادی ہو یا روحانی، معاشی ہو یا سیاسی، اورملکی ہو یا بین الاقوامی ۔ اسلام کی اصل دعوت یہ ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کا قانون جاری و ساری ہو اور دل کی دُنیا سے لے کر تہذیب و تمدن کے ہرگوشے تک خالقِ حقیقی کی مرضی پوری ہو۔ اور یہ کہ مسلمان نام ہے اس نظریاتی انسان کا، جو ایک طرف اپنی پوری زندگی کو خدا کی اطاعت کے لیے خالص کرلیتا ہے، اور دوسری طرف خدا کے دین کو تمام روئے زمین پر غالب کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے جس دین کو پسند فرمایا ہے وہ اسلام ہے، اس کو چھوڑ کر جو راہ بھی اختیار کی جائے گی، وہ دُنیا اور آخرت میں ناکامی اور نامرادی کی راہ ہوگی:
اپنے پیرووں سے اس دین کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو اس کے تابع کردیں اور زندگی کی تمام وسعتوں کے لیے روشنی اور ہدایت صرف اسی دین سے حاصل کریں اور کسی دوسرے سرچشمہ کی طرف رجوع نہ کریں ورنہ ان کی یہ روش شیطان کی پیروی کے مصداق ہوگی:
’اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونے‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری پوری زندگی خدا کی اطاعت اور اس کے قانون کی پیروی میں صرف ہو۔ ہم اپنی تمام انفرادی اور اجتماعی، نجی اور معاشرتی، معاشی اور سیاسی، اخلاقی اور تمدنی سرگرمیوں کو خدا کی ہدایت کے تابع کردیں۔ صرف خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے روشنی طلب کریں۔جھکیں تو صرف اس کے آگے، مانگیں تو صرف اس سے، رجوع کریں تو صرف اس کی طرف، بڑھیں تو صرف اسی کی راہ پر۔ ہمارا مقصد صرف خالق و مالک کی رضا کا حصول ہو اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے دوسروں کی ناراضی کی پروا نہ کریں۔ یہی معنی ہیں اسلام کے اور یہی حقیقت ہے توحید کی۔
پھر دین میں پورے داخل ہونے کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہمارا مقصد ِ زندگی اپنی ذاتی اغراض کا حصول نہ ہو، بلکہ ہم اپنی زندگیوں کو ایک اعلیٰ تر نصب العین کے لیے وقف کردیں اور یہ نصب العین ہے اقامت دین اور غلبۂ حق!
اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا ؑ کو جس مقصد کے لیے بھیجا وہ یہی مقصد ِ اعلیٰ تھا کہ انسانوں تک حق کی دعوت کو پہنچائیں، بالآخر دین کو غالب اور خدا کے کلمہ کو ہرچیز پر بلند کردیں:
انبیائے کرام علیہم السلام کا بنیادی فریضہ یہی تھا کہ حق کی شہادت دیں اور زندگی کے پورے نظام کو اس کے تابع کردیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کام آپؐ کی پوری اُمت کے سپرد کیا گیا ہے کہ وہ اس شمع کو روشن رکھے، جسے انبیاعلیہم السلام نے روشن کیا۔ اس جھنڈے کو بلند رکھے جسے ان مقدس ہستیوں نے اُٹھایا تھا اور قیامت تک قیامِ دین کی جدوجہد میں مصروف رہے:
اس اُمت کو اللہ تعالیٰ نے ’خیرِ اُمت‘ بنایا ہے اور اس کا فرضِ منصبی یہ ہے کہ دین کو قائم کرے، نیکیوں کا حکم دے اور بُرائیوں کو روکے اور خدا کی طرف انسانوں کو بلائے:
یہ ذمہ داری پوری اُمت کی ہے اور اس اُمت کو حکم دیا گیا ہے کہ اس کارِعظیم کو انجام دینے کے لیے ایک منظم ادارے کی شکل اختیار کرے اور اگر خلافت علیٰ منہاج النبوت کا یہ ادارہ موجود نہ ہو تو پھر فرداً فرداً ہرشخص اس فریضے کی ادائیگی کے لیے ذمہ دارہے، اور ان افراد کا فرض ہے کہ اس کوانجام کو دینے کے لیے وہ مناسب صورت اختیار کریں:
۱- اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم ہرقسم کے شرک کو ترک کردیں اور اپنی پوری زندگی کو خدا کی اطاعت میں دے دیں۔
۲- ہماری ذمہ داری صرف یہی نہیں ہے کہ دین کو اپنی ذات پر قائم کریں بلکہ بحیثیت مسلمان یہ بھی ہمارا فرض ہے کہ دین کو قائم کریں، اور خدا کے بندوں کو ظلم کے غلبے سے نجات دلا کر دینِ حق اور امن وعدل کی طرف لائیں۔
۳- اقامت ِدین کا یہ فریضہ پوری اُمت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک طرف خود دین کے قیام کی جدوجہد کریں، اور دوسری طرف دین کی سربلندی اور اس مرکزی نظامِ امر کے قیام کے لیے سردھڑ کی بازی لگادیں تاکہ اُمت پوری شانِ مرکزیت کے ساتھ دعوت الی الخیرکا عظیم کام انجام دے سکے۔
یہ ہے ہم سب مسلمانوں سے اسلام کا ناقابلِ انکار مطالبہ!
آج پورے عالم اسلام میں مسلمان جن مشکلات اور مصائب سے دوچار ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان میں اپنے ’خیراُمت‘ ہونے کا احساس باقی نہیں رہا ہے، اور وہ اپنے مسائل کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہدایت کی روشنی میں حل کرنے کے بجائے محض اپنی ناپختہ عقل اور تجربات یا وقت کے چلتے ہوئے نظاموں کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس طرح فی الحقیقت اپنی مشکلات کو پیچیدہ تر کرتے جارہے ہیں۔ ہمارے لیے فلاح کی صرف ایک راہ ہے اور وہ ہے محمد رسولؐ اللہ کے دین کی اطاعت اور اس دین کے قیام کی راہ۔
جماعت اسلامی کے قیام کا اصل محرک قرآن و سنت کے واضح احکام اور مسلمانوں کی تاریخ کے ناقابلِ انکار تقاضے ہیں۔ یہ جماعت نہ ان محدود معنی میں ایک مذہبی یا اصلاحی جماعت ہے، جن میں یہ الفاظ عام طور پر بولے جاتے ہیں، اور نہ ان معنوں میں ایک سیاسی جماعت ہے، جن میں سیاسی محاورے میں یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک اصولی اور نظریاتی تحریک ہے، جو پوری انسانی زندگی کے لیے ایک جامع اور عالم گیر نظریۂ حیات پر یقین رکھتی ہے اور اس کو قائم کرنے کے لیے ایک واضح پروگرام رکھتی ہے۔ یہ جماعت دینِ حق کو انسانی عقائد و افکار میں، اخلاق و عادات میں، علوم و فنون میں، ادب و آرٹ میں، تمدن و تہذیب میں، مذہب و معاشرت میں، عدالتی و معاشی معاملات میں، سیاست اور نظمِ مملکت میں اور بین الاقوامی تعلقات و روابط میں عملاً نافذ کرنا چاہتی ہے۔
جماعت اسلامی دنیا کے بگاڑ کا حقیقی سبب اخلاقی بگاڑ کو سمجھتی ہے۔ اس کی نگاہ میں تمام خرابیوں کا مرکز، خدا کی اطاعت سے انحراف، آخرت کی جواب دہی سے بے نیازی اور انبیا علیہم السلام کی رہنمائی سے رُوگردانی ہے۔ یہ جماعت نوعِ انسانی کے لیے فلاح کی صرف ایک ہی صورت دیکھتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کا پورا نظام اپنے تمام شعبوں اور گوشوں سمیت خدائے واحد کی بندگی و اطاعت کے اصول پر قائم ہو۔ یہ بندگی و اطاعت آج اپنی صحیح اور کامل صورت میں صرف سیّدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہی میں موجود ہے، اور جس کی عملی صورت ہمیں آپ کے اسوئہ مبارکہ میں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقے میں ملتی ہے، اور افراد کی سیرتوں سے لے کر قوموں کے اجتماعی طرزِ عمل تک ہرچیز کو اس اخلاقی رویے پر قائم کیا جائے جس کی بنیاد آخرت کی جواب دہی کے احساس پر رکھی گئی ہو۔ اس جدوجہد کا نام اقامت ِ دین ہے۔ یہی جماعت اسلامی کا مقصد و نصب العین ہے اور اس کو جماعت کا دستور اس طرح پیش کرتا ہے:
جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامت ِ دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضائے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہوگا‘‘۔ اور اس نصب العین کی یہ تشریح دستور میں کی گئی ہے:
’اقامت ِدین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے بلکہ پورے دین کی اقامت ہے ، خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہویا اجتماعی زندگی سے، نماز، روزے اور حج و زکوٰۃ سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیرضروری نہیں ہے۔ پورے کا پورا اسلام ضروری ہے اور ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہرمومن کو بطورِ خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے، اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہل ایمان کو اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اگرچہ مومن کا اعلیٰ مقصد ِ زندگی ، رضائے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دُنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے، اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت دین اور حقیقی نصب العین رضائے الٰہی ہے، جو اقامت دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔(دستور جماعت اسلامی، دفعہ۴)
جماعت اسلامی کی دعوت تمام انسانوں کو، بالخصوص مسلمانوں کو یہ ہے:
قیادت کی یہ تبدیلی ایک ہمہ گیر عمل ہے اور زندگی کے ہرشعبے اور ہر مقام پر یہ تبدیلی واقع ہونی چاہیے۔ جب تک علوم وفنون، آرٹ اور ادب، تعلیم و تدریس، نشرواشاعت، قانون سازی اور تنفیذِ قانون، ملکی سیاست وعدالت،مالیات، صنعت و حرفت اور تجارت، انتظام ملکی اور تعلقات بین الاقوامی، غرض ہرشعبۂ زندگی کی قیادت اور امامت خدا کے فرماں بردار بندوں کے ہاتھوں میں منتقل نہیں ہوجاتی، زندگی کا نظام درست نہیں ہوسکتا۔ ہماری دعوت تمام مسلمانوں کو یہ ہے کہ آیئے! دین کو اپنی زندگیوں میں بھی قائم کریں اور پورے نظامِ زندگی پر بھی ۔ یہ ہے صراطِ مستقیم کی دعوت!
اس مقصد کو حل کرنے کے لیے جماعت اسلامی نے ایک مفصل اور مربوط لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ اس پروگرام پر یہ جماعت مسلسل کام کررہی ہے۔ یہ لائحۂ عمل چار اجزا پر مشتمل ہے:
۱- افکار ونظریات کی اصلاح اور ان کی تعمیر: جماعت کی اوّلین کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں میں وہ ایمان تازہ کیا جائے، جس کی دعوت رسولؐ اللہ نے دی تھی۔ اسلام سے ہماری جذباتی وابستگی بڑی گہری ہے، لیکن ہم اس تفصیلی ایمان اور علم سے محروم ہیں، جو زندگی کو خدا کے قانون کے مطابق گزارنے کے لیے ضروری ہے۔ پھر ہمارے ذہن و فکر پر ایک طرف ’قدامت‘ کا غلبہ ہے، جو وقت کی حقیقی ضروریات تک کے احساس سے عاری ہے، تو دوسری طرف مغربی فکروفلسفہ کا تسلط ہے، جو ہمارے نوجوان اور ذہین طبقے کو مغرب کی لادینی تہذیب کی طرف کھینچے لیے جارہا ہے۔
جماعت اسلامی کی کوشش یہ ہے کہ ایک طرف غیراسلامی قدامت کے جنگل کو صاف کرکے اصلی اور حقیقی اسلام کی شاہراہِ مستقیم کونمایاں کیا جائے، دوسری طرف مغربی علوم و فنون اور نظامِ تہذیب کا تنقیدی جائزہ لے کر بتایا جائے کہ اس میں کیا کچھ غلط اور قابلِ ترک ہے اور کیا کچھ صحیح اور قابلِ اخذ ہے۔ تیسری طرف تجدّد پسندی کے اس فتنے کا بھرپور مقابلہ کیا جائے، جو اسلام کے نام پر اسلام ہی کی بیخ کنی میں مصروف ہے اور جو زمانہ کو اسلام کے مطابق چلانے کے بجائے اسلام کوزمانے کےمطابق بدلنا چاہتا ہے۔
جماعت اسلامی، اسلام کی ابدی صداقتوں کو ان کے حقیقی رنگ میں پیش کرنے میں مصروف ہے اور اس کا لٹریچر مسکت دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام ہر زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور دُنیا اور عقبیٰ دونوں کی کامیابی کا ضامن ہے۔ یہ لٹریچر پوری وضاحت کے ساتھ اس امر کو پیش کرتا ہے کہ دورِ جدید کے مسائل اور معاملات کو اسلام کے مطابق کس طرح حل کیاجاسکتا ہے؟ اور آج کی دُنیا میں قرآن و سنت کے مطابق ایک صالح تمدن کی تعمیر کس طرح ہوسکتی ہے؟ جماعت اسلامی کے اہل قلم نے اس مقصد کے لیے کتب اور مقالات لکھے ہیں، اور دُنیا کی زبانوں سے لٹریچر کو ترجمہ کرکے مطالعے کے لیے فراہم کیا ہے۔ ہمارے رسالے اور اخبار انھی حقیقتوں کو پیش کر رہے ہیں۔ ہزاروں دارالمطالعے جماعت کی زیرنگرانی اس خدمت کو انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے کارکن گھر گھر لٹریچر پہنچاکر تعمیر افکار کی یہی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ تبدیلی وہی مستقل اور مفید ہوتی ہے، جس کی جڑیں ایمان اور یقین میں ہوں اور جو دل ودماغ میں پیوست ہوں۔
۲- صالح افراد کی تلاش، تنظیم اور تربیت:جماعت اسلامی کے پروگرام کا دوسرا جزو اچھے افراد کی تلاش اور اُمت کے تمام حق پسند عناصر کو ایک مرکز پر جمع کرکے ان کی تمام صلاحیتوں کو دینِ حق کے قیام کے لیے بروئے کار لانا ہے۔
ہم اپنے معاشرے میں ان مردوںاور عورتوں کو ڈھونڈتے ہیں جو پرانی اور نئی خرابیوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوں، جن کے اندراصلاح کاجذبہ موجود ہو اور جو حق کے لیے وقت، مال اور محنت کی کچھ قربانی کرنے پر بھی آمادہ ہوں، خواہ وہ نئے تعلیم یافتہ ہوں یا پرانے، خواہ وہ عوام میں سے ہوں یا خواص میں سے، خواہ وہ غریب ہوں یا امیر یا متوسط، ایسے لوگ جہاں کہیں بھی ہیں ،ہم انھیں گوشۂ عافیت سے نکال کر میدانِ سعی وعمل میں لانا چاہتے ہیں۔
ایسے لوگ اگر وہ ہمارے نظام کو کُلی طور پر اختیار کرلیں تو ہم انھیں جماعت اسلامی کا ’رکن‘ بنا لیتے ہیں اور اگر وہ رکنیت کی شرئط کو پورا کیے بغیر صرف تائید و اتفاق پر اکتفا کریں تو ان کو اپنے حلقۂ متفقین میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہمارے معاشرے کا صالح عنصر جو منتشر ہونے کی وجہ سے مؤثر نہیں، ایک مرکز پر جمع ہوجائے اور ایک حکیمانہ پروگرام کے مطابق اس کو اصلاح و تعمیر کی منظم سعی میں لگایا جائے۔ پھر ہم ان عناصر کو منظم ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی سیرت و اخلاق کا تزکیہ کرنے میں مدد فراہم کرتے اور قابلِ اعتماد بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں، تاکہ اسلام کے کارکنوں میں وہ صالح سیرتیں اور تعمیری صلاحیتیں پیدا ہوں، جو قرآن و سنت کے مطابق نظامِ زندگی کو تعمیر کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
۳- اصلاحِ معاشرہ:اس طرح جو قوت جماعت اسلامی کو حاصل ہوتی ہے، وہ اسے معاشرے کی اصلاح اور اس کی اسلامی بنیادوں پر تعمیر کی جدوجہد میں صَرف کرتی ہے۔ اصلاحِ معاشرہ کا کام بڑا اہم اور وسیع کام ہے۔ اس میں لوگوں کی تعلیم و تربیت اور اخلاقِ عامہ کے تحفظ سے لے کر طبّی امداد،یتیموں اوربیوائوں کی مدد،طلبہ کی اعانت تک اور مسجدوں کی تعمیر اور فرقہ واریت سے بالاتر رہتے ہوئے ان کی تنظیم شامل ہے۔ اس طرح ہمارے پیش نظر اصلاحِ معاشرہ کے کاموں میں اس قوت کو منظم کرنے سے لے کر رشوت، خیانت، اخلاق باختگی کے انسدادتک اور تعلیم بالغاں سے لے کر ’اپنی مدد آپ‘ کے اصول پر خدمت ِ خلق کے کاموں تک تمام چیزیں شامل ہیں۔ ہمارے کارکن اپنے اپنے حلقہ ہائے اثر میں یہ کام کر رہے ہیں تاکہ اس ذہنی، اخلاقی اور عملی انارکی کو ختم کیا جائے جو پرانے جمودی اور نئے انفعالی رجحانات کی وجہ سے سارے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے اور عوام سے لے کر خواص تک سب میں صحیح اسلامی فکر، اسلامی سیرت اور سچّے مسلمانوں کی سی عملی زندگی پیدا ہوسکے۔ مسلمان ایک دوسرے کے مددگار اور معاون ہوں، ان کے مال، جانیں اورآبرو ایک دوسرے سے محفوظ رہیں اور شانہ بشانہ جذبۂ اخوت سے سرشار ایک اعلیٰ مقصد کے لیے جدوجہد کریں۔
۴- نظامِ حکومت کی اصلاح: اصلاحِ معاشرہ کے اس کام کے ساتھ ہم اس بات کے لیے بھی جدوجہد کرر ہے ہیں کہ نظامِ حکومت درست ہو اور زمامِ کار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آئے، جو اسلام کو اپنی زندگیوں پر بھی قائم کریں اور اپنے ملک و ملّت پر بھی۔
زندگی کے موجودہ بگاڑ کو درست کرنے کے لیے اصلاح کی دوسری کوششوں کے ساتھ نظامِ حکومت کو درست کرنا اَزبس ضروری ہے۔ اس لیے کہ تعلیم اور قانون اور نظم و نسق اور تقسیمِ رزق کی طاقتوں کے بل پر جو بگاڑ اپنے اثرات پھیلا رہا ہو، اس کےمقابلے میں بنائو اور سنوار کی وہ تدبیریں جو صرف وعظ اور تلقین اور تبلیغ کے ذرائع پر منحصر ہوں، کبھی کارگر نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا، اگر ہم فی الواقع اپنے ملک کے نظام کوفسق و ضلالت کی راہ سے ہٹاکر دینِ حق کے صراطِ مستقیم پر چلانا چاہتے ہیں، تو ناگزیر ہے کہ بگاڑ کو مسند ِ اقتدار سے ہٹانے اور بنائو کو اس کی جگہ فائز کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اہل خیروصلاح کے ہاتھ میں اقتدار ہو تو وہ تعلیم اور قانون اور نظم و نسق کی پالیسی کو تبدیل کرکے چند برسوں کے اندر وہ کچھ کرڈالیں گے، جو غیر سیاسی تدبیروں سے مدت تک نہیں ہوسکتا۔
یہ تبدیلی کس طرح ہوسکتی ہے؟ ہمارے نزدیک اس کا مؤثر راستہ انتخابی جدوجہد ہے۔ ضرورت ہے کہ رائے عامہ کی تربیت کی جائے۔ عوام کے معیارِ انتخاب کو بدلا جائے۔ انتخاب کے طریقوں کی اصلاح کی جائے اور پھر ایسے صالح اور باصلاحیت لوگوں کو ذمہ داری اور اختیار کے مقام پر پہنچایا جائے، جو ملک کے نظام کو خالص اسلامی شورائیت کی بنیادوں پر تعمیر کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہوں اور قابلیت بھی۔
جماعت اسلامی دعوتی، قانونی اور دستوری طریقہ سے ایک اسلامی جمہوری نظام قائم کرنے کی داعی ہے۔ وہ اپنے لیے نہیں، اسلام کے لیے اقتدار چاہتی ہے اور اس کی کوشش یہ ہے کہ ملّت کا صالح ترین عنصر اس کی زمامِ کار سنبھالے، تاکہ مسائل اُلجھنے کے بجائے سلجھیں اور ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔
جماعت اسلامی کا یہ مستقل پروگرام ہے اور اس لائحہ عمل کے ذریعے وہ ملک کی پوری زندگی پر دینِ حق کو قائم کرنا چاہتی ہے، تاکہ یہ ملکِ عزیز پوری دُنیا کے سامنے دین کی شہادت دے۔
جماعت اسلامی چند بنیادی خصوصیات کی بنا پر دوسری تنظیموں اور اداروں سے الگ ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اس کی امتیازی خصوصیات یہ ہیں:
۱- اصولی تحریک:جماعت اسلامی ایک اصولی اوردینی تحریک ہے، جو پورے نظامِ زندگی پر اسلامی نظریۂ حیات کو غالب اور حکمران کرنا چاہتی ہے۔ اس تحریک کا تعلق نہ کسی خاص گروہ سے ہے اور نہ کسی خاص مقام سے۔ اس کےدروازے ہراس شخص کے لیے کھلے ہیں، جو خدا کو اپنا حاکم اعلیٰ، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اورہادی، اورآپؐ کی لائی ہوئی ہدایت کو اپنی زندگی کا ضابطہ مانتا ہو۔ اس میں نہ رنگ کی تفریق ہے، نہ نسل کی، نہ مقامی عصبیت کا اس میں کوئی دخل ہے اور نہ علاقائی تعصب کا۔ یہ تمام انسانوں کو ایک کلمۂ حق پر جمع کرتی ہے۔ اس کی دوستی اور دشمنی کی بنیاد خدا اور اس کے آخری رسولؐ کی ہدایت ہے۔ اس میں بڑائی اور عزّت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ اس کا مسلک اورمشن صرف اسلام ہے۔ یہ اس فرد،ادارے اور تنظیم کی دوست ہے جو اسلام کو دوست رکھے اور اس کے مدِمقابل ہے جواسلام سے غداری کرے۔ یہ اس سے جڑتی ہے جو اسلام سے جڑے، اور اس سے کٹتی ہے جو اسلام سے کٹے۔ اس تحریک میں اسلام اور بنی آدم سے محبت ہے اور کسی عصبیت کےلیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
۲- اجتماعی تحریک :جماعت اسلامی ایک اجتماعی تحریک ہے۔ یہ اسلام کی دعوت کو صرف نظری اور کتابی حدتک ہی پیش نہیں کرتی، بلکہ یہ زندگی کے تمام شعبوں میں اسے عملاً قائم کرنے کےلیے سرگرم ہے۔یہ جذبۂ جہاد کو بیدار کرتی ہے۔ یہ منکرکے خلاف تمام قوتوں کو صف آرا کرتی ہے اور معروف کےقیام کے لیے اپنی ساری طاقتیں صرف کر رہی ہے۔ اس کا اصل میدان گوشۂ عافیت نہیں ہے، بلکہ کارزارِ حیات ہے۔ یہ دُنیا سے فرار کی نہیں دُنیا کی تسخیر کی داعی ہے۔ اس کا کام صرف وعظ و تلقین تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ عملی جدوجہد کررہی ہے اور حق کے لیے جان کی بازی لگائے ہوئے ہے۔ یہ معاشرے کی ایک قوت ہے اور اجتماعی زندگی کے رُخ کو موڑ کر اسے دینِ حق کے تابع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ زندگی سے بھاگنے والوں کے لیے جائے امان نہیں، بلکہ حق کی خاطر جان د ینے والوں کی ’شہادت گہِ اُلفت ‘ ہے۔
۳- انقلابی دعوت: جماعت اسلامی ایک مثبت ، جامع اور ہمہ گیر انقلاب کی داعی ہے۔ یہ طاغوت سے مصالحت کے بجائے اس کے پورے نظام سے پنجہ آزمائی کے لیے اُٹھی ہے۔ یہ کسی جزوی اصلاح کے لیے نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تبدیلی کے لیے کام کرر ہی ہے۔ یہ زندگی کے سارے شعبوں کی اصلاح و تعمیر چاہتی ہے اور اس انقلاب کی دعوت دیتی ہے، جسے رسولِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے برپا کیا تھا، جسے آپؐ کے راشد خلفاء نے مستحکم کیا تھا۔ جس کا سرچشمہ کتاب اللہ اور سنت ِ رسولؐ اللہ ہیںاور جس کی دعوت ہردور اورہرزمانہ میں صلحائے اُمت دیتے رہے ہیں۔ یہ تمام انسانوں کو شخصیات کی طرف بلانے کے بجائے قرآن و سنت کی اصولی دعوت اور جدوجہد کی طرف بلاتی ہے۔
۴- نظامِ صلاح واصلاح : جماعت اسلامی ایک نظامِ صلاح و اصلاح ہے۔ یہ تعمیرِاخلاق اور تشکیلِ سیرت کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ دلوں کو نفاق سےاورزندگی کو بدعملی سے پاک کرنا چاہتی ہے۔یہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تمام انسانوں کی، خصوصاً ان لوگوں کی زندگیوں کا، جو اس کی دعوت پر لبیک کہیں، کردار سازی کے عمل کے ذریعے ان کو اسلام کا سچا نمایندہ بنانا چاہتی ہے۔ اس کامقصد صرف خارجی دُنیا ہی میں تبدیلی نہیں بلکہ قلب و نظر اور اخلاق و سیرت کی بھی اصلاح ہے اور اس طرح یہ ایک نظامِ تربیت بھی ہے۔
۵- فرقہ بندی اور فقہی عصبیت سے پاک:جماعت اسلامی کی دعوت دین کی اصولی اور کُلی تعلیمات کی طرف ہے۔ وہ کسی فقہی مسلک کی داعی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی فروعی و فقہی مسائل کے دائرے میں کوئی دخل نہیں دیتی۔ اس میں وہ تمام لوگ شریک ہیں، جو دین کو سربلند کرنا چاہتے ہیں، خواہ اس کا تعلق کسی بھی فقہی گروہ سے ہو۔ یہ جماعت فقہی اختلافات سے صرفِ نظر کرتی ہے اور ہرشخص کو اس بات کے لیے آزاد چھوڑتی ہے کہ اپنے فقہی مسلک کے مطابق فروعی معاملات میں جو راہ صحیح سمجھتا ہے، اسے اختیار کرے۔ البتہ یہ جماعت تمام مسلمانوں کو، بلالحاظ فرق و مذہب، شہادتِ حق اور شریعت اسلام کے قیام کی جدوجہد میں مصروف کرتی ہے۔ آج، جب کہ اسلام اور لادینیت کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ برپا ہے۔ جماعت اسلامی فقہی اختلافات میں رواداری اور اعتدال کی تلقین کرتے ہوئے مسلمانوں کے تمام مکاتب ِ خیال کے پیرووں کو لادینیت و الحاد کے مقابلے میں صف آرا کرنا چاہتی ہے اور دین کی اجتماعی قوت سے کفروضلالت کی قوتوں کے سامنے روک لگانا چاہتی ہے۔
۶- مستقل اور ہمہ گیر دعوت:جماعت اسلامی عام سیاسی جماعتوں سے یکسر مختلف قسم کی جماعت ہے۔ اس کا کام مستقل نوعیت کا ہے اور یہ محض الیکشن کے زمانے میں نمودار ہونے والی تنظیموں میں سے نہیں۔ یہ سیاسی اصلاح و تعمیرمیں تو ضرور مصروف ہے،لیکن محض ایک سیاسی جماعت نہیں ہے۔ یہ ایک فطری تحریک بھی ہے اور نظامِ اصلاح و تربیت بھی ہے۔ تعلیم و تزکیہ کا گہوارہ بھی ہے اور سماجی سدھار اور خدمت ِ خلق کا مرکز بھی ہے۔ یہ جماعت پوری زندگی کی اصلاح کے لیے اُٹھی ہے اوردوسری سیاسی جماعتوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔
جماعت اسلامی کا مقصد ہر طریقے سے اقتدار حاصل کرنا نہیں ہے۔ اس کا اصلی مقصد اسلام کا اقتدار ہے، اپنا اقتدار نہیں۔اس کی ساری جدوجہد اخلاقی اصولوں کے ذریعے ہے اور اس کی نگاہ میں ہر وہ کامیابی ناپسندیدہ اور ناقابلِ قبول ہے، جو اخلاقی اصولوں کو قربان کرکے حاصل ہو، اور ہروہ شکست گوارا اور عزیز ہے جو اخلاق کی فتح اور سربلندی کا نتیجہ ہو۔
پھر اس کے پیش نظر ’اپنے لوگوں‘ کو برسرِ اقتدار لانا نہیں ہے بلکہ معاشرے کے ان تمام افراد کو زمامِ قیادت سونپنا ہے، جو اسلام کو اپنی زندگیوں پر بھی نافذ کرتے ہوں اور اسے معاشرے پر بھی قائم کرنے کا عزم و صلاحیت رکھتے ہوں، خواہ ان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہو یا کسی دوسرے تعمیری ادارے یا گروہ سے۔ ہم ہرتعصب کو ختم کرکے اسلام اور صرف اسلام کے لیے قوت و غلبہ چاہتے ہیں اور یہی ہماری بنیادی خصوصیت ہے۔
ہرشخص بڑے کرب اور بے چینی کے ساتھ یہ دیکھ رہا ہے کہ حالات روز بہ روز بگڑتے جارہے ہیں۔ بُرائیاں پروان چڑھ رہی ہیں اور نیکیوں کو مٹانے کی کوشش ہورہی ہے۔ بدی نہ صرف یہ کہ بڑھ رہی ہے بلکہ منظم ہورہی ہے اور جری ہوتی جارہی ہے۔ حکومت کی سرپرستی میںثقافت کے نام پر ہماری قیمتی تہذیبی روایات کو پامال کیا جارہا ہے۔ تعلیم، نئی نسلوں کو دین اور تمدن دونوں سے بے بہرہ کر رہی ہے۔ معاشی بے چینی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ صنعتی ترقی کے ساتھ معاشی فساد بھی بڑھ رہا ہے۔ ایک عام شہری کےلیے زندگی گزارنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں جمع ہورہی ہے۔ بیرونی قرضوں کی زنجیروں نے پورے ملک کو جکڑ لیا ہے، امن و امان غارت ہوچکا ہے۔ جان اور مال کی کوئی حفاظت باقی نہیں رہی ہے۔ عزّت و آبرو کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے۔ مایوسی برابر بڑھتی جارہی ہے۔ اس طرح بربادی کی طرف جاتے ہوئے خاموشی سے دیکھتے رہنا کسی محب ِ وطن کا کام نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ اس کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرنے کے لیے اُٹھے۔ گیہوں کا ایک دانہ بھی محنت و مشقت اور جہدوکوشش کے اس عمل کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا جو قدرت نے مقرر کردیا ہے ۔ اصلاح اسی وقت ممکن ہے کہ جب اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اس کا سامان فراہم کیا جائے اور اس کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردی جائیں:
اِن حالات کا تقاضا ہے کہ ہر ذی شعور شہری ملک کی حفاظت اور دین کی مدافعت کے لیے سینہ سپر ہوجائے۔ یہ زمین و آسمان ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حق کو پہچانیں اور اس کے لیے جان کی بازی لگادیں۔ جماعت اسلامی اپنی ساری قوتوں کو اصلاح و تعمیرکی جدوجہد میں لگاچکی ہے۔ اس کا نصب العین، طریق کار اورلائحہ عمل آپ کے سامنے ہے۔ یہ ہرمسلمان کو یہ دعوت دیتی ہے کہ وہ آگے بڑھے اوراس کا ساتھ دے۔ حق و باطل کی جو کش مکش آج برپا ہے آپ اس کے محض ایک خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور حق کا ساتھ دینے کا عزم لے کر آگے بڑھیں اور خیرواصلاح کی قوتوں کومضبوط کریں اور اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں عملاً شریک ہوں۔
جماعت اسلامی سے وابستگی کی دو صورتیں ہیں: وہ لوگ جو اپنی زندگیوں کو پوری طرح اسلام کے مطابق ڈھالنے کا اقرار کریں، فرائض کی پابندی اور کبائر سے اجتناب کریں اور اپنے آپ کو جماعت کے سپرد کردیں، وہ اس کے رکن بن سکتے ہیں، اور جو جماعت اسلامی کے مفید پروگرام اور طریقۂ کار سے اتفاق کریں، لیکن کسی وجہ سے جماعت کی رکنیت کی ذمہ داریاں قبول نہ کرسکیں، وہ جماعت کے متفق بن کر اس کا ساتھ دے سکتے ہیں۔
جماعت اسلامی آپ کو اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کی طرف بلاتی ہے اورکہتی ہے کہ من انصاری الی اللہ،کون ہے جو خدا کی طرف (بلانے میں) میرا ساتھی اورمددگار بنے؟
اب یہ فیصلہ کرنا ہرفرد کا کام ہے کہ وہ حق و باطل کی کش مکش میں اپنا وزن کس طرف ڈالے؟ اس ملک کو خطرے سے نکالنے اور اسلام کے رنگ میں رنگنے کے لیے جدوجہد اور قربانی کی راہ اختیار کریں گے یا محض ایک خاموش تماشائی کا رول اختیار کریں گے؟ یاد رکھیے! اس ملک میں جو کچھ بھی ہوگا، اس سے آپ، آپ کے اہل و عیال اور آپ کی آنےوالی نسلیں غیرمتعلق نہیں رہ سکتیں اور جو کچھ آپ یہاں کریں گے اس کا ایک دن بہت بڑی اور برگزیدہ عدالت میں آپ کو جواب بھی دینا ہوگا۔
جماعت اسلامی پاکستان محض ایک سیاسی جماعت نہیں۔ وہ پورے اسلامی نظام کو زندگی کے ہر شعبے میں قائم کرنے اور جاری وساری رکھنے والی عالم گیر اسلامی تحریک کا حصہ اور روح رواں ہے۔ ۲۰۲۳ء کے دوران پاکستان میں صوبائی اور قومی انتخابات کے انعقاد پر مثبت اور منفی رویوں کے ماحول میں یہ اعزاز جماعت اسلامی کو حاصل ہورہا ہے کہ اس نے اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کردیاہے۔ جماعت اسلامی پہلی جماعت ہے جس نے پوری ذمہ داری اور سنجیدگی سے یہ کام انجام دیا ہے۔ اس منشور میں تصورِ پاکستان اور تعمیروتشکیل پاکستان کا مکمل نقشہ موجود ہے۔
جماعت اسلامی کی اوّلین ترجیح ملک میں مکمل اسلامی نظام کا نفاذ ہے جس کے لیے شریعت کے تمام احکام و اقدار کو ملک کی اجتماعی زندگی میں جاری و ساری کرنا اس کا ہدف ہے۔ اس کے ساتھ جماعت ملک میں جمہوری نظام قائم کرنا چاہتی ہے، اور خود دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بھی تقاضا یہی ہے، تاکہ اقتدار کا مرکز اور محور محض کوئی ذات یا طبقہ نہ ہو بلکہ عوام اس میں فیصلہ کن قوت کی حیثیت رکھیں۔ نیز جماعت اسلامی ایک حقیقی عوامی فلاحی ریاست و معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے، تاکہ غربت کا مکمل خاتمہ ہو اور ملک میں ایک فلاحی ریاست قائم ہو، جو سب کی حقیقی ضروریات کو مارکیٹ اور ریاست، دونوں کے ذریعے کے طور پر پورا کرسکے۔
جماعت اسلامی ملک میں انصاف کی مکمل حکمرانی کی داعی ہے، تاکہ ظلم و استحصال کی ہرشکل کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ جماعت چاہتی ہے کہ ملک کے تمام علاقوں میں تعاون اور اشتراک کی فضا ہو، جس میں عوام اور عوامی و قومی ادارے ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں۔
جماعت اسلامی پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتی ہے، جس کے تمام علاقوں میں زرعی،صنعتی ، تجارتی اور فنی، ٹکنالوجیکل ترقی جاری و ساری ہو، جس کے نتیجے میں ملک کے تمام علاقوں میں حقیقی خوش حالی رُونما ہوسکے ، اور ملک قرضوں کے جال سے نکل کر خود انحصاری کی بنیاد پر مسلسل ترقی کرسکے۔
نیز جماعت اسلامی ایک مکمل طور پر آزاد خارجہ پالیسی کی داعی ہے۔ وہ کسی بلاک کا حصہ بنے بغیر اور اپنی مکمل آزادی کے ساتھ، پاکستان کے تعلقات دُنیا کے ہرملک سے برابری کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتی ہے، تاکہ پاکستان اور دُنیا کے تمام انسانوں کے حقوق ادا ہوسکیں، اور ملک اور عالمی سطح پر عدل و انصاف اور حقوقِ انسانی کے مکمل تحفظ اور فلاح پر مبنی نظام قائم ہوسکے۔
یہی وہ مطلوبہ نظام کا نقشۂ کار ہے، جو جماعت اسلامی پاکستان کے انتخابی منشور میں دیکھا جاسکتا ہے۔جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے بڑی محنت اور وژن کے ساتھ اپنا کام انجام دیا ہے، لیکن اب ضرورت ہے متعلقہ شعبہ جات اور میدانوں میں تحریکی کارکنوں اور ماہرین کی ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں، جو اُوپر بیان کردہ ہرہر معاملے پر مستقل ورکنگ پیپر تیار کریں، اور جماعت کے مطلوبہ پاکستان کا ایک تفصیلی نقشۂ کار فراہم کریں۔ یہ ایک جاری رکھے جانے والا کام ہے۔
مضبوط پارلیمان
انتخابی اصلاحات
آئینی اصلاحات
بلدیاتی ادارے مضبوط
آزاد میڈیا
جوہری اقدامات
قومی آمدن میں اضافہ
حکومتی اخراجات میں کمی
قرضوں سے نجات
توانائی پالیسی
ماحولیاتی و سیاحتی پالیسی
احتساب سب کا
انصاف سب کے لیـے
اَمن سب کے لیـے
تعلیم سب کے لیے
صحت سب کے لیے
چھت سب کے لیے
تجدید و احیائے دین، اسلامی تاریخ کی ایک روشن روایت اور عقیدۂ ختم نبوت کا فطری نتیجہ اور دینِ اسلام کے مکمل ہونے کا تقاضا ہے۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ برگزیدہ بندوں کو اس توفیق سے نوازا کہ وہ دین کی بنیادی دعوت پر مبنی اللہ کے پیغام کو، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کے نمونے کی روشنی میں، اپنے دور کے حالات کا جائزہ لے کر بلاکم و کاست پیش کریں۔ دورِحاضر میں جن عظیم ہستیوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی، ان میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء - ۱۹۷۹ء) کا نام سرفہرست ہے۔
ویسے تو مسلم تاریخ کے ہر دور میں نشیب و فراز نظر آتا ہے، لیکن ۱۹ویں صدی عیسوی اس اعتبار سے بڑی منفرد ہے کہ ساڑھے بارہ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار مسلمان ایک عالمی قوت کی شناخت اور حیثیت سے محروم ہوئے۔ اس دوران چار کمزور ممالک اورنام نہاد حکومتوں کو چھوڑ کر پورا عالمِ اسلام مغرب کی توسیع پسندانہ اور سامراجی قوتوں کے زیرتسلط آگیا۔ یہ صورتِ حال ۲۰ویں صدی کے وسط تک جاری رہی۔ اس بات میں کچھ بھی مبالغہ نہیں کہ یہ دور مسلم تاریخ کا تاریک ترین دور تھا، جو فکری و نظریاتی اور اخلاقی انحطاط کے ساتھ ساتھ معاشی، سیاسی اور تہذیبی، گویا ہراعتبار سے اُمت کی محکومی کا دور تھا۔
پھر اسی دور میں،کسی نہ کسی پہلو سے تجدید و احیائے دین کی خدمت انجام دینے والی عظیم شخصیات میں: سیّداحمد شہید، مفتی محمد عبدہٗ، سیّدرشید رضا، ابوالکلام آزاد، حسن البنا، علّامہ محمد اقبال، سعید نورسی، سیّدقطب، سیّدابوالاعلیٰ مودودی اور مالک بن نبی جیسے نمایاں ترین رجال شامل ہیں۔ ان سب کی سوچ کا دھارا، کئی اُمور اورمعاملات میں اختلاف کے باوجود، مقصد اور ہدف کے اعتبار سے ایک جیسا تھا، اور وہ یہ تھا: اللہ کے دین کو اس کی اصل شکل میں پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو اس دین کے مطابق اپنی اور انسانی زندگی کی تشکیلِ نو اور تعمیرِنوکی دعوت دی جائے۔ اللہ تعالیٰ ان سب محسنوں پر اپنی رحمت کی بارش فرمائے، اور ان کی اور ان کے رفقائے کار کی کاوشوں کو قبولیت اور فروغ عطا فرمائے۔یہی ہیں وہ رہنما کہ جن کی قابلِ رشک کوششوں کے نتیجے میں، اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے تاریخ نے کروٹ لی اور محکومی کی تاریک اور طویل رات ختم ہوئی ۔ اسلام ایک بھرپور دعوت، انقلابی قوت اور ہمہ پہلو پیغام کی حیثیت سے اپناکردار ادا کرنے کی طرف رواں دواں ہے۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے ۱۹۲۰ء سے صحافت اور علم و ادب کے میدان میں گراں قدر خدمات کا آغاز کیا۔ ۲۴برس کی عمر میں انھوں نے الجہاد فی الاسلام جیسی معرکہ آرا کتاب لکھی، جو ۱۹۳۰ء میں، برصغیر ہند میں علمی، تحقیق اور اشاعت کے بڑے باوقار ادارے دارالمصنّفین، اعظم گڑھ نے شائع کی۔ اس کتاب کے لیے کی جانے والی تحقیق و جستجو مولانا مودودی کے فکری ارتقا میں ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔
پھر یہی ہے وہ فیصلہ کن موڑ ہے جہاں سے انھوں نے پیغامِ دین کے لیے عزم و ہمت کا عہد کیا اور عملی قدم اُٹھایا۔ مئی۱۹۳۳ء سے ماہ نامہ ترجمان القرآن ، حیدرآباددکن کے ذریعے اسلامی فکر اور دعوت کے نئے چراغ روشن کرتے رہے۔ ۱۹۳۸ء میں ادارہ دارالاسلام کی تاسیس کی۔ ۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو جماعت اسلامی قائم کی اور اس کے امیر منتخب ہوئے۔ فروری ۱۹۴۲ء سے تفہیم القرآن کی تحریر واشاعت کا آغاز کیا۔ ستمبر۱۹۷۹ءیعنی اپنی وفات تک فکرورہنمائی کے ہرمیدان اور تجدیدو احیائے دین اسلام کے بارے میں گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ مولانا مودودی کی زندگی اور ان کی فکر میں سب سے نمایاں چیز اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق اور قرآنِ کریم کو زندگی کے ہرہرپہلو کے لیے اپنا رہنما بنانا ہے۔
یہ زمانہ گواہی دیتا ہے کہ مولانا کی زندگی میں فکروعمل کا سرچشمہ اور روشنی و ہدایت کا منبع قرآن پاک ہی ہے۔ اسی بنا پر مولانا کی زندگی کی اہم ترین متاع جن چیزوں کو قرار دیا جاسکتا ہے، ان میں سب سے پہلی، بنیادی اور مرکزی متاع قرآنِ کریم ہے۔ پھر دوسری چیز قرآنِ کریم اور صاحب ِ قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک ہی کی روشنی میں دینِ حق کا تصور ہے، اور تیسری چیز ہے: ان دونوں کا تقاضا دعوت، اصلاح اور اقامت ِ دین کی منظم جدوجہد۔ یہی وہ تین میدان ہیں، جن میں مولانا مودودی نے بڑا تاریخ ساز کردار (contribution) اداکیا ہے۔
قرآنِ پاک سے مولانا مودودی مرحوم و مغفور کا تعلق بہت اہم موضوع ہے۔ ۱۹۴۶ء میں جناب محمد عمران خاں ندوی نے غیرمنقسم ہندستان کے اٹھارہ اکابر علما، دانش وروں اور رہنمائوں سے دریافت کیا کہ ’’آپ کی محسن کتاب کون سی ہے؟‘‘ دیگر افراد نے اپنی اپنی پسندیدہ کتاب کے بارے میں بتایا، لیکن ان میں واحد مولانا مودودی تھے، جنھوں نے سب سے مختصر جواب دیا۔یہ جواب مولانا کی شخصیت اور ان کی پوری زندگی کا غماز ہے اور سب پہ بھاری بھی۔ انھوں نے لکھا:
جاہلیت کے زمانے میں، مَیں نے بہت کچھ پڑھا ہے۔ مَیں قدیم و جدید فلسفہ، سائنس، معاشیات، سیاسیات وغیرہ پر اچھی خاصی ایک لائبریری دماغ میں اُتار چکا ہوں ، مگر جب آنکھیں کھول کر قرآن کو پڑھا تو بخدا یوں محسوس ہوا کہ جو کچھ پڑھا تھا سب ہیچ تھا، علم کی جڑ اب ہاتھ آئی ہے۔ کانٹ، ہیگل، نٹشے، مارکس اور دنیا کے تمام بڑے بڑے مفکرین اب مجھے بچے نظر آتے ہیں۔ بے چاروں پر ترس آتا ہے کہ ساری ساری عمر جن گتھیوں کو سلجھانے میں اُلجھتے رہے اور جن مسائل پر بڑی بڑی کتابیں تصنیف کرڈالیں، پھر بھی حل نہ کرسکے، ان کو اِس کتاب نے ایک ایک دو دوفقروں میں حل کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر یہ غریب اس کتاب سے ناواقف نہ ہوتے تو کیوں اپنی عمریں اس طرح ضائع کرتے؟ میری اصلی محسن بس یہی ایک کتاب ہے۔ اس نے مجھے بدل کر رکھ دیا ہے۔ حیوان سے انسان بنادیا ، تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئی، ایسا چراغ میرے ہاتھ میں دے دیا کہ زندگی کے جس معاملے کی طرف نظر ڈالتا ہوں، حقیقت اس طرح برملا مجھے دکھائی دیتی ہے کہ گویا اس پر کوئی پردہ ہی نہیں ہے۔ انگریزی میں اُس کنجی کو ’شاہ کلید‘ (Master Key) کہتے ہیں، جس سے ہرقفل کھل جائے۔ سو، میرے لیے یہ قرآن ’شاہ کلید‘ ہے۔ مسائلِ حیات کے جس قفل پر اسے لگاتا ہوں، وہ کھل جاتا ہے۔ جس خدا نے یہ کتاب بخشی ہے، اس کا شکر ادا کرنے سے میری زبان عاجز ہے۔
مولانا مودودی کے لیے سب سے بڑی دولت اور زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ، اللہ کی آخری ہدایت، یہ کتاب ہی ہے۔ قرآن ہی وہ اَبدی ہدایت ہے، جو خود خالق حقیقی نے اپنے بندوں کی رہنمائی اور ان کو زندگی میں کامیابی کا راستہ دکھانے کے لیے عطا فرمائی۔ مولانا مودودی کے نزدیک قرآن کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا کتاب اللہ ہونا ہے، یعنی یہ رہنمائی کسی انسان کی طرف سے نہیں بلکہ خالق و مالک کی طرف سے ہے۔ اس کا ذریعہ اور وسیلہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اللہ کو جاننے، اللہ سے جوڑنے اور اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کا واحد راستہ قرآن کی ہدایت کو تسلیم کرنا،اور اس کے مطابق اپنی ذات کو اور ساری دنیا کو ڈھالنا ہے۔ اس چیز کے تین پہلو ہیں:
ان تینوں بنیادوں کو قرآن نے جامع اصطلاح ’اقامت ِ دین ‘ میں سمو دیا ہے اور یہی معنی عبادت کے ہیں۔یہ دوسرا پہلو ہے: قرآنِ کریم سے مولانا کے تعلق کا، جسے انھوں نے بڑی تفصیل سے مختلف اسالیب میں بیان کیا ہے اور وضاحت فرمائی ہے۔
مولانا مودودی نے بتایاہے کہ قرآن صرف اللہ کی کتاب اور کتابِ ہدایت ہی نہیں بلکہ کتابِ انقلاب ہے۔ جہاں اس کے مخاطب تمام انسان ہیں، وہاں اس کا خاص طور پر خطاب انسانوں کے ایسے گروہ سے ہے، جو اسے قبول کرتا ہے۔ قرآن انھیں رہنمائی فراہم کرتا اور تیار کرتا ہے کہ وہ کس طرح خود کو اور پوری انسانی زندگی کے ہر شعبے اور دائرہ کار کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے دعوت، شہادتِ حق اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کو جہاد فی سبیل اللہ قرار دیا ہے اور ہدف دین کے پیغام کو عام کرنا اور اللہ کی مرضی کو غالب کرنا بتایا ہے۔ اس مقصد کو تفہیم القرآن کے مقدمے میں مولانا مودودی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
فہم قرآن کی ساری تدبیروں کے باوجود، آدمی قرآن کی رُوح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا، جب تک عملاً وہ کام نہ کرے جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دُنیا کے عام تصورِ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رُموز حل کرلیے جائیں۔ یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔
اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر، خدا سے پھری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اُٹھوائی اور وقت کے علَم بردارانِ کفر و فسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھرگھر سے ایک ایک سعید رُوح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعیِ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے ایک ایک فتنہ جُو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اُٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔
ایک فردِ واحد کی پکار سے اپنا کام شروع کر کے خلافت ِ الٰہیہ کے قیام تک پورے ۲۳سال یہی کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی، اور حق و باطل کی اس طویل و جاں گسل کش مکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اسی نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاعِ کفرودین اور معرکۂ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کش مکش کی کسی منزل سے گزرنے کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائیں؟
اسے تو پوری طرح آپ اُسی وقت سمجھ سکتے ہیں، جب اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں اور جس جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے ،اُس طرح قدم اُٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے، جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکّے اور حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بدر و اُحد سے لے کر حنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابوجَہل اور ابولَہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا، منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے، اور سابقینِ اوّلین سے لے کر مؤلفۃ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔
یہ ایک اور ہی قسم کا ’سُلوک‘ ہے، جس کو میں ’سُلوکِ قرآنی‘ کہتا ہوں۔ اس سُلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خودسامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اسی منزل میں اُتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لُغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ قرآن اپنی رُوح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بُخل برت جائے۔
پھر اسی کُلیّے کے مطابق قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدّنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اُصول و قوانین آدمی کی سمجھ میں اُس وقت تک آ ہی نہیں سکتے، جب تک کہ وہ عملاً ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد کررکھا ہو، اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہوسکتی ہے جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔(تفہیم القرآن، اوّل، ص ۳۳-۳۵)
قرآن سے اس تعلق کے ساتھ مولانا مودودی نے دوسری اہم فکری خدمت یہ انجام دی ہے کہ دین اسلام کو آج کی زبان میں، ایک مکمل لائحہ عمل کے طور پر بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے، جس میں دین اور دنیا کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔ ایمان اس کی بنیاد ہے اور عبادت اس کا مظہر بھی ہے اور اس کے تقاضوں کے لائق بنانے کا ذریعہ بھی۔ لیکن اصل ہدف اور مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ ہرشعبۂ زندگی کو اللہ کی مرضی کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس میں نجی، خانگی، اجتماعی، معاشرتی، معاشی، سیاسی، ملکی، عالمی سطح کے تمام تعلقات شامل ہیں۔
اس ضمن میں مولانا مودودی نے بنیادی نوعیت کے آٹھ مزید کارنامے انجام دیے، جو ان کی فکری خدمات میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں:
مسلم معاشروں میں دین سے عدم واقفیت، اور جاہلیت کی گرفت بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک صاحب ِ ایمان مسلمان علم، اخلاق اور دیانت کے بغیر کسی بھی میدان میں کام نہیں کرسکتا۔ علوم کی تقسیم دین اور دنیاوی دائروں میں اس حد تک تو گوارا کی جاسکتی ہے کہ مختلف علوم کے دائروں کو متعین کیا جائے، لیکن اسلام کے تصورِعلم میں اللہ کی مرکزیت اور اللہ کی ہدایت کو علم کے ہرشعبے میں مطابقت (relevance) کے ساتھ پیش کرنا اور ہروقت اس کا احساس بیدار کرنا فہمِ دین کا بنیادی اصول ہے۔ ہمارےدورِ زوال میں شعوری یا غیرشعوری طور پر علم کا تصور محدود تر ہوگیا۔ کم از کم علمی سطح پر دین کے دائروں اور دینی ہدایت کو شخصی زندگی اور عبادات تک محدود کردیا گیا۔ اجتماعی زندگی اور اجتماعی علوم کے باب میں دین حق نے جو رہنمائی فراہم کی ہے اور جو دورِ عروج میں ہماری شان رہی ہے، اس سے ہم بہت دُور ہوگئے ہیں۔ جب تک یہ ترتیب اور مطابقت علوم اور تربیت کا حصہ نہیں بنتی، احیائے اسلام ممکن نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے مولانا مودودی نے مسلم معاشروں کی فکری ساخت کا تجزیہ کرتے ہوئے بنیادی مرض کی نشان دہی کی۔
اس کے بعد قرآن و سنت کی روشنی میں نئے مسائل حل کرنے کے لیے استدلال، قیاس، استنباط اور اجتہاد کی بنیاد پر قانون سازی ہے۔ یہی ہے وہ عمل کہ جس سے فقہ کا قیمتی سرمایہ وجود میں آیا۔ پھر فقہ کے مطابق عمل کرتے ہوئے علم اور تقلید کی روایت نے سفر شروع کیا۔ مولانا مودودی کے نزدیک احیائے دین کے لیے صحیح ترتیب قرآن، سنت، فقہ اور تاریخ ہے۔ جس کی روشنی میں نئے مسائل کا حل قرآن و سنت اور اجتہاد و استنباط ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دورِ زوال میں یہ ترتیب اُلٹ کر رہ گئی۔ یوں تقلید و تاریخ نے عملاً اوّلیت اختیار کرلی، پھر فقہ، اس کے بعد سنت ِ رسولؐ، حکایاتِ بزرگانِ دین اور اس کے بعد قرآن۔ گویا کہ جس چیز، یعنی قرآن کو سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا، وہ سب سے آخر میں چلا گیا۔ یہی بدقسمتی مسلمانوں میں مروج نظامِ تعلیم کے ساتھ ہوئی اور وہاں پر بھی ترتیب اُلٹ گئی، اور قرآن سب سے آخر میں اور وہ بھی محدود تر دائرے میں شاملِ نصاب ہوا۔
مولانا مودودی نے اس بات کی طرف متوجہ فرمایا کہ مسلم معاشرے میں اصل اصلاح طلب چیز، حقیقی اور مطلوب ترتیب کو بحال کرنا ہے۔ فقہ کو نظرانداز کرنا یا دریابُرد کرنا علمی اور تہذیبی خودکشی کے مترادف ہے، مگر رہنمائی کے لیے ترتیب میں قرآن ، سنت اور پھر فقہ وتاریخ کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ یہ ایک انقلابی نکتہ ہے، جسے مولانا مودودی نے ابن تیمیہ، امام غزالی اور شاہ ولی اللہ سے گاہے اتفاق اور کچھ اختلاف کے ساتھ پیش کیا اور اس جرأتِ اظہار کی بڑی قیمت ادا کی۔
نہیں اس کی کوئی پرسش کہ یاد اللہ کتنی ہے
یہی سب پوچھتے ہیں آپ کی تنخواہ کتنی ہے
مولانا مودودی نے اقبال اور دوسرے علما و مصلحین کے ساتھ مغربی تہذیب کا بھرپور محاکمہ کیا اور بہت صاف صاف الفاظ میں یہ بات کہی کہ: ’’مغربی سامراج سے صرف سیاسی آزادی مطلوب نہیں بلکہ فکری، نظریاتی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی آزادی بھی مطلوب ہے، تاکہ مسلمان اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی کو مرتب اور منظم کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے محض مسجد بنادینا اور صرف نماز پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے خاندانی نظام کا تحفظ اور اجتماعی زندگی کی تشکیل و تعمیربھی ضروری ہے۔ نیز سیاسی آزادی اور اختیار بھی مطلوب ہے تاکہ دینی اقدار بالادست ہوں اور یوں اجتماعی زندگی اسلامی بنیادوں پر استوار ہو‘‘۔ اقبال نے بڑے لطیف انداز میں کہا:
مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
اور یہ کہ:
جدا ہو دیں سیاست سے،تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اسلام، درحقیقت سیاسی و تہذیبی اور فکری و سیاسی میدان میں آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ غلامی کی ہر رمز اور محکومی کی ہر علامت کو رَد کرتا ہے، تاکہ اسے قبول کرنے والے زندگی کی تشکیلِ نو کرسکیں۔ مولانا مودودی نے اس موقف کو بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے۔ ان کے متوازن ذہن اور محتاط قلم نے مغرب زدگان کو دلیل کے میدان میں بے بس کر دیا ہے اور یہی چیز مغرب کو کھائے جارہی ہے۔ جس کے لیے کبھی اس کے ترجمان ’سیاسی اسلام‘ جیسی نامعقول، مہمل اور مضحک (absurd) اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور کبھی اسلام کے ڈانڈے فسطائیت (فاشزم) اور انتہاپسندی سے جوڑتے ہیں ۔ حالاں کہ سچ بات یہ ہے کہ مسلمان اپنا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حق کہ وہ اپنی انفرادی اور اپنی اجتماعی زندگی کو اپنی اقدار و تہذیب اور قانون و ضابطے کے مطابق گزار سکیں۔
جس طرح مولانا مودودی نے مسلم معاشروں کا جائزہ لے کر ان کی خامیوں کو متعین کیا، اسی طرح انھوں نے مغربی تہذیب کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ یہاں بھی انھوں نے اندھی تنقید اور اندھی تقلید دونوں کے مقابلے میں ایک آزاد، نظریاتی، منطقی اور اعتدال پر مبنی رویہ اختیار کیا۔ انھوں نے تعصب پر مبنی تحقیق و مطالعے کو عدل اور شرفِ انسانی دونوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ مولانا نے مغرب اور مغربی تہذیب کو اس کے مآخذ کے مطالعے اور سرچشموں کے مشاہدے سے جاننے کی جستجو کی ہے۔ پھر ان بنیادوں پر تنقید کی ہے، جو خدا ناشناسی یا خدا کی قدرت کے محدود تصور پر مبنی ہیں۔
مولانا مودودی نے مغرب کے سامراجی کردار اور نظریاتی و سیاسی پہلوئوں کا ہمہ پہلو محاکمہ کیا ہے۔ پھر مسلم دنیا کو مغرب کے اس اثر سے نکالنے کے لیے سیاسی، فکری، اجتماعی جدوجہد کی دعوت دی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ مغرب میں یا مغرب کی ہر چیز غلط نہیں، اور نہ مشرق میں اور مشرق کی ہر چیز خیرہے۔ ہمیں کھلے ذہن اور کھلی آنکھوں سے قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے کہ ’خیر‘ کے لیے کس چیز سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں انسانی زندگی کے معاملات، سیاسی تجربات اور سائنسی علوم کو ایک صاحب ِ ایمان فرد کی حیثیت سے پرکھنا چاہیے کہ کہاں اور کس قدر خیر ہے، خیر کو شر سے چھانٹ کر انسانی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے اور شر سے انسانیت کو بچانا چاہیے۔ یہ حس اور یہ صلاحیت اس کھلے ذہن سے پیدا ہوسکتی ہے کہ جس کی میزان لازمی طور پر اسلامی ایمانیات پر استوار ہو اور جس کی کسوٹی اسلامی اصولوں کے ساتھ تصادم یا مطابقت کے سوال سے مشروط ہو۔
مولانا مودودی نے سمجھایا کہ جو چیز اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں، وہ انسانیت کی مشترک میراث ہے۔ البتہ اندھی تقلید اور اندھی تنقید دونوں غلط چیز ہیں۔ جو اچھا ہے، اسے قبول کرلو اور جو بُرا ہے، اسے مسترد کردو۔ خیر تک رسائی اور خیر کے استعمال و اختیار کے لیے پوری دنیا ایک میدان ہے۔ ایک صاحب ِ ایمان فرد کسی ایک علاقے اور کسی ایک زمانے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اسے معتدل طریقے سے یہ خدمت انجام دینی چاہیے۔
مسلم اور مغربی معاشروں کے تنقیدی جائزے کے بعد مولانا مودودی نے بتایا ہے کہ اسلامی احیا ہی انسانی زندگی کے لیے خیر اور فلاح کا سرچشمہ ہے، جس کا ماخذ قرآن ہے۔ قرآن کی بنیاد پر دین کو سمجھا جائے، قرآن کی حکمت عملی کو سمجھا جائے اور قرآن کے زیرسایہ اسلامی احیا کی تحریک کو منظم کیا جائے۔ یہ کام دعوت اور نظم و ضبط سے، افراد کی تیاری اور اداروں کی تعمیروترقی ہی سے ممکن ہے، جس میں سب سے مرکزی اور بنیادی ادارہ خاندان ہے۔ مولانا محترم نے زور دے کربتایا ہے کہ جدید دور میں، جدید ذرائع اور جدید اسلوب کو دعوت و تنظیم اور عمومی بیداری کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اسی لیے انھوں نے جدید زمانے میں تنظیم سازی کے لیے بہترین انداز سے جماعت اسلامی اور دوسرے دعوتی اداروں کو منظم کیا۔
مولانا مودودی نے یہ بھی بتایا ہے کہ قومی ریاستیں (Nation States)مسلمانوں کی منزل نہیں، البتہ مسلم ممالک اور دنیا کے حالات کی روشنی میں وہ مسلم اُمہ کے اتحاد واشتراک کی جانب رواں سفر کا ایک ذریعہ بن سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ نظریاتی اساس پر اپنی تعمیر کریں۔ہماری قومی ریاستیں مغرب کی طرح علاقائی اور جغرافیائی اکائیاں نہیں ہیں، بلکہ ایک نظریے کی علَم بردار اور ایک جسد ِ واحد کا حصہ ہیں، جنھیں ایک جان دار جسم سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی ہے وہ سبق، جو قرآنِ کریم نے ہرمسلمان کو پڑھایا اور سمجھایا ہے۔
اس حوالے سے مولانا مودودی کی فکر کو سمجھنے کے لیے بنیادی نکات دو ہیں: قرآن اور اقامت دین۔ ان کا سارا علمِ کلام اس کی تفسیر ہے اور ان کی تمام سرگذشت ِ زندگی انھی کے مدار میں رواں رہتی اور پھلتی پھولتی ہے۔
ایک اہم بات جس کا ادراک بہت ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ مولانا مودودی نے ایک طرف قرآن و سنت اور تاریخ تجدید و احیا کے گہرے مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں اسلام کے تصورِحیات کو اس کی مکمل شکل میں پیش کیا۔ ایمان اور تزکیے کے ساتھ زندگی کے پورے نظام کی اسی بنیاد پر تعمیر و تشکیل کا واضح تصور اور نقشہ پیش کیا۔ پھر اس کے مطابق زندگی کے نقشے کو بدلنے کے لیے دعوت اور منظم تحریک کی ضرورت اور حکمت عملی کو واضح کیا، وہیں سوچ کا ایک انداز، تحقیق کا ایک اسلوب اور افکار اور حکمت عملی کی تشکیل کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں خطوطِ کار مرتب کیے، جسے مَیں مولانا مودودی کا منہج (methodlogy ) کہتا ہوں۔ اس عمل میں انھوں نے قرآن و سنت سے مکمل وفاداری پر زور دیا ہے۔ تاریخی روایت کے تسلسل کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات اور زمانے کے تقاضوں کا ادراک کرنے اور اُن کی روشنی میں حدود اللہ کی پاس داری اور مقاصد ِ شریعت سے وفاداری کو لازم قرار دیا ہے۔ پھر زبان و بیان، دلیل و استدلال، تنظیم اور نظامِ کار اور پالیسی کے میدان میں نئے تجربات کی ضرورت اور حدود کو بھی معین فرمایا۔ ان اُمور کی روشنی میں مسلمانوں کی اپنی تاریخ اور دورِحاضر کی غالب تہذیب دونوں کا تنقیدی نظر سے جائزہ لیا اور نئے تجربات کیے۔
پہلا یہ کہ جب ۱۹۵۳ء میں مارشل لا حکومت نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ رحم کی اپیل کرسکتے ہیں مگر مولانا مودودی نے، موت کا پروانہ تھمانے والے اہل کار کو بڑے وقار کے ساتھ دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا: ’’ظالموں سے رحم کی درخواست کرنے کے بجائے مَیں مر جانا بہتر سمجھتا ہوں۔ اگر خدا کی مرضی نہیں ہے تو پھر یہ میرا بال بیکا نہیں کرسکتے، خواہ اُلٹے لٹک جائیں‘‘۔
اور دوسرا موقع وہ تھا جب ۱۹۶۳ء میں فوجی حکمران جنرل ایوب خاں کی حکومت نے جماعت کے قومی اجتماع کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بعد ناکامی کی صورت میں، عجب جارحیت کا مظاہرہ کیا۔جیسے ہی مولانا مودودی افتتاحی خطاب کے لیے کھڑےہوئے تو حکومتی سرپرستی میں غنڈوں نے سائیلنسر لگے پستولوں کے ذریعے براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس میں فوری طور پر ایک کارکن شہید ہوگیا۔ فائرنگ کا رُخ مولانا کی طرف تھا کہ ان کے ایک رفیق نے بلندآواز میں کہا: ’’مولانا آپ بیٹھ جائیں‘‘، تو مولانا نے اسی لمحے اُن کو جواب دیا: ’’اگر میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا؟‘‘
یہ اور ایسےواقعات مولانا مودودی کی مقصد ِ زندگی سے وابستگی اور اس کے لیے سب کچھ کرگزرنے کے عزم کا درس دیتے ہیں۔
مولانا محترم کے اندازِ فکر اور تحقیق و تجزیے کے اسلوب، دونوں میں ہمارے لیے بہترین رہنمائی ہے۔ مسلمانوں کو عہد ِ حاضر میں تجدید و احیائے دین کے لیے سرگرم اور متحرک کرنے پر اللہ تعالیٰ انھیں بہترین انعامات سے نوازے، آمین۔
مولانا مودودی نے جو آواز حیدرآباددکن اور پاکستان سے اٹھائی تھی، وہ آج ساری دُنیا میں مسلمانوں کی آواز بن گئی ہے۔ جس بات کو مولانا مودودی نے پورے شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا ہے، اسے مختصر الفاظ میں ایران کے عالمِ دین مُلا صدرا نے چار راہِ عمل کی شکل پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی چیز مِنَ الْخَلْقِ اِلَی اللہَ ہے کہ بندہ دُنیاداری کے راستے کو چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرے، اور اس سے تعلق جوڑے، جسے وہ مَعَ اللہِ کےالفاظ سے ادا کرتا ہے، لیکن اسے یہاں رُک نہیں جانا بلکہ ایک تیسرا عمل مِنَ اللہِ اِلَی الْخَلْقِ تک کا ہے کہ دوبارہ خلق اور بندوں کی طرف جائے اور ان تک اسلام کی دعوت کو پہنچائیں جس کے بعد آخری مرحلہ مَعَ الْخَلْقِ اِلَی اللہِ کا ہے، یعنی دوسروں کو دین سے آراستہ کرکے سب کو رجوع الی اللہ کے راستے پر گامزن کرنے کی سعی کرے۔ یہی اسلام کا پیغام اور یہی ہے اسلام کا تاریخی کردار جسے اس دور میں مولانا مودودی نے محکم انداز میں ادا کیا ہے۔(مکمل
رمضان کا بابرکت مہینہ ہم پر سایۂ فگن ہے۔ یہ مسلمانوں اور انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرامؓ اور صلحائے امت ؒ بڑی بے چینی سے رمضان کا انتظار کرتے تھے اور پھر اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔
صوم کا معانی ہے ’رُک جانا‘، ’اپنے آپ کو روک لینا‘، ’کچھ کر ڈالنے سے روکنا‘۔ ظاہری طور پر اس کا مطلب ہے کھانے، پینے اور اور جنسی داعیہ پورا کرنے سے پرہیز کرنا۔
قرآن کریم میں آٹھ آیات ہیں جو ’صوم‘(روزہ) کی مختلف جہات کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ روزہ تمام انبیاؑ کی شریعتوں کا جزو رہا ہے۔ یہ بات بھی بڑی معنی خیز ہے کہ ہر نبی پر جب وحی نازل ہوئی تو وہ روزہ رکھے ہوئے تھا! جب سیّدنا موسٰی پر تورات اتری، آپ ؑ روزے سے تھے۔ جب نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپؐ روزے سے تھے۔روزے کا اللہ کی عطا کردہ ہدایت سے بڑا قریبی تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۱۸۳ۙ (البقرہ۲:۱۸۳) اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسے تم سے پہلوں پر فرض تھے، تاکہ تمھیں پرہیز گاری ملے۔
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۰ۚ (البقرہ۲:۱۸۵)رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن (باتوں پر مشتمل ) ہے۔
روزے کا مقصد دو چیزوں کا حصول ہے جن کی طرف قرآن متوجہ کرتا ہے: ہدایت اور تقویٰ۔ قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا، ہدایت لے کر، جو انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پھر ہے، تقویٰ۔ تقویٰ ایک بنیادی اور اور عقدہ کشا اصطلاح ہے۔ عمومی طور پر تو اس کا معنی ’خوف‘ لیا جاتاہے۔ لیکن کس کا خوف؟ اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ خوف ہے اللہ کی خوشی کھو دینے کا ، اللہ کی ناراضی مول لینے کا اور قربٍ الٰہی سے محرومی کا۔ تقویٰ کے اس معنی و اثر کی وجہ سے ہم ایسی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کی موجودگی کا احساس ہو۔ چنانچہ ہم ہروہ کام کر گزریں جسے کرنے کا اللہ کہے اور ہر اس کام سے رُک جائیں جس سے اللہ روکے، تاکہ ہم اس کی خوشنودی پالیں۔
تقویٰ ضبطِ نفس ہے، یعنی خود پر قابو۔ رمضان میں آپ خود پر قابو پانا اور خود کو منظم کرنا سیکھتے ہیں۔ انسان کی دو قسم کی مادی یا جسمانی ضرورتیں ہیں: کھانا پینا اور جنسی داعیہ___ رمضان میں دونوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کی تربیت دی جاتی ہے، اور اس بات کا سبق ملتا ہے کہساری زندگی ہی نظم و ضبط سے گزارنی ہے۔یہ مہینہ درحقیقت ’زمانۂ تربیت‘ ہے جس کا مقصد تقویٰ کی زندگی بسر کرنے کے قابل بنانا ہے۔ رمضان کے بعد بھی ،باقی گیارہ مہینے تقویٰ کے حصول پر صرف کیے جائیں رمضان کا سبق تازہ کرنے کے لیے اور تازہ دم ہونے کے لیے ۔
روزہ سب سے پہلے آپ کو نظم و ضبط سکھاتا ہے، کہ آپ اپنی عادتوں کو درست کریں۔ جو کام آپ معمول کے مطابق کرتے رہتے ہیں، ایک معمول اور ایک عموم کے طور پر ۔ رمضان میں آپ پر ان کے سلسلے میں کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ آپ وہ کام نہیں کرتے یا کرنے سے رُک جاتے ہیں۔ تاہم جوں ہی افطار کا وقت ہوتا ہے، آپ کے لیے جو چیز لمحہ بھر پہلے ممنوع تھی، اب جائز ہو جاتی ہے۔ اصل نکتہ زندگی میں نظم و ضبط (Discipline) لانا ہے۔ ایسی زندگی گزارنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرماںبرداری سے عبارت ہو اور قرآنی ہدایت پر استوار ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص روزہ رکھتا ہے مگر جھوٹ بولنے ، لڑنے جھگڑنے، اور بُرے کام کرنے سے نہیں رُکتا تو اللہ کو اس کے بھوکے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، حدیث ۱۹۰۳)
جو چیز اللہ کو مطلوب ہے وہ تو فرمانبرداری اور نظم و ضبط ہے۔ یہی بات تو افطار و سحر سے واضح ہوتی ہے۔ سحری سے پہلے آپ کھاتے پیتے رہتے ہیں، مگر فجر کی اذان سنتے ہی رُک جاتے ہیں اور افطار کے وقت تک رُکے رہتے ہیں۔ اس سب سے آپ کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ سب تنہائی میں نہیں ہوتا،بلکہ دنیا بھر میں پھیلے مسلمان ایک ہی مہینے میں روزہ رکھتے اور اس کی پابندیوں پر عمل کرتے ہیں۔ اس سے معاشرے اور خاندان تک ایک بھرپورماحول بن جاتا ہے جس سے ہر عام و خاص، روزہ کی برکتوں سے فیض یاب ہوتا ہے۔
رمضان کی اہمیت کے حوالے سے ایک قابل توجہ پہلو اس مہینے میں تین چیزوں کا جمع ہونا ہے: ۳۰ روزے، شبِ قدر اور آخری عشرے کی طاق راتیں۔ ایک ماہ کے مسلسل روزے ایک بھرپور تربیتی ورزش کا موقع دیتے ہیں۔ شبِ قدر رمضان کی ایک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا:
اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ۱ۚۖ (القدر۹۷: ۱) بے شک ہم نے اس (قرآن ) کو شبِ قدر میں نازل کیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور عمل کے مطابق یہ رات نماز، تلاوتِ قرآن اور دُعا میں بسر ہونی چاہیے۔ یہ اللہ کے حضور دُعا کرنے اور اس کی قبولیت کا بہترین موقع ہے، بلکہ اسی وجہ سے تو اسے ’قدر‘ کی رات کہا جا سکتا ہے، جب قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں اور تقدیر لکھی جاتی ہے۔
آخری عشرہ، یعنی آخری دس روزے اور ان میں پانچ طاق راتیں(۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ویں)، شبِ قدر ان راتوں میں سے ایک رات ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ شبِ قدر کی عبادت محض ایک رات کی نہیں بلکہ ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی بہتر ہے: لَيْلَۃُ الْقَدْرِ۰ۥۙ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۳ۭؔ (القدر۹۷: ۳) شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اس رات کو ہم جو عبادت اور دعا کریں گے وہ ایک ہزار ماہ یا ۸۳ سال ، بالفاظ دیگر پوری زندگی، کی عبادت سے بھی زیادہ بہتر ہوگی۔ یہ اللہ کی ہم پر خاص عنایت ہے۔
فرماںبرداری، تقویٰ ، صبر اور استقامت ہم کو اللہ کے قریب کرنے والی خوبیاں ہیں۔ پھر تلاوت قرآن، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی، جو اگرچہ فرض تو نہیں تاہم تہجد اور تراویح قرآن سے تعلق کا اہم ذریعہ ہیں۔ مسلم تاریخ میں تراویح رمضان کے پورے دن کے پروگرام کا حصہ رہا ہے، ایک ادارہ ایک مستحکم روایت ۔ دن بھر کے روزہ کے بعد ، رات کو آپ تراویح کے لیے اللہ کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آٹھ رکعات ہو یا ۲۰، قرآ ن کی تلاوت اور سماعت پورے مہینے جاری رہتی ہے اور قرآن کے پیغام کو سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
روزہ سے متعلق ایک بات بڑی منفر د ہے۔ ہر عبادت کا کوئی نہ کوئی ظاہری انداز ہوتا ہے۔ مثلاً نماز کی حرکات و سکنات ہیں، جو سب کو نظر آتی ہیں۔ مسجد میں نماز تو سب کے ساتھ اور سب کے سامنے ہوتی ہے ۔ زکوٰۃ میں دو افراد، دینے اور لینے والے ہوتے ہیں۔ کچھ یہی معاملہ حج کا ہے۔ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ کون حج پر جارہا ہے یا جا چکا ہے۔ مگر روزہ کا صرف اللہ ہی کو پتہ ہوتا ہے۔ دوسروں کے سامنے آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا روزہ ہے مگر اکیلے میں آپ چاہیں تو کچھ کھا سکتے ہیں۔ گو کوئی آپ کو نہیں دیکھ رہا ہوگا، مگر یہ خیال اور احساس کہ اللہ تو دیکھ رہا ہے، آپ کو کچھ کھانے یا پینے نہیں دیتا۔ یہ ہے اللہ سے براہٍ راست تعلق ، اس کی ہدایت کی تعمیل!
اس لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر نیکی کا بدلہ ہے۔ دس گنا، ستر گنا، سات سو گنا، یا اس سے بھی زیادہ ۔ مگر روزہ کا بدلہ اور اجر دینا میری خاص عنایت ہے۔ اس کا اجر لا محدود ہوگا!
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے سوائے روزہ کے، کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم،۱۹۰۴)
روزہ ایمان کے شعور اور احتساب کے احساس کے ساتھ رکھا جائے ۔ ایمان سے مراد ہے خالص اللہ کے لیے، نہ کہ لوگوں کے لیے یا کسی اور غرض سے ۔ اور احتساب کا مطلب ہے کہ پابندی، اجازت، جائز و ناجائز سب کو اللہ کی رضا کی خاطر قبول کیا جائے۔ روزمرہ زندگی میں ہم سے غلطیاں اور بھول چُوک ہوتی رہتی ہے، ہم کبھی کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں جو نہیں کہنا چاہیے تھا، مگر رمضان میں ہمیں غلط کاموں اور باتوں سے بچنے کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھنا چاہیے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ : اگر کوئی تمھیں بُرا بھلا کہے، یا گالم گلوچ کرے، یا لڑے جھگڑے، تو اس کی بات یا حرکت کا جواب نہ دو بلکہ کہو کہ ’’ میں تو روزے سے ہوں‘‘۔ روزہ تو تزکیۂ نفس ہے، اخلاقی تربیت ہے: فَاِنْ سَا بَّهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ اِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، ۱۹۰۴) ’’اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں‘‘۔
روزے کا ظاہری پہلو یہ ہے کہ بھوک لگنے پر آپ کو ان لوگوں کا اور ان کی حالت کا خیال آتا ہے جو معاشرے میں ہمارے درمیان موجود تو ہیں مگر بھوکے پیاسے اور سہولتوں سے محروم۔ ہم میں ان کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ہم زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں، یا نہیں کرتے، اس کے اثرات کا ہمیں ہمیشہ احساس رہنا چاہیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔(صحیح بخاری، کتاب الصوم، ۱۹۰۱)
خلاصہ یہی ہے کہ روزہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان بہت ہی خاص، ذاتی اور بلاواسطہ تعلق قائم کرتا ہے۔ اس کو کوئی نہیں دیکھتا، مگر اللہ اس کا گواہ ہوتا ہے ۔ اس سے تزکیہ، اپنے آپ کو پاک و صاف کرنے اور رکھنے، کا کام ہوتا ہے۔ نتیجہ میں پاک و صاف اور نظم و ضبط والے معاشرے کا ماحول بنتا ہے۔
اس مہینے کا اپنا ہی ماحول ہوتا ہے، اپنی ہی الگ فضا۔ اسی لیے وہ لوگ بھی جو عام طور پر نماز نہیں پڑھتے یا ہر کام شعور کے ساتھ اسلام کے مطابق نہیں کرتے ، وہ بھی اس مہینے میں ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور حتی الوسع رمضان کے احترام میں عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ رمضان کی آمد پر ہمیں اس ماحول اور فضا کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا ایک بار پھر موقع مل رہا ہے۔ رمضان تو ایک آئینہ کی طرح ہے جس میں مسلمان افراد اور قوم سب ہی اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں!
بیسویں صدی کے آغازسے ۱۹۲۴ء تک پھیلے ہوئے ہنگامہ خیز دور کو ہم حرکت اور تجدید کا دور (Era of reassertion)کہہ سکتے ہیں۔ اس دور کی نمایاں خصوصیت مسلمانوں کا دوبارہ اپنے آپ کو اُمت مسلمہ کی حیثیت سے دریافت اور ظاہر (assert) کرنا اور اپنے آپ کو منوانا تھا۔ یہ احیائے نو کی طرف پہلا قدم تھا۔
یہ دور الطاف حسین حالی[م: ۳۱دسمبر۱۹۱۴ء] اور شبلی نعمانی [م:۱۸نومبر ۱۹۱۴ء]کی علمی و ادبی کاوشوں کی بنا پر رُونما ہوا۔ حالی کی مسدس ہر گھر پہنچی اور مسلمانوں کے دل و دماغ میں ایک حیات پرور گرمی اور ایک احساسِ زیاں پیداکرتی گئی۔
شبلی نعمانی کی کوششوں کی بنا پرماضی پر مسلمانوں کا اعتماد بحال نظر آیا۔ شبلی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کو دوبارہ ان کی تاریخ سے روشناس کرایا اور مسلمانوں میں بے اعتمادی اور مایوسی کی جو کیفیت پیدا ہوگئی تھی کہ ماضی ہے تو انگریز کا، اور مستقبل ہے تو انگریز کا، اس احساس کو اُنھوں نے تاریخ کی رومانویت سے دُور کیا ۔ پھر اپنے آخری زمانے میں انھوں نے جدید تعلیمی پالیسی اور اس کے اثرات پر شدید تنقیدو جرح کی اور سیاسی تحریکات میں بھی شرکت کی۔ مسلمانوں کا رابطہ سیرت النبیؐ کے اطلاقی پہلوئوں سے جوڑا، جو شبلی نعمانی کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔
اسی طرح نواب وقار الملک [م:۲۷جنوری ۱۹۱۷ء]نے اپنے آپ کو سرسیّد احمد خاں کی تحریک سے کاٹ کر تعلیم کو صحیح راہ پر لگانے کی کوشش کی۔اکبر الٰہ آبادی [م:۱۵فروری ۱۹۲۱ء] نے اپنے اشعار کے نشتروں سے مغربی تہذیب کے اثرات کو زائل کیا اور اسلامی تہذیب کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ مسلمانوں کی معاشرت اور تہذیب و تمدن کا نقشہ اُن کے سامنے رکھا اور اُن کو بتایا کہ کتنے خطرناک راستے پر وہ بھاگے چلے جارہے ہیں۔ اس دورِ احیا کو پروان چڑھانے میں اکبر کا کئی صورتوں میں کلیدی حصہ ہے۔
اس کے بعد ندوہ آتا ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلما ۲۶ستمبر ۱۸۹۸ء کو لکھنؤ میں قائم ہوا، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ قدیم و جدید کو ملایا جائے۔ باوجود بڑی قیمتی خدمات کے، جو دینی لٹریچر کی فراہمی اور دینی تعلیم کی ترویج کے سلسلے میں ندوہ نے سرانجام دیں، ندوہ وہ انقلابی شخصیتیں تیار نہ کرسکا، جو جدید و قدیم کی صحیح معنوں میں جامع ہوں۔ ’ندوہ نے سارے عرصے میں عملی سیاسیات میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والا ایک بھی نمایاں فرد پیدا نہیں کیا۔ اس لیے دارالعلوم دیوبند [تاسیس: ۳۰مئی ۱۸۶۶ء]نے جب اپنا تعلق انڈین نیشنل کانگرس [تاسیس: ۲۸دسمبر ۱۸۸۵ء]کی یک وطنی قوم پرست تحریک کے ساتھ جوڑا تو ندوہ، مسلم قیادت کے خلا کو پُر کرنے سے قاصر رہا۔ اس طرح مسلمانوں کی قیادت بڑی آسانی سے ان جدید تعلیم یافتہ مسلم زادوں کے ہاتھ میں آگئی، جن کی اکثریت، فکروعمل کے اعتبار سے ملت کے لیے اجنبی تھی اور نواب زادوں اور بڑے زمین داروں کے اس طبقے سے تعلق رکھتی تھی، جسے ۱۸۵۷ء میں اپنی قوم سے بے وفائی کے بدلے میں انگریزی سامراج نے زمینوں، مناصب اور وسائل سے نوازا تھا۔(آباد شاہ پوری، تاریخ جماعت اسلامی، اوّل، ص ۱۷۱)
واقعہ یہ ہےکہ اس کمی کے باوجود ندوہ اس دورِ احیا کی ایک اہم اور مؤثر تحریک ہے۔ اس کی خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس تحریک نے نئے دور کے تقاضوں کی نشان دہی کی۔ ندوی ذہن تحریک ِ اسلامی کے تقاضوں کو نسبتاً زیادہ سمجھتا اور اس سے زیادہ قریب ہے۔ دارالمصنّفین اعظم گڑھ [تاسیس:۲۱ نومبر ۱۹۱۴ء]نے بلندپایہ اہلِ قلم اور محققین کی ایک قابلِ قدر اجتماعیت تیار کی، جنھوں نے علمی و تحقیقی میدان میں اتنا عظیم علمی اثاثہ مسلمانوں کے لیے تیار کیا کہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علی گڑھ [تاسیس: ۲۴مئی ۱۸۷۵ء]اور دارالعلوم دیوبند ویسی خدمت انجام نہ دے سکے۔ اس خاموش کام کے ذریعے سے مسلمانوں میں اپنے دین کے اُوپر اعتماد بحال کیا، اور مسلم اُمت کی آیندہ نسلوں کا رشتہ اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے جوڑا۔
پھر مولانا رحمت اللہ کیرانوی [م:یکم مئی ۱۸۹۱ء مکّہ]، مولانا سیّد ناصرالدین ابومنصور ، مولانا محمد قاسم نانوتوی [م:۱۵؍اپریل ۱۸۸۰ء] اور مولانا ثناء اللہ امرتسری [م:۱۵مارچ ۱۹۴۸ء] نے ردِ عیسائیت کے سلسلے میں بڑی قیمتی خدمات انجام دیں۔ عیسائیوں اور آریہ سماجی ہندوئوں سے بڑے اہم اور کامیاب مناظرے کیے ۔ مولانا رحمت اللہ ایک بین الاقوامی شہرت کے مناظر تھے، جنھوں نے یورپ کے چوٹی کے پادریوں کو جگہ جگہ مدلل اور مسکت جواب دیئے۔
ان تمام قابلِ قدر حضرات گرامی کی مساعی سے احیا کا یہ دور شروع ہوا۔ بلاشبہہ اس دور کے چار ہیرو ہیں:
مولانا ابوالکلام آزاد [م: ۲۲فروری ۱۹۵۸ء] نے جواں عمری ہی میں علم و ادب کے میدان میں اپنا لوہا منوا لیا۔ ۱۹۱۲ء میں کلکتے سے اپنے ہفت روزہ اخبار الہلال کے ذریعے ایک طوفان کی طرح مسلمانانِ ہند کی سیاسی اور اجتماعی زندگی پر چھا گئے۔ اخبار الہلال کے اجرا [۱۳جولائی ۱۹۱۲ء] سے تنظیم حزب اللہ کی تشکیل [۱۹۱۳ء]تک غیرمعمولی کردار ادا کرتے رہے۔ اس کے بعد بدقسمتی سے ایک ارتقائے معکوس کا شکار ہوگئے۔
معاصر احیائے اسلامی کی تاریخ میں مولانا ابوالکلام کا غیرمعمولی حصہ ہے اور اس حوالے سے ان کے اثرات کو یہاں مختصراً بیان کرتے ہیں:
۱- مغربی تہذیب پر تنقید :مولانا ابوالکلام آزاد نے علی گڑھ تحریک کے فکری، تہذیبی اور عملی پہلوئوں پر شدید تنقید کی۔ مغربی تہذیب کی جارحیت اور تعلیم کے فکری و ثقافتی مظاہر کا سختی سے محاسبہ کیا۔ تقلید ِ فرنگ کے جو رجحانات مسلمانوں میں رُونما ہوئے تھے، ان پر نقد واحتساب کیا۔ من پسند اور معذرت خواہانہ تعبیر کے فتنے کی وجہ سے جو تحریکات، دینی اساس و اقدار کے معنی بدل رہی تھیں ، اُن کا پردہ چاک کیا۔ نیز مسلمانوں کو ان کے دین سے کاٹ دینے کی جو بھی کوششیں ہورہی تھیں، اُن کا مقابلہ کیا۔ اس طرح مولانا ابوالکلام نے چُومکھی لڑائی لڑ کر، اسلامی قوتوں کو مقابلے کا نیا جذبہ عطا کیا۔
۲- تحریکِ آزادیِ ہند میں شمولیت :برطانوی سامراجی حکومت سے غیرمشروط تعاون کرنے، اس کے آگے سپر ڈالنے اور اس سے حقوق کی بھیک مانگنے کی پالیسی پر سخت تنقید کی، اور مسلمانوں کو برطانوی سامراجی حکومت سے عدمِ تعاون اور عدمِ اشتراک کا سبق دیا۔ ابوالکلام نے قوم سے کہا کہ آزادی اور حقوق بھیک مانگنے اور ہاتھ پھیلانے سے نہیں ملا کرتے، ان کے لیے جدوجہد کی جاتی ہے، قربانیاں دی جاتی ہیں۔ سامراجی حکومت کے ٹکڑوں پر تمھیں نہیں جینا بلکہ حکومت کی باگیں غیرملکی غاصبوں سے چھین لینی ہیں۔ مسلمانوں میں جہاد، جدوجہد اور قربانی کے جذبے کو بیدار کرنے میں مولانا ابوالکلام کی آگ لگادینے والی تحریروں اور تقریروں کا غیرمعمولی حصہ ہے۔
۳- جدید علم الکلام کی اصلاح : سرسیّد احمد خاں، مولوی چراغ علی خان [م: ۱۵جون ۱۸۹۵ء] اور سیّد امیرعلی [م: ۳؍اگست۱۹۲۸ء]کے ہاتھوں ایک نیا علم الکلام پروان چڑھ رہا تھا، جو ایک شکست خوردہ ذہنیت پر مبنی تھا۔ ایسی ذہنیت کہ جس میں اسلام کو ایک بے بس، کمزور اور مدافعانہ پوزیشن میں لاڈالا گیا تھا۔ ابوالکلام نے اس مرعوبانہ اور معذرت خواہانہ انداز کو ترک کرنے کی طرف متوجہ کیا، اور اس کی جگہ قرآن و حدیث سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات کو اعتماد اور جرأت کے ساتھ پیش کیا۔ اگرچہ تعبیر کے معاملات میں کہیں کہیں مولانا آزاد سے بھی چوک ہوئی ہے اور خصوصیت سے واحد ہندی قومیت اور وحدتِ ادیان کے مسئلے پر انھوں نے زبردست ٹھوکر کھائی، لیکن بحیثیت ِ مجموعی انھوں نے انھی خطوط پر بیان و کلام کی روایت کو قائم کیا، جن کی بنیاد شاہ ولی اللہ نے رکھی تھی۔ اسی چراغ سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اور اسی پیغام کو خطیبانہ اور جھنجھوڑنے والے انداز میں پیش کرتے ہوئے ابوالکلام نے مسلمانوں کو سوچنے، سمجھنے اور چلنے کا ایک نیا انداز دیا۔ خصوصیت سے قرآنِ پاک سے مسلمانوں کا تعلق جوڑنے میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
نہ صرف قرآنِ پاک کے ترجمے اور تفسیر کے ذریعے بلکہ ان سے بڑھ کر اخبار الہلال کے مضامین کے ذریعے انھوں نے مسلمانوں میں حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ہندستان کی جدید تاریخ میں الہلال کے مضامین میں پہلی مرتبہ یہ نظر آتا ہے کہ قرآن پاک میں سابق اُمتوں کے محض قصے ہی نہیں بلکہ زندگی کے معاملات کے بارے میں بھی ہدایات ملتی ہیں۔ زندگی کا ہرشعبہ،ہرپہلو اور فیصلہ خواہ وہ معیشت سے متعلق ہو یا معاشرت سے، ملکی سیاست کا مسئلہ ہو یا بین الاقوامی سیاست کا معاملہ، ان میں سے ہر ایک کے حل کے لیے ابوالکلام قرآنِ پاک کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے مخالفین بھی کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ:
دُنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو، نہ معلوم ابوالکلام کے پاس کیا جادو ہے، قرآنِ پاک کی کوئی نہ کوئی آیت لے ہی آتے ہیں۔
اسی طرزِ استدلال کا یہ اثر ہوا کہ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ: ’قرآن ہماری زندگی کے تمام معاملات و مسائل سے بحث کرتا ہے اور زندگی کے تمام مسائل اور شعبوں میں ہمیں رہنمائی دیتا ہے‘۔
۴- علمی مرتبہ : مولانا ابوالکلام نے معیارِ تصنیف کو بہت اُونچے مقام پر پہنچا دیا۔ پچھلے ڈیڑھ سوسال کے اہلِ علم کی تصانیف اور خصوصیت سے معرکہ ۱۸۵۷ء کے بعد جو کتابیں شائع ہوئیں، ان کو پڑھیے تو عمومی طور پر ان کا ادبی معیار بہت ہی پست نظر آتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے باقی دُنیا کا لٹریچر دیکھا ہی نہیں اور نہ خود اپنے لٹریچر پر کوئی گہری مجتہدانہ نظر ڈالی ہے۔ بس روایتی طور پر علما جو باتیں کہہ گئے تھے، انھی کو نئے سرے سے ترتیب دے کر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن مولانا ابوالکلام آزاد نے اس دھارے کو روک کر ایک نیا رُخ دیا۔
۵- اور پھر ارتقائے معکوس :اس کے بعد ابوالکلام نے اجتماعی جدوجہد برپا کی، ان کے خطبات نے مسلمانوں میں ایک ہلچل پیدا کر دی تھی۔ اللہ نے ان کی زبان میں بلا کی اثرانگیزی رکھ دی تھی۔ اس بنا پر ابوالکلام اس دور کے ہیرو قرار پاتے ہیں۔ لیکن یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے کہ اتنا بڑا آدمی اتنا بڑا کام انجام دے کر ارتقائے معکوس (repercussion)کی نذر ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ۱۹۰۶ء سے ۱۹۲۴ء تک والے ابوالکلام رحلت کرجاتے ہیں اور ان کے جسد ِ خاکی سے ایک نئے ابوالکلام جنم لیتے ہیں۔ وہ ابوالکلام جو ایک زمانے میں جہاد کے لیے پکارتے تھے، وہ اب ہندوئوں سے سمجھوتے کی دعوت دینے لگے۔ وہ ابوالکلام جو مسلمانوں کی عالمی حکومت قائم کرنے کے لیے اُٹھے تھے، وہ محض ’سوراجی خوداختیاری‘ (Self Governing) کےعلَم بردار بن کر رہ گئے۔ تاریخ کے اس سانحے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔
پھر مولانا محمدعلی جوہر [م: ۴جنوری ۱۹۳۱ء] آتے ہیں۔ مولانا محمد علی بڑے مخلص اور سچے مسلمان تھے۔ وہ کوئی بڑے مفکر نہ تھے، لیکن ایک بندئہ مومن کا سا دل رکھتے تھے، مسلمان کا سا سوچنے کا انداز رکھتے تھے، مسلمانوں سے محبت رکھتے تھے اور مسلمانوں کی سربلندی چاہتے تھے۔آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق تھا۔ اللہ کی ذات پر کامل یقین اور توکّل کی مثال اس زمانے میں اس سے اعلیٰ نہیں مل سکتی کہ ایک شخص جو جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی بیٹی آمنہ بیمار ہے اور بیمار بھی ایسی کہ زندگی اور موت کی کش مکش میں گرفتار، اُس وقت آپ ایک غزل کہتے ہیں،جس میں ایک شعر باپ کی زبان سے یہ بھی نکلتا ہے :
تیری صحت ہمیں منظور ہے، لیکن اُس کو
نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں
یہ بات اس شخص کے سوا اور کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ جسے اللہ کی ذات پر کامل یقین ہو۔ اسی طرح یہ بات بھی محمدعلی جوہر جیسا بندۂ مومن ہی کہہ سکتا ہے:
کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لیے ہے
مولانا محمدعلی نےاپنے انگریزی ہفت روزہ Comrade [۱۹۱۱ء، کلکتہ] اور روزنامہ ہمدرد [۱۹۱۳ء، دہلی]کی تحریروں اور اپنی تقریروں کے ذریعے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ان کی تحریر میں بلا کا تیکھا پن تھا، دل میں کھب جانے والے تیرونشتر سے وہ آراستہ ہوتی تھی۔ مولانا محمدعلی جوہر کا اصل جوہر ’تحریک ِ خلافت‘ میں کھلا،جس کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں بیداری کی نئی تحریک رُونما ہوئی اور مسلمانوں پر مسلط مایوسی ختم ہوئی۔ مولانا محمد علی اور ’تحریک ِ خلافت‘ کے اثرات میں یہ چیزیں نمایاں محسوس ہوتی ہیں:
۱- مسلمانوں میں خوداعتمادی پیدا ہوئی اور پھر کچھ کر گزرنے کا عزم ان میں فروزاں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم [۲۸جولائی ۱۹۱۴ء-۱۱ نومبر ۱۹۱۸ء] اور اس کے بعد کے زمانے میں مسلمان،غیرمنقسم برطانوی ہند کی سیاسی زندگی پر چھائے ہوئے تھے۔ برپا ہونے والی ہرقومی، ملّی اور رفاہی تحریک میں رضاکار مسلمان ہوتے تھے۔ ان میں وہ اعتماد تھا کہ جس کی بنا پر وہ اپنی عددی کمی کے باوجود یہ یقین رکھتے تھے: ’ہندستان کے اصل حکمران ہم ہی ہوں گے‘۔ اس خطرے کو ہندو لیڈروں نے بھی محسوس کیا۔ ’تحریک ِ عدم تعاون‘ [ستمبر۱۹۲۰ء-فروری ۱۹۲۲ء] کو گاندھی جی [م: ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء] نے اسی لیے ختم کیا تھا کہ مسلمان، ہندستان کی سیاسی فضا پر چھائے جارہے تھے۔
۲- مولانا محمد علی اور ’تحریک ِ خلافت‘ کے زیر ِ اثر ’تحریک اتحاد عالمِ اسلام‘ کا احیا ہوا، اور مسلمانوں میں عالم گیر برادری ہونے کا احساس زیادہ سے زیادہ مستحکم ہونا شروع ہوا۔ اس تحریک کو غذا پورے عالمِ اسلام سے مل رہی تھی، لیکن ہندستان کی سرزمین پر اس تحریک کے سب سے بڑے علَم بردار محمدعلی جوہر ہی تھے، جن کا عالم یہ تھا کہ مراکش میں ایک مسلمان کے کانٹا چبھتا تھا تو وہ بے قرار ہوجاتے تھے۔ یہی جذبہ تھا، جس نے ان سے ۱۹۱۴ء میں The Choice of the Turks جیسا مقالہ لکھوایا، جس کی مثال انگریزی صحافت میں نہیں ملتی۔[یہی مقالہ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۴ء کو کامریڈ پر پابندی کا سبب بنا]۔
۳- تحریک ِ خلافت کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک کُل ہند تنظیم رُونما ہوئی۔ جن حضرات نے حالات کا مطالعہ گہرائی میں جاکر کیا ہے، وہ واقف ہیں کہ مولانا محمدعلی جوہر کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی [م: ۲۶نومبر ۱۹۳۸ء] نے غیرمعمولی ذہانت اور قابلیت کے ساتھ اس تحریک کا اندرونی نظم سنبھالا اور پورے ملک میں تحریک کا ایک جال پھیلا دیا۔
۴- ’ہندو مسلم اتحاد‘ کا جو ڈھونگ گاندھی جی اور ان کے حواریوں نے رچایا تھا، اس کا پول اس زمانے میں کھل گیا اور ہندو مسلم فسادات نے سارے پردے چاک کر دیے۔ مولانا محمدعلی جوہر نے آخری زمانے میں اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کر دیا تھا کہ مسلمانوں کا مستقبل ہندوئوں کے ساتھ نہیں، ان سے الگ ہے۔
۵- عام مسلمانوں کو تحریک سے وابستہ کیا گیا اور پوری قوم کو میدان میں لاکھڑا کیا گیا۔ اس سے پہلے کی تحریکات میں قوم کا ایک حصہ ہی سرگرم نظر آتا ہے، لیکن یہ تحریک ایسی تحریک ہے جس میں پوری قوم شریک ہے۔
اس دور کے تیسرے معمار کا نام علامہ محمد اقبال [م:۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء] ہے۔ قومی زندگی میں اقبال کا اثر ۱۹۱۰ء کے بعد سے شروع ہوا۔ انجمن حمایت ِ اسلام کے جلسوں میں شرکت (۱۹۰۴ء) اور اسرار و رُموز (۱۹۱۵ء) کے ذریعے اقبال نے اپنے اصلاحی کام کا آغاز کیا اور نظم و نثر اور عملی سیاست ہر طرح سے قوم کی رہنمائی کی۔ اقبال کا رویّہ بڑا متوازن نظر آتا ہے۔ علی گڑھ تحریک کے نتائج سے غیرمطمئن رہنے کے باوجود وہ سرسیّد احمد خاں کا احترام کرتے رہے۔ علما سے ان کو شکایت رہی، لیکن ہرقدم پر ان سے رجوع کرتے نظر آتے ہیں اور ان کا پورا پورا ادب و لحاظ کرتے ہیں۔
اقبال ایک حقیقت بین نگاہ رکھتے تھے۔ انھوں نے مسلم تہذیب و تمدن کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا تھا۔ وہ اسبابِ زوالِ اُمت سے بخوبی واقف تھے۔ انھیں اس بات کا پورا احساس تھا کہ مغربی تہذیب کا زہر جسد ِ ملّت میں آہستہ آہستہ سرایت کرگیا ہے اور اگر اس کے علاج کی طرف بروقت توجہ نہ کی گئی، تو بعد میں افسوس کرنا بے کار ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے مسلمانوں میں فکری انقلاب لانے، ان کو وقت کے تقاضوں سے آگاہ کرنے اور اسلام کو ایک مکمل دین اور تحریک کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی۔
علّامہ اقبال کے خیال میں مسلم ثقافت کے رُوبہ زوال ہونے اور مغربی افکار کے تسلط کی وجہ صرف یہ تھی کہ مسلمانوں نے اسلام کی زندہ تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر بے عملی کی زندگی اختیار کرلی تھی۔ مغرب سے متاثر ہونے کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان خود اپنے اُوپر اعتماد اور اپنی اقدار پر یقین کھو بیٹھے تھے۔ چنانچہ انھوں نے مغرب کی اندھی تقلید شروع کر دی۔ مزیدبرآں اُن میں ایک قسم کا احساسِ کمتری نشوونما پاتا چلا گیا، جس نے مذہب اور سیاست کی تفریق، غیراسلامی تصوف اور تباہ کن معاشرتی رُسومات کو جنم دیا۔
یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات
دوسرے مقام پر آپ نے کہا:
نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جُھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے
ایک اور انداز میں اس بات کو یوں کہتے ہیں:
پیرِ مے خانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سُست بنیاد بھی ہے ، آئینہ دیوار بھی ہے
علّامہ محمد اقبال مسلمانوں کی ذہنی غلامی کو ختم کرنے کے لیے اپنے فکری مطالعے کا نچوڑ اس طرح ملّت کے سامنے پیش کرتے ہیں:
شَفق نہیں مغربی اُفق پر، یہ جُوئے خوں ہے ، یہ جُوئے خوں ہے
طلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ
وہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اُسی کی بے تاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ
جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مُقامِروں نے بنا دیا ہے قمارخانہ
اقبال نے مسلمانوں کے ذہنوں سے مغرب کی علمی اور فکری برتری کو ختم کر کے ان میں خوداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ مغربی افکار کامطالعہ کریں، مگر فکری آزادی کے ساتھ سائنس اور فلسفہ پر عبورِ کامل حاصل کریں۔ اور اس پورے عمل کے دوران میں اپنی تنقیدی حس کو ہرگز کمزور نہ پڑنے دیں۔ مغرب کی ترقی سے فائدہ اُٹھائیں، مگر مغرب کے غلام بن کر نہیں بلکہ اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے علَم بردار کی حیثیت سے:’’ہمارا فرض ہے کہ بہرحال فکرِ جدید کے نشوونما پر بااحتیاط نظر رکھیں اور اس باب میں آزادی کے ساتھ نقدوتنقید سے کام لیتے رہیں‘‘ (اقبال ، تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ)۔ یعنی علّامہ اقبال نے اس خطرے کو شدت سے محسوس کیا کہ یورپ کابڑھتا ہوا تمدن کہیں عالمِ اسلام پر چھا نہ جائے۔ چنانچہ انھوں نے مغربی تہذیب کے کمزور پہلوئوںکو اُجاگر کیا اور لادینیت اور فکری تشکیک کے خطرے سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ چنانچہ وہ مثنوی ’پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق‘ میں بڑی خوب صورتی سے کہتے ہیں:
آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی ہنگامہ برچید از فرنگ
پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق؟
باز روشن می شود ایّامِ شرق
در ضمیرش انقلاب آمد پدید
شب گذشت و آفتاب آمد پدید
یورپ از شمشیر خود بسمل فتاد
زیر گردوں رسم لادینی نہاد
گرگے اندر پوستینِ برۂ
ہر زماں اندر کمینِ برۂ
مشکلاتِ حضرتِ انساں ازوست
آدمیت را غمِ پنہاں ازوست
درنگاہش آدمی آب و گل است
کاروانِ زندگی بے منزل است
باخساں اندر جہانِ خیروشر
در نسازد مستیٔ علم و ہنر
آہ از افرنگ و از آئینِ اُو
آہ! از اندیشۂ لادینِ اُو
[ترجمہ:] lنوع انساں، فرنگیوں کے ہاتھوں سخت فریاد کر رہی ہے۔ زندگی نے اہلِ فرنگ سے کئی ہنگامے پائے ہیںl اے اقوام مشرق اب کیا ہونا چاہیے؟ تاکہ مشرق کے ایّام (یعنی زندگی اور تاریخ) پھر سے روشن ہوجائیں lمشرق کے ضمیر میں انقلاب ظاہر ہورہا ہے۔ رات گزر گئی ہے اور آفتاب طلوع ہوا lیورپ اپنی تلوار سے خود ہی زخمی ہوچکا ہے۔ اس نے دُنیا میں رسم لادینی کی بنیاد رکھ دی ہے lاس کی حالت اس بھیڑیے جیسی ہے، جس نےبکری کے بچّے کی کھال اوڑھ رکھی ہے۔ وہ ہرلمحہ ایک نئے برہ (بکری یا ہرن کا بچہ) کی گھات میں ہے lنوعِ انسان کی ساری مشکلات اس کی وجہ سے ہیں، اور اسی کی وجہ سے انسانیت گہرے غموں میں مبتلا ہے lاس کی نگاہ میں انسان محض پانی اور مٹی کا مجموعہ ہے اور زندگی ایک بے مقصد شے ہے lیہ جہاں جو خیروشر کا میدانِ جنگ ہے،اس کے اندر علم و حکمت کی مستی رذیلوں کے لیے سازگار نہیں lافسوس ہے افرنگ پر اور اس طریق کار پر بھی افسوس ہے کہ اس نے لادین فکر اختیار کرلی ہے۔
اقبال نے پوری قوت کے ساتھ اسلام کے پیش کردہ نظامِ حیات کو پیش کیا اور حکمت و دانائی پر تجزیے سے ثابت کیا کہ موجودہ فکری اور نظریاتی انتشار و پراگندگی کا واحد حل مذہب ہے۔ وہ کہتے ہیں:
عالمِ انسانی کو آج تین چیزوں کی ضرورت ہے: کائنات کی اخلاقی اورروحانی تعمیر، فرد کی روحانی اصلاح و نجات، اور وہ بنیادی اصول جن کی نوعیت عالم گیر ہو اور جن سے انسانی معاشرے کا ارتقا روحانی اساس پر ہوتا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ جدید یورپ نے اس نہج پر متعدد نظامات قائم کیے۔ لیکن تجربہ شاہد ہے کہ جس حق و صداقت کا انکشاف عقلِ محض کی وساطت سے ہوا، اس سے ایمان اور یقین میں وہ حرارت پیدا نہیں ہوتی جو وحی و تنزیل کی بدولت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلِ محض نے انسان کو بہت کم متاثر کیا ہے۔ اس کے برعکس مذہب کو دیکھیے کہ اس نے افراد کو اضافہ مراتب اور اصلاحِ نفس کے ساتھ ساتھ معاشروں اور سماج و تمدن تک کو بدل ڈالا۔ یقین کیجیے کہ جدید یورپ سے بڑھ کر آج انسان کے اخلاقی ارتقا میں بڑی رکاوٹ اور کوئی نہیں ہے۔(تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ، ص ۲۷۶، ترجمہ:نذیر نیازی)
علامہ محمد اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد (۱۹۳۰ء) میں جو کہ تصورِ پاکستان کی بنیاد ہے، اُس میں اُمت مسلمہ کے مقصد وجود اور اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ سیاسی ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:
ظاہرہے کہ اگر مذہب کا تصور یہی ہے کہ اس کا تعلق صرف آخرت سے ہے، انسان کی دنیوی زندگی سے اسے کوئی سروکار نہیں، تو جو انقلاب مسیحی دنیا میں رُونما ہوا ہے وہ ایک طبعی امر تھا۔ مسیح علیہ السلام کا عالم گیر نظامِ اخلاق نیست و نابودہو چکا ہے اور اس کی جگہ اخلاقیات اور سیاسیات کے قومی و وطنی نظاموں نے لے لی ہے۔ اس سے یورپ بجاطور پرا س نتیجے پر پہنچا ہے کہ مذہب کا معاملہ ہر فرد کی اپنی ذات تک محدود ہے۔ اسے دُنیوی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن اسلام کے نزدیک انسان کی شخصیت بجائے خود ایک وحدت ہے۔ وہ مادّے اور رُوح کی کسی ناقابل اتحاد ثنویت کا قائل نہیں۔ مذہب اسلام کی رُو سے خدا اور کائنات، کلیسااور ریاست اور رُوح اور مادّہ ایک ہی کُل کے مختلف اجزا ہیں۔ انسان کسی ناپاک دنیا کا باشندہ نہیں کہ جس کو اسے ایک روحانی دنیا کی خاطر جو کسی دوسری جگہ واقع ہے‘ ترک کر دینا چاہیے۔ اسلام کے نزدیک مادہ روح کی ایک شکل کا نام ہے، جس کا اظہار قید مکان وزمان میں ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مغرب نے مادّے اور رُوح کی ثنویت کا عقیدہ بلا کسی غور و فکر کے مانویت کے زیر اثر قبول کر لیا تھا۔ اگرچہ آج اس کے بہترین اربابِ دانش اپنی اس ابتدائی غلطی کو محسوس کر رہے ہیں، مگرسیاست دانوں کا طبقہ ایک طرح سے اب بھی مُصر ہے کہ دنیا اس اصول کو ایک ناقابل انکار حقیقت کے طور پرتسلیم کرلے۔
اسی طرح ایک اور موقعے پر اقبال نے متوجہ کیا ہے:
مذہب اور صرف مذہب ہی آج کے انسان کو اُن ذمہ داریوں کا اہل بنا سکتا ہے جو سائنس کی ترقی نے اس کے شانوں پر ڈال دی ہیں۔ مذہب ہی کے ذریعے انسان میں وہ یقین اور ایمان پیدا ہوسکتا ہے جو اس کی شخصیت کو دُنیا میں جلابخشتا ہے او ر آخرت میں اسے دوام عطا کرتا ہے۔ انسان کی حقیقت اور اس کے مستقبل کا حقیقی شعور وہ شعور ہے جو مذہب کی دی ہوئی روشنی عطا کرتی ہے۔ یہی دورِ جدید کے انسان کو ایک ایسی سوسائٹی میں جو مذہب اور سیاست کی کش مکش کی وجہ سے اپنی اصل روح کھو چکی ہے، کامیابی سے ہم کنار کرسکتی ہے۔
اقبال نے جہاں مغرب کی کمزوریوں اور خامیوں پر بھرپور تنقید کی ہے، وہاں اس کی خوبیوں کو خصوصیت سے سائنس اور جذبۂ عمل و حرکت کو سراہا بھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ صفات یورپ نے خود مسلمانوں ہی سے مستعار لی تھیں، لیکن افسوس کہ آج مسلمان خود ان صفات سے محروم ہیں، جو ان کی اپنی کھوئی متاع ہے۔
۱- اقبال نے مذہب کی بنیاد عقل یا سائنس پر نہیں رکھی بلکہ آں حضور ؐ کے تجربے اور مشاہدے کو اس کی اساس قرار دیا۔ فلسفۂ مذہب کے نقطۂ نظر سے یہ ایک غیرمعمولی اقدام تھا اور یہ اپروچ اس نومعتز لائی نقطۂ نظر سے بہت مختلف تھی، جو سرسیّد احمد اور ان کے رفقا نے اختیار کیا تھا۔ اقبال کے ’خطبات‘ تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے۔
۲- اقبال نے انسانِ مطلوب کا ایک مکمل تصور پیش کیا۔ اس کی ذاتی اور انفرادی صفات کو بیان کیا اور اس اجتماعی اور ملّی نظام کے خدوخال واضح کیے، جس کے ذریعے فرد اعلیٰ ترین مدارج تک پہنچ سکتا ہے۔ اقبال نے خصوصیت سے، ایمان، ضبط نفس، نیابت و خلافت ِ الٰہی کے تصورات کو پیش کیا۔ خودی کی تشکیل و ترقی کا اصل مقصد، دین کی حفاظت اور ملّت کی ترقی کے لیے استعمال کو قرار دیا۔ یہی وہ کام ہے جسے نیابت ِ الٰہی کہا جاتا ہے اور یہ کام مذہب کے ذریعے انجام پاسکتا ہے۔
۳- پھر اقبال نے مغربی تہذیب ، فکر اور سیاسی درندگی پر بھرپور تنقید کی ۔ ایک طرف یہ دکھایا کہ مغرب کی بنیاد بڑی کمزور ہے اور مغربی تہذیب فی نفسہٖ آج خود انتشار کا شکار ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں میں نقالی اور تقلید کے نقصانات کو اُجاگر کیا اور انھیں ایک آزاد اور تخلیقی نقطۂ نظر اختیار کرنے کا مشورہ دیا:
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تُو
مجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے
۴- اقبال نے محض نقدوتنقید کے کام پر اکتفا نہ کیا بلکہ مثبت طور پر ملّت کے سامنے ترقی کا راستہ بھی پیش کیا___ اور وہ راستہ اسلام کا راستہ ہے۔ اقبال نے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان کو تازہ کیا اور قرآن اوررسولؐ کی اتباع کی دعوت دی۔ اقبال نے انفرادی اخلاق اور اجتماعی نظم کی پابندی کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور کہا:
روشن اس ضَو سے اگر ظُلمتِ کردار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام
۵- اقبال نے جذبۂ عمل کو بیدار کیا،قوم میں رجائیت اور اُمید کا چراغ روشن کیا ۔ اس کو جہاد اور تسخیر کائنات کا درس دیا اور راہِ عمل سے ہٹانے والے ہر رجحان پر تنقید کی۔ کس طنز سے اقبال نے کہا ہے:
اسی قُرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر
اقبال نے مسلمانوں میں جذبۂ عمل بیدار کرنے کے ساتھ یہ یقین دلایا ہے کہ مستقبل تمھارا ہے:
اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے
اور:
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
اس کا پیغام تو بس یہ تھا:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
۶- اقبال کے یہاں دینی اُمور میں حددرجے کی احتیاط ملتی ہے۔ انھوں نے تقریباً تمام اہم اُمور میں علما متقدمین اورسلف کی اتباع کی ہے اور دین میں کسی قسم کی بھی قطع و برید کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ رائے قائم کرنے میں سہو ہرانسان سے ہوسکتا ہے لیکن اقبال کا نقطۂ نظر اصلاً خالص اسلامی تھا اور وہ اسلام کو زمانے کی خراد پر تراشنے کو کفر و ضلالت سمجھتے تھے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ زمانۂ حاضرہ کے پیدا کردہ مسائل کا حل اسلام کی تعلیمات سے تلاش کیا جائے اور زمانے کو اسلام کے مطابق بدل ڈالا جائے۔
۷- اقبال کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ اس نے روحانی اور مادی طاقت دونوں کے امتزاج کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ اگر مسلمان دُنیا میں اپنا صحیح مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں روحانی و اخلاقی اور مادی و دُنیوی شعبوں میں ترقی کرنی ہوگی۔ سرسیّد احمد خاں کے یہاں دُنیاوی اور مادی پہلو کا غلبہ ہے۔ اور دوسری طرف علما کے یہاں صرف روحانی اور اخلاقی پہلو نمایاں ہے۔ لیکن اقبال نے اخلاقی اور روحانی اور مادی و دُنیوی پہلوئوں کو مساوی اہمیت دی ہے اور ہرایک کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔
۸- اقبال نے ملّت اسلامیہ کی عملی سیاست میں بھی حصہ لیا اور یہاں ان کی سب سے بڑی خدمت (contribution) نظریاتی بنیادوں پر تخلیق وطن، تقسیم ملک اور اسلامی مرکزیت کو قائم رکھنے کے لیے ایک باقاعدہ الگ ریاست کا قیام ہے۔
اس پورے دور پر جب ہم ایک نظر ڈالتے ہیں تو چند چیزیں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہیں:
۱- عام مذہبی احیاء :انفرادی زندگی میں اسلام کے تقاضوں کا شعور پیدا ہوا اور اجتماعی اور ملکی زندگی میں مذہبی تحریکوں کو فروغ حاصل ہوا۔ علما کی قیادت میں پوری قومی زندگی کی تنظیم بہتر ہوئی، دینی لٹریچر تیار ہوا اور مذہبی جذبات کو عام فروغ حاصل ہوا۔
۲- تہذیب مغرب کی یلغار پر ردِعمل کا آغاز :اس زمانے میں مغربی تہذیب اور اس کی نقالی پر تنبیہ (warning)کا رجحان مضبوط ہوا۔ وہ مرعوبیت جو اَب تک ذہنوں پر مسلط تھی، کچھ کم ہوئی۔ مغرب کے خلاف سیاسی اور تہذیبی ردعمل رُونما ہوا۔ نام نہاد ’نئی روشنی‘ پر بھی تنقیدی نگاہ ڈالی جانے لگی اور اندھی تقلید کی رو کو ایک دھچکا لگا۔
۳- قومی نقطہ ٔ نظر کی ابتدا : ساتھ ہی ساتھ قومی نقطۂ نظر پیدا ہونا شروع ہوا۔ دوسروں سے موازنہ اور اپنی تاریخ، اپنے قائدین اور مفکرین ، اپنے شعرا کی عظمت کا احساس پیدا ہوا۔
ہمارا یہ جائزہ نامکمل رہے گا، اگر ہم بے لاگ طور پر نہ بتائیں کہ احیائے اسلامی کے نقطۂ نظر سے اس دور میں اہم کمزوریاں کیا پائی جاتی تھیں، مثلاً:
۱- ساری قوت اس بات پر صرف ہورہی تھی کہ بس، اسلام کو اعلیٰ اور شان دار ثابت کیا جائے۔ وقت کے مسائل اور ان حقیقی تہذیبی مشکلات کو حل کرنے کی طرف ضروری توجہ نہیں دی گئی بلکہ ’پدرم سلطان بود‘ کی خوراک پر خوراک قوم کو دی جاتی رہی۔
۲- بڑی حد تک سارا انداز رومانی اور جذباتی تھا۔ اس زمانے کے ادب، صحافت، حتیٰ کہ فلسفہ اور تفسیری ادب پر بھی ایک قسم کی افسانوی اور شاعرانہ رومانیت چھائی ہوئی تھی۔ یہاں پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اس کا ایک سبب یہ تو نہیں تھا، کہ بیداری کی اس تحریک کے زمانے اور دور کے تقریباً تمام معمار شاعر بھی تھے؟
۳- قومی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں ذہنی انتشار نظر آتا ہے۔ اسلام کا معیارِ اقتدار نکھر کر قوم کے سامنے نہیں آرہا تھا۔ ایک ہی قلم سے دوسرے خلیفۂ راشد عمرؓ بن الخطاب [م: ۷نومبر ۶۴۴ء] اور عباسی حکمران ہارون الرشید [م:۲۴مارچ ۸۰۹ء]کی عظمت کے نقوش صفحات پر ثبت کیے جارہے تھے۔پھر گمراہ کن عقائد و انتظام کے علَم بردار مغل بادشاہ اکبر [م: ۲۷؍اکتوبر ۱۶۰۵ء] اور الٰہیاتِ اسلامی کے عظیم پیش کار شاہ ولی اللہ [م:۲۰؍اگست ۱۷۶۲ء] دونوں کو ایک ہی سانس میں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا۔ جامع مسجد دہلی اور آگرہ میں تاج محل مقبرے کو ساتھ ساتھ رکھا جاتا۔ افسوس کہ اس عظیم تضاد کو محسوس نہ کیا جاسکا۔
۴- اسلام کی دعوت کو فکری اور فلسفیانہ بنیادوں پر استوار نہ کیا جاسکا۔ خاصی حد تک ٹھوس دلیل کی جگہ شعر اور حقائق و شواہد کی جگہ نعروں سے کام چلایا جاتا رہا۔مغربی تہذیبی افکار پر کوئی مستقل تصنیف اُس زمانے میں نہیں آئی، اور اہم مسائل پر کوئی تفصیلی بحث نہیں ملتی۔ سائنس اور فلسفہ نے جو حقیقی سوالات پیدا کیے تھے، ان سے کوئی پنجہ آزمائی کرتا نظر نہیں آتا۔
صرف ایک علّامہ محمد اقبال نے اس سلسلے میں کوشش کی اور ایک نئے انداز کی داغ بیل ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تشکیلی کام کا دائرہ محدود تھا اور دائرۂ اثر اس سے بھی زیادہ محدود۔
۵- اس زمانے میں ہمہ گیر حرکت تو بہت نظر آتی ہے۔اجتماعی تنظیم بندی بھی ملتی ہے لیکن مستقل بنیادوں پر مسلمانوں کو اسلامی اصولِ تنظیم کے مطابق جمع نہیں کیا گیا۔ ان کی ایسی تنظیم بندی نہیں نظر آتی کہ جس کے ذریعے ان کی صلاحیتیں ایک مثبت دعوت پر جمع ہوجاتیں اور ان کی ترقی اور تربیت کا مناسب انتظام ہوپاتا۔
۶- مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی باہم کش مکش اور ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش سبھی کو بدنام کرتی دکھائی دیتی ہے، جس سے آہستہ آہستہ عام بے اعتمادی کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ اندرونی کمزوریوں اور بیرونی اثرات کی بنا پر یہ دور ختم ہوگیا اور اس کے بعد بیسویں صدی کا ایک سخت تاریک دور آیا، جو ۱۹۲۵ء سے تقریباً ۱۹۴۰ء تک رہا۔
’تحریک ِ خلافت‘ کی ناکامی کے بعد مسلمان ایک بار پھر مایوسی کا شدید شکار ہوئے۔ دوسری طرف تقریباً تمام مسلمان لیڈرناکام ہوچکے تھے، کوئی دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہ تھا۔ مسلمان ایک ایسے ریوڑ کی مانند تھے جس کا کوئی نگہبان نہ ہو اور ایک ایسے قافلے کا رُوپ پیش کررہے تھے کہ جس کا کوئی سالار نہ ہو۔ مغربیت اور اشتراکیت (۱۹۱۷ء میں روس میں اشتراکیت کی کامیابی کے بعد بعض مایوس مسلمانوں کو اس میں ایک نیا میدان نظر آرہا تھا) کا پلڑا بھاری ہوا تو ذہنوں کو منتشر خیالی کا شکار کرنے کے لیے بہت سے فتنوں نے سر اُٹھایا۔ جن میں تجدّد، تشکیک اور انکارِ سنت کے علَم برداروں کے ساتھ ساتھ ’ترقی پسند ادب‘ کی تحریک ذہن سازی کے لیے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو [م: ۲۷ مئی ۱۹۶۴ء] اس دور کے برطانوی ہند کے نوجوانوں کا نیا ہیرو تھا، جو زبانی اور کلامی سطح پر، اُبھرتی اشتراکیت کا علَم بردار سمجھا جاتا تھا۔
اس زمانے میں تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ مشیت الٰہی کے تحت اسی تاریکی کا سینہ چاک کر کے احیائے اسلام کی نئی کوششیں رُونما ہوئیں۔ تحریک ِ پاکستان اور تحریک ِ اسلامی ایک نئے دور کی نقیب ثابت ہوئیں اور مسلمانانِ ہند کی تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی۔ یوںقائداعظم محمدعلی جناح [م:۱۱ستمبر ۱۹۴۸ء] کی قیادت میں مسلمانانِ ہند نے ایک منزل متعین کی، اور اُن کی رہنمائی میں ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کے بعد برصغیر جنوب مشرقی ایشیا میں ایک ایسے سفر کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں جغرافیائی، سیاسی اور فکری سطح پر نئی مملکت کی تشکیل ہوئی۔ اقبال اور جناح نے عالمِ اسلام میں جس عملی تصور کی صورت گری کی، اس کا متحرک عنوان ’اسلامی احیا‘ ہے اور جس کے داعی ہیں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی۔
قیامِ پاکستان نے جہاں اسلام کی بنیاد پر دورِحاضر میں ایک ریاست کے قیام سے اسلام کے اجتماعی زندگی کے عملی پروگرام کا دروازہ کھول دیا، وہیں مولانا مودودی نے دین کا صحیح اور جامع تصور اور اس کے انفرادی، اجتماعی اور ریاستی پہلوئوں کو بہ یک وقت دلیل کی قوت سے واضح کیا ہے۔ انھوں نے برملا یہ بتایا ہے کہ انسان کا سب سے پہلا رشتہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ سے ہے،، اور یہ رشتہ اس کی اپنی ذات، اس کی تربیت ، سیرت سازی اور تزکیہ سے ہے۔ یہ رشتہ اس کی پوری زندگی کی صورت گری کرتا ہے۔ دوسرا حصہ انسان کا دوسرے انسانوں سے، خاندان اور معاشرے سے، معیشت، سیاست اور ریاست سے تعلق پر مشتمل ہے۔اس طرح اسلام کا منشا یہ ہے کہ وہ ایک سوشل سسٹم کے طور پر قائم ہو۔ جس کے بنیادی، عملی اور اخلاقی اصول مدینہ کی اسلامی ریاست کے ماڈل پر ہر دور میں اسلامی نظریاتی ریاست قائم کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ نے اسےقائم کرنے کی رہنمائی اور تعلیم دی ہے۔
جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرسنت روشنی کا چراغ ہے، وہاں نزولِ وحی کے آغاز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دُنیا سے رخصت ہونے تک رہنمائی کا ایک سدابہار تسلسل ہے۔ الحمدللہ، دین کے اس مکمل اور جامع تصور کو پیش کرنے کا فی زمانہ اعزاز مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی اور اُن کی برپا کردہ تحریک اسلامی کو حاصل ہے۔(جاری)
اسلامی احیا کی اس تحریک کو شاہ ولی اللہ کے بعد شاہ عبدالعزیز دہلوی [۲۰ستمبر ۱۷۴۶ء- ۵جون ۱۸۲۳ء] اور آپ کے خانوادے کے دوسرے بزرگوں نے زندہ رکھا۔اگرچہ احمدشاہ ابدالی کے کامیاب حملے نے مرہٹہ جنگجوئوں کی صورت میں ہندو نسل پرست تحریک کی کمر توڑ دی تھی، لیکن اس کے باوجود ہندستان میں بدامنی اور طوائف الملوکی کے اس زمانے میں مسلمانوں کی سماجی، دینی، معاشی اور سیاسی زندگی بے وزنی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ مشرق اور دکن سے برطانوی سامراج قدم پھیلاتا ہوا بڑھتا چلا آرہا تھا اوردوسری جانب پنجاب عملاًسکھوں کی سکھاشاہی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ تیسری جانب مسلمانوں میں ہندوانہ رسوم و رواج اور بدعات نے دین کی شکل تبدیل کرنے کا سفر جاری رکھا تھا۔ ایسے میں سیّداحمدشہید [۲۹نومبر ۱۷۸۶ء،رائے بریلی- ۶مئی ۱۸۳۱ء، بالاکوٹ] اور شاہ اسماعیل شہید [۲۶؍اپریل ۱۷۷۹ء-۶مئی ۱۸۳۱ء] کی قیادت میں تحریک ِ مجاہدین نے راہِ منزل متعین کی۔
تحریک مجاہدین کے پس منظر میں شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ کے ان فتاویٰ نے بنیادی کردار ادا کیا: ’’یہاں کے عیسائی حکام کا حکم بے دھڑک جاری ہے۔ یہ لوگ خود میں حاکم اور مختارمطلق ہیں۔ بے شک یہ نمازِ جمعہ، عیدین، اذان وغیرہ میں رکاوٹ نہیں ڈالتے، لیکن ان سب کی جڑ بے حقیقت اور پامال ہے۔چنانچہ یہ لوگ بے تکلف مسجدوں کو مسمار کر دیتے ہیں۔ عوام کی شہری آزادیاں ختم ہوچکی ہیں، یہاں تک کہ کوئی مسلمان یا غیرمسلم ان کی اجازت کے بغیر اس شہر یا اس کے اطراف میں نہیں آسکتا۔ دہلی سے کلکتے تک ان کی عمل داری ہے‘‘(فتاویٰ عزیزیہ، اوّل، ص۱۷)۔ [دوسرے فتوے میں لکھا:]’’نصاریٰ بلکہ کافروں کی ملازمت کی کئی اقسام ہیں۔ اس میں بعض مباح، بعض مستحب، بعض مکروہ ، بعض حرام، بعض گناہِ کبیرہ ہیں‘‘ (ایضاً، دوم، ص ۱۱۹)۔ ’’ہندستان اب دارالحرب ہوگیا ہے‘‘(ایضاً، اوّل، ص ۱۰۵)۔شاہ عبدالعزیزؒ کے یہ فتاویٰ اور خطبات عملی سطح پر تحریک مجاہدین کی تشکیل و تحریک اور آزادیِ ہند اور اسلامی ریاست کی تعمیر کا عنوان بنے۔
یاد رہے کہ تحریک مجاہدین محض جہاد بالسیف کی تحریک نہ تھی، بلکہ یہ تعلیم و اصلاح کی تحریک بھی تھی۔ جس کا پہلا ہدف اصلاح عقائد اور بدعات سے اجتناب اور مقامی ثقافتی رواج کو اسلام بناکر اختیار کرنے کے فتنے سے مسلمانوں کو بچانا تھا۔ دوسرا یہ کہ انگریزی اثرات اور حکومت کو ختم کرنا۔ تیسرا یہ کہ کتاب و سنت کی ترویج اور احیائے دین۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے ایک آزاد ٹھکانے کی ضرورت تھی، جسے قائم کرنے کے لیے سیّداحمد بریلوی کی قیادت میں تحریک مجاہدین نے راجستھان، سندھ ، قندھار سے ہوتے ہوئے کابل اور پنجاب کے درمیان پٹھان قبائلی علاقے کو مستقر بنانے کی راہ اختیار کی۔
سیّد احمد شہید نے صراطِ مستقیم میں پہلے طریقِ نبوت اور صوفیا کے طریقے کا فرق بیان کیا ہے، بدعت کی حقیقت اور اس سے بچنے کے موضوع پر بڑی جامع بحث کی ہے۔پھر آپ نے ہندستان میں فعال تصوف کے اُن تمام سلسلوں کے افکار و اشغال کو بیان فرمایا ہے، جو آپ کی نگاہ میں صحیح تھے۔ آخر میں ایک بڑا اہم باب مسلک راہِ نبوت پر لکھا ہے، جس میں بیان کیا ہے کہ فکری و روحانی اصلاح کے لیے نبویؐ طریقہ کیا ہے؟
اس بارے میں خود سرسیّد احمد خاں [۱۷؍اکتوبر ۱۸۱۷ء- ۲۷مارچ ۱۸۹۸ء]کی شہادت بڑی دل چسپ ہے۔ سرسیّد احمد خاں مرحوم، شاہ اسماعیل شہید کے بارے میں لکھتے ہیں: بموجب ارشاد سیّد پیر طریق یدا (سیّد احمد بریلوی صاحب) کے، اس طرح سے تقریر و وعظ کی بنا ڈالی کہ مسائل جہاد فی سبیل اللہ بیش تر بیان ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ کے صیقلِ تقریر سے مسلمانوں کا آئینہ باطن مصفّا اور مجلّٰی ہوگیا، اور اس طرح سے راہِ حق میں سرگرم ہوئے کہ بے اختیار دل اُن کا چاہنے لگا کہ سر اُن کا راہِ خدا میں فدا ہو اور جان ان کی اعلائے لوائے محمدیؐ میں صرف ہو۔ (آثار الصنادید ، طبع اوّل، بحوالہ سہ ماہی رسالہ تاریخ و سیاست، بابت نومبر۱۹۵۲ء، ص ۸)
مولانا عبدالحی [م: ۸شعبان ۱۲۴۳ھ/۲۴ فروری ۱۸۲۸ء]کے بارے میں سرسیّد احمد خاں لکھتے ہیں: ’’لوگوں کو نہایت ہدایت حاصل ہوئی اور بااتفاق مولوی محمداسماعیل صاحب کے ترغیب ِ جہاد فی سبیل اللہ میں سرگرم رہے‘‘(ایضاً، ص ۷۶)۔اس طرح تحریک ِ مجاہدین نے قوم میں جہاد کی روح پھونک دی، مسلمانوں کو دوبارہ اس جذبے سے سرشار کیا کہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے وہ اپنی جانیں دے دیں۔
اپنی تحریک کے بارے میں سیّد احمد بریلوی فرماتے ہیں:’’وہ غیر جن کا وطن بہت دُور ہے، بادشاہ بن گئے۔ وہ تاجر جو سامان بیچ رہے تھے، انھوں نے سلطنت قائم کر لی ہے۔ بڑے بڑے امیروں کی عمارتیں اور رئیسوں کی ریاستیں خاک میں مل گئی ہیں ، ان کی عزّت اور ان کا وقار چھن گیا ہے ۔ جو لوگ ریاست و سیاست کے مالک تھے، وہ کنج ِ عافیت میں بیٹھے ہیں۔ آخر فقیروں اور مسکینوں میں سے تھوڑے سے آدمیوں نے ہمت باندھی اور ضعیفوں کا گروہ محض خدا کے دین کی خدمت کے لیے اُٹھا ہے، یہ لوگ نہ دُنیادار ہیں اور نہ جاہ طلب۔ جب ہندستان کا میدان غیروں اور دشمنوں سے خالی ہوجائے گا اور ضعیفوں کی کوششوں کا تیر نشانے پر جا بیٹھے گا تو آیندہ کے لیے ریاست و سیاست کے عہدے طالب لوگوں میں بانٹ دیئے جائیں گے۔خدا کے اس انعام کا شکر بجا لائیں، ہمیشہ ہرحالت میں جہاد قائم رکھیں، کبھی اس کو معطل نہ چھوڑیں، عدالت اور فیصلوں میں شرع کے قانون سے بال برابر بھی تجاوز نہ کریں۔ ظلم اور کشت و خون سے برابر بچتے رہیں‘‘۔
یہ تھا وہ مقصد، جس کو لے کر آپ اُٹھے تھے۔ آپ نے سنتؐ کے اتباع کی دعوت دی۔ اس دور میں صحابہؓ سے قرب کی کوئی مثال ہمیں ملتی ہے تو اس تحریک میں ملتی ہے۔ وہی جذبہ ہے، وہی کیفیت ہے، وہی قربانیاں ہیں،وہی اخلاص ہے، اسی قسم کی للہیت ہے اور پروانہ وار فدا کاری!
ایسی غیرمعمولی مثالیں اس تحریک میں ملتی ہیں کہ کم از کم ہندستان کی تاریخ میں تو کوئی اُن کی مثال نہیں۔ پھر جن مشکلات سے یہ لوگ گزرے، اس میں جس تحمل اور پامردی اور جس ہمت کا انھوں نے مظاہرہ کیا،وہ غیرمعمولی ہے۔ ذاتی اخلاق اور عفت و پاک بازی کا معیار بھی بڑا ہی اُونچا تھا۔ ہزاروں کا لشکر ایک شہر میں جاتا ہے اور کسی شخص کا ایک برتن نہیں لُوٹا جاتا۔ کسی دکان پر سے ایک چیز نہیں اُٹھائی جاتی اور نہ بلاقیمت لی جاتی ہے۔ عورتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ سیّداحمد شہید کی فوج نہ معلوم کیسے انسانوں سے بنی ہوئی ہے کہ کبھی ہم نے اُن کی نگاہوں کو عورتوں پر اُٹھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔
یہ تحریک اس ملک کی پہلی حقیقی اسلامی تحریک ہے، جس نے فکروعقیدہ اور عمل اور اجتماعی نظام ان سب کو بدلنے کی کوشش کی۔ یہ ٹھیک ہے کہ مقامی مسلمان خوانین کی غداری اور کچھ دوسری وجوہ کی بناپر دُنیوی حیثیت سے بظاہر یہ تحریک کامیاب نہ ہوسکی۔ لیکن کیا یہ بات کچھ کم ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے یہ بات ثابت کرگئی کہ اگر اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے لوگ اُٹھیں، تو وہ اخلاق اور سیرت و کردار کا ایک ایسا نمونہ پیش کرسکتے ہیں کہ جس میں ایک گونہ مشابہت اس دور کی آجائے جس کا نظارہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں ملتا ہے۔
لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضوؐر کے صحابیؓ مافوق البشر تھے، اب اس کے بعد یہ چیز نہیں ہوسکتی۔ مگر تحریک ِ مجاہدین کا مطالعہ کیجیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اسلام وہ پارس ہے کہ جس زمانے میں بھی انسانوں کوچھو جائے اُنھیں سونا بنا دیتا ہے بشرطیکہ ان میں اخلاص ہو اور وہ فی الحقیقت اسلام کے آگے جھک جائیں اور اس کو قبول کرلیں۔ پھر کیا یہ بات کم ہے کہ ہندستان کے اتنے وسیع و عریض ملک میں چند سرفروش ایسے اُٹھے جنھوں نے عزت کی موت کو غلامی کی زندگی پر ترجیح دی، اور بقول مرزا سودا:
سودا قمارِ عشق میں مجنوں سے کوہکن
بازی اگرچہ پا نہ سکا سر تو کھو سکا
سیّد احمد بریلوی اور ان کے رفقائے کار کے کارنامے قابلِ رشک ہیں۔ سیّدصاحب اور ان کے جانشینوں کا سب سے اہم اور نتیجہ خیز کام، خطۂ بنگال میں احیائے اسلام اور اس وسیع مملکت کا برصغیر کے اسلامی مراکز سے دوبارہ رشتہ جوڑنا تھا۔ (شیخ محمد اکرام، موجِ کوثر، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، ۲۰۲۱ء، ص ۵۰)
۶مئی ۱۸۳۱ء کو بالاکوٹ کے مقام پر سیّدصاحب شہید ہوئے، لیکن آنے والے کم از کم ۵۰برس تک یہ تحریک مختلف علاقوں میں برابر کام کرتی رہی اور ان کے خلاف انگریزی حکومت کی جانب سے چلائے گئے ۱۸۷۳ء کے جو آخری مقدمات ہم کو ملتے ہیں (دیکھیے: محمد جعفر تھانیسری کی کتاب کالا پانی اور Selected Papers Wahabi Trials)، ان میں برطانوی حکومت ِ ہند کہتی ہے کہ ’’اب ہم نے اس تحریک کا قلع قمع کر دیا ہے‘‘۔ لیکن اہلِ تحقیق بتاتے ہیں کہ اس کے بعد بھی مجاہدین برابر خاموشی کے ساتھ کام کرتے رہے اور بیسویں صدی کے آغاز تک مختلف حلقوں میں یہ کام ہوتا رہا۔ پھر ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں پر بے پناہ ظلم و تشدد اور ہرممکن کوشش کے باوجود اس تحریک کا یہ نتیجہ ہے کہ کم از کم مسلمانوں کو انگریزوں سے سمجھوتا کرنے پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ مسلمانوں میں برطانوی سامراج سے بغاوت کرنے اور مصالحت نہ کرنے کا جذبہ اسی تحریک کا پیدا کردہ تھا۔
یہی تھی وہ چیز، جس نے ۱۸۵۷ء کے معرکے کو جنم دیا، اور یہی تھی وہ چیز جس نے اس کے بعد مسلمانوں کو انگریزی سامراجیت سے برابر برسرِ پیکار رکھا۔ اس میں واقعہ کانپور [اگست ۱۹۱۳ء] ہو یا خلافت کی تحریک ہو یا جلیانوالہ باغ کا المیہ [۱۳؍اپریل ۱۹۱۹ء] یا ترکِ موالات اور پھر خود تحریکِ پاکستان ہو۔ان تمام تحریکات میں یہی روح کارفرما نظر آتی ہے کہ ہم انگریزوں کے تسلط کے ساتھ راضی (reconcile )نہیں رہ سکتے اور نہ اس کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرسکتے ہیں۔ استعمار اور غلامی کا جوا بہرحال ہمیں اپنے کندھوں سے اُتار پھینکنا ہے۔ یہی تھا وہ احساس، جو سیّدصاحب کی تحریک نے پیدا کیا۔ اس سے بڑھ کر کامیابی کسی تحریک کی اور کیا ہوسکتی ہے۔
اس زمانے میں ایک اور بڑی نمایاں تحریک ہم کو نظر آتی ہے، جس کی دعوت، خدمات اور اثرات کے تجزیے کی طرف ابھی تک بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ یہ تحریک بھی تقریباً اسی عہد میں برپا ہوئی، تاہم اس کا زمانۂ آغاز تحریک ِ مجاہدین سے کچھ پہلے کا ہے۔ حاجی شریعت اللہ [۱۷۸۱ء- ۱۸۴۰ء] کی ولادت بہادرپور، ضلع فریدپور (بنگال) میں ہوئی، انھوں نے اس کا آغاز کیا۔ وہ اٹھارہ برس کی عمر میں حج بیت اللہ کے لیے حجازِ مقدس تشریف لے گئے اور ۲۰برس تک مکہ معظمہ میں مقیم رہے۔ وہاں علّامہ طاہر مکی شافعی سے تعلیم حاصل کی۔
حاجی شریعت اللہ ۱۸۰۲ء میں واپس وطن آئے اور ۱۸۰۴ء میں فرائضی تحریک شروع کی۔ ایک طویل عرصے سے ہندوئوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بنگال کے مسلمانوں میں بھی غلط رسمیں اور شرک سے آلودہ عقائد جڑپکڑ چکے تھے۔ حاجی شریعت اللہ نے ان عقائد کی درستی اور اسلام کی صحیح تعلیمات کی تعلیم و تربیت کے لیےفرائضی تحریک شروع کی۔پہلے تو انھوں نے امرا کو اور مسلمان نوابوں کو خیر کے کاموں کے لیے اُبھارنے کی کوشش کی۔ پھر یہ کہ یہاں کے مسلمانوں میں آزادی کی روح پھونکنا، انگریزوں سے نجات پانا اور ہندو زمین داروں کے مظالم سے جان چھڑانا بھی اس تحریک کا مقصد قرار دیا۔
انگریزی حکومت کے تحت رہتے ہوئے ایسے باغیانہ پروگرام کی اشاعت اور جدوجہد نہایت جرأت مندانہ قدم، موت اور آزمایشوں کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ لیکن حاجی صاحب نے مسلمانوں کو پستی، غلامی اور ذلّت سے نکالنے کے لیے ذرہ برابر ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا اور سخت حوصلہ شکن حالات کے باوجود منزل کی طرف رواں دواں رہے۔جب اس میں کچھ کامیابی ہوئی تو عوام کی طرف رجوع کیا، خصوصیت سے کاشت کاروں کو جمع کیا۔ کاشت کاروں میں یہ تحریک جنگل کی آگ کے مانند پھیلی۔ حاجی شریعت اللہ نے جس بات کی کوشش کی وہ یہ تھی کہ بدعات ختم ہوں اور شرک کا استیصال ہو، یعنی جو آئیڈیل تحریک ِ مجاہدین کے تھے وہی آئیڈیل انھوں نے بھی اپنے سامنے رکھے۔ اس کے ساتھ انھوں نے جہاد کی بیعت تو لی، لیکن جہاد کر نہیں سکے۔
حاجی شریعت اللہ نے اس تنظیمی اور تحریکی سلسلے میں پیر اور مرید، یا خادم اور مخدوم کا کلچر اختیار کرنے کے بجائے ہدایت کی کہ: ’ہمارا باہم تعلق استاد اور شاگرد کا ہے‘۔ انھوں نے کسانوں اور کھیت میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور حالت ِ زار کو حیوانی سطح سے بلند کرنے اور شرفِ انسانی سے قریب ترلانے کے لیے رفاہی انداز سے کام شروع کیا۔ ان کا نعرہ تھا: ’الارض للّٰہ،یعنی زمین اللہ کی ہے‘۔مخالفین نے انگریزوں کے اشارے پر آپ کی تحریک کو بھی ’وہابی‘ تحریک کا نام دیا، حالاں کہ ان کا ایسا کوئی تعلق نہیں تھا۔
حاجی شریعت اللہ کی رحلت [۱۸۴۰ء] کے بعد ان کے بیٹے حاجی محسن میاں [۱۸۱۹ء-۱۸۶۰ء] نے تحریک کی قیادت سنبھالی۔ حاجی محسن میاں کو بنگال کے مسلمان محبت سے دودھو میاں کے نام سے پکارتے تھے۔ حاجی شریعت اللہ نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے اور انھیں بنگال سے نکالنے کے لیے بیعت لی تھی ، لیکن جیساکہ بتایا گیا ہے کہ وہ جہاد کا آغازنہ کرسکے ۔ البتہ ان کے صاحب زادے نے اس میدان میں قدم بڑھایا۔ انھوں نے عملاً انگریزوں کے خلاف بغاوت کی۔ مختلف مقامات پر ہزاروں آدمیوں کو قیدوبند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ ’فرائضی تحریک‘ سے تعلق رکھنے والے سرفروشوں نے بڑے پیمانے پر قربانیاں دیں۔ انگریز حکومت نے جھوٹے مقدمے بنابنا کر مختلف طریقوں سے ان کو پریشان کیا اور یہ سلسلہ برسوں جاری رہا۔ تقریباً ۳۰،۳۵ سال تک یہ تحریک بنگال میں مؤثر خدمات انجام دیتی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگال، آسام اور کسی حد تک بہار میں اسلام کو مستحکم کرنے کا کارنامہ انھی دو تحریکوں: ’تحریک ِ مجاہدین‘ اور’ فرائضی تحریک‘ ہی نے انجام دیا۔(ڈاکٹر جیمس وایز ، Mohammadans of Eastern Bengal)
اسی عرصے میں اسلام کے ایک اور سرفروش، سیّدمیرنثارعلی المعروف تیتومیر [۱۷۸۲ء- ۱۹نومبر ۱۸۳۱ء] نے سرزمین بنگال میں انقلابی تحریک شروع کی۔تیتومیر، سیّداحمد بریلوی کے عقیدت مند اور ان سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔ انھوں نے ہندو زمین داروں کے مظالم اور استحصال، اور ان کے پشت پناہ انگریزوں کے خلاف پسے ہوئے بنگالی مسلمانوں میں نہ صرف زبردست بیداری پیدا کر کے مسلمانوں کو ظلم کی زنجیریں توڑنے پر آمادہ کیا، بلکہ عملی اقدامات بھی کیے۔ آخرکار اسی طرح کے ایک معرکے میںشہید ہوگئے۔[عبداللہ ملک، بنگالی مسلمانوں کی صدسالہ جہدِ آزادی، ناشر: مجلس ترقی ادب، لاہور، ۱۹۶۷ء]
مگر حقائق و شواہد بتاتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ بغاوت مسلمانوں ہی کی برپا کردہ تھی۔ ہندو مؤرخین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس کے روح رواں مسلمان تھے۔ اس بغاوت کی تنظیم اور تحرک میں سب سے زیادہ حصہ علما نے لیا تھا۔ دراصل یہ معرکہ بھی سیّداحمد شہید کی تحریک ہی کا ایک فکری اور عملی مظہر تھا۔ بظاہر بجھتے ہوئے چراغ کی ناقابلِ فراموش بھڑک!
سچی بات ہے کہ ۱۸۵۷ء کی اس جنگ کی سنگینی کا عصرحاضر کے نوجوانوں کو کچھ بھی علم نہیں، اور نہ وہ اس کی شدت کا اندازہ کرپاتے ہیں۔ وہ ایک قیامت تھی جو ہندستانی مسلمانوں کے سر سے گزر گئی۔ اس بہانے انگریزوں اور ان کے طرف دار اور حلیف ہندوئوں کو موقع مل گیا کہ جس طرح ممکن ہو مسلمانوں کو برباد کر دیا جائے، بقول بہادر شاہ ظفر ع
قیصر التواریخ (کمال الدین لکھنوی) کے مطابق سات ہزار مسلمان معززین کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ تین ماہ تک مردہ گاڑیاںطلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک گھومتی پھرتی تھیں۔ لاشوں کو درختوں سے اُتارتی تھیں۔ اس طرح چھے ہزار کے قریب افراد کو اُتارا گیا۔ پھر ہزار علما، فضلا، فقہا، شرفا، امرا کو عمرقید کے لیے جزائر انڈیمان (کالے پانی) عمرقید کاٹنے کے لیے بھیج دیا۔ اس سے متصل زمانے میں لارڈ ہاردنگ نے حکم نامہ جاری کیا کہ آیندہ عربی، فارسی جاننے والے فرد کو سرکاری ملازمت میں نہیں لیا جائے گا۔ ۱۸۴۹ء تک پنجاب کی سرکاری زبان فارسی تھی، مگر اس کا خاتمہ کرکے عام لوگوں کے لیے ۱۸۷۶ء سے پنجاب میں اُردو کو ذریعۂ تعلیم بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔(پروفیسرسیّد محمد سلیم، مغربی زبانوں کے ماہر، ص ۱۰۷- ۱۰۸)
حالت یہ تھی کہ بحیثیت ِ مجموعی مسلمانوں میں ۱۸۵۷ء کے معرکے میں ناکامی کے بعد ایک عام مایوسی کی کیفیت پیدا ہوچکی تھی۔ انھوں نے اس وقت انگریز سامراج سے نجات حاصل کرنے کے لیے تین کوششیں کیں: بالاکوٹ جاکر لڑے، بنگال میں بغاوت کی اور ۱۸۵۷ء میں مختلف مقامات پر برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی، لیکن یہ تینوں کوششیں بظاہر باثمرثابت نہ ہوسکیں۔ اس کے نتیجے میں فطری طور پر مسلمانوں میں لامرکزیت، بے بسی، مایوسی اور قنوطیت رُونما ہوئی۔
انگریز نے بھی اس بات کو اچھی طرح محسوس کرلیا تھا کہ مسلمان نرم نوالہ نہیں، ان میں کم از کم کچھ لوہے کے چنے تو ایسے بھی ہیں کہ اُن کو چبانے کی کوشش میں دانت ٹوٹ سکتے ہیں۔ ان پر بے اعتمادی ، ان کو ختم کرنے کے لیے ہندوئوں سے تعاون کی کوشش، ان کے رہے سہے اقتدار کو ملیامیٹ کرنے کی مربوط کوشش، یہ تھے انگریز کی پالیسی کے بنیادی اصول۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کی تمام مادی قوتیں ان سے چھین لی گئیں، انھیں روزگار سے محروم کر دیا گیا، ملازمتوں سے نکال دیا گیا، دربار اور عدالتوں سے ان کی ملازمتیں ختم کر دی گئیں۔ اس کے مقابلے میں ساری عنایتیں ان ضمیرفروشوں پر نچھاور ہوئیں، جو مسلمانوں سے غداری کررہے تھے اور بیرونی قوت سے سازباز کررہے تھے، یا پھر ہندوئوں کے ساتھ ہوئیں، جن کو یہ احساس دلایا گیا کہ: ’تم اکثریت میں تھے، لیکن تمھارے اُوپر آٹھ سو سال سے مسلمان حکمران تھے۔ اب تم ان سے آگے بڑھو اور اس ملک کے حکمران بنوگے‘۔
عیسائی مشنریوں کی ایک فوج تھی جو ملک کے طول و عرض میں کام کر رہی تھی۔ اس کے کام کی وسعت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی سے بھی قبل، یعنی ۵۳-۱۸۵۲ء میں، جب کہ برصغیر ہند کے تمام سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں صرف ۳۰ہزار طلبہ زیرتعلیم تھے تو اس کے برعکس عیسائی مشنری تعلیمی اداروں میں اس سے دس گنا زیادہ، یعنی ۳لاکھ طالب علم زیرتعلیم و تربیت تھے (بحوالہ: The Education of India, p49)۔ اگرچہ بظاہر تو دُنیاوی ترقی کے لیے یہ مشنری ادارے خواب دکھاتے، مگر ان کا اصل ہدف یہ تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے کہ مقامی طالب علموں میں دین کے بارے میں شک و شبہہ اور تہذیب کے بارے میں احساسِ کمتری پیدا کریں۔
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مُروت کے خلاف
مستشرقین (Orientalists)کی سوچ کا اندازہ لگانے کے لیے معروف مستشرق ولیم میور [۱۸۱۹ء-۱۹۰۵ء]کی مثال کافی ہوگی۔ میور نے اپنی کتاب The Life of Mahomet (۱۸۶۱ء) میں لکھا:’’دُنیا کو اسلام سے دوخطرے ہیں (نعوذ باللہ من ذٰلک)۔ ایک محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] کی تلوار سے اور دوسرا محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] کے قرآن سے، اور جب تک ہم دونوں کو ختم نہیں کردیں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘۔ یہ بات بظاہر تو ایک اسکالر نے کہی، مگر یہی انداز تھا جو بحیثیت ِ مجموعی سارے مستشرقین نے اختیار کیا اور جسے انھوں نے نئے نظامِ تعلیم میں اختیار کیا۔ جبھی تو اکبر الٰہ آبادی [۱۸۴۶ء-۱۹۲۱ء] نے کہا ہے:
توپ کھسکی پروفیسر پہنچے
جب بسو لا ہٹا تو رندا ہے
یعنی پہلے توپ سے حملہ کیا گیا جس سے ہماری سیاسی قوت کو ختم کیا گیا۔ اب مستشرقین اور معلّمین تشریف لے آئے تاکہ ہمارے ذہنوں اور دلوں کو ، ہمارے نظریات اور خیالات کو، ہمارے اخلاق اور کردار کو بدل کر رکھ دیں اور انگریزوں کے غلام ابن غلام تیار کریں۔ اس پس منظر میں ہمارے سامنے دو تحریکات اُبھریں: پہلی تحریک کی سربراہی سرسیّداحمد خاں اور دوسری تحریک کی قیادت علمائے دیوبند نے کی۔
سرسیّد کے افکار کے تجزیے سے یہ تین بنیادی چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ انھوں نے اپنے فکروفلسفے کی وضاحت اور تبلیغ کے لیے متعدد کتب اور بہت سے مقالات لکھے، ان سب کا ذکر اس وقت ممکن نہیں۔ ہم فی الحال ان کی چار چیزوں کی طرف اشارہ کریں گے، جو ان کے پیش کردہ نظریات و خیالات کا جوہر (essence)پیش کرتی ہیں:
اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے:اگر کوئی شخص تعدد اَزدواج (Polygamy) کے بارے میں یہ کہے کہ صاحب یہ تومجبوری تھی، اصل چیز تو اسلام میں یک زوجگی (Monogamy) ہی تھی، تعدد اَزدواج تو اسلام کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ ہاں، کچھ مجبوریوں اور مشکلات کی وجہ سے اس کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اس طرح خواہ اس نے معترضین کو جواب تو دے دیا، لیکن اس بنیاد کو صحیح مان بھی لیا، جس سے اعتراض پیدا ہوا تھا۔ یہ جواب ایک معذرت نامہ ہے اور شکست خوردہ ذہنیت کی غمازی کرتا ہے۔ حضوؐرِ اقدس کی ذات سے بے پناہ محبت اور اپنے تمام اخلاص اور نیک نیتی کے باوجود بدقسمتی سے سرسیّد مرحوم نے یہی نقطۂ نظر اختیار کیا ہے اور اس طرح سرسیّد احمد کو جدید مذہبی لٹریچر میں معذرت خواہانہ رویے کا بانی قرار دینے میں کوئی مبالغہ نہیں۔۴
’آثار الصنادید‘ جو۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی سے پہلے ۱۸۴۳ءکی تصنیف ہے، اس میں سیّداحمد شہیدؒ بریلوی کا ذکر کرتے ہوئے جہاد کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ’’انھوں نے جہاد کی طرف لوگوں کو اس لیے بلایا کہ اللہ کا دین سربلند ہو اور کلمۃ اللہ غالب ہو‘‘۔ یعنی سیّداحمد شہیدؒ کی کوششوں کو انھوں نے بہت سراہا،لیکن ملاحظہ فرمایئے کہ جب جناب سرسیّد سمجھوتے کی پالیسی پر اُترآئے تو اپنی تفسیر میں اور اپنے رسالے تہذیب الاخلاق [اجراء:دسمبر ۱۸۷۰ء] کے مضامین میں یہ کہتے ہیں: ’’اسلام میں اصلاحی جہاد کوئی جہاد نہیں ہے۔ اگر کوئی دوسرا حملہ کرے تو جہاد ہے ورنہ نہیں‘‘۔ سیّداحمد بریلوی صاحب پر کسی نے حملہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود کفر کا قلعہ توڑنے کے لیے ہندستان سے جاں نثاروں کو اکٹھا کر کے لائے تھے۔ مذکورہ بالا طرزِبیان سے معلوم ہوتا ہے کہ سرسیّد نے اسلام کو جدید تصورات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔
یہ امربحث کا موضوع نہیں کہ یہ کام نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا یا بدنیتی کے ساتھ؟ ہمارا گمان ہے کہ نیک نیتی ہی کی بنا پر کیا گیا ہوگا، لیکن نیک نیتی سے اگر کسی کے ’دست و بازو‘ کاٹ دیے جائیں تو بہرحال وہ شخص اپاہج ہی ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سرسیّد احمد خاں اہم اسلامی مباحث پر بنیادی اسلامی فکر سے بہت دُور ہٹ گئے اور اس میں کم از کم گیارہ مواقع تو ایسے ہیں کہ جن میں اس نوعیت کے اختلاف کی کوئی نظیر اس سے پہلے ملت اسلامیہ کی پوری تاریخ کے یہاں نہیں ملتی۔ ہم یہ بات سرسیّد احمد کے سوانح نگار اور مدلل مداح خواجہ الطاف حسین حالی [۱۸۳۷ء- ۱۹۱۴ء] کی سند پر کہہ رہے ہیں۔
اعتراضات کی بنیادمحض تعلیم نہ تھی، جیسا کہ تاریخ کو جھٹلانے اور دانستہ جھوٹ گھڑنے والے اکثر لوگ یہ افسانہ طرازی کرتے ہیں: ’’علما نے انگریزی میں تعلیم کی مخالفت کی تھی‘‘، نہیں، بلکہ جس چیز کی مخالفت کی گئی، وہ یہ تھی کہ جس تعلیم کو آنکھیں بند کرکے مسلمانوں پر ٹھونسنے کی کوشش کی جارہی تھی، وہ تعلیم مغرب سے مرعوبیت کی تعلیم ہے۔ اس میں صاف کہا گیا تھا کہ ’تم کو داڑھیاں منڈوانا پڑیں گی، تم کو ہیٹ پہننا پڑیں گے، تم کو نئے طریقے اختیار کرنا پڑیں گے اور یہی راستہ ہے جس سے تم آگے بڑھ سکتے ہو‘۔ اس ذہنیت پر چوٹ کرتے ہوئے علّامہ محمد اقبال نے کہا تھا کہ: ’مغرب کی ترقی کا سبب نہ شیو کرنا ہے اور نہ ہیٹ پہننا ، اس کا راز اس جذبے اور ولولۂ قربانی میں ہے، جس کا اس نے مظاہرہ کیا ہے اور جس سے ہم آج عاری ہوچکے ہیں‘۔
پھر جنابِ سرسیّد اس علی گڑھ مدرسے میں یورپی اساتذہ کو لے آئے۔ عام طور پر انھوں نے انگریز پرنسپل رکھے، جن میں یورپی پادری بھی شامل رہے۔ ایسی صورتِ حال میں آخر مسلمان کیسے اس تعلیم پر دیوانہ وار لبیک کہہ سکتے تھے؟ اگرچہ علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں میں تعلیم عام کی، لیکن یہ تعلیم مسلمانوں کو صرف سرکاری ملازمت کے لیے ہی تیار کرسکی۔ ہمیں ابھی تک یہ جاننا ہے کہ علی گڑھ سے اس پورے زمانے میں کون سی علمی کتاب شائع ہوئی۔ اسلام کے دفاع اور اسلام کی خدمت کے سوال کو چھوڑ کر دیکھیے، کیا علم کے کسی پہلو پر کوئی درجۂ اوّل کی کتاب، اس درس گاہ سے آئی!
تعلیم کا پورا مزاج یہ تھا کہ ’طلبہ کو ملازمت کے لیے تیار کیا جائے‘ اور اس کی بہترین مثال سرسیّد کے صاحب زادے سیّد محمود کی زندگی ہے۔ سرسیّد خود کہتے ہیں: ’میری توقع یہ تھی کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ اپنی قوتوں کو دین و ملّت کی خدمت کے لیے استعمال کریں گے‘۔ ہندستان کے مسلمانوں کی خدمت کریں گے، لیکن ہُوا یہ کہ انھیں ججی مل گئی اور انھوں نے فوراً اسے قبول کرلیا‘۔ یہ واقعہ اس پورے ذہنی کردار کی علامتی تشکیل (symbolise)کرتا ہے، جو یہاں پروان چڑھا۔ اگر ہم سرسیّد مرحوم کی آخری عمر کی تحریریں پڑھیں تو وہ خود اس المیے کا اعتراف کرتے ہیں۔ مثلاً اپنے ایک خط میں جو ۱۸۹۰ء یعنی جو اُن کا آخری زمانہ تھا تب لکھا:
تعجب ہے کہ جو تعلیم پاتے جاتے ہیں اور جن سے قومی فلاح کی اُمید تھی وہ خود شیطان اور مرتدینِ قوم ہوتے جاتے ہیں۔
خواجہ الطاف حسین حالیؔ ایک مخلص دوست کی طرح آخری دم تک سرسیّد مرحوم کے ساتھ رہے۔ ان کے حوالے سے بابائے اُردو مولوی عبدالحق [۱۸۷۰ء-۱۹۶۱ء] اپنے مضمون ’چند ہم عصر‘ میں لکھتے ہیں: ’حالی اپنی آخری عمر میں اس تعلیم سے شدید حد تک مایوس ہوگئے تھے اور کہتے تھے کہ جو توقعات ہم نے وابستہ کر رکھی تھیں،ان میں سے کوئی بھی پوری نہیں ہوئی‘۔ پھر مثال کے طور پر نواب وقار الملک [۱۸۴۱ء-۱۹۱۷ء] جو سرسیّد کے رفقائے کار میں سے ہیں، سرسیّد کو لکھتے ہیں:
یہ کعبے کی راہ نہیں، یہ ترکستان کا راستہ ہے۔ یہ غلطی آپ کے دل کی نہیں آپ کے دماغ کی ہے۔ جو راستہ آپ نے لیا ہے وہ راستہ آپ کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچا سکتا۔
اسی نوعیت کی مایوسی کے بعد نواب وقار الملک نے ۱۹۱۳ء میں جامعہ ملّیہ کی تجویز پیش کی، جسے ۱۹۲۰ء میں مولانا محمدعلی جوہر نے عملی جامہ پہنایا، اور اس تعلیمی تحریک پر اکبر الٰہ آبادی کا تبصرہ سنیے:
ابتدا کی جنابِ سیّد نے ، جن کے کالج کا اتنا نام ہوا
انتہا یونی ورسٹی پر ہوئی، قوم کا کام اب تمام ہوا
ہمیں اعتراف ہے کہ یہ تعلیم ایک دائرے میں یقینا مفید ثابت ہوئی۔ مسلمانوں میں قومی احساس پیدا کرنے میں اس تعلیم کا بڑا حصہ ہے۔ معاشی طور پر روزگار فراہم کرنے میں بھی اس تعلیم کی خدمات بڑی واضح ہیں۔ تحریک ِ آزادی کے لیے بھی اس تعلیم نے کچھ لیڈر اور کارکنان تیار کیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بحیثیت ِ مجموعی، قوم کا صحیح مزاج بنانے میں یہ تعلیم کامیاب نہ ہوسکی۔
جدید تاریخ کا ہر طالب علم اس امر سے واقف ہے کہ مغربی اقوام کی ترقی، صنعت و تجارت کی ترقی سے عبارت ہے اور اگر انھی کے طریقے کو اختیار کرنا تھا تو تعلیمی نظام میں صنعت و حرفت کو، تجارت کو، تجرباتی سائنسوں کو اور انجینیرنگ کو خصوصی مقام دیا جاتا۔ لیکن علی گڑھ کے نظامِ تعلیم کو پڑھ لیجیے: اس میں تجارت، صنعت و حرفت اور دوسرے تجرباتی علوم کو کوئی قرار واقعی مقام نہیں دیا گیا، اہمیت دی بھی گئی تو مغربی فلسفے اور ادب کو۔ اس کے برعکس ہمارے سامنے جاپان کی مثال موجود ہے۔ جاپان کو بھی ایسے ہی حالات درپیش تھے، مگر اس نے اپنی تہذیبی بنیادوں پر قائم رہتے ہوئے مغربی سائنس اور صنعت و تجارت کا مطالعہ کیا، اس سے فائدہ بھی اُٹھایا۔
ابتدائی دور میں محض قومی نقطۂ نظر کو سامنے رکھا گیا۔ ’دینیات‘ کو بھی ایک لازمی مضمون کی حیثیت دی گئی تھی، مگر تعلیم کے پورے نظام میں اسلامی روح اور اسلامی مزاج کو نہیں سمویا جاسکا۔ بنیادی اہمیت اسلام کے تقاضوں کے مقابلے میں محض مسلمانوں کے مفاد کو، یا پھر جسے اُس وقت مسلمانوں کا مفاد سمجھا جا رہا تھا، اسے اہمیت دی گئی۔ البتہ بعد میں کچھ فرق واقع ہوا، خصوصیت سے تحریک ِ خلافت کے زمانے میں ، جس کے اثرات کے تحت علی گڑھ محض انگریزی اقتدار کے کارندے تیار کرنے کے بجائے قومی سیاست کا مرکز بھی بن گیا اور اسلامی ملّی احساس میں بھی اضافہ ہوا۔
یوں ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی بنیاد پر مثبت طور پر مسلمانوں کو جمع کرنے کی جو کوشش شاہ ولی اللہ کے کارنامے میں نظر آتی ہے ، اس قسم کی کوئی چیز ہمیں سرسیّد مرحوم کے یہاں نہیں ملتی۔ اگرچہ مغرب کے اعتراضات کا جواب دینا بحیثیت ِ مجموعی کچھ فوائدپہنچانے کا ذریعہ بنا، لیکن سرسیّد کا یہ کام تحریک ِ اسلامی کے استحکام کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ کے طور پر آج تک چلا آرہا ہے۔ ہماری نگاہ میں سرسیّدؒ اور اقبالؒ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ اقبالؒ نے مثبت رویہ اختیار کیا ،جب کہ سرسیّد کی تحریک اپنی روح اور مزاج کے اعتبار سے منفی تھی۔
پھرہمارے سامنے علمائے کرام کا ردعمل آتا ہے۔فکری اعتبار سے اس کا سلسلہ شاہ ولی اللہ کی تحریک سے وابستہ ہے۔
پیش نظر یہ تھا کہ ایسے علما تیار ہوں جو ملک کے گوشے گوشے میں دین کا پیغام پہنچا سکیں اور لوگوں کو اسلام پر قائم رکھ سکیں۔ دینی علوم کا تحفظ ہو، بدعات سے بچائو اور عقائد کی اصلاح ہو۔ اربابِ دیوبند نے اُمورِ دنیوی سے تقریباً قطع تعلق کی روش اختیار کی اور وہ مسلک اختیار کیا، جس میں کہ وہ کم از کم دین اور دینی روایات کو بچا سکیں۔
جیسا کہ ہم اس سے قبل واضح کرچکے ہیں، مسلمانوں کی کیفیت ایک ہاری ہوئی فوج کی سی تھی۔اس ہاری ہوئی فوج میں اس نقطۂ نظر کا رُونما ہونا ہرگز غیرفطری بات نہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود یہ ماننا پڑتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے اُمت کی ایک عظیم خدمت انجام دی۔ کم از کم یہ تو کیا کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسولؐ کے کلمے پر قائم رکھا۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہمارا تعلق قرآن اور حدیث سے قائم رہا اور جنوب مشرقی ایشیا میں شعائر اسلامی کا پرچار ہوتا رہا۔ جو حملہ ہمارے دلوں سے دین کو اُکھاڑ پھینکنے کے لیے کیا گیا تھا، اس کی مدافعت کی گئی اور اس کے سامنے علما کی کوششیں حصار بن گئیں۔ یہ درست ہے کہ ہم ان سے ٹکر نہ لے سکے، لیکن کم از کم اپنے ایمان، اپنے معیارات، اپنی روایات، اپنی اقدار اور اپنے علوم کو تو ہم نے بچالیا ، جس سے بعد میں اس بات کا امکان پیدا ہوا کہ اس بچے ہوئے سرمایے کو اللہ کے کچھ دوسرے بندے استعمال کریں اور آگے بڑھا لے جائیں۔
مولانا محمودحسن نے پوری زندگی انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں گزاری۔ انھوں نے مسلمانوں کو جمع کرنے کی کوشش کی اور دوسری مسلم حکومتوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ سب مل کر ہندستان کو آزاد کرائیں۔۹ اس کے لیے انھوں نے سفر بھی کیے، جیل بھی گئے اور قیدوبند میں کوڑے بھی کھائے۔ انتقال پر جس وقت آپ کی میّت کو غسل دیا جارہا تھا، اس وقت دیکھا گیا کہ آپ کی پیٹھ اس تشدد کے باعث بالکل سیاہ تھی، لیکن آپ نے اپنی زندگی میں کبھی یہ پسند نہ کیا کہ اُن پر جو گزرتی رہی ہے، وہ کسی کے سامنے بیان کریں۔
دارالعلوم دیوبند اور دوسرے علمائے کرام کی یہ قابلِ رشک خدمات بجا، لیکن اس سلسلے میں کم از کم دو چیزیں ایسی ہیں جو مجھے کھٹکتی ہیں:
اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
اُن کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
یہ ٹھیک ہے کہ اس فتنے کا توڑ خود دیوبند کے کچھ دوسرے مقتدر علما نے کرنے کی کوشش کی اور یہ کہ اس اہم دینی مرکز کے تیار کردہ تمام اہلِ علم متحدہ قومیت کے علَم بردار نہ تھے، لیکن بہرحال ایک عرصے تک دارالعلوم دیوبند اس فکر کا بہت بڑا مرکز رہا ہے اور اس کا نقصان اسلامی تحریک بلکہ پوری ملّت ِ اسلامیہ ہند کو اُٹھانا پڑا ہے۔(جاری)
حواشی
۳ سرسیّداحمد خاں ، لندن سے اپنے دوست نواب محسن الملک کو خط لکھتے ہیں: ’’ولیم میور صاحب نے جو کتاب آنحضرتؐ کے حالات میں لکھی ہے، اس کو دیکھ رہا ہوں۔ اس نے دل جلا دیا ہے۔ اس کی ناانصافیاں اور تعصبات دیکھ کر دل کباب ہوگیا، اور مصمم ارادہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں، جیساکہ پہلے بھی ارادہ تھا ، کتاب لکھ دی جائے۔ اگر تمام روپیہ خرچ ہوجائے اور مَیں فقیر مانگنے کے لائق ہوجائوں تو بلا سے!قیامت میں تو یہ کہہ کر پکارا جائوں گا کہ اس فقیر مسکین احمد کو جو اپنے نانا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر فقیر ہوکر مرگیا حاضر کرو (بحوالہ موج کوثر، ۲۰۲۱ء،ص ۹۲)
۴ اس ضمن میں جب معذرت خواہی شروع ہوئی تو وہ بڑھتی ہی چلی گئی۔ اس فکر کو حافظ محمد اسلم جیراج پوری [م:۱۹۵۵ء] اور اُن کے بعد غلام احمد پرویز [م: ۱۹۸۵ء] نے آگے بڑھایا۔عزیز احمد [م:۱۹۷۸ء] Islamic Modernism in India & Pakistan 1857-1964 (۱۹۶۷ء) میں لکھتے ہیں: ’’سیّداحمد خاں سے لے کر آج تک کے تمام متجددین (Modernists) میں غالباً [غلام احمد] پرویزمغرب کے تصورِ حیات سے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ وہ بلند معیارِ زندگی اور سیاسی، سماجی، انفرادی اور معاشی آزادیِ مطلق کو دُنیوی زندگی کا مقصد قرار دیتے ہیں۔ البتہ وہ ایک معقول بات کو دور ازکار اور ناقابلِ یقین تفسیری اصطلاحات وضع کر کے برباد کر دیتے ہیں (ص۲۲۴- ۲۲۵)‘‘۔ پھر لغت کے سہارے تفسیر کا ایک نرالا اور بے ڈھنگا طریقہ اختیار کرتے ہیں‘‘۔(ص ۲۴۷)
۵ شیخ محمد اکرام نے بجا طور پر لکھا ہے: ’’تفسیر کی اشاعت نے سرسیّد کے دوسرے [قومی]کاموں کو بہت نقصان پہنچایا۔ ان کا اصل مقصد مسلمانوں میں تعلیم عام کرنا اور اُن کی دُنیوی ترقی کا انتظام کرنا تھا [لیکن] اسلام اور تفسیرقرآن کے متعلق، بالخصوص ان مسائل سے متعلق جن کا نہ تعلیم سے خاص تعلق ہے نہ دُنیوی ترقی سے، عام مسلمانوں سے گہرا اختلاف پیدا کرکے سرسیّد نے اپنی مخالفت کا سامان آپ پیدا کرلیا، اور بعض لوگوں کو انگریزی تعلیم سے عقائد متزلزل ہوجانے کا جو ڈر تھا، اس کا بدیہی ثبوت خود فراہم کردیا۔ اس کے علاوہ سرسیّدنے اپنی رائے اور قیاس کے زور سے قرآنی آیات کو نیا مفہوم دے کر ایسی مثال قائم کردی، جس کی پیروی بعضوں نے بُری طرح کی ہے، اور ہرآیت یا حدیث کی تاویل کرکے حسب خواہش معنی مراد لیے ہیں.... سرسیّد کی قابلیت، محنت اور مذہبی ہمدردی کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے علمِ کلام نے تعلیم یافتہ طبقے یا اربابِ تشکیک و الحاد کو ایمان کی دولت بہم پہنچائی ہے‘‘۔(موجِ کوثر، ص ۱۳۶-۱۳۷)
۶ مولانا شاہ عبدالعزیز نے عبرانی زبان سیکھی تھی اور وہ براہِ راست تورات کا مطالعہ کرسکتے تھے (پروفیسر سیّدمحمد سلیم، مغربی زبانوں کے ماہر علما، ص ۸۲)۔ فتاویٰ عزیزیہ، دوم میں انگریزی زبان سیکھنے کے حق میں فتویٰ دیا: ’’لغت انگریزی کا پڑھنا یا لکھنا اگر بہ لحاظ تشبہ کے ہو تو ممنوع ہے، اور اگر اس لیے ہو کہ ہم انگریزی زبان میں لکھا پڑھ سکیں اور ان کے مضامین سے آگاہ ہوسکیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ تشبہ سے مراد اپنی انفرادیت کھو دینا اور انگریزی تہذیب میں اپنے آپ کو گم کرنا ہے۔(سیّد محمد سلیم،ایضاً، ص ۲۶، ۲۷)
۷ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’حکمت مومن کی گم شدہ متاع ہے، جہاں سے ملے، اسے لے لو‘‘۔ اسی طرح آپؐ نے صحابۂ کرامؓ کو دوسری زبانیں سیکھنے کی ترغیب دلائی۔ اس ضمن میں سب سے روشن مثال حضرت زید بن ثابتؓ کی ہے، جنھیں آپ نے غیرملکی زبانیں سیکھنے کی ہدایت فرمائی ، جس کے بعد انھوں نے سریانی، ارامی، فارسی اور حبشی زبانیں سیکھ لی تھیں (مشکوٰۃ)۔اس طرح حضرت عمرو بن العاصؓ سریانی زبان بول سمجھ لیتے تھے۔ فقہ حنفی کے جید عالم سلطان علی قاری ہروی (م:۱۶۰۵ء) مشکوٰۃ کی حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’شریعت [اسلامی] میں کسی زبان کا سیکھنا جرم نہیں ہے، خواہ: عبرانی ہو یا سریانی، ہندی ہو یا ترکی، فارسی ہو یا کوئی اور زبان‘‘۔ (پروفیسرسیّد محمد سلیم،مغربی زبانوں کے ماہر علما، ص ۲۵)
۸ اس ضمن میں فتنہ انکارِ حدیث اور پھر ایک درجے میں ’جہاد‘ کے معاملے میں بہت زیادہ گریز پائی نے خود ’قادیانیت‘ کے فتنے کو بھی راہ دی۔ واللہ اعلم!
۹ ہندستان کو اسلام کے لیے آزاد کرانا مقصد نہ تھا، بس انگریزوں کو یہاں سے نکالنا مقصد تھا۔ کابل میں آزاد ہندستان کی عارضی حکومت قائم کی گئی تھی، جس کے صدر راجا مہندر پرتاب تھے۔ اُمید تھی کہ انقلاب پسند ہندو اور سکھ مدد کریں گے اور اس تحریک ِ آزادی میں شامل ہوجائیں گے۔
۰ سیّدابوالاعلیٰ مودودی،l مسئلہ قومیت [۱۹۳۸ء] lمسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش، اوّل [فروری ۱۹۳۸ء]، دوم [دسمبر ۱۹۳۸ء] اور lتحریک ِ آزادیِ ہند اور مسلمان،اوّل [مرتبہ: خورشیداحمد] ۱۹۶۸ء۔ جمعیۃ العلما ہند کی تاسیس ۲۳نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں اُس وقت ہوئی، جب خلافت ِکانفرنس ہورہی تھی۔ ۲۸دسمبر ۱۹۱۹ء کو جمعیۃ کے اجلاس منعقدہ امرتسر میں یہ تین مقاصد شامل کیے گئے: ’’غیرمسلم برادران کے ساتھ ہمدردی اور اتفاق، مذہبی حقوق کی نگہداشت سے مسلمانوں کی رہنمائی (طفیل احمد منگلوری،مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص ۵۲۸)۔ جمعیۃ العلما کے اجلاس امروہہ (۳۰مئی ۱۹۳۰ء) میں انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ غیرمشروط اشتراکِ عمل کا اعلان کیا (ایضاً، ص ۵۳۲)۔ جس سے خود جمعیۃ میں انتشار پیدا ہوا۔ اس سے قبل ۱۹۲۹ء میں مجلس احرار اسلام قائم ہوچکی تھی۔