اپریل ۲۰۲۳

فہرست مضامین

برصغیر پاک و ہند میں تحریک ِ اسلامی کا ارتقا-۳

پروفیسر خورشید احمد | اپریل ۲۰۲۳ | تحریک اسلامی

Responsive image Responsive image

بیسویں صدی کے آغازسے ۱۹۲۴ء تک پھیلے ہوئے ہنگامہ خیز دور کو ہم حرکت اور تجدید کا دور (Era of reassertion)کہہ سکتے ہیں۔ اس دور کی نمایاں خصوصیت مسلمانوں کا دوبارہ اپنے آپ کو اُمت مسلمہ کی حیثیت سے دریافت اور ظاہر (assert) کرنا اور اپنے آپ کو منوانا تھا۔ یہ احیائے نو کی طرف پہلا قدم تھا۔

  • حالی، شبلی اور اکبر کی خدمات

یہ دور الطاف حسین حالی[م: ۳۱دسمبر۱۹۱۴ء] اور شبلی نعمانی [م:۱۸نومبر ۱۹۱۴ء]کی علمی و ادبی کاوشوں کی بنا پر رُونما ہوا۔ حالی کی مسدس   ہر گھر پہنچی اور مسلمانوں کے دل و دماغ میں ایک حیات پرور گرمی اور ایک احساسِ زیاں پیداکرتی گئی۔

شبلی نعمانی کی کوششوں کی بنا پرماضی پر مسلمانوں کا اعتماد بحال نظر آیا۔ شبلی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کو دوبارہ ان کی تاریخ سے روشناس کرایا اور مسلمانوں میں بے اعتمادی اور مایوسی کی جو کیفیت پیدا ہوگئی تھی کہ ماضی ہے تو انگریز کا، اور مستقبل ہے تو انگریز کا، اس احساس کو اُنھوں نے تاریخ کی رومانویت سے دُور کیا ۔ پھر اپنے آخری زمانے میں انھوں نے جدید تعلیمی پالیسی اور اس کے اثرات پر شدید تنقیدو جرح کی اور سیاسی تحریکات میں بھی شرکت کی۔ مسلمانوں کا رابطہ سیرت النبیؐ کے اطلاقی پہلوئوں سے جوڑا، جو شبلی نعمانی کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔

اسی طرح نواب وقار الملک [م:۲۷جنوری ۱۹۱۷ء]نے اپنے آپ کو سرسیّد احمد خاں کی تحریک سے کاٹ کر تعلیم کو صحیح راہ پر لگانے کی کوشش کی۔اکبر الٰہ آبادی [م:۱۵فروری ۱۹۲۱ء] نے اپنے اشعار کے نشتروں سے مغربی تہذیب کے اثرات کو زائل کیا اور اسلامی تہذیب کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ مسلمانوں کی معاشرت اور تہذیب و تمدن کا نقشہ اُن کے سامنے رکھا اور اُن کو بتایا کہ کتنے خطرناک راستے پر وہ بھاگے چلے جارہے ہیں۔ اس دورِ احیا کو پروان چڑھانے میں اکبر کا کئی صورتوں میں کلیدی حصہ ہے۔

  • ندوۃ العلما

اس کے بعد ندوہ آتا ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلما ۲۶ستمبر ۱۸۹۸ء کو لکھنؤ میں قائم ہوا، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ قدیم و جدید کو ملایا جائے۔ باوجود بڑی قیمتی خدمات کے، جو دینی لٹریچر کی فراہمی اور دینی تعلیم کی ترویج کے سلسلے میں ندوہ نے سرانجام دیں، ندوہ وہ انقلابی شخصیتیں تیار نہ کرسکا، جو جدید و قدیم کی صحیح معنوں میں جامع ہوں۔ ’ندوہ نے سارے عرصے میں عملی سیاسیات میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والا ایک بھی نمایاں فرد پیدا نہیں کیا۔ اس لیے دارالعلوم دیوبند [تاسیس: ۳۰مئی ۱۸۶۶ء]نے جب اپنا تعلق انڈین نیشنل کانگرس [تاسیس: ۲۸دسمبر ۱۸۸۵ء]کی یک وطنی قوم پرست تحریک کے ساتھ جوڑا تو ندوہ، مسلم قیادت کے خلا کو پُر کرنے سے قاصر رہا۔ اس طرح مسلمانوں کی قیادت بڑی آسانی سے ان جدید تعلیم یافتہ مسلم زادوں کے ہاتھ میں آگئی، جن کی اکثریت، فکروعمل کے اعتبار سے ملت کے لیے اجنبی تھی اور نواب زادوں اور بڑے زمین داروں کے اس طبقے سے تعلق رکھتی تھی، جسے ۱۸۵۷ء میں اپنی قوم سے بے وفائی کے بدلے میں انگریزی سامراج نے زمینوں، مناصب اور وسائل سے نوازا تھا۔(آباد شاہ پوری، تاریخ جماعت اسلامی، اوّل، ص ۱۷۱)

واقعہ یہ ہےکہ اس کمی کے باوجود ندوہ اس دورِ احیا کی ایک اہم اور مؤثر تحریک ہے۔  اس کی خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس تحریک نے نئے دور کے تقاضوں کی نشان دہی کی۔ ندوی ذہن تحریک ِ اسلامی کے تقاضوں کو نسبتاً زیادہ سمجھتا اور اس سے زیادہ قریب ہے۔ دارالمصنّفین اعظم گڑھ [تاسیس:۲۱ نومبر ۱۹۱۴ء]نے بلندپایہ اہلِ قلم اور محققین کی ایک قابلِ قدر اجتماعیت تیار کی، جنھوں نے علمی و تحقیقی میدان میں اتنا عظیم علمی اثاثہ مسلمانوں کے لیے تیار کیا کہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علی گڑھ [تاسیس: ۲۴مئی ۱۸۷۵ء]اور دارالعلوم دیوبند ویسی خدمت انجام نہ دے سکے۔ اس خاموش کام کے ذریعے سے مسلمانوں میں اپنے دین کے اُوپر اعتماد بحال کیا، اور مسلم اُمت کی آیندہ نسلوں کا رشتہ اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے جوڑا۔

پھر مولانا رحمت اللہ کیرانوی [م:یکم مئی ۱۸۹۱ء مکّہ]، مولانا سیّد ناصرالدین ابومنصور ، مولانا محمد قاسم نانوتوی [م:۱۵؍اپریل ۱۸۸۰ء] اور مولانا ثناء اللہ امرتسری [م:۱۵مارچ ۱۹۴۸ء] نے ردِ عیسائیت کے سلسلے میں بڑی قیمتی خدمات انجام دیں۔ عیسائیوں اور آریہ سماجی ہندوئوں سے بڑے اہم اور کامیاب مناظرے کیے ۔ مولانا رحمت اللہ ایک بین الاقوامی شہرت کے مناظر تھے، جنھوں نے یورپ کے چوٹی کے پادریوں کو جگہ جگہ مدلل اور مسکت جواب دیئے۔

ان تمام قابلِ قدر حضرات گرامی کی مساعی سے احیا کا یہ دور شروع ہوا۔ بلاشبہہ اس دور کے چار ہیرو ہیں:

  • مولانا ابوالکلام آزاد
  • مولانا محمد علی جوہر
  • علّامہ محمد اقبال
  • سیّدابوالاعلیٰ مودودی
  • مولانا ابوالکلام آزاد

مولانا ابوالکلام آزاد [م: ۲۲فروری ۱۹۵۸ء] نے جواں عمری ہی میں علم و ادب کے میدان میں اپنا لوہا منوا لیا۔ ۱۹۱۲ء میں کلکتے سے اپنے ہفت روزہ اخبار الہلال کے ذریعے ایک طوفان کی طرح مسلمانانِ ہند کی سیاسی اور اجتماعی زندگی پر چھا گئے۔ اخبار الہلال کے اجرا [۱۳جولائی ۱۹۱۲ء] سے تنظیم حزب اللہ  کی تشکیل [۱۹۱۳ء]تک غیرمعمولی کردار ادا کرتے رہے۔ اس کے بعد بدقسمتی سے ایک ارتقائے معکوس کا شکار ہوگئے۔

معاصر احیائے اسلامی کی تاریخ میں مولانا ابوالکلام کا غیرمعمولی حصہ ہے اور اس حوالے سے ان کے اثرات کو یہاں مختصراً بیان کرتے ہیں:

۱- مغربی تہذیب پر تنقید :مولانا ابوالکلام آزاد نے علی گڑھ تحریک کے فکری، تہذیبی اور عملی پہلوئوں پر شدید تنقید کی۔ مغربی تہذیب کی جارحیت اور تعلیم کے فکری و ثقافتی مظاہر کا سختی سے محاسبہ کیا۔ تقلید ِ فرنگ کے جو رجحانات مسلمانوں میں رُونما ہوئے تھے، ان پر نقد واحتساب کیا۔ من پسند اور معذرت خواہانہ تعبیر کے فتنے کی وجہ سے جو تحریکات، دینی اساس و اقدار کے معنی بدل رہی تھیں ، اُن کا پردہ چاک کیا۔ نیز مسلمانوں کو ان کے دین سے کاٹ دینے کی جو بھی کوششیں ہورہی تھیں، اُن کا مقابلہ کیا۔ اس طرح مولانا ابوالکلام نے چُومکھی لڑائی لڑ کر، اسلامی قوتوں کو مقابلے کا نیا جذبہ عطا کیا۔

۲- تحریکِ آزادیِ ہند میں شمولیت :برطانوی سامراجی حکومت سے غیرمشروط تعاون کرنے، اس کے آگے سپر ڈالنے اور اس سے حقوق کی بھیک مانگنے کی پالیسی پر سخت تنقید کی، اور مسلمانوں کو برطانوی سامراجی حکومت سے عدمِ تعاون اور عدمِ اشتراک کا سبق دیا۔ ابوالکلام نے قوم سے کہا کہ آزادی اور حقوق بھیک مانگنے اور ہاتھ پھیلانے سے نہیں ملا کرتے، ان کے لیے جدوجہد کی جاتی ہے، قربانیاں دی جاتی ہیں۔ سامراجی حکومت کے ٹکڑوں پر تمھیں نہیں جینا بلکہ حکومت کی باگیں غیرملکی غاصبوں سے چھین لینی ہیں۔ مسلمانوں میں جہاد، جدوجہد اور قربانی کے جذبے کو بیدار کرنے میں مولانا ابوالکلام کی آگ لگادینے والی تحریروں اور تقریروں کا غیرمعمولی حصہ ہے۔

۳- جدید علم الکلام کی اصلاح : سرسیّد احمد خاں، مولوی چراغ علی خان [م: ۱۵جون ۱۸۹۵ء] اور سیّد امیرعلی [م: ۳؍اگست۱۹۲۸ء]کے ہاتھوں ایک نیا علم الکلام پروان چڑھ رہا تھا، جو ایک شکست خوردہ ذہنیت پر مبنی تھا۔ ایسی ذہنیت کہ جس میں اسلام کو ایک بے بس، کمزور اور مدافعانہ پوزیشن میں لاڈالا گیا تھا۔ ابوالکلام نے اس مرعوبانہ اور معذرت خواہانہ انداز کو ترک کرنے کی طرف متوجہ کیا، اور اس کی جگہ قرآن و حدیث سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات کو اعتماد اور جرأت کے ساتھ پیش کیا۔ اگرچہ تعبیر کے معاملات میں کہیں کہیں مولانا آزاد سے بھی چوک ہوئی ہے اور خصوصیت سے واحد ہندی قومیت اور وحدتِ ادیان کے مسئلے پر انھوں نے زبردست ٹھوکر کھائی، لیکن بحیثیت ِ مجموعی انھوں نے انھی خطوط پر بیان و کلام کی روایت کو قائم کیا، جن کی بنیاد شاہ ولی اللہ نے رکھی تھی۔ اسی چراغ سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اور اسی پیغام کو خطیبانہ اور جھنجھوڑنے والے انداز میں پیش کرتے ہوئے ابوالکلام نے مسلمانوں کو سوچنے، سمجھنے اور چلنے کا ایک نیا انداز دیا۔ خصوصیت سے قرآنِ پاک سے مسلمانوں کا تعلق جوڑنے میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

نہ صرف قرآنِ پاک کے ترجمے اور تفسیر کے ذریعے بلکہ ان سے بڑھ کر اخبار الہلال کے مضامین کے ذریعے انھوں نے مسلمانوں میں حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ہندستان کی جدید تاریخ میں الہلال  کے مضامین میں پہلی مرتبہ یہ نظر آتا ہے کہ قرآن پاک میں سابق اُمتوں کے   محض قصے ہی نہیں بلکہ زندگی کے معاملات کے بارے میں بھی ہدایات ملتی ہیں۔ زندگی کا ہرشعبہ،ہرپہلو اور فیصلہ خواہ وہ معیشت سے متعلق ہو یا معاشرت سے، ملکی سیاست کا مسئلہ ہو یا بین الاقوامی سیاست کا معاملہ، ان میں سے ہر ایک کے حل کے لیے ابوالکلام قرآنِ پاک کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے مخالفین بھی کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ:

دُنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو، نہ معلوم ابوالکلام کے پاس کیا جادو ہے، قرآنِ پاک کی کوئی نہ کوئی آیت لے ہی آتے ہیں۔

 اسی طرزِ استدلال کا یہ اثر ہوا کہ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ: ’قرآن ہماری زندگی کے تمام معاملات و مسائل سے بحث کرتا ہے اور زندگی کے تمام مسائل اور شعبوں میں ہمیں رہنمائی دیتا ہے‘۔

۴- علمی مرتبہ : مولانا ابوالکلام نے معیارِ تصنیف کو بہت اُونچے مقام پر پہنچا دیا۔ پچھلے ڈیڑھ سوسال کے اہلِ علم کی تصانیف اور خصوصیت سے معرکہ ۱۸۵۷ء کے بعد جو کتابیں شائع ہوئیں، ان کو پڑھیے تو عمومی طور پر ان کا ادبی معیار بہت ہی پست نظر آتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے باقی دُنیا کا لٹریچر دیکھا ہی نہیں اور نہ خود اپنے لٹریچر پر کوئی گہری مجتہدانہ نظر ڈالی ہے۔ بس روایتی طور پر علما جو باتیں کہہ گئے تھے، انھی کو نئے سرے سے ترتیب دے کر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن مولانا ابوالکلام آزاد نے اس دھارے کو روک کر ایک نیا رُخ دیا۔

۵- اور پھر ارتقائے معکوس :اس کے بعد ابوالکلام نے اجتماعی جدوجہد برپا کی، ان کے خطبات نے مسلمانوں میں ایک ہلچل پیدا کر دی تھی۔ اللہ نے ان کی زبان میں بلا کی اثرانگیزی رکھ دی تھی۔ اس بنا پر ابوالکلام اس دور کے ہیرو قرار پاتے ہیں۔ لیکن یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے کہ اتنا بڑا آدمی اتنا بڑا کام انجام دے کر ارتقائے معکوس (repercussion)کی نذر ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ۱۹۰۶ء سے ۱۹۲۴ء تک والے ابوالکلام رحلت کرجاتے ہیں اور  ان کے جسد ِ خاکی سے ایک نئے ابوالکلام جنم لیتے ہیں۔ وہ ابوالکلام جو ایک زمانے میں جہاد کے لیے پکارتے تھے، وہ اب ہندوئوں سے سمجھوتے کی دعوت دینے لگے۔ وہ ابوالکلام جو مسلمانوں کی عالمی حکومت قائم کرنے کے لیے اُٹھے تھے، وہ محض ’سوراجی خوداختیاری‘ (Self Governing) کےعلَم بردار بن کر رہ گئے۔ تاریخ کے اس سانحے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔

  • ابوالکلام کا اسلوب :یہاں ایک اور بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ خود مولانا ابوالکلام کا اسلوبِ بیان ، ان کے دعوتی اثرات کے استقلال (continuity)کی راہ میں حائل تھا۔ ابوالکلام کی تحریروں میں جوش ، حرارت اور گرمی کا دریا تو موج زن ہے، لیکن وہ ٹھنڈی اور مستقل روشنی نہیں ہے، جس کی بنا پر زندگیاں بدلتی ہیں۔ ان کی تحریریں ایک مرتبہ قلب میں گرمی ضرور پیدا کرتی ہیں، لیکن ٹھیرائو کے ساتھ جو مستقل تبدیلی مطلوب ہے، وہ ان کے ذریعے سے نہیں آسکتی۔ اس کے اندر حرکت، تیزی اور آگ کی سی گرمی ہے، لیکن خاموش اور پختہ انقلاب لانے والی قوت نہیں ملتی۔ پھر عملی اور اخلاقی پہلوئوں پر بھی ابوالکلام نے بہت کم متوجہ کیا ہے۔ ان کے یہاں  فکری اور سیاسی موضوعات پر تفصیلی مباحث موجود ہیں، لیکن اسلام، زندگی میں جو عملی انقلاب تعمیرِ سیرت اور تزکیۂ نفس کی بنیادوں پر برپا کرتا ہے ، اس پر بہت کم تحریریں ملتی ہیں۔ امرواقعہ یہ ہے کہ اندازِ نگارش کی حد تک ابوالکلام کے ہاں ایک حد سے بڑھی مذہبی رومانویت ملتی ہے۔
  • مولانا محمد علی جوہـر

پھر مولانا محمدعلی جوہر [م: ۴جنوری ۱۹۳۱ء] آتے ہیں۔ مولانا محمد علی بڑے مخلص اور سچے مسلمان تھے۔ وہ کوئی بڑے مفکر نہ تھے، لیکن ایک بندئہ مومن کا سا دل رکھتے تھے، مسلمان کا سا سوچنے کا انداز رکھتے تھے، مسلمانوں سے محبت رکھتے تھے اور مسلمانوں کی سربلندی چاہتے تھے۔آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق تھا۔ اللہ کی ذات پر کامل یقین اور توکّل کی مثال اس زمانے میں اس سے اعلیٰ نہیں مل سکتی کہ ایک شخص جو جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی بیٹی آمنہ بیمار ہے اور بیمار بھی ایسی کہ زندگی اور موت کی کش مکش میں گرفتار، اُس وقت آپ ایک غزل کہتے ہیں،جس میں ایک شعر باپ کی زبان سے یہ بھی نکلتا ہے :

تیری صحت ہمیں منظور ہے، لیکن اُس کو
نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں

یہ بات اس شخص کے سوا اور کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ جسے اللہ کی ذات پر کامل یقین ہو۔ اسی طرح یہ بات بھی محمدعلی جوہر جیسا بندۂ مومن ہی کہہ سکتا ہے:

کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لیے ہے

مولانا محمدعلی نےاپنے انگریزی ہفت روزہ Comrade  [۱۹۱۱ء، کلکتہ] اور روزنامہ ہمدرد [۱۹۱۳ء، دہلی]کی تحریروں اور اپنی تقریروں کے ذریعے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ان کی تحریر میں بلا کا تیکھا پن تھا، دل میں کھب جانے والے تیرونشتر سے وہ آراستہ ہوتی تھی۔ مولانا محمدعلی جوہر کا اصل جوہر ’تحریک ِ خلافت‘ میں کھلا،جس کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں بیداری کی نئی تحریک رُونما ہوئی اور مسلمانوں پر مسلط مایوسی ختم ہوئی۔ مولانا محمد علی اور ’تحریک ِ خلافت‘ کے اثرات میں یہ چیزیں نمایاں محسوس ہوتی ہیں:

       ۱-    مسلمانوں میں خوداعتمادی پیدا ہوئی اور پھر کچھ کر گزرنے کا عزم ان میں فروزاں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم [۲۸جولائی ۱۹۱۴ء-۱۱ نومبر ۱۹۱۸ء] اور اس کے بعد کے زمانے میں مسلمان،غیرمنقسم برطانوی ہند کی سیاسی زندگی پر چھائے ہوئے تھے۔ برپا ہونے والی ہرقومی، ملّی اور رفاہی تحریک میں رضاکار مسلمان ہوتے تھے۔ ان میں  وہ اعتماد تھا کہ جس کی بنا پر وہ اپنی عددی کمی کے باوجود یہ یقین رکھتے تھے: ’ہندستان کے اصل حکمران ہم ہی ہوں گے‘۔ اس خطرے کو ہندو لیڈروں نے بھی محسوس کیا۔ ’تحریک ِ عدم تعاون‘ [ستمبر۱۹۲۰ء-فروری ۱۹۲۲ء] کو گاندھی جی [م: ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء] نے اسی لیے ختم کیا تھا کہ مسلمان، ہندستان کی سیاسی فضا پر چھائے جارہے تھے۔

       ۲-    مولانا محمد علی اور ’تحریک ِ خلافت‘ کے زیر ِ اثر ’تحریک اتحاد عالمِ اسلام‘ کا احیا ہوا، اور مسلمانوں میں عالم گیر برادری ہونے کا احساس زیادہ سے زیادہ مستحکم ہونا شروع ہوا۔ اس تحریک کو غذا پورے عالمِ اسلام سے مل رہی تھی، لیکن ہندستان کی سرزمین پر اس تحریک کے سب سے بڑے علَم بردار محمدعلی جوہر ہی تھے، جن کا عالم یہ تھا کہ مراکش میں ایک مسلمان کے کانٹا چبھتا تھا تو وہ بے قرار ہوجاتے تھے۔ یہی جذبہ تھا، جس نے ان سے ۱۹۱۴ء میں The Choice of the Turks جیسا مقالہ لکھوایا، جس کی مثال انگریزی صحافت میں نہیں ملتی۔[یہی مقالہ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۴ء کو کامریڈ پر پابندی کا سبب بنا]۔

       ۳-    تحریک ِ خلافت کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک کُل ہند تنظیم رُونما ہوئی۔ جن حضرات نے حالات کا مطالعہ گہرائی میں جاکر کیا ہے، وہ واقف ہیں کہ مولانا محمدعلی جوہر کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی [م: ۲۶نومبر ۱۹۳۸ء] نے غیرمعمولی ذہانت اور قابلیت کے ساتھ اس تحریک کا اندرونی نظم سنبھالا اور پورے ملک میں تحریک کا ایک جال پھیلا دیا۔

       ۴-    ’ہندو مسلم اتحاد‘ کا جو ڈھونگ گاندھی جی اور ان کے حواریوں نے رچایا تھا، اس کا پول اس زمانے میں کھل گیا اور ہندو مسلم فسادات نے سارے پردے چاک کر دیے۔  مولانا محمدعلی جوہر نے آخری زمانے میں اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کر دیا تھا کہ مسلمانوں کا مستقبل ہندوئوں کے ساتھ نہیں، ان سے الگ ہے۔

       ۵-    عام مسلمانوں کو تحریک سے وابستہ کیا گیا اور پوری قوم کو میدان میں لاکھڑا کیا گیا۔ اس سے پہلے کی تحریکات میں قوم کا ایک حصہ ہی سرگرم نظر آتا ہے، لیکن یہ تحریک ایسی تحریک ہے جس میں پوری قوم شریک ہے۔

  • علّامہ محمد اقبال

اس دور کے تیسرے معمار کا نام علامہ محمد اقبال [م:۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء] ہے۔ قومی زندگی میں اقبال کا اثر ۱۹۱۰ء کے بعد سے شروع ہوا۔ انجمن حمایت ِ اسلام کے جلسوں میں شرکت (۱۹۰۴ء) اور اسرار و رُموز (۱۹۱۵ء) کے ذریعے اقبال نے اپنے اصلاحی کام کا آغاز کیا اور نظم و نثر اور عملی سیاست ہر طرح سے قوم کی رہنمائی کی۔ اقبال کا رویّہ بڑا متوازن نظر آتا ہے۔ علی گڑھ تحریک کے نتائج سے غیرمطمئن رہنے کے باوجود وہ سرسیّد احمد خاں کا احترام کرتے رہے۔ علما سے ان کو شکایت رہی، لیکن ہرقدم پر ان سے رجوع کرتے نظر آتے ہیں اور ان کا پورا پورا ادب و لحاظ کرتے ہیں۔

  • ایک ہمہ جہت شخصیت :علّامہ اقبال ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، کہ ان کا ہرپہلو نظر کو خیرہ اور فکر کو مسحور کرنے والا ہے۔ وہ تاریخ کی اُن چند برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں جن کی زندگیاں خوبیوں کی جامع تھیں ۔ بلاشبہہ وہ ایک عظیم شاعر، بالغ نظر مفکّر، بلندپایہ فلسفی، صاحب ِ طرز ادیب، ماہر قانون، مدبر اور ایک اچھے انسان تھے۔ لیکن ان کی شخصیت کا جو پہلو تمام حیثیتوں سے زیادہ نمایاں ہے اورجو اُن کو فلسفی اور شاعر کے مقام سے بلند کر کے ایک تاریخ ساز کے رُتبۂ عالیہ پر لے آتا ہے، وہ ہے بیسویں صدی میں اسلامی نشاتِ ثانیہ کے معمار کی حیثیت سے ان کا مقام۔ علّامہ اقبال ایک شاعر ہی نہ تھے، وہ ایک نئے دور کے پیامبر بھی تھے اور ان کی شخصیت کا یہی پہلو انھیں اسلامی تاریخ کی زندۂ جاوید شخصیتوں میں شامل کرتا ہے۔
  • فکری انقلاب کی بنیادیں : تحریک ِ خلافت سے مسلمانوں میں ایک ہمہ گیر سیاسی بیداری تو ضرور پیدا ہوئی، لیکن فکری احیا کے لیے جو کچھ ٹھوس نظریاتی اور فلسفیانہ بنیادیں درکار ہوتی ہیں، یہاں کے مسلمانوں میں یہ سیاسی بیداری ابھی تک ایسی فکری قوت سے محروم تھی، جو سیاسی بیداری کو تہذیبی انقلاب کا پیش خیمہ بنا دیتی ہے___ علّامہ محمد اقبال نے اس خلا کو پُر کیا اور عصرِحاضر میں احیائے اسلام کی بنیادیں رکھیں۔

اقبال ایک حقیقت بین نگاہ رکھتے تھے۔ انھوں نے مسلم تہذیب و تمدن کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا تھا۔ وہ اسبابِ زوالِ اُمت سے بخوبی واقف تھے۔ انھیں اس بات کا پورا احساس تھا کہ مغربی تہذیب کا زہر جسد ِ ملّت میں آہستہ آہستہ سرایت کرگیا ہے اور اگر اس کے علاج کی طرف بروقت توجہ نہ کی گئی، تو بعد میں افسوس کرنا بے کار ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے مسلمانوں میں فکری انقلاب لانے، ان کو وقت کے تقاضوں سے آگاہ کرنے اور اسلام کو ایک مکمل دین اور تحریک کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی۔

علّامہ اقبال کے خیال میں مسلم ثقافت کے رُوبہ زوال ہونے اور مغربی افکار کے تسلط کی وجہ صرف یہ تھی کہ مسلمانوں نے اسلام کی زندہ تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر بے عملی کی زندگی اختیار کرلی تھی۔ مغرب سے متاثر ہونے کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان خود اپنے اُوپر اعتماد اور اپنی اقدار پر یقین کھو بیٹھے تھے۔ چنانچہ انھوں نے مغرب کی اندھی تقلید شروع کر دی۔ مزیدبرآں اُن میں ایک قسم کا احساسِ کمتری نشوونما پاتا چلا گیا، جس نے مذہب اور سیاست کی تفریق، غیراسلامی تصوف اور تباہ کن معاشرتی رُسومات کو جنم دیا۔

  • تہذیبِ نو پر تنقید :علّامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کو دعوتِ فکر دی کہ وہ اپنے اس رویے پر اَزسرِنو غور کریں کیوں کہ مغرب میں جہاں چند خوبیاں اور اچھائیاں ہیں، وہاں بہت بُرائیاں اور خامیاں بھی ہیں۔ اقبال نے خود مغربی تہذیب کا نہ صرف گہرا مطالعہ کیا تھا بلکہ بڑے قریب سے مشاہدہ بھی کیا تھا۔ اس طرح وہ اس کے مزاج، روح اور ہیئت سے بخوبی واقف تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا:

یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات

دوسرے مقام پر آپ نے کہا:

نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جُھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے

ایک اور انداز میں اس بات کو یوں کہتے ہیں:

پیرِ مے خانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سُست بنیاد بھی ہے ، آئینہ دیوار بھی ہے

علّامہ محمد اقبال مسلمانوں کی ذہنی غلامی کو ختم کرنے کے لیے اپنے فکری مطالعے کا نچوڑ اس طرح ملّت کے سامنے پیش کرتے ہیں:

شَفق نہیں مغربی اُفق پر، یہ جُوئے خوں ہے ، یہ جُوئے خوں ہے
طلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ

وہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اُسی کی بے تاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مُقامِروں نے بنا دیا ہے قمارخانہ

اقبال نے مسلمانوں کے ذہنوں سے مغرب کی علمی اور فکری برتری کو ختم کر کے ان میں خوداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ مغربی افکار کامطالعہ کریں، مگر فکری آزادی کے ساتھ سائنس اور فلسفہ پر عبورِ کامل حاصل کریں۔ اور اس پورے عمل کے دوران میں اپنی تنقیدی حس کو ہرگز کمزور نہ پڑنے دیں۔ مغرب کی ترقی سے فائدہ اُٹھائیں، مگر مغرب کے   غلام بن کر نہیں بلکہ اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے علَم بردار کی حیثیت سے:’’ہمارا فرض ہے کہ بہرحال فکرِ جدید کے نشوونما پر بااحتیاط نظر رکھیں اور اس باب میں آزادی کے ساتھ نقدوتنقید سے کام لیتے رہیں‘‘ (اقبال ، تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ)۔ یعنی علّامہ اقبال نے اس خطرے کو شدت سے محسوس کیا کہ یورپ کابڑھتا ہوا تمدن کہیں عالمِ اسلام پر چھا نہ جائے۔ چنانچہ انھوں نے مغربی تہذیب کے کمزور پہلوئوںکو اُجاگر کیا اور لادینیت اور فکری تشکیک کے خطرے سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ چنانچہ وہ مثنوی ’پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق‘ میں بڑی خوب صورتی سے کہتے ہیں:

آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی ہنگامہ برچید از فرنگ

پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق؟
باز روشن می شود ایّامِ شرق

در ضمیرش انقلاب آمد پدید
شب گذشت و آفتاب آمد پدید

یورپ از شمشیر خود بسمل فتاد
زیر گردوں رسم لادینی نہاد

گرگے اندر پوستینِ برۂ
ہر زماں اندر کمینِ برۂ

مشکلاتِ حضرتِ انساں ازوست
آدمیت را غمِ پنہاں ازوست

درنگاہش آدمی آب و گل است
کاروانِ زندگی بے منزل است

باخساں اندر جہانِ خیروشر
در نسازد مستیٔ علم و ہنر

آہ از افرنگ و از آئینِ اُو
آہ! از اندیشۂ لادینِ اُو

[ترجمہ:] lنوع انساں، فرنگیوں کے ہاتھوں سخت فریاد کر رہی ہے۔ زندگی نے اہلِ فرنگ سے کئی ہنگامے پائے ہیںl اے اقوام مشرق اب کیا ہونا چاہیے؟ تاکہ مشرق کے ایّام (یعنی زندگی اور تاریخ) پھر سے روشن ہوجائیں lمشرق کے ضمیر میں انقلاب ظاہر ہورہا ہے۔ رات گزر گئی ہے اور آفتاب طلوع ہوا lیورپ اپنی تلوار سے خود ہی زخمی ہوچکا ہے۔ اس نے دُنیا میں رسم لادینی کی بنیاد رکھ دی ہے lاس کی حالت اس بھیڑیے جیسی ہے، جس نےبکری کے بچّے کی کھال اوڑھ رکھی ہے۔ وہ ہرلمحہ ایک نئے برہ (بکری یا ہرن کا بچہ) کی گھات میں ہے lنوعِ انسان کی ساری مشکلات اس کی وجہ سے ہیں، اور اسی کی وجہ سے انسانیت گہرے غموں میں مبتلا ہے lاس کی نگاہ میں انسان محض پانی اور مٹی کا مجموعہ ہے اور زندگی ایک بے مقصد شے ہے lیہ جہاں جو خیروشر کا میدانِ جنگ ہے،اس کے اندر علم و حکمت کی مستی رذیلوں کے لیے سازگار نہیں lافسوس ہے افرنگ پر اور اس طریق کار پر بھی افسوس ہے کہ اس نے لادین فکر اختیار کرلی ہے۔

اقبال نے پوری قوت کے ساتھ اسلام کے پیش کردہ نظامِ حیات کو پیش کیا اور حکمت و دانائی پر تجزیے سے ثابت کیا کہ موجودہ فکری اور نظریاتی انتشار و پراگندگی کا واحد حل مذہب ہے۔ وہ کہتے ہیں:

عالمِ انسانی کو آج تین چیزوں کی ضرورت ہے: کائنات کی اخلاقی اورروحانی تعمیر، فرد کی روحانی اصلاح و نجات، اور وہ بنیادی اصول جن کی نوعیت عالم گیر ہو اور جن سے انسانی معاشرے کا ارتقا روحانی اساس پر ہوتا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ جدید یورپ نے اس نہج پر متعدد نظامات قائم کیے۔ لیکن تجربہ شاہد ہے کہ جس حق و صداقت کا انکشاف عقلِ محض کی وساطت سے ہوا، اس سے ایمان اور یقین میں وہ حرارت پیدا  نہیں ہوتی جو وحی و تنزیل کی بدولت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلِ محض نے انسان کو بہت کم متاثر کیا ہے۔ اس کے برعکس مذہب کو دیکھیے کہ اس نے افراد کو اضافہ مراتب اور اصلاحِ نفس کے ساتھ ساتھ معاشروں اور سماج و تمدن تک کو بدل ڈالا۔ یقین کیجیے کہ جدید یورپ سے بڑھ کر آج انسان کے اخلاقی ارتقا میں بڑی رکاوٹ اور کوئی نہیں ہے۔(تشکیلِ  جدید الٰہیات اسلامیہ، ص ۲۷۶، ترجمہ:نذیر نیازی)

علامہ محمد اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد (۱۹۳۰ء) میں جو کہ تصورِ پاکستان کی بنیاد ہے، اُس میں اُمت مسلمہ کے مقصد وجود اور اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ سیاسی ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:

ظاہرہے کہ اگر مذہب کا تصور یہی ہے کہ اس کا تعلق صرف آخرت سے ہے، انسان کی دنیوی زندگی سے اسے کوئی سروکار نہیں، تو جو انقلاب مسیحی دنیا میں رُونما ہوا ہے وہ ایک طبعی امر تھا۔ مسیح علیہ السلام کا عالم گیر نظامِ اخلاق نیست و نابودہو چکا ہے اور اس کی جگہ اخلاقیات اور سیاسیات کے قومی و وطنی نظاموں نے لے لی ہے۔ اس سے یورپ بجاطور پرا س نتیجے پر پہنچا ہے کہ مذہب کا معاملہ ہر فرد کی اپنی ذات تک محدود ہے۔ اسے دُنیوی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن اسلام کے نزدیک انسان کی شخصیت بجائے خود ایک وحدت ہے۔ وہ مادّے اور رُوح کی کسی ناقابل اتحاد ثنویت کا قائل نہیں۔ مذہب اسلام کی رُو سے خدا اور کائنات، کلیسااور ریاست اور رُوح اور مادّہ ایک ہی کُل کے مختلف اجزا ہیں۔ انسان کسی ناپاک دنیا کا باشندہ نہیں کہ جس کو اسے ایک روحانی دنیا کی خاطر جو کسی دوسری جگہ واقع ہے‘ ترک کر دینا چاہیے۔ اسلام کے نزدیک مادہ روح کی ایک شکل کا نام ہے، جس کا اظہار قید مکان وزمان میں ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مغرب نے مادّے اور رُوح کی ثنویت کا عقیدہ بلا کسی غور و فکر کے مانویت کے زیر اثر قبول کر لیا تھا۔ اگرچہ آج اس کے بہترین اربابِ دانش اپنی    اس ابتدائی غلطی کو محسوس کر رہے ہیں، مگرسیاست دانوں کا طبقہ ایک طرح سے اب بھی مُصر ہے کہ دنیا اس اصول کو ایک ناقابل انکار حقیقت کے طور پرتسلیم کرلے۔

اسی طرح ایک اور موقعے پر اقبال نے متوجہ کیا ہے:

مذہب اور صرف مذہب ہی آج کے انسان کو اُن ذمہ داریوں کا اہل بنا سکتا ہے جو سائنس کی ترقی نے اس کے شانوں پر ڈال دی ہیں۔ مذہب ہی کے ذریعے انسان میں وہ یقین اور ایمان پیدا ہوسکتا ہے جو اس کی شخصیت کو دُنیا میں جلابخشتا ہے او ر آخرت میں اسے دوام عطا کرتا ہے۔ انسان کی حقیقت اور اس کے مستقبل کا حقیقی شعور وہ شعور ہے جو مذہب کی دی ہوئی روشنی عطا کرتی ہے۔ یہی دورِ جدید کے انسان کو ایک ایسی سوسائٹی میں جو مذہب اور سیاست کی کش مکش کی وجہ سے اپنی اصل روح کھو چکی ہے، کامیابی سے ہم کنار کرسکتی ہے۔

اقبال نے جہاں مغرب کی کمزوریوں اور خامیوں پر بھرپور تنقید کی ہے، وہاں اس کی خوبیوں کو خصوصیت سے سائنس اور جذبۂ عمل و حرکت کو سراہا بھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ صفات یورپ نے خود مسلمانوں ہی سے مستعار لی تھیں، لیکن افسوس کہ آج مسلمان خود ان صفات سے محروم ہیں، جو ان کی اپنی کھوئی متاع ہے۔

  • اسلامی فکر کی تشکیل جدید :اقبال کی عظمت و فراست کا ایک اور نمونہ ان کے اس احساس میں مضمر ہے کہ اسلامی فکر کی تشکیل جدید کی جائے۔ وہ جانتے تھے کہ مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے غلبے (hegemony)کو عام ہتھیاروں سے روکا نہیں جاسکتا بلکہ اس کے لیے کچھ نئے وسائل و آلات اور نئے ذرائع درکار ہوں گے۔ انھیں اس بات کا بھی شدت سے احساس تھا کہ اسلام فطرتاً ایک انقلابی تحریک ہے، لیکن صدیوں کے جمود نے اس جوہرِ خالص پر ایک زنگ کی تہہ جمادی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ زنگ کو کھرچ دیا جائے۔ اسلام کی حقیقی تصویر پھر سامنے آجائے اور یہ شمع سارے عالم کو ایک بار پھر منور کردے۔ ان کی وہ تقاریر جو Reconstruction of Religious Thought in Islam(تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ) کے نام سے موسوم ہیں، اس مقصدکے حصول کی ایک کامیاب کوشش ہے، جس نے برصغیر کے مسلمان کے ذہن پر اقبال کے ان انقلابی خیالات کے بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔
  • ایک انقلابی، ایک مصلح :اقبال کو صرف ایک شاعر یا فلسفی کہنا تاریخ پر ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ وہ ایک ایسے انقلابی اور مصلح تھے، جنھوں نے جدید اسلامی احیا کو صرف نظریاتی اساس ہی نہیں دی بلکہ پورے ملک کو خوابِ غفلت سے جگایا اور ملت کو اس کے اصل مشن پر گامزن کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ چنانچہ انھوں نے اپنی دونوں شہرئہ آفاق مثنویوں: ’مثنوی اسرارِ خودی‘ اور ’رُموزِ بے خودی‘ میں فرد اور معاشرے کے ارتقا، اُمت کے زوال اور اس کے اسباب سے بحث کی ہے۔ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اصل راہِ نجات اپنے پروردگار کے احکام اور اس کے رسولؐ کے اسوئہ حسنہ کی پیروی میں ہے۔ اُن کے خیال میں اسلام کی بنیادیں: توحید، رسالت، آخرت اور جہاد ہیں۔ توحید کے ذریعے معاشرے میں یک رنگیٔ خیال اور عملی یکسانیت پیدا ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ انقلابی قوت اور کسی چیز میں نہیں۔ چنانچہ انھوں نے اسلام کے بنیادی عقائد پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ ان کے الفاظ کے معجزانہ اثر نے ایک سوئی ہوئی قوم کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیا۔
  • اقبال کا اصل کارنامہ  :اقبال کے اس کارنامے کو مختصراً ہم یوں پیش کرسکتے ہیں:

۱- اقبال نے مذہب کی بنیاد عقل یا سائنس پر نہیں رکھی بلکہ آں حضور ؐ کے تجربے اور مشاہدے کو اس کی اساس قرار دیا۔ فلسفۂ مذہب کے نقطۂ نظر سے یہ ایک غیرمعمولی اقدام تھا اور یہ اپروچ اس نومعتز لائی نقطۂ نظر سے بہت مختلف تھی، جو سرسیّد احمد اور ان کے رفقا نے اختیار کیا تھا۔ اقبال کے ’خطبات‘ تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے۔

۲- اقبال نے انسانِ مطلوب کا ایک مکمل تصور پیش کیا۔ اس کی ذاتی اور انفرادی صفات کو بیان کیا اور اس اجتماعی اور ملّی نظام کے خدوخال واضح کیے، جس کے ذریعے فرد اعلیٰ ترین مدارج تک پہنچ سکتا ہے۔ اقبال نے خصوصیت سے، ایمان، ضبط نفس، نیابت و خلافت ِ الٰہی کے تصورات کو پیش کیا۔ خودی کی تشکیل و ترقی کا اصل مقصد، دین کی حفاظت اور ملّت کی ترقی کے لیے استعمال کو قرار دیا۔ یہی وہ کام ہے جسے نیابت ِ الٰہی کہا جاتا ہے اور یہ کام مذہب کے ذریعے انجام پاسکتا ہے۔

۳- پھر اقبال نے مغربی تہذیب ، فکر اور سیاسی درندگی پر بھرپور تنقید کی ۔ ایک طرف یہ دکھایا کہ مغرب کی بنیاد بڑی کمزور ہے اور مغربی تہذیب فی نفسہٖ آج خود انتشار کا شکار ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں میں نقالی اور تقلید کے نقصانات کو اُجاگر کیا اور انھیں ایک آزاد اور تخلیقی نقطۂ نظر اختیار کرنے کا مشورہ دیا:

یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تُو
مجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے

۴- اقبال نے محض نقدوتنقید کے کام پر اکتفا نہ کیا بلکہ مثبت طور پر ملّت کے سامنے ترقی کا راستہ بھی پیش کیا___ اور وہ راستہ اسلام کا راستہ ہے۔ اقبال نے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان کو تازہ کیا اور قرآن اوررسولؐ کی اتباع کی دعوت دی۔ اقبال نے انفرادی اخلاق اور اجتماعی نظم کی پابندی کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور کہا:

روشن اس ضَو سے اگر ظُلمتِ کردار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

۵- اقبال نے جذبۂ عمل کو بیدار کیا،قوم میں رجائیت اور اُمید کا چراغ روشن کیا ۔ اس کو جہاد اور تسخیر کائنات کا درس دیا اور راہِ عمل سے ہٹانے والے ہر رجحان پر تنقید کی۔ کس طنز سے اقبال  نے کہا ہے:

اسی قُرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

اقبال نے مسلمانوں میں جذبۂ عمل بیدار کرنے کے ساتھ یہ یقین دلایا ہے کہ مستقبل تمھارا ہے:

اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے

اور:

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

اس کا پیغام تو بس یہ تھا:

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

۶- اقبال کے یہاں دینی اُمور میں حددرجے کی احتیاط ملتی ہے۔ انھوں نے تقریباً تمام اہم اُمور میں علما متقدمین اورسلف کی اتباع کی ہے اور دین میں کسی قسم کی بھی قطع و برید کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ رائے قائم کرنے میں سہو ہرانسان سے ہوسکتا ہے لیکن اقبال کا نقطۂ نظر اصلاً خالص اسلامی تھا اور وہ اسلام کو زمانے کی خراد پر تراشنے کو کفر و ضلالت سمجھتے تھے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ زمانۂ حاضرہ کے پیدا کردہ مسائل کا حل اسلام کی تعلیمات سے تلاش کیا جائے اور زمانے کو اسلام کے مطابق بدل ڈالا جائے۔

۷- اقبال کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ اس نے روحانی اور مادی طاقت دونوں کے امتزاج کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ اگر مسلمان دُنیا میں اپنا صحیح مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں روحانی و اخلاقی اور مادی و دُنیوی شعبوں میں ترقی کرنی ہوگی۔ سرسیّد احمد خاں کے یہاں دُنیاوی اور مادی پہلو کا غلبہ ہے۔ اور دوسری طرف علما کے یہاں صرف روحانی اور اخلاقی پہلو نمایاں ہے۔ لیکن اقبال نے اخلاقی اور روحانی اور مادی و دُنیوی پہلوئوں کو مساوی اہمیت دی ہے اور ہرایک کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔

۸- اقبال نے ملّت اسلامیہ کی عملی سیاست میں بھی حصہ لیا اور یہاں ان کی سب سے بڑی خدمت (contribution) نظریاتی بنیادوں پر تخلیق وطن، تقسیم ملک اور اسلامی مرکزیت کو قائم رکھنے کے لیے ایک باقاعدہ الگ ریاست کا قیام ہے۔

  • اس عہد پر ایک نظر

اس پورے دور پر جب ہم ایک نظر ڈالتے ہیں تو چند چیزیں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہیں:

۱- عام مذہبی احیاء :انفرادی زندگی میں اسلام کے تقاضوں کا شعور پیدا ہوا اور اجتماعی اور ملکی زندگی میں مذہبی تحریکوں کو فروغ حاصل ہوا۔ علما کی قیادت میں پوری قومی زندگی کی تنظیم بہتر ہوئی، دینی لٹریچر تیار ہوا اور مذہبی جذبات کو عام فروغ حاصل ہوا۔

۲- تہذیب مغرب کی یلغار پر ردِعمل کا  آغاز :اس زمانے میں مغربی تہذیب اور اس کی نقالی پر تنبیہ (warning)کا رجحان مضبوط ہوا۔ وہ مرعوبیت جو اَب تک ذہنوں پر مسلط تھی، کچھ کم ہوئی۔ مغرب کے خلاف سیاسی اور تہذیبی ردعمل رُونما ہوا۔ نام نہاد ’نئی روشنی‘ پر بھی تنقیدی نگاہ ڈالی جانے لگی اور اندھی تقلید کی رو کو ایک دھچکا لگا۔

۳- قومی نقطہ ٔ نظر کی ابتدا  : ساتھ ہی ساتھ قومی نقطۂ نظر پیدا ہونا شروع ہوا۔ دوسروں سے موازنہ اور اپنی تاریخ، اپنے قائدین اور مفکرین ، اپنے شعرا کی عظمت کا احساس پیدا ہوا۔

ہمارا یہ جائزہ نامکمل رہے گا، اگر ہم بے لاگ طور پر نہ بتائیں کہ احیائے اسلامی کے نقطۂ نظر سے اس دور میں اہم کمزوریاں کیا پائی جاتی تھیں، مثلاً:

۱- ساری قوت اس بات پر صرف ہورہی تھی کہ بس، اسلام کو اعلیٰ اور شان دار ثابت کیا جائے۔ وقت کے مسائل اور ان حقیقی تہذیبی مشکلات کو حل کرنے کی طرف ضروری توجہ نہیں دی گئی بلکہ ’پدرم سلطان بود‘ کی خوراک پر خوراک قوم کو دی جاتی رہی۔

۲- بڑی حد تک سارا انداز رومانی اور جذباتی تھا۔ اس زمانے کے ادب، صحافت، حتیٰ کہ فلسفہ اور تفسیری ادب پر بھی ایک قسم کی افسانوی اور شاعرانہ رومانیت چھائی ہوئی تھی۔ یہاں پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اس کا ایک سبب یہ تو نہیں تھا، کہ بیداری کی اس تحریک کے زمانے اور دور کے تقریباً تمام معمار شاعر بھی تھے؟

۳- قومی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں ذہنی انتشار نظر آتا ہے۔ اسلام کا معیارِ اقتدار نکھر کر قوم کے سامنے نہیں آرہا تھا۔ ایک ہی قلم سے دوسرے خلیفۂ راشد عمرؓ بن الخطاب [م: ۷نومبر ۶۴۴ء] اور عباسی حکمران ہارون الرشید [م:۲۴مارچ ۸۰۹ء]کی عظمت کے نقوش صفحات پر ثبت کیے جارہے تھے۔پھر گمراہ کن عقائد و انتظام کے علَم بردار مغل بادشاہ اکبر [م: ۲۷؍اکتوبر ۱۶۰۵ء] اور الٰہیاتِ اسلامی کے عظیم پیش کار شاہ ولی اللہ [م:۲۰؍اگست ۱۷۶۲ء] دونوں کو ایک ہی سانس میں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا۔ جامع مسجد دہلی اور آگرہ میں تاج محل مقبرے کو ساتھ ساتھ رکھا جاتا۔ افسوس کہ اس عظیم تضاد کو محسوس نہ کیا جاسکا۔

۴- اسلام کی دعوت کو فکری اور فلسفیانہ بنیادوں پر استوار نہ کیا جاسکا۔ خاصی حد تک ٹھوس دلیل کی جگہ شعر اور حقائق و شواہد کی جگہ نعروں سے کام چلایا جاتا رہا۔مغربی تہذیبی افکار پر کوئی مستقل تصنیف اُس زمانے میں نہیں آئی، اور اہم مسائل پر کوئی تفصیلی بحث نہیں ملتی۔ سائنس اور فلسفہ نے جو حقیقی سوالات پیدا کیے تھے، ان سے کوئی پنجہ آزمائی کرتا نظر نہیں آتا۔

صرف ایک علّامہ محمد اقبال نے اس سلسلے میں کوشش کی اور ایک نئے انداز کی داغ بیل ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تشکیلی کام کا دائرہ محدود تھا اور دائرۂ اثر اس سے بھی زیادہ محدود۔

۵- اس زمانے میں ہمہ گیر حرکت تو بہت نظر آتی ہے۔اجتماعی تنظیم بندی بھی ملتی ہے لیکن مستقل بنیادوں پر مسلمانوں کو اسلامی اصولِ تنظیم کے مطابق جمع نہیں کیا گیا۔ ان کی ایسی تنظیم بندی نہیں نظر آتی کہ جس کے ذریعے ان کی صلاحیتیں ایک مثبت دعوت پر جمع ہوجاتیں اور ان کی ترقی اور تربیت کا مناسب انتظام ہوپاتا۔

۶- مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی باہم کش مکش اور ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش سبھی کو بدنام کرتی دکھائی دیتی ہے، جس سے آہستہ آہستہ عام بے اعتمادی کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ اندرونی کمزوریوں اور بیرونی اثرات کی بنا پر یہ دور ختم ہوگیا اور اس کے بعد بیسویں صدی کا ایک سخت تاریک دور آیا، جو ۱۹۲۵ء سے تقریباً ۱۹۴۰ء تک رہا۔

  • ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

’تحریک ِ خلافت‘ کی ناکامی کے بعد مسلمان ایک بار پھر مایوسی کا شدید شکار ہوئے۔ دوسری طرف تقریباً تمام مسلمان لیڈرناکام ہوچکے تھے، کوئی دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہ تھا۔ مسلمان ایک ایسے ریوڑ کی مانند تھے جس کا کوئی نگہبان نہ ہو اور ایک ایسے قافلے کا رُوپ پیش کررہے تھے کہ جس کا کوئی سالار نہ ہو۔ مغربیت اور اشتراکیت (۱۹۱۷ء میں روس میں اشتراکیت کی کامیابی کے بعد بعض مایوس مسلمانوں کو اس میں ایک نیا میدان نظر آرہا تھا) کا پلڑا بھاری ہوا تو ذہنوں کو منتشر خیالی کا شکار کرنے کے لیے بہت سے فتنوں نے سر اُٹھایا۔ جن میں تجدّد، تشکیک اور انکارِ سنت کے علَم برداروں کے ساتھ ساتھ ’ترقی پسند ادب‘ کی تحریک ذہن سازی کے لیے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو [م: ۲۷ مئی ۱۹۶۴ء] اس دور کے برطانوی ہند کے نوجوانوں کا نیا ہیرو تھا، جو زبانی اور کلامی سطح پر، اُبھرتی اشتراکیت کا علَم بردار سمجھا جاتا تھا۔

اس زمانے میں تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ مشیت الٰہی کے تحت اسی تاریکی کا سینہ چاک کر کے احیائے اسلام کی نئی کوششیں رُونما ہوئیں۔ تحریک ِ پاکستان اور تحریک ِ اسلامی ایک نئے دور کی نقیب ثابت ہوئیں اور مسلمانانِ ہند کی تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی۔ یوںقائداعظم محمدعلی جناح [م:۱۱ستمبر ۱۹۴۸ء] کی قیادت میں مسلمانانِ ہند نے ایک منزل متعین کی، اور اُن کی رہنمائی میں ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کے بعد برصغیر جنوب مشرقی ایشیا میں ایک ایسے سفر کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں جغرافیائی، سیاسی اور فکری سطح پر نئی مملکت کی تشکیل ہوئی۔ اقبال اور جناح نے عالمِ اسلام میں جس عملی تصور کی صورت گری کی، اس کا متحرک عنوان ’اسلامی احیا‘ ہے اور جس کے داعی ہیں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی۔

قیامِ پاکستان نے جہاں اسلام کی بنیاد پر دورِحاضر میں ایک ریاست کے قیام سے اسلام کے اجتماعی زندگی کے عملی پروگرام کا دروازہ کھول دیا، وہیں مولانا مودودی نے دین کا صحیح اور    جامع تصور اور اس کے انفرادی، اجتماعی اور ریاستی پہلوئوں کو بہ یک وقت دلیل کی قوت سے واضح کیا ہے۔ انھوں نے برملا یہ بتایا ہے کہ انسان کا سب سے پہلا رشتہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ سے ہے،، اور یہ رشتہ اس کی اپنی ذات، اس کی تربیت ، سیرت سازی اور تزکیہ سے ہے۔ یہ رشتہ اس کی پوری زندگی کی صورت گری کرتا ہے۔ دوسرا حصہ انسان کا دوسرے انسانوں سے، خاندان اور معاشرے سے، معیشت، سیاست اور ریاست سے تعلق پر مشتمل ہے۔اس طرح اسلام کا منشا یہ ہے کہ وہ ایک سوشل سسٹم کے طور پر قائم ہو۔ جس کے بنیادی، عملی اور اخلاقی اصول مدینہ کی اسلامی ریاست کے ماڈل پر ہر دور میں اسلامی نظریاتی ریاست قائم کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ نے اسےقائم کرنے کی رہنمائی اور تعلیم دی ہے۔

جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرسنت روشنی کا چراغ ہے، وہاں نزولِ وحی کے آغاز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دُنیا سے رخصت ہونے تک رہنمائی کا ایک سدابہار تسلسل ہے۔ الحمدللہ، دین کے اس مکمل اور جامع تصور کو پیش کرنے کا فی زمانہ اعزاز مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی اور اُن کی برپا کردہ تحریک اسلامی کو حاصل ہے۔(جاری)