ہر دور کے کچھ مخصوص نعرے ہوتے ہیں، جن کا چلن آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ ہرشخص کی زبان پر رواں ہوجاتے ہیں اور ہرکس و ناکس بلاادنیٰ غوروفکر، انھی کے انداز میں سوچنے اور انھی کی زبان میں بولنے لگتا ہے۔
ان نعروں کا رواجِ عام ہونا، عقل و فہم کی موت کے مترادف ہے۔ جب یہ ذہنوں پر چھا جاتے ہیں تو آزادیِ فکر باقی نہیں رہتی۔ عامی اور عالم، اَن پڑھ اور پڑھے لکھے، سب انھی کا سہارا لینے لگتے ہیں اور سمجھ بوجھ کی صلاحیتیں اِس آکاس بیل کے تحت مرجھا جاتی ہیں۔
ہمارے دور میں بھی کچھ خاص نعرے ہیں، جو رواجِ عام اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نعرہ ہے: ’با زمانہ بساز‘۔ آئے دن یہ بات زورشور سے دُہرائی جارہی ہے کہ:
زمانہ بدل چکا ہے۔ مذہب کو زمانے کی تبدیلیوں کا ساتھ دیتے ہوئے نئے حالات کے مطابق بدلنا چاہیے۔ اگر مذہب دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا گیا ، تو اس کے خلاف بغاوت ہوجائے گی اور وہ زندگی سے بے دخل ہوجائے گا۔ جمود کا نتیجہ موت ہے۔ ہم کو زمانے کی تبدیلی کے ساتھ بدلنا ہوگا، ورنہ موت کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔
آج جسے دیکھو وہ کسی نہ کسی عنوان سے یہی درس دیتا نظر آتا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس نعرے پر ’ایمان بالغیب‘ لانے کے بجاے اس کے تمام پہلوئوں پر عقل و تجربے کی روشنی میں غور کیا جائے اور محض اس لیے کسی بات کو قبول کرنے کی غلطی نہ کی جائے کہ اس کا اظہار بہ تکرار ہو رہا ہے۔
اس امر میں شبہے کی کوئی گنجایش نہیں کہ زمانہ ہمیشہ بدلتا رہا ہے، بہت کچھ بدل چکا ہے اورمزید رنگ بدلے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمود ایک مصیبت ہے ، جو قوم کی تخلیقی قوتوں کو یخ بستہ کردیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر تبدیلی صحت مند ہے؟ کیا ہرخیر باعث ِ تغیر ہے؟ کیاتاریخ کا ہر قدم عروج ہی کی طرف اُٹھتا ہے؟ اور کیا ہر حرکت بلندی ہی کی سمت جاتی ہے؟
ان سوالات پر جب آپ تاریخ کی روشنی میں غور کریں گے، تو لازماً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان کا جواب نفی میں ہے۔ ہرحرکت لازماً ترقی کے مترادف نہیں۔ ایک نوع کی حرکت اگر آپ کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے، تو ایک دوسری قسم کی حرکت تحت الثریٰ کی پستیوں تک گرا دیتی ہے ۔ مطلوبِ نفس،محض حرکت نہیں بلکہ صحیح سمت میں حرکت ہے۔
ترقی ایک نسبتی یا اضافی (relative) اصطلاح ہے۔ ترقی اور تنزل کا فیصلہ منزل کے لحاظ ہی سے ہوسکتا ہے۔ ہم صرف اسی حرکت کو ’ترقی‘ کہہ سکتے ہیں، جو صحیح راستے سے ہمیں اپنی منزل کی طرف لے جارہی ہو۔ جو حرکت منزل کے برعکس سمت میں لے جائے، وہ ترقی نہیں بلکہ تنزل ہے۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حرکت سے پہلے سمت ِ حرکت اور منزلِ مقصود کا تعین ہونا چاہیے، ورنہ محض جمود کو توڑنے کے شوق میں کوئی حرکت کرکے آپ اپنی منزل سے اور دُور بھی ہٹ سکتے ہیں۔ تمدنی اور تہذیبی زندگی میں اصل معیار وہ مقصد ہوتا ہے، جو آپ حاصل کرنا چاہیں۔ اگر آپ کا مقصد اور آپ کی منزل اسلام ہے، تو پھر ہر وہ حرکت جو اس کی مخالف سمت میں لے جائے، خواہ وہ کتنی ہی سبک خرام کیوں نہ ہو، ترقیِ معکوس ہوگی، بلکہ یہ حرکت جتنی تیز ہوگی، تنزل اتنا ہی تیز رفتار ہوگا۔
اسی طرح اندھی تقلید اور کورانہ نقالی صرف ماضی ہی کی نہیں ہوتی۔ یہ حال کے مروّجہ طریقوں اور ضابطوں کی بھی ہوسکتی ہے۔ اور کسی فرد یا قوم کی خودی اور اس کے صحت مندانہ ارتقا کے لیے جتنی مہلک ماضی کے بتوں کی اندھی پرستش ہے، اتنی ہی مہلک حال کے نئے بتوں کی پوجا بھی ہے، بلکہ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو نقالی دراصل ’جمود‘ ہی کی ایک شکل ہے۔ اگرچہ ہے بڑی پُرفریب! عقل و فکر کو دونوں ہی صورتوں میں معطل کر دیا جاتا ہے۔ ’جمود‘ میں آپ ماضی کی پرستش کرتے ہیں اور لکیر کے فقیر بنے رہتے ہیں، تو نقالی میں آپ ماضی کے بجاے کسی نئے سورج کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کی خودی کے لیے دونوں تباہ کُن ہیں۔
جو لوگ زمانے کے چلن کی پیروی کا بلاوا دیتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ شعوری یا غیرشعوری طور پر وہ دراصل دوسروں کی تقلید ہی کی دعوت دے رہے ہیں، اور ’جدید‘ کی تقلید اگر کی جائے تو وہ کوئی فخر کے قابل چیز نہیں بن جاتی۔ اُس کے نقصانات علیٰ حالہٖ قائم رہتے ہیں، جن کی بناپر قوم کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں کبھی اُبھرنے نہیں پاتیں۔ اس کی وجہ سے انسان کی روح میں جمود اور احساسِ کمتری پیوست ہوجاتا ہے۔ انجام کار، پوری قوم زمانے کو بدلنے کے بجاے بس خود اپنے ہی آپ کو بدلنے میں لگی رہتی ہے اور دوسروں کی ’شاگردی‘ کے مقام سے آگے بڑھنا کبھی اسے نصیب نہیں ہوتا۔
پھر زمانے کی تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اس امر کو بھی ملحوظ نہیں رکھتے کہ زمانہ تو بدلنے ہی کے لیے بنا ہے۔ آج وہ ایک خاص سمت میں تبدیل ہورہا ہے تو کل کسی دوسری سمت میں تبدیل ہوجائے گا۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے ہمیشہ اپنے ہی دور کی غالب تہذیب کو ترقی کا کمال سمجھتے رہتے ہیں۔
چشمِ تاریخ نے اس امر کا بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ بڑی سے بڑی طاقت ور تہذیب بھی ایک دن زوال کی نذر ہوجاتی ہے:
اگر ماضی کی تمام غالب تہذیبیں قابلِ تسخیر ثابت ہوئیں، اور ایک دن کامیاب وہی لوگ ہوئے جو ان کی نقالی نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی جگہ ایک دوسرا نظام پیش کرتے تھے تو مستقبل کے متعلق یہ کیوں تصور کرلیا جائے کہ جدید مغربی تہذیب کوباوجود اس کے موجودہ غلبے کے،مسخر نہیں کیا جاسکتا؟
محض یہ چیز کہ آج ایک خاص تہذیب کو غلبہ حاصل ہے، اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ: ’’یہی تہذیب مبنی برحق بھی ہے۔ نہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اسی کو ہمیشہ قائم رہنا ہے اور نوعِ انسانی کے لیے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنے آپ کو اسی کے مطابق ڈھال لے‘‘۔
طاقت اور غلبہ، حق کے معیارات کو تبدیل نہیں کردیتے اور اقتدار کسی چیز کو محاسن کا پیکر نہیں بنا دیتا۔ نہ ہر رائج شدہ چیز ناقابلِ تغیر اور ناقابلِ تسخیر ہوتی ہے۔ یہ کمزوروں کی روش دکھائی دیتی ہے کہ وہ طاقت کی پوجا کرتے ہیں اور ہرچڑھتے سورج کے آگے جھک جاتے ہیں۔ یہ کم نظروں کا طریقہ ہے کہ وہ محض اس بناپر کسی مسلک کو اختیار کرلیتے ہیں کہ اسے اقتدار اور غلبہ حاصل ہے اوریہ نہیں دیکھتے کہ وہ کہاں تک صحیح ہے اور کہاں تک غلط؟
اصل قدر غلبہ نہیں، سچائی ہے
حالاںکہ دیکھنے کی اصل چیز غلبہ اور طاقت نہیں بلکہ کسی چیز کا حق یا باطل ہونا ہے۔ اگر زمانہ بدل رہا ہے تو اس کو مزید بھی بدلا جاسکتا ہے۔ لیکن محض زمین و آسمان کی گردش اور ماہ و سال کی آمدورفت کی وجہ سے زندگی کے اصول، خیروشر کی تمیز اور حق و باطل کے معیار نہیں بدلے جاسکتے۔
جدید ذہن کی تعمیر جن عوامل نے کی ہے، ان میں وہ فکروفلسفہ بھی شامل ہے، جو ہرنئی چیز کو خوب تر اور قابلِ احترام اور لائقِ اختیار سمجھتا ہے۔ مغرب کے ذہن کو ہیومنزم (Humanism) کے فلسفے نے بہت متاثر کیا ہے۔ اس فلسفے کی اساس، تاریخ میں ناگزیر ترقی کا اصول (Inevitability of progress)ہے۔ اس کی رُو سے:’’ہر آنے والا دن، گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے۔ انسان کا ورثہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ حال، ماضی سے اچھا ہے اور مستقبل، حال سے بہتر ہوگا۔ ہمارے قدم لازماً ترقی کی طرف اُٹھ رہے ہیں اور اب پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں‘‘۔
اس اصول کو فریڈرک ہیگل کے’ فلسفۂ جدلیاتی تاریخ‘ اور کارل مارکس کی ’معاشی تعبیرتاریخ‘ نے بڑی تقویت پہنچائی۔ یہ اسی اندازِ فکر کا نتیجہ ہے کہ ماضی کی ہرچیز کو کم مایہ اور حقیر، اور حال کی ہرشے کو قابلِ قدر سمجھا جا رہا ہے۔ ترقی کا لازمی تقاضا یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ تغیر زمانہ کے نام پر ہرقدیم چیز کو بدل ڈالا جائے۔
یہ نظریہ بدیہی، منطقی اور عقلی طور پر غلط ہے۔ ہمیں انسانی تاریخ میں ارتقا کی کوئی سیدھی لکیر نظر نہیں آتی۔ یہ ’تاریخ‘ بڑی کج رو واقع ہوئی ہے: اس میں ترقی بھی ہے اور تنزل بھی، عروج بھی ہے اور زوال بھی، ارتقا بھی ہے اور انحطاط بھی، فراز بھی ہے اور نشیب بھی۔ ہربعد کے دور کو پچھلے دُور سے بہتر سمجھنا تاریخی لحاظ سے ایک بالکل غلط مفروضہ ہے، جسے ہرگز صحیح ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
جدید تاریخ کے فلسفیوں میں سے کوئی ایک بھی ہیگل اور مارکس کی اس توجیہ کو صحیح نہیں سمجھتا اور خود تاریخی حقائق اس کی توثیق کرنے سے انکاری ہیں۔ ’مسلسل ارتقا‘ کا نظریہ آج علمی حیثیت سے ایک متروک نظریہ ہے۔ لیکن اس کے بطن سے جس فاسد تصور نے جنم لیا ہے، وہ عام پڑھے لکھے لوگوں کے دماغ پر مسلط ہے۔ وہ اپنی ترقی پسندی کا ڈھول پیٹنے کے لیے محض فیشن کے طور پر ہرقدیم چیز پر ناک بھوں چڑھاتے اور ہرنئی چیز کی طرف بے سوچے سمجھے لپک پڑتے ہیں۔ حالانکہ قدیم کو لازماً بُرا اور جدید کو لازماً اچھا سمجھنا اور تمام قدیم چیزوں کو تبدیلی کے خراد پر چڑھا دینا، ایک غلط روش ہے، جس کے لیے کوئی معقول دلیل موجود نہیں۔
اسی طرح سوال یہ بھی ہے کہ: ’’زمانے کے تغیر کی نوعیت کیا ہے؟ اور یہ تغیر زندگی کے کس دائرے میں واقع ہو رہا ہے؟‘‘
کائنات کا وہ دور جو زمین پر انسان کی آمد سے شروع ہوا ہے، اب تک جاری ہے۔ ارتقاے کائنات کے نقطۂ نظر سے اگر غور کیا جائے، تو یہ امر صاف ظاہر ہے کہ موجودہ دَور اپنی چند متعین خصوصیات رکھتا ہے، جو انسانی تہذیب کے سارے ہی مرحلوں میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان خصوصیات میں کوئی اساسی تبدیلی اسی وقت واقع ہوگی، جب یہ دَور ختم ہوجائے گا اور کوئی دوسرا دَور شروع ہوگا، یعنی دورِ آخرت۔
اس پورے زمانے میں انسان کی فطرت، کائنات کے فطری قوانین، انسانی زندگی کے اساسی اصول، حیات و موت کے ضابطے، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں، ہدایت و ضلالت کے قواعد، یہ تمام ایک ہی رہے ہیں اور ایک ہی رہیں گے۔ افراد پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں۔ تہذیبیں اُبھرتی ہیں اور معدوم ہوجاتی ہیں۔ سلطنتیں بنتی ہیں اور بگڑکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں: کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ(الرحمٰن۵۵:۲۶)، لیکن قدرتِ حق کے تحت فطرت کے قوانین غیرمتبدل ہیں۔ زندگی کی اصل غیرمتغیر ہے، اور اجتماع و تمدن کے اساسی ضابطے ثابت و مستحکم ہیں۔ ایک ہی اصول ہے جو کارفرما ہے، ایک ہی حقیقت ہے جو جلوہ گر ہے۔
تغیر و تبدل صرف ظاہری اور سطحی چیزوں میں ہے، بنیادی اور اساسی چیزوں میں نہیں۔ اس لیے یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی کے موجودہ دور میں جو تغیرات بھی واقع ہو رہے ہیں، وہ ایک محدود دائرے میں ہیں۔ بنیادوں میں نہیں۔ صرف فروع میں ہیں، اور ان کی بناپر قدیم و جدید کا جھگڑا بجز کوتاہ نظری کے اور کچھ نہیں۔ بقولِ علامہ محمد اقبال ؎
زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری، قصۂ جدید و قدیم
محض تبدیلی مذموم نہیں
ہم تغیر کے وجود کے منکر نہیں ہیں۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ لیکن جس چیز کا سمجھنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اس تغیر کی نوعیت کیا ہے؟ اس لیے کہ اس کی نوعیت کو سمجھے بغیر کوئی صحت مند اجتماعی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی۔
انسان کی اجتماعی زندگی میں جو تبدیلی بھی آرہی ہے، وہ ذرائع اور رسل کی دنیا میں ہے، مقاصد اور اصول و اَخلاق کی دنیا میں نہیں۔ فنی ایجادات اور تکنیکی انکشافات، انسان کے وسائل اور فطری قوتوں پر اس کے اختیار کو برابر بڑھا رہے ہیں۔ زمان و مکان کی رکاوٹیں دُور ہورہی ہیں اور انسان کا اقتدار بڑھ رہا ہے۔ لیکن یہ ساری تبدیلی ذرائع اوروسائل ہی کی حد تک ہورہی ہے۔ اس تبدیلی کا یہ تقاضا ہرگز نہیں ہے کہ مقاصد ِ زندگی، اُصولِ اخلاق اور اقدارِ حیات کو بھی تبدیل کر دیا جائے۔
اگر ہوائی جہاز، جیٹ اور راکٹ کے استعمال سے زمین کی طنابیں کھنچ گئی ہیں، تو اس کے یہ معنی کب ہیں کہ زنا جو کل تک حرام تھا، آج حلال ہوجائے؟ اگر برقی قوت کے ذریعے انسان کے پاس وہ طاقتیں آگئی ہیں، جو پہلے صرف جنوں اور فرشتوں سے منسوب تھیں، تو اس کا آخر کیا اثر خیروشر کے اصولوں کی صداقت پر پڑتا ہے؟ میزائل اور خلائی راکٹوں کے استعمال کا آخر یہ تقاضا کب ہے کہ جھوٹ، سُود، سٹہ، دھوکا دہی، شراب اور دوسرے منکرات کو جائز قرار دے دیا جائے؟ صنعتی ترقی کا آخر یہ تقاضا کب ہے کہ اصولِ انصاف کو بھی بدل دیا جائے؟
جو حضرات سطحی نظر رکھتے ہیں، وہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ یہ تغیرات اصولوں میں ردّوبدل کے مقتضی ہیں۔ درحقیقت تمام ایجادات و اکتشافات انسان کے لیے ہیں، انسان ان کے لیے نہیں۔ تمام مادی ترقیات اسی وقت مفید ہوسکتی ہیں، جب وہ انسان کی بھلائی کے لیے استعمال ہوں۔ خود بھلائی اور بُرائی کے اصول، ان کی خاطر نہ بدل جائیں۔ یہ قوتیں جو انسان کو حاصل ہوئی ہیں، اُسی وقت نافع ہیں جب وہ اعلیٰ مقاصد ِ حیات کے تابع ہوں، اپنے ریلے میں وہ ان اعلیٰ مقاصد ِ زندگی کو بہا کر نہ لے جائیں۔ مقاصد اور اصول کو ان کے مطابق نہیں، بلکہ ان کو مقاصد و اصول کے مطابق بدلنا چاہیے۔ مقاصد اور اصولوں کی حیثیت تو اُن معیارات کی ہے، جن سے تکنیکی ترقیات کے حُسن و قبح کو ناپا جائے گا۔ اگر ان ترقیات کے باوجود انسان ہی پریشان و مضطرب رہتا ہے، تو پھر ساری مادی ترقی بے کار ہے ؎
نہ کلی ہے وجہ نظر کشی، نہ کنول کے پھول میں تازگی
فقط ایک دل کی شگفتگی، سببِ نشاطِ بہار ہے
انسانی زندگی میں تغیر کا منہاج (methodology)کچھ ایسا ہے کہ تبدیلی کے ساتھ ساتھ ثبات اور دوام کا بھی ایک پہلو موجود ہے۔ تبدیلی ہرلحظہ آتی ہے، لیکن بنیادی حقیقت کو متاثر کیے بغیر۔
مثال کے طور پر انسان کے جسم اور اس کی ذات ہی کو لیجیے:میڈیکل سائنس کے مشاہدات ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان کے جسمانی نظام میں ہرلمحہ تغیرات ہورہے ہیں۔ ایک بچے کے جسم کا ایک ایک ریشہ جوان ہونے تک بدل جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ برابر جاری رہتا ہے، حتیٰ کہ ایک خاص مدت میں ہر انسان کا جسم اپنے کو بالکل تبدیل کر کے ایک نیا جسم بن جاتا ہے، لیکن اس تبدیلی میں بنیادی نظام وہی رہتا ہے اور ہرشخص کی اساسی شخصیت اور اس کی اَنا (ego) جوہری طور پر غیرمتبدل رہتی ہے۔
اسی کیفیت کو نکولائی بردائیف (Nicoli Berdyve) نے ان الفاظ سے تعبیر کیا ہے: Personality is Changelessness in Change(انسانی ذات، تغیرات کے جلو میں عدم تغیر کا نام ہے)۔
اور برگسان نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے:’’ہم میں تغیر تو آتا ہے، لیکن ہماری بنیادی حقیقت معدوم نہیں ہوتی‘‘۔
اسی طرح درختوں کو دیکھیے: ایک درخت، ایک خاص مدت میں اپنے پھول پتّے بالکل تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کی نباتاتی زندگی میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ تبدیلی اس کی اصل کو نہیں بدلتی بلکہ اس سے ہم آہنگ رہتی ہے۔ اس درخت کا ایک بنیادی رنگ اور ایک بنیادی تاثیر ہوتی ہے ،جو بہرصورت غالب رہتے ہیں اور یہی اس درخت کی انفرادیت ہے ؎
صبحِ بہار آئی ہے لے کر، رُت بھی نئی، شاخیں بھی نئی
غنچۂ و گل کے رُخ پر لیکن، رنگ قدامت آج بھی ہے
زندگی محض تغیر نہیں
یہ فطرت کا قانون ہے جو ہر شعبۂ زندگی میں جاری و ساری ہے۔ انسان کی اجتماعی اورتہذیبی زندگی میں بھی ہمیں یہی جلوہ گر نظر آتا ہے۔ اسی بنیاد پر علامہ محمداقبال نے کہا تھا:
ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ زندگی محض تغیر ہی نہیں، اس میں حفظ و ثبات کا ایک عنصر بھی موجود ہے… لہٰذا، اس ہرلحظہ آگے ہی آگے بڑھنے والی حرکت میں، انسان اپنے ماضی کو نظرانداز نہیں کرسکتا… اسی بات کو ہم دوسرے لفظوں میں یوں ادا کریں گے کہ زندگی چونکہ ماضی کا بوجھ اُٹھائے آگے بڑھتی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ جماعت میں تغیر و تبدل کا جو نقشہ بھی ہم نے قائم کیا ہو، اس میں قدامت پسند قوتوں کی قدروقیمت اور وظائف کو فراموش نہ کریں۔(ڈاکٹر محمد اقبال، تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ ، ترجمہ:سید نذیر نیازی، ص۲۵۷)
ان اُمور کے واضح ہو جانے کے بعد اب مسئلے کا سمجھنابہت آسان ہوجاتا ہے۔
اسلام، اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کا نام ہے، جو اس نے اپنے برگزیدہ نبیوں کے ذریعے انسان کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً بھیجی ہے اور جو اپنی آخری اور مکمل شکل میں ہم کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے پہنچی ہے۔ یہ وہ ضابطۂ حیات ہے، جو عین فطرت کے اصولوں پر قائم ہے اورانسان اسی کے ذریعے سے دنیاوی اور اُخروی دونوں کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔ یہ زندگی کا مکمل قانون ہے۔ اس قانون کو انسان نے نہیںاللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ یہ ابدالآباد تک کے لیے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔
قرآن پاک کی یہ آیات بالکل صاف اور واضح ہیں، اور اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اللہ کا دین، اس کے احکام اور قوانین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں اور محض زمانے کی تبدیلی کی وجہ سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ تبدیلی زمانے میں کرنی ہوگی، اللہ کے قانون میں نہیں۔ اس پس منظر میں مردود وہ ہیں جو ع
نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أو آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (بخاری:۳۱۷۹) ’’جو بدعت نکالے یابدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے‘‘۔
اگر اس مسئلے پر عقلِ سلیم کی روشنی میں غور کیا جائے،تو فکرونظر کا ہر گوشہ اس بات پر گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے قانون میں کسی تبدیلی کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجایش۔ اور اس کی وجہ بھی بہت واضح ہے۔ زمانے کی تبدیلی کا اثر اُس قانون اور اصول پر پڑتا ہے، جسے انسان نے بنایا ہو۔
انسانی فکر زمان و مکان [time and space]کی حدود میں مقید ہے۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کے تمام حقائق سے واقف نہیں۔ وہ ایک محدود بصیرت کے ساتھ آج ایک چیز کو صحیح سمجھ کر پیش کرتی ہے، مگر کل جب وہ حالات سامنے آتے ہیں، جن کا کوئی تصور پہلے موجود نہ تھا، تو وہ غلط ثابت ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا علم ہرشے پر محیط ہے۔ زمان و مکان کی قیود اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ جو قانون ایسے اللہ کی طرف سے ہو، اس کا کسی ایک مخصوص زمانے کے ساتھ محدود ہوجانا کیسے ممکن ہے۔ اللہ کے علم اور دیے ہوئے قانون کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کبھی ازکار رفتہ ہوجائے۔ وہ تو ہمیشہ اتنا ہی تازہ رہے گا، جتنی صبحِ نو!
ثانیاً: اللہ کا یہ قانون بنیادی طور پر ہدایت و ضلالت کی حقیقت کو واضح کرتا ہے اور اُن اصولوں اور اُن اقدار کو بیان کرتا ہے جن پر وقت کے تغیرات، تہذیبوں کے عروج و زوال اور ماہ و سال کی آمدورفت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ فطرت کے اصولوں کو بیان کرتا ہے اور فطرت کا قانون قائم و مستحکم ہے۔
ثالثاً: قرآن و سنت اصولی رہنمائی دیتے ہیں، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں فراہم کرتے ہیں اور ان اساسی اداروں کو قائم کرتے ہیں، جنھیں ہر زمانے میں قائم رہنا چاہیے۔ ان چیزوں پر زمان و مکان کے تغیر کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ اصول غیرمتبدل ہیں اور ان میں تبدیلی فطرت کے قانون کے خلاف ہوگی۔
ان وجوہ کی بنا پر زمانے کی تبدیلی کے مطابق اسلام میں تبدیلی کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔
یہی چیز ہے،جو انبیاؑ کی سنت اور صلحا کی کی قابل قدر زندگیوں کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ ہر نبی ایسے حالات میں مبعوث ہوا، جب زمانے کا بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا اور زندگی کا دریا بالکل غلط رُخ پر رواں دواں تھا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی نبی نے زمانے کے چلن کے مطابق اسلام کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ زمانے کے رنگ سے متاثر نہ ہوئے، بلکہ زمانے کو اپنے رنگ میں رنگنے کی سعی میں مصروف ہوگئے، اور بالآخر اس پر صبغۃ اللہ کو غالب کردیا۔ قرآن میں اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے:
ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ o(الصف ۶۱:۹)وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے، خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
ہدایت اور دینِ حق ہیں ہی اس لیے، کہ انبیاؑ ان کو دنیا کے باقی تمام نظاموں اورطریقوں پر غالب کریں۔ اللہ کا دین اس لیے نہیں ہے کہ اسے زمانے کے چلن کے مطابق بدلا جائے بلکہ اس لیے ہے کہ زمانے کو اس کے مطابق بدلا جائے اور اس کو غلبہ و اختیار کا مقام حاصل ہو۔ مشرکوں، کافروں اور منافقوں کی تو دلی تمنا ہی یہ ہوتی ہے کہ دین کو ان کے منشا کے مطابق بدلا جائے، لیکن اللہ اس بات کو صاف کردیتا ہے کہ ان کی ناخوشی کا ہرگز کوئی خیال نہیں کیا جاسکتا۔ سربلندی دین کو حاصل ہونی چاہیے اور زمانے پر اس کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔
انبیاؑ کی سیرت اسی حقیقت پر شاہد ہے ۔ حضرت نوحؑ ^کی قوم بغاوت پر تلی رہی۔ آپ نے ساڑھے نو سو سال تک دینِ حق کی دعوت دی، لیکن ایک دن کے لیے بھی وہ ’وقت کے تقاضوں‘ کے مطابق دین کو تبدیل کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی دعوت یہی رہی کہ:
یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط(الاعراف۷:۶۵)اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے۔
تمام انبیاؑ کی سنت یہی رہی ہے۔ نبی اکرمؐ کے زمانے میں مشرق سے مغرب تک جو نظام چل رہا تھا، اسے قبول کرنے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو اور اپنے دین کو ڈھالنے کے بجاے آپ نے اسے ایک فاسد نظام قرار دیا: ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم۳۰ :۴۱) ’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے‘‘ لیکن اللہ کے نبیؐ نے زمانے کے تقاضوں سے compromise اور اس کے ساتھ مصالحت کرنے کے بجاے اس کی ہرہر خرابی کے خلاف جنگ لڑی۔
وَاللّٰہِ لَوْ وَضَعُوا الشَّمْسَ فِی یَمِیْـنِی وَالْقَمَر فِی یَسَارِیْ عَلٰی اَنْ اَتَرُکَ ہٰذَا الْاَمْرَ مَا تَرَکْتُہٗ حَتٰی یظہر اللّٰہ اَوْ اہلک فیہ (سیرۃ ابن ہشام، جلد اول، استمرار رسول اللہ فی دعوتک، ص۲۶۶) خدا کی قسم! اگر یہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ کر کہیں کہ آفتاب و مہتاب کے عوض میں اس دعوت کو ترک کردوں، تو میں ہرگز اسے ترک نہ کروں گا، یہاں تک کہ یا تو اللہ اس دعوت کو غالب کردے یا مَیں اس راہ میں جان دے دوں۔
انبیاؑ کا طریقہ یہ نہیں رہا کہ وہ زمانے کے آگے جھکیں اور لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ کے دین کو بدلیں۔ وہ حق کے پیغامبر ہوتے ہیں اور زمانے کی رُو کے خلاف اپنی دعوت پیش کرکے اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ اگر وہی زمانے سے مطابقت اختیار کرلیں تو پھر انسانیت کی فلاح و اصلاح کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
اِس اسوئہ انبیاؑ کے اتباع کی بہترین مثال ہمیں حضرت ابوبکرؓ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ حضور اکرمؐ کے وصال کے بعد یکایک عرب کا نقشہ پلٹ گیا۔ ہر طرف سے بغاوتوں نے سراُٹھالیا۔ جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوئے۔ بہت سے قبائل نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کردیا۔ صحابۂ کبار تک اس صورتِ حال پر پریشان ہوگئے اور لوگ یہ راے پیش کرنے لگے کہ: ’’وقتی مصلحت کا تقاضا ہے کہ قبائل کے ساتھ نرمی برتی جائے اور وقت کی نزاکت کا لحاظ کیا جائے‘‘ مگر حضرت صدیق اکبرؓ کا جواب یہ تھا کہ:
واللہ، مجھ پر یہ فرض ہے کہ جو کام میں رسولؐ اللہ کو کرتے دیکھ چکا ہوں، خود بھی وہی کروں اور اس سے سرِمو انحراف نہ کروں۔ اگر جنگل کے بھیڑیے مدینہ میں داخل ہوکر مجھے اُٹھا لے جائیں تو بھی مَیں وہ کام کرنے سے باز نہ آئوں گا، جسے رسولؐ اللہ نے کرنے کا حکم دیا ہے۔ واللہ، اگر مانعینِ زکوٰۃ اُونٹ باندھنے کی ایک رسّی دینے سے بھی انکار کریں گے، جسے وہ رسولؐ اللہ کے زمانے میں ادا کرتے تھے، تو بھی مَیں ان سے جنگ کروں گا۔ اللہ کی قسم! میں زکوٰۃ اور نمازمیں فرق کرنے والے لوگوں سے ضرور لڑوں گا۔
اسلام عبارت ہی نبیؐ کی سنت کی پیروی سے ہے۔ اگر زمانے کی سنت نبیؐ کی سنت سے متصادم ہے تو وہ شخص اپنے دعواے ایمان میں جھوٹا ہے، جو نبیؐ کی سنت کو چھوڑ کر زمانے کی سنت اپناتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کا دین ثابت و محکم ہے اور محض زمانے کے انداز دیکھ کر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ خیال کرنا بھی غلط ہوگا کہ زمانے کے تغیرات کو دین اسلام کلّی طور پر نظرانداز کرتا ہے۔ اسلام کا طریق کار یہ ہے کہ وہ ہدایت و ضلالت کے بنیادی اصول بتادیتا ہے۔ انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے وہ حدود واضح کردیتا ہے، جو انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے درکار ہیں۔ رہے جزوی اور وقتی اُمور، تو ان کو شریعت کے دیے ہوئے بنیادی اصولوں کی روشنی میں اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر ہروقت اور ہر زمانے میں طے کرنے کی اجازت ہے۔ یہ کام اجتہاد کے ذریعے انجام پاتا ہے اور اسی کے ذریعے نظامِ دین میں حرکت و ارتقا کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
زمانے کے تغیرات پر دو قسم کے جواب (response) اسلامی تاریخ میں نظر آتے ہیں۔ ایک کا نام ’تجدید‘ ہے اور دوسرے کا ’تجدّد‘۔
’تجدید‘ یہ ہے کہ زمانے کے تغیرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اصل دین کو بلاکم و کاست پیش کیا جائے اور اپنے دور، اپنے زمانے کی زبان میں محکم استدلال کے ساتھ پیش کیا جائے۔ نیز تدبر و اجتہاد کے ذریعے دین کو اپنے دور کے حالات پر نافذ کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔ اُن تمام ذرائع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے، جو قدرت نے انسان کو فراہم کیے ہیں، اور اسلامی بصیرت کے ساتھ نئے پیش آمدہ مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں طے کیا جائے۔
’تجدید‘ کے ذریعے ہر زمانے میں دین کی تعلیمات اور زندگی کے بہائو کے درمیان تعلق اوررابطہ گہرا ہوتا جاتا ہے اور زندگی کا دریا اسلام کی شاہراہ سے ہٹ کر چلنے نہیں پاتا۔ یہاںمخلصانہ اجتہاد کے ذریعے نئے مسائل اور نئی مشکلات کو حل کیا جاتا ہے اور دین اپنے رنگ پر قائم رہتا ہے۔
’تجدّد‘ اس کے مقابلے میں وہ کوشش ہے، جو زمانے کے تقاضوں کے نام پر خود دین کو بدل ڈالنے کے لیے کی جاتی ہے۔ زندگی اور زمانے کے درمیان ربط اس طریقے سے بھی قائم ہوجاتا ہے، لیکن یہ ربط اسلام کی سرزمین پر نہیں غیراسلام کی سرزمین پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں اسلام کو اصل قرار دے کر،حالات کو اس کے مطابق ڈھالنے کے بجاے زمانے کی چلتی ہوئی تہذیب کو اصل مان کر اُس کے پیدا کیے ہوئے حالات پر اسلام کو ڈھال دیا جاتا ہے۔ اس طریق کار کو اگر مسلمان ہر زمانے میں اختیار کرتے چلے جائیں، تو اسلام کی کوئی چیز بھی اپنی جگہ پر باقی نہیں رہ سکتی، بلکہ اسلام سرے سے کسی متعین مذہب و مسلک اور نظریہ و نظام کا نام ہی نہیں رہتا۔
اسلام میں ’تجدید‘ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں اور پوری تاریخ میں اسلام کے سچے خادم یہ کارنامہ انجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ’تجدّد‘ کی اس میں کوئی گنجایش نہیں۔ ماضی میں جب بھی ’تجدّد‘ نے سر اُٹھایا ہے، مسلمانوں نے سختی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا ہے اور ہر ایسی تخریبی کوشش ملّت کی راے عام سے ٹکرا کر آخرکار ختم ہوگئی ہے۔
آج بھی بنیادی کش مکش ’تجدید‘ اور ’تجدّد‘ ہی کے درمیان ہے اور ہماری پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دین کو متجدّدین کی خاطر نہ کبھی ماضی میں بدلا گیا ہے اور نہ آج بدلا جاسکتا ہے۔ کسی مصطفیٰ کمال، کسی جمال ناصر، یاکسی اور حکمران یا صاحب ِ اثر شخصیت کی یہ طاقت نہیں ہے کہ زمانے کے تقاضوں کا نام لے کر اسلام کو بدل سکے۔ اس معاملے میں جو انجام مغل بادشاہ اکبر کی کوششوں کا ہوچکا ہے، وہی انجام اِن نئے متجدّدین کے لیے بھی مقدر ہے۔
دین میں مسخ و تحریف کی کوئی تدبیر اگر طاقت کے بل پر زبردستی نافذ کر بھی دی جائے، تواسے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے نہ ماضی میں کبھی قبول کیا ہے اور نہ آج قبول کرسکتا ہے۔ اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے اور اُس نے ایسے ذرائع بھی پیدا کر دیے ہیں کہ اس کی حفاظت ہوتی رہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَo(الحجر۱۵:۹) ہم نے ہی اس ذکرکو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
آخر میں ہم ایک اور بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ہمیشہ عظیم کارنامے انھی لوگوں نے انجام دیے ہیں، جو حالات کی رُو پر بہنے کے بجاے ان کا مقابلہ کرنے اُٹھے ہیں۔ زندگی پر اَنمٹ نقوش انھوں نے نہیں چھوڑے جو مرغ بادِ نما کی طرح ہوا کے رُخ پر مڑتے اور دوسروں کی نقالی کرتے رہے، بلکہ ان لوگوں نے چھوڑے ہیں جو ہوا کے رُخ سے لڑے ہیں اور زندگی کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا ہے۔ بڑے کام مکھی پر مکھی مارنے والوں نے نہیں کیے، اپنی راہ آپ نکالنے والوں نے کیے ہیں۔ بہادر وہ نہیں ہے جو دوسرے کے مارے ہوئے شکار کو کھاتا ہے۔ بہادر وہ ہے جو اپنا شکار خود کرتا ہے۔ قابلِ تقلید وہ نہیں ہے جو گرگٹ کی طرح صبح و شام رنگ بدلتا ہے، بلکہ وہ ہے جو خود اپنا کوئی رنگ رکھتا ہے اوردنیا کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔
مسلمان دنیا میں زمانے کے پیچھے چلنے کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں، وہ تو پوری انسانیت کی طرف اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نیکی کہتا ہے: اس کا حکم دیں، جسے اللہ تعالیٰ بدی کہتا ہے اسے مٹائیں اور دنیا میں اللہ کی اطاعت کی روش کو عام کردیں۔ وہ دوسروں کے رنگ میں رنگے جانے کے لیے نہیں ہیں، دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے ہیں:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
یہ ہے مسلمانوں کا اصل مقام …مگر انھیں ڈالا کس راہ پر جا رہا ہے؟ بقولِ اقبال ؎
کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
درحقیقت، مسلمان کے لیے اس سے بڑی ذلّت کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ اللہ کے پیغام کا امین ہونے کے باوجود، زمانے کو اپنے دین کے مطابق بدلنے کے بجاے خود زمانے کی رُو پر بہنے لگے اور اس کے ساتھ اپنے دین کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ بزدلوں اور کم نظر لوگوں کا طریقہ ہے۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جنھیں ہوائیں خس و خاشاک کی طرح اُڑائے لیے پھرتی ہیں، جن کی اپنی کوئی جڑ نہیں ہے کہ وہ اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوسکیں۔ یہ مسلمان کا شیوہ نہیں ہے، مسلمان کا شیوہ تو یہ ہے کہ ع
زمانہ با تو نہ سازد ، تو بازمانہ ستیز
۱-
۲-
۳-
۴-
۵-
’زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے ‘___ یہ ایک ایسا جملہ ہے جسے باربار سنا اور سوچا، مگر اس امر کے اعتراف سے بھی چارہ نہیں کہ ہر صدمے کے موقعے پر ایک عالمِ استعجاب (shock) میں اسے ایک نئی بات ہی محسوس کیا جاتا ہے۔ افسوس ہماری غفلت کا یہ عالم ہے کہ موت جو ہرلمحے ہمارے تعاقب میں ہے، ہم اسے بھولے رہتے ہیں۔ خود اپنی غفلت کا یہ حال ہے کہ کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسلم کو بھی ’مسلم مرحوم‘ کہنا اور لکھنا پڑے گا۔ جنوری ۱۹۵۰ء میں خرم بھائی کے پیرالٰہی بخش کالونی والے گھر میں مسلم کے ہاتھوں پانی پینے سے تعلقات کا جو باب شروع ہوا تھا، وہ محسوسات کی دنیا کی حد تک ۲۸؍اگست ۲۰۱۶ء کو عزیزی سلیم منصور خالد کے دل و دماغ کو شل کر دینے والے پیغام کے ذریعے کہ ’’مسلم بھائی بھی ہم سے رخصت ہوگئے ہیں‘‘ بند ہوگیا___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔
اللہ کا حکم ہر چیز پر غالب ہے اور اپنی حکمتوں کو وہ ہی خوب سمجھتا ہے، لیکن میرے لیے یہ صدمہ بہت بڑی آزمایش ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا میرا ہاتھ ہی ٹوٹ گیا ہو ؎
مصائب اور تھے، پر دل کا جانا
عجب ایک سانحہ سا ہوگیا ہے
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس غم کو برداشت کرنے کی توفیق دے، اور مسلم بھائی کو مغفرت، ابدی راحت اور جنّت کے اعلیٰ درجات سے نوازے، آمین۔
مسلم، تحریکِ اسلامی کا ایک بڑا قیمتی سرمایہ تھے اور خصوصیت سے گذشتہ ۲۲برسوں میں ترجمان القرآن کے نائب مدیر اور خرم بھائی اور میرے دست ِ راست کی حیثیت سے جو گراں قدر خدمات انھوں نے انجام دی ہیں، وہ علمی، دعوتی اور تحریکی ہر اعتبار سے بڑی قابلِ تحسین اور ناقابلِ فراموش ہیں۔ لیکن میرے ساتھ ان کا تعلق اس سے بہت پرانا اور گہرا ہے۔ میرے لیے وہ سگے چھوٹے بھائی کے مانند تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انیس [ڈاکٹر انیس احمد]کے بعد وہ مجھ سے سب سے زیادہ قریب رہے۔ مقامِ شکرہے کہ پوری زندگی ہم ایک ہی خاندان کے افراد کی طرح ایک دوسرے سے رشتہ نبھاتے رہے اور کبھی ہمارے درمیان کوئی دراڑ نہیں پڑی، بلکہ خفگی اور بدمزگی کی کیفیت بھی کبھی رُونما نہیں ہوئی۔ الحمدللّٰہ علٰی ذٰلک۔
یہ تو تعلق کا صرف ایک پہلو ہے۔ وہ چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک نہایت ہونہار، ذہین اور شوخ و شریر شاگرد، بڑے مخلص، روشن دماغ اور صاحب الراے تحریکی ساتھی اور رفیق کار اور ادب و احترام کے رشتے کا پاس کرتے ہوئے بے باک ناقد اور نہ بخشنے والے محتسب بھی تھے۔
مسلم کی شخصیت اور خود میرے ساتھ ۶۶برسوں پر پھیلے ہوئے تعلقات کی نوعیت ان چار رنگوں کی ایک قوسِ قزح کے مانند ہے، اور مَیں ہی نہیں شاید اپنے اپنے انداز میں بہت سے افراد نے ان کی شخصیت سے ان متنوع پہلوئوں کا تجربہ اور مشاہدہ کیا ہوگا۔
مسلم سے تعلقِ خاطر کا آغاز خرم بھائی سے تعلق کا پرتو تھا۔ میں اسلامی جمعیت طلبہ سے اپنے بڑے بھائی احمد ضمیر مرحوم، جو خرم بھائی کے کلاس فیلو اور دوست تھے اور خود خرم اور ظفراسحاق انصاری کے ذریعے روشناس ہوا، اور ان دونوں کی محبت اور رفاقت اور مولانا مودودیؒ کے لٹریچر کی دل و دماغ کو مسخر کرنے کی لازوال قوت کے سیلاب میں بہتا ہوا چند ہی مہینے میں جمعیت کا رکن بن گیا۔
رکن بننے کے چند مہینے کے بعد ہی مجھے کراچی جمعیت کا ناظم منتخب کرلیا گیا اور اس طرح جنوری ۱۹۵۰ء سے جون ۱۹۵۶ء تک جمعیت کا رکن اور مختلف ذمہ داریوں کا امین رہا۔ پہلے دو ڈھائی برس ہم گھروں ہی میں کام کرتے رہے۔ کوئی باقاعدہ دفتر نہیں تھا۔ پہلا اور شاید سب سے متحرک اور مصروف دفتر ۲۳-اسٹریچن روڈ ۱۹۵۲ء میں حاصل کیا گیا۔ یہ جگہ حاصل تو کی گئی تھی مجلّہ Student's Voice اور اسٹوڈنٹس سوشل سروس کے دفتر کے طور پر، لیکن پھر وہ جمعیت ہی کا دفتر بن گیا۔ اس سے پہلے ہمارے تین گھر بطور دفتر، اجتماع گاہ اور تحریکی دسترخوان کے طور پر استعمال ہوتے تھے، یعنی ہمارا فریر روڈ کا فلیٹ، خرم بھائی کا پیرالٰہی بخش کالونی کا کمرہ، اور ظفراسحاق انصاری کا بندر روڈ پر سعیدمنزل کے سامنے والا فلیٹ۔
خرم بھائی کا کمرہ ان کی کراچی کی نظامت اور مرکزی نظامتِ اعلیٰ کے زمانے میں بہت زیادہ استعمال ہوتا تھا۔ جہاں چائے اور پانی کی فراہمی کی خدمت ان کے چھوٹے بھائی حسن قاسم اور مسلم سجاد انجام دیتے تھے۔ ہمارے تعلقات کا آغاز اس مہمان داری کے دل نواز ربط سے ہوا۔ پھر پہلے حسن قاسم اور پھر مسلم سجاد فکری، تحریکی اور تنظیمی اعتبار سے قریب آتے گئے۔ قاسم میری نظامتِ اعلیٰ کے دوران میرے ہمراہ بطور معاون خصوصی رہے اور برادرم ڈاکٹر اسرار احمد کے ساتھ جو قلمی معرکے ہوئے، ان میں میری معاونت کرتے رہے۔
خرم کے تینوں چھوٹے بھائی جمعیت میں سرگرم رہے اور مجھے ذاتی طور پر قاسم اور مسلم سے زیادہ قربت رہی۔ پھر قاسم، راجا بھائی (ظفراسحاق انصاری) سے زیادہ قریب رہے۔ اس طرح قاسم کے تمام تر نظریاتی نشیب و فراز کے باوجود رفاقت اور دوستی کی گرم جوشی آخری وقت تک برقرار رہی۔ مسلم کا زیادہ تعلق خرم سے اور مجھ سے رہا اور الحمدللہ مکمل طور پر نظریاتی استقلال اور وفاداری کے ساتھ یہ رشتہ قائم رہا۔ جیسا میں نے عرض کیا، شروع میں تو مسلم سے صرف مہمان داری والا تعارف تھا۔ پھر اسکولوں کے طلبہ کے لیے جمعیت کا ’حلقہ مدارس‘ منظم ہوا اور اس کی قیادت اور مرکزی شخصیت ہمارے بڑےعزیز ساتھی عبداللہ جعفر صدیقی تھے، جن کی حکمت اور محبت سے بھرپور قیادت میں کراچی جمعیت کے حلقہ مدارس نے غیرمعمولی ترقی کی، اور واقعہ یہ ہے کہ جمعیت کے دامن میں بہت سے ہیرے جمع کرنے کا وسیلہ بنا۔
۵۲-۱۹۵۱ء میں اس حلقے کے ذہین ترین طلبہ کے اسٹڈی سرکل کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوئی۔ مسلم سجاد، ظفرآفاق انصاری، انیس احمد، محبوب علی، محمود علی، تنظیم واسطی، سیّد محمود، یہ سب اسی سرکل کے گل ہاے سرسبد تھے۔ میں نے تین مراحل پر مبنی اسٹڈی سرکل کئی سال چلایا، اور یہی وہ دور تھا جس میں مسلم مجھ سے بے حد قریب ہوگئے۔ ان کا سب سے پہلا ادبی کارنامہ میرے ساتھ جمعیت کے دفتر پر ایک وال پیپر کی شکل میں ایک رسالے کا اجرا تھا، جسے ہم ہرہفتے تبدیل کرتے تھے اور جس میں دعوتی نکات کے علاوہ کچھ ہلکی پھلکی چیزیں بھی ہوتی تھیں۔ تاہم، اسٹوڈنٹس وائس میں مسلم کوئی کردار ادا نہیںکرسکے۔ اس رسالے میں راجا بھائی اور مَیں مرکزی کردار ادا کرتے تھے اور زبیرفاروقی، جمیل احمد خان، منظور احمد، انصار اعظمی اور جمیل احمد ہمارے قابلِ قدر معاونین تھے۔ حسین خاں اور محبوب الٰہی نے بھی کچھ عرصے کردار ادا کیا۔
مسلم کی فکری، اخلاقی اور تحریکی تربیت میں سب سے زیادہ حصہ ان کی والدہ ماجدہ کا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خرم بھائی کی والدہ ایک مثالی والدہ تھیں۔ جماعت کی اوّلین ارکان میں سے تھیں اور انھوں نے اپنے سبھی بیٹے، بیٹیوں کی تربیت گہرے دینی شعور، بڑے شوق اور سلیقے سے کی۔ اس کے ساتھ گھر کی زندگی اور تحریکی زندگی میں بڑا حسین توازن قائم کیا۔ مجھے بھی یہ سعادت حاصل ہے کہ وہ مجھے اپنی اولاد ہی طرح سمجھتی تھیں۔ مشورے اور نصیحت میں کوئی فرق نہ کرتی تھیں اور زبانی ہی نہیں خطوں کے ذریعے بھی میری رہنمائی فرماتیں۔ اس زمانے میں میرا کردار صرف ان اسٹڈی سرکلز ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ ان تمام نوجوان ساتھیوں کے ساتھ علمی اورتحریکی دونوں ہی دائروں میں بڑا گہرا inter-action رہا۔ ہمارے درمیان ’استاد‘ اور ’شاگرد‘ کے رشتے کے ساتھ ساتھ رفاقت اور دوستی کا تعلق بھی پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں باہم افہام و تفہیم زیادہ کھلے طور پر ہوتی تھی۔ اس ضمن میں سوال، اعتراض، تنقید اور احتساب سبھی کا کچھ نہ کچھ کردار تھا، مگر تعلقات کا حُسن یہ تھا کہ ان میں برادرانہ محبت، پدرانہ شفقت، احترامِ استاد کے ساتھ دوستانہ رفاقت اور تحریکی نقدواحتساب کا ایک صحت مند امتزاج نہ صرف موجود تھا، بلکہ محسوس کیا جاسکتا تھا___ اور یہ الحمدللہ، تحریک اسلامی کی نعمتوں میں سے ایک بیش قیمت نعمت ہے۔
مسلم کے ساتھ جو رشتہ اور تعلق اسٹڈی سرکل سے شروع ہوا تھا، وہ ماہ نامہ چراغِ راہ میں ان کے ادارتی تعاون سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا۔ ۱۹۵۸ء میں یہ سلسلہ شروع ہوا۔ ۱۰سال چراغِ راہ کے دور میں اور پھر ۲۰سال ترجمان القرآن کے زیرسایہ یہ تعلق مستحکم تر ہوتا گیا۔ مَیں بے حد خوش نصیب ہوں کہ زندگی کے ہر دور میں مجھے بڑے لائق، مخلص اور تعاون کرنے والے ساتھی ملے۔ Student's Voice، New Era اور Voice of Islam کے دور میں ظفراسحاق انصاری کا بھرپور تعاون ملا، اور یہ تعلق باقی زندگی میں بھی دسیوں شکلوں میں جاری و ساری رہا۔ چراغِ راہ میں محمود فاروقی، مسلم سجاد، ممتاز احمد، نثاراحمد کا تعاون، ماہ نامہ The Criterion میں سیّدمنور حسن اور کوکب صدیق کا تعاون، اور ترجمان القرآن میں مسلم سجاد، سلیم منصور خالد، رفیع الدین ہاشمی اور عبدالغفار عزیز کی رفاقت۔ ان تمام ساتھیوں کی مخلصانہ اور اَن تھک کوششوں کے بغیر وہ خدمت انجام نہیں دی جاسکتی تھی، جو اللہ تعالیٰ نے ان اداروں سے لی۔ اس پر ہرلمحے اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے۔
مجھے یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ترجمان القرآن کی ادارتی ذمہ داریوں کا بڑا بوجھ مسلم ہی پر تھا۔ خرم بھائی کی طبیعت جب زیادہ خراب ہوئی اور دسمبر ۱۹۹۵ء کے بعد انھیں خاصا وقت انگلستان میں گزارنا پڑا، تو ہم دونوں کی نگاہ مسلم ہی پر پڑی کہ ان کو وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے کر لاہور منتقل ہونے اور پرچے کی روزمرہ کی ذمہ داری سنبھالنے کی ترغیب دیں اور مسلم نے کسی تامل کے بغیر یہ ذمہ داری قبول کرلی۔خرم بھائی نے پانچ سال ترجمان کی ادارت کی ذمہ داری ادا کی ہے، یعنی ۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۶ء تک۔ ان کے آخری سال ادارتی امور کی عملاً ذمہ داری مسلم ہی پر تھی اور اس زمانے میں ہمیں یہ اندازہ ہوگیا کہ وہ کس خوش اسلوبی سے یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
خرم بھائی دسمبر۱۹۹۶ء میں ہم سے رخصت ہوئے اور جنوری ۱۹۹۷ء میں یہ ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔ اس پورے عرصے میں مضامین کا حصول، ان کی ترتیب و تدوین، اہلِ قلم سے ربط و تعلق، انتظامی عملے سے رابطہ، یہ سب کام مسلم ہی بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ بلاشبہہ اہم اُمور پر وہ مجھ سے مشورہ کرتے تھے، کہیں شک یا اضطراب ہوتا تو معاملہ میری طرف بڑھا دیتے، لیکن عملاً سارا کام وہی انجام دیتے رہے۔ بلاشبہہ اس میں عزیزی سلیم منصور خالد، برادرم ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، مولانا عبدالمالک، عزیزی عبدالغفار عزیز ، حافظ محمد ادریس، برادرم ظفرحجازی، امجدعباسی اور دیگر مجلس ادارت کے ارکان کا تعاون بھی شامل ہے، لیکن شدید بیماری کے چند مہینوں کو چھوڑ کر بنیادی ذمہ داری مسلم ہی نے انجام دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی گراں قدر خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور اپنی بیش بہا نعمتیں اور انعامات ان پر نچھاور فرمائے۔
اداراتی اُمور میں اتنے انہماک اور کارکردگی کے ساتھ وہ پرچے کی اشاعت میں اضافے کے لیے بھی ہرلمحہ سرگرم رہتے تھے۔ جس وقت خرم بھائی نے یہ ذمہ داری قبول کی تھی ترجمان القرآن کی اشاعت چھے ہزار تھی۔ خرم بھائی اور مسلم کی ہمہ جہتی کوششوں سے یہ ۱۹۹۶ء تک ۲۲ہزار پر پہنچ گئی، جو الحمدللہ اِس وقت ۳۴ہزار سے زیادہ ہے۔ لیکن ۲۰۰۵ء اور ۲۰۰۹ءکے درمیان یہ اشاعت ۳۸ سے ۵۰ہزار تک بھی رہ چکی ہے۔ اشاعت کے فروغ میں تحریکی ساتھیوں اور حلقوں کا تعاون تو اصل چیز ہے اور اس کی منصوبہ بندی اور اس کے لیے مسلسل کوششوں میں مسلم بھائی کا بڑا حصہ ہے۔
مسلم کے علمی ذوق اور ادبی صلاحیتوں کا ادراک تومجھے اسٹڈی سرکل کے زمانے سے تھا، لیکن ان کی تنظیمی صلاحیتوں کی دریافت کراچی میں ’سمع و بصر‘ کے ادارے کے قیام کے زمانے میں ہوئی۔ اس میں برادرم شاہد شمسی کا بھی حصہ تھا لیکن ان میدانوں میں کام اور نئے نئے تجربات کے سلسلے میں جس ندرت اور creativity [خلّاقیت]کا مظاہرہ مسلم نے کیا، وہ ان کی شخصیت کے اس پوشیدہ پہلو کو آشکارا کرنے کا ذریعہ بنا۔ اسی زمانے میں ان کا ایک منفرد کارنامہ تفہیم القرآن کو صفحۂ قرطاس کے ساتھ ویڈیو اور دوسرے برقی ذرائع ابلاغ کے ذریعے حق کے متلاشیوں تک پہنچانے کے پراجیکٹ کو سوچنے اور عمل میں ڈھالنے کی کاوش ہے۔ جس کے لیے پوری تفہیم القرآن برادرم عبدالقدیر سلیم، سیّد سفیرحسن اور عظیم سرور نے دل کش آواز میں ریکارڈ کرائی۔ اسی طرح انھوں نے خود ترجمان القرآن کے تمام شماروں کو ۱۹۳۲ء سے آج تک الیکٹرانک ریکارڈ کی شکل میں فراہم کرنے کی خدمت انجام دی جو ’محفوظات‘ کے نام سے دستیاب ہے۔ اس کے ساتھ ’منشورات‘ کی شکل میں ایک کامیاب طباعتی ادارہ قائم کیا اور بڑے اچھے معیار پر، اچھی کتابوں اور دعوتی کتابچوں کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ مسلم نے ادارتی اور تنظیمی دونوں صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ہم سب کو بے حد متاثر کیا اور ان کی کوشش ہمیشہ رہی کہ خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رکھیں۔
اس سلسلے میں وہ دوسروں کی لاپروائی اور بے اعتنائی کا شکوہ بھی کرتے رہتے تھے اور کبھی کبھی اس تنقید و احتساب میں اپنے کھرے پن کو کھردرے پن تک لے جاتے تھے۔ لیکن ان کی تنقید کا مقصد دوسروں کی تحقیر نہیں بلکہ اصلاح کا جذبہ اور معیار کے معاملے میں دوسروں کی سہل انگاری پر گرفت ہوتا تھا۔ میں نے اس ۶۶سالہ تعلق کے دوران ان کی تنقید میں دوسروں کی تحقیر کا پہلو نہیں دیکھا، اگرچہ اپنی افتادِ طبع کے مطابق وہ حسبِ توفیق آزادی (Liberty) لینے میں تکلف نہیں برتتے تھے(بعض اصحاب اس ’آزادی‘ کو پسند نہیں کرتے تھے)۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز سے بھی مسلم کا تعلق تعاون اور خیرخواہی کا تھا۔ تعلیم کے میدان میں ان کی کئی علمی کاوشیں آئی پی ایس کے زیراہتمام شائع ہوئیں۔ مجلّہ تعلیم کے بھی کئی شمارے انھوں نے اور برادرم سلیم منصور خالد نے مرتب کیے۔
ان کی علمی اور تحریکی خدمات میں خرم بھائی کی چیزوںکی تلاش، حفاظت اور طباعت سرفہرست ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ خرم بھائی کی اُردو میں جو چیزیں آج موجود ہیں، ان کا نصف سے زیادہ اثاثہ مسلم کی محنت اور خرم بھائی سے وفاداری کا تحفہ ہے، جزاھم اللہ خیر الجزاء۔
مسلم کا قرآن سے تعلق بچپن ہی سے گہرا رہا ہے۔ نماز اور نمازِ باجماعت کے باب میں بھی انھوں نے غیرمعمولی شوق اور اہتمام کی مثال قائم کی ہے۔ افراد اور خصوصیت سے اپنے قریبی ساتھیوں کے مسائل میں دل چسپی اور خاموشی سے ان کی مدد اور تعاون بھی ان کی شخصیت کا بڑا دل آویز پہلو تھا۔ بارہا مجھ سے بڑے دُکھ اور کرب کے ساتھ اپنے کسی ساتھی کی مشکل کے علم میں آنے کا ذکر کیا، اور اس مشکل میں ان کا بوجھ کم کرنے کے لیے مَیں نے حسبِ توفیق کردار ادا کیا، اور یہ سب بڑی خاموشی اور حقیقی انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ کیا۔
نام و نمود اور ظاہرداری سے مسلم کی زندگی بالکل پاک تھی۔ سادگی، قناعت اور خیرخواہی ان کا شعار تھا۔ بس زبان کے معاملے میں تھوڑے سے بے باک تھے۔ خرابی اور بُرائی جہاں نظر آتی اور جہاں تضاد اور رخصت کی فراوانی نظر آتی، اس پر تنقید اور احتساب سے وہ اپنے کو روکنے پر قادر نہیں پاتے تھے اور اس سلسلے میں زبان اور قلم دونوں ہی کا سہارا لیتے تھے۔ لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوںکہ یہ تنقید و احتساب: نہ خودپسندی اور خودپرستی کی پیداوار تھے اور نہ دوسروں کی تحقیر یا ان کو اذیت دینے کے جذبے اور محرک کا نتیجہ تھے۔ یہ ان کے خلوص اور اصول پرستی اور تحریک کے سلسلے میں معیارِ مطلوب کے شوق اور لگن کی پیداوار تھے۔ گو الفاظ کے انتخاب میں کبھی کبھار ان کی شوخی اپنی حدود سے بڑھ جاتی تھی اور دوسروں کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بھی ہوجاتی تھی، لیکن میں نے ان کی بات میں malice (بدخواہی یا عناد)کا کوئی شائبہ نہیں دیکھا۔ کئی بار دوسروں کے ردعمل پر انھوں نے اپنے اضطراب کا اظہار بھی کیا اور تلافیِ مافات کی بات بھی کی، جس سے ان کے خلوص اور دیانت کی خوشبو آتی ہے۔
جہاں تک مجھے یاد ہے مسلم کی پہلی کتاب مخلوط تعلیم پر تھی، جو اسلامی جمعیت طلبہ نے شائع کی تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کتاب کی تحریک مَیں نے ہی کی تھی اور اس کی تیاری، تحقیق اور تسوید میں میرا تعاون اور حوصلہ افزائی کا بھی ایک حصہ تھا۔ لیکن اس کتاب نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اس طرح یہ کتاب ان کی علمی، تحقیقی، تجزیاتی اور ادبی زندگی کا ایک نیا باب کھولنے کا ذریعہ بنی۔
مسلم کو دمے کی بیماری لڑکپن ہی سے تھی اور پھر یہ ان کی جیون ساتھی بن گئی۔ گذشتہ چند برسوں سے ذیابیطس اور دل کی بیماری نے بھی ڈیرے ڈال لیے تھے۔ دو تین بار ہسپتال میں کچھ دن گزارنے کی نوبت بھی آئی۔ گذشتہ برس طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوگئی تھی، جس کے بعد کراچی چلے گئے اور چار مہینے وہاں گزارے۔ لاہور اور کراچی میں مسلم بھائی کی تیمارداری اور علاج معالجے کے لیے، جس محبت، توجہ اور مثالی انداز سے ان کے بیٹے عزیزم انس حماد نے خدمت کی، اس پر اللہ تعالیٰ اجرعظیم سے نوازے___لاہور واپسی پر مسلم خوش تھے اور باربار مجھے یقین دلایا کہ اب میں بہت بہتر ہوں۔ ۲۷؍اگست کو پائوں پھسل گیا تھا، جس سے کچھ چوٹ آئی۔ میں نے ان کے بڑے بیٹے انس سے اصرار کیا کہ ایکسرے کرائیں، جو ۲۸کو کرایا اور مجھے فون پر اطلاع دی کہ: ’’کوئی فریکچر نہیں ہے اور مَیں بالکل ٹھیک ہوں‘‘۔ یہ پاکستانی وقت کے مطابق چار ساڑھے چار بجے سہ پہر ان سے میری آخری بات تھی۔ مگر اس کے چار گھنٹے کے بعد یہ اَلم ناک اطلاع آئی کہ مسلم بھائی، اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ مسلم نے اللہ سے وفاداری کا جو عہدکیا تھا، اسے مقدور بھر پورا کرنے میں پوری زندگی کوشش کی اور اسی کوشش کے دوران جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور اپنی رحمت اور جنّت کے اعلیٰ مقامات سے ان کو نوازے!
یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ o ارْجِعِیْٓ اِِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ o وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ o (الفجر ۸۹:۲۷-۳۰) اے نفسِ مطمئن! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنّت میں۔
اُمتِ مسلمہ اس اعتبار سے بڑی خوش نصیب ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام بے پایاں ہی نہیں، بڑی حد تک منفرد اور بے مثال بھی ہیں۔ قرآن اور اسوۂ رسولؐاگر الطاف و عنایات کی اس کہکشاں کے آفتاب و مہتاب ہیں، تو نماز، زکوٰۃ، روزہ، رمضان، لیلۃ القدر، حج، عمرہ اور جہاد اس کے روشن اور تابناک ستارے ہیں، جن سے نہ صرف یہ کہ حُسنِ کائنات اور جمالِ ہستی دوبالا ہے، بلکہ نور کے یہ مینار، دکھی انسانیت کی رہنمائی اور منزل مقصود کی طرف رہبری کی خدمت بھی انجام دے رہے ہیں۔
ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں یا حال کے اداروں اور تجربات کا جائزہ لیں، صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کی اور خود امت مسلمہ کی ہدایت اور اس کے ذریعے باقی انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو انتظام زمین و آسمان کے خالق اور مالک نے مرتب فرمایا ہے، وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ آقا کی ہر نعمت یکتا اور عظیم ہے اور اس کی ہر نوازش، نور کا منبع اور زندگی کی پیام بر ہے۔
اگر رب کریم و رحیم کے ان الطاف و عنایات کے باوجود اُمت کا حال پریشان ہے اور انسانیت کے ستارے گردش میں ہیں، تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے! سوچنے کی بات ہے کہ بگاڑ کہاں کہاں سے دَر آیا ہے؟ اور کوتاہی اور کمی کس کس مقام پر ہوئی ہے کہ آب حیات کی موجودگی کے باوجود یہ اُمت صحت مند اور باعزت زندگی، توانائی اور تابندگی سے محروم ہے۔ چاند اور سورج ضوفشاں ہیں، لیکن تاریکی چھٹنے کا نام نہیں لیتی۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حَاسِبُوْا قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا (اپنا احتساب کر لو قبل اس کے تمھارا احتساب کیا جائے) کی روشنی میں احتساب کیا جائے۔ تجدید عہد اور خود احتسابی کے لیے تھوڑا سا وقت، امت کے سوچنے سمجھنے والے تمام افراد، مرد اور عورتیں، انفرادی اور اجتماعی طور پر نکالیں۔ پوری دیانت داری سے جائزہ لیں کہ نماز دن میں پانچ مرتبہ اور روزہ سال میں ایک ماہ اور پھر ہرذی استطاعت مسلمان مرد اور عورت پر حج زندگی میںکم از کم ایک بار فرض کیا گیا ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ بندہ ہرلمحے اور ہرحال میں رب کو یاد رکھنے، اس کی معیت میں زندگی گزارنے کی سعی و جہد کرے، اور اس طرح دینی اور دنیاوی، روحانی اور جسمانی ہر قسم کے بے پناہ و بے شمار فوائد اور برکتوں سے اُمت اور اس کے ہر ہر فرد کا دامن بھر جائے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس کے وہ اثرات جو مطلوب و موعود ہیں، وہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کیوں رونما نہیں ہو رہے؟
اسلام اور دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے تصور عبادت میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ دوسرے مذاہب اور تہذیبوں میں عبادت محض پوجا پاٹ کا ایک نظام بن کر رہ گئی ہے، یا دنیاوی زندگی سے کٹ کر اپنے اپنے خدا سے لو لگانے کے لیے مراقبہ، نفس کشی، مجاہدات وریاضات یا چند ذہنی اور بدنی التزامات کا نام ہے، جن سے دیوتا کو خوش کیا جاسکے اور اس طرح اخروی نجات حاصل ہو سکے۔
اس کے برعکس اسلام کا تصور یہ ہے کہ عبادت ہی دراصل وہ مقصد ہے، جس کے لیے انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِo(ذاریات۵۱:۵۶) ’’میںنے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں‘‘۔ عبادت ہی کی زندگی کی طرف ان کو بلایا گیا ہے: یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ o(البقرہ۲:۲۱)،’’ لوگو، بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جو تمھارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کا خالق ہے تاکہ تم تقویٰ کی زندگی حاصل کرسکو‘‘۔ رب کی اس بندگی کی طرف ساری انسانیت کو، خصوصاً پہلے انبیاؑ کی اُمتوں کو، دعوت دی گئی ہے: قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍم بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلاَّ نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ( اٰل عمرٰن۳:۶۴)،’’اے نبیؐ، کہو، اے اہل کتاب، آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں‘‘۔
یہ عبادت محض چند مراسم عبادت تک محدود نہیں، اگرچہ متعین عبادات اس کے ستون اور مقصود بالذات سنگ میل ہیں۔ اسلام کا تصور عبادت یہ ہے کہ انسان کی ساری زندگی، اللہ کی بندگی میں بسر ہو۔ ہمارا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، آرام اور محنت، حضرو سفر، غرض سب کچھ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے قانون اور ہدایت کی پابندی میں ہو اور زندگی کا جو مشن اور شب و روز کے لیے جو ترجیحات ہمارے مالک اور آقا نے مقرر کی ہیں، پوری زندگی انھی کے مطابق بسر کی جائے۔
گویا اسلام اور عبادت ہم معنی اور ایک ہی طرز زندگی کے دو عنوان ہیں۔ اسلام انسان کی پوری زندگی کو عبادت میں تبدیل کردینا چاہتا ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی لمحہ بھی اللہ کی عبادت سے خالی نہ ہو۔ کلمہ شہادت کا اقرار کرنے کے ساتھ ہی یہ بات لازم آجاتی ہے کہ جس اللہ کو انسان نے اپنا رب اور معبود تسلیم کیا ہے، اس کا بندہ بن کر پوری زندگی گزارے۔ گویا کامیاب زندگی عبادت گزار بندہ بن کر رہنے ہی سے عبارت ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ بندہ نفس کی خواہشات پر قابو پائے اور اپنے جسم و جان اور قلب و نظر کی تمام صلاحیتیں زندگی کے اُن مقاصد کے حصول کے لیے صرف کرے، جو اللہ اور اس کے آخری رسولؐ نے متعین کر دیے ہیں۔
ہر مرد اور عورت جو بندگی کا راستہ اختیار کرے، اس کے اخلاق اور سیرت و کردار اُن سانچوں میں ڈھل جائیں، جو شریعت نے مقرر کیے ہیں۔ دنیوی زندگی میں، جہاں قدم قدم پر آزمایش اور راہ حق سے پھسل جانے کے مواقع پیش آتے ہیں، بندہ حیوانی اور شیطانی طرزِعمل سے بچتے ہوئے، اور پورے شعور اور ارادے سے بندگیِ رب کی راہ پر گام زن رہے۔ یہ ہے وہ چیز جو رب کو پسند ہے۔ یہ عبادت کی روح اور اس کا جوہر بھی ہے اور پوری زندگی میں اس کا مظہر اور مطلوب بھی۔
پوری زندگی کا اس طرح عبادت کا مظہر بن جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے ایمان کی لازوال قوت کے ساتھ ساتھ بڑی زبردست اور ہمہ گیرذہنی، روحانی، بدنی، انفرادی اور اجتماعی تربیت کی ضرورت ہے، تاکہ فکر و نظر میں بھی یہ انقلاب مستحکم ہو جائے اور انفرادی اور اجتماعی سیرت و کردار بھی ایسے پیمانوں میں ڈھل جائیں، جو فرد اور ملت کو اس عبادت کے لیے تیار کرسکیں۔
منصوص عبادات: نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، عمرہ، ذکر، استغفار اور دعا ایسا ہی انسان مطلوب اور امت بنانے کا ذریعہ ہیں۔ مراد یہ ہے کہ یہ خود بھی عبادت ہیں اور پوری زندگی کو عبادت بنانے کا ذریعہ بھی۔ یہ خود بھی مالک کو پسند اور محبوب ہیں اور انسان کو مالک کا پسندیدہ اور محبوب بندہ بنانے کا ذریعہ بھی ہیں، تاکہ وہ مالک کے بتائے ہوئے محبوب اور مطلوب مشن___ دعوت الیٰ الخیر، شہادت حق، امربالمعروف، نہی عن المنکر، قیام قسط اور نصرت دین کے لیے سرگرم عمل ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان عبادات کو ارکان اسلام کہا گیا ہے، یعنی یہ وہ ستون ہیں، جن پر اسلامی زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہم نے ان ربّانی ستونوں کا تعلق اس رحمانی عمارت سے منقطع کر دیا ہے اور سمجھ یہ رہے ہیں کہ ستون ہی عمارت ہیں اور بس ؎
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گُلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے
عبادت اور شریعت کا تعلق
دوسری چیز عبادات کا شریعت کے پورے نظام سے ربط اور تعلق ہے، جہاں: ایمان، احتساب اور تقویٰ عبادات کے جسم میں جان ڈالنے کا وظیفہ انجام دیتے ہیں اور ان کے بغیر وہ بس ایک رسم اور ایک عادت رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر ان عبادات کا ربط و تعلق پوری شریعت اور اسلامی نظام زندگی سے کٹ جائے، تو یہ اس پرزہ کی مانند ہو جاتی ہیں، جو خواہ خود حرکت کر لے مگر پوری مشین کو چلانے میں اس کا کردار غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ نیز پوری مشینری سے جو تقویت ان اجزا کو ملتی ہے، وہ بھی مفقود رہتی ہے۔
اس وقت امت مسلمہ کا المیہ ہی یہ ہے کہ عبادات کے ستون تو موجود ہیں، لیکن ان ستونوں کو جس عمارت کو اٹھانا اور سنبھالنا ہے، وہ موجود نہیں ہے۔ جب تک وہ عمارت وجود میں نہیں آتی یہ ستون ان درختوں کی مانند ہیں، جن کا تنا تو موجود ہے، مگر پتے، پھول اور پھل ناپید ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج انسان کو جس کش مکش اور جدوجہد کے لیے تیار کرتے ہیں، وہ انفرادی سطح پر سیرت سازی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کی تنظیم و تشکیل اور زندگی کے ہر شعبے میں شریعت کے مطابق حالات کی صورت گری کے بغیر اپنے اصل اہداف کو نہیں پا سکتے۔ نظام زندگی کی تصویر ان کے بغیر نامکمل ہے۔ شریعت کے کتنے ہی احکام اور قوانین ہیں، جو اجتماعی زندگی کی اصلاح اور معاشرت، معیشت، عدالت اور حکومت پر اسلامی شریعت کی بالادستی کے بغیر نافذ العمل نہیں ہوسکتے، جس کے نتیجے میں زندگی دوئی اور تضاد کا شکار اور شترگر بگی کا نمونہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امت اس بگاڑ کی آماج گاہ بنی ہوئی ہے، جو کچھ معاملات میں اللہ کی ہدایت کی پیروی اور کچھ میں اس سے اغماض بلکہ بغاوت کے نتیجے میں ہوتا ہے اور جس پر اللہ رب العزت نے بندوں پر یہ چارج شیٹ لگائی تھی:
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (البقرہ۲:۸۵)،تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اورآخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیردیے جائیں؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو۔
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی سخت وعید ہے۔ اُمت کی کمزوریوں، تضادات اور تباہ حالیوں میں بڑا دخل ان تضادات کا ہے جن میں یہ مبتلا ہے اور جو بیک وقت اللہ اور اہرمن، ایمان اور کفر، دین اور سیکولرزم سے رشتہ استوار کرنے سے عبارت ہے۔
عبادتوں کے غیر مؤثر ہونے کی ایک اور وجہ نظام احتساب کا فقدان اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر سے مجرمانہ غفلت کا چلن ہے۔ قرآن پاک میں اس امت کی جو امتیازی خصوصیات بیان ہوئی ہیں، ان میں تین بہت نمایاں ہیں: یہ اُمت ایک اُمت ہے، یہ امت وسط ہے اور یہ اُمت ایک مشن اور دعوت کی علم بردار ہے، جو صاحب شریعت امت اور اس شریعت اور پیغام کی تمام انسانیت کے لیے گواہ اور شاہد اور اس کی نصرت اور غلبے کے لیے جدوجہد کی ذمہ دار ہے۔
یہی وہ تین خصوصیات ہیں جو اس اُمت کے امت ابراہیمی سے تسلسل کی ضامن ہیں۔
قرآن کہتا ہے کہ وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ (المومنون ۲۳:۵۲) ’’اور یہ تمھاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو‘‘ ۔
دوسری اور تیسری خصوصیت کو قرآن اس طرح بیان کرتا ہے: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الْرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا o (البقرہ ۲:۱۴۳)، ’’اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’اُمتِ وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ تم پر گواہ ہو۔‘‘
وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ط ھُوَ اجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج ٍط مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ط ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ لا مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ ج فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰہِ ط ھُوَ مَوْلٰکُمْج فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ o (الحج۲۲:۷۸)اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمھیں اپنے کام کے لیے چُن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جائو اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمھارا نام ’مسلم‘ رکھا تھا، اور اس (قرآن) میں بھی (تمھارا یہی نام ہے)۔ تاکہ رسولؐ تم پرگواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہوجائو۔ وہ ہے تمھارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (اٰل عمران۳:۱۱۰، مزید ملاحظہ ہو ۳:۱۰۶)
اُمت کے اس مشن اور کردار کے تعین کے ساتھ ساتھ یہ بھی صاف لفظوں میں بتا دیا کہ نیکی محض دین داری کے نام پر ایک خاص طرح کی وضع قطع اور طاعت اور بندگی کے محدود اعمال میں نہیں، بلکہ پوری زندگی کو اللہ کی ہدایت کے مطابق ڈھالنے، اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے اور اللہ کی راہ میں جان اور مال سے جہاد کرنے میں ہے۔ صرف اسی راستے کو اختیار کرنے سے ہماری عبادتیں حقیقی معنی میں ثمر آور ہو سکیں گی اور دنیا خوف اور بھوک کے عفریتوں سے محفوظ ہو کر حقیقی امن گاہ بن سکے گی:
لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ج وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ لا وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ ج وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ واٰتَی الزَّکٰوۃَ ج وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ط اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا ط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَo(البقرہ۲:۱۷۷)نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یامغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں،کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست بازلوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ o (الحجرات۴۹:۱۵) حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر انھوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ وہی سچے لوگ ہیں۔
لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ o کَانُوْا لَا یَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَo (المائدہ ۵:۷۷-۷۸)بنی اسرائیل میں جن لوگوںنے کفر کی راہ اختیار کی ان پر دائودؑ اور عیسیٰ ابن مریمؑ کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انھوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، برا طرز عمل تھا جو انھوں نے اختیار کیا۔
اور حضور اکرمؐ نے تنبیہ فرمائی کہ:’’قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو ضرور ایسا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے۔ پھر تم اس سے دعائیں کرو گے اور تمھاری دعائیں قبول نہ ہوں گی‘‘۔ (ترمذی)
اسی طرح حضوؐرنے فرمایا:’’جو شخص کسی قوم میں رہتا ہو اور ان کے اندر رہ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتا ہو، اور وہ لوگ اس کے اس طرز عمل کے بدلنے کی قدرت رکھتے ہوں، لیکن اس کے باوجود نہ بدلیں تو اللہ تعالیٰ مرنے سے پہلے دنیا ہی میں ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا‘‘۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
اور قرآن میں اس امت کو مخاطب کرکے صاف لفظوں میں متنبہ کر دیا گیا کہ اگر برائی کا مقابلہ نہ کرو گے، تو محض تمھاری نیکی اور تمھاری عبادتیں تم کو تباہی سے نہ بچا سکیں گی:
وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِo (انفال۸:۲۵)’’اور بچو اس فنتے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
قرآن و حدیث کے ان واضح ارشادات،ا حکام اور تنبیہات سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ہماری عبادتیں، ہماری دعائیں اور ہماری نیکیاں اسی وقت دنیا میں اپنے ثمرات اورحسنات سے زندگی کا دامن بھر سکیں گی، جب ہم فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر امت کے سپرد کردہ مشن دعوت الیٰ الخیر، شہادت حق، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، جان اور مال سے جہاد اور اداے حقوق کی ذمہ داری کو کماحقہ ادا کریں گے۔اگر اس میں ہم کوتاہی برتتے ہیں تو پھر انفرادی نیکیوں کے باوجود ہم فتنے کا شکار ہونے اوراللہ کے عذاب کی مار سے نہیں بچ سکیں گے اور ہماری دعائیں بے اثر ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے حالات سے بچائے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امت اور اس کے برسرِاختیار طبقے بڑی غفلت اور بڑی نادانی سے ان خطرات کی طرف بڑھ رہے ہیں جن سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ کیا تھا۔ ان حالات میں امت کو تباہی سے بچانے کا راستہ عبادتوں کے ساتھ احقاق حق، ابطال باطل اور اقامت دین کی جدوجہد میں جان اورمال کی بازی لگا دینا ہے۔
اس خلفشار کا ایک پہلو نظام اقتدار کا سند جواز (Legitimacy)سے محروم ہونا اور مسلم ممالک میں بنیادی حقوق کی پامالی، آزادی کا فقدان اور نظام شوریٰ کا عدم وجود ہے۔ اسلام میں اقتدار کے لیے سند جواز دو ہی چیزوں سے حاصل ہوتا ہے، یعنی: شریعت کی بالادستی اور ارباب اقتدار کا امت کا امین اور معتمد علیہ ہونا، جو شوریٰ کے ذریعے وجود میں آئے اور نظام زندگی کواللہ کی ہدایت کی روشنی میں چلائے۔ آج مسلم دنیا میں سیاسی آزادی کے حصول کے بعد بھی بیش تر ممالک میں جواز کی یہ دونوں بنیادیں ناپید ہیں۔ پھر اجتماعی زندگی اسلام کی برکتوں اور نعمتوں سے کیسے شادکام ہو اور دشمن کے مقابلے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کیسے بنے؟ ؎
آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گُلستاں پیدا
عبادت کے اسلامی تصور کی تفہیم اور انسانی زندگی میں اس کے گہرے اور ہمہ گیر انقلابی کردار کو سمجھنے کے لیے حج کی حقیقت اور اس کے پیغام پر تدبر کی نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔ ویسے تو جتنی بار بھی انسان کو حج بیت اللہ اور عمرہ کی سعادت حاصل ہو، وہ اس کی خوش نصیبی ہے۔ لیکن صرف ایک بار ہرصاحب استطاعت پر اسے فرض کرنے میں غوروفکر کا یہ پہلو بھی پایا جاتا ہے کہ زندگی میں ایک بار بھی ایمان اور احتساب کے ساتھ اس تجربے سے گزرنے سے عبودیت کے سارے ہی پہلوئوں سے انسان ہم آغوش ہو سکتا ہے اور اس سے اس کی زندگی میں وہ تبدیلیاں رُونما ہوسکتی ہیں جو اسے پوری زندگی راہِ حق پر قائم رکھ سکیں۔
حج ایک جامع ہے: عبادت کے جملہ مراسم و آداب کا، اور اسلام کی عالم گیر اور ازلی دعوت کے نمایاں ترین تاریخی پہلوئوں کا۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے دھارے کو عبدیت کی راہ پر رواں دواں کرنے کے لیے یہ تجربہ اگر اپنے پورے آداب کے ساتھ ایک بار بھی ہو جائے، تو یہ اتنا قوی اور جان دار ہے کہ پھر عیدالاضحی کی تجدید کے ساتھ ساری زندگی اس رخ پر بسر ہو سکتی ہے۔
حج کے لغوی معنی ’زیارت کا ارادہ‘ کرنے کے ہیں۔ حج کو ’حج‘ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں انسان ان متعین دنوں میں (۸تا۱۳ذوالحجہ) جو اس کے لیے مقرر کیے گئے ہیں (عمرہ یا زیارت کسی وقت بھی ہو سکتی ہے) کعبۃ اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے اور مناسک حج ادا کرتا ہے۔ حج ہربالغ اور صاحب ِاستطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بارفرض کیا گیا ہے اور جو شخص حج کی طاقت (جسمانی اور مالی) رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتا، وہ ایک عظیم ترین سعادت ہی سے محروم نہیں رہتا، بلکہ اپنے مسلمان ہونے کو بھی عملاً جھٹلاتا ہے:وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَo(اٰل عمرٰن۳:۹۷)‘ ’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے، اورجو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے، تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے‘‘۔ اس آیت کریمہ میں قدرت رکھنے کے باوجود قصداً حج نہ کرنے کو کفر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
آں حضوؐر نے بھی یہی بات صراحت سے فرمائی ہے:’’جو شخص زاد راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو اور پھر حج نہ کرے، تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا یکساں ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
وہ مسلمان عورت یا مرد جو تمام احکام اور آداب کے ساتھ حج کا فریضہ انجام دیتا ہے، اس کے بارے میں شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’حج اور عمرہ گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتے ہیں، جس طرح بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل اور کھوٹ کو صاف کر دیتی ہے، اورجو مومن اس دن (یعنی عرفہ کا دن) احرام کی حالت میں گزارتا ہے، اس کا سورج جب ڈوبتا ہے تو اس کے گناہوں کو لے کر ڈوبتا ہے‘‘۔ (نسائی و ترمذی)
سرور کائناتؐ نے فرمایا: ’’جس نے صرف اللہ کے لیے حج کیا، اور اس میں ہوس رانی اور گناہ نہ کیا، تو وہ ایسا ہو کر لوٹا، جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا۔‘‘
غور کرنے کی بات ہے کہ حج کی وہ کیا اہمیت اور خصوصیت ہے، کہ جس کی بنا پر ایک طرف قصداً اس کے کرنے کے انکار کو کفر کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف ایمان اور احتساب کے ساتھ اس کی ادایگی کو پچھلے گناہوں سے پاکی کاضامن قرار دیا گیا ہے اور اس کے بعد بالکل ایک نئی پاک و صاف زندگی کا باب کھول دیا گیا ہے؟
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حج کا کعبہ سے تعلق ہے، جو زمین پر اللہ کا گھر، امت مسلمہ اورانسانیت کا مرکزومحور اور رب کعبہ سے خصوصی نسبت رکھتا ہے۔ حج کی اصل بیت اللہ کی زیارت اور اسوۂ ابراہیمی کا تجربہ اور تجدید ہے۔ اس پورے عمل میں ایک طرف دعوت اسلامی کے سارے تاریخی مراحل سے انسان کو گزار دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف تمام منصوص عبادات کی روح اور ان کے خلاصے کو بھی اس میں سمو دیا گیاہے۔ اس طرح یہ مراسم عبادات کا جامع اور ایک جلوے میں ہزار جلوں کی تجلی گاہ بن جاتا ہے۔
کعبہ، اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر اور بندوں کی پہلی عبادت گاہ ہے، جو توحید کی علامت اور رب کے حضور بندگی کے لیے پہلی سجدہ گاہ ہے۔ زمین پر انسان کے سفر عبودیت اور شمال و جنوب سب اطراف کے رہنے والے اسی کی طرف رخ کرکے اپنے مالک کو پکارتے اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس نے اسے بندگی کا محور اور ملت اسلامیہ کا مرکز بنا دیاہے۔ اس گھر کی زیارت حج کا مقصودو مطلوب ہے تاکہ بیت اللہ کی زیارت سے رب بیت اللہ سے رشتہ استوار کیا جائے اور حقیقت یہ ہے کہ خدا کی زمین پر اس سادہ تعمیر سے زیادہ حسین، دیدہ زیب اور ایمان افروز مقام کوئی دوسرا نہیں۔
دوسرا قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ کعبہ بیت اللہ ہی نہیں ہے، اس کے ساتھ اللہ کے برگزیدہ نبی ابوالانبیا حضرت ابراہیمؑ اور ان کے فرزند حضرت اسماعیلؑ کی دعوت حق، شانِ اطاعت و فدائیت اور یکسوئی اور قربانی کے مثالی نمونوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ اللہ کے حکم سے انھی برگزیدہ انبیاؑ نے بیت اللہ کی موجودہ تعمیر مکمل کی تھی۔ اس پر بیت عتیق اور مکہ کے گردونواح کے چپے چپے پر اسوۂ ابراہیمی کے نقوش ثبت ہیں۔ دعوت اسلامی کی تاریخ میں حضرت ابراہیمؑ کی زندگی اور عالمی مساعی ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے ایمان و یقین، اطاعت و سپردگی، عبودیت و فدویت، ایثار وقربانی اور جہد مسلسل کا وہ نمونہ پیش کیا، جو ہمیشہ کے لیے روشنی کا مینار ہے۔
اللہ سے آپ کی محبت اور اللہ کا آپ کو اپنا ’خلیل‘[دوست] کہنا وہ شرف ہے، جس نے آپ کو پوری انسانیت کا محبوب بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جس انسان کامل پر نبوت کے سلسلۃ الذہب کا خاتمہ اور تکمیل ہوئی وہ اور آپ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور حضوؐر پر درود وسلام کے ساتھ اگر کسی نبی کی طرف مسلسل درود وسلام کی سوغات بھیجی جاتی ہے، وہ حضرت ابراہیمؑ ہیں:
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ
حضرت ابراہیمؑ کو یہ مقام ان کے مثالی کردار کی وجہ سے حاصل ہوا۔ ان کو آزمایشوں کی کسوٹی پر بار بار پرکھا گیا، اور وہ ہر بار آزمایش کی کٹھالی سے کامیاب و کامران نکلے۔ انھوں نے عین عالم جوانی میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں اپنی قوم کے بت کدے میں اذان دی اور ان بتوں کو پاش پاش کر دیا، جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا۔
جب حضرت ابراہیمؑ کو دین آبا کی توہین کی پاداش میں آگ میں ڈالا گیا تو ’’بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق‘‘۔ فرعون نے جب اپنے جبرواقتدار کا سہارا لے کر اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا، تو انھوں نے برہان قاطع سے اس کو لاجواب کر دیا اور اپنی جان کی کوئی پرواتک نہ کی۔ جب انھیں دعوت حق پھیلانے کے لیے اپنے خاندان، قوم اور وطن سب کچھ چھوڑنے اور اللہ کے لیے ہجرت کرنے کا حکم ہوا تو سب کچھ چھوڑ کر کمربستہ ہو گئے اور چار دانگ عالم میں اللہ کے کلمے کو پہنچانے کے لیے مصروف دعوت و جہاد ہو گئے۔ اور پھر جب ان کو اپنے محبوب لخت جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا، تو بلاتوقف اس کی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ حکم الٰہی کی تعمیل، دعوت حق کی تشریح و توضیح اور آقا کی مرضی اور محبوب کے اشارۂ چشم و ابرو پر سب کچھ قربان کردینے کی یہی وہ ادا ہے، جس نے جاں بازی، جاں نثاری اور جاں سپاری کی وہ روشن مثال قائم کی، جو اسوۂ ابراہیمی ؑ کی اصل اور انسانیت کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نمونہ اورمعیار بنا دی گئی۔
حج اسی تاریخ دعوت وعزیمت کی یاد دہانی اور اس تاریخ کو از سر نورقم کرنے کی دعوت اور اس کے لیے تیاری کی مشق ہے۔ حج کا مقصد اللہ کے حکم کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کے حقیقی حج کے ساتھ تشبہ اختیار کرکے ان کے نمونۂ ایمان و للہیت، جذبۂ عبدیت اور کمال فدویت و فدائیت کو یاد کرنا اور ان کی روشن مثال سے خود اپنے اندر ایمان، اطاعت اور ایثار و قربانی کے جذبے کی آبیاری کرنا ہے۔ مالک کی پکار پر لبیک کہنا اور ساری زندگی کو پوری آمادگی شوق اور وارفتگی سے اس کی رضا طلبی کے لیے وقف کر دینا ہے:
لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالْنِعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ ،اے اللہ! میں حاضر ہوں، میرے اللہ، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ حمد تیری ہی ہے، نعمتیں تیری ہی دین ہیں اور بادشاہی اور اقتدار صرف تیرا ہی ہے، اور ان سب میں تیرا کوئی شریک نہیں۔
یہ صرف ایام حج کا تلبیہ اور ترانہ ہی نہیں ہے،بلکہ اللہ کے بندوں کے لیے پوری زندگی کا وظیفہ ہے۔ یہ مالک کے حضور مکمل سپردگی کاعہد ہے۔ اپنے اللہ کے سامنے خود جس کی مثال اورنمونہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضور اکرمؐ نے انسانیت کے سامنے رکھا۔ حج کا اصل سبق اور پیغام اپنے اللہ کے سامنے یہی خود سپردگی ہے۔ ستم ہے کہ ہم زبان سے یہ تلبیہ ادا کرتے ہیں لیکن اللہ کی وحدانیت کی گواہی کے ساتھ اس میں جن تین صفاتِ الٰہی پر توجہ کو مرکوز کیا ہے ان پر غور نہیں کرتے، یعنی حمد کا مستحق صرف اللہ ہے، ہرنعمت اللہ کی طرف سے ہے، اور اقتدار اور بادشاہی اللہ اور صرف اللہ کی ہے۔ لہُ الملک کا اس تلبیہ کا آخری اعلان ہونا اپنے اندر جو معنویت رکھتا ہے افسوس آج وہ آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔
حج کے مناسک پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر بار اور کاروبار کو چھوڑنے، سفر کی صعوبتیں انگیز کرنے اور روایتی لباس ترک کرکے احرام کے فقیرانہ لباس زیب تن کرنے سے لے کر طواف، سعی، وقوف عرفات، مزدلفہ کی شب باشی، منیٰ کا قیام، قربانی، رمی جمار اور حلق (سر کے بال منڈوانا) تک ہر چیز سے بندگی کی تصویر ابھرتی ہے۔ ان میں سے ہر عمل کی اسوۂ ابراہیمی کے کسی نہ کسی پہلو سے نسبت ہے۔ للہیت، سپردگی، اطاعت اور فداکاری کی شان ہر ہر عمل سے نمایاں ہے اور یہی حج کی اصل رمز ہے اور اس پورے تجربے میں تعلیم و تربیت کا بڑا مؤثر سامان ہے، تاکہ بندہ یہاں سے یہ سبق لے جائے کہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی ہمارا راستہ، ان کا نمونہ ہی ہمارے لیے نمونہ، اور اس راستے پر چلنا اور اس نمونے کا اتباع ہی ہماری زندگی کا مقصود ہوگا اور اس راہ میں ہمارے قدم کبھی سُست نہیں پڑیں گے۔
حج پر غور وفکر کا تیسرا پہلو اس کی جامعیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام ہی مراسم عبادت کا جامع ہے۔ نماز کا آغاز اگر نیت کی درستی، قبلے کے استقبال اور بدن کی طہارت سے ہوتا ہے اور اس کی روح ذکر الٰہی ہے، تو حج پہلے ہی مرحلے سے ان سب کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ بیت اللہ کی طرف رخ ہی نہیں اس کا قصد اور اس کی طرف سفر،اور پھر اس کا طواف اور اس کی طرف سجدے ہی سجدے، احرام اور جسم اور روح کی طہارت اور حج کی نیت سے لے کر طواف وداع تک ذکر ہی ذکر۔ نماز اگر فحش اور منکرات سے روکنے کا ہتھیار ہے، تو احرام بھی فحش اورمنکرات کے باب میں ایک حصار ہے۔
حج کے پورے عمل کو خواہش نفس سے پاک کرنا اور گناہوں سے بچانا، آداب حج کا حصہ ہے۔ زکوٰۃ مالی عبادت ہے، جو ایک طرف حب دنیا اور حبِ دولت سے انسان کو بچاتی ہے تو دوسری طرف معاشرے سے بھوک اور غربت کو مٹانے اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ حج میں بھی انسان کو کثیر مالی قربانی کرنا پڑتی ہے۔ صرف زاد راہ اور قربانی ہی کے لیے نہیں بلکہ ایک عرصے کے لیے ترکِ معاش اور اہل خاندان کے لیے معاش کے انتظام کی شکل میں۔
احرام پوری امت کے لیے مساوات کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کرتا ہے اور امیرغریب، بادشاہ فقیر، سب ایک ہی لباس میں آجاتے ہیں۔ روزے کا مقصد بھی تقویٰ پیدا کرنا، ضبط نفس کی تربیت دینا، جسمانی مشقت انگیز کرنے کے لیے تیار کرنا، تعلقات زن و شو سے احتراز (صرف دن ہی میں نہیں، حج کی راتوں میں بھی)، بے آرامی اور ذکر کی کثرت کی فضا بنانا ہے۔ حج میں یہ سب اپنے اپنے انداز میں موجود ہیں۔
روزے کو قرآن سے خصوصی نسبت ہے۔ حج میںبھی قرآن کی تلاوت اور مقاماتِ نزول قرآن کی زیارت، روزے کے ان پہلوئوں کا لطف پیدا کر دیتے ہیں۔ نماز کی باجماعت ادایگی، زکوٰۃ کی بیت المال کے نظام کے ذریعے منظم تقسیم اور روزے کو ایک ہی مبارک مہینے میں تمام اُمت کے لیے فرض کرنے میں اجتماعیت کی جو شان ہے، حج اس کی معراج ہے۔ غرض اس ایک عبادت میں، جو بالعموم کئی مہینوں پر پھیلی ہوئی ہے اور سفر کی جدید سہولتوں کے باوجود کئی ہفتوں کا اعتکاف اور انہماک تو لازماً چاہتی ہے۔ عبادت کے تمام ہی مراسم اور ان کے اہداف کسی نہ کسی شکل میں جمع کردیے گئے ہیں، جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد اوریادگار تجربہ ہے۔
حج کا ایک اور منفرد پہلو امت کی وحدت اور انسانیت کے ایک خاندان اور برادری ہونے کو نمایاں کرنا ہے۔ رنگ، نسل، وطن، زبان، مرزبوم، سماجی تنوع، معاشی تفاوت، غرض ہر فرق ختم ہو جاتا ہے۔ ایک اللہ کے ماننے والے بیت اللہ کی زیارت اور طواف کے لیے دنیا کے گوشتے گوشے سے ایک مرکز پر جمع ہوتے ہیں اور ایک خاندان کی طرح ایک امام کی قیادت میں ایک ہی تلبیہ کا ورد کرتے ہوئے دن رات ساتھ گزارتے ہیں۔
تہذیب وتمدن کے سارے خول اتر جاتے ہیں اور صرف للہیت اور انسانیت کا نمونہ پیش کرتے ہیں اور ان سب کا آخری ہدف اللہ کی رضا کا حصول، زمین پر اس کی مرضی پوری کرنے کا عزم، استخلاف فی الارض کے مشن کی تنفیذ کے جذبے کو تازہ کرنا اور دین کی دعوت اور نصرت کی جدوجہد میں زندگی وقف کرنے کا داعیہ اجاگر کرنا بن جاتا ہے۔ یہ وہ انقلابی مقصد ہے، جس کے لیے اس امت کو برپا کیا گیا اور اس کی تذکیر حج کا اصل وظیفہ ہے۔
’’خانہ کعبہ اس دنیا میں عرش الٰہی کا سایہ اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کا نقطۂ قدم ہے… یہ وہ منبع ہے، جہاں سے حق پرستی کا چشمہ ابلا، اور اس نے تمام دنیا کو سیراب کیا۔ یہ روحانی علم و معرفت کا وہ مطلع ہے، جس کی کرنوں نے زمین کے ذرے ذرے کو درخشاں کیا۔ یہ وہ جغرافیائی شیرازہ ہے، جس میں ملت کے وہ تمام افراد بندھے ہوئے ہیں، جو مختلف ملکوں اور اقلیتوں میں بستے ہیں، مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف لباس پہنتے ہیں، مختلف تمدنوں میں زندگی بسر کرتے ہیں، مگر وہ سب کے سب، باوجود ان فطری اختلافات اور طبعی امتیازات کے، ایک ہی خانہ کعبہ کے گرد چکر لگاتے ہیں، اور ایک ہی قبلے کو اپنا مرکز سمجھتے ہیں اور ایک ہی مقام کو اُم القریٰ مان کر وطنیت، قومیت، تمدن ومعاشرت، رنگ روپ اور دوسرے تمام امتیازات کو مٹا کر، ایک ہی وطن، ایک ہی قومیت (آلِ ابراہیمؑ) ایک ہی تمدن و معاشرت (ملت ابراہیمی) اور ایک ہی زبان (عربی) میں متحد ہو جاتے ہیں۔
’’لوگ آج یہ خواب دیکھتے ہیں کہ قومیت وو طنیت کی تنگ نائیوں سے نکل کر وہ انسانی برادری کے وسعت آباد میں داخل ہوں، مگر ملت ابراہیمی کی ابتدائی دعوت اور ملت محمدیؐ کی تجدیدی پکارنے سیکڑوں ہزاروں برس پہلے اس خواب کو دیکھا اور دنیا کے سامنے اس کی تعبیر پیش کی۔ لوگ آج تمام دنیا کے لیے ایک واحد زبان کے ایجادوکوشش میں مصروف ہیں، مگر خانہ کعبہ کی مرکزیت کے فیصلے نے آلِ ابراہیمؑ کے لیے مدت دراز سے اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔ لوگ آج دنیا کی قوموں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے ایک ورلڈ کانفرنس یا عالم گیر مجلس کے انعقاد کے درپے ہیں، لیکن جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ساڑھے [چودہ صدیوں] سے یہ مجلس دنیا میں قائم ہے اور اسلام کے علم، تمدن، مذہب اور اخلاق کی وحدت کی علم بردار ہے۔
’’مسلمان ڈیڑھ سو برس تک جب تک ایک نظم حکومت یا خلافت کے ماتحت رہے، یہ حج کا موسم ان کے سیاسی اور تنظیمی ادارے کا سب سے بڑا عنصر رہا۔ یہ وہ زمانہ ہوتا تھا، جس میں اُمور خلافت کے تمام اہم معاملات طے پاتے تھے۔ اسپین سے لے کر سندھ تک مختلف ملکوںکے حکام اور والی جمع ہوتے تھے، اور خلیفہ کے سامنے مسائل پر بحث کرتے تھے اور طریق عمل طے کرتے تھے، اور مختلف ملکوں کی رعایا آکر اگر اپنے والیوں اور حاکموں سے کچھ شکایتیں ہوتی تھیں، تو ان کو خلیفہ کی عدالت میں پیش کرتی تھیں، اور انصاف پاتی تھیں۔
’’اسلام کے احکام اور مسائل جودم کے دم میں اور سال ہا سال دُور دراز اقلیموں، ملکوں اور شہروں میں اس وقت پھیل سکے، جب سفر اور آمدورفت کا مسئلہ آسان نہ تھا۔ اس کا اصل راز یہ سالانہ حج کا اجتماع ہے اور خود رسولؐ اللہ نے اپنا آخری حج جو حجۃ الوداع کہلاتا ہے، اسی اصول پر کیا۔ وہ انسان جو تیرہ برس تک مکہ میں یکہ و تنہا رہا، ۲۳برس کے بعد وہ موقع آیا جب اس نے تقریباً ایک لاکھ کے مجمع کو بیک وقت خطاب کیا اور سب نے سَمْعاً وَ طَاعَۃً کہا۔ آپؐ کے بعد خلفاے راشدینؓ اور دوسرے خلفا کے زمانے میں صحابہ کرامؓ اور ائمہ اعلام نے اسی طرح سال بہ سال جمع ہو کر احکام اسلام کی تلقین و تبلیغ کی خدمت ادا کی، اس کا نتیجہ تھا کہ نت نئے واقعات اور مسائل کے متعلق، دنیا کے مختلف گوشوں میں اسلام کے جوابی احکام اور فتوے پہنچتے رہے اور پہنچتے رہتے ہیں‘‘۔(سیدسلیمان ندوی، سیرت النبیؐ، پنجم، ص۲۱۹،۳۲۱)
ہم نے مولانا سید سلیمان ندویؒ کی تحریر سے یہ طویل اقتباس اس لیے دیا ہے کہ حج کے اس منفرد پہلو کو ایک روایتی عالم دین کے الفاظ میں اجاگر کریں۔ ورنہ محدود مذہبی ذہن رکھنے والے تو اس پر ’دین کی سیاسی تعبیر‘یا ’سیاسی اسلام‘ کی پھبتی کستے نہیں تھکتے۔ حالانکہ یہ اسلام کا ایک ایسا اعجاز اور تاریخی کارنامہ ہے، جس پر مخالف بھی ششدر رہ جاتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پیش تر شائع ہونے والی اوکسفرڈ انسائی کلوپیڈیامیں مقالہ نگار رابرٹ بیانشی (Robert Bianchi) کے یہ جملے قابلِ غور ہیں(انگریزی سے ترجمہ):
دنیا کی تمام زیارتوں میں حج منفرد بھی ہے اور اہم ترین بھی۔ عیسائیت اور ہندومت کے قدیم اور اعلیٰ ترقی یافتہ بین الاقوامی زیارت کے نظاموں سے مقابلہ کیا جائے تو عقیدے کی مرکزیت، جغرافیائی ارتکاز اور تاریخی تسلسل کے لحاظ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔(اوکسفرڈ انسائی کلوپیڈیا آف ماڈرن اسلامک ورلڈ ( اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۵ئ، جلد۲،ص۱۸۸)، ’حج‘)
اس پہلو سے اگر غور کیا جائے تو جس طرح حفظِ قرآن، کتابت وتعلیم قرآن اور رمضان المبارک میں قرآن سے تجدید تعلق نے اللہ کی کتاب کو محفوظ رکھا ہے، اسی طرح حج نے اسلام کی اصل روح…للہیت، عبدیت اور امت کی وحدت اور اخوت کو اس طرح ایک تاریخی نظام میں پرو دیا ہے۔ ایک ادارے کے طور پر یہ روایت اپنے مرکز سے پوری دنیا میں اور ایک نسل سے دوسری نسل اورایک دور سے دوسرے دور کی طرف برابر منتقل ہو رہی ہے اور ان شاء اللہ تاابد ہوتی رہے گی۔
پس اگر میں یہ کہوں تو بے جانہ ہوگا کہ جس طرح رمضان کا مہینہ تمام اسلامی دنیا میں تقویٰ کا موسم ہے، اسی طرح حج کا زمانہ تمام روے زمین میں اسلام کی زندگی اور بیداری کا زمانہ ہے۔ اس طریقے سے شریعت بنانے والے حکیم ودانا نے ایسا بے نظیر انتظام کر دیا ہے کہ ان شاء اللہ قیامت تک اسلام کی عالم گیر تحریک مٹ نہیں سکتی۔ دنیا کے حالات خواہ کتنے ہی بگڑ جائیں اور زمانہ کتنا ہی خراب ہو جائے، مگر یہ کعبے کامرکز اسلامی دنیا کے جسم میں کچھ اس طرح رکھ دیا گیا ہے، جیسے انسان کے جسم میں دل ہوتا ہے۔ جب تک دل حرکت کرتا رہے، آدمی مر نہیں سکتا، چاہے بیماریوں کی وجہ سے وہ ہلنے تک کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ بالکل اسی طرح اسلامی دنیا کا یہ دل بھی ہر سال اس کی دُور دراز رگوں سے خون کھینچتا رہتا ہے اور پھر اس کو رگ رگ تک پھیلادیتا ہے۔ جب تک اس دل کی یہ حرکت جاری ہے اور جب تک خون کے کھینچنے اور پھیلنے کا سلسلہ چل رہا ہے، اس وقت تک یہ بالکل محال ہے کہ اس جسم کی زندگی ختم ہو جائے، خواہ بیماریوں سے یہ کتنا ہی زار ونزار ہو۔(خطبات،چہارم،ص۲۴۵-۲۴۶)
حج کی یہ برکتیں اورمنافع ہیں کہ ساری خرابیوں کے باوجود اس امت میں زندگی اور حرارت ہے۔ اگر شر کی قوتیں ہر طرف سے حملہ آور ہیں تو حق کی قوتیں بھی مدافعت، مزاحمت اور پیش رفت میں سرگرمِ عمل ہیں، اور یہ سب اس کے باوجود ہے کہ حج اور تمام ہی عبادات، مختلف وجوہ سے اپنے اثرات بکمال و تمام پیدا نہیں کر پا رہیں اور اسلام نے تجدید واصلاح کا جو نظام بنایا ہے وہ بڑی حد تک مفلوج ہے۔
بلاشبہہ امت میں نیک نفوس بھی موجود ہیں اور چند متحرک گروہ بھی، جو دین کو اس کی اصل اسپرٹ میں قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی امت غفلت اور دین کے بارے میں بے توجہی کا شکار ہے۔ خصوصیت سے بااثر طبقات، جدید تعلیم یافتہ لوگ اوربرسرِاقتدار عناصر اپنی ذمہ داریوں سے غافل، نفس پرستی اور دنیا داری میں مگن اور قیامِ دین اور احیاے شریعت سے کنارہ کش ہیں۔
عبادتیں بڑی حد تک اپنی اصل روح سے عاری اور محض رسم اور عادت بن گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت اور شریعت کی موجودگی، نماز روزہ، زکوٰۃ اور حج کی پاس داری، مسجدوں اور مدرسوں کے قیام و انصرام اور دعوتی اور تبلیغی اجتماعات کی ریل پیل کے باوجود نمازیں اثر سے خالی ہیں، روزے تقویٰ کی فصل بہار پیدا نہیں کر پا رہے، زکوٰۃ معاشی اور سماجی انصاف کے قیام پر منتج نہیں ہو رہی، اور حج میں لاکھوں کے اجتماع کے باوجود ملت کے جسم میں تازہ خون نہیں آ رہا اور بدن فساد خون کا شکار ہے۔
تمام خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود جو مثبت اثرات حج اور دوسری عبادات کے رونما ہورہے ہیں، ان کے اعتراف اور ان پر اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ہم امت کے تمام ہی ارکان کو، اور خصوصیت سے اس کے سوچنے سمجھنے والے عناصر اور دینی اجتماعی قیادت کو ان اسباب کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں، جن کی وجہ سے پوری عبادتیں پوری طرح اپنے ثمرات پیدا نہیں کر پا رہیں۔
سب سے پہلی چیز عبادات کی ظاہری ادایگی اور ان کی اصل روح اور دین کی تعلیمات اور اصلاح کی مجموعی اسکیم میں ان کا رول اور کردار ہے۔ مذہب اور ثقافت کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک انقلابی تصور اس وقت تک انقلابی رہتا ہے، جب تک اس کی اصل روح بیدار رہتی ہے اور وہ محض ایک رسم اور بے جان جسم نہیں بن جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت نے نیت کی اصلاح اور ہر عبادت کے ایمان اور احتساب کے ساتھ انجام دینے کو بڑی اہمیت دی ہے۔
آج مسلمانوں کا بڑا بنیادی مسئلہ دین سے ناواقفیت، عمومی جہالت اور تعلیم کی پستی ہے، حالانکہ اسلام تو آیا ہی ایک تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے لیے تھا اور حصول علم کو ہر مسلمان مرد اورعورت کے لیے واجب قرار دیا گیا تھا۔ عبادات اور خصوصیت سے حج کے غیر مؤثر ہونے میں بڑا دخل ان عبادات کو بلا سمجھے ادا کرنے کا مرض ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ قرآن کی تعلیم، دین و شریعت سے واقفیت اور نظام زندگی میں ان کے کردار کا پورا پورا فہم و ادراک پیدا کیا جائے۔ محض حفظ کرکے چند سورتوں کو نہ دہرا لیا جائے،بلکہ ہر عبادت کو پوری طرح سمجھ کر، الفاظ کے معنی کا پورا پورا ادراک کرکے اور ہر عبادت کو اس کے مقصد اور منشا کے مکمل شعور کے ساتھ اس کو ادا کیا جائے۔ علم کا یہ حصول ہر فرد کی ذمہ داری بھی ہے اور معاشرے کے تمام بااثر افراد کی بھی(یہاں ہم حفظ کرنے کی فضیلت اور کلماتِ قرآنی کے دہرانے کی فضیلت اور اعزازکا درجہ کم تر نہیں کر رہے بلکہ اس کی تاثیر اور اثر پذیری میں اضافے کے لیے مفہوم اور معانی تک رسائی کی اہمیت واضح کر رہے ہیں)۔
حضوؐرنے فرمایا ہے کہ: کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلَّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتَہِ (بخاری، ۸۹۳)، تم میں سے ہر ایک چرواہے کے مانند ہے اور ہر ایک اپنے اپنے ریوڑ کے بارے میں جواب دہ ہے۔ جس کے معانی یہ ہیں کہ ماں، باپ، استاد، گھر کے بزرگ، محلے کے پنچ، معاشرے کے لیڈر، مملکت کے ذمہ دار سب کی ذمہ داری ہے کہ جہالت کی اس وبا سے قوم کو نجات دلائیں۔ تعلیمی انقلاب، اصلاحِ احوال کی طرف پہلا قدم ہے۔
اس تعلیمی انقلاب کے تین پہلو ہیں:
عبادات سکڑ کر اگر صرف رسوم و رواج بن جائیں اور جنھیں اللہ سے ملاقات کا ذریعہ اورمناجات کا وسیلہ ہونا چاہیے، وہ محض ایک بے روح اور بے جان عادت کی شکل اختیار کر لے، تو وہ زندگی میں کوئی تبدیلی کیسے لا سکتی ہے۔ آج ہماری نمازیں، ہمارے روزے اور ہمارے حج اس وجہ سے بے اثر ہو گئے ہیں کہ ہم نے ان کو بس ایک رسم، ایک عادت، ایک جسدِ بے روح بنادیا ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم عبادات کا حق ادا کر رہے ہیں۔
شیخ عثمان بن علی ہجویریؒ [م:۲۵ستمبر۱۰۷۲ئ]کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ: ’’ایک صاحب حضرت جنید بغدادی[م:۹۱۰ئ] کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا: کہاں سے آرہے ہو؟ جواب ملا: حج سے واپس آ رہا ہوں۔ پوچھا: حج کر چکے؟ عرض کیا: کر چکا۔ پوچھا: جس وقت گھر سے روانہ ہوئے اور عزیزوں سے جدا ہوئے تھے، اپنے تمام گناہوں سے بھی مفارقت کی نیت کرلی تھی؟ کہا: نہیں یہ تو نہیں کیا تھا۔ فرمایا: بس سفر پر روانہ ہی نہیں ہوئے! پھر فرمایا:کیا راہ میں جوں جوں تمھارا جسم منزلیں طے کر رہا تھا، تمھارا قلب بھی قربِ حق کی منازل طے کرنے میں مصروف تھا؟ جواب دیا: یہ تو نہیں ہوا… ارشاد ہوا: پھر تم نے سفرِ حج کی منزلیں طے ہی نہیں کیں۔ پھر یہ پوچھا کہ جس وقت احرام کے لیے اپنے جسم کو کپڑوں سے خالی کیا تھا، اس وقت اپنے نفس سے بھی صفات بشریہ کا لباس اتارا تھا؟ کہا: یہ تو نہیں کیا تھا۔ ارشاد ہوا: پھر تم نے احرام باندھا ہی نہیں۔ پھر پوچھا: جب عرفات کے وقوف اور مزدلفہ کے قیام میں اپنی مراد کو پہنچ چکے تو خواہشات نفسانی کے ترک کا بھی عہد کیا تھا؟ کہا: یہ تو نہیںکیا۔ ارشاد ہوا: پھر عرفات اور مزدلفہ میں تم حاضر ہی نہیں ہوئے۔ پھر پوچھا: قربانی کے وقت اپنے نفس کی گردن پر بھی چھری چلائی تھی؟ کہا: یہ تو نہیں کیا۔ ارشاد ہوا: تم نے قربانی نہیں کی۔ اسی طرح سارے سوال پوچھنے کے بعد شیخ نے آخر میں فرمایا کہ ’’تمھارا حج کرنا، نہ کرنا برابر رہا، اب پھر جائو اور صحیح طریقے پر حج کرو‘‘۔
دین کی تعلیم، عبادات کی تعلیم اور ان کی حقیقی روح کا شعور پیدا کرنا ہی تعلیم کی اصل ہے۔ ضروری ہے کہ امت کے تمام افراد کو تعلیم وتعلّم کے تمام قدیم اور جدید ذرائع استعمال کرکے دین کی بنیادی تعلیمات اور ان کی حقیقی روح اور مطلوبہ نتائج سے روشناس کیا جائے۔ تب ہی ہماری عبادات پوری طرح ثمر آور ہو سکتی ہیں۔ ورنہ خدشہ ہے کہ عبادات ہی نہیں ہر دینی عمل، ایمان، احتساب اور تقویٰ کے بغیر بے جان اور غیر مؤثر رہے گا، اور حج جیسی جامع بھی غیرمؤثر ہوکر رہ جاتی ہے۔
۸جولائی۲۰۱۶ء کشمیر کی تحریکِ آزادی کی تاریخ میں ایک روشن سنگ ِ میل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ ۲۱سالہ مجاہد بُرہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت نے اس تحریک کوایک نئے اور فیصلہ کن دور میں داخل کردیا ہے۔ ہماری نگاہ میں یہ ایک تاریخی موڑ ہے جسے اچھی طرح سمجھنا اور حالات کے گہرے ادراک اور مستقبل کے حقیقت پسند انہ امکانات کی روشنی میں صحیح، جامع اور مؤثر پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔ بُرہان وانی شہید کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے لیکن وقت کی اصل ضرورت حالات کے دھارے کو سمجھنے اور اس عظیم تحریک کی حفاظت ، اس کی ترقی اور اسے حقیقی کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔ شہدا کی قربانیوں کو صحیح خراج تحسین اس تحریک کوآگے بڑھانے اور کامیابی سے ہم کنار کرنے کی سعی و جہد میں ہے اور اس کی فکر پاکستانی قوم، اس کی سیاسی اور عسکری قیادت اور پوری اُمت مسلمہ اور حق پرست انسانوں اور آزادی کے پرستاروں کو کرنی چاہیے۔
کشمیر کے سلسلے میں جولائی کا مہینہ ہر دواعتبار سے تو گذشتہ ۸۵برس سے اہم تھا، یعنی ۱۳جولائی ۱۹۳۱ء کو ڈوگرہ راج کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کا آغاز ہوا، جسے برعظیم کے مسلمانوں کی مکمل تائید حاصل تھی۔ ۱۹جولائی ۱۹۴۷ء کو جموں و کشمیر مسلم کانفرنس (جسے ۱۹۴۷ء کے کشمیر کے انتخابات میں مسلمانوں کی ۱۶ نشستیں حاصل کر کے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی ترجمانی کا مقام حاصل ہوگیا تھا) کی الحاقِ پاکستان کی قرارداد کے ذریعے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی سیاسی منزل کا تعین ہوگیا۔
جولائی ۱۹۳۱ء سے جولائی ۲۰۱۶ء تک تحریکِ آزادی مختلف اَدوار میں بڑے بڑے نشیب و فراز سے اسے گزرتی رہی ہے لیکن ۸جولائی کو مجاہد بُرہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت ، بھارتی حکومت کی اندھی قوت کے ذریعے تحریکِ آزادی کو کچلنے کی کوشش اور اس پر کشمیری مسلمانوں کے شدید ردعمل نے عوامی تحریک اور جذبات کو قوت کے ذریعے ختم کرنے کی پالیسی کے دیوالیہ پن کو ایک بار پھر دو اور دو چار کی طرح واضح کر دیا ہے۔
ان سطور کے ضبط ِ تحریر میں لانے تک ۶۰سے زیادہ افراد شہید ہوچکے ہیں۔ ساڑھے تین ہزار زخمی ہیں، کرفیو کا سلسلہ صرف ایک دن کے خونی استثنا کے ساتھ جاری ہے۔ کاروبارِ زندگی مفلوج ہے، اخبارات اور معلومات کے تمام معروف ذرائع کا بشمول ٹیلی فون اور انٹرنیٹ گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود عوامی جذبات کا ریلا پوری طرح رواں دواں ہے اور سرکاری دہشت گردی کے باوجود آزادی کا نعرہ اس طرح بام و دَر میں گونج رہا ہے جس طرح نوجوان مجاہدین کی شہادت کے بعد رُونما ہواتھا۔ بھارت کے ذرائع ابلاغ، دانش ور، پالیسی پر اثرانداز ہونے والے ادارے اور عالمی قوتیں جس بے حسی اور بے دردی سے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو نظرانداز کررہے تھے، ان میں بھی ایک ارتعاش پیدا ہوا ہے اور جو منقار زیر پر تھے، وہ بھی اب یہ سوچنے اور آہستہ آہستہ بڑبڑانے پر مجبور ہورہے ہیں کہ یہ سب کیا ہے اور اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اب تک جن پالیسیوں پر عمل کیا گیا ہے، کیا ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
مجاہد بُرہان وانی کی شہادت کی جگہ خاص و عام کے لیے زیارت کا مقام بن گئی ہے اور الجزیرہ ٹیلی وژن کا نمایندہ شہادت کے پانچ دن کے بعد جاے شہادت یعنی کاوپور کے علاقے میں واقع چھوٹے سے گائوں ’بمدور‘ اور بُرہان کی جاے پیدایش اور مقامِ تدفین ترال پہنچا۔ اس نے اپنے اور کشمیر کے عوام کے جو تاثرات الجزیرہ کے ۱۵جولائی کے پروگرام میں نشر کیے ہیں، وہ زمینی حقائق کو سمجھنے میں مددگار ہیں۔ رپورٹ الجزیرہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور خاصی طویل ہے۔ ہم صرف چند اقتباسات دے رہے ہیں:
بمدور( اننت ناگ) بھارتی مقبوضہ کشمیر___ کالے کوّوں کی آواز کے سوا جو ٹین کی ہر چھت سے آرہی ہے،یہاں مکمل خاموشی ہے۔ یہ بدھ کی صبح ہے، اور تھوڑی دیر کے لیے تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی نہیں رہتا۔ دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں، درجنوں کوّے ہیں اور خاموشی ہے۔ یہ کاوپور کے علاقے میں ہے جس کے لفظی معنی کوّوں کے مسکن کے ہیں جو ’بمدور‘ گائوں کے نزدیک واقع ہے۔ جہاں چھوٹے چھوٹے بہت سے مکانات ہیں۔ جھاڑیاں، چشمے اور وسیع و عریض دھان کے کھیت ہیں۔ اس بغاوت کا گذشتہ جمعے کو یہاں سے آغاز ہوا جس نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایک تنگ راستے پر جو مرکزی سڑک سے مکانات کی طرف جاتا ہے پتھروں، لاٹھیوں اور رسیوں کے چوکور رقبے میں کوّے اور کالے اور ہرے جھنڈوں کے درمیان اس جگہ کا نشان ہے جہاں ۲۲سالہ لڑکے بُرہان وانی کو قتل کیا گیا۔ یہ زیارت کی ایک جگہ بن گئی ہے۔ پچھلے ہفتے تک کوئی کبھی یہاں نہیں آیا تھا۔ اس گائوں میں کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ۲۴سالہ انجینیرنگ کے طالب علم شوکت احمد نے کہا: ’’گذشتہ پانچ دنوں سے روزانہ یہاں ایک ہزار سے بھی زیادہ لوگ آتے ہیں کہ بُرہان کو یہاں قتل کیا گیا تھا‘‘۔
اس رپورٹ میں بُرہان کے خنجربکف مجاہد بننے، دوسروں کو بیدار کرنے اور پھر شہادت کے بعد آخری سفر کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:
۲۰۱۰ء میں وانی نے جب وہ ۱۵سال کا لڑکا تھا، بندوق اُٹھائی۔ لیکن دوسرے لڑنے والوں کی طرح اس نے اپنا دوسرا نام یا لقب نہ رکھا اور اپنی شناخت کو نہ چھپایا۔ اس کے بجاے اس نے اپنی تصاویر اور وِڈیو فیس بک جیسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں اور یہ کرتے ہوئے اس نے کشمیریوں کی نئی نسل کو اپیل کی۔ اس طرح عوام کے تصور میں مسلح مزاحمت عود کرآئی۔ وانی ہرگھر کا جانا پہچانا نام بن گیا۔ ہفتے کی صبح تقریباً ۲لاکھ افراد نے ترال میں اس کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ جب اسے دفن کیا گیا تو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ایک بغاوت برپا ہوچکی تھی۔
دوسری رپورٹوں میں مزید تفصیل ہے کہ ترال میں مسلسل ۴۰بار نمازِ جنازہ ہوئی اور نمازیوں کا اندازہ ۶لاکھ بتایا گیا ہے۔ اس طرح سری نگر کی جامع مسجد میں غائبانہ نمازِ جنازہ میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ کشمیر کی وادی کا کوئی قابلِ ذکر مقام ایسا نہیں جہاں نمازِ جنازہ نہ ہوئی ہو۔ بیرونی ممالک میں بھی یہی کیفیت تھی۔
الجزیرہ کا نامہ نگار پورے علاقے میں گھوم پھر کر، ان ہسپتالوں کے چکّر لگاکر جہاں زخمی زیرعلاج ہیں، ان حالات کا خلاصہ بیان کرتا ہے جن سے کشمیر کے مسلمان مرد وزن، بوڑھے اور بچے دوچار ہیں اور ان کے ساتھ ان جذبات، احساسات اور عزائم کا بھی کھل کر ذکر کرتا ہے جو اس وقت ان کے سینوں میں موجزن ہیں اور جو تحریک کے موجودہ اور آنے والے مرحلوں کو سمجھنے اور ان کو صحیح رُخ پر آگے بڑھانے کے لیے سامنے رکھنا ضروری ہیں۔
وہ کہتی ہے کہ مقامی پولیس افسروں نے اسے گوریوان کے قریب اس کے مکان پر اسے زد و کوب کیا جب وہ اس کے سب سے چھوٹے بیٹے کی تلاش میں جو کہ ایک جاناپہچانا احتجاج کرنے والا ہے، آئے تھے۔ اس کی سیدھی ٹانگ سوجی ہوئی ہے اور ٹخنے سے گھٹنے تک زخمی ہے۔ اس کی دوسری ٹانگ پر ۱۳ٹانکے لگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے مجھے مارا اور یہ بھی نہ دیکھا کہ میں ایک بیمار اور بوڑھی عورت ہوں۔ وہ گھٹی گھٹی آواز میں کہتی ہے کہ ان میں سے ایک نے مجھے فرش پر لٹا دیا اور میرے سینے پر چڑھ بیٹھا۔ اس کا پوتا محمدآصف بتاتا ہے کہ پولیس والوں نے قیمہ بنانے والے لکڑی کے ڈنڈے سے جو قریب ہی پڑا تھا، اسے مارا۔ انھوں نے گھر میں موجود تمام عورتوں کو مارا۔ ایک دوسرا ۱۵سالہ پوتا بتاتا ہے کہ انھوں نے میری ۱۲سالہ بہن کو برہنہ کر دیا۔ میں خواہش ہی کرسکتا ہوں کہ کاش! میں گھر میں نہ ہوتا۔ تین راتوں سے میں سو نہیں پایا۔ میری عریاں بہن کا تصور مجھے پریشان کرتا رہتا ہے، یہ مجھ کو سونے نہیں دیتا۔ پچھلے تین دن سے میں نے صرف یہ سوچا ہے کہ ان پولیس والوں کو جنھوں نے میری بہن کو عریاں کیا، قتل کردوں۔
اس طرح کے جانے پہچانے احتجاج کرنے والوں کو پولیس جب گرفتار کرتی ہے تو بغاوت اُٹھتی نظر آتی ہے۔ عمر جیسے سیکڑوں نوجوان احتجاج میں شریک ہوجاتے ہیں۔
ہم یہ حقائق دل سخت کر کے اور بڑی شرمساری کے جذبات کے ساتھ شائع کر رہے ہیں لیکن یہ دنیا کو پہلی مرتبہ معلوم ہو رہا ہے کہ کشمیری مسلمان ۸۵سال سے کس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اُفق پر روشنی کی لکیر وہ بے خوفی اور حالات کے مقابلے کا نیا عزم ہے جو اَب نوجوانوں کے سینے میں موجزن اور آنکھوں سے عیاں ہے۔ نامہ نگار لکھتا ہے:
ہسپتال سے باہر میں زبیر سے ملا جو کہ فری میڈیکل کیمپ کا ایک رضاکار تھا۔ اس دفعہ کے احتجاج میں پہلے سے فرق کے بارے میں گفتگو کے دوران وہ بے خیالی میں چھروں والی گن سے بنے ہوئے سوراخوں کو کھجانے کے لیے اپنی نیلی ٹی شرٹ اُٹھاتا ہے جو بھارتی فورسز احتجاج کرنے والوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس دفعہ لوگوں کے کوئی بھی مطالبات نہیں ہیں، کوئی بھی نہیں۔ وہ قانون میں کوئی بہتری نہیں چاہتے، نہ کسی مقدمے کی تفتیش چاہتے ہیں، کچھ بھی نہیں۔ یہ بُرہان کی موت کے غم کا اظہار تھا یا اس کی زندگی کی تقریب تھی،یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ وہ کہتا ہے کہ ’’یہ وقت ہے کہ ہم نے لفظ آزادی کو ایک بار پھر دُہرایا‘‘۔ ۱؎
بھارتی اور مغربی میڈیا نے کشمیر کے حالات کے باب میں مجرمانہ بلیک آئوٹ کی روش اختیار کر رکھی تھی۔ غالباً یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چند بھارتی اخبارات اور تھوڑے بہت مغربی میڈیا پر کچھ چیزیں آنا شروع ہوئی ہیں۔ کشمیر کے اندر ظلم و استبداد پر خاموشی اور سپردگی (surrender) کے مقابلے میں مزاحمت اور بے خوفی کے ساتھ جوابی جدوجہد کا عزم نمایاں ہے اور اس میں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم اور نمایاں ہے جو اس وقت آبادی کا ۶۰ فی صد ہیں۔ ایک طرف بھارتی حکمرانی اور بھارت نواز مقامی حکومتوں اور عناصر سے بے زاری اور نفرت اور دوسری طرف قوت کے خوف کی جگہ بے خوفی اور حالات سے ٹکر لینے کا عزم جسے جدید سیاسی اصطلاح میں انتفاضہ (popular uprising) اور بندوق کے مقابلے میں پتھر (Stone vs Gun) سے جواب کے عنوان سے بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں تحریکِ آزادی اب داخل ہوچکی ہے اور اس جوہری تبدیلی کی روشنی میں حالات کے ازسرِنو جائزہ لینے اور نئے حالات کے مطابق کشمیر میں، پاکستان میں، بھارت میں، عالمِ اسلام میں، اور عالمی محاذوں پر نئی پالیسی اور اقدامات کی فکر، وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن گئی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم ضروری سمجھتے ہیں زمینی صورتِ حال میں جو تبدیلی آئی ہے اور اس کا جو تھوڑا بہت ادراک اب تمام ہی حلقوں میں ماسواے بھارت کی مودی سرکار اور پاکستان کے کچھ لبرل دانش وروں، اینکر پرسنز اور سیمفا جیسے اداروں سے وابستہ صحافیوں کے ہو رہا ہے، اس پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ ہم نمونے کے طور پر چند مثالیں کر رہے ہیں جو دیگ کے چند چاولوں کے مانند حالات کو سمجھنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔
کلدیپ نائر بھارت کا ایک نام وَر صحافی ہے، سفارت کی ذمہ داریاں بھی ادا کرچکا ہے۔ بھارت کے مفادات کی حفاظت میں کسی سے پیچھے نہیں لیکن بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی پر دل گرفتہ ہے اور بھارت کے مفاد میں اسے غلط سمجھتا ہے اور فوری تبدیلی کا خواہش مند ہے۔ اس کے چند حالیہ مضامین میں اس فکرمندی کو صاف دیکھا جاسکتاہے۔ ۹؍اگست ۲۰۱۵ء کے Syndicated Article میں جو پاکستان ٹوڈے میں بھی شائع ہوا ہے، وہ بڑے دُکھ کے ساتھ اعتراف کرتا ہے کہ:
پانچ سال سے کم عرصے میں کشمیر اتنا زیادہ بدل چکا ہے کہ پہچانا نہیں جاتا۔ گذشتہ مرتبہ جب میں سری نگر آیا تھا تو وادی کا بھارت دشمن ہونا نظر آتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ پاکستان کے حمایتی ہوگئے ہیں، اگرچہ اندرونِ سری نگر کچھ سبز پرچم نظر آتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ علیحدگی جو پہلے بھی نظر آتی تھی، وہ اب غصے میں بدل گئی ہے۔
کشمیریوں کا احتجاج جو کم یا زیادہ پُرامن ہے، اپنے انداز اور آہنگ میں اسلامی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ اظہار کا ایک ذریعہ ہے، نہ کہ اصل بات۔ اصل بات یہ ہے کہ کشمیری اپنا ملک چاہتے ہیں۔ بھارت میں بہت سے لوگ یہ شبہہ کرتے ہیں کہ ایک خودمختار کشمیر صرف ایک واہمہ ہے۔ کشمیریوں کا اصل ارادہ پاکستان میں شامل ہونے کا ہے مگر میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ آزادی کا تصور ایک خواب کی طرح ہے اور اس نے کشمیریوں کو اپنے ساتھ بہا لیا ہے، اس لیے کشمیریوں کی اصل خواہش کے بارے میں کچھ شبہہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے جب میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ خودمختار کشمیر کا مطالبہ اگر ماناگیا تو بھارت میں بھی مسلمانوں پر بڑا کڑا وقت آئے گا تو میں ان کے غصے سے بھرے چہرے دیکھ سکتا تھا۔ ہندو یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر کشمیری مسلمان ۷۰سال تک بھارت کے ساتھ رہنے کے باوجود آزادی چاہتے ہیں تو ۱۶کروڑ مسلمانوں کی وفاداری کی کیا ضمانت ہے؟
اس کے بعد کلدیپ نائر نے ذاتی اور انسانی سطح پر مسلمانوں اور ہندوئوں میں بُعد کا بھی ذکر بڑے چشم کشا انداز میں کیا ہے:
جس بات نے مجھے سب سے زیادہ مایوس کیا، وہ کشمیر میں درمیانی صورتِ حال (grey area) کا غائب ہوجانا ہے جو کچھ برس پہلے نظر آتی تھی۔ موقف اتنے سخت ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں اور ہندوئوں میں معاشرتی روابط ختم ہوگئے ہیں۔ میں ذاتی مثال افسوس کے ساتھ دے رہا ہوں۔
پھر وہ لکھتا ہے: سیف ملک اور سیّدشاہ جیسے قائدین جن سے اس کے برسوں سے ذاتی اور گہرے تعلقات تھے، ان تک نے اس سے ملنے کی ضرورت محسوس نہ کی جس کا اسے بے پناہ افسوس ہے اور جو دونوں کمیونٹیز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی علامت ہے جو بالآخرعلیحدگی پر منتج ہوئی ہے۔ کلدیپ نائر اس سماجی تبدیلی پر بھی اپنی شدید پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔
کلدیپ نائر مئی ۲۰۱۶ء میں کشمیر پھر جاتا ہے۔ مجاہد بُرہانی کی شہادت سے صرف ایک دو مہینے پہلے، اپنے ۱۳مئی ۲۰۱۶ء کے مضمون میں جو بھارتی اخبار The Daily........ میں شائع ہوا ہے وہ ایک طرف عسکریت میں کمی کا اعتراف کرتا ہے تو دوسری طرف پوری آبادی کے اضطراب، بے چینی اور بے زاری کے احساس کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔ بھارت سے آزادی کو تو وہ ناقابلِ تصور سمجھتا ہے۔ البتہ بھارت کے اندر خودمختاری اور مسئلے کے عسکری کے مقابلے میں سیاسی حل کے لیے حکومت کو پوری قوت سے متوجہ کرتا ہے۔ ریاست میں جو لاوا پک رہا ہے، اس کا اسے پورا احساس ہے اور ۸جولائی کے بعد جو دیکھنا نہیں چاہتے تھے، وہ بھی دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں:
کشمیر اس مفہوم میں معمول کے مطابق ہے کہ وہاں پتھر پھینکنے کے واقعات نہیں ہورہے۔ عسکریت بھی آخری دموں پر ہے لیکن وادی میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ اگر ایک دفعہ بھی آپ وہاں جائیں تو آپ اس کا ذائقہ چکھ لیں گے۔ اس کی کوئی ایک وجہ بتانا مشکل ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں۔ سب سے زیادہ پورے بھارت پر چھایا ہوا یہ احساس ہے کہ یہ بھارت کی طرف سے سب کچھ ہے ۔اگر کشمیر کو صرف تین اُمور میں اختیار دے دیا جائے، یعنی: دفاع، اُمورخارجہ اور مواصلات۔ شکایت صحیح لگتی ہے اس لیے کہ ایک ریاست خودمختاری کرسکتی ہے جتنی وہ چاہے، لیکن وفاق دیگر اختیارات غصب نہیں کرسکتا۔ نئی دہلی نے ٹھیک یہی بات کی ہے۔ یہی بات وزیراعظم جواہر لال نہرو اور شیخ عبداللہ کے راستے میں آئی جو بڑے گہرے دوست تھے۔ شیخ عبداللہ نے ۱۲سال قید میں گزارے۔ نہرو کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ ایسا ہی شدید مسئلے میں آج بھی نئی دہلی اور کشمیرگرفتار ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ مرکز سے اچھے تعلقات کس طرح رکھے اور وادی کو ایک آزاد تشخص بھی دے؟ ریاست کی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک مستقل مسئلہ ہے۔
وہ جو کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں دستور کی دفعہ ۳۷۰ کو جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہے، ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک طرف دستور سے انحراف کر رہے ہیں اور دوسری طرف کشمیریوں کے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ بھارت سے الحاق پر سنجیدہ سوالات اُٹھ رہے ہیں ۔ ماضی میں خودمختار کشمیر کا نعرہ جو بہت کم لوگوں کی توجہ حاصل کرتا تھا، اب بہت زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کرتا ہے اور یہ تعجب کی بات نہیں کہ ہر روز ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے بعد کلدیپ نائر اُردو کے بارے میں مرکزی حکومت کے رویے اور کشمیری عوام کے اضطراب اور بے زاری کا ذکر کرتا ہے جو کلچرل سطح پر کشمیر اور بھارت کو دُور لے جانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس لیے کہ اس کے الفاظ میں:
کشمیری شدت سے محسوس کرتے ہیں اور مرکزی حکومت اُردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہی ہے، وہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس صورتِ حال کی فوراً تلافی کی جائے۔
اس کے بعد وہ اس دل چسپ سوال سے تعرض کرتا ہے کہ عوام خود عسکریت کے خلاف کیوں نہیں اُٹھتے؟ اس کا جواب سننے کے لائق ہے:
مگر وہ جو خود عسکریت پسندوں کو باہر نکالنے کے لیے بندوقیں اور دوسرا اسلحہ نہیں اُٹھا رہے، اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ ان سے خوف زدہ ہیں اور دوسری وجہ ایک عام احساس ہے کہ عسکریت پسند ان کو ایک شناخت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے وادی کے اندر اگر عسکریت کو مزاحمت نہیں مل رہی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علیحدگی کا ایک حصہ ہے۔
کلدیپ نائر متنبہ کرتا ہے کہ مسئلے کا سیاسی حل نکالنا ازبس ضروری ہے اور اس کی نگاہ میں ۱۹۵۳ء کے معاہدے کی بنیاد پر آج بھی کشمیریوں کو ساتھ رکھا جاسکتاہے بشرطیکہ مرکزی حکومت دیانت داری کے ساتھ، کشمیر میں عوام کو اعتماد میں لے کر، سیاسی حقوق کی بحالی، معاشی امداد اور مواقع کی فراہمی ، بھارت کی منڈیوں کو کشمیر کے لیے کھولنے، کشمیر کی شناخت کے احترام، فوری طور پر تین اُمور___ یعنی اُمورِ خارجہ، مالیات اور کمیونی کیشنز کے سوا تمام اختیارات ریاست کو دے۔ ان تمام قوانین کو منسوخ کردے جو ان اُمور کے علاوہ مرکز نے بنا کر ریاست میں نافذ کیے ہیں اور فوج اور فوجی کارروائیوں کو جو تحفظ اور اختیارات The Armed Forces میں حاصل ہے اور جس کے سہارے ۲۵سال سے مرکزی حکومت قوت کا استعمال کر رہی ہے ، جو اسے ختم کیا جائے۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑنے کا خطرہ ہے۔
کلدیپ نائر نے اصل زمینی حالات کو ٹھیک سے بھانپ لیا ہے مگر جو حل وہ تجویز کر رہا ہے وہ نہ ۱۹۵۳ء میں کسی کام آیا، بلکہ شیخ عبداللہ کو ۱۲سال جیل کی ہوا کھانا پڑی اور نہ آج یہ کوئی حقیقی حل ہے بلکہ نہ ۱۹۵۳ء میں اس سے کشمیری عوام کو مطمئن کیا گیا اور نہ آج کیا جاسکتا ہے۔ اصل مسئلہ حق خودارادیت (right of self-determination) کا ہے جس کی اصل یہ ہے کہ ڈوگرہ راج اور بھارتی راج دونوں سامراجی اقتدار (occupation) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت نے دھوکے، چالاکی، عسکری یلغار اور قوت کے بے محابا استعمال سے استبداد اور غلبے کا ہرحربہ استعمال کرتے ہوئے ۱۹۴۷ء سے ریاست جموں و کشمیر کے ۶۰ فی صد رقبے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس قبضے سے آزادی اور نجات اصل مسئلہ ہے۔
دوسرا پہلو بھی کچھ کم اہم نہیں اور اس کا تعلق ریاست اور اس کی عظیم اکثریت کی نظریاتی، دینی، اخلاقی، تہذیبی اور سماجی شناخت کا ہے اور اس کا بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے لوگوں کو مکمل آزادی ہو، تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنا نظامِ زندگی وضع کریں اور سیاسی غلامی کی وجہ سے جو دینی، نظریاتی، اخلاقی، تہذیبی اور لسانی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، اس سے بھی نجات پائیں اور اپنی اصل شناخت کے مطابق اپنی زندگی اور اپنا مستقبل تعمیر کرسکیں۔ صوبائی خودمختاری، ۱۹۵۳ء کا معاہدہ اور دستورہند کی دفعہ ۳۷۰ کو بھی ان دونوں بنیادی ایشوز کا جواب نہیں اور ۶۹برسوں پر پھیلی ہوئی ناکام اور خون آشام تاریخ کو جزوی اور نمایشی معمولی تبدیلیوں کے ذریعے کشمیری عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں بنایا جاسکتا ۔۸جولائی۲۰۱۶ء اس سیاسی حکمت عملی کے خلاف اعلانِ جہاد ہے اور آزادی اور اسلامی شناخت کی مکمل بحالی کے راستے کو روکنے کی جو کوشش بھی ہوگی خواہ وہ دولت اور قوت کے کیسے ہی بے محابا استعمال سے عبارت ہو ، تحریکِ آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اور اگر سیاسی، جمہوری اور عوامی راستوں کو بند کیا جائے گا تو پھر فطرت کا تقاضا اور تاریخ کا تجربہ ہے کہ لوہے کو کاٹنے کے لیے لوہا میدان میں آکر رہتا ہے۔
یہی وہ چیز ہے جس کی طرف شیخ عبداللہ کے صاحب زادے فاروق عبداللہ نے جنوری ۲۰۱۶ء میں ایک مضمون لکھ کر توجہ دلائی ہے وہ ایک مدت تک جموں و کشمیر کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور انھیں ۱۹۹۰ء میں اس وقت کان پکڑ کر نکال دیا گیا تھا جب ۱۹۸۷ء کے دھاندلی کے انتخابات کے نتیجے میں ریاست گیر عوامی تحریک نے سیلابی کیفیت اختیار کرلی تھی اور جمہوری راستوں کو بند کرنے کے نتیجے میں عسکری تحریک اُبھری اور ایوانِ اقتدار کو متزلزل کرنے کا ذریعہ بنی۔ انھی فاروق عبداللہ صاحب نے کشمیر کے اخبارات میں اُردو میں ایک مضمون لکھا ہے جسے پڑھ کر کلدیپ نائر صاحب نے سرپکڑ لیا ہے اور خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔ کلدیپ نائر اپنے ایک مضمون ’پاکستان، ہندستان اور کشمیر‘ میں جو پاکستان ٹوڈے میں ۷فروری ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے، لکھتے ہیں:
سری نگر کے ایک معروف اُردو رسالے میں ایک مضمون میں فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اس کے مرحوم باپ شیخ عبداللہ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ کشمیر کے نوجوان اپنے حقوق کے لیے بندوق اُٹھا رہے ہیں۔
کلدیپ نائر صاحب نے سارا مضمون فاروق عبداللہ کو جھاڑ پلانے کے لیے وقف کر دیا ہے، اسے شیخ عبداللہ سے بے وفائی قرار دیا ہے۔ کشمیر کے ’صوفی اسلام‘ کے تصور سے بغاوت کہا ہے۔ شیخ عبداللہ کے سیکولرزم اور عالم گیریت کی شان میں قصیدے پڑھے ہیں اور اسے مشورہ دیا ہے کہ اسے عسکریت کے حق میں ایسی بات نہیں کہنی چاہیے تھی بلکہ دستورِہند کی دفعہ۳۷۰ کے اندر خودمختاری پر سارا زور صرف کرنا چاہیے تھا۔ اس کا کہنا ہے:
وہ لوگ جو ہروقت یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اس غلط فہمی سے دوچار ہیں کہ ریاست کشمیر کو دستور کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت خودمختاری حاصل ہے جس کے تحت صرف تین اُمور: دفاع، خارجہ اور مواصلات، جب کہ دستور کی دوسری دفعات جو حکومت کو اختیار دیتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر پر ان کا اطلاق ریاست کی دستور ساز اسمبلی کی مرضی سے ہوگا۔
فاروق عبداللہ نے قدوقامت کم کرنے کے لیے اسے کشمیر تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ وہ نئی دہلی کو ریاست میں ایسے حالات پیدا کرنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرتا رہا کہ کشمیری اپنے حق کے لیے بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوگئے اس لیے کہ نئی دہلی اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی کہ مرکز کے پاس صرف تین اُمور ہوں گے: دفاع، اُمورِخارجہ اور مواصلات، جب کہ باقی ریاست کے اختیار میں ہوں گے۔
کلدیپ نائر اور دوسرے بھارتی دانش وروں کا سیاسی حل کا تصور کشمیری عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور آج بے وقت کی راگنی ہے۔ لیکن ہمارے لیے اصل اہم پہلو اس بحث کا یہ ہے کہ کلدیپ نائر جیسے لوگ بھی کھل کر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے۔ بھارتی دستور کے مطابق، جس پر کوئی عمل نہیں کر رہا اور جسے ۱۹۵۳ء ہی سے عملاً معطل کیا ہوا ہے، کشمیر پر بھارت کی حاکمیت (sovereignty)مکمل اور غیرمنقسم (absolute) نہیںبلکہ مشروط (conditional) ہے اور باقی تمام صوبوں سے مختلف ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر بھارت نے ان شرائط کو توڑ دیا ہے تو وہ معاہدہ بھی پارہ پارہ ہوچکا ہے جس کے سہارے بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی نوٹ کیے جانے کے لائق ہے کہ فاروق عبداللہ صاحب بھی آج دبے لفظوں میں وہی بات کہنے کی کوشش کررہے ہیں جو حُریت کانفرنس اور حزب المجاہدین کہہ رہی ہیں یعنی___ بھارت کا قبضہ غیرقانونی ہے اور اس کے خلاف عوامی جدوجہد نہ صرف عوام کا حق بلکہ غلامی سے نجات کا واحد ذریعہ ہے اور مزاحمت کی اس تحریک کو اگر کچلنے کے لیے ریاستی قوت کا استعمال کیا جائے تو اس قوت کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی عسکریت بھی تحریکِ آزادی (Liberation War) کا حق ہے۔
فاروق عبداللہ کے صاحبزادے عمر عبداللہ نے جو خود بھی وزیراعظم رہ چکے ہیں، مجاہد بُرہان مظفر وانی کی شہادت پر جو الفاظ کہے ہیں وہ بھی نہ صرف تحریکِ مزاحمت اور تحریکِ آزادی کی صداقت اور افادیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے بلکہ بھارت کی حکومتی دہشت گردی کی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف بھی ہے۔
میرے الفاظ سن لو، بُرہان مظفر وانی کی قبر کے اندر سے جہادی بھرتی کرنے کی صلاحیت، اس کی سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہوگی۔
کسے توقع تھی کہ شیخ عبداللہ کے صاحب زادے اور ان کے پوتے ایک دن یہ بات کہیں گے ع
ہاے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا!
بھارت کی معروف دانش ور ارون دھتی راے تو ایک مدت سے یہ بات کہہ رہی ہے کہ کشمیر میں بھارت کی حیثیت ایک قابض حکمران (occupying forces) کی ہے اور جو جدوجہد ریاست میں ہورہی ہے وہ ایک قانونی اور جائز (legitimate) تحریکِ آزادی ہے اور جو اس کی تائید نہ کرے، وہ اخلاقی طور پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا ہے۔ ۲۰۱۱ء میں ارون دھتی راے کی ایک کتاب Kashmir: A Case for Freedom شائع ہوچکی ہے جس میں اس نے ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو غیرقانونی اور غیراخلاقی قرار دیا ہے ۔ بُرہان وانی کی شہادت کے بعد اس کا مضمون بھارت کے رسالے Outlook کی ۲۳جولائی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ ہم اس کے چند اقتباسات نذرِ قارئین کرنا چاہتے ہیں:
کشمیر کے عوام نے ایک دفعہ پھر واضح کر دیا ہے سال بہ سال، عشرہ بہ عشرہ، قبربہ قبر واضح کر دیا ہے کہ جو وہ چاہتے ہیں وہ آزادی ہے (عوام کا مطلب ان لوگوں سے نہیں ہے جو فوجی سنگینوں کے سایے میں کیے گئے انتخابات جیت گئے ہیں، اس کے معنی وہ لیڈر نہیں ہیں جنھیں اپنے گھروں میں چھپنا ہوتا ہے اور اس طرح کے حالات میں باہر آنے کی جرأت نہیں کرتے)۔
جب ہم مذمت کرتے ہیں، جیساکہ ہمیں کرنا چاہیے، سیکورٹی فورسز کی غیرمسلح احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کی، ایمبولینسوں اور ہسپتالوں پر پولیس کے حملوں کی، اور چھرے والی بندوق سے نوعمروں کو نابینا بنانے کی، تو ہمیں دماغ میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ حقیقی بحث کشمیر کی وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہی کی ہے۔
یہ خلاف ورزی جو بہت قبیح ہے، یہ ناگزیر اور لازمی نتیجہ ہے: عوام کی جدوجہدِ آزادی کو فوج کے ذریعے دبانے کا۔ کشمیری، قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں، اور نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لیے لڑرہے ہیں، وہ آزادی کے لیے لڑرہے ہیں۔ اس کے لیے وہ گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے وہ بڑی تعداد میں مرنے کے لیے تیار ہیں اور کرفیو وغیرہ کی کھلی خلاف ورزی کرنے کے لیے بھی تیار ہیں جو خواہ انھیں موت کی طرف لے جائے، یا دنیا کے سب سے زیادہ فوجی علاقے میں ہرطرح کی قیدوبند کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس کے لیے وہ ہتھیار اُٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ موت تک سے لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ نوجوان ہی مریں گے۔ انھوں نے یہ بات نہایت باقاعدگی سے ثابت کی ہے۔ اس کا وہ مستقل مزاجی سے مظاہرہ کررہے ہیں۔
یہ پیش گوئی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ بھارتی حکومت کو مستقل امن عامہ کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ایک چھوٹا سا گروہ پیدا کر رہا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خطرناک بڑھتا ہوا بحران ہے جس پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ ایک ایسے علاقے میں جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہے۔ صرف اس وجہ سے ہی اسے پوری دنیا کا مسئلہ ہونا چاہیے۔
اگر ہم بحران کو واقعی حل کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم قتل کرنے اور مارنے کے نہ ختم ہونے والے چکر کو واقعی ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم خون بہنے کو روکنا چاہتے ہیں، تو پہلا قدم یہ ہوگا کہ ہم دیانت داری کی طرف قدم بڑھائیں۔ہمیں ایک دیانت دارانہ گفت و شنید کرنا ہوگی۔ ہمارا نقطۂ نظر کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو، ایک دوسرے کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں،اس گفتگو کا موضوع آزادی کو ہونا ہے۔ کشمیریوں کے لیے آزادی کے لیے ٹھیک ٹھیک مسئلہ کیا ہے؟ اس پر بحث کیوں نہیں ہوسکتی؟ نقشے کب سے اتنے مقدس ہوگئے ہیں؟ کیا کچھ لوگوں کے حق خودارادیت کا کسی بھی قیمت پر انکار کیا جاسکتا ہے؟ کیا بھارت کے عوام اس کے لیے تیار ہیں کہ ہزاروں آدمیوں کے خون کا بوجھ اپنے ضمیر پرلیں؟کس اخلاقی حیثیت سے ہم بات کرتے ہیں جو ہمارے ساتھ ہورہی ہیں؟ کیا بھارت میں کشمیر پر اتفاق راے حقیقی ہے یا خودساختہ ہے؟ کیا یہ وزن رکھتا ہے ؟ اصل تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں اور کس طرح ایک پُرامن، جمہوری اور معلوم نظریے تک پہنچا جائے۔
یہ آوازیں بدلتے ہوئے حالات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور اس اُمید کو قوی تر کر رہی ہیں کہ استبداد کے نظام کے خلاف جدوجہد میں اعوان و انصار ایسے مقامات سے بھی مل سکتے ہیں جہاں سے گمان بھی نہیں تھا۔ حالات کو بدلنا اور بدلتے ہوئے حالات سے فائدہ اُٹھانا ہی صحیح سیاسی حکمت عملی ہوسکتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہم بھارت کے مؤقر جریدے اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی کے ادارتی نوٹ (۱۶ جون ۲۰۱۶ئ) کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں جس کے بغور تجزیے کی ضرورت ہے۔ دو باتیں ایسی ہیں جن پر مذکورہ جریدے نے غور کرنے کی خصوصی دعوت دی ہے: ایک یہ کہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے مقامی (indigenous) ہونے کا اعتراف اور پورے معاملے کو پاکستان کی ’ریشہ دوانی‘ قرار دینے کی بھارتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار۔ یہ چیز دوسرے ادارتی نوٹس اور مضامین میں بھی اب آرہی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ ’آزادی‘ کے مطالبے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ سیاسی حل اس ایشو کا سامنا کیے بغیر ممکن نہیں اور لازماً فیصلہ وہی غالب آسکے گا جسے کشمیری عوام کی تائید حاصل ہوگی۔ جمہوری حل (Democratic Solution) کے معنی محض سیاسی اصلاحات نہیں بلکہ پورے مستقبل کے نظام کے بارے میں کشمیری عوام کی راے کو معلوم کرنا اس کے لیے ضروری ہوگی۔ یہ غالباً پہلی مرتبہ ہے کہ مؤقر قومی جریدے میں اس حوالے سے ریفرنڈم کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بہت ہی اہم آغاز ہوسکتا ہے۔
جموں و کشمیر میں مسلح مزاحمت ۹۰-۱۹۸۹ء میں شروع ہوئی جب پُرامن سیاسی حل کی ۴۰سالہ کوششیں ناکام ہوگئیں۔ ۸-۲۰۰۷ء تک عسکریت ذیلی سطح پر آئی تھی اور عوامی سطح پر چھا گئی تھی۔ مسلح عسکریت کا انکار کا مطلب یہ لیا گیا کہ یہ تحریک کی شکست ہے نہ کہ عوامی احتجاج کی ایک شکل جسے احتجاجی دہشت گردی کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد آنے والے انتخابات میں ووٹوں سے آنے کے مطلب کی یہ تعبیر کی گئی ہے کہ لوگوں نے بھارت کی تائید کردی ہے اور آزادی یا تحریک ِ آزادی کو marginalise کردیا گیا ہے۔معاشی بہتری کا مطلب یہ لیا گیا کہ جو کچھ بھی ظلم کیا گیا ہے یہ اسی کی تلافی کردے گا۔ ماضی قریب میں غیرریاستی عوام کو زمین کی منتقلی کا مسئلہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی مسائل کو کتنا پیش نظر رکھا گیا ہے۔
ہم نے ۹۲-۱۹۸۹ء ، ۱۰-۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۳ء میں خونی کریک ڈائون کا مشاہدہ کیا ہے جب بڑی تعداد میں لوگ غیرمسلح باہر آئے اور ان کی ننگی طاقت سے مقابلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوئیں، مگر اس دفعہ واضح طور پر کچھ مختلف ہے۔ ۲۰۰۸ء میں ایک قابلِ لحاظ غیرمسلح احتجاج کی طرف بندوقوں سے منتقلی تھی۔ آج یہ چیزیں واضح طور پر مسلح عسکریت کی طرف پیچھے پلٹ آئی ہے۔ بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے خوف اہمیت رکھتا ہے۔ اگر عسکریت پسندوں کے جنازے لوگوں کے بڑے ہجوم کے لیے کشش رکھیں اور وہ وہاں بڑی تعداد میں جمع ہوں جہاں مقابلہ ہو رہا ہو، تو یہ عوام کی طرف سے اس بات کی علامت ہے کہ وہ بے خوف ہوگئے ہیں۔ یونائیٹڈ پراگرس الائنس کی حکومت ۱۰-۲۰۰۸ء میں تحریک کو روکنے میں ناکام ہوگئی، اس لیے کہ اس کے پاس پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ خودمختاری کی پیش کش اب زیادہ متعلق نہ تھی کیونکہ نئی دہلی نے اس کی بنیاد ختم کرنے کے لیے ۶۹سال تک کام کیا تھا۔ جموں و کشمیر میں ریاست کی شہریت کا مسئلہ، شمال مشرق اور وسطی ہند کے نزدیک کے پہاڑی علاقوں کی طرح تھا، اسے زمین اور حکومتی ملازمتوں سے ……… جموں و کشمیر کے حالیہ وزیرخزانہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے مرکز کی پالیسی طاقت کے اظہار پر مبنی ہے۔ اس لیے جب ہم کو بتایا جاتا ہے کہ تاریخ کو ۱۹۵۳ء سے پہلے کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت ہند کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں۔
یہ وہ سیاق و سباق ہے جس میں آج کی مسلح مزاحمت ہوئی ہے۔ بُرہان وانی اور اس کے کمانڈر عسکریت کے نئے مرحلے کی نمایندگی کرتے ہیں۔ وجوہات، تحریکات اور ہتھیار اُٹھانے کی تحریک ان حالات کے نتیجے میں ہے جس کا سامنا بھارتی قبضے میں علاقوں میں ہے یہ وہ نسل ہے جو فوجی جارحیت میں پَل کر جوان ہوئی ہے۔ جس نے ۲۰۱۳ء کی غیرمسلح بغاوت کو کچلتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر یہ عسکریت کی طرف بتدریج گئی ہے۔ بُرہان وانی جب قتل کیا گیا تو۲۲سال کا تھا۔ وہ حزب المجاہدین میں ۱۶سال کی عمر میں شامل ہوا تھا۔ا س نے سوشل میڈیا میں جس طرح سے تصاویر اور پیغام کو پھیلایا، اس نے اس کو مقبول بنا دیا۔ اس کا ایک آخری بیان امرناتھ کے زائرین سے خطاب پر مبنی تھا۔ جب بارڈر سیکورٹی فورس نے زائرین پر ایک یقینی حملے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔ بُرہان وانی نے ان کو خوش آمدید کہا اور انھیں یقین دہانی کروائی کہ وہ بغیر کسی اندیشے اور خوف کے آئیں۔ اس کی ہلاکت کے بعد جو کریک ڈائون ہوا، اس نے غم زدہ عوام کو مزید مشتعل کر دیا۔ اب تک ۳۶؍افراد ہلاک ہوچکے ہیں، ۱۵۳۸ زخمی ہوچکے ہیں۔ جن میں سے ایک ہزار سے زیادہ چھروں سے زخمی ہوئے ہیں۔ قابلِ اعتبار ثبوت موجود ہیں کہ قانون نافذ کرنے والوں نے ہسپتال اور ایمبولینس پر حملے کیے۔ اس سے پہلے بھی یہ واقعہ ہوچکا تھا اور مہلک ہتھیار استعمال نہ کرنے کی یقین دہانیاں اب سنگین مذاق بن گیا ہے۔ ۱۱ہزار نئے فوجی بھیجنا اور ۶لاکھ جو پہلے سے موجود ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔
وہ اسکالر جو حکمت عملی کے مسائل پر لکھتے ہیں وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ مقامی لوگ فوجیوں کے سوشل ورک کی تحسین تو کرسکتے ہیں لیکن وہ فوجیوں کو ایک قابض فوج کا حصہ سمجھتے ہیں، اور آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ امن و امان کی صورت قابو میں آسکتی ہے لیکن اگر ہم بھارت سے آزادی کے عوامی مطالبے سے انکار کریں تو یہ صورتِ حال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔ بندوق کی نوک پر اختیارات کے نفاذ کو لوگوں کو ان کی غلامی پر مرضی سے اُلجھاکر (کنفیوز کرکے) یا لوگوں کا ووٹ دینے کے لیے آنے کو تائید سمجھنے کا مطلب بھارت سے علیحدگی کے جذبے کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت کمزور وکٹ پر ہے، ہندوئوں کے پھیلائو سے مسلمانوں کے ساتھ ادارتی امتیازی سلوک کی انڈین سیکولرزم کی رفتار تیز کردی ہے۔ پاکستان اور اسلامسٹوں کے پروپیگنڈے کو بُرا بھلا کہنے، اور عسکریوں کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں لگتا کیوں کہ سب کچھ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے۔………………
……………
ایک آدمی یہ یقین کرنا پسند کرے گا کہ اسٹیبلشمنٹ کے سمجھ دار عناصر حالات کی سنگینی سے آگہی حاصل کریں گے۔ ایک حل جس سے ہم بچتے رہے ہیں ایک جمہوری حل ہے کہ ہم جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کا ایک ریفرنڈم کے ذریعے متعین کریں، جس کا وعدہ فوجی تنازعے کو بڑھنے سے روک سکتا ہے…
ہم نے بھارتی دانش وروں اور اخبارات کے خیالات اپنے قارئین اور ملک کے پالیسی ساز اداروں اور افراد کے غوروفکر کے لیے پیش کیے ہیں کہ ان میں مسئلے کے حل کی تلاش کی ایک کوشش دیکھی جاسکتی ہے۔ خود انھیں بنیاد بنا کر افہام و تفہیم کی نئی کوششیں بروے کار لائی جاسکتی ہیں۔ جگہ کی قلت کے باعث ہم دوسری ایسی کوششوں کو پیش کرنے سے قاصر ہیں لیکن ۸جولائی کے واقعہ کے بعد ہمارے علم و مطالعہ میں دو درجن سے زیادہ جریدوں، اخبارات اور معروف اہلِ قلم کی طرف سے کھلے طور پر یا کچھ ملفوف انداز میں جو باتیں اب کہی جارہی ہیں وہ یہ ہیں:
۱- جموں وکشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔ اسے ایک طے شدہ یا حل شدہ معاملہ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
۲- مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ فوجی حل کی دو ہی صورتیں ہیں یا ریاستی قوت سے تحریکِ آزادی کو کچل دیا جائے جس کے بہت ہی خون آشام نتائج کم از کم ۱۹۹۰ء سے دیکھے جارہے ہیں۔ اس زمانے میں تحریک کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آیا ہے لیکن ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی ہلاکت، اس سے زیادہ افراد کے زخمی یا معذور کردیے جانے، ہزاروں کی تعداد میں اغوا، گرفتاریاں، گم شدگیاں، جمہوری آزادیوں پر قدغنیں، عصمت دری کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کے علی الرغم تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ صرف وادیِ کشمیر میں ۶لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی اور معاون operational forces کے استعمال اوران افواج کی کارروائیوں کو ہرقسم کی بازپُرس اور جواب دہی سے روکنے کے باوجود ۲۶سال میں تحریکِ مزاحمت کو نہ صرف ختم نہیں کیا جاسکا بلکہ کیفیت یہ ہے ع
فوجی حل کی دوسری صورت بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی قوت کے استعمال کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کا حل ہے جس کی کوششیں بھی تین سے چار بار ہوچکی ہیں۔ اس کے کچھ نہ کچھ نتائج ضرور نکلے ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور اب دونوں کے ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے یہ راستہ اور بھی خطرناک اور ناقابلِ تصور ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے جو جمہوری اور معتبر ہو۔ یہ راستہ آزادانہ استصواب راے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ یہ ایک تاریخی موقع ہوگا، جس کی طرف پیش رفت ہونی چاہیے۔
۳- کشمیر کی تحریکِ آزادی کے کشمیری کیرکٹر (indigenous character مقامی ہونے) کا بھی اب برملا اعتراف کیا جارہا ہے۔ حزب المجاہدین پہلے دن سے خالص کشمیری تنظیم تھی۔ آل پارٹیز حُریت کانفرنس کی بھی یہی حیثیت ہے جو سیاسی محاذ پر سب سے آگے ہے۔ واجپائی، من موہن سنگھ اور پرویز مشرف جو بیچ کا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے، وہ بُری طرح ناکام ہوئی اور ۲۰۰۸ء کے امرناتھ ٹرسٹ کو زمین دینے کے معاملے کے خلاف تحریک سے لے کر ۸جولائی تک کے سانحے تک تحریکِ آزادیِ کشمیر کے عسکری پہلوئوں میں کمی اور عوامی جمہوری حمایت اور شرکت کی وسعت نے زمینی صورتِ حال کو تبدیل کر دیا ہے اور ۸جولائی کے واقعے کے بعد کی صورتِ حال نے تحریک کی اصل قوت اور سیاسی اعتبار سے اس کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا لوہا منوا لیا ہے۔ یہ وہ جوہری فرق ہے جو تحریک کے موجودہ مرحلے کو ماضی کے تمام مراحل سے ممیز کررہا ہے۔ اس کا اعتراف بھی پہلی بار اس طرح بھارت میں اور ایک حد تک عالمی میڈیا اور تحقیقی اداروں اور تھنک ٹینکس کی نگارشات میں ہو رہا ہے۔ امریکا کے مؤقر جریدے فارن پالیسی کے ایک مقالہ نگارنے مئی ۲۰۱۶ء میں ایک مقالہ INDIA IS LOSING KASHMIR اس کی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے جو جولائی کے واقعے سے دو ماہ پہلے کی بات ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بھی ۲۱جولائی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں ادارتی طور پر کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور تحریک کے مقامی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں دسیوں مضامین بھارت کے اخبارات میں شائع ہوئے ہیں جن میں کسی نہ کسی شکل میں اس زمینی حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ مسئلے کے حل کی تلاش میں اس تبدیلی کا ایک اہم کردار ہوسکتا ہے۔
۴- چوتھی چیز جو اَب بالعموم صرف دبے الفاظ میں لیکن کہیں کہیں نسبتاً کھل کر تسلیم کی جارہی ہے، یہ ہے جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے، اسے صرف پاکستان کی کارستانی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پرویز مشرف کے دور سے تحریکِ آزادی میں پاکستان کا کردار نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ خصوصیت سے جہادی سرگرمیوں کی مدد تو تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ۲۰۰۳ء کے بعد جس طرح بارڈر پر اسرائیلی حکمت عملی کے تحت باڑیں اور الیکٹرانک وائرز لگائے گئے ہیں، ان کے نتیجے میں افرادی قوت کا آرپار جانا یا اسلحے کے باب میں مدد تقریباً ناممکن ہوگئے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم پاکستان کی حکومتی پالیسی کے باب میں کنفیوژن، کمزوری اور تنکوں کا سہارا___ اس نے تو پاکستان کے اصولی اور عملی ہردو کرداروں کو بُری طرح مجروح کیا ہے۔ پاکستان سے جو اُمیدیں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بجاطور پر تھیں، ان پر اوس پڑگئی ہے۔ گو پاکستان سے ان کی محبت آج بھی قائم ہے، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستانی جھنڈا آج بھی ان کو مرغوب و محبوب ہے۔ بُرہان مظفر وانی کا جسد ِ خاکی پاکستان ہی کے پرچم میں قبر میں اُتارا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں گھڑیاں پاکستان کے وقت کے مطابق ہی نظامِ اوقات کی صورت گری کرتی ہیں۔ عید اہلِ کشمیر بھارت کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے، اور ہم بحیثیت قوم اس پر نادم ہیں اور پاکستانی عوام کے جذبات کا خون کر کے پاکستانی حکمرانوں نے اور خصوصیت سے پرویز مشرف کے دور میں ۲۰۰۲ء کے بعد سے جو پالیسیاں اختیار کی گئیں، وہ اصولی اور اسلامی اعتبار سے غلط اور سیاسی اور علاقائی سلامتی و استحکام کے اعتبار سے تباہ کن رہیں جن کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ۱۴سال کے اس کنفیوژن، کمزوری اور بے وفائی کے دو ضمنی نتائج ایسے ضرور نکلے جن میں اللہ تعالیٰ نے شر میں سے خیر کے نکلنے کا معجزہ سب کو دکھاد یا۔ ایک یہ کہ بھارت کا یہ ہتھیار کند ہوگیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ پاکستان کا کیا دھرا ہے اور آئی ایس آئی اور پاکستان کی جہادی تنظیمیں تحریکِ مزاحمت کی ریڑھ کی ہڈی اور اصل سہارا ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو دُکھ بھی اہلِ کشمیر کو پاکستان کی قیادت کی اس کمزوری اور بے وفائی سے پہنچا، انھوں نے اپنا سارا بھروسا اللہ پر اور خود اپنے زورِبازو پر کیا اور اس طرح یہ تحریک تقریباً صد فی صد مقامی تحریک بن گئی اور سب سے زیادہ وہاں کے نوجوانوں نے اس کی باگ ڈور سنبھال کر اسے نئی زندگی، نئی ٹکنالوجی اور نئی سیاسی حکمت عملی سے شادکام کیا۔
اللہ پر بھروسا ان کا سب سے بڑا سہارا بن گیا۔ پاکستان یاترا، ٹریننگ کے لیے باہر جانے کا تصور، باہر سے اسلحہ حاصل کرنے پر بھروسا، عسکری پہلو پر ساری توجہ اور سیاسی، عوامی اور خدمتی میدانوں پر توجہ کی کمی، ان سب اُمور پر ازسرِنو غور کیا جانے لگا۔ نئی حکمت عملی بنائی گئی۔ خودانحصاری کو طریق واردات قرار دیا گیا۔ اسلامی اخلاقی تعلیمات پر بھی زیادہ سختی سے عمل کی فکر کی گئی اور اسلام کے نام پر جو غلط طریقے دنیا کے مختلف مقامات پر اختیار کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سے اسلامی جہاد اور دہشت گردی میں جو جوہری اور ہمہ جہتی فرق ہے وہ متاثر اور مجروح ہوا ہے، اس کی تلافی کی فکر کی گئی۔ یہ بڑی بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں ہیں جو اس دور میں نمایاں طور پر کی گئیں اور کی جاتی ہوئی نظر آنے لگیں۔ بُرہان وانی اس عسکریت کی علامت بن گیا جو اَخلاق کی پابند، فساد سے پاک اور صلاح کا ذریعہ ہے۔ بلاشبہہ حزب المجاہدین کا ۱۹۷۱ء کی مشرقی پاکستان کی البدر کی طرح پہلے دن سے یہی مقصد اور ہدف رہا ہے اور ان کی سرگرمیاں اس عہد پر مبنی تھیں کہ وہ آلۂ ظلم نہیں بنیں گے اور جہاد کے اسلامی آداب و احکام کی مکمل پاس داری کریں گے۔ الحمدللہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے اس موجودہ دور میں یہ پہلو بہت نمایاں ہے اور اس کا گہرا تعلق اس تصور سے بھی ہے کہ جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی صرف بھارت کی استعماری قوت کی غلامی سے آزادی کی جدوجہد ہونے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کی اصل شناخت___ اسلام اور اسلامی تہذیب و تمدن کی حفاظت، ترویج اور ترقی کے لیے ہے۔ یہ صرف سیاسی مقصد کے لیے ایک تحریک نہیں بلکہ سیاسی تحریک کے اصل مقاصد نظریاتی، دینی ، تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی ہیں۔ تحریک کے اس رنگ اور مزاج کا آئینہ وہ انٹرویو ہے جو بُرہان اور خالد کے والد مظفراحمد وانی نے خالد کی شہادت کے بعد اور بُرہان کی شہادت سے پہلے ہندستان ٹائمز کے نامہ نگار ہریندر بویجا کو اکتوبر ۲۰۱۵ء میں دیا:
جواب: ہندستان سے آزادی، یہ نوجوانوں کا ہی نہیں بلکہ ہم سب کا مقصد ہے۔ آپ کو معلوم ہے کشمیر کے حالات کیسے ہیں، ٹرک ڈرائیور یہاں سے جاتا ہے، مار دیا جاتا ہے، کیوں کہ مسلمان ہے۔ ہم حلال جانور ذبح کرتے ہیں فساد ہوجاتے ہیں۔ پھر سوال کیا: آپ کو پتا ہے ہندستان کی فوج کو ہرانا بہت مشکل ہے لیکن اس نے کیا جذبۂ ایمانی سے بھرپور جواب دیا: بہت مشکل ہے، بہت مشکل ہے، لیکن ہمارا اللہ پر یقین ہے، ہمیں یقین ہے کہ جو اس تحریک میں ہندستان کے ظلم و ستم سے مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ اپنے اللہ کے پاس جاتا ہے۔ دوسری دنیا میں ٹرانسفر ہوجاتا ہے۔ سوال کیا گیا کہ آپ کو تکلیف ہوگی کہ آپ کا بیٹا گولی سے مرے گا۔ جواب دینے والے باپ کی ہمت اور ایمان دیکھیے، کہا: ہاں تھوڑی تکلیف تو ہوتی ہے لیکن پھر یاد آتا ہے۔ پہلے خدا پھر بیٹا، پہلے محمدصلی اللہ علیہ وسلم، پھر بیٹا، پہلے قرآن ، پھر بیٹا، پہلے بیٹا نہیں ہے۔ اس کے بعد پوچھا: بُرہان آج ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔ اس کی ویڈیو سامنے آئی ہیں۔ وہ جو کہتا ہے لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔ جواب دیا: آج ۹۰ فی صد لوگ اُسے دعائیں دیتے ہیں کہ بُرہان زندہ رہے تاکہ ہماری جدوجہد آگے بڑھے۔ آج اسے مجاہد بنے ہوئے پانچ سال ہوگئے، یہ دوہزار دن بنتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہ کھاتا کہاں سے ہے، پہنتا کہاں سے ہے، آخر لوگ اس کی مدد کرتے ہیں نا۔ آخری سوال کیا: آپ اس کے لیے دعا کرتے ہیں؟ کہا: میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے کامل ایمان عطا کرے۔
جواب: اللہ کے لیے جان دینے والوں کو بخوبی علم ہے کہ دنیا میں ۲۰۰ سے زیادہ ملکوں میں سے صرف ایک ملک ایسا ہے جو رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا ہے۔ کشمیر کے لیے مرو یا دنیا کے کسی اور ملک کے لیے اس کا مقصد دنیاوی، علاقائی اور قومی جدوجہد میں مر کر امر ہونا ہوگا۔ لیکن پاکستان کے لیے مرنا اللہ کے لیے مرنا ہے، شہادت کی موت ہے۔
مجاہد بُرہان وانی کی شہادت سے صرف ایک ماہ پہلے جون ۲۰۱۶ء میں آنے والی ویڈیو اسلامی جہاد کے تصور اور اس سے وفاداری کی منہ بولتی تصویر ہے، اخلاقیات کی علَم بردار تھی۔ اس نے کہا: مجاہدین امرناتھ یاترا پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہندو پنڈت جموں میں آکر رہ سکتے ہیں لیکن ان کے لیے اسرائیل کی طرح علیحدہ بستیاں مت بنائو۔ اس نے کہا: ہم صرف اور صرف یونیفارم والوں پر حملے کریں گے کہ ان سے ہی ہماری لڑائی ہے۔۱؎
۱- یہ انٹرویو روزنامہ دنیا میں برادرم اوریا مقبول جان کے کالم مورخہ ۱۱جولائی ۲۰۱۶ء سے لیا گیا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ انٹرویو آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔
لندن کے روزنامہ دی گارڈین میں اس کے نمایندے جان بون کا کالم ۱۱جولائی کو شائع ہوا ہے۔ اس میں بُرہان وانی کی شہادت اور ان کے والد کے تصورات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
کشمیر میں تشدد کا حالیہ رائونڈ جس کے بارے میں بھارت اور پاکستان دونوں ہی دعویٰ کرتے ہیں جمعہ کو اس وقت شروع ہوا جب ایک بُرہان وانی مقبول کمانڈر جو کشمیر کی سب سے مقبول عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ تھا، جنگلات میں، دیہات میں، سری نگر میں ہلاک ہوگیا تھا۔
وانی ایک نئی نسل کا حصہ ہے جو ویب کی شوقین سائٹس پر مبنی ہے جو اپنے مطالبات اور کشمیر کی آزادی کو قبول کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے ہفتے کے روز اس کے جنازے میں شرکت کی۔
آزادی کے حامیوں نے سڑکوں پر آکر ردعمل کا اظہار کیا۔ بند دکانوں پر نعرے پینٹ کیے ہیں۔وانی نے اپنی تازہ ترین وڈیو میں پولیس افسروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی قبضے کی حمایت ترک کردیں اور آزادی کی جنگ میں شریک ہوجائیں۔ ایک سینیر پولیس افسر نے حالیہ برسوں میں وانی کی ہلاکت کو militants کے خلاف سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے جب کہ دوسروں نے تصدیق کی کہ اس کی موت تشددپسند علیحدگی پسندوں کے لیے اپیل میں اضافہ کرے گی۔
جموں و کشمیر کے ساتھ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ٹویٹ کیا کہ وانی کی قبر میں صلاحیت اس سے زیادہ عسکریت پیدا کرنے کی صلاحیت ہے جتنی اس نے سوشل میڈیا سے پیدا کی۔ اس کے والد مظفروانی کے بقول: وانی ۱۵سال کی عمر میں حزب المجاہدین میں شریک ہوا۔ جب سیکورٹی فورسز نے اس پر حملہ کیا اور اس کی توہین کی۔ اس کے والد نے ANP کو ۲۰۱۴ء میں بتایا کہ اگر وہ اپنی عزت اور عوام کے لیے مرتا ہے تو وہ شہید ہوگا۔ (دی گارڈین،………)
جہاد اور مجاہد کے بارے میں ایسی رپورٹ ایک مؤقر انگریزی روزنامے میں دہشت گردی کے خلاف نائن الیون کے بعد کی جنگ اور اسلامی دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کے اس ماحول میں ایک بڑی نادر شے ہے___ اور یہ بھی ۸جولائی کے ثمرات میں سے ایک ہے۔
روزنامہ دی ایکسپریس ٹربیون (۲۵ جولائی ۲۰۱۶ئ) میں مرکزی حکومت کے ایک سابق سیکرٹری جناب طارق محمود نے بُرہان وانی پر The Robin Hood of Kashmir کے عنوان سے دل چسپ مضمون لکھا ہے۔اس سے ایک اقتباس اس لیے پیش خدمت ہے کہ انگریزی اخبارات کے اس انبوہ میں جس میں ہر دہشت گرد گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے اور اچھے عسکری (Good Militant)اور بُرے عسکری (Bad Militant) کے تصور کو ٹکسال سے باہر کر دیا گیا ہے بلکہ سیاسی اور نظریاتی جرم بنادیاگیا ہے۔ ایک مجاہد کی جو تصویرآئی ہے وہ ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہی تصور کی جاسکتی ہے:
بُرہان مظفروانی ایک ملیشیا کمانڈر تھا جو کچھ مختلف تھا۔وہ ایک کمانڈر تھا جس نے اپنے ساتھیوں کو خودکش جیکٹ پہن کر عوامی مقامات پر دھماکا کرکے بے گناہ انسانوں کو ہلاک کرنے کی ہدایت نہیں کی تھی۔ وہ ایک ایسا کمانڈر تھا جو کمین گاہوں میں چھپتا پھرتا نہ تھا بلکہ لوگوں کے دلوں میں رہتا تھا۔ وہ ان لوگوں کو ہدف بنانے کا کہتا تھا جنھوں نے کشمیریوں کی واضح توہین کی ہو، ذہنی و نفسیاتی ٹارچر کیا ہو۔ وہ ایسا کمانڈر تھا جو نوجوانوں سے اپیل کرتا کہ امرناتھ یاترا میں ہندو یاتریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس کے پاس کوئی وقت نہیں تھا کہ وہ لائن آف کنٹرول کے پار عناصر سے مدد لیتا۔ بلاشبہہ وہ کشمیریوں میں ظالم ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کا تسلسل ہے جو ۱۹۳۱ء میں شروع ہوئی تھی۔
تحریکِ آزادی کے نئے دور کا یہ ایک بڑا خوش گوار پہلو ہے کہ تحریکِ آزادی اور دہشت گردی کے جس فرق کو نائن الیون کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اس کا احساس ایک بار پھر بیدار ہونے لگا ہے۔ ہرہتھیار اُٹھانے والا لازماً دہشت گرد نہیں۔ گولی معصوم انسانوں کا خون بہانے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور مجبور اور کمزور انسانوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے بھی۔ تلوار دوسروں کو غلام بنانے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے بھی۔ قوت کا استعمال خیر اور صلاح کے قیام اور انصاف اور عدل کے فروغ کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور ظلم اور کفر کے فروغ کے لیے بھی۔ دونوں کا فرق مقصد، آداب و ضوابط ، کردار اور کارکردگی بالآخر عملی نتائج کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے ؎
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
۵- ۸ جولائی کے بعد جو تحریریں سامنے آرہی ہیں ان میں ایک اور بڑے بنیادی اصولی مسئلے کی بازیافت کے بھی اشارے مل رہے ہیں۔ تاریخ میں ’مبنی برحق جنگ ‘ (just war) اور ’مبنی برظلم جنگ‘ (unjust war) میں ہمیشہ فرق کیا گیا ہے اور ایک یعنی ’جسٹ وَار‘ کو خارجہ سیاست کا ایک ہتھیار اور خیر اور فلاح کے حصول کا ایک ذریعہ تصور کیا گیا ہے اور صرف زر، زمین اور قوت حاصل کرنے اور دوسروں کو ان کے حقوق کے محروم کرنے کے لیے تلوار کے استعمال کو قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر جدید بین الاقوامی قانون میں سامراجی اقتدار اور غلبہ ظلم کی ایک شکل قرار دیا گیا اور سامراج کے خلاف جنگ ِ آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد خواہ وہ سیاسی ہو یا وہ عسکری جنگ کی شکل اختیار کرے، میں فرق کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے جنگ ِ آزادی (war of liberation) کو دہشت گردی تسلیم نہیں کیا گیا۔ امریکا کی برطانوی سامراج کے خلاف جنگ کو ’جنگ ِ آزادی‘ کا نام دیا گیا اور جارج واشنگٹن کو خواہ تاجِ برطانیہ کے نمایندے غدار اور دہشت گرد قرار دیتے رہے ہوں لیکن دنیا نے اور بین الاقوامی قانون نے اسے آزادی کا ہیرو قرار دیا۔ موجودہ اقوامِ متحدہ کے ۱۹۲؍ارکان ممالک میں تقریباً ۱۵۰ ایسے ہیں جو سیاسی اور عسکری جنگ کے نتیجے میں آزادی حاصل کرسکے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دہشت گردی کی تعریف پر آج تک متفق نہیں ہوسکی کہ عظیم اکثریت کی نگاہ میں جنگ ِ آزادی دہشت گردی نہیں۔ اور اس امر پر اقوامِ متحدہ کے تمام ہی ادارے متفق ہیں۔(دیکھیے: کرسٹوفر کوئے، Liberation Struggle in International Law، ٹمپل یونی ورسٹی پریس، فلاڈلفیا، ۱۹۹۱ئ)
اس پس منظر میں ۸جولائی کے بعد کم از کم میری نظر سے پہلی بار ایک مشہور بھارتی صحافی آکار پٹیل کی یہ تحریر آئی ہے کہ بھارت میں ریاست جموں و کشمیر میں مزاحمت کی تحریک اور ملک کے دوسرے حصوں خصوصیت سے وسط ہند کی آرمی واسی بیلٹ جس کی سرحدیں جھارکھنڈ ، اڑیسہ اور چاٹس گڑھ تک پہنچتی ہیں اور تیسری شمال مشرق قبائلی بیلٹ میں برپا بغاوت کی تحریکوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے موقف کے ثبوت میں جو نقشہ وہ کشمیر اور اس میں برپا تحریک ِ آزادی کا کھینچتا ہے اس میں یہ پیغام بہ صراحت موجود ہے کہ کشمیر کی جدوجہد کو محض دہشت گردی کہنا قرین انصاف نہیں۔("Misapplying the term terrorism in India"،دی ایکسپریس ٹربیون، ۱۶ جولائی ۲۰۱۶ئ)
۶- ایک اور پہلو جو تحریک ِ آزادی کے موجودہ مرحلے کے سلسلے میں سامنے آرہا ہے اس کا تعلق نوجوانوں کے کردار سے ہے۔ ویسے تو تاریخ کی ہربڑی تحریک کے روحِ رواں جوان ہی رہے ہیں لیکن دورِ جدید کی آزادی کی تحریکات میں قیادت بالعموم پختہ عمر کے لوگوں کی رہی ہے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی کے موجودہ مرحلے میں جوانوں کے کلیدی کردار نے اس تحریک میں نئی جان ڈال دی ہے۔ پرانی قیادت آج بھی محترم ہے اور عزت اور رہنمائی کے اعلیٰ مقام پر متمکن ہے۔ لیکن اب ایک فطری انداز میں نئی قیادتیں اُبھر رہی ہیں اور یہ ایک نعمت ہے۔
تحریک ِ آزادیِ کشمیر کے یہ چھے پہلو ہیں جو ہماری نگاہ میں ۸جولائی کے بعد نئی اہمیت کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور آیندہ کی پالیسی سازی کے باب میں ان سب کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
آیندہ گزارشات سے پہلے میں تحریکِ آزادیِ کشمیر کے پورے تاریخی ، نظریاتی، سیاسی اور عسکری پس منظر کی روشنی میں جو سب سے اہم بات کہنا چاہتا ہوں اور جو میرے اپنے۷۰سالہ مطالعہ اور غوروفکر کا حاصل ہے وہ یہ ہے کہ ۸جولائی جہاں تحریک کے تسلسل کی علامت ہے وہیں وہ تحریک کو ایک ایسے فیصلہ کن تاریخی موڑ تک لے آیا ہے جہاں صحیح حکمت عملی اور اس پر عمل کرنے کے لیے ایک مؤثر ، قرارواقعی ، حقیقت پسندانہ اور جامع پالیسی تحریک کو اپنی منزل سے بہت قریب کرسکتی ہے۔ ہماری نگاہ میں اس حکمت عملی اور پالیسی کو ان حقائق کی روشنی میں مرتب کرنا وقت کی اصل ضرورت ہے:
(الف) مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا ۶۹سالہ قبضہ اپنے اصل مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ فوجی قوت اور سرکاری استبداد کے ہرممکن حربے کے باوجود جموں و کشمیر کے عوام کو محکومی کو قبول کرنے یا اس پر خاموش ہوجانے میں حکمران قوت کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں لیکن بھارت کے حکمران اور بااثر طبقے اس صورتِ حال کو سمجھنے کے باوجود ابھی اسے تسلیم نہیں کر رہے لیکن اسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں۔
(ب) حالات کو اس مقام تک لانے میں سب سے اہم کردار جموں و کشمیر کے عوام اور تحریکِ آزادی کی قیادت کا ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سیاسی ہے اور بالآخر اس کا حل بھی سیاسی ہی ہوگا لیکن اقتدار کی ظالمانہ اور استبداد پر مبنی پالیسی کے نتیجے میں عسکریت نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اصل چیز ان کے درمیان صحیح توازن اور سیاسی پہلو کا غلبہ ہے۔ جہاں عسکریت کا ایک اہم مثبت کچھ حالات میں فیصلہ کن حد تک اہم کردار ہے، وہیں عسکریت پسندی اصل فیصلہ کن عامل نہیں۔ اس کا کردار یا معاونت کا ہے یا سدجارحیت کا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر عسکریت کا چہرہ اور کردار مثبت اور اخلاقی برتری کا ہوگا (جس کا سمبل آج بُرہان وانی ہے) تو وہ مفید اور فیصلہ کن ہوگا اور اگر فساد، عدم تواز ن اور نتائج اور اثرات سے بے نیاز ہوکر انتقام اور غصہ کا ہوگا تو عسکریت اپنا اخلاقی وزن کھو دیتی ہے۔ جدید اور قدیم تاریخ اس کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ خود کشمیر کی تحریک کی تاریخ میں خصوصیت سے ۱۹۹۰ کے عشرے کے وسط میں اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ ۸جولائی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے عسکریت کے معتبر چہرے کو ایک بار پھر اس جدوجہد میں نمایاں کر دیا ہے اور تحریک ِ آزادی کی اخلاقی اور سیاسی برتری کو اس حد تک واضح کردیا ہے کہ جو اپنوں کے لیے قوت اور نئے جذبے کا ذریعہ اور مخالفین کے لیے نہ صرف سوالیہ نشان بلکہ کڑوی گولی بنتا جارہا ہے۔ یہ وہ نازک لمحہ ہے جب اس توازن کی حفاظت اور سیاسی جدوجہد کی اوّلیت اور مرکزیت کا سختی سے اہتمام تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
ان بنیادی حقائق کی روشنی میں اور تحریک کو ان میں نظر آنے والے مقاصد اور حقائق کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے جس وژن، جس حکمت عملی اور جس پالیسی اور جس نوعیت کے اقدام کی ضرورت ہے___ آیندہ سطور میں ان کی نشان دہی کی جارہی ہے۔
اب ہم بہت ہی اختصار کے ساتھ سب سے پہلے ان اُمور کو واضح کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی کشمیر پالیسی کی اصل بنیاد ہیں اور موجودہ حالات کی روشنی میں حکومت، قوم اور اس کی سیاسی، دینی اور عسکری قیادت اور ان تمام عناصر کو کرنے چاہییں جو سیاسی پالیسیوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
۱- جموں و کشمیر کی ریاست ایک وحدت ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ایک وحدت کے طور پر کیا جانا ہے۔
۲- ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے، اس کے ۶۰ فی صد علاقے پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے، نام نہاد الحاق ایک ڈھونگ اور دھوکا ہے، جسے کوئی دستوری، قانونی، سیاسی اور اخلاقی جواز حاصل نہیں۔
۳- ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کو اپنی آزاد مرضی سے کرنا ہے جسے معلوم کرنے کے لیے بین الاقوامی انتظام میں استصواب راے کرایا جائے گا۔
۴- کشمیر کا مسئلہ نہ زمین کا تنازعہ ہے، نہ سرحد کی صف بندی کا معاملہ ہے، اور نہ محض پاکستان اور بھارت میں ایک تنازعہ ہے بلکہ اس کے تین فریق ہیں: پاکستان، بھارت اور جموں و کشمیر کے عوام___ جنھیں آخری فیصلہ کرنا ہے۔
۵- کشمیر بھارت کے لیے غاصبانہ ہوسِ ملک گیری کا معاملہ ہے اور پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیوں کہ اس کا تعلق ان بنیادوں سے ہے جن پر پاکستان قائم ہوا اور تقسیم ہند عمل میں آئی۔ اس کے ساتھ اس کا تعلق ریاست کے مسلمانوں (جن کو عظیم اکثریت حاصل ہے) کے مستقبل اور پاکستان کے اسٹرے ٹیجک مفادات، نیز معاشی اور تہذیبی وجود سے بھی ہے۔
ان پانچ اُمور پر قومی اجماع تھا اور ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کا اصولی موقف یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کی ۱۳؍اکتوبر ۱۹۴۸ئ، ۵ جنوری ۱۹۴۹ء اور سلامتی کونسل کی دوسری قرارداوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے جنرل پرویز مشرف نے ۲۰۰۳ء میں اس پالیسی سے انحراف کا راستہ اختیار کیا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو بائی پاس کرنے کی بات کی اور پھر ایک چار نکاتی فارمولے کا ڈھونگ رچایا جواللہ کی اعلیٰ تر تدبیر کے طفیل بھارت اور پاکستان دونوں کی اندرونی سیاسی صورتحال کے باعث زمین بوس ہوگیا۔ البتہ فکری انتشار، پالیسی کے باب میں کنفیوژن، اور سب سے بڑھ کر عملاً جموں و کشمیر کی تحریک ِ آزادی کے لیے شدید نقصان کا باعث ہوا۔ جیساکہ ہم نے پہلے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے تلافی کے دوسرے سامان پیداکیے لیکن ایک مدت تک تحریک ٹھٹھری ٹھٹھری رہی اور اس کی ترقی کی رفتار بُری طرح متاثر ہوئی۔ نیز پاکستان سے جو توقعات کشمیری عوام کو ہیں، انھیں بھی بڑا دھچکا لگا۔ افسوس کا مقام ہے، پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جو حکومتیں بنیں انھوں نے بھی پالیسی کو اصل اجماعی پوزیشن کے مطابق ازسرِنو تشکیل دینے اور پوری قوت سے متحرک کرنے کے باب میں کوئی اہم قدم نہیں اُٹھایا۔ کشمیر کمیٹی بھی کوئی مفید اور مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی۔ نوازشریف صاحب نے عوامی اور خود اپنی جماعت کے کچھ اہم لوگوں کے دبائو میں چندبیانات کی حد تک اصولی موقف کا اعادہ کیا لیکن عملاً کوئی اقدام نہیں اُٹھایا بلکہ اپنی ذاتی ترجیحات کے زیراثر بھارت سے خوش گوار تعلقات، اعتماد سازی کے لیے اقدامات کے سلسلے میں نئی دل چسپی اور بھارت سے تجارت کے ناکام تجربات کو ایک بار پھر دُہرانے کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی اور ہرقدم پر ٹھوکر کھائی۔ اس پس منظر میں۸جولائی پاکستان اور اس کی موجودہ قیادت کو ایک تاریخی موقع فراہم کر رہا ہے اور ہم ملک کی پوری قیادت سے پوری درمندی اور دل سوزی سے استدعا کرتے ہیں کہ اس تاریخی موقعے سے پورا پورا فائدہ اُٹھائیں۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کی قرارداد ایک اچھا ابتدائی اقدام ہے لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ ہم ایک طرف اس قومی موقف پر سختی سے ڈٹ جائیں جس کا آغاز علامہ اقبال کی رہنمائی میں ۱۳جولائی ۱۹۳۱ء کو شروع ہونے والی تحریکِ آزادیِ کشمیر کے موقعے پر ہوا، جسے تحریکِ پاکستان کے دوران نکھار اور تقویت ملی اور جس پر قیامِ پاکستان کے بعد پاکستانی قوم قائم ہے۔
کشمیر کا مسئلہ تمام مسلمانانِ ہندستان کی سیاسی حیات اور موت کا مسئلہ ہے۔ اہلِ کشمیر سے ناروا سلوک، ان کی جائز اور دیرینہ شکایات سے بے اعتنائی اور ان کے سیاسی حقوق کا تسلیم نہ کرنا، مسلمانانِ ہند کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ حق بات بھی یہی ہے کہ اہلِ خطہ کشمیر ملّت ِ اسلامیہ کا جزولاینفک ہے۔ ان کی تقدیر کو اپنی تقدیر نہ سمجھنا تمام ملّت کو تباہی و بربادی کے حوالے کر دینا ہے۔ اگر مسلمانوں کو ہندستان میں ایک مضبوط و مستحکم قوم بننا ہے تو دو نکات کو ہر وقت ذہن میں رکھنا ہوگا۔ اوّل یہ کہ شمال مغربی سرحدی صوبے کو مستثنیٰ کرتے ہوئے حدود ہند کے اندر جغرافیائی اعتبار سے کشمیر ہی وہ خطہ ہے جو مذہب اور کلچر کی حیثیت سے خالصتاً اسلامی ہے۔ دوسری بات جسے مسلمانانِ ہند کبھی نظرانداز نہیں کرسکتے، یہ ہے کہ ان کی پوری قوم میں سب سے بڑھ کر اگر صناعی و ہنرمندی اور تجارت کو بخوبی پھیلانا……… نمایاں طور پر کسی طبقے میں موجود ہیں تو وہ اس خطے کا گروہ ہے۔ بہرحال وہ قوم اسلامی ہند کے جسم کا بہترین حصہ ہیں۔ اگر وہ حصہ درد و مصیبت میں مبتلا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ باقی افراد ملّت فراغت کی نیند سو جائیں۔ (بحوالہ کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی، ص ۴۷۱)
مسلمان جغرافیائی حدود کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے اسلامی برادری کے نام پر ہندستان کے مسلمان آپ کی مدد کے لیے کمربستہ ہیں۔ اگر آپ پر ظلم ہوا یا آپ سے بدسلوکی کی گئی تو ہم بیکار تماشائی کی صورت میں نہیں رہ سکتے۔ ایسی صورت میں برطانوی ہند کے مسلمان آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوجائیں گے کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم آپ کی مدد کے پابند ہیں۔
آج ہمارے حکمران’جہاد‘ کے لفظ سے خائف اور اس پر شرمندہ ہی نہیں ہیں بلکہ اپنی آزادی کی جنگ لڑنے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو ’دہشت گرد‘ تک قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دیکھیے جب اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے قبائلی مسلمان، وہی قبائلی مسلمان جن پر آج امریکا کی خوش نودی کے حصول یااس کے حکم کے تحت پاکستانی فوج کو بم باری اور آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ان قبائلی مسلمانوں نے کشمیر کے جہاد میں شرکت کی اور اس پر جب بھارتی گورنر جنرل نے ان کے خلاف اقدام کا مطالبہ کیا تو قائداعظم نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا فرمایا:
ہم اس کی ذمہ داری لینے پر تیار نہیں اور نہ ہم قبائلیوں پر دبائو ڈال سکتے ہیں کہ وہ کشمیر کو خالی کردیں۔ مسلمانانِ کشمیر نے ڈوگرہ آمریت سے تنگ آکر ہری سنگھ کی گورنمنٹ کو فتح کرنے کے لیے جہاد شروع کر رکھا ہے اور قبائلیوں نے مجاہدین کا ہم مذہب ہونے کی مناسبت سے ان کی امداد کی ہے۔ لہٰذا ہم اس معاملے میں کسی قسم کا دخل دینے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ مجاہدین کی یہ جنگ ِ آزادی ہے اور کوئی آزادی پسند ملک آزادی کی خاطر لڑنے والوں کے مخالفین کے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتا۔ اس لیے جن قبائلیوں کو برطانوی حکومت نہ دبا سکی، ہم انھیں کیسے روک سکتے ہیں۔ وہ ایک نصب العین کے لیے نبردآزما ہیں۔ (۳ نوبر ۱۹۴۷ء کو قائداعظم اور مائونٹ بیٹن کے مابین ایک کانفرنس کی رُوداد ملاحظہ ہو، رشحاتِ قائد ، مرتبہ: نجمہ منصور، العبد پبلی کیشنز، سرگودھا، ۱۹۹۲ئ، ص ۱۶۷-۱۶۸)
عوام نے متعدد بار راجا سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں شامل ہوجائیں لیکن راجا پر اس مسئلے کا اُلٹا اثر ہوا، اور اس نے عوام کی آواز کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوششیں کیں۔ اس پر عوام نے بھی طاقت کا جواب طاقت سے دینا شروع کر دیا۔ جب راجا ان کی چوٹ برداشت نہ کرسکا تو اپنا اقتدار ختم ہوتے دیکھ کر اسے ہندستان میں شامل ہونے کی سوجھی۔ دراصل کشمیر ہندستان میں شامل نہیں ہوا، بلکہ ہری سنگھ شامل ہوا ہے۔ جب ہندستان میں ہری سنگھ کی شمولیت کے خلاف کشمیری عوام ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہوگئے تو ان سے یہ راے طلب کرنے کی تجویز کہ وہ ہندستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں، نہ صرف فریب بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔
کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر قائداعظم نے مائونٹ بیٹن سے یہ بھی کہا: کشمیر جہاں اقتصادی اور معاشی لحاظ سے پاکستان کا ایک جز ہے، وہاں سیاسی اعتبار سے بھی اس کا پاکستان میں شامل ہونا ضروری ہے۔ (رشحاتِ قائد، مذکورہ بالا)
کشمیر کے بارے میں قائداعظم کی پالیسی کیا تھی؟ اس کا اظہار انھی کے الفاظ میں ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے کیا ہے:
کشمیر سیاسی اور فوجی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی خوددار ملک اور قوم اسے برداشت نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شہ رگ دشمن کی تلوار کے آگے کردے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ ایک ایسا حصہ ہے جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے لیکن اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظرانداز نہیں کرسکتا کہ کشمیر تمدنی، ثقافتی، مذہبی، جغرافیائی، معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا ایک حصہ ہے اور جب بھی اور جس زاویے سے بھی نقشے پر نظر ڈالی جائے یہ حقیقت بھی اتنی ہی واضح ہوتی چلی جائے گی۔(قائداعظم کے آخری ایام)
آج اس امر کی ضرورت ہے کہ اقبال اور قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں اور ان تمام زمینی اور تاریخی حقائق اور پاکستان او ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے حقیقی جذبات، عزائم اور تمنائوں کے مطابق پاکستان اپنی کشمیر پالیسی مرتب کرے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدام کرے جن پر پوری تندہی اور شفافیت کے ساتھ ہرسطح پر عمل کیا جائے۔ پارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں رکھا جائے، احتساب کا نظام متحرک اور مؤثر ہو اور پاکستانی قوم اور مسلمانانِ جموں و کشمیر ایک دوسرے کے لیے تقویت کا ذریعہ بن کر مشترکہ مفادات اور مقاصد کے لیے اس تحریک کو اپنے منطقی انجام تک لے جائیں جس کی آبیاری ہمارے نوجوان اپنے خون سے کر رہے ہیں۔
اصولی بات تو ایک جملے میں ادا کی جاسکتی ہے: پاکستان کی کشمیر پالیسی کا مقصد پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے عزائم، حقیقی مفادات اور پورے علاقے کے لیے ترقی، استحکام، سلامتی اور خوش حالی کا حصول ہونا چاہیے۔
۱- مسئلہ کشمیر ، ریاست جموں و کشمیر کے سوا کروڑ سے زائدمسلمانوں کے ایمان، عزت، آزادی اور سیاسی اور تہذیبی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ یہ تقسیم ملک کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ یہ محض دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں۔ اس لیے ہماری سیاسی ترجیحات میں اسے اولیت دینا چاہیے۔
۲- مسلمانانِ جموں و کشمیر نے اپنی بیش بہا قربانیوںکے ذریعے اس مسئلے کو زندہ رکھا ہے اور اس وقت اسے اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں ہندستان اور دنیا کے دوسرے ممالک یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ لیکن جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ، اس مسئلے کے فریق پاکستان، ہندستان اور اقوامِ متحدہ بھی ہیں۔ پاکستان کا فرض ہے کہ ایک فریق کی حیثیت سے مسئلے کو لے کر اُٹھے اور ہرمیدان میں اس کے حل کے لیے سرگرم ہو… تحریکِ آزادی کی مدد کے ذریعے بھی اور عالمی راے کو منظم اور مسخر کر کے بھی۔
۳- پاکستان اس موقف کے بارے میں ذرہ برابر بھی کمزوری نہ دکھائے کہ مسئلۂ کشمیر کے حل کا صرف ایک طریقہ ہے وہ ہے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے۔ اس استصواب راے میں بھی صرف دو ہی راستے ہیں: یعنی ہندستان یا پاکستان سے الحاق۔ کسی تیسرے آپشن کا دروازہ کھولنا خودکشی کے مترادف ہے، پاکستان کے لیے بھی اور مسلمانانِ جموں و کشمیر کے لیے بھی۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے موقف کو پوری جرأت اور دانش مندی سے پیش کرے۔ پاکستان یہ بات بھی واضح کردے کہ الحاق کے فیصلے کے بعد، پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر میں تعلقات کی نوعیت، نظم و نسق اور انتظام و انصرام کا نقشہ، اور خود اختیاری کی شکل و نوعیت کیا ہو۔ یہ تمام اُمور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی کے مطابق طے ہوں۔ پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲۵۷ بہت واضح ہے جو ریاست کے عوام کی راے کو حرفِ آخر تسلیم کرتا ہے۔
۴- پاکستان کا فرض ہے کہ مجاہدین کشمیر کی بھرپور مدد کرے اور اس کے اعلان میں شرمندگی نہ محسوس کرے۔ پاکستان نے کشمیر کی خاطر گذشتہ ۶۹سال میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ آج جب کشمیر کے نوجوان کشمیر اور پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ہم ان کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ وہ ہماری جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی ان کی مدد کریں۔ ان کی ہرضرورت کو پورا کریں، اور ہندستان نے ان پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے ہیں، ہم صحیح معنی میں ان کے پشتی بان بن جائیں۔
۵- پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ، اس جدوجہد میں آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام کی بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی حکومتوں کی طرح، آزاد کشمیر کی حکومت بھی اپنے اصلی مشن کو بھول چکی ہے۔ وہ محض آزاد علاقے کی حکومت نہیں، بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزاد حکومت ہے، اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد اس کا اوّلین مقصد ہے۔ اسی لیے اسے بیس کیمپ کا لقب دیا گیا تھا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ گروہی سیاست سے بالا ہوکر، آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام تحریک میں بھرپور حصہ لیں اور اپنی ترجیحات کو یکسر بدل کر تحریکِ آزادی کو اس کے منطقی اور فطری نتیجے تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہوجائیں۔
۶- حکومت ِ پاکستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگرچہ یہ مقصد محض سیاسی اور سفارتی جدوجہد سے حاصل نہیں ہوسکتا، مگر سیاسی اور سفارتی مہم بہت اہم ہے اور اب تک اس کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے جاسکے ہیں۔ محض چند وفود باہر بھیجنے سے کام نہیں ہوگا۔ اس کے لیے بڑے ہمہ گیر، منظم اور مؤثر کام کی ضرورت ہے، جس کے تحت پوری دنیا میں ہر علاقے کے حالات کے مطابق تحریکِ کشمیر کے تعارف اور اس کے لیے تائید کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہماری وزارتِ خارجہ بالعموم اس مقصد میں ناکام رہی ہے۔
اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ کشمیر کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے وزارت کی تنظیم نو ہو، اور کشمیر ڈیسک سب سے اہم ڈیسک ہو۔ ہر اس ملک میں جہاں ہمارا سفارت خانہ ہے کشمیرسیل قائم کیا جائے، علم اور صلاحیت رکھنے والے افراد کو جو کشمیر کے لیے صحیح جذبہ رکھتے ہوں، اس کام پر لگایا جائے، اور اس طرح عالمی سطح پر ایک مؤثر تحریک چلائی جائے۔
۷- پوری پاکستانی قوم کو حالات سے آگاہ رکھنا اور جذبۂ جہاد سے سرشار کرنا بھی اس پالیسی کا اہم جزو ہونا چاہیے۔ جب تک پوری قوم کو اس تحریک کے لیے متحرک نہیں کیا جائے گا، کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہراسکول، کالج اور یونی ورسٹی میں، ہرشہر، قصبہ اور دیہات میں، ہرمسجد اور مدرسے میں، ہرکارخانہ اور بازار میں، جہادِ کشمیر سے لوگوں کو متعارف کرایا جائے اور اس میں شرکت کے لیے مال سے، جان سے، ہر صورت میں آمادہ کیا جائے۔ قوم میں بڑا جذبہ ہے لیکن اسے آج تک صحیح انداز میں متحرک و منظم نہیں کیا گیا۔
۸- حکومت پاکستان کو اپنے بجٹ کو بھی ان ترجیحات کی روشنی میں ازسرِنو مرتب کرنا ہوگا۔ جہادِکشمیر کی ضروریات کو اوّلیت دینا ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ ایٹمی طاقت کی مناسب ترقی، فوج کو چوکس رکھنا اور قوم کے نوجوانوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ جب کشمیر میں حالات ہندستان کی گرفت سے بالکل نکلنے لگیں گے تو وہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرے گا۔ کشمیر پالیسی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم جنگ کے لیے تیار رہیں۔ تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو قوم جنگ سے خائف رہی ہے وہ اپنی آزادی سے بھی محروم ہوگئی ہے اور جو قوم جنگ کے لیے تیار رہی ہے، وہی اپنے ایمان، عزت و آزادی کو محفوظ رکھ سکی ہے ۔
سابق امریکی صدر نکسن نے بہت صحیح کہا تھا کہ ’’ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قوت کے استعمال سے دستبرداری، دراصل دشمن کو اپنے خلاف قوت کے استعمال کی دعوت دینے کے مترادف ہے‘‘۔ نکسن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ’’صرف تیار ہی نہ رہو، مخالف کو یہ پیغام بھی دے دو کہ تم ہرقوت کے استعمال کے لیے تیار ہو۔ یہ وہ چیز ہے جو دشمن کو تم پر دست درازی سے روکے گی‘‘۔ اسی بات کو ہنری کسنجر نے ایک دوسرے انداز میں کہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’اگر امن کے معنی محض جنگ سے بچنا لے لیے جائیں، اور یہ چیز ایک قوم یا بہت سی اقوام کے مجموعے کا بنیادی مقصد بن جائے، تو سمجھ لو عالمی سیاسی نظام کا سب سے زیادہ بے رحم اور سنگ دل ملک کے رحم و کرم پر ہوگا‘‘۔ اس لیے جنگ سے بچنے کا بھی سب سے مؤثر راستہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔
۹- ہندستان پر مؤثر دبائو ڈالنے کے لیے چار ہی اہم طریقے ہیں اور ان چاروں کو مؤثر انداز میں اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے استعمال ہونا چاہیے:
o تحریکِ آزادی کشمیر کی بھرپور اور مؤثر مدد، تاکہ مقبوضہ کشمیر میں قابض قوت پر اتنا دبائو پڑے اور اسے قبضے کی اتنی گراں قیمت ادا کرنی پڑے کہ وہ پُرامن حل کے لیے تیار ہوجائے۔
o عالمی راے عامہ کو منظم کرنا، اور اس کا دبائو اتنا بڑھانا کہ ہندستان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے کے لیے مجبور ہو۔ اگر فرانس کو الجزائر چھوڑنا پڑا، اگر اقوامِ متحدہ کو نمیبیا میں استصواب راے کروانا پڑا، اور اگر جنوبی افریقہ ۳۰۰سالہ نسلی امتیاز کے نظام کو ختم کرنے پر مجبور ہوا، تو ہندستان کو بھی کشمیر میں استصواب راے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ گذشتہ ۲۰برسوں میں جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور اور شمالی آئرلینڈ میں ریفرنڈم ہوئے ہیں۔ اوّل الذکر دونوں آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آچکی ہیں۔ شمالی آئرلینڈ نے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور ’گڈفرائیڈے‘ معاہدے کے تحت مل کر تمام عناصر حکومت چلا رہے ہیں جسے ۱۵سال ہوچکے ہیں۔ کینیڈا میں کیوبک کے علاقے میں اور برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم ہوا۔ گو دونوں جگہ اس کے نتیجے میں نئی ریاستیں قائم نہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ انگلستان نے ابھی دو ماہ پہلے یورپی یونین سے نکلنے کے بارے میں ریفرنڈم کرایا اور یورپ سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا جس پر اگلے دو سال میں عمل ہونا ہے۔ اگر دنیا میں ان تمام ممالک میں بین الاقوامی قانون کے تحت ریفرنڈم ہوسکتے ہیں تو کشمیر کے باب میں اقوامِ متحدہ میں ۲۰ سے زیادہ قراردادوں کی موجودگی میں اور بھارت کے حکمرانوں کے اپنے عہدوپیمان کے مطابق اور سب سے بڑھ کر وہاں کی عوام کی راے کو احترام میںریفرنڈم کیوں نہیں ہوسکتا؟
o ہندستان اور اس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی عالمی مہم: پاکستان خود اس کا آغاز تمام تجارتی تعلقات منقطع کر کے کرے۔ تمام مسلمان ممالک کو اس کی ترغیب دی جائے کہ اوآئی سی کی اپریل۱۹۹۳ء کی قرارداد کے مطابق ہندستان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اس وقت صرف مشرقِ وسطیٰ میں ہندستان کی کُل برآمدات کا تقریباً ۵۰ فی صد جا رہا ہے۔ اگر ایک مؤثر عوامی اور سرکاری تحریک چلائی جائے تو یہ معاشی دبائو بھی ہندستان کو مجبور کرے گا کہ کشمیر میں استصواب راے کرائے۔ پھر عالمی پلیٹ فارم پر بھی معاشی پابندیوں کا مطالبہ کیا جائے۔ سیکورٹی کونسل میں، جنرل اسمبلی میں، دنیا کی مختلف پارلیمانوں میں یہ قراردادیں منظور کرائی جائیں۔ عوامی بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ سرکاری پابندیوں کی تحریک بھی چلائی جائے۔فلسطین کے مسئلے کے باب میں دنیا میں اس وقت اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔ آغاز میں یہ کام ناممکن محسوس ہوتا تھا مگر چندبرسوں کی کوشش سے تحریک نے اب تقویت حاصل کرلی ہے اور اسرائیل اس پر آتش زیرپا ہے۔ ہندستان کے سلسلے میں بھی ایسی ہی تحریک کی ضرورت ہے۔اگر اس واضح ہدف کے لیے کام کیا جائے تو جلد فضا تبدیل ہوسکتی ہے۔
o قوم کو جہاد کے لیے تیار کرنا، فوج کا چوکس رہنا اور ایٹمی صلاحیت کا صحیح درجے میں موجود ہونا بہت ضروری ہے۔ایک طرف یہ چیز بیرونی جارحیت کے لیے مؤثر مانع ثابت ہوگی، اور دوسری طرف ہم کو وہ استطاعت حاصل رہے گی کہ اگر دشمن کوئی دست درازی کرتا ہے تو اس کا مؤثر جواب دیا جاسکے۔ ایٹمی طاقت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے محدود جنگ کے امکانات کی نوعیت بدل گئی ہے اور مکمل جنگ سے اجتناب ممکن ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس دفاعی اسٹرے ٹیجی میں ایٹمی طاقت کا مؤثر کردار ہے۔
۱۰- مندرجہ بالا خطوط پر مرتب کردہ کشمیر پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کے نفاذ کے لیے بھی ایک مؤثر مشینری وجود میں لائی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ پالیسی اور اس کی تنفیذی مشینری قومی بنیادوں پر استوار کی جائے۔ تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کریں۔ پارلیمنٹ کو اس بارے میں مناسب ابتدائی اقدامات کرنے چاہییں۔ میڈیا کا کردار بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کام کے لیے ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔
جس طرح کشمیر کے نوجوانوں نے چند برسوں میں وہاں کی فضا تبدیل کردی ہے ،اسی طرح اگر پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتیں اور عوام اپنے فرض کی ادایگی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں تو حالات بہت کم وقت میں بدل سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف تحریکِ آزادیِ کشمیر اور بالآخر کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی شکل میں ہی نہیں ہوگا، بلکہ قوم کو نئی زندگی اور نیا جذبہ ملے گا، اور اس نئی زندگی اور نئے جذبے کو پاکستان کو ایک حقیقی اور مضبوط اسلامی، فلاحی مملکت بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہی تحریکِ پاکستان کا اصل مقصد تھا اور یہی تحریکِ کشمیر کی بھی قوتِ محرکہ ہے۔
جمہوری معاشرے میں سالانہ قومی بجٹ اور پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس موقعے پر قوم کو ملک کی معاشی حالت، اس کے مالی وسائل اور ان کے استعمال کی صورتِ حال، حکومت کی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں اور ترجیحات کی کیفیت سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ حال اور مستقبل کے سیاسی، دفاعی اور ہرقسم کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور اس کے استعمال کی منصوبہ بندی کیا ہے؟ اس پر بحث و گفتگو کرنے اور قوم اور ملک کے معاشی اور اجتماعی مقاصد اور اہداف کی صورت گری کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کی حکومت نے اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرلیے ہیں اور یہ چوتھا بجٹ اس حکومت کی تین سال کی کارکردگی کے جائزے کا بہت ہی مناسب موقع ہے۔
ویسے تو جمہوری ممالک میں نئی حکومت کے پہلے ۱۰۰دن ہی اس کی کارکردگی اور سفر کے رُخ کو سمجھنے کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں لیکن تین سال کی مدت تو ہراعتبار سے حکومت کی صلاحیت ِکار اور مستقبل کے باب میںا س سے توقعات کے بارے میں ایک معروضی راے قائم کرنے کے لیے کافی مدت ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے بیش تر ممالک میں تو حکومت کی ٹرم چار سال ہی ہوتی ہے جس کی سب سے اہم مثال خود امریکا ہے لیکن چونکہ ہمارے دستور میں یہ مدت پانچ سال ہے، اس لیے اس کے دوسرے نصف کے آغاز کو ہراعتبار سے جائزے اور محاسبے کے لیے ایک مناسب میقات تصور کیا جانا چاہیے۔
جیساکہ ہم نے اشارہ کیا ، قومی بجٹ صرف گذشتہ سال کے دوران حکومت کے زیرتصرف مالی وسائل کے حصول اور خرچ کا ایک میزانیہ اور اگلے سال کے لیے وسائل اور ان کے استعمال کا ایک پروگرام ہی نہیں ہوتا بلکہ دراصل ان مالی اعداد و شمار کے آئینے میں حکومت کی معاشی منزل اور وژن، پالیسیوں اور حکمت عملی، ترجیحات اور اہداف کی ایک معتبر اور مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔
بجٹ سے پہلے سالانہ معاشی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جو گزرے ہوئے سال کے معاشی حالات، طے شدہ اہداف کے حصول یا حصول میں ناکامی اور معاشی اور مالی پالیسیوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو پیش کرتا ہے، اور جس کے اسٹیٹ بنک کی سہ ماہی اسٹیٹ آف دی ایکونومی رپورٹوں کے ساتھ مطالعے سے ملک کی تاریخ کے پس منظر میں گزرے ہوئے سال کی پوری صورتِ حال کو سمجھا جاسکتا ہے۔ پھر اس کی روشنی میں نئے سال کا بجٹ اور سالِ گذشتہ کے اخراجات اور آمدنیوں کی پوری تفصیل کئی ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی دستاویزات کی شکل میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور قوم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تاکہ قوم، ملک کے معاشی، سیاسی اور علمی حلقے، میڈیا اور متاثر ہونے والے تمام عناصر اپنی اپنی راے کا اظہار کرسکیں۔ سینیٹ اگرچہ بجٹ منظور نہیں کرتا لیکن اسے دو ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کا اختیار ہے۔قومی اسمبلی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان سب آرا کی روشنی میں بجٹ کو آخری شکل دے۔ اس کے تین مرحلے ہوتے ہیں، یعنی بجٹ کے پیش ہونے کے بعد اس پر عام بحث۔ پھر متعین اخراجات پر احتساب جنھیں کٹوتی کی تحریکات (Cut Motions) کہا جاتا ہے اور پھر بجٹ کی منظوری۔ کٹوتی کی تحریک بھی اتنا اہم مرحلہ ہوتا ہے کہ اگر حزبِ اختلاف کی طرف سے صرف ایک تحریک منظورہوجائے تو حکومت کو مستعفی ہونا پڑتا ہے اور بجٹ کی ازسرِنو تشکیل ضروری ہوجاتی ہے۔
دنیا کے بیش تر جمہوری ممالک میں بجٹ سازی کا کام چار سے چھے مہینوں پر پھیلا ہوا ہوتا ہے تاکہ ہرسطح پر معاشی اور مالی معاملات کا گہرائی میں جائزہ لیا جاسکے۔ امریکا میں اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیاں سال بھر کام کرتی ہیں۔ برطانیہ میں یہ عمل بجٹ پیش ہونے سے تین مہینے پہلے شروع ہوجاتا ہے اور برطانیہ اور نصف سے زیادہ جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہونے کے بعد پارلیمنٹ اس پر چار سے آٹھ ہفتے گفتگو کرتی ہے اور پھر افہام و تفہیم کے ساتھ اسے متفقہ طور پر یا اکثریت کی بنیاد پر منظور کیا جاتا ہے۔
بجٹ سازی کا عمل جس سنجیدگی، ملک گیر بحث و گفتگو اور ان تمام عناصر کے درمیان جو کسی نہ کسی درجے میں متاثر ہورہے ہوں، معنی خیز افہام و تفہیم کے جس عمل کا متقاضی ہے، بدقسمتی سے اس کا پاکستان میں کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا۔ پارلیمنٹ خود بھی اپنا دستوری کردار ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے اور تمام ہی حکومتوں نے بجٹ کو محض ایک رسم اور حکومت کی مرضی کو آمرانہ انداز میں مسلط (bulldoze) کرنے کی روایت قائم کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) جب حزبِ اختلاف میں تھی تو پیپلزپارٹی کی روش پر سیخ پا تھی اور اس رویے کو ننگی آمریت کہتی تھی، اب اقتدار میں ہے تو اس سے بھی بدتر رویہ اختیار کرنے میں وہ کوئی باک محسوس نہیں کرتی۔ جس کی بدترین مثال اس سال پیش کی گئی ہے۔
سینیٹ کی سفارشات میں سات آٹھ سال سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سالانہ معاشی جائزہ بجٹ سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے شائع ہو تاکہ اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا جاسکے۔ ۲۴گھنٹے پہلے لانا ایک مذاق ہے۔ موجودہ وزیرخزانہ ہمارے ساتھ اس مطالبے میں پورے جوش و خروش سے شریک تھے مگر ان کی اپنی حکومت کے چوتھے بجٹ کے موقعے پر بھی معاشی جائزہ وہی ایک دن پہلے شائع کیا گیا ہے۔ اس طرح ان کے دور میں بھی ہرسال اسی طرح بجٹ کے ساتھ اضافی اخراجات کی پوری کتاب آرہی ہے جس طرح پہلے آتی تھی، جو دستور اور جمہوری اصولوں کی روح کے خلاف ہے اور دستور کی کسی بہت ہی خاص مجبوری کے حالات کے لیے ایک گنجایش کا صریح غلط استعمال ہے۔ اس سال میں یہ اضافی اخراجات ۲۶۱؍ارب روپے پر پھیلے ہوئے ہیں اور لگژری گاڑیوں کی خریداری بھی اس کا حصہ ہے۔ بجٹ کی تیاری کے دوران جس نوعیت کی مشاورت ضروری ہے، اس کا اہتمام نظر نہیں آتا۔ سب سے افسوس ناک صورت حال بجٹ کے پیش کیے جانے کے ساتھ وہ سلوک ہے جو اس کے اور پارلیمنٹ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ سینیٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ سینیٹ کی سفارشات کی منظوری کے وقت وزیرخزانہ بحث میں موجود نہیں تھے اور ان کی اختتامی گفتگو کے بغیر سینیٹ کو اپنی سفارشات بھیجنا پڑیں۔ قومی اسمبلی میں نصف درجن سے زائد مواقعے پر بجٹ اجلاس کو کورم نہ ہونے کے باعث ملتوی کرنا پڑا۔وزیرخزانہ بحث کے تین چوتھائی وقت اسمبلی میں موجود نہ تھے۔ سرکاری ارکان تک شکوہ سنج تھے کہ انھیں کوئی سننے والا نہیں ہے اور ایک مسلم لیگی ایم این اے نے تو اپنی تقریر پھاڑ دی اور تقریر کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ نہ کوئی وزیر ہے اور نہ کوئی سننے والا ۔ اخباری اطلاع ہے کہ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری جماعت کے ۶۰ سے زیادہ ارکان نے احتجاجاً واک آئوٹ کیا اور ان کو مناکر واپس لانے کی رسم بھی ادا کرنا پڑی۔ افسوس صد افسوس! ع
بجٹ اور بجٹ سیشن کی اتنی بے توقیری کی کوئی مثال خود ہماری اپنی پارلیمنٹ کی تاریخ میں موجود نہیں۔ ایک موقعے پر تو حکومت اور حزبِ اختلاف کے تمام حاضر ارکان کی تعداد صرف نو بیان کی گئی ہے۔
سیشن میں کیے جانے والے مباحث کا جائزہ لیا جاتا ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ دو یا زیادہ سے زیادہ تین تقاریر کو تسلی بخش قرار دیا جاسکتا ہے۔ ستم ہے کہ خود حکومت کے وزرا کی فوج ظفرموج بھی بجٹ کی تشریح یا دفاع کرتی نظر نہیں آتی۔ کوئی ایک تقریر بھی سرکاری بنچوں کی طرف سے ایسی نہیں ہوئی جسے قابلِ ذکر قرار دیا جاسکے۔ رہا میڈیا تو وہی چار پانچ وزیر اور ایک مشیر ہیں جو گھسی پٹی باتیں ایوان میں اور میڈیا پر دہراتے رہے ہیں اور اصل ایشوز پر کسی کو کوئی مدلل بات کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ حزبِ اختلاف کی تقاریر کا معیار بھی تسلی بخش نہیں قرار دیا جاسکتا حالانکہ یہ حکومت اور اس کی پوری کارکردگی پر گرفت کا بہترین موقع تھا۔ خود حکومت کا رویہ بڑا تشویش ناک رہا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم (جو خود بھی پارلیمنٹ میں بہت کم رونق افروز ہوتے تھے) کی عدم موجودگی کے سبب حکومت کا کوئی سرپیر ہی نہیں ہے۔ بجٹ بنانے میں بھی سارا بوجھ وزارتِ خزانہ پر ہے حالانکہ اس میں پلاننگ کمیشن اور تجارت، معاشی اُمور، بجلی، گیس اور پٹرولیم، زراعت، تعلیم، صحت، لیبر وغیرہم کا بھی ایک نمایاں کردار ہونا چاہیے ۔ اس سال خصوصیت سے جو صورتِ حال سامنے آئی ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ بجٹ سازی اور اس کے دفاع میں ان کا کوئی دخل نہیں۔ حتیٰ کہ خوراک کے لیے خودانحصاری کے حصول کے لیے جو نئی وزارت بڑے طمطراق سے قائم کی گئی تھی، اس تک کا دُور دُور کوئی پتا نظر نہیں آتا۔ حکومت کا حال یہ ہوگیا ہے کہ ؎
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
ہمیں دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اتنے سپاٹ، بے روح، وژن سے محروم اور سطحیت کے شکار بجٹ کی توقع وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم سے نہ تھی___ ۲۰۱۳ء کے انتخابات کے موقعے پر مسلم لیگ کا تو دعویٰ ہی یہ تھا کہ ہمارے پاس پروگرام، تجربہ اور لائق ٹیم ہے اور ہم چھے مہینے میں ملک کی قسمت کو بدل کر رکھ دیں گے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تیسرا سال ختم ہوگیا ہے اور پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے، خوش حالی نایاب ہے، اور غربت بڑھ رہی ہے، روزگار معدوم ہے، قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور معیشت کا پہیہ ہے کہ گردش میں نہیں آرہا۔ مالی سال ۱۶-۲۰۱۵ء میں زراعت پچھلی دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ نہ صرف یہ کہ ترقی کا اپنے ہدف حاصل نہ کرسکی بلکہ عملاً منفی پیداوار کا منظر پیش کر رہی ہے اور گذشتہ سال کی پیداوار کے مقابلے میں پیداوار کا کُل حجم کم ہوگیا ہے۔ معاشی ترقی کی شرحِ نمو میں زراعت کا کردار منفی رہا ہے۔ اسی طرح برآمدات جو زرمبادلہ کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہیں، وہ تین سال سے جمود کا شکار ہیں اور جون ۲۰۱۶ء میں سالانہ برآمدات کا حجم ۲۰۱۳ء کی برآمدات سے کم ہے۔ یہی معاملہ بیرونی سرمایہ کاری کا ہے جو ساڑھے تین بلین ڈالر سالانہ سے کم ہوکر صرف ایک بلین ڈالر پر آگئی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ حالات غیرمتوقع طور پر رُونما ہوگئے ہوں۔ ان تینوں برسوں کے اکانومک سروے دیکھ لیجیے، اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی سہ ماہی رپورٹوں کا مطالعہ کرلیجیے۔ ورلڈبنک اور آئی ایم ایف کی تبصراتی رپورٹوں سے رجوع کر لیجیے۔ کہیں کھلے الفاظ میں ، کہیں اشارتاً معیشت کی مخدوش صورتِ حال اور خصوصیت سے زراعت، برآمدات کا جمود، توانائی کی قلّت کی تباہ کاریاں، پیداواری inputs کی قیمتوں کے اضافے، قوتِ خرید کی کمی، قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اور قومی بچت کے غیرتسلی بخش رجحانات، تعلیم اور صحت کی زبوں حالی، غیرمنظم اور غیرمتوازن شہرکاری سب کا ذکر موجود ہے لیکن حکومت آزاد معیشت (liberalization) اور گلوبلائزیشن کے عشق میں ایک گھسی پٹی لکیر پیٹتی رہی اور اب بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ کبھی کسان پیکج کی بات کرتی ہے اور کبھی برآمدات کے لیے نئے محرکات کی۔ بلاشبہہ ان دونوں میدانوں میں فوری اقدامات کی ازحد ضرورت ہے لیکن مسئلہ پوری معاشی پالیسی، حکمت عملی کی ترجیحات، وسائل کے منصفانہ استعمال اور اچھی حکمرانی کے قیام کا ہے۔ بحران صرف زراعت اور برآمدات کا نہیں بحران پوری معاشی پالیسی اور تمام ہی اہم ادارات کی ناکامی اور خستہ حالی کا ہے۔ جب تک پالیسی کے جملہ پہلوئوں کی اصلاح کی فکر نہ کی جائے اور جو structural اور اداراتی بحران ہے، اس کو درست نہ کیا جائے، حالات میں کسی بڑی تبدیلی اور عوام اور ملک کی مشکلات دُور ہونے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ ان سب پر مستزاد ملک گیر کرپشن اور قومی دولت کو قوم کی فلاح کے لیے استعمال کرنے کے بجاے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کا مسئلہ ہے جو معیشت کو گھن کی طرح کھا رہا ہے اور عوام اور حکمرانوں کے درمیان دُوریاں بڑھا رہا ہے۔
بجٹ اور حکومت کی معاشی کارکردگی کو جانچنے کے کم از کم تین معیار ہوسکتے ہیں۔ سب سے آسان اور سطحی معیار یہ ہے کہ سابقہ بجٹ میں جو اہداف رکھے گئے تھے وہ کہاں تک پورے ہوئے ہیں اور کہاں گاڑی مطلوبہ رفتار سے نہیں چل سکی؟ اس پہلو سے آپ جائزہ لیں تو ۲۰واضح اہداف رکھے گئے تھے جن میں سے نو کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ حاصل کرلیے ہیں ، جب کہ ۱۱ میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی___ خصوصیت سے زراعت جس کا قومی پیداوار میں حصہ ۲۱ فی صد اور ملک کی لیبر فورس میں ۴۵ فی صد ہے۔ برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری کے اہداف بھی پورے نہیں ہوسکے۔ معیشت میں مجموعی نمو کی شرح میں گو سالِ گذشتہ کی شرح سے زیادہ اضافہ ہوا ہے لیکن ہدف سے معیشت بہت پیچھے رہی ہے، یعنی ۵ئ۵ فی صد متوقع اضافے کے مقابلے میں اضافہ ۷ئ۴ فی صد ہے جس کے بارے میں بھی آزاد معاشی ماہرین کی ایک تعداد کا خیال ہے کہ اصل اضافہ اس سے بہت کم ہے، یعنی سالِ گذشتہ کے اضافے ہی کے لگ بھگ ہے، یعنی ۱ئ۳ فی صد۔ البتہ افراطِ زر، بیرونی ذخائر اور بجٹ کے خسارے کے باب میں حکومت کی کوششیں نسبتاً مؤثر رہی ہیں۔ گو وہاں بھی بہت سے سوالات ہیں جو نتائج کو مخدوش بنادیتے ہیں، مثلاً بجٹ خسارے کے اعداد و شمار میں گردشی قرضوں (circular debt) کے ساڑھے تین سو ارب کو شامل نہ کرنا اور اسی طرح اڑھائی ارب کے نجی شعبے کے برآمدات کے باب میں refunds کو تین مہینے میں واپس کردینے کے وعدوں کے باوجود دو سال سے زیادہ لٹکاکر رکھنا کسی صورت میں بھی صاف شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سب سے کامیاب سیکٹر سروسز کا ہے اور اس میں بھی بنکاری سیکٹر، کاروں کا اور آٹو موبائل (automobile) سیکٹر اور سیل فون اور متعلقہ آئی ٹی سیکٹر نمایاں ہیں۔ سروسز سیکٹر کی کامیابی کی ایک وجہ سرکاری اخراجات، تنخواہوں اور پنشن کے اضافے وغیرہم بھی ہیں جو مالی اور حسابیاتی حد ( Accounting terms) تک تو معیشت کی ترقی اور پیداوار میں اضافے کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن عملاً ملک کے پیداواری عمل اور پیدا آوری صلاحیت کو بڑھانے میں ان کا حصہ محلِ نظر ہے۔
بنکاری کے شعبے میں تیزرفتاری سے اضافہ ہوا ہے لیکن بنکوں نے جو قرضے دیے ہیں ان کا ۹۰ فی صد مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور سرکاری اداروں نے لیا ہے، جب کہ نجی شعبے میں ان کے ذریعے سرمایہ کاری کا حصہ بمشکل ۱۰ فی صد رہا ہے جو تشویش ناک ہے۔ بنکوں کے اپنے منافع میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور بنکوں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں، بونس اور مراعات میں محیرالعقول اضافے دیکھے جاسکتے ہیں لیکن بنکوں میں عام کھاتہ داروں کو ان کے جائز حق سے بھی بُری طرح محروم رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں امیر امیرتر ہو رہا ہے اور غریب غریب تر۔ بنک حکومت کو قرضے دے کر خطیر رقم سود کے باب میں کما رہے ہیں۔ بنک سے عام کھاتہ دار افراطِ زر کی شرح کے بھی نیچے اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں جس کے معنی ہیںکہ حقیقی معنوں میں تو وہ اپنے اصل زر میں بھی کمی کا بوجھ اُٹھا رہے ہیں۔ بنکوں کا اپنوں کو نوازنے کے باب میں کیا کردار ہے؟ اس کا اس رپورٹ سے اندازہ کریں جو روزنامہ ایکسپریس ٹربیون میں ۲۹فروری ۲۰۱۶ء کو شائع ہوئی ہے، یعنی نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر کی تنخواہ اور بونس وغیرہ میں سال کے دوران (۲۰۱۵ئ) میں ۵۱فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ اس زمانے میں بنک کے حصص میں مارکیٹ میں ۲۲ فی صد کمی ہوئی ہے۔ بنک کے صدر نے اس سال ۷کروڑ ۱۱لاکھ روپے مشاہرہ وصول کیا جو سالِ گذشتہ (۲۰۱۴ئ) سے ۲کروڑ ۳۹ لاکھ زیادہ تھا۔ اسی طرح یونائٹیڈ بنک کے صدر اور سی ای او کو ۲۰۱۵ء میں جو ادایگی کی گئی وہ ۱۲کروڑ۷۳لاکھ روپے تھی۔ حبیب بنک کے سربراہ کے مشاہرے میں ۳ئ۴۱ فی صد اضافہ ہوا اور ان کو ۷کروڑ ۵۱لاکھ کی ادایگی کی گئی۔ واضح رہے کہ اس سال حبیب بنک کو ۳۵؍ارب روپے کا منافع ہوا جو سالِ گذشتہ سے ۱۴فی صد زیادہ تھا، جب کہ معیشت کی عمومی رفتار ترقی سرکاری دعوے کے مطابق ۷ئ۴ فی صد تھی۔ مسلم کمرشل بنک کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس کے سربراہ کا مشاہرہ ۸کروڑ ۴۷لاکھ ادا کیا گیا جو سالِ گذشتہ سے ۹ئ۱۴ فی صد زیادہ تھا، حالانکہ اس سال کے دوران اس بنک کے حصص کی قیمت میں بھی ۲۹ فی صد کمی ہوئی۔ پانچویں بڑے بنک الائیڈ بنک کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ اس کے سربراہ کا مشاہرہ ۴کروڑ ۶۳ لاکھ تھا جو سالِ گذشتہ سے ۷ فی صد زیادہ تھا۔
معیشت کے جن جن گوشوں میں تھوڑی بہت مثبت تبدیلی ہوئی ہے، اس کا کریڈٹ حکومت کو ضرور دیا جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ تصویر کے دوسرے رُخ کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، تاکہ مجموعی طور پر صحیح صورتِ حال قوم کے سامنے آسکے اور حالات کی اصلاح کے لیے مناسب حکمت عملی بنائی جاسکے۔ سابقہ دو برسوں کی کارکردگی کے پس منظر میں اس سال کا جائزہ لیا جائے تو وزیرخزانہ کی اس بات میں ایک حد تک صداقت ہے کہ مجموعی طور پر معیشت کے استحکام کے ہدف کی طرف جزوی پیش رفت ہوئی ہے۔ گو بجٹ کے اخراجات پر، خصوصیت سے انتظامی اخراجات پر کوئی مؤثر گرفت نہیں کی جاسکی اور حسبِ سابق غیر ترقیاتی اخراجات میں بجٹ کے ہدف سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ترقیاتی مصارف میں کمی۔ ترقیاتی بجٹ کی حد تک اصل allocations طے شدہ بجٹ کا ۶۰ فی صد ہوسکے ہیں۔ قرضوں، قرضوں پر سود کی ادایگی اور حد پوری کرنے والے قرضوں کی واپسی کی مد میں سب سے زیادہ اخراجات ہوئے ہیں جو اَب دفاع کے کُل بجٹ کا بھی تقریباً دگنا ہوکر قومی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔ قرض لے کر قرض ادا کرنے کی رِیت قائم کی گئی ہے، اور جو بھی قرضے حاصل ہوئے ہیں بدقسمتی سے ان کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات میں عدم توازن کو کم کرنے اور قرضوں اور سود کی ادایگی کی نذر ہوگیا ہے۔ ترقیاتی مقاصد کے لیے ان کا استعمال واجبی ہی رہا ہے۔ قرض لینے کا یہ طریقہ معاشی اور سیاسی دونوں اعتبار سے تباہ کن ہے اور اسے بجٹ خسارے کا پیٹ بھرنے کا ذریعہ تو ضرور قرار دیا جاسکتا ہے مگر ملک کی ترقی میں اس کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا۔ اس لیے ایسے قرضوں کو معاشیات کے جدید مباحث میں Odius Loansکہاجارہا ہے۔ بدقسمتی سے گذشتہ آٹھ سال میں ہم نے ترقیاتی قرضوں کو کریہہ، ناگوار اور قابلِ نفرت قرضوں میں تبدیل کر دیا ہے جن کے مثبت اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں اور منفی اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ قرضوں کی یہ ’فاقہ مستی‘ رنگ دکھا رہی ہے اور ہم مصر ہیں کہ اس زہر کو جو صحت کو تباہ کر رہا ہے دوا سمجھ کر جاری رکھیں۔
وزیرخزانہ نے ضمانت دی تھی کہ SRO's کا سلسلہ ختم کیا جائے گا اور ٹیکس سے چھوٹ کے نظام کو ختم کر دیا جائے گا لیکن تین سال مکمل ہوجانے کے باوجود اور بظاہر SRO's پر کچھ تحدیدات لگانے کے باوصف ٹیکس چھوٹ کا سلسلہ جاری رہا ہے اور سالِ گذشتہ میں بھی ۵ئ۳۹۴؍ارب روپے ٹیکس میں چھوٹ کی نذر ہوگئے ہیں۔ زراعت کو تو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دم توڑنے پر مجبور کیا جاتا رہا لیکن آٹوموبائل کے سیکٹر کو سالِ گذشتہ میں بھی ۵ئ۲۲ ارب روپے کی چھوٹ ( waiver) دی گئی۔ نئے سرکلر قرضوں کے پہاڑ بلند ترہورہے ہیں اور ان کا ان کی مکمل شکل میں بوجھ اب بھی پردۂ خفا میں ہے لیکن مختلف اعلانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ۲۵۰ سے ۳۰۰؍ارب کے پیٹے میں ہیں۔ اور یہ سب اس ۵۰۰؍ارب کی ادایگی کے بعد ہے جو نوازحکومت نے اقتدار میں آتے ہی لوڈشیڈنگ سے نجات کے نسخۂ کیمیا کے نام پر قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی عجلت میں ادا کر دیے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ بجلی کی پیداوار اور لوڈشیڈنگ میں کمی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔
بجٹ میں ٹیکس کی وصولی کے لیے جو ہدف رکھا گیا تھا اسے قریب قریب پورا کرلیا گیا ہے جو ایک قابلِ قدر چیز ہے لیکن یہ سوال پھر بھی ہے کہ یہ سب کچھ کس قیمت پر ہوا ہے۔ مقصد تو یہ تھا کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دے رہے ہیں ان کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے، اور ٹیکس چوری کو آہنی گرفت کے ذریعے ختم کیا جائے لیکن ٹیکس چوری کا بازار اسی طرح گرم ہے اور محصولات وغیرہ کی جو رقم وصول ہورہی ہے وہ بمشکل اس کا نصف ہے جو صرف موجودہ قوانین کے ٹھیک ٹھیک اطلاق سے ملنی چاہیے۔ معتبر اندازوں کے مطابق جن میں ورلڈبنک کے اندازے بھی شامل ہیں، وصول کی جانے والی رقم کا ۸۰ فی صد سالانہ چوری کی نذر ہو رہا ہے جو ۳۰؍کھرب روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس وقت ملک میں کم از کم ۴۰لاکھ افراد اور ادارے ہیں جنھیں بلاواسطہ ٹیکس نیٹ ورک کا حصہ ہونا چاہیے، جب کہ عملاً جو افراد اور ادارے ٹیکس ریٹرن داخل کر رہے ہیں ان کی تعداد ۹ اور ۱۰ لاکھ کے درمیان ہے، یعنی مطلوبہ تعداد کا بمشکل ایک چوتھائی۔ ان حضرات اور اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ (Tax Amnesty) کے نام پر نو اسکیموں پر عمل ہوچکا ہے مگر بے نتیجہ۔ ایف بی آر اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہا ہے اور اس کے ازسرِنو جائزے اور کارکردگی کی بہتری کے لیے کوئی مؤثر کوشش نہیں کی جاسکی۔ سارا انحصار نئے ٹیکسوں، ٹیکسوں میں اضافے اور راست ٹیکسوں (direct taxes) کو بھی withholding tax کے ذریعے بالواسطہ( indirect tax) میں تبدیل کرنے پر ہے جو اصولی طور پر غلط اور عملاً ملک میں سماجی ناانصافی کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ ایک مدت سے اس غلطی کا پورے تسلسل سے اعادہ کیا جارہا ہے۔ یہی وہ جادو کی چھڑی بن گئی ہے جس کے ذریعے ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کا معجزہ سرانجام دیا گیا ہے۔ اس کارنامے کو ایک جملے میں یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ یہ ٹیکس کے نظام میں اصلاح کے بغیر محصولات میں اضافہ ہے، یعنی Revenue generation without tax reforms۔
Tax Base وہی قومی دولت کا ۵ئ۸ سے ۹ فی صد ہے حالانکہ یہ ۲۰سال پہلے ۱۳ بلکہ ۱۴فی صد تک کی حد چھو چکا ہے اور موجودہ حکومت کا بھی دعویٰ تھا کہ تین سے پانچ سال میں اسے ۹فی صد سے بڑھا کر ۱۲اور پھر ۱۴ فی صد تک لے آیا جائے گا، وہ دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ ٹیکس وصولی کے ہدف کے پورا ہونے میں اس امر کا بھی دخل ہے کہ برآمد کنندگان کی فاضل ادایگیوں کی جو ادایگی (refund) حکومت کی ذمہ داری تھی اور جن کی جلد ادایگی کا باربار وعدہ بھی کیا گیا تھا وہ ادا نہیں کی گئی اور اس طرح تقریباً ۲۵۰؍ارب روپے، جو حکومت کا حق نہیں، وہ بھی اسی ہدف کے پورے کرنے کے دعوے کا حصہ ہیں۔ بجٹ میں اس سلسلے میں ضروری شفافیت کی کمی ہے۔
حکومت کی سالِ گذشتہ کی کارکردگی کا اس کے اپنے اہداف اور دعوئوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو تصویر بڑی پراگندا نظر آتی ہے جسے macro-stabilization کہنا مبالغہ اور growth economy کے لیے زینہ کہنا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چند مثبت پہلو ضرور ہیں لیکن پلڑا اب بھی منفی پہلوئوں کا بھاری ہے جن کو خوش نما الفاظ کے سہارے پردئہ خفا میں چھپایا نہیں جاسکتا۔ مجموعی ترقی بس رکھ رکھائو کی حد تک ہوئی ہے۔ معیارِ زندگی میں کوئی بہتری دُور دُور نظر نہیں آتی۔ غربت کے سلسلے میں جو نئے اعداد و شمار خود پلاننگ کمیشن نے جاری کیے ہیں ان کی رُو سے آبادی کا ۳۰ فی صد شدید غربت کی لپیٹ میں ہے حالانکہ چندماہ پہلے تک یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ غربت کی سطح ۹فی صد تک لے آئی گئی ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کا حال سب سے خراب ہے حالانکہ انسانی ضرورت کے اعتبار سے ہی نہیں، خود معاشی ترقی کے لیے بھی ان شعبوں کو ترقی اور ان میں مؤثر سرمایہ سرکاری ازبس ضروری ہے۔ تقسیم دولت کی صورت حال بد سے بدتر ہے۔ اُوپر کے ۵ سے ۱۰فی صد آبادی کے پاس وسائلِ دولت کا ۸۰ فی صد سے زیادہ حصہ ہے، جب کہ ۶۰ سے ۷۰ فی صد آبادی کے پاس وسائل کا ۱۰ فی صد بھی نہیں۔ ۳۰ فی صد شدید غربت کا شکار ہیں اور ۶۰ فی صد معقول زندگی کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دولت کی عدم مساوات میں شب و روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف بھوک، فاقہ اور خودکشی کے اَلم ناک مناظر ہیں تو دوسری طرف لگژری مالز پر دولت کی ریل پیل، پوش علاقوں میں پُرتعیش زندگی کے مناظر اور شادیوں کی تقریبات میں اسراف و تبذیر کی بدترین مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر اکمل حسین نے اپنے ایک مضمون (دی نیوز، ۵مئی ۲۰۱۶ئ) میں اپنی تحقیق کے نتائج پیش کیے ہیں جو عالمی بنک کے اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی ہیں کہ پاکستان میں صرف ۲۰ہزار افراد ایسے ہیں جن کی فی کس آمدنی ایک ملین ڈالر، یعنی سوا ۱۰ کروڑ روپے سالانہ سے زیادہ ہے، جب کہ آبادی کے نچلی سطح کے ۶۰ فی صد افراد کی فی کس آمدنی ۱۴-۲۰۱۳ء کے پاکستان اکانومک سروے کے مطابق ۷۳۰ ڈالر، یعنی ساڑھے ۷۰ ہزار روپے سالانہ ہے۔ یہ فرق ایک اور ۱۳۰۰ کا ہے، جب کہ کسی مہذب معاشرے میں دولت میں تفاوت میں اتنے فرق کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن تو اسلامی معاشرے کی شناخت ہی یہ بتاتا ہے کہ اس میں دولت صرف امیروں کے درمیان گردش نہیں کرتی بلکہ تمام طبقات کے درمیان رواں دواں ہوتی ہے:
کَیْ لاَ یَکُوْنَ دُولَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْ (الحشر ۵۹:۷) تاکہ وہ تمھارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔
دولت کی یہ عدم مساوات جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہے اور ا س کے خلاف مغربی دنیا میں بھی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں، خصوصیت سے وال سٹریٹ تحریک اور ۹۹ فی صد vs ایک فی صد۔ لیکن مغربی ممالک میں بھی عدم مساوات ایک اور ۱۳۰۰ کی حدود نہیں چھوتی___ جو بدقسمتی سے آج پاکستان اور چند مسلم ممالک کا چلن بن گئی ہے اور عوام کی بڑی تعداد کی محرومی ہی وہ حقیقت ہے جو معاشرے میں نفرت، بغاوت اور انتہاپسندی کے جذبات کو جنم دے رہی ہے۔ اس پس منظر میں ان مشاہروں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے جو پانچ بڑے بنکوں کے سربراہوں کے ہم نے اُوپر بیان کیے ہیں اور اس تناظر میں خود ملک کے صدر اور وزیراعظم کے سرکاری دفتر اور توشہ خانے کے مصارف پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ بجٹ کے مطابق ایوانِ صدر کے سالانہ اخراجات ۸۶ کروڑ ۳۰ لاکھ ہیں اور ایوانِ وزیراعظم کے ۸۸ کروڑ ۱۰ لاکھ جو ۱۷-۲۰۱۶ء کے لیے ۸ئ۷ فی صد اور ۷ئ۴ اضافے کے ساتھ بجٹ کا حصہ ہیں۔ ۸؍اپریل ۲۰۱۶ء کے اخبارات میں پاکستان پلاننگ کمیشن کے جاری کردہ غربت کے جائزے کے مطابق ہر ۱۰ میں سے تین پاکستانی شدید غربت کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ ملک میں تقریباً ۶کروڑ افراد غربت و افلاس کی پست ترین سطح پر ہیں۔ ماضی کے جائزوں کی روشنی میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ یہ تعداد صرف ۲کروڑ ہے جس کی بڑی وجہ وہ تعریف (definition)تھی جو غربت کی کی گئی تھی اور وہ پیمانے (indicators) تھے جس کے ذریعے اسے ناپا جارہا تھا۔ تازہ تحقیق کی روشنی میں غربت کی لکیر کے تحت ۶کروڑ کے علاوہ ۲کروڑ مزید ایسے ہیں جو صرف سرحد پر ہیں اور معیشت کی معمولی سی تبدیلی ان کے لیے معاشی دھچکا (economic shock) بن سکتی ہے اور انھیں غربت کی اس لکیر کے نیچے دھکیل سکتی ہے۔ ۱۹کروڑ کی آبادی کے ملک میں ۸کروڑ ضروریاتِ زندگی کی کم سے کم حد سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں حالانکہ مجبوروں، یتیموں اور سائل و محروم کے حق سے غفلت اور بے پروائی کو قرآن نے دین کے انکار سے تعبیر کیا ہے۔
معاشی حالت کو جانچنے کا ایک اور پیمانہ خوراک کا عدم تحفظ ہے۔ اس اعتبار سے تقریباً نصف آبادی پر خوراک کے محرومی کے سایے منڈلا رہے ہیں، بطور مثال تھرپارکر کے حالات کی طرف اشارہ ضروری ہے۔ مقصد کسی ایک صوبے یا علاقے پر تنقید نہیں۔ دوسرے صوبوں میں بھی ایسے رستے ہوئے ناسور بے شمار ہیں لیکن چونکہ میڈیا نے اس علاقے پر توجہ دی ہے اس لیے اس امر کا بڑے دُکھ کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اتنی توجہ اور میڈیافوکس کے باوجود آٹھ سال کے عرصے میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود حالات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور خوراک اور پانی کی قلت اور علاج کی کم سے کم سہولتوں سے محرومی علاقے کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ ۱۶جون ۲۰۱۶ء کے دی نیشن میں چھپنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف اس سال بھوک پیاس اور علاج سے محرومی کے سبب مرنے والے بچوں کی تعداد ۲۲۲ ہوگئی، جب کہ علاقے کے لوگ یہ تعداد ۳۵۵ بتاتے ہیں۔ ملک کے شہری علاقوں میں رہنے والے ۱۷لاکھ نوجوان روزگار سے محروم اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے لیے نوجوانوں کی تاک میں رہنے والوں کے لیے تر نوالہ ہیں۔ بدقسمتی سے ان ۱۷لاکھ میں سے ۴۱ فی صدسندھ کے شہری علاقوں میں ہیں، جب کہ سندھ میں ملک کی آبادی کا صرف ایک چوتھائی اقامت پذیر ہے۔
اس سلسلے میں ایک تازہ رپورٹ، کے مطابق جسے سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر (SPDC) نے شائع کیا ہے ، ۲۰۱۵ء میں ۱۵ سے ۲۴ سال کے درمیانی عمر کے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد پنجاب میں ۸لاکھ ۶۱ ہزار، سندھ میں ۷لاکھ ۱۱ ہزار، بلوچستان میں ۱۰لاکھ ۷۰ہزار اور خیبرپختونخوا میں ۵۷ہزار ہے۔ یہ خطرے کا ایک بڑا الارم ہے جسے حکومتیں مسلسل نظرانداز کررہی ہیں۔۱؎
عالمی جائزوں میں انسانی ترقی کے باب میں پاکستان کا مقام بڑا ہی شرم ناک ہے۔ دنیا کے ۱۸۸ ممالک میں پاکستان کا نمبر ۱۴۷ ہے اور Human Development Index میں ہمارا اسکور ۵۳۸ئ۰ آتا ہے۔
UNDP کی رپورٹ کے مطابق ہمارا شمار کم ترقی یافتہ ممالک کے بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو اس دوڑ میں اپنے کنبے میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ نیپال (۵۴۸ئ۰)، بنگلہ دیش (۵۷۰ئ۰)، بھارت (۶۰۹ئ۰)، سری لنکا (۷۵۷ئ۰) ہم سے آگے ہیں۔ تمام تر تباہی کے باوجود فلسطین (غزہ اور ویسٹ بنک) بھی ہم سے بہت آگے ہیں (۶۷۷ئ۰)۔ صحت کی حالت دیکھیں تو وہ بھی نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ بچوں کی اموات کی شرح پاکستان میں ہرہزار بچے پر ۶۶ ہے، جب کہ بھارت میں یہ شرح ۳۸ اور سری لنکا میں صرف ۸ ہے۔ عورتوں کی اوسط عمر پاکستان میں ۶۷ سال ہے، جب کہ بنگلہ دیش میں ۷۳ اور تھائی لینڈ میں ۷۸ ہے۔ دورانِ ولادت ماں کی موت کی شرح پاکستان میں ایک لاکھ میں ۱۷۰ ہے، جب کہ سری لنکا میں یہ شرح صرف ۳۰ اور تھائی لینڈ میں ۲۰ ہے۔ پاکستان میں سرکاری ذرائع سے فراہم کی جانے والی علاج کی سہولتوں تک آبادی کے صرف ۳۰ فی صد کو بہ مشکل رسائی حاصل ہے اور ۷۰ فی صد اس سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ اور یہ بھول جایئے کہ جو ’سہولتیں‘ حاصل ہیں ان کا کیا حال ہے، کیا معیار ہے۔ ملک بھر میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد ایک لاکھ ۸۴ہزار ۷سو۱۱ ہے۔ گویا ۱۰۳۸ ؍افراد کے علاج کے لیے ایک ڈاکٹر۔ہسپتالوں کا حال یہ ہے کہ ۱۶۱۳؍ افراد کے لیے ہسپتال میں ایک بستر موجود ہے۔ ہر کمرے میں کئی کئی مریض زمین پر لیٹنے پر مجبور ہوتے ہیں اور دسیوں ناکام و نامراد واپس بھیج دیے جاتے ہیں۔ یہ ہے عام آدمی کی صورتِ حال۔ اگر اسی کا نام مجموعی سطح پر ’معیشت کا استحکام‘ ہے تو ایسے استحکام کو سلام!
موجودہ حکومت بحیثیت مجموعی ان تین برسوں میں معیشت کی گاڑی کو پٹڑی پر لانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ ریلوے کے نظام میں جزوی بہتری آئی ہے لیکن توانائی کی فراہمی، پیداوار میں اضافہ، عوامی سہولتوں میں اضافہ ، معیارِ زندگی میں بہتری، عالمی تجارت میں افزونی، ملکی اور بیرونی سرمایہ کاری، ہر اشاریہ غیرتسلی بخش ہے۔ پینے کے صاف پانی کی کمیابی اور تعلیم اور صحت کی زبوں حالی ناگفتہ بہ ہے۔ زراعت اور برآمدات معیشت کے بڑے اہم ستون ہیں۔ یہ دونوں بُری طرح متزلزل ہیں اور یہ کیفیت صرف سالِ رواں میں نہیں ہوئی ہے بلکہ ان تین برسوں میں حالات بتدریج بگاڑ کی طرف بڑھے ہیں اور اسٹیٹ بنک کی رپورٹوں اور متعلقہ حلقوں کی چیخ پکار کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس بجٹ میں زرعی مداخل (inputs) کے سلسلے میں جو سبسڈی دی جارہی ہے، بجلی کی فراہمی کے لیے جن اقدامات کا وعدہ کیا جارہا ہے، اور برآمدات کے لیے جن پانچ میدانوں میں zero-rating کی نوید دی جارہی ہے، ان کا مطالبہ تین سال سے ہورہا تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سبسڈی اور زیرو ریٹنگ دونوں کے سلسلے میں پانچ سال پہلے تک یہ سب سہولتیں حاصل تھیں جن سے پیپلزپارٹی کے دور میں آئی ایم ایف کی خوشنودی کی خاطر محروم کیا گیا تھا اور مسلم لیگ کی حکومت نے بھی تین سال تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہ کیا۔ اب بعد از خرابیِ بسیار چند اقدام کرنے کا اعلان کیا ہے جو ہماری نگاہ میں صحیح سمت میں قدم ہے ، گو بہت دیر سے ہے لیکن ہم صاف کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ہرگز کافی نہیں اور ہم آیندہ سطور میں سفارش کریں گے کہ ان اقدامات کے ساتھ جو structural bottlenecks ہیں جب تک ان کو دُور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے، حالات کا رُخ بدلنا اور ملک کو واقعی ترقی اور خوش حالی کے راستے پر ڈالنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے طرزِ فکر ( mind-set) اور معاشی ترقی کے مفہوم اور فریم ورک، حکومتی ترجیحات اور مالیاتی پالیسی، ٹیکس اور سرکاری اخراجات، مالیاتی پالیسی، تجارتی پالیسی ، زرعی اصلاحات، لیبرپالیسی اور تعلیم اور صحت کے میدان میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔
حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک اور پیمانہ مسلم لیگ کا ۲۰۱۳ء کے انتخابات کے موقعے پر قوم کے سامنے پیش کیے جانے والا منشور ہے۔ اس منشور میں معاشی اصلاحات کے سلسلے میں کئی درجن وعدے کیے گئے تھے اور بڑے واضح الفاظ میں کچھ صورتوں میں وقت اور مدت کے تعین کے ساتھ باتیں کی گئی تھیں۔ حکمرانی کے تین سال بعد اس امر کی ضرورت ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت خود بھی یہ زحمت گوارا کرے کہ ایک چارٹ بنا کر دعوئوں اور عملی پالیسیوں اور تین برسوں میں حاصل نتائج کا گوشوارہ بنائے اور اپوزیشن کی جماعتوں، میڈیا اور تھنک ٹینکس کو بھی یہ کام کرنا چاہیے۔ ہم صرف چند موٹی موٹی چیزوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
اس منشوراور اس کی تشریح میں کی جانے والی تقاریر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ توانائی کے مسئلے کو اولیت دی جائے گی اور چھے ماہ سے لے کر دو سال تک بجلی کے بحران کو ختم کر دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا، بلکہ جنابِ شہباز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’’اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو میرا نام بدل دینا‘‘۔ تین سال بعد جو صورتِ حال ہے، سب کے سامنے ہے۔
وعدہ کیا گیا تھا کہ توانائی کی ایک وزارت بنائی جائے گی تاکہ واٹر پاورز، منرل ریسورسز اور پٹرولیم کی وزارتیں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنائیں بلکہ ایک جامع توانائی پالیسی بن سکے اور اس طرح مسئلے کا مستقل حل نکالا جاسکے۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد!
ٹیکس کے نظام کو یکسر بدلنے کا دعویٰ تھا۔ٹیکس کے دائرے کو بڑھانے اور بالواسطہ (indirect)ٹیکس کو کم کرنے اور بلاواسطہ (direct)ٹیکس کو بڑھانے کا دعویٰ تھا۔ اس کے برعکس نہ صرف بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوا، سیلزٹیکس جو پہلے ۱۵ فی صد تھا وہ اب ۱۷ فی صد اور کچھ اشیا پر اس سے بھی زیادہ ہے۔ حالانکہ سینیٹ کی ۱۳-۲۰۱۲ء سفارشات میں موجودہ وزیرخزانہ نے ہم سب کے ساتھ ہم آواز ہوکر مطالبہ کیا تھا کہ سیلزٹیکس میں ۱۵ سے ۱۶ فی صد اضافہ معاشی ترقی کے لیے بے حد مضر اور عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ ہے جسے واپس لیا جائے۔ ان کے دور میں یہ اب ۱۷ فی صد اور چند اشیا پر اس سے بھی زیادہ ہے۔ دوسرا ستم یہ کیا گیا ہے کہ بلاواسطہ ٹیکسوں کے سلسلے میں with holding tax کا طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے انھیں بھی ایک طرح کا بالواسطہ ٹیکس بنادیا گیا ہے جس کا آخری بوجھ اب عوام اور عام صارفین پر پڑتا ہے۔ اس طرح اس وقت جو ٹیکس کا نظام رائج ہے اس میں فی الحقیقت ۸۵ فی صد ٹیکس عملاً بالواسطہ ہوگئے ہیں۔
ایک اور مسئلہ جس پر بڑی تحدی سے بات کی گئی تھی اور بجا طور پر کی گئی تھی، اس کا تعلق معیشت کو دستاویزی (documentation) بنانے سے تھا۔ افسوس ہے کہ اس زمانے میں اس طرف بھی کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ہے بلکہ حکومت نے اسٹیٹ بنک کے ذریعے جو cash flow پالیسی اختیار کی ہے اور with holding tax کی جو تلوار بے نیام کی ہوئی ہے اس کے نتیجے میں ملک میں cash economy میں اضافہ ہو رہا ہے اور دستاویزی معیشت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین رپورٹیں سخت تشویش کا باعث ہیں۔
۲۰ جون ۲۰۱۶ء کے اخبارات میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے زیراستعمال کرنسی کے بارے میں جو اعداد و شمار آئے ہیں وہ سخت پریشان کن ہیں۔ یکم جولائی ۲۰۱۵ء کے مقابلے میں ۳جون ۲۰۱۶ء کے درمیان زیرگردش کرنسی میں ۶۷ فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ حکومت کے دعوے کے مطابق معیشت میں بحیثیت مجموعی ترقی کی رفتار صرف ۷ئ۴ فی صد رہی ہے جو آزاد تحقیقی اداروں کی نگاہ میں دراصل ۱ئ۳ فی صد اور ۴فی صد کے درمیان ہے۔
معاشیات کے طالب علم جانتے ہیں کہ ملک میں مسلسل کرنسی ان سرکولیشن M-2 (Broad Money) کی نسبت سے زیادہ رہی ہے اور اس کی وجہ دستاویزی معیشت کے مقابلے میں کیش اکانومی کا کردار ہے۔ مرکزی بنک کے ایک سابق ڈپٹی گورنر نے اس پر بجاطور پر ان الفاظ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے:
حالیہ مالی سال میں جس رفتار سے CIC میں اضافہ ہوا ہے، وہ تکلیف دہ ہے اور خصوصیت سے اس لیے کہ یہ سب کچھ معیشت کو دستاویزی کرنے کی متعدد کوششوں کے باوجود ہوا ہے۔ (ڈان، ۳جون ۲۰۱۶ئ)
اگر CIC اور M-2 کے تناسب کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو یہ مالیاتی سال ۲۰۱۲ء میں ۴ئ۲۲ فی صد تھا جو ۲۰۱۳ء میں ۳ئ۲۲ فی صد، ۲۰۱۴ء میں ۲ئ۲۲ فی صد ہوگیا تھا مگر ۲۰۱۵ء میں پھر بڑھ کر ۵ئ۲۲ فی صد ہوگیا تھا، اور خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر خدانخواستہ زیرگردش کرنسی میں اضافے کی یہی رفتار رہتی ہے تو یہ کہیں ۲۶ فی صد تک نہ پہنچ جائے جس کے نتیجے میں افراطِ زر کے خطرات چند درچند بڑھ جائیں گے۔
مسلم لیگ کے منشور میں پیداوار بڑھانے، شرح پیداور کو سات اور آٹھ فی صد تک لے جانے اور برآمدات کے اضافے کو اہمیت دینے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ عملی صورت حال یہ ہے کہ درآمدات برابر بڑھ رہی ہیں اور برآمدات کمی ہی نہیں جمود کا شکار ہیں۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا یہ صورتِ حال محض ۲۰۱۵ء کی پیداوار نہیں۔ ۲۰۱۳ء سے برابر رجحان یہی ہے مگر برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات میں نمایاں کمی لانے کی کوئی مؤثر اور جامع کوشش نہیں ہوئی۔ یورپین یونین کے ۲۸ممالک سے تین سال کے لیے ٹیرف ریلیف (Tariff Relief) سے بڑی توقعات باندھی گئی تھیں مگر عملاً اس سے کوئی بڑافائدہ نہیں اُٹھایا جاسکا۔ پاکستان اکانومک سروے ۱۶-۲۰۱۵ء کے مطابق:
پاکستان کی برآمدات کی کارکردگی شدید تشویش کا باعث ہے۔ گذشتہ ۱۸مہینے سے ہرمہینے ان میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ جولائی ۲۰۱۵ء سے مارچ ۲۰۱۶ء تک برآمدات صرف ۶ئ۱۵ بلین ڈالر تھیں جو گذشتہ سال کے اس زمانے کے دوران ۹ئ۱۷ بلین ڈالر تھیں۔ گویا صرف ان مہینوں میں برآمدات میں عملاً ۹ئ۱۲ فی صد کمی واقع ہوئی۔
اس تباہ کن کارکردگی کے بارے میں روزنامہ ڈان کے مضمون نگار ڈاکٹر منظور احمد کا یہ تبصرہ چشم کشا ہے:
درحقیقت ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ یہ ہوگا کہ کسی حکومت کی مدت کے اختتام پر برآمدات اس سے کم تر ہوں گی جتنی حکومت کی مدت کے آغاز کے وقت تھیں۔
ایک طرف یہ سنگین صورت حال ہے اور دوسری طرف وزارتِ تجارت اور پلاننگ کمیشن یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ اگلے ۱۰سال میں ’وژن ۲۰۲۵‘ کے تحت پاکستان کی برآمدات کو بڑھا کر ۱۵۰بلین ڈالر سالانہ کردیا جائے گا، یعنی ۲۴ فی صد سالانہ اضافہ!
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت اور پلاننگ کمیشن میں کوئی ربط اور تجارتی پالیسی تک کے باب میں کوئی ہم آہنگی نہیں۔ ہر ایک الگ الگ wave length پر ہے اور اس کا نام ہے معاشی ترقی کی گرینڈ اسٹرے ٹیجی!
منشور کے اور بھی پہلو موازنہ طلب ہیں لیکن ہم صرف ان چند نکات پر قناعت کرتے اور فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ اس میزان پر حکومت کی کارکردگی کتنی کامیاب یا ناکام رہی؟
بجٹ اور حکومت کی معاشی کارکردگی کو جانچنے کے لیے سب سے اہم میزان ملک کا دستور ہے جو قومی مقاصد اور اہداف کے باب میں قومی مقاصد کا ترجمان ہے۔ دستور کی دفعہ ۲ اور ۲-اے اسلام کے کلیدی کردار کو واضح کرتی ہیں۔ دفعہ۳ معاشرے سے استحصال، ظلم کے خاتمے اور اجتماعی انصاف کے حصول کو ہدف مقرر کرتی ہے اور ریاست کی رہنمائی کے اصول خصوصیت سے دفعہ۳۱، دفعہ ۳۷ اور دفعہ ۳۸ بڑی تفصیل سے معاشی اصلاحات، اسلامی معاشی اصولوں کی ترویج اور ایک ترقی پذیر، خوش حال اور مبنی برانصاف فلاحی معاشی نظام کا تصور دیتے ہیں۔ یہی وہ مقاصد ہیں جو اقبال اور قائداعظم نے اپنے مختلف خطبات میں بیان کیے ہیں۔ علامہ اقبال نے دوٹوک الفاظ میں اپنے ۲۸مئی ۱۹۳۷ء کے خط بنام قائداعظم محمدعلی جناح میں شریعت اسلامی پر مبنی معاشی نظام کے قیام کی اولیں ضرورت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا، اور خود قائداعظم نے اپنے متعدد بیانات میں خصوصیت سے آل انڈیا مسلم لیگ کے ۱۳ویں سیشن میں جو ۲۴؍اپریل ۱۹۴۳ء دہلی میں منعقد ہوا تھا پاکستان کے معاشی نظام کے خدوخال واضح کیے تھے۔ پھر قیامِ پاکستان کے بعد ۲۷ستمبر ۱۹۴۷ء کو ولیکا ٹیکسٹائل ملز کے افتتاح کے موقعے پر اور خصوصیت سے اپنے آخری خطبے میں جو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقعے پر جولائی ۱۹۴۸ء میں دیا، اپنے تصورات کی وضاحت کر دی تھی۔ علامہ اقبال نے ایک شعر میں پورے تصور کا جوہر یوں بیان فرمایا ہے: اسلام کا اصل مقصود انسان کو انسان کی محتاجی سے نجات دلانا، محرومی اور استحصال کا خاتمہ اور ہر فرد کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لائق بنانا ہے ؎
کس نہ باشد در جہاں محتاج کس
نکتۂ شرعِ مبیں این است و بس!
پاکستان کے دستور سے وفاداری اور تحریک پاکستان کے مقاصد کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان کے لیے معاشی ترقی کی ایسی حکمت عملی تیار کی جائے جو معیشت اور معاشرے کو عدل و انصاف، ترقی اور خوش حالی، اور عوامی فلاح و بہبود سے شادکام کرسکے۔ حکومت اور پارلیمنٹ کی اصل ناکامی یہ ہے کہ وہ نہ معاشی ترقی کا صحیح وژن مرتب کرسکی ہے اور نہ ایسی حکمت عملی، ترجیحات اور مربوط پروگرام اور منصوبہ بناسکی جو ان مقاصد کے حصول پر منتج ہوسکیں۔ لبرل معیشت کے نام پر اور گلوبلائزیشن کے خوش نما الفاظ کے چکّر میں مغرب کے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام کو ملک پر مسلط کردیا گیا ہے۔ ریاست کے معیشت میں کردار کو مشتبہ بنادیا گیا ہے۔ ایک طرف جاگیردار اور سرمایہ دار حکومت پر قابض ہیں تو دوسری طرف بغلیں بجابجا کر اعلان کیا جارہا ہے کہ حکومت کا کام بزنس نہیں حالانکہ زیادہ صحیح امر یہ ہے کہ بزنس مین کا یہ کام نہیں کہ وہ حکمرانی کرے۔ وہ تو ریاست کو بھی ذاتی کاروبار ہی کی طرح چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور نتائج بتاتے ہیں کہ ایسے حکمران اپنی مخصوص ذہنیت کی گرفت سے نہیں نکل پاتے ہیں جو بالآخر پاناما لیکس کے ڈرائونے انجام کی طرف لے جاتی ہے!
حکومت کا کام ملک و معاشرے کو صرف امن دینا اور سرحدوں کا دفاع نہیں، بلکہ انصاف اور عدل و احسان کے نظام کا قیام، سب کے لیے معاشی، سماجی اور سیاسی مساوات کا فروغ اور معاشرے کو حقیقی انسانی فلاح اور خوش حالی کا گہوارا بنانا ہے۔ ریاست محض تماشائی نہیں ایک فیصلہ کن قوت ہے جسے زندگی کے اجتماعی معاملات میں ایک مثبت کردار ادا کرنا ہے اور اصحابِ اقتدار کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس میدان میں اور اس میزان پر کامیابی ہے۔
اس پہلو سے اگر اب تک پیش کیے جانے والے چاروں بجٹوں کا جائزہ لیا جائے اور جو پالیسیاں اس حکومت نے اختیار کی ہیں تو بڑی مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے۔ معاشی منزل کا کوئی واضح تصور موجود نہیں۔ قومی مفادات کے مقابلے میں ذاتی مفادات ہر طرف غالب نظر آتے ہیں۔ مربوط اور کلّی پالیسی کا فقدان ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں۔ مختلف وزارتوں کے درمیان کوئی تعاون اور توافق نظر نہیں آتا۔ کابینہ میں بھی کوئی ہم آہنگی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی سطح اور حتیٰ کہ بجٹ تک میں کوئی مربوط اور تضادات سے پاک لائحہ عمل پیش نہیں کیا جاسکا ہے، بلکہ عالم یہ ہے کہ کابینہ کے اجلاس کئی کئی مہینے منعقد ہی نہیں ہوتے۔ غضب ہے کہ گذشتہ آٹھ مہینے میں کابینہ کا کوئی باقاعدہ اجلاس نہیں ہوا۔ پلاننگ کمیشن ایک عضومعطل بن کر رہ گیاہے۔ کوئی وسط مدتی پلان ایک عرصے سے وجود ہی میں نہیں آیا ہے ۔ پلاننگ کمیشن کا اصل وژن یہ تھا کہ وہ ایک طویل عرصے کے perspective plan کے فریم ورک میں پانچ سالہ منصوبے بنائے گا جو ایک طرف معروضی تحقیق پر مبنی ہوں گے تو دوسری طرف ریاست اور معیشت کے تمام متعلقین کی شرکت سے حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کا نمونہ پیش کرسکیں گے اور پھر پوری آزادی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اس منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا۔ صرف مالیاتی پہلو ہی سے نہیں بلکہ Physical achievment کے باب میں بھی۔نیز پلاننگ کمیشن محض فیڈریشن ہی نہیں، بلکہ صوبائی سطح پر بھی قائم کیے جائیں گے اور وفاق صوبائی پلاننگ کمشنر کی رہنمائی، معاونت اور صلاحیت کی تعمیر (capacity building) کا کام انجام دے گا۔ پلاننگ کمیشن کے تحقیقی بازو کی حیثیت سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کام کرے گا جس کا سربراہ پلاننگ کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین ہوا کرتا تھا۔ مگر اب PIDC ایک آزاد تعلیمی ادارہ بن گیا ہے جو ڈگریاں دے رہا ہے اور پلاننگ کمیشن اپنے تحقیقی بازو سے محروم ہوگیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کا ایک کلیدی کردار پوری معاشی پالیسی، حکمت عملی اور ترجیحات کے تعین میں ناگزیر ہے لیکن ا س وقت سارا اختیار وزارتِ خزانہ ہی کے پاس ہے اور پلاننگ کمیشن اور وزارتِ خزانہ دو الگ الگ جزیرے بن گئے ہیں۔
اسی طرح دستورکا تقاضا ہے کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان ایک حقیقی، خودمختار ادارہ ہو اور مالیاتی پالیسی وہ خود وضع کرے اور وزارتِ خزانہ کی گرفت سے آزاد ہوکر بنائے۔ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ مرکزی بنک ایک مدت سے وزارتِ خزانہ کا ضمیمہ بن چکا ہے اور عملاً اس کی آزاد حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔ اب بھی یہ ادارہ بہت غنیمت ہے لیکن اس کی پیشہ ورانہ قدروقیمت (professional worth) اور پالیسی سے مناسبت (policy relevance) میں بڑی کمی آگئی ہے۔
ایک اور بڑا اہم دستوری ادارہ کونسل آف کومن انٹرسٹس (Council of Common Interests) ہے جس کی اہمیت اور کردار ۱۸ویں دستوری ترمیم کے بعد دوچند ہوگیا ہے اور فیڈریشن کے نظام کی صحیح خطوط پر استواری کے لیے اس کا فعال ہونا ضروری ہے۔ لیکن اسے بھی عملاً عضومعطل بنادیا گیا ہے۔ دستور کا تقاضا ہے کہ اس کا اجلاس ۹۰روز کے اندر اندر ہو مگر یہاں مہینوں گزر جاتے ہیں اور اس ادارے کا اجلاس ہی نہیں ہوتا۔ اور جب ہوتا ہے تو نہ پوری تیاری سے ہوتا ہے اور نہ گہرائی میں جاکر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
پارلیمنٹ نے، اور اس میں سینیٹ کا بڑا کردار تھا، بڑی جدوجہد کے بعد ایف بی آر (Federal Bureau of Revenue)کو وزارتِ خزانہ کے ایک شعبے کی حیثیت سے نکال کر ایک خودمختار ادارہ بنایا۔ ا س سلسلے میں سینیٹ کی کمیٹی براے خزانہ و معاشی ترقی نے میری صدارت میں ۸۰صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی تھی اور پھر ایف بی آر کو عملاً ایک ڈویژن بنایا گیا مگر آج کیفیت ’من تو شدم تو من شدی‘ کا منظر پیش کر رہی ہے۔
اسی طرح سینیٹ اور اسمبلی کی تحریک پر شماریاتی بیورو کو وزارتِ خزانہ کے ایک شعبے کے مقام سے نکال کر ایک خودمختار ادارہ بنایا گیا تاکہ اعداد و شمار صحیح صورت میں آزاد ذریعے سے پارلیمنٹ ، حکومت اور قوم کے سامنے آسکیں اور پالیسی سازی کا کام حقائق کی بنیاد پر ہو، حقائق کو سیاسی مصلحتوں کا اسیر نہ بنایا جائے۔ قانونی اور لفظی کارروائی ہوگئی ہے مگر عملاً اعداد وشمار سیاسی دراندازیوں اور حکومت ِ وقت کی کرم فرمائیوں سے آزاد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال بھی بجٹ اور اکانومک سروے کے پیش کردہ اعداد و شمار کے بارے میں بڑے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
۱۶-۲۰۱۵ء میں ترقی کی شرحِ نمو کے بارے میں علمی حلقوں اور تحقیقی اداروں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ حکومت اور قوم کے لیے فخر کا باعث نہیں۔ ۱۶-۲۰۱۵ء کے سال کے لیے معاشی ترقی کی نمو کی شرح کے بارے میں جو باتیں باہر آئی ہیں ان کو پڑھ کر انسان سر پکڑ لیتا ہے کہ ہم معاشی حقائق کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور ہمارے فراہم کردہ اعداد و شمار پر اگر عالمی ادارے اور آزاد تھنک ٹینکس اعتبار نہیں کرتے تو وہ کتنے حق بجانب ہیں۔ ہم یہ اصول بھول گئے ہیں کہ آرا اور تعبیرات میں اختلاف فطری ہے لیکن حقائق کو شک و شبہے (tempering) سے بالا ہونا چاہیے اور ان کے بارے میں selectivityبھی پیشہ ورانہ بددیانتی کے مترادف ہے۔ اس سال کی ۷ئ۴ فی صد کی شرح کے بارے میں اس اخباری اطلاع پر ایک نظر ڈالیے کہ اس میں ہماری تصویر کیا نظر آتی ہے۔
روزنامہ ایکسپریس ٹریبون کی ۲۱ مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں اکانومک سروے کی اشاعت سے ۱۰ دن پہلے اس کے نامہ نگار شہباز رعنا کی یہ رپورٹ شائع ہوئی، جس کی کوئی تردید شائع نہیں ہوئی:
گزرے ہوئے مالی سال میں حکومت نے مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کی شرحِ نمو میں اضافے کے لیے۵ئ۵ فی صد کا ہدف رکھا تھا۔ ملک میں نوجوانوں کی آبادی میں اضافے کو جذب کرنے کے لیے ۷ فی صد سالانہ شرحِ نمو کی ضرورت تھی۔ اگر اضافے کی رفتار اس شرح سے کم ہوجائے تو اس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شکل میں سامنے آئے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے اعداد و شمار کے بیورو چیف آصف باجوہ نے ۱۸مئی کو وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو مطلع کیا کہ ۱۶-۲۰۱۵ء کے لیے شرحِ نمو کا تخمینہ ۲ئ۴ فی صد کے قریب آرہا ہے۔ باجوہ نے اسحاق ڈار کو یہ بھی بتایا کہ سابقہ دو مالی برسوں کے نظرثانی شدہ اعداد و شمار ۴ فی صد سے نیچے جارہے ہیں۔ بہرکیف اسحاق ڈار نے ان اعدادوشمار کو قبول نہیں کیا اور باجوہ صاحب سے کہا کہ وہ پھر سے اعداد و شمار کا جائزہ لیں۔ جب رابطہ کیا گیا تو باجوہ صاحب نے ۱۸مئی کی نشست کی نہ تردید کی اور نہ تصدیق۔
باجوہ صاحب نے ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے کہا: اعداد و شمار بدلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ آخری اعداد و شمار منظور کیے جاتے ہیں اور ۱۵-۲۰۱۴ء کے لیے مجموعی ملکی پیداوار میں اضافے کی عارضی شرح ۷ئ۴ فی صد ہے ۔ جب زرعی سیکٹر کی پیداوار میں نمایاںکمی ہوئی ہے۔ نجی اور سرکاری سرمایہ کاری میں مجموعی قومی پیداوار کے لحاظ سے بہت زیادہ اضافہ نہیں ہو رہا، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’۷ئ۴ فی صد کی شرح نمو کہاں سے آگئی؟‘‘ وزارتِ خزانہ کے سابق معاشی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے سوال کیا۔ خان صاحب نے کہا: اعداد و شمار کے باب میں ان کا اپنا حساب کتاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزرے ہوئے مالی سال میں شرحِ نمو ۵ئ۳ فی صد سے زیادہ نہیں تھی۔
تمام پہلوئوں پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرکار نے جس شرحِ نمو کو پسند کیا وہ ۷ئ۴ تھی۔ کیوں نہ ہو۔ ۷ئ۴ فی صد کی شرحِ نمو گذشتہ سال کی حاصل کردہ ۴فی صد کی شرح سے بہتر تھی اور آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق، یعنی ۵ئ۴ فی صد سے بھی تھوڑی بہتر ہی تھی۔
بس طے ہوگیا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار ۲ جون کو معاشی سروے آف پاکستان ۱۶-۲۰۱۵ء جاری کرنے کے ساتھ ۷ئ۴ فی صد کی عارضی شرحِ نمو کا رسمی اعلان کریںگے۔
اعداد و شمار کے ساتھ کھیل کی یہ ایک مثال ہے۔ ورنہ حال یہ ہے کہ ہرمیدان میں اصل حقائق سے اغماض اور پسند کے ’حقائق‘ کی صورت گری بائیں ہاتھ کا کھیل بن گئی ہے اور ملک اور ملک سے باہر ہمارے اعتماد کو مجروح کرنے اور معاشی منصوبہ بندی کو مضبوط بنیادوں سے محروم کرکے نمایشی بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈاکٹر ثاقب شیرانی ایک معروف معاشی ماہر اور سابق معاشی مشیر ہیںاس کا نوحہ ان الفاظ میں کرتے ہیں اور اس پس منظر میں کرتے ہیں کہ مشرف صاحب اور شوکت عزیز صاحب کے دور میں بھی اعداد و شمار کے ساتھ یہی کھیل کھیلا جاتارہا ہے:
تازہ ترین واقعہ، حکومت نے دو دائروں میں جو سرکاری اعداد و شمار دیے ہیں، اس سے تعلق رکھتا ہے: نیشنل اکائونٹس (گروتھ) اور قومی حسابات (ایف بی آر کا جمع کردہ ٹیکس اور مالی خسارہ)دونوں مشرف اور شوکت عزیز کے دورکے محرکات ہی کا تسلسل ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اعداد و شمار کو مسخ کیا گیا ہے، تاکہ گذشتہ برسوں میں بلندترین شرحِ نمو سامنے آسکے۔ ۱۶-۲۰۱۵ء میں سرکاری جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ۷ئ۴ فی صد ہونا ایک ایسے وقت میں جب کپاس کی پیداوار میں ۴۰ لاکھ گانٹھوں کی کمی ہوئی ہو، کپاس کی معیشت کی شرح ۶ فی صد میں مضمر ہے۔ یہ ناقابلِ یقین ہے۔ معیشت کے کسی بھی پیمانے ___ برآمدات، صنعتی پیداوار، توانائی کا استعمال اور نجی سطح پر سرمایہ کاری___ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔
حقیقت یہ ہے جیساکہ نمایاں مبصروں نے اس کی نشان دہی کی ہے، کہ پاکستان کے شماریات کے ادارے کا اعدادو شمار میں تبدیلی کرنا غیرپیشہ ورانہ ہے۔ ہرسیکٹر کی پیداوار کے معاملے میں اضافے کی شرح حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ پھر یہ ہیرپھیر بھی فنی مہارت سے عاری ہے۔ پیداواری سیکٹرز میں تو تبدیلی کردی گئی مگر اس کے متوازی تبدیلی اخراجات کے باب میں نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں پیداوار (production) اور اخراجات (expenditures)کا تعاون درہم برہم ہوگیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۶-۲۰۱۵ء کے قومی حسابات ۲۳ئ۱ مارجینل رجحان کو ظاہر کرتے ہیں، جو کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے ممکن نہیں۔
دوسرا شماریاتی ہاتھ کا کرتب سرکاری فنانس میں دکھایا گیا ہے۔ٹیکس جمع کرنے کی رقم کو بڑھایا گیا اوراس میں ان مدّات کو بھی شمار کرلیا گیا جو ۲۰۱۳ء سے بھی پہلے نان ٹیکس ریونیو کے تحت ریکارڈ کیے جارہے تھے۔ اسی طرح ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۶ء کے درمیان مالی خسارے میں کمی کو بھی بڑھا چڑھا کر مبالغے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
آخری بات یہ ہے کہ حالیہ تحفظات سرکاری اعداد و شمار کے معیار اور درست ہونے کے حوالے سے بہت زیادہ ناقابلِ اطمینان ثابت ہورہے ہیں۔
اگر معیشت کے تمام رجحانات کو سامنے رکھا جائے تو ۷ئ۴ فی صد کی شرحِ نمو کو تسلیم کرنے میں آزاد تحقیق کے تحفظات میں بڑا وزن ہے۔ ٭ ہمارا رجحان بھی ان معاشی ماہرین کی طرف ہے جن کی نگاہ میں ۷ئ۴ فی صد کا دعویٰ درست نہیں اور اصل شرحِ نمو ۱ئ۳ فی صد اور ۴ فی صد کے درمیان رہی ہے۔ حتمی طور پر کوئی بات کہنا مشکل ہے لیکن ماضی کی روایات کی روشنی میں سرکاری اعداد و شمار پر مکمل اعتماد بڑی آزمایش کا معاملہ ہے۔
اعداد و شمار پر شبہے کی داستان پرانی ہے لیکن ان تین برسوں میں موجودہ حکومت نے دستور کی دو بڑی پریشان کن خلاف ورزیاں اور بھی کی ہیں جو معاشی منصوبہ بندی، پالیسی سازی، بجٹ سازی اور مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے باب میں مشکلات کا باعث ہیں اور باہمی اعتماد کو مجروح کرنے والی ہیں۔
ملک کی آبادی، اس کی جغرافیائی تقسیم، اس کی معاشی اور تعلیمی کیفیات یہ سب وہ بنیادی لوازمہ ہے جس کی روشنی میں معاشی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کی جاتی ہے۔ آخری مردم شماری ۱۹۹۸ء میں ہوئی تھی اور دستور کا تقاضا ہے کہ ہر ۱۰سال پر مردم شماری ہو۔ ۲۰۰۸ء سے یہ واجب ہے مگر حکومت (پیپلزپارٹی ۲۰۰۸-۲۰۱۳ء اور مسلم لیگ ۲۰۱۳-۲۰۱۶ئ)نے اب تک اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ اپریل ۲۰۱۶ء کے بارے میں بڑی یقین دہانی تھی کہ مردم شماری ضرور کرائی جائے گی مگر عین وقت پر فوجی دستوں کی عدم دستیابی کے نام پر اسے ملتوی کردیا گیا ہے اور اس طرح یہ چوتھا بجٹ بھی ملک کے اور اس کی آبادی کے بارے میں معتبر معلومات کی جگہ تخمینوں اور اندازوں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہ حکومت کی مجرمانہ غفلت اور ناقابلِ معافی کوتاہی ہے۔
اسی طرح دستور (دفعہ ۱۶۰-الف) کا تقاضا ہے کہ ہر پانچ سال پر نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (NFC Award) آئے جن میں آبادی اور دوسرے طے شدہ بنچ مارکس کی روشنی میں مرکز اور صوبوں کے درمیان ریونیو کی تقسیم کی جائے۔ ساتواں ایوارڈ دسمبر ۲۰۰۹ء میں منظور ہوا تھا جس کی مدت دسمبر ۲۰۱۴ء میں ختم ہوگئی تھی۔ آٹھواں ایوارڈ ۲۰۱۵ء میں آجانا چاہیے تھا مگر نہ کمیشن بنا ہے اور نہ ایوارڈ آیا ہے۔ سابقہ ایوارڈ ہی کی روشنی میں محصولات کی آمدنی کو تقسیم کیا جا رہا ہے جو آئین اور قانون کے مطابق ہی نہیں زمینی حقائق اور انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ حکومت اس پورے معاملے کو بہت ہی ہلکا لے رہی ہے حالانکہ اس کے بڑے دُور رس آئینی، معاشی اور سیاسی مضمرات ہیں۔اسی طرح صوبوں میں بھی صوبائی فنانس کمیشن بننے چاہییں اور صوبے اور لوکل گورنمنٹ میں وسائل کی تقسیم قانون اور انصاف کے مطابق ہونی چاہیے۔ ۱۸ویں دستوری ترمیم ۲۰۱۰ء میں منظور ہوئی تھی۔ چھے سال گزرنے کے باوجود اس پر قانون اور اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہو رہا جس کے اثرات قومی یک جہتی کے لیے بڑے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ دستور، قانون اور اجتماعی عدل کے تقاضوں سے کھیل کر کوئی قوم خیر اور اعتمادِ باہمی کو مجروح کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔
ایک اور بڑا ہی اہم دینی اور دستوری تقاضا ہے جس کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ملک جہاں معاشی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اللہ کے غضب کو بھی دعوت دی جارہی ہے اور رزق اور معاشی ترقی کے باب میں بے برکتی کی شکل میں اس کی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ قرآن کا واضح اعلان ہے کہ سودی لین دین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس معیشت کا مٹھ مار دیتا ہے جو سود کی بنیاد پر قائم ہو۔ ہم سود کے نظام کو مستحکم اور سود سے پاک معیشت کے دعوئوں اور واضح دستوری مطالبے سے رُوگردانی کر رہے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ آج سود اور سودی قرضوں میں ہمارا بال بال گرفتار ہے۔ بجٹ کا سب سے بڑا مصرف سود اور سودی قرضوں کی ادایگی اور اس مکروہ عمل کو جاری رکھنے کے لیے مزید سودی قرضے لیناہوگیا ہے۔ ہم بڑے دُکھ اور افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں جناب نوازشریف کی حکومت کا رویہ ظالمانہ اور شریعت اور دستور سے عملاً باغیانہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پہلے دور میں ۹۰کے عشرے میںوفاقی شریعت کورٹ کے سود کو ختم کرنے اور متبادل نظام کو سرکاری سطح پر رائج کرنے کا فیصلہ دیا تھا جس کے خلاف حکومت اور اس کے ایما پر مسلم کمرشل بنک جسے اس حکومت نے نجی بنایا تھا۔ سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس کی وجہ سے یہ عمل ۱۱سال معطل رہا۔ پھر سپریم کورٹ نے مشرف دور میں اپنا تاریخی فیصلہ دیا جسے غیرمؤثر بنانے کے لیے مشرف صاحب نے شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے شریعت بنچ کو بدل دیا اور مسئلے کو پھر ازسرِنو سماعت کے لیے فیڈرل شریعت کورٹ کو بھیج دیا جہاں وہ آج بھی معلق ہے۔
یہ تو معاملے کا ایک پہلو ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اس بارے میں خاموش برتی جس پر احتجاج ہو اور اس کے نتیجے میں وزیرخزانہ نے مرکزی بنک کے نائب گورنر کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی جسے یہ کام سونپا گیا کہ ایک سال کے اندر اس سلسلے میں اپنی رپورٹ دے گی اور تبدیلی کا نقشۂ کار پیش کرے گی۔ ذمہ دار حضرات نے خود مجھے یقین دلایا اور ڈپٹی گورنرصاحب نے خود بھی اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لیتے ہیں بلکہ رفاہ انٹرنیشنل یونی ورسٹی کی ایک کانفرنس میں جس کا کلیدی خطبہ مَیں نے دیا تھا یہاں تک کہا کہ میرے ڈپٹی گورنر کی ذمہ داری قبول کرنے کا ایک بنیادی مصرف بھی یہ ہے کہ ملک میں غیرسودی بنکنگ کے نظام کو قائم کرنے میں کردارادا کرسکوں۔ میرے اندازے کے مطابق اس کمیٹی کی رپورٹ ۲۰۱۵ء کے وسط تک آجانی چاہیے تھی لیکن قوم کو اس کی کوئی خبر نہیں کہ کمیٹی نے کیا کام کیا ہے اور اس لعنت سے نجات کے لیے کوئی منصوبۂ کار ہے بھی یا نہیں۔ وزیراعظم صاحب اور وزیرخزانہ اس باب میں ناقابلِ معافی غفلت اور کارکردگی کے فقدان کے ذمہ دار ہیں۔ بجٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ ماضی کے بجٹ میں اس کمیٹی کے قیام کو حکومت کے ایک کارنامے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
کیا وزیراعظم صاحب کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ میری موجودگی میں ان کے والد ِ محترم نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ان کو تلقین کی تھی کہ سود سے معیشت کو پاک کرنے کا کام ذمہ داری سے انجام دیں اور میری اطلاع کی حد تک اپنی جلاوطنی کے دور میں مدینہ منورہ میں جناب نوازشریف نے کچھ افراد کے سامنے یہ اظہار کیا تھا کہ ماضی میں ان سے کوتاہی ہوئی اور اگر ان کو آیندہ موقع ملا تو وہ اس کی تلافی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور موقع دیا جسے ان تین برسوں میں انھوں نے بُری طرح ضائع کیا ہے۔ اللہ کے قانون میں ڈھیل تو ہے لیکن اس کی گرفت بھی بہت ہی سخت ہے۔
ان تمام دستوری، قانونی، سیاسی اور اخلاقی تقاضوں کے باب میں موجودہ حکومت، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا رویہ فوری نظرثانی کا محتاج ہے۔
بجٹ میں ملک کو درپیش معاشی چیلنج کا صحیح ادراک ہی موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحِ احوال کے لیے جن اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے خصوصیت سے زراعت اور برآمدات کے بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ جزوی اور خام ہیں۔ معاشی ترقی کے پورے تصور (paradigm) کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت ہے۔ ملک کے زمینی حقائق اور دستور اور قوم کے عزائم اور توقعات کی روشنی میں مقاصد، حکمت عملی، ترجیحات اور پروگرام کے ازسرِنو تعین اور وسائل کی فراہمی اور ان کے استعمال کی صحیح منصوبہ بندی درکار ہے۔ معاملہ محض جزوی اور وقتی اصلاحات کا نہیں بنیادی پالیسی اور ترجیحات کا اور اس کے ساتھ صحیح وژن، اداروں کی اصلاح، تحقیق اور مشاورت سے مربوط پالیسیوں کی تشکیل، فیصلہ سازی اور ان کے نفاذ کے باب میں مؤثر تعمیرِصلاحیت (capacity building) اور صرف میرٹ کی بنیاد پر مردانِ کار کا انتخاب، معاشی اور سماجی انفراسٹرکچر کی اصلاح، delivery system کی تنظیم نو___ ان میں سے ہرپہلو فوری توجہ اور مناسب تنظیم نو کا متقاضی ہے۔ موجودہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس نہ وژن ہے اور نہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب ڈھانچا اور افرادِ کار۔
ایک اطلاع کے مطابق ۴۰ سے زیادہ اہم مرکزی ادارے باقاعدہ سربراہ سے محروم ہیں۔ دو اہم ترین وزارتیں ہمہ وقت وزیر کو ترس رہی ہیں۔ جامعات اور تحقیقی اداروں میں اپنے ملک کے مسائل کے بارے میں تحقیق اور زمینی حقائق کی روشنی میں نئی ٹکنالوجی کی دریافت کا کام معطل ہے۔ ماحول کی تبدیلی کی وجہ سے جو اثرات پڑ رہے ہیں اور ان کی روشنی میں جس قسم کی فصلوں اور ان کی کون سی اقسام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اس طرف کوئی توجہ نہیں ۔ زرعی میدان میں ریسرچ اور توسیعی خدمات (extension service) غیرمتعلق ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایک اخباری تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ایک طرف کپاس کی کاشت بحران کا شکار ہے اور موسم کے اثرات کے علاوہ بیج کے ناقص ہونے اور جراثیم کش ادویات کی ضرورت سے مطابقت نہ ہونے نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ چین سے جو بیج درآمد کیا گیا وہ ہمارے حالات سے کوئی مطابقت نہ رکھتا تھا لیکن سیاسی مصالح یا معاشی مفادات کی خاطر یہ ظلم ملک اور کاشت کار طبقے پر کیا گیا جس کی سزا پورا ملک اور پوری فارم کمیونٹی بھگت رہی ہے مگر حکومت کو نہ حالات کا اِدراک ہے اور نہ اصلاح کا جذبہ۔ نمایشی اقدامات کیے جارہے ہیں اور اس وقت جب کپاس کی فصل تباہ اور اس کی کاشت کرنے والی پوری برادری پریشان ہے حکومت کی غفلت کا یہ حال ہے کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان مستقل افسر تک سے محروم ہے۔ تین سال سے دفتر ایسے انچارج کے ہاتھوں چل رہا ہے جو اس شعبے میں مہارت نہیں رکھتا اور عارضی چارج لیے ہوئے ہے۔ مرکزی سطح پر اسلام آباد میں کیا گل کھلائے جارہے ہیں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کاٹن ریسرچ کو وزارت زراعت کے بجاے وزارتِ ٹیکسٹائل کے حوالے کردیا گیا ہے جہاں کپاس کی کاشت کے اُمور سے متعلق کوئی کام ہو ہی نہیں رہا (روزنامہ دنیا، ۴مئی ۲۰۱۶ئ)
زراعت کے مسائل ہوں یا برآمدات کے___ ان جزوی اصلاحات سے ان کا حل ممکن نہیں جن کا بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ان دونوں شعبوں میں پورے نظامِ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پالیسی کے اہداف سے لے کر پورے نظامِ کار بشمول Extension Services اور Delivery System کے ازسرِنو جائزے کی ضرورت ہے۔ ہر میدان میں ریسرچ اور جدید ٹکنالوجی کے استعمال کا اہتمام کرنا ہوگا۔ ہر کام کے لیے اس کے لیے مناسب مہارت رکھنے والے قابل افراد کے تقرر اور احتساب اور باقاعدگی سے نگرانی (regulation)کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہوگی۔ محض اَشک شوئی سے بحرانوں کی اس دلدل سے نکلنا ممکن نہیں۔ مسئلہ structural ہے صرف سبسڈیز اور زیرو ریٹنگ سے اس بحران پر قابو پانا ممکن نہیں۔
بلاشبہہ اس پورے کام کے لیے صحیح قیادت اور مردانِ کار کے ساتھ مالی وسائل کی بھی ضرورت ہے۔ ہماری نگاہ میں ملک میں وسائل کی کمی نہیں۔ کمی دیانت داری اور مہارت و اہلیت کے ساتھ ساتھ وسائل کے حصول اور ان کے مناسب استعمال کی ہے۔ ملکی وسائل کی صحیح مو بلائزیشن اور بیرونِ وطن پاکستانیوں کو معاشی ترقی میں مؤثر انداز میں شریک کر کے قرضوں کے بغیر خطیر وسائل کا حصول ممکن ہے۔ کرپشن پر قابو پاکر حقیقی وسائل کو دوچند کیا جاسکتا ہے۔ صرف اسمگلنگ پر قابو پاکر اربوں ڈالر کے وسائل سرکاری خزانے میں لائے جاسکتے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کی اصلاح سے ٹیکس کی آمدنی کو دگنا اور اس سے بھی زیادہ ترقی دینا چند سال میں ممکن ہے۔ پیداوار کو value added کی سمت میں ڈھال کر اور جدید ٹکنالوجی سے بھرپور فائدہ اُٹھا کر ملک کی comptiveness کو کہیں سے کہیں پہنچایا جاسکتا ہے۔ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اس ٹیلنٹ سے فائدہ اُٹھانے کی کمی ہے۔ اس کے لیے ایک نئے طرزِفکر (mind-set) کی، ایک نئی ٹیم کی اور محرکات (incentives) کے ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ دیانت دار اور باصلاحیت قیادت جو اپنی ذات کے مفاد کی پجاری نہ ہو بلکہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے کمربستہ ہو، وہ چند سال میں ملک کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ جس تبدیلی کی ملک کو ضرورت ہے وہ وہ ہے جس کی ہم نے اُوپر نشان دہی کی ہے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ حالیہ بجٹ اور موجودہ حکومت اس تبدیلی کی سمت میں کوئی قدم بڑھانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے اور یہی ہمارا اصل مسئلہ ہے ؎
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ جو دُکھ ہمیں تھے، بہت لادوا نہ تھے
(کتا بچہ دستیاب ہے، منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔۱۷ روپے،۱۰۰ ۱روپے سیکڑہ۔ فون:35252211)
اچھی زندگی پر رشک تو زمانے کا چلن ہے لیکن کامیاب زندگی وہ ہے جس کا اختتام اس موت پر ہو جس پر ہر صاحب ِ دل بے ساختہ رشک کرے__!!
میرے عزیز بھائی مطیع الرحمن نظامی کی شہادت ایک ایسی ہی یادگار موت بن گئی ہے جس نے ان کو بہترین انسانوں کے اس قافلے کا شریکِ سفر بنا دیا ہے جس میں ہمیشہ زندہ رہنے والے ہی سرگرم اور سرفراز رہیں گے۔
جس وقت ان کا جسد ِ خاکی بنگلہ دیش کے ایک چھوٹے قصبے پبنہ میں، جو ان کا مولد ہے، سپردِ خاک کیا جارہا تھا اور اس بستی میں کرفیو کی کیفیت کے باوجود ہزاروں افراد شریکِ جنازہ تھے اور ان کے لیے مغفرت اور بلندیِ درجات کی دعائیں کر رہے تھے، تو ان دعائوں کی بازگشت بیت اللہ اور مسجد نبویؐ سے لے کر استنبول، نیویارک، سری نگر، دہلی، اسلام آباد، لاہور، لندن، ٹوکیو اور مشرق و مغرب کے بیسیوں مقامات پر سنی جاسکتی تھی۔ جہاں ایسے ہزاروں افراد کی آنکھیں اَشک بار لیکن زبانیں مصروفِ دعا تھیں جن کی اکثریت نے زندگی میں کبھی ان کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی تھی ؎
ہے رشک ایک خلق کو جوہرؔ کی موت پر
یہ اس کی دین ہے، جسے پروردگار دے
مطیع الرحمن نظامی نے اللہ کی بندگی ، اس کے دین کی وفاداری، اور اسلام کی دعوت اور تحریک ِ اسلامی کی سربلندی کا جو عہد اپنے رب سے نوجوانی کے آغاز میں کیا تھا، اسے آخری لمحے تک صبرواستقامت کے ساتھ نبھایا، اللہ کی نافرمانی اور طاغوت سے سمجھوتے کے ہر دام سے اپنا دامن بچاتے ہوئے صرف اپنے خالق کی رضا کے حصول اور اس کے فیصلے پر اعتماد اور شکر کا راستہ اختیار کیا اور آخری چال ’رحم کی اپیل‘ کو نظرانداز کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور اس طرح اللہ سے اپنے عہد کو سچا کر دکھایا:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ز وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاo(احزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
برادرم مطیع الرحمن نظامی نے اللہ پر بھروسا اور صرف اس کی خوشنودی کی طلب اور اپنے اہلِ خانہ کے جذبے اور عزم کے ساتھ تمام تحریکی رفقا اور ساتھیوں کے لیے اور تمام ہی اہلِ وطن کے لیے صبرواستقامت اور راہِ حق سے وفاداری کی وصیت کرتے ہوئے پھانسی کے پھندے کی طرف جس اعتماد اور شوق کے ساتھ پیش قدمی کی، اس کا تصور ایمان افروز ہی نہیں بے ساختہ دل سے یہ پکار نکالنے کا وسیلہ بھی بنتا ہے کہ نئی زندگی میں فرشتوں نے بھی اسی شوق اور انبساط سے ان کا استقبال کیا ہوگا:
یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ o ارْجِعِیْٓ اِِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ o وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ o (الفجر۸۹: ۲۷-۳۰) اے نفس مطمئنہ! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔
میرے لیے مطیع الرحمن چھوٹے بھائی کے مانند تھے۔ پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ۱۹۶۵ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی شوریٰ کے رکن بنے۔ البتہ خرم بھائی ان کا ذکر اس سے پہلے کرچکے تھے۔ جن افراد کا خرم بھائی سے خصوصی تعلق تھا، ان میں مطیع الرحمن نمایاں تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ میں شرکت سے بھی پہلے انھی کے ایما پر انھوں نے جمعیت طلبہ عربیہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ پروفیسر غلام اعظم اور مطیع الرحمن نظامی دونوں ہی کا خرم بھائی سے بہت گہرا تعلق تھا اور مجھے بھی دونوں سے خصوصی تعلق رہا۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، دونوں نے اپنے اپنے انداز میں جو مثال قائم کی ہے، وہ مدتوں تحریک ِ اسلامی اور اُمت مسلمہ کے لیے روشن چراغ کی مانند رہے گی۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب سے میرے تعلقات تقریباً ۶۰برس اور مطیع الرحمن نظامی سے ۵۰برس پر پھیلے ہوئے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے دونوں کو اچھا انسان ، تحریک ِ اسلامی کا مخلص اور صاحب ِ بصیرت، خادم و قائد، وفادارپاکستانی اور دل و جان سے بنگلہ دیش کی خدمت اور ترقی اور اسلامی تشکیل و تعمیر کے لیے جان اور مال کی بازی لگادینے والا پایا۔
پروفیسر غلام اعظم ۱۹۶۷ء سے ۱۹۷۱ء تک جماعت اسلامی مشرقی پاکستان اور پھر ۱۹۷۸ء سے ۲۰۰۰ء تک جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر رہے اور مطیع الرحمن بھائی ۲۰۰۰ء سے ۲۰۱۶ء تک امارت کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ میں اس تاریخی حقیقت کو پوری دیانت اور پوری قوت سے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح وہ پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے وفادار تھے اور ان کی پوری کوشش تھی کہ جس بنیاد پر پاکستان قائم ہوا اور جو اس کی اصل پہچان ہے، اس کی حفاظت کے لیے وہ سردھڑ کی بازی لگاد یں، اسی طرح جب بنگلہ دیش قائم ہوگیا تو پھر دل کی گہرائیوں سے انھوں نے اسی جذبے کے ساتھ اس کی آزادی، ترقی اور اسلامی تشکیل کے لیے اپنا سب کچھ لگادیا۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب ۱۹۷۲ء کی اس مرکزی شوریٰ میں شریک تھے جس میں مولانا مودودیؒ نے امارت سے فارغ ہونے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور پھر جماعت میں یہ طریقِ انتخاب رائج ہوا کہ شوریٰ امارت کے لیے تین نام تجویز کرتی ہے اور ارکان ان تینوں میں سے کسی ایک کو، یا جسے وہ مناسب سمجھیں اپنا ووٹ دیتے ہیں۔ میں کوئی راز فاش نہیں کر رہا ہوں لیکن اسی وقت جو تین نام آئے تھے، ان میں سرفہرست پروفیسر غلام اعظم ہی کا نام تھا اور اغلب تھا کہ وہ امیرجماعت منتخب ہوں لیکن پروفیسر صاحب نے جن الفاظ میں معذرت کی وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرا مرنا اور جینا پاکستان کے لیے تھا لیکن اب زمینی حقائق کی روشنی میں میرا اصل میدانِ کار بنگلہ دیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے چند ماہ بعد ہی مشرق وسطیٰ اور پھر انگلستان منتقل ہوگئے اور بنگلہ دیش کے تحریکی معاملات سے اپنے کو وابستہ کرلیا۔ بالآخر ۱۹۷۸ء میں بنگلہ دیش آگئے۔ اپنی شہریت کے لیے قانونی اور سیاسی جنگ مردانہ وار لڑی اور بالآخر ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ان کی شہریت بحال کی گئی۔
جسٹس انوار چودھری نے اپنے فیصلے میں پروفیسر صاحب کے بنگلہ دیش سے وفاداری کے تعلق کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
درخواست گزار کا ایک طرزِ عمل بالکل واضح دکھائی دیتا ہے۔ جب وہ بنگلہ دیش کی شہریت کے بغیر تقریباً ایک بے ریاست فردتھے، اور ایک بحرانی لمحے سے گزر رہے تھے، نہ وہ پاکستان گئے اور نہ پاکستان کا انتخاب کیا، جب کہ وہ ایسا کرسکتے تھے جیساکہ دیگر نااہل (disqualified)افراد نے کیا۔ یہ طرزِعمل اور ان کا یہ ارادہ کہ ایک بنگلہ دیشی کی حیثیت سے انھیں شناخت کیا جائے، اصل ڈومیسائل سے محض رہایشی ہونے کے مقابلے میں زیادہ متعلق ہے۔ (بحوالہ جسٹس انوارالحق چودھری، قطعی فیصلہ دیتے ہوئے ۱۰۳، ۱۰۴ اور ۱۲۲ رٹ پٹیشن نمبر ۱۲۱۶)
اس امر کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے وفاداری، اس کے تحفظ کی جدوجہد اور آخری لمحے تک جدوجہد ایک چیز ہے، اور زمینی حقائق کے نتیجے میں سیاسی نقشے کی تبدیلی کے بعد نئی مملکت سے تعلق اور وفاداری ایک دوسری شے۔ اول الذکر کو دوسرے پہلو سے دشمنی یا مخالفت کی دلیل بنانا، بدنیتی اور خلط مبحث ہی نہیں، تاریخی حقائق کا بھی مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کانگریس، خدائی خدمت گار، احرار اور جمعیت علماے ہند نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان کے قیام کے بعد جب انھوں نے پاکستان کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کرلیا تو وہ قومی زندگی کا حصہ بن گئے اور کانگریس کے ارکان نے پارلیمنٹ میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ اسی طرح آل انڈیا مسلم لیگ کی پوری قیادت نے پاکستان کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دی تھی مگر تقسیم کے بعد ہندستان کا حصہ بننے والے علاقوں کی مسلم لیگ کی قیادت بھارت کی وفادار شہری بنی اور پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر اپنا کردار ادا کرنے لگی۔ یہی معاملہ ان ۱۵۰ سے زیادہ ممالک کی سیاسی قوتوں کے بارے میں رہا جنھوں نے تحریکاتِ آزادی میں حصہ لیا تھا یا اس کا مقابلہ کیا تھا لیکن آزادی کے بعد آزادی سے پہلے کی سیاسی صف بندیوں کو قصۂ ماضی بناکر نئے دروبست میں نیا کردار ادا کیا۔
مجھے خوشی ہے کہ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے پروفیسر غلام اعظم کی شہریت کے فیصلے پر بحث کرتے ہوئے اس نکتے کو واضح کردیا ہے اور بنگلہ دیش کے قیام سے پہلے کے دور کے سیاسی موقف اور جنگ کے دوران یا اس کے بعد انسانی جان، مال اور عزت کے باب میں جرائم کو دوالگ الگ ایشوز تسلیم کیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے میں جہاں پروفیسر صاحب کے بارے میں یہ بات صاف الفاظ میں کہی گئی ہے کہ ۱۹۷۱ء تک پاکستان سے وفادار ہونے، ۱۹۷۱ء کے بعد بنگلہ دیش سے باہر رہنے، ۱۹۷۳ء میں ان کو شہریت سے محروم کردینے اور ۱۹۷۸ء میں بنگلہ دیش واپس آکر شہریت سے محرومی کے علی الرغم بنگلہ دیش میں رہنے سے ان کے حقِ شہریت اور بنگلہ دیش کی آزاد مملکت سے وفاداری پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ رہا معاملہ جنگی جرائم یا کسی دوسرے پہلو سے کسی ایسے جرم کا جسے وارکرائم یا Collaborators Act میں جرم قرار دیا گیا ہو تو ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے تک بھی پروفیسر صاحب کو کسی ایسے جرم میں ماخوذ نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بہت واضح ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے ۲۰۱۰ء سے جو محاذ کھولا ہے، وہ طبع زاد ہے اور ۱۹۹۲ء سے ۲۰۰۸ء تک پروفیسر صاحب یا جماعت اسلامی کی قیادت پر قتل و غارت اور اخلاقی جرائم کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ جو کچھ گذشتہ چھے سات سال سے کیا جارہا ہے، وہ حکومت کی صریح دروغ بیانی ہے۔ جنگی جرائم کے نام نہاد ٹریبونل نے جو کچھ کیا ہے، وہ انصاف کا قتل ہے۔ غضب ہے کہ ان بے داغ سیاسی قائدین پر ایک سے ایک کریہہ اتہام لگایا جارہا ہے اور ظلم کی انتہا ہے کہ ان ناکردہ گناہوں پر ان کو پھانسی اور عمرقید کی سزائیں دی جارہی ہیں۔
ان افراد کے مقدمے اور سزا کے لیے، جنھوں نے جنگ ِ آزادی کے دوران افواجِ پاکستان سے خفیہ تعاون کیا اور یہ کرتے ہوئے دیگر مجرمانہ افعال کے لیے ایک خصوصی قانون بنا: Bangladesh Collaboration (special tribunal) Order 1972 (PO No.89 1972) بنایا گیا۔ اس قانون کے تحت کچھ لوگوں پر مقدمہ چلایا گیا اور سزا دی گئی۔ لیکن بعد میں سزایافتہ اور ان افراد کو جو مقدمات کے لیے مطلوب تھے، معافی دے دی گئی، سواے ان لوگوں کے جو سنگین جرائم، مثلاً قتل، عصمت دری، آتش زنی وغیرہ میں سزا یافتہ تھے یا مطلوب تھے۔ بالآخر یہ قانون منسوخ کر دیا گیا۔ لیکن نہ تو ۱۹۷۲ء کا PO No.8 اور نہ PO No.149 میں کوئی ایسی دفعہ ہے جو کسی کی بنگلہ دیش کے شہری ہونے کی اہلیت ختم کردے۔
بھارتی فوج کے ساتھ جنگ ِ آزادی کے دوران تعاون کرنے اور قتل، عصمت دری یا آتش فشانی کرنے یا اس میں مدد دینے یا آزادی کے بعد بنگلہ دیش دشمن سرگرمیوں میں حصہ لینا، اس قسم کے کسی جرم کا ارتکاب درخواست گزار کے خلاف کسی بااختیار عدالت میں ابھی تک رپورٹ نہیں کیا گیا ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی آگے بڑھ کر درخواست گزار کے خلاف کریمنل لا کے تحت پولیس میں ایف آئی آر درج کرواکر یا کسی مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دائر کر کے کارروائی کا آغاز نہیں کیا ہے۔
مزید یہ کہ درخواست گزار نے بعد کی مطبوعات میں درج کیے گئے واقعات کی سچائی کو چیلنج کیا ہے۔ سواے چند خبروں اور ایک تصویر کے جن سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ درخواست گزار جنرل ٹکا خان یا جنرل یحییٰ سے ملا ہے، کوئی چیز بھی نہیں ہے جو درخواست گزار کو ان مظالم میں ملوث کرے جن کا پاکستانی فوج اور ان کے حلیفوں البدر اور الشمس کے رضاکاروں پر الزام لگایا جاتا ہے۔ کوئی بھی چیز درخواست گزار کو براہِ راست ملزم ثابت نہیں کرتی سواے اس بات کے کہ درخواست گزار آزادی کی اس جنگ کے دوران فوجی جنتا کے ساتھ ملتاجلتا تھا۔
بنگلہ دیش کی عدالت ِ عالیہ کے ۱۹۹۲ء کے فیصلے سے تین باتیں بالکل واضح ہوجاتی ہیں جن کا تعلق اصولی طور پر ان تمام افراد اور اُمور سے بھی ہے جن پر ۲۰۱۰ء کے جنگی جرائم کے ٹریبونل نے انصاف کاخون کرتے ہوئے فیصلے صادر فرمائے ہیں۔
۱- بنگلہ دیش جنگ ِ آزادی کے دوران جن لوگوں نے اس کی مخالفت کی، وہ کسی جنگی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔ یہ ایک نظریاتی اور سیاسی پوزیشن تھی۔ اس کے برعکس اگر کوئی فرد کسی غیرقانونی حرکت کا مرتکب ہوا ہے تو اس پر متعلقہ قانون کے تحت گرفت ہونی چاہیے اور قانون اور مجاز عدالت میں ہونی چاہیے۔ دونوں کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔
۲- محض جنگ ِ آزادی میں عدم شرکت یا اس کی مخالفت کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی شہریت سے کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کی وجہ سے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جس نے اس سے وفاداری کا عہد کیا ہے، اس کے اس عہد کو چیلنج کیا جاسکتا ہے یا مشتبہ بنایا جاسکتا ہے۔ البتہ آزادی کے بعد اگر کسی نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور وہ قانون کے مطابق مجاز عدالت سے ثابت ہوجاتا ہے تو اس پر گرفت ہوسکتی ہے۔
۳- جہاں تک پروفیسر غلام اعظم صاحب کا تعلق ہے، ۱۹۹۲ء تک ان پر کوئی الزام بھی کسی مجاز عدالت میں نہیں لگایا گیا اور ۷۳-۱۹۷۲ء میں جن افراد پر الزامات لگائے گئے تھے، ان میں پروفیسر صاحب کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ محض اخباری اطلاعات اور سنی سنائی باتوں (heresy) کی بنیاد پر ایسے سنگین الزامات لگانے کی کسی ایسے معاشرے میں کوئی گنجایش نہیں جو قانون کی حکمرانی کا دعوے دار ہو۔
گو یہ تینوں باتیں پروفیسر صاحب کے سلسلے میں عدالت کے فیصلے میں آئی ہیں لیکن یہ ان تک محدود نہیں اور برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسرے تمام افراد جنھیں اس وقت ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان کے بارے میں بھی اتنا ہی لاگو (applicable) ہے، لیکن اب عدالت اور پوری انتظامی مشینری جس بے دردی اور بے شرمی سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہے، اس نے پورے نظامِ حکومت کو غیرمعتبر بنادیا ہے۔ اس کھلے کھلے ظلم میں سب ہی شریک نظرآرہے ہیں اور اب اس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جانے لگا ہے بلکہ وہ بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں جو حسینہ واجد کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چند آرا حقائق کو واضح کرنے کے لیے پیش کی جارہی ہیں۔
دی اکانومسٹ اپنی ۱۴مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں ’بنگلہ دیش __ یک جماعتی آمریت کی پھسلن پر‘(Bangladesh is sliding into one party dictatorship) کے عنوان سے لکھتا ہے کہ بنگلہ دیش کا اصل مسئلہ عدم برداشت اور مخالفت کی آواز کو قوت سے دبانا ہے جسے وہ بنگلہ دیش کا ’پیدایشی مرض‘ قرار دیتا ہے۔ اور وہ مرض کیا ہے؟ ___ ’’ایک سیاسی کلچر جو اختلاف کو برداشت نہیں کرسکتا اور جو اقتدار کو اسے کچلنے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے‘‘۔
بہت سے بنگلہ دیشیوں کو اس پر غصہ تھا کہ اتنے طویل عرصے تک ۱۹۷۱ء میں کیے گئے جرائم کا کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھیرایا گیا۔ اس لیے جب عوامی لیگ کی شیخ حسینہ کی حکومت نے ۲۰۱۰ء میں ٹریبونل قائم کیا تو اس اقدام کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن یہ عمل انصاف کے ساتھ ایک مذاق ثابت ہوا۔ یہ دراصل عوامی لیگ کی مخالفت کو کمزور کرنے کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈکر پکڑنے کی ایک کارروائی تھی۔ نظامی صاحب اپنی پارٹی جماعت اسلامی کی چوتھی سینیرشخصیت ہیں جن کو سزاے موت دی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی حکومت میں اس کی اتحادی تھی، اس کی پاداش میں شیخ حسینہ کے مظالم کا نشانہ بن رہی ہے۔ نظامی صاحب نے اس کے وزیرصنعت کی حیثیت سے کام کیا۔ جماعت اسلامی رُوبہ زوال ہے لیکن بنگلہ دیش کے بعض حصوں میں اب بھی ایک طاقت ہے…
اپوزیشن کنارے لگا دی گئی ہے اور عوامی لیگ پریس کو دبائو میں لے آئی ہے اور زبان بندی کردی ہے اور سرکاری ملازموں کو بہت زیادہ تنخواہیں بڑھا کر خرید لیا ہے۔ عدالتیں، سول سروس، فوج اور پولیس، سب پوری طرح سیاست زدہ ہیں۔
یہ ٹریبونل جماعت اسلامی کے قائدین کو ہدف بنانے کے لیے حکومت کا ایک سیاسی حربہ بن گیا ہے۔ (ڈیلی ٹائمز، ۱۲مئی ۲۰۱۶ئ)
بھارت کا روزنامہ دی ہندو اس سے پہلے برادرم علی احسن محمد مجاہد اور محترم صلاح الدین قادر چودھری کو پھانسی دیے جانے کے اس ٹریبونل کے فیصلے کے بارے میں ایسے ہی جذبات کا اظہار کرچکا ہے۔ سزاے موت کے باب میں دی ہندو کا کہنا یہ تھا کہ:
اس نے مقدمے کی کارروائی کو بجاے انصاف کے حصول کے، جو کسی ریاست کے قانونی نظام کی بنیاد ہونی چاہیے، انتقام کا رنگ دے دیا ہے۔ (Crime and Penalty in Bangladesh، دی ہندو، ۲۵نومبر ۲۰۱۵ئ)
بھارتی صحافی اور سابق سفارت کار کلدیپ نائر جو جماعت اسلامی کا سخت ناقد اور مذہبی قوتوں کا مخالف ہے اور ان کو غیرمؤثر دیکھنا چاہتا ہے وہ بھی اپنے syndicated مضمون میں جو پاکستان ٹوڈے (۱۹ جنوری ۲۰۱۵ئ) میں شائع ہوا ہے اور جس کا عنوان ’بنگلہ دیش کا المیہ ‘ ہے، میں لکھتا ہے:
یہ بات کہ شیخ حسینہ آمرانہ مزاج رکھتی ہے کوئی نئی بات نہیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت ایک فردِ واحد کی حکومت ہے۔ حتیٰ کہ عدلیہ بھی ایسے فیصلے دینے سے ہچکچاتی ہے جو اسے ناراض کریں۔ رہی نوکرشاہی ،تو وہ محض ربڑاسٹامپ ہے۔
انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز کے ایک حالیہ شمارے (۲۰مئی ۲۰۱۶ئ) میں امریکا کے ایک سابق سفیر اور واشنگٹن کے مشہور تھنک ٹینک ووڈرو ولسن سنٹر کے اسکالر ولیم میلام کا مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان Bangladesh's Real Terror ہے۔ اس میں وہ اعتراف کرتا ہے:
عوامی لیگ کا سیاسی مخالفین اور سول سوسائٹی کے خلاف عدلیہ اور پولیس کو استعمال کرنا ایک معمول کی کارروائی ہے۔
یہ وہ کرب ناک صورتِ حال ہے جس نے پوری عدلیہ اور انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور سیاسی آمریت کے سایے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن انتقام اور ظلم کا سب سے مؤثر ذریعہ جنگی جرائم کا نام نہاد بین الاقوامی ٹریبونل بن گیا ہے جو اب تک ۱۳؍افراد کو سزاے موت دے چکا ہے جن میں سے پانچ کو سولی پر چڑھایا بھی جاچکا ہے۔ برادرم مطیع الرحمن نظامی اس کا تازہ ترین شکار ہیں۔ ان کے سلسلے میں انصاف کا کس طرح خون کیا گیا ہے، اس کی داستان انگلستان کے مشہور قانون دان بیرسٹر ٹوبی کاڈمین نے اپنے حالیہ مضامین میں پیش کی ہے۔ ہم اس تاریخی ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے ان کی تحریر کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں جو مشہور آن لائن مجلہ The Huffington Post میں ۱۴مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے:
آج بین الاقوامی انصاف کے لیے ایک افسوس ناک دن ہے۔ ۱۱مئی ۲۰۱۶ء کو ایک بجے شب مطیع الرحمن نظامی کو ڈھاکہ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔یہ پھانسی دیے جانے والے پانچویں شخص ہیں جنھیں انتہائی ناقص بین الاقوامی کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی بی) کے حکم پر پھانسی دی گئی۔ یہ ٹریبونل بین الاقوامی جرائم کی جواب دہی اور فراہمیِ انصاف کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اس کی کارروائی کے جواز کو بے ضابطگیوں، مقدمات کو سیاسی طور پر حسب موافق و منشا بنانا اور قانونی ناانصافی نے مجروح کردیا۔ سپریم کورٹ اور آئی سی ٹی بی کے فیصلوں کا ایک سادہ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ ان دوسرے افراد کی طرح جن کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا نظامی کے مقدمے کی کارروائی بھی بین الاقوامی انصاف کے معیارات کے مطابق نہیں ہوئی۔ متعدد بین الاقوامی قانونی ماہرین نے ایک عام بیان میں جو پھانسی کی سزا سے دو دن پہلے جاری کیا گیا تھا یہی موقف اپنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: جو لوگ آئی سی ٹی بی میں پیش ہونے والے تھے، ان کو دستوری اور منصفانہ ٹرائل میں جو تحفظات حاصل تھے انھیں حکومت نے واضح طور پر ختم کرکے اس کی اثرپذیری اور قانونی استحقاق کو شروع ہی سے ختم کردیا۔ اور مزید جو کچھ بعد میں ہونا تھا، اس کے لیے زمین ہموار کر دی۔ اس بیان پر آزاد اور نام وَر وکلا، جج اور ماہرین کے ایک گروہ کے دستخط ہیں۔
استغاثے کے مطابق نظامی ’البدر‘ کے جو پاکستان آرمی کی نیم فوجی فورس تھی، چیف تھے لیکن بکثرت ریسورسز تک رسائی کے باوجود سرکاری وکیل کوئی ایسی شہادت پیش کرنے سے قاصر تھا جو اس تنازعے سے متعلق ہو اورجس سے یہ ظاہر ہو کہ نظامی اس منصب کے حامل تھے۔ اس کے بجاے انھوں نے اشاروں (innuendo) اور نتیجہ نکالنے (inferences) کو ترجیح دی۔
فیصلے کی زبان اور بیان فنی کے بجاے لفظی اور یک رُخی ہے لیکن قانونی نقطۂ نظر سے جو بات اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ یہ جرائم سے متعلقہ عناصر کے مکمل تجزیے سے محروم ہے۔ گو کہ اپیل کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نسل کشی کی سزا کو برقرار رکھا لیکن کورٹ نے نہ تو مطلوبہ تقاضوں (subjective)، یعنی نسل کشی کی تعریف کے مطابق متعلقہ گروہ کا تعین کیا ، نہ جرم کا ذہنی عنصر کو جو اس قسم کے جرم کا ایک لازمی خاصہ (فیچر) ہوتا ہے، فیصلے میں بیان کیا گیا۔
بہرحال مقدمے کی ناانصافی متعلقہ شہادتوں اور قانونی تجزیہ نہ ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ اساسی بنیادی حقوق کو بھی متاثر کرتی ہے۔ نظامی کے خلاف مقدمہ اسلحے کی خوف ناک عدم مساوات سے متاثر (infect) تھا۔ استغاثے کو تفتیش کے لیے ۲۲ماہ دستیاب تھے، جب کہ دفاع کے لیے مقدمے کی تیاری کے لیے محض تین ہفتے دیے گئے۔ استغاثہ نے ۲۶ گواہ بلائے، جب کہ مستغیث کو چار سے زیادہ گواہ بلانے سے روکا گیا۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن یہ حقیقت ہے کہ گواہوں نے یہ قبول کیا کہ انھوں نے رشوتیں قبول کرنے کے بعد ایک خاص بیان دینے کی مشق کی اور جھوٹی گواہی دی ہے۔
اس حقیقت کے خلاف بڑی آراستہ و پیراستہ بیان بازی کے باوجود اس سے مفر نہیں ہے کہ آئی سی ٹی بی سیاسی طور پر ایک ساختہ پرداختہ ٹریبونل ہے۔ اسکائپ گیٹ اسکینڈل جس میں آئی سی ٹی بی کے ججوں اور ایک تیسرے فریق کے درمیان گھنٹوں گفتگو کا تجزیہ کیا گیا تھا، اس نے نہ صرف یہ ظاہر کیا کہ آئی سی ٹی بی کے جج بیرونی احکامات کی پیروی کرتے ہیں بلکہ مقدمے کا سامنا کر نے والوں کا جرم پہلے ہی سے طے ہے۔
متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی انجمنوں کی جانب سے آئی سی ٹی بی اور بنگلہ دیش پر پہلے ہی تنقید کی جارہی ہے کہ مقدمے کا سامنا کرنے والوں کو دستوری حقوق سے محروم کیا گیا ہے اور ایک جانب دار موقف اختیار کیا گیا ہے۔ یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ٹریبونل کے قانونی اختیارات تنازعے کے ایک فریق کے کیے گئے جرائم تک محدود ہیں۔
اس مرتبہ نظامی کی پھانسی کو روکنے کے لیے عوام کا احتجاج پہلے کے مقابلے میں بہت مضبوط اور بہت زیادہ تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ، ٹام لنٹس ہیومن رائٹس کمیشن، دی بار ہیومن رائٹس کمیشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز اور سابق سفیر امریکا براے وارکرائمز نے بیانات دیے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے کمیشن براے انسانی حقوق نے نظامی کی سزا کو روکنے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ ٹریبونل نے جن مقدمات کو سناہے، وہ بدقسمتی سے منصفانہ مقدمے اور مقررہ قانونی کارروائی کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت بنگلہ دیش نے ان تمام مطالبات اور تنقید کو بالکل نظرانداز کر دیا جس سے آدمی کو یہ پیغام ملتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کے لیے زیادہ مضبوط اقدام کرنے کا وقت ہے۔
انصاف کی ضرورت کو مسخ کردیا گیا ہے اور وہ ایک انتقام کی تلاش میں تبدیل ہوگیا۔ بغیر مقررہ قانونی کارروائی، بغیر حقوق کے اور یہ قانونی کارروائی محض ایک دکھاوے کا مقدمہ ہے اور موت کا فیصلہ آمرانہ قتل قرار پاتا ہے۔
برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسری تحریکی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ جنگی جرائم پر گرفت کے نام پرجو ظلم کیا جا رہا ہے، اس کے قانونی، عدالتی پہلوئوں اور عالمی اداروں کے اس ڈھونگ پر ردعمل کے اس مختصر جائزے کے ساتھ یہ امر بھی نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ جہاں دنیا کے گوشے گوشے سے اسلامی تحریکات، انسانی حقوق کے نام وَر اداروں اور کچھ اہم سیاسی اور علمی شخصیات نے ان پر بھرپور احتجاج کیا ہے اور ترکی کے صدر اور وزیراعظم نے سب سے مؤثر انداز میں اس ظلم کو برملا ظلم کہا ہے اور بنگلہ دیش سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے، وہیں بیش تر مسلم ممالک کی قیادتیں خاموش تماشائی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھی نمایشی ردعمل سے ہٹ کر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا اور مغرب کی وہ تمام قیادتیں اور تجزیہ نگار جو جانوروں اور درختوں کے تلف کیے جانے پر تو آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں اور سیاسی اور معاشی پابندیوں (sanctions) کے تیرونشتر حرکت میں آجاتے ہیں، وہ بالکل منقار زیر ہیں بلکہ چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اسلامی تحریکات اور شخصیات پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑے جائیں تو ان کے ضمیر میں کوئی کسک نہیں ہوتی۔ یہی وہ منافقت اور دوغلاپن ہے جو مغرب کی سیاسی اور فکری قیادت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے اور اگر عام انسان اس گندم نما جوفروشی پر اپنے اضطراب اور غصے کا اظہار کرتے ہیں تو معصوم چہرہ بناکر فرمایا جاتا ہے Why do they hate us? (وہ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟)
برادرم مطیع الرحمن نظامی اور دوسرے مظلوم رہنمائوں اور ساتھیوں کی پاک دامنی کا ثبوت یہ ہے کہ عدالت متعصب ہے، قانون بددیانتی پر مبنی ہے، انصاف کے ہرتقاضے کا خون کیا جارہا ہے، ملزموں کو دفاع کے حق اور کم سے کم مواقع سے بھی محروم رکھا جارہا ہے، گواہوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، حتیٰ کہ اغوا کیا جارہا ہے اور عدل کی فراہمی کے عمل میں کھلے کھلے مداخلت کی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ وزرا، سرکاری مشیر، بیرونی افراد ججوں کو ہدایات دے رہے ہیں اور آخری حد یہ ہے کہ جب کورٹ کے چیف جسٹس نے عدالت میں کھلے الفاظ میں یہ تک کہہ دیا کہ ملزموں کے خلاف نہ کوئی قابلِ اعتماد گواہی اور شہادت ہے اور نہ استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرسکا ہے تو بھارت کا ہائی کمشنر فیصلے کے اعلان سے ایک دن پہلے کھلے بندوں چیف جسٹس سے ملتا ہے اور وہی چیف جسٹس صاحب اس شخص کو جس پر اس کے اپنے بقول استغاثہ جرم ثابت نہیں کرسکا، نہ صرف موت کی سزا دے دیتے ہیں بلکہ یہ بھی فرما دیتے ہیں: ’’جنگی جرائم کا ثابت ہونا ضروری نہیں، بلکہ جنگ ِ آزادی کی مخالفت بھی ایک کافی ’جرم‘ ہے ‘‘ اور اس طرح معصوم انسانوں کو تختۂ دار پر چڑھایا جارہا ہے۔
ایک طرف حکمرانوں، عدالتوں اور قانون کے محافظوں کا یہ کردار ہے اور دوسری طرف ان افراد کی پوری زندگیوں کو دیکھا جائے جن کو اس ظلم و سفاکیت اور انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو ایک بالکل دوسری ہی تصویر سامنے آتی ہے۔
آیئے کچھ جھلکیاں تصویر کے دوسرے اور اصل رُخ کی بھی دیکھ لیں۔ وہ حضرات جن کو ظلم اور عدالتی قتل کا نشانہ بنایا جارہا ہے ان کا اصل کردار کیا ہے اور معاشرے میں ان کے لیے کیا جذبات ہیں، یہ سب ایک کھلی کتاب کے مانند ہے۔
مطیع الرحمن نظامی ضلع پبنہ کے گائوں منحت پور میں ۳۱مارچ ۱۹۴۳ء کو ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کی اور پھر ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شعیب پور کے مدرسے کی طرف رجوع کیا جس سے فارغ ہوکر ڈھاکہ کے مدرسۂ عالیہ سے ۱۹۶۳ء میں کامل کی سند حاصل کی۔ دینی علوم کے ساتھ آپ نے جدید تعلیم کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ڈھاکہ سے ۱۹۶۴ء میں انٹر اور پھر ڈھاکہ یونی ورسٹی سے ۱۹۶۶ء میں بی اے کی سند لی۔
مدرسیہ عالیہ ہی کے دور میں تحریک اسلامی سے رشتہ جوڑا اور خرم بھائی کی تحریک پر جمعیت طلبہ عربیہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ ۱۹۶۳ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے اور ۱۹۶۵ء میں مرکزی شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۶۶ء سے ۱۹۶۹ء تک مشرقی پاکستان جمعیت کے ناظم رہے اور ۱۹۶۹ء میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے اور اس طرح مشرقی پاکستان سے پہلے ناظم اعلیٰ منتخب ہونے کی سعادت پائی۔ یہ ذمہ داری ۱۹۷۱ء تک ادا کی اور اس طرح متحدہ پاکستان کی جمعیت کے آخری ناظم اعلیٰ ہونے کا تاج بھی ہمیشہ کے لیے ان کے سر کی زینت بن گیا۔
۲۰ویں صدی میں اسلامی تحریکات کے قائدین کو طرح طرح کی آزمایشوں سے سابقہ رہا ہے اور شہادت اور عدالتی قتل ان کا حصہ رہے ہیں لیکن جہاں تک میرا حافظہ ساتھ دیتا ہے، برادرم مطیع الرحمن نظامی کسی ملک کے پہلے امیرجماعت ہیں جنھیں امیرجماعت ہوتے ہوئے عدالتی ڈرامے کے نتیجے میں شہادت کی سعادت نصیب ہوئی ہے ع
یہ رُتبہ بلند ملا، جس کو مل گیا
نظامی صاحب پر الزامات کی حقیقت
میں اپنے۵۰ سال سے زیادہ پھیلے ہوئے ربط و تعلق کی بنیاد پر پورے وثوق سے یہ گواہی دینے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ان کا جو اَخلاق، جو مزاج، جو جذبات و احساسات میں نے دیکھے اور ان کی ذاتی زندگی، تحریکی معاملات، ملکی اور سیاسی اُمور کو انجام دینے کے طریقے کا جتنا مجھے تجربہ ہے، اس کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ جن جرائم کو ان کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے ان کے بارے میں قرآن کے الفاظ میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ o (النور ۲۴:۱۶)
ان الزامات کے بارے میں نظامی بھائی نے ٹریبونل کو جو بیان دیا ہے اس کے یہ اقتباسات میرے احساس کو تقویت پہنچاتے ہیں:
’’میرے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں انھیں تاریخ کا بدترین جھوٹ کہوں گا۔ یہ مقدمات مخالفین کے سیاسی قدکاٹھ کو کم تر بناکر پیش کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ میں عرصۂ دراز سے کارزارِ سیاست میں ہوں۔ صرف سیاسی بنیادوں پر کسی کو عدالتوں کے حوالے کر دینا کوئی کمال نہیں ہے۔ میری جو سرگرمیاں بھی رہی ہیں، سیاسی کارکن کے طور پر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہیں۔
’’جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے میں کبھی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں رہا۔ کوئی بھی حکومت آخری حکومت نہیں قرار دی جاسکتی، نہ دنیاکی کسی عدالت کو آخری عدالت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس عدالت کے بعد ایک اور عدالت ہے اور تمام افراد کو اس عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’’۱۹۷۱ء میں، مَیں ایک سیاسی کارکن تھا اور میرا کسی غیرقانونی سرگرمی سے تعلق نہ تھا۔ میرا مطالبہ یہ تھا کہ مقامی طور پر جو نمایندے منتخب ہوئے ہیں، ان کو اقتدار منتقل کیا جائے۔ جماعت اسلامی بھی یہی مطالبہ کر رہی تھی کہ اقتدار منتخب نمایندوں کو منتقل کیا جائے۔ اسلامی چھاترو شنگھو (اسلامی جمعیت طلبہ) بھی یہی مطالبہ کر رہی تھی۔ اگر اقتدار منتخب نمایندوں کو منتقل کر دیا جاتا تو موجودہ کریہہ صورتِ حال پیدا نہ ہوتی۔
’’تاریخ گواہ ہے کہ کس نے اقتدار کی منتقلی کے لیے زور دیا اور کس نے رکاوٹ پیدا کی؟ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ثبوت دے سکے کہ اقتدار کی منتقلی میں جماعت اسلامی نے رکاوٹ پیدا کی۔ بھٹو کی تقریر کی مخالفت سب سے پہلے میں نے کی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جنھوں نے اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ پیدا کی۔ ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ خان کے بل بوتے پر اقتدار سے لطف اندوز ہورہے تھے یا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اس سوال پر تحقیق ہونی چاہیے۔ نہ ہمارا کوئی ایسا رابطہ تھا، نہ ایسی کوئی بنیاد تھی جس کی بنیاد پر ’نسل کشی‘ کا ارتکاب ہوتا۔
’’اتفاقیہ طور پر میں اُس وقت متحدہ پاکستان کی ’اسلامی چھاترو شنگھو‘ [اسلامی جمعیت طلبہ] کا ناظم اعلیٰ تھا اور میں ستمبر کے آخری ہفتے تک اس ذمہ داری پر رہا۔ ۲۹ ستمبر تا یکم اکتوبر کو ایک کانفرنس [۲۰واں سالانہ اجتماع] ملتان میں ہوئی اور مجھے اس ذمہ داری سے فارغ کر دیا گیا۔
’’بعدازاں ایک دینی ریسرچ سنٹر کے ممبر کے طور پر میں نے کام شروع کر دیا۔ مجھ پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، اُن میں الزام نمبر۱۶ یہ ہے کہ میں اُس وقت عہدے دار تھا اور چھاتروشنگھو کا مرکزی صدر تھا،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں اکتوبر کے بعد اُس کا عام کارکن بھی نہیں تھا، بلکہ اُس وقت میں جماعت کا رُکن بھی نہیں تھا۔ اس حوالے سے یہ سوال اُٹھانا بے بنیاد ہے کہ جماعت اسلامی کے صدر کے طور پر میری کیا سرگرمیاں تھیں۔
’’میرے بارے میں کہا گیا کہ میں ’البدر‘ کا سربراہ تھا۔ اس سلسلے میں جو شہادتیں پیش کی گئی ہیں، اُن میں کسی سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میں البدر اور رضاکاروں کا کمانڈر تھا۔ بطور ثبوت جو کتاب پیش کی گئی ہے، اُس میں تحریر ہے کہ ’انصار باہنی کو رضاکار باہنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ انصارباہنی کا سازوسامان، البدر باہنی کے حوالے کر دیا گیا۔ انصارباہنی کے ذمہ دار، رضاکار کے اعلیٰ عہدے دار بن گئے۔ انصار باہنی کے نمایاں لوگ، البدر کے اہم ترین اور نمایاں ترین عہدے دار بن گئے۔ تب میرے لیے کون سا موقع تھا کہ میں رضاکاروں کا کمانڈر یا سربراہ بن جاتا۔ آپ کی جانب سے پیش کی جانے والی کتاب سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ میرے رضاکاروں کے سربراہ بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
’’میرے خلاف کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انھیں کریمنل پروسیجر ۱۸۹۸ء کے تحت پیش کیا گیا ہے، لیکن میرا ضمیر صاف ہے اور میں اپنے رب کے حضور سرخ رو ہوں کہ ایک سیاسی کارکن کے سوا میرا کوئی کردار نہ تھا۔ میرا کسی بھی غیراخلاقی، جنگی یا انسانیت کے خلاف جرائم میں کوئی کردار نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی کسی بھی شرم ناک حرکت اور سرگرمی سے بچائے رکھا۔
’’میرے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ، میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی جرم میری موجودگی میں کبھی نہیں ہوا، نہ میری رضامندی سے ہوا اور نہ میں ایسے کسی جرم سے واقف ہوں۔ میں جن جن جگہوں پر گیا ہوں، اُن کے نام اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں، لیکن میں اپنے والدین سے ملنے کے لیے ایک روز بھی نہیں گیا۔ جن علاقوں میں جرائم کا ارتکاب ہوا، نہ میں وہاں گیا، نہ میں نے جرائم کا ارتکاب کیا تو میں کس طرح ان جرائم کا ذمہ دار ٹھیرایا جاسکتا ہوں؟ میں اسے تاریخ کا بدترین جھوٹ ہی کہہ سکتا ہوں۔
’’مجھ پر الزامات کے دوران جن علاقوں کے ناموں کا تذکرہ ہے، ان میں سے کئی نام میرے لیے نئے ہیں، مثلاً ’کورموجا‘۔ مجھ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ میں نے کورموجا کے لوگوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیاں کیں، کیونکہ انھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیے تھے۔ لیکن ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں مَیں اُمیدوار ہی نہیں تھا، تو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیے تھے۔
’’اسمبلی کا اُمیدوار پہلی بار ۱۹۸۶ء میں بنا۔ ۱۹۸۸ء میں میرے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل بننے کی خبر شائع ہوئی تو میری اہلیہ کو گمنام شخص کی طرف سے فون کال موصول ہوئی، جس میں کہا گیا کہ اگر میں نے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے طور پر کام کرنا شروع کیا تو میری اہلیہ بیوہ ہوجائے گی۔ میری اہلیہ سے کہا گیا کہ اگر بیوہ ہونے سے بچنا چاہتی ہو تو اپنے شوہر کو جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دو۔
’’جب میں وزیر بنا، میں نے واضح کیا کہ میں نے ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے ملک کو نقصان پہنچا ہو۔ جب میں وزیرزراعت تھا تو ملک کی پیداوار بڑھانے کے لیے کئی بنیادی اور مؤثراقدامات کیے گئے۔
’’کوئی عدالت آخری عدالت نہیں ہے اور کوئی فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ ایک اور عدالت آئے گی جس میں ہم سب کو پیش ہونا ہوگا‘‘۔
میری شہادت مجھے نظر آرہی ہے اور یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑا اعزاز ہے جو وہ اپنے کسی بندے کو عطا فرماتا ہے۔ میری شہادت پر کسی کو رونے دھونے کی ضرورت نہیں۔ میں سب کو صبر کی تلقین کرتا ہوں [پھر قرآنِ حکیم کی یہ آیت پڑھی: وَ اصْبِرُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَo انفال ۸:۴۶]۔ میرا دل بالکل مطمئن ہے، میں اپنے تمام چاہنے والوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی پُرامن جدوجہدجاری رکھیں اور اللہ سے دُعا کرتا ہوں کہ میرے وطن عزیز بنگلہ دیش میں اللہ تعالیٰ اسلامی نظام کے لیے فضا ہموار فرمائے۔
۱۰ مئی ۲۰۱۶ء کی شب آٹھ بجے سے پہلے ان کو ڈھاکہ سنٹر ل جیل منتقل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کا ریویو پٹیشن پر فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے شب اہلِ خانہ سے آخری ملاقات ہوئی۔ خاندان کے ۲۶؍افراد نے مطیع الرحمن بھائی کے ساتھ ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت گزارا۔دن کے دوران دو وزرا نے رابطہ کیا اور اطمینان دلایا کہ اگر رحم کی اپیل کردیں تو سزاے موت کو عمرقید میں تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن نظامی بھائی نے صاف انکار کر دیا کہ یہ خسارے کا سودا ہے۔ شہادت تو مومن کے لیے مقصود و مطلوب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے اتنے قریب آنے کے بعد اس سے محروم رہنے کا کون سوچ سکتا ہے؟ ان کا جواب بڑا نپاتلا تھا:
آٹھ بج کر ۵۸ منٹ پر دو منٹ کے لیے ڈیلی اسٹار کے نمایندے کو آخری بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کال کوٹھڑی میں لایا گیا۔ مطیع الرحمن نظامی نے ایک جملے میں پوری داستانِ حیات بیان کردی:
میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ عمر کے اس حصے میں شہادت نصیب ہو، اس سے بڑی سعادت کی بات اور کیا ہوگی۔
خاندان کے ہم ۲۶؍افراد ان سے ملنے کے لیے جیل کے بلاک راجن ایگندھا میں داخل ہوئے۔ والد صاحب اس بلاک کے آخری کمرہ نمبر ۸ میں تھے اور سبزرنگ کی جاے نماز پر قبلہ رُو دُعا میں مشغول تھے۔ ان کے پوتے نے دادا کو متوجہ کیا جس پر انھوں نے خود دروازہ کھولا اور یوں آخری ملاقات شروع ہوئی۔ موسم بے حد گرم تھا ۔ وہ اور ہم سب ہی پسینے میں شرابور تھے لیکن ان کا چہرہ پُرسکون اور روشن تھا۔
اس ملاقات میں نظامی صاحب نے اہلیہ اور بچوں کو رحم کی درخواست کے بارے میں بھی بتایا اور واضح کیا کہ ’’میں نے زبانی ہی نہیں، لکھ کر بھی دے دیا ہے کہ مَیں اللہ کے سوا کسی سے رحم کی درخواست نہیں کرتا۔ زندگی اور موت کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور میں کسی انسان سے رحم کی درخواست کر کے اپنے ایمان کو تباہ نہیں کرنا چاہتا۔
۱۰مئی ۲۰۱۶ء سہ پہر کے وقت جیل کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو لکھ کر دے دیا ہے کہ: I would not seek any mercy or clemency
اس ملاقات میں عجیب سماں تھا، جذبات موجزن تھے۔ میرے والد نے ہم سب کو صبر کی تلقین کی اور بار بار کی۔ والد صاحب پُرسکون تھے۔ ان کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ایک نفس مطمئنہ اپنے رب سے ملنے کا منتظر ہے۔
پھر کچھ دیر کے لیے ہم سب کمرے سے باہر چلے گئے اور صرف والدہ، والد صاحب کے ساتھ رہ گئیں۔ میری والدہ نے بتایا کہ ہم نے ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور شہادت کے اعلیٰ مرتبے کو اتنا قریب دیکھ کر رب کا شکر ادا کیا۔
ہم اللہ کے سامنے بھی گواہی دیں گے کہ آپ ایک نیک اور دیانت دار شخص تھے اور آپ نے کبھی کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔
اس کے جواب میں میرے والد نے والدہ کو یہ نصیحت کی کہ اب آپ کو صرف ماں ہی نہیں بچوں کے لیے باپ کا کردار بھی ادا کرنا ہے۔ آپ مجھے میرے بیٹوں اور بیٹیو ں کی شخصیت میں پائیں گی۔
ہم سب ایک بار پھر کمرے میں داخل ہوگئے۔ اس موقعے پر والد صاحب نے سب کو مخاطب کر کے جو کہا اس کا خلاصہ یہ ہے:
تم سب آیندہ بہت ہم آہنگی کے ساتھ رہو۔ اللہ اور رسول کے راستے کی پیروی کرو اور اپنی والدہ کا خیال رکھو۔ تم مجھے اپنی ماں میں پائو گے۔ یہ بھی یقینی بنائو کہ تمھاری والدہ مجھے تم میں پائیں۔ تم لوگوں کو میرے بارے میں بتائو جیساکہ تم نے مجھے دیکھا ہے، مبالغہ مت کرو۔ اب میری عمر ۷۵برس ہوگئی ہے۔ میرے بیش تر رفقاے کار اور ساتھیوں کو اتنی طویل زندگی نہیں ملی۔ تمھیں اپنا باپ بہت طویل مدت کے لیے زندہ ملا۔ زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ اگر اللہ کی مرضی ہے کہ میں آج رات مرجائوں تو اگر میں اپنے گھر پر ہوتا جب بھی مجھے موت آجاتی۔ ہمیشہ اللہ کے بارے میں پُرامید رہو اور اللہ کے شکرگزار بھی رہو۔
اس کے بعد ہم نے اپنے بچوں اور بچیوں کو پیار اور دُعا کے لیے ان کے سامنے پیش کیا، خصوصیت سے چھوٹے بچوں کو۔ ان کا ارشاد تھا:’’میں ان کے لیے دُعائیں کررہا ہوں تاکہ وہ مجھ سے بھی بڑے ہوجائیں، رسولؐ اللہ کے صحابہ کی طرح‘‘۔
والد صاحب نے خصوصیت سے ہمیں پیغام دیا کہ تحریک اسلامی کے تمام قائدین اور کارکنوں تک ان کا سلام اور دُعاپہنچا دیں اور یہ درخواست بھی کی کہ سب سے درخواست کریں کہ ان کے لیے، خصوصیت سے ان کی شہادت کے قبول کیے جانے کی دُعا کریں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں عزت دی ہے اور ان شاء اللہ آنے والی زندگی میں بھی آپ کو عزت دے گا۔
میں دیہات سے آنے والا ایک عام سا آدمی تھا۔ یہ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر کے علما میرے بارے میں اپنی پریشانی اور فکر کا اظہار کر رہے ہیں اور میرے لیے دُعائیں کر رہے ہیں۔
شیخ حسینہ او آئی سی کانفرنس میں اس لیے نہیں گئی کہ اسے یہ اندیشہ تھا کہ وہاں میری رہائی کے بارے میں گفتگو ہوگی۔ یہ تمام چیزیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے بہت زیادہ رحم اور رحمتیں ہیں۔
ہم نے والد صاحب سے استدعا کی کہ اللہ کے دربار میں ہمارے لیے بھی دُعا کریں کہ جنت میں ہم سب کو ملوائے۔
والد صاحب نے فرمایا: نیک عمل کرو کہ جنت تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے۔ ان شاء اللہ پھر اللہ تعالیٰ بھی کرم فرمائیں گے اور ہمیں جنت میں رفاقت نصیب ہوگی۔ پھر انھوں نے بڑی رقت کے ساتھ یہ دُعا کی جو ہمارے دلوں پر نقش ہوگئی۔
انھوں نے پھر اپنے دونوں ہاتھ ہمارے ساتھ دُعا کے لیے اُٹھائے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور رسولؐ اللہ پر درود و سلام بھیجا۔پھر ۲۰منٹ تک رسولؐ اللہ کی سکھائی ہوئی دُعائیں کرتے رہے جیساکہ وہ اپنی پوری زندگی میں کیا کرتے تھے۔
پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی: اے اللہ! میں ایک عام گناہ گار شخص ہوں۔ ازراہِ کرم میرے ان تمام اچھے کاموں کو قبول کرلیجیے جن کی آپ نے مجھے اپنے دین کی خاطر کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ مجھے ایمان اور اسلام کے راستے پر موت تک استقامت عطا فرما اور مجھے شہادت عطا فرما۔ اے اللہ! مجھے اور میری آیندہ نسلوں کو اقامت صلوٰۃ کی توفیق عطا فرمائے اور میری اور تمام اہلِ ایمان کی فیصلے کے دن مغفرت فرما۔ اے اللہ! ہمیں مضبوط ایمان کی برکت عطا فرما اور صرف اپنے پر ہی سچا توکل عطا فرما۔ ہماری زبانوں کواپنے ذکر سے ہمیشہ تر فرما۔ ہم ایسے زندہ قلب کے لیے آپ سے التجا کرتے ہیں جو ہمیشہ آپ سے ڈرے، علم نافع، حلال روزی اور اسلام کے صحیح فہم کی توفیق دے۔ ہم آپ سے اس کی التجا کر رہے ہیں ۔ اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے پچھتانے کی توفیق دے۔ موت کے وقت ہمیں آرام دے اور موت کے بعد ہمیں اپنی مغفرت عطا کر اور دوزخ کی آگ سے بچا۔
یااللہ! ہم کو حلال پر قانع رہنے کی توفیق عطا فرما اور حرام سے بچنے کی توفیق دے۔ ہمیں پوری زندگی اپنا مطیع بنا اور ہمیں اپنی معمولی سی نافرمانی سے بھی دُور رکھ اور ہمیں اپنی ذات کے علاوہ کسی کا محتاج نہ کر۔ اے اللہ! تو ہمیں اپنے نور (قرآن) سے ہدایت دے۔ تو ہمارے گناہوں کو پورا کا پورا جانتا ہے اس لیے ہم تیرے سامنے نادم ہوتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ یاحنّان! یامنان!
انھوں نے یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ! اس ملک کو اپنے دین کے لیے قبول کرلے اور اس ملک کو پُرامن بنا دے اور قتل و غارت، غنڈا گردی، اغوا اور سامراجیت سے محفوظ کردے۔ انھوں نے ملک کی ترقی کے لیے بھی دعا کی۔ اس جذباتی دُعا کے دوران میں میری بیٹی نے جیل کے اہل کاروں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔
یہ منظر، یہ جذبات، یہ دُعائیں، یہ تمنائیں عزیزی مطیع الرحمن نظامی کی کُل کائنات اور سرمایۂ حیات ہیں۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے کبھی اپنے دشمنوں کو بھی تکلیف نہیں دی یہ الزام کہ اس نے درجنوں افراد کے قتل اور دسیوں محصنات سے جنسی زیادتی کا حکم دیا، ایک ایسا جھوٹ ہے جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔ اور یہ سب ایک چھوٹے سے قصبے میں جس کے باسی رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود اس کے جنازے میں شرکت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے۔ پہلے دوانتخابات میں اسے کُل ڈالے جانے والے ووٹوں کا ۵۴ فی صد سے زیادہ حاصل ہوا اور ۲۰۰۸ء میں جب تاریخی دھاندلی، جعلی ووٹ اور سرکاری مداخلت کے سب ریکارڈ ٹوٹ گئے، اس انتخاب میں بھی ووٹوں کا ۴۵ فی صد اسے حاصل ہوا۔
کیا کسی قاتل اور زانی سے بھی اس کے اہل محلہ اور اہلِ شہر ایسا پیار کرتے ہیں؟ بنگلہ دیش سے آنے والی خبریں چشم کشا ہیں۔ نظامی صاحب کی شہادت کے بعد سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جب کہ شہید کے اہلِ خانہ کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ تحریک کے کارکنوں اور حامیوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ہے لیکن شہید کے گھر اور قبر پر ایسے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ وہ شہید کے احسان مند ہیں۔ کتنے ہی ایسے ہیں جنھیں انھوں نے ہرقسم کی مدد دے کر اپنے پائوں پر کھڑا کیا اور ان میں بیش تر افراد وہ بھی ہیں جن کا جماعت سے باقاعدہ کوئی تعلق نہ تھا۔ ان میں سے متعدد نے جنازے کے بعد ان کے احسانات کا ذکر کیا اور بتایا کہ کتنی دُور سے چل کر آئے ہیں تاکہ ان کے جنازے میں شرکت کرسکیں۔ روایت ہے کہ جنازے کے بعد ایک کلین شیو شخص نے جس کا جماعت سے کوئی تعلق نہ تھا، بہ آوازِ بلند اعلان کیا:
میں گواہی دیتا ہوں کہ مطیع الرحمن نیک، بلند کردار شخصیت کے حامل ہیں جو کسی کو قتل نہیں کرسکتے اور ان کو پھانسی دینے والے دنیا اور آخرت میں ذلیل و رُسوا ہوں گے۔(روزنامہ اُمت، ۱۳مئی ۲۰۱۶ئ)
مطیع الرحمن نظامی کے دوسرے صاحب زادے ندیم طلحہ نے اخباری نمایندے سے بات کرتے ہوئے کہا:
ہمیں اپنے والد کی شہادت اور قربانی پر فخر ہے۔ حکمرانوں نے بنگلہ دیش اور اُمت مسلمہ کے سب سے بڑے خیرخواہ اور محب وطن کو پھانسی دی ہے۔ میرے والد نے تاریخ رقم کردی ہے۔ سزاے موت کے خلاف رحم کی اپیل نہ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔ انھوں نے بہت پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا کہ ریکارڈ کی درستی اور حکمرانوں کی بدنیتی کو ظاہر کرنے کے لیے عدالتوں سے تو رجوع کیا جائے گا تاکہ حقائق کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا جائے، مگر کسی حکمران سے رحم کی اپیل نہیں کی جائے گی۔ شہید مطیع الرحمن نظامی کل بھی عوام کے مقبول رہنما تھے اور آج بھی مقبول رہنما ہیں۔
میرے والد اکثر کہتے تھے کہ ہمارے تمام آنسو صرف اللہ کے لیے ہیں۔ میرے والد نے اپنی پوری زندگی ہم وطنوں کی فلاح و بہبود اور اسلام کی ترویج و اشاعت میں صرف کی۔ جن لوگوں کا ان سے قریبی تعلق رہا ہے، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ پروفیسر مطیع الرحمن نے اپنی زندگی، دولت، جان و مال سمیت سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دیا تھا۔ ان کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک بہترین انسان تھے اور آج وہ دنیا کی سب سے بڑی ناانصافی کا سامنا کررہے ہیں۔ اگر ہم اسلام کی آفاقی تحریک سے منسلک نہ ہوتے اور اسلام کی آبیاری کے لیے کام نہ کر رہے ہوتے تو ان کی موت کے بعد یہ دنیا اندھیر ہوجاتی۔ مگر اسلام کے رشتے کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے ہمیں اللہ کی جانب سے روشنی ملتی ہے۔ آج ہم انسانوں سے کوئی گلہ نہیں کرتے۔ صرف اپنے رب سے رحم اور بخشش کا سوال کرتے ہیں۔ ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں۔
اس کی عزت پر حسینہ واجد کے حواری کیا دھول پھینک سکتے ہیں؟ الحمدللہ اپنے اور غیر جس کے بارے میں جو گواہی دے رہے ہیں وہ دلوں پر نقش ہی نہیں فضا کو بھی معطر کیے ہوئے ہے۔ جوشخص آٹھ سال وزیر اور وہ بھی زراعت اور صنعت کا وزیر رہا ہو، لیکن اس کے دامن پر کوئی داغ نہ ہو، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے ۱۹۷۱ء میں یہ اور یہ کیا یا کروایا، اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کا باعث تو ہوسکتا ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ قانونی سقم جو بھی ہوں، اور وہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اس پورے مقدمے کو اسقاطِ عدل (miscariage of justice) کی بدترین مثال ہی کہا جاسکتا ہے، لیکن مسئلے کو جانچنے کا ایک پیمانہ اخلاق اور معاشرے میں شہرت بھی ہے۔ اہلِ خانہ، پڑوسیوں، محلہ داروں، اہلِ شہر، دُور و نزدیک کے آشنائوں کی گواہی بھی ہے۔ بلاشبہہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے اور اس کے فرشتے ہرہرلمحے کا حساب محفوظ کیے ہوئے ہیں لیکن زبانِ خلق بھی نقارئہ خدا کی حیثیت رکھتی ہے کہ ’بھلا کہے جسے دنیا اسے بھلا سمجھو!‘
اس سلسلے میں قرآنِ پاک میں استدلال کا ایک عجیب و غریب پہلو بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔ سورئہ یونس میں قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے کی دلیل کے طور پر قریش کو چیلنج کرکے کہا جاتا ہے کہ کیا تم اس شخص سے واقف نہیں ہو جس کے اُوپر یہ کلام نازل کیا گیا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرا کلام نہیں اللہ کا کلام ہے۔ کیا اس شخص نے پوری زندگی تمھارے درمیان نہیں گزاری؟ کیا تم نے اس کو صادق اور امین کے لقب سے نہیں نوازا؟ جس کی زندگی ایسی ہو، وہ ایسے عظیم معاملے کے باب میں کوئی غلط دعویٰ کرسکتا ہے؟
فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo(یونس ۱۰:۱۶) آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمھارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
(کتابچہ دستیاب ہے، منشورات، منصورہ، لاہور۔قیمت:-/۱۵ روپے، سیکڑہ:۱۰۰۰ روپے)
اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ظالموں کی گرفت اور پکڑ کے لیے اس کا اپنا نظام ہے۔ ڈھیل دینے کی مصلحتیں بھی اسی کی تدبیر کا حصہ ہیں، خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے بھی اس کا اپنا طریقہ ہے اور اربابِ اقتدار کو اچانک گرفت میں لینا بھی اسی کا حصہ ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ انسانی زندگی خیروشر کی کش مکش سے عبارت ہے۔ کبھی کسی کے دن بڑے اور کبھی کسی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں___ لیکن جلد یا بدیر وہ وقت بھی آتا ہے جب اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال کی سی کیفیت برپا ہوجاتی ہے، بڑی بڑی مضبوط کرسیاں ہلنے لگتی ہیں، ظلم و استحصال کے منبع کی حیثیت سے جو قلعے بڑے اہتمام سے تعمیر کیے گئے ہوتے ہیں اور جن کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بڑے بڑوں کو زعم ہوتا ہے، ان میں شگاف پڑنے لگتے ہیں اور شکست و ریخت اور بگاڑ اور بنائو کے نئے سلسلے شروع ہوجاتے ہیں۔
یہ اللہ کی سنت ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے: وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ ط وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَo (انفال ۸:۳۰) ’’وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے‘‘۔ زمانے کے نشیب و فراز کا یہ الٰہی قانون ہے اور بالآخر اس کے ذریعے دُور رس تبدیلیاں رُونما ہوتی ہیں، بڑے بڑے تخت اُلٹ جاتے ہیں، برج گر جاتے ہیں، جو بالا ہوتے ہیں وہ زیر ہوجاتے ہیں اور جو کمزور ہوتے ہیں وہ طاقت وروں پر غالب آجاتے ہیں: وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ج (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۴۰) ’’یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘۔
آج پاکستان میں ملکی سطح پر نگاہ ڈالیں یا عالمی سطح پر نظر دوڑائیں تو ہرطرف تبدیلی کی لہریں موج زن نظر آرہی ہیں۔ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پرانا نظام دم توڑ رہا ہے اور زمانہ نئے نظام کو دعوت دے رہا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا قانون ہے کہ بہتر تبدیلی اس وقت آتی ہے، جب افراد اور اقوام ایسے تاریخی لمحات کے موقعے پر خاموش تماشائی نہیں بنتے، بلکہ حق و انصاف کے حصول اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے صحیح خطوط پر مؤثر اور قرار واقعی جدوجہد کرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، اور بدی کو نیکی، خیر اور حسن سے بدلنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔
اس وقت پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا ممکنہ تبدیلی کے ایک ایسے ہی تاریخی لمحے کے موڑ پر کھڑی ہے۔ کیا ہم تاریخ کی پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہیں؟
۳؍اپریل ۲۰۱۶ء کو ایک ایسی خبر نے پوری دنیا میں ایک ہیجان برپا کر دیا، جس کے بارے میں کسی کو کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا اور جو قدرت کا ناگہانی تازیانہ بن کر نازل ہوئی۔ جرمنی کے ایک اخبار نے ’پاناما لیکس‘ (Panama Leaks) کے نام سے عالمی سطح پر کالے دھن کے کاروبار، اس کی وسعت اور ستم کاریوں کے بارے میں ایک کروڑ سے زیادہ دستاویزات کا راز فاش کیا۔ اس خبر نے دنیا کے گوشے گوشے میں، مالیاتی اور سیاسی میدانوں میں زلزلے کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔۲لاکھ۲۴ہزار نمایشی کمپنیاں ہیں اور کم از کم ۳۲ ٹریلین ڈالر (۳۲کھرب ڈالر) کا سرمایہ ۳۰ ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے جو دنیا کی کُل سالانہ دولت کا ایک تہائی ہے۔جو نمایشی کمپنیاں ہر طرح کے ٹیکس اور ریاستی نگرانی کے نظام سے بالا ہوکر اپنا کھیل کھیل رہی ہیں، انھیں پاناما میں قانون کا تحفظ حاصل ہے۔ حیرت انگیز طور پر ۱۴۶ عالمی لیڈر اس کالے کھیل میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث ہیں، اور مزید سیکڑوں چہروں سے پردہ اُٹھنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
’آف شورکمپنی‘ کا لفظ جو ایک محدود حلقے ہی میں پہچانا اور بولا جاتا تھا، اب زبانِ زدعام و خاص ہے۔ ٹیکس سے بچائو کی پناہ گاہیں (Tax Havens) جو سرمایہ داروں، بڑی بڑی کارپوریشنوں اور بنکوں کی کمین گاہیں بن گئی تھیں، اب وہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہیں۔ بڑے بڑے سیاست دانوں، تاجروں، صنعت کاروں ، حتیٰ کہ ججوں اور خیراتی اداروں کو بھی کالے دھن کے تاجروں اور پجاریوں کی صف میں دیکھا جاسکتاہے۔ اس انکشافی آندھی سے ابھی تو ڈیڑھ سو کے قریب عالمی شخصیات کے چہروں سے پردہ اُٹھا ہے۔ یہ صرف پہلی قسط ہے، جسے سمندر میں تیرتے ہوئے برف کے پہاڑ کا محض چھوٹا سا حصہ کہا جا رہا ہے۔ بس بارش کے چند پہلے قطرے۔ موسلادھار بارش کی پیش گوئیاں تو ۹مئی سے بعد کے زمانے سے منسوب کی جا رہی ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
آئس لینڈ کے وزیراعظم، یوکرین کے صدر، اسپین کے وزیر صنعت و حرفت، FIFA (’فیفا‘ فٹ بال کی بین الاقوامی اتھارٹی) کے سربراہ اور نصف درجن اربابِ اقتدار مستعفی ہوچکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی اخلاقی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور اپنے سارے حسابات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کے باوجود، ان کا قدکاٹھ کم ہوا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ وہ مالیات کی نگرانی کے نظام اور خصوصیت سے کارپوریشنوں اور آف شور کمپنیوں کے کردار میں بنیادی تبدیلیوں کے باب میں فوری اقدام کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
ان کے علاوہ ڈیوڈکیمرون کے وزیرخزانہ، پارلیمنٹ میں لیڈرآف دی اپوزیشن اور متعدد اہم شخصیات نے اپنی آمدنی، ٹیکس ادایگی کی تفصیلات اور ذاتی مالی صورتِ حال، تحریری شکل میں، رضاکارانہ طور پر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے پیش کردی ہے۔ اس طرح انھوں نے بجاطور پر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جواب دہی سے بالاتر نہیں سمجھ رہے۔ یہاں پر یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ جمہوریت کی جو بھی خوبیاں اور خامیاں ہوں، ان میں سب سے اہم چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہوتی ہے۔ سرآئیورجنگز کی کتا ب Cabinet Government (کیمبرج یونی ورسٹی پریس،۱۹۵۹ئ) علمِ سیاسیات میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ: جمہوریت میں اصل چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہے۔اگر اس پر حرف آجائے تو پھر حکمرانی کا جواز باقی نہیں رہتا۔ ہمارے دستور میں بھی ایک دفعہ سیاسی قیادت کے صادق اور امین ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو اپنے دستور کا یہ حصہ یاد رکھنے کی فرصت ہی نہیں!
یورپ کے پانچ ممالک اور دنیا کے ۳۰ سے زیادہ ممالک کے نظامِ احتساب و اصلاح میں تبدیلیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ آف شور کمپنیوں کو قانون کی گرفت میں لانے اور کالے دھن کو قابو میں کرنے کی بات اب سرفہرست آگئی ہے۔ ایک طرف احتساب کا عمل ہے، جو حرکت میں آرہا ہے، تو دوسری طرف کالے دھن کا پورا تصور، ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز ( Tax Haven) کا وجود، اس سلسلے کے قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوئوں پر سوچ بچار اور مالی معاملات میں شفافیت (transparency) کی ضرورت کو وقت کے اہم ترین مسئلے کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ ہزاروں افراد اور اداروں سے جواب طلبی ہورہی ہے۔ دنیا کے پورے مالی دروبست اور ٹیکس کے نظام پر بنیادی نظرثانی کی ضرورت کو اُجاگر کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں۔ ایک شر سے بہت سے خیر کے رُونما ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، حتیٰ کہ امریکا جس کی نصف درجن ریاستیں ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز کا درجہ رکھتی ہیں اور جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے ان ۳۰ممالک میں، جو ٹیکس چوری کی پناہ گاہ ہیں اور تیسرے نمبر پر ہے (یعنی پاناما سے بھی اُوپر ہے) اس کے صدر بارک اوباما کو کہنا پڑا ہے کہ:
اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ عالمی سطح پر ٹیکس کی ادایگی سے بچنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اسے اس لیے قانونی نہیں بنانا چاہیے کہ محض ٹیکسوں کی ادایگی سے بچنے کے لیے رقوم کی منتقلی (transactions) میں مصروف ہوا جائے، جب کہ اس پر زور دیا جانا چاہیے کہ اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہرشخص ٹیکس کے سلسلے میں اپنا مناسب حصہ ادا کرے۔ (دی گارڈین، ۵؍اپریل ۲۰۱۶ئ)
امریکی اٹارنی براے مین ہیٹن، مسٹر پریٹ بھرارے نے امریکا کی ان تمام کمپنیوں، جن کا نام موجودہ فہرست میں آیا ہے اور جن کی تعداد ۲۰۰ ہے ، ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان ۲۰۰کمپنیوں کے بارے میں باقاعدہ تفتیش اور تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے (واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ ’’امریکا کی کوئی کمپنی اس فہرست میں شامل نہیں‘‘، یہ درست بات نہیں ہے)۔ (دیکھیے: دی انڈی پنڈنٹ، لندن،۲۰؍اپریل ۲۰۱۶ئ)
بلاشبہہ پاکستان کی بڑی سیاسی قیادت، کاروباری شخصیات، حتیٰ کہ ایک سابق اور ایک موجودہ جج تک آف شور کمپنیوں کے اس انکشاف کی زد میں ہیں اور یہ ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ پورے مسئلے کو اس کے عالمی تناظر میں دیکھا جائے اور وہ راستہ اختیار کیا جائے، جس کے نتیجے میں ایک طرف کالے دھن کا کاروبار کرنے والے افراد اور اداروں پر ریاست کی اور عالمی احتسابی نظام کی بھرپور گرفت ہوسکے، تو دوسری طرف ظلم اور استحصال کے اس نظام کا ملک ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر قلع قمع کیا جاسکے، جس کی وجہ سے کرپشن، معاشی دہشت گردی اور لوٹ مار کی لعنت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں مفادپرستی، نفع اندوزی، دولت کی شرم ناک عدم مساوات (obscene inequalities) اور انسانوں کے بڑے طبقے کی محرومیاں زندگی کی تلخ حقیقت بن گئی ہیں۔
’کالادھن‘ کرپشن کی ایک ملعون شکل ہے اور اس سے مراد خصوصاً وہ دولت ہے، جو جائز طریقے سے حاصل نہ کی گئی ہو۔ رشوت، کمیشن اور ایسی ہی دوسری قبیح حرکتوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت کے ساتھ وہ دولت بھی، جو چاہے جائز طریقے سے کمائی گئی ہو لیکن اگر اس کو ریاست کے ٹیکس کے نیٹ ورک سے باہر رکھا گیا ہو، تو وہ ’کالے دھن‘ میں شمار ہوتی ہے۔
اسی طرح اگر ایک ہی کمپنی اپنی ذیلی کمپنیوں کی مدد سے اشیاے تجارت کی قیمتوں میں کمی اور اضافے کے ذریعے اخراجات کو مصنوعی طور پر بڑھانے اور دکھائے جانے والے منافعے کو کم کرنے کے لیے ہاتھ کی صفائی کا مظاہرہ کرے، تو یہ بھی کالے دھن ہی کی ایک صورت ہے۔
اگر یہ کھیل قانون کی کھلی کھلی خلاف ورزی کر کے انجام دیا جائے، تو اسے ’فرارِمحاصل‘ یا فرارِ ٹیکس (Tax Evasion) کہتے ہیں اور اگر اس حوالے سے قانون کے کسی سقم سے راستہ نکالا جائے تو اسے ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax Avoidance)کہتے ہیں۔ آف شور کمپنیوں کے ذریعے دونوں ہی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نیز آمدنی اور اس کے اصل ذرائع کو مخفی (secret) رکھا جاتا ہے، اور حسابات اور مالی معاملات کو اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ اصل نفع راز بھی رہے اور ٹیکس کی مشینری کی گرفت میں بھی نہ آئے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ کھلے کھلے دھوکے کا ایک ’خوش نما‘ نام ہے اور ہاتھ کی صفائی کی جادوگری ہے۔ قانون کو ہوشیاری سے توڑا جائے یا قانون کو بھونڈے طریقے سے توڑا جائے، اخلاقی طور پر دونوں قبیح فعل ہیں اور اپنی روح کے اعتبار سے جرائم ہیں۔ اس لیے قانون کے باب میں کہا جاتا ہے کہ اس کی پاس داری لفظی اور معنوی اعتبار سے (in letter and spirit) کی جانی چاہیے۔
دین اسلام پر مبنی قوانین کا یہ امتیاز ہے کہ وہ اَخلاق اور ایک حتمی اور بالاتر اتھارٹی کے حکم پر مبنی ہونے کی وجہ سے ایمان کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کی اطاعت محض قانون کی خانہ پُری کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ حق و انصاف کے قیام اور اللہ کی اطاعت، اور اس کی رضا کے حصول کے جذبے سے ہوتی ہے۔ یہی وہ صورت ہے جس میں قانون اپنی تمام برکات اور اپنے تمام ثمرات سے فرد اور معاشرے کو فیض یاب کرسکتا ہے۔ اللہ اور خلق، دونوں کے سامنے بیک وقت جواب دہی اور اس جذبے کے ساتھ قانون، اس کے الفاظ اور روح کے ساتھ پاس داری میں معاشرے کی مضبوطی اور خوش حالی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو اپنی وسعت اور ہمہ گیریت سے الٰہی اصول، اور قانون فراہم کرتی ہے۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جو اسلامی قانون اور شریعت کو انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کا حقیقی ضامن بناتی ہیں۔ جب ’مذہبی خاندان‘ ہونے کے دعوے دار ’فرار‘ (evasion) اور ’اجتناب‘ (avoidance) کی بات کرتے ہوں تو اس پر تعجب نہ ہو تو اور کیا ہو۔
یہ ۱۹۶۴ء کی بات ہے، جب جیل میں مَیں حضرت مولانا معین الدین خٹک مرحوم [مارچ ۱۹۲۰ئ-۲۷جولائی ۱۹۸۲ئ] سے اصولِ فقہ پڑھ رہا تھا، تو باب الحیل کی تدریس کے دوران زکوٰۃ کے بارے میں ایک بات انھوں نے ایسی کہی، جو ہمیشہ کے لیے دل پر نقش ہوگئی۔ زکوٰۃ اس مال پر واجب ہوتی ہے، جو ایک سال تک ایک فرد کی ملکیت میں رہا ہو۔ مولانا خٹک مرحوم نے فرمایا کہ: ایسے لوگ بھی ہیں جو ۱۰ماہ کے بعد اپنی دولت، اپنی بیوی یا کسی رشتے دار کو ہبہ کردیتے ہیں اور اگلے ۱۰ماہ کے بعد وہ رشتہ دار اوّلین مالک کو ہبہ کر دیتا ہے اور اس طرح دونوں زکوٰۃ سے بچ جاتے ہیں۔ یہ ہے وہ اجتناب کی حیلہ بازی (avoidance) جس کا کریڈٹ لیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت وہی ہے جس کی طرف مولانا معین الدین خٹک نے متوجہ فرمایا، یعنی:
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ o فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا (البقرہ ۲:۹-۱۰) وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکابازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انھیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے ،جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا۔
ٹیکس بچانے کی کمین گاہوں اور آف شور کمپنیوں کا پورا نظام: ریاست، قانون کے نظام، معاشرے، انسانیت بلکہ خو د اپنے آپ کو دھوکا دینے کی ایک منظم ( بظاہر قانون کی چھتری کے تحت) کوشش سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے، جو دراصل سرمایہ دارانہ نظام کی چال بازی کے سوا کچھ نہیں۔ گذشتہ ۱۰۰ سال کے تجربے کے بعد اب اس کے نظامِ ظلم و استحصال ہونے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ عوامی ردعمل کے نتیجے میں اسے ختم کیا جائے گا یا پھر کم از کم اس پہلے مرحلے میں اس کی حشرسامانی کو بڑی حد تک محدود کیا جائے گا۔
۲۰ویں صدی کے آغاز میں انکم ٹیکس اور کاروباری ٹیکس کا آغاز ہوا، اور اس کے بعد ہی سے بنکاری نظام میں رازداری کے نام پر ٹیکس چوری کی کمین گاہوں کا قیام، نمایشی اور ذیلی کمپنیوں کا وجود، اور ان کے ذریعے نفعے کو لاگت کا لبادہ اُوڑھا کر کالے دھن کے کاروبار کو آسمان پر پہنچا دیا گیا۔ ابتدا میں پٹرول اور گیس کی کمپنیوں اور ٹرانسپورٹ اور بحری جہازرانی کے شعبے، اس میدان میں بہت آگے تھے، پھر پوری ہی کاروباری دنیا نے اس نظام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ۔ اب یہ اندازہ ہے کہ دنیا کی تجارت کا تقریباً ۴۰ فی صد اس کالے دھندے کے سہارے انجام پذیر ہو رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: Panama and The Criminalization of the Global Finance System از Sharmini Peries and Michael Hudson ، کاؤنٹرپنچ، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۶ئ)۔ اس طرح ۳۲ ٹریلین ڈالر سے زیادہ رقم صرف ان ۳۰ ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے۔ جہاں تک ترقی پذیر ممالک کا تعلق ہے، ان کی دولت کا بھی بڑا حصہ انھی پناہ گاہوں کی زینت ہے۔
ورلڈبنک کے ایک اندازے کے مطابق ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۳ء تک ۸ئ۷ ٹریلین ڈالر غریب ممالک سے ان مالیاتی کمین گاہوں میں منتقل ہوئے ہیں، جو تین یورپی ممالک جرمنی، فرانس اور اٹلی کی مجموعی قومی آمدنی سے زیادہ ہے۔ اس وقت ان مراکز میں سالانہ ایک ٹریلین ڈالر منتقل ہورہے ہیں اور اس میں سالانہ اضافے کا اندازہ ۵ئ۶ ہے، جو عالمی سطح پر معاشی ترقی کی رفتار میں اضافے سے دو گنا ہے۔ اس طرح منتقل ہونے والے سرمایے کی وجہ سے صرف ٹیکس کی مد میں جو نقصان ترقی پذیر ممالک کو ہو رہا ہے، وہ سالانہ ۱۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اگر صرف یہ رقم ترقی پذیر ممالک کے پاس ہو اور کُل سرمایہ انھی میں دوبارہ گردش میں آجائے ہو تو ۱۰سال میں ان تمام ممالک سے غربت اور جہالت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور صحت و صفائی اور مناسب سماجی زندگی میں بھی نمایاں ترقی ہوسکتی ہے۔ ایک طرف ان ممالک کی دولت امیر ملکوں کی طرف منتقل ہورہی ہے اور دوسری طرف غریب ممالک، امیرممالک کے قرضے کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں اور مالیاتی اور معاشی غلامی کے نئے شکنجوں میں گرفتار ہورہے ہیں۔بدقسمتی سے غلامی کے اس نئے دور کو مسلط کرنے میں ان کے اپنے سیاسی قائدین اور کاروباری طبقوں کا بڑا ہاتھ ہے۔
’پاناما لیکس‘ کے نتیجے میں جتنے ممالک کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، اور کمیت اور کیفیت ہر دو کے سلسلے میں جو وسعت اور گہرائی پائی جاتی ہے اس کے ایک طرف یورپ اور امریکا کی قیادتیں ہیں، جن کے ساتھ مشرقی ممالک کی قیادت کو بھی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے، تو دوسری طرف عوامی سطح پر اس نے عام لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ استعجاب اور غصے کے بعد اب جو ردعمل ظہور پذیر ہوا ہے، وہ غلامی اور استحصال کے اس نظام کے خلاف بغاوت اور اس سے نجات کی جدوجہد کا ہے۔ اگر اس پہلوسے جان دار ردعمل رُونما ہوسکے تو اس شر سے بہت خیر کے رُونما ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت کیا احساسات کروٹ لے رہے ہیں، اس کا تھوڑا سا اندازہ مندرجہ ذیل آرا سے کیا جاسکتا ہے، جو اس وقت کے عوامی ردعمل اور ہوا کے رُخ کی نشان دہی کر رہے ہیں۔
سامنے آنے والی ان دستاویزات پر جنھیں ’پاناما دستاویزات‘ کا نام دیا گیا ہے، پہلا ردعمل حیرت زدگی کا ہے، اس دستاویزی ذخیرے کے پھیلائو اور حجم پر اور اس گم نام ذریعے کی غیرمعمولی ہنرمندی پر، جس نے ایک کروڑ ۱۵لاکھ دستاویزات یعنی ۶ئ۲ ٹیرابائٹس کے غیرمعمولی انکشافات پریس کے سامنے لائے، کس طرح آف شور بنک اکائونٹ اور ٹیکس پناہ گاہیں دنیا کے امیر اور طاقت ور افراد اپنی دولت چھپانے یا ٹیکس بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا ردعمل نفرت اور کراہت کا ہے۔ پوری دنیا میں ۱۴ہزار سے زیادہ گاہک اور ۲لاکھ ۱۴ہزار ۵سو سے زیادہ آف شور عناصر نے پاناما کی Mossack Fonseca کمپنی،کو جس کی خفیہ دستاویزات ظاہر ہوئی تھیں، شریکِ جرم کیا۔ یہ معصومیت سے اصرار کرتی ہے کہ اس نے کسی قانون یا اخلاقیات کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔
لیکن یہ تمام سوالات تشنہ رہ جاتے ہیں: کس طرح یہ سب سیاست دان ، آمر، مجرم، ارب پتی اور مشہور شخصیات بہت زیادہ دولت جمع کرتے ہیں اور پھر کس طرح ان شیل کمپنیوں کے پیچیدہ جال سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، تاکہ اپنی دولت کو چھپائیں؟
پھر سب سے بڑا اور مرکزی سوال یہ بھی ہے کہ کیا انکشافات کے بعد کوئی چیز تبدیل بھی ہوگی؟ بہت سی رسمی تردیدیں بھی کی گئی ہیں اور سرکاری تحقیقات کے وعدے بھی کیے گئے ہیں، لیکن قانون اور عوام کے سامنے شرمندگی کو اس عالمی اعلیٰ طبقے پر کس حد تک برتری حاصل ہوگی؟ وہ عوام جو حکومتی سطح پر مالیات میں کرپشن کے باربار انکشافات سے پہلے ہی گھبرائے ہوئے ہیں، وہ حقیقت جاننے کا مطالبہ کریں گے۔
ان دستاویزات میں ایک ایسی عالمی صنعت کو تاریخی طور پر ترتیب وار جمع کیا گیا ہے، جس نے ایک بین الاقوامی اشرافیہ کو کرپٹ اور غیرقانونی ذرائع سے مالامال کیا ہے، تاکہ اپنی دولت اور اس کاروبار کو ٹیکسوں، مقدمات اور عوامی غیظ و غضب سے چھپائیں۔ یہ دستاویزات اس مشکوک دولت کا انکشاف کرتی ہیں جسے سرکاری ملازمین نے چھپایا ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پاناما دستاویزات ایک ایسی صنعت کا انکشاف کرتی ہیں جو بین الاقوامی مالیات کی دراڑوں اور خفیہ راستوں میں پھلتی پھولتی ہے۔ اس نظام کا ایک نتیجہ ٹیکس آمدنی کا وہ حصہ ہے جو وصول نہ ہوسکا۔ اس سے زیادہ خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ یہ جمہوری حکومت اور علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچاتی ہے کیوںکہ بدعنوان سیاست دانوں کے پاس، ایک ایسی جگہ ہوتی ہے، جہاں وہ چوری کیے ہوئے اثاثوں کو عوام کی نظروں سے بچاکر خفیہ جگہ پر رکھتے ہیں۔
لندن کے اخبار دی آبزرور (The Observer، ۱۰؍اپریل ۲۰۱۶ئ) نے ادارتی نوٹ میں برطانیہ اور اس کے وزیراعظم کے حوالے سے بات کہی ہے، لیکن اس کا پیغام بھی عالم گیر ہے:
’پاناما دستاویزات‘ کے جو حصے سامنے آئے ہیں اور ان میں جو انکشافات کیے گئے ہیں، وہ پوری دنیا کے رہنمائوں، حکومتوں اور تجارتوں کے لیے سنجیدہ مضمرات رکھتے ہیں۔ اب، جیساکہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ یہ مغربی حکومتیں ہیں، جو ایک ایسے عالمی مالیاتی نظام کو برداشت کرتی اور سہولت دیتی ہیں ،جو موقع پرستانہ اور عموماً غیرقانونی، استحصالی، ایک نجی ملکیت میں کام کرنے والا ہو اور جس کا انتظام و انصرام بڑی حد تک خفیہ ہو، جو خودمختارکنٹرول کے بغیر، نیز ایک منظور شدہ قواعد کی کتاب اور مؤثر قواعد و ضوابط کے بغیر کام کرتا ہو۔اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک ایسی بااختیار تنظیم ہے، جس کی نگرانی اقوامِ متحدہ کرتی ہو۔
پروفیسر مِل گورٹوو جو پورٹ لینڈ اسٹیٹ یونی ورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں، اپنے ایک مضمون مطبوعہ کاؤنٹر پنچ (Counterpunch، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۶ئ) میں لکھتے ہیں:
کثیر قومی کارپوریشنوں کے کاروباری انتظام کے بہت سے طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک منافعے کو زیادہ سے زیادہ کرنے اور ریاست کی خودمختاری کو غیرمستحکم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کم ٹیکس والے ممالک کو منتقل ہوجائیں۔ بہت زیادہ دولت مند افراد کے ٹیکس سے فرار کے نتیجے میں غریبوں پر ٹیکس زیادہ ہو جاتا ہے۔
ایک یورپی مفکر، جس نے یورپ اور امریکا میں تدریس اور تحقیق کے طویل عرصے تک فرائض انجام دیے ہیں، اس نے اس پورے مسئلے پر الجزیرہ ٹیلی وژن (۶؍اپریل ۲۰۱۶ئ) پر اپنی ایک تقریر Panama Papers: Why should we care? کے دوران بڑی پتے کی بات کہی ہے:
ایک ایسی دنیا میں جس میں عدم مساوات انتہا کو چھوتی ہو اور سماجی مسائل بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہوں، جیساکہ ہماری دنیا ہے، ٹیکس پناہ گاہوں کے وجود سے ٹیکس سے بچنے کے معاشی، سماجی اور سیاسی طریقے بے پناہ ہیں۔ ایسے میں وہ معاشرے جو ٹیکسوں کے بغیر ضروری معیار پر کام کے لیے کوشش کر رہے ہوں گے، ناگزیر سماجی سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہیں گے۔
لیکن جب مزدور اور اوسط درجے کے تاجر پوری شرح پر ٹیکس ادا کر رہے ہوں، جب کہ عالمی معیشت کی ساتھ ساتھ بڑھوتری اور آف شور پناہ گاہوں کے پھیلنے کی وجہ سے عالمی کارپوریشنوں اور غیرمعمولی دولت مند برسہا بر س سے کم سے کم ٹیکس ادا کر رہے ہوں___ تو پھر عالمی سرمایہ داری، ٹیکسوں کی ناانصافی اور جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کو خوش آمدید کہیے!
آخری بات یہ ہے کہ ’پانامادستاویزات‘ نے جس چیز کا انکشاف کیا ہے، وہ یہ ہے کہ صرف عالمی ٹیکس کا نظام نہیں بلکہ بذاتِ خود عالمی طرزِحکمرانی ٹوٹ گیا ہے۔ اب آخری چیلنج یہ ہے کہ عالمی سرمایہ داری نظام کو بذاتِ خود تبدیل کیا جائے۔(الجزیرہ، ٹیلی ویژن نیٹ ورک، ۶؍اپریل ۲۰۱۶ئ)
’پاناما دستاویزات‘ پر جو ردعمل پاکستان میں سامنے آیا ہے اور جن اُمور پر بحث ہورہی ہے، ان پر بھی ہم کلام کریں گے، لیکن جو دو پہلو بدقسمتی سے اس بحث و مباحثے میں تقریباً مفقود ہیں، وہ اخلاقی، نظریاتی اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی تباہ کاریوں کا حوالہ ہے، اور جس میں فتنے کی اصل جڑیں ہیں۔
دولت کا ایک وہ تصور ہے جو حرام اور حلال اور انصاف اور ظلم اور دولت کی پیدایش، وسائل کی ترقی اور انسانی معاشرے کی خوش حالی اور تہذیب و ثقافت کی آبیاری سے متعلق ہے۔ یہ زیربحث ہی نہیں آرہا۔ بلاشبہہ افراد کی کرپشن اہم ہے اور اس کے نتائج ملک و معاشرے کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس پر مؤثر گرفت بھی ہونی چاہیے کہ یہ انصاف کا تقاضا ہے اور ترقی اور خوش حالی کے لیے ضروری شرط ہے۔ لیکن کالے دھن کے اس کاروبار میں اَخلاق ، قانون، معاشرے، سرمایے اور دولت کے رشتے کو جس طرح نظرانداز کیا جارہا ہے، وہ بحث کو یک رُخا بنادیتا ہے۔ اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ پاکستان کو درپیش مسئلے کو، اس کے تاریخی اور عالمی معاشی نظام کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کی روشنی میں مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کریں۔
ہماری نگاہ میں اس کے تین پہلوئوں کو (جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں) سمجھنا، ان کے اسباب کا تعین اور حالات کی اصلاح کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر تبدیلی کا نقشۂ کار مرتب کرنا اصل ضرورت ہے۔
کالے دھن کی لعنت، دولت کے بارے میں غلط تصور، صرف مادی ترقی اور ذاتی اور خاندانی ثروت کی تگ و دو، حرام و حلال اور جائز و ناجائز سے بے پروا ہوکر دولت کی افزایش کا لالچ اور طمع، حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں سے اغماض اور صرف ذاتی غرض اور طمع کا اسیر بن جانا سارے بگاڑ کی بنیاد ہے اور کالا دھن اسی ذہن اور اسی روش کی پیداوار ہے۔
جو دین اسلام یہ حکم دیتا ہو کہ: ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھائو، دولت پیدا کرو، مگر اس لیے کہ اللہ کی راہ میں انفاق کرو، دعوت اور جہاد کی ضرورتوں کو پورا کرو، معاشرے اور ریاست کی خدمت کرو، ضرورت مندوں اور مجبوروں کو اُوپر اُٹھانے کے لیے وسائل کو بلاتامّل استعمال کرو۔ پھر جو دین یہ بھی دل و دماغ میں محکم کرتا ہو کہ: جواب دہی صرف ظاہری طور پر قانون اور معاشرے کے سامنے نہیں، سب سے بڑھ کر اللہ کے سامنے ہے اور ہم میں سے ہر فرد کو پائی پائی کا حساب دینا ہوگا کہ کہاں سے اور کیسے کمایا تھا اور کہاں اور کیسے خرچ کیا تھا؟ تو پھر پوری معاشی زندگی کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
اگر ہمارے دعوے ’مذہبی پس منظر کے حامل خاندان‘ کے سے ہیں اور ہمارا ذہن اور رویہ خالص مادہ پرستانہ اور سرمایہ دارانہ فکرو اَخلاق ہی پر استوار ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ دین پرستی اور مادہ پرستی دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ مسئلے کو اس کے اصل تناظر میں سمجھنے کے لیے اس اخلاقی اور نظریاتی پہلو کو بالکل شروع ہی میں واضح کردیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کالے دھن، ٹیکس چوری، کرپشن سے حاصل کردہ دولت، ٹیکس چوری کی پناہ گاہوںمیں چھپنے کا کھیل___ اسے مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام کے اس پس منظر میں قارئین کے سامنے رکھیں، جس میں یہ سارا کھیل کھیلا جارہا ہے اور اس میں اپنے اور غیرسب برابر کے شریک ہیں۔ جن ۱۲ سربراہانِ مملکت کا نام لے کر ان کے یا ان کی اولاد کے یا قریبی عزیزوں کے ملوث ہونے کا ذکر ان دستاویزات میں آیا ہے ، ان میں سے چھے، یعنی ۵۰ فی صد مسلمان ہیں، فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔
کرپشن کے خلاف مغربی قیادتیں اظہارِبیان کا لمباچوڑا ریکارڈ رکھتی ہیں۔ لیکن ان کا قانون، ان کی پالیسیاں، ان کے بنائے ہوئے انتظامات ہی وہ فضا اور میدان فراہم کر رہے ہیں، جس میں یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ جو یورپ کا مالیاتی دارالحکومت ہے اور ہانگ کانگ جو ایشیا کا سوئٹزرلینڈ ہے، اس کے بعد امریکا اس وقت ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں نمایاں ترین مقام رکھتا ہے۔ خصوصیت سے اس کی چھے ریاستیں جو ’فرارِ ٹیکس‘ کی پناہ گاہوں کا درجہ رکھتی ہیں، اس سارے کھیل کی آماج گاہ ہیں۔ برطانیہ کے جزائر تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ٹیکس چوروں کی پناہ گاہیں بنے ہوئے ہیں اور ان سب کو ایک طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے۔
گذشتہ ۱۰۰ سال سے یورپ کے بیش تر ممالک میں ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری اور تجارت دونوں کے سلسلے میں رشوت دے کر کاروبار حاصل کرنا، ایک جائز اور قانونی فعل تھا، اور اسے باقاعدہ حسابات میں ضروری اخراجات کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ یہ تبدیلی صرف گذشتہ ۱۵،۲۰ سال میں آئی ہے کہ اس کھلی کھلی مالی بدعنوانی کے لیے قانونی جواز کو ختم کیا گیا ہے۔ اگرچہ عملاً یہ کھیل اب بھی جاری ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق چند یورپی ممالک میں اب بھی کاروبار کے فروغ کے لیے اور خصوصیت سے اسلحے کی فروخت اور میگاپراجیکٹس کے سلسلے میں، اپنے ملک سے باہر رشوت اور کمیشن کی جادوگری کوئی قانونی جرم نہیں ہے۔
آج کے دور میں کالے دھن کی ریل پیل کو سمجھنے کے لیے یہ پس منظر جاننا ضروری ہے اور اس کا جو تزویری تعلق نظام سرمایہ داری، اس کی بنیادی اقدار اور نظامِ کار سے ہے، اس کو سمجھنا ، ازحد ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر ملک میں آپ سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیں گے تو ان تمام بُرائیوں اور تباہ کاریوں سے بھی بچ نہیں سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نگاہ میں موضوعِ زیربحث کے تین پہلو ہیں، یعنی:
۱- کالا دھن، ان کی کمیت، کیفیت، تباہ کاریاں۔ ان کا ادراک اور لعنت سے نجات کی کوشش۔
۲- وہ نظام ظلم اور استحصال جو اس لعنت کو پیدا کرتا، پروان چڑھاتا اور معتبر بناتا ہے، بلکہ مذہبی پس منظر کے دعوے دار بھی کھلے بندوں اس سے فیض پانے کا اعلان کرتے ہیں۔’فرارِٹیکس‘ (Tax evasion) خلافِ قانون ہوسکتا ہے، لیکن ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax avoidence) تو ہمارا حق ہے اور اس کے لیے جہاں بھی جانا پڑے، ہمارا پیدایشی حق ہے۔
۳- تیسرا پہلو حالات کی اصلاح کا ہے اور پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں: یعنی احتساب اور غلط کام پر اصولِ انصاف اور قانون کے مطابق مضبوط اور مؤثر گرفت اور نظام، اور اس سے بھی بڑھ کر اس ذہن وفکر اور طرزِزندگی کی اصلاح، تاکہ ظلم اور استحصال کے نظام سے بچاجاسکے۔
مجھے افسوس ہے کہ اپنی صحت کی خرابی کے باعث اس اہم موضوع سے متعلق قرارواقعی معلومات پیش نہیں کرسکا اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آیندہ اپنی گزارشات پیش کروں گا۔ اس وقت صرف چند ضروری نکات کی نشان دہی کرتا ہوں، اور ملک کی قیادت اور خصوصیت سے اسلامی قوتوں کو ان پر غور کرنے اور ان کی روشنی میں اپنی پالیسی اور حکمت عملی طے کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔
۱-پہلی بات یہ ہے کہ ’پاناما دستاویزات‘ میں جو نام آئے ہیں اور جو مزید آئیں گے، ان سب کے بارے میں ایک واضح پالیسی اور طے شدہ قاعدے کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے لیے اس وقت ملک میں اور دنیا میں جو قانونی پوزیشن ہے، اس کی روشنی میں یہ کارروائی ہونی چاہیے۔ شاید اس کے لیے مناسب ترین انتظام یہ ہوکہ ملک میں حکومت، تمام اپوزیشن جماعتوں، عدلیہ اور سول سوسائٹی اور اچھی شہرت رکھنے والے سابق سول بیوروکریسی اور اعلیٰ فوجی افسران کے مشورے سے قومی احتساب کا ایک آزاد، بااختیار اور قابلِ اعتماد ادارہ بنایا جائے اور اسے تفتیش اور قانونی گرفت (Prosecution) کے پورے اختیارات دیے جائیں، ضروری وسائل فراہم کیے جائیں اور تربیت کا نظام بنایا جائے۔ نیزاس کے اندر بھی احتساب و توازن (check & balance) کا اہتمام کیا جائے اور متعین وقت کے اندر اسے زیرغور معاملات کو طے کرنے کا پابند کیا جائے۔
اس کی رپورٹ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں پیش ہو، اور اس پر پارلیمنٹ اور میڈیا میں کھل کر بحث کی جائے، تاکہ یہ ادارہ فی الحقیقت مؤثرانداز میں کام کرے اور محض ’باہمی مالیاتی سودے بازی‘ ( Plea bargaining) کا اکھاڑہ نہ بن جائے۔ یہاں پر مثال کے طور پر یہ امر مدنظر رہے کہ بھارت نے ۲۰۱۳ء میں بیرونی ممالک میں بھارت کے کالے دھن پر گرفت کاقانون بنایا اور احتساب کا نظام قائم کیا ۔ اب تک اس کی دورپورٹیں آچکی ہیں اور گذشتہ دوسال میں، ٹیکس سے بچ جانے والے سرمایے سے ٹیکس کی مد میں ۶؍ارب ڈالر سے زیادہ واجبات وصول کیے جاچکے ہیں۔اگر بھارت میں یہ ہوسکتا ہے تو ہمارے ہاں اس کی راہ میں کیا چیز رکاوٹ ہے؟
۲- موجودہ خصوصی صورت حال کے پیش نظر جوڈیشل کمیشن بھی ایک مناسب حل ہے۔ ضرورت ہے کہ بحث کو صرف ٹی وی اور گلیوں میں کرنے کے بجاے بامعنی مذاکرات کے ذریعے معاملات کو طے کیا جائے۔ جوڈیشل کمیشن کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے تحت اسی کے فیصلے سے تفتیشی ٹیم مقرر ہونی چاہیے جو ایسے معتبر اور تجربہ کار افراد پر مشتمل ہو، جو متعلقہ اُمور کے بارے میں انصاف کے ساتھ تفتیش کرسکیں یا کراسکیں اور عدالتی کمیشن کی صحیح معاونت کرسکیں۔
اس کمیشن کو اپنا کام ایک متعین مدت میں ختم کر دینا چاہیے اور پھر اس کے کام اور تفتیشی ٹیم کی سفارشات کی روشنی میں اُوپر جس احتساب کمیشن کا مشورہ دیا گیا ہے، وہ کام کو جاری رکھے۔
مجوزہ کمیشن کام کا آغاز موجودہ حکومت کے ان تمام افراد کے بارے میں تحقیق و تفتیش سے کرے، جن کا نام ’پاناما دستاویزات‘ میں آیا ہے اور یہ ۱۹۸۶ء سے اب تک کے عرصے کو اپنے دائرۂ بحث میں لائے۔ لیکن اس کے بعد اس کمیشن کو دو مزید سیاسی قوتوں سے متعلق افراد کے معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے___ یعنی سابق صدر جناب آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے وہ لوگ اور اس کے اتحادی، جو ۱۹۸۸ء کے بعد سے حکومت میں رہے ہیں۔ اس طرح تیسرا سیاسی گروہ صدرپرویز مشرف ان کی حلیف مسلم لیگ کی شریکِ اقتدار پارٹیاں یا شخصیات ہیں، جو جنرل موصوف کے ساتھ ۲۰۰۲ء سے شریک رہی ہیں۔اس طرح گذشتہ ۳۰برس میں جن تین بڑے گروپوں کے ہاتھوں میں حکومت کی زمام کار تھی، ان کا احتساب اسی ترتیب سے اس جوڈیشل کمیشن کو کرنا چاہیے۔ باقی افراد، اداروں، تجارتی اور دوسرے اداروں کا احتساب اسی ماڈل کی روشنی میں مستقل ادارۂ احتساب کرے۔
واضح رہے کہ جناب محمد نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے بارے میں سوالات ۱۹۹۲ء سے اُٹھ رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے دور سے لے کر اب تک ان کے اثاثہ جات میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کی مکمل تفصیل قوم کے سامنے آئے۔ آمدنی کے ذرائع، اس پر ٹیکس کی ادایگی، سرمایے کی ملک سے باہر منتقلی، بیرونِ پاکستان جایدادوں اور کاروبار کا حصول، ہرچیز سامنے آنی چاہیے۔ ماشاء اللہ، اب ان کے بچے بڑے ہیں، اور اپنے معاملات کے ذمے دار ہیں، لیکن انھوں نے اپنے کاروبار کا آغاز تو محمد نواز شریف صاحب ہی کے عطا کردہ وسائل سے کیا تھا۔ اس سے متعلق اُمور سامنے آنے چاہییں۔
اسی طرح جناب آصف علی زرداری اور ان کی اہلیہ مرحومہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے مالی معاملات، شادی کے وقت ان کے مالی وسائل اور اس کے بعد سے اب تک اس خانوادے نے خود یا اپنے نمایندوں (proxies )کے ذریعے جو کچھ حاصل کیا، اس کی تفصیل اور دلیل و جواز (justifications) قوم کے سامنے آنے ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی دستاویزات ملک کے اداروں یا عالمی اداروں اور میڈیا کے پاس ہیں، ان سب کی روشنی میں حالات اور معاملات کی پوری تصویر قوم کے سامنے پیش کی جانی ازبس ضروری ہے۔
ہم نے مارچ ۲۰۱۶ء کے اشارات اور دوسرے متعدد اہلِ قلم نے اپنے مضامین اور کالموں میں ان اسکینڈلوں کا ذکر کیا ہے، جو گارڈین، بی بی سی، برطانوی اور سوئس عدالتوں کے فیصلوں میں ضبط ِ تحریرآچکے ہیں۔ جن کا خلاصہ ریمنڈڈبلیو بیکر نے اپنی کتابCapitalism's Achilles Heel (مطبوعہ ۲۰۰۵ئ) میں پیش کیا ہے، اور جس میں زرداری صاحب کے خاندان کے علاوہ، بلاواسطہ یا بالواسطہ آف شورکمپنیوں اور درجنوں بنک اکائونٹس کی تفصیل دی گئی ہے (ملاحظہ ہو: ص۷۷ تا ۸۲)۔ اس کے علاوہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بڑی اہم رپورٹ ۲۰۰۴ء میں، لندن سے شائع ہوئی تھی، جس کے صفحہ۱۰۲ سے ۱۰۴ تک، گرافکس کی شکل میں تفصیلات پیش کی گئی ہیں،انھیں بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔
یہی معاملہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے شرکاے اقتدار گروہ کا ہے۔ انھوں نے ۱۹۹۹ء میں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اثاثوں کا اعلان کیا تھا۔ آج جو کچھ ان کے پاس ہے، اس کے بارے میں اب خاصی معلومات مغربی میڈیا اور خود پاکستانی میڈیا میں برابر آرہی ہیں۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اسلام آباد، کراچی، دبئی، لندن اور نیویارک میں ان کے پاس اربوں روپے کی جایدادیں ہیں۔ کروڑوں ڈالر، درجنوں بنک اکائونٹس میں موجود ہیں۔ ان کو بھی اپنے تمام اثاثوں اور ان کے حصول کی تفصیلات کا حساب دینا ہوگا۔ اور یہی معاملہ اس دور میں ان لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے، جو ان کے شریکِ اقتدار رہے ہیں۔ اندرونِ خانہ کیا کیا کچھ ہوتا رہا ہے، اس کی کچھ جھلکیاں، جنرل مشرف کے ساتھی لیفٹیننٹ جنرل شاہدعزیز کی کتاب یہ خاموشی کہاں تک؟ میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح ایم کیو ایم کی قیادت کے بارے میں جو معلومات سامنے آرہی ہیں، وہ بھی اسی دور کا قصہ ہیں۔
اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ کم از کم ان تین بڑے بڑے ٹولوں (شریف خاندان، زرداری خاندان، مشرف اور ان کے رفقاے کار) کے مالی معاملات کا پورا پورا حساب کتاب ہونا چاہیے۔ اگر وہ اپنی پاک دامنی ثابت کردیں تو سر آنکھوں پر۔ لیکن اس کے برعکس، جس جس کا دامن داغ دار ہے، اس کا احتساب شفاف انداز میں ہونا چاہیے، تاکہ کالے دھن کے اس کاروبار پر کہیں تو ضرب لگے اور کسی مقام پر تو اس کو روکا جاسکے، تاکہ اس تاریک باب کو کہیں ختم کیا جاسکے اور شفاف قومی زندگی کے نئے باب کا آغاز ہوسکے۔۱؎
جوڈیشل کمیشن کی شرائط ِ تحقیقات (ToRs) میڈیا میں اور سڑکوں پر طے نہیں ہوسکتے، بلکہ حکومت اور اپوزیشن سرجوڑ کر بیٹھیں اور طے کرلیں۔ ماضی میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور یہی ہے وہ طریقہ جس سے سیاسی مسائل طے ہوتے ہیں۔
۴- ہم یہ بھی عرض کریں گے کہ ۳؍اپریل ۲۰۱۶ء کے بعد سے حکومت ِ پاکستان کے نمایندوں اور اپوزیشن کے ترجمانوں کے درمیان جس زبان میں، جس انداز میں، اور جن پلیٹ فارموں پر لفظی جنگ جاری ہے، اسے ختم کرنا ازحد ضروری ہے۔ اصولی بات کہنے کا موقع ہمیشہ رہتا ہے، لیکن جتنے شخصی انداز میں اور جس زبان اور لہجے میں بات ہورہی ہے، اسے کسی مہذب معاشرے، چہ جائیکہ ایک مسلمان معاشرے میں مناسب، جائز اور معتبر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے ہماری درخواست ہے کہ سب اپنے اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ شرائطِ تحقیقات طے کر کے معاملہ عدالتی کمیشن کے سپرد کردیں اور عدالتی کمیشن بھی اپنے لیے خود ضابطۂ کار طے کرلے، تاکہ ایک طرف اصل مسائل اور معاملات سے انصاف کیا جاسکے اور دوسری طرف کمرئہ عدالت سیاسی محاذآرائی کا ذریعہ نہ بن جائے، بلکہ گرمیِ گفتار کو قابوکرکے ساری توجہ حقیقی تفتیش، تحقیق اور حقائق کے تعین پر مرکوز ہونی چاہیے۔
۵- ہم پورے ادب اور دل سوزی سے میڈیا سے بھی درخواست کریں گے کہ اپنے رویے پر غور کرے۔ حقائق کی تلاش اور مختلف نقطہ ہاے نظر کی عکاسی ان کی ذمہ داری ہے، مگر خود فریق بن جانا اور جلتی پر تیل ڈالنا، ہرچیز کو تماشا بنانا کبھی بھی صحت مند صحافت کی روایت نہیں رہی اور نہ ایسا ہونا چاہیے۔ ہم سنسرشپ کے حامی نہیں، لیکن خوداختیاری سنسرشپ، احساسِ ذمہ داری کی ایک بہتر مثال ہے۔یہی وہ راستہ ہے جس سے زیادہ معتبر اور باوقار انداز سے بحث و گفتگو کو صحیح دائرے میں رکھا جاسکتا ہے اور اصل مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے، جس سے ملک کو کالے دھن اور اقتدار اور اختیار کے غلط استعمال کی لعنتوں سے پاک کیا جاسکتا ہے۔
۶- ملک اس وقت بہت ہی نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل، قومی سلامتی کو چیلنج، افغانستان اور بھارت کا رویہ، امریکا کے بدلتے ہوئے تیور، شرق اوسط کا خلفشار، یہ وہ شعلہ فشاں پہلو ہیں جو ہمارے لیے آزمایش کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ علاقائی اور عالمی تناظر میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ان حالات میں ملک کے تمام اداروں اور مؤثر قوتوں کے درمیان تعاون اور مشاورت سے معاملات کو طے کرنے اور قومی مفادات کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔ سول، ملٹری تعلقات کا مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے، جسے نظرانداز کیا جاسکے اور نہ اسے قالین کے نیچے دبا کر رکھا جاسکتا ہے۔
کچھ عناصر تصادم کی فضا بنانے پرتلے نظر آتے ہیں۔ اس صورتِ حال کو ختم کرنا (diffuse) ازبس ضروری ہے۔ ہمیں دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلے کو بڑھانے میں حکومت وقت کی خراب حکمرانی ہی واحد سبب نہیں ہے، بلکہ ملک اور بیرونِ ملک بہت سے عناصر اس آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔یہی وہ وقت ہے جب حکومت اور پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور میڈیا بھی ان حدود کا پورا پورا لحاظ رکھے، جو ایسے نازک معاملات کو سلجھانے اور بروے کار لانے کے لیے ضروری ہیں۔
دستور کے تحت کابینہ کی ’دفاع و سلامتی کی کمیٹی‘ وہ اہم فورم ہے، جسے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ اس کی نشست کا فی الحال باقاعدگی سے ہر مہینے اہتمام کیا جائے، جسے بعد میں حالات کی مناسبت سے معمول بنا لیا جائے۔ اسی طرح کابینہ کا اجلاس ہر ماہ لازماً ہونا چاہیے۔ وفاقی کابینہ اور ’مشترکہ مفادات کی کونسل‘ (CCI) وہ ادارے ہیں، جن کو باقاعدگی سے اپنے اداراتی فرائض انجام دینے چاہییں۔ پارلیمانی حکومت نام ہی کیبنٹ گورنمنٹ کا ہے، ورنہ یہ ایک قسم کا صدارتی نظام بن جاتا ہے۔یہ ہمارے دستور اور ہمارے زمینی حقائق دونوں سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا اور بدقسمتی سے ہم اس طرف لڑھکتے چلے جارہے ہیں۔اس کے فوری تدارک کی ضرورت ہے۔
۷- حکومت اور اپوزیشن دونوں اسمبلی اور سینیٹ کو قرارِ واقعی اہمیت دیں اور ریاست کے تمام اداروں کو ان کی دستور کی طے کردہ حدود کار اور آج کے زمینی حقائق دونوں کی روشنی میں خوش اسلوبی کے ساتھ اصل توازن کی طرف لے جانے کی کوشش کریں۔
دستور ایک معاہدۂ عمرانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دستور کے فریم ورک میں سارے سیاسی مسائل اور اختلافات کو حل کیا جاناچاہیے۔ دستور کے دائرے سے نکل کر جو بھی حل ہوگا، وہ حل نہیں، بلکہ نئے مسائل اور مشکلات کا پیش خیمہ بن جائے گا، اور خدانخواستہ ملک ایسے خلفشار کا بھی نشانہ بن سکتا ہے جو اس کے لیے تباہی کا باعث ہو۔ توقع ہے کہ اس اشارے کو سبھی سیاسی عناصر اور قوتیں محسوس کریں گی، اور دستور سے کھیل کھیلنے کا کسی کو موقع نہیں دیں گی۔
۸- لوکل گورنمنٹ کو جلد از جلد قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انھیں اختیارات اور وسائل دونوں دیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان کی ساری توجہ کا مرکز وفاق اور اپنے اپنے صوبے کے مسائل پر ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں قانون سازی، پالیسی سازی، حکومت کی کارکردگی پر نگرانی، عوامی مسائل پر توجہ اور حکومت اور عوام کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ترقیاتی کاموں ہی میں ان کو گھسیٹنا اور پھر ترقیاتی فنڈ ان کے توسط سے خرچ کرنا بڑے خسارے کا سودا ہے،جو بدقسمتی سے وزیراعظم محمد خاں جونیجو صاحب (۸۸-۱۹۸۵ئ) کے دور سے شروع ہوا اور کرپشن کے فروغ اور اچھی حکمرانی کے پٹڑی سے اُترنے کا سبب بنا ہے۔ اس کلچر کو ختم ہونا چاہیے۔ جو کام لوکل گورنمنٹ کا ہے، وہ لوکل گورنمنٹ کرے اور جو کام صوبے اور مرکز کے اداروں کا ہے، وہ انھیں انجام دیں۔ ترقیاتی کام کے سلسلے میں مرکزی پلاننگ کمیشن اور ہرہرصوبے میں مؤثر پلاننگ کمیشن ضروری ہیں۔ اسی طرح پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی شکنجے سے نکالنا بھی ازبس ضروری ہے۔ فوج اور رینجرز سے معاملہ کاری ( equation) پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ عدالت کی اپنی اصلاح ، تقویت، تربیت اور احتساب، یہ سب ضروری ہیں۔
۹- یہاں ہم دو مسئلوں کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں: ایک معاشرے کا اخلاقی بگاڑ، جس کے نتیجے میں باہمی حقوق کے احترام کا فقدان ہے۔ رواداری اور خوش خلقی سے معاشرہ محروم ہوتا جارہا ہے۔ جرائم اور جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے اور بحیثیت مجموعی معاشرے میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو خطرے کی علامت ہے۔ الحمدللہ، آج بھی ہمارے معاشرے میں جو خیر ہے، وہ اللہ کی نعمت ہے اور اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ لیکن یہ فکرمندی بھی ضروری ہے کہ معاشرے کی اقدار کمزور ہورہی ہیں اور اخلاقی بگاڑ میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی سب کو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہرفرد، خاندان، معاشرہ، دینی اور سیاسی قوتیں، سول سوسائٹی، حکومت اور اس کے تمام ادارے ___ اس باب میں ہر ایک کو متحرک ہونا پڑے گا۔ کرپشن پر گرفت کے لیے احتساب کا مؤثر نظام ضروری ہے، مگر کرپشن کو ختم کرنے کے لیے فرد اور معاشرے کی اخلاقی تعمیر و اصلاح اور ان اسباب کا چُن چُن کر قلع قمع کرنا ضروری ہے، جو اسے جنم دے رہے ہیں اور پروان چڑھا رہے ہیں۔ آنکھیں بند کرنے سے معاملات حل نہیں ہوسکتے، مسائل کو کھلی آنکھوں دیکھ سمجھ کر ہی قابو میں لایا جاسکتا ہے۔
۱۰-آخر میں عرض یہ ہے کہ ہمیں ملک کو نظریاتی اور فکری انتشار سے بچانا ہے۔ ہماری آبادی کا ۹۰ فی صد اپنے دین اور نظریے، اپنے ملّی اور قومی تشخص، اپنی اخلاقی اور تہذیبی اساس اور اپنی نئی نسلوں کی منزل کے بارے میں کسی شک کا شکار نہیں ہے۔ فقط، ایک طبقہ ہے جو کبھی لبرل ازم کا ، کبھی سیکولرزم کا راگ الاپتا ہے۔ کبھی دہشت گردی کو جہاد کا شاخسانہ قرار دے کر، کبھی اپنی تاریخ پر خطِ تنسیخ پھیرنے، اور کبھی قوم اور خصوصیت سے نئی نسلوں میں ذہنی پراگندگی اور خلفشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں انگریزی صحافت اور الیکٹرانک میڈیا کا رویہ خاصا پریشان کن بلکہ وطن دشمنانہہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سب عناصر سے بھی مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان حضرات کو جہاں اپنے نظریات پر قائم رہنے کا حق ہے، وہیں انھیں بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کی شناخت اور مسلم معاشرے کی بنیادی اقدار کوئی بحث طلب شے نہیں ہیں۔اپنے اور غیروں کے کیے ہوئے تمام جائزے (سروے) شاہد ہیں کہ ۹۰ فی صد آبادی شریعت کی بالادستی اور اسلامی اقدار و احکام کی پاس داری کی خواہاں ہے۔ یہ جذبہ شہری اور دیہی آبادی میں، مردوں اور عورتوں میں، عمررسیدہ افراد اور نوعمر آبادی میں ایک ہی طرز (pattern) پر ہے۔ یہ زمینی حقائق ہیں، جن کا احترام ہی قوم اور معاشرے میں ہم آہنگی اور تعمیری قوتوں کی تقویت کا باعث ہوسکتا ہے۔
جس قوم میں تعداد میں کم ،مگر وسائل میں مضبوط بااثر ، صاحب ِ ثروت طبقوں اور عوام الناس کے درمیان نظریاتی اور تہذیبی کش مکش برپا رہے، وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ اختلاف راے کا احترام مہذب معاشرے کی شناخت ہے۔ تاہم، یہ بھی مہذب معاشرے ہی کی ایک ضرورت ہے کہ بااثر افراد، اکثریت کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں اور تبدیلی کا راستہ افہام و تفہیم اور تعلیم و تعلّم اور اختلاف اور احترام کے ذریعے استوار کریں۔ اگر ایک مخصوص اقلیت محض اپنے وسائل اور بالاتر پوزیشن کے زعم میں اپنے خیالات اور ترجیحات دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے گی تو یہ تصادم اور تباہی کا راستہ ہوگا۔
ہم ان افراد کو بھی جو مذہبی تشددکا راستہ اختیار کرتے ہیں، یہی مشورہ دیں گے جو لبرل، تشدد پسندوں کو دے رہے ہیں کہ مستقبل کی روشن راہ صرف اعتدال اور توازن میں ہے۔ اپنے مسلک پر قائم رہیے، لیکن دوسرے کے مسلک کی تحقیر نہ کیجیے۔ رواداری اور مکالمہ ہی وہ راستہ ہے، جس سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔زندگی اور عزت سے زندہ رہنے کا یہی راستہ ہے، جس پر ہمیں ہمت اور استقلال سے سرگرمِ کار رہنا چاہیے۔
دنیا ان کو پروفیسر ڈاکٹرظفر اسحاق انصاری کے نام سے جانتی ہے، مگر میرے لیے وہ صرف راجا بھائی تھے اور رہیں گے۔ مئی ۱۹۴۹ء میں بھائی ضمیر اور خرم بھائی کی معیت میں پہلی ملاقات ہوئی اور آخری اگست ۲۰۱۵ء میں، جب اپنی صحت اور ذاتی حالات کے باعث مَیں یہاں لسٹر آنے پر مجبور ہوا۔ ایک ہی ہفتہ قبل ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی اور پھر ۲۴؍اپریل کی صبح انیس میاں کے ٹیلی فون سے یہ اندوہناک خبر ملی کہ راجا بھائی اللہ کو پیارے ہوگئے___ انا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ اللہ سے ان کا رشتہ پیارے رب کا رشتہ تھا اور اپنی ۶۷سالہ رفاقت کی بنیاد پر گواہی دیتا ہوں کہ ان کو ہمیشہ رب کا بندہ اور اس کی رضا کا طالب پایا۔ اب کئی سال کی بیماری اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ بیماری اور ہرتکلیف پر اللہ کا شکر ادا کرنے والا میرا پیارا بھائی اپنے رب کے حضور چلا گیا۔ گویا ع
اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت ِ خاص کے آغوش میں جگہ دے۔ ۷۰سے زیادہ برسوں پر پھیلی ان کی یہ علمی اور دینی خدمات، خصوصیت سے قرآن کی خدمت کو شرفِ قبولیت سے نوازے، ان کو جنت کے منفرد مقام پر ہمیشہ کے لیے راحت کی زندگی سے سرفراز فرمائے اور جب تک زمین پر انسان بستے ہیں، آسمان ان کی لحد پر مسلسل شبنم افشانی کرتا رہے___ آمین!
میرے لیے یہ دو ماہ بڑی آزمایش کے مہینے رہے ہیں۔ فروری میں میرے ہم زلف سیّدجلال الدین احمد کا اچانک انتقال ہوا۔ ابھی ان کے غم سے آنکھیں اَشک بار تھیں کہ عزیزی ممتازاحمد جنھیں سب ڈاکٹر ممتاز کہتے تھے لیکن میرے لیے وہ انیس اور مسلم کی طرح چھوٹے بھائی یا بڑے بیٹے کی حیثیت رکھتے تھے، کا غم سہنا پڑا۔ معاً بعد یہاں گلاسگو میں ینگ مسلم کے پہلے گروپ کے روحِ رواں اور عزیزی فاروق مراد کا ہم ساز اور ہم زاد عمران کھنڈ ۵۰برس کی عمر میں اللہ کو پیارا ہوا ،اور اب ۲۴؍اپریل کو راجابھائی سے دنیوی جدائی کا زخم سہنا پڑا۔ افسوس کہ ان میں سے کسی کی نہ آخری زیارت کرسکا اور نہ جنازے میں شرکت___ ہاں، ان کے لیے دعائوں کی سوغات ہے جو ان کی زندگی میں بھی بھیجتا رہا، اور اب اور بھی رقت کے ساتھ اپنے مالک کے حضور بھیج رہا ہوں۔ اللہ کا حکم ہرچیز پر غالب ہے اور اپنے پیاروں کی موت زندگی کی ناپاے داری اور موت کے محکم ہونے کی مؤثر ترین یاد دہانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین حق پر قائم رکھے، اپنے سوا کسی کا محتاج نہ بنائے، اور ایمان پر خاتمہ کرے، آمین، ثم آمین۔ طالب علمی کے زمانے میں انگریزی ادب اور شاعری کا بھی کچھ رشتہ تھا۔ نہ معلوم کیوں شیکسپیئر کے یہ اشعار ذہن کے اُفق پر اُبھر آئے، جو ان چند ہفتوں کے حادثات کے عکاس ہیں:
When sorrows come,
They come not single spies
They come in battallions
One woe treads, the others heal,
So soon they follow
ہر آزمایش اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور اسی سے ہر غم اور آزمایش پر صبر و استقامت کی التجا ہے۔
برادرم ظفراسحاق الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی اسناد پر ان کی پیدایش دسمبر۱۹۳۲ء کی ہے، لیکن ہمارے بچپن میں انگریزی دور کی ’برکات‘ میں ایک یہ بھی تھی کہ اسکول میں داخلے کے وقت عمرکم لکھوائی جاتی تھی، تاکہ آئی سی ایس کے داخلہ امتحان کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی جو قید ہے، اس میں کچھ وسعت آجائے۔ میری پیدایش بھی اسکول کے ریکارڈ میں ۱۹۳۴ء ہے جو حقیقت میں ۱۹۳۲ء تھی اور راجا بھائی کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ وہ مجھ سے دو سال بڑے تھے، عمر میں بھی اور تعلیم کے میدان میں بھی۔ میں نے جس سال انٹرکامرس کیا ،انھوں نے اسی سال بی اے کیا تھا۔
مئی ۱۹۴۹ء میں ہماری شناسائی کا آغاز ہوا۔ میرے بڑے بھائی احمدضمیر مرحوم اور خرم بھائی مرحوم ڈی جے کالج میں کلاس فیلو تھے اور راجا بھائی ان کے اوّلین احباب میں سے تھے اور اسلامیہ کالج میں پڑھ رہے تھے۔ اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کا کُل انسانی سرمایہ سات آٹھ افراد تھے۔ خرم اور راجا ان کا محور تھے۔ مَیں فروری ۱۹۴۸ء میں دلّی سے پاکستان ہجرت کرنے کے بعد ایک سال لاہور میں زیرتعلیم رہا اور پھر مئی ۱۹۴۹ء میں کراچی منتقل ہوا۔ یہی وہ لمحہ ہے، جب مجھے جمعیت سے شناسائی حاصل ہوئی اور اس کا ذریعہ بھائی ضمیر کے ساتھ خرم اور راجا بنے۔
خرم اور راجا سے پہلی ہی ملاقات میں ایک ایسا تعلق قائم ہوگیا، جو زمانے کے تمام نشیب و فراز کے باوجود ہر آلایش سے پاک اور گہرائی اور گیرائی ہراعتبار سے روز افزوں رہا۔ راے کا اختلاف کن انسانوں کے درمیان نہیں ہوتا، لیکن یہ ایک کرشمۂ قدرت ہے کہ ہم تینوں کے درمیان زندگی کے مقاصد کے اشتراک کے ساتھ ہمارے درمیان: باہمی اعتماد اور محبت، خیرخواہی اور عملی تعاون کا رشتہ قائم رہا اور سب سے بڑھ کر موجودگی اور عدم موجودگی دونوں میں ہمیں ہم رنگ اور ہم زبان ہونے کی نعمت و سعادت حاصل رہی ہے۔ میرے لیے ایمان کی سعادت اور خاندان کی نعمت کے ساتھ، یہ دوستی زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ رہی ہے اور اس پر رب کا جتنا بھی شکرادا کروں کم ہے۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ ان دونوں سے ملنے اور ان کے ساتھ شیروشکر ہوجانے نے زندگی کا رُخ متعین کر دیا، اور نہ صرف یہ کہ ’ایک ہی بار ہوئی وجہ گرفتاریِ دل‘، بلکہ الحمدللہ زندگی بھر ان کی نگاہوں کے التفات کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہا۔ اللہ سے دُعا ہے کہ ہمارا یہ رشتہ اس دنیا تک محدود نہ رہے اور آنے والی اور ابدی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ صرف اپنے رحم اور فضلِ خاص سے ہمیں یہاں سے بہتر زندگی ساتھ گزارنے کی سعادت سے نوازیں، آمین!
راجا بھائی کا ذکر چچا مرحوم کے ذکر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما مولانا ظفراحمد انصاری ان کے والد تھے۔ وہ علم و فضل، اخلاق و مروت، محبت و شفقت، سیاسی بصیرت اور حُسنِ عمل کا مرقع تھے۔ فلسفہ میں ایم اے امتیازی شان سے کرنے کے بعد ساری زندگی برعظیم کی سیاست کے میدان میں مسلم اُمت کے خاموش معمار کی حیثیت سے بسر کردی اور اس شان سے بسرکی کہ کبھی کسی عہدے یا ذاتی فائدے کا تصور بھی نہیں کیا۔ مقصد صرف اللہ کی رضا،اُمت کی خدمت، پاکستان کی تعمیروترقی، نئی نسلوں کی دینی، اخلاقی اور سیاسی تربیت و رہنمائی تھا اور جو عہد اپنے رب سے کیا، اسے آخری سانس تک سچ کردکھایا۔
راجا بھائی سے جمعیت کے دور میں جو تعلق قائم ہوا، وہ ان کی ذات تک محدود نہیں تھا۔ ان کے تمام بھائیوں اور سب سے بڑھ کر ان کے والد محترم کے ساتھ بھی بالکل باپ کا سا رشتہ قائم ہوگیا تھا اور ان کی شفقت اور رہنمائی بھی الحمدللہ ان کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہی۔ یہ بھی برعظیم کے پڑھے لکھے مسلمان گھرانوں کی روایت تھی کہ خاندان کے تمام بزرگوں سے ان کے رُتبے اور مقام کی مناسبت سے تعلق استوار ہوتا تھا۔ راجا بھائی اپنے تایا کو ابّا کہتے تھے اور اپنے والد کو چچا۔ اور ہم نے بھی بچپن ہی سے ان کو چچا کہا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہم ہی نہیں، سبھی ان کو چچا ہی کہتے اور ان کی پدرانہ شفقت ہم سب پر اس طرح تھی کہ یہ فرق کرنا مشکل تھا کہ رشتے میں کون سگا ہے اور کون اعزازی؟
راجا بھائی اور خرم بھائی دونوں تحریک میں میرے پیش رو ہی نہیں، مجھے یہ راستہ دکھانے والے بھی تھے۔ خرم بھائی کو قرآن سے عشق تھا اور راجا بھائی سیاست اور اجتماعی علوم پر گہری نظر رکھتے تھے۔ اُردو اور انگریزی دونوں پر راجا کو عبور تھا۔ کم لوگوں کو علم ہے کہ جب وہ بی اے کے طالب علم تھے، اس وقت بھی کراچی کے ایک روزنامے کی عملاً ادارت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ میں نے جمعیت کی رکنیت جنوری ۱۹۵۰ء میں اختیار کی۔ خرم اور راجا پہلے سے رکن تھے بلکہ راجا (اور ایک رکن) نجمی صاحب وہ دو حضرات تھے، جن کو دسمبر ۱۹۴۷ء جمعیت کے تاسیسی اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل تھی۔ میں نے ستمبر ۱۹۵۰ء کے سالانہ اجتماع (لاہور) میں پہلی بار شرکت کی۔ ۴نومبر۱۹۵۱ء کو خرم بھائی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے اور اسی سال جمعیت کے دستور کی تدوینِ نو ہوئی۔ اولیں دستور ’قواعد و ضوابط‘ کے عنوان سے محترم نعیم صدیقی کا لکھا ہوا تھا اور جمعیت کا پہلا باقاعدہ دستور جو ابھی تک دستورِعمل ہے، ۱۹۵۲ء میں مرتب ہوا اور اس کی تدوین جس کمیٹی نے کی اس میں خرم بھائی کے علاوہ راجا اور مَیں تھے۔ اس دستور کی بنیادی تسوید (drafting) کا کام زیادہ تر ظفراسحاق نے کیا، اگرچہ نوک پلک درست کرنے میں ہم سب نے حصہ لیا تھا۔
مَیں نے اپنی مرتب کردہ پہلی کتاب Maududi on Islamic Law and Constitution کے ’پیش لفظ‘ میں راجا بھائی کے بارے میں لکھا تھا کہ: یہ کتاب ہماری قلمی رفاقت کا ثمرہ ہے اور میری خواہش تھی کہ ان کا نام میرے ساتھ شریکِ مدیر کی حیثیت سے دیا جائے، جس کو انھوں نے سختی سے ویٹو کر دیا۔ عملاً ہماری اس رفاقت کا آغاز Students's Voiceکی اشاعت سے ہوا، جو ۱۹۵۱ء میں ہم نے مل کر نکالا اور جمعیت ہی نہیں پاکستان میں طالب علم دنیا میں طلبہ کا پہلا پرچہ تھا۔ ایک سال تک اسے سائیکلواسٹایل کرکے ہرماہ لایا جاتا تھا۔ ہم خود اسے لکھتے تھے، قاضی عبدالقادر ٹائپ کرتے تھے اور اسٹنسل کاٹتے تھے۔ محمدمیاں سائیکلواسٹایل کرتے تھے اور پھر سب کارکن مل کر فروخت کرتے اور پھیلاتے تھے۔ ایک سال میں اس کے ایک ہزار خریدار بن گئے تھے، جس سے متاثر ہوکر ہم نے ۱۹۵۲ء میں اسے ۱۵ روزہ مطبوعہ پرچے کی حیثیت سے شائع کیا۔ پہلاشمارہ ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوا اور پھر صرف چھے مہینے میں ۷ہزار تک پہنچ گیا۔ راجا اور مَیں اس کے ایڈیٹر تھے۔ اس طرح ہماری ادبی رفاقت کا آغاز اسٹوڈنٹس وائس سے ہوا، اور اس کے بعد New Era ، Voice of Islam اور دوسری شکلوں میں زندگی بھر یہ سفر جاری و ساری رہا، الحمدلِلّٰہِ علٰی ذٰلک۔
اس امر کاکھلے دل سے اعتراف کرتا ہوںکہ مجھے اُردو میں لکھنے کی ترغیب دینے میں سب سے اہم کردار راجابھائی ہی کا تھا۔ میں اس زمانے میں انگریزی کے سحر میں کچھ زیادہ ہی مبتلا تھا اور اُردو میں لکھنے کی ہمت نہیں کرتا تھا، گو اُردو تقریر میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی تھی۔
کالج لائف کی ابتدا ہی سے لکھنے کا شوق تھا۔ ۱۹۴۹ء میں نصف صفحے کا ایک مضمون لاہور کے ایک رسالے میں شائع ہوا، جب میں انٹر آرٹس کر رہا تھا۔ ۵۱-۱۹۵۰ء گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کراچی (جہاں مَیں زیرتعلیم تھا) کے سالانہ انگریزی میگزین کا مَیں ایڈیٹر تھا۔ رسالہ دو حصوں میں تھا۔ انگریزی حصے کا مَیں ایڈیٹر تھا اور اُردو حصے کا میرا ایک کلاس فیلو۔ اس کا اصرار تھا کہ مَیں اُردو میں بھی مضمون لکھوں اور میری ہمت نہیں ہورہی تھی۔ راجا بھائی نے مجھے مجبور کیا کہ لکھوں ۔ تب میں نے جمعیت کے نئے نئے اثرات کے تحت نظامِ تعلیم کی اصلاح کے موضوع پر چند صفحے لکھے، جن کی نوک پلک راجا بھائی نے درست کرکے قابلِ اشاعت بنایا اور اس طرح اُردو میں میرے لکھنے کا آغاز ہوا، جسے پھر اصل مہمیز چراغِ راہ کی ادارت کے ذریعے ملی، جو محترم چودھری غلام محمدصاحب مرحوم کے اصرار بلکہ حکم پر سنبھالی۔ مسلم، ممتاز اور نثار صاحبان چراغِ راہ میں میرے دست و بازو تھے۔
راجا اور مَیں ۱۹۵۵ء تک اسٹوڈنٹس وائس مل کر نکالتے رہے۔راجا بھائی نے ایم اے معاشیات میں کیا تھا، اور پھر اس مضمون کی تدریس اختیار کر کے بحیثیت استاد کیریئر کا آغاز کیا۔ اسلامک اسٹڈیز میں وہ ۱۹۵۸ء کے بعد آئے، جب کینیڈا کی میک گل یونی ورسٹی کے وظیفے پر وہ ایم اے کے لیے وہاں گئے۔ وہاں انھوں نے مشہور مستشرق پروفیسر ولفریڈ کینٹ ول اسمتھ کی نگرانی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ پھر معاشیات سے ان کارشتہ عملاً کٹ گیا، اور اسلامک اسٹڈیز ، خصوصیت سے اسلامی قانون ان کا میدان بن گیا۔
اسلامی قانون میں تخصص کے باوجود علومِ اسلامی کے ہر شعبے میں انھوں نے دادِ تحقیق دی ہے اور مشرق و مغرب کی نام وَر یونی ورسٹیوں میں تدریس کے فرائض انجام دیے ہیں۔ جن میں امریکا کی پرنسٹن یونی ورسٹی، شکاگو یونی ورسٹی، کینیڈا کی میک گل یونی ورسٹی، آسٹریلیا کی میلبورن یونی ورسٹی، سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی، جدہ اور یونی ورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلز دہران شامل ہیں۔ ۱۹۸۶ء میں اسلام آباد منتقل ہوگئے اور پھر انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد میں پروفیسر، نائب صدر اور اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ تدریس کے ساتھ تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کا وظیفہ زندگی تھا۔ راجا بھائی کوئی خشک کتابی شخصیت نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی پُربہار اور شگفتہ شخصیت عطا کی تھی۔ وہ اپنے اہلِ خانہ اور احباب کے درمیان گھنٹوں صرف کرتے تھے اور ہمیشہ رونق محفل رہتے تھے۔
راجا بھائی نے اپنی ۷۰سالہ علمی زندگی میں تصنیف و تالیف اور تعلیم و تعلّم کے ایسے چراغ روشن کیے ہیں، جو مدتوں ضوفشانی کرتے رہیں گے۔ میری نگاہ میں ان کا سب سے اہم علمی کارنامہ مولانا مودودیؒ کی تالیف تفہیم القرآن اور ترجمۂ قرآن کا انگریزی ترجمہ ہے، جس کے ’پیش لفظ‘ کے چند جملوں میں قارئین کو شریک کرنا چاہتا ہوں:
ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری، میرے بھائی، زندگی بھر کے ساتھی اور ہم دم دیرینہ نے بڑی مہارت، مشاقی اور قدرتِ کلام سے اسے انگریزی میں منتقل کیا ہے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں قطعاً جھجک نہیں ہے کہ ڈاکٹر انصاری نے اظہار و بیان کے اس معیار کو برقرار رکھاہے، جس کا اُردو میں اہتمام و انصرام سیّدابوالاعلیٰ مودودی کیا کرتے تھے۔ یہ ایک سدابہار یادگاری کارنامہ ہے۔
مولانا مودودیؒ نے ترجمۂ قرآن کی زبان کو ’اُردوے مبین‘ کہا تھا اور ظفراسحاق نے اسے ’انگریزی مبین‘ میں ڈھال دیا، وما توفیقی الا باللّٰہ۔
راجا بھائی اسلامی جمعیت طلبہ کے رکنِ رکین تھے۔ مرکزی شوریٰ کے رکن رہے، البتہ نظامت وغیرہ کی ذمہ داریوں سے بچتے رہے۔ لیکن کراچی جمعیت کے مزاج اور پھر اس کی روشنی میں پورے پاکستان کی جمعیت کے مزاج اور کردار کی تشکیل میں ان کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔ الحمدللہ جمعیت کے بے شمار پہلو ہیں، لیکن اس کا اصل تاریخی کارنامہ ،تعلیمی دنیا میں دین کے اس وسیع اور ہمہ گیر تصور کا فروغ ہے، جو تحریکِ اسلامی نے اس دور میں دیا ہے اور جس کے نتیجے میں اسلام انفرادی زندگی کے ساتھ اجتماعی زندگی کے صورت گر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پھر جمعیت کا تربیتی نظام اور ایک مخصوص کلچر ہے جس کا طرئہ امتیاز فکری اور اخلاقی اصلاح کے ساتھ ایک ہمدردانہ، مشفقانہ اور برادرانہ فضا کا قیام ہے، جسے رحماء بینھم کے قرآنی مطالبے کے حصول کی ایک کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہی برادرانہ کلچر اسلامی تحریک میں بھی ایک امتیازی مقام رکھتا ہے اور خدانخواستہ جس کی کمی تحریک کی مضبوطی کو ضعف پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔
رفقاکے درمیان ذاتی تعلق، بھائی چارہ، ایک خاندان اور ایک برادری بن جانے کی روح وہ چیز ہے، جس نے جمعیت کو ایک منفرد اسلامی تحریک بنادیا ہے۔ الحمدللہ بہت سے نشیب و فراز کے باوجود یہ روح اور یہ فضا قائم و دائم ہے۔ اس فضا اور برادرانہ تعلق کو جمعیت کی پہچان بنانے میں خرم بھائی اور راجا بھائی کا بڑا دخل ہے اور مجھے بھی یہ سعادت حاصل ہے کہ ان دونوں کی رفاقت میں اس عمل میں ایک ادنیٰ شریک کار کی حیثیت سے مددگار رہا ہوں۔ نیز اس امر کے اعتراف میں بھی کوئی باک نہیں کہ اس پہلو کو اُجاگر کرنے میں ہم نے اخوان کے رہنما ڈاکٹر سعید رمضان سے بہت کچھ سیکھا اور اس طرح چراغ سے چراغ جلتا گیا۔
راجا بھائی کے علمی مقام اور خدمات پر بھی لکھنے کی ضرورت ہے اور ان کی کتابوں اور مضامین کا صرف انٹرنیٹ پر موجود ہونا کافی نہیں، بلکہ ان کی حفاظت، طباعت اور تشہیر پر توجہ صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ اس تحریر میں راجا بھائی کی زندگی کے جن پہلوئوں کے بارے میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں اور ان میں سب سے اہم ان کا اسلام سے کمٹمنٹ، اسے صرف ایک نظریے اور عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کے نصب العین کے طور پر اختیار کرنا اور اس پر جم جانا ہے۔ جمعیت کے دستور کی تدوین کے وقت، زندگی کے مقصد کے اظہارواعلان کے لیے جس آیت قرآنی کا انتخاب کیا گیا، وہ خرم بھائی اور راجا بھائی ہی کی تجویز کردہ تھی اور اپنی کم علمی کے باوجود میری زبان سے بھی بے ساختہ نکلا ع
اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o لَا شَرِیْکَ لَہٗ (انعام ۶:۱۶۱-۱۶۲)
کم از کم میں نے اس زمانے میں یہ تازہ تازہ رُوداد جماعت اسلامی میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی علیہ رحمۃ کے خطبۂ جمعہ میں پڑھی تھی، جو دل و دماغ کو مسحور کیے ہوئے تھی۔
راجا بھائی کی پوری زندگی کھلی کتاب کے مانند ہے۔ ہزاروں افراد نے ان سے استفادہ کیا ہے اور سیکڑوں نے ان کو قریب سے دیکھا اور ان کے ساتھ گہرا تعلق رکھا ہے۔ ان کی اولیں اور آخری وفاداری اپنے اللہ سے اور اللہ کے دین سے تھی۔ جو کچھ انھوں نے کیا، لکھا اور کہا، وہ اپنے مالک کی رضا کے حصول کے لیے اور اس دین کی خدمت کے جذبے سے اور بڑے شوق اور ولولے سے کیا، جسے انھوں نے زندگی کا مقصد اور حاصل بنایا تھا۔ میرا دل گواہی دیتا ہے اور ان شاء اللہ ، اللہ کے فرشتے بھی گواہی دیں گے کہ وہ اللہ کے ان بندوں میں سے تھے، جنھوں نے رب سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرنے میں اپنی حد تک ہرکوشش کی اور جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ کو اپنا رب تسلیم کرنے، حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول اور اسلام کو اپنا دین بنانے پر راضی ہوگئے: ذَاقَ طَعَمَ الْاِیْمَانُ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَبِالِاسْلَامِ دِیْنًا۔
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاo (احزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا ہے اور کوئی وقت آنے کا منتظر۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
راجا بھائی نے جماعت اسلامی سے باقاعدہ رکنیت کا تعلق قائم نہیں کیا اور اس کی ایک نہیں کئی وجوہ ہیں، جن میں ان کا مزاج، علمی مصروفیات، ۱۹۵۸ء میں ملک سے باہر چلے جانا اور ایک طویل مدت تک باہر ہی رہنا اور پھر تعلیمی کیریئر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالینا شامل ہیں۔ خود یونی ورسٹی کیریئر اور علمی کام، اور خصوصیت سے تخصص کے آداب اور تقاضے شامل ہیں۔ سیاسی امور پر کہیں کہیں اختلاف راے بھی رہا ہے اور ہم بارہا اس پر بات کرتے رہے ہیں، لیکن جہاں تک جماعت کے مقصد، طریق کار اور مجموعی خدمات کا تعلق ہے، جماعت سے ان کی محبت اور تعلق کسی رکن سے کم نہیں تھی۔
ایک بار میں نے راجا بھائی سے کہا کہ ’’دل چاہتا ہے کہ خرم کی طرح تم بھی جماعت کے اندر ہوتے‘‘ تو اپنے مخصوص انداز میں تبسم اور آنکھوں کی چمک کے ساتھ جواب میں کہا: ’’جماعت میرے اندر ہے، میرے جماعت کے اندر ہونے سے کیا فرق پڑے گا، میں تو اپنے کو اس کا اہل نہیں سمجھتا‘‘۔ اس پر مَیں نے ان کو مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم کا واقعہ سنایا۔ وہ جماعت سے نکل گئے تھے، مگر الحمدللہ میرا ان سے تعلق ہمیشہ ویسا ہی رہا اور وہ بھی ہم پر اسی طرح شفقت فرماتے رہے۔ ایک بار بڑے پیارے انداز میں مولانا اصلاحی صاحب نے فرمایا:’’میں جماعت سے نکل گیا ہوں، لیکن وہ جماعت جو میرے اندر ہے، وہ کبھی نہیں نکلتی۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب بھی جماعت کوئی اچھا کام کرتی ہے یا اسے کوئی کامیابی ہوتی ہے تو مَیں خوشی محسوس کرتا ہوں۔ اور جب بھی جماعت کوئی غلطی کرتی ہے یا اسے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو مجھے اس پر دُکھ ہوتا ہے‘‘۔
میرے خیال میں جماعت سے تعلق کے سلسلے میں یہ ایک بڑا سچا پیمانہ ہے اور راجا بھائی رکن نہ ہوتے ہوئے بھی اس پر ہمیشہ پورے اُترے۔ جمعیت کے دور کے بھائی چارے اور برادرانہ کلچر کی جو بات مَیں نے کی ہے، وہ کلچر راجا بھائی کی پوری زندگی میں دیکھا جاسکتاتھا۔ ان کی زندگی کا میرے لیے بہت ہی پیارا پہلو ان کی ذاتی رفاقت، محبت، خیرخواہی، اپنائیت، بے ساختگی ہے۔ یہ ان کی شخصیت کا بڑا ہی دل آویز پہلو تھا، جو ان کی نیت کی پاکی اور حُسنِ سلوک کا مظہر تھا۔ ان کی زندگی میں دو رنگی نہیں تھی۔ مفاد پر مبنی تعلق کا کوئی سایہ ان کی زندگی پر نہیں پڑا تھا۔ ان کا گھر ہی نہیں، ان کا دل بھی ہر ایک کے لیے کھلا تھا اور یہ تعلق بے لوث تھا جس نے ان سے رشتے کو ایک مقدس رشتہ بنا دیا تھا۔ پھر وہ دوسرے کی بات بڑے سکون سے سنتے تھے اور اختلاف بھی اس طرح کرتے تھے کہ دل نہ ٹوٹنے پائے۔ خوش کلامی ہی نہیں، خلوص اور خیرخواہی وہ عناصر تھے، جو ان سے اختلاف کو ایک رحمت بنادیتے تھے اور خودپسندی، غرور اور من آنم کہ من دانم کا ان کی زندگی میں کوئی مقام نہیں تھا۔
پھر یہ بھی واضح رہے کہ راجا بھائی بڑے مجلسی انسان تھے۔ وہ بولتے آہستہ آہستہ تھے، کبھی تو یہ احساس ہوتا تھا کہ الفاظ کے باب میں بخل سے کام لے رہے، یا سوچ سوچ کر ، ٹھیرٹھیر کر بول رہے ہیں، حالانکہ خیالات کو حُسن و خوبی سے ادا کرنے میں کوئی ان کی ٹکر کا نہیں تھا، بس یوں سمجھ لیں کہ ان کا اسٹائل تھا۔ ان کے الفاظ میں جو شیرینی، ان کے انداز میں جو اپنائیت، ان کے لہجے میں جو خلوص اور ان کے احساسات میں جو خیرخواہی اور دردمندی بلکہ قدرافزائی ہوتی تھی، وہ دل و جان کو مسحور کردیتی تھی ،گویا ؎
ساز دل چھیڑ کے بھی، توڑ کے بھی دیکھ لیا
اس میں نغمہ ہی نہیں کوئی محبت کے سوا
راجا بھائی کا رویہ بڑوں کے ساتھ، ہم عمروں کے ساتھ، اپنے سے کم عمر کے ساتھیوں کے ساتھ، بچوں کے ساتھ بڑا خوش گوار اور اپنائیت سے بھرپور ہوتا تھا۔ نیز ان کے مزاج میں خوش گوار مزاح کا ایک رنگ بھی تھا، جسے ان کی مسکراہٹ جو کبھی کبھی ہنسی کی شکل اختیار کرلیتی تھی کچھ اور بھی دل آویز بنادیتی تھی ؎
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندا طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
راجا بھائی کئی سال سے شدید بیمار تھے، لیکن مجال ہے کہ کبھی حرفِ شکایت ان کی زبان پر آیا ہو۔ صبر اور شکر کا وہ پیکر تھے۔ الحمدللہ، ان کے بیٹے یاسر اور ان کی بہو سمیرا نے ان کی خدمت کا حق ادا کر دیا، خصوصیت سے سمیرابیٹی نے جس لگن اور محنت سے اپنے سُسر کی خدمت کی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ تعالیٰ، یاسر، سمیرا اور تمام اہلِ خانہ کو بہترین اجر سے نوازے اور ان کی اس خدمت کو شرفِ قبولیت بخش کر ان کے لیے دنیا اور آخرت میں بہترین اجر کا سامان فرمائے۔ سمیرا بیٹی نے بتایا کہ انتقال سے چند دن قبل ہسپتال میں بار بار میرے بارے میں پوچھتے رہے، حالانکہ ہسپتال جانے سے ایک دن پہلے ہی مجھ سے بات ہوئی تھی۔ ہفتہ کو ہسپتال سے گھر واپس آئے، طبیعت خوش گوار محسوس کر رہے تھے۔ سمیرابیٹی سے فرمایش کرکے تھوڑی سی مٹھاس کھائی اور پھر ہمیشہ کی نیند سوگئے۔ الحمدللہ، خرم بھائی اور راجا بھائی سے تعلقات ان کی ذات تک محدود نہیں رہے۔ ہماری اولادیں بھی ایک دوسرے سے قریب ہیں اور ہر ایک کی اولاد نے ہم تینوں کو خاندان کے بڑے کا درجہ دیا ہے۔ خرم بھائی اور راجا بھائی دونوں کے بچے مجھے خورشید چچا ہی کہتے ہیں اور میرے بیٹے اور بیٹیاں اُن کو باپ کا سا احترام دیتے رہے ہیں۔ یہ اللہ کا بڑا فضل ہے جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
ان ۷۰برسوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو خرم ہوں یا راجا، ان کو اپنے سے جدا اور دُور محسوس نہیں کرتا، اور یہی احساس ہے جو دونوں کے بچھڑ جانے کے باوجود ان کو مجھ سے جدا نہیں ہونے دیتا:
من تو شدم ، تو من شدی
من تن شدم ، تو جاں شدی
تاکس نگوید بعد ازیں
من دیگرم ، تو دیگری
کراچی محض ایک شہر نہیں بلکہ پاکستان کے فکری، سیاسی اور معاشی قلب کی حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ اقبال نے جو بات پورے ایشیا کے تناظر میں ملت افغان کے بارے کہی تھی، وہی بات کراچی پر بھی بدرجۂ اولیٰ صادق آتی ہے، یعنی اس کے فساد سے پورا پاکستان فساد اور ابتلا میں مبتلا ہوگا، اور اس کی کشادگی اور سکون پورے پاکستان کی کشادگی اور سکون پر منتج ہوگی۔۱؎
قیامِ پاکستان کے وقت کراچی اپنے سارے شہری جمال، معاشی مرکزیت اور جغرافیائی اہمیت کے باوصف چار ساڑھے چار لاکھ افراد کا شہر تھا، لیکن اس شہر قائد نے برعظیم پاک و ہند سے نقل آبادی اور مملکت ِ خداداد کے دارالحکومت اور تصورِ پاکستان کی علامت اور مرکزِ ثقل ہونے کے ناتے دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔پہلے پانچ سال میں آبادی میں ۱۰ گنا اضافہ ہوا اور آج یہ شہر تقریباً اڑھائی کروڑ انسانوں کا مسکن ہے۔ قومی آمدنی میں تقریباً ایک چوتھائی اور قومی محصولات میں تقریباً نصف اسی شہر سے حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان کے تمام علاقوں اور پاکستان میں تمام زبانیں بولنے والے اس شہر کے باسی ہیں۔ اس کے بازو ہر علاقے کے لوگوں کے لیے کھلے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے آئینۂ پاکستان اور ’مِنی پاکستان‘ کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آبادی کے اس محیرالعقول اضافے اور اس کی شہری زندگی کی ساخت اور ترکیب میں تبدیلی، نیز اس کے جغرافیائی پھیلائو اور متنوع معاشی سرگرمیوں سے وابستگی اور مختلف حکومتوں کے متضاد اور امتیازی رویوں ہی نے اُن ہمالیائی مسائل کو جنم دیا ہے، جن کی وجہ سے یہ ایک دہکتے الائو کا منظر پیش کر رہا ہے۔
قیامِ پاکستان کے اوّلیں ۱۰، ۱۵ برس تو نسبتاً پُرسکون تھے، لیکن ۱۹۷۰ء کے عشرے سے آج تک یہ شہر اگر ایک طرف خودکار اور مستقبل بین منصوبہ بندی سے محروم ،غیرمتوازن بڑھوتری یا ترقی کا شاہکار رہا ہے، تو دوسری طرف گوناگوں تضادات کا مجموعہ، متصادم قوتوں کا گہوارہ اور شہر کے مختلف علاقوں، آبادیوں، طبقات اور لسانی اور معاشی گروہوں کے درمیان کش مکش کا میدان بن گیا ہے۔
نام نہاد جمہوری اَدوار ہوں یا فوجی مہم ُجو عناصر کی حکمرانی کے زمانے، بحیثیت مجموعی یہ شہر مشکلات، مسائل اور شکایات ہی کی آماج گاہ بنا رہا ہے۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ ریاست کے تمام ہی ادارے اپنی اصل بنیادپر کام کرنے کے لائق نہ رہے۔ کرپشن، بدانتظامی، مفادپرستی، سیاسی جانب داری، لاقانونیت، بھتّا خوری، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوئے اڑھائی تین عشرے ہورہے ہیں۔ ریاست غیرمؤثر اور غیرریاستی ادارے اور گروہ اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔
یہ سلسلہ جولائی ۱۹۷۲ء میں کراچی میں اُردو سندھی لسانی فسادات سے شروع ہوا ،اور گذشتہ ۱۸برس (۱۰برس جنرل مشرف + ایم کیو ایم اور آٹھ برس پیپلزپارٹی+ایم کیو ایم دور) اس کی بدترین مثال پیش کرتے ہیں۔ جب سے آپریشن ’ضربِ عضب‘ کا دائرہ وسیع ہوا ہے اور کراچی کے حالات کو قابو میں لانے کے لیے رینجرز کے ہاتھوں حالات کچھ بہترہوئے ہیں، لیکن بنیادی مسائل اور حالات جوں کے توں اور شدید تشویش کا باعث ہیں۔ صوبائی حکومت کی بُری حکمرانی، نااہلی اور کرپشن اور بدعنوانی کی بدترین مثال ہے۔ مرکزی حکومت ظاہری فوں فاں کے باوجود ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ رینجرز اور سندھ کی صوبائی حکومت کے درمیان درپردہ ہی نہیں، کھلی کھلی کش مکش روز افزوں ہے اور غیر ریاستی عناصر کا تباہ کن کھیل جاری ہے۔
اس پس منظر میں تبدیلی کی جو لہریں اُبھر رہی ہیں اور جس طرح اُبھر رہی ہیں، وہ نئے نئے سوالات کو جنم دے رہی ہیں اور لوگوں کی زبان پر بے ساختہ یہ الفاظ آرہے ہیں ؎
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
ہم سمجھتے ہیں کہ اس موقعے پر ٹھنڈے دل سے صورتِ حال کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا ہے، تاکہ حقیقت پسندی سے ایک بُرائی کے بعد دوسری بُرائی، اور ایک تباہی سے دوسری تباہی کے جال میں پھنسنے کے کرب ناک اور خوف ناک چکّر سے نکلنے اور حالات کے حقیقی سدھار کے راستوں کو تلاش کرنے اور ان پر عمل کی راہیں استوار کرنے کی فکر اور کوشش کی جاسکے۔
ایم کیو ایم نے گذشتہ ۴۰ برس میں کراچی اور سندھ کے دوسرے شہری علاقوں میں، سیاسی اور تنظیمی سطح پر ایک مقام بناکر ملک کی سیاست میں ایک خاص کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم کے اس کردار پر ملک میں پہلی بار کھل کر بات ہورہی ہے۔ چند ماہ پہلے تک پورے ملک کی سیاسی فضا اور خصوصیت سے میڈیا پر جبر اور خوف کا وہ عالم طاری تھا کہ ’متحدہ‘ کے کردار کے بارے میں کسی کے لیے بھی تنقید، اختلاف اور احتساب کی بات کہنا تو دُور کا معاملہ ہے، اشارہ تک کرنا ممکن نہ تھا۔
بلاشبہہ جماعت اسلامی، تحریکِ انصاف اور چند سیاست دانوں، دانش وروں اور صحافیوں نے جان پر کھیل کر اس عفریتی صورتِ حال پر گرفت کی اور اس کی بڑی قیمت ادا کی۔ ان کے علاوہ بھی کچھ نے دبے الفاظ میں اشارے کیے، مگر کراچی کی مجموعی سیاست میں ایم کیو ایم کی حیثیت ایک ’مقدس گائے‘ ہی کی رہی۔ سیاسی میدان اور میڈیا میں اختلاف راے اور ان کے بارے میں حقیقت کے برملا اظہار کا کوئی امکان نہ تھا۔ جس نے زبان کھولی، اس کی زبان کاٹ دی گئی۔ جس نے اختلاف کیا، اس کا مقدر بندوق کی گولی بنی۔ ۲۰ہزار سے زیادہ افراد نے جان کی بازی ہاری اور ہزاروں نے نقل مکانی کی۔ اس گروہ کی منہ زوری یہاں تک پہنچی کہ جن ۲۰۰ سے زیادہ پولیس افسروں اور اہل کاروں بہ شمول چند فوجی افسروں کے، جو ۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۶ء کے دوران کراچی آپریشن سے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ تھے، ایک ایک کر کے قتل کردیا گیا۔ اسی طرح سچائی بیان کرنے والے ایک درجن صحافیوں کو خون میں نہلا دیا گیا اوران کے قتل کے گواہوں تک کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔
خصوصیت سے ’آپریشن ضربِ عضب‘ کے آغاز اور اس کے نتیجے میں دوسری دہشت گرد قوتوں کے ساتھ ’متحدہ‘ کے کچھ عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے سے، میڈیا پر ’متحدہ‘ کی حکمرانی کا بت اب ٹوٹ رہا ہے ۔ متحدہ کی سیاہ کاریوں کا جبری پردہ آہستہ آہستہ سرک رہا ہے اور اصل حقائق قوم کے سامنے نسبتاً زیادہ آزادی سے آنا شروع ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تصویر کا وہ رُخ اب نمایاں ہو رہا ہے، جسے عوام کی نگاہوں سے اوجھل رکھا گیا تھا۔ قانون، حکومت، عدالت اور ملک کے مقتدر طبقات سبھی اپنے اپنے مفادات کے چکّر میں یا کچھ دوسری مجبوریوں کے باعث اس جبری خاموشی، یا اس مجرمانہ پردہ پوشی کے نتیجے میں مجرموں کے طرف دار، سہولت کار اور پناہ دہندگان کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی بے گناہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس پس منظر میں ’متحدہ‘ سے وابستہ افراد کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد نے پہلی بار کھلی تنقید کی راہ اختیار کی ہے۔ وہ باتیں جو ماضی میں صرف جماعت اسلامی اور چند اہلِ علم، دانش ور اور صحافی کہنے کی جرأت کر رہے تھے، یہ سب کھل کر بیان کرنے کے لیے خود ’متحدہ‘ ہی کے افراد کی ایک قابلِ ذکر تعداد سامنے آئی ہے اور گھر کے بھیدی کی حیثیت سے حقائق بیان کررہے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ضمیر کی بیداری کے نام پر یہ حضرات اب گویا تو ہوئے ہیں اور کچھ اس اعتراف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں کہ: ’’ہم لوگ ان کارناموں کو جانتے تو تھے، مگر کہنے کی جرأت نہ رکھتے تھے‘‘۔
یہی وہ مقام ہے جہاں گروہ بندی اور مفاد پرستی کے بجاے اصل حقائق کو جاننے اور صحیح راہِ عمل اختیار کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم تو ’متحدہ‘ کے بارے میں کبھی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ تھے اور ہرمیدان میں اس کا مقدور بھر مقابلہ کر رہے تھے اور اپنی جانوں کے ساتھ اس کی بھاری قیمت ادا کرتے آرہے ہیں۔البتہ تبدیل ہوتے ہوئے اس منظرنامے میں، اس امر کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ محض ’مٹی پائو‘ کی سیاست کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے، اور اصل حقائق کی روشنی میں بگاڑ کے اسباب کو سمجھا اور حقیقی اصلاح کا راستہ اختیار کیا جائے۔
’متحدہ‘ کے طرزِ فکر اور طرزِعمل سے سخت اختلاف اور ان کے غیض و غضب کا اوّلیں اور مسلسل نشانہ ہونے کے باوجود، ہم نے کل بھی یہ بات کہی تھی اور آج بھی کہتے ہیں کہ: سیاسی اختلاف___ اور سیاست میں تشدد، جبر اور فساد کے ہتھیاروں کا استعمال دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ریاست اور حکومت جب بھی قدم اُٹھائیں، اور جو بھی قدم اُٹھائیں، اسے قانون کی حکمرانی اور انصاف کے تقاضوں کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہیے۔ اوچھے ہتھکنڈوں اور انتقام سے اپنا دامن بچانا چاہیے۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں جب پہلے مسلم لیگ (ن) اور پھر پیپلزپارٹی کے اَدوار میں، کراچی میں فوج اور رینجرز کے ذریعے ایم کیو ایم کی فسطائیت کے خلاف آپریشن ہوا، تو ہم نے اس وقت بھی اپنی اصولی اور حقیقی پوزیشن واضح کی تھی اور آج پھر ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں۔
ہماری نگاہ میں ’متحدہ‘ کا ایک تو سیاسی چہرہ اور اس کے کچھ سیاسی کام ہیں۔ ان کی دوسری شناخت ایک فاشسٹ گروہ کی بھی ہے، اور یہ گروہ تشدد، ظلم، جبر اور قوت کے مبنی بر فساد استعمال کی خونیں روایت کا علَم بردار ہے۔ جس کو مفادات کی سیاست کرنے والوں نے: خواہ ان کا تعلق جمہوری قوتوں سے ہو یا عسکری عناصر سے، نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ اس میں شریک ہوئے اور ان کے سرپرست اور پشتی بان بنے۔ ہم دستور اور قانون کے مطابق ان کی سیاسی سرگرمیوں کا حق اسی طرح تسلیم کرتے ہیں، جس طرح اپنے اور دوسرے سیاسی عناصر کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، مگر ان کے دوسرے رُخ کو ہم ہر اعتبار سے مذموم، ملک کے لیے تباہ کن اور جمہوریت کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھتے ہیں۔ بگاڑ اور فساد کے جس عذاب سے آج سابقہ ہے، اور اس کے رُونما ہونے میں، ان کے اور چند دوسرے عناصر کی اس فسطائی اور تشدد پر مبنی سیاست کا نتیجہ تصور کرتے ہیں۔
۱۹۹۲ء کے آپریشن کے موقعے پر راقم الحروف نے سینیٹ میں اس وقت کے آپریشن پر مفصل تقریر میں جو کچھ کہا تھا، وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ یہ تقریر اسی زمانے میں روزنامہ جنگ میں بطورِ مضمون بھی شائع ہوئی تھی۔ ریکارڈ کی خاطر اس کا ایک حصہ یہاں دیا جارہا ہے کہ کل بھی ہماری مخالفت اصولوں پر مبنی تھی اور آج بھی مبنی برحق ہے۔
ہم ذاتی مفادات یا گروہی عصبیت کے طرف دار نہیں ہیں۔ ہم نے کل بھی ’متحدہ‘ کے لیے انصاف اور اصل حقائق کی روشنی میں معاملہ کرنے کی بات کی تھی اور آج بھی اسی موقف کا اعادہ کرتے ہیں، لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ جن حقیقی جرائم کے وہ مرتکب ہوئے ہیں، ان پر پردہ ڈالنا اور ان کو نظرانداز کرنا نہ کل صحیح تھا اور نہ آج درست ہے۔ ان پر قانون کے مطابق گرفت ہونی چاہیے تھی اور اگر ماضی میں نہیں ہوئی تو آج ہونی چاہیے۔ لیکن جس جرم کے وہ مرتکب نہیں ہوئے ہیں، تو محض اس لیے کہ آج مقتدر عناصر ان سے ناراض ہیں، ان کو ماوراے حق و صداقت سزا دینا، بہرحال حق اور انصاف کا خون کرنا ہوگا۔ ہم اس سے بڑھ کر یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ اس پورے عرصے میں جن جرائم کے بھی وہ مرتکب ہوئے ہیں، ان کی سزا جس طرح ان کو ملنی چاہیے، بالکل اسی طرح ان تمام عناصر کا بھی احتساب اور قانون کے مطابق گرفت اور حق و انصاف کی روشنی میں انھیں بھی سزا ملنی چاہیے، جو جرم میں شریک یا اس پر پردہ ڈالنے اور ظالم کو پناہ دینے کے مرتکب ہوتے چلے آرہے ہیں، خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ فرد ہو یا ادارہ، سیاسی ہو یا غیر سیاسی، جمہوری ہو یا عسکری، یا کوئی اور: انھیں بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔یہاں ملاحظہ فرمائیں کہ ۱۹۹۲ء میں ہم نے کیا کہا تھا:
تشویش کا تیسرا پہلو وہ چند ابتدائی کارروائیاں ہیں، جن میں بحریہ کی مڈبھیڑ، پنڈبہاول کا واقعہ اور دورانِ تفتیش لوگوں کی اموات شامل ہیں۔ ان چیزوں نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ یہ بڑی قابلِ اطمینان بات ہے کہ پنڈبہاول کے واقعے کے بعد فوج نے ایک صحیح، واضح اقدام اور درست موقف اختیار کیا اور اس طرح اپنی آبرو کو بحال کیا۔
چوتھا تشویش کا پہلو ایم کیو ایم اور حکومت کے تعلقات ہیں۔ ایک طرف یہ بات ثابت ہے کہ ایم کیو ایم ایک پُرتشدد جماعت تھی۔ اس کے اذیت خانے برابر کام کر رہے تھے اور یہ کوئی خفیہ راز نہیں تھا۔ حکومت کے علم میں ان تمام باتوں کو وقتاً فوقتاً لایا گیا اور کراچی کے بے شمار شہری ان عقوبت خانوں کا شکار ہوئے۔ بہت سے بچ جانے والوں کی آہوں اور کراہوں کو کسی نے سنا تک نہیں۔ لیکن آج بھی مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت، دونوں سطحوں پر ایم کیو ایم برابر کی شریک ہے۔ اس پس منظر میں یہ ایک تشویش ناک پہلو ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس وقت درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ بلاشبہہ امن و امان کا ہے۔ اس مسئلے کو اگر حل نہ کیا گیا تو ملکی سالمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ بات یقینا عاقبت نااندیشی ہوگی، اگر ہم یہ خیال کریں کہ یہ صرف امن و امان ہی کا مسئلہ ہے۔ درحقیقت یہاں اقتصادی اُمور میں خصوصیت سے زمینوں اور صنعت کا مسئلہ، انفراسٹرکچر کی تعمیر، بالخصوص نوجوانوں کی بے روزگاری کے مسائل ہیں کہ جن کی بناپر یہ نوجوان تخریب کاری کی طرف گئے ہیں۔ ان کے علاوہ یہاں کا زمین داری اور وڈیرہ شاہی کا نظام اس شکل میں مسلط ہے کہ جس کے باعث عوام وہاں ابھی تک احساسِ شرکت سے محروم ہیں۔ اگر عوام کسی پارٹی کو مینڈیٹ دیتے ہیں تو پھر ان کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی حکومت بنائیں ۔ چنانچہ امن و امان کے ساتھ ساتھ مسئلے کا سیاسی صرف دیانت دارانہ عمل سے نکل سکتا ہے۔ اس کے لیے سیاسی پارٹیوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، خود ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔
جہاں ایم کیو ایم کا امن و امان کے مسئلے کو پیدا کرنے میں مرکزی کردار ہے، وہیں ایم کیو ایم کا ہر ممبر اس کا مجرم نہیں۔ کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہمیں مجرم اور بے گناہ میں فرق کرنا ہوگا۔ جو لوگ تشدد کے ذمہ دار ہیں، ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتنی چاہیے۔ انصاف ہر ایک کے ساتھ کیا جانا چاہیے ،خواہ اس کا تعلق ایم کیو ایم کے ساتھ ہو، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، جماعت اسلامی یا کسی اور پارٹی سے۔ مراد یہ ہے کہ تشدد کی سیاست، لسانی سیاست اور پھر جائز اور صحیح سیاست کے درمیان فرق ضروری ہے۔ اگر ہم نے مجرم اور بے گناہ کے درمیان فرق نہ کیا اور فوج نے مکمل غیر جانب داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ بہت بڑا سانحہ ہوگا۔ چنانچہ انصاف، سیاسی سرپرستی اور جانب داری سے ماورا ہوکر کیا جائے۔ تشدد کی سیاست سے جس کسی کا بھی تعلق ہے اور جس نے بھی کسی ڈاکو کو پناہ دی ہے اور جو بھی ان کے سرپرست اور ذمہ دار ہیں، ان تمام عناصر کا محاسبہ کیا جائے، چاہے ان کا تعلق ایم کیو ایم حقیقی سے ہو یا غیرحقیقی سے، یا کسی بھی طبقے سے۔ اگر حکومت نے اس معاملے میں کسی ایک گروہ کو دوسرے کے خلاف استعمال کیا، تو یہ انصاف نہیں ہوگا اور اس کے نتیجے میں یہ آپریشن ناکام ہوگا۔
متحدہ قومی موومنٹ سے ہمارا اصولی اختلاف ان کے بنیادی فلسفۂ سیاست، یعنی مہاجریت اور اُردو زبان کی بنیاد پر قومیت کے سوال سے ہے۔ مہاجر ایک واقعاتی تصور بھی ہوسکتا ہے اور ایک نظریاتی اور اختلافی تصور بھی۔ جہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق ہے، ہر وہ شخص جو کسی بھی وجہ سے ایک ملک سے نقلِ مکانی کرکے کسی دوسرے ملک میں جاکر آباد ہوجائے، وہ مہاجر ہے۔ لیکن محض یہ نقلِ مکانی اور اپنے اصل وطن سے نسبت کسی شخص یا گروہ کو ایک قوم نہیں بناتی۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد ایک نظریاتی اور اخلاقی جدوجہد تھی۔ اس جدوجہد میں برعظیم کے مسلمانوں کی اکثریت شریک تھی۔ وہ بھی جن کا تعلق اُن علاقوں سے تھا جو پاکستان کا حصہ بنے، اور وہ بھی جن کا تعلق اُن علاقوں سے تھا جنھیں ہندستان کا حصہ بننا تھا۔ پھر نقلِ آبادی تقسیمِ ہند کے منصوبے کا ایک حصہ نہیں تھی۔ وہ ان حالات کا نتیجہ ضرور تھی جن میں ملک تقسیم ہوا اور فسادات کی آگ نے ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پھر مجموعی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی کوئی ایک زبان نہیں تھی۔اس میں اُردو بولنے والے بھی تھے، پنجابی، پشتو، بلوچی، پوربی، تامل، بہاری، گجراتی، میمن، کچھی، سرائیکی، دری اور دسیوں زبانیں بولنے والے ہم وطن شامل تھے۔
مغربی پاکستان میں ۱۹۵۱ء کی مردم شماری کی روشنی میں آبادی ۳کروڑ ۳۷لاکھ تھی، جس میں سے مہاجرین کی تعداد ۶۳لاکھ تھی، گویا آبادی کا تقریباً ۲۰ فی صد۔ اس میں اُردو بولنے والوں کی آبادی ایک چوتھائی سے بھی کم تھی۔ تین چوتھائی مہاجر تھے، مگر وہ سب اُردو بولنے والے نہیں تھے اور یہ ایک چوتھائی اُردو بولنے والے بھی سبھی کراچی یا صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں آباد نہیں ہوئے۔ ہرچند کہ ان کی ایک بڑی تعداد یہاں ضرور آباد ہوئی، اور ان کے ساتھ دوسری زبانیں بولنے والے بھی ہجرت کرکے اپنے اپنے حالات اور امکانات کے مطابق آباد ہوئے۔ یہ ہیں اصل زمینی حقائق! اس پس منظر میں کسی ایک گروہ کا لسانی بنیادوں پر اپنا استحقاق دوسروں پر مسلط کرنا تصادم ہی کا باعث ہوسکتا ہے۔ انصاف سب کے ساتھ ہونا چاہیے، لیکن کسی کے لیے بھی ترجیحی مقام (priviliged position) فساد ہی کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور بن کر رہی ہے۔
اسی طرح مشرقی پاکستان میں ۷لاکھ کے قریب مہاجر آئے تھے، جن کی بڑی تعداد اُردو، بنگلہ اور آسامی بولنے والوں کی تھی۔ پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔ ہر زبان کا اپنا قابلِ احترام مقام ہے اور انسانوں کی پہچان میں زبان کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن ایک فرد کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت محض زبان کے استعمال و اختیار سے متعین نہیں ہوتی۔ اس لیے قرآن نے زندگی کا جو تصور دیا ہے وہ بڑا واضح ہے:
ٰٓیاََیُّھَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط اِِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ o (الحجرات ۴۹:۱۳) لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔
اسلام نے مسلمانوں کو عقیدہ اور دین کی بنیاد پر ایک قوم بنایا اور اللہ کی اطاعت کو ان کا نصب العین اور اجتماعی زندگی کی بنیاد قرار دیا:
اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِo(انبیاء ۲۱:۹۲) یہ تمھاری اُمت حقیقت میں ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔
وَاِِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ o(المومنون ۲۳:۵۲) اور یہ تمھاری اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو۔
مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی بنیاد اور اللہ کو رب تسلیم کرکے عقیدے اور الہامی ہدایت کے مطابق زندگی کی تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ رب کی عبادت اور اس کے تقویٰ کو اللہ سے تعلق اور بندوں کے درمیان نظامِ کار کی اصل قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے باب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دوٹوک الفاظ میں واضح فرما دیا کہ: اگر تم اپنا وطن اس لیے چھوڑ رہے ہوکہ وہاں دین کی پیروی اور اللہ کی اطاعت اور اس کا تقویٰ اختیار کرنا ممکن نہیں، اور ہجرت اس جگہ کے لیے کر رہے ہو، جہاں اللہ کی عبادت اور بندگی ممکن ہو اور اسلامی زندگی قائم کرسکو، تویہ ہجرت اللہ کے لیے ہے۔ اور اگر نقل مکانی کسی دنیوی مقصد کے لیے ہے، خواہ اس کا تعلق معاش سے ہو یا معاشرت (نکاح کی خواہش) سے، تو یہ ہجرت ان مقاصد کے لیے ہے، نہ کہ اللہ کی رضا کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ حبشہ اور مدینہ کی ہجرت نظریاتی اور اخلاقی ہجرت تھی اور اس کے نتیجے میں مہاجروں اور انصار میں ایک نیا رشتۂ مواخات قائم ہوا، اور دونوں مدینہ کی اسلامی ریاست کے شہری اور اسلام اور دولت ِاسلامیہ کے دفاع اور حکومت کے لیے کمربستہ ہوگئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد جو بھی پاکستان کا شہری ہے، وہ پاکستان اور ملت اسلامیہ پاکستان کا حصہ ہے۔ ہر وہ زبان جس کے بولنے والے اس اُمت کا حصہ ہیں، ان کی ہر زبان معتبر ہے، لیکن ان کی قومیت، شہریت اور اجتماعیت کی بنیاد زبان نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ان کا نظریہ، پروگرام اور طریق کار ان کی شناخت کے صورت گرہیں اور اسی بنیاد پر اجتماعیت کی تشکیل و تعمیر میں سب اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہم بڑے دُکھ سے یہ بات کہتے ہیں کہ اُردو کا جھنڈا اُٹھانے والی ’متحدہ‘ نے اُردو زبان کی کوئی خدمت نہیں کی۔ وہ اُردو جو پاکستان کے ۸۰ فی صد سے زیادہ افراد کے درمیان رابطے کی زبان ہے اور پاکستانی قوم کی وحدت و یگانگت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، اسے آبادی کے صرف ۸فی صد سے منسوب زبان بناکر قومی دھارے میں اس کے مقام کو عملاً بُری طرح سے مجروح کر دیا گیا ہے۔
’متحدہ‘ ایک طرف ہجرت کے اسلامی تصور کا سہارا لیتی ہے اور دوسری طرف اپنے کو ایک سیکولر اور لامذہبی تحریک قرار دیتی ہے۔ اب کچھ عرصے سے اس کے کچھ ترجمان اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہنے کے بعد اپنے سیکولر ہونے کا دعویٰ کر کے اس اقرار کہ ’’ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں‘‘کی نفی کردیتے ہیں اور اس تضاد کو محسوس بھی نہیں کرتے!
’متحدہ‘ سے ہمارا دوسرا بنیادی اختلاف اس شخصی پرستش گیری ( personal cult) کے باب میں ہے، جس پر اس کا پورا سیاسی فلسفہ اور تنظیمی نظام قائم ہے۔ درحقیقت ’متحدہ‘ میں اس کے ’قائد‘ کی مرکزیت ہی تحریک کا سیاسی فلسفہ ہے۔ اس کا ’قائد‘ ہی حتمی سچائی اور ہر معاملے میں حرفِ آخر ہے۔ ’قائد‘ سے وفاداری ’متحدہ‘ کی اساس ہے۔ ’متحدہ‘ کا لٹریچر اور عملی ڈھانچا، تربیتی نظام اور نعرے___ ان سبھی کا ایک ہی محور ہے، یعنی ’’ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے‘‘۔ قائد پر اندھا ایمان (blind faith in the leader) ہی ہمارا اصل الاصول ہے۔ جس کا اظہار اس نعرے کی صورت میں ہرمحفل اور در و یوار پر کیا جا رہا ہے کہ:’جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے‘۔
’قائد ِ تحریک‘ ہی ہرمعاملے میں سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ فکری اور پالیسی اُمور سے لے کر معمولی معاملات تک، ہر مسئلے میں صرف وہی حرفِ آخر ہے۔ صدر یا امیر کے بجاے اسے ’قائد‘ اور ’پیر‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے اور وہ جسے چاہے کان پکڑ کر نکال دے اور جسے چاہے پارٹی عہدہ یا اسمبلی کی رکنیت دے ڈالے۔ حال ہی میں ’متحدہ‘ کو چھوڑنے والوں نے اپنی اس کیفیت کو یہ کہہ کر بیان کیا ہے کہ الطاف صاحب کو تحریک میں نعوذباللہ ’خدا‘ کا سا درجہ دیا ہوا ہے۔ ایک محقق نے ’متحدہ‘ کے فکر اور مزاج کا خلاصہ یوں پیش کیا:
پارٹی [’متحدہ‘]عجیب و غریب طرزِفکروعمل کا ایسا ملغوبہ پیش کرتی ہے، جس میں قومیت پرستی، زبان پرستی، عصبیت زدگی اور سوشلسٹ رجحانات باہم مربوط ہیں۔ اس پارٹی کو ایک غیرمنتخب لیڈر ’روحانی‘ اصطلاحوں میں اپنی سربراہی میں چلاتا ہے، جس کے لیے صدر سے زیادہ ’پیر‘ کا لفظ برتا جاتا ہے، اور جس کی زبردست گرفت میں پارٹی کام کرتی ہے۔(Criterion، The MQM and Identity Politics in Pakistan Qurterly ، نومبر ۲۰۱۲ئ)
شخصیت پرستی اور ’قائد‘ کے انا ولاغیری مقام کا واضح اعلان اس ’حلف نامے‘ میں ہوتا ہے ،جو متحدہ کے ارکان روزنامہ ڈان کراچی کے مطابق ان الفاظ میں اُٹھاتے ہیں:
مَیں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے لیے زندگی بھر وفادار رہوں گا۔ میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف کوئی بھی سازش ہوئی، یا میرے علم میں ایسا کوئی بھی اقدام آیا کہ جس سے ان دونوں کو کوئی نقصان پہنچنے کا امکان ہوا، تو مَیں فی الفور الطاف حسین کو اس کی اطلاع دوں گا۔ حتیٰ کہ ان سازشیوں میں اگر میرا بھائی، بہن، ماں، باپ، کوئی رشتے دار یا دوست تک بھی ہوا، [تو اسے نظرانداز نہیں کروں گا] ۔ مَیں قسم کھاتا ہوں کہ میں الطاف حسین کے فیصلوں کو ہرصورت میں حتمی حقیقت کے طور پر تسلیم کروں گا۔ اگر مَیں اس [الطاف حسین] کے کسی فیصلے سے سرتابی کروں تو مجھے غدار تصور کیا جائے۔(Herald Exclusive، Big brother is watching، عابد حسین، ڈان، ۳ستمبر ۲۰۱۴ئ)
’متحدہ‘ معروف معنی میں کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فرد کے گرد اور اس کے اشارئہ چشم و ابرو پر ناچنے والے ’مرکزِپرستش‘ گروہ (cult)کی حیثیت رکھتی ہے، جسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور کامیابی سے یہ کھیل ۴۰برس سے کھیلا جارہا ہے۔
’متحدہ‘ سے ہمارا تیسرا بنیادی اختلاف سیاست میں تشدد کے بے مہابا استعمال پر ہے۔ یہ پارٹی کے اندر بھی ہے اور ملک کی سطح پر سیاسی مخالفین، معاشرے، میڈیا اور اجتماعی زندگی کے تمام ہی میدانوں میں روا رکھا گیا ہے۔ تنظیم ہر مقام پر دو سطحوں پر متحرک ہے: ایک باہر کی سطح کہ جس پر جمہوری لبادہ ہے اور دوسری اصلی تنظیم جو خالص فاشسٹ اصولوں پر ہے۔ ’قائدِ تحریک‘ کی آہنی گرفت پورے نظام پر ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی جو بھی تنظیمیں ہیں، خصوصیت سے تنظیمی کمیٹی، سیکٹر کی تنظیم اور مختلف سطح پر اس کے انچارج اور پھر انفرادی سطح پر عامل کارندے (operatives)، یہ سبھی مسلح ہیں۔ قوت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ الطاف صاحب یا ان کے خاص نمایندوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان کی تربیت ہرسطح پر اور ہرقسم کی تخریبی کارروائیوں کے لیے ہوتی ہے۔ انھیں اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے، ان کو بلیک میل کرنے، ان سے بھتّا وصول کرنے، ان کی زبان بندی کرنے، اور ہر اس کام کے لیے جو الطاف صاحب یا ان کے مامور کرانا چاہیں، ان کے لیے روا ہے۔ قوت کا استعمال، اس کے لیے عسکری تربیت، جماعتی ڈسپلن، مکمل رازداری، ذاتی وفاداری، ہرقسم کی قتل و غارت گری اور تخریب کاری کی تربیت اور یہ کام کرنے والوں کو حفاظت۔
ہزاروں افراد پر مشتمل یہ فورس ’متحدہ‘ نے ان ۴۰برسوں میںتیار کی ہے اور یہ اس کے ہمہ وقتی کارکنوں کی حیثیت سے ہروقت سرگرمِ عمل ہیں۔ان میں سے ایک بڑی تعداد سرکاری اداروں میں گھوسٹ ملازم کے طور پر تنخواہیں وصول کرتی ہے، لیکن کارکن وہ صرف ’متحدہ‘ کے ہیں اور سیکٹر انچارجوں کے ذریعے خدمات انجام دیتے ہیں۔اگر یہ پکڑے جاتے ہیں تو ان کو تحفظ دلانے اور رہا کرانے کا کام ’متحدہ‘ کی قیادت کرتی ہے۔ جیلوں میں ان کو وی آئی پی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ جیل کے اندر ہی ان کے لیے پارٹیاں ہوتی ہیں، حتیٰ کہ متحدہ کے اسمبلیوں کے ارکان اور سندھ کے گورنر تک ایسی محفلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں جن کی تصاویر اور وڈیوز موجود ہیں، جن میں کچھ صولت مرزا کے مقدمے،مشترکہ تفتیشی ٹیم (جے آئی ٹی)کی صورت میں قوم کے سامنے آچکی ہیں اور جن کی ’متحدہ‘کے ترجمانوں نے نہایت بھونڈے انداز میں توجیہات پیش کی تھیں، وہ آج ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ گویا ایک ’برابر کی‘ (parallel) حکومت ہے، ’ریاست در ریاست‘ ہے (state within state) ۔ جس کے ذریعے ’متحدہ‘ اور اس کی قیادت بندوق کی نالی کی قوت سے اپنا پورا نظام چلارہی ہے اور کوئی انھیں روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اور تشویش انگیز امر یہ ہے کہ اس گروہ کو قائم کرنے اور لسانی بنیاد پر کراچی میں تقسیم اور تصادم کے ذریعے اپنا اقتدار مستحکم کرنے کا آغاز خود صدرجنرل محمدضیاء الحق اور ان کے قابلِ اعتماد افسروں کے ہاتھوں ہوا۔ پاکستان سینیٹ کی سندھ کے حالات پر ایک کمیٹی، جس نے سینیٹر احمد میاں سومرو مرحوم کی صدارت میں کام کیا تھا، اور جس کا مَیں خود ممبر تھا۔ کمیٹی کے سامنے پولیس کے دو اعلیٰ افسروں نے اپنے بیان میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق اور پھر ان کے بعد فوجی قیادت کے دور کے اس کردار کا اعتراف کیا تھا، لیکن رپورٹ میں ان کے ناموں کی صراحت سے اس بیان کو ریکارڈ پر لانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ جس کا مطلب اپنے اور اپنی اولاد کے تحفظ کو قرار دینا تھا۔ لیکن ۲۰۱۱ء کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سوموٹو ، کیس نمبر۱۶، اور ۲۰۱۱ء ہی کے دستوری پٹیشن نمبر۶۱، جس کے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کی سربراہی میں کی، اس پس منظر کو ان الفاظ کے ساتھ پیراگراف ۶۵ میں درج کیا ہے:
کراچی کی تاریخ، جو اُوپر بیان کی گئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۸۵ء سے لے کر اب تک، وقت گزرنے کے ساتھ جرائم کی سطح بلند اور امن و امان کی صورتِ حال بڑی تیزی کے ساتھ بد سے بدتر ہوئی ہے۔ سیّداقبال حیدر [سابق وفاقی وزیرقانون، عدل و پارلیمانی اُمور] نے واضح کیا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے دانستہ طور پر یہاں کے لوگوں کو تقسیم کرنے اور غیرسیاسی قوتوں کا تر نوالا بنانے کے لیے ان تشدد پسند گروہوں کی پرورش کی۔ انھی گروہوں کو اسلحے سے لیس کیا کہ جن گروہوں کی بنیاد لسانی منافرت پر استوار تھی۔ ان میں ’مہاجر قومی موومنٹ‘ (اب ’متحدہ قومی موومنٹ)، پنجابی پختون اتحاد(PPI) اور جیے سندھ (JS)شامل ہیں۔ اور پھر اپریل ۱۹۸۵ء میں ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی سڑک کے حادثے میں ہلاکت کے بعد بے شمار خونیں فسادات کا لاوا پھوٹ پڑا، جس میں مذکورہ بالا تینوں لسانی گروہوں یا پارٹیوں نے دل کھول کر حصہ لیا۔ انجامِ کار، کراچی اور حیدرآباد میں لاتعداد بے گناہ شہری موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے۔ سرکاری اور نجی املاک کا بے پناہ نقصان ہوا، ہزاروں شہری بُری طرح زخمی یا معذور بنا دیے گئے۔ کرفیو کا نفاذ اور ہڑتالوں کی لعنت اور روزمرہ زندگی کے کاموں کا تعطل ہی کراچی کی پہچان بن کر رہ گئے۔ مزید یہ کہ ۱۹۸۰ء کے بعد مختلف اوقات میں سندھ ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل چھے عدالتی کمیشن بنائے گئے۔ مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک بھی عدالتی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی، اور نہ ان میں سے کسی کمیشن کی سفارشات پر کوئی عمل ہی کیا گیا ہے۔ جس کا سبب غالباً یہ ہے کہ ان خوں خوار واقعات کے ذمہ دار مجرموں کو تحفظ دیا جائے۔ اس کھیل کے پیش نظر، وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک آزاد اور اعلیٰ اختیاراتی عدالتی کمیشن، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد افضل ظُلہ کی سربراہی میں تشکیل دیا، جس میںچاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان بطورِ ممبر شامل تھے۔ ان کے ذمے یہ کام تھا کہ ۱۷مئی ۱۹۹۰ء کو پکاقلعہ حیدرآباد میں وقوع پذیر خوف ناک خونیں واقعے کی تفتیش کریں، مگر افسوس کی بات ہے کہ [اگست ۱۹۹۰ء میں] بے نظیر بھٹو کی مرکزی حکومت کو غیرآئینی طور پر تحلیل کردیا گیا۔ اور پھر اس دوران میں ایسی عبوری حکومت قائم کی گئی، جس نے مرکزی اور صوبائی وزارتوں میں ایم کیو ایم کو بھاری نمایندگی دے ڈالی اور انھوں نے مذکورہ بالا عدالتی کمیشن کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
لندن کے معروف جریدے دی اکانومسٹ (۲۱؍اگست ۲۰۱۱ئ) نے کراچی کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس کے چند اقتباسات ذیل میں دیے جارہے ہیں:
پاکستان کے گنجان ترین شہر کراچی میں لسانی بنیادوں پر جنگ اس عروج کے نکتے کو چھورہی ہے کہ انسانی جان بچانے کے لیے ایمبولینس سروس تک کے ڈرائیور لسانی پہچان کے ساتھ زخمیوں کو اُٹھانے یا نہ اُٹھانے کی عصبیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جو ایمبولینس ڈرائیور زخمیوں کو اُٹھا کر ہسپتالوں کی طرف سائرن بجاتے ہوئے تیزی سے چلتے ہیں، وہ بھی مخالف نسلی گروہ کی فائرنگ کا لقمہ بن رہے ہیں۔
اس خوں ریزی کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ایک نئی صورت یہ ہے کہ لوگوں کو محض گولی نہیں ماری جاتی بلکہ انھیں اغوا کرکے بہیمانہ ٹارچر کیا جاتا ہے، اور پھر ان کی گولیوں سے ہلاک شدہ مسخ لاشوں کو بوریوں میں بند کرکے تنگ گلیوں اور گٹروں میں پھینک دیا جاتا ہے۔عباسی شہید ہسپتال میں، جو کہ ایک سرکاری ہسپتال ہے، ڈاکٹر صرف مہاجروں کا علاج کرتے ہیں، جن کی اس ضلع میں غالب اکثریت ہے اور [مہاجر] کراچی کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہے۔
اگر یہ جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان صرف ایک جنگ تھی تو اس پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ لیکن حیرت اس پر ہے کہ ہر جرائم پیشہ گروہ کو کسی نہ کسی مقبول سیاسی جماعت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس لڑائی کا آغاز ۲۰۰۷ء میں ہوا تھا، اور انتخابات کے بعد [جنرل مشرف کی] فوجی حکمرانی کے دور کا اختتام ہوا تھا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو نسلی گروہوں کی سیاسی حمایت سے مربوط ہے، اور جو اس سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ جو ۱۹۸۰ء کے عشرے میں قائم کی گئی تھی، اور جو مہاجروں کی نمایندگی کا دعویٰ کرتی ہے، ایک زمانے میں کراچی پر اس کی آہنی گرفت تھی۔ اِن دنوں صدر آصف زرداری کی پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت میں شامل ہے۔ اس اجارہ داری کو عوامی نیشنل پارٹی جو پشتون آبادی کی ترجمان ہے ، چیلنج کر رہی ہے۔ ان کے جرائم پیشہ گروہ کو ہمسایہ صوبہ بلوچستان کے عصبیت پسند بلوچوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دو عشروں سے زیادہ ایم کیو ایم شہربھر سے تاجروں اور گھروں سے جبری وصولی جسے ’بھتّا‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، جمع کرتی آئی ہے۔ ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ڈھیلے ڈھالے اتحاد نے جو سیاسی حمایت حاصل کی ہے، اب اس کو استعمال کرتے ہوئے پیشہ ور گروہ کیش میں اپنا حصہ بھی چاہتے ہیں۔ عین تنازعے کے بیچ میں تاجروں کو اب تین مخالف گروہوں کو ادایگی کرنا پڑے گی۔
جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے، وہ اس قابل دکھائی نہیں دیتی ہیں کہ تشدد کو ختم کرسکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض جرائم پیشہ نہیں ہیں کہ جنھوں نے عملاً اپنے آپ کو پارٹی کے جھنڈے میں لپیٹ رکھا ہے بلکہ پارٹیوں کے سیاسی عمل کا جزو لازم ہے۔ اگر تشدد جاری رہتا ہے تو عام لوگ کسی سیاسی جماعت کا تحفظ حاصل کرنے پر مجبور ہوں گے اور انھیں مزید ادایگی کرنا ہوگی۔ غالباً یہ ہے یہاں سیاست دانوں کا ہدف۔ آپ اسے جرم کوسیاسی رنگ دینا یا سیاست کو جرم کا رنگ دینا کہہ سکتے ہیں۔
یہ ایسی دل خراش داستان ہے کہ جس کا ذکر کرتے ہوئے آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں، مگر حیف ہے ان سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور بااثر اور حُب ِ وطن کے دعوے دار حکمرانوں پر، کہ یہ سب کچھ ان کے سامنے ہورہا تھا اور ہو رہا ہے اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ آپریشن ’ضربِ عضب‘ کے بعد جو حقائق کھل کر سامنے آرہے ہیں اور جن جن ناموں اور سیاہ ’کارناموں‘ کا بھی اعتراف کیا جارہا ہے، وہ ایک چارج شیٹ ہے پورے نظام پر اور اس نظام کے تمام رکھوالوں پر۔ مقتولین کی روحیں اور مظلوموں کی آہیں پکار رہی ہیں کہ انصاف کب ہوگا اور ظالموں کو کون اور کب کیفرکردار تک پہنچائے گا؟
’متحدہ‘ کی مرکزی قیادت کے جو لوگ اب رو رو کر اپنے ہی اقتدار کے دور کے واقعات بیان کر رہے ہیں اور سارا الزام الطاف حسین صاحب پر ڈال کر اپنی پاک دامنی کا واسطہ یا مغالطہ دے رہے ہیں، احتساب ان کا بھی ہونا چاہیے، لیکن ان کی گواہی گھر کے بھیدی اور شاھدٌ من اھلہ کی ہے ،جو بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اس سلسلے میں کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال اور ان کے چھے ساتھیوں، جن کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، سے بھی تفصیلی معلومات حاصل کرنے اور اس کی روشنی میں مزید حقائق کو معلوم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔اسے محض سیاسی واہمہ یا وقتی اُبال بناکر ہوا میں تحلیل نہیں ہونا چاہیے۔
اس سلسلے میں مشترکہ تفتیشی ٹیم (JIT) کی رپورٹوں کے بھی جائزے کی ضرورت ہے۔ بلدیہ ٹائون کے بارے میں اب کوئی شبہہ نہیں رہا کہ اس فیکٹری کو آگ ’متحدہ‘ کی قیادت کے حکم پر، اس کے کارکنوں نے لگائی اور مسئلے کی جڑ میں بھتّا اینٹھنے کا مطالبہ تھا۔ غضب خدا کا کہ ۲۵۸ سے زیادہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا اور قاتل اور ان کے سرپرست نہ صرف دندناتے پھرتے رہے بلکہ آج بھی پھر رہے ہیں۔ ان میں حماد صدیقی کا نام بھی آتا ہے، جو اَب مصطفیٰ کمال صاحب کے سفیدپوش بریگیڈ میں شامل ہو رہے ہیں اور اشارے ہیں کہ JIT کے کسی نئے بیانیے (version) میں ان کا نام ’پاک صاف‘ کرنے کا امکان ہے۔ دیدہ دلیری کا عالم یہ رہا ہے کہ اس سب کے بعد بھی فیکٹری کے مالکان سے متاثرین کی مدد کے نام پر کروڑوں روپے وصول کیے گئے مگر روپے متاثرین کو دینا تو کجا، ان کروڑوں روپوں کا سایہ تک اصل متاثرین پر نہیں پڑا۔
ایک اور ہوش ربا رپورٹ دسمبر ۲۰۰۹ء یومِ عاشور کے موقعے پر شیعہ نوحہ خانوں کے جلوس کو بم دھماکے کا نشانہ بنانے کے بارے میں ہے، جس میں ۴۵ معصوم افراد کا سفاکانہ قتل ہوا۔اس جلوس پر حملے کا سرا بھی ’متحدہ‘ کے دامن تک پہنچتا ہے، اور اس سلسلے میں بھی حماد صدیقی کا نام آرہا ہے۔ تخریب کاری کے اس سفّاکانہ واقعے میں قرآنِ پاک کے صفحات تک کو استعمال کیا گیا، اور اس حملے کا مقصد شیعہ سُنّی فسادات کی آگ بھڑکانا تھا۔ ایم کیو ایم جسے اپنے سیکولر ہونے پر بڑا ناز ہے اور جو اپنے آپ کو فرقہ واریت سے بالا ظاہر کرتے ہوئے نہیں تھکتی، اس کی قیادت کا اس خونیں ڈرامے میں کردار دل و دماغ کو مائوف کرنے والا واقعہ ہے۔
’متحدہ‘ سے منحرف ہونے والوں نے اب تک جو بیانات دیے ہیں، وہ ایک گھنائونی چارج شیٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی، اسلامی جمعیت طلبہ اور چند دوسرے افراد جن حقائق کو جان پر کھیل کر بیان کیا کرتے تھے، ان کی تائید اور توثیق آج یہ حلفیہ بیانات کرتے ہیں، اور متحدہ کا یہی وہ کردار ہے، جوہمارے اختلاف کا مرکزی نکتہ ہے۔
اس سلسلے میں اب اتنا لوازمہ اور اتنے اعترافی بیانات سامنے آرہے ہیں کہ ان کا احاطہ ایک مضمون تو کجا، پوری کتاب تک میں بھی ممکن نہیں۔ لیکن ڈان(۱۸مارچ ۲۰۱۶ئ) نے اپنے ادارتی کالم Confronting MQM's Past میں مختصراً جو بات کہی ہے، وہ بھی قابلِ توجہ ہے:
مصطفیٰ کمال کے مسئلے میں، بہت سے افراد ، جن کا اس کی بے نام پارٹی سے تعلق ہے، ماضی بھی بے داغ نہیں ہے۔ وہ کراچی تنظیمی کمیٹی سے وابستہ تھے جو کہ متحدہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کا بازو تھا۔ یہ ہمیں بنیادی مسئلے، یعنی متحدہ کی تشدد سے وابستگی اور اس کا اسے تسلیم کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت جس مسئلے پر بات نہیں کررہی، وہ یہ حقیقت ہے کہ جب تک حکومت نے اقدام نہیں کیا، پارٹی نے اپنے غیرواضح عسکری ونگ سے کراچی کو آہنی گرفت سے کنٹرول کیا۔ شہر کے رہایشی ابھی تک اس بات کو نہیں بھولے ہیں۔ جب ایم کیو ایم کے ایک اشارے پر تقریباً تمام شہر کو کئی کئی دن کے لیے ’سوگ‘ یا احتجاج کے لیے بند کر دیا جاتا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ [’متحدہ‘] پارٹی نے سندھ کی شہری سیاست کے ساتھ ساتھ عصبیت کی سیاست میں بندوق کے کلچر کو متعارف کروایا اور پارٹی جبری وصولی پر پھلی پھولی ہے، جیسے الزامات کو مسترد کرنا بہت مشکل ہے، جب کہ ایم کیو ایم اختلاف راے کو کم ہی برداشت کرتی ہے۔
واضح رہے کہ کینیڈا کی دو عدالتیں متحدہ قومی موومنٹ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہیں اور اسی بنیادپر اس سے متعلق افراد کو پناہ گزیں قرار دینے سے انکار کرچکی ہیں۔ اسی طرح بی بی سی کے نامہ نگار اور دی گارڈین کے کالم نگار اوون بینیٹ جونز کے بقول امریکا میں متحدہ کو TIER-3 کی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاچکا ہے۔
سپریم کورٹ نے بھی اپنے ۲۰۱۱ء کے سوموٹو کیس میں اپنے فیصلے کے پیراگراف ۱۳۱، ص۱۵۱ پر جہاں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں دہشت گرد اور مجرم کارفرما نظر آتے ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت پر باقاعدہ مقدمہ چلانے اور دستور کے تحت اس پر بندش کی بات کو متحدہ کے بارے میں مطالبے کے باوجود حکومت کی طرف لوٹا دیا تھا کہ وہ اس پر دستور اور قانون کی روشنی میں غور کرے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اجمل پہاڑی اور اس کے بھارت میں تربیت پانے اور کراچی اور سندھ میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کا بھرپور انداز میں ذکر کیا ہے۔ (دیکھیے: پیراگراف ۱۲۵، ص ۱۴۲-۱۴۳)
سپریم کورٹ کا فیصلہ، اخباری اطلاعات، عالمی میڈیا کی شہادت، متاثرہ افراد اور جماعتوں کا واویلا، ہزاروں افراد کا قتل، ساڑھے تین ہزار مقدمات سے سیاسی این آر او کے ذریعے گلوخلاصیاں، پولیس کی ناقص تفتیش اور مقدمات کی عدم پیروی، مجرموں کی سیاسی پشت پناہی، ان سب کی موجودگی میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں، ریاست کے حساس اداروں بشمول انٹیلی جنس فورسز، افواجِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر اُس وقت کے صدور جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری اور آج کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف کی خاموشی، آنکھ مچولی، غفلت اور بے عملی کو عملاً سرپرستی نہ کہا جائے تو کس نام سے پکارا جائے؟ ؎
پتّا پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
’متحدہ‘ اور اس کے لیڈر کے بنیادی فلسفے ، سیاسی عزائم اور طرزِ سیاست اور ۴۰برسوں پر پھیلے ہوئے ان کے کردار اور اس کے نتیجے میں رُونما ہونے والی تباہ کاریوں کے بارے میں ہم نے مختصراً اپنی گزارشات پیش کردی ہیں۔ ان کی روشنی میں اس امر سے انکار ناممکن ہے کہ اس تحریک نے گذشتہ ۴۰برسوں میں ملک کے دستوراور قانون کی دھجیاں بکھیری ہیں اور جو طرزِسیاست اختیار کیا ہے، اس کے نتیجے میں فساد فی الارض کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اور جو کچھ فساد ہوا ہے، اس کی اوّلیں ذمہ داری اگر ایم کیو ایم، اس کی قیادت اور بندوق بردار کارکنوں پر ہے، تو وہیں اس پورے عرصے میں جو جو بھی اور جس حد تک بھی، ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والا تھا، وہ ان کے حالات کا ذمہ دار تھا، ان جرائم میں شریک اور اس مجرمانہ شراکت کے لیے قوم کے سامنے جواب دہ ہے۔
مستقبل کے بارے میں اپنی گزارشات پیش کرنے سے پہلے اس مسئلے کا ایک اور پہلو ایسا ہے، جس کا واضح الفاظ میں ادراک، اور قومی سلامتی کے لیے اس کے خطرات کی نشان دہی ضروری ہے۔ اور یہ پہلو ہے ایم کیو ایم کی قیادت خصوصیت سے الطاف حسین صاحب اور ان کے معتمدترین ساتھیوں کا بھارت کے بارے میں رویہ، پاکستان کے نظریے اور قومی مفادات کے بارے میں سردمہری اور ا س سے بھی بڑھ کر بھارت کی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے ان کا تعلق اور اس سے مالی اعانت کے حصول کا ہولناک اسکینڈل۔
یہ ہے وہ پہلو، جس کے پس منظر میں اگر اس جماعت اور اس کی قیادت کے ’کارناموں‘ کا جائزہ لیا جائے، تو صاف نظر آتا ہے کہ اگر یہ سب باتیں صحیح ہیں (اور بظاہر وہ صحیح نظر آتی ہیں) تو وہ قومی سلامتی کے لیے بڑا سنگین خطرہ ہے ۔ دبے لفظوں میں سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے کے آپریشنل حصے میں صاف اشارہ دیا ہے: یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ دستور اور سیاسی جماعتوں کے قانون کی روشنی میں اس باب میں اقدام کا جائزہ لے۔
بھارت نے پاکستان کے قیام کو کھلے دل سے ایک دن کے لیے بھی تسلیم نہیں کیا اور قیامِ پاکستان سے آج تک اسے کمزور کرنے، ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور خاکم بدہن صفحۂ ہستی سے مٹانے کی مذموم کوشش میں نہ صرف وقتاً فوقتاً اس کا اعلان کرتا رہا ہے، بلکہ عملاً اس میں مصروف بھی رہا ہے۔ جس کا آغاز کانگریس کے اس باقاعدہ ریزولیوشن میں کیا گیا تھا جس میں ۳جون ۱۹۴۷ء کے تقسیم ہند کے منصوبے کو انڈین نیشنل کانگریس نے اس توقع کے ساتھ قبول کیا تھا کہ: پاکستان ایک دن دوبارہ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔
۱۹۷۱ء میں بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے پاکستان کو توڑنے کی پوری جنگ لڑی اور پاکستان کو دولخت کرنے کا مذموم ’کارنامہ‘ اپنے نام کیا۔ لیکن حال ہی میں موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی ڈھاکہ کی تقریر میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ اعلان کیا کہ: ہم نے، ہماری فوج نے اور ہماری تربیت کردہ مکتی باہنی نے یہ کام انجام دیا تھا۔ واضح رہے کہ ’را‘ (RAW) کا قیام ہی ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد، اس جنگ کو دوسرے ذریعے سے جاری رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہی وہ ’را‘ ہے، جس نے ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے اندر مسلح مداخلت کرنے کے ساتھ، پاکستان پر کھلی بھارتی جارحیت مسلط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہی ’را‘ بلوچستان میں ایک مدت سے سرگرمِ عمل ہے۔ اسی ’را‘ کے سابق سربراہ نے کھلی وارننگ دی تھی کہ کشمیر کی بات نہ کرو، ورنہ کشمیر کے ’ک‘ کی طرح ہمارے پاس ایک ’ک‘ (کراچی) ہے، اور حال ہی میں ایک دوسرے موقعے پر اس نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ: ’ایک اور ممبئی جیسا واقعہ ہوا تو بلوچستان سے پاکستان کو ہاتھ دھونے پڑیں گے‘۔
یہ ہے وہ ’را‘ ، جس کا ایم کیو ایم کی قیادت سے خصوصی ربط و تعلق ہے۔ جو ’متحدہ‘ کی مسلسل مالی امداد کرتی رہی ہے، جس نے اس کے عسکری اور دہشت گرد کارندوں کی تربیت کا اہتمام کیا۔ یہ سارے حقائق اب دو اور دو چار کی طرح سامنے آرہے ہیں، بلکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی فراہم کردہ سرکاری دستاویزات کی روشنی میں اس کا اعتراف الطاف حسین صاحب اور کم از کم ’متحدہ‘ کے دوچوٹی کے قائدین ، (جو الطاف حسین صاحب کے معتمد ساتھی ہیں) نے بھی کیا ہے۔ بی بی سی کی ایک دستاویزی رپورٹ میں دو سال پہلے یہ سب حقائق سامنے آگئے تھے۔ متعدد JIT (مشترکہ تفتیشی رپورٹوں) میں جستہ جستہ ان چیزوں کا ذکر ہے، جن میں سے کچھ تو اجمل پہاڑی کے ریفرنس سے پاکستان سپریم کورٹ کے ۲۰۱۱ء کے فیصلے کا حصہ بھی ہیں۔ [بقیہ دیکہیے: ص ۹۷]
[اشارات: ص ۲۶ سے آگے] اس سلسلے میں ہر روز مزید حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ انسان سمجھنے سے قاصر کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کہاں جارہے ہیں؟ اور جو افراد اور ادارے قومی سلامتی کے ذمہ دار ہیں، وہ کیا کررہے ہیں؟ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ذرائع سے جو دستاویزات سامنے آئی ہیں، نیز لندن کے پاکستانی تاجر سرفراز مرچنٹ نے میڈیا پر اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے گواہی دی ہے، اور پھر خود مصطفیٰ کمال نے دوبئی کی اس میٹنگ کی گواہی دی ہے، جس میں ’متحدہ‘ کی قیادت کے ساتھ پیپلزپارٹی کے اس وقت کے وزیرداخلہ اور صدر آصف زرداری صاحب کے معتمدخاص عبدالرحمان ملک صاحب اور صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد صاحب شریک تھے۔
بات صرف مالی معاونت کی نہیں، اسلحے کی خریداری اور فراہمی، عسکری تربیت اور ہرطرح کی لاجسٹک سپورٹ کی ہے۔ اس کے بعد بھی قانون کے حرکت میں نہ آنے کے لیے کیا مجبوری ہے؟ انسان اس بات کے جواز کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ ستم بالاے ستم یہ ہے کہ اس کے بعد بھی ایف آئی اے اسلام آباد اخباروں میں اشتہار دینے کی مضحکہ خیز حرکتیںکر رہی ہے اور مشہور زمانہ آئی ایس آئی کی چلت پھرت بھی کہیں نظر نہیں آرہی۔ ہماری قیادتیں جس تضاد کا شکار ہیں، وہ کم سے کم الفاظ میں قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔
اکتوبر ۱۹۹۹ء میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے ایک بار نہیں متعدد بار کہا کہ ’’الطاف حسین غدار ہے‘‘۔ لیکن پھر اسی الطاف حسین کو مکمل تحفظ دیا۔ ان کی پارٹی’متحدہ‘ کو شریکِ اقتدار کیا، اربوں روپے سے نوازا، اس کی ہر غیرقانونی حرکت کو تحفظ دیا۔ ’بھارت یاترا‘ کی سرپرستی کی۔ ’را‘ سے تعلقات سے چشم پوشی فرمائی۔ ۱۲مئی ۲۰۰۷ء کو کراچی ائرپورٹ، شاہراہِ فیصل اور شہر کے مختلف حصوں میں جو خون کی ہولی ’متحدہ‘ نے کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قافلے کو روکنے کے لیے کھیلی، اسے کون بھول سکتا ہے؟ لیکن اسی رات پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے اسلام آباد میں صدر جنرل پرویزمشرف نے ’متحدہ‘ کے اس خونیں کھیل کو ، فضا میں مُکّے لہراتے ہوئے اپنی قوت کا مظہر قرار دیا تھا۔ اس سب کے باوجود الطاف حسین صاحب قانون کی گرفت سے بالا ہیں اور جنرل پرویز مشرف بھی۔ آزاد مقتدر قوتیں نہ لندن سے کسی کو قانون کے کٹہرے میں لاسکی ہیں اور نہ پاکستان میں واپس آنے والے فوجی آمر کو قانون اور عدالت کی بالادستی کی خاطر ملک میں رہنے کو یقینی بناسکی ہیں۔اس کے برعکس منظر یہ ہے کہ کچھ ’پرندے‘ اب اُڑ اُڑ کر واپس پاکستان میں آرہے ہیں، جو دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر اپنا دامن بچانے کا ڈراما رچا تے دکھائی دے رہے ہیں اور بے وقت کی راگنی صدارتی نظام میں ملک کی فلاح کی باتیں کر رہے ہیں___ یاللعجب!
’متحدہ‘ کی قیادت، خصوصیت سے الطاف حسین صاحب، کا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ انھوں نے بھارت کی عظمت کے گیت گائے ہیں، اس کے مفادات کی تائید کی ہے، اس کی خفیہ ایجنسیوں سے رقم لی ہے، اسلحہ حاصل کیا ہے، پاکستانی نوجوانوں کو بھارتی کیمپوں سے تربیت دلاکر پاکستان میں تخریب کاری کے لیے استعمال کیا ہے۔ ان میں سے ہرجرم بے حد سنگین ہے، جو آہنی گرفت، شفاف احتساب اور قرارواقعی سزا کا متقاضی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا جرم یہ بھی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے تصور اور بنیاد تک کی نفی کی ہے، اس کے قیام کو ایک ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا ہے، دوقومی نظریے کی موت کا اعلان کیا ہے، اور بھارت میں پناہ لینے تک کے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ ہم دل کڑا کرکے اور قوم کو موصوف کے اصل عزائم کے بارے میں متنبہ کرنے کے لیے بھارت کی سرزمین پر ان کی ہرزہ سرائیوں میں سے چند نمونے یہاں دینے کی جسارت کررہے ہیں:
یہ حقیقت ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد بھارت میں feudal system [جاگیردارانہ نظام] کا خاتمہ کر دیا گیا، جس کی وجہ سے آزادی کے بعد بھارت میں ایک دن کے لیے بھی مارشل لا نہیں لگا اور جمہوریت strengthen [مضبوط] ہونے لگی۔ اگر ترقی کی رفتار یہی رہی تو بھارت آیندہ ۱۵ یا ۲۰ برسوں میں دنیا کی مضبوط ترین economy [معیشت] والا ملک بن جائے گا۔ کسی بھی ملک کی growth [ترقی و نمو]اور دنیا کے دیگر چھوٹے بڑے ملکوں سے بہتر پارٹنرشپ کے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کی معیشت مثبت سمت میں سفر کررہی ہو۔ معزز خواتین و حضرات، میں اپنا ہر لفظ اور ہر جملہ انتہائی سوچ بچار اور کئی بار غور کرنے کے بعد آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔
معزز خواتین و حضرات، آج پاکستان کے سیاسی scenario [منظرنامے]کی صورتِ حال بے حد depressing [مایوس کن]ہے کہ جب ملک کی لیڈرشپ کھلے عام یہ بات مانتی ہے کہ اگر فوج نے ملکی معاملات نہ چلائے تو ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ میرے نزدیک یہ admission [اعتراف] نظریۂ پاکستان Idea of Pakistan یعنی sub-continent [برعظیم] کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک اور پچھلے ۵۰برسوں میں کمزور سے کمزور تر ہونے والی two nation theory (یعنی دو قومی نظریے ) کے لیے ایک serious blow [سخت صدمہ]ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کو tribal [قبائلی] اور linguistic differences [لسانی اختلافات] کی بناپر قتل کر رہے ہیں اور sectarianism [فرقہ وارانہ منافرت]میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس situation [صورتِ حال]سے سارا فائدہ mosque and madarasas [مسجد اور مدرسے] کو اپنے گھنائونے مقصد کے لیے استعمال کرنے والے اُٹھا رہے ہیں۔ شاید پاکستان بننے کے ساتھ ہی نظریۂ پاکستان دم توڑ گیا تھا جب sub-continent [برعظیم] کے مسلمانوں کی majority [اکثریت] نے تقسیم کے نتیجے میں بھارت میں رہنا ہی پسند کیا اور یہ سچائی ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے قیام کی شکل میں پھراُبھر کر سامنے آئی۔
بھارتی اخبارات میں اس موقعے پر الطاف حسین صاحب کو ’مستقبل کے قائداعظم‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بلاک سائوتھ (جہاں بھارتی وزیراعظم کا دفتر واقع ہے) کے ذرائع کے مطابق ہندستان ٹائمز نے پروگرام سے پہلے ۴نومبر کو الطاف حسین صاحب کی ملاقات سیکورٹی ایڈوائزر جے این ڈکشٹ(J.N. Dixit) سے ہوئی۔ واشنگٹن سے جاری ہونے والے ساؤتھ ایشیا ٹربیون کے مطابق بھارتی حکومت، الطاف حسین سے کشمیر کے مسئلے میں معاونت لے رہی ہے:
سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت ِ ہند اس [الطاف] کی مدد چاہتی ہے، تاکہ کچھ اُمور میں وہ جنرل مشرف کو بھارتی شرائط کے مطابق مسئلۂ کشمیر کو حل کرنے میں مدد دے۔
اپنے ہندستان ٹائمز والے خطاب میں الطاف حسین صاحب نے کشمیر کی موجودہ سرحد کو تقسیم کشمیر کی بنیاد، مزاحمتی تحریک کو ایک ناکام اور نامراد تحریک اور استصواب راے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مُردہ اور بے اثر بھی قرار دے ڈالا تھا، اور کہا تھا [موصوف کی یہ تقریر روزنامہ نواے وقت میں بھی ۴جنوری ۲۰۱۱ء کو ’نمستے ست سری اکال‘ کے زیرعنوان شائع ہوچکی ہے]:
کیا لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد قرار دے کر یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟ یا کوئی دوسرا حل جو اَب تک زیربحث نہ آسکا ہو؟ اس ضمن میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی ذکر آتا ہے۔ میں پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ان قراردادوں کو نافذ کیا جاسکا؟ اور اگر یہ قراردادیں نافذالعمل ہوسکتی تھیں، تو ماضی میں ایسا کیوں نہیں ہوسکا؟ میری نظر میں معاہدئہ تاشقند، شملہ معاہدہ اور اعلانِ لاہور اب تک useless [بے فائدہ] رہے ہیں۔ مصلحت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے settlement [تصفیے]کے لیے کسی نئی اور disputed opinion [متنازع راے] کے بجاے جو حل پہلے سے بحث میں آچکے ہیں، اُنھی کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ میری راے یہ ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی مؤثر اور alternate opinion [متبادل راے]سامنے نہ آجائے، اس وقت تک پچھلی تین دہائیوں سے موجودہ ground reality [زمینی حقائق]یعنی لائن آف کنٹرول کو بنیاد بناکر مذاکرات کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور اس میں بُرائی ہی کیا ہے۔
اس موقعے پر جنرل پرویز مشرف کو استصواب راے (referendum) کو مسئلۂ کشمیر کے ایک حل کے طور پر رد کرنے کے جرأت مندانہ موقف پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں نے بھی ہمیشہ اس option [اختیار]کو ناقابلِ عمل ہی قرار دیا ہے۔ گذشتہ ۵۷برسوں میں پاکستانی رہنمائوں نے ایک صوبے کو دیگر صوبوں پر سبقت دینے کے لیے کشمیر کا نام استعمال کرتے ہوئے نہ صرف عوام کو گمراہ کیا، بلکہ قوم کو جہالت، بھوک، غربت اور طبی سہولتوں سے محروم رکھ کر عوام کی نظروں میں ناکام بھی ہوئے۔
برعظیم میں اپنے پہلے دورے اور اپنی تقریر کے دوران [الطاف حسین نے]خام [Raw] جذبات سے یہ چیز ظاہر کی ہے کہ اپنے گھر واپسی کے وقت ایک فرد کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟
برعظیم کی تقسیم عظیم ترین غلطی تھی۔ یہ زمین کی تقسیم نہیں تھی، یہ خون کی تقسیم تھی۔ آپ کے وزیرخارجہ کا نام دلچسپ ہے۔ ان کا نام ’نٹور‘ میرے نزدیک Not War کے ہم معنی ہے۔
بھارت اس ہر [پاکستانی] مہاجر کے لیے اپنے دروازے کھول دے، جو مسلمان پاکستان چلا گیا تھا۔ میں یہاں کے سیاست دانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کو معاف کردیں، جو بھارت چھوڑ کر [پاکستان] چلے گئے تھے۔(Pakistani Biggest Blunder،الطاف حسین، ۶نومبر ۲۰۰۴ئ)
الطاف حسین کی اس تقریر پر پاکستانی ہائی کمیشن میں پاکستانیوں کا کیا ردعمل تھا اور اس کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے احکام کیا تھے، اس کے لیے دی نیوز میں ۵؍اگست ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی چشم کشا رپورٹ سے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:
پاکستان کے خلاف الطاف حسین کی نئی دہلی کے تاج ہوٹل میں متنازع تقریر کے بعد، اُس وقت دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو زور دے کر کہا گیا کہ وہ ایم کیو ایم کے لیڈر [الطاف حسین] کو عشائیے پر مدعو کریں، اگرچہ اُس وقت پاکستانی سفارت خانہ نئی دہلی کے افسران اور اہل کار اس تقریر سے سخت دل برداشتہ اور دُکھی تھے۔ تب پاکستانی ہائی کمشنر عزیز احمد خاں کو اسلام آباد سے شدید دبائو کے ساتھ مجبور کیا گیا کہ الطاف حسین کو عشایئے میں مدعو کیا جائے۔ جس کا محرک یہ تھا کہ الطاف حسین، جنرل مشرف حکومت کا حلیف ہے۔ بہرحال، سفیرپاکستان نے مجبوراً اس (الطاف حسین) کو ایک ’نجی عشایئے‘ کی دعوت دی، جس نے برملا کہا تھا کہ: ’’تقسیم ہند، تاریخ کی عظیم ترین غلطی ہے۔ یہ زمین کی نہیں، خون کی تقسیم ہے‘‘۔ بجاے اس کے کہ مشرف حکومت اس یاوہ گوئی پر کوئی اقدام کرتی، دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو الطاف حسین کی سرشاری میں شریک ہونے پر مجبور کیا گیا۔ سابق اعلیٰ سول افسر اور اُس وقت دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے وابستہ رائے ریاض حسین سے جب رابطہ کیا گیا، تو انھوں نے بتایا کہ: ’’میں الطاف حسین کی تقریر کا چشم دید گواہ ہوں، جو تقریر نومبر ۲۰۰۴ء کو تاج ہوٹل، نئی دہلی میں ہوئی تھی، میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ میری زندگی کا بدترین دن تھا، جب میں نے دشمن کی سرزمین پر الطاف حسین کی وہ تقریر سنی‘‘۔ انھوں نے یاد دلایا کہ الطاف حسین نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ: ’’جب میں نئی دہلی ائرپورٹ پر اُترا تو اپنے دائیں دیکھا، بائیں دیکھا، اُوپر دیکھا، نیچے دیکھا اور گھر کی طرح محسوس کیا‘‘۔ رائے ریاض حسین نے کہا کہ:’’ پھر الطاف حسین نے تقسیم ہند کو تاریخ کی ہمالہ جیسی بڑی غلطی قرار دیا‘‘۔
چند غیر سنجیدہ جملوں کے بعد [الطاف حسین] اُردو میں یہ بتاتے ہوئے چلّائے کہ: ’’ہمیں پاکستان میں مہاجر ہونے کی بنا پر موردِ الزام ٹھیرایا جاتا ہے اور بدسلوکی سے پیش آیا جاتا ہے۔ اب، جب کہ مہاجر ہونے کی بنا پر ہم سے بدسلوکی کی جاتی ہے، ہم آپ (بھارت) سے پناہ چاہیں گے‘‘۔ ریاض حسین نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پھر ایم کیو ایم کے چیف نے سامعین سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے پوچھا:’’دلی والو بولو! ہمیں پناہ دو گے؟‘‘ مگر اس سوال پر ہال میں مکمل خاموشی چھائی رہی، جہاں معروف دانش ور، سفارت کار اور سینیرصحافی موجود تھے۔ رائے ریاض حسین نے بتایا کہ: الطاف حسین نے سامعین کے سامنے اس سوال کو تین مرتبہ دُہرایا۔ جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کہا: ’’غالباً میں نے ایک مشکل سوال پوچھ لیا ہے‘‘۔
سابق پریس منسٹر پاکستانی ہائی کمیشن، نئی دہلی نے اس موقعے پر کہا کہ: ’’پاکستانی سفارت کار اس قطعیت پر گُنگ اور سراسیمہ ہوکر رہ گئے۔ بطورِ پریس منسٹر یہ رپورٹ حکومت کو میرے ذریعے ارسال کی گئی تھی اورپاکستانی پریس کو جاری کی گئی تھی، اور جو یہاں چھپی بھی تھی‘‘۔ انھوں نے کہا کہ: ہم اس پر بُری طرح پریشان تھے اور یہ بات ہمارے لیے قطعی حیران کن تھی۔ سفیر پاکستان نے مجبوراً ایم کیو ایم کے وفد کو اسی ہوٹل میں عشایئے میں مدعو کیا، جہاں وہ قیام پذیر تھے۔ ہائی کمشنر عزیز احمد خاں نے ہمیں وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا: ’’یار! اُوپر سے حکم ہے‘‘۔ رائے ریاض نے کہا:’’جنرل پرویز مشرف پریشان تھے کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے ایم کیو ایم کے وفد کی میزبانی کیوں نہیں کی؟‘‘ ریاض حسین نے یہ بھی بتایا کہ: ’’نئی دہلی میں الطاف کی آمد کے موقعے پر، ائرپورٹ سے ہوٹل تک سڑک الطاف حسین کی تصاویر اور خیرمقدمی بینروں سے سجی ہوئی تھی جو کہ ایک خلافِ معمول عمل تھا‘‘۔
کیا بلی اب بھی تھیلے سے باہر نہیں آئی؟ ’متحدہ‘ کے کچھ ترجمان اب بھی وہی گھسی پٹی بات دُہراتے ہیں کہ: ’’الطاف بھائی کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے‘‘۔ خواہ ۴۰سالہ تاریخ کا ایک ایک صفحہ پکار رہا ہو ،کہ بھارت کو ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو قیامِ پاکستان کی شکل میں نظریاتی اور سیاسی میدان میں جو تاریخی شکست ہوئی تھی، وہ اس کا بدلہ چکانے میں آج بھی سرگرم ہے۔ البتہ افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ اس کے کچھ دست و بازو وہ لوگ بھی بن رہے ہیں، جنھیں پاکستان کا اصل خالق ہونے کا دعویٰ ہے اور جو اس دعوے کی بنیاد پر اپنے لیے ایک امتیازی حیثیت کے طالب ہیں۔
’متحدہ‘ کے ہاتھ کہاں کہاں تک رنگے ہوئے ہیں اور کس کس کا خون اس کے اور اس کی قیادت کے ہاتھوں پر ہے؟ نیز ان ہاتھوں کو مضبوط کرنے میں اپنوں اور پرایوں، سیاسی قوتوں اور فوجی قیادتوں اور پاکستانی دوستوں اور پاکستان کے دشمنوں میں سے کس کس کا کتنا حصہ ہے؟ جب تک یہ ایک معما رہے گا، حالات کی اصلاح مشکل ہے۔ جرم کے تعین کے بعد مجرموں کا تعین اور ان کو قرارواقعی سزا ہی وہ راستہ ہے، جس سے افراد اور قوم کو انصاف مل سکتا ہے اور آیندہ کے لیے ان جرائم کے مقابلے کے لیے آہنی دیواریں کھڑی کی جاسکتی ہیں۔
اس پس منظر میں عام معافی کی بات بھی بڑی معنی خیز ہے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو ایک طرف اچھے اور بُرے دہشت گردوں میں کوئی تمیز کرنے کے روادار نہیں، اور مکمل بربادی (elimination) سے کم بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ جب بھی امریکا کہتا ہے کہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے سوا کوئی اور راستہ نہیں اور امریکی اور افغان قیادت سے ہم زبان ہوکر نوازشریف صاحب اور سرتاج عزیز صاحب تک کہتے ہیں: طالبان سے بیک وقت لڑائی اور مذاکرات ممکن نہیں، تو یہ سیخ پا ہوتے ہیں اور ’اچھے طالبان‘ اور ’بُرے طالبان‘ کی تفریق کو تباہی کا راستہ قرار دیتے ہیں، لیکن بلوچستان کے دہشت گردوں اور ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کا ذکر آتے ہی ان کا رویہ بالکل بدل جاتا ہے اور جنرل ایمنسٹی یا ’عام معافی‘ کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔
۱-دہشت گردی اور سیاست میں قوت کے استعمال کی ہرشکل کو غلط تسلیم کیا جائے اور یہ راستہ ہر ایک کے لیے بند ہو۔
۲- ریاست کو قوت کے جائز استعمال کا حق ہے، لیکن اس کے لیے بھی دستور اور قانون کی پابندی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا لازم ہے۔
۳- جو اپنی غلطی اور گناہ کا صدقِ دل سے اعتراف کرے اور مستقل طور پر اور عملی سطح پر قوت کے استعمال کے راستے کو ترک کرے، معروف جمہوری طریقے سے قانون کے دائرے میں سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرے، اسے سینے سے لگایا جائے اور کھلے دل سے موقع دیا جائے، مگر آنکھیں کھلی رکھی جائیں۔ دوست اور دشمن، مخلص اور مکار، توبہ کرکے پلٹنے والے اور لباس بدل کر دھوکا دینے والوں میں تمیز کی جائے۔ ناانصافی کسی کے ساتھ نہ ہو اور غلطی کا دیانت سے اعتراف کرکے راہِ راست پر آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تاہم ، ان چور دروازوں کو بندکیا جائے کہ جن سے داخل ہوکر شاطر ایک نیا کھیل کھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے احتساب، نگرانی، جرم کی سزا اور مظلوموں کی اعانت کا یہ کام پوری حکمت اور فراست کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ یہ کام بالکل ایک نئی حکمت عملی کا متقاضی ہے، جو ہمہ جہت ہو اور اس کے مختلف پہلوئوں میں توازن کے قیام ہی پر اس کی کامیابی کا انحصار ہے۔
۴- مطلوبہ حکمت عملی کے ایک اہم حصے میں ان اسباب کا تعین ہونا چاہیے، جن کی وجہ سے حالات بگڑے اور پھر اس بگاڑ نے جن تحریکات کو جنم دیا ان کے مثبت اور منفی پہلو کیا رہے، تاکہ اس تجزیے کی روشنی میں آیندہ کے لیے ایسے حالات سے بچا جاسکے۔ خوداحتسابی اور اجتماعی احتساب ہی وہ راستہ ہے، جس سے ماضی کی غلطیوں کے اثرات سے اور ان غلطیوں کے دوبارہ ارتکاب سے بچا جاسکتا ہے۔ ہم یہ دعوت جہاں ’متحدہ‘ کی قیادت اور کارکنوں کو دے رہے ہیں، وہیں ضروری سمجھتے ہیں کہ تمام سیاسی اور دینی قوتیں اپنے اپنے انداز میں حالات کا بے لاگ جائزہ لے کر اصلاح کی راہوں کو استوار کرنے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی ذمہ داری دوسروں سے بھی کچھ سوا ہے۔ حکومت کے اداروں کے لیے بھی اس نوعیت کا جائزہ ازبس ضروری ہے۔
۵- سیاست میں تشدد اور گولی کے استعمال ، شہر میں امن و امان کی بربادی، قانون کی بالادستی کے خاتمے، شہر کے دوسرے بنیادی مسائل سے پہلوتہی، عوام کی حقیقی مشکلات، اداروں کے غیرمؤثر ہوجانے یا مخصوص مفادات کے آلہ کار بن جانے کے باعث جو بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے، اس پر بھی فوری اور بھرپور توجہ دی جائے۔ نیز صوبے اور لوکل گورنمنٹ میں اختیارات کی منصفانہ تقسیم کے مسئلے کو بھی بروقت حل کیا جائے۔
۶- ہم یہ بات بھی بہت صاف لفظوں میں اور اپنی پوری قوت اظہار کے ساتھ کہنا چاہتا ہیں کہ حالات کو بگاڑنے، بگاڑ کے بڑھ جانے کے بعد اس کا مقابلہ کرنے کے بجاے اس سے سمجھوتا کرنے اور ’مشترک مفادات‘ کے حصول کے چکّر میں بگاڑ کی قوتوں کو شریکِ اقتدار کرنے کے باب میں جو رویہ مختلف حکومتوں، ریاستی اداروں، حتیٰ کہ ملکی سلامتی کے ذمہ دار حساس ترین اداروں کے ذمہ داران نے اختیار کیا ہے، وہ بہت پریشان کن اور عبرت کا نمونہ ہے۔ گذشتہ ۴۰برسوں کے سیاسی حالات اور سیاسی قوتوں اور گروہوں کو بنانے، بگاڑنے، لڑانے اور محدود مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی جو کوششیں ہوئیں، وہ ہولناک داستان پیش کرتی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ان سب معاملات کا دیانت اور حکمت کے ساتھ، مگر بڑے کھرے اور شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے۔ قومی سلامتی پر جو وار ہوتے رہے ہیں، اگر ذمہ دار ادارے اور افراد ان سے واقف نہیں تھے تو ان کی غفلت مجرمانہ اور ان کی صلاحیت کار ناقابلِ اعتبار ہے۔ اور اگر واقفیت کے باوجود وہ محض مصلحت، چھوٹے اور پست مقاصد، ذاتی، گروہی، طبقاتی، جماعتی یا دوسرے مفادات کی وجہ سے ان سے اغماض برت رہے تھے، تو وہ بہت بڑے قومی جرم کا ارتکاب کر رہے تھے۔ جس کی ان سے پوری پوری جواب دہی کی روایت اب قائم ہونی چاہیے، اور اگر وہ ان میں کسی بھی درجے میں شریک تھے اور ان کی سزا جرم کے دوسرے مرتکبین سے مختلف نہیں ہونی چاہیے۔ جس شیطانی چکّر (vicious circle) میں قوم اور ملک گرفتارہے، اسے اب ٹوٹنا چاہیے۔ جس گرداب میں ملک جکڑا ہوا ہے اس شیطانی جال کو توڑے بغیر اس سے نکلنا محال ہے۔ بات سخت ہے مگر اب اس کے کہنے اور اس پر عمل کی راہیں استوار کرنے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں۔
۷- احتساب، گرفت، سزا اور اصلاحِ کار کے لیے ان سخت اقدامات کے ساتھ ایک ’نرم پالیسی‘ بھی اس مجموعی حل کا حصہ ہونی چاہیے۔
جیساکہ ہم نے عرض کیا ہے کہ محض غلطی کا اعتراف ماضی کے جرائم سے دامن پاک کرانے اور ان کے بارے میں جواب دہی سے معاف کردینے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اگر ’سچائی اور معذرت‘ کا راستہ بھی اختیار کیا جائے تو اس میں صرف انھی غلطیوں سے صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے جن کا تعلق پالیسی کے اُمور سے ہو۔ لیکن جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے، جن میں قتل، لُوٹ مار، ناجائز دولت کا حصول شامل ہیں، ان کے بارے میں جواب دہی اور حق کو حق دار تک پہنچانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
اس سلسلے میں احتساب ، اصلاح، سزا اور عفو و درگزر ہر ایک کا کردار رہے گا، اور یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے سنہری اصول عدل و احسان کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ حق دار کو حق ملنا چاہیے، لیکن خیرکثیر کی خاطر نرمی کا راستہ بھی باہم رضامندی سے اختیار کیا جاسکتا ہے۔ خوش دلی کے ساتھ رعایت، کسی جبر کے بغیر معافی اور رخصت، اور دلوں کو موہ لینے کے لیے حق سے بھی زیادہ نرمی اور انعام وہ راستہ ہے ،جس سے تشدد اور ظلم کی سیاست کا خاتمہ، معاشرے سے ناانصافی کا استیصال، ماضی کی غلطیوں کی اصلاح، ناجائز دولت کی واپسی اور پوری شفافیت کے ساتھ قانون اور اخلاق کی حدود میں نئی سیاسی زندگی کے فروغ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
اسی لیے قرآن نے یہ رہنمائی دی ہے کہ بُرائی کو بُرائی سے نہیں بلکہ بھلائی، نیکی، خیر اور حُسن سلوک سے دُور کرو، تاکہ دنیا کا نقشہ بدلے اور خیرغالب ہو، لیکن یہ کام آسان نہیں اور اس کے لیے بڑے مضبوط عزم، قربانی اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بڑے واضح الفاظ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اس اُمت کے لیے تعلیم کیا ہے:
اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی، وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔(حم السجدہ ۴۱:۳۴-۳۶)
پاکستان کے حالات جس رُخ پر جارہے ہیں، ان سے شب و روز تشویش اور اضطراب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ مجھے اللہ پر مکمل بھروسا اور یقین صادق ہے کہ پاکستان اور اُمتِ مسلمہ اس تاریک رات سے جلد نکلیں گے۔ قرآن اور اُممِ سابقہ کی تاریخ اور خود اپنے زمانے کے نشیب و فراز پر جتنا غور کرتا ہوں، اُمید کی شمع اتنی ہی روشن نظر آتی ہے۔ لیکن قرآن و سنت اور تاریخ کے اوراق ہمیں یہ تعلیم بھی فراہم کرتے ہیں کہ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے اور یہاں نتائج کا انحصار مشیت ِالٰہی کے فریم ورک میں کوشش اور تدبیر پر ہے۔
گذشتہ دو تین مہینے ایسے گزرے ہیں کہ ہر روز ایک نیا مسئلہ اُبھرکر سامنے آیا ہے اور اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے کے لیے دل بے چین ہوا ہے، مگر پھر صحت کی خرابی مانع ہوئی اور سینہ خواہشات کا مدفن بن کر رہ گیا۔ اس مہینے کئی ایشوز دل و دماغ پر چھائے رہے۔ ’متحدہ‘ اور اس سے متعلقہ اُمور پر شذرہ پیش نظر تھا، جو ’اشارات‘ بن گئے۔ پنجاب میں خواتین پر تشدد سے متعلق قانون کی نوعیت اور اس پر بحث میں بہت سی اہم باتیں اظہار کے لیے پریشان کرتی ہیں۔ تحفظ ناموسِ رسالتؐ کا قانون اور اس پر عمل داری کا مسئلہ بھی ذہن پر چھایا رہا۔ ملک کی نظریاتی اساس، قراردادِ مقاصد اور قراردادِ لاہور کے بارے میں جو لایعنی بحثیں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر ہورہی ہیں، جس طرح ہرمتفق علیہ چیز کو ایک طبقہ متنازع اور مشتبہ بنانے کی کوشش کررہا ہے، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ نوجوان نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کی ایک خطرناک فصل اُگائی جارہی ہے۔ حقائق کو بے دردی بلکہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے مسخ کیا جارہا ہے ۔ یہ گندا کھیل، جھوٹے پروپیگنڈے کے گرو گوبلز کی حکمت عملی کے مطابق بڑے پیمانے پر کھیلا جا رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹ کو اتنا پھیلائو کہ آخرکار وہی جھوٹ، سچ بن جائے۔ افسوس کہ ایک مخصوص طبقہ یہ کھیل بڑے تسلسل سے کھیل رہا ہے۔
سیاسی قیادت کا رنگ ڈھنگ بھی عجیب ہے۔ نوازشریف صاحب جن کا گھرانا دینی پہچان رکھتا تھا۔ راقم کو اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کے زمانے میں محترم قاضی حسین احمد مرحوم اور پروفیسر عبدالغفور احمد مرحوم کے ہمراہ ایک رات اُن کے گھر پر قیام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے دیکھا کہ تہجد کے وقت ان کے والدصاحب کس طرح مصروفِ عبادت ہوئے۔ نمازِ فجر کے لیے پورے گھر کے افراد کو بنفسِ نفیس بیدارکیا اور میاں نواز شریف کے ساتھ ماڈل ٹائون کی کوٹھی کے باہر لان میںادا کی۔ان نوازشریف صاحب کی زبان سے معلوم نہیں کس کے رقم کردہ، لبرلزم کے الفاظ سن کر دُکھ اور تعجب دونوں کا شکار ہوجاتا ہوں۔
ہندستان اور پاکستان کے کلچر کی ہم آہنگی کی بات ان کی زبان سے سن کر یقین نہیں آتا کہ وہ کون سے کلچر کی بات کر رہے ہیں؟ آج پاکستان کی نئی نسل کو ان حالات کا تجربہ نہیں جو قیامِ پاکستان پر منتج ہوئے۔ میرا تعلق اس نسل سے ہے، جس نے دہلی کی گلیوں میں زندگی گزاری ہے اور عام پبلک اسکولوں میں تعلیم پائی ہے، جہاں مسلمان، ہندو، عیسائی اور سکھ طلبہ اور اساتذہ شانہ بشانہ زندگی گزارتے تھے۔ ہمیں خوب تجربہ ہے کہ کہاں پر کتنا اشتراک تھا اور کہاں کتنا شدید اختلاف۔ کتابیں ہم ساتھ پڑھتے تھے اور کھیل بھی ساتھ کھیلتے تھے مگر کھانا، پینا، لباس، رہن سہن، زبان اور محاورہ، جائز اور ناجائز کی حدود اور مظاہر کا فرق زندگی کی حقیقت تھا۔ آج کے پاکستان میں پیدا ہونے والے اور پڑھنے والے اس ماحول سے واقف ہی نہیں کہ جس میں ’مسلم پانی‘ اور ’ہندو پانی‘ ہر اسکول اور ریلوے اسٹیشن پر ایک منہ بولتی حقیقت تھے۔
سیاسی دنیا کے نومولود بلاول زرداری صاحب نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر بھارت میں مسلمان صدر ہوسکتا ہے تو پاکستان میں ہندو کیوں صدر نہیں ہوسکتا؟ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ نے وہ دستور پڑھا ہے، جسے آپ کے نانا جان نے اتفاق راے سے منظور کرایا تھا اور جس پر آپ کی والدہ صاحبہ اور والد صاحب نے حلف لیا تھا۔ اس دستور میں لکھا ہوا ہے کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ پاکستان ایک سیکولر نیشن اسٹیٹ نہیں، بلکہ ایک اسلامی ریاست ہے، جس کے اپنے اصول اور حدود ہیں، اور جس نے بھی ان سے ٹکر لینے کی کوشش کی ہے، منہ کی کھائی ہے۔
جنرل ایوب خاں نے ۱۹۶۲ء کے دستور میں پاکستان کے نام کے ساتھ لگا’اسلامی‘ کا لفظ نکالا اور قراردادِ مقاصد میں بھی ترمیم کرڈالی تھی، لیکن انھی کے نظام کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی نے ایوب صاحب اور ان کے وزیرقانون ریٹائرڈ جسٹس محمد منیر کی ساری تگ و دو کے باوجود، اسلام کو بحیثیت ’پاکستان آئیڈیالوجی‘ کتابِ قانون پر رقم کیا۔ اس کے حق میں خود ذوالفقار علی بھٹو نے زوردار تقریر کی۔ اس بحث کے دوران میں سب سے بُرا حال جسٹس منیر کا تھا، جنھوں نے پہلے مخالفت کی اور پھر کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں، اسمبلی یہ اضافہ کرلے۔مگر ان کی بددیانتی کا حال یہ رہا کہ خود یہ سب بھگتنے کے باوجود اس واقعے کے ایک سال بعد اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں وہی رٹ لگائی کہ ’پاکستان آئیڈیالوجی‘ کی اصطلاح جنرل ضیاء الحق کی اختراع تھی۔ علمی بددیانتی اور حقائق کو مسخ کرنا اس طبقے کا شیوہ ہے۔
یہی معاملہ ۱۹۷۳ء کے دستور کے وقت ہوا۔ پیپلزپارٹی کے مجوزہ مسودۂ دستور کی دفعہ اے-۳ یہ تھی کہ ’’پاکستان کا نظام سوشلسٹ معیشت پر مبنی ہوگا‘‘، لیکن پھر اسے واپس لیا گیا۔ ملک کا متفقہ دستوربنا، جس میں اسلام کی ضروری دفعات موجود ہیں۔ ۱۸ویں ترمیم کے موقعے پر سیکولرلابی کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود یہ اصول طے ہوا کہ جن چیزوں پر قوم کا اتفاق ہوچکا ہے انھیں دوبارہ نہیں کھولا جائے گا، بلکہ ان کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ناموسِ رسالتؐ کا قانون اسلامی شریعت کا ایک محکم حصہ ہے اور مغرب کے واویلا سے متاثر ہوکر اس میں کوئی ترمیم اُمت مسلمہ کے لیے کبھی بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔
محمد نوازشریف صاحب اور شہباز شریف صاحب کو اگر کچھ غلط فہمی یا خوش فہمی لاحق ہوگئی ہے تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ قوم اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود قانون میں کوئی ایسی تبدیلی گوارا نہیں کرے گی، جو شریعت سے متصادم ہو، خواہ اس کا تعلق ناموسِ رسالتؐ سے ہو یا مسلمانوں کے خاندانی نظام اور اس کی بنیادی اقدار سے۔ جو چیز خاندانی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرے اور اسے درہم برہم کرنے والی ہو تو اسے کسی قیمت پر اور کسی بھی شکل میں گوارا نہیں کیا جاسکتا۔ صحیح راستہ یہ ہے کہ قانون سازی باہم مشاورت، دلیل سے بحث و گفتگو اور افہام و تفہیم کے ذریعے کی جائے، جو دستور کا بھی تقاضا ہے اور عقلِ عام کا مطالبہ بھی، اور یہ قانون سازی پاکستانی معاشرے کے اسلامی شریعت کے احکام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی اقدار اور روایات سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ قانون سازی کے اس عمل میں علما ، وکلا اور سماجی کارکنوں کے ساتھ خود مسلمان خواتین کے مشورے کو بھی شریک کیا جائے، اور صرف ملک کی ایک فی صد سے کم خواتین کی ابلاغی یلغار کے مقابلے میں، ان ۹۹فی صد سے زیادہ مسلمان خواتین کے احساسات، جذبات اور ترجیحات کا احترام کیا جائے، جو ترقی، تحفظ اور انصاف چاہتی ہیں، مگر اسلام کے نظام کے دائرے کے اندر۔
ایک اور ہنگامہ ہولی پر قومی چھٹی اور ہولی کے تہوار میں مسلمانوں کی شرکت کے عنوان سے شروع کیا گیا ہے۔ ہولی ہی نہیں، اقلیتوں کو ان کے ہر معروف تہوار کے موقعے پر چھٹی ہماری تاریخ کا حصہ ہے، لیکن ایک فی صدی کے تہوار کو قومی چھٹی بنانا عقل اور قومی مفاد کسی کا بھی تقاضا نہیں اور پھر دوسروں کے تہواروں میں شرکت اور دھوم دھڑکا کرکے بلاول زرداری صاحب کس روایت کو قائم کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کے نانا، والدہ صاحبہ، والد صاحب سب ہی سیاسی اور اجتماعی زندگی میں بڑا متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔جو بلاول کو سوجھی ہے وہ کسی کو اس سے پہلے نہیں سوجھی تھی۔ یہ بڑی سطحی حرکتیں ہیں جن سے سنجیدہ قیادت کو احتراز کرنا چاہیے۔ اس قسم کی شعبدے بازی سے پیپلزپارٹی اپنا کھویا ہوا وقار واپس نہیں لاسکتی۔ اس کے لیے اچھی حکمرانی، وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے والی پالیسیاں، دانش مندانہ حکمت عملی اور ٹھوس پروگرام، کرپشن سے پاک اور مفادات کی سیاست کی جگہ اصولی اور ملکی مفاد کی سیاست کی ضرورت ہے۔
مسلم لیگ کی قیادت ہو یا پیپلزپارٹی کی، ہماری نصیحت بھی ہے اور انتباہ بھی کہ ملک، اس کے دستور اور مسلم معاشرے کی روایات اور اقدار کے احترام اور ملک و ملّت کے اعلیٰ مفادات کے لیے بے لاگ اور اَن تھک محنت ہی سے ملک کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر جو راستہ اختیار کیا جائے گا و ہ ناکام ہوگا اور ایسے تجربات کرنے والوں کو ان شاء اللہ منہ کی کھانا پڑے گی۔
۲۳مارچ ہر سال تحریک ِ پاکستان اور مقاصد ِ پاکستان کے شعور کو تازہ کرنے اور اپنی اصل منزل کی طرف پیش قدمی کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ اس سال یہ تاریخی دن ایسے حالات میں آرہا ہے، جب ملک ِ عزیز اپنی زندگی، بقا اور ترقی کی جدوجہد میں ایک بڑے ہی نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے دوچار ہے۔
جمہوریت کا سفر باربار منقطع ہونے کے بعد، ۲۰۰۸ء سے پھر شروع ہوا۔ لیکن یہ آٹھ سال آزمایش اور ابتلا کی ایک دل خراش داستان سناتے ہیں۔ فوجی آمریت کی جو رات اکتوبر ۱۹۹۹ء میں شروع ہوئی تھی، وہ ۲۰۰۷ء کی اعلیٰ عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ صدافسوس کہ پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں نے پانچ سال اور پھر موجودہ برسرِاقتدار مسلم لیگ (ن) اور اس کے حلیفوں کی حکمرانی کے ڈھائی پونے تین سال، حالات کو صحیح سمت میں بدلنے اور ملک کو ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے میں ناکامی سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے پانچ سال (۲۰۰۸ئ-۲۰۱۳ئ): نظریاتی اور فکری انتشار، بیرونی دبائو اور محتاجی، معاشی بگاڑ اور سیاسی خلفشار، اداراتی کش مکش اور عوامی مسائل سے پہلوتہی، توانائی، تعلیم اور صحت کے اُمور سے مجرمانہ غفلت، مفاد پرستی اور سب سے بڑھ کر بدعنوانی اور کرپشن کا عنوان بنے رہے۔ اس عبرت آموز دورِ حکمرانی کے بعد توقع تھی کہ ۲۰۱۳ء میں برسرِاقتدار آنے والی مسلم لیگ (ن) کی تیسری حکومت بہتر حکمرانی اور پاکستان کے اصل مقاصد کے حصول کے لیے نئی اور مؤثر پالیسیاں نافذ کرے گی جن کا اس پارٹی نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا، مگر ان ڈھائی پونے تین برسوں میں، اس حکومت نے جس ہوش ربا خراب حکمرانی (Mega-Misgovernance) کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے حالات کو خطرناک حد تک بگاڑ دیا ہے۔ عوام مایوس، مضطرب اور خوف زدہ ہیں۔
۲۰۰۱ء سے’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے، افغانستان اور پاکستان پر جو جنگ مسلط کی تھی، اس کی آگ میں دونوں ملک آج تک جل رہے ہیں۔ غضب یہ ہے کہ جو جنگ، ہماری جنگ نہ تھی، وہ اب ہماری جنگ بن گئی ہے۔ قوم اور افواجِ پاکستان کی بیش بہا قربانیوں، عوام کے جان، مال، عزت اور امن و امان کی نہ کم ہونے والی تباہ کاریوں اور بڑے پیمانے پر آبادیوں کی نقل مکانی کے باوجود یہ جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی بلکہ اس جنگ میں کئی نئے کردار اور حکومتیں حصہ ادا کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
دوسری طرف پاکستانی معیشت جمود کا شکار ہے۔ ۱۱۵؍ارب ڈالر کے خطیر نقصانات اُٹھانے کے ساتھ قرض، غربت اور محرومی ہمارا مقدر بنے ہوئے ہیں۔ بجلی اور توانائی کا بحران جاری ہے۔ ایک طرف بے روزگاری، مہنگائی اور فقروفاقہ کا سیلاب ہے، تو دوسری جانب اشرافیہ کے خزانوں میں دولت کی ریل پیل ہے۔ ملک میں بااختیار افراد، اعلیٰ طبقات اور بیش تر علاقوں میں دولت اور وسائل کی ہولناک عدم مساوات، عفریت کا رُوپ دھار چکے ہیں۔ خودانحصاری کا فقدان اور بیرونی دنیا پر انحصار میں اضافہ ہماری قومی پہچان بن گئی ہے۔ اس سب پر امریکا اور مغربی ممالک: اپنے حلیف پاکستان کو دنیا کے ’خطرناک ترین‘ اور ’ناقابلِ اعتبار‘ ممالک میں شامل کرتے ہیں اور do more کے مطالبات کی بوچھاڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
علاقائی اور عالمی پس منظر بھی کوئی اچھی خبر نہیں لارہا۔ عالمی معیشت میں ۲۰۰۸ء سے کساد بازاری کے جو منفی رجحانات شروع ہوئے تھے، ساری کوششوں کے باوجود جاری ہیں۔ بیش تر عالمی ادارے نئے خطرات کا بگل بجا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ممالک کی جو اعلیٰ سطحی کانفرنس، سویزرلینڈکے شہر ڈیوو میں ۴۵برس سے ہو رہی ہے، اس کے حالیہ اجلاس (جنوری ۲۰۱۶ئ) میں مشہور ارب پتی بدنامِ زمانہ یہودی ساہوکار جارج سوروس نے کہا ہے کہ: ’’۲۰۱۶ء ایک نئے نشیب کے سفر کا سال ہوسکتا ہے‘‘۔
ادھر پورا شرق اوسط جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ جو ایک طرف عالمی طاقتوں کی باہمی زورآزمائی کی آماج گاہ بن گیا ہے اور دوسری طرف فرقہ وارانہ بنیادوں پر خانہ جنگی کا منظر بھی پیش کر رہا ہے۔ اور اس جنگ کی تپش پاکستان تک پہنچ چکی ہے۔
ان حالات میں ملک کی قیادت کو جس بالغ نظری، جس دیانت و امانت ، جس فہم و فراست اور جس قومی یک جہتی کے ساتھ ملک و ملّت کی خدمت کی مثال قائم کرنی چاہیے تھی، افسوس کہ اس کا دُور دُور نشان نہیں ملتا۔ مفادپرستی، شخصی حکمرانی، سیاسی جانب داری اور پنجہ آزمائی مالیاتی لُوٹ مار اور اداراتی کمزوری اور کش مکش کا دور دورہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں اور عوام الناس کے درمیان ایک خلیج ہے، گویا کہ وہ دو مختلف دنیائوں میں بس رہے ہیں اور ان میں یہ دُوری روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے۔
۲۳مارچ ۱۹۴۰ء ایک تاریخی لمحہ تھا، جب اُمت مسلمہ پاک و ہند نے ایک روشن اسلامی مستقبل کا خواب دیکھا تھا۔ پھر ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستانی قوم نے بڑی قربانیاں دے کر قائداعظمؒ کی قیادت میں جدوجہد کا ایک طویل اور کرب ناک سفر طے کیا تھا۔ اس طرح اپنے خواب کی تعبیر کی پہلی کرن بچشم سر دیکھی تھی اور نئی زندگی کا نیا سفر شروع کیا تھا۔ لیکن سات عشروں پر محیط یہ سفر بہت سے روشن سنگ ہاے میل کے باوجود ایک کرب ناک سفر رہا ہے ۔ قوم زبانِ حال سے اور دُکھ بھرے انداز میں سوچنے پر مجبور ہے کہ ع
مایوسی کفر ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے۔ ہر قوم پر اور خود ہم پر باربار بُرا وقت آیا ہے، لیکن ہر نشیب کے بعد فراز اور ہر رات کے بعد صبحِ نو طلوع ہوتی ہے۔ یہی اللہ کی سنت ہے اور وہ لوگوں کے درمیان زمانے کو اپنی حکمت کے مطابق گردش دیتا رہتا ہے۔پھر اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی لمبی۔ لیکن بالآخر سپیدۂ صبح رُونما ہوتا ہے اور :
یوں اہلِ توکل کی بسر ہوتی ہے
ہر لمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے
گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے
البتہ یہ بھی اللہ کی سنت ہے کہ تبدیلی خود بخود نہیں آتی، اس کے لیے کوشش اور جدوجہد کرنا ہوتی ہے۔ صحیح منزل کا تعین، حالات کا دیانت دارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ترقی اور بگاڑ کے اسباب کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ حکمت عملی اور اہداف کا ادراک اور اس کے مطابق عمل کا نقشۂ کار مرتب کیا جاتا ہے۔ پھر ایمان اور احتساب کے ساتھ جدوجہد بھی کرنی ہوتی ہے۔ مثبت تبدیلی اور منزل کی طرف پیش قدمی کا یہی راستہ ہے۔ اس جدوجہد کا نام جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
اس ابتدائی گزارش کے بعد ہم پوری قوم کو دعوت دینا چاہتے ہیں کہ وہ ایمان داری سے حالات کا تجزیہ کرکے متعین کرے کہ ہمارے موجودہ فکری انتشار، سیاسی خلفشار، معاشی بگاڑ، تہذیبی تنزل، طبقاتی تصادم، صوبہ جاتی کش مکش، اداراتی ٹکرائو ، اشرافیہ سے نفرت اور عوام کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
جہاں تک ہم نے اس پر غور کیا ہے، اس کے تین پہلوہیں، جو ایک دوسرے سے مربوط اور جڑے ہوئے ہیں، یعنی:
اس پوری کیفیت کو ایک لفظ میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو اسے ’کرپشن‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ کرپشن دراصل فساد فی الارض کی ایک شکل ہے۔ جو نام ہے حق، عدل اور انصاف کے برعکس صلاحیت، حیثیت، منصب اور وسیلے کے ناجائز استعمال کا، نیز ذاتی، گروہی یا باطل مقاصد کے لیے قوت کے جاہلانہ استعمال کا۔
عرفِ عام میں تو کرپشن کوبالعموم رشوت، مالی بے ضابطگی اور خردبرد کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اپنی اصل کے اعتبار سے یہ لفظ حق، انصاف ، وفاداری، دیانت و امانت اور حُسنِ اخلاق کی ضد ہے۔ اپنے وسیع تر مفہوم میں اس رویے اور اس شخصیت کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو زندگی کے بارے میں غیراخلاقی رویہ اختیار کرے۔ جو حق وانصاف کا باغی ہو اور اپنی ذات اور خواہشات کو خدا بنانے والا ہو۔ جو اپنے خالق اور اخلاقی اقدار سے کٹا ہوا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ ایک منتشر شخصیت کے بارے میں استعمال ہوتا ہے، جس کا کوئی واضح اُجلارنگ رُوپ نہ ہو۔ جو اخلاق،اقدار اور پیمانۂ حق و باطل سے کچھ بھی تعلق نہ رکھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے وسیع مفہوم میں کرپشن کی ایک شکل فکری اور اعتقادی بھی ہے۔ انفرادی سطح پر فرد کے اخلاق اور شخصیت و کردار کے انتشار سے اس کا تعلق بنتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں حق و انصاف کی پامالی اور ظلم ، دوسروں کی حق تلفی اور اکل بالباطل سے یہ عبارت ہے۔ رشوت، چوری، خردبرد، مالی لُوٹ مار تو اس کی صرف مختلف شکلوں میں سے چند ایک ہیں، اور بس انھی تک اسے محدود نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کی وسعت کو ذہن میں لانا چاہیے۔ تخلیقِ آدم ؑکے وقت فرشتوں نے انسان کے وجود سے جس خوف کا اظہار فساد فی الارض کے الفاظ میں کیا تھا، غالباً کرپشن ہی وہ رویہ ہے کہ جس سے یہ بگاڑ، یعنی حق تلفی، باطل پرستی، ظلم و عدوان کا ارتکاب اور حدود کی پامالی واقع ہوتے ہیں۔
کرپشن کے باب میں لٹریچر کے جائزے سے اس کی کم از کم تین صورتیں سامنے آتی ہیں:
۱- عمومی بدعنوانیاں(Petty Corruptions): انفرادی سطح پر دوسروں سے بلااستحقاق مالی، مادی یا دوسری سہولتیں (favours ) حاصل کرنا اور اپنی بالاتر پوزیشن کا ناجائز استعمال۔
۲- وسیع بدعنوانیاں (Grand Corruptions): اہلِ اختیار کا اپنی حیثیت، مرتبے کا ایسا غلط استعمال، جو انفرادی اور اجتماعی ہرسطح پر معاملات کو متاثر کرے۔ اس کا محل: حکومت، سرکاری ادارے، کارپوریشن اور ملک کا مالیاتی، قانونی اور سیاسی نظام ہے، جسے صاحب ِ اختیار لوگ، قوم کے وسائل کو مفاد عام اور حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں۔ آج دنیا میں اس کرپشن کے تدارک کے لیے اختیار کیے جانے والے قوانین، ضابطوں اور سزائوںوغیرہ کا زیادہ تعلق اسی نوعیت سے ہے۔
۳- اداراتی اور اجتماعی بدعنوانی (Systematic & Collective Corruption): متعلقہ تجزیاتی لٹریچر میں اسے endemic(مخصوص)کرپشن کی اصطلاح میں بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق فرد کی ذاتی خواہشات و اختیارات کے غلط استعمال، خردبرد اور لُوٹ مار کے مقابلے میں نظام کی خرابی سے ہے، جس کی وجہ سے ایک گلاسڑا نظام، کرپشن کے لیے سازگار بن جائے۔ جس میں اس فساد کے لیے رخنے اور چوردروازے کھلے چھوڑ دیے گئے ہوں۔ جس سے خود نظام، کرپشن کو پروان چڑھانے کا ذریعہ اور وسیلہ بن جائے۔
صحیح تر الفاظ میں کرپشن کا ایک بازار تو افراد اور تنظیموں کے ہاتھوں سجتا ہے۔ دوسرا نتیجہ ہوتا ہے، اداروں، نظامِ کار کی کمزوریوں، قواعد و ضوابط کے داخلی جھول، اختیارات کے بے جا ارتکاز، ذاتی اور اداراتی مفادات میں عدم تفریق اور شفافیت کے فقدان کا۔
کرپشن اپنی ان تینوں صورتوں میں بدعنوانی، بداخلاقی اور ایک مجرمانہ فعل ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ فرد اور معاشرے دونوں کے خلاف جرم ہے، جو دنیا اور آخرت دونوں میں سزاوارِ گرفت ہے۔ یہ حقوق العباد پر ڈاکازنی اور فرد کے خلاف جرم ہے کہ جس کا حق آپ نے لوٹا ہے، اسے واپس لینے کا حق ہے۔ قانون اور معاشرے کو یہ حق، حق دار کی طرف منتقلی کا انتظام کرنا چاہیے۔ لیکن دوسری طرف یہ فعل انسانی روح اور تہذیب و شرافت کے خلاف بھی جرم ہے۔ اس لیے پوری سوسائٹی اور ریاست کا کام ہے کہ کرپشن کے دروازوں کو بند کرے اور کرپشن کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائے۔ ان سے مالِ ناحق وصول کرے۔معاشرے اور ریاست کے حقوق پر دست اندازی کرنے کے ذمہ داروں کو ان کے جرم کی سزا بھی دے۔
سب سے بڑھ کر یہ اللہ کی میزان میں گناہ ہے۔ اللہ دنیا اور آخرت میں اس پر اپنی مشیت کے مطابق گرفت کرے گا۔ عوام کے حقوق پر ڈاکا زنی محض توبہ سے معاف نہیں ہوسکتی۔ جب تک حق تلفی کا شکار ہونے والوں کو ان کا حق نہ مل جائے یا وہ خود معاف نہ کردیں، اس وقت تک بدعنوانی کا مرتکب شخص گناہ گار اور مجرم رہے گا۔ پھر اس نوعیت کی حق تلفی اور ظلم کے عمل میں جو جتنا بھی شریک اور معاون ہوگا، اسی درجے میں وہ ذمے دار ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ رشوت کے باب میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ: رشوت دینے اور رشوت لینے والا دونوں مجرم ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے۔
ناپ تول میں بددیانتی، امانت میں خیانت، سود، سٹہ، جوا، چوری، ڈاکا، مال و دولت میں خردبرد، غرض کسی بھی باطل ذریعے سے دولت، منافع یا کسی اور نوعیت کی طرف داری (favour) حاصل کرنے کے نتیجے میں معاشرے میں ظلم اور فساد فروغ پاتا ہے۔ نفرتیں اور محرومیاں جنم لیتی ہیں۔ دولت کی عدم مساوات کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ ملک کی معاشی سرگرمیوں اور ترقی میں بھی خلل واقع ہوتا ہے۔ پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور وسائل کے مناسب اور مفید ترین استعمال کا عمل مجروح ہوتا ہے، جو درحقیقت معاشی ترقی اور عوام کی خوش حالی کی ضمانت ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی زبان میں ناپ تول میں کمی اور تجارت میں بدمعاشی کو زمین میں فساد جیسا جرم قرار دیا اور اللہ کے عذاب کا لازمی سزاوار:
اسی طرح قدرتِ حق نے جہاں معاشی تگ و دو اور رزقِ حلال کی تلاش کو فرض کیا، وہیں فضول خرچی سے منع فرمایا اور قناعت اور اعتدال کا حکم بھی دیا، تاکہ زندگی میں توازن رہے اور انسان ہوس اور نفس کا بندہ بن کر نہ رہ جائے۔ پھر اس سب کو ایک کُلی نظام کا حصہ بنا دیا، جو انسانوں کے تمام معاملات میں عدل و انصاف کا قیام،امانتوں اور ذمہ داریوں کو ان کے اہل افراد کے سپرد کرنا، اور زندگی کے تمام معاملات کو خیر، حق اور دیانت کے تابع کرنا اور شر، باطل اور خیانت کاری سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کرنا ہے:
حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرفاروقؓ نے خلافت کا حلف لیتے ہی اپنے اپنے انداز میں اس امر کا اعلان کیا اور پورے دورِ خلافت میں اس پر عمل کیا کہ طاقت ور اور کمزور کے فرق کو معاشرے میں ختم کر دیں گے۔ جس کا بھی جو حق ہے، خواہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو، اس کو پہنچا کر دم لیں گے۔ان کی نگاہ میں کوئی ایسا طاقت ور نہیں ہوگا، جو دوسروں کے حق پر ناجائز قابض ہوجائے اور خلیفۃ المسلمین اس غاصب سے حق لے کر کمزور کو نہ لوٹا دیں۔ یہ ہے دادرسی اور خوداختیاری (Empowerment ) کا وہ ہدف اور ذمہ داری، جو اسلام نے مسلمانوں کے حکمرانوں کو سونپی ہے۔ یہی وہ اعلیٰ نظام ہے، جس کے ذریعے زندگی میں ہرسطح پر کرپشن کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، اور تمام انسانوں کے درمیان انصاف، ایک دوسرے کے حقوق کی مکمل پاس داری، امانت اور دیانت کے معاشی اور سرکاری اُمورکی ادایگی اور معاشرے کے تمام افراد کے لیے جان، مال، عزت، حقوق کا تحفظ اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کا اہتمام ہوسکتا ہے۔
بلاشبہہ قیامِ پاکستان کا مقصد ایک ایسے ہی معاشرے اور سیاسی و اجتماعی نظام کا قیام تھا اور علامہ محمد اقبال اور قائداعظم نے صاف لفظوں میں اس کا باربار اظہار کیا تھا۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان نے قومی خزانے کو ایک امانت سمجھا اور عملاً ایسی مثال قائم کی جو روشنی کا مینار تھی۔ آخری برطانوی وائس راے مائونٹ بیٹن جو قائداعظم سے سخت ناخوش تھا اور پنڈت جواہر لال نہرو کا دوست اور ہم مشرب تھا، اس نے بھی ہندستانی مسلم قیادت کو ذہن میں رکھتے ہوئے برملا کہا کہ: 'Muslims will perhaps never get such an honest leader` (مسلمان غالباً کبھی ایسا دیانت دار لیڈر نہ پاسکیں گے)، جب کہ ان کے مدِمقابل گاندھی جی نے لوئی فشر کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا:Jinnah is incorruptible and brave` '(جناح ایک دیانت دار اور بہادر انسان ہیں)۔ اور علامہ محمد اقبال نے کہا:'He is incorruptible and unpurchasable` (وہ ایک کھرے اور ناقابلِ خرید ہیں)۔
قائداعظم نے ریاست کے وسائل کو اپنی ذات کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا اور جب ان کے رفقا نے اصرار کیا کہ علاج کے لیے وہ انگلستان یا امریکا تشریف لے جائیں، یا کم از کم وہاں سے ڈاکٹر بلانے کی اجازت دے دیں، تو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
نواب زادہ لیاقت علی خان، مشرقی پنجاب کے بڑے زمین دار اور ایک نہایت متمول فرد تھے۔ دہلی میں ان کی شان دار کوٹھی دیکھنے کے لائق تھی۔ یہی کوٹھی، کُل ہند مسلم لیگ کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے اپنی یہ کوٹھی پاکستان کے سفارت خانے کے طور پر وقف کردی تھی اور اس کا کوئی متبادل پاکستان میں نہیں لیا تھا۔
پاکستان کے معروف سفارت کار جناب جمشید مارکر، لیاقت علی خان سے دوستانہ مراسم رکھتے تھے۔وہ اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ: میں نے زندگی میں صرف ایک بار ان کو بہت زیادہ غصے میں دیکھا اور یہ وہ دن تھا، جب ایک سیکرٹری نے ان کے سامنے ایک فائل پیش کی کہ: ’’مشرقی پنجاب میں ان کی جو جاگیر رہ گئی ہے، اس کے عوض کراچی اور سندھ میں زمینیں الاٹ کرالیں‘‘۔ لیاقت علی خان نے فائل ان صاحب کے منہ پر پھینک کر کہا:’’آئو میرے ساتھ کراچی کی ان آبادیوں کو دیکھو، جہاں پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کرنے والے کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں‘‘___ جب پاکستان کے اِنھی پہلے وزیراعظم کو تقریباً چارسال بعد قتل کر دیا گیا، تو ان کے بنک اکائونٹ میں کُل ۴۷ہزار روپے تھے اور کوئی جایداد پاکستان میں نہیں تھی۔
یہ تھا بانیانِ پاکستان کا طرزِعمل___ اور آج ہمارے حکمران طبقوں کا کیا حال ہے؟ ملک اور ملک سے باہر دولت کی فراوانی کے باوجود دولت کی مزید ہوس کا کیا عالم ہے؟ اس آئینے میں ملک کے عوام کی حالت زار کی اصل وجہ دیکھی جاسکتی ہے۔
قائداعظم مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کی نفس پرستی اور دیانت و امانت کے دیوالیہ پن کے بارے میں سخت فکرمند تھے۔۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کو ہمارے حکمران اور لبرل عناصر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے نہیں تھکتے، مگر اُن کو تقریر کا وہ حصہ بالکل نظر نہیں آتا، جس میں شہریت کے مسئلے پر کلام کرنے سے پہلے قائداعظم نے جس خطرے پر متنبہ کیا تھا، وہ کرپشن اور اقرباپروری ہی تھا۔ بعد کے حکمرانوں نے، خصوصیت سے جنرل ایوب خان اور ان کے بعد آنے والے سبھی حکمرانوں نے اپنے اپنے انداز میں کرپشن کے باب میں کھلی چھوٹ اور معافیت (immunity) حاصل کی اور پھر رنگے ہاتھوں اس کے فروغ کا راستہ اختیار کیا۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ملک میں کالے دھن (black money) پر مبنی معیشت، اصل قومی معیشت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ملک سے لُوٹے ہوئے وسائل جو ملک سے باہر ہیں، وہ ملک کی دولت سے کہیں زیادہ ہیں۔ قومی معیشت ایک گلی سڑی لاش بن کر رہ گئی ہے، جس کا تعفن دُور دُور تک پھیلا ہوا ہے۔ ۱۰ فی صد اشرافیہ ۹۰فی صد سے زیادہ دولت پر قابض ہے اور یہ دولت انھی کے درمیان گردش کر رہی ہے، جب کہ ۹۰فی صد عوام محرومی اور بے چارگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عام شہری تعلیم، صحت، روزگار، مکان، سواری ، ہر سہولت سے محروم ہے۔
کرپشن اپنی مختلف شکلوں میں موجود اور فراواں ہے۔ فکری اور نظریاتی کرپشن، اخلاقی اور معاشی کرپشن، مالی اور معاشی کرپشن، سیاسی اور قانونی کرپشن، اداراتی کرپشن، حتیٰ کہ ان ظالموں نے حج، اوقاف، تعلیم، صحت، عمررسیدہ انسانوں کے فنڈ اور غریبوں اور محتاجوں کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ تک میں بھی کرپشن کرنے میں شرم محسوس نہیں کی۔ پھر، کرپشن روکنے کے لیے جو ادارے بنائے گئے ہیں، الا ماشاء اللہ، وہ کرپشن ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ کرپشن کو تحفظ دینے اور فروغ دینے کا ذریعہ بن گئے ہیں یا سمجھے جارہے ہیں۔
اس کی بدترین مثال نیب آرڈی ننس ۱۹۹۹ء کی دفعہ ۲۵ ہے، جس کے تحت نیب (NAB: نیشنل اکائونٹی بلیٹی بیورو) کے چیئرمین کو استحقاقی قوت (Discretionary power ) حاصل ہے کہ وہ ’بہانہ ساز سودے سازی‘ یا ’پلی بارگین‘ (Plea Bargain) کے نام پر کرپشن کے سارے ثبوتوں کے باوجود، اپنی مرضی سے کالے دَھن کا ایک حصہ وصول کرکے، باقی تمام لُوٹی ہوئی دولت، کرپشن کا ارتکاب کرنے والے فرد___ سیاست دان، تاجر ، صنعت کار، سول اور فوجی افسروں، بیوروکریٹس کو مزے لینے کے لیے ہبہ کردے اور اس طرح وہ گنگا نہاکر پاک صاف ہوجائیں۔ عملاً ۱۰ سے ۲۰ فی صد رقم لے کر یہ قابلِ نفرت کام نیب ۱۸برسوں سے کر رہا ہے، جسے سپریم کورٹ کے ایک چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے 'Consitutional Corruption` (دستوری کرپشن) قرار دیا ہے اور جرم سے بڑے جرم، یعنی جرم کی سرپرستی اور اس کی توقیر قرار دیا ہے۔
اس ادارے نے ۱۸برس میں غالباً ۱۸؍افراد کو بھی قرار واقعی سزا نہیں دی ہے، مگر اس کے باوجود اس ادارے پر ان ۱۸برسوں میں اربوں روپے قومی خزانے کے صرف ہوگئے ہیں۔ اقبال نے سیاسی غلامی کے باب میںکہا تھا کہ ؎
تھا جو ’ناخوب‘ بتدریج وہی ’خوب‘ ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
ہمارا المیہ ہے کہ آزادی کے بعد یہ سانحہ ہم پر کچھ اور بھی سوا ہوکر گزر رہا ہے، جس کی وجہ ہوس کی غلامی، دنیا کی پرستش اور احتساب اور جواب دہی کے فقدان کا نظام ہے۔ جس ملک کو اللہ تعالیٰ نے بہترین انسانی اور مادی وسائل سے فیض یاب کیا تھا، وہ فقروفاقہ، بے روزگاری اور جہالت، بیماری اور بے سروسامانی کا شکار ہے۔
ہم بڑے دُکھ سے یہ بات کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ طبقہ جسے ’اشرافیہ‘ کہا جاتا ہے، جو جمہوریت، لبرل ازم اور ترقی پسندی کا دعوے دار ہے، جس کے ہاتھوں میں آج تک زمامِ اقتدار رہی ہے، اس نے قوم کو دونوں ہاتھوں سے، جھولی بھربھر کے لوٹا ہے۔ اگرچہ اچھے لوگ ان میں بھی ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی اس حکمران طبقے نے اپنے مفادات ہی کی پوجا کی ہے اور اللہ اور اللہ کے بندوں کے حقوق سے مجرمانہ رُوگردانی کی ہے۔ قائداعظم محمدعلی جناح اس طبقے کے بارے میں اپنی بصیرت کی بنیاد پر شاکی تھے۔ اپنے دوست ایم ایچ اصفہانی کو ذاتی خط (۶مئی ۱۹۴۵ئ) میں لکھتے ہیں:
کرپشن ایک لعنت ہے ہندستان میں، مگر خاص طور پر نام نہاد پڑھے لکھے مسلمانوں اور دانش وروں میں۔ بلاشک و شبہہ یہ وہ طبقہ ہے جو مفادپرستی، اخلاقی اور فکری سطح پر بدعنوانی کا مرتکب ہے۔ اس میں بھی کچھ شک نہیں ہے کہ یہ بیماری عام ہے،مگر بالخصوص مسلمانوں میں فراواں ہے۔
قائداعظم کے یہی احساسات تھے، جنھیں ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو خطابِ آزادی کے دوران، اسمبلی کی بالادستی کے بارے میں اپنے خیالات کے اظہار کے بعد سب سے پہلے بیان کیا:
چور بازاری دوسری لعنت ہے۔ مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ عدالتیں ان کے لیے قید کی سزائیں تجویز کرتی ہیں یا بعض اوقات ان پر صرف جرمانے ہی کیے جاتے ہیں۔ اب آپ کو اس لعنت کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ موجودہ تکلیف دہ حالات میں، جب ہمیں مسلسل خوراک کی قلت یا دیگر ضروری اشیاے صرف کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔ جب کوئی شہری چور بازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھنائونے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ چوربازاری کرنے والے لوگ باخبر، ذہین اور عام طور سے ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں، اور جب یہ چور بازاری کرتے ہیں تو میرے خیال میں انھیں بہت کڑی سزا ملنی چاہیے، کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر ضروری اشیاے صرف کی باقاعدہ تقسیم کے نظام کو تہہ و بالا کردیتے ہیں اور اس طرح فاقہ کشی، احتیاج اور موت تک کا باعث بن جاتے ہیں۔
ایک اور بات جو فوری طور پر میرے سامنے آتی ہے، وہ ہے اقرباپروری اور احباب نوازی۔ یہ بھی ہمیں ورثے میں ملی، اور بہت سی اچھی بُری چیزوں کے ساتھ یہ لعنت بھی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ اس بُرائی کو بھی سختی سے کچل دینا ہوگا۔ میں یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربانوازی کو برداشت کروں گا اور نہ ایسے کسی اثرورسوخ کو قبول کروں گا، جو مجھ پر بالواسطہ، یابلاواسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ جہاں کہیں مجھے معلوم ہوا کہ یہ طریقۂ کار رائج ہے، خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ پر، یقینی طور پر میں اس کو گوارا نہیں کروں گا۔
قائداعظم نے جس طبقے اور اس کے جس مرض کی نشان دہی کی ہے، وہ مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے اور اس کے علاج کو تلاش کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم صاف لفظوں میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا مقصد کسی خاص طبقے یا کسی خاص فرد کو ہدفِ ملامت بنانا نہیں ہے۔ حالانکہ خود قائداعظم کا تعلق بھی برعظیم کے پڑھے لکھے مسلمان طبقے سے تھا۔ اس لیے قائد کی بات کو اور ہماری تنقید کو کسی عصبیت کا شاخسانہ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کے مخلص قائدین کو چھوڑ کر، جس طبقے نے اقتدارکو اپنی گرفت میں لے لیا، ان میں: سیاست دان، بیوروکریٹ، صحافی، دانش ور، مقتدر فوجی جرنیل، سبھی شامل تھے اور ہیں۔ اس طبقے میں بھی جو جتنا لبرل اور سیکولر تھا، وہ اتنا ہی اس ملک کو مغربیت، مادہ پرستی، مفادات کی خدائی اور نفسانفسی کی سیاست ،معیشت اور تہذیب کو تباہ کرنے پر تلاہوا تھا اور تلا بیٹھا ہے۔
اسی پڑھے لکھے طبقے میں اسلام کے شیدائی، مشرقیت کے دل دادہ اور شرافت کے پُتلے بھی ایک تعداد میں موجود تھے اور وہ اپنا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں۔ انھی کی خدمات اور مبارک کوششوں کے نتیجے میں ایک بڑا خیر ہمارے معاشرے میں موجود ہے، جو حق و باطل کی کش مکش میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ۱۹۵۴ء کے بعد سے بحیثیت مجموعی اختیار و اقتدار جس طبقے کے ہاتھوں میں رہا، وہ تحریک ِ پاکستان اور اس کے مقاصد کے باب میں وفادار نہیں پایا گیا، الاماشاء اللہ۔ یہ بات صرف ہم نہیں کہہ رہے ہیں۔جن حضرات نے پاکستان کے بارے میں معروف مستشرقین پروفیسر ولفریڈ کنٹول اسمتھ اور ڈاکٹر کیتھ کلارڈ کی کتب کا مطالعہ کیا ہے، وہ گواہی دیں گے کہ دونوں نے اپنے اپنے انداز میں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو پٹڑی سے اُتارنے اور پھر مفادپرست معاشرے، معیشت اور تہذیب کی راہ پر ڈالنے میں اصل کردار مغرب زدہ سیکولر قیادت ہی نے انجام دیا ہے۔
کرپشن کے دائرے میں اس طبقے نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، ہم اس کے اثراتِ بد کو بھگت رہے ہیں:
انسانوں کے معاملات میں جو بدعنوانی اور لُوٹ مار رُونما ہوتی ہے، اس کی جڑیں انسان کے ایمان، خیالات، تصورِ حیات میں پیوست ہیں۔ اصلاح کی جو بھی حکمت عملی بنائی جائے گی، اس میں تصورات کی اصلاح،اقدار پر ایمان اور ان کے ساتھ وفاداری اور فکر و عمل میں مطابقت ضروری پہلو ہیں۔
منظم اور بڑے پیمانے کی کرپشن کا تعلق کرپشن کی وسعت اور اس کی گہرائی سے ہے۔
کرپشن کی ان تمام وسعتوں کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے، تو صاف نظر آتا ہے کہ آزادی کے جلو میں ہجرت اور انتقالِ آبادی کی وجہ سے املاک اور کاروبار پر قبضے کے باب میں جو طرزِعمل اختیار کیا گیا اور بدعنوانی کے جس کلچر کو فروغ دیا گیا، اس نے کرپشن کے لیے پہلا میدان کھولا۔ متروکہ جایدادیں اس کاپہلا امتحان بنیں، جنھوں نے اس قوم کو آزمایش میں ڈالا ۔ بلاشبہہ ہزاروں لاکھوں افراد نے ایمان داری کے ساتھ اپنے نقصانات کے ازالے کی کوشش کی، لیکن ایک بڑی اور بااثر تعداد جو پہلے سے یہیں آباد تھی،اس نے ناجائز قبضہ اور غلط کلیم کا راستہ اختیار کیا۔ یوں اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے، اپنے لیے مال اور املاک لوٹنے کا کالا کاروبار کیا۔ بیوروکریسی نے بھی ہاتھ رنگے اور اس طرح کرپشن کا ایک بڑا میدان کھل گیا، جو آج تک کھلا ہوا ہے۔
ٹرانسپورٹ اور روٹ پرمٹ اور بیرونی تجارتی کوٹے دوسرا بڑا میدان بنے۔ سرکاری اراضی پر قبضے اور سیاسی بندربانٹ کے کرتب بھلا کب چھپے رہ سکتے تھے۔ سرکاری خریداریاں پہلے بھی کرپشن کا ایک بڑا میدان تھیں اور ان میں روزبروز اضافہ ہی ہوتا گیا۔ پھر بیرونی امداد کے جلو میں کرپشن کا ایک طوفان اُمڈنا شروع ہوا۔ اکتوبر ۱۹۵۸ء سے فوجی آمریت کے قدم رنجا فرمانے کے ساتھ حکومت کے فیصلہ سازی کے انداز میں تبدیلی آنے لگی اور اختیاراتی (arbitrery) اور استحقاقی (discretionary) اختیارات برابر بڑھنے لگے۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان، خود مغربی پاکستان کے صوبوں کے درمیان اور فوج اور سول محکموں میں وسائل کی تقسیم کے میدان بھی کرپشن، ناانصافی اور الطاف و عنایات کی آماج گاہ بن گئے۔
ذوالفقار علی بھٹوصاحب کے دورِ حکومت (۱۹۷۲ئ-۱۹۷۷ئ) میں قومی ملکیت میں لینے کی پالیسی نے معیشت پر سیاست کے غلبے اور فیصلوں میں سیاسی مداخلت اور سرپرستی کے بڑے بڑے گیٹ چوپٹ کھول دیے۔ پھر فوجی اور سول حکومتوں کی میوزیکل چیئر کے کھیل (۱۹۷۷ئ-۲۰۱۶ئ) نت نئی شکلوں میں رائج ہیں۔ جب ۸۰کے عشرے میں یہ فلسفہ گھڑا گیا کہ ’ریاست کا کام بزنس نہیں ہے‘، اس وقت سے پہلے جو کچھ قومی ملکیت کے نام پر کیا گیا، وہی کچھ نج کاری کے جھنڈے تلے ہونے لگا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ریاست کا کام بزنس نہیں تو تاجروں، ساہوکاروں، بنکاروں اور اندھی طاقت کے رکھوالوں کو بھی یہ مقام حاصل نہیں کہ وہ ریاست کو کاروبار کا اڈا بنا کر چلائیں۔
ریاست کا معیشت میں ایک مثبت کردار ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ معیشت کا مجموعی نظام منڈی ہی کے ذریعے چلنا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ حکومت کا عوام اور ملک کے اسٹرے ٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے پیداواری اور ریگولیٹری (ضابطہ کاری) کردار بھی ضروری ہیں۔ یہ سب کام ضابطے اور قاعدے کے مطابق، اور شفاف انداز میں ہونے چاہییں۔ نجی شعبے کے لیے بھی ایسا قانونی اور ریگولیٹری نظام ہونا چاہیے، جو ایک طرف نجی سرمایے اور کاروبار کو تحفظ دے اور کام کے مواقع فراہم کرے۔ دوسری طرف صارفین، مزدوروں اور بحیثیت مجموعی معیشت کے مفادات اور ضروریات کے مناسب شفاف، مؤثر اور عادلانہ طریق کار کا انتظام و انصرام بھی کرے۔ اسی طرح ملک میں تقسیمِ دولت کے نظام کو منصفانہ بنیاد پر منظم کرے، تاکہ ترقی کے ثمرات تمام شہروں اور تمام علاقوں میں پہنچ سکیں۔
کرپشن کی جن چار موٹی موٹی اقسام کی ہم نے نشان دہی کی ہے، بدقسمتی سے وہ تمام ہمارے ملک میں بڑے پیمانے پر نہ صرف بھرپور وجود رکھتی ہیں، بلکہ افسوس اور تشویش کا مقام ہے کہ ان میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ کرپشن کو روکنے کی بظاہر جو بھی کوششیں ہوئی ہیں، قانون سازی ہوئی ہے، ادارے بنائے گئے ہیں، وہ بحیثیت مجموعی ناکام رہے ہیں۔
اس وقت عالم یہ ہے کہ زندگی کے جس شعبے پر نظر ڈالیں، کرپشن کی گرم بازاری کا سماں نظر آتا ہے۔ سیاست دان تنقید کا اولین ہدف ہیںاور اس باب میں ان کا دامن اتنا داغ دار پیش کیا جارہا ہے کہ سیاست گالی بنتی جارہی ہے۔ تاہم، ہر جماعت میں ایک تعداد اچھے اور صاف دامن افراد کی بھی ہے، لیکن یہ کہنا صریح زیادتی اور خلافِ واقعہ ہے کہ دوسرے طبقات اور گروہ اس بلا سے محفوظ ہیں۔ بیوروکریسی کا کردار کچھ کم گھنائونا اور تباہ کن نہیں ہے۔ پولیس، عدلیہ خصوصیت سے نچلی سطح پر عدلیہ (جج اور وکیل)، پھر تعلیم، صحت، صحافت اور فوج کے کارپرداز___ بدقسمتی سے اس حمام میں بڑی تعداد لباس سے فارغ ہے۔
مسئلہ کتنا گمبھیر اور تباہ کن ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لیے بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والے چند ہوش ربا حقائق پیش نظر رہنے چاہییں، تاکہ حل کے لیے مناسب حکمت عملی کے لیے کچھ گزارشات پیش کی جاسکیں۔
۲۰۱۲ء میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اندازہ لگایا کہ کرپشن، ٹیکس چوری اور بُری حکومت کے ضمن میں پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۳ء تک ۵ئ۹ٹریلین روپے (۹۴؍ارب امریکی ڈالر)ضائع کرچکی تھی۔ ساڑھے نو ٹریلین (۹۵ کھرب روپے) پاکستانی معیشت کے پس منظر میں کتنی بڑی رقم ہے اس کا اندازہ صرف اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر انھی پانچ برسوں (یعنی ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۳ئ) کے پانچوں بجٹ جمع کرلیے جائیں اور ان میں انتظامی اور ترقیاتی دونوں حصوں کو شامل کرلیا جائے تو وہ ۵ئ۹ ٹرلین کے برابر ہوں گے۔ یہ رقم ان بیرونی قرضوں سے کئی گنا زیادہ ہے، جن کا بوجھ ہماری معیشت پر اس زمانے میں چڑھا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر صرف کرپشن پر ۴۰ فی صد قابو پالیا جائے تو بیرونی قرضوں کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر اس پر ۸۰فی صد قابوپالیا جائے تو ملک کے ترقیاتی بجٹ کو بہ آسانی دگنا کیا جاسکتا ہے ،جس کے نتیجے میں ۷ سے ۸فی صد سالانہ ترقی کا ہدف حاصل کیا جاسکے گا___ یہ ہے ہمارا المیہ!
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پچھلے ۱۸سال کے ’بدعنوانی کے اشاریے‘ مرتب کیے ہیں۔ تاہم ، پوزیشن میں جزوی تبدیلی کے ساتھ پاکستان کرپشن کی بدترین کیفیت میں مبتلا ۵۰ملکوں ہی میں رہا ہے۔ جن تقریباً۱۸۰ ممالک کے بارے میں سروے مرتب کیا گیا ہے، ان میں ۱۳۰ ممالک ہم سے بہتر ہیں۔ واضح رہے کہ ۱۰۰ میں سے ۵۰ سے کم نمبر لانے والے ممالک کا شمار زیادہ کرپٹ ملک میں ہوتا ہے اور ہم ۵۰ کے اس ہندسے سے بھی ۲۰نمبر نیچے ہیں۔ علاقے کے ممالک میں ہمارے ۳۰ اسکور کے مقابلے میں بھوٹان کا اسکور ۶۵، بھارت کا ۳۸ ، سری لنکا کا ۳۷ ہے۔ مصر(۳۶) اور انڈونیشیا (۳۶) بھی ہم سے آگے ہیں۔اسی طرح ملایشیا، کویت، ترکی اور جبوتی ہم سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔
۱۹۹۰ء کے عشرے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کی حکومتیں بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات پر برطرف کی گئی تھیں۔ آصف علی زرداری صاحب نے معمولی حیثیت سے معاشی سفر کا آغاز کیا اور آج وہ ارب پتی ہیں۔ ان کی آمدنی کے معلوم ذرائع سے ہرگز پتا نہیں چلتا کہ اتنی دولت کے مالک کیسے بنے۔ ’سرے محل‘ کے باب میں آنکھ مچولی کا کھیل سب کے سامنے ہے۔ اربوں روپے کی مالیت کا یہ محل ان کی ملکیت تھا۔ اس کے سامانِ زیبایش کے ۳۰ کنٹینر پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے انگلستان بھیجے گئے۔ اسمبلی کے فلور پر بے نظیر بھٹوصاحبہ نے انکار کیا کہ ’سرے محل‘ سے میرا اور میرے شوہر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر جنرل پرویز مشرف صاحب کے دورِحکومت میں زرداری صاحب نے برطانوی انتظامیہ کو باقاعدہ تحریری حلف نامہ پیش کیا کہ یہ محل ان کا ہے۔ ایسا ہی کھیل سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں رقم اور ہیرے کے مشہور ہار کا رہا۔
مشہور صحافی اور محقق ریمنڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب Capitalism's Achiless Heel کئی برس سے شائع ہورہی ہے۔ اس کے ص۷۶ سے ۸۵ تک زرداری صاحب، بے نظیر صاحبہ اور شریف برادران کے بیرونِ ملک اثاثوں کی تفصیل شائع کی گئی ہے۔ دونوں خاندانوں کے بیرونی اثاثے ایک ایک بلین ڈالر سے زیادہ بتائے گئے ہیں اور مصنف کے بقول یہ کمائی ۹۰کے عشرے کی فتوحات کا ثمرہ ہے۔ مصنف نے دونوں خاندانوں کو چیلنج کیا ہے کہ اگر معلومات غلط ہیں تو مجھ پر برطانیہ کی عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ کریں، جو اَب تک کسی نے دائر نہیں کیا۔ بظاہر ان اعداد و شمار کے صحیح ہونے کا اشارہ ملتا ہے، جو اس میں دیے گئے ہیں اور جو پاکستان کی سیاسی قیادت اور ملک کے لیے شرم ناک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ اثاثے اب دوگنا اور تین گنا سے زیادہ ہوچکے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی (ANP)کی قیادت کے بارے میں اس کے اپنے گھر کے بھیدی اور بیگم نسیم ولی صاحبہ کے بھائی کے الزامات ریکارڈ پر ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ (MQM)کی قیادت کے بارے میں روز نئے انکشافات ہورہے ہیں۔ ہزاروں افراد کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دوسرے شہروں میں ان کے کارکنوں اور قائدین کے بھتے وصول کرنے اور قتل اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ بلدیہ ٹائون کراچی میں فیکٹری کو تقریباً ۳۰۰؍ انسانوں سمیت جلادینے کا معاملہ اب ’مشترکہ تفتیشی ٹیم‘ (JIT) کی رپورٹ کی شکل میں قوم کے سامنے آچکا ہے۔ یہاں بھی بھتہ ہی اس قتل کا محرک نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین پر ۴۶۲؍ارب روپے کی کرپشن کا مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔
پنجاب کے میگاپراجیکٹس کے سلسلے میں خاک اُ ڑ رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں کھل کر سوالات اُٹھائے جارہے ہیں۔ اورنج ٹرین کے بارے میں اخراجات کے اعدادوشمار چکرا دینے والے ہیں۔ یہی معاملہ گیس کی خرید کے معاہدوں اور بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کا ہے۔
ہم یہ چند نمونے اس لیے پیش کر رہے ہیں کہ ان اُمور کی تحقیق ہونی چاہیے۔ بات صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بیوروکریٹس کا ریکارڈ تو اور بھی بدتر صورت پیش کرتا ہے۔ سیاست دانوں اور بیوروکریٹوں کا’ غیرمقدس اتحاد‘ بھی ایک حقیقت ہے۔ کچھ ججوں، جرنیلوں اور ان کے اعزہ و اقارب کی داستانیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ بہت ہی پُراسرار اور تہہ در تہہ ہے۔ اس کے لیے زمینوں کی خریدوفروخت بلکہ زمینوں پر زبردستی قبضے جمانے کے لیے دھن، دولت اور دھونس کے اتنے تذکرے ہیں کہ انھیں پیش کرتے ہوئے وقت کم پڑ جائے۔
مرکزی اور صوبائی آڈیٹر جنرل کی رپورٹیں بھی چشم کشا ہیں۔ سیکڑوں ارب روپے کی بے قاعدگیاں ہرسال کی رپورٹ میں سامنے آرہی ہیں، مگر پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹیاں خاموشی سے انھیں دبائے بیٹھی ہیں۔ موجودہ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار احمد جس زمانے میں وہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سربراہ تھے، انھوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن اس اہم پارلیمانی ادارے نے نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد اپنی ذمہ داری ادا کی۔
یہی حال احتساب بیورو (NAB)کا ہے۔ ۱۹۹۹ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے آرڈی ننس کے ذریعے یہ ادارہ قائم کیا تھا۔ لیکن اس کے پہلے دو سربراہوں: جنرل شعیب امجد اور جنرل شاہد یہ کہہ کر مستعفی ہوگئے کہ: ہمارے کام میں مداخلت کی جارہی ہے اور ہم کو اصل مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالنے دیا جارہا۔ جنرل شاہد نے تو اپنی یادداشتیں بھی سپردِقلم کردی ہیں، جن میں نام لے کر بتادیا ہے کہ کس طرح سیاسی مقاصد کے لیے ان کو کام سے روکا گیا اور سیاسی مفاہمت کے نام پر کس طرح قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو پارسائی کا سرٹیفکیٹ دے کر شریکِ اقتدار کرلیا گیا۔
اسی طرح وہ حکمران جرنیل، جس نے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ لگایا تھا،ا س نے کس طرح ایم کیو ایم کے سربراہ کو ایک نہیں متعدد صحافیوں کے سامنے غدار کہا تھا اور پھر کس طرح انھیں اور ان کی پارٹی کو گلے سے لگالیا۔ اسی طرح ۱۲مئی ۲۰۰۷ء کو کراچی ایئرپورٹ اور شہر کی بڑی شاہراہوں پر ایم کیو ایم کے ہاتھوں خونیں واقعے کے بعد، اسی حکمران نے ایم کیو ایم کو اپنی قوت کا نشان قرار دیا۔ بے نظیر اور زرداری کو کرپٹ کہا اور پھر نام نہاد ’ضابطۂ مفاہمت‘ (NRO) کے ذریعے انھیں اور ایم کیو ایم کو، جس پر ۵ہزار سے زیادہ مقدمات تھے اور الطاف حسین صاحب کو،جو دسیوں قتل کے مقدمات میں مطلوب تھے، سب کی خشک شوئی (dry cleaning) کا سیاہ کارنامہ انجام دیا۔
اس امر کا سختی سے اہتمام ہونا چاہیے کہ کسی پر بھی الزام بلاثبوت نہیں لگنا چاہیے۔ جرم ثابت ہوئے بغیر کسی کو مجرم بھی قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو بھی پبلک لائف میں ہے، اس کی زندگی کھلی کتاب کے مانند ہوتی ہے۔ اگر تسلسل سے اس کے بارے میں الزامات آرہے ہوں، اور وہ اپنا دفاع نہیں کرتا یا نہیں کرسکتا، تو اسے پاک بازی کی سند دینا بھی حق و انصاف سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ہم صبح شام حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نمونہ پیش کرتے ہیں۔ آپؐ ایک موقعے پر اُم المومنینؓ سے ہم کلام تھے کہ ایک صحابی آئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ آپؐ نے صحابی کو بلایا اور وضاحت فرمائی کہ یہ فلاں اُم المومنینؓ ہیں۔ اور اس طرح قیامت تک کے لیے یہ سنت قائم فرمادی کہ جہاں شبہہ پیدا ہونا ممکن ہو، بروقت اس کا ازالہ کردیا جائے۔ اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ سے لباس کے سلسلے میں سوال ہونا، اور پھر اس کا جواب اپنے بجاے، اپنے صاحبزادے کی زبان سے دلانا، وہ روشن مثالیں ہیں، جن کی تقلید مسلمان حکمرانوں اور بااثر شخصیات کو کرنی چاہیے۔
کرپشن کی ایک صورت وہ ہے، جو حکومت پالیسی کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کے ارکان، بیوروکریسی، ججوں، جرنیلوں، صحافیوں اور نہ معلوم کس کس کو لائسنس، ترقیاتی کوٹے، زمین کے پلاٹ، ملک اور ملک سے باہر سفر، علاج کی مفت سہولتیں اور کیا کیا عنایات خسروانہ ہیں جن سے سرفراز کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ فی الفور ختم ہونا چاہیے۔
ہم نے ایسی تمام بے جا نوازشات کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ الحمدللہ ، ہم نے اور جماعت اسلامی پاکستان کے ذمہ دار حضرات نے وزارت اور پارلیمنٹ کی رکنیت کے دور میں اس نوعیت کی سہولیات سے اجتناب کیا۔ بھٹوصاحب نے ارکانِ پارلیمنٹ کو ڈیوٹی فری کار اور اسلام آباد میں پلاٹ کی سوغات کا آغاز کیا تھا۔ الحمدللہ، جماعت اسلامی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے اس سہولت سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ یہ بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے کہ سابق چیف جسٹس اے آر کارنیلیس کو جب بھٹوصاحب نے ایک پلاٹ کے الاٹ کرنے کا خط لکھا تو ان کا مختصر جواب یہ تھا کہ ’’شکریہ، میں نے تو کسی پلاٹ کے لیے درخواست نہیں دی اور نہ مجھے اس کی کوئی ضرورت ہے‘‘۔
بطور ممبر سینیٹ میں نے اور محترم قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور نے اپنی تنخواہ نہیں لی اور اس رقم کے ذریعے سینیٹ میں لوئراسٹاف کے لیے فنڈ قائم کیا، جو دوسرے اراکین کے تعاون سے سینیٹ کے ملازمین کے لیے ایک بڑا سہارا بن چکا ہے۔ ایک کروڑ سے زیادہ کا یہ ’انڈومنٹ فنڈ‘ قائم ہوچکا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مجھے جو استحقاقی سہولیات میسر تھیں، الحمدللہ ان سے بھی استفادہ نہیں کیا اور نہ ۲۱سال کی ممبری کے دوران ایک بار بھی اپنے یا اپنے اہلِ خانہ کے علاج کے لیے ایک روپے کی دوا یا علاج کی سہولت حاصل کی۔ میں اس بات کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن اردگرد کا چلن دیکھ کر صرف تحدیث نعمت کے طور پر اس امر کا اظہار کررہا ہوں۔ حالانکہ اس کا تعلق بظاہر ایک قانونی استحقاق سے ہے۔
ہماری نگاہ میں ارکانِ پارلیمنٹ کی حقیقی ضرورتیں ضرور پوری ہونی چاہییں، لیکن جس فیاضی کے ساتھ سرکاری خزانے سے ان کو مراعات عطا کی جاتی ہیں ،خاص طور پر پلاٹس اور ڈویلپمنٹ فنڈ وغیرہ ( جن کا آغاز وزیراعظم جناب محمد خان جونیجو کے زمانے میں ہوا)ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ہماری معروضات کا حاصل یہ ہے کہ کرپشن صرف رشوت کا نام نہیں، بلکہ ہر اس معاملے میں، جس میں اجتماعی ذمہ داری کے کسی بھی نظام میں کسی بھی شخص کو کوئی اختیار دیا گیا ہے، خواہ وہ مالی ہے یا کسی انتظامی صورت میں: اس اختیار کا کسی پہلو سے بھی غلط استعمال کرپشن کی تعریف میں آتا ہے۔ مالی کرپشن سب سے بڑی لعنت ہے، لیکن یہ کرپشن کی واحد شکل نہیں۔ امانت، انصاف، حقوق کی پاس داری، ذاتی پسند و ناپسند کی روشنی میں سرکاری اختیارات کا استعمال___ یہ سب کرپشن کی بدترین شکلیں ہیں اور ایسی حکمت عملی اور نقشۂ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ کرپشن کی تمام صورتوں کو بڑی حد تک ختم کیا جائے اور ان چور دروازوں کو بند کیا جائے، جن سے یہ عفریت داخل ہوتا اور تباہی مچاتا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی ضرورت حلال اور حرام کا ادراک ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حق و انصاف، امانت و دیانت، قانون اور ضابطے کی پابندی ہے۔ تمام معاملات میں مکمل شفافیت، معلومات اور فیصلوں کو اخفا کے پردے سے نکالنا ہے۔ پورے نظام میں احتساب اور نگرانی کے نظام کو قانون اور ضابطے کا حصہ بنانا ہے۔
ایک طرف ہرہرفرد کی اخلاقی تربیت اور گناہ اور ثواب کے احساس اور آخرت کی جواب دہی کی زندگی کو مؤثر بنانا اور دوسری طرف قانون، ضابطے، فیصلے کے طریقوں اور کارکردگی کے جائزے کا ایسا واضح اور شفاف نظام بروے کار لانا کہ جس سے کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے امکانات کو کم سے کم کردیا جائے۔
۱۹۹۵ء میں تو دنیا کے صرف ۱۹ممالک میں ’اطلاعات کے حصول کا قانونی حق‘ (Right to Freedom of Information) موجود تھا۔ اب ان ممالک کی تعداد ۱۰۷ ہوگئی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ قانون ہے، مگر مرکزی قانون میں دو سال سے ترامیم زیرغور ہیں اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس ضمن میں خیبرپختونخوا کا قانون بہت بہتر ہے، لیکن انتظامیہ کی طرف سے اس پر مکمل عمل میں کوتاہیاں سامنے آرہی ہیں۔ معلومات تک رسائی، کرپشن کو روکنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کی فکر کرنی چاہیے۔
حال ہی میں جس طرح وزیراعظم محمد نواز شریف صاحب، بہاول پور میں غصے سے پھٹ پڑے۔ ان کا یہ انداز نظامِ احتساب کے لیے سمِ قاتل کا درجہ رکھتا ہے، اور شاید دل کے چور کی خبر بھی دے رہا ہے۔ یقینا، احتساب کے نظام اور قانون کو صاف شفاف، مختصر اور قابلِ عمل ہونا چاہیے۔ اس میں جھول، تضاد اور خامیوں کو دُور ہونا چاہیے، مگر یہ چیز جلسوں میں کہنے کی نہیں، بلکہ سنجیدگی سے، تمام پارلیمانی پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر اور کھلے عوامی مباحثے کی صورت میں متعین کرنے کی ہے۔
ہرشخص کے دل میں احتساب کی ایک عدالت اگر قائم ہوجائے تو اس سے بہتر نقطۂ آغاز ممکن نہیں۔ اسلام کا تو اصول ہی یہ ہے کہ: ’’اپنا احتساب کرلو، قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے‘‘۔ اسی طرح اجتماعی نظام میں بھی احتساب ضروری ہے۔ البتہ اس کی کئی سطحیں ہیں اور ہرسطح پر اس کا انتظام ہونا چاہیے۔
قانون صرف ایک سطح کا عمل ہے۔ اس کا ہونا ضروری ہے، لیکن قانون کو انصاف کے اسلامی اور معروف اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے اور اس کا اطلاق بلاامتیاز سب پر ہونا چاہیے۔ احتساب کے ادارے کا حکومت اور اس کے عام اداروں سے آزاد ہونا ضروری ہے۔ اس پر نظرثانی کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اس ادارے کو تھکے ماندے، اور خوار و زبوں ادارے کا رُوپ نہیں دھارنا چاہیے، اس لیے کہ وقت پر انصاف کی فراہمی انصاف کا لازمی حصہ ہے۔ (انصاف میں تاخیر، انصاف کا قتل ہے)۔
ہمارے ملک میں مقدمات اور تحقیقات اتنا وقت لے لیتے ہیں کہ انصاف کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ نیب کے پاس ۱۸، ۱۸ برس سے مقدمات موجود ہیں۔ یہ صریح ظلم ہے۔ اسی طرح احتساب بیورو میں تحقیق و تفتیش اور مقدمہ پیش کرنے کے الگ الگ شعبے ہونے چاہییں، جن میں اعلیٰ صلاحیت، تربیت اور دیانت کی شہرت رکھنے والے افسر متعین کیے جانے چاہییں، جن کی مناسب تربیت ہو اور جدید معلومات اور ٹکنالوجی سے ان کو باخبر رکھا جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ احتسابی ادارے پر شفاف نگرانی کا نظام تو ضرور قائم ہو ،لیکن اسے سیاست کے سایے سے پاک ہونا چاہیے، جس طرح فرانس میں دستوری عدالت ہے۔ ان خطوط پر نظرثانی کے کمیشن بنائے جاسکتے ہیں۔ ملک میں الحمدللہ، باضمیر اور باصلاحیت لوگ موجود ہیں، ان سے پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے، تاہم پارلیمانی کمیٹی اس کام کے لیے موزوں نہیں ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ احتساب کمیشن کی سالانہ رپورٹ صدر کو پیش کیے جانے کے بعد، پارلیمنٹ کی ایک خاص کمیٹی کے سامنے ضرور آنی چاہیے، تاکہ وہ اس کی روشنی میں مستقبل کی قانون سازی اور پالیسی سازی کے حصول کے لیے مشورے دے سکے ۔اگر پارلیمانی کمیٹی، احتساب بیورو کو کچھ چیزوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہو تو وہ اس ذمہ داری کو بھی ادا کرسکے۔
احتساب کے سلسلے میں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف قانون کا کام نہیں، پارلیمنٹ کا اپنا بھی کردار ہے۔ اس کی کمیٹیاں اس عمل کا مؤثر ترین نظام ہیں۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی ایک مستقل حساس اور نگران ادارہ ہے، لیکن ہمارے یہاں وہ ایک مُردہ یا نیم جان ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر برسوں تک بحث ہی نہیں ہوئی، جب کہ رپورٹیں الماریوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
اسی طرح پارلیمنٹ میں وقفۂ سوالات حکومت اور ہرادارے کے احتساب کا ایک مؤثر فورم ہے۔ بدقسمتی سے پارلیمنٹ اور حکومت دونوں اس کا حق ادا نہیں کر رہے۔ کئی سال تو ایسے بھی گزرے ہیں کہ جتنے سوالات ارکان نے پوچھے ہیں، پورے سال میں ان میں ۲۰فی صد سے زیادہ کے جواب تک نہیں آئے اور جو جواب آئے وہ نامکمل تھے۔ پھر جس دن جواب پارلیمنٹ میں آتے ہیں، اس دن متعلقہ وزیر موجود نہیں ہوتے۔ یہ طرزِعمل پارلیمنٹ کی توہین اور اس کی کارکردگی پر کلنک کا ٹیکا ہے، جس کی اصلاح ضروری ہے۔ اگر پارلیمنٹ کے لوگ اپنے گھر کو درست کرلیں، تو انھیں دوسروں کی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی۔
[…باقی دیکھیے: ص ۱۰۵]
[اشارات : ص ۲۸ سے آگے]
کی ٹانگ کھینچنے کے مترادف نہیں ہونا چاہیے۔ احتساب اصلاحِ احوال کا ایک مؤثر نظام ہے اور مشاورت اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں احتساب ایک مثبت اور تعمیری عمل بننے کے بجاے، ایک منفی اور نیچا دکھانے کا عمل بن کر رہ گیا ہے۔ یا پھر اتنا غیرمؤثر ہوگیا ہے کہ اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔ اگر دیکھا جائے کہ پچھلے ۱۸برس میں نیب کے سامنے کتنے معاملات آئے ہیں؟ اور کتنے افراد کو قانون پر عمل کے ذریعے قرار واقعی سزا ملی ہے؟ تو کوئی بہت اچھی تصویر سامنے نہیں آتی۔
احتساب کے نظام میں ایک تباہ کن جھرنا ’بہانہ ساز سودے بازی‘ یا ’پلی بارگیننگ‘ (Plea Barganing ) کا نظام ہے، اسے فی الفور ختم ہونا چاہیے۔ جہاں جرم ثابت ہو، وہاں پوری لوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں جمع کرنی چاہیے اور مجرم کو قید، جرمانہ اور مستقبل کے لیے نااہلی کی شکل میں سزا ملنی چاہیے اور اس کی تشہیر ہونی چاہیے۔کرپشن کو جتنا مشکل بنایا جائے گا، اتنا ہی اس پر قابو پایا جاسکے گا، ورنہ کرپشن بھی ایک کھیل بنی رہے گی اور یہ کھیل دن رات ہمارے سامنے ہورہا ہے۔
ہمارے دوست پروفیسر عنایت علی خاں نے کیا خوب کہا ہے ؎
حادثہ سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھیرے نہیں حادثہ دیکھ کر
ہمیں معاشرے میں امانت اور دیانت، شرافت اور قناعت کی اقدار کو پروان چڑھانا ہے تاکہ کرپشن ایک ناقابلِ قبول شے بن جائے اور عدل و انصاف، حقوق کی پاس داری اور اکل حلال ہمارا شعار ہو۔
کرپشن کسی بھی معاشرے اور ریاست کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اگرجسم بھی بیمار ہو تو یہ جان لیوا سرطان کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ ہر دوسری خرابی اور بگاڑ سے اس کا ایسا رشتہ قائم ہوجاتا ہے، جو بگاڑ کو ہمہ جہت وسعت دے دیتاہے۔ ہم بڑے دُکھ سے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس وقت پاکستان میں کرپشن نے اُم الخبائث کی حیثیت اختیار کرلی ہے، اور زندگی کے ہرپہلو میں بگاڑ اور فساد کا ذریعہ بن گئی ہے۔ آہنی گرفت سے اسے قابو کیے بغیر زندگی کے کسی بھی شعبے میں اصلاح کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وقت کی اہم ترین ضرورت، کرپشن کے خلاف ہمہ گیر جہاد ہے۔ اس جہاد کو برپا کرنے کی ذمہ داری ان تمام افراد اور عناصر پر ہے، جو مظلوم ہیں، جو اس کا نشانہ ہیں، جو انصاف سے محروم ہیں، جن کے حقوق کو شب و روز بے دردی سے پامال کیا جا رہا ہے اور قانون اور نظامِ عدل خاموش تماشائی بنے، ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
جماعت اسلامی پاکستان نے موجودہ حالات کے پیش نظر کرپشن کے خلاف ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کیا ہے اور ملک کے تمام مظلوم بھائیوں اور بہنوں کو دعوت دی ہے کہ ظلم کے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ کے بھروسے پر اُٹھ کھڑے ہوں اور اپنے حقوق کے حصول اور تمام مجبور انسانوں کو لُوٹ مار کے اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے سرگرم ہوجائیں۔ ہماری یہ جدوجہد منظم اور ہمہ گیر ہوگی، لیکن ان شاء اللہ قانون اور اخلاق کے ضابطوں کے اندر ہوگی کہ فساد، بگاڑ اور بُرائی کا مقابلہ بھی خیر، فلاح اور حسن سے مطلوب ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (حم السجدہ ۴۱:۳۴) اور نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔
(کتابچہ دستیاب ہے، قیمت:۱۳روپے، منشورات، لاہور)
اس وقت ملک و ملّت کے تقریباً ہر طبقے میں، اور ہر میدانِ کار میں چند بنیادی مسائل پر بحث و گفتگو کا سلسلہ گرم ہے۔ نجی محفلوں، سیاسی اجتماعات اور اخبارات و رسائل کے صفحات سے لے کر پارلیمنٹ کے ایوانوں تک ہر جگہ یہی مسائل زیربحث ہیں: امن و امان کی زبوں حالی، معاشی بحران، علاقائی عصبیت کی زہرناکی، فرقہ واریت کے عفریت کی کارفرمائیاں، لوٹ کھسوٹ کی ہوش ربا داستانیں، خارجہ سیاست میں پاکستان کی آزمایش، بھارت کے جارحانہ عزائم کی افزونی، امریکا کی بے وفائیاں اور اندورنی قلابازیاں و ریشہ دوانیاں سرفہرست ہیں۔
اس پس منظر میں تحریکِ اسلامی نے قوم اور اس کی قیادت کو یہ سوچنے کی دعوت دی ہے کہ ان مسائل کے حقیقی اور دیرپا حل کے لیے جس فکرونظر کے انقلاب اور جس مضبوط اور ہمہ گیر ملّی اقدام کی ضرورت ہے، وہ نفاذِ شریعت ہے،مگر بدقسمتی سے ہماری سیاسی اور انتظامی قیادتوں نے اس مسئلے کو ہمیشہ ایک متنازع مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ساری توجہ شریعت کی کلید سے زندگی کے مسائل حل کرنے سے ہٹ کر سیاسی اور قانونی موشگافیوں ہی پر نہیں، بلکہ نیتوں کے فتور اور انفرادی اور گروہی اقتدار کی شرم ناک جنگ پر مرکوز ہوگئی ہے۔ یہ مقتدر طبقہ جو خواہ اپنی تعداد اور عوامی بنیاد کے اعتبار سے کتنا ہی قلیل اور غیرثقہ کیوں نہ ہو، مگر سیاسی اثرات، ذرائع ابلاغ میں اپنی قوت اور بیرونی تائید و معاونت کے اعتبار سے بڑا زورآور ہے، کھل کر اسلام، اسلامی ریاست، شریعت کی بالادستی اور اجتماعی زندگی میں دین کے کردار ہی پر حملہ آور ہے۔
ان حالات میں ضرورت ہے کہ اس شوروغوغا میں اس بنیادی مسئلے کو گم ہوجانے سے بچایا جائے۔ ہر جماعتی، گروہی اور ذاتی اختلاف، مفاد اور تعصب سے بالا ہوکر نفاذِ شریعت کی حقیقت کو سمجھا جائے اوراسے حقیقت بنانے کے لیے جس طرزِ فکر، طریق کار اور عملی اقدام کی ضرورت ہے، اس کی نشان دہی کی جائے تاکہ شریعت، جو نام ہے دین اسلام اور اس کے دیے ہوئے طرزِ فکروعمل کا، اور جس کی امتیازی خصوصیت ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتائی ہے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ منزلِ مقصود تک لے جانے والا (حنیفیہ) ،نرمی اور آسانی پیدا کرنے والا (سمحہ)، سہولت بخش (سہلہ)، منور، تابناک (بیضائ)، اور اتنا واضح ہے کہ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے (لیلھا کنھارھا)، عملاً نافذ ہو۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم ان چند بنیادی غلط فہمیوں اور غلط بیانیوں کی تصحیح کرنا چاہتے ہیں جو اس بحث میں بڑے بڑے جغادری اور بااثر افراد کی طرف سے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ پھیلائی جارہی ہیں۔
سب سے افسوس ناک اور باغیانہ رویہ ملک کی سیکولر اور غیرمسلم لابی کا ہے۔ یہ لابی کھل کر اسلامی ریاست اور شریعت کی بالادستی کے خلاف محاذآرائی میں پیش پیش ہے اور بڑے تند اور تلخ انداز میں جارحانہ طور پر حملہ آور ہے۔ اس میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کا نام لینے والے منظم گروہ اور ایک وہ گروہ بھی شامل ہے جو اپنے آپ کو ’دین کی جدید تعبیر‘ کا حق دار قرار دے کر، نئی نئی موشگافیاں پھیلاتا اور لمحہ بہ لمحہ موقف تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے (اس گروہ میں اور منکرینِ سنت میں بس دو چار ہاتھ کا فرق ہے)۔ یہ سبھی ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
وزیراعظم صاحب نے کھل کر مذموم لبرلزم سے نسبت جوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں حقوقِ انسانی کے نام پر ہنگامہ برپا کرنے والا پورا طائفہ ہر طرف اپنی توپیں داغ رہا ہے اور مسلمانوں کو ان کے اپنے ملک میں ان کی اپنی شریعت نافذ کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور بے سروپا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ مغربی ذرائع ابلاغ اور پالیسی ساز، جمہوریت اور اکثریت سے فیصلوں کے سارے دعوئوں کے اصول کو تسلیم کرنے کا دم بھرنے والے اس معمولی سی اقلیت کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں اور اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
ایک دوسرا طبقہ ذرا مختلف انداز میں کرم فرما ہوا ہے۔ اسے کھل کر سیکولرزم، لبرلزم اور لادینیت کی بات کرنے کی تو ہمت اور جرأت نہیں۔ اس لیے اس نے ایک خیالی خطرے کا ہوّا اُٹھایا ہے، یعنی اس کا نشانہ نام نہاد مذہبی پیشوائیت، تھیوکریسی اور ’مُلّاکا اسلام‘ ہے اور ’اقبال اور قائداعظم کے اسلام‘ کا نام لے کر یہ نفاذِ شریعت کی راہ کھوٹی کرنا چاہتا ہے۔
اندریں حالات ملک کے عوام اور اس کی اسلامی قیادت کو اصل سوال___ یعنی شریعت کی بالادستی کے قیام کی تحریک کو، خواہ وہ کسی بھی سمت سے آئے اور کسی بھی شکل میں ہو، تقویت پہنچانے اور اس مسئلے کو دستوری اور قانونی اعتبار سے ایک بار مکمل طور پر طے کرا لینے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ ہمارا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا اور تحریکِ پاکستان کے حقیقی مقاصد کو پورا کرنا اور ان قربانیوں کا حق ادا کرنا ہے جو پاکستان کو دورِحاضر میں اسلام کی حقیقی تجربہ گاہ بنانے کے لیے برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں نے دی تھیں اور جس کے لیے تحریک اسلامی نے ۱۹۴۸ء میں مطالبہ نظامِ اسلام کی آواز بلند کی اور اس دن سے لے کر آج تک شریعت کی بالادستی اور دین حق کی اقامت کے لیے جدوجہد کی ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ نے بندے کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے مالک و آقا اور رب کو تسلیم کرے یا نہ کرے اور اپنے لیے اللہ کی بندگی یا اس سے بغاوت کا راستہ اختیار کرے (اور یہی معنی ہیں: لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی ضمانت کے) تو بلاشبہہ ہم یا کوئی مسلمان ملک انسانوں کو ان کے اس حق سے محروم نہیں کرسکتے۔لیکن دو باتیں صاف ہونے چاہییں:
o جہاں کفر اور انکار کی راہ اختیار کرنے والوں کو اپنے ذاتی عقیدے اور عمل کی آزادی کا اختیار حاصل ہے، وہاں انھیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو، جو اپنے عقیدے اور ایمان کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کی بالادستی کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتے ہیں، اس عمل سے روکیں اور اس کے لیے بیرونی، سیاسی اور تہذیبی قوتوں کی معاونت سے زورآوری کا ہر حربہ استعمال کریں۔ سیکولر لابی جو دوسروں کو ’مذہبی فسطائیت‘ ، ’انتہاپسندی‘ اور ’عدم برداشت وغیرہ کا طعنہ دیتی ہے، خود بدترین ’سیکولر فسطائیت‘ کی مرتکب ہورہی ہے۔ اس محدود اقلیت کو، اپنے سارے اثرورسوخ اور وسائل ابلاغ پر قدرت کے باوجود، یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنی مرضی کے مطابق اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے سے روکے۔ ان حضرات کو اپنی بات پر قائم رہنے اور اس کے اظہار کی آزادی کا حق ہے اور ہم اس کا دفاع کریں گے۔ تاہم، دلیل اور شائستگی کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنی بات کہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر وہ اس دائرے سے باہر نکلتے ہیں تو خود پاکستان میں ان کی تحدید اور گرفت کے لیے قوانین موجود ہیں۔ لہٰذا انھیں اپنی راے اور ترجیحات کو ملّت اسلامیہ پاکستان کی عظیم اکثریت پر مسلط کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ جمہوریت کو اصل خطرہ اس آمرانہ اور جارحانہ ذہنیت سے ہے اور اسے قابو میں رکھنا خود جمہوریت کے فروغ اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
خود مسلم معاشرے میں جو کمزوریاں اور نظریاتی تنوع بہت سے تاریخی اسباب کی بناپر پیدا ہوگیا ہے اس کو برداشت کرنا ضروری ہے۔ افہام و تفہیم، تعلیم و تعلّم اور بحث و مباحثہ اور مکالمے کے ذریعے مختلف علیہ اور مختلف فیہ کا تعین ہوسکتا ہے۔ اتفاق کے وسیع دائرے میں تعاون ہو اور اختلاف کا احترام بھی اصول کے معاملات میں یکسوئی اور استقامت کی طرح ضروری سمجھا جائے۔ مسلم معاشرہ آزادی اور رواداری کی بنیاد پر وجود میں آتا اور ترقی کرتا ہے۔ کثرت میں وحدت اور حدود اللہ کے دائرے میں تنوع اس کی امتیازی شان ہے۔ اس کی مثال اس باغ کی سی ہے جس میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوں۔
سارے اختلافات کے باوجود نرمی اور توسع ہمارا شعار رہا ہے اور آج بھی اسی میں بقا اور ترقی کا راز مضمر ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جن چیزوں پر عظیم اکثریت یکسو ہے، جن کو وہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہے اور جن پر اپنی اُخروی زندگی کی کامیابی کا یقین رکھتی ہے، ان کے بارے میں محض کسی اختلافی نقطۂ نظر کے دبائو میں عمل نہ کیا جائے۔ جس طرح نظریاتی اقلیت کے حقوق ہیں، اسی طرح نظریاتی اکثریت کے بھی حقوق ہیں اور ان دونوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔
o یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان ہونے اور قرآن و سنت پر ایمان کا دعویٰ کرنے کے کچھ تقاضے بھی ہیں۔ ایک شخص اسلام قبول کرتا ہے یا نہیں، یہاں تک تو اس کو آزادی حاصل ہے، لیکن اسلام کو قبول کرنا ایک ذمہ داری ہے۔ ہر ذمہ داری کے کچھ بنیادی تقاضے ہوتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انسان کی یہ آزادی کچھ میدانوں میں محدود ہوجاتی ہے، اس لیے کہ اسلام نام ہی اس عہد کا ہے کہ انسان اللہ کو اپنا رب، خاتم الانبیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول، ہادی، آقا اور رہبر اور اسلام کو اپنا دین اور طریق زندگی تسلیم کرلے اور اس پر راضی اور مطمئن ہوجائے۔ ’جزوی مسلمان‘ یا ’نیم مسلمان‘ کا کوئی تصور دائرۂ اسلام میں نہیں اور عقل بھی اسے گوارا نہیں کرتی۔ قرآن کریم نے صاف صاف فرمایا ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً ص وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِط (البقرہ ۲:۲۰۸) اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، دائرۂ اسلام میں داخل ہوجائو پورے کے پورے، اور شیطان کے طریقے پر عمل پیرا نہ ہو۔
اسلام کی کچھ تعلیمات اور احکام کو ماننا اور کچھ کا انکار کر دینا، اللہ کی اطاعت اور بندگی کا راستہ نہیں ہے۔ اسلام کے شعوری اقرار کے بعد بندہ اپنی آزادی کو اللہ کی حدود کا پابند کرلیتا ہے اور پھر صرف ان حدود کے دائرے میں اپنے اختیار کو استعمال کرتا ہے۔ یہ تحدید وہ اپنی مرضی سے قبول کرتا ہے، لیکن اس تحدید کے بعد یہ حق اسے نہیں رہتا کہ جس چیز کو چاہے اختیار کرے اور جسے چاہے رد کردے۔ یہ آزادی نہیں تناقض، دو رنگی اور منافقت ہے جس کی اسلام ہی نہیں کسی بھی نظام میں گنجایش نہیں ہوسکتی اور جس کے نتیجے میں بجز کش مکش اور صلاحیتوں اور وسائل کے ضیاع کے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ قرآنِ کریم کا فیصلہ ہے:
اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ط اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ (یوسف ۱۲:۴۰) فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے۔
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ ط (اعراف ۷:۳) لوگو، جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ o(المائدہ ۵:۴۴) اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔
فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا o(النساء ۴:۶۵) نہیں (اے محمدؐ) تمھارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو، اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔
یہ ہے سچے مسلمانوں کی روش۔ اسی کا تقاضا ہے کہ شریعت کو بالادستی حاصل ہو۔ ماننے والوں کے لیے صحیح راستہ یہی ہے اور نہ ماننے والوں کو حق نہیں کہ ماننے والوں کو اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق اپنی زندگی کی شاہراہ تعمیر کرنے سے روکیں۔
یہ بات بھی واضح ہو جانی چاہیے کہ اسلام ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اللہ کا بھیجا ہوا دین اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا دکھایا ہوا راستہ ہے۔ یہ مکمل نظامِ حیات ہے اور اس میں زندگی کے تمام مسائل اور معاملات کا حل بھی موجود ہے اور انسانی معاشرے میں تغیر و تبدل اور ترقی و ارتقا کی جو حقیقی ضروریات ہیں ان کا بھی پورا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس فریم ورک میں اطاعت، آزادی، اختلاف اور تنوع ہر ایک کا اپنا مقام ہے لیکن یہ سب کچھ اس کے اپنے اصول اور ضابطوں کے مطابق ہے۔ جہاں اسلام زندگی کے بنیادی معاملات کے بارے میں واضح اور دوٹوک راہ نمائی دیتا ہے وہیں زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے لیے بھی خود اپنے نظام میں کافی و شافی گنجایش اور مواقع رکھتا ہے۔ البتہ وہ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں کرتا، جو اس کے نظامِ اقدار کی ضد اور نفی کرنے والی یا ان کو مجروح کرنے والی ہو۔ خُذْ مَا صَفَا وَدَع مَا کَدَر (جو صحیح اور صحت مند ہے اسے قبول کرلو اور جو نامواقف ہے اسے ترک کر دو) کا اصول اس عمل کو ہمیشہ جاری و ساری رکھتا ہے۔
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (المائدہ۵:۳) کے اعلان کے بعد زمان و مکاں کے تمام تغیرات اور وسعتوں کے باوجود آج تک اسلام ایک ہی رہا ہے۔نہ عربوں کا اسلام کوئی الگ ہے اور نہ پاکستان، ایران، ترکی، یورپ، امریکا اور افریقہ کے مسلمانوں کا۔ اسی طرح پہلی صدی کا اسلام، چوتھی صدی کا اسلام اور بیسویں صدی کا اسلام اپنا کوئی الگ الگ وجود نہیں رکھتے۔ اسلام تو ایک ہی رواں دواں دریا کے ما نند ہے، جس میں پانی کے نئے دھارے ملتے بھی رہتے ہیں اور اس کی نوعیت اور سمت پھر بھی ایک جیسی ہی رہتی ہے خواہ ابوحنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل، مالک، غزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ کا تصورِ اسلام ہو یا اقبال اور قائداعظم کا تصور۔ یہ سب اسی ایک اسلام کے علَم بردار تھے اور قرآن و سنت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے باہر یا اس میں غیراسلام کی آمیزش کے رُونما ہونے والے کسی نظرثانی شدہ اسلام کے نہ قائل تھے اور نہ داعی۔ ان پر اس سے بڑا ظلم کوئی اور نہیں ہوسکتا کہ ان کے اسلام اور مُلّا کے نام نہاد اسلام کو دست و گریباں کیا جائے۔ اور اقبال اور قائداعظم کا نام لے کر اللہ اور اس کے رسولؐ کی شریعت سے فرار کی راہیں تلاش کی جائیں۔ علامہ اقبال کی تو پوری زندگی کا مشن اور پیغام ہی یہ تھا کہ:
علمِ حق غیر از شریعت ہیچ نیست
اصلِ سُنت جز محبت ہیچ نیست
ملّت از آئینِ حق گیرد نظام
از نظامِ محکمے خیزد دوام
قدرت اندر علم او پیدا ستے
ہم عصا و ہم یدِبیضا ستے
با تو گویم سِّرِ اسلام است شرع
شرع آغاز است و انجام است شرع
ہست دینِ مصطفیٰؐ دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات
تا شعارِ مصطفٰےؐ از دست رفت
قوم را رمزِ بقا از دست رفت
(رموزِ بے خودی)
سچا علم، شریعت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ، اور سنت ِ رسولؐ کی بنیاد محبت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
ملّت کو بھی شریعت ہی سے نظام حاصل ہوتا ہے اور پختہ نظام اسے دوام عطا کرتا ہے۔
شریعت کے علم ہی سے (عمل پر) قدرت حاصل ہوتی ہے: یہ عصا (قوت کا نشان) اور یدِبیضا (نورِ ہدایت) بھی حاصل ہوتا ہے۔
میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کا راز ہے ہی ’شرع‘ کا آغاز اور ’شرع‘ ہی کا انجام۔
حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہی دینِ فطرت ہے، اور شرعِ محمدیؐ آئینِ حیات کی تفسیر ہے۔
جب حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا شعار (یعنی شریعت) ہاتھ سے نکل گیا تو قوم رمزِبقا سے بھی محروم ہوگئی۔
رہے قائداعظمؒ اور ان کے حقیقی رفقا (نواب زادہ لیاقت علی خاں، نواب اسماعیل خاں، بہادر یار جنگ، سردار عبدالرب نشتر، مولانا شبیر احمد عثمانی وغیرہ) تو تحریکِ پاکستان کے دوران اور قیامِ پاکستان کے بعد کم ز کم ڈیڑھ دو سو ایسے واضح بیانات تو صرف قائداعظمؒ کے موجود ہیں، جن میں اسلام کو اس جدوجہد کی منزل اور قرآن، اسوئہ رسولؐ، اسلامی قوانین اور اسلامی تہذیب و تمدن کی بالادستی کے قیام کو پاکستان کا مشن اور ہدف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پوری ڈھٹائی کے ساتھ ان کی دو ایک تقاریر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر ان کے تصورات کی غلط تصویر پیش کرنے کی مذموم سعی کی جاتی ہے۔ یہ روش ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ہے اور تمام حقائق کے سامنے آجانے کے باوجود ایک گروہ وہی رٹ لگائے جا رہا ہے ۔ اس سے خود اس گروہ کی بدنیتی بے نقاب ہوتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ان حضرات کا مقصد قائداعظم کے پورے تصور کو پیش کرنا نہیں، بلکہ اپنے مقاصد کے لیے چند جملوں کو استعمال کرنا ہے۔ ایسی صریح بددیانتی پر اُٹھائی جانے والی دیوار ریت کی دیوار ہی ہوسکتی ہے جو کسی تعمیر میں کام نہیں آسکتی۔
وہ کون سی چٹان ہے جس پر ملّت کی عمارت قائم ہے اور وہ کون سا لنگر ہے جو سفینۂ ملّی کو تھامے ہوئے ہے؟ مسلم انڈیا کے سفینۂ ملّی کا مستحکم لنگر عظیم المرتبت کتاب قرآنِ مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں گے ویسے ہماری یہ وحدت بھی بڑھتی جائے گی۔ ایک خدا، ایک کتاب، ایک رسولؐ، ایک قبلہ اور ایک قوم!
پاکستان کا مطلب صرف آزادی و حُریت کا حصول نہیں ہے بلکہ اسلامی نظریے کا تحفظ بھی ہے جس کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ یہ قیمتی تحفے اور بیش بہا خزانے ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔
بہ جز ان لوگوں کے جو بے خبر ہیں ہرشخص آگاہ ہے کہ قرآنِ مجید مسلمانوں کا ہمہ گیر و بالاتر اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ مذہبی بھی، معاشی و معاشرتی بھی، دیوانی بھی، فوج داری بھی، تجارتی بھی، عدالتی بھی اور تعزیری بھی___ یہ ضابطہ زندگی کی ایک ایک چیز کو باقاعدگی اور ترتیب عطا کرتا ہے۔
میرا ایمان ہے کہ ہم سب کی نجات ان سنہری قواعد اور زریں احکام کی پیروی میں مضمر ہے جو ہمارے رہن سہن اور معاملاتِ زندگی کو درست رکھنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کیے ہیں۔ آیئے! ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورت پر استوار کریں۔ خداے قادر و مطلق نے ہمیں سکھایا ہے کہ مملکت کے تمام اُمور میں ہمارے فیصلے بحث و تمحیص اور مشاورت کی راہ نمائی میں ہوں۔
ہمیں بتایا جائے کہ قرآن و سنت کی واضح شاہراہ اور اسلام کے ضابطۂ قانون سے ہٹ کر اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا اسلام کون سا ہے؟ یہ ان دونوں بزرگوں پر تہمت اور خلط مبحث کی ایک شرم ناک کوشش ہے۔ شریعت میں کوئی ابہام نہیں اور ہرمسلمان اس شریعت کا علَم بردار اور طالب ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی امانت کی شکل میں دی ہے۔ شریعت جو ہماری آزادی ، دنیوی فلاح اور اُخروی کامیابی کی ضامن ہے، جو تمام انبیا کی سنت رہی ہے اور جسے اپنی آخری اور مکمل شکل میں محمد عربیؐ نے انسانیت تک پہنچایا اور آج جس کی امین اُمت مسلمہ ہے۔ کامیاب اب وہی ہوگا جو اس راستے پر گامزن ہو:
(پس آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے) جو اس پیغمبر، نبی اُمّی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (اعراف ۷:۱۵۷)
شریعت اور اس کے نفاذ کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ شریعت کی نوعیت اور حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے اور جو فرق شریعت یا اسلامی قانون اور مغربی قانون میں ہے، اسے نظر میں رکھا جائے۔ لغت کے اعتبار سے ’شرع‘ اور ’شریعت‘ کے معنی راستے کے ہیں۔ پرانے زمانے میں گھریلو استعمال کے لیے پانی، محلے یا دیہات کے کنویں، تالاب، نہر یا چشمے وغیرہ سے لایا جاتا تھا اور انسانوں اور مویشیوں کے باربار وہاں آنے جانے سے ایک ایسا راستہ بن جاتا تھا، جو سیدھا، مختصر، کشادہ، واضح اور صاف ہوتا تھا۔ اسی راستے کو عربی لغت میں شریعت کہا جاتا تھا۔ گویا وہ سیدھا، کشادہ اور واضح راستہ جو کسی بستی کے لوگوں کو پانی کے ذخیرے اور مصدر و ماخذ تک پہنچا دے۔
اصطلاحی اعتبار سے ’شریعت‘ سے مراد زندگی گزارنے کا وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسانوں کے لیے مقرر فرمایا اور جو دین کے احکام اور اصولوں پر عمل پیرا ہونے اور انسانی زندگی کی ان اصولوں کے مطابق عملی تشکیل کرنے کا واحد راستہ ہے۔
قرآن و سنت اس شریعت کے اصل اور بنیادی ماخذ ہیں۔ اس کے ایک حصے کا تعلق عقائد، افکار اور احساسات سے ہے اور دوسرے کا انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے۔ فقہ یا اسلامی قانون، شریعت کے اس حصے کا نام ہے جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اسلامی تشکیل سے بحث کرتا ہے۔ فقہاے کرام ’فقہ‘ کی یہی تعریف کرتے ہیں: ’’فقہ وہ علم ہے، جس کے ذریعے شریعت کے عملی احکام کو ان کے تفصیلی دلائل سے حاصل کیا جاتا ہے‘‘۔
شریعت انسان کی عملی زندگی کے کم و بیش ہر پہلو کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے احکام جہاں ایک طرف امرونہی، حلال و حرام، مستحب اور مکروہ کی نشان دہی کرتے ہیں، وہیں حدود کی اس صف بندی کے ساتھ ساتھ مباح اور انسانی آزادی کے میدان کو بھی واضح اور نمایاں کردیتے ہیں۔ اور یہی وہ میدان ہے جس میں ہردور میں اصولوں کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے نئی قانون سازی کی جاتی رہی ہے اور کی جاتی رہے گی۔
شریعت کے صرف ایک حصے کا نفاذ ہر فرد اور ادارہ اپنی ذاتی مرضی اور پیش قدمی (initiative) کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس طرح ایک خودکار نظام (self-executing system) کے ذریعے شریعت مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رچی بسی ہے۔ عبادات و مناکحات میں معاملات کا ایک بڑا حصہ آجاتاہے۔ لیکن شریعت کا ایک حصہ وہ ہے، جسے نافذ کرنے کے لیے معاشرے اور ریاست کی اجتماعی قوت درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جس کے لیے آج کے دور میں دستور، قانون، ریاستی مشینری اور ضابطۂ کار اور عدالتی نظام کو شریعت کے مقاصد اور احکام کا خادم اور کارندہ بنانا ضروری ہے۔
اسلامی قانون بیک وقت ایک خالص مذہبی، نظریاتی اور روحانی قانون ہی نہیں بلکہ ملکی اور عدالتی قانون بھی ہے۔ دوسری تہذیبوں اور مذاہب میں مذہبی قانون اور ملکی اور عدالتی قانون میں فرق کیا گیا ہے۔ مذہبی قانون بالعموم فرد کا ذاتی معاملہ سمجھا گیا ہے اور اس کے نفاذ کو بھی اس کے فہم و ارادے اور ضمیر پر چھوڑ دیا گیا۔ ریاستی اور عدالتی قانون صرف دنیاوی معاملات سے متعلق رہا اور اس کا انحصار رسم و رواج، بادشاہ کے حکم یا کسی بالاتر مقتدر یا مقننہ کے فیصلے اور عدالت کے فیصلے کی نظیر پر رہا۔ اسلامی قانون میں وحدت، ہم آہنگی اور ہمہ گیری ہے۔ یہ قانون محض عبادات اور اللہ اور بندے کے تعلق تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کا تعلق انسانوں سے اور فرد کا معاشرے، اجتماع اور ریاست سے تعلق بھی اس کے دائرۂ کار میں شامل ہے۔ اسلام کا قانون شخصی، معاشی، دیوانی، تعزیری، بین الاقوامی تمام دائروں پر محیط ہے۔ یہ عبادات سے لے کر خاندانی زندگی، معاشی تگ و دو، عمرانی معاملات، جرم و سزا، جنگ و صلح، غرض ان سب کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔
ایک مذہبی قانون ہونے کی حیثیت سے یہ ہرمسلمان کے ایمان کا معاملہ ہے اور اس پر عمل اس کے ایمان اور عقیدے کا تقاضا ہے۔ اس لیے قانون محض جبر اور قوتِ قاہرہ کی علامت نہیں، بلکہ ایمان کا تقاضا، دل کی پکار، زندگی کی آرزو اور اجتماعی زندگی کا ادب بن جاتا ہے۔ اس کا نفاذ صرف ڈنڈے اور پولیس کے ذریعے نہیں، بلکہ ضمیر کی آمادگی اور رب کی طاعت گزاری کے جذبے سے عبارت ہے۔ بلاشبہہ پولیس اور عدالت کا بھی ایک مقام ہے، لیکن جو چیز اسلام کے قانون کو منفرد درجہ دیتی ہے، وہ اندر کی آواز اور باہر کے قانون کی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو تقویت دینے کی صلاحیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون پر پولیس کے پہرے اور مخبروں کے خوف سے کہیں زیادہ ضمیر کی خلش اور آخرت کی کامیابی کے جذبے سے عمل ہوا ہے۔ رات کی تاریکیوں اور تنہائوں میں بھی اس پر عمل درآمد کا جذبہ ویسا ہی قوی ہوتا ہے جیسا دن کی روشنی اور محتسب کی موجودگی میں۔ اور جرم کے ارتکاب کے بعد توبہ ہی نہیں بلکہ پاکی کے حصول کے لیے ’مجرم‘ خود سزا کا طالب بن جاتا ہے۔
جہاں اسلامی قانون کی یہ روح ہے، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شریعت اپنے نفاذ کو محض ضمیر اور فرد کے ذاتی جذبے پر نہیں چھوڑتی، بلکہ انسانی فطرت اور معاشرے کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ریاست کی شیرازہ بندی کے واضح احکام دیتی ہے، نظامِ امر قائم کرتی ہے، انتظامی مشینری وجود میں لاتی ہے، پولیس اور عدالت کے نظام کو قائم کرتی ہے ،اور اس طرح اندرونی قوت اور جذبے کی تکمیل بیرونی قوت اور نظام کے ذریعے کرتی ہے۔ ریاست اپنے تمام اداروں کے ذریعے ایک طرف تلقین، تعلیم اور بہتر نمونے کا اہتمام کرتی ہے تو دوسری طرف ریاستی قوت اور عدالتی اداروں کے ذریعے قانون توڑنے والوں کی گرفت اور معاشرے کو جرم اور ظلم سے پاک کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔ دین اور ریاست ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بن جاتے ہیں۔ سیکولر ریاست اور اس کے تمام ادارے دین کی رہنمائی سے آزاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دین ریاست اور معاشرے کے وسائل سے محروم رہتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے حضرت عثمانؓ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ:
اسلام ایک بنیاد ہے جس پر مسلمانوں کی زندگی کی عمارت تعمیر ہوتی ہے اور حکومت ایک نگہبان اور محافظ ہے۔ اگر کسی عمارت کی بنیاد نہ ہو تو وہ کمزور رہتی ہے اور گر جاتی ہے، اور اگر کسی عمارت کا کوئی محافظ اور نگہبان نہ ہو تو وہ ضائع ہوجاتی ہے، اس کو لوٹ لیا جاتا ہے یا اس پر دوسرے قابض ہوجاتے ہیں۔
یہ عمل ہر فرد سے دل کی گہرائیوں سے اور آخرت کی کامیابی کے جذبے سے سرشار ہوکر شرکت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت، ریاست اور اس کے تمام اداروں کے لیے بھی لازم کرتا ہے کہ وہ تعلیم و تلقین اور اچھی مثال کے ساتھ ساتھ نیکی کا حکم اور برائیوں کے روکنے کا کام انجام دیں۔ حق دار کو اس کا حق پہنچانا اور ظالم کو ظلم سے روکنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا نماز اور روزے کا اہتمام___ بلکہ نماز تو ہے ہی اس لیے کہ بُرائیوں سے روکے (اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ - العنکبوت ۲۹:۴۵)۔ اور روزے کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ لوگ متقی بنیں اور قانون کی پاس داری کریں (لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ)۔
شریعت کے نفاذ کا کام بڑا منفرد اور بابرکت ہے۔ اس میں قانون اور اس کی حقیقی اسپرٹ دونوں کا ساتھ ساتھ اہتمام ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل میں فرد، عوام، نظامِ تعلیم، ذرائع ابلاغ، اجتماعی اداروں اور حکومت سب کی شرکت ضروری ہے۔البتہ دو وجوہ سے حکومت کا کردار سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے اور وہ یہ ہیں:
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
غیراسلامی اور مغربی دنیا سے درآمد شدہ ادارے اور انتظامی در و بست مسلم معاشرے پر بزور ٹھونسے جاچکے ہیں۔ ان حالات میں تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فرد کی کوششوں کے ساتھ معاشرہ، ریاست اور اس کے تمام ادارے ظلم اور باطل سے نجات اور حق اور معروف کے قیام میں مکمل طور پر شریک نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف انفرادی کوششیں بارآور نہیں ہو رہیں۔ نجی طور پر خیر کے فروغ اور بدی کے مٹانے کے لیے جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ بہت غنیمت ہے اور اس کے اچھے اثرات بچشم سر دیکھے جاسکتے ہیں، مگر مطلوبہ تبدیلی کے لیے وہ کافی نہیں۔ پاکستان کی گذشتہ تاریخ میں اس کش مکش اور اس کے بُرے نتائج کو دیکھا جاسکتا ہے۔ زندگی کو اس تناقض (contradiction) اور تصادم سے پاک کیے بغیر ہم اپنے انسانی اور مادی وسائل کو صحیح صحیح استعمال نہیں کرسکتے اور مطلوبہ نتائج رُونما نہیں ہوسکتے۔
آج مسئلہ صرف انفرادی خطا اور بے راہ روی نہیں اجتماعی فساد اور منظم ظلم ہے۔ اس کی بھی یہ کیفیت ہے کہ گویا زمین و آسمان بگاڑ اور فساد سے بھر گئے ہیں (ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ- الروم ۳۰:۴۱)۔ ان حالات میں اجتماعی قوتوں کو تعلیم و تلقین، مظلوم کی دادرسی، حق دار کو حق پہنچانے اور ظلم اور فساد دُور نہیں ہوجاتے، غربت اور افلاس کا خاتمہ نہیں ہوتا، مجبور اور مظلوم قوی نہیں بن جاتے اور منہ زور اور ظالم قابو میں نہیں کر دیے جاتے___ شریعت کے اہداف حاصل نہ ہوسکیں گے۔اور یہی وہ میدان ہے جس کی اصلاح کے لیے ریاست اور اس کی اجتماعی قوتوں کو اسلام کے لیے مسخر کرنا ضروری ہے، تاکہ قرآن کے الفاظ میں انسانوں کے لیے انصاف اور عدل قائم ہوسکے (لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ - الحدید ۵۷:۲۵)۔
سوال یہ ہے کہ اس منزل کی طرف پیش قدمی کیوں نہیں ہوپاتی؟ اصل کمی، کسر اور بگاڑ کہاں ہے؟ شریعت کے نفاذ کی راہ میں اصل رکاوٹیں کیا ہیں اور ان کا سدباب کیسے ممکن ہے؟
جیساکہ ہم نے اُوپر نشان دہی کی شریعت نے اپنے نفاذ کے لیے چار راستے اختیار کیے ہیں، یعنی: ۱- ایمان اور اندرونی محرک، ۲- تعلیم و تلقین اور وعظ و نصیحت کا ایک ہمہ گیر نظامِ دعوت، ۳-معاشرہ اور اس کے ادارے، خاندان سے لے کر وقف اور تکافل اجتماعی (رفاہ عامہ) تک، اور ۴- ریاست، قانون اور نظامِ قضا (عدالتی نظام)۔
شریعت چاہتی ہے، یہ تمام کام انفرادی اور نجی سطح پر بھی انجام دیے جائیں اور اجتماعی طور پر بھی۔ چونکہ ریاست نظامِ امر کا مرکز ہے، اور اللہ کے رسولؐ نے جو وظائف بحیثیت سربراہ انجام دیے، ان کی امین ہے۔ اس لیے ریاست اور حکومت کی ذمہ داری دوہری ہے، یعنی خود اپنے دائرے میں اپنے فرائض کی انجام دہی اور دوسرے تمام اداروں کی معاونت و سرپرستی، تاکہ فرد اور سول ادارے اپنے اپنے کردار بخوبی انجام دے سکیں۔
اجتماعی دائرے میں نفاذِ شریعت کے لیے جو حکمت عملی مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں اختیار کی ہے اس میں تنوع اور جدت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت کے حالات او ر مسائل کی روشنی میں انھوں نے کیا کیا راستے اختیار کیے۔ اصل نمونہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے جو داعی اور مربی اور معلّم بھی تھے اور سربراہِ مملکت، قاضی اور حاکم بھی۔ آپؐ کی راہ نمائی میں ایک مرکزی نظام کے ذریعے مندرجہ بالا چاروں دائروں کی رہنمائی کا حق ادا کیا گیا اور تاریخ کا روشن اور کامیاب ترین انقلاب رُونما ہوا۔
خلافت راشدہ نے اسی نمونے پر عمل کیا اور نظامِ ریاست و قیادت میں شگاف پڑنے کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اُموی دور میں اس نمونے کے احیا کی کامیاب کوشش کی۔ بعد کے اَدوار میں یہ مرکزیت اور ہمہ گیری باقی نہ رہی لیکن ہر ہر میدان کے لیے مؤثر انتظام کی کوشش کی گئی اور وقت کے چیلنجوں کی روشنی میں خصوصیت سے ریاست، قانون اور نظامِ عدالت کو اسلام کے مطابق اور شریعت کی حدود میں رکھنے کے لیے نئے تجربات اور نئے انتظامات کیے گئے۔ اس سلسلے کا سب سے عظیم اور تاریخی کارنامہ اُمت کے معتبر اور معتمد علما کا غیرسرکاری انتظام کے تحت فقہ اور اصولِ فقہ کی تدوین ہے۔ یہ قانون اخلاقی اور اجتماعی عوامی قوت و تائید سے ملک کا قانون بنا اور ایک مؤثر اور آزاد نظام قضا (عدل) کا قیام عمل میں آیا جو شریعت کے نفاذ کا ضامن بن گیا اور خود اربابِ اقتدار بھی اس قانون کے اسی طرح تابع ہوگئے جس طرح باقی انسان۔
اس طرح قانون کا وہ تصور جو دوسری تہذیبوں اور مملکتوں میں ’حکمران کی مرضی‘ کے مترادف تھا، بالکل بدل گیا۔ اسلامی قلمرو میں ’شریعت‘ ہی ملک کا قانون بن گئی اور حکمران کی مرضی بھی اس کے تابع ہوگئی۔ یہ قانون کسی قانون ساز اسمبلی نے نہیں بنایا تھا، مگراس کی تشکیل و ترقی میں: سرکاری سرپرستی یا نظام سے وابستہ کسی ادارے نے نہیں بلکہ مسلمان اُمت اور اس کے آزاد فکری قائدین، علما، فقہا اور دوسرے اُمور زندگی کے ماہرین نے حصہ لیا۔ علمی، عوامی اور جمہوری طریقے اور عمل سے یہ قانون وجود میں آیا اور مسلسل ترقی کرتا رہا۔ اجتہاد، قیاس، استنباط، استحسان، مصالح مرسلہ، استدراک اور اجماع کے ذریعے تازہ فکر، مشاہدہ اور تجربہ، اپنی اصل بنیاد سے تعلق قائم رکھتے ہوئے ترقی کرتا رہا اور ایک ہزار سال تک پوری اسلامی قلمرو کو سیراب کرتا رہا۔
ایسی مثالیں بھی ہیں کہ کچھ خدا ترس حکمرانوں نے اس قانون کو مرتب اور مدون کر کے اپنی قلمرو میں نافذ کرنے کی کوششیں کیں۔ اسلامی قانون کا یہ مزاج ہے کہ وہ محض حکمران کی مرضی یا ترجیحات یا مقننہ (قانون ساز ادارے) کی آزاد مرضی کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام، منشا و مرضی اور قرآن وسنت کے اصولوں کی روشنی میں پیش آمدہ معاملات کے بارے میں اصل ماخذ اور ان سے استفادے کے ضوابط کار کے مطابق رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کا نام ’اسلامی قانون‘ ہے۔
یہی وہ قانون ہے جسے دورِ غلامی سے نجات پانے اور آزاد مسلمان ریاست کے قیام کے بعد حاصل کردہ اختیار اور اقتدار کے اس زمانے میں ملّت اسلامیہ پاکستان، نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ برطانوی اقتدار کے نقصانات اور مظالم کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن بیرونی استعمار کا سب سے پہلا ہدف شریعت اور نظامِ قضا (نظامِ عدل) ہی تھا۔ پھر آہستہ آہستہ سارے ہی ادارے تباہ کردیے گئے اور آخری حصار، یعنی خاندانی نظام پر بھی مختلف سمتوں سے تابڑ توڑ حملے کیے گئے اور اس عظیم الشان نظام کو تہ و بالا کردیا گیا جو مسلمانوں نے اجتماعی میدان میں قائم کیا تھا۔
حصولِ آزادی کے بعد پہلا مرحلہ یہ تھا کہ ریاست کا قبلہ درست کیا جائے، اس کے مقاصد اور اہداف کو متعین کیا جائے اور نظامِ قانون کے مطابق اصول و ضوابط مرتب کیے جائیں۔ برطانوی دور میں تقریباً چار ہزار قوانین حکومت نے اپنے فرمان کے ذریعے مسلط کیے تھے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ دستور کی صحیح بنیادں پر تدوین کے بعد قانون کا جائزہ لیا جاتا۔ ایمان اور آزادی کے تقاضوں کے مطابق پورے قانونی ورثے کا جائزہ لے کر نہ صرف ان تقاضوں سے متصادم قوانین یا قوانین کے حصوں کو ختم کیا جاتا، بلکہ نئی قانون سازی ہو تی، تاکہ مثبت انداز میں ان دونوں ضرورتوں کے مطابق نیا قانونی نظام اور عدالتی ڈھانچا وجود میں آتا اور اس طرح وجود میں آتا کہ کوئی بحرانی کیفیت نہ پیداہوتی۔ مگر اس سمت میں اول تو کوئی کوشش نہ کی گئی، اور اگر کوئی قدم اُٹھایا گیا تو وہ بھی نیم دلی کی تصویر بنا رہا۔
قراردادِ مقاصد اس سمت میں پہلا روشن اور تابناک قدم تھا۔ لیکن اس کے بعد سے آج تک ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کی گردان کی جاتی رہی ہے اور اس سے وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جن میں باربار نفاذِ شریعت کے مطالبے اُٹھتے ہیں اور حکمران جان بچانے کے لیے چند نمایشی اقدام تو کرتے ہیں لیکن کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوتی۔ مجھے ذاتی طور پر اس کا بہت قریب سے تجربہ صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ہوا۔ ہم نے پورے خلوص سے ان کو اسلامی نظام کے نفاذ کا ایک مربوط اور مکمل پروگرام دیا، مگر اسلام کے لیے مخلصانہ جذبات کے اظہار کے باوجود وہ اس طرف کوئی حقیقی اور دیرپا پیش رفت نہ کرسکے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ نفاذِ شریعت کے مسئلے کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیاجائے۔ پھر مسئلے کی نوعیت کی مناسبت سے عملی اقدامات کا ایک ہمہ جہتی پروگرام مرتب کیا جائے اور اس کے نفاذ کے لیے مؤثر اور کارفرما مشینری وضع کی جائے۔
نفاذِ شریعت کسی ایک اعلان کا نام نہیں۔ یہ تو ایک مسلسل عمل ( process) ہے جس کی مختلف جہتیں ہیں اور ہرجہت کو دوسری کا معاون و مددگار اور اس کی تقویت کا باعث ہونا چاہیے، تب ہی مربوط اور دیرپا نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ جنرل ضیاء صاحب بار بار کہتے تھے کہ آپ مجھے کوئی ایک چیز بتا دیں جس کے اعلان سے شریعت نافذ ہوجائے، اور میں ہمیشہ ان کو یہی سمجھاتا تھا کہ اگر آپ فی الحقیقت نفاذِ شریعت چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایک اعلان نہیں، تبدیلی کا ایک مفصل اور مربوط پروگرام بنانا ہوگا___ اس کے اہم اجزا یہ ہیں:
۱- دستور میں قرآن و سنت (شریعت) کی بالادستی کا اظہار اور اسے قانون سازی اور پالیسی سازی کے لیے مستقل ماخذ قرار دینا۔نیز دستور میں ایسی ترامیم جو اس کو شریعت سے متصادم اجزا سے پاک کردے۔ دستور کو بار بار ادھیڑنا صحیح نہیں۔ اسی لیے دستور سازی اور قانون سازی میں فرق کیا جاتاہے اور اس کا احترام ہونا چاہیے۔ خاص طور پر جب ہم نے تحریری دستور کا راستہ اختیار کیا ہے تو اس کے تقاضے بھی پورے کرنے چاہییں۔
۲- دستور میں شریعت کے قانونی احکام کے نفاذ کے لیے ایک واضح اور مؤثر نظامِ کار کا تعین۔
___ دفعہ ۲۲۷ ایک اہم انتظام ہے لیکن اس کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ ایک متعین مدت میں اپنا فرض انجام دے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اس کے لیے سات سال کی مدت رکھی گئی تھی کہ اس زمانے میں تمام مروجہ قوانین کو شریعت سے ہم آہنگ کرلیا جائے گا۔ یہ کام آج تک نہیں ہوا ہے۔
___ اسی دفعہ کی رُو سے آیندہ کے لیے بھی شریعت کے احکام کے نفاذ کے لیے قانون سازی ضروری ہے اور یہ قانون سازی، اسمبلی اور سینیٹ کو ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ کے مشورے اور معاونت سے کرنا تھی۔ مگر اس باب میں بھی ہمارا قومی ریکارڈ بڑا ہی افسوس ناک ہے۔
۳- دستو ر نے شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں دفعہ ۲۲۷ کے ساتھ ایک دوسرا راستہ ’پالیسی رہنما اصول‘ (باب ۲، دفعہ ۲۹ تا ۴۰) کی شکل میں نکالا۔ جو عدالتوں کے ذریعے نافذالعمل نہیں تھا مگر ہر سال پارلیمنٹ کو کارکردگی کی رپورٹ کی شکل میں اس عمل کو آگے بڑھانا پیش نظر تھا۔ اس سلسلے میں بھی پیش رفت صفر ہی رہی ہے۔
ان تینوں کے عملاً غیرمؤثر ہوجانے کے بعد نفاذِ شریعت کا ایک دوسرا نسبتاً مختصر راستہ عدلیہ کو یہ اختیار دینا تھا کہ خود اپنے ایما یا اختیار (suo moto)، یا کسی کے توجہ دلانے اور استغاثہ کرنے پر کسی قانون کا جائزہ لے کر متعین کرسکے کہ وہ قانون قرآن و سنت کے مطابق ہے یا متصادم،اور تصادم اور عدم تطابق کی صورت میں اسے کس طرح کالعدم کیا جائے۔
یہاں مسئلہ یہ پیش آیا کہ عدالتوں کے جج حضرات بالعموم اس بنیادی علم سے آراستہ نہیں جو اس کام کو انجام دینے کے لیے درکار ہے۔ صحیح راستہ تو یہ تھا کہ قانون کی تعلیم کے نظام کو، وکلا اور ججوں کی تربیت،انتخاب، ترقی کے اصول و ضوابط کو تبدیل کیا جائے۔ ایک ایسا انتظام کیا جائے کہ ایک معقول مدت میں نیچے سے اُوپر تک جج قانون کے علم کے ساتھ شریعت کا علم بھی رکھتے ہوں اور اخلاق و تقویٰ کے اعتبار سے بھی دینی معاملات میں قوم کے اعتماد کے مستحق ہوسکیں۔ یہ عمل صحیح اور معیاری ہونے کے باوجود وقت طلب تھا۔ اس لیے صدرضیاء الحق کے دور میں پہلے تمام ہائی کورٹوں میں شریعت بنچ کے قیام کی تجویز آئی، جسے عدلیہ نے پسند نہیں کیا۔ وفاقی شرعی عدالت کا راستہ اختیار کیا گیا، جس پر ۱۹۸۰ء سے عمل ہو رہا ہے اور جس کے لیے دستور میں ایک پورے باب کا اضافہ کیا گیا۔ اس میں چند بڑی بڑی خامیاں رہ گئیں:
۱- اس کا دائرۂ کار محدود تھا۔ قوانین کی اکثریت اس کے دائرۂ کار سے باہر تھی۔
۲- یہ صرف قانون یا اس کے کسی حصے پر کلام کرسکتی تھی۔ انتظامی احکام اس کے دائرے سے باہر تھے۔
۳- اس کے ججوں کا تقرر، تبدیلی، تنزلی وغیرہ کے بارے میں ایسے من مانے ضابطے بنائے گئے جو نہ صرف عدلیہ کی آزادی اور اس عدالت کے مستقل وجود کے منافی تھے، بلکہ خود اسلام کے تصورِ عدل کے ساتھ بھی مذاق تھے۔
۴- اسے داد رسی اور عارضی احکام (interim injunctions)کا اختیار حاصل نہ تھا، یعنی یہ عدالت بالکل بے طاقت تھی۔
۵- اس کو صرف حدود کے معاملات میں اپیلوں کی سماعت کا اختیار حاصل تھا۔ باقی اس کا اصل دائرئہ اختیار صرف قوانین کے بارے میں راے دینے تک محدود تھا۔ غنیمت ہے کہ اتنی گنجایش تھی کہ اگر اس کے دیے ہوئے وقت میں مقننہ قانون سازی نہ کرے یا سپریم کورٹ میں اپیل نہ ہوجائے تو کم از کم زیرنظر قانون کا خلافِ شریعت حصہ معدوم ہوجائے گا۔ گو اس کی نوبت کم ہی آسکی۔
اس طرح نفاذِ شریعت (قانون کے جدید تصور کی حد تک) کے جو جو راستے ہو سکتے ہیں، عملاً دونوں ہی غیرمؤثر رہے۔ اور اس وقت سب سے اہم فیصلہ یہی کرنا ہے کہ ان میں سے کون سا راستہ اختیار کیا جائے، یا دونوں طریقوں کو بہ یک وقت جاری رکھا جائے۔
نفاذِ شریعت کا عمل محض قانونی عمل نہیں ہے، گو قانونی دائرے میں قانونی مشینری کے ذریعے اس کام کو انجام دینا ازبس ضروری بھی ہے اور اس کے لیے مزید مؤثر اقدامات بھی درکار ہیں۔ اس قانونی عمل کے ساتھ جن دوسرے اقدامات کی ضرورت ہے ہم ان کی نشان دہی کرتے ہیں:
’پاکستان قومی اتحاد‘ ۱۹۷۸ء کے وسط سے ۱۹۷۹ء کے اوائل تک، چند ماہ کے لیے ضیاء حکومت کا حصہ رہا۔ مگر قومی اتحاد کے حکومت سے نکلنے کے بعد (۱۹۷۹ئ) سارا انتظام بتاشے کی طرح بیٹھ گیا۔ اس سے دو سبق حاصل ہوتے ہیں: ایک یہ کہ جب تک تمام پالیسی ساز اداروں اور افراد کو عملاً اس کام میں شریک نہ کیا جائے کوئی پیش رفت مشکل ہے۔ دوسرے، یہ کام محض وقتی طور پر نہیں، مستقل بلکہ اداراتی انتظام کی شکل میں ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے سب سے اہم چیز سیاسی اثرورسوخ، عزم و ارادہ اور جذبۂ عمل (political will) ہے۔ پاکستان کی گذشتہ تاریخ پر نگاہ ڈالنے سے یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نفاذِ اسلام کے عمل کو غیرمؤثر اور غیرنتیجہ خیز کرنے والی چیز اسی سیاسی ارادے کی کمی ہے اور یہ صرف ایک فرد کے عزم کا مسئلہ نہیں، یہ پوری سیاسی مشینری اور اجتماعی قیادت کے ارادے اور عزم کا مسئلہ ہے۔ اور جب تک یہ حل نہ ہوگا، گاڑی آگے نہیں چل سکتی۔
اول: اس کا اپنا عزم، وژن، کردار اور نمونہ۔
دوم: اس کا علم، تجربہ، صلاحیت کار، مشاورتی نظام اور اعلیٰ کارکردگی۔
سوم: ایک مؤثر نظامِ شوریٰ اور احتساب تاکہ قیادت صحیح راستے پر قائم اور گامزن رہ سکے۔
اس سلسلے میں اہم ترین مثال سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ کی ہے کہ کس طرح ایک ایسے نظام میں جس میں بگاڑ واقع ہوگیا تھا اور قدیم جاہلیت نے اسلام کی انقلابی اصلاحات کو غیرمؤثر یا معدوم کرکے پیچھے کی طرف چلانا شروع کر دیا تھا، انھوں نے ڈھائی سال کے مختصر وقت میں دوبارہ نظامِ حکومت و ریاست کو خلافت راشدہ کی راہ پر ڈالا۔ اور بے نفسی، قربانی، مفاد پرست طبقات پر ضرب اور ریاست کو اس کے اسلامی مقاصد کے لیے دوبارہ منظم کرنے کا کام انجام دیا۔ اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کر کے، اپنے خاندان اور قبیلے کو لگام دی۔ حق پرستی، اصولوں پر عدم لچک، مظلوموں کی دادرسی، میرٹ کا اہتمام اور نتائج سے بے پروا ہوکر باطل سے سمجھوتوں کی روش سے اجتناب کیا۔ یہ تھا قیادت کا وہ نمونہ جو عمرثانی رحمۃ اللہ علیہ نے پیش کیا اور یہی وہ نمونہ ہے جس کی آج ضرورت ہے۔
یہ بڑی معنی خیز حقیقت ہے کہ اسلام کے تعزیری قانون میں جن حدوں کے تحفظ کو قرآن و سنت نے سزائوں کے تعین کے ساتھ طے کردیا وہ یہی پانچ مقاصد ہیں۔ دنیا کے دوسرے تعزیری قوانین میں سیکڑوں نہیں ہزاروں جرائم اور ا ن کی سزائیں ہیں، لیکن اسلام نے جن جرائم اور ان کی سزائوں کو حدود کا مقام دیا وہ یہی پانچ چیزیں ہیں۔ دین و ایمان کی حفاظت کے لیے ارتداد کی سزا کی حد، جسم و جان کے تحفظ کے لیے قصاص و دیت کا قانون، اخلاق، خاندان، عزت و عصمت اور نسل کے تحفظ کے لیے زنا اور قذف کی حدود، عقل کے تحفظ کے لیے تحریمِ خمر اور شراب کی حد اور مال کے تحفظ کے لیے سرقہ اور حرابہ کی حدود___ یہ حدود محض سزائیں نہیں، یہ تو شریعت کے اصل مقاصد اور انسانی معاشرے کی اصل بنیادوں کے تحفظ کا نظام ہیں۔ مقصد سزا دینا نہیں، مقصد ان بنیادوں کا تحفظ، ان کی مضبوطی اور انسانی زندگی کو عدل و انصاف اور عزت و خوش حالی کی برکتوں سے مالا مال کرنا ہے۔
نفاذِ شریعت کے یہ ہیں وہ تمام پہلو ،جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور مل کر ایک نامیاتی کُل (organic whole) بناتے ہیں۔ نفاذِ شریعت کے عمل کو ان سب کا احاطہ کرنا چاہیے، ورنہ وہ نامکمل اور غیرمؤثر رہے گا۔ اس مقصد کے لیے تمام اہلِ وطن کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔