پروفیسر خورشید احمد


’قراردادِ مقاصد‘ ایک تاریخی دستاویز ہی نہیں، ایک ایسا آئینہ بھی ہے، جس میں تحریکِ پاکستان کے اصل مقصد اور منزل کی ایک واضح تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۷۳ء کے ’دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں دیباچے کے طور پر اسے شامل کرنے کے بعد دیباچے کے دوسرے حصے میں کہا گیا کہ جو دستور منظور اور نافذ کیا جا رہا ہے وہ ’’قادر مطلق اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کیا جا رہا ہے‘‘۔ اور جو تصور ریاست اور حکمرانی کا نظام اس میں تجویز کیا جا رہا ہے، وہ محض اس وقت کی اسمبلی کے احساسات کا عکاس نہیں بلکہ وہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جو انھوں نے برعظیم کے مسلمانوں سے سماجی عدل کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری حکومت کے قیام کے لیے کیا تھا اور جس کے لیے پورے برعظیم کے مسلمانوں نے عظیم قربانیاں دی تھیں اور دے رہے ہیں۔

 ’قراردادِمقاصد‘ اور اس کی روشنی میں بننے والے دستور کا یہی وہ امتیازی پہلو ہے، جو  اس کے اسلامی، جمہوری اور فلاحی تصور کو اس کی ناقابلِ تغیر شناخت بنادیتاہے، اور انتظامی دروبست کو ایک ثانوی حیثیت دیتا ہے، جس میں حسب ِ ضرورت تبدیلی اور ترمیم ہوسکتی ہے، مگر اس مملکت کی نظریاتی بنیاد اور اس کو مستحکم کرنے والی دستوری دفعات میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں کی جاسکتی، جو اس شناخت کو مجروح کرنے والی ہو۔ پاکستان کا وجود تحریکِ پاکستان کا نتیجہ ہے اور اس تحریک میں پورے برعظیم کے مسلمانوں نے کچھ خاص مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی تھی۔ اس ملک کا قیام ایک معاہدۂ عمرانی کا نتیجہ ہے، جسے کسی مصلحت یا وقتی رو کے نتیجے میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس بنیاد کی حفاظت کریں اور اس شناخت کو روشن تر کرنے کی کوششیں کریں اور اس کو کمزور کرنے یا اس کی شکل بگاڑنے کی ہر کوشش کا پوری قوت سے مقابلہ کریں۔ ہر ادارے کی حقانیت (legitimacy)  کا انحصار اس بصیرت (vision) سے وفاداری پر ہے۔ ہر ادارہ قرآن و سنت کی بالادستی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود کی پاس داری کا ذمہ دار ہے۔ پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ ہی نہیں، پارلیمنٹ کو منتخب کرنے والے عوام بھی ان حدود کے دائرے ہی میں اپنا اختیار استعمال کرنے کے پابند ہیں۔

اللہ کی حاکمیت اور اس کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست کا اپنا مزاج اور اپنا نظام ہے۔ اس ریاست کو دوسروں کے معیارات کا تابع کرنا اس عہد سے بے وفائی اور صریح ظلم ہوگا، جو اس مملکت کی بنیاد ہے۔ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے، لیکن یہ اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک شخص محض اس دعوے کی بنیاد پر کہ میں آزاد ہوں، اپنی آزاد مرضی سے اپنے کو کسی دوسرے کی غلامی میں نہیں دے سکتا اور نہ خود اپنی جان لے سکتا ہے۔ خودکشی ہر مہذب نظام میں ایک جرم ہے اور انسانوں کی فروخت رضامندی سے بھی ناقابلِ قبول عمل ہے۔ اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اللہ کی حاکمیت اور تمام اختیارات کو امانت تسلیم کرنے کے بعد یہ حق مانگنا کہ: ’’فلاں ادارہ ’سپریم‘ ہے، اور وہ دستور میں ترمیم کے نام پر جو تبدیلی چاہے کرسکتا ہے‘‘ فی الحقیقت امانت اور خلافت کے تصور ہی کی نفی ہے۔ اللہ کی حاکمیت کے اقرار کے بعد وہ تمام حدود محترم ہوجاتی ہیں جو قرآن و سنت نے مقرر فرما دی ہیں۔ اس لیے ہماری آزادی کا دائرہ ان حدود کے اندر ہے، ان کے باہر نہیں۔

دستورِ پاکستان میں ’قراردادِ مقاصد‘ کا بطور دیباچہ اور دفعہ ۲-الف کے طور پر شامل کرنا اسے دستور کا وہ ترازو بنادیتا ہے، جس پر مطلوب اور نامطلوب کا تعین کیا جائے گا۔ جس طرح عدلیہ دستور کی تخلیق (creature) ہے، بالکل اسی طرح پارلیمنٹ، انتظامیہ اور فوج بھی اس کی تخلیق ہیں، حتیٰ کہ عوام بھی دستور کے تحت ہی اپنے حکمرانی کے اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ اسلامی نظریہ اور اسلام کے اصولوں کی روشنی میں جمہوریت، عدلِ اجتماعی، قانون کی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کے اہداف وہ ناقابلِ تغیر پہلو ہیں، جن کے بارے میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دستور میں قرآن و سنت کے احکام کے خلاف قانون سازی کی واضح طور پر تحدید کر دی گئی ہے۔ اسی طرح بنیادی حقوق کو مجروح کرنے والی قانون سازی کے اختیار سے مقننہ کو محروم کیا گیا ہے۔ دفعہ۶ میں دستور کو توڑنے، اس کو تہ و بالا (subvert) کرنے، معطل (suspend) کرنے، غیرمؤثر کرنے، یا اسی نوعیت کے عمل میں کسی قسم کی معاونت کو جرم اور غداری قرار دیا گیا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق ہر فرد اور ادارے پر ہے: بشمول انتظامیہ، فوج، مقننہ اور عدلیہ۔

دستورِ پاکستان میں صرف یہی ایک جرم ایسا ہے، جسے دفعہ۱۲(۲) کی رُو سے اطلاق بہ ماضی کی حُرمت سے مستثنیٰ کیا گیا ہے، یعنی دستور ۱۹۷۳ء میں بنا ہے مگر اس کا اطلاق ۱۹۵۶ء سے ہوگا، جب پاکستان میں پہلا دستور نافذ ہوا تھا۔ نیز عدالتوں پر بھی ایسے اقدام کے لیے بعد از عمل جواز (validation) پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پھر اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ صدرِمملکت، وزیراعظم ، وزرا اور پارلیمنٹ کے ارکان کے حلف نامے میں دستور کی پابندی اور اس کے مطابق کام کرنے کے عہد کے ساتھ ساتھ، دستور کے تحفظ اور دفاع اور اسلامی نظریے کے تحفظ کا عہد بھی لیا جاتا ہے۔ کیا یہ تمام اُمور اس امر کا ثبوت نہیں ہیں کہ اسلام جو پاکستان کی بنیاد ہے اور ’قرادادِ مقاصد‘ نظامِ حکمرانی کے جن اصولوں اور حدود کی نشان دہی کرتے ہیں، وہ دستور کی اساس اور اس کے ناقابلِ تغیر حصوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ان کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو روکنے کا کوئی نہ کوئی انتظام ہونا چاہیے۔

منتخب پارلیمنٹ پر غیر منتخب عدلیہ کی بالادستی؟

قانون کے دائرے میں اس کا معروف طریقہ یہی ہے کہ عدلیہ، دستور کے محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ البتہ حالات کو دیکھ کر عدلیہ دونوں میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرسکتی ہے، یعنی یہ کہ وہ ایسی ترمیم کو پارلیمنٹ کو دوبارہ غور کرنے کے لیے بھیج دے، تاکہ پارلیمنٹ خود اصلاح کرے، جیساکہ اٹھارھویں ترمیم کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے کیا۔ بصورتِ دیگر ایسی ترامیم کو دستور کی اصل سے متصادم ہونے کی حد تک غیرمؤثر کرنے کا اختیار عدلیہ کو حاصل ہونا چاہیے۔ یہ اعتراض کہ اس طرح’ منتخب نمایندوں‘ پر ’غیر منتخب عدلیہ‘ کی بالادستی کا نظام قائم ہوجائے گا، خلطِ مبحث سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر دفعہ۸ کے تحت پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کو کالعدم قرار دینے سے منتخب نمایندوں کی بے توقیری نہیں ہوتی اور ان پر ’غیرمنتخب‘ کی بالادستی صادق نہیں آتی، اگر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی رُو سے قرآن و سنت سے متصادم قانون مہلت کے ختم ہوتے ہی غیرمؤثر ہوجاتا ہے، اور اس کے پارلیمنٹ کے اختیارات پر کوئی ضرب نہیں لگتی، تو دستوری ترمیم کے سلسلے میں عدلیہ کے اقدام کو ’عدالتی جارحیت‘  اور عدالتی استبداد‘ (judicial autocracy) کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟

اگر غیرمنتخب عدلیہ ،پارلیمنٹ کے اکثریت سے منظور کردہ قانون کو خلافِ قانون قرار دے کر مطلق العنان نہیں بنتی تو دستوری ترمیم کے باب میں کیسے اس الزام کی سزاوار ہوسکتی ہے؟ عام حالات میں دستوری ترمیم سیاسی عمل ہی سے ہونی چاہیے۔ لیکن اگر مقننہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتی ہے تو دستور ہی میں طے کردہ گرفت کرنے اور توازن قائم کرنے (check and balance) کے نظام کے تحت اس کے ہاتھ کو کیسے روکا جاسکتا ہے کہ وہ بھی دستور اور قانون ہی کی پیداوار اور تخلیق ہے اور ان کی پابند بھی ہے۔ پھر عدلیہ بھی اسی دستور سے اپنے اختیارات حاصل کر رہی ہے، جس دستور سے پارلیمنٹ، حکومت اور عوام حاصل کرتے ہیں۔

اگر ایک منتخب صدر، وزیراعظم، رکن پارلیمنٹ کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو کیا غیرمنتخب پولیس اس کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرے؟ کیا غیرمنتخب الیکشن کمیشن، منتخب ارکان کی بے ضابطگیوں پر احتساب نہ کرے؟کیا غیرمنتخب آڈیٹر جنرل منتخب حکومت کی بدعنوانی یا بے قاعدگی پر گرفت نہ کرے؟ ریاست کا ہر ادارہ اپنے دائرے میں اپنے اختیارات کو استعمال کرنے کا ذمہ دار ہے۔  اسی طرح پارلیمنٹ بھی اپنے دائرۂ اختیار سے اگر تجاوز کرتی ہے تو عقل اور عدل کا تقاضا ہے کہ  اس پر گرفت کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔ عوام کا احتساب اور انتخابات میں محاسبہ بھی ایک حقیقت ہے، لیکن وہ احتساب کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ مختلف معاملات کے سلسلے میں اپنے اپنے دائرے میں احتساب اور گرفت کی دوسری شکلیں بھی ہیں، جو معروف ہیں۔ ایسی تمام صورتیں دستور کے نظام کا حصہ ہیں، اس لیے محض منتخب اور غیرمنتخب کے حوالے سے پارلیمنٹ کو کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔

فاضل جج محترم میاں ثاقب نثار صاحب نے اپنے نوٹ میں بطور دلیل یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ:

بلاشبہہ ایک اسلامی معاشرے میں مسلم آبادی کے لیے یہ ایک طے شدہ امرِواقعہ ہے کہ پوری کائنات پر خودمختاری اور فرماںروائی اللہ وحدہ کو سزاوار ہے۔ لیکن اس الہامی اصول کے حدود کے اندر ان معاملات میں منتخب نمایندے ہی اقدام کرنے کے مجاز ہیں، کوئی اور نہیں۔ اسی کا اطلاق دستوری ترامیم پر بھی ہوتا ہے۔

ہم بڑے ادب سے عرض کریں گے اور اسلامی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اربابِ اقتدار کے قرآن و سنت سے انحراف کے معاملات پر عوام الناس نے اپنے انداز میں، اور علما، فقہا اور عدلیہ نے اپنے انداز میں احتساب کیا ہے اور ہر دور میں کھلے عام یہ احتساب کرنا ان کی ذمہ داری رہی ہے۔

دورِ خلافت ِ راشدہؓ میں آزاد عدلیہ کا قیام وجود میں آگیا تھا اور خلیفۂ وقت بھی عدلیہ کے سامنے اسی طرح جواب دہ تھا جس طرح کوئی دوسرا فرد۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور   حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی عام افراد کی طرح قاضی کے سامنے پیش ہوئے۔ ہماری ساری فقہ آزاد اور غیرسرکاری انتظامات کے تحت وجود میں آئی ہے۔ افتا اور قضا یہ دو اہم ادارے تھے، جن کے ذریعے پورا قانونی سرمایہ وجود میں آیا ہے۔ مہر کی حد مقرر کرنے کے سلسلے میں خود حضرت عمر فاروقؓ کے فیصلے کو ایک محترمہ صحابیہؓ نے چیلنج کیا اور امیرالمومنین نے اپنے طے کردہ قانون کو واپس لیا اور اعتراف فرمایا کہ: ایک خاتون نے مجھے ایک بڑی غلطی سے بچالیا۔ ہماری تاریخ میں، ججوں کے وضع کردہ قوانین ( judge made law) کا ایک بڑا کردار ہے۔ اسلام نے تو اربابِ اختیار کے باب میں اطاعت کے لیے اصول ہی یہ طے کیا ہے کہ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِق ( کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں، اگر اس کے نتیجے میں اللہ کی نافرمانی واقع ہوتی ہو)۔ اسلامی حکمرانی کا ایک بنیادی اصول قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ  ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا o(النساء ۴:۵۹) اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب ِ امر ہوں، پھر تم اگر کسی معاملے میں تمھارے اور ان کے درمیان نزاع ہو تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو، اگر تم ایمان رکھتے ہو، اللہ اور آخرت کے دن پر۔ یہ بہتر ہے اور بلحاظ انجام بھی اچھا ہے۔

غیرمشروط اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہے۔ اصحابِ امر کے اختلاف اور دلیل سے ان سے مجادلہ اور مباحثہ زندگی کی ایک حقیقت ہی نہیں، بلکہ ایک جائز حق بھی ہے۔ لیکن آخری فیصلے کے لیے معیار: اللہ اور اس کے رسولؐ کے ارشادات ہی ہیں، اور فطری طور پر اس کے جائزے اور تحکیم کے لیے کوئی نہ کوئی ادارہ ہونا چاہیے۔ ہماری تاریخ میں علما، فقہا اور قاضی حضرات یہ خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ آج کے دور میں جب قانون سازی کے ادارے انتخابی بنیادوں پر وجود میں آگئے ہیں، تو ایسے منظم نظام کی ضرورت دوچند ہوجاتی ہے۔ ہمارے دور کے اہلِ علم نے اس نازک اور بنیادی ذمہ داری کے تعین کے لیے عدلیہ ہی کو مناسب ادارہ تجویز کیا ہے۔ خود ہمارے دستور میں ’وفاقی شرعی عدالت‘ کا وجود اس کی مثال ہے۔ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے اس سلسلے میں جس راے کا اظہار کیا تھا، اس سے روشنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تعبیرِ دستور کے مسئلے پر کلام کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا:

رہے عام دستوری مسائل، جن میں شریعت کوئی منفی یا مثبت احکام نہیں دیتی، ان میں مقننہ کو آخری فیصلہ کن اختیارات دے دینا بحالاتِ موجودہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک غیر جانب دار ادارہ ایسا موجود ہونا چاہیے، جو یہ دیکھ سکے کہ مقننہ نے کوئی قانون بنانے میں دستور کے حدود سے تجاوز تو نہیں کیا ہے اور ایسا ادارہ ظاہر ہے کہ عدلیہ ہی ہوسکتا ہے۔ (اسلامی ریاست ، مولانا مودودی،ص ۵۳۹)

تاریخی نظائر کا معاملہ بہت نازک ہے۔ ہر دور کے اپنے حالات، مسائل اور امکانات ہوتے ہیں، اور شریعت نے ان کا لحاظ رکھا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملوکیت (بادشاہت) کے باوجود اسلامی قانون کی برکت سے اربابِ اقتدار پر بڑی گرفت رہی۔ یوں  قانون کی حکمرانی اور بالادستی کی اعلیٰ نظیریں ہر دور میں مل جاتی ہیں۔ خلافت عثمانیہ کے بارے میں امریکی مصنف پروفیسر جان لویئس اسپوزیٹو اور پروفیسر جان وول اپنی کتاب Islam and Democracy میں لکھتے ہیں:

بعد کی صدیوں میں عثمانی سلطنت کے دور میں اس معاہدے کے مفہوم کو قانونی حیثیت دے دی گئی۔ سلطنت ایک اسلامی سلطنت تھی اور اس کا سربراہ سلطان اسلامی قانون کے ماتحت تھا اور اس کا یہ اختیار تسلیم کیا جاتا تھا کہ انتظامی فرمان جاری کرے جو قانون کے مثل ہوتے تھے۔ اِس سلطانی نظام کے علما کو بہرحال یہ حق حاصل تھا جو عموماً سیاسی وجوہ کی بنا پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا کہ بادشاہ کے جاری کردہ کسی ضابطے کو اگر اُن کی راے میں وہ اسلامی قانون کے مطابق نہیں ہے ناجائز قرار دیں۔

اس سے بھی آگے بڑھ کر سلطنت میں سرکاری علما کا سربراہ شیخ الاسلام ایسے احکامات جاری کرسکتا تھا جس میں بنیادی اسلامی قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سلطان کو معزول کیا گیا ہو۔ گو کہ یہ اختیار خال خال ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ اختیار سلطان ابراہیم (۱۶۴۸ئ)، محمد چہارم (۱۶۸۷ئ)، احمد سوم (۱۷۳۰ئ)، سلیم سوم (۱۸۷۷ئ) کی معزولی میں حقیقتاً استعمال کیا گیا۔ اِن رسمی اقدامات میں سلطان کے اختیارات پر تاریخی قدغن اس واقعے کی بنیاد پر عائد کی گئی کہ علما دستور کے نمایندے تھے، یعنی اس میں اسلامی قانون کا مکمل اظہار ہوتا تھا۔ اسلامی ورثے میں یہ اختیارات کے علیحدگی کی امکانی جہتوں کو ظاہر کرتا ہے۔

جیساکہ ہم نے عرض کیا ہے، تاریخی نظائر سے مقصود اس امر کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ مختلف اَدوار اور زمانوں میں اپنے اپنے حالات کے مطابق، اصل مسئلے کا حل نکالنے کی کوششیں کی گئی ہیں، اور آج ہمارے اپنے حالات کی روشنی میں اس امر کی ضرورت ہے کہ مقننہ (Legislature) کی قانون سازی کو، دستور کی حدود میں رکھنے اور بنیادی دستوری ڈھانچے کی حفاظت کے لیے اداراتی (institutional)انتظام ہو۔ اعلیٰ عدلیہ یہ خدمت انجام دے سکتی ہے اور اس میں اس کی صلاحیت پیدا کرنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ خود عدلیہ پر بھی عوام، میڈیا، علما اور سول سوسائٹی کی نگاہ اسی طرح ہونی چاہیے، جس طرح پارلیمنٹ اور حکومت پر رکھی جانی ضروری ہے۔ تقسیمِ اختیارات کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں ایک جدید ریاست میں شریعت کے مقاصد اور اسلامی جمہوری نظام کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکتا ہے۔احتساب سے بالاکسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہ تصور کہ قانون سازی اوردستور میں ترمیم کے غیرمحدود اختیارات پارلیمنٹ کو صرف اس لیے دے دیے جائیں کہ وہ منتخب ہے، ایک  محل نظر مفروضہ ہے۔ دستور کے بنیادی ڈھانچے اور مملکت کی نظریاتی، اخلاقی اور جمہوری شناخت کی حفاظت کے لیے عدلیہ کا ایک واضح کردار، مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ البتہ خود عدلیہ کی ساخت ، معیار اور عمل کے باب میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے کہ وہ معیارِ مطلوب پر پوری اُترے اور خوداحتسابی کی روایت کے فروغ کے ساتھ، آزادانہ احتساب کے لیے بھی عدالت کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے مناسب اور مبنی بر حکمت انتظام کا اہتمام بھی مفید ہوگا۔

دستور سازی کا مرحلہ، غورطلب پھلو

ہر جج ہی نہیں، ہر صاحب ِ علم کا حق ہے کہ وہ اپنے مطالعے اور تجزیے کی روشنی میں اپنی دیانت دارانہ راے قائم کرے اور اس کا بلاتکلف اظہار کرے۔ اختلاف راے اگر غوروفکر کی نئی راہیں کھولنے کا ذریعہ بنے تو ایک بڑی نعمت ہے۔ ہر علمی بحث و مباحثے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کو ایسے بہت سے گوشوں پر سوچنے کی تحریک ہوتی ہے، جو بالعموم نظروں سے اوجھل     رہ جاتے ہیں۔ محترم جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے بالعموم اپنی راے کا اظہار دلائل سے اور سلیقے سے کیا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’قراردادِ مقاصد ‘ کی طرح خود ’دستورِ پاکستان‘ کے بارے میں ان کی متعدد آرا نے کچھ ایسی شکل اختیار کرلی ہے کہ وہ چونکا دینے والی ہیں۔ چونکہ ان آرا کا اظہار عدالت ِ عظمیٰ کے ایک بڑے وقیع فیصلے کا حصہ ہے، اس لیے اس پر کلام، تلاشِ حق کی جستجو کا ایک ناگزیر حصہ بن گیا ہے۔ ہم پورے ادب سے عرض کریں گے کہ پاکستان کے دستور، اس کے پس منظر، اور اس کے بنانے والوں کے بارے میں جو کچھ انھوں نے فرمایا ہے اس پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ دستور کے بارے میں ایک خاص نوعیت کا بیانیہ زیربحث مسائل کی تفہیم اور تنقیح کے لیے کہاں تک ضروری تھا۔ نیز بھارت کے دستور کے معتبر اور محترم ہونے اور پاکستانی دستور کے اعتبار نامے (credentials) کے داغ دار ہونے کے تذکرے سے کتنی روشنی ان تین امور پر پڑتی ہے، جن کے بارے میں عدالت کو رہنمائی دینا تھی اور فیصلہ کرنا تھا۔

ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں  اور ایک بار پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ ۱۹۷۳ء کا دستور جن حالات میں منظور ہوا، وہ ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ تاہم وہ ایک انسانی کوشش تھی۔ بہت سے پہلوئوں سے اس میں کئی خلا اور سقم تھے، جن میں سے کچھ کو ترامیم کے ذریعے دُور کردیا گیا ہے مگر کچھ اب بھی باقی ہیں، جن کی اصلاح کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔

 ’قراردادِ مقاصد‘ ، اسلامی تعلیمات و احکام کی تنفیذ اور دستور کے مندرجات کے سلسلے میں بھی کچھ مسائل اور اُلجھنیں تاحال موجود ہیں۔ خصوصیت سے وہ اُمور جن کا تعلق دفعہ۴۵ اور دفعہ ۲۴۸ سے ہے۔ تمام ہی اصلاح طلب اُمور پر توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔ پالیسی کے اصولوں میں سے جو چیزیں حقوق کے دائرے میں آنی چاہییں اور جنھیں قابلِ داد رسی (justiciable) ہونا چاہیے، ان کے لیے کوشش جاری رہنی چاہیے لیکن دستور ایک محترم دستاویز ہے، اس کے بارے میں احترام اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔

بھارت کے دستور کے بارے میں جج صاحب کا ارشاد ہے:

بھارت میں اس کے بانیوں نے دستور تیار کیا تھا۔ اس لیے بھارت کے دستور کی فکر اور ارتقا میں اسے ایک خاص مقام حاصل ہے (پیرا ۱۸۵-اے) ۔ (ص ۵۳۵)

یاد رہے کہ بھارتی دستور بہت پہلے ۱۹۴۹ء میں تشکیل دیا گیا تھا اور دستور کے بنانے والے وہ لوگ تھے جنھوں نے آزادی کی جدوجہد کی تھی۔ دستور کو اپنی اصل شکل میں بھارت کے دستوری قانون میں اسے خصوصی تقدس کا مقام حاصل ہے۔

ہمیں اعتراف ہے کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی بروقت دستور بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی، اور جب ۱۹۵۴ء میں دستور کا مسودہ تیار ہوگیا تو اس طاقت ور اور بے لگام بیوروکریسی نے، جس کا فی الحقیقت پاکستان کی تحریک میں کوئی حصہ نہ تھا، شب خون مارا اور اسمبلی کو برطرف کردیا۔ لیکن دنیا کا ہر تحریری دستور محترم ہے، اور حکمرانی سے متعلقہ اُمور میں آخری مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ محض اس بنا پر کہ اس کے بنانے والے تحریکِ آزادی کے قائدین ہیں، وہ غلطیوں اور کمزوروں سے پاک نہیں ہوجاتا۔ ہم بھارت کے دستور کے مشہور ترین شارح پروفیسر باسو کے حوالے سے عرض کرچکے ہیں کہ دستور کے بنانے والے بلاشبہہ تحریکِ آزادی کے قائدین تھے مگر دستور کا تین چوتھائی حصہ ’۱۹۳۵ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ‘ سے ماخوذ تھا اور باقی حصوں میں بھی دنیا کے کئی دساتیر کی خوشہ چینی کی گئی تھی۔ پھر اسی بھارتی دستور میں ۱۵؍اگست ۲۰۱۵ء تک ۱۰، ۲۰ نہیں پوری ۱۰۰؍ ترامیم ہوچکی ہیں۔ان میں چار ترامیم ایسی ہیں، جنھیں وہاں کی اعلیٰ عدلیہ خلافِ دستور قرار دے چکی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی دنیا کا پہلا تحریری دستور امریکا کا ہے، جو ۱۷۸۹ء میں نافذ ہوا اور  اس میں ۲۲۶سال میں کل ۲۷ ترامیم ہوئی ہیں۔ پاکستان کے دستور میں جو ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا، ۲۰۱۵ء تک ۲۱؍ ترامیم ہوئی ہیں۔

کسی دستور کے معیاری ہونے کی بنیاد دستور کے مندرجات پر ہے، محض اس امر پر نہیں کہ اس کے بنانے والے تحریکِ آزادی کے قائدین تھے۔ گذشتہ ۷۰سال میں ۱۵۰ ملک آزاد ہوئے ہیں اور بیش تر کے دساتیر ان کی تحریکاتِ آزادی کے قائدین ہی کے بنائے ہوئے ہیں، لیکن کتنے دستور ایسے ہیں، جو باربارناکام ہوچکے ہیں اورکتنے ہیں جو بدترین آمریتوں کے قیام کا ذریعہ بنے ہیں۔

پاکستان کی ’قراردادِ مقاصد‘ بھی تو اس دستورسازاسمبلی نے بنائی تھی جو تحریکِ پاکستان کے قائدین پر مشتمل تھی اور جن کا انتخاب انھی بنیادوں پر اور اسی طریق کار سے ہوا تھا، جن پر بھارت کی دستورساز اسمبلی منتخب ہوئی تھی۔ لیکن ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ’قراردادِ مقاصد‘ اپنے انقلابی پیغام اور منفرد تصورِ ریاست کے باوجود کیوں معتبر نہ تصور کی جائے؟ اور بھارت کا دستور معتبر اور روشنی کا مینار تصور کیا جائے؟

پاکستان کے دستور کے بارے میں محترم جج صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

۱۹۷۳ء کا دستور بانیانِ پاکستان کے نظریات کا اظہار نہیں کرتا تھا بلکہ اس وقت کے سیاسی رہنمائوں کے نظریات کا اظہار کرتا تھا۔ اسے ایک ایسی پارلیمنٹ نے بنایا تھا جس کی اکثریت ایک خاص پارٹی کے ممبران پر مشتمل تھی جو کھلے سوشلسٹ منشور پر منتخب ہوئی تھی۔ یہ نکتہ کچھ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ آزادی و خودمختاری کے لیے اصل حرکت کا آغاز ایک بالکل مختلف بنیاد پر ہوا تھا، یعنی قائداعظم کا پیش کیا ہوا وژن کہ برعظیم کے مسلمان ہربامعنی مفہوم میں ایک قوم ہیں اور اس کا حق رکھتے ہیں کہ ایک قومی ریاست بنائیں اور تخلیق کریں۔ تاریخی طور پر بیان کیا جائے کہ اسلامی نظریہ، پاکستان کی تخلیق کا اصل سبب اسلام تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جن پارٹیوں نے ۱۹۶۵ء کا دستور بننے سے پہلے انتخابات میں حصہ لیا خاص طور پر مذہبی پلیٹ فارم سے وہ پارلیمنٹ میں مناسب مقام حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی تھیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔(ص ۱۸، ۸۴، ۳۰۸)

اس کے بعد محترم جج صاحب لکھتے ہیں کہ دستور اسلام اور سوشلزم کا ملغوبہ ہے، ارشاد ہوتا ہے:

جب ہم دستور کا معائنہ کرتے ہیں جیساکہ وہ اصل میں تحریر کیا گیا تھا تو ہم دیکھتے ہیں مذہبی اصول اور ساتھ ہی ساتھ سوشلسٹ نظریات کا عکاس ہے۔ دستور کی دفعہ۲ یہ بیان کرتی ہے کہ اسلام ہی ریاست کا مذہب ہوگا۔ اس کے فوراً بعد دفعہ۳ بتاتی ہے کہ ریاست استحصال کے تمام طریقوں کے خاتمے کو یقینی بنائے گی اور اس بنیادی اصول کی بتدریج تکمیل کو یقینی بنائے گی اور ہر ایک سے اُس کی قابلیت کے مطابق کام لیا جائے گا۔ اس طرح دفعہ۳دراصل دستور کی سوشلسٹ اصل کا اظہار کرتی ہے۔ ہر ایک سے اُس کی قابلیت کے مطابق لینا اور کام کے مطابق دینا بلاشبہہ مارکسزم اور لینن ازم کا بنیادی اصول ہے (درحقیقت یہ زبانUSSR کے دستور ، جیساکہ وہ اُس وقت تھا، کی دفعہ ۱۲ سے نقل کی گئی ہے جو بلاشبہہ کارل مارکس کی تحریرات پر مبنی تھا)۔ استحصال کے تصور کا ایک فنی مفہوم ہے جیساکہ وہ معاشیات میں کارل مارکس کے نظری کام میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ حوالہ کسی بھی استحصال یا ہر استحصال کے لیے نہیں ہے بلکہ استحصال کی وہ قسم ہے جو سرمایہ دارانہ طبقہ ورکنگ کلاس کے مفادات کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ دل چسپ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دفعہ۲ اور ۳ کی دفعات میں کس طرح مفاہمت پیدا کی جائے کیونکہ دونوں اصول دستور کے لیے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ واضح طور پر یہ بنیادی ثنویت ہے۔ مارکسزم مذہب کی تمام شکلوں کو مسترد کرتا ہے کیونکہ وہ صبر اور تکلیف برداشت کرنے کو بڑی خوبی بتاتا ہے جو ایک پُرتشدد اور انقلابی جدوجہد ہے (کمیونسٹ پارٹی جس کا ہراول دستہ بورژوا کا تختہ اُلٹتا ہے)۔ مارکسزم کے ایک مشہور مقولے کے مطابق: مذہب کو افیون بیان کیا گیا ہے۔ بہرحال یہ ناپسندیدہ حقیقت برقرار رہتی ہے کہ ہمیں مارکسزم  اور اسلام کے عقائد کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے۔

ہم نے فاضل جج صاحب کا یہ طویل اقتباس اس لیے دیا ہے کہ ان کے ذہن کا وہ مخمصہ جس سے وہ پریشان ہیں، انھی کے الفاظ میں سامنے آجائے اور جس اُلجھن کی وجہ سے وہ دستور کے بنیادی ڈھانچے کے برملا منکر ہیں، اس کی بنیاد کو سمجھا جاسکے اور اس پر گفتگو ہوسکے۔

محترم جج صاحب کے فیصلے کے پیراگراف ۱۸ اور ۱۹ کا تجزیہ کیا جائے تو درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

                ۱-            پاکستان کا ۱۹۷۳ء کا دستور بنانے والے، پاکستان کے اصل معمار نہیں تھے اور وہ صرف ۱۹۷۰ء کے عشرے کی سیاسی نسل کی نمایندگی کرتے تھے۔

                ۲-            یہ دستور ایک خاص جماعت کے ذہن کی تخلیق ہے جو سوشلزم کی علَم بردار تھی۔

                ۳-            پاکستان کے قیام کی تحریک کا محرک نظریاتی  تھا۔ اسلام قیامِ پاکستان کی اصل بنیاد ہے۔

                ۴-            ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں ان جماعتوں کو قابلِ لحاظ کامیابی نہ ہوئی جو اسلام کے پلیٹ فارم سے شریکِ انتخاب ہوئی تھیں۔

                ۵-            دستور،  اسلام اور مارکس ازم، لینن ازم کے دو متحارب تصورات کی زد میں آگیا اور وہ ان دونوں کاملغوبہ ہے، جو باہم متحارب تصورات اور نظریات ہیں۔

                ۶-            ایسے تضادات کی موجودگی میں دستور کا ایک بنیادی ڈھانچا کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس نے دستور کو یک رنگی سے محروم کر دیا ہے اور اس میں کسی بنیادی اور مربوط ڈھانچے کا تصور ہی ممکن نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے نکتہ ۲۱ میں جناب خالد انور صاحب ایڈووکیٹ کے الفاظ میں اسے ’بے راحت شادی‘ قرار دیا ہے اور یہ فتویٰ بھی اس فیصلے میں موجود ہے کہ ایسی شادی کا مقدر طلاق ہی ہوسکتا ہے۔

اس حقیقت سے تو انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی دستور سازی کی ذمہ داری ادا نہ کرسکی اور پھر ۱۹۵۶ء میں جو پہلا دستور بنا، اسے فوجی قیادت نے بیوروکریسی کے تعاون سے منسوخ کرڈالا۔ لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف وجوہ سے دساتیر منسوخ یا غیرمؤثر ہوتے رہے ہیں اور ہرناکامی کے بعد ہر زندہ قوم نے اپنے لیے نیا دستور بنایا اور اپنے اصل مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے منزل کی جانب گامزن ہوئی۔ فرانس اور جرمنی اس کی اہم ترین مثالیں ہیں۔

فرانس میں تو اس وقت پانچواں دستور نافذ ہے، لیکن اس عمل کی وجہ سے نیا دستور غیرمعتبر نہیں ہوجاتا اور ضروری نہیں کہ نئی نسل کا بنایا ہوا دستور تاریخی حقائق کے ادراک اور قومی عزائم کی ترجمانی کے باب میں اپنے پیش روئوں سے تہی دست ہو۔ فرانس اور جرمنی میں بھی فسطائی قوتوں نے اصل دساتیر کو تار تار کر دیا تھا، مگر پھر فرانس نے اپنے تصور کے مطابق اٹھارھویں صدی کے انقلابِ فرانس ہی کے نعروں اور مقاصد کے اعادے کے لیے نیا دستور بنایا۔ جرمنی اور اٹلی نے ہٹلر اور مسولینی کے دستوروں سے نجات پاکر، اپنے اپنے حالات کے مطابق جمہوری دساتیر کی تدوین کی۔ روس نے کبھی زارِشاہی دور کے دستور کے تحت زندگی گزاری۔ پھر اشتراکی انقلابِ روس کے جلو میں نیا دستور بنا۔ اسی نظام کے تحت ۱۹۳۶ء میں دوسرا دستور وجود میں آیا۔ پھر ۲۰۰۷ء کا دستور بنا۔ زندگی کے ایسے نشیب و فراز سے بہت سی اقوام کو سابقہ رہتا ہے۔

ہماری تاریخ بھی کچھ ایسے ہی حادثات سے عبارت ہے۔ لیکن یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’قراردادِ مقاصد‘ وہ بنیاد کا پتھر ہے جو ہردور میں دستور اور نظامِ حکمرانی کے لیے رہنما قوت رہا ہے اور تسلسل کا ذریعہ ہے۔ ۱۹۵۶ء کا دستور جس اسمبلی نے بنایا، وہ اس وقت کی پیداوار تھی، مگر دستور کے خدوخال کا تعین اس وقت کی سیاسی قوتوں، خصوصیت سے چودھری محمدعلی کی قیادت میں تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور قراردادِ مقاصد کی روشنی میں کیا گیا تھا۔ ۱۹۶۲ء کا دستور ایک  فوجی آمر کا مسلط کیا ہوا دستور تھا، مگر اسے بھی نئی اسمبلی کے تحت صدارتی شکل دینے کے باوجود، ۱۹۵۶ء کے نظام کے قریب کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح جو اسمبلی دستور سازی کے اختیار کے ساتھ ۱۹۷۰ء میں منتخب ہوئی تھی ، اس نے دسمبر ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد ۱۹۷۲ء اور ۱۹۷۳ء میں دستور سازی کے عمل کو تیز کیا۔ مسلسل کوشش سے اپریل ۱۹۷۳ء میں نیا دستور منظور کیا، جو ۱۴؍اگست ۱۹۷۳ء سے نافذ ہوا۔ بلاشبہہ یہ ۱۹۷۰ء کے عشرے کی سیاسی قیادت کا بنایا ہوا دستور ہے ،لیکن محض ان کے دماغ کی اختراع نہیں ہے۔ اس کی بنیاد ۱۹۴۹ء کی ’قراردادِ مقاصد‘ اور ۱۹۵۶ء کا دستور تھے۔ اس طرح اس وقت کی قیادت کے خیالات اور عزائم کے ساتھ تاریخی تسلسل کی قوت بھی ایک کارفرما قوت کی حیثیت سے موجود تھی۔

۱۹۷۳ء کا دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان، ۱۹۶۲ء کے دستور سے جوہری طور پر مختلف مگر ۱۹۵۶ء کے دستور سے بھی بہتر دستاویز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس میں بہت سے معاملات پر سمجھوتا کیا گیا اور کچھ پہلو سے خامیاں رہیں۔ لیکن ۱۹۷۱ء کے بعد کے حالات پر نظر رکھی جائے تو اسے ایک مثبت اور تاریخی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس وقت کے دستور کی کچھ خامیوں کی نشان دہی  محترم جج صاحب نے کی ہے، جن میں متعدد حوالوں سے درست نشان دہی ہے۔ ان میں سے بیش تر خامیوں کی اصلاح دستوری ترامیم کے ذریعے کردی گئی ہے۔ خصوصیت سے اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے اور اس کا اعتراف و اِدراک محترم جج صاحب کے فیصلے میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ ارتقا کا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن محض اس وجہ سے کہ یہ دستور تحریکِ پاکستان کی قیادت کا بنایا ہوا نہیں ہے، اس سے دستور بے توقیر نہیں ہوجاتا۔ ہماری نگاہ میں تاریخی تسلسل کی وجہ سے اس دستور کو فطری ارتقائی عمل کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس پہلو سے یہ دستور ایک ایسی دستاویز ہے جس پر قوم بجاطور پر فخر کرسکتی ہے۔

جس اسمبلی نے یہ دستور منظور کیا ، اس کے تمام ارکان نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا تھا،   غالباً صرف ایک رکن ایسا تھا، جس نے دستخط نہیں کیے۔ گویا اسے پوری اسمبلی کی تائید حاصل تھی۔ پھر پوری قوم نے جس طرح اس کو قبول کیا اور بعد کے اَدوار میں ہرانحراف کے بعد اس دستور کی طرف مراجعت کے لیے جو تاریخی جدوجہد کی ہے، اس نے اس دستور کو بجاطور پر ایک تاریخی قومی دستاویز کا درجہ دے دیا ہے۔

ہم پھر یہ بات عرض کریں گے کہ کسی دستور کے معیاری یا غیر معیاری اور معتبر یا غیرمعتبر ہونے کا انحصار محض اس بات پر نہیں ہوتا کہ اس کے بنانے والوں میں کون شریک تھا، جو اپنی جگہ اہم ہے مگر فیصلہ کن نہیں، بلکہ اصل اہمیت دستور کے مندرجات (content)  کی ہے اور اسی کسوٹی پر اسے جانچنا چاہیے۔

اس پس منظر میں ہم دو اُمور کی طرف خصوصیت سے متوجہ کرنا چاہتے ہیں:

پہلا یہ کہ ۱۹۷۳ء سے اب تک کے دستوری اور سیاسی تجربات اس بات پر شاہد ہیں کہ ۱۹۷۳ء کا دستور ہی ملک اور قوم کو مضبوط سیاسی بنیاد فراہم کر رہا ہے اور ہر انحراف کے بعد اس کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے۔ اس دستور میں ہر تحریف کے بعد اصل کی طرف مراجعت میں نجات کی راہ موجود ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ’قراردادِ مقاصد‘ اور پاکستان کے اصل اہداف کی روشنی میں دستور میں نئی اصلاحات اور اضافے ہوتے رہیں۔

دوسری بات جس پر غور کرنے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ ریاست کی نظریاتی تشکیل اور اسلامی نظریے کو دورِ جدید میں ریاست اور حکمرانی کے نظام میں سمونے کے سلسلے میں جو پہلا تاریخی قدم ’قراردادِ مقاصد‘ کی شکل میں ۱۹۴۹ء میں اُٹھایا گیا تھا ، اس نے دستور سازی کے میدان میں وسیع پیمانے پر اثر ڈالا۔ اس کی روشنی میں اللہ کی حاکمیت، قانون سازی میں قرآن و سنت کے کردار، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل نو میں اسلام کے رہنما اصولوں اور اقدار کا کردار، اسلام کے نظامِ انصاف اور عدلِ اجتماعی کو پالیسی کے اصول بنانے کے باب میں نشانِ منزل متعین کرنے کا جو اقدام پاکستان میں اُٹھایا گیا تھا، اس کے اثرات عالمِ اسلام میں بعد میں بننے والے دساتیر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

۱۹۴۹ء میں پاکستان کی ’قراردادِ مقاصد‘ کی منظوری سے پہلے کے دساتیر پر نگاہ ڈالیے، زیادہ سے زیادہ دو چیزیں چند مسلم ممالک کے دساتیر میں ملتی ہیں، یعنی: ’’ریاست کا مذہب اسلام ہوگا اور سربراہِ مملکت مسلمان ہوگا‘‘۔ لیکن جمہوریت،حقوقِ انسانی، اجتماعی عدل، تعلیم و تربیت، معیشت اور معاشرت کے باب میں اسلام کا کردار کیا ہوگا، اس باب میں دساتیر خاموش تھے۔ اسی طرح مملکت کا نام ملک کے دینی اور نظریاتی تشخص کا آئینہ دار ہو، یہ بھی ہمیں نہیں دکھائی دیتا تھا۔ اس سلسلے میں پہل ’قراردادِمقاصد‘ اور پھر ۱۹۵۶ء کے دستور کی تشکیل میں ہوئی۔ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ممالک نے اپنے نظریاتی تشخص کے اظہار کے لیے ملک کے نام میں اسلام کو شامل کیا۔ ۱۹۷۹ء کے انقلابِ ایران کے بعد ایران کو ’اسلامی جمہوریہ ایران‘ قرار دیا گیا۔ ۱۹۷۱ء میں موریتانیا نے اپنے کو ’اسلامی جمہوریہ‘ قرار دیا اور دستور کی ’دفعہ ۱‘ میں اس کی تشریح یوں کی کہ: ’’موریتانیہ ایک اسلامی ، ناقابلِ تقسیم، جمہوری اور سوشل جمہوریہ ہے‘‘۔

اسی طرح افغانستان میں اشتراکی روس کے انخلا کے بعد جو دو نظام قائم ہوئے، ان میں سے ایک میں اسلامی امارت (۱۹۹۶ئ) اور دوسرے میں اسلامی جمہوریہ افغانستان (۲۰۰۴ئ) قراردیا۔ اگر ان ممالک کے دساتیر کے دیباچے کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں اللہ کی حاکمیت کے تصور کا صاف الفاظ میں اظہار کیا گیا ہے۔ اس طرح ریاست کی پالیسی کے رہنما اصولوں میں بھی اسلام کے اصولوں اور اقدار کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے، گویا:

ہم نے جو طرزِ فغاں کی تھی قفس میں ایجاد

’آج‘ گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھیری ہے

سوشلزم اور اسلام کے ’ملغوبے‘ کا طعنہ؟

 محترم جسٹس ثاقب نثار صاحب نے دستور کی ایک اور کمزوری کے طور پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ: وہ ایک خاص جماعت کے ذہن کی تخلیق ہے اور یہ کہ وہ جماعت سوشلزم کی علَم بردار تھی جو اسلام کی ضد ہے۔ اس اسلام کی، جو پاکستان کے قیام کا اصل محرک تھا۔ عدالتی فیصلے میں کیے گئے یہ دونوں دعوے محلِ نظر ہیں۔

۱۹۷۳ء کے دستور کی صورت گری کا ہرمرحلہ کھلی کتاب کی طرح موجود ہے اور خود اسمبلی کی کارروائی اور دستوری مسودات، کمیٹیوں کی رپورٹیں، اختلافی نوٹ اور پھر متفق علیہ اعلانات پبلک ریکارڈ کا حصہ ہیں، جن سے ہرکوئی استفادہ کرسکتا ہے۔ ہمیں تعجب ہے کہ اتنی معلومات کی موجودگی میں فاضل جج نے یہ دعویٰ کیسے کر دیا کہ یہ دستور محض ایک جماعت کے ذہن کا عکاس ہے۔

اس دستور کی تو سب سے بڑی خوبی ہی یہ ہے کہ یہ متفق علیہ دستاویز ہے اور ہمیں جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں اور متعدد اقدامات سے کتنی ہی شکایت ہو، لیکن یہ ان کا ایک تاریخی کارنامہ ہے کہ انھوں نے دستور سازی کو پارٹی کی سیاست کا شکار نہیں ہونے دیا اور پوری کوشش کی کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں اس عمل میں شریک ہوں۔ ان کے نقطۂ نظر کی ہمراہی سے معاملات طے کیے جائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے اپنی اعلان شدہ پوزیشن سے بار بار پیچھے ہٹنا گوارا کرلیا اور قومی اتفاق راے پیدا کرنے کے لیے قربانی دی اور دوسروں کو بھی   ہم کار اور ہم راہ رکھنے کے لیے دستور سازی میں دعوت دی۔ ان کا یہی وہ عمل ہے جس نے ۱۹۷۳ء کے دستور کو پیپلزپارٹی کا نہیں پاکستان کی تمام جماعتوں کا اتفاق راے سے طے کیا جانے والا دستور بنایا۔ ان کے بعد یہی روایت قائم رکھنے کی کوشش کی گئی۔ خصوصیت سے اٹھارھویں ترمیم میں جس کے ذریعے دستور کے بہت سی کج رویوں ( distortions) کو دُور کردیا گیا اور ۱۹۷۳ء کے وژن سے قریب تر کیا گیا۔ ’قراردادِ مقاصد‘ کے وژن کی روشنی میں آگے قدم بڑھائے گئے اور یہ کام بھی تمام جماعتوں کے مکمل تعاون اور اتفاق راے سے ہوا۔ چند اُمور پر اگر اختلاف رہا بھی تو اسے مشترکات کی بنیاد پر قومی اتفاق راے پیدا کرنے میں حائل نہ ہونے دیا۔

اس سلسلے میں تاریخی حقائق کے نظروں سے اوجھل ہوجانے سے بچنے کے لیے ہم چند اُمور کا اعادہ ضروری سمجھتے ہیں:

۱۹۷۳ء میں دستور سازی کا عمل جب شروع ہوا، تو اس کا آغاز ایک عبوری آئین سے ہوا، جو پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کے ذہن کا عکاس تھا اور اس میں پارلیمانی نہیں صدارتی نظام کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ اسلامی نظریہ، بنیادی حقوق، اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاملہ بھی بہت کمزور تھا۔ لیکن حزبِ اختلاف کی تمام ہی جماعتوں نے ان تمام کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دستور کو صحیح اسلامی جمہوری اور وفاقی اصولوں کے مطابق مرتب کرانے کی جدوجہد کی، چار اُمور مرکزی نوعیت اختیار کرگئے:

۱- اسلامی نظریہ اور ’قراردادِ مقاصد‘ کا کردار۔

۲- انسانی حقوق کا مسئلہ۔

۳- صوبوں اور مرکز کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور صوبوں کی خودمختاری کی حدود۔

۴- پارلیمنٹ کا کردار اور انتظامیہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے اختیارات میں توازن۔

کئی مہینے کے مذاکروں، احتجاجوں، اسمبلی کے بائیکاٹ اور نہ معلوم کس کس عمل کے بعد ۲۰؍اکتوبر ۱۹۷۲ء کو حکومت اور حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں دستور سازی کے لیے کیے گئے ۴۲؍ اصولوں پر اتفاق ہوا۔ وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے دستور کے مسودے پر خطاب کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں اس امر کا اعتراف کیا کہ اسمبلی کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے اجتماع میں:

چار دن کی گفتگو اور بحث و مباحثے کے بعد ۴۲ بنیادی اصولوں پر اتفاق راے ہوا، جسے ’’۲۰؍اکتوبر کی دستوری مفاہمت‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان تجاویز کا تعلق کم سے کم ۴۰ فی صد  حزبِ اختلاف سے تھا جنھیں اکثریتی پارٹی نے قبول کیا۔ (کارروائی قومی اسمبلی، ۱۰؍اپریل ۱۹۷۳ئ، ص ۲۴۶۴)

بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ ان اصولوں کی روشنی میں دستور کے پورے مسودے پر نظرثانی کی گئی اور اس طرح ۲۸۰ دفعات پر مشتمل دستور کا مسودہ تیار ہوا۔ حزبِ اختلاف کے مزید اصرار پر ۱۰ سے ۱۵ دفعات میں ترامیم تسلیم کیں اور پھر آخری مرحلے پر ایک بار پھر پالیسی کے بنیادی اصولوں کے متعلق ۱۲ دفعات میں حزبِ اختلاف کے اصرار پر تبدیلی کی گئی۔ آخری دو دنوں میں ایک بار پھر دستور کی سات دفعات میں حزبِ اختلاف کی ترامیم کو قبول کیا گیا۔ بالکل آخری مرحلے پر ججوں کے احتساب کے بارے میں پارلیمنٹ کے کردار کے مسئلے پر حکومت کے موقف کو    حزبِ اختلاف نے ماننے سے انکار کیا اور بھٹوصاحب نے کمال دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے نقطۂ نظر کو قبول کرلیا۔

یہ ہیں اصل تاریخی حقائق___ ان کے باوجود اگر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ۱۹۷۳ء کا دستور اسمبلی کا متفق علیہ دستور نہیں تھا اور وہ صرف ایک جماعت کے ذہن کا عکاس ہے تو اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ    ؎

یارب نہ وہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات

دے اور دل ان کو ، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

اس سلسلے کے دوسرے نکتے پر بھی کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہہ پیپلزپارٹی نے سوشلزم کو اپنی معاشی پالیسی کی بنیاد قرار دیا اور ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے نعرے سے سیاسی فائدہ اُٹھایا۔ عالمی سطح پر اور خود ملک میں ۱۹۶۰ء کے عشرے کے اواخر اور ۱۹۷۰ء کے عشرے کے شروع میں سوشلسٹ فکرنے ایک ہلچل مچائی ہوئی تھی اور جماعت اسلامی پاکستان نے اور دوسری دینی قوتوں نے سوشلزم کی اس یلغار کا سیاسی، علمی اور مکالماتی سطح پر بھرپور مقابلہ کیا۔ لیکن پیپلزپارٹی کو ’مارکسزم اور لینن ازم‘ سے مربوط فکر اور سیاسی اسٹرے ٹیجی کا علَم بردار کہنا اور پاکستان کے دستور میں سوشلزم کے وجود کا دعویٰ کرنا ایسے دعوے ہیں جو دلیل سے محروم ہیں۔

مارکسزم ایک مربوط فلسفہ ہے جس کا اپنا تصورِ کائنات، تصورِ تاریخ، تصورِ زندگی، تصورِ انسان،  تصورِ قانون، تصورِ معیشت اور ایک مخصوص تجزیہ اور تنظیم نو کا نقشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکس اور لینن اس سوشلزم سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، جو ۱۸ویں صدی سے ۲۰ویں صدی تک یورپ میں مختلف شکلوں میں ظہور پذیر ہوئے۔ مارکس کی تصنیف Das Kapital[سرمایہ] محض معاشیات کے موضوع پر ایک کتاب نہیں ہے، بلکہ وہ تاریخ اور خصوصیت سے صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دارانہ نظام پر ایک ایسی نقدو جرح (critique) ہے، جو طبقاتی تصادم (class conflict) کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے منشور میں سوشلزم اور اسلام کو جمع کرنے کی کوشش ضرور کی گئی تھی۔ مگر جہاں تک دستورِ پاکستان کا تعلق ہے، وہ مارکسزم کے فلسفے اور اس کے سیاسی و معاشی نظام سے دُور دُور تک کوئی مماثلت نہیں رکھتا۔ پیپلزپارٹی میں بھی یہ بات صرف سوشلزم کے تذکرے کی حد تک تھی، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی نے جو منشور دیا تھا، اس کے چار ستون تھے جن کی نشان دہی پارٹی کی تمام دستاویزات میں نمایاں طور پر کی گئی تھی اور وہ یہ تھے:

  •  اسلام ہمارا دین ہے ۔
  • جمہوریت ہماری سیاست ہے
  •  سوشلزم ہماری معیشت ہے
  •  طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

۱۹۷۰ء کے منشور کا دوسرا پیراگراف ہی یہ اعلان کرتا ہے کہ:

پارٹی پروگرام کی روح اور تفصیلات اسلام کی تعلیمات کا تقاضا کرتی ہیں اور سرگرمیاں اُس کے مطابق ہوتی ہیں۔ پارٹی اسلام اور قرآن کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔ پارٹی کی تجاویز: عقیدے میں درج احکامات کے اصول اور روح سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ اسلام میں مسلمانوں کے اندر جو مساوات بیان کی گئی ہے، وہ صرف ایک ایسے معاشی اور سماجی ڈھانچے میں ممکن ہے، جو اسے حاصل کرنے کے لیے روبۂ عمل لایا گیا ہو۔ ( پیپلزپارٹی کا منشور ۱۹۷۰ء اور ۱۹۷۷ئ، پی پی پی سرکاری مطبوعات، ۲۰۰۹ئ)

اس منشور میں استحصال (exploitation) سے پاک معاشرے کی بات ہوئی ہے، لیکن مارکس اور لینن کے تصور کے مطابق نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں کے طور پر۔ ملاحظہ ہو:

ایک سوشلسٹ پروگرام اختیار کرنے ہی میں مسائل کا حقیقی حل ہے، جیساکہ منشور میں بیان کیا گیا ہے۔ پورے پاکستان کی معیشت کو تبدیل کردیا جائے، استحصال کو روک دیا جائے اور دستیاب وسائل کو اختیار کرکے سرمایہ دارانہ مداخلتوں کے بغیر ملک کو ترقی دی جائے۔ یہ اسلام کی سیاسی اور اجتماعی اخلاقیات کا نتیجہ ہے۔ اس طرح پارٹی دراصل مسلم عقیدے کے اعلیٰ اصولوں کو عملاً برپا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ (ایضاً، ص۹)

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پارٹی کے خیالات میں جھول اور تضادات تھے۔ جن کے تحت وہ سوشلزم کو ایک محدود معنی میں لے رہی تھی حالانکہ وہ ایک مکمل نظامِ زندگی کا دعویٰ رکھتا تھا۔ نیز اسلام کے کچھ تصورات کی تشریح کے باب میں بھی اس کے نقطۂ نظر سے اختلاف کیا جاسکتا تھا اور ہم نے کیا۔ لیکن منشور کے ان واضح اعلانات کے علی الرغم یہ کہنا کہ دستور سازی کے عمل میں شریک بڑی جماعت پیپلزپارٹی مارکسزم اور لینن ازم کی علَم بردار تھی اور اس نے دستور میں روس کے نظام کے تصورات کو ٹھونس دیا ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں۔

اسلام اور سوشلزم کو خلط ملط کرنے اور متضاد اور متصادم تصورات کے امتزاج سے ایک ملغوبہ بنانے کے باب میں اگر تنقید کا ہدف اس وقت کی اکثریتی جماعت پیپلزپارٹی کا ۱۹۷۰ء کا منشور ہوتا تو اس میں صداقت ہوتی۔ واضح رہے کہ ۱۹۷۷ء میں اسی پارٹی کے منشور کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ اس پارٹی کی قیادت خود سوشلزم کے معروف تصور سے جان چھڑانے اور اسلام کے سہارے سے تعبیرات کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ پھر ۱۹۷۳ء کے دستور کے متن میں ایسے تضادات کے اجتماع کا دعویٰ حقیقت سے کوئی نسبت نہیں رکھتا، اور ایک معتبر عدالتی فیصلے میں ایسے دعویٰ کا آنا اور اس کو چیلنج نہ کیا جانا علمی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے بڑے خسارے کا معاملہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تعبیر کی اس غلطی کی اصلاح ضروری سمجھتے ہیں۔

محترم جسٹس صاحب کے پورے فیصلے میں جس ایک بات کو دستور کو سوشلسٹ نظریے سے ہم آہنگ کرنے کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ: ’’دستور کی دفعہ ۳ میں استحصال اور  تقسیم دولت کا جو تصور دیا گیا ہے، وہ اس وقت کی سوویت یونین کے دستور کی دفعہ۱۲ سے ماخوذ ہے۔ گویا یہ ایک مماثلت، دستور کو سوشلسٹ رنگ میں رنگنے کے لیے کافی ہے‘‘۔ دستورِ پاکستان کی دفعہ۳ میں ہے:

ریاست استحصال کی تمام قسموں کے خاتمے کو یقینی بنائے گی اور بتدریج اِس بنیادی اصول کی تکمیل کرے گی کہ ہر ایک سے اُس کی صلاحیت کے مطابق لیا جائے اور ہر ایک کو اُس کے کام کے مطابق دیا جائے۔

سوویت روس کے اُس وقت کے دستور کی دفعہ ۱۲ میں درج تھا:

سوویت یونین میں کام ایک فرض ہے اور ہر مناسب جسامت کے مالک شہری کے لیے عزت کی بات ہے۔ اس اصول کے مطابق جو کام نہیں کرتا وہ کھائے بھی نہیں۔ سوویت یونین میں سوشلزم کے اس اصول پر عمل ہوتا ہے کہ ہر ایک سے اُس کی قابلیت کے مطابق کام لیا جائے اور کام کے مطابق دیا جائے۔

پہلی بات تو یہ سمجھنے کی ہے کہ سوویت یونین کے دستور کی دفعہ۱۲ میں جو بات کہی گئی ہے،  وہ اس سے پہلے کی ۱۱ دفعات سے مربوط ہے۔ جس میں سوشلسٹ اسٹیٹ کا پورا نقشہ بیان کیا گیا ہے اور پرولتاریہ کی آمریت اور اس کے لیے جن اداروں اور ریاست کی جس نوعیت کی تنظیم درکار ہے، اس کے خدوخال پیش کیے گئے ہیں۔ پیداوار کے پورے نظام کو سرکاری ملکیت میں لینا اور کمیونسٹ پارٹی اور The Soviets of Working Peoples Deputies کے ذریعے سیاسی اور معاشی عمل کو نئی بنیادوں پر مرتب کرنے کا نقشہ دیا گیا ہے۔ اس انتظامی اور تنظیمی ڈھانچے اور ملکیت کے نظام کی تبدیلی کے بغیر سوشلسٹ معیشت کا قیام ممکن نہیں۔ پاکستان کے دستور میں ان چیزوں کا دُور دُور کوئی وجود نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر روسی دستور کی دفعہ۱۲ پر تنقیدی نظر ڈالی جائے، تو اس میں جو کچھ  کہا گیا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں بدترین استحصالی دروبست کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے، اس میں اور اس دفعہ میں بیان کردہ ضابطے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

کام اور محنت کا ایک ذمہ داری ہونا ہر نظام کا حصہ ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں بھی تو یہی ہوتا ہے کہ جو کام نہ کرے وہ بھوکا مرے! اس میں سوشلزم نے کون سا تیر مار لیا؟ہرشخص سے اس کی صلاحیت کے مطابق محنت اور اس کی کارکردگی کے مطابق اُجرت___ اس سے کس کو اختلاف ہوگا؟ سرمایہ دار بھی کم از کم نظری طور پر یہی کہتا ہے: ’’ہر کام کرنے والے کو اس کی کارکردگی اور صلاحیت کے مطابق اُجرت دی جائے‘‘۔ مارکس کے نظریۂ محنت میں اسے چیلنج کیا گیا کہ محنت کا ایک حصہ سرمایہ دار لے اُڑتا ہے اور مزدور محروم رہتا ہے۔ عدل پر مبنی ہر نظام میں محنت کار کو اس کی کارکردگی اور صلاحیت کے مطابق اُجرت ملنی چاہیے۔ اس اصول کے تعین میں سوشلزم کو کوئی امتیاز حاصل  نہیں۔ مارکس کے افکار کے مطالعے سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سرمایہ داری کے نظامِ استحصال سے نکلنے کے لیے وسائل پیداوار کو قومی ملکیت میں لے کر تقسیمِ دولت کے جو اصول بیان کیے،   اس کے دو مراحل بیان کیے تھے: درمیانی(transitional) دور میں یہ اصول ہوگا: ’’ہر ایک سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور محنت کا اجر کارکردگی کے مطابق ہوگا‘‘۔

لیکن جب اشتراکیت طبقات سے پاک معاشرہ بنائے گی تو پھر اصل سوشلزم کا اصول آئے گا جس میں:’’کام صلاحیت کے مطابق لیا جائے گا، اور اُجرت ضرورت کے مطابق دی جائے گی‘‘۔  یہ ہے اشتراکیت یا مارکسزم کا اعلان کردہ موقف۔

ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک دوسرے پس منظر میں دستورِ پاکستان کی دفعہ ۳ میں ایک بے ضرر سے جملے کے شامل کیے جانے سے پورا قصر کریملین کیسے تعمیر کیا جاسکتا ہے؟ ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں مارکس نے استحصال کا ایک خاص تصور پیش کیا ہے۔ لیکن ہراخلاقی اور مصنفانہ نظام میں استحصال ایک جرم ہے اور اس سے معاشرے کو پاک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے دستور میں استحصال کی کسی خاص شکل کا ذکر نہیں۔

’استحصال‘ (exploitation) کا لفظ انگریزی زبان میں دو مختلف بلکہ ایک حد تک متضاد مفاہیم میں استعمال ہوتا ہے۔ مثبت معنی میں یہ لفظ کسی ’چیز کو دریافت کرنا‘ اور ’ترقی دینے‘ کے مفہوم کی ادایگی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس طرح کہ exploit resources of country یا explore new venues ۔ اس کے برعکس دوسرے مفہوم میں، استحصال اور دوسروں کے حقوق پر ناجائز قبضہ یا ان کو حقوق سے محروم رکھنے اور ان کے وسائل سے ناجائز فائدہ اُٹھانا شامل ہے، جس میں ذم کا پہلو ہے اور اس استحصال کی درجنوں شکلیں ہوسکتی ہیں۔ کارل مارکس نے اس کی ایک خاص شکل کو، جو اس کی نگاہ میں نظامِ سرمایہ داری کی پہچان ہے اور طبقہ واریت کی بنیاد پر مظلوم اور کمزور طبقات کے حقوق پر بااثر طبقات خصوصیت سے اہلِ سرمایہ کی دست درازیاں ہیں۔ پاکستان کے دستور کی دفعہ۳ میں یہ لفظ اپنے وسیع تر مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور جس پر all forms of exploition (استحصال کی تمام صورتوں ) کے الفاظ شاہد ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس کو صرف ایک مخصوص شکل تک محدود کردیا جائے اور طلسماتی عینک سے وہ تصویر بھی دیکھ لی جائے، جس میں مارکس اور لینن کی شبیہہ جھلکتی ہو!

محترم جج صاحب نے ایک مقام پر شکایتاً ایک بڑی معقول تنبیہہ ’’قراردادِمقاصد میں زیادہ معنی نکالنے کی ترغیب‘‘ (ص ۵۳۸)  کے بارے میں کی ہے۔ بلاشبہہ یہ علمی دیانت کا تقاضا ہے اور اس تنبیہہ کا اطلاق نہ صرف ’قراردادِ مقاصد‘ پر ہوتا ہے بلکہ خود دستورِ پاکستان پر بھی۔ ہماری کوشش ہونا چاہیے کہ جو اس میں ہے اسے من و عن پیش کردیں، نہ کچھ چیزوں کو دیکھنے سے انکار کریں اور نہ وہ کچھ ان میں بڑھا ڈالیں جن کا کوئی وجود نہیں۔

استحصال کی ہرقسم کا ذکر ہے اور یہ وہ تصور ہے جو خود اسلام نے پیش کیا ہے۔ قرآن صاف الفاظ میں متنبہ کرتا ہے کہ:

وَ لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo(البقرہ ۲:۱۸۸) اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقے سے کھائو اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض سے پیش کرو کہ تمھیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔

مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اَوْفُوا الْکَیْلَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ  o وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ o وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَھُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ o وَاتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیْنَo (الشعرا ۲۶: ۱۸۱-۱۸۴) پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو اور اس ذات کا خوف کرو جس نے تمھیں اور گذشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے۔

امانت کی پاس داری اور خیانت سے اجتناب ہی دین حق کا راستہ ہیں۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ o وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌo(انفال ۸:۲۷-۲۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو اور جان رکھو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد حقیقت میں سامان آزمایش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔

اسلام نے ظلم اور استحصال کی ہرشکل سے اجتناب کا حکم دیا ہے اور ہر حق دار کا حق ادا کرنا اہلِ ایمان پر فرض کیا ہے۔ مزدور کو اس کی محنت کا پورا پورا حق اور پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اُجرت ادا کردینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی معاشرے اور حکومت پر ڈالی ہے کہ کمزوروں کے لیے سہارا بنیں، ناداروں کی مدد کریں، قرض دار کو قرض سے نجات دلانے میں معاونت کریں، غریب اور مستحق کی مالی معاونت کریں اور معاشرے میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے بلالحاظ مذہب و نسل و رنگ، جو بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہو___ اس حکم کا کوئی تعلق اشتراکیت سے نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کے اخلاقی ، سماجی ، معاشی اور دینی نظام کا بنیادی اصول ہے، جس کی پاس داری ہر مسلمان فرد اور مسلمان حکومت کے لیے ضروری ہے۔ ’قراردادِ مقاصد‘ کے تقاضوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ۱۹۵۱ء میں تمام مکاتب ِ فکر کے چوٹی کے ۳۱ علما نے اسلامی مملکت کے جو ۲۲نکات مرتب کیے، ان میں یہ تین دفعات بھی شامل تھیں:

  •  مملکت بلاامتیاز مذہب و نسل وغیرہ، تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات، یعنی لباس، مسکن، معالجہ اور تعلیم کی کفیل ہوگی، جو اکتسابِ رزق کے قابل نہ ہوں یا نہ رہے ہوں، یا عارضی طور پر بے روزگاری، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعی اکتساب پر قادر نہ ہوں۔ (دفعہ ۶)
  •  باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے، جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطاکیے ہیں یعنی حدودِ قانون کے اندر تحفظ جان و مال و آبرو، آزادیِ مذہب و مسلک، آزادیِ عبادت، آزادیِ ذات، آزادیِ اظہار راے، آزادیِ نقل و حرکت، آزادیِ اجتماع، آزادیِ اکتساب پر رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادے کا حق۔ (دفعہ۷)
  • غیرمسلم باشندگانِ مملکت کو حدودِ قانون کے اندر مذہب اور عبادت، تہذیب و ثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہوگی، اور انھیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم ورواج کے مطابق کرانے کا حق حاصل ہوگا۔ (دفعہ ۱۰)

یہ ہے اسلام کا مطلوبہ نظام جس کے قیام کا تصور ’قراردادِ مقاصد‘ نے دیا ہے۔ اس کی موجودگی میں مسلمان اُمت کو دوسرے نظریات سے خوشہ چینی کی کیا ضرورت ہے۔

ہم پورے ادب سے عرض کریں گے پاکستان پیپلزپارٹی نے ۱۹۷۰ء میں سوشلزم کے بارے میں جو کچھ بھی کہا ہو، جہاں تک ۱۹۷۳ء کے دستور کا تعلق ہے، اس پر سوشلزم کی پرچھائیں تک نہیں پڑی۔ ہم پیپلزپارٹی سے اپنے تمام اختلافات کے باوجود اسے اس الزام سے بری سمجھتے ہیں اور اپنے اس دعوے کے ثبوت میں دو مزید شہادتیں پیش کرنا چاہتے ہیں، یعنی خود جناب ذوالفقار علی بھٹو کی وہ تقریر جو انھوں نے دستور کے مسودے کی آخری سماعت اور دستور کی منظوری کے موقعے پر کی اور جس میں دستور کے بنیادی ڈھانچے کو انھوں نے اپنے الفاظ میں پیش کر دیا۔ اس پوری تقریر میں سوشلزم یا اس کے کسی جزوی پہلو کا بھی کہیں دُور دُور ذکر نہیں ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

۲۵سال کے بعد بہت سارے اعتراضات اور جھگڑوں کے بعد ہم ایک ایسے نکتے پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ایک بنیادی قانون ہے، ہمارا ایک دستور ہے اور کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جمہوریت کی کسی بھی تعریف کے مطابق یہ ایک جمہوری دستور ہے۔ کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ ایک وفاقی دستور ہے۔ کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ صوبائی خودمختاری کے بارے میں ایک مفاہمت ہے، اور اس پر خدا کا شکر ہے۔ کوئی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ یہ ایک اسلامی دستور ہے۔ اس میں پاکستان کے کسی بھی ماضی کے دستور سے زیادہ اور مسلمان ملکوں کے علاوہ بادشاہتوں پر مبنی ممالک کے کسی بھی دستور سے زیادہ اسلامی دفعات ہیں۔ اگر آپ بادشاہتوں پر مبنی ممالک سے اس کا موازنہ کریں تو اس میں پاکستان کے کسی بھی سابقہ دستور سے زیادہ اسلامی دفعات ہیں۔ (قومی اسمبلی کی رُوداد، ۱۰؍اپریل ۱۹۷۳ئ، ص ۲۴۶۸)

اسی تقریر میں آگے چل کر کہتے ہیں:

چنانچہ میرے دوستو! یہ دستور جو جمہوری ہے، جو وفاقی ہے، جس میں اسلامی نظام کی اہم خصوصیات شامل ہیں، اور اسلامی معاشرے کو تحفظ دیتا ہے، اور عدلیہ کو آزادی فراہم کرتا ہے، یہ دستور شہریوں کے بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ (ایضاً، ص ۲۴۶۹)

اور اپیل کی کہ اس دستور کو پورے قلبی اطمینان کے ساتھ اور مکمل اتفاق راے سے منظور کیجیے، خصوصیت سے تمام اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا:

اب میں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ ایوان میں واپس آگئے ہیں ایک قدم آگے بڑھانے کے لیے، تاکہ اپنی حاضری کو منطقی انجام تک پہنچائیں اور ہمارے ساتھ پاکستان کے عوام کو ایک ایسا دستور دیں جو ایک متفق علیہ دستور ہو۔(ایضاً، ص ۲۴۶۹)

اور پھر اسمبلی نے مکمل اتفاق راے سے دستور کو منظور کیا اور حزبِ اختلاف کے ایک قائد مولانا مفتی محمود صاحب [سربراہ :جمعیت علماے اسلام] سے دعاے شکرانہ کروا کر اسمبلی کی کارروائی ختم کی۔

۱۹۷۳ء کا دستور ایک متفقہ قومی دستاویز ہے، کسی ایک پارٹی کے خیالات کا عکاس نہیں۔  اس دستور کا بنیادی ڈھانچا جن اصولوں پر مشتمل ہے، وہ پانچ ہیں: l اسلام l جمہوریت l وفاق اور تقسیمِ اختیارات l بنیادی حقوق کا تحفظ l عدلیہ کی آزادی۔

گو بات واضح ہوگئی ہے، لیکن صرف اتمامِ حجت کے لیے ہم ایک شہادت اور پیش کردیتے ہیں اور یہ ہے پیپلزپارٹی کا ۱۹۷۷ء کا منشور، جس میں وہ ۱۹۷۳ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اپنے ایک کارنامے کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ لیکن دیکھیے کہ دستور کی جن چیزوں کی داد طلب کررہے ہیں ، وہ یہ ہیں:

پیپلزپارٹی نے ایک ایسے دستور کا وعدہ کیا تھا جو اسلامی، جمہوری،پارلیمانی اور وفاقی طرزِحکومت کا آئینہ دار ہو۔ ہم نے یہ عہد پورا کردیا ہے۔

۱۲؍اپریل ۱۹۷۳ء کو پاکستان کا پہلا دستور عوام کے ان نمایندوں نے متفقہ طور پر منظور کیا  جو بالغ راے دہی کی بنیاد پر براہِ راست منتخب ہوئے تھے اور ۱۴؍اگست ۱۹۷۳ء سے نافذالعمل ہوا۔ (پاکستان پیپلزپارٹی، منشور، ۱۹۷۷ئ، ص ۴۶)

اس منشو ر میں جو بھٹو صاحب کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا، سوشلزم کا ذکر تو صرف ایک دو بار سرسری طور پر وہ بھی اس صراحت کے ساتھ کہ وہ اسلام کے مقدس اور ابدی اصولوں کے مطابق ہوگا، لیکن اسلام کے بارے میں شروع ہی میں بڑے مؤثرانداز میں اپنی خدمات کا ذکر کیا:

پیپلزپارٹی نے اپنے منشورکے آغاز ہی میں یہ اعلان کیا کہ: اسلام ہمارا عقیدہ ہے۔   ہم نے آغاز ہی میں عہد کیا کہ ہمارا پروگرام اسلام کی روح اور احکامات کے مطابق ہوگا۔ گذشتہ پانچ سال میں پیپلزپارٹی کی پالیسیاں ہمارے اسی عہد پر مبنی تھیں اوراسلام کی عظمت و شان کے لیے ایسے جذبے سے نافذ کی گئیں، جس کا کوئی مقابلہ کسی سابقہ حکومت سے نہیں ہوسکتا۔

پہلی دفعہ دستور کی دفعات میں اسلامی نظریۂ حیات ایمان داری سے شامل کیا گیا ہے۔ اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیا گیا ہے۔ ہم نے دستور میں اپنا یہ عہد رقم کردیا ہے کہ ہم قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کریں گے۔

پیپلزپارٹی کی حکومت نے ٹھوس اقدامات اُٹھائے ہیں:

                o         ۹۰ سالہ قادیانی مسئلہ، دستور میں یہ اعلان کرکے کہ جو شخص محمدؐ کی ختم نبوت کو تسلیم نہیں کرتا مسلمان نہیں ہے، حل کر دیا۔

          o  فروری ۱۹۷۴ء میں لاہور میں مسلم ریاستوں اور حکومتوں کے سربراہوں کی سربراہ کانفرنس منعقد کی۔

            o         اعلان کیا کہ جولائی ۷۷ء سے اتوار کے بجاے ہفتہ وار تعطیل جمعہ کی ہوگی۔

            o          پہلی بار سیرت کانفرنس منعقد کی اور مسجد نبویؐ کے اماموں کے دوروں کا اہتمام کیا۔

            o             حاجیوں پر سابقہ حکومتوں کی لگائی ہوئی پابندیاں ختم کیں، جس سے تقریباً ۳لاکھ پاکستانیوں نے فریضۂ حج ادا کیا۔

                o          زکوٰۃ کے لیے منصوبہ بند پالیسی بنائی اور اختیار کی۔

             o        غلطیوں کے بغیر قرآنِ پاک کی طباعت کے لیے قوانین نافذ کیے۔

                o            جہیز اور شادی کے تحائف پر اسلام کی روح کے مطابق پابندی کا قانون نافذ کیا، جو عام آدمی کو شادی کے موقعے پر کمرتوڑ اخراجات سے نجات دلاتا ہے۔

                oریڈ کراس کا نام ہلال احمر سوسائٹی کردیا۔

 محترم جج صاحب کے ارشادات کے سلسلے کے پہلے دو نکات پر ہم نے تفصیل سے گفتگو کرلی ہے۔ تیسرے نکتے کے بارے میں ہم اتنا ہی عرض کریں گے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت کا منصفانہ اعتراف ہے اور ہم اس پر انھیں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔ البتہ چوتھے نکتے کے بارے میں صرف ریکارڈ درست کرنے کے لیے یہ عرض کریں گے کہ ۱۹۷۰ء کی انتخابی مہم میں بلاشبہہ اسلام اور سوشلزم دونوں کی صداے بازگشت موجود تھی، لیکن یہ بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام متنازع نہیں تھا۔ اختلاف جو بھی تھا، وہ اسلام کے تصور اور تقاضوں کے ادراک کے باب میں تھا۔ پیپلزپارٹی کے منشور میں بھی اسلام سرفہرست تھا۔ مسلم لیگ کے تین دھڑے میدان میں تھے، مگر ہرایک نے اسلام کو اپنی ترجیح کے طور پر بیان کیا تھا۔

جن جماعتوں کو دینی جماعتیں کہا جاتا ہے، ان کے پلیٹ فارم کا مرکزی نکتہ اسلام اور  اس کا نظامِ حیات ہی تھا۔ اس لیے پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کے موازنے میں ان کے   تصورِ اسلام کے بارے میں اختلافات اور ترجیحات کے نظام میں فرق کی بات تو معقول اور مناسب ہے، لیکن پاکستان میں اسلام کے کردار کو نزاع کا باعث کہنا حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ رہا معاملہ اسمبلی میں نشستوں اور عوامی مقبولیت کا، تو اس بارے میں عمومی راے کو ایک دوسرے تصور کے مطابق پیش کرنا مناسب نہیں ہے۔

بلاشبہہ اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کو اکثریت حاصل تھی مگر یہ سب سیاسی بساط کے روایتی کھیل کا حصہ ہے کیونکہ اس وقت کے صوبہ سرحد [خیبر پختونخوا] اور بلوچستان میں جمعیت علماے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی (NAP) شریکِ اقتدار تھے اور صوبہ سرحد کی حکومت مولانا مفتی محمودصاحب کی وزارتِ اعلیٰ میں نیشنل عوامی پارٹی کی تائید اور شمولیت سے وجود میں آئی تھی۔ دستور سازی کے باب میں نظریاتی پہلو اور سیاسی گروہ بندی میں اگر فرق رکھا جائے تو حالات کو سمجھنے میں سہولت ہوگی۔

اُوپر کی گزارشات کی روشنی میں یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ دستور کی یہ تعبیرکہ وہ اسلام اور سوشلزم کا ایک مرکب ہے، قطعاً اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتی۔ اور اگر یہ مفروضہ درست نہیں تو پھر اس غبارے سے بھی ساری ہوا نکل جاتی ہے کہ ان دو متضاد رجحانات کی موجودگی کی وجہ سے دستور میں کسی بنیادی ڈھانچے کی تلاش لاحاصل مشق ہے۔ دستور کا ایک واضح ڈھانچا، اس کی مستحکم واضح بنیاد اور اساسی اصول موجود ہیں اور دستور کی تعبیر میں ان کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور رہے گی۔

خلاصۂ بحث

آخر میں ہم بحث کا خلاصہ ان نکات میں پیش کرتے ہیں:

                ۱-            ’قراردادِ مقاصد‘ ایک مستقل بالذات دستوری دستاویز ہے، جو تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور اہداف کی ترجمان اور پاکستان کی منزلِ مقصود کی آئینہ دار ہے۔ یہ قرارداد ہی دستور کی بنیاد اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی اصل صورت گر ہے۔

                ۲-            دستورِ پاکستان اس قرارداد کی روشنی میں مرتب اور مدون کیا گیا ہے۔ ریاست پاکستان جس اصول پر قائم ہے، وہ یہ ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور پاکستانی قوم حدوداللہ کی مکمل پاس داری کے عہدوپیمان کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کو اپنا مقصدِ وجود سمجھتی ہے، اور دستور اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔

                ۳-            اس دستور کی بنیاد اور اس کے ناقابلِ تغیر پہلو کم از کم پانچ ہیں، یعنی:lاس کا اسلامی کردار اور شناخت ۔ lجمہوری طرزِ حکومت جس میں قانون کی بالادستی اور عوام کی مرضی کے مطابق ان کی فلاح و بہبود اور ان کے اخلاقی، نظریاتی، تہذیبی، معاشی عزائم اور توقعات کی تکمیل کو اولیں حیثیت حاصل ہے۔lبنیادی حقوق کا تحفظ اور اسلام کے اصولِ حکمرانی اور حقوق و فرائض کے نظام کا مکمل احترام ایک بنیادی قدر ہے، جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ lپاکستان کا نظام وفاقی ہے جس میں مرکز اور وفاق کی اکائیوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا مکمل احترام اور وسائل کے طے شدہ اصولوں اور شرائط کی روشنی میں استعمال کا اہتمام ضروری ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری، جو انصاف کی فراہمی کے ساتھ دستور کے تحفظ اور بنیادی حقوق کی پاس داری کی نگرانی کے نظام کی آخری ذمہ دار ہے۔

                                یہ دستور کا بنیادی ڈھانچا ہے، جس کی پاس داری مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور عوام سب کی ذمہ داری ہے۔

                ۴-            قرآن و سنت کی بالادستی اور اسلام کے اصولوں کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیروترقی اصل ہدف اور منزل ہے۔

                ۵-            اخلاقی اقدار کو ہمارے نظام میں مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے، تاکہ قوم و ملک کی ترقی کا وہ نقشہ حقیقت کا رُوپ دھار سکے، جس میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو، انسانوں کے درمیان حقیقی مساوات قائم ہو، اور اللہ کی زمین فساد سے پاک اور خیر اور فلاح کا گہوارا  بن سکے۔

                ۶-            عوام کی اخلاقی، سیاسی، معاشی اور تہذیبی ترقی ہمارا مقصود ہے اور اس عمل میں عوام ہی کا کردار سب سے اہم ہے۔ ہرسطح پر عوام کو اختیارات کی منتقلی اور ان اختیارات کے مناسب استعمال کے مواقع کی فراہمی، ریاست اور اس کے تمام اداروں کی ترجیح اور ریاستی وسائل کے استعمال کا مقصد و محور ہونا چاہیے۔

                ۷-            حقوقِ انسانی کا تحفظ، قانون کی حکمرانی، اختیارات کی تقسیم اور توازن، خاندانی نظام کی تقویت اور معاشرے میں امن، برداشت، مشاورت، تعاون باہمی کا فروغ اور اچھی حکمرانی کامیابی کا معیار اور میزان ہوں۔

                ۸-            دستور پر اس کے الفاظ اور روح کے مطابق عمل اور افراد کی اصلاح کے ساتھ اداروں کا استحکام اصل ترجیح ہو۔

                ۹-            آزادی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ایک حقیقی جمہوری، فلاحی اور استحصال سے پاک معاشرے کا قیام اور معاشرے کے تمام طبقات کو ترقی کے مساوی مواقعے کی فراہمی کا اہتمام ہو۔

                ۱۰-         اقلیتوں کا تحفظ اور ان کے لیے ایسے مواقع کی فراہمی کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کے دائرے میں رہتے ہوئے قومی زندگی کی تعمیر اور ترقی میں بھرپور کردار ادا کرسکیں۔

یہ وہ اہداف ہیں جو ’قراردادِ مقاصد‘ اور دستور کے قومی پالیسی کے خطوطِ کار کا تقاضا ہیں اور یہی وہ میزان اور کسوٹی ہے جس پر حکومت، سیاسی جماعتوں اور قومی اداروں کی کامیابی یا ناکامی کو جانچا جانا چاہیے۔

قراردادِ مقاصد کے پس منظر، مفہوم اور مقصود، اس کے متعین کردہ اصولِ حکمرانی اور اس کی تاریخی، سیاسی اور قانونی حیثیت کے چند اہم پہلوئوں کی وضاحت کے بعد ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ چند گزارشات اس حوالے سے بھی کریں کہ قراردادِ مقاصد ایک ایسا دستوری فرمان (constitutional declaration) ہے، جس کے پیچھے پوری پاکستانی قوم ہے اور جو ۱۹۴۹ء کے بعد سے ہر دستوری دستاویز یا دستور کا حصہ رہی ہے۔ سیکولر طبقوں نے جب بھی ’قراردادِ مقاصد‘ کو ہدف بنانے کی کوئی کوشش کی، ان کو منہ کی کھانا پڑی۔ اس کے پیچھے جو قومی اجتماع کی قوت ہے، وہ اسے ہر دوسری دستاویز پر فوقیت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف دستور کا دیباچہ ہے بلکہ دستور کے قابلِ نفاذ (operational) حصے میں شامل ہے اور اس میں یہ واضح ہدایت موجود ہے کہ اس قرارداد کا عملاً اطلاق ہر معاملے پر ہوگا۔

دستور کی دفعہ ۲-اے کے یہ الفاظ بڑے اہم اور فیصلہ کن ہیں کہ:

اسے یہاں دستور کا لازمی حصہ (substantive part) بنایا جاتا ہے اور اس کے مطابق فوری مؤثر ہوگا۔

یعنی قراردادِ مقاصد میں بیان کردہ اور طے شدہ اصول اور احکام کو دستور کا مستقل حصہ قرار دیا گیا ہے اور وہ اپنی ہیئت اور روح کے مطابق مؤثر ہوں گے۔

یہ تصریح قراردادِ مقاصد کے اصول و احکام کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور سے اس طرح متعلق کر رہی ہے کہ اب دستور کو ان کی روشنی میں سمجھا اور نافذ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں اگر کہیں کوئی اشکال ہو، تو اس کو مناسب دستوری طریقے سے رفع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

سیاسی جماعتوں کا قانون اور قراردادِ مقاصد

قراردادِ مقاصد اور دستور، قانون اور اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات پر قومی اسمبلی میں جولائی ۱۹۶۲ء میں تفصیل سے بحث ہوئی اور پھر پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا قانون زیربحث آیا۔ اس میں متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے سیاسی جماعتوں کے لیے اسلامی نظریے کو بحیثیت ’نظریۂ پاکستان‘ شامل کیا اور ضروری قرار دیا کہ ’’ وہ اسلامی نظریے یا پاکستان کی وحدت یا سلامتی کے خلاف نہ ہو‘‘۔ اس بحث میں صدر جنرل محمد ایوب کی کابینہ کے وزیر جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اسمبلی کے ایوان میں جو بیان دیا تھا، اسے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے:

جناب عالی! دستور میں پہلے ہی یہ واضح طور پر لکھا جاچکا ہے کہ اسلام ہماری ریاست کی اساس ہے۔ یہ حقیقی صورت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دیباچہ (preamble ) قابلِ نفاذ ہے یا نہیں۔ ایک دیباچہ دستور کی کلید ہوتا ہے۔ یہ دستور کا منشور ہے۔ دستور کے اس مثالی چارٹر (ضابطے) میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک علاقائی ریاست سے ممتاز ایک نظریاتی ریاست ہوگا۔اگر ہمارے نظریۂ حیات کو چیلنج کیا گیا تو ہم اپنے نظریۂ حیات کی برتری ثابت کریں گے۔ ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ہم اپنے مذہب کے لیے جان دے دیں گے اور اپنے نظریۂ حیات کے لیے بھی جان دے دیں گے.... اگر سیاسی جماعتوں کا اہم ترین … مقصد کسی ایک ملک کی حکومت کو سنبھالنا ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستور کی روح اور مینڈیٹ کے ساتھ مطابقت رکھتی ہوں۔ اگر پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے، تو سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ دستور کے بنیادی احکامات (dictates) کے عین مطابق کام کریں۔ (National Assembly of Pakistan Proceedings، ۱۱جولائی ۱۹۶۲ئ، ص ۱۳۵۵-۱۳۵۶)

دیکھیے قراردادِ مقاصد اس وقت صرف دستور کا دیباچہ تھی۔ اس دیباچے کے پورے دستور اور سیاسی نظام کے لیے کیا تقاضے تھے یہ شروع ہی سے واضح تھے۔

سابق چیف جسٹس کارنیلیس کا اعتراف

آیئے، دیکھیں کہ اس سلسلے میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب اے آر کارنیلیس (جو خود رومن کیتھولک تھے مگر پاکستان کے مزاج شناس تھے) کیا کہتے ہیں۔۱۱مارچ ۱۹۶۵ء کو   ایس ایم لا کالج ،کراچی میں دوسری کُل پاکستان لا کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے ان کا ارشاد تھا:

عظیم قرارداد مقاصد بھی ہمارے دستور کا حصہ ہے، جو آزادی عطا ہونے کے فوراً بعد کے زمانے میں، دستورسازی کے دوران بہترین ذہنوں کے اتفاق راے کی نمایندگی کرتی ہے۔ قراردادِ مقاصد میں پاکستان کے دنیوی معاملات کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ ان کو جمہوری انداز میں طے (conduct) کیا جائے تاکہ اسلام کے احکام کے مطابق مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنایا جاسکے۔ بنیادی حقوق بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے ہیں، جو جمہوری انداز میں معاشرتی عدل، رواداری اور انصاف کے لیے رہنمائی کرسکتے ہیں۔ ایک جج جو دستور کے دیے ہوئے بنیادی حقوق کی تفصیلی وضاحت (expound) کرتا ہے، اس سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ ان اعلیٰ ذرائع سے تحریک پائے گا، جو ہمیشہ کے لیے قرآنِ مجید کے الفاظ میں ثبت (inscribe) کردیے گئے ہیں۔ اگرچہ عدالتوں میں بنیادی حقوق کے اطلاق سے متعلق مقدمات میں مسائل و معاملات کی ایک بڑی تعداد بھی زیربحث آتی رہتی ہے، تاہم عدالت کبھی کبھار ہی اس سوال پر اس لحاظ سے غور (adress)کرتی ہے کہ اس قانون کو     اسلام کے اصولوں کے حوالے سے کس طرح سمجھا جائے۔ میں مستقبل میں وہ دن دیکھتا ہوں جب ایک وکیل اپنے مقدمے کے حقائق بیان کرنے کے بعد، ان بنیادی حقوق کا جوہر بیان کرنے کے بعد جو قابلِ اطلاق ہے، وہ عدالت کے سامنے اپنا نقطۂ نظر  رکھے گا کہ متعلقہ آیاتِ قرآنی پر کس طرح اس کا اطلاق کیا جائے۔

پاکستان میں مذہبی شعور کے تحت بنیادی حقوق کا اطلا ق ہونا چاہیے۔ بنیادی حقوق کی وضاحت اور اطلاق اسلام کی اخلاقی اقدار کے مطابق مساوات، برداشت اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے دنیا کے ملکوں میں رائج جمہوری انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے تمام ملکوں میں صرف پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں دستور کے تقاضوں کے تحت دنیوی معاملات کو مذہبی شعور کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ (Law and Judiciary in Pakistan  اے آر کارنیلیس، تدوین و ادارت: ڈاکٹر ایس ایچ حیدر، لاہور لا،  ٹائم پبلی کیشنز، لاہور، ص ۶۶-۶۷)

جسٹس اے آر کارنیلیس نے پاکستان کے دستور کے موضوع پر ڈھاکے میں کونسل آف نیشنل انٹگریشن کے اجلاس سے ، ۱۵ جون ۱۹۶۷ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

دستور کا دیباچہ [قراردادِ مقاصد] یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ اسلام کے وضاحت سے بیان کردہ جمہوریت، آزادی، رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصول مکمل طور پر اختیار کیے جانے چاہییں۔ اگر تسلیم شدہ نظام (حکومت) اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی خواہش کو عمل میں نہ لایا جائے تو یہ دستور سے دھوکا ہوگا۔ اس مقصد کو مختصر طور پر     اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک انسانی معاشرے کی تنظیم جس میں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پورا موقع ملے، وہ جمہوریت جہاں مذہب اسلام کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق  ’انصاف سب کے لیے برابر‘ کا اصول رائج ہو۔

اس خطبے کا اختتام جسٹس کارنیلیس نے ان لفظوں میں کیا:

ہمارا دستور ہر چیز کو ایک واحد متحد (unifing) کرنے والے مرکزی اصول کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ایک ایسا متحد کرنے والا اصول، جس کے تحت ہر معاملے میں ہمہ مقتدر طاقت ہے جس کے سامنے حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے دار سے لے کر ایک عام شہری اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کے لیے پلٹے گا۔ ۱۲صدیوں میں  اسلامی تعلیمات کے نتیجے میں روایت اور ثقافت میں جو ارتقا ہوا ہے، اس کے جواز کے لیے دستور اعتماد دیتا ہے۔ اس یقین پر مبنی انسانی نسل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ زمین پر امن کا ایک اخلاقی نظام تخلیق کیا جائے۔ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام، یعنی مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں کو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ اسلام کا اخلاقی نظم و ضبط، انصاف اور سچائی کے بنیادی تصورات پر مبنی ہے۔ اس وجہ سے ایک منصفانہ معاشرے کے قیام کے امکانات بہت روشن ہیں۔ یہ وہ روح ہے جسے میں دستور کے ضمیر کی حیثیت سے سمجھا ہوں۔ (کتاب مذکورہ، ص۱۷۲-۱۷۴)

جسٹس کارنیلیس نے اس سلسلے میں عدالت کے کردار کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کرتے ہوئے ارشاد کیا ہے:

جب کوئی مقننہ، ایسا قانون منظور کرتی ہے جو بنیادی حقوق کی براہِ راست خلاف ورزی کرتا ہے، وہ قانون دستور کی رُو سے غیرمؤثر (void) ہے، اور عدالتیں رٹ (writ) کی حدود پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہیں۔ (ایضاً، ص۹۴)

بات صرف بنیادی حقوق تک محدود نہیں۔ جسٹس کارنیلیس بڑی صراحت اور جرأت کے ساتھ کہتے ہیں کہ:

لیکن عوام یہ بھی خواہش کرسکتے ہیں کہ عدالتیں، ان تمام اُمور میں جو وہ سرانجام دیتی ہیں، قانون کا نفاذ قرآن و سنت کے مطابق کریں جیساکہ دستور میں چاہا گیا ہے۔ ہرشخص کو یہ سوال درپیش ہے کہ آیا وہ اپنے فرائض مناسب طور پر ادا کر رہا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال ہر وکیل کے ذہن میں بھی ہونا چاہیے، جب وہ کسی خاص معاملے پر دلائل دینے کے لیے کھڑا ہو کہ کیا میں یہ کام دستور کے تقاضوں کے مطابق کر رہا ہوں، یا بلاشبہہ اس مقصد کے مطابق کہ جس کے لیے ملک قائم کیا گیا تھا؟

اور وہ مقصد کیا ہے؟ ایک خدا ترس اور پاکستان کے وفادار غیرمسلم ماہر قانون کی زبان سے سن لیجیے:

یہ ایک حقیقت ہے کہ فقہا اور فلسفی دونوںفلسفے کے سیاسی یا ہیئت کے معاملات میں اعلیٰ ترین سطح پر ان کے نتائج سے کتنے ہی متنبہ کیوں نہ ہوں، شریعت کے حتمی احکامات و اقدامات جو کچھ وہ کہتے ہیں ، کی طرف بار بار پلٹتے ہیں۔ اس کا واضح ہدف یہ ہے کہ ہرشخص کو اپنی زندگی اس طرح گزارنی چاہیے، جس طرح اللہ نے اس کے لیے مقدس کتابوں میں درج کیا ہے۔ پوری قوم کو بھی اپنے تمام معاملات میں یہ ہدایت ملحوظ رکھنی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں اس دنیا کے ساتھ بعد کی دنیا میں بھی تحفظ اور سلامتی فراہم ہوجائے گی۔ چنانچہ مجھے یقین ہے کہ ایک مسلم ملک میں زندگی شریعت کے مطابق گزاری جانی چاہیے۔ (ایضاً، ص۳-۳۸۲)

دستوری جدوجھد کے مراحل

قراردادِ مقاصد کے کیا تقاضے ہیں اور دستور کس نظامِ زندگی کا مطالبہ کرتا ہے؟ اس میں کوئی ابہام نہیں۔ ایک مخصوص طبقے نے ذہنوں کو تذبذب، اور شکوک و شبہات سے آلودہ کرنے اور گاڑی کو پٹڑی سے اُتارنے کی  ہردور میں کوشش کی ہے لیکن بالآخر قوم کے دل کی آواز غالب آکر رہی ہے۔ اس سفر کے چند مراحل پر نگاہ ڈالنے سے اس کش مکش کے خدوخال اور پھر کش مکش سے نکلنے کا راستہ بچشم سر دیکھا جاسکتا ہے۔

قراردادِ مقاصد ۱۲مارچ ۱۹۴۹ء کو منظور کی گئی اور دستورسازی کی طرف پہلے قدم کے طور پر اس دن جو کمیٹی یعنی Basic Principles Committee (بنیادی اصولوں کی کمیٹی) قائم ہوئی،  اس کمیٹی نے قراردادِ مقاصد کی روشنی میں کام کرنے کے لیے پہلا کام یہ کیا کہ ’تعلیمات اسلامیہ بورڈ‘ قائم کیا جس کے سربراہ مولانا سیّد سلیمان ندوی تھے، اور یہ بورڈ جید علما پر مشتمل تھا۔ مولانا ظفراحمد انصاری اس کے سیکرٹری تھے۔ ’بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘ کی پہلی رپورٹ ستمبر ۱۹۵۰ء میں پیش ہوئی اور اس میں قراردادِ مقاصد کو ریاست کے رہنما اصول (Directive Principles of State Policy) کے طور پر تجویز کیا گیا۔

اس کے بعد دستور کا جو بھی خاکہ تھا اس میں سرفہرست قراردادِ مقاصد تھی۔ ۱۹۵۶ئ، ۱۹۶۲ء اور پھر ۱۹۷۳ء کے دساتیر میں قرارداد مقاصد دیباچے کے طور پر شامل تھی۔ ریاست کے رہنما اصولوں میں قراردادِ مقاصد کے اصول و احکام کی صراحت تھی اور یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ: ’’کوئی قانون سازی قرآن و سنت سے متصادم نہیں کی جاسکے گی اور موجود الوقت تمام قوانین کو بھی ایک معقول مدت میں قرآن و سنت کے مطابق کر دیا جائے گا‘‘۔

جنرل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت میں پہلی اور آخری کوشش قراردادِ مقاصد کو مجروح اور غیرمؤثر کرنے اور دستور سے اسلامی دفعات کو نکالنے یا غیر مؤثر کرنے کی کی گئی۔ انھوں نے ۱۹۶۳ء میں جو دستور ایک آمر کی حیثیت سے ملک پر مسلط کیا، اس میں ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کے نام سے ’اسلامی‘ نکال دیا گیا اور اسے صرف ’جمہوریہ پاکستان‘ بنادیا۔ تاہم قراردادِ مقاصد کو دستور کے دیباچے کے طور پر شامل ضرور کیا مگر اس کا سب سے اہم پہلو، یعنی تمام اُمورِ حکمرانی قرآن و سنت کی حدود میں [یعنی: within the limits prescribed by Him. ] انجام دیے جائیں گے‘‘، حذف کردیا گیا۔ اسی طرح یہ دفعہ کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی اور قانون سازی کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایک ’کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی‘ ہوگی، کو بھی دستور سے خارج کر دیا گیا۔ صدر موصوف کا خیال تھا کہ وہ ڈنڈے کے زور پر قراردادِ مقاصد اور دستور کی اسلامی دفعات کو غیرمؤثر کردیں گے، لیکن ۱۹۶۲ء کے دستور کے تحت ان کے اپنے طے کردہ نظام کے ذریعے جو اسمبلی وجود میں آئی، اس نے پہلا کام یہی کیا کہ قراردادِ مقاصد اور دستور پر ان چیرہ دستیوں کا نوٹس لیا۔ پہلے ہی سیشن میں ایک قرارداد اس موضوع پر آئی کہ ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت سے ہم آہنگ کیا جائے اور طویل بحث کے بعد یہ قرارداد منظور ہوگئی۔

پھر حکومت، سیاسی جماعتوں کے بارے میں ایک قانون Political Parties Act کی شکل میں لائی۔ اس قانون کو اس وقت  کے وزیر قانون سابق چیف جسٹس آف پاکستان محمد منیر نے پیش فرمایا۔ اس قانون میں سیاسی جماعتوں کے لیے شرط تھی کہ وہ پاکستان سے وفاداری کا عہد کریں گی، اور کوئی ایسی جماعت وجود میں نہیں آسکے گی، جو پاکستان کی سیکورٹی اور سلامتی کے باب میں معتبر نہ ہو۔ یہ قانون، کمیٹی کے سپرد ہوا، جس نے ترمیم کی کہ وفاداری صرف پاکستان کی سلامتی اور سیکورٹی ہی سے نہیں بلکہ پاکستان کے نظریے (Ideology of Pakistan) سے بھی ہونی چاہیے۔ ایوان میں یہ ترمیم کی گئی کہ آئیڈیالوجی کی وضاحت صاف لفظوں میں کی جائے اور اسے Islmamic Ideology کہا جائے۔ بڑی بحث کے بعد اور وزیرقانون کی بہت سی کہہ مکرنیوں کے بعد ایوان نے طے کیا کہ سیاسی جماعتوں کے قانون میں اسلامی آئیڈیالوجی سے وفاداری لازماً شامل کی جائے گی اور خود وزیرقانون جسٹس (ریٹائرڈ) محمدمنیرصاحب نے کئی راتوں کے غوروفکر کے بعد ایوان میں بیان دیا کہ خیال رہے کہ قانون میں اسلامی آئیڈیالوجی کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

جسٹس (ر) محمد منیرصاحب نے اور دوسرے وزرا نے پہلے بل کو اصل شکل میں منظور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن ایوان میں کی جانے والی تقاریر اور ارکان کے موڈ کو دیکھتے ہوئے پسپائی اختیار کی اور بالآخر ’اسلامی نظریے‘ سے وفاداری قانون کا حصہ بنی۔ جسٹس (ر) محمد منیرصاحب کی تقاریر سے دو اقتباس صورتِ حال کو سمجھنے میں بڑے معاون ہوں گے۔

۱۱ جولائی ۱۹۶۲ء کو بحث کا رُخ دیکھ کر انھوں نے فرمایا:

جناب عالی! اصل میں لفظ آئیڈیالوجی موجود نہیں ہے۔ جب میں بل کو ڈرافٹ کر رہا تھا میں نے اس سوال پر غوروخوض کیا کہ آیا لفظ آئیڈیالوجی آنا چاہیے یا نہیں؟ بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ اس لفظ کو……… نہ کروں۔ کیونکہ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ان الفاظ، یعنی نظریۂ پاکستان کی تعریف کرنا بہت مشکل ہوجائے گا لیکن سلیکٹ کمیٹی نے اس لفظ کو شامل کردیا ہے اور اب ایک ترمیم لائی گئی ہے کہ الفاظ آئیڈیالوجی آف پاکستان کی تعریف بطور اسلام کی جائے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس بارے میں بے تعلق ہوں کہ لفظ آئیڈیالوجی ہونا چاہیے، یا نکال دینا چاہیے، یا اس کی تعریف بطور اسلام کی جانی چاہیے۔ میں یہ بات ایوان پر چھوڑتا ہوں۔

ایوان نے پورے زور و شور سے ’اسلامی نظریہ‘ کو قانون میں شامل کیا اور پھر جسٹس (ر) محمدمنیرصاحب جنھوں نے پنجاب کے فسادات پر کورٹ آف انکوائری رپورٹ میں اسلام اور اسلامی ریاست کے تصور پر تیر چلائے تھے، ترمیم کے بارے میں ہاں کہنے پر مجبور ہوئے۔ یہ اور بات ہے کہ ۱۵ برس بعد اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں نہ صرف یہ کہ ایک بار پھر اپنی پرانی پوزیشن کا اعادہ کیا بلکہ قائداعظم کے الفاظ تبدیل کرکے انھیں سیکولرزم کا حامی بنا کر پیش کیا۔  ’نظریۂ پاکستان‘ کو جنرل ضیاء کی اختراع قرار دیا اور قراردادِ مقاصد کو قائداعظم کے تصورِ پاکستان کے منافی ارشاد فرمایا۔ لیکن دیکھیے یہاں کیا فرماتے ہیں:

میں نے اس معاملے پر گہرا غوروفکر کیا ہے اور میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ آئیڈیالوجی کے الفاظ کو شامل کرنا کسی بھی طرح اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو متاثر نہیں کرے گا اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ اقلیتوں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنی جماعتیں اس شرط کے ساتھ قائم کرسکیںکہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ایسے پروپیگنڈا میں تبدیل نہ کردیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں۔ یہ سب ………… پر منحصر ہے کہ وہ لفظ اسلامی چاہتے ہیں یا نہیں۔

ایک رکن اسمبلی جناب محبو ب الحق نے سابق جج صاحب کو یاد دلایا کہ منیر رپورٹ کے ص۲۰۱ پر انھوں نے اس سے مختلف بات کی ہے لیکن اسپیکر نے اعتراض کو رد کر دیا اور کہا کہ وہ ذاتی ریفرنسوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لیکن تاریخ نے اس منظر کو محفوظ کرلیا۔ بلاشبہہ عزت و ذلت کے باب میں اللہ تعالیٰ کا اپنا قانون ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔ اس کے بعد جلد ہی جسٹس (ر) منیرصاحب نے وزارتِ قانون سے دستبرداری اختیار کرلی۔

قرآن و سنت کی روشنی میں تمام قوانین کی تبدیلی کی قرارداد اور سیاسی جماعتوں کے قانون میں ’اسلامی نظریہ‘ کا اضافہ دراصل قراردادِ مقاصد کی اصل روح کا اعادہ تھے اور یہ دونوںجنرل ایوب خان اور ان کے سیکولر حواریوں کے منہ پر ایک طمانچے سے کم نہ تھے۔ فوجی حکمرانی کے تمام تر کروفر کے باوجود انھیں یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔ ان تبدیلیوں کے بعد اگلا مرحلہ خود دستور میں ترمیم کے ذریعے قراردادِ مقاصد سے انحراف کے باب میں جو اقدام کیے گئے تھے ان کی اصلاح کا تھا۔ یہ کام بھی قوم کے دبائو میں اسمبلی نے شروع کر دیا اور بالآخر ۱۹۶۲ء کے دستور میں ترامیم کرنے کے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ایوان نے قراردادِ مقاصد کے حدود اللہ کے دائرے میں اختیارات کے استعمال کی شق جسے خارج کردیا تھا، اسے بحال کرایا گیا۔ مملکت کا نام دوبارہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ قرار دیا گیا۔ قرآن و سنت سے متصادم قانون سازی پر پابندی کی دفعہ کو بھی بحال کیا گیا اور کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کو بھی ایک دستوری ادارے کے طور پر دوبارہ قائم کیا گیا۔   اس طرح قراردادِ مقاصد پر جو حملہ ہوا تھا اسی اسمبلی نے جو فوجی آمر کی منشا کے مطابق وجود میں آئی تھی اس کو غیر مؤثر کردیا اور سیکولر لابی ہاتھ مَلتی رہ گئی۔

اُوپر کی گزارشات سے دو باتیں واضح ہوجاتی ہیں : ایک یہ کہ قراردادِ مقاصد تحریکِ پاکستان کے مقاصد کی ترجمان اور پاکستانی قوم کے جذبات، احساسات، عزائم اور تصورات کا مظہر ہے۔  یہ قوم اور ریاست کے درمیان اللہ کو گواہ کر کے ایک معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے، اور دستور، حکمران اور تمام ریاستی ادارے بشمول مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اس کے تابع ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس میں تبدیلی یا اس سے انحراف قوم کے لیے کسی شکل میں بھی قابلِ قبول نہیں۔ دستور کے لیے اس کی حیثیت ماں کی سی ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قرارداد دستور کی صورت گر ہے، دستور کے تابع نہیں۔ اس کے دیے ہوئے اصول و احکام ہی دستور کا اصل جوہر ہیں اور ان کی تنسیخ یا ترمیم اس قوم کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔ اس سلسلے میں جو بھی کوشش ماضی میں ہوئی وہ ناکام رہی اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ گیلپ، پیو (PEW) اور NDI کے زیراہتمام کیے جانے والے تمام ہی عوامی جائزے اس ایک بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی آبادی کی عظیم اکثریت (۸۰ سے ۹۰ فی صد) اُس نظام کے حق میں ہے جس میں شریعت کی بالادستی ہو۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل اپنے دین کے مطابق کرنا چاہتے ہیں اور شریعت ہی ان کے لیے زندگی کی اصل شاہ راہ ہے۔

قراردادِ مقاصد بہارتی قرارداد کا چربہ ؟

فاضل جج جناب ثاقب نثار صاحب نے اپنے اضافی نوٹ میں جہاں بھارت کی دستوری تاریخ اور وہاں کے دستوری ڈھانچے کے تصور کے ارتقا اور موجود دستوری پوزیشن کا بڑی محنت اور بالغ نظری سے جائزہ لیا ہے وہیں قراردادِ مقاصد اور پاکستان کے دستور کے بارے میں کئی ایسی باتیں کہی ہیں جن پر کلام کی ضرورت ہے۔ اختلاف راے زندگی کی بڑی مقدس روایت ہے اور     ہم اختلافی آرا کے احترام کے قائل ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جو باتیں حقائق کے منافی ہوں یا حالات کی غلط تعبیر کا ذریعہ بن رہی ہوں، ان پر گفتگو اور احتساب کا عمل روک دیا جائے۔ اصلاحِ احوال کے لیے ایسے اُمور پر بحث و تنقید فکری اور تہذیبی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ہم ان چند اہم اُمور کے بارے میں اپنی گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے اُٹھائے ہیں اور خود ان کو اور   اہلِ علم کو دعوت دیتے ہیں کہ ان اُمور پر حقائق اور دلائل کی روشنی میں اپنی اپنی راے قائم کریں۔

ان کی یہ بات درست ہے کہ قراردادِ مقاصد اور اس میں بیان کردہ اصول و احکام اور ۱۹۷۳ء کے دستور میں، جیساکہ وہ اگست ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا تھا، بہت سے تضادا ت تھے۔ ان کی یہ بات بھی درست ہے کہ دستور میں کئی ترامیم اس کا حلیہ بگاڑنے اور انسانی حقوق اور عدلیہ کے حقوق پر دست درازی کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بنیں۔ پھر ان کی یہ راے بھی درست ہے کہ حالیہ ترامیم جن میں ۱۸ویں ترمیم خصوصیت سے قابلِ ذکر ہے، تضادات کو کم کرنے اور دستور کو بحیثیت مجموعی بہتر بنانے کا ذریعہ بنی ہیں۔

قراردادِ مقاصد کی تعبیر اور اس کے مقام کے تعین میں گو ہمیں کوئی ابہام نہیں لیکن ہمیں اس کا اعتراف ہے کہ اس باب میں ایک سے زیادہ آرا ہوسکتی ہیں اور دلیل کی بنیاد پر ان پر بحث اور مکالمہ ہونا چاہیے لیکن جن اُمور کے بارے میں ہم شدید اضطراب کا شکار ہیں ان میں سرفہرست ان کا یہ دعویٰ ہے کہ قراردادِ مقاصد پاکستان کی اپنی سوچ اور تخلیق نہیں بلکہ اس کا سلسلۂ نسب بھارت کی جنوری ۱۹۴۸ء کی بھارتی قراردادِ مقاصد سے جاملتا ہے جو پنڈت نہرو نے پیش کی تھی ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی قرارداد اپنے عنوان اور مندرجات کے اعتبار سے بھارتی قرارداد کا چربہ ہے۔

بلاشبہہ وہ قراردادِ مقاصد کے پہلے پیراگراف کو جس میں حاکمیت الٰہیہ کا اقرار ہے، تعریف و توصیف کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اسے بانیانِ پاکستان کے تصور کا عکاس تسلیم کرتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی حاکمیت کے تصور کو مؤثرانداز میں پیش کرتا ہے، اور اس امر کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں عوام کے کلیدی کردار اور اقتدار کے ایک امانت ہونے کا تصور موجود ہے (پیراگراف ۱۲۳ اور ۱۲۴)۔ لیکن اس اعتراف کے معاً بعد وہ یہ سوال اُٹھا دیتے ہیں کہ اس ابتدائیے اور اس کے بعد کی دفعات کی حیثیت مساوی نہیں ہے۔ ان ہی کے الفاظ میں ان کے اشکال اور دعویٰ کو دیکھ لیجیے:

تاہم بقیہ قرارداد کو بھی یہی حیثیت دینا واضح طور پر تاریخی ریکارڈ سے بہت دُور تک بہک جانا ہے۔ قراردادِ مقاصد کی تصوراتی بنیادیں اور مشتملات جو (۱۲ مارچ ۱۹۴۹ئ) کو منظور ہوا، جب کہ قائداعظم رحلت فرما چکے تھے، نہ پاکستان کے لیے منفرد ہیں اور  نہ بلاشبہہ قرارداد کی رسمیات ملک کے اندر…(ص ۱۲۴)

ان کا دعویٰ ہے کہ پنڈت نہرو نے بھارت کی دستور ساز اسمبلی میں جو قراردادِ مقاصد  پیش کی اور جو ۲۰جنوری ۱۹۴۸ء کو وہاں منظور کی گئی وہ پاکستان کی قرارداد کا منبع ہے اور پاکستانی قرارداد کی ہیئت (structure) حتیٰ کہ اس کے مندرجات (content)بھی بھارت کی قرارداد سے مستعار ہیں اور گویا اس کا ہی چربہ ہیں۔

عنوان کا اشتراک اور ہیئت کس طرح دو قراردوں، دو قوانین کو ایک جیسا یا ایک دوسرے کا چربہ بنا دیتے ہیں، ہمارے لیے اس کا سمجھنا بہت مشکل ہے۔

پاکستانی اور بہارتی قرارداد کا موازنہ

دستور کا لفظ دنیا کے ۲۰۰ دساتیر میں مشترک ہے۔ سول لا، کریمنل لا، کمرشل لا، نہ معلوم کتنے قوانین ہیں جن کے عنوان، ہیئت اور الفاظ تک سیکڑوں ملکوں کے قوانین میں مشترک ہوتے ہیں لیکن محض اس ظاہری مماثلت سے وہ قانون نہ ایک دوسرے کا چربہ بن جاتے ہیں اور نہ ان کی انفرادیت اس سے متاثر ہوتی ہے بشرطے کہ ان کا اپنا مقصد واضح اور مؤثر ہو۔ دونوں کو ’قراردادِ مقاصد‘ کہنے سے بعد کی قرارداد پہلی قرارداد کا سایہ اور طفیلی کیسے بن گئی؟ ہمارے لیے یہ ایک معما ہے۔ ہاں، مندرجات، اصولوں اور احکام کی بات دوسری ہے اور ان میں مکمل مماثلت شبہات کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے آیئے اپنی توجہ مندرجات پر مرکوز کریں اور دونوں کا موازنہ کر کے دیکھیں کہ ان میں مشترکات کیا ہیں اور کون سی چیزیں ان کو ایک دوسرے سے مختلف اور ممتاز کرتی ہیں:

                ۱-            ہندستانی قراردادِ مقاصد میں آٹھ دفعات ہیں اور پاکستانی قرارداد مقاصد میں ۱۲ دفعات ہیں۔

                ۲-            پاکستانی قرارداد کا آغاز تصورِ کائنات، تصورِ حیات اور حکمرانی کے اصول و آداب کے ایک واضح تصور سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، انسان کی خلافت، اقتدار کے امانت ہونے اور اسے عوام کے منتخب نمایندوں کے ذریعے مگر اللہ کی دی ہوئی حدود کے دائرے میں استعمال کیے جانے کے محکم اصول کے اثبات سے ہوتا ہے۔ بھارت کی قرارداد میں کسی تصورِ حکمرانی کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ سیدھے سیدھے ہندستان کو ایک آزاد، خودمختار ریاست قرار دیتے ہوئے دستورسازی کے لیے ہدایت دیتی ہے۔ مستقبل کے وژن کا کوئی پرتو یا کسی خاص نظریاتی منزل کا کوئی اشارہ اس دیباچے میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اصل دستور میں شامل نہیں کیا گیا اور ایک دوسرا دیباچہ لکھا گیا جیساکہ ہم بعد میں عرض کریں گے۔

                ۳-            پاکستانی قرارداد میں اسلام کو حکمرانی ہی نہیں زندگی کے پورے نظام کے لیے رہنما اصول اور مسلمانوں کو اسلامی نظامِ حیات کی تعلیم اور ان کے مطابق زندگی کی صورت گری کے اہتمام اور اس کے لیے ریاستی وسائل کے استعمال کا حکم دیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی کوئی بات ہندستان کی قرارداد میں دُور دُور تک نہیں ہے۔

                ۴-            ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستانی قرارداد کی زبان اور انداز اللہ کی حاکمیت کے ساتھ ایک نئے نظام کے قیام کا اعلان کرتا ہے اور یہ نظام عوام کی مرضی اور عزائم کے اظہار کی شکل اختیار کرنے پر قانع نہیں ہوتا بلکہ تبدیلی کے ایک رُخ کو متعین کرتا ہے اور اس سمت میں پیش رفت کے لیے حکمیہ انداز میں (command and direction) اختیار کرتا ہے۔ پوری قرارداد میں اندازِ حاکمانہ ہے کہ ریاست اور اس کے تمام اداروں کو کیا کرنا ہے۔ ہندستان کی قرارداد روایتی انداز میں دستور میں کچھ چیزوں کو سمونے اور حاصل کرنے تک محدود ہے، جب کہ پاکستان کی قرارداد کا ہرجملہ ایک نئے نظام کے قیام کی دعوت کے ساتھ واضح ہدایت اور حکم کا انداز لیے ہوئے ہے اور تبدیلی کا پیغام دے رہا ہے۔

                ۵-            غیرمسلموں اور اقلیتوں کے سلسلے میں پاکستانی قرارداد میں دو دفعات ہیں، جب کہ ہندستانی قرارداد میں صرف ایک دفعہ ہے۔

                ۶-            پاکستانی قرارداد میں عدلیہ کی آزادی اور اس کے تحفظ کا واضح ذکر ہے، جو ہندستانی قرارداد میں موجود ہی نہیں ہے۔

                ۷-            عوام کے سرچشمۂ اختیار، حکمرانی کا ذریعہ اور نمایندگی کے اصول کا جتنا واضح بیان پاکستانی قرارداد میں ہے وہ ہندستان کی قرارداد میں نہیں۔ پاکستانی قرارداد میں ابتدائیہ ہی میں کہا گیا ہے کہ:’’یہ اختیار جو پاکستان کے عوام استعمال کر یں گے ‘‘۔

                                دوسری دفعہ میں اس پوری قرارداد کو عوام کی آواز قرار دیا گیا ہے، یعنی:’’یہ پاکستان کے عوام کی مرضی (will) ہے کہ ایک نظام…… قائم کیا جائے‘‘۔

پھر تیسری دفعہ میں اس اصول کو ایک محکم قدر (value) کی حیثیت سے طے کردیا گیا ہے کہ:’’جہاں ریاست اپنا اقتدار و اختیار عوام کے منتخب نمایندوں کے ذریعے استعمال کرے گی‘‘۔

عوام کے کردار کے بارے میں یہ تین واضح احکام ہیں۔ ہندستانی قرارداد کا انداز ہی بالکل مختلف ہے۔ اس میں دوسری اور تیسری دفعہ علاقوں اور بائونڈریز کے ذکر سے بھری ہوئی ہیں اور عوام کا ذکر صرف چوتھی دفعہ میں آیا ہے اور وہ بھی اس اعلان کی شکل میں کہ ساری قوت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ منتخب نمایندوں کے ذریعے نظامِ حکومت کے چلانے کا جو واضح اعلان پاکستانی قرارداد میں ہے وہ ہندستانی قرارداد میں نہیں ملتا۔

                ۸-            دو دفعات ایسی ہیں کہ جن میں کچھ لفظی مشابہت پائی جاتی ہے، یعنی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت کے بارے میں۔ لیکن یہ وہ مسائل ہیں جن کے بارے میں دنیا کے تمام دساتیر’یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس‘، ’یوروپین کنونشن آف ہیومن رائٹس‘،   ’بل آف رائٹر‘ سب ہی میں تھوڑے بہت تغیر و تبدل کے ساتھ ایک جیسی اصطلاحات اور الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس نوعیت کی مماثلت کو چوری اور نقالی قرار دینا حق و انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہندستانی قرارداد میں مختلف انسانی حقوق کا ذکر ہے لیکن انسانی حقوق بحیثیت ایک تصور اور مرکزی اور اوّلین concept کے اس میں موجود نہیں ،  جب کہ پاکستانی قرارداد کے الفاظ زیادہ مؤثر اور واضح ہیں اور الفاظ کی ترتیب اہمیت رکھتی ہے کہ آغاز ہی میں بنیادی حقوق کے جامع تصور کو بیان کیا گیا ہے اور مختلف حقوق کا ذکر بعد میں ہے۔  یہ الفاظ غورطلب ہیں:

جہاں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی بشمول…………

ہندستانی قرارداد میں fundamental rightکی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی اور پاکستانی قرارداد میں including کے لفظ نے بڑی وسعت دے دی ہے۔ جن حقوق کا فرداً فرداً ذکر کیا گیا ہے ان کی ضمانت تو بلاشبہہ دی جارہی ہے مگر حقوق ان کے علاوہ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس طرح عدلیہ اور مقننہ دونوں کو حقوقِ انسانی کے ایک وسیع تر تصور کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

کم از کم یہ آٹھ پہلو ایسے ہیں جن کی روشنی میں پاکستانی قرارداد کا ہندوستانی قرارداد سے مختلف ہونا صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستانی قرارداد کی اپنی منفرد شخصیت ہے۔ حاکمیت الٰہیہ،   اللہ کی طے کردہ حدود کے اندر انسانی اقتدار کی کارفرمائی، اقتدار کا امانت ہونا، مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے لائق بنانے کی دستوری ذمہ داری وہ چیزیں ہیں جو پاکستانی قرارداد کو ایک نظریے کی علَم بردار اور تبدیلی کی واضح سمت کو متعین کرنے والی بنا دیتی ہے۔ ہندستانی قرارداد میں ایسی کوئی چیز نہیں۔

دوسری چیز ایک واضح نئے نظام کے قیام کا تصور اور اس کے لیے حکمی انداز (command and direction) کا رنگ غالب ہے جو ہندستانی قرارداد، اس کی زبان اور انداز میں نہیں پایا جاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں وہاں کی قراردادِ مقاصد کو دستورسازی کے لیے ایک ابتدائی ہدایت تو ضرور سمجھا گیا لیکن اسے بجاطور پر اس لائق نہیں سمجھا گیا کہ نئے ہندستانی دستور میں وہ دستور کے دیباچے کے طور پر شامل کی جائے ، جب کہ پاکستانی قراردادِ مقاصد کی ایک مستقل اہمیت ہے۔ وہ ایک وقتی ہدایت نہیں، ایک مستقل مشعلِ راہ ہے اور اسے دستور کا نہ صرف دیباچہ بنایا گیا ہے بلکہ اس کو بالآخر دستور کا ایک قابلِ نفاذ حصہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ ہندستانی قرارداد اس لیے بھی دستور کے مقدمے کے لیے ناموزوں تھی کہ اس میں فیڈریشن کا جو تصور دیا گیا ہے، دستور کے برعکس ہے۔ قرارداد کی دفعہ تین میں ملک کی مختلف ریاستوں اور یونٹس کے بارے میں یہ اصول بیان کیا گیا تھا کہ:

خودمختار یونٹوں کی حیثیت بشمول residency اختیارات پر قابض ہوگی اور برقرار رکھے گی۔(درگا داس باسو، ایس سی، جلد۱،ص ۳۴)

دستور میں اس اصول کو تبدیل کردیا گیا ہے اور فیڈریشنوں میں شامل ہونے والی یونٹس کے residency powers کے حق کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ residency power کو  صوبوں کی جگہ مرکز کو دے دیا گیا۔ اس واضح تضاد کی موجودگی میں اس قرارداد کو دستور کا دیباچہ کیسے بنایا جاسکتا تھا۔ (ملاحظہ ہو: کمنٹری آف دی کونسٹی ٹیوشن آف انڈیا،درگا داس باسو،……… کلکتہ ۱۹۵۵ئ، جلد۱، ص ۳-۴)

بہارتی قراردادِ مقاصد:بہارتی دانش ور کا تبصرہ

پاکستان کی قراردادِ مقاصد کی ’ولدیت‘ ہندستان کی قررداد کی طرف منسوب کرنا تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور دونوں قراردادوں کے مختلف مزاج اور کردار سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ ضمناً یہ بھی عرض کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ بھارتی قرارداد تو کیا وہاں تو پورے دستور کے بارے میں ہندستان کے اپنے قانونی ماہرین جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ کوئی دوسری ہی داستان سناتے ہیں۔ ہندستانی دستور کا مشہور شارح درگا داس باسو اس سلسلے میں لکھتا ہے کہ:

جس نے دنیا بھر کے تمام معلوم دساتیر کو اچھی طرح کھنگالنے (drain)کے بعد یہ ڈرافٹ تیار کیا۔

باسو کی نگاہ میں ہندستانی دستور کا بڑا ماخذ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء ہے۔ وہ کہتا ہے:

اس لیے دستور کے ۷۵ فی صد کا آغاز تجربے کی روشنی میں کی گئی تبدیلیوں کے ساتھ اسی ایکٹ سے ہوا ہے۔

باسو مزید لکھتا ہے کہ:

نظریاتی حیثیت، یعنی بنیادی حقوق امریکا کے دستور سے اخذ (inspired) کیے گئے ہیں۔ بعد کے دستور میں اضافوں کی دفعات آئرلینڈ سے متاثر ہیں۔ وفاقی حیثیت سے متعلق اُمور کینیڈا کے دستور سے سادہ انداز میں لیے گئے ہیں۔

پنڈت نہرو والی قراردادِ مقاصد اس لائق ہی نہ تھی کہ اسے دستور کا دیباچہ بنایا جائے، اس میں کوئی وژن موجود نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستان کے دستور میں جو دیباچہ دیا گیا ہے، اس میں پہلی قراردادِ مقاصد سے ہٹ کر ایک وژن اور نظریہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی اوّلین شکل میں فرانس کے Justice, Liberty and Fraternity کے نعروں کو شامل کیا گیا تھا اور ملک کو sovereign democratic قرار دیا گیا تھا لیکن وژن بھی خام تھا۔ اس لیے نظریاتی حیثیت کو مزید اُجاگر کرنے کے لیے Republic کی ضرورت محسوس ہوئی اور دستور میں ۱۶برس بعد ۱۹۷۶ء میں ۴۲ویں ترمیم کے ذریعے socialist, secular کا اضافہ کیا گیا (جج صاحب نے پیراگراف ۱۲۷ میں جو دیباچہ دیا ہے وہ ترمیم سے پہلے کا ہے)، جب کہ پاکستان میں قراردادِ مقاصد نے ۱۹۴۹ء ہی میں ملک کی نظریاتی حیثیت کو بالکل واضح کردیا تھا اور پاکستان کے پہلے دستور (۱۹۵۶ئ) میں قراردادِ مقاصد دستور کے تاج کے طور پر بطور دیباچہ شامل ہوئی اور ملک نے بڑے اعتماد سے اپنے کو Islamic Republic of Pakistan قرار دیا ہے۔

اس نظریاتی اعلان سے ہندستان کو اپنے سیکولر اور سوشلسٹ ہونے کا خیال آیا اور دیباچے میں ترمیم کر کے sovereign democratic سے پہلے socialist secular کا اضافہ کیا اور قسطوں میں اپنی شناخت کا اظہار کیا۔

قراردادِ مقاصد اور نظریاتی تشخص

محترم جسٹس ثاقب نثار صاحب ہندستان کے دستور کو اس اعتبار سے بھی زیادہ معتبر اور محترم قرار دیتے ہیں کہ اسے ہندستان کی تحریکِ آزادی کے قائدین نے مرتب کیا اور پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے دستور کے بارے میں ان کی تشویش ہے کہ اسے جس قیادت نے مرتب کیا وہ دوسری نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے ۱۹۷۳ء کے دستور کو وہ تقدس حاصل نہیں جو ہندستان کے دستور کو حال ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ قراردادِ مقاصد جسے پاکستان کے بانیان نے مرتب کیا اور قائداعظم کے اقوال اور تحریکِ پاکستان کے دوران جو وعدے انھوں نے مسلم عوام سے کیے تھے  ان کے مطابق مرتب کیا گیا اسے وہ معتبر ماننے میں تردّد محسوس فرماتے ہیں۔ لیاقت علی خان نے قراردادِ مقاصد پیش کرتے ہوئے پہلی بات یہی کہی تھی کہ قائداعظم کے تصور کے مطابق پیش کی جارہی ہے۔دوسرے قائدین نے بھی اس کا برملا اظہار کیا خصوصیت سے مولانا شبیراحمد عثمانی نے۔ وہ اس دستور سازاسمبلی میں کہتے ہیں………… سب تحریکِ پاکستان کی روحِ رواں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قراردادِ مقاصد نے بعد کے دساتیر کو بھی معتبر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے دستور میں بھی قراردادِ مقاصد کے بعد دیباچے میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان کے نظریاتی اور تاریخی تشخص کا عکاس ہے اور پاکستان کو تاریخ تحریکِ پاکستان سے مربوط کرتا ہے:

لہٰذا ہم جمہور پاکستان قادرِ مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ، پاکستان کی خاطر عوام کی دی ہوئی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدلِ عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی،   اس جمہوریت کے تحفظ کے لیے وقف ہونے کے جذبے کے ساتھ جو ظلم و ستم کے خلاف عوام کی اَن تھک جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔

اس عزم بالجزم کے ساتھ کہ ایک نئے نظام کے ذریعے مساوات پر مبنی معاشرہ تخلیق کرکے اپنی قومی وحدت اور یک جہتی کا تحفظ کریں۔

بذریعہ ہذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمایندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کر کے اسے قانون کا درجہ دیتے ہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں۔

قراردادِ مقاصد اور اس کے بطورِ تتمہ اس اضافے کا موازنہ ہندستان کی ۱۹۴۸ء کی قراردادِ مقاصد اور ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۷ء کے دستوری دیباچوں سے کریں تو زندگی، سیاست اور حکمرانی کے دو مختلف تصورات (paradigms) کا منظر سامنے آتا ہے۔ ہمارا مسئلہ دستور اور قوم دونوں میں نظریہ اور وژن کے فقدان کا نہیں ہے، نظریہ اور وژن تو موجود ہیں، مسئلہ ان کے مطابق سعی و جہد میں شدید کوتاہی کا ہے۔ نیز ایسی قیادت سے محرومی کا ہے جو اس نظریے کے وفادار ہو، دیانت دار ہو اور باصلاحیت بھی۔

دستور ایک انسانی کاوش ہے اور قراردادِ مقاصد بھی آسمانی صحیفہ نہیں۔ لیکن یہ دونوں اپنی موجودہ شکل میں بڑی حد تک اس تصور اور نقشۂ کار پیش کر رہے ہیں جس پر خلوص اور محنت کے ساتھ عمل کر کے ہم اسلامی فلاحی مستقبل کی طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں۔ اصلاح اور بہتری کی گنجایش بلاشبہہ موجود ہے اور جس طرح ماضی میں کی جانے والی کئی دستوری ترامیم نے دستور کو زیادہ بہتر دستاویز بنایا ہے، اسی طرح آیندہ بھی ترمیم کا دروازہ کھلا ہے لیکن ترمیم کا مقصد دستور کو قراردادِ مقاصد میں دیے ہوئے مقصد اور وژن سے قریب تر کرنا ہو ، اس کی ہیئت کو تبدیل کرنے اور حلیہ بگاڑنے کا معاملہ نہ ہو۔ قراردادِ مقاصد اور دستور کے اصل محافظ عوام اور تمام ہی دستوری ادارے ہیں۔ذمہ داری کے مناصب پر ہر فرد، صدرِ مملکت  سے لے کر مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان تک، اور ہر سطح کے عدلیہ کے جج صاحبان سے لے کر فوج اور انتظامیہ کے ذمہ داران تک، ہر کسی کا فرض ہے کہ وہ اسلام اور دستور سے وفاداری کے عہد کوin letter and spirit   (الفاظ اور روح کے مطابق) پورا کرے۔ یہ عہد ہی ہماری منزل اورہماری ذمہ داری کو متعین کردیتا ہے لیکن کیا ہم اس عہد کے تقاضے پورے کر رہے ہیں؟

عقیدے اور نظریے کے بعد ایک قوم کی پہچان اور اس کی شناخت جس چیز سے عبارت ہے، وہ اس کی زبان اور ادب ہے۔ قومی یک جہتی اور سلامتی اور اس کی ترقی و خوش حالی ہر ایک کا انحصار نظریے پر مضبوطی سے قائم رہنے اور زبان کے ذریعے فکر وعمل کی راہیں استوار کرنے پر ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ دونوں ہماری قوت کا ذریعہ رہے ہیں۔ آج پاکستان جن حالات سے دوچار ہے، ان کے پیدا کرنے میں نظریہ اور زبان دونوں کے بارے میں ہماری غفلت اور بے وفائی کا  بڑا دخل ہے۔ استعمار کے خلاف جنگ میں ہمارے مضبوط اور مؤثر ترین ہتھیار اسلامی نظریہ اور اُردو زبان ہی تھے، لیکن آزادی کے حصول کے بعد استعمار کی فکری اور تہذیبی ذرّیت نے آہستہ آہستہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی، اس ذرّیت نے نظریے کو کمزورکرنے اور ذہنی اور فکری انتشار پیدا کرنے کے ساتھ پوری چابک دستی سے جو حربہ استعمال کیا، وہ ملک و قوم کو استعماری زبان کی گرفت میں محصور رکھنے کا تھا۔

۱۹۷۳ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مکمل قومی اتفاق راے کے ساتھ یہ طے کیا گیا تھا کہ قومی زبان اُردو ملک کی سرکاری زبان ہوگی اور تمام کاروبارِ مملکت قومی زبان میں انجام دیا جائے گا اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ ۱۵سال کے اندر مکمل کرلیا جائے گا۔ دستور کی دفعہ ۲۵۱ (۱) میں یہ حکم ’shall be‘ کے لفظ کے ساتھ دیا گیا تھا اور ۱۵سال تک انگریزی میں کاروبارِ ریاست چلانے کے معاملے کی محض اجازت اور رخصت ’may be‘ کے لفظ کی شکل میں دی گئی تھی، مگر حکمران قوتوں، خصوصیت سے بیوروکریسی، ایچی سن کالج اور انگلش میڈیم سے نکلنے والی سیاسی قیادت اور انگریزی میڈیا کے گٹھ جوڑ نے اس پورے عمل کو سبوتاژ کیا اور دستور کے نافذ ہونے کے ۴۲سال بعد بھی قوم انگریزی زبان کی غلامی میں مبتلا ہے۔ سپریم کورٹ سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں کام کرنے والے تین ججوں پر مشتمل بنچ (جسٹس دوست محمد خان، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ)نے ۸ستمبر ۲۰۱۵ء کو ایک تاریخی فیصلے میں قومی زبان کو اس کا اصل کردار دلانے کے لیے جو فیصلہ کیا ہے، وہ بڑا خوش آیند ہے۔ قومی احساسات اورعزائم کا حقیقی ترجمان ہے اور اگر اس پر دیانت اور تندہی سے عمل کیا جائے تو ہماری تاریخ میں ایک روشن اور سنہرے باب کا اضافہ کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس تاریخی فیصلے کے مختلف پہلوئوں کو قوم کے سامنے رکھیں اور اس امر کی بھی نشان دہی کریں کہ اس پر عمل کے لیے کس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس فیصلے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں دستور اور اس میں قومی زبان کے بارے میں طے کردہ پالیسی کو بڑے واضح اور واشگاف انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔ دستور نے جو باتیں طے کردی ہیں وہ یہ ہیں:

                الف:         اُردو قومی زبان ہے اور اسے ہی لازمی طور پر تمام حکومتی ، عدالتی، انتظامی اور تعلیمی دائروں میں اور ہرسطح پر استعمال ہونا چاہیے۔

                ب:           یہ ایک اختیاری امر نہیں بلکہ ایک دستوری حکم ہے جس پر ۱۵برس کے اندر اندر عمل ہوجاناچاہیے تھا۔

                ج:            انگریزی زبان میں کاروبارِ ریاست چلانے کی اجازت صرف ۱۵سال کے لیے تھی۔ اس طرح ۱۹۸۸ء کے بعد سے دستور کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے۔

                د:             قومی زبان کے ساتھ علاقائی زبانوں کی حفاظت اور ترقی بھی ایک ضروری امر ہے جس کی طرف خاطرخواہ توجہ کی ضرورت ہے۔

دستور: نظامِ حکومت ، ریاستی انتظامات اور کارروائیوں اور تعلیم کے نظام کے لیے ایک فریم ورک دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ضرورت کی مناسبت سے دوسری زبانوں، خصوصیت سے انگریزی کی تعلیم اور حسب ِ ضرورت استعمال کا دروازہ کھلا ہوا ہے مگر استعماری حکمرانوں کی زبان کو زبردستی قوم پر مسلط رکھنا دستور کے واضح احکام اور ان کے تقاضوں کے منافی ہے۔

فیصلے کا یہ بڑا ہی روشن پہلو ہے کہ جہاںاس نے انگریزی کی حسب ضرورت تعلیم اور استعمال کو تسلیم کیا ہے، وہیں اس استعماری پالیسی پر بھرپور گرفت کی ہے جس کے تحت یہ غیرملکی زبان ہمارے ملک اور قوم پر مسلط رکھی گئی ہے اور اس سے نجات کو آزادی اور استعماری حاکمیت کے شکنجوں کو توڑنے (de-colonization) کے عمل کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔ اس بارے میں جو غفلت اور مجرمانہ کوتاہی ملک کے حکمرانوں اور بااختیار طبقات نے کی ہے، اس پر قوم کی توجہ مبذول کروا کے عدالت ِ عالیہ نے ایک اہم فکری اور تہذیبی خدمت انجام دی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ دستور کی دو دفعات، یعنی دفعہ ۲۵۱ اور دفعہ ۲۸ قومی اور علاقائی زبانوں کی حیثیت اور ان کے بارے میں قومی پالیسی کو واضح کرتی ہیں اور ان پر بھرپور انداز میں اور بلاتاخیرعمل ہونا چاہیے۔ لیکن ہماری نگاہ میں فیصلے کا یہ حصہ بڑا اہم ہے کہ عدالت نے اس پالیسی کو واضح کرنے کے ساتھ بڑے صاف الفاظ میں یہ بھی بیان کردیا ہے کہ ملک میں پوری بے حسی کے ساتھ صرف ان دو دفعات ہی کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی، بلکہ کم از کم تین مزید دفعات کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور یہ سب دفعہ ۵ کی زد میں بھی آتی ہیں کہ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو، واجب التعمیل ذمہ داری ہے۔

عدالت نے متوجہ کیا ہے کہ انگریزی زبان کو قوم اور اُمورِ سلطنت کی انجام دہی کے پورے عمل پر مسلط رکھنے کا نتیجہ ہے کہ قوم ایک مفاد یافتہ طبقے اور اختیارات سے محروم عوام الناس میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ایک عام شہری کا حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ ملک کا قانون کیا ہے، عدالتی فیصلے کیا مطالبہ کر رہے ہیں، سرکاری نظام کس طرح چل رہا ہے، لیکن یہ سب ایک ایسی زبان میں ہو رہا ہے جس سے عوام کی عظیم اکثریت واقف ہی نہیں اور اس طرح ان کو عملاً کاروبارِ حکمرانی سے نکال  باہر کردیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دستور کی دفعہ ۱۴ کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ ہرشخص کی عزتِ نفس کی ضمانت دیتی ہے۔ دفعہ ۲۵ اور ۲۵-اے کی خلاف ورزی بھی ہورہی ہے جو تمام شہریوں کے درمیان مساوات اور معاملات کی انجام دہی میں یکسانی اوران کے لیے ابتدائی تعلیم لینے میں ان سب کا مطالبہ کرتی ہے۔ عدالت نے یہاں تک کہا ہے اور اس سلسلے میں عدالت ِ عالیہ کے ایک سابقہ مقدمے (PLD 2009 SC 876) کا حوالہ بھی دیا ہے کہ ملک میں جو لاقانونیت اور افراتفری ہے اس میں کہاں تک اس امر کا دخل ہے کہ ملک میں ایک مفاد یافتہ بالاتر طبقہ وجود میں آگیا ہے جو اپنے کو قانون سے بالا تصور کرتا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اُوپر سے نیچے تک لاقانونیت کا دوردورہ ہے۔ ہماری نگاہ میں قومی زبان، سرکاری معاملات میں غیرملکی زبان کی سفاکانہ حاکمیت کے نتیجے میں قوم: مفاد یافتہ طبقے اور محروم طبقات میں بٹ گئی ہے۔ قومی زبان کے باب میں دستور کے احکامات کی سرکاری سطح پر خلاف ورزی کی نشان دہی بھی اس فیصلے کے بڑا اہم پہلو ہے، جس پر پوری قوم، میڈیا اور پارلیمنٹ کو توجہ دینی چاہیے۔

عدالت نے حکومت، مرکزی اور صوبائی دونوں کو اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور بڑے دُکھ کے ساتھ اس بات کو فیصلے کا حصہ بنایا ہے کہ مقدمے کے دوران بھی حکومتوں کا رویہ غیرذمہ دارانہ اور سہل انگاری کا رہا ہے۔ صرف ۲۰۱۵ء کے سات مہینے میں ۱۴ ایسے مواقع آئے ہیں کہ عدالت کے اصرار کے باوجود حکومت اور اس کے اہل کار کم سے کم معلومات بھی فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور عدالت کو کہنا پڑا کہ: ’’یہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ دفعہ ۲۵۱ کے نفاذ کے لیے الفاظ سے زیادہ کچھ نہیں کیا گیا ہے‘‘۔

یہ حکمرانوں کے کردار کا ایک انتہائی افسوس ناک پہلو ہے اور ہمارے سیاسی نظام کے لیے ایک تازیانے سے کم نہیں۔

فیصلے میں تاریخی حقائق کے ساتھ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ قومی زبان کو سرکاری کاروبار اور تعلیم کے لیے استعمال کرنے میں اصل رکاوٹ حکمرانوں کی غفلت، غیرذمہ داری اور  فرض ناشناسی ہے۔ مشوروں، تجاویز اور منصوبوں کی یا صلاحیت کار کی کمی نہیں ہے۔ حکومت اور پارلیمنٹ اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے ہیں اور مجبوراً عدالت کو مداخلت کرکے ایسے احکام جاری کرنے پڑ رہے ہیں جو دستور کے، خصوصیت سے اس کی دفعہ ۲۵۱ اور ۲۸ کے نفاذ کے لیے ضروری ہیں، دستور اور بنیادی حقوق پر عمل کو مؤثر بنانے کے لیے عدلیہ اپنے اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے اپنے کو مجبور پاتی ہے۔

اس تاریخی فیصلے میں عدالت نے نو واضح احکام جاری کیے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:

                ۱-            آئین کے آرٹیکل ۲۵۱ کے احکامات یعنی ’’اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور صوبائی و علاقائی زبانوں کے فروغ‘‘ کو بلاغیرضروری تاخیر فوراً نافذ کیا جائے۔

                ۲-            حکومت کی جانب سے اس عدالت کے رُوبرو عہد کرتے ہوئے جولائی ۲۰۱۵ء میں اس حوالے سے عمل درآمد کی جو میعاد مقرر کی گئی ہے، اس کی ہرحال میں پابندی کی جائے۔

                ۳-            قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔

                ۴-            تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کرلیا جائے۔

                ۵-            بغیر کسی غیرضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باہمی ربط قائم کرنے والے ادارے (قومی زبان کے استعمال سے متعلق) آرٹیکل ۲۵۱ کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس آرٹیکل کا نفاذ یقینی بنائیں۔

                ۶-            وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی اداروں کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔

                ۷-            عوامی مفاد سے تعلق رکھنے والے عدالتی فیصلوں کا یا ایسے فیصلوں کا جو آرٹیکل ۱۸۹ کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازماً اُردو میں ترجمہ کروایا جائے۔

                ۸-            عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتی الامکان اُردو میں پیش کریں تاکہ عام شہری بھی اس قابل ہوسکیں کہ وہ مؤثر طریقے سے اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔

                ۹-            اس فیصلے کے اجرا کے بعد، اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہل کار آرٹیکل ۲۵۱ کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

اس فیصلے کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس نے عوام کا ایک نیا حق تسلیم کرلیا ہے، یعنی یہ کہ اگر قومی زبان کے سرکاری اُمور میں استعمال نہ کرنے کی وجہ سے کسی بھی شہری کا کوئی حق متاثر ہوا ہے یا وہ دوسروں کے مقابلے میں اس کی وجہ سے خسارے میں رہا ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے اور ہرجانے اور تلافی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اس حق کا تسلیم کیا جانا اور تلافی کے لیے دروازہ کھول دینا عدالت عظمیٰ کا بڑا ہی انقلابی اقدام ہے جس کو اب ایک عام شہری بھی استعمال کرسکتا ہے اور اس طرح حکومت پر ایک ایسا دبائو پڑسکتا ہے جو اسے خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کا ذریعہ بن سکے۔

آخر میں ہم دو باتیں اور عرض کرنا چاہتے ہیں: ایک کا تعلق پارلیمنٹ، سول سوسائٹی، سیاسی اور دینی جماعتوں اور ملک کے نظریے سے وفادار، دانش وروں، اہلِ قلم اور مؤثر افراد سے ہے کہ عدالت عظمیٰ نے بہت آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری ادا کردی ہے لیکن اس ملک کے دوسرے متعلقہ عناصر (stake holders) کیوں غافل ہیں۔ پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کررہی؟ میڈیا اس باب میں کیوں خاموش ہے؟ سیاسی اور دینی جماعتیں کیوں متحرک نہیں؟ قومی زبان کو کاروبارِ مملکت کی حقیقی زبان بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بڑا ظلم تو مقتدر قوتوں (بیوروکریسی، سیاست دان، فوجی حکمران) نے بھی کیا ہے جس نے نام تو اُردو زبان کا لیا مگر اس زبان کو جو پوری قوم کی زبان ہے اور جسے ملک کی آبادی کا ۸۰فی صد سے زیادہ حصہ سمجھتا ہے اور رابطے کے لیے استعمال کرتا ہے اور ۶۰ فی صد سے زیادہ بولنے کے لیے استعمال کرتا ہے، اسے صرف ۸ فی صد کی زبان بنا کر رکھ دیا اور ایسے تعصبات کو فروغ دیا، جنھوں نے اُردو بحیثیت قومی زبان کے کردار پر منفی اثرات ڈالے۔

کچھ افراد کی مادری زبان ہونے کے باوجود اُردو کسی خاص طبقے کی زبان نہیں بلکہ پاکستان کے تمام لوگوں کی قومی زبان ہے اور اس اعتبار سے اسے اپنا کردار زندگی کے ہرمیدان میں ادا کرنا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اسی سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ حکومت کے معاملات کے ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی اس کے کردار کی فوری فکر کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ مہم محض خواہشات سے سر نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے سب کو سرتوڑ کوشش کرنی ہوگی۔ماضی میں اس عظیم ملّی اور قومی تحریک کی رہنمائی قائداعظم نے کی، جب کہ اسے عملی تحریک بنانے میں ڈاکٹر سیّد عبداللہ کی مساعی ہماری قومی تاریخ کا روشن حصہ ہے۔

دوسری بات ہے تو کچھ سخن گسترانہ مگر اس کا اظہار بھی پوری نیک نیتی کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ جہاں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے نے ہمارے سربلند کر دیے ہیں، جس کے لیے ہم عدالت  عظمیٰ کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، وہیں فیصلے ہی میں کیے جانے والے اس اعتراف سے کیسے صرفِ نظر کرلیں کہ اُردو کے اس مقدمے کا آغاز خود عدالت ِ عالیہ میں ۲۰۰۳ء میں ہوا تھا اور پھر ۲۰۱۲ء میں دوسری پٹیشن آئی، مگر اس اعلیٰ ترین عدالت نے بھی اس اہم ترین معاملے پر فیصلہ کرنے میں ۱۲سال لیے۔ خدا بھلا کرے جسٹس جواد خواجہ اور ان کے بنچ کا کہ انھوں نے اپنے چیف جسٹس ہونے کے ۲۳ دنوں میں جہاں کچھ دوسرے تاریخی فیصلے کیے، وہاں اُردو کے اس مقدمے کو بھی کامیابی سے ہم کنار کیا اور قوم اور ملک کے لیے اپنی زبان میں اپنے معاملات طے کرنے کے اس بند دروازے کو کھول دیا، جس پر مفاد پرست طبقے اور اس کے ہم نوا دانش ور تالے لگائے ہوئے تھے اور بڑی دیدہ دلیری سے ان تالوں کی حفاظت کر رہے تھے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ عدالت نے صرف دروازہ کھولا ہے___ اس دروازے سے داخل ہونے اور اسے کھلا رکھنے کی   ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ اگر ہم سب بھی متحرک ہوجائیں تو شاید آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے استاد ذوق دہلوی کی یہ پیش گوئی ایک نئے رنگ میں پوری ہوسکے گی   ع

کہ آتی ہے اُردو زباں آتے آتے

پاکستان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک خطۂ زمین کا نام نہیں۔ پاکستان ایک نظریہ پہلے ہے اور ایک مملکت بعد میں۔۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے پاکستان نام کا کوئی خطۂ زمین دنیا کے نقشے پر موجود نہ تھا لیکن ایک نظریہ تھا ،جو ایک قوم کو اپنے نظریاتی اور تہذیبی وجود کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک خطۂ زمین پر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی ایک تاریخی جدوجہد میں سرگرم کیے ہوئے تھا۔ یہی وہ جدوجہد تھی جس کے نتیجے میں اللہ کے فضل سے، قائداعظمؒ کی قیادت میں اُمت مسلمہ پاک و ہند کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان کے تصور نے ایک خطۂ زمین کی شکل اختیار کی۔ عالمی سیاسی بساط پر ایک ایسے ملک کا رُوپ دھارا جو صرف ایک قومی ریاست (نیشن اسٹیٹ) نہیں، بلکہ اپنی اصل میں ایک نظریاتی ریاست ہے۔یہ مغرب کی لادینی لبرل جمہوریت اور ایشیا کی اشتراکی ریاست اور بھارت کی سیکولر ریاست کے مقابلے میں ایک ایسے سیاسی تصور کے مظہر کے طور پر وجود میں آئی جس میں دنیوی مسائل کو حل کرتے ہوئے الہامی ہدایت اور اخلاقی قوت کی تسخیر کے ذریعے سب کے لیے عدل و انصاف، اخوت اور بھائی چارے اور حقوق و فرائض کی پاس داری پر مبنی نظام قائم کیا جاسکے۔

پاکستان کے تمام مسائل اور مصائب کی اصل جڑ ہی یہ ہے کہ قائداعظم اور قائدملّت کے بعد ملک کی زمامِ کار پر ایسے لوگوں نے قبضہ کرلیا، جن کا کوئی عملی کردار تحریکِ پاکستان میں نہ تھا۔  ملک غلام محمد، محمد علی بوگرا، جسٹس منیر، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان ایک دوسری ہی فکر کے    علَم بردار، اورایک دوسرے ہی طرزِ زندگی کے گرویدہ تھے۔ انھوں نے نظریاتی نیشن اسٹیٹ کو محض ایک ’نیشن اسٹیٹ‘ (قومی ریاست) میں ڈھالنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں نظریاتی، معاشی اور تہذیبی کش مکش رُونما ہوئی۔ اس کش مکش نے قوم کو بانٹ دیا ہے اور وہ اصل منزل کی طرف یکسوئی اور یک جہتی سے گامزن ہونے کے بجاے مفادات کی جنگ کی آماج گاہ بن گئی ہے۔ قائداعظمؒ نے نہایت صاف الفاظ میں حصولِ آزادی کے بعد قوم کو یہی یاد دہانی کرائی تھی کہ:

ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کو آزما سکیں۔ (۱۲جنوری ۱۹۴۸ئ، اسلامیہ کالج پشاور)

۱۱؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو حکومت پاکستان کے افسروں سے خطاب میں قائداعظمؒ نے فرمایا تھا:

جس پاکستان کے قیام کے لیے ہم نے گذشتہ ۱۰ برس جدوجہد کی ہے، آج اللہ کے  فضل سے وہ ایک مسلّمہ حقیقت بن چکا ہے، مگر کسی قومی ریاست کو معرضِ وجود میں لانا مقصود بالذات نہیں ہوسکتا بلکہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہی ہوسکتا ہے۔ ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ایک ایسی مملکت کی تخلیق کریں، جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح  رہ سکیں، جو ہماری تہذیب و تمدن کی روشنی میں پھلے پھولے، اور جہاں معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور کو پوری طرح پنپنے کا موقع ملے۔

پاکستان کی طاقت کا سرچشمہ یہی وژن اور اس کو حقیقت کا رُوپ دینے کی انفرادی اور اجتماعی کوشش ہے، اور پاکستان کی کمزوری اور خلفشار کا سبب اس نصب العین اور منزل سے صرفِ نظر کرکے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے سرگرم ہونے میں ہے۔

اس مرکزی اہمیت کے مسئلے پر ہماری اور پوری قوم کی توجہ ایک بار پھر سپریم کورٹ کے  فل کورٹ (۱۷ ججوں) کے فیصلے نے مرکوز کرا دی ہے۔ اگرچہ فیصلے کا اصل موضوع دستور کی ۱۸ویں، ۱۹ویں اور ۲۱ویں ترامیم ہیں اور ان کے بارے میں اکثریتی راے سے وہ تلوار ہٹ گئی ہے جو ان ترامیم پر منڈلا رہی تھی۔ پارلیمنٹ کو بھی سُکھ کا سانس لینے کا موقع مل گیا ہے کہ ان ترامیم کو  ردّ نہیں کیا گیا۔ عدالت بھی خوش ہے کہ اس نے اپنے اختیارات سے دست برداری اختیار نہیں کی، اور دفاعی ادارے بھی سُکھ کا سانس لے رہے ہیں کہ فوجی عدالتوں میں سویلین ملزموں پر مقدمات چلانے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ کوئی اسے عدالتی تدبر (judicious statesmanship) قرار دے رہا ہے، کسی نے اسے ’عدالتی حقیقت پسندی‘ (judicial pragmatism)کا نام دے دیا ہے اور کوئی اس پر ’عدالتی موقع پرستی‘ (judicial opportunism) کی پھبتی کی تہمت دینے سے بھی گریز نہیں کر رہا۔ بظاہر فیصلہ چند قانونی اور انتظامی اُمور سے متعلق ہے، لیکن ۹۰۲ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں بڑی اہم قانونی اور نظریاتی بحثیں کی گئی ہیں۔ بڑی عرق ریزی سے جج حضرات نے اپنے فیصلے لکھے ہیں۔ آٹھ ججوں کا مرکزی اور اجتماعی فیصلہ ہے اور اِس وقت کے چیف جسٹس سمیت نو ججوں نے الگ اپنے اپنے فیصلے لکھے ہیں اور پاکستان کے نظریاتی تشخص، قراردادمقاصد کے مقام اور کردار، دستور میں کسی ناقابلِ تغیر اساس کے وجود یا عدم وجود، عدالتوں کے کردار اور پارلیمنٹ کے دستور میں ترمیم کے اختیار جیسے اہم موضوعات پر سیرحاصل بحث کی ہے۔ فیصلہ متفقہ نہیں لیکن اختلافی فیصلے (split judgement) کی وجہ سے بحث بڑی مفید، متنوع اور ہمہ جہتی ہوگئی ہے اور نقطہ ہاے نظر کے اختلاف اور امکانات کے تنوع نے سوچ بچار کے نئے گوشے وَا کرا دیے ہیں۔ یہ بات بھی باعث ِ مسرت ہے کہ بحث کا معیار بالعموم بڑا علمی اور باوقار ہے اور ان مباحث میں غوروفکر اور اختلاف و اتفاق کا بڑا سامان موجود ہے اور منظر یہ نظر آتا ہے کہ  ع

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان مباحث میں کچھ بڑے سخت مقامات بھی آگئے ہیں، جن پر نقدواحتساب، علمی بحث اور کھلے ذہن سے افہام و تفہیم کی کوشش کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے قومیں ترقی کرسکتی ہیں۔

بحث طلب بنیادی اُمور

دستور میں ۱۸ویں ترمیم اپریل ۲۰۱۰ء میں ہوئی تھی اور اس کے خلاف درخواستیں اس وقت سے عدالت کے زیرسماعت تھیں۔ دستور کی دفعہ ۱۷۵-اے کے بارے میں، جس کا موضوع اعلیٰ عدلیہ  میں ججوں کا تقرر تھا، عدالت کے ایک جزوی فیصلے کی روشنی میں پارلیمنٹ نے ۱۹ویں ترمیم کی اور اسی طرح ۱۸ویں اور ۱۹ویں دونوں ترامیم عدالت کے زیرغور آگئیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے دستوری چھتری فراہم کرنے کے لیے ’ضربِ عضب‘ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اور تینوں افواج سے متعلق خصوصی قوانین میں اور خود دستور میں ۲۱ویں ترمیم کے ذریعے تبدیلیاں کی گئیں، تاکہ ایسی فوجی عدالتیں قائم ہوسکیں جن میں سول ملزموں پر مقدمہ چلایا جاسکے۔ ان ترامیم کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور تقریباً ۳۹ درخواستیں(petitions) سپریم کورٹ میں داخل کی گئیں، جن کے بارے میں فل کورٹ کا فیصلہ ۵؍اگست ۲۰۱۵ء کو سنایا گیا ہے۔

اگر مرکزی مباحث کا تجزیہ کیا جائے تو بنیادی مسائل تین ہی تھے: یعنی اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے تقرر کا نظام اور اس میں پارلیمنٹ کا کردار، ایسی فوجی عدالتوں کا قیام کہ جن میں کچھ خاص نوعیت کے الزام میں سویلین شہریوں پر مقدمہ چلایا جائے، اور غیرمسلموں کے لیے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر تقرر کا طریقہ۔ پہلے اور تیسرے مسئلے کا تعلق ۱۸ویں اور ۱۹ویں ترمیم سے ہے اور دوسرے کا تعلق ۲۱ویں ترمیم سے ہے، لیکن بات صرف ان متعین مسائل کی نہیں تھی۔ عدالت کو زیادہ موضوعات پر بڑی گہرائی میں جاکر راے قائم کرنا پڑی اور اصل اہمیت ان بنیادی مسائل ہی نے اختیار کرلی، یعنی:

۱- کیا پاکستان کے دستور کا کوئی بنیادی ڈھانچا یا متعین اور ناقابلِ تغیر حصے ہیں جو دستور کی اساس ہیں اور جن کو تبدیل کرنے کا اختیار خود پارلیمنٹ کو بھی حاصل نہیں؟ بہ الفاظِ دیگر   دستورِ مملکت، بلاشبہہ ملک کے سیاسی اور قانونی نظام کی بنیاد ہے، لیکن زمانے کی تبدیلیوں اور نئے مسائل اور مشکلات کے پیدا ہونے سے اس میں ترمیم و تبدیلی بھی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ: دستور اگر ایک قوم اور ملک کے اجتماعی نظام کا صورت گر ہے، اور اسے قوم نے ایک بنیادی فیصلے کے طور پر طے کیا ہے، تو اس میں کن چیزوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ کون سی ایسی بنیادیں ہیں، جو قوم کی شناخت کے ان پہلوئوں کی حامل ہیں، جن کی تبدیلی سے اس کا وجود اور اجتماعی تشخص بھی مجروح ہوجاتا ہے؟ یقینا کچھ ایسے ناقابلِ تغیر حصے، اصول یا اقدار ہیں جنھیں پارلیمنٹ ترمیم کے نام پر تبدیل نہیں کرسکتی۔ ترمیم صرف جزوی معاملات کے بارے میں ہوسکتی ہے۔ اصل مقاصد کے حصول کی راہ میں اگر کچھ رکاوٹیں آرہی ہوں تو ان کو رفع کرنے کے لیے ہوسکتی ہے، لیکن قوم کے مقاصد اور نظریاتی اہداف، بنیادی حقوق اور اساسی اداروں، یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور ان کا توازن، یا ایسی ہی کچھ دوسری چیزیں ہیں، جو وجود کا درجہ رکھتی ہیں وہ ناقابلِ تغیر ہیں۔ نیز ان ناقابلِ تغیر حصوں یا اصولوں کا تعین کو ن کرے گا؟ کیا دستور خود یہ طے کرے گا یا دستور کی روشنی میں عدلیہ کا بھی اس میں کوئی کردار ہے؟

۲- اگر دستور کا کوئی بنیادی ڈھانچا یا ناقابلِ تغیر اصول، اقداراور اہداف ہیں تو پھر ان کی حفاظت کیسے ہو؟ کیا پارلیمنٹ ہی ان کی واحد ذمہ دار ہے، یا دستور کے ان پہلوئوں کی حفاظت کی ذمہ داری میں عدلیہ کا بھی کردار ہے جسے قانون کی اصطلاح میں عدلیہ کے نظرثانی کرنے کا اختیار (judicial review) کہتے ہیں؟

۳- بنیادی حقوق کو دستور میں کیا مقام حاصل ہے؟ دستور نے ہی پارلیمنٹ پر یہ پابندی لگا دی ہے کہ وہ بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی نہیں کرسکتی اور دستور نے اعلیٰ عدلیہ کو یہ اختیار دیا ہے کہ متاثر افراد کی شکایت پر یا ازخود نوٹس لیتے ہوئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نہ صرف نوٹس لے، بلکہ اگر کوئی قانون ان سے متصادم ہو تو اس کو خلافِ دستور قرار دے کر منسوخ کردے۔ لیکن کیا یہ اختیار اس صورت میں بھی حاصل ہے جب پارلیمنٹ عام قانون سازی نہیں، بلکہ کوئی ایسی دستوری ترمیم کرے جو بنیادی حقوق کو پامال کرنے یا مجروح کرنے کا سبب بن سکتی ہو؟

انسانی حقوق کی حفاظت اور عام افراد کے لیے عدل کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب عدلیہ آزاد ہو۔ کیا پارلیمنٹ ایسی قانون سازی یا دستوری ترمیم کرسکتی ہے، جو عدلیہ کی آزادی کو مجروح کردے اور اس طرح وہ دستور کی حفاظت اور بنیادی حقوق کی ضمانت کا فرض ادا نہ کرسکے۔ نیز اگر ریاست کا کوئی نظریہ ہے، جیسے پاکستان کے دستور میں ’قراردادِ مقاصد‘ اور دستور کی دفعہ۲ اور ۲-اے میں اسلام کو ملک کا مذہب قرار دیا گیا ہے اور قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی پر پابندی ہے، کیا ان حصوں میں بھی ترمیم ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور کیا دفعہ ۲-اے کے نتیجے میں قانون ہی نہیں دستور کے بارے میں بھی عدالت یہ فیصلہ دے سکتی ہے کہ اس کی کچھ شقیں قرآن و سنت سے متصادم ہیں؟ یہ سوال بھی اس سلسلے میں اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ایسی ناقابلِ تغیر چیزوں کا تعین ہوگیا ہے یا خود اس بارے میں غوروفکر کا دروازہ کھلا رہے گا اور اس فہرست میں اضافہ یا کمی ہوسکتی ہے اور اگر ہوسکتی ہے تو یہ فیصلہ کون کرے گا___ یعنی کیا پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ ہی وہ ادارہ ہے، جو   اس کو متعین کرنے کا کام انجام دے گی، یا اس میں پارلیمنٹ کا بھی کوئی کردار ہے، یا صرف پارلیمنٹ ہی یہ فریضہ انجام دے سکتی ہے؟

اس بحث میں ایک بنیادی اور مشکل سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ کیا ترمیم کے معنی معمولی اور جزوی تبدیلیاں ہیں، جو اصل مقاصد کے حصول کے لیے ضرورت کے تحت یا مشکلات کو دُور کرنے کے لیے یا نئے امکانات سے فائدہ اُٹھانے کے لیے کی جاسکتی ہیں؟ یا ترمیم کے معنی دستور کو re-writeکرنا، یا زیادہ خام لفظوں میں اس کی مکمل تنسیخ (abrogation) ،یا ایسی تبدیلیاں کرنا ہے جو اس کا حلیہ ہی بگاڑ دیں، یعنیsubversion؟ اور اگر ترمیم اور تنسیخ دو الگ الگ چیزیں ہیں تو یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کیا جو ترامیم کی گئی ہیں ان میں کہاں معاملہ صرف ترمیم کا ہے اور کہاں بات تخریبی (subversive)  حد تک پہنچ گئی ہے اور کہاں بات تنسیخ یا معطل کرنے (suspension) کی صورت اختیار کر گئی ہے؟

۴-  ایک اور اہم مسئلہ وہ ہے جس کا تعلق ’نظریۂ ضرورت‘ سے ہے۔ جسٹس محمدمنیر کے زمانے سے آج تک یہ آسیب باربار سایۂ فگن رہا ہے۔ ملک غلام محمد کے پہلی دستوریہ کو تحلیل کرنے سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے دستور کو معطل کرنے تک، دستور پر بار بار یہ شب خون مارا گیا ہے، اور ہربار اعلیٰ عدالتوں نے ’نظریۂ ضرورت‘ کا سہارا لے کر ایسے اقدام کو جواز اور اعتبار (validation) فراہم کیا ہے اور پارلیمنٹ نے بھی بعد میں بہ امر مجبوری انھیں تحفظ دیا ہے، لیکن عدالت ِ عظمیٰ ہی نے کم از کم دوبار دوٹوک الفاظ میں ’نظریۂ ضرورت‘ کی نفی کی ہے۔ دستور کو منسوخ کرنے یا محض معطل کرنے کو اختیارات کا بدترین استعمال کہا ہے اور اسے کسی بھی قسم کا قانونی تحفظ فراہم کیے جانے کو بھی وطن دشمنی یا غداری (high treason) قرار دیاہے، اور اس کے مرتکب کو غاصب (usurper) کہا ہے۔

اسماء جیلانی کیس میں چیف جسٹس حمودالرحمن کی صدارت میں عدالت نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا (۱۹۶۹ئ-۱۹۷۱ئ) کو ایسا ہی جرم قرار دیا تھا، اور ایک مقدمے میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں فل کورٹ نے ’نظریۂ ضرورت‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا اعلان کیا تھا۔ خود پارلیمنٹ نے ۱۸ویں ترمیم کے ذریعے دفعہ۶ میں مزید ترمیم کر کے ’نظریۂ ضرورت‘    سے براء ت کا اعلان کیا تھا، لیکن کیا فی الحقیقت ’نظریۂ ضرورت‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا ہے؟ کیا بظاہر اس کا دروازہ بند کیا گیا ہے، مگر کھڑکی یا روشن دان کھلے ہیں، جن سے اس کے داخل ہوجانے یا دَر آنے کے امکانات موجود ہیں؟

یہ وہ بڑے ہی بنیادی مسائل ہیں جن پر اس موجودہ فیصلے میں معرکہ آرا بحثیں کی گئی ہیں، گو کوئی متفقہ فیصلہ نہیں آسکا۔ تاہم، اکثریتی اور اقلیتی فیصلوں کی شکل میں بحث کے تمام ہی اہم گوشے منقش ہوکر سامنے آگئے ہیں اور اس طرح اختلاف راے کے آئینے میں امکانات کی شکلیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

فیصلے کے اھم نکات

اگر ہم فیصلے کا خلاصہ پیش کریں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ:

(الف) اکثریت نے دبے لفظوں میں یہ تسلیم کرلیا ہے کہ دستور کے کچھ حصے اور کچھ اصول اور اقدار جن پر دستور مبنی ہے وہ ناقابلِ تغیر ہیں۔ بھارت میں جس انداز میں بنیادی ڈھانچے کے نظریے کو دستوری اصولِ قانون (constitutional jurisprudence) کا حصہ بنا دیا گیا ہے  وہ کیفیت تو ہماری عدالت کے فیصلے میں نظر نہیں آتی، مگر اصول کی حد تک الفاظ بدل کر دستور کے بنیادی خدوخال (salient features) کی بات کو اکثریت نے تسلیم کیا ہے۔

(ب) اُوپر جس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے، اس کا لازمی تقاضا ہے کہ اس باب میں پارلیمنٹ کے اختیارات بسلسلہ ترمیم دستور کی تحدید ہوجاتی ہے، اور اس حد تک اعلیٰ عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ دستوری ترامیم پر بھی نظرثانی کرسکے، جس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اگر وہ کسی ترمیم کو دستور کے بنیادی خدوخال سے متصادم پائے تو اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

(ج) دستور کے بنیادی خدوخال کیا ہیں___ اس بارے میں کچھ نکات کو فیصلے کے مختلف حصوں میں بیان کیا گیا ہے، لیکن کوئی جامع فہرست اور مکمل تصویر نہیں دی گئی۔ بنیادی حقوق کا تحفظ اور عدلیہ کی آزادی اور حقوق اور دستور کی حفاظت کے باب میں اس کے کردار کو واضح طور پر دستور کے بنیادی خدوخال کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ اسلام کو ملک کا مذہب تسلیم کرنے اور اس کے وجود کی اصل وجہ (raison d'etre) تسلیم کرنے کے باوجود کھل کر اسے دستور کے بنیادی خدوخال میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بلاشبہہ اس کا انکار نہیں کیا گیا ہے اور چند محترم جج صاحبان نے اپنے انفرادی فیصلے میں ’قرارداد مقاصد‘ اور دستور کی اسلامی دفعات کو بنیادی خدوخال کا حصہ قرار دیا ہے، خصوصیت سے جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس دوست محمد خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحبان نے بلاواسطہ یا بالواسطہ انداز میں قراردادِ مقاصد اور دفعہ۲- اے کو ایک مرکزی اہمیت دی ہے۔ آٹھ ججوں کے مشترک فیصلے میں اس کو بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے، حالانکہ عدالت کے دستوری ترمیم پر نظرثانی کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جناب جسٹس ثاقب نثار نہ عدالت کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں اور نہ قرارداد مقاصد کوکوئی مستقل اور فیصلہ کن کردار دینے کا عندیہ دیتے ہیں، بلکہ ان کے فیصلے میں ’قراردادِ مقاصد‘ کا قد کاٹھ کم کرنے ( belittle) کے متعدد پہلو پائے جاتے ہیں، جن پر ہم آگے کلام کریں گے۔

چیف جسٹس ناصرالملک صاحب نے بھی چونکہ پارلیمنٹ کو اس بارے میں مکمل اختیارات کا حامل قرار دیا ہے، اور اس ضمن میں عدلیہ کے کسی کردار کی نفی کی ہے، اس لیے وہ بھی ’قراردادِ مقاصد‘ کی فیصلہ کن حیثیت پر خاموش ہیں۔ اس طرح اکثریت نے بلالحاظ اس کے کہ وہ دستوری ترمیم کے باب میں عدالت کے نظرثانی کے حق کے قائل ہیں یا نہیں، کھل کر دستور کے بنیادی خدوخال میں ’قراردادِمقاصد‘ اور ’اسلامی دفعات‘ کا ذکر نہیں فرمایا۔ جناب جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد نے اسے ایک بھول قرار دیا ہے۔ خدا کرے یہ صرف بھول ہو، لیکن اگر یہ بھول ہے تب بھی کوئی معمولی بھول نہیں ہے، جلد ازجلد اس کی تلافی ہونی چاہیے اور ایسا ہونا ہی خوشی کی بات ہوگی!

(د) فوجی عدالتوں کے باب میں ۱۷ میں سے چھے جج صاحبان نے انھیں دستور کے خلاف قرار دیا ہے لیکن ۱۱ جج صاحبان نے دستور اور اس کی بنیادی حقوق کی دفعات سے انھیں متصادم تصور نہیں کیا۔ البتہ عدالت کے لیے جزوی نظرثانی کی کھڑکی ضرور کھول دی ہے، جو روشنی کی ایک ہلکی سی کرن ہے۔ نیز اس ترمیم کا ایک متعین مدت (دو سال) کے لیے ہونا بھی ایک مثبت پہلو ہے جسے عدالت نے اپنی راے قائم کرتے وقت ملحوظ رکھا ہے۔

(ھ) غیرمسلموں کی اضافی نشستوں کے بارے میں عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ لیکن چونکہ اکثریت نے آٹھویں ترمیم کو دستور سے متصادم قرار نہیں دیا، اس لیے اس سلسلے میں درخواست خود بخود غیرمؤثر ہوگئی ہے۔

ہم قانون کی حکمرانی کے قائل ہیں اور عدالت کا فیصلہ ہی اس وقت کا قانون ہے اور   اس وقت تک رہے گا، جب تک پارلیمنٹ یا عدلیہ اس میں تبدیلی نہ کریں، لیکن دنیا بھر میں یہ بڑی صحت مند روایت ہے کہ عدالتی فیصلوں کے ان پہلوئوں پر بحث و گفتگو کی جاتی ہے، جن کا تعلق اصولوں سے ہو، یا ان اُمور سے متعلق ہوں جو عوامی اہمیت کے حامل ہیں، جیسے انسانی حقوق، معاشی حقوق، معاشرتی عدل اور معاشرے کے اخلاقی اور تہذیبی مسائل وغیرہ۔ اس فیصلے کے اختلافی فیصلہ ہونے کے معنی یہ بھی ہیں کہ خود اعلیٰ عدالت میں مختلف آرا، بلکہ متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آج کا اکثریتی فیصلہ کل کا اقلیتی فیصلہ بھی بن سکتا ہے اور آج کا اقلیتی فیصلہ کل کا اکثریتی فیصلہ۔ اسی طرح صرف علمی بحثوں میں ہی نہیں، عدالتی بحثوں میں بھی اکثریتی فیصلے کے ساتھ اختلافی فیصلوں کو بھی دلیل کی بنیاد بنایا جاتا ہے اور ایسے فیصلوں کا حوالہ (quote) بھی دیا جاتا ہے۔ یہی وہ صحت مند روایت ہے جس کے ذریعے غوروفکر کا باب کھلا رہتا ہے اور علمی ترقی اور انصاف کی فراہمی دونوں میں مدد ملتی ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ ہم فاضل عدالت کے ججوں کے لیے احترام کے بہترین جذبات کے ساتھ کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں:

نظریۂ ضرورت کے احیا کا خدشہ

پہلی گزارش ’نظریۂ ضرورت‘ کے دوبارہ بڑی خاموشی سے سر اُٹھانے کے بارے میں ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ فیصلے میں ’نظریۂ ضرورت‘ کا کھل کر دفاع نہیں کیا گیا ہے، اور ایک ڈھکے چھپے انداز میں حالات کی سنگینی اور غیرمعمولی کیفیات کی بناپر، وقتی طور پر ایک محدود مدت کے لیے، کچھ نظرثانی کی گنجایش پیدا کرتے ہوئے،سویلین افراد کے لیے فوجی عدالتوں کے وجود کو  تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے لیے کچھ گنجایش اس بنیاد پر نکالی گئی ہے کہ دستور میں عدالتی نظام میں کثرتیت (plurality ) پہلے ہی موجود ہے۔ اگر ’خصوصی عدالتیں‘ اور ’ٹریبونل‘ موجود ہیں، تو اسی چلن کے تحت وقتی طور پر تھوڑی سی گنجایش اور بھی پیدا کی جاسکتی ہے، لیکن یہاں اس بنیادی بات کو شاید ملحوظ نہیں رکھا گیا کہ دستور نے مرکزی نظامِ عدل سے ہٹ کر جہاں کہیں گنجایش پیدا کی ہے، وہ بھی بنیادی طور پر سول قانون ہی کی فراہمی کی ایک شکل ہے۔ جہاں تک قانون کے مرحلہ وار عمل (due process of law) کا تعلق ہے ،جو اَب دستور میں ایک بنیادی حق کے طور پر موجود ہے، اور جو اسلام کا بھی ایک مسلّمہ اصول ہے، اس باب میں نظامِ عدل میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ دوسرے لفظوں میں قانون کا بنیادی ڈھانچا اور قانونی عمل ایک ہی ہے، گو خصوصی میدانوں کے لیے علیحدہ انتظام کیا گیا ہے۔ فوجی عدالتوں کا معاملہ اصولاً مختلف ہے۔ بلاشبہہ اس کے اپنے آداب اور قواعد ہیں ، لیکن شہری قانون (civil law) میں جسے ’قانونی مرحلہ وار عمل‘  کہا جاتا ہے اور جس میں گرفتاری کی وجہ، دفاع کا حق، اپنی مرضی کے وکیل کا انتظام، دورانِ حراست ضروری تحفظات، مقدمے کی کھلی سماعت و کارروائی، شہادتوں پر جرح کا حق، فیصلے کے خلاف اپیل کے امکانات وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے برعکس فوجی عدالتی نظام میں یہ چیزیں نہیں ہوسکتیں۔

اصل ضرورت اس کی ہے کہ ہم اپنے عدالتی نظام کو ٹھیک کریں۔ تفتیش (investigation) اور استغاثے (prosecution) کو صحیح بنیادوں پر منظم کریں۔ ججوں، وکیلوں اور گواہوں کو تحفظ فراہم کریں۔ عدالتوں کی تعداد میں اضافے اور مقدمے کے لیے فیصلے کی مدت میں کمی، انصاف کی فراہمی کو بہتر بناسکتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کو بہتر بناکر وہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے جو فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے ملزمان کو بھیجنے سے حاصل کیا جانا پیشِ نظر ہے۔ پھر قانون میں یہ بڑا سقم ہے کہ دہشت گردی کو بھی انواع و اقسام میں تقسیم کردیا گیا ہے، گویا مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر کی جانے والی دہشت گردی اور شے ہے، اور نسلی، لسانی، معاشی، سیاسی اور دوسری بنیادوں پر کی جانے والی دہشت گردی اور شے ۔ یہ صریح امتیاز (discrimination) ہے جو انسانی شرف اور ہمارے دستور دونوں کے خلاف ہے۔

’نظریۂ ضرورت‘ نے اس قوم کو بڑے چرکے لگائے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ نظریہ کسی چوردروازے سے آکر ایک بار پھر ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کی فراہمی کے نظام کو تہ و بالا نہ کردے۔

نظریاتی تشخص اور اسلامی دفعات

دوسرا اور اہم ترین پہلو جس پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں، اس کا تعلق دستور کی اسلامی دفعات اور ملک کے نظریاتی تشخص کی حفاظت اور ترقی سے ہے۔ ہماری نگاہ میں ملک و قوم کے مستقبل کا انحصار اس مسئلے کے بارے میں صحیح موقف اختیار کرنے پر ہے۔ ریاست اور مذہب کے تعلق اور پاکستان کے نظامِ حکومت اور نظامِ زندگی میں اسلام کے کردار کے بارے میں ملک کے اندر اور باہر ایک مخصوص طرز فکر کو منظم انداز سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک خاص گروہ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت فکری انتشار پھیلانے اور اسلام اور دینی قوتوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ اس پس منظر میں عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ ضرورت اور بھی محکم ہوجاتی ہے کہ اس بارے میں قوم میں مکمل یکسوئی ہو۔دلیل، تاریخی حقائق اور قوم کے حقیقی جذبات و احساسات کی روشنی میں قوم، پارلیمنٹ اور عدالت ایک واضح راستہ اختیار کریں۔ ہمیں توقع ہے کہ ان شاء اللہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس فیصلے پر نظرثانی کرکے وقت کی اس ضرورت کو پورا کرے گی۔ ہم مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کی صحیح تفہیم کے لیے اصل مسئلے اور عدالت کے فیصلے میں اُٹھائے گئے سوالات کے بارے میں اپنی معروضات پیش کرتے ہیں۔ ہم دلیل سے بات سننے اور خود اپنی راے پر دوبارہ غور کرنے کے لیے ہمیشہ آمادہ ہوں گے۔ ہماری درخواست اور دُعا ہے کہ ہماری اعلیٰ ترین عدالت کے فاضل جج بھی دلیل سے بات سننے اور اگر دلیل معقول ہو تو اپنی راے پر نظرثانی کرنے کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کا پاس کریں گے۔

پاکستان کا قیام محض تحریکِ آزادی کا ایک حصہ نہیں، بلکہ ایک قوم کے حق خود ارادی کی بات، ایک نظریے کی بنیاد پر ایک علاقے کے حوالے سے تھی، یعنی قوم ایک نظریے کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک علاقے کو حاصل کر رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نظریہ ہی قوم کی بنیاد تھا اور نظریہ ہی ریاست کی بنیاد بنا۔ قراردادِ مقاصد اس نظریاتی اور تاریخی حقیقت کا دستاویزی مرقع اور پاکستانی قوم کے ریاست سے عمرانی معاہدے کا اقرار و اظہار ہے۔ یہ روایتی طور پر دساتیر اور قوانین میں درج ہونے والے عام پیش لفظوں (preambles)سے قطعاً مختلف اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفرد دستاویز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف دستور ہی نہیں، پاکستانی قوم اور ریاست کی زندگی میں اس کا ایک ایسا مقام ہے، جس کی کوئی نظیر نہیں پائی جاتی اور جسے کوئی درہم برہم نہیں کرسکتا۔

’قراردادِ مقاصد‘ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تین اور دستاویزات کو بغور دیکھا جائے اور ان کے پس منظر میں قراردادِ مقاصد کے اصل پیغام اور مقام کو متعین کیا جائے:

  •  خطبۂ الٰہ آباد: پہلی دستاویز علامہ اقبال کا ۱۹۳۰ء کا خطبہ ہے، جس میں کھل کر تین باتوں کا اعلان کیا گیا ہے اور وہ تینوں ہی آگے کی جدوجہد، تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے سنگ ہاے میل بنیں۔

اوّلاً: اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ دین و دنیا کی تفریق کی اس میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ایمان باللہ اور ایمان بالرسولؐ صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ وہ بیک وقت بندے اور رب کے درمیان جہاں ایک روحانی اور اخلاقی تعلق کو استوار کرتے ہیں، وہیں انسانوں کے درمیان تعلقات اور سماجی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کے لیے بھی ایک واضح ضابطۂ کار فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عقیدے اور اجتماعی زندگی میں ایک ناقابلِ تنسیخ تعلق قائم ہوتا ہے۔ یہ تعلق اتنا بنیادی ہے کہ ایک کی کمزوری یا رشتے کی نوعیت کی تبدیلی واقع ہو، تو دوسرا رشتہ بھی باقی نہیں رہتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ عقیدے کے طور پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کو اسلام کے احکام کے مطابق ڈھالنے کا اہتمام ہو اور جو چیزیں اس میں مانع ہیں، ان سے نجات حاصل کی جائے۔

دوم: برعظیم پاک و ہند میں مسلمان مغرب کے لبرل جمہوری نظام کا حصہ بن کر اپنا دینی اور اجتماعی تشخص برقرار نہیں رکھ سکتے۔ مسئلہ صرف مسلمانوں کے دنیوی مفادات اور سیاسی حقوق کا ہی نہیں، ان کے دین و معاشرت اور ان کے عقیدے اور ایمان کا بھی ہے۔ جن حالات سے مسلمان دوچار ہیں، ان میں ہندو اکثریت کے ساتھ مشترک قومیت اور مشترک سیاسی اور اجتماعی نظام کی صورت میں نہ ہماری تہذیب و تمدن کی بقا ممکن ہے اور نہ سیاست اور معاشرت کی اور نہ عقیدے اور ایمان کی حفاظت۔اس لیے نئی سیاسی تنظیم بندی اور سیاسی اقتدار کے لیے نئی علاقائی تشکیل ناگزیر ہوگئی ہے۔

سوم: اُوپر کے مقاصد کے حصول کے لیے جو قابلِ عمل راستہ ہے، وہ تقسیمِ ملک ہے، تاکہ  جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وہاں ان کو نئی سیاسی تنظیم کے ذریعے آزاد اور خودمختار ملک کی شکل دے دی جائے ،اور جن علاقوں میں ہندوئوں کی اکثریت ہے وہاں وہ حکمران ہوں۔

  •  قراردادِ لاھور: اس سلسلے کی دوسری دستاویز مارچ ۱۹۴۰ء کی قراردادِ لاہور اور اس کی تشریح میں کی جانے والی قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تقریر ہے، جس میں مسلمانوں کے ایک عقیدے، ایک دین، ایک تصورِ حیات، ایک ضابطۂ اخلاق اور ایک تہذیب و تمدن کے حامل ہونے کی بنیاد پر ایک قوم کا تصور دیا گیا اور اس قوم کے لیے اپنے نظریات کے مطابق زندگی کے نقشے کو تشکیل دینے کے لیے ایک آزاد ملک کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں پاکستان کا نام نہ تھا، تاہم نئی ریاستی تشکیل کے بارے میں ایک ابتدائی خاکہ دیا گیا تھا۔
  • قرارداد ۱۹۴۶ئ: تیسری اہم دستاویز اپریل ۱۹۴۶ء کی وہ قرارداد ہے، جس میں ۱۹۴۰ء کی قرارداد کی واضح ترین اور معتبر ترین تشریح و تعبیر کی گئی۔ جس میں دو قومی نظریے کو قرارداد کے دیباچے کے طور پر قرارداد کا حصہ بنایا گیا اور پھر جس کے تقاضے کے طور پر ایک مملکت جس کا نام پاکستان ہوگا، اس کا واضح تصور پیش کیا گیا۔ اس قرارداد پر پورے برعظیم سے منتخب ہونے والے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے اللہ کا نام لے کر اور اس اقرار کے ساتھ کہ: ’’میری نماز اور میرے تمام مراسمِ عبودیت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے‘‘ (قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo الانعام ۶:۱۶۲) حلف لیا تھا کہ اس مقصد سے وفادار رہیں گے اور اس کے لیے کسی قربانی سے کوئی دریغ نہیں کریں گے۔

یہ ہیں وہ تین دستاویزات، جن کے خمیر سے قراردادِ مقاصد کی صورت گری کی گئی ہے۔ اس کا سلسلۂ نسب کسی اور طرف جوڑنا تاریخ اور حقائق دونوں سے زیادتی ہوگا۔

قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظمؒ نے کم از کم ۱۳ بار پاکستان کے اسلامی تشخص اور تاریخی کردار کا کھل کر اظہار کیا، اور تقسیم سے قبل ۱۰۰ سے زیادہ بار جو تصور انھوں نے دیا تھا اور جس نے برعظیم کے مسلمانوں کو ایک نیا عزم، نئی زندگی اور نئی جدوجہد پر کمربستہ کیا تھا اس کا اعادہ کیا۔ جوافراد اس مشن اور منزل سے انحراف یا اغماض کی باتیں کر رہے تھے ان کو منہ توڑ جواب دیا۔

قراردادِ مقاصد کی جوھری حیثیت

اس پس منظر میں پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ سے باہر اس امر پر کھلا اظہارِ خیال ہوا کہ دستور کو کیسا ہونا ہے، اس کو ایک قراردادِ مقاصد کی شکل میں دستور کے بننے سے پہلے مرتب کر دیا جائے، تاکہ پاکستان کی منزل کا تحریکِ پاکستان کے اوّلیں ذمہ داران کے ہاتھوں دستوری زبان میں تعین کردیا جائے۔ اس زمانے کے اخبارات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریکِ پاکستان کے سیکڑوں قائدین اور کارکنوں اور علماے کرام کی بڑی تعداد نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ریاست کے اسلامی کردار کے بارے میں دستوری زبان میں جلد از جلد اظہار و اعلان کیا جائے۔

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مفتی محمد شفیعؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، مولانا اکرم خان کے مشورے سے جناب لیاقت علی خان اور ان کے رفقا خصوصیت سے جناب عبدالرب نشتر، جناب ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے ایک مسودہ تیار کیا، جس پر پارلیمنٹ سے باہر اہلِ علم سے بھی مشاورت ہوئی۔ میں گواہ ہوں کہ اس کا مسودہ پارلیمنٹ میں آنے سے پہلے مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم  کے ذریعے مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کو ملتان جیل میں دکھایا گیا اور انھوں نے اس پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔

قراردادِ مقاصد محض ایک دستوری دیباچہ (preamble) نہیں بلکہ ایک مستقل دستوری دستاویز ہے اور ’میگناکارٹا ‘کی طرح اپنا منفرد وجودرکھتی ہے۔ بلاشبہہ اس میں پاکستان کی نظریاتی اساس کو واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور پاکستان میں کن بنیادوں پر اور کن خطوط پر اجتماعی نظام کا قیام عمل میں آئے گا، اس کے تمام ضروری خدوخال واضح کردیے گئے ہیں۔ ساتھ ان بنیادی خدوخال کی روشنی میں دستور بنانے کی ہدایت (direction) دی گئی ہے، جو محض ایک خواہش یا نظری تمنا نہیں، بلکہ واضح طور پر ایک قانونی حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ قراردادِ مقاصد کی زبان، اس کی ترتیب، اس کے مندرجات ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے تمام دساتیر میں پائے جانے والے دیباچوں سے اس کا موازنہ کر لیجیے، یہ سب سے مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پاکستان میں بنائے جانے والے تمام دساتیر میں بطور دیباچہ یہ شامل ہے، وہاں اس کی اپنی ایک مستقل بالذات حیثیت ہے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اور پھر ۱۹۸۵ء میں ترمیم کے ذریعے بطور دفعہ ۲-اے شامل ہوجانے سے، اس کے قانونی کردار میں اگر کوئی ابہام تھابھی، تووہ دُور ہوچکا ہے۔

قراردادِ مقاصد پہلی دستوریہ میں بڑی اچھی فضا میں کھلی بحث کے بعد منظور کی گئی۔ تمام مسلمان ارکانِ پارلیمنٹ نے اس کی تائید کی اور چند نے بڑی جان دار تقاریر کیں، جو ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ صرف کانگریس کے ارکانِ اسمبلی نے مخالفت کی، اور اس طرح ایک بار پھر وہی منظر دنیا نے دیکھ لیا، جو تقسیم سے قبل تحریکِ پاکستان کے دوران شب و روز نظر آتا تھا___ مسلمان اپنے ایمان، نظریے اور نظامِ زندگی پر مبنی شناخت کی بنیاد پر ایک فریق اور ہندو اور سیکولر قوتیں دوسرا فریق۔ مسلمانوں میں علما بھی تھے اور لبرل بھی، لیکن سب یک زبان تھے۔ مولانا شبیراحمدعثمانی  ؒ سے لے کر میاں افتخارالدین صاحب تک سب نے اس قرارداد کے حق میں پورے جذبے اور جوش سے بڑے محکم دلائل کے ساتھ اظہارِ خیال کیا اور کانگریس کے ہندو ارکان نے اپنے تاریخی اور روایتی موقف کے مطابق اختلاف کا اظہار کیا۔ کانگریس کے ارکان نے درجن بھر ترامیم بھی پیش کیں، جو اکثریت سے رد کردی گئیں۔ پھر قرارداد منظور ہوئی، لیکن اس پر کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی۔ اس لیے اسے دستور ساز اسمبلی کی متفقہ قرارداد بھی کہا جاسکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ پوری قوم نے یک زبان ہوکر اس کی تائید کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، اس کے ذریعے ملک کی منزل اور ترقی کا رُخ متعین کردیا اور اس کی شکل میں اللہ کی حاکمیت کا ابدی اور سب سے بڑی حقیقت کی حیثیت سے اظہار کیا۔ واضح رہے کہ حالیہ سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ملک کی قیادت نے اللہ کی حاکمیت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود کے اندر اپنی آزادی اور اجتماعی اور انفرادی زندگی کی تشکیل کا عہد کیا اور پارلیمنٹ کو حکم دیا کہ ان خطوط پر نیا دستور مرتب کرے۔ یہ محض ایک خواہش کا اظہار نہ تھا، جیساکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے بھی اپنے وضاحتی نوٹ میں لکھا ہے۔ قراردادِ مقاصد کی امتیازی شان ہی یہ ہے کہ وہ ایک واضح رہنمائی (direction) ہے اور اس حیثیت سے وہ خود بھی ایک حکم (order)کا درجہ رکھتی ہے اور اس میں جو اصول طے کیے گئے ہیں، وہ بھی اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتے ہیں، جو ایک تاریخی عمرانی معاہدہ ہیں اور جن میں کسی کو بھی تغیر و تبدیلی کی اجازت نہیں۔ وہ اصول کیا ہیں؟ پہلے ان کو ذہنوں میں تازہ کرلیں تاکہ قراردادِ مقاصد کی امتیازی شان اور اس کا دیا ہوا پاکستان کا وژن واضح ہوجائے:

۱- قراردادِ مقاصد کا سب سے اہم حصہ اس کا ابتدائیہ ہے، جو پوری قرارداد کے رُخ اور خطوطِ کار کو متعین کرتا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ پوری قوم، ریاست اور اس کے تمام اداروں کے لیے واضح اور مستقل ہدایات کی بنیاد فراہم کرتا ہے:

چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکت ِغیرے حاکمِ مطلق ہے اور اس نے جمہور کی وساطت سے مملکت ِ پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے۔

اس تمہید پر جو اساس ہے، غور کیا جائے تو پاکستان کا خصوصی اور امتیازی کردار واضح ہوجاتا ہے:

                ۱-            سیکولر تصورِ زندگی کے مقابلے میں یہ زندگی کا ایک بالکل دوسرا تصور ہے کہ کائنات کا اصل حاکم اللہ تعالیٰ ہے، انسان کی حیثیت اس کے خلیفہ کی ہے۔ جو انسان اس خلافت کی ذمہ داری کو قبول کریں وہ مسلمان ہیں اور اس حاکمِ مطلق کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے اور زندگی کا نظام چلانے کا عہد کرتے ہیں۔

                ۲-            اس تصور کا تقاضا ہے کہ زندگی اور حکمرانی کا پورا نظام اللہ کی بتائی ہوئی حدود کے اندر اور اس کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق انجام دیا جائے اور یہ ہدایت زندگی کے تمام پہلوئوں کے بارے میں ہے، کوئی دائرہ اس سے باہر نہیں۔

                ۳-            اجتماعی زندگی میں حکمرانی کا یہ اختیار کسی خاص فرد، خاندان، گروہ یا طبقے کو نہیں دیا گیا بلکہ یہ اختیار ملک کے تمام عوام کو دیا گیا ہے، جن کی مرضی سے اور جن کے منتخب نمایندوں کے ذریعے اسے انجام دیا جائے گا۔

                ۴-            زندگی اور تمام وسائل کی حیثیت ایک امانت کی ہے اور امانت کے تصور میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں کہ جس نے یہ امانت دی ہے اصل فیصلہ کرنے والا وہی ہے اور اس امانت کو اس کی ہدایت کے مطابق ادا ہونا چاہیے، اور دوسرے یہ کہ اس امانت کے ساتھ جواب دہی بھی لازمی ہے اور اس فریم ورک میں یہ جواب دہی دُہری ہے، یعنی ایک اللہ کے سامنے اور دوسرے عوام کے سامنے جن کے ذریعے اس امانت کو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

                ۵-            آخری چیز یہ ہے کہ اس طرزِ حکمرانی اور طریقۂ فیصلہ سازی کا اطلاق ریاست اور اس کے تمام اداروں پر یکساں ہے۔ ریاست کے لفظ کا استعمال یہاں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں اختیار عوام کو دیا گیا ہے وہیں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ریاست کے جتنے بھی ادارے ہیں وہ اپنے اپنے دائرے میں اس امانت کے امین اور اس کے سلسلے میں جواب دہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ جس مثالیے ( paradigm) کو اس قرارداد میں پیش کیا گیا ہے وہ کوئی  نئی بات نہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مدینہ کی ریاست کے قیام سے لے کر آج تک اُمت کا یہی نقطۂ نظر رہا ہے۔

چیف جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیس مسلمانوں کے اس امتیازی طرزِعمل کو یوں بیان کرتے ہیں:

اسلامی ریاست کی بنیاد خود مذہب کی آمد کے ساتھ ہی رسولؐ اللہ کو اللہ کی طرف سے براہِ راست ہدایت کے ذریعے مکمل جزئیات کے ساتھ ڈال دی گئی تھی۔ جن کو ایسی روشن بصیرت، فہم کی گہرائی اور ذہنی قوت مرحمت کی گئی تھی کہ ۱۰سال کے مختصر عرصے میں قرآنی ہدایت اور رسولؐ اللہ کے عمل کی روشنی میں حکومتی نظم و ضبط، قانون اور خارجہ اُمور چلانے کے اصول، یعنی ایک ایسی سلطنت کے تمام لوازمات جو پورے عرب پر حاوی تھی، بیان کردیے گئے تھے۔(Chief Justice Cornelius of Paksitan: An Analysis with Letters and Speeches، مرتبہ:رالف برے بنٹی، اوکسفرڈ   یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۹ئ، ص ۲۸۹)

خود قائداعظم نے عثمانیہ یونی ورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تصورِ ریاست کو اس طرح واضح کیا تھا:

اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفاکیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے، جس کی تکمیل کا عملی ذریعہ قرآنِ مجید کے احکام اور اصول ہیں۔ اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی، نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اسلامی حکومت قرآنی اصول و احکام کی حکومت ہے۔ (ملاحظہ ہو: قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ مرتبہ: حمیدرضا صدیقی،  ناشر:کاروان، لاہور، ۱۹۹۳ئ، ص ۸۱)

قراردادِ مقاصد کے محرک جناب لیاقت علی خان نے قرارداد پیش کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا تھا، وہ بھی قرارداد کی منظوری کے اُس موقعے کو ملک کی زندگی کااہم واقعہ سمجھتے تھے: ’’اہمیت کے اعتبار سے صرف حصولِ آزادی کا واقعہ اس سے بلند تر ہے‘‘ کہہ کر انھوں نے فرمایا تھا:

پاکستان اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ برعظیم کے مسلمان اپنی زندگی کی تعمیر اسلامی تعلیمات اور روایات کے مطابق کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ دنیا پر عملاً واضح کر دینا چاہتے تھے کہ آج حیاتِ انسانی کو طرح طرح کی جو بیماریاں لگ گئی ہیں، ان سب کے لیے اسلام ہی اکسیراعظم (panacea) کی حیثیت رکھتا ہے۔

انھوں نے میکیاولی کے تصورِ سیاست کے مقابلے میں اسلام کے اصولِ حکمرانی کی بنیاد پر ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور صاف الفاظ میں کہا: ’’ہماری ریاست کی بنیاد یہ ہے کہ تمام اختیار اور اقتدار ذاتِ الٰہی کے تابع ہونا لازمی ہے اور اس طرح مملکت کے وجود کو خیر کا آلۂ کار ہوناچاہیے، نہ کہ شرکا‘‘۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ’’ہم پاکستانیوں میں اتنی جرأتِ ایمانی موجود ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ تمام (انسانی) اقتدار اسلام کے قائم کردہ معیارات کے مطابق استعمال کیا جائے، تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہوسکے‘‘۔

ہماری ان گزارشات سے یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ قراردادِ مقاصد کوئی روایتی قرارداد یا محض ایک دستور کے لیے مقدمہ نہیں تھی، بلکہ ایک نئے تصورِ زندگی کو ریاست کی بنیاد بنانے کا اعلان اور اس اعلان کے مطابق ایک دستور کی تدوین اور نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے واضح اور حتمی حکم نامہ ہے۔

یہاں ضمناً ہم یہ وضاحت بھی کردیں کہ قراردادِ مقاصد کے اصل مسودے میں لفظ ’اسٹیٹ‘ موجود ہے اور اب بھی دستور کی دفعہ ۲-اے میں جس قرارداد کا ذکر کیا گیا ہے، وہ قرارداد انھی الفاظ کے ساتھ ہے، جو ۱۲مارچ ۱۹۴۸ء کو دستورساز اسمبلی میں منظور کی گئی تھی اور جس میں سے ’’اسٹیٹ‘‘ کے لفظ کو نکلوانے کے لیے کانگریس کے رکن جناب پروفیسر چکرورتی نے ایک ترمیم پیش کی تھی، کہ اسے ’عوام‘ سے بدل دیا جائے جو اس وقت منظور نہیں ہوئی تھی۔ آج بھی یہ اصل ’قراردادِ مقاصد‘ میں موجود ہے۔ دستور کے ضمیمے میں جو قرارداد دی گئی ہے، وہ انھی الفاظ میں ہے جن میں وہ اصلاً منظور کی گئی تھی۔ اس میں ’ریاست‘ کے ساتھ ’عوام‘ کا ذکر بھی ہے۔ البتہ، بعد میں جب دستور میں اس قرارداد کو بطورِ دیباچہ شامل کیا گیا تو ’ریاست‘ کا لفظ نکال دیا گیا۔ ضمناً یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ یہ تبدیلی ۱۹۵۶ء کے دستور میں کی گئی تھی اور فاضل جج جسٹس جواد ایس خواجہ کا یہ خیال درست نہیں کہ یہ تبدیلی ۲۴سال بعد ۱۹۷۳ء میں کی گئی ہے۔ ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء دونوں کے دساتیر  نکال کر دیکھ لیں ان میں ’ریاست‘ کا لفظ نہیں ہے۔ میری ذاتی راے میں ’ریاست‘ کا لفظ رہنا چاہیے تھا، اس لیے کہ عوام کے ذریعے اس اختیار کے استعمال کی بات قرارداد کے دیباچے اور آگے کی ہدایات دونوں میں موجود ہے۔

قراردادِ مقاصد کا اصل جوہر اور اساس یہی تصورِ کائنات، تصورِ زندگی اور سیاسی نظام کا تصور ہے اور یہ جدید عالمی سیاسی تناظر میں ایک حقیقی مرکز ثقل  کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ایک تبدیلی سے ہر چیز بدل جاتی ہے کہ اب ہماری آزادی ان حدود کی پابند ہوجاتی ہے، جو قرآن و سنت نے ہمارے لیے متعین کی ہیں۔ آزادی برحق اور عوام کا یہ اختیار کہ وہ ہی حکمرانوں کا انتخاب کریں اور ان کا احتساب کریں اپنی جگہ مسلّم، لیکن عوام اور اربابِ اقتدار، افراد اور ادارے سب حدود اللہ کے پابند کردیے گئے ہیں۔ سب کو وہ مقصد اور مشن دے دیا گیا ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ؑ بھیجے اور جس کا مکمل ترین اظہار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، تعلیمات اور نمونے میں ہے۔

قراردادِ مقاصد کی باقی تمام شقیں اس بنیادی اپروچ کی وجہ سے بالکل مختلف معنویت رکھتی ہیں اور اگر الفاظ میں دنیا کے دوسرے دساتیر سے کچھ مماثلت نظر آتی ہے، تو وہ بھی صرف ظاہری ہے۔ جوہری اعتبار سے ان سب کا مفہوم حدود اللہ کی وجہ سے بدل جاتا ہے۔ ویسے تو شکل و صورت کے اعتبار سے ایک مسلمان اور کافر میں بہت سی چیزیں مشترک اور مماثل ہیں، لیکن تصورِ زندگی اور  حلال و حرام کی حدود دونوں کو دو مختلف شخصیتیں بنادیتے ہیں۔ اسی طرح قراردادِ مقاصد اور خصوصیت سے اس کے اساسی عقیدے نے ہر چیز کا رُخ بالکل بدل دیا ہے۔

۲- قراردادِ مقاصد نے اس بنیادی حقیقت اور پاکستان کے دستور اور حکمرانی کے لیے نئے مثالیے کی نشان دہی کے بعد پاکستان کے سیاسی نظام کا جو نقشہ دیا ہے وہ یہ ہے:

                ۱-            مملکت اپنے اختیارات اور اقتدار کو جمہور کے منتخب نمایندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔

                ۲-            جمہوریت، آزادی، مساوات ، رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پوری طرح عمل کیا جائے گا۔

                ۳-            جس کی رُو سے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کے لائق بنایا جائے گا۔

                ۴-            جس کی رُو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے کہ اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مذہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور اس پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں۔ نیز اقلیتوں اور پس ماندہ طبقوں کے جائز حقوق کو تحفظ ملے گا۔

                ۵-            جس کی رُو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں قانون و اخلاقِ عامہ کے ماتحت مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل، اظہارِ خیال، عقیدہ و دینی عبادات اور ارتباط کی آزادی شامل ہو۔

                ۶-            جس کی رُو سے وفاق کے علاقوں کی حفاظت، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا جن میں اس کے برو بحر و فضا پر سیادت کے حقوق شامل ہیں، تحفظ کیا جائے۔

ان چھے بنیادوں پر پاکستان کی علاقائی سالمیت اور عوام کی خوش حالی اور اقوامِ عالم میں  اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کرنے اور امنِ عالم کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کے مقاصد کے حصول کو ملک و قوم کا ہدف اور منزل مقرر کیا گیا۔

واضح رہے کہ قرارداد میں نظریاتی ریاست کی تشکیل کے باب میں ابتدائیہ کے علاوہ:  دو دفعات نظریاتی ریاست میں مسلم معاشرے کی تشکیل سے متعلق ہیں، اور دو دفعات غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کے لیے۔ ایک دفعہ عوامی نمایندہ حکومت اور عوام کے سرچشمۂ قوت ہونے کے بارے میں ہے۔ ایک کا تعلق سب شہریوں کے لیے بنیادی حقوق کی ضمانت سے ہے۔ ایک عدلیہ کی آزادی کے بارے میں ہے، ایک علاقائی حدود کے تعین اور ان کی حفاظت سے متعلق ہے، اور ایک مملکت کے وفاقی نظام کی وضاحت کرتی ہے۔ یہی تمام پہلو دستور کے وہ بنیادی خصائص (features) ہیں، جن سے ہمارا سیاسی اور تہذیبی وجود عبارت ہے اور جن میں کوئی تبدیلی کرنے کا کسی کو اختیار نہیں۔ قرارداد اور دستور کے یہ پہلو ہر چیز پر غالب اور حکمران ہیں اور ان کی حفاظت عوام، پارلیمنٹ، حکومت اور عدلیہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔(جاری)

۱۶؍اگست ۲۰۱۵ء کو نمازِ فجر کے بعد خبریں سننے کے لیے ٹی وی کھولا تو پہلی خبر ہی جنرل حمیدگل کے انتقال کی تھی___  انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

موت برحق ہے۔ ہم سے رخصت ہونے والا یاددہانی کراتا ہے کہ آنے والی اصل زندگی کے لیے کچھ کر رکھنے کی فکر ہماری ہر فکرمندی پر غالب ہونی چاہیے۔ نیز رخصت ہونے والا جتنا عزیز، جتنا قریب اور جتنا عظیم ہوتا ہے اس سے جدائی کا دُکھ بھی اتنا ہی شدید، اتنا ہی گہرا اور قلب کو تڑپانے والا ہوتا ہے۔ جنرل حمیدگل عزیز ہی نہیں، عزیز جہاں بھی تھے۔ ان کا انتقال بلاشبہہ میرے لیے ایک بڑا ذاتی نقصان ہے لیکن مجھے علم ہے کہ یہ نقصان میرے جیسے ہزاروں انسانوں کا نقصان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان اور عالمِ اسلام کا نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ان کو اپنے جوارِرحمت میں جگہ دے،ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کو جنت کے اعلیٰ مقامات سے نوازے۔ یہ بھی دُعا ہے کہ ان کی وفات سے پاکستان بلکہ عالمِ اسلام میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کے بھرنے کا انتظام فرمائے اور اس قوم کو وہ قیادت میسر آئے جس کا وژن ہر آلودگی سے پاک ہو، جس کی سیرت بے داغ ہو، جو عزم و ہمت کا پیکر ہو، جس کی منزل اور مشن اسلام کی سربلندی، پاکستان کے نظریاتی، سیاسی ، معاشی اور تہذیبی وجود کا استحکام ہو، اور جو ملت اسلامیہ کے لیے ایک روشن مستقبل کی تعمیروتشکیل کے لیے سرگرم ہو۔

جنرل حمیدگل سے میرا پہلا تعارف اس دن ہوا جب مارچ ۱۹۸۸ء میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں، جس میں جنیوا معاہدے پر بحث ہو رہی تھی، ان کو ارکانِ پارلیمنٹ کے سامنے افغان جہاد اور جنیوا معاہدے کے بارے میں بریفنگ کی دعوت دی گئی۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح یہ معاہدہ ہوجائے، اور وزارتِ خارجہ نے ایسی بریفنگ دی تھی جو تصویر کا ایک خاص رُخ پیش کر رہی تھی۔ آئی ایس آئی کے چیف کی حیثیت سے جنرل حمیدگل کو بریفنگ کی دعوت دی گئی اور وزیراعظم صاحب کی توقعات کے برعکس انھوں نے بڑے مضبوط دلائل سے اور بڑے اعتماد اور بڑی جرأت کے ساتھ اس معاہدے کا پوسٹ مارٹم کرڈالا اور تصویر کا وہ رُخ پیش کیا جسے چھپایا جا رہا تھا۔ وزیراعظم اور ان کے وزیروں خصوصیت سے زین نورانی کے چہروں پر ایک رنگ آتا اور ایک رنگ جاتا۔ بالآخر جونیجو صاحب سے نہ رہا گیا اور بیچ میں مداخلت کر کے انھوں نے جنرل حمیدگل کو بات ختم کرنے کی ہدایت کی۔ جنرل حمیدگل نے کسی ناراضی کے بغیر بات کو ختم کردیا، لیکن ارکان پارلیمنٹ نے صاف محسوس کرلیا کہ ان کی زبان بندی کی گئی ہے۔ محترمہ سیّدہ عابدہ حسین میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان سے بھی رہا نہ گیا اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا کہ حالات کی یہ تصویر تو ہمارے سامنے آئی ہی نہ تھی! پارلیمنٹ میں مَیں نے اور حزبِ اختلاف کے دوسرے ارکان نے جنیوا معاہدے کی بھرپور مخالفت کی، حتیٰ کہ پارلیمنٹ کی راہداری میں سابق وزیرخارجہ صاحبزادہ یعقوب علی نے بھی اپنے اضطراب کا اظہار کیا (وہ رکن نہ تھے اس لیے بحث میں شرکت نہیں کرسکتے تھے)۔ لیکن جونیجو صاحب نے وہ کیا جو امریکا چاہتا تھا اور اس طرح جہاد افغانستان کو de-rail کرنے (پٹڑی سے اُتارنے) اور افغانستان اور پاکستان دونوں کے لیے ایک جیتی ہوئی بازی کو ہار کی طرف دھکیلنے کا عمل شروع ہو گیا جس کے نتائج آج تک ہم اور پورا خطہ بھگت رہا ہے۔

جنرل حمیدگل نے سرکاری افسر ہوتے ہوئے وزیراعظم کی لائن سے ہٹ کر صحیح صحیح صورتِ حال پیش کر کے ایک تابناک مثال قائم کی___ اوریہیں سے میرے اور ان کے تعلقات کا آغاز ہوا۔ میں نے ان کی راے کی تائید کی، ان کی زبان بندی پر احتجاج کیا اور جنیوا معاہدے کو  رد کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ پہلی ملاقات ایک اجتماع میں ہوئی تھی، جس میں مَیں نے سرعام ان کے تجزیے اور ان کی جرأت دونوں کو سراہا۔ جو تعلق ۱۹۸۸ء کی اس ملاقات میں بنا تھا، وہ وقت  گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا اور ذاتی دوستی اور اعتماد کے رشتے میں تبدیل ہوگیا۔ الحمدللہ، ہمارے تعلقات ۲۷سال کے عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ بارہا میرے گھر اور میرے دفتر میں تشریف لائے۔ مجھے یاد ہے کہ کم از کم دو بار مَیں بھی ان کے گھر گیا او ان کے دیوان خانہ میں سجا ’دیوارِبرلن‘ کا ٹکڑا آج بھی یاد ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر ایک ماہ ہم ۱۹۹۳ء میں کابل میں تقریباً ساتھ رہے۔ گو ہمارا قیام دو مختلف جگہوں پر تھا، مگر ہم روزانہ ہی ملتے رہے اور مجاہدین کے متحارب گروہوں کو ایک متفقہ لائحہ عمل پر آمادہ کرنے کی کوشش میں ایک دوسرے کے رفیق کار رہے۔

یہاں اس امر کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ گو ہم (یعنی جماعت اسلامی کا وفد جس کی قیادت محترم قاضی حسین احمد کر رہے تھے اور جس میں مولانا جان محمد عباسی، مولانا عبدالحق بلوچ، پروفیسر ابراہیم، برادرم خلیل حامدی اور مَیں شامل تھے) افغانستان کے صدر پروفیسر ربانی کے مہمان تھے اور جنرل حمیدگل ایک دوسرے مہمان خانے میں ٹھیرے ہوئے تھے، لیکن دن کا بڑا حصہ ہمارے ہی ساتھ گزرتا تھا، جس میں بار بار پروفیسر ربانی، احمد شاہ مسعود، پروفیسر سیاف اور حکمت یار (جن کا کیمپ  (base) کوئی ۲۱ کلومیٹر دُور تھا) سے مشترکہ اور الگ الگ ملاقاتیں ہوتی تھیں۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ جنرل حمیدگل کے پسندیدہ مجاہد گلبدین حکمت یار تھے اور یہی بات جماعت اسلامی کے بارے میں بھی کہی جاتی ہے، اس میں اتنی صداقت تو ضرور ہے کہ وہ اور ہم سب گلبدین حکمت یار کی دل سے قدر کرتے تھے اور کرتے ہیں اور حزبِ اسلامی کے جو حقیقی اثرات تھے ان کا ادراک رکھتے تھے، مگر اس بات میں قطعاً کوئی صداقت نہیں کہ جنرل صاحب یا ہم کسی ایک کے ساتھ بریکٹ (bracket) تھے۔ پروفیسر ربانی کے تو ہم مہمان ہی تھے، احمد شاہ مسعود سے بھی بڑے اچھے تعلقات تھے اور ہر روز ہی بات چیت ہوتی تھی۔ میں شاہد ہوں کہ جنرل حمیدگل کو سب کا اعتماد حاصل تھا۔ اُس پورے مہینے میں مَیں نے خود دیکھا کہ سب مجاہد رہنما ان کی عزت کرتے تھے ، ان کی بات کو وزن دیتے تھے اور ان سے تعلقات میں کوئی شائبہ بھی اس کا نہیں تھا کہ وہ انھیں کسی ایک کا سرپرست سمجھتے ہوں۔ جب بھی حکمت یار صاحب کے بارے میں میری     ان سے بات ہوئی تو انھوں نے ہمیشہ اپنے اتفاق اور اختلاف دونوں کا اظہار کیا، البتہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ میں زمینی حقائق سے واقف ہوں کہ کس کی کتنی قوت ہے اور کس کے کیا اہداف ہیں!

جنرل حمیدگل ۲۰نومبر ۱۹۳۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان سوات سے کوئی ۱۰۰برس پہلے پنجاب منتقل ہوا تھا لیکن ان کے گھرانے میں پشتون اور پنجابی دونوں روایات کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ ۱۹۵۶ء میں فوج میں ان کا کمیشن ہوا اور وہ اپنی خداداد صلاحیت اور غیرمعمولی فکری اور پروفیشنل خدمات کی بنا پر تیزی سے بلندی کے مراحل طے کرتے ہوئے کورکمانڈر، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اور ڈی جی، آئی ایس آئی کے مناصب پر فائز ہوئے۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دورِ حکومت میں ان کو ۱۹۸۹ء میں آئی ایس آئی سے ملتان کور کی کمانڈ کے لیے منتقل کردیا گیا اور پھر ۱۹۹۲ء میں اس وقت کے چیف آف اسٹاف نے ان کو ٹیکسلا ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں منتقل کرنے کی کوشش کی، مگر جنرل گل نے معذرت کی اور فوج سے رخصت ہوگئے۔ بلاشبہہ انھوں نے اس وقت کی سیاسی قیادت کی ناقدری کے باعث ۱۹۹۲ء میں وردی اُتار دی لیکن جو حلف فوج میں داخل ہوتے وقت لیا تھا، اسے زندگی کے آخری لمحے تک نبھایا۔ پاکستان اور اسلام ان کی زندگی کا محور اور ان کے عشق کا مرکز تھے۔ اپنے ۲۷سالہ تعلق کی بنیاد پر مَیں شہادت دے سکتا ہوں کہ انھوں نے جو عہد اپنے اللہ سے کیا تھا اسے پورا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر نہ چھوڑی۔

جنرل حمیدگل کو میں نے ایک بہت باخبر فرد پایا۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا اور ان کی فکر  بہت بیدار تھی۔ اقبال کا انھوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ مولانا مودودی کی بھی بیش تر کتب کا  مطالعہ وہ کرچکے تھے۔ مغربی فکر اور خصوصیت سے عسکری اور بین الاقوامی اُمور پر ان کا مطالعہ وسیع تھا اور وہ حالاتِ حاضرہ سے باخبر تھے۔ پھر ان کے روابط اتنے وسیع اور اتنے کثیرالجہت تھے کہ تعجب ہوتا ہے کہ ایک انسان ۲۴گھنٹے میں اتنا کچھ کیسے کرلیتا ہے۔ اہلِ خانہ کو بھی وہ وقت دیتے تھے،  اہلِ محلہ سے بھی ان کے روابط گہرے تھے، فوجیوں اور سابق فوجیوں میں بھی بڑے متحرک تھے۔ دوستوں کے وہ دوست تھے لیکن مخالفین سے بھی میل ملاپ رکھتے تھے۔ میڈیا سے بھی ان کی راہ و رسم معمول سے کچھ زیادہ ہی تھی۔ دینی اور سیاسی حلقوں میں بھی ان کا اُٹھنا بیٹھنا تھا۔ سفارت کاروں اور غیرملکی صحافیوں اور سیاست کاروں کا بھی ان کی طرف رجوع رہتا تھا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ    ؎

ایک دل ہے اور ہنگامہ حوادث اے جگر

ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں مَیں

میں نے جنرل حمیدگل کو ایک اچھا انسان، ایک محب ِ وطن پاکستانی، اسلام کا ایک شیدائی اُمتی، ایک پیشہ ور فوجی اور کامیاب جرنیل اور ایک بالغ نظر دانش ور پایا۔ ان کو اپنی بات پر بڑا اعتماد ہوتا تھااور انھیں اپنی بات کہنے کا بڑا سلیقہ آتا تھا۔ میں نے ان کو اصولی موقف پر کبھی سمجھوتا کرتے نہیں دیکھا۔ وہ اپنی بات بڑے محکم انداز میں اور بڑی جرأت کے ساتھ بیان کرتے تھے لیکن دوسرے کی بات کو اختلاف کے باوجود سننے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے اور سلیقے سے رد کرنے کا بھی۔ میں نے انھیں دوسروں کی تحقیر کرتے نہیں دیکھا۔ یہ ان کی شخصیت کا بڑا دل فریب پہلو تھا۔

الحمدللہ، جنرل حمیدگل نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور زندگی کے آخری لمحے تک وہ متحرک رہے اور اُس مقصد کی خدمت میں مصروف رہے جسے انھوں نے اپنی زندگی کا مشن بنایا تھا۔ بلاشبہہ پاکستان کی تاریخ میں ان کا ایک مقام ہے اور کم ظرفی کے اس سارے مظاہرے کے باوجود جو اُن کے ناقدین نے ان کی زندگی ہی میں نہیں ان کے انتقال کے بعد بھی کیا ہے، ان کی خدمات اَنمٹ ہیں اور مدتوں یاد رہیں گی۔ ان کی وفات سے جہاں ہرکسی نے کچھ نہ کچھ کھویا ہے، مَیں محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک مخلص دوست اور ساتھی سے محروم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے، آمین!

جنرل حمیدگل ان لوگوں میں سے تھے جو فکری یکسوئی کی اعلیٰ ترین مثال ہوتے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں بھی بڑی ہم آہنگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ذات، سیاسی رجحانات اور ان کی تزویراتی فکر کے بارے میں تو اختلافی آرا کا اظہار ہوا ہے، لیکن ان کی دیانت اور ان کے کردار کے بارے میں کسی کو انگشت نمائی کی جرأت نہیں ہوئی۔ انھوں نے ایک صاف زندگی گزاری جس کا اعتراف دوست اور دشمن سب کرتے ہیں۔ امریکا کی نگاہ میں وہ ایک کانٹا تھے اور امریکی سیاست دان، سفارت کار اور صحافی ان پر تیراندازی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے لیکن ان کی وفات پر جو اطلاعاتی شذرہ انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز (۱۶؍اگست ۲۰۱۵ئ) میں شائع ہوا ہے اور جس میں ان کی تزویراتی فکر پر اعتراضات کیے گئے ہیں اور انھیں سیاسی طور پر ایک متنازع فیہ شخصیت کہا گیا ہے ،مگر وہاں بھی وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ :

ان کے گرد سیاسی اور دہشت گردی سے متعلق تنازعات کی کثرت کے باوجود ان پر کبھی بھی معمولی سی اخلاقی یا مالی بدعنوانی کا الزام نہیں لگایا گیا۔

جنرل حمیدگل اپنی وفات کے بعد بھی ان شاء اللہ زندہ رہیں گے اور پاکستان اور اسلام کی سربلندی کے لیے جو جدوجہد انھوں نے کی وہ جاری و ساری رہے گی اور ظلمت کی یہ شام ان شاء اللہ ختم ہوگی۔

۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء ، ۲۷رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ ہماری تاریخ کا ایک روشن اور سنہری دن ہے۔ برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص سے بیسویں صدی میں پہلی بار ایک آزاد اسلامی ملک وجود میں آیا__ ایک ایسا ملک، جو آزادی کی تحریکات کے قافلے میں ایک منفرد مقام رکھتا تھا۔

اس امتیازی شان کی بنیاد یہ تھی کہ مغربی استعمار کے خلاف جو دیگر اقوام اور ممالک، آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، وہ پہلے سے اپنا نام اور جغرافیہ رکھتے تھے، اور صرف اپنے اُوپر سے بیرونی تسلط سے نجات پانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ ان کے برعکس برعظیم کی صورت حال یہ تھی کہ ایک قوم جس کی بنیاد عقیدے اور نظریے پر تھی، وہ اپنے لیے ایک نیا ملک وجود میں لانے کے لیے سرگرم تھی۔ اس کی جنگ ایک نہیں دو طاقتوں کے خلاف تھی۔ ایک طرف برطانوی سامراج تھا جس نے برعظیم میں محض قوت کے بل بوتے پر قبضہ کرلیاتھا اور دوسری طرف ہندستان کی ہندو اکثریت تھی، جو ’متحدہ ہندی قومیت‘ کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے سیاسی محکومی کا ایک نیا جال بُن رہی تھی۔ برعظیم کے مسلمانوں نے ان دونوں طاقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور بڑی گراں قدر قربانیوں کا نذرانہ پیش کر کے ایک خطۂ زمین حاصل کیا جسے انگریزوں اور ہندوئوں نے بڑی کانٹ چھانٹ کے بعد ہی دیا۔ یہ ملک، جغرافیائی قومیت کی بنیاد کے مقابلے میں ایک اصولی اور نظریاتی قومیت کی بنیاد پر حاصل کیا گیا، تاکہ ہندی مسلمان اپنی دینی، تہذیبی اور ملّی شناخت کی حفاظت اور ترقی کا اہتمام کرسکے، نیز اپنے اصول و نظریات کی روشنی میں اپنا مستقبل تعمیر کرسکے۔

انسانی تاریخ میں نظریاتی ریاست کی یہ روشن مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کی شکل میں قائم ہوئی تھی، اور ۱۲۰۰ سال تک مختلف شکلوں میں یہ اپنا جلوہ دکھاتی رہی، لیکن مغربی استعمار کے دو ڈھائی سو سالہ دور میں اس شمع پر اندھیروں نے غلبہ حاصل کرلیا تھا۔ اگرچہ دلوں میں یہ شمع روشن تھی، لیکن اس کی روشنی سے سیاسی اور اجتماعی زندگی محروم ہوگئی تھی اور مغربی دنیا ہی نہیں تقریباً دنیا کے سارے طول و عرض پر ایک نئے سیاسی اور تہذیبی نظام کو مسلط کردیا گیا تھا جس میں قوموں کی شناخت کی بنیاد نظریے اور اقدار کی جگہ جغرافیے، نسل، رنگ اور سیاسی مفادات پر رکھی گئی تھی۔ پھر سیکولرزم، لبرلزم، جمہوریت اور سرمایہ داری کے نام پر انسانیت کے استحصال کا ایک نیا اور بڑا ہی تباہ کن نظام دنیا کی اقوام پر عسکری قوت، جبرواستبداد، تہذیبی یلغار اور جدید ٹکنالوجی کے ذریعے مسلط کردیا گیا۔

تحریکِ پاکستان سیاسی غلامی ہی کے خلاف محض آزادی کی ایک تحریک نہ تھی، بلکہ ایک نظریاتی اور تہذیبی تحریک بھی تھی، جس نے وقت کے غالب تصورات کو چیلنج کیا اور دنیا سے اس اصول کو تسلیم کرایاکہ عقیدے، نظریے اور تہذیب کی بنیاد پر قائم ایک قوم کا یہ حق ہے کہ جن علاقوں میں اسے اکثریت حاصل ہو، وہ ان میں اپنے تصورات کے مطابق نظامِ زندگی قائم کر کے اپنی دینی اور تہذیبی شناخت کے مطابق اپنا مستقبل تعمیر کرسکے۔ مغربی سامراج اور ہندو اکثریت نے بڑی مجبوری کے عالم میں اس دعوے کو قبول کیا۔ یہ ہے وہ خصوصی پس منظر، جو پاکستان کی تحریک اور پاکستان کو ایک ملک کی حیثیت سے منفرد اور ممتاز مقام عطا کرتا ہے، یعنی یہاں کسی ملک نے آزادی حاصل نہیں کی بلکہ ایک قوم نے ایک ملک حاصل کیا اور اس طرح تاریخ کے ایک نئے دور کی طرف پیش قدمی کا دروازہ کھول دیا۔ اس کے لیے ان مسلمانوں نے بھی بیش بہا قربانیاں دیں جو ان علاقوں میں رہتے تھے جو پاکستان کا حصہ بنے، اور ان سے بھی زیادہ قربانیاں، ان مسلمانوں نے دیں جو یہ جانتے تھے کہ وہ پاکستان کا حصہ نہیں ہوں گے، لیکن پھر بھی برعظیم کی اُمت اسلامیہ کے مستقبل کی خاطر وہ اس جدوجہد کا حصہ بنے اور اس کے لیے سردھڑ کی بازی لگادی۔ یہ تاریخ کی بڑی ہی نادر مثال ہے کہ کروڑوں انسانوں نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس جدوجہد کے ثمرات میں کوئی حصہ نہ پائیں گے، صرف ایک نظریے کے غلبے کے لیے اپنے دنیاوی مفادات کو دائو پر لگادیا اور بے لوث نظریاتی جدوجہد کی ایک نادر مثال قائم کردی۔

تحریکِ پاکستان تک پہنچنے اور پھر اس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے برعظیم کے مسلمان بڑے صبرآزما مراحل سے گزرے، جن کو سمجھے بغیر پاکستان کی حیثیت اور تحریکِ پاکستان کے مزاج، مراحل اور مقاصد کو سمجھنا مشکل ہے۔

تحریکِ پاکستان: پس منظر اور اساس

برعظیم میں ایک نہیں متعدد نسلیں آباد تھیں۔ دراوڑ، آریائی، سامی، عرب، مغل اور ان کے ارتباط سے رُونما ہونے والی بے شمار نسلیں، اس سرزمین کا انسانی سرمایہ تھیں۔ بدھ مذہب، ہندومت، جین مت، اسلام اور پھر سکھ مت، عیسائیت اپنے اپنے دور اور اپنے اپنے انداز میں کارفرما قوت بنتے رہے۔ ہندومذہب اور سماج کی بنیاد ذات پات پر ہے۔ اس معاشرے کی بنیاد تخلیق انسان کے بارے میں ان کے مذہبی تصورات پر ہے اور ذات پات کی یہ تقسیم ہی ان کی اصل تہذیبی اور مذہبی شناخت ہے۔ اسلام نے ان تصورات کو چیلنج کیا اور عقیدے اور دین کی بنیاد پر انسانوں کے اجتماع کو قائم کر کے ایک حقیقی انسانی اور عالمی سماج اور ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ برعظیم کے مسلمانوں کا تعلق بھی انھی نسلوں سے تھا، جو برعظیم میں پائی جاتی ہیں لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شناخت، نسل، رنگ، زبان، قبیلے یا طبقے پر نہیں، ایمان کی بنیاد پر ایک اُمت کی صورت اختیار کرگئی اور یہی ان کی قومیت کی بنیاد بنی۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے تحریکِ پاکستان کی بنیاد، یعنی دو قومی نظریے کو بڑے سادہ مگر تاریخی حقائق پر مبنی انداز میں علی گڑھ کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے یوں بیان کیا کہ ’’پاکستان کی بنیاد اس دن پڑگئی جس دن برعظیم کی سرزمین پر پہلا ہندو، مسلمان ہوا تھا‘‘۔

برعظیم میں مسلمانوں نے آٹھ نو سو سال تک حکمرانی کی، لیکن اس پورے دور میں تمام  نشیب و فراز کے باوجود ان کی کوشش یہی رہی کہ اپنی شناخت پر کوئی سمجھوتا نہ کریں۔ دوسروں کو ان کی اپنی شناخت کے مطابق زندگی گزارنے کے پورے پورے مواقع دیں اور ان کے حقوق کا مکمل تحفظ کریں، لیکن ان کی اور اپنی شناخت کو گڈمڈ کرکے کوئی مشترکہ دین اور تہذیب نہ بنائیں۔    اس سلسلے میں جو کوششیں بھی مختلف حلقوں کی جانب سے ہوئیں وہ ناکام و نامراد ہوئیں، خواہ وہ اکبربادشاہ کے سرکاری قوت کے استعمال کے ذریعے ہوں، یا انگریز سامراج کے ترغیب و ترہیب کے ہتھکنڈوں سے، یا انڈین نیشنل کانگریس کے سیکولر اور جمعیت العلماء ہند کے ایک دھڑے کے مذہبی حربوں سے ہوں۔

اس جدوجہد کا بڑا ہی اہم اور چشم کشا منظر برعظیم کی بیسویں صدی کی سیاسی جدوجہد میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سیّداحمدشہید کی قیادت میں تحریک مجاہدین،دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلمائ، سرسیّداحمد خان کی علی گڑھ تعلیمی تحریک، ۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ کا قیام، تحریک ِخلافت کا ظہور اور ہندستان بھر میں پھیلائو اور پھر تحریک ِپاکستان اپنے اپنے انداز میں مسلم شناخت کی یافت اور حفاظت کی کوششیں تھیں۔ بلاشبہہ ایک مدت تک یہ کوشش ہوتی رہی کہ برعظیم کی تمام اقوام متحدہوکر سیاسی اہداف حاصل کریں، جن میں مسلمانوں کی شناخت کی حفاظت اور ترقی کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ جداگانہ انتخابات اور تہذیب، تعلیم، زبان اور مذہبی حقوق کی حفاظت، ۱۹۰۵ء سے لے کر ۱۹۴۰ء تک کی جدوجہد کے ہر مرحلے میں بحث و گفتگو کا مرکز اور محور رہے۔ جب کانگریس کے مسلم کش اور جارحانہ کردار، اور برطانوی حکمرانوں کے دوغلے پن سے یہ واضح ہوگیا کہ مسلمانوں کی قومی شناخت، ان کی اقدار اور ان کی تہذیبی روایات کی حفاظت و ترقی کسی بھی مشترک سیاسی انتظام میں ممکن نہیں، اور اس پر تاجِ برطانیہ کے ’۱۹۳۵ء کے قانون‘ کے نفاذ اور ۱۹۳۷ء کے صوبائی انتخابات کے بعد نیشنل کانگریس کی حکومتوں کے برہمنی جارحانہ اقدامات نے مہرتصدیق ثبت کردی، تو پھر علامہ محمد اقبال کے ۱۹۳۰ء کے خطبے کی روشنی میں مارچ ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ نے تقسیمِ ملک کی منزل کو اپنا ہدف مقرر کیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے صرف سات سال کے اندر قائداعظم کی روح پرور قیادت اور برعظیم کے مسلمانوں کی پوری یکسوئی کے ساتھ ایمان پرور اور قربانیوں سے بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں مسلمانوں کا ایک آزاد ملک وجود میں آگیا اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی کے طور پر یہ نعمت ۲۷رمضان المبارک کے دن حاصل ہوئی۔ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

تحریکِ پاکستان کا مقصد جہاں انگریز اور ہندو سامراج دونوں سے نجات حاصل کر کے ایک آزاد اسلامی ملک کا قیام تھا، وہیں اس کا اصل ہدف پاکستان کو ایک آئینی اسلامی فلاحی ریاست کی حیثیت سے ترقی دینا تھا، تاکہ دین اور تہذیب کی بنیاد پر استوار ہونے والی قوم کو جب آزاد ملک کی نعمت میسر آجائے، تو پھر وہ اس ملک کو اپنے نظریے کی بنیاد پر ایک مثالی ریاست بناسکے۔ جو ایک طرف اپنے نظریے کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی صورت گری کرے، تو دوسری طرف دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لیے نہ صرف تمام شہری اور انسانی حقوق کی ضمانت دے، بلکہ ان کے مذہبی اور سماجی تشخص کی حفاظت اوراس کو پروان چڑھائے جانے کے تمام مواقع بھی فراہم کرے۔

علامہ اقبال، قائداعظم اور ملت اسلامیہ پاک و ہند کا وژن اور تحریکِ پاکستان کی قیادت اور برعظیم کے مسلمانوں کے درمیان جو عمرانی میثاق ہوا، وہ بالکل واضح ہے۔ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کی ۶۹ویں سالگرہ کے موقعے پر سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ اس وژن اور اس میثاق کو ذہنوں میں تازہ کیا جائے اور خصوصیت سے اپنی نئی نسلوں اور زندگی کے ہر شعبے کے ذمہ دار حضرات کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ یہ ملک لاکھوں افراد کی جانوں، ہزاروں معصوم بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں، کھربوں روپے کی مالی قربانیوں، اور لاکھوں انسانوں کی ہجرت کی قیمت پر قائم ہوا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا قیام، تحفظ اور ترقی صرف ان مقاصد سے وفاداری ہی کے ذریعے ممکن ہے، جو اس کی اساس ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو قائداعظم نے قیامِ پاکستان کے بعد قوم سے صاف لفظوں میں کہی تھی:

اسلام ہمارا بنیادی اصول اور حقیقی سہارا ہے۔ ہم ایک ہیں اور ہمیں ایک قوم کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔ تب ہی ہم پاکستان کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

تحریکِ پاکستان کا حقیقی تصور

اقبال اور قائداعظم نے قوم کو جس منزل کی طرف دعوت دی، اس کو آج دھندلا کرنے بلکہ بالکل مخالف سمت میں ڈالنے کی شرانگیز کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آگے بڑھنے سے پہلے اس وژن کو بالکل دوٹوک الفاظ میں ایک بار پھر قوم، اس کے دانش وروں، پالیسی ساز اداروں اور افراد اور سب سے بڑھ کر نئی نسل اور اس کے نوجوانوں کے ذہنوں میں تازہ اور راسخ کردیا جائے۔ اس لیے کہ پاکستان کی بقا اور ترقی صرف اس وژن اور منزل کے صحیح اِدراک اور ان کو حرزِجان بنانے پر منحصر ہے۔

علامہ محمد اقبال نے اس تحریک کی فکری اور نظریاتی بنیادیں رکھیں تو قائداعظم محمدعلی جناح نے ان بنیادوں پر سیاسی اور نظریاتی تحریک برپا کی، اور اس کی قیادت اس طرح انجام دی کہ پوری قوم یکسو ہوکر ان کی تائید میں میدانِ عمل میں نکل آئی۔ ان کا اصل محرک آزادی کا حصول اور اپنی تہذیبی شناخت کی حفاظت اور ترقی تھا اور یہ دونوں ایک ہی جدوجہد کے دو رُخ ہیں، جن کو ایک دوسرے سے کسی صورت میں بھی جدا نہیں کیا جاسکتا۔

علامہ اقبال نے The Reconstruction of Religious Thought in Islam میں اسلام کے تصورِ توحید اور ریاست کے تعلق کو اس طرح بیان کیا ہے کہ:

گویا بہ حیثیت ایک اصول، عملِ توحید اساس ہے حریت، مساوات اور حفظ ِ نوعِ انسانی کی۔ اب اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ازروے اسلام، ریاست کا مطلب ہوگا ہماری یہ کوشش کہ یہ عظیم اور مثالی اصول زمان و مکان کی دنیا میں ایک قوت بن کر ظاہر ہوں۔ وہ گویا ایک آرزو ہے ان اصولوں کو ایک مخصوص جمعیت ِ بشری میں مشہود دیکھنے کی۔ لہٰذا، اسلامی ریاست کو حکومت ِ الٰہیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے تو انھی معنوں میں۔ ان معنوں میں نہیں کہ ہم اس کی زمامِ اقتدار کسی ایسے خلیفۃ اللہ فی الارض کے ہاتھ میں دے دیں، جو اپنی مفروضہ معصومیت کے عذر میں اپنے جورواستبداد پر ہمیشہ ایک پردہ سا ڈال رکھے۔(Reconstruction،ص ۱۲۲-۱۲۳، ترجمہ: سید نذیر نیازی،تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ،ص ۲۳۸)

علامہ محمد اقبال نے ۳۰،۳۱ دسمبر ۱۹۳۰ء کے کُل ہند مسلم لیگ کے اجتماع الٰہ آباد میں اپنے خطبۂ صدارت میں نظریاتی اور دینی بنیادوں پر تقسیمِ ہند کا تصور پیش کرتے ہوئے اس کی جس بنیاد پر روشنی ڈالی وہ بہت اہم ہے۔ انھوں نے اپنی بات کا آغاز ہی اس دعوے سے کیا کہ:

آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت کے لیے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے، جو اس امر سے مایوس نہیں ہوگیا ہے کہ اسلام اب بھی ایک زندہ قوت ہے، جو ذہنِ انسانی کو نسل اور وطن کی قیود سے آزاد کرسکتی ہے۔ جس کا عقیدہ ہے کہ مذہب کو فرد اور ریاست دونوں کی زندگی میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے اور جسے یقین ہے کہ اسلام کی تقدیر خود اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ بحیثیت ایک اخلاقی نصب العین اور نظامِ سیاست کے، اسلام ہی وہ سب سے بڑا جزو ترکیبی تھا، جس سے مسلمانانِ ہند کی تاریخِ حیات متاثر ہوتی ہے۔ اسلام ہی کی بدولت ان کے سینے ان جذبات اور عواطف سے معمور ہوئے، جن پر جماعتوں کی زندگی کا دارومدار ہے، جن سے متفرق اور منتشر اجزا بتدریج متحد ہوکر ایک متمیزومعین قوم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔مسلمانوں کے اندر اتحاد اور ان کی نمایاں یکسانیت، ان قوانین اور روایات کی شرمندۂ احسان ہے جو تہذیب اسلامی سے وابستہ ہیں۔

اسلام کا مذہبی نصب العین اس کے معاشرتی نظام سے، جو خود اس کا پیدا کردہ ہے، الگ نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ نے ایک کو ترک کر دیا تو بالآخر دوسرے کو بھی ترک کرنا لازم آئے گا۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کے لیے بھی کسی ایسے نظامِ سیاست پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہوگا، جو کسی ایسے وطنی یا قومی اصول پر مبنی ہو، جو اسلام کے اصولِ اتحاد کے منافی ہو۔ یہ مسئلہ ہے جو آج ہندستان کے مسلمانوں کے سامنے ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے، تو  اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔ پھر اسلام کو اس امر کا موقع ملے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہوکر، جو عربی شہنشاہیت کی وجہ سے اب تک اس پر قائم ہیں، اس جمود کو توڑ ڈالے گا جو اس کے تہذیب و تمدن، شریعت و تعلیم پر صدیوں سے طاری ہے۔ اس سے نہ صرف اس کے صحیح معانی کی تجدید ہوسکے گی، بلکہ وہ زمانۂ حال کی رُوح سے بھی قریب ہوجائے گا۔

اسی طرح قائداعظم نے صاف الفاظ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

آپ نے غور کیا کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبۂ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کے لیے   ایک جداگانہ مملکت کی وجۂ جواز کیا تھی؟ اس کی وجہ نہ ہندوئوں کی تنگ نظری ہے،    نہ انگریزوں کی چال__ بلکہ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔

مسلمانو! ہمارا پروگرام قرآنِ پاک میں موجود ہے۔ ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ  قرآنِ پاک کو غور سے پڑھیں، اور قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کرسکتی۔

قائداعظم نے پھر یہ بھی فرمایا:

ان لوگوں کو چھوڑ کر جو بالکل ہی ناواقف ہیں، ہرشخص جانتا ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے۔مذہبی، معاشرتی، دیوانی، معاشی، عدالتی، غرض یہ کہ ان مذہبی رسومات سے لے کر روزمرہ کے معاملات تک، روح کی نجات سے لے کر جسم کی صحت تک، اجتماعی حقوق سے لے کر انفرادی حقوق تک، اخلاقیات سے لے کر جرائم تک، دنیاوی سزائوں سے لے کر آنے والی [اُخروی] زندگی کی جزا وسزا کے تمام معاملات پر اس کی عمل داری ہے۔ اور ہمارے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہرشخص اپنے پاس قرآن رکھے اور خود رہنمائی حاصل کرے۔ اس لیے کہ اسلام صرف روحانی احکام اور تعلیمات تک ہی محدود نہیں ہے، یہ ایک مکمل ضابطہ ہے جو مسلم معاشرے کو مرتب کرتا ہے۔

اسی طرح اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے ۱۳؍اپریل ۱۹۴۴ء کو آپ نے فرمایا:

ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا ہے، ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزمائیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل اور عنایت ِ خاص کے ساتھ جس چیز نے پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا اور یہ تاریخی کرشمہ وجود میں آیا، اسے چار نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے:

                ۱-            آزادی کا جذبہ اور اس کے حصول اور حفاظت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہ کرنا۔

                ۲-            دین، نظریۂ حیات، تہذیب و تمدن کی حفاظت اور ترقی کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ترجیح بنانا۔

                ۳-            عوام کی جمہوری قوت، ا ن کا اتحاد اور ان کا یہ جذبہ کہ اپنی آزادی اور اپنے دین اور نظریے کے باب میں کوئی سمجھوتا قبول نہیں کریں گے اور ان کی خاطر جان کی بازی لگادیں گے۔

                ۴-            مخلص، باصلاحیت اور ایمان دار قیادت۔

قائداعظم نے ہر ذاتی مفاد سے بالا ہوکر صرف قوم کی خاطر اور اللہ کی خوشنودی کے لیے، عوامی قوت کے ذریعے اور پوری یکسوئی کے ساتھ اصل ہدف پر ساری توجہ مرکوز کردی۔ اس مسلم قیادت نے قوم پر اعتماد کیا اور قوم نے اس پر اعتماد کیا اور دونوں نے اپنے اپنے اعتماد کو سچ کر دکھایا۔ ایک طبقہ آج قائداعظم کو مسلم قوم کا صرف ایک ’وکیل‘ بناکر پیش کر رہا ہے، جب کہ قائداعظم نے یہ پوری جدوجہد ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے کی تھی، یہ محض وکالت نہیں تھی۔ اس سے بڑا بہتان اُن پر اور کیا ہوسکتا ہے؟ قائدکے جذبات اور محرکات کیا تھے، انھی کے الفاظ میں سننے اور ذہن میں نقش کرنے کی ضرورت ہے:

مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا۔ دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اُٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔ میں آپ کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے مدافعت ِ اسلام کا حق ادا کردیا۔ جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علَمِ اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔(روزنامہ انقلاب، ۲۲؍اکتوبر ۱۹۳۹ئ)

یہی وہ جذبہ تھا، جس نے تحریکِ پاکستان کو ملت اسلامیہ ہند کے دلوں کی آواز بنادیا ،اور وہ ایک آزاد اسلامی ملک کے قیام کے لیے سرگرمِ عمل ہوگئی۔ قوم کی یکسوئی اور تائید اور قائد کا عزم اور بے لاگ خدمت__ جب یہ دونوں قوتیں یک جا ہوجاتی ہیں تو تاریخ کی کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ آج ہمارے مسائل اور مشکلات کی اصل وجہ یہ ہے کہ منزل اور مقصد کا شعور دھندلا دیا گیا ہے۔ قوم اور اس کی فلاح و بہبود کو یکسر بھلادیا گیا ہے۔ مخصوص مفادات کے پرستار زمامِ اقتدار پر قابض ہیں، جو عوام کے اعتماد سے محروم ہیں اور جن کی دیانت اور صلاحیت دونوں مشتبہ ہیں۔ وژن اور مقصد سے محرومی، عوام کی تائید اور ان کے مرکزی کردار کا عدم وجود اور صحیح قیادت کا فقدان ہمیں پستی کی انتہائوں کی طرف دھکیلے جا رہا ہے۔

۱۴؍اگست کے تاریخی لمحے کی یاد میں ان تمام حقائق، جذبات اور عزائم کو ذہنوں میں تازہ کرنا ضروری ہے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہماری قوت کا اصل سرچشمہ یہی عزائم، جذبات اور داعیات ہیں۔ سات سال میں تحریکِ پاکستان کی کامیابی کا راز مندرجہ بالا چاروں عوامل پر ہے۔ انھی کے سہارے ہم ان بلندیوں پر پہنچے، جن کا نقطۂ فراز ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء تھا اور گذشتہ سات عشروں میں جس پستی کی طرف ہم لڑھکتے جارہے ہیں، اس کا تعلق بھی انھی چاروں کے بارے میں کمزوری یا فقدان سے ہے۔

پاکستان کا محلِ وقوع تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی اور مادی دونوں وسائل سے ہمیں مالا مال کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی قوم نے جس درجے میں ان چاروں عناصر کا اہتمام کیا ہے، وہ بلندیوں کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ مایوسی کفر ہے اور حالات کی خرابی کے باوجود کسی درجے میں بھی مایوسی مسلمان کا شعار نہیں ہوسکتی۔ اگر صحیح مقاصد کے لیے، صحیح قیادت کی رہنمائی میں، مؤثر اجتماعی اور عوامی جدوجہد کی جائے، تو بڑی سے بڑی مشکل دُور ہوسکتی ہے اور دُور دراز واقع منزل بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جس جس درجے میں یہ چیزیں حاصل ہوں، اسی حد تک محدود دائروں میں بھی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جس طرح پاکستان کا قیام ایک تاریخی کامیابی تھا، اسی طرح اوّلین دور میں پاکستان کی بقا اور ترقی بھی ایک کرشماتی نعمت سے کم نہیں۔ بھارتی قیادت کو یقین تھا اور انگریز سامراج بھی اسی وہم میں مبتلا تھا کہ پاکستان باقی نہیں رہ سکے گا۔

تقسیمِ ملک کے لیے اصل تاریخ اپریل ۱۹۴۸ء تھی لیکن انگریز اور کانگریسی قیادت دونوں انتقالِ اقتدار کے لیے مناسب وقت اور نقشۂ کار سے پاکستان کو محروم رکھنے اور اوّلین برسوں ہی میں  شکست وریخت (collapse ) کے خطرات سے دوچار کرنے کے لیے ۱۱ مہینے کی مدت کو کم کرکے یک طرفہ طور پر ڈھائی مہینے کردیا، یعنی ۳جون کو اسکیم کا اعلان ہوا اور ۱۴؍اگست تک اس پر عمل مکمل کرنے کا نوٹس دے دیا۔ پھر سرکاری وسائل اور مالیات کی تقسیم کے پورے انتظام کو درہم برہم کردیا اور پاکستان کو اس کے حقوق سے محروم رکھا۔ ریڈکلف نے ایوارڈ میں تبدیلیاں کرکے پاکستان کو کشمیر اور دوسرے اہم علاقوں سے محروم کردیا۔ پورے ملک میں فسادات کی آگ بھڑکا دی گئی اور اتنے بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی واقع ہوئی کہ پورا انتظامی ڈھانچا درہم برہم ہو گیا۔

یہ سب ایک منظم منصوبے کے مطابق ہوا، جس میں برطانوی حکومت، اس کا مقرر کردہ گورنرجنرل مائونٹ بیٹن اور کانگریس کی حکومت اور ہندو عوام سبھی برابر کے شریک تھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک طرف تقسیمِ ہند کی اسکیم پر دستخط کیے تو دوسری طرف اپنی قوم سے کہا:

ہماری اسکیم یہ ہے کہ ہم اس وقت جناح کو پاکستان بنالینے دیں اور اس کے بعد معاشی طور پر یا دیگر انداز سے ایسے حالات پیدا کردیے جائیں، جن سے مجبور ہوکر مسلمان گھٹنوں کے بل جھک کر ہم سے درخواست کریں کہ ہمیں پھر سے ہندستان میں مدغم کرلیجیے۔

برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی نے ایک طرف آزادیِ ہند کے منصوبے کی منظوری دی اور برطانوی پارلیمنٹ میں بل منظور کروایا، تو دوسری طرف یہ بھی کہہ دیا کہ:

ہندستان تقسیم ہو رہا ہے لیکن مجھے اُمید واثق ہے کہ یہ تقسیم زیادہ عرصے تک قائم نہیں   رہ سکے گی اور یہ دونوں مملکتیں جنھیں ہم اس وقت الگ کر رہے ہیں، ایک دن پھر آپس میں مل کر رہیں گی۔(تاریخ نظریۂ پاکستان ، پروفیسر محمد سلیم، لاہور، ۱۹۸۵ئ، ص ۲۷۵)

اُمید کی کرن

ان حالات میں پاکستان کا باقی رہ جانا اور جلد اپنے پائوں پر کھڑے ہوجانا، اسی طرح کا ایک دوسرا تاریخی کرشمۂ قدرت تھا جیسا سات سال میں اس کا قیام۔پاکستان کے لیے ایٹمی صلاحیت کا حصول بھی اسی طرح کا ایک ناقابلِ تصور کرشمہ ہے۔ بلاشبہہ اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی پوری ٹیم کی مہارت اور کوشش، سیاسی اور عسکری سطح پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر صدر محمدضیاء الحق، بے نظیر بھٹو، میاں محمد نواز شریف اور غلام اسحاق خان کی قیادت اور قوم کی تائید اور دُعائیں سب کا کردار ہے۔ دنیا کی مخالفت، امریکا اور مغربی اقوام کی جان لیوا پابندیاں اور وسائل کی قلت کے باوجود جب وژن، محنت اور صلاحیت، تنظیم اور کوشش، عوامی تائید اور دعائیں مل جاتی ہیں، تو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ پاکستان نے ساری پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایک ترقی پذیر ملک ہوتے ہوئے بھی یورنیم کی افزودگی ( Uranuim Enrichment) اور اسلحہ سازی (weaponization) کے اس مشکل عمل کو، جو امریکا میں۱۸سال میں مکمل ہوا تھا، صرف سات آٹھ سال میں مکمل کرلیا۔ صدر محمد ضیاء الحق نے راجیوگاندھی کو ۱۹۸۷ء میں یہ پیغام دیا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا، ہمارے پاس وہ چیز ہے جو تمھیں منٹوں میں تباہ کرسکتی ہے۔ مئی۱۹۹۸ء میں ہندستانی ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں امتحان کا لمحہ آیا تو الحمدللہ ۱۵دن کے اندر پاکستان نے چھے ٹیسٹ کرکے ہندستانی جنگ  ُجو قیادت کے ہوش اُڑا دیے اور دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور دنیا کے چپے چپے میں مسلمانوں کا سر بلند کردیا۔ اس سے پہلے ۱۹۶۵ء میں بھارت کے حملے کے موقعے پر بھی فوج اور قوم نے جس کردار کا مظاہرہ کیا وہ لاجواب تھا۔

اکتوبر ۲۰۰۵ء میں ہولناک زلزلے نے ایک بار پھر قوم کی خوابیدہ صلاحیتوں کے خزانے کو بے نقاب کیا۔آزمایش کی اس گھڑی کے موقعے پر خیبر سے کراچی تک عوام جس طرح متحرک ہوئے اور اس قومی تباہی کا مقابلہ کرنے کے لیے سینہ سپر ہوگئے، وہ ایمان افروز اور اُمیدافزا تھا۔ اس موقعے پر اپنی مدد آپ کی ایک روشن مثال قائم ہوئی اور ایک بار پھر یہ یقین تازہ ہوگیا کہ  ع

ذرا نم ہو تو یہ مٹی ، بہت زرخیز ہے ساقی!

آج حالات کتنے ہی خراب ہوں، لیکن ساری خرابیوں کے باوجود قوم میں خیر کا بڑا خزانہ موجود ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی صلاحیتوں اور کارکردگیوں پر عدم اعتماد اپنی جگہ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری زکوٰۃ کٹوتی میں ہر رمضان میں حکومت کو چارپانچ ارب روپے حاصل ہوتے ہیں۔ ملکی اور غیرملکی تحقیقی اداروں کے مطابق اصحابِ خیر کی طرف سے رضاکارانہ صدقات کی مد میں (صرف رمضان کے مہینے میں نہیں بلکہ سال بھر میں) ۱۱۰؍ارب روپے سے زیادہ رقم مستحقین کو منتقل ہوتی ہے۔ اور ’پاکستان سنٹر فار فلن تھراپی‘ کی رپورٹ کے مطابق سالانہ پاکستان میں عوامی سطح پر ۲۴۰؍ارب روپے سے زیادہ رقم مستحقین کو دی جاتی ہے۔ اس پہلو سے پاکستانی قوم، دنیا میں ان اقوام میں سرفہرست ہے، جن میں اہلِ ثروت، اہلِ ضرورت کی سب سے زیادہ مدد کرتے ہیں۔ ہارورڈ یونی ورسٹی کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق امریکا میں پاکستانی کمیونٹی،امریکا کی سب سے زیادہ خیرات دینے والی کمیونٹی ہے۔ پاکستان میں الخدمت، فلاحِ انسانیت، ایدھی فائونڈیشن، اخوت اور درجنوں ایسے ادارے ہیں، جو کسی نام و نمود کے بغیر خدمت ِ خلق کے جذبے سے دُکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ تمام وہ پہلو ہیں، جو اس مایوس کن اور تاریک ماحول میں اُمید کی کرن ہیں اور یہ یقین پیدا کرتے ہیں کہ اگر قوم کو صحیح قیادت میسر ہو اور کام کرنے کے لیے مناسب طریق کار اور صحیح تنظیمِ کار کا اہتمام کیا جائے تو اس قوم میں بڑی قوت اور صلاحیت ہے۔ ضرورت صحیح وژن،صحیح تنظیم، دیانت دار اور باصلاحیت قیادت کی ہے۔

ملکی بحران کے اسباب

۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء ایک تاریخی بلندی کی علامت ہے، تو پاکستان کی تاریخ میں ۱۶ دسمبر۱۹۷۱ء پستی کی ایک ہولناک تصویر ہے۔ جب بھارت کی فوج کشی کے نتیجے میں اور خود اپنی بے پناہ غلطیوں کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا ۔ تب پاکستان توڑنے کی سازش میں شریک بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ بھارت کی ہندو قیادت نے مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دورِاقتدار کا بدلہ لے لیا ہے اور دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ بھارت کے موجودہ ہندوقوم پرست وزیراعظم نریندر مودی نے جون ۲۰۱۵ء میں ڈھاکا یونی ورسٹی میں اپنے خطاب میں بھارت کے دہشت پسندانہ کردار کا سرکاری اعلان کرتے ہوئے برملا کہا:’’ بھارتی فوجی، مکتی باہنی کے ساتھ مشرقی پاکستان میں مہینوں سرگرم رہے اور بالآخر بھارت کی فوج کشی نے پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا‘‘۔

 آج بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ دوسری بین الاقوامی قوتوں کی معاونت سے ملک میں جو دہشت گردی کی آگ بھڑکانے میں جو کردار ادا کر رہی ہے، اسے بھی اس پس منظر میں سمجھا جاسکتا ہے اور ۱۶دسمبر ۲۰۱۴ء کو پشاور کے فوجی اسکول پر حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ۱۶دسمبر کی تاریخ کا یہ اشتراک بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ نائن الیون کے معاً بعد پاکستانی اقتدار پر متمکن جنرل پرویزمشرف نے جس طرح امریکی دھمکیوں کے آگے سپرڈالی اور ملک کو جس عذاب میں مبتلا کیا، وہ بھی ہماری تاریخ کا بڑا تاریک باب ہے۔ محض نریندر مودی کو خوش کرنے کے لیے دہلی میں پاکستانی سفارت خانے میں حُریت کانفرنس کی قیادت کے لیے افطارپارٹی کو ملتوی کرنا، اور اوفا (روس) کی ملاقات کے بعد اعلامیے کا کشمیر کے ذکر سے خالی رہنا بھی پستی کا دل خراش واقعہ ہے۔

پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کے انتقال اور لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد اقتدار پر جس طرح بیوروکریسی، چند فوجی جرنیلوں اور جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں اور زرپرست عناصر کی ہوسِ اقتدار کے سایے پڑے ہیں اور جس طرح دستور کو پامال اور اداروں کو تباہ و برباد کیا گیا ہے، بد سے بد تر حکمرانی کے جن اَدوار سے قوم اور ملک کو گزرنا پڑ رہا ہے اور بدعنوانی اور کرپشن کی جو داستان رقم کی جارہی ہے، وہ دل خراش بھی ہے اور تباہ کن بھی۔ آج پاکستان دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ ہونے کے باوجود اسے دہشت گرد ملک بلکہ دہشت گردی کا مرکز بناکر پیش کیا جا رہا ہے۔ جن ’اتحادیوں‘ کے لیے ہم نے اپنی عزت اور امن و چین کو قربان کیا، وہی ہم پر زبان طعن دراز کر رہے ہیں، اور ہماری سیاسی قیادتیں ہیں کہ ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ دنیا میں ہماری تصویر کیا ہے؟ اس کا اندازہ ورلڈ اکانومک فورم ۲۰۱۴ء کی Golbal Competitiveness Report سے کیجیے:

یہ ملک [پاکستان] مسابقت اور مقابلے کے تمام بنیادی اور اہم دائروں میں بہت کم نمبر حاصل کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں، وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کی بیماری، بے جا نوازشات اور غیرقانونی سرپرستی کے کلچر کو پروان چڑھانے کے ساتھ ملکیتی حقوق کے تحفظ میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے۔

اسی طرح عالمی بنک کی ۲۰۱۳ء کی رپورٹ Worldwide Governance Indicators  میں بدعنوانی اور کرپشن کے باب میں پاکستان کا شمار نچلے ترین درجے میں ہوتا ہے۔ دنیا کے ممالک ۷۲ فی صد ہم سے بہتر ہیں، ہم آخری ۱۸ فی صد میں ہیں۔ بنگلہ دیش بھی ہم سے چھے درجے بہتر حالت میں ہے۔ یہی صورت قانون کی حکمرانی کی ہے۔ بنگلہ دیش اور موزمبیق ہم سے اُوپر ہیں۔ مجموعی طور پر اندازِ حکمرانی کے اشاریے میں بھی ہم پست ترین مقام پر ہیں، حتیٰ کہ غزہ بھی ہم سے اُوپر ہے۔ (ڈان، ۲۶ جون ۲۰۱۵ئ)

بدعنوانی اور کرپشن، وسائل کا ناجائز استعمال، اہم مناصب پر من پسند لوگوں کی تقرریاں، اہلیت کی دھجیاں بکھرتے ہوئے اداروں کی کمزوری اور تباہی، اداروں کے درمیان تصادم، پالیسیوں میں ہم آہنگی کا فقدان، پولیس اور بیوروکریسی کا سیاسی استعمال، عوام کی حقیقی ضروریات سے اغماض اور بنیادی سہولتوں کا فقدان اس بحران کے بدترین سرچشمے ہیں، جس نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے اور سول انتظامیہ اور سیاسی قیادت دونوں کو بے توقیر کرکے رکھ دیا ہے۔ ایک طرف عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور دوسری طرف حکمران مہنگے منصوبوں کے عشق میں مبتلا ہیں۔ ستم ہے کہ ان حالات میں وزیراعظم صاحب کی ترجیح یہ ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے قافلے میں نت نئی کاروں کا ہرسال اضافہ کیا جاتا رہے۔ اس وقت جب ملک سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے، قومی خزانے سے ۳۰کروڑ روپے کی قیمت پر ۱۰ لگژری کاریں خرید رہے ہیں، جن میں چھے وہ  کاریں ہیں، جو یورپ کے سربراہانِ مملکت بھی استعمال کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔

یہ منظرنامہ جمہوریت کے مستقبل کے لیے بڑا خطرناک ہے اور جس کے نتیجے میں سول اور فوجی نظام کے درمیان توازن روز بروز بگڑ رہا ہے اور ایک طبقہ مسلسل یہ راہ ہموار کر رہا ہے کہ خدانخواستہ کوئی ’مصطفی کمال‘ بن کر جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دے۔

افسوس کا مقام ہے کہ وہ دانش ور، صحافی اور اینکر خواتین و حضرات جو آزادی، روشن خیالی اور حقوق کی باتیں کرتے ہیں، وہی آج کسی طالع آزما کی تلاش اور فوجی قیادت کو کچھ کرگزرنے کی دعوتیں دے رہے ہیں۔ سیاسی قیادت کی نااہلی اور کرپشن اپنی جگہ، اور وہ ایک بڑا ناسور ہے جس کی اصلاح ضروری ہے، مگر اسے بہانہ بناکر اعلیٰ فوجی قیادت کو سیاست میں ملوث ہونے کی دعوت دینا، فوج اور ملک دونوں کے ساتھ خیرخواہی کا راستہ نہیں ہے۔

 فوجی قیادت کی حکمرانی کے چار دور ہم دیکھ چکے ہیں اور اس میں سے ہر دور بنیادی طور پر قومی حالات کو بگاڑنے کا سبب بنا ہے، خصوصیت سے جنرل پرویز مشرف کا آخری دور تو سب سے زیادہ تباہ کن رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بھی فوج جو خدمت انجام دے رہی ہے، وہ چند مثبت پہلوئوں کے باوجود، بالآخر اس کی دفاعی صلاحیت کار کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ امرواقعہ ہے کہ فوج اور رینجرز کا استعمال: سول انتظامیہ، پولیس اور نچلی سطح پر عدالتی عمل کی ناکامی کی وجہ سے ہے اور ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر فوج کو اس کا موقع دیا گیا ہے۔ لیکن اسے سیاسی نظام اور دستوری انتظام کو درہم برہم کرنے کے لیے وجہ جواز بنانا ایک زیادہ بڑی تباہی کی طرف جانے کے مترادف ہوگا۔ جس دلدل میں فوج کو گرا دیا گیا ہے، وہ حقیقت ہے، لیکن اس سے نکلنے کا راستہ یہ نہیں کہ فوج کو اقتدار میں لایا جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان اسباب کا تعین کیا جائے، جو پستی کی طرف لے جانے اور بگاڑ کو گمبھیر کرنے کا سبب بنے ہیں اور پھر اس دلدل کے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے، تاکہ ایک دلدل سے نکلنے کی خواہش میں کسی دوسری اور زیادہ بڑی دلدل میں نہ پھنس جائیں بلکہ وہ راستہ اختیار کریں جو فی الحقیقت بلندی اور فراز کی طرف لے جاسکے۔

  •  ہماری نگاہ میں بگاڑ کی پہلی اور اہم ترین وجہ پاکستان کی نظریاتی اساس اور شناخت کے بارے میں فکری انتشار اور عملی غفلت ہے۔ قومیں نظریات ہی کی بنیاد پر مضبوط ہوسکتی ہیں۔ قوم میں جذبہ اور حرکت نظریے ہی سے پیدا ہوتے ہیں اور قومی یک جہتی اور اتحاد نظریے ہی کے رہینِ منت ہیں۔ اس سلسلے میں غفلت، انتشار اور بے وفائی ہماری کمزوری اور بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ حکمرانوں کی غفلت اور کمزوری اور ایک مخصوص سیکولر اور لبرل طبقے کا جارحانہ رویہ حالات کو بگاڑنے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ ملک کی نئی نسل اور ہمارے نوجوان جو آج آبادی کا ۶۰ فی صد ہے، اسے گمراہ کرنے اور ذہنی انتشار اور اخلاقی بگاڑ کا نشانہ بنانے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں۔ میڈیا اور بیرونی امداد پر پلنے والی این جی وزاس سلسلے میں بڑا ہی خطرناک کردار ادا کر رہی ہیں۔ فحاشی اور بے راہ روی کی ترویج کی منظم کوششیں روزافزوں ہیں اور غضب ہے کہ اس سال میڈیا نے رمضان کے تقدس کو پامال کرنے اور اس کے روحانی اور اخلاقی ثمرات سے معاشرے کو محروم کرنے کے لیے ٹی وی پر جس طرح کے رمضان پروگرام نشر کیے ہیں ،وہ شرمناک بھی ہیں اور اسلامی اخلاقیات کے یک سر منافی بھی۔ رمضان کو ایک تماشا اور تہوار بنا دیا گیا ہے اور اسے ریٹنگ کے چکر میں کمرشلائز کرنے اور کاروں، موٹرسائیکلوں اور نقدی اور سونے کے انعامات کے چکّر میں محصور ایک مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ سب ہو رہا ہے اور نہ حکومت کے کان پر جوں رینگتی ہے، نہ پیمرا خوابِ غفلت سے بیدار ہوتا ہے اور نہ علما اور دینی حلقے ہی رمضان کی اس بے حُرمتی پر احتجاج کناں ہیں۔ دو ایک علما،سیاسی رہنمائوں اور چند صحافیوں کو چھوڑ کر کوئی دکھائی نہیں دیا جو اس کے خلاف آواز اٹھائے۔ہم اس نظریاتی یلغار کو تحریکِ پاکستان کے اصل مقاصد پر ایک کاری ضرب اور حملہ سمجھتے ہیں۔
  • دوسرا خطرہ پاکستان میں بیرونی مداخلت کا ہے جو نظریاتی کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی میدانوں میں بھی روزافزوں ہے۔ امریکا، مغربی اقوام، بھارت اور کچھ دوسرے ممالک اپنے اپنے مقاصد کے لیے ہرممکن محاذ پر سرگرم ہیں۔ حکومتیں اور ان کی ایجنسیاں بھی اور بیرونی امداد پر پلنے والی بیرونی اور ملکی این جی اوز بھی۔ آج Hard Power (فوجی قوت) سے بھی بڑا خطرہ Soft Power (ابلاغِ عامہ کی جملہ قوت) بن گئی ہے اور ہماری حکومت اور سیاسی اور دینی جماعتوںکو اس خطرے کا یا پورا ادراک نہیں یا پھر وہ مصلحتوں کا شکار اور قوم کے حیات افروز مفادات کے بارے میں مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔
  • تیسرا بڑا مسئلہ اچھی حکمرانی کا فقدان اور شخصی پسند و ناپسند اور ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر دستور، قانون ، اداروں اور مسلّمہ ضابطہ ہاے کار کی خلاف ورزی بلکہ بہیمانہ پامالی ہے۔ اس نے بدعنوانی اور کرپشن کا طوفان برپا کر دیا ہے۔ قومی وسائل ضائع ہو رہے ہیں اور ضرورت کو پورا کرنے کے نام پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج مرکزی بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادایگی ہی خرچ کی سب سے بڑی مد بن گئی ہے۔ ٹیکس کی آمدنی کا ایک تہائی صرف سود کی ادایگی کی نذر ہو رہا ہے، جو دفاعی اخراجات سے بھی تقریباً دگنی ہے۔ اس کے برعکس اندازہ ہے کہ کرپشن کی وجہ سے جو نقصان ملک کو ہو رہا ہے، وہ ۸۰ کھرب روپے سالانہ سے بھی زیادہ ہے، جو پورے وفاقی بجٹ سے دوگنے کے لگ بھگ ہے۔

حکومت کی ترجیحات میں نمایشی منصوبے مرکزیت رکھتے ہیں، جب کہ عوام کی حقیقی ضرورتوں: خوراک، صاف پانی، تعلیم، صحت، رہایش پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ معیشت کا پورا نظام سرمایہ دارانہ اصولوں پر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔معاشی ترقی کا جو تصور چھایا ہوا ہے، اس کا فائدہ زیادہ سے زیادہ ۱۰ فی صد آبادی کو مل رہا ہے، جب کہ ۹۰ فی صد عوام محروم ہیں۔ دولت کی عدم مساوات روزافزوں ہے۔ غربت میں کمی نظر نہیں آرہی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ توانائی کا بحران حسب سابق ہے۔ زراعت رُوبہ زوال ہے۔ صنعت کی ترقیاتی رفتار ٹھیری ہوئی ہے، البتہ اسٹاک ایکسچینج میں بہار آئی ہوئی ہے اور بنکوںکے وارے نیارے ہیں۔ ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ (آئی ایم ایف) کی ایک تازہ ترین رپورٹ یہ کہنے پر مجبور ہوئی ہے: ’’دنیا میں جن دو ملکوں میں بنک سب سے زیادہ منافع کمارہے ہیں وہ پاکستان اور کولمبیا ہیں‘‘۔ گذشتہ سال جب زراعت کی پیداوار کا گراف نیچے گرا ہے، اور بڑی صنعت ۲ فی صد کی شرح سے بڑھی ہے، بنکوں کا منافع ۲۵ فی صد سے ۷ئ۴۰ فی صد تک رہا ہے اور وہ بھی اس عجیب و غریب سرمایہ کاری کے نتیجے میں کہ بنکوں کے وسائل کا ۹۰ فی صد حکومت کی سیکورٹیز اور بانڈز میں لگا ہوا ہے اور صنعت اور تجارت میں ان کی سرمایہ کاری ۱۰ فی صد سے بھی کم ہے۔ بنکوں کے چیف ایگزیکٹوز کی تنخواہوں پر نگاہ ڈالیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو کی تنخواہ ایک کروڑ ۱۵لاکھ روپے ماہانہ ہے۔ مسلم کمرشل بنک

[بقیہ دیکھیے: ص ۱۰۹]

[’اشارات‘ ص ۲۳ سے آگے]

 کے منتظم اعلیٰ کو ۴۵لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ مل رہی ہے۔ الائیڈبنک کے سربراہ کی تنخواہ ۴۴لاکھ ماہانہ ہے اور حبیب بنک کے سربراہ کی ۳۰ لاکھ روپے ماہانہ ہے، جب کہ ملکی آبادی کا ۶۰ فی صد اوسطاً ۶ہزار روپے ماہانہ اور ۳۰ فی صد اوسطاً صرف ۳ہزار روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ یہ ہے وہ معاشی دہشت گردی جس کی آماج گاہ پاک وطن بن چکا ہے۔

یہ وہ حالات ہیں، جن کے نتیجے میں پاکستان آج صرف سیاسی اور معاشی بحران ہی کا شکار نہیں، نظریاتی، اخلاقی اور تہذیبی انتشار میں بھی مبتلا ہے، جس کی شدت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ آج حالات کی اصلاح کے لیے اسی طرح کی ایک ہمہ جہتی نظریاتی تحریک اور جدوجہد کی ضرورت ہے، جیسی برعظیم کے مسلمانوں کو برطانوی حکومتوں اور بھارتی سامراج سے نجات دلانے کے لیے  علامہ محمد اقبال کی فکری اور قائداعظم کی سیاسی رہنمائی میں برپا ہوئی تھی۔

قومی یک جھتی کی ضرورت

ہر زبان پر یہ سوال ہے کہ اصلاح کا راستہ کیا ہے؟

ہماری نگاہ میں نہ فوج کی سیاسی مداخلت پاکستان کے حالات کو درست کرسکتی ہے اور نہ تشدد اور لُوٹ مار کی سیاست۔ ملکی سیاست میں تصادم اور تلخی جس حد کو پہنچ گئی ہے، وہ صرف سیاست ہی نہیں بلکہ ریاست اور ملک کے وجود کے لیے بھی خطرہ بنتی جارہی ہے۔ حکومتوں کی آمرانہ روش، تنگ دلی، تنگ نظری اور مفادپرستی حالات کو بگاڑ رہی ہے اور اداروں کی کمزوری اور باہم آویزش حالات کو اور بھی مخدوش بنارہی ہے۔ ایک طرف عوام کی حالت روز بروز خراب ہورہی ہے تو دوسری جانب معاشی بگاڑ کم ہونے میں نہیں آرہا۔ توانائی کے بحران میں کوئی کمی نہیں ہورہی۔ وسائلِ حیات کی قلت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی دوبھر کردی ہے تو دوسری طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ ضربِ عضب اور دہشت گردی کے خلاف ’نیشنل ایکشن پلان‘ نے کچھ علاقوں میں بہتری پیدا کی ہے، مگر بحیثیت مجموعی حالات ابھی گرفت میں نہیں ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسئلے کا حل صرف فوجی قوت کا استعمال نہیں۔ مناسب حد تک فوجی قوت کا استعمال اور ریاست کی رِٹ قائم کرنے کے تمام ضروری اقدامات اپنی جگہ بہت اہم، لیکن سیاسی فضا کی بہتری اور سب سے زیادہ اندازِ حکمرانی کی درستی اور اداروں کو سیاسی مداخلت اور مفاد پرستوں کی گرفت سے آزاد کرکے اہلیت اور قانون کی حکمرانی اور ضابطۂ کارکے احترام کی بنیاد پر متحرک اور مؤثر کیے بغیر تبدیلی اور اصلا ح محال ہے۔

کس قدر صدمے اور شرم کی بات ہے کہ سیاست اور جرم اس طرح شیروشکر ہوگئے ہیں اور ہرسطح پر یوں جلوہ گر ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ایک ماڈل گرل کو رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود چار مہینے بڑے ناز نخروں کے ساتھ زیرحراست رکھا جاتا ہے اور عدالت میں روز روز کی پیشیاں ایک تماشا بنادی جاتی ہیں، مگر اس کے باوجود چارج شیٹ نہیں کیا جاتا کہ جن پر ضرب پڑتی ہے وہ ہرقانون سے بالا اور ایک دوسرے کے محافظ ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جو پاکستان کی سیاست پر لوگوں کو تین حرف بھیجنے کا راستہ دکھاتے ہیں یا سیاست کی بساط لپیٹ دینے والوں کو موقع فراہم کرتے ہیں۔

اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ ملک کے وہ تمام عناصر جو حالات سے غیرمطمئن ہیں، بگاڑ کے اسباب پر متفق ہیں اور اصلاح کے خواہاں ہیں، وہ مل جل کر سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کو دستور کے دائرے میں رہ کر بدلنے کے لیے سرگرم ہوں۔ اس مقصد کے لیے بگاڑ کے   ایک ایک سبب کو دُور کرنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے، جب عوام کو متحرک اور منظم کیا جائے اور عوامی تائید سے اقتدار ایک ایسی قیادت کو سونپا جائے جس کا دامن پاک ہو، جو اعلیٰ صلاحیتوں کی حامل ہو، جس کا تعلق مفاد پرست طبقوں سے نہ ہو، بلکہ جو عوام میں سے ہو، جو عوام کے سامنے جواب دہ ہو، اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کا جذبہ اور صلاحیت رکھتی ہو۔

قوم میں یہ صلاحیت موجود ہے اور وہ بار بار اس کا مظاہرہ کرچکی ہے۔ ضرورت صحیح مقصد اور منزل کا تعین اور جماعتی اور گروہی تعصبات سے بالا ہوکر تمام محب ِ وطن عناصر کو ایک مؤثر اور متحرک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ہے۔ آسمان سے فرشتے نہیں اُتریں گے، قوم کو خود اپنے معاملات کی اصلاح کے لیے اپنے میں سے اچھے لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔ یہی راستہ صحت مند تبدیلی کا راستہ ہے۔ اسی کو اختیار کرکے ہم خوش حال اسلامی پاکستان کی طرف پیش قدمی کرسکیں گے۔

قومی زندگی میں بجٹ کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایسی دستاویز ہے جو ایک طرف حکومت کی پچھلے ایک سال کی آمدنی اور اخراجات اور آیندہ سال کے پورے مالی دروبست کا میزانیہ ہوتی ہے، تو دوسری طرف اس کی اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک ایسا آئینہ ہوتا ہے جس میں ملک کو درپیش حقیقی معاشی مسائل اور چیلنجوں کی صحیح تصویر قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے آتی ہے۔ اس میں وہ پورا نقشۂ کار بھی سامنے آجاتا ہے، جو ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کے پیش نظر ہوتا ہے۔ گویا حقیقت اور وژن دونوں ہی کا عکس اس میں دیکھا جاسکتا ہے۔

بجٹ: معاشی ترقی کا آئینہ

قوم اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ درج ذیل پہلوئوں سے بجٹ کا جائزہ لینے کا اہتمام کرے:

اوّلاً: یہ حکومت کی ایک سال کی کارکردگی کا بے لاگ جائزہ لینے کا بہترین موقع ہوتا ہے جس کی روشنی میں دیانت اور انصاف کے ساتھ حکومت اور معیشت دونوں کی کارکردگی کے مثبت اور منفی پہلوئوں کو متعین کرنا چاہیے۔ ان کی روشنی میں مستقبل کے لیے جو سبق سیکھا جاسکتا ہے، اس کی بھی واضح الفاظ میں نشان دہی ہونی چاہیے۔ حکومت کو خود بھی یہ کام کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ اور قوم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ خدمت انجام دے۔ اس کا مقصد محض ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ملک اور قوم کے وسائل کو عوام کی حقیقی بہبود کے لیے کس طرح خرچ کیا جائے اور اس سلسلے میں بہتر سے بہتر کی نشان دہی کی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن، سرکاری ادارے اور سول سوسائٹی، دانش ور اور میڈیا، سب کی ذمہ داری ہے کہ اس بجٹ کے موقعے پر اس جائزے اور احتساب کے عمل میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

ثانیاً: مسئلہ محض ایک سال کی کارکردگی کا نہیں بلکہ معیشت کے باب میں حکومت کی بنیادی حکمت عملی کے تعین اور پھر اس حکمت عملی کوعملی جامہ پہنانے کے لیے بنائی جانے والی پالیسیوں، ترجیحات، ان پر عمل کے لیے وسائل کے حصول اور ان کے صحیح استعمال کے واضح نقشۂ کار کا تعین اور ان کا تنقیدی جائزہ ہے، تاکہ ملک صحیح سمت میں ترقی کرے اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکے۔

ان دونوں مقاصد کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ اور اس پر بحث کو محض   ان چند دنوں کی بحث اور منظوری کا قصّہ نہ سمجھا جائے، بلکہ بجٹ پر سوچ بچار کا عمل ہرمرحلے میں، اس پر پارلیمنٹ میں بحث اور منظوری کے دوران، اور منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد کے پورے عمل میں جاری و ساری رہنا چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بجٹ کو محض چند دنوں کا ایک تماشا سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ دنیا کے جمہوری ممالک میں بجٹ اور اس کا جائزہ پورے سال پر پھیلا ہوا ایک مسلسل عمل ہے۔ پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹیاں پورے سال معاشی اور مالی امور کے باب میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ بجٹ سازی صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ اس میں معیشت و معاشرت کے تمام ہی کردار (اسٹیک ہولڈرز) دیانت داری سے اپنا اپنا حصہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں اور سول سوسائٹی کے ذمہ دار ادارے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور حکومت کو اپنا نتیجۂ فکر فراہم کرتے رہتے ہیں۔ نصف سے زیادہ ممالک میں پارلیمنٹ بجٹ پر بحث کے لیے دو سے چار مہینے صرف کرتی ہیں اور اس طرح بجٹ کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کم سے کم ۴۵دن سے لے کر چارمہینے تک وقف کرتی ہے، جب کہ ہمارے ملک میں اسے چند دن میں نمٹا دیا جاتا ہے۔ اس سال ۵جون کو بجٹ پیش ہوا ہے اور ۲۳ جون کو اسے منظور کرلیا گیا۔ گویا ۱۸دن میں اور اگر چھٹی کے دن نکال دیے جائیں تو صرف ۱۴ دن میں بجٹ کا ہرمرحلہ پورا ہوگیا۔ یہ بجٹ اور قوم دونوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔ پاکستان کا سینیٹ کم از کم پچھلے سات سال سے برابر یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ بجٹ پر بحث کے دورانیے کو بڑھایا جائے، بجٹ سازی کے ہرمرحلے میں پارلیمنٹ اور عوام کو شریکِ کار بنایا جائے، سالانہ معاشی سروے بجٹ سے محض ۲۴گھنٹے پہلے شائع نہ کیا جائے، بلکہ کم از کم دو ہفتے پہلے آئے، تاکہ اس کی روشنی میں بجٹ کا جائزہ لیا جاسکے۔ ہندستان میں بجٹ پر ۴۵ دن بحث لازمی ہے، برطانیہ میں اس عمل میں چار مہینے لگتے ہیں، امریکا میں یہ عمل پورے سال اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں جاری رہتا ہے۔ خصوصیت سے ’تخصیصی کمیٹی‘ (Appropriation Committee) کا کردار مستقل اور مسلسل ہے اور ایک ایک سرکاری خرچ کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔

اسی طرح ’ضمنی بجٹ‘ کا معاملہ بھی فیصلہ طلب ہے۔ سینیٹ نے اس کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور موجودہ وزیرخزانہ جب اپوزیشن میں تھے تو یہ بھی ہماری طرح اس کے بڑے ناقد تھے۔ ان سے توقع تھی کہ وہ پارلیمنٹ کے حقوق پر شب خون مارنے کے اس مسلسل عمل کو ہمیشہ کے لیے روکنے میں کردار ادا کریں گے۔ لیکن ان کے حالیہ اور سابقہ بجٹ میں وہی پرانی کہانی دہرائی گئی ہے اور اس سال (۱۵-۲۰۱۴ئ) یہ رقم ۱۴-۲۰۱۳ء کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہوگئی ہے، یعنی   ۲۰۵؍ارب روپے، جو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر بجٹ سے بالابالا خرچ کیے گئے اور بعد از خرچ اب ان کی منظوری کی محض کاغذی کارروائی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ان ۲۰۵؍ارب روپے میں بلامنظوری اخراجات میں صرف ضابطے کی تبدیلیوں (technical reallocation) کا تعلق ۶۷؍ارب روپے سے ہے، جب کہ ۱۳۸؍ارب روپے ان مدات پر خرچ ہوئے ہیں، جن پر کوئی خرچ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتا اور جنھیں ’نئی تجاویز‘ (fresh allocations)  کہا جاتا ہے ۔ جب ان تفصیلات پر نگاہ ڈالی جائے جو ان ’غیرمعمولی اہمیت‘ کے حامل نادیدہ مصارف کی رپورٹ میں بیان کرنی پڑی ہیں، تو انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ ان میں VVIP جہاز پر ۱۳کروڑ ۴۰لاکھ روپے اور ۳۵لگژری گاڑیوں کی مد میں ۲۰کروڑ ۵۰لاکھ روپے پھونک دیے گئے ہیں۔ یہ اضافی مطالباتِ زر (ضمنی بجٹ) ایک ناقابلِ معافی زیادتی ہیں جس کا دروازہ بند ہونا چاہیے۔

بجٹ پر بحث کے دوران اگر حکومت اور اس کے اتحادیوں نے عجلت کے ساتھ اور آنکھیں  بند کرکے اسے منظور کر کے قوم اور ملک کے ساتھ انصاف نہیں کیا، تو وہیں پر اپوزیشن کی جماعتیں بھی جواب دہ ہیں کہ جنھوں نے فیصلہ کن مراحل پر بحث میں عدم شرکت اور بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرکے، اپنی ذمہ داری کماحقہ ادا نہیں کی۔ البتہ جہاں ہم اپوزیشن کے اس رویے پر تنقید کر رہے ہیں، وہیں اس امر کا اعتراف بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ کم از کم دو جماعتوں نے بجٹ تجاویز بڑے مرتب انداز میں پیش کیں۔ تحریکِ انصاف نے متبادل بجٹ پیش کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان کے امیر اور سیکرٹری جنرل نے بجٹ سے پہلے بجٹ کے لیے مثبت تجاویز پیش کیں۔ اخبارات اور میڈیا میں بھی اچھی بحث ہوئی اور آزاد تحقیقی اداروں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ خصوصیت سے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے بجٹ سے پہلے بھی اپنی تجاویز پیش کیں اور بجٹ کے آنے کے بعد اس پر بھی اپنا مبسوط تجزیہ پیش کیا۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ بجٹ سازی میں تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

معاشی ترقی کا حکومتی دعویٰ

۱۶-۲۰۱۵ء کا بجٹ مسلم لیگ (ن)کی مرکزی حکومت کا تیسرا بجٹ تھا۔ حکومت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے گذشتہ دو سال میں معیشت کو دیوالیہ ہونے کے بحران سے نکال کر بڑے پیمانے پر استحکام (macro stabilization) کی راہ پر ڈال دیا ہے اور اب وہ معاشی ترقی کی سمت بڑی جست لگانے کی پوزیشن میں ہے۔ بجٹ میں وزیرخزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب وہ معاشی ترقی کے لیے فیصلہ کن اقدام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو اگر حقائق پر مبنی ہو تو بہت خوش آیند ہے، لیکن اگر حقائق کوئی اور تصویر پیش کر رہے ہوں تو یہ ایک خطرناک مغالطہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لیے بجٹ، اس کے وسائل اور تجاویز کی روشنی میں اس دعوے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

گذشتہ بجٹ جسے استحکام کی راہ ہموار کرنے والی دستاویز قرار دیا گیا تھا، اس میں ۱۵اہداف سامنے رکھے گئے تھے۔ سالانہ معاشی دستاویزات کی روشنی میں جو حقیقت سامنے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ ان ۱۵ میں سے صرف چار ایسے ہیں، جن میں حکومت اپنے اہداف حاصل کرسکی ہے۔ بیرونی ذخائر ۱۷؍ارب ڈالر کی حد پار کرگئے ہیں، جو ایک اچھی خبر ہے۔ افراطِ زر کی شرح کے بارے میں دعویٰ ہے کہ ۸ فی صد سے کم ہوکر ۸ئ۴ فی صد پر آگئی ہے۔ ٹیکس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اپنے ہدف کے قریب پہنچ گئی ہے اور ’ٹیکسوں سے بالا سرکاری آمدنی‘ ( non-tax revenue) میں ہدف سے تقریباً ۲۵ فی صد اضافے نے مجموعی محصولات کی پوزیشن مثبت کردی ہے۔

تصویر کے اس مثبت پہلو کے ساتھ منفی پہلو کا ادراک بھی ضروری ہے: معیشت کی شرح نمو (growth rate) جسے ۱۴-۲۰۱۳ء کے ۴ فی صد سالانہ کے مقابلے میں ۱ئ۵ فی صد ہونا تھا، وہ صرف ۲ئ۴ فی صد ہوسکی، یعنی ہدف سے ۲۵ فی صد کم۔ زراعت میں ترقی کی رفتار مایوس کن رہی، یعنی چار فی صد کے ہدف کے مقابلے میں صرف ۹ئ۲ فی صد۔مویشیوں کی افزایش (livestock) کے باب میں غیرمعمولی اضافے (یعنی ۷ فی صد) کی وجہ سے مجموعی پیداوار میں اضافے کا سراب رُونما ہوا۔ حکومت کے انتظامی اخراجات ہدف سے زیادہ اور ترقیاتی اخراجات میں کمی واقع ہوئی جس سے محصولاتی خسارہ بڑھ گیا۔ یہی معاملہ تجارتی خسارے کا رہا کہ درآمدات اور برآمدات کا فرق آسمان کو چھو رہا ہے۔ برآمدات میں ۴ فی صد کمی ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں نصف سے زیادہ کی کمی کے باوجود درآمدات میں خاطرخواہ کمی نہیں ہوئی۔ اگر بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات میں نمایاں اضافہ نہ ہوتا اور ۳-جی اور ۴-جی کی فروخت سے’اندھی آمدنی‘ (windfall income)  نہ ہوتی تو ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہوتا۔ زراعت کی طرح سب سے پریشان کن صورت حال صنعت کی ہے ۔ بڑے پیمانے کی صنعت (LSM) اپنے ہدف کا نصف بھی حاصل نہیں کرسکی جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف ٹیکسٹائل کی صنعت میں ۳۰ فی صد کمی ہوئی اور اس کی وجہ سے ۲۰لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ اس پر مستزاد وہ اضافہ ہے، جو ہرسال محنت کاروں (labour force) میں آبادی کے اضافے کی وجہ سے ہو رہا ہے، یعنی تقریباً ۱۸لاکھ افراد سالانہ۔ بیرونی سرمایہ کاری گذشتہ ۱۵ سال کے مقابلے میں اس سال سب سے کم رہی ہے، یعنی اب ۸۰۰ ملین ڈالر کے پھیرے میں آگئی ہے، جو سالِ گذشتہ کی تقریباً نصف ہے۔ اور اگر اس کا مقابلہ اس رقم سے کیا جائے، جو غیرملکی سرمایہ کارسابقہ سرمایہ کاری کے منافعے کے طور پر سالانہ ملک سے باہر لے جاتے ہیں، تو اس سال کی سرمایہ کاری، منافع کی منتقلی سے جو ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے، سے بھی کم ہوجاتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ پاکستانی سرمایے کی غیرممالک میں منتقلی کو بھی شامل کرلیا جائے، جو ایک باخبر اندازے کے مطابق ۲۰؍ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے، تو بڑی ہی بھیانک تصویر سامنے آتی ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے دو سال استحکام کے ہدف کے حصول کے لیے وقف کیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد استحکام (stabilization)کی یہ پالیسی حکومت سے زیادہ ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ کی پالیسی ہے۔ اس پالیسی پر پچھلے دو سال نہیں، سات سال سے عمل ہو رہا ہے۔ اس کے موجودہ دور کا آغاز پیپلزپارٹی کی گذشتہ حکومت نے کیا تھا اور موجودہ حکومت نے ماضی کی حکومت سے کچھ زیادہ ہی مستعدی سے اس پر عمل کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سات برسوں میں بھی ہم معاشی استحکام حاصل نہیں کرسکے۔ ملک کا پیداواری عمل سخت جمود کا شکار ہے۔ زراعت اور صنعت دونوں ہی کی حالت دگرگوں ہے۔ صرف مالیاتی سیکٹر اور سروسز سیکٹر متحرک اور نفع بخش ہیں، جن کے نتیجے میں امیرامیر تر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران ملک اس صورت حال سے دوچار تھا، جسے معاشیات کے ماہر stagflation کہتے ہیں، یعنی معیشت میں جمود اور ملک میں افراطِ زر ۔ ان دوسال میں ہم ’افراطِ زر کے ساتھ معاشی جمود‘ سے تو نکلے ہیں، لیکن ایک دوسری دلدل میں دھنس گئے ہیں، جسے Low-growth trap  (پیداوار میں سُست روی کا جال)کہا جاتا ہے۔ حکومت نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اور جس پر ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ اور عالمی ادارے تعریفوں کے ڈونگرے برسا رہے ہیں، وہ اس دلدل سے نہیں نکال سکتی۔ اس کے نتیجے میں تو قرضوں کا بار بڑھتا ہی رہے گا اور ماضی کے قرض ادا کرنے کے لیے نئے قرض لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا، جو کسی صورت قابلِ برداشت (sustainable ) نہیں ہے۔

ہماری قرضوں کی غلامی کی کیفیت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے ۲۰۰۱ء تک ۵۴برسوں میں قرض کا بار ملک پر ۳۱۷۲؍ارب روپے تھا جو جنرل پرویز مشرف دورِ حکومت میں بڑھ کر ۲۰۰۸ء تک دوگنا ہوگیا، یعنی ۶۱۲۶؍ارب روپے۔ پیپلزپارٹی کے پانچ سال کے تحفے کے طور پر یہ قرض بڑھ کر ۱۴ہزار۲سو۹۳ ؍ارب روپے ہوگیا۔ اب مسلم لیگ حکومت کا عطیہ یہ ہے کہ مجموعی قرض ۱۶ہزار۹سو۳۶؍ارب روپے ہے۔ ان سوا دو سال میں تقریباً تین ہزار ارب کا اضافہ ہوگیا ہے اور آج صرف سود کی ادایگی حکومت کے مصارف میں سرفہرست ہے، یعنی سرکاری مصارف کا تقریباً ۳۱فی صد، جو اَب دفاعی مصارف سے بھی ۵۰ فی صد زیادہ ہے، اور اگلے سال ۱۲۸۰ ؍ارب روپے صرف سود کی ادایگیوں کے لیے درکار ہیں۔ پاکستان کا ہربچہ، جوان اور بوڑھا ایک لاکھ تین ہزارروپے فی کس کا مقروض ہے۔ نیز حکومت ۲۰۰۵ء کے قرضوں کی حد پر پابندی کے قانون کی بھی مسلسل خلاف ورزی کرر ہی ہے اور پارلیمنٹ اور عدالتیں سب ’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘ کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ بدقسمتی سے یہ ’معاشی استحکام‘ کا نہیں ’دائمی معاشی عدم استحکام‘ کا راستہ ہے، اور حکومت کا حال یہ ہے کہ  

زہر دے ، اس پہ یہ اصرار کہ پینا ہوگا

درپیش معاشی چیلنج

حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ: انتظامی اخراجات میں کمی کرے گی، کفایت شعاری کی روش اختیار کرے گی اور ملک میں اپنی چادر کے مطابق پائوں پھیلانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگی اور خود وزیراعظم اس کی پہلی مثال قائم کریں گے‘‘۔ وزیرخزانہ نے بجٹ کی تقریر میں بڑے واضح الفاظ میں فرمایا تھا:’’وزیراعظم صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ اس عمل کا آغاز وہ اپنے دفتر سے کریں گے‘‘۔

۱۳-۲۰۱۲ء میں وزیراعظم کے آفس کا بجٹ ۷۲ کروڑ ۵۰ لاکھ روپے تھا، جسے ۱۴-۲۰۱۳ء کے لیے ۴۵ فی صد کم کر کے بجٹ میں ۳۹کروڑ۶۰ لاکھ پر رکھا گیا۔ لیکن عمل کی کیفیت کیا رہی؟ ۱۴-۲۰۱۳ء کا ترمیم شدہ بجٹ ۷۵ کروڑ ۵۰لاکھ تھا جو ۱۵-۲۰۱۴ء میں بڑھ کر ۸۰ کروڑ ۱۰ لاکھ ہوگیا اور اب ۱۶-۲۰۱۵ء کے بجٹ میں ۸۴کروڑ ۲۰لاکھ مقرر کیا گیا ہے۔ نیز خبر ہے کہ ایک ارب روپے اس کے علاوہ ہیں، جو گذشتہ سال میں وزیراعظم کے دفتر کو فراہم کیے گئے ہیں، مگر اس کی تصدیق کرنے کے باوجود کہ ایسا ہوا ہے، بجٹ کی دستاویزات میں اس کا ذکر نہیں (ایکسپریس ٹریبیون، ۶جون ۲۰۱۵ئ)۔اس طرح وزیراعظم آفس کے روزانہ اخراجات ۲ لاکھ ۷۴ہزار روپے بنتے ہیں۔ دوسری طرف ایوانِ صدر کے اخراجات ۷۴کروڑ ۳۴ لاکھ تھے، جنھیں نظرثانی شدہ بجٹ میں ۷۴کروڑ۹۲لاکھ کردیا گیا اور اب تازہ بجٹ میں بڑھا کر ۸۰کروڑ ۱۰لاکھ تک پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے۔

بدقسمتی سے شاہ خرچیوں کا بازار ہر شعبۂ زندگی میں گرم ہے۔ اور اچھی حکمرانی کا کہیں وجود نہیں۔شخصی پسند و ناپسند کی بنیاد پر پورا کاروبارِ حکومت تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا گیا ہے۔  حیرت کی بات ہے کہ ملک کو ہمہ وقتی وزیرقانون، وزیردفاع، وزیرخارجہ میسر نہیں۔ ۵۰ سے زیادہ اہم سرکاری عہدوں اور اداروں کے سربراہ یا ڈائرکٹرز میں سے عدالت عظمیٰ کے حکم پر صرف دوچار جگہ تقرریاں ہوئی ہیں، باقی سب خالی پڑی ہیں۔ خالص ٹیکنیکل وزارتوں اور عہدوں پر ایسے لوگوں کا تقرر کیا گیا ہے، جنھیں متعلقہ فن کی ہوا بھی نہیں لگی۔ کرپشن کا دوردورہ ہے اور میڈیا اور عدالتوں میں ایک سے ایک بڑا اسکینڈل ہر روز سامنے آرہا ہے، مگر حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔

وزیرخزانہ صاحب بڑے فخریہ انداز میں عددی، اسٹینڈرڈ اینڈ یوور، وال اسٹریٹ جرنل اور دی اکانومسٹ کے مثبت تبصرے بیان کرتے نہیں تھکتے، لیکن اس سوال کا کوئی جواب دینے کو تیار نہیں کہ اگر یہ سب سبز باغ ارضِ وطن کو آراستہ کرچکے ہیں تو ملک میں غربت ۵۰ فی صد سے زیادہ کیوں ہے؟ اور یہ بھی عالمی بنک ہی کی رپورٹ ہے کہ ۹کروڑ سے زیادہ افراد آج غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور آبادی کا ۲۰ فی صد اس کس مپرسی کے عالم میں ہے، جسے شدید غربت اور موت و حیات کی کش مکش کہا جاتا ہے۔

عالمی بنک ہی کی رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا ۶ئ۳۱ فی صد کم خوراکی  اور ’کسرِ وزن ‘ (under weight)کا شکار ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات اور زچہ کی شرحِ اموات میں پاکستان عالمی برادری میں پست ترین سطح پر ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس میں ہم دنیا کے ۱۸۷ ممالک میں ۱۴۴ ویں مقام پر ہیں۔ ۲کروڑ ۵۰لاکھ بچے ایسے ہیں، جو اسکول جانے کی عمر میں ہیں لیکن تعلیم سے یکسر محروم ہیں اور جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کا کیا حال ہے___ یہ ایک دوسری دل خراش داستان ہے  ع     تن ہمہ داغ داغ شد ،  پنبہ کجا کجا بہم۔

حکومت خوش ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ ایک معما ہے کہ ملک کا پیداواری سیکٹر سکڑ رہا ہے، برآمدات کم ہو رہی ہیں، ٹیکسٹائل صنعت جو کبھی ہمارا طرئہ امتیاز تھی، آج زبوں حالی کا شکار ہے ۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل برآمدات ،پاکستان کی برآمدات سے دوگنی ہوگئی ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری میں کمی ہورہی ہے۔ گذشتہ سال نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں ۳۰ فی صد کمی ہوئی ہے لیکن اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ صرف سٹے کی وجہ سے ہی ممکن ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امیر طبقہ روپے سے روپے ڈھال رہا ہے اور ملک کی معیشت اور عام آدمی اس بہتی گنگا سے کوئی حصہ نہیں پارہے۔ ۲۰ فی صد متوسط طبقہ اور خصوصیت سے اشرافیہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور عام آدمی دوقت کی روٹی سے محروم ہے۔ بڑے بڑے ہوٹلوں، شادی ہالوں، اُونچے طبقے کے خریداری کے مراکز پر نظر ڈالیے، قیمتی گاڑیوں کے کاروانوں کو دیکھیے، شہروں میں محلات کی اُگلتی فصلوں پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر طرف فراوانی ہی فراوانی ہے۔ لیکن اگر آبادی کے نصف سے زیادہ کے حالات کو دیکھیے تو آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ ملک میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے ۔ ایک حالیہ سرکاری رپورٹ Household Integrated Economic Survey کے مطابق ملک میں ۵۰ لاکھ افراد ایسے ہیں، جن کی خاندانی آمدنی ۱۵لاکھ سالانہ سے زیادہ ہے۔ لیکن انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد صرف ۸لاکھ ہے۔ دوسری طرف ۴۷ فی صد آبادی وہ ہے جس کی روزانہ آمدنی ۲۰۰ روپے سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں کہ بھوک کی بناپر کوئی موت واقع ہوئی ہو، یا کسی نے اس کی وجہ سے خودکشی کی ہو۔ لیکن آج پاکستان میں یہ مثالیں بھی رُونما ہورہی ہیں اور بڑھ رہی ہیں۔

کیا بجٹ میں ان حالات کا کوئی حقیقی ادراک موجود ہے؟ کیا حکومت نے کوئی ایسی حکمت عملی بنائی ہے، جس سے ملک ایسی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے، یا جس میں ملک کے وسائل سے عام آدمی مستفید ہوسکے؟ اس کی زندگی میں تبدیلی آسکے، اسے روزگار میسر آسکے، وہ اپنی ضروریاتِ زندگی عزت کے ساتھ پوری کرسکے؟اس کے بچے تعلیم حاصل کرسکیں، اس کے سر پر چھت اور پیٹ میں روٹی ہو۔ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کے اس تیسرے بجٹ میں کوئی جھلک ایک حقیقی تبدیلی کی نظر نہیں آتی۔ نہ معاشی ترقی کا کوئی ایسا واضح تصور سامنے آتا ہے جو معاشی اور معاشرتی انصاف پر مبنی ہو۔ جس میں قوم ترقی اور خودانحصاری کے راستے پر گامزن ہوسکے، جس کے نتیجے کے طور پر عام افراد کی زندگی میں خوش حالی رُونما ہوسکے۔ جو دولت کی منصفانہ تقسیم اور ملک کے تمام علاقوں، خصوصیت سے پس ماندہ علاقوں، طبقوں کو شادکام کرسکے۔

وزیرخزانہ نے اگلے سال کے لیے ۵ فی صد شرحِ نمو کی بات کی ہے اور ۲۰۱۸ء تک   ۷فی صد پر لے جانے کی خوش خبری دی ہے۔ لیکن لبرل سرمایہ دارانہ معیشت کا جو راستہ یہ حکومت  آئی ایم ایف، عالمی بنک اور عالمی مالیاتی اداروں کی خواہش کے مطابق اختیار کیے ہوئے ہے،  اس کے نتیجے میں ہمیں دُور دُور تیزرفتار، مستحکم اور منصفانہ ترقی کے وقوع پذیر ہونے کے کوئی آثار  نظر نہیں آتے۔ معیشت کو حقیقی ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ بیرونی اور اندرونی قرضوں کے چنگل سے نکلا جائے اور ملک کے اپنے وسائل کو دیانت اور محنت کے ساتھ بروے کار لایا جائے۔ اس کے لیے قیادت کو فکری اور اخلاقی دونوں اعتبار سے ایک اعلیٰ مثال قائم کرنی ہوگی۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے، ضرورت صحیح قیادت، صحیح منصوبہ بندی، اچھی حکمرانی اور سب سے بڑھ کر معاشی ترقی کے اس عمل میں پوری قوم کو، خصوصیت سے اس کے نوجوانوں کی شرکت کو   عملی صورت دینے کی ہے۔ اس قوم میں بڑی صلاحیت ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ قیادت مفقود ہے جو اس صلاحیت کو بیدار اور منظم کرسکے۔ ۲۰۰۵ء کے زلزلے کے موقعے پر سب نے دیکھا کہ کس طرح خیبر سے کراچی تک قوم کے ہر طبقے اور خصوصیت سے نوجوانوں نے آفاتِ سماوی کے مقابلے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی اور خدمت کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی۔ کیا قوم کی اس صلاحیت کو آزادی کی حفاظت اور ایک خوش حال اسلامی پاکستان کی تعمیر کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا؟

مسلم لیگ کا منشور اور حقائق

مسلم لیگ (ن)نے اپنے ۲۰۱۳ء کے منشور میں ’مضبوط معیشت، مضبوط پاکستان‘ کا خواب دکھایا تھا اور ’ہم بدلیں گے پاکستان‘ کا جھنڈا لے کر قوم کو تعاون و تائید کے لیے پکارا تھا۔ اس میں جس منزل کو اپنی منزل قرار دیا گیا تھا وہ ’خوددار، خوش حال، خودمختار پاکستان‘ تھا۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ:

ہم وی آئی پی کلچر کا خاتمہ اور کفایت کی مہم کا آغاز کریں گے، خاص طور پر صدر، وزیراعظم، گورنر اور وزراے اعلیٰ سے متعلق اخراجات غیرمعمولی طور پر کم کیے جائیں گے۔

  • منشور کے چند اہم نکات کو ذہنوں میں تازہ کرنا ضروری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان دو سال اور تین بجٹوں میں قوم اس منزل کی طرف بڑھی ہے یا ساری دوڑ دھوپ اسی پرانی ڈگر پر رہی ہے جس سے نجات کے لیے قوم سے مینڈیٹ لیا گیا تھا:
  •  تمام آمدنی پر ٹیکس لگانا، اور براہِ راست ٹیکس پر انحصار بڑھا کر ٹیکس سے آمدنی کے نظام کو  مبنی بر انصاف بنانا۔
  • آئی ٹی ڈیٹابیس کے زیادہ استعمال کے ذریعے ٹیکس سسٹم کی بنیاد کو وسیع کرنا۔lٹیکس کی عدم ادایگی کم کرنا۔ ٹیکس انتظامیات میں اصلاح کرنا۔
  • تمام اشیا کے لیے معیاری نرخ یقینی بناکر سیلزٹیکس کو معقول بنانا۔
  • منی لانڈرنگ اور کالے دھن کو سفید کرنے کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنا۔اشیاے تعیش کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرنا، اور غیرضروری درآمدات پر ریگولٹیری ڈیوٹی عائد کرنا، یقینی بنانا۔گیس اور بجلی تمام شہری اور دیہی صارفین کو ایک قابلِ ادایگی قیمت پر مسلسل مہیا کی جائیں گی۔
  • پانی اور بجلی، پٹرولیم اور قومی وسائل کے انضمام سے توانائی اور قومی وسائل کی ایک وزارت قائم کرنا۔ lنیپرا کی اصلاح کرنا۔
  • بجلی کی تقسیم کی کمپنیوں کی اصلاح کرنا۔lبجلی کے بلوں کو ۱۰۰ فی صد سے قریب ترین ممکنہ سطح تک وصول کرنا۔
  • گردشی قرضے کا مستقل خاتمہ کرنا۔
  • دیہی معیشت جو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور چھوٹے کاشتکاروں پر توجہ دینا اور ٹکنالوجی کو فروغ دینا پیداواری inputs (یعنی کھاد، بیج، کرم مار ادویہ وغیرہ) تک ان کی رسائی یقینی بنانا۔   
  • تحفظ خوراک کا حصول، خاص طور پر ان ۴۰ فی صد کے لیے جو ۲۰۱۲ء میں خوراک کے    عدم تحفظ کا شکار تھے۔
  • خوراک کے حق کو دستوری ترمیم کے ذریعے دستوری حق قرار دینا۔ روزگار کی فراہمی کے ایسے پروگرام کو رواج دینا جن میں لیبر کا استعمال زیادہ ہو (labour intensive)lقومی تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنا تاکہ ناخواندگی کو جنگی بنیادوں پر ختم کیا جاسکے۔
  • تعلیم کا یکساں نظام مرحلہ بہ مرحلہ نافذ کیا جائے گا۔
  • مڈل سطح تک ۱۰۰ فی صد داخلے اور ترقی کے مقاصد کے تحت ۸۰ فی صد خواندگی حاصل کرنا (واضح رہے کہ یہ عالمی ترقیاتی منصوبے کاحصہ ہے جسے دسمبر ۲۰۱۵ء تک مکمل ہونا تھا اور پاکستان اس معاہدے کا حصہ ہے۔)

ہم نے تذکیر کے مخلصانہ جذبے سے مسلم لیگ کے منشور کے ان دعوئوں کو یہاں پیش کیا ہے۔ مگر کیا کوئی دیانت داری سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس تیسرے بجٹ میں جو درمیانی مدت (mid-term) کی حیثیت رکھتا ہے، اس وژن کی کوئی جھلک بھی نظر آتی ہے؟ ہم تو بار بار کی کوشش کے باوجود روشنی کی کوئی کرن نہ دیکھ سکے! ہمیں دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ غالباً منشور کا یہ وژن عوام کو سبزباغ دکھانے کے لیے تھا، حکومت کی پالیسیوں اور بجٹ پر اس کا کوئی سایہ دُور دُور تک نظر نہیں آتا ہے۔

ہماری نگاہ میں اس بجٹ کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اس میں حالات کا صحیح تجزیہ اور معیشت کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کا کوئی ادراک موجود نہیں ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ اعدادوشمار کی ایک اچھی مشق ہے، جس میں حالت ِ زار کو جوں کا توں (status quo) باقی رکھنے کا بندوبست ہے۔ اس حقیقی تبدیلی اور وہ بھی بنیادی تبدیلی کا کوئی اشارہ ہمیں دُور دُور نظر نہیں آتا جس کے بغیر ملک کو معاشی بحرانوں اور قرض کی غلامی کی دلدل سے نکالنا ممکن نہیں۔

بجٹ اور سروے میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ تصویر کا ایک رُخ دکھایا جائے اور ماضی کی غلطیوں اور خود اپنی پالیسیوں کے نتائج کے بے لاگ اور معروضی تجزیے کے صحت مند راستے کے مقابلے میں الفاظ کے گورکھ دھندے اور اعداد وشمار کے دائوپیچ سے ایک ایسی منظرکشی کی جائے ،جس کے ذریعے اصل حقائق کو نظروں سے اوجھل رکھا جاسکے۔ ہم اس سلسلے میں چند مثالیں اہلِ نظر کے غوروفکر کے لیے پیش کرتے ہیں:

افراطِ زر کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ ۸ئ۴ فی صد پر آگیا ہے، حالانکہ عام آدمی کا تجربہ یہ ہے کہ اشیاے خوردونوش جن کا ایک عام آدمی کے بجٹ میں بڑا حصہ ہوتا ہے، نہ صرف یہ کہ ان کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی ہے بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ دی نیوز کے نمایندے نے جون سالِ گذشتہ اور جون ۲۰۱۵ء کے بازار سے حاصل کردہ جو نرخ دیے ہیں، وہ نہ صرف اضافہ بلکہ ۱۰ سے ۲۰ فی صد اضافے کی خبر لاتے ہیں۔

وزیرخزانہ کا دعویٰ ہے کہ بے روزگاری میں کمی ہوئی ہے اور لیبرفورس کے ۳ئ۶ فی صد سے کم ہوکر ۶ فی صد پر آگئی ہے، جب کہ ’پاکستان پلاننگ کمیشن‘ اور ’قومی اقتصادی کونسل‘ (NEC) کی دستاویزات کی روشنی میں اس وقت بے روزگاری کی شرح ۳ئ۸ فی صد ہے۔ حکومت ہی کے اداروں کے دیے ہوئے اعداد و شمار میں ۲۵ فی صد کا فرق ہے     ؎

کس کا یقین کیجیے، کس کا یقین نہ کیجیے

لائے ہیں ان کی بزم سے یار خبر الگ الگ

وزیرخزانہ کا دعویٰ ہے کہ اس سال معیشت ۲۵ لاکھ افراد کو نیا روزگار دے سکے گی۔ لیکن معاشی ماہرین انگشت بدندان ہیں کہ معیشت کے ۵ فی صد شرحِ نمو پر یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کے لیے کم از کم ۸ فی صد شرحِ نمو ضروری ہے۔ پھر جس ملک میں کئی کروڑ افراد بے روزگار ہوں یا رزق کی عام سہولتوں سے محروم ہوں، اور جس میں ۲ئ۲ فی صد آبادی میں سالانہ اضافے کے نتیجے میں ہرسال ۱۸لاکھ افراد کا روزگار کی تلاش کرنے والی فوج میں اضافہ ہورہا ہو، اس میں ۵ فی صد کی شرحِ نمو سے ۲۵لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع کیسے پیدا ہوسکتے ہیں؟ معاشیات کے  طالب علموں کے لیے یہ باور کرنا محال ہے۔

حکومت کا اپنی پالیسیوں کے باب میں نظرثانی سے اجتناب اور غیرمتعلق اُمور کو معاشی مشکلات کا سبب قرار دینے کی روش کبھی صحت مند نہیں ہوسکتی۔

وزیرخزانہ نے کہا ہے: ’’معاشی ترقی میں اضافے کی رفتار کو مجروح کرنے والے عوامل میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں کی کمی اور ملک میں پانچ مہینے تک دھرنوں کا بڑا دخل ہے‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اُتارچڑھائو کا اثر صرف پاکستان پر کیوں پڑا؟ ہمارے ہی جیسے دوسرے ملکوں کی ترقی کی شرح ان سے کیوں متاثر نہیں ہوئی؟ بھارت، بنگلہ دیش، ملایشیا،  سری لنکا، سب کی شرحِ نمو اور برآمدات پر منفی اثرات کیوں نہیں پڑے؟ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتاہے کہ ہماری درآمدات کے سستا ہوجانے کے مثبت اثرات ہماری معیشت پر کیوں نہیں پڑے؟  قیمت کم ہونے سے درآمدات کی مقدار (volume) کے مقابلے میں قدر (value) میں کمی ہونا چاہیے تھی مگر درآمدات کی قدر میں براے نام کمی ہوئی ہے ا ور تجارتی خسارہ اور بڑھ گیا ہے۔

اسی طرح دھرنے کے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ اگر اس کا کوئی اثر پڑا بھی ہوگا تو وہ محدود ہوگا۔ البتہ ایک مطالعے کے مطابق پاکستان میں افراطِ زر کی شرح دھرنے سے پہلے ۹ئ۷ فی صد تھی جو اگست ۲۰۱۴ء میں ۷ فی صد اور دسمبر ۲۰۱۴ء میں ۳ئ۴ فی صد تھی۔ یہ تبدیلی مثبت ہے یا منفی، حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر ملک کی برآمدات کو لیا جائے، تو جولائی اور اگست میں درآمدات میں کمی واقع ہوئی یعنی ۹ئ۷ فی صد اور ۶ئ۳ فی صد ،لیکن نومبر میں ۵ئ۹ فی صد کا اضافہ ہوا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اس عمل اور دھرنوں میں کوئی باہم تعلق نہیں۔ ملک میں بڑی صنعتوں کی پیداوار کے رجحان کو اگر دیکھاجائے تو صورت حال یہ سامنے آتی ہے کہ: جولائی میں اضافہ ۴۵ئ۰ فی صد، اگست میں ۴ئ۴ فی صد، ستمبر میں ۳ئ۳ فی صد، اکتوبر میں ۲ئ۲ فی صد، نومبر میں ۴ئ۵ فی صد، دسمبر میں ۶۹ئ۰ فی صد۔ یہاں بھی اعداد و شمار کسی واضح منفی رجحان کی خبر دینے سے قاصر ہیں۔ (ایکسپریس ٹریبیون، ۱۳ جون ۲۰۱۵ئ)

دھرنے کی افادیت یا اس کا مضر ہونا ہمارا موضوع نہیں۔ ہماری دل چسپی صرف اس بات سے ہے کہ وزیرخزانہ کو دلیل اور مبالغہ آمیز نعرے بازی میں فرق کرنا چاہیے اور معاشی حقائق کی روشنی میں پالیسیوں اور ان کے اثرات کا تجزیہ معروضی انداز میں کرنا چاہیے، تاکہ ان سے صحیح سبق حاصل کیاجاسکے ورنہ ہم خود بھی مغالطے کا شکار ہوں گے اور قوم کی بھی صحیح حالات کے سمجھنے میں مدد نہیں کرپائیں گے۔

مجوزہ حکمت عملی

ملک کو جن معاشی حالات اور چیلنجوں سے سابقہ درپیش ہے، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے  مناسب حکمت عملی درکار ہے۔ اس کی کوئی جھلک اس بجٹ میں نظر نہیں آتی، بلکہ مسئلے کے پورے پورے اِدراک کا بھی فقدان ہے۔ توانائی کے مسئلے کو جو اہمیت دی جانا چاہیے تھی وہ مفقود ہے۔ ٹیکس کی چوری، ٹیکس کے نیٹ ورک کی تنگ دامنی، معیشت میں ضیاع کے بڑے بڑے جھرنوں کا بدستور پھیلنا لاپروائی اور بے حسی کا عذاب، اسمگلنگ اور بڑے پیمانے پر کرپشن اور اس کی تباہ کاریوں کے سلسلے میں حکومت کوئی واضح پالیسی اور پروگرام دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس بارے میں دو آرا مشکل ہیں کہ ملک میں ٹیکس وصولی کے جو امکانات ہیں اس کا بمشکل ایک تہائی اس وقت حاصل ہو رہا ہے اور وہ بھی اس انداز میں کہ ’فیڈرل بورڈ آف ریونیو‘ (ایف بی آر)کا کردار اس میں محدود اور مشتبہ ہوتا جارہا ہے۔ ذرائع آمدنی پر  ٹیکس جمع کرنے کے نظام کو بھی عملاً ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے۔ ۳۵ لاکھ سے زیادہ افراد کو  ’ٹیکس کے دائرے‘ میں ہونا چاہیے، مگر عملاً صرف ۸لاکھ افراد ہیں جو ٹیکس دے رہے ہیں۔ ساری معلومات اور دعوئوں کے باوجود ٹیکس نادہندہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں ایف بی آر ناکام رہا ہے۔ عالمی بنک اور لاہور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ایک تحقیقی مطالعہ (۲۰۱۳ئ) کے مطابق پاکستان کے موجودہ ٹیکس ادا کرنے والے ۸لاکھ افراد سے جو ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، وہ ان کے واجب الادا ٹیکس کا صرف ۳۸ فی صد ہے، باقی ۶۲ فی صد کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر ان لاکھوں افراد کو نظرانداز بھی کردیا جائے، جن کو ٹیکس دینا چاہیے اور وہ نہیں دے رہے، تب بھی جو ٹیکس دے رہے ہیں، صرف ان کا اگر تمام واجب الادا ٹیکس وصول کیا جائے تو اس وقت ۳ہزار ارب روپے کے بجاے اسے ۸ہزار ارب روپے ہونا چاہیے۔گویا ۵ہزار ارب روپے صرف ان ٹیکس دینے والوں کے کھاتے سے کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی متعین کیا گیا ہے کہ اس ۵ہزار ارب روپے کو ٹیکس گزار افراد، ٹیکس جمع کرنے والے عملے اور دوسرے سہولت کاروں کے درمیان تقریباً درج ذیل تناسب سے اُڑایا جا رہا ہے:l۷۰ فی صد ٹیکس دینے والے l۲۵ فی صد ٹیکس جمع کرنے والے l۵ فی صد ٹیکس میں سہولیات فراہم کرنے والے۔

اگر ان تمام ۳۰ سے ۳۵ لاکھ کو بھی ٹیکس کے نیٹ ورک میں لے آیا جائے، جو اس وقت ٹیکس کے نیٹ ورک سے باہر ہیں اور اگر ٹیکس کی شرح میں کمی بھی کردی جائے، تب بھی کم از کم ۸ہزار سے ۱۰ہزار ارب روپے تک مزید محصولات حکومت کو حاصل ہوسکتے ہیں۔

وسائل کے غلط استعمال اور اخراجات کے باب میں کرپشن کی کہانی اس کے علاوہ ہے۔ اندازہ ہے کہ کم از کم ۱۳؍ارب ڈالر کی سالانہ اسمگلنگ ملک میں ہورہی ہے۔  ’غیردستاویزی معیشت‘ کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ’دستاویزی معیشت‘ سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔گویا اس وقت کُل معیشت کا صرف ۳۰ فی صد دستاویز شدہ ، باقی قانون کی گرفت سے باہر ہے۔

ایک حالیہ مطالعے کی روشنی میں صرف چین سے تجارت کے باب میں یہ حیرت ناک بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی چین سے درآمدات ۹؍ارب ڈالر سالانہ دکھائی جارہی ہیں، جب کہ چین کے شعبۂ تجارت اور شماریات کے مطابق چین کی پاکستان کو برآمدات ۱۵؍ارب ڈالر ہیں۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہمارے اور چین کے دیے ہوئے اعداد و شمار میں ۶؍ارب ڈالر کا فرق ہے۔ کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ بیرونی اور ملکی قرضوں کے ذریعے حکومتی اخراجات اور ترقیاتی مصارف پورے کرنے کے بجاے خود اپنے وسائل کو ملکی معیشت کی تعمیر کے لیے منظم و متحرک کرے اور بیرونی وسائل کو متوازن انداز سے خرچ کرے تاکہ خودانحصاری کے ذریعے ترقی کا راستہ اختیار کیا جاسکے۔

ہماری نگاہ میں ایف بی آر کو مکمل طور پر ’اوورہال‘ کرنے، اس ادارے سے کرپشن کا خاتمہ کرنے، ایمان دار اور باصلاحیت افراد کو اس ادارے کی ذمہ داری سونپنے اور مناسب نگرانی کا نظام بنانے کو اوّلیت دینے کی ضرورت ہے۔ اس ادارے میں مکمل خوداختیاری بھی ضروری ہے، جس کی برسوں سے مزاحمت کی جارہی ہے۔ صرف اس ایک اصلاح سے حالات میں جوہری تبدیلی رُونما ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ہانگ کانگ ۱۹۸۱ء کی دہائی تک دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں سے تھا، لیکن چینی حکومت نے وہاں کرپشن کو ختم کرنے کے لیے مؤثر انتظام کیا اور سیاسی مداخلت سے پاک نظام قائم کیا، جس نے صرف تین سال میں ہانگ کانگ سے کرپشن کا بڑی حد تک خاتمہ کردیا۔ یہ محض دیوانے کا خواب نہیں۔ اگر ایمان دار اور باصلاحیت قیادت ہو تویہ کام چند سال میں انجام دیا جاسکتا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ ترقی کے وژن اور ترجیحات کا ہے۔ ہمیں لبرل سرمایہ دارانہ تصورات کے طلسم سے نکلنا ہوگا۔ خوش حالی اس وقت ممکن ہے جب معاشی ترقی محض دولت مند طبقے کے لیے مالی فراوانی کے مترادف نہ ہوجائے، بلکہ ہراعتبار سے معاشی اور سماجی، تمام طبقات اور تمام علاقوں کی ترقی اور خوش حالی سے عبارت ہو۔ اس کے لیے مارکیٹ کا وجود تو ضروری ہے مگر ’مارکیٹ کی حکمرانی‘ میں یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ ریاست کو اس پورے عمل میں ایک مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، لیکن خود کاروباری بن کر نہیں، بلکہ تمام عوام کے حقوق کے محافظ اور ان کی خوش حالی کو یقینی بنانے والے کی حیثیت سے۔ ریاست کا یہ تصور ’واشنگٹن کنسنسس‘ (Washington Consensus)اور عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بنک کے تصور سے یکسر مختلف ہے۔ ’حکومت کا بزنس میں کوئی کام نہیں‘ محض سرمایہ داروں کا بنایا ہوا ایک فلسفہ ہے، جس کے نتیجے میں اس نعرے کے نام پر بزنس مین، حکومت اور ریاست پر قابض ہوجاتا ہے اور انھیں اپنے مفادات میں استعمال کرتا ہے۔ اگر حکومت کا بزنس سے کوئی کام نہیں ہے تو اس سے زیادہ بزنس مین کا یہ کام نہیں کہ وہ حکومت کرے۔ حکومت اور بزنس دو الگ الگ میدان ہیں۔ بزنس مین کو قانون اور اجتماعی مفاد کے دائرے میں بزنس کا ہر موقع ملنا چاہیے، لیکن ریاست کی مشینری کا اس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ریاست کو سب کا مائی باپ ہونا چاہیے، اور اس سے بھی زیادہ اس کا کام وہ ہونا چاہیے جس کا اعلان حضرت ابوبکر صدیقؓ نے زمامِ اختیار سنبھالتے وقت کیا تھا کہ ’’تمھارا طاقت ور میرے لیے کمزور ہے جب تک میں اس سے تمھارا حق حاصل نہ کرلوں، اور تمھارا کمزور میرے لیے اس بات کا حق دار ہے کہ میں طاقت ور سے اس کا حق حاصل کر کے اصل حق دار تک پہنچائوں‘‘۔

یہ ہے وہ تصورِ ریاست جس میں معاشی ترقی اور حقیقی خوش حالی قائم ہوسکتی ہے اور ایک بار پھر یہ کیفیت پیدا ہوسکتی ہے کہ زکوٰۃ دینے والے ان لوگوں کو تلاش کریں جو زکوٰۃ کے مستحق ہوں، اور معاشرے میں زکوٰۃ دینے والے ہوں اور لینے والے ناپید    ؎

آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ رمضان کا بابرکت مہینہ ہم پر اور اُمت مسلمہ پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ یہ مہینہ اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے انعامات میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور یہ ہماری بڑی بدنصیبی ہوگی کہ اس مبارک مہینے کو پائیں، اللہ کی رحمت سے اس میں روزوں کی سعادت بھی حاصل کریں، مگر اس اصل مقصد اور پیغام کے بارے میں غافل رہیں جو اس مہینے اور اس میں انسانیت کو دیے جانے والے ربانی تحفے کا اصل جوہر ہے۔

روزے کے تین امتیاز

روزہ اللہ کے ماننے والے تمام انسانوں کے لیے ہر دور میں فرض کیا گیا ہے اور اس کی بے شمار مصلحتوں میں سے تین کم از کم ایسی ہیں جن کا ہرلمحے شعور از بس ضروری ہے۔

  • پہلی بات یہ ہے کہ روزہ بندے کو اپنے رب سے جوڑتا ہے اور اس سے وفاداری اور صرف اس کی اطاعت کے جذبے پر دل و دماغ کو قانع اور مستحکم کرتا ہے، اور اس کے اس عہد کی تجدید کی خدمت انجام دیتا ہے کہ بندے کا جینا اور مرنا اور عبادات اور قربانیاں سب صرف اللہ کے لیے ہیں۔ حلال اور حرام کا تعلق صرف اللہ کی مرضی اور حکم سے ہے۔ جو چیز اُفق پر روشنی کی پہلی کرن آنے تک حلال تھی وہ صرف اس کے حکم سے سورج کے غروب ہونے تک حرام ہوگئی اور سورج کے غروب ہوتے ہی پھر حلال ہوگئی۔ یہ وہ عبادت ہے جس کا حقیقی گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ایک شخص دوسروں کے سامنے صائم ہوتے ہوئے بھی تنہائی میں کھا پی سکتا ہے مگر صرف اللہ کی خاطر کھانے اور پینے سے جلوت اور خلوت ہر کیفیت میں پرہیز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود ربِ کائنات نے فرمایا ہے کہ روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجردوں گا۔ اللہ سے جڑنا اور اللہ کی رضا کا پابند ہوجانا اور یہ عہد کرنا کہ ہمیشہ صرف اس کی رضا کا پابند رہوں گا__ یہ ہے روزے کا پہلا روشن ترین پہلو۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کی زندگی میں نظم و ضبط اور خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دیتی ہے اور اسی کیفیت اور رویے کا نام ہے تقویٰ۔ اسی لیے فرمایا گیا:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo(البقرہ ۲:۱۸۳) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا ؑ کے پیروئوں پر فرض کیے گئے تھے، اس توقع کے ساتھ کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔

  •  روزے کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے ہے۔ جن انبیاے کرام ؑ کو کتاب سے نوازا گیا، ان کو یہ کتاب اس حالت میں دی گئی جب وہ روزے سے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وحی کا آغاز غارِحرا میں اس وقت ہوا جب آپؐ وہاں مسلسل روزوں کی حالت میں تھے اور اس مقدس کتاب کا آغاز بھی روزے سے ہوا اور اس کی تکمیل ماہِ رمضان میں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مہینہ دراصل قرآن کا مہینہ ہے اور اس کے شب و روز قرآن سے تعلق کی تجدید، اس کی تلاوت، تراویح میں اس کی سماعت اور اس کے پیغام کی تفہیم اور تلقین کے لیے خاص ہیں۔ قرآن نہ صرف مکمل ہدایت کا حقیقی مرقع ہے بلکہ انگلی پکڑ کر ہدایت کی راہ پر انسان کو گامزن کرنے اور خیروشر میں تمیز کی صلاحیت اور داعیہ پیدا کرنے والی ہدایت ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ ج (البقرہ ۲:۱۸۵) رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے، اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔

بس یہ مہینہ قرآن کا مہینہ ہے اور اس مہینے کا حق یہ ہے کہ ہم پورے شعور کے ساتھ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ قرآن کیا ہے، اس کی اتھارٹی کی کیا حیثیت ہے، اس کی تعلیمات کی نوعیت کیا ہے، اس سے ہمارا تعلق کن بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے اور اس کے پیغام کے ہم کس طرح     علَم بردار ہوسکتے ہیں تاکہ اللہ کے انعام کا شکر ادا کرسکیں۔ اس موقعے کی مناسبت سے ہم قرآن کے مقصد ِ حیات، اس سے تعلق کی بنیادوں اور ان کے تقاضوں پر اپنی معروضات پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

  • اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے روزے کے تیسرے امتیازی پہلو کی طرف بھی اشارہ کردیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ ایک طرف رمضان کے روزوں کو مکمل کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو ذمہ داری تمھیں ادا کرنی ہے اور پورے سال بلکہ پوری زندگی ادا کرنی ہے وہ اعلاے کلمۃ الحق ہے، یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی کوشش کریں اور اس طریقے سے کریں جو تمھیں اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اور دکھایا ہے:

وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ o (البقرہ ۲:۱۸۵) تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمھیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکرگزار بنو۔

قدرت کا قانون ہے کہ جب تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو روشنی اس کا سینہ چیرتی ہوئی رُونما ہوجاتی ہے، ظلمتیں چھٹ جاتی ہیں اور فضا نور سے بھرجاتی ہے۔ تاریخِ انسانی میں روشنی اور نور کا سب سے بڑا سیلاب ۲۷رمضان المبارک ۱۳ قبل ہجرت میں رُونما ہوا۔

انسانیت کے لیے ھدایت

خشکی و تری اور بحروبر پر تاریکی کا غلبہ تھا۔ ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ (الروم ۳۰:۴۱) کی حقیقی تصویر بن کر ظلم اور فساد سے خدا کی زمین بھر گئی تھی۔ انسان اپنے حقیقی معبود کو چھوڑ کر جھوٹے خدائوں کی بندگی کر رہے تھے۔ ارض و سما کے مالک نے اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے جو ہدایت اور رہنمائی بھیجی تھی، انسان نے اس کو گم کر دیا تھا۔ نتیجے کے طور پر گمراہی اور ظلمت کا دور دورہ تھا۔ انسان، آگ، درخت، پتھر، پانی اور جانوروں تک کی پوجا کر رہے تھے۔ زندگی کے اجتماعی معاملات میں کچھ انسان دوسرے انسانوں کے خدا اور رب بن بیٹھے تھے، اور اپنی من مانی کر رہے تھے۔ نیکیاں معدوم ہورہی تھیں اور بُرائیاں پَر افشاں تھیں۔ نسل، قوم اور قبیلے کے بتوں کی پوجا ہورہی تھی۔ حق، انصاف، آزادی، مساوات اور بندگیِ رب کو انسانیت ترس رہی تھی۔

یہ تھی وہ دنیا، جس میں خدا کے ایک برگزیدہ بندے، انسانیت کے گل سرسبد اور دنیا کے سب سے نیک انسان محمدؐ بن عبداللہ نے آنکھیں کھولیں۔ وہ ظلم کے اس راج اور بدی کے اس غلبے پر حیران و سرگردان تھا، وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰیo (الضحٰی ۹۳:۷)۔ وہ جھوٹے خدائوں کا باغی اور ایک حقیقی خدا کی بندگی کا جویا تھا۔ دست ِ فطرت نے ۴۰سال اس کی تربیت فرمائی۔ پھر زمین و آسمان کے مالک نے ایک شب اس باکمال ہستی کو انسانیت کی رہنمائی کے لیے اپنے آخری نبیؐ کی حیثیت سے مامور فرما دیا۔ وہ غارِحرا میں عبادت میں مشغول تھا کہ خدا کا فرشتہ، اس کا امین اور پیام بر رُونما ہوا۔ بندگی میں مشغول بندے کو سینے سے لگایا، اسے خوب بھینچا اور رب السموات والارض کی طرف سے پہلی وحی اس پر نازل کی:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ o خَلَقَ الْاِِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ o اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ o الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ o عَلَّمَ الْاِِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ o (العلق ۹۶:۱-۵) پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام سے جس نے (ساری چیزوں) کو پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے بنایا۔ پڑھو اور تمھارارب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا،اس نے انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو اس کو معلوم نہ تھیں۔

تاریکیوں کے لیے موت کا پیغام آگیا۔ طاغوت کے غلبے کا دور ختم ہوگیا۔ رب کی آخری ہدایت کا دور شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ ۲۳سال تک چلتا رہا، حتیٰ کہ ہدایت مکمل ہوگئی اور انسانیت کو نور کا وہ خزانہ مل گیا، جس کی روشنی تاقیامت قائم رہے گی جس کے ذریعے وہ ہمیشہ رہنمائی اور ہدایت حاصل کرتی رہے گی:

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط(المائدہ ۵:۳)آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔

خدا کی اس زمین پر انسان کی ضرورتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق اس کی جسمانی اور مادی زندگی سے ہے، اور دوسری وہ جو اس کی روحانی، اخلاقی اور سماجی زندگی سے متعلق ہیں۔ خدا کی ربوبیت کاملہ کا تقاضا تھا کہ انسان کی یہ دونوں ضرورتیں پوری کی جائیں، تاکہ وہ زندگی کی آسایشیں بھی حاصل کرسکے اور ان کو صحیح طریقوں سے استعمال بھی کرسکے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی ان دونوں ضرورتوں کو بہ حسن و کمال پورا کیا ہے۔ مادی اور جسمانی ضروریات کی تسکین کے لیے زمین و آسمان میں بے شمار قوتیں ودیعت کردی ہیں، جن کی دریافت اور ان کے مناسب استعمال سے انسان کی تمام ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح انسان کی روحانی، اخلاقی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت نازل فرمائی اور اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے نہ صرف یہ کہ اس ہدایت کو انسانوں تک پہنچایا بلکہ ان کی زندگیوں میں اسے متشکل کرکے بھی دکھا دیا۔ اس طرح انسانیت نے اپنا سفر تاریکی میں نہیں، روشنی میں شروع کیا، اور ہر دور میں خدا کی ہدایت اس کے لیے مشعلِ راہ بنی رہی۔ اس دنیا میں پہلا انسان [آدم ؑ] پہلا نبی بھی تھا۔ خدا کی یہ ہدایت اپنی آخری اور مکمل ترین شکل میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ یہی ہدایت قرآن کی شکل میں موجود ہے اور قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

قرآن کا تصورِ زندگی

قرآن جس تصورِ زندگی کو پیش کرتا ہے وہ مختصراً یہ ہے:

۱- یہ دنیا بے خدا نہیں ہے۔ اس کا ایک پیدا کرنے والا ہے جو اس کا مالک، آقا، رب اور حاکم ہے۔ ہرشے پر اس کی حکومت ہے اور وہی اس کا حقیقی فرماں روا ہے۔ ساری نعمتیں اسی کا عطیہ ہیں۔ اس کا اختیارکُلی اور ہمہ گیر ہے۔ جس طرح وہ دنیا کی ہرچیز کا خالق اور مالک ہے، اسی طرح وہ انسان کا بھی خالق ، مالک اور حاکم ہے۔ اس مالکِ حقیقی نے انسان کو ایک خاص حد تک اختیار اور آزادی دے کر، اس زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ بنایا ہے اور باقی تمام مخلوقات کو اس کے تابعِ فرمان کیا ہے۔

۲-انسان کو خلافت کی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کے لائق بنانے کے لیے مالکِ حقیقی نے اسے اپنی ہدایت سے نوازا اور اس کی رہنمائی صراطِ مستقیم کی طرف کی ہے۔ اسے بتایا گیا ہے کہ پورا جہاں اس کے لیے ہے، اس کے تابع ہے، لیکن وہ خود خدا کے لیے ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ خدا کی بندگی اختیار کرے اور اپنی پوری زندگی کو رب کی اطاعت میں دے دے۔ اس زندگی کی حیثیت ایک امتحان اور آزمایش کی سی ہے۔ اس میں انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ   وہ اپنے ارادے کو مالک کی مرضی کے تابع کردے اور اس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لیے اپنا سب کچھ لگا دے۔ جس نے اس راہ سے انحراف کیا ، وہ ناکام و نامراد ہے اور آنے والی ابدی زندگی میں جہنم اس کا ٹھکانا ہوگا۔

۳- یہ باتیں انسان کو ازل میں سمجھا دی گئیں۔ ان کا شعور اور احساس اس کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا۔ ان کی تذکیر اور بندگی رب کے راستے کی تشریح و توضیح کے لیے حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک، اللہ تعالیٰ انبیا علیہم السلام کو مبعوث کرتا رہا۔ ایک طرف انسان کو عقل اور سمجھ دی گئی کہ وہ حق کو پہچانے اور اس کے مطابق زندگی کے معاملات کی صورت گری کرے اور دوسری طرف خدا کے ان برگزیدہ بندوں (انبیا علیہم السلام) نے بڑی سے بڑی قربانی دے کر انسانیت کو سیدھی راہ پر لگانے کا کام انجام دیا۔ ہرملک اور ہرقوم میں انبیا مبعوث ہوئے۔ اس سنہری سلسلے کی آخری کڑی محمد عربی ؐ ہیں۔ آپؐ ساری دنیا کے لیے بھیجے گئے اور سارے زمانوں کے لیے مبعوث ہوئے۔ آپؐ نے اللہ کا وہی دین، یعنی اسلام لوگوں کے سامنے پیش کیا جو اس سے پہلے پیش ہوتا رہا تھا جن لوگوں نے آپؐ کی دعوت قبول کرلی اور اسلام کو بہ حیثیت زندگی کے دین اور راستہ اختیار کرلیا، وہ ایک اُمت بن گئے۔ اب یہ اُمت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کا نظام اس ہدایت کے مطابق تشکیل دے جو اللہ کی طرف سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے اور جس کا نمونہ آپؐ نے اپنی مبارک زندگی میں پیش فرمایا، اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دیتی رہے۔

قرآن وہ کتاب ہے جس میں پوری دعوت موجود ہے ، جس میں اللہ کا دین اپنی مکمل اور آخری شکل میں ملتا ہے، جس میں وہ ہدایت ہے جو خالق کائنات نے اُتاری ہے اور جو تمام انسانوں کی دائمی خیروفلاح کی ضامن ہے۔ قرآن اپنی حیثیت اور اپنے مقصد کو اس طرح واضح کرتا ہے:

(الف) ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ  ج فِیْہِ ج ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ o (البقرہ ۲:۲) یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔

(ب) اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ (بنی اسرائیل ۱۷:۹) حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔

(ج) یہ رہنمائی تمام انسانوں کے لیے ہے:

الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ (البقرہ ۲:۱۸۵) قرآن انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔

(د) یہ ہدایت کا ایسا مرقع ہے جسم میں ازل سے نازل ہونے والی ہدایت جمع کردی گئی ہے اور یہ پورے خیر کا مجموعہ ہے:

وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مُھَیْمِنًا عَلَیْہِ (المائدہ۵:۴۸) پھر اے نبیؐ، ہم نے تمھاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے ، اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے۔

(ہ) یہ ہدایت ہر لحاظ سے محفوظ بھی ہے اور تاقیامت محفوظ رہے گی:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَo (الحجر۱۵:۹)بلاشبہہ ہم نے اس کو نازل کیا ہے اور ہم خود ہی اس کو محفوظ رکھنے والے ہیں۔

(و) انسانیت کے دُکھوں کا واحد علاج یہ ہدایت ہے:

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَ ھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ o (یونس۱۰:۵۷)لوگو!تمھارے پروردگار کی جانب سے تمھارے پاس ایک نصیحت آگئی ہے جو دل کے تمام امراض کے لیے شفا ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن تمام لوگوں کے لیے جو اسے مانیں۔

(ز) اور یہی ہدایت ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی اور حق کا حقیقی معیار ہے۔ اس لیے اس کو مھیمن کہا گیا ہے اور اسی لیے اس کا نام فرقان (حق و باطل میں تمیز کرنے والی) رکھا گیا ہے۔

قرآن کا اصل مقصد

قرآن کی اس نوعیت کو سمجھ لینے کے بعد اس کی حقیقت اور اس کے مقصد کی وضاحت آسان ہوجاتی ہے، اسے ہم مختصراً یوں بیان کرسکتے ہیں:

                 o        قرآن کا موضوع انسان ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی فلاح اور خسران کس چیز میں ہے۔

                  o        قرآن کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ظاہربینی یا قیاس آرائی یا خواہش کی غلامی کے باعث انسانوں نے خدا، نظامِ کائنات ، اپنی ہستی اور اپنی دنیوی زندگی کے متعلق جو نظریات قائم کیے ہیں اور ان نظریات کی بنا پر جو رویے اختیار کرلیے ہیں، وہ سب حقیقت کے لحاظ سے غلط اور نتیجے کے اعتبار سے خود انسان ہی کے لیے تباہ کن ہیں۔ حقیقت وہ ہے جسے انسان کو خلیفہ بناتے وقت خدا نے خود بیان فرما دیا ہے۔ اس حقیقت کے لحاظ سے وہی رویہ درست اور خوش انجام ہے جو خدا کو اپنا واحد حاکم اور معبود تسلیم کرکے اس دنیا میں اس کی ہدایت کے مطابق اپنی پوری زندگی کو گزارا جائے۔

                o          قرآن کا مدعا انسان کو اس صحیح رویے کی طرف دعوت دینا اور اللہ کی اس ہدایت کو واضح طور پر پیش کرنا ہے، جسے انسان اپنی غفلت سے گم اور شرارت سے مسخ کرتا رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: تفہیم القرآن، جلد اوّل، مقدمہ از مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ)

نزولِ قرآن کا اصل مقصد انسانوں کی تہذیب اور ان کے باطل عقائد اور گم کردہ اعمال کی اصلاح اور درستی ہے۔ (الفوز الکبیر)

قرآن تمام انسانوں کو ابدی سعادت کی طرف بلاتا ہے، اور انسان کے ظاہروباطن کی ایسی تعمیر کرتا ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، دنیا اور آخرت کی زندگیوں میں حقیقی چین اور راحت نصیب ہو۔ یہی راستہ رب کی بندگی کا راستہ ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِِنسَ اِِلَّا لِیَعْبُدُوْنِo (الذاریات ۵۱:۵۶) میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔

یہ بندگی انسان کی پوری زندگی پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا ہر سانس احساسِ عبدیت سے معمور ہونا چاہیے اور اس کا ہرعمل مالک کی اطاعت کا مظہر ہونا چاہیے۔

قرآن کا انقلابی تصور

یہ مقام ہے جہاں سے قرآن کا انقلابی تصورِ حیات ہمارے سامنے آتا ہے۔ قرآن انسانی زندگی کو مختلف گوشوں اور شعبوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ وہ پوری زندگی کو بندگیِ رب میں لانا چاہتا ہے۔ انسان کے فکروخیال اور عقیدہ و رجحان سے لے کر اس کی اجتماعی زندگی کے ہرپہلو پر اللہ تعالیٰ کی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مطالبہ خود مسلمانوں سے یہ ہے کہ:

اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً (البقرہ۲:۲۰۸) داخل ہوجائو خدا کے دین میں پورے کے پورے۔

یعنی اسلام کے راستے کو اختیار کرنے کے بعد زندگی کے کسی شعبے کو خدا کی ہدایت سے آزاد رکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پھر انسان کی انفرادی زندگی اور اس کی اجتماعی زندگی ، خدا کے قانون کی پابندی اور اس کی رضا کو تلاش کرنے والی ہوگی۔پھر تمدن کے پورے نظام، یعنی معاشرت، سیاست، معیشت، قانون و عدالت، انتظام و انصرام، ملکی اور بین الاقوامی تعلقات، سب پر خدا کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔ صرف اپنے اُوپر ہی اس قانون کو جاری و ساری نہیں کرنا، بلکہ پوری انسانیت کو اپنے قول اور عمل سے اس راستے کی طرف دعوت دینا ہے۔ انسانیت کو حق کی طرف بلانا ہے، اور ہر اس رکاوٹ کو ہٹانے کی جدوجہد کرنی ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان اس تعلق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہے۔ اس کا نام دعوتِ حق ہے جو اسلام میں جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے۔ یہی وہ دعوت ہے جس کی طرف یہ کتاب بلاتی ہے۔

علامہ اقبالؒ مشہور صوفی بزرگ شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کے حوالے سے قرآن کے اس مخصوص مزاج کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں:’’محمد عربیؐ برفلک الافلاک رفت و باز آید واللہ اگر من رفتمے ہرگز با ز نیامدے، محمد عربی ؐ [معراج کے موقعے پر] آسمانوں پر گئے اور واپس آگئے۔ اللہ کی قسم! اگر میں جاتا تو ہرگز واپس نہ آتا۔ یہ مشہور صوفی بزرگ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی ؒ کے الفاظ ہیں جن کی نظیر تصوف کے سارے ذخیرۂ ادب میں مشکل ہی سے ملے گی۔ شیخ موصوف کے اس ایک جملے سے ہم اس فرق کا اِدراک نہایت خوبی سے کرلیتے ہیں جو شعورِ ولایت اور   شعورِ نبوت میں پایا جاتا ہے۔ صوفی نہیں چاہتا کہ وارداتِ اتحاد سے جو لذت اور سکون حاصل ہوتا ہے اسے چھوڑ کر واپس آئے لیکن اگر آئے بھی، جیساکہ اس کا آنا ضروری ہے، تو اس سے     نوعِ انسانی کے لیے کوئی خاص نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ، نبیؐ کی بازآمد تخلیقی ہوتی ہے ۔ وہ ان واردات سے واپس آتا ہے تو اس لیے کہ زمانے کی رُو میں داخل ہوجائے اور پھر ان   قوتوں کے غلبہ و تصرف سے، جو عالمِ تاریخ کی صورت گرہیں، مقاصد کی ایک نئی دنیا پیدا کرے۔ صوفی کے لیے تو لذتِ اتحاد ہی آخری چیز ہے۔ لیکن انبیا علیہم السلام کے لیے اس کا مطلب ہے ان کی اپنی ذات کے اندر کچھ اس قسم کی نفسیاتی قوتوں کی بیداری، جو دنیا کو زیروزبر کرسکتی ہیں، اور جن سے کام لیا جائے تو جہان انسانی دگرگوں ہوجاتا ہے۔ لہٰذا انبیا ؑکی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان واردات کو ایک زندہ اور عالم گیر قوت میں بدل دیں… لہٰذا انبیاؑ کے مذہبی مشاہدات اور واردات کی قدروقیمت کا فیصلہ ہم یہ دیکھ کر بھی کرسکتے ہیں کہ ان کے زیراثر کس قسم کے انسان پیدا ہوئے‘‘۔ (تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ، علامہ محمد اقبال، ترجمہ سیّد نذیرنیازی، بزمِ اقبال، لاہور، ص ۱۸۸-۱۹۰)

مطلب یہ کہ بزرگ صوفی کا یہ قول زندگی کے محدود تصور کا غماز ہے۔ اس تصور میں اصل اہمیت عرفانِ ذات کی ہے اور وہ اس سے اُونچے کسی مقام کا تصور نہیں کرسکتی ہے کہ بندے کے قدم وہاں پہنچ جائیں جہاں فرشتوں کے پَر جلتے ہیں۔ پھر اس دنیا کی طرف واپس آنے کا کیا سوال؟ لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم جس دین کے علَم بردار ہیں وہ دین جس کا نبی اس بلندی پر پہنچ کر پھر اس دنیاے رنگ و بو میں لوٹتا ہے، تاریخ کے منجدھار میں قدم رکھتا ہے اور اس نور سے جو اسے حاصل ہوا ہے تنگ و تاریک دنیا کو منور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ صرف اپنے اس سینے کو گنجینۂ اَنوار نہیں بناتا بلکہ پورے عالم کو روشن کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ایک نیا انسان بنانے، ایک نیا معاشرہ تعمیر کرنے، ایک نئی ریاست قائم کرنے اور تاریخ کو ایک نئے دور سے ہمکنار کرنے میں مصروفِ جہاد ہوجاتا ہے۔

قرآن اسی دعوتِ انقلاب کو پیش کرتا ہے، وہ زمانے کے چلن کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد ایک انقلاب برپا کرنا ہے___ دلوں کی دنیا میں بھی انقلاب اور انسانی معاشرے میں بھی انقلاب۔ وہ صالح انقلاب جس کے نتیجے میں خدا سے بغاوت کی روش ختم ہو اور اس کی بندگی کا دور دورہ ہوجائے۔ بُرائیاں سرنگوں اور نیکیوں کو غلبہ حاصل ہو۔  خدا کے منکر اور اس سے غافل قیادت کو مسند سے ہٹا دیا جائے اور اس کے مطیع اور فرماں بردار بندے زمانے کی قیادت سنبھال لیں___ یہ ہے نزولِ قرآن کا مقصد اور یہی ہے انسانیت کی نجات کا راستہ۔

ہم اُمت مسلمہ کو جس بات کی دعوت دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس اُمت کا ہر فرد اس موقعے پر اور بھی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ قرآن کی اصل حقیقت کو سمجھے۔ اس کے مقصد کا حقیقی شعور پیدا کرے۔ اس کے پیغام پر کان دھرے اور اس کے مشن کو پورا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائے۔

قرآن نے انسانیت کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔ اس نے قبیلے، نسل، رنگ، خاک و خون اور جغرافیائی تشخص کے بتوں کو پاش پاش کیا ہے۔ اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ پوری انسانیت ایک گروہ ہے اور اس میں جمع تفریق اور نظامِ اجتماعی کی تشکیل کے لیے صرف ایک ہی اصول صحیح ہے، یعنی عقیدہ اور مسلک۔ اسی اصول کے ذریعے اس نے ایک نئی اُمت بنائی اور اس اُمت کو انسانیت کی اصلاح اور تشکیل نو کے عظیم کام پر مامور کردیا:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط (اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

قرآن نے اس اُمت کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بھی صورت گری کی ہے، اور اسے باقی انسانیت کے لیے خیروصلاح کا علَم بردار بنایا ہے۔ یہی وہ چیز تھی جس نے چھٹی صدی عیسوی کی ظلم اور تاریکی سے بھری ہوئی دنیا کو تاریخ کے ایک نئے دور سے روشناس کرایا۔ جس نے عرب کے اُونٹ چرانے والوں کو انسانیت کا حدی خواں بنایا۔ جس نے ریگستان کے بدوئوں کو تہذیب و تمدن کا معمار بنادیا۔ جس نے مفلسوں اور فاقہ کشوں میں سے وہ لوگ اُٹھائے، جو انسانیت کے رہبر بنے۔ جس نے وہ نظام قائم کیا، جس نے طاغوت کی ہر قوت سے ٹکر لی اور اسے مغلوب کرڈالا۔

قرآن طاقت کا ایک خزانہ ہے۔ اس نے جس طرح آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے انسانوں کی اصلیت بدل کر رکھ دی تھی اور ان کے ہاتھ سے ایک نئی دنیا تعمیر کرائی تھی، اسی طرح آج بھی فساد سے بھری ہوئی دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ اپنے ماننے والوں کو، بشرطیکہ وہ اس کا حق ادا کرسکیں، انسانیت کا رہنما اور تاریخ کا معمار بناسکتا ہے۔

خوب کہا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے:

لَا یَصْلُحُ اٰخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا بِمَا صَلُحَ اَوَّ لُھَا، اس اُمت کے بعد کے حصے کی اصلاح بھی اسی چیز سے ہوگی، جس سے اس کے اوّل حصے کی اصلاح ہوئی تھی۔

___ اور یہ چیز قرآن ہے۔

قرآن سے حقیقی تعلق اور تقاضے

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن نے پہلے بنجر اور شور زمین سے ایک نیاجہاں پیدا کردیا تھا، تو آج وہ یہ کارنامہ کیوں سرانجام نہیں دے رہا؟

oاگر وہ کل شفا و رحمت تھا، تو وہ آج یہ وظیفہ سرانجام دیتا ہوا کیوں نظر نہیں آتا؟

 oاگر ہم کل اس کی وجہ سے طاقت ور تھے، تو آج اس کے باوجود ہم کمزور کیوں ہیں؟

 oاگر کل اس کے ذریعے ہم دنیا پر غالب تھے، تو آج اس کے ہوتے ہوئے ہم مغلوب کیوں ہیں؟

اگر غور کیا جائے تو اس کی دو ہی وجوہ ہوسکتی ہیں___ ایک،یہ کہ ہم نے عملاً اس کتابِ ہدایت کو اپنا حقیقی رہنما باقی نہ رکھا ہو۔ اس سے ہمارا تعلق، غفلت و سردمہری و بے التفاتی اور بے توجہی کا ہوگیا ہو۔ دوسرے، یہ کہ ہم بظاہر تو اس کا احترام اور تقدیس کررہے ہوں لیکن اس کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صحیح راستہ اور صحیح طریقہ اختیار نہ کر رہے ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاملے میں یہ دونوں ہی باتیں صحیح ہیں۔

برف کی طرح پگھلتی اور ہر آن قطرہ قطرہ ختم ہوتی، اس زندگی میں یہ بڑا ہی سنہری موقع ہے کہ ہم لمحہ بھر رُک کر سوچیں کہ خدا کی اس کتاب سے ہمارا تعلق کیا ہونا چاہیے؟ اور ہمیں اس سے کیا معاملہ کرنا چاہیے تاکہ یہ اپنے اثرات دکھاسکے اور اس کی روشنی دنیا کے گوشے گوشے کو نور سے بھردے۔

۱- اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اپنے اس سوئے ہوئے ایمان کو بیدار کیا جائے جو قرآن پر لایا تو ضرور گیا ہے، مگر اس کا یقین اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جذبے اور شوق سے عاری ہے۔ یاد رکھیے کہ یہ ایمان اس کے، خدا کی کتاب ہونے پر، اس کے  مکمل طور پر محفوظ ہونے پر، اس کے ہرلفظ کے حق و صداقت ہونے پر، اس کے بتائے ہوئے طریقے کے درست اور مفید ہونے پر، اس کے بتائے ہوئے علاج کے اصل ضامنِ شفا ہونے پر ہے___ یہ ہے نقطۂ آغاز:

 اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ o وَ مَآ اَنْتَ بِھٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِھِمْ ط اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ o (النمل ۲۷:۸۰-۸۱) بے شک تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی دعوت سنا سکتے ہو۔ جب وہ اعتراض کرتے ہوئے منہ پھیر لیں، اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال سکتے ہو۔ تم تو صرف انھی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔

وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَo(البقرہ ۲:۱۲۱) اور جو لوگ اس کا انکار کریں گے، وہ نقصان اُٹھانے والے ہیں۔

۲- پھر یہ بھی ضروری ہے کہ دل قرآن حکیم کی عظمت اور بلندی، اس کے اعلیٰ اور برتر کلام ہونے کے احساس سے معمور ہو۔ یہ وہ کلام ہے جو اگر پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ شق ہو جاتے۔ اس پُرعظمت کلام کے مقابلے میں اپنی عاجزی کا احساس اور دل کا اس کے لیے موم ہوجانا بہت ضروری ہے:

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ (المائدہ ۵:۸۳) جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اُترا ہے، تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوئوں سے تر ہوجاتی ہیں۔

یہ معرفت حق کا لازمی نتیجہ ہے۔

۳- قرآن سے رہنمائی اور رہبری کے لیے رجوع کرنا، اس کے بارے میں غفلت کی روش کو ترک کر کے اسے سمجھنے کی کوشش کرنا، یہ دیکھنا کہ کس طرح وہ ہماری زندگی کا نقشہ بدلنا چاہتا ہے، اس کتاب کو مضبوطی سے تھامنا اور ہرمعاملے میں اس سے ہدایت حاصل کرنا__ یہی وہ طریقہ ہے جس سے اس کتاب کے اصل اسرار و رُموز ہم پر منکشف ہوسکیں گے:

فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِِلَیْکَ اِِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ o وَاِِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ o (الزخرف ۴۳: ۴۳-۴۴) اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمھاری طرف وحی کیا گیا ہے، اس کو خوب مضبوط پکڑے رہو۔ یقین رکھو کہ تم سیدھے راستے پر ہو اور یہ (قرآن) تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے یقینا ایک نصیحت نامہ ہے اور آگے چل کر تم سب سے اس کی بابت بازپُرس ہوگی۔

امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے بجا فرمایا ہے:

جو شخص دین کو جاننا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن ہی کو اپنا       مونس و ہم دم بنائے۔ شب و روز قرآن ہی سے تعلق رکھے۔ یہ ربط و تعلق علمی اور عملی دونوں طریقوں سے ہونا چاہیے۔ ایک ہی پر اکتفا نہ کرے۔ جو شخص یہ کرے گا وہی شخص گوہر مقصود پائے گا۔ (الموافقات، ج۳، ص۳۴۶)

۴- قرآن کا مطالعہ کیا جائے اور اس طرح کیا جائے جو اس کا حق ہے:

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ط (البقرہ ۲:۱۲۱) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔

اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ قرآن کی تلاوت کے ظاہری آداب پورے کیے جائیں، یعنی اسے پاک حالت میں چھوا جائے، ادب سے مطالعہ کیا جائے، ترتیل سے پڑھا جائے اور خوش الحانی سے پڑھا جائے وغیرہ۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے معنی کو سمجھا جائے اور ان پر غوروفکر کیا جائے۔قرآن کے الفاظ پر سے یوں ہی نہ گزرجایا جائے، بلکہ اس کی گہرائیوں میں اُترنے اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کی پوری کوشش کی جائے۔ یہی قرآن کا مطالبہ ہے:

کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo(یونس ۱۰:۲۴) غور کرنے والوں کے لیے ہم نے اس طرح آیات تفصیل سے بیان کی ہیں۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo(الانبیا ۲۱:۱۰) لوگو، ہم نے تمھاری طرف کتاب اُتار دی ہے، جس میں تمھارا ذکر ہے، کیا تم غور نہیں کرتے۔

کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ o (صٓ ۳۸:۲۹) اے پیغمبرؐ، یہ قرآن برکت والی کتاب ہے، جو ہم نے تمھاری طرف اُتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں۔ جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، وہ اس سے نصیحت پکڑیں۔

یہی صحابہ کرامؓ کا طریقہ تھاکہ وہ قرآنِ پاک کی آیات کو سمجھ سمجھ کر پڑھتے تھے اور ان پر غوروفکرکرتے تھے۔

۵- قرآن پر عمل کیا جائے اور اس کے مطابق اپنے فکروعمل کو بدلا جائے۔ قرآن پر اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا، کہ قرآن کے احکام کے مطابق اپنے کو بدلنے کے بجاے اپنی بداعمالیوں کے لیے جواز پیش کرنے کے لیے قرآن کو (نعوذباللہ) بدلنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح یہ بھی قرآن کے حقوق کے منافی ہے کہ اس کے احکام کو تو پڑھا جائے، مگر دوسری جانب ان پر عمل نہ کیا جائے۔ قرآن نازل ہی اس لیے کیا گیا ہے، کہ اس کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کے نقشے کو تعمیر کیا جائے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ قرآن کے مطابق عمل کی سعی کی جائے۔  حضرت ابن مسعودؓ کا ارشاد ہے کہ ’’جب کوئی شخص ہم میں سے ۱۰ آیتیں سیکھ لیتا تھا، تو اس سے زیادہ نہ پڑھتا تھا، جب تک ان کے معنی نہ سمجھ لیتا اور ان پر عمل نہ کرتا‘‘۔(ابن کثیر، جلداوّل، ص ۵)

۶- پھر قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کے سلسلے میں رہنما اور نمونہ اس مبارک ہستی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا، جس پر یہ کتاب نازل ہوئی:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (النساء ۴:۸۰) جس نے رسولؐ کی اطاعت کی ، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ سے سرمو انحراف بھی قرآن سے دُور لے جانے والی چیز ہے۔

قرآن کے نظام کو قائم کرنے کے لیے جدوجھد

اور آخری چیز یہ ہے کہ قرآن جس دعوت کو لے کر آیا ہے، اسے پھیلانے اور اس کے نظام کو قائم کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔ سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بہت سچ لکھا ہے کہ:

___ فہمِ قرآن کی ان ساری تدبیروں کے باوجود آدمی قرآن کی روح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا، جب تک کہ عملاً وہ کام نہ کرے، جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے، کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دنیا کے عام تصورِ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رُموز حاصل کرلیے جائیں.... یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر خدا سے پھری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اُٹھوائی اور وقت کے علَم برداران کفروفسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھرگھر سے، ایک ایک سعید روح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعیِ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے، ایک ایک فتنہ  ُجو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اُٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔ ایک فردِ واحد کی پکار سے کام شروع کر کے خلافت ِ الٰہیہ کے قیام تک پورے ۲۳سال میں یہ کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی۔ اور حق و باطل کی اس طویل و جاں گسل کش مکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اس نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔

___ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاع کفر و دیں اور معرکہ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کش مکش کی منزل کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو، اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہوجائیں۔ اسے تو پوری طرح آپ اسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب اسے لے کر اُٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیں اور جس جس طرح یہ کتابِ ہدایت دیتی جائے، اس طرح قدم اُٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گی جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکہ، حبشہ اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بدر و اُحد سے لے کر حنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابوجہل اور ابولہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا۔ منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے اور سابقین اوّلین سے لے کر مولفۃ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ یہ ایک اور ہی قسم کا ’سلوک‘ ہے جس کو میں ’سلوکِ قرآنی‘ کہتا ہوں۔ اس سلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خود سامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اس منزل میں اُتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں کہ قرآن اپنی روح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بخل برت جائے۔

___ پھر اس کلیے کے مطابق قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اصول و قوانین، آدمی کی سمجھ میں اس وقت تک آ ہی نہیں سکتے، جب تک وہ ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد رکھا ہو اور نہ وہ قوم    اس سے آشنا ہوسکتی ہے، جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف  چل رہے ہوں۔(تفہیم القرآن، ج۱، مقدمہ،ص ۳۳-۳۴)

یہ ہیں قرآن سے تعلق کی صحیح بنیادیں اور اگر ان پر ٹھیک ٹھیک عمل کیا ہو تو پھر قرآن انفرادی زندگی کا نقشہ بھی بدل دیتا ہے اور اجتماعی زندگی کی شکل بھی تبدیل کرا دیتا ہے۔ انفرادی زندگی اس کی برکتوں سے بھرجاتی ہے اور اجتماعی زندگی نیکی اور خوشی کی بہار سے شادکام ہوتی ہے۔

قرآن پر ایمان اسی وقت مفید اور معنی خیز ہوسکتا ہے، جب ہم قرآن کے پیغام کو سمجھیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہیں۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے اور اس کی ہدایت کے ذریعے اپنے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں۔ آج عالمِ اسلام جن مسائل اور مصائب سے دوچار ہے، ان سے نکلنے، ترقی اور عزت کی راہ پر پیش قدمی کرنے کا راستہ صرف یہی ہے اور  صادق برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی تلقین کی تھی:

رسولؐ اللہ: خبردار عنقریب ایک بڑا فتنہ سر اُٹھائے گا۔

حضرت علیؓ: اس سے نجات کیا چیز دلائے گی یارسولؐ اللہ!

رسولؐ اللہ: اللہ کی کتاب۔

                __           اس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے حالات ہیں۔

                __           تم سے بعد میں ہونے والی باتوں کی خبر ہے۔

                __           اور تمھارے آپس کے معاملات کا فیصلہ ہے۔

                __           اور یہ ایک دوٹوک بات ہے، کوئی ہنسی دل لگی کی بات نہیں۔

                __           جو سرکش اسے چھوڑے گا، اللہ اس کی کمر کی ہڈی توڑ ڈالے گا۔

                __           اور جو کوئی اسے چھوڑ کر کسی اور بات کو اپنی ہدایت کا ذریعہ بنائے گا، اللہ اسے گمراہ کردے گا۔

                __           خدا کی مضبوط رسی یہی ہے۔

                __           یہی حکمتوں سے بھری ہوئی یاد دہانی ہے۔

                __           یہی بالکل سیدھی راہ ہے۔

                __           اس کے ہوتے ہوئے خواہشیں گمراہ نہیں کرتیں۔

                __            اور نہ زبانیں لڑکھڑاتی ہیں۔

                __           اہلِ علم کا دل اس سے کبھی نہیں بھرتا۔

                __           اسے کتنا ہی پڑھو طبیعت سیر نہیں ہوتی۔

                __           اس کی باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

                __           جس نے اس کی سند پر کہا، سچ کہا۔

                __            جس نے اس پر عمل کیا، اجر پائے گا۔

                __           جس نے اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا، اس نے انصاف کیا۔

                __           جس نے اس کی دعوت دی، اس نے سیدھی راہ کی دعوت دی۔(مشکوٰۃ)

یہی وہ سیدھی راہ ہے، جس کی طرف قرآن ہم سب کو دعوت دے رہا ہے!

جرم و سزا کے تعلق سے کم از کم تین پہلو ایسے ہیں جن کا فہم ضروری ہے:

 ایک خالص قانونی پہلو ہے۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے اور اس کو قانون کے مطابق سزا ملتی ہے تو یہ اس کے جرم کا فطری انجام ہے ۔

اگر مجرم کو اپنی غلطی کا احساس اور اعتراف ہوتا ہے، اور وہ سزا کے ساتھ اپنے رب اور  ان افراد سے جن کے حقوق پر اس نے ڈاکا ڈالا ہے، خلوصِ نیت سے معافی طلب کرتا ہے تووہ اخلاقی طور پر اپنے آپ کو سدھارنے  (rehabilitate)کے عمل کا آغاز کرتا ہے اور اس طرح اپنے دامن کے داغ دھو کر ایک نئی صاف ستھری زندگی کا آغازکرتا ہے۔

جرم و سزا کے تعلق کی ایک تیسری شکل بھی ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص نے کوئی جرم نہ کیا ہو، مگر اس معصوم انسان کو ظلم کا نشانہ بنایا جائے اور ایسی سزا دی جائے جس کا وہ مستحق نہیں، تو اس سزا کا سارا وبال ان ظالموں پر ہے، جو ایک معصوم انسان پر یہ ظلم ڈھاتے ہیں اور مظلوم اس کی سزا بھگتتا ہے اور وہ اخلاقی و روحانی، ہراعتبار سے کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ اگر اس کی جان بھی تلف کردی جائے، تو وہ شہادت اور حیاتِ جاودانی سے شادکام ہوتا ہے۔

یہ انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے لیکن ہماری تاریخ اللہ کے ان نیک بندوں سے بھری پڑی ہے، جنھوں نے ظلم کے ہر وار کو برداشت کیا، لیکن ظلم کے آگے سر نہ جھکایا۔ اس کی تازہ ترین مثالیں بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کی قیادت کے دو گلہاے سرسبد نے پیش کی ہیں، یعنی    محترم عبدالقادر مُلّاشہید اور محترم محمدقمرالزمان شہید۔ ان کو انصاف کا قتل کرتے ہوئے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور دین حق کے سپاہی، تحریکِ اسلامی کے کارکن اور پاکستان کے نظریے سے وفاداری کی پاداش میں موت کی سزا دی گئی۔ انھیں لالچ بھی دیا گیا کہ ظالم حکمرانوں سے معافی کی درخواست کردو تو سزاے موت سے بچ سکتے ہو، لیکن انھوں نے اللہ اور حق سے وفاداری کو ،محض جان بچانے کے لیے جھوٹے الزامات کو اُوڑھنے اور ظالموں سے رحم کی اپیل کرنے پر اپنی جاں، جاں آفریں کے سپرد کردینے کو ترجیح دی اور اس طرح اہلِ حق کے لیے ایک اور روشن اور تابناک مثال رقم کردی    ؎

سلام اُسؐ پر کہ جسؐ کے نام لیوا ہر زمانے میں

بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں

اس موقعے پر جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی مثال بھی ذہنوں میں تازہ کیجیے___ آپ کو اپنی روح وجد کرتی ہوئی محسوس ہوگی۔ بانیِ جماعت کو مئی ۱۹۵۳ء میں لاہور کی مارشل لا کورٹ نے قادیانی مسئلہ نامی کتابچہ لکھنے کی پاداش میں موت کی سزا سنائی اور مولانا کو پھانسی کے احاطے میں منتقل کردیا گیا، اور پھر انھیں پیغام دیا گیا کہ اگر آپ رحم کی اپیل کریں تو جان بخشی ہوسکتی ہے۔

مولانا محترم نے ایک لمحے کے توقف کے بغیر رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ: ’’اگر میرا وقت آگیا ہے تو کوئی مجھے بچا نہیں سکتا، اور اگر میرا وقت نہیں آیا تو یہ لوگ اُلٹے بھی لٹک جائیں تو میرا کوئی نقصان نہیں کرسکتے‘‘۔ انھوں نے اپنی اہلیہ، اولاد اور ذمہ دارانِ جماعت کو بھی مشورہ دیا کہ کوئی کسی بھی شکل میں رحم کی اپیل نہ کرے اور فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔پھر ملک اور عالمِ اسلام میں شدید ردعمل کے دبائو میں حکومت نے سزاے موت کو عمرقید میں تبدیل کر دیا۔

مَیں اُس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کا ناظم تھا اور ہم نے کراچی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ ایئرپورٹ پر اس وقت کے وزیراعظم محمدعلی بوگرا کے خلاف حکومت کی ساری پیش بندیوں کے باوجود بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس لمحے ہم نے برادر عزیز ظفراسحاق انصاری کو لاہور روانہ کیا تاکہ مرکزی نظم سے رابطہ قائم کریں اور اگر ممکن ہو تو خود مولانا محترم سے بھی ملنے کی کوشش کریں۔ چند احباب کے تعاون سے ظفراسحاق بھائی، محترم مولانا مودودی سے سزاے موت کے عمرقید میں تبدیل ہونے کے اگلے ہی دن جیل میں ان سے ملے، اور ان سے یہ سوال کیا کہ: ’’آپ نے رحم کی اپیل کیوں نہیں کی؟‘‘ یہ تاریخی گفتگو ظفراسحاق انصاری نے میرے اصرار پر میرے گھر اپنی آواز میں محفوظ کرا دی ہے، جسے ہدیۂ ناظرین کیا جا رہا ہے:

ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری نے روایت کی ہے: ’’مئی ۱۹۵۳ء میں، اچانک یہ خبر آئی کہ مولانا مودودیؒ کو سزاے موت سنا دی گئی ہے، تو خورشید بھائی اور خرم بھائی کے مشورے سے میں (کراچی سے) لاہور گیا، اور لاہور میں ایف سی کالج میں مقیم ہوا۔ اللہ کا شکر ہے کہ جلد ہی جو سزا سنائی گئی تھی، اسے سزاے عمرقید میں تبدیل کردیا گیا۔ اس طرح ہم نے بھی ایک لحاظ سے اطمینان کا سانس لیا۔

میں کہہ نہیں سکتا کہ وہ تاریخ کون سی تھی، لیکن سزاے موت منسوخ ہونے کے زیادہ سے زیادہ ایک دن بعد، ایک صبح اپنے دوست کی مدد سے مَیں بورسٹل جیل گیا، جہاں مولانا مودودی قید تھے۔

مولانا محترم اپنے معمول کے لباس میں ملبوس نہیں تھے، یعنی جیل ہی کا دیا ہوا لباس پہنے ہوئے تھے۔مجھے دیکھا تو کہنے لگے کہ: ’’بھئی آپ کیسے یہاں آگئے؟‘‘

میں نے ان سے کہا کہ:’’مولانا! میں نے سنا تھاکہ آپ کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ سزاے موت کے بارے میں آپ رحم کی اپیل کریں۔ یہ تجویز جو دی گئی تو آپ نے کیا محسوس کیا؟‘‘

بالکل غیرجذباتی انداز میں انھوں نے کہا کہ جب یہ بات کہی گئی تو میرے دماغ میں معاً تین باتیں آئیں:

  •  پہلی بات یہ تھی کہ میں شہادت کا مستحق ہوں یا نہ ہوں، یہ چیز لگتا ہے کہ اب میرے نصیب میں ہے، یعنی میرے لیے اس کا موقع ہے۔ پہلے خیال آیا کہ اتنی بڑی چیز سے میں خود دست کش ہوجائوں اور کہوں کہ یہ مجھے نہیں چاہیے، تو یہ بڑی عجیب سی بات ہوگی۔
  • دوسرے یہ کہ اس ظالمانہ حکم کے خلاف رحم کی اپیل کرنا، میرے لیے عزتِ نفس کی بھی بات ہے اور میں اس کے لیے تیار نہیں پاتا کہ اس کو قربان کردوں۔
  • تیسری یہ کہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ یہ لوگ ظلم کے طور پر یہ اقدام کرنا چاہتے ہیں، اس کے خلاف رحم کی اپیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنی پوری قوم کو شرم و حیا کے جذبات سے عاری کردوں۔

__ اور مسکرا کر کہنے لگے کہ میں نہیں سمجھتا کہ اپنی قوم کو یہ ’سزا‘ دوں۔

یہ مختصر سی گفتگو تھی جو دو یا تین منٹ کی تھی۔ میں نے کوشش کی ہے کہ انھی الفاظ میں اسے یادداشت سے بیان کردوں۔

قرآنِ پاک کی ہر آیت ہدایت کا منبع اور نور کا سرچشمہ ہے۔ یہ کتاب حق اور صرف حق کا ایک نہ خشک ہونے والا سمندر ہے۔ یہ بھی اس قرآن کا معجزہ کے کہ اس کی ایک ایک آیت میں ایسے حقائق کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے جن کا مکمل احاطہ فکرِ انسانی کی پوری تاریخ اورقوموں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کی صدیوں کی داستان بھی کماحقہ نہیں کرپائے۔ ایسی ہی ایک آیت میں فرد اورگروہ، معاشرہ اور قوم، اُمت اور انسانیت کے عروج و زوال، بنائو اور بگاڑ، ترقی اور تنزل، کامیابی اور ناکامی کے عمل (process) کی کنجی کو سنت ِالٰہی کے ایک بنیادی نکتے کی صورت میں پیش کردیا گیا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ط (الرعد ۱۳:۱۱) حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔

آلِ فرعون اور ان سے پہلے کی قوموں کا ذکرکرتے ہوئے اسی اصول کو یوں بیان کیا گیا ہے:

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ لا وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ o (الانفال ۸:۵۳) یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِعمل کو نہیں بدل دیتی۔ اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والاہے۔

دونوں آیات میں تبدیلی کا مدار ’انفس‘ کی تبدیلی کو قرار دیا گیا ہے جو فرد یا قوم کے اندرون کی پوری دنیا پر حاوی ہے۔ گویا انفس ہی وہ زمین ہے جہاں عروج و زوال کی تخم ریزی ہوتی ہے اور پھر یہی وہ بیج اور جڑ ہے جس سے تبدیلی اور انقلاب کا تناور درخت نشوونما پاتا ہے۔ تبدیلی محض بیرونی عوامل کا کرشمہ نہیں ہوتی، یہ اندر کے ایک گہرے اور ہمہ جہتی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ قرآنِ حکیم پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’انفس‘ سے مراد اندر کی دنیا کا ایک پورا عالم ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ’آفاق‘ سے باہر کی دنیا کا عالم مراد ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِھِمْ (حم السجدہ ۴۱:۵۳) ’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے نفس میں بھی‘‘___ انفس میں وہ تمام قوتیں شامل ہیں جن کا اثر کسی نہ کسی شکل میں انسانی عزائم، اعمال اور اس کی سعی و جہد پر پڑتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں انفس عبارت ہے تمام ذہنی اور نفسی، اخلاقی اور عملی قویٰ سے___ تبدیلی اور انقلاب کا آغاز دل و دماغ اور ذہن و اِدراک سے ایک اندرونی تبدیلی کی شکل میں ہوتا ہے جو ایمان و ایقان، افکار و احساسات، تصورات اور زندگی کے عزائم کی صورت میں فکروعمل کی صورت گری کرتی ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جس سے عروج و ترقی کے سوتے   ُپھوٹتے ہیں۔ فرد ہو یاقوم، وہ اپنے اخلاق اور اعمال ہی کے ذریعے بلندی یا پستی سے ہم کنار ہوتی ہے۔ مولانا ظفر علی خاں نے قرآن کے اس اصول کو بڑے سادہ اور دل نشین انداز میں یوں بیان کیا ہے    ؎

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اُمت مسلمہ کے حالات پر نظر ڈالیے یا پاکستان کے نصف صدی سے زائد کے شب وروز کا تجزیہ کیجیے، صاف نظر آتا ہے کہ بیرونی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور شرانگیزیوں کو اگر کھل کھیلنے کا موقع ملا ہے تو وہ اسی اندرونی کمزوری کی وجہ سے۔ خرابی کی جڑ قلب و نظر کا فساد اور اندرون (انفس) کا بگاڑ ہے جس کی اصلاح کے بغیر صورتِ حال میں حقیقی تبدیلی کا امکان معدوم ہے۔ محض در و دیوار کی لیپاپوتی سے اُمت کی نشاتِ ثانیہ کا حصول ممکن نہیں۔ بلاشبہہ نظام کی اصلاح مطلوب بھی ہے اور ناگزیر بھی لیکن اس کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب اس کا نقطۂ آغاز اور محور و مرکز دلوں کی اصلاح، ایمان کی آبیاری اور انفرادی اور اجتماعی تقویٰ کا حصول اور اخلاق کی بہار ہو۔

مغربی تہذیب نے تبدیلی اور انقلاب کا جو فلسفہ پیش کیا ہے، اس کا سارا انحصار بیرون کی اصلاح اور معاشرے، ریاست اور معیشت کے نظام (structures) کی تبدیلی پر ہے، جب کہ اسلام جس انقلاب کا داعی ہے، وہ ’اندرون‘ کی اصلاح سے شروع ہوکر فرد اور معاشرہ دونوں کی مکمل قلب ِ ماہیت کردیتا ہے اور اس طرح پورے نظام کی تبدیلی پر منتج ہوتا ہے۔ اسلام اجتماعی زندگی کے بگاڑ کو اس سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتا ہے جس کا اظہار مغرب کی فکرودانش میں کیا جاتا ہے لیکن اسلام کا دعویٰ اور تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اجتماعی بگاڑ کی اصلاح محض اجتماعی زندگی کے دَروبست کو تبدیل کرنے سے نہیں ہوسکتی۔ ایسی صورت میں برائی نت نئے رُوپ دھار کر طرح طرح کی نئی شکلوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے اور مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اجتماعی بگاڑ کی اصلاح کا راستہ بھی نفس کی اصلاح ہی کی وادی سے گزرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نہ سمجھ پانے کی وجہ سے   مغربی تہذیب کے علَم بردار اور محض سیکولر بنیادوں پر زندگی کی تعمیر نو کے داعی برابر تاریکیوں ہی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور انسانیت کے مصائب اور آلام کم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ عالم یہ ہے کہ:

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا

زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

احیاے اسلامی کی جدوجھد اور تحریک اسلامی

بیسویں صدی اپنے بہت سے مثبت اور منفی پہلوئوں کی وجہ سے یاد کی جائے گی لیکن عالمِ اسلام کے نقطۂ نظر سے دو پہلو بڑی اہمیت کے حامل ہیں:

  •  اس صدی کا آغازایسے حالات میں ہوا کہ تقریباً پوری مسلم دنیا مغربی استعمار کے چنگل میں گرفتار تھی اور مغربی تہذیب کے علَم بردار اس زعم میںمبتلا تھے کہ اب ہمیشہ کے لیے وہی دنیا پر قابض رہیں گے۔ لیکن اس صدی کے اختتام تک مغربی استعمار کا سورج تقریباً غروب ہوگیا ہے  اور خود اس تہذیب کے بطن سے ایسے ایسے تضادات اور حوادث رُونما ہوئے، جن کے نتیجے میں  اس تہذیب کا رُعب ہی ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی   ُچولیں تک ہل گئیں اور اقبال کی اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے آثار نظر آنے لگے    ؎

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکُشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپایدار ہوگا

  •  دوسری طرف عالمِ اسلام کو مغربی استعمار کا پردہ چاک کرکے دوبارہ عالمی سیاسی و معاشی اُفق پر اُبھرنے کا موقع ملا۔ احیا کی اس پوری جدوجہد کی اصل نظریاتی اور اخلاقی جڑیں ان دینی تحریکوں کی دعوت کی مرہونِ منت ہیں جو سقوطِ خلافت عثمانیہ کے بعد اسلامی دنیا کے مختلف حصوں، خصوصیت سے عالمِ عربی اور برعظیم میں رُونما ہوئیں، اور جن کا ہدف منہاجِ نبویؐ کے مطابق دورِحاضر میں دین کی اقامت اور انفس کی اصلاح کے ذریعے آفاق کی تعمیر نو ہے اور نہ صرف اُمت مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کو نئی زندگی اور نیا نظام دینا ہے۔

اسلام کی اس دعوت کو تحریکِ اسلامی اس لیے کہا گیا کہ صدیوں کے جمود کو توڑ کراسلام کو پھر اسی طرح ایک دعوت اور پیغام کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس طرح سرورِعالم محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفاے راشدین اور صحابہ کرامؓ نے پیش کیا تھا۔ قول و فعل کی ہم آہنگی، اللہ کی رضا اور اس کے دین کے قیام کو ہر دوسری مصلحت پر غالب رکھنا اور فرد کے فکرونظر اور سیرت واخلاق سے لے کر معاشرے کے ہرہرپہلو کی اصلاح اس کا ہدف اور مزاج ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر دعوت ہے جس کا مقصدزندگی کے ہر شعبے میں اہلِ ایمان کی قیادت میں، شریعت کے مطابق اسلام کے نظامِ عدل و صلاح کا قیام ہے۔ اس تحریک نے دین و دنیا کی تفریق اور مذہب و سیاست کی دوئی کے جاہلانہ تصورات کو چیلنج کیا اور شریعت کے نفاذ اور اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد کی۔ لیکن نظام کی تبدیلی کی یہ جدوجہد مغربی ماڈل پر نہیں بلکہ خالص اسلامی منہج پر ہے جس کی جڑیں ایمان، عملِ صالح،انفرادی اور اجتماعی تقویٰ اور دعوت الی الخیر میں پیوست ہیں۔ قانون اور نظام کی اصلاح، اس ہمہ گیر جدوجہد کا ایک لازمی حصہ ہے، اور یہ اس لیے کہ اجتماعی زندگی کی اصلاح کے بغیر انقلاب کا عمل مکمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن نظام کی تبدیلی ایک وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے، اس سے ہٹ کر اس کا کوئی وجود نہیں۔

اجتماعی زندگی کی اصلاح اور اسلامی حکومت کے قیام پر زور دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ ۲۰۰سال اسلامی تاریخ کا وہ منفرد دور ہے جب اسلام اور ملت اسلامیہ قوت و اقتدار سے محروم ہوگئی اور اس کی گرفت رفتارِ زمانہ پر ڈھیلی پڑگئی۔ جو اُمت گیارہ بارہ سو سال تک ایک عالمی طاقت رہی وہ عملاً مغلوب اور محکوم ہوگئی۔ بالآخر ۱۹۲۴ء میں خلافت ِ عثمانیہ کی تحلیل سے وہ عالمی سیاسی اُفق پر سے معدوم کردی گئی۔ فطری طور پر جو چیز چھین لی گئی ہو اس کی بازیافت کو نئی جدوجہد میں ایک مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے تھی اور ملّی زندگی میں جہاں خلا واقع ہوگیا تھا اسے بھرنے کی ضرورت کو نمایاں کرنا اور اُبھارنا وقت کی ضرورت تھی۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی تحریکات کے پروگرام میں اُمت کی سیاسی آزادی اور متوازنِ قوت کی اسلامی تسخیر کو اہمیت حاصل ہوئی۔ لیکن اسلامی تحریکات کا یہ پروگرام ایک وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے جو فرد کی اصلاح، معاشرے کی تعمیرنو، خیر کی قوتوں کی نظم بندی، نئی صالح قیادت اور اسلامی بنیادوں پر زندگی کے تمام شعبوں کی تعمیر سے عبارت ہے۔ یہ محض ’سیاسی اسلام‘ کا کوئی رُوپ نہیں، اسلام کی اصل دعوت کو دورِحاضر کے تناظر میں کسی سمجھوتے اور کسی مداہنت کے بغیر پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان تحریکات کے امتیازی کردار کو سمجھے بغیر ان پر فتویٰ زنی حق و انصاف سے رُوگردانی اور دورِحاضر میں دعوت و تربیت کی مساعی اور ان کے تقاضوں کو سمجھنے میں ناکامی ہے۔

جس طرح ڈاکٹر یا حکیم مریض کو وہی دوا دیتا ہے جو مرض کا مداوا کرسکے اور وہی مقوّیات تجویز کرتا ہے جن کی کمی ہو، اسی طرح تحریکاتِ اسلامی نے بھی ان پہلوئوں کو اُجاگر کیا ہے جو نظروں سے اوجھل یا معدوم ہوگئے تھے۔

ہمارے پیش نظر پوری انسانی زندگی کی حقیقی اصلاح و فلاح ہے۔ ہم نہ محدود معنوں میں مذہبی جماعت ہیں، جس کی دل چسپیاں صرف اعتقادی و فقہی اور روحانی و اخلاقی مسائل سے متعلق ہوں اور اجتماعی زندگی کے بنائو اور بگاڑ پر اثرانداز ہونے کی عملی کوشش کرنا، جس کے دائرۂ فرض سے خارج ہو۔ اور نہ ان معنوں میں سیاسی جماعت ہی ہیں جس کی سرگرمیوں کا ہدف ہر حال میں اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی ہو۔ ہم پورے کے پورے دینِ حق کے علَم بردار ہیں جو دعوت و تربیت کے عمل سے گزر کر ایک مکمل نظامِ عدل کی شکل میں عملاً نفاذ بھی چاہتا ہے۔ ہم جس پیغامِ ہدایت و فلاح کے امین ہیں وہ اشخاص اور گروہوں کی دوستی اور دشمنی سے بالاتر ہے۔ ہم کسی فرد، گروہ یا طبقے کے مخالف نہ کبھی پہلے تھے نہ آج ہیں۔ فی الحقیقت ہم اپنی پوری قوم بلکہ پوری انسانیت کے بہی خواہ ہیں،   حتیٰ کہ وہ تمام عناصر جو ہمارے مشن کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے ہمیں خواہ مخواہ اپنا دشمن تصور کربیٹھے ہیں، ہم ان کے لیے بھی اپنے ذہن کے کسی گوشے میں خیرخواہی کے سواکوئی جذبہ نہیں رکھتے۔ ہم الدین النصیحۃ (دین خیرخواہی ہے)کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں۔

ھماری دعوت

جس طرح ہماری دعوت ایک اصولی انقلاب کی دعوت ہے، اسی طرح ہماری کش مکش بھی ایک اصولی کش مکش ہے۔ دعوت و کش مکش کے اس سار ے کام سے ہمارا اصل مطلوب خدا پرست، خدا کی رضا ہی کے طالب اور بے لوث انسانوں کو تیار کرنا، ان کو منظم کرنا اور تربیت دے کر احیاے اسلام کے کام میں لگانا ہے جو اپنے ذاتی مفاد سے قطع نظر کرکے بے لوثی کے ساتھ تعمیرملت اور اصلاح اُمت کا عظیم فریضہ سرانجام دے سکیں۔ اور جن کے ذریعے ایک طرف ہم عوام کی صحیح ذہنی اور اخلاقی نشوونما کا کام کرسکیں اور دوسری طرف سیاسی نظام اور معاشی ادارات کو اسلامی تصورات کے ڈھانچے میں ڈھال سکیں۔ ہر کارکن کو اور بالخصوص ہرسطح کے ذمہ دار کو ان بنیادی حقیقتوں کو  پیش نظر رکھنا چاہیے۔

سب سے پہلے ذہنوں میں اس بات کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ دعوت کیا ہے جس کی طرف جماعت اسلامی پاکستان اپنے اہلِ وطن اور پوری اُمت مسلمہ کو، اور بالآخر پوری انسانیت کو بلاتی ہے؟ اس کی دعوت نہ کسی شخصیت کی طرف ہے اور نہ کسی مخصوص مسلک کی طرف۔ اس کی دعوت صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کے رسولؐ کی پیروی کی دعوت ہے۔ یہ اسی راستے کی دعوت ہے جس کی طرف تمام انبیاے کرام نے انسانیت کو بلایا اور جس کا آخری نمونہ اسوئہ محمدیؐ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ دنیا کی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے تابع کرنے کی دعوت ہے۔ یہ دین کے کسی جز یا اخلاق کے ایک یا چند پہلوئوں کی نہیں، پورے دین اور پوری زندگی کو صبغۃ اللّٰہ (اللہ کے رنگ) میں رنگ دینے کی دعوت ہے۔ یہ مسجد اور میدانِ کارزار، خانقاہ اور جہاد، مدرسہ اور کاروبارِ حیات، ذکروفکر اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو ایک لڑی میں پرونے اور ایک مربوط جہادِ زندگانی کے ناقابلِ تقسیم اجزا بنانے کی دعوت ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے اپنے اور پرائے دونوں ہی غتربود کردیتے ہیں اور تحریکی ترجیحات کو اپنے اپنے ذاتی ذوق کے مطابق نہ پاکر نکتہ سنجی فرمانے لگتے ہیں۔ ’سیاسی اسلام‘، ’راہِ تقویٰ سے انحراف‘ اور ’مسلک سلف سے فرار‘ کے طعنے دیے جانے لگتے ہیں۔ ان تمام کرم فرمائیوں پر دعوتِ اسلامی کے علَم برداروں کا ردعمل مخاصمانہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ پوری خود احتسابی کے ساتھ اپنی دعوت اور اس کے ہمہ پہلوئوں کی مخلصانہ پابندی اور وفاداری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ صحیح مثالیہ (model) سامنے آسکے اور زبانِ حال سے غلط اندیشیوں کی تردید ہوسکے۔

اس دعوت کا خلاصہ جماعت اسلامی کے مؤسس نے دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات میں یوں بیان کیا ہے:

                ۱-            یہ کہ ہم بندگانِ خدا کو بالعموم اور جو پہلے سے مسلمان ہیں ان کو بالخصوص اللہ کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں۔

                ۲-            یہ کہ جو شخص بھی اسلام قبول کرلے، یا اس کو ماننے کا دعویٰ اور اظہار کرے، اس کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے منافقت اور تناقض کو خارج کرے، اور جب وہ مسلمان ہے یا بنا ہے تو مخلص مسلمان بنے اور اسلام کے رنگ میں رنگ کر یک رنگ ہوجائے۔

                ۳-            یہ کہ زندگی کا نظام جو آج باطل پرستوں اورفساق و فجار کی رہنمائی میں چل رہا ہے، اور معاملاتِ دنیا کی زمامِ کار جو خدا کے باغیوں کے ہاتھ میں آگئی ہے، ہم دعوت دیتے ہیں کہ اسے بدلا جائے اور رہنمائی و امامت، نظری اور عملی دونوں حیثیتوں سے، مومنینِ صالحین کے ہاتھوں میں منتقل ہو۔

اس دعوت کو جماعت اسلامی کے دستور میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

اقامت ِ دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے بلکہ پورے دین کی اقامت ہے، خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، نماز، روزہ اور حج و زکوٰۃ سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے، اسلام کا کوئی حصہ بھی غیرضروری نہیں ہے، پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیے یا تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہرمومن کو اسے بطور خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہلِ ایمان کو  مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگرچہ مومن کا اصل مقصدِ زندگی رضاے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیرممکن نہیں ہے کہ دنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت دین اور حقیقی نصب العین وہ رضاے الٰہی ہے جو اقامت دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔

دعوت و تربیت کا ھدف

فرد اور معاشرے کی اصلاح اور بالآخر انقلاب قیادت اور اسلامی نظام عدل و مساوات کے قیام کا یہ کام بہ یک وقت دو جہتوں سے مساعی کا متقاضی ہے۔ اپنی اصلاح، ایک دوسرے کی اصلاح، اور نظامِ زندگی اور قوت و اقتدار کی اصلاح___ ایک ہی کوشش اور جدوجہد کے مختلف رُخ اور پہلو ہیں جو ایک دوسرے کی تقویت اور تکمیل کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ الگ الگ دنیا نہیں۔  اس کا تقاضا ہے کہ ہر فرد کو یہ دعوت دی جائے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، اس سے کیے ہوئے عہد (کلمہ طیبہ) کے تقاضوں کو جاننے اور پورا کرنے کی کوشش کرے۔ اپنی، اپنے خاندان، اہلِ و عیال اور اہلِ محلہ کی اصلاح کی کوشش کرے، اللہ کے تمام بندوںتک پہنچے اور انھیں بندگی کی دعوت دے، وہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ اجتماعی زندگی کے نظام اور محرکات کو اسلامی زندگی کے قیام اور فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ تمام اجتماعی قوتوں، اور خصوصیت سے ریاست کے وسائل کو، ایمان کی آبیاری، صالحیت کے فروغ، نواہی کے خاتمے اور معروف کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں، ایک طرف ’خود اپنے کو بدلو‘ کی کوشش ہوتو دوسری طرف اجتماعی ماحول اور ریاست کے وسائل، اوامر کے نفاذ اور بدی، ظلم اور طغیان کے استیصال کے لیے استعمال ہوں، تاکہ خداکی زمین پر خدا کی مرضی پوری ہوسکے اور اس کا قانون جاری و ساری ہوسکے۔ یہ دونوں کام ایک دوسرے کے معاون اور تکمیل کرنے والے ہیں۔ ان میں ’یہ یا وہ‘ (either / or) کا تعلق نہیں بلکہ یہ دو جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں، جیساکہ ارشاد نبویؐ ہے:

اسلام اور حکومت و ریاست دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر درست نہیں ہوسکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے۔ جس عمارت کی بنیاد نہ ہو وہ گر جاتی ہے اور جس کا کوئی نگہبان نہ ہو وہ لوٹ لیا جاسکتا ہے۔(کنز العمال)

آج کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ اسلام کی یہ عمارت اپنے ارکان کی بنیاد پر معاشرے میں مستحکم ہو اور حکومت وریاست اس کی نگہبانی کی ذمہ داری مؤثرانداز میں ادا کرے۔

اصلاحِ فرد و معاشرہ اور اصلاحِ حکومت اور انقلابِ قیادت ایک ہی جدوجہد کے دو پہلو اور محاذ ہیں اور ہرمحاذ اپنی جگہ اہم اور دوسرے محاذ کو تقویت دینے والا ہے۔ دعوت و تربیت کا ہدف یہ دونوں محاذ ہیں۔ کسی ایک کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عوامی اصلاح اور تربیت، جماعت اسلامی کے لائحہ عمل کا اتنا ہی اہم پہلو ہے جتنا انقلابِ قیادت اور اسلامی حکومت کا قیام۔

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۹۵۱ء میں لائحہ عمل کے جو چار نکات پیش کیے اور پھر ۱۹۵۷ء میں جن کو جماعت کی پالیسی کا مرکز و محور قرار دیا گیا تھا، انھیں آج تک جماعت کی حکمت عملی میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مولانا مرحوم کے الفاظ میں اس کام کے بڑے بڑے شعبے اور پہلو یہ ہیں جن کی تذکیر، دعوت و تربیت کے حوالے سے ضروری معلوم ہوتی ہے تاکہ ہدف اور وژن میں کوئی ابہام نہ رہے۔

  • مذھبی گوشہ: مذہبی گوشے میں کارکنان جماعت کو یہ کام کرنے ہوں گے:

                ۱-            عوام الناس کو اطاعت ِ خدا و رسولؐ کی طرف بلانا، ان میں آخرت کی بازپُرس کا احساس بیدار کرنا، ان کو نیکی اور بھلائی کی تلقین کرنا، اور انھیں اسلام کی حقیقت سمجھانا۔

                ۲-            عام لوگوں کو ان ضروری احکامِ دینی سے باخبر کرنا جن کا جاننامسلمانوں کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

                ۳-            مساجد کی حالت درست کرنا اور ان کے لیے مسلم معاشرے میں مرکزی اہمیت پیدا کرنا۔

                ۴-            مذہبی جھگڑوں کوروکنا اور لوگوں کو اس کش مکش کے نقصانات کا احساس دلانا۔

  •  اخلاقی گوشہ:اخلاقی گوشے میں ہمارے کارکنوں کو تین کاموں پر اپنی قوت صرف کرنا ہوگی: ۱- غنڈا گردی کا انسداد ۲-ہرقسم کے فواحش کا انسداد ۳- رشوت و خیانت کی روک تھام۔

ان اغراض کے لیے ہم صرف اخلاقی تلقین ہی پر اکتفا کرنا نہیں چاہتے بلکہ معاشرے کے شریف عناصر کو ان بُرائیوں کے مقابلے میں منظم کر کے ان کے خلاف عملی جدوجہد بھی کرنا چاہتے ہیں۔

  •  معاشی گوشہ: معاشی گوشے میں ہم کوشش کریں گے کہ تین طرح کی خدمات انجام  دی جائیں:

۱- تُوْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِ ھِمْ وَتُـرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِ ھِمْ کے شرعی اصول پر بستیوں کے غریبوں، محتاجوں اور معذوروں کی باقاعدہ اعانت کا انتظام اور اس کے لیے انھی بستیوں کے    ذی استطاعت لوگوں سے مدد لینا۔

۲- سرکاری محکموں اور اداروں سے عام لوگوں کی شکایات رفع کرانا اور داد رسی حاصل کرنے کے معاملے میں جس حد تک ممکن ہو، ان کی مدد کرنا۔

۳- بستیوں کے لوگوں میں اپنی مدد آپ کرنے کا جذبہ پیدا کرنا تاکہ خود ہی مل جل کر اپنی بستیوں کی صفائی اور راستوں کی درستی اور حفظانِ صحت کا انتظام کرلیا کریں۔

  • تعلیمی گوشہ:تعلیمی گوشے میں ہماری کوشش یہ ہوگی:

۱- بستیوں اور محلوں میں دارالمطالعے کھولنا۔

۲- تعلیم بالغاں کے مراکز قائم کرنا۔

۳- جہاں جہاں بستیوں کے لوگ مالی ذرائع فراہم کرنے پر تیار ہوں وہاں ایسے پرائمری اسکول قائم کرناجن میں سرکاری نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی ہو۔

جماعت اسلامی کے سامنے ایک مکمل اسلامی معاشرے اور ریاست کا قیام ہے اور اس کے کارکن اس جدوجہد کو وقت کا اہم ترین چیلنج سمجھتے ہیں۔ وہ دلوں کی نگری کو ایمان اور احتساب سے منور کر کے پورے معاشرے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے منور کرنا چاہتے ہیں اور ساری جدوجہد اللہ کے بھروسے پر اس یقین کے ساتھ انجام دے رہے ہیں کہ  ع

جان چو دیگر شد ، جہاں دیگر شود

( انسان کی جان (سوچ، نقطۂ نظر) صحیح سمت میں بدل جائے تو اس کے لیے یہ جہاں بھی بدل جاتا ہے)۔

فھم قرآن عام کرنا

ہماری دعوت کا مرکزی نکتہ قرآن کی طرف دعوت اور قرآن کے ذریعے زندگی اور نظامِ زندگی کو بدلنے کا عزم اور سعی ہے۔ الحمدللہ اس وقت بھی مطالعہ قرآن کے ہزاروں حلقے مردوں اور خواتین میں قائم ہیں۔ ہدف یہ ہے کہ پورے ملک میں مردوں اور عورتوں کے لیے بہت بڑی تعداد میں قرآن سرکل قائم کیے جائیں۔ جگہ کی قید نہیں، گھر کی بیٹھک ہو، مسجد کا دالان ہو، مدرسے کا حجرہ ہو، کالج کی کلاس ہو، درخت کی چھائوں ہو یا کمیونٹی ہال کی آسایش__ اسے قرآن کے اجتماعی مطالعے کا گہوارا بنادیا جائے۔ چھوٹا اجتماع ہو یا بڑا مجمع__ ہرمسلمان مرد اور عورت اوربچے اور جوان کو آمادہ کیا جائے کہ قرآن سے اپنا رشتہ جوڑے، اس کے معنی و مفہوم کو سمجھے اور اسے اپنے لیے کتاب ِ ہدایت بنالے۔ لمبی چوڑی علمی بحثوں اور تفسیری محفلوں کا اپنا مقام ہے اور ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن اس پروگرام کا اصل مقصدہرمسلمان کو، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ، قرآنِ پاک کو پڑھنے اور اس کے ترجمے اور مفہوم سے واقفیت پیدا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ مسلمانوں کی طاقت کا اصل سرچشمہ اللہ کی یہی کتاب ہے۔ جب بھی مسلمانوں نے اس کا دامن تھاما اور اس کے پیغام کو لے کر اُٹھے وہ بلندیوں اور کامیابیوں سے شادکام ہوئے، اور جب بھی وہ اس سے غافل ہوئے   وہ پستیوں اور ذلتوں کی طرف لڑھک گئے۔ سب سے سچے انسان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:     ان اللّٰہ یرفع بھذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین (مسلم) ’’بے شک اللہ اس کتاب (قرآن پاک) کی بدولت بہت سی قوموں کو بامِ عروج پر پہنچائے گا اور اس (کو ترک کرنے) کے باعث دوسروں کو رُسوا کردے گا‘‘۔ اقبال نے اس حقیقت کو اپنے خاص انداز میں بیان کیا ہے    ؎

گر تو می خواہی مسلماں زیستن

نیست ممکن جز بقرآں زیستن

(اگر تو مسلمان بن کر زندہ رہنا چاہتا ہے تو یہ زندگی قرآنِ پاک کے بغیر ممکن نہیں)۔

                اور    ؎

ازیک آئینی مسلماں زندہ است

پیکرِ ملّت ز قرآں زندہ است

(مسلمان وحدت آئین ہی سے زندہ ہے، اور وہ آئین قرآن ہے)۔

اس کتاب پر ثبات نے دورِ اوّل میں مسلمانوں کو اوجِ ثریا سے ہم کنار کیا تھا اور یہی آج بھی ان کی قسمت بدل سکتی ہے اور انھیں ذلت اور پستی سے نکال کر امامت اور قیادت کے اعلیٰ مقامات پر متمکن کرسکتی ہے۔ سچ کہا امام مالکؒ نے: لَا یَصْلُحُ اٰخِرُ الامۃ اِلَّا بِمَا صَلَحَ بِہٖ اوَّلَھَا، اس اُمت کے آخری عہد کی اصلاح کبھی نہ ہوسکے گی مگر اس طریقے کے اختیار کرنے سے جس سے اس کے اوَلیں دور میں ترقی اور اصلاح پائی__ اور وہ ہے قرآن!

یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری دعوت میں مرکزیت صرف قرآن کی تعلیم کو حاصل ہے۔ قرآن کو باترجمہ پڑھنا اور اس کے پیغام کو سمجھنا اور سمجھانا، نیز اس کام کو انجام دینے کے لیے ہرضلع میں ایسے افراد کو تیار کرنا جو صحت کے ساتھ قرآن پڑھ سکیں، دوسروں کو پڑھاسکیں اور اس کا مطلب سمجھا سکیں۔ دعوت و تربیت کے اس پروگرام کا مقصد قرآن سے اس رشتے کو مضبوط کرنا اور اس کے ذریعے قوم کو روشنی کی راہ دکھانا اور اپنی کھوئی ہوئی منزل کی طرف گامزن کرنا ہے۔

گہر اور خاندان کی اصلاح

گھر کی اصلاح اور خاندان کے یونٹ کو اقامت دین کی جدوجہد کا بنیادی مرکز بنا دینا ہماری اس دعوت کا دوسرا ہدف ہے۔ خاندان کی بنیاد محض ایک رسمی رشتہ نہیں۔ یہ تہذیب کا گہوارا اور اسلامی سیرت و کردار کی تعمیرکے لیے سب سے اوّلیں اور کارفرما ادارہ ہے۔ شریعت میں ایمانیات اور عبادات کے بعد سب سے زیادہ ہدایت جس ادارے کے بارے میں ہے وہ خاندان ہی کا ادارہ ہے۔ خود حضورپاکؐ کو دعوت کے باب میں ہدایت فرمائی گئی کہ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ o (الشعراء ۲۶:۲۱۴) ’’(پس اے نبیؐ) اپنے قریب ترین رشتے داروں کو ڈرائو‘‘ ___ تمام مسلمانوں سے فرمایا گیا: ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ (التحریم ۶۶:۶)’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان والدین کو جنت کی بشارت دی جو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں اور جو امانت ان کو سونپی گئی ہے  اس کا حق پورا پورا ادا کردیں۔

آج خاندان کا نظام اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کے عمل سے دوچار ہے۔ اپنوں کی جہالت اور غفلت اور بیرونی دشمنوں کی ہمہ گیر یلغار دونوں کے باعث دین و تہذیب کا   یہ حصار تباہی کی زد میں ہے۔ اس قلعے کی حفاظت اور اسے ایک بار پھر اسلامی قوت کا منبع بنانا  ہماری اولیں ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان خواتین کا کردار سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن وہ اپنا کردار اسی وقت ادا کرسکتی ہیں جب ہم ان کے حقوق پورے ادا کریں اور انھیں عضو معطل بناکر نہ رکھیں بلکہ ان کو وہی مقام دیں اور مواقع فراہم کریں جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو مطلوب ہے۔ قرآن حق و باطل کی کش مکش کے سلسلے میں مردوں اور عورتوں کو ایک ہی زبان میں خطاب کرتا ہے اور ایک ہی ذمہ داری کو ادا کرنے کی طرف بلاتا ہے، لیکن ہم قرآن کی اس پکار کو غفلت سے نظرانداز کردیتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے دعوت و تربیت کے پروگراموں میں گھر کی اصلاح، اہلِ خاندان اور قرابت میں دعوتی کام اور مردوں اور خواتین کا دعوت الی الخیر، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داریوں کو اپنے اپنے دائروں، صلاحیتوں اور امکانات کے مطابق انجام دینے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

اسلامی اقدار پر مبنی تعلیم کا فروغ

اس پروگرام کا ایک اور بڑا اہم حصہ بامقصد اور اسلامی اقدار پر مبنی تعلیم کا فروغ ہے۔ موجودہ تعلیمی صورتِ حال میں ضروری ہوگیا ہے کہ اہلِ خیر اچھی اور اسلامی اقدار پر مبنی تعلیم کی فراہمی کا انتظام نجی شعبے میں کریں اور ایک ایسی ملک گیر تعلیمی تحریک برپا کریں کہ ایک متبادل  صحت مند نظام وجود میں آجائے۔ سرکاری سطح پر اصلاح کے امکانات کم سے کم ہونے کے بعد اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ملک و ملّت کے بہی خواہ اُوپر سے تبدیلی کا انتظار کیے بغیر اپنی نسل کو آگ کی لپیٹ سے بچانے اور اپنے دین و ثقافت کی حفاظت کے لیے جس طرح بیرونی استعمار کے دور میں اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے خود کوشاں ہوئے تھے،اسی طرح اندرونی استعمار سے ٹکر لینے کے لیے خود ہی اپنے بچوں کی بہترتعلیم کا بندوبست کریں۔ جماعت اسلامی نے ’اسلامی نظامت تعلیم‘ قائم کی ہے اور صوبائی اور مقامی سطح پر وقف کی بنیاد پر، یا خود کفالت کے نظام کے تحت ملک بھر میں اچھے تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھا دینا چاہتی ہے۔ الحمدللہ، پچھلے چند برسوں کی کوشش سے کئی ہزار پرائمری اور سیکنڈری اسکول اس منصوبے کے تحت قائم ہوئے ہیں۔ اس سال ان میں خاطرخواہ اضافے کی کوشش کی جائے گی اور جن شہروں یا دیہات میں ابھی ایسے ادارے قائم نہیں ہوسکے ہیں وہاں مقامی آبادی اور اہلِ خیر کے تعاون سے جلد از جلد ان کے قیام کا اہتمام کیا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ جس طرح مغرب کے زیراثر تعلیمی تحریک نے بقول اقبال، تعلیم کے ’تیزاب‘ میں مسلمان قوم کی خودی کو ڈال کر اپنے مفید مطلب انداز میں بگاڑنے کی کوشش کی، یہ اصلاحی تحریک اس قوم کی نئی نسلوں کو پھر اسلام کا سپاہی اور پاسبان بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی اور ان شاء اللہ ’دل بدل جائیںگے تعلیم بدل جانے سے‘۔

حکومت کی تعلیمی پالیسی پر تنقید، اس کی ناکامیوں کا احتساب اور صحیح نظام تعلیم کا مطالبہ اسی طرح جاری رہے گا لیکن اپنی مدد آپ کے تحت ایک متبادل نظام بھی قائم کرنا ضروری ہے۔

اصلاح معاشرہ اور تبدیلی قیادت

معاشرے سے ظلم و طغیان، فتنہ و فساد اور فحاشی اور عریانی کا خاتمہ، اور مظلوم کی مدد اور ظالم کا ہاتھ روکنے اور ظلم کے خلاف فضا بنانے کی کوشش بھی ہماری دعوت کا ایک حصہ ہے۔ لوگوں میں  اپنے حقوق کا احساس پیدا کرنا اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا داعیہ اور حوصلہ پیدا کرنا بھی تحریکِ اسلامی کے اہداف میں سے ہے۔ دعوتی اور تربیتی پروگرام میں معاشرے کی اصلاح کے ان پہلوئوں کو نمایاں کرنا اور اس کام کو انجام دینے کے لیے مردانِ کارتیار کرنا ایک مشکل لیکن ضروری کام ہے۔ سیاسی بیداری اور ہرسطح پر نئی اور صاف ستھری قیادت اُبھارنا بھی اسی جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ ممبرسازی، رابطہ کمیٹیوں کا قیام اور مجالسِ مشاورت کی تشکیل کا مقصد یہی ہے۔ یہ تمام کام اس لیے انجام دیا جا رہا ہے کہ ایک خادمِ دین اور خادمِ عوام قیادت اُبھر سکے اور بالآخر ملک کی زمامِ کار ان لوگوں کے ہاتھوں میں آسکے جو شر اور فساد، رشوت اور غبن، حقوق کی پامالی اور ظلم و استحصال کا خاتمہ کرسکیں اور معاشرے میں خیر اور فلاح کو عام کرسکیں۔

یہ وہ تحریک ہے جو دعوت و تربیت کے ذریعے معاشرے کی اصلاح، اور نئے مردانِ کار کی تیاری کرے گی تاکہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے نئی قیادت بروے کار آئے اور اجتماعی نظام بشمول نظامِ حکومت تبدیل ہو۔ اگر اس کا نقطۂ آغاز اپنی اصلاح ہے تو نظام کی اصلاح اور زمانے کی رو  کی تبدیلی اس کا متوقع ہدف ہے۔ اور یہ سارا کام کسی دُنیوی منفعت کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا، اللہ کے بندوں کی خدمت او ر آخرت کی کامیابی کے لیے انجام دیا جاناچاہیے۔ اگر یہ سارا کام اور ساری تگ ودو صرف اللہ کے بھروسے پر انجام دی جائے تو ان شاء اللہ لازماً ثمرآور ہوگی۔

تعلق باللّٰہ کی مضبوطی

ہم نے جماعت اسلامی کی دعوت کے چند پہلوئوں پر گفتگو کی ہے۔ ہرمنصوبہ محض کاغذ کا ایک پُرزہ ہے، اگر اس پر عمل نہ ہو اور اس کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے تن، من، دھن کی بازی نہ لگا دی جائے۔ ہماری دعوت اور ہمارے منصوبے کی کامیابی کا انحصا ر اللہ تعالیٰ کی استعانت کے بعد کارکنوں کے جذبے، محنت اور قربانی پر ہے۔ یہ جہاں ایک طرف ’اپنی اصلاح آپ‘ کا نسخہ ہے، وہیں دوسروں کی اصلاح اور خدمت اور معاشرے کی تعمیروتشکیل نو کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے پہلی ضرورت اللہ پر بھروسا، اس کے دامن کو تھامنا، اس سے اپنا رشتہ مضبوط اور گہرا کرنا، اس کی رضا کی طلب اور اس کی محبت کی خواہش ہے۔ جتنا یہ جذبہ مضبوط اور صائب ہوگا اتنا ہی راستہ آسان ہوجائے گا۔

اس کے لیے دوسری ضرورت خود اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔ اگر شمع خود روشن نہ ہوتو دوسروں کو روشنی کیسے پہنچائے گی۔ اگر برف میں برودت اور آگ میں حرارت نہ ہو تو دوسروں کو ٹھنڈک یا گرمی کیسے پہنچا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کا نبیؐ جو داعیِ اوّل ہوتا ہے وہ سب سے پہلے ایمان لانے والا اور سب سے پہلے اطاعت کرنے والا ہوتا ہے (انا اول المومنین وانا اول المسلمین)۔ کارکن اور قیادت، ہر سطح پر، ہم میں سے ہر ایک کو، سب سے پہلے خود اپنی فکر کرنی چاہیے اور اس جذبے سے کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خود بھی دین پر قائم رہنے اور اس راہ پر ترقی کرنے کی توفیق بخشے اور اس لائق بنائے کہ ہم شہادتِ حق کا فریضہ کماحقہٗ ادا کرسکیں۔

اس کے لیے اخلاص کے ساتھ ساتھ علم، قول و فعل کی یک رنگی، حُسنِ اخلاق، جذبۂ خدمت، حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی پاس داری، صبر اور تحمل، مسلسل جدوجہد، کوشش اور قربانی کے جذبے کی ضرورت ہے۔

دعوت کے لیے تڑپ

اس سلسلے کی ایک اوربڑی اہم ضرورت اپنے دائرے سے نکل کر دوسروں تک پہنچنا، عوام میں اُٹھنا بیٹھنا، ان سے محبت اور ہمدردی کا معاملہ کرنا، ان کے دُکھ درد میں شریک ہونا اور ان کے دلوں کو موہ لینا ہے۔ یہ کام خود رائی، خودپسندی اور احساسِ برتری کے ساتھ انجام نہیں پاسکتا۔ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ مبارک میں جہاں ہمیں خوش اخلاقی کا اعلیٰ ترین نمونہ نظر آتا ہے (وَاِِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍo القلم ۶۸:۴)، وہیں آپؐ کے تمام معاملات، رہن سہن اور میل جول میں بلا کا انکسار اور عام انسانوں جیسی سادگی او رملنساری پائی جاتی ہے۔ حضرت عائشہؓ کی گواہی ہے: آپؐ فرماتے تھے: اِجْلِسْ کَمَا یَجْلِسُ الْعَبْدُ ،میںاسی طرح اُٹھتا بیٹھتا ہوں جس طرح خدا کا ایک عام بندہ اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ جب آپؐ نے حضرت معاذؓ بن جبل کو یمن کا والی بناکر بھیجا تو نصیحت فرمائی: اَحْسِنْ خُلُقَکَ لِلنَّاسِ،لوگوں کے ساتھ بہتر اخلاق سے پیش آنا۔

آپؐ کے شوقِ دعوت اور دوسروں کی فکرگیری کی حالت یہ تھی کہ خود اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں آپؐ کو متوجہ فرماتا ہے کہ اے نبیؐ! شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَ لَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ o الشعراء ۲۶:۳)۔ آپؐ کی لگن اور فکرمندی کا یہ حال تھا کہ آپؐ نے فرمایا کہ لوگ پروانوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور میں ان کی کمر پکڑپکڑ کر ان کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں۔ آپؐ کی استقامت کی یہ کیفیت تھی کہ آزمایش کے سخت ترین مرحلے پر بھی برملا فرمایا: خدا کی قسم! اگر تم میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دو تو پھر بھی میں بندگیِ رب کی دعوت سے قطعاً باز نہیں آئوں گا۔   میں اس راہ میں اپنی جان تو دے سکتا ہوں، پسپائی اختیار نہیں کرسکتا۔ احساسِ ذمہ داری کا یہ حال تھا کہ جب تھکے ہارے بخار کے عالم میں دارارقم میں آرام کے چند لمحات کے دوران آپؐ کو یہ اطلاع ملتی ہے کہ ایک قافلہ مکہ کے باہر آیا ہے تو دعوت پہنچانے کے لیے بے تاب ہوجاتے ہیں اور اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کہتے ہیں آپؐ  تھکے ہوئے ہیں، طبیعت بھی ناساز ہے،     اس وقت آرام فرمالیں تو آپؐ کا ارشاد یہی ہوتا ہے کہ کیا خبر کل تک وہ قافلہ رخصت ہوجائے اور کیا پتا کل تک میرا ہی بلاوا آجائے۔ آرام اور استراحت ترک کردیتے ہیں اور دعوت پہنچانے کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں__ صلی اللہ علیہ وسلم!

دعوت، تربیت اور اقامت دین کا کام انجام دینے کے لیے اس عزم، اس ہمت، اس ولولے، اس احساسِ ذمہ داری اور اس مجاہدے کی ضرورت ہے     ؎

نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز

یہی ہے رختِ سفر میرکارواں کے لیے

بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ صرف میرکارواں ہی کے لیے نہیں، ہر کارکن اور اس منزل کے ہر راہ رو کے لیے یہی رخت ِ سفر ہے۔

اَللّٰھُمَّ اَیِّدِ الْاِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِیْنَ ۔ اَللّٰھُمَّ اَنْصُرْ مَنْ نَصَرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَاجْعَلْنَا مِنْھُمْ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَلَا تَجْعَلْنَا مَعَھُمْ -

اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہُ، وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہُ

اے اللہ! جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مدد اور اسے قائم کرنے کی سعی کریں، تو ان کی مدد فرما اور ہمیں ان میں سے کردے۔

اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو رُسوا کرے، تو ان کو رُسوا کردے اور ہم کو ان کے ساتھ نہ کرنا۔

اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق عنایت فرما ،اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عنایت فرما۔ آمین!

 

تبدیلی فون نمبر

عالمی ترجمان القرآن ادارتی دفتر، منصورہ کا فون نمبر تبدیل ہوگیا ہے۔

نیا فون نمبر: 042-35252356

اس وقت دنیا میں ہر پانچواں انسان مسلمان ہے۔ آج دنیا میں ایک ارب ۳۰ کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ ان میں سے۹۰کروڑ مسلمان ۵۷ مسلم مملکتوں اور۴۰ کروڑ باقی دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں رہتے ہیں۔ وسط ایشیا سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک اور براعظم افریقہ کے بڑے حصے پر مسلم آبادیوں کا ارتکاز ہے، تاہم مسلمان دنیا کے ہرحصے میں موجود ہیں۔ یورپ میں مسلمانوں کی تعداد ۳ کروڑ سے زائد اور شمالی امریکا میں ۷۰لاکھ ہے۔ یورپ اور امریکا میں اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔۵۷ مسلم ممالک دنیا کے ۲۳ فی صد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین بری، بحری اور فضائی راستے مسلم دنیا ہی سے گزرتے ہیں۔ مسلم دنیا اور باقی دنیا کا    ایک دوسرے پر کافی انحصار ہے۔ مسلم ممالک میں وسائل کی فراوانی ہے لیکن وہ معاشی، اور صنعتی ترقی میں پس ماندہ ہیں۔ ان کے پاس بہت زیادہ مالیاتی وسائل ہیں لیکن ٹکنالوجی، انتظامیات اور پیداوار و ترقی کے جدید طریقوں کے استعمال میں وہ پیچھے ہیں۔ مسلم ممالک کی باہمی تجارت   ۱۳فی صد ہے ، جب کہ ۸۷ فی صد تجارت بقیہ دنیا کے ساتھ ہوتی ہے۔ زیادہ تر مسلم ممالک ترقی پذیر دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترقیاتی حوالے سے ۵ کا تعلق اعلیٰ ۲۵ کا تعلق وسط سے ہے ، جب کہ بقیہ ممالک کا تعلق نچلے گروہ سے ہے۔۱؎

مسلم دنیا کئی صدیوں تک تسلیم شدہ عالم گیر معاشی قوت کی حیثیت سے غالب رہی۔ معاشرتی برتری اور ٹکنالوجی میں ترقی صدیوں تک مسلم ممالک کا امتیازی نشان رہا ہے۔۲؎ البتہ گذشتہ ۳۰۰ برسوں میں معاشی زوال ہوا ہے اور ان کی معاشی طاقت میں کمی و اقع ہوئی ہے۔  مسلم دنیا کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر دوبارہ سنبھلنے کا تصور موجودہ دور میں برسرِکار ہوا ہے۔   اس بات کا جائزہ لینے کے لیے بہت سا تنقیدی و فکری کام ہوا ہے کہ کیا خرابی پیدا ہوئی؟ اور مسلم دنیا کیسے دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت حاصل کرسکتی ہے؟ اس مناسبت سے اپنی اخلاقی اور نظریاتی ساکھ اور بنیاد کی تلاش اس جدوجہد کاایک حصہ ہے۔۳؎

اسلام ایک آفاقی دین ہے اور امت مسلمہ ایک عالم گیربرادری ہے۔ ایمان اس کی بنیاد ہے، اور یہی ایمان مسلم امہ کی عالم گیر حیثیت کا تعین کرتا ہے۔ یہی توحید کائنات کی، انسانیت کی اور زندگی کی وحدت (Unity) اور قانون کے آفاقی ہونے پر دلیل ہے۔ اسلام کسی خاص قوم ، لسانی یا علاقائی نسلی گروہ یا کسی خاص سماجی و معاشی طبقے کا دین نہیں ہے۔ اسی طرح اسلام ایک نیا دین  پیش کرنے کا دعوے دار نہیں ہے، بلکہ اس کے مطابق یہ رہنمائی ہے جو خالق نے اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے تخلیق انسان کے اول روز سے بہم پہنچائی ہے۔ تمام انبیا علیہم السلام اور ان کے ماننے والوں کا مذہب (دین) اسلام ہی تھا۔

مسلمان حضرت آدمؑ سے لے کرحضرت نوحؑ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسٰی ؑ، حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسلام کے لغوی معنی ’امن‘اور ’سلامتی‘ کے ہیں۔ یہ اللہ کے واحد معبود ہونے او راس کی بندگی کرنے اور اس کے انبیا ؑپر ایمان لانے کا داعی ہے، جن کی زندگی اعلیٰ ترین نمونہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایت کے مطابق انسان کی مکمل سپردگی اور پیروی کا نام ہے۔ اسی طرح شریعت کچھ اقدار، اخلاقیات اور قوانین کے مجموعے کا نام ہے جو اسلامی طرزِ زندگی کی تشکیل کرتی ہے۔

اسلام، ہر فرد کے اختیار کی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ عقیدہ و مذہب کے معاملے میں کسی زورزبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔۴؎ یہ انسانیت کے لیے ثقافتی لحاظ سے اورحقیقی طور پر تکثیریت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اختلاف راے کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنااسلام کابنیادی اصول ہے۔ اسلام، انسان کی زندگی کے تمام پہلوئوں: ایمان، عبادت، شخصیت اور کردار ،فرد اور معاشرہ، معیشت اور معاشرت، قومی اور بین الاقوامی معاملات سے متعلق ہے۔ پھر اسلام غیرمذہبی معاملات کو بھی روحانیت کی مقدس چھتری کے تلے جمع کرتا ہے۔ یہ دوسرے مذاہب کے مقابلے میں لادینی اور دنیاوی پہلوئوں کو نظر انداز نہیں کرتابلکہ زندگی کے تمام پہلوئوں کواخلاقی و روحانی طور پر باہم مربوط کرتا ہے۔ اسلام بنیادی طور پر اخلاقی اور نظریاتی فکر ہے، جو عقیدے، رنگ، نسل،  زبان اور علاقے سے بالاتر ہوکر انسان کو مخاطب کرتی ہے۔ یہ تکثیریت کو حقیقی اور قابل تکریم سمجھتا ہے۔ امت مسلمہ کے اندر بھی تنوع موجود ہے۔ اسلام کسی مصنوعی اتحاد اور زبردستی کی ہم آہنگی کا قائل نہیں ہے۔ یہ بقاے باہمی اور تعاون کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اسلامی طرزِ زندگی اور تمدن کا ایک اور پہلو، اس کا: مطلق ، کائناتی اور عالم گیر اقدار پر زور دینا ہے۔ یہ کچھ ایسے اداروں کا تعین کرتا ہے، جو اسلام کے مستقل ستون کی حیثیت سے کام کرتے ہیں،اور بدلے ہوئے حالات کی ضرورتوں کے مطابق لچک کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اقدار کا تانا بانا انسانی فطرت اور کائنات کے حقائق کے مطابق بنتا ہے اور انسان کو وہ مواقع فراہم کرتا ہے کہ انسان بدلتے حالات کے تناظر میں اپنی اقدار اور اصولوں کا اطلاق کرے۔ اس کے لیے اسلام ایک خودکار نظامِ عمل فراہم کرتا ہے، تاہم انسانی حالات کی جزئی تفصیلات کے ضمن میں جامد قواعد و ضوابط سے احتراز کرتا ہے۔ یہ فرد کو معاشرے کی بنیادی اکائی تصور کرتا ہے جو تمام مخلوقات میں اعلیٰ ترین مقام رکھتا ہے۔ ہرفرد اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ انسان صرف سماجی مشین کا اہم پُرزہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے نزدیک معاشرہ ، ریاست، قوم اور انسانیت تمام ہی اہم ہیں اور ہرایک اپنا خصوصی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، آخرت میں ہر فرد کی جواب دہی انفرادی سطح پر ہی ہوگی۔   اس سے اسلامی نظام کے اندر فرد کی مرکزیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہر فرد کو معاشرے اور   اس کے اداروں سے وابستہ کرتا ہے اور ان کے درمیان ایک متوازن تعلق قائم کرتا ہے۔

اسلامی اخلاقیات زندگی سے فرار کا راستہ نہیں دکھاتیں بلکہ بھرپور زندگی گزارنے کے نظریے پر قائم ہیں۔ انسانی زندگی کے تمام پہلو اور سرگرمیاں اخلاقی نظم و ضبط کے ذریعے پاکیزہ زندگی گزارنے کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ انفرادی تقویٰ اور اجتماعی اخلاقیات مل کر بھرپور زندگی کو فروغ دیتی ہیں، انفرادی اور معاشرتی بہبود میں اضافہ کرتی ہیں اور تمام لوگوں کے لیے فلاح کا باعث بنتی ہیں۔ اسلام میں ’دولت‘ ایک گالی نہیں۔ اگر اخلاقی اقدار اور امکانات کو پیش نظر رکھا جائے تو پیدایش دولت دراصل ایک پسندیدہ قدر ہے۔ ایک اچھی زندگی انسانی جستجو کابڑا ہدف ہے، فلاحِ دنیا اور فلاحِ آخرت کا ایک دوسرے پر انحصار ہے، اور یہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ یہی وہ روحانیت ہے جو دنیاوی زندگی کے تمام پہلوئوں اور سرگرمیوں کو اخلاقی دائرہ کار میں لاکر اس طرح چھا جاتی ہے، کہ وہ انسان کو بیک وقت نہ صرف اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے قابل بنادیتی ہے،بلکہ ایک ایسامعاشرہ تشکیل دیتی ہے جس میں تمام لوگوں کی خواہشات عادلانہ طریقے پر پوری ہوتی ہیں۔

شخصی آزادی، حقوقِ ملکیت، کاروبار، منڈی کی میکانیت اور دولت کی منصفانہ تقسیم، اسلامی معاشی نظام کے اہم حصے ہیں، تاہم مختلف سطحوں پر بہت سی اخلاقی بندشیں ہیں، مثلاً: انفرادی تحرک، ذاتی رجحان، سماجی طور طریقے، آجر اور اجیر کے رویے اور فرد اور ریاست کے باہمی تعلقات۔   اس نظام میں خاص طورپر نگرانی، رہنمائی اور ضروری قانون سازی کے دائرے میں ریاست اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ آزادی،معاشی مواقع کی فراہمی اور ملکیت کے حقوق کو یقینی بنانا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔

اسلام ضروریات کی فراہمی کو اہمیت دیتا ہے اور ایسا معاشرہ تشکیل دیناچاہتا ہے، جس میں معاشرے کے ہر فرد کے لیے ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی ہو۔ اوّلین طور پر ذاتی جدوجہد کے ذریعے اور محنت کا پھل ملنے کے رجحان کی بنیاد پر۔ لیکن ایک ایسے دوستانہ ماحول میں کہ جو لوگ پیچھے رہ جائیں یا ان کا تعلق محروم طبقات سے ہو، ان کی اس طرح سے مدد کی جائے کہ وہ ایک باعزت زندگی گزار سکیں اور معاشرے کے فعال شریک بن جائیں۔ اسلام پیدایش دولت کی ایسی سرگرمیوں پر زور دیتا ہے۔ اس کا ہدف ایسا عادلانہ اور مساویانہ معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اسی صورت میں ایسا کیا جانا ممکن ہے کہ جب معاشرہ ایسا طریق کار وضع کرے کہ معاشرے کے محروم طبقات کو مؤثر مدد حاصل ہوسکے۔ یہ خاندان کے ادارے، معاشرے کے دوسرے اداروں اور ریاست کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اسلام معاشی طرز عمل میں آزادی کوذمہ داری کے ساتھ اور استعداد کار کو عدل کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ’عدل‘ بنیادی اسلامی اقدار میں سے ایک سب سے اہم قدر ہے اور انبیاعلیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں بھی ایک مقصد عدل کا قیام ہے (الحدید ۵۷:۲۵)۔ ہدایت کا تعلق صرف انسان کے اللہ کے ساتھ تعلق تک محدود نہیں ہے بلکہ دوسرے انسانوں او رکائنات کے ساتھ عدل پر مبنی تعلق تک وسیع ہے۔

اسلام کا معاشی نظریہ

بنیادی خصوصیات

اسلام کے معاشی نظریے کی بنیادی خصوصیات کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

۱- زندگی ایک مربوط اکائی ہے۔ انسان کی شخصیت کی طرح، عوامی ثقافت بھی ناقابل تقسیم ہے۔ پورا سماجی عمل ایک نامیاتی اکائی (organic unity)ہے۔ معاشی زندگی اور نظام کو ہم علیحدہ علیحدہ طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ تخصیص کار اور تقسیم کار بہت اہم سہی، لیکن تمام چیزوں کو آپس میں مربوط ہونا چاہیے، تاکہ ایک صحت مند معاشرہ وسیع تر اکائی بن سکے۔ معاشی نظریے کی بنیاد: ایمان، زندگی کے بارے میں نظریے اور عوام کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے پر ہے کہ ایک باہم مربوط فکر کے ذریعے ہی انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کو صحیح رخ دیا جاسکتا ہے۔

۲-  اسلام کا تصورِ جہاں (World View) توحید، رسالت اور آخرت پر مبنی ہے۔   مرد اور عورت دونوں کی دنیا میں حیثیت اللہ کے خلیفہ (vicegerent) کی ہے۔ اسے اختیار کی آزادی، خواہش، علم اور محدود حد تک حاکمیت عطا کی گئی ہے۔ اس کے کردار، مقام اور فرضِ منصبی کو استخلاف کہا گیا ہے، یعنی زمین پر اللہ کی مرضی کو پورا کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینا،عدل قائم کرنا، احسان کو فروغ دینا اور اس کے ذریعے حیات طیبہ کا انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے بلند معیار قائم کرنا۔

امام غزالی علیہ الرحمہ مقاصد شریعت کو یوں بیان کرتے ہیں: ’’شریعت کا مقصد تمام انسانوں کی بھلائی ہے، جو انسان کے ایمان،اس کے نفس، اس کی عقل، اس کی نسل اور اس کے مال کے تحفظ سے وابستہ ہے‘‘۔۵؎

۳- ’تقویٰ‘ کے بعد اسلامی نظام کی اہم ترین قدر ’عدل‘ اور اس کے ساتھ ’احسان‘ ہے۔ اسلامی اصطلاح میں ’عدل‘ سے مراد ہر فرد کو اس کا حق بہم پہنچانا ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں فقہا اور مفکرین ’عدل‘ کو اسلامی زندگی، معاشرے کی خاص صفت اور قانونی و سماجی اور معاشی عمل کا ایک ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔

امام ابو یوسفؒ (م:۷۹۸ئ) نے خلیفہ ہارون الرشید (م:۸۰۹ئ)کو معیشت کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’مجرموں کے ساتھ انصاف کرنے اور نا انصافی کے خاتمے کے نتیجے میں ترقی کی رفتار تیز تر ہوگی‘‘۔ امام ابوالحسن علی الماوردیؒ (م: ۱۰۵۸ئ) نے فرمایا کہ: ’’جامع اور مختلف پہلوؤں سے انصاف کے نتیجے میں یک جہتی کو فروغ حاصل ہوتا ہے، قانون کی عمل داری ہوتی ہے،ملک ترقی کرتا ہے، دولت بڑھتی ہے، آبادی میں افزایش ہوتی ہے، ملک کی سلامتی مضبوط ہوتی ہے، اور نا انصافی سے بڑھ کر کوئی چیزنہیں جو دنیا کے لوگوں کے ضمیر اور شعور کو تباہ کرتی ہو‘‘۔    امام ابن تیمیہؒ (م: ۱۳۲۸ئ) عدل کو توحید کا لازمی نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’ہر چیز میں انصاف، اور ہر ایک کے لیے انصاف ہر ایک کاحق ہے،اور نا انصافی کسی چیز میں کسی بھی فرد کے لیے کسی طور پر جائز نہیں ہے ،چاہے کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم، حتیٰ کہ ایک ظالم شخص کے معاملے میں بھی نہیں‘‘۔ علامہ عبدالرحمن ابن خلدونؒ (م: ۱۴۰۶ئ) علی الاعلان کہتے ہیں کہ: ’’عدل کے بغیر ترقی جائزنہیں ہے اور ظلم ترقی کا خاتمہ کرتا ہے،اور جایداد میں کمی ناانصافی اور ظلم کا لازمی نتیجہ ہے‘‘۔۶؎  پس، عدل اسلامی نظام کی روح اور سانس کادرجہ رکھتا ہے۔

۴-  سماجی تبدیلی اور انسانی معاشرے کی تشکیل نو کے لیے اسلامی منصوبہ منفرد ہے۔ یہ منصوبہ ایسے طریق کار پر مبنی ہے جو اٹھارھویں صدی کے بعد یورپ اور امریکا میں ابھرنے والے معاشی و سیاسی نظریات سے بالکل مختلف ہے۔

موجودہ مغرب میںاس کے لیے جو طریق کار، اور حکمت عملی سامنے آئی ہے وہ اس تصور پر مبنی ہے کہ انسانوں میںانقلابی تبدیلی لانے کے لیے سماجی اداروں اور ماحول کو تبدیل کیا جائے۔ اسی لیے ان کے ہاں تمام زور بیرونی ڈھانچے کی تشکیل نو پر ہے۔ اس نظام کی ناکامی کی وجہ انسان کو، مرد ہو یا عورت، ان کے عقائد، محرکات، اقدار اور ذمہ داریوں کو ہدف بنانے کو نظرانداز کرنا ہے۔ یہ تمام انسانوں کے اندر تبدیلی لانے کے عمل کو نظر انداز کرتا ہے اور بیرونی عناصر میں تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے، تاہم جس چیز کی ضرورت ہے وہ مکمل تبدیلی اور انقلاب ہے۔ یہ تبدیلی لوگوں کے اندر بھی ہو اور ان کے سماجی و معاشی ماحول میں بھی۔ مسئلہ صرف ڈھانچا جاتی تبدیلی کا نہیں ہے، تاہم ڈھانچا جاتی تبدیلی بھی اپنی جگہ ضروری ہے۔ نقطۂ آغاز انسانوں کے دل و روح، ان کا حقیقت کا ادراک اور زندگی میں خود ان کا مقصد اور مقام ہونا چاہیے۔

سماجی تبدیلی کی بنیادیں

سماجی تبدیلی کے لیے اسلامی نقطۂ نظر کے حوالے سے کلیدی نکات حسب ذیل ہیں:

(الف) سماجی تبدیلی مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ تاریخی قوتوں کے عمل کا نتیجہ نہیں ہوتی، اگرچہ زندگی میں بہت سی رکاوٹوں اور بندشوں کی موجودگی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ تبدیلی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے تحریک حاصل کرتی ہے۔ اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور اسے حاصل کیا جاتا ہے۔ تبدیلی با مقصد ہونی چاہیے، یعنی آئیڈیل کی طرف پیش قدمی۔

(ب)  عوام ہی انقلاب کا فعال کردار ہیں۔ دنیا کی تمام دوسری قوتیں اللہ کے نائب اور خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان کی تابع فرمان ہیں۔ اللہ تعالی کی طرف سے کائنات کے لیے جو انتظامات کیے گئے ہیں اور جو قوانین بنائے گئے ہیں، ان کے مطابق یہ انسان ہی ہے جو خود اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا ذمہ دار ہے۔

(ج) تبدیلی کی ضرورت صرف ماحول ہی میں نہیں ہے بلکہ مردوں اور عورتوں کے دل و روح کے اندر ، ان کے رویوں اور محرکات میں، اور جو کچھ ان کے اندر اور ان کے خارج کی دنیا میں ہے، اس کو مقاصد کی تکمیل کے لیے مجتمع کرنے کے عزم میں موجود ہے۔

(د)  زندگی بہت سے باہمی رشتوں کا تانا بانا ہے۔ انقلاب کا مطلب ان رشتوں میں کئی جگہ ٹوٹ پھوٹ ہے۔ اس لیے یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ انقلاب کے نتیجے میں معاشرے میں  عدم توازن پیدا ہو۔ تاہم، اسلامی سماجی تبدیلی کے نتیجے میں اس طرح کا ٹکرائو اور عدم توازن اپنی  کم از کم سطح پر ہوگا، اور منصوبہ بندی کے ساتھ اور باہم مربوط انداز میں چلائی گئی مہم کے نتیجے میں، توازن کے ایک مقام سے دوسرے اونچے مقام کا حصول اور عدم توازن سے توازن کا حصول ممکن ہوسکے گا۔ اس لیے تبدیلی کو متوازن، بتدریج اور ارتقائی ہونا چاہیے، نیزجدت اور اختراع کے ساتھ مربوط بھی ہونا چاہیے۔ یہ منفرد اسلامی طریقہ ارتقائی راستے سے انقلابی تبدیلیوں کی طرف لے جائے گا۔

۵-  انسانی زندگی میں ذاتی مفاد کا حصول ایک فطری قوتِ محرکہ ہے۔ لیکن ذاتی مفاد کو نیکی اور عدل کے وسیع تر تصور کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ محنت کا صلہ اور کوشش میں ناکامی پر نقصان، انسانی معاشرے اور معیشت کے لیے بہترین فریم ورک فراہم کرتا ہے۔۷؎ اسلام اس کی اہمیت اور اسے معاشی و سماجی کوششوں کا اولین اصول تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اسلام نے جدوجہد کے لیے ایک اخلاقی دائرہ کار بھی تشکیل دیا ہے، جو کچھ اقدار کے اپنانے اور کچھ اقدار سے پرہیز پر مبنی ہے، اور بتاتا ہے کہ کیا چیز درست اور جائز ہے اور کیا چیز اخلاقی، روحانی ، سماجی حوالے سے قابل اعتراض ہے۔ حلال و حرام کا تصور انسان کی تمام جدوجہد کے لیے اخلاقی میزان کا کام کرتا ہے۔ اعتدال اور اپنی ضروریات کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا اس اسکیم کا لازمی جزو ہے۔

صلہ (انعام) کے تصور کو دنیاوی صلے کے ساتھ ساتھ اُخروی صلے کے ساتھ مربوط کرکے اسے وسعت دی گئی ہے۔ ذاتی فائدے کے فطری تصور کو رد کیے بغیر یہ اچھے اور عادلانہ رویے کے لیے ایک مضبوط قوتِ محرکہ ہے۔ ذاتی ملکیت اور ذاتی کاروبار کو ناقابل تنسیخ حقوق اور معاشی سرگرمی کے فطری طریقے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اخلاقی اور قانونی ضابطوں کے ذریعے اور لوگوں کے دلوں میں یہ بات پختہ کرکے، کہ مال و جایداد اپنی ہر شکل میں مادی، انسانی، مشینی قوت اور دماغی قوت کی صورت میں، انسان کے پاس ایک امانت ہے، مال و جایداد کے تصور کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور یہ ذہن نشین کرا دیا ہے کہ امانت ہونے کی وجہ سے ملکیت کے حقوق اخلاقی حدود کے ساتھ مشروط ہیں اور ان کو مقاصد شریعت کی تکمیل سے مربوط کرتے ہیں۔

۶- معاشی سرگرمی، تعاون اور مقابلے کے عمل کے ذریعے فروغ پاتی ہے۔ منڈی کی سرگرمی، نجی ملکیت، کاروبار کی آزادی، منافع اور صلہ، قوتِ محرکہ کا لازمی نتیجہ ہیں۔ الہامی ہدایت اور تاریخ کی گواہی اس بات پر شاہد ہے کہ تجارت، اشیا کی پیدایش میںاضافہ، اشیا و خدمات کا  لین دین، مناسب منافع کا حصول، طلب و رسد کی قوتوں کے ذریعے قیمتوں کا تعین، منڈی میں لین دین کاتحفظ اور معاہدوں کی تکمیل کے لیے قانونی ضوابط کی تشکیل، اسلامی معاشی نظام کے ستون ہیں۔ جدوجہد، اختراع و تخلیق، تقسیم کار، ٹکنالوجی اور مہارتوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ تعاون، ہمدردی، عدل، انفاق اور یک جہتی پر تمام بڑے مسلم مفکرین نے زور دیا ہے۔

ایڈم سمتھ (م: ۱۷۹۰ئ) سے سات صدیاں قبل علامہ شمس الدین سرخسیؒ (م: ۱۰۹۰ئ) لکھتے ہیں: ’’کسان کو اپنے لباس کے لیے جولاہے کے کام کی ضرورت ہے اورجولاہے کو اپنی خوراک اور کپڑوں کے لیے کسان کے کام کی ضرورت ہے… ان میں سے ہر ایک اپنے کام کے ذریعے دوسرے کی مدد کرتا ہے‘‘۔ علامہ سرخسیؒ سے ایک صدی بعد دوسرے عالم جعفردمشقیؒ (م:۱۱۷۵ئ) اس نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’مدت عمر قلیل ہونے کی وجہ سے کوئی فرد بھی تمام صنعتوں میں اپنے آپ کو نہیں کھپا سکتا۔ اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا، تو وہ کسی بھی صنعت میں اپنے آپ کو ماہر نہیں بناسکے گا۔ تمام صنعتیں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں۔ تعمیر کے لیے بڑھئی کی ضرورت ہے اور بڑھئی کو لوہار کی ضرورت ہے، لوہار کو کان کن کی ضرورت ہے اور تمام صنعتوں کے لیے جگہ اور عمارت کی ضرورت ہے۔ اسی لیے لوگوں کو مجبوراً اپنی ضرورت کے لیے شہروں میں یک جا ہونا پڑتا ہے تاکہ ایک دوسرے کی ضروریات کی تکمیل کرسکیں‘‘۔

علامہ ابن خلدونؒ (م: ۱۴۰۶ئ) نے ایڈم سمتھ سے تین صدیاں قبل تقسیمِ کار، معاشی ترقی میں تخصص اور انسانی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لکھا تھا: ’’یہ بات سب جانتے ہیں اور یہ بہت واضح ہے کہ انسان انفرادی طور پر اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی تمام ضروریات پوری کرسکیں۔ انھیں اس مقصد کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔ ایسی ضروریات جو کہ افراد کا ایک گروہ مل کر باہمی تعاون سے پوراکرسکتا ہے، ان ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہیں جو وہ انفرادی طور پر پورا کرسکنے کے قابل ہیں‘‘۔ وہ اس بات کی سائنسی وجوہ بیان کرتے ہیں کہ تجارت کے نتیجے میں ترقی کو کیسے فروغ حاصل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’ترقی کاانحصار ستاروں یا سونے چاندی کی کانوں پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا انحصار معاشی سرگرمی اور تقسیم کار کے اصول پر ہوتا ہے جو بذات خود منڈی کی وسعت اور اوزاروں (مشینوں) پر منحصر ہے ، جب کہ اوزاروں (مشینوں) کے لیے بچتوں کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ بچت کی تعریف کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’’لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ بچت ہے‘‘۔ منڈی کی وسعت میں اضافے کے نتیجے میں اشیا و خدمات کی طلب تیزی سے بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتوں میں پھیلائو آتا ہے، آمدنیاں بڑھتی ہیں، سائنس اور ٹکنالوجی میںاضافہ ہوتاہے اور ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے‘‘۔۸؎

منڈی کی میکانیت: اسلامی نقطۂ نظر

۷-  منڈی کی میکا نیت اسلامی معاشی نظریے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس ضمن میں اسلام نے چند بنیادی اقدامات تجویز کیے ہیں، جن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ منڈیاں، ذاتی مفاد اور نفع اندوزی کی خواہش جیسی صورت حال کو جنم نہ دے دیں، جو سماجی لحاظ سے نقصان دہ ہو اور عدل اور راست بازی (fair play) کے تقاضوں کے خلاف ہو۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

  •    ذاتی تحرک کی سطح پر اخلاقی ضوابط، حلال و حرام کی قیود،’ حسبہ‘ کے ادارے کا قیام، سماجی دبائو اور خصوصی قانونی ضابطوں کی تشکیل۔
  •   سماجی و معاشی اکائی کے طور پر ’خاندان‘ کا ادارہ جو سماجی تحفظ اور یک جہتی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
  •   معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے اخلاقی، سماجی اور قانونی اقدامات،  آمدنی کی عادلانہ پالیسی کے لیے رہنما خطوط کا تعین۔
  •   سماجی تحفظ کاایک پھیلا ہوا انتظام: نجی دائرے میں صدقات و خیرات کی صورت میں اور ریاست کی سطح پر ضرورت مند لوگوں کے لیے زکوٰۃ سے سرکاری امداد کا نظام۔
  •  ’وقف‘ کے ادارے کے قیام کے لیے رضاکارانہ تنظیموں کے جال، مارکیٹ کے ذریعے ضروریات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غیر تجارتی بنیادوں پر اشیا کی فراہمی، اسلامی معاشی اسکیم کا ایک لازمی جزو ہے۔
  •   پیداکار کے طور پر نہیںبلکہ ضروریات زندگی کی رسد میں منڈی کی ناکامی کی صورت میں جائزہ کاری، ضابطوں کا نفاذ اور عوام کی امداد کے پروگرامات، تاکہ معاشرے کا ہر فرد مذہبی، لسانی، صنفی ، قومیت یا عمر کے امتیازات سے بالاتر ہوکر معاشی زندگی میں متحرک طور پر حصہ لے۔
  •   اسلام وسائل کے ضیاع، ختم ہوتے قدرتی وسائل کے بے جا نقصان اور معاشی سرگرمی کے ماحولیاتی پہلو کے بارے میں بہت زیادہ فکرمند ہے۔ اس کا اچھی زندگی کانظریہ اعتدال،توازن اور بندگی پر مبنی ہے اور ہر انسان کی معاشی زندگی کے دنیاوی اور ذاتی پہلوئوں کو مساوی طور پر اہمیت دیتا ہے ۔ اسلام کامعاشی نظام جزوی نہیں بلکہ ہمہ جہت ہے۔ ایک طرف تو یہ انسان کے لیے، انفرادی آزادی، انتخاب کی آزادی، نجی ملکیت اور کاروبار،منافع کے محرک اور لامحدود جدوجہد اور اس کے صلے کو یقینی بناتا ہے، اور دوسری طرف زندگی کی مختلف سطحوں پر مؤثر اخلاقی ضابطوں کا نظام فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ دائرے کے علاوہ سرکاری انتظامی ٹیم کے ذریعے ایسے ادارے قائم کرتا ہے، جن کے ذریعے معاشرے میں معاشی ترقی اور سماجی انصاف قائم ہوسکے۔ حتیٰ کہ خیرات کے تصور کو اس نے انقلابی طور پر قانونی ذمہ داری کا حصہ بنا دیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں : وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ o لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ o (المعارج ۷۰:۲۴-۲۵) ’’جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے‘‘۔ اسلام نے دوسرے نظاموں کی طرح تقسیم دولت میں عدل اور سماجی تحفظ کو رضاکارانہ ضمیمے کی حیثیت نہیں دی بلکہ اس کو نظام کا تشکیلی جزو بنادیا ہے۔

غربت و استحصال سے تحفظ

اسلام میں سرمایے کے رضاکارانہ اور لازمی انتقال کے ذریعے غربت اور استحصال سے تحفظ کا نظام موجود ہے۔۹؎

  •   آمدنی کے کچھ ذرائع کی ممانعت اسلامی معاشی نظام کا ایک اور اہم جزو ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم حرمت سود (الربا) ہے۔ اس کے علاوہ جوا، سٹہ بازی، دھوکا دہی، استحصال اور دولت کا زبردستی حاصل کرناشامل ہے۔ کاروباری اخلاق کا ایک جامع ضابطہ تشکیل دیاگیا ہے  تاکہ دیانت داری اور معاملات کے شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی اور مالیاتی معاملات میں ذمہ داری کو یقینی بنایاجاسکے۔

حرمت سود کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام سرمایے کے استعمال پر کسی قسم کے صلے کاقائل نہیں۔ اسلام سرمایے کی پیداواریت کو تسلیم کرتا ہے اوراس کی حقیقی پیداواریت کے تناسب سے اس کے صلے کا قائل ہے۔ البتہ جس منصوبے میں سرمایہ لگایا گیا ہے اس کے اصل منافع کے علی الرغم ایک یقینی، مقررہ اور پہلے سے طے شدہ منافع کامخالف ہے۔ سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اصل منافع میں سرمایہ دار اورآجر دونوں حصہ لینے کاحق رکھتے ہیں۔ وہ مقررہ منافع کے بجاے اصل ہونے والے منافع میں سے منافع لیں گے۔ اس کامطلب ہے کہ اسلام قرض کی بنیاد پر معیشت کے قیام کے بجاے شراکت کی بنیادپر، خطرے میں حصے داری اور ذمے داری میں شرکت کی بنیاد پر معیشت کے قیام کاخواہاں ہے۔ اس کے معیشت کے منتظمین اور معاشی و مالیاتی تنظیموں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلامی اصولوں پر قائم معیشت کارخ زری منافعوں کے بجاے حقیقی طور پر اثاثوں کی تخلیق کی طرف ہوگا۔ بلاشبہہ ایسی معیشت زیادہ مستحکم و زیادہ مادی ترقی کی طرف مائل، زیادہ مبنی بر مساوات اور اپنی نوعیت کے لحاظ سے شراکتی ہوگی۔

  •   اسلام کا عالم گیریت کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہے، تاہم اس کا عالم گیریت کا تصور کسی قوم کی اجارہ داری کے بجاے ’توحید‘ سے منسوب ہے۔ توحید میں انسانیت کی وحدت مضمر ہے۔ امت مسلمہ فکری اور تاریخی لحاظ سے ایک عالم گیر برادری ہے۔ انسانی تاریخ میں عالم گیریت کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے دور سے ہوا۔ پوری دنیا کو ایک عالم گیر بستی میں تبدیل کرنے کی حالیہ تبدیلیاں ایسے شان دار مواقع پیش کرتی ہیں، بشرطیکہ یہ عمل صحیح اور عادلانہ ہو۔ اسلام کا واسطہ عالم گیریت کے طور طریقوں کی نوعیت، سمت، سماجی و اخلاقی نتائج سے ہے۔ آج کی عالم گیریت بذاتِ خود کوئی پریشانی کامعاملہ نہیں ہے۔حقیقتاً یہ انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس چیز کو یقینی بنایا جائے کہ یہ عمل منصفانہ ہو اور اس کے پردے کے پیچھے طاقت ور قومیں، کمزوروں کااستحصال کرتے ہوئے ان پر اپنی بالادستی قائم نہ کریں۔

میں یہاں پر علامہ ابن خلدونؒ کے تجویز کردہ سماجی و معاشی تنظیم کے بین الاداراتی متحرک ماڈل کاخلاصہ پیش کروں گا، جو انھوں نے اپنے وقت کے حکمران کو پیش کیا تھا۔ آج کے زمانے میں بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔وہ کہتے ہیں:

  •                خلیفہ (الملک) کے بغیر شریعت کانفاذ نہیں ہوسکتا۔
  •                خلیفہ، عوام (الرجال) کے بغیر قوت حاصل نہیں کرسکتا ۔
  •                دولت (المال) کے بغیر عوام زندہ نہیں رہ سکتے ۔
  •                ترقی (العمارۃ) کے بغیر دولت حاصل نہیں کی جاسکتی ۔
  •                عدل (العدل) کے بغیر ترقی حاصل نہیں ہوسکتی ۔
  •                عدل وہ میزان(المیزان) ہے، جس پر اللہ تعالیٰ انسانوں کا حساب لے گا۔
  •                اور خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ عدل کو قائم کرے۔۱۰؎

عالمی معیشت و معاشرت کے لیے عادلانہ ماڈل

یورپی و امریکی سرمایہ داری کی بین الاقوامی پہنچ ، اور عالم گیر نظام سرمایہ داری ایک حقیقت ہے۔ قضیہ یہ نہیں ہے کہ ان مختلف ممالک اور علاقوں کے درمیان کوئی سنجیدہ اختلافات ہیں جو سرمایہ داری کے راستے پر گامزن خیال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ خیال کرنا بھی غیرحقیقی اور دورازکارہے کہ دنیا کے تمام ممالک اس چھتری کے نیچے آنے کے خواہش مند ہیں۔ بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی تناظر میں بہت سے یورپی ممالک اور فکری و سیاسی قوتیں غیر مشروط اور مکمل طور پر نظام سرمایہ داری کے تحت آنے پر ناخوش ہوں گی۔ جاپان اس کی ایک مثال ہے۔ مغرب ان کو اپنے کیمپ میں شمار کرتا ہے، جب کہ جاپانی گذشتہ دو عشروں سے اس پر غور و فکر کر رہے ہیں کہ وہ مغربی اثر سے باہر رہیں۔

سرمایہ داری کا مستقبل

۱۹۸۰ء کے عشرے میں شروع ہونے والے معاشی جمود سے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے تجربے کے بارے میں شکوک و شبہات اور غیر یقینی صورت حال کے سایے بڑھتے جارہے ہیں۔ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد روس پورے جوش و خروش سے سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھا۔ لیکن اس باب میں بھی وہ اپنے آپ کو ناکام پاتا ہے۔ چین نے ایک ملک میں دونظام اپنانے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مشرقی ایشیاکی معیشتیں۹۸-۱۹۹۷ء کے بحران کے بعد سے سکڑچکی ہیں اور ان کے خیالات بدل چکے ہیں۔ ترقی پذیر دنیا کے ممالک کے اپنے تحفظات ہیں۔ مجموعی تصویر دھندلی اور شکوک پیدا کرنے والی ہے۔

میرے خیال میں عالم گیر معیشت اور معاشرت اتنے شکستہ اور ایک دوسرے سے مختلف ہیں کہ معیشت کا کوئی ایک ماڈل ان کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ حقائق کے ساتھ ساتھ اخلاقی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی لحاظ سے غیرمغربی دنیا کے لوگوں کی سوچ اس بات کو لازم کرتی ہے کہ ہم کوشش کریں کہ ایک سے زائد نظاموں (کثرتی نظاموں) پر مشتمل دنیا کا ایسامنظر پیش کیا جاسکے کہ جس کے نتیجے میں ایسا کھلا معاشرہ وجود میں آئے، جہاں خیالات، ٹکنالوجی، اشیا و خدمات، مالیات اور انسانوں کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر یہ عمل کامیاب بنانا مقصود ہو تو اسے بالکل شفاف اور باہمی برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس کی بنیاد اصلاً مفادات طاقت وری اور بالاتری پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ معاملات کو عدل اور راست بازی کی بنیاد پر چلایا جانا چاہیے۔ بالاتری پر مبنی نظام تب تک ہی چل سکتا ہے جب تک طاقت کا توازن خراب نہیں ہوتا اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ طاقت کے توازن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔۱۱؎ حقیقتاً تاریخ درجنوں سوپر پاورز کا قبرستان ہے۔    ہم نے اپنی زندگی ہی میں اس طرح کی کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ پس، سبق یہی ہے متعلقہ مفکرین اس بات پر غور کریں کہ ایک بالاتر نظام کے بجاے یہ دنیا ایسی حقیقی کثرتی دنیا ہو، جس میں اندرونی تبدیلیوں کے باوجود ، تعاون اور مقابلے کی قوتیں کام کر رہی ہوں۔

میری یہ سوچی سمجھی راے ہے کہ مسلم دنیا کبھی خوشی کے ساتھ عالم گیر نظام سرمایہ داری کی بالادستی کو قبول نہیں کرے گی۔ بلاشبہہ ہم مفید تعاون کے لیے خیالات و تجربات کے تعامل کے لیے آمادہ ہیں۔ سرمایہ داری میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو عالم گیر ہیں اور وہ دوسرے نظاموں کے اندر بھی موجود ہیں۔ لیکن اس میں بہت کچھ وہ ہے جو خصوصی طور پر اس کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔ ماضی کی استعماری قوتوں کے ساتھ اس کا تعلق اور موجودہ دور میں صرف واحد سوپرپاور کے ساتھ اس کا تعلق ہونا، غیر مغربی دنیا میں اس کے داخلے کو مشکوک اور غیر متوازن بنادیتا ہے۔ مفادات ، تمنائوں اور اقدار کا فرق، اس کے عالم گیر نظام بننے کی راہ میں نہ صرف سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، بلکہ اس نظام کے پسندیدگی کے حوالے سے بہت سے سوالات پیدا کرنے کا سبب ہیں۔

نظام سرمایہ داری دنیا کے مختلف ممالک کے لیے کبھی بھی فائدہ مند نہیں رہا۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے تجربات تو بہت تلخ ہیں۔ یورپ اور امریکا میں نظام سرمایہ داری کی کارکردگی قابلِ رشک نہیں اور دنیا کی آدھی آبادی غربت کا شکار ہے۔ معروف سرمایہ دارانہ ممالک میں بے روزگاری کا دور دورہ ہے۔ قرضوں کا پہاڑ نہ صرف ترقی پذیر دنیا کے لوگوں کی کمرتوڑ رہا ہے بلکہ پوری دنیا کے لوگ اس سے پریشان ہیں۔ مالیاتی عدم استحکام کا جن بوتل میں بند نہیں کیا جاسکا۔ بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی ناہمواریاں انسانیت کے جسم کا رستا ہوا ناسور ہیں۔ سرمایہ داری کو ابھی اپنا گھر درست کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، قبل اس کے کہ یہ بقیہ انسانیت کی توجہ کا مرکز بن سکے۔

اسی لیے اس تحریر کا مقصد موجودہ یا کلاسیکی سرمایہ داری کے مقدمے پر بحث کرنا نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ دار عالم گیر نظام کا وژن پیش کرنا ہے۔ نظام سرمایہ داری کو ابھی یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ہر مفہوم کے لحاظ سے ذمہ دار ہے۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں جو اخلاقی پہلو معدوم ہیں ان کے ساتھ سرمایہ داری کے مستقبل کے بہتر بننے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک ایسے ذمہ دار  عالمی نظام کے وژن کی ضرورت ہے، جہاں مختلف اعتقادات اور ثقافتوں پر مبنی دوسرے معاشی متبادلات کے لیے بھی یکساں مواقع موجود ہوں۔

جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، اسے مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان باہمی انحصار کی اہمیت کا ادراک ہے۔ مکالمہ، مشترکہ معاشی کاروبار، بڑھتی ہوئی تجارت، نظریات، اشیا اور انسانوں کا تبادلہ مستقبل کے تعاون کے لیے بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ امرواقعہ ہے کہ عدل کے تقاضے پورے کیے بغیر اور ایسا سیاسی اور انتظامی ڈھانچا تشکیل دیے بغیر دنیا کی ریاستوں، معیشتوں اور لوگوں کے درمیان حقیقی عدل  قائم کرنے کی خواہش اور پُرامن، خوش حال اور عالمی انسانی معاشرے کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔

ہم نے اسلامی تناظر میں، عالم گیر سرمایہ داری کے چیلنج کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کی ہیں اور کچھ ایسے پہلوئوں کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو سرمایہ داری کو بطور چیلنج درپیش ہوں گے۔ اگر سرمایہ داری واقعی ایک ’ذمہ دار نظام‘ (Responsible System) بن جاتا ہے تو بہت سے سماجی و معاشی نظاموں کے باہمی طور پر مل جل کر رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ امتحان اس بات میں پوشیدہ ہے کہ نظام سرمایہ داری کس حد تک صرف ایک نظام نہیں بلکہ ایک   ذمہ دار عالم گیر نظام بننے کے لیے تیار ہے؟ بصورت دیگر نظام سرمایہ داری یورپ و امریکا کی بالادستی کے لیے ایک وسیلہ بنا رہے گا اور دوسری دنیا کے لوگوں کے دلوں کو نہیں جیت سکے گا۔ مزید برآں اس کے نتیجے میں مغربی دنیا کے اندر سے بھی پھوٹ اور چیلنجوں کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

مستقبل کا معاشی نظام

مسلم دنیا سیاسی و معاشی طور پر کمزور ہوسکتی ہے، لیکن مسلم مفکرین اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر ایمان رکھتی ہے کہ اسلامی معاشی نظام اقدار پر مبنی ہے او راس کے اپنے بنیادی اصول اور ادارے ہیں۔ یہ اپنے نظام کے اندر فطری معیشت کے ایسے اہم عناصر رکھتا ہے، جو اپنی مثال آپ ہیں، مثلاً انفرادی آزادی،حقوق ملکیت، منڈی کی میکانیت، منافع کا محرک اور دولت پیدا کرنے اور وسائل تقسیم اور فرد اور اجتماع کی بہبود کے لیے قانونی اور اداراتی انتظامات۔

اسلامی نظامِ معیشت منفرد تو ہے مگر خود مختار نہیں۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی تہذیب کاایک جزو ہے اور مسلم علاقوں میں ایک ایسے عالم گیر اور کھلے معاشرے کاخواہش مند ہے، جس کا یہ خود بھی ایک حصہ ہو۔ اس سے ایک ایسا عالمی معاشرہ تشکیل پائے گا، جہاں مختلف ثقافتیں اور نظام بقاے باہمی کے اصول پر موجود ہوں۔ اگر سرمایہ داری کی کچھ اہم اقدار اور اسلامی نظام میں کچھ یکسانیت موجود ہے تو دوسری جانب اسلامی عقائد اور ثقافت کے منفرد اصولوں کی بنا پر بہت سے نمایاں اختلافات بھی ہیں۔ اسلامی معاشی نظام اپنی ثقافت اور تہذیب کے تناظر میں روبہ عمل آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ماہرینِ معیشت، نظام سرمایہ داری کی کسی قسم کو اپنی دنیا میں برتر قوت نہیں دیکھنا چاہتے۔ سطحی رعایتیں یا مذہب و ثقافت پر مبنی اقدامات بنیادی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

عالم گیر میدان کش مکش میں مقابلہ کرنے والوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ تمام مذاہب اور تہذیبوں میں کچھ اقدار یکساں نوعیت کی ہیں، جو باہمی تعلق، تعاون اور میل ملاپ کے لیے بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ دنیا پر حاوی ہونے کا ایک ہی نظامِ سرمایہ داری کا نظریہ، تکثیریت (Pluralism) پر مبنی ایک ایسی دنیا کی نفی ہے، جو کسی کی بھی بالاتری اور برسرپیکار تہذیبوں کے درمیان ٹکرائو سے آزاد ہو۔ میرے جیسے لوگوں کو جو بات اچھی لگتی ہے اور حوصلہ دیتی ہے، وہ ایک ایسی دنیا کاتصو رہے جس میں تمام شرکا کو یہ اعتماد حاصل ہوکہ وہ اپنی اقدار کے تحت زندگی بسر کرتے ہوئے ایک عالم گیر نظام کے باہم شراکت کار ہیں۔ موجود عالم گیر سرمایہ داری کاالمیہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں رہنے والے لوگوں کااعتماد حاصل کیے بغیر: باہمی اقدار اور رضامندی اور غیر رضامندی کی حدود کے بغیر،ایسی راہوں کو اختیار کیے بغیر جو معاشی ناہمواری کو کم کرسکیں، مفادات اور معاملات میں مطابقت پیدا کرسکیں، اور ایسا بین الاقوامی نظام قائم کیے بغیر جس کے اپنے ادارے تمام لوگوں کے لیے آزادی، شراکت اور بہبود کو یقینی بناسکیں،بالادستی چاہتا ہے۔   حتیٰ کہ عالم گیر سرمایہ داری کا بڑا علَم بردار، جارج سوروس اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود اور پرامن،خوش حال اور عادلانہ عالم گیر معاشرے کے قیام کے لیے منڈی کی میکانیت،انفرادی آزادی او رجمہوری اقدار ناگزیر ہیں اور مارکیٹ فنڈامنٹلزم (Market Fundamentalism) معاشی ترقی، مالیاتی وسائل، تکنیکی مہارتوں اور سیاسی قوت میں تفاوت صحت مند عالم گیریت کی راہ میں معاون نہیں بلکہ رکاوٹیں ہیں۔۱۲؎

آزادانہ تجارت بہت اچھی بات ہے، لیکن اسے استحصال کے بجاے شائستہ اور مناسب تجارت بننا چاہیے۔ ترقی ایک بہت پسندیدہ ہدف ہے، لیکن یہ ترقی سب کے لیے ہو۔ دولت  خوش حالی کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن یہ خوش حالی تمام لوگوں اور علاقوں کے لیے ہو۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر اخلاقی پہلوئوں کی برتری قائم ہو اور استعداد کار کے ساتھ ساتھ عدل کو عالم گیر نظام کابنیادی پتھر بنایا جائے۔

  •  خلاصہ بحث: سرمایہ داری کلی طور پر ذاتی مفاد کے محرک پر مبنی ہے، جس کا اظہار زیادہ سے زیادہ افادہ ، زیادہ سے زیادہ منافع اور زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی صورت میں ہوتا ہے۔ منڈی ہی پوری معیشت کی راہیں متعین کرتی ہے۔ اشتراکیت نے ساری توجہ پیداوار کے طریقوں اوران کو کنٹرول کرنے پر مرکوز کردی تھی۔ اس طرح منڈی پر حاکمانہ معیشت کو برتری حاصل ہوگئی تھی۔ دونوں نظام چند حقیقی عناصر رکھنے کے باوجود یک طرفہ ہونے کی وجہ سے غلط راہ پر چلے اور بعض اوقات بہت روشن ہونے کے باوجود ناکام ہوئے۔

اسلام انسان اور طریق پیداوار دونوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے اور ان کو متوازن اور   ہم آہنگ بناتا ہے۔ اصل مرکزِ توجہ انسان کو بناتا ہے اور ان کی خوش حالی اس کا اصل مقصد ہے۔ ذاتی مفاد، نجی ملکیت اور کاروبار اور محرک منافع کا پوری طرح تحفظ کرتا ہے۔ معاشی فیصلہ سازی میں منڈی کی میکانیت کو سب سے بڑا کردار حاصل ہے۔ اسلام منڈی سے بلند ہوکر تمام سطحوں پر اخلاقی اصولوں،اقدار اور احکام پر توجہ کرتا ہے جو کہ انسانی محرک ،اداروںاور عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ فرد اور اجتماع کی بھلائی میں اشیا (Public Goods) میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے ذاتی مفاد کو اعتدال پر لانے کی بھی اسے فکر ہے۔

اعلیٰ انسانی مقاصد کی تکمیل کے لیے اسلام ایسے سماجی و معاشی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے افراد اور معاشرے کی اخلاقی تربیت و تشکیل اور قانونی اداروں کا قیام عمل میں لاتا ہے۔ انفرادی آزادی، انسانی حقوق اور معاشی عمل کے لیے لامحدود مواقع کی فراہمی، اخلاقی اقدار، اخلاقی قوانین اور عدالتی و قانونی دائرۂ کار کے ذریعے عمل میں آتے ہیں۔ ریاست جابرانہ یا آمرانہ انداز اختیار کیے بغیر اپنا مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ تمام معاشی سرگرمیاں زندگی کے مقصدِ اعلیٰ کے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ثقافت اور معاشرے کے تناظر میں عمل میں لائی جاتی ہیں۔

اس حوالے سے پروفیسر ڈننگ جان  کی تین C کے ساتھ۱۳؎ مزید چار C کا اضافہ کرتے ہوئے اور ان کی معنویت کو وسیع تناظر میں پیش کیا جارہا ہے(یعنی حسب ذیل نکات کا پہلا حرف ’C‘ ہے)۔اسلامی نظام کی محرک قوتیں درج ذیل ہیں:

۱- ذمہ داری، لگن (Commitment): ایمان کی بنیاد پر قائم احساس ذمہ داری اور توحید (اللہ کی وحدانیت) پر مبنی تصورِ دنیا (World view) ، انسانیت کی وحدت اور مساوات، اس احساس ذمہ داری میں شرکت، کمیونٹی اور معاشرے کو مضبوط بنانے والی قوت ہے۔

۲-  کردار (Character):  تمام مردوں اور عورتوں میں جو معاشرے کی تعمیر کے لیے بنیادی اکائیاں ہیں، ایک متوازن شخصیت کا ارتقا اسلام کے تصورِ تقویٰ، یعنی اخلاقی نظم و ضبط، اللہ اور عوام کے سامنے احتساب کے مضبوط احساس کی بنیاد پر۔

۳- تخلیق (Creativity): علم، ذاتی فائدے، تکنیکی جدت اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ نہ صرف اپنی اور اپنے خاندان کی خدمت بلکہ دوسرے انسانوں کی خدمت، نیز اچھے کاموں میں شرکت اور زندگی میں اعلیٰ مقاصد کے حصول کا جذبہ۔

۴-مقابلہ، مسابقت (Competetion):  آزادی، مواقع، جدوجہد اور مسلسل کوشش کے ذریعے ان مادی اور انسانی وسائل کو بروے کار لاکر ذاتی، معاشرتی، دنیاوی او راخلاقی مقاصد کے لیے مقابلہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن (البقرہ ۲:۱۴۸) خیر اورنیکی کے کاموں میںصحت مندانہ مسابقت کے اصول پر زور دیتا ہے۔

۵-  تعاون (Cooperation ): مقابلے کی قوتوں کی تقویت اور ایک دوسرے کو ہلاک کرنے، نقصان پہنچانے والا بننے سے روکنے کے لیے تعاون۔ مقابلہ اور تعاون دونوں مل جل کر اتفاق باہمی، معاشرے اور انسانیت کے لیے اتفاق و اتحاد کا باعث بنتے اور جدت و ترقی کے لامحدود مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مقابلے و تعاون کے لیے جو ادارہ سب سے بنیادی اہمیت اور انفرادیت کا حامل ہے، وہ خاندان ہے۔ مزید برآں معاشرہ مقامی، قومی، علاقائی اور عالم گیر    سطح کے اداروں کے ایک جال کے ذریعے ہر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بین الانسانی رشتوں، اعلیٰ ترین معاشی و سماجی شراکت کاایک ماڈل پیش کریں۔ رسول کریمؐ نے پوری انسانیت کو عیال اللّٰہ (اللہ کا کنبہ) فرمایا۔

۶- شفقت، ھمدردی (Compassion):اسلامی تناظر میں شفقت و ہمدردی  اور عدل و احسان کا حسین امتزاج ہے۔ عدل کا مطلب تمام معاملات میں انصاف ہے اور اس سے مراد ہر ایک کو اس کا حق دینا ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کااحترام اور ان حقوق کو پورا کرنا ہے۔ ’احسان‘ کا درجہ ’عدل‘ سے بھی اوپر ہے۔ اس سے مراد فیاضی، فضیلت، بہت اچھے طریقے سے کسی کام کو سرانجام دینا، رحم، محبت اور قربانی کے جذبے اور عمل میں ترقی ہے۔ یہاں تک حکم ہے کہ جو انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے اس سے بڑھ کر دوسروں کے لیے پسند کرے۔ یہ برابری کی وہ سطح ہے کہ جس پر باہم معاملات کرنے (reciprocity) سے بھی بڑھ جانا، یعنی دوسروں سے ہم وہ توقع کریں جو وہ ہم سے توقع کرتے ہیں۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہرشخص دوسرے کی بہتری کے لیے اپنے حقوق کی قربانی دے دے۔ اطالوی ماہرمعاشیات ولفریڈو پاریٹو (م: ۱۹۲۳ئ)کا نظریہ انسانی چنائو (choice) کے اونچے درجے کے حصول کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یوں ’عدل‘ کے ساتھ ’احسان‘ مل کر اسلام کے حقیقی شفقت کے نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔

۷- بقاے باھمی (Coexistence): اس کا مطلب ہے آزادی، برداشت، باہمی احترام اور مل جل کر رہنے کا عہد۔ یہ صحیح تکثیریت (plurality) ہے جہاں اپنی پسندیدگی کی قربانی دیے بغیر اور صحیح بات کے ساتھ اپنی وابستگی کو قائم رکھتے ہوئے اختلاف (diversty) کو قبول کیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے ’تکثیریت‘ دیانت داری کے ساتھ ہو اور اس سے ایسا باہمی میل جول وجود میں آتا ہے جو بغیر کسی کو نیچا دکھائے، برتری جتلائے یا آمرانہ طور پر اپنی بات منوائے۔ یہ نمونہ افراد، گروہوں، قوموں، ریاستوں، علاقوں، آبادیوں، اور مذاہب اور نظریات سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اس کا فطری نتیجہ مکالمہ ہے نہ کہ زبردستی یا بے جا مداخلت۔ صحیح اختلافات اور تنوع اس     فریم ورک کا مقصد ہیں۔ جس میں بہت سی لچک ہوسکتی ہے اور باہمی طور پر اپنے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر کچھ لو اور دو (Give and Take) ہوسکتا ہے۔ بقاے باہمی کا یہ بھی تصور ہے کہ معاشرے میں ایسے مؤثر طریقے ہوں جو آپس میں مل جل کر رہنے اور اختلافات اور جھگڑوں کو  حل کرنے کے قابل ہوں اور تمام اختلافات کے باوجود باہم مل کر رہنے کا عہد ہو۔ یہی عدل اور آزادی کے ساتھ امن کا ایک ماڈل ہوسکتا ہے۔

یہ تمام حکمت عملیاں ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہیں۔ اسلامی تناظر میں دونوں پالیسیاں بیک وقت اختیار کی جاسکتی ہیں۔ ایک کو دوسرے کا حصہ بناکر اخلاقی اقدار، زری و مالی ترغیب، مادی انعام اور سزا، ایثار، قربانی،ہمدردی، روایت و رسم ، عوامی آرا، معاشرتی ادارے، قانون اور ریاست تمام اپنا لازمی لیکن محدود کردار ادا کرتے ہیں۔ حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین اپنی ذات کے اندر سے نافذ کرنے والے عمل مسلم معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ صرف جامع اور باہم،   زیادہ مربوط طریقے سے ہی ایک عادلانہ و باہم مربوط اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والا معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

آزاد نظریے کے مغربی نمونے میں مرکزی ہدف آزادی ہے اور اس معاشرت کی ہر شے اسی کے گرد گردش کرتی اور اس سے نکلتی ہے۔ اسلامی نظریے میںآزادی ، عدل، یکجہتی اس کے اہم ترین کردار ہیں۔ ’عدل‘ کے معنی توازن اور مطابقت کے بھی ہیں۔ ان تینوں کو الگ نہیں کیا جاسکتا اور یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اور ان کے باہم ملنے سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر انسانی ذہانت (human genius) حقیقی طور پر بارآور ہوتی ہے۔ یہ چیز اسلامی نظریے کو منفرد بناتی ہے۔

اسلام دوسرے الہامی مذاہب کی طرح ایک اور بہت ہی اہم پہلو کو اپنے طریق کار (strategy) کی کہکشاں میں شامل کرتا ہے ،اور وہ یہ کہ آخری انعام تو آنے والی زندگی میں ملنے والا ہے۔ مادی دولت مندی، سماجی بھلائی، روحانی مسرت اور ہمیشہ کی سلامتی، کامیابی و فلاح کے ماڈل کے متفرق پہلو ہیں۔روحانی اور مادی پہلو ایک ہی تصورِحیات کے دو رُخ ہیں۔ زندگی ایک نامیاتی کل ہے۔ موت زندگی کااختتام نہیں، بلکہ زندگی کے ایک نئے دور کے نقطۂ آغاز کو ظاہر کرتی ہے۔ زندگی اور زندگی بعد الموت ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔ دنیا میں انسان کی حیثیت اور ہرمرد و عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ اور کائنات کے ساتھ تعلق بہت منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ بامقصد انسانی منزل کے کلی نظریے میں لادینی (سیکولرازم) اور تقدیس ایک دوسرے میں گم ہوجاتے ہیں۔ ماورا کی حدود انسانی پہنچ میں آ جاتی ہیں۔ یہ چیز نظام کو یکتا (منفرد) بناتی ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اسلام کا کسی دوسرے ’ازم، (Ism) کے ساتھ موازنہ کیا جائے اور اس میں سے کسی اور نظام کو تلاش کیا جائے، تاہم یہ ممکن ہے کہ مختلف ازم اور اسلام اکٹھے رہ سکتے ہیں اور اپنی حیثیت برقرار  رکھ سکتے ہیں۔ آپس میں مقابلہ و تعاون کرسکتے ہیں اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے کام کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

۱-            ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ ۲۰۰۰‘ اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ص ۱۵۶-۱۶۰۔

۲-            ابراہام ادووچ، The Islamic Middle East 700-1900، ڈارون پریس، ۱۹۸۱ئ، تھامس آرنلڈ، اور الفریڈ گولیوم The Legacy of Islam، اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۳۱ئ، ص ۱۰۰-۱۰۶۔

۳-            محمدعمر چھاپرا، Islam and the Economic Challenge، دی اسلامک فائونڈیشن،لسٹر، ۱۹۹۲ئ۔ محمدعمرچھاپرا: Future of Economics ، ۲۰۰۰ئ۔ محمدنجات اللہ صدیقی، Muslim Economic Thinking، دی اسلامک فائونڈیشن ، لسٹر، ۱۹۸۱ئ۔ پروفیسر خورشیداحمد، Islamic Approach to Development،انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد، ۱۹۹۴ئ۔

۴-            البقرہ ۲: ۲۵۶، ۲:۳۸،۳۹، مریم ۱۹:۱۳، المائدہ ۵:۴۸۔

۵-            ابوحامد الغزالی، المصطفٰی، بحوالہ محمد عمر چھاپرا، Future of Economics، ص۱۱۸۔

۶-            محمد عمر چھاپرا، اسلامک اکنامک تھاٹ اینڈ دی نیوگلوبل اکانومی، Islmic Economic Studies، ستمبر ۲۰۰۱ئ، ص ۸۔

۷-            لسٹر تھرو، The Future of Capitalism، نکولس بریلی، لندن، ۱۹۸۶ئ، ص ۳۰۔

۸-            محمد عمر چھاپرا، اسلامک اکنامک تھاٹ اینڈ دی نیوگلوبل اکانومی، ، ص ۷۔

۹-            آغا خان فائونڈیشن، Philanthrophy in Pakistan، ۱۹۸۸ئ، ص ۴۶۔

۱۰-         محمدعمر چھاپرا، Future of Economics،ص۱۴۷، ۱۴۸۔

۱۱-         پال کینیڈی، The Rise and Fall of Great Power،  ۱۹۸۷ئ، ص ۶۸۹۔

۱۲-         جارج سوروس، The Crisis of Global Capitalism، ناشر: لٹل برائون کمپنی، لندن، ۱۹۹۸ئ۔

۱۳-         ڈننگ جان: The Moral Imperatives of Global Capitalism، پہلا باب۔

 

عالمی سرمایہ دارانہ نظام(گلوبل کیپٹلزم ) اپنی نئی شکل و شباہت کے باوجود‘ عمومی طور پر  ’عالم گیریت‘(گلوبلائزیشن) کی طرح کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ نہ تو اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی نظام سرمایہ داری بہت تیزی سے آگے بڑھا ہے اور نہ  انسانی وسائل، کمپیوٹر (Micro-Chip) کے بڑھتے ہوئے کردار کو کسی صورت میں کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ چیزیں اور جغرافیائی حدود بہت اہم سہی‘ لیکن اس کے ساتھ کچھ دوسرے بنیادی مسائل بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

مجھے عالمی سرمایہ داری کے ہاتھوں انسانیت کو درپیش عالمی چیلنج کے اخلاقی، انسانی اور برابری کی بنیاد پر حقوق کو درپیش خطرات اور صدمات کے حوالے سے برابر تشویش ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں افراد، اقوام اور معاشروں کے حوالے سے بھی یہ مسائل زیادہ گہرے اور نہایت پیچیدہ ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’عالم گیریت‘ مختلف جغرافیائی اور تہذیبی پس منظر رکھنے کے باوجود کس طرح اس چیلنج کا جواب دے رہی ہے؟ یہ عالم گیریت کیا انسانیت کو ایک غالب معاشی نظام، یعنی عالم گیر نظام سرمایہ داری کی طرف لے کر جارہی ہے، یا تکثیریت پر مبنی دنیا میں مختلف نظاموں کے پھلنے پھولنے کے ساتھ، مستقبل میں انسانیت زیادہ بہتر حالت میں ہوگی؟

گذشتہ چھے صدیوں سے نظام سرمایہ داری ایک زبردست قوت کے طور پر موجود ہے۔ یہ نظام تاجرانہ سرمایہ داری سے صنعتی سرمایہ داری، مالیاتی سرمایہ داری، اخلاقی سرمایہ داری اور ریاستی سرمایہ داری سے ہوتا ہوا، اب عالم گیر سرمایہ داری تک آ پہنچا ہے۔ اس نظریے کا تنقیدی جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ جس مقام پر آج انسانیت کھڑی ہے، اسے بھلا کس طرح تاریخ کا اختتام (End of History) کہا جاسکتا ہے، کہ جہاں پوری نوع انسانی کے پاس عالم گیر معاشی نظام کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے؟

اِ ن معروضات میں نظام سرمایہ داری کے اصولوں کی تشریح غیر روایتی انداز سے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطۂ نظر سے عالم گیر نظام سرمایہ داری کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے ایک ایسی عالم گیر معیشت اور عالم گیر معاشرت کا نقشہ بھی پیش کیا گیا ہے، جہاں مختلف نظام کچھ مشترک اقدار، ترجیحات، مقاصد و اہداف، تعاون کے میدان اور اسی طرح کے اہم میدانوں میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوئے اکٹھے موجود رہیں، اور مختلف طریقے اختیار کرتے ہوئے مسلسل ابھرتے ہوئے نئے نئے درپیش مسائل اور چیلنجوں کا جواب بھی پیش کرسکیں۔ اسے ایک اختلافی (dissent)آواز بھی قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں بہرحال بہتری کا کچھ پہلو بھی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام : بنیادی تصورات اور ارتقا

سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسا معاشی نظام ہے، جس کی بنیاد نجی ملکیت اور نجی کاروبار پر ہے۔ اس میں معاشی زندگی کاایک بڑا حصہ خصوصاً اشیاے سرمایہ کی ملکیت اور سرمایہ کاری نجی ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ افراد اور کاروباری ادارے، منڈی کی میکانیت (خرید و فروخت اور لین دین) کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مقابلے میں برسرپیکار ہوتے ہیں۔ نظام سرمایہ داری کی بنیاد ان فطری اقدار اور اصولوں پر رکھی گئی ہے، جن کا خاکہ نظام سرمایہ داری سے بہت پہلے انفرادی طور پر تیار اور مرتب کیا گیا، اور اس کی سمت کا تعین کرنے کے لیے یورپ میں نشات ثانیہ کے بعد کے عرصے میں ایک مضبوط عقلی، سیاسی، ثقافتی، تکنیکی اور معاشی ترقی کی بنیاد پر ایک سمت دی گئی (یہ عرصہ چودھویں صدی سے انیسویں صدی کے درمیان کا ہے)۔

ایک معاشی نظام کے بنیادی اصول درج ذیل ہیں:

۱- ذاتی مفاد، ۲- نجی ملکیت اور ذاتی کاروبار، ۳-نفع کے حصول کا داعیہ، ۴-منڈی کی میکانیت، ۵- آزاد کاروبار کے اداراتی تحفظ کو یقینی بنانے والا معاشرہ، ۶-کاروباری حقوق اور معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے قانونی ضوابط کی تشکیل، ۷-لین دین میں زر کا کردار ، ۸- اچھی حکومت اور سیاسی استحکام براے داخلی اور خارجی امن و سلامتی ۔

انسان کی معاشی زندگی میں اشیا کے باہم تبادلے کے نظام (Barter System)کے بعد اُبھرنے والے معاشی نظاموں میں درج بالا اصول انفرادی حیثیت میں کسی نہ کسی طور موجود رہے ہیں۔ باوجودیکہ ان کی شکل و صورت اور سمت مختلف معاشروں اور مختلف ادوار میں مذہبی، اخلاقی، سماجی اور سیاسی پس منظر سے مخصوص رہی ہے۔ جاگیرداری نظام کے زوال، نشات ثانیہ کے فروغ، یورپ کے ابھرنے اور بڑے یورپی ممالک کی ٹکنالوجی اور سیاسی حدود میں وسعت نے اس پس منظر کو ترتیب دیا، جس میں جدید نظام سرمایہ داری ابھر کر سامنے آیا۔ سومبارٹ، میکس ویبر، رابرٹ ٹانی جیسے اسکالرز کی طرف سے پیش کیے گئے اخلاقی اصولوں اور کچھ ثقافتی رویوں کے علاوہ کانٹ، والٹیر، ہیوم، روسو، ہابز، بینتھم، ایڈم سمتھ اور دوسرے دانش وروں کی طرف سے پیش کی گئی نئی فکر نے ایک نئی معاشرتی اخلاقیات کو جنم دیا، جس نے ایک نئے نظام کی بنا ڈالی۔ اس کانام   اس کے معترضین کے نزدیک ’مسیحی سرمایہ داری نظام‘ ہے۔ نئے نظام یعنی ’کیپٹل ازم‘ کی اہم خصوصیات میں نفع اندوزی، پیدایش دولت اور غیرمنقسم قوت اور اثر و رسوخ کا حصول شامل ہیں۔

اس نئے نظام کا یہ کردار اس کی اُوپر بیان کردہ خصوصیات ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ کاروباری لوگوں کے ایک گروہ کی طرف سے تشکیل دیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف تجارت اور سامراجی استحصال کے ذریعے دولت حاصل کرنے کے قابل تھے بلکہ معاشی وسائل کی پیدایش میں جدّت کے لیے نئی ٹکنالوجی کے استعمال پر حاوی تھے۔ اس نے صنعتی انقلاب، دیہی معاشرت کے شہری زندگی میں منتقل ہونے (urbanisation) اور بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تجارت کی راہ ہموار کی۔ اس طرح طاقت کا توازن اس نئے گروہ کی طرف منتقل ہوگیا۔ معاشی اور سیاسی تعلقات کے تمام رشتے، سرمایے اور سرمایہ کاروں کے اس اہم کردار کی روشنی میں تشکیل پانے لگے۔ معاشی رویوں کا اظہار مقابلہ بازی سے ہونے لگا اور فیصلہ سازی کا مؤثر ذریعہ منڈی کے لین دین اور کاروبار سے منسلک ہوگیا۔ معاشرے کی تقسیم دولت مند اور محنت کش طبقوں کی صورت میں فروغ پانے لگی۔

نیا نظام جن عقلی بنیادوں پر استوار ہوا وہ یہ ہیں کہ: ۱- فرد معیشت کا بنیادی ستون بن گیا۔ ۲- فرد کے ذاتی مفاد کا اظہار مالی ادایگی، زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تسکین، او ر نفع اندوزی کی صورت میں نظام کی حقیقی بنیاد بن گیا۔

یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس نتیجے میں فرد کو بہت کچھ حاصل ہوگا۔ معاشیات میں ہر جگہ ذرائع کی بہترین حدبندی کی جاسکے گی، جس کے نتیجے میں کارکردگی بہتر ہوگی اور معاشی دوڑ میں حصہ لینے والے بہترین نفع (reward) حاصل کر سکیں گے۔ اس طرح ’ذاتی مفاد‘ کام کروانے کی واحد نہیں تو غالب قوت بن گیا۔ اسی طرح دولت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ سب سے بڑی خوبی اور زندگی کا سب سے بڑا تحفہ قرار پایا۔ خواہشات اور ان کو پورا کرنے کا جذبہ معاشرے کی بنیادی قدر قرار پاگیا۔ ریاست کا کردار صرف ایسے حالات اور ماحول کو پیدا کرنے تک محدود کردیا گیا جس میں یہ نظام اچھے طریقے سے چل سکے۔ عدم مداخلت کو ریاست کے اندر اور عالم گیر سطح پر ایک رہنمااصول کے طور پر اختیار کیا گیا۔ اس نظام کے نتیجے میںصنعتی و کاروباری سرمایہ داروں اور حکمرانوں کے درمیان ایک مضبوط اتحاد وجود میں آگیا۔ اس مضبوط سیاسی و معاشی اتحاد نے نئے سرمایہ دارانہ نظام کو پوری طرح رُوبہ عمل آنے کے قابل کیا اور اسے غیر معمولی ترقی دینے اور عالم گیر سطح پر پھیلنے کا موقع دیا۔ نظام سرمایہ داری اور سامراجیت ایک دوسرے کے ہم نوا بن کر ایک دوسرے کو بھرپور امداد اور قوت فراہم کرنے لگے۔

ثقافتی، عملی، عقلی اور سماجی عوامل کی اثر اندازی کے نتیجے میں لادینی اور سیکولر بنیادوں پر معاشروں کی تشکیل ہوئی۔ مذہب اور روایتی اخلاقیات کے بندھن کمزور پڑ گئے۔ دولت پرستی نے ایک نئے طرز زندگی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں دولت کی نمایش اور مفاد پرستی بڑھ گئی۔ مزید برآں ذاتی مفاد کی چکا چوند اور بے لگام انفرادیت پسندی ہی سماجی نظام کے ستون بن گئے۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جو باہمی تصادم، عدم مساوات اور نا انصافی پر مبنی تھا۔ اس نئی آزاد روی (لبرلائزیشن) اور موقع پرستی نے تخلیقی صلاحیتوں، جدّت طرازی ، مہم جوئی اور انتظامی صلاحیتوں کو فروغ دیا ۔ جس کے نتیجے میں زبردست معاشی ترقی اور مادی دولت وجود میں آئی،  تاہم یہ دولت صرف مراعات یافتہ طبقے تک ہی محدود رہی۔

مفادات کے اس تصادم، آمدنیوں اور دولت کی تقسیم میں گہری ناہمواری اور دولت مندی کی برق رفتار اُڑان نے معاشرے کو طبقات میں تقسیم کردیا، اور ایک ایسا منظر پیدا کیا، جسے ماہرین سماجیات سوشل ڈارونزم (Social Darwinism) کا نام دیتے ہیں، یعنی ایسا نظام جس میں:  ’’مقاصد کے حصول کے لیے ہر ذریعہ اختیار کرنا جائز ہے‘‘۔۱؎ جیسے جدید اصول نے اس صورت حال کو مزید گمبھیر بنادیا۔ یوں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں ترقی کے ثمرات معاشرے کے  تمام افراد کے مابین منصفانہ بنیادوں پر تقسیم نہ تھے۔ گویا کہ عالم گیر سطح پر یہ نظام سامراجی استحصال کا علَم بردار بن گیا۔

چودھویں اور اٹھارھویں صدی کے درمیان ہونے والی مختلف النوع ترقی کو سرمایہ داری کا تشکیلی (formative) دور کہا جاتا ہے، تاہم اس نظام کو حقیقی فروغ اٹھارھویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے اختتام کے دوران حاصل ہوا۔ بیسویں صدی میں اس نظام کی مزید ترقی کے ساتھ ساتھ سوشلزم اور اس کے دیگر حریف بڑے بڑے چیلنجوں کی صورت میں ابھرے اور پھر بیسویں صدی ہی کے اختتام تک بکھر گئے۔

دوسری جنگ عظیم (۱۹۳۹ئ-۱۹۴۵ئ) کے بعد کا دور اس نظام کی بھرپور ترقی کا دور ہے۔ خصوصاً ۱۹۸۹ء میں دیوار برلن کا ٹوٹنا کمیونزم کے خاتمے کا علامتی اعلان تھا۔ اس کے بعد سابقہ کمیونسٹ ریاستوں اور کسی تیسرے نظام کے لیے کوشاں ممالک میں نظام سرمایہ داری کا نفوذ اس نظام کی بالادستی اور عروج کا دور ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز پر دنیا بھر میں نظام سرمایہ داری ایک غالب معاشی نظام کے طور پر موجود ہے۔ باوجویکہ ترقی پذیر دنیا کا بہت بڑا حصہ غربت، بھوک، بیماری اور محرومی کی گرفت میں ہے، خاص طور پر افریقا، لا طینی امریکا اور جنوبی ایشیا۔ مشرقی ایشیا کی مالیاتی منڈیوں میں ہونے والی تباہی اور دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی مالیاتی ہلچل نے اس نظام کے تحفظ اور استحکام کو مضبوطی عطا کر دی ہے ۔

روس اور مشرقی یورپ کے کچھ ممالک میں معاشی نج کاری اور معاشی آزاد روی (لبرلائزیشن) کے تجربات نے اجنبی زمین پر نظام سرمایہ داری کے زوال کو روز روشن کی طرح واضح کیا ہے۔ عالم گیر نظام سرمایہ داری کی دو جہتیں ہیں: ۱- یہ غیر مغربی ممالک کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ۲- یہ نظام سرمایہ داری کے لیے بذات خود ایک چیلنج ہے کہ وہ نظام سرمایہ داری کے اندر سے اٹھنے والے لاینحل مسائل کو کیسے حل کرے؟ صرف ایک روشنی کی کرن یہ ہے کہ ہر چیلنج دراصل ایک اور موقع ہوتا ہے۔

عالم گیر نظام سرمایہ داری: کیا پایا، کیا کہویا

تین صدیوں پر محیط سرمایہ دارانہ تجربے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ: معاشی ترقی، پیداواریت، تخلیق اور جدّت طرازی کی بے مثال کامیابیوں کے ساتھ ساتھ یہ ناقابلِ معافی حادثات اور سماجی و انسانی حوالوں سے نامساوات کی ملی جلی تصویر پیش کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے حامی اور سرمایہ دارانہ نظام کے ناقد (بشمول کارل مارکس) اس نظام کے پیدایش دولت کے زبردست کردار پر متفق ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جو معاشی ترقی اور دولت مندی نظامِ سرمایہ داری کی قیادت میں حاصل کی گئی ہے وہ نظام سرمایہ داری سے پہلے کی تمام معاشی سرگرمی سے زیادہ ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ صدی میں نظام سرمایہ داری کو چیلنج کرنے والا متبادل اشتراکی نظام، دولت کی پیدایش کے حوالے سے نظام سرمایہ داری سے بہت پیچھے رہا ہے اور اپنی خامیوں کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا،جب کہ اس کے مقابلے میں نظام سرمایہ داری زمانے کے نشیب و فراز اور انقلابات کے باوجود محفوظ نظر آتا ہے اور تخلیق، جدت طرازی اور صنعت کاری و ہنر مندی کو فروغ دینے کاباعث دکھائی دیتا ہے۔ اگر استعدادِ کار کی تعریف طبعی اور مادی نقطۂ نظر سے کی جائے تو کہاجاسکتا ہے کہ جیسے تیسے اس نظام نے استعدادِ کار کا ایک معیار قائم رکھا ہے۔ فرد کے محوری کردار اور آزادی، جدوجہد، موقع ملنے پر فوری عمل اور کامیابی پر انعام نے اس نظام کے اعتبار کو دوام بخشا ہے اور جس نظام نے اسے چیلنج کیا اس پر اپنی تقابلی برتری کو ثابت کیا ہے۔ معاشی فیصلہ سازی میں منڈی کی میکانیت اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کے باجود زیادہ مستعد ثابت ہوئی ہے۔

یہ نظام بنیادی طور پر کچھ مفروضات، اقدار اور اصولوں پر قائم کیا گیا تھا، جو بُری بھلی انسانی فطرت سے مطابقت رکھتے ہیں اور معیشت کی فطری حالت سے قریب تر ہیں۔ اس لیے سرمایہ داری نے، باوجود بہت سی ناکامیوں کے، اپنی قوت کو ظاہر کیا اور قائم رکھا ہے، اور اشتراکیت (کنٹرولڈ اکانومی) پر اپنی برتری اور قابل عمل ہونے کو ظاہر کیا ہے۔ نظام سرمایہ داری نے اپنے فعال اور لچک دار نظام کے ذریعے صورت حال کا مقابلہ کیا۔ جس میں پیش آمدہ حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور ٹکنالوجی کے مؤثر استعمال سے اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے تبدیلیوں میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام میں جغرافیائی حدود کو پار کرنے اور عالم گیر حیثیت حاصل کرنے کی استعداد بھی موجود ہے۔ نظام سرمایہ داری او رجمہوریت میں تعلق کے بارے میں بہت سے نظریات پائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ امر واقع ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں ’مثبت آزادی‘  کے مقابلے میں ’منفی آزادی‘ اور اس کے ذمہ داروں میں بہت زیادہ امیر لوگوں کی موجودگی کی وجہ، دولت کا ارتکاز ہے۔ بحیثیت مجموعی کہا جاسکتا ہے کہ سرمایہ داری، جمہوری عمل اور آزادی میں بہت زیادہ ہم آہنگی ہے۔  یہ پس منظر نظامِ سرمایہ داری کامثبت پہلو پیش کرتا ہے، تاہم اس کا دوسرا پہلو بہت ناگوار اور اذیت ناک ہے۔

  •  بے لگام انفرادیت اور اجتماعیت میں تصادم: فرد کی اہمیت یا انفرادیت پسندی (Individualism) کا رواج ایک بہت بڑی انسانی کامیابی قرار دی گئی تھی، لیکن محض فرد کی اہمیت کسی صحت مند اور ہم آہنگ معاشرے کو یقینی نہیں بناسکتی۔ معاشرہ اور ریاست، انسانی زندگی کے اہم پہلو ہیں۔ فرد کی اہمیت کسی خلا میںممکن نہیں ہے۔ اس کا قیام دوسرے انسانوں اور اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ ایک صحت مند،مبنی برانصاف اور ہمدرد معاشرہ صرف اسی صورت میں وجود میں آسکتا ہے کہ جب فرد اور معاشرے کے درمیان ایک مناسب رشتہ قائم ہو۔

انفرادیت پسندی بھی انسان کو ’کلیت پسندانہ‘ (Totalitarianism)، ا شتمالیت اور    بے لگام ریاستی طاقت کے سے انداز میں پاگل پن میں مبتلا کرسکتی ہے۔ فرد کو ملنے والے فوائد اور سماجی بھلائی دونوں ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ہر معاشرے میں افراد کے مفادات کاٹکرائو ہوتا ہے۔ لیکن ہر معاشرہ اس طرح کے تعلقاتِ کار کو فروغ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ اختلافات اس طرح کم ہوتے ہیں کہ فرد کی بھلائی اور سماجی بھلائی کے مقاصد بیک وقت حاصل کیے جاسکیں۔ فرد کی بھلائی اور عوامی بھلائی دونوں کو ان کا مقام دیا جائے تو ایک پروقار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو اہمیت نہ دینے سے معاشرتی اور معاشی اضطراب پیداہوتا ہے۔اگر ’سوشلزم‘ کی غلطی اجتماعیت کی انتہا تھی تو اس کے مقابلے میں سرمایہ داری کی ناکامی کو اس کی بے لگام انفرادیت میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ باوجود ان تمام سنجیدہ کوششوں کے، جو انفرادی اور سماجی بھلائی، ذاتی اور معاشرتی مقاصد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کی گئیں، ان کے درمیان تصادم تقریباً ہر سطح پر قائم رہا۔

  •  مقابلے اور منڈی کی معیشت کی بنیاد: معیشت کے تمام عوامل بشمول صنعت کاروں اور صارفین، فروخت کنندگان اور خریداروں، آجروں اور اجیروں، منافع کمانے والوں اور اجرت پر کام کرنے والوں، سب کے درمیان مکمل معلومات کی موجودگی اور ان کی حیثیت اور  قوتِ سوداکاری کی برابری کے مفروضات پر رکھی گئی تھی۔ معاشی انفرادیت کا جو تصور ایڈم سمتھ اور ریکارڈ و کی تحریروں میں پیش کیا گیا ہے اور جو منڈی کی معیشت کے مفروضات میں داخل ہے، وہ صرف معاشیات کی نصابی کتب اور سرمایہ داری کے ریاضیاتی طریقوں میں نظر آتا ہے۔ حقیقی دنیا میں اس کی غیر موجودگی کااظہار بڑے پیمانے پر عدم مساوات کی صورت میں ہوتا ہے، اور بہت سے پہلو منڈی کی ان قوتوں کو کنٹرول کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں اثرانداز میں ہوتے ہیں۔

بڑی مچھلیاں نہ صرف تالاب کو کنٹرول کرتی ہیں، بلکہ بے بس چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں۔ اشیا پر مشتمل منڈی کی اجارہ داریاں، عاملین پیدایش کے ذرائع پر مشتمل منڈی کی اجارہ داریاں اور چند بڑی قوموں کی معاشی استعماری اجارہ دارانہ قوتیں منڈیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ منڈی کی غیرمتوازن کارکردگی اور خرابیاں، داخلی اور عالم گیر سطح پر معیشت کے لیے تباہی کاباعث ہیں ۔ ان کی وجہ سے طبقاتی کش مکش، علاقائی دشمنیوں، قومی لڑائیوں اور عالم گیر سطح پرتصادم کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ یہ نظام مراعات یافتہ طبقوں اور افراد کی بقا اور طبقاتی تقسیم پر منتج ہوا ہے۔ طاقت اور دولت مندی میں عدم مساوات اس نظام کی بنیاد ہے، جو خرابی، استحصال اور عدم مساوات کو فروغ دینے کا باعث ہے۔

  •  وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم:یہ تشویش ناک صورت حال ہمیں معیشت اور معاشرے میں شدید نوعیت کی ناہمواری کا منظر دکھاتی ہے۔ یہ صورتِ حال انصاف اور برابری کے حصول میں ناکامی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ معاشرے کے مختلف افراد، مختلف اقوام اور علاقوں میں دولت، آمدنی اور وسائل کی تقسیم بڑے پیمانے پر غیرمساویانہ ہے۔ یہ نظریہ کہ جب پانی اونچا ہوتا ہے تو ساری کشتیاں بلند ہوجاتی ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے اس رُوپ میں سچ ثابت نہیں ہوا، بلکہ  اس میں بہت سی کشتیاں ڈوب جاتی ہیں اور ان کو بچانے کاکوئی نظام نہیں ہے۔ یہ نظریہ کہ   ’’فوائد آہستہ آہستہ نیچے تک پہنچتے ہیں‘‘ غیر مؤثر ثابت ہوچکا ہے۔ فراوانی کے درمیان غربت، خوش حالی کے ساتھ بھوک، شاہ خرچوں کے ساتھ محرومی، نظام سرمایہ داری کے رستے ہوئے ناسور ہیں۔

معاشی اعتبار سے ترقی پذیر دنیا کے زیادہ تر ممالک: معاشی ترقی، بہبود اور فی کس آمدنی کے حوالے سے کم و بیش اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں آج کے سرمایہ دارانہ ممالک اٹھارھویں صدی کے وسط میں تھے۔ نظام سرمایہ داری کی ترقی کے ۳۰۰ برسو ںمیں اکیسویںصدی کے آغاز میں صورت حال تبدیل ہوچکی ہے جس کے مطابق دنیا کی ۲۰ فی صد آبادی والے امیر ترین ممالک دنیا کی ’خام داخلی پیداوار‘ (GDP) کے ۸۷ فی صد کے مالک ہیں،جب کہ دنیا کی بقیہ ۸۰ فی صد آبادی صرف ۱۳ فی صد خام داخلی پیداوار کی مالک ہے۔ یہ تفاوت نہ صرف عالم گیر سطح پر امیر اور غریب ممالک اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بڑھ رہا ہے بلکہ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے کے امیر اور غریب طبقات کے درمیان بھی روز افزوں ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ طرز پر ترقی کا ناگزیر نتیجہ ہے اور اس صورت حال کا تدارک کرنے کے لیے نئی منڈیوں کے ساتھ ساتھ معاشی دائرے سے باہر بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  •  معاشی تفاوت اور خواھشات کی ترجیح: معاشی ترقی کاحصول ایک بڑی مثبت کامیابی ہے، تاہم معاشرے کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے حصول کے حوالے سے قابلِ ذکر تحفظات موجود ہیں۔ انسانی ضروریات کی ایک معروضی سمت ہوتی ہے۔ لیکن نظام سرمایہ داری میں ان انسانی ضروریات کا احساس کرنا کوئی زیادہ اہم نہیں ہے۔ جو چیز اہم ہے وہ خواہشات ہیں، یعنی وہ ضروریات جن کے پیچھے قوتِ خرید موجود ہو۔ اس سے ایک بڑی خرابی جنم لیتی ہے۔ اگرچہ قوتِ خرید کاانحصار معاشرے میں آمدنیوں اور دولت کی تقسیم پر ہے۔ لیکن جب معیشت میں بہت زیادہ عدم مساوات ہو، تو معاشرے میں اشیا کی پیدایش اور صرف کی ترجیحات لوگوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق نہیں ہوتیں۔

یہ نظام سرمایہ داری کی بنیادی خرابی ہے۔ ’مارکیٹ‘ حقیقی انسانی ضروریات کے بجاے موضوعی اور نفسانی خواہشات کے مطابق کام کرتی ہے۔ آمدنیوں اور دولت میں کسی حد تک تو تفاوت قابل قبول ہے اور کچھ حدود کے اندر تو یہ ناگزیر بھی ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو مؤثر ترغیب اور کارکردگی کی بنیاد پر اجر اور نفع حاصل ہو۔ اس معاملے میں جان لینا چاہیے کہ بہت زیادہ معاشی تفاوت اور ناہمواری معاشرے کے پورے ڈھانچے اور اس کی پیداواری اور صرفی ترجیحات کو بدل کر رکھ دے گی، جس کا نتیجہ ایک غیر متوازن اور استحصالی نظام کی صورت میں نکلے گا۔

معیشت اور منڈی کو ایک ہی چیز سمجھ لینے سے سرمایہ دارانہ نظام کی آہستہ آہستہ قلب ِماہیت ہوئی اور یہ سماجی بھلائی اور اخلاقی ذمہ داری سے بے تعلق ہوگیا ہے۔ اس کی اصل توجہ ضروریات سے خواہشات، انسان سے زر، معاشرے سے معیشت کی طرف منتقل ہوئی ہے۔

زر اور مالیات کے اس بدلتے ہوئے کردار اور معیشت میں حقیقی اثاثوں کی پیدایش اور زر کے لین دین سے بڑھتی ہوئی عدم وابستگی نے بہت شدید خرابیاں اور عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ زر کا اصل کردار مالیاتی ثالثی اور قدر کی پیمایش تھا۔ معاشی سرگرمیوں کا اصل ہدف انسانی ضروریات کی فراہمی کے لیے اشیا اور خدماتی وسائل کو پیدا کرنا تھا۔ معاشی علامتی زبان میں CMC (Commodity Money Commodity) ،یعنی ’اشیا۔ زر۔ اشیا ‘کا مطلب زر کے ثالثی کردار پر زور دینا تھا، جب کہ حقیقی ہدف معیشت کا طبیعی پھیلائو تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت یہ تعلق اُلٹ کر کچھ یوں تبدیل ہواکہ یہMCMہوگیا، یعنی زر۔ اشیا۔ زر، جب کہ حقیقی معیشت اس نازک  موڑ پر آگئی کہ معیشت کاحقیقی ہدف اشیا و خدمات کی زیادہ سے زیادہ پیداوار، عوام کی کثیر الجہتی ضروریات کو پورا کرنا اور معاشرے کی فلاح و بہبود اور خوش حالی نہ رہا، بلکہ سرمایہ داروں کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع اور سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ اضافہ ہی ہدف بن گیا۔ طبیعی معیشت کا فروغ اور اس کے نتیجے میں اشیا و خدمات کی مقدار میں اضافہ مقصد کے حصول کا ذریعہ بن گئے۔ اس طرح موجودہ مالیاتی سرمایہ داری نظام ،اثاثوں کی تخلیق کے کردار سے بہت دُور چلا گیا ہے۔

اس طرح ’مالیاتی آلات‘ نے حقیقی مالیاتی اقدامات کارخ ’تخمینی مالیات‘ (Speculative Finance) کے ذریعے منافع کمانے کے ایک ایسے عمل کی طرف موڑ دیا ہے، جس کا اثاثوں کی تخلیق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اس کے نتیجے میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے والی اشیا و خدمات کی رسد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس مالیات کے کھیل کے نتیجے میں کروڑوں اور اربوں میں کھیلنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ داخلی سطح پر اور عالم گیر سطح پر معاشرے میں حقیقی اثاثوں اور بنیادی ضروریات کی چیزوں کی مقدار میں اضافے کی رفتار، مالیاتی اضافے کے مقابلے میں کم ہے۔

انسان کی ذہنی قوت اور انسانی سرمایے کی اہمیت کو پوری طرح سمجھا جانا چاہیے اور ان کی استعداد کے مطابق معاوضہ لازماً دیا جانا چاہیے۔ تاہم حقیقی معیشت کے محرکات کچھ ایسے ہیں کہ  عدم مساوات اور عدم استحکام کے ساتھ ساتھ معیشت غبارے کی طرح پھولتی جاتی ہے، جس کی وجہ سے معیشت میں ایک ایسی تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو طبیعی معیشت کو متاثر کرتی ہے اور امیروںکی ایک ایسی فوج پیدا کرتی ہے جس کا معاشرے کی فلاح و بہبود میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ  وہ فوائد جو اس کے نتیجے میں ان کو حاصل ہوتے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا کے امیر ترین ایک فی صد لوگ دنیا کی کل دولت کے ۵۹فی صد کے مالک ہیں۔ بالفاظ دیگر ۵کروڑ امیر لوگوں کی دولت ۲ ارب ۷۰کروڑ لوگوں کی دولت کے مساوی ہے اور اس میں امرا کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔۲؎ ۱۹۶۰ء میں ۲۰فی صد امیر ترین اور     ۲۰ فی صد غریب ترین لوگوں کے درمیان دولت کی تقسیم کاتناسب ۳۰:۱ کا تھا۔ ۱۹۹۷ء میں یہ تناسب بڑھ کر ۷۴:۱ ہوگیا، اور یہ کیفیت اس دنیا میں ہے جہاں ڈھائی ارب انسان دو ڈالر روزانہ سے کم پر گزارا کرتے ہیں، اور پھر ایک ارب ۲۰ کروڑ لوگ روزانہ ایک ڈالر سے بھی کم پر گزر بسر کر رہے ہیں۔ دنیا کی آبادی کے ۴۰ فی صد کو صاف پانی اور دوسری نہایت بنیادی سہولیاتِ زندگی تک نصیب نہیں ہیں۔ جہاں ہرروز ۱۰ہزار بچے پانی سے جنم لینے والی بیماریوں کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ المیہ لوگوں کی ناآسودگی کی وجہ سے ہے۔

 دنیا میں نظر آنے والی اس مضحکہ خیز ترقی نے دنیا کی معیشت میں خرچ (consumption) اور پیدایش دولت کو اس طرح متاثر کیا ہے کہ عمومی سماجی زندگی: خوف اور اذیت کا عنوان بن کررہ گئی ہے۔ مارکیٹوں میں اشیاے تعیش کی بھرمار ہے، جب کہ بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا کوئی تسلی بخش انتظام نہیں ہے۔ اشتہار بازی کے ذریعے مصنوعی طلب پیدا کی جاتی ہے۔ جس چیز کو صحیح معلومات کی فراہمی کا بہت اچھا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، وہ خواہشات کے ابھارنے اور منافع خوری کاذریعہ بن گئی۔ مارکیٹ میں چھا جانے والی طاقت ور قوت کے سامنے اخلاقی اور ثقافتی اقدار غیرمؤثر اور غیرمتعلق ہوگئی ہیں۔

  • اسلحے کی صنعت کا فروغ اور بنیادی سھولیات کا فقدان: فوجی سازو سامان کی تیاری ایک اور سنجیدہ معاملہ ہے۔ وہ ممالک جہاں لاکھوں لوگ دو وقت کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتے، جہاں صاف پانی، صحت کی بنیادی سہولتیں، کم از کم تعلیم او رمناسب سفری سہولتوں کا فقدان ہے اور لوگ غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں، وہ مفلوک الحال اور بدقسمت ممالک اربوں ڈالر ترقی یافتہ ممالک سے اسلحے کی خریداری پر خرچ کردیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک دنیا میں ۸۵ فی صد اسلحے کی فروخت کے اجارہ دار ہیں اور اصل فوائد یہی طاقت ور فوجی صنعتی طاقتیں حاصل کرتی ہیں۔

’علمی ملکیت کے حقوق‘ (Intellectual Rights) کے نام پر ضروری ادویات بھی مناسب قیمتوں پر ان غریب ممالک کو مہیا نہیں کی جاسکتیں، جہاں لاکھوں لوگ ان سہولتوں کی   عدم فراہمی کے سبب سسک سسک کر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ یہ تمام ہلاکت خیز باتیں سرمایہ داری کے تحت ہونے والی نام نہاد ترقی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں۔

  •  بے روزگاری میں اضافہ:مالیاتی پھیلائو اور سرمایہ کاری کے سیلاب کے باوجود، یہ معیشتیں روزگار کے کافی مواقع پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ عالم گیر سطح پربے روزگاری ایک مستقل اور ناقابل قبول حد تک پہنچ چکی ہے، حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ یہ پہلو بھی بہت بھیانک حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ مغربی یورپ میں ۱۹۷۳ء سے ۱۹۹۴ء تک کوئی نئی آسامی پیدا نہیں ہوئی۔ انسانیت کے جسم پر غربت، بے روزگاری اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کی کمی رستا ہوا ناسور ہے۔ نج کاری کے دبائو کی وجہ سے بیسویں صدی کی ایک بہت بڑی کامیابی، یعنی ’فلاحی ریاستوں‘ تک میں بھی توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ پیداواری عمل میں مشغول آبادی کے مختلف طبقات اور وہ جن کا انحصار معاشرے پر ہے، ان کے درمیان بھی پیداواری شعبے کی خرابیوں کی وجہ سے تعلق خراب ہوا ہے۔ جدید ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ ساتھ، ترقی پذیر دنیا میں عدم مساوات ایک ایسا چیلنج ہے جس کی طرف آج تک سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔

مالیاتی عدم استحکام سرمایہ دارانہ دنیا میں جاری و ساری ہے۔ جنوبی افریقہ اور مشرقی ایشیا، گذشتہ تین عشروں میں اس سے بری طرح متاثر ہوئے، حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک بھی عالم گیر مالیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نہیں بچ سکے۔ دنیا کے تمام حصوں میں قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ناقابلِ اصلاح حد تک دوسروں پر انحصار اور عدم استحکام بڑی تیزی سے بڑھتا ہی جارہا ہے۔ افراد اور معیشتوں کے لیے قرضوں کے بوجھ اور مصارف، قرضے کی برداشت کو روزبروز مشکل بناتے جارہے ہیں۔

  •  ماحولیاتی تباھی: چکاچوند کرتی اس تباہ کن ترقی کا ایک اور پہلو ماحولیاتی تباہی ہے۔ یہ بھی ایک عالم گیر مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ بعض کم ترقی پذیر ممالک میں خرابی بہت زیادہ تشویش ناک ہے جو کہ ترقی یافتہ ممالک کی دولت مندی اور عیاشی کی بہت زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ امریکا جو دنیا کی کل کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ۳۰ فی صد پیدا کرتا ہے، عالم گیر درجہ حرارت میں کمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور عملاً ’کویوٹوپروٹوکول‘ (Koyoto Protocol) کو مسترد کرچکا ہے۔

’مارشل پلان‘ بحرِ اوقیانوس کے حوالے سے مل جل کر کام کرنے کی ایک واحد مثال ہے۔ لیکن یہ ماڈل ایشیا اور افریقہ کے ممالک کے حوالے سے ناکام ہوچکا ہے۔ تمام وعدے جو غریب ممالک کی مدد کے حوالے سے کیے گئے تھے، بھلا دیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی خام قومی پیداوار کاایک فی صد ہر سال غریب ممالک کو دیں گے۔ اسے ۱۹۹۲ء میں کم کرکے ۷ئ۰ فی صد کردیا گیا، جب کہ حقیقی طور پر دی جانے والی امداد صرف ۳ئ۰فی صد ہے، اور اس میں امریکا کا حصہ اس کی خام قومی پیداوار کا صرف ۱ئ۰ فی صد ہے۔

  •  ترقی پذیر ممالک کے لیے مسائل: دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ اپنی منڈیاں صنعتی ممالک کی تیار کردہ اشیا کے لیے کھول دیں، جب کہ امریکا اور یورپی یونین کے ممالک غریب ممالک کی زرعی پیداوار، کپڑوں اور دوسری برآمدات کے خلاف تحفظاتی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے یہ غریب ممالک ایسے تجارتی فوائد کے میدان میں دو سے چار گنا تک محروم کردیے جاتے ہیں، جو ان کو معاشی امداد کی صورت میں ملنا چاہیے، جو اپنی نوعیت اور اس سے متعلقہ دوسری شرائط سے اس طرح مشروط ہے کہ اس معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے سے حقیقی طور پر اس کا بہت ہی کم تعلق رہ جاتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک اپنے کسانوں کو زرعی منڈی کی صورت میں روزانہ ایک ارب ڈالر (یا سالانہ ۱۳۵۰ بلین پائونڈ) دیتے ہیں۔ جس سے تیسری دنیا کے کسانوں کے لیے یورپ اور امریکا کی منڈیوں میں مقابلہ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کے جائزے کے مطابق ان یک طرفہ پالیسیوں کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک ہر سال کئی سو ارب ڈالر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ۲۰۰۲ء میں ’آکس فم رپورٹ‘ بعنوان Rigged Rules and Double Standards میں انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں نظام سرمایہ داری کے لیڈروں کی ناکامی پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، اور ان اصولوں کے منفی پہلوئوں کی نشان دہی کی گئی ہے جن پر نظام سرمایہ داری اور عالم گیریت کی بنیاد ہے ۔

آزاد اور عادلانہ معاشی نظام کی ضرورت

آخر میں، لیکن آخری نہیں، عالم گیر سرمایہ داری کی سیاسی جہتیں ہیں، نیز معاشی اور مالیاتی قوت کے نامساوی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور فوجی بالادستی کا بھی معاملہ ہے۔ تمام بڑے   بین الاقوامی اداروں بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لے کر ’عالمی بنک‘ اور ’عالمی مالیاتی فنڈ‘ پر ترقی یافتہ ممالک کی بالادستی ہے۔ جمہوریت کے بارے میں تمام زبانی جمع خرچ کے باوجود ان اداروں میں فیصلہ سازی میں کسی قسم کا جمہوری طریق کار اختیار نہیں کیا جاتا۔ عالم گیر سرمایہ داری نظام دنیا کے ہر ہر خطے کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کی یلغار غیر جانب دارانہ یا از خود عامل طریق کار پر استوار نہیں ہے۔ حکومتوں کے بننے بگڑنے میں بہت سے بیرونی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اور بیرونی مداخلت ہوتی ہے۔ ان میں سیاسی، معاشی، اطلاعاتی اور ثقافتی اثرات شامل ہیں۔ حکومتیں، کثیر قومی کارپوریشنیں (MNCs)، عالم گیرمالیاتی ادارے، ذرائع ابلاغ، ہالی وڈ، این جی اوز کی ایک فوج ظفر موج، وہ عناصر ہیں جو ان خرابیوں کو بڑھانے اور مستحکم کرنے کا موجب ہیں۔

مشہور ’واشنگٹن اتفاق راے‘ (Washington Consensus) کے آزاد روی، نج کاری اور عالم گیریت کے نسخے نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ ترقی پذیر اور غریب دنیا کے بہت سے ممالک محسوس کرتے ہیں کہ اب ان کی اپنی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ ایک نئے انداز میںسابقہ شہنشاہی اور استبدادی نظام اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک عالم گیر نظام سرمایہ داری فطری ترقی کامظہر ہے، جب کہ کچھ اسے معاشی اور ترقی یافتہ آمریت کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ ان کے اقتدار اعلیٰ اور ان کے رضاکارانہ انتخاب کی آزادی کا قاتل ہے۔ وہ عالم گیر نظام کاحصہ بننا چاہتے ہیں لیکن دب کر نہیں بلکہ وہ ایک عالم گیر دوستانہ ماحول کے خواہش مند ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام فطری اصولوں پر مبنی ایک آفاقی نظام ہونے کا دعوے دار ہے۔ اس کی عالم گیر پہنچ سے انکار نہیں ہے، لیکن اس سے مطابقت اختیار کرنا اور پسندیدگی پیدا کرنا قابلِ بحث ہے۔ اس کے سیاسی و ثقافتی پہلو اور اس کے معاشی اصولوں کے درمیان عدم موافقت بھی قابل بحث ہے۔ کیا یہ سب کچھ باقی ساری دنیا کے لیے بھی ہے؟ اور کیا اسے دوسرے اختیار کرسکتے ہیں؟ اور جو یورپی وامریکی تاریخی و ثقافتی بنیادیں ہیں، کیا وہ دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں سے مطابقت رکھتی ہیں؟ کیا ہم ان اصولوں اور اوامر کوجن پر سرمایہ دارانہ نظام پروان چڑھا ہے، اخلاقی اقدار اور رسوم سے علیحدہ کرسکتے ہیں؟ بلاشبہہ ذاتی مفاد ایک بڑی تخلیقی قوت ہے۔ لیکن اگر اسے ایک مرتبہ قوت محرکہ کے طور پر فروغ دے دیا جائے، تو وہ اخلاقی فکر جو سماجی ضروریات کو تحفظ دیتی ہے بتدریج کم ہوتی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ہدف اُلٹ جاتا ہے، پھر معاشرے کے بجاے معیشت ہی مرکزی ہدف بن جاتا ہے اور معیشت سکڑ کر منڈی بن جاتی ہے ۔

یہی معاشی منڈی ’قدر‘ (Value) کاحقیقی منبع بن جاتی ہے۔ اس کی میکانیت ذاتی پسند و ناپسند کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اخلاقی اقدار کاجنازہ نکل جاتا ہے اور عدل کے تقاضے مجروح ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو سماجی و اخلاقی اقدار کو اہمیت دیتے ہیں، ان کے نزدیک: ’’نظام سرمایہ داری کا یہ دعویٰ کہ وہ فطری نظام ہے‘‘ قابل قبول نہیں ہے۔

مختلف ممالک کے حوالے سے زمینی حقائق، ترقی کے مختلف مدارج اور وسائل کی دست یابی میں فرق ایک زندہ ثبوت ہے جس میں انسانی سرمایے اور سماجی سرمایے کی کیفیات، اور سماجی و ثقافتی پہلو مختلف رنگ و نسل پر مشتمل مختلف انسانوں اور معاشروں کے لیے ایک ہی نوع کا معاشی ماڈل اختیار کرنا ممکن نہیں ہے۔ عالم گیر معاشرے کی طرح عالم گیر معیشت کو بھی ایک ہی ماڈل میں نہیں سمویا جاسکتا ہے۔ اس کے بجاے ایک آزاد اور عادلانہ دنیا کو، جو حقیقی طور پر مختلف النوع ہو، وجودمیںلانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپس میں ان کو اس انداز میں مربوط بنانا اور باہمی تعلق پیدا کرنا ہوگا کہ جس کے نتیجے میں تمام لوگ، معاشرے اور ریاستیں باہمی تعاون اور صحت مندانہ مقابلے کے ذریعے ترقی کے فوائد سمیٹ سکیں۔

مغرب کے کئی روشن خیال مفکرین بھی ترقی پذیر دنیا اور مسلم دنیا کے مفکرین کی اکثریت کے اس نقطۂ نظر کے حامی ہیں۔ پروفیسر لیسٹر تھرو کے مطابق: ’’خطرہ یہ نہیں کہ اشتراکیت کی طرح نظام سرمایہ داری کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ایک قابل عمل متبادل نظام کی عدم موجودگی میں جس کی طرف لوگ نظام سرمایہ داری سے مایوس ہوکر لپکیں، نظام سرمایہ داری خود بخود تباہ نہیں ہوگا۔ نظام سرمایہ داری کے حقیقی مسائل بالکل واضح ہیں: یعنی عدم استحکام، ناہمواریوں میں اضافہ اور مزدور طبقے کی بدحالی جیسے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ نئے مسائل بھی ہیں جیسے نظام سرمایہ داری کا انسانی وسائل پر حد سے زیادہ انحصار اور انسانی ذہنی قوتوں کو بروے کار لاکر وجود میں آنے والی صنعتیں۔ انسانی ذہنی کاوشوں کی اہمیت کے اس دور میں جو لوگ کامیاب ہوں گے، وہ ایک نیا کھیل کھیلنے کی پوزیشن میں ہوں گے اور اس کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔آج کے فاتحین کے مقابلے میں کل کے فاتح مختلف صلاحیتوں کے حامل ہوں گے‘‘۔۳؎

معاملہ صرف ذہنی صلاحیتوں کاہی نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ اہمیت انسان کے اخلاقی، سماجی، ثقافتی، روحانی اور سیاسی پہلوئوں کو بھی حاصل ہے۔ مشین سے ہٹ کر دانش کی اہمیت کی طرف توجہ پھیرنا عالم گیر انسانی صورت حال میں ایک قابلِ قدر تبدیلی ہے۔ اس جانب بڑھیں تو  بحث کا محور اخلاقی اصول بن جاتے ہیں اور مادی دولت اور مادی ترقی اور استعداد کے مقابلے میں اصل اہمیت عدل اختیار کرجاتا ہے۔

معاشیات پر ۱۹۹۳ء کے نوبیل انعام یافتہ رابرٹ ولیم فوگل نے اپنی تحریر "The  Fourth Great  Awakening and Future of Egalitarianism" میں اس مسئلے پر قلم اٹھایا ہے اور اس حقیقی مسئلے پر بہت جامع انداز سے بحث کی ہے۔ فوگل نے لکھا ہے: ’’نئے ہزاریے کے آغاز پر اصل مسئلہ کاروباری اتار چڑھائو (بزنس سائکلز) کو درست کرنا  یا معیشت کی ایک اطمینان بخش سطح پر نمو (ترقی دینا ہی) نہیں ہے، اور مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ کیا ہم پچھلی صدی کے دوران میں انسانی معاشرت کو عطا کیے گئے سماجی شعور کو دفن کیے بغیر ترقی کرسکتے ہیں۔ پچھلی کامیابیوں کو بلاشبہہ ہم نظر اندازنہیں کرسکتے۔ امریکا میں معاشرتی مساوات کا مستقبل قوم کی اس صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ مسلسل معاشی نمو اور سماجی مساوات کے حوالے سے نئی اصلاحات کو ساتھ لے کر چل سکے۔    پھر ہمارے دور کی روحانی ضروریات کوبھی ساتھ ساتھ پیش نظر رکھے، جو سیکولربھی ہو اور مقدس بھی۔ روحانی(یا غیر مادی) عدم مساوات بھی مادی عدم مساوات کی طرح ایک بڑا اہم مسئلہ ہے، شاید اس سے بھی بڑا ‘‘۔۴؎

فوگل اپنی کتاب کا اختتام ایک انتباہ سے کرتا ہے:’’ہماری تیسری نسل (ہمارے پوتے) جو دنیا ہم سے وراثت میں پائے گی، وہ ہماری نسل کے مقابلے میں مادی لحاظ سے بہت امیر ہوگی، ماحولیاتی خرابیاں بہت تھوڑی ہوں گی، لیکن یہ دنیا ان کے لیے زیادہ پیچیدہ اور زیادہ پریشان کُن ہوگی۔ علمی و فکری سطح پر اخلاقی معاملہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا اور ان مسائل کے ساتھ ملحق معاملات آج کے مقابلے میں روز مرہ زندگی کا بہت بڑاحصہ ہوں گے ۔ علمی زندگی میںجمہوریت کے بارے میں مباحث میں وسعت آئے گی اور سیاسی زندگی میں روحانی معاملات زیادہ جگہ کا مطالبہ کریں گے۔ پرانے اور نئے مذاہب میں اختلاف اور زیادہ اُبھریں گے، لیکن آبادی کی  اوسط عمر کافی بڑھ جائے گی۔امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے نتیجے میں متانت بڑھے گی اور علمی قوت میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں ہماری آنے والی نسلیں ہمارے مقابلے میں مسائل کا بہتر حل تلاش کرسکیں گی‘‘۔۵؎

اسی طرح جان گرے نے سیاسی پہلوؤں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے: ’’دنیا کی معیشت میں ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے جس میں تہذیبوں، حکومتوں اور منڈی کی معیشتوں کے تنوع کو تسلیم کیا گیا ہو۔ ایک عالم گیر آزاد منڈی، ایسی دنیا کو سامنے لاتی ہے، جہاں مغربی ممالک کی بالادستی یقینی ہے۔ ایک آفاقی تہذیب پر مبنی خیالی دنیا (Utopia) میں مغرب کی بالادستی لازم ہے۔ یہ آفاقی تہذیب، کثیر تہذیبی دنیا کے تصور کو قبول نہیں کرتی۔ یہ [آفاقی تہذیب] اپنے وقت کی ان ضروریات کے مطابق نہیں ہے کہ جس میں مغربی ادارے اور مغربی اقوام آفاقی حاکم نہ ہوں۔ اسی طرح یہ دنیا کی بہت ساری تہذیبوں کو یہ اجازت بھی نہیں دیتی کہ وہ اپنی تاریخ، حالات اور مخصوص ضروریات کے مطابق جدیدیت کی منزل حاصل کرسکیں‘‘۔۶؎

کئی نظام یا ایک عالم گیر نظام سرمایہ داری

عالم گیریت کے حوالے سے یہ بحث ثقافتی اور سیاسی تناظر میں تھی۔ یہ بات بڑی خوش آیند  اور اُمید افزا تبدیلی کی نشان دہی کرتی ہے کہ دنیا کے تمام حصوں اور مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مفکرین میں سے ایک گروہ، اس سارے معاملے کااخلاقی نقطۂ نظر سے جائزہ  لے رہا ہے۔ تاہم نظام سرمایہ داری کی جو بھی خوبیاں یا خامیاں ہیں، اگر تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اس نظام میں تبدیلیاں قبول کرنے اور اندرونی و بیرونی محسوسات کا جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسی صلاحیت کا یہ ثبوت ہے کہ نظام سرمایہ داری نے کئی انداز اور شکلیں اختیار کی ہیں۔ کاروباری سرمایہ داری سے لے کر صنعتی سرمایہ داری ،پھر مالیاتی سرمایہ داری، ریاستی سرمایہ داری، فلاحی سرمایہ داری اور اب عالم گیر سرمایہ داری تک، یہ سب اس نظام میں تبدیلیوں کو قبول کرنے اور نئی صورت گری کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اشتراکیت، سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ لیکن اشتراکی نظام انسانی ہمدردی کے تمام تر جذبات کے باوجود ایک قابل عمل اور پایدار متبادل ثابت نہ ہوسکا، تاہم اس نے نظام سرمایہ داری میں تبدیلیاں لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ شروع میں اشتراکی چیلنج نے اپنی بنیاد اخلاق اور انسان دوستی کی بنیادوں پر ہی رکھی تھی۔ رابرٹ اوون، سینٹ سائمن اور کئی دوسروں نے سرمایہ دارانہ نظام کو اس کی اخلاقی اور معاشرے میں مساوات پیدا کرنے کی ناکامیوں کی بنیاد پر چیلنج کیا۔ کارل مارکس اور اینجلز نے معاملے کوایک اور رنگ دیا۔ سائنٹفک سوشلزم نے مادی اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر سرمایہ داری کو چیلنج کیا اور سائنس کے نام پر معاشی اور تاریخی جبر کی ایک نئی قسم دریافت کی گئی۔ جرمنی، اٹلی اور سپین میں پروان چڑھنے والا نیشنل سوشلزم ایک اور چیلنج تھا۔ سرمایہ داری نے ان چیلنجوں کا بھی مقابلہ کیا، اور ان کا بھی جو نظام کے اندر سے کاروباری اتار چڑھائو، افراطِ زر، بے روزگاری، جمود اور محروم طبقوں کی بغاوت کی صورت میں سامنے آرہے تھے۔ فلاحی سرمایہ داری اورمخلوط معیشت جیسی تبدیلیاں اصلاحی تحریکوں کانتیجہ ہیں۔ عالم گیر سرمایہ داری کے موجودہ دور کوبھی اسی تناظر میں دیکھا جاناچاہیے۔ بہرحال اخلاقی اور انسانی تناظر میں تنقیدی مباحث کاسلسلہ برابر جاری ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ء کے عشروں میں لاطینی امریکا میں شروع ہونے والی عیسائی جمہوری تحریک، دنیا کے دوسرے ملکوں میں انسانی اور معاشرتی حوالے سے گرین گروپس (Green Groups) اب عالم گیر حیثیت کے مالک بن چکے ہیں۔ انسانی شرف کے بارے میں احساس اور ظلم سے نفرت کے خلاف یہ جذبات حقیقی ہیں اور ان کے اثرات دُور دُور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ جبر اور انسانیت کش پالیسیوں کے خلاف شدید ردّعمل کا اظہار  کیا جاتا ہے۔ انتہائی بائیں بازو کے لوگ بھی اس جبر کے خلاف ردّ عمل ظاہر کر رہے ہیں۔ اس کے خلاف جو اظہار سیٹل  واشنگٹن، بڈاپسٹ (ہنگری)، اوٹاوہ (کینیڈا) اور جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں شروع ہوا، اس نے فکری میدان میں عملی سوچ کے لب و لہجے اور انداز کو تبدیل کیا ہے۔

ڈربن (جنوبی افریقہ) میں ۲۰۰۱ء میں منعقدہ اقوام متحدہ کی کانفرنس اور ۲۰۰۲ء میں دوحہ(قطر) میں ہونے والی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی کانفرنس میں نئے انداز میں معاملات پر  اتفاق راے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ حقیقت کہ بڑے کاروباری ادارے، یعنی ورلڈ اکنامک فورم نے مشترکہ بنیادوں کی تلاش کے لیے ڈیووس (Devos) سے نیویارک تک اجلاس منعقد کیے۔ جب ’ورلڈ اکنامک فورم‘ (WEF)کا اجلاس نیویارک میں ہو رہا تھا، عین اسی وقت ایک اور پلیٹ فارم، ’ورلڈ سوشل فورم‘(WSF) کا اجلاس دھوم دھام سے ایلے گر (برازیل) میں منعقد ہوا۔ مارچ ۲۰۰۲ء میں ہونے والے مالیاتی اتفاق راے کاانداز، نام نہاد واشنگٹن اتفاق راے سے مختلف تھا۔ یہ تمام نکات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ عالم گیر سرمایہ دارانہ نظام میں اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لچک اور حرکت موجودہے۔

عالم گیر نظام سرمایہ داری کو دو محاذوں پر چیلنج درپیش ہے:

۱-   اس کی اپنی اندرونی کمزوریاں، تضادات اور نا انصافیاں

۲-  مسلمان اور ترقی پذیر دنیا کے ممالک کا رد عمل، جو دنیا کا ۸۰ فی صد حصہ ہیں اور جن کا ثقافتی، سماجی اور اخلاقی لحاظ سے دنیا کے بارے میں بالکل مختلف نقطۂ نظر ہے اور ان کی ثقافتی اور تہذیبی اقدار مختلف ہیں۔

اب ، جب کہ سرمایہ دارانہ نظام بے خوف و خطر عالم گیریت کی لہروں پر سفر کر رہا ہے،   اس کے لیے ’تنوع میں وحدت‘ (unity in diversity) کا راستہ حقیقی راستہ نہیں ہے، بلکہ چیلنج    یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں لایا جائے جس میں ایک سے زائد نظاموں کا حقیقی تصور (genuine plurality) موجود ہو۔ ایک ایسا تنوع موجود ہو جس میں باہمی مشترک اقدار اور مشترک مفادات کے تحت باہمی تعاون ہو۔ ایک ماڈل سے بالادستی کا تصور اُبھرتا ہے۔ عالم گیر معاشرے کی ایک مختلف تشکیل وقت کی ضرورت ہے۔

جان رالز نے ۱۹۷۲ء میں اپنی شروع کی تحریروں میں باہمی برابری (reciprocity) کی بنیاد پرانصاف کی فراہمی کا مقدمہ مضبوطی سے پیش کیاتھا، ۷؎ لیکن ۳۰سال بعد اپنی کتاب ’عوام کا قانون‘ میں اپنے نظریے کو ’بے لاگ انصاف‘ کے عنوان سے اس طرح پیش کیا ہے کہ اسے دوسرے لوگوں اور معاشروں تک پھیلایا جانا چاہیے۔۸؎ یہ تصور عام طور پر دیگر مغربی مفکرین کے سیاسی آزادی کے فکری احاطے میں نہیں آتا۔ جان رالز نے تہذیب یافتہ معاشروں کے تنوع کو تسلیم کیا ہے۔ وہ مثالوں کے ذریعے معاشرتی تنظیم کے مختلف طریقوں کی بھی وضاحت کرتا ہے۔   وہ ’مناسب طور پر آزاد رو لوگوں‘ (reasonably liberal people) کے ساتھ ’معقول لوگوں‘ (decent people) کا نظریہ پیش کرتا ہے اور اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کچھ دوسرے معقول لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو میری بیان کی ہوئی ترتیب میں نہ سموئے گئے ہوں، لیکن وہ انسانوں کے معاشرے کے قابل احترام رکن ہوں۔

جان رالز نے اس بات کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک عوامی قانون نہیں بلکہ معقول قوانین کا ایک ایسا مجموعہ درکار ہے جو تمام شرائط اور معیارات پر پورا اترے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اس پر بحث کروں گا اور قانون سازی کرنے والے عوامی نمایندوں کو اس بات پر قائل کروں گا۔ آزاد پسندی کے اس پہلو پر رالز کا نقطۂ نظر ایک ایسی دنیا کے تناظر کی طرف اہم قدم ہے، جس میں حقیقی تکثیریت (pluralism) قائم رہ سکتی ہے اور ایک عالم گیر سیاسی، معاشی اور ثقافتی منظر قائم کیا جاسکتا ہے۔ جو انسانیت کو باہم مل جل کر تعاون اور مقابلے کی فضا میں رہنے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔ مستقبل کی ایک عالم گیر معاشرت کے اس تناظر کاانحصار ایک معقول اور مناسب تکثیریت پر ہے۔ دوسرے لفظوں میں معقول لوگوں کے درمیان مختلف ثقافتوں اور مذہبی اور غیرمذہبی فکری روایتوں کا تنوع، معقول تکثیریت کے ساتھ ساتھ۔۹؎

اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ عالم گیر سرمایہ دارانہ نظام دوسرے نظاموں کے ساتھ بقاے باہمی کی صلاحیت رکھتا ہے مگر اس سے یہ سمجھنا ہرگز ضروری نہیں ہے کہ دوسری معاشرتوں اور ثقافتوں کو نظام سرمایہ داری کی متنوع شکل بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ پھر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ باہم مشترک اقدار، دل چسپیوں ، آرزوئوں کے وسیع میدان میں اور باہمی تعاون ، تعامل اور تقابل کے امکانات نہیں ہیں۔ وسائل کی فراہمی، تخصیص کار (specialization) اور کم و بیش فائدے کے لحاظ سے فرق کی بنا پر معقول حدود کے اندر رہ کر ایک دوسرے کے اوپر انحصار کو بھی ردنہیں کیا جاسکتا۔ جس بات کو رد کیا جا رہا ہے وہ ایک نظام کی بالادستی اور محتاجی کا ایسا تعلق ہے، جو سیاسی آزادی، ثقافتی انفرادیت، معاشی خود انحصاری اور اخلاقی و روحانی تشخص سے متصادم ہو۔

حوالہ جات

۱-            دیکھیے: جے ایم کینز، The End of Laissez Faire ،ہوگرتھ پریس، ۱۹۲۶ئ، ص ۱۳، ۱۴۔

۲-            برانسامیلانووچ، The World Income Distribution، مشمولہ The Economic Journal، شمارہ ۱۱۲، ص ۵۱-۹۲۔

۳-            لیسٹرتھرو،  The Future of Capitalism، ناشر نکولس برکلے، لندن ۱۹۹۶ء ، ص ۳۲۵، ۳۲۶۔

۴-            رابرٹ فوگل، حوالۂ مذکور، مطبع شکاگو یونی ورسٹی ، شکاگو، ۲۰۰۰ئ، ص ۱۔

۵-            ایضاً، ص ۲۴۲۔

۶-            جان گرے، False Down: The Delusions of Global Capitalism،لندن، ۱۹۹۸ئ، ص ۲۰۔

۷-            جان رالز، A Theory of Justice، اوکسفرڈ کلارنڈن پریس، ۱۹۷۲ئ۔

۸-            جان رالز، The Law of Peoples، ہارورڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۹ئ، ص ۴۔

۹-            جان رالز، ایضاً، ص ۱۱۔