دِل توڑ گئی ان کا دوصدیوں کی غلامی
دارُو کوئی سوچ اُن کی پریشاں نظری کا
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت!
دے اُن کو سبق خودشکنی ، خودنِگری کا
ظلم و استبداد اور تخریب و فساد کی داستان بڑی عبرت انگیز ہے۔ تاریکی کے علَم بردار ہمیشہ ’خیروصلاح‘اور’ہمدردی‘ کا لبادہ اُوڑھ کر آتے ہیں۔ ظلم اپنے کریہہ چہرے پر نیکی ہی کا پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بدی نے نیکی کا پہلا استحصال اس دن کیا تھا، جب شیطان نے آدم ؑ و حواؑ کو خیرخواہی کے پردے میں گمراہ کیا اور ملکیت اور اَبدیت کے نام پر عدمِ اطاعت کے لیے اُکسایا۔ یہ نیکی اور حق کا اعتراف بھی تھا اور شیطنت و گمراہی کےطریقِ کار کا اظہار بھی۔
نیکی پر بدی کی اس دست درازی ہی کا نتیجہ دھوکا اور نفاق ہیں، جو آغازِ تاریخ سے آج تک ظلم و گمراہی کے بہترین رفیق کار بھی رہے ہیں اور آزمائے ہوئے ہتھیار بھی۔ظلم و استبداد انھی بیساکھیوں کے سہارے کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی ملک، کسی دور، کسی قوم اور کسی دائرۂ کار کو بھی لے لیجیے، شکلیں بدلی ہوئی ہوسکتی ہیں لیکن ظلم و باطل کے حربے ہمیشہ یہی رہے ہیں اور رہیں گے ع
شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے
مغربی سامراج تجارتی سرگرمیوں کا بھیس بدل کر برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوا اور دوسو سال کی پیچ در پیچ ریشہ دوانیوں کے ذریعے پورے ملک پر قابض اور حکمران ہوگیا۔ استعمار نے یہ سارا کھکیڑ اس دعوے کے ساتھ کیا تھا کہ وہ یہاں کے باشندوں کو ’تہذیب کادرس دے‘۔اس مقصد کے لیے Civilising Mission اور White-Man's Burden جیسے پُرکشش نعرے وضع کیے گئے اور نصف دنیاکو اپنا محکوم بنا لیا گیا۔ بُرے کاموں کے لیے اچھے ناموں کا استعمال، مذموم مقاصد کے لیے حسِین اصطلاحات کی تراش خراش، ظلم و استبداد کے لیے لطیف سے لطیف وجۂ جواز، دوسروں کو غلام بناکر انھی کے مفاد کے تحفظ کا ڈھونگ رچانا، سامراجی اور استبدادی قوتوں کا شعار رہا ہے۔
آزادی کے نام پر دوسروں کو آزادی سے محروم کرنا، تہذیب و تمدن کے فروغ کے نام پر تہذیب کی تمام اَقدار کو پامال کرنا، تعلیم کے نام پر علم کی شمعیں گُل کرنا، ترقی کے نام پر سرمایۂ حیات کو لوٹ لینا، امن و آشتی کے نام پر قوموں اور ملکوں کو تاراج کرنا، جمہوریت کے فروغ کی خاطر جمہور کاخون چُوس لینا، مضبوط حکومت کی ضرورت کے نام پر انسانی حقوق کو روند ڈالنا___ یہ ہے سامراجی استبداد کی پوری تاریخ اور اس کے اندازِ کار کا خلاصہ۔ ہرملک میں مغربی سامراج نے یہی کیا، اور برعظیم پاک و ہند کی سرزمین بھی اسی ظلم و فساد، دھوکے اور بے رحمانہ نفاق کی آماج گاہ بنی اور ہر دیکھنے والی آنکھ نے دیکھا کہ:
یہ صحن و روش، یہ لالہ و گُل ، ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں
تعمیر جنوں کے پردے میں، تخریب کے ساماں ہوتے ہیں
یہی وہ ذہن ہے جس کی عکاسی مشہور برطانوی ادیب جارج برنارڈشا [م: ۲نومبر ۱۹۵۰ء] نے اپنے مشہور ناول The Man of Destiny (۱۸۹۶ء) میں ایک مقام پر اس طرح کی ہے:
ہر انگریز پیدایشی طور پر خزانۂ اَبد سے دُنیا کا حاکم اور آقا بننے کی معجزانہ قوت لے کر آتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو کبھی یہ نہیں کہتا کہ میں اس کو چاہتا ہوں، بلکہ وہ خاموشی سے صبر کرتا اور پورے اطمینان کے ساتھ انتظار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے دل میں یہ یقین کامل القا ہوتا ہے [یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ نازل کہاں سے ہوتا ہے؟] کہ: ’یہ اس کی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے، اِن لوگوں کو فتح کرے، جن کے پاس وہ شے ہے‘۔ یہ احساس شدید تر ہوتا ہے اور بالآخر ناقابلِ ضبط ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مفید مطلب اور اخلاقی رویے کے باب میں وہ کبھی کوتاہ دامن نہیں رہتا۔آزادی اور قومی حُریت کے علَم بردار ہونے کی حیثیت سے وہ آدھی دُنیا کو ہڑپ کر جاتا ہے اور اس کا نا م رکھتا ہے ’نئی آبادی‘۔ جب اسے اپنی مانچسٹر کی ملاوٹ زدہ مصنوعات کے لیے ایک نئی منڈی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اس سرزمین کے باسیوں کو صحیفۂ امن کے اسرارورُموز سکھانے کے لیے مشنریوں کو بھیج دیتا ہے۔وہاں کے باشندے مشنری کو قتل کردیتے ہیں۔ نتیجتاً مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے اور عیسائیت کی حفاظت و مدافعت کے لیے فوجیں دوڑ پڑتی ہیں، اُس کی خاطر جنگ ہوتی ہے اور ملک فتح کیا جاتا ہے۔ رہی تجارتی منڈی تو وہ تو عطیۂ خداوندی کی حیثیت سے آپ اس کی جھولی میں آپڑتی ہے۔
پھر مذکورہ بالا ’اعلیٰ مقاصد‘ ہی کے لیے اس تسلط کو برقرار، مستحکم اور مضبوط کیا جاتا ہے۔ ملک کے اصلی باشندوں کی خیرخواہی میں بیرونی راج کو طویل سے طویل تر کیا جاتا ہے۔ آزادی کی تحریکوں کو ’بغاوت‘ کا نام دے کر کچلا جاتا ہے۔ عوام کو سیاسی نابالغی کے نام پر بنیادی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے نام پر ذہنی، فکری اور تمدنی غلامی کی زنجیروں کو مضبوط تر کیا جاتا ہے، اور اگر مجبور ہوکر کچھ مطالبات ماننے پڑتے ہیں تو اس ’مجبوری‘ کو انسانیت پرستی، حُریت پسندی، وسعت ِ قلبی اور بالغ نظری کے خوب صورت ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔کل کا انگریزی استعمار ہو یا فرانسیسی یا روسی اور اطالوی یا پھر آج کا امریکی استعمار___ سب کا کردار، مقاصد اور اندازِ کار ایک ہی جیسا ہے۔
استبداد کا دریا ہمیشہ اسی رُخ پر بہتا ہے!
انسان کی فطرت راستی اور نیکی پر قائم ہے۔ ایک ہی قانون ہے جو فرد کی پوری زندگی میں اور کائنات کے سارے نظام میں جاری و ساری ہے۔ ہر وہ راستہ جو اس فطرت کے مطابق ہے، خیروفلاح کا راستہ ہے۔ اسے اختیار کرنا آسان اور سہل ہے اور اس کے نتائج سب کے لیے نافع اور اطمینان بخش ہیں۔ ظلم، اس فطرت سے انحراف اور اس کے خلاف بغاوت کا نام ہے۔ چونکہ یہ انحراف دل و دماغ اور انسان کی فطری کیفیت اور طبیعت کے خلاف ہے، اس لیے اسے بروے کار لانے کے لیے وہ ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں جو فطرت کو مسخ کریں۔ بنیادی طور پر یہ ذرائع دو قسم کے ہیں: وہ جو دھوکے اور جھوٹ سے عبارت ہیں، اور دوسرے وہ جن کا سرچشمہ جبر اور تشدد ہیں۔
جھوٹ اور دھوکے کے ذرائع سے عقل و ذہن کو غلط راستے پر ڈالا جاتا ہے، قلب و روح کو مسخ کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو اختیار و ارادہ دیا ہے، اس کے ناروا ، غلط اور ناجائز استعمال کی راہ پیدا کی جاتی ہے۔ اگر جھوٹ اور دھوکے کے حربے کامیاب نہ ہوں تو پھر جبروتشدد کے ہتھیاروں سے فطرت کو انحراف پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ترغیب و ترہیب، غلط بیانی، جھوٹ، دھوکا، فریب، ظلم و زیادتی، جبروتشدد اور شقاوت و استبداد ہی وہ ہتھیار ہیں، جو اہلِ باطل نے ہمیشہ ، ہر دور میں، اور ہر مقام پر استعمال کیے ہیں۔ یہی کچھ ماضی میں کیا جاتا رہا، یہی حال میں کیا جارہا ہے، اور یہی مستقبل میں کیا جاتا رہے گا۔ انھی ہتھیاروں کو برطانوی سامراج اور اس کی تہذیبی اور سیاسی ذُریت نے حکومت اور اقتدار کے نشے میں اس برصغیر کے باشندوں کے خلاف استعمال کیا اور یہی ہتھیار آج کی استعماری قوتیں استعمال کر رہی ہیں، خصوصیت سے ’امریکا سب سے پہلے‘ اور ’دہشت گردی‘ کو نیست و نابود کرنے کے نام پر مغربی اقوام اور مسلح افواج کی خونیں کارگزاریاں۔
برطانیہ کے اربابِ اختیار جس طریقے سے اس ملک پر غالب آئے، اس کی داستان بڑی شرم ناک ہے۔ انھیں اس ملک کے باشندوں نے دعوت نہ دی تھی،خود منتخب نہ کیا تھا، بلکہ پسند تک نہ کیا تھا۔ ہاں، البتہ ان سے جو عظیم گناہ سرزد ہوا ،وہ یہ تھا کہ سامراجیوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر چند بدیسیوں کو کچھ حقوق اور تحفظات دے دیے تھے ___ اور یہ حقوق اور تحفظات بھی بڑی حد تک تجارت اور تجارتی اثاثے کی حفاظت سے متعلق تھے، مگر وہ ایسا دروازہ بن گئے، جن سے استعماری قوتیں داخل ہوکر دو صدیوں کے لیے قابض حکمران بن گئیں، اور جس ذہنیت کو انھوں نے پروان چڑھایا وہ استعمار کے سیاسی غلبے کے ختم ہوجانے کے باوجود ذہنی اور تہذیبی غلامی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ آج ’گلوبلائزیشن‘ (عالم گیریت) اور ’معاشی امداد‘ کے حسین ناموں سے یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔
بس یہی وہ چیز تھی، جس نے ہمارے دروازوں کو غیروں کے لیے کھول دیا۔ ان کی تجارتی کوٹھیوں [یعنی سامراجی تجارتی کمپنیوں]کا اثرونفوذ بڑھنا شروع ہوا، اور سیاسی چالوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اہلِ ملک کے ایک طبقے کو دوسرے کے خلاف صف آرا کیا جانے لگا۔ غداروں کو چھانٹ چھانٹ کر بلندمناصب پر بٹھایا گیا۔ مقامی افواج میں بغاوت اور بے وفائی کی سرنگیں لگائی گئیں۔ یہ کھیل تقریباً دو سو سال تک کھیلا گیا اور بالآخر لومڑی کی یہ عیّارانہ چالیں شیر کو چاروں شانے چِت گرانے میں کامیاب ہوگئیں۔
اربابِ ظلم کی ہمیشہ سے یہ روش رہی ہے کہ وہ فوج کے غلط استعمال اور بالواسطہ قسم کے ہتھکنڈوں کے استعمال سے اپنے اقتدار کا تخت بچھاتے ہیں۔ بہادر انسانوں کی طرح میدان میں مقابلہ کرنے کے بجاے محلاتی سازشوں کے ذریعے اپنا تسلط قائم کرتے ہیں۔
اقتدار پر متمکن ہوجانے کے بعد سامراجی حکمرانوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اپنے اہم ترین مخالف کی کمر توڑنا تھا۔ ظاہر ہے یہ مخالف مسلمان تھا، جو اس ملک پر تقریباً آٹھ سو سال سے حکمران تھا اور جو غلامی کے ساتھ خود کو سازگار بنانے کے لیے کسی قیمت پر تیار نظر نہ آتا تھا۔ رہ رہ کربغاوت اور مہم جوئی کے ذریعے کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس قسم کی تمام کوششوں کو جبروقوت اور چالاکی اور عیاری کے ذریعے کچلا گیا۔ سیّداحمد شہید[م: ۶مئی ۱۸۳۱ء] کی سربراہی میں ’تحریک ِ مجاہدین‘ ، حاجی شریعت اللہ [م: ۱۸۴۰ء] کی قیادت میں ’فرائضی تحریک‘، ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی، خیبرپختونخوا میں ۱۸۶۳ء میں امبیلا کی سرفروشانہ جنگیں،موپلوں کی بغاوت اور بے شمار مقامی نوعیت کی لہوگرمانے والی لڑائیاں اس جدوجہد کا عنوان ہیں۔ ان سب کو قوت و تشدد کے ساتھ کچل کر مسلمانوں کی کمر توڑ دی گئی۔ آزادی و حُریت کی شاہراہ پر گام زن لاکھوں جاںبازوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ ان کے پورے کے پورے خاندانوں کو تہِ تیغ کیا گیا۔ پورے ملک پر خوف اور دہشت کی ایک فضا قائم کرنے کے بعد، اس زخم خوردہ شیر کے دست و بازو بھی کاٹ دیے، تاکہ اسے مقابلے کے لائق ہی نہ چھوڑا جائے۔
یہ بھی اربابِ ظلم کا دائمی طریقہ ہے کہ وہ فتح و کامیابی اور استحکامِ اقتدار کے بعد شریف انسانوں اور جواں مردوں کی طرح مخالفین کے ساتھ عزت اور احسان کا رویّہ اختیار نہیں کرتے بلکہ اُن کے نام و نشان کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اور جہاں کہیں اختلاف کی بُو بھی سونگھ لیتے ہیں وہاں تشدد کی انتہا کر دیتے ہیں۔
سامراجی قوتیں صرف اسی پر رضامند نہ ہوئیں بلکہ اپنے اس اہم حریف کو اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں سے بے دخل کرنے اور اُس کی آنے والی نسلوں کو بے حیثیت اور غیرمؤثر کر دینے پر تُل گئیں۔ اُن تمام صنعتوں کو تباہ کیا گیا، جن کے ذریعے قوم کو معاشی استحکام حاصل تھا۔ ماہرین فن اور کاری گروں کے ہاتھ تک کاٹ دیے گئے۔ زرعی نظام کی قلب ِ ماہیت کی گئی اور اپنے اقتدار کو محفوظ کرنے کے لیے زمین داری کا دوامی [یعنی مستقل] نظام قائم کیا۔ اس طرح جاگیر داری نظام کو قائم کیا گیا،جو برطانوی راج کا ستون بن گیا۔
پھر مسلمانوں کو معاشی ، سیاسی، عدالتی، انتظامی، غرض زندگی کے ہرشعبے سے بےدخل کیا گیا۔ ان پر ملازمتوں کے دروازے بند کیے گئے۔ تجارت و صنعت کو تباہ کیا گیا، جو افراد پہلے سے اجتماعی زندگی میں ایک مقام رکھتے تھے، ان کو آہستہ آہستہ مٹا دیا گیا۔ مسلمانوں کے مقابلے میں غیرمسلم اقوام کو شہ دی گئی۔ آخرکار یہ حالت ہوگئی کہ ملک کی سرکاری مشینری میں مسلمانوں کا تناسب۵، ۶ فی صد سے بھی کم رہ گیااور وہاں بھی جو آسامیاں ان کے پاس تھیں، وہ اعلیٰ انتظامی عہدے نہیں تھے بلکہ وہ صرف کلرک، محرر، چپراسی اور خاکروب بن کر رہ گئے۔{ FR 649 }
گویا اس شکست کھائے ہوئے شیر کو صرف پنجرے میں بند ہی نہیں کیا، بلکہ اس کو پیٹ کی مار بھی دی گئی، تاکہ اس کے قویٰ دوبارہ مجتمع ہی نہ ہوسکیں۔ ظالم حکمرانوں کا یہ بھی طریقہ ہے کہ وہ سیاسی لڑائی کے لیے معاشی میدان میں بھی دندناتے ہوئے اُترتے ہیں اور اپنے مخالفین کے لیے نہ صرف معاش کے دروازے بند کرتے ہیں بلکہ تجارت، صنعت، ملازمت، غرض ہرشعبے سے ان کو چُن چُن کر نکال باہر پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بات یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس ملک کے اصل مالکوں کے ذہن سے آزادی اور خودمختاری کے احساس ہی کو مٹانے کے لیے تعلیم وتربیت اور پروپیگنڈے اور نشرواشاعت کا ایک ہمہ گیر پروگرام اختیار کیا گیا۔ جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ فرد جو غلامی کو قبول نہیں کر رہا ہے، اسے زیر کرنے کے لیے اس کے ذہن کو غلام بنا لیا جائے، جو اُس کے جسم پر حکمرانی کرتا ہے۔ اس طرح نئی نسلوں کے فکرونظر کو بدل دیا جائے، تاکہ ’باغیوں‘ کی اولاد کو ’غلامی کے اسرار‘ سکھائے جاسکیں اور اُس سرچشمے کو گدلا کر دیا جائے، جس سے زندگی اور غیرت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے تعلیم کے نظام کو بدلا گیا اور اس نئے ’تیزاب‘ میں مسلمان کی ’خودی‘ کو ڈال کر ایسا ملائم بنادیا گیا کہ اسے جدھر چاہیں موڑ لیں۔ یہ تھی وہ تدبیر جس سے ’سونے کا ہمالہ‘ مٹی کا ایک ڈھیر بن گیا۔ اقبال نے اس چال کو ان الفاظ میں فاش کیا ہے:
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہوجائے ملائم تو جدھر چاہے ، اسے پھیر
تاثیر میں اِکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹّی کا ہے اک ڈھیر
پھر معاشرت، سماجی طور طریقے، تمدنی ادارے، غرض پوری ثقافت کو بدلنے کی کوشش کی گئی اور دینی برتری،تمدنی روایات اور عسکری روح کی جگہ آدابِ غلامی میں طاق کرنے کی کوشش کی گئی کہ:
محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صُورت گری و علمِ نباتات
اصول پرستی کی جگہ موقع پرستی اور عسکریت کی جگہ بزدلی اور ’آرٹ پرستی‘ پیدا کی گئی۔ خارہ شگافی کی جگہ ’فنِ شیشہ گری‘ سکھایا گیا اور پروپیگنڈے اور نشرواشاعت کے سارے دروازے اس مقصد کے لیے استعمال کیے گئے کہ:
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
غرض غلامی کی نفسیات کو اس کی رگ و پے میں سرایت کر دینے کی ہرممکن کوشش کی گئی:
بہتر ہے کہ شیروں کو سِکھا دیں رمِ آہُو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ
یعنی یہ شیر، شیر ہی نہ رہے بلکہ اس میں بکری کا ذہن پیدا ہوجائے اور یہ اُسی کی طرح ممیانے لگے۔ ظالم حکمرانوں کی یہ بھی روش ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو اپنے خیال میں مستقل اور دائمی کرنے کے لیے قوم کے ’نفسیاتی قتل‘ کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں سے بہادری، شجاعت، اصول پرستی، عزت نفس، خودداری، حق پسندی، جفاکشی اور جذبۂ جہاد کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے غلط تعلیم اور اخلاق باختہ ثقافت کے ذریعے لذت پرستی، مفاد پرستی، بزدلی اور خوشامد کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ امراض پوری قوم کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں اور سیرت کی وہ بنیادیں ہی ختم ہوجاتی ہیں، جن سے قوم میں وہ افراد پیداہوسکیں جو بلند کردار، وفاشعار، اصولوں کے پرستار اور حق کے فداکار ہوں اور جو ان کے ظالمانہ اقتدارکے لیے خطرہ ثابت ہوسکیں۔
پھر چوں کہ سامراجی حکمران یہ بات اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ مسلمانوں کی قوت کا اصل سرچشمہ ان کا دین اور اس دین سے والہانہ وابستگی ہے، اس لیے ایک طرف ان کو اس سرچشمے سے کاٹنے کی کوشش کی ، تو دوسری طرف یہ انتظام کیا کہ جس سے ایسے لوگ اُبھریں، جو قرآن و سنت کی تعلیمات کو مدافعت پسندوں (Apologists) کی معذرت خواہانہ تاویلات کے پھندے میں جکڑنے کی کوششیں کریں۔ تیسری جانب اسلام کے احکامات کو متجدّدین (Revisionists) کے ہاتھوں مسخ کرکے حکمرانوں کے لیے مفیدمطلب بنادیں، جہاد کو منسوخ بتائیں اور سود کے جواز کا فتویٰ دیں۔ ناچ رنگ، مصوری اور مجسمہ سازی کی گنجایش پیدا کریں اور سب سے بڑھ کر اُمت کی بنیادوں ہی کو منہدم کرڈالیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر ایک ’جعلی نبوت‘ کا بُت تراشیں___ اور جو اس مذہبی ’جعل سازی‘ کی مخالفت کرے اسے تنگ نظر، دقیانوس، مذہبی جنونی اور کٹھ مُلّا قرار دے کر نکّو بنا دیں۔
اس طرح ’دینِ شیری‘ محض ایک ’فلسفۂ روباہی‘ بن کر فرعونی قوت کا مرید ہوجائے:
دینِ شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ
دیکھتے ہیں فقط اک فلسفۂ رُوباہی
ہو اگر قُوّتِ فرعون کی درپردہ مُرید
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللّٰہی
اہلِ ظلم کا یہ بھی ایک مخصوص حربہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفاد کی خاطر محکوم قوم کے دین تک کو بچوں کا کھیل بنا دیتے ہیں اور سرکاری خزانے اور اثرو رسوخ کو استعمال کرکے احکامِ دین کو مسخ کراتے ہیں، من مانی تاویلات کراتے ہیں، اور اہلِ مذہب میں سے مفاد پرستوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ وہ ان کے ہرغلط اقدام کے لیے دین کی ’سند‘ گھڑ کر پیش کریں۔
ملک کی قیادت میں انتشارپیدا کرنے اور میدان کو اپنے لیے ہموار کرنے کے لیے برطانوی سامراج نے ایک طرف قوم کے جوہرِ قابل کو چُن چُن کر قتل کیا، جلاوطن کیا، یا جیلوں میں ڈال دیا۔ دوسری طرف اہلِ وطن ہی میں سے اُن عناصر کو، جو ذاتی مفاد کی خاطر سب کچھ، حتیٰ کہ اصولِ دین اور قوم کا مفاد تک قربان کرنے کو تیار ہوتے گئے، چھانٹ چھانٹ کر اُوپر لاناشروع کیا۔ زمین داروں اور جاگیرداروں کی کھیپ تیار کی گئی۔ خان بہادروں اور خاں صاحبوں کی ایک فوجِ ظفر موج میدان میں اُتاری گئی۔ وہ جنھوں نے اپنا ’سر‘ برطانوی سامراج کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا، ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ مناصب پر لایا گیا، تاکہ اصول کے لیے جان کی بازی لگادینے والوں کی جگہ ملک کی قیادت ایسے بے ضمیر موقع پرستوں کے ہاتھوں میں آجائے:
ترے بلند مناصب کی خیر ہو، یاربّ!
کہ ان کے واسطے تُو نے کیا خودی کو ہلاک
شریکِ حُکم غلاموں کو کر نہیں سکتے
خریدتے ہیں فقط اُن کا جوہر اِدراک!
نااہل موقع پرستوں کو قیادت کے مناصب پر فائز کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے گرد خوشامدیوں کا ایک لشکر جمع کرلیتے ہیں۔ وہ گاڑی جو صلاحیت اور تدبیرسے نہیں چلائی جاتی اسے خوشامدی اور حاشیہ نشین کھینچ کھینچ کر آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح قوم کا مزاج بگاڑ کی انتہائی پستیوں کو چھونے لگتا ہے:
کر تُو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد
دستور نیا ، اور نئے دَور کا آغاز
معلوم نہیں ہے یہ خوشامد کہ حقیقت
کہہ دے کوئی اُلّو کو اگر ’رات کا شہباز!‘
اور یہ سب کچھ اس لیے کہ شیر کی ہر خوبو کو ختم کر کے اُسے لومڑی کے دربار کا دربان بنا دیا جائے۔ یہ بھی ظالم حکمرانوں کی فطرت ہے کہ وہ جوہرِخالص کو تو نشانۂ ستم بناتے ہیں اور مفاد پرستوں اور خوشامدیوں کو اپنے گرد جمع کرلیتے ہیں۔ انھیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے آلۂ کار بناتے ہیں اور یہ زرپرست و زردار ہر بُرے سے بُرے مقصد کے لیے بھی آلۂ کار بننے میںفخر ہی محسوس کرتے ہیں۔
برطانوی سامراج نے اپنے اقتدار کو برصغیر میں قائم کرنے اور مستحکم کرنے کے لیے یہ طریقِ کار اختیار کیا۔ جھوٹ اوردھوکا، ترغیب اور پروپیگنڈے کا ہرحربہ استعمال کیا گیا۔ جب اور جہاں یہ ہتھیار غیرمؤثر ثابت ہوئے، وہاں جبر و تشدد اوراستبداد کے تمام ہتھکنڈے بے دریغ استعمال کیے گئے۔ عیاری اور ظلم کے باوجود جب آزادی اور حقوق کی تحریک نے قوت پکڑی اور وہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگی، تو برصغیر کی سیاسی تاریخ کے ابواب، سامراج کی تلوار اور اہلِ وطن کے خون سے لکھے گئے۔
انگریز سامراج نے سول انتظامیہ کو غیرمعمولی اختیارات سے مسلح کیا اور اس سلسلے میں متعدد قوانین بغاوت (Sedition Laws) منظور کیے، جن کی وجہ سے جلسے اور جلوس ممنوع کیے گئے۔ تقریر و تحریر پر نئی نئی پابندیاں لگائی گئیں، انتظامیہ اور پولیس کو یہ اختیارات دیے گئے کہ وہ شبہے کی بنا پر گرفتاریاں کرسکتے ہیں۔ مجسٹریٹوں کو بغیر مقدمہ چلائے اور بغیر صفائی کا موقع دیے، املاک ضبط کرنے کے اختیارات تفویض کر دیے گئے، اور جب اس پر بھی دل خوش نہ ہوا تو ۱۹۰۸ء کا ’کرمنل ا مینڈمنٹ ایکٹ‘ لایا گیا، جس کے ذریعے جس تنظیم کو چاہیں غیرقانونی قرار دیں اور جب تک چاہیں پابند رکھیں۔ جس شخص کو چاہیں، غیرقانونی سرگرمیوں کے عنوان سے گرفتار کرلیں۔ جن املاک کو چاہیں، حکومت کے قبضے میں لے لیں۔ نیز دفعہ ۱۲۴-الف کا اضافہ کیا گیا جس کی رُو سے عملاًحکومت پر ہر تنقید ’بغاوت‘ (sedition)کے معنی میں داخل کر دی گئی۔
بہ جبر اخبارات کی زباں بندی اور ان پر دہشت کی فضا مسلط کرنے کے لیے فوج داری قانون کے تحت بیوروکریسی، پولیس اور مجسٹریٹوں کو اخبارات کو بند کرنے ، اخبار نویسوں کو گرفتار کرنے، سیکورٹی طلب کرنے اور املاک ضبط کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ جو کسر رہ گئی وہ ۸جون کو Newspaper (Incitement to offences) Act 1908 کے نفاذ نے پوری کر دی۔ جس کی رُو سے مجسٹریٹوں کو مقدمے کی سماعت سے قبل ہی پریس ضبط کرنے کا حق دیا گیا اور جس کے تحت ۱۴سال اور ۲۰سال تک کی قید رکھی گئی۔ پھر فروری ۱۹۱۹ء میں ’رولٹ ایکٹ‘پاس کیا گیا، جس نے صحافت کو اُلٹی چھری سے ذبح کر دیا اورجس کے خلاف بے مثال ملک گیر احتجاج ہوا۔
ان قوانین کو استعمال کر کے ہزاروں افراد پر مقدمے چلائے گئے اور بلاشبہہ لاکھوں افراد کو جیلوں میں ٹھونسا گیا۔ ایک ایک شہر کی جیلوں میں تین تین اور چار چار ہزار آدمی بند کیے گئے۔ گرفتاریاں اس پیمانے پر ہوئیں کہ جیل کی عمارتیں ناکافی ثابت ہوئیں اورخیمے لگا کر اور فوجی کیمپ قائم کر کے آزادی کے سپاہیوں کو محبوس کیا گیا۔
اخبارات کو بند کرنے اور ان سے ضمانتیں طلب کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اور بلاشبہہ سامراج نے آخری ۵۰برسوں میں سیکڑوں اخبارات اور رسائل کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اندازہ اس بات سے کیجیے کہ:
یہ صرف چند برسوں کی داستان ہے۔ اسی پر پورے دورِ استبداد کا اندازہ کرلیجیے:
قیاس کن ز گلستان من بہار مرا
قانون ساز اداروں میں سامراجی حکمرانوں کو قابلِ اعتماد اکثریت حاصل تھی اور اپنے من مانے قوانین بلادقّت منظور کراسکتے تھے، لیکن اس کے باوجود پورے ملک پر آرڈی ننسوں کا راج تھا۔ زندگی کے ہر شعبے کو آرڈی ننسوں کے ذریعے جکڑ دیاگیا تھا اور اسمبلیوں کی حیثیت محض ربڑ کی مہر کی ہوگئی تھی۔ سر سیمویل ہور سیکرٹری آف اسٹیٹ براے ہند نے برطانوی پارلیمنٹ میں کہا کہ: ’’میں اعتراف کرتا ہوں کہ جو آرڈی ننس ہم نے نافذ کیے ہیں، وہ نہایت سخت اور انتہا درجے کے جابرانہ ہیں۔ یہ آرڈی ننس اہلِ ہند کی زندگی کے تقریباً ہرپہلو پر حاوی ہیں‘‘۔
چودھری خلیق الزماں آرڈی ننسوں کے اس حربے کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ: ’’گاندھی جی [۱۸۶۹ء-۱۹۴۸ء] کی گرفتاری کے بعد وائسراے نے ایک آرڈی ننس نکال کر، کانگریس کے تمام دفتروں کو ناجائز قرار دے دیا اور انھیں بند کرا دیا۔ سول نافرمانی کرنے والوں کو اب صرف جیل کی سزا ہی نہیں دی جاتی تھی، بلکہ ان کی جایداد بھی ضبط کرلی جاتی… وائسراے کا یہ نیا نسخہ بہت کڑوا تھا‘‘۔
بے رحم ظالموں نے اس ملک میں کیا کچھ کیا، اس کا اندازہ اُن سیکڑوں واقعات سے ہوسکتا ہے، جن میں انسانوں کے خون سے بے رحمی کے ساتھ ہولی کھیلی گئی۔ ایسے ہی واقعات میں سے ایک جلیانوالہ باغ کا واقعہ [۱۳؍اپریل ۱۹۱۹ء]ہے۔
فروری ۱۹۱۹ء میں منظور شدہ ’رولٹ ایکٹ‘ ۱۸مارچ کو نافذکر دیا گیا۔ جس پر ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگیا۔ تحریک ِ خلافت اور ستیہ گرہ کی تحریک، دونوں کا اثر پورے ملک میں اپنے شباب پر تھا۔ اُسی دور کے اُبھرتے ہوئے مسلمان لیڈر ڈاکٹر سیف الدین کچلو [۱۵جنوری ۱۸۸۸ء- ۹؍اکتوبر ۱۹۶۳ء] نے امرتسر میں جلسے کا اعلان کیا، لیکن انھیں جلسے کے منعقد ہونے سے پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا۔ احتجاجی جلوس نکلا تو پولیس نے دخل اندازی کرکے بات پتھرائو، لاٹھی چارج اور گولیوں تک پہنچا دی۔ اہلِ ہند تو خدا جانے کتنے رزقِ خاک بن گئے اور جوابی طور پر پانچ انگریز بھی اس میں کام آئے۔
پھر کیا تھا، شہر کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور فوج کرنل ڈائرکی قیادت میں نہتے شہریوں کے خلاف صف آرا ہوگئی۔ جلیانوالہ باغ میں احتجاجی جلسہ ہورہا تھا۔ باغ چاروں طرف سے بند تھا، صرف ایک دروازہ کھلا تھا اور اس سے کرنل ڈائر رائفلوں سے مسلح سپاہیوں کے ساتھ دندناتا ہوا داخل ہوا۔ وارننگ کے نتائج واثرات کا بھی انتظار نہ کیا اور اندھادھند فائرنگ شروع کر دی گئی۔ اُس کے اپنے اعتراف کے مطابق ۱۶۹۹ گولیاں چلائی گئیں اور فائرنگ اس وقت بند کی گئی جب اسلحہ ختم ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ۴۰۰ لاشیں تڑپنے لگیں اور ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ شاید کرنل ڈائر کی ایک بھی گولی خالی نہ گئی۔
بات جلسے تک نہ رہی، پورے شہر کو ظلم و استبداد اور وحشت و درندگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لوگوں کا گھروں سے نکلنا دوبھر ہوگیا۔ ایک پوری بارات کو جس میں دولہا بھی شامل تھا، بلاوجہ پکڑ کر کوڑوں سے پٹوا ڈالا گیا۔ ریل گاڑی میں ہندستانی باشندوں کے سفر کی ممانعت کر دی گئی۔ عورتوں کی کھلے منہ بے حُرمتی کی گئی۔ امرتسر میں ایک گلی مقرر کی گئی، جس میں سے ہر شخص کو پیٹ کے بل رینگتے ہوئے گزرنا پڑتا تھا۔جس شخص کو جو گورا نظر آئے، لازم کیا گیا کہ اس کو سلام کرے، ورنہ کوڑے مارے جائیں گے۔ فوج کی طرف سے جو اشتہار لگائے گئے اُن کی حفاظت انھی اہلِ خانہ کے سپرد کی گئی، جن کے گھر کی چہاردیواری پر انھیں آویزاں کیا گیا تھا۔ اشتہار پھٹنے کی صورت میں اہلِ خانہ کے لیے سزا مقرر کی گئی۔ سر فضل حسین [۱۸۷۷ء-۱۹۳۶ء]، خلیفہ شجاع الدین [۱۸۸۷ء-۱۹۵۵ء] اور پیر تاج الدین [۱۸۷۸ء-۱۹۵۴ء] جیسے معززین کے مکانوں پر بھی اس قسم کے اشتہار چسپاں کیے جاتے تھے اور انھیں تمام دن مکان سے باہر کھڑے رہنے کی ذلّت برداشت کرنا پڑتی تھی۔
اس سب پر مستزاد، فوجی عدالتیں تھیں، جنھوں نے پلک جھپکتے ہی۲۹۸ مقدمات کا فیصلہ سنادیا۔ ۵۱ کو سزاے موت، ۴۶ کوعمرقید، دو کو ۱۰سال کی قید، ۶۹ کو سات سال کی، ۱۰ کو پانچ سال کی قیدبامشقت اور ۱۳۰ کو تین برس سزا دی گئی۔ پھر ’عدالت‘ کا جو ڈھونگ رچایا گیا،اس میں یہ جدت بھی کی گئی کہ ملزموں کو وکیل کے ذریعے اپنے دفاع کا حق نہ تھا۔
جباروں کی یہ فطرت رہی ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے بھی انصاف کے دروازے بند کیا کرتے ہیں۔ انصاف سے ان کی ازلی دشمنی ہوتی ہے! اور یہ بھی ایک دل خراش حقیقت ہے کہ بقول چودھری خلیق الزماں، جلیانوالہ باغ، امرتسر پر حملہ آور جنرل ڈائر کی یہ ’فوج‘ ۵۰؍ انگریز سپاہیوں اور ۱۰۰ ہندستانی جوانوں پر مشتمل تھی۔
ظالم ظلم کے لیے بھی مظلوموں ہی کے اپنوں میں سے کچھ کو استعمال کرتے ہیں اور ان کو ایسی ذلّت آمیز مدد کرنے والے مل ہی جاتے ہیں۔ اہلِ ہند کے خون سے یہ ہولی صرف امرتسر میں نہیں، پورے ملک میں کھیلی گئی۔ ہم نے صرف ایک واقعے کا تذکرہ کیا ہے۔ ورنہ یہی خونیں کہانی، مسجد شہید گنج، مسجد کانپور، قصہ خوانی بازار، موپلوں کی پوری پوری بستیوں اور بیسیوں جگہ دُہرائی گئی۔
پنجاب میں اس خونیں ڈرامے کے علاوہ جو مظالم ہو رہے تھے، ان کے بارے میں نیشنل کانگریس کی ایک کمیٹی نے مفصل رپورٹ تیار کی تھی، جس کا ایک اقتباس یہاں دیاجاتا ہے:
اوڈوائر { FR 760 } نے قانون تحفظ ہند سے ناجائزفائدہ اُٹھا کر حددرجہ معمولی اور پیش پا افتادہ عُذر تراش کرکے سیکڑوں آدمیوں کو جیل میں بند کر دیا۔ اُردو اخبارات کا گلا گھونٹ دینے میں کوئی کسر باقی نہ رہی اور بیرونِ پنجاب چھپنے والے قومی اخبارات کی پنجاب میں آمد روک دی گئی۔ حد یہ ہے کہ اُردو کے وہ اخبار جو چھپنے سے پہلے حکومت کے ہاتھوں باقاعدہ سنسر کیے جاتے تھے، اُن کی اشاعت بھی بند کردی گئی۔ اب پنجاب میں نہ تقریر کی آزادی باقی تھی اور نہ تحریر کی آزادی کا وجود تھا۔ اس قسم کا سکوتِ مرگ طاری کرکے اور اس طرح لوگوں کے قلم اور زبان پر پہرے بٹھا دینے کے بعد اوڈوائر نے گویا یہ سمجھ لیا تھا کہ پنجاب کے باشندے اس کے زیرسایہ بالکل مطمئن اور خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں۔{ FR 854 }
یہ تھا وہ سلوک جو اس ملک کے باشندوں کے ساتھ سامراجی حکمران کر رہے تھے۔ ظلم کا یہ خونیں ڈراما پورے ملک میں کھیلا جارہا تھا۔ غم کسی ایک غنچے کا نہیں، رونا پورے گلستان کا تھا۔ ظلم و استبداد کی آکاس بیل پورے چمنِ ہند پر چھا گئی تھی اور اہلِ نظر خون کے آنسو رو رہے تھے۔
ظلم و استبداد کی یہ خوں چکاں داستان بڑی دل خراش بھی ہے اور نہایت عبرت انگیزبھی۔ لیکن اس کا ایک پہلو اتنا شرم ناک ہے کہ شیطان بھی اس پر عش عش کر اُٹھا ہوگا۔ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ استبداد اور ظلم تاویلات کے ریشمی لبادے اُوڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ظالم ہمیشہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں :جو کچھ ہم کر رہے ہیں، وہ عوام ہی کے فائدے اور بھلائی کی خاطر کر رہے ہیں۔ جو طریقِ حکمرانی انھوں نے اختیار کیا ہے وہ ملک کے حالات اور لوگوں کے مزاج کے بالکل مطابق ہے۔ صرف انھی کا بنایا ہوا نظام حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور جو کوئی ان کے ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے یا ان کے طریقے سے اختلاف کرتا ہے، وہ شرپسند، فسادی، ملک دشمن اور سولی چڑھا دینے کے لائق ہے۔ آزادیوں پر پابندی بے حد ضروری ہے۔ جمہوریت کے لیے فضا سازگار نہیں ہے، حقوق کی بحث محض مفاد پرستوں کی اُٹھائی ہوئی ہے۔ انتخابات اور عوام کے حق راے دہی کے مطالبے محض سیاسی ڈھکوسلے ہیں۔ نمایندہ اداروں میں عوام کے منتخب اور معتمدعلیہ لوگوں کو لیے جانے کے مطالبے محض خودغرضی پر مبنی ہیں اور سیاسی انتشار پیدا کرنے کے لیے ہیں اور ان سب باتوں کا مقصد حکومت کے وقار اور حقِ حکمرانی کو مجروح کرنا ہے۔ اصل مسئلہ نہ آزادی سے متعلق ہے اور نہ حقوق، نمایندگی، انتخابات یا جمہوریت سے کچھ تعلق رکھتا ہے۔ اصل ضرورت تو بس مضبوط حکومت اور معاشی ترقی اور خوش حالی کی ہے، اور ساری سیاسی فتنہ انگیزی صرف اس لیے ہے کہ توجہ ان اصل اُمور سے ہٹ کر آزادی اور سیاسی حقوق جیسے لایعنی نعروں پہ لگ جائے اور انتشار رُونما ہو!
ظالم اپنے ظلم کے لیے ایسی ہی تاویلیں تراشتے ہیں، جن کی بنیاد پر ان کا اقتدار استبداد پر قائم ہو۔ اپنی ہر زیادتی کے لیے وہ ایسے ہی جوازپیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہرذلیل سے ذلیل حرکت کو خوش نما بنا کر پیش کرنے ہی کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسروں کی نیتوں پر بے دریغ حملے کرتے ہیں اور آزادی، جمہوریت اور عوامی اصلاح کی ہر تحریک کی مخالفت کرتے ہیں، اس کا مذاق اُڑاتے ہیں، اس کا راستہ روکتے ہیں، اسے نقصان دہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نظامِ ظلم ہی میں عوام کے لیے ’خیروفلاح‘ کے پہلو نکال نکال کر دکھاتے ہیں۔
یہ ہے وہ ذہن، جس سے سامراجی حکمرانوں نے اس ملک پر ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک حکومت کی، اور جب حالات سے تنگ آکر انھیں اقتدار چھوڑنا پڑا، تب بھی وہ ملک پر احسان رکھ کر رخصت ہوئے۔ آیئے، سامراجیوں، جباروں اور ظالموں کے ذہن کے اس پہلو پر بھی ایک سرسری نگاہ ڈالیں، تاکہ تاریخ برعظیم کا یہ گوشہ بھی ہمارے سامنے آجائے۔
سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ ظالم جو کچھ بھی کرتا ہے،وہ یہ باور کرانے پر زور لگاتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ ’احساسِ فرض‘ سے مجبور ہوکر کرتا ہے، جو بالکل صحیح ہوتا ہے۔ اس سے غلطی سرزد نہیں ہوتی۔ وہ پورے اعتماد کے ساتھ سارا کھیل کھیلتا ہے اور اسی میں دوسروں کی فلاح سمجھتا ہے۔ دیکھیے جنرل ڈائر، جلیانوالہ باغ کے خونیں ہنگامے کی تحقیقات کرنے والی ’ہنٹر کمیٹی‘ کے سامنے شہادت دیتے ہوئے کیا کہتا ہے؟
سوال: مسٹر جسٹس رنکن: معاف کیجیے جنرل، اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ آپ کی جلیانوالہ باغ میں کل کارروائی خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کی گئی تھی، تو؟
جواب:جنرل ڈائر: نہیں، بالکل ایسا نہیں تھا۔ مجھے ایک بہت اندوہناک فرض (duty) ادا کرنا تھا۔میرا خیال یہ ہے کہ جوکچھ میں نے کیا وہ ایک رحم دلانہ اقدام (merciful thing) تھا۔ کیوں کہ مَیں سمجھتا تھا کہ مجھ کو گولی چلانی ہے اور سخت گولی چلانی ہے تاکہ میرے بعد کسی اور کو گولی چلانے کی ضرورت نہ پڑے۔یہ بالکل ممکن ہے کہ میں مجمعے کو گولی چلائے بغیر منتشر کردیتا، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ تھوڑی دیر بعد دوبارہ جمع ہوجاتے اور ٹھٹھے لگاتے اور میں بے وقوف بن کر رہ گیا ہوتا۔
واقعی لوگوں کو ہنسنے کا موقع دینے سے بڑا ’جرم‘ اور کیا ہوسکتا ہے؟ جو کام خون کی ایک بوند بھی بہائے بغیر ہوجائے، اس سے بھلا شانِ حکمرانی کا اظہار کہاں ہوسکتا ہے؟ اور پھر کمزور اور بے وقوف عوام، صاحب ِ اختیار حکمرانوں کا مذاق اُڑائیں، یوں انھیں بے وقوف بنائیں؟ ان کا تو علاج ہی یہ ہے کہ ان کو توپ سے اُڑا دیا جائے، گولیوں کی بوچھاڑ سے بھون ڈالا جائے تاکہ یہ سراُٹھانے کے لائق ہی نہ رہیں، اور یہ ’رحم دلانہ‘ کام احساسِ فرض کے ساتھ انجام دو، کہ خون میں تڑپتی ہوئی لاشوں کا رقص، نہتے اور پُرامن انسانوں کی ہنسی ٹھٹھے سے زیادہ خوش کن ہوتا ہے۔ جب تک پانی کی جگہ خون نہ بہالیا جائے، ظالم کی پیاس نہیں بجھتی!
پھر سامراجی حکمران اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ملک جمہوریت کے لیے قطعاً ناسازگار ہے۔ عوام میں اتنا شعور نہیں کہ اپنا مفاد خود سمجھ سکیں۔ اس لیے انھیں ’سیاسی مائی باپ‘ کی ضرورت ہے، جو ان ناپختہ ، ناسمجھ، نابالغ اور آسانی سے گمراہ ہوجانے والے عوام کو ان کا ’بھلا‘ سمجھائے اور یہ سمجھیں یہ نہ سمجھیں، مگر حکمران انھی کے ’بھلے ‘کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں اور زبردستی ان سے وہ کچھ کرائیں، جسے یہ اپنی نادانی میں بُرا سمجھ رہے ہیں۔ اصل ’خیرخواہ‘ تو وہی ہے، جو نادانوں کی بات کو نظرانداز کرکے وہی کرے، جو اس کے خیال میں ان کے لیے بہترہے۔
یہی ہے وہ راگ جو سامراجی دورِ استبداد کے حکمران برابر الاپتے رہے، ملک اور ملک سے باہر ان کے ہم نوا دانش ور، مفکر، مصلح،معلم اور صحافی سب اس آواز میں آواز ملاتے رہے۔ یہاں صرف چند نمایندہ مثالیں دی جاتی ہیں، ورنہ اس پہلو سے تو اتنا مواد ہے کہ اس سے متعدد کتابیں تیار ہوسکتی ہیں۔
برطانیہ کے مشہور آزاد خیال مدبر جان مورلے [۱۸۳۸ء-۱۹۲۳ء] نے بیان دیا: ’’ہندستان کے لیے جمہوریت قطعاً مفید نہیں، صرف مستقبل قریب ہی میں نہیں بلکہ میں تو صاف دیکھتا ہوں کہ مستقبل بعید میں بھی اس کا کوئی امکان نہیں کہ یہ خطّۂ زمین جمہوریت کے لیے سازگار ہوسکے‘‘۔
برطانیہ کے استعماری اور آمرانہ ذہن کا بہترین ترجمان پنجاب کا لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل اوڈوائر تھا۔ اس کی تمام تقاریر و تحریریں ایک استبدادی ذہن کی آئینہ دار ہیں۔ ہم چند اہم قومی مواقع پر اس کی تقاریر سے بطورِ نمونہ دو چار اقتباس پیش کرتے ہیں، تاکہ ظالم سامراجی حکمرانوں کا ذہن پوری طرح بے نقاب ہوجائے۔ اس سے ان کے استدلال کے طریقے، عوامی تحریکات اور مطالبات پر ان کا ردعمل اور لوگوں کو مطمئن کرنے (یعنی بے وقوف بنانے یا دراصل خود بے وقوف بننے) کے حربے بے نقاب ہوتے ہیں۔
گورنری کے عہدے پر متمکن ہونے کے بعد اوڈوائر نے حالات کا جائزہ لیا، تو آزادی اور جمہوری اختیارات کی تحریک اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھی اور اس نے طے کرلیا کہ وہ حکومتی استحکام اور عوام کی فلاح کا ایک فلسفہ گھڑ کر تحریک ِ آزادی کے چہرے پر کالک مل کر رہے گا۔ ایسی کسی چیز کوبرداشت کرنا نظامِ ظلم کی فطرت کے خلاف ہے لیکن ظالموں اور فرعونوں میں اتنی اخلاقی جرأت کہاں کہ صاف صاف اس کا اعتراف کریں۔ اب یہاں دیکھیے انگریز گورنر اوڈوائر کی نکتہ آفرینیاں:
مجھے صوبائی حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ میرے پاس بعض لوگوں نے ایسی تجاویز بھیجنا شروع کر دی ہیں، جن کا مقصد یہ ہے کہ آیندہ اس صوبے کے نظم و نسق میں کیا کیا اصلاحات ہونی چاہییں۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت ِ خود اختیاری کے حصول کے لیے عوام جو اُمیدیں اور آرزوئیں قائم کیے بیٹھے ہیں، مجھے ان کی پذیرائی کیونکر کرنی چاہیے۔ عدالتی اور انتظامی اُمور کو ایک دوسرے سے الگ کر دینے کی بھی تحریک ہورہی ہے۔ میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی خیالی اور غیرحقیقی باتیں اپنی جگہ کتنی ہی دل کش اور جاذبِ نظر کیوں نہ ہوں، اَمرِواقعہ یہ ہے کہ حکومت کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کی جائے۔ اگر یہ مختلف تجویزیں [یعنی جمہوری تقاضوں کی تجاویز] بھیجنے والے لوگ مجھے یہ بتاتے کہ حکومت کو اپنے اصل مقصد سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کون سے بہتر ذرائع اختیار کرنے چاہییں، تو وہ اپنی قوم اور صوبے پر زیادہ احسان کرتے۔
جب اس ’قیمتی نصیحت‘ کا کوئی خاص اثر نہ ہوا اور جمہوری اداروں کا مطالبہ بڑھتا چلا گیا، عوام کی نمایندگی کے لیے ہر طرف سے آوازیں اُٹھنے لگیں اور گورنر سے نمایندہ انتظامی کو نسل کی ضرورت پر شدت سے اصرار کیاجانے لگا، تو اوڈوائر صاحب کو سخت غصہ آیا اور وہ ’استحکام‘ اور ’ترقی‘ کا سہارا لے کر عوام پر یوں برسے:
مجھے یہ تجویز سن کر بے حد تعجب ہوا ہے۔ اس صوبے کے لوگ ابتدا سے لیفٹیننٹ گورنر کو صوبے کا تنہا حاکمِ اعلیٰ اور یہاں کے نظم و نسق کا بلاشرکت غیرے واحد ذمہ دار سمجھنے کے عادی ہیں۔ اس نظام کے تحت پنجاب نے خوب ترقی کی ہے اور مَیں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس ضمن میں پنجاب، ہندستان کے کسی صوبے سے پیچھے نہیں رہا۔ پھر بتایئے کہ انتظامی کونسل کی کیا ضرورت ہے؟
گویا کہ فی الحقیقت ایسے ’استحکام‘ اور ایسی ’ترقی‘ کی موجودگی میں نمایندہ کونسلوں ، اور جواب دہ اداروں کے مطالبے کا مقصد بجز ’انتشار‘ پھیلانے کے اور کیا ہوسکتا ہے!
بات انتظامی کونسل ہی کے مطالبے پر نہ رُکی، بلکہ نمایندہ قانون ساز اسمبلی، آزاد انتخابات اور عوام کے حق راے دہی تک پہنچی۔ اب تو تنہا حاکمِ اعلیٰ اور بلاشرکت غیرے واحد ذمہ دار صاحب کا پارہ ہی چڑھ گیا۔ گویا ہوئے:
آج کل یہ عالم ہے کہ چاروں طرف سے سیاسی تقریروں کا شور سن کر ہمارے کان بہرے ہوئے جارہے ہیں اور سیاسی دستاویزوں اور یادداشتوں کی بھرمار دیکھ دیکھ کر ہماری آنکھیں چندھیائی جارہی ہیں۔ کیا اس شوروشغب میں میرا یہ کہنا مناسب نہیں کہ اس طوفانِ بدتمیزی کو ختم کر کے ہمیں اپنے دل و دماغ کو لایعنی تصورات اور بے مصرف توہمات سے پاک کر دینا چاہیے، اور لمحے بھر کے لیے سوچنا چاہیے کہ آخر اس ساری سیاسی شعبدہ بازی کا ان غریب دیہاتیوں کو کیا فائدہ پہنچے گا، جن کی زندگیاں ہل چلانے، فصلیں بونے اور پھر ان فصلوں کو آفاتِ ارضی و سماوی سے محفوظ رکھنے کے لیے وقف ہوچکی ہیں۔
اللہ اللہ ، دیہاتیوں کی قسمت کہ کون ان کے حقوق، قوم کو یاد دلارہاہے!
لیکن اسے کیا کہیے کہ ’سیاسی شعبدہ بازوں‘ کے ’لایعنی تصورات‘ برابر مقبول ہوتے گئے اور سیاسی اصلاحات کے لیے حکومت کو کمیٹی پر کمیٹی اور کمیشن پر کمیشن بٹھانے پڑے۔ ’مانٹی گوچیمس فورڈ کمیشن‘ قائم ہوا اور اوڈوائر بھی اس کا معزز رکن تھا۔ تمام حالات کا جائزہ لے کر کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ عوام کو کچھ نہ کچھ حقوق دینے پڑیںگے اور کسی نہ کسی درجے میںعوامی نمایندگی کا اہتمام کرنا ہوگا۔ کمیشن ہزار سرکاری سہی، اور سرکار ہی کے نامزد افراد پر مشتمل سہی، لیکن حقائق سے کہاں تک چشم پوشی کرسکتا ہے؟
مگر واہ رَے ’دیہاتیوں کی فلاح‘ اور ’عوام کے مفاد‘ کا محافظ! کمیشن کچھ بھی کہے گورنر اوڈوائر اپنی بات پر قائم ہے۔اختلافی نوٹ میں اوڈوائر نے نام لے لے کر مسٹر محمدعلی جناح ، ڈاکٹر اینی بیسنٹ [م:۲۰ستمبر ۱۹۳۳ء] اور راجا صاحب محمود آباد [م:۲۳مارچ ۱۹۳۱ء]کوبُرا بھلا کہا۔ اس نے ان لیڈروں کی نیتوں پر حملہ کرکے انھیں خودغرض اور شورش پسند قرار دیا۔ ہوم رول تحریک کی جی بھر کر مذمت کی اور ملک کے تعلیم یافتہ طبقے کو عوام کا بدخواہ ظاہر کیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کو اس نے ایک نہایت غیرنمایندہ جماعت قرار دے کر حکومت کو متنبہ کیا کہ مسلم لیگ نے مسلمان عوام کی نمایندگی کا جو دعویٰ کیا ہے، وہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اور آخر میں لکھا:
یہ امر بالکل واضح ہے کہ اصلاحات کا تقاضا ملک کے عوام نے بالکل نہیں کیا۔ حالاںکہ عوام ہی کے مفاد کی نگہداشت حکومت کا فرض اوّلین ہونا چاہیے۔ یہ مطالبہ ہندستان کے باشندوں کی ایک نہایت قلیل تعداد کی طرف سے پیش ہوا ہے، جو محض اپنی ذاتی اغراض کی وجہ سے اقتدار کی خواہاں اور عہدوں کی بھوکی ہے۔ اگر ہمیں اپنے اس عہد کا کچھ پاس ہے، جو ہم نے ہندستان کی بے زبان مخلوق کی حفاظت کے لیے کیا تھا تو بلاشبہہ ہمارا یہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم اس بے زبان رعایا کے مفاد کو مقدم درجہ عطا کریں، اور سیاسی لیڈروں کے شوروشغب کی کچھ پروا نہ کریں، خواہ وہ اس شور سے قیامت ہی کیوں نہ برپا کردیں۔ میں یہاں[ایڈمنڈ] برک [م: ۹جولائی ۱۷۹۷ء]کے وہ یادگار الفاظ درج کرنے پر مجبور ہوں کہ: اگر میدان کے کسی گوشے میں جھاڑی کے نیچے نصف درجن ٹڈے جمع ہوکر اپنی ٹیں ٹیں کے مکروہ شور سے آسمان سر پر اُٹھا لیں اور اسی میدان میںشاہِ بلوط کے اُونچے اُونچے سایہ دار درختوں کے نیچے سیکڑوں گائے، بھینسیں اطمینان سے بیٹھی جگالی کر رہی ہوں، تو ہمیں اس غلط فہمی میں ہرگز مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ میدان میںصرف چیخ پکار کرنے والے ٹڈے ہی آباد ہیں۔ اس سارے قضیے میں جو چیز بالکل عیاں اور واضح ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ان مجوزہ اصلاحات کا خاکہ تیار کرنے میں ہمارے سامنے صرف تعلیم یافتہ جماعت کے ایک محدود طبقےکی خوش نودی تھی۔ کیا ہمارا یہ فعل کسی اعتبار سے عقل مندی یا دانائی کی دلیل سمجھا جاسکتا ہے؟تعلیم یافتہ جماعت کا یہ محدود طبقہ، جس کی خوش نودی کو ہم نے ہرحال میں مقدم سمجھ رکھا ہے، یہ دیہات کے عوام کی نمایندگی کا بھی دعوے دار ہے، حالاں کہ یہ دعویٰ قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے۔
میرے اس قول کی صداقت کو آزمانے کے لیے آپ جو معیار چاہیں مقرر کرلیں، اس میں: مذہبی فسادات کی روک تھام کا سوال ہو یا فرقہ وارانہ اختلافات کو مٹانے کا مسئلہ درپیش ہو، فوجی بھرتی کے لیے رنگروٹوں کی فراہمی کا معاملہ ہو یا ملک کے دفاع کا سوال پیش نظر ہو، ہرحال اور ہرصورت میں شہروں کے تعلیم یافتہ سیاسی لیڈر آگے آنے کے بجاے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک وقوم کے لیے مفید اور نفع بخش تحریکوں میں شرکت کرنا یہ لوگ گناہ سمجھتے ہیں۔ ہاں، جہاں فتنہ و فسادبرپا کرنے یا شرانگیزی کی آگ بھڑکانے کی گنجایش ہوگی، آپ ان کو ہمیشہ آگے آگے پائیں گے۔
کیا آپ سمجھے کہ یہ ’فتنہ و فساد اور شرانگیزی کی آگ بھڑکانے والے‘ کون ہیں؟ تاجِ برطانیہ کے سرخیل سر مائیکل اوڈوائر، مسلم قائدین کی نیتوں پر حملے کرتے ہیں۔ ظالم حکمرانوں کا خاصا ہے کہ وہ صرف تعمیری اور اصلاحی تحریکوںکی مخالفت ہی نہیں کرتے بلکہ اپنے معزز مخالفین کو بدنیت اور بدقماش بھی کہتے ہیں۔ وہ اپنی آنکھ کے بڑے بڑے شہتیروں کو نظرانداز کردیتے ہیں اور دوسروں کی آنکھ میں کوئی تنکا نہ بھی ہوتو وہاں ان کو شہتیر ہی شہتیر نظر آنے لگتے ہیں اور ظالم حکمرانوں کو چبھتے بھی ہیں۔
اوڈوائر ہر بے ہودہ سے بے ہودہ اور ظالمانہ سے ظالمانہ قانون کی مدافعت کے لیے سینہ سپر ہوجاتا ہے۔ رولٹ ایکٹ جو انتہائی سفاکانہ قانون تھا، جس کے متعلق سارا ملک چیخ اُٹھا تھا اور جسے وائسراے ہند کو اپنے خصوصی اختیارات سے نافذ کرنا پڑا تھا کہ انگریزوں کے اپنے ادارے (قانون ساز اسمبلی) کے غیرسرکاری ارکان میں سے ایک بھی تائید کے لیے تیار نہ تھا (کم از کم اس وقت اتنی غیرت تو تھی)۔ جس کے استبدادی انداز سے (arbitrarily) نافذ کرنے پر قائداعظم نے مرکزی اسمبلی سے بطورِ احتجاج استعفا دے دیا تھا اور جس کے ظالمانہ ہونے کا احساس خود گورنمنٹ کوبھی اس درجہ تھا کہ ’راج ہٹ‘ میں اسے منظور تو کرلیا، لیکن عالم گیر احتجاج کے پیش نظر اس کی پوری مدتِ عمر جو تین برس تھی، اس میں ایک بھی اقدام نہ کیا۔اس گھنائونے قانون کی مدافعت کے لیے عوام کے ’مفاد کا محافظ‘ سر مائیکل اوڈوائر اس نفرت بھرے ذہن کے ساتھ کلام کرتاہے:
آپ نے گذشتہ ہفتوں کے واقعات [اشارہ ہے ’رولٹ ایکٹ‘ کے خلاف ملک گیر احتجاج اور اس کےبعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کی طرف جس میں جلیانوالہ باغ کا خونیں واقعہ بھی شامل ہے] اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے ہیں کہ ایک ایسے قانون کو، جو لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے وضع کیا گیا تھا اور جس کا تنہا مقصد یہ تھا کہ بدامنی اور بغاوت کے طوفان کا سدباب کیا جائے، کس کس انداز سے توڑ مروڑ کر اور مسخ شدہ صورت میں عوام کے سامنے پیش کیا جارہا ہے، تاکہ جھوٹ پر مبنی ان ہتھکنڈوں سے لوگوں کو گمراہ کرنے میں آسانی ہو۔ یہ سب کچھ ایک ایسے طبقے کے افراد کر رہے ہیں، جن کی تعداد بے حد قلیل ہے، لیکن شور مچانے اور چیخ پکار کرنے میں بہت ماہر ہیں۔ یہ لوگ اس قانون کو ایک خطرناک ہوّا بناکر عوام کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں، حالاں کہ اس قانون کا مقصد صرف یہ ہے کہ غیرمعمولی حالات میں عوام کے جان و مال کی حفاظت کیوں کر کی جاسکے۔ موجودہ تحریک بے معنی اور غلط ہے۔ تحریک چلانے والوں کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کے خلاف بددلی پھیلائی جائے اور سرکار[برطانیہ] کے نمک خواروں کو ذلیل کیا جائے۔ حکومت کے وفادار باشندوں کا فرض ہے کہ وہ اس شرانگیز تحریک کا مقابلہ کریں۔ آپ کے سیاسی خیالات کچھ بھی ہوں، آپ کا فرض ہے کہ حکومت کے دست و بازو بن کر موجودہ تحریک کو کچلنے میں ہماری مدد کریں۔{ FR 871 }
افسوس اس کا نہیں کہ اوڈوائر نے ایسی لچر،پوچ اور خیانت سے لبریز بات کہی۔ افسوس اس کا ہے کہ اہلِ ملک ہی میں سے اسے استبداد کے ہاتھ مضبوط کرنے والے مل گئے۔
جب حالات قابو میں آتے دکھائی نہیں دیتے ہیں تو سامراج کا گلِ سرسبد اور ظلم کا پیکر سرمائیکل اوڈوائر خون کی ندیاں بہانے کے لیے بھی آمادہ ہوجاتا ہے اور اس ’کارِخیر‘ کے لیے بھی اہلِ وطن ہی کی مدد حاصل کرتا ہے۔ اسی طویل تقریر میں آگے جاکر کہتا ہے:
حالات نازک صورت اختیار کرتے جارہے ہیں اور فوری اقدام کے محتاج ہیں۔ اب آپ مزید تامل نہ کیجیے اور فوراً کمرہمت باندھ لیجیے۔ حکومت نے تو گومگو کی پالیسی ترک کر دی ہے۔ آپ بھی اُٹھ کھڑے ہوں ، حکومت اس مہم میں ہرلمحہ آپ کے لیے پشت پناہ ثابت ہوگی۔ حکومت نے قانون کے نفاذ کا مصمم ارادہ کرلیا ہے، خواہ اس کام میں خون کی ندیاں کیوں نہ بہہ جائیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو یاد رکھنا چاہیے کہ اس تمام خون خرابے کی ذمہ داری ہم پر نہیں، بلکہ ان پر عائد ہوگی جو قانون شکنی کی تلقین کررہے ہیں[یعنی جو رولٹ ایکٹ کی مخالفت کی تحریک چلا رہے ہیں]۔
سرمائیکل اوڈوائر ایک فرد نہیں، بلکہ وہ استعمار کی زبان ہے، ظلم کا نمایندہ ہے، نظامِ استبداد کا ترجمان ہے اور اس کا ذہن آمریت کے ذہن کا آئینہ دار ہے۔ اس کی تقاریر میں وہ پوری فکر موجود ہے، جس کی حکمرانی برعظیم پاک و ہند پر رہی ہے اور جو ہمیشہ سے اربابِ ظلم کی ذہنیت رہی ہے۔ ایک ہی طرز پر سوچنے اور کام کرنے سے یہ ذہن اتنا پختہ ہوجاتاہے کہ صرف دوسروں ہی کے سامنے جھوٹ کو سچ، ظلم کو رحم اور استبداد کو استحکام بناکر پیش نہیں کرتا، بلکہ اپنے کو بھی دھوکا دینے لگتاہے اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ: ’’غلام اپنی زنجیروں سے محبت کرنے لگے ہیں اور ان کا قائم کردہ آمرانہ نظام دراصل ایک جمہوری اور نمایندہ نظام ہے اور عام انسانوں کی خواہش کےعین مطابق ہے‘‘۔
لارڈ لیٹن جو بڑے جمہوریت پسند اور برطانوی لبرل پارٹی کے ایک لیڈر تھے۔ وہ ہندستان میں ایک صوبے کے گورنر کے فرائض بھی انجام دے چکےتھے۔ ۱۹۳۵ء کے ’قانونِ ہند‘ کے آنے سے کچھ ہی قبل، اس وقت جب پورے ملک میں سیاسی بیداری کا غلغلہ تھا اور نمایندہ حکومت اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ ہورہا تھا، ہائوس آف لارڈز میں نہایت ڈھٹائی کے ساتھ فرماتے ہیں:
ہندستان کے سیاست دانوں اور کانگریس کے مقابلے میں حکومت ِ ہند کہیں زیادہ نمایندہ ہے۔ یہ حکومت سرکاری حکام، فوج، پولیس، نوابوں اور مہاراجوں اور ہندوئوں اور مسلمانوں کی فوجی یونٹوں کے نام پر اور ان کی طرف سے گفتگو کرسکتی ہے۔ مَیں جب ہندستان کی راے عامہ کی بات کرتا ہوں تو میری مراد وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کے تعاون پر مجھے بھروسا کرنا ہوتا ہے اور جن کے تعاون پر آیندہ کے وائسراے اور گورنروں کو اعتماد کرنا ہوگا۔
یہ ہے وہ فلسفۂ حاکمیت جو استعماری حکمرانوں نے وضع کیا، ظلم و استبداد اور آمریت کے انتہائی گھنائونے نظام کا نام ’جمہوریت‘ اور ’نمایندہ حکومت‘ رکھا، اور عوام کے نام پر ان کے مفاد کا نعرہ لگاکر انھی کا گلا گھونٹنے اور ان کو اُلٹی چھری سے ذبح کرنے کی سعی کی۔
یہ سامراجی دورِ اقتدار، نفاق، سیاسی دھوکے بازی اور بین الاقوامی غنڈا گردی کی بدترین مثال پیش کرتا ہے۔ اس کے ریکارڈ پر ایک نگاہ ڈالنے سے انسانیت شرم سے پانی پانی ہوجاتی ہے، ضمیر بغاوت کرتا ہے اور روح کانپ اُٹھتی ہے کہ انسان شیطان کا اتنا بڑا حلیف بھی بن سکتا ہے بلکہ اس سے دوچار ہاتھ آگے بھی نکل سکتا ہے۔
اس گھر کو آگ لگ گئی…
اس شرم ناک داستان کا ابھی ایک باب اور بھی ہے، جو انتہائی کریہہ اور گھنائونا ہے اور جس کے ذکر پر آنکھیں شرم سے جھک جاتی اور خون کے آنسو بہاتی ہیں۔ یہ ہے انگریزوں کے ہندستانی وفاداروں کا کردار!
اگر ظالم حکمران ہماری ہڈی پسلی ایک کر دیتے اور ایک ایک فرد کو ذبح کرڈالتے تو انسانیت خواہ اس پر کتنا ہی ماتم کرتی، لیکن اہلِ وطن کے لیے شرم و ندامت کا کوئی موقع نہ ہوتا___ اپنا سر فخر سے بلند کرکے کہہ سکتے کہ: ’’غیروں نے ہمارے اُوپر ظلم کیا اور ہم نے سینہ سپر ہوکر اس کا مقابلہ کیا‘‘۔
باعث ِ افتخار ہیں وہ مظلوم جنھوں نے اپنی جانیں دے دیں لیکن اپنے ضمیر نہیں بیچے۔ لیکن افسوس کہ خاکِ وطن ہی سے کچھ ایسے بے ضمیر بھی نکل آئے، جو ظالموں کا آلۂ کار بنے اور اس وقت جب استعمار اور استبداد کے نمایندے ابناے وطن کا گلا گھونٹ رہے تھے، انھوں نے فیصلہ کیا کہ ان ظالموں کے ہاتھ مضبوط کریں گے، تاکہ وہ مظلوموں کا گلا اور بھی قوت کے ساتھ گھونٹ سکیں، آہ!
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم و ننگِ دیں، ننگِ وطن
ملک کے غدار، سامراج کے وفادار
سامراجیوں کو آخری وقت تک ’میرجعفروں‘ اور ’میرصادقوں‘ کی بِس بھری فصل ملتی رہی اور انھوں نے ملک و ملّت کے ساتھ غداری ہی نہیں کی، بلکہ اپنی اس وفادار ذُریت کو بھی زندگی کے ہرشعبے پر مسلط کرنے اور آگے بڑھانے کی منظم اور مربوط کوشش کی۔ سفاک رومی شہنشاہ نیرو [م:۶۸ء] کا صرف یہ جرم تھا کہ جب روم جل رہا تھا تو وہ بانسری بجا رہا تھا، مگر پاک و ہند کے نیرو صرف بانسری ہی نہیں بجا رہے تھے بلکہ آگ پر تیل بھی چھڑک رہے تھے اور شعلوں کے اُٹھنے اور مظلوموں کے کراہنے اور چیخنے سے جو خوف ناک منظر رُونما ہورہا تھا، اس کے ’حُسن و جمال‘ کی تعریف میں تقریریں بھی کر رہے تھے۔ دل پر جبر کرکے اپنی تاریخ کے اس سیاہ باب سے بھی چند منتشر اوراق یہاں پیش کیے جارہے ہیں، تاکہ اس طبقے کا رُخِ کردار بھی سامنے رہے۔
اگر ملکی غدار انگریزوں کا ساتھ نہ دیتے تو وہ ہندستان کو کبھی فتح نہ کرسکتے تھے۔ ان کو یہاں سے مخبر اور فوجی ہی نہ ملے بلکہ اعلیٰ سرکاری افسر بھی مل گئے، جنھوں نے ملک اور حکومت سے غداری کی اور وطن کے دروازے غیروں کے لیے کھول دیے۔ نواب سراج الدولہ اور فتح علی ٹیپو سلطان [۱۷۵۰ء-۴مئی ۱۷۹۹ء] کو انگریزوں کی قوت نے زیر نہیں کیا، ان کی چالاکی اور عیاری اور اپنوں کی بے وفائی اور غداری نے شکست سے دوچار کیا، اور جب حفاظت و دفاع کی یہ دونوں مضبوط فصیلیں ٹوٹ گئیں تو انگریز پورے ملک پر حکمران ہوگیا ع
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
انگریز کے پورے دورِ اقتدار میں ’سرکار پرستوں‘ کا ایک طبقہ تھا، جو استعماری حکمرانوں کے آگے پیچھے پھرتا رہا اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کے اقتدار کو مستحکم کرنے میں مصروف رہا۔
سامراج کے خلاف خفیہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا، تو اپنوں نے مخبری کی۔ مولانا محمودحسن صاحب [۱۸۵۱ء-۱۹۲۰ء] کی انقلابی سرگرمیوں سے دیوبند ہی کے چند طلبہ نے انگریزی حکومت کو مطلع کیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی [۱۸۷۲ء-۱۹۴۴ء]کو جو رقوم مولانا شوکت علی [۱۸۷۳ء- ۱۹۳۸ء] نے افغانستان اور عرب دنیا میں کام کرنے کے لیے بھیجی تھیں، ان کا راز انھی کے ایک بدبخت شاگرد نے فاش کیا۔ آزادی کے حصول کی کم و بیش تمام قومی تحریکوں میں انگریزوں کے جاسوس گھسے ہوئے تھے اور ان سرفروشوں کی سرگرمیوں سے ان کو باخبر رکھتے تھے۔ پھر انگریز کی وفاداری اور اس کے راج کی ’برکات‘ کو بیان کرنے کے لیے سیکڑوں افراد نے اپنی خدمات پیش کر رکھی تھیں اور عوام کو افیون کی یہ گولی کھلائی گئی کہ: ’’مزے سے زندگی گزارو، آزادی اور غلامی کے چکّر میں پڑکر اپنی دُنیا کیوں خراب کرتے ہو؟‘‘
باطل نظام میں حصہ ڈالنے اور معمولی سے معمولی مناصب کے لیے بھاگ دوڑ کرنے اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خدمت اور وفاداری کا یقین دلانے کا کام بھی ایک طبقے نے انجام دیا اور اس طبقے کے لیے: خان صاحب، خان بہادر، راے بہادر، سردار بہادر اور نائٹ ہوڈ کے اعزازات وضع کیے گئے۔ اگر انگریز حاکم، اہلِ ہند کو انتظامیہ میں لینے پر مجبور ہوا تو یہی لوگ اس کے خدمت گزار بن کر سامنے آئے اور انگریز کے نمک خوار کی حیثیت سے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ آزادی اور جمہوریت کی تحریک کو کچلنے، اس کی راہ میں روڑے اٹکانے اور لوگوں کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ ’’انگریز کے راج میں ہرقسم کی آزادی ہے‘‘، اس طبقے نے وہ وہ باتیں گھڑ لیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے، مثال کے طور پر:
یہ ہے وہ طبقہ، جس کا کردار برعظیم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ اس نے آزادی کی جنگ کو کمزورکرنے کی ہرممکن کوشش کی۔ اس کی وجہ سے آزادی کی جدوجہد غیر ضروری طور پر طویل اور صبرآزما ہوئی۔ اس کی بنا پر انگریز اپنے اقتدار کو ایک طویل مدت تک کھینچ سکا اور اہلِ وطن پر مظالم و شدائد کے پہاڑ توڑ سکا۔ سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ، جب آخرکار انگریز کا اقتدار ختم ہوتا نظر آیا اور قومی حکومتیں بننے لگیں، تو یہی طبقہ پوری بے شرمی اور عیاری کے ساتھ انھی تحریکوں میں شامل بھی ہوگیا۔ اسے اپنا مسلک بدلنے میں اتنی دیر بھی نہ لگی جتنی کوٹ بدلنے میں لگتی ہے۔ اس نے یہ سب کچھ کیا اور ضمیر کی کوئی چبھن محسوس نہ کی:
یہ مسجد ہے، یہ میخانہ ، تعجب اس پہ آتا ہے
جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
اس طبقے کے کردار پر بہترین تبصرہ خود اسی کے ایک ولیِ نعمت مسٹر لائیڈ جارج [۱۸۶۳ء-۱۹۴۵ء] سابق وزیراعظم برطانیہ [۱۹۱۶ء-۱۹۲۲ء] کا یہ جملہ ہے:
Specimens of these changable reptiles who adopt their hue to their enviroments.
زمین پر رینگنے والے تغیر پذیر جانوروں کی وہ طرفہ مخلوق جو ہرماحول کے مطابق اپنے رنگ بد ل لیتی ہے۔
اقتدار کے سورج کو نئے محور پر گردش کرتے دیکھ کر اس طبقے نے بلاشبہہ اپنا رنگ بدل لیا۔ لیکن کیا اس کے سوچنے کا انداز،گفتگو کا طریقہ اور کام کرنے کے آداب بھی بدل گئے یا وہی پرانا ذہن باقی رہا؟ دورِ سامراج کی تربیت بڑی پختہ تھی اور جو طبقہ برطانیہ کی استعماری مشینری کا کُل پُرزہ تھا اس نے اپنا قبلہ تو ضرور بدلا مگر دل نہ بدلا۔اس میں وہی لات و منات موجود رہے اور اسی سامراجی ذہن نے اظہار کے لیے نئے نئے میدان تلاش کرلیے۔
یہاں پر صرف ایک مثال، پاکستان کے پہلے صدر [مارچ ۱۹۵۶ء-اکتوبر ۱۹۵۸ء] اسکندر مرزا کی تقریر سے پیش کی جارہی ہے، جس سے اس طبقے کی اصل ذہنی کیفیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ یہ ہے اُس شخص کی تقریر کا اقتباس، جو ملکِ عزیز کے اہم ترین منصب ِ صدارت پر فائز رہا۔اکتوبر ۱۹۵۸ء میں جس کو اقتدار سے ہٹائے جانے پر نہ صرف یہ کہ ایک آنکھ بھی نہ روئی اور ایک زبان بھی شکوہ سنج نہ ہوئی، بلکہ پوری قوم نے اطمینان کا سانس لیا۔ اسکندر مرزا ایک فرد نہیں ایک ذہن کے ترجمان تھے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ آج کل بڑے فخر سے استعمال کی جانے والی ایک اصطلاح میں ’ایک نظریہ‘ تھے۔ ذرا یہ بھی دیکھیے کہ ان کے سوچنے کے انداز اور بولنے کے طریقے میں اور جنرل اوڈوائر کے فکروگفتار میں کتنی یک رنگی اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ جناب اسکندر مرزا کا ارشاد (۳۱؍اکتوبر ۱۹۵۴ء) ہے:
اس ملک کے عوام کی عظیم اکثریت جاہل اور اَن پڑھ ہے۔ ان کو سیاست سے کوئی حقیقی دل چسپی نہیں ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کبھی کبھی نہایت احمقانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، جیساکہ مشرقی پاکستان کے حالیہ انتخابات [۱۹۵۴ء] میں انھوں نے اختیار کیا۔ اور پھر جیسا ان کے منتخب نمایندوں نے دستور ساز اسمبلی میں اختیار کیا۔ اس ملک کے عوام کی اصل ضرورت مضبوط اور مستحکم حکومت ہے، اسی لیے ابھی ایک مدت تک ان کو پابند اور محدود جمہوریت (Controlled Democracy) دی جانی چاہیے۔
دیکھیے، وہی ذہن کس طرح کام کر رہا ہے۔ جنرل اوڈوائر کی تقریر ہٹایئے اور اسکندر مرزا کی تقریر سامنے رکھیے، کوئی فرق آپ محسو س کرتے ہیں؟ ایک ہی ذہن ایک ہی زبان ہے، ایک ہی انداز ہے، ایک ہی قسم کے وعدے ہیں اور ایک ہی طرح استحکام، مضبوط حکومت اور عوام کے مفاد کا رونا ہے ع
انھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں، زبان میری ہے بات اُن کی
سامراج کے وحشیانہ استبداداور وطن کے چند ناخلف فرزندوں کی غداری نے حالات کو اتنا ابتر اور تاریک کر دیا تھا کہ ظلم و استعمار کی اس طویل رات کے ختم ہونے کا امکان نظر نہ آتا تھا۔ لیکن اللہ کی رحمتیں ہوں اُن مجاہدوں اور جان فروشوں پر، جنھوں نے ظلمت کے ان طوفانوں میں حق پرستی اور آزادی و جمہوریت کے چراغ روشن کیے اور اپنے خون سے ان کو تابندہ تر کیا۔ چمگادڑیں تو یہ منصوبہ بناچکی تھیں کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو، لیکن روشنی و نور کے علَم بردار اپنی جانوں پر کھیل کر بھی فضا کو منور کرنے میں مصروف رہے۔بالآخر مزاحمت کی ہوائیں چلیں جو تاریک بادلوں کو اُڑا کر لے گئیں اور آفتابِ آزادی ضوفشاں ہوا۔
ذرا چشمِ تصوّر سے ماضی کے تاریک دھندلکے میں دیکھیے، کیسے کیسے حسین جگنو چمکتے دکھائی دیتے ہیں اور کیسی کیسی شمعیں فضا کو منور کرنے کے لیے اپنے کو جلاتی نظر آتی ہیں:
ایسی چنگاری بھی یارب …
مولانا محمد علی جوہر [۱۸۷۸ء-۴جنوری ۱۹۳۱ء] کی قیادت میں تحریک ِ خلافت اور تحریک ِ عدم تعاون اُٹھتی ہے تو سارے ملک میں ایک تہلکہ مچ جاتا ہے۔ اوکسفرڈ اور کیمبرج یونی ورسٹیوں کے پڑھے ہوئے نوجوان ڈاڑھیاں رکھ لیتے ہیں۔ پوری قوم انگریزی لباس ترک کر دیتی ہے، سرکاری اسکولوں اور کالجوں کا بائیکاٹ کر دیتی ہے، ملازمتیں چھوڑ دیتی ہے۔ جذبۂ سرفروشی سے سرشار جوانانِ وطن جیلوں کو بھر دیتے ہیں اور اہلِ دولت اس فراخ دلی کے ساتھ ان تحریکوں کی مالی مدد کرتے ہیں کہ تقریباً ۲۰ہزار خاندانوں کی کئی سال تک مالی دست گیری کی جاتی ہے۔ ملک و قوم پر دولت نثار کرنے والوں میں ایسے بھی ہیں جو روپیہ لٹاکر لکھ پتی سے کنگال ہوگئے۔
گر اِک چراغِ حقیقت کو گل کیا تم نے
تو موجِ دود سے صد آفتاب اُبھریں گے
ایک وہ بھی اسپیکر تھے!
سرکار پرستوں میں سے بھی کچھ کا ضمیر جاگتا ہے، ان کو بے چین کردیتا ہے اور وہ اپنے خطابات واپس کردیتے ہیں، عہدے چھوڑ دیتے ہیں اور میدانِ عمل میں نکل آتے ہیں۔ صرف ایک مثال دیکھیے کہ مرکزی اسمبلی کے پہلے غیرسرکاری اسپیکرو ٹھل بھائی پٹیل نے ۱۹۳۰ء میں مستعفی ہوکر وائسراے کو لکھا:
میرے ہم وطن اس وقت موت اور زندگی کی کش مکش میں مبتلا ہیں۔ ملک کے سیکڑوں نام وَر لوگ جیلوں میں قید ہیں۔ ہزاروں اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار بیٹھے ہیں اور لاکھوں ایسے ہیں جو اس زبردست تحریک کی خاطر زندان کی کال کوٹھڑی میں جانے کو بخوشی آمادہ ہیں۔ جہادِ حُریت کی تاریخ کے اس نازک موقعے پر میرا یہ کام نہیں کہ اسمبلی کی کرسیِ صدارت پر بیٹھا رہوں، بلکہ میرا فرض یہ ہے کہ اپنے بھائیوں کے پہلو بہ پہلو آزادیِ وطن کی جنگ میں حصہ لوں۔
بھگت سنگھ [۱۹۰۷ء-۲۳ مارچ ۱۹۳۱ء] اور اس کے ساتھی سنٹرل جیل لاہور میں جس وقت مقدمے کی کارروائی کے دوران خوش الحانی کے ساتھ یہ ترانہ گاتے تھے کہ:
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوے قاتل میں ہے
تو اس ترانے سے کمرئہ عدالت ہی نہیں، پوری جیل کی فضا بدل جاتی تھی۔ جوش، تہور اور ایثار و سرفروشی کی چنگاریاں سنٹرل جیل کی دیواروں کو چیر کر نوجوانوں کو آتش بجاں اور شعلۂ بداماں کر دیتی تھیں۔ کونے کونے سے آزادی کے ترانے سنائی دیتے تھے ، کوڑے پڑتے تھے ، بَید لگتے تھے لیکن زبان سے یہی نغمے ارتعاش پیدا کرتے تھے۔
مَیں جیل اور گولی کے لیے تیار ہوں!
علّامہ محمد اقبال جن کی امن پسندی اور طبیعت کی خاموشی ضرب المثل تھی، وہ بھی ان حالات میں سرفروشی کے جذبے سے اس قدر سرشار تھے کہ قائداعظم کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’ذاتی طور پر مَیں ایک ایسے مسئلے کی خاطر جس کا تعلق اسلام اور ہندستان سے ہے، جیل جانے کو تیار ہوں۔
علّامہ اقبال دوسال سے صاحب ِ فراش تھے، سرگرم سماجی زندگی معطل تھی اورعملاً ہل جل نہیں سکتے تھے۔ لیکن مسجد شہید گنج کے واقعے پر ان کی طبیعت میں شدید بے چینی اور اشتعال تھا۔ وفات سے تین ماہ قبل ۲۶جنوری ۱۹۳۸ء کو ہائی کورٹ کے فل بنچ نے مسجد شہید گنج کی اپیل خارج کر دی تو مسلمانوں میں سخت ہیجان پیدا ہوگیا۔ اسی شام غلام رسول خاں نے ڈاکٹر محمداقبال کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ: ’’اب کیا کرنا چاہیے تو ڈاکٹرصاحب رو پڑے اور کہنے لگے:
مجھ سے کیا پوچھتے ہو میری چارپائی کو اپنے کندھوں پر اُٹھائو اور اس طرف لے چلو جدھر مسلمان جارہے ہیں۔ اگر گولی چلی تو میں ان کے ساتھ مروں گا۔{
اندھیرا چھٹتا ہـے!
انھی جاں فروشوں کے جہد ِ مسلسل، قربانیوں اور خون سے تحریک ِ آزادی اور تحریک ِ پاکستان کے چراغ روشن ہوئے، اور دُنیا کے نقشے پر ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان وجود میں آیا۔ خلوص اور جذبۂ قربانی کے ان چراغوں کی گرمی نے غلامی اور استبداد کی زنجیروں کو پگھلا دیا۔ ظلم کی تلوار کو حق کے لیے جاں بازی کے اخلاقی ہتھیار نے کاٹ کر رکھ دیا۔
ظلم و استبداد بظاہر کتنے ہی مرعوب کن کیوں نہ ہوں، بہ باطن بہت کمزور ہوتے ہیں اور اہلِ حق جب مقابلے پر ڈٹ جاتے ہیں تو اربابِ ظلم بہت جلد ہمت چھوڑ دیتے ہیں۔ آہنی حصار تارِ عنکبوت ثابت ہوتے ہیں اور بظاہر کمزور اہلِ حق کے خلوص، عزم اور قربانی کے ریلے میں اس طرح بہہ جاتے ہیں، جس طرح سیلاب میں خس و خاشاک۔ یہی فطرت کا قانون ہے، یہی اللہ کی سنت ہے، یہی تاریخ کا سبق ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اللہ کی زمین ظلم و فساد سے بھر جائے:
کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً م بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ O وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِہٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ O فَھَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ قف وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ ط وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لا لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ O (البقرہ ۲:۲۴۹-۲۵۱) بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنےوالوں کا ساتھی ہے۔ اور جب وہ جالوت اور اُس کے لشکروں کے مقابلے پر نکلے، تو انھوں نے دُعا کی: ’’اے ہمارے ربّ! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر‘‘۔ آخرکار اللہ کے اذن سے اُنھوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داوٗد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اُسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا، اُس کو علم دیا___ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹاتا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑجاتا، لیکن دُنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ اس طرح دفعِ فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)۔
مسئلہ فلسطین اور خاص طور پر بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ۶دسمبر ۲۰۱۷ء کا شرم ناک اعلان، جہاں فلسطین اور عالمِ اسلام کے خلاف ایک اعلانِ جنگ کی حیثیت رکھتا ہے، وہیں بین الاقوامی قانون، جنیوا معاہدات (جنیوا کنونشن) اور اقوامِ متحدہ اور اس کے چارٹر سے بھی عملاً امریکا کی لاتعلقی کا اعلان ہے۔ فکری اور عملی، ہردواعتبار سے اس کے بڑے دُور رس اثرات ہیں جن کو سمجھنا اور ان کے شرسے بچنے کے لیے صحیح اور مؤثر حکمت عملی اور لائحۂ عمل بنانا وقت کا اصل چیلنج ہے۔
عالمِ اسلام کے لیے خاص طور پر اور عالمی برادری کے لیے عام طور پر، اس ضمن میں افسوس اور غصے کا اظہار بالکل فطری چیز ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خطرناک اعلان کے جو تباہ کن اثرات اور نتائج و عواقب (consequences) ہیں، ان کا صحیح ادراک پیدا کیا جائے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس سلسلے کے چند اہم ترین پہلوئوں کی نشان دہی کریں اور مسلم اُمت اور عالمی برادری کو اس طرف متوجہ کریں کہ امریکا کی موجودہ قیادت، قیامت کی جو چال چل گئی ہے، اس کا کس طرح مقابلہ کیا جائے؟
درحقیقت صدر ٹرمپ سے بالکل ایسی ہی عاقبت نااندیشی، حماقت اور سفاکی کے اقدام کا خطرہ تھا، اس لیے یہ بیان کسی پہلو سے بھی غیرمتوقع نہیں ہے۔ جو اہلِ قلم ، دانش ور اور سیاست دان اس سے کسی بھلے اقدام کی توقع رکھتے تھے یا سمجھتے تھے کہ عالمی سوپرپاور کا صدر اتنا غیرذمہ دار نہیں ہوسکتا، وہ صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے اصل ایجنڈے کا اِدراک ہی نہیں رکھتے اور نوشتۂ دیوار کو پڑھنے میں غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اسرائیل اور شرقِ اوسط کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اصل بھروسے کے لوگوں میں تین افراد بہت اہم ہیں: ۱- جیسن گرین بی لاٹ (صدر ٹرمپ کے ڈپلومیٹک ایڈوائزر)،۲- ڈیوڈ فریڈمین (اسرائیل میں امریکا کے سفیر اور ایک مدت سے سرزمینِ فلسطین پر صہیونی آبادکاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے)، ۳- جارید کشنر (موصوف کے داماد، نیتن یاہو کے وفادار اور صدر امریکا کے دست ِ راست)۔ یہ تثلیث مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے ایک خطرناک منصوبے پر کاربند ہے۔
اس منصوبے کے مطابق شرقِ اوسط میں سُنّی اور شیعہ تصادم کا فروغ، اسرائیلی اور ’سُنّی اسلام‘ کا متحدہ محاذ، فلسطین کی آزاد ریاست کے تصور کو دفن کر کے بیت المقدس کو اسرائیل کا مستقل دارالحکومت بنانا اور فلسطینیوں کے لیے ایک ایسی بے معنی ضمنی ریاست کا قیام جو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں پر مشتمل ہو، جس کی کوئی مستقل فوج نہ ہو، جس کا دارالحکومت بیت المقدس سے چندکلومیٹر کے فاصلے پر ایک گائوں ابودیس (Abu Dis) ہو، اور جو ایسی کٹی پھٹی، لولی لنگڑی اور کمزور (نام نہاد) ریاست ہو، جو معاشی طور پر کبھی خودکفیل نہ ہوسکے اور جو ہمیشہ مالی اعتبار سے امریکا اور چند دوسرے ممالک پر منحصر رہے۔
اس شیطانی منصوبے کے لیے امریکا اور اسرائیل نے جو لائحۂ عمل بنایا ہے اور امریکی اخبارات کے مطابق جس کے سلسلے میں کچھ عرب ممالک کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے، اسے ۲۰۱۸ء کے شروع میں ارضِ فلسطین پر مسلط کرنے کا پروگرام ہے۔ اس اصل پروگرام کے پیش خیمہ کے طور پر ہی ۶دسمبر کا اعلان کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس میں منتقلی کے بارے میں ۱۹۹۵ء کا جو امریکی قانون ہے، اس کے تحت ہر چھے مہینے گزرنے پر صدر کو سفارت خانہ منتقل نہ کرنے کے لیے مزید مہلت کی دستاویز پر دستخط کرنا پڑتے ہیں اور اس مشق پر ۲۲سال سے عمل ہورہا تھا۔ اسی تسلسل میں خود صدر ٹرمپ نے جون ۲۰۱۷ء میں سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا۔ اب اس روش کو تبدیل کرکے نئے منصوبے کی طرف پیش رفت کے لیے سفارت خانے کی منتقلی کا لائحہ عمل دینا مطلوب ہے۔
ٹرمپ اور اس کے حواریوں کا خیال تھا کہ یہ پہلا قدم، مختصر نمایشی احتجاج کے ساتھ قبول کرلیا جائے گا اور پھر جنوری/فروری ۲۰۱۸ء میں پورے منصوبے کا اعلان ہوگا۔ لیکن صدر ٹرمپ اور اسرائیل کا یہ خطرناک کھیل پہلے ہی قدم پر زمین بوس ہوتا نظر آرہا ہے۔ اسے فلسطینیوں، اُمت مسلمہ اور عالمی برادری کی بڑی اکثریت نے جارحانہ اقدام اور ’ریڈلائن‘ کو روندنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اس اعلان کو عملاً بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے اور اسرائیلی جارحیت کو سند ِ جواز فراہم کرنے کی جارحانہ کارروائی قرار دیا، نیز فلسطین اور اُمت مسلمہ نے اسے اقدامِ جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ مزیدبرآں اقوامِ متحدہ میں امریکا کو منہ کی کھانا پڑی۔ ساری دھونس، دھمکی اور سامراجی فرعونیت کے اظہار کے باوجود،سلامتی کونسل میں امریکا بالکل تنہا رہ گیا اور باقی چودہ کے چودہ ارکان نے اس اقدام کو غلط، غیرقانونی اور ناقابلِ قبول قرار دیا، البتہ امریکی ’ویٹو‘ (حقِ استرداد)کی وجہ سے قرارداد نامنظور ہوگئی۔ اس کے جواب میں جنرل اسمبلی نے ۹ کے مقابلے میں ۱۲۸ووٹوں کی اکثریت سے امریکا کے اس اقدام کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اسے باطل اور بے اثر (null and void) قرار دیا، جو امریکا کے منہ پر ایک بھرپور طمانچا ہے۔ عرب لیگ نے کمزور الفاظ میں، جب کہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) نے استنبول میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں دوٹوک الفاظ میں اسے رد کر دیا۔
عیسائی دُنیا کے اہم ترین اداروں اور شخصیات بشمول رومن کیتھولک سربراہ پوپ فرانسس، گریک آرتھوڈوکس کے سربراہ پیٹریارک تھیوفیلوس سوم اور مصر کے قبطی چرچ کے سربراہ نے نہ صرف اس کی مذمت کی، بلکہ امریکی نائب صدر سے ملنے سے بھی اسی طرح انکار کر دیا، جس طرح فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمودعباس نے انکار کیا ہے۔ فلسطین کی عیسائی قیادت نے بھی اس اقدام کو تسلیم کرنے سے صاف لفظوں میں انکار کر دیا۔ یروشلم کے آرچ بشپ عطالاحنا کے الفاظ ہیں: ’’ہم فلسطینی، مسیحی اور مسلمان، امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں‘‘۔
مسلم اُمت نے پوری یک جہتی سے اور عالمی برادری کی عظیم اکثریت نے امریکا کے اس جارحانہ قدم کو رد کیا ہے۔ الحمدللہ، یہ اقدام بیداری کی ایک سبیل (wake up call) بن گیا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ امریکا اور اسرائیل کے ہاتھوں مسئلہ فلسطین کوتتربتر( liquidate ) کرنے کے منصوبے کو خاک میں ملانے اور اس کے خلاف صف آرا ہونے کی تحریک کو قوت اور تحرک عطا کرنے کا باعث ہوگا۔ انسان کیا سوچتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کیا ہوتی ہے؟
فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًاO (النساء ۴:۱۹) ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔
یہاں چند بنیادی حقائق بہت ہی اختصار کے ساتھ پیش نظر رہیں، تاکہ درپیش چیلنج کی وسعت اور حقیقی نوعیت کو بہتر طورپر سمجھا جاسکے اور آگے کی حکمت عملی کے خدوخال طے کیے جاسکیں:
بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور بنی اسرائیل کی نافرمانیاں نہ صرف تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ خود ان کی مقدس کتب اور قرآنِ پاک ان پر شاہدہیں۔ بنی اسرائیل کو ارضِ فلسطین پر کم از کم گذشتہ دوہزار سال میں کبھی اقتدار حاصل نہیں رہا اور ان کا یہ دعویٰ کہ: ’’یروشلم تین ہزار سال سے ان کا دارالحکومت ہے‘‘، اور صدرٹرمپ کا اسے ایک حقیقت (reality) کے طور پر پیش کرنا تاریخی بددیانتی کی بدترین مثال ہے۔ صہیونی تحریک ایک سیکولر، خالص سیاسی اور اپنی اصل کے اعتبار سے سامراجی تحریک ہے، جس نے مذہب کی اصطلاحات اور جذبات کو استعمال کیا ہے اور آج کے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے اس پہلو کی تفہیم ضروری ہے۔
مسلمانوں کے ۱۳سو سالہ دورِ حکومت میں، ارضِ فلسطین میں جو یہودی بھی آباد تھے وہ ریاست کے شہریوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ پھر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ۱۹ویں صدی کے اواخر میں جب صہیونی تحریک نے ارضِ فلسطین میں دَراندازی شروع کی، تو فلسطین کے مسلمان ہی نہیں، وہاں کے نسلاً بعد نسلاً رہنے والے یہودی بھی اس کے مخالف تھے۔ ہماری اس گزارش کا مقصد بھی دو اُمور کی وضاحت ہے: ایک یہ کہ ارضِ فلسطین پر یہودیوں کا وجود نہ کبھی مسئلہ تھا اور نہ آج کوئی قضیہ ہے۔ دوسرا یہ کہ فطری انداز میں انتقالِ آبادی پر بھی کبھی کسی کو اعتراض نہیں ہوا۔ لیکن صہیونی تحریک نے سامراجی انداز میں، قوت اور دولت کی بنیاد پر پہلے دولت ِ عثمانیہ کی قیادت کو رشوت کی پیش کش کی گئی، لیکن وہ قبول نہ کی گئی، پھر سلطنت ِ عثمانیہ کے خلاف سازشیں کیں، اور بعدازاں ارضِ فلسطین پر فرانسیسی اور برطانوی سامراج کے قبضے کے بعد ان کی سرپرستی میں ایسی منظم انتقالِ آبادی کی، جس نے فلسطین میں آبادی کے تناسب (demographic composition ) کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد یہ افسانہ وضع کیاکہ: ’’فلسطین ، وہ سرزمین ہے جہاں انسان نہیں ہیں، اور یہودی وہ قوم ہیں جنھیں زمین میسر نہیں‘‘___ دراصل یہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے کہ فلسطین کی آبادکاری اور بازیافت یہودیوں کا تاریخی مشن ہے۔ یہ صریح جھوٹ ہے جس کا پردہ چاک ہونا چاہیے۔ ۱۹۱۷ء میں اعلانِ بالفور کے وقت فلسطین کی آبادی ۸لاکھ افراد سے زیادہ تھی ، جب کہ کُل یہودی ۵۳ہزار کے قریب تھے، اس طرح یہود، کُل آبادی کا ساڑھے تین فی صد تھے.
عرب ممالک کی کمزوری اور اہلِ فلسطین سے بے وفائی کے نتیجے میں، ۱۹۴۵ء-۱۹۴۷ء کی جنگ کے دوران اسرائیل نے ارضِ فلسطین کے ۷۵ فی صد حصے پر قبضہ کرلیا۔ پھر جون ۱۹۶۷ء کی جنگ کے نتیجے میں پوری ارضِ فلسطین اور اس کے علاوہ سطح مرتفع گولان (Golan Heights) اور صحراے سینا کے پورے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح علمِ سیاست کی اصطلاح میں اسرائیل متعین سرحدیں رکھنے والی ریاست نہیں ہے، بلکہ یہ قابض اور وضع کردہ جارح ریاست ہے۔
طرفہ تماشا دیکھیے کہ صدر ٹرمپ نے اس قرارداد اور اس کے بعد کی قراردادوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ۶دسمبر کا اعلان کیا ہے، جو صریح طور پر بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے واضح قانونی اور قابلِ تنفیذ احکام اور خود امریکا کی اپنی قبول کردہ پالیسی کے خلاف ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا خلاصہ یہ ہے:
قرارداد کے یہ پانچوں نکات بہت واضح (incisive) اور قطعی (categorical) ہیں۔ امریکی صدر نے ۶دسمبر کے اعلان کے ذریعے ان سب کی خلاف ورزی کی ہے، جس سے امریکا اقوامِ متحدہ ہی نہیں عالمی قانون اور پوری عالمی برادری کی عدالت میں ایک مجرم بن گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی نے اس اعلان کے بعد اپنی ۱۹۸۰ء کی قرارداد کا اعادہ کیا ہے، اور جنرل اسمبلی نے ۲۱دسمبر ۲۰۱۷ء کو ۹ کے مقابلے میں ۱۲۸ ووٹوں کی اکثریت سے امریکی اقدام کی جو مذمت کی ہے اور اسے غلط اور غیرقانونی قراردیا ہے، وہ اسی پوزیشن کا تازہ ترین اظہار و اعلان ہے۔
ان گزارشات کی روشنی میں اگر امریکی صدر کے اس اعلان کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل اُمور واضح ہوتے ہیں:
اقوامِ متحدہ کے ارکان کو ڈرانے، دھمکانے اور امداد کی چھڑی استعمال کرنے کے جو بھونڈے ہتھکنڈے انھوں نے خود اور ان کی بھارتی النسل اقوام متحدہ میں مستقل نمایندہ ’نِکی ہیلی‘ نے استعمال کیے ہیں، اس سے امریکا کے چہرے سے وہ نقاب اُترگئی، جو اس کے بدنما داغوں کو ڈھانپے ہوئے تھی۔امریکا نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے لیے اپنی مالی اعانت میں ۲۸کروڑ ۵۰لاکھ ڈالر کی کٹوتی کرے گا اور خلاف ووٹ دینے والے ممالک کو بھی بیرونی امداد بندکرنے یا کم کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
بین الاقوامی مسائل کے بارے میں اپنے تعصبات کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے مالی ہتھیار کا اس طرح استعمال امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اندازِ حکمرانی کی بڑی مکروہ شکل پیش کرتا ہے، اور معاشی ترقی اور انسانی ہمدردی کے تمام دعوئوں کی قلعی کھول دیتا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس کا بڑا مؤثر جواب دیا ہے کہ: ’’ہماری راے اور عزت کوئی قابلِ فروخت شے نہیں ہے‘‘، اور دولت کے بھروسے پر ضمیر خریدنے کا یہ کاروبار کسی بھی قوم کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ امریکی صدر، امریکا کے چہرے کو اور بھی داغ دار کررہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے کالم نگار رک گلیڈسٹون اور مارک لینڈلرنے ۲۲دسمبر کی اشاعت میں اسے اقوامِ عالم کی طرف سے امریکا کے لیے ایک واضح سرزنش اور ملامت (rebuke) قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ دنیا کی اقوام نے امریکا کی دھمکیوں کو کوئی وقعت نہیں دی۔ کالم نگاروں نے اس پورے عمل کو صدرٹرمپ کے لیے ایک شکست خوردگی (setback) بھی کہا ہے۔
اسی طرح امریکا کے اہم اخبارات اور دانش وروں اور سابقہ پالیسی سازوں کی ایک تعداد نے اس فیصلے کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ Congressional Progressive Caucus کے سربراہ نے اس اقدام کو امریکا کے مفاد سے متصادم اور علاقے میں امن کے قیام کی کوششوں کی راہ میں مشکلات کے اضافے کا باعث قرار دیا ہے۔ سب سے زیادہ چشم کشا سروے وہ ہے، جو امریکی یہودیوں کے ایک نمایندہ ادارے Global Jewish Advocacy (AJC) نے ستمبر ۲۰۱۷ء میں کروایا تھا، اور جس کے مطابق اس اقدام سے پہلے، متوقع راے عامہ کو معلوم کرنے والے اس جائزے کی رُو سے ۴۴فی صد امریکی یہودیوں کا خیال ہے کہ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل نہیں ہونا چاہیے۔۳۶ فی صد کا خیال ہے کہ اگر اسے منتقل کرنا ہی ہے تو یہ مسئلۂ فلسطین کے بارے امن مذاکرات کے حصے کے طور پر ہونا چاہیے، اور صرف ۱۶ فی صد اس راے کے حامی ہیں کہ اسے منتقل کر دینا چاہیے۔ اسی طرح دوامریکی یونی ورسٹیوں کے زیراہتمام کیے جانے والے سروے میں، عام امریکیوں کی راے کے مطابق ۶۱فی صد کے نزدیک منتقلی درست نہیں۔ اگرامریکی راے عامہ کے رجحانات کے بارے میں یہ سروے درست ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود امریکا میں اس سلسلے میں مؤثر مزاحمتی تحریک کو فروغ دینے کے بارے میں امکانات خاصے روشن ہیں۔ (میڈابنجمن، ایریل گولڈ: Where are the Democrats? ، [ commondreams.org]بحوالہ دی نیوز، ۱۴دسمبر۱۷ء)
سی این این کے انٹرنیشنل ڈپلومیٹک ایڈیٹر نِک روبرٹسن نے بھی ۱۰دسمبر ۲۰۱۷ء کو ادارے کی ویب پر شائع کردہ مضمون: Trump has to Live with the Consequences of his Israel Decision میں فلسطین کے عوام اور سفارتی حلقوں دونوں کے ردعمل کی روشنی میں اس راے کا اظہار کیا ہے کہ: ’’ٹرمپ نے اس وقت اس مسئلے کو چھیڑ کر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے اور امریکا کے لیے اس کے اثرات مضر ہوں گے‘‘۔
حالات اور رجحانات کے اس جائزے کی روشنی میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ امریکی صدر کے اس اقدام کے اثرات محض وقتی نہیں ہوں گے بلکہ بڑے دُور رس ہوں گے۔ بحیثیت مجموعی اس سے امریکا کو نقصان پہنچے گا۔ اس کے دوستوں میں کمی آئے گی اور مخالفت میں اضافہ ہوگا۔ ویسے بھی دنیا کے حالات بدل رہے ہیں۔ امریکا گو اب بھی دنیا کی اہم ترین عسکری اور سیاسی قوت ہے، لیکن گذشتہ ۲۰برسوں میں اس کی قوت اور اثرات میں کمی واقع ہوئی ہے، کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
روس کے ۱۹۹۰ء کے عالمی قوت کی حیثیت سے غیرمؤثر ہونے کے بعد جو صورتِ حال پیدا ہوئی تھی، اور اس کے فوراً بعد دوعشروں میں امریکا کے نہ صرف واحد سوپر پاور ہونے اور اس حیثیت کو ۲۱ویں صدی میں بھی برقرار رکھنے کے لیے جو غوغا آرائی اور سخن سازی کی گئی تھی، وہ پادر ہوا ہو رہی ہے۔ اس زمانے میں عوامی جمہوریہ چین نے غیرمعمولی ترقی کی ہے اور وہ دوسری عالمی قوت کی حیثیت سے اُ بھرا ہے۔ روس نے بھی گذشتہ ۱۰برسوں میں نئی کروٹ لی ہے۔ امریکا اور مغربی اقوام ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کے اثرات سے اب تک نہیں نکل سکے۔ صدرٹرمپ نے ’سب سے پہلے امریکا‘ عالم گیریت سے شدید بے زاری، دائیں بازو کے قوم پرستانہ خیالات و اہداف کی حوصلہ افزائی، تجارت میں داخلیت کی طرف جھکائو، اقوامِ متحدہ، یورپین یونین،ناٹو اور راے عامہ کے عالمی اداروں کے بارے میں سردمہری کا جو مظاہرہ کیا ہے، اس سے امریکا کے عالمی کردار کے محدود ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔صاف نظر آرہا ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ یک قطبی (Unilateral) نظام سے کثیر قطبی (Multilateral)نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مسلم دُنیا خصوصیت سے شرقِ اوسط، معاشی اور سیاسی اعتبار سے کمزور ہورہا ہے۔ لیکن ترکی، ایران، انڈونیشیا اورملایشیا رُوبہ ترقی ہیں اور ان کا کردار بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ پاکستان اپنی بے پناہ استعداد (potential) کے باوجود اندرونی کمزوریوں اور خودشکنی کی وجہ سے اپنا صحیح مقام حاصل اور کردار ادا نہیں کرپا رہا۔ شام، عراق، افغانستان، لیبیا، یمن بُری طرح تباہ ہوچکے ہیں۔ مصر بھی وسائل اور امکانات کے باوجود، دوڑ میں نہ صرف بہت پیچھے بلکہ داخلی اعتبار سے تباہ کن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ تیونس اور مراکش میں زندگی اور تبدیلی کے آثار ہیں۔ ان حالات میں سیاسی، عسکری اور معاشی، ہر میدان میں نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔
صدرٹرمپ کے حالیہ اقدام کے منفی پہلو تو بے شمار ہیں، لیکن اس کے کچھ مثبت پہلو بھی ہوسکتے ہیں جن کی فکر کرنے کی ضرورت ہے:
ہم اپنے قارئین کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں اپنے خیالات اور نتائجِ فکر سے ادارے کو مطلع کریں اور ہماری بھی کوشش ہوگی کہ اپنی معروضات ان شاء اللہ مستقبل قریب میں آپ کے اور اُمت مسلمہ کے غوروخوض کے لیے پیش کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق سے نوازے، آمین!
گذشتہ تین صدیوں میں انسانیت، مغرب کی زیر قیادت چار بڑے معاشی نظاموں کے تجربے سے گزری ہے: سرمایہ داری، سوشلزم [اشتراکیت]، قوم پرستانہ فاشزم اور فلاحی ریاست___ مغربی فکر سے جنم لینے والے ان تمام نظاموں کی اساس اس تصور پر استوار تھی کہ انسان کے معاشی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے، مذہب اور اخلاقیات کی چنداں ضرورت نہیں ہے، اور معاشی معاملات کا بہترین حل صرف معاشی رویوں اور سیاسی ضابطوں کے تحت تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ:
بلاشبہہ کچھ مخصوص میدانوں میں ان سب نے بعض نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، مگر اس کے باوجود یہ چاروں نظریات، حقائق کی دنیا میں انسانیت کے معاشی اور سماجی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں قوم پرستانہ فاشزم سب سے پہلے ردی کی ٹوکری کی نذر ہوا۔ پھر اس کارگہِ حیات میں گرنے اور بکھرنے والا بت، سوشلزم ہے۔ بلاشبہہ دوسرے دونوں نظریات بظاہر ابھی تک صحت مند دکھائی دے رہے ہیں، لیکن غور سے دیکھا جائے تو اپنے باطن میں وہ بھی موت آفریں کش مکش میں مبتلا ہیں۔ غربت، بے روزگاری، افراطِ زر اور قرض کے ناقابلِ برداشت بوجھ نے ان کی چولیں ہلا رکھی ہیں اور کوئی تدبیر تاریخ کا رُخ بدلتی نظر نہیں آرہی۔ اہلِ نظر، اقبال کے ہم نوا ’منتظر روزِ مکافات‘ ہیں:
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دُنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات
ہمارے خیال میں یہ ایک غیر دانش مندانہ مفروضہ ہے کہ ’’سوشلزم کے انہدام سے سرمایہ داری اور فلاحی ریاستی تصور نے نہ صرف اپنا انتقام لے لیا ہے، بلکہ اب یہی ایک فاتح اور زندہ رہنے والے نظام کی حیثیت سے بقاے باہمی کی اس دوڑ میں باقی رہ گیا ہے‘‘۔ اور سرمایہ دارانہ جمہوری استعمار کی شیخی پر مبنی یہ غلط فہمی کہ سوویت یونین [یعنی سوشلسٹ روسی سلطنت اور نظریے]کے زوال نے گویا ’نظریاتی پیکار کی تاریخ کے خاتمے‘ کا اعلان کر دیا ہے، مغربی اہل دانش کے جذباتی طرزِ فکر کی غمازی کرتی ہے۔
یہ اَمرواقعہ ہے کہ سوویت یونین کے انہدام اور سوشلزم کے زوال نے بہت سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایسے سوالات کہ جن کا تعلق انسانیت کے نظریاتی و سماجی مستقبل سے ہے، مثلاً یہ کہ:
۱- کیا سوشلزم کا خاتمہ درحقیقت مغربی سرمایہ دارانہ معاشی نظام اور سیاسی لبرل ازم کی قطعی فتح مندی کا مظہر ہے؟ (جس کا دعویٰ مغربی سرمایہ داری کے علَم بردار کرتے ہیں)
۲- کیا سوشلزم کی اس ’موت‘ نے واقعی ’نظریاتی پیکار کے تاریخی عمل‘ کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے؟ یا پھر ایک نئے مرحلے کو جنم دیا ہے کہ جو تاریخ کے ایک نہ ختم ہونے والے بہائو اور نشیب و فراز کی کشاکش کی طرف رواں ہے؟
۳- اگر سوشلزم اپنے فکری و عملی تضادات کے بوجھ تلے دم توڑ دیا گیا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خود سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے داخلی و خارجی تضادات، غیرمنصفانہ رویوں اور دیگر بہت سی سماجی ناکامیوں پر قابو پالیا ہے؟
۴- اگر سوشلزم کا عروج جزوی طور پر اس چیز کا مظہر تھا کہ اسے سرمایہ دارانہ نظام کا بے رحمانہ استحصالی پہلو دکھائی دے رہا تھا، جس کے پکے ہوئے ناسور پر اس نے نشتر لگایا، تو پھر کیا سوشلزم کے انہدام کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سرمایہ داری کا جو استحصالی پہلو دیکھا تھا وہ کوئی گمراہ کن فریب نظر تھا؟
۵- کیا آج کی ترقی یافتہ اقوام سے تعلق رکھنے والا انسان، اعلیٰ مادی معیارات پر مشتمل سہولت بخش زندگی پالینے کے نتیجے میں واقعی سکون و طمانیت کے دامن میں اپنے آپ کو موجود پاتا ہے؟ یا پھر یہ مراعات یافتہ انسان بھی فکروعمل کی دنیا میں، اپنی داخلی، سماجی اور معاشی زندگی کو جوں کا توں گہرے بحران میں مبتلا ہی پاتا ہے؟
۶- کیا اس سارے عمل نے انسانیت کو ایک متبادل، سماجی اور معاشی نظام کی تلاش کے رستے پر ڈال دیا ہے؟ اور انسانی معاشرہ آج بھی انصاف اور سکون اور چین کے حصول سے اسی طرح محروم ہے، جس طرح کل سوشلسٹ انقلاب سے پہلے تھا؟
مندرجہ بالا سوالات ذہنوں اور ضمیروں میں نہ صرف اضطراب پیدا کر رہے ہیں، بلکہ شافی جواب کے بھی طلب گار ہیں۔
سوشلزم یا مارکس ازم انیسویں صدی کے بہت سارے نظریات اور مفروضوں کا ملغوبہ ہے، جس میں فریڈرک ہیگل [م: ۱۸۳۱ء]کی جدلیات، لوردویگ فویرباخ [م: ۱۸۷۲ء]کی مادیت، جولیس مچل [م: ۱۸۷۴ء] کی طبقاتی کش مکش، ایڈم اسمتھ [م: ۱۷۹۰ء] اور ڈیوڈ رکارڈو [م:۱۸۲۷ء] کی معاشی فکر ، انقلابِ فرانس کے جارحانہ نعروں۱ اور چارلس ڈارون [م: ۱۸۸۲ء] کے ’حیوانی نظریۂ ارتقا‘ نے اس سیکولر روشن خیالی کو سینچا۔ خود کارل مارکس [م: ۱۸۸۳ء] انھی سیکولر اور مذہب مخالف افکار میں پروان چڑھا۔۲
سوشلزم کی تجربہ گاہ سوویت یونین اور سفاکانہ سرمایہ داری کے مراکز امریکا و یورپ کے مابین اسٹرے ٹیجک عسکری ’سرد جنگ‘ اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔ اس کی جگہ اسٹرے ٹیجک معاشی جنگ نے لے لی ہے اور نئے جنگی کھیل کے نئے کھلاڑی سامنے آگئے۔۳ اور یوں ترقی، دولت اور ٹکنالوجی کی مالک ریاستوں کا غیراعلان شدہ مقصد تو دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ جمانا اور ان تہذیبوں کو مغربی تہذیب کا خوشہ چیں بنانا ہی ٹھیرا ہے، جب کہ اعلان شدہ مقصد اپنے اور محض اپنے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنا ہے۔۴ اور وہ بھی تین چوتھائی سے زیادہ انسانوں کو حسرتوں، محکومیوں، ذلتوں اور غلامی کے گرداب میں پھنسا کر!
سوشلزم یا مارکس ازم کا انہدام خود مغربی دانش وروں کے لیے ایک ہوش ربا معما ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’چنگیز خان [م: ۱۲۲۷ء] یورپ فتح کرنے کی خواہش لیے آگے بڑھ رہا تھا، کہ اچانک اس کے بڑھتے ہوئے قدم رُک گئے۔ وہ فوری طور پر پلٹا اور وسطی ایشیا میں جاکر دم لیا۔ اس اعتبار سے کمیونزم کی اچانک موت بھی چنگیز خان کی اسی پُراسرار پسپائی سے مشابہت رکھتی ہے‘‘۔۵ لیکن یہ تحیر آمیز مسئلہ صرف ان دانش وروں کا ہے، جنھوںنے انسانی زندگی کے اجتماعی رویوں اور مسئلوں کو محض مادی طاقت اور حیوانی جذبوں کی میزان پر رکھ کر پرکھا ہے، وگرنہ اہلِ نظر تو اس عبرت ناک انجام کی خبر بہت پہلے سے دے رہے تھے۔۶
برصغیر پاک و ہند میں احیاے اسلام کی تحریک نے دیگر نظاموں اور استعماری فتنوں کے ساتھ اشتراکیت کو بھی اپنے سنجیدہ مطالعے کا موضوع بنایا۔۷ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ سوویت یونین مسلمانوں کے ایک بڑے حصے کو اپنی ظالمانہ نوآبادی بنانے، مسلمان ملکوں میں اندھی بہری آمریتوں کو سہارا دینے اور اباحیت و دہریت کو پروان چڑھانے کے ساتھ غیرفطری معاشی نظام کا بھی علَم بردار تھا۔ اگرچہ اس سے قبل مغربی نوآبادیاتی تسلط اور الحادی تحریک کے بالمقابل اسلامی فکر کے علَم بردار پوری قوت سے نبردآزما تھے (جس کا بہت بڑا ثبوت آزادی کی تمام تحریکوں میں اسلامی فکروعمل کے حامل افراد کا شان دار کردار ہے)، لیکن سمرقند و بخارا کے المیے نے مسلمانوں کو اس فتنے کا اور زیادہ وسعت کے ساتھ ادراک کرنے پر اُبھارا۔ یہ الگ بات ہے کہ اشتراکی فکر کو نہ صرف جدید تعلیم یافتہ،بلکہ مسلم مذہبی فکر کے دعوے داروں میں سے بھی ایک گروہ تائید و حمایت دینے کے لیے ملتا رہا۔
سوشلسٹ تہذیب، سوشلسٹ معیشت اور سوشلسٹ عسکریت کے انسانیت پر دُور رس مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ کام گہرے اور ٹھوس فکرومطالعے کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی طرح روسی فیڈریشن میں محکوم مسلم ریاستوں کی حالت ِ زار پر تحقیق، تجزیے اور جدوجہد کی تائید کے لیے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔۸
اس تحقیق و تجزیے کا مقصد محض تاریخ کا ریکارڈ دیکھنا پرکھنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ زندگی کے فکری معاملات اور عملی مسائل کا ادراک اور ان کا حل پیش کرنا بھی ہونا چاہیے۔ تاریخ کا وہی مطالعہ حیات بخش ہے، جو عصری اور مستقبل کی زندگی کو روشنی عطا کرے۔
۱- ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا، Islam and The Economic Challenge ، دی اسلامک فائونڈیشن، لسٹر، برطانیہ، ۱۹۹۲ء، ص ۷۲
۲- ’سوشلزم‘ بنیادی طور پر ’سیکولرزم‘ ہی کا ایک نتیجہ ہے، کیوں کہ سوشلسٹ تحریک نے انقلابِ فرانس کا ’تصور انسان دوستی‘ (Humanism) وراثت میں پایا اور حقیقت یہ ہے کہ سوشلزم: فرانس،بلجیم، آئرلینڈ، اٹلی، اسپین اور لاطینی امریکا کی ہسپانوی تہذیبوں میں نمو پانے والے جارحانہ الحاد کا کڑوا پھل تھا۔
Geroge Lichtheim ، A Short History of Socialism ، ۱۹۷۸ء، ص ۳۰۸-۳۰۹
۳- فوجی سپر طاقتوں کے ’سرد معرکے‘ میں ایک طاقت (سوویت یونین )فنا کے گھاٹ اُتر گئی اور دوسری قیادت (امریکا) عسکری طاقت کے حوالے سے ڈیڑھ عشرے تک فتح یاب قرار پائی۔ دوسری طرف معاشی وسائل پر قبضہ جمانے کے لیے یورپی یونین اور جاپان اور امریکا اور چین گویا کہ تین فریق برسرِپیکار ہیں۔ اور تیسری دنیا جو تین چوتھائی سے زیادہ آبادی کی مالک ہے، وہ اسی طرح خوار و زبوں حالی کا شکار رہے گی کہ جس کے تعلیمی، سیاسی اور معاشی مستقبل کے فیصلے معاشی دنیا کے یہ محکوم لوگ نہیں کریں گے، بلکہ مادی ترقی سے سرشار اور ٹکنالوجی سے ہم کنار تین چار ممالک ہی یہ کردار ادا کریں گے۔
۴- پروفیسر لسٹر تھرو کے بقول: ’’ان سوپر طاقتوں کے درمیان اس عالمی معاشی جنگ کا ایک ہدف یہ ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے پہلے نصف میں اپنے شہریوں کو ان سات شعبوں میں وافر سہولتیں بہم پہنچا دیں، مثلاً: مائیکرو الیکٹرانک، بائیوٹکنالوجی، نیومیٹریل سائنس انڈسٹری، ٹیلی کمیونی کیشن، شہری ہوابازی، مشینی سازوں سے لیس روبوٹ اور کمپیوٹر مع سافٹ ویئر ۔ لسٹر تھرو، Head to Head: The Coming Battle Among Japan, Europe and America ، وارنر بکس، امریکا (۱۹۹۳ء)
۵- لسٹر تھرو، ایضاً، ص ۱۲-۱۳
۶- مولانا مودودیؒ نے ۳۰دسمبر ۱۹۴۶ء کو سیالکوٹ کے مضافات میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’ایک وقت آئے گا جب کمیونزم خودماسکو میں اپنے بچائو کے لیے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہوگی۔ مادہ پرستانہ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پاسکے گی‘‘۔ (شہادتِ حق،ص ۲۲)
۷- اس ضمن میں اُردو میں مولاناسیّدابوالاعلیٰ مودودی، مولانا مسعودعالم ندوی، مظہرالدین صدیقی، اعظم ہاشمی، چودھری علی احمد خان، پروفیسر عبدالحمید صدیقی، نذر محمد خالد، عبدالکریم عابد، چودھری غلام جیلانی، مولانا خلیل احمد حامدی، آبادشاہ پوری، حسین خان، سیّد اسعد گیلانی، مختارحسن، محمود احمد مدنی، مسلم سجاد، عطاء الرحمان، انیس احمد، رفیع الدین ہاشمی اور دیگر رفقا کی تحریریں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں، جب کہ نعیم صدیقی صاحب کی زیرنگرانی ادارہ دارالفکر، لاہور اور راقم کی ذمہ داری میں اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی کے پیش کردہ مطالعے اور خصوصاً ماہنامہ چراغِ راہ، کراچی کے ’سوشلزم نمبر‘ (۱۹۶۸ء) کا اپنا مقام ہے۔
۸- آباد شاہ پوری، ترکستان میں مسلم مزاحمت (۱۹۸۳ء)، آبادشاہ پوری، مسلم اُمہ سوویت یونین میں (۱۹۸۸ء)، ڈاکٹر سفیر اختر (مدیر) دو ماہی، وسطی ایشیا کے مسلمان ، ڈاکٹر طاہر امین، Afghanistan Crisis: Implications and Option for Muslim World, Iran and Pakistan (۱۹۸۲ء)،انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارت کے سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا۔ ان کے جانے کے بعد یہ خبر اڑ گئی کہ: ’’قریش نے ان کو شہید کر دیا ہے‘‘۔یہ وہ ظلم تھا جسے ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہ کیا جا سکتا تھا۔ حضوؐر اور آپؐ کے ساتھی سب زیادتیوں کو گوارا فرما رہے تھے لیکن اعلیٰ مقصد کے لیے___ اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جو حضوؐر کے سفیر تھے، شہید کردیا گیاہے، تو یہ کھلا کھلا اعلان جنگ ہے۔ امن پسندی اور عفوورحم اسلام کا شعار ہے لیکن ظالم جب ساری حدود کو پھاند جانے کے در پے ہو تو پھر انصاف کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ظالم کا ہاتھ پکڑ لیا جائے اور جو تلوار مظلوموں پر اُٹھی ہے اسے توڑ ڈالاجائے۔
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سارے ساتھیوں کو جمع کیا اور ان سے حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کی بیعت کی۔ یہ بیعت مر مٹنے کے وعدے پر تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’عثمانؓ کے خون کا قصاص لینا فرض ہے ‘‘۔ ایک ببول کے درخت کے نیچے بیٹھ کر آپؐ نے صحابہؓ سے جاں نثاری اور آخری سانس تک لڑنے کی بیعت لی۔ اس بیعت میں مردوزن سبھی شامل تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے جوش اورولولے کا یہ عالم کہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے کوشاں اور بے چین اور بڑھ چڑھ کر آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کرتے گئے۔ خدا قرآن میں اس کا ذکر اس طرح کرتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْج (الفتح ۴۸:۱۰) اے نبیؐ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ(الفتح ۴۸:۱۸)
اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا اس لیے اُس نے ان پر سکینت نازل فرمائی۔
دعوتِ اسلامی کی خصوصیت ہے کہ آزمایش کے وقت اس کے پیروکاروں کے جذبۂ عمل اور شوقِ قربانی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے، فدا کاری کی ایک لہر صرف افراد کے سراپے ہی میں نہیں، بلکہ ان کی اجتماعیت تک میں دوڑ جاتی ہے، حق کے لیے جان کی بازی لگادینے کا ولولہ ہر فرد میں پیدا ہوجاتا ہے___ اور یہ وہ ادا ہے جو حق تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ اس نے ایسے لوگوں کے لیے اپنی رضا مندی اور جنت لکھ دی ہے ؎
نگاہ یار جسے آشناے راز کرے
وہ اپنی خوبیِ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
محبوب کی رضا طلبی کی خواہش اور اس کی خوشی پر فخر ونازہی کی کیفیت میں حضرت براء رضی اللہ عنہ نے محبت میں ڈوبے ہوئے تاریخی الفاظ کہے تھے جو بخاری میں مرقوم ہیں:
’’ تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور ہم بیعت رضوان کو (اصل فتح ) سمجھتے ہیں‘‘۔
اس بیعت نے مسلمانوں کے جذبات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا تھا۔ ہر شخص کفن سر سے باندھے، حق کے لیے جان کی بازی کھیل جانے کے لیے تیار تھا اور اس میں کیف وسرشاری محسوس کر رہا تھا ؎
دست از طلب ندارم تاکار من برآید
یاتن رسد بہ جاناں یا جاں زتن برآید
[میں نے کام میں ہاتھ اس لیے نہیں ڈالا کہ میری غرض پوری ہو بلکہ یہ کام اس عزم کے ساتھ کر رہا ہوں کہ مَیں محبوب تک پہنچ جائوں یا اسی کام میں اپنی جان ہار دوں۔]
عزم واستقلال کے اس مظاہرے نے قریش کے ہوش اڑا دیے___ اپنی ساری اکڑفوں اور کبرواستکبار کے باوجود وہ صلح پر آمادہ ہو گئے۔
لیکن، مسلمانوں کے لیے ابھی کچھ اور آزمایشیں بھی تھیں ۔ دارورسن کے لیے تو وہ آمادہ وتیار تھے ہی۔ لیکن نئی آزمایش ایک اور ہی نوعیت کی تھی!
اب انھیں ایک ایسی صورت کے لیے تیار ہونا تھا جس میں کمزوری اور شکست خوردگی کی سی کیفیت کا نمایاں اظہار تھا، جس کی وجہ سے کعبۃ اللہ کے دیدار سے آنکھوں کے مشرف ہونے کا جو امکان پیدا ہو گیا تھا، اس سے محرومی تھی۔ جذبۂ جہاد میں جو قدم آگے بڑھے تھے، ان کو حکمت الٰہی کے تحت پیچھے ہٹانا تھا___
یہ آزمایش جان لٹانے سے بھی زیادہ سخت تھی !
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر غلط نکلی ! عروہ بن مسعود ثقفی قریش کے نمایندے کی حیثیت سے آیا اور صلح کی گفت وشنید کی۔ بظاہر عروہ بہت رکھ رکھائو سے معاملات طے کر رہا تھا۔ قریش کا سراُونچا رکھنے ، ان کی ضد پر پردے ڈالنے اور ان کی مٹی میں ملتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لیے اس نے ہر ممکن جتن کیے۔ اپنی بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے بہت سی نازیبا حرکتیں بھی کیں ۔ کبارصحابہ ؓ سے، جن میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت مغیرہ ؓ شامل تھے بدزبانی تک سے باز نہ آیا لیکن داعیانِ حق کے اس کیمپ میں جو منظر اس نے دیکھا، اس نے اس کے دل کو مسخر کر لیا ۔ کم تعداد اور نہتے مسلمانوں کا رعب اس کے دل ودماغ پر قائم ہو گیا، اور قریش کو شرائط پر آمادہ کرنے کے لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی اور بالآخر کامیاب رہا۔
وہ کیا چیز تھی جس نے اس کے دل ودماغ کو مائوف کر دیا ؟ وہ کون سی قوت تھی جس کے آگے اس نے ہتھیار ڈال دیے ؟ صحابہ کرامؓ کی وہ کون سی خصوصیت تھی، جس نے مخالفین کو بھی خاموشی کے ساتھ مسخر کر لیا؟ عروہ ہی کی زبانی سنیے۔ قریش میں واپس جا کر وہ کہتا ہے:
اے قریش! میں نے کسریٰ اور قیصر اور نجاشی جیسے باد شاہوں کے دربار دیکھے ہیں ۔ مگر خدا کی قسم! میں نے اصحابِ محمدؐ کو جس طرح محمدؐ کا فدائی دیکھا ہے، ایسا منظر کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے ہاں نہیں دیکھا۔ ان لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ جب محمدؐ وضو کرتے ہیں تو صحابہؓ آپؐ کے وضو کے پانی کی ایک بوند بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے ___ پس، اب تم لوگ سوچ لو کہ تمھارا مقابلہ کس سے ہے؟ (سیرت ابن ہشام ، ص ۴۵۱)
قریش کے ہاں سنّاٹا چھا گیا ___ وہ کہنے لگے: ’’اے چچا ، جیسے تم مناسب سمجھتے ہو کرو‘‘۔
دیکھیے ! وہ کیا چیز ہے جس نے دلوں کو فتح کر لیا، مادی قوت نہیں، اسلحے کی سج دھج نہیں ، فوج کی تعداد نہیں ، ظاہری رعب ودبدبہ نہیں___ وہ چیز ہے اخلاقی قوت ، باہمی محبت___ یک رنگی، وحدت اور نظم واطاعت ! اخلاق کی قوت مادی طاقت اور ابلیسی سیاست پر غالب آئی اور بحث کے لیے صفحۂ تاریخ پر یہ فیصلہ ثبت کر گئی کہ :’’آخر ی فتح اخلاق ہی کی قوت کو حاصل ہوتی ہے ‘‘۔
اب آزمایش کا ایک دوسرا ورق کھلتا ہے۔ انسان کی نگاہ چند قدم ہی تک دیکھتی ہے لیکن حکمت الٰہی کے لیے زمان ومکان کی کوئی حد اور قید نہیں۔ انسان اپنی سمجھ اور خواہشات اور تمنّائوں کے مطابق فیصلے چاہتا ہے، لیکن مشیّت ربانی کی جو حکمت بالغہ کار فرما ہے وہ ہماری تمنّائوں کی پابند نہیں۔
مسلمانوں کا دل اب صلح سے زیادہ معرکے اور زیارت بیت اللہ کے لیے بے تاب تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی کسی اور ہی طرف اشارہ کر رہی تھی۔
مسلمانوں کے لیے ایک بڑا ہی دل پاش پاش کر دینے کا لمحہ آیا، آزمایش نے ایک نیا رُوپ دھارا۔ صلح کی شرائط طے ہو گئیں، قریش کی طرف سے سُہیل بن عَمرو، ایک وفد کے ساتھ آیا اور حضوؐر سے گفت وشنید کے بعد منجملہ اور چیزوں کے یہ طے پایا کہ:
۱- دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی، اور ایک دوسرے کے خلاف خفیہ یا علانیہ کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔
۲- اس دوران میں قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] کے پاس جائے گا، اسے آپؐ واپس کردیں گے، اور آپؐ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا، اسے وہ واپس نہ کریں گے۔
۳- قبائلِ عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا، اسے اس کا اختیار ہوگا ۔
۴- محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] اس سال واپس جائیں گے اور آیندہ سال وہ عمرے کے لیے آکر تین دن مکّہ میں ٹھیر سکتے ہیں، بشرطیکہ نیاموں میں صرف ایک ایک تلوار لے کر آئیں، اور کوئی سامانِ جنگ ساتھ نہ لائیں۔ ان تین دنوں میں اہلِ مکّہ، ان کے لیے شہر خالی کردیں گے (تاکہ تصادم نہ ہو) مگر واپس جاتے ہوئے وہ یہاں کے کسی شخص کو اپنے ساتھ لے جانے کے مجاز نہ ہوں گے۔
ان شرائط پر مسلمانوں میں ایک خاموش اضطراب ، ایک دبی ہوئی بے چینی اور ایک شدید گھٹن کی سی فضا پیداہوگئی تھی۔ کوئی شخص ان مصلحتوں کو نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ جنھیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُور رس نگاہیں دیکھ رہی تھیں۔ پھر جب معاہدہ لکھنے کا آغاز ہوا توحضرت علی ؓ نے لکھنا شروع کیا: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سہیل نے کہا: ’’ہم اس کو پسند نہیں کرتے باسمِکَ اللّٰھم لکھو ‘‘۔
آپؐ نے فرمایا: ’’اچھا یہی سہی‘‘ ___
دوسرا جملہ تھا: من محمد رسول اللہ ___ سہیل نے پھراختلاف کیااور کہا: ’’اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو جھگڑا ہی کیا تھا، ’’محمد بن عبداللہ ‘‘ لکھیے۔ مسلمانوں کے لیے یہ اعتراض ناقابلِ برداشت تھا۔ ان کی بے چینی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔
حضور ؐ نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ ’رسول اللہ کے لفظ مٹا دو‘___ لیکن حضرت علی ؓ کے ہاتھوں کی جنبش رُک گئی۔ حضوؐر نے حکم دیا، مگر علی ؓ تعمیل نہیں کر پاتے ! آہ! محبت میں ایک ایسا مقام بھی آتا ہے کہ محبوب کی عزت اور مقامِ نبوت کی عظمت وعصمت کی خاطر اطاعت کیش ہاتھ پائوں بھی رُک گئے___ یہ عدم اطاعت نہیں تقدیس اور عظمت وعقیدت کا وہ نازک مقام ہے کہ جہاں اطاعت بھی محبت کے آگے سپر ڈال دیتی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ان الفاظ کو، جن کے لیے ساری دنیا کو چھوڑا تھا، کیسے مٹا سکتے تھے؟
حضوؐر اس پر خفا نہیں ہوئے، اپنے دست مبارک سے وہ الفاظ مٹا دیے اور محمد بن عبداللہ لکھ دیا گیا۔ یہ تھی نبیِؐ برحق کی حکمت عملی ___ !
باطل پرستوں کی نادانی پر زمین وآسمان کی قوتیں خندہ زیرلب کے ساتھ گویا تھیں کہ ان الفاظ کے مٹانے سے کہیں حق مٹ سکتا ہے ! یہ تو محض ایک قانونی وسیلہ ہے تمھاری اس چھچھوری حرکت پر، اس میں کیا فرق پڑجائے گا۔ ایسے قانونی کرتب کہیں دعوت اسلامی کو بھی متاثر کرتے ہیں!
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ(الفتح ۴۸:۲۹ ) محمدؐ، اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفّار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔
یہ زور دار اعلان قریش کی اوچھی حرکت کی کلّی تردید ہے ! قرآن کے ان تین اہم ترین مقام میں سے ایک، جہاں نام لے کر حضور ؐ کی رسالت کا اثبات واظہار نہایت قوت وتہدی کے ساتھ کیا گیا ہے ۔
لیکن یہ ساری باتیں تو کچھ بعد کی ہیں، فوری طور پر تو مسلمانوں کے جذبات میں شدید ارتعاش پیدا ہو گیا ۔ ان کی نگاہیں مستقبل کے دھندلکوں میں پوشیدہ کامیابیوںکو دیکھنے سے قاصر تھیں۔ وہ ان حکمتوں سے بھی ناواقف تھے، جو اللہ کے فیصلوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں ___ ان کے سامنے تو غلبے کی اُمید کے بعد ظاہری کم زوری یا کھلے لفظوں میں ناکامی کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ وہ تو زیارتِ کعبہ کی توقعات کو ہوا میں تحلیل ہوتا دیکھ رہے تھے۔ وہ تو ظالموں کی بات کے وقتی طور پر بظاہر حاوی ہوجانے پر مضطرب تھے۔ وہ اپنی امیدوں کے ٹوٹنے پر پریشان اوربے چین تھے___ وہ آئے تو اس ارادے سے تھے کہ متکبروں کی اکڑی ہوئی گردن کو جھکا دیں گے یا قلم کر دیں گے ___ لیکن بظاہر انھیں نظر ا ٓ رہا تھا کہ اس گردن کے خم میں تو کچھ اور بھی کجی رُونما ہو گئی ہے۔
ابھی صلح نامے پر آخری دستخط نہ ہوئے تھے کہ ایک مسلمان حضرت ابو جندل ؓ آئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ سہیل ان پر سخت مظالم کر رہا تھا۔ اس وقت بھی ہاتھ اور پائوں میں زنجیریں تھیں اور انھوں نے مسلمانوں کے سارے مجمعے کے سامنے اپنے زخم اور دھنکی ہوئی کمر دکھائی___ یہ منظر دیکھ کر سب کے دل دہل گئے، خون جوش میں آگیا۔ حضوؐر نے ابو جندل ؓ کو معاہدے سے مستثنیٰ کرانے کی بہترین کوشش کی، لیکن سہیل بن عَمرو اڑ گیا۔ بالآخر آپؐ نے معاہدے کی پابندی کی اور فرمایا:
’’ابو جندلؓ ، چند روز اور صبر کرو، اجر کی اُمید رکھو، عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے اور دوسرے مظلوموں کے لیے کشادگی پیدا کرے گا۔ میں مجبور ہوں کہ میں نے عہد کر لیا ہے اور عہد کے خلاف نہیں کر سکتا ‘‘۔ اور حضرت ابو جندلؓ کو پابہ زنجیر واپس جانا پڑا ۔
یہ آزمایش مسلمانوں کے لیے بہت کڑی تھی___ ذلت گوارا کریں اور پھر اپنے بھائیوں کو آنکھوں دیکھے ظالموں کے ہاتھ میںدے دیں۔
ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں ؟
ان واقعات پر سب ہی مضطرب تھے، لیکن زبان کھولنے کی ہمت کسی میں نہیں ہورہی تھی، بالآخر حضرت عمر ؓ کو ضبط کا یارانہ رہا اور وہ بے چین ہوکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور بوجھل دل سے کہا: ’’کیا حضوؐر، اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ پھر آخر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ ذلّت کیوں اختیار کریں؟‘‘
ابوبکر صدیقؓ نے جواب دیا: ’’اے عمر، وہ اللہ کے رسولؐ ہیں ، اور اللہ ان کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا‘‘۔
حضرت عمرؓ کا اضطراب ختم نہ ہوا، اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے :
عمر ؓ : یا رسولؐ اللہ ! کیا آپ پیغمبرؐ برحق نہیں ہیں؟
حضور ؐ نے فرمایا : ہاں، ہوں۔
عمر ؓ : کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟
فرمایا : ہاں، ہم حق پر ہیں۔
عمر ؓ : تو ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟
فرمایا : میںخدا کا پیغمبرؐ ہوں اور خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتا ، خدا میری مدد کرے گا۔
عمرؓ: کیا آپؐ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم لوگ کعبہ کا طواف کریں گے؟
فرمایا: ہاں، لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اس سال ہی کریں گے۔ (بخاری، سیرت النبی ؐ ، از شبلی نعمانی، ص ۴۵۵-۴۵۶)
معاہدے کی تکمیل کے بعد آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاکہ یہیں قربانی کی جائے لیکن جو کعبہ کی زیارت کی ولولہ انگیزتوقعات کے ساتھ نکلے تھے، جوببول تلے ابھی جاں نثاری کی بیعت کر چکے تھے، جو شہادت کو چشم تصور سے دیکھ رہے تھے اور خوش ہو رہے تھے، جو پرشوق اُمیدوں کے سہارے تخیل ہی تخیل میں معلوم نہیں کتنی بار کعبہ کا پروانہ وار طواف کر چکے تھے___ سکتے کے عالم میں تھے ___ ہر شخص دل شکستہ ، ہر جانباز پژمُردہ اور نااُمید ___ حضوؐر نے قربانی کے لیے کہا، مگر کوئی نہیں اٹھا ۔ تین بار زبانِ رسالتؐ سے اس خواہش کا اظہار ہوا، لیکن پرستارانِ حق اور عازمین حرم کی توقعات ابھی بالکل نہیں ختم ہوئی تھیں۔ وہ ابھی تک سوچ رہے تھے کہ شاید اب بھی زیارت کی کوئی صورت نکل آئے ! حضوؐر بے چین ہوکر اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ اُم المومنین حضرت اُمِ سلمہؓ سے فرمایا: میرے ان ساتھیوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ حضرت اُمِ سلمہؓ نے مشورہ دیا کہ آپؐ کچھ خیال نہ فرمائیںبلکہ خود اپنی قربانی کر دیں اور احرام اتارنے کے لیے بال منڈوا لیں۔ آپ نے باہر نکل کر اپنی قربانی کر دی___ اب آخری توقع بھی ٹوٹ گئی اورسب کو یقین ہوگیا کہ خدا کا فیصلہ آ چکا ہے۔ ہماری توقعات وخواہشات کچھ بھی ہوں لیکن اس سال ہم اپنے محبوب کی زیارت سے محروم ہی رہیں گے ___ ابھی کچھ دن اور صبر کرناہوگا، ابھی ہجر کی کچھ اور گھڑیاں باقی ہیں۔ زیارت محبوب کی تمنّا کو ابھی سوزِ قلب کی بھٹیوں میںاور پکانا ہوگا ؎
نالہ ہے بلبل شوریدہ، ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
جب یہ یقین ہو گیا تو اطاعت کا دریا پھر جوش میں آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے بعد سب نے اپنی اپنی قربانیاں پیش کر دیں اوراحرام اتار دیے۔
یہاں پر یہ گمان نہ ہو کہ اس نازک لمحے میں جاں نثارانِ محمد ؐ میں عدم اطاعت کا مرض پیدا ہوگیاتھا۔ ہرگز نہیں، اطاعتِ رسولؐ تو ان کا ایمان اور ان کی معراج تھی۔ اس کی وجہ صرف اضطراب اور پریشانی کے عالم میں زیارت کعبہ کی ایک آخری امید تھی___ توقعات ٹوٹ رہی تھیں، اضطراب بڑھ رہا تھا، لیکن اس اُمید شکن ماحول میں بھی بار بار یہ خواہش ابھر رہی تھی کہ کاش! کوئی صورت نکل آئے ___ اور اسی لیے قربانی کرنے میں ہچکچاہٹ تھی۔ لیکن جب یہ توقع بالکل ختم ہو گئی تو اس کے باوجود اطاعت میں کوئی کمی نہ رہی۔
ان سخت صبر آزما حالات میںبھی اطاعت کی مثال اگر دیکھنی ہے تو صلح نامے پر دستخط کرنے والوں کی فہرست پر نگاہ ڈالیے۔ جب حضوؐر کی مہر اس پر ثبت ہوئی تو وہی عمر ؓ جو سخت مضطرب تھے، انھوں نے ایک اشارے پر اس معاہدے پر بطورِ گواہ دستخط کر دیے ہیں۔کیا اس اطاعت شعاری کا کوئی جواب ہو سکتا ہے!
جسے تم ذلّت سمجھ رہے ہو !
مسلمانوں کا یہ اضطراب حق کے جوش اور اس کی محبت میں تھا ، کسی جاہلی جذبے کی بنا پر نہیں تھا۔ اس لیے دیکھیے حق تعالیٰ اس پر نکیر فرمانے کے بجاے کس کس پیار سے ان کو سمجھاتا ہے۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے اور اس میں بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ ہم ہی نے تم کو ان کافروں پر فتح یاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے تھے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس کو دیکھ رہا ہے:
وَھُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْھِمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاo (الفتح ۴۸: ۲۴) وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، حالاں کہ وہ ان پر تمھیں غلبہ عطا کر چکا تھا، اور جو کچھ تم کر رہے تھے، اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
پھر سمجھایا جارہا ہے کہ اہل مکہ میںبہت سے چھپے ہوئے مسلمان ہیں جو اس وقت جنگ کی شکل میں مشکل میں پھنس جاتے بلکہ تمھارے ہی ہاتھوں قتل ہو جاتے۔ ہم نے تاخیر اس لیے کی ہے کہ وہ کھل کر دائرۂ حق میں داخل ہو جائیں:
وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآئٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْھُمْ اَنْ تَطَئُوْھُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْھُمْ مَّعَرَّۃٌ م بِغَیْرِ عِلْمٍ ج لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ج (الفتح ۴۸: ۲۵) اگر [مکّہ میں] ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنھیں تم نہیں جانتے، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انھیں پامال کردو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی۔ روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔
حضوؐر نے ایک مختصر جملے میں کتنی بلیغ بات ارشاد فرمائی کہ ’’ میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ اس سال ہی عمرہ کریں گے‘‘، یعنی خدا کا وعدہ سچا ہے ، لیکن اس کا وقت بھی متعین ہے۔ بے صبری اور جلدبازی اس راہ میں حرام ہے۔ اپنے وقت پر اس کا وعدہ لازماً پورا ہو گا۔ ہمارا یہ کام نہیں کہ خدا کے فیصلوںکے لیے وقت متعین کریں___ وہ اپنے ہر کام کو اس کے مناسب وقت پر خود انجام دیتاہے۔
مسلمانوں کو اس کا یقین دلایا جا رہا ہے کہ تمھاری مدد اور منکرین حق کی تعذیب کے لیے خدا کے لشکر ہر وقت تیار ہیں، پلک جھپکتے میںوہ فیصلہ کر دیں گے___ تاخیر خدانخواستہ کسی کمزوری کی بنا پر نہیں تھی، مصلحت اور حکمت اس کی وجہ تھی اور خدا کی ساری حکمتیں تمھارے سامنے نہیں تھیں:
وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًاo (الفتح ۴۸: ۴) زمین اور آسمان کے سب لشکر اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے۔
پھر بڑے لطیف انداز میں ان کو متوجہ کیا گیا کہ اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے، دنیا میں غلبہ ملانہ ملا___ یہ تو کوشش اور جدوجہد کا زمانہ ہے۔ اس میں نتائج کے بارے میں اتنے نازک طبیعت نہ ہو جائو ۔
ایمان واطاعت کی راہ میں بہت سے مراحل آئیں گے، تمھاری نگاہ ہر مرحلے میں رب کی رضا اور آخرت کی کامیابی پر ہونی چاہیے ___ یہی اصل کامیابی ہے:
لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَیُکَفِّرَ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ ط وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًاo(الفتح ۴۸: ۵) (اس نے یہ کام اس لیے کیا ہے)تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اُن کی بُرائیاں اُن سے دُور کر دے___ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔
سمجھایا جا رہا ہے کہ اسلام نام ہے خوشی اور ناخوشی میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی پیروی کا۔ تمھاری توجہات کا مرکز یہ نہ ہو کہ کیا پایا ؟ یہ ہو کہ حکم کی اطاعت کہاں تک اور کس جذبے سے کی___ اگر تلوار اٹھانے کا حکم ہے تو اس وقت تلوار اٹھانا نیکی ہے،اور اگر تلوار کھینچ لینے کا حکم ہے تو اس وقت تلوار کھینچ لینا نیکی ہے۔ اگر زیارت کے لیے چلنے کا حکم ہے تو محبوب کی زیارت کا شوق دل ونگاہ کی تسکین کا سامان ہے، اور اگر حکم مزید انتظار کا ہے تو سکون وراحت کا منبع ہجر اور لذتِ انتظار کو بن جانا چاہیے ع
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
نگاہ ہمیشہ اصل جو ہر پر رہے اور وہ یہ ہے کہ :
وَّمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ج وَمَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًاo (الفتح ۴۸: ۱۷) جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا، اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی اور جو منہ پھیرے گا، اسے وہ دردناک عذاب دے گا۔
اس محبت بھری تفہیم کے بعد یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ تمھارے خلوص کی بنا پر ہم نے تمھارے دلوں پر سکینت نازل کر دی ہے، تا کہ پریشانی اطمینانِ قلب میں بدل جائے اور پھر جمعیت خاطر کی نعمت سے تم مالا مال ہو جائو ۔ یہ خدا کی مددونصرت کا ایک پہلو ہے___ اور نادانو! تم جس چیز کو ذلت سمجھ رہے ہو، وہ صرف تمھاری کوتاہ بینی ہے ، یہ تو ہم نے فتح کے لیے زمین تیار کی ہے۔ دعوت کے پھیلنے کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ غلبے کے امکانات روشن کیے ہیں اور ایک نہیں کئی کئی فتوحات تمھارے لیے مقرر کر دی ہیں ۔ بہت جلد تم کو خیبر میں فتح حاصل ہو گی، مال ودولت بھی ہاتھ آئے گا، اور پھر قریش پر غلبہ بھی حاصل ہو گا:
فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ وَاَثَابَھُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا o وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا o (الفتح ۴۸: ۱۸-۱۹ ) اور جو (صدق وخلوص ) ان کے دلوں میں تھا، وہ اس نے معلوم کر لیا تو ان پر تسلی اور سکینت نازل فرمائی اور انھیں جلد فتح عنایت کی___ اور بہت سی غنیمتیں جو انھوں نے حاصل کیں اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔
خلوصِ دل ، اطمینان قلب، دنیوی فتح اور مالی خوش حالی میں جو ربط وتعلق ہے، وہ ان آیات میں پوری طرح ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ توقعات کے حسین تاج محل اس لیے منہدم کیے جاتے ہیں کہ خلوص اور دل کی کیفیت معلوم کر لی جائے۔ اگر اس میں کھوٹ نہیں ہے تو پھر انعامات کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ دل میں اطمینان القا کیا جاتا ہے، مادی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، اور بالآخر فتح وغلبہ عطا کیا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، اور ہمیشہ رہے گی:
وَلَوْ قٰتَلَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا o سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا o (الفتح ۴۸: ۲۲-۲۳)
یہ کافر لوگ اگر اِس وقت تم سے لڑ گئے ہوتے تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے اور کوئی حامی و مددگار نہ پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پائو گے۔
اپنے پیغمبر ؐ کو اس نے دین حق اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اور اس لیے بھیجا ہے کہ اس دین کو تمام نظاموں پر غالب کر دے اور یہ ہو کر رہے گا ۔ حق ظاہر کرنے کے لیے اللہ ہی کافی ہے:
ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًاo(الفتح ۴۸: ۲۸) وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔
اس لیے وہ چیز جسے مسلمان کمزوری سمجھ رہے تھے اور جس میں دین کی ذلت دیکھ رہے تھے، حق تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اسے ’فتح مبین ‘قرار دیا:
اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا(الفتح ۴۸: ۱) اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی۔
یعنی وہ صلح جس کو شکست سمجھا جارہا تھا، اللہ کے نزدیک وہ فتح عظیم تھی۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا: ’’آج مجھ پر وہ چیز نازل ہوئی ہے، جو میرے لیے دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی ہے‘‘۔ پھر یہ سورت تلاوت فرمائی اور خاص طور پر حضرت عمرؓ کو بلا کر سنایا، کیوںکہ وہ سب سے زیادہ رنجیدہ تھے۔
اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سن کر حضوؐر سے پوچھا : ’’یارسولؐ اللہ!کیا یہی فتح ہے ‘‘۔
ایک اور صحابیؓ حاضر ہوئے اور انھوں نے بھی یہی سوال کیا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے، یقینا یہ فتح ہے‘‘۔(مسنداحمد، ابوداؤد)
یہی ارشاد تھا جس نے مضطرب دل کو مطمئن کر دیا ___ ایمان اور ہے ہی کیا ؟ اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات پر یقین واطمینان ___ اس کی تائید وتصدیق ___اور اس کے وعدے پر اعتماد اور پھر بھروسا!
اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (یونس ۱۰:۵۵) اللہ کا وعدہ سچا ہے، مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں۔
بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے ! یہی صلح جو بظاہر ذلت کا نشان معلوم ہوتی تھی دراصل فتح کا سبب ، اس کا پیش خیمہ اور ذریعہ بنی ___ ایک نہیں، متعدد فتوحات کا !
کفار نے یہ افواہ اڑا دی تھی کہ مسلمان کمزور ہو گئے ہیں۔ اسی لیے حکم ہوا کہ طواف میں جب ان مقامات سے گزر و جو مشرکین کے سامنے ہیں تو تیز تیز چلو ، سینہ تان کر چلو، کندھے ہلائو ، اور اپنی قوت اور شان وشوکت کا مظاہرہ کرو ___ آج تک یہ چیز مناسک حج کا جزو ہے ۔
مکہ میں مسلمانوں کا یہ داخلہ فتح مکہ کی ریہرسل تھا___ ایک ہی سال بعد مسلمان فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور اللہ کا وعدہ پورا ہو گیا ___ اور یہ چھٹی فتح تھی!
فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا(النساء۴:۱۹) ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔
o
میں سورئہ فتح کا مطالعہ نہیں کر رہا تھا، تاریخ میری آنکھوں کے سامنے گردش کر رہی تھی اور دل ودماغ کے فتحِ ابواب کا کام انجام دے رہی تھی۔ نئے نئے گوشے میرے سامنے ابھر رہے تھے۔ میں نے ذرا غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سفر زیارت بیت اللہ کے لیے تھا، اسی کا اہتمام تھا، لیکن جو معاہدہ ہوا وہ خالص سیاسی تھا۔ دینی سفر کا سیاسی پہلو، زیارتِ کعبہ اور معاہدۂ صلح؟
اسلام میں دین وسیاست کس طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں___ طواف کے وقت بھی مسلمانوں کے دبدبے کو قائم کرنے کا خیال___ معروف اصطلاح میں سیاست، لیکن اس مقدس مقام پر بھی اس کا لحاظ ! قربانی کے اونٹ لائے گئے تو ان میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، تا کہ مسلمانوں کی قوت معلوم ہو اور مشرکین کو کڑھن ہو___کیا اسے بھی سیاست کہیں گے؟___ افسوس ! اسلام کا جو امتیاز تھا، اب اس پر کچھ کور ذہنوں کو وحشت و شرمندگی ہونے لگی۔ نبیِؐ برحق نے تو دین اور سیاست کو ایک وحدت میں اس طرح سمو دیا تھا کہ ان میں کوئی فرق باقی نہ رہا تھا، وہ ایک ہی حقیقت کے دوپہلو بن گئے تھے۔ اور حیرت اس بات پر کہ ’ کم کوشوں ‘ نے اس حقیقت کو گم کر دیا۔
منافقین کا رول اس موقعے پربھی وہی تھا، جیسا ہمیشہ رہا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کا رسولؐ اور اس کے یہ ساتھی اب کیا واپس آئیں گے ___ خوش ہو رہے تھے___ چلو قصہ ختم ہوا، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہ آئے بھی اور فاتح بھی ہوئے اور منافقین آگ پر لوٹنے لگے۔ مخالفینِ حق کے اندازے اللہ تعالیٰ ہمیشہ غلط کرا دیتا ہے اور بالآخر ان کو ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔
اہلِ حق کی محبت کا اصل سر چشمہ اللہ اور اس کے آخری رسولؐ کی اطاعت ہے۔ ان کی طاقت باہمی محبت واخوت اور باطل اور ظلم کے لیے سختی میں ہے۔ ان کی کامیابی کا راز اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے ، اس سے مغفرت طلب کرنے اور صرف اسی پر بھروسا کرنے میں ہے۔ فتح کی خوش خبری کے ساتھ ہی ان کے جو اوصاف بتائے جا رہے ہیں، وہ یہی ہیں:
اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ تَرٰھُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاھُمْ فِیْ وُجُوْہِھِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ط (الفتح ۴۸: ۲۹) وہ کفّار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے اُنھیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوش نودی کی طلب میں مشغول پائو گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔
یہی وہ ہتھیار ہیں جن سے اہل حق اپنی لڑائی لڑتے اور بالآخر بازی جیتتے ہیں۔
o
میں سورۃ الفتح کو پڑھ رہا تھا___ کئی بار اس کی تلاوت کی، میرے ذہن پر سے بوجھ اَب اُتر چکا تھا، تاریکیوں اور مایوسیوں کا ایک ایک پردہ اٹھ گیا اور اجالا پھیلنے لگا۔ میرے دل نے گواہی دی کہ حق کا پیغام باطل پرستوں کی ریشہ دوانیوں کے باوجود پھیلے گا اور ان شا اللہ غالب ہوکر رہے گا۔ یہ نام کہیں مٹائے سے نہیں مٹتا !___ راہ میں نشیب وفراز تو بہت سے ہیں، لیکن آخری کامیابی حق ہی کی ہے___ اور ایک نہیں بہت سی کامیابیاں ہیں۔
حق سے وابستگی اور اس پر استقامت خود اپنی جگہ ایک کامیابی ہے۔ مایوسیوں کے عالم میں اللہ کی ذات بابرکات پر اطمینان اور اس کی سکینت کا نازل ہونا بھی ایک کامیابی ہے۔ نتائج سے بے پروا ہو کر حق کے لیے ڈٹ جانا ایک کامیابی ہے، پھر غلبۂ حق بھی ان شاء اللہ اس سلسلے کی ایک کامیابی ہے ___ لیکن سب سے بڑی اور اصولی کامیابی تو اللہ کا راضی ہو جانا ہے۔ اگر وہ حاصل ہو جائے تو سب کچھ حاصل ہو گیا !
غم اورپریشانی کے بادل اَب چھٹ چکے تھے، اطمینان اور سکون کی ایک نئی دولت سے دل مالا مال تھا، فَالْحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔
تصحیح: ’جدید فرعون کی جیل میں‘ (جولائی ۲۰۱۷ء) محمد حامد ابوالنصر کی تحریر کا ترجمہ حافظ محمد ادریس صاحب نے کیا تھا۔ ان کا نام درست شائع نہ ہوسکا جس پر ادارہ معذرت خواہ ہے۔ ادارہ
الحمدللہ، قیامِ پاکستان کو۷۰برس بیت گئے ہیں۔ تخلیقِ پاکستان کے لیے ہمارے آباواجداد نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ فی الحقیقت وہ خون کا دریا عبور کرکے اس خطۂ ارضی تک پہنچے۔ انھوں نے اپنے گھربار چھوڑے، رشتے ناتے توڑے، اور صدیوں سے آباد اپنے مسکن ہندو اور سکھ بلوائیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ آئے۔ اتنی بڑی قربانی اور اتنی بڑی ہجرت کی غرض محض ’مادی ترقی کا خواب‘ نہیں تھا، (یہ کیسی ’مادی ترقی‘ کی دوڑ تھی کہ سب کچھ جلتا چھوڑ دیا اور عزت و آبرو بھی قربان کر دی؟) نہیں، بلکہ مادی ترقی سے بالاتر ایک خواب تھا کہ ہم دو قومی نظریے کی بنیاد پر، یہ وطن حاصل کررہے ہیں، جہاں دینِ اسلام کی منشا کے مطابق زندگی بسر کرنے کی طرح ڈالیں گے۔
ان میں ایک تو وہ تھے جنھوں نے بے پناہ قربانی دی۔ دوسرے وہ تھے جنھوں نے اپنے اِن لُٹے پٹے بہن بھائیوں کو مشرقی بنگال، مغربی پنجاب اور سندھ بشمول وفاقی دارالحکومت کراچی میں خوش آمدید کہا۔ پھر تیسرے وہ ہیں جو پاکستان کے لیے قربانی دیتے ہوئے بھارت میں، برہمنی استبداد کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہے ہیں۔
ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن نے قربانی، ہمت، کامیابی اور ناکامی کے ان ۷۰ برسوں کی تکمیل پر ایک قلمی مذاکرے کا اہتمام کیا ہے، جس میں مختلف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہلِ دانش کو دعوت دی ہے کہ وہ مختصراً ۷۰برسوں کا جائزہ لے کر، بہتر مستقبل کے لیے رہنما خطوط متعین کریں۔ ہماری دعوت پر قلیل وقت میں جن کرم فرمائوں نے قلمی تعاون فرمایا، ان میں سے چند تحریریں آیندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہیں ، جب کہ دیگر تحریریں آیندہ اشاعت ستمبر ۲۰۱۷ء میں پیش کی جائیں گی۔ پیش کردہ تحریروں کے متن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بعض نکات سے اختلاف کے باوجود من و عن پیش کی جارہی ہیں۔ (ادارہ)
۲۶جون ۲۰۱۷ء عیدالفطر کے مبارک موقعے پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی واشنگٹن میں ملاقات سے صرف دو گھنٹے پہلے، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک ’حکم نامے‘ بعنوان ’Diplomacy in Action‘ (اقدامی سفارتی حکمت عملی) کے ذریعے ’حزب المجاہدین‘ کے سپریم کمانڈر جناب سیّد صلاح الدین کو ایک ’نادر تحفہ‘ دیتے ہوئے ان کا نام اس فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جسے امریکا اپنی اصطلاح میں ’خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد‘ (Specially Designated Global Terrorist) کہتا ہے، اور جس کی تعریف خود اس حکم نامے میں یہ درج ہے:
غیر ملکی افراد جنھوں نے دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں کی ہیں، یا جن کی طرف سے ایسی کارروائیوں کا واضح خدشہ موجود ہے، جو امریکی شہریوں یا امریکا کی قومی سلامتی ، خارجہ پالیسی یا معیشت کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
اس حکم نامے میں سیّد صلاح الدین صاحب کے جن ’جرائم‘ کا ذکر ہے، دُور و نزدیک سے ان کا کوئی تعلق امریکا، اس کی سلامتی اور امریکیوں کی زندگی سے نہیں ہے۔مجمل انداز میں کہا گیا ہے کہ:
ستمبر ۲۰۱۶ء میں صلاح الدین نے عہد کیا کہ وہ کشمیر کے تنازعے کے کسی بھی پُرامن حل کا راستہ روکے گا۔ اس نے مزید کشمیری خودکش بمبار وں کو تربیت دینے کی دھمکی دی اور عہد کیا کہ وہ وادیِ کشمیر کو بھارتی فوجیوں کے قبرستان میں بدل دے گا۔ صلاح الدین کے ’حزب المجاہدین‘ کے سینیر رہنما ہونے کی مدت کے دوران حزب المجاہدین نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں اپریل ۲۰۱۴ء میں ہونے والا بارودی حملہ بھی شامل ہے، جس میں ۱۷ لوگ زخمی ہوئے۔
اس ’چارج شیٹ‘ کی بنیاد پر حکم صادر ہوا ہے کہ :
صلاح الدین دہشت گردی کی کارروائیوں کا مرتکب ہوا ہے یا اس کی طرف سے ایسی کارروائیوںکے ارتکاب کا شدید خطرہ ہے، اس لیے اس کو ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا جاتا ہے۔
اگر اس ’حکم نامے‘ کا تجزیہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ قانون اور انصاف کے متفق علیہ اصولوں کی سراسر ضد ہے۔ وہ امریکا جو جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے باب میں اپنے کو عالمی برادری کا لیڈر قرار دیتا ہے، یہاں کس ڈھٹائی اور سفّاکی سے انصاف، قانون اور جمہوری اقدار کا خون کر رہا ہے۔ یہ کام محض بھارت سے معاشی فوائد کے حصول اور علاقائی سیاسی مفادات کی خاطر دنیا کی معتبر اور مقتدر شخصیات پر دہشت گردی کی چھاپ لگا کر کیا جا رہا ہے۔
اس ’حکم نامے‘ کا بغور مطالعہ کریں تو اس میں سیّد صلاح الدین صاحب کے مبیّنہ ’جرائم‘ کا کہیں دُور و نزدیک، کسی امریکی شہری یا خود امریکا کے کسی مفاد پر پڑنے والی ضرب، یا اس کے لیے کسی واضح یا موہوم خطرے تک کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی، ان چند تحریکوں میں سے ہے، جو صرف اور صرف اپنے علاقے تک محدود ہیں۔ اس تحریک کا ہدف صرف اہلِ کشمیر کے مادرِ وطن پر غاصب اور ناجائز طور پر قابض فوج (Occupying Force) کا مقابلہ اور اس کے تسلط سے آزادی کا حصول ہے۔
’ حزب المجاہدین‘ تو وہ تنظیم ہے، جس نے پہلے دن سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بھارت اور عالمی اقوام کے وعدوں کی بنیاد پر جمہوری طریقے (عوامی استصواب) سے عمل کا مطالبہ کیا ہے۔ سیّد صلاح الدین نے اس منزل کے حصول کے لیے اصلاً معروف جمہوری راستے کو بھی اختیار کیا اور خود ۱۹۸۷ء کے انتخابات میں حصہ لیا۔ یوں گویا الیکشن کا وہ ذریعہ بھی اختیار کرکے دیکھ لیا، جسے بھارتی سرکاری مشینری نےمحض بھارتی جمہوری ڈراما بناکر حسب ِ روایت دھاندلی کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اسی طرح بعد کے مراحل میں کشمیر کی حق خود ارادیت کی تحریک میں ان اصولوں کی مکمل پاس داری کے ساتھ جدوجہد کی، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون اور معاہدوں (conventions) کے دائرے میں آتی ہیں۔ حتیٰ کہ ’حزب المجاہدین‘ نے کبھی کوئی کارروائی ریاست جموں و کشمیر کی حدود سے باہر اس قابض قوت کے خلاف نہیں کی۔ ’حزب المجاہدین‘ نے ’حُریت کانفرنس‘ کی سیاسی جدوجہد کی ہمیشہ تائید کی ہے۔ اس کی ساری جدوجہد کا صرف ایک ہدف ہے:
جموں و کشمیر کے عوام کا یہ حق کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے، اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں۔ وہ حق جو ان کا پیدایشی حق ہے، جس کی ضمانت اقوامِ متحدہ کا چارٹر آرٹیکل ۱ اور ۵۵ اسے دیتے ہیں۔ جس کا وعدہ ان سے اقوامِ متحدہ نے ۲۲ سے زیادہ قراردادوں کی شکل میں کیا ہوا ہے۔جس کا وعدہ خود بھارت کی حکومت، پاکستان کی حکومت اور پوری عالمی برادری نے کیا ہے، اور جس کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے صاف الفاظ میں یہ تک کہہ دیا ہے کہ جموں و کشمیر میں کوئی نام نہاد دستورساز اسمبلی یا کسی اسمبلی کے انتخابات اس استصواب اور عوامی راے شماری کا بدل نہیں ہوسکتے، جس استصواب راے کا وعدہ بھارت، پاکستان اور اقوامِ متحدہ نے ان سے کیا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم تاریخ کے سینے پر نوشتۂ دیوار کے طور پر اس ضابطۂ اخلاق کا پورا متن دے رہے ہیں، جس کا ’حزب المجاہدین‘ اپنے تمام مجاہدین کو پابند کرتی ہے۔ یہ اس تحریکِ آزادی کے لیے Standing Code of Conduct (مستقل ضابطۂ اخلاق)کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ضابطے اور آدابِ کار کے لوگوں کو دہشت گرد قرار دینا بدترین ظلم اور ناانصافی ہے:
ریاست جموں و کشمیر میں جاری تحریک جہاد سے وابستہ ہرمجاہد کو اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ:
اس صاف شفاف لائحۂ عمل اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ضابطوں کی پاس داری کے علی الرغم ’حزب المجاہدین‘ اور اس کے سربراہ کو عالمی دہشت گرد قرار دینا، دراصل اپنی جگہ پر عالمی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے، جو امریکا کی جانب داری، مفاد پرستی اور اس کے ناقابلِ اعتماد ہونے کی واضح دلیل ہے۔ بی بی سی لندن (اُردو سروس) نے اس پہلو کی یوں نشان دہی کی ہے:
’حزب المجاہدین‘ ، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی مسلح تنظیم ہے۔ حزب نے ۲۷سال کے دوران کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں راے شماری چاہتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ [داعش] کی لہر سے اعلاناً فاصلہ بنائے رکھا۔
بی بی سی کے اسی نامہ نگار نے اس خطرے تک کا اظہار کیا ہے کہ:
صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اُٹھا سکتے ہیں اور کشمیر کی مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مزاحمت کے خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک جس کا ابھی تک کردار بھی مقامی اور ایجنڈا بھی مقامی رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک گلوبلائزڈ جہادی نیٹ ورک کا حصہ بننے میں عافیت سمجھے۔(’’صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دیے جانے کا تحریکِ کشمیر پر کیا اثر پڑے گا؟‘‘ از ریاض مسرور، بی بی سی ڈاٹ کام، سری نگر، ۲۷جون ۲۰۱۷ء)
یہ ہیں اصل حقائق___ کیا ہم یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ امریکا اپنے ان حالیہ اقدامات سے عالمی دہشت گردی کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یا پھر اسے فروغ دینے میں دانستہ طور پر حصہ ڈال رہا ہے؟ اور جو عالمی سطح پر کسی کے لیے کوئی نہ کبھی خطرہ تھے اور نہ آج خطرہ ہیں، ان کو خطرہ بنانے کی خدمت انجام دے رہا ہے؟
امریکا اور بھارت کے اس مذموم کھیل سے ’حزب المجاہدین‘ اور تحریک ِ آزادی کشمیر کو باخبر رہنا چاہیے اور اس جال (Trap)سے بچنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اپنی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانے اور عالمی راے عامہ کو ساتھ لے کر چلنے کی ہرکوشش بجا، لیکن سمجھ لینا چاہیے کہ تحریک کا مقامی، محدود اور متعین کردار ہی اس کی بڑی طاقت ہے۔ اس سلسلے میں تحریکِ آزادی اور حزب المجاہدین کا پہلے دن سے اب تک جو کردار پورے تسلسل کے ساتھ رہا ہے، اس کی حفاظت ضروری ہے۔
ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس اقدام کے ذریعے امریکا نے ایک مسلّمہ اور جائز تحریک ِ مزاحمت کا رُخ بلاوجہ اپنی طرف موڑنے کی حماقت کی ہے یا بھارت کی چال میں آکر یہ اقدام کیا ہے اور اس کے تمام اثرات اور نتائج کا ادراک نہیں کیا ہے۔ آج تک اس تحریک کا رُخ صرف ایک قابض قوت بھارت کی طرف تھا اور ہے۔ امریکا سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ حق و انصاف، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور خود اپنے ماضی کے وعدوں کا پاس کرتے ہوئے بھارت پر اثرانداز ہوگا، اور حق و انصاف کے مطابق مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرے گا۔لیکن امریکا کے اس غیرمنصفانہ اقدام نے اس کی پوزیشن کو بُری طرح مجروح کیا ہے۔ یوں امریکا سے جو توقعات کشمیر کے مظلوم عوام کو تھیں، وہ بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
اہلِ کشمیر نے آج تک صرف بھارت کا جھنڈا جلایا ہے اور بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔ صرف بھارت کی اس فوجی قوت کو، جو اِن پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، نشانہ بنایا ہے۔ بھارت کا شاطرانہ کھیل یہ ہے کہ اب بھارت کے ساتھ امریکا بھی کشمیری عوام کے غم و غصے کا ہدف بنے۔ نادانی اور جلدبازی میں امریکا اس دلدل میں پھنس گیا ہے، جس سے اسے جلداز جلد نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہاں پر تحریک ِ آزادی کشمیر کے ذمہ داران سے بھی ہماری اپیل ہے کہ وہ بھارت کی حکومت اور افواج ہی کو اپنا مخاطب اور ہدف رکھیں اور امریکا کو اپنے کیس کے مؤید اور اس کے حل کے لیے سہولت کار ہی کی حیثیت سے متحرک کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ اگرچہ خود اس نے ہدف بننے کی جو حماقت کی ہے، اس کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی اصل جدوجہد جاری رکھیں۔
اس ’حکم نامے‘ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کے شاطر اہل کاروں نے امریکا کو بڑی چابک دستی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ ان الزامات کا سہارا لیا ہے، جو خود مشتبہ ہیں (اور اگر صحیح ہیں تب بھی)، ان کا تعلق صرف اور صرف بھارت سے ہے، جو اس علاقے پر قابض قوت ہے۔ ان کا کوئی تعلق امریکا، امریکی شہریوں یا امریکی مفادات سے نہیں ہے۔ ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ امریکا نے کیوں ان کو بہانہ بناکر بھارت کے غاصبانہ تسلط میں شریکِ کار اور اس کا محافظ بننے کی حماقت کی ہے؟ جتنی جلد ہوسکے، امریکا کا اس کھیل سے نکلنا علاقائی اور عالمی امن کے لیے بہتر ہے۔
اس حکم نامے میں ایک لفظ ایسا ہے جس کو بڑی مرکزی اہمیت حاصل ہے اور جو خود امریکا اور اقوامِ متحدہ کے اصولی موقف کا عکاس ہے۔ یہی وہ لفظ ہے، جس کی روشنی میں بھارت کے بُنے ہوئے اس جال سے نکلا جاسکتا ہے اور وہ ہے اس امر کا اعتراف کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ ایک Indian Administrated Jammu and Kashmir (بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر) ہے۔ جس کے صاف معانی یہ ہیں کہ یہ متنازع علاقہ (Disputed Territory) ہے، اور Indian Administration (بھارتی انتظامیہ)دراصل Indian Occupation (بھارتی قبضے) کا نتیجہ ہے۔ نیز علاقے کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام کے حق خود ارادیت کے اصول کے مطابق ہونا باقی ہے۔
یہی مسئلے کا اصل حل ہے اور یہی وہ چیز ہے، جو جموں و کشمیر کے عوام صبح و شام کہہ رہے ہیں کہ: ’’ہمارا معاملہ نہ مالیات اور ملازمتوں کے حصول کا ہے اور نہ سیاسی و سماجی مفادات کا ہے، بلکہ آزادی اور حق خود ارادیت کا ہے‘‘۔ اور یہی وہ بات ہے جس پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت نے دہشت گردی کے پردئہ ابہام (smoke-screen) سے مسئلے کو اُلجھانے کی کوشش کی ہے۔ کشمیری عوام سادہ الفاظ میں یک زبان ہوکر اپنی بات کہہ رہے ہیں: ’’ہم کیا چاہتے؟ ___ آزادی، آزادی!‘‘۔
تحریکِ آزادی کشمیر کا آغاز تو ۱۹۳۱ء میں ہی ہوگیا تھا، لیکن ۱۹۴۷ء سے آج ۷۰سال گزر نے تک اس منزل کے حصول کے لیے تقریباً پانچ لاکھ افراد کی قربانی، لاکھوں شہریوں کی خانماں بربادی اور دربدری، اربوں کھربوں روپوں کی مالیت کے نقصانات کے علی الرغم، نت نئے جوش و خروش کے ساتھ یہ تحریک برپا اور جاری ہے۔ خصوصیت سے ۱۹۸۹ء سے جو دور شروع ہوا ہے، وہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ یہ ایک قومی تحریکِ آزادی ہے، جس میں آبادی کا بڑا حصہ عملاً شریک ہے۔ یہ ایک عوامی اور جمہوری تحریک ہے، جسے بھارت جبر، ظلم اور ننگی قوت کے وحشیانہ استعمال سے دبانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہاں کے بے بس عوام نے بھارتی اندھی بہری قوت کے آگے سپر ڈالنے سے انکار کر دیا ہے اور بوڑھے اور جوان، مرد اور عورتیں، حتیٰ کہ اسکولوں اور کالجوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی بے خوف و خطر اس میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ ع
بڑھتا ہے یہاں ذوقِ جرم ، ہر سزا کے بعد
یہاں اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ: ’’سیاسی مقاصد کے لیے ’دہشت گردی‘ عسکریت کے ایسے استعمال کو قرار دیا جاتا ہے، جس سے عام شہری نشانہ بنیں۔ ’تحریکِ آزادی‘ اس کے بالکل برعکس ایک مظلوم قوم کے حق خودارادیت کی سیاسی جدوجہد کا نام ہے، جسے بالعموم قابض قوتیں محض طاقت اور ریاستی ظلم و جبر (State Violence) کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کش مکش میں مزاحمت کے دوران مظلوم انسانوں کو بھی جوابی طور پر مزاحمت کرنا اور ضرب لگانا پڑتی ہے۔ حق خود ارادیت اور آزادی کی یہ جدوجہد (struggle for self determination) ایک سیاسی عمل ہے۔ حتیٰ کہ اگر اس میں غاصب ریاست کی قوتوں کے خلاف عسکری قوت بھی استعمال کرنا پڑجائے، تب بھی وہ جدوجہد ایک تحریکِ مزاحمت ہی رہتی ہے، کسی صورت میں بھی اسے ’دہشت گردی‘ نہیں کہا جاسکتا اور نہیں کہا جاتا۔۔ اس جائز اور فطری حق کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر (دفعہ ۱، شق ۲ اور دفعہ ۵۵) اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعدد قراردادوں، خصوصاً قرارداد نمبر۱۵۱۴ (xv) ۱۹۶۰ء جسے Declaration on Granting Independence to Colonial Countries and People (نوآبادیات اور وہاں کے لوگوں کو آزادی عطا کرنے کا فرمان) قرار دیا ہے اور جس میں ملک ہی نہیں، ایک متعین علاقے کے عوام کو بھی نوآبادیاتی یا قابض قوتوں کے خلاف جدوجہد کا حق دیا گیا ہے۔ اسی طرح جنرل اسمبلی کی دوسری اہم قرارداد نمبر ۲۶۲۵ (xxv) ۱۹۷۰ء ہے جس کا عنوان ہے:
Declaration on Principles of International Law concerning Friendly Relations and Cooperation among States.
ریاستوں کے مابین دوستانہ تعلقات اور تعاون سے متعلقہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا اعلامیہ۔
یہ دونوں قراردادیں اب بین الاقوامی قانون کا تسلیم شدہ حصہ ہیں۔ اسی طرح International Covenant on Civil and Political Rights (شہری اور سیاسی حقوق کا عالمی اقرار نامہ ) اور International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights (معاشی ، سماجی اور ثقافتی حقوق کا عالمی عہد نامہ )۔
دفعہ ۱، شق ۱ میں کہا گیا ہے کہ:
.....all people have the right of self determination. By virture of that right they freely determine their political status and freely pursue their economic, social and cultural development.
تمام اقوام کو حق خود اختیاری حاصل ہے ۔ اپنے اس حق کی وجہ سے وہ اپنی سیاسی حیثیت کو آزادانہ طور پر متعین کرتے ہیں اور اپنی معاشی ، سماجی اور ثقافتی ترقی کے لیے آزادانہ جستجو کرتے ہیں۔
اس جدوجہد کے دوران اگر قابض قوت ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی ہے اور اقتدار کی شکل وہ ہوجاتی ہے، جسےجارحانہ اور جنگ جویانہ قبضہ (Belligerent Occupation) کہتے ہیں، تو اس کے مقابلے کے لیے سول نافرمانی (Civil Disobedience) اور جائز قوت (Legitimate Force) کا استعمال بھی تحریکِ مزاحمت کا حق ہے اور اسے قانون کی اصطلاح میں Right to Self Defence (ذاتی تحفظ کا حق)تسلیم کیا جاتا ہے۔ تھامس جیفرسن [۱۷۴۳-۱۸۲۶ء] کی قیادت میں امریکی جنگ ِ آزادی سے لے کر آئرلینڈ، الجزائر، کینیا، جنوبی افریقا، غرض سو سے زیادہ ممالک کی آزادی کی تحریکات کا شمار اسی ذیل میں ہوتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثالیں جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور، بوسنیا، کوسووا، فلسطین اور کشمیر ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی قانون، طاقت کے ہراستعمال کو تشدد اور ’دہشت گردی‘ قرار نہیں دیتا۔ مبنی برحق جنگ، جو دفاعی مقاصد کے لیے بھی ہوسکتی ہے اور آزادی اور حقوق کے لیے مثبت جدوجہد بھی، ایک معروف اور معلوم حقیقت ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں دفاعی جنگ اور حصولِ آزادی کے لیے اجتماعی طور پر قوت کا استعمال اس کی واضح مثالیں ہیں۔ حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے جو جنگیں لڑی گئیں، مجلسِ اقوامِ متحدہ نے ان کی تائید کی اور ان اقوام کے حصولِ آزادی کے بعد انھیں آزاد اور جائز مملکت تسلیم کیا ہے۔بین الاقوامی قانون کا ایک ماہر کرسٹوفر او کوے (Christopher O. Quaye) نے اس اصول کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے:
تقریباً تمام ہی آزادی کی تحریکوں میں ایک لازمی عنصر طاقت کا استعمال ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں جس تسلسل سے آزادی کی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور کچھ کو جرأت مند قرار دیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے عنصر کو جائز قرار دیتی ہے۔ (Liberation Struggle in International Law، فلاڈلفیا، ٹمپل یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۱ء، ص ۲۸۲)
اسی مصنف نے صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ:
دہشت گردی اور آزادی کی جدوجہد ایک جیسی سرگرمیاں نہیں ہیں۔ (ایضاً، ص ۱۷)
نیز یہ کہ:
اقوامِ متحدہ کے تمام ادارے جس ایک چیز پر متفق ہیں، وہ یہ ہے کہ حقِ خود ارادی کی ہرجدوجہد قانونی اور جائز ہے۔ (ایضاً، ص ۲۶۱)
بین الاقوامی اُمور کے وہ ماہر جو اس پوزیشن کو اتنے واضح الفاظ میں قبول نہیں کرتے، وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ قوت کے ہراستعمال کو دہشت گردی ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔
بین الاقوامی تعلقات کی پینگوئن ڈکشنری میں اس بات کو یوں ادا کیا گیا ہے:
دہشت گردی کے مسئلے پر ممانعت کرنے والا کوئی خصوصی معاہدہ تیار نہیں ہوسکا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی ترجیحات کے حوالے سے اس کی تعریف میں مسائل ہیں۔ ایک آدمی، ایک کے لیے ’دہشت گرد‘، دوسرے کے نزدیک ’آزادی کا سپاہی‘ ہے، اسی لیے بین الاقوامی قانون ابھی تک اس عمل کا احاطہ نہیں کرسکا ہے۔ (The Penguin Dictionary of International Relations، از گراہم ایونز، رچرڈ نیون ہیم، ،ص ۱۷۷)
تاہم، اس کے ساتھ وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ حق خود ارادیت آج ایک مسلّمہ حق ہے، جس کا تعلق ایک علاقے کے عوام کے اس حق سے ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں:
سیاسی حق خود ارادی کے اصولوں کے تحت لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا اپنے طریقے کے مطابق فیصلہ کریں۔ یہ تصور ۱۷۷۶ء کے [امریکی] اعلانِ آزادی اور ۱۷۸۹ء میں فرانس کے اعلان حقوقِ انسانی میں مضمر ہے۔ اقوام متحدہ نے مختلف مواقع پر یہ کوشش کی ہے کہ اس تصور کو نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے ساتھ منسلک کرے اور اس طرح اسے محض ایک تمنا نہیں بلکہ قانونی حق اور مثبت فرض قرار دے۔ (ایضاً،ص ۴۷۷-۴۷۸)
اس بحث کی روشنی میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کا کوئی تعلق دہشت گردی سے نہیں ہے اور سیّد صلاح الدین کو ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دے کر امریکا نے بین الاقوامی قانون اور عالمی عرف کے اصولوں سے صریح انحراف کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کا ایک منطقی نتیجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح امریکا نے سیّد صلاح الدین کو جس قافلۂ حُریت میں شامل کر دیا ہے، وہ مختلف اقوام کی جدوجہد ِ آزادی کے حوالے سے پہلے امریکی صدر جیفرسن سے لے کر نیلسن منڈیلا، جومو کنیاٹا، موگابے، عبدالقادر الجزائری، سبھاش چندربوس اور بھگت سنگھ وغیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔
امریکا کے رویے کے تضادات کی ایک اور چشم کشا مثال خود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں اس کا رویہ ہے، جس پر گجرات کے فسادات میں ۲ہزار معصوم مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل کی سرپرستی کے الزام کے تحت، امریکا میں اس کے داخلے پر ۲۰۰۵ء میں پابندی لگائی گئی تھی، اور جو ۲۰۱۴ء تک جاری رہی۔ ان ۹برسوں کے دوران میں باربار کوشش کے باوجود مودی صاحب کو امریکا کا ویزا ’دہشت گردی‘ کی سرپرستی کے الزام کی وجہ سے نہیں دیا گیا تھا، لیکن جب ۲۰۱۴ء میں وہ وزیراعظم منتخب ہوگئے تو دامن کے ان تمام خونیں دھبوں سمیت نہ صرف ان کو ویزا دے دیا گیا، بلکہ وہ بڑے طمطراق سے ہرسال امریکا کے دورے کر رہے ہیں۔ وائٹ ہائوس میں ان کا استقبال ہورہا ہے، امریکی پارلیمنٹ سے وہ خطاب کر رہے ہیں اور اب انھیں جون ۲۰۱۷ء میں سیّد صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے کا تحفہ بھی دےدیا گیا ہے، جس پر وہ اور بھارت کی سیاسی قیادت بغلیں بجارہی ہے، اور ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہی ہے۔ البتہ، کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے الیکشن مہم کے دوران بھارت کو کوئی گھاس نہیں ڈالی، بلکہ ’پیرس معاہدہ‘ اور ’ماحول کی حفاظت کے مسئلے‘ پر مودی پر الزام لگایا گیا کہ بھارت نے اس معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر اینٹھ لیے ہیں۔ لیکن اب بھارت جو کہ امریکا سے پچھلے پانچ برسوں میں ۱۵؍ارب ڈالر کا اسلحہ خرید چکا ہے اور چوں کہ پھر مودی صاحب نے امریکا آنے سے پہلے دو ارب کے ۲۲؍امریکی ڈرون (گارڈین، ایم کیو ۹بی) خریدنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ یوں ٹرمپ اور مودی شیروشکر ہیں۔
ایک بھارتی اسکالر وجے پرشاد (Vijay Prashad)نے جو Left World Book کے چیف ایڈیٹر ہیں ، الجزیرہ ڈاٹ کام ۲۷جون ۲۰۱۷ء پر شائع شدہ اپنے مضمون Modi and Trump: When the Titans of Hate Meet (مودی اور ٹرمپ: جب نفرت کے دیوتا ملتے ہیں) میں، امریکاکی بے اصولی کا تذکرہ اس طرح کیا ہے:
نو برس تک مودی پر امریکا میں داخلے پر پابندی تھی۔ [لیکن] امریکی مفادات کی آبیاری کے لیے مودی سے راہ و رسم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں گجرات کے خونیں فسادات کے سرپرست کے لیے مودی پر الزامات بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔ گویا کہ ’عملیت پسندی‘ (Pragmatism) کا مطلب یہ ہوا کہ اخلاقیات جائے جہنّم میں۔
مودی اور ٹرمپ نہ صرف ایسی تحریکوں کی رہنمائی کر رہے ہیں جن کی بنیاد نفرت پر ہے، بلکہ وہ مادہ پرستی کی ایک قدیم فیشن کی شکل کا سہارا بھی لے رہے ہیں۔ لیکن مودی ٹرمپ کے لیے جو کر سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ مزید امریکی ہتھیار خرید لے۔ بھارت دنیا میں ہتھیاروں اور اسلحے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، جب کہ امریکا دنیا میں اسلحے کاسب سے بڑا فروخت کنندہ ہے۔
کشمیر کی تحریکِ آزادی کے مردِ مجاہد سیّد صلاح الدین کو آج امریکا دہشت گرد قرار دے رہا ہے اور کشمیری عوام پر بھارتی مظالم اور تشدد کے باب میں اس کی آنکھیں بند اور اس کے لب خاموش ہیں۔ ہم امریکی صدر اور امریکی عوام کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ انسانی حقوق اور ایک مظلوم قوم کے حق خود ارادیت کے سلسلے میں ماضی میں ان کا موقف کیا رہا ہے؟ آج جو کچھ کیا جا رہا ہے، ذرا اس کا مقابلہ خود ’امریکی کانگریس کی سب کمیٹی براے ایشیا اینڈ پیسفک‘ کی یکم جون ۱۹۹۳ء کی رپورٹ سے کرلیں، کہ اس تحریک ِ آزادی کے بارے میں کمیٹی کا فیصلہ کیا تھا، اور آج اسے کس رنگ میں پیش کیا جارہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج ۲۰۱۷ء کی تحریک بھی اسی تحریک کا تسلسل اور اس کا حقیقی فراز ہے: ’’تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘‘:
مسئلۂ کشمیر انسانی حقوق کے حوالے سے، بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اور جنگ کی امکانی وجہ کے طور پر خطرناک حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک [اہم] مسئلے کے طور پر بھارت اور امریکا کے تعلقات میں خلل ڈال رہا ہے۔ یہ مسئلہ گذشتہ چندبرسوں میں فوری توجہ اور کارروائی کا متقاضی ہو گیا ہے۔
بھارت کو جموں اور کشمیر میں ایک پُر زور ، بنیادی طور پر مقامی بغاوت کا سامنا ہے اور ایسی علامات کم ہی ہیں جن سے یہ اشارہ ملے کہ جموں وکشمیر کے عسکریت پسند یا بھارتی حکومت اس جدوجہد سے عاجز آ رہے ہیں۔ اس بات کا امکان بالکل نہیں ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق دوسرے پر فوجی حل ٹھونس سکے، یا پھر مسلسل خوں ریزی ہی قابلِ قیاس مستقبل کا سب سے زیادہ ممکنہ منظر نامہ لگتا ہے۔
ذیلی کمیٹی نے بھارتی حکومت اور کشمیری عسکریّت پسندوں دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک منصفانہ اور پایدار سیاسی حل کے لیے جستجو کریں، لیکن ساتھ ہی کمیٹی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ دہلی اور کشمیر یوں کے درمیان کسی حقیقی سیاسی مکالمے کے امکانات حوصلہ شکن ہیں۔ عوامی سطح پر ، دہلی کے بارے میں لگتا ہے کہ اسے یقین ہے کہ بغاوت بنیادی اور اوّلین طور پر پاکستانی دخل اندازی کا شاخسانہ ہے۔ اگرچہ شواہد اس نظریے کی تائید نہیں کرتے۔ کمیٹی ایسی کسی قابلِ فہم حکومتی حکمت عملی سے بے خبر ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کی جائز سیاسی شکایات کا ازالہ کرنا ہو۔
اس معاملے پر ایک روز افزوں اتفاق راے سامنے آ رہا ہے کہ بھارتی مسلح افواج، کشمیرمیں باغیوں اور شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں ، سرسری سماعت کے بعد سزاے موت، قیدیوں پر تشدد ، منظم طریقے سے آتش زنی، اور طبی عملے اور انسانی حقوق پر نظر رکھنے والوں پر حملوں میں حالیہ مہینوں میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ذیلی کمیٹی نے بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ذمہ داروں کو دیوانی اور فوج داری سزائیں دے۔ اور مسلح افواج کے ان ارکان کی فہرستیں مہیا کرے جنھیں ان کے غیر قانونی اقدامات پر سزائیں دی گئی ہیں۔
ارکان اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ سینیر بھارتی سیاست دانوں کا تشدد پھیلانے میں کردار رہا ہے اور یہ کہ ایسے پولیس افسران بھی ہیںجو بلوائیوں کی کاروائیوں کے شکار معصوم لوگوں کو تحفظ دینے کے بجاے ایک طرف کھڑے رہے۔( تشدد کے شکار ) ان لوگوں کی اکثریت مسلمان تھی۔ اگر اس قسم کا تشدد جس نے دسمبر اور جنوری میں ملک ہلا ڈالا تھا جاری رہا تو بھارتی سیکولرزم کی بنیادیں تک مشکوک ہو سکتی ہیں۔ ذیلی کمیٹی کے ارکان اپنے اس عقیدے اور یقین کے اظہار میں قطعاً مبالغہ نہیں کر رہے کہ بھارت میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے مذہبی اور سیاسی رواداری قطعی طور پر ضروری ہے۔ (US Parliamentry Sub Committee on Asia and Pacific )
اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ کشمیر میں قابض بھارتی حکمران اور افواج کر رہی ہیں، ان کی روشنی میں دہشت گرد کون ہے؟ حکمران اور افواجِ ہند دہشت گرد ہیں یا کشمیر کے مظلوم انسان اور مزاحمت کرنے والے بڑی حد تک غیرمسلح نوجوان؟ خود بھارتی حکومت کے ذمہ دار افراد کے مطابق مسلح افراد کی تعداد آج چندسو سے زیادہ نہیں اور چند ہزار سے زیادہ کبھی بھی نہ تھی، جب کہ وہاں بھارتی فوج اور پیراملٹری جوانوں کی تعداد ۷ لاکھ اور پولیس کی تعداد ۵ لاکھ ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے فرمان میں سیّد صلاح الدین کی ۲۷سالہ جدوجہد میں متعین طور پر صرف ایک واقعے کا ذکر ہے، جس میں ۱۷؍افراد صرف زخمی ہوئے تھے۔ اس کے مقابلے میں ٹرمپ صاحب اور امریکی محکمہ خارجہ کا ان تمام مظالم اور ریاستی دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں کیا ارشاد ہے، جن کا اعتراف امریکی پارلیمنٹ کی کمیٹی کی اس رپورٹ میں کیا گیا ہے، اور جن میں گذشتہ برسوں کے دوران دسیوں گنا اضافہ ہوگیا ہے، جس کا اعتراف خود اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے تک کر رہے ہیں؟
نوجوان بُرہان مظفر وانی [۱۹۹۴ء داداسرا، ترال- ۸جولائی ۲۰۱۶ء بوم ڈورا، کوکرناگ] کی شہادت سے تحریک کے جس دور کا آغاز ہوا اور جس کے دوران تین سو سے زائد معصوم بچے، جوان، بوڑھے اور خواتین جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں، تین ہزار سے زیادہ بینائی سے محروم ہوچکے ہیں، زخمیوں کی تعداد ۱۲ہزار سے متجاوز ہے اور حراست میں لیے جانے والوں اور لاپتا ہوجانے والوں کی تعداد ۲۰ہزار سے زائد بتائی جارہی ہے۔ کئی مہینے مسلسل ہڑتال رہی ہے، ۶۰دن سے زیادہ عرصے تک کرفیو مسلط رہا ہے، لیکن ایسے ہرظلم اور تشدد کے باوجود تحریکِ آزادی شباب پر ہے۔ ہر کوئی اعتراف کر رہا ہے کہ یہ ایک عوامی تحریک ہے۔ ہرگھر اس میں شریک ہے، اسکولوں کے بچوں، بچیوں سے لے کر ہرطبقے سے متعلق افراد سبھی دل و جان سے شرکت کرر ہے ہیں۔ بھارتی اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق فوجی، پولیس افسراور سول حکمران کھلے اور چھپے اعتراف کررہے ہیں کہ پوری قوم بغاوت پر آمادہ ہے۔ اس دوران دو ضمنی انتخاب ہوئے اور ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب ۷ فی صد اور ۲ فی صد رہا۔ قابض بھارتی حکومت حیران ہے کہ لوگوں کے دلوں سے ریاستی جبر اور گولی کا خوف بالکل ختم ہوکر رہ گیا ہے اور لوگ جان کی بازی کھیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بھارتی اخبار The Economic Times کے نمایندے نے۸ مئی ۲۰۱۷ء کے شمارے میں تعجب سے لکھا ہے:
جموں اور کشمیر آج عسکریت پسندی کا جو نمونہ پیش کر رہے ہیں، اس نے ۰۳-۲۰۰۲ء کے بڑے عسکری حملوں کے تقریباً ۱۵ برس کے وقفے کے بعد ریاست کو ایک پُرتشدد چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ اپنی بدلتی ہوئی حکمت عملی اور سماجی تصرف کی بدولت عسکریت پسندی، پولیس کے مشاہدے میں، نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہے، بلکہ بڑے پیمانے پر اپنی طرف توجہ بھی مبذول کروا رہی ہے۔ لوگ عسکریت پسندوں کو اپنے سیاسی نظریے کا محافظ خیال کرتے ہیں۔
اسی طرح بھارتی اخبار The Wire میں عدنان بھٹ نے، جو دہلی اور سری نگر سے رپورٹنگ کرتے ہیں ، لکھا ہے:
لڑائی سے فرار کا راستہ اختیار کرنے کے بجاے، نوجوان مرد اور لڑکے مقابلے کی جگہوں پر بھاری ہتھیاروں سے لیس مسلح افواج کا پتھروں سے مقابلہ کرنے کے لیے ہجوم در ہجوم جمع ہو جاتے ہیں۔ اس سیاسی تعلق نے کشمیر میں اکیسویں صدی کی نوجوان نسل کے غصے کو اور بھی ہوا دی ہے۔
حکومت اور علیحدگی پسنددونوں سے غیر مطمئن ہو کر ، مقامی عسکریت پسند نوجوان، جن میں سے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اپنی پُرآسایش زندگیاں ترک کر کے احتجاج کنندگان کی حمایت میں نکل آئے ہیں، ان کو ایسے لوگوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو کشمیری نوجوانوں کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ لہٰذا، بھارتی فوج اور پولیس سے مقابلوں کے دوران موت کا شکار ہونے سے بچ نکلنے کے لیے وہ ان کی مدد کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران، چاہے اس میں ان کی اپنی جان ہی کیوں نہ چلی جائے، واحد درست کام لگتا ہے۔
گذشتہ برس (۲۰۱۶ء)سے، عسکریت پسندی کی عوامی حمایت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کئی پولیس افسروں نے اعتراف کیا ہے۔ پولیس کے ایک سینیرعہدے دار نے دی وائر کو بتایا: میں کہوں گا گذشتہ سال سے حالات بہت زیادہ بدل گئے ہیں، خصوصاً جنوبی کشمیر میں۔ ہمیں کچھ خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ کچھ نوجوانوں نے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا ان نوجوانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے۔
وجوہ جو بھی رہی ہوں، نوجوان عسکریت پسندوں کو اپنے نصب العین کے لیے حتمی قربانی دینے کے فیصلے نے کشمیری عوام اور خصوصاً کشمیری نوجوانوں میں ان کے مداحوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔
یہ تحریکِ مزاحمت ایک فطری، قومی اور عوامی تحریک ہے۔ اسے دہشت گردی سمجھنا یا کہنا، خودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔ سیّد صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد کہہ کر اس تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ عوام کی آواز کو سنا جائے اور ان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔
پاکستان، امریکا اور پوری عالمی برادری کا فرض ہے کہ ان مظلوم انسانوں کا ساتھ دیں، ان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں، ظالموں کے ہاتھ کو روکیں اور خطے کو حقیقی امن کی طرف لانے کے لیے سیاسی عمل کو متحرک و مؤثر کریں۔ ’دہشت گرد سازی‘ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ حالات کو بگاڑنے کا مجرب نسخہ ہے، اصلاحِ احوال کا نہیں۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت ہے کہ وہ کبھی ’شر‘ سے ’خیر‘برآمد کرتا ہے:
عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ o (البقرہ ۲:۲۱۶) ہوسکتا ہے کہ تمھیں ایک چیز ناگوار ہو اور وہی تمھارے لیے بہتر ہو، اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہی تمھارے لیے بُری ہو، اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
امریکی حکومت کا یہ اقدام اور بھارتی حکومت کا اس پر فخرو اطمینان، اس امر کا پیش خیمہ ہے کہ کشمیر کے جس مسئلے کو ’شملہ معاہدے‘ (۲جولائی ۱۹۷۲ء) کا سہارا لے کر بھارت نے محض ’دو طرفہ‘ (Bilateral) قضیہ بنانے کی کوشش کی تھی، امریکا کے اس اقدام (۲۶ جون ۲۰۱۷ء) نے اسے پھر عالمی مسئلہ بنادیا ہے،جو وہ پہلے دن سے تھا۔ پنڈت نہرو نے ۸جولائی ۱۹۴۹ء کو اپنے بیان میں مسئلۂ کشمیر کو ’ایک عالمی مسئلہ‘(A World Problem) کہا تھا۔
آج اس اقدام کی روشنی میں نہ صرف اس مسئلے کو بین الاقوامی مسئلے کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے، بلکہ بھارت کے لیے دوبارہ شملہ معاہدے کا نام لے کر اسے محض دو ملکوں کا قضیہ قرار دلوانا ممکن نہیں رہے گا۔
امریکا کے اس حالیہ اقدام کی وجہ سے پاکستانی حکومت اور پاکستانی قوم کی ذمہ داری دوچند ہوگئی ہے۔ اس اقدام پر وزارتِ خارجہ کا رِدّعمل کمزور اور روایتی تھا۔ صدر آزاد کشمیر جناب مسعود خان اور چودھری نثار علی خاں صاحب نے کھل کر اور دلیل کے ساتھ بات کی ہے، لیکن جناب وزیراعظم، مشیرخارجہ اور فوج کا رِدّعمل یہ سطور لکھنے تک سامنے نہیں آیا۔ سب سے زیادہ پریشان کن خاموشی پاکستان کی کشمیر کمیٹی کی ہے، جسے اپنے فرض کی ادایگی کا کوئی احسا س ہی نظر نہیں آرہا۔
ہماری نگاہ میں یہ وقت ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ اور خصوصیت سے اس کی قومی سلامتی کمیٹی فوری طور پر تمام معاملات پر غور کرے اور پاکستان کے تاریخی موقف اور وقت کی ضرورت کی روشنی میں کشمیر پالیسی اور قومی سلامتی کی پالیسی کو مرتب اور اس پر مؤثر انداز میں نقشۂ کار وضع کرنے اور اس نقشے کے مطابق کارکردگی کو یقینی بنانے کا اہتمام کرے۔
ہم اس موقعے پر اپنی ان معروضات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں، جو ہم مسئلۂ کشمیر کے سلسلے میں باربار قوم کے سامنے پیش کرچکے ہیں۔ لیکن بصد افسوس کہ تھوڑے بہت ارتعاش کے سوا کوئی حقیقی پیش رفت (break through ) نظر نہیں آرہی۔ بہرحال، ایک بار پھر پوری دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ قومی پالیسی کی تجدید اور سب سے بڑھ کر تنفیذ کی درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کا مقصد، پاکستان اور علاقے کے مسلمانوں کے لیے امن اور حقیقی مفادات کا حصول ہونا چاہیے___ اس سلسلے کے بنیادی حقائق یہ ہیں:
۱- مسئلۂ کشمیر، ریاست جموں و کشمیر کے سوا کروڑ سے زائد مسلمانوں کے ایمان، عزت، آزادی اور سیاسی اور تہذیبی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ یہ تقسیم ہند [۱۹۴۷ء] کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ یہ محض دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں ہے، اس لیے ہماری سیاسی ترجیحات میں اسے اوّلیت دینا چاہیے۔
۲- مسلمانانِ جموں و کشمیر نے اپنی بیش بہا قربانیوں کے ذریعے اس مسئلے کو زندہ رکھا ہے، اور اس وقت اسے اس مقام تک پہنچا دیا ہے، جہاں بھارت اور دنیا کے دوسرے ممالک یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ لیکن جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ، اس مسئلے کے فریق پاکستان، بھارت اور اقوام متحدہ بھی ہیں۔ پاکستان کا فرض ہے کہ ایک فریق کی حیثیت سے مسئلے کو لے کر اُٹھے اور ہرمیدان میں اس کے حل کے لیے سرگرم ہو۔ تحریکِ آزادی کی مدد کے ذریعے بھی، اور عالمی راے عامہ کو منظم اور مسخر کر کے بھی۔
۳- پاکستان کا اصل موقف یہ ہے کہ مسئلۂ کشمیر کا حل صرف ایک ہی ہے، اور وہ ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے موقف کو پوری جرأت، تسلسل اور دانش مندی سے پیش کرے۔ پاکستان یہ بات بھی واضح کردے کہ الحاق کے فیصلے کے بعد، پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر میں تعلقات کی نوعیت، نظم و نسق اور انتظام و انصرام کا نقشہ اور خود اختیاری کی شکل و نوعیت کیا ہو؟ یہ تمام اُمور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی کے مطابق طے ہوں گے۔
۴- پاکستان کا فرض ہے کہ تحریک ِ آزادیِ کشمیر کی بھرپور مدد کرے اور اس کے اعلان میں شرمندگی نہ محسوس کرے۔ پاکستان نے کشمیر کی خاطر گذشتہ ۷۰برسوں میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ آج جب کشمیر کے نوجوان کشمیر اور پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، پاکستان کی ریاست اور پاکستان کے عوام کا فرض ہے کہ اپنا پیٹ کاٹ کر ان کی مدد کریں اور ان کی ہرضرورت کو پورا کریں۔
۵- اسی طرح اس جدوجہد میں آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام پر بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی حکومتوں کی طرح آزاد کشمیر کی حکومت بھی اپنے اصلی مشن کو بھول چکی ہے۔ وہ محض آزاد علاقے کی حکومت نہیں بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزاد حکومت ہے، اور مقبوضہ کشمیر کی جدوجہدِ آزادی اس کا اوّلین مقصد ہے۔ اسی لیے اسے ’بیس کیمپ‘ کا لقب دیا گیا تھا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ گروہی سیاست سے بالاتر ہوکر آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام، تحریک میں بھرپور حصہ لیں اور اپنی ترجیحات کو یکسر بدل کر تحریکِ آزادی کو اس کے منطقی اور فطری نتیجے تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہوجائیں۔
۶- حکومت ِ پاکستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگرچہ یہ مقصد محض سیاسی اور سفارتی جدوجہد سے حاصل نہیں ہوسکتا، مگر اس کے باوجود سیاسی اور سفارتی مہم بہت اہم ہے اور اب تک اس کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے جاسکے ہیں۔ محض چند وفود باہر بھیجنے سے بات نہیں بنے گی، اس کے لیے بڑے ہمہ گیر، منظم اور مؤثر کام کی ضرورت ہے، جس کے تحت پوری دنیا میں ہرعلاقے کے حالات کے مطابق، تحریک ِ آزادیِ کشمیر کے تعارف اور اس کی تائید کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہماری وزارتِ خارجہ بالعموم اس مقصد میں ناکام رہی ہے۔
اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ کشمیر کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے وزارتِ خارجہ کی تنظیمِ نو ہو اور کشمیر ڈیسک سب سے اہم ڈیسک ہو۔ ہراس ملک میں جہاں پاکستانی سفارت خانہ ہے، کشمیر سیل (Cell) قائم کیا جائے۔ علم اور صلاحیت رکھنے والے افراد کو، جو کشمیر کے لیے صحیح جذبہ رکھتے ہوں، اس کام پر لگایا جائے اور اس طرح عالمی سطح پر ایک مؤثر تحریک چلائی جائے۔
۷- پوری پاکستانی قوم کو حالات سے آگاہ رکھنا اور قومی سلامتی کے لیے جذبۂ جہاد سے سرشار کرنا بھی اس پالیسی کا اہم جزو ہونا چاہیے۔ جب تک پوری قوم کو اس تحریک کے لیے متحرک نہیں کیا جائے گا، کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہراسکول، کالج اور یونی ورسٹی میں، ہرشہر، قصبے اور دیہات میں، ہرمسجد اور مدرسے میں، ہرکارخانے اور بازار میں، جہادِ کشمیر سے لوگوں کو متعارف کرایا جائے اور اس میں شرکت کے لیے مال سے اور جان سے، ہرصورت میں آمادہ کیا جائے۔ قوم میں حقیقی جذبہ موجود ہے، لیکن اسے آج تک صحیح انداز میں متحرک و منظم نہیں کیا گیا۔
۸- حکومت پاکستان کو اپنا بجٹ بھی ان ترجیحات کی روشنی میں ازسرِنو مرتب کرنا ہوگا۔ جہادِکشمیر کی ضروریات کو اوّلیت دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیوکلیر پاور کی مناسب ترقی، فوج کو چوکس رکھنا اور قوم کے نوجوانوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ جب کشمیر میں حالات بھارت کی گرفت سے بالکل نکلنے لگیں گے تو وہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرے گا۔ کشمیر پالیسی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ پاکستان جنگ کے خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو قوم جنگ سے خائف رہی ہے، وہ اپنی آزادی سے بھی محروم ہوگئی ہے اور جو قوم جنگ کے لیے تیار رہی ہے، وہی اپنے ایمان، عزت و آزادی کو محفوظ رکھ سکی ہے۔
سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن[م: اپریل ۱۹۹۴ء] نے بہت صحیح کہا تھا کہ ’’ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قوت کے استعمال سے دست برداری ، دراصل دشمن کو اپنے خلاف قوت کے استعمال کی دعوت دینے کے مترادف ہے‘‘، بلکہ نکسن نے تو یہاں تک کہا ہے: ’’صرف تیار ہی نہ رہو، مخالف کو یہ پیغام بھی دے دو کہ تم ہرقوت کے استعمال کے لیے تیار ہو، یہ وہ چیز ہے جو دشمن کو تم پر دست درازی سے روکے گی‘‘۔
اسی بات کو امریکی پالیسی ساز ہنری کسنجر نے دوسرے انداز میں کہا ہے: ’’اگر امن کے معنی محض جنگ سے بچنا ہی لیے جائیں، اور یہ چیز ایک قوم یا بہت سی اقوام کے مجموعے کا بنیادی مقصد بن جائے، تو سمجھ لو عالمی سیاسی نظام سب سے زیادہ بے رحم اور سنگ دل ملک کے رحم و کرم پر ہوگا‘‘۔ اس لیے جنگ سے بچنے کا بھی سب سے مؤثر راستہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔
۹- بھارت پر مؤثر دبائو ڈالنے کے لیے چار ہی اہم طریقے ہیں اور ان چاروں کو مؤثرانداز میں اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے استعمال ہونا چاہیے:
۱۰- اس عظیم جدوجہد کو اپنی اصل بنیادوں پر قائم رکھنے اور کامیابی سے ہم کنار کرانے کے لیے جہاں یہ امر ضروری ہے کہ بھارت اور اس کے ہم نوائوں کی سازشوں سے نہ صرف باخبر رہا جائے، بلکہ پورے اتحاد اور یک جہتی کے ساتھ ان کا بھرپور مقابلہ بھی کیا جائے۔ تحریکِ آزادیِ کشمیر، الحمدللہ ، مخلص نوجوانوں اور تجربے کار مخلص قائدین کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کے درمیان بے اعتمادی پیدا کرنے، غلط فہمیوں کو ہوا دینے اور خلیج ڈالنے کی خطرناک کوششیں شروع ہوچکی ہیں، جن سے باخبر رہنا اور مکمل باہمی اعتماد کے ذریعے انھیں ناکام بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب غاصب اور جابر قوتیں، اپنے بہیمانہ جبر اور عریاں جارحیت کے ہتھیاروں سے، مزاحمت اور آزادی کی تحریکوں کو کچلنے میں ناکام ہوجاتی ہیں، تو پھر وہ لازوال قربانی کی تاریخ رکھنے والی تحریکوں کے مختلف عناصر کو ایک دوسرے کے خلاف بدگمان اور صف آرا کرنے کی مذموم کوششیں کرتی ہیں۔ ظالموں کی ان دونوں حکمت عملیوں کا پوری سمجھ داری سے مقابلہ کرنے کے لیے: اتفاق و اتحاد، تحمل و دُور اندیشی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسے کی ضرورت ہے۔ اللہ کی تائید آزادی کے لیے کوشاں تحریکوں کو ان شاء اللہ ثمرآور کرے گی۔ ضرورت ہے کہ جدوجہد کو پوری قوت، بہترین حکمت عملی اور مکمل یک جہتی کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ ان شاء اللہ کامیابی اہلِ کشمیر کے قدم چومے گی۔
۱۱- مندرجہ بالا خطوط پر مرتب کردہ کشمیر پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کے نفاذ کے لیے بھی ایک مؤثر مشینری وجود میں لائی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ پالیسی اور اس کی تنفیذی مشینری، قومی بنیادوں پر استوار کی جائے۔ تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کریں۔ پارلیمنٹ کو اس بارے میں مناسب ابتدائی اقدامات کرنے چاہییں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں کا کردار بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کام کے لیے ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔
جس طرح کشمیر کے نوجوانوں نے چند برسوں میں وہاں کی فضا تبدیل کر دی ہے ، اسی طرح اگر پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتیں اور عوام اپنے فرض کی ادایگی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں، تو حالات بہت کم وقت میں بدل سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف تحریکِ آزادیِ کشمیر اور بالآخر کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی شکل میں ہی نہیں ہوگا، بلکہ قوم کو نئی زندگی اور نیا جذبہ ملے گا، اور اس نئی زندگی اور نئے جذبے سے پاکستان کو ایک حقیقی اور مضبوط اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہی تحریکِ پاکستان کا اصل مقصد تھا اور یہی تحریکِ کشمیر کی بھی قوتِ محرکہ ہے۔
انسان بہت زود اثر واقع ہوا ہے ۔ اس کی نگاہ بڑی محدود ہے۔ ذرا سی بات بھی اگر خلافِ توقع ہو جائے تو اس کے دل ودماغ پر تاریکیوں کے بادل چھا جاتے ہیں۔ ایک معمولی سا واقعہ بھی اسے کبھی نااُمیدی کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور کبھی مسرت کی اوجِ ثریا پر پہنچا دیتا ہے۔ اسلام نام ہی اس کیفیت سے سرشار رہنے کا ہے کہ خوشی اور ناخوشی دونوں صورتوں میں اعتدال وصداقت پر انسان قائم رہے، لیکن فطرت کے ہاتھوں مجبور انسان صبر کم ہی کرتا ہے۔ اور جہاں ذرا بھی توقعات کا طلسم ٹوٹا، اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ ؎
کس طرف جائوں ، کدھر دیکھوں ، کسے آواز دوں
اے ہجوم نااُمیدی ، جی بہت گھبرائے ہے
بلکہ اگر چوٹ ذرا بھی سخت ہو تو عالم یہ ہو جاتا ہے ع
کہ دامانِ خیالِ یار چُھوٹا جائے ہے مجھ سے
یہ انسانی فطرت کا ایک عجیب وغریب پہلو ہے۔ فرد کتنا ہی سمجھ دار ہو، لیکن اپنے ارد گرد رُونما ہونے والے واقعات سے پیہم اثر لیتا ہے۔ جس چیز سے جتنا زیادہ متعلق ہوتا ہے ، اور جتنا گہرا تعلق ہوتا ہے، وہ اس سے اتنا ہی شدید اثر بھی قبول کرتا ہے۔ جہاں توقعات جتنی زیادہ ہوں، وہاں ان کے ٹوٹنے پر شد ّتِ تاثر بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک نہیں ہزاروں مواقع ایسے آتے ہیں، جب بظاہر امیدوں کے چراغ گل ہوتے نظر آتے ہیں اور اضطراب ومایوسی انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ سمجھ دار سے سمجھ دار اور حقیقت آشنا شخص بھی فوری طور پر تو ایک دھچکا محسوس کرتا ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ دنیا نام ہی امیدوں کے ٹوٹنے اور توقعات کے پامال ہونے کا ہے۔ یہاں کا چلن ہمیشہ سے یہی ہے اور اس زمانے میں جب ہرطرف مادہ پرستی اور ذاتی منفعت طلبی کا دور دورہ ہے، جب ہر اخلاقی قدر پامال ہو رہی ہے، اور دولت و منصب اور شہرت کا حصول کامیابی کا اصل پیمانہ بن گئی ہے، تو شکایت بھی کچھ بے جا سی نظر آتی ہے ؎
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود غرضی کے اس سیلاب کے باوجود کچھ مقامات ومناصب ایسے ہیں کہ انسانی فطرت ان سے توقعات وابستہ کرنے پر اپنے کو مجبور پاتی ہے۔ ہزار معیارات بدل جائیں، لیکن ماں باپ سے ، استاد اور معلم سے، دوست اور ساتھی سے، معاشرے کے شریف اور مقتدر لوگوں سے، علما اور فضلا سے ، قاضی اور منصف سے انسان بہترین توقعات وابستہ کرنے پر اپنے کو مجبور پاتا ہے۔ ماں باپ کتنے ہی شقی ہوں لیکن اولاد کی امیدوں کا مرکز رہیں گے۔ استاد کتنا ہی گیا گزرا ہو، طالب علموں کی توقعات کا محور رہے گا۔ معاشرے کے مقتدر لوگوں کے ہاتھوں کتنے ہی چرکے لگیں، لیکن پھر نگاہ انھی کی طرف اٹھے گی۔ منصف اور جج کتنی ہی بُری مثال قائم کرے، پھر بھی مظلوم انسان ظلم کی دادرسی اور حق وانصاف کے حصول کی امیدیں انھی سے وابستہ کریں گے۔ ارباب حکومت اور قائدین و محافظ خواہ کیسی ہی زیادتیاں اور بے قاعدگیاں کریں، لیکن ان سے رشتۂ اُمید کُلی طور پر منقطع نہ ہوگا___
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی معاشرے میں اُمیدوں کا گویا ایک قانون ثقل جاری وساری ہے۔ توقعات آپ سے آپ کچھ مقامات اور مناصب کی طرف کھنچتی اور مرکوز ہوتی ہیں۔ بلالحاظ اس کے کہ ان کا استقبال کس طرح ہو اور پھر جب اپنے مرجع پر جا کر وہ لوٹ آتی ہیں یا پاش پاش ہوجاتی ہیں تو دل پر ناقابلِ برداشت چوٹ لگتی ہے۔ احساس کے تاروں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے، مایوسی اور ناامیدی کی تاریکی چھانے لگتی ہے___ لیکن یہ بھی ایک عجب حقیقت ہے کہ نااُمیدی کے انھی بادلوں میں سے پھر توقعات کے نئے آفتاب وماہتاب رُونما ہوتے ہیں ،اور انھی کے سہارے زندگی اپنا راستہ طے کرتی چلی جاتی ہے۔
یہ واقعہ بھی ایک ایسے ہی دن کا ہے ! صبح ہی جو پہلی خبر مجھ کو ملی وہ توقعات کے بہت سے گھروندوں کو توڑ دینے والی تھی، ذہنی کش مکش تو شروع ہی سے تھی۔ کبھی دل توقعات وابستہ کرتا اور اُمیدوں کے چراغ روشن کرتا تھا اور کبھی ان پر شک کے پردے ڈالتا تھا ۔ اسی پیچ وتاب میں ذہن ناامیدی کی طرف جھک گیا، لیکن پھر ایک خیال اُبھرا ؎
وہ اور پاس خاطر اہلِ وفا کرے
اُمید تو نہیں ہے، مگر ہاں ، خدا کرے
اس ’ہاں خدا کرے‘ نے پھر توقعات کے رشتے استوار کر لیے اور میں اسی چنیں اور چناں میں تھا کہ وہ اطلاع مل گئی جس کا خطرہ تھا ،لیکن جسے ماننے کے لیے دل تیار نہ ہورہا تھا۔ ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا ___ جھوٹی اُمیدوں اور مصنوعی توقعات کا طلسم بھی بڑا حسین اور طرح دار ہوتا ہے، مگر جب وہ طلسم ٹوٹتا ہے تو اس کے جلو میں تاریکیوں کا ایک سیلابِ بلاخیز اُمڈا چلا آتا ہے۔ میں بھی ایک لمحے کے لیے سکتے میں آ گیا ع
جن پہ تکیہ تھا ، وہی پتّے ہوا دینے لگے
پھر وہ چوٹ اور بھی سخت ہوتی ہے، جب ایسا سلوک ایک حق دار کے ساتھ کیا جائے، جب چرکے پر چر کے اس مظلوم کو لگیں، جو حق وانصاف پر ہواور جس کے حقوق پامال ہو رہے ہوں ۔ جب ایسا مستحق محروم کیا جاتا ہے تو اس کا زخم بڑا گہرا ہوتا ہے!
جو زخم میرے لگا تھا وہ بھی بڑا سخت تھا ! لیکن یہی وہ مقام ہے جہاںسے خدا پر یقین رکھنے والے اور رب کے دامن کو چھوڑ دینے والے ایک ہی جیسے حالات کا شکار ہو کر بھی دو مختلف راہیں اختیار کرتے ہیں ۔ ہجوم غم اور یورش اضطراب میں میرا دل چوٹ کھانے کے باوجود مایوسی اور بغاوت کا شکار نہ ہوا بلکہ لوحِ حافظہ پر یہ ارشار ربانی ابھرنا شروع ہوا:
وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْط وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo (البقرہ ۲: ۲۱۶ )عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمھارے لیے مضر ہو اور ان باتوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے،تم نہیں جانتے۔
اور ___
فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا(النساء۴:۱۹) پس، عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کر و اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی پیدا کرے۔
میں ان آیات کو پڑھتا رہا ___ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے یہ ابھی نازل ہوئی ہیں، جیسے میں نے آج ہی ان کو پایا ہے ۔ زبان ان الفاظ کو خموشی کے ساتھ ادا کرتی رہی ، دل ان کو جذب کرتا رہا، نااُمیدیوں کے بادل چھٹتے رہے ، توقعات کے ٹوٹنے سے جو زخم لگے تھے وہ مندمل ہونے لگے، ایسا محسوس ہوا کہ اس پر اکسیر صفت پھاہا رکھ دیا گیا ہے، جس نے زخم میں فوراً ٹھنڈک ہی نہیں ڈال دی بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھرنے بھی لگے۔
میرا دل پکار اٹھا کہ تقدیر کا عقیدہ یقینا ایک عظیم انسانی ضرورت ہے: والقدر خیرہ وشرِّہ من اللہ تعالٰی میں وہ گہری تاثیر ہے کہ اس کا جواب نہیں ہو سکتا ۔ اس میں قدرت کا خزانہ اور رحمت کا ذخیرہ ہے۔ یہ تصور، جہاں ایک طرف تقدیر کو بنانے کے داعیے اور ذوق عمل کو بیدار کرنے کا کام کرتا ہے تو وہیں نتائج کے بارے میں ایک عدیم المثال بے نیازی بھی پیدا کر دیتا ہے___ انسان محسوس کرنے لگتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے پیچھے ایک حکمت بالغہ کار فرما ہے۔ وہ تنہا نہیں، نتائج اس کے یا کسی اور کے نکالے نہیں نکل رہے۔ اس پر دے کے پیچھے کوئی عظیم الشان قدرت کار فرما ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا کام اپنا فرض ادا کرنا ہے، نتائج اپنی فکر آپ کریں ! جودن میں رات اور رات میں سے دن کو پیدا کرتا ہے، جو زندہ میںسے مُردہ اور مُردہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے، جو ہر چیز پر قادر ہے، اس کی تدبیر ہرشے میں کار فرما ہے۔ انسان کیسی ہی چالیں چلے، شیطان کیسے ہی منصوبے بنائے ، اس کی تدبیر کو غیر مؤثر نہیں بناسکتا ؎
اچھا یقین نہیں ہے تو کشتی ڈبو کے دیکھ
ایک تو ہی ناخدا نہیں ظالم ، خدا بھی ہے
یہی وہ احساس ہے جو انفرادی اور اجتماعی دونوں قسم کی ما یوسیوں میں ایک مسلمان کو تخریب پسندی اور شکست ِ ہمت سے بچاتا ہے اور اس میں زندگی کی نئی روح پھونک دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کافر جس مقام پر ما یوس ہو کر خود کشی تک کر لیتا ہے، مسلمان اعتماد الٰہی اور تقدیر خداوندی پر اطمینان کے سہارے اصلاحِ حال کی بیش از بیش محنت اور جدوجہد میں مصروف ہو جاتا ہے۔ کافر جس مقام سے اجتماعی بگاڑ اور فسادوتخریب کی راہ پر لگ جاتا ہے، مومن وہاں سے اصلاح اور تعمیر کے راستے کو اختیار کرتا ہے ۔
خیالات کا یہ سلسلہ نہ معلوم کب تک جاری رہا، زمانی اعتبار سے خواہ اس میںچند منٹ ہی صرف ہوئے ہوں، لیکن معلوم ہوتا تھا جیسے طائر خیال ،زمان ومکان [Time and Space]کی وسعتوں کو کھنگال کر واپس آیا تھا، میری پریشانی اب بڑی حد تک دُور ہو گئی تھی۔ عزم وہمت کا ایک چشمہ سا اُبلنے لگا تھا ،تاریکیاں چھٹ رہی تھیں اور روشنی پھیل رہی تھی___ میں نے کتاب اللہ کو اٹھایا، اسے چوما اور غیرارادی طورپر جو سورت مطالعے کے لیے میرے سامنے کھلی، وہ سورت الفتح تھی:
اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا o لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَ منْـبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا o وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَصْرًا عَزِیْزًا o (الفتح ۴۸:۱-۳) [اے محمدؐ ! ] ہم نے تم کو فتح دی، فتح بھی صریح اور صاف تا کہ خدا تمھارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے اور تمھیں سیدھے راستے پر چلائے اور خدا تمھاری زبر دست مدد کرے ۔
معلوم نہیں، قرآن سے فال نکالنے والے اسے کیا کہیں گے___میرا نہ یہ ذوق ہے اور نہ میں نے کبھی ایسا کیا ہی ہے، البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس سورۃ کا نکلنا ایک عطیۂ رحمانی ثابت ہوا۔ اس کے مطالعے نے ایک عجیب کیفیت پیدا کر دی ۔ بار بار پڑھتا تھا اور چشم تخیل چودہ سو سال پہلے کے ایک عظیم تاریخی واقعے کا نظارہ کر رہی تھی۔
کعبہ ویسے تو ساری ملت ابراہیمی ہی کا مرکز ومحور ہے، لیکن امت مسلمہ کا تو یہ دل ہے، دھڑکتا ہوا دل ! خدا کی زمین پر خدا کا پہلا گھر، جسے ابوالانبیا حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے صابر وشاکر فرزند نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، خداے واحد کی مناجاتوں کے ساتھ اس کی تعمیر کی، ساری انسانیت کے لیے اسے مسجود بنایا___ یہی وہ کعبہ تھا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شب وروز عبادتِ الٰہی میں گزارے ، جہاں معبود حقیقی کا کلمہ بلند کرنے پر آپ کو طرح طرح کے مصائب کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے سایے میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دعوتِ اسلامی کے اوّلین ماہ و سال گزارے۔ جہاں سورئہ رحمٰن کی تلاوت کر کے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مار کھائی۔ جہاںابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اعلانِ حق کرکے پٹے۔ جہاں عمر فاروق ؓ نے نماز باجماعت ادا کرا کے اسلام کی حقانیت کا اعلان کیا___ کتنے خوش نصیب تھے وہ اور اپنی اس قسمت پر کتنے نازاں تھے کہ ؎
وہ کعبہ جسے دیکھ لینا عبادت ہے
مسلسل ہے پیش نظر اللہ اللہ
لیکن ظالموں نے اس کعبے کی رفاقت سے اہل ایمان کو محروم کر دیا۔ انھیں مکہ مکرمہ چھوڑنے پر مجبور کیا اور اس کے بعد اللہ کے اس گھر اور حق کی اس آیت کو ایک نظر دیکھنا تک ان پر حرام کر دیا۔ مسلمانوں کے لیے اس کا طواف بھی ’غیر قانونی‘ قرار دیا گیا۔ اور ایک نہیں کئی واقعات ایسے ہیں، جب خاموشی سے بھی اگر کوئی مسلمان ایمان کے اس محور کی زیارت کو چلا گیا تو اس کے لیے جان بچاکر واپس آنا مشکل ہوگیا۔
اپنے اس ’ محبوبِ نظر ‘ کو دیکھے ہوئے مسلمانوں کو چھے سال بیت گئے۔ ظلم کا قانون ان کے اور ان کے محبوب نظر کے درمیان حائل ہو گیا، اور وہ اسے ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ اس کا تو ایک لمحے کے لیے بھی ان کی نگاہوں سے اوجھل ہونا ان کے دل پر شاق تھا، کجا فرقت میںچھے طویل اور صبر آزما سال گزر گئے۔ جس سے رخصت ہوتے وقت خود پیکر حلم وصفا اور صبروثبات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ بار بار اس کی طرف نگاہ اُٹھا کر ارشاد فرماتے تھے کہ: ’’خدا کی قسم تو اللہ کی بہترین زمین ہے اور اللہ کی نگاہ میں سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔ اگر یہاں سے مجھے نکالا نہ جاتا تومیں کبھی نہ نکلتا۔ (ترمذی، کتاب المناقب، باب فی فضل مکۃ، حدیث: ۳۹۲۵)
تصور کیجیے، پھر چھے سال محرومیِ نظارہ کے بعد آپؐ کا اور آپؐ کے ساتھیوں کی بے قراری کا کیا حال ہوگا؟ ایک خلش تھی جو ہر وقت بے چین کیے رکھتی تھی، ایک چبھن تھی کہ جو بے تاب کیے ہوئے تھی ، ایک بے قراری تھی کہ جو کسی طرح دُور نہ ہوتی تھی اور ایک ٹیس تھی کہ رفیقِ جان بن گئی تھی۔ سب کچھ میسر تھا مگر ایک خلا تھا کہ اسے کوئی شے پر نہ کر سکتی تھی۔ ہر شخص کا عالم یہ تھا کہ ع
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
حضرت بلال ؓ مکہ میں کتنے ستائے گئے، تپتی ریت پر گھسیٹے گئے ، جلتی سلوں کے نیچے دبائے گئے، جسم اور روح اذیت کا نشانہ بنائے گئے، لیکن محبوب سے تعلق میں ان باتوں سے کب کمی ہوتی ہے! مکہ کی یاد بے کل کیے رہتی ، پہروں اسے یاد کر کر کے روتے اور پکارپکار کر یہ اشعار پڑھتے (بخاری، باب مقدم النبیؐ و اصحاب المدینہ) :
الا لیت شعری ھل أبیتن لیلۃ
بوادٍ وحولی اذخرٌ و جلیلٌ
(کاش! مَیں مکہ کی وادی میں ایک رات بسر کرسکتا اور میرے چاروں طرف اذخر و جلیل ہوتیں)۔(البدایۃ والنہایۃ، ج۳، ص ۲۲۱)
وھل اردن یومًا میاہ مجنہ
وھل یبدون لی شَامَۃ و طفیل
(کاش! ایک دن میں مجنہ کے چشموں سے اُترتا اور شامہ و طفیل (پہاڑوں) کو دیکھ سکتا۔)
یہی مکہ تھا جسے دیکھ لینے کی ایک اُمید پیدا ہو گئی ___کعبے سے، اس محبوب نظر اور مقصود و مسجود کے نظارے سے ، آنکھوں کو پھر شاد کام کرنے کی صورت نکل آئی، حجرِ اَسود کو پھر چوم لینے کا امکان رُونما ہوگیا،بیت اللہ کے گرد پروانہ وار گردش کرنے کی توقع اُبھر آئی، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رویاے مبارکہ دیکھا کہ آپؐ اور آپؐ کے ساتھی (اللہ کی رحمتیں ہوں ان سب پر) عمرے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ’’پیغمبرؑ کا خواب بھی وحی کی اقسام میں سے ایک قسم ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود توثیق فرما دی کہ یہ خواب ہم نے رسولؐ کو دکھایا تھا‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج۵، ص ۳۴)
لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہٗ الرُّءْ یَا بِالْحَقِّ ج لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ لا مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لاَ تَخَافُوْنَ ط (الفتح ۴۸:۲۷) فی الواقع اللہ نے اپنے رسولؐ کو سچّا خواب دکھایا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا۔ ان شاء اللہ تم ضرور مسجد ِ حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہوگے، اپنے سر منڈوائو گے اور بال ترشوائو گے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہوگا۔
اس اشارۂ غیبی سے زندگی کی نئی رو پھوٹ پڑی ، اُمیدوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا، سوکھے ہوئے چشمے ابل پڑے ، گرمی وحرارت کی ایک لہر دوڑ گئی، خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے، دل بھر گئے اور آنکھیں نم ہو گئیں___ کعبے کی زیارت کی راہ پیدا ہوتی نظر آئی۔ درحقیقت یہ نرا خواب نہ تھا، بلکہ ایک الٰہی اشارہ تھا، جس کی پیروی کرنا آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ضروری بھی تھا۔
پھر کیا تھا؟ ذوق وشوق سے تیاریاں شروع ہو گئیں۔ کفارِ قریش نے چھے سال سے مسلمانوں کے لیے بیت اللہ کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ اس پوری مدت میں کسی مسلمان کو انھوں نے حج اور عمرے تک کے لیے حدودِ حرم میں قدم نہ رکھنے دیا تھا (ایضاً، ص ۳۴)۔ اعلان کر دیا گیا کہ مشرق ومغرب، شمال وجنوب ہر سمت میں اطلاعات بھیج دی گئیں کہ زیارت بیت اللہ کے لیے اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی نکلنے والے ہیں۔ جس کے پاس جو کچھ تھا، اس نے اس مقدس سفر کے لیے لاکر پیش کرڈالا ___ چودہ سو مسلمان راہ حق میں نکل کھڑے ہوئے ___کتنی خوش نصیب تھی وہ سرزمین جس سے نبیؐ کی دعوت پر چودہ سو مسلمان اپنے محبوب تک پہنچنے کے لیے سر ہتھیلی پر رکھ کر نکل کھڑے ہوئے:
وَّمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُج(الفتح ۴۸:۱۷) اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبرؐ کے فرمان پر چلے گا ، اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔
حق کے فدا کاروں کا یہ اعلان جہاں ان کی قوت کا اظہار ، ان کی وحدت اور یک جہتی کا اعلان اور ان کے عزم وجاں فروشی کا آئینہ دار تھا، اور اس سے جہاں سارے عرب کے حق پرستوں میں بجلی کی ایک نئی لہر دو ڑ گئی تھی، وہیں اس خبر نے اہل باطل کے ہوش اُڑا دیے۔ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی، ان کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جسے ہم نے غربت کے عالم میں یہاں سے نکالا، پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ پوری شان سے یہاں داخل ہو___ ہمارے جیتے جی یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس طرح تو سارے کیے دھرے پر پانی پھر جائے گا۔ ہم نے تو نکالا ہی اس لیے تھا کہ اس کے اثر سے محفوظ ہو جائیں۔
پھر اس کی قوت کا خاتمہ کرنے کے لیے بار بار ہم نے لشکر کشی کی تھی، لیکن کسی طرح اس کی قوت ٹوٹتی ہی نہیں ۔ سب وشتم کا طوفان ہم نے اٹھایا ، سختیاں اور شدائد ہم نے کر لیے ، مارپیٹ ، جیل اور مقاطعہ، غرض ہر حربہ استعمال کر لیا۔ معاملہ قاضی شمشیر کے سپرد بھی کیا، لیکن وہاں بھی بدر کے میدان میں ہمارے ہی جوانوں کی لاشیں تڑپتی نظر آئیں۔ محاصرہ بھی کر دیکھا، لیکن اس چٹان میں کوئی شگاف ہی نہیں پڑا۔ یہ ساری ذلتیںہم نے اٹھائیں لیکن یہ تو بالکل ہی ناقابلِ برداشت ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے وہ مکہ میں قدم رکھے، کعبہ کا طواف کرے، توحید کا کلمہ بلند کرے، ہمارے بتوں کی نفی کرے او ردرو دیوار لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ کے نعروں سے گونجیں ___نہیں، یہ نہیں ہو سکتا !
لیکن آہ! ہم بڑی مشکل میں گرفتار ہیں۔ اس نے یہ سفر جنگ کے لیے نہیں، خالص زیارتِ کعبہ کے لیے اختیار کیا ہے۔ عام مہینوں میں نہیں حرام مہینوں میں اختیار کیا ہے، اسلحے سے لیس ہو کر نہیں آرہا___ بجز ایک تلوار ( اور وہ بھی نیام میں ) اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں۔ تمام زائرین حرم کو عرب کے معروف قاعدے کے مطابق سفر کی حفاظتی ضرورت کے لیے ایک تلوار رکھنے کی اجازت تھی، سو اس قاعدے سے تجاوز نہ کیا اور نہ کوئی سامانِ جنگ ساتھ لیا۔اس نے قربانی کے جانور بھی لے لیے ہیں ___قانون کی پوری پابندی کر رہا ہے ، روایات کا مکمل احترام کررہا ہے، کہیں انگلی رکھنے کی گنجایش نہیں۔
اُدھر کفّارِ مکہ اس الجھن میں گرفتار ہوکر رہ گئے کہ اگر ان محترم مہینوں میں ہم ان سے جنگ کرتے ہیں تو ہم برسوں کی روایات کا خون کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر زیارت سے روکتے ہیں تو اہل عرب کے ایک بنیادی اور فطری حق سے، جسے ہر دور میں اور ہر گروہ اور قبیلے نے تسلیم کیا ہے،اگر ان کو محروم کرتے ہیں تو یہ انصاف ، قانون اور روایات کے صریح خلاف مانا جائے گا۔ سب اسے مذہبی اُمور میں مداخلت قرار دیں گے۔ لوگوں کو یقین دلانے کی اپنی سی کوشش بھی کریں، لیکن اسے مانے گا کون ؟
سب اہلِ عرب صاف کہیں گے کہ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کے ساتھیوں کے لیے اس قدیمی حق کو پامال کیا جاسکتا ہے تو کل ہمارے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر آج ان کے باب میں یہ مذہبی مداخلت اور یہ سیاسی دخل اندازی ہو سکتی ہے، تو پھر دوسروں کے لیے بھی ان حقوق اور ان مہینوں کے محترم رہنے کا کیا امکان ہو گا___ پھر غضب یہ ہے کہ یہ بات چوری چھپے بھی نہیں کی۔ عرب میں اپنے اس سفر اور اس کے مقاصد کا اعلان بھی کر دیا ہے___ یہ سوچ سوچ کر ان کے ذہن مائوف ہورہے تھے کہ کس مشکل میں گرفتار ہو گئے ہیں۔
’’لیکن، کیا ہم اسے آنے دیں؟ نہیں، یہ تو نہیں ہو سکتا۔ ہم کہیں گے کہ زیارت تو محض ایک بہانہ ہے، اصل مقصد تو ہمیں مکہ کے اقتدار سے محروم کرنا ہے۔ یہ صریح طور پر ہمارے خلاف ایک سیاسی انقلاب کا قدم ہے۔ یہ لوگ سماجی قانون ومذہب کے پردے میں ہمارے اقتدار سے کھیلنا چاہتے ہیں۔ ان کی قانون پسندی کے پیچھے قوت کے استعمال کے عزائم موجود ہیں۔ کوئی مانے نہ مانے، ہم یہی سمجھتے ہیں، ہم یہی کہیں گے ، ہمارے حلیف قبائل اس کی تائید کریں گے___ ہم اکیلے ان کے خلاف نہیں لڑیں گے، ہم بھی اپنے تمام حلیفوں کو جمع کریںگے، ان سے ان کے خلاف فتویٰ لیں گے بلکہ ملک بھر میں اس بات کا چرچا کریں گے اور چاہے کچھ ہو جائے مکہ میں ان کو دوبارہ داخل نہ ہونے دیں گے___ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم تو طواف کعبہ کو ان کے لیے ’غیرقانونی‘ قرار دیں اور یہ سیدھے وادی القریٰ میں داخل ہو جائیں‘‘۔
قانون ، روایات ، انصاف ، دلیل وبرہان کو شکست ہوئی اور ضد، ہٹ دھرمی اور سیاسی دھاندلی نے بازی جیت لی ! قریش نے کاروان حق اور زائران حرم کا راستہ روکنے کا فیصلہ کر لیا۔ سارے ملک میں ہرکارے دوڑائے گئے کہ ایک فیصلہ کن جنگ لڑ کر اس تحریک کو اب ختم ہی کر دینا ہے:
اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ (الفتح ۴۸:۲۶) جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی ___اور ضد بھی خالص جاہلیت کی۔
ھُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہُ ط (الفتح ۴۸:۲۵) یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا۔ اور قربانیوں کو بھی روک دیا کہ وہ اپنی جگہ پہنچنے سے رک جائیں۔
مخالفین اپنی چالیں چل رہے تھے، قبائل کو جمع کیا جا رہا تھا اور جاہلیت کے نام پر انھیں من مانی کارروائی کے لیے آمادہ کیا جا رہا تھا۔ فوجی تربیت دی جارہی تھی ۔ مکّہ کے نوجوانوں اور سرپھروں کی ٹولیاں مختلف سمتوں سے بھیجی جا رہی تھیں تا کہ کوئی موقع لڑائی کا پیدا ہو جائے اور کوئی واقعہ ایسا رُونما ہو جائے کہ قافلۂ حق پرہاتھ ڈالنے کی صورت نکل آئے ___ اور دوسری طرف ان حرکتوں سے بے نیاز، اللہ کا آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چودہ سو جاں نثاروں کے ساتھ خاموشی اور وقار کے ساتھ سوے حرم رواں تھا۔
جب قافلۂ حق عفان کے پاس پہنچا تو قبیلہ کعب کے ایک شخص نے اطلاع دی کی مکہ سے باہر کے مقام پر قریش اور ان کے حلیف بڑی تعداد میں فوجیں جمع کر رہے ہیں اور خالد بن ولید اور عکرمہ ابن ابو جہل ۲۰۰سواروں کے ساتھ مقدمہ الجیش کے طور پر کُراعُ الغمیم تک آگئے ہیں۔ قبیلہ خزاعہ کے رئیس اعظم بُدَیل بن وَرَقانے صورت حال پر آپؐ کی راے معلوم کی اور اپنی خدمات پیش کیں۔ خدا کے نبی اور قافلۂ زائران کے سردار( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ایک طرف مسلمانوں کو حکم دیا کہ قریش مقام الغمیم تک آگئے ہیں، اس لیے اس راستے کو چھوڑ کر داہنی طرف سے چلو اور دوسری طرف بذیل بن ورقا اپنے چند معتبر ساتھیوں کے ساتھ آپؐ کے پاس آیا، اور پوچھا:
’’آپ کس غرض سے آئے ہیں؟‘‘
آپؐ نے فرمایا: ’’ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے، صرف بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف ہمارے پیش نظر ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ایک معین مدّت کے لیے مجھ سے صلح کا معاہدہ کر لیں اور اگر وہ اس پر راضی نہیں ہیں تو :
فَمَا تظَنُّ قریش فَوَاللّٰہِ لَا ازال اجاھد علی الَّذِی بَعثَنِی اللہ بِہٖ حَتّٰی یُظھِرَہُ اللہ اَو تَنْفِرْدَ ھٰذہِ السَّا لِفۃُ ، معلوم نہیں قریش کس گھمنڈ میں ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں دین کے لیے اس وقت تک جہاد کروںگا، جب تک اللہ، دین کو غلبہ نہ عطا کر دے یا دستِ اجل مجھ پر قبضہ نہ کر لے۔ (تاریخ الطبری، ج۲، ص ۱۱۷)
عزم وہمت اور یقین اور جاں بازی کے اس اعلان سے قریش میں کھلبلی مچ گئی۔
داعیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تدبیر اور حکمت عملی، اظہار عزم اور پختگی دونوں کو بیک وقت استعمال فرمایا۔ ایک طرف صحیح وقت کا انتخاب ، صحیح طریقے کی پابندی ، راے عامہ کی ہمواری ، اصول وقانون کی پابندی ، صلح وسفارت کی پروقار کوششیں ، قدم قدم پر رُونما ہونے والی اشتعال انگیزیوں (provocations ) پر صبر وتحمل___ اور دوسری طرف پختہ عزم اور حق کی خاطر جان لڑا دینے اور آخری بازی تک کھیل جانے کا برملا اظہار!
قریش شدید پریشانی اور خلفشار میں مبتلا ہوگئےاور باطل کی قوتیں سخت کش مکش کا شکار۔ ایک گروہ کہتا کہ ’’ہم لڑے بغیر نہیں مانیں گے۔ ہماری آنکھوں میںخون اترا ہوا ہے اور اس تحریک کو مٹائے بغیر ہماری پیاس نہیں بجھے گی‘‘۔ یہ گروہ نہ صرف سب کو جنگ کرنے اور قانون کو پامال کرنے پر اُکسا رہا تھا، بلکہ خود اپنی ہی تحریک پر ایسی حرکتیں بھی کر رہا تھاکہ کسی طرح لڑائی کی آگ بھڑک اٹھے ۔ اس اونٹنی کو مار دیاگیا، جس پر سوار ہو کر حضرت خراش شہر میں گئے تھے۔
ایک دستے نے مسلمانوںسے چھیڑ چھاڑ کی اور پتھر اور تیر تک پھینکے، لیکن مسلمانوں نے لڑنے کے بجاے ان کو گرفتار کر لیا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رہا کر دیا لیکن اس کے باوجود یہ گروہ جنگ کی آگ کو بھڑکانے کے لیے بے چین تھا، اور سارے حقوق وروایات کو پامال کرنے کے در پے۔ دوسرا گروہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر تو قائم تھا لیکن اس تبدیل شدہ صورتِ حال نے اس کی پریشانی کو چند در چند کر دیا تھا، اور حضوؐر کی حکمت عملی اور عزم وثبات نے اس کے قدموں کو متزلزل کر دیا تھا۔ پھر قبائل میں سے ایسے بھی تھے جو قریش سے مفاد کی وابستگی اور دوستی کے معاہدے کی وجہ سے جمع تو ہو گئے تھے، لیکن ان کے دل مطمئن نہ تھے اور وہ برابر ضمیر کی چبھن محسوس کر رہے تھے۔ تاہم، قریش بحیثیت مجموعی اپنی ہٹ پر قائم تھے اوران کا اصرار تھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کبھی داخل نہیں ہو سکتے۔
ضد وہٹ دھرمی ومفاد طلبی اور باطل پرستی کے اس ماحول میںایک واقعہ ایسا بھی رُونما ہوا، جس نے بُرے حالات میں بھی رفقا کو بچا لیا۔ قریش کی صفوں میں ایک سے ایک شقی اور دشمن حق تھا اور وہ قافلۂ حق کا راستہ روکنے کے لیے ہر اوچھی سے اوچھی حرکت کرنے کے لیے بھی تلا ہوا تھا ___لیکن انھی صفوں سے احابیش کا سردار حُلیس بن عَلقمہ بھی نکل کر سامنے آیا۔
حُلیس کے سامنے جب بدیل بن ورقا نے یہ شہادت پیش کی، پھر مکر زبن حفض نے بھی اس امر سے مطلع کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھی قانون پسند اور پُرامن ہیں اور جنگ کرنے نہیں بلکہ زیارت حرم کے لیے آئے ہیں، تو اس کے ضمیر نے قریش کی زیادتی ، قانون کی خلاف ورزی اور فطری انصاف اور صدیوں کی روایات کی پامالی پر سرزنش کی۔ اور وہ کہتا ہے کہ میں تحقیقِ حال کے لیے جاتاہوں۔ پھر جب اس غیر مسلم نے زائرین کعبہ کو دیکھا اور اسے اپنے سامنے، زائرین کے لائے ہوئے قربانی کے اونٹ نظر آئے، تو اس نے مفاد پرست قریش اور ان کے ناجائز دبائو کے خلاف بغاوت کی اور قریش کے سامنے ان کی افواج کی موجودگی میں پوری ہمت اور قوت کے ساتھ اعلان کیا کہ :
محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تو زیارت کے لیے آئے ہیں ۔ تمھیںان کو اس حق سے محروم کرنے کا اختیار کب ہے؟ میں نے قربانی کے اونٹ اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں___قانون کی خلاف ورزی تم کررہے ہو، وہ نہیں___[اس پر قریش کے سر پھرے نوجوان مذاق اڑانے لگے___اسے دیکھو ! دیہاتی آدمی ہے ! یہ ان باتوں کو کیا جانے۔]
حُلیس کوئی معمولی آدمی نہ تھا۔ عرب کے مشہور تیر اندازوں میں سے تھا۔ اس کا قبیلہ تیراندازی میں اپنا نام رکھتا تھا۔ اس وقت مختلف قبیلوں کی فوج کا سردار تھا۔ اس بے ہودگی پر اسے سخت غصہ آیا اور اس نے صاف اعلان کر دیا ___
اے قریش ! قسم ہے معبود کی، ہم نے تم سے اس بات پر عہد نہیں کیا ہے اور نہ ہم نے قسم کھائی ہے کہ جو شخص خانہ کعبہ کی زیارت کو آئے ہم اس کو روک دیں___سم ہے خدا کی جس کے قبضے میں حلیس کی جان ہے___ یا تو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو زیارت کرنے دو، ورنہ میں ایک دم میں اپنا تمام لشکر لے کر چلا جاتا ہوں ۔(سیرت ابن ہشام، ص ۴۵۰)
تھی تو یہ ایک ہی آواز ! لیکن قریش میں کھلبلی مچ گئی ۔ سب سکتے میں آگئے ۔ انھوں نے پریشان ہو کر کہا :’’ٹھیرو تو ! غصہ کاہے کاہے ؟ ہم ذرا اطمینان تو کر لیں‘‘۔
اس کشیدگی کو دُور کرنے کے لیے ایک تجربہ کار آگے بڑھا __ یہ تھا عروہ بن مسعود ثقفی۔
عروہ نے کہا : کیوں قریش ، کیا میں تمھارا باپ اور تم میرے بچے نہیں ؟
بولے :ہاں، بلاشک۔
عروہ : میری نسبت تمھیں کوئی بدگمانی تو نہیں۔
سب نے کہا : نہیں۔
عروہ : اچھا تو مجھے اجازت دو کہ میں خود جا کر معاملہ طے کروں۔
محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نے صلح کی معقول شرطیں پیش کی ہیں ___ھچائو کم ہوا ___ور سفارت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ۔
ادھر سفارت اپنا کام کر رہی تھی اور ادھر شرپسند خاموش نہ تھے ۔ وہ کسی طرح لڑائی شروع کرا دینا چاہتے تھے۔ بار بار اشتعال انگیزی کی کوشش کرتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی ٹولیاں مسلمانوں کے پڑائو میں گھستی تھیں، پتھر پھینکتے تھے، تیر چلاتے تھے ___لیکن قافلۂ حق کے راہی صبرو تحمل کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ قائد صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرما دی تھی کہ: ہمیں ہر زیادتی کو برداشت کرنا ہے اور لڑائی سے حتی الامکان بچنا ہے، اِلّا یہ کہ ہم مجبور کر دیے جائیں___کیا مجال تھی کہ مسلمان اس ہدایت سے سرمو انحراف کریں۔ ہر شخص پوری ہوشیاری اور سمجھ داری کے ساتھ اس بنیادی ہدایت کی روشنی میں ہر نئی صورت حال کا مقابلہ کر رہا تھا۔
یہی حلم ، تدبر، حکمت ، صلح پسندی، صبر وثبات اور اطاعت امر کا جذبہ تھا، جس کی وجہ سے مخالفین حق اپنی ایک زبردست چال میں ناکام ہوگئے اور ان کی ساری فتنہ انگیزیاں بے نتیجہ رہیں۔
لیکن کیا یہ صلح پسندی اور تحمل وبرداشت کسی کمزوری کا نتیجہ تھا ؟ یا اس سے اہل حق کے عزم میں کوئی کمی واقع ہو گئی تھی ؟___نہیں، ان کا جذبۂ سر شاری اپنے عروج پر تھا، حق کی حمیت اپنے حقیقی رنگ میں موجود تھی، فدا کاری کا داعیہ ہر ہر عمل سے نمایاں تھا___اور پھر تحمل وبرداشت کی بھی ایک حد تھی۔ داعی اپنے اصلی عزم کا اظہار بر ملا کر رہا تھا اور حق کی خاطر جینے اور حق کی خاطر جان دے دینے کا جذبہ پورے کاروان حق میں کار فرما تھا۔
اور اس کا اعلیٰ ترین مظہر،بیعت رضوان ہے !
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارت ہی کے سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا ۔ ان کے جانے کے بعد یہ خبر اڑ گئی کہ: ’’قریش نے ان کو شہید کر دیا ہے‘‘۔یہ وہ ظلم تھا جسے ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہ کیا جا سکتا تھا۔ حضوؐر اور آپؐ کے ساتھی سب زیادتیوں کو گوارا فرما رہے تھے لیکن اعلیٰ مقصد کے لیے___ اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جو حضوؐر کے سفیر تھے، شہید کردیا گیاہے، تو یہ کھلا کھلا اعلان جنگ ہے۔ امن پسندی اور عفوورحم اسلام کا شعار ہے لیکن ظالم جب ساری حدود کو پھاند جانے کے در پے ہو تو پھر انصاف کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ظالم کا ہاتھ پکڑ لیا جائے اور جو تلوار مظلوموں پر اٹھی ہے اسے توڑ ڈالاجائے۔
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سارے ساتھیوں کو جمع کیا اور ان سے حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کی بیعت کی۔ یہ بیعت مرنے مٹنے کے وعدے پر تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’عثمانؓ کے خون کا قصاص لینا فرض ہے ‘‘۔ ایک ببول کے درخت کے نیچے بیٹھ کر آپؐ نے صحابہؓ سے جاں نثاری اور آخری سانس تک لڑنے کی بیعت لی۔ اس بیعت میں مردوزن سبھی شامل تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے جوش اورولولے کا یہ عالم کہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے کوشاں اور بے چین اور بڑھ چڑھ کر آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کرتے گئے۔ خدا قرآن میں اس کا ذکر اس طرح کرتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ(الفتح ۴۸:۱۰) اور جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے ۔
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ(الفتح ۴۸:۱۸) اے پیغمبرؐ ، جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے، تو خدا ان سے خوش اور راضی ہوا اور جو( صدق وخلوص ) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کر لیا اور ان پر سکینت اور اطمینان نازل فرمایا۔
دعوتِ اسلامی کی خصوصیت ہے کہ آزمایش کے وقت اس کے پیروکاروں کے جذبۂ عمل اور شوقِ قربانی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے، فدا کاری کی ایک لہر صرف افراد کے سراپے ہی میں نہیں، بلکہ ان کی اجتماعیت تک میں دوڑ جاتی ہے، حق کے لیے جان کی بازی لگادینے کا ولولہ ہر فرد میں پیدا ہوجاتا ہے___ اور یہ وہ ادا ہے جو حق تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ اس نے ایسے لوگوں کے لیے اپنی رضا مندی اور جنت لکھ دی ہے ؎
نگاہ یار جسے آشناے راز کرے
وہ اپنی خوبیِ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
محبوب کی رضا طلبی کی خواہش اور اس کی خوشی پر فخر ونازہی کی کیفیت میں حضرت براء رضی اللہ عنہ نے محبت میں ڈوبے ہوئے تاریخی الفاظ کہے تھے جو بخاری میں مرقوم ہیں:
’’ تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور ہم بیعت رضوان کو (اصل فتح ) سمجھتے ہیں‘‘۔
اس بیعت نے مسلمانوں کے جذبات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا تھا۔ ہر شخص کفن سر سے باندھے، حق کے لیے جان کی بازی کھیل جانے کے لیے تیار تھا اور اس میں کیف وسرشاری محسوس کر رہا تھا ؎
دست از طلب ندارم تاکار من برآید
یاتن رسد بہ جاناں یا جاں زتن برآید
عزم واستقلال کے اس مظاہرے نے قریش کے ہوش اڑا دیے___ اپنی ساری اکڑفوں اور کبرواستکبار کے باوجود وہ صلح پر آمادہ ہو گئے۔
لیکن، مسلمانوں کے لیے ابھی کچھ اور آزمایشیں بھی تھیں ۔ دارورسن کے لیے تو وہ آمادہ وتیار تھے ہی۔ لیکن نئی آزمایش ایک اور ہی نوعیت کی تھی!
اب انھیں ایک ایسی صورت کے لیے تیار ہونا تھا جس میں کمزوری اور شکست خوردگی کی سی کیفیت کا نمایاں اظہار تھا، جس کی وجہ سے کعبۃ اللہ کے دیدار سے آنکھوں کے مشرف ہونے کا جو امکان پیدا ہو گیا تھا، اس سے محرومی تھی۔ جذبۂ جہاد میں جو قدم آگے بڑھے تھے، ان کو حکمت الٰہی کے تحت پیچھے ہٹانا تھا___
یہ آزمایش جان لٹانے سے بھی زیادہ سخت تھی !
دعوت اسلامی کی اخلاقی قوت
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر غلط نکلی ! عروہ بن مسعود ثقفی قریش کے نمایندے کی حیثیت سے آیا اور صلح کی گفت وشنید کی۔ بظاہر عروہ بہت رکھ رکھائو سے معاملات طے کر رہا تھا۔ قریش کا سراُونچا رکھنے ، ان کی ضد پر پردے ڈالنے اور ان کی مٹی میں ملتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لیے اس نے ہر ممکن جتن کیے۔ اپنی بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے بہت سی نازیبا حرکتیں بھی کیں ۔ کبارصحابہ ؓ سے، جن میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت مغیرہ ؓ شامل تھے بدزبانی تک سے باز نہ آیا لیکن داعیانِ حق کے اس کیمپ میں جو منظر اس نے دیکھا، اس نے اس کے دل کو مسخر کر لیا ۔ کم تعداد اور نہتے مسلمانوں کا رعب اس کے دل ودماغ پر قائم ہو گیا، اور قریش کو شرائط پر آمادہ کرنے کے لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی اور بالآخر کامیاب رہا۔
وہ کیا چیز تھی جس نے اس کے دل ودماغ کو مائوف کر دیا ؟ وہ کون سی قوت تھی جس کے آگے اس نے ہتھیار ڈال دیے ؟ صحابہ کرامؓ کی وہ کون سی خصوصیت تھی، جس نے مخالفین کو بھی خاموشی کے ساتھ مسخر کر لیا؟ عروہ ہی کی زبانی سنیے۔ قریش میں واپس جا کر وہ کہتا ہے:
اے قریش ، میں نے کسریٰ اور قیصر اور نجاشی جیسے باد شاہوں کے دربار دیکھے ہیں ۔ مگر خدا کی قسم! میں نے اصحابِ محمدؐ کو جس طرح محمدؐ کا فدائی دیکھا ہے، ایسا منظر کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے ہاں نہیں دیکھا۔ ان لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ جب محمدؐ وضو کرتے ہیں تو صحابہؓ آپؐ کے وضو کے پانی کی ایک بوند بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے___ پس، اب تم لوگ سوچ لو کہ تمھارا مقابلہ کس سے ہے؟ (سیرت ابن ہشام ، ص ۴۵۱)
قریش کے ہاں سنّاٹا چھا گیا ___ وہ کہنے لگے: ’’اے چچا ، جیسے تم مناسب سمجھتے ہو کرو‘‘۔
دیکھیے ! وہ کیا چیز ہے جس نے دلوں کو فتح کر لیا، مادی قوت نہیں، اسلحے کی سج دھج نہیں ، فوج کی تعداد نہیں ، ظاہری رعب ودبدبہ نہیں___ وہ چیز ہے اخلاقی قوت ، باہمی محبت___ یک رنگی، وحدت اور نظم واطاعت ! اخلاق کی قوت مادی طاقت اور ابلیسی سیاست پر غالب آئی اور بحث کے لیے صفحۂ تاریخ پر یہ فیصلہ ثبت کر گئی کہ :’’آخر ی فتح اخلاق ہی کی قوت کو حاصل ہوتی ہے ‘‘۔
رسولؐ اللہ ، کیا یہ الفاظ مٹائے سے مٹ جائیں گے !
اب آزمایش کا ایک دوسرا ورق کھلتا ہے۔ انسان کی نگاہ چند قدم ہی تک دیکھتی ہے لیکن حکمت الٰہی کے لیے زمان ومکان کی کوئی حد اور قید نہیں۔ انسان اپنی سمجھ اور خواہشات اور تمنّائوں کے مطابق فیصلے چاہتا ہے، لیکن مشیّت ربانی کی جو حکمت بالغہ کار فرما ہے وہ ہماری تمنّائوں کی پابند نہیں۔
مسلمانوں کا دل اب صلح سے زیادہ معرکے اور زیارت بیت اللہ کے لیے بے تاب تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی کسی اور ہی طرف اشارہ کر رہی تھی۔
مسلمانوں کے لیے ایک بڑا ہی دل پاش پاش کر دینے کا لمحہ آیا، آزمایش نے ایک نیا رُوپ دھارا۔ صلح کی شرائط طے ہو گئیں، قریش کی طرف سے سُہیل بن عَمرو، ایک وفد کے ساتھ آیا اور حضوؐر سے گفت وشنید کے بعد منجملہ اور چیزوں کے یہ طے پایا کہ:
۱- دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی، اور ایک دوسرے کے خلاف خفیہ یا علانیہ کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔
۲- اس دوران میں قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] کے پاس جائے گا، اسے آپؐ واپس کردیں گے، اور آپؐ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا، اسے وہ واپس نہ کریں گے۔
۳- قبائلِ عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا، اسے اس کا اختیار ہوگا ۔
۴- محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] اس سال واپس جائیں گے اور آیندہ سال وہ عمرے کے لیے آکر تین دن مکّہ میں ٹھیر سکتے ہیں، بشرطیکہ نیاموں میں صرف ایک ایک تلوار لے کر آئیں، اور کوئی سامانِ جنگ ساتھ نہ لائیں۔ ان تین دنوں میں اہلِ مکّہ، ان کے لیے شہر خالی کردیں گے (تاکہ تصادم نہ ہو) مگر واپس جاتے ہوئے وہ یہاں کے کسی شخص کو اپنے ساتھ لے جانے کے مجاز نہ ہوں گے۔
ان شرائط پر مسلمانوں میں ایک خاموش اضطراب ، ایک دبی ہوئی بے چینی اور ایک شدید گھٹن کی سی فضا پیداہوگئی تھی۔ کوئی شخص ان مصلحتوں کو نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ جنھیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُور رس نگاہیں دیکھ رہی تھیں۔ پھر جب معاہدہ لکھنے کا آغاز ہوا توحضرت علی ؓ نے لکھنا شروع کیا: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سہیل نے کہا: ’’ہم اس کو پسند نہیں کرتے باسمِکَ اللّٰھم لکھو ‘‘۔
آپؐ نے فرمایا: ’’اچھا یہی سہی‘‘ ___
دوسرا جملہ تھا: من محمد رسول اللہ ___ سہیل نے پھراختلاف کیااور کہا: ’’اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو جھگڑا ہی کیا تھا، ’’محمد بن عبداللہ ‘‘ لکھیے۔ مسلمانوں کے لیے یہ اعتراض ناقابلِ برداشت تھا۔ ان کی بے چینی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔
حضور ؐ نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ ’رسول اللہ کے لفظ مٹا دو‘___ لیکن حضرت علی ؓ کے ہاتھوں کی جنبش رُک گئی۔ حضوؐر نے حکم دیا، مگر علی ؓ تعمیل نہیں کر پاتے ! آہ! محبت میں ایک ایسا مقام بھی آتا ہے کہ محبوب کی عزت اور مقامِ نبوت کی عظمت وعصمت کی خاطر اطاعت کیش ہاتھ پائوں بھی رُک گئے___ یہ عدم اطاعت نہیں تقدیس اور عظمت وعقیدت کا وہ نازک مقام ہے کہ جہاں اطاعت بھی محبت کے آگے سپر ڈال دیتی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ان الفاظ کو، جن کے لیے ساری دنیا کو چھوڑا تھا، کیسے مٹا سکتے تھے؟
حضوؐر اس پر خفا نہیں ہوئے، اپنے دست مبارک سے وہ الفاظ مٹا دیے اور محمد بن عبداللہ لکھ دیا۔ یہ تھی نبی برحق کی حکمت عملی ___ !
باطل پرستوں کی نادانی پر زمین وآسمان کی قوتیں خندہ زیرلب کے ساتھ گویا تھیں کہ ان الفاظ کے مٹانے سے کہیں حق مٹ سکتا ہے ! یہ تو محض ایک قانونی وسیلہ ہے تمھاری اس چھچھوری حرکت پر، اس میں کیا فرق پڑجائے گا۔ ایسے قانونی کرتب کہیں دعوت اسلامی کو بھی متاثر کرتے ہیں!
زمین وآسمان کے اس اعلان پر حق تعالیٰ نے خود شہادت دی:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ(الفتح ۴۸:۲۹ ) محمد، اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفّار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔
یہ زور دار اعلان قریش کی اوچھی حرکت کی کلّی تردید ہے ! قرآن کے ان تین اہم ترین مقام میں سے ایک، جہاں نام لے کر حضور ؐ کی رسالت کا اثبات واظہار نہایت قوت وتہدی کے ساتھ کیا گیا ہے ۔
لیکن یہ ساری باتیں تو کچھ بعد کی ہیں، فوری طور پر تو مسلمانوں کے جذبات میں شدید ارتعاش پیدا ہو گیا ۔ ان کی نگاہیں مستقبل کے دھندلکوں میں پوشیدہ کامیابیوںکو دیکھنے سے قاصر تھیں۔ وہ ان حکمتوں سے بھی ناواقف تھے، جو اللہ کے فیصلوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں ___ ان کے سامنے تو غلبے کی اُمید کے بعد ظاہری کم زوری یا کھلے لفظوں میں ناکامی کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ وہ تو زیارتِ کعبہ کی توقعات کو ہوا میں تحلیل ہوتا دیکھ رہے تھے۔ وہ تو ظالموں کی بات کے وقتی طور پر بظاہر حاوی ہوجانے پر مضطرب تھے۔ وہ اپنی امیدوں کے ٹوٹنے پر پریشان اوربے چین تھے___ وہ آئے تو اس ارادے سے تھے کہ متکبروں کی اکڑی ہوئی گردن کو جھکا دیں گے یا قلم کر دیں گے ___ لیکن بظاہر انھیں نظر ا ٓ رہا تھا کہ اس گردن کے خم میں تو کچھ اور بھی کجی رُونما ہو گئی ہے۔
ابھی صلح نامہ پر آخری دستخط نہ ہوئے تھے کہ ایک مسلمان حضرت ابو جندل ؓ آئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ سہیل ان پر سخت مظالم کر رہا تھا۔ اس وقت بھی ہاتھ اور پائوں میں زنجیریں تھیں اور انھوں نے مسلمانوں کے سارے مجمعے کے سامنے اپنے زخم اور دھنکی ہوئی کمر دکھائی___ یہ منظر دیکھ کر سب کے دل دہل گئے، خون جوش میں آگیا۔ حضوؐر نے ابو جندل ؓ کو معاہدے سے مستثنیٰ کرانے کی بہترین کوشش کی، لیکن سہیل بن عَمرو اڑ گیا۔ بالآخر آپؐ نے معاہدے کی پابندی کی اور فرمایا:
’’ابو جندلؓ ، چند روز اور صبر کرو، اجر کی اُمید رکھو، عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے اور دوسرے مظلوموں کے لیے کشادگی پیدا کرے گا۔ میں مجبور ہوں کہ میں نے عہد کر لیا ہے اور عہد کے خلاف نہیں کر سکتا ‘‘۔ اور حضرت ابو جندلؓ کو پابہ زنجیر واپس جانا پڑا ۔
یہ آزمایش مسلمانوں کے لیے بہت کڑی تھی___ ذلت گوارا کریں اور پھر اپنے بھائیوں کو آنکھوں دیکھے ظالموں کے ہاتھ میںدے دیں۔
ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں ؟
ان واقعات پر سب ہی مضطرب تھے، لیکن زبان کھولنے کی ہمت کسی میں نہیں ہورہی تھی، بالآخر حضرت عمر ؓ کو ضبط کا یارانہ رہا اور وہ بے چین ہوکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور بوجھل دل سے کہا: ’’کیا حضوؐر، اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ پھر آخر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ ذلّت کیوں اختیار کریں؟‘‘
ابوبکر صدیقؓ نے جواب دیا: ’’اے عمر، وہ اللہ کے رسولؐ ہیں ، اور اللہ ان کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا‘‘۔
حضرت عمرؓ کا اضطراب ختم نہ ہوا، اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے :
عمر ؓ : یا رسولؐ اللہ ! کیا آپ پیغمبرؐ برحق نہیں ہیں؟
حضور ؐ نے فرمایا : ہاں، ہوں۔
عمر ؓ : کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟
فرمایا : ہاں، ہم حق پر ہیں۔
عمر ؓ : تو ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟
فرمایا : میں خدا کا پیغمبرؐ ہوں اور خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتا ، خدا میری مدد کرے گا۔
عمرؓ: کیا آپؐ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم لوگ کعبہ کا طواف کریں گے؟
فرمایا: ہاں، لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اس سال ہی کریں گے۔ (بخاری، سیرت النبی ؐ ، از شبلی نعمانی، ص ۴۵۵-۴۵۶)
معاہدے کی تکمیل کے بعد آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاکہ یہیں قربانی کی جائے لیکن جو کعبہ کی زیارت کی ولولہ انگیزتوقعات کے ساتھ نکلے تھے، جوببول تلے ابھی جاں نثاری کی بیعت کر چکے تھے، جو شہادت کو چشم تصور سے دیکھ رہے تھے اور خوش ہو رہے تھے، جو پرشوق اُمیدوں کے سہارے تخیل ہی تخیل میں معلوم نہیں کتنی بار کعبہ کا پروانہ وار طواف کر چکے تھے___ سکتے کے عالم میں تھے ___ ہر شخص دل شکستہ ، ہر جانباز پژمُردہ اور نااُمید ___ حضوؐر نے قربانی کے لیے کہا، مگر کوئی نہیں اٹھا ۔ تین بار زبانِ رسالتؐ سے اس خواہش کا اظہار ہوا ہے، لیکن پرستارانِ حق اور عازمین حرم کی توقعات ابھی بالکل نہیں ختم ہوئی تھیں۔ وہ ابھی تک سوچ رہے تھے کہ شاید اب بھی زیارت کی کوئی صورت نکل آئے ! حضوؐر بے چین ہوکر اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ اُم المومنین حضرت اُمِ سلمہؓ سے فرمایا: میرے ان ساتھیوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ حضرت اُمِ سلمہؓ نے مشورہ دیا کہ آپؐ کچھ خیال نہ فرمائیں بلکہ خود اپنی قربانی کر دیں اور احرام اتارنے کے لیے بال منڈوا لیں۔ آپ نے باہر نکل کر اپنی قربانی کر دی___ اب آخری توقع بھی ٹوٹ گئی اورسب کو یقین ہوگیا کہ خدا کا فیصلہ آ چکا ہے۔ ہماری توقعات وخواہشات کچھ بھی ہوں لیکن اس سال ہم اپنے محبوب کی زیارت سے محروم ہی رہیں گے ___ ابھی کچھ دن اور صبر کرناہوگا، ابھی ہجر کی کچھ اور گھڑیاں باقی ہیں۔ زیارت محبوب کی تمنّا کو ابھی سوزِ قلب کی بھٹیوں میںاور پکانا ہوگا ؎
نالہ ہے بلبل شوریدہ، ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
جب یہ یقین ہو گیا تو اطاعت کا دریا پھر جوش میں آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے بعد سب نے اپنی اپنی قربانیاں پیش کر دیں اوراحرام اتار دیے۔
یہاں پر یہ گمان نہ ہو کہ اس نازک لمحے میں جاں نثارانِ محمد ؐ میں عدم اطاعت کا مرض پیدا ہوگیاتھا۔ ہرگز نہیں، اطاعتِ رسولؐ تو ان کا ایمان اور ان کی معراج تھی۔ اس کی وجہ صرف اضطراب اور پریشانی کے عالم میں زیارت کعبہ کی ایک آخری امید تھی___ توقعات ٹوٹ رہی تھیں، اضطراب بڑھ رہا تھا، لیکن اس اُمید شکن ماحول میں بھی بار بار یہ خواہش ابھر رہی تھی کہ کاش! کوئی صورت نکل آئے ___ اور اسی لیے قربانی کرنے میں ہچکچاہٹ تھی۔ لیکن جب یہ توقع بالکل ختم ہو گئی تو اس کے باوجود اطاعت میں کوئی کمی نہ رہی۔
ان سخت صبر آزما حالات میںبھی اطاعت کی مثال اگر دیکھنی ہے تو صلح نامہ پر دستخط کرنے والوں کی فہرست پر نگاہ ڈالیے۔ جب حضوؐر کی مہر اس پر ثبت ہوئی تو وہی عمر ؓ جو سخت مضطرب تھے، انھوں نے ایک اشارے پر اس معاہدے پر بطورِ گواہ دستخط کر دیے ہیں۔کیا اس اطاعت شعاری کا کوئی جواب ہو سکتا ہے!
جسے تم ذلّت سمجھ رہے ہو !
مسلمانوں کا یہ اضطراب حق کے جوش اور اس کی محبت میں تھا ، کسی جاہلی جذبے کی بنا پر نہیں تھا۔ اس لیے دیکھیے حق تعالیٰ اس پر نکیر فرمانے کے بجاے کس کس پیار سے ان کو سمجھاتا ہے۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے اور اس میں بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ ہم ہی نے تم کو ان کافروں پر فتح یاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے تھے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس کو دیکھ رہا ہے:
وَھُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْھِمْ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاo (الفتح ۴۸: ۲۴) وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، حالاں کہ وہ ان پر تمھیں غلبہ عطا کر چکا تھا، اور جو کچھ تم کر رہے تھے، اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
پھر سمجھایا جارہا ہے کہ اہل مکہ میںبہت سے چھپے ہوئے مسلمان ہیں جو اس وقت جنگ کی شکل میں مشکل میں پھنس جاتے بلکہ تمھارے ہی ہاتھوں قتل ہو جاتے۔ ہم نے تاخیر اس لیے کی ہے کہ وہ کھل کر دائرۂ حق میں داخل ہو جائیں:
وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآئٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْھُمْ اَنْ تَطَؤُھُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْھُمْ مَّعَرَّۃٌ م بِغَیْرِ عِلْمٍ ج لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ج (الفتح ۴۸: ۲۵) اگر [مکّہ میں] ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنھیں تم نہیں جانتے، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انھیں پامال کردو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی۔ روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔
حضوؐر نے ایک مختصر جملے میں کتنی بلیغ بات ارشاد فرمائی کہ ’’ میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ اس سال ہی عمرہ کریں گے‘‘، یعنی خدا کا وعدہ سچا ہے ، لیکن اس کا وقت بھی متعین ہے۔ بے صبری اور جلد بازی اس راہ میں حرام ہے۔ اپنے وقت پر اس کا وعدہ لازماً پورا ہو گا۔ ہمارا یہ کام نہیں کہ خدا کے فیصلوںکے لیے وقت متعین کریں___ وہ اپنے ہر کام کو اس کے مناسب وقت پر خود انجام دیتاہے۔
مسلمانوں کو اس کا یقین دلایا جا رہا ہے کہ تمھاری مدد اور منکرین حق کی تعذیب کے لیے خدا کے لشکر ہر وقت تیار ہیں، پلک جھپکتے میںوہ فیصلہ کر دیں گے___ تاخیر خدانخواستہ کسی کمزوری کی بنا پر نہیں تھی، مصلحت اور حکمت اس کی وجہ تھی اور خدا کی ساری حکمتیں تمھارے سامنے نہیں تھیں:
وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًاo (الفتح ۴۸: ۴) اور آسمان اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ جاننے والا ہے اور حکمت والا ہے۔
پھر بڑے لطیف انداز میں ان کو متوجہ کیا گیا کہ اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے، دنیا میں غلبہ ملانہ ملا___ یہ تو کوشش اور جدوجہد کا زمانہ ہے۔ اس میں نتائج کے بارے میں اتنے نازک طبیعت نہ ہو جائو ۔
ایمان واطاعت کی راہ میں بہت سے مراحل آئیں گے، تمھاری نگاہ ہر مرحلے میں رب کی رضا اور آخرت کی کامیابی پر ہونی چاہیے ___ یہی اصل کامیابی ہے:
لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَیُکَفِّرَ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَکَانَ ذٰلِکَ عِنْدَ اللّٰہِ فَوْزًا عَظِیْمًاo(الفتح ۴۸: ۵) تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اُن کی بُرائیاں اُن سے دُور کر دے___ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔
سمجھایا جا رہا ہے کہ اسلام نام ہے خوشی اور ناخوشی میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی پیروی کا۔ تمھاری توجہات کا مرکز یہ نہ ہو کہ کیا پایا ؟ یہ ہو کہ حکم کی اطاعت کہاں تک اور کس جذبے سے کی___ اگر تلوار اٹھانے کا حکم ہے تو اس وقت تلوار اٹھانا نیکی ہے،اور اگر تلوار کھینچ لینے کا حکم ہے تو اس وقت تلوار کھینچ لینا نیکی ہے۔ اگر زیارت کے لیے چلنے کا حکم ہے تو محبوب کی زیارت کا شوق دل ونگاہ کی تسکین کا سامان ہے اور اگر حکم مزید انتظار کا ہے تو سکون وراحت کا منبع ہجر اور لذتِ انتظار کو بن جانا چاہیے ع
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
نگاہ ہمیشہ اصل جو ہر پر رہے اور وہ یہ ہے کہ :
وَّمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ وَمَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًاo (الفتح ۴۸: ۱۷) جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا، اللہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی اور جو منہ پھیرے گا، اسے وہ دردناک عذاب دے گا۔
اس محبت بھری تفہیم کے بعد یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ تمھارے خلوص کی بنا پر ہم نے تمھارے دلوں پر سکینت نازل کر دی ہے، تا کہ پریشانی اطمینانِ قلب میں بدل جائے اور پھر جمعیت خاطر کی نعمت سے تم مالا مال ہو جائو ۔ یہ خدا کی مددونصرت کا ایک پہلو ہے___ اور نادانو! تم جس چیز کو ذلت سمجھ رہے ہو، وہ صرف تمھاری کوتاہ بینی ہے ، یہ تو ہم نے فتح کے لیے زمین تیار کی ہے۔ دعوت کے پھیلنے کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ غلبے کے امکانات روشن کیے ہیں اور ایک نہیں کئی کئی فتوحات تمھارے لیے مقرر کر دی ہیں ۔ بہت جلد تم کو خیبر میں فتح حاصل ہو گی، مال ودولت بھی ہاتھ آئے گا، اور پھر قریش پر غلبہ بھی حاصل ہو گا:
فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ وَاَثَابَھُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا o وَّمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَھَا وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا o (الفتح ۴۸: ۱۸-۱۹ ) اور جو (صدق وخلوص ) ان کے دلوں میں تھا، وہ اس نے معلوم کر لیا تو ان پر تسلی اور سکینت نازل فرمائی اور انھیں جلد فتح عنایت کی___ اور بہت سی غنیمتیں جو انھوں نے حاصل کیں اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔
خلوصِ دل ، اطمینان قلب، دنیوی فتح اور مالی خوش حالی میں جو ربط وتعلق ہے، وہ ان آیات میں پوری طرح ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ توقعات کے حسین تاج محل اس لیے منہدم کیے جاتے ہیں کہ خلوص اور دل کی کیفیت معلوم کر لی جائے۔ اگر اس میں کھوٹ نہیں ہے تو پھر انعامات کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ دل میں اطمینان القا کیا جاتا ہے، مادی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، اور بالآخر فتح وغلبہ عطا کیا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، اور ہمیشہ رہے گی:
وَلَوْ قٰتَلَکُمْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوَلَّوْا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا o سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا o (الفتح ۴۸: ۲۲-۲۳) اور اگر تم سے انکار کرنے والے لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کونہ دوست پاتے اور نہ مدد گار ۔ یہی خدا کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے، اور تم خدا کی سنت کو کبھی بدلتے نہ دیکھو گے۔
اپنے پیغمبر ؐ کو اس نے دین حق اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اور اس لیے بھیجا ہے کہ اس دین کو تمام نظاموں پر غالب کر دے اور یہ ہو کر رہے گا ۔ حق ظاہر کرنے کے لیے اللہ ہی کافی ہے:
ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًاo(الفتح ۴۸: ۲۸) وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کی کتاب اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تا کہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے اور حق ظاہر کرنے کے لیے اللہ کافی ہے۔
اس لیے وہ چیز جسے مسلمان کمزوری سمجھ رہے تھے اور جس میں دین کی ذلت دیکھ رہے تھے، حق تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اسے ’فتح مبین ‘قرار دیا:
اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا(الفتح ۴۸: ۱) اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی۔
یعنی وہ صلح جس کو شکست سمجھا جارہا تھا، اللہ کے نزدیک وہ فتح عظیم تھی۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا: ’’آج مجھ پر وہ چیز نازل ہوئی ہے، جو میرے لیے دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی ہے‘‘۔ پھر یہ سورت تلاوت فرمائی اور خاص طور پر حضرت عمرؓ کو بلا کر سنایا، کیوںکہ وہ سب سے زیادہ رنجیدہ تھے۔
اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سن کر حضوؐر سے پوچھا : ’’یارسولؐ اللہ ! کیا یہی فتح ہے ‘‘۔
آپؐ نے فرمایا: ’ہاں ‘۔(ابن جریر)
ایک اور صحابیؓ حاضر ہوئے اور انھوں نے بھی یہی سوال کیا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے، یقینا یہ فتح ہے‘‘۔(مسنداحمد، ابوداؤد)
یہی ارشاد تھا جس نے مضطرب دل کو مطمئن کر دیا ___ ایمان اور ہے ہی کیا ؟ اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات پر یقین واطمینان ___ اس کی تائید وتصدیق ___اور اس کے وعدے پر اعتماد اور پھر بھروسا!
اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (یونس ۱۰:۵۵) اللہ کا وعدہ سچا ہے، مگر اکثر انسان جانتے نہیں۔
شکست ، فتح میں بدل گئی
بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ! یہی صلح جو بظاہر ذلت کا نشان معلوم ہوتی تھی دراصل فتح کا سبب ، اس کا پیش خیمہ اور ذریعہ بنی ___ ایک نہیں متعدد فتوحات کا ۔ !
پھر اگلے سال مسلمانوں نے پوری شان وشوکت کے ساتھ عمرہ کیا۔ چودہ سو کے بجاے دوہزار زائرین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ۔ مشرکین مکہ کو چھوڑ کر چلے گئے اور وہی جنھیں مکہ سے نکالا گیا تھا، سینہ تان کر اور سر حضورِ رب میں جھکا کر لبیک اللّٰھم لبیک لا شریک لک لبیک کہتے ہوئے داخل ہوئے___ اللہ اللہ ، کیا منظر ہوگا! سات سال کے بعد ترسی ہوئی آنکھوں نے بیت اللہ کا دوبارہ نظارہ کیا ہو گا، سوکھے ہوئے ہونٹوں نے حجرِ اسود کو چوما، اورخشک زبانوں نے آب زم زم سے دہن ودل کی پیاس بجھائی ہو گی!
کفار نے یہ افواہ اڑا دی تھی کہ مسلمان کمزور ہو گئے ہیں۔ اسی لیے حکم ہوا کہ طواف میں جب ان مقامات سے گزر و جو مشرکین کے سامنے ہیں تو تیز تیز چلو ، سینہ تان کر چلو، کندھے ہلائو ، اور اپنی قوت اور شان وشوکت کا مظاہرہ کرو ___ آج تک یہ چیز مناسک حج کا جزو ہے ۔
مکہ میں مسلمانوں کا یہ داخلہ فتح مکہ کی ریہرسل تھا___ ایک ہی سال بعد مسلمان فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور اللہ کا وعدہ پورا ہو گیا … اور یہ چھٹی فتح تھی!
فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا(النساء۴:۱۹) عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کر و اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی پیدا کر دے۔
میں سورئہ فتح کا مطالعہ نہیں کر رہا تھا، تاریخ میری آنکھوں کے سامنے گردش کر رہی تھی اور دل ودماغ کے فتح ابواب کا کام انجام دے رہی تھی۔ نئے نئے گوشے میرے سامنے ابھر رہے تھے۔ میں نے ذرا غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سفر زیارت بیت اللہ کے لیے تھا، اسی کا اہتمام تھا، لیکن جو معاہدہ ہوا وہ خالص سیاسی تھا۔ دینی سفر کا سیاسی پہلو، زیارتِ کعبہ اور معاہدۂ صلح؟
اسلام میں دین وسیاست کس طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ طواف کے وقت بھی مسلمانوں کے دبدبے کو قائم کرنے کا خیال___ معروف اصطلاح میں سیاست، لیکن اس مقدس مقام پر بھی اس کا لحاظ ! قربانی کے اونٹ لائے گئے تو ان میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، تا کہ مسلمانوں کی قوت معلوم ہو اور مشرکین کو کڑھن ہو___کیا اسے بھی سیاست کہیں گے؟___ افسوس ! اسلام کا جو امتیاز تھا، اب اس پر کچھ کور ذہنوں کو وحشت و شرمندگی ہونے لگی۔ نبیِؐ برحق نے تو دین اور سیاست کو ایک وحدت میں اس طرح سمو دیا تھا کہ ان میں کوئی فرق باقی نہ رہا تھا، وہ ایک ہی حقیقت کے دوپہلو بن گئے تھے۔ اور حیرت اس بات پر کہ ’ کم کوشوں ‘ نے اس حقیقت کو گم کر دیا۔
منافقین کا رول اس موقعے پربھی وہی تھا، جیسا ہمیشہ رہا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کا رسولؐ اور اس کے یہ ساتھی اب کیا واپس آئیں گے ___ خوش ہو رہے تھے___ چلو قصہ ختم ہوا، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہ آئے بھی اور فاتح بھی ہوئے اور منافقین آگ پر لوٹنے لگے۔ مخالفینِ حق کے اندازے اللہ تعالیٰ ہمیشہ غلط کرا دیتا ہے اور بالآخر ان کو ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔
اہلِ حق کی محبت کا اصل سر چشمہ اللہ اور اس کے آخری رسولؐ کی اطاعت ہے۔ ان کی طاقت باہمی محبت واخوت اور باطل اور ظلم کے لیے سختی میں ہے۔ ان کی کامیابی کا راز اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے ، اس سے مغفرت طلب کرنے اور صرف اسی پر بھروسا کرنے میں ہے۔ فتح کی خوش خبری کے ساتھ ہی ان کے جو اوصاف بتائے جا رہے ہیں، وہ یہی ہیں:
اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ تَرٰھُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاھُمْ فِیْ وُجُوْہِھِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (الفتح ۴۸: ۲۹) وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں۔ تو ان کو دیکھتا ہے کہ خدا کے آگے جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور اللہ کا فضل اور اس کی خوش نودی طلب کر رہے ہیں۔ کثرتِ سجود سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔
یہی وہ ہتھیار ہیں جن سے اہل حق اپنی لڑائی لڑتے اور بالآخر بازی جیتتے ہیں۔
___ ___ ___ ___ __
میں سورۃ الفتح کو پڑھ رہا تھا___ کئی بار اس کی تلاوت کی، میرے ذہن پر سے بوجھ اَب اُتر چکا تھا، تاریکیوں اور مایوسیوں کا ایک ایک پردہ اٹھ گیا اور اجالا پھیلنے لگا۔ میرے دل نے گواہی دی کہ حق کا پیغام باطل پرستوں کی ریشہ دوانیوں کے باوجود پھیلے گا اور ان شا اللہ غالب ہوگا۔ یہ نام کہیں مٹائے سے نہیں مٹتا !___ راہ میں نشیب وفراز تو بہت سے ہیں، لیکن آخری کامیابی حق ہی کی ہے___ اور ایک نہیں بہت سی کامیابیاں ہیں۔
حق سے وابستگی اور اس پر استقامت خود اپنی جگہ ایک کامیابی ہے۔ مایوسیوں کے عالم میں اللہ کی ذات بابرکات پر اطمینان اور اس کی سکینت کا نازل ہونا بھی ایک کامیابی ہے۔ نتائج سے بے پروا ہو کر حق کے لیے ڈٹ جانا ایک کامیابی ہے، پھر غلبۂ حق بھی ایک کامیابی ہے ___ اور سب سے بڑی کامیابی تو اللہ کا راضی ہو جانا ہے۔ اگر وہ حاصل ہو جائے تو سب کچھ حاصل ہو گیا !
غم اورپریشانی کے بادل اَب چھٹ چکے تھے، اطمینان اور سکون کی ایک نئی دولت سے دل مالا مال تھا، فَالْحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔
میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے گھر میں پیدا کیا جو مسلمان گھرانا تھا، جہاں ہر آن اچھائی اور خیر کا ماحول غالب تھا۔ پھر ایسے ماں باپ میسر آئے، جنھوں نے شروع ہی سے ایک خاص رُخ پر تربیت کی۔ بچپن ہی سے علمی، دینی اورادبی ماحول ملا ۔ ہم قرول باغ، دلّی میں رہتے تھے اور جامعہ ملیہ بھی قریب ہی تھی۔ ہر سال ’محمد علی جوہر ٹرافی‘ کے مقابلے ہوا کرتے تھے، جس میں بچوں کے لیے الگ اور بڑوں کے لیے الگ کھیلوں، نظمیں پڑھنے اور تقریروں کے مقابلے ہوتے تھے۔ میں نے سات آٹھ سال کی عمر ہی سے نظمیں پڑھنے اور مباحثوں میں حصہ لینے کے ساتھ، کھیلوں میں بھی شرکت شروع کی۔ اس تین روزہ ٹرافی پروگرام کے دنوں میں وہیں ٹھیرنا پڑتا اور زمین پر سونا ہوتا تھا۔ یہ کیمپنگ میری زندگی کا بڑا دل چسپ اور سبق آموز تجربہ تھا۔
انگریزی راج سے آزادی کے لیے جدوجہد میں شرکت، ہندو مسلم فسادات کا دل گرفتہ کرنے والا تذکرہ اور تجربہ، اور قیامِ پاکستان کی تحریک میری ابتدائی زندگی کے نقوش ہیں۔۱۹۴۲ء میں تحریکِ آزادی کو قوت سے کچلنے کی کوشش کو بچشمِ سر دیکھا اور ۴۶-۱۹۴۵ء کے انتخابات کا مشاہدہ بھی کیا۔ میرا پورا خاندان آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ تھا اور میں بچوں کی انجمن ’بچہ مسلم لیگ‘ دہلی کا سب سے کم عمر صدر منتخب ہوا تھا۔ اینگلو عریبک ہائیر سیکنڈری اسکول میں ثانوی تعلیم حاصل کی۔ یاد رہے کہ یہ اسکول تحریکِ پاکستان کا مرکز تھا اور اس کی بزمِ ادب کا سیکرٹری بننے کا بھی مجھے شرف حاصل ہوا۔ پاکستان کی تائید کے لیے ہمارے جلوس ہر ہفتے اسمبلی کی طرف جایا کرتے تھے۔ ۱۹۴۵ء کے الیکشن میں ہم نے شب وروز کوشش کی۔ ڈاکٹر عبدالغنی قریشی دلّی میں ہمارے اُمیدوار تھے، وہ میرے والد کے گہرے دوست تھے۔ انتخابات میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔
۳جون ۱۹۴۷ء کو قائداعظم کی تقریر میں نے ریڈیو سے اپنے کانوں سے سنی اور ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ سنا اور لگایا بھی۔ اس کے بعد ۳ستمبر ۱۹۴۷ء کو ہمارے گھرپر حملہ ہوا، ہمیں فی الفور گھر چھوڑنا پڑا۔ ہم گھر سے اس حالت میں نکلے کہ جو کچھ ہمارے بدن پر تھا یا ہاتھوں میں تھا، بس اسی کو ہم اپنے ساتھ لاسکے۔ ہمارا گھر لوٹا اور جلایا گیا ۔ پھر ہم مسلم اکثریت کے محلے باڑہ ہندو رائو منتقل ہوگئے۔ جہاں ہم نے پناہ لی تھی، وہاں پر بھی جلد ہی حملہ ہوا۔ اس صورتِ حال میں کئی راتیں ایسی گزریں کہ پوری پوری رات ہم جاگے اور ایک مکان سے دوسرے مکان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رات میں ہم نے چھے جگہیں بدلی تھیں۔ انھی راتوں میں ایک وہ رات بھی تھی، جب میں نے انسانی چربی جلنے کی بدبو سونگھی۔ پھر میں اپنے والدین کے ساتھ ایک ماہ تک مہاجر کیمپ میں بھی رہا۔ ہمایوں کے مقبرے میں بھی رہنا پڑا۔ یہاں اگرچہ ہم عملاً خود مقید تھے، اس کے باوجود ہم بے گھر لوگوں کی بساط بھر خدمت کرتے رہے۔ الحمدللہ، میرے والد متمول لوگوں میں سے تھے، اس لیے ہم نے ہوائی جہاز سے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ہمارے خاندان کا ایک حصہ دسمبر۱۹۴۷ء میں پاکستان پہنچا اور میں خود اپنے والدین کے ساتھ ۱۲فروری ۱۹۴۸ء کو پاکستان منتقل ہوا۔ وہ دن اور آج کا دن، میں نے دہلی کی وہ جگہیں یا اپنا گھر پھر نہیں دیکھا۔
بڑے بھائی ضمیراحمد مجھ سے پہلے پاکستان آگئے تھے، انھیں ایف سی کالج لاہور میں داخلہ مل گیا۔میں چونکہ فروری میں پاکستان آیاتھا اور تعلیمی سال کئی ماہ پہلے شروع ہوچکا تھا، اس لیے داخلہ نہیں ملا۔ ان دنوں لاہور میں تعلیم الاسلام کالج میں داخلہ کھلا ہوا تھا۔ چنانچہ میں وہاں داخل ہوا۔ اتفاق سے وہاں میرے کلاس فیلو بہار سے آئے ہوئے اقبال احمد تھے۔ ہم دونوں کلاس فیلو اور اچھے دوست تھے۔ وہیں ہمیں پہلی مرتبہ سوشلزم اور اسلام کے بارے میں بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اقبال صاحب بعد میں ایک سوشلسٹ دانش وَر کی حیثیت سے معروف ہوئے۔ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نوجوانوں کا مستقبل یا سوشلزم ہے یا اسلام۔ وہ سوشلزم کی طرف چلے گئے، اور یہ اللہ کا کرم ہے کہ مَیں اسلام کی طرف آگیا۔
۱۹۴۹ء میں پہلی مرتبہ مولانا مودودی کی تحریروں سے آشنا ہوا۔ الحمدللہ، ہم پہلے سے روایتی دینی زندگی تو گزارتے آرہے تھے، لیکن یہ فہم کہ اسلام کیسا انسان چاہتا ہے؟ اسلام کیسا معاشرہ چاہتا ہے؟ اسلام زندگی کو کس سمت میں لے جانا چاہتا ہے؟ اس کا ہمیں کوئی زیادہ شعور نہیں تھا۔ اس چیز کا شعور ۱۹۴۹ءکے وسط میں اس وقت ہوا، جب مَیں اسلامی جمعیت طلبہ سے متعارف ہوا۔ پھر ۱۹۵۰ءمیں مَیں اسلامی جمعیت طلبہ کا رکن بنا اور فوراً بعد کراچی جمعیت کا ناظم منتخب ہوگیا۔ اس کے بعد ناظم سندھ جمعیت اور بعد میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا ناظم اعلیٰ منتخب ہوا۔ اُس زمانے میں ہم نے اسکولوں کے طلبہ کا جو حلقہ مدارس بنایا، اس میں شیخ محبوب علی، مسلم سجاد، تنظیم واسطی اور انیس احمد وغیرہ شامل تھے۔ برادرم عبداللہ جعفر صدیقی اس پورے پراجیکٹ کے انچارج اور روح رواں تھے۔ مجھے اس پورے گروپ کے اسٹڈی سرکل چلانے اور ان کو تحریک اور ملکی اور عالمی تناظر سے متعارف کرانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ بات ہے ۱۹۵۱ء، ۱۹۵۲ء کی۔
یہاں ایک بار پھر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ایک ایسے گھرانے میں پیدا کیا، جو دینی، ملّی اور علمی ذوق رکھتا تھا۔ اس ماحول نے میری زندگی کو ایک رخ پر ڈالا اور تحریک اسلامی کو جاننے کی توفیق عطا فرمائی۔ تحریکِ اسلامی جس دعوت کو لے کر کارزارِ حیات میں سرگرم ہے، اسلامی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ دعوت اور سرگرمی دورِ رسالتؐ سے ترقی اور آزمایش کی منزلوں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ بلاشبہہ ہر دور میںا س کے لیے چیلنج اور چیلنج سے نبردآزما ہونے کے وسیلے اور اس کی شکلیں بدلتی رہی ہیں، مگر دعوت کا مرکز اللہ کی طرف بلانا، رسولؐ کی اطاعت، اور تزکیہ نفوس اصل بنیاد کے طور پر کارفرما رہا ہے اور انفرادی اصلاح کے ساتھ اجتماعی جدوجہد اس کی امتیازی شناخت رہے ہیں۔
اوّل: ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کو قرارداد پیش ہوئی، جو سیرحاصل بحث کے بعد منظور کی گئی۔ اگرچہ سیاسی و اجتماعی زندگی میں قراردادیں بہت سی پیش ہوتی ہیں اورقبول بھی ہوتی ہیں، لیکن وہ قراردادیں جو تاریخ کے رخ کوموڑ دیں، وہ بہت کم ہوتی ہیں۔ اس پہلو سے ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کی قراردادِ لاہور کا منظورہونا ایک بڑے اہم اور تاریخی فیصلے کی بنیاد بنا۔
دوم: اسی تسلسل میں دوسری بڑی اہم قرارداد، اپریل ۱۹۴۶ء میں دلّی میں ہمارے اسکول کے کیمپس میں مسلم لیگ کے منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کے کنونشن کی قرارداد ہے، جو ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کی قرارداد کی تکمیل، اس کی تشریح اور تعبیر اور اسے عملی شکل دینے کا ذریعہ بنی۔ اس قرارداد کے ساتھ ایک عہدنامہ بھی تھا، جس پر تمام منتخب ارکان اسمبلی نے دستخط کیے، اور اس میں تحریک ِ پاکستان کے محرک اور منزل دونوں کا معتبرترین تصور ہمیشہ کے لیے متعین اور محفوظ کر دیا گیا۔
اس سلسلے کا تیسرا سنگ ِ میل قراردادِ مقاصد ہے، جو پاکستان کی دستورساز اسمبلی میں ۹مارچ ۱۹۴۹ء کو پیش ہوئی اور ۱۲مارچ ۱۹۴۹ء کو منظور ہوئی۔ پاکستان کی پہلی دستورسازاسمبلی جو پاکستان بنانے کی جدوجہد میں ہراول دستہ تھی، اور جسے پوری قوم نے یہ کام سونپا تھا کہ ملک کا مستقبل، اس کا آیندہ کانظام ، اس کا دستور، اس کی منزل متعین کرے۔ یہ قرارداد اسی اسمبلی کا کارنامہ تھی۔
چوتھا سنگ ِ مل ۱۹۵۶ء کا متفقہ دستورِ پاکستان تھا۔ اس دستور کا نفاذ بھی ۲۳مارچ ۱۹۵۶ء کو ہوا اور ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان متعین کیا گیا۔ یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے کہ مسلح افواجِ پاکستان کے سپہ سالار جنرل محمد ایوب خان نے اکتوبر ۱۹۵۸ء میں اس دستور کو منسوخ کردیا۔ ۱۹۵۶ء کا دستور آج بھی پاکستان میں دستور سازی کی تحریک اور تاریخ کا سنگِ بنیاد ہے۔ منسوخی کے باوجود، بعد میں جتنے دساتیر بنے، وہ اس بنیاد سے نہ ہٹائے جاسکے، جو بنیاد اس دستور نے فراہم کی تھی۔
پاکستان میں دستور سازی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جنرل ایوب خان نے ۱۹۵۶ء کے متفقہ دستور کو منسوخ کرنے کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست ہوگا، نیز ان کے اس وقت کے شریکِ کار صدر اسکندر مرزا صاحب سے منسوب یہ بات بھی زبان زدعام کی گئی تھی کہ وہ لوگ جو اسلامی دستور کی بات کرتے ہیں ان کو کشتیوں میں بٹھاکر بحیرۂ عرب کی لہروں کے سپرد کردیا جائے گا۔ البتہ مشیت اور تاریخ کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ فوجی انقلاب کے ایک ماہ کے اندر ہی اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، اور پھر اسلام کے داعیوں کو نہیں بلکہ خود ان کو سمندرپار رخصت کر دیا گیا، فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔
۱۹۶۲ء میں انھی فیلڈ مارشل ایوب خان نے ملک کو دستور دیا۔ جس میں ملک کا نام ’اسلامک ری پبلک آف پاکستان‘ (اسلامی جمہوریہ پاکستان) کے بجاے ’ری پبلک آف پاکستان‘ (جمہوریہ پاکستان) تھا، اور اس میں سے قراردادمقاصد کے چند نمایاں دینی پہلو نکال دیے گئے۔ ۱۹۵۶ء کے دستور میں جو ایک دفعہ تھی کہ: ’’کوئی قانون سازی قرآن وسنت کے خلاف نہیں ہوگی‘‘ اسے بھی تحلیل کردیا گیاتھا۔ بہرحال فوجی اقتدار کے زور پر ۱۹۶۲ءمیں یہ دستور نافذ کیا گیا۔ اس کے تین ماہ بعد پاکستان کی قومی اسمبلی بنی اور اس اسمبلی کے اندر جو پہلی بھرپور بحث ہوئی وہ ’سیاسی پارٹیوں کے قانون‘ پر ہوئی تھی۔ اس اسمبلی نے اس قانون میں زور دے کر یہ شق شامل کی تھی کہ پاکستان کی ہرسیاسی پارٹی کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اسلامی آئیڈیالوجی سے مطابقت رکھے۔ اس پر بحث کے دوران سیکولر طبقے نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کہ اسلامی نظریے اور اس سے مطابقت کی شرط قانون میں نہ آئے، مگر اس میں انھیں بُری طرح شکست ہوئی اور ایوب خان کے دستور ہی کے تحت بننے والی اسمبلی نے سیکولرزم کو مسلط کرنے کی سازش کو شکست دی اور پاکستان کی اسلامی شناخت کو بحال اور تحفظ دینے کا اہتمام کیا۔
واضح رہے کہ اس وقت جسٹس محمد منیر وزیرقانون تھے اور یہ اس قانون کو پیش کررہے تھے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ میں منیرصاحب جیسا فرد بھی موجودتھا، جس نے پاکستان کی اسلامی بنیاد اور شناخت پر ضرب لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، لیکن بالآخر اس کو منہ کی کھانا پڑی اور اس کی بھی دیانت کا پردہ چاک ہوگیا۔ واضح رہے کہ انھوں نے اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں لکھا ہے کہ: ’’اسلامی آئیڈیالوجی یا پاکستان آئیڈیالوجی کا لفظ جنرل ضیاء الحق نے متعارف کرایا‘‘۔ لیکن آپ ۱۹۶۲ء کی اسمبلی کی کارروائی اٹھا کر پڑھ لیں۔ اس شخص نے سب سے پہلے تو اسلامک آئیڈیالوجی کے الفاظ کی نفی کی۔ لیکن پھر جب اسمبلی نے اصرار کیا کہ ہم یہ رکھیں گے تو اس نے یہ کہاکہ:’’سلکیٹ کمیٹی نے آئیڈیالوجی آف پاکستان کی تعریف بطور اسلام کی ہے، تاہم میں اس سے بے تعلق ہوں کہ آئیڈیالوجی ہونا چاہیے یا نکال دینا چاہیے، یا اس کی تعریف بطور اسلام کی جانی چاہیے‘‘ ( قومی اسمبلی رُوداد، ۱۱جولائی ۱۹۶۲ء)۔ یہی جسٹس منیرصاحب اگلے روز کہتے ہیں: ’’میں نے اس معاملے پر خوب غوروفکر کیا ہے اور میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ آئیڈیالوجی کے الفاظ کو شامل کرنا کسی بھی طرح اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو متاثر نہیں کرے گا اور یہ اقلیتوں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ایسے پروپیگنڈے میں تبدیل نہ کریں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں‘‘(ایضاً، ۱۲جولائی ۱۹۶۲ء)۔ یہ الفاظ تھے پاکستان میں سیکولرزم کے علَم بردار جسٹس محمد منیر کے اور ہماری تاریخ کاحصہ ہیں۔
۱۹۶۲ ء کے دستور میں پہلی آئینی ترمیم ہوئی تو وہ یہ تھی کہ پاکستان کا نام ’اسلامک ری پبلک آف پاکستان‘ ہوگا۔ قرارداد مقاصد کو ان الفاظ کے ساتھ، جن میں وہ مارچ ۱۹۴۹ء میں پاس ہوئی تھی بحال کیاگیا اور دستورکی یہ شق کہ: ’’قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی‘‘، اسے بھی اصل شکل میں بحال کیاگیا۔ یہ تینوں چیزیں ۱۹۶۴ء میں اس وقت منظور ہوئیں، جب مَیں اور جماعت اسلامی کی پوری مرکزی قیادت جیل میں تھی۔
اسلامی آئیڈیالوجی کا یہی تسلسل ۱۹۷۳ء کے دستور میں بھی ملے گا۔ یاد رہے کہ جب اس کا پہلا ڈرافٹ پیپلزپارٹی نے پیش کیا تو اس میں ملک کو سوشلسٹ ری پبلک آف پاکستان قرار دیاگیا۔ مجوزہ آرٹیکل ۳یہ تھا کہ: ’’پاکستان ایک سوشلسٹ ریاست ہوگی‘‘ مگر پیپلز پارٹی نے عوام کی اسلام سے وابستگی کا احترام و اعتراف کیا۔ بالآخر ایک محدود، لادین اور سوشلسٹ اقلیت کی راے پر عوام کی اُمنگوں کو ترجیح دی۔ پھر دستور کے اندر وہ تمام اسلامی شقیں جو ۱۹۵۶ء کے دستورکاحصہ تھیں، ان کو اور زیادہ بہتر انداز سے دستور کا حصہ بنالیا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ۱۹۷۳ء کا دستور بنیادی طور پر ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی اور ایک وفاقی دستور ہے۔ یہ دستور مذکورہ چاروں خوبیاں رکھتا ہے اور یہ دستور بھی ۱۰اپریل ۱۹۷۳ء کو منظور ہوا۔ اور ۱۴اگست ۱۹۷۳ء کو نافذالعمل ہوا۔ اس طرح ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء میں جس سفر کا آغاز ہوا تھا، اور جس کے نتیجے میں اپریل ۱۹۴۶ء، مارچ ۱۹۴۹ء اور مارچ ۱۹۵۶ء میں ایسے سنگ ہاے میل طے کیے تھے کہ جن سے ہمیشہ کے لیے پاکستان کی شناخت اور منزل کا تعین ہوگیا۔
اس ضمن میں یہ نکتہ بھی گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ مارچ ۱۹۴۰ء کی قرارداد کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے مگر بدقسمتی سے آج کل ایک خاص گروہ کی طرف سے اس کی غلط تشریح کی جارہی ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ مسلمان پہلے دن سے ایک نظریاتی امت ہیں۔ اس اُمت کی بنیاد رنگ پر نہیں، نسل پرنہیں، زبان پر نہیں ، خطے پر نہیں ہے، مفادات پر بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ مشترکہ تاریخ پر بھی نہیں ہے، بلکہ اس کی بنیاد عقیدے اور ایمان پر ہے ۔ اس کی بنیاد نظریے پر ہے، جو قرآن وسنت سے ماخوذ ہے۔ یہی ہماری شناخت ہے مگر ہماری قیادتوں نے نہ صرف یہ کہ اس کا احترام نہیں کیا ہے، بلکہ عملاً اس سے انحراف بھی کیا ہے۔
برعظیم میں آنے والا پہلا مسلمان محمد بن قاسم نہیں تھا، بلکہ دورِ رسالت مآبؐ میں صحابۂ کرامؓ سندھ میں تشریف لائے تھے۔ ان کے بعد محمد بن قاسم آئے اور اسلامی حکمرانی قائم ہوئی۔ پھر شمال سے مسلمان آئے تو مسلمانوں کے اقتدار کا دور شروع ہوا۔
تاریخ کا کوئی بھی منصف مزاج طالب علم اور اسکالر یہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ برعظیم پاک و ہند کے پورے دور میں کبھی مسلمانوں نے اسلام دوسروں پر زبردستی مسلط کیا۔ یہی نہیں بلکہ ہندوئوں کے ذات پات کے نظام اور ستّی کے رواج سے شدید اختلاف اور انقباض کے باوجود اسے ختم کرنے کے لیے سرکاری طاقت کا استعمال کرنے سے اجتناب برتا اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا۔ زبردستی مذہب قبول کرنے کاکوئی تاریخی واقعہ نہیں ملتا۔ اورنگ زیب عالم گیر کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ صریح تاریخی جھوٹ ہے۔ اس کی تردید خود بھارت کے غیرمسلم محققین نے کی اور کررہے ہیں۔
مسلمانوں نے اپنے تشخص اور اپنی اجتماعی زندگی کی بہتری کے لیے ادارے قائم کیے اور غیرمسلموں کو بھی پورا پورا موقع دیا کہ وہ اپنے عقیدے اور روایات کے مطابق کام کریں۔ صرف دعوت وتبلیغ سے برہمن ازم میں دراڑیں پڑیں اور لوگ اس کے چنگل سے نکل آئے۔علماے کرام اور صوفیاے عظّام نے اس سلسلے میں بڑی روشن اور تاب ناک خدمات انجام دیں۔ تاہم، مسلمانوں کی طرف سے کوئی واقعہ ظلم وجبر کا اس زمانے میں نہیں ملتا اور ریاستی قوت کے ذریعے کبھی اسلام کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں تک بھی تاریخ کا مطالعہ کریں مسلمانوں کے پورے دورِ حکمرانی میں ہندو مسلم فسادات کاکوئی تصور نہیں ملتا۔ بلاشبہہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگیں ہوئی ہیں، مگر اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی وسعت ِ قلبی اور حُسنِ سلوک کے باعث مسلمانوں کی فوج میں ہندو جرنیل اور ہندو سپاہی بھی رہے۔ مسلمان سلاطین کی حکومتوں، وزارتوں اور انتظامیہ میں بھی ہندو رہے، کبھی کم اور کبھی زیادہ، لیکن ہندوئوں پر اعتماد کیا گیا اور بعض اوقات انھیں اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔
پہلی مرتبہ ۱۹ویں صدی کے آخری عشرے میں یہ تذکرہ سامنے آنا شروع ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوئوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ اس وقت سے برطانیہ نے آپس میں لڑانے کے لیے رسوخ پیدا کرلیا تھا۔ اس سے قبل ہم البیرونی کا سفرنامہ پڑھتے ہیں، جس میں اس نے بتایا ہے کہ ہندستان کے ہندوکیسے ہیں، بدھ مت کے پیروکار کیسے ہیں، مسلمان کیسے ہیں اور کس طرح باہم رہتے بستے ہیں؟ یہ ہماری تاریخ ہے جس میں ایک طرف مسلمانوں نے اپنی شناخت کو محفوظ کیا اور چارچاند لگائے ہیں، تو دوسری طرف دوسروں کی شناخت کی بھی حفاظت کی ہے۔ اس طرح ایک حقیقی تکثیری (Pluralistic) معاشرے کو تاریخ میں قائم کرکے روشن مثال پیش کی ہے۔
بلاشبہہ تاریخ میں نشیب و فراز کا ظہور ایک حقیقت ہے، اور جو لوگ اقتدارمیں رہے، ان میں اچھے بھی تھے اور بُرے بھی ۔ وہ بھی رہے ہیں جنھوں نے اسلام کانفاذ کیا ، اسلامی نظام کو ترویج دیا، اور وہ بھی رہے جنھوں نے اسلام سے اِعراض کیا اور اس کی تعلیم کو اور تاریخ کو بھی بدلنے کی کوشش کی۔ لیکن دو چیزیں مشترک اور محکم ہیں: ایک یہ کہ اپنی نظریاتی ، دینی اور تہذیبی شناخت کا تحفظ و ترقی، اور دوسرے یہ کہ اوروں کی تہذیب اور معاشرتی روایات کا احترام، اور دین کے معاملے میں جبر سے اجتناب۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بیرونی قوت نے جب کسی ملک پر قبضہ کیا اور وہاں حکمرانی کرنے کے بعد کسی وجہ سے اسے جانا پڑا، تو جاتے ہوئے اُس نے اقتدار اسی طبقے کو دیا، جن سے اقتدار چھینا تھا۔ یہ تاریخ کی روایت تھی۔ اسی لیے مسلمانوں کو یہ گمان تھا کہ انگریز جب جائے گا تووہ اقتدار ہم کو دے کر جائے گا، کیوں کہ اس نے ہم سے اقتدار چھینا تھا، اس لیے ہم ہی آئیں گے۔ پھر آزادی کی تحریک میں بھی مسلمان پیش پیش تھے۔ اسی پس منظر میں ۱۸۵۷ء کا واقعہ ہوا اور اس سے پہلے تحریک ِ مجاہدین کی جدوجہد ، بنگال میں فرائضی تحریک یا اس کے بعد کے سرفروشانہ واقعات ہوں___ تاہم، آہستہ آہستہ مسلمانوں پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ اب جمہوریت کادور ہے اور یہ گنتی کا معاملہ ہے۔ اس میں جس کی تعداد زیادہ ہوگی وہی حاوی (dominate) ہوگا۔ میونسپل ریفارمز کی تحریک ہندستان میں ۱۸۹۰ء کے عشرے میں شروع ہوگئی تھی۔ سرسیداحمدخاں ان پہلے لوگوںمیں سے ہیں، جنھوں نے اس کا ادراک کیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے سیاسی مستقبل کی ازسرِنو تشکیل کرنی پڑے گی، وگرنہ مسلمان اس خیال میں تھے کہ ہم غالب آجائیں گے۔
خوش قسمتی یا بدقسمتی کے ملے جلے رنگوں کے ساتھ تحریکِ خلافت جیسی پہلی عوامی تحریک کا کردار ہے۔ اس تحریک کا نیوکلیس اور جوہر مسلمان ہی تھے۔ یہ ایک ایسی عوامی تحریک تھی جس میں کئی لاکھ افراد شامل تھے اور اس کی قیادت مسلمان کررہے تھے۔ ہندوئوں نے محسوس کیا کہ اگر یہ عوامی تحریک ہی آزادی کی تحریک بن جاتی ہے او رمسلمان اس کی قیادت کرتے ہیں تو سیاسی نقشہ مختلف ہوگا۔ یہ تھی وہ چیز جس کے سبب انڈین نیشنل کانگریس اور دوسری ہندو تنظیموں نے ایک جارحانہ ہندو قوم پرستانہ حکمت عملی تیار کی۔ سرسیّد احمد خاں مرحوم کے دیے ہوئے شعور کے مطابق مسلمان یہ بات سمجھنے لگے تھے کہ عددی اکثریت کی موجودگی سے مسلمانوں کو نقصانات پہنچیں گے۔
اسی احساس کے تابع ۱۹۰۶ء میں آل انڈیا مسلم لیگ، ڈھاکہ میں قائم ہوئی۔ بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمانوںکے مفادات کاتحفظ ہو۔ مسلمانوں کو ان کی ثقافت، ان کے دین اور ان کی تعلیم و معاشرت اور ان کی روایات، ان کے حقوق سے آگاہی ہو۔ اس طرح مسلم لیگ ۱۹۰۶ء سے لے کر ۱۹۳۶ء تک محض مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے آواز بلند کرتی رہی۔ اس عرصے میں ایک بڑا اہم سنگ ِ میل دسمبر۱۹۱۶ء کا ’میثاقِ لکھنؤ ‘ ہے۔ پھر اگست ۱۹۲۸ء میں ’نہرو رپورٹ‘ آئی، جو واضح طور پر ہندو مفادات کی محافظ تھی۔ اس کے جواب میں قائداعظم کی زیرصدارت مسلم لیگ نے مارچ ۱۹۲۹ء میں ’۱۴نکات‘ پیش کیے، جو مسلم مفادات کے تحفظ کی نہایت اہم دستاویز تھی، جو آگے چل کر قیامِ پاکستان کی بنیاد بنی۔ اس میں جداگانہ انتخاب، مسلمانوں کے جداگانہ وجود کے تحفظ کا وسیلہ بنے۔ یہ اقدامات مسلمانوں کا سیاسی وزن بڑھانے کے لیے کیے گئے۔ پھر ان کے سیاسی، تعلیمی اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کو زبان دی گئی۔ یاد رہے کہ سائمن کمیشن رپورٹ ۱۹۳۰ء کو ہندوئوں نے جس طریقے سےاستعمال کیا اور جس طرح یہ واضح کر دیا کہ ہندو غلبہ ہی ہندستان کاسیاسی مستقبل ہوگا، تو یہ تھا وہ موقع جب مسلمان ہل گئے اور پھر انھوں نے ایک نئی حکمت ِعملی وضع کی۔ آخری منزل جن کی دو قومی نظریے کے تحت مسلمانوں کے لیے جداگانہ اور آزاد ملک کا حصول ٹھیرا۔
غالباً ۱۸۸۸ء میں عبدالحلیم شررنے اس پہلو پر ایک متعین شکل میں توجہ دلائی تھی۔ اُن سے لے کر کے ڈاکٹر سیّدعبداللطیف تک تقریباً ۱۷۰ افراد نے کھل کرکے یااشارتاً،سیاسی زبان میں یا علمی اسلوب میں تقسیمِ ہند اور دو قومی نظریے کی بات کی۔ لیکن اس میں فیصلہ کن چیز ۱۹۳۰ء میں علامہ محمد اقبال کا خطبۂ الٰہ آباد ہے۔ اس میں علامہ اقبال نے اپنی سوچ کو بڑی قوت اور دلیل کے ساتھ اور دردمندی اور سیاسی فہم و فراست کے ساتھ پیش کیا ہے۔ خود میری نگاہ میں قراردادِ پاکستان کی صورت گری کے مرحلوں کو سمجھنے کے لیے ۱۹۳۰ء کاخطبۂ اقبال ایک جوہری حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو اگر آپ تنقیدی نگاہ سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یقینی طورپر اقبال نے بڑے دُور رس اثرات کے حامل امکانات کا نقشہ واضح کیا تھا۔
اقبال نے اپنے خطاب میں کہا تھا: ’’یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ بہ حیثیت ایک اخلاقی نصب العین اور نظامِ سیاست، اس آخری لفظ سے میرا مطلب ایک ایسی جماعت ہے، جس کا نظم و انضباط کسی نظامِ قانون کے ماتحت عمل میں آتا ہو، لیکن جس کے اندر ایک مخصوص اخلاقی روح سرگرمِ کار ہو۔ اسلام ہی وہ سب سے بڑا جزوِ ترکیبی تھا، جس سے مسلمانانِ ہند کی تاریخِ حیات متاثر ہوئی۔ اسلام ہی کی بدولت مسلمانوں کے سینے ان جذبات سے معمور ہوئے، جن پر جماعتوں کی زندگی کا دارومدار ہے۔ ہندستان میں اسلامی جماعت کی ترکیب صرف اسلام کی رہینِ منت ہے‘‘۔
آگے چل کر انھوں نے یہ بھی کہا تھا: ’’میں دوسری قوموں کے رسوم و قوانین اور ان کے معاشرتی اور مذہبی اداروں کا دل سے احترام کرتا ہوں، بلکہ بہ حیثیت مسلمان میرایہ فرض ہے کہ اگر ضرورت پیش آئے تو قرآنی تعلیمات کے حسب ِ اقتضا، میں اُن کی عبادت گاہوں کی حفاظت کروں۔ تاہم، مجھے اس انسانی جماعت سے دلی محبت ہے، جو میرے طور طریقوں اور میری زندگی کا سرچشمہ ہے۔ جس نے اپنے دین اور اپنے ادب، اپنی حکمت اور اپنے تمدن سے بہرہ مند کر کے مجھے وہ کچھ عطا کیا، جس سے میری موجودہ زندگی کی تشکیل ہوئی۔ یہ اُسی کی برکت ہے کہ میرے ماضی نے ازسرِنو زندہ ہوکر مجھ میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ وہ اب میری ذات میں سرگرمِ کار ہے‘‘۔
دوسری طرف ہم قائداعظم کے ہاں تدریج دیکھتے ہیں۔ قائداعظم پہلے ’ہندو مسلم اتحاد‘ کے نقیب تھے۔ لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ ہندو قوم اور قیادت کے اصل عزائم کیا ہیں؟ تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس مصنوعی ’اتحاد‘ میں مسلمانوں کا مفاد نہیں۔ ۱۹۲۹ء سےلے کر ۱۹۳۶ء تک وہ اس موقف پر واضح اور مطمئن ہوگئے کہ مسلمانوں کے لیے الگ ریاست ضروری ہے۔ ۱۹۳۷ء کے انتخابات اور ہندوئوں کی زیادتیوں نے اس موقف کو مزید تقویت دی۔
یہ ہے وہ پس منظر ، جس میں مارچ ۱۹۴۰ء میں قراردادِ لاہور پاس ہوئی۔ اس میں پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ مسلمان ایک قوم ہیں، ان کا اپنا نظام ہے۔ اس حیثیت سے ان کا سیاسی مستقبل بھارت یاہندوئوں کے ساتھ مل کر چلنے میںنہیں ہے، انھیں اپناراستہ الگ نکالنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ جن جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ان پر مبنی مسلمانوں کی ایک ریاست بنادی جائے۔ قرارداد میں لفظ states استعمال ہوا ہے۔ گمان غالب یہ ہے کہ قرارداد کے مختلف مسودے تھے، جن میں اسے آخری شکل دی گئی۔ جمع کے اس صیغے کو ٹائپ کی غلطی یا تسوید کا ابہام ہی قرار دیا گیا، ورنہ یہ کیسے ممکن تھا، قیامِ پاکستان تک کبھی ایک سے زیادہ مسلم ریاستوں کی بات نہ ہوئی، بلکہ ایک ہی ریاست کی بات ہوئی اور یہ سب رضاکارانہ طور پر بڑی جان دار قیادت کے ہاتھوں ہوا۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ سب کے ذہنوں میں ایک ہی مسلم ریاست، پاکستان کا قیام پیش نظر تھا، جب کہ ۱۹۴۱ء سے لے کر ۱۹۴۶ء تک کی قائداعظم کی تمام تقاریر سے یہ ظاہر ہے اور جسے اپریل ۱۹۴۶ء میں مسلم لیگ کے منتخب ارکانِ اسمبلی کی قرارداد میں دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا گیا۔
تیسری بات یہ کہ جہاںمسلمانوں کا اقتدارہوگا، وہاں غیرمسلم آبادی کے حقوق کاتحفظ ہوگا۔ ایک اور نکتہ جس کی طرف عام طورپر ہم توجہ نہیں کرتے، وہ یہ ہے کہ اجلاس ۲۲مارچ کوشروع ہوا، ۲۳مارچ کو قراردادپیش ہوئی اور ۲۴ مارچ ۱۹۴۰ء کو منظور ہوئی۔ لیکن مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے چند ہی ہفتے کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ قراردا دِ لاہور ۲۳مارچ سے منسوب ہوگی، اور اس قرارداد کو ۲۳مارچ کی قرارداد کہا جائے گا، اور ۲۳مارچ ہی کا دن ہرسال منایا جائے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیوں؟ جہاں تک میں نے غور کیا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ اصل چیز قراردادکے الفاظ اور منظوری نہیں بلکہ اصل چیز وہ جوہری ٹرننگ پوائنٹ ہے، جو اس قرارداد میں واضح کیاگیا تھا، کہ اب تک ہم اپنے حقوق کے لیے ایسے فریم ورک میں راستے تجویز کر رہے تھے جو ایک ہندستان میں تھا۔ اب ہم نے یہ طے کرلیا ہے کہ ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا پر مشتمل ایک فیڈریشن نہیں چلے گی بلکہ دو الگ ممالک ہونے چاہییں۔
اس تاریخی اجلاس میں سب سے اہم تقریر قائداعظم کی ہے۔ ان کے علاوہ مولوی فضل الحق، خلیق الزماں، قاضی عیسیٰ ، بیگم محمد علی جوہر اور دوسرے افراد نے بڑی اہم تقریریں کیں۔ سب نے اسی ایک نکتے پر بات کی۔
اس کے بعد اپریل ۱۹۴۶ء کی قرارداد کو میں سنگِ میل قراردیتاہوں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے منتخب اراکینِ پارلیمنٹ جن میں مرکزی وصوبائی دونوں اسمبلیوں کے افراد شامل تھے، ان کی کانفرنس ہوئی۔ اس میں انھوں نے ایک ریاست کا وجود واضح کیا۔ یہ قرارداد حسین شہید سہروردی نے پیش کی تھی، جب کہ مارچ ۱۹۴۰ء کی قرارداد مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی (ان دونوں حضرات کا تعلق بنگال سے تھا)۔ قرارداد کے الفاظ تھے:
ہرگاہ کہ اس وسیع برصغیر پاک و ہند میں بسنے والے مسلمان ایسے دین کے پیرو ہیں، جو ان کی زندگی کے ہرشعبے(تعلیمی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی) پر حاوی ہے، اور جس کا ضابطہ محض روحانی حکمتوں، احکام، اعمال اور مراسم تک محدود نہیں۔
میں اس دوسری کانفرنس میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک تھا۔ ہمارے اسکول کی عمارت میں یہ اجلاس ہوا تھا۔ اس میں کچھ لوگوں نے اپنے خون سے دستخط کیے تھے۔ اس قرارداد کے ساتھ ایک حلف نامہ پڑھا گیا جس کا آغاز اس آیت سے کیا گیا تھا: اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o (الانعام ۶:۱۶۲)’’میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے‘‘۔ اور یہ کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ اس قرارداد میں پاکستان کے قیام کے لیے: ’’جو خطرات اور آزمایشیں پیش آئیں گی، اور جن قربانیوں کا مطالبہ ہوگا، انھیں برداشت کروں گا۔ آخر میں یہ دُعا درج تھی: رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ o (البقرہ ۲:۲۵۰) ’’اے ہمارے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر‘‘۔ اس دستاویزپر ہرایک رکن نےدستخط کیے۔
پاکستان بننے کے بعد قراردادِ مقاصد (مارچ ۱۹۴۹ء) کا بھی اگر تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اسلامی، جمہوری، فلاحی اور وفاقی ان چاروںبنیادوں کے اوپر ریاست کی تشکیل کا عہد اور اعلان کیا گیا ہے۔
یہاں اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ دوقومی نظریہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، یہ پہلے دن سے ہے۔ دوقومی نظریے کی بنیاد اسلام کا یہ تصور ہے کہ زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اللہ کو الٰہ مان کر اس کی عبادت اور اس کی اتباع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا طریق زندگی اختیار کیا جائے، جب کہ دوسرا راستہ چاہے وہ کسی دوسرے مذہب پر مبنی ہو، یا لادینیت کی بنیاد پر یا الحاد کے نا م پر ہو، یا کسی بھی نام پر، وہ الگ راستہ اور الگ نظریہ ہے۔ اس کی تلقین ہمیں سورئہ فاتحہ میں دن میں پانچ نمازوں میں بار بار کرائی جاتی ہے کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ o صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ لا غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَo ’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اُن لوگوں کا راستہ جن پر تُو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں‘‘۔ یہ دو واضح طریقے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ دوقومی نظریہ اس بات کی ضمانت ہے کہ اسلام سے ہٹ کر جو نظام ہوگا، اسے بھی باقی رہنے کا حق ہے۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اللہ نے انسان کو یہاں ایک مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ، اور وہ مقصد اس کی آزمایش ہے۔ آزمایش یہ ہے کہ اسے عقل دی گئی ہے، تقویٰ دیاگیا ہے اور ساتھ ساتھ اسے اختیار بھی دیا گیا ہے، فَاَلْہَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا (الشمس ۹۱:۸) ، یعنی بدی اور پرہیزگاری کے اختیارمیں سے اب اسے منتخب کرنا ہے خیر یا شر ، اسلام یا غیر اسلام، حلال یا حرام ، اللہ کی عبادت یا طاغوت کی عبادت۔ لیکن جو انتخاب بھی وہ کرلے، اسے اس پر قائم رہنے کا حق ہے۔ کسی دوسرے کو اختیارنہیں کہ زبردستی اس کے اوپر اپنی بات کو ٹھونسنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح جو استدلال وہ اختیار کرے گا اس کے نتائج بھی اسے بھگتنے پڑیں گے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ لیکن اختیار بہرحال اسے حاصل ہے، جس سے اس کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ لا (دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں۔ البقرہ ۲:۲۵۶)اور لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ o(تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ الکافرون ۱۰۹:۶) میں اس حقیقت کو دوٹوک الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔
سورۃ البقرۃ میں لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کا جو پس منظر ہے وہ یہ واضح کردیتا ہے کہ پہلے آیۃ الکرسی ہے، جس میں اللہ کے دین کا شعور ہے، اس کی کرسی اور اس کے اقتدار کا تذکرہ ہے۔ پھر اس آیت کے بعد فرمایا گیا: قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ج فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ق (البقرہ ۲:۲۵۶)’’صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں‘‘۔
گویا لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی دلیل کے ساتھ غلط اور صحیح کو واضح کر دیا گیا ہے، خیر اور شر کو ایک دوسرے سے واضح کردیاگیا ہے، اور حق اور باطل کو واضح کردیاگیا ہے۔ اب جو اللہ کا راستہ اختیار کرے گا، وہ ظلمات میں نہیں نُور میں رہے گا، اور جو طاغوت کی عبادت کرے گا وہ نُو رسے دُور رہے گا۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دو قومی نظریے کی اس بنیاد کے باوجود، جو اس سے ہٹ کر رہنا چاہتا ہے اسے اپنے کیے کا آخرت میں جواب دینا ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ دوقومی نظریہ اگر پاکستان کی بنیاد بنتا ہے تو پھر کیا باقی لوگوں کے لیے یہاں رہنے کی گنجایش نہیں ہے؟ وہ بات کو اُلجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بلاشبہہ یہ اُن کا انتخاب ہے کہ وہ اسلام قبول کریں، لیکن اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو ملک سے وفاداری کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ وہ ایک شہری کی حیثیت سے اپنے تمام حقوق وفرائض کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو سرآنکھوں پر۔ ہمارا یہ عہد ہے کہ ہم قوت سے اسلام مسلط نہیں کریں گے۔ بلاشبہہ ان دوسرے مذاہب یا افکار کے حاملین کو بھی مسلمانوں کے حقیقی جذبات و احساسات کا پاس و لحاظ رکھنا ہوگا۔ اگر وہ اس میدان میں بے ضابطگی کا ارتکاب کریں گے تو قانون کے مطابق انھیں جواب دہ بھی ہونا پڑے گا۔ آزادیِ افکار کا حق انھیں حاصل ہے، مگر دستور اور قانون کے دائرے کے اندر۔ اس طرح خود مسلمانوں کو بھی جو حقوق حاصل ہیں، وہ قانون کے دائرے کے اندر ہیں۔ کسی کو بھی قانون اپنےہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اسلامی معاشرے کے بھی یہ آداب ہیں، اور ایک معروف جمہوری معاشرے میں بھی ان آداب کا احترام لازمی امر ہے۔
حال ہی میں عوامی راے کے جائزے پیش کرنے والے اداروں PEW اور گیلپ نے جو سروے شائع کیے ہیں، ان میں آپ دیکھیں گے کہ بہت سے مسلم ممالک میں تو مسلمانوں کی اس اُمنگ کا اظہار کرنے والوں کی تعداد کہ شریعت کو ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد ہونا چاہیے، ۷۰سے ۹۹ فی صد آبادی تک نے کیا ہے۔ باقی ممالک میں بھی مسلمان ۲۰سے ۴۰فی صد تک کہتے ہیں کہ شریعت کو ہمارا قانون اور نظام ہوناچاہیے۔ اگر جمہور کی عظیم اکثریت کا یہ فیصلہ ہے تو اس کا احترام دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے بھی ضروری ہے، ورنہ یہ سب ’اقلیت کے استبداد‘ (Tyranny of the Minority) کے مترادف ہوگا۔
دوقومی نظریے کی حکمت عملی یہ ہے کہ مسلمان جہاں اکثریت میں ہیں اور جہاں اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے مستقبل کو خود طے کرسکتے ہیں، وہاں ان کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزاریں اور نظام حکومت اس کی بنیاد پر کارفرما ہو۔ جہاں وہ اقلیت میں ہیں تو ان کے لیے صحیح راستہ یہ ہے کہ وہاں امن سے رہیں۔ وہ دوسروںکے حقوق کا بھی خیال کریں، لیکن اپنے نظریے ، کمیونٹی، معاشرت ، روایات کی جس حدتک حفاظت کرسکتے ہیں، ان کا تحفظ کریں۔ اس تشخص کو تحلیل نہ ہونے دیں۔ اس کے لیے جدوجہد کریں اور دعوت وتبلیغ کاعمل جاری رکھیں، البتہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آج کی اقلیت کل کی اکثریت میں بدل سکتی ہے، لیکن یہ عمل دعوت و تبلیغ کے ذریعے جاری رکھنا چاہیے۔
جہاں مسلمان کسی ایسے نظام میں رہ رہے ہیں، جو ظالمانہ اور جابرانہ نظام ہے، وہاں بھی آپ اپنے وجود کے لیے اس نوعیت کی جدوجہد کرسکتے ہیں، جس میں ان اخلاقی حدود کا پورا پورا خیال رکھا جائے جو اللہ اور اس کے آخری رسولؐ نے اُمت کو تعلیم کی ہیں۔اسی لیے اسلامی تاریخ اور قانون کے اندر عدل، توازن اور توسع کی تعلیم دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ جہاد کا ایک مستقل ضابطہ اور طریقہ ہے، جو اسے دہشت گردی سے یک سر مختلف بنادیتا ہے۔ یہ محض اقتدار کی جنگ نہیں ہے۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ ہو، اور پھر دوسری شرط یہ ہے کہ جہاد ان آداب، قیود اور اصولوں اور ضابطوں کے مطابق ہو، جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے طے کیے ہیں۔ اس سے ہٹ کر کوئی راستہ جائز نہیں ہے۔ گویا کہ دو قومی نظریہ ایک ابدی اصول ہے اور اس کے یہ مختلف ماڈل ہیں۔
جہاں اکثریت ہے، وہاں کم ازکم اسلامی نظام کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ جہاں پر اکثریت یا عددی طاقت حاصل نہیں ہم وہاں کے حالات کے مطابق اپنے تشخص کی حفاظت کی کوشش کریں، اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش کریں اور ان مشترکات میں، جن میں دوسرے بھی شریک ہیں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں۔ اس فریم ورک پر چل کر ہم پُرامن اور کامیاب پیش رفت کے لیے راستہ نکال سکتے ہیں۔
جہاںتک مسلم دنیا کا تعلق ہے ،ہم اس وقت بلاشبہہ ایک بہت بڑی آزمایش اور بڑے ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ ۲۰ویں صدی میں ہم پر اللہ کے بے پناہ انعامات برسے ہیں، لیکن ہم نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔ بیسویں صدی کاآغاز اس طرح ہوا تھا کہ صرف چار مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر آزاد نظر آتے تھے، باقی ساری مسلم دنیا مغربی سامراجی طاقتوں کی غلام تھی ۔
یہ تقریباً ۲۰۰ سال کا تاریک دور تھا، تاہم ۲۰ویں صدی میں مسلمان دوسروں کی سیاسی غلامی سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور آج آزاد مسلمان ممالک کی تعداد ۵۷ ہے۔ ۱۹۷۳ء تک دنیا کی معاشی قوت، مغربی ممالک کے ہاتھوں میں تھی، لیکن اکتوبر ۱۹۷۳ء میں سعودی فرماں روا شاہ فیصل کی جانب سے امریکا کوتیل بند کرنے کی دھمکی کے ایک معمولی سے جھٹکے نے، مغرب کے ہوش ٹھکانے لگادیے۔ اس طرح تیل کی قیمتوں پر مغربی معاشی اجارہ داری کا توازن تبدیل ہوگیا۔ پھر ۲۰ویں صدی میں اللہ نے دین کاصحیح تصور پیش کرنے کے لیے پے درپے عظیم شخصیات پیدا فرمائیں۔ ۱۸ویں اور ۱۹ویں صدی میں اسلامی احیائی جدوجہد کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ اور سیّداحمدشہید کا بڑاحصہ ہے۔ لیکن ۱۹ویں صدی کے آخر اور ۲۰ویں صدی میں مولانا شبلی نعمانی، مولاناابوالکلام آزاد ، علامہ محمد اقبال، مولانا مودودی، امام حسن البنا، سید قطب شہید، مالک بن نبی، سعید نورسی جیسے بڑے علما کی ایک کہکشاں ہے، جس نے بڑی وسعت کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا ۔ ان کے بیانیے میں اختلافات بھی ہیں، لیکن ایک ہی مرکزی نکتے پر سب کا اتفاق بھی تھا۔ وہ یہ کہ اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے، اور اُمت مسلمہ کی کامیابی کا انحصار جہاں انسانوں کی زندگی اور کردار کو تقویٰ اور للہیت پر تعمیر کرنا ہے، وہیں ان کی خاندانی، معاشی، اجتماعی، سیاسی، قومی اور بین الاقوامی زندگی کو بھی اللہ کی ہدایت کی روشنی میں تشکیل و تعمیر کرنا ہے۔ گویا ایک ہی مکمل نظام کو قائم کرنے کی پوری کوشش ہمارا فرض ہے۔
مجھے یہ بات سن کر الجھن ہوتی ہے، جب لوگ کہتے ہیں کہ: ’’ریاست کو اسلامی نہیں کہنا چاہیے‘‘۔ قانونی اعتبار سے ریاست ایک ’قانونی وجود‘ ہے اور ایک ’قانونی وجود‘ کی طرح اس کا ایک طبعی مقام ہے۔ بالکل اسی طرح اس کا سیاسی اور نظریاتی وجود اور مقام بھی ہے۔ اگر ایک ریاست کرسچن ریاست ہوسکتی ہے، ایک جمہوری ریاست ہوسکتی ہے، ایک ویلفیئر اسٹیٹ ہوسکتی ہے، ایک یہودی اسٹیٹ ہوسکتی ہے، ایک بدھسٹ اسٹیٹ ہوسکتی ہے ، ایک ہندو اسٹیٹ ہوسکتی ہے، تو ایک اسلامک اسٹیٹ کیوں نہیں ہوسکتی؟
مسلمانوں کا ایک گروہ کہتا ہے: ’’اس کے لیے کوشش کی ضرورت نہیں بلکہ یہ تو ایک انعام ہے‘‘۔ لیکن وہ اس بات کا جواب نہیں دیتا کہ ریاست تو کیا زندگی میں کوئی بھی چیز آپ سے آپ حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے سے یہ انعام نہیں مل سکتا۔ رزق اللہ کی نعمت ہے، لیکن کیا رزق کے لیے کوشش نہیں کی جاتی۔ اسلامی ریاست کا وجود اللہ کی نعمت اور انعام ہے تو اس کے قیام کے لیے جدوجہد اور کوشش بھی ضروری ہے۔ اور پھر جب قرآن خود کہتا ہے کہ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ اور امربالمعروف ونہی عن المنکر یعنی ہمیں یہ کہاجاتا ہے کہ جہاں تم نماز قائم کرتے ہو، زکوٰۃ ادا کرتے ہو، وہاں امربالمعروف ونہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کرنا بھی تمھارا فرضِ منصبی ہے۔’امر‘ کے معنی درخواست کرنا نہیں اور ’نہی‘ کے معنی محض متنبہ کرنا نہیں ہے، بلکہ نیکی کو قائم کرنا اور بدی سے روکنا ہے۔ یہ کام ریاستی قوت کا متقاضی ہے۔ محض وعظ و تلقین اس کے لیے کافی نہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ریاست بھی ان حدود کی پابند رہے، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما دیے ہیں۔
۲۰ویں صدی کے آخری عشروں میں بدقسمتی سے ہم نے اُس معاشی انعام کا فائدہ نہیں اُٹھایا جو اللہ تعالیٰ نے مسلم اُمہ کو عطا کیا تھا۔ ہمارے ریاستی نظام اور ہماری قومی قیادتیں جاہلیت کی بنیاد پر خود مسلمانوں ہی کے خلاف ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرتی چلی آرہی ہیں۔ تاہم، اس ظلم و جَور اور بے اعتنائی کے باوجود اصلاح اور تبدیلی کی قوتیں ہرجگہ کارفرما ہیں۔ اگر مصر میں ۴۰ سال تک الاخوان المسلمون پر پابندی عائد کرنے اور ہزاروں کی تعداد میں کارکن شہید کرنے یا جیلوں اور تعذیب خانوں میں ڈالنے کے باوجود اسلام وہاں اُبھر سکتا ہے تو پھرمایوسی کیوں؟ ترکی جہاں اذان دینا ممنوع تھا، سر پر ٹوپی اوڑھ نہیں سکتے تھے، کوئی کتاب عربی میں نہیں چھاپ سکتے تھے لیکن وہاں بھی آخرکار مثبت تبدیلی آئی ہے۔ وسطی ایشیا میں ۷۰سال تک کیا مسلمانوں کو محکوم نہیں رکھا گیا؟ اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ گولیاں چلے بغیر وسطی ایشیا کے ممالک ماسکو کی غلامی سے نکل کر خودمختاری کی راہ پر چل نکلے۔ تمام خرابیاں، تضادات اور کمزوریاں اپنی جگہ، مگر ہمارے پاس وہ استعداد و قوت اور جذبہ بھی موجود ہے، جسے متحرک ، منظم اور علمی و اخلاقی اعتبار سے تقویت بہم پہنچانے کی ضرورت ہے، اور جہاں جہاں ہم کوشش کریں گے، ان شاء اللہ اس کے نتائج بھی ملیں گے۔ نشیب وفراز اپنی جگہ، لیکن ان سب کے باوجود ان شاء اللہ حالات بدلیں گے اور تبدیلی کی یہ اُمید بالخصوص نوجوانوں سے ہے ۔ آج مسلم دنیا کی ۵۰سے ۶۰فی صد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک بڑا قیمتی اثاثہ اور بہت بڑی قوت ہے۔ ان سب کے لیے ہمارا ایک ہی مشورہ ہے کہ زندگی کو محض کھانے پینے اور آرام کے لیے استعمال نہ کریں، بلکہ زندگی کا مقصد پہچانیں، سمجھیں اور پھر اس مقصد کے مطابق اپنے آپ کو تیار بھی کریں اور اس مقصد کو بروے کار لانے کی کوشش بھی کریں۔
تبدیلی کے لیے کام انفرادی سطح پر بھی ہورہا ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔ یہ کام کرتے ہوئے جو کچھ ہمیں کرنا ہے، اسے اگر تین لفظوں میں ادا کروں تو وہ ہیں: خداشناسی، خود شناسی اور خلق شناسی۔
اسی طرح مسلم دنیا میں پروپیگنڈے کے زور پر ایک مسئلہ پیدا کیا گیا ہے، اور وہ ہے: خواتین کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی مسخ شدہ تعبیر اور اتہام بازی۔ اس ضمن میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ اسلام کی نظر میں کامیابی کے معیار کے اعتبار سے مردوزن کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ قرآن نے اپنے اسلوب میں اس معاملے میں واضح طور پر وضاحت کی ہے کہ ایمان لانے والے مرد، ایمان لانے والی عورتیں، تقویٰ اختیار کرنے والے مرد، تقویٰ اختیار کرنے والی عورتیں۔پھر امربالمعروف ونہی عن المنکر کو جس طرح مردوں کے لیے فریضہ قرار دیاگیا ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی حکم دیاگیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اپنی صلاحیت ، اپنی ذمہ داریوں اور اپنے ماحول کے اعتبار سے وہاں فرق ہوسکتا ہے، لیکن مقام میں، حقوق میں، اور کردار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ بھی اللہ کا کرم ہے کہ اس نے عقیدے کی بنیادیں تفصیل سے بتا دی ہیں، جن میں نہ کوئی اضافہ ہوسکتا ہے اور نہ کمی۔ عبادات کا معاملہ جو اللہ سے انسانوں کو جوڑتا ہے اور بندوں کو اللہ کی مرضی اور بندگی کے لائق کرتا ہے، اس کی پوری تفصیل دے دی۔ اس میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ حلال کو حرام نہیں کیاجاسکتا اور حرام کو حلال نہیں کیا جاسکتا۔ رہے زندگی کے اجتماعی اُمور اور تبدیلی کے وسائل کا حصول اور ان کا استعمال، تو زندگی کے اس وسیع دائرے کے باب میںاور ان تمام ہی معاملات میں بڑی حکمت کے ساتھ صرف ضروری ہدایات دے کر آزادی دی ہے کہ آپ موقعے اور حالات کی مناسبت سے اپنا راستہ خود متعین کریں۔
مقاصد ِ شریعت کی روشنی میں متعین احکامات کا مکمل احترام کرتے ہوئے حکمت عملی کے ساتھ اپنا راستہ نکالیں۔ ایک طرف دین کے مکمل فریم ورک کا احترام کریں اور حدود اللہ کے اندر تمام معاملات کو طے کریں، تو دوسری طرف اس وسعت (flexibility) سے پورا پورا فائدہ اُٹھائیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی ہے۔ اس طرح تسلسل اور تبدیلی دونوں کی برکتوں سے فیض یاب ہوں۔
واضح رہے کہ خاندان کے بارے میں قرآن میں تفصیل سے رہنمائی دی گئی ہے۔ البتہ معاشی، سیاسی، اجتماعی اور بین الاقوامی معاملات کے بارے میں صرف رہنما اصول (guide lines) دیے ہیں، تاکہ حالات کے مطابق اور زمانے کی ضروریات کی مناسبت سے ان کی روشنی میں راستہ بنائیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور پاکؐ نے جہاں قرآن پہنچایا، اور اس کی تعلیم دی، وہیں قرآن کے مطابق تزکیہ کیا اور حکمت کی تعلیم دی۔ حکمت کی تعلیم نام ہے اس بات کا کہ الہامی ہدایت کی روشنی میں آپ اپنے دور میں، اپنے حالات کے مطابق کیسے کام کریں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے یہ کردکھایا۔ اس لیے سنت وحدیث میں ہمارے لیے یہی نمونہ ہے۔ یہ ایک طرزِ فکروعمل ہے، جس نے ہر دور میں اُمت کو اور افراد کو بھی راستہ دکھایا ہے۔
عصرِحاضر کے تقاضوں کو جاننے کے لیے علمی و تحقیقی جدوجہد ناگزیر ہے۔ تحقیق کے باب میں میری درخواست یہ ہے کہ تحقیق سے پہلے پڑھنے کی عادت ڈالیے۔ مجھےیہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ ہماری قوم میں بحیثیت مجموعی پڑھنے کی عادت کم ہورہی ہے۔ یہ اس امت کا بہت بڑا نقصان ہے۔ اللہ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو کتاب بھیجی ہے اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ پڑھنا، سننا۔ جدید ٹکنالوجی سے ضرور آپ فائدہ اٹھائیں، لیکن کتاب سے آپ کا تعلق رہنا چاہیے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ سوچنا سمجھنا اور پھر تحقیق کے لیے اداراتی سطح پر کام کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ تحقیقی ذوق کے بغیر مکھی پہ مکھی مارناسخت کمزوری بلکہ حماقت کی بات ہے۔ ایک غالب و قاہر تہذیب کے مقابلے میں آگے بڑھ کر اسلامی تہذیب کو پیش کرنے کے لیے ماضی سے ربط، غوروفکر اور آج کے پیش آمدہ مسائل و مشکلات کا جواب دینے کی صلاحیت پروان چڑھانا اشد ضروری ہے۔
تیسری چیز یہ ہے کہ حقائق (Facts) کے بارے میں کبھی کمپرومائز نہ کیجیے۔ حقائق کے بارے میں نہ انکار کیجیے اور نہ اس کے باب میں من مرضی (selective)کے اسیر بنیے۔ یہ ضرور متعین کیجیے کہ کیاحقائق ہیں اور کیا زیبِ داستاں ہے؟ پھر حقائق کی روشنی میں زیرمطالعہ مسئلے کی تفہیم کیجیے۔ حقائق راستہ نہیں روکتے، وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ کیا چیلنجز اور کیا امکانات ہیں، یعنی حقائق، تحقیق اور تفہیم کا کام بہت باریک اور نازک ہے۔ اس ضمن میں سہل انگاری کی کوئی گنجایش نہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ محنت نہیں کرتے،ان کی تحقیق معیار کے اعتبار سے کمزور چیز ہوتی ہے۔اس عیب سے بچنے کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ ہمارا سارا کام پروفیشنل انداز میں ہوناچاہیے۔
o
سوال: میں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو میں یہ مشن لے کر چلاتھا کہ زندگی بھر صادق اور امین رہوں گا۔ ۱۵سال تک کوشش کرتا رہا مگر یہ صداقت اور امانت مشاہدے میں نہیں آئی۔ کیا یہ انتظامی مسئلہ ہے، یا ہمارے سماجی اخلاقی نظام کا بحران ہے؟ میں کس منڈی میں اسے دیکھوں اور کس منڈی سے اسے خریدوں؟
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ صادق اور امین ہونا کوئی قانونی یا آفیشل بات نہیں ہے۔ ایک اچھا انسان ہونا ہماری زندگی کا لازمی جزو ہے۔ آپ اگر کسی کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں تو کیا آپ یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ جو بھی معاملہ آپ سے کرے، وہ معاملہ شفاف ہو اور اس میں دھوکا نہ ہو۔ آپ کسی کو قرض دیتے ہیں یا کسی سے قرض لیتے ہیں، اس وقت کیا نیت اور توقع رکھتے ہیں! جس مقام پر آپ کام کررہے ہیں، وہاں وقت کو آپ کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ گویا صادق اور امین ہونا تو انسان کا شرف ہے اور قدم قدم پر اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر یہ نہیں ہے تو ہماری زندگی ایک خوف ناک خلا ہی میں رہے گی۔
صداقت اور امانت ایسی بنیادی انسانی خوبیاں ہیں کہ اس کے لیے مسلمان اور غیر مسلم کے اندر فرق کی بھی زیادہ گنجایش نہیں۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے بھی صادق اور امین تھے اور ان کا صدق اور امانت اس معیار کا تھا کہ جنھوں نے نبوت کا انکارکیا، انھوں نے ہی آپؐ کے بارے میں برملا کہا کہ: ’’آپؐ صادق اور امین ہیں‘‘۔جو آپؐ کے خون کے پیاسے تھے، انھوں نے اپنی امانتیں بھی آپ ہی کے پاس رکھیں۔ نبی پاکؐ کی دیانت کا یہ عالم تھا کہ ہجرت کے وقت آپؐ نے وہ تمام امانتیں جو مشرکینِ مکہ کی تھیں، حضرت علی ؓکے سپرد کیں کہ یہ فلاں فلاں کی امانت ہے ان کو واپس کردینا۔ یہ ہے صداقت اور امانت کا بلندترین معیار۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ صداقت اور امانت محض سیاست کے لیے نہیں بلکہ یہ خوبی شوہر اور بیوی کے درمیان، باپ اور بیٹے کے درمیان، آجر اور ملازم کے درمیان، یعنی ہر جگہ نافذالعمل ہونی چاہیے، قطع نظر مذہب و عقیدہ کے۔
سر آئیورجننگز ((Ivor Jennings کا نام پولیٹیکل سائنس میں ایک اتھارٹی ہے۔ ان کی کتاب Cabinet Government ملاحظہ کیجیے۔ انھوں نے کہا ہے کہ: برٹش نظام میں ایک وزیرکے لیے عالم اور ماہر ہونا ضروری نہیں ہے کیوں کہ ان مہارتوں میں اہلِ علم اور ماہرین سے مدد لی جاسکتی ہے۔ لیکن وزارت کا قلم دان سنبھالنے کے لیے صداقت و امانت (integraty ) کا ہونا نہایت ضروری ہے ،اور اگر یہ صداقت و امانت نہیں ہے تو پھروہ عوامی اعتماد کا حق دار نہیں ہوسکتا۔ دراصل یہ ایک آفاقی، عالمی اور انسانی ضرورت ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس خوبی کو بازار سے خریدا نہیںجاسکتا، یہ تو انسان کے کردار کا جوہر ہے۔
قومی سطح پر ہمارے ہاں اس وقت نظریاتی انتشار اور اخلاقی بگاڑ ہے ۔ ادارے تباہ حال ہیں اور احتساب کانظام موجود نہیں ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم مایوس ہوجائیں۔ نہیں، بلکہ انھیں درست کرنے کے لیے کوشش جاری رکھیے۔ اپنی مثال بہتر سے بہتر قائم کیجیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ اس کے مثبت اثرات رُونما ہوں گے۔
ذاتی تجربے اور مشاہدے کی صرف ایک مثال دیتا ہوں کہ جب میں نے ۱۹۷۸ء میں پلاننگ کمیشن کا چارج سنبھالا تو پہلا کام یہ کیا کہ کمیشن میں کام کرنے والے افسروں اور ملازموں کے لیے قواعد و ضوابط بنائے تاکہ ان اصولوں کے تحت جس کی کوئی ذمہ داری ہو یا اس کے نتیجے میں اسے کوئی فائدہ پہنچتا ہو اس کو وہ فائدہ پہنچنا چاہیے، اور یہ کام اصول اور ضابطے کے مطابق خود بخود ہونا چاہیے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان قواعد کے نافذ ہونے کے بعد سب سے پہلے جس فرد کو فائدہ پہنچا، وہ صاحب قادیانی تھے۔اُس وقت کے سیکرٹری پلاننگ کمیشن میرے پاس آئے اور اُس فرد کی مذہبی شناخت بتاتے ہوئے اظہار کیا کہ ’’اب کیا کیا جائے؟‘‘ میں نے ان سے کہا کہ: ’’یہ بتانے کے لیے آپ کو میرے پاس نہیں آنا چاہیے تھا۔ بلاشبہہ وہ قادیانی ہے، مگر ہمارے دفتر میں ملازم ہے۔ اگر ان قواعد کے مطابق اس کا فائدہ ہوتا ہے اور اس نے جاپان جانا ہے تو بھیج دیا جائے‘‘۔ یہ بتانے سے مقصود یہ ہے کہ اگر آپ اپنی اپنی جگہ اس طرح مثال قائم کرنی شروع کردیں تو ان شاء اللہ حالات بدلتے ہیں۔
سوال: قومیت اور دو قومی نظریے میں ہم توازن کس طرح رکھ سکتے ہیں؟خود اقبال نے بھی وطن پرستی پر تنقید کی ہے، یعنی: ’’اِن تازہ خدائوں میں بڑاسب سے وطن ہے‘‘۔ اس کے علاوہ مولانا مودودی نے بھی جو اسلامی ریاست کی بنیاد بتائی ہے، اس میں اقتدارِ اعلیٰ کے بعد دوسرا نکتہ قومیت ہے۔ ہم بحیثیت پاکستانی ایک طرف پاکستانیت کا نعرہ بلند کرتے ہیں، دوسری طرف ایک ایرانی اور ایک افغانی اپنی قومیت کا نعرہ بلند کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس میں اور ایک امت کے تصور میں توازن کیسے ہوسکتا ہے؟
جواب: بہت ہی اہم سوال ہے، جزا ک اللہ خیر۔ دیکھیے مولانا مودودی ہوں یا علامہ اقبال یا دیگر مفکرین ، انھوں نے یہ بات کہی ہے کہ اگر قومیت کی بنیاد علاقے سے اس طرح جڑی ہوئی ہو کہ میرا ملک چاہے غلط ہے یا صحیح، میں اپنے ملک کا وکیل ہوں۔ یہ چیز اسلام کی بنیاد سے متصادم ہے۔ اس بنیاد پر بننے والی قومیت اپنے حتمی نتیجے میں انسانیت کے لیے فساد کا ذریعہ ہے، اور اس سے خیر رُونما نہیں ہوسکتا۔
حضور پاکؐ نے اسی بات کو ایک اور پس منظر میں، لیکن انتہائی خوب صورتی سے بیان فرمایا ہے کہ اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ ذہن میں رکھیے کہ عربوں میں ایک محاورہ تھا: ’’میرا بھائی درست ہویا نادرست، مجھے اپنے بھائی کا ساتھ دینا ہے۔ اپنے قبیلے کا ساتھ دینا ہے چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر‘‘۔ اس پر حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک مرتبہ یہ فرمایا کہ: ’’اپنے بھائی کا ساتھ دو، خواہ وہ حق پر ہو یا ناحق پر‘‘۔ اس فرمان پر صحابہؓ چونک گئے کہ یہ تو اسلام میں ہو ہی نہیں سکتا۔ انھوں نے پوچھا: ’’حضوؐر یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اگر ہمارا بھائی حق پر ہے تو اس کی مدد بجا لیکن اگر ناحق پر ہے تو اس کی مدد کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘ حضوؐر نے فرمایا: ’’اگر وہ حق پر ہے تو اس کا ساتھ دیجیے اور اگر ناحق پر ہے تو اس سے اسے روک کر اس کا ساتھ دیجیے‘‘۔
یہ ہے قومیت کا وہ تصور جس کو ہم نے آئیڈیل بنانا ہے۔ لیکن اگرکہیں علاقہ خود مسئلہ بن جائے تو پھر ان کے درمیان مطابقت کا سوال ضرور پیدا ہوگا۔ حدیث میں آتا ہے کہ اپنے وطن سے تعلق اور لگائو ایک فطری عمل ہے۔ اپنی پیدایشی زمین سے ایک انس اور محبت فطری چیز ہے۔ مکہ اور بیت اللہ کا تو معاملہ ایسا تھا کہ اس کے لیے انسان تڑپے، لیکن چونکہ ایک وقت خود بیت اللہ کے قرب میں رہنا حق کی مصلحت کے منافی ہوگیا تھا، تو ہجرت کا مرحلہ آن پہنچا۔ وہ بیت اللہ جسے صحابہؓ اور حضور پاکؐ شوق سے دیکھا کرتے تھے، اسے چھوڑنا پڑا۔ عقیدہ اور حق پرستی کو اولیت حاصل ہے لیکن جب معاملہ ایک سے زیادہ شناختوں کا ہو، جو فطری ہے، تو ان میں تطبیق کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس لیے قرآن نے جہاں یہ کہا ہے کہ تمھیں ایک ماں باپ سے پیدا کیا ہے وہیں یہ بھی نشان دہی کردی کہ شعوب و قبائل میں تقسیم بھی اک فطری عمل ہے لیکن صرف شناخت کے لیے۔ اصل چیز تقویٰ کا دامن تھامنا ہے اور معاملات کو طے کرنے میں حق پرستی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اس وجہ سے اللہ کو سب سے زیادہ وہ انسان پسند ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہو۔
اس طرح فکری اور نظریاتی طور پر صحیح رویہ اختیار کرنے کے بعد جس امر پر غور کرنا ہے، وہ یہ کہ ان کے درمیان مطابقت اور توازن کیسے پیدا کیا جائے؟ اسی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اسلام یہ کہتا ہے کہ قومیت کی بنیاد نظریے پر ہے۔ اسلام کو اپنا دین ماننے والے ایک امت ہیں، خواہ ان کی زبان، ان کی نسل اور ان کا وطن کوئی بھی ہو۔ وہ کہیں پر بھی رہ رہے ہوں یا ان کا رنگ کیسا ہی ہو۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر انسان اللہ کاخلیفہ ہے تو جس بنیاد پر انسان کو اپنی زندگی کامقصد اور اپنی زندگی کی روش طے کرنی چاہیے، اسے بنیاد کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، جو ہر ایک کے لیے ممکن ہو۔ آپ اپنا رنگ نہیں بدل سکتے، زبان شاید بدل سکیں لیکن پھر بھی فرق رہتا ہے ۔ نسل میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے۔ زمیں بدل کر آپ ہجرت کر سکتے ہیں۔ مگر اسلام نے قومیت کی اصل بنیاد عقیدے کورکھا، تاکہ ہر نسل، ہر مقام اور ہر زبان بولنے والے اس میں آسکیں اور سب آکرکے ایک ہوجائیں۔ لیکن خوبی اس کی یہ رہی کہ اس نے سب کو ایک بنانے کے بعد بھی معاشرے میں تشخص اور تنوع کو ختم نہیں کیا۔ زبان اور نسل کی نفی نہیں کی، رنگ کی نفی نہیں کی، بلکہ یہ کہا گیا کہ یہ سب ہم نے اس لیے بنائے ہیں کہ لِتَعَارَفُوْا (تمھاری پہچان کے لیے)۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ تمھارے سامنے زندگی گزارنے اور فیصلے کرنے کا معیار ، اخلاق اور اصول ہونا چاہیے اور وہ ہے: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط(الحجرات ۴۹:۱۳)’’درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے‘‘۔ یہ بھی بتادیا کہ تمھاری صف ایک ہی ہے ، کچھ اُمور میں اگر اختلاف ہے تو اختلاف کو تسلیم کرنا، اختلاف میں ہم آہنگی و مطابقت (accommodation ) پیدا کرنا اور اس کو ایک نظام کے تحت لینا آپ کی ذمہ داری ہے۔
جب ہم تصورِ قومیت دیتے ہیں تو اس سے ان باقی عناصر کی نفی نہیں کرتے۔ ہم انھیں صرف ایک تصور کے دائرے میں اپنے وجود کے ساتھ جمع کرتے ہیں۔ اس میں وطن سے محبت یقینا ایک جائز اور فطری چیز ہے۔ میثاق مدینہ میں نبی پاکؐ نے ہمارے سامنے وہ ماڈل بھی رکھ دیا کہ جس میں ایک سے زیادہ قومیں، ایک سے زیادہ مذاہب کے لوگ مل کر ایک ریاست بناسکیں۔ اگر آپ اس کا مطالعہ کریں تو اس کی کُل ۸۸ شقیں ہیں۔ جن میں سے ۴۴ کا تعلق مسلمان امت سے ہے اور۴۴ کا تعلق دیگر قبائل و مذاہب سے ہے۔ ان میں صاف طور پر لکھا اور تسلیم کیا گیا ہے کہ تمھارا تشخص ، تمھارا مذہب، تمھاری روایات کو تحفظ حاصل ہوگا۔لیکن اس پورے نظام کا جو سربراہ ہوگا وہ نبی پاکؐ ہوں گے، وہی آخری اتھارٹی ہوں گے اور سیاسی بالادستی اور فیصلہ کُن حیثیت نبی پاکؐ کو حاصل ہوگی۔ اس فریم ورک میں ان سب کو لے کر چلا گیا۔یہ ہماری تاریخ ہے کہ اس میں یہودی، عیسائی، ہندو، بدھسٹ، اللہ کو نہ ماننے والے، سب موجود رہے اور انھیں ان کے حقوق دیے گئے۔ ان کے لیے ایک مقام رکھا گیا اور اسی کی مناسبت سے ان سے توقعات بھی وابستہ کی گئیں۔
عالمی تناظر میں ہمارے فقہا نے انٹرنیشنل لا میں بلاشبہہ دنیا کو ایک بڑی حد تک اور اُس دور کے حالات کی روشنی میں ’دارالحرب‘ اور ’دارا لاسلام‘ میں تقسیم کیا ہے اور اس پہلو سے ’دارالحرب‘ اور ’دارا لاسلام‘ ایک بنیادی تقسیم ہے، لیکن دنیا صرف ان دو ماڈلز تک محدود نہیں ہے۔ اگر کسی ملک سے آپ برسرِجنگ ہیں تو یہی تقسیم اور اس کے احکام فیصلہ کن ہوں گے۔ لیکن اس کے علاوہ اور درجہ بندیاں ہمارے انٹرنیشنل لا کے اندر موجود ہیں، جن میں دو اور نوعیتیں قابلِ ذکر ہیں، یعنی: ’دارالامن‘ کہ جن سے آپ جنگ نہیں کررہے اور وہ غیرمسلم ہیں، اور ’دارالعہد‘ کہ جہاں غیرمسلم ہوں جن سے آپ کا کوئی معاہدہ اور کوئی معاملہ فہمی (انڈرسٹینڈنگ) ہو۔ اس کی بنیاد پر ایک فریم ورک ہوگا۔ تاریخ شاہد ہے کہ حبشہ میں عیسائیوں کی حکومت رہی، لیکن مسلمانوں نے کبھی اس پر چڑھائی نہیں کی اور اسے کبھی ’دارالحرب‘ قرار نہیں دیا گیا۔
اس فریم ورک کی روشنی میں آج کے دور اور آج کے حالات کے مطابق ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری نظریاتی اساس اسلامی قومیت ہے۔ پھر جس ریاست میں ہم عملاً رہ رہے ہیں، اس میں ایک سے زیادہ اگر قومیں رہتی بستی ہیں تو ان قوموں کے وجود اور حقوق کا اتنا ہی پاس و لحاظ کیا جائے گا۔ قانون کی نظر میں ان کے ساتھ برابری اور مشترکہ قومی مفادات میں مل کرکام کرنا لازم ہے۔ اسی ماڈل کو سامنے رکھ کر علما نے ۱۹۵۱ءمیں اسلامی ریاست کے جو ۲۲ اُصول مرتب کیے تھے، اگر آپ انھیں پڑھیں تو ان میں علما نے یہ بتایا ہے کہ آج کے دور میں ہم کس طرح اس نظریے کو ایک طبعی و جغرافیائی ریاست کے اندر سمو سکتے ہیں۔ اسی کی روشنی میں پہلے قرارداد مقاصد پاس ہوئی اور پھر پاکستان کا دستور بنا ۔
پاکستان کا دستور ہمیں وہ فریم ورک دیتا ہے جس کے اندر سب کے لیے مل جل کر رہنے کا پورا پورا حق موجود ہے۔اس جغرافیائی ملک سے وفاداری اور اس کی خدمت اور تشکیل و تعمیر و ترقی کے ساتھ ہماری یہ کوشش رہے گی کہ مسلمان ممالک آپس میں ملیں اور قریب آئیں۔ پاکستان کے دستور کا آرٹیکل۴۱ بھی اس کوشش کو ایک رہنما اصول قرار دیتا ہے کہ تمام مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے خصوصی تعلقات ہوں گے اور زیادہ سے زیادہ اسلامی اتحاد اور تعاون و مفاہمت کے لیے ہم کوشش کریں گے۔اقبال نے اپنے انگریزی خطبات Reconstruction of Religious Thought in Islam میں یہ بات بڑی خوب صورتی سے کہی ہے کہ آئیڈیل اگرچہ خلافت ہے، لیکن موجودہ دور میںمسلم دنیا کی دولتِ مشترکہ (Common Wealth of Muslim Nations) اس کا متبادل فراہم کرسکتی ہے، اور OIC (اسلامی تعاون تنظیم) اسی سوچ کا ایک نتیجہ ہے، جو بدقسمتی سے حکمرانوں کے ہاتھوں اب تک غیرمؤثر ہے۔
اسلامی تاریخ میں یہ بڑی دل چسپ بات ہے کہ جو لہر مصر تک گئی، اس میں اسلامائزیشن اور عربائزیشن ساتھ ساتھ تھے ،لیکن ایران اور اس کے ساتھ کے علاقوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ زبان اور مقامی کلچر، مقامی روایات ان سب کو باقی رکھنے کا پورا پورا اہتمام کیاگیا۔ کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ علاقائی زبانوں کی حوصلہ شکنی کی گئی ہو، یا ان علاقوں کے لوگوں کو ان کے حقوق نہ دیے گئے ہوں۔ خلافت ِ عثمانیہ میں کم ازکم سات وزیراعظم ایسے ہیں، جن کا تعلق بوسنیا ہرزیگووینا کے علاقے سے تھا۔ گویا احساسِ شراکت کے ساتھ ان کو خودمختاری بھی ملتی تھی اور جو والی یا گورنر بنائے جاتے تھے، وہ بالعموم وہیں سے بنائے جاتے تھے باہر سے نہیں لائے جاتے تھے۔
صدر ٹرمپ کی آمد کے ساتھ نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر میں بے چینی اور اضطراب کی ایک لہر دیکھی جاسکتی ہے۔ بے خدا اور نسلی تفاخر کی بنیاد پر استوار مغربی تہذیب کے ایسے کردار وقتاً فوقتاً صفحۂ ہستی پر اُبھرتے ہیں، انسانیت کے لیے ایک نئی مصیبت کھڑی کر کے ماضی کے دھندلکوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ یوں سالہا سال تک اس کے نتائج یا اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا نوعِ انسانی بھگتتی رہتی ہے۔
امریکی حکومت اور اس کے عالمی کردار کے بارے میں اضطراب اور احتجاج کا سبب لوگوں اور قوموں کے مزاجوں میں کوئی رچی بسی امریکا دشمنی یا مخاصمت نہیں ہے۔ یہ وہی ملک اور لوگ ہیں، جو امریکا کی طرف اس اُمید سے دیکھتے تھے کہ یہ عصرِحاضر میں جمہوری اور دستوری دور کا آغاز کرنے والی ریاست ہے، جو بین الاقوامی سیاسی اُفق پر جمہوریت، حقوقِ انسانی اور قوموں کے حق خود ارادیت کی علَم بردار بن کر جلوہ گر ہوئی تھی۔ اور یہ ایک ایسی ریاست ہے جو کسی خاص نسل کا وطن نہیں تھی، بلکہ دنیا کی بہت سی نسلوں نے جس کی صورت گری کی تھی، اور جس کی تعمیر میں محض اس ملک ہی کے نہیں، دنیا بھر کے بہترین دماغوں نے سائنسی تحقیق سے انسانیت کو صحت مند بنایا اور اسے قوت عطا کی۔ افسوس کہ دنیا بھر کے بہترین دماغوں کی ایک لگن کے ساتھ کی جانے والی تحقیق کے ثمرات کو، امریکی مقتدر قوتوں نے دنیاپر دھونس جمانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا، اور انصاف پر مبنی عالمی نظام کی داعی بننے کے بجاے ایک استعماری قوت (Imperial Power) کا کردار ادا کرنے لگی۔ دنیا اگر آج امریکا سے خو ف زدہ ہے اور اس کے حکمرانوں اور پالیسیوں سے نفرت کا اظہار کر رہی ہے تو یہ نتیجہ ہے ان پالیسیوں اور اقدامات کا، جن کی دنیا ستم زدہ ہے۔
حالات کی صحیح تفہیم کے لیے اس امر کا اعتراف ضروری ہے کہ آج امریکا سے بہ حیثیت ایک عالمی طاقت ایسی مایوسی اور بے زاری اور اتنی تیزی اور شدت سے اس کا ہمہ گیر اظہار نہ کوئی اتفاقی حادثہ ہے اور نہ محض کسی سازش کا شاخسانہ۔ اس کے ٹھوس اسباب اور عوامل ہیں۔ ان کا سمجھنا امریکا کی قیادت کے لیے بھی ضروری ہے اور ان اقوام کے لیے بھی، جو اضطراب، احتجاج اور مایوسی سے دوچار ہیں۔ اس تفہیم کا مقصد حالات کی اصلاح اور عالمی تصادم کے اسباب و عوامل کا تدارک ہے، تاکہ دنیا جنگ و جدل اور خون خرابے سے محفوظ رہ سکے۔
انسانوں اور قوموں میں، طاقت کا عدم توازن اور وسائل کا غیرمتناسب وجود ایک حقیقت ہے۔ محض اس کی وجہ سے اضطراب اور تصادم ایک غیرفطری عمل ہوگا۔ لیکن ایسا فرق جب ایک قوت کی دوسروں پر بالادستی،استیلا اور ان کے استحصال (exploitation) کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے، تو بے زاری، اضطراب اور تصادم کے دروازے کھلنے لگتے ہیں جو آخرکار ٹکرائو اور خون خرابے پر منتج ہوتے ہیں۔ یہی ہے وہ عمل جو امریکا اور دنیا کی دوسری اقوام کے درمیان دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ عمل ۱۹۸۹ء میں اشتراکی روس کے ایک سوپرپاور کی حیثیت سے میدان سے نکل جانے کے بعد اور بھی تیز ہوگیا ہے۔
امریکا کے پاس مادی اور قدرتی وسائل کی اتنی بہتات رہی ہے کہ اپنے باشندوں کے لیے وہ زندگی کی تمام سہولتیں بہ افراط فراہم کرسکتا ہے، لیکن عالمی بالادستی کا خواب، دنیا کی دوسری اقوام کے وسائلِ حیات کو اپنی گرفت میں لینے کے عزائم، دنیا کو اپنے تصورات کے مطابق ڈھالنے اور دوسروں پر اپنی اقدار اور نظریے کو بہ زور مسلط کرنے کے منصوبے ہی دراصل تصادم اور ٹکرائو کی جڑ ہیں۔ یہ خواہشات دراصل دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکا کی عالمی حکمت عملی کے اجزا بنتی جارہی ہیں۔ سردجنگ کے دور میں امریکا نے آزاد دُنیا کے تحفظ اور اشتراکیت دشمنی کے نام پر ان اہداف کو حاصل کرنے کی سعی کی، لیکن سردجنگ کے بظاہر خاتمے کے بعد امریکا نے اس لہر کو باندازِ دگر اور بھی تیز کردیا۔
بدقسمتی سے اب اس کے نئے اہداف میں سرفہرست اسلامی دنیا، احیاے اسلام کی تحریکات اور خود اسلام بن گئے ہیں، جس کا دبے لفظوں میں اور ہیرپھیر کے ساتھ اعتراف تو گذشتہ ۳۰برسوں میں ہوتا رہا ہے، مگر اب امریکا کی نئی قیادت اور اس کے پیچھے دائیں بازو کے مفکرین، ’مراکز دانش‘ (Think Tanks) ،میڈیا اور منظم گروہ کھلے بندوں اعتراف کر رہے ہیں۔ صدرٹرمپ کے دستِ راست اور قومی سلامتی کے ایڈوائزر جنرل فلِن کو صرف تین ہفتوں میں مستعفی ہونا پڑا، تاہم صدرٹرمپ نے اس کو اپنا معتبر ترین ساتھی قرار دیا ہے۔ جنرل فلِن نے متعدد بار اسلام کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ ۲۰۱۶ء میں اپنی کتاب The Field of Fight میں اسلام کو کینسر قرار دیتے ہوئے خبث ِ باطن کا اظہار کیا اور متعدد بار ان خیالات کا بہ تکرار اعادہ کیا۔
اکیسویں صدی کو ’امریکا کی صدی‘ اور ساری دنیا کو ’امریکا کے رنگ میں رنگنے ‘کی مہم کا نام ’عالم گیریت‘ (Globalisation) رکھا گیا ہے۔ یوں امریکا انا ولاغیری کے زعم میں مبتلا ہوگیا۔ اس خبط میں دوسروں پر اپنی طاقت کا رُعب جمانا اس کا مقصد ِوجود بن گیا۔ یہی ہے وہ دوراہا ہے جہاں دوسری اقوام میں بھی اپنی آزادی، اپنی عزت اور اپنی اقدار کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہونے کی اُمنگ پیدا ہوئی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج عالمی سیاست تصادم کے خطرناک راستے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
امریکا کاواحد عالمی قوت ہونا، ظاہربین نگاہوں میں ممکن ہے ایک حقیقت ہو، لیکن اس واحد سوپر پاور کا دوسروں پر غلبہ حاصل کرلینا اور ان کو اپنا تابع مہمل بنالینے کی کوشش میں مگن رہنا ایک خطرناک کھیل ہے، جس نے عالمی امن کو تہ و بالا کر دیا ہے۔ غلبہ اور جہانگیری کے انھی عزائم کے حصول کے لیے خارجہ سیاست کے ساتھ فوجی حکمت عملی اور معاشی اثراندازی کا عالم گیر جال اور جاسوسی اور تخریب کاری کا ایک ہمہ پہلو نظام،امریکا نے پوری دنیا کے لیے قائم کیا ہے، اور اسے روز بروز زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
فوجی معاہدات اور معاشی زنجیروں کا جال ہے جو ریاستی، عالمی مالیاتی اور تجارتی اداروں کے ذریعے پوری دنیا کو اپنے دام میں گرفتار کیے ہوئے ہے۔ سامراجی ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے غیرسرکاری اداروں (NGO's) کی ایک فوج اس عالم گیر استیلا کا ہراول دستہ ہے اور جاسوسی کا نظام ہے جو صرف سی آئی اے ہی تک محدود نہیں ہے، بلکہ متعدد بلاواسطہ اور بالواسطہ ایجنسیوں کے ذریعے کام کر رہا ہے۔ یہ تمام مظاہر امریکا کے عالمی سامراجی آکٹوپس کے مختلف پنجے ہیں۔
اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے امریکا، جہاں دنیا کے دوسرے ممالک کے مادی وسائل کو ہضم یا بھسم کر رہا ہے، وہیں اپنے شہریوں کے وسائل استعمال کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی جواز پیش کرنے کے لیے مجبور ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک زمانے میں اشتراکیت اور روس کا ہوّا تھا، اور ماضی قریب میں سرکش ریاستوں(Rogue States) کا ڈرائونا خواب دکھایا گیا تھا۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے سی آئی اے کو جو مینڈیٹ سردجنگ کے زمانے میں دیا گیا تھا، وہی اختیاراس کے مقتدر طبقے کو آج چاہیے۔ اس ذہنیت کی عکاسی کرتے ہوئے ۱۹۵۴ء میں وائٹ ہائوس کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا:
اس کھیل کے کوئی قواعد نہیں۔ ہمارے دشمن ہمارے خلاف جو طریقے استعمال کرتے ہیں، ہمیں ان سے زیادہ مؤثر، سوچے سمجھے طریقوں کو ہوشیاری سے استعمال کر کے دشمن کو سبوتاژ کرنا ، مٹانا اور تباہ کرنے کے اسباب مہیا کرنے ہیں۔(Brave New World Order، از جیک نیلسن پال میر، ص ۴۳)
امریکا کی سیاسی اور فوجی قیادت نے ۲۰ویں صدی کے آخری عشرے ہی سے پورے زوروشور سے عوامی جمہوریہ چین، شمالی کوریا اور چند مسلمان ملکوں (ایران، افغانستان، لیبیا، سوڈان) کو امریکا اور مغربی دنیا کے لیے ’اصل خطرہ‘ بنا کر پیش کرنا شروع کیا تھا، اور اب ان میں چار مزید مسلم ممالک عراق، شام، یمن، صومالیہ کا اضافہ کر دیا ہے، اور اس نام نہاد ’خطرے‘ سے مختلف سطحوں پر نبٹنے کے لیے ’جواز‘ کی فضا بنائی جارہی ہے۔
اب سے ۳۴ برس قبل امریکی صدر جمی کارٹر (۸۱- ۱۹۷۷ء) کے قومی سلامتی کے مشیر زبگینیو بریزنسکی نے اپنی کتاب The Grand Chessboard میں صاف لفظوں میں لکھا تھاکہ امریکا کی خارجہ سیاست کا اصل ہدف ہونا ہی یہ چاہیے کہ اکیسویں صدی میں امریکا دنیا کی سوپرپاور رہے اور اس کا کوئی مدمقابل اُٹھنے نہ پائے___ کم از کم پہلی ربع صدی میں تو میدان صرف امریکا ہی کے ہاتھ میں رہنا چاہیے:’’یورپ اور ایشیا دنیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہاں امریکا کی برتری برقرار رہنی چاہیے۔ یہ ناگزیر اور لازم ہے کہ یور پ اور ایشیا میں کوئی ایسی طاقت نہ اُبھر پائے جو امریکا کو چیلنج کرسکے‘‘۔
یہی وہ ذہنیت ہے جو امریکا کے پالیسی سازوں اور سیاسی قیادت میں ایک قسم کی رعونت پیدا کرتی آئی ہے۔ اس رعونت کے جواب میں بجاطور پر باقی دنیا میں مایوسی اور بے زاری کی لہریں اُٹھ رہی ہیں۔ کچھ عرصہ پیش تر ایک امریکی وزیرخارجہ نے کسی تکلف اور تردّد کے بغیر امریکا کی اس ذہنیت اور عزائم کا جو اعلان کیا، وہ کالمیرجانسن کی کتاب میں ان الفاظ میں ملتا ہے:
ہمیں طاقت استعمال کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم امریکا ہیں۔ ہم نوعِ انسانی کے لیے ایک ناگزیر قوم ہیں۔ ہم سربلند ہیں اور ہم مستقبل میں دُور تک دیکھتے ہیں۔ (Blowback: The Costs and Consequences of American Empire، ص ۲۱۷)
واحد عالمی طاقت ہونے کا زَعم ہی وہ چیز ہے جس نے امریکی قیادت میں اس فرعونیت کو جنم دیا ہے۔ اس کی ایک چشم کشا مثال وہ الفاظ ہیں، جن میں اپنی حیثیت کا اظہار امریکی صدر لنڈن بی جانسن (۶۹- ۱۹۶۳ء) نے قبرص کے تنازعے کے موقعے پر یونان کے سفیر سے کیا تھا۔ یونان، امریکا کا ایک دوست ملک اور امریکی قیادت میں فوجی اتحاد ناٹو میں اس کا رفیقِ کار ہے۔ جب یونان کے سفیر گیرانینوز گیگ نیٹس نے امریکا کا حکم نہ ماننے کے لیے، اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پارلیمنٹ اور اپنے دستور کے حوالے سے التجا کے لہجے میں بات کی، تو امریکی صدر جانسن طیش میں آگئے اور انھوں نے گالی دے کر یونانی سفیر سے کہا:
بھاڑ میں جائے تمھاری پارلیمنٹ اور جہنم رسید ہو تمھارا دستور___ امریکاایک ہاتھی ہے اور قبرص ایک چھوٹا سا پسّو۔ اگر یہ پسّو ہاتھی کو تنگ کرے گا تو ہاتھی کی سونڈھ اسے کچل دے گی۔ مسٹر سفیر، ہم یونان کو بہت سے امریکی ڈالر دیتے ہیں۔ اگر تمھارا وزیراعظم مجھ سے جمہوریت، پارلیمنٹ اور دستور کی بات کرتا ہے تو یاد رکھو: وہ، اس کی پارلیمنٹ اور اس کا دستور زیادہ دیر باقی نہیں رہیں گے۔ (Should Have Died، از فلپ ڈین، ۱۹۷۷ء، ص ۱۱۳-۱۱۸)
ذرا مختلف پس منظر میں، لیکن اسی ذہنیت کا مظاہرہ امریکا کے چیف آف اسٹاف جنرل کولن پاول (بعدازاں صدر بش جونیئر کے زمانے میں وزیرخارجہ) نے باربار کیا تھا۔جن دنوں امریکا نے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پانامہ جیسے ایک آزاد ملک پر فوج کشی کی، اس کے صدر کو اغوا کیا اور سزا دی تو اعتراض کرنے والوں کے جواب میں جنرل پاول نے کہا تھا:
ہمیں کنکر کو اپنے دروازے سے یہ کہہ کر باہر پھینکنا ہے کہ یہاں سوپرپاور رہتی ہے۔(Brave New World Order، ص ۸۷)
پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر اپنی برہمی کا اظہار بھی امریکا اسی ذہنیت سے کرتا آیا ہے۔ پاکستان کی سفیر سیّدہ عابدہ حسین سے جو گفتگو جنرل پاول نے کی تھی، وہ نوٹ کرنے کے لائق ہے۔ امریکا سے شائع شدہ کتاب Between Jihad and Salam میں جوائس ڈیوس نے عابدہ حسین کا انٹرویو شامل کیا ہے، جس میں انھوں نے بتایا:
جنرل پاول نے مجھ سے پوچھا: ’’امریکی اعتراضات اور مالی امداد ختم کر دینے کے باوجود پاکستان کو اپنے جوہری پروگرام پر اتنا اصرار کیوں ہے؟ آپ یہ بات جانتی ہیں کہ یہ بم آپ استعمال نہیں کرسکتی ہیں تو اس کے باوجود آپ انھیں کیوں رکھنا چاہتی ہیں؟‘‘
میں نے کہا:’’ جنرل، آپ کیوں ایٹم بم رکھتے ہیں؟‘‘
جنرل پاول نے کہا:’’ ہم کم کر رہے ہیں‘‘۔
میں نے پوچھا: ’’کتنے سے کتنے، جنرل؟‘‘
پاول نے جواب دیا: ’’چھے ہزار سے دو ہزار‘‘۔
میں نے کہا: ’’جنرل، آپ دو ہزار بم رکھیں گے اور چاہتے ہیں کہ ہمارے جو چند بُرے بھلے زمین میں پوشیدہ ہیں، ہم ان سے بھی فارغ ہوجائیں۔ آپ تو ہم سے خودکشی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم ایک جوہری ریاست کے پڑوس میں رہتے ہیں۔ کیا اگر کینیڈا اور میکسیکو کے پاس بم ہوں تو آپ اپنے بم ختم کردیں گے؟ کیا آپ ایسا کریں گے؟‘‘
جنرل پاول نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’دیکھیے سفیرصاحبہ، میں اخلاقیات کی بات نہیں کر رہا ہوں، میں آپ سے صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم ریاست ہاے متحدہ امریکا ہیں اور آپ پاکستان ہیں‘‘۔
میں نے کہا: جنرل، آپ کا شکریہ کہ آپ نے صاف صاف بات کی ہے‘‘۔
اپنے اقتدار اور قوت کے نشے میں بدمست ہونا، دوسروں کو خاطر میں نہ لانا، ہرکسی کو اپنے مقابلے میں حقیر سمجھنا اور خودپسندی، تکبر اور زعم میں مبتلا ہوکر دوسروں کی تضحیک کرنا، انسان اور اقوام کے وقار کو بڑھاتا نہیں، کم کرتا ہے۔
ایسی ہی ذہنیت، ان عزائم اور ایسے مطالبات کے ساتھ امریکا دنیا میں جمہوریت کا علَم بردار، حقوقِ انسانی کا محافظ، قانون کی مساوات اور پاس داری کا داعی اور انصاف کا پرچارک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے___ اور اس کی اسٹرے ٹیجی کا ہدف یہ ہے کہ پوری دنیا کو امریکا کے وژن اور اقدار کو قبول کرلینا چاہیے۔ یہی دراصل سامراجیت کی روح ہے جس کی بنا پر امریکا اور باقی دنیا کے درمیان اجنبیت، فاصلہ اور تلخی پیدا ہورہی ہے۔
امریکا کی ٹفٹس یونی ورسٹی میں علمِ سیاسیات کے پروفیسر ٹونی اسمتھ نے ایتھکس اینڈ انٹرنیشنل افیئرز میں ۱۶برس پیش تر اپنے مضمون میں متنبہ کیا تھا کہ نہ امریکا کی طاقت غیرمحدود ہے اور نہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ اپنے نظام اور اقدار کو دوسروں پر مسلط کرے، کیوں کہ یہ لبرل امپریلزم ہی کی ایک شکل ہے جس کا موجودہ زمانے میں کوئی جواز نہیں:
امریکی طرزِ حیات، اقدار اور اداروں کو دنیا کی دوسری اقوام میں رُوبہ عمل لانے کی کوشش میں ناکامی کا اندیشہ ہے۔ اس لیے نہیں کہ امریکی طاقت محدود ہے، بلکہ اس لیے کہ بڑے پیمانے پر اس کا استعمال بھی ان عقائد اور طریقوں میں اصلاح نہ کرسکے گا جو بنیادی طور پر امریکی طریقۂ کار کے مخالف ہیں۔ چین، مسلم دنیا یا روس کا امریکی مطالبوں کے آگے سپر ڈالنے کے لیے آمادہ ہونا بعید از امکان ہے۔ (Ethics & International Affairs ، ج ۱۴، ص ۶۰، مئی ۲۰۰۱ء)
بلکہ ا س سے بھی پہلے معروف امریکی مفکر والٹرلپ مین نے بڑی پتے کی بات کہی تھی:
جب ایک قوم ساری دنیا کے نظام کو یکساں شکل دینے کی ذمہ داری خود سنبھال لیتی ہے تو اس طرح دراصل وہ دوسروں کو اپنے خلاف متحد ہونے کی دعوت دیتی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں اس بات کا امکان ہے کہ جوہری اسلحہ وسیع پیمانے پر تشکیل پائے۔ یہ چیز کسی بھی صورت میں امریکی عوام کی قومی سلامتی کے لیے کوئی خوش کُن راستہ نہیں ہوگا۔(رچرڈ بارنیٹ، Intervention and Revolution ، ۱۹۶۸ء، ص ۳۱۲)
اگرچہ امریکا اپنی موجودہ عظیم طاقت کو دنیا میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے، مگر اس کے برعکس جب تک امریکی یہ خام خیالی نہ چھوڑ دیں گے کہ دنیا بھر میں تبدیلی لانا ان کا حق اور فرض ہے، اس وقت تک خود امریکیوں کو بھی امن نصیب نہیں ہوسکے گا۔(ایضاً، ص ۳۳۲)
ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا پر بے اعتمادی اور اس کی مخالفت کا پہلا اور سب سے اہم سبب دنیا کے ممالک میں کوئی خرابی یا مرض نہیں بلکہ امریکا کا یہی زعمِ باطل ہے کہ: ’’وہ واحد سوپر پاور ہے اور ہمیشہ سوپر پاور ہی رہے گا۔ اس کا حق ہے کہ دنیا اس کے سامنے جھکے اور اس کی بالادستی قبول کرے‘‘۔
زمینی حقائق کے مطابق دنیا اسے ایک بڑی طاقت تو تسلیم کرے گی، مگر اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کے لیے کبھی تیار نہ ہوگی۔ وہ اس سے دوستی کا تعلق بخوشی رکھے گی، مگر غلامی اور چاکری کا مقام کبھی قبول نہیں کرے گی۔ اگر امریکی حکومتیں تھوڑی سی حقیقت پسندی قبول کرلیں اور بالادستی اور شہنشاہی کی حکمتِ عملی کو ترک کرکے تکبر اور رعونت کے راستے کو چھوڑدیں، تو دُنیا ان کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے، اور ان کے عزت و وقار میں اضافہ ہوگا۔
امریکا سے دنیا کی بے زاری کے اسباب کو سمجھنے کے لیے امریکا کو خود اپنے رویے اور اپنے وعدوں اور عمل کے فرق پر غور کرنا ہوگا۔ اکیسویں صدی کے بالکل آغاز میں ایک چشم کشا کتاب Blowback: The Costs and Consequences of American Empire
۲۰۰۰ء میں شائع ہوئی تھی (’بلوبیک‘ سی آئی اے کی اصطلاح ہے، جس کا مفہوم امریکی عوام کی لاعلمی میں کیے جانے والے اقدامات کا ردّعمل ہے۔ اس کا ترجمہ ’مکافات‘ بھی کیا سکتا ہے)۔ تب اس کے مصنف کالمیر جانسن، یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا، سان ڈیاگو (امریکا) کے پروفیسر تھے۔ یہ کتاب امریکا اور برطانیہ سے بہ یک وقت شائع ہوئی تھی۔ مصنف نے امریکا کو اپنے رویے پر غور کرنے کی دعوت دی تھی اور تقریباً وہی بات کہی ہے، جو باقی دُنیا کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کی زبان پر ہے:
مجھے یقین ہے کہ غیرمتعلق اسلحے کے سسٹم پر ہمارے وسائل کا غیرمعمولی ضیاع، عسکری ’حادثوں‘ کا مسلسل جاری رہنا اور امریکی سفارت خانوں اور چوکیوں پر دہشت گرد حملے، ۲۱صدی میں امریکا کی غیر رسمی سلطنت کے لیے بحران پیدا کرنے والے بنیادی عناصر ہیں۔ امریکا، ایک ایسی سلطنت جو دنیا کے ہرحصے پر فوجی طاقت کے دبائو اور اپنی شرائط، مگر دوسروں کی قیمت پر امریکی سرمایے اور منڈی کو استعمال کرکے عالمی اقتصادی اتحاد قائم کرنا چاہتی ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو ضمیر کی ہرایسی خلش سے بھی آزاد کرلیا ہے، کہ ہم اس دنیا کے دوسرے لوگوں کو کتنے بُرے نظر آرہے ہیں۔ بیش تر امریکی غالباً جانتے ہی نہیں ہیں کہ واشنگٹن ، دنیا کی اقوام پر کس طرح اپنی بالادستی استعمال کرتا ہے، کیونکہ اس سرگرمی کا کافی حصہ خفیہ یا دوسرے حیلوں بہانوں کے پردے میں انجام پاتا ہے۔ اس حوالے سے بہت سوں کو یہ یقین کرنے میں دقّت پیش آئے گی کہ دنیا میں ہماری حیثیت ایک عالمی سلطنت کی سی ہوگئی ہے۔ لیکن جب ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ملک خود اپنی بنائی ہوئی سلطنت کا اسیر ہوگیا ہے تو ہمارے لیے دنیا کے بہت سے واقعات کی تشریح کرنا ممکن نہیں رہتا..... سوچنا چاہیے کہ انسانی حقوق، جوہری پھیلائو، دہشت گردی اور ماحول کے بارے میں غیرملکیوں کو امریکی پالیسیاں تضاد کا شکار کیوں نظر آتی ہیں؟ (کالمیر جانسن، حوالۂ مذکورہ، ص ۷-۸)
امریکا اور امریکیت کے اس عالمی رُوپ کو سامنے رکھتے ہوئے اُمت مسلمہ اور پاکستان کو یہ اُمور مدنظر رکھنے چاہییں:
امریکا اور مغربی اقوام آج خواہ کتنی ہی قوی کیوں نہ ہوں، ان کی موجودہ بالادستی اور وسائل پر غلبے اور دسترس کا اِدراک کرنے کے ساتھ، اس عزم کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان اپنا جداگانہ تشخص رکھتے ہیں ۔ ان کی منزل اپنی آزادی اور اپنی تہذیب کی ترقی اور فروغ ہے، جو دوسروں کی غلامی یا بالادستی کے تحت جاے پناہ پر قناعت سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اگر امریکا کا ایک بڑی مادی قوت ہونا ایک حقیقت ہے، تو مسلم اُمت کے ایک ارب ۳۰کروڑ نفوس بھی ایک حقیقت ہیں، جنھیں نہ نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ محض طاقت سے غلام بنایا جاسکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ تصادم سے پہلو بچاتے ہوئے اپنے گھر کی اصلاح، دینی و دُنیوی علم میں پختگی ، اپنے داخلی اتحاد کا حصول، اپنے وسائل کی ترقی اور اپنی قوت کا استحکام ہمارا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اپنے ایمان، اپنے دین اور اپنے نظریے پر مضبوطی سے قائم رہنا، وقت کے چیلنج کو سمجھنا اور اپنی بنیادوں کو استوار کرکے اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری ہماری فکروسعی کا محور ہونا چاہیے۔
اس کام کو انجام دینے کے لیے ہمیں کچھ عالم گیر اصولوں کو اپنی دعوت اور حکمت عملی کی بنیاد بنانی چاہیے اور دنیا کے تمام انسانوں اور تمام اقوام کو ان کی طرف لانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ہمیں نہ دوسروں کا کاسہ لیس ہونا چاہیے، اور نہ ہر ایک سے الگ تھلگ رہنے اور تعلقات توڑنے کا راستہ اختیار کرنا ہی کوئی صحیح طرزِعمل ہوسکتا ہے۔ قدرِ مشترک کی تلاش اور اس پر تعلقات استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا کے حالات بھی اس مقام پر ہیں کہ کچھ اصولوں اور مشترک اقدار پر سب کو جمع کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ اسی میں تمام انسانوں کی بھلائی ہے۔ بجاے اس کے کہ مسلمان محض دوسروں کے اقدامات پر ردعمل تک اپنے آپ کو محدود رکھیں، ہمیں آگے بڑھ کر پوری انسانیت (بشمول مغربی اقوام) کو کچھ بنیادوں پر متفق کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں درج ذیل اصول ہماری عالمی دعوت کا محور بن سکتے ہیں:
۱- تمام اقوام کی آزادی، حاکمیت اور سلامتی کا تحفظ ناگزیر ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بنیاد، تمام انسانوں کی برابری، تمام اقوام کی آزادی اور ان کا حقِ خود ارادیت ہے۔ اسلام نے اسی اصول کو انسانیت کے سامنے پیش کیا تھا اور یہ اصول استعماریت اور امپریلزم کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
۲- کسی ایک ملک یا تہذیب کی بالادستی پر اُستوار نظام عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سب اس اصول کو تسلیم کریں کہ ہرقوم کو اپنی تہذیب و ثقافت کی پاس داری کا حق ہے اور دنیا کی یک رنگی، فطرت کے خلاف اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ اس لیے سب کو اپنے اپنے اصول و اقدار کی روشنی میں ترقی کے مواقع حاصل ہونے چاہییں۔
۳- تمام انسانی معاملات کو دلیل اور مکالمے (Dialogue) کے ذریعے حل کیا جائے اور قوت کے استعمال کو قانون اور عالمی انصاف کے تابع کیا جائے۔ ہرقسم کے تشدد کے خلاف عالمی راے عامہ کو منظم کیا جائے اور اس میں دہشت گردی کی ہرشکل میں مخالفت شامل ہو۔ نیز دہشت گردی اور آزادی کے حصول یا ملک و ملّت کی حفاظت کے لیے جدوجہد کو اس سے ممتاز و ممیز کیا جائے اور قوت کے استعمال کی حدود اور اس کا ضابطۂ کار متعین کیا جائے۔
۴- انصاف کے حصول کے لیے دنیا کے تمام انسانوں اور اقوام کو ایک منصفانہ عالمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ انصاف ہی وہ مثبت بنیاد ہے جس پر عالمی امن قائم ہوسکتا ہے اور ظلم کی دراندازیوں سے انسانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔
۵- بین الاقوامی تعاون اور اشتراک کے ساتھ ساتھ قوموں یا ملکوں کے الحاق کی اجتماعی خودانحصاری کے اصول کا احترام کیا جائے۔ اس سے عالم گیریت کا ایک ایسا نظام وجود میں آسکتا ہے جس کے تحت اگر ایک طرف انسانوں، مالِ تجارت، مالی اور دوسرے وسائل کی نقل و حمل میں سہولت ہو، تو دوسری طرف ایسے عالمی ادارے وجود میں آسکیں جس کے نتیجے میں سب کو خوش حالی، استحکام اور باعزت زندگی حاصل ہوسکے۔
ان پانچ بنیادوں کی طرف دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت دے کر اُمت مسلمہ اور پاکستان ایک ایسے عالمی نظام کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں ، جو حقیقی امن و انصاف کا ضامن ہوسکتا ہے۔
بلاشبہہ آج کے طاقت ور اس کی راہ میں حائل ہوں گے، لیکن دنیا کے تمام دوسرے ممالک کو منظم اور متحرک کر کے اور پُرامن ذرائع سے عالمی راے عامہ کو منظم کرکے اس قدرِ مشترک کو نئے نظام کی بنیادبنایا جاسکتا ہے۔ نیز یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب دنیا کے ممالک دوسروں پر بھروسا کرنے کے بجاے اپنے اُوپر بھروسا کر کے اپنے وسائل کو صحیح صحیح استعمال کرنے اور منظم کرنے کی جدوجہد کریں اور تعاون اور اشتراک کی منصفانہ شکلوں کو رواج دیں۔ جس طرح دنیا کے بہت سے ممالک میں، بشمول آج کے ترقی یافتہ مغربی ممالک، اندرونِ ملک دولت کی تقسیم اور قوت کے توازن کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس میں ایک درجہ کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے، اسی طرح عالمی سطح پر ایک متوازن اور منصفانہ نظام کا قیام ممکن ہے، بشرطیکہ اس کے لیے صحیح طریقے پر مسلسل جدوجہد ہو۔
اس ایجنڈے کو عالمی سطح پر محض پیش کرنا مطلوب نہیں۔ اس ایجنڈے پر دنیا کو لانا اسی وقت ممکن ہوگا جب مسلمان ممالک خود اپنے گھر کو درست کریں اور اس کا آغاز خود احتسابی سے کریں۔
آج جو کچھ ہو رہا ہے، اسے ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ جو افراد یا ملک یہ سمجھتے تھے کہ امریکا سے دوستی کے ذریعے ان کو حفاظت، عزت اور سلامتی مل جائے گی اور جو اپنی دولت اپنے ملکوں میں رکھنے کے بجاے امریکا اور یورپ میں اسے محفوظ سمجھ رہے تھے، ان کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ انھوں نے کیسا کمزور سہارا تھاما تھا اور کس طرح خود کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔
اس سے یہ سبق بھی حاصل کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے کہ مانگے کا اُجالا کبھی روشنی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ خودانحصاری اور اپنی قوت کی تعمیر کے بغیر آپ اپنی آزادی، اپنے ایمان اور اپنی عزت کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ مقصد کسی سے لڑنا نہیں لیکن اپنے گھر کی تعمیر اور اپنے ممالک کی مضبوطی اور دوسروں پر محتاجی سے نجات، قومی سلامتی کے لیے ازبس ضروری ہے۔
اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مسلم ممالک میں خود اپنے عوام پر اعتماد کی فضا پیدا کی جائے۔ شخصی اور سیاسی آزادیاں حاصل ہوں، اختلاف کو برداشت کیا جائے ، اور معیشت اور سیاست پر چند خاندانوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے، کہ اسی میں اصحابِ اقتدار کے لیے بھی خیر ہے اور مسلم عوام کے لیے بھی۔
کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے جہاں نظریہ اور قومی تشخص ضروری ہے وہیں سیاسی، معاشی اور اداراتی نظام کا ایسا آہنگ درکار ہے، جس میں سب کی شرکت ہو، عوام اور حکمرانوں کے درمیان کش مکش کے بجاے تعاون اور اشتراک کا رشتہ قائم ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے: ’’تمھارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور جو تم سے محبت کرتے ہیں، اور بدترین حکمران وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور جو تم سے نفرت کرتے ہیں‘‘۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث: ۳۵۳۶)
پھر اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ آزادی اور اشتراک کے ساتھ تعلیم، زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو ملکی پالیسی میں مرکزیت کا مقام حاصل ہو۔ وقت کی ٹکنالوجی کو حاصل کیا جائے اور ایجاد و اختراع اور تحقیق و تفتیش کے ذریعے علم اور سائنس پر عبور حاصل کیا جائے۔ نیز معیشت اور ٹکنالوجی کے میدانوں میں بھی خودانحصاری کی پالیسی اختیار کی جائے۔
عالمی طاقتوں کے دبائو سے نکلنے کے لیے خود انحصاری کی جانب گام زن ہونے کا مطلب دنیا سے الگ تھلگ ہونا نہیں ہے۔ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہمیں وسائل پر اتنی دسترس حاصل ہو کہ ہم اپنی پالیسیاں، اپنے مقاصد اور اہداف کے مطابق خود طے کرسکیں، اور دوسروں کی ایسی محتاجی نہ ہو کہ وہ ہماری پالیسی پراثرانداز ہوسکیں۔ دنیا کے تمام ممالک سے تعاون اور تجارت سب کے لیے اسی وقت بہتری کا باعث ہوسکتے ہیں، جب خودانحصاری کے ساتھ یہ تعاون ہو ورنہ یہی بین الاقوامی رشتے اور معاملات ظلم اور استحصال کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
مسلمان ممالک کی تعمیر و ترقی میں یہ بات بھی سامنے رہے کہ یہ اُمت ، ’اُمت ِ وسط‘ ہے جس کا کام دنیا کے سامنے خدا کے پیغام کی شہادت دینا ہے اور جو انصاف کے فروغ اور نیکیوں کی ترویج اور بُرائیوں سے نجات کی داعی ہے۔ اس اُمت میں اگر تشدد کی سیاست دَر آئی ہے تو یہ اس کے مشن اور مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی اور یہ اس کے اصل کردار پر ایک بدنما دھبّا ہے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، اسلام: تشدد، زور زبردستی اور اکراہ کا مخالف ہے اور محبت، بھائی چارے، رواداری اور تعاون و اشتراک کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
جہاد کا مقصد انصاف کا قیام اور تمام انسانوں کے لیے آزادی، عزت اور عدل کی ضمانت ہے۔ جہاد اپنی تمام صورتوں میں___یعنی نفس کے ساتھ جہاد، زبان اور قلم سے جہاد، مال سے جہاد اور جان سے جہاد___ واضح اخلاقی حدود اور مقاصد کا پابند ہے۔ ہرسطح پر اس کے تصور، تعلیم اور تبلیغ کی ضرورت ہے تاکہ جہاد کا صحیح فہم و ادراک ہو اور اس کی نعمتوں سے مسلمان اور غیرمسلم سب فیض یاب ہوسکیں۔ یوں تو جہاد کے اس تصور کا فہم اور احترام ہر دور میں ضروری تھا مگر آج جب جہاد کو بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور اسے تشدد اور دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جارہا ہے، اس وقت جہاد کی تفہیم اور جہاد کے آداب کے مکمل احترام کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ جہاد اسلام کی ابدی تعلیم اور اس کا رکن رکین ہے۔ اس کا یہ کردار سب سے پہلے خود مسلمانوں کے سامنے واضح ہونا چاہیے تاکہ غیرمسلم بھی اس کی گواہی دے سکیں۔
عصرِحاضر میں اسلامی تحریکات کی خدمات میں سے ایک نمایاں خدمت یہ ہے کہ ایک طرف اس نے جہاد اور روحِ جہاد کے احیا کا کارنامہ انجام دیا ہے، تو دوسری طرف جہاد کے مقاصد، آداب اور ضابطۂ کار کی وضاحت اور احترام کر کے اس کے اصل کردار پر توجہ مرکوز کی ہے اور مسلمانوں کو اس کا پابند بنانے کی کوشش کی ہے۔
مسلم ممالک کے درمیان معاشی، سیاسی، تعلیمی، ٹکنالوجی اور میڈیا کے میدانوں میں قریب ترین تعاون بلکہ اتحاداورالحاق کی ضرورت ہے، جو نظریے اور تاریخ کے اشتراک کے ساتھ مفادات کے اشتراک اور سیاسی اور معاشی حوالوں سے باہمی تعاون اور احترام کی محکم بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔ یہ ایسی ضرورت ہے، جسے مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظام میں تنازعات کے تصفیے کا بھی مناسب انتظام ہونا چاہیے، تاکہ حقیقت پسندی سے اتحاد کو مستحکم کیا جاسکے۔ عالمی سطح پر مسلم نقطۂ نظر کو پیش کرنے کے لیے میڈیا کی مؤثر ترقی و تنظیم بھی ضروری ہے۔
اسلام کے عالمی کردار کی مؤثر ادائی اسی وقت ممکن ہے جب تمام مسلمان ملک اور اُمت مسلمہ ان خطوط پر اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل کرے۔ ’اُمت ِ وسط‘ کی حیثیت سے اللہ کی بندگی اور انسانوں کے لیے انصاف اور فلاح کے نظام کی داعی کی حیثیت سے اپنے گھر کی تعمیر کرے اور دنیا کے سامنے اس کا نمونہ پیش کرے۔
وقت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان اور اہلِ پاکستان پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمارے اندرونی معاملات میں بیرونی قوتوں کی چھپی اور کھلی دراندازیاں مشکلات میں اضافے اور آزادی کے لیے خطرات کا باعث ہیں۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ تصادم، عدم مشاورت اور وقت گزاری کی پالیسی ترک کرکے ایک ایسی پالیسی اپنائی جائے، جس میں پاکستان، اس کے نظریے اور قوم کی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس کے لیے درج ذیل اُمور فوری توجہ کے طالب ہیں:
۱- اللہ سے وفاداری اور اس پر بھروسے کو سب چیزوں پر اولیت دی جائے۔ اللہ کی طرف رجوع ہو اوراپنی غلطیوں اور کمزوریوں کا اپنے مالک کے حضور اعتراف کرکے اس سے طاقت اور رہنمائی طلب کی جائے۔ پوری قوم اور اس کی قیادت اپنے خالق و مالک کا دامنِ رحمت تھامے اور اس سے مدد مانگے۔
۲- عوام پر اعتماد کیا جائے اور ان کو اعتمادمیں لیا جائے اور مؤثر طور پر ان کو قومی سلامتی، ترقی اور تعمیرنو کے لیے متحرک کیا جائے۔
۳- ایسی نظریاتی کش مکش اور لاحاصل بحث سے بچا جائے جس میں مغربی میڈیا اور دانش ور ہمیں مبتلا کردینا چاہتے ہیں۔ ’بنیاد پرستی‘، ’انتہاپرستی‘ اور ’فرقہ پرستی‘ ہمارے مسائل نہیں۔ جدید اور قدیم کی بحثیں بھی بہت پرانی باتیں ہیں اور ہم ان سے گزر چکے ہیں۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات بہت صاف اور واضح ہیں۔ اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو بنیادی اخلاقی اقدار کی روشنی میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کرتا ہے۔ سیکولرزم ایک مُردہ گھوڑا ہے ، اس پر سواری کے خواب دیکھنا ایک حماقت ہے۔ پاکستان کے دستور نے جن تین بنیادوں کو واضح طور پر پیش کر دیا ہے، یعنی: اسلام، جمہوریت اور وفاقی طرزِحکومت انھیں متفق علیہ بنیاد بناکر قومی پالیسی کی تشکیل کی جائے اور ان طے شدہ اُمور کو ازسرِنو زیربحث لانے کی جسارت نہ کی جائے۔ اسلام اعتدال کا دین ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد، دونوں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس پر عمل کی ہے۔ ہمارا ایجنڈا، ہماری تحریک ِ آزادی اور ہماری قراردادِ مقاصد، ہمارے دستور میں طے ہے۔ اسے مضبوطی سے تھام لیجیے۔
۴- ملک کی دفاعی قوت کی حفاظت کو اولیت حاصل ہے۔ اس خطے میں امریکی فوجوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اسی طرح بھارت کے عزائم کا ادراک اور مقابلے کے لیے فوج اور قوم میں ہم آہنگی اور دونوں کا متحرک و فعال ہونا ضروری ہے۔
۵- پاکستان اور اسلامی دنیا میں ایسی معاشرتی ترقی کا حصول جو ملکی پیداوار اور پیداآوری صلاحیت میں ہمہ افزوں اضافے کا باعث ہو، ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ کیا جائے، تاکہ ملک کی مارکیٹ وسیع تر ہو۔ جدید ٹکنالوجی کا حصول اور ترقی جس کا لازمی جزو ہو۔ معاشی انصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم جس کا مرکزی ہدف ہو اور جس کا مطلوب معاشی ترقی کے ساتھ عدلِ اجتماعی کا قیام اور خود انحصاری کا حصول ہو۔ عسکری قوت کے ساتھ معاشی قوت کا حصول بھی باعزت زندگی کے لیے لازمی شرط ہے۔
۶- جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی بہیمانہ سرگرمیوں کی مذمت کرنے اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کے حقِ خود ارادیت کے بارے میں مکمل یکسوئی اور مضبوط و متحرک موقف پر عمل درآمد کی راہوں پر چلنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ِ پاکستان کو کشمیر کمیٹی کی ازسرِنو تشکیل کرکے، دنیا بھر کے سامنے کشمیر کے مقدمے کو پوری قوت سے پیش کرنا چاہیے۔
۷- افغانستان میں بدامنی کی فضا کو قائم رکھنا امریکا اور بھارت کی ضرورت ہے، تاکہ وہاں ان کی موجودگی کا کوئی نہ کوئی جواز پیش کیا جاسکے۔ اس ضمن میں چین اور روس کے ساتھ مل کر وہاں امن قائم کرنے کی جو کوششیں ہورہی ہیں، انھیں تیز تر کیا جائے اور کابل میں محدود انتظامیہ کو افغانستان کی نمایندہ قوت تصور کرنے کے بجاے وہاں کی اصل قوت کے مراکز کو شریکِ مشورہ کیا جائے۔ دین، تاریخ اور مشترک مفادات کی بنیاد پر امن اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
۸- فلسطین پر مغربی اقوام کی زیرسرپرستی صہیونی سلطنت کے ناجائز وجود کو ختم کیا جائے اور اعلانِ بالفور کے بعد ایک سو سال سے مسلط کردہ جبری خوں ریزی کا خاتمہ کیا جائے۔
۹- مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک سے تعلقات میں گہرائی پیدا کی جائے اور مشترکہ حکمت ِعملی کی ضرورت و اہمیت کو اُجاگر کیا جائے۔
۱۰- ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مشترک مفادات میں باہم تعاون کو بڑھایا جائے۔
ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک جانب یہ اُمور حکومت ِ پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کا تقاضا کرتے ہیں تو دوسری جانب وطن عزیز کے اہلِ دانش اور ماہرین کو بھی حق کی گواہی اور وقت کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے پکارتے ہیں۔
امریکی صدارتی نظام میں، روایتی طور پر نئے صدر کے پہلے سو دن بڑے فیصلہ کن سمجھے جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں اپنے بارے میں خاص و عام کے بہت سے اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے اور قدم قدم پر حیرت میں مبتلا کیا ہے، وہیں اپنی صدارت کے پہلے دس دن میں وہ کچھ کرڈالا جو دوسرے سو دن میں نہیں کرپاتے۔ یہ اور بات ہے ان ’حیرتوں‘ کے نتیجے میں خوشی کے نغمے کم ہی بلند ہوئے ہیں اور خوف و ہراس اور اضطرابی احتجاج کی لہروں نے امریکا ہی نہیں پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ سی این این پر ایک امریکی تجزیہ نگار نے خوب کہا ہے کہ: Trump's ten days as President have created a Tsunami of humam misery (ٹرمپ کے بطور صدر، دس دنوں نے انسانی بدبختی کا سونامی دکھا دیا ہے۔)
معروف سیاسی تجزیہ کار خیال کرتے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ری پبلکن پارٹی کی اُمیدواری کی منزل سر نہیں کرسکیں گے لیکن موصوف نے بڑی چابک دستی سے اپنے تمام گھاگ اور تجربہ کار حریفوں کو مات کر دیا۔ اسی طرح ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی اُمیدوار امریکا اور امریکا کے باہرعالمی سیاست پر نظر رکھنے والے بیش تر دانش وروں، صحافیوں، سفارت کاروں اور سیاسی مبصرین کا خیال تھا اور راے عامہ کے تمام ہی سروے یہ خبر دے رہے تھے کہ ہیلری کلنٹن انتخاب جیت جائیں گی، لیکن ۹نومبر۲۰۱۶ء کو سب ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے کہ ہیلری سے ۲۹لاکھ کم ووٹ حاصل کرنے کے باوجود صدارتی بازی ٹرمپ نے جیت لی۔
اسی طرح سبھی سمجھ رہے تھے کہ انتخابی مہم کے دوران بلند بانگ دعوے، دل خوش کُن وعدے، ہوش ربا اعلانات، حتیٰ کہ جو متضاد پالیسی اہداف پوری تحدی اور خطابت کی گرم گفتاری کے ساتھ اس صدارتی امیدوار نے بیان کیے تھے، وہ محض سب انتخابی مہم کا حصہ تھے۔ صدارت کی ذمہ داری پڑنے کے بعد یہ صاحب ہوش کے ناخن لیں گے اور منقسم قوم کو جوڑنے اور حقیقت پسندی کی دنیا میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کے جذبے سے ملکی اور عالمی سیاست کو ایک مثبت جہت دینے کے لیے اُمید اور روشنی کے پیامی بن کر اپنے صدارتی دور کا آغاز کریںگے لیکن ٹرمپ صاحب نے نہ صرف اپنی صدارتی تقریر میں ان سب توقعات کو پاش پاش کر دیا، بلکہ اپنی ٹیم کے انتخاب اور صدارت کے پہلے دس دنوں ہی کے اقدامات میں وہ تشویش ناک صورتِ حال پیدا کردی، جس میں حالات کی سنگینی پر نظر رکھنے والے ’تباہی اور بربادی کے سونامی‘ کے خطرات دیکھ رہے ہیں۔ صاف نظر آرہا ہے کہ آنے والے چار سال امریکا ہی نہیں پوری دنیا کے لیے بڑے طوفانی سال ہوں گے اور امریکی عوام اور دنیا کی تمام ہی اقوام کو سیاسی زلزلوں کے جھٹکوں اور ان کے جلو میں پیدا ہونے والے بعد از تلاطم صدمات ( after-shocks)سے سابقہ رہے گا۔
۲۱ویں صدی کا آغاز ’نائن الیون‘ (۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء) کے نیویارک ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن کے پینٹاگون پر ہوائی حملے سے ہوا جس کے نتیجے میں مسئلے سے نبٹنے کے لیے کوئی مثبت اور سوچی سمجھی حکیمانہ پالیسی بنانے کے بجاے، نشۂ قوت کی بدمستی میں پوری دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ جدید تاریخ کی یہ عجیب و غریب جنگ ۱۵سال سے جاری ہے۔ جس میں افغانستان، عراق، شام اور لیبیا تباہ کر دیےگئے ہیں۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکا میں ۴۰ممالک کے تقریباً ۳ہزار افراد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے امریکا نے اپنی سربراہی میں جو جنگ شروع کی تھی، اس میں ۶لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکا اور ناٹو کے ہلاک ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی تعداد ۳ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔اس سے چارگنا زیادہ زخمی اور اپاہج ہوچکے ہیں۔ ۸۰لاکھ سےزائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد اپنے اپنے تباہ کردہ ممالک میں یا پھر دیگر ممالک میں مہاجرت پر مجبور ہوئی ہے۔ مالی اعتبار سے دنیا اس جنگ کی جو قیمت اب تک ادا کرچکی ہے اس کا اندازہ ۶ سے ۸ ٹریلین ڈالر ہے، جس کا اگر نصف بھی دنیا کے انسانوں کو غربت، بھوک اور بیماری سے نجات دلانے کے لیے استعمال ہوتا تو دنیا کی آبادی کا ۵۰ فی صد (۳ء۶ ملین افراد) جو اس وقت غربت ، جہالت اور فاقہ کشی کا شکار ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی اوسط آمدنی کی آبادی کے معیار کے برابر آسکتا تھا۔
ٹرمپ کی سربراہی میں امریکا کی نئی قیادت جو زبان استعمال کر رہی ہے اور جن عزائم کا اظہار کر رہی ہے، اس کے نتیجے میں ذہن یہ بات سوچ کر مائوف ہو جاتا ہے کہ ’الیون نائن‘ (۹نومبر) کے صدارتی انتخابی نتائج دنیا کو ’نائن الیون‘ کے زلزلے سے بھی بڑے زلزلے کی طرف لے جارہے ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ’الیون نائن‘ کے نتیجے میں ۲۰جنوری ۲۰۱۷ء کو جس قیادت نے امریکا کی زمامِ کار سنبھالی ہے، اس کے ذہن، تصورِ جہاں، سیاسی شاطرانہ چالوں، معاشی حکمت عملی اور اندازِ کار کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سمجھا جائے۔ پھر دنیا کو اس تباہی سے بچانے کے لیے سوچ بچار سے کام لیا جائے اور عملی اقدام کیے جائیں، تاکہ ۲۱ویں صدی کو جنگ و جدال اور تباہی و بربادی سے محفوظ کیا جاسکے اور انسانیت کو امن و سلامتی اور ترقی و خوش حالی کی راہ پر گامزن کرنے کی خدمت انجام دی جاسکے۔ واضح رہے کہ دنیا کو تباہی سے بچانے کی اس کوشش کے ذریعے ہی ہم جہاں خود اپنے گھر کو بچانے کی جدوجہد کریں گے، وہیں ہم اُمت مسلمہ کو محفوظ و مستحکم بنانے اور پوری انسانیت کو خیروفلاح کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھی ایک کردار ادا کرسکیں گے۔
یاد رکھیے، جو پالیسیاں بھی خوف، نفرت، غصے اور انتقام کے جذبے کے تحت بنتی ہیں، وہ ہمیشہ تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ حالات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ حقائق کے بارے اغماض، جانب داری اور پسند کے انتخاب (selectivity) کے تباہ کن راستے سے بچیں، نیز مسائل اور زمینی رجحانات کو نظرانداز کر کے محض اپنی خواہشات کی بنیاد پر پالیسی بنانے سے مکمل احتراز کریں کہ یہ بڑے ہی خسارے کا سودا ہے۔
امریکا بلاشبہہ آج بھی دنیا کی درجہ اوّ ل کی طاقت ہے۔ ۳۳کروڑ کی آبادی کا یہ ملک جس کی آبادی دنیا کا صرف ۵ فی صد ہے، اس وقت دنیا کی دولت کے ۲۲ فی صد پر قابض ہے۔ اس ملک کی مادی ترقی اور خوش حالی کا آغاز انیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔ اس وقت امریکا کے پاس دنیا کی دولت کا صرف ۱ء۴ فی صد تھا، جو دوسری جنگ عظیم(۴۵-۱۹۳۹ء) کے اختتام تک دنیا کی دولت کے ۴۵فی صد تک پہنچ گیا تھا۔ گذشتہ ۷۰برسوں کے دوران میں اگرچہ امریکا دنیا کا امیرترین اور طاقت ور ترین ملک رہا لیکن اس کی تقابلی پوزیشن میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔
فوجی اعتبار سے امریکا آج بھی دوسرے تمام ممالک پر فوقیت حاصل ہے۔ اس کی فوج کا بجٹ آج بھی روس، چین، جرمنی، جاپان، فرانس اور برطانیہ کے مجموعی دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔ دنیا کے ۸۹ممالک میں اس کے فوجی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں اور ۴۰ ممالک میں اس کے فوجی اڈے قائم ہیں۔ لیکن دوسری جانب معیشت کے میدان میں اسے ماضی جیسی برتری حاصل نہیں رہی۔ چین، روس، جرمنی، جاپان، برازیل اور چند دوسرے ممالک اس دوڑ میں برابر آگے بڑھ رہے ہیں اور چین اس وقت اس معاشی دوڑ میں دوسرے نمبر پر آچکا ہے اور اگلے ۱۵، ۲۰ سال میں پہلی پوزیشن میں آنے کا اُمیدوار ہے۔
ٹکنالوجی کے میدان میں جو تبدیلی گذشتہ ۵۰برسوں میں آئی ہے اور عالم گیریت (Globalization)کے نتیجے میں امریکا کی صنعتی پیداواری صلاحیت میں جو کمی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں علاقوں کے علاقے ’غیرصنعتی بحران‘ (de-industrialization ) کا شکار ہوئے ہیں، جس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ درمیانی آمدنی والا طبقہ شدید معاشی دبائو کا شکار ہے۔ اس پس منظر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مالی بوجھ اور پھر ۲۰۰۸ء سے شروع ہونے والے عالمی مالیاتی بحران نے آبادی کے ایک بڑے طبقے کو بُری طرح کچل کر رکھ دیا ہے۔ افریقی امریکیوں میں تو غربت اور بے روزگاری پہلے ہی بہت زیادہ تھی، لیکن گذشتہ ۲۰، ۲۵ برسوں میں سفیدفام آبادی میں بھی غربت اور بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ پھر تقسیمِ دولت کے سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں ملک میں شدید عدم مساوات کا دور دورہ اور معاشی ترقی کے اصل فوائد سے صرف مال دار طبقہ فیض یاب ہوا ہے، جب کہ آبادی کا بڑا حصہ محرومیوں کا شکار ہے۔
امریکا میں آبادی کے ۵۰ فی صدی کا حال یہ ہے کہ اس کی حقیقی اُجرت (real wages) تقریباً ۳۵، ۴۰ سال سے ایک ہی سطح پرہے یا اس میں کچھ کمی ہوئی ہے۔ لیکن آبادی کا ایک فی صد جو امیرترین ہے، اس کی دولت میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ عالم گیریت، مارکیٹ اکانومی، آزاد تجارت اور آبادی کی منتقلی کی سہولت نے امیروں کو امیرتر اور غریبوں کو غریب تر کردیا ہے۔ جنوری ۲۰۱۶ء اور جنوری ۲۰۱۷ء میں Oxfam کی جو دوسالانہ رپورٹیں شائع ہوئی ہیں، وہ معاشی ناانصافی، دولت کی عدم مساوات اور اکثریت کی زبوں حالی کا بڑا دردناک نقشہ پیش کرتی ہیں:
۲۰۱۶ء کی رپورٹ کا نام ہے: An Economy for the 1%: How Privilage and Power in the Economy Drive Extreme Inequality and how this can be stopped.
اور ۲۰۱۷ء کی رپورٹ کا عنوان ہے: An Economy for the 99%. Its time to build a Human Economy that benefits everyone, not just the Privileged Few.
۲۰۱۷ء کی رپورٹ سے ہم صرف چند حقائق پیش کرتے ہیں، تاکہ زمینی صورتِ حال کو سمجھنے، عوامی سطح پر اصل اضطراب کی نوعیت کا فہم حاصل کرنے کے ساتھ تبدیلی کی خواہش کا صحیح اِدراک کیا جاسکے اور اس کی وجوہ کا اندازہ کیا جاسکے جو اضطراب اور بے چینی کے سیلاب کا ذریعہ ہیں:
l FTSE-100 کا چیف آفیسر تنہا ایک سال میں اتنا کما لیتا ہے، جتنا کہ بنگلہ دیش کے ملبوسات کے کارخانوں میں کام کرنے والے ۱۰ہزار کارکن مل کر کماتے ہیں۔
اس صورتِ حال کے لیے حکومتوں اور کمپنیوں کے پالیسی سازوں کو کم از کم جزوی طور پر تو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔ کرئہ ارض پر ہونے والے حالیہ سیاسی واقعات نے ایک اور بڑی تقسیم؍تفریق کاری کو جنم دیا ہے اگر ہم عدم مساوات سے نبٹنا چاہتے ہیں تو اس کی طرف فوری طور پر توجہ منعطف کرنا بہت ضروری ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق بریگزٹ (Brexit) { FR 891 } سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کی کامیابی تک، نسل پرستی میں پریشان کُن اضافہ اور مین سٹریم سیاست سے وسیع پیمانے پر مایوسی اور بددلی تک، اس بات کے روزافزوں اشارے مل رہے ہیں کہ مال دار ملکوں میں زیادہ لوگ اب اسٹیٹس کو برداشت کرنے کے لیےمزید آمادہ نہیں ہیں۔ یہ آخر اسے برداشت کریں بھی تو کیوں، جب کہ تجربے سے یہ اشارے ملے ہیں اس کی وجہ سے جو کچھ حاصل ہو رہا ہے، وہ جامد معاوضے، غیرمحفوظ ملازمتیں اور صاحب ِ ثروت اور نادار لوگوں میں بڑھتی ہوئی خلیج ہے ۔ چیلنج جس کا سامنا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک مثبت متبادل (Alternative)تعمیر کیا جائے، ایسا نہیں جو تقسیم در تقسیم کو ہوا دے۔
واضح رہے کہ آج دنیا بھر میں صرف آٹھ افراد اتنی دولت کے مالک ہیں جتنی دنیا کے ۳؍ارب ۳۰کروڑ کا مقدر ہے اور ان میں آٹھ میں سے چھے افراد امریکی ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ۲۰۱۰ء میں دنیا کی ۵۰ فی صد آبادی کی دولت کے برابر دولت کے مالک افراد کی تعداد ۳۸۸ تھی، جو ۲۰۱۵ء میں ۶۲ رہ گئی تھی اور ۲۰۱۶ء کے آخر میں اب دولت کا یہ ارتکاز اورسمٹائو صرف آٹھ افراد تک ہوگیا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی کا تصور کر کے اللہ تعالیٰ سے گریہ کیا تھا کہ ؎
کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دُنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات!
ڈونلڈ ٹرمپ نے ’تبدیلی‘ کے نعرے کو بڑی ہوشیاری اور چابک دستی سے اپنے حق میں استعمال کیا ہے، حالاں کہ اس کا تعلق اسی سفاک سرمایہ دار طبقے سے ہے، جو اس ہوش ربا استحصال کا ذمہ دار ہے۔ اس نے امریکا میں باہر سے آکر آباد ہونے والے پردیسیوں اور عالم گیریت کو، سفیدفام آبادی کی غربت اور معاشی ابتری کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ پھر اس نظام کو بدلنے اور امریکا کے معاشی اور سیاسی حکمران طبقے کو چیلنج کرکے اپنے کو متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ سوشل میڈیا کی قوت کو استعمال کر کے اقتدار کے محافظوں اور طاقت کے روایتی کارگزاروں اور دلالوں (brokers) کو ایک طرف دھکیل کر عوام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
یہ امریکی تاریخ کا ایک عجوبہ ہے کہ ایک ایسا شخص جسے نہ اعلیٰ تعلیم کا اعزاز حاصل ہے، نہ کوئی سیاسی یا انتظامی تجربہ اس کے دامن میں ہے، جس کا پورا کردار یا پراپرٹی ڈیلر یا ڈویلپرکا سا ہے، یا ٹی وی کے ہنرمند بازی گر (entertainer ) کا سا۔ جس کی اپنی امریکیت کی عمر بھی کچھ زیادہ طویل نہیں ہے۔ جس کا دادا جرمنی سے امریکا مہاجرت کرکے آیا تھا۔ جس کی تیسری بیوی کی پیدایش سلاوینیطا (Salavinita) کی ہے اور جسے امریکی شہریت ۲۰۰۵ء میں حاصل ہوئی ہے۔ اس نے متوسط طبقے کی معاشی بدحالی اور مہاجرت کرنے والے (immigrants) لوگوں کو جن میں: میکسی کن ، لاطینی امریکی، چینی، برعظیم پاک و ہند، افریقہ اور عرب دنیا سے آنے والے نوامریکی لوگوں کو جن کی تعداد اس وقت آبادی کا ۱۴ فی صد سے زیادہ نہیں ہے، انھی کو نشانہ بناکر اور زیرزمین نفرت اور خوف کے لاوے کو پکاکر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ ووٹ کی طاقت کے ذریعے امریکا کے مقتدر طبقات کو چیلنج کیا ہے۔ خود اپنی پارٹی کے روایتی قائدین کے چھکے چھڑا دیے اور بالآخر صدارت پر براجمان ہوگیا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ اس کی سیاست قوم کو تقسیم کرنے سے چمکی ہے اور اس نے تمام اقلیتوں اور خصوصیت سے مسلمانوں کو ہدف بناکر قربانی کا بکرا ( scapegoat) بنا کر اپنا مقصد حاصل کیا ہے۔ امریکا کے انتخابات میں سیاسی گرماگرمی تو ہمیشہ ہی ہوتی تھی، لیکن ۲۰۱۶ء کے انتخابات میں جس طرح نفرت، غصے، خوف اور انتقام کا دور دورہ رہا، وہ غیرمعمولی واقعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات اور انتقالِ اقتدار کے بعد بھی تنائو اور تصادم کی فضا موجود ہے۔
امریکا کی سوسالہ تاریخ میں انتخابات کے بعد اور صدارتی حلف برداری کی تقریب اور اس کے بعد مظاہروں کی وہ کیفیت کبھی رُونما نہیں ہوئی جو اس بار ہوئی ہے اور اس کے تھمنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اس لیے کہ صدرٹرمپ نے لوگوں کو جوڑنے اور انتخابی معرکے کے ٹکرائو کو پیچھے چھوڑ کر نئے اتحاد اور قومی یک جہتی اور مشترکات پر قوم کو جمع کرنے کا راستہ اختیار نہیں کیا ہے۔ اس کے برعکس رنگ و نسل کی بنیاد پر اس تقسیم کو ملک ہی نہیں عالمی سطح تک پھیلا کر اپنے ایجنڈے پر عمل، اس کا ہدف نظر آرہا ہے جو دنیا کو اور زیادہ غیرمحفوظ بنائے گا اور تصادم اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا باعث ہوگا۔
اس انتخاب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جمہوریت میں قیادت کے لیے ازبس ضروری ہے کہ ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہو اور ان کے مسائل، ان کے متعلقات (concerns)، ان کی مشکلات، ان کے عزائم اور تمنائوں کا صحیح ادراک ہو۔ پھر وہ زبان استعمال کی جائے جسے عوام سمجھتے ہوں اور جو ان کے دل کی گہرائیوں میں اُتر سکے اور ان کو سیاسی تائید، تحرک اور ووٹ کی قوت سے تبدیلی کے لیے اُٹھا سکے۔
صدر ٹرمپ نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ عوام خصوصیت سے محروم طبقات کے جذبات کوسمجھا اور ان کو اپنے سیاسی عزائم کے لیے متحرک اور استعمال کیا۔ اسے اندازہ تھا کہ زمینی معاشی حقائق کیا ہیں؟آبادی کے تناسب میں جو تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اور ان کو سفیدفام آبادی کس طرح محسوس کر رہی ہے۔ ان پر اس کی نگاہ تھی۔ پھر اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ کوئی کھل کر اسے ایشو بنانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے ایک طاقت کے روایتی مراکز کی مخالفت مول لے کر، اس طبقے کی تائید حاصل کی جو اس کی کامیابی کے لیے ذریعہ بن سکتا تھا، کہ جن سے خود اس کو اپنی سوچ بھی جِلدکی رنگت اور مذہب سے نسبت سے ہم آہنگ تھی۔
گلوبلائزیشن جسے امریکی انتظامیہ نے اپنے مفاد کی خاطر ’تقدیس‘ کے درجے پر پہنچادیا تھا اور اس کے خلاف بات کرنا گویا کفر کے مترادف ہوگیا تھا، ٹرمپ نے اسے کھل کر چیلنج کیا اور اس کے نتیجے میں جو مسائل مقامی یا قومی سطح پر پیدا ہوئے تھے، ان کو مبالغہ آمیز حد تک نمایاں کیا۔ مسائل کا ٹھیک ٹھیک ادراک کرنا، تبدیلی کے نعرے کو صحیح انداز میں اپنانا اور اس کی علامت بن جانا، مقتدر قوتوں کو چیلنج کرنا اور عوام کو یہ اعتماد دینا کہ ان قوتوں سے ٹکر لینے کی ہمت اور صلاحیت چیلنج کرنے والے میں موجود ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ پھر یہ سارا کام روایتی ذرائع ابلاغ کے ساتھ غیرروایتی ابلاغ کے ان تمام ذرائع کو استعمال کر کے انجام دیا، جن سے بلاواسطہ عوام تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کا استعمال بڑی مہارت سے کیا۔ ۳۰لاکھ سے زائد افراد اس کے twitter کے ساجھی تھے۔
ٹرمپ کی مہم کے سلسلے میں تحقیق کرنے والوں نے چند بڑی اہم چیزوں پر روشنی ڈالی ہے جو قابلِ غور ہیں:
ان کا کہنا ہے کہ راے عامہ کے تمام ہی جائزے اس بنا پر صحیح تصویر پیش کرنے میں ناکام رہے کہ ٹرمپ کے ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی تائید کو صرف ووٹ کی شکل میں ظاہر کیا اور انتخاب سے پہلے یا انتخاب کے روز راے عامہ کے سروے (exit poll) تک میں اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا۔ چونکہ مسئلہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائو کا تھا، اس لیے یہ راستہ تک اختیار کیا گیا۔
خواتین کے ووٹ نے بھی ایک غیرمتوقع کردار ادا کیا۔ سب کا خیال تھا کہ ٹرمپ نے خواتین کے بارے میں جو نازیبا باتیں کہی ہیں، ان کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد اس سے متنفر ہوگئی ہوگی۔ حالاںکہ ایسا نہیں ہوا اور خواتین ووٹروں کی ۵۳ فی صد نے ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ ہیلری کلنٹن کا خاتون ہونا بھی اس کے کام نہیں آسکا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ سے وابستگی یا قربت کا تاثر اس کے لیے ووٹ کی راہ میں حائل ہوگیا اور خواتین ووٹروں نے محض خاتون ہونے کے ناتے نسوانی خوداختیاریت (Feminism)کے نعروں کے زیراثر ووٹ کو استعمال نہیں کیا۔
یہ انتخابات امریکی معاشرے کی اخلاقی حالت اور سماجی اقدار کو سمجھنے کا بھی ایک آئینہ ہیں۔ ذاتی زندگی اور پبلک لائف کو الگ الگ دائروں میں محصور کرنا سیکولر معاشرے کی ریت ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب سیاسی قیادت کے لیے کچھ خاص اخلاقی اقدار کا حامل ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ مذہب اور ریاست کی تقسیم کو تسلیم کرنے کے باوجود کچھ اخلاقی صفات اور کردار کی کچھ خاص خوبیوں کو سیاسی قیادت کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ فرد کی جنسی زندگی کے بارے میں عام معاشرے میں خواہ کتنی بھی رواروی اور آزاد خیالی ہو، مگر سیاسی قیادت سے ایک خاص کردار کی توقع ہوتی تھی۔
یہ ہمارے مشاہدے کی بات ہے کہ ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائیوں تک امریکی صدارتی اُمیدوار کی اگر کسی بداخلاقی اور مالی معاملات میں بے قاعدگی کی بات منظرعام پر آتی تھی، تو کم از کم صدارتی اُمیدوار کے لیے راہ کھوٹی ہوجاتی تھی۔ لیکن اب نوبت بہ اینجا رسید کہ ایک درجن سے زائد خواتین برملا دست درازی کی شکایت کرتی ہیں، مگر نہ صدارتی اُمیدوار میدان چھوڑتا ہے اور نہ ووٹروں پر اس کا کوئی اثر ہوتا ہے۔ حالاں کہ ۳۰، ۴۰ سال پہلے تک یہ روایت تھی کہ ایسے حالات میں صدارتی اُمیدوار خود بخود دست کش ہو جاتا تھا۔
امریکا ہی نہیں، مغربی دنیا کے تمام ہی جمہوری ممالک میں سیاسی قیادت کے لیےاخلاقی مضبوطی (integrity) ایک لازمی صفت تھی۔ سر آئی ورجے نگز (Jennings) اپنی کتاب Cabinet Goverment میں پورے وثوق کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سیاسی قیادت اور پارلیمان کے ارکان کے لیے یہ صفت ہر دوسری صفت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ امریکا کا ایک مشہور پارلیمانی مشیر اسٹیو سمڈٹ (Steve Schmidt) جس نے بہت اہم انتخابی مہموں کی نگرانی کی ہے صاف الفاظ میں کہتا ہے کہ قیادت میں صداقت او ر حق پرستی جمہوریت کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔ (ملاحظہ ہو نیویارک ٹائمز، ۳۱جنوری ۲۰۱۷ء میں ڈیوڈہارسٹر کا صفحہ اوّل کا مضمون: Trump and his long history of untruths)
آج بھی دنیا کی بیش تر پارلیمنٹوں میں ’اخلاقی اُمور کمیٹی‘ ایک اہم کمیٹی ہوتی ہے، جو پارٹی کی وفاداری اور گروہی عصبیت سے بالا ہوکر آزادانہ کام کرتی ہے۔ امریکی کانگرس میں بھی ’اخلاقی اُمورکمیٹی‘ آج بھی موجود ہے ۔ گو یہ اور بات ہے کہ اب اس میں بھی تبدیلی لانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ واضح رہے ایک وقت وہ بھی تھا جب امریکا کے قانون میں ملک کی شہریت کے لیے بھی اچھا کردار ایک لازمی شرط تھی۔ ۱۷۹۰ء کے شہریت کے قانون میں جہاں ہرشہری کے لیے آزاد ’سفیدفام مرد و عورت‘ہونا ضروری تھا (کہ غلام اورسیاہ فام اس زمانے میں شہری نہیں بن سکتے تھے) وہاں دو مزید شرائط یہ بھی تھیں، یعنی: ’اچھا اخلاقی کردار اور کم از کم دوسال سے امریکا میں قیام‘۔
لیکن اب اخلاقی اقدار اور کردار قصۂ پارینہ بن چکے ہیں اور اس صدارتی انتخاب میں یہ بات بہت ہی کھل کر سامنے آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی دولت کس طرح کمائی، ٹیکس ادا کیے یا نہیں؟ بار بار دیوالیہ ہوکر قرض داروں سے کیسے نجات پائی؟ ٹرمپ یونی ورسٹی میں طلبہ سے لاکھوں ڈالر غلط بیانی سے کس طرح حاصل کیے؟{ FR 893 } ___ یہ سب کھلے حقائق ہوتے ہوئے بھی انتخاب میں غیرمتعلق ہی رہے۔ حتیٰ کہ صدارت کے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی مطالبے کے باوجود ٹیکس کا ریکارڈ پیش کرنے سے انکار اور اپنے یہودی داماد کو وائٹ ہائوس کی انتظامیہ میں اہم کردار دینے اور بین الاقوامی سیاست، خصوصیت سے اسرائیل سے امریکا کے تعلقات کی نگہداشت کے لیے ذمہ داریاں سونپنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کیا گیا۔ حالاں کہ اہم سیاسی دانش ور اس پر چیخ پکار کر رہے ہیں اور مفادات کے ٹکرائو کی دہائی دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی شخصیت، ان کا اندازِ گفتگو، ذاتی اخلاق، معاشرتی معاملات، طریق تجارت، کاروباری دیانت اور معاملات میں عدم شفافیت کے بارے میں جو شہرت ہے، اسے امریکی جمہوریت کا غارت گرِ حُسن ہی کہا جاسکتا ہے۔
نومبر کے صدارتی انتخابات کے بارے میں ایک بات یہ بھی کہی جارہی ہے کہ اس انتخاب میں مقابلہ ’کون بہتر ہوگا؟‘ کی بنیاد پر نہیں بلکہ کون کم خراب ہوگا کی میزان پر ہوئے۔ گویا ٹرمپ کی کامیابی کا اصل سبب ہیلری کلنٹن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ناکامی ہے۔ پھر ایک اور بڑا اہم سبب خود طریق انتخاب ہے جس پر انگلی اُٹھائی جارہی ہے۔ ہیلری کو ڈیموکریٹک پارٹی کی ساری غلطیوں کے باوجود ۳۸ لاکھ ووٹ زیادہ ملے مگر ریاستی بنیاد پر ہونے والے الیکٹورل کالج اور اس کے متعین ووٹ کے نظام کی وجہ سے صدارتی انتخابی ادارے میں ٹرمپ صاحب کو اکثریت حاصل ہوگئی۔ الیکشن میں بدعنوانی ہونے کی بات پہلے خود ٹرمپ صاحب نے انتخابی مہم کے دوران کہی تھی اور پھر سی آئی اے اور تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر روس کی hacking کا دعویٰ کیا۔ اس سب کے باوجود یہ امریکی جمہوریت ہی کا حصہ کہ ووٹ کے ذریعے اور دستور اور قانون کے دائرے کے اندر اقتدار کی منتقلی واقع ہوئی۔ گو عوامی سطح پر صدر ٹرمپ کو وہ مقبولیت حاصل نہیں، جو ان سے پہلے کے صدور کو حاصل رہی ہے۔ وہ تاریخ کے سب سے کم مقبول منتخب صدر کی حیثیت سے وائٹ ہائوس میں تشریف لائے ہیں۔
جارج بش کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کو پہلی صدارت کی تقریب حلف برداری کے وقت ۴۵ فی صد عوام کی تائید حاصل تھی اور اس طرح وہ گویا ۵۰ فی صد کی سطح سے نیچے تھے ،لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف جائزوں کی روشنی میں ۳۲ سے ۳۷ فی صد امریکی عوام کی تائید حاصل تھی۔ واضح رہے کہ صدر اوباما کو جب انھوں نے جنوری ۲۰۰۹ء میں حلف اُٹھایا، تو مختلف راے عامہ کے جائزوں کے مطابق۵۳ فی صد سے ۶۰فی صد عوام کی تائید حاصل تھی اور جب صدر اوباما صدارت سے فارغ ہوئے اس وقت بھی عوامی جائزوں میں ان کی مقبولیت ۵۲ فی صد سے زیادہ تھی۔
صدر ٹرمپ کی نہ صرف یہ کہ مقبولیت کا گراف کم تھا بلکہ وہ جدید تاریخ کے پہلے صدر ہیں جن کے خلاف ملک بھر میں ان کے انتخاب کے اعلان کے بعد سے لے کر ان کی تقریب حلف برداری اور اس کے بعد بھی امریکا ہی نہیں دنیا کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور ایک بڑی تعداد نے ان کو ایک ’جائز صدر‘ (Legimate president ) تسلیم نہیں کیا۔
بدقسمتی سے صدارت کے پہلے دس دنوں ہی میں انھوں نے جو احکامات جاری کیے ہیں، ان میں سے چند نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ خصوصاً ۲۷جنوری کو مسلمان ممالک سے آنے والے افراد کے بارے میں بالعموم اور مسلمانوں کے بارے میں بالخصوص ان کے احکامات نے جو افراتفری برپا کی ہے، اس نے دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا ہے جس سے بین النسلی اور سیاسی فضا بُری طرح مکدر ہوگئی ہے۔ آبادی میں تلخی اور بے اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس نے امریکا کے شہریوں کے درمیان باہمی اخوت، بھائی چارے اور امریکا اور دنیا کے دوسرے ملکوں اور اقوام کے مابین، خصوصیت سے مسلمانوں سے تعلق کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ کچھ حلقے تو اس خطرے تک کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ ان حالات کے دبائو میں صدرٹرمپ کوئی ایسی حرکت نہ کر گزریں کہ جو دنیا کو خدانخواستہ جنگ کی طرف لے جانے کا باعث بن جائے۔
انسان کو امریکا سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے کیوں کہ یہ اس کا نقصان ہے۔ اس سے امریکا کا عالمی اثر اور قیادت اس سے چھن جائیں گے اور یہ وہ قیمت ہوگی جو اسے ان پالیسیوں؍ حکمت عملیوں کے عوض دینا ہوگی جن کا وہ مثلاً چین کے حوالے سے منصوبہ بنائے ہوئے ہے اور اس کی بیش تر معاشی قیمت امریکا ہی کو ادا کرنا ہوگی۔ امریکا کا دوسرے ملکوں سے الگ تھلگ رکھنے کا رویّہ ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گا کیوں کہ دنیا اس کے ساتھ نبٹ سکتی ہے، مگر یہ بنیادی طور پر امریکا کو نقصان پہنچائے گا، جسے اس معرکے میں فتح کے بجاے شکست کا سامنا ہوگا۔ ایشیائی قوم کے سفیر نے، جس پر چینی پالیسیوں کا گہرا اثر ہے، دلیل دی کہ امریکا کی پسپائی چین کے عروج کو تیز تر کردے گی، کیوں کہ چین اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ ’’تاہم ہمارا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ٹرمپ کی احمقانہ پالیسیوں کے نتیجے میں امریکا کے معاشی مصائب بدتر ہوجائیں گے اور اس چیز سے تحریک پاکر اس کا یہ عقیدہ ہوجائے گا کہ اب اسے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے کہیں جنگ کی ضرورت ہے۔
ایک اور پہلو جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا انتخاب کسی خلا میں منعقد نہیں ہوا ہے۔ ۲۰۱۶ء کے انتخابی نتائج کو اس پس منظر سے کاٹ کر نہیں دیکھا جاسکتا کہ ان سے پہلے باراک اوباما آٹھ سال امریکا کے صدر رہے۔ وہ بھی تبدیلی کے نعرے کے ساتھ ہی صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان سے قبل جارج بش کے آٹھ سال امریکا اور دنیا کے لیے ترقی معکوس کے سال تھے۔ صدر اوباما، کانگرس کے ان چند نمایاں ارکان میں سے تھے، جنھوں نے ۲۰۰۳ء سے عراق کی جنگ کی کھل کر مخالفت کی تھی اور اسے تباہی کا راستہ قرار دیا تھا۔ صدراوباما امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے اور جن لوگوں نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ دوسری باری نہیں لے سکیں گے، ان ’مستقبل بینوں‘ نے منہ کی کھائی۔ اس طرح ۲۰۱۲ء میں بھی اوباما بڑی اکثریت سے کامیاب ہوئے لیکن چند محاذوں پر انھیں بُری طرح ناکامی ہوئی۔
امریکا کے قومی ایجنڈے کے مطابق ان کے سامنے سب سے اہم محاذ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ تھا۔ اوباما جنگ ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ صدر بنے تھے، لیکن: نہ صرف یہ کہ وہ عراق میں جنگ ختم نہ کرا سکے بلکہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کی آگ انھی کے دور میں پھیلی۔ لیبیا اور شام جنگ کی لپیٹ میں آگئے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کارستانیوں کی وجہ سے تباہی کا یہ بازار گرم ہوا۔ یمن بھی اپنے انداز میں آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ یوکرائن میں بھی جنگ کے شعلے بلند ہوئے، خواہ اس کی بڑی ذمہ داری روس کی سیاسی انگڑائیوں پر تھی۔ افغانستان، امریکی کامیابیوں کے سارے دعوئوں کے باوجود، برابر جنگ کی آماج گاہ بنا ہوا ہے اور صدراوباما کو افواج کم کرنے کے بعد دوبارہ ان کی تعداد کو بڑھانا پڑا، اور اس کے باوجود افغانستان کے ایک چوتھائی حصے پر طالبان کی حکمرانی ہے اور عملاً ان کے اثرات مزید ۳۰ فی صد علاقے پر ہیں، حتیٰ کہ کابل بھی ان کی دسترس سے باہر نہیں۔ صدراوباما کے زمانے میں ڈرون حملے امریکی صدربش کے دور سے ۱۰گنا زیادہ ہوئے۔ صدراوباما کے اقتدار کے آخری سال (۲۰۱۶ء) میں امریکا نے دنیا کے سات ممالک میں ۲۶ہزار ۱۷۱ بم گرائے، اور یہ تعداد صدر بش کے دور سے کہیں زیادہ تھے۔
یہی معاملہ گوانتاناموبے کے عقوبت خانے کا ہے۔ صدراوباما اسے ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ آئے تھے۔ وہ اپنی صدارت کے پہلے سال ہی میں یہ کارنامہ انجام دینا چاہتے تھے۔ لیکن آخری وقت تک ان کا کوئی بس نہ چلا اور آج بھی گوانتاناموبے کا تعذیب گھر امریکا کے چہرے پر کلنک کا ٹیکہ بنا ہوا ہے۔
انسانی حقوق کی پاس داری کے باب میں بھی صدر اوباما کا ریکارڈ مایوس کن رہا۔ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ہاں بدترین تعذیب اور مبغوض ترین حربوں کا استعمال جاری رہا۔ عام انسانوں کی نجی زندگی کی نگرانی بلکہ ایک طرح کی غلامی کا ملک گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر نظام قائم کیا گیا۔ صدراوباما کو دنیا میں امن کے قیام کی خدمت کے سلسلے میں پیشگی نوبل انعام سے نوازا گیا، لیکن ان کے آٹھ سالہ دور میں نہ جنگ ختم ہوسکی اور نہ دہشت گردی، بلکہ اس کی تباہ کاریوں اور وسعتوں میں اضافہ ہی ہوا۔
دوسرا محاذ جس پر صدراوباما کو شدید ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، وہ نسل و رنگ کی بنیاد پر امریکا میں قتل و غارت اور ظلم و استحصال پر مکمل قابو پانے کا دعویٰ تھا۔ کس قدر عبرت کا مقام ہے کہ خود ان کے دورِ اقتدار میں صرف پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام نوجوانوں کے ظالمانہ قتل کے واقعات میں نہ صرف یہ کہ کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا اور ہرواقعے پر وہ آنسو بہانے کے سوا کچھ نہ کرسکے۔
صدراوباما کو بہت مشکل معاشی حالات کا مقابلہ کرناپڑا اور پوری کوشش کے باوجود، کچھ میدانوں میں جزوی کامیابی کے باوصف، وہ امریکا کے معاشی بحران پر قابو نہ پاسکے۔ مسلم دنیا سے بھی امریکا کے تعلقات کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور ۲۰۰۹ء میں قاہرہ کی تقریر اس ضمن میں ایک اہم آغاز تھا، مگر یہ آرزو بھی پوری نہ ہوسکی۔ بالآخر امریکا اور اسلامی دنیا میں بے اعتمادی اور بے زاری میں اضافہ ہی ہوا۔ ایران سے ایٹمی معاہدہ اور کیوبا سے تعلقات کی بحالی اہم مثبت کامیابیاں ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ذاتی شرافت اور باوقار اسلوب کے باوجود، امریکا اور عالمی سطح پر ان آٹھ برسوں کو ترقی اور کشادگی کے سال نہیں کہا جاسکتا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاہ فام صدراوباما کی یہ ناکامیاں ایک سفیدفام، دائیں بازو کے انتہاپسند صدر کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں اہم محرک ثابت ہوئیں۔ صدر ٹرمپ اور صدراوباما رنگ و نسل کے اعتبار سے ہی نہیں، نظریات، سیاسی ترجیحات، اخلاق و کردار، غرض ہراعتبار سے دوبالکل مختلف ماڈل پیش کرتے ہیں۔ ایسے نمونے جن میں بعدالمشرقین کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ ۲۰۱۶ء کے صدارتی انتخابات میں سیاست کی اس جست (swing) کا منظر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ۲۰۰۸ء میں صدراوباما کو منتخب کرکے امریکی جمہوریت نے اپنے جس جوہر کا مظاہرہ کیا تھا، وہ اپنی جڑیں اس زمین میں پیوست نہ کرسکا، بلکہ ایک واضح ردعمل رُونما ہوا، جسے سیاست کا انتقام بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ وہ قوتیں جنھوں نے ۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۳ء کے انتخابی رجحان کو مجبوراً قبول کرلیا تھا، انھوں نے ایک نئے اور زیادہ جارحانہ انداز میں اپنی بالادستی کو قائم کیا اور جو کچھ برتن کے اندر تھا وہ کھل کر باہر آگیا۔ اس سے یہ پہلو بھی سب کے سامنے آگیا کہ ہرمعاشرے کی طرح امریکی معاشرے میں بھی خیر اور شر دونوں کے عناصر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور عمل اور ردعمل کا سلسلہ ہرجگہ دوسرے ملک اور معاشرے کی طرح وہاں بھی جاری وساری ہے۔
جہاں صدرٹرمپ اور اس کی پوری ٹیم کے چند واضح اہداف ہیں اور وہ ہے: ’سب سے پہلے امریکا‘ (America First ) اور ’امریکا کو عظیم بنانا‘ (Making America Great) ۔ ان نعروں کو اپنی اوّلین ترجیح بناکر سیاسی، معاشی، عسکری، ثقافتی ہر میدان میں کچھ بنیادی تبدیلیاں لانا صدر ٹرمپ کا ہدف ہے۔ یوں جارحانہ قوم پرستانہ دور کا آغاز ٹرمپ کی خواہش ہے جس میں امریکا کی سفیدفام آبادی کا کردار مرکزی ہوگا اور قومی اور عالمی دونوں سطح پر پالیسی سازی اور پالیسی کے نفاذ دونوں پہلوئوں سے نسبتاً سخت گیر اور صرف صدر کی شخصیت کے گرد (president centered) اسلوبِ کار اختیار کیا جائے گا۔ نظریاتی اور اخلاقی پہلوئوں کو غلبہ اور فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں ہوگی اور پوری پالیسی محدود اہداف کے حصول پر مرکوز ہوگی۔ مشاورت اور فیصلہ سازی کے معروف طریقوں سے بھی انحراف کیا جائے گا اور امریکا کے سیاسی نظام میں جو توازن اور تحدید کی روایت ہے، اس پر بھی بُرے اثرات پڑیں گے، جو اداروں کے درمیان تنائو اور تصادم کی حدوں کو بھی چھوسکتے ہیں۔ اسی طرح خارجہ تعلقات میں جو مقام اسٹرے ٹیجک غوروفکر اور حکمت کار کو حاصل رہا ہے اس میں تبدیلیاں آئیں گی اور زیادہ اہمیت نعروں پر مبنی، فوری نتائج کے حصول کو حاصل ہوجائے گی۔ عالم گیریت اور دوسری جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام اور اس کی صورت گری کرنے والے اداروں پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔امریکا کی اپنی فوجی اور معاشی قوت کی ترقی کو زیادہ اہمیت دی جائے گی اور امریکا کی عالمی کردار کی ازسرِنو صورت گری ہوگی۔
۲۰۱۷ء اس پہلو سے بڑا اہم سال ہوگا جس میں جنم لینے والی تبدیلی کے بڑے دُور رس اثرات امریکا میں جمہوریت کے مستقبل پر بھی پڑیں گے۔ یہ دور تخریب اور تعمیر دونوں پہلوئوں سے عبارت ہوگا۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ امریکا کے عوام اور تمام ہی سوچنے سمجھنے والے افراد، ادارے اور گروہ محض ’دیکھو اور مست رہو‘ ( wait & see) کا راستہ اختیار نہ کریں اور نہ اندھی تائید اورخون آشام مخالفت کا راستہ اختیار کریں۔ ہماری نگاہ میں کھلے ذہن کے ساتھ اس منظرنامے کا ادراک کرنا اور اس میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے مکالمے (ڈائیلاگ) کا راستہ اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس غلط فہمی سے نکلنا ضروری ہے کہ اب امریکا سے معاملات اس طرح ہوسکیں گے جس طرح ماضی میں ہوتے رہے ہیں۔ ’جس طرح ہوتا آیا ہے‘ والا دور بظاہر رخصت ہوگیا ہے۔ اب وقت نئی سوچ اور نئی راہیں تجویز کرنے کا ہے___ اور یہ چیلنج جس طرح امریکا میں آباد افراد اور تنظیموں کے سامنے ہے، اسی طرح عالمی سطح پر تمام ممالک اور اقوام کو بھی درپیش ہے۔ خصوصیت سے پاکستان اور مسلم دنیا کے حالات کا گہری نظر سے مطالعہ و تجزیہ کرکے نئے خطوط کار کی ترتیب کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ہم اللہ کی توفیق کے طالب ہیں کہ اللہ ہمیں اس بارے میں اپنے خیالات پیش کرنے کی توفیق سے نوازے۔ ہم سب اہلِ فکر کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ وقت کے اس چیلنج کے مقابلے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مستعد ہوجائیں، اس لیے کہ:
یہ بزمِ مے ہے ، یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اُٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
۲۰۱۶ء اس حیثیت سے یاد رکھا جائے گا کہ پورے سال میں مختلف حلقوں کی طرف سے ’جمہوریت کو خطرہ ہے‘ کی گھنٹیاں بجائی جاتی رہی ہیں۔ ستمبر اور نومبر تو وہ مہینے ہیں جب سول اور نیم عسکری ہرحلقے سے یہ راگ کچھ زیادہ ہی اُونچے سُروں میں الاپا گیا۔ اللہ اللہ کر کے نومبر اپنے اختتام کو پہنچا۔
جنرل راحیل شریف بڑی عزت اور اعزاز سے اپنی دستوری مدت ملازمت پوری کرکے، کسی توسیع سے دامن بچاتے ہوئے رخصت ہوئے اور فوج کی نئی کمانڈ نے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کو ہر طرح کی آمریت اور جبر کی حکمرانی سے محفوظ رکھے۔ دستور اور اس کے قائم کردہ سب ادارے اپنے اپنے دائرے میں مؤثر خدمات انجام دیں۔ ریاستی اُمور اور قومی زندگی کو چلانے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور نے جو سرخ لکیر یں واضح طور پر کھینچ دی ہیں، ان کا سب احترام کریں۔ پھر نظم و ضبط یا چیک اینڈ بیلنس کا جو نظام دستور نےقائم کیا ہے اور جو جمہوری کلچر میں معتبر ہے، وہ مؤثر اور متحرک رہے، انحراف کی تمام مخلصانہ یا شرانگیز کوششیں ناکام و نامرا د ہوں، اور یہ ملک سارے خطرات سے محفوظ رہے۔ آمین!
اس سخت اور خطرناک مرحلے سے کامیابی سے گزرنے پر، جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، اور جنرل راحیل شریف کو ان کے معیاری پیشہ ورانہ کردار اور ہر طرح کی اشتعال انگیز یوں اور ترغیبات سے دامن بچا کر گزر جانے پر ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں، وہیں قوم اور اس کے تمام بہی خواہوں اور خصوصیت سے سوچنے سمجھنے والے باثر افراد کو غوروفکر کی دعوت دینا چاہتے ہیں، کہ جمہوریت کو بچانے یا جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے باب میں اس زمانے میں جو کچھ ہوا، اس کا بے لاگ جائزہ لیں۔ خرابی جہاں بھی ہے اور خطرات جن دروازوں پر دستک دیتے رہے ہیں، ان کو شناخت کرنا اور آیندہ کے لیے پیش بندی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں غفلت بڑی مہنگی پڑسکتی ہے۔
ہم پوری دل سوزی سے بات کا آغاز اس حوالے سے کرنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں ہے کہ پاکستان ہی کی تاریخ میں غالباً یہ منفرد واقعہ ہے کہ جس میں فوج کے ایک سربراہ کو وزیراعظم اور صدرِمملکت نے اس طرح رخصت کیا ہے کہ جیسے کسی بڑے خطرے کے ٹلنے پر وہ سُکھ کا سانس لے رہے ہوں۔
حکومتی حلقے جس انداز میں ہفتوں سے اس مہم کے مقابلے میں جوابی مہم چلائے ہوئے تھے، ملک کے دَر و دیوار پر باربار جس قسم کی تحریریں رُونما ہورہی تھی، میڈیا کےدانش ور اور بعض جیالے جس جوش و خروش سے اور جس زبان میں اپنے اپنے خوابوں کو حقیقت کے رُوپ میں پیش کر رہے تھے اور تاریخوں تک کا ورد کرنے میں کسی بھی احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کر رہے تھے___ الحمدللہ وہ پورا منظرنامہ بدل گیا ہے۔ تاہم، خود جمہوریت کو جو خطرہ اس پورے کھیل سے اور اس کی ہرشکل اور ہرپہلو سے تھا اور آیندہ پھر کسی نئے عنوان سے سر اُٹھا سکتا ہے اس پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے اور مستقبل میں اس صورتِ حال سے بچنے کی تدابیر نہ کرنا بڑا عاقبت نااندیشانہ رویہ ہوگا۔
یہ امر تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومت اور فوج کے درمیان تنائو یا کش مکش (tension) موجود تھی اور اس کا اظہار عجیب و غریب صورتوں میں ہوتا رہا ہے۔ فوجی ترجمانوں کے بیانات اور سوشل میڈیا پر مختصر پیغامات (tweets) کا تبادلہ یا سہارا بھی معمول کے مطابق نہیں تھا۔ پھر عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان مناقشے پر مبنی گمراہ کن خبر کا روزنامہ ڈان میں شائع ہونا اور اس کے بعد حکومت اور عسکری ذرائع دونوں کی طرف سے حقائق کو بے نقاب کرنے یا معاملات کو اور زیادہ گنجلک کرنے کے سلسلے میں جو کچھ کیا گیا، وہ بڑا تکلیف دہ تھا۔ ایسی بدنما صورتِ حال سے آیندہ بچنے کی فکر ازبس ضروری ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کے ایک بڑے حصے کا کردار بھی بڑا پریشان کن ہے۔ ہم نے دنیا کے کسی بھی مہذب جمہوری ملک کے میڈیا پر ساری آزادی کے باوجود ایسے حساس اُمور پر اس قسم کی لاف زنی کی کوئی مثال نہیں دیکھی۔ ہم اس غیر ذمہ دارانہ رویے کو ملک میں جمہوریت کے مستقبل اور اداروں کے درمیان غلط فہمیوں کے فروغ، نیز تعاون اور توازن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
اس پس منظر میں سینیٹ کے چیئرمین جناب میاں رضا ربانی کا انٹرنیشنل پارلیمانی یونین کے پلیٹ فارم سے بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے بجا طور پر جمہوریت کو لاحق خطرات کی احتیاط سے نشان دہی کی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی، تمام اداروں کے اپنے اپنے حدود میں کام کرنے اور احتساب کے باب میں سب کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے اور کسی کے لیے بھی ’مقدس گائے‘ نہ ہونے کی بات کر کے قوم کو بڑے بنیادی مسائل کی طرف متوجہ کیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ کی باتوں سے عمومی اتفاق کے ساتھ ہم یہ کہنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی دستور کے فریم ورک کے اندر ہے اور پارلیمنٹ بھی اسی طرح دستور کی تخلیق (creature) ہے، جس طرح دوسرے تمام ادارے، خصوصیت سے انتظامیہ، عدلیہ، فوج اور آزادیِ صحافت۔
جمہوریت کو جو حقیقی خطرات آج درپیش ہیں، ان میں جہاں فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ کا اپنے اپنے دائرے کے اندرمحدود رہنا ضروری ہے، وہیں پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام کی پیداوار حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دستور اور جمہوری کلچر اور ان کے اصول و آداب کا پورا پورا احترام کرے۔ سیاسی جماعتوں کی تنظیم اور ان کا کردار بھی جمہوری، دستوری اور آئین کی حکمرانی کے باب میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی اُمور میں فوج کی مداخلت، خواہ وہ کسی بھی عنوان سے ہوئی ہو اور اس نے کیسی ہی تائیدِ اعتبار (validation) حاصل کرلی ہو، وہ فی الحقیقت ملک کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ بات صرف ملک کی سیاست، معیشت، معاشرت اور خارجہ تعلقات تک محدود نہیں رہی، خود ملک کی سلامتی، اس کے نظریاتی اور جمہوری تشخص اور فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت ہرچیز پر اس کے منفی اثرات پڑے ہیں۔ دفاعی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ سیاست میں فوج کی شرکت سے نہ صرف کرپشن میں اضافہ ہوا بلکہ خود فوج کا دامن جس طرح کرپشن سے پاک ہونا چاہیے، وہ بھی داغ دار ہوا ہے۔ اس سب پر مستزاد فوج کا بیرونی حکومتوں سے براہِ راست تعلق، بیرونی قوتوں کا ملک میں دراندازیوں میں خطرناک حد تک اضافے کا ذریعہ بنا ہے۔ یہ عمل جنرل محمد ایوب خان کے زمانے ہی میں شروع ہوگیا تھا، جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں اپنی انتہا کو پہنچا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے زمانے میں ایک عرصے تک یہ سلسلہ جاری رہنے کے بعد، اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور جنرل راحیل شریف کے زمانے میں نمایاں فرق پڑا۔ ہم کس مقام تک گر گئے تھے، اس کا ادراک ضروری ہے، تاکہ بگاڑ کو اس کی ہرشکل میں روکا جاسکے۔
جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف امریکی صدربش اور وزیرخارجہ کولن پاول کے حکم (ستمبر ۲۰۰۱ء) پر ملک کو امریکیوں کی آماج گاہ بنایا بلکہ ملک کی آزادی و خودمختاری کو پارہ پارہ اور امن و امان کو تباہ و برباد کیا۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ ملک کے سیاسی معاملات میں بھی امریکا کو وہ اثر و نفوذ فراہم کیا، جس کا تصور بھی دل ودماغ کو مفلوج کردیتا ہے۔ پاول کے بعد کونڈالیزا رائس امریکا کی وزیرخارجہ اور بش کے زمانے میں کرتا دھرتا تھیں۔ موصوفہ نے اپنی خودنوشت میں جو صورتِ حال بیان کی ہے، وہ غور سے پڑھنے کی چیز ہے۔ اس کے آئینے میں اپنی سیاسی اور فوجی قیادت کی کارگزاریوں سے واقف ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے سیاسی کھیل اور ملک کی سلامتی اور مفادات کا سودا کرنے کا دروازہ بندکیا جاسکے۔ جنرل مشرف صاحب آج دستور کی دفعہ۶ سے بھاگتے پھر رہے ہیں اور اب بھی ٹی وی شوز پر غداری کے الزام پر غصے میں آجاتے ہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ کونڈالیزارائس کی خودنوشت کے آئینے میں ان کی جو اصل شکل نظر آتی ہے، وہ بڑی عبرت ناک ہے۔ اس میں اس وقت کی پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ کا بھی جو کردار سامنے آتا ہے، وہ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ بات جب ذاتی مفاد کی ہو تو بدقسمتی سے ہرقیادت، چاہے وہ عسکری راستے سے اقتدار میں آئی ہو یا سیاسی دروازے سے، اس کی جو شکل قوم کے سامنے ہے اس پر شرمندگی ہوتی ہے۔
۲۰۰۷ء کے شروع میں جنرل مشرف صاحب نے خود امریکیوں سے درخواست کی کہ: ’’مَیں بے نظیر بھٹو صاحبہ سے مفاہمت چاہتا ہوں اور اس کے لیے امریکا کی معاونت چاہیے‘‘۔ ان کی اس خواہش کے جواب میں کونڈا لیزا رائس نے درمیانی کردار ادا کیا، جو بالآخر ۴؍اکتوبر ۲۰۰۷ء کو باقاعدہ معاہدے پر منتج ہوا۔ اس سلسلے میں امریکی سفیر متعینہ اسلام آباد پیٹرسن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ معاہدے کے تین بنیادی نکات تھے:
۱- جنرل پرویز مشرف اپنی وردی اُتار دیں گے۔
۲- بے نظیر صاحبہ اور ان کے شوہر کے خلاف کرپشن کے جو مقدمات ہیں، انھیں ان کی گرفت سے خلاصی اور ضمانت دی جائے گی کہ اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
۳- دستوری ترمیم کی جائے گی جس کے نتیجے میں تیسری بار وزیراعظم بننے پر [۱۷ویں ترمیم کے ذریعے] جو پابندی ہے، وہ ختم کردی جائے گی۔
اس سارے بول تول اور معاملہ بندی میں امریکی صدر بش براہِ راست شریک تھے اور بے نظیر صاحبہ نے انھیں صاف کہا تھا کہ مَیں جنرل مشرف کے وعدے پر اعتماد نہیں کرتی، اور صرف امریکا کی ضمانت پر اس معاہدے میں شریک ہوسکتی ہیں۔ کونڈا لیزا رائس کے الفاظ:
"She didn’t trust Musharraf", adding that "I am taking this as a US guarantee that he will".
واضح رہے کہ خفیہ طور پر یہ معاہدہ اس وقت ہو رہا تھا، جب ’لندن معاہدے‘ کے تحت بے نظیر صاحبہ اور میاں نوازشریف صاحب نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی فوجی حکمرانوں سے بات چیت نہیں کرے گا۔ بلاشبہہ مشرف صاحب نے ۳نومبر ۲۰۰۷ء کی ایمرجنسی کے ذریعے بے نظیر سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بے نظیر صاحبہ نے بھی اس سے براءت کا اعلان کرتے ہوئے اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی حمایت کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر فرخ سلیم ۱۳نومبر ۲۰۱۶ء کے دی نیوز میں یہ ساری تفصیل دینے کے بعد ہماری سیاست اور اس میں امریکا کے کردار کا جو خلاصہ پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے:
۱- امریکی پاکستان میں حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
۲- امریکی پاکستان میں ایسی قیادت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالتے ہیں، جسے وہ ’ماڈریٹ‘ تصور کرتے ہیں۔
۳- ہمارے سیاست دان ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے اور عموماً امریکا کی ضمانت چاہتے ہیں۔
۴- امریکی کرپٹ سیاست دانوں کو ’محفوظ‘ کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔ (دی نیوز، ۱۳نومبر ۲۰۱۶ء)
واضح رہے کہ کونڈا لیزا رائس اپنی سوانح میں اپنے اس کردار کے بارے جو بات لکھتی ہیں وہ ہرپاکستانی کو اچھی طرح سمجھنی چاہیے اور جو نظریاتی جنگ آج عالمی سطح پر ہورہی ہے اس کی نوعیت کو سمجھنا چاہیے۔ پرویز مشرف اور بے نظیر کو شراکت ِ اقتدار کے اسٹیج پر لانے کے لیے امریکا کا اصل محرک کیا تھا؟ اس بارے میں کونڈا لیزا رائس کے الفاظ بہت واضح، اور قوم کے لیے چشم کشا ہیں:
اگر دو حریف طاقت میں تعاون کا معاہدہ کرسکیں، تو اس سے سیاست کا وزن ماڈریٹ (قیادت) کی طرف منتقل ہوجائے گا اور اسلام پسندوں کے وزن کو کم کردے گا۔ جیساکہ سابق وزیراعظم نوازشریف، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں دیگر نمایاں شخصیات کے مقابلے میں وہ عسکریت پسندوں سے تعلقات نبھانا چاہتے ہیں۔
مشرف صاحب نے یہی نہیں کیا بلکہ بھارت کی شرائط پر کشمیر کے مسئلے کو پانی پانی کرنے (liquidate ) اور بھارتی قیادت کی وضع کردہ ’دہشت گردی‘ کی تعریف کو قبول کرنے کے جرم کا بھی فخریہ انداز میں ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں اصل دہشت گردی کو تحریکِ آزادی اور حقِ خوداختیاری (right of self determination) کی اس جدوجہد کے برابر کی سطح پر لاکھڑا کیا گیا جس بارے میں خود بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مسئلۂ کشمیر پر ہمارے قومی موقف کو تسلیم کر رکھا ہے۔ اس پسپائی نے ہمارے قومی موقف کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
پھر مشرف صاحب نے خود ملک کی سیاست میں ان عناصر کو گلے سے لگایا اور انھیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا، جو منظم عسکری قوت کو سیاست میں بے دریغ استعمال کر رہے تھے۔ وہ بھتّا خوری، قتل و غارت گری، ٹارگٹ کلنگ، ناجائز قبضے اور میڈیا اور سیاسی مخالفین کو دہشت زدہ کرنا، ان عناصر کا معمول تھا۔ ان کی قیادت بھارت کی تقسیم کو تاریخی غلطی قرار دیتی تھی، اس نے بھارت کی سرزمین پر پاکستان کے قیام کی مخالفت کی، اور اس کے بارے میں تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں بشمول آئی ایس آئی اور ایم آئی کو یقین تھا کہ بھارت اور اس کی ایجنسی ’را، ان کی مالی سرپرستی کر رہی ہے، ان کی دہشت گردی کی عسکری تربیت کا اہتمام کرتی ہے اور یہ بھارت اور برطانیہ دونوں کے آلۂ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
حال ہی میں صوبہ سندھ میں ۱۴برس تک براجمان رہنے والے گورنر عشرت العباد اور جنرل مشرف کے منظورِ نظر کراچی کے میئر نے ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کہا ہے، حقیقت میں دونوں کے ’ارشادات‘ حرف بہ حرف درست ہیں۔ البتہ سوال ان قیادتوں پر ہے، خواہ ان کا تعلق فوج کے دائرۂ اقتدارسے تھا یا سیاست دانوں کے میدانِ کار سے: یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ’ن‘ اور مسلم لیگ ’ق‘ وغیرہ کہ جنھوں نے ان عناصر کی نازبرداری کی، انھیں سینے سے لگایا اور انھیں کھل کھیلنے کا ہرموقع فراہم کیا۔
پرویز مشرف چونکہ صدر ہی نہیں، فوج کے سربراہ بھی تھے، اس لیے ان کے دور میں جو کچھ ہوا، عوام کی نگاہ میں اس کی ذمہ داری میں فوج بہ حیثیت ادارہ بھی شریک تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں خود فوج کو اپنے جوانوں کو یہ ہدایت دینا پڑی کہ وہ فوجی وردی میں سول ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے سے اجتناب کریں۔ اللہ کا شکر ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے رخصت ہونے کے بعد یہ صورتِ حال ختم ہوئی۔ یوں فوج اور قوم کے اعتماد کا رشتہ بحال ہوا اور خصوصیت سے جنرل راحیل شریف کے دور میں فوج نے پھر وہ عزت اور اعتماد حاصل کرلیا، جو پاکستان کی قومی زندگی میں ہمیشہ اس کا طرئہ امتیاز رہا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم دل پر پتھر رکھ کر اور ندامت کے احساس کے ساتھ امریکی مداخلت کی ایک اور مثال ضرور قوم کے سامنے لانا چاہتے ہیں تاکہ قوم کو اندازہ ہوسکے کہ ملک کے سیاسی اور فوجی معاملات میں امریکی مداخلت اور اثراندازی کہاں تک پہنچ چکی ہے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ جو اخباری اطلاعات کے مطابق دنیا میں سب سے بڑا امریکی سفارت خانہ ہے، کیا کیا گُل کھلاتا رہتا ہے اور ہماری سیاسی قیادت کس حد تک اس کے ہاتھوں کھیلنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔
بروس ریڈل جو امریکی سی آئی اے میں اعلیٰ افسر اور امریکا کے چار صدور کے مشیر بھی رہے، وہ اپنی یادداشتوںDeadly Embrace میں لکھتے ہیں:
واشنگٹن پس پردہ اس مقصد کے لیے متحرک تھا کہ جنرل پرویز کیانی کی اُس مدتِ ملازمت میں توسیع ہو، جو ۲۰۱۰ء میں ختم ہورہی تھی، جب کہ [یوسف رضا] گیلانی کی حکومت جو بعض وجوہ سے جنرل کیانی کو برقرار رکھنا چاہتی تھی اور تین سال کی توسیع دینا چاہتی تھی۔
جمہوریت کو خطرہ سیاست میں فوج کی مداخلت ہی سے نہیں ہے بلکہ فوج اور سیاسی معاملات میں امریکا اور دوسری بیرونی قوتوں کی کارفرمائیوں سے بھی یہ خطر ہ ہے۔ سیاسی قیادت بھی ان معالات میں شریکِ کار رہی ہے۔ یہ رویے جمہوریت، پاکستان کی سلامتی، آزادی، شناخت کی حفاظت، ترقی، عوام کی آرزوئوں اور عزائم کے مطابق تعمیروتشکیل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ویسے تو آج جمہوریت کو ساری دنیا ہی میں خطرات سے سامنا ہے۔ یورپ اور امریکا میں شدت پسند اور بند ذہن والی دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کے عروج اور سیاسی اُفق پر چھا جانے کے امکانات نے ان خطرات کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ خود امریکا میں حالیہ صدارتی انتخاب (۸نومبر ۲۰۱۶ء) کے جو نتائج سامنے آئے ہیں، وہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان میں امریکی سفیر نے، اخباری اطلاعات کے مطابق، انتخابات پر ایک تقریب میں اقبال کا سہارا لیتے ہوئے اشارتاً اعتراف کیا ہے کہ ؎
جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے
ہم موصوف کی خوش ذوقی، سیاسی جرأت اور سخن فہمی کی تو داد دیتے ہیں، لیکن ان کو یاد کرانے کی جسارت کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سلسلے میں تو امریکی جمہوریت اس (گنتی والے) معیار سے بھی دُور ہی نظر آتی ہے، کیونکہ ہیلری کلنٹن صاحبہ نے ان سے بیس لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کیے ہیں۔ تین ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑ کی بھی خبریں ہیں اور فنڈ ریزنگ مہم جاری ہے کہ وہاں دوبارہ گنتی کرائی جائے جسے Physical recountکہا جاتا ہے ۔
سیاسی معاملات میں فوج کی کھلی یا پس پروہ مداخلت اور قومی سیاسی اُمور پر پبلک اظہارِ راے، جمہوری روایات اور دستور کے الفاظ اور روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح فوج پر ناروا تنقید اور اسے سیاسی مخالفت یا سیاسی کردار پر اُبھارنا بھی دستور کی روشنی میں ایک سنگین جرم ہے، جس کا یہاں کھلے بندوں ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ اب مستقل بنیادوں پر ختم ہونا چاہیے۔ جمہوریت کے استحکام کے لیے یہ اولین ضرورت ہے۔
رضاربانی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ فیصلہ سازی کا محل پارلیمنٹ اور اسلام آباد ہے۔ راولپنڈی [یعنی جی ایچ کیو]کا کردار قومی سلامتی اور دفاع کے نقطۂ نظر سے سیاسی قیادت کو باخبر رکھنا اور پالیسی سازی میں بلارُو رعایت اپنی راے پیش کر دینا مسلّم ہے۔ لیکن اصل فیصلہ باہمی مشاورت سے اور سیکورٹی، ڈپلومیسی، ملکی مفادات، عوام کے جذبات و احساسات اور نظریاتی، اخلاقی اصولوں اور ملکی مصالح کی روشنی میں سیاسی قیادت ہی کو کرنا چاہیے، اور معرو ف طریقے سے دستوری اداروں کے ذریعے کرنا چاہیے۔ جنھیں ذاتی اور شخصی ترجیحات اور مفادات سے پاک ہونا چاہیے۔
اس سلسلے میں اگر فوجی قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ حدود کا احترام کرے تو سیاسی قیادت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ فیصلہ سازی کا وہی طریقہ اختیار کرے، جو دستور نے طے کیا ہے، جس کی حدود اور آداب کو قانون اور اعلیٰ عدالت کے فیصلوں میں بھی واضح کر دیا گیا ہے، مگر بدقسمتی سے ہماری سیاسی حکومتیں ان کا احترام نہیں کرتیں۔ اس طرح وہ صرف جمہوریت ہی کو پامال کرنے کی مرتکب نہیں ہوتیں بلکہ ملک و قوم کو بھی بہترین اور مفید ترین فیصلوں سے محروم رکھتی ہیں۔ یوں اپنے شخصی رجحانات کو فیصلہ سازی پر مسلط کرکے دستور، قوم اور جمہوری کلچر سے بے وفائی کی مرتکب ہوتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت جمہوری رویہ اختیار کرنے کے بجاے خالص آمرانہ رویہ اختیار کرنے کی بھی مجرم ہے۔ وہ جمہوریت کی جگہ ’بادشاہت‘ کو اپنا ماڈل سمجھتی ہے اور عملاً شاہانہ انداز ہی میں فیصلے کرتی ہے اور شاہانہ انداز ہی میں زندگی گزارتی ہے۔ ہم بڑے دُکھ سے کہتے ہیں کہ دونوں بڑی حکمران جماعتیں اور ان کی قیادتیں اس باب میں ایک ہی جیسا رویہ رکھتی ہیں۔ حزبِ اختلاف اور حکمران جماعت دونوں ہی میں ایک مختصر ٹولا ہے، جو سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے۔
جماعت اسلامی کے سوا کوئی پارٹی ایسی نہیں ہے، جس کے اندر جمہوریت ہو۔ ’پلڈاٹ‘ اور ’فافن‘ کی رپورٹیں اس پر شاہد ہیں، لیکن اگر یہ رپورٹیں نہ بھی ہوتیں تو پوری قوم بچشم سر اس کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ مسلم لیگ کی قیادت پر ایک خاندان اور اس کے چند معتمدعلیہ ساتھیوں کو مکمل غلبہ حاصل ہے۔ پارٹی کی نہ حقیقی ممبرشپ ہے اور نہ پارٹی کا اپنا کوئی مشاورتی اور فیصلہ کرنے کا نظام ہے۔ عدالت اور الیکشن کمیشن کے حکم پر نمایشی انتخابات کیے گئے ہیں۔ مجلس عاملہ کا اجلاس ساڑھے تین سال کے بعد صرف انتخابات کی خانہ پُری کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ غضب ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا کوئی اجلاس برسوں گزر جاتے ہیں، منعقد نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ مرکزی کابینہ کا اجلاس بھی کئی کئی مہینے منعقد نہیں ہوتا، حالاں کہ ’رولز آف بزنس‘ [ضوابطِ کار]کی رُو سے ہفتے میں ایک بار کابینہ کا اجلاس ہونا چاہیے۔
مَیں گواہی دیتا ہوں کہ جنرل محمد ضیاء الحق کی حکومت جو ایک فوجی حکومت تھی لیکن ایک معاہدے کے تحت ’پاکستان قومی اتحاد‘ جس طرح ساڑھے آٹھ مہینے حکومت میں شریک رہا، اس کی کابینہ کا اجلاس ہرہفتے ہوتا تھا اور کئی کئی گھنٹے بلکہ پورا پورا دن جاری رہتا تھا اور ایک ایک پالیسی ایشو پوری بحث کے بعد طے ہوتا تھا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ۱۹۹۰ کے عشرے میں ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ (آئی جے آئی) کی حکومت کے زمانے میں کابینہ کے اجلاسوں کی باقاعدگی میں خلل کا آغاز ہوگیا اور اب تو ایسا بھی ہوا ہے کہ کابینہ کا اجلاس سات یا آٹھ مہینے کے بعد منعقد ہوا ہے، اور سپریم کورٹ کو باقاعدہ اپنے فیصلے میں احتساب کرنا پڑا ہے کہ: ’’وزیراعظم کابینہ کے فیصلے کے بغیر ایسے فیصلے اور اقدام کر رہے ہیں جن کے وہ مجاز نہیں‘‘۔ حد یہ ہے کہ ٹیکس لگانے، لیوی کا اطلاق کرنے اور ٹیکس سے چھوٹ دینے تک کا کام جو کابینہ کے فیصلے کے بغیر ہوہی نہیں سکتا، وہ بھی بے دریغ انداز میں کیا جارہا ہے۔ دسیوں وزیر ایسے ہیں کہ جو وزیراعظم کا چہرہ مہینوں تک نہیں دیکھ پاتے۔
اسی طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ کا بھی یہ حال ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور قومی معاملات کے سلسلے میں فیصلوں پر اثراندازی سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ حکمران پارٹی کے ارکان تک کسی شمار قطار میں نہیں۔ ان کی سعادت بس یہ ہے کہ اگر وزیراعظم صاحب اسمبلی میں آئیں، جو وہ شاذونادر ہی آتے ہیں کہ گذشتہ ساڑھے تین سال میں وہ صرف ۱۹ فی صدی اجلاس میں شریک ہوئے ہیں، تو اس وقت ممبر لائن لگاکر اپنے کام درخواستوں کی شکل میں پیش کرتے ہیں___ یہ ایک ایسی بدنما مثال ہے جس کی کوئی نظیر جمہوری ملک کی پارلیمنٹوں میں دُور دُور تک نہیں ملتی۔
اسی طرح جو دستوری ادارے ہیں، یعنی: کونسل آف کامن انٹرسٹ، نیشنل اکانومک کونسل، این ایف سی اوارڈ کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی براے دفاع و قومی سلامتی، ان کے اجلاس مہینوں تک نہیں ہوتے، جس کے نتیجے میں تمام دوسرے متعلقہ ادارے بروقت مشاورت میں شرکت سے محروم رہتے ہیں۔ اگر چار و ناچار اجلاس ہوتے بھی ہیں تو نہایت عجلت میں، مناسب ایجنڈے اور ورکنگ پیپرز کے بغیر، بس رواروی میں معاملات کو نمٹانے کے لیے۔اصل فیصلہ وزیراعظم خودیا ان کے چند چہیتے وزیر اور مشیر کرتے ہیں ۔ یہ رویہ جمہوریت کی ضد اور اس کے فروغ کے لیے سمِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جمہوریت کو خطرہ صرف طاقت کے دوسرے ماخذ ہی سے نہیں، سیاسی قیادت کے مجرمانہ رویے کے نتیجے میں طاقت کے اس ارتکاز سے بھی ہے۔جب تک یہ درست نہ ہو جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی۔
ہم دُکھ سے عرض کرتے ہیں کہ پارلیمان بھی اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ نصف کے قریب ارکان وہ ہیں، جنھوںنے کبھی تقریر کرنے یا بحث میں حصہ لینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ ایک بڑی تعداد بشمول بہت سی پارٹیوں کے سربراہ، وہ کلیدی ارکان ہیں جن کی اجلاسوں میں شرکت ۱۰ فی صد سے بھی کم ہے۔ اسمبلی میں جن ۱۵؍ارکان کی کارکردگی سب سے بہتر ہے، ان میں حکومتی پارٹی کا صرف ایک رکن ہے۔ الحمدللہ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے ارکان کا کردار مثالی ہے۔سب سے بہتر کارکردگی کا اعزاز جمعیت علماے اسلام کی خاتون رکن نعیمہ کشور کا ہے، جن کا اسکور ۷۰ فی صد رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے چاروں ارکانِ اسمبلی اوّلین ۱۰؍ارکان میں شامل ہیں اور اس طرح جماعت اسلامی کا اسکور ۱۰۰ فی صد رہا ہے ، جب کہ اسمبلی میں کارکردگی کے حوالے سے سب سے کم شرکت کا سہرا فریال تالپور صاحبہ کا ہے، جو زرداری صاحب کی بہن اور پیپلزپارٹی کی بڑی حد تک کرتا دھرتا ہیں۔ بدقسمتی سے کم ترین کارکردگی دکھانے والوں میں محترم عمران خان صاحب، مسلم لیگ ن کے ’گلِ سرسبد‘ حمزہ شہباز شریف بھی شامل ہیں، ان کا اسکور ۲۰ فی صد سے بھی کم ہے۔ جماعت اسلامی کو اعلیٰ کارکردگی کا یہ اعزاز پہلی مرتبہ حاصل نہیں ہو رہا۔ ۱۹۷۲ء کی اسمبلی میں پروفیسر عبدالغفور احمد کو یہ اعزاز حاصل تھا۔ ۱۹۸۵ء کی اسمبلی میں لیاقت بلوچ سرفہرست تھے۔ سینیٹ کے ۲۱برسوں میں الحمدللہ، راقم الحروف کی اوّل پوزیشن رہی۔ آج بھی سینیٹ کے ۱۰ مؤثر ترین ارکان میں امیرجماعت برادرم سراج الحق اپنی تمام دوسری ذمہ داریوں کے باوجود شامل ہیں۔
اگر پارلیمنٹ اور ارکانِ پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے، تو پارلیمنٹ کی بالادستی کے بارے میں کتنے ہی خوش کُن دعوے آپ کیوں نہ کرڈالیں، پارلیمنٹ بالادست نہیں ہوسکتی۔ آج پارلیمنٹ ایک نمایشی ادارہ بنادی گئی ہے۔ ہرسال دسیوں بار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس برخاست کرنا پڑتے ہیں۔ سوالات کرنے والے کم ہیں اور جو سوال کیے جاتے ہیں، ان میں تین چوتھائی جواب سے محروم رہتے ہیں۔ آدھی قانون سازی آرڈی ننس کے ذریعے کی جاتی ہے اور انتظار کیا جاتا ہے کہ اسمبلی برخاست ہو اور آرڈی ننس نازل کر دیا جائے۔ کمیٹیاں کچھ ہی متحرک ہیں، تاہم سینیٹ کی کمیٹیاں زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ چودھری نثار علی خاں کے دورِ صدارت میں قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن موجودہ دور میں گو کہ قائد حزبِ اختلاف اس کے سربراہ ہیں، اس کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔ سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے دورِحکومت کے اکائونٹس کا احتساب اس کمیٹی کا ایجنڈا ہے، جس کے سربراہ پیپلزپارٹی کے نمایندہ ہیں ؎
گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا
کار طفلاں تمام خواہد شد
عدلیہ کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش
سپریم کورٹ کے محترم چیف جسٹس ظہیرجمالی صاحب اور دوسرے جج حضرات نے گذشتہ دو مہینوں میں چار مرتبہ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بدترین حکمرانی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ’اچھی حکمرانی‘ کا فقدان ہے۔ ذاتی پسندوناپسند رہنما اصول بن گئے ہیں اور بادشاہت کے انداز میں کارِ حکمرانی انجام دیے جارہے ہیں۔ احتساب کا دُور دُور پتا نہیں، تقرریاں میرٹ سے محروم ہیں۔ اعلیٰ عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے اہم محکمے قائم مقام سربراہوں کی نگرانی میں چل رہے ہیں اور وہاں بھی بالعموم مطلوبہ گریڈ سے ایک گریڈ کم کے افسر کو لگایا گیا ہے تاکہ وہ حکمرانوں کے اشارئہ چشم و ابرو پرکام کرے اور اختلاف کی جرأت نہ کرسکے۔ جو افسر اصول اور قواعد کا احترام کرتا ہے، وہ نظروں سے گرتا ہے اور انتقامی کارروائی کا مستحق بن جاتا ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک شعبے کا نہیں، اہم ترین شعبوں کا بھی یہی حال ہے۔
وزیراعظم صاحب کے اہلِ خانہ (جن کی کوئی نمایندہ حیثیت نہیں اور جنھوں نے ’رازداری‘کا حلف بھی نہیں لیا ہے) سرکاری معاملات میں دخیل اور پالیسی بنانے،نافذ کرنے یا نگرانی کرنے پر مامور ہیں۔ سرکاری تقاریب میں شریک ہوتے ہیں۔ جن محفلوں اور اجتماعات میں ’رازداری‘ اصل الاصول ہے، ان میں شرکت کرتے ہیں اور اخباری اطلاعات کے مطابق اپنی مرضی سے جو معلومات آشکارا (leak) کرنا چاہتے ہیں ، بے دھڑک کرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ اندازِ حکمرانی جمہوریت کے لیے سمِ قاتل ہے اور اقتدار میں نوازشریف ہوں یا بے نظیر صاحبہ یا زرداری صاحب، سب جمہوریت کے اس قتل میں شریک ہیں۔ جمہوریت کو آج اصل خطرہ اسی طرزِ حکمرانی سے ہے۔اور جب تک اس کی اصلاح نہیں ہوتی، جمہوریت ایک خواب رہے گی، حقیقت نہیں بن سکتی۔ چیف جسٹس صاحب نے اورنج ٹرین کے مقدمے کی سماعت کے دوران بڑے دُکھ سے جو بات کہی ہے، وہ نوشتۂ دیوار اور پاکستان کے ہرمخلص بہی خواہ کے دل کی آواز ہے۔ ان کا ارشاد ہے:
جمہوریت کے نام پر بادشاہت اور اچھی طرزِ حکمرانی پر بُری حکمرانی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کے عوام اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں .... عوام کو چاہیے کہ ووٹ دیتے وقت دُور اندیشی سے ان معاملات پر نظر رکھیں۔
چیف جسٹس کے ان ریمارکس پر حکومت کے ترجمان اور کاسہ لیس بڑے سیخ پا ہوئے ہیں اور عدالت کے رویے کو جمہوریت کے لیے ’خطرہ‘ بنا کر پیش کر رہے ہیں، لیکن دستور کی دفعہ۱۸۴ (ج) اور دفعہ ۱۸۷ ، اعلیٰ عدالت کی یہ ذمہ داری مقرر کرتی ہیں کہ مفادِ عامہ، بنیادی حقوق کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنے غیرمحدود اختیارات کو استعمال کرے اور اصلاحِ احوال کے لیے ضروری احکام جاری کرے۔ دستور نے نظم و ضبط کا یہ نظام قائم کیا ہے اور جمہوریت کے قیام اور استحکام کے لیے اس کی کلیدی اہمیت ہے اور یہ حکومت کو اُن مواقع پر لگام دینے کے لیے ضروری ہے جب وہ جمہوری اصولوں اور دستور کے الفاظ اور روح سے انحراف کرتے ہوئے بادشاہت، آمریت یا جمہوری اقدار کی پامالی کی راہ پر گامزن ہو:
دفعہ ۱۸۷: ۱- عدالت ِ عظمیٰ کو بہ اخراج ہر دیگر عدالت کے، کسی دو یا دو سے زیادہ حکومتوں کے درمیان کسی تنازع کے سلسلے میں ابتدائی اختیارِ سماعت حاصل ہوگا۔
تشریح: اس شق میں ’حکومتوں‘ سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مراد ہیں۔
۲- شق (۱) کی رُو سے تفویض کردہ اختیارِ سماعت کے استعمال میں عدالت ِ عظمیٰ صرف استقراری فیصلے صادر کرے گی۔
۳- آرٹیکل ۱۹۹ کے احکام پر اثرانداز ہوئے بغیر ، عدالت ِ عظمیٰ کو، اگر وہ یہ سمجھے کہ حصہ دوم کے باب۱ کے ذریعے تفویض شدہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کا کوئی سوال درپیش ہے، تو مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ نوعیت کا کوئی حکم صادر کرنے کا اسے اختیار ہوگا۔
اسی طرح دفعہ۱۸۷ بہت واضح ہے:
دفعہ ۱۸۷ : (۱) (آرٹیکل ۱۷۵ کی شق (۲) کے تابع) عدالت عظمیٰ کو اختیار ہوگا کہ وہ ایسی ہدایات، احکام یا ڈگریاں جاری کرے، جو کسی ایسے مقدمے یا معاملے میں جو اس کے سامنے زیرسماعت ہو، مکمل انصاف کرنے کے لیے ضروری ہوں، ان میں کوئی ایسا حکم بھی شامل ہے، جو کسی شخص کے حاضر کیے جانے، یا کسی دستاویزکو برآمد کرنے یا پیش کرنے کے لیے صادر کیا جائے۔
(۲) ایسی کوئی ہدایت، حکم یا ڈگری پاکستان بھر میں قابلِ نفاذ ہوگی اور جب اس کی تعمیل کسی صوبے میں، یا کسی ایسے قطعے یا علاقے میں کی جانی ہو، جو کسی صوبے کا حصہ نہ ہو، لیکن اس صوبے کی عدالت عالیہ کے دائرۂ اختیار میں شامل ہو، تو اس کی اسی طرح سے تعمیل کی جائے گی گویا کہ اسے اس صوبے کی عدالت ِ عالیہ نے جاری کیا ہو۔
دونوں دفعات بہت واضح ہیں اور عدالت ِ عالیہ کو صرف یہ اختیار ہی نہیں دیتیں، بلکہ اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ وہ حقوق کی حفاظت اور عدل کی فراہمی کے سلسلے میں ہرحکومت اور حکومت کے ہر فرد اور ہرحکم، خواہ اس کا تعلق ان میں سے کسی بھی ادارے سے ہو، یعنی سیاسی قیادت، انتظامیہ، میڈیا، عسکری حکام اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ عدالت: دستور، قوم اور اللہ تعالیٰ سب کے سامنے جواب دہ ہے۔ وہ یہ حلف لیتی ہے کہ خدا کو حاضروناظر جان کر اسلامی نظام کے قیام اور دستور اور قانون کے مکمل نفاذکے لیے ہرمفاد سے بالا ہوکر اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔
موجودہ وفاقی حکومت، اعلیٰ عدلیہ کے اس دستوری کردار سے اتنی خائف ہے کہ اس نے رات کی تاریکی میں ۲۴ویں دستوری ترمیم لانے کی کوشش کی، کہ دفعہ ۱۸۴ (ج) کے تحت عدالتی احکام پر نظرثانی کی کارروائی کا اسے اختیار دیا جائے۔ یہ جمہوریت اورعدل کے نظام کو کمزور کرنے اور انصاف کے تقاضوں کے نفاذ میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے مترادف ہے اور پارلیمنٹ، عوام اور تمام سیاسی اور دینی قوتوں کو اس ترمیم کا راستہ روکنا چاہیے۔
اس موقعے پر ایک قومی امانت کو قوم تک پہنچانے کے جذبے سے میں اپنا ایک واقعہ ضبط ِ تحریر میں لارہا ہوں جو وزیراعظم محمد نواز شریف کے ذہن اور اندازِ حکمرانی کو سمجھنے میں مددگار اور ان کے رفقاے کار کی اپنی ذمہ داری بہ حُسن و خوبی انجام نہ دینے کی مثال ہے:
یہ بات ہے ۱۹۹۰ء کی آئی جے آئی کے زمانۂ حکومت کی۔ہم نے وزارت میں شرکت نہیں کی تھی، لیکن پارلیمنٹ میں پارٹی آئی جے آئی کی تھی، جس میں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی اہم شریکِ کار تھیں۔ اقتدار میں آنے کے چند ہی مہینے بعد، نواز شریف صاحب نے بارھویں دستوری ترمیم ۱۹۹۱ء کا سلسلہ شروع کیا۔ اصل مسودے کے دو اہم حصے تھے: ایک یہ کہ نفرت انگیز اور وحشیانہ جرائم کے لیے اپیل کورٹس مقرر کی جائیں، اور دوسرے یہ کہ وزیراعظم کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے صواب دیدی اختیارات کے تحت، دستور کی جس شق کو چاہے وقتی طور پر معطل کرسکے اور معطلی کی مدت کے تعین کا اختیار بھی وزیراعظم ہی کو حاصل ہو۔ جب یہ مسوّدہ ہمارے سامنے آیا تو قاضی حسین احمد مرحوم اور میں نے اس کی بھرپور مخالفت کی، جو نوازشریف صاحب کے لیے بڑی ناگوار تھی۔ ہم نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ حق نہ ہم اپنے لیے لینا پسند کریںگے، نہ آپ کے لیے اور نہ کسی اور کے لیے، بشمول صدرِ مملکت۔ پھر صدر غلام اسحاق خان صاحب نے بھی اس کی سخت مخالفت کی اور میاں صاحب کو دستوری ترمیم کا یہ حصہ مسوّدے سے خارج کرنا پڑگیا۔ نوازشریف صاحب سے ہماری گفتگو کے دوران مسلم لیگ کے کئی وزرا بھی شریک تھے، جو پوری میٹنگ میں تو مکمل طور پر خاموش رہے لیکن میٹنگ ختم ہونے کے بعد ان میں سے تین نے، یعنی: جنرل مجید ملک، وسیم سجاد اور حامدناصر چٹھہ نے مجھ سے فرداً فرداً اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ان میں سے دو نے یہ تک کہا کہ ہم آپ کے ممنون ہیں کہ آپ حضرات نے اس ترمیم کا راستہ رکوا دیا، ورنہ ہم اس پر مضطرب تھے مگر کابینہ میں ہم اسے نہ روک سکے۔ جنرل مجید ملک صاحب اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں، لیکن باقی دونوں حضرات الحمدللہ بقید حیات ہیں اور میری اس بات کی تائید کریں گے۔
دراصل یہ نواز شریف صاحب کا مزاج اور ذہن ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر۱۵ویں دستوری ترمیم کے ذریعے ایسے ہی اختیارات حاصل کرنے اور اسلام کے نام پر کُلی اختیارات کے حصول کی کوشش کی، جو کامیاب نہ ہوسکی۔
ہم دراصل اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کو جہاں بہت سے بیرونی اور اندرونی خطرات لاحق ہیں، وہاں خود جمہوریت کا نام لینے والوں، اس کی دہائی دینے والوں اور اس کے نام پر حکمرانی کرنے والوں کے اپنے ذہن اور رویے بھی خطرات کو دعوت دینے کا باعث ہیں۔
ملک میں جمہوریت کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے ہرکسی کو دستور، قانون اور اداروں کی مشاورت کا پابند کرناہوگا اور چیک اینڈ بیلنس کا ایسا نظام وضع کرنا، اور پھر اس پر عمل بھی کرنا ہوگا کہ سب اپنی اپنی حدود میں رہیں اور کوئی بھی ایسے اختیارات حاصل نہ کر پائے جو اسے مشاورت اور اداراتی ڈسپلن سے آزاد کردے۔ فوج اور عدلیہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی حدودِ کار میں رہیں اور میڈیا بھی۔ اجتماعی اُمور اور دستور میں دیے ہوئے حقوق کی پاس داری اور دوسروں کے حقوق پر دست درازی سے اجتناب بھی اشد ضروری ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ، حکومت اور وزیراعظم اور وزرا کے لیے بھی مشاورت کا التزام اور اس کا احترام اور دستور، قانون اور ضابطۂ کار کی پابندی لازم ہے۔ انتظامیہ، حکمرانوں کی ملازم نہیں ریاست کی ملازم ہے۔ پولیس ہو یا سول انتظامیہ، اس کے لیے قانون اور ضوابط کا پابند ہونا ضروری ہے اور حکومت ِ وقت کے اشارۂ چشم و ابرو پر اور ان کے ملازم کی حیثیت سے کردار کی ادایگی نہ صرف عزتِ نفس کے خلاف ہے بلکہ دستور اور قانون کی حکمرانی کی بھی ضد ہے۔
اخبارات میں پنجاب کے ایک چیف سیکرٹری کی تابع داری کا ایک واقعہ شائع ہواہے، جو سب کے لیے شرم کا باعث ہے۔ ہوا یہ کہ وزیراعلیٰ کے ہاتھ سے کوئی چیز چھٹ کر زمین پر گرگئی، تو قبل اس کے کہ وہ افراد جو ان کی خدمت پر مامور ہیں، آگے بڑھیں، چیف سیکرٹری صاحب نے جست لگائی اور وہ چیز اُٹھا کر وزیراعلیٰ کی خدمت میں پیش کر دی۔
انتظامیہ ہو یا پولیس، ایک بڑی تعداد حکمرانوں کی ذاتی پسند و ناپسند کے چکّر میں رہتی ہے اور اس کو اپنی ترقی اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے زینہ بناتی ہے___ یہ رویہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی، عدل و انصاف کے قیام اور عوام کی فلاح و بہبود کی راہ میں سنگین رکاوٹ ہے۔ جمہوریت کو خطرہ اس رویے سے ہے اور جب تک یہ طرزِفکر اور طرزِ عمل نہ بدلے گا، جمہوریت کا مستقبل تاریک رہے گا۔ الحمدللہ، ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو اصول اور ضابطے کا احترام کرتے ہیں اور جان پر کھیل کر ان کی پاس داری کرتے ہیں، لیکن افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسےلوگوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، وہ اُٹھ رہے ہیں یا ریٹائر ہورہے ہیں۔ ان کی جگہ لینے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
اس زمانے میں عدالتِ عظمیٰ نے دو بڑے اہم فیصلے کیے ہیں، جو آرڈر کی شکل میں جاری ہوچکے ہیں۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ وزیراعظم کو اپنی صواب دید (discretion) میں حکمرانی کا کوئی اختیار نہیں، بجز ان چیزوں کے جو دستور نے ان کو متعین طور پر بطور اختیار دی ہیں۔ وزیراعظم کابینہ کے ذریعے فیصلے کرنے کا پابند ہے اور دستور کی دفعہ ۹۰ اور ۹۱ وفاقی حکومت کی صاف لفظوں میں تعریف دے رہی ہیں۔ اصل اختیار کابینہ کا ہے جس کا سربراہ وزیراعظم ہے۔ برطانوی قانون کے مطابق کابینہ کے تمام ارکان بشمول وزیراعظم برابر ہیں۔ صرف انتظامی وجوہ سے وزیراعظم کو اوّلیت حاصل ہے لیکن فیصلے اجتماعی ہونے چاہییں۔ملاحظہ کیجیے، دستور کی متعلقہ دفعات:
دفعہ ۹۰: (۱) دستور کے مطابق، وفاقی حکومت کی جانب سے وفاق کا عاملانہ اختیار صدر کے نام سے استعمال کیا جائے گا، جو وزیراعظم اور وفاقی وزرا پر مشتمل ہوگا، جو وزیراعظم کے ذریعے کام کریں گے۔
(۲) دستور کے تحت اپنے کارہاے منصبی کو وزیراعظم ، خواہ بلاواسطہ یا وفاقی وزرا کے ذریعے بجا لائے گا۔
دفعہ ۹۱: (۱) صدر کو اس کے کارہاے منصبی کی انجام دہی میں مدد اور مشورہ دینے کے لیے وزرا کی ایک کابینہ ہوگی، جس کا سربراہ وزیراعظم ہوگا۔
سپریم کورٹ نے اسی دستوری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے واضح کر دیا ہے کہ وزیراعظم کے لیے لازمی ہے کہ وہ کابینہ کے فیصلوں کے ذریعے کام کریں اور تمام قانون سازی بھی اسی طریقے سے ہونی چاہیے۔
عدالت ِ عظمیٰ کے ان فیصلوں کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی ایک بڑا اہم فیصلہ صادر کیا ہے کہ: صوبائی وزیراعلیٰ کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ وہ کابینہ کے ذریعے کام کرے، وہیں دستور انھیں ایسے مشیر (adviser) بنانے کا اختیار نہیں دیتا، جو وزیر کے درجے پر کام اور فیصلے کرسکیں۔
یہ بھی بڑا اہم فیصلہ ہے، اس لیے کہ وفاقی حکومت کے سلسلے میں دستور کی دفعہ ۹۳ وزیراعظم کے مشورے پر صدرپانچ مشیر مقرر کرسکتاہے، جن کا مرتبہ وزیرکے برابر ہوتا ہے لیکن صوبے کے لیے دستور میں ایسی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہرصوبے میں مشیروں اور خصوصی معاونین کی فوج ظفرموج مقرر ہے، جو بالکل وزرا کی طرح اختیارات استعمال کررہی ہے اور مراعات لے رہی ہے حالاں کہ ان سے ’رازداری‘ تک کا حلف نہیں لیا جاتا۔ یہ دستور اور جمہوریت کے ساتھ مذاق اور اپنوں کو نوازنے کا ذریعہ تھا۔ ہمیں توقع ہے کہ سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی توثیق کرے گی اور اس کا اطلاق تمام صوبوں پر ہوگا۔ یوں دستور کی خلاف ورزی اور اقرباپروری اور احباب نوازی کا یہ دروازہ بند ہوگا۔
کابینہ اور مشاورت کے تمام اداروں کے بارے میں ہم یہ بات بھی واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہرسطح پر مشاورت کے معنی یہ ہیں کہ مشورے کے نتیجے میں جو فیصلہ کیا جائے گا، اس پر عمل بھی ہوگا۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو مشاورت کے سربراہ کی حیثیت سے شوریٰ کے فیصلے کو ویٹو کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ اسلامی فکر کے ماہرین میں بھی اگرچہ ماضی میں اس سلسلے میں ایک سے زیادہ آرا رہی ہیں، اور کچھ علما کی نگاہ میں شوریٰ کا فیصلہ لازم اور غالب حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، کچھ علما کی نگاہ میں یہ صرف مشورہ ہوتا ہے، جس کے قبول یا رد کرنے کا اختیار امیر یا صدر کو حاصل ہے، لیکن اب اُمت کے اہلِ علم کا اس پر تقریباً اجماع ہے کہ شوریٰ کا فیصلہ ہی اصل فیصلہ ہوتا ہے، محض مشورہ نہیں ہوتا کہ جسے امیریا صدر ویٹو کر سکے۔ یہ شورائیت اور جمہوریت کی روح کے عین مطابق ہے۔
سیاسی جماعتوں میں جمہوریت پر کاری ضرب لگانے والی ایک اور روایت، پارٹیوں میں اور خود حکومتوں میں ایک خاندان کا غلبہ اور قیادت کا وراثت کے طور پر منتقل ہونا ہے۔ وراثت کے ذریعے اقتدار دراصل بادشاہت کی علامت ہے، جب کہ جمہوریت کی روح سے یہ متصادم اور اس کے اصولوں کی ضد ہے۔ بلاشبہہ بے نظیرصاحبہ نے اپنی ذہانت، قابلیت اور صلاحیت سے اپنی قیادت کا لوہا منوایا، لیکن جناب ذوالفقار علی بھٹو کا اپنی اہلیہ کو صدر مقرر کرنا اور پھر بے نظیر صاحبہ کا شریکِ صدر ہوتے ہوئے اپنی والدہ کو قیادت سے محروم کرنا۔ پھر ان کے بعد زرداری صاحب کا شوہر ہونے کے ناتے ایک مشتبہ وصیت کی بنیاد پر اقتدار سنبھالنا، اور پارٹی کا اس کے آگے سرتسلیم خم کر دینا، ایک عجیب اور بُری مثال ہے (بے نظیر صاحبہ نے اپنے دورِ اقتدار میں زرداری صاحب کو تلخ تجربات اور ان کی مجروح شہرت کی وجہ سے حکومت سے دُور رکھنے کی براہِ راست کوشش کی)۔ اسی طرح یہ بھی طرفہ تماشا ہے کہ بے نظیر صاحبہ کے انتقال کے بعد ان کے زیرتعلیم صاحب زادے پارٹی کے چیئرمین بن گئے اور مرحومہ کے شوہر شریک چیئرمین کی کرسیِ صدارت پر متمکن ہوگئے۔ پھر ایوانِ صدر بھی ان کے تصرف میں آگیا اور صدرصاحب کی ہمشیرہ صاحبہ ڈرائیونگ سیٹ پر تشریف فرما ہوگئیں۔
یہی معاملہ مسلم لیگ ’ن‘ اور اس کی تمام ہم جولی لیگوں کا ہے۔ نیز وہ سب جماعتیں بھی، جن کو لبرل، آزاد خیال، بائیں بازو کی (Leflist) اور نہ معلوم کیا کیا ہونے کا دعویٰ ہے، وراثت کے اس دھندے سے پاک نہیں ہیں۔ کچھ دینی جماعتوں میں بھی بدقسمتی سے وراثت ہی کا سکّہ رائج ہے۔ ان میں واحد استثنا جماعت اسلامی پاکستان ہے، جس نے قیادت، تنظیم، فیصلہ سازی، اندرونی نظامِ احتساب، ہر پہلو سے حقیقی اسلامی جمہوری آداب کا پورا پورا احترام کیا ہے اور جس میں الحمدللہ جمہوریت اپنے آداب اور اپنی روح کے مطابق جاری و ساری ہے۔
اسی طرح معاملہ صلاحیت، دیانت، فنی مہارت کی ضرورت و اہمیت کا ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی قیادت کا ہرفن مولا ہونا ضروری نہیں، لیکن اہلیت اور دیانت دولازمی صفات ہیں، جن کے بغیر قیادت مؤثر نہیں ہوسکتی۔ قرآن نے اہلیت کو ذمہ داری کے مناصب کے لیے اوّلین اہمیت دی ہے اور حکم دیا ہے کہ اپنی امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو (اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا - النساء۴:۵۸)، اور اہلیت کے باب میں بھی صاف اشارہ کر دیا ہے کہ اس میں علم اور جسم، یعنی فکری صلاحیت اور کام کی مناسبت سے جسمانی قوت اور مہارت ضروری ہیں (اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِط - البقرہ ۲:۲۴۷)۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں میں جماعتی اور سرکاری ذمہ داریوں کے باب میں فیصلے ذاتی تعلق، شخصی وفاداری اور مفادات کے اشتراک کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور بالعموم کسی معروضی معیار کا احترام نہیں کیا جاتا۔ ’اندھا بانٹے ریوڑیاں، ہر پھر اپنوں ہی اپنوں کو دے‘ پر عمل ہوتا ہے۔ احتساب کے ادارے غیرمؤثر اور مذاق بن گئے ہیں۔ کرپشن کا دور دورہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی وسائل ایک مخصوص طبقے (اشرافیہ) کے ہاتھوں کا میل بن گئے ہیں اور عوام بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔ستم یہ ہے کہ مشہور عالمی ادارے ’انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کی تازہ ترین رپورٹ جو Global Hunger Index کے عنوان سے ۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۶ء کو شائع ہوئی ہے، اس کی رُو سے دنیا کے ۱۱۸ترقی پذیر ملکوں میں پاکستان پست ترین ۱۱ملکوں میں سے ایک ہے، یعنی نیچے سے ہمارا نمبر ۱۱ ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ۲۲ فی صد، یعنی تقریباً ساڑھے چار کروڑ افراد خوراک کی کم سے کم مقدار سے بھی محروم ہیں اور پاکستانی بچوں کا ۴۵فی صد فطری ترقی کی رفتار سے محروم ہے۔ گویا چار سال کے بچے کی نشوونما کی وہ کیفیت ہے جو دو سے تین سال کے بچے کی ہوتی ہے۔
معاملہ وسائل کی کمی کا نہیں ہے، ان کی غیرمنصفانہ تقسیم ، بے دریغ استحصال اور غلط استعمال کا ہے۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال عدالتِ عظمیٰ کے زیرغور اس مقدمے میں سامنے آئی ہے۔ ضلع مظفرگڑھ کے ایک مخیر زمین دار نے اپنی ہزاروں ایکڑ زمین تعلیم اور فلاحی کاموں کے لیے وقف کی تھی مگر اس پر بااثر افراد نے ناجائز قبضہ کرلیا ہے اور اس کے بڑے حصے کو کوڑیوں کے مول اور سرکاری افسران نے اپنے اور اپنے مصاحبین کے مفاد میں پٹے (لیز ) پر دے دیا ہے۔ ان اربوں روپوں مالیت کی زمین ایک مخیر فرد نے عوام کے بچوں کی تعلیم، صحت اور دوسری ضرورتوں کے لیے وقف کی تھی۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید صاحب نے اس مقدمے کے سلسلے میں پنجاب کے محکمہ اوقاف کی نااہلی اور بددیانتی پر نہ صرف سخت گرفت کی ہے، بلکہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ: ’’پنجاب حکومت اس قابل ہی نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جائے‘‘ اور یہ کہ ’’کروڑوں روپے خردبرد کر لیے گئے لیکن نیب کو کیس نہیں بھیجا گیا۔ پنجاب حکومت زمین نہیں سنبھال سکتی تو اس کو سنبھالنے کا ٹھیکا کسی اور کے سپرد کردے۔ کچھ شرم و حیا بھی ہونی چاہیے۔ لگتا ہے کہ مظفرگڑھ میں ریاست کی رٹ بہت ہی کمزور ہے، اس لیے وہاں کی انتظامیہ ناجائز قابضین کے سامنے اتنی بے بس ہے‘‘۔ (روزنامہ جنگ، ۲۵نومبر ۲۰۱۶ء)
یہ اس صوبے کا حال ہے جس کے وزیراعلیٰ صاحب اپنے کو ’خادمِ اعلیٰ‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں اور شب وروز سرگرم نظر آتے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف صوبہ پنجاب کے ساتھ خاص نہیں ہے، سب ہی صوبوں کا اور خود مرکز کا حال بھی یہی ہے۔ عوام مصائب کا شکار ہیںاور حکمران اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ایک لاوا ہے جوزیرزمین پک رہا ہے اور وقتاً فوقتاً یہ لاوا پھٹ کر فضا کو مکدر کر رہا ہے۔ جمہوریت کو ایک حقیقی خطرہ اس زمینی اور زیرزمین صورتِ حال سے ہے۔ امریکا کے حالیہ صدارتی انتخاب کے بے شمار پہلو ہیں لیکن محروم طبقات میں انتہاپسندی اور انتقام کی آگ کو بھڑکانے میں ایسے ہی حالات کا بھی بڑا دخل ہے۔ جمہوریت کے لیے خطرے کی اس جہت سے نظریں چُرانا بڑے خسارے کا سودا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح کرپشن، پھر کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ جمہوریت کے لیے ہوش ربا خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے لیکن اربابِ اختیار کو اس کا کوئی شعور نہیں یا پھر ان کے اپنے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں اور خود وہ مسئلے کا حصہ ہیں۔ اس طرح ان سے مسئلے کے حل کی توقع عبث ہے۔
اس وقت عالم یہ ہے کہ قومی آمدنی کا تقریباً نصف کالے دھن اور کالے کاروبار (بلیک اکانومی) کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو جتنا ٹیکس وصول کرنا چاہیے، وہ اس کے نصف سے بھی کم وصول کر رہی ہیں اور ریاست کا کاروبار قرضوں کے سہارے چل رہا ہے۔ زراعت اور صنعت خصوصیت سے ایکسپورٹ انڈسٹری چارپانچ سال سے رُوبہ زوال ہیں۔ حالات کی اصلاح کےلیے کوئی مؤثر پالیسی وضع کرنے میں حکومت ناکام ہے۔ توانائی کا بحران جاری ہے، گیس کی قلت دردِسر بن چکے ہیں۔ مہنگائی ناقابلِ برداشت ہے، بے روزگاری روزافزوں ہے۔ پاکستانی کرنسی روز بروز بیرونی مارکیٹ میں اپنی قدر کھو رہی ہے۔ ملک سے سرمایہ باہر جارہا ہے اور حکومت ہے کہ محض ’پاک چین راہداری‘ (سی پیک) کی ڈفلی بجارہی ہے اور باور کرا رہی ہے کہ صرف سی پیک ہی گویا ہمارے سارے معاشی مسائل کا حل ہے۔ ان سب پر مستزاد پانی کی قلّت کا خطرہ اور تیل کے ذخائر کا خطرناک حد تک کم ہوجانا، ہوش اُڑا دینے والی کیفیات ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے، جب بھارت نے لائن آف کنٹرول پر عملاً جنگ برپا کی ہوئی ہے اور تین دریائوں کے پانیوں کی بوند بوند سے ملک کو محروم کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ یہ ہیں وہ حالات جو جمہوریت کے لیے اندرونی خطرہ ہیں اور اس خطرے کا کوئی ادراک اور اس کے مقابلے کی کوئی تیاری ایوانِ اقتدار میں نظر نہیں آرہی۔
عالمی سطح پر جو تبدیلیاں ہورہی ہیں اور خصوصیت سے امریکا کےحالیہ انتخابات کے نتیجے میں جنوری ۲۰۱۷ء میں جو نئی قیادت امریکا کی زمامِ کار سنبھال رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ صاحب جس قسم کی ٹیم اپنے صدارتی انتظام و انصرام کے لیے ترتیب دے رہے ہیں اور امریکا، یورپ، جنوبی ایشیا اور شرقِ اوسط کے لیے جن پالیسیوں کا اشارہ دے رہے ہیں، اور خصوصیت سے امریکا بھارت تعلقات اور بھارت کے ذریعے اس علاقے میں جو کردارادا کرنا چاہتے ہیں، وہ بڑے سنجیدہ اور ٹھنڈے غوروفکر کا تقاضا کرتا ہے۔ اس مناسبت سے قومی مفادات کے تحفظ اور دیرپا پالیسی سازی کے لیے پوری قوم کو اعتماد میں لینے، قوم کو متحد کرکے اندرونی اور بیرونی خطرات کے مقابلے کی مؤثر منصوبہ سازی وقت کا اہم ترین چیلنج ہے اور اس پورے عمل کے لیے سول اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی___ وہ پہلو ہے جس کو اولین اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔
بلاشبہہ اس پورے عمل میں پارلیمنٹ کا بڑا بنیادی اور مرکزی کردار ہے، لیکن کیا ہماری پارلیمنٹ اپنے اس فرضِ منصبی کا شعور رکھتی ہے؟ اور کیا اس فریضے کی انجام دہی کے لیے کمربستہ ہے؟ کیا ہمارا میڈیا پوری سنجیدگی سے ان موضوعات پر عوام کی تعلیم، بیداری اور انھیں متحرک کرنے میں اپناکردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا ہماری سیاسی جماعتیں اپنی ذمہ داری محسوس کرتی ہیں؟ ہم پوری دردمندی کے ساتھ یہی کہہ سکتے ہیں کہ ؎
یہ گھڑی محشر کی ہے ، تُو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
۲۴؍اکتوبر ۲۰۱۶ء پاکستانی قوم کے لیے ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتاہے۔ اس روز کوئٹہ شہر سے ۱۷کلومیٹر دُور سبّی روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ سنٹر میں تین دہشت گردوں نے یورش کی۔ ۵۰۰ کے قریب زیرتربیت نوجوان اہل کاروں (عمر ۱۶ سے ۲۵ سال) کو یرغمال بنالیا۔ دہشت گردوں نے چارگھنٹے کے خونیں معرکے میں ۶۳معصوم انسانوں کو شہید اور تقریباً ۱۵۰ کو زخمی کیا، جن میں سے ایک درجن سے زیادہ جوان زندگی اور موت کی کش مکش سے دوچار ہیں۔
یہ دل خراش واقعہ، کوئٹہ ہی میں دہشت گردی کے ایک اور دل دہلا دینے والے واقعے کے صرف اڑھائی ماہ بعد رُونما ہوا ہے۔ تب دہشت گردوں نے دن کی روشنی میں پہلے ایک نام وَر وکیل کو نشانہ بنایا اور پھر جب شہر کے چوٹی کے وکلا غم سے نڈھال ہسپتال پہنچے، تو دہشت گردوں نے ہسپتال میں ۷۰؍افراد کو بے دردی سے بھون ڈالا۔ ان شہدا میں سے تقریباً ۵۰ کا تعلق وکالت کے پیشے سے تھا اور یہ بلوچستان کی وکیل برادری کے گل ہاے سرسبد کی حیثیت رکھتے تھے۔
’ضربِ عضب‘ کی تمام قابلِ قدر کوششوں کے باوجود، صرف صوبہ بلوچستان میں اس آپریشن کے شروع ہونے کے بعد، اس اندوہناک واقعے سے پہلے بھی، دہشت گردی کے آٹھ بڑے واقعات رُونما ہوچکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر ۲۰۰ سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں، جن میں ایک نمایاں تعداد خود قانون نافذ کرنے والوں کی ہے، جن کا تعلق فوج، ایف سی اور پولیس سے تھا۔ واضح رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پولیس خصوصیت سے دہشت گردوں کا نشانہ رہی ہے۔
’ضربِ عضب‘ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر سفاکانہ حملے کے بعد وقت کی اہم ضرورت تھی اور بہ حیثیت مجموعی اس کے مثبت اثرات بھی رُونما ہوئے، جس کا ہرحلقے نے اعتراف کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ’دہشت گردی کا قلع قمع کرنے‘ کا جو دعویٰ کیا گیا تھا، وہ ابھی پوری طرح شرمندئہ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ باربار دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے‘ لیکن یہ کمر معلوم نہیں کتنی مضبوط ہے کہ ساری کوشش کے باوجود ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی۔ ایسے ہر اندوہناک واقعے کے بعد جس ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے، وہ اب اپنی معنویت کھوتا نظر آتا ہے۔ وہی گھسی پٹی مذمت! وہی وحشیانہ کارروائیاں کرنے کی اجازت نہ دینے کے دعوے، وہی مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے عزائم، وہی آہنی ہاتھوں کے حرکت میں آنے کی نوید، پھر دہشت گردوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات کا اعلان! اور ان سب پر مستزاد حالیہ چند واقعات بشمول حالیہ کوئٹہ کے سانحے کی یہ توجیہ کہ: ’’اگر بروقت دہشت گردوں کو زیر نہ کرتے تو بڑی تباہی ہوتی‘‘۔ گویا ۶۳ نوجوانوں کی شہادت اور ۱۵۰کا زخمی ہونا تو کم تباہی ہے۔
بلاشبہہ آج ہر آنکھ اَشک بار ہے، ہر دل افسردہ اور مغموم ہے اور ہرزبان دُکھ اور شہیدوں اور مظلوموں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہر صاحب ضمیر فرد، شرم سار ہے کہ ۱۹۸۰ء سے دہشت گردی کے جس عفریت نے پاکستان میں سر اُٹھایا ہے اور جسے قابو کرنے اور تہ تیغ کرنے کی ہرسطح پر کوششیں کی جارہی ہیں، حتیٰ کہ شخصی آزادیوں اور قانون کے باقاعدہ عمل (due process) تک کی بھی قربانی دی گئی ہے اور سویلین معاملات میں فیصلے کا دستوری اختیار بھی فوجی عدالتوں کو سونپ دیا گیا ہے، اس کے باوجود یہ عفریت بدستور اپنی تباہ کاریوں میں مشغول ہے۔
’ضربِ عضب‘ کو بھی اب دو سال ہورہے ہیں۔ شروع میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں تھے۔ مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روایتی عسکری آپریشن اپنے مثبت نتائج کے باوجود اس عفریت کو نیست و نابود کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔ سرکاری اعداد و شمار سے جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ بہت خوش آیند نہیں ہے۔۲۰۱۴ء میں ملک بھر میں ۲۷۵ افراد دہشت گردی کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے تھے، وہ ۲۰۱۵ء میں کم ہوکر ۲۰۲ کی سطح پر آگئے تھے لیکن ۲۰۱۶ء کے ۱۰ماہ میں بدقسمتی سے یہ تعداد ۳۲۰ہوگئی ہے۔ لہٰذا، اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو حکمت عملی اپنائی گئی ہے، اور جسے قوم کی تائید حاصل رہی ہے، نتائج کی روشنی میں اس پر نظرثانی کی جائے اور تمام حالات کے بے لاگ تجزیے کے بعد پالیسی کی ازسرِنو شیرازہ بندی کی جائے۔
چند بنیادی سوال جن پر فوری غوروفکر ضروری ہے،انھیں ہم ملک کے تمام پالیسی سازوں اور متاثر اداروں اور افراد کے غوروفکر کے لیے پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں:
۱- سب سے پہلا اور پریشان کن سوال یہ ہے کہ انٹیلی جنس کے ذرائع کی جانب سے جب واضح اور متعین معلومات، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مہیا کی جاتی ہیں،تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کی روشنی میں مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے اور دہشت گرد قانون نافذ کرنے والوں کو چکما دے کر اپنا کام کر جاتے ہیں اور خود قانون نافذ کرنے والوں ہی کو ہدف بنا لیتے ہیں۔ اخباری نہیں، سرکاری اطلاعات اور اعترافات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کوئٹہ کے حالیہ واقعے اور اس سے پہلے رُونما ہونے والے ایک ہولناک واقعے سے قبل بھی متوقع دہشت گردی کے حملے کی واضح اطلاعات موجود تھیں اور متعلقہ اداروں کو ان سے باخبر کیا جاچکا تھا۔
اسی طرح کراچی میں بحریہ کے بیس پر حملے کا واقعہ ہو یا ایئرفورس بیس کا ، جی ایچ کیو کا واقعہ ہویا کراچی ایئرپورٹ پر حملے کا، پشاور آرمی پبلک اسکول کا واقعہ ہو یا ولی خان یونی ورسٹی کا واقعہ، ہرموقعے پر متوقع حملے کے بارے میں ہوشیار رہنے کے لیے ’الرٹ سگنل‘ جاری کیے گئے، مگر ان پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی، اور سانحے پر سانحہ نمودار ہوتا رہا۔ حالیہ واقعے کے بارے میں تو بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے ٹی وی پر اعتراف کیا ہے کہ: ’’ہمیں پولیس پر حملے کی اطلاع تھی‘‘ مگر وزیراعظم اور اپیکس کمیٹی کے ایک سال سے زیادہ پرانے فیصلے کے باوجود کہ کوئٹہ کو ’محفوظ شہر‘ بنایا جائے گا اور ہر اہم مقام پر چوکیاں قائم کی جائیں گی، کیمرے لگائے جائیں گے، لیکن عملاً کچھ نہ ہوا۔ حالیہ وارننگ کے باوجود پولیس ٹریننگ کالج جہاں ۵۰۰ سے زیادہ اہل کار تھے، اس کے احاطے کی نہ دیوار درست تھی{ FR 551 } اور نہ حفاظت کا کوئی معقول انتظام تھا۔ صرف ایک سپاہی واچ ٹاور پر تھا، جس نے مزاحمت کے دوران شہادت دے دی اور حملہ آور دندناتے ہوئے کمپائونڈ میں داخل ہوگئے اور بے باکی سے خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ ایک تربیت کار نوجوان جو زخمی ہوا، اس کے یہ الفاظ دل کو دہلا دینے والے اور آنکھوں کو شرم سار کرنے والے ہیں کہ ’’حملہ آوروں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف تھی، اور ہمارے پاس ہتھیار نہیں تھے‘‘۔
واضح رہے کہ پشاور آرمی اسکول اور ولی خاں یونی ورسٹی کے واقعات کے بعد کہا گیا تھا کہ ہر اسکول اور کالج میں دفاع کے لیے اسلحہ فراہم کیا جائے گا۔ ان تمام اعلانات کا کیا بنا؟
بلاشبہہ انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی بھی بار بار سامنے آئی ہے، لیکن انٹیلی جنس کی فراہم کردہ اطلاعات کے بعد انتظامی اور سیکورٹی کے اداروں کی غفلت بھی ایک حقیقت ہے۔ جب تک یہ کیفیت رہتی ہے محض فوج کی ’ضربِ عضب‘ کے باب میں سرگرمی نتائج نہیں نکال سکتی۔
۲- بات صرف انٹیلی جنس کی معلومات، انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت اور کوتاہی تک محدود نہیں، ہماری نگاہ میں فوج اور پولیس کو بیش قیمت قربانیوں کے باوجود دہشت گردی پر نہ قابو پانے میں درج ذیل پہلو غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہیں:
ا- دہشت گردی کے خلاف ۲۰ نکاتی حکمت عملی کے بیش تر نکات پر عمل درآمد نہ کیا جانا اور اس سلسلے میں جن بنیادی اداراتی اور پالیسیوں کی تبدیلیوں کی ضرورت تھی اور حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان جس ہم آہنگی کی ضرورت تھی، ان کی طرف قرارِواقعی توجہ نہیں دی گئی۔ نیز اس پوری حکمت عملی پر عمل کرنے کے لیے جن مالی اور انسانی وسائل کی حاجت تھی، اس کی بھی کوئی فکر نہ کی گئی۔ ایسی صورتِ حال میں بہتر نتائج کی توقع کیسے کی جاسکتی تھی۔
ب- بات نازک ہے لیکن اس کا اظہار اور ادراک بھی ضروری ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت اور عسکری قیادت میں جس فکری ہم آہنگی، باہمی اعتماد اور حقیقی تعاون کی ضرورت تھی، نیز وفاق اور صوبوں کے درمیان فوج، ایف سی اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان جس قسم کی ہم آہنگی ناگزیر تھی، بدقسمتی سے وہ بڑی کمزور رہی۔
ج- ملک میں بحیثیت مجموعی اور تقریباً ہرسطح پر اور ہر ادارے میں جس ناقص طرزِحکمرانی کا رواج ہے، انتظامی بدنظمی جس سطح تک پہنچ چکی ہے، کرپشن نے جس طرح پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، اہلیت و قابلیت کا خون کر کے نااہل افراد کو اہم ترین مناصب پر فائز کرنے کا جو چلن عام ہوگیا ہے، پھر ایک ہی حکومت کے مختلف وزیروں اور مشیروں، مختلف محکموں میں باہمی ربط اور تعاون کا جو فقدان دکھائی دیتا ہے، ان سب نے حکمرانی کے پورے نظام کو اتنا تباہ کردیا ہے کہ ایک اچھی پالیسی بھی مطلوبہ نتائج دینے میں بُری طرح ناکام ہوجاتی ہے۔
د-کوئی قانونی اور کوئی انتظامی پالیسی اس وقت تک بارآور نہیں ہوسکتی، جب تک اس کے نفاذ کا معقول انتظام نہ ہو۔ اس سلسلے میں جہاںعمل درآمد کا نظام ( delivery system) بنیادی اہمیت رکھتا ہے، وہیں قانون کی خلاف ورزی اور پالیسی کے بارے میں انحراف اور عدم تعمیل پر احتساب اور سزا کا نظام ضروری ہے۔ جس معاشرے میں قانون کا نفاذ نہ ہو، جہاں انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے، جہاں قانون توڑنے اور ذمہ داریاں ادا نہ کرنے یا بدعنوانی کا ارتکاب کرنے پر سزا کا نظام مفقود ہو، وہاں اچھی سے اچھی پالیسی اور بہتر سے بہتر قانون بھی بے کار ہوں گے___ اور آج ہمارا مسئلہ بھی یہی ہے۔
۳- دہشت گردی کے سدباب کے لیے جہاں عسکری کارروائیاں ضروری ہیں اور قانون اور قانون نافذ کرنے والوں کا بڑا کلیدی کردار ہے، وہیں سیاسی، فکری، سماجی، معاشی اور اخلاقی پہلوئوں سے بھی بڑی اہم اصلاحات اور پالیسیاں درکار ہیں۔ فوجی کارروائی سے جن علاقوں کو دہشت گردی سے پاک کرا لیا جاتا ہے ان کی دوبارہ آبادکاری، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، پُرامن شہری زندگی کی صورت گری بھی اتنی بلکہ اس سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح پوری سول انتظامی مشینری کا مؤثر وجود اور متحرک کردار تاکہ لوگ اعتماد سے نئی زندگی کا آغاز کرسکیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بھی اپنے سیاسی، سماجی، اخلاقی، علمی اور معاشی پہلو ہیں، جن کی طرف ۲۰نکاتی پالیسی میں اشارے موجود ہیں لیکن ان کے لیے مؤثر پالیسیاں، انتظامی اور اداراتی سہولتیں اور صحیح مردانِ کار کا وجود مفقود ہے۔ ایسے ٹوٹے پھوٹے اور بے ربط (disjointed) انداز میں اگر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جائے، تو کامیابی کیسے حاصل کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف دہشت گرد منظم ہیں، تربیت یافتہ ہیں، ان کا اپنا انٹیلی جنس کا نظام ہے اور وہ مسلح بھی ہیں بلکہ کچھ حالات میں عام قانون نافذ کرنے والوں سے کہیں بہتر اسلحہ اور ٹکنالوجی کے حامل ہیں۔
کوئٹہ کا خونیں حادثہ خون کے آنسو رُلانے والا واقعہ ہے۔ لیکن کیا یہ ہماری اور ہماری قیادت کی آنکھیں کھولنے کا تازیانہ ثابت ہوسکتا ہے؟ ___ فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ !
۱-
۲-
۳-
۴-
۵-