بلاشبہہ اس کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور نشانیاں بکھری پڑی ہیں، اور یہ نشانیاں ہیں ہی اس لیے کہ ان پر غوروفکر کیا جائے اور ان کی روشنی میں اپنا رویہ اور عمل مرتب کیا جائے۔ مگر افسوس کہ انسانوں کی عظیم اکثریت ان نشانیوں پر کوئی توجہ نہیں دیتی اور اندھوں اور بہروں کی طرح اللہ کی روشن نشانیوں سے معاملہ کرتی ہے۔ قرآن بار بار انسانوں کو اللہ کی ان نشانیوں پر غور کرنے اور کھلی آنکھوں اور کھلے دماغ سے ان سے روشنی حاصل کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ o(البقرہ۲:۲۲۱) ’’اور وہ اپنی نشانیاں واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق سیکھیں‘‘۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ o(النحل ۱۶:۱۱) ’’اس میں ایک بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں‘‘۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَo(النحل ۱۶:۱۳) ’’ان میں ضرور نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں‘‘۔
ملت ِاسلامیہ پاکستان کے لیے ۱۴؍اگست کا دن بھی اللہ کی ایک نشانی ہے۔ صرف سات سال کی بھرپور اور پُرامن جدوجہد کے نتیجے میں دنیا کے سیاسی نقشے پر، اور وہ بھی ایک ایسے سیاسی نقشے پر جس کے سبھی نقش مغربی تہذیب، مادیت، سیکولرزم اور لبرلزم کے رنگوں سے آلودہ تھے، عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر ایک ریاست کا قیام ایک تاریخی کرشمے سے کم نہ تھا۔ تحریکِ پاکستان کی اصل بنیاد اور روح ہی یہ تھی کہ برعظیم ہند میں مسلمان محض دوسری اکثریت نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوم ہیں۔ ان کا مقصد صرف یورپی استعمار سے آزادی ہی نہیں، توحید اور رسالت ِ محمدیؐ کی بنیاد پر ایک نئے سیاسی اور اجتماعی نظام کا قیام ہے۔ جو بہرحال وقت کے غالب تصورات سے بغاوت اور ایک نئے نظریاتی مستقبل کی تعمیر کے عزم سے عبارت تھا۔ آزادی کا حصول اس اصل مقصد کے لیے تھا۔ ان دونوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ تھا، جسے علامہ محمد اقبال نے اپنے ۱۹۳۰ء کے خطبے اور پھر قائداعظم محمدعلی جناح کے نام اپنے خطوط میں بہت صاف الفاظ میں بیان کردیا تھا:
انگریزوں سے آزادی اور حصولِ ملک براے قیامِ نظامِ اسلامی‘ ہی تحریکِ پاکستان کی امتیازی خصوصیت ہے اور قائداعظم کی قیادت میں جو تاریخی کامیابی قیامِ پاکستان کی شکل میں حاصل ہوئی، اس کا سہرا اسی تصور اور اس تصور کی خاطر برعظیم کے مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے سر ہے۔ ۱۴؍اگست کی اصل اہمیت ہی یہ ہے کہ یہ تاریخ ہرسال پوری قوم کو تحریکِ پاکستان کے اصل مقصد اور ہدف و منزل کی یاددہانی کراتی ہے، اور ہمیں اس امر پر سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ سات سال میں کیا کچھ اس قوم نے حاصل کرلیا تھا پھر آزادی کے چھے عشروں میں اس اصل مقصد کے باب میں غفلت اور بے وفائی کا راستہ اختیار کیا، تو اب ٹامک ٹوئیاں مارنے کے نتیجے میں موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا ہیں، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اللہ کی اس نشانی سے سبق سیکھتے ہوئے راہِ راست کی طرف آنے کی کوشش اور جدوجہد نہیں کررہے۔
آزادی کی ۶۸ویں سالگرہ کے موقعے پر ہم قوم کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس عظیم موقعے کو محض چند روایتی اور نمایشی کارروائیوں کی نذر کرنا ایک سنگین مذاق اور بڑا المیہ ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری دیانت داری کے ساتھ اس عظیم دن کی اصل نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ پھر اس سبق اور پیغام کو حرزِ جاں بنایا جائے جس کی نشانی (آیت) ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء، ۲۷رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ ہے۔
پاکستان کا قیام ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ اس ملک کے قیام کی جدوجہد جہاں زوال پذیر برطانوی استعمار اور اُبھرتے ہوئے ہندو سامراج کی گرفت سے آزادی کی تحریک تھی، وہیں اس سے زیادہ یہ ایک نظریاتی اور تہذیبی احیا کی تحریک تھی۔ اس کا اصل مقصد برعظیم کے ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے، وہاں کے لوگوں کو اپنے دین، ایمان، تصورِ حیات، روایات اور ملّی عزائم کی روشنی میں آزاد فضا میں ایک روشن مستقبل کی تعمیر کا موقع فراہم کرنا تھا۔ سیاسی آزادی اور دینی اور تہذیبی تشکیلِ نو کا مقصد اور عزمِ تحریکِ پاکستان کے دو اہداف تھے، جو ایک ہی تصویر کے دو رُخ کی حیثیت رکھتے ہیں___ ان دونوں کا ناقابلِ انقطاع تعلق اسلامیانِ پاکستان کی قوت کا راز ہے اور ان میں تفریق اور امتیاز بگاڑ اور خرابی کی اصل وجہ ہے۔
تحریکِ پاکستان کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے برعظیم کے مسلمانوں کو ان کی قومی شناخت دی اور اس شناخت کی بنیاد پر ایک آزاد مملکت کے قیام کے لیے ان کو سرگرم اور متحرک کردیا، جس کا نتیجہ تھا کہ سات سال کی مختصر مدت میں برعظیم کے دس کروڑ مسلمانوں نے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند اپنی آزادی اور دین کے تحفظ کی جنگ لڑی اور بلالحاظ اس کے کہ پاکستان کے قیام سے کس کو کیا فائدہ پہنچے گا اور کس کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی، ایک نظریاتی جنگ کے نتیجے میں ایک آزاد ملک قائم کیا۔
تحریکِ پاکستان کی بنیاد اسلام کا تصورِ قومیت ہے جس کی روشنی میں قوم کی آزادی اور آزادی کے سایے میں قوم کی اجتماعی زندگی کی تشکیل نو کے لیے مملکت کا حصول عمل میں آیا۔ لیکن پاکستان کے ساتھ یہ المیہ رُونما ہوا کہ وہ قوم جسے مختصر ترین وقت میں یہ مملکت ِ خداداد ملی تھی، اسی قوم کے اہلِ حل و عقد اسلامی قومیت کی بنیاد پر ملک کی تعمیر سے غافل ہوگئے۔ نظریاتی شناخت اور بنیاد سے ہٹ کر ملک کو ’ترقی یافتہ‘ بنانے کی سعی لاحاصل میں ملک کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔ جس کانتیجہ ہے کہ صرف ۲۴برس بعد ۱۹۷۱ء میں ملک دولخت بھی ہوگیا اور آج جو کچھ موجود ہے، اس کی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ آج جس حقیقت کے اِدراک اور اقرار کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام اور پاکستان کے وجود،بقا اور ترقی کا انحصار اس نظریے پر ہے، جو تحریک کی روح اور کارفرما قوت تھی۔ قائداعظم نے ایک جملے میں اس حقیقت کو بیان کردیا تھا:
اسلام ہمارا بنیادی اصول اور حقیقی سہارا ہے۔ ہم ایک ہیں اور ہمیں ایک قوم کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔ تب ہی ہم پاکستان کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔
لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ قائد کے اس انتباہ کو ہم نے بحیثیت قوم نظرانداز کیا۔
۱۴؍اگست ایک عظیم یاددہانی ہے، اور یہ ایک انتباہ بھی ہے کہ اگر ملک اور نظریے کے رشتے کو نظرانداز کیا گیا تو ملک کا وجود بھی معرضِ خطر میں ہوگا (یوں تو اس وقت بھی معرضِ خطر ہی میں ہے) ۔ ہم قیامِ پاکستان کی ۶۸ویں سالگرہ کے موقعے پر اسی بنیادی نکتے پر قوم کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں کہ ملک آج جن مشکلات میں پھنسا ہوا ہے، ان سے نکلنے کے لیے اس بنیاد کی طرف لوٹ کر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، جو تحریکِ پاکستان کی اساس ہے، جو ہماری قوت کا اصل منبع ہے، جس کے ذریعے ہم یہ ملک حاصل کرسکے اور جس کے بغیر ہم اس کو نہ قائم رکھ سکتے ہیں اور نہ ترقی دے سکتے ہیں۔
آج سب سے بڑی ضرورت قوم اور ملک کے اس تعلق کو سمجھنے اور اس پر سختی سے قائم رہنے میں ہے کہ اللہ کی سنت یہ بھی ہے کہ اگر ایک فرد یا قوم اس کی نعمتوں پر شکر کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس کے انعامات میں بیش بہا اضافہ ہوتا ہے اور اگر وہ کفرانِ نعمت کرتے ہیں تو پھر اس کی پکڑ بھی بہت ہی شدید ہے___ اور ناشکری کے نتیجے میں جو بگاڑ اور تباہی رُونما ہوتی ہے، اس کی ذمہ داری صرف اور صرف فرد اور قوم کے اپنے رویے اور کرتوتوں پر ہوتی ہے:
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ o (ابراہیم ۱۴:۷) اور یاد رکھو، تمھارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر تم شکرگزار ہو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔
اور یاد رکھو:
وَ مَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرٰٓی اِلَّا وَ اَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ o(القصص ۲۸:۵۹) اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجائیں۔
جیساکہ ہم نے عرض کیا پاکستان کا قیام ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ جس میں ہمیں آزادی کی نعمت حاصل ہونے کے ساتھ یہ موقع بھی ملا کہ آزاد فضا میں اپنے تصورات کے مطابق نئی زندگی تعمیر کریں۔ لیکن افسوس کہ ابتدائی چند برسوں کے بعد ہی جو عناصر قیادت پر قابض ہوگئے تھے، انھوں نے نہ صرف ان مقاصد کو فراموش کیا بلکہ ملک کو انھی باطل نظریات اور مفادات کے حصول کی بھٹی میں جھونک دیا جن سے نکلنے کے لیے تحریکِ پاکستان برپا کی گئی تھی۔ وہ یک سوئی جو تحریکِ پاکستان کا طرئہ امتیاز تھی ختم ہوگئی اور ملک اندرونی کش مکش اور بیرونی سازشوں کی آماج گاہ بن گیا اور آج ہماری آزادی بھی معرضِ خطر میں ہے اور ملک بھی معاشی، سیاسی، ثقافتی، اخلاقی غرض ہر اعتبار سے تنزل کا شکار نظر آتا ہے۔
۱۴؍اگست ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ ان اصل مقاصد کی نشان دہی کریں جو قیامِ پاکستان کی جدوجہد کا محرک اور اس تحریک کی امتیازی خصوصیت تھے اور پھر اس بگاڑ کی نشان دہی کریں جس نے ہمیں تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے۔ اس تجزیے کی روشنی میں ایک بار پھر اس راستے اور منزل کی نشان دہی کریں جو اس تباہی سے بچنے اور اصل مقاصد کے حصول کی طرف پیش قدمی کا راستہ ہے۔
تحریکِ پاکستان کا پہلا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے دورِحاضر میں برعظیم کے مسلمانوں نے اپنی خودی کو پہچانا اور اس طرح اپنے حقیقی وجود کو پایا۔ تحریکِ پاکستان نے پاکستانی قوم کو اس کا اصل تشخص دیا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس اور سامراجی قوتیں جو خطرناک کھیل کھیل رہی تھیں، وہ ناکام ہوئیں اور مسلمانوں نے اپنے اصل تشخص کی بقا اور استحکام کے لیے جان کی بازی لگادی۔ انھوں نے بھی جن کو اس جدوجہد کے نتیجے میں سیاسی آزادی ملی اور انھوں نے بھی جو جانتے تھے کہ سامراج کے رخصت ہونے کے بعد وہ خود حقیقی آزادی کی روشن صبح سے محروم رہیں گے۔ انھیں یہ یقین تھا کہ مسلمانوں کی ایک ایسی آزاد مملکت قائم ہوگی، جو اسلام کا مظہر اور سارے مظلوم انسانوں کا سہارا ہوگی۔ نظریاتی وطن کے قیام کی اس کامیاب جدوجہد نے مغرب کی لادینی قومیت کے بت کو پاش پاش کردیا اور ملت اسلامیہ پاک و ہند نے اقبال کا ہم زباں ہوکر انسانیت کے لیے ایک نئے روح پرور تشخص کی یافت سے ایک نئے دور کا آغاز کیا:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
قیامِ پاکستان کا یہی وہ پہلو ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد پوری مسلم دنیا میں اسلامی ریاست اور اسلامی تہذیب کے احیا کی لہریں بار بار اُٹھ رہی ہیں اور سارے نشیب و فراز کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گا۔
قیامِ پاکستان کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایک طرف اہلِ پاکستان نے غلامی کی زنجیریں توڑیں، دوسری طرف برعظیم کے مسلمانوں کو امن کی جگہ میسر آئی۔ برعظیم کے مسلمانوں کے ایک بڑی تعداد ’’ہے ترکِ وطن سنت محبوب الٰہی‘‘ پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھربار چھوڑ کر اس نئے ملک کی تعمیر کے لیے سرگرمِ عمل ہوگئی۔ جس جذبے اور جن عزائم سے یہ ترک و اختیار، واقع ہوئے، وہ ہماری تاریخ کا نہایت ایمان افروز اور روشن باب ہے۔ یہی وہ جذبہ تھا، جس نے پاکستان کو ان اولیں ایام میں ایسے تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے لائق بنایا، جو اس نوزائیدہ ملک کو درپیش تھے اور جن حوادث کا ہدف اس غنچے کو پھول بننے سے پہلے ہی مَسل دینا تھا۔ آزادی خود ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا پورا اِدراک انھی لوگوں کو ہوسکتا ہے، جنھوں نے غلامی کی تاریک رات کی صعوبتوں کو برداشت کیا ہو۔ آزادی کی شکل میں جو نعمت آج اہلِ پاکستان کو حاصل ہے، وہ ہر دوسری نعمت سے زیادہ قیمتی اور حیات افروز ہے۔
اس تحریک کا تیسرا پہلو یہ تھا کہ یہ ایک عوامی اور جمہوری تحریک تھی۔ قائداعظمؒ نے مسلمان قوم کو بیداراور منظم کیا اور سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے عوامی قوت اور تائید کے ذریعے سات سال کی قلیل مدت میں وہ کام کردکھایا، جسے دوسرے، سالہا سال میں بھی انجام نہ دے سکے۔ تحریکِ پاکستان ایک عوامی تحریک تھی۔ جن کی نظر تحریکِ پاکستان کی تاریخ پر ہے، وہ جانتے ہیں کہ سیاسی اشرافیہ (elites) نے کس کس طرح اس تحریک کاراستہ روکنے کے لیے سازشوں کے جال بُنے۔ لیکن اللہ کے فضل سے قائداعظمؒ کی قیادت اور عوام کی تائید و اعانت نے اس تحریک کو آزادی کی منزل سے ہم کنار کیا۔
اس تحریک کاچوتھا پہلو یہ تھا کہ قیامِ پاکستان ،اس تحریک کی آخری منزل نہیں تھا بلکہ پہلا سنگِ میل تھا۔ اصل ہدف ایک ایسے معاشرے اور ریاست کا قیام تھا، جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی سچی وفادار اور ان تعلیمات کی آئینہ دار ہو، جو انھوں نے انسانیت کو عطا کی ہیں۔ جس میں اخلاقی اقدار کو بالادستی حاصل ہو، جہاںفرد کے حقوق کی پوری حفاظت ہو، جہاں ہر مرد اور ہرعورت کی جان، مال اور آبرو محفوظ ہو۔ جہاں تعلیم کی روشنی سے بلاتخصیص مذہب و عقیدہ ہرفرد نورحاصل کرسکے۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ جہاں حلال رزق اور معاشی ترقی کے مواقع تمام انسانوں کو حاصل ہوں۔ جہاں عدلِ اجتماعی کا بول بالا ہو اور جہاں ریاست اور اس کے کارپرداز عوام کے خادم ہوں۔ اسلام اور اس کے دیے ہوئے جمہوری اور عادلانہ نظام کا یہ تصور تھا، جس نے مسلمانوں کو اس تحریک میں پروانہ وار شریک کیا تھا اور وہ برملا کہتے تھے ہمیں ایک بار پھر اس دور کا احیا کرنا ہے، جس کی مثال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفاے راشدینؓ نے قائم کی تھی۔
آیئے، قیامِ پاکستان کے ان مقاصد اور عزائم کے پس منظر میں اپنی قومی زندگی کے اس نئے سال کے آغاز پر اس امر کاجائزہ لیں کہ پاکستانی قوم اور اس کی قیادتوں نے کہاں تک ان اہداف کی طرف پیش قدمی کی اور ملک عزیز کو آج کون سے مسائل، خطرات اور چیلنج درپیش ہیں۔ نیز ان حالات میں اصل منزل کی طرف پیش رفت کے لیے صحیح حکمت عملی اور لائحہ عمل کیا ہے۔
تحریکِ پاکستان اور تاریخ ِ پاکستان کے معروضی تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قیامِ پاکستان کا اصل سہرا اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص کے بعد اگر کسی کے سر جاتا ہے تو وہ قائداعظم کی فراست و قیادت اور مسلمان عوام کا جذبہ اور قربانی ہے۔ آزادی کے فوراً بعد ان کی بیماری اور وفات نے ایک ایسی صورت حال پیدا کردی، جس میں وہ کھوٹے سکے، جو ان کے گرد جمع تھے، اقتدار پر قبضہ جماکر ریاست کی مشینری کو بالکل دوسرے ہی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔
پہلے وزیراعظم کو گولی کا نشانہ بنا کر قومی منظر سے ہٹا دیا گیا، دوسرے وزیراعظم کو برطرفی کی تلوار کے بل پر نکال باہر کیا گیا اور ان کے مخلص ساتھیوں کو سازشوں کے ذریعے غیر مؤثر بنادیاگیا، اور چند ہی برسوں میں بساط سیاست ایسی اُلٹی کہ اصل نقشہ درہم برہم کرکے یہ مخصوص ٹولہ اقتدار کے ہرمیدان پر قابض ہوگیا۔قانون اور ضابطے کا احترام ختم ہوگیا۔ منتخب دستور ساز اسمبلی کو بار بار توڑ دیا گیا۔ انتظامیہ اور پولیس کو سیاسی قیادت نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، جو بالآخر انھی کے ہاتھوں اسیر ہوکر رہ گئی۔ فوج کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور پھر فوج نے اپنے لیے سیاسی کردار حاصل کرلیا۔ عدلیہ نے کچھ مزاحمت کی، لیکن اسے بھی زیردام لانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔
نوسال بعد پہلا دستور بنا، جسے دوہی سال کے بعد توڑ دیا گیا، اور دستور شکنی کی ایک ایسی ریت چل پڑی، جس کے مذموم اثرات سے آج بھی نجات ممکن نہیں۔ جس احساس تشخص نے قوم کو جوڑا تھا، اس پر ہر طرف سے تیشہ چلایا گیا، لادینی نظریات، علاقائیت، لسانیت، برادری کا تعصب، قبائلیت، غرض کون سا تیشہ ہے جو اس پر نہ چلایا گیا ہو۔
آزادی کے بعد۲۳سال تک بالغ راے دہی کی بنیاد پر انتخاب نہ کرائے گئے اور پھر دسمبر ۱۹۷۰ء میں انتخابات منعقد ہوئے تو وہ دھونس، دھاندلی اور بدعنوانی کا شاہ کار رہے کہ عوامی مینڈیٹ ایک مذاق بن گیا۔ سیاسی جماعتوں میں ذاتی بادشاہت، خاندانی قیادت اور علاقائی اور لسانی تعصبات کا غلبہ رہا اور حقیقی جمہوریت کے فروغ کا ہر راستہ بند کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں علاقائی تعصبات نے سیاست کو آلودہ کیا اور قومی سیاست کی گاڑی پٹڑی سے اُتر گئی۔ مغربی اور ہندو تہذیب کو رواج دینے کی دانستہ کوشش کی گئی۔
معاشی ترقی کا وہ راستہ اختیار کیا گیا جس نے ملک کو ایک طرف طبقاتی تصادم میں مبتلا کیا تو دوسری طرف مغرب کے سودی سامراج کے چنگل میں اس طرح گرفتار کردیا کہ آج ملک اندرونی اور بیرونی قرضوں کے پہاڑ جیسے بوجھ تلے سسک رہاہے۔ بیرونی قرضے ۶۰؍ارب ڈالر کی خبر لارہے ہیں اور قرضوں کا کُل حجم ۱۵کھرب روپے سے متجاوز ہے۔ وفاقی حکومت کے کُل سالانہ بجٹ کا تقریباً ایک تہائی صرف سود اور قرضوں کی ادایگی کی نذر ہورہا ہے اور ملک کا ہر بچہ، جوان اور بوڑھا ۸۰ ہزار روپے کا مقروض ہے۔
پاکستان کا اصل المیہ ہی یہ ہے کہ اصل اقتدار اور اختیار آج تک عوام کی طرف منتقل نہیں ہوا، اور سارے وسائل پر ایک طبقہ قابض ہے جس کا تعلق سیاسی، انتظامی اور عسکری اشرافیہ سے ہے اور جو باری باری اقتدار پر براجمان ہوکر ملک کے سفید و سیاہ کا مالک بنا ہوا ہے۔ قومی دولت کا ۸۰فی صد آبادی کے اُوپر کے ۱۰ فی صد کے پاس ہے۔ ۱۰/۱۲ہزار بڑے خاندان ہیں جو زراعت، صنعت اور تجارت پر مکمل تصرف رکھتے ہیں اور یہی خاندان سیاست پر بھی چھائے ہوئے ہیں۔ پارٹی خواہ کوئی بھی ہو، سول بیوروکریسی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ بھی اس گٹھ جوڑ کا حصہ ہے۔
دستور موجود ہے مگر اس کا بڑا حصہ عملاً معطل ہے۔ قانون صرف کتاب قانون کی ’زینت‘ ہے، اور عملاً قانون، ضابطے اور میرٹ کا کوئی احترام نہیں۔ پولیس سیاسی قیادت کی آلۂ کار بنی ہوئی ہے۔ ہرسمت کرپشن کا دور دورہ ہے ۔ عوام کے مسائل اور مشکلات کا کسی کو درد نہیں اور نہ کوئی ان کا پُرسانِ حال ہے۔ عدالت، خصوصیت سے اعلیٰ عدالت نے کچھ آزادی حاصل کی ہے مگر اس کے فیصلوں اور احکام کو بھی کھلے بندوں نظرانداز کیا جاتا ہے، یا عملاً انھیں غیرمؤثر (frustrate) کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ بجلی،گیس اور پانی کے بحران نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور لاقانونیت اور دہشت گردی کے سبب عوام کی جان، مال اور عزت، سب معرضِ خطر میں ہیں۔
ان حالات کو اور بھی سنگین بنادینے والے چند پہلو اور بھی ہیں، جن کا اِدراک ضروری ہے۔
ان میں سب سے اہم محاذ یہ ہے کہ ملک کے معاملات میں بیرونی قوتوں اور خصوصیت سے امریکا اور مغربی اقوام کی دراندازیاں ہیں۔ یہ سلسلہ توملک غلام محمد اور جنرل ایوب خان کے دور ہی سے شروع ہوگیا تھا مگر جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے اَدوار میں یہ اپنے عروج کو پہنچ گیا اور یہی اُلٹا سفر آج بھی جاری ہے۔ ویسے تو قوم کو اس کا پورا پورا اِدراک تھا مگر وکی لیکس، ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد کے واقعے اور شکیل آفریدی کے اسکینڈل، این آر او اور پھر جنرل مشرف کے صدارت سے استعفے کے ڈرامے، فوجی سلامی کے ساتھ رخصتی، اور پھر بیرونِ ملک روانگی کے سلسلے میں جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں اور ان میں جو کردار سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ امریکا اور برطانیہ کے سفارت کاروں کا سامنے آیا ہے، اس نے تو ملک کی آزادی اور ہماری سیاسی قسمت کی تخریب و تعمیر میں بیرونی کردار کا پردہ بالکل ہی چاک کر کے رکھ دیا ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی انھی قوتوں کی گرفت ہماری معیشت پر مضبوط تر ہورہی ہے اور سیاسی اعتبار سے بھی اندرونی معاملات کی باگ ڈور انھی کے ہاتھوں میں نظر آرہی ہے۔ سول اور فوجی تعلقات کے جو نشیب و فراز قوم نے رواں سال میں دیکھے ہیں اور دیکھ رہی ہے، معاشی پالیسیوں کی صورت گری جس طرح عالمی بنک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے اشاروں پر کی جارہی ہے اور سیاسی اُفق پر تبدیلیوں کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس نے آزادی اور قومی خودمختاری کی حقیقت کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
اس پر مستزاد وہ نظریاتی انتشار ہے جو ملک و قوم اور خصوصیت سے نئی نسلوں پر مسلط کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ بھی آج متنازع بنایا جارہا ہے۔ قراردادِ مقاصد ہدف تنقید و ملامت ٹھیری ہے۔ تاریخ کے قتل کا ہوّا دکھا کر تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ ریاست اور مذہب کے تعلق کو زیربحث لایا جا رہا ہے۔
ایک فی صد سے بھی بہت کم تعداد رکھنے والا سیکولر اور لبرل طبقہ ہے جو میڈیا پر قابض ہے، اور آزادیِ فکر کے نام پر قومی زندگی کے مسلمات کو چیلنج کر رہا ہے اور ملک و قوم میں فکری انتشار اور خلفشار پیدا کرنے اور بھارت اور مغربی اقوام کے سامراجی ایجنڈے کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ان ۶۷برسوں میں جو طبقہ حکومت، معیشت اور سیکورٹی کے نظام پر قابض رہا ہے وہ یہی سیکولر گروہ ہے جو کبھی سوشلزم کے نام پر، کبھی سرمایہ داری کے نام پر، اور کبھی روشن خیال جدیدیت کے نام پر حکمران رہا ہے اور سارے بگاڑ کا سبب رہا ہے۔ ملّا کو گالی دینا اور ہر خرابی کو ضیاء الحق کے سر تھوپنا تو اس کا وتیرا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ غلام محمد کے دور سے لے کر مشرف اور زرداری کے دور تک اقتدار اگر کسی طبقے کے ہاتھوں میں رہا ہے تو وہ یہی سیکولر مراعات یافتہ اشرافیہ ہے۔ سول دور ہو یا عسکری ، اس دوران میں یہی سیکولر طبقہ حکمران رہا ہے ۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں کچھ چیزیں اسلام کے احکام کے مطابق ضرور ہوئیں، لیکن بحیثیت مجموعی اس دور میں بھی اصل فکر اور اصل کارفرما ہاتھ بہت مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ آزادی کے چھے عشروں میں اگر کوئی فکر اور کوئی طبقہ حکمران رہا ہے تو وہ یہی سیکولر فکر اور سیکولر طبقہ ہے۔ چند مغربی محققین نے بھی اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اور عرب ممالک میں خود مسلمانوں کی مغرب زدہ سیکولر قیادت ہے جو ناکام رہی ہے اور بگاڑ کی بھی بڑی حد تک ذمہ دار یہی بدعنوان اور نااہل قیادت ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر ولفریڈ کینٹ ول اسمتھ اور پروفیسر کیتھ کیلارڈ نے بہت صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ ان ممالک میں آج جو بھی حالات ہیں وہ مذہبی قوتوں کے پیدا کردہ نہیں ہیں، بلکہ ان ممالک میں مغرب نواز سیکولر قیادتیں ان کی ذمہ دار ہیں۔
انھی حالات کا نتیجہ ہے کہ پاکستان آج صرف سیاسی اور معاشی بحران ہی کا شکار نہیں، نظریاتی، اخلاقی اور تہذیبی انتشارمیں بھی مبتلا ہے۔ حالات کی اصلاح کے لیے اس طرح کی ایک ہمہ جہتی نظریاتی تحریک اور جدوجہد کی ضرورت ہے، جیسی برعظیم کے مسلمانوں کو برطانوی اور برہمن سامراج سے نجات دلانے کے لیے اقبال کی فکری اور قائداعظم کی سیاسی رہنمائی میں برپا کی گئی تھی۔
یہی حال قانون سازی کا ہے۔ قانون بناتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ ملک و ملّت کا مفاد کیا ہے یا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟ بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ امریکا اور مغرب کس بات پر خوش ہوں گے؟ اور کس پر نکتہ چیں؟ چونکہ مغرب نے آج کل فنڈامنٹلزم اور تشدد کا ہوّا کھڑا کر رکھا ہے اس لیے ہماری قومی قیادت کی جانب سے نہ صرف قسمیں کھائی جارہی ہیں کہ ہم فنڈامنٹلسٹ نہیں ہیں بلکہ ہرقانون اور اخلاقی قدر کو پامال کر کے واشنگٹن اور اس کے گماشتوں کے آگے ناک رگڑی جارہی ہے اور انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ان بھیڑیوں اور درندوں کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ خود اقتدار میں آنے اور اقتدار میں رہنے کے لیے عوام اور پارلیمنٹ کے بجاے واشنگٹن کی خوش نودی حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
غرض سیاست، معیشت اور ثقافت و تمدن ہر میدان میں ہم اپنی آزادی اور حاکمیت پر سمجھوتے کر رہے ہیں اور جو کچھ مسلمانانِ پاک و ہند نے اپنی جان، مال اور آبرو کی قربانی دے کر حاصل کیا تھا اسے چند طالع آزما اپنے مفاد کی خاطر مسلسل دائو پر لگاتے چلے آرہے ہیں۔
یہ ہے وہ حالت ِزار جس میں، آزادی کے ۶۷سال کے بعد ماضی کے کچھ فوجی اورماضی اور حال کی کچھ نام نہاد جمہوری قوتوں کی حکمرانی کے طفیل پاکستان اور اہلِ پاکستان مبتلا ہیں۔ وہ ملک جو پوری ملت اسلامیہ کے لیے نئی اُمیدوں اور ایک روشن مستقبل کا پیغام لے کر سیاسی اُفق پر نمودار ہوا تھا، اسے ان اتھاہ تاریکیوں میں پہنچا دیا گیا ہے اور بگاڑ اس انتہا کو پہنچ گیا ہے کہ جہاں لوگ خود ملک کے مستقبل کے بارے میں مایوس ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ع
وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ!
صورتِ حال کے بگاڑ اور تاریکی کی شدت کا انکار ، دراصل حقیقت کے انکار اور عاقبت نااندیشی کے مترادف ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود ہماری نگاہ میں مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے بھی کہ مایوسی کفر ہے، اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حالات کیسے ہی خراب کیوں نہ ہوں، مومن کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا (لَاتَقْنَطُوا مِن رَحْمَۃِ اللّٰہ) ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مخلص انسانوں کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں کرے گا، جن کے خون اور عصمتوں کی قربانی سے یہ ملکِ عزیز وجود میں آیا ہے۔ اس لیے بھی کہ تاریخ کا یہی فیصلہ ہے کہ بگاڑ کی قوتیں ایک خاص حد پر پہنچنے کے بعد شکست و ریخت کا نشانہ بنتی ہیں اور خیر اور صلاح کی قوتیں بالآخر غالب ہوتی ہیں۔ جس طرح زوال اور انتشار ہماری تاریخ کی ایک حقیقت ہے، اسی طرح تجدید اور احیا بھی ایک درخشاں حقیقت ہیں ؎
گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہرشب کے سحر ہوتی ہے
سوال یہ ہے کہ اصلاح کا راستہ کیا ہے؟ ہماری نگاہ میں نہ فوج کی مداخلت حالات کو درست کرسکتی ہے اور نہ تشدد کی سیاست۔ ملکی سیاست میں تصادم اور تلخی جس حد کو پہنچ گئی ہے، اس سے صرف سیاست ہی نہیں ملک کا وجود بھی خطرے میں ہے، جس کی بڑی وجہ حکومتوں کی آمرانہ روش، تنگ دلی اور تنگ نظری ہے۔ اگر ایک طرف معاشی بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے اور وسائلِ حیات کی قلت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے تو دوسری طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ اور اب تو عالم یہ ہے کہ کراچی سے راولپنڈی تک معصوم انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور کسی کی آنکھ نہیں کھل رہی۔ یہی وہ حالات ہیں جو تشدد کی سیاست کو جنم دیتے ہیں۔
اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ملک کے وہ تمام عناصر جو حالات سے غیرمطمئن ہیں، بگاڑ کے اسباب پر متفق ہیں اور جو اصلاح کے خواہاں ہیں، وہ مل جل کر مؤثر سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کو بدلنے کی جدوجہد کریں۔ بگاڑ کے ایک ایک سبب کو دُور کرنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایک نئی قیادت اُبھرے جس کا دامن پاک ہو ، جو عوام میں سے ہو اور جو عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔
قائداعظمؒ نے اپنا مقدمہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور روایتی سیاست کاروں کے سامنے نہیں، برعظیم کے مسلم عوام کی عدالت میں پیش کیا تھا۔ ان کو بیدار اور متحد کرتے ہوئے ایک ایسی عوامی اور جمہوری لہر پیدا کی تھی کہ روایتی قیادتیں اس سیلاب کے آگے بہہ گئیں۔ آج پھر اس کی ضرورت ہے کہ جمہوری ذرائع سے جمہور کو بیدار اور منظم کیا جائے اور قیامِ پاکستان کے مقاصد کے لیے ان کو متحرک کیا جائے۔ ملکی اور غیرملکی سازشی عناصر کا اصل توڑ عوام کی بیداری اور ان کی منظم قوت ہے۔
خودقائداعظم نے اپنی ۱۹۳۶ء کی ایک تقریر میں قیادت کے لیے بڑے نپے تلے انداز میں مطلوبہ معیار کی نشان دہی کی تھی، جس پر آج ہمیشہ سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔ طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا: ’’ملکی حالات کا بغور مطالعہ کیجیے، تجزیہ کیجیے اور سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ اس بات کو یقینی بنایئے کہ مقننہ (Legislature) میں دیانت دار، حقیقی، مخلص اور محب ِ وطن نمایندے پہنچیں‘‘۔
اس کے لیے ایک طرف امریکا کی اعلان کردہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے ہمارانکلنا ضروری ہے، تو دوسری طرف ملکی وسائل کی بنیاد پر معاشی ترقی کا نقشۂ کار بنانا ضروری ہے۔ عسکری میدان میں بھی پہلے قدم کے طور پر اسلحے کے نظام اور خریداری میں مختلف ممالک سے رابطوں کی ضرورت ہے تو دوسری طرف جو حکمت عملی ۱۹۷۰ء میں بنیادی صنعتوں کے قیام اور فروغ کے سلسلے میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور اسٹیل ملز کے قیام کی صورت میں اختیار کی گئی تھی، اسے نئے حالات کی روشنی میں ایک نئے انداز میں فروغ دینا ضروری ہے۔
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی جو صورت حال ہے اسے بھی جلد اور ایک متعین شکل دے کرکے مسئلے کے اصل سیاسی، معاشی اور تعلیمی ذرائع سے حل کی طرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں بھارت سے تعلقات کے باب پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ملکی مفاد کا تقاضا ہے کہ جزوی اُمور میں اُلجھنے کے بجاے اصل بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جائے اور اس کے لیے فوری اور دیرپا دونوں نوعیت کی پالیسیاں بنائی جائیں۔ کشمیر اور پانی کے مسئلے کے حل ہی پر بھارت سے سیاسی اور معاشی تعلقات کا دیرپا بنیادوں پر فروغ ممکن ہے۔ ان اساسی پہلوئوں کو نظرانداز کرکے محض ’اعتماد سازی‘ کے اقدامات اور تجارت کا راستہ اختیار کرنا سیاسی اور معاشی ہردوپہلو سے مہلک ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایک آزاد اور حقیقی معنی میں پاکستانی مفادات اور ترجیحات پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کی جائے اور اس کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاکستانی عوام کے حقیقی جذبات اور خطوطِ کار میں بعدالمشرقین ہے۔ تمام عوامی سروے اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم امریکا اور بھارت کو اپنا دوست نہیں سمجھتی اور ان کی پالیسیوں کو ملک کے لیے سب سے اہم خطرہ شمار کرتی ہے، جب کہ جنرل مشرف دور سے اب تک حکومت کی پالیسی اور ترجیحات عوام کے جذبات اور خواہشات کی ضد ہیں۔
یہ وہ گیارہ نکات ہیں جن پر عمل کر کے قوم ایک بار پھر اسلام کے حیات بخش نظام کے قیام کے لیے متحد اور سرگرمِ عمل ہوسکتی ہے اور چمن میں اس کی روٹھی ہوئی بہار واپس آسکتی ہے۔
دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردی کے جرائم پر قانون کی گرفت کے مؤثر بنانے کے لیے قرارواقعی اقدام کی ضرورت نہ پہلے متنازع تھی اور نہ آج ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قانون سازی میں اصل ضرورت سیکورٹی اور عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی___ دونوںکے تقاضوں کو بیک وقت ملحوظ رکھنا ہے۔ کسی ایک طرف جھکائو ظلم کی ایک شکل ہے جو دستورِ پاکستان، اصولِ قانون اور شریعت، سب سے متصادم ہے اور کوئی بھی مہذب معاشرہ، چہ جائیکہ ایک اسلامی معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔
نوازشریف حکومت نے اپنی مصالح یا مجبوری کے تحت اکتوبر ۲۰۱۳ء میں دو قوانین بذریعہ آرڈی ننس جاری کیے تھے، جن میں سے ایک دہشت گردی کے خلاف قانون میں ترامیم اور دوسرا ’تحفظ ِ پاکستان‘ کے نام پر ایک نیا Draconian (اژدہائی)قانون تھا، جن پر ملک کے گوشے گوشے سے شدید تنقید ہوئی اور حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں نے بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہم نے بھی نومبر ۲۰۱۳ء کے عالمی ترجمان القرآن میں ان قوانین پر گرفت کی اور تین بنیادوں پر اسے ایک ظالمانہ اور خلافِ دستور و شریعت اقدام قرار دیا:
حکومت نے اب پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کا راستہ اختیار کیا ہے، جس کا ہم اصولی طور پر خیرمقدم کرتے ہیں۔ البتہ پارلیمنٹ سے شکایت ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری ٹھیک ٹھیک ادا نہیں کی اور سیاسی سمجھوتہ کاری اور بیرونی دبائو کے آگے سپر ڈال دینے کی روش اختیار کر کے، عوام کے حقوق کے تحفظ کے باب میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ قومی اسمبلی نے پہلے ہی دن سے تحفظ ِ پاکستان بل کے سلسلے میں سہل انگاری اور سمجھوتہ کاری کا راستہ اختیار کیا۔ پیپلزپارٹی، جمعیت علماے اسلام (ف) ، ایم کیو ایم اور اے این پی نے بظاہر مخالفت کا رویہ اختیار کیا، لیکن سیاسی مصلحتوں اور مراعات کے سایے میں چند جزوی اور غیرمؤثر ترامیم کا سہارا لے کر قانون کی تائید کا راستہ اختیار کرلیا اور یہی رویہ سینیٹ کا رہا، جس نے پہلے تو بہت شورشرابا برپا کیا اور چیلنج کیا کہ اس بل کو ہرگز منظور نہیں ہونے دیں گے، لیکن پھر ایک دم ہتھیار ڈال دیے۔
تحریکِ انصاف نے اصولی مخالفت کی مگر راے شماری کے وقت وہ بھی صرف غیر جانب دار ہوگئے۔ صرف جماعت اسلامی کے ارکان نے ڈٹ کر اس بل کی مخالفت کی،اس کے خلاف ووٹ دیا اور اب اس کے قانون بن جانے کے بعد اسے عدالت ِ عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے۔
دوسرا پہلو ان قوانین کے نفاذ کے وقت کے بارے میں تھا جو اب بڑی حد تک غیرمتعلق (irrelevant) ہوگیا ہے۔ بہت سا پانی پُلوں کے نیچے بہہ چکا ہے اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز ہوگیا ہے۔ ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آزمایش میں ملک، ہماری افواج، پاکستانی عوام خصوصیت سے متعلقہ علاقے کے ۱۰ لاکھ سے زیادہ بے گھر ہونے والے ہمارے بھائیوں، بہنوں اور بچوں کی حفاظت کرے اور ان کی اپنے گھروں کو جلد واپسی ہو۔
تیسری بنیاد دستور، اصولِ قانون اور شریعت کے اصول و ضوابط سے تصادم تھی، جو چند ترامیم کے باوجود بہت بڑی حد تک اس قانون میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر چند ترامیم کے ذریعے کچھ دانت توڑنے کے عمل کے باوجود ہم اسے ایک کالا قانون اور ظلم کا آلہ تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کے حقوقِ انسانی کمیشن اور عالمی اداروں میں ہیومن رائٹس واچ نے بھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اول الذکر نے اسے بجاطور پر ایک اژدہائی قانون (Draconian Law) قرار دیا ہے، اور ہیومن رائٹس واچ نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ عام شہریوں کے دستوری اور بنیادی حقوق کی پامالی کا اس میں بے حد سامان موجود ہے۔ڈان اور ایکسپریس ٹربیون نے اپنے ۱۳جولائی ۲۰۱۴ء کے ادارایوں میں ترمیم شدہ قانون کو بھی غیرتسلی بخش اور دستور کے خلاف قرار دیا ہے۔
جو ترامیم کی گئی ہیں انھیں ایک حد تک مثبت قرار دیا جاسکتا ہے لیکن وہ بے حد ناکافی اور ان بنیادی اعتراضات کو دُور کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہیں، جن کی بنا پر اس ظالمانہ قانون پر ہم نے اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے والے اداروں نے شدید تنقید کی تھی۔ ان ترامیم میں سے ایک کا تعلق’جنگی دشمنوں‘ (enemy combatant) کے تصور سے ہے، جسے اب نکال دیا گیا ہے اور دہشت گردی کی دو شکلوں کو ایک دوسرے سے ممیز کرنے کی کوشش کی گئی ہے، یعنی ’بیرونی یا خارجی دشمنوں‘ (enemy alien) اور ’دہشت گرد‘ (militant)۔ اول الذکر کا تعلق دہشت گردی کے مرتکب غیرشہریوں سے ہوگا، اور دوسری کا ملک کے شہریوں سے۔ یہ ترمیم بہتر ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ترمیم شدہ شکل میں بھی ’alien‘ (بیرونی)کی تعریف میں جھول ہے اور اس میں combatant (’جنگی‘) کے عنصر کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہر کوئی ’بیرونی‘ دشمن اور دہشت گرد شمار ہوسکتا ہے، جو انصاف اور بنیادی حقوق کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گرد صرف وہی غیرشہری ہوسکتا ہے جو جنگی عزائم کا حامل ہو۔ محض کسی مشکوک فرد کو ’دشمن‘ قرار دینا، اس وضاحت کے بغیر کہ وہ دہشت گردی کا مرتکب ہوا ہے، انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ تعریف میں یہ جھول خرابی کا باعث ہوسکتا ہے۔
ایک دوسری ترمیم کے ذریعے دہشت گردی کے مجرموں کے لیے سزا اب ۱۰سال سے بڑھا کر ۲۰سال کردی گئی ہے لیکن ان کی احتیاطی نظربندی ایک خلافِ انصاف عمل ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو گنجایش دی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ۲۴گھنٹے کی مدت اگر کم ہے تو ۷ یا ۱۰دن کے اندر اندر ایک شخص پر الزام عائد کیا جائے یا اس کی آزادی کو بحال کیا جائے۔ بدقسمتی سے دستور میں اس کی گنجایش موجود ہے لیکن اس قانون میں دستور کی دفعہ ۱۰ کے تحت due process of law (ضروری قانونی عمل) کے باب میں جو رخصت دی گئی ہے، یہ اس سے بہت زیادہ ہے اور اس طرح اس کے انسانی آزادیوں کے لیے خطرہ ہونے اور سیاسی بنیادوں پر استعمال کیے جانے کے خدشات موجود ہیں۔
ایک اور معمولی ترمیم قانون کی اس شق میں بھی کی گئی ہے جس میں شبہے کی بنیاد پر گولی چلانے کا اختیار پولیس، فوج اور قانون نافذ کرنے والے افراد کو دیا گیا تھا اور جسے ہم نے اور تمام ہی حقوقِ انسانی کے علَم برداروں نے، شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ہمارے اصل اعتراض کا تو کوئی مداوا نہیں کیا گیا۔ بس یہ اضافہ کردیا گیا ہے کہ ایسا حکم پولیس کے گریڈ۱۵ یا اس سے اُوپر کا کوئی افسر دے سکے گا۔ ہماری نگاہ میں محض شبہے کی بنیاد پر انسانوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا صریح ظلم اور ریاستی دہشت گردی کی ایک بدترین شکل ہے۔ پولیس مقابلے کے نام پر یہ خونیں کھیل شب و روز ہو رہا ہے ۔ حال ہی میں ماڈل ٹائون میں جو کچھ ہوا (۷جولائی ۲۰۱۴ء) وہ سب کے سامنے ہے۔ گریڈ۱۵ کی قید سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پھر یہ گریڈ۱۵ کی قید بھی صرف پولیس کے لیے ہے۔ فوج اور دوسرے نیم فوجی ادارے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ نیز ایسے اقدام کے سلسلے میں لازمی جوڈیشل ریویو کی بھی کوئی باقاعدہ گنجایش نہیں رکھی گئی ہے۔ شکایت کی شکل میں in-house inquiry (شعبہ جاتی تحقیقات) کا ذکر ہے جو ایک bluff (فریب دہی) اور لیپاپوتی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اس شق پر ہمارا اعتراض موجود ہے اور یہ دستور، اصولِ قانون اور شریعت کے قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایک اور ترمیم کے ذریعے اس قانون کی مدت دو سال کردی گئی ہے جسے قانون کی زبان میں sun-set provision (یعنی ایسا معاہدہ جو میعاد کے خاتمے پر اگر تجدید نہ کریں تو خود بخود ختم ہوجائے) کہا جاتا ہے۔ لیکن دو سال قیامت لانے کے لیے کیا کم مدت ہے کہ اس تحدید پر اطمینان کا اظہار کیا جائے۔
کم از کم یہ آٹھ پہلو ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ قانون ایک کالا قانون ہے۔ پارلیمنٹ نے اسے قانون کی شکل دے کر قوم کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں اور وہ دستور اور شریعت دونوں کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ عدالت عالیہ سیاسی مصلحتوں اور مجبوریوں سے بالا ہوکر دستور اور اصولِ شریعت کی روشنی میں اس قانون کا جائزہ لے گی اور اس کی ان تمام شقوں کو خلافِ دستور قرار دے گی جو بنیادی حقوق اور اصولِ انصاف کی ضد ہیں۔ ہم پارلیمنٹ کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس قانون پر نظرثانی کرے اور قومی سلامتی اور دستور، شریعت اور انسانی حقوق کی حفاطت اور پاسداری دونوں میں مکمل توازن کے ساتھ قانون سازی کی ذمہ داری ادا کرے ورنہ وہ ان حدود کو پامال کرنے کی مجرم ہوگی جو دستور نے اس کے اختیارات کے استعمال کے لیے مقرر کیے ہیں۔ مقننہ ہو یا انتظامیہ یا عدالت، سب دستور کی تخلیق (creatures) ہیں اور دستور کی دی ہوئی حدود کے اندر ہی وہ اختیارات کے استعمال کا حق رکھتے ہیں۔ وہ عوام اور اللہ دونوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔ انسان سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن غلطی پر اصرار غلطی سے بھی بڑا جرم ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پارلیمنٹ کو اصلاح اور اس کالے قانون میں ضروری ترمیم کی توفیق سے نوازے تاکہ وہ اس ظلم کی تلافی کرسکیں جس کا ارتکاب انھوں نے اس قانون کو منظور کر کے کیا ہے۔
۱۱مئی ۲۰۱۳ء کو منعقد ہونے والے قومی انتخابات کو، اپنی تمام تر خامیوں اور بے قاعدگیوں کے باوجود، ملکی حالات میں تبدیلی اور اصلاح کے باب میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا سمجھا جا رہا تھا اور توقع تھی کہ دو بار کا تجربہ رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے صدر جناب نواز شریف صاحب کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت مشرف اور زرداری اَدوار کی روش کے مقابلے میں پاکستان کے حقیقی مفادات اور عوام کے جذبات اور توقعات کے مطابق اور خود اپنے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ملک و قوم کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادے گی جس میں وہ پھنسی ہوئی ہے۔ سب ہی نے کھلے دل سے اس کو موقع دیا اور اچھی توقعات وابستہ کیں۔ راے عامہ کے جائزے اور اخبارات کے صفحات اس کے غماز ہیں۔
اس فضا میں پارلیمنٹ کی تمام پارٹیوں نے اپنے اپنے انداز میں اور سارے تحفظات کے باوجود، دست ِ تعاون بڑھایا اور نواز شریف صاحب نے بھی ملک کے دستور اور مسلم لیگ (ن) کے منشور کی پاس داری کے دعوے کے ساتھ اچھی طرزِ حکمرانی کا وعدہ کر کے اُمیدوں کے کچھ چراغ روشن کیے۔ عدلیہ سے ماضی کی حکومت کا جو ٹکرائو چل رہا تھا، وہ ختم ہوتا نظر آیا۔ سول اور عسکری اداروں میں نئے صحت مند تعاون اور اعتماد باہمی کی بات ہونے لگی۔ میڈیا کا رویہ بھی بحیثیت ِ مجموعی مثبت اور اُمید افزا تھا اور پھر صوبہ سندھ میںپیپلزپارٹی اور صوبہ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی اکثریت کا احترام کرتے ہوئے ان کی حکومتوں کے قیام، اور بلوچستان کے مخصوص حالات کی روشنی میں قومی وطن پارٹی کی اکثریت نہ ہوتے ہوئے بھی مسلم لیگ (ن) کی مدد سے مخلوط حکومت کا قیام ایک اچھا آغاز تھا۔ لیکن چند ہی ہفتوں میں پرانی سیاست کے تاریک سایے مطلع کو سیاہ آلود کرنے لگے، عوامی مسائل اور انتخابی وعدے پسِ پشت پڑنے لگے اور شخصی ترجیحات اور خاندانی سیاست ایک نئی شان کے ساتھ جلوہ فگن ہوگئی۔ اُمیدیں دم توڑنے لگیں، تصادم اور کش مکش کی لہریں اُٹھنے لگیں، مفادات کا کھیل پھر شروع ہوگیا، اور اُمیدوں کے جو چراغ روشن ہوئے تھے، ایک ایک کرکے بجھنے لگے۔ عوام اور سیاسی حلقوں میں مایوسی کی ایک لہر اُبھرنے لگی جو اَب شدید مایوسی کا رُوپ اختیار کرچکی ہے۔ گیلپ کے تازہ جائزے کی رُو سے ملکی آبادی کا ۴۴ فی صد حکومت کی کارکردگی سے غیرمطمئن ہے اور صرف ۸ فی صد نے مکمل طور پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پہلے ہی سال کی اس ’کارکردگی‘ پر بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے ع
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
جنرل مشرف کے اقتدار کے نو سال اور پیپلزپارٹی کی حکمرانی کے پانچ سال ہماری تاریخ کا تاریک باب ہیں۔ دونوں کی پالیسیوں میں ایک گونہ تسلسل تھا اور یہ اُس این آر او (مفاہمتی گٹھ جوڑ) کا ایک حد تک فطری نتیجہ تھا، جس کے تحت پیپلزپارٹی برسرِاقتدار آئی تھی اور جو امریکا اور برطانیہ دونوں کے بنائے ہوئے نقشے کے مطابق اور ان کی سفارت کاری کا ثمرہ تھا۔ یہ اور بات ہے کہ حالات نے کچھ ایسی کروٹ لی اور حزبِ اختلاف نے ایک خاص کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں گو جنرل مشرف کو سلامی دے کر بھی ملک سے رخصت کردیا گیا، مگر بدقسمتی سے مشرف کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو اس کے ساتھ رخصت نہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں نوازشریف صاحب نے جب جون ۲۰۱۳ء میں اپنے دورِ حکومت کا آغاز کیاتو ملک اندرونی اور بیرونی ہرمحاذ پر شدید ترین بحرانوں کی گرفت میں تھا۔
یہ تھے وہ سات بڑے بڑے چیلنج جو نواز حکومت کو درپیش تھے اور توقع تھی کہ وہ ان میں سے ہر ایک کے باب میں مناسب اور مؤثر حکمت عملی بنائے گی اور ایک واضح نقشۂ راہ کے ذریعے ملک کو اس دلدل سے نکالنے کی خدمت انجام دے گی۔
حکومت نے عوام کی اچھی توقعات اور سیاسی اور دینی قوتوں کے تعاون کی فضا میں سفر کا آغاز کیا۔ پھر نواز حکومت کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل تھی اور مخلوط حکومت کی جو مجبوریاں ہوتی ہیں، وہ اس کی راہ میں حائل نہ تھیں۔ سب سے بڑے صوبے، یعنی پنجاب میں مسلم لیگ کی اپنی حکومت تھی اور بلوچستان میں بھی مسلم لیگ کو اسمبلی میں مضبوط پوزیشن حاصل تھی اور وہ حکومت کا حصہ تھی۔ ۲۰۱۳ء تک جو سفر جمہوریت نے طے کیا تھا اس میں بھی یہ اشارے موجود تھے کہ اگر حکومت اچھی حکمرانی کا مظاہرہ کرے تو تمام دوسرے ادارے اور قوتیں دستور میں دیے ہوئے توازنِ اختیارات کی طرف سفر جاری رکھ سکیں گے اور جو عدم توازن مشرف دور میں راہ پاگیا تھا، وہ اچھی حکمرانی، آزادعدلیہ اور فعّال میڈیا کی بدولت آگے کے مراحل کامیابی سے طے کرسکے گا۔ پھر یہ بھی توقع تھی کہ مسلم لیگ کے پاس نسبتاً زیادہ تجربہ کار اور باصلاحیت ٹیم ہے جو پارلیمنٹ کی تائید اور رہنمائی میں ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے اور وقت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ان تمام مثبت پہلوئوں کی موجودگی میں توقع کی جارہی تھی کہ حالات نئی کروٹیں لیں گے، ملک مسائل سے نکل سکے گا اور پاکستان حقیقی ترقی کی منزل کی طرف ایک آزاد اور اسلامی اور فلاحی ملک کی حیثیت سے پیش رفت کرسکے گا۔ لیکن یہ تمام توقعات ان ۱۲ مہینوں میں پاش پاش ہوگئی ہیں اور پانی کی تلاش میں سرگرداں قوم کا مقدر ایک اور سراب کا نشانۂ ستم بنتا نظر آرہا ہے۔
اس ایک سال میں نواز شریف حکومت نے جو کارکردگی دکھائی ہے، اس نے قوم کو مایوس کیا ہے اور بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ وہ عناصر جو جمہوریت کو ترقی کرتے نہیں دیکھناچاہتے، پَرتول رہے ہیں کہ کس طرح وار کریں اور جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اُتار دیں۔ ہم بڑے دکھ اور دل سوزی سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ حالات کو بگاڑنے میں بیرونی عناصر کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ذمہ داری خود مرکزی حکومت کی بے عملی، غلط حکمت عملی، بُری حکمرانی، بے تدبیری ، وقتی اقدامات (adhocism) اور مہم جوئی (adventurism) پر بھی آتی ہے۔ اگر حکومت نے اپنی روش فی الفور تبدیل نہیں کی تو ہمیں خطرہ ہے کہ جمہوریت کی گاڑی کے پٹڑی سے اُترنے کے خدشات خدانخواستہ حقیقت کا رُوپ اختیار کرسکتے ہیں۔
ابھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے سرتوڑ کوشش کی جائے اور اس کے لیے تمام سیاسی اور دینی جمہوری قوتوں کا تعاون حاصل کیا جائے۔
نواز حکومت کے اس پہلے سال کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تو درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں، جن کا اِدراک اور پھر اصلاحِ احوال کے لیے مؤثر حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر عمل ہی ملک کو تباہی سے بچاسکتے ہیں۔ وقت اور مہلت کی گھڑیاں کم ہیں، اس لیے فوری توجہ اور عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ اس جائزے سے جو باتیں سامنے آئی ہیں ان کو دو بڑی بڑی درجہ بندیوں میں بیان کیا جاسکتا ہے: ایک کا تعلق طرزِحکمرانی سے ہے اور دوسری کا پالیسی کے اہداف اور خطوط کار سے۔
طرزِ حکمرانی کے باب میں صاف نظر آرہا ہے کہ وزیراعظم صاحب نے مشاورت اور فیصلہ سازی کے معروف جمہوری اور اداراتی راستے کو اختیار کرنے کے بجاے شخصی حکمرانی اور ذاتی وفاداریوں کی بنیاد پر کاروبارِ حکومت چلانے کے طریقے کو ترجیح دی ہے، جو بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ساری فیصلہ سازی ایک مختصر ٹولے میں محدود ہے جس کا انتخاب خون کے رشتے یا ذاتی دوستی یا مفادات کے اشتراک پر ہے‘ صلاحیت، تجربے اور فہم وفراست پر نہیں۔
اچھی حکمرانی کا انحصار اصول اور ضابطۂ کار پر اعتماد، مشاورت کے وسیع تر نظام، پالیسی سازی میں تحقیق اور تجزیے کا اہتمام، اور ہر کام کے لیے صحیح ترین فرد کا انتخاب اس کی صلاحیت اور دیانت کی بنیاد پر ہے۔ ذاتی پسند و ناپسند سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں اور مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔
ہر کامیاب نظام کے لیے، اور خصوصیت سے جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ، کابینہ، پارلیمنٹ اور کابینہ کی کمیٹیوں ، تحقیقی اداروں، صوبوں اور ملک کے دوسرے تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز سے مؤثر اور مسلسل مشورہ ہو۔ اس طرح پالیسی سازی باہمی مشاورت، مذاکرات اور تعاونِ باہمی کے ذریعے انجام دی جائے۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں کھلی بحث ہو۔ مرکزی حکومت کے بارے میں عام شکایت یہ ہے کہ چند افراد پورے ملک کی قسمت کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں نہ کوئی قابلِ ذکر قانون سازی ہوئی ہے اور نہ پالیسی اُمور پر بحث۔ پھر وزیراعظم صاحب پورے سال میں صرف آٹھ بار پارلیمنٹ میں تشریف لائے ہیں اور وہ بھی رسمی طور پر ۔ وزیراعظم نے بمشکل دو پالیسی بیان اس زمانے میں پارلیمنٹ میں دیے ہیں۔ سینیٹ میں پورے سال کے بعد اب ایک بار چند منٹ کے لیے شریک ہوئے ہیں، وہ بھی اس شان سے کہ جو تقریر قومی اسمبلی میں کی ہے وہی سینیٹ میں دہرا کر رخصت ہوگئے، اور مقامِ حیرت ہے کہ اس تقریر میں یہ جملہ بھی اسی طرح ادا کردیا جس طرح قومی اسمبلی میں کیا تھا کہ ’’میں نے ۲۹جنوری کو اس ایوان میں جو اعلان کیا تھا‘‘ اس سہل انگاری پر ماتم کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس بار بار یاددہانی کرا رہی ہیں لیکن اہم ترین اداروں پر یا تو تقرریاں ہوہی نہیںرہی ہیں یا اگر ہورہی ہیں تو قواعد کے مطابق مستقل تقرریوں کی جگہ ایڈہاک انداز میں نامزدگیاں کی جارہی ہیں یا قائم مقام کام چلا رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ۱۰ماہ سے خالی ہے، پیمرا کے سربراہ کا عہدہ خالی ہے، ۴۰ سے زیادہ سرکاری ادارے ہیں، جن کے سربراہوں کا تقرر اس ایک سال میں نہیں ہوسکا۔ اخباری اطلاع کے مطابق نو اہم اداروں کے سلسلے میں سمری وزیراعظم کے دفتر میں موجود ہے، لیکن ان پر فیصلے کی نوبت نہیں آتی۔ نیشنل کمیشن براے ہیومن رائٹس بل پارلیمنٹ میں مئی ۲۰۱۲ء کو منظور ہوا تھا، مگر کمیشن اور اس کے سربراہ کا تقرر آج تک معرضِ التوا میں ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا اعلان وزیرداخلہ نے پارلیمنٹ میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ NACTA کے سربراہ کا تقرر، Rapid Deployment Force کا قیام اور جائنٹ انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کا نظام دواڑھائی ماہ میں متحرک ہوجائے گا۔ یہ اعلان ۱۳؍اگست ۲۰۱۳ء کو ہوا ہے مگر ان میں سے کوئی بھی ادارہ اب تک عملاً اپنا کام شروع نہیں کرسکا ہے۔
اعلان کیا گیا تھا کہ کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ ہوا کرے گا اور دستوری ادارہ مشترکہ مفادات کی کونسل (Council of Common Intersts) کا اجلاس ہر تین ماہ میں ایک بار ضرور ہوگا لیکن کوئی بھی ادارہ اپنے وقت پر اپنا اجلاس منعقد نہیں کر رہا ہے۔ بات صرف ان ایک یا دو اداروں کی نہیں، اس سلسلے میں باقی ادارے بھی تقریباً اسی حالت میں ہیں۔
ہم بڑے دکھ سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ شخصی حکمرانی اور اہم ترین تقرریوں میں کوتاہی یا ذاتی پسند و ناپسند کا دور دورہ محض مرکز ہی میں نہیں‘ صوبوں میں بھی عام ہے۔ پنجاب تو میاں صاحب کی روایات کا اسیر ہے، لیکن خود سندھ کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں۔ کراچی جو ۳۰سال سے دہشت گردی کی لعنت کی گرفت میں ہے وہاں پولیس اور انتظامیہ سیاسی قیادتوں کی دخل اندازیوں سے تباہ ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ کے تقرر کو سیاسی کھیل بنایا ہوا ہے۔ پچھلے ۱۸مہینوں میں چھے سربراہ تبدیل ہوئے ہیں۔ اوسط مدت ملازمت ۱۲ہفتے بنتی ہے۔ شاہدحیات کو سب سے زیادہ زمانہ ایڈیشنل آئی جی رہنے کا موقع ملا، لیکن انھیں بھی نومہینے میں تبدیل کردیا گیا اور یہ سب اس کے باوجود کہ ڈی جی رینجرز ان کو قیامِ امن کے لیے عہدے پر فائز دیکھنا چاہتے تھے اور مرکزی وزیرداخلہ بھی اس تبدیلی پر کھلے بندوں احتجاج پر مجبور ہوئے، مگر چہیتوں کو تقرر کرنے والوں کا ہاتھ کوئی نہ روک سکا۔ شاید کچھ قوتیں چاہتی ہی نہیں کہ کراچی میں امن قائم ہو۔
سرکاری وسائل کو کس طرح ذاتی نام و نمود پر خرچ کیا جا رہا ہے، اس کی داستان بھی بڑی دل خراش اور شخصی حکمرانی کی بدترین مثال ہے۔ اس وقت جب تھر میں قحط پڑ رہا تھا اور بچے بھوک، پیاس اور ادویہ کی عدم فراہمی سے لقمۂ اجل بن رہے تھے، بلاول صاحب کے ’ذوقِ ثقافت‘ کی تسکین کے لیے موہن جوڈارو کا فیسٹیول منعقد کیا گیا جس پر ۲؍ارب روپے سرکاری خزانے سے خرچ کیے گئے۔ زرداری حکومت نے تحریکِ خواتین کی مدد کے پروگرام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام دے کر سیاسی فائدہ اُٹھانے کا سامان کیا۔ اب سندھ حکومت نے بے نظیر شہید ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا ہے۔ پھر لیاری میں سرکاری خرچ پر بلاول انجینیرنگ کالج قائم کیا جا رہا ہے اور لیاری ہی میں آصفہ انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس قائم کیا جارہا ہے۔ یہ سب شخصی حکمرانی کی بدترین مثالیں ہیں۔ قومی وسائل جو ایک امانت ہیں، ان کو بے دریغ ذاتی اور سیاسی مصالح کے لیے صرف کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے سمِ قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔
اندازِ حکمرانی کی اس تباہ کاری کے ساتھ قومی سلامتی و خارجہ پالیسی، اور سیاسی اور معاشی حکمت عملی کے باب میں بھی حکومت کا ریکارڈ نہایت مایوس کن ہے۔
سب سے پہلے ملک کی آزادی، حاکمیت اور خودمختاری کے مسئلے کو لیجیے۔ آزاد خارجہ پالیسی کی سمت میں کوئی پیش قدمی کسی سطح پر بھی نظر نہیں آتی۔ امریکا کا عمل دخل حسب سابق جاری وساری ہے۔ ڈرون حملے چھے ماہ کے تعطل کے بعد پھر اسی زور و شور سے شروع ہوگئے ہیں اور مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حکومت پاکستان کی اجازت اور فوجی انٹیلی جنس کے تعاون سے ہماری حاکمیت پر یہ حملے کیے جارہے ہیں۔ امریکاکو ۱۰سال کی کوشش اور دبائو کے بعد شمالی وزیرستان میں آپریشن کرانے میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے اگرچہ اس کی ذمہ داری خود لی جارہی ہے، لیکن حقیقت وہی ہے جس کا اظہار ۱۵جون کے اقدام کے دو دن بعد ۱۷؍جون ۲۰۱۴ء کے انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز میں کیا گیا ہے۔ یعنی: ’’۱۰سال بعد جاکر امریکی مطالبے کو بڑی مشکل سے پذیرائی ملی، اگرچہ پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے بہت بڑا رسک ہے‘‘۔ ۲۶ جون کو امریکا میں پاکستان کے سفیر جناب جلیل عباس جیلانی نے صاف الفاظ میں اس دعوے پر یہ کہہ کر مہرتصدیق ثبت کردی ہے کہ: ’’امریکا وزیرستان آپریشن کے بارے میں مثبت رویہ رکھتا ہے اور کولیشن سپورٹ فنڈوزیرستان آپریشن کے لیے ہے ۔ امریکا پاکستانی فوج کی قربانیوں کا معترف ہے‘‘۔
قومی سلامتی اور خارجہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر نے ایک سے زیادہ بار اس امر کا اظہار کیا ہے کہ: پاکستان افغانستان سے امریکی افواج کی ۲۰۱۴ء کے اختتام پر واپسی پر ناخوش ہے اور وہ امریکی افواج کے مزید افغانستان میں رہنے کاقائل ہے۔ حالانکہ علاقے میں امن کے قیام کا اس وقت تک کوئی امکان نہیں جب تک امریکی اور ناٹو افواج کاافغانستان سے مکمل انخلا نہیں ہوجاتا اور افغانستان میں ایک ایسی قومی حکومت وجود میں نہیں آتی، جس میں تمام افغان، بشمول طالبان، شریک ہوں۔لیکن ہماری حکومت وہی راگ الاپ رہی ہے جو مشرف نے امریکی صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر کی آواز میں ملاکر شروع کیا تھا۔
طالبان کے تصورِ اسلام کے بارے میں ہمارے تحفظات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہم نے ان کا اظہار اس وقت کیا جب طالبان افغانستان میںبرسرِاقتدار تھے اور امریکا کی خفیہ تائید انھیں نہ صرف حاصل تھی بلکہ ان کے ساتھ توانائی اور معدنیات کی دریافت کے لیے کھلے مذاکرات کیے جارہے تھے۔
۱۳سال کی افغان جنگ کے بعد اب امریکی قیادت اور تحقیقی ادارے یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ طالبان افغانستان میں ایک حقیقت ہیں اور ان سے مذاکرات اور ان کی حکمرانی میں شرکت کے بغیر وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ امریکا اور طالبان میں مذاکرات کے سلسلے بھی ڈھکے چھپے اورکھلے بندوں جاری ہیں اور قیدیوں کا تبادلہ بھی کھلے عام ہورہا ہے۔
ان حالات میں پاکستان کی قیادت کا ان کے خلاف اور خصوصیت سے حقانی گروپ جس سے پاکستان کوکبھی کوئی خطرہ نہیں تھا کے خلاف ہونا ایک ناقابلِ فہم معاملہ ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کے نام پر کی جانے والی ان تمام کارروائیوں کی ہم نے ہمیشہ مذمت کی ہے، جن میں معصوم انسان شہید کیے گئے ہیں یا ریاستی اور قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اسی طرح ہم قوت کے ذریعے شریعت یا جمہوریت اور سیکولر لبرلزم دونوں کے قیام کے ہمیشہ سے مخالف رہے ہیں اور اسے اسلام اور معروف جمہوری اور سیاسی اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔ نیز ہم نے ہمیشہ اس راے کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی ایک قسم نہیں ہے اور اس کی ہرہرنوعیت کو سامنے رکھ کر اس کا مقابلہ اور ازالہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ لیکن ہماری آواز مقتدر حلقوں کے لیے صدابصحرا ثابت ہوئی اور فوجی آپریشن کے دائرے کو شمالی وزیرستان تک وسیع کردیا گیا ہے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اب بھی پاکستانی حکومت، ہماری افواج اور خود طالبان کو ہدایت دے اور وہ بندوق کے بجاے دلیل اور افہام و تفہیم سے معاملات کو طے کرنے کا راستہ اختیار کریں۔ پاکستان کی افواج ہماری قیمتی متاع ہیں اور ہم قوم اور وطن کے لیے ان کی خدمات اور قربانیوں کے دل سے معترف اور ان کی قوت اور کامیابی کے لیے دعاگو ہیں لیکن جس عمل کو ہم بے فیض دیکھ رہے ہوں تو اس کے بارے میں اپنے تحفظات کے اظہار کے باب میں کسی مداہنت کو بھی صحیح نہیں سمجھتے۔ ہماری کوشش تھی کہ نوبت آپریشن تک نہ آئے اس لیے ہم مذاکرات شروع کرانے کے لیے کوشاں رہے۔ لیکن اب، جب کہ آپریشن شروع ہوگیا ہے تو ہماری خواہش اور دعا ہے کہ یہ جلد از جلد ختم ہو اور معاملات کے سدھار اور اصلاح کا کوئی معقول راستہ اب بھی نکل آئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہرممکن کوشش اس امر کی ہو کہ اس سے جو مشکلات اور مسائل علاقے کے عوام کے لیے پیدا ہوگئے ہیں، ان کے فوری حل کے لیے تمام وسائل بروے کار لائے جائیں۔
جماعت اسلامی کے کارکن اور الخدمت کے سرفروش مقدوربھر کوشش کر رہے ہیں کہ ۷لاکھ افراد جو بے گھر ہوگئے ہیں اور دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ان کی ہرممکن مدد کی جائے۔ پتا نہیں ان کی آزمایش کی مدت کتنی طویل ہوگی۔ اس موقعے پر اس امر کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ مرکزی حکومت نے اس آپریشن کے نتائج سے نبردآزما ہونے کے لیے کوئی تیاری نہیں کی، حالانکہ اسے چھے مہینے ملے تھے کہ خراب سے خراب صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پیش بندی کرتی، صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیتی، مناسب مقامات پر بے گھر ہونے والے متاثرین (IDPs) کے قیام اور طعام کا انتظام کرتی اور اس کے لیے مناسب وسائل فراہم کرتی، تاکہ مرکز اور صوبے دونوں کے تعاون اور اشتراک سے اس صورتِ حال کا مقابلہ ہوسکتا۔
یہاں بھی حکومت نے اس سہل انگاری کا مظاہرہ کیا جو اس کے اندازِ حکمرانی کا خاصّہ بن گیا ہے۔ پہلے ۱۰ دن میں ساڑھے چار لاکھ افراد صرف بنوں کے علاقے میں رجسٹر ہوچکے تھے۔ سوات اور دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہونے والے افراد اس کے علاوہ ہیں۔ کم سے کم اندازہ ہے ان ۱۰دنوں میں ۷لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے کمالِ فیاضی سے اس کے لیے ۵۰کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا، جب کہ اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق فوری طور پر کم از کم ۲۸؍ارب روپے درکار ہوں گے۔ اس حکومت کی ترجیحات کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اسی زمانے میں پنڈی اسلام آباد ۲۴کلومیٹر کے میٹروبس پراجیکٹ کے لیے ۴۴؍ارب ۲۱کروڑ کی رقم رکھی گئی ہے۔
یہ تو فوری ضرورت ہے، لیکن دہشت گردی کے مسئلے کا صرف یہی ایک پہلو نہیں۔ اس کے تمام پہلوئوں کے بارے میں مناسب حکمت عملی کی فوری ضرورت ہے۔ اس وقت جہاں بے گھر ہونے والے متاثرین کا مسئلہ سب سے اہم مسئلہ بن گیا ہے اور فوری توجہ چاہتا ہے، وہیں دہشت گردی کے تمام اسباب کو سامنے رکھ کر ہمہ گیر پالیسی بنانے کی بھی ضرورت ہے، جس سے صرفِ نظر تباہ کن ہوگا۔ امریکا سے تعلقات پر نظرثانی اور امریکی جنگ سے نکلنے کے راستوں سے غفلت بہت ہی خسارے کا سودا ہوگا۔ ملک کے باقی تمام علاقوں میں جو دہشت گردی ہے، اس سے نبٹنے کے لیے بھی صحیح پالیسی اور اقدام درکار ہیں۔ یک رُخی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ نیز جو پالیسی محض ردعمل میں بنائی جائے یا جس کا محرک غصہ، بدلہ یا انتقام ہو، وہ خیروبرکت کا باعث نہیںہوسکتی۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ حکومت تمام سیاسی اور دینی قوتوں کو اعتماد میں لے اور کھلے ذہن کے ساتھ مسئلے کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھ کر زیادہ سے زیادہ قومی اتفاق راے پیدا کرکے ہمہ جہتی پالیسی بنائے۔ حالات کو سنبھالنا، نقصانات کو کم سے کم کرنا اور تباہ حال خاندانوں کو سینے سے لگانا اور ان کی مشکلات کو دُور کرنا ہم سب کی مشترک ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی کوتاہی بڑی مہنگی پڑسکتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فاٹا پر ہمارا دستور ۶۷سال سے لاگو نہیں ہے اور سوات، باجوڑ اور دوسرے علاقوں میں جہاں فوجی آپریشن ہوا ہے پانچ سال گزرنے کے باوجود سول نظام بحال نہیں ہوسکا ہے۔ شمالی وزیرستان کے آپریشن کے ۱۰، ۱۱ دن ہی میں جو کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور جو خطرات منڈلا رہے ہیں ان سے صرفِ نظر تباہ کن ہوگا۔ ٹی وی اینکر اور کالم نگار سلیم صافی نے بڑی دردمندی کے ساتھ متنبہ کیا ہے کہ ذرا سی غلطی کتنی خطرناک ہوسکتی ہے:
اللہ کے بندو! اس ملک اور اس قوم پر رحم کرو۔ ہماری خاطر نہیں اپنی اولاد کی خاطر۔ یہ ۷لاکھ آئی ڈی پیز [بے گھر ہم وطن] نہیں ہیں۔ آپ لوگوں کا رویہ یہ رہا تو یہ ۷لاکھ خودکش بمبار بن جائیں گے۔ آج آپ لوگ سیاست اور اقتدار کے نشے میں مبتلا ہو لیکن یاد رکھو آپ پر بھی کبھی یوسف رضا گیلانی والاوقت آسکتا ہے اور خاکم بدہن آپ میں سے بھی کسی کا بیٹا حیدرگیلانی یا شہباز تاثیر بن سکتا ہے۔ ہماری خاطر نہیں، اپنے بچوں کی خاطر ان ۷ لاکھ وزیرستانیوں کی طرف توجہ دو تاکہ وہ خودکش بمبار، طالب یا پھر اغواکار بن کر مستقبل میں آپ کے بچوں کے ساتھ وہ کچھ نہ کریں، جو انھوں نے ایک سابق گورنر اور سابق وزیراعظم کے بیٹے کے ساتھ کیا ہے۔ (روزنامہ جنگ، ۲۴جون۲۰۱۴ء)
اندازِ حکمرانی کی اصلاح کے ساتھ بیرونی اور اندرونی سلامتی کی پالیسی کی اصلاح کو اولیں اہمیت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہمارا مرکزی ہدف درست ہونا چاہیے۔ پاکستان کی سلامتی اور اس کو درپیش حقیقی خطرات___ بیرونی اور اندرونی دونوں پر توجہ مرکوز رکھنا ضروری ہے۔ اندرونی خطرات کو نظرانداز کرنا خودکشی کے مترادف ہوگا اور اندرونی خطرات کے غبار میں بیرونی خطرات سے صرفِ نظر اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اندرونی خطرات کے اسباب کے ساتھ ان کے بیرونی رابطوں کا شعور اور ان کے مقابلے کی حکمت عملی بھی سلامتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
افغانستان سے اختلافات اور نوک جھونک تو قیامِ پاکستان کے وقت سے رہی ہے، لیکن افغانستان سے پاکستان کی سلامتی کو کبھی حقیقی خطرہ نہیں رہا۔ پہلی بار واضح خطرے کاسگنل افغانستان میں روس کی بالواسطہ مداخلت (ترکی ریولیوشن) سے رُونما ہوا، اور ڈیڑھ سال کے اندر اندر بالآخر دسمبر ۱۹۷۹ء میں روس کی بلاواسطہ فوج کشی کی صورت میں ایک فوری خطرے کی شکل اختیار کرلی۔ پاکستان کا ردعمل اسی وجہ سے ہوا اور اسی سے ہمارے دفاعی اور سلامتی کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوئی اور اس وقت سے آج تک افغانستان ہماری خارجہ پالیسی کا ایک مرکزی ایشو بن گیا۔
افغانستان میں بھارت کا کردار ۱۹۴۷ء سے تھا، مگر افغانستان پر امریکی فوج کشی اور بھارت اور امریکا کی اسٹرے ٹیجک شراکت کاری نے افغانستان میں اور افغانستان کے راستے میں بھارت کے کردار کو ایک نئی شکل دی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں ایک ایسا رشتہ کہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا اور پشتی بان ہوں، دونوں کے مفاد میں ہے اور اس کا راستہ ایک دوسرے کے معاملات میں حقیقی عدم مداخلت کے ساتھ تعاون اور افغانستان میں ایسے نظام کا ہے جو قومی مفاہمت اور یک رنگی سے عبارت ہو۔ تاہم، یہ اسی وقت ممکن ہے، جب افغانستان کے تمام عناصر اور خصوصیت سے پشتون، ہزارہ اور تاجک مل کر اپنے معاملات کو سنبھالیں۔ طالبان سے مذاکرات اور مفاہمت کی ضرورت خود امریکا محسوس کر رہا ہے اور پاکستان کا بہترین مفاد بھی اُس افغان یک جہتی کے حصول میں ہے جس میںسب افغان شریک ہوں۔ وزیرستان میں آپریشن اس کا ذریعہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس مقصد سے دُور کرنے کا باعث ہوگا۔ ہماری قومی سلامتی کی پالیسی میں اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے دوستی چاہتا ہے لیکن بھارت سے جو خطرات ہماری قومی سلامتی کو درپیش ہیں، ان سے صرفِ نظر کرنا بدترین تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ افغانستان میں نئے صدارتی انتخاب کے نتیجے میں جو بھی تبدیلی آئے گی اور جو بھی نئی قیادت برسرِاقتدار آتی ہے، پاکستان کو اس سے یک جان و دو قالب کے رشتے کو استوار کرنے کو اوّلیت دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ بھارت میں جس نئی قیادت نے زمامِ کار سنبھالی ہے اس کے عزائم، تاریخ اور ترجیحات کا بھی گہری نظر سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت میں دوستانہ تعلقات دونوں ممالک کی ضرورت ہے، لیکن یہ مقصد یک طرفہ طور پر حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جو بنیادی تنازعات موجود ہیں، ان کو حق وانصاف کے مطابق طے کیا جائے اور محض طاقت اور معیشت کے حجم کی بنیاد پر یاجزوی اور شخصی مفادات کو اولیت دے کر لیپاپوتی کے ذریعے حالات کو نارمل بنانے یا سمجھنے کی حماقت نہ کی جائے۔ جناب نواز شریف کا ذہن اس سلسلے میں بڑا پراگندا ہے۔ وہ بھارت کی تاریخ ، اس کے سیاسی اور معاشی عزائم اور اس کی سیاست کے پیچ و خم سے واقف نہیں اور اس غلط فہمی اور خوش خیالی میں مبتلا ہیں کہ تجارت اور معاشی لین دین سے تعلقات کو نئی جہت دے سکتے ہیں۔
ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بھارت کی طرف سے خطرات کا ان کو صحیح اِدراک نہیں اور جناب نریندرمودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کے بارے میں وہ شدید غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ اور ہماری عسکری قیادت کو حالات کا بہتر اِدراک ہے۔ بھارت سے مستقبل کے تعلقات کے مسئلے کو شخصی پسنداور ترجیحات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ اس سلسلے میں پوری سوچ بچار اور تمام پہلوئوں پر گہرے غوروفکر کے ساتھ کسی تاخیر کے بغیر ایک دیرپا پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف صاحب نے جس طرح نریندرمودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے موقعے پر معاملات انجام دیے ہیں، وہ بہت محل نظر ہیں۔ وہ اپنے کاروباری صاحب زادے حسن نواز کو اس دورے میں ساتھ لے کر گئے، چنانچہ بھارت میں لوہے کی صنعت کے کرتادھرتا سے ان کی ملاقاتوں کے بارے میں بجاطور پر سوالیہ نشان اُٹھائے گئے ہیں، جو سنجیدہ غوروفکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر کشمیر کے مسئلے پر جس طرح اس دورے میں خاموشی کا روزہ رکھ لیا گیا اور حسب سابق کشمیری قیادت سے ملاقات تک کی زحمت نہیں کی گئی وہ بہت تشویش ناک ہے۔ آزاد خارجہ پالیسی کے باب میں بھارت کے بارے میں پالیسی اور جنوب سے اُبھرتے ہوئے خطرات کی روشنی میں عسکری اور سفارت کاری کے میدانوں میں صحیح حکمت عملی کی صورت گری ازبس ضروری ہے۔
آزاد خارجہ پالیسی کے سلسلے میں سب سے اہم مسئلہ امریکا سے تعلقات کی تنظیم نو ہے جو خواہشات کی بنیاد پر نہیں،اصل زمینی حقائق اور پاکستان کے مفادات کی بنیاد پر مرتب ہونی چاہیے۔ نیز مشرق وسطیٰ خصوصیت سے شام، عراق، لیبیا، مصر اور ایران کے سلسلے میں امریکا کی جو پالیسی ہے، اسے بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ حالیہ افغان جنگ میں امریکا نے جو کچھ کھو دیا ہے اور جو کچھ پایا ہے، اس پر امریکا کے علمی، سفارتی، صحافی اور سیاسی حلقوں میں بحث ہورہی ہے اور اس بحث کے دُور رس نتائج مرتب ہونے کی توقع ہے۔ امریکا کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کو جو حیثیت حاصل ہے وہ بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح امریکا اور بھارت کے تعلقات نے جو رُخ گذشتہ ۱۰سال میں اختیار کیا ہے، اس کا پاکستان اور اس کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں سے گہرا تعلق ہے۔ امریکا میں راے عامہ اور سیاسی اور سفارتی حلقوں میں پاکستان کا جو تصور ہے، اس سے صرفِ نظر کرکے خیالی پالیسیاں بنانا بڑا خسارے کا سودا ہوسکتا ہے۔ اس لیے پوری عرق ریزی کے ساتھ اور حقیقت پسندی کا دامن تھامتے ہوئے تعلقات کا ایک نیا دروبست بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بات بھی سامنے رہے کہ پاکستانی عوام کی نگاہ میں امریکا سب سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ملک ہے اور امریکی راے عامہ کی نگاہ میں پاکستان کی یہی تصویر ہے۔ دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کا شدید فقدان ہے اور تعلقات کو نئی جہت دینے کا کام ان زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے انجام دینا بڑی حماقت ہوگی۔ ہیلری کلنٹن نے اپنی یادداشتیں مرتب کی ہیں، اس میں اس نے اعتماد کے فقدان کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے صاف لکھا ہے کہ اسی وجہ سے ایبٹ آباد کے امریکی آپریشن کا اہتمام پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا۔ یہ صرف ہیلری کلنٹن کے خیالات نہیں پوری امریکی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی اور ذہنی قیادت کی سوچ کا آئینہ ہے۔ امریکا اس وقت مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کی تشکیل نو میں جو کردار ادا کر رہا ہے اور افغانستان اور عراق میں امریکی مداخلت کا جس سے گہرا تعلق ہے، اس کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ امریکی دانش ور اور عسکری تجزیہ نگار پاکستان اور عرب دنیا کے نقشوں کی ٹوٹ پھوٹ کی جو تصویریں بنا رہے ہیں، وہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
نائن الیون کے بعد سے اسلام اور مسلم دنیا کو جس طرح ہوّا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ محض شاعرانہ خوش خیالی نہیں، سیاسی عزائم اور ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ دوستی اور تعاون کے رشتوں کو قائم رکھنے کے تمام دعوئوں کے ساتھ جو ذہن بنایا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ امریکا کے لیے اصل خطرہ پاکستان ہے۔ اس کا بڑا ہی کھل کر اظہار اسی مہینے شائع ہونے والی کتاب The Wrong Enemy میں کیا گیا ہے جس کی مصنفہ ایک مشہور صحافی کارلوٹا گال ہے، جس نے گذشتہ ۱۲برس افغانستان اور پاکستان سے نیویارک ٹائمز کی نمایندے کی حیثیت سے کام کیا ہے اور جسے امریکا میں دونوں ممالک پر ایک مستند حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ موصوفہ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ افغانستان پر فوج کشی کرکے ہم نے ناحق اپنے فوجیوں کی جانیں اور اپنے ٹیکس دینے والوں کی دولت کو ضائع کیا۔ ہمارا اصل دشمن تو پاکستان ہے اور جب تک اسے ٹھکانے نہیں لگایا جاتا، امریکا کے مفادات معرضِ خطر میں رہیں گے۔ ملاحظہ ہو ، کیا ارشاد ہے:
جنگ ایک المیہ رہی ہے جس کی قیمت اَن گنت زندگیوں نے چکائی ہے۔ یہ بہت طویل عرصے سے جاری ہے۔افغانی کبھی بھی دہشت گردی کے وکیل نہیں رہے، لیکن نائن الیون کے بعدسزا کا اصل دبائو انھوں نے ہی برداشت کیا۔پاکستان جو اتحادی فرض کیا جاتا ہے دھو کے باز ثابت ہوا۔ اس نے افغانستان میں تشدد کو اپنی بالادستی جیسے مقاصد کے لیے آگے بڑھایا ہے۔ پاکستان کے جرنیلوں اور ملائوں نے اپنے آپ کو، اپنے افغان پڑوسیوں کو اور ناٹو کے حلیفوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان نہیں، پاکستان حقیقی دشمن رہا ہے ۔ (The Wrong Enemy: America in Afghanistan (2001-2014) by Carlotta Gall, Houghton Mifflin Harcourt, Boston- New York-2014)
ہم ایک بار پھر واضح کرناچاہتے ہیں کہ پاکستان کو دنیا کے تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے چاہییں۔ ہم دوست بنانا چاہتے ہیں، دشمن نہیں۔ لیکن یہ تعلقات حقائق پر مبنی ہونے چاہییں، اور پاکستان کے حقیقی مفادات کے حصول کو اولیت حاصل ہونی چاہیے۔ حقائق کو نظرانداز کرکے جو اڑان بھی کی جائے گی، وہ مفید نہیں ہوسکتی ع
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
نواز حکومت نے اس ایک سال میں خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے باب میں جو بھی پالیسیاں بنائی ہیں اور اقدامات کیے ہیں، ہم بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ بڑی حد تک سابقہ اَدوار کے تسلسل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ملک کے اسٹرے ٹیجک مفادات اور عوام کے جذبات جن تبدیلیوں کا تقاضا کر رہے تھے، ان کی کوئی جھلک ان میں دُور دُور نظر نہیں آتی۔ جو بات خارجہ پالیسی، قومی سلامتی کی پالیسی اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی حکمت عملی کے سلسلے میں درست ہے، کم و بیش وہی ملک و قوم کو درپیش دوسرے چیلنجوں اور مسائل پر بھی صادق آتی ہے جن پر حسب توفیق ہم آیندہ گفتگو کی کوشش کریں گے۔ البتہ اس پہلے سال کے جائزے کا یہ پیغام واضح ہے کہ ملک و قوم کو جس تبدیلی کی ضرورت تھی، اس کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ ابھی وقت ہے اورحکومت اگر چاہتی ہے کہ پاکستان اس دلدل سے نکلے اور جمہوریت کی گاڑی آگے چل سکے، تو اسے اپنی روش میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔
روزہ ایک عظیم عبادت اور دین کے ان ستونوں میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے جن پر اس کی پوری عمارت مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزہ اللہ رب العزت کا اپنے بندوں پر ایک بہت ہی عظیم الشان انعام ہے اور اس نعمت کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
اللہ کے اس انعام کا ایک پہلو ایسا ہے جو اسے عبادات اور احکام ِالہی میں منفرد بنا دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ وہ عمل ہے جس کا گواہ اللہ اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔نماز عماد الدین ہے مگر وہ دل کی حضوری کے ساتھ جسم کے ایسے اعمال و اظہارپر مشتمل ہے جن کی وجہ سے جماعت ہی میں نہیں ، تنہائی میں، حتیٰ کہ گھر کی چار دیواری میں ادا کی جانے والی نماز بھی دوسروں کی نظر سے اوجھل نہیں ہو سکتی۔ حج تو پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک اجتماع ہے ہی۔ اس طرح زکوٰۃ اگر مکمل اخفا کے ساتھ ادا کی جائے تب بھی کم از کم ایک شخص، یعنی اس کا وصول کرنے والا تو اس راز میں شریک ہو ہی جاتا ہے۔ لیکن روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر ایک شخص سب کے ساتھ سحری کرے اور سب کے ساتھ افطار کرے، تب بھی تنہائی میں اس کے کھانے پینے سے احتراز کرنے کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر ایک شخص دنیا کو دھوکا دینے کے لیے روزے کے تمام اجتماعی آداب کا احترام کرے لیکن تنہائی میں کھا پی لے، تو دنیا کی کوئی آنکھ اس کے روزے پر شک نہیں کرے گی، البتہ اللہ اس کی حرکات سے بخوبی واقف ہوگا۔
روزہ صرف اللہ کے لیے ہے اور وہی اس کا گواہ ہے۔ اس طرح بندے کے رب سے تعلق کا یہ پہلو روزے کی امتیازی شان ہے ___کہ جلوت اور خلوت سب اللہ کے حکم اور اس کی رضا کے پابند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ اپنے تمام اجتماعی پہلوؤں کے باوجود صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب کریم نے یہ مژدہ بھی سنا دیا ہے کہ صرف وہ اس کا اصل اجر دینے کا ذمہ دار ہے۔ گویا روزہ بندے اور رب کے بلاواسطہ تعلق کا عنوان ہے اور صرف رب کا بندہ بن جانے کی علامت ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو اسے اسلام کی روح اور اس کے اصل جوہر کا مظہر بناتی ہے ۔
صرف اللہ کا بندہ بننے اور اس کی رضا کے لیے بھوک پیاس اور شہوت کی جائز ذرائع سے تسکین سے بھی اجتناب، انسان کو تقویٰ کی اس نعمت سے مالا مال کرتا ہے جو دنیا اورآخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے، اور جو انسان میں وہ صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو اسے اللہ کی ہدایت سے فیض یاب ہونے میں ممد و معاو ن ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی ہدایت کے لیے جن کو اہل قرار دیا ہے وہ اصحا بِ تقویٰ ہی ہیں (البقرہ ۲:۲)۔ روزہ انسان کے اندر وہ تقویٰ پیدا کرتا ہے جو اسے ہدایت ربانی سے مستفید ہونے اور اس کا علَم بردار بننے کے لائق بنا تا ہے: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo (البقرہ ۲:۱۸۳) ’’اے ایمان لانے والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہو سکے‘‘۔ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے اور روزے اور قرآن کا تعلق ایک جان اور دو قالب جیسا ہے۔ شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَــیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ(البقرہ ۲:۱۸۵) ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے‘‘۔
ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ نزول قرآن کا آغاز غار حرا میں ہوا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل عبادت فرماتے اور روزے رکھتے تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب تورات سے نوازا گیا تو ان ایام میں آپ بھی روزے کا اہتمام فرما رہے تھے۔ روزہ اور قرآن کا یہی نا قابلِ انقطاع تعلق ہے جس کا تجربہ اور جس کی شہادت امت مسلمہ ماہِ رمضان میں قرآن سے تعلق کی تجدید کرکے کرتی ہے۔ اس طرح روزہ ہماری زندگیوں میں ہدایت ربانی کوحرز جان بنانے کا ذریعہ ا ور وسیلہ بن جاتا ہے__ یہ اللہ کا عظیم ترین انعام نہیں تو اور کیا ہے؟
اس انعام الٰہی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ روزے کی حقیقت کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جائے اور محض روایتاً یا مسلم معاشرے کے ایک معمول کے طور پر نہیں بلکہ پورے شعور کے ساتھ اور اس کے مقاصد اور آداب کے پورے اِدراک اور اہتمام کے ساتھ روزہ رکھا جائے، نیز رمضان میں حاصل کی جانے والی تربیت کی روشنی میں سال کے باقی ایام گزارے جائیں۔ جس طرح چارجنگ کے بعد گاڑی کی بیٹری اپنا کام ٹھیک ٹھیک انجام دیتی ہے، اسی طرح انسانی جسم اور زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے رمضان کے روزے اور قرآن سے تجدیدعہد، انسانی جسم وجان کی بیٹری کو چارج کرتے ہیں اور پھر باقی ۱۱مہینے اس قوت کے سہارے یہ گاڑی رواں دواں رہتی ہے ___ اس سے بڑا انعام ہمارے رب کی طرف سے اور کیا ہو سکتا ہے؟
بندہ کے اپنے رب سے تعلق کے تین پہلو ہیں: پہلا اور سب سے اہم رب کو پہچاننا ، اس سے عہد وفا باندھنا، ہر لمحے اس عہد کا ادراک رکھنا اور ہر دوسری غلامی اور وفا داری سے نجات پا کر صرف اللہ ، اپنے خالق اور مالک کا بندہ بن جانا ہے۔ دوسرا پہلو فرد کی اپنی ذات کی تربیت ، تزکیہ اور ترقی ہے تا کہ وہ اپنے رب کے انسانِ مطلوب سے زیادہ سے زیادہ قربت حاصل کر سکے۔ اس کے لیے نمونہ اللہ کے پیارے رسولؐ کا اسوۂ مبارکہ اور سنت ِمطہرہ ہے۔ اپنی ذات کی مسلسل اصلاح اور صفاتِ محمودہ کے رنگ میں اپنے کو رنگنے اور صفاتِ مذمومہ سے بچنے کی مسلسل کوشش اصلاحِ ذات اور بندگیِ رب کا اولیں اور مستقل تقاضا ہے۔ اس تعلق کا تیسر اپہلو دنیا اور اس کے رہنے والوں سے تعلق کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اللہ کی ہدایت ہی یہ رہنمائی بھی دیتی ہے کہ دوسرے انسانوں، معاشرہ، ریاست، انسانیت اور کائنات ، ہرایک سے کس طرح معاملہ کیا جائے تا کہ اللہ کی رضا حاصل ہو، اور حق و انصاف کے قیام کے ذریعے انسانوں کی زندگی خیر و فلاح کا نمونہ بن جائے۔
اسلام ان تینوں جہتوں کے باب میں صحیح تعلق اور صحیح رویے کا نام ہے۔ یہ سب اللہ کی بندگی کے ایک ہی دائرے کا حصہ ہیں اور کسی بھی جہت کو نظرانداز کرنا یا عبدیت کے دائرے سے باہر تصور کرنا شرک، بغاوت اور طاغوت کا بندہ بننے کے مترادف ہے۔ روزہ ان تینوں میدانوں میں بیک وقت بندہ کا تعلق اپنے رب سے جوڑنے اور اس تعلق کی روشنی میں زندگی کے ہر دائرے اور پہلو کو ہدایت الٰہی کے مطابق گزارنے اور نور ربانی سے منور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے دعوتی زندگی کا آغاز ۱۹۳۳ء میں ترجمان القرآن کے ذریعے کیا۔ آٹھ سال کی مسلسل جدوجہد کے ذریعے فکری میدان میں باطل نظریات پر ضربِ کاری لگائی اور اسلامی فکر کی تشکیلِ نو اور محکم دلائل سے اس فکر کی بالادستی کو وقت کی اصل ضرورت قرار دیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے چومکھی لڑائی لڑی اور مسلمانوں کے سامنے اسلام کی روشن شاہراہ واضح کرکے اصل منزل کی ان کے سامنے نشان دہی کردی۔ برعظیم پاک و ہند کی، اس وقت کی ذہنی فضا میں ، جہاں یہ ایک منفرد اور چونکا دینے والی آواز تھی، وہیں قرآن و سنت کی اصل دعوت کے احیا کے لیے یہ ایک انقلابی اقدام بھی تھا۔
اسلامی احیا کا یہ تصور ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں رکھتا تھا، جو ہمارے اکابر کی علمی، فکری اور دعوتی جدوجہد کا فطری اور منطقی نتیجہ تھا۔ برعظیم کے مسلمانوں پر مغربی تہذیب اور یورپی استعمار کے فکری اور سیاسی و تہذیبی غلبے کے خلاف اور اسلامی احیا کے لیے سیّداحمدشہید، سیّداسماعیل شہید، مولانا قاسم نانوتوی، شبلی نعمانی، مولانا محمودحسن، مولاناابوالکلام آزاد، مولانا اشرف علی تھانوی، اور علامہ محمداقبال اپنے اپنے انداز میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کے احیا اور دین حق کی اقامت کی جدوجہد کو مسلمانوں کے اصل اور حقیقی مقصد ِ زندگی کے تصور کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے اقامت ِ دین کے تصور کو مدلل، منطقی اور دعوتی اسلوب میں قرآن و سنت کے محکم دلائل کے ساتھ واضح کیا۔ تجدید و احیاے دین کے سلسلے کی ۱۴ سو سال پر پھیلی ہوئی مسلمانوں کی تابناک تاریخ کے پس منظر میں انھوں نے بتایا کہ اسلام کا اصل مدعا اور مقصود کیا ہے، اور مسلمانوں کی اصل پہچان اور ان کی زندگی کا حقیقی مشن کیا ہے۔
دراصل اسلام نام ہے اللہ کو اپنا رب تسلیم کرنے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا پیغمبر اور انسانوں کا اصل ہادی اور راہبر ماننے، اور اپنی پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت میں د ے دینے کا۔ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا اقرار اور اعلان پوری زندگی کے لیے ایک راستہ اور نظام کار طے کرنے کا عہد ہے۔ یہ عہد محض چند الفاظ کے زبان سے ادا کرنے اور چند عبادات کا اہتمام کرنے سے عبارت نہیں ہے۔ عقیدہ اور عبادات وہ دو ستون ہیں جن پر اسلام پوری زندگی کی عمارت تعمیر کرتا ہے۔
مولانا مودودی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور اسوئہ حسنہ کے اس پہلو کو اُجاگر کیا کہ اسلام عقیدے اور عمل کا ایک حسین امتزاج ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں انسانی زندگی کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی کا نقشہ پیش کرتا ہے، تاکہ انسان، زندگی کے ہر میدان میں طاغوت کی غلامی سے نجات پاسکے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی، روحانی، اخلاقی اور مادی زندگی کے ہرپہلو کی تشکیل جدید کے ذریعے، اُسے آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔جماعت اسلامی اسی وژن کی حامل ہے اور اس دعوت کو عملی طور پر مسلمانوں کے لیے اور بالآخر پوری انسانیت کے لیے جاری و ساری کرنے کی اجتماعی کوشش کا نام ہے۔ اس کا پیغام اصولی اور آفاقی ہے، البتہ اس کی عملی جدوجہد کا مرکز و محور وہ خطۂ زمین ہے، جہاں اس نظامِ زندگی کو قائم کرکے اُمت مسلمہ اور انسانیت کے لیے ایک نمونہ پیش کیا جاسکتا ہے۔
ان معروضات کی روشنی میں آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی اپنی اصل کے اعتبار سے ایک نظریاتی، فکری اور تہذیبی تحریک ہے۔ یہ محض ایک مذہبی یا سیاسی جماعت نہیں، بلکہ وسیع معنی میں ایک اصولی تحریک (Ideological Movement) ہے اور قرآن و سنت کی فراہم کردہ ہدایت کو زندگی کے ہر شعبے میں عملاً نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہ جماعت کوئی قوم پرست یا محض وطن پرست جماعت بھی نہیں ہے، بلکہ اس کا نظریۂ حیات عالم گیر ہے اور پوری انسانی تہذیب کی تشکیل نو اس کے پیش نظر ہے۔ یہ پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فراہم کردہ ہدایت اور ان کے سکھائے ہوئے منہج کے مطابق استوار کرنا چاہتی ہے۔ صرف مسلمانوں ہی کی اصلاح و نجات اس کے پیش نظر نہیں، بلکہ وہ پوری انسانیت کی فلاح اور اس کی دنیوی اور اُخروی کامیابی چاہتی ہے۔ اس جامع نصب العین کو اس کے دستور میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامت ِ دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضاے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہوگا(دفعہ ۴)۔
اقامت ِ دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے، بلکہ پورے دین کی اقامت ہے، خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے۔ نماز، روزہ اور حج و زکوٰۃ سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیرضروری نہیں ہے۔ پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیے و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہرمومن کو اسے بطورِ خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہلِ ایمان کو مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگرچہ مومن کا اصل مقصدِ زندگی رضاے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت ِ دین اور حقیقی نصب العین وہ رضاے الٰہی ہے جو اقامت ِ دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔
زندگی کا یہ تصور اور اس کا یہ مشن جماعت اسلامی کا اصل امتیاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تنظیم، اس کا اسلوبِ کار، اس کا دائرۂ عمل اور اس کی سرگرمیوں کا پھیلائو محض ایک سیاسی جماعت جیسا نہیں۔ بلاشبہہ جب پاکستان کی پہلی دستور سازاسمبلی نے مارچ ۱۹۴۹ء میں قراردادِمقاصد منظور کی، تو اس کے بعد سے وہ معروف معنی میں ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے کام کررہی ہے۔ لیکن وہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسلام کے مشن کے مطابق ایک ہمہ گیر نظریاتی اور تہذیبی انقلاب کی داعی جماعت ہے۔ یہی اس کی امتیازی حیثیت ہے، یہی اس کی بہت سی خوبیوں اور خصوصیات کی بنیاد ہے اور یہی اس کی متعدد تحدیدات (limitations) کا سبب بھی ہے جسے سمجھنا اور جاننا بہت ضروری ہے۔
جماعت اسلامی کے قیام کے پہلے دن سے ’نظامِ امر‘ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے لیکن یہ ’نظامِ امر‘ ایک دستور اور اس کے مطابق ضابطہ کار اور روایات سے عبارت ہے، جس کی صورت گری قرآن و سنت کی ہدایات اور تحریکِ اسلامی کی ضروریات اور تجربات کی روشنی میں کی گئی ہے۔
اس نظامِ جماعت میں وفاداری کا اصل مرکز وہ نصب العین ہے، جس کے حصول کے لیے جماعت قائم ہوئی ہے اور اس کے پورے نظام کی تشکیل و تعمیر ایک تحریری دستور کے ذریعے کی گئی ہے، جو خود بلاشبہہ ارتقائی مراحل سے گزرتا رہا ہے۔ تاہم یہ ہردور میں اور ہرسطح کے لیے نقشۂ کار فراہم کرتا ہے۔ جو صرف تبرک کے لیے نہیں بلکہ معاملات کو طے کرنے میں اصل رہنما اور کارفرما حیثیت رکھتا ہے۔ الحمدللہ جماعت اسلامی اور اس کے تمام ادارے دستور کے مطابق کام کرتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو جماعت اسلامی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ جماعت اسلامی میں کسی ایک فرد، گروہ یا خاندان کی بات نہیں چلتی بلکہ سب ایک خاندان کی طرح، ایک دستور کے تحت، اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں پالیسی سازی، ڈسپلن، اطاعت، تعاون، ہم آہنگی، مشاورت اور تنقیدو احتساب کا وہ ماحول پیدا کرنے کوشش کی گئی ہے جو اسلام کا منشا اور اچھی حکمرانی (good governance)کی ضرورت ہے۔
جماعت اسلامی کا پورا نظام، اس کے دستور اور ضابطہ کار کے مطابق کام کر رہا ہے اور اس کی اصل پہچان اسلامی اصولوں پر مبنی جمہوری اور شورائی نظام ہے۔ انسانوں کی جماعت ہونے کے ناتے کوتاہیوں اور کمزوریوں سے کوئی پاک نہیں لیکن الحمدللہ، بحیثیت مجموعی اس جماعت میں مشاورت اور احتساب کا ایک مضبوط نظام قائم ہے، جس پر پوری شفافیت کے ساتھ عمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں شخصی وفاداری، خاندانی سیادت اور گروہ بندی کا کوئی کردار نہیں۔ دستور کے مطابق ایک نظامِ مشاورت و احتساب قائم ہے۔ اس نظام میں جہاں ایک دوسرے کی معاونت اس کا لازمی حصہ ہے، وہیں غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح بھی ہرشریکِ کار کی ذمہ داری ہے۔
مارچ ۲۰۱۴ء میں جماعت اسلامی میں امارت کا تیرھواں انتخاب دستور کے مطابق ہوا جس میں ارکانِ جماعت نے کثرت راے سے برادرم سراج الحق کو امیر جماعت اسلامی پاکستان منتخب کیا اور ۹؍اپریل ۲۰۱۴ء کو منصورہ میں منعقدہ ایک روح پرور اجتماع میں انھوں نے جماعت اسلامی کے پانچویں امیر۱؎ کی حیثیت سے امارت کا حلف اُٹھا کر اللہ سے وفاداری، دستورِ جماعت کی پاس داری اور نظامِ جماعت کے سامنے جواب دہی کا عہد کیا اور بڑے انکسار کے ساتھ اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین کی سربلندی کی اس جدوجہد کے لیے اپنی ساری توانائی کو صرف کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ قدم قدم پر ان کی رہنمائی فرمائے، انھیں اس عظیم ذمہ داری کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کی توفیق سے نوازے، وہ اس تاریخی امانت کے سچے امین ثابت ہوں، تحریک کے قدم آگے بڑھیں اور ان کی قیادت میں اللہ تعالیٰ اس تحریک، اس ملک اور اس ملت کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے شادکام فرمائے، آمین! تحریک اسلامی کے تمام ساتھیوں اور پاکستان اور اُمت مسلمہ کے تمام خیرخواہوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
جماعت اسلامی میں قیادت کے انتخاب کے باب میں ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ اس میں امارت ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک بڑی گراں بار ذمہ داری ہے۔ امیر کا انتخاب جماعت کے دستور کے مطابق ارکانِ جماعت ہر پانچ سال کے بعد کرتے ہیں۔ یہاں امارت کے لیے کوئی مدعی اور طالب نہیں ہوتا اور نہ کوئی انتخابی مہم ہوتی ہے۔ ایک ضابطے کے مطابق مرکزی شوریٰ تین نام تجویز کرتی ہے وہ بھی صرف رہنمائی کے لیے۔ ارکان ان مجوزہ تین ناموں میں سے کسی ایک کو یا ان کے علاوہ بھی، اپنی نگاہ میں کسی اور اہل تر فرد کو اس ذمہ داری کے لیے ووٹ دے سکتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے لیے یہ عمل خواہ کتنا ہی اجنبی ہو، لیکن اسلامی تحریک کے مزاج اور اس کی ضرورت کے لیے اس سے بہتر انتظام مشکل ہے۔ انتخابِ امیر کے اس انتظام اور تحریکِ اسلامی کے مزاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ جماعت کی تاسیس کے وقت، اس جماعت کی جو خصوصیات داعیِ تحریک نے بیان کی تھیں، وہ ہرلمحے سامنے رہیں۔ آج شاید ان کا جاننا اور ذہن نشین رکھنا یقینا اس سے بھی کچھ زیادہ ضروری ہے ،جتنا تاسیس جماعت کے وقت تھا۔ اس وقت داعیِ تحریک مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم نے فرمایا تھا:
جو لوگ ایک ہی عقیدہ، ایک ہی نصب العین اور ایک ہی مسلک رکھتے ہوں، ان کے لیے ایک جماعت بن جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان کا ایک جماعت بن جانا بالکل ایک فطری امر ہے.... اب، جب کہ آپ کی جماعتی زندگی کا آغاز ہورہا ہے۔ تنظیم جماعت کی راہ میں کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام میں جماعتی زندگی کے قواعد کیا ہیں؟
میں اس سلسلے میں چند اہم باتیں بیان کروں گا:
اسی طرح اپنے رفقاے جماعت کی خیرخواہی کا جو فرض آپ میں سے ہرشخص پر عائد ہوتا ہے، اس کے معنی یہ ہرگز نہیں ہیں کہ آپ اپنی جماعت کے آدمیوں کی بے جا حمایت کریں اور ان کی غلطیوں میں ان کا ساتھ دیں، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ معروف میں ان کے ساتھ تعاون کریں، اور مُنکر میں صرف عدم تعاون ہی پر اکتفا نہ کریں، عملاً ان کی اصلاح کی بھی کوشش کریں۔ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ سب سے بڑی خیرخواہی جو کرسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں اس کو راہِ راست سے بھٹکتے ہوئے دیکھے، وہاں اُسے سیدھا راستہ دکھائے، اور جب وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہا ہو تو اس کا ہاتھ پکڑلے۔ البتہ آپس کی اصلاح میں یہ ضرور پیش نظر رہنا چاہیے کہ نصیحت میں عیب چینی اور خُردہ گیری [نکتہ چینی ] اور تشدد کا طریقہ نہ ہو، بلکہ دوستانہ دردمندی و اخلاص کا طریقہ ہو۔ جس کی آپ اصلاح کرنا چاہتے ہیں، اس کو آپ کے طرزِعمل سے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اس اخلاقی بیماری سے آپ کا دل دُکھتا ہے، نہ کہ اس کو اپنے سے فروتر دیکھ کر آپ کا نفسِ متکبر لذت لے رہا ہے۔
چنانچہ ۱۹۴۱ء میں جب تاسیس جماعت اور حلف ِرکنیت کے بعد، امیر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو فطری طور پر نظر انتخاب داعیِ تحریک مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی پر پڑی اور انھیں متفقہ طور پر امیرجماعت منتخب کیا گیا۔ اس وقت تاسیسی ارکان کا خیال یہ تھا کہ امیر کا انتخاب تاحیات ہونا چاہیے، لیکن مولانا مودودی نے اس وقت کسی فقہی بحث میں پڑے بغیر ،ارکانِ جماعت پر واضح کیا کہ وہ امارت کو تاحیات جاری رکھنے کے قائل نہیں اور ارکان کو ہراجتماع کے موقعے پر انتخابِ نو کا موقع دیں گے۔ بعد میں دستورِ جماعت میں امیر کے لیے پانچ سال کی مدت اور فطری طور پر نئے انتخاب کا ضابطہ مقرر کردیا گیا، جس پر آج تک پوری دیانت داری سے عمل ہورہا ہے۔
۲۷؍اگست ۱۹۴۱ء کو امیر کے انتخاب کے بعد، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے جو تقریر کی، وہ بھی جماعت کے نظامِ امر اور اس کے مزاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ الحمدللہ یہ جماعت اس روایت کی سچی امین ہے:
میں آپ کے درمیان نہ سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا، نہ سب سے زیادہ متقی، نہ کسی اور خصوصیت میں مجھے فضیلت حاصل تھی۔ بہرحال، جب آپ نے مجھ پر اعتماد کر کے اس کارِعظیم کا بار میرے اُوپر رکھ دیا ہے، تو مَیں اب اللہ سے دعا کرتا ہوں اور آپ لوگ بھی دعا کریں کہ مجھے اس بار کو سنبھالنے کی قوت عطا فرمائے اور آپ کے اس اعتماد کو مایوسی میں تبدیل نہ ہونے دے۔ مَیں اپنی حد وسع تک انتہائی کوشش کروں گا کہ اس کام کو پوری خدا ترسی اور پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ چلائوں۔ میں قصداً اپنے فرض کی انجام دہی میںکوئی کوتاہی نہ کروں گا۔ میں اپنے علم کی حد تک کتاب اللہ و سنت ِ رسولؐ اللہ اور خلفاے راشدینؓ کے نقشِ قدم کی پیروی میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھوں گا۔ تاہم، اگر مجھ سے کوئی لغزش ہو اور آپ میں سے کوئی محسوس کرے کہ مَیں راہِ راست سے ہٹ گیا ہوں، تو مجھ پر یہ بدگمانی نہ کرے کہ مَیں عمداً ایساکر رہا ہوں، بلکہ حُسنِ ظن سے کام لے اور نصیحت سے مجھے سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔
آپ کا مجھ پر یہ حق ہے کہ مَیں اپنے آرام و آسایش اور اپنے ذاتی فائدوں پر جماعت کے مفاد اور اس کے کام کی ذمہ داریوں کو ترجیح دوں، جماعت کے نظم کی حفاظت کروں، ارکانِ جماعت کے درمیان عدل اور دیانت کے ساتھ حکم کروں، جماعت کی طرف سے جو امانتیں میرے سپرد ہوں ان کی حفاظت کروں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے دل و دماغ اور جسم کی تمام طاقتوں کو اس مقصد کی خدمت میں صَرف کردوں، جس کے لیے آپ کی جماعت اُٹھی ہے۔
میرا آپ پر یہ حق ہے کہ جب تک مَیں راہِ راست پر چلوں، آپ اس میں میرا ساتھ دیں، میرے حکم کی اطاعت کریں، نیک مشوروں سے اور امکانی امداد و اعانت سے میری تائید کریں اور جماعت کے نظم کو بگاڑنے والے طریقوں سے پرہیز کریں۔ مجھے اس تحریک کی عظمت اور خود اپنے نقائص کا پورا احساس ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ یہ وہ تحریک ہے جس کی قیادت اولوالعزم پیغمبروں ؑ نے کی ہے، اور زمانۂ نبوت گزرجانے کے بعد وہ غیرمعمولی انسان اس کو لے کر اُٹھتے رہے ہیں، جو نسلِ انسانی کے گُل سرسَبد تھے۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اپنے بارے میں یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ مَیں اس عظیم الشان تحریک کی قیادت کا اہل ہوں، بلکہ مَیں تو اس کو ایک بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ اس وقت اس کارِعظیم کے لیے آپ کو مجھ سے بہتر کوئی آدمی نہ ملا۔ مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنے فرائضِ امارت کی انجام دہی کے ساتھ مَیں برابر تلاش میں رہوں گا کہ کوئی اہل تر آدمی اس کا بار اُٹھانے کے لیے مل جائے اور جب مَیں ایسے آدمی کو پائوںگا تو خود سب سے پہلے اُس کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔ نیز مَیں ہمیشہ ہر اجتماعِ عام کے موقعے پر جماعت سے بھی درخواست کرتا رہوں گا،کہ اگر اب اس نے کوئی مجھ سے بہتر آدمی پالیا ہے تو وہ اُسے اپنا امیر منتخب کرلے، اور مَیں اس منصب سے بخوشی دست بردار ہوجائوں گا۔ بہرحال، مَیں ان شاء اللہ اپنی ذات کو کبھی خدا کے راستے میں سدِّراہ نہ بننے دوں گا، اور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دوں گا کہ ایک ناقص آدمی اس جماعت کی رہنمائی کر رہا ہے، اس لیے ہم اس میں داخل نہیں ہوسکتے۔
نہیں، مَیں کہتا ہوں کہ کامل آئے اور یہ مقام جو آپ نے میرے سپرد کیا ہے ہر وقت اس کے لیے خالی ہوسکتا ہے، البتہ مَیں اس کے لیے تیار نہیں ہوں کہ اگر کوئی دوسرا اس کام کو چلانے کے لیے نہ اُٹھے تو مَیں بھی نہ اُٹھوں۔ میرے لیے تو یہ تحریک عین مقصد ِ زندگی ہے۔ میرا مرنا اور جینا اس کے لیے ہے۔ کوئی اس پر چلنے کے لیے تیار ہو یا نہ ہو، بہرحال مجھے تو اسی راہ پر چلنا اور اسی راہ میں جان دینا ہے۔ کوئی آگے نہ بڑھے تو مَیں بڑھوں گا۔ کوئی ساتھ نہ دے گا تو مَیں اکیلا چلوں گا۔ ساری دنیا متحد ہوکر مخالفت کرے گی تو مجھے تن تنہا اُس سے لڑنے میں بھی باک نہیں ہے۔ (رُوداد جماعت اسلامی، اوّل،ص ۲۹-۳۱)
یہی وہ جذبہ اور اسپرٹ ہے جو بعدازاں بھی جماعت کے امرا میں موجود رہی ہے۔ مولانا محترم سے لے کر سیّدمنورحسن تک ہر ایک نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ اس عظیم ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طاقت اپنے میں نہیں پارہے تو ازخود ارکان سے ذمہ داری سے فراغت کی درخواست کی، اور اگر اس کے باوجود جماعت نے کوئی ذمہ داری ان پر ڈالی تو وہ ہر قربانی دے کر اسے انجام دینے کے لیے سینہ سپر ہوگئے۔ اس تحریک میں جو جس مقام سے بھی، جو خدمت بھی انجام دے سکے، وہ ایک سعادت اور اعزاز ہے۔ اور ہر ایک کی خواہش، کوشش اور دعا ہوتی ہے کہ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۰۲) ’’تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘۔
تحریکوں کی مثال دریا کی سی ہے جس کی بلارکاوٹ روانی کا انحصار نئے پانی کی آمد پر ہے۔ اب جماعت کی تیسری نسل امارت کی ذمہ داری کو سنبھال رہی ہے۔ مولانا محترم اور میاں طفیل محمد صاحب بانی ارکان میں سے تھے۔ محترم قاضی حسین احمد اور برادرم سیّدمنور حسن کا تعلق دوسری نسل سے تھا۔ الحمدللہ، اب قیادت تیسری نسل کی طرف منتقل ہوئی ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ اسی خوش اسلوبی کے ساتھ چلتا رہے گا۔ تحریک کی زندگی اور قوت کا راز تسلسل اور تبدیلی میں ہے۔ اگرکسی تحریک میں تبدیلی کے راستے بند ہوجائیں تو وہ جمود کا شکار ہوجاتی ہے اور دریا ’جوے کم آب‘ کا منظر پیش کرتا ہے۔ وہ تبدیلی جو تسلسل سے اپنا رشتہ توڑلیتی ہے، کٹی ہوئی پتنگ بن جانے کے خطرے سے اپنے کو دوچار رکھتی ہے۔ ’بحر بے کراں‘ وہی تحریک ہوتی ہے جس کا امتیاز تسلسل اور تبدیلی دونوں کا امتزاج ہو۔ اور سماں یہ ہو کہ ؎
فصلِ بہار آئی ہے، لے کررُت بھی نئی، شاخیں بھی نئی
سبزہ و گل کے رُخ پر لیکن، رنگ قدامت آج بھی ہے
جماعت اسلامی کے حالیہ انتخابِ امیر کا ایک قابلِ غور پہلو وہ ردعمل بھی ہے جو پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سیاسی ، مذہبی اور دانش ور حلقوں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ غالباً پاکستان کی تاریخ میں کسی جماعت کی مرکزی قیادت کے انتخاب پر ایسا بھرپور ردعمل نہیں ہوا اور یہ ملک کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کی جماعت اسلامی میں دل چسپی ہی کا مظہر نہیں، بلکہ کئی حیثیتوں سے ملک کی سیاسی زندگی کے کچھ پہلوئوں پر بڑی روشنی ڈالنے والا عمل ہے اور خود جماعت اور اس کی قیادت کے لیے بھی اس میں غوروفکر کا بڑا سامان ہے۔ اس لیے چند پہلوئوں پر کچھ اشارات کرنا مفید محسوس کرتا ہوں۔
سب سے پہلے مَیں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنھوں نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے اور اپنے اپنے انداز میں ہمارے انتخابی عمل اور نتائج پر تبصرہ کیا ہے اور جماعت اسلامی، اس کے نظام کار، سیاسی کارکردگی اور مستقبل کے کردار کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے ہر تحریر میں ہمارے لیے سوچنے کا کچھ نہ کچھ مواد موجود ہے، اس لیے جماعت بلاتفریق سبھی نقطہ ہاے نظر سے واقفیت اور استفادے کی کوشش کرے گی۔ البتہ اس حقیقت کا اِدراک بھی ضروری ہے کہ مختلف تحریروں اور تجزیوں میں جماعت کا جو امیج پیش کیا گیا ہے، وہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بہرحال ہماری جن کمزوریوں کی نشان دہی کی گئی ہے، ہمیں ان کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے اور جو آرا غلط فہمیوں، معلومات کی کمی اور تعصب اور مخاصمت پر مبنی ہیں، ان کے بارے میں یہ کوشش ہونی چاہیے کہ مذاکرے اور بہتر ربط و ارتباط (dialogue, engagement and communication) کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر کی توضیح و تشریح کریں۔
صاف نظر آرہا ہے کہ جماعت اسلامی کے نصب العین، اس کے نظامِ کار، اس کی خدمات، اس کی پالیسیوں اور جو تبدیلیاں پاکستان میں لانا چاہتی ہے، ان سے صحیح معنوں میں واقفیت اور اِدراک کے باب میں بڑی کمی ہے۔ اس کی ذمہ داری بڑی حد تک خود ہم پر بھی آتی ہے کہ ہم اپنی بات قوم اور اس کے بااثرطبقات تک مناسب انداز میں لے جانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ دوست اور مخالف سب اس امر کا اعتراف کررہے ہیں کہ جماعت اسلامی ہی وہ جماعت ہے، جس میں باقاعدگی سے انتخابات منعقد ہوتے ہیں، جس کے ارکان اپنی آزاد مرضی سے اپنی قیادت کو منتخب کرتے ہیں، جس میں شخصی، موروثی یا گروہی قیادت کا کوئی تصور نہیں، جس میں دولت اور سیاسی اثرورسوخ کا کوئی کردار نہیں ہے، جس میں متوسط طبقے کے افراد کو ان کی صلاحیت، دیانت، مقصد ِ تحریک سے وابستگی اور وفاداری اور تحریک اور عوام کی خدمت کی بنیاد پر قیادت کی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔
الحمدللہ، جماعت اسلامی میں خود احتسابی کا عمل بھی زندہ ہے۔ جس میں عہدوں کی بندربانٹ بھی نہیں ہوتی بلکہ عہدے کا تصور ہی بدل گیا ہے___ یہاں قیادت کے لیے باہمی کوئی مقابلہ نہیں ہوتا اور نہ کسی کی ’فتح‘ یا ’شکست‘ کا کوئی تصور پایا جاتا ہے۔ امارت اور قیادت ایک ذمہ داری ہے جسے ارکان اپنے میں سے زیادہ سے زیادہ مناسب فرد کے سپرد بطور امانت کرتے ہیں، جو اسے عبادت کے جذبے سے انجام دیتا ہے۔ جس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ادایگیِ فرض کے جذبے سے اس بوجھ کو اُٹھاتا ہے، اور جو اس ذمہ داری سے بچ جاتا ہے، وہ ایک حد تک خود کو سبک بار محسوس کرتا ہے لیکن اس کی وفاداری اور سرگرمی کا مرکز و محوریہی دعوت اور تحریک ہی رہتی ہے۔ یہ ایک دوسری ہی نوعیت کا جماعتی کلچر ہے، جس کی حکمت، تاثیر اور لذت سے وہ آشنا نہیں جو اس قافلے کے ہم سفر نہ ہوں۔
جماعت اسلامی کا اصل ہدف فرد، معاشرہ اور ریاست کی سطح پر ان تبدیلیوں کو برپا کرنا ہے جو اسلام کو مطلوب ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کو اسلامی اخلاق و آداب کا آئینہ دار بنایا جائے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں ایک ایسی قیادت بروے کار لائی جائے جو اسلام کی صحیح نمایندہ ہو۔ اس کے لیے دعوت و ارشاد، تعلیم و تربیت، ترغیب و ترہیب، معاشی اور سماجی اصلاح، اور قانون اور میڈیا، سب کا استعمال اپنے اپنے دائرے میں ضروری ہے۔
اس تبدیلی کا آغاز انسان کے قلب سے ہوتا ہے۔ اس کے فکروذہن کی اصلاح کے ساتھ اخلاق و آداب کی اصلاح، خاندان اور معاشرتی اداروں کی تشکیلِ نو اور انفرادی اور اجتماعی وسائل کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔ اس تاریخی عمل میں فرد اور معاشرے کے ساتھ ریاست کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی ضروری سمجھتی ہے کہ دستورِ پاکستان نے وطن عزیز کو ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے جو نقشۂ کار دیا ہے، اس پر پوری دیانت اور بہترین صلاحیت کے استعمال سے کام کیا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے، جب اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہو، جو اپنے فکرونظر، اخلاق و کردار اور صلاحیت کار کے اعتبار سے اسلام کے اچھے نمایندے ہوں اور ریاست کے وسائل کو امانت تصور کرتے ہوئے عوام کی خدمت اور پاکستان کی اسلامی خطوط پر تعمیروترقی کے لیے استعمال کریں۔
اسی غرض کے لیے جماعت اسلامی پُرامن، آئینی اور جمہوری طریقوں سے نظامِ حکومت کو بدلنا چاہتی ہے۔ اس کے پیش نظر پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے:
یہ ہیں جماعت اسلامی کے مقاصد___ جو لوگ اِن مقاصد سے اتفاق رکھتے ہوں، انھیں ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان کے حصول میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ (منشور جماعت اسلامی)
جماعت اسلامی، ماضی کی طرح آج بھی فرد، معاشرے اور حکومت کی سطح پر ان تمام تبدیلیوں کو رُوبہ عمل لانے کے لیے مصروفِ عمل ہے، جو اسلام کو مطلوب ہیں اور جو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان شاء اللہ، نومنتخب امیر جماعت کی قیادت میں ہمارا سفر روزِاوّل کے سے عزم اور ایمان و ایقان کے ساتھ جاری رہے گا!
دعوتِ اسلامی اورآزمایش کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلانے کی دعوت و تحریک کو کبھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا گیا۔ اقبال نے تاریخ کی گواہی کو کس خوب صورتی سے بیان کیا ہے ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز
چراغ مصطفویؐ سے شرارِ ُبولہبی
اور اللہ تعالیٰ نے خود بھی اپنی راہ میں جدوجہد کرنے والے بندوں کو آگاہ کردیا تھا، بلکہ بہ الفاظ صحیح تر متنبہ کردیا تھا کہ کامیابی کی منزل کش مکش، آزمایش اور ابتلا کے مراحل سے گزر کر ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں بار بار خاک و خون کے دریا پار کرنا ہوں گے اور پھر ان شاء اللہ آزمایش کی بھٹی میں سونے کو سہاگا بنانے والے اس عمل سے گزرنے والوں ہی کو غلبہ و کامیابی نصیب ہوگی:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ o وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ o اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا ط سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَo (العنکبوت ۲۹:۲-۴) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالاںکہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمایش کرچکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون۔ اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کر رہے ہیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں۔
وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ َوالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ط وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ o الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ o اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ قف وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ o (البقرہ ۲:۱۵۵-۱۵۷) اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمھاری آزمایش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘۔ انھیں خوش خبری دے دو۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ o (البقرہ ۲:۱۵۳) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ گویا استقامت اور دعوتِ حق پر قائم رہنا اور شر اور ظلم و زیادتی کا بھی خیر اور صلاح کے ذریعے مقابلہ کرنے میں کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
اِِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ o نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ج وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْھَا مَا تَدَّعُوْنَ o نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ o وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ o وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیِّئَۃُ ط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ o وَمَا یُلَقّٰھَآ اِِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقّٰھَآ اِِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ o (حم السجدہ ۴۱:۳۰-۳۵) جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقینا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ’’نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہوجائو اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمھارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمھیں ملے گا اور ہرچیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھاری ہوگی، یہ ہے سامانِ ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفورورحیم ہے‘‘۔
اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
ان آیاتِ مبارکہ میں ہمارے رب نے ہمیں ان مراحل سے بھی آگاہ کردیا جن سے اہلِ حق کو گزرنا پڑتا ہے، اور ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح حکمت عملی اور راہِ عمل کی طرف بھی رہنمائی فرما دی جس کے ذریعے مخالفتوں کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ جواب میں انتقام اور بدی کے بدلے بدی کا راستہ اختیار کرنے سے منع فرما دیا اور صبرواستقامت اور حق و شرافت کے ہتھیاروں سے غلط فہمیوں کو دُور کرنے اور انسانوں کے دل میں خیر کا جو عنصر ودیعت کیا گیا ہے، اسے بیدار کرکے نیکی کی راہ کو غالب کرنے کی جدوجہد کو اختیار کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ صبرواستقامت کا راستہ عدل و انصاف سے عبارت ہے۔ انتقام اور ظلم و زیادتی اختیار کرنا مقصد کو فوت کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، اور انسانی زندگی ایک خرابی کے بعد دوسری خرابی کی آماج گاہ بن جاتی ہے۔ اصلاح اورخیر کا راستہ بدی کو نیکی اور بھلائی سے دُور کرنا ہے اور جہاں غلط کار قیادت اور اُولی الامرکے غلط فیصلوں اور اقدام پر مداہنت کا راستہ بند کیا ہے، وہیں اصلاحِ احوال کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے ہی کو اختیار کرنے اور اس پر قائم رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًاo (النساء ۴:۵۹) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب ِ امر ہوں، پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْا قف ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَ اتَّقُوْا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَo (المائدہ ۵:۸) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو ’اُمت وسط‘ قرار دیا ہے اور اُمت کے افراد کے درمیان بلالحاظ رُتبہ، نسل، اور حیثیت، وحدت اور اخوت کا رشتہ قائم کیا ہے اور ان کے باہمی تعلقات کو رحماء بینھم کے حسنِ تعلق کی شکل میں بیان فرمایا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ:
اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ___ دین ایک دوسرے کی خیرخواہی کا نام ہے۔
اصحابِ رسول رضوان اللہ اجمعین نے پوچھا: لمن؟ ’’کن سے؟‘‘
آپؐ نے فرمایا:
لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلہٖ وَلِکِتَابِہٖ وَلِاٰئِمَّۃِ المُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتَِھِمْ
اللہ سے، اللہ کے رسولؐ سے، اللہ کی کتاب سے، مسلمانوں کے اولی الامر سے اور عام مسلمانوں سے۔
نصیحت کا یہی وہ تعلق ہے جس کی بنا پر ہم مسلمان حکمرانوں، خصوصیت سے عرب دنیا کے حکمرانوں کو پوری دل سوزی کے ساتھ دعوت دیتے ہیں کہ مصر میں عالمِ عرب کی سب سے بڑی اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے ساتھ اس وقت جو ظلم ہو رہا ہے، نہ اس پر خاموش تماشائی بنیں اور نہ کسی طرح بھی اور کسی شکل میں بھی ظلم کرنے والوں کے لیے تقویت کا ذریعہ بنیں۔ صحیح راستہ اس ظلم کو رُکوانے اور مصر کی حکومت کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کا ہے جس کے لیے ہر صاحب ِ امر اور صاحب ِ خیرکو متحرک ہوناچاہیے۔ اُمت مسلمہ کا اجتماعی ضمیر اس باب میں یکسو ہے کہ جس طرح مصر میں ایک منتخب صدر کو ہٹایا گیا ہے اور پھر جس طرح اخوان المسلمون اور دوسرے تمام جمہوریت پسند عناصر کو نشانۂ ظلم وستم بنایا جارہا ہے وہ حق وا نصاف کا خون ہے اور خود مصر اور عالمِ عرب کے مفاد سے متصادم ہے۔
اسلام اور اسلامی تحریکات کے خلاف جو عالم گیر جنگ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے برپا کی ہوئی ہے اور جس کی فکر ی نکیل اسرائیل اور صہیونی عناصر کے ہاتھ میں ہے، ہمارے حکمرانوں کو اس ناپاک کھیل کو سمجھنا چاہیے اور تصادم کی جگہ افہام و تفہیم کے ذریعے اسلامی اقدار کی پاس داری، ملک کے دستور اور قانون کے احترام اور جمہوری روایات کے فروغ کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔ اس میں سب کے لیے خیر ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر عرب اور مسلمان ملک اپنی آزادی، سلامتی اور اسلامی شناخت کی حفاظت کرسکتے ہیں۔
اخوان المسلمون ایک نظریاتی، اصلاحی اور جمہوری تحریک ہے۔ غلطی سے پاک کوئی انسانی کوشش نہیں ہوسکتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اخوان المسلمون ایک خیر کی دعوت ہے، اور اس نے اپنی ساری جدوجہد اسلامی مقاصد کے حصول کے لیے اخلاقی آداب اور معروف جمہوری روایات کے دائرے میں انجام دی ہے، اور عرب اور مسلم دنیا کے حقیقی مفادات کے تحفظ اور مسئلۂ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے اس کی خدمات نوشتۂ دیوار ہیں۔ مصر میں فوجی حکمران اسے جس طرح نشانہ بنائے ہوئے ہیں، وہ ایک صریح ظلم اور خود مصر، فلسطین اور عالمِ عرب کے حقیقی مفادات پر ضربِ کاری ہے۔ ان حالات میں مظلوم کی مدد تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔
اس پس منظر میں ہمیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی حکومتوں کا مصر کی تقلید میں اخوان المسلمون اور حماس کو ’دہشت گرد‘ تنظیمیں قرار دینا نہایت تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔ الدین نصیحۃ پرعمل کرتے ہوئے ہم پوری دل سوزی سے ان تمام حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے رویے پر نظرثانی کریں اور حق و انصاف کے تقاضوں کی پاس داری کرتے ہوئے اس روش کو تبدیل کریں اور خود مصر میں اصلاح احوال کے لیے مثبت کردار ادا کریں، ورنہ اُمت میں مزید انتشار بڑھے گا اور حکمرانوں اور عوام میں خلیج وسیع تر ہوگی، اور خود عرب ممالک میں اختلاف اور تقسیم در تقسیم کی کیفیت پیدا ہوگی، جو اُمت کے مفادات کے خلاف ہے اور جس سے ہمارے دشمنوں کے عزائم کو تقویت ملے گی۔
اخوان المسلمون کوئی خفیہ تنظیم نہیں۔ وہ ۱۹۲۸ء سے دعوت و اصلاح کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوااس کا لٹریچر، اس کی فکر، دعوت، طریق کار اور خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس نے ابتلا اور آزمایش کے اَدوار میں بھی اپنے اصولی، اصلاحی ، اخلاقی اور جمہوری مسلک پر پوری استقامت سے قائم رہ کر عوام کے دلوں میں اَنمٹ مقام بنالیا ہے۔ محض مغربی اقوام کے پروپیگنڈے اور مصر میں جمہوریت کا خون کرنے والے عناصر کے بیانات سے اخوان المسلمون کی ۸۰سالہ جدوجہد کو پادر ہوا نہیں کیا جاسکتا۔ ہم مصر کے حکمرانوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ شخصی اقتدار کی خاطر مصر، فلسطین، عرب دنیا اور مسلم اُمت کے حقیقی مفادات کو قربان نہ کریں، اور تصادم کی جگہ حق و انصاف پر مبنی مفاہمت کی راہ اختیار کرکے تمام سیاسی اور دینی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا راستہ اختیار کریں، اور ان عرب ممالک کے ارباب حل و عقد سے بھی اپیل کرتے ہیں جو اخوان کی مخالفت کے ناقابلِ فہم راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور مسلمان عوام میں اضطراب اور مایوسی میں اضافہ کرنے کا باعث ہورہے ہیں کہ وہ اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔
اخوان المسلمون نے چند عرب حکمرانوں کے حالیہ اعلان پر جس ردعمل کا اظہار کیا ہے، وہ بڑا محتاط اور اصلاحِ احوال کے لیے ایک حکیمانہ ردعمل ہے۔ اخوان المسلمون کے اس سرکاری بیان پر ٹھنڈے دل سے اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے، جس کی ہم اُمت مسلمہ کے تمام ہی اولی الامر کو خصوصیت سے دعوت دیتے ہیں۔
اخوان المسلمون کے مطابق: ’’سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے اچانک اخوان کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر اخوان المسلمون کو انتہائی حیرت ہوئی ہے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ فیصلہ اس مملکت کی طرف سے سامنے آیا ہے، جسے عوامی مفادات کے تحفظ، اُمت مسلمہ کی وحدت، معاشرتی اور قومی تعمیروترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے اور صحیح اسلامی فکر کی ترویج کے لیے اخوان کی کوششوں کا سب سے زیادہ علم ہے اور جس نے ان مساعی کو ہمیشہ سراہا ہے۔ سعودی عرب اس راستے میں اخوان کو پیش آنے والی تکالیف اور آزمایشوں سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔
سعودی عرب میں بھی تمام لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اخوان ہمیشہ علی الاعلان کہتی رہی ہے کہ جس حق پر وہ ایمان رکھتے ہیں، وہ کتاب اللہ اور سنت ِ رسولؐ کی تعلیمات سے ماخوذ طریقۂ کار ہے اور نص صریح اور دلیل واضح پر مبنی ہے۔
جماعت اخوان ہرشہری کی آزاد اور عزت بخش زندگی یقینی بنانے کے لیے سیاسی میدان میں ملک کے تمام شہریوں سے تعاون پر یقین رکھتی ہے۔ سیاسی، دینی یا مذہبی اختلافات کے باوجود مختلف قومی شخصیات و جماعتوں سے اشتراک و اتحاد کرتی ہے اور یہ واضح اعلان کرتی ہے کہ وہ اسلام کے نام پر لوگوں کی نگران یا ٹھیکے دار نہیں بنائی گئی۔ جماعت اخوان اعلیٰ اخروی ہدف رکھتی ہے اور اس کا حصول تمام نظریاتی، معاشرتی، سیاسی اور دینی گروہوں سے گفت و شنید کے ذریعے ہی ممکن سمجھتی ہے۔
اخوان خیرخواہی کی راہ پر چلتے او رملک و قوم کے مفادات کے برعکس کیے جانے والے ہراقدام کی مخالفت جاری رکھتے ہوئے یہ واضح کرتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی اور اصلاحی جدوجہد کو کسی بھی ملک میں محض کسی حکمران کی مخالفت کی بنیاد پر شروع نہیں کرتی۔ وہ ہرقسم کے تشدد، ایذارسانی اور انتہاپسندی سے دُور رہتے ہوئے حکمت پر مبنی دعوت اور خیرخواہی پر مبنی نصیحت پر یقین رکھتی ہے‘‘۔
پاکستان کے عوام اُمت مسلمہ کی عظیم اکثریت کی طرح اخوان المسلمون کو مظلوم سمجھتے ہیں اور چند عرب حکمرانوں کے اخوان کو دہشت گرد جماعت قرار دینے پر بے حد مغموم اور مضطرب ہیں۔ تمام اسلام پسند قوتیں تو اس پر دل گرفتہ اور شکوہ سنج ہیں ہی لیکن خود لبرل عناصر بھی اس پر اپنے انداز میں تنقید کررہے ہیں اور عرب حکمرانوں کو اپنے رویے پر نظرثانی کی دعوت دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں روزنامہ ڈان کے ادارتی تبصرے کے چند اقتباس پاکستان کی مجموعی راے عامہ جو ہرطبقے اور مکتب فکر کے دل کی آواز ہے، کو سمجھنے میں ممدومعاون ہوں گے:
سعودی عرب کے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے سے قدامت پسند بادشاہت کے اُس وہم کے پیش نظر تعجب نہیں ہونا چاہیے، جو وہ نہ صرف انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کھڑی ہونے والی تحریکوں بلکہ ان اسلامی گروپوں یا تحریکوں کے بارے میں بھی رکھتی ہے جو جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں۔ اخوان المسلمون کا اپنا ایجنڈا ہوسکتا ہے اور اس کے اپنے اہداف اور مقاصد ہوسکتے ہیں جو زمانے کے تقاضے کے مطابق نہ ہوں، لیکن ایک طویل مدت سے حسن البنا کی قائم کردہ یہ جماعت اقتدار حاصل کرنے کے لیے جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔
لیکن ریاض نے اخوان کی منتخب حکومت، جس کے سربراہ محمدمرسی تھے، کو برطرف کرنے والے فوجی انقلاب کو خوش آمدید کہا۔ صرف سعودی عرب ہی اس میں تنہا نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں خلیج کی دو اور بادشاہتوں___ امارات اور بحرین___ نے قطر سے اپنے سفیرا واپس بلوا لیے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قطر مصر میں غلط گھوڑے کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
سیاسی تحریکوں پر پابندیاں لگانے یا عسکریت پسند گروپوں کو پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کے مؤثر ہونے کی اُمید نہیں۔ ان کے برعکس نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ ان حکومتوں کی یہ ضرورت ہے کہ اپنے ممالک اور معاشروں میں وسعت پیدا کریں اور اختلاف راے اور عوام کی مرضی کو جگہ دیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔حقیقت یہ ہے کہ شرقِ اوسط کے علاقے کی مطلق العنان حکومتوں کو اب اپنی داخلی اور علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنوغوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی لانے والی عرب بہار کا تقاضا ہے کہ بنیاد پرستوں سے پہلے ہر ایک ازسرِنو غوروفکر کرے۔(روزنامہ ڈان، ۱۰مارچ ۲۰۱۴ء)
یہ جذبات و احساسات صرف پاکستانی مسلمانوں ہی کے نہیں ہیں، درحقیقت پوری دنیا کے مسلم عوام کے ہیں جو بالعموم اور خصوصیت سے دینی قوتیں مصر اور چند عرب ممالک کے اس رویے پر بے حد مایوس ہوئی ہیں اور اسے حق و انصاف کے خلاف اور اُمت مسلمہ کے مفادات سے متصادم سمجھتی ہیں۔ ان ممالک کے حکمرانوں اور اربابِ حل و عقد کو مسلمان عوام کے جذبات کے بارے میں ضروری حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بھارت کے مسلمانوں کے جذبات کا اندازہ نئی دہلی سے شائع ہونے والے Home Slider ___ Indian Muslims کی اس رپورٹ سے ہوسکتا ہے جو ۱۵مارچ کو شائع ہوئی ہے:
اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر سعودی حکمرانوں کی مذمت برابر بڑھ رہی ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلما کے بعد نمایاں مسلم علما اور تنظیموں نے سعودی حکومت کو اخوان اور حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر سخت لتاڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی حکمرانوں نے جو حرمین شریفین کے والی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، پوری دنیا میں مسلمانوں کو اپنے اس غیرمنصفانہ اور خلافِ اسلام فیصلے سے تکلیف پہنچائی ہے۔
جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت علما، آل انڈیا دینی مدارس بورڈ اور بہت سی دوسری مسلم تنظیموں نے سعودی عرب کے مصر میں قائم ہونے والی اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے اور اُمید کی ہے کہ سعودی بادشاہت فوری طور پر فیصلے پر نظرثانی کرے گی۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ اخوان المسلمون نے جس تحریک کا آغاز کیا ہے وہ اسلامی اصولوں پر مبنی ہے۔ اس لیے اس پر پابندی یقینا پوری مسلم دنیا کو تکلیف دے گی۔ انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمون ایک بین الاقوامی اصلاحی اور سماجی تنظیم ہے، اور حماس وہ تنظیم ہے جو شرق اوسط میں صہیونی ریاست کا بے خوفی سے مقابلہ کررہی ہے۔
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسٰی منصوری، فتویٰ موبائل سروس کے مفتی محمدارشد فاروقی، مدارس بورڈ کے سربراہ مولانا یعقوب بلندشہری اور جمعیت کے سیکرٹری مولانا فیروز اختر قاسمی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سعودی حکمرانوں نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے کر ایک بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ انھوں نے شاہ عبداللہ اور سعودی عرب کے سرکردہ علما سے اپیل کی ہے کہ اخوان کے بارے میں اس فیصلے کو واپس لیں۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ ساری دنیا کے مسلمان سعودی عرب کے اس اقدام کی مذمت کریں گے اور مزاحمت کریں گے۔ انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ سعودی علما سعودی حکمرانوں کو قائل کریں گے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لیں۔ سعودی علما کا یہ فرض ہے کہ اپنے حکمرانوں پر اس حوالے سے دبائو ڈالیں، اس لیے کہ تمام مسلمان اس اقدام پر مشتعل ہیں۔
انھوں نے توجہ دلائی کہ مسلمان سعودی عرب کا بہت احترام کرتے ہیں، اس لیے کہ یہاں اسلام کے مقدس مقامات موجود ہیں، جب کہ اس ملک کے مطلق العنان حکمرانوں کے لیے جو مغربی طاقتوں کے آلۂ کار ہیں، ان کے پاس کوئی محبت نہیں ہے۔ اس سے قبل دارالعلوم ندوۃ، لکھنؤ کا تاریخی ادارہ سعودی وفد کی آمد پر اس کی تحقیر کرکے اس ضمن میں سبقت لے گیا۔
اسلام اور اُمت مسلمہ کے دشمنوں اور مخالفین کی کوشش ہے کہ مسلمانوں میں انتشار اور تصادم بڑھے اور مسلمان اپنی تمام قوتوں کو یک جا کرکے اصل مخالفین کا مقابلہ کرنے کے بجاے ایک دوسرے کا گریبان چاک کرنے اور اندرونی خلفشار اور جنگ و جدال میں اُلجھ کر اپنی قوت کو پارہ پارہ کرلیں۔ ہنری کسنجر نے تو ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کہا تھا کہ: ’’مشرق وسطیٰ کو قابو میں رکھنے اور اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے شرق اوسط کو فرقہ واریت اور لسانی اور نسلی گروہ بندیوں کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کیا جائے‘‘۔
چار سال پہلے تیونس سے عوامی انقلاب اور عرب دنیا کی بیداری کی جو نئی لہر اُبھری تھی، اس نے مغربی دنیا میں خطرے کی گھنٹیاں بجادیں۔ ترکی اور عرب دنیا میں جو قربت ترکی میں طیب اردگان کی قیادت کی کوششوں سے رُونما ہورہی تھی، اس نے اسرائیل اور امریکاو یورپ کے حکمرانوں کی نیندیں حرام کردیں۔ عراق اور افغانستان میں امریکی افواج کی ناکامی نے اس علاقے کے بارے میں جو امریکا اور یورپ کے عزائم تھے، ان کو خاک میں ملا دیا ۔ ان حالات میں ایک بار پھر مسلمان اور عرب ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے اور عوام کو شیعہ اور سُنّی، ترک اور کرد، عرب اور عجم، بنیاد پرست اور لبرل، مسلمان اور قبطی کی تقسیم اور ان کے درمیان تصادم کی راہ پر ڈالنے کی سرتوڑ کوششیں ہورہی ہیں۔
ان حالات میں عوام اور حکمران سب کے لیے ضروری ہے کہ مخالفین کے کھیل کو سمجھیں اور اپنی صفوں میں انتشار اور خلفشار کو راہ نہ پانے دیں۔ ذاتی، گروہی اور دوسری عصبیتوں اور مفادات کی سطح سے بلند ہوں اور ایک دوسرے کو کھلے دل سے تسلیم کر کے مشترکات کی بنیاد پر تعاون کی راہیں استوار کریں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اسلام اور اُمت مسلمہ کے مفاد کی بنیاد پر نئی سوچ اختیار کی جائے اور مفاہمت اور تعاون کے ذریعے ایک دوسرے کی تقویت کا ذریعہ بنا جائے۔ ہم پوری دل سوزی سے مصر کے حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی اور جمہوری قوتوں کو نشانہ بنانے کے بجاے انھیں اتحادِ اسلامی اور تعمیرنو کی جدوجہد میں اعوان و انصار کا درجہ دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں ان شاء اللہ سب کے لیے خیر اور استحکام کا حصول ممکن ہوگا، جو اُمت کی تقویت کا باعث ہوگا۔ اور اس طرح مسلمان اپنے گھر کی اصلاح کے ساتھ انسانیت کی تعمیرنو میں ایک اہم کردار ادا کرسکیں گے۔
تھرپارکر کا صحرا دنیا کا چھٹا بڑا صحرا ہے، جو پاکستان اور بھارت میں مشترک ہے۔ پاکستانی حصہ ۳۳ہزارمربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جو چھے تحصیلوں پر محیط ہے اور اس کی آبادی ۱۵لاکھ کے قریب ہے۔ زیادہ آبادی ۲ہزار ۳ سو دیہات میں مکین ہے، جب کہ کچھ شہری آبادی بھی ہے۔ زیرکاشت رقبہ سوا تین لاکھ ایکڑ سے زیادہ ہے، جو آبادی کے ۲۰ فی صد کی ضرورتوں کو بمشکل پورا کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے خوراک کے باب میں عدم تحفظ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ ہے اور ایک مستقل مسئلہ ہے۔ گلہ بانی یہاں کے لوگوں کا دوسرا بڑا پیشہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۶۰لاکھ مویشی اس علاقے میں ہیں، جو سندھ اور خصوصیت سے کراچی کی گوشت کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ البتہ مویشیوں کے لیے بھی چارے کا مسئلہ پریشان کن ہے، جو نتیجتاً مویشیوں میں مختلف نوعیت کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ۵لاکھ سے زیادہ بھیڑبکریاں sheep pax اور دوسری بیماریوں میں مبتلا ہیں اور علاج کی سہولتیں سخت ناکافی ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے بیمار مویشی انسانی غذا کا حصہ بنتے ہیں اوریہ چیز انسانی صحت کے لیے ایک مستقل مسئلہ اور خطرہ ہے۔
تھر کے علاقے میں خشک سالی، اور اس کے نتیجے میں رُونما ہونے والی خوراک کی عدم فراہمی اور غذائی قلت بچوں اور خواتین میں بیماریوں کا بڑا سبب ہیں جو قحط اور غذا کی کمیابی کی مختلف کیفیات (intensities) کے ساتھ ایک معمول بن گئی ہیں۔ علاج کی سہولتیں ناپید ہیں۔ گذشتہ ۲۰سال میں نو بار خشک سالی اور غذا کی قلت وبا کی صورت اختیار کرچکے ہیں اور انسانوں اور مویشیوں کی قابلِ ذکر پیمانے پر ہلاکت کا باعث رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ علاقہ ایک مخدوش علاقہ ہے اور خشک سالی اور غذا کی قلت ایک معلوم مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور غذا، صحت، تعلیم اور روزگارکی فراہمی کا ایسا نظام ضروری ہے جو ہردو تین سال کے بعد خشک سالی سے پیدا ہونے والے مسائل کے مستقل حل کا ذریعہ ہو۔ اچھی حکمرانی کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں کے حالات اور موسم اور دوسرے قدرتی عوامل کے اُتارچڑھائو کی تاریخ اور صورتِ حال کی روشنی میں اصلاح احوال کا مستقل بنیادوں پر اہتمام کیا جائے۔ تھر کا صحرا دنیا کے ان چند صحرائوں میں سے ہے جنھیں زرخیز صحرا کہا جاتا ہے، یعنی پانی کی فراہمی کے مناسب انتظام کی صحیح منصوبہ بندی اور ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے اسے سبزہ زار بنایا جاسکتا ہے اور قدرت کے تھپیڑوں کا بڑی حد تک کامیابی سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
اس پس منظر میں ۷مارچ ۲۰۱۴ء کو میڈیا پر سوا سو بچوں کے بھوک، کم خوراکی اور بیماریوں سے لقمۂ اجل بن جانے کی خبر نے پاکستان کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا اور گذشتہ دو ہفتوں میں جو حقائق قوم کے سامنے آئے ہیں، وہ جہاں نہایت افسوس ناک اور شرم ناک ہیں، وہیں سندھ کی حکومت کی غفلت ہی نہیں مجرمانہ غفلت کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب تصدق حسین جیلانی نے بجاطور پر سوموٹو نوٹس پر سماعت کے دوران تھر کی صورت حال کو پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دینے کے مترادف قرار دیا ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری صوبہ سندھ کی حکومت اور اس کی پالیسیوں اور رویوں کو قرار دیا ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ تھرپارکر کے حالات اور تاریخی اعداد و شمار کوئی نئی شے نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگری کلچرل آرگنائزیشن (FAO) نے پانچ سال پہلے متنبہ کیا تھا کہ آنے والے برسوں میںاس علاقے میں خوراک کی قلت اور فاقہ کشی کے شدید خطرات ہیں، اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری طور پر مناسب اقدامات کی ضرورت ہے جس کی طرف حکومت کو توجہ دینی چاہیے اور صحیح پالیسیاں وضع کر کے انھیں رُوبہ عمل لانا چاہیے___ لیکن مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت غافل رہے۔
ستم یہ ہے کہ خود صوبائی حکومت نے ۲۰۱۲ء میں تھرپارکر کے پورے علاقے کو بڑی تباہی کا خطہ قرار دیا تھا اور ایک قانون کا مسودہ صوبائی حکومت نے Draft-Nutritional Policy کے عنوان سے تیار کیا تھا لیکن دوسال میں وہ ڈرافٹ صرف ڈرافٹ ہی رہا، جسے نہ حکومت کی پالیسی کی صورت اختیار کرنا نصیب ہوا اور نہ اس کی تنفیذ سے خوراک اور پانی کی فراہمی کے لیے کوئی قانون سازی ہوئی۔ خطرات منڈلاتے رہے۔ اربابِ حکومت اپنی حکمرانی کی دُھن میں مَست بانسری بجاتے رہے اور ان کی دل چسپی عوام کی مشکلات کو دُور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی جگہ فیسٹیول منانے اور اپنے حلوے مانڈے تک محدود رہی۔
پھر اگست ۲۰۱۳ء میں محکمہ موسمیات نے وارننگ دے دی تھی کہ ۱۵؍اگست تک بارشوں کے نہ ہونے سے انسانوں اور مویشیوں کے لیے خوراک کی قلت کا شدید خطرہ ہے لیکن یہ وارننگ بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئی اور ستمبر۲۰۱۳ء سے بچوں کی اموات کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں دسمبر۲۰۱۳ء میں تیزی سے اضافہ ہوا اور فروری ۲۰۱۴ء تک ۱۲۱بچے زندگی کی بازی ہارگئے۔ ان سطور کی تحریر کے وقت (۲۰؍مارچ ۲۰۱۴ء) تک اموات کی وہ تعداد جو رپورٹ ہوئی ہے ۱۷۲تک پہنچ چکی ہے اور خدشہ ہے کہ ایک خاصی بڑی تعداد ان بچوں کی بھی ہے جو ہسپتالوں تک نہیں لائے جاسکے اور جو اپنے اپنے دیہات یا صحرا کی ریت ہی پر دم تو ڑ گئے۔ اس طرح سیکڑوں کی تعداد میں انسانی غنچے بن کھلے ہی مرجھا گئے۔
یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ۲۰۱۱ء میں پاکستان کے تمام علاقوں کے بارے میں غذائی اجناس کی فراہمی کے باب میں ایک اہم سروے ہوا تھا جسے Pakistan Nutritional Survey 2011 کہا جاتا ہے۔ اس کی رُو سے ملک کی آبادی کا ۵۷ فی صد غذائی عدم تحفظ (food insecurity) کا شکار ہے اور سب سے خراب صورت حال فاٹا کے ساتھ ساتھ سندھ اور خصوصیت سے تھرپارکر کے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح صحت اور تعلیم کے حالات کے تمام جائزوں کے ذریعے یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ علاقہ معرضِ خطر میں ہے اور فوری اور مستقل ہردو بنیادوں پر مؤثرمنصوبہ بندی اور عملی اقدام کی ضرورت ہے، مگر صوبے کی انتظامیہ اور سیاسی قیادت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی۔
حکومت اور انتظامیہ کی ناکامی اور بے حسی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریلیف اور صحت کے شعبے کا کوئی وزیر ہی موجود نہیں ہے۔ جن صاحب کو عارضی چارج دیا گیا ہے، انھوں نے کبھی اس علاقے کے حالات کو جاننے اور سنوارنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی۔ انتظامی عہدوں پر نااہل اقربا کا تقرر کیا گیا جنھیں علاقے کی فلاح و بہبود سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ سپریم کورٹ میں صوبے کے سیکرٹری صحت نے اپنے بیان میں ہسپتالوں اور صحت مراکز پر ڈاکٹروں کی غیرحاضری کا جو نقشہ کھینچا ہے اس پر انسان صرف سر ہی پھوڑ سکتا ہے۔ ارشاد ہے کہ صرف اس علاقے کے جہاں صحت اور ادویہ کی عدم فراہمی کی وجہ سے سیکڑوں بچے موت کی آغوش میں جابسے ہیں، ۴۵۰ڈاکٹر ڈیوٹی سے غائب تھے اور اب انھیں شوکاز نوٹس دیے گئے ہیں۔
صوبائی حکومت کی بے بصیرتی، غیرسنجیدگی اور بدترین نوعیت کی حکمرانی اس صورت حال کا اولین سبب ہے۔ دوم: انتظامیہ کی نااہلی، کرپشن اور احتساب اور نگرانی کے نظام کا فقدان۔ سوم: اس علاقے میں معاشی اور سماجی انفراسٹرکچر کا فقدان اور منصوبہ بندی کا افلاس ہے۔ سڑکیں بنادی گئی ہیں مگر ٹرانسپورٹ نہیں ہے۔ ہسپتال موجود ہیں مگر ڈاکٹر اور ادویات ندارد۔ گندم کی بوریاں گوداموں میں سڑرہی ہیں اور لوگ روٹی کے دو لقموں کو ترس رہے ہیں۔ پانی کی ترسیل کا کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔ ان پر مستزاد عملے کی نااہلی اور کرپشن___ قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کر جو وسائل اس علاقے کے لیے فراہم کیے اس کا بمشکل ۱۰ فی صد عوام تک پہنچتا ہے اور ۹۰ فی صد کرپٹ عناصر کی ہوس زرگری کی نذر ہوجاتا ہے اور اُوپر سے نیچے تک احتساب کا کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے۔
اس سب کچھ پر بے حسی کا یہ عالم ہے کہ حکومت کی بڑی ذمہ دار ہستی جسے خصوصیت سے حالات کو سدھارنے کے لیے کراچی سے تھر بھیجا گیا ہے، ان کا ارشاد ہے کہ یہ سارا فاقہ و فساد میڈیا کا کیا دھرا ہے۔بڑی شانِ بے نیازی کے ساتھ اس کے لیے ایک نئی اصطلاح وضع فرماتے ہیں کہ یہ MMD ہے یعنی Media Made Disaster۔ خود وزیراعلیٰ صاحب فرماتے ہیں: This is a normal occurence in the Thar district. (ضلع تھر میں یہ ایک معمول کا واقعہ یا صورتِ حال ہے)___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ الیہ رٰجعون! یعنی یہاں پہلے بھی لوگ مرتے رہتے ہیں اور اب بھی مر رہے ہیں۔
یہ وہ حکمران فرما رہے ہیں جو ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے نعرے پر اقتدار میں آئے تھے اور غریب عوام کے مسائل کو حل کرنے کے سب سے بڑے دعوے دار تھے۔
ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے پالیسی سازی کا بحران، بدترین حکمرانی اور کرپشن کے ساتھ اربابِ اقتدار کی بے حسی اور غیرسنجیدگی نے بھی حالات کو بگاڑنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اصل مسئلہ خوراک کی عدم فراہمی نہیں، بدترین طرزِ حکمرانی ہے۔ ریلیف کی فوری کوششوں کے ساتھ واضح پالیسی کی تشکیل اور انتظامی مشینری اور خدمات کی فراہمی، خصوصیت سے پہنچانے کے نظام کی اصلاح ازبس ضروری ہے۔ محض فنڈز کی فراہمی سے یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔ حکومت کی مشینری کی نااہلی اور ناکامی کے ساتھ اگر ایک نظر غیرحکومتی خدمتی اداروں کی کارکردگی پر ڈالی جائے تو فرق صاف نظر آتا ہے۔ الخدمت فائونڈیشن اپنے محدود وسائل کے ساتھ ۱۹۹۸ء سے اس علاقے میں پانی کی فراہمی، تعلیم اور ادویات کی فراہمی کے لیے ایک جامع منصوبے کے تحت کام کررہی ہے۔ اس عرصے میں ۵۰۰ سے زیادہ کنویں کھودے گئے ہیں، جسے زم زم پراجیکٹ کا عنوان دیا گیا ہے اور ہزاروں افراد کو پینے کا صاف پانی میسر آیا ہے۔ حالیہ بحران کے موقعے پر بھی الخدمت فائونڈیشن مؤثر خدمات انجام دے رہی ہے۔ اسی طرح جماعت الدعوۃ، پیماریلیف، ایدھی فائونڈیشن اور خود فوج کے دستوں نے بڑی مفید خدمات انجام دی ہیں۔
اگر یہ ادارے انسانی جانوں کو بچانے اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اتنا کچھ کرسکتے ہیں، تو پھر حکومت کیوں اپنے اربوں روپے کے ترقیاتی پروگراموں اور ہزاروں افسروں اور کارندوں کے لائولشکر کے باوجود کوئی مؤثر خدمت انجام نہیں دے سکی؟ ___ وقت آگیا ہے کہ جن کے ہاتھوں میں حکومت کی زمامِ کار ہے اور جو قوم کے وسائل کے استعمال پر مامور ہیں، ان کا پورا پورا احتساب کیا جائے اور قوم کے وسائل قوم کی بہبود کے لیے استعمال کیے جانے کا اہتمام کیا جائے۔
برادر محترم عبدالقادر مُلّا شہید کے غم کو ابھی دو مہینے بھی نہ ہوئے تھے کہ مولانا ابوالکلام محمدیوسف کے دورانِ حراست رحلت کی خبر دل پر بجلی بن کر گری۔ اس طرح بنگلہ دیش، تحریک اسلامی اور اُمت مسلمہ اپنے ایک اور نام وَر خادم سے محروم ہوگئی : اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔
مولانا اے کے ایم یوسف کو یہ اعزازبھی حاصل ہوا کہ میرے علم کی حد تک جماعت اسلامی کے وہ پہلے قائد ہیں جنھوں نے جیل میں جاں جانِ آفریں کے سپرد کی ۔ یوں وہ ظالم حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بے گناہی کا اعلان اور حق کی خاطر اپنی زندگی بھر کی جدوجہد کا پورے عزم اور اعتماد سے دفاع کرتے ہوئے اپنے رب سے ملاقات کے ابدی سفر پر روانہ ہوگئے۔ الحمدللہ ۸۸سال کے اس جواں عزم رکھنے والے مجاہد نے کسی موقعے پر بھی کوئی کمزوری نہ دکھائی اور اپنے رب سے کیے ہوئے وعدے کو سچا کر دکھایا:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ز وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا o (الاحزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچاکر دکھایا___ اور ان میں کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
مولانا ابوالکلام محمد یوسف ۲فروری ۱۹۲۶ء کو بنگلہ دیش کے ایک گائوں راجیہ (سارن کھالہ) ضلع باگرہاٹ میں پیدا ہوئے اور ۹فروری ۲۰۱۴ء کوشمیور سنٹرل جیل ڈھاکہ میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد بنگلہ بندھو میڈیکل یونی ورسٹی ہسپتال لے جاتے ہوئے ربِ حقیقی سے جاملے۔ بنگلہ دیش کی منتقم حکومت نے ان کو ۱۲مئی ۲۰۱۳ء کو جنگی جرائم کے جھوٹے الزامات کے نام پر گرفتار کیا تھا۔ دل کا دورہ پڑنے کے بعد، پولیس انھیں قریب ترین ہسپتال میں لے جانے کے بجاے ایک دُور کے ہسپتال لے کر گئی اور وہاں پہنچتے پہنچتے وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ؎
یہ خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع تو نہ جائے گا لیکن
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں، جو صرفِ بہارا ں ہوتے ہیں
مولانا ابوالکلام محمد یوسف نے ابتدائی تعلیم دینی مدرسے میں حاصل کی پھر اسی سفر کو جاری رکھا تاآنکہ ۱۹۵۲ء میںدینی تعلیم کی اعلیٰ ترین سند ممتاز المحدثین حاصل کر کے ایک معلم اور داعی کی حیثیت سے عملی کردار کا آغاز کیا۔ مدرسہ عالیہ سے بھی دینی علوم میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور پھر دینی مدارس میں تدریس کی ذمہ داریاں ادا کیں اور اعلیٰ تدریسی و انتظامی صلاحیتوں کے سبب ۱۹۵۸ء میں مدرسے کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ دورانِ تعلیم ہی میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے استفادہ کیا اور پھر تحریکِ اسلامی میں رچ بس گئے۔ مولانا عبدالرحیمؒ مشرقی پاکستان میں بنگلہ بولنے والے پہلے رکن جماعت اسلامی تھے اور مولانا ابوالکلام محمد یوسف کو دوسرا رکن ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ ۱۹۵۶ء میں کھلنا ضلع کے امیر مقرر ہوئے۔ ۱۹۶۲ء میں مرکزی مجلس شوریٰ میں منتخب ہوئے اور ۱۹۷۱ء تک اس ذمہ داری کو بہ حُسن و خوبی ادا کیا۔ اس زمانے میں مشرقی پاکستان جماعت اسلامی کے سیکرٹری اور نائب امیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
پاکستان قومی زندگی میں مولانا ابوالکلام محمد یوسف کی سیاسی جدوجہد کا آغاز ۱۹۶۲ء میں مشرقی پاکستان سے قومی اسمبلی کا رُکن منتخب ہونے سے ہوا۔ ۸جون ۱۹۶۲ء کو حلف لے کر غیرجماعتی ایوان میں کلمۂ حق بلند کرنے کا آغاز کیا۔ وہ ۱۹۶۹ء تک اسمبلی کے رکن رہے۔ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان ڈاکٹر محمد مالک کی صوبائی حکومت میں چند ہفتوں کے لیے وزیرمال بھی رہے۔ دسمبر ۱۹۷۱ء کے سانحہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد قیدوبند کی صعوبتوں کو جھیلا، جس سے دسمبر ۱۹۷۵ء میں نجات ملی۔ پھر زندگی کے آخری سال میں ایک بار حسینہ واجد کی آتشِ انتقام کا نشانہ بن کر پابند سلاسل ہوئے اور نام نہاد وارکرائمز ٹربیونل کی انتقامی کارروائی سے پہلے ہی حکم ربانی کے تحت باعزت اور نہ ختم ہونے والی رہائی حاصل کرلی ع
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
مولانا اے کے ایم یوسف مرحوم سے میری ملاقاتوں اور پھر قریبی تحریکی تعلق کاآغاز ۱۹۶۲ء ہی سے ہوا جب وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر اسمبلی میں جماعت اسلامی ہی نہیں، بلکہ تمام دینی اور تعمیری قوتوں کی آواز بن گئے۔ مشرقی پاکستان سے جماعت کی حمایت سے تین ارکان منتخب ہوئے تھے___ دو ارکان اور ایک متفق: یعنی مولانا ابوالکلام محمدیوسف اور جناب عبدالخالق صاحب رکن جماعت تھے اور بیرسٹر اخترالدین صاحب متفق اور ہم نوا مگر پوری طرح جماعت کے نظم کے پابند اور اس کی فکر کے ترجمان۔ البتہ اسمبلی میں مولانا ابوالکلام محمدیوسف جماعت کے پارلیمانی لیڈر کا کردار ادا کرتے تھے۔ اخترالدین احمد انگریزی اور مولانا بنگالی میں اور کبھی کبھی بنگالی اور اُردو میں اظہارِ خیال فرماتے تھے۔ وہ اپنی تقاریر میں ہمیشہ دلائل کے ساتھ قومی اُمور پر جماعت اسلامی کے موقف کو پورے اعتماد اور وقار سے پیش کرتے تھے۔ وہ طبعاً بڑے لطیف مزاج تھے، اور اپنے اس ذوق کو موقع بہ موقع بڑی خوب صورتی سے استعمال کرتے تھے اور سب اس سے لطف اُٹھاتے تھے۔ جہاں تک بنگلہ زبان کا تعلق ہے مولانا محمد یوسف اس کے شعلہ بیان مقرر تھے نیز اُردو میں بھی وہ بڑی روانی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔
جماعت اسلامی کے پارلیمانی کردار کا آغاز مولانا محمد یوسف نے ۱۱جون ۱۹۶۲ء کو مولوی تمیزالدین صاحب کے اسپیکر منتخب ہونے پر مبارک باد میں کی جانے والی تقریر سے کیا اور پارلیمانی بحث پر تحریکی فکر کے نقوش مرتسم کردیے۔ اس پہلی تقریر میں قیامِ پاکستان کے اصل مقصد، یعنی اسلامی نظام کے قیام کا بھرپور انداز میں اظہار کیا۔ فوجی ڈکٹیٹر محمد ایوب خان کے جس دستور کے تحت یہ اسمبلی بنی تھی، اس پر تنقید کی، اسے ایک غیراسلامی دستور قرار دیا اور بڑے لطیف انداز میں کہا کہ بس اس دستور کا ایک خوش آیند پہلو یہ ہے کہ اس میں ترمیم ہوسکتی ہے اور ان شاء اللہ وہ ہم جلد کریں گے اور اسے اسلام کے مطابق ڈھال کر دم لیں گے۔ ایسے ہی خیالات کا اظہار جناب عبدالخالق نے بھی کیا۔ انھوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ بات بھی کہہ دی تھی کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں اصل رشتہ اسلام کا ہے اور صرف اسلام کے مطابق انصاف ہی کی بنیاد پر یہ ملک ترقی کرسکتا ہے، نیز یہ کہ اس ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں کی بحالی اور ان کا بھرپور کردار ضروری ہے۔
صدرفیلڈمارشل ایوب خان نے اپنی قوت کے نشے میں ۱۹۶۲ء کے دستور سے قراردادِ مقاصد خارج کردی تھی۔ مملکت کا نام جو ۱۹۵۶ء سے دستور میں ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ تھا بدل کر صرف ’جمہوریہ پاکستان‘ کردیا تھا اور قانون سازی کے سلسلے میں قرآن وسنت کی جگہ صرف ’اسلام‘ کا ذکر کیا تھا اور عدالتوں کے ذریعے اس شق کے نفاذ کو (justiciable ) دستور میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
جماعت اسلامی اور ہم آواز اسلامی قوتوں کی مساعی کے نتیجے میں پہلے ہی مہینے سیاسی جماعتوں کا قانون بڑی رد و کد کے بعد وضع کیا گیا۔ جولائی ۱۹۶۲ء میں سیاسی جماعتیں بحال ہوئیں اور اس بحث کے دوران اسلام کو ملک کی آئیڈیالوجی کے طور پر بھی ایوبی آمریت کے کارندوں کی ساری رکاوٹوں کے باوجود منظور کرایا گیا۔ اس کا موقع اس طرح پیدا کیا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری قرار دیاگیا تھا کہ ’’وہ پاکستان کی سالمیت کو مجروح کرنے والی کسی سرگرمی میں ملوث‘‘ نہیں ہوں گی،جب کہ مولانا ابوالکلام محمدیوسف اور دوسرے اسلام پسند ارکان کے اصرار پر اس شرط کے ساتھ ’نظریۂ پاکستان کی مخالفت‘ کو بھی شامل کیا گیا اور پھر واضح الفاظ میں نظریۂ پاکستان کی یہ وضاحت بھی شامل کی گئی کہ اسلام ہی نظریۂ پاکستان ہے۔
قومی اسمبلی میں کی جانے والی بحث کا یہ حصہ بڑا چشم کشا ہے۔ اس وقت کے وزیرقانون جناب سابق جسٹس محمد منیر تھے، جو پنجاب کے ۱۹۵۳ء کے فسادات کے سلسلے میں تیار کی جانے والی رپورٹ کے مصنف تھے اور پاکستان کی اسلامی اساس کے منکر تھے۔ انھی کی قیادت میں سیاسی جماعتوں کا یہ بل متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش ہوا۔ سب کمیٹی نے، جس میں بیرسٹر اخترالدین احمدصاحب تھے، متفقہ طور پر ’پاکستان آئیڈیالوجی‘ کا لفظ اضافہ کیا۔ اسمبلی میں ترمیم کے ذریعے اس وضاحت کا مزید اضافہ کیا گیا کہ پاکستان آئیڈیالوجی کے معنی اسلام ہیں۔ سیکولر طبقے سے یہ اضافہ ہضم نہیںہو رہا تھا اور طرح طرح کے حیلے بہانے کیے گئے لیکن بالآخر اس ترمیم کو منظور کرنا پڑا۔ اس طرح ۱۹۶۲ء میں، نہ کہ ۱۹۶۹ء میں جنرل شیرعلی یا ۱۹۷۷ء میں جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں اسلامی آئیڈیالوجی بحیثیت پاکستان آئیڈیالوجی ان ہی الفاظ میں قانون کا حصہ بنی، اور پھر اسمبلی اور تمام اہم مناصب پر مامور افراد کے حلف کا حصہ بنی۔
اس کامیابی میں مولانا ابوالکلام محمدیوسف کا دوسرے اہم ارکان کے ساتھ بڑا نمایاں حصہ تھا۔ بالآخر سابق جسٹس منیر کو بھی شرمسار ہوکر اس ترمیم کو ایوان کی مرضی کے طور پر تسلیم کرنا پڑا اور ان کے مندرجہ ذیل الفاظ کارروائی ہی کا نہیں تاریخ کا حصہ بن گئے۔افسوس کا مقام ہے کہ اس واقعے کے سات سال بعد شائع ہونے والی کتاب From Jinnah to Zia جس کے مصنف بھی یہی سابق جسٹس محمد منیرہیں، وہ اس میں ایک بار پھر وہی راگ الاپتے نظر آئے کہ: ’پاکستان، نیز اسلامی آئیڈیالوجی کے ’مسلط‘ کرنے کا کام جنرل ضیاء الحق نے انجام دیا جو محمدعلی جناح کے تصور کے برعکس تھا‘۔ لیکن نتیجہ یہ ہے کہ اسمبلی کے ایوان میں سابق جسٹس منیر کے یہ الفاظ ان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں جو کبھی مٹایا نہ جاسکے گا:
تحریک پیش کی جاتی ہے کہ ’’بل کی دفعہ ۲کے پیرا (c) کے بعد درج ذیل پیرا شامل کیا جائے:
(d) آئیڈیالوجی آف پاکستان کا مطلب ہے اسلام
مسٹر محمد منیر: جناب عالی! اصل بل میں لفظ ’آئیڈیالوجی‘ شامل نہیں تھا اور جب مَیں یہ بل ڈرافٹ کر رہا تھا تو میں نے اس سوال پر غور کیا کہ لفظ ’آئیڈیالوجی‘ شامل ہو یا نہ ہو؟ مَیں نے آخری فیصلہ یہ کیا کہ اس لفظ کو شامل نہ کیا جائے کیوں کہ مَیں محسوس کرتا ہوں کہ الفاظ ’پاکستان کی آئیڈیالوجی‘ کی تعریف کرنا بہت زیادہ مشکل ہوگا۔ لیکن سلیکٹ کمیٹی نے اس لفظ کو شامل کیا ہے اور اب یہ ایک ترمیم ہے کہ الفاظ ’پاکستان کی آئیڈیالوجی‘ کی تعریف اس طرح کی جائے کہ اس کا مطلب اسلام ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں اس لفظ سے مکمل طور پر بے تعلق ہوں کہ لفظ ’آئیڈیالوجی‘ یہاں ہو یا لفظ ’آئیڈیالوجی‘ کو حذف کردیا جائے، یا لفظ ’آئیڈیالوجی‘ کی تعریف اسلام کے لفظ سے کی جائے۔ مَیں یہ ایوان پر چھوڑتا ہوں۔(قومی اسمبلی پاکستان کی کارروائی، ۱۱ جولائی ۱۹۶۲ء، ص ۱۳۳۴)
مولانا ابوالکلام محمدیوسف نے دستور میں پہلی ترمیم کے سلسلے میں بھی بڑا مثبت بلکہ جارحانہ کردار ادا کیا اور بالآخر اسمبلی کو پاکستان کا اصل نام ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ بحال کرنا پڑا۔ ’قراردادِ مقاصد‘ دستور اپنی اصل شکل میں دستور کا دیباچہ بنائی گئی۔ قانون سازی کے باب میں ’اسلام‘ کی جگہ اصل الفاظ ’قرآن وسنت‘ بحال کیے گئے اور ان سے متصادم قانون سازی پر پابندی لگائی گئی۔ نیز ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے احکام کے مطابق ڈھالنے کی ان شقوں کو بحال کیا گیا جو ۱۹۵۶ء کے دستور میں تھیں، مگر ۱۹۶۲ء کے دستور میں ان کو عملاً غیرمؤثر کردیا گیا تھا۔ دستور میں اس بنیادی ترمیم میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ گیا، لیکن جماعت اسلامی، نظام اسلام پارٹی، مفتی محمود صاحب اور مسلم لیگ کے کچھ ارکان کی مشترکہ کوششوں سے ۲جولائی ۱۹۶۲ء ہی کو ایک قرارداد اسمبلی میں پیش کی گئی اور ۳جولائی کو اسے متفقہ طور پر منظور کرایا گیا کہ: ’’ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت سے ہم آہنگ کیا جائے گا‘‘۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کردار جن لوگوں نے ادا کیا، ان میں محمد ایوب، میاں عبدالباری اور مفتی محمود کے ساتھ ساتھ مولانا یوسف، جناب عبدالخالق صاحب اور بیرسٹر اخترالدین احمد نے ادا کیا اور سابق جسٹس محمد منیرصاحب پیچ و تاب کھاتے رہے مگر ع
رہ گئے وہ بھی ہاں کرتے کرتے!
مولانا ابوالکلام محمدیوسف نے اسمبلی میں جو تقاریر کی ہیں، وہ ان کی بالغ نظری، جرأتِ ایمانی اور پاکستان اور تحریک اسلامی سے وفاداری کی روشن نظیر ہیں۔ ان میں انھوں نے خارجہ پالیسی، بجٹ سازی، اُمور حکمرانی (governance)، غرض ہر مسئلے پر کلام کیا اور قدرتِ کلام کا مظاہرہ کیا ہے۔ بجٹ پر ان کی تقاریر اسلامی اور معاشی ہردواعتبار سے بڑا مبسوط و مربوط تبصرہ ہیں۔ ان تقاریر میں انھوں نے صرف سود، اسراف اور غلط معاشی ترجیحات ہی پر احتساب نہیں کیا ہے، بلکہ زندگی کے ہرشعبے پر کلام کیا ہے۔
اسی طرح خارجہ پالیسی پر ان کی کئی تقاریربڑی چشم کشا ہیں، جن میں انھوں نے خارجہ پالیسی کے عدم توازن کا بھانڈا پھوڑا۔ سفارت خانوں کی کارکردگی پر احتساب کیا ہے ۔ امریکا کی گودمیں بیٹھ جانے پر شدید تنقید کی ہے اور امریکا کے ناقابلِ اعتبار دوست ہونے کی حقیقت بیان کی۔ خصوصیت سے جب ۱۹۶۲ء میں امریکا نے پاکستان سے کیے گئے وعدوں کی کھلی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کو اسلحے کی سپلائی شروع کی تو اس پر ان کی تنقید بڑی بھرپور اور جامع ہے۔ انھوں نے روس اور چین سے تعلقات کو نظرانداز کرنے اور صرف امریکا پر بھروسا کرنے پر سخت گرفت کی۔ اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیا ہے کہ امریکا نے سیٹو اور سینٹو میں پاکستان کی شرکت سے لے کر ۱۹۶۲ء تک، یعنی ۱۰سال میں جو امداد دی، بھارت کو صرف تین مہینے میں اس سے ۸گنا زیادہ کااسلحہ فراہم کیا۔ یہ بھی یاد دلایا کہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی اپنا یہ وعدہ بھول گئے کہ پاکستان سے مشورے کے بغیر بھارت کو کوئی اسلحہ فراہم نہیں کریں گے۔ بڑے لطیف انداز میں انھوں نے کہا کہ امریکا کی پاکستان سے دوستی ہم پاکستانیوں کی مرغی سے دوستی کی طرح ہے کہ جب دل چاہا مرغی کو ذبح کر کے دسترخوان کی زینت بناڈالا۔
۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۹ء تک مشرقی پاکستان کے ساتھ جو ناانصافیاں ہورہی تھیں۔ مولانا محمدیوسف نے ان پر بھی بھرپور کلام کیا ہے۔ سوالات کی شکل میں بھی اور بحث اور دوسرے مواقع پر اپنی تقاریرکے اندر بھی۔ تعجب ہوتا ہے کہ حج تک کے معاملے میں ناانصافی کی گئی۔ اپریل ۱۹۶۳ء کے ایک سوال کے جواب میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان سے حج کے لیے جانے والوں میں ایک اور چار کی نسبت تھی اور ۱۹۶۳ء میں مشرقی پاکستان سے صرف ۴۸۰۰حاجی جاسکے، جب کہ اس سال مغربی پاکستان سے حج کے لیے جانے والوں کی تعداد ۱۱۳۰۰ تھی۔ اسی طرح ہرشعبے میں ملازمتوں میں، ترقیاتی اخراجات میں، غرض زندگی کے ہر شعبے میں مشرقی پاکستان کے حقوق پامال کیے جارہے تھے۔ یہ آواز جماعت اسلامی کے ارکان اسمبلی نے ساٹھ کے عشرے میں اُٹھائی، جو تاریخ کا حصہ ہے۔
مسلمانانِ پاکستان ’ریڈ کراس سوسائٹی‘ (سرخ صلیب) کے نام پر ہمیشہ سے معترض تھے۔ اس میں عیسائی مشنری اور سامراجی سیاسی رشتے کی جو جھلک نظر آتی ہے، اس سے خلاصی چاہتے تھے۔ ۷۰ کے عشرے میں غالباً جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ریڈکراس سوسائٹی کا نام تبدیل کرکے اسے پاکستان ریڈکریسنٹ (ہلالِ احمر) سوسائٹی قرار دیا گیا، لیکن کم لوگوں کو علم ہے کہ اس تبدیلی کا سب سے پہلے مطالبہ مولانا محمد یوسف نے اسمبلی میں اپریل ۱۹۶۳ء میں کیا تھا اور عملاً۱۳؍اپریل ۱۹۶۳ء کو ایک بل اس تبدیلی کے لیے اسمبلی میں داخل کردیا تھا، جس پر بحث کے دوران ارکان کی بڑی تعداد نے اس کی تائید کی۔ اس تائیدی لہر سے خائف ہوکر اس وقت کی حکومت نے بڑی چال بازی کے ساتھ اس بل کو کمیٹی کے سپرد کردیا، لیکن جب بھی نام میں یہ تبدیلی ہوئی اس کا اصل اعزاز مولانامحمدیوسف ہی کو جاتا ہے۔
اسی طرح وقت بے وقت آرڈی ننس جاری کرکے حکمرانی کرنے پر بھی مولانا محمد یوسف نے اسمبلی میں بھرپور تنقید کی اور لطیف انداز میں کہا کہ ہم تو مطالبہ کر رہے تھے: ’’بھارت میں ۵۰کے قریب آرڈی ننس فیکٹریاں ہیں، جہاں سے اسلحہ تیار ہو رہا ہے اور بڑی مشکل سے ایک اسلحہ ساز فیکٹری کا پاکستان میں آغاز ہوا،لیکن بدقسمتی سے ہماری حکومتوں نے دوسری نوعیت کی تین آرڈی ننس فیکٹریاںکھولی ہوئی ہیں اور یہ تینوں ہمہ وقتی گولہ باری کررہی ہیں: ایک ایوانِ صدر سے اور دو گورنر ہائوسز سے۔ یہ آرڈی ننس فیکٹریاں اسمبلی میں قانون سازی کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اسمبلی کے دو سیشنوں کے درمیان گیارہ گیارہ اور سات سات گولے داغے جارہے ہیں۔ یہ اسمبلیوں کے حق پر کھلی دست درازی ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے‘‘۔ اس سلسلے میں ان کی سب سے مؤثر اور دل چسپ تقریر ۲۷بومبر ۱۹۶۳ء کو اسمبلی میں ہوئی، جس نے ایوان کو کشت ِ زعفران بنادیا۔
اسی طرح آمریت پر انسانی حقوق کی پامالی اور سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریوں پر انھوں نے باربار کڑی تنقید کی اور صدر ایوب کو خطاب کر کے ایک بار یہاں تک کہا کہ: ’’جمہوریت ڈنڈے کے ذریعے نہیں آتی، اور اگر ڈنڈا یہ کام کرسکتا تو پھر اللہ تعالیٰ کو انبیا ؑ بھیجنے کی ضرورت نہ تھی، جو تعلیم و تلقین کے ذریعے انسانوں کو بدلتے اور دنیا میں امن و آشتی اور انصاف کے قیام کی جدوجہد کرتے ہیں بلکہ صرف ڈنڈا نازل فرما دیتے‘‘۔ قبائلی علاقوں میں انتظامی قوانین (FCR) پر بھی انھوں نے بھرپور تنقیدکی۔ عدلیہ کی آزادی اور سیاست سے ججوں کے دُور رہنے پر بھی انھوں نے باربار کلام کیا اورسابق جج محمدمنیر کی موجودگی میں یہاں تک کہا کہ: ’’عدلیہ کی آزادی کے لیے یہ ایک خطرہ ہے کہ جج وزیر بن جائیں اور وزیر جج بننے کے لیے کوشاں ہوں۔ ان کی دُوری ہی عدلیہ کی آزادی کی ضمانت ہے‘‘۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی کے ارکان نے ہردور میں: ۶۲-۱۹۶۹ء ، ۷۲-۱۹۷۶ء اور ۱۹۸۵ء سے اب تک جو کردار ادا کیاہے وہ قوم کے سامنے لایا جائے۔ نئی نسلوں کو حتیٰ کہ جماعت کے اپنے حلقوں میں لوگوں کو احساس نہیں کہ اس سلسلے میں جو بات جماعت آج کہہ رہی ہے کس دیانت اور استقامت کے ساتھ اس نے ہر دور میں وہی بات کہی ہے۔
مولانا محمد یوسف سے میرے تعلقات ۵۲سال پر پھیلے ہوئے ہیں۔ میں نے ان کو ایک اچھا انسان، ایک سچا مسلمان ، اور محب ِ وطن پاکستانی ،اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بنگلہ دیش اور سب سے بڑھ کر تحریکِ اسلامی اور اُمت مسلمہ کا خادم پایا۔ ان کی طبیعت بے حد سادہ، ان کی باتوں میں خلوص کی خوشبو، اور ان کے معاملات میں دیانت اور خیرخواہی کا جذبہ فراواں پایا جاتا تھا۔ ان کی تنقید میں اصلاح کی جستجو ہوتی تھی۔ حق کی جدوجہد میں ہردور میں انھوں نے استقامت دکھائی۔ خدمت ِ خلق ان کا شعار تھا۔ کسانوں کے حالات میں بہتری لانے اور مساجد اور مدارس کے قیام میں ہمیشہ مصروف رہے۔ ۴۰۰ سے زیادہ مساجد، مدارس اور یتیم خانے ان کی کوششوں کے نتیجے میں قائم ہوئے، جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ کے طور پر ان شاء اللہ ان کے حسنات میں اضافے کا باعث ہوں گے۔ دل گواہی دیتا ہے کہ وہ ان خوش نصیب انسانوں میں سے ہیں، جن کے بارے میں ہمارے مالک نے فرمایاہے:
یٰٓاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ o ارْجِعِیْٓ اِِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً o فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ o وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْo (الفجر ۸۹: ۲۷-۳۰) اے نفس مطمئن! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔
حالات کو بڑی تیزی سے ایک ہولناک تباہی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ قوم اور اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو متنبہ کیا جائے کہ وہ کوئی انتہائی فیصلے کرتے وقت ہوش کے ناخن لے اور ملک و ملّت کو تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ آج دانا دشمن اور نادان دوست دونوں ہی اپنے اپنے انداز میں ملک کو ایک نئے تصادم کی طرف لے جانے میں سرگرم ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ محب وطن دینی اور سیاسی قوتیں خاموش تماشائی نہ بنیں اور مل کر اور پوری دانش مندی کے ساتھ حکومت اور برسرِاقتدار قوتوں کو ملک کو آگ اور خون کے اس گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت کے ذمہ داران سے، خصوصیت سے وزیراعظم، وزیرداخلہ، ارکانِ پارلیمنٹ، عسکری قیادت اور میڈیا کے ذمہ دار عناصر سے ہماری درخواست ہے کہ حالات کا ٹھنڈے دل سے دلیل، زمینی حقائق اور تاریخ کے تجربات کی روشنی میں جائزہ لے کر قومی سلامتی اور دہشت گردی کے مقابلے کے لیے صحیح حکمت عملی اور پروگرام مرتب کریں۔ اس سلسلے میں ملک کی سیاسی اور دینی قیادت کو اعتماد میں لیں، اور پوری قوم کو ساتھ لے کر ان حالات کا مقابلہ کریں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہر وہ پالیسی اور اقدام جو بیرونی یا اندرونی دبائو کا نتیجہ ہو یا جسے بڑی حد تک جذبات، غصے اور انتقام کے جذبے کے تحت اختیار کیا جائے، وہ تباہ کن ہوتا ہے۔ دورِحاضر میں اس کی بدترین مثال وہ ردعمل ہے، جو امریکا نے ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے دہشت گردی کے افسوس ناک اور قابلِ مذمت واقعے کے ردعمل کے طور پر اختیار کیا، اور جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ دہشت گردی کا سدِّباب نہ ہوسکا، بلکہ اس کو عالمی سطح پر ہزار گنا زیادہ فروغ حاصل ہوگیا۔ آج دنیا، بشمول امریکا، ۲۰۰۱ء کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی غیرمحفوظ ہے۔ بلاشبہہ ان ۲۹۰۰؍ افراد کی ہلاکت ایک دل دوز سانحہ اور کھلا ظلم تھا، جو نائن الیون کے اقدام کا نشانہ بنے۔ لیکن کیا اس حقیقت سے آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں کہ ’دہشت گردی کے خلاف امریکا کیجنگ‘ کے نتیجے میں ان تقریباً ۳ہزار جانوں کے مقابلے میں افغانستان میں تقریباً ایک لاکھ ۲۰ ہزار افراد اور عراق میں ۶لاکھ افراد موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے ہیں۔ صرف افغانستان میں اب تک خود امریکا کے ۲۸۰۶فوجی ہلاک ہوئے اور ۱۸ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ امریکا کے جتنے فوجی افغانستان گئے ہیں ان میں ۱۰فی صد ہمیشہ کے لیے اپاہج ہوچکے ہیں۔ سیکڑوں نے خودکشی کی ہے اور دسیوں ایسے ہیں، جنھوں نے دیوانگی کے عالم میں اپنے ہاتھوں امریکی اور ناٹو افواج ہی کو نشانہ بناڈالا ہے۔ برطانیہ کے ۴۴۷فوجی ہلاک اور کئی ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ امریکا صرف افغانستان کی جنگ پر ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے اور برطانیہ ۴۰ ارب پونڈ اس آگ میں جھونک چکا ہے۔ اس سب کے باوجود امریکا اور ناٹو افواج کو ذہنی اور سیاسی و عسکری دونوں قسم کی شکست سے سابقہ ہے۔ افغانستان خود امن و چین سے محروم ہے۔ افغانستان کی فوج اور معیشت دونوں امریکا کی مدد کی محتاج ہیں۔ افغان بجٹ کا ۸۰ فی صد امریکی امداد پر منحصر ہے، اور باقی بجٹ کا بڑا انحصار افیون کی تجارت پر ہے۔
رہی افغان عوام کی حالت ِ زار تو افغانستان کے پے درپے دوروں کے بعد ایک امریکی مصنف اور صحافی پیٹرک کک برن (Patrick Cockburn) کاؤنٹرپنچ کے ۱۳جنوری ۲۰۱۴ء کے شمارے میں لکھتا ہے:
بلاشبہہ جو رقم افغانستان پر خرچ کی جارہی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ افغانستان میں خرچ کی جارہی ہے۔ لیکن اس بات کو پیش نظر رکھ کر بھی بہت بڑی بڑی رقمیں خرچ کرنے کے باوجود سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۶۰ فی صد بچے غذا کی کمی کا شکار ہیں اور صرف ۲۷ فی صد افغانوں کو پینے کا صاف پانی مہیا ہے۔ بہت سے باہر سے رشتہ داروں کی بھیجی ہوئی رقم سے زندہ ہیں یا منشیات کے کاروبار سے جو افغانستان کی قومی آمدن کا ۱۵ فی صد تک ہے۔
یہ اعداد و شمار افغانستان اینلسٹ نیٹ ورک کابل سے وابستہ تھامس رٹنگ کے جائزے: ’’افغانستان میں بین الاقوامی مداخلت کے ۱۲سال‘‘ سے سامنے آئے ہیں۔ اس مستند جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج افغانستان کہاں کھڑا ہے؟
یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ امریکا اور برطانیہ کی فوجی مداخلت مکمل ناکامی پر منتج ہوئی ہے۔ طالبان کچلے نہیں جاسکے ہیں جو ملک کے تمام حصوں میں فعال ہیں، اور ہلمند جیسے صوبوں میں امریکا اور برطانیہ کی افواج کے جاتے ہی اقتدار سنبھال لیںگے۔ غیرملکی فوجوں کی پشت پناہی کے باوجود حکومت ِ افغانستان کا کنٹرول دارالحکومت کے ضلع سے باہر چندکلومیٹر کے فاصلے پر ختم ہوجاتا ہے۔ پورے افغانستان پر عموماً فوجی طورطریقوں کے بارے میں بات چیت کی جاتی ہے، جب کہ امریکا برطانیہ کی ناکامی کی سب سے اہم وجوہ سیاسی ہیں۔ بہت سے افغان بدتر انجام سے خوف زدہ ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ۲۰۱۴ء میں ۱۹۹۰ء کے عشرے کا ظلم اور انارکی کا دور جب جہادی دستے افغانستان پر حکومت کرتے تھے، آجائے گا۔
امریکا کو اس جنگ کے نتیجے میں بدنامی، شکست اور پسپائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ افغانستان تباہ و برباد ہوگیا۔ جس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو اور خصوصیت سے افغانستان، پاکستان اور شرق اوسط کو جنگ کی آگ میں جھونکا گیا، وہ سب ماقبل سے بُرے حال میںہیں۔ یہ نتیجہ ہے ایک بدمست سوپرپاور کے اس ردعمل کا، جس کی بنیاد دلیل، حق و انصاف کے اصول اور زمینی حقائق کے صحیح اِدراک اور حکمت و توازن کی بنیاد پر پالیسی سازی کے فقدان پر مبنی ہے۔ طاقت کے زعم میں، سیاسی اور عسکری غرور وتکبر اور سب سے بڑھ کر غصے اور انتقام کے جذبات سے آلودہ تھی۔ اس ساری تباہی کی بڑی وجہ امریکی صدربش کا وہ ردعمل تھا، جس کی کوئی عقلی بنیاد نہ تھی بلکہ غرور، غصے اور انتقام کے جذبات تھے جن سے مغلوب ہوکر واحد سوپرپاور کے صدر نے امریکا کی سیاسی اور معاشی قوت پر ضرب لگانے والوں کو تہس نہس کرنے کے جذبات میں بہنا پسند کیا۔ موصوف نے مناسب تحقیق کے بغیر اور عالمی قانون کو حقارت سے نظرانداز کرتے ہوئے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر افغانستان پر فوج کشی کرڈالی اور پھر اس کا دائرہ بلاجواز عراق تک بڑھا دیا۔ پاکستان کو کان پکڑ کر اس جنگ میں جھونکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پوری دنیا ۱۲برس سے اس عذاب میں مبتلا ہے۔ عراق سے تو امریکی افواج واپس چلی گئیں مگر عراق خانہ جنگی کی آگ میں آج تک جل رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا ٹائم ٹیبل دیا جارہا ہے مگر خانہ جنگی اور علاقائی بدامنی کے بھوت فضا میں منڈلا رہے ہیں اور امن اورسلامتی کا دُور دُور پتا نہیں۔
اگر امریکا نے جذبات سے مغلوب ہوکر غرور، غصے اور انتقام کی بنیاد پر دنیا کو جنگ میں جھونکا، تو پاکستان کے سیاہ و سفید پر قابض جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے امریکی دبائو میں شکست خوردہ ذہنیت کے ساتھ، اور قومی مفادات اور عوامی جذبات کو یکسرنظرانداز کرکے امریکا کی اس جنگ میں اپنے کو شریک کرکے اپنے مسلمان ہمسایہ برادر ملک پر فوج کشی کے لیے امریکا کو نہ صرف ہرسہولت دے ڈالی، بلکہ اپنی زمینی اور فضائی حدود پر امریکا کو تسلط اور غلبہ عطا کیا۔ امریکا کے احکام پر اپنے شہریوں اور برادر ملک کے ان مہمانوں کو جو ہماری امان میں تھے، ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کیا اور اس سلسلے میں سفارتی اور اسلامی آداب کو بھی بُری طرح پامال کیا۔ اس کی شرم ناک داستان پاکستان میں افغانستان کے سفیر مُلّا عبدالسلام ضعیف کی کتاب My Life with the Taliban میں دیکھی جاسکتی ہے۔
پاکستان کو ان ۱۲ برس میں دینی، سیاسی، عسکری، معاشی، غرض یہ کہ ہر میدان میں بے پناہ نقصانات ہوئے اور پاکستان عملاً اپنی آزادی اور خودمختاری سے محروم ہوکر رہ گیا۔ ۵۰ہزار سے زیادہ افراد جان کی بازی ہارگئے، جن میں ۶ سے ۸ہزار افراد کا تعلق فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہے۔ زخمیوں کی تعداد اس سے دو تین گنا زیادہ ہے، اور جو نقل مکانی پر مجبور ہوئے ان کی تعداد ۳۰لاکھ سے متجاوز ہے۔ مالی اور معاشی اعتبار سے نقصان کا کم سے کم اندازہ ایک سو ارب ڈالر کا ہے اور سب سے بڑھ کر پورے ملک کا امن اور چین درہم برہم ہوگیا۔
جو دوست تھے وہ دشمن بن گئے اور جو دشمن تھے انھوں نے ملک کے طول و عرض میں اپنے اثرات بڑھا لیے۔ ملک کے حالات اور پالیسیوں میں امریکا کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا اور اس کی خفیہ ایجنسیوں اور کارندوں کو ایسے ایسے مقامات تک رسائی حاصل ہوگئی، جس سے ہماری سالمیت معرضِ خطر میں ہے۔ عوام اور حکمرانوں، عوام، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں دُوری بڑھ گئی۔ جن کے درمیان رشتے کی امتیازی خصوصیت اعتماد، افتخار اور محبت تھی، وہ بُری طرح متاثر ہوئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب بے اعتمادی اس حد کو پہنچ گئی کہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے باقاعدہ فوجی اہلکاروں کو ہدایت دی کہ عام سواریوں میں فوجی وردی میں سفر نہ کریں۔ جس فوج کو عوام اپنی زندگی، آزادی اور عزت کا نگہبان سمجھتے تھے اور جس سے نسبت پر فخر محسوس کرتے تھے، اس سے تعلقات او راعتماد میں یہ کمزوری صرف اور صرف اس وجہ سے رُونما ہوئی کہ اس وقت کی قیادت نے عوام کے جذبات اور قومی مفادات سے صرفِ نظر کرکے، امریکا کی اس جنگ میں ملک اور اس کی قانون نافذ کرنے والی قوتوں کو جھونک دیا تھا۔
۲۰۰۱ء میں امریکا کے لیے پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کو کھول دیا گیا تھا۔ پھر ۲۰۰۴ء سے عملاً پاکستانی افواج کو بھی آہستہ آہستہ اس جنگ میں شریک کردیا گیا، جس میں ۲۰۰۷ء کے بعد شدت آگئی۔ یہی وہ سال ہے جب پاکستان کے قبائلی علاقے میں باقاعدہ تحریکِ طالبان پاکستان کی تشکیل ہوئی۔ نتیجہ یہ کہ روز بروز تصادم بڑھتا گیا ، اور معصوم عوام دونوں طرف سے نشانہ بننے لگے۔ آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نہ سرکاری املاک، فوجی چھائونیاں اور پولیس کی چوکیاں دہشت گردی سے محفوظ ہیں اور نہ مساجد، امام بارگاہیں، دینی مدارس، تعلیمی ادارے اور عام آبادیاں امن کا گہوارا ہیں۔
دہشت گردی آج ملک عزیز کی سلامتی کے لیے ایک اہم ترین خطرہ بن گئی ہے۔ دہشت گردی کی ہرشکل سے نجات وقت کی ضرورت ہے، خواہ اس کا ارتکاب افراد، گروہ یا مسلح تنظیمیں کررہی ہوں یا خود ریاستی ادارے اپنی حدود سے بڑھ کر ان کے مرتکب ہورہے ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت تمام دینی اور سیاسی قوتیں اور قوم کے تمام محب وطن عناصر مل کر قومی سلامتی کی پالیسی مرتب کریں اور سب مل جل کر اس پر عمل کو یقینی بنائیں۔ جو پالیسی بیرونی دبائو کے تحت بنے گی یا جو اصول قومی عزائم اور مفادات کے مقابلے میں، گروہی جذبات، غصے، انتقام یا مفاد پرست لابیوں کے اثرونفوذ کے نتیجے میں وجود میں آئیں گے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ گذشتہ ۱۲برسوں میں برپا ہونے والی تباہی کا بڑا سبب وہ پالیسیاں ہیں جو بیرونی دبائو یا اندرونی کمزوری کے تحت بنائی گئی تھیں۔ اب اس روش سے مکمل اجتناب کے ساتھ خالص قومی مقاصد، ملکی مفادات، عوام کے جذبات اور احساسات کی بنیاد پر نئی پالیسیوں کی تشکیل اور تنفیذ کی ضرورت ہے۔
جذباتی انداز میں یہ کہہ دینا کہ ’’پہلے یہ جنگ ہماری نہیں تھی، لیکن اب بن گئی ہے‘‘ ایک نامعقول اور فریب خوردگی پر مبنی دعویٰ ہے۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی اور اس کی مختلف اقسام اور ان کے اسباب سب پر نگاہ ڈالی جائے، اور حالات کے معروضی تجزیے کے بعد ایسی ہمہ گیر پالیسی بنائی جائے، جو مسئلے کے ہرہرپہلو کا احاطہ کرے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب حقائق کو بنیاد بنایا جائے اور جذبات اور تعصبات کو فیصلوں پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے۔
اس وقت کچھ طاقت ور لابیاں ایک خاص زاویہ بنانے میں مصروف ہیں اور ایک ایسی جذباتی فضا بنانے کے درپے ہیں، جس میں حق و صداقت اور انصاف اور توازن کی بات نامطلوب بن جائے۔ انجامِ کار ملک اور فوج کو ایک ایسے آپریشن میں جھونک دیا جائے، جو امریکا کے مقاصد، مفادات اور ایجنڈے کا تو حصہ ہو اور اوباما اور جان کیری کی ’do more‘ [اور مارو]کی تعمیل پر پاکستان کو جنگ کی ایک ایسی آگ میں جھونک دے، جو افغانستان سے امریکا کے انخلا کے بعد بھی پاکستان اور افغانستان کو بھسم کرتی رہے۔
یہ وقت ٹھنڈے دل سے پورے معاملے کے صحیح تجزیے کے بعد ایسی پالیسیاں وضع کرنے کا ہے جو پاکستان، افغانستان اور اس علاقے کے مفاد میں ہوں اور فوری اور دُور رس امن و سلامتی کی ضمانت دے سکیں۔ امریکا کو تو یہاں سے جانا ہے، لیکن پاکستان اور افغانستان دائمی ہمسایہ ممالک ہیں اور ہمیں ایک ساتھ رہنا اور ایک دوسرے کے لیے سہارا بننا ہے۔ اس کے لیے حالات کو امریکا کی نگاہ سے دیکھنے اور امریکی مفادات کے چنگل سے نکل کر اپنے اور اپنے برادر ملک کے مفادات کی روشنی میں حالات کی صورت گری کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
ہمیں اس امر کو سمجھ لینا چاہیے کہ امریکا کا کھیل ناکام ہوچکا ہے۔ اب پاکستان اور افغانستان کو مل کر آگ بجھانے اور نئی زندگی کی بساط بچھانے کی فکر کرنا ہے۔ بلاشبہہ آج کا افغانستان بدامنی اور تصادم کی آماج گاہ بنا ہوا ہے اور پاکستان بھی، خصوصاً اس کے شمالی اور مغربی علاقے کے طول و عرض میں دہشت گردی کا بازار گرم ہے۔ کراچی شہر اور صوبہ بلوچستان بھی اپنے اپنے طور پر دہشت گردی کی گرفت میں ہیں ۔ نو سال سے جاری فوجی اور نیم فوجی آپریشنوں کے باوجود حالات قابو میں نہیں آرہے۔ جس پالیسی کے نتیجے میں گذشتہ نو سال میں امن قائم نہیں ہوا، بھلا اس کو کچھ اور بھی دوآتشہ کرکے کس طرح کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جب خود امریکا اپنی ساری عسکری اور معاشی طاقت اور ٹکنالوجی کی فوقیت کے باوجود ۱۲برس تک آگ اور خون کی بارش کر کے افغانستان سے ناکام و نامراد واپسی اور پسپائی پر مجبور ہوچکا ہے، تو اس تناظر میں یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ ہم اس ناکام حکمت عملی کے وارث اور ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کے اسیر بن جائیں۔
بلاشبہہ گذشتہ چند دنوں میں ایسے ہولناک واقعات ہوئے ہیں جنھوں نے سب کو ہلاکر رکھ دیا ہے لیکن غصے اور انتقام کے جذبات کے زیراثر ردعمل کبھی مفید نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وقت ٹھنڈے دل سے غوروفکر کرنے اور تمام ضروری پہلوئوں کو سامنے رکھ کر نئی حکمت عملی بنانے کا ہے۔ورنہ اس عاجلانہ قوت آزمائی کے نتائج ان تباہ کن نتائج سے مختلف نہیں ہوسکتے، جو جارج بش اور ان کے حواریوں کے نائن الیون کے موقعے پر جذباتی اور انتقامی ردعمل سے رُونما ہوئے، اور جن کی آگ میں آج تک سب جل رہے ہیں۔
گیلپ انٹرنیشنل نے نائن الیون کے واقعے کے بارے میں امریکی قیادت کے ردعمل کے بارے میں، عالمی راے عامہ کی جو تصویر پیش کی ہے، اسے آج نگاہوں کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ۱۹ستمبر ۲۰۰۱ء کو اصل واقعے سے صرف آٹھ دن بعد دنیا کے ۲۹ممالک میں سے ۲۷ کی آبادی کی اکثریت نے افغانستان پر فوجی حملے کی مخالفت کی تھی۔ گیلپ رپورٹ کے الفاظ ہیں:
یہ بات دل چسپ ہے کہ ۲۹ ممالک میں سے جن ۲۷ میں یہ عالمی جائزہ گیلپ انٹرنیشنل نے لیا، اکثریت نے فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی۔ دو استثنا میں ایک امریکا تھا جہاں ۵۴فی صد لوگوں نے فوجی کارروائیوں کی حمایت کی، اور دوسرا اسرائیل، جہاں ۷۷ فی صد لوگوں نے فوجی کارروائیوں کی حمایت کی۔
واضح رہے کہ امریکامیں بھی ۴۶ فی صد عوام نے اس فوج کشی کی مخالفت کی یا کم از کم تائید نہیں کی۔ پاکستان کی راے عامہ کی جو تصویر اس جائزے میں آتی ہے، وہ پاکستانی عوام کی سیاسی بصیرت کا مظہر ہے۔ صرف ۷ فی صد کی راے تھی کہ پاکستانی حکومت کو امریکی کارروائی کا ساتھ دینا چاہیے، جب کہ ۶۳ فی صد کا فیصلہ یہ تھا کہ اس وقت کی افغانستان حکومت کا ساتھ دیا جائے اور ۲۷فی صد نے غیرجانب دار رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ گویا عملاً ۹۰ فی صد نے امریکا کی اس جنگ سے الگ رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن اس وقت پاکستان کے فوجی حکمرانوں نے ۹۰ فی صد عوام کی راے کو ٹھکرا کر امریکی دبائو کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور پورے ملک کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت نے اسے کبھی اپنی جنگ نہیں تصور کیا اور آج بھی دہشت گردی کا نشانہ بننے اور ۵۰ہزار سے زیادہ افراد کی قربانی دینے کے باوجود، وہ اسے اپنی جنگ نہیں سمجھتے اور اس سے نکلنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔
پاکستانی عوام کی نگاہ میں امریکا کو نائن الیون کے اصل مجرموں کو قانون اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے، بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرنا چاہیے تھی اور اُس وقت کی افغان حکومت ہرممکن تعاون کے لیے تیار بھی تھی۔ لیکن امریکا طاقت کے نشے میں بدمست تھا اور انتقام کی آگ میں دہک رہا تھا۔ اس نے بین الاقوامی قانون اور عالمی راے عامہ، اخلاق اور انصاف، انسانیت اور بُردباری سبھی کچھ کو نظرانداز کرکے فوج کشی کا راستہ اختیار کیا۔ وہ اس زعم میں تھا کہ چند ماہ میں کامیاب و کامران ہوجائے گا۔ امریکی جنگ باز قیادت کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ افغان عوام ایسی مزاحمت کریں گے کہ امریکی اور ناٹو افواج کو ۱۲برس بعد ناکام و نامراد واپس لوٹنا پڑے گا۔ امریکی اور عالمی تجزیہ نگار بہ یک زبان یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ: ’’یہ جنگ غلط تھی‘‘ اور اب امریکا اور اس کے اتحادی جان بچاکر نکل جانے کے لیے سرگرداں ہیں۔
نیویارک ریویو آف بکس کے ۲۴؍اکتوبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں War on Terror پر ایک اہم کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے میلسی روتھوین لکھتی ہیں کہ: ’’اس کے علاوہ کوئی نتیجہ نکالنا مشکل ہے کہ امریکا نے ایک غلط جنگ، غلط حکمت عملی سے اور غلط دشمن کے خلاف لڑی۔ صاف ظاہر ہے کہ اس کے نتائج بھی غلط کے علاوہ کچھ اور نہ ہوسکتے تھے‘‘۔
امریکا اور یورپ کے چوٹی کے تجزیہ نگار صاف الفاظ میں لکھ رہے ہیں کہ: ’’امریکا یہ جنگ ہارچکا ہے‘‘ ۔ دسیوں کتابوں اور بیسیوں مضامین میں اس کا اعتراف کیا جارہا ہے کہ: ’’امریکا کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ یا کھلی شکست کا اعتراف کرے یا پھر مذاکرات کے ذریعے کوئی فرار کی راہ نکالے‘‘۔ مثال کے طور پر امریکا کے موقر جریدے فارن افیئرز کے ایک تازہ شمارے (ستمبر،اکتوبر ۲۰۱۳ء) میں جارج واشنگٹن یونی ورسٹی میں علمِ سیاسیات کے پروفیسر اسٹیفن بڈل نے اپنے مضمون ’افغانستان میں جنگ کا خاتمہ‘ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ: ’’شکست یا مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں‘‘۔ ساری بحث کا خلاصہ بس یہ ہے کہ:
اس جنگ کے صرف دو حقیقی متبادل ہیں، جن میں سے کوئی بھی خوش گوار نہیں۔ ایک یہ کہ طالبان سے مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ ہوجائیں، گو یہ بھی کوئی امرت نہیں لیکن یہ مکمل شکست کا واحد متبادل ہے۔
لندن کے معروف اخبار دی گارڈین نے ۲۳جنوری ۲۰۱۴ء کے اداریے میں کھل کر اعتراف کیا ہے کہ: ’’آج تمام دنیا کے عوام جنگ سے تنگ آگئے ہیں اور جرنیلوں کی مہم جوئی سے نالاں ہیں۔ وقت کی اصل ضرورت یہ ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جو حکمت عملی اب تک بنائی گئی تھی، اس پر نظرثانی کی جائے اور زمینی حقائق کی روشنی میں سیاسی مسائل کے سیاسی حل کا راستہ اختیار کیا جائے، کیونکہ فوجی حل کہیں بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔ عوام جس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں وہ یہ ہے کہ عراق کی جنگ مکمل طور پر ناکام تھی اور افغانستان میں بھی جنگ کا نتیجہ اس سے مختلف نظر نہیں آتا‘‘۔
برطانیہ کی پالیسیوں پر گرفت کرتے ہوئے اداریے میں صاف لفظوں میں کہا گیا ہے کہ: ’’دونوں محاذ پر برطانیہ نے سخت ٹھوکر کھائی۔ فوجی محاذ پر اس جنگ میں شرکت اور ملکی سلامتی کے محاذ پر ایسے قوانین بنائے جو حقوقِ انسانی پر ضرب کی حیثیت رکھتے تھے‘‘۔(دی گارڈین، ۲۳جنوری ۲۰۱۴ء)
دراصل ہم اہلِ پاکستان کا مسئلہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ عبرت کا مقام یہ ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں، جہاں دہشت گردی کے مقابلے کے لیے فوجی آپریشن اور ملک میں سخت قوانین جو انصاف کے مسلّمہ اصولوں اور حقوقِ انسانی کے معروف ضابطوں سے انحراف پر مبنی اقدام کی ناکامی کا کھلم کھلا اعتراف ہیں، وہاں بھی سیاسی حل کے لیے نئے راستے تلاش کیے جارہے ہیں مگر ہم ہیں کہ آنکھیں بند کرکے انھی ناکام پالیسیوں کے اتباع میں مکھی پر مکھی مارنے کو اپنی معراج سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ خود پاکستان میں عوام کی سوچ بالکل مختلف ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ گیلپ اور PEW کے جو جائزے پاکستان کے عوام کی سوچ کے عکاس ہیں، ان کو بھی مختصراً بیان کردیں، تاکہ ہمارے حکمرانوں کو، اگر وہ بیرونی تجربات اور رجحانات اور خود اپنے ملک کے عوام کے جذبات اور احساسات کا کچھ بھی لحاظ کرنا چاہتے ہیں، تو ان کی روشنی میں، نئی حکمت عملی مرتب کرسکیں۔
۱- گیلپ کے ۱۶ستمبر ۲۰۱۳ء کے سروے کے مطابق پاکستانی عوام کے ۷۱فی صد کی راے میں پاکستان کو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہرگز تعاون نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ ۲۷فی صد کی راے میں تعاون کرناچاہیے۔ تعاون نہ کرنے والوں کی صوبہ وار پوزیشن یہ ہے:
خیبرپختونخوا:..........۸۹ فی صد
بلوچستان:...............۷۷ فی صد
پنجاب:...................۶۸ فی صد
سندھ :...................۶۶ فی صد
واضح رہے کہ خیبرپختونخوااور بلوچستان زیادہ متاثرہ علاقے ہیں اور وہاں کے ۸۹ فی صد اور ۷۷ فی صد لوگ جنگ سے عدمِ تعاون اور اپنا دامن بچانے کے خواہش مند ہیں۔
۲- چند سال پہلے منعقد ہونے والے عالمی جائزے میں، جسے گیلپ نے Voice of the Peoples Survey 2006 کہا تھا اور جو ۶۳ممالک کے۵۹ہزار افراد کے سروے پر مشتمل تھا، اس میں دنیا کی آبادی کے ۳۶ فی صد لوگوں نے امریکا کی اس جنگ کو ناکام قرار دیا تھا۔
۳- اسی طرح PEW Survey کے Global Attitude Project میں، جو ۲۷جون ۲۰۱۲ء کو منعقد ہوا تھا، ۷۴ فی صد پاکستانیوں نے امریکا کو ’ایک دشمن‘ ملک قرار دیا تھا۔
۴- PEW تحقیقاتی مرکز کے Global Attitude Project کی ۳۰جون ۲۰۱۱ء کی رپورٹ Support for Compaign Against Extremist Wanes (انتہاپسندی کے خلاف عسکری کارروائیوں کی تائید میں کمی ) میں راے عامہ کا یہ چشم کشا فیصلہ پیش کیا گیا ہے، کہ فاٹا میں فوجی آپریشن جو ۲۰۰۷ء میں شروع ہوا تھا، اسے حاصل شدہ عوامی تائید میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ ۲۰۰۹ء میں ’دہشت گردی‘ اور ’انتہاپسندی‘ کے خلاف فوج کے استعمال کی تائید کرنے والوں کی تعداد ۵۳ فی صد تھی، جو ۲۰۱۱ء میں کم ہوکر ۳۷ فی صد رہ گئی ہے۔ رپورٹ کا یہ حصہ ہمارے اہل حل و عقد سے سنجیدہ غوروفکر کا تقاضا کرتا ہے:
شدت پسند گروپوں کے خلاف حکومت پاکستان کی فوجی مہم کی حمایت حالیہ برسوں میں کم ہوگئی ہے۔ صرف ۳۷ فی صد اس کی حمایت کرتے ہیں کہ فاٹا اور خیبرپختونخوا میں شدت پسندوں سے لڑنے کے لیے پاکستانی فوج استعمال کی جائے۔ یہ سطح دو سال قبل کی سطح سے کافی نیچے ہے، جب دو سال قبل کے ایک ایسے جائزے میں جو کہ سوات میں حکومت اور طالبان کے حامی گروپوں میں تنازعے کے بعد کیا گیا تھا جس میں ۵۳ فی صد نے اس کی حمایت کی تھی کہ ان گروپوں سے فوج لڑے۔
۵- واضح رہے کہ پاکستانی عوام دہشت گردی کو ایک اہم مسئلہ سمجھتے ہیں، لیکن تمام ہی راے عامہ کے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے Threat Perception (اندیشوں پر مبنی خیال) میں امریکا سب سے اُوپر ہے، اور آبادی کا ۷۳ فی صد اسے خطرہ سمجھتا ہے۔ بھارت کو خطرہ سمجھنے والوں کی تعداد ۵۹فی صد ہے، جب کہ طالبان کو خطرہ سمجھنے والوں کی تعداد ۲۳ فی صد ہے۔
۶- گیلپ نے ۱۹۸۰ء سے ۲۰۱۰ء تک کا ۳۰ برس کا ایک جائزہ پاکستان میں جرائم اور خصوصیت سے دہشت گردی کے بارے میں پیش کیا ہے۔ اس میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عوام کی نگاہ میں دہشت گردی کے اصل ذمہ دار کون ہیں۔عوام کے اندیشے کو سمجھنے کے لیے اس کی حیثیت ایک آئینے کی سی ہے اور کوئی پالیسی ساز ادارہ اس عوامی احساس کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔۱؎
واضح رہے کہ عوام کی نگاہ میں دہشت گردی کی سب سے بڑی ذمہ داری بھارتی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں پر ہے، یعنی ۳۲ فی صد اور ۳۱ فی صد۔ گویا ۶۳فی صد کی نگاہ میں اس بدامنی، تشدد اور دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ سب سے اہم عامل ہے، خواہ اس کا ذریعہ کوئی بھی ہو۔
1- 30 years of Polling on Crimes, Violence, Terrorism, and Social Evils (1980-2010): Perceptions and Fears of Pakistan's Public, Gallup, January 6, 2011, p 46.
دہشت گردوںکو براہِ راست ذمہ دار ٹھیرانے والے ۲۶ فی صد ہیں۔ ۲۰۰۹ء میں طالبان کا نام لینے والے صرف ایک فی صد تھے۔ بعد کے متعدد جائزوں میں اس اندازمیں سوال نہیں پوچھا گیا، تاہم ’گیلپ‘ اور ’پیو‘ (PEW) دونوں ہی کے جائزوں میں طالبان کی تائید میں نمایاں کمی آئی ہے اور طالبان کی کارروائیوں کی مذمت کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ’پیو‘ کے ۲۰۱۱ء کے سروے میں ۲۳ فی صد نے طالبان سے خطرہ محسوس کیا اور اور گیلپ کے ایک سروے کے مطابق دسمبر ۲۰۰۹ء میں طالبان کے حوالے سے منفی تصور ۷۲ فی صد تک بڑھ گیا۔ عام انسانوں کی ہلاکت اور مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، اسکولوں اور مدرسوں پر حملوں کے ردعمل میں طالبان کے بارے میں منفی رجحان میںاضافہ ہوا ہے۔ البتہ گیلپ کے سروے کی روشنی میں دہشت گردی کے متعین واقعات کے بارے میں، طالبان یا ان کے نام پر ذمہ داری قبول کیے جانے کے اعلانات کے باوجو د عوام کا تصور بڑا چشم کشا ہے۔ مثلاً پشاور/بنوں کے ۲۰۰۹ء کے دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری کے سلسلے میں عوام کا ردعمل یہ تھا:
۱- یہ واقعات انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی کا ردعمل ہیں......۴۴ فی صد
۲- ان واقعات میں غیرملکی ایجنسیاں ملوث ہیں.....................۴۲ فی صد
۳- معلوم نہیں..................................................۱۴ فی صد
واضح رہے یہ دونوں واقعات خودکش حملوں کا نتیجہ تھے۔
اسی طرح ۲۰۰۹ء میں راولپنڈی جی ایچ کیو (پاکستانی مسلح افواج کے مرکز) پر کیے جانے والے حملے کے بارے میں کہ ذمہ دار کون ہے؟ عوامی راے یہ تھی:
بھارت:...............۱۹ فی صد
طالبان:...............۲۵ فی صد
امریکا:...............۱۶ فی صد
فارن ایجنسی:........۲۷ فی صد
لوکل ایجنسی:........۲ فی صد
سیاسی جماعتیں:.....ایک فی صد
ہم نے یہ چند مثالیں عوامی جذبات، احساسات اور ان کی سوچ کے رُخ کو سمجھنے کے لیے دی ہیں۔ مزید تفصیل ان جائزوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
۷- عوام کے ذہن کو سمجھنے کے لیے ایک سروے کی طرف مزید اشارہ کرنا ضروری ہے۔ یہ گیلپ کا سروے ہے جو دسمبر ۲۰۱۳ء میں امیرجماعت سیّدمنور حسن صاحب اور مولانا فضل الرحمن صاحب کی جانب سے بیت اللہ محسود کے امریکی ڈرون کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے پر ردعمل سے متعلق تھا۔
سوال: ’’حال ہی میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سیّدمنورحسن اور مولانا فضل الرحمن نے کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا ہے۔ آپ اس بیان کی کس حد تک حمایت یا مخالفت کرتے ہیں؟‘‘
بہت زیادہ حمایت:........۱۴ فی صد
بہت زیادہ مخالفت:.......۲۹ فی صد
کسی حد تک حمایت:.....۲۵ فی صد
کسی حد تک مخالفت:....۲۹ فی صد
مجموعی حمایت:.........۳۹ فی صد
مجموعی مخالفت:........۵۸ فی صد
معلوم نہیں:............۱۰ فی صد
قابلِ غور بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماے اسلام (ف) کو مجموعی طور پر ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں ۵ فی صد ووٹ ملے اور دونوں قائدین کے بیانات کے بعد میڈیا پر ان کے مخالفین نے ایک طوفان برپا کردیا تھا، لیکن آبادی کے تقریباً ۴۰ فی صد نے ان کی راے سے اتفاق کا اظہار کیا، جو عوام کی سوچ کا غماز ہے۔(گیلپ انٹرنیشنل، ۹دسمبر ۲۰۱۳ء)
یہاں مقصد کسی قانونی، فقہی یا سیاسی پہلو کو زیربحث لانا نہیں ہے، صرف توجہ کو اس طرف مبذول کرانا ہے کہ ملک کے عوام طالبان اور طالبان کے نام پر جو کچھ کیا یا کہا جارہا ہے اسے اس کے ظاہری خدوخال پر نہیں لیتے، بلکہ پورے مسئلے، یعنی دہشت گردی اور اس میں امریکا کے کردار کے پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ ان دو عالمی جائزوں سے مختلف پہلوئوں کو سامنے لانے سے ہمارا مقصد اصل مسئلے اور اس کے جملہ پہلوئوں کی طرف توجہ کو مبذول کرانا ہے۔
ان معروضات کی روشنی میں، پالیسی سازی کے لیے چند نہایت اہم پہلو سامنے آتے ہیں، جن کی ہم نشان دہی کرنا چاہتے ہیں:
۱- پالیسی سازی میں اصل اہمیت ملک اور قوم کے مقاصد، اس کے مفادات اور اس کے عوام کی سوچ، خواہش اور عزائم کی ہونی چاہیے۔ جو پالیسی بیرونی دبائو یا گروہی اور کسی خاص اداراتی سوچ، عصبیت یا جذبات کی روشنی میں بنائی جائے گی، وہ مفید اور مناسب نہیں ہوگی۔
۲- اصل مسئلہ امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ‘ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ بلاشبہہ دوسری انواع کی دہشت گردیاں بھی ہیں اور ان کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی اور پروگرام درکار ہیں، لیکن مرکزی اہمیت بہرحال امریکا کی اس جنگ اور اس میں ہمارے کردار سے منسوب ہے۔ طالبان کیا مطالبہ کر رہے ہیں اس سے قطع نظر، پاکستانی قوم کا اس جنگ کے بارے میں ایک واضح تصور ہے اور ہمارے پالیسی ساز اداروں کو اصل اہمیت عوام کی اس راے کو دینا چاہیے۔
پاکستانی عوام اس جنگ کو ہرگز جاری نہیں رکھنا چاہتے۔ وہ پاکستان کو امریکا کی اس جنگ سے نکالنے اور ایک آزاد خارجہ پالیسی بنانے کے حق میں ہیں۔ مئی ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں انھوں نے اُن جماعتوں کو رد کردیا، جو اس جنگ میں پاکستان کی شرکت کی ذمہ دار تھیں اور ان جماعتوں کو اعتماد کا ووٹ دیا جو آزاد خارجہ پالیسی کی داعی اور اس جنگ سے نکلنے اور مسائل کے سیاسی حل کی خواہش مند تھیں۔ عوام کا یہ موقف ۲۰۰۱ء سے واضح تسلسل رکھتا ہے۔
۲۰۰۸ء کے انتخابات کے نتیجے میں جو پارلیمنٹ بنی تھی، اس نے بھی عوام کے ان جذبات کو تسلیم کیا تھا اور ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ء کی متفقہ قرارداد میں آزاد خارجہ پالیسی، دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے بارے میں نظرثانی، مسائل کے سیاسی حل اور مذاکرات، ترقی اور ردِ جارحیت (deterrance) کے سہ نکاتی فارمولے کا واشگاف اظہار کیا تھا۔ پھر اپریل ۲۰۰۹ء میں پارلیمانی کمیٹی براے قومی سلامتی نے بھی، جس میں تمام جماعتوں کو نمایندگی حاصل تھی، مکمل اتفاق راے کے ۵۵نکات پر مشتمل ایک واضح پروگرام قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔ اسی طرح پارلیمنٹ نے ایک بار پھر ۱۴مئی ۲۰۱۱ء کی قرارداد میں اس پالیسی کا اظہار کیا تھا اور ۹ستمبر ۲۰۱۳ء کی کُل جماعتی کانفرنس میں مذاکرات کو اولین ترجیح دے کر موجودہ پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں نے اس پالیسی کی توثیق کی تھی۔
اصل مسئلہ پالیسی کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں ابہام کا نہیں ہے، حکومت اور اس کے اداروں کی طرف سے قومی پالیسی پر عمل نہ کرنے کا ہے۔
۳- پاکستان میں پائی جانے والی دہشت گردی کی کم از کم پانچ بڑی شکلیں ہیں جن میں ہر ایک کی نوعیت، اسباب اور اہداف کو سمجھنا اور ان کی روشنی میں اس کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنانا ضروری ہے:
یہاں اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ ان جرائم کی قوتِ محرکہ اور مددگار عامل دراصل اس غیرقانونی اسلحے کی فراوانی ہے، جس نے پورے ملک کو لاقانونیت اور دھونس کی آگ میں دھکیل رکھا ہے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ گذشتہ ۱۲برسوں کے دوران اس خودکار اور آتشیں اسلحے کو ضبط کرنے کے بیانات تو ضرور نظرنواز ہوتے رہے ہیں، مگر اس سمت میں ایک قدم بھی بامعنی طور پر نہیں اُٹھایا جاسکا۔ اور یہ سب شاخسانہ ہے، سیاسی پشت پناہی اور فیصلوں پر عمل کرنے سے راہِ فرار اختیار کرنے کا۔ اس لیے حکومت اور انتظامیہ کو اس عفریت پر قابو پانا چاہیے ورنہ یہ تمام دعوے اور اقدامات خواب و خیال ہی رہیں گے۔
۴- فوجی آپریشن کے بارے میں ہم بہت صاف الفاظ میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فوج ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہے۔ ملک میں امن و امان کا قیام بنیادی طور پر پولیس کی ذمہ داری ہے، اور اس فرق کو سختی سے ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ فوج کی تربیت ایک خاص انداز میں ہوتی ہے اور اسے امن و امان کے قیام کے کاموں میں اُلجھانا اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور سول نظام کے ارتقا کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ غیرمعمولی حالات میں وقتی طور پر دستور میں فوج کے استعمال کی گنجایش موجود ہے، لیکن وہ مخصوص حالات تک محدود ہے اور اسے معمول بنادینا پورے نظام کو تباہ کرنے کا باعث ہوسکتا ہے۔
پھر پاکستان کی تاریخ میں فوجی حکمرانی کے جو تلخ تجربات رہے ہیں، اس کی روشنی میں تو یہ ہرگز قرین حکمت نہیں کہ فوج کو ان معاملات میں اُلجھایا جائے۔ فاٹا اور سوات میں جو کام فوج کو سونپا گیا، وہ اس غلط حکمت عملی کا حصہ تھا، جس پر مشرف دور سے عمل ہورہا ہے۔ سوات میں فوج پانچ سال سے موجود ہے اور اب تک سول نظام وہاں ذمہ داری اُٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، حالانکہ یہ کام زیادہ سے زیادہ ایک دو سال ہی میں ہوجانا چاہیے تھا۔ شمالی علاقہ جات کا معاملہ اس سے بھی نازک ہے۔ وہاں کی اپنی تاریخ اور روایات ہیں۔ ان کو نظرانداز کرکے جو انتظام قائم کیا گیا ہے، وہ چلنے والا نہیں ہے۔ بندوق اور ایف-۱۶ کی بم باری سے امن قائم نہیں ہوسکتا اور نہ کلاشنکوف یا خودکش بمباری سے شریعت کا نفاذ ہوسکتا ہے۔
ہم صاف الفاظ میں متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ان علاقوں میں فوج کا اقتدار قائم ہوتا ہے تو اسے کوئی چیز دوام سے نہ روک سکے گی۔ الجزائر اور مصر کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ جب فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا یا اسے یہ کردار ادا کرنے دیا جائے گا تو پھر اقتدار پر اسے بُراجمان ہونے سے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ ہمیں اس خطرناک کھیل سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔
ان علاقوں میں امن اس وقت قائم ہوسکتا ہے اور قائم رہ سکتا ہے، جب ہم اس پالیسی کو بحال کریں جو قائداعظم نے ۱۹۴۸ء میں اختیار کی تھی اور جس کی بدولت ۵۰برس تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا۔ ہاں، جو غلطی ہم نے کی، وہ یہ تھی کہ اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا اور سیاسی ارتقا کا جو عمل ۱۹۴۸ء کے بعد شروع ہوجانا چاہیے تھا، وہ دستورسازی کے باوجود شروع نہ ہوا کہ ہماری قیادتوں نے دستور کے عمل دخل سے پورے شمالی علاقہ جات کو باہر قرار دے دیا۔ انگریز کے سامراجی دور کے فرنٹیر کرائمز ریگولیشن کے ذریعے وہاں حکمرانی ہوتی رہی اور وہاں کے روایتی نظام کو جو مَلک، جرگہ اور پولیٹیکل ایجنٹ پر مشتمل تھا، باقی ملک کے نظام سے مربوط نہ کیا گیا۔ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ بلاتاخیر شمالی علاقہ جات کو اس کے تاریخی نظام اور روایات کی روشنی میں باقی ملک کے نظام سے پیوست کیا جائے۔ پاکستان کے دستور اور عدالتی نظام کا وہاں پورا پورا اطلاق ہو۔
اس علاقے کو وہاں کے لوگوں کے مشورے سے یا صوبہ خیبرپختونخوا میں شامل کیا جائے، جیساکہ FATA کے سلسلے میں کیا جاچکا ہے، یا پھر ان کو ایک صوبے کی حیثیت دی جائے اور وہ پاکستان کی تعمیروترقی میں اپنا پورا کردار ادا کرسکیں۔ جو مضحکہ خیز صورت اس وقت پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تو وہ نمایندگی رکھتے ہیں، مگر اسمبلی اور سینیٹ کو ان کے علاقے کے بارے میں کوئی اختیار نہیں، یہ دو رنگی ختم ہونا چاہیے۔ اس بنیادی تبدیلی کے نتیجے میں بہت سی وہ خباثتیں آپ ختم ہوجائیں گی، جو خرابی کا باعث ہیں اور سیاسی، معاشی ، سماجی اور تعلیمی ترقی کا وہ عمل بھی مؤثر ہوسکے گا، جو اس وقت ٹھٹھرا ہوا ہے۔
شمالی علاقہ جات کے مستقبل کا انحصار اس بنیادی تبدیلی پر ہے۔ آگاہ رہنا چاہیے کہ فوجی آپریشن حالات کو بگاڑ تو سکتا ہے مگر اصلاح کی راہیں استوار نہیں کرسکتا۔ اس لیے ہم حکومت پاکستان کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ ملک اور فوج دونوں کو کسی نئی تباہی سے دوچار کرنے سے مکمل طور پر احتراز کرے اور اصلاحِ احوال کے لیے وہ راستہ اختیار کرے، جو عوام کی خواہشات کے مطابق ہو اور جو قائداعظم کے وژن اور ان کے دکھائے ہوئے راستے کا تسلسل ہو۔
ہم اپنی معروضات کو ختم کرنے سے پہلے ملک کی تمام سیاسی اور دینی جماعتوں سے درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ وہ حالات کی سنگینی کو محسوس کریں اور ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔ ہم خصوصیت سے تمام مکاتب ِ فکر کسے علماے کرام سے درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنا دینی، اخلاقی اور سماجی اثرورسوخ استعمال کریں اور افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات کو حل کرنے میں سرگرم حصہ لیں۔ نیز ہم طالبان کے تمام ہی گروپوں سے اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایسی تمام سرگرمیوں کو سختی سے روکیں، جن کے نتیجے میں معصوم انسانوں کا خون بہہ رہا ہے، ظلم اور فساد رُونما ہورہا ہے، ملک و ملت کے وسائل تباہ ہورہے ہیں اور اسلام کے روشن چہرے پر بدنما داغ لگ رہے ہیں۔
اسلام رحمت اور عدل و انصاف کا دین ہے۔ تمام انسانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاطت کا ضامن ہے۔ اسلام کے مفاد اور شریعت کی بالادستی کا وہی طریقہ معتبر اور محترم ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا ہے، اور جس کے اتباع کا انھوں نے ہمیں حکم دیا ہے۔ ہرمسلمان ہی نہیں، ہر انسان محترم ہے، جیساکہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰)۔ اسلام انسانوں کو جوڑنے کے لیے آیا ہے، ان کو بانٹنے اور کاٹنے کے لیے نہیں ؎
تو براے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی
آیئے! سب مل کر اس ملک کی تعمیر، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منشا کے مطابق کریں۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے یہ ملک قائم ہوا تھا اور یہی منزل دستور میں اس کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ جو بھی کوتاہی ہمارے عمل میں رہی ہے، اسے مل جل کر مشاورت سے دُور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور دوسری طرف ایک دوسرے کا سہارا بن کر اسلامی شریعت کے نفاذ اور دستور پر مکمل عمل کے لیے سردھڑ کی بازی لگادیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبروحکمت کے ساتھ انصاف، ترقی اور خدمت کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور تصادم کی راہ سے محفوظ و مامون رکھے، آمین!
قرآنِ پاک نے ایک جانب انسانی جان کی حُرمت کا حکم دیا ہے، تو دوسری جانب جائز طور پر جان لینے کے بارے میں عدل اور قصاص کی شرط کو ایک ابدی اصول کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہی وہ اصل الاصول ہے جس کی بنیاد پر انسانی معاشرے میں جان کا تحفظ اور امن و آشتی کا قیام ممکن ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَ مَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط (المائدہ ۵:۳۲) جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا، کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی، اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔
اوّل:انسانی جان سب سے محترم شے ہے۔ زندگی اللہ کی دی ہوئی ہے۔ اللہ کی دی ہوئی مہلت میں زندہ رہنے کا حق تمام انسانوں کو حاصل ہے، اِ ّلا یہ کہ وہ خونِ ناحق کے مرتکب ہوں یا زمین پر فساد پھیلانے کا ذریعہ بن کر دوسروں کے لیے جینا محال کردیں۔ اگر ایسی صورت پیدا ہوجائے تو وہ اپنے زندہ رہنے کے حق سے اپنے کو محروم کرلیں گے۔ لیکن سزا کا یہ نظام قانون اور عدل کے مسلّمہ طریقے کے مطابق ہوگا ورنہ فساد فی الارض کا موجب ہوگا۔
دوم:بات خواہ ایک ہی فرد کی زندگی کی حفاظت یا قانون کے مطابق کی ہو، لیکن ہرفرد کی زندگی اتنی اہم ہے، جتنی پوری انسانیت کی زندگی۔ اگر ایک جان بھی ناحق جاتی ہے اور اس کا صحیح احتساب نہیں ہوتا تو پھر کسی کی زندگی بھی محفوظ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے اور اپنے نتائج اور عواقب کے اعتبار سے یہ ایک چشم کشا حقیقت ہے۔
سوم:اس میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی موجود ہے کہ بات صرف قتلِ ناحق پر ختم نہیں کردی گئی، بلکہ ایک جان کو بچانے اور زندگی دینے کا بھی اس آیت میں ذکر کردیا گیا ہے، تاکہ یہ پیغام بھی مل جائے کہ قتلِ ناحق پر خاموش نہ رہو۔ مراد یہ ہے کہ ایک معصوم کی جان بچانا بھی پوری انسانیت کو زندگی دینے کے مترادف ہے اورجان کی حفاظت اور شریعت کے احکام اور ضابطوں کے مطابق قصاص بھی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کو جہاں ناحق خون بہانے سے روکا گیا ہے، وہیں خونِ ناحق سے انسانوں کو بچانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے، تاکہ زندگی کا سفر رواں دواں رہ سکے۔
اس آیت ِ مبارکہ کی روشنی میں ہرمسلمان کو اپنا احتساب کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ آج دنیا میں، اور خصوصیت سے خود مسلم دنیا میں جس طرح معصوم انسانوں کا خون ارزاں ہوگیا ہے، اس سے کیسے نجات پائی جائے۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما جناب عبدالقادر مُلّا کو محض سیاسی انتقام کے جنون میں جس طرح شہید کیا گیا ہے، وہ عدالتی قتل کی بدترین مثال ہے جس نے ہردردمند آنکھ کو اَشک بار کردیا ہے۔ اسلامی دنیا کے طول و عرض میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور بنگلہ دیش کو سیاسی خلفشار اور تصادم کی آگ میں جھونک دیا گیا ہے۔ ان سطور کی تحریر تک سال ۲۰۱۳ء کے دوران میں ۴۰۰سے زیادہ افراد صرف ان جعلی مقدمات کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے جان کی بازی ہارچکے ہیں اور صرف پچھلے دو مہینوں میں حسینہ واجد کی گولیوں کا نشانہ بننے والوں کی تعداد ۱۱۵ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے، جس کے تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
ان حالات میں اُمت مسلمہ اور انسانیت کے تمام بہی خواہوں کا فرض ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکنے کے لیے ہرممکن تدابیر کریں اور اپنے ایک برادر ملک کو تباہی کی طرف بگ ٹٹ دوڑنے سے روکیں کہ دوستی اور بہی خواہی کا یہی تقاضا ہے۔ اس سلسلے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کے اہم پہلوئوں کو اچھی طرح سمجھ لیاجائے اور حالات کے معروضی تجزیے کی روشنی میں پالیسی اور حکمت عملی کے خطوطِ کار مرتب کیے جائیں۔
۱۹۷۱ء میں پاکستان کیوں دولخت ہوا؟ اور بنگلہ دیش کن حالات میں اور کن وجوہ سے وجود میں آیا؟ یہ ہماری تاریخ کا ایک الم ناک باب ہے اور اس پر سنجیدگی اور دیانت سے غور کرنے اور اس سے سبق سیکھنے کی اپنی جگہ بے حد اہمیت ہے۔ البتہ اب یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ سب نے کھلے دل کے ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ بنگلہ دیش ہمارا ایک آزاد اور خودمختار برادر ملک ہے اور اہلِ پاکستان دل کی گہرائیوں سے اس کی ترقی اور سلامتی کے طالب ہیں۔
فروری ۱۹۷۴ء میں ماضی کے تلخ باب کو بند کر کے پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں نے بہتر مستقبل کی تعمیر اور باہمی تعاون کا عزم کیا تھا اور اس راہ پر گامزن بھی ہوئے تھے، لیکن اچانک بنگلہ دیش کی عوامی لیگ کی قیادت نے ۲۰۱۰ء میں ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے نام پر ایک نام نہاد بین الاقوامی ٹربیونل بنا کر، اپوزیشن کی جماعتوں ، خصوصیت سے جماعت اسلامی اور ایک حد تک بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی)کو نشانہ بنایا ہے اور سیاسی انتقام اور ریاستی دہشت گردی کا ایک خطرناک کھیل شروع کردیا ہے۔ خود بنگلہ دیش میں قوم کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے اور بھائی بھائی کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کردیا گیا ہے۔ ریاست کی قوت کو سیاسی مخالفین کے خلاف بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔ سرکاری میڈیاسے ایک خاص نقطۂ نظر کو ذہنوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور جھوٹے مقدمات کے ذریعے جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت کو ہدف بنایا جارہا ہے۔
یہ سلسلہ ۲۰۰۹ء میں دستور اور قانون میں ترامیم کے ذریعے شروع ہوا۔ پھر ۲۰۱۰ء میں ایک نام نہاد انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل قائم کیا گیا اور ۲۰۱۱ء میں گرفتاریاں اور مقدمات شروع ہوگئے جن کے ذریعے اب تک سات افراد، یعنی: علامہ دلاور حسین سعیدی، ابوالکلام آزاد،محمدقمرالزمان، علی احسن مجاہد، صلاح الدین قادر، معین الدین، اشرف الزماں کو سزاے موت، پروفیسر غلام اعظم کو عمرقید اور عبدالقادر مُلّا کو پہلے عمرقید اور پھر کھلے کھلے سیاسی دبائو کے ڈرامے کے بعد سزاے موت کا اعلان کیا گیا۔ اسی طرح بی این پی کے عبدالعلیم کو عمرقید سنائی اور مزید دو درجن افراد پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
اس سلسلے نے۱۳دسمبر ۲۰۱۳ء کو ایک خطرناک شکل اختیار کرلی جب آخرالذکر، یعنی جناب عبدالقادر مُلّا کو عملاً سولی پر چڑھا کر حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت نے عدالتی قتل سے اپنے ہاتھ خون آلود کرلیے۔ اس لیے اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بنیادی مسئلہ پاکستان پر الزام تراشی اور حقوقِ انسانی کی پامالی، بنگلہ دیش کی موجودہ قیادت کا غیرآئینی، غیرقانونی اور غیراخلاقی اقدام ہے، جن کی وجہ سے برادر مسلم ملک بنگلہ دیش بحران کا شکار ہے۔ سیاسی عمل درہم برہم ہے، معیشت پر بُرے اثرات پڑ رہے ہیں اور ملک کا آئینی نظام نئے خطرات سے دوچار ہوگیا ہے۔ یہ حکومت ملک کی اسلامی قوتوں کو نشانہ بناکر اپنی سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے ایک ہیجانی فضا ہموار کرنا چاہ رہی ہے۔
ملک اور ملک سے باہر اس صورت حال پر شدید احتجاج ہو رہا ہے۔ انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز، ماضی میں عوامی لیگ کی حکومت کی جائز اور ناجائز تائید ہی کرتا رہا ہے، مگر اب اس نے اپنے دو ادارتی کالموں میں بنگلہ دیش کے سیاسی بحران کو حکومت کی پے درپے غلطیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان مذکورہ مقدمات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔ جنگی جرائم کے مقدمات کی اصولی تائید کرنے کے باوجود، ان میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو جس طرح پامال کیا گیا ہے اور ثبوت اور معروف عدالتی طریق کار کے بغیر جس طرح لوگوں کو پھانسی اور عمرقید کی سزائیں دی جارہی ہیں، ان پر مذکورہ اخبار نے شدید گرفت کی ہے۔ اپنے ۲۰نومبر ۲۰۱۳ء کے اداریے میں اس نے صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ:’’لگتا ہے کہ بیگم حسینہ یہ عزم کیے ہوئے ہیں کہ جنوری [۲۰۱۴ء] میں ہونے والے انتخابات سے پہلے اقتدار سے چمٹی رہیں، اور جن ذرائع سے بھی ضرورت ہو اپنے مخالفین کو بے اثر کریں‘‘۔
ان نام نہاد بین الاقوامی جرائم کے ٹربیونل کے بارے میں اخبار لکھتا ہے:’’مقدمے نے حزبِ اختلاف کے لیڈروں کو ہدف بنایا اور یہ دوسرا حربہ ہے جس کے ذریعے سیاسی مخالفوں کی آواز کا گلا گھونٹا جا رہا ہے‘‘۔
اصل ایشو یہ نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کیوں بنا اور کس نے تائید کی اور کس نے مخالفت___ اس وقت اصل ایشو یہ ہے کہ ۴۳سال کے بعد مقدمات کا ڈراما کیوں رچایا جا رہا ہے، اور عدل و انصاف اور ملکی اور عالمی قانون کو پامال کرتے ہوئے محترم اور مقتدر سیاسی شخصیات کو میدان سے ہٹانے اور جماعت اسلامی کو سیاسی دوڑ سے نکالنے کا گھنائونا کھیل کھیلا جا رہا ہے، جسے سمجھنا ضروری ہے۔ یہ سب ۲۰۱۴ء میں بنگلہ دیش کے انتخابات کو ہائی جیک کرنے کے لیے ہے، جو جمہوریت کے قتل پر منتج ہوسکتا ہے۔
۲۵دسمبر ۲۰۱۳ء کے الجزیرہ (انگریزی) کی ویب سائٹ پر ایک بنگالی نژاد سیاسی تجزیہ نگار ضیاحسن کا مضمون شائع ہوا ہے۔ مقالہ نگار ’جنگی جرائم‘ کے مقدمے کے حق میں اور جماعت اسلامی کے بارے میں مخالفانہ راے رکھنے کے باوجود لکھتے ہیں:
بنگلہ دیش کو جنگی جرائم کے ٹربیونل کی واقعی ضرورت تھی، لیکن اس عمل کے دوسال بعد زیادہ تر لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ مقدمے کو حکمران پارٹی کے لیے سیاسی ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش نے اسے بیرونی مداخلتوں کے لیے آسان ہدف بنا دیا ہے۔ ایسی صورت میں سیاست، عدلیہ، انتخابات اور انصاف کے درمیان حدود زیادہ مبہم ہوتی جارہی ہیں۔ [بنگلہ دیش کی] ساری آبادی اب نظریاتی طور پر دو واضح کیمپوں، یعنی ٹربیونل کے حامی اور ٹربیونل کے مخالف میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ججوں میں سے ایک جج کے اسکائپ اکائونٹ کے ہیک ہونے سے سامنے آنے والی گفتگو کے انکشاف، اور سزائیں سنانے کے لیے عوامی لیگ کی بے تابی نے انتخابات کو مکتی باہنی کے مخالف یا حامی ہونے کی بنیاد پر تقسیم کردیا ہے۔
اس مضمون کا عنوان ہے: How not to do a war crimes tribunal: the case of Bangladesh (کس طرح ایک جنگی جرائم کا ٹربیونل نہ چلایا جائے___ بنگلہ دیش کی مثال)۔ انھوں نے آگے چل کر اس کھیل کو ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
ٹربیونل کے قابلِ اعتماد آغاز کے بارے میں پہلے یہ خیال تھا کہ عوام کو قریب لائے گا لیکن اب وہ سیاسی طاقتوں کی کش مکش اور اقتدار کی سیاست کا حصہ بن گیا ہے.... بہت سے لوگ یقین رکھتے تھے کہ جنگی جرائم کا ٹربیونل ملک کو ماضی کی بھول بھلیوں سے نجات دلانے کا باعث ہوگا، لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹربیونل کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بے تابی نے آبادی میں ایک تفریق پیدا کردی ہے۔
جماعت اسلامی کا بجاطور پر دعویٰ ہے کہ اس کا اور اس کے کارکنوں کا دامن الحمدللہ ایسے تمام مبینہ جرائم سے پاک ہے، جو اس کی قیادت کی طرف منسوب کیے جارہے ہیں۔ وہ احتساب سے بھاگنے والی جماعت نہیں ہے۔ وہ عدل و انصاف کی میزان کی علَم بردار ہے اور آئین اور قانون کے مطابق ہرجواب دہی کے لیے تیار ہے۔ جماعت اسلامی نے ۱۹۷۰ء کے انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کیا تھا اور ان کے مطابق انتقالِ اقتدار کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان جو ’لا الٰہ الااللہ‘ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اس کے دستور ، اس کی آزادی، سالمیت اور استحکام کی علَم بردار تھی اور سیاسی اختلافات کے علی الرغم سقوطِ ڈھاکہ تک، پاکستان کے دفاع میں کمربستہ رہی۔ لیکن جب بنگلہ دیش ایک آزاد ملک کی حیثیت سے قائم ہوگیااور ۱۹۷۴ء میں پاکستان، اسلامی دنیا اور اقوامِ متحدہ نے اسے تسلیم کرلیا تو جماعت اسلامی سے وابستہ تمام افراد جو بنگلہ دیش میں تھے، اس کی آزادی، سالمیت اور استحکام کے لیے سرگرم ہوگئے۔
یہی وہ پس منظر تھا جس میں ۱۹۷۸ء میں جماعت اسلامی کو ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت ملی اور پھر ایک مقدمے کی طویل سماعت کے بعد پروفیسر غلام اعظم صاحب کی شہریت وہاں کی سپریم کورٹ نے بحال کردی۔ اس وقت سے جماعت اسلامی بنگلہ دیش ایک نظریاتی تحریک کی حیثیت سے بنگلہ دیش میں زندگی کے ہرشعبے میں خدمات انجام دے رہی ہے اور ملک کی سیاسی تعمیرِنو کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔بحالی جمہوریت کی تحریک میں اس نے تمام سیاسی جماعتوں بشمول عوامی لیگ کے ساتھ مل کر جدوجہد کی اور بحالی جمہوریت کے بعد پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے اور بی این پی کے ساتھ حکومت میں بھی شریک رہی ہے۔
۱۹۸۴ء سے ۱۹۹۱ء تک سات سال جماعت اسلامی اور عوامی لیگ ایک جمہوری تحریک میں شانہ بشانہ شریکِ کار تھے اور جماعت کی تمام قیادت بشمول پروفیسر غلام اعظم صاحب، مولانا اے کے ایم یوسف، مطیع الرحمن نظامی، عبدالقادرمُلّا، علی احسن محمد مجاہد اور عوامی لیگ کی قیادت بشمول شیخ حسینہ واجد، عبدالصمد آزاد مرحوم، عبدالجلیل، صلاح الدین قادر چودھری، طفیل احمد، سرجیت سین گپتا اور مسز ساجدہ چودھری ایک ہی محاذ پر سرگرم تھے، حتیٰ کہ ۱۹۹۱ء میں عوامی لیگ نے انتخابات کے بعد جماعت کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت بھی دی تھی، جسے جماعت نے شکریے کے ساتھ قبول نہیں کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر جماعت اسلامی اور اس کی قیادت جنگی جرائم کی مرتکب تھی تو عوامی لیگ کو کیا اس وقت اس بات کا علم نہیں تھا؟ اور کیا یہ انکشاف ۲۰۰۹ء کے بعد ہوا؟
اگر ۱۹۸۴ء سے ۱۹۹۶ء تک جماعت میں کوئی خرابی نہ تھی تو پھر اس سے کیسے انکار کیاجاسکتا ہے کہ ۲۰۰۹ء میں نئی سیاسی مصلحتوں کی خاطر یہ افسانہ تراشا گیا اور انھی افراد کو جن کے ساتھ مل کر جمہوریت کی بحالی کے لیے سیاسی جدوجہد کی جارہی تھی، اب سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
رہا معاملہ ۱۹۷۱ء کے واقعات کا، تو یہ ایک حقیقت ہے کہ تشدد کی سیاست کا آغاز عوامی لیگ نے کیا اور ۱۹۶۹ء میں اسلامی چھاترو شنگھو (اسلامی جمعیت طلبہ)کے رہنما عبدالمالک کو شہید کیا گیا۔ ۱۹۷۰ء میں پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کو جلسہ نہ کرنے دیا گیا جس میں تقریر کرنے کے لیے مولانا مودودی ڈھاکہ پہنچ گئے تھے اور اس کے متعدد کارکنوں کو شہید اور بیسیوں کو زخمی کیا گیا۔ عوامی لیگ کے عسکری ونگ کے طور پر مکتی باہنی کا قیام مئی۱۹۷۰ء میں کرنل عثمانی کے ہاتھوں ہوا۔ مارچ ۱۹۷۱ء سے ۱۰ ماہ پہلے مکتی باہنی نے پاکستان کی فوج اور پولیس سے بغاوت کرنے والے عناصر کے ساتھ مل کر قتل و غارت اور لُوٹ مار کا بازار گرم کیا، جس کے نتیجے میں ۵۰ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی افواج نے جب ۲۶مارچ ۱۹۷۱ء کو آپریشن شروع کیا تو اس دوران بھی زیادتیاں ہوئیں اور شرپسندوں کے ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر بے گناہ افراد بھی ہلاک ہوئے۔ یوں بدقسمتی سے زیادتیاں دونوں طرف سے ہوئیں اور ان کا کچھ نہ کچھ ریکارڈ بھی ایک حد تک موجود ہے۔
بیسیوں کتابیں ہیں جن میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دوسرے مصنفین نے ذاتی مشاہدے کی بنا پر اس الم ناک دورکا نقشہ کھینچا ہے۔ خود حمودالرحمن کمیشن نے بھی تینوں فریقوں، یعنی پاکستانی فوج اور اس کے معاونین، مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے کارکن، اور خود بھارتی افواج کے خونیں اور شرم ناک کردار کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے اور مناسب احتساب کی ضرورت کو بھی واضح کیا ہے۔ اس تکلیف دہ اور خون آشام دور کے بارے میں دو ہی طریقے ہوسکتے تھے: ایک بین الاقوامی سطح پر مکمل طور پر آزاد اور غیر جانب دار عدالت کے ذریعے احتساب، اور دوسرا غلطیوں کے مجموعی اعتراف کے ساتھ عفو و درگزر اور آیندہ کے حالات کی اصلاح کا راستہ۔
بنگلہ دیش کی مجیب الرحمن حکومت نے ۱۹۷۲ء میں Collobarators Act کے تحت سول سوسائٹی کے افراد اور ۱۹۷۳ء کے انٹرنیشنل کرائمز ایکٹ کے تحت فوجی اور نیم فوجی ادارے سے متعلق افراد پر مقدمہ چلانے کا راستہ اختیار کیا۔ پھر فوجی دائرے میں ۱۹۵؍ افراد کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا۔ دوسری جانب سول سوسائٹی میں ۳۷ہزار۴سو۷۱ لوگوں پر الزام عائد کیا گیا، لیکن ان میں سے ۳۴ہزار۶سو۲۳ کو ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے رہا کردیا گیا۔عملاً مقدمہ ۲ہزار۸سو۴۸ ؍افراد پر چلا، جن میں سے ۷۲۰ کو سزا ہوئی، اور ۲ہزار سے زیادہ افراد کو بری کردیا گیا۔ واضح رہے کہ ان ۳۷ہزار افراد میں جماعت اسلامی کا کوئی فرد شامل نہیں تھا اور جن افراد کو آج الزام دیا جا رہا ہے، ان میں سے پروفیسر غلام اعظم کے سوا تمام افراد اس وقت بنگلہ دیش میں موجود تھے اور کہیں چھپے ہوئے نہیں تھے۔
غلطی کا ارتکاب کسی بھی فرد سے ممکن ہے، تاہم یہ بات پوری ذمہ داری سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جماعت کے کارکنوں اور البدر کے رضاکاروں کا دامن ہرقسم کے فوج داری یا اخلاقی جرائم سے پاک ہے۔ انھوں نے دفاعی خدمات ضرور انجام دیں، لیکن کسی قتلِ ناحق یا بداخلاقی اور لُوٹ مار میں وہ ہرگز ملوث نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ کل بھی اور آج بھی وہ شفاف عدالتی نظام میں اپنے آپ کو پیش کرنے کو تیار ہیں۔ جماعت اسلامی نے کسی سے بھی رحم کی درخواست نہیں کی۔ جب تک وہ حصہ پاکستان تھا، اس وقت تک جماعت اسلامی کے کارکنوں نے دینی، اخلاقی، قومی اور قانونی فریضہ سمجھ کر مشرقی پاکستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے جدوجہد کی اور بھارتی مداخلت کاروں سے وطن کو بچانے کے لیے دفاعی پوزیشن اختیار کی۔ جب بنگلہ دیش کو قبول کرلیا تو اس کے ساتھ وفاداری کا معاملہ کیا۔ لیکن یہ صریح ظلم ہے کہ ۴۳سال کے بعد ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرکے انصاف کا کھلے بندوں خون کیا جارہا ہے اور سیاسی طور پر محکوم ٹربیونل کے ذریعے ان کو سزائیں دلوائی جارہی ہیں۔ ہمارا احتجاج انصاف اور انسانیت کے اس قتل کے خلاف ہے۔
’البدر‘ کے نوجوانوں کا کیا کردار تھا؟اس بارے میں کتاب البدر (۱۹۸۵ء)کو پڑھا جاسکتا ہے۔ اسی ضمن میں روزنامہ نئی بات میں شائع ہونے والے آصف محمود صاحب کے مضمون: ’یہاں بھی غدار، وہاں بھی غدار‘ کا ایک اقتباس پیش ہے۔ واضح رہے کہ صاحب ِ مضمون کا کوئی تعلق جماعت اسلامی سے نہیں اور نہ میجر ریاض حسین ملک کا کوئی تعلق جماعت اسلامی سے تھا:
کیا ہم جانتے ہیں کہ البدر کیا تھی؟ یہ تنظیم [بلوچ رجمنٹ کے]میجر ریاض حسین ملک نے بنائی۔ میجر سے میرا تعلق دوعشروں پر محیط ہے۔ میجر ریاض بتاتے ہیں کہ [میمن سنگھ] میں فوج کی نفری کم تھی اور ہمارے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ ہم پُلوں اور راستوں کی نگرانی کرسکیں۔ ایک روز کچھ بنگالی نوجوان ان کے پاس آئے اور کہا کہ دفاعِ وطن کے لیے آپ کے کچھ کام آسکیں تو حاضر ہیں۔ ان نوجوانوں کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔ میجر ریاض نے انھیں کہا: ’’ٹھیک ہے آپ فلاں فلاں پُلوں پر پہرا دیجیے‘‘۔ ایک نوجوان نے کہا: ’’میجرصاحب ہمیں اپنی حفاظت کے لیے بھی کچھ دیں‘‘۔ یہ وہ دن تھے جب ہائی کمان کی طرف سے حکم آچکا تھا کہ تمام بنگالیوں کو غیرمسلح کردو۔ میجر ریاض کی آج بھی آہیں نکل جاتی ہیں جب وہ بتاتے ہیں کہ یہ سن کر وہ اندر گئے اور سورئہ یٰسین کا ایک نسخہ اس نوجوان کو پکڑا دیا کہ اپنی حفاظت کے لیے میں تمھیں اس کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔ وہ نوجوان چلے گئے، گھر نہیں بلکہ میجر کے دیے مشن پر۔ بانس کے ڈنڈے انھوں نے بنالیے اور ندی نالوں اور پُلوں پر جہاں سے مکتی باہنی اسلحہ لاتی تھی، پہرے شروع کر دیے۔ میجرریاض بتاتے ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے اسلحہ نہیں مانگا، لیکن میجرکے مَن کی دنیا اُجڑچکی تھی۔ فوجی ضابطے انھیں عذاب لگ رہے تھے۔ ایک روز ۳۰کے قریب نوجوان ان کے پاس آئے کہ انھیں بھی اس رضاکار دستے میں شامل کرلیں۔ ان میں ایک بچہ بھی تھا۔ میجر نے اسے کہا: بیٹا! آپ بہت چھوٹے ہو واپس چلے جائو۔ وہ بچہ اپنے پنجوں پر کھڑا ہوگیااور کہنے لگا: میجرشاب ہن تو بڑا ہوئے گاشے‘ (میجرصاحب! اب تو بڑا ہوگیا ہوں)۔ میجر تڑپ اُٹھے، انھیں معوذؓ اور معاذؓ یاد آگئے، جن میں ایک نے نبی کریمؐ کی خدمت اقدس میں ایسے ہی ایڑیاں اُٹھا کر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اتنے چھوٹے بھی نہیں کہ جہاد میں حصہ نہ لے سکیں۔ میجرنے اس بچے کو سینے سے لگالیا۔ ہائی کمان کا حکم پامال کرتے ہوئے ان جوانوں کو مسلح کردیا اور جنگ ِ بدر کی نسبت سے اس رضاکاردستے کو ’البدر‘ کا نام دے دیا۔ کئی ہفتے بعد ہائی کمان نے ان سے پوچھا کہ ان کے علاقے میں اتنا امن کیسے ممکن ہوا، تو میجر نے یہ راز فاش کیا کہ میں نے آپ کی حکم عدولی کی اور میں نے تمام بنگالیوں پر عدم اعتماد نہیں کیا۔ میں نے بنگالیوں کو مسلح کر کے بھارت اور مکتی باہنی کے مقابلے میں کھڑا کردیا ہے۔ تب یہ رضاکار تنظیم پورے بنگال میں قائم کردی گئی۔
ایک روز مَیں نے میجرسے پوچھا کہ ہم میں عمروں کے فرق کے باوجود تکلف باقی نہیں ہے۔ ’البدر‘ نے ظلم تو بہت کیے ہوںگے اپنے سیاسی مخالفین پر۔ یہ سوال سن کر میجر کو ایک چپ سی لگ گئی۔ کہنے لگے: آصف تم میری بات کا یقین کرو گے؟ میں نے کہا: میجرصاحب آپ سے ۲۵سال کا تعلق ہے، میرا نہیں خیال کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ میجر نے کہا: میں اپنے اللہ کو حاضرو ناظر جان کر کہتا ہوں میں نے ’البدر‘ کے لوگوں سے زیادہ قیمتی اور نیک لڑکے نہیں دیکھے، یہ لڑکے اللہ کا معجزہ تھے۔ میرے علم میں کوئی ایک واقعہ بھی نہیں کہ انھوں نے کسی سے ذاتی انتقام لیا ہو۔ مجھے تو جب یہ پتا چلا کہ ان کی فکری تربیت مودودی نام کے ایک آدمی نے کی ہے تو اشتیاق پیدا ہوا کہ دیکھوں یہ مودودی کون ہے؟ برسوں بعد جب میں بھارت کی قید سے رہا ہوا تو میں اپنے گھر نہیں گیا، میں سیدھا اچھرہ گیا، مودودی صاحب کے گھر، مَیں دیکھنا چاہتا تھا وہ شخص کیسا ہے جس نے ایسے باکرداراور عظیم نوجوان تیار کیے۔
آج یہی ’البدر‘ پھانسی پر لٹک رہی ہے۔
ہم تحدیث نعمت کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ ’البدر‘ کوئی کرایے کی فوج (mercenary) نہیں تھی، بلکہ اللہ کے دین کی خدمت کرنے والے مجاہدین کا گروہ تھے، جو صرف اللہ سے اپنے اجر کے طالب تھے اور جو ایک مقدس عہد کر کے اپنے کو اس خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ ہرکارکن جو حلف لیتا تھا، وہ اس کے جذبات و احساسات، اس کے عزائم اور اس کے ضابطۂ اخلاق کا آئینہ ہے۔
البدر کا ہر مجاہد مختصر تربیت کی تکمیل کے بعد اپنے ساتھیوں کے رُوبرو یہ حلف نامہ پڑھتا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ واشھد ان محمداً عبدہٗ ورسولہٗ
مَیں خداے بزرگ و برتر کو حاضرناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ:
اللہ میرا حامی و ناصر ہو۔ آمین!
اسی طرح البدرمجاہدوں کا اجتماعی حلف نامہ یہ ہوتا تھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
خدا کو حاضرناظر جان کر اقرار کرتے ہیں کہ ہم البدر کے رضاکار:
خدا ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
ہم بڑی عاجزی کے ساتھ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ بات کہنا چاہتے ہیں کہ الحمدللہ! ہمارے کارکنوں کا دامن ظالمانہ اور انتقامی کارروائیوں سے پاک ہے۔ بیسیوں کتابیں اس پر شاہد ہیں جو ضروری تحقیق کے بعد لکھی گئی یا جن میں دیانت داری سے اس زمانے کے حالات کو شخصی مشاہدے کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے۔ ان میں ’البدر‘ پر متعین الزامات کا کوئی وجود نہیں۔ حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ سے لے کر بنگلہ دیش کے مصنّفین، بشمول سابق فوجی اور سفارت کار لیفٹیننٹ کرنل(ر) شریف الحق دالیم کی کتاب Bangladesh Untold Facts اور حمیدالحق چودھری کی خودنوشت Memoires، بھارتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) جے ایف آر جیکب کی Surrender at Dacca: Birth of a Nation اور پروفیسر شرمیلا بوس کی کتاب Dead Reckoning ، اسی طرح غیرجانب دار بلکہ پاکستان کی حکومت کے ناقد پاکستانی مصنّفین، مثلاً لیفٹیننٹ جنرل (ر) کمال متین الدین کی Tragedy of Errors: East Pakistan Crises 1968-1971 اور میجر جنرل (ر) خادم حسین راجا کی A Stranger in My Own Country ۔ ان میں پاکستانی فوج اور خصوصیت سے اس کی قیادت پر سخت تنقید ہے مگر البدر کی کسی غلط کاری کا کوئی ذکر نہیں۔
پھر وہ دل دہلا دینے والی کتابیں جو ذاتی مشاہدات پر مبنی ہیں، جیسے سابق سفارت کار قطب الدین عزیز کی کتاب Blood and Tears ہے جو ۷۰ کے چشم دید واقعات پر مشتمل ہے، یا مسعود مفتی کی دل دہلا دینے والی تصانیف لمحے اور چہرے اور مہرے اور نسرین پرویز کی داستان سلمٰی کا مقدمہ: ڈھاکہ سے کراچی تک، یا پھر ڈاکٹر صفدرمحمود کی کتاب Pakistan Divided۔ ان اور دوسری تمام مستند کتابوں میں دونوں طرف کی زیادتیوں کا ذکر ہے، مگر البدر پر متعین طور پر الزام کہیں بھی نہیں ملے گا بلکہ کرنل صدیق سالک نے اپنی کتاب Witness to Surrender (میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا)میں اعتراف کیا ہے کہ البدر کے نوجوان بڑے جانثار اور مقصد سے وفادار تھے، جو اسلام اور پاکستان سے محبت کی بناپر خطرات انگیز کرنے کے لیے کمربستہ تھے اور : ’’ان میں سے بعض نے قربانی کے ایسے جذبے کا مظاہرہ کیا، جس کا دنیا کی بہترین افواج سے مقابلہ کیا جاسکتا تھا‘‘ (ص ۱۰۵)۔ صدیق سالک نے پاکستانی فوج کے چند اہل کاروں کی غلط کاریوں کا اعتراف کیا ہے، لیکن ’البدر‘ کے جان نثاروں کا دامن ایسے خبائث سے پاک تھا۔
ہم ایک بار پھر بہت ہی انکسار اور اللہ سے عفوودرگزر کی طلب کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ آزاد اور غیر جانب دار عدلیہ کے سامنے ہمارے کارکن انصاف کے حصول کے لیے اور اپنی پاک دامنی ثابت کرنے کے لیے ہرلمحہ تیار ہیں۔ لیکن جو خونیں اور شرم ناک ڈراما بین الاقوامی جرائم کے ٹربیونل کے نام سے کھیلا گیا ہے، وہ ظلم اور انتقام کا بدترین کھیل ہے۔ اس کا عدل اور انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ انسانی حقوق کی پامالی اور معصوم انسانوں کی کردارکشی اور ان کے لیے قیدوبند اوردارورَسن کا بازار سجانے کی کوشش ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ اس ڈھونگ کا پردہ چاک کریں اور عالمی راے عامہ کو اس کے خلاف متحرک کریں، تاکہ عدل اور انسانیت کے قتل کا یہ سلسلہ روکا جاسکے۔
جیساکہ ہم نے عرض کیا کہ پہلا راستہ عدل و انصاف کا ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں اور دوسرا راستہ مفاہمت اور عفوودرگزرکا ہے۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستانی فوجی و سیاسی قیادت کی حماقتوں اور بھارت کی سیاسی اور عسکری مداخلت کے نتیجے میں رُونما ہونے والی زیادتیوں کے اس تلخ باب کو بند کر کے ایک نئے باب کو کھولنا حکمت اور دانش مندی کا راستہ تھا۔ اس کا آغاز بھی شملہ معاہدے اور پھر ۹؍اپریل ۱۹۷۴ء کے سہ فریقی معاہدے کی شکل میں ہوا، جس پر پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے وزراے خارجہ نے دستخط کیے اور جس کی حیثیت ان ممالک کے درمیان ایک عہدوپیمان (treaty) کی ہے۔
اس معاہدے ہی کے نتیجے میں بھارت میں قید ۱۹۵ پاکستانی فوجیوں کو معافی (clemency) ملی، جن کو بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم کے ٹربیونل نے جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا تھا۔ اس کے نتیجے ہی میں پھر پاکستان اور بنگلہ دیش نے سفارتی تعلقات قائم کیے، تجارت اور دوسرے میدانوں میںتعاون اور اشتراک کا دروازہ کھلا۔ اس میں ماضی کی غلطیوں پر افسوس کا اظہار بھی ہے اور ایک دوسرے کو معاف کرنے اور درگزر کا اعلان بھی ہے، جسے حسینہ واجد صاحبہ نے بھلا دیا ہے، اور بین الاقوامی معاہدہ شکنی کی مرتکب ہوئی ہیں۔ طے شدہ اُمور کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی ہے اور پرانے زخم تازہ کیے ہیں۔ ان کا یہ رویہ نہ حق و انصاف اور سفارتی عہدوپیمان کے محکم اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ مصلحت اور حکمت سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے کے الفاظ پر غور کرلیا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ گاڑی کے پہیے کو پیچھے کی طرف چلانے کی جو مذموم کوشش کی جارہی ہے، اس کی اصلیت کیا ہے۔ معاہدے کی شق۱۴ اور ۱۵ میں معاملات کو یوں طے کیا گیا ہے:
اس بارے میں تینوں وزرا نے نوٹ کیا کہ اس معاملے کو تینوں ملکوں کے اس عزم کے تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ وہ صلح صفائی کے لیے پُرعزم اقدامات کریں گے۔ وزرا نے مزید یہ بھی نوٹ کیا کہ ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے بعد وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم کی دعوت پر بنگلہ دیش آئیں گے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے عوام سے یہ اپیل کی کہ وہ صلح صفائی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ماضی کی غلطیوں کو معاف کردیں اور بھول جائیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے وزیراعظم نے بنگلہ دیش میں ۱۹۷۱ء کی تباہی اور مظالم کے حوالے سے یہ اعلان کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام ماضی کو بھول جائیں اور ایک نیا آغاز کریں۔
مذکورہ اُمور کی روشنی میں اور خاص طور پر وزیراعظم پاکستان کی بنگلہ دیش کے عوام سے ماضی کی غلطیوں کے بارے میں عفوودرگزر کرنے اور بھول جانے کے پس منظر میں بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ عام معافی کے اقدام کے طور پر مقدمات میں مزید پیش رفت نہیں کرے گی۔ یہ بات بھی طے پائی کہ ۱۹۵جنگی قیدی بھی پاکستان اُن دوسرے قیدیوں کے ساتھ جو معاہدہ دہلی کے تحت واپس بھیجے جارہے ہیں، بھیج دیے جائیں گے۔
اس کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ قبل ازیں بنگلہ دیش کو دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس، لاہور کے موقعے پر تسلیم کیا گیا اور شیخ مجیب الرحمن نے لاہور میں کانفرنس کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے بعد پاکستان کے تین سربراہانِ حکومت نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا، یعنی ذوالفقار علی بھٹو، جنرل محمدضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی دونوں وزراے اعظم، یعنی خالدہ ضیا اور خود حسینہ واجد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ تجارتی تعلقات میں برابر مضبوطی آئی، پاکستان کے سرمایہ کاروں نے بڑھ چڑھ کر بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کی اور عالمی فورم پر دونوں کے درمیان بھرپور تعاون ہو رہا تھا، حتیٰ کہ اس دور میں چشم تاریخ نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جب بنگلہ دیش کو بھارت اور مغربی ممالک نے اسلحے کی فراہمی روک دی تو جنرل ضیاء الرحمن کی خواہش پر جنرل ضیاء الحق نے بنگلہ دیش کو اسلحہ فراہم کیا اور اس کی قیمت وصول کرنے سے بھی انکار کردیا جس کا اعتراف کرنل (ر) شریف الحقدالیم نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا ہے (اُردو ڈائجسٹ، دسمبر۲۰۱۳ء)۔ نیز ڈھاکہ میں جب پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ ہوا تو بنگلہ دیش کے عوام نے پاکستان کی ٹیم کی کامیابی کے لیے اس طرح کردار ادا کیا جس طرح متحدہ پاکستان کے دوران کرتے تھے لیکن افسوس صدافسوس کہ ۲۰۰۹ء میں عوامی لیگ کی حسینہ واجد نے گاڑی کو پٹڑی سے اُتارنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔ واضح رہے کہ Collaborators Act جس کے تحت غیرفوجی عناصر پر مقدمات قائم کیے گئے تھے، اس کے تحت سزا پانے والوں میں سے بھی سنگین ترین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو چھوڑ کر ۱۹۷۵ء میں سب کو معافی دے دی گئی اور بالآخر ۳۱دسمبر ۱۹۷۵ء کو خود اس قانون کو بھی کالعدم قرار دے دیاگیا۔
۱۹۷۴ء ہی میں شیخ مجیب الرحمن نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو مخاطب کرکے پورے عالمی میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ Let The World know how Bengalies can forgive (دنیا جان لے گی کہ بنگالی کس طرح معاف کرتے ہیں)۔ لیکن مجیب صاحب کی صاحب زادی نے ایک نئی مثال قائم کی ہے کہ والد جو سربراہِ مملکت تھے، کی جانب سے معاف کر نے کے بعد ان کی بیٹی نے کس بھونڈے انداز میں انتقام کی آگ بھڑکائی ہے۔
اس وقت جو کچھ بنگلہ دیش کی حکومت نے کیا ہے وہ بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون، بنگلہ دیش کے دستور اور پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سہ فریقی معاہدے، سب کے خلاف ہے، اور پاکستان کو صرف انسانی حقوق ہی کے باب میں نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کے سلسلے میں بھی احتجاج اور سفارتی ردعمل کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ اس پر فرض بھی ہے۔
اس اصولی بحث اور وسیع تر قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوئوں پر گفتگو کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ مختصراً عبدالقادر مُلّا کے مقدمے اور شہادت کے بارے میں بھی چند گزارشات پیش کریں۔
عبدالقادر مُلّا کا اصل جرم یہ نہیں ہے کہ وہ کسی فوج داری یا اخلاقی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مقدمے کی پوری کارروائی پڑھ لیجیے، کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوتا اور محض سنی سنائی اور بے سروپا تضاد بیانیوں کی بنیاد پر ان کو ’مجرم‘ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے،جو بُری طرح ناکام ہوئی ہے۔ ہم نے ٹربیونل کا فیصلہ بغور پڑھا ہے۔ یہ پورا فیصلہ سیاسی دستاویز ہے جس میں زبان کے تنازعے سے لے کر تفریق تک کو اصل پس منظر مقرر فرما کر کارروائی کی ہے۔ اس طرح بلاثبوت سنی سنائی باتوں اور نام نہاد circumstantial evidence پر سزاے موت دینے کی جسارت کی ہے جو بین الاقوامی اور خود ملکی قانون سے متصادم ہے۔ اور اس پورے پس منظر اور سازش کے نام پر جو اصل جرم سامنے آتا ہے، وہ بنگلہ دیش کی تحریک میں عدم شرکت ہے حالانکہ یہ ایک سیاسی پوزیشن توضرور ہے مگر قانون کی نگاہ میں کوئی جرم نہیں۔ دنیا کے جتنے ممالک نے بھی آزادی حاصل کی ہے ان کی آزادی کے حصول سے قبل کسی کی جو بھی سیاسی پوزیشن ہو وہ نئے دور میں غیرمتعلق ہوجاتی ہے جس کا واضح ثبوت قیامِ پاکستان کے بعد انڈین نیشنل کانگرس کے ان ہندو ارکان کو جو مشرقی پاکستان میں تھے، ریاست اور پارلیمنٹ میں برابر کا مقام دیے جانے میں دیکھا جاسکتا ہے۔
عبدالقادر مُلّا ۱۴؍اگست ۱۹۴۸ء میں موضع امیرآباد، ضلع فریدپور میں پیدا ہوئے اور ۱۹۶۸ء میں بی ایس سی تک فریدپور شہر میں تعلیم پائی۔ ۱۹۷۱ء میں ڈھاکہ یونی ورسٹی میں ایم اے کے طالب علم تھے، مگر ۲۵مارچ کو فوجی آپریشن کے شروع ہونے سے دو ہفتے قبل یونی ورسٹی بند کردی گئی۔ اس پر عوامی لیگ کے اسٹوڈنٹ ونگ ’چھاترو لیگ‘ کا قبضہ تھا۔ ہوسٹل بند کردیے گئے اور عبدالقادر مُلّا اپنے گائوں فریدپور چلے گئے جہاں وہ ۱۹۷۲ء کے آخر تک رہے۔
۱۹۷۱ء میں ڈھاکہ میں خوں ریز ہنگاموں کے اس پورے زمانے میں عبدالقادر مُلّا کی عدم موجودگی کی حقیقت کو تو ٹربیونل نے یکسر نظرانداز کردیا حالانکہ فریدپور جہاں وہ وسط مارچ ۱۹۷۱ء سے دسمبر ۱۹۷۲ء تک رہے، پورا شہر اس حقیقت کی گواہی دے رہا تھا۔ لیکن جس دوسری حقیقت کو بھی اس نام نہاد عدالت نے قابلِ اعتنا نہ سمجھا وہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے۔ دسمبر ۱۹۷۲ء میں عبدالقادر مُلّاڈھاکہ یونی ورسٹی میں آگئے جو عوامی لیگ کا گڑھ تھا، وہ مزید تعلیم کے لیے وہیں ہوسٹل میں رہے۔ دو سال میں ’تعلیمی انتظامیات‘ میں ایم اے کیا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ کسی کو اس وقت ان کے ’میرپور کے قصاب‘ ہونے کی ہوا نہ لگی۔ پھر دو سال انھوں نے بنگلہ رائفلز (Bangla Rifles) میں ٹریننگ لی اور یہاں بھی ان کے بارے میں کسی کو شبہہ نہ ہوا۔ پھر تین سال انھوں نے ایک سرکاری اسکول میں استاد کی حیثیت سے اور پھر پرنسپل کی حیثیت سے کام کیا۔ پھر حکومت کے تحقیقی ادارے اسلامک فائونڈیشن میں، جہاں ملک کے تمام ہی دانش وروں سے ربط رکھنا ہوتا ہے، اس میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد صحافت اور سیاست میں نمایاںکردار ادا کرتے رہے۔
سات سال تک عوامی لیگ کے ساتھ جماعت اسلامی کی ٹیم کے حصے کے طور پر کام کرتے رہے اور سب کے ساتھ ان کے فوٹو اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ وہ ’میرپور کے قصاب‘ سے شب و روز مل رہے ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا رہا اور کسی نے عبدالقادر مُلّا پر انگشت نمائی نہ کی۔ پھر اچانک ۲۰۱۰ء میں عوامی لیگ پر یہ راز فاش ہوا کہ عبدالقادر مُلّا’میرپور کا قصاب‘ ہے اور اس کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی پاداش میں نام نہاد انٹرنیشنل ٹربیونل میں گھسیٹ لیا گیا۔
عبدالقادر شہید پر چھے میں سے پانچ الزامات کا تعلق ۲۶مارچ ۱۹۷۱ء سے وسط اپریل ۱۹۷۱ء کے واقعات سے ہے، جب کہ وہ ڈھاکہ یا اس کے گردونواح میں موجود ہی نہیں تھے۔ عبدالقادر شہید کے وکلاے صفائی نے عبدالقادر مُلّا کے ڈھاکہ میں نہ ہونے اور تمام الزامات کے زمینی حقائق سے متصادم ہونے کو ثابت کرنے کے لیے ۹۶۵ گواہ پیش کرنے کی اجازت چاہی اور تمام گواہوں کے کوائف سے ٹربیونل کو مطلع کیا۔ لیکن اسی ٹربیونل نے عدالتی عمل کی تاریخ میں یہ نادر اور مضحکہ خیز پوزیشن اختیار کی کہ: ’’یہ استغاثہ کا کام ہے کہ وہ جرم ثابت کرے اور دفاع کرنے والوں کو متبادل شہادت لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حالانکہ ان تمام گواہوں کا موقف یہ تھا کہ ۱۹۷۱ء کے جس زمانے کے بارے میں عبدالقادر مُلّا پر الزام لگایا جارہا تھا وہ اس زمانے میں فریدپور میں تھے جنھیں شب و روز ان تمام افراد نے دیکھا۔ بڑی رد و کد کے بعد عدالت نے ۹۶۵ میں سے صرف چھے گواہوں کو پیش کرنے کی اجازت دی اور ۹۵۹ گواہوں کو سننے تک سے انکار کردیا۔ پھر ان چھے گواہوں کی شہادت کو بھی کسی دلیل کے بغیر رد کردیا۔
اپنے فیصلے تک میں اتنی مضحکہ خیز بات لکھی ہے کہ: ’’ایک گواہ کی گواہی میں تضاد تھا کہ عبدالقادر مُلّا کا دعویٰ ہے کہ: وہ وسط مارچ ۱۹۷۱ء سے نومبر ۱۹۷۲ء تک فریدپور میں تھے اور وہاں ایک دکان بھی چلا رہے تھے، جب کہ گواہ نے یہ کہا کہ اس نے ان کو فریدپور میں مارچ ۱۹۷۱ء سے مارچ ۱۹۷۲ء تک دیکھا، یعنی ڈیڑھ سال نہیں ایک سال‘‘۔ سوال یہ ہے کہ عبدالقادر مُلّا پر جو چھے الزامات ہیں، ان میں سے پانچ کا تعلق ۲۶مارچ ۱۹۷۱ء سے وسط اپریل ۱۹۷۱ء تک ہے اور صرف ایک کا تعلق نومبر ۱۹۷۱ء سے ہے۔ لیکن یہ تمام اس ایک سال ہی سے متعلق ہیں، جس کے بارے میں گواہ گواہی دے رہا ہے کہ اس نے شب وروز ان کو فریدپور میں دیکھا ہے، یعنی مارچ ۱۹۷۱ء سے مارچ ۱۹۷۲ء تک۔ عدالت کی جانب داری، حقائق سے آنکھیں بند کرنے، بودے اور مضحکہ خیز تضادات کا سہارا لے کر پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر مہرتصدیق ثبت کرنے کی اس سے زیادہ بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے؟
ضمنی طور پر یہ بھی عرض کردوں کہ جن پانچ الزامات کا تعلق ۲۶مارچ ۱۹۷۱ء سے وسط اپریل ۱۹۷۱ء سے ہے، ان کا انتساب ’البدر‘ سے کیا گیا ہے حالانکہ ’البدر‘ قائم ہی ۲۱مئی ۱۹۷۱ء کو ہوئی تھی، اور وہ بھی ڈھاکہ یا فریدپور میں نہیں، بلکہ بہت دُور شیرپور، ضلع میمن سنگھ میں۔استغاثہ اور خصوصی عدالت دونوں ہی کے علم اور دیانت پر ماتم کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔
استغاثہ نے ۴۹ گواہ پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر وہ صرف ۱۲ گواہ لاسکے جن میں سے کسی کی شہادت بھی عینی گواہی کی نہیں تھی۔ سب نے یہی کہا کہ انھوں نے ایسا سنا ہے اور اس طرح یہ اور اس سلسلے کے تمام مقدمے سنی سنائی باتوں، غیرتصدیق شدہ افواہوں اور اخبار کے تراشوں اور سیاسی گپ شپ کی بنیاد پر طے کیے جارہے ہیں۔ ٹربیونل کا دعویٰ ہے کہ ایسے سنگین جرائم کے باب میں سنی سنائی (heresay ) باتوں کو بھی معتبر قرار دے کر شریف اور معتبر انسانوں کو موت یا عمرقید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ غضب ہے کہ خود ۱۹۷۲ء کے ریاستی قانون میں عدل و انصاف کے تمام مسلّمہ اصولوں اور قواعد کو معطل کردیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کے قانونِ فوج داری اور قانونِ شہادت دونوں کو ان مقدمات کے لیے غیرمؤثر (excluded) کردیا گیا ہے اور اس طرح شہادت کو مذاق بنادیا گیا ہے۔
عبدالقادر مُلّا کو موت کی سزا جس ایک نام نہاد شہادت کی بنیاد پر دی گئی ہے، وہ ۱۹۷۱ء میں ۱۳سال کی ایک لڑکی کی شہادت ہے، جو خود یہ کہہ رہی ہے کہ وہ پلنگ کے نیچے چھپی ہوئی تھی اور اس نے یہ سنا کہ ’عبدالقادر‘ نے اس کے باپ کو قتل کیا ہے حالانکہ یہی لڑکی اس سے پہلے بنگلہ دیش قومی عجائب گھر کو یہ بیان ریکارڈ کرا چکی ہے کہ وہ اس دن گھر پر موجود نہیں تھی اور اسی لیے اس کی جان بچ گئی۔ اس کا یہ بیان بنگلہ دیش کے سرکاری عجائب گھر میں آج موجود ہے جو جنگی جرائم کے محفوظات کو ریکارڈ کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔ اس بیان کی فوٹوکاپی وکلا کی دفاعی ٹیم نے مذکورہ خصوصی عدالت میں پیش کی، لیکن اس عدالت نے جو ’سنی سنائی‘ باتوں کو معتبر قرار دیتی ہے، اس دستاویز کو قابلِ اعتنا نہ سمجھا۔ اسی طرح اسی خاتون نے ایک اخباری بیان جو واقعے کے چند سال بعد کا ہے اور جس میں اس کے موقع واردات پر موجود نہ ہونے کا اعتراف ہے، نظرانداز کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹربیونل کی کارروائی پر ملک اور ملک سے باہر ماہرین قانون کی بڑی تعداد نے صاف لکھا ہے کہ ٹربیونل کی پوری کارروائی ہر دواعتبار سے، یعنی بنیادی عدل (substantive justice) اور عدالتی طریق کار (procedural justice) کی شدید بے قاعدگیوں سے بھری پڑی ہے۔ اور اسے کسی صورت میں بھی تقدیرِ عدل (dispensation of justice) نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ قانون اور انصاف کا خون ہے اور عبدالقادر کو عدالتی قتل کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
عبدالقادر مُلّا نے اعتماد، اطمینان، ہمت اور شجاعت کے ساتھ اس مقدمے میں اپنا دفاع کیا، ہرموقعے پر اپنی پاک دامنی کو ثابت کیا اور پھر عمرقید اور سزاے موت کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ انھوں نے، ان کی صابروشاکر اہلیہ اور اہلِ خانہ نے اس ظلم کا پول کھولا اور کسی قسم کی کمزوری نہ دکھائی، حتیٰ کہ رحم کی اپیل سے بھی انکار کر دیا۔ پھر جو وصیت عبدالقادر نے لکھی اور جس شان سے تختہ دار پر گئے، وہ ان کی معصویت اور صداقت کی دلیل ہے۔ دنیا کے بڑے سے بڑے ماہر نفسیات کو یہ ساری داستان سنادیجیے، کبھی کوئی مجرم اس طرح معاملہ نہیں کرسکتا ۔ عبدالقادر کے بے گناہ ہونے کے لیے اگر کوئی اور شہادت اور لوازمہ موجود نہ بھی ہوتا، تب بھی صرف ان کا یہ عزیمت سے سرشار کردار ہی ان کے دامن کے پاک ہونے کی گواہی دینے کے لیے کافی ہے ؎
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں
ایک اور قابلِ ذکر پہلو وہ تضادبھی ہے کہ ایک طرف تو جن کا دامن پاک ہے ان کو سولی پر لٹکایا جا رہا ہے اور دوسری طرف جو دن دھاڑے انسانوں کے قتل، لُوٹ مار اور ظلم وستم میں سرگرم رہے ہیں، یعنی عوامی لیگ کے جیالے اور جو ۱۹۷۰ء سے آج تک کشت و خون اور سیاسی انتقام اور کرپشن کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور جن کے انسانیت سوز کارناموں کی داستانیں چپے چپے پر پھیلی ہوئی ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ محفوظ ہیں بلکہ بڑی ڈھٹائی سے جج اور منصف بنے بیٹھے ہیں۔ ٹربیونل کے تمام ہی ارکان عوامی لیگ کے کارکن یا سرگرم کمیونسٹ کامریڈ رہے ہیں۔ استغاثہ کے ارکان میں سے چار افراد، جنوری ۲۰۱۴ء کے انتخابات کے لیے عوامی لیگ کے نمایندے ہیں۔ عدلیہ عوامی لیگ کے کارکنوں سے بھر دی گئی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ افراد بھی جو ۱۹۷۱ء کے فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی جرنیل اے اے کے نیازی کے شریکِ کار (collaborators) تھے، وہ بھی عوامی لیگ کی بنائی ہوئی عدالتوں میں جج بن گئے۔ اس کی ایک چشم کشا مثال انتھونی مسکارن ہیس نے، جو ۱۹۷۱ء کے کشت و خون کے حقائق اور افسانوں کا پہلارپورٹر تھا اور جس کے مضامین لندن ٹائمز میں شائع ہوئے تھے اور جس نے ۳۰لاکھ افراد کے قتل کا ’راز‘ طشت ازبام کیا تھا، اسی رپورٹر نے شیخ مجیب کے حکمران بننے کے بعد ۷۴-۱۹۷۳ء میں عوامی لیگ کے ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کو اپنی کتاب Bangladesh: Legacy of Blood میں بیان کیا ہے۔ اس نے اس میں یہ واقعہ بھی لکھا ہے، جو بنگلہ دیش میں انصاف کے قتل اور منصف کی کرسی پر بیٹھنے والوں کے چہروں پر سے پردہ اُٹھانے کا ذریعہ بناہے:
حامیوں کے اولین مقدمات جیسور میں منعقد ہوئے۔ ایم آر اختر اپنی کتاب میں ایک دل چسپ واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کٹہرے میں جو شخص کھڑا تھا جس پر رضاکار ہونے کا الزام تھا، خاموشی سے کھڑا رہا۔ جب مجسٹریٹ نے اس سے باربار پوچھا کہ تم مجرم ہو یا نہیں؟ کچھ وکلا اس پر چیخ پڑے کہ تم کیوں نہیں اپنا مقدمہ شروع کرتے؟ بالآخر اس شخص نے جواب دیا کہ مَیں سوچ رہا ہوں کہ کیا کہوں؟ مجسٹریٹ نے پوچھا کہ تم کیا سوچ رہے ہو؟ ملزم نے مجسٹریٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مَیں یہ سوچ رہا ہوں کہ جو آدمی کرسی پر بیٹھا ہے، وہی تو ہے جس نے مجھے رضاکار بھرتی کیا تھا۔ اب وہ مجسٹریٹ بن گیا ہے۔ یہ تقدیر کا کھیل ہے کہ میں کٹہرے میں ہوں اور وہ میرا مقدمہ چلا رہا ہے۔
ایک اور دل چسپ تبصرہ برطانوی رکن پارلیمنٹ رابرٹ میکلین کا ہے، جو مقدمے میں آبزرور تھے۔ انھوں نے کہا کہ کٹہرے میں دفاع کرنے والے اس سے زیادہ قابلِ رحم ہیں جتنا کہ استغاثہ کے اُلجھے ہوئے گواہوں کا سلسلہ.... انھوں نے بھی پاکستان حکومت کی ملازمت کی، مگر اب یہ حلف اُٹھانے کو تیار ہیں کہ ان کی حقیقی وفاداری بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کے ساتھ تھی۔ پورا معاملہ انصاف کے ساتھ مذاق تھا۔ حکومت نے بالآخر اس کو ختم کردیا لیکن بدنظمی بڑھ جانے کے بعد۔
اس آئینے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کے زمانے میں کیا ہوا ،اور اب حسینہ واجد کے زمانے میں کیا کیا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کے ایک محترم جج نے جو جنگی جرائم کے ایک حقیقی بین الاقوامی ٹربیونل کے ممبر رہے ہیں، صاف الفاظ میں کہا ہے کہ: ’’بنگلہ دیش کے ٹربیونل اور حقیقی بین الاقوامی ٹربیونل میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اس کی کارروائیوں کو کسی اعتبار سے بھی عالمی انصاف کی میزان پر صحیح ثابت نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
پھر عبدالقادر شہید کے سلسلے میں تو دستور، قانون اور اصولِ انصاف کا اس طرح خون کیا گیا ہے کہ اس نام نہاد ٹربیونل نے بھی کمزور گواہی کی بناپر ان کو عمرقید کی سزا دی تھی۔ لیکن پھر عوامی لیگ کے کارکنوں کے شاہ باغ میں احتجاج کی بنیاد پر ٹربیونل کے قانون مجریہ ۱۹۷۲ء میں فروری ۲۰۱۳ء میں ترمیم کی گئی اور حکومت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ سزا میں اضافے کے لیے سپریم کورٹ میں جاسکتی ہے اور عدالت کو بھی سزا میں اضافے کا اختیار دے دیا گیا اور اس قانون کو قانون کے بننے سے پہلے کے جرائم پر بھی لاگو کردیا گیا ہے۔ قانون کی تاریخ میں بدنیتی پر مبنی قانون سازی کی یہ منفرد مثال ہے،جسے تمام ہی عالمی ، قانونی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ظالمانہ اور انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی سوچنے سمجھنے والے اہلِ دانش: قانون اور دستور کی ان خلاف ورزیوں پر یریشان ہیں اور اسے آمریت اور ظالمانہ کارروائیوں کے دروازے کھولنے کے مترادف سمجھ رہے ہیں، اور عالمی سطح پر ان تمام اقدامات کی شدید مذمت ہورہی ہے۔ دی گارڈین، لندن کے کالم نگار اور مصنف جان پلجر (John Pilger) نے اپنے ۱۵دسمبر ۲۰۱۳ء کے مضمون: The Prison that is Bangladesh میں اس کی سخت مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ: ’’مُلّا کی موت ہرگز واقع نہیں ہونا چاہیے تھی‘‘۔
اقوام متحدہ کی کمشنر براے انسانی حقوق نیوی پلّاے (Navi Pillay) نے پورے عدالتی طریق کار اور کارروائی پر سخت تنقید کی ہے۔ انھوں نے انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے عبدالقادر مُلّاکی پھانسی کو روکنے کی اپیل کی تھی۔ یورپی پارلیمنٹ کے ۲۵؍ارکان، امریکی کانگریس کے چھے کانگریس مین، برطانیہ کے متعدد ایم پیز، حماس کے ترجمان، ترکی کے وزیراعظم سمیت ساری دنیا میں اس عدالتی قتل کی مذمت کی گئی ہے۔
بنگلہ دیش کے ایک سابق آرمی چیف، لیفٹیننٹ جنرل(ر) محبوب الرحمن نے جنگی جرائم کے ٹربیونل کے حق میں اصولی بات کہنے کے بعد موجودہ ٹربیونل اور اس کے فیصلوں کے بارے میں کہا ہے کہ:’’عوامی لیگ کی حکومت محض سیاسی محرکات کے تحت جنگی مجرموں پر مقدمے چلانے کے لیے پیش رفت کررہی ہے‘‘۔
اسی بات کا اظہار بنگلہ دیش کے ایک مشہور وکیل اور سابق وزیر مودود احمد نے کیا ہے اور اس پوری کوشش کو seeking a vendetta against political opponents (سیاسی مخالفوں سے جذبۂ انتقام کی کوشش)قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے مضبوط اور جان دار تنقید برطانیہ کے مشہور قانون دان اور جنگی جرائم کے مقدمات کے باب میں عالمی شہرت کے حامل بیرسٹر ٹوبی کیڈمین نے کی ہے:’’جنابِ مُلّا کو ایک منصفانہ ٹرائل نہیں ملا۔ ان کو اچانک پھانسی پر چڑھا دیا گیا، جسے ایک عدالتی قتل ہی کہا جاسکتا ہے‘‘۔
بنگلہ دیش کے سابق وزیرخارجہ اور شیخ مجیب کے دست راست ڈاکٹر کمال حسین کے داماد ڈیورڈ برگ مین، جو ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں اور بنگلہ دیش کے اہم اخبارات میں خدمات انجام دے چکے ہیں،اس مقدمے کو ابتدا سے دیکھ رہے ہیں اور مسلسل لکھ رہے ہیں۔ ان کے مضامین اور بلاگ اس پورے عدالتی ڈرامے اور گندے سیاسی کھیل کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ ہم ان کے صرف چند جملے پیش کرتے ہیں:
بین الاقوامی قانون اور جرائم کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جس قانون کے تحت عبدالقادر مُلّا کا مقدمہ چلایا گیا، وہ ناقص اور قانونی سقم سے پُر تھا.... دو کلیدی وجوہ جن کی بنا پر مَیں نے یہ سوچا کہ مُلّا کی سزاے موت غیرمعمولی طور پر قابلِ اعتراض تھی: پہلی یہ کہ جن جرائم کی وجہ سے انھیں سزاے موت دی گئی، ان کے لیے قابلِ اعتماد گواہی کا مکمل فقدان تھا۔ دوسری وجہ مُلّا کو مناسب دفاع سے روکنا ہے۔ مُلّا کو صرف پانچ گواہ پیش کرنے کی اجازت دی گئی، جب کہ استغاثہ جتنے چاہے گواہ لاسکتا تھا۔
ٹوبی کیڈمین نے بنگلہ دیش کی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:’’ جو کچھ اس نے کیا ہے اس پر وہ خود جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے اور ایک دن آسکتا ہے جس میں خود اسے اس کی جواب دہی کرنا پڑے‘‘۔پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا ہے:’’بین الاقوامی برادری کو اس پر ذمہ دارانہ ردعمل دینا چاہیے‘‘۔
یہ ہے عالمی ردعمل، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ خود پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں اور حکومت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ جو کچھ بنگلہ دیش میں ہوا اور ہورہا ہے وہ بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ ہے۔ اس سے زیادہ بے حکمتی اور بے حمیتی کی بات کا تصور بھی مشکل ہے۔ انسانی حقوق کا مسئلہ کسی بھی ملک کا محض داخلی معاملہ نہیں ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کہیں بھی ہو، تمام دنیا کے لوگوں اور حکومتوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ انسانوں اور انصاف کے قتل کو رُکوانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر ستم ظریفی ہے کہ اس معاملے میں تو بنگلہ دیش کی حکومت نے خود اسے ’انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل‘ کا نام دیا ہے، لیکن اب اسے خالص داخلی معاملہ قرار دے رہی ہے۔ نیز اسی طرح بحیثیت مسلمان ہمارا حق ہی نہیں فرض بھی ہے کہ اگر کوئی مسلمان ظلم کا ارتکاب کر رہا ہے تو اسے ظلم سے روکنے کی کوشش کریں۔ یہ حق ہم صرف اپنے لیے نہیں طلب کررہے کہ یہ حق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کے تمام افراد کو دیا ہے اور اس حق میں بنگلہ دیش کے مسلمان بھی برابر کے شریک ہیں۔
پھر پاکستان کا تو ان مقدمات سے براہِ راست تعلق ہے کہ یہ اس زمانے سے متعلق ہیں جب بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا اور جن لوگوں کو آج ظلم اور ناانصافی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ اس وقت پاکستان کے شہری تھے۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا ۱۹۷۴ء کے سہ فریقی معاہدے کی رُو سے اس سیاہ باب کو بند کردیا گیا تھا۔ معاہداتی ذمہ داری (treaty obligation) کے اصول کے مطابق اگر آج بنگلہ دیش اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو بحیثیت ریاست ہمارا فرض ہے کہ اس پہلو سے معاہدہ شکن حکومت کے فعل پر اس کی گرفت کریں اور بین الاقوامی سیاسی، سفارتی اور قانونی ہرمحاذ پر اپنا کردار ادا کریں۔
پاکستان کی پارلیمنٹ نے کثرت راے سے مذمتی قرارداد منظور کر کے ایک ادنیٰ مگر صحیح اقدام کیا ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے پارلیمنٹ کی حاکمیت اور بالادستی کا دعویٰ کرنے والی وزارتِ خارجہ اور اس کے ترجمان: قانون، معاہدہ اور پارلیمنٹ کی قرارداد کسی کو بھی پِرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے۔ اور وہ جماعتیں جنھوں نے اس قرارداد کی تائید نہیں کی، انھوں نے بھی قوم کو اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے کہ وہ کہاں تک پاکستان، اس کے دستور، اس کے دفاع اور اس کی عزت کی محافظ ہیں۔ اگر عوام اب بھی ہماری قومی قیادت کے ان دو مختلف چہروں کو نہیں پہچانتے تو یہ مستقبل کے لیے کوئی نیک فال نہیں۔
ع ۔ ٹھوکریں کھا کر تو کہتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
عالمی اور علاقائی حالات کے پس منظر میں ۲۰۱۴ء غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس امر میں ذرا بھی شبہہ نہیں کہ سیاسی ، معاشی اور تہذیبی ہی نہیں مواصلاتی، ٹکنیکیاتی اور ماحولیاتی اعتبار سے بھی یہ سال اہم ہوگا اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان اور علاقے کے باب میں بھی یہ سال ایک تاریخی دوراہے (historical crossroads) کی حیثیت رکھتا ہے ۔
امریکا اور ناٹو کی افواج ۱۲ سال کی ناکام جنگ کے بعد افغانستان چھوڑ نے کا اقدام کرنے والی ہیں اور اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارۂ کار نہیں ہے ۔ پھر افغانستان میں اپریل ۲۰۱۴ء میں نئے صدارتی انتخابات منعقد ہونا ہیں ۔ اس انتخابی معرکے کی وجہ سے بھی ایک غیر یقینی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جو امریکی اور ناٹو افواج کی واپسی اور امریکا کے آیندہ کردارکے بارے میں اہم سوالیہ نشان اٹھا رہی ہے ۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے یہاں ۱۱ مئی کے انتخابات کے نتیجے میں ایک نئی حکومت قائم ہوچکی ہے جو قوم کے مطالبے کے باوجود، ملک کو امریکی جنگ کی اس دلدل سے نکالنے کے لیے ابھی تک کم سے کم پیش رفت میں بھی ناکام ہے۔ اس لیے مستقبل کے لیے کوئی نقشۂ کار واضح نہیں ہے ۔ اس پس منظر میں ’کیسا ہوگا ۲۰۱۴ء‘کا سوال کچھ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے ۔
آنے والے سال کے بارے میں میرے اندازے ، توقعات اور خدشات میرے اس تجزیے اور نتائج فکر پر مبنی ہیں جس پر میں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے افسوس ناک اور قابلِ مذمت واقعے، اور اس پر امریکا کے غیر متوازن اور وحشیانہ رد عمل اور، گذشتہ ۱۲ سال میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے کردار، اور امریکا کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ اور پاکستان کی دونوں سابقہ حکومتوں کے کردار کے با ب میں ایک سوشل سائنٹسٹ کی حیثیت سے پہنچا ہوں۔ اس لیے پہلے میں مختصراً اپنا تجزیہ پیش کرتا ہوں اور پھر ان سوالات کے بارے میں کچھ عرض کروں گا جو ذہنوں کو پریشان کر رہے ہیں اور واضح جواب کے لیے پکار رہے ہیں ۔
۱۔ دہشت گردی کا مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کے ایک نہیں دسیوں روپ ہیں اور ہر ایک کا اپنا اپنا رنگ و آہنگ ہے ۔ نہ اس مسئلے کا جنم دن ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء ہے اور نہ ۲۰۱۴ء میں اگر امریکا اور ناٹو افواج کا افغانستان سے مکمل انخلا واقع ہو جاتا ہے ، جو بہت مشتبہ ہے ، کیا تب بھی یہ دہشت گردی ختم ہوجائے گی ؟ عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد سب نے دیکھ لیاہے کہ وہاں اب بھی دہشت گردی کا بازار گرم ہے اور صرف ۲۰۱۳ء کے پہلے ۱۰مہینے میں ۸ہزار سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ دہشت گردی محض ایک عسکری مسئلہ نہیں ہے، گو عسکری پہلو بھی ایک جہت کی حیثیت سے ضرور موجود ہے ۔ بنیادی طور پر اس کی جڑیں سیاسی مسائل اورناانصافیوں ہی میں پائی جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان مسائل کے قرار واقعی حل کے بغیر اس کا حل ممکن نہیں۔
۲۔ اس وقت اہم ترین مسئلہ افغانستان پر امریکی اور ناٹو افواج کا قبضہ ہے اور اگر افغانستان سے امریکی اور ناٹو افواج کا مکمل انخلا نہیں ہوتا تو افغانستان میں امن کے قیام کا کوئی امکان نہیں۔ اس صورت میں یہ بھی نظر نہیں آتا کہ پاکستان آگ کے اس سمندر سے نکل سکے ۔
۳۔ سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر کوئی کچھ بھی کہے لیکن دو حقیقتوں کا اعتراف ضروری ہے، اور عالمی سطح پر بھی آزاد حلقوں میں اب اس بارے میں کھل کر اعتراف کیا جا رہا ہے کہ:
الف۔ افغانستان اور عراق دونوں میں فوج کشی کا کوئی حقیقی جواز نہیں تھا۔ امریکا نے محض ایک عالمی طاقت ہونے کے زعم میں اور امریکی بالادستی اور استثنائیت ((American hegemony and exceptionalism کومحض قوت کے زور سے دنیا پر مسلط کرنے کے لیے یہ جنگ لڑی اور منہ کی کھائی ۔ The New York Review of Booksکے ۲۴؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں وار آن ٹیرر پر ایک اہم کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے میلسی روتھوین(Malisi Ruthven) ایک جملے میں پوری خونچکاں داستان کو یوں بیان کرتا ہے :It is difficult to escape the conclusion that the United States has been fighting the wrong war, with the wrong tactics, against the wrong enemy and therefore the results can be nothing but wrong. ’’اس کے علاوہ کوئی نتیجہ نکالنا مشکل ہے کہ امریکا نے ایک غلط جنگ ، غلط حکمت عملی سے غلط دشمن کے خلاف لڑی اور اس لیے نتائج بھی غلط کے علاوہ کچھ اور نہ ہو سکتے تھے ‘‘۔
روزنامہ دی گارڈین لندن کا کالم نگار سیومس ملن (Seumus Milne)۱۳ دسمبر ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں مغربی دانش وروں کی سوچ کا خلاصہ یوں بیان کرتا ہے کہ: The wars unleashed or fuelled by the US, Britain and their allies over the past 12 years have been shameful. Far from accomplishing their missions, they have brought untold misery, spread terrorism across the world and brought strategic defeat to those who leashed them. ’’امریکا، برطانیہ اور ان کے حلیفوں نے جو جنگیں گذشتہ ۱۲برسوں میں شروع کیں اور ان کو ایندھن فراہم کیا ، شرم ناک تھیں۔ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بجاے یہ غیرمعمولی تحریک لائیں، دہشت گردی کو ساری دنیا میں پھیلا دیا اور جنھوں نے اس کا آغاز کیا ان کی اسٹرے ٹیجک شکست کا باعث بنیں‘‘۔
یہ ہے افغانستان اور عراق پر مسلط کی جانے والی ۱۲ سالہ جنگوں کا حاصل اور وہ بھی چھے لاکھ کے قریب انسانوں کی ہلاکت، ۴۰ سے ۵۰ لاکھ کی خانہ بربادی اور نقل مکانی اور ۳سے ۴ہزار ارب ڈالروں کو اس جنگ میں پھونکنے کی قیمت پر!
ب- افغانستان میں امریکا اپنی تمام فوجی قوت اور ٹکنالوجیکل برتری اور اتحادیوں کی رفاقت کے باوجود جنگ ہار چکا ہے ۔ اس کا احساس اوباما کو جولائی ۲۰۰۹ میں ہی ہو گیا تھا جب اس نے اعتراف کیا تھا کہ:We are not trying to win this war militarily. Victory is not possible. ’’ہم اس جنگ کو فوجی بنا پر جیتنے کی کوشش نہیں کر رہے ۔ فوجی فتح ممکن نہیں ہے ‘‘۔
لیکن اس کے باوجود فوج کے اصرار پر اس نے ۳۰ ہزار افوج مزید بھیج کر جنگ کا پلڑا بدلنے کی ناکام کوشش کی اور اب سب اعتراف کر رہے ہیں کہ جنگ ہاری جا چکی ہے ۔ امریکی مؤقر جریدے فارن افیرز کے تازہ شمارے (ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۳ء) میں جارج واشنگٹن یونی ورسٹی کے علمِ سیاسیات کے پروفیسر اسٹیفن بڈل نے اپنے مضمون Ending the War in Afghanistan میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ: ’’شکست یا مذاکرات ان کے سوا کوئی اور راستہ نہیں‘‘۔اس جنگ کے صرف دو حقیقی متبادل ہیں جن میں سے کوئی بھی خوش گوار نہیں۔ ایک یہ کہ طالبان سے مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ ہو جائیں، گو یہ بھی کوئی امرت نہیں ہے لیکن یہ مکمل شکست کا واحد متبادل ہے۔
امریکا اپنا کوئی بھی اعلان شدہ مقصد حاصل نہیں کر سکا اور دنیا اور امریکا دونوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچانے کے باوجود آج امریکا معاشی طور پر کمزور اور عدم تحفظ کے عوامی احساس کے بارے میں اُس سے ابتر حالت میں ہے جس میں۱ ۱ ستمبر ۲۰۰۱ء سے پہلے تھا۔ تازہ ترین راے عامہ کے سروے یہ بتا رہے ہیں کہ خود امریکا میں ۷۰ فی صد سے زیادہ افراد اپنے آپ کو آج غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، یعنی وہی کیفیت جو ۲۰۰۲ء میں تھی۔
۳۔ اس جنگ میں پاکستان کی شرکت جن وجو ہ اور مجبوریوں کے تحت بھی ہوئی ہو، اپنے نتائج کے اعتبار سے یہ شرکت پاکستان کے لیے نقصان، تباہی اور بے حد و حساب بگاڑ اور فساد کا ذریعہ بنی ہے ۔ امریکا ہم سے ناخوش ہے اور ہمیں برملا ’ناقابلِ اعتبار‘قرار دے رہا ہے ۔ افغان عوام ہم سے بے زار ہیں کہ ہم نے ایک عالمی طاقت کا آلۂ کار بن کر ان پر فوج کشی کی راہ ہموار کی اور امریکی قبضے کے قیام میں معاونت کی ۔ افغان حکومت ہم سے شکوہ سنج ہے کہ پاکستان طالبان کی در پردہ پشت پناہی کر رہا ہے ۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے لیے ایک کردار وضع کر لیا ہے حالانکہ روس کے فوجی قبضے کی تائید کر کے اس نے افغانستان میں اپنے کو ایک مبغوض ملک بنا لیا تھا، اور خود پاکستان میں دہشت گردی کے نت نئے روپ رونما ہو رہے ہیں۔ ملک کا امن و امان تہہ و بالا ہے اور معاشی حیثیت سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق ان ۱۲سال میں ہمیں اس نام نہاد امداد کو ایڈجسٹ کرنے کے با وجود جوسامراجی قوتوں کی خدمات کے معاوضے میں ہمیں دی گئی ہے، یعنی Net terms میں پاکستان کے عوام کو ۱۰۰ بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے ، اور اس پر مستزاد وہ ۵۰ ہزار افراد ہیں جو ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ زخمی ہیں ا ور خود ملک میں ۳۰ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اس لیے اس عذاب سے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
۴- امریکا ہو، ناٹو ہو یا خود پاکستان ہو، اس مسئلے کے سیاسی حل کے سوا کوئی نجات کا راستہ نہیں ہے ۔ اس سے انکار نہیں کہ امن و امان کے قیام اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ریاستی قوت کے استعمال کا ایک معروف کردار ہے جو دستور اور قانون کے مطابق ادا کیا جانا چاہیے لیکن سیاسی مسائل کا حل کبھی محض عسکری قوت سے ہوا ہے اورنہ ہو سکتا ہے ۔ افغانستان کے باب میں اس کا ادراک اب بہت دیر سے ہورہا ہے حالاں کہ اصحابِ بصیرت بہت پہلے سے یہ بات کہہ رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے افغانستان کے لیے خصوصی نمایندے Tom Koenigs نے جرمن روزنامہ Berliner Zeitingکو ۱۳؍ اپریل ۲۰۰۷ء کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ :If there is to be a chance for peace , we must talk to everyone, including alleged war criminals . The aim is to stabilize Afghanistan. ’’اگر امن کے لیے کوئی امکان ہو تو ہمیں ہر ایک سے بشمول جنگی مجرموں کے بات چیت کرنا ہو گی۔ مقصد افغانستان کو مستحکم کرنا ہے ‘‘۔
اب جون ۲۰۱۳ میں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے افغانستان کے دورے کے دوران اعتراف کیاہے کہ: 2002 was the correct time to carry negotiations with the Taliban. ’’طالبان سے مذاکرات کے لیے ۲۰۰۲ء صحیح وقت تھا‘‘۔ اور افغانستان میں خود ناٹو کے نائب کمانڈر جنرل زگ کارٹر نے ارشاد فرمایا ہے کہ: Negotiations with Taliban should have been conducted in 2002. ’’طالبان سے مذاکرات ۲۰۰۲ میں کر نے چاہیے تھے ‘‘۔
اس پر اس کے سوا اورکیا کہا جاسکتا ہے کہ ع ’ہاے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا‘۔
حالات کے اس تجزیے کی روشنی میں ۲۰۱۴ء کے لیے پاکستان کے لیے صحیح حکمت عملی یہ ہے کہ وہ :
الف- دہشت گردی کے خلاف اس جنگ سے بے تعلقی کا اعلان کرے اور پوری خارجہ پالیسی کو اپنے ملکی مفاد اور عوامی جذبات اور خوااہشات کی روشنی میں از سر نو ترتیب دے جیسا کہ خود پارلیمنٹ نے اپنی ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ ء اور ۱۴ مئی ۲۰۱۱ء کی دو قراردادوں میں مطالبہ کیا ہے ۔
ب- افغانستان میں افغانیوں کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ترغیب دیں کہ وہ قومی مفاہمت کا راستہ اختیار کر کے افغان مسئلے کا افغان حل نکالیں اور سب سیاسی اور مذہبی قوتوں کو اس میں شریک کریں۔
ج- افغانستان کے معاملات میں امریکا، پاکستان، بھارت، ایران کوئی بھی مداخلت نہ کرے، البتہ علاقائی امن کی خاطر افہام و تفہیم سے حالات کو بہتر بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔
د- پاکستان امریکی جنگ سے بے تعلقی اختیار کرنے کے ساتھ خود اپنے ملک میں ، طالبان اور جو بھی دوسرے عناصر امن و امان کا مسئلہ پیدا کیے ہوئے ہیں، ان کو سیاسی عمل کے ذریعے سے دہشت گردی سے باز رکھنے کے عمل کا سنجیدگی سے آغاز کرے ۔ اس سلسلے میں ایک ہمہ جہتی حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے جو پارلیمنٹ کے دیے ہوئے خطوط کی روشنی میں مذاکرات ، ترقی اور تعمیر نو اور ریاستی رٹ کی بحالی بذریعہ سدجارحیت (deterrence) پر مشتمل ہو۔ نیز فاٹا کے مخصوص حالات کی روشنی میں اس علاقے کو جلد از جلد ایک واضح پروگرام کے تحت ملک کے دستور ی نظام کا حصہ بنایا جائے اور جو کام ۶۶ سال سے معلق ہے اسے بلاتاخیر انجام دیا جائے، تا کہ وہاں حقیقی معنی میں حکومت کی رٹ قائم ہو سکے اور دستور اور قانون کی حکمرانی کا آغاز ہو سکے ۔
ہ۔ امریکا اورناٹو کے بارے میں یہ موقف مضبوطی سے اختیار کیا جائے کہ ان کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بغیر افغانستان اور علاقے میں امن قٗائم نہیں ہو سکتا۔
میری نگاہ میں افغانستان اور خود پاکستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے ایک بڑے حصے سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان سے امریکی اور ناٹو افواج کا مکمل انخلا ہو جس کا امکان بظاہر کم ہی ہے ۔ امریکا کی پوری کوشش ہے کہ وہاں ایک خاص تعداد میں اس کی فوج موجود رہے ۔تین سے نو فوجی اڈے اس کے قبضے میں ہوں اور اس طرح وہ افغانستان، چین، پاکستان اور وسط ایشیا کے بارے میں جو بھی ایجنڈا رکھتا ہے اس کے حصول کے لیے ایشیا کے قلب میں بیٹھ کر اپنا کھیل کھیل سکے ۔ یہ بڑا خطرناک اور مسلسل تصادم کو جاری رکھنے والا راستہ ہے ۔ پھر امریکی افواج کے لیے جس استثنا (immunity) کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور جو کرزئی حکومت تک امریکی افواج کو دینے کو تیار نہیں، اس کی موجودگی میں افغانستان میں امن کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اگر امریکی افواج وہاں رہتی ہیں تو جنگ کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے گی اور حالات مخدوش رہیں گے ۔ اور پاکستان بھی جنگ اور دہشت گردی کی اس دلدل سے نہ نکل سکے گا جس میں ۱۲ سال سے پھنسا ہوا ہے ۔
اس کے ساتھ دوسرا مسئلہ افغانستان کے مستقبل کے سیاسی انتظام کا ہے۔قرائن یہ ہیں کہ اپریل کا الیکشن کسی بڑی تبدیلی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ مستقبل کا سیاسی نقشہ امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد ہی صورت پذیر ہوگا، البتہ اس امر کا خدشہ ہے کہ اگر اس مسئلے کو آج طے نہ کیا گیا تو خدانخواستہ افغانستان میں خانہ جنگی جاری رہے گی اور ۱۹۸۹ء سے ۱۹۹۶ء تک کا دور واپس آ سکتا ہے جو بڑا تباہ کن ہوگا۔ جنیوا معاہدے کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اس میں اصل بر سرِ جنگ قوتوں کو شامل کیے بغیر اوپر ہی اوپر معاملات طے کیے گئے تھے اور سب سے اہم مسئلے، یعنی روس کی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد ملک کا انتظام و انصرام کیا ہوگا کو نظرانداز کر دیا اور اس طرح خانہ جنگی اور مسلسل تصادم کو ملک کا مقدر بنا دیا گیا۔ اگر آج بھی اس پہلو کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو خیر کی توقع نہیں ۔
مُلّا عمر کا عید الفطر کے موقعے پر بیان بہت اہم ہے جس میں اس نے مستقبل کے بارے میں چند اہم اشارے دیے ہیں یعنی :
۱- امریکی اور غیر ملکی فوجوں کا مکمل انخلا۔
۲- ملک کے تمام عناصر کی مشاورت سے ایک ایسے نئے انتظام کا اہتمام، جس میں سب کی شمولیت ہو(inclusive)-
۳- تعلیم اور ملکی ترقی کے باب میں ایک مؤثر کوشش۔
۴- عام مسلمانوں اور معصوم انسانوں کا خون بہانے سے اجتناب۔
پاکستان میں امن کا بڑا انحصار پاکستان کے اندر دہشت گردی کے باب میں صحیح اور ہمہ جہتی حکمت عملی اپنانے اور اس پر خلوص سے عمل کے ساتھ افغانستان میں افغان قومی مفاہمت پر مبنی سیاسی انتظام کے جڑ پکڑنے پر ہے ورنہ خدا نخواستہ افغانستان خانہ جنگی کی آماج گاہ بنا رہے گا تو پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا اور اس پر مستزاد افغانستان سے نقل مکانی کی نئی لہر کا بھی شدید خطرہ ہے ۔ اگر آج افغان مسئلے کا صحیح خطوط پر حل نہیں ہوگا تو پھر افغانستان اور پاکستان دونوں کو تباہی کے ایک نئے طوفان کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ اس کی پیش بندی کا وقت آج ہے ، کل نہیں ہوگا۔
دہشت گردی اور فکری ٹکراؤ اور انتہاپسندی کی سوچ کا بھی ایک تعلق ضرور ہے لیکن ان دونوں اُمور کو مکمل طور پر گڈمڈ کر دینا بڑا خطرناک اور زمینی اور تاریخی حقائق کے ساتھ مذاق ہوگا۔ اختلاف راے ، فکری مباحث، اسٹیٹس کو (status quo)کو چیلنج اور نئی راہوں کی تلاش انسانی زندگی کی ایک حقیقت اور ترقی کے لیے زینے کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ عمل ،فکری اختلاف ،ذہنی ٹکرائو اور خیالات و افکار کی جنگ کی صورت اختیار کرتا رہا ہے اور پھر اسی کش مکش اور تصادم سے نئے افکار اور نئے فکری سمجھوتے وجود میں آتے رہے ہیں۔ ہیگل اور مارکس کا تو فلسفۂ تاریخ ہی اس تصادم کے سہ رکنی سفر (tringular journey) پر ہے، یعنی تھیسس جس کا مقابلہ دوسری انتہا پر اینٹی تھیسس کرتی ہے اور پھر اِمتزاج (synthesis) پیدا ہوتا ہے جو مرور زمانہ سے ایک بار پھر تھیسس بن جاتا ہے اورپھر یہی عمل جاری رہتا ہے ۔ محض انتہاپسندی کا رونا رو کر فکری سفر کے اس پورے تناظر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
اسی طرح جب کسی معاشرے میں جبر اور تشددکا دور دورہ ہو ، جب عدل اور انصاف کا فقدان ہو، جب عوام کو ان کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کر دیا گیا ہو ،خواہ بیرونی قبضے کی شکل میں یا اندرونی آمریت اور استحصالی نظام کی وجہ سے تو پھر ان حالات کا بالآخر جو رد عمل رُونما ہوتا ہے، اس میں تشد د کا کردار نا گزیر ہو جاتا ہے ۔ اس پر تشدد رد عمل کو جواز فراہم کرنے کے لیے فکری میدان میں بھی نظریات جنم لیتے ہیں اور فکر اور عمل دونوں میدانوں میں اس سے سابقہ پیش آتا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ کسی خاص مذہب ، تہذیب، علاقے یا قوم سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہمہ گیر تاریخی عمل ہے اور اپنے تمام نشیب و فراز کے ساتھ تاریخ کے مختلف ادوار میں اور دنیا کے سب ہی علاقوں میں رونما ہوتا رہاہے ۔یہ عمل اپنے تمام تعمیری اور تشکیلی پہلوئوں اور تمام تخریبی اور تباہ کن شکلوں کے ساتھ ہی تاریخ میں ایک اہم منظرنامہ پیش کرتا ہے ۔ بلاشبہہ فکری محاذ پر تصادم کو کم کرنے اور افہام و تفہیم کی نئی راہیں تلاش کرنے کا عمل از بس ضروری ہے ۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو ان اُمور پر کھل کر بحث کرنی چاہیے لیکن دہشت گردی کا رشتہ دینی فکر اور تصورِ جہاد سے جوڑ کر دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی روش غلط ہے اور اس سے اجتناب اولیٰ ہے ۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں خود پاکستان اور عالم اسلام میں آج انتہا پسندی اور تشدد کے رجحانات کے مطالعے اور تجزیے کی ضرورت ہے ۔ ولیم بلوم (William Blum) جو ایک مشہور سفارت کار، دانش ور اور مصنف ہے جو امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا رہاہے اور جس نے جنگ، دہشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی کے موضوع پر اور ان جرائم میں امریکا کے کردار پر نصف درجن سے زائد کتابیں لکھی ہیں ۔ اس کی تازہ ترین کتابAmerica's Deadliest Export: Democracy (اشاعت: وسط ۰۱۳ ۲ء) اس مسئلے پر بھی بحث کرتی ہے ۔ اس میں اس نے امریکا کی پالیسیوں کو پوری دنیا میں امریکا کے خلاف نفرت ، شدت پسندی، اور دہشت گردی کے فروغ کا اصل سبب قرار دیا ہے اور یہ تک کہا ہے کہ طالبان اگر ایک ذہن اور سوچ کے انداز (mindset)کا نام ہے تو وہ صرف افغانستان یا پاکستان میں نہیں، واشنگٹن اور مغربی ممالک میں بھی موجود ہے ۔ الفاظ اور اصطلاحات مختلف ہیں لیکن حقیقت اور جوہر میں کوئی فرق نہیں۔ وہ صاف الفاظ میں اعتراف کرتا ہے کہ: ’’جنگ امریکا کے لیے ایک مذہب کی شکل اختیار کر گئی ہے‘‘ اور جو بھی امریکا کے اس مذہب کو تسلیم نہیں کرتا، خواہ وہ افغانستان اور پاکستان میں ہو یا کہیں اور، وہ امریکا کی نگاہ میں توہین مذہب (blasphemy) کا مجرم ہے اور اس طرح وہ قتل کا سزاوار ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں پرموت کی بارش کی جاتی ہے ۔ امریکی دہشت گردی اور افغان اور مسلم دہشت گردی کا مقابلہ و موازنہ کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ: "What is the difference between them and Mumtaz Qadri? Qadri was smiling in satisfaction after carrying out his holy mission. The CIA man sits comfortably in room in Neveda and plays his holy video game, then goes out to a satisfying dinner while his victims lay dying. Mumtaz Qadri believes passionately in something called Paradise. The CIA men believe passionately in something called American Exceptionalism!. (page. 328)". ’’ممتاز قادری اور ان لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے ؟ قادری اپنا مقدس مشن پورا کر کے اطمینان سے مسکرا رہا تھا ۔ سی آئی اے کا اہل کار بھی نوادا میں اپنے کمرے میں آرام سے بیٹھ کر اپنی مقدس وڈیو گیم کھیلتا ہے اور پھر اپنے اہداف کو مرتے ہوئے اطمینان سے دیکھتا ہے ۔ ممتاز قادری نہایت جذبے سے جس چیز کو جنت کہتا ہے ، اس پر یقین رکھتا ہے۔ سی آئی اے کے اہل کار بھی ایسے ہی جذبے سے جس چیز پر یقین رکھتے ہیں وہ جسے امریکی بالا دستی اور استثنائیت کہا جا تا ہے ‘‘۔
کاش! ہم اس پیچیدہ اور عالم گیر مسئلے کو تعصبات کی عینک سے دیکھنے کے بجاے تاریخی اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھیں اور اسباب تک پہنچ کر حالات کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں ورنہ نتائج بگاڑ میں اضافے کے سوا اورکیا ہو سکتے ہیں؟
رہا معاملہ پاکستان میں دینی جماعتوں کے فکری رجحانات اور سیاسی موقف کا تو وہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہیں اور ان پر دہشت گردی یا انتہاپسندانہ تصورات کے اثرات پڑنے کا خدشہ ایک واہمے سے زیادہ نہیں۔ پاکستان کی دینی جماعتیں بہت ہی متوازن سوچ کی علَم بردار ہیں ، انھوں نے تبدیلی کے لیے جمہوری راستے کو منتخب کیا ہے اور اس پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہیں ۔ علماے کرام نے بالعموم اعتقادی اور سیاسی اُمور کے سلسلے میں قوت کے استعمال کو ناقابل بردا شت قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ اس سلسلے میں قرآن کا حکم بہت واضح ہے کہ دین کے معاملات میں کوئی جبر نہیں۔ (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ)۔اسلام کی نگاہ میں خون ناحق ایک صریح ظلم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے خواہ اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے ، فرد، گروہ یا حکومت اور خواہ اس کے لیے کوئی بھی عنوان استعمال کیا جائے، مذہبی یا سیکولر۔
۲۰۱۴ء کیسا ہوگا؟ اس کا بڑا انحصار اس پر ہوگا کہ ہم ۲۰۱۴ء کے چیلنجوں کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔ حالات کا تجزیہ کتنی حقیقت پسندی اور دیانت داری کے ساتھ کرتے ہیں اور اپنی حکمت عملی کتنی صحیح بنیادوں پر مرتب کرتے ہیں اور سب سے اہم یہ ہے کہ جو بھی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اس کے بارے میں عملاً کتنے مخلص ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس پر عمل کے لیے دیانت اور اعلیٰ صلاحیت دونوں کا کس حد تک مظاہر ہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے ناگفتہ بہ حالات میں بڑا دخل حالات کے صحیح تجزیے کے فقدان کے ساتھ قیادت کا عدم خلوص اور اچھی حکمرانی کی صلاحیت سے محرومی ہے ۔ اگر ہم اپنی پالیسیاں صحیح بنیادوں پر تشکیل دیں اور اپنی صلاحیتوں کو صحیح انداز میں بروے کار لائیں اور اچھی حکمرانی پر عمل پیرا ہوں، تو ۲۰۱۴ء ساری مشکلات اور چیلنجوں کے باوجود بہتری کے سفر میں ایک سنگ میل بھی بن سکتا ہے اور یہی ہماری کوشش ہونی چاہیے ۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ۲۰۱۴ء ویسا ہوگا جیسا ہم اسے بنانے کی کوشش کریں گے اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ خود وہ کچھ کرنے کے لیے کمربستہ ہوجائیں جو مطلوب ہے۔ صحیح پالیسی، قیادت کی یکسوئی اور اچھی حکمرانی کے ذریعے تشکیلِ نو کی سعی و جہد میں ہی نجات ہے اور غیروں کی ذہنی ، معاشی اور سیاسی غلامی سے نکلے بغیر اور خود اپنی قوم اور اپنے وسائل پر انحصار کا راستہ اختیار کیے بغیر حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔ یہ لمحہ ایک بنیادی فیصلہ کرنے کا ہے اور اگر ہم نے اسے ضائع کردیا تو یہ بڑا قومی سانحہ ہوگا۔
انسان بنیادی طور پر دو ایسی ضروریات کا محتاج ہے جن سے وہ ایک لمحے کے لیے بھی صرفِ نظر نہیں کرسکتا۔ ایک طرف اسے ان اشیا و وسائل کی ضرورت درپیش ہے جو اس کی مادی احتیاجات کو پورا کریں، جن کے ذریعے وہ اپنے جسم اور روح کے رشتے کو قائم و استوار کرے اور بقاے حیات کے مادی تقاضوں کو پورا کرے۔ دوسری طرف وہ اس ہدایت اور رہنمائی کا محتاج ہے جس کی روشنی میں وہ اپنی اخلاقی، اجتماعی اور تمدنی زندگی کی تشکیل صحت مند بنیادوں پر کرسکے اور اس طرح انسانیت کے حقیقی مقاصد کی بوجہِ احسن تکمیل کرسکے۔
اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ِ عامہ کا تقاضا ہے کہ وہ انسان کی ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرے۔ پہلی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس نے زمین و آسمان میں وسائلِ معیشت کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ودیعت کر دیا ہے اور انسان ان وسائل کے ذریعے اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے۔ پوری کائنات انسان کے لیے اپنا دامن پھیلائے ہوئے ہے اور اپنے سینے سے وہ وسائل اُگل رہی ہے جو انسانیت کی بے شمار اور ہر آن بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو بحسن و خوبی پورا کررہے ہیں ؎
دما دم رواں ہے یمِ زندگی
ہر اِک شے سے پیدا رمِ زندگی
انسان کی دوسری بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت اور اپنے نبی مبعوث فرمائے تاکہ وہ انسان کو زندگی کی حقیقت سے روشناس کرائیں۔ انھیں زندگی کے معنی اور اس کے مقاصد سے آشنا کریں، انھیں جینے کے طریقے سکھائیں اور اُن اصولِ تمدن کی تعلیم دیں جو زندگی کو اس کے اصل مقاصد سے ہم کنار کردیں، اور خدا کی زمین پر ایک صحت مند نظام قائم کریں جس میں زمین اپنی نعمتیں اُگل دے اور آسمان اپنی برکتیں نازل کرنے لگے۔
انبیا ؑ کی بعثت کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ خدا اور بندے کے تعلق کو توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد کی بنیادوں پر استوار کرائیں اور دعوتِ دین اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے تاریخ کی رو کو موڑ دیں اور الہامی ہدایت کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر کریں۔ سورئہ حدید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج (الحدید۵۷:۲۵) ہم نے اپنے رسول ؑ واضح نشانیاں دے کر بھیجے اور ان کے ساتھ قرآن (یعنی قانونِ حیات) اور میزانِ عدل اُتاری تاکہ انسانوں پر انصاف قائم کریں۔
سورئہ صف میں رب السمٰوات والارض کا ارشاد ہے:
ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ(الصف ۶۱:۹) وہی ہے (ذات باری تعالیٰ) جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام نظام ہاے زندگی پر غالب کردے۔
یہ ہے انبیا ؑ کا مشن اور یہی وجہ ہے کہ نبی کی جو حیثیت اس کی تمام حیثیتوں سے نمایاں اور ممتاز ہے وہ داعی الی الحق کی حیثیت ہے۔ اسلام کا اصل مقصد انسانی زندگی کو ایک خاص نہج پر چلانا ہے۔ اسلام کوئی پوجاپاٹ کا جامد نظام نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک تحریکِ فکروعمل ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ہدایت الٰہی کا پابند بناتی ہے۔ اسلام ایک دعوت ہے جو انسانوں کو خدا کے دین کی طرف بلاتی اور ان کی زندگیوں کو نورِ الٰہی سے منور کرتی ہے۔ اسلام ایک مکمل دین، ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے تمام پہلوئوں پر حاوی ہے اور اس کی تمام وسعتوں پر حاکمیت ِ الٰہی قائم کرنے کا دعوے دار ہے۔ انبیا ؑ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جو اس دعوت کے داعی اور اس تحریک کے قائدین ہیں اور جن کی رہنمائی میں یہ اصلاحی جدوجہد برپا ہوئی اور جس سلسلۃ الذہب کی آخری کڑی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیـّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ق وَاِِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍo (الجمعہ ۶۲:۲) وہی تو ہے جس نے اَن پڑھوں میں انھی میں سے (یعنی حضرت محمدؐ کو) پیغمبر بناکر بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے، ان کا تزکیہ کرتے اور خدا کی کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور اس سے پہلے تو یہ صریح گمراہی میں تھے۔
یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط (المائدہ ۵:۶۷) اے رسولؐ، جو حق تم پر تمھارے رب کی جانب سے اُتارا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔
فَلِذٰلِکَ فَادْعُ ط وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ ج (شورٰی۴۲:۱۵) پس اسی راہ کی دعوت دو اور اس پر استقامت کے ساتھ جمے رہو جس طرح کہ تمھیں حکم دیا گیا ہے۔
ان آیاتِ ربانی سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیادی حیثیت داعی کی حیثیت ہے۔ آپ کا اصل مشن یہ تھا کہ خدا کی ہدایت لوگوں تک پہنچا دیں، انھیں خدا کی کتاب اور حکمت و دانش کی تعلیم دیں اور انھیں دعوت دیں کہ وہ دین کو اپنی پوری زندگی پر غالب کردیں۔ پھر جو لوگ اس دعوت پر لبیک کہیں انھیں ایک تحریک اور ایک اُمت میں منظم کریں، ان کے اخلاق کا تزکیہ کریں، ان میں کردار کے جوہر پیدا کریں اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے اپنی قیادت و رہنمائی میں وہ تہذیب و تمدن قائم کریں جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسلام فکرونظر اور علم و عمل میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا داعی ہے۔ وہ انسان کو غیراللہ کی ہرغلامی سے نجات دلا کر اس کی زندگی کو خدا کے لیے خالص کرنا چاہتا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ زندگی کے ہرشعبے پر، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، سماجی ہو یا سیاسی، معاشی ہو یا معاشرتی، قومی ہو یا بین الاقوامی، خدا کی حاکمیت قائم کرو۔ ہراطاعت پر خدا کی اطاعت اور ہرقانون پر خدا کا قانون مقدم ہے ؎
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لیے ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حاکمیت ِ الٰہی کی دعوت تھی اور آپؐ کی سیرتِ پاک کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ آپؐ نے دعوتِ اسلامی کے کام کو باقی تمام کاموں پر مقدم رکھا اور ہر دور اور ہرحالت میں اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہمہ تن مصروف رہے۔ آپؐ اوّل بھی داعی تھے اور آخر بھی داعی__ اور صرف داعی الی اللہ!
آیئے! آپؐ کی دعوتی زندگی کے چند اہم پہلوئوں کا مطالعہ کریں تاکہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو آپؐ کے اسوئہ حسنہ کی روشنی میں ادا کرنے کی کوشش کرسکیں۔ اس لیے کہ داعی الی الحق کی جو ذمہ داری آپؐ کے مبارک شانوں پر تھی، اب وہ پوری اُمت مسلمہ کے کندھوں پر ہے:
لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ ج (الحج ۲۲:۷۸) تاکہ رسولؐ تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔
یعنی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی شہادت اور گواہی دی اب اسی طرح پوری اُمت کو تمام انسانیت کے سامنے اس حق کی شہادت دینی ہے۔
۱- آپؐ کی دعوتی زندگی کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ جو تعلیم آپؐ نے دنیا کو دی اس پر سب سے پہلے ایمان لانے والے آپؐ خود تھے۔
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ط (البقرہ ۲:۲۸۵) رسولؐ اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسولؐ کے ماننے والے ہیں، انھوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے۔
آپؐ اس ہدایت پر سب سے پہلے ایمان لانے والے اور اپنی زندگی کو سب سے پہلے اس کے تابع کرنے والے تھے۔ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ’’میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں‘‘۔ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ’’میں سب سے پہلا مسلم ہوں‘‘۔
جو دعوت آپؐ نے دی آپؐ کی پوری زندگی اس کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ بقول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، آپؐ کی زندگی سراپا قرآن تھی۔ دنیا میں بے شمار مُصلح اور فلسفی آئے جو گفتار کے غازی تو ضرورتھے مگر کردار کے غازی نہ تھے۔ جو تعلیم انھوں نے دی وہ خود اس پر عامل نہ تھے مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ آپؐ نے اپنی دعوت کے ہرپہلو پر خود عمل کرکے دکھا دیا اور انسانیت کے لیے بہترین نمونہ پیش فرمایا، تاکہ لوگ صرف آپؐ کے ارشادات ہی سے ہدایت حاصل نہ کریں بلکہ آپؐ کے افعال و اعمال کی بھی پیروی کریں اور زندگی کا کوئی گوشہ اور قلب و دماغ کا کوئی حصہ بھی ایسا باقی نہ رہے جس پر آپؐ کے سیرت و کردار کی گہری چھاپ موجود نہ ہو۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب ۳۳:۲۱)’’درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔
۲- دوسری بنیادی چیز یہ ہے کہ آپؐ نے جزوی اصلاح کے مقابلے میں کلّی انقلاب کی جدوجہد کی۔ آپؐ کا مقصد چند جزئیات میں تبدیلی پیدا کرنا نہ تھا بلکہ پوری زندگی کو ہدایت ِ الٰہی کے مطابق استوار کرنا تھا۔ آپؐ نے لوگوں کے خیالات اور نظریات کی اصلاح کی اور انھیں ایک ایمان دار جوشِ زندگی بخشا۔ آپؐ نے ان کے اخلاق و کردار کو سنوارا اور ایک نیا انسان پیدا کیا۔ آپؐ نے تمدن و معاشرت کی اصلاح فرمائی اور ایک نئی سوسائٹی کی تعمیر کی۔ آپؐ نے طاغوت کو زندگی کے ہرمیدان میں شکست فاش دی اور پھر وہاں حاکمیت ِ الٰہی کے تخت بچھائے۔ یہ ایک ہمہ گیر انقلاب تھا اور انسانی تاریخ کا وہ واحد انقلاب ہے جس نے انسانیت کی پوری زندگی کی اصلاح و تعمیر کی۔
پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حضور سرور کائنات کو دین کی فتح و کامرانی اور اس کی سربلندی پر ہمیشہ گہرا اور غیرمتزلزل یقین رہا۔ عین اُن پُرآشوب حالات میں جب مسلمانوں کی کشتی مخالفتوں کے طوفانوں میں گِھری ہوئی تھی اور دُور دُور ساحل کا کہیں نام و نشان نہ ملتا تھا اور روشنی کی کوئی رمق موجود نہ تھی، آپؐ اُس وقت بھی قطعاً مایوس نہ ہوئے۔
مکّی زندگی کا مشہور واقعہ ہے کہ مسلمان قریش کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ ہرمسلمان کی جان خطرے میں تھی۔ صبح ہوتی تھی شام کا بھروسا نہ تھا اور شام ہوتی تھی تو صبح کا اعتبار نہ تھا۔ بظاہر اسلام کا کوئی مستقبل نظر نہ آرہا تھا اور جو دن گزرتا تھا غنیمت معلوم ہوتا تھا۔ ایسی حالت میں ایک مظلوم مسلمان حضرت خبابؓ آپؐ کے پاس آئے۔ آپؐ بیت اللہ کے سامنے بیٹھے تھے۔ حضرت خبابؓ نے کہا: یارسولؐ اللہ! اب تو پانی سر سے گزرا جارہا ہے،آپؐ ہمارے لیے دعا کیجیے۔ آنحضرتؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا: بس خبابؓ! گھبرا گئے؟ پہلی اُمتوں میں تو یہ ہوا کہ مومن کو گڑھا کھود کر گاڑدیا گیا اور سر پر آرا چلایا گیا یہاں تک کہ اس کے بدن کے دو ٹکڑے ہوکر گرگئے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کا گوشت ہڈیوں سے جدا کیا گیا مگر اُس کے پاے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔ خدا کی قسم! اللہ اپنے دین کو مکمل کرے گا یہاں تک کہ (اس دین کی عمومیت اور غلبے) کا یہ حال ہوگا کہ سوار صنعاء سے حضرموت تک سیکڑوں میل کی مسافت طے کرتا چلا جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی کا کھٹکا نہ ہوگا سواے اس کے کہ اس کو بھیڑیئے سے خطرہ ہو کہ وہ اس کی بکریوں پر حملہ کرے۔ لیکن تم جلدی بہت کرتے ہو۔
یہ واقعہ کئی حیثیت سے بڑا اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کو اپنی دعوت پر کتنا اعتماد ہے کہ بڑی سے بڑی مشکل اور آزمایش کو بھی وہ خاطر میں نہیں لاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی عمومیت اور غلبے کا مقصد اپنے تمام تضمنات کے ساتھ اس کے سامنے اس وقت بھی تھا جب غلبہ و حکمرانی بظاہر ناممکن نظر آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی استقامت کے اس مقام پر ہوتا ہے جہاں سے کوئی چیز اس کے ارادے کو متزلزل نہیں کرسکتی۔
۳- تیسری چیز ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ آپؐ نے بعثت سے لے کر اپنی آخری سانس تک دین کی دعوت کو پھیلانے کی کوشش اس انہماک اور تندہی سے کی کہ اس کی نظیر تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپؐ کا ہرلمحہ اسی فکر میں بسر ہوتا تھا کہ کس طرح خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک پہنچائیں اور ان کو جہنم کی آگ اور دنیا کے خسران سے بچائیں۔
یہ فکر آپؐ کو اس درجہ دامن گیر رہتی تھی کہ ایک مرتبہ آپؐ دن بھر کی تبلیغی جدوجہد اور دشمنوں کی اذیت رسانی سے چُور ہوکر رات کو تھکے ہارے گھر واپس آئے۔ بدن بخار سے تپ رہا تھا اور آپؐ چند منٹ کے لیے لیٹ گئے۔ اتنے میں اطلاع ملی کہ مکہ سے چند میل پر ایک پہاڑی کے نیچے ایک قافلہ آکر رُکا ہے۔ یہ سنتے ہی آپؐ فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان تک خدا کا پیغام پہنچائیں۔ لوگوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ بہت تھکے ہوئے ہیں۔ قافلے والوں سے کل صبح مل لیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا معلوم صبح تک مجھے موت آجائے یا وہ قافلہ راتوں رات کہیں اور چلاجائے اور اس صورت میں میرا فرض نامکمل رہ جائے___ دیکھیے دعوتِ اسلامی کے کام کو حضوؐر کتنی اہمیت دیتے ہیں اور فرض کی بجاآوری کو کیا مقام آپؐ نے دیا۔ فرض شناسی کی یہ مثال ہمارے لیے روشنی کا مینار ہے۔
۴- پھر آپؐ کی دعوتی زندگی کا یہ بھی ایک نمایاں پہلو ہے کہ آپؐ نے ہرمرحلے اور ہردور کے حالات کے مطابق دعوتِ دین کی راہیں نکالیں اور ہرزمانے میں نہایت حکمت و دانش مندی کے ساتھ کلمۂ حق کا اظہار کیا اور بالآخر دینِ حق کو قائم کیا۔ بعثت کے فوراً بعد خاموشی کے ساتھ آپؐ نے اپنی دعوت کا آغاز کردیا اور قریبی حلقوں میں دین کا پیغام پہنچانا شروع کیا۔ بعثت کے تیسرے سال جب دعوتِ عام کی اجازت ملی تو آپؐ نے تمام قریش کو فاران پر جمع کیا اور اسلام کی دعوت ان تک پہنچائی۔ پھر معززین قبیلہ کو خصوصی دعوت دی اور کھانے پر بلاکر ان کو خدا کے کلام سے آگاہ کیا۔ آپؐ ایک ایک قبیلے، ایک ایک خاندان، ایک ایک گروہ اور ایک ایک فرد تک پہنچے اور ان کو اسلام سے روشناس کرایا۔ نجی گفتگوئیں، مکالمات و مذاکرات، تقریرو وعظ، الغرض ہرممکن طریق سے اسلامی تعلیمات اُن کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی۔ جب تک دعوت کی راہیں کھلی رہیں آپؐ برابر حق کی طرف برملا بلاتے رہے اور جب کھلے بندوں تبلیغ کا امکان نہ رہا تو خاموشی سے نجی ملاقاتوں کے ذریعے اپنے مشن کی تبلیغ کرتے رہے۔ جب آپؐ کو شعب ابی طالب میں محصور کردیا گیا تو آپؐ خاموشی کے ساتھ جن جن مقامات پر جاسکتے تھے، اس زمانے میں بھی ان مقامات پر دعوت پہنچانے سے آپؐ نہ رُکے۔ پھر جب مکہ میں دعوت کے مزید پھیلانے کا امکان نہ رہا تو آپؐ نے مکہ سے باہر جاکر دعوت وتبلیغ کا کام انجام دیا۔ میلوں اور جلسوں کے موقع پر باہر کے قبائل سے ملے، طائف کا سفر کیا اور دوسرے بیرونی قبائل کو اپنی دعوت کی طرف بلایا حتیٰ کہ بیرونی قبائل میں اس کوشش ہی کے نتیجے میں اسلامی دعوت کا نیا مرکز مل گیا، اور اہلِ مکہ کی سختی اور ان کا تشدد ذریعہ بنے دین حق کے نئے مرکز___ مدینۃ الرسولؐ ___کے قیام اور اس کے ذریعے بالآخر دعوتِ اسلامی کے غلبے کا!
پھر مدینہ میں جب اسلام کو قوت و اقتدار حاصل ہوگیا تو آپؐ نے ریاست کی تمام طاقتیں دعوتِ اسلامی کے فروغ کے لیے وقف کردیں۔ ایک طرف مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی اور دوسری طرف اس ریاست کے ذریعے تمام عرب اور بالآخر پوری دنیا کو اسلام کی دعوت دی۔
۵- پھر آپؐ کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ اسلامی کا لازمی تقاضا ہے کہ ہرکونے اور جہت سے اس کی مخالفت کی جائے اور مخالفت کی نت نئی صورتیں نکالی جائیں۔ آپؐ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی گئیں۔ آپؐ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ آپؐ کو سبّ و شتم کا نشانہ بنایا گیا۔ آپؐ کے گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا گیا۔ عین حالت ِسجدہ میں آپؐ کی پیٹھ پر اُونٹ کی اوجھڑی تک رکھ دی گئی۔آپؐ کے ساتھیوں کو آگ پر لٹایا گیا، ریت پر گھسیٹا گیا، پتھر کی سلوں کے نیچے دبایا گیا، اتنا مارا گیا کہ وہ شہید ہوگئے__لیکن ہرحال میں آپؐ ثابت قدم رہے، آپؐ نے دعوتِ اسلامی کا کام جاری رکھا اور راہ کی کوئی مشکل اور مصیبتوں کا کوئی طوفان آپؐ کی پیش قدمی کو نہ روک سکا۔ اسی طرح کوئی لالچ اور کوئی ترغیب خواہ وہ دولت کی ہو یا سرداری کی یا بادشاہت کی، آپؐ کو اپنے مشن سے ہٹا نہ سکی اور ہرحالت میں آپؐ نے کہا تو یہی کہا:
خدا کی قسم! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی رکھ کر کہیں کہ مہروماہ کے عوض مَیں تبلیغ دین کا کام ترک کردوں تو مجھے منظور نہیں۔ اگر اس راہ میں مجھے ہلاکت نظر آئے تب بھی مَیں پیچھے نہ لوٹوں گا__ حتیٰ کہ یہ مشن کامیاب ہو یا مَیں اس میں کام آجائوں…
یہ تھا داعی کا عزم! اور سچ ہے کہ داعی اگر اپنے مشن میں سچا اور اپنی دھن کا پکا ہو تو انھی مشکلات سے کامیابی کی راہیں پھوٹیں گی اور دینِ حق فاتح و کامران ہوگا۔ جس طرح کلی کی موت ہی کے بعد پھول خندہ زن ہوسکتا ہے، اور جس طرح آگ کے جلے بغیر روشنی اور حرارت ممکن نہیں___ اسی طرح آزمایش اور ابتلا کے بغیر دعوتِ حق کی کامیابی کا امکان نہیں۔ فتح مکہ کی منزل شعب ابی طالب کی گرفتاری، طائف کی ہزیمت اور بدر و اُحد کی خوں پاشی کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے اور یہی فطرت کا قانون ہے۔
وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلً ا o (الاحزاب ۳۳:۶۲) اور تم خدا کے طریقے میں تبدیلی نہ پائو گے۔ (ترجمان القرآن، اگست ۱۹۶۲ء)