پروفیسر خورشید احمد


اس تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ اپنے ماضی قریب کی تاریخ کو ایک مسلمان کی نگاہ سے دیکھوں اور یہ سمجھنے کی کوشش کروں کہ تاریخ کے یہ نشیب و فراز تحریک ِ اسلامی کے نقطۂ نظر سے کس رجحان کا پتا دے رہے ہیں؟ تاریخ ایک آئینہ ہے، جس میں ایک قوم کے اجتماعی تشخص کا سراپا دیکھا جاسکتا ہے۔اس کی اصل قامت، اس کا رنگ و رُوپ، اس کے خدوخال، اس کے جذبات و احساسات، ہرچیز کی کچھ نہ کچھ جھلکیاں اس میں صاف نظر آجاتی ہیں۔ تاریخ محض بادشاہوں کی داستان اور سیاسی بساط کے رنگ و آہنگ کا نام نہیں۔ یہ تو پورے تہذیبی سرمایے کی عکاس ہوتی ہے۔ واقعات کے دھارے میں تہذیبی شخصیت کا پورا اُبھار دیکھا جاسکتا ہے۔

میں نے حوادث کے پردے سے جھانک کر تہہ ِآب کارفرما تحریکات و عوامل پر ایک سرسری نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تحریر تاریخ نہیں، بلکہ تعبیرِ تاریخ کی ایک ابتدائی کاوش ہے، جس میں معنویت کے کچھ پہلو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں اپنے نوجوان ساتھیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور تاریخ کے دریا کی غواصی کرکے اس سے وہ موتی نکال لائیں، جن کی نئی نسلوں کو ضرورت ہے۔ پھر اس کی کوشش بھی کریں کہ اس دریا کا قیمتی پانی یوں ہی ضائع نہ ہوجائے بلکہ یہ کشت ِ ملّی کی آبیاری کے لیے استعمال ہو۔

تاریخ ایک قوم کا حافظہ ہوتا ہے اور جو قوم حافظے سے محروم ہوجائے، وہ اپنا وجود بھی باقی نہیں رکھ سکتی۔ جس کا حافظہ خود فراموشی اور دوسروں کی مرعوبیت کے نقوش سے بھرا ہوا ہو، اس کی شخصیت بھی احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتی ہے۔ ہمیں اپنا حافظہ قوی کرنا ہے اور اسے ملّت اسلامیہ کے درخشاں ماضی اور یادوں سے بھی بھرنا ہے، تاکہ ان یادوں کے چراغوں کی روشنی میں مستقبل کے مراحل طے ہوسکیں۔

 پس منظر

برصغیر پاک و ہند میں اسلام کا پیغام ان مقدس ہستیوںکے ذریعے پہنچا، جن کی تربیت دست ِ نبوت نے کی تھی اور جنھوں نے قرنِ اوّل میں اسلام کی دعوت کو پھیلایا تھا۔ کاشانۂ رسالتؐ سے دعوتِ اسلامی کی جو لہر اُٹھی تھی، اس نے پہلی صدی ہجری کے اختتام تک سندھ کے ساحلوں کو چھو لیا تھا اور اس کے اثرات ملتان تک پہنچ گئے تھے لیکن بدقسمتی سے حالات نے ایک ایسا رُخ اختیار کیا کہ اسلام کی دعوت کو اس دور میں یہاں قدم جمانے اور مستحکم ہونے کا موقع نہ مل سکا۔ یہ صحیح ہے کہ دعوتِ اسلامی کی اس قدر مختصر مدت کے لیےآمد بھی اپنی برکات یہاں چھوڑ گئی، جس کے نقش آج بھی یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ لیکن جو تہذیبی انقلاب اس کے جلو میں آنا مقدر تھا ، وہ یہاں برپا نہ ہوسکا۔

اس ابتدائی دور کے بعد اسلام برصغیر میںبادشاہوں اور سلاطین کے ذریعے سے پہنچا۔  ان ملوک میں اچھے بھی تھے اور بُرے بھی، نیک بھی تھے اور ظالم بھی، لیکن بنیادی طور پر ان کی حیثیت بادشاہوں کی تھی، داعی کی نہ تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، انسانیت کی خلافت اور قرآن کی حکومت قائم کرنے کے لیے نہیں آئے تھے۔ ان کے پیش نظر بڑی حد تک اپنی سلطنت کو وسیع کرنا، اور اس علاقے کو اپنے زیرانتظام لانا تھا۔ چوں کہ ان میں سے متعدد سلاطین کی ذاتی زندگیاں بڑی حد تک اسلام کی منشا کے مطابق تھیں، اس لیے اور دوسرے مسلمان معاشرے کے دبائو کی وجہ سے، انھوں نے اپنی حکمرانی کے اَدوار میں بھی اکثر اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے اسلام یہاں تک پہنچا، لیکن یہاں کا نظامِ حکومت بحیثیت مجموعی منہاج خلافت راشدہؓ پر قائم نہیں ہوا۔

مسلمان حکمرانوں کے ساتھ جو فوجیں آئی تھیں، ان کے ذریعے سے بھی اسلام پھیلا۔ وہ لوگ یہاں آکر رہ بس گئے، مسلمانوں کا طرزِ زندگی اختیار کیا، دوسروں نے ان کو دیکھا اور ان سے مثبت اثر قبول کیا۔ اس طرح ان لوگوں نے بھی ایک طریقے سے تبلیغ کا کام انجام دیا اور اسلامی دعوت عوامی پیمانے پر پہنچائی۔ لیکن یہاں بھی اس کے اندر وہی خامی تھی کہ ایمان کی وہ حرارت اور دین کا وہ مزاج اپنی معیاری شکل میں موجود نہ تھا کہ جو قرنِ اوّل میں داعیانِ حق کی زندگیوں اور ان کے معاشرے میں نظر آتا ہے یا اُن مقامات پر ملتا ہے ، جہاں اسلام کی دعوت اُن کے ہاتھوں پہنچی تھی۔

 صوفیا کرام اور علما کا حصہ

پھر صوفیا اور علما نے برصغیر پاک و ہند کی آبادی کے ایک بڑے حصے میں دین اسلام کو پھیلایا۔ سچی بات یہ ہے کہ جو لوگ دائرہ ٔ اسلام میں آئے، اُن کی اکثریت انھی نفوسِ قدسیہ کی کوششوں سے مشرف بہ اسلام ہوئی۔ ان حضرات نے اپنی پارسا، ستھری ، متوازن اور پُرکشش زندگیوں، گھرگھر اپنی دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں اور اپنی پیہم قربانیوں کے ذریعے اسلام کا پیغام پہنچایا، لیکن ان کے پاس صرف زبان کی قوت تھی ، حکومت کی طاقت نہ تھی۔ یہ اس نظام کو زندگی کے تمام شعبوں میں قائم کر کے دکھا نہیں سکتے تھے اور نہ مدینہ کی ریاست کا نمونہ پیش کرسکتے تھے۔ بہرحال، انھی کی مساعی کی بنا پر اسلام پھیلا اور ایک بڑے طبقے نے اسلام کو قبول کیا۔

برصغیر پاک وہند میں تبلیغِ اسلام اور اشاعت ِدین کے حوالے سے صوفیائے کرام کی خدمات پر مبنی سنہری کارنامے کا تذکرہ ہم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودود ی سے مستعار لے رہے ہیںـ:

مسلمانوں میںجو جماعت سب سے زیادہ تبلیغِ دین کے ذوق وشوق سے گرمِ سعی رہی ہے وہ وہی صوفیائے کرام کی جماعت ہے، جو آج [پاک وہند ] میں اس طرف سے تقریباً بالکل ہی غافل ہے۔خود یہاں اولیا و صوفیا نے جس بے نظیر استقلال اور دینی شغف کے ساتھ اسلام کی روشنیوں کو پھیلا یا ہے ، وہ ہمارے آج کل کے حضرات ِ متصّوِفین کے لیے اپنے اندر ایک عمیق درسِ بصیرت رکھتا ہے ۔یہاں کے سب سے بڑے اسلامی مبلغ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ [م:۱۲۳۶ء] تھے ،جن کی برکت سے راجپوتانہ میں اسلام کی اشاعت ہوئی اور جن کے بالواسطہ اور بلاواسطہ مریدین تمام ملک میں اسلام کی شمع ہدایت لے کرپھیل گئے۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ [م:۱۲۳۵ء] نے دہلی کے اطراف میں ، فرید الدین گنج شکرؒ [م:۱۲۸۰ء] نے علاقہ پنجاب میں، نظام الدین محبوب الٰہیؒ [م:۱۳۲۵ء] نے دہلی اوراس کے نواح میں،حضرت سید محمدگیسو درازؒ  [م: ۱۴۲۲ء] شیخ برہان الدین ؒاور حضرت زین الدینؒ اور آخرِ زمانہ میں (اورنگ آباد کے ) نظام الدین ؒ نے دکن میں اور دورِ آخر میں شاہ کلیم اللہ ؒ جہان آبادی نے دہلی مرحوم میں یہی دعوت الی الخیر اور تبلیغ اوامرِ اسلام کی خدمت انجام دی۔ ان کے علاوہ دوسرے سلسلوں کے اولیائے عظامؒ نے بھی اس کام میں اَن تھک مستعدی سے کام لیا۔ [اسلام کا سرچشمۂ   قوت، اخبار،الجمعیۃ کے مضامین ۱۹۲۶ء، کتابی شکل ۱۹۶۹ء، لاہور، ص۵۸ ]

مولانا مودودی لکھتے ہیں: ’’پنجاب میں سب سے پہلے اسلامی مبلغ سید اسماعیل بخاری ؒ تھے جو پانچویں صدی ہجری میں لاہور تشریف لائے تھے۔ ان کے متعلق مشہور ہے کہ لوگ ہزار ہا کی تعداد میں ان کے ارشادات سننے آتے تھے اور کوئی شخص جو ایک مرتبہ ان کا وعظ سن لیتا وہ اسلام لائے بغیر نہ رہتا۔ مغربی پنجاب میں اسلام کی اشاعت کا فخر سب سے زیادہ بہاء الدین زکریا ملتانی ؒ [م:۱۲۶۲ء ] کو حاصل ہے۔ علاقہ بہاول پور اور مشرقی سندھ میں سیدجلال بخاری ؒ کے فیضانِ تعلیم سے معرفت ِ حق کی روشنی پھیلی اوران کی اولاد میں سے مخدوم جہانیاںؒ [م:۱۳۸۴ء]نے پنجاب کے بیسیوں قبائل کو مسلمان کیا۔ ایک اور بزرگ سید صدر الدین ؒ اور ان کے صاحبزادے حسن کبیر الدین ؒ بھی پنجاب کے بہت بڑے اسلامی مبلغ تھے۔ حسن کبیر الدینؒ کے متعلق تواریخ میں لکھا ہے کہ ان کی شخصیت میں عجیب کشش تھی۔ لوگ خود بخود ان کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔(اسلام کا سرچشمۂ   قوت،ص۵۸- ۵۹)

’’سندھ میں آج سے تقریباً سات سو برس پہلے سید یوسف الدین ؒ تشریف لائے اور ان کے فیضِ اثر سے لوہانہ ذات کے سات سوخاندانوں نے اسلام قبول کر لیا۔ کَچھ اور گجرات میں حضرت امام شاہ پیرانوی  ؒ اور ملک عبداللطیف ؒ کی مساعی سے اسلام کی اشاعت ہوئی۔بنگال میں سب سے پہلے جلال الدین تبریزی ؒ نے اس مقدس فرض کو انجام دیا، جو شہاب الدین سہروردی ؒ [م:۱۲۳۴ء] کے مریدانِ خاص سے تھے۔آسام میں اس نعمت عظمیٰ کو شیخ جلال الدین فارسی ؒ اپنے ساتھ لے گئے، جو سلہٹ میںمدفون ہیں۔کشمیر میں اسلام کا علم سب سے پہلے بلبل شاہؒ نامی ایک درویش نے بلند کیا تھا اور ان کے فیضِ صحبت سے خود راجا مسلمان ہو گیا، جو تاریخوں میں صدرالدین کے نام سے مشہور ہے۔پھر ساتویں صدی ہجری میں سید علی ہمدانی ؒ سات سو [مریدوں]  کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تمام خطۂ کشمیر میں اس مقدس جماعت نے نورِعرفان کوپھیلایا ۔ اورنگ زیب عالم گیر [۳نومبر ۱۶۱۸ء-۳مارچ ۱۷۰۷ء]کے عہد میں سید شاہ فرید الدین ؒ نے کشتواڑ کے راجا کو مسلمان کیا اور اس کے ذریعے علاقۂ مذکور میں اسلام کی اشاعت ہوئی۔ دکن میں اسلام کی اِبتدا پیر مہابیر کھمدایتؒ سے ہوئی، جو آج سے سات سو برس پہلے بیجاپور تشریف لائے تھے۔ ایک اوربزرگ جو شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی اولاد میں سے تھے، علاقہ کونکن کے ہادی اور رہبر تھے۔ دھارواڑکے لوگ اپنے اسلام [قبول کرنے]کو شیخ ہاشم گجراتی ؒ کی طرف منسوب کرتے ہیں، جو ابراہیم عادل شاہ [م: ۱۵۵۸ء] کے پیر طریقت تھے۔ ناسک میں محمد صادق سرمتؒاورخواجہ اخوند میر حسینی ؒ کی روحانی برکات کا اب تک اعتراف کیا جاتا ہے۔ مدر اس بھی اپنی ہدایت کے لیے چند صاحبِ حال بزرگوں کارہین منّت ہے، جن میں سب سے زیادہ مشہور سیّدنثارشاہؒمدفون ترچناپلی ہیں۔ دوسرے بزرگ سید ابراہیم شہید ؒہیں جن کا مزار اَرداری میں ہے اور تیسرے بزرگ شاہ الحامد ؒ ہیں جن کا مدفن ناگور میں واقع ہے۔نیو گنڈا کی طرف اسلامی آبادی عام طور پر اپنے قبولِ اسلام کو بابافخرالدین ؒ کی طرف منسوب کرتی ہے، جنھوں نے وہاں کے راجا کو مسلمان کیا تھا۔ (اسلام   کا سرچشمۂ قوت، ص۵۹-۶۰)

’’صوفیائے کرام کی انھی تبلیغی سرگرمیوں کا اثر آج تک ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہندوئوں کی ایک بہت بڑی جماعت اگرچہ مسلمان نہ ہو سکی، مگر اب تک اسلامی پیشوائوں کی گرویدہ ہے۔چنانچہ ۱۸۹۱ء کی مردم شماری میں صوبہ شمال مغربی ہند کے ۶۴۳،۲۳،۲۳ ہندوئوں نے اپنے آپ کو کسی خاص دیوتا کا پرستار بتلانے کے بجائے کسی نہ کسی مسلمان پیر کا پجاری ظاہر کیا تھا۔ وہ لوگ ہندوئوں کی ایک کثیر آبادی پر اسلام کا غیر معمولی اثر چھوڑگئے مگر افسوس کہ آج ہم اس اثر سے بھی فائدہ اُٹھانے کے قابل نہیں ہیں ۔اسی طرح ہندستان سے باہر بعض دوسرے ممالک میں بھی اس مقدس تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں نے حیرت انگیز نتائج پیدا کیے ہیں۔ خصوصیت سے جب فتنۂ تاتار نے [ہلاکو خاں (م: ۸فروری ۱۲۶۵ء) کی قیادت میں ۱۰فروری ۱۲۵۸ء کو مسلم عباسی]حکومت کے قصرِ فلک بوس کی اینٹ سے اینٹ بجادی، توتمام وسطِ ایشیا میں صرف یہ صوفیائے اسلام کی روحانی قوت تھی ،جو اس کے مقابلے کے لیے باقی رہ گئی تھی اور بالآخر اسی نے اسلام کے اس سب سے بڑے دشمن پر فتح حاصل کی، لیکن مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ زبردست قوت بھی جس نے اَقطاعِ عالم میں اسلام کی روشنی پھیلائی اور تاتارکے زبردست فتنے تک کو اس کے لیے مسخر کر دیا، جو قریب تھا کہ وسطِ ایشیا سے اس کو بالکل فنا کر دیتا، آج بالکل مضمحل ہو گئی ہے۔ اور اگر ہمارے محترم حضرات ِمتصوّفین ہمیں معاف کریں تو ہمیںاس امر واقعی کے اظہار میںکچھ تامل نہیں ہے کہ اب وہ اسلام کی برکات وفیوض سے دنیا کو معمور کرنے کے بجاے بہت حد تک خود ہی غیراسلامی مفاسد سے مغلوب ہو کر رہ گئی ہے۔ (ایضاً،ص ۶۰-۶۱)

’’ اسلام دشمن طاقتیں کہتی ہیں کہ اس کی اشاعت صرف تلوار کی رہینِ منّت ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ وہ صرف تبلیغ کی منت پذیر ہے۔ اگر اس کی زندگی تلوار پر منحصر ہوتی تو وہ تلوار ہی سے فنا بھی ہوجاتی، اور اب تک تلوار سے اس پر جتنے حملے ہوئے ہیں،وہ اسے فنا کردینے میں قطعی طور پر کامیاب ہوجاتے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر اوقات اس نے تلوار سے مغلوب ہوکر تبلیغ سے فتح حاصل کی‘‘۔(ایضاً،ص۴۱)

 اجتماعی نظام کا قیام

اسلام ایک آزاد تحریک کی حیثیت سے بھی یہاں پروان چڑھا، لیکن وہ اجتماعی نظام برپا نہ ہوسکا جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے، بلکہ جیسے جیسے سیاسی استحکام حاصل ہوتا گیا، ایک قسم کی داخلی کش مکش برپا ہوتی گئی۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسلام اس بات کا مطالبہ کرتا تھا کہ اقتدار اور غلبہ اس کو حاصل ہو، لیکن یہاں پر یہ پوزیشن عملاً اس کو حاصل نہ تھی۔ یہی وہ حقیقت تھی جس کی بنا پر تاریخ کے مختلف اَدوار میں کش مکش رُونما ہوئی، مطالبات اُبھرے، تحریکات پروان چڑھیں، اجتماعی طور پر جدوجہد کی گئی اور اس بات کی کوشش ہوئی کہ اسلام کو حکمرانی اور اجتماعی زندگی میں فیصلہ کن پوزیشن اختیار کرنے کا موقع دیا جائے۔

سیاسی تاریخ میں کچھ ایسے واقعات بھی نظر آتے ہیں، جب ریاست کی قوت اسلام کے لیے بڑی حد تک استعمال بھی ہوئی، اس قسم کی ایک کوشش محمد بن تغلق [م:۲۰مارچ ۱۳۵۱ء] اور فیروز شاہ تغلق [۱۳۰۹ء-۱۳۸۸ء] کے زمانے میں ہوئی۔ پھر اسی قسم کی ایک کوشش اورنگ زیب عالم گیر [م:۳مارچ ۱۷۰۷ء] نے کی۔ ایسی مثالیں ہم کو کئی اور مقامات پر بھی ملتی ہیں۔ اسی طرح ذاتی طور پر اچھے بادشاہ بھی نظر آتے ہیں، لیکن جس چیز کی کمی رہتی ہے وہ پورے اجتماعی نظام میں اسلام کا غلبہ ہے۔ اسلامی احیا کی تحریکات کا اصل مقصد یہی تھا کہ اس سرزمین پر غلبہ اسلام ہی کو حاصل ہو۔

صوفیائے کرام میں حضرت خواجہ باقی باللہؒ [۱۵۶۳ء-۱۶۰۳ء]کی کوششیں بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ مغلیہ دور میں آپ نے اسلام کی شمع کو تیز تر کیا اور عوام، خواص اور مغلیہ درباریوں کو متاثر کیا۔

 شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانیؒ 

آپ کے بعد احیائے دین کا پرچم، احمدالفاروقی سرہندی المعروف مجدد الف ثانیؒ [۲۶جون ۱۵۶۴ء-۱۰دسمبر۱۶۲۴ء] نے اُٹھایا۔ انھوں نے عہد اکبری [۱۵۵۶ء-۱۶۰۵ء] میں جتنے فتنے پیدا ہوئے اور جو جو بدعتیں رائج کی گئیں، دین پر جس جس انداز سے مظالم ڈھائے گئے اور اس طرح اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، ان سب کے خلاف جہاد کیا۔ بقول علامہ محمد اقبالؒ:

وہ ہند میں سرمایۂ ملّت کا نگہباں
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

حضرت احمد سرہندیؒ نے مسلمانوں میں دین کی تعلیمات کو پھیلایا ، معاشرے کی عام ذہنی فضا کو اسلام کے حق میں تیار کیا، مغلیہ دربار کے بااثر لوگوں کو دعوتِ اسلامی سے متاثر کیا،امرا پر اپنا اثر ڈالا، علما اور مشائخ کو خدمت ِ دین کی عملی مساعی کی ترغیب دی۔ خود حکومت کی فوج میں تقریباً چار سال تک عسکری خدمات انجام دیں، اور اپنے خیالات کا پرچار کرتے رہے، تاکہ فوج کا سمجھ دار طبقہ ان تمام خرابیوں کو اچھی طرح جان لے، جو معاشرے میں راہ پا گئی تھیں۔

پھر اپنے خطوط کے ذریعے سے، آپ نے ان تمام لوگوں کو جو قومی زندگی میں کوئی مؤثر کردار ادا کرسکتے تھے، انھیں انفرادی اور اجتماعی زندگی میں شریعت کے قیام، احکامِ دینی کے نفاذ اور سنتِ  نبویؐ کے احیا کے لیے آمادہ کیا۔ انھیں اس بات کی مسلسل ترغیب دیتے رہے اور یہاں تک فرمایا کہ: ’’جو کام آپ حضرات کر رہے ہیں، اگر اس کو شریعت کے قیام کے ساتھ سرانجام دیں تو آپ وہی کام انجام دیں گے جو انبیا کرام ؑ نے انجام دیا ہے‘‘۔یہ وہ طریقہ تھا جس کے ذریعے حضرت احمد سرہندیؒ نے دفاعِ اسلام کے لیے ایک مؤثر اور ہمہ گیر تحریک برپا کی تھی۔ انھوں نے شاہانہ استبداد کی پروا تک نہ کی اور دربار میں جاکر جہانگیر [۱۵۶۹ء-۱۶۲۷ء] کے سامنے کلمۂ حق بلندکیا اور اس ’جرم‘ پر قید کو ہنسی خوشی گوارا کیا۔ گوالیار جیل میں دو سال زیرحراست رہے۔   حضرت احمدسرہندی ؒکی پوری زندگی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی زندگی ہے اور ہماری تاریخ کا روشن ترین باب ہے۔

’بدعت‘ کے حوالے سے حضرت مجددؒ کا قول ہے: ’’لوگوں نے کہا ہے کہ ’بدعت‘ کی دوقسمیں ہیں: بدعت ِ حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعت دافع سنت ہے، اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حُسن و نُورانیت نظر نہیں آتی اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا‘‘۔[مکـتوباتِ ربانی ،اوّل، مکتوب ۱۸۴، ۲۶۰۔ دوم، مکتوب ۲۳، ۵۴ ]

 اسی طرح حضرت مجددؒ نے ایک نیازمند کو خبردار کرتے ہوئے لکھا: ’’اے سعادت مند عزیز، آپ کے مکتوب گرامی کے ایک فقرے میں ’خدیونشا ٔتین‘ لکھا تھا (جس کا مطلب ہے دونوں جہان کے بادشاہ)۔ یہ وہ نعت اور تعریف ہے جو صرف حضرت واجب الوجود اللہ جل شانہ کے لیے مخصوص ہے۔ بندہ مملوک کو جو کسی شے پر قادر نہیں، کیا لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے اور اختیارات خداوندی میں دخل انداز ہو۔بالخصوص عالمِ آخرت میں کہ مالکیت و ملکیت کا کیا حقیقی اور کیا مجازی، حضرت مالک یوم الدین کے لیے مخصوص ہے‘‘ [مکتوباتِ ربانی، اوّل، مکتوب ۷۴]

جس ماحول میں حضرت احمد سرہندیؒ دعوتِ دین کا کام کر رہے تھے، اس کا اندازہ ان مکتوبات سے لگایا جاسکتا ہے:

ایک صدی سے اسلام پر اس قسم کی غربت چھا رہی ہے کہ کافر لوگ، مسلمانوں کے شہروں میں صرف کفر کے احکام جاری کرنے پر راضی نہیں ہوتے، بلکہ چاہتے ہیں کہ اسلامی احکام [و شعائر] بالکل مٹ جائیں، اور اسلام اور اہلِ اسلام کا کچھ اثر باقی نہ رہے۔ نوبت اس حدتک پہنچ چکی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسلامی شعائر کو ظاہر کرتا ہے تو بے دریغ قتل کیا جاتا ہے۔ (مکـتوباتِ ربانی، اوّل، مکتوب ۸۱)

اسلام اور کفر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دو اضداد کا جمع ہونا محال ہے۔ پس ، اللہ اور اس کے رسولؐ کے دشمن کے ساتھ محبت کرنا بڑا بھاری گناہ ہے۔(اُن سے)ہم نشینی اور ملنے جلنے میں کم سے کم نقصان یہ ہے کہ شرعی احکام کے جاری کرنے اور کفر کی رسموں کو مٹانے کی طاقت مغلوب ہوجاتی ہے ، اور یہ حقیقت میں بہت بڑا نقصان ہے۔ (مکـتوباتِ ربانی، اوّل، مکتوب ۶۳)

مرکزِ سلطنت و حکومت کی اہمیت اور اس میں کارخیر کے امکانات کو ان کی درج ذیل  تحریر سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ یہ بات وہ اپنے زمانے کے حاکم کی کر رہے ہیں، مگر اس کے مخاطب ہرزمانے میں اور ہرجگہ پر اہلِ اقتدار اور اہلِ دعوت ہیں :

بادشاہ کی بہتری کے لیے کوشش کرنا گویا تمام بنی آدم کی اصلاح میں کوشش کرنا ہے، اور بادشاہ کی اصلاح اس امر میں ہے کہ بلحاظِ وقت جس طرح ہوسکے کلمۂ اسلام کا اظہار کیا جائے۔ کلمۂ اسلام کے معتقدات بھی کبھی کبھی بادشاہ کے کانوں تک پہنچا دیے جائیں اور مذہب [اسلام]کی مخالفت کی تردید کرنی چاہیے۔ اگر یہ دولت میسر آجائے تو گویا انبیاعلیہم السلام کی وراثت عظمیٰ ہاتھ آگئی۔ (مکتوبات ربانی، اوّل، مکتوب ۶۷)

حضرت مجدد صاحب کے انتقال کے بعد آپ کے خلفا اور آپ کے مریدوں کا ایک بہت بڑا حلقہ اپنے اپنے دائرے کے اندر، اور اپنے اپنے علاقے میں اس عظیم دعوتی، تربیتی اور اصلاحی کام کو انجام دیتا رہا۔ یہ اس کام ہی کا اثر تھا کہ مغل بادشاہ اکبر [۱۵۴۲ء-۱۶۰۵ء] کی بے دینی کے مقابلے میں جہانگیر کے زمانے میں حالات کچھ سنبھلے۔ پھر جہانگیر کے بیٹے شاہجہان [۱۵۹۲ء- ۱۶۶۶ء] کے زمانے میں اسلامی احیا کا آغاز ہوا اور اورنگ زیب عالم گیر کے زمانے میں حالات تقریباً بالکل بدل گئے۔ پہلے حالات جتنے اسلام کے مخالف تھے، اب وہ اتنے ہی اسلام کے حق میں ہوگئے،   پھر اورنگ زیب عالم گیر نے خود حضرت مجددؒ کے صاحبزادے خواجہ محمدمعصومؒ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

عجمی تصوف کی اصلاح

دوسرا مغل فرماں روا نصیرالدین ہمایوں [۱۵۰۸ء-۱۵۵۶ء] جب ایران کی مدد سے دوبارہ ہندستان آیا تو وہ اپنے ساتھ بہت سے ایرانی ثقافتی اثرات اور شیعی عقائد کے پرچارک لے کر آیا۔ حضرت مجددؒ نے ان عجمی اثرات پر بھی کاری ضرب لگائی اور اسلام کو اس کے خالص رنگ میں پیش کیا۔ اسی طرح تصوف کی ہندستان میں جو شکل رواج پاچکی تھی وہ اسلام کی حقیقی روح سے بہت دُور ہٹی ہوئی تھی۔ آپ نے اس کی اصلاح کی اور اسے اسلام کے مزاج کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔حضرت مجددؒ لکھتے ہیں: ’’بعض خلیفوں کو ان کے مرید سجدہ کرتے ہیں۔ اس فعل کی شناعت اورکراہت ، سورج سے زیادہ روشن ہے۔ انھیں روکنا چاہیے اور پوری سختی اور تاکید سے منع کرنا چاہیے‘‘۔ [مکتوباتِ ربانی، اوّل، مکتوب ۲۹]

’ہمہ اوست‘ کے ویدانتی، اشراقی اور ہندی تصور کے مقابلے میں ’ہمہ از اوست‘ کا تصور پیش کیا، جس میں خالق اور بندے کی تفریق باقی رہتی ہے، اور خلق، خدا میں گم نہیں ہوجاتی ۔ اسی طرح ’تصوف‘ اور ’شریعت‘ کی پرانی کش مکش کو آپ نے دُور کرنے، اور دونوں میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی اور سنت ِ نبویؐ کے اتباع اور شریعت کی پابندی پر بے حد زور دیا۔

پھر مجددؒ صاحب نے ایک طرف اسلامی عقائد کی تدریس و تعلیم کا کارنامہ انجام دیا تو دوسری طرف عجمی اثرات اور غیراسلامی تصوف کی مخالفت کی، اور اسلامی تصوف کے اصول اور اس کی فلسفیانہ بنیادوں کو پیش کیا۔ آپ نے مسلم معاشرے کے ہرطبقے میں اسلامی زندگی کو فروغ دیا اور ان میں حرکت پیدا کی، ملک کی سیاسی زندگی کو متاثر کیا، اور نظامِ حکومت کو شریعت کے تابع لانے کی منظم اور مسلسل کوشش کی: ’’ان کی کوششوں کے نتیجے میں اسلام سے بغاوت کی جو مختلف لہریں چل رہی تھیں وہ قدرے سُست پڑگئیں، البتہ جو بگاڑ ابتدا سے ہندی مسلم معاشرے کو چاٹ رہا تھا، وہ ختم نہ ہوسکا۔مختلف حیلوں، بہانوں سے خود مشائخ و اہلِ تصوف کی ایک تعداد کے ہاتھوں گمراہیاں، پسپائیاں اور بدعتیں راہ پاتی رہیں‘‘[آباد شاہ پوری، تاریخ جماعت اسلامی، حصہ اوّل، ص۲۷]۔ بلاشبہہ حضرت شیخ احمد سرہندی کی زندگی اور جدوجہد ، برصغیر ہند میں اسلام کے ایک زریں دور کی بازیافت ہے۔

شیخ عبدالحق دہلویؒ

اسی زمانے میں شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ [۱۵۵۱ء-۱۶۴۲ء]کی کوششیں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہیں، جنھوں نے خاص طور پر حدیث کی تعلیم اور احیا کی کوشش کی اور دین کے بارے میں ایک معتدل نقطۂ نظر کے فروغ دینے کے لیے غیرمعمولی خدمات انجام دیں۔ وہ بلندپایہ فقیہ، بلندمرتبہ مصنف اور کمال درجے کے عالمِ دین تھے اور بعض حوالوں سے شیخ احمدسرہندیؒ کے ناقد بھی۔ علّامہ عبدالحیٔ حسنی لکھنوی لکھتے ہیں: ’’شیخ عبدالحق محدث دہلوی وہ پہلے عالمِ دین ہیں، جنھوں نے تصنیف و تدریس کے ذریعے سرزمینِ ہند میں علمِ حدیث کی نشرواشاعت کی‘‘ [نزھۃ الخواطر، ج۵، ص۲۰۱، بحوالہ فقہاے ہند، از محمداسحاق بھٹی، ج۴، ص ۱۸۰]۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندستان میں علمِ حدیث کو جو ترقی حاصل ہوئی ، اس کا اوّلین سہرا شیخ عبدالحقؒ ہی کے سر ہے۔

جب مغل جہانگیر بادشاہ نے اپنے باپ اکبر کے خیالات سے دُوری اختیار کی، تو شیخ عبدالحق کے دل میں جہانگیر کے لیے خیرخواہی کا جذبہ پیدا ہوا۔ آپ نے طے کیا کہ حاکم بے خبر ہے اور خیر کی طرف آنا چاہتا ہے تو اس سے ملنا اور اس کی رہنمائی کرنا چاہیے۔ اس لیے انھوں نے جہانگیر سے ربط ضبط قائم کرنے کے لیے خود پیش رفت فرمائی۔ ایک ممتاز محقق نے لکھا ہے: ’’ممکن ہے        شیخ [عبدالحق] کے رویے میں تبدیلی کا سبب خواجہ باقی اللہ کی تعلیم ہو، کہ خواجہ کا اصول تھا: ’جھونپڑیوں سے لے کر محلوں تک ارشاد و تلقین کا کام کرنا چاہیے، اور سلاطین سے علیحدہ رہنے کے بجائے ان کو متاثر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔[خلیق احمد نظامی، حیات شیخ عبدالحق محدث دہلوی، ص ۱۴۶]

  • اورنگ زیب عالم گیر:ایک طویل دورِ پُرفتن کے بعداورنگ زیب عالم گیر نے جو کارنامہ انجام دیا، وہ مختصراً یہ ہے کہ:
    •  پورے ملک میں اسلام کے لیے ایک سازگار فضا بنا دی۔ وہ غلط چیزیں جو کھلے بندوں ہو رہی تھیں، اُن کی حوصلہ شکنی کی اور بدعتوں کو بند کیا۔
    • جب ماحول اور فضا اعتدال پر آئے تو اسی فرماں روا نے اسلامی قوانین کو مرتب و مدون کیا اور ان کو نافذ بھی کیا۔ یہ بہت بڑا کارنامہ تھا جو اورنگ زیب نے انجام دیا۔ الفتاویٰ الہندیہ (فتاویٰ عالمگیری) کی تدوین ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ یہ فتاویٰ آج بھی اسلامی قانون کے بہترین مجموعوں میں شمار کیے جاتے ہیں، بلکہ انگریزوں کے دور میں بھی جو تھوڑا بہت اسلامی قانون باقی رہا، اس کی ایک وجہ اس مدون قانون کی موجودگی بھی تھی۔
    • اس کے ساتھ ہی اورنگ زیب نے ایک نئے نظامِ تعلیم کی داغ بیل بھی ڈالی، جس کے ذریعے اسلامی نقطۂ نظر سے نئی نسلوں کو تعلیم دی جاسکے اور ایسے افراد تیار کیے جاسکیں جو ملک کے نظام کو چلانے کے قابل بن سکیں۔

دعوتِ اسلامی کے نقطۂ نظر سے اورنگ زیب کے یہ تینوں کام بے حد اہم ہیں۔ تاہم، اورنگ زیب کی آنکھیں بند ہوتے ہی، یعنی ۱۷۰۷ء کے بعد اٹھارھویں صدی میں وہ تمام اجتماعی، مذہبی، اخلاقی اور سیاسی کمزوریاں اور خرابیاں پوری قوت سے مسلمانوں میں اُمڈ کر  حاوی ہوتی نظر آئیں، جو خرابیاں گذشتہ صدیوں سے برگ و بار لا رہی تھیں۔ اس دورِ حکمرانی میں مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی تو کسی زمانے میں بھی مثالی نہیں رہی تھی، اب رہی سہی کسر بھی درہم برہم ہوگئی۔

شاہ ولی اللہ  ؒ

شاہ ولی اللہ ؒ [۱۷۰۳ء-۱۷۶۳ء]کا دور اُس زمانے پر مشتمل تھا، جب اورنگ زیب کی لائی ہوئی اصلاحات خطرے میں پڑگئی تھیں۔ مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ ملک کے گوشے گوشے میں بغاوتیں سر اُٹھا رہی تھیں۔ ہرطرف بدنظمی، بدامنی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا۔ اس زوال اور ہمہ پہلو انتشار کو ہندوئوں کی قومی، نسلی اور عسکری بنیادوں پر اُٹھنے والی تنظیموں نے تیز تر کر دیا تھا۔ جنوب میں مرہٹے عروج پکڑ کر دہلی کی طرف یلغار کر رہے تھے۔ دہلی کے اُس پار گنگ و جمن دوآبے میں جاٹ اُمڈ رہے تھے۔ سرہند، پنجاب اور سرحد[خیبرپختونخوا] کے علاقے سکھوں کی خوں آشامی کا نوحہ لکھ رہے تھے۔ بنگال اور ہند کے ساحلی علاقے انگریزوں کی تنظیم، سیاست اور عسکریت سے مغلوب ہورہے تھے۔ اور یہ سب مل کر مغلیہ سلطنت کو مختلف محاذوں پر شکست دے رہے تھے۔ نئی قوت انگریز اپنے قدم جما نے کے ساتھ اپنے اثرات کو مسلسل بڑھا رہا تھا۔

ان حالات میں شاہ صاحبؒ نے اسلامی احیا کے کام کا آغاز کیا۔ آپ کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلام کو زندگی کے ایک ہمہ گیر پروگرام کی حیثیت سے قوم کے سامنے پیش کیا اور   اس پروگرام کے مطابق نہایت حکمت، دانش مندی اور حُسنِ توازن کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۷۰۳ء کے بعد سے جو بھی اصلاحی تحریک ہندستان میں اُٹھی، اس پر شاہ ولی اللہؒ کی فکر کی چھاپ نظر آتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ کوششیں جو راہِ اعتدال پر قائم نہ رہ سکیں،انھیں بھی اگر کہیں سے سنبھلنے کی تحریک حاصل ہوئی تو وہ شاہ ولی اللہؒ ہی کی فکر تھی۔ ایک ایمان دار مؤرخ     یہ کہنے پر مجبور ہے کہ: ’گذشتہ ڈھائی سوبرسوں کو شاہ ولی اللہؒ کا دور قرار دیا جانا چاہیے‘۔

شاہ ولی اللہ ؒ نے اس بات کی کوشش کی کہ اُمت قرآن اور حدیث سے دوبارہ وابستہ ہو۔ مسلمانوں کی تاریخ اور اسلام کے مزاج کے گہرے مطالعے سے آپ نے اس حقیقت کو پالیا تھا کہ: نہ کلامی مباحث مسلمانوں میں حرکت پیدا کرسکتے ہیں، نہ محض تصوف کی کرامات انھیں کسی بڑے کام کے لیے تیار کرسکتی ہیں، جو چیز مسلمانوں میں زندگی کی حرارت اور ہمہ گیر حرکت پیدا کرسکتی ہے وہ صرف قرآن اور سنت ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ آپ نے قرآنِ پاک کا فارسی میں ترجمہ فرمایا۔ حدیث اور علومِ حدیث کی ترویج کی اور احادیث نبویؐ کے ذریعے احکامِ دین کی حکمتوں کو بلکہ دین کے پورے نظام کو واضح کیا۔ یہ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ہے اور اسی خدمت کا یہ نتیجہ تھا کہ اس اُمت میں دوبارہ اپنی اصل بنیادوں سے استواری کی کیفیت پیدا ہوئی۔

تاریخ اسلام سے ہم کو یہ سبق ملتا ہے کہ اس قوم کو جن لوگوں نے ترقی و تعمیر کی راہوں پر گامزن کیا ہے، وہ وہی افراد ہیں ، جنھوں نے اس کو قرآن اور سنت کی طرف بلایا ہے، خواہ وہ: حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ہوں یا امام ابوحنیفہؒ ، خواہ وہ امام شافعیؒ ہوں یا امام احمد بن حنبلؒ، خواہ وہ امام مالکؒ ہوں یا امام ابن تیمیہؒ، خواہ وہ امام غزالی ؒ ہوں یا محمد بن عبدالوہابؒ۔ یہی دعوت ہے جو اس اُمت میں کامیاب ہوسکتی ہے اور اس کو نئی زندگی عطا کرسکتی ہے۔ ملت ِ اسلامیہ کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ صرف اُن حضرات نے کیا ہے جنھوں نے اس کو قرآن و سنت کی طرف بلایا ہے۔ اس حقیقت کو شاہ صاحب نے محسوس فرمایا اور ہندستان کے نہایت تاریک حالات میں مسلمانوں کا ربط قرآن و حدیث کے ساتھ قائم کیا۔

  • اسلام ، ایک مکمل دین: شاہ ولی اللہ ؒ کا دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلام کو ایک اجتماعی نظام، ایک مکمل دین اور ایک ہمہ گیر ضابطہ ٔ حیات کی حیثیت سے پیش کیا۔ آپ کے پیش نظر زندگی کے پورے نظام کی اصلاح تھی، اس کے محض کسی ایک پہلو کی نہیں۔ آپ نے زندگی کی تمام وسعتوں کے لیے اسلام کی ہدایات کوواضح کیا۔ شاہ ولی اللہؒ کی تصانیف کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ: فلسفے سے لے کر عبادت کے مسائل تک، نجی زندگی سے لے کر سیاست و معیشت اور تمدن کے ارتقا کے اصولوں تک، فقہ کے مسائل سے لے کر تصوف کے حقائق تک، تمام پر  امام صاحب ؒ نے بحث کی اور ان کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا۔ اسی لیے شاہ صاحبؒ کی تحریروں کو پڑھتے وقت معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہمارے اِس عہد کا کوئی مفکر اپنے خیالات پیش کررہا ہے۔ ان کے خیالات میں ذرا بھی قدامت اور ازکار رفتگی نہیں پائی جاتی۔ ان کی تحریروں میں ایسی تازگی ہے، جیسی نسیم صبح کے ہر آنے والے جھونکے کی نشاط پروری۔
  • اعتدال اور جامعیت :شاہ ولی اللہ ؒ کے ہاں بڑا ہی اعتدال، بے مثال توازن اور حسین جامعیت ملتی ہے۔ فقہ کے تقریباً تمام مسلکوں کو انھوں نے اپنے سامنے رکھا اور اعتدال کی راہ پیش کی۔ تصوف کے جتنے بھی سلسلے ہندستان میں جاری تھے، ان میں سے بیش تر سے آپ نے خود استفادہ کیا اور جو تعلیمات پیش کیں،ان میں سب کی روح کو سمو لیا۔ جامعیت کا ایک فطری تقاضا اعتدال پسندی ہوتی ہے اور یہ بھی امام صاحب کی تعلیمات میں ہمیں بدرجۂ اتم ملتی ہے۔
  • جدید علم الکلام :شاہ ولی اللہ  ؒ نے ایک جدید علم الکلام کی بنیاد بھی رکھی اور یہ علم الکلام اُس علم الکلام سے بنیادی طور پر مختلف ہے جس کی ترویج یونانی فکر کے زیراثر معتزلہ اور فلاسفۂ اسلام کے ہاتھوں ہوئی ، بلکہ ایک حد تک اشاعرہ کے علم الکلام سے بھی یہ مختلف ہے۔ یہ وہ علم الکلام ہے جس میں قرآن کے طرزِ استدلال کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ جس میں اس طریقے کو اختیار کیا گیا ہے، جو مشکوٰۃ نبوت سے ہم کو ملتا ہے۔ سیدھی سادی دلیلیں، دل میں اُتر جانے والی باتیں، دماغ کو مطمئن کر دینے والا استدلال، روز مرہ کے حقائق سے استشہاد، نہ اس میں فلسفیانہ موشگافیاں ہیں اور  نہ لایعنی اور لاطائل بحثیں۔ اس میں ذہنی عیاشی کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ خیالی قسم کی غیرحقیقی بحثوں سے بھی یہ پاک ہے۔ یہ وہ علم الکلام ہے جس کا موضوع زندگی کے بنیادی حقائق و مسائل ہیں۔   یہ زندگی سے متعلق ہے، زندگی سے ہی مربوط ہے اور زندگی ہی کی حقیقتوں کو استعمال کرتا ہے۔ یہی وہ علم الکلام ہے جو ہمیں بیسویں صدی میں پروان چڑھنے والی تحریک ِ اسلامی (چاہے وہ جماعت اسلامی ہو یا الاخوان المسلمون وغیرہ)کے لٹریچر میں ملتا ہے۔ اس طرح شاہ صاحب اور عہدحاضر کی تحریک ِاسلامی کے طرزِاستدلال میں بڑی مناسبت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
  • معاشی نظریات  : اللہ تعالیٰ نے شاہ ولی اللہ ؒکو دینی اور الٰہیاتی اُمور کے ساتھ معاشی، اقتصادی اور سماجی اُمور میں منفرد شان عطا فرمائی تھی۔ ان کے معاشی نظریات کو ہم اِن بیانات سے پرکھ سکتے ہیں:
    • جو معاشرہ کسی کی محنت اور جدوجہد کا قدر دان نہیں، اور اس کی مناسب اُجرت ادا نہیں کرتا، آجر اور مزارع پر ناقابلِ برداشت محصولات عائد کرتا ہے ، وہ قوم کا دشمن ہے، اسے ختم ہو جانا چاہیے۔ 
    • پیداوار اور آمدنی کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کا ہر فرد ایک دوسرے سے تعاون کرے۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو معاشرتی خرابیاں پیدا ہوں گی۔
    • زمین کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ملک کے باشندوں کی صرف اتنی حیثیت ہے کہ جیسے مسافرخانے میں قیام کرنے والے مسافر کی ہوسکتی ہے۔
    • ملک میں جاگیروں کی کثرت نہیں ہونی چاہیے۔ جاگیریں جتنی زیادہ ہوں گی، اس قدر حکومت کے نظم و نسق کا ڈھانچا کمزور اور استحکام متاثر ہوگا، جس کے نتیجے میں کاشت کار پریشانی میں مبتلا ہوں گے۔
    • کسی گروہ کی، کسی معاملے میں اس طرح اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے کہ وہ معاشرے کے کمزور افراد کو مالی یا ذہنی تکلیفوں میں مبتلا کرے۔
    • عیاشی کے مراکز اور جوئے خانے یک قلم بند کر دیے جائیں۔ اگر یہ باقی رہیں گے تو دولت کی تقسیم کا صحت مند نظام قائم نہیں ہوسکے گا۔
    • تمام انسان یکساں حیثیت کے مالک ہیں۔ کوئی شخص مالک الملک یا ملک الناس یا مالک قوم نہیں کہلا سکتا۔
    • بلالحاظ مذہب و نسل، تما م انسانوں میں عدل و انصاف، مال و جان کا تحفظ، عزت و ناموس کی حفاظت اور شہری حقوق میں یکسانیت سب کا بنیادی حق ہے۔
    • دولت کے مستحق وہی لوگ ہیں، جو اُجرت اور زراعت کے ذریعے یا دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔
    • ریاست کے سربراہ کی حیثیت، کسی وقف کے متولی کی سی ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ [فقہاے ہند، پنجم، ص ۱۰۰۶-۱۰۰۷، ۱۰۱۸]
  • نظام تعلیم و تربیت : آپ نے محض خیالات پیش کر دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک ایسا مرکز علم قائم کیا، جہاں سے ان خیالات کی اشاعت ہوسکے۔ جہاں ملک کے گوشے گوشے سے لوگ آئیں، ان خیالات کو حاصل کریں اور پھر اپنے اپنے دائرۂ اثر میں جاکر ان کو پھیلائیں اور فروغ دیں۔ شاہ صاحبؒ نے ایک مؤثر نظامِ تعلیم وتربیت بھی قائم کیا۔آپ نے انسانوں کا ایک ایسا گروہ تیار کیا، جس نے ملک کے ہرحصے میں اس پیغام کو پہنچایا۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اجتماعی حالات پر آپ نے غیرمعمولی اثرڈالا۔ ملک کے ایک ایک طبقے کو پکارا، اجتماعی زندگی پر تنقید کی۔ علما سے کہا: ’تم اپنا فرض یاد کرو‘۔ اہلِ سیاست سے کہا: ’تم اپنی قوم کو کہاں لیے جارہے ہو؟‘۔ امرا سے کہا: ’تمھاری یہ دولت کس کام آئے گی؟ اگر تم اس کو دین کی سربلندی کے لیے استعمال نہیں کرتے؟‘ عوام سے کہا کہ: ’اُٹھو اور اللہ کی راہ کے سپاہی بنو۔ اپنے فرائض کو پہچانو اور دین کو اجتماعی زندگی میں قائم کرنے کی جدوجہد کرو‘۔ ملک کے ہرطبقے کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر آپ نے دین کی دعوت پہنچائی۔

شاہ ولی اللہ کا عہد، ہندستان میں سیاسی لحاظ سے سخت بدامنی اور انتشار سے اَٹا ہوا تھا۔ ہرطرف بغاوت سر اُٹھائے ہوئے تھی۔ مرہٹے، سکھ، جاٹ، اُمڈ اُمڈ کر، دم توڑتی مغل سلطنت کو نوچ رہے تھے۔ ان شدید تاریک ماہ و سال میں بھی شاہ ولی اللہ مایوسی کا شکار نہیں ہوئے۔ مرہٹے ایک سیاہ آندھی کی طرح رام راج اور مسلمانوں کو برباد کرنے کے منصوبوں پر گامزن تھے۔ شاہ صاحب علم دین کے ساتھ سیاسی تدبر سے بھی سرفراز تھے۔ اس تباہ کن ماحول میں سیاسی مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے اُن کے سامنے دو راستے تھے: ایک یہ کہ روہیلوں کے رہنما نجیب الدولہ کو توجہ دلائیں اور دوسرے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی کو دعوت دیں۔

شاہ ولی صاحب نے احمد شاہ ابدالی [۱۷۲۲ء-۱۶؍اکتوبر ۱۷۷۲ء] کو ایک طویل خط لکھا، جس میں ہندستان کے سیاسی حالات اور عمومی زندگی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو درپیش شدید خطرات کا تفصیل سے تذکرہ تھا۔ ساتھ ہی یہ دعوت تھی کہ ان حالات کو درست رُخ دینے کے لیے وہ بامعنی قدم اُٹھائے۔ اس سے قبل احمدشاہ نےکئی بار ہندستان پر حملے کیے تھے، لیکن اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس نے ایک نئے عزم اور ارادے کے ساتھ ہندستان کا رُخ کیا۔ یکم نومبر ۱۷۶۰ء کو احمدشاہ پانی پت پہنچا، جہاں مرہٹوں سے زبردست معرکہ آرائی ہوئی:’’پانی پت کا میدان کارزار سجا، مدرسہ رحیمیہ کا ایک مدرس [شاہ ولی اللہ ] اس تاریخی جنگ کے نقشے تیار کر رہا تھا‘‘ [خلیق احمد نظامی، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوبات، ص ۵۴]۔ ڈھائی ماہ تک معرکہ بپا رہا، مرہٹوں کو اس جنگ میں شکست فاش ہوئی۔ مرہٹہ جرنیل شیورائو اور اس کا بیٹا وشواس میدانِ جنگ میں خاک آلود ہوئے اور مرہٹوں کی وہ طاقت کہ جس نے گذشتہ ڈیڑھ سو برس سے طوفان مچا رکھا تھا آن کی آن میں ماضی کا قصّہ بن گئی۔

امرِواقعہ ہے کہ یہ تدبیر حضرت شاہ ولی اللہ کی ہمت، دُوراندیشی اور بصیرت کا نتیجہ تھی۔[جاری]

حواشی

۱-         بعض مسلمان حکمرانوں نے اسلام کی اشاعت کے بجائے، ہندوئوں کو مندروں اور بت خانوں میں بھیجنے میں دل چسپی لی اور اس کو اسلام کی خدمت تصور کیا (محمداسحاق بھٹی ’فقہاے ہند، سوم، لاہور ، ص۴۳)۔ شیخ محمد اکرام نے ابتدائی زمانے کے مسلمانوں کی حالت ِ زار کے بارے میں لکھا ہے: ’’ان کی روحانی حالت میں کوئی اہم تبدیلی نہ ہوئی تھی۔ اگر پہلے وہ مندروں میں مورتیوں کے سامنے ماتھا ٹیکتے تھے تو اب مسلمان پیروں اور قبروں کے سامنے سجدے کرتے اور ان سے مُرادیں مانگتے۔ پجاریوں اور برہمنوں کی جگہ [ایسے] مسلمان پیروں نے لے لی تھی، جن کے نزدیک انسان کی روحانی تربیت کے لیے احکام اسلام کی پابندی، اعمالِ حسنہ اور سنت ِ نبویؐ کی پیروی ضروری نہ تھی، بلکہ یہی مُدعا مراقبوں، وظیفوں اور مرشد کی توجہ سے حاصل ہوجاتا تھا۔ تعویذوں اور گنڈوں کا بہت زور تھا۔ ہندوجوگی اور مسلمان پیرکاغذ پر اُلٹی سیدھی لکیریں کھینچ کر خوش اعتقادوں کو دیتے اور یوں انھیں حصولِ مقصد کے صحیح اسلامی طریقوں سے باز رکھتے۔ [اسی طرح] معاشرتی رسموں کے اعتبار سے بھی مسلمانوں اور ہندوئوں میں کوئی بڑا فرق نہ تھا‘‘ (موجِ کوثر، ۲۰۲۱ء، ص۱۳-۱۴)۔اور سیّدابوالاعلیٰ مودودی کے بقول: ’’یہ تو مسلمانوں کا حال تھا، رہے وہ مسلمان جو باہر سے آئے تھے ان کی حالت بھی ہندستانی نومسلموں سے کچھ زیادہ بہتر نہ تھی۔ ان پر عجمیت پہلے ہی غالب ہوچکی تھی… خالص دینی جذبہ بہت ہی کم لوگوں میں تھا۔ وہ یہاں آکر بہت جلد عام باشندوں میں گھل مل گئے۔ کچھ نے ان کو متاثر کیا اور کچھ خود ان سے متاثر ہوئے۔ اس کے نتیجے میں یہاں مسلمانوں کا جو تمدن وجود میں آیا، وہ اسلامیت، عجمیت اور ہندوئویت کی ایک معجون مرکب بن کر رہ گیا‘‘۔ (تحریک آزادی ہند اور مسلمان، اوّل[مرتب: خورشیداحمد]،ص ۲۲)

۲-         اگر ایک طرف غیرمسلم، ہندوئوں کے ذات پات پر مبنی نسل پرستانہ اور طبقاتی جبر سے نجات پانے کے لیے مسلمان ہورہے تھے، تو دوسری جانب مسلمانوں میں سے کچھ مذہبی اور کچھ سیاسی پنڈت، ہندوئوں کو خوش کرنے کے لیے اسلام اور ہندومت کا ایسا ملغوبہ تیار کرنے اور متعارف کرانے میں مصروف تھے کہ جس سے نومسلم خوش ہوسکیں۔ اس ’ترقی پسندانہ‘ تحریک کو واضح طور پر مسلمان صوفیوں کے ایک قابلِ ذکر طبقے نے آگے بڑھایا جس میں ویدانتی عملیات اور اشغال، وحدت الوجود کے گمراہ کن تصورات اور جذب و سکر کی کیفیات کی مبالغہ آمیزی تقویت پہنچانے کا سبب بنتی رہی (فقہاے ہند، سوم، ص ۱۳)۔ یہ چیز جب ذرا ترقی کرگئی تو نمک کی اس کان میں بہت کچھ نمک بن کر رہ گیا، جو وحدت الادیان اور وحدت الوجود کے پردوں میں تخریب ِ دین کی شاہراہ کو وسعت دیتا گیا۔ (ایضاً، ص۱۵)

قومی و بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے مملکت خداداد پاکستان کے لیے ایک قومی لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میںہمیں اندرورنی و بیرونی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں ان کا مختصراً جائزہ پیش ہے:

  • عالمی حالات : سب سے پہلے بین الاقوامی حالات کو دیکھنا ضروری ہے۔ عالمی اسٹیج پر اگرچہ ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں نائن الیون کے سائے منڈلا رہے ہیں، لیکن اب اصل مسئلہ اس صورتِ حال سے باہر نکلنے اور آگے بڑھنے کا ہے۔ فریقین اس ضرورت کو تو محسوس کرتے ہیں لیکن باہر نکلنے کا راستہ ابھی واضح نہیں ہے۔ اس غیریقینی صورت اور بے عملی سے ہونے والے نقصانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آج تک کی صورتِ حال کے مطابق کچھ سنجیدہ کوششوں کے باوجود کوئی واضح حل سامنے نہیں آسکا۔ ایک طرف اس بحران کا حل تلاش کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ایک اور مسئلہ معاشی بحران کی شکل میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے۔

یہ مالیاتی بحران شروع تو ستمبر ۲۰۰۷ء میں ہوا لیکن بڑھتے بڑھتے آج ۲۰۲۲ء کے اختتام پر دُور دُور تک بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ اس مالیاتی بحران نے معیشت کے دوسرے شعبہ جات کو بھی متاثر کیا ہے اور اب یہ ایک کثیر الجہتی معاشی بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ بحران جو بنیادی طور پر نجی شعبے( بنکنگ، پراپرٹی، رئیل اسٹیٹ وغیرہ ) میں پیدا ہوا تھا، رفتہ رفتہ دوسرے شعبوں تک بھی پھیل گیا اور پیداوار، تجارت، عوامی قرضوں، روزگار، اور بجٹ خسارے وغیرہ پر بھی اس کے منفی اثرات مسلط ہوچکے ہیں۔ موجودہ نظام کو بچانے کے لیے ان حالات میں حکومتوں نے سرمایہ داروں کو جو معاشی سہارے (پیکج) دیے ہیں، انھوں نے اس سرمایہ داری نظام کے اندر ریاست کے کردار پر ہی سوال اٹھا دیے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بڑھتے بڑھتے قومی سطح پر معاشی بحرانوں کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ آج اس معاشی فساد سے کوئی یورپی ملک بھی محفوظ نہیں ہے۔ بے چینی اور اضطراب بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کو اب احساس ہو رہا ہے کہ یہ معاشی بحران، تہذیبی بحران میں بدل کر ہماری اخلاقی، سیاسی، انتظامی، اور اداراتی کمزوریوں کو سامنے لانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اس عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو بین الاقوامی سطح پر معاشی طاقت کا توازن بھی بدلتا جارہا ہے، جس میں ایشیائی اور لاطینی امریکی ممالک کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک بھی اپنے مسائل کے باوجود اس صورتِ حال میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یعنی پہلے جو بوجھ تھے وہ اب مضبوطی اور استقامت کی مثال سمجھے جا رہے ہیں۔ چین، جاپان، برازیل، بھارت، اور ترکیہ مستقبل کے اہم کھلاڑیوں کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ تو ہوا اس صورتِ حال کا ایک پہلو۔

 دوسرا پہلو جو ’بہار عرب‘ سے شروع ہوا تھا، اس نے یہ تصور اور گہرا کر دیا ہے کہ ساری دنیا تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں عوام اب اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے عوام ہی اس کی اصل طاقت ہوتے ہیں لیکن ماضی میں عوام کو اس حق سے محروم رکھا گیا اور اب وہ اس نظام میں تبدیلی کےخواہاں ہیں۔ خود نظریاتی میدان میں بھی اس سارے عمل کا ایک غیر متوقع نتیجہ برآمد ہوا ہے۔

اسلامی دنیا میں جب بھی کوئی حقیقی جمہوری عمل شروع ہوا ہے تو اس کے نتیجے میں مذہب خصوصاً اسلام کا رسوخ ہمیشہ بڑھا ہے۔ اس ضمن میں مجھے دو مغربی مفکرین کی رائے بڑی دانش مندانہ نظر آتی ہے، اگرچہ ان کا سیاق و سباق اور مقاصد مختلف ہیں۔ ولفریڈ کینٹ ویل سمتھ نے اپنی دو کتابوںاسلام تاریخِ جدید کے آئینے میں اور پاکستان بطور اسلامی ریاست میں کہا ہے کہ پاکستان یا دوسرے مسلم ممالک میں جب بھی جمہوری عمل مضبوط ہوگا، تو وہ اپنے ساتھ مذہبیت (اسلامائزیشن) ضرور لے کر آئے گا۔

۶۰ کے عشرے میں کی جانے والی اپنی تقریروں میں ڈاکٹر ہنری کسنجر نے بھی خوف میں لپٹے انھی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ عرب میں جمہوریت آنے سے اسلام کا سیاسی کردار مزید مضبوط ہو گا جو مغرب اور اس کے مفادات کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسے خدشات کے زیر اثر اس نے عرب ریاستوں کو مزید تقسیم کرنے اور یہاں نسلی و فرقہ وارانہ تحریکوں کو مضبوط تر کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ کسنجر کے خیال میں یہ حکمت عملی اسرائیل کے دفاع میں بھی کام آ سکتی ہے۔ کردوں، عربوں، ایرانیوں، اور ترکوں کے درمیان نسلی و فرقہ وارانہ تحریکوں کی حوصلہ افزائی اسی حکمت عملی کا ایک پہلو تھی۔ یہی کھیل اب عراق، افغانستان، پاکستان، ترکیہ اور عرب دنیا میں کھیلا جا رہا ہے۔ اپنے ملک کے لیے آیندہ کی حکمت عملی بناتے ہوئے عالمی منظر نامے کے ان پہلوؤں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

  • علاقائی تناظر: سوم یہ کہ ہمارے خطے کی صورتِ حال۔ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا پاکستان پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح عراق میں بدترین امریکی مداخلت اور بھارت کے ساتھ امریکا کی نئی صف بندی سے بھی ہم متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب چین بھی ایک محکم اور کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس کا اثر پاک چین تعلقات پر بڑا واضح ہے۔ ایک اُبھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اپنی سابقہ ترقیاتی حکمت عملی کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ، چین اب عالمی خصوصاً ایشیائی اور افریقی معاملات میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں ہمیں جو فوری چیلنج درپیش ہے وہ اگست ۲۰۲۱ء میں افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتِ حال کے حوالے سے ہے۔ اس مسئلے سے پہلو بچانا ہمارے لیے ممکن نہیں ، لیکن پھر بھی حالات جس طرف بڑھ رہے ہیں وہ انتہائی غیرمتوازن راستہ ہے۔ یہی معاملہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے تعلقات کا ہے، جن میں کوئی بھی خرابی مشرق وسطیٰ کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گی۔ ان حالات سے آنکھیں چرانا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ عالمی سطح پر امریکا اب چین کو اپنے مدِمقابل سے بھی زیادہ تصور کر رہا ہے، اور ایک نئے اقتدار کی جنگ کی طرف جارہا ہے، جس میں امریکا،چین کی قوت کو للکارنے کی راہ پر چلے گا۔

  • ملکی حالات: چہارم یہ کہ ہمارے ملکی حالات ہیں۔ زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو گذشتہ ۲۲برس بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس دورانیے کو دو اَدوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول، ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۸ء تک مشرف کا دور۔ دوسرا، ۲۰۰۸ء سے ۲۰۲۲ء تک زرداری، نواز اور عمران کا دورِحکومت۔ مشرف کا دور جمہوریت کے زوال، آمریت کے قیامِ نو، تمام ریاستی اداروں کے ایک فوجی حکمران کے سامنے سرنگوں ہونے، سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے فروغ، ملک کی نظریاتی سرحدوں کی کمزوری اور پاکستان کی آزادی و خودمختاری کے معاملے میں کچھ شدید قسم کے سمجھوتوں سے عبارت ہے۔

نائن الیون کے افسوس ناک واقعے اور اس کے بعد پاکستانی قیادت کے امریکا کے سامنے غیر مشروط طور پر سرنگوں ہو جانے سے نہ صرف پاکستان اور امریکا کے تعلقات بُری طرح متاثر ہوئے ہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری پر بھی سوال اٹھے اور ہمیں شدید جانی و مالی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑا ہے۔ پاک۔بھارت تعلقات میں بھی کچھ ایسی تبدیلیاں آئیں، جو پوری کی پوری بھارت کے مفاد میں گئی ہیں۔ ہمارے بنیادی مسائل یعنی مسئلۂ کشمیر اور مسئلۂ آب نظر انداز ہوگئے۔ ان مسائل کے لیے غیر روایتی حل بھی پیش کیے گئے لیکن وہ سب فریب ثابت ہوئے۔ مختصر یہ کہ پاکستان کو سیاست، معیشت، امن و امان، قومی یکجہتی، ثقافت اور نظریاتی سطح پر غرضیکہ ہرشعبے میں نقصان اٹھانا پڑا۔

۲۰۰۸ء کے انتخابات تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہو سکتے تھے۔ آغاز میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوام کو امید کی راہ دکھائی تھی، لیکن رفتہ رفتہ یہ امیدیں دم توڑ گئیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس نیم جمہوری دور میں زیادہ وقت حکومت اور اپوزیشن کے باہم جنگ و جدل اور فوج کی مداخلت نے پورا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ ہی ہلا کر رکھ دیا۔ اس صورتِ حال میں جس دانش مندی، دُوراندیشی اور صلاحیت کی ضرورت تھی، افسوس کہ فوجی اور سیاسی قیادت، دونوں نے عوام کو بُری طرح مایوس کیا۔

ان دو اَدوار میں ہونے والے واقعات کا نتیجہ اس بحران کی شکل میں برآمد ہوا ہے، جس سے آج ہمارا ملک گزر رہا ہے۔ موجودہ پارلیمان کی مدت ختم ہو رہی ہے اور نئے انتخابات کا شہرہ ہے۔ اس ملکی بحران کی نوعیت اور گہرائی کیا ہے؟ اس ضمن میںکچھ باتیں عرض ہیں:

  • اہلیت کا بحران: سب سے پہلے ہمارے سامنے قانونی اہلیت یا حکومت کے جواز کا بحران ہے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کے پاس حکومت کرنے کا ایک قانونی جواز موجود ہو۔ پہلے مشرف کے پاس یہ جواز موجود نہیں تھا۔ موجودہ حکومت اگرچہ منتخب حکومت ہے اور جمہوریت یا جمہوری اداروں کا ایک تاثر بھی موجود ہے، لیکن یہ حکومت بھی اخلاقی و سیاسی جواز سے عاری ہے۔ عوام اور قیادت، مختلف اداروں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ نظریۂ ضرورت کے تحت بنا ہوا ایک عارضی بندوبست ہے، نہ جس کے خیالات میں یکسانیت ہے اور نہ مقصد و عمل میں یک رنگی۔ جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہے وہ باہمی تعاون، اشتراک اور باہمی عمل کا جذبہ ہے۔ تمام بڑے ادارے یا تو ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں یا ایک مشکل قسم کے باہمی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کا حکومت اور حکومتی اداروں پر اعتماد اگر مکمل طور پر ختم نہیں بھی ہوا، تو کمزور ضرور ہوچکا ہے۔

اس ضمن میں صرف اعلیٰ عدلیہ کو کچھ استثنا حاصل ہے۔ میڈیا نے کچھ مثبت کردار ادا کیا ہے لیکن اس کا دائرہ بڑا محدود اور انتشار کا شکار ہے۔ فوج کو روایتی طور پر عوامی اعتماد حاصل رہا ہے لیکن اب ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں شمولیت اور سول ، سیاسی اور انتظامی اداروں میں  خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے دخل اندازی کے بعد یہ ادارہ بھی بُری طرح متنازع ہو چکا ہے۔ جواز کا یہ بحران انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگلے انتخابات جلداز جلد اور مکمل طور پر شفاف ہوں۔ لوگوں کا اعتماد رکھنے والی ایک نئی سیاسی قیادت ہی اس ملک کو کسی مثبت سمت میں لے جا سکتی ہے۔

  • دیانت  کا  بحران: معاملے کی دوسری جہت دیانت کا بحران ہے۔ یہ پہلے بحران سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اگرچہ عدم اہلیت کا بحران بھی بددیانتی کے ہی زمرے میں آتا ہے، لیکن یہ اس سے بڑا مسئلہ ہے۔ بات کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ دیانت کی بنیاد، دُور اندیشی، کردار ، اعتماد اور غیرمتزلزل ایمان داری پر استوار ہوتی ہے۔ موجودہ اتحادی حکومت سیاسی، نظریاتی اور اخلاقی میدان میں دیانت داری کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکمران طبقے کی دیانت پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر عوام کی اکثریت یہ یقین رکھتی ہو کہ فیصلے ان کے مفاد کے علاوہ کسی اور چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں، تو ان کی نظر میں حکومتی دیانت کا کیا تصور باقی رہ جائے گا؟ ہمارے خیال میں اس معاملے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ فوج کی قیادت بھی اپنی دیانت داری کے تصور کو تقریباً کھو چکی ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی فضا مضبوط ہورہی ہے۔اس کی سب سے خطرناک علامت یہ سامنے آئی تھی کہ مشرف کے دور میں فوج کو باقاعدہ حکم نامہ جاری کرنا پڑا کہ وردی میں ملبوس سپاہی عوامی ٹرانسپورٹ میں سفر نہ کریں۔ اس سے زیادہ خطرے کی بات کیا ہو سکتی ہے؟ آج شاید صورتِ حال اتنی خراب نہ ہو، لیکن اتنی اچھی پھر بھی نہیں۔ یقیناً یہ ایک بڑی خطرناک صورت ہے جس نے فوج کے وقار کو مجروح کیا ہے لیکن اس سے نپٹنے کے لیے حقیقت پسندانہ اور مفید طریقے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر ہم علامات کو ٹھیک کرنے کے بجائے بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کریں۔

اس معاملے میں امریکی کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کی طرح عسکری قیادت بھی امریکی اشاروں پر چلتی ہے۔ لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ہماری کوئی بھی پالیسی خالصتاً پاکستانی مفاد میں نہیں بنائی جاتی۔ چنانچہ اس طرح دیانت کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ متذکرہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں خوب غور و فکر کے بعد ایک سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو سیاسی قیادت میں تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ جب تک نئے تصورات رکھنے والی اور پاکستانی مفاد کو مدنظر رکھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل دینے والی ایک نئی قیادت سامنے نہیں آجاتی، ہمارا اس بحران سے نکلنا مشکل ہے۔

اس وقت سیاسی منظرنامہ پر تاریکی چھائی نظر آتی ہے لیکن کچھ پہلو اُمیدافزا بھی ہیں۔ تمام بڑے آئینی ادارے اگرچہ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں لیکن کم از کم چل تو رہے ہیں اور ان کی بساط میدان میں موجود ہے۔

اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کے معاملے میں بھی کچھ مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔اب اگرچہ عدلیہ آزاد ہو چکی ہے لیکن حکومت اور اس کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ بہت سے عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں ہوپاتا۔کچھ ایسے فیصلے ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت اور عدالتوں کے درمیان کوئی رسہ کشی چل رہی ہے۔ یہ ہمارے مستقبل کے لیے نیک شگون نہیںہے۔ حکومت، قانونی تقاضے پورے کرنے اور آئین کے اندر رہتے ہوئے ڈلیور کرنے میں ناکام ہو جائے تو عدالتی فعالیت (Judicial Activism) ضروری ہو جاتی ہے۔ عدلیہ کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے   ساتھ ساتھ حکومتی نا اہلی سے پیدا ہونے والے عوامی مسائل کے حل کی کوشش بھی کرنا پڑتی ہے۔ ان معاملات میں آئینی طور پر عدلیہ کو انسانی حقوق کی پاسبانی کا منصب دیا گیا ہے اور عدالتیں اس ذمہ داری کو اداکرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ معمول کی بات نہیں ہے بلکہ ملکی صورتِ حال میں پیدا ہونے والے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔

دوسری طرف عدالتی ضبط و تحمل (Judicial Restraint) بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی کہ عدالتی فعالیت اور ان دونوں کے درمیان ایک توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ ہمارے خیال میں ۱۹۷۳ء کے آئین میں دیا گیا بنیادی حقوق اور عدالت عظمیٰ کے ان کا پاسبان ہونے کا سارا تصور بڑا اہم ہے۔ اس کے پیچھے خیال یہ ہے کہ اگر غلط حکومتی اقدامات کے ذریعے عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جاتا ہے تو ان حقوق کی پاسبان ہونے کے ناطے یہ عدالت عظمیٰ ( صرف عدالت عظمیٰ) کا فرض ہے کہ وہ آگے آئے اور اپنا کردار ادا کرے۔ اس طرح ایک سیاسی مسئلہ بھی بنیادی حقوق کا مسئلہ بن سکتا ہے، اور جب ایسا ہوتا ہے تو یہ عدالت عظمیٰ کی عملداری میں آ جاتا ہے۔ آج سپریم کورٹ بار بار اپنا یہ حق استعمال کر رہی ہے کیونکہ حکومتیں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس عدالتی فعالیت کے اگرچہ مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن اگر یہ سب یونہی چلتا رہا تو مستقبل میںاداروں کے درمیان توازن بگڑنے کااندیشہ ہے۔ یہاں سے بات اچھی حکومت اور اچھے انتظام پر آ جاتی ہے۔ عدالتیں حکومت یا اس کے ذیلی اداروں کاکام نہیں کر سکتیں۔ یہ صرف نظام کے اندر رہتے ہوئے ہدایات دے سکتی ہیں، اور لاقانونیت کے خلاف تحفظ مہیا کر سکتی ہیں، حکومت کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔

تیسرا مثبت پہلو صحافتی آزادی اور میڈیا کا بڑھتا ہوا کردار ہے۔ ذرائع معلومات کے علاوہ میڈیا ایک ایسے پلیٹ فارم کا کردار بھی ادا کر رہا ہے، جس پر بحث و مباحث کے ذریعے پالیسی ساز اداروں پر کوئی اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ اسی طرح عوامی و سیاسی حلقوں میںشفافیت کو فروغ دینے میں بھی میڈیا کا ایک کردار ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ شعبہ بھی مفادپرستوں، زرپرستوں اور انتشار پسندوں کی دست برد سے محفوظ نہیں اور مختلف مقامی و بین الاقوامی لابیوں ، ثقافتی گروہوں، سیاسی دھڑوں اور طاقت ور اشرافیہ نے اسے بھی اپنے مقاصد پورا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس ضمن میں اشتہاروں کا لالچ بھی دیا جاتا ہے۔ ان کمزوریوں ، کوتاہیوں کے باوجود ایک آزاد میڈیا ملکی مفاد میں ہے، اور اس ضمن میں جو بھی بہتری ہوئی ہے اسے مثبت ہی سمجھنا چاہیے۔

  • گورننس، صلاحیت اور اعتماد کا بحران: تیسرا بڑا چیلنج جو ہمیں درپیش ہے وہ گورننس کا ایک بڑا بحران ہے جو تمام شعبوں میں واضح ہے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ آگے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اہلیت اور دیانت کے ساتھ ساتھ گورننس کا بحران ہمیں مدنظر رکھنا چاہیے۔

اہلیت اور دیانت اہم ہیں، لیکن صرف یہ دو خوبیاں کافی نہیں ہیں۔ اچھی گورننس کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اگر قیادت اور ادارے ڈلیور کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں تو اچھی گورننس کی امید رکھنا عبث ہے۔ اور جب صلاحیت کا یہ فقدان بدعنوانی کے ساتھ مل جائے تو بیڑا غرق سمجھیے۔ وطن عزیز میں گورننس کی ناکامی کی بہت سی وجوہ تلاش کی جا سکتی ہیں، مثلاً اہلیت، صلاحیت اور شفافیت کا فقدان، قانون کی عملداری نہ ہونا، میرٹ اور اصول و ضوابط کو نظرانداز کیا جانا، طاقت کا غلط استعمال اور دولت کی ہوس۔ کچھ قواعد و ضوابط یقیناً غلط ہو سکتے ہیں، لیکن اگر وہ قانونی طور پر موجود ہیں تو ان کا احترام بہرحال فرض ہے۔ اگر کھلے عام بار بار قانون کی خلاف ورزی کی جائے گی تو اچھی گورننس کی امید کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔ یہ اسی بدعنوانی اور نااہلی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں اچھی حکمرانی کی اُمید تقریباً ختم ہو چکی ہے اور یہ معاملہ پورے ملک کا ہے۔ اگر ہم کسی حقیقی تبدیلی کے امیدوار ہیں تو اس نا اہلی اور بدعنوانی کے خلاف سختی سے کارروائی کرنی ہوگی۔

 میں نا اہلی اور بدعنوانی کو جڑواں برائیاں سمجھتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں بدعنوانی کو اہلیت کے بالکل الٹ سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے اہلیت و صلاحیت کی تباہی کا نسخہ سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ یہ بھی بدعنوانی کی ایک نہایت کریہہ شکل ہے، لیکن بدعنوانی کو صرف مالی بے ضابطگی تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ طاقت کا ہر غلط اور بے جا استعمال بھی بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ بد عنوانی پورے ریاستی ڈھانچے کی تباہی کا باعث بنتی ہے اور کسی مؤثر قیادت کے ابھرنے کی ہر امید کو مسدود کردیتی ہے۔

چنانچہ اس لعنت کو اس کی جڑ (صلاحیت و دیانت کے فقدان) اور اس کے پھیلاؤ (لاقانونیت، اور بے ضابطگی) دونوں سطح پر ختم کرنا ضروری ہے۔ ایک ملک گیر سخت قسم کی مہم، پہلے مرحلے میں بدعنوانی میں کمی اور پھر رفتہ رفتہ اس کے مکمل خاتمے کا باعث ہو سکتی ہے۔ آیندہ قومی حکمت عملی میں اس پہلو کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

اس معاملے کا ایک اور پہلو جو مدنظر رہنا چاہیے وہ ہے ساکھ کا بحران۔ اہلیت یا ساکھ بنیادی طور پر ایک اخلاقی معاملہ ہے اور آدمی کے قول و عمل سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ معاملہ ریاستی انتظام کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ بہرحال ریاست کا انتظام افراد کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔

درج بالا مسائل اس وقت پاکستان کے لیے اہم ترین ہیں، لیکن ہمارا تجزیہ صرف انھی تک محدود نہیں رہنا چاہیے کیونکہ کچھ اور اہم مسئلے بھی ہماری توجہ کے متقاضی ہیں:

  • ہماری آزادی و خودمختاری : سب سے پہلے تو یہ بیان کر دیا جائے کہ متذکرہ بالا تمام خرابیوں کی موجودگی میں وطن عزیز کو اپنی بقا، آزادی و خودمختاری، قومی افتخار، اور اہم قومی مفادات کے دفاع کا مسئلہ درپیش ہے۔ ہماری آزادی، خودمختاری اور سالمیت خطرے میں ہے۔ اس تناظر میں آگے کی حکمت عملی بناتے ہوئے ہمیں ایک نیا دفاعی بندوبست بھی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اس دفاعی حکمت عملی کی بنیادہماری آزادی، خودمختاری، قومی وقار اور قومی مفادات کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔ ہمیں اس چیز کا احساس ہونا چاہیے کہ ہم کمزور ہوں یا طاقت ور، چھوٹے ہوں یا بڑے، چند قومی مفادات ایسے ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ملکی دفاع صرف عسکری دفاع تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی کئی جہتیں ہیں، جو سیاسی، انسانی، عسکری، ثقافتی، اور معاشی میدان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سیاق و سباق کو سامنے رکھتے ہوئے جو دفاعی حکمت عملی بنائی جائے، اس میں ملکی آزادی، خودمختاری اور سالمیت کو اولین اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
  • ثقافتی و نظریاتی شناخت: دوسرے اہم مسئلے کا تعلق ہماری نظریاتی، اخلاقی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ ہے۔ اس میدان میں بھی ہم کئی سمجھوتے کر چکے ہیں اور کئی دفعہ مار کھا چکے ہیں۔ کسی بھی قوم کے افراد سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ صرف چند سیاسی یا معاشی مفادات کی خاطر کوئی جدوجہد کریں اور اپنا سب کچھ قربان کردیں۔ لوگ اس سے بلند تر چیزوں کے لیے زندہ رہتے ہیں اور قربانیاں دیتے ہیں۔ چنانچہ دفاع و خودمختاری کے ساتھ ساتھ ہماری نظریاتی و ثقافتی شناخت بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی لیے اسلام بطور مذہبی شناخت ہمارے لیے نہایت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

موجودہ دور میں کئی مغربی مفکرین بھی اس بات کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ کسی بھی مسلم معاشرے کے لیے اس کا مذہب یعنی اسلام ایک جزو لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اسلام کو نظر انداز کر کے یا بگاڑ کر، معاشرے میں اندرونی و بیرونی امن کی امید رکھنا عبث ہے۔ سیکولر لابی یا مفاد پرست طبقہ جو بھی کہے، اس حقیقت کا ادراک کرنا ضروری ہے کہ اسلام ہی ہماری شناخت کی بنیاد ہے اور اگر اس بنیاد کو متزلزل کر دیا جائے تو عوام اور حکمران کبھی ایک صفحے پر نہیں آسکیں گے۔ چنانچہ یہ سمجھا جا سکتاہے کہ ایک ایسا ملک جو اندر سے ہی بے چینی کا شکار ہو، اچھی حکمرانی کی اُمید کیونکر ہو سکتا ہے؟

  • معاشی پہلو: تیسرا پہلو معیشت سے متعلق ہے۔ قوموں کی سیاسی و عسکری طاقت ان کی معاشی طاقت پر منحصر ہوتی ہے۔ آزادی و خودمختاری، قومی تشخص، قومی وقار، شخصی خوش حالی اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے معیشت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ دفاع اور معیشت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔فرد کی خوش حالی ہی کسی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے گذشتہ کچھ برسوں سے ہماری معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ تمام معاشی اشاریے منفی ہیں،لیکن اس کے باوجود اگر یہ ملک چل رہا ہے تو اسے اللہ کے خصوصی فضل اور عوامی استقامت کا پھل سمجھنا چاہیے۔ لوگوں کی ثابت قدمی اور ایک بڑی غیر منظم معیشت میں اپنے آپ کو بکھرنے سے بچانے کے عوامی جذبے نے ہمیں سنبھال رکھا ہے۔ یہی وجوہ ہیں کہ ہم غلط حکومتی پالیسیوں، توانائی کے بحران اور ہرطرف پھیلی بدعنوانی کے باوجود چلے جا رہے ہیں۔

معیشت کو جس طرح چلایا جا رہا ہے، اسے نا اہلی اور بد انتظامی کی بلندی کی آخری چوٹی ہی سمجھنا چاہیے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بے روزگاری اور غربت، اندرونی و بیرونی منڈیوں میں روپے کی گرتی ہوئی قدر، پیداوار میں کمی، سرمائے کی بیرون ملک منتقلی، بڑھتے قرضے اور ان پر بڑھتا سود،اور زر مبادلہ کے خالی ہوتے ذخائر ہماری معیشت کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں جس میں ملک کے معاشی دیوالیہ ہونے کا دھڑکا ہرآن لگا رہتا ہے۔ لوگ مشکل میں ہیں اور معیشت کا ہر شعبہ رُوبہ زوال ہے۔ صرف ایک مخصوص اشرافی طبقہ ہی خوش حالی اورامارت سے لطف اندوز ہو رہا ہے، جب کہ عوام تکلیف میں ہیں۔ سرکاری ادارے معیشت پر ایک مسلسل بوجھ بن چکے ہیں۔ ملکی قرضوں کی واپسی کے لیے کوئی سبیل بھی پیدا نہیں ہورہی ہے اور ان پر سود کی ادائیگی قومی بجٹ میں اولین نمبر پر آگئی ہے۔ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کے عشرے تک دفاعی اخراجات پر سب سے زیادہ رقم خرچ ہوتی تھی، اب قرضوں کی مد میں ادائیگیاں دفاعی اخراجات سے تقریباً دو،تین گنا ہو چکی ہیں۔

ترقیاتی اخراجات سے تقریباً تین گنا زیادہ رقم قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتی ہے۔ سماجی خدمات (Social Services) پر خرچ ہونے والی رقم اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ کسی بھی ملک کے لیے یہ انتہائی خراب صورتِ حال ہے اور اس صورتِ حال سے اسی صورت نپٹا جا سکتا ہے کہ اگر ملک کو ایک ایسی قیادت میسر آئے جو جانتی ہو کہ کیا کرنا ہے اور معیشت کو ٹھیک کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہو۔ اس وقت معیشت میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں پیداوار کو بڑھانے ، اپنے انسانی وسائل کو بہتر کرنے،بدعنوانی کے خاتمےاور اندرون ملک و بیرون ملک موجود وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ایک حکمت عملی تیار کرنا ہو گی۔ ان تمام تبدیلیوں کے ساتھ اچھی گورننس بھی ضروری ہے اور ہماری پالیسیوں کا رُخ بھی خود کفالت اور عوام کی طرف ہونا چاہیے کہ ان کے حق میں بہتر کیا ہے۔ ان بنیادی تبدیلیوں کے بغیر حالات کا بدلنا اور ہمارا اس بحران سے نکلنا تقریباً ناممکن ہے۔

  • وفاق اور صوبوں کے تعلقات : وفاق اور صوبوںکے درمیان اور پھر مقامی حکومتوں کے درمیان تعلق بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ اس وقت وفاق کی بنیاد وں کو کمزور کیے بغیر مقامی و صوبائی حکومتوں کی مضبوطی ہماری اہم ترین ضرورت ہے۔ اس شعبے میں آیندہ کے لیے ایک مکمل لائحہ عمل بنانا ضروری ہے، جس میں وفاق اور صوبوں خصوصاً بلوچستان کے خدشات کو بھی سامنے رکھا جائے۔ یہ لائحہ عمل ایسا ہونا چاہیے کہ تمام اسٹیک ہولڈر اس میں شامل ہوں، تا کہ اتفاق رائے سے معاملے کو سلجھایا جا سکے۔ ملک کے معاشی و مالیاتی نظام میں اگر کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہو تو وہ بھی کی جائیں،کیونکہ ہمارا موجودہ معاشی نظام، وفاقیت کے اصولوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ ملک میں اس وقت جو نظام موجود ہے، وہ کسی بھی لحاظ سے وفاقی نظام کی خصوصیات نہیں رکھتا۔

اس نظام میں بنیادی خامی یہ ہے کہ محصول اکٹھا کرنے کا سارا نظام وفاق کے پاس ہے۔ دوسری طرف اخراجات کے لیے ایک الگ نظام موجود ہےاور یہ نظام جن کے پاس ہے ان کا محصولات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ اس گورکھ دھندےکی وجہ سے معاشی نظام میں بہت سی خامیاں جنم لیتی ہیں۔ جب تک محصولات کے نظام کو بھی تقسیم نہیں کیا جاتا، معاشی ذمہ داری کے اصول کو پروان چڑھانا مشکل ہے۔ ملک کے معاشی ڈھانچے کو اَزسر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک اکٹھا کرنے کا اختیار وفاق کے پاس اور خرچ کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس رہے گا، بے ضابطگی پیدا ہوتی رہے گی۔ اس لیے ایک باقاعدہ اور منظم وفاقی نظام قائم کرنے کے لیے ملکی ڈھانچے میں کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔

  • نجی شعبے کا کردار: ان تمام معاشی مشکلات کے باوجود اگر ہم اپنی ترجیحات کو درست کرلیں اور اپنے وسائل کو خصوصاً سماجی اور سرکاری شعبے میںبہترین طریقے سے استعمال میں لے آئیں تو ہم ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے اہم کردار نجی شعبے کا ہو گا۔ تاریخ گواہی دے گی کہ جب بھی نجی شعبے کو پنپنے کا موقع ملا ہے، اس نے اپنا کردار مثبت اور تعمیری انداز میں ادا کیا ہے۔ تاہم بدعنوانی، مفادات کے ٹکراؤ، اچھی گورننس ، شفافیت اور احتساب کے فقدان کے باعث نجی شعبہ خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا ہے۔

ایک متوازن حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس کے تحت نجی شعبہ کو فعال اور سرکاری اداروں کو ذمہ داربنایا جائے۔ انفراسٹرکچر تیار کرنے،سماجی خدمات کی فراہمی اور معاشرے کے نچلے طبقوں کو معاشی نظام میں لانے کے لیے ریاست کا کرداربھی بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے دست کاروں ، کاشت کاروں، اور صنعت کاروں کو روزگار کی فراہمی بھی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ بڑی سطح پر معاشی استحکام کے علاوہ نچلے درجے پر معاشی ترقی اور معاشرے کے ہر فرد کو معاشی عمل میں شامل کرنے کے لیے ایک نیا معاشی ماڈل ضروری ہے اور اس ماڈل کی تیاری اس وقت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر بطور دانش وَر ہم اپنا کردار ادا کرتے ہوئے قومی مقاصد کی درست نشاندہی کے قابل ہو جائیں اور اپنے تصورات کو واضح انداز میں پیش کر سکیں تو شاید ہم آنے والی سیاسی قیادت کے لیے ایک لائحہ عمل متعین کر سکتے ہیں۔

بطور قوم ہم میں کسی صلاحیت کی کمی نہیں ۔ ہاں، سیاسی عزم، واضح مقصد، ایک سوچے سمجھے لائحہ عمل، اہل قیادت اور فعال اداروں کی کمی کا گلہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی قیادت کی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو معاشرے کی تعمیر میں اپنا متعین کردار ادا کرنے پر آمادہ کرسکے۔ چنانچہ آئیے ہم خود کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں اور پھر ان کے حل کے لیے کوششوں میں جت جائیں۔اگر ہم اگلے انتخابات میں نئی قیادت کو ایک قابل عمل لائحہ عمل فراہم کرسکیں تو میں سمجھوں گا کہ ہم اپنا تعمیری کردار ادا کرنےمیں کامیاب ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اب وقت آچکا ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ملک کو درپیش اہلیت، قیادت،گورننس اور صلاحیت کے بحران کو حل کرنے میں ہم اپنی قیادت کا ساتھ دیں تاکہ آیندہ دس سال پاکستان کے لیے ترقی و خوش حالی کے دس سال ثابت ہوں۔

بات ختم کرنے سے پہلے ہم چند دوسرے ضروری اُمورکی طرف بھی توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں۔

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پورے ملک میں کوئی مربوط معاشی پالیسی نہیں ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ مرکزی حکومت میں شامل جماعتوں، تحریک انصاف اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشترکہ معاشی پالیسی پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ ملک کی معیشت جن حالات سے دوچار ہے، اس میں ایک مربوط پالیسی وضع کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گئے ہیں، لیکن اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ملک کی سیاسی قوتوں کے درمیان دُوری، سیاسی تفریق کی شدت اور تصادم کی حددرجہ افسوس ناک فضا ہے، جسے حدود میں لانا ازبس ضروری ہے۔ اسی طرح اس امر کی بھی سخت ضرورت ہے کہ صوبوں میں ضلعی سطح پر بلدیاتی نظام کو دستور کے مطابق جلداز جلد وضع کیا جائے اور دستور کے مطابق وسائل کی تقسیم کے نظام کو بھی نچلی سطح پر انصاف اور حق کے مطابق فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ جب تک یہ چیزیں نہیں ہوتیں، قومی معیشت کو زمینی سطح پر درست کرنا محال ہے۔

پی ڈی ایم کی مشترکہ حکومت بھانت بھانت کا مجموعہ ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف، جماعتی مفاد سے بلند ہوکر قومی معیشت کی اصلاح کے لیے سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایک قومی حکمت عملی اختیار کریں۔

ہم بڑے دُکھ کے ساتھ یہ بات بھی کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی مباحثے کی سطح اتنی پست ہوگئی ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی یہ اتنی پست سطح پر نہیں گری تھی۔ قومی سطح پر یہ بڑے شرم کا مقام ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے ایک فطری امر ہے، لیکن جمہوریت میں اختلاف رائے کی معروف حدود ہیں۔ ہربات کو غداری اور ملک دشمنی کے رنگ میں پیش کرنا ملک و قوم کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ اس کی اصلاح کی بھی اشد ضرورت ہے:

زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا

ملک ہر اعتبار سے ایک نازک صورتِ حال سے دوچار ہے۔ دستور کی حدود کا احترام اور تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ نکالناوقت کی ضرورت ہے۔

زندگی اور موت، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اظہار کا ایک نہایت طاقت ور اور ہماری روزانہ مصروفیات میں بار بار سامنے آنے والا مظہر ہے۔ لیکن اللہ کی ان دونوں نشانیوں یعنی ’زندگی‘ اور ’موت‘ پر ہم غور نہیں کرتے۔ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بہت ہی قریبی رفیقوں کے ساتھ ربط و تعلق اور نامہ و پیام کی شاہراہ پر چلتے چلتے ان میں سے اچانک کسی ایک نہایت عزیز ہستی کے وجود کو موجود سے ناموجود بنتا دیکھتے ہیں۔ ۱۱نومبر ۲۰۲۲ء کو ہمیں اپنے نہایت عزیز، محترم، صاحبِ فہم و دانش بھائی ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے انتقال کی خبر سننا پڑی ___ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے چند ماہ کے اندر تحریکِ اسلامی نے پے درپے صدمات برداشت کیے ہیں، جن میں حاشرفاروقی، حسین خان، مولانا محمد یوسف اصلاحی، علامہ یوسف القرضاوی اور مولانا جلال الدین عمری نمایاں ہیں۔

نجات اللہ صدیقی کے پیکر میں ایک بڑے قیمتی انسان کو اللہ تعالیٰ نے اسلامی تہذیب اور تحریک اسلامی کے قافلے کا دل کش محور بنایا تھا۔وہ عمر میں مجھ سے تقریباً سات ماہ بڑے تھے [پ:۲۱؍اگست ۱۹۳۱ء] اور یہ اُن کی خوش قسمتی تھی کہ شروع ہی سے انھیں بہت اچھی تعلیمی سمت پر سفر کا آغاز کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ تعلیمی مواقع کوئی بڑے معروف اداروں یا بڑا باوسائل پس منظر نہیں رکھتے تھے۔ سائنس کی تعلیم کے ساتھ انھوں نے ۱۹۵۰ء سے ۱۹۵۳ء تک عربی زبان و ادب کا بھرپور فہم حاصل کیا۔ پھر مدرسۃ الاصلاح، اعظم گڑھ میں مولانا اختر احسن اصلاحی کی رہنمائی میں قرآن فہمی کی دولت پائی۔ ازاں بعد گریجوایشن اوّل پوزیشن میں پاس کی، اسی طرح ۱۹۶۰ء میں علی گڑھ یونی ورسٹی سے معاشیات میں ایم اے بھی اوّل پوزیشن ہی سے پاس کیا۔

۱۹۴۹ء میں علی گڑھ آئے تو مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال اورالبلاغ  کو پڑھا، پھر مولانا اشرف علی تھانوی کے بہشتی زیور کا بہت باریک بینی سے مطالعہ کیا۔ اسی دوران میں مولانا مودودی کے دو لیکچر ان کی نظر سے گزرے۔ پہلا لیکچر ’نیا نظامِ تعلیم‘ (۵جنوری ۱۹۴۱ء) ندوۃ العلماء لکھنؤ اور دوسرا وہ مضمون کہ جس میں مولانا نے علی گڑھ یونی ورسٹی کے نظامِ کار کی اصلاح کے لیے تجاویز دی تھیں۔ ان دو تحریروں نے نوعمر نجات اللہ کی زندگی کا دھارا بدل دیا اور انھیں زندگی بھر کے لیے تحریک ِ اسلامی سے وابستہ کر دیا۔

۱۹۵۵ء ہی سے میری اُن سے خط کتابت شروع ہوئی، جس میں اسلام اور تحریک اسلامی کے بڑے بنیادی مسائل پر تبادلۂ خیالات ہوتا رہا۔ اصل میں اُس وقت نجات اللہ صدیقی نے Islamic Thought کے نام سے ایک علمی پرچے کا آغاز کیا، جس نے اہلِ علم کی توجہ کھینچ لی۔ عمر اگرچہ اُس وقت اُن کی محض ۲۵برس تھی، لیکن دین اسلام کوپیش کرنے کے لیے ایک پُرجوش جذبہ ان کے پورے وجود میں موجزن تھا۔ اسی زمانے میں ہم یہاں کراچی سے Student's Voice کے بعد New Era اور Voice of Islam کی صورت میں پیغامِ حق کی وضاحت میں مصروف تھے، جس میں ظفر اسحاق انصاری اور مجھے، اہلِ علم کو اس جانب متوجہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بہرحال اسلامک تھاٹ کا ہمیں شدت سے انتظار رہتا تھا۔

مثال کے طور پر نجات اللہ صاحب کو اس بات کا شدت سے احساس تھا اور اس احساس میں، مَیں اُن سے متفق تھا کہ ہمیں اسلام کو پیش کرتے وقت قرآن و سنت اور سیرت و تاریخ اور عقل و فطرت، اور باہمی تجربات و مشاورت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے موجودہ حالات کا تجزیہ کرنا ہے۔ پھر آخرت کی جوا ب دہی کے کڑے معیار کو ہرلمحہ دل و دماغ پر تازہ رکھتے ہوئے، عصرحاضر میں معاملات کی باریکیوں کو سمجھنا ہے اور بہت سوچ سمجھ کر رائے دینا ہے، کیونکہ یہی تجدید دین کا راستہ ہے اور اسی راستے سے تحریک اسلامی، انقلاب کی راہیں کشادہ کرسکتی ہے، اور موجودہ زمانے میں دین کی مصلحت کو پیش کرسکتی ہے۔

ان موضوعات پر ہمارا یہ خیال اُس وقت بھی تھا اور آج بھی یہی خیال ہے کہ اگر ہم مذکورہ پیراڈائم (مثالیہ) کو اختیار کرنے کے بجائے روایتی طور پر روایتی علما ہی کی طرف رجوع کرتے رہے، یا اُسی طرزِ فکر کے سامنے ساکن کھڑے ہوکر رہ گئے تو دین کی فطری منشا اور دین کے حرکی و انقلابی پہلو کو مجروح کردیں گے یا کھو بیٹھیں گے۔ نجات اللہ کہا کرتے تھے کہ اسلامی تحریک، ایمان و ایقان کی بنیادوں پر ہرحال میں جم کر کھڑا رہنے کے بعد کسی ایک لگے بندھے لائحہ عمل کی پابند نہیں ہے۔ اس کے لیے اوّلین کام یہی ہے کہ وہ مقاصد ِ اسلام یا مقاصد ِ شریعت سے پختگی کے ساتھ وابستہ ہو۔ باہم مشاوت اور کھلے عالمی مکالمے کے بعد تجربات سے سیکھ کر اور کھلے دل و دماغ سے واقعات کا تجزیہ کرکے، نئے حالات میں، دینی روح کے مطابق اپنی بات کو نئے انداز سے، نئے مخاطبین کے سامنے رکھتے ہوئے حاضر دماغی، دانش مندی اور بھرپور فعالیت کو قدم قدم ساتھ رکھے۔

نجات اللہ اس احساس کے ساتھ کچھ تیزگام بھی تھے، جس کے نتیجے میں انھیں بعض صورتوں میں تنقید و احتساب کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے برعکس ہم ایک طرح کی احتیاط پسندی کے پابند رہے یا قدرے سُست گام۔

نجات اللہ بھائی جب بھی ملتے تو یہ پہلو زیربحث لاتے کہ مسلم معاشروں میں اصلاح کار کے لیے آواز بلند کرنے والے سبھی لوگ بدنیت اور دین کے دشمن نہیں ہیں۔ ہمیں ان کو دوطبقوں میں تقسیم کرکے دیکھنا چاہیے:

  • ان میں سے ایک بڑے طبقے میں تو قومی احساس کی جڑ بڑی گہری اور مضبوط ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ دین کےمطالعے کی کمی اور اسلامی تہذیبی اجتماعیت سے دُوری کے سبب دین کی مصلحت اور اس کے تقاضوں سے بے خبر ہے۔ اس طبقے کو اگر ہمدردی سے دین کی منشا سمجھائی جائے، تو وہ یقینا اپنے موقف کی خطرناکی اور ضرررسانی کو سمجھ جائیں گے اور اصرار نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ اس مقصد کے لیے ہمیں اُن سے مکالمے، گفتگو اور سماجی تعلقات میں گرم جوشی کا دروازہ ہروقت کھلا رکھنا چاہیے۔
  • تاہم، اس ’اصلاح کاری‘ کے نام پر مسلم معاشروں میں ایک دوسرا گروہ ایسا بھی موجود ہے کہ جو مسلمانوں کا نام استعمال کرتے، مسلمانوں کی بہبودی اور ترقی کا دم بھرتے ہوئے، خود اسلام اور مسلمانوں اور اسلامی تہذیب و تمدن پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس کی علامتوں پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے بلکہ ضربیں لگاتا چلا جاتا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ خطرناک طبقہ، بے خبر اصلاح کاروں کی پہلی قسم ہی سے گفتگو کا استدلال اُدھار لیتا ہے اور اسلامی تہذیب سے دشمنی کا اُدھار چکاتا ہے۔ اس لیے اس دوسرے طبقے کی زہرناکی کا توڑ کرنے کے لیے بھی ہمیں پہلی قسم کے بے خبر اصلاح کاروں کی طرف زیادہ فکرمندی سے دیکھنا اور انھیں سنبھالنا چاہیے۔

نجات اللہ صدیقی بھائی کو بجاطور پر یہ شکایت تھی کہ ہمارا طبقۂ علما، دین کو پیش کرتے وقت معاشرے اور اہلِ حل و عقد کی توجہ ان اُمور کی جانب مبذول نہیں کراتا، جن میں شامل ہیں: عدل کا قیام، عام سطح پر کفالت کا نظام، معاشی ترقی کا منصفانہ نظام، سود سے پاک اور قابلِ اعتماد معیشت کی اجتماعی اسکیمیں، زندگی کے اجتماعی نظام اور انتظام میں دیانت داری، دولت کی منصفانہ تقسیم، وراثت میں خاص طور پر خواتین کے معاشی مفادات کا تحفظ اور ہرفرد کا ہرسطح پر اعلیٰ کارکردگی دکھانا۔ ظاہر ہے کہ جب زندگی کے ان نہایت اہم اُمور کو نظرانداز کرکے محض لگی بندھی باتیں دُہرائیں گے تو انسانی معاشرے پر اسلام کی منشا و مرضی کے مطابق کوئی گہرا نقش مرتب نہیں کرسکیں گے۔

پھر نجات اللہ صدیقی، ظفراسحاق انصاری، خرم جاہ مراد، سعید رمضان، محمدعمر چھاپرا، اور ہمارے درمیان یہ پہلو بھی اکثر فکرمندی کا عنوان بنتا کہ مسلم معاشروں میں دین کے گہرے رُسوخ کو پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تحریک اسلامی کے کارکن لگے بندھے طریق کار پر جمود کا شکار ہونے کے بجائے نئی راہیں سوچیں۔ دوسروں سے چھوٹے اور جزوی اختلافات کو نظرانداز کرکے رواداری اور خوش خلقی کا راستہ اپنائیں، اوردین کے بڑے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے انسانیت کی خدمت، ترجیحات کی درستی اور تعمیری کردار کو گہرے علم اور معیاری عمل سے ترقی دیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ جدید بنکاری نظام کی سودی اجارہ داری کو چیلنج کرتے ہوئے جس پہلے شخص نے پوری ایمانی کمٹ منٹ اور تخلیقی دانش کے ساتھ بلاسودی بنکاری کے خدوخال پیش کیے، تو وہ شخصیت پروفیسر نجات اللہ صدیقی ہی ہیں، اور ان کی اسی تعمیری اور علمی کاوش کے اعتراف میں انھیں ۱۹۸۲ء میں ’بین الاقوامی فیصل ایوارڈ‘ ملا۔

انھوں نے چھوٹی بڑی ۶۳ کتب تحریر کیں، جن میں معاشیات کی اسلامی تشکیل پر ان کی تحقیقات و تخلیقات کلاسیک کا درجہ رکھتی ہیں۔ ۱۹۶۰ء میں انھوں نے امام ابویوسف کی بلندپایہ تاریخی اور ضخیم کتاب، کتاب الخراج کا عربی سے اُردو ترجمہ اسلام کا نظامِ محاصل کے نام سے کیا، اور پھر ۱۹۶۳ء میں سیّد قطب شہید کی معرکہ آرا کتاب العدالۃ الاجتماعیۃ کا عربی سے اُردو ترجمہ اسلام میں عدل اجتماعی کے عنوان سے کیا۔ ان دونوں کتابوں کے ترجمہ و تدوین کے ساتھ نہایت عالمانہ مقدمے تحریر کیے۔ مجھے افسوس ہے کہ ان تراجم سے اُردوخواں طبقے نے قرارواقعی استفادہ نہیں کیا۔

نجات اللہ صدیقی بنیادی طور پر استاد، محقق، مفکر اور تخلیقی ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے افسانے اور ادبی تنقید بھی لکھی۔ میری اُن سے پہلی ملاقات دہلی میں ۱۹۵۶ء میں ہوئی، اورپھر ملاقاتوں کا یہ سلسلہ عمربھر جاری رہا۔ ہمارے درمیان مختلف علمی موضوعات اور تدابیر پر اتفاق اور اختلافات بھی رہے، لیکن اسلامی معاشیات کی تشکیل نو میں جو خدمت انھوں نے انجام دی ہے، اس نے انھیں ہم میں سب سے ممتاز کردیا۔ اسلام کے مآخذ سے مکمل وفاداری کے ساتھ دورِحاضر میں ان کے اطلاق کے باب میں جدید تجربات وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ بلاشبہہ، تحریکِ اسلامی  کے مفکرین میں نجات اللہ بھائی کو اس کا شعور، میرے خیال میں سب سےزیادہ تھا۔ اس ضمن میں کبھی کبھار وہ اعتدال کی راہ سے کچھ ہٹتے تو دکھائی دیتے، لیکن الحمدللہ وہ کبھی اس سے دُور نہیں گئے۔

یہ بھی ایک حُسنِ اتفاق ہے کہ ۱۹۶۱ء میں پہلے میں، کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ معاشیات میں لیکچرر مقرر ہوا، اور پھر اسی سال نجات اللہ صدیقی، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے شعبہ معاشیات میں لیکچرر منتخب ہوئے۔ اسی طرح مجھے صدر ایوب کے دورِ حکومت میں ۶جنوری ۱۹۶۴ء کو، اور انھیں اندراگاندھی کی ’جمہوری آمریت‘ میں ۴جولائی ۱۹۷۵ء کو سنت ِ یوسفی کی سعادت نصیب ہوئی، اور ایک عرصہ جیل میں گزارا۔ ہمارے باہم تعلقات اور اسلامی معاشیات کو درپیش چیلنجوں سے جڑی نشستوں اور تحریک اسلامی کے مسائل سےوابستہ یادوں کا یہ گلدستہ ۱۱نومبر کو بکھر گیا۔ اللہ کریم ان کو کروٹ کروٹ جنّت نصیب فرمائے ، اور جو کام وہ چھوڑ گئے ہیں، اسے آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو سرگرمی سے خدمات انجام دینے کی توفیق بخشے، آمین! رہا معاملہ نجات اللہ بھائی کا تو ان کے لیے، ان کا کام ایک صدقۂ جاریہ ہے، اور ان شاء اللہ، ربِّ کعبہ ان کی اس خدمت پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتارہے گا۔

انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی سب سے قیمتی متاع دو صورتوں میں سامنے آتی ہے: پہلی ایمان اور دوسری دانش۔ دانش اگر ایمان کے بغیر ہو تو بعض اوقات وہ انسانیت کے لیے ضرررسانی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے بلکہ انسانی تاریخ میں ایسا بارہا ہوا ہے۔ آج ہمارے گرد پھیلی سماجی تاریکی کا ایک بڑا سبب یہی ’بلاایمان دانش‘ ہے۔ نہایت عزیز اور محترم بھائی، ڈاکٹر محمدیوسف القرضاوی، ہمارے عہد میں ایمان اور دانش سے رچے ایک عظیم رہنما اور ایک قابلِ رشک عالم دین تھے، جو ۹۶برس کی عمر میں ۲۶ستمبر۲۰۲۲ء کو خالق حقیقی سے جاملے، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

ہر صاحب ِعلم و فضل انسان اور تحریک اسلامی کے کسی بھی حبیب کی جدائی میرے دل پر گہرا زخم لگاتی ہے ، جس کی کرب ناکی دل اور روح کی پنہائیوں میں محسوس کرتا ہوں، اور جس کا اثر، تادیر اعصاب پر رہتا ہے۔ ایسے پے درپے صدمات کو بار بار دیکھا اور جھیلا ہے، اور اپنے ربِّ جلیل کے ان برحق اور اٹل فیصلوں کو اسی کی ہدایت کے مطابق برداشت کرنے کی کوشش کی ہے مگر امرواقعہ ہے کہ محبی و مکرمی مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے انتقال (۲۲ستمبر ۱۹۷۹ء) کے بعد، جناب القرضاوی کی جدائی، دوسرا بہت بڑا صدمہ ہے۔ اور یہ بات کسی مبالغے کے طور پر نہیں کہہ رہا، بلکہ بہت سوچ سمجھ کر اس بڑی محرومی کا تذکرہ کر رہا ہوں، جس کی بہت سی جہتیں ہیں، مثلاً یہ کہ:

  • سب سے اوّلین اور بنیادی قدر تو یہ ہے کہ القرضاوی جیسے عالی دماغ نے ایمان کی لذت پانے کے بعد اپنی زندگی کا مقصد دین اسلام کی خدمت قرار دیا۔ امام حسن البنا شہیدؒ کی طرف سے دعوتِ دین اور طریق کار کو سوچ سمجھ کر اختیار کیا اور الاخوان المسلمون سے وابستگی کا کانٹوں سے اَٹا ایک مشکل راستہ چُنا۔پھر پوری زندگی اسی مقصد کے لیے اپنی صلاحیتیں، اپنی کوششیں ، اپنے خواب اور اپنے مادی مستقبل کو تج دیا۔ دورِ جوانی ہی میں انھیں اپنے وطن مصر کو چھوڑنا پڑا، اور پھر زندگی کے بقیہ ۶۲برس کے طویل عرصے پر محیط   جلاوطنی کی زندگی میں کسی طرح کا شکوہ شکایت زبان پر نہ لائے۔
  • دوسرے یہ کہ انھوں نے اپنی ذہنی ، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو تحقیق و جستجو، اور عصرحاضر میں اسلام کے پیغام کی اشاعت کے لیے مخصوص کر دیا۔ آپ کے قلم نے ایمانیات سے لے کر اجتماعیات تک، قوانین سے لےکر تنظیمی اُمور تک، دعوتی پہلو سے لے کر تربیتی اُمور تک اور اسلام کے پیغام کو پیش کرنے سے لے کر اسلام پر ہونے والے حملوں کا جواب دینے تک، ہرزاویے کو برتا اور ہراسلوب کو اختیار کرکے حق کی برملا گواہی دی۔ ان کے ہاں ایک طرف قرآن و حدیث سے استدلال ہے تو دوسری طرف منطق اور کلام کا رنگ نمایاں ہے۔ ایک جگہ خطیبانہ آہنگ ہے تو دوسری طرف وکیلانہ دھیماپن دعوتِ غوروفکر دیتا ہے۔ ایک جگہ تاریخ سے استشہاد ہے تو دوسری جگہ عصرحاضر کے احوال و ظروف میں منفرد طرزِ بیان کی وسعتوں کا آہنگ۔ فہم کو مہمیز دینے کے لیے ادب کی چاشنی اس پر سوا ہے۔
  • ان کی تیسری نہایت متاثر کن خوبی یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تمام حیثیتوں پر، ایک معلم کی حیثیت کو غالب رکھا۔ معلّم کا یہ کمال ہوتا ہے کہ وہ علم بانٹتا ہے، وہ نئی نسل کو اُس شاہراہ پر چلاتا ہے کہ جسے اُس نے خیر کی حیثیت سے قبول کیا تھا۔ الاستاذ قرضاوی مرحوم نے تعلیمی نظام کی بہتری اور اسے اسلامی تصورِ تعلیم سے مربوط کرنے کے لیے گراں قدر کوششیں کرکے: الجزائر، مراکش، سوڈان اور قطر کی یونی ورسٹیوں اور تعلیم و تحقیق کی دُنیا میں نئی راہیں کشادہ کیں۔ دوسری جانب غیرعرب ممالک پاکستان، انڈونیشیا، ملایشیا اور ترکی میں جس قدر امکان اور گنجایش میسر آئی، انھوں نے نظامِ تعلیم کی سمت درست کرنے کی کوشش کی۔
  • چوتھے یہ کہ وہ ایک محقق اور منفرد شان کے حامل مفکر ہی نہیں تھے، بلکہ وہ اسلامی احیائی تحریک کے ایک کارکن، ایک لیڈر اورایک داعی بھی تھے۔ اس حیثیت سے انھوں نے بڑی باریک بینی سے تحریک و تنظیم کے عملی اور داخلی و اجتماعی اُمور پر شان دار رہنمائی کے لیے کتب اور مقالات لکھے۔ دعوت و تربیت کے عملی اور اطلاقی پہلوئوں پر زور دیا۔ تحریک اسلامی میں اختلاف رائے کو اتفاق و ترقی کا وسیلہ بنانے کے اصول ذہن نشین کرائے، اور وقت کی گرد ہٹا کر تحریک اور تحریک کے کارکنوں کو ندرتِ خیال اور روشن خیال راستوں کا سراغ دیا۔
  • پانچویں یہ کہ ایک فقیہ اور روحِ عصر کے نباض کی حیثیت سے انھوں نے انسان کے معاشی مسئلے کو سمجھتے ہوئے اسلام کی روشنی میں اسے حل کرنے کے لیے گراں قدر کتب تحریر کیں۔ اُن میں کتاب فقہ الزکوٰۃ کے پائے کی کوئی دوسری کتاب پیش نہیں کی جاسکتی۔ غربت کے خاتمے، بنک کے سود کی حقیقت، اسلامی اصولِ تجارت اور معاملات پر محکم دلائل اور علمی آثار کی بنیاد پہ لکھا۔اس طرح اسلامی معاشیات کے موضوع پرگراں قدر تصانیف ان سے یادگار ہیں۔
  • چھٹا یہ کہ عصرحاضر میں اسلام اور مسلمانوں کو، مغربی سامراجی قوتوں کی جانب سے جس ریاستی، ابلاغی، فوجی، تزویراتی اور عالمی اداراتی یلغار کا سامنا ہے، اس کے جواب میں فقہ الجہاد، جیسی جامع کتاب لکھی اورجہاد کے حوالے سے حالیہ عرصے میں خود بعض پُرجوش مسلم نوجوانوں میں جو افراط و تفریط دیکھنے میں آرہی تھی، اس کی اصلاح کرتے ہوئے درست سمت کی نشان دہی کی۔

اس طرح تقریباً۱۷۵ چھوٹی بڑی کتب، اسلامیانِ علم کے لیے جناب قرضاوی کا قیمتی تحفہ ہیں، جن میں کئی کتب دُنیا کی ۴۵ زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔ جناب یوسف القرضاوی نے جامعیت اور انسائیکلوپیڈیائی ذہن کے ساتھ علمی کارنامہ انجام دیا۔ ’یورپی کونسل برائے افتاء و تحقیق‘ کے ذریعے مغربی دُنیا میں بسنے والے مسلمانوں کی دینی و فقہی رہنمائی کے لیے ایک مؤثر ادارے کی داغ بیل ڈالی۔یوں علم و نُور کے سفر کے تسلسل کو عملی شکل دی۔

مجھے ذاتی طور پر ان کی تحقیقات سے استفادے کا موقع ملا۔ پاکستان، برطانیہ اور عالمِ عرب میں متعدد مرتبہ ملنے، گفتگو کرنے اور الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھانے میں اُن کی گراں قدر آرا سے بہت مدد ملی۔ ہمارے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات تھے۔ قطر کے سفر کے دوران انھوں نے اپنے گھر پر اہلِ خانہ کے ساتھ ایک عزیز بھائی کی طرح میرا اِکرام کیا۔ بڑی دیر تک اسلامی تحریکوں کے مسائل و مشکلات پر اپنی فکرمندی اور اُمید کے حوالے سے خیالات کااظہار کرتے رہے۔ جب بھی اُن سے ملاقات کی سبیل پیدا ہوئی تو علم و فضل کا کوئی نہ کوئی پہلو نکھر کرسامنے آیا۔

جناب قرضاوی کی اجتہادی بصیرت، اس زمانے میں ایک بڑی گراں مایہ خوبی تھی۔ تاہم، ان کی بعض آرا سے ہمیں اختلاف بھی ہوا جو علم کی دُنیا میں ایک معمول کی بات ہے۔ لیکن اس اختلاف رائے کے باوجود اُن کے اخلاص،علم و فضل اور اجتہادی شان میں کچھ فرق نہیں پڑتا، بلکہ اُن کے اُٹھائے ہوئے نکات پر مزید غوروفکر کرکے، روحِ عصر کو اسلام کے اصولوں، پیغام اور شریعت سے متعارف کرانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ نوجوان تحقیق کاروں پر لازم ہے کہ وہ سنجیدگی سے القرضاوی کے کارِ اجتہاد اور آثارِ اجتہاد پر باریک بینی سے کام کریں اور علم و فضل کا پرچم اس شان سے بلند کریں کہ اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین!

مسلمان معاشرہ اور سودی نظام ایک دوسرے کی ضد ہیں اور یہ دونوں بیک وقت چل نہیں سکتے۔ ایک کا وجود دوسرے کی نفی ہے، ایک کا غلبہ دوسرے کے لیے موت کا پیغام ہے۔ ان دونوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ جن افراد اور جن معاشروں پر سودی نظام کا غلبہ ہو وہ حقیقی خوش حالی سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔ وہ معاشرے ھل من مزید کی آگ میں سلگتے رہتے ہیں اور انسان انسان کا غم خوار اور دم ساز ہونے کے بجائے ایک دوسرے کا خون چُوسنے اور حق مارنے میں مشغول رہتا ہے، جب کہ قرآن ایسے افراد اور معاشرے کی مثال اس شخص سے دیتا ہے جسے شیطان نے چھوکر مخبوط الحواس کردیا ہو:كَـمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُہُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ۝۰ۭ (البقرہ ۲: ۲۷۵)، اور جن کے خلاف خود اللہ نے اپنے اور اپنے رسولؐ کی طرف سے اعلانِ جنگ کیا ہو:  فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ۝۰ۚ  (البقرہ ۲: ۲۷۹)، وہ فرد اور معاشرہ کیسے چین کی زندگی گزار سکتا ہے جو مسلسل اللہ اور اس کے رسولؐ سے برسرِ جنگ ہو؟

سود کی قباحت اور ہولناکی کے بارے میں اللہ اور اس کے رسولؐ نے جو اندازِ بیان اختیار فرمایا ہے، اس کے بعد کسی صاحب ِ ایمان کے لیے یہ گنجایش نہیں رہتی کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس قاتلِ ایمان و ضمیر و اخوت کو گوارا کرسکے:

  • رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی سود کا ایک درہم کھاتا ہے وہ چھتیس مرتبہ بدکاری کرنے سے زیادہ سخت گناہ کماتا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ جو گوشت مالِ حرام سے بناہو اس کے لیے آگ ہی زیادہ مستحق ہے (مسنداحمد،  طبرانی)۔
  • حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی بستی میں بدکاری اور سود پھیل جائے تو اس نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو اپنے اُوپر دعوت دی (مستدرک حاکم)۔
  • اور یہ کہ جب کسی قوم کے باہمی لین دین میں سود کا رواج ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر ضروریات کی گرانی مسلط کر دیتا ہے، اور جب کسی قوم میں رشوت عام ہوجائے تو ان پر دشمنوں کا رُعب و غلبہ حاوی ہوجاتا ہے (مسنداحمد)۔

اگر آج ہم بصیرت کی نظرخود اپنے اردگرد ڈالیں اور اپنے ملک کی حالت کو دیکھیں تو مخبرصادق کی پیش گوئی ہمیں سو فی صد درست نظر آتی ہے اور اہلِ ایمان کو توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت دیتی ہے کہ صرف یہی نجات کی راہ ہے۔

انسدادِ سود کی کوششوں کا جائزہ

سود کے بارے میں پاکستانی قوم کے جذبات اور اس کی قیادتوں کے رویے میں ہم آہنگی پیدا نہیں ہوسکی۔ قائداعظمؒ نے پاکستان کے اسٹیٹ بنک کے افتتاح (جولائی ۱۹۴۸ء) کے موقع پر جو تقریر کی تھی، اس میں سود سے پاک مالیاتی نظام کو قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ۱۹۵۶ء کے دستور سے لے کر ۱۹۷۳ء کے دستور تک ہرایک میں سودی نظام سے نجات کی ضرورت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسلامی مشاورتی کونسل ۶۵-۱۹۶۲ء اور ۱۹۶۹ء نے بار بار اس امر کا اظہار کیا کہ سود کو اس کی ہرشکل میں ختم کیا جائےاور متبادل نظام قائم کیا جائے لیکن برسرِاقتدار طبقوں نے اس طرف کوئی پیش رفت نہیں کی۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے ۲۹ستمبر ۱۹۷۷ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کو سود سے پاک نظام مرتب کرنے کا کام سونپا اور کونسل نے ۱۵ماہرین معاشیات و بنکاری کے تعاون سے نومبر ۱۹۷۸ء میں اپنی عبوری رپورٹ اور جون ۱۹۸۰ء میں مکمل رپورٹ پیش کی۔ انھی رپورٹوں کی روشنی میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ۱۰فروری ۱۹۷۹ء (۱۲ ربیع الاوّل) کو تین مالیاتی اداروں کو سود سے پاک کرنے کا پہلا عملی اقدام کیا جس پر یکم جولائی ۱۹۷۹ء کو عمل ہوا۔ ۱۹۸۰ء سے دوسری اصلاحات کا آغاز کیا گیا جو لشتم پشتم ۱۹۸۴ء تک جاری رہیں۔

اس زمانے میں سودی نظام کے علَم بردار (ملکی اور غیرملکی دونوں) اور دوسرے مفاد پرست عناصر ان اصلاحات کا حلیہ بگاڑنے اور گاڑی کو پٹڑی سے اُتارنے کی مسلسل کوششیں کرتے رہے اور بالآخر ۱۹۸۵ء سے عملاً ان تمام اقدامات کو غیرمؤثر کر دیا گیا جن کا آغاز ۱۹۷۹ء سے ہوا تھا۔ اس جوابی تحریک کو ۱۹۹۰ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کے برسرِاقتدار آنے پر چیلنج کیا گیا اور شریعت کی بالادستی کے مطالبے نے زور پکڑا۔ تب وزیراعظم نوازشریف صاحب نے خودانحصاری کے لیے جو کمیٹی بنائی تھی اور اس نے راقم کی سربراہی میں کام کیا تھا۔ اس نے اپریل ۱۹۹۱ء میں ایک رپورٹ پیش کی اور ملکی معیشت اور بین الاقوامی معاشی تعلقات کو سود سے پاک کرنے کے لیے ایک واضح حکمت عملی اور نقشۂ عمل پیش کیا۔ نیز وفاقی شرعی عدالت نے دس سال کی بے اختیاری کے بعد اختیارات بحال ہونے پر دسمبر ۱۹۹۱ء میں ایک تاریخی فیصلہ دیا جس کے تحت سود پر مبنی ۲۰قوانین کو کالعدم قرار دیا گیا اور حکومت کو چھ ماہ کی مہلت دی کہ متبادل قانون سازی کرے، لیکن حکومت نے اس فیصلے پر عمل کرنے کے بجائے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی اور دوسری طرف خودانحصاری رپورٹ کو طاق نسیاں کی نذر کر دیا۔

ہمارے ہاں یہ عجیب منطق ہے کہ پالیسی سازی اور متبادل راستوں کے لیے حکومت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سارے ضابطوں کو معطل کرکے چند گھنٹے میں لائحہ عمل تجویز کرلیتی ہے۔ لیکن سود سے نجات ہی ایک ایسا معاملہ ہے جس میں حکومت یہ بہانے تراشتی ہے کہ اس کی اصل ذمہ داری حکومت کی نہیں بلکہ قوم کی ہے کہ وہ حکومت کو بنا بنایا کوئی متبادل نظام لا کر دے تاکہ وہ حرکت کے لائق ہوسکے!

دراصل بیماری کی اصل جڑ ہی یہ ہے کہ حکومت اور اختیار رکھنے والے سارے ادارے اس اہم معاملے پر اپنی ذمہ داری کو نہ صرف یہ کہ محسوس نہیں کرتے ہیں بلکہ بڑی چابک دستی سے ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ جس طرح ملک کو درپیش تمام مسائل اور چیلنجوں کے بارے میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ ان کے حل کے لیے پالیسیاں بنائیں، وسائل حاصل کریں اور ضروری عملی اقدامات کریں، اسی طرح سود کے مسئلے کے بارے میں بھی اصل ذمہ داری اربابِ اقتدار ہی کی ہے اور اس بارے میں کسی راہِ فرار کی گنجایش نہیں۔

ہمیں عدالت کے اس فیصلے پر سخت حیرت ہوئی، جس میں ۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء کو یہ قرار دیا گیا کہ پانچ سال کی مدت میں سود کے خاتمے پر مبنی معیشت کھڑی کی جائے، یعنی فاضل جج یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ کام اس طرح کرنے جارہے ہیں جیسے کسی نئے کام کا آغاز کیا جارہا ہو اور سادہ کاغذ پر کسی نئی تحریر کا مرحلہ درپیش ہو۔ بلاشبہہ یہ کام بہت اہم ہے اور ہمہ پہلو بھی، لیکن یہ تاثر کہ کوئی متبادل موجود نہیں ہے اور اسلامی نظامِ معیشت کے قیام کا مطالبہ کسی خلا میں کیا جارہا ہے محض کم علمی ہے، یا صریح دھوکا دہی۔

آج بلاسود متبادل محض کوئی خیالی شے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۷۰برسوں میں اس سلسلے میں اتنا کام ہوا ہے کہ اگر کوئی مخلص اور اہل قیادت نئے نظام کے قیام کا عزم اور ارادہ رکھتی ہو تو ایک دن کی تاخیر کیے بغیر مؤثر اقدام کا آغاز ہوسکتا ہے۔ بلاشبہہ نیا نظام قائم کرنے میں وقت لگے گا اور تبدیلی کا عمل تدریج اور مناسب حکمت عملی ہی سے انجام دیا جائے گا مگر آج اصل رکاوٹ فکری کام کی کمی یا متبادل نقشۂ کار کی عدم موجودگی نہیں، قیادت میں ایمان اور سیاسی عزم و ارادے کی کمی ہے۔ ہم یہ بات کسی تعصب کی بنا پر نہیں کہہ رہے (اللہ تعالیٰ ہمیں ہر تعصب اور جانب داری سے محفوظ رکھے)۔

راقم پچھلے ۶۰برسوں سے ذاتی طور پر ان کوششوں سے وابستہ رہا ہے جو اس سلسلے میں ہوئی ہیں اور اپنے ذاتی علم اور تجربے کی بناپر یہ بات کہہ رہا ہوں، کہ اصل رکاوٹ کسی متبادل ماڈل کی کمی نہیں ہے۔ راستہ صاف ہے اور اب تو دوسروں کے عملی نقوش بھی موجود ہیں۔ اصل ضرورت منزل کے شعور اور چلنے کے ارادے اور ہمت کی ہے اور ہماری قیادتوں کا اصل مرض بھی یہی ہے کہ نہ فکرونظر کے اسلامی اسلوب کو انھوں نے شعوری طور پر اپنایا ہے اور نہ ان میں وہ جرأت اورعزم ہے جس کی بنا پر انسان دُنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوکر اپنےاصل اہداف کے حصول کے لیے سرگرمِ عمل ہوجاتا ہے۔ ایک طرف ذہنوں پر مغرب کے افکار کا غلبہ ہے تو دوسری طرف مفاد پرست عناصر اور عالمی ساہوکاری نظام کے کارپردازوں کا گھیرائو ہے جو ذہنوں کو مسموم کرنے اور کمزور ارادہ لوگوں کے قدموں کو متزلزل کرنے میں مصروف ہے اور ہمارے اربابِ اقتدار کا حال یہ ہے:

ایمان مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے

ضرورت اس امر کی ہے کہ دماغ میں جو بُت خانے آباد ہیں ان کو توڑا جائے اور دل و نگاہ کی مسلمانی کا راستہ اختیار کیا جائے۔

سود: ایک مغالطہ

ایک مغالطہ جو مختلف انداز میں بار بار دیا جاتا ہے وہ سود کے تصور کے بارے میں ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے سامنے بھی سرکاری وکیلوں نے اس مسئلے کو اُٹھایا اور سپریم کورٹ میں جو اپیل دائر کی اس میں بھی اس بات کو شامل کیا گیا، یعنی یہ کہ کیا بنک کا سود ربا کی تعریف میں آتا ہے؟

ہم اس بات کو بالکل دوٹوک انداز میں واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں عرب دُنیا، برعظیم اور جنوب مشرقی ایشیا میں دورِ غلامی میں جو بحثیں اُٹھائی گئی تھیں آج وہ قصۂ پارینہ ہیں۔ الحمدللہ گذشتہ ۷۰برسوں میں اس موضوع پر ایسی سیرحاصل بحث ہوئی ہے کہ براہین قاطع کی بنیاد پر یہ بحث ایک اجماع پر منتج ہوچکی ہے، اور وہ یہ ہے کہ قرض کے مالی معاملات پر اصل سرمائے پر جو بھی متعین اضافہ پہلے سے طے ہو اور شرط معاہدے کا حصہ ہو وہ سود ہے، خواہ یہ قرض صرفی ضروریات کے لیے ہو، یا پیداواری مقصد کے لیے، فرد لے رہا ہو یا ادارہ، نجی ہو یا سرکاری، مہاجن ہو یا بنک اورانشورنس کمپنیوں کے ذریعے۔

اس پر پاکستان میں بھی اورعالمِ اسلام میں بھی مکمل اتفاق رائے ہے اورعلما اور ماہرین معاشیات دونوں اس پر متفق ہیں۔ اس لیے اس بحث کو اَزسرنو شروع کرنا علم اور خلوص پر مبنی نہیں بلکہ مسئلے کو اُلجھانے، تعویق میں ڈالنے یا دھوکا دینے کے مترادف ہے اور انسان اپنے آپ کو تو دھوکا دے سکتا ہے لیکن اللہ کو دھوکا نہیں دے سکتا: يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝۰ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۹ۭ  (البقر ہ ۲:۹) ’’وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کےساتھ دھوکا بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور اُنھیں اِس کا شعور نہیں ہے‘‘۔

’اسلامی مشاورتی کونسل‘ نے اپنے ۳دسمبر ۱۹۶۹ء کے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ:

اسلامی مشاورتی کونسل اس امر پر متفق ہے کہ ربا اپنی ہرصورت میں حرام ہے اور شرحِ سود کی بیشی اور کمی سود کی حُرمت پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ افراد اور اداروں کے لین دین کی مندرجہ ذیل صورتوں پر مکمل غوروفکر کرنے کے بعد کونسل اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ:

(الف) موجودہ بنکاری نظام کے تحت افراد، اداروں اور حکومتوں کے درمیان کاروباری لین دین اور قرضہ جات میں اصل رقم پر جو بڑھوتری لی یادی جاتی ہے وہ داخل ربا ہے۔

(ب) خزانے کی طرف سے مقداری مدت کے قرضے پر جو چھوٹ دی جاتی ہے وہ بھی  داخلِ ربا ہے۔

(ج) سیونگ سرٹیفکیٹ پر جو سود دیا جاتا ہے وہ ربا میں شامل ہے۔

(د) انعامی بانڈ پر جو انعام دیا جاتا ہے ، وہ ربا میں شامل ہے۔

(ھ) پراویڈنٹ فنڈ اور پوسٹل بیمہ زندگی وغیرہ میں جو سود دیا جاتا ہے وہ بھی ربا میں شامل ہے۔

(و) صوبوں، مقامی اداروں اور سرکاری ملازمین کو دیے جانے والے قرضوں پر بڑھوتری ربا میں شامل ہے۔ (Report on Consolidated Recommendations

on the "Islamic Economic System" Council of Islamic Ideology,

1983, pp 9-10)

بالکل یہی وہ پوزیشن ہے، جو اسلامی نظریاتی کونسل اور اس کے ماہرین معاشیات اور بنکاروں نے اپنی آخری رپورٹ میں اختیار کی ہے۔ اسی طرح اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر کی صدارت میں بنکاروں کی جس کمیٹی نےکام کیا اور ۱۹۸۰ء میں اپنی رپورٹ دی اس نے بھی یہی پوزیشن اختیار کی ہے۔ اس طرح ملک کے علما اور معاشی ماہرین اور بنکار اس پر متفق ہیں۔ نیز وفاقی شرعی عدالت نے اپنے دسمبر ۱۹۹۱ء کے تاریخی فیصلے میں اس پوزیشن پر مہرتصدیق ثبت کی جو حرفِ آخر کا درجہ رکھتی ہے۔

یہی پوزیشن عالمی اداروں کی ہے۔ بھارت کے ’مجمع الفقہ الاسلامی‘ نے وہاں کے چوٹی کے علما کے سیمی نار میں جس آخری متفقہ رائے کا اظہار کیا، وہ یہ ہے:

سود خواہ ذاتی مصارف کے قرضوں پر لیا جائے یا تجارتی و کاروباری قرضوں پر، شریعت اسلامیہ کی نظر میں بہرحال حرام ہے۔ قرآن و سنت، اجماع و قیاس اور اُمت محمدیہ کا عملِ متوارث سب یہی بتاتے ہیں کہ حُرمت ربا کے بارے میں اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاسکتا کہ قرض لینے کا مقصد اور محرک کیا ہے؟ سود کی حُرمت پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں پڑتا کہ شرح سود کم ہے یا زیادہ، مناسب حد تک کم ہے یا نامناسب حد تک زیادہ۔ دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں صورتیں بہرحال حرام ہیں۔ (سہ ماہی بحث و نظر، پھلواری شریف، پٹنہ، شمارہ ۸جنوری تا مارچ ۱۹۹۰ء، ص ۱۳)

سرکاری سطح پر وزرائے خارجہ کی تنظیم کی قائم کردہ ’اسلامی فقہ اکیڈمی‘ نے بھی اس مسئلے پر دسمبر ۱۹۸۵ء میں غور کیا اور وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچی۔ فقہ اکیڈمی کی قرارداد نمبر۳ میں طے کیا گیا کہ بنکوں اور نظام بنکاری میں اسلامی اصولوں کے نفاذ کے بارے میں:

            ۱-         ان تمام قرضوں پر، جنھیں ایک مدت کے بعد ادا کیا جاتاہے، کوئی اضافہ (خواہ اس کا نام نفع ہی کیوں نہ ہو) اگر قرض دار اسے وقت پر ادا نہ کرسکے، یا کسی بھی قرض پر اضافہ یا نفع جسے قرض دینے کے وقت معاہدے کے حصے کے طور پر رکھا گیا ہو، دونوں ربا کی تعریف میں آتے ہیں اور شریعت میں حرام ہیں۔

            ۲-         (سود کے بغیر) متبادل بنیادوں پر بنک قائم ہونے چاہییں، جو اسلامی احکام کے مطابق کام کریں اور معاشی سہولتیں فراہم کریں۔

            ۳-         اکیڈمی تمام مسلم ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ وہ شریعت کے اصولوں کے مطابق کام کرنے والے بنک قائم کریں تاکہ مسلمانوں کی تمام ضروریات ان کے ایمان کے مطابق پوری کی جاسکیں اور ان کے عمل اور دین میں عدم مطابقت نہ رہے۔

یہی وجہ ہے کہ خود آئی ایم ایف کے سرکاری کاغذات میں مسلمان اُمت کی جو پوزیشن اس مسئلے کے بارے میں بیان کی گئی ہے، وہ یہ ہے:’’مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی بنکاری نظام کے مطالعے کا آغاز اس کی بنیادی اصطلاحات کی تعریف سے کیا جائے۔ ’ربا‘ ایک شرعی اصطلاح ہے جو زر کے استعمال پر پہلے سے طے شدہ اضافے سے عبارت ہے۔ ماضی میں اس امر پر نزاع ملتا ہے کہ ’ربا‘ سے مراد سود ہے یا یوژوری (Usury)، لیکن اب مسلمان اہلِ علم کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اس اصطلاح کا اطلاق سود کی ہرشکل پر ہوتا ہے اور اس کا مصداق محض مناسب سے زیادہ سود (excessive interest) نہیں۔ پس آگے کے مباحث میں ’ربا‘ اور ’سود‘ بطور مترادف استعمال کیے جائیں گے اور اسلامی نظام بنکاری کے معنی وہ نظام ہوگا جس میں سود کی ادائیگی یا وصولی ممنوع ہوگی، جب کہ ایک سودی یا روایتی بنک سے مراد وہ ادارہ ہوگا جس میں مالی فنڈ کے استعمال پر سود وصول کیا جاتا ہے، یا دیا جاتا ہے‘‘۔ (International Monetary Fund

Staff Papers, Vol xxxiii, No.1, March 1986, Islamic Interest-free Banking,

a Theoretical Analysis by Mohsin S. Khan, p 4-5(

ان علمی مباحث کا بے لاگ جائزہ اس امر کو بالکل واضح کر دیتا ہے کہ سود کے بارے میں جو سوالات اور شبہات اُٹھائے جاتے ہیں وہ غیرحقیقی ہیں اور قرآن و سنت نے سود کو اس کی ہرشکل میں حرام قرار دیا ہے، خواہ وہ قدیم ساہوکاری کی شکل میں ہو یا جدید بنکاری کی، ضرورت مندوں کے صرفی قرضوں سے متعلق ہو یا تجارتی اور پیداآوری قرضوں سے، نجی دائرے میں ہو یا سرکاری، نیم سرکاری دائرے میں ، کم شرح پر ہو یا زیادہ شرح پر۔ یہ اتفاق رائے اُمت کا ایک عظیم سرمایہ ہے، اور اب گڑے مُردے اُکھاڑنے کے بجائے سیدھے سبھائو ساری کوششیں اس امرپر مرکوز کرنی چاہییں کہ سود سے کیسے نجات پائی جائے اور متبادل نظام کے خدوخال کیا ہیں؟

اسلامی بنکاری کی طرف پیش رفت

علمی اور نظری میدان میں اس کامیابی کے ساتھ دوسری بڑی کامیابی جو پچھلے ۵۰ سال میں حاصل ہوئی ہے وہ بلاسود بنکاری کے اصول و ضوابط، نظامِ کار، مالیاتی آلات (Financial Instruments) اور سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کی تجویز و تسوید ہے۔ اس سلسلے میں بڑی عرق ریزی کے ساتھ تحقیقات کی گئی ہیں اور بڑی دِقّت نظر سے متبادل نظام کا نقشہ بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے کی ابتدائی کوششیں تو ۱۹۳۰ء اور ۴۰ کے عشروں میں ہوئی تھیں اور اس میں سب سے زیادہ راہ کشا کام مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر انور اقبال قریشی اور باقرالصدر شہید نے کیا تھا۔ پھر جدید معاشیات کے ماہرین میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، ڈاکٹر محمد عزیر، ڈاکٹر محمود ابوسعود نے ابتدائی کام کیا، جسے گذشتہ ۵۰برسوں میں محققین کی ایک ٹیم نے سنوارنے اور مزید آگے بڑھانے میں قابلِ قدر حصہ لیاہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر احمدنجار، ڈاکٹر ساحی محمود، ڈاکٹر عمرچھاپرا، ڈاکٹر صدیق ضریر، ڈاکٹر معبد جرحی،  ڈاکٹر ضیاء الدین احمد، ڈاکٹر وقار مسعود، ڈاکٹر محمد انور، ڈاکٹر محمد فہیم خان، ڈاکٹر محمد عارف اور درجنوں اہلِ علم نے بڑی مفید خدمات انجام دیں۔ کم از کم چار درجن ایسی تحقیقی کتابیں شائع ہوئی ہیں، جن میں نئے نظام کے خدوخال واضح کیے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض کے مصنّفین کو ’اسلامی ترقیاتی بنک کا ایوارڈ‘ اور ’شاہ فیصل ایوارڈ‘ بھی مل چکا ہے۔

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ، جو معاشیات اور بنکاری کے ماہرین کی رپورٹ پر مبنی ہے، ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس رپورٹ میں جو ۱۹۸۰ء میں پیش کی گئی تھی، پاکستان ہی نہیں کسی بھی جدید ملک کی داخلی معیشت کو مکمل طور پر سود سے پاک کرنے کا بڑا حقیقت پسندانہ ’نقشۂ کار‘ پیش کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بنک کے گورنر کی صدارت میں مرکزی بنک کی ایک کمیٹی نے بھی اسی موضوع پر ۱۹۸۱ء میں کام کیا اور اس کا دیا ہوا نقشہ بھی اسلامی نظریاتی کونسل کے نقشے سے بہت قریب ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ پر مارچ ۱۹۸۱ء ہی میں ایک عالمی سیمی نار میں بحث ہوئی اور اس کی سفارشات کی بحیثیت مجموعی توثیق کی گئی، نیز مزید کچھ سفارشات کی گئیں جو انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس کی طرف سے Money and Banking in Islam کے نام سے شائع ہوئی ہیں۔ ۱۹۸۹ء میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس نے ایک ورکشاپ اس موضوع پر منعقد کی کہ سرکاری لین دین سے سود کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟ اس ورکشاپ کی رپورٹ (Report of the Workshop on Elimination of Interest on Govt. Transactions) شائع ہوچکی ہے۔

اس کے بعد جون ۱۹۹۲ء میں ’کمیشن فار اسلامائزیشن آف اکانومی‘ نے اپنی عبوری رپورٹ بنکاری کو سود سے پاک کرنے کے بارے میں دی جسے ابھی تک شائع نہیں کیا گیا بلکہ قانون کے مطابق سینیٹ اور اسمبلی تک میں پیش نہیں کیا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے ایک سیمی نار معیشت سے سود کو ختم کرنے کے بارے میں منعقد کیا، جس میں معاشیات اور بنکاری کے تقریباً ایک سو ماہرین نے شرکت کی۔ اس کی رُوداد کے بھی متعدد ایڈیشن ۱۹۹۴ء کے بعد Elimination of Riba from the Economy کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔

یہ سارا کام پاکستان کے حالات کی روشنی میں متبادل نظام کا ایک واضح خاکہ پیش کرتا ہے اور ہرشعبے کے لیے متبادل تجویز کرتا ہے۔ بیرونی قرضوں کے بارے میں بھی کام ہوا ہے۔ اس کے لیے مندرجہ بالا رپورٹ اور خودانحصاری کمیٹی کی رپورٹ میں واضح رہنمائی موجود ہے، بلکہ ’خودانحصاری کمیٹی‘ کی رپورٹ میں تو ایک طرف اس قانون کا خاکہ موجود ہے جو اس کام کو انجام دینے کے لیے درکار ہے اور دوسری طرف باقاعدہ  Econometric Model کی مدد سے تین سال میں معیشت سے سود کو ختم کرنے کا پورا پروگرام بھی دیا گیا ہے۔ لیکن اصل مشکل یہ ہے کہ متبادل نظام کا مطالبہ کرنے والے نہ ان چیزوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ان پر عمل کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اگر ان کے ذہنوں میں ان پیش کردہ خطوط کے بارے میں کوئی اعتراضات اور خدشات ہیں تو ان پر گفتگو نہیں کرتے جس سے ان کی عدم توجہی اور غیرسنجیدگی کا پتا چلتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس تمام کام میں جو سفارشات کی گئی ہیں وہ ان کے ذوق یا خواہش کے مطابق نہیں ہیں،  اس لیے وہ ان باتوں کے وجود کا انکار کر دیتے ہیں اور رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ متبادل کہاں ہے؟

ہم نے اُوپر صرف اس کام کی طرف اشارہ کیا ہے جو پاکستان میں ہوا ہے، باقی مسلم ممالک میں بھی خصوصیت سے عرب دُنیا، ملایشیا، ترکیہ اور خود مغرب کی یونی ورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں جو کام اس وقت ان موضوعات پر ہوچکا ہے اور جسے مغرب کی جامعات نے بھی اعلیٰ تحقیقاتی کام شمار کیا ہے، اس کی فہرست اور تعارف ایک الگ مقالے کا محتاج ہے۔

بات صرف علمی کام اور نظری طور پر متبادل نظام کی نقشہ گری تک محدود نہیں ہے، الحمدللہ، پچھلے ۶۰برسوں میں بلاسود بنکاری محض ایک نظریہ نہیں رہی ہے بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت بن چکی ہے۔ بلاشبہہ ابھی بہت سا کام کرنا ہے اور بڑے مراحل طے کرنا ہیں، مگرجو کچھ حاصل کیا جاچکا ہے وہ اسلامی اصول بنکاری کا لوہا منوانے کے لیے کافی ہے۔ بالکل نچلی اور عوامی سطح پر تو بلاسودی انداز میں بچتوں کو جمع کرنے اور وسائل کی فراہمی کا کام ہمیشہ سے ہوتارہا ہے، انفرادی سطح ہی پر نہیں اداروں کی سطح پر بھی ہوتا رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب نے حیدرآباد دکن میں پہلی جنگ عظیم کے بعد کے تجربات پر تحقیقی کام کیا تھا اور دکھایا تھا کہ کس طرح کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری اس نظام کے ذریعے ہورہی تھی۔

پچھلے ۶۰برسوں میں جو تجربات ہوئے ہیں، ذیل میں ان کی چند مثالیں پیش کرتے ہوئے، ہمیں یہ دعویٰ نہیں کہ یہ بنک ہراعتبار سے معیاری اسلامی اپروچ پر استوارہیں، لیکن یہ بات بھی ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود ان بنکوں نے دُنیا کے سامنے یہ مثال پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ بلاسودی بنکاری ممکن ہے۔ ان مثالوں میں چند کا تذکرہ یہ ہے:

lمصر کا ’مت غمر بنک‘ (Mit Ghamr Bank)  ہے، جو ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۷ء تک شرعی اصولوں کے تحت اسلامی بنکاری کے ابتدائی تجربے کے طور پر کام کرتا رہا۔ دراصل صدرناصر نے سیاسی خطرات محسوس کرتے ہوئے اسے بند کر دیا تھا۔ اس کے بعد ’ناصر سوشل بنک‘ (۱۹۷۱ء) کی شکل میں اس پروگرام کو نیا رُوپ دیا گیا۔ یہ ادارے نہایت کامیابی سے دس بارہ سال چلتے رہے جس پر مغرب کے محققین نے تحقیق کی اور انھیں کامیاب ابتدائی تجربات قرار دیا۔ (ملاحظہ ہو: T. Wholus Seharf: Arab of Islamic Banks: New Business Partners for  Developing Countries، مطبوعہ پیرس، OECD،  ۱۹۸۳ء)

  • اسی طرح ملایشیا میں ۱۹۶۳ء میں حاجیوں کے لیے بنک سیونگ کارپوریشن قائم ہوئی، جسے ۱۹۶۹ء میں تبوک حاجی (Tabuk Haji) کے نام سے باقاعدہ ایک بنکاری کا ادارہ بنا دیا گیا، جس میں دس لاکھ کھاتہ داروں نے ایک ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ لگایا ہے۔ اس کے تحت پانچ کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور نہایت کامیابی سے بنکاری اور حج کے انتظامات کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
  • ۱۹۷۵ء میں پہلاباقاعدہ تجارتی بنک Dubai Islamic Bank کے نام سے دوبئی میں قائم ہوا۔ اسی سال ۲۸ اسلامی ملکوں کے تعاون سے جدہ کا Islamic Development Bank قائم ہوا، جس کے اب ۵۰ مسلم ممالک ممبر ہیں۔ ان باب کشا بنکوں کے بعد گذشتہ بیس سال میں سو سے زیادہ بلاسودی بنک قائم ہوئے۔ دو بڑے مالیاتی گروپ DMI اور Al-Baraka متعدد ملکوں میں بلاسود بنکاری کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
  • اخوت فائونڈیشن پاکستان نے بالکل عام آدمی کی سطح پر لاکھوں افراد کو بلاسود قرضے فراہم کیے ہیں اور یہ تجربہ چھوٹے درجے کی سرمایہ کاری (Micro-financing) کی تاریخ میں ایک کامیاب ترین تجربہ ہے، جس میں قرض کی واپسی کی شرح ۹۵ فی صد سے زیادہ ہے۔

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف اسلامک بنکس کے سیکرٹری جنرل کی ایک رپورٹ (نومبر ۱۹۹۶ء، The Present State of Islamic Banks) کے مطابق اس وقت خلیجی کونسل کے ممالک میں ۱۷، بقیہ مشرق وسطیٰ میں ۲۲، افریقا میں ۳۰، جنوبی ایشیا میں ۴۷ اور یورپ اور امریکا میں چار بلاسودی بنک یا مالیاتی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان بنکوں کا کُل سرمایہ ۶ بلین ڈالر ہے، ان میں موجود امانات (deposits)  ۷۷ بلین ڈالر اور ان کے کُل اثاثے (assets ) ۱۶۶بلین ڈالر ہیں۔ سرمائے کی تقسیم کے اعتبار سے مشرقِ وسطیٰ کے بنکوں کا حصہ ۵۵ فی صد، خلیجی کونسل کے ممالک کا حصہ ۲۳ فی صد اور جنوب ایشیا کا ۱۵ فی صد ہے۔ ان بنکوں کی کُل شاخیں اس وقت ۲۱ہزار ہیں اور ان میں دو لاکھ ۷۱ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے operations کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے وسائل کا ۳۰ فی صد اندرونی تجارت، ۱۹ فی صد صنعت، ۱۳فی صد سروس سیکٹر، ۱۲ فی صد اراضی اور املاک، اور ۸ء۵ فی صد زراعت کی مالی ضروریات پورا کرنے پر صرف ہورہا ہے۔

ایوان ٹریور (Evan Traver) نے ۱۵مارچ ۲۰۲۲ء کو لکھا: ’’اس وقت ۵۲۰ بنک اور ۱۷ہزار میوچل فنڈز، اسلامی معاشی اصولوں کے تحت کسی نہ کسی شکل میں کام کر رہے ہیں۔ ۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۹ء کےدرمیان ایک اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر ان کا حجم ۲ء۸ ٹریلین ہوگیا۔ اور اندازہ ہے کہ ۲۰۲۴ء میں یہ ۳ء۷ ٹریلین تک پہنچ جائیں گے‘‘۔ (Investopedia)

کیسی ستم ظریفی ہے کہ ان تجربات کی موجودگی میں ہمارے اربابِ سیاست متبادل نقشہ طلب کر رہے ہیں۔

انسدادِ سود کا لائحہ عمل اور حکومتی روش

تینوں اہم میدان:

  • سود کی حقیقت اور تصور کی وضاحت
  • نظری طور پر بلاسود بنکاری اور مالیاتی نظام کے نقشۂ کار کی صورت گری اور
  • کمرشل اور انوسٹمنٹ بنکاری کے میدان میں عملاً بلاسودی اداروں کا قیام اور ان میں کچھ کی چالیس برس پر پھیلی ہوئی کوششوں میں جو کچھ حا صل کیا گیا ہے اس کے ایک سرسری جائزے کے بعد ضروی معلوم ہوتا ہے کہ ہم تعین کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ پاکستان میں یہ تجربہ کیوں کامیاب نہ ہوسکا اور گاڑی کس طرح پٹڑی سے اُتری؟

تفصیل میں جانے کا موقع نہیں لیکن مختصراً سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جو حکمت عملی ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ اور دوسرے اسلامی معاشیات کےماہرین نے پیش کی تھی، اس پر پہلے قدم (فروری ۱۹۷۹ء) کے بعد کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہوسکی۔ ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ اور ہم سب کی تجویز یہ تھی کہ ایک متعین تدریج کے ساتھ بنکاری ہی نہیں، پوری معیشت کو سود سے پاک کیا جائے۔ سب سے پہلے ان اداروں سے آغاز ہو جن کے نظام کوفوراً تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ہم نے نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ (NIT)، آئی سی پی کا میوچل فنڈ اور ’ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن‘ (HBFC) کا انتخاب کیا تھا۔ اس کے بعد ہم نے صنعت کے لیے Banker's Equityکے قیام کا منصوبہ دیا اور زرعی بنک، سمال انڈسٹریز کارپوریشن، کوآپریٹوز اور ان اداروں کو پابند کیا کہ چھوٹے کاشتکار، چھوٹے تاجر اور چھوٹی صنعت کو سرمایہ فراہم کریں، تاکہ بنیادی سطح (grass-root ) پر  عام آدمی کو سب سے پہلے بلاسود سرمایہ کاری کی سہولت میسر ہوسکے، جس سے روزگار کے مواقع بھی عام آدمی کو میسر آسکیں گے اور غربت وافلاس کو دُور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

دوسرے مرحلے پر جسے ایک سال کے اندر شروع کرنے کا ہم نے منصوبہ پیش کیا تھا، اس میں سرکاری شعبے سےسود کو ختم کرنے کا لائحہ عمل دیا تھا۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ ہماری رائے میں اصل ساہوکار مرکزی حکومت اور ایک حد تک صوبائی حکومتیں بن گئی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے جس سیکٹر کو سود سے پاک کرنے کی ضرورت ہے وہ یہی سرکاری سیکٹر ہے۔ یہی بات اسلامی نظریاتی کونسل نے کہی تھی اور یہی موقف خودانحصاری کمیٹی کا تھا۔ لیکن اس سیکٹر کو نہ صرف یہ کہ اس پورے زمانے میں ہاتھ تک نہیں لگایا گیا بلکہ اس میں سودی کاروبار گذشتہ ۱۵سال میں دگنا اور تین گنا ہوگیا ہے۔

ہماری تجویز تھی کہ پہلے تجارتی بنکوں کی اصلاح ہو اور اس میں اصل توجہ اثاثہ جات (Bank Assets) کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرنے کی ہو، تاکہ سرمائے کے استعمال کی راہیں کھلیں اور سود سے پاک ہوکر کھلیں، جب کہ ڈیپازٹس کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنا نسبتاً آسان تھا۔ حکومت نے ترتیب اُلٹ دی اور ساری توجہ ڈیپازٹس کے نظام کو بدلنے پر صرف کی اور اثاثہ جات کی اصلاح اور اس کے لیے جس قانونی ڈھانچے کی ضرورت تھی وہ نہ بنایا۔

ہماری تجویز تھی کہ کمپنی لا، ٹیکس کے نظام، کارپوریٹ لا اتھارٹی،اسٹاک ایکسچینج ان سب کو اس طرح تبدیل کیا جائے کہ نیا معاشی انفراسٹرکچر وجود میں آسکے۔ اس کے ساتھ ہی قانونی طور پر سود کو ختم کیا جائے۔ تمام تحفظات اور محرکات جو سود کو حاصل ہیں وہ نفع و نقصان پر مبنی سرمایہ کاری کو دیئے جائیں۔ بنک اور مالیاتی اداروں کے عاملین کی تربیت کے لیے مناسب ادارے قائم کیے جائیں اور مؤثر انتظامات کیے جائیں۔ نیز عوام کی تعلیم کا انتظام ہو، تاکہ حلال و حرام سے واقفیت ہو اور نئے نظام کے لیے عوامی تائید حاصل کی جاسکے۔اسی طرح وطن عزیز میں اسلامی بنکاری کے عنوان سے جو اور جتنی پیش رفت ہورہی ہے، اس کو شریعت کی روشنی میں پروان چڑھانے کے لیے لازم ہے کہ اس کے اطلاقی پہلو کو شریعت کی بنیاد پر پختگی سے استوار کیا جائے، نہ کہ رسمی طور پر تذکرہ کیا جائے۔

اسٹیٹ بنک کو اس پورے کام میں ایک مرکزی کردارادا کرنا تھا لیکن حکومت نے ان میں سے کوئی اقدام نہ کیا۔ اصل اسکیم کو گڈمڈ کرکے تجارتی بنکوں میں PLS اکائونٹ کھولے اور مارک اَپ کے نام پر سود کو نئی زندگی عطا کردی۔ نیز حکومت پاکستان خود اس زمانے میں مسلسل سودی بانڈ اور سرٹیفکیٹ جاری کرتی رہی، ملک میں بھی اور زرمبادلہ کے لیے بھی، اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، حتیٰ کہ ۱۹۹۷ء میں ’’قرض اُتارو، ملک سنوارو‘‘ اسکیم کے تحت حکومت نے جو قرضے حاصل کیے، ان کا ۹۰ فی صد بھی سودی بنیاد ہی پر تھا۔

اصل رکاوٹ ___ عزم کی کمی

یہی وجہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اصل رکاوٹ اربابِ اقتدار کے فکرونظر کا بگاڑ اور ارادہ و عزم کی کمی ہے اور جب تک یہ درست نہ ہوں محض تجاویز اور متبادل صورتوں کے انبار لگانے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ سرکاری رپورٹوں، کمیشنوں اور کمیٹیوں کا تو یہ حال ہے کہ رپورٹیں موجود ہیں  جن پر کوئی عمل نہیں ہوتا اور نئی کمیٹیاں قائم کر دی جاتی ہیں، اور اس بڑھیا کی طرح اپنی محنت ضائع کی جاتی ہے جو سوت کاتتی ہے اور پھراسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے: وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْكَاثًا۝۰ۭ (النحل ۱۶:۹۲)۔ بلاشبہہ تحقیقی کام کی بھی ضروت ہے اور عوام کی تعلیم و تربیت کی بھی، مردانِ کار کی ٹریننگ کا بھی انتظام ہونا چاہیے لیکن سب سے پہلے دل و نگاہ کی اصلاح اور مؤثر سیاسی عزم (Political Will) کی ضرورت ہے جن کے بغیر کوئی منزل سر نہیں کی جاسکتی۔

صرف عبرت کے لیے اور ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے جو متبادل کا گلا کرتے ہیں اور حقائق سے صرفِ نظر، ایک اقتباس ورلڈ بنک کے ایک برادر ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرز کی رپورٹ سے دے دوں جو میں نے خود انحصاری کمیٹی کی رپورٹ میں بھی دیا تھا۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک اسٹیج پر یہ عالمی مالیاتی ادارے اس امر پر غور کر رہے تھے کہ اگر پاکستان سود کو ختم کر دیتا ہے اور حقیقی اسلامی بنکاری اور سرمایہ کاری سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار کرنے کو تیار نہیں، تو پھر وہ کس طرح اپنے معاملات کو اس سے ہم آہنگ کریں؟ لیکن داد دیں ہماری قیادت کو کہ اس نے ان کو یقین دلا دیا کہ اسلام کی باتیں صرف دل بہلانے کے لیے ہیں، عمل کے لیے نہیں، اس لیے ان کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو IFC کی رپورٹ نمبر IFC/P-587، مؤرخہ دسمبر ۱۹۸۷ء:

A change to Islamic modes of financing has been considered by IFC but this would be contrary to the Government (of Pakistan) intentions for foreign loans. Adoption by a foreign lender of Islamic instruments could be construed as undermining Governments policy to exempt foreign lender from this requisit.

انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے اسلامی سرمایہ کاری کے طریقوں کو اپنانے کے بارے میں غور کیا، لیکن یہ بیرونی قرضوں کے بارے میں حکومت (پاکستان) کے منشا کے خلاف ہوتا۔ اگر بیرونی قرضہ دینے والے اسلامی طریقے اور ذرائع اختیار کرتے ہیں تو اسے اس سرکاری پالیسی کو غتربود کرنے کی کوشش سمجھا جائے جس کے تحت بیرونی قرض دینے والوں کو ان (اسلامی) مطالبات سے مستثنیٰ رکھا جارہا ہے۔

اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے بورڈ آف گورنرز تو پاکستان کے دستور کی اسلامی دفعات خصوصیت سے، وفاقی شرعی عدالت سے، سود کے بارے میں اختیارات کی تحدید کے ختم ہونے کے امکان کی روشنی میں اپنے رویے میں تبدیلی کے لیے فکرمند ہے، مگر ہمارے سرکاری حکام ان کو تسلی دیتے ہیں کہ کوئی خطرہ نہیں، ہم دستور کو بھی بدل دیں گے:

We have been advised by senior Government officials that steps will be taken to rectify this situation in all probability.

ہمیں سینیرسرکاری افسروں کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے کہ پورا امکان ہے کہ اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

یہ ہے ہمارے حکمرانوں کا ذہن اور کردار۔ ہمیں ہوّا دکھایا جاتا ہے کہ بیرونی مالیاتی ادارے ہمارا حقّہ پانی بند کردیں گے اور ملک تباہ ہوجائے گا اور اگر وہ اسلامی بنکاری کے اصولوں کو اختیار کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کرتے ہیں تو ان کو روک دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دستور میں بھی ترمیم کرڈالی جائے گی مگر سود کی راہ کھوٹی نہیں ہونے دیں گے، وہ شیرمادر کی طرح حلال اور رواں رہے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ  اللہِ  وَرَسُوْلِہٖ ، اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو اور اس جنگ کے نتیجے میں صرف یہی تباہ نہیں ہورہے، پورا ملک اور پوری قوم عذاب میں مبتلا ہے۔

ہماری مخلصانہ درخواست ہے کہ پہلے خلوصِ دل سےاللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف اس جنگ کو بند کرنے کااعلان کرو۔ سیزفائر کے بغیر کسی اور اقدام کا کیا سوال؟ ایک محفوظ اور مستقل راستہ تو دستور میں ترمیم ہے، مگر دستوری ترمیم تو نہ کی جاسکی، البتہ اس کے بالکل اُلٹ وفاقی شرعی عدالت کےفیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی گئی۔ طویل عرصے بعد وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ سنایا تو پھردوبارہ بنکوں کی جانب سے اپیل کرا دی گئی۔

یہ ایک بڑا ہی سفاکانہ کھیل ہے، جسے حکمران اور دولت مند طبقے کھیل رہے ہیں۔ انھیں آخرت کی جواب دہی کا خیال کرنا چاہیے اور ہم وطنوں پر معاشی ظلم و ستم کی حکمرانی کو ترک کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ غلطی اورفروگزاشت کو معاف کرنے میں بڑا غفور و رحیم ہے لیکن بغاوت اور سرکشی کے باب میں اس کی گرفت بھی بڑی سخت ہے: اِنَّ  بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ۝۱۲ۭ  (البروج ۸۵:۱۲)۔ آیئے، بندگی اور اطاعت کا راستہ اختیار کریں، پھر ہرمشکل آسان ہوجائے گی اورہربند دروازہ کھل جائے گا۔

مولانا سیّد جلال الدین انصر عمری، اللہ کی عطا کردہ زندگی گزار کر، خالق و مالک کے حکم پر ۲۶؍اگست ۲۰۲۲ء کو، ربّ کے حضور پیش ہوگئے۔ وہ صرف ہندستان کے مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری اُمت مسلمہ کا سرمایہ تھے۔ان کا انتقال ہم سب کے لیے ایک گہرا زخم اور بڑا سانحہ ہے۔ موت برحق ہے، سب کو جانا ہے۔ یہاں پر کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہا۔ لیکن کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں، جن کی زندگی دوسروں کے لیے روشنی کا منبع ہوتی ہے۔ ایسے قیمتی افراد کے جانے سے ایک ایسا بڑاخلا پیدا ہوجاتا ہے، جس کے بھرنے میں بڑا وقت لگتا ہے۔ مولانا جلال الدین عمری صاحب کا شمار انھی قیمتی افراد میں سے ہے___  اِنَّـا لِلہِ   وَ اِنَّـا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔

مجھے ان سے بالمشافہہ ملنے کا موقع تو دوبار ہی ملا، لیکن ان سے بنیادی تعارف ان کی کتابوں اور ان کے مضامین سے تھا، جن سے مَیں بے حد متاثر تھا۔ فکر کی گہرائی، مطالعے کی وسعت، زبان و بیان کا حُسن، دلیل کی قوت، سبھی خصوصیات ان کی تحریر کا حصہ تھیں۔ ہزاروں افراد نے مجھ سمیت ان کی تحریروں سے استفادہ کیا ہے۔ اس طرح وہ میرے محسنوں میں شامل ہیں۔

مولانا جب انگلستان آئے تو کمالِ عنایت سے اسلامک فائونڈیشن میں بھی تشریف لائے۔ یہاں ان کے ساتھ کئی گھنٹے ملاقات رہی۔ دینی، تحریکی، قومی اور عالمی اُمور پر بہت کھل کر بات چیت ہوئی۔ امرواقعہ ہے کہ ان کے پُراعتماد لہجے نے ہندستان کے مسلمانوں کے بارے اور اسلام کے مستقبل کے بارے میں عزم و اُمید کے چراغ روشن کیے۔ پھر جب پاکستان تشریف لائے تو اسلام آباد میں ہم نے ان کے اعزاز میں محفل منعقد کی، جہاں انھوں نے بڑی ایمان افروز تقریر فرمائی۔

مولانا عمری صاحب سے اپنے ربط و تعلق کے زمانے پر نظر دوڑائوں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ماہ نامہ زندگی ، رام پور پھر زندگی نو، نئی دہلی اور اس کے ساتھ تحقیقات اسلامی  ،علی گڑھ میں اُن کے فکرانگیز مضامین ہمیشہ توجہ کھینچ لیتے تھے، اور قلب و نظر کو علم سے منور کرتے تھے۔اُن کی کتب خاص طور پر عورت اسلامی معاشرے میں، معروف و منکر، اسلام میں خدمت خلق کا تصور، مزدوروں کے حقوق ، غیرمسلموں سےتعلقات اور ان کے حقوق بہت عام ہوئیں۔ بلاشبہہ اصولِ دین، عقیدے، قرآنی تجزیات، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام کی جامع تعلیمات، تحریکی اُمور اور عہدحاضر کی زندگی کے پیدا شدہ مسائل پر انھوں نے اجتہادی بصیرت کے ساتھ کلام کیا۔ اگرچہ ان کا میدان علمِ معاشیات نہیں تھا، مگر اسلامی تعلیمات کے اطلاقی معاشی پہلو پر انھوں نے متعدد تحریروں کے ذریعے انسان کے معاشی مسئلوں کو حل کرنے کے لیے رہنمائی دی، خصوصیت سے مزدوروں کے مسائل۔ سیاسی و تہذیبی موضوعات، دعوتِ دین کے عملی اور اطلاقی حوالے ، کثیر مذہبی معاشرت میں زندگی کے چیلنج، غرض کون سا موضوع ہے جس پر انھوں نے قلم نہیں اُٹھایا، اور جس موضوع پر بھی قلم اُٹھایا اس کا حق ادا کردیا۔ کمال یہ کہ وہ جو بات کرتے، دلیل سے کرتے تھے اور بڑے شگفتہ انداز میں۔

مولانا عمری صاحب جہاں قرآن کے مفاہیم سے گہرا ربط رکھتے تھے، وہیںوہ سیرتِ پاکؐ سے اُمڈتی روشنی سے بھرپور فیض پاتے تھے۔ حدیث نبویؐ سے متعلقہ اُمور میں احتیاط غالب تھی، تو دوسری طرف فقہی بصیرت ایمان افروز تھی۔ ایک طرف اسلامی فکری اور تہذیبی روایت سے وابستگی درجۂ کمال کو پہنچی ہوئی تھی تو دوسری جانب اس فکر اور تفکر کو نئی نسل میں منتقل کرنے کی خداداد صلاحیت اور گہرا ذوق و شوق بھی الحمدللہ فراواں تھا۔ انھوں نے نئے موضوعات پر لکھا اور اپنے رفقا سے لکھوایا بھی۔ وہ جن موضوعات پر لکھ رہے تھے، مگر مباحث ادھورے رہ گئے، انھیں مکمل کرنا نوجوان فاضلین کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں قائدانہ ، تبلیغی، دعوتی اور مکالماتی صلاحیتوں سے بھی فیاضی سے نوازا تھا، جنھیں انھوں نے بڑی محنت سے استعمال کیا۔جماعت اسلامی ہند کی امارت کی ذمہ داری بہ حُسن و خوبی انجام دی۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے جوارِ رحمت میںرکھے اور ان کے صدقاتِ جاریہ کا فیض مدتوں جاری و ساری رکھے، آمین!

اسلامی معاشیات ایک ارتقا پذیر سماجی علم ہے۔ یہ اقتصادیات کے اصولوں، اقدار، اداروں اور اسلامی تعلیمات کو یکجا کرنے اور نظامِ کار تشکیل دینے کی ایک کوشش ہے، تاکہ ایک نیا اقتصادی نظریہ فروغ پاسکے۔اس کا مقصد عصری اقتصادی سائنس میں محض ایک شاخ یا ذیلی شعبہ کا اضافہ نہیں بلکہ جوہری بنیادوں پر علم الاقتصاد کی تعمیروتشکیل ہے۔

مغرب میں آدم اسمتھ کے زمانے سے آج تک معاشی علوم کی تعمیر کے لیے نت نئی کوششیں اور تجربے کیے جارہے ہیں۔ یہ کوششیں فلاحی معاشیات (Welfare Economics)، رویوں کی معاشیات (Behavioral Economics)، ارتقائی معاشیات (Evolutionary Economics)، گھریلو معاشیات (Home Economics) ، سیاسی معاشیات (Political Economy)، مارکسی معاشیات (Marxist Economics) اور ماحولیاتی معاشیات (Environmental Economics) وغیرہ جیسے علوم کی صورت میں کی گئی ہیں۔

عصری اقتصادیات کا سارا تانا بانا سائنس کو اخلاقیات اور مذہب سے الگ کرنے کے تصور کے اردگرد بُنا گیا ہے۔ اس طرح معاشیات کو ’سماجی سائنس‘ ہونے کے باوجود ایک فطری سائنس (Natural Science) کے سانچے میں ڈھالنے کی منظم کوشش کی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے نہ صرف بنیادی طور پر تجرید اور انتخاب پر انحصار کیا بلکہ رفتہ رفتہ خود کو معاشرے اور انسانیت سے بھی دُور کرلیا۔ نتیجتاً سارے ہی معاشی اُمور کے بارے میں فیصلہ سازی میں منڈی نے مرکزی حیثیت حاصل کرلی۔ پوری معاشی فکر انسان کے ایک یک جہتی (unidimensional) تصور کے گرد منڈلا رہی ہے، جس کا محرک مفاد پرستی اور منافع کا حصول بن گیا۔ اس کے نتیجے میں ایک بے رحم اورسفاکانہ صورتِ حال نے جنم لیا، کیونکہ ایک طرف مغرب نے پیداوار اور دولت کی تخلیق میں شان دار ترقی کی تودوسری طرف ایک ایسی معیشت اور معاشرہ تخلیق کیا، جہاں دولت کی وسیع پیمانے پر غیرمساویانہ تقسیم اور بڑے پیمانے پر معاشی استحصال پایا جاتا ہے۔

اس عمل نے معاشرے کو وسائل رکھنے اور وسائل پر دسترس نہ رکھنے والوں میں تقسیم کردیا اور یوں طبقاتی تقسیم پیدا ہوئی۔ اس کے نتیجے میں انسان، قومیں اور ممالک ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہوگئے، جس سے انسانیت کی بقا کو خطرہ لاحق ہوگیا۔

اقوام متحدہ کی ’غذا کے بارے میں چوٹی کی کانفرنس‘ (۲۳ستمبر ۲۰۲۱ء) کے مطابق ۲۰۲۰ء میں دنیا کے ۷۶۸ملین افراد بھوک اور افلاس کا سامنا کر رہے تھے، جن کی تعداد میں پچھلے سال اور زیادہ اضافہ ہوگیا۔ دُنیا بھر میں تقریباً ۲۷۴ملین افراد کو زندہ رہنے کے لیے کسی نہ کسی قسم کی ہنگامی امداد کی ضرورت ہے، جب کہ دُنیا کے امیرترین ایک فی صد لوگوں کے پاس دُنیا کے تقریباً ۷؍ارب لوگوں سے دوگنی زیادہ دولت ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں تین امیر ترین افراد کے پاس ۱۶۰ملین افراد کی دولت کے برابر دولت ہے۔

امریکا اس وقت دُنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ دُنیا کی ۵ فی صدآبادی کے ساتھ یہ دُنیا کی مجموعی پیداوار کے ۲۰ فی صد کا حامل ہے۔ اس کے باوجود خود ۲۰ فی صد امریکی خاندانوں کے پاس کوئی اثاثہ نہیں ہے۔ ۳۷ فی صد سیاہ فام امریکی خاندانوں کی صورتِ حال ابتر ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی اثاثہ نہیں ہے۔ امریکا میں ایک مڈل ایگزیکٹو اور اعلیٰ کارپوریٹ ایگزیکٹو کی تنخواہوں کے درمیان فرق ۱۹۵۰ء میں ۲۰ گنا تھا لیکن اب یہ بڑھ کر ۴۰۰ گنا ہوگیا ہے۔

عالمی وبائی مرض کورونا نے مزید تباہی مچا دی ہے۔ تقریباً ۸۹ملین امریکی ملازمتیں کھوچکے ہیں۔ کورونا وائرس سے ۴۴ء۹ ملین سے زائد افراد بیمار ہوچکے ہیں اور ۷لاکھ ۲۴ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود امریکی ارب پتی، خاص طور پر وہ لوگ جو دواسازی کی صنعت میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، لالچ کے اسیر اور عام انسانوں کی مجبوری سے فائدہ اُٹھانے والے ہیں۔ عالمی تباہی کے ان دوبرسوں کے دوران ۴۵؍ارب پتیوں کی دولت میں ۲ء۱ ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ امریکی فارٹیکس فیئرنس (AFT) اور انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز پروگرام آن اِن ایکویلٹی کے تجزیہ کردہ ’فوربس‘ (Forbes) کے اعداد و شمار کے مطابق، ان کی اجتماعی دولت میں ۷۰ فی صد اضافہ ہوا۔ ۱۸مارچ ۲۰۲۰ء کو کورونا وبا کے آغاز میں ان کی دولت ۳ٹریلین ڈالر تھی، جو ۱۵؍اکتوبر ۲۰۲۱ء تک بڑھ کر ۵ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔

معاشی بحران اور علمِ معاشیات کا بحران

حقیقت یہ ہے کہ آج عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ معاشیات کی سائنس دونوں ہی بحران کا شکار ہیں۔ پروفیسر ابھیجیت وی بینرجی (Abhijit V. Banerjee) اور ایستھرڈ فلو (Esther Dufly) نے اپنی کتاب: Good Economics for Hard Times  (۲۰۱۹ء) میں عصری معاشیات پر نہایت جامع تنقید کی ہے۔انھوں نے اچھی معاشیات اور فاسد معاشیات (Bad Economics)کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے، اس عدم اعتماد پر افسوس کا اظہار کیا ہے، جو عام آدمی معاشیات کے بارے میں رکھتا ہے۔

وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کس طرح معاشیات اور اخلاقیات کے درمیان علیحدگی ایک ایسے معاشرے کی پیدائش کا باعث بنی ہے، جس میں انصاف اور اس کے تمام ارکان کی فلاح و بہبود کا فقدان ہے۔ ان مصنّفین کے مطابق ایسا اس وجہ سے ہے کہ یہاں بڑے پیمانے پر فاسد معاشیات کا دور دورہ ہے۔

مصنّفین، مغرب میں معاشیات کے ناقص نقطۂ آغاز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معاشیات کی ناکامی کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’معاشی ماہرین کا رجحان فلاح و بہبود کے تصور کو اپنانے کی طرف ہے، جو اکثر بہت محدود ہوتا ہے، آمدنی یا مواد کی کھپت کے کچھ حصے کی حد تک۔  پھر ہم سب کو ایک مکمل زندگی گزارنے کے لیے برادری کے احترام، خاندان اور دوستوں کی راحت، وقار، خوشی اور سہل زندگی سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہے۔صرف آمدنی پر توجہ ایک آسان راستہ نہیں ہے۔ یہ ایک مسخ کرنے والی عینک ہے، جس نے اکثر ذہین ماہرینِ اقتصادیات کو گمراہ  کیا ہے، پالیسی سازوں کو غلط فیصلوں اور ہم میں سے اکثر پر غلط تصورات کو مسلط کیا ہے‘‘۔

جدید معاشیات کے بارے میں ان کی تنقید بہت باوزن ہے: ’’فاسدمعاشیات نے  معیشت کی تمام چابیاں اور وسائل امیروں کے حوالے کر دیئے، پھر عوام کے لیے فلاحی پروگراموں کو کم کرنے پر زور دیا۔ اس تصور کو غالب کر دیا کہ ریاست کمزور اور بدعنوان ہے اور غریب سُست ہیں۔ یہ وہ حکمت عملی تھی، جس نے عدم مساوات اور عوامی سطح پر جمود اور تلخی کو جنم دیا، جس سے تصادم کی فضا رُونما ہوئی ہے۔

نظریں خیرہ کرنے والی اس معیشت نے ہمیں بتایا کہ تجارت سب کے لیے اچھی ہے اور تیز تر ترقی ہی انسانیت کی معراج ہے۔ اندھی معیشت نے پوری دُنیا میں عدم مساوات کے خوفناک دھماکے اور اس کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے سماجی مسائل، اور سر پر کھڑی ماحولیاتی تباہی کو نظرانداز کر دیا‘‘۔ (Good Economics for Hard Times، پینگوئن بُکس، برطانیہ،۲۰۱۹ء)

اچھی معاشیات کی تلاش وقت کی پکار ہے۔ اسلامی معاشیات کو ترقی دینے کی کوشش اس سمت میں ایک مثبت کردار ہے۔اس سلسلے میں جن اہل علم نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، ان میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی [۲۵ستمبر ۱۹۰۳ء-۲۲ستمبر ۱۹۷۹ء] اور پھر باقرالصدر [یکم مارچ ۱۹۳۵ء- ۹؍اپریل ۱۹۸۰ء] کا نام نمایاں ہے۔ مولانا مودودی نے نہ صرف علم معیشت کے تمام دائروں کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کو واضح الفاظ میں بیان کیا، اور ان کی علمی اور عملی فوقیت پر مؤثر دلائل دیے، بلکہ پورے معاشی مسئلے کو دیکھنے اور حل کرنے کے لیے جس نئے نقطۂ نظر کی ضرورت ہے، اسے بڑی گرفت کے ساتھ واضح کیا۔ اس طرح معاشیات کے علم کی تشکیلِ جدید کی تحریک، بیسویں صدی کی ایک مؤثر تحریک بن گئی۔

اسلامی معاشیات کی اساس

معاشی حوالوں سے سیّد مودودی کی تحریریں پانچ بڑے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں:

  • اوّلین اور اہم ترین تو سیّد مودودی کا معیشت کا وہ تصور ہے جو انسان دوست، عادلانہ اور ثمربار ہے اور انسانی معاشرے کے تمام ارکان کی ضرورت اور فلاح کو یقینی بناتا ہے۔ اسلامی معاشیات پر ان کی تحریروں کی اصل بنیاد، اخلاقی اقدار، سماجی انصاف اور معاشی توازن ہیں۔ یہ سیّد مودودی کا منفرد کارنامہ ہے۔ امرواقعہ ہے کہ کسی بھی شعبۂ علم کی روح اور اس کا جوہر اس کے مجموعی تصور (vision) میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے نہ صرف پوری وضاحت سے اسلامی معیشت اور معاشرت کا تصور بیان کیا ہے ،بلکہ تفصیل سے یہ بھی بتایا ہے کہ اس تصور کے وہ کون سے امتیازات ہیں، جو روایتی معاشیات اور اس کی مختلف شکلوں سے اسے مختلف بناتے ہوئے امتیازی مقام عطا کرتے ہیں۔ معاشی تجزیے کو معیشت، معاشرے اور تہذیب کے جامع تصور کی بنیاد پر استوار کرنے کی مناسبت سے ان کی تجاویز فی الحقیقت ذہن کشا ہیں۔

ہمارے نزدیک 'تصور اور 'تجزیےمیں پیدا کردہ تفریق ہی روایتی معاشیات کی ناکامی کی اصل وجہ ہے۔ اسی لیے سیّد مودودی نے زور دے کر یہ سمجھایا ہے کہ اسلام کے تصورِ حیات، اخلاقی ضابطے اور انفرادی و اجتماعی تنظیم کا، معاشی نظریے، معاشی زندگی اور فیصلہ سازی سے لازمی ربط ہے۔ اگر اس میں سے کوئی ایک اکائی غائب ہے یا نظرانداز ہے، تو اس کو اپنی جگہ فعال اور بحال ہونا چاہیے ۔ مراد یہ ہے کہ معاشیات کی اسلامی تشکیل کی نمایاں ترین خصوصیت معاشی تجزیے اور پالیسی سازی میں بھی اخلاقی اقدار کی کارفرمائی کا کلیدی کردار ہے۔

مولانامودودی نے معاشیات کے اس پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ کیسے ایک انسان دوست معیشت، مربوط طرز فکر کے ذریعے معاشرے کے تمام افراد کے لیے اچھی زندگی کے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ ایک صحت مند معاشیات وہ ہوگی، جس میں معاشیات اور اخلاقیات کا ناتا ٹوٹا ہوا نہ ہو۔ مولانا نے معاشی زندگی اور اس کی انجام دہی کے مختلف پہلوؤں پر اس مربوط طرز فکر کے اثرات کو نمایاں کیا ہے۔

  • ثانیاً: مولانا مودودی نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور معاشرے کے باہم تعلق کو واضح کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے عمرانی علوم کے ہر شعبۂ علم کو خود اپنے ہی دائرے میں محدود کرتے ہوئے مکمل سمجھنے کے فاسد طرزِ فکر کے برعکس، مختلف شعبہ ہائے علم کے باہم ربط پر مبنی طرزِ فکر کی ضرورت پر زور دیا ۔

مولانا مودودی برملا کہتے ہیں کہ انسانی زندگی کو خانوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی کا ہرپہلو دیگر تمام پہلوؤں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بلاشبہہ تخصص کا ایک کردار موجود ہے، لیکن زندگی کو ایسے جدا جدا خانوں میں تقسیم کر دینا غیرحقیقت پسندانہ اور انتہائی نقصان دہ ہے، جن میں ہر شعبۂ علم انسانی زندگی کے کسی پہلو کو ایک الگ دنیا میں زیر مطالعہ لاتا ہو۔ گذشتہ دو صدیوں کے دوران معاشیات کو جس طرح ایک جدا اور اپنے آپ میں مکمل علم کے طور پر پروان چڑھایا گیا ہے، اس نے ایسے یک رُخے علم کی تشکیل کی ہے، جس کی ساری توجہ ذاتی مفاد، نفع اندوزی اور مال جمع کرنے کی دوڑ میں ایک نہ ختم ہونے والے مقابلے پر ہے ۔

اس مفاد پرستانہ ذوقِ شکم و زرکا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشی مفاد کا حصول ہی تمام انسانی کوششوں کا مدار ٹھیرا ۔ دروغ گوئی، جعل سازی،اشتہاربازی اور ناانصافی کا بازار گرم ہوا، جو آج کے معاشی حقائق ہیں۔ معاشرے کا مفہوم مجرد معیشت سمجھ لیا گیا اور معیشت کو منڈی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ آغاز تو مادی ضروریات کے لیے اخلاقی فلسفے کے پھیلاؤ سے ہوا تھا، لیکن اس نے محدود ہوتے ہوتے مالی فوائد و نقصانات کی حساب بندی کی شکل اختیار کر لی۔ پھر معاشیات کا تعلق مذہب اور اخلاقیات سے توڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ اسے رفتہ رفتہ فلسفے، سیاسیات، عمرانیات، نفسیات، تاریخ سمیت دیگر شعبہ ہائے علم سے بھی جدا کر دیا گیا ۔اگر انسانی مسائل کا حل واقعی درکار ہے تو زندگی سے متعلق تمام شعبہ ہائے فکر سے معاشیات کے تعلق کو بحال کر کے مضبوط کرنا ہوگا ۔ اس نئے آغاز کے لیے مختلف شعبہ ہائے علم سے استفادہ ناگزیر ہے۔

  • ثالثاً: فعالیت (Effeciency) ہے۔ یہ گذشتہ برسوں کے دوران ماہرین معیشت کی توجہ کا مرکز ہے۔ وسائل کا باثمر استعمال، معاشی تجزیے اور فیصلہ سازی میں حقیقی ہدف بن چکا ہے۔ لیکن اس استعمال کے دوران ایک اور ناتا بھی ٹوٹ گیا ہے، یعنی ثمرانگیزی کا ناتا عدل و انصاف سے کٹ گیا، جو معیشت کے لیے بھی اور معاشرت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس میں مولانا مودودی کا زور اس پہلو پر ہے کہ مرکزی ہدف، عدل کو رہنا چاہیے ۔ اس طرح مطلوب ثمرانگیزی وہ آلہ ہے، جس کے ذریعے انصاف اور فلاح کا حصول ممکن ہوگا، لیکن یہ بجائے خود کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس ٹوٹے ہوئے تعلق کو بھی جوڑنا ہوگا تاکہ ذاتی مفاد کے ساتھ سماجی ذمہ داری بھی پیش نظر رہے ۔ دولت کا حصول اس کے مؤثر استعمال اور مزید وسائل کی تخلیق کے ساتھ جڑ جائے۔ دولت کے حصول اور صَرف میں حلال اور حرام، اور مطلوب اور نامطلوب میں فرق کیا جائے، اور محض ہرفرد ذاتی نفعے کو بڑھوتری (maximize) دے کر ساری معاشی جدوجہد کا مرکزو محور نہ بن جائے۔ مغرب کے معاشی ترقی کے کردار اور طبقاتی وجود کے مقابلے میں پورے معاشرے پر ہمہ جہت معاشی ترقی (Inclusive development) کے نتیجے میں وسائل اور مواقع کی عادلانہ تقسیم اور اجتماعی فلاح کا حصول ممکن ہو۔ محض نفع اندوزی اور وہ بھی بڑی حد تک سرمایہ دار طبقے کی تو کوئی اعلیٰ مقصد نہیں ہوسکتا۔ اسے انصاف ،بھلائی، تحفظ اور عوامی بہبود کے مقاصد کے ذریعے اعتدال بخشنا ہوگا۔

اگرچہ منڈی (مارکیٹ)کی حرکیات، فیصلہ سازی کے لیے مناسب بنیاد ہیں، لیکن خود منڈی کو واضح طور پر طے شدہ اخلاقی، قانونی اور سماجی دائروں میں کام کرنا چاہیے۔ انسانوں کا اپنا مرکزی کردار ہے، لیکن اداروں کا بھی اپنا خاص مقام ہے، جو بعض صورتوں میں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ عمل تخلیق میں مقابلہ آرائی تو لازم ہے، لیکن معیشت و معاشرت کی حرکیات میں باہم تعاون اور درد مندی بھی اہم تر ہے۔ ریاست خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی اور نہ اسے لاتعلق ہونا چاہیے۔ اسے تنظیم اور اصلاح کا کام کرتے رہنا چاہیے، تاکہ معاشرتی اہداف کا حصول ممکن ہو۔ سیّدمودودی کہتے ہیں کہ تمام دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ ریاست اور افراد معاشرہ کو بھی اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ سماجی ترقی، معاشرے کے تمام ارکان کے لیے عدل و فلاح کی ضامن ہو۔

  • رابعاً: یہ امتیاز مولانا مودودی کو حاصل ہے کہ انھوں نے بعض بنیادی اسلامی تصورات اور افکار کی، دور جدید کے حالات اور مسائل سےمناسبت کو نمایاں طور پر پیش کیا۔ انھوں نے گذشتہ دوصدیوں سے رائج معاشی نظریات اور نظاموں کا تنقیدی مطالعہ کرتے ہوئے، معاشی سرگرمی کے لیے اسلام کے عطا کردہ اہداف کو ٹھوس انداز میں بیان کیا۔ اسلامی نظام معیشت کا ڈھانچا اور تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انھوں نے موجودہ تناظر میں اسلامی نظام معیشت کو اوّلا ًمسلم ممالک میں اور اس کے بعد ممکنہ طور پر دوسروں کے لیے بطور ایک مثال متعارف کرانے کے امکان اور نتائج پر بحث کی ہے۔ اس مقصد کے لیے مولانا مودودی نے قرآن وسنت سے براہِ راست رہنمائی حاصل کرنے، فقہ کے ذخیرے میں موجود تفصیل کا ازسرنو جائزہ لینے، مقاصد شریعت پر غور کرکے جدید افکار و خیالات پروان چڑھانے اور موجودہ معاشی احکامات اور تعلیمات کی ضابطہ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
  • خامساً: سیّد مودودی نے وضاحت سے یہ اصول اُجاگر کیا ہے کہ دولت کا معیشت میں کردار صرف ایک وسیلے کا ہے، نہ کہ بجائے خود ایک ہدف اور اصل مقصود کا۔ معاشی سرگرمی کا مقصد ہمیشہ حقیقی وسائل کی ترقی ہونا چاہیے، یعنی اشیا اور خدمات کی تیاری، ان کی عادلانہ تقسیم اور معاشرے میں فلاح و سکون کے فروغ کے لیے ان کا بہتر استعمال پیش نظر ہونا چاہیے۔

موجودہ سرمایہ دارانہ سماج کا ایک بڑا المیہ مالی معیشت اور حقیقی معیشت میں بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ آج کی دنیا، حقیقی اور معنوی رقوم کے سیلاب کی لپیٹ میں ہے جس میں اضافی قدر پیدا کرنے کا ٹھوس عمل، عالمی انسانی برادری کی حقیقی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ایسی خود مختار فضا قائم کردی گئی ہے، جس میں دولت کو دولت کھینچتی ہے، لیکن حقیقی معیشت میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی۔ اُدھار کو حقیقی دولت پیدا کرنے کے لیے صرف استعمال ہی نہیں کیا جاتا بلکہ یہ خود ایک الگ معیشت بن گئی ہے۔ گھروں، کاروباری اداروں اور ریاستوں سمیت ہر سطح پر گویا سودی قرض کے پھیلائو کی ایک دھماکا خیز صورتِ حال ہے، جس سے پیدا ہونے والے بلبلے پھیل بھی رہے ہیں اور بڑھ بھی رہے ہیں، لیکن مصنوعات اور خدمات کی حقیقی فراہمی، جو انسانی ضروریات اور سہولیات کا باعث بنیں، ان میں اضافہ نہیں ہو رہا۔

مولانا مودودی اسلامی معاشیات کے چلن سے اقتصادی میدان میں حقیقی وسائل کے درمیان ربط کو بحال کرنے کی دعوت پیش کرتے ہیں۔ سابق امریکی صدر اوباما بھی ایک تقریر میں یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ ’’دنیا کو معاشی انجینئرنگ سے زیادہ حقیقی انجینئرنگ کی ضرورت ہے‘‘۔ دنیا کی معیشت کی موجودہ صورت حال سخت تشویش ناک ہے، جس میں بیرونی زرمبادلہ کی روزانہ خریدوفروخت اشیا و خدمات کی حقیقی بین الاقوامی تجارت سے تقریباً پچاس گنا زیادہ ہے۔

یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلامی معاشیات کی بنیادی خصوصیت، حقیقی معیشت اور اثاثہ جات کی پیداوار کا باہم تعلق ہے۔ موجودہ معاشی بحران کے ذمہ دار عوامل میں ربا (سود)، میسر (تخمینے کی بنا پر خرید و فروخت) اور غرر (تلون اور ابہام) شامل ہیں۔ اسلام ان سب کو حرام قرار دیتا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ایک قرطاس عمل (ایکشن پلان) میں یہ دلچسپ تبصرہ موجود ہے:’’اسلامی بنکوں کی کارکردگی کا عالمی سطح پر روایتی بنکوں سے موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ اور امریکا میں معاشی بحران کے نتیجے میں روایتی بنکوں کو جو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس کے پیش نظر اسلامی بنکوں کی کارکردگی بہتر رہی ہے‘‘۔

اسلامی معاشیات پر نظری اور عملی حوالوں سے مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کا اثر کم ازکم تین سمتوں میں واضح نظر آتا ہے:

اوّل:یہ کہ انھوں نے نہ صرف قرآن اور سنت کی معاشی تعلیمات کو پوری وضاحت اور اس مضمون پر پوری گرفت کے ساتھ بیان کیا بلکہ اسلامی معاشیات کی ایک الگ شعبۂ علم کے طور پر تشکیل کا عملی آغاز بھی کیا۔ اسلامی نقطۂ نظر سے معاشیات کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق میں گذشتہ پچاس برس کے دوران نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس مقصد کے لیے متعدد تحقیقی ادارے قائم ہوئے ہیں۔ درجنوں بین الاقوامی کانفرنسوں اور لاتعداد سیمی ناروں اور مباحثوں کے ذریعے اس جدید اور اُبھرتے ہوئے شعبۂ علم کو مختلف پہلوؤں سے پروان چڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مسلم دنیا میں الگ سے اور اس سے باہر ڈیڑھ سو سے زائد یونی ورسٹیوں میں اسلامی معاشیات کو ایک تدریسی شعبۂ علم کے طور پر الگ سے شامل کیا جاچکا ہے۔ اس پیش قدمی میں سیّد مودودی کا کردار نمایاں ہے۔

دوم: یہ کہ مولانا مودودی محض ایک کتابی مفکر نہ تھے۔ اسلام، تبدیلی چاہتا ہے اور مولانامودودی نے مرد و خواتین کی روحانی اور اخلاقی قلب ماہیت کے لیے اور اسلام کے طے کردہ معیارات، اقدار اور اصولوں پر مبنی ایک نئے سماجی نظام کے قیام کے لیے عالمی تحریک کی تشکیل اور تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مولانا مودودی کا اصل مقصد اسلامی نظام کو اس کی مکمل شکل میں قائم کرنا تھا۔ گویا ان کا پیغام یہ تھا کہ اسلامی معیشت، سماجی تبدیلی کے بغیر نمو نہیں پا سکتی۔ لہٰذا، اسلامی معاشیات کے تین پہلو ایک دوسرے سے وابستہ بلکہ باہم پیوست ہیں، یعنی: اس کا اخلاقی و معیاری پہلو، ایجابی یا تجزیاتی پہلو، اور معیشت و معاشرت میں تبدیلی کے لیے اس کا تغیر اتی کردار۔

اسلامی معاشیات کو عملی شکل دینے کے لیے مولانا مودودی نے فرد اور معاشرے کے طور پر بھی اور سماج اور ریاست کی سطح پر بھی مسلمانوں کی معاشی زندگی کی تشکیل نو پر بھی مسلسل زور دیا۔ اسلامی معیشت، بنکاری اور انشورنس کے لیے عالمی تحریک کا ظہور پذیر ہونا پیش نظر رہنا چاہیے۔ دیگر حوالوں سے ہونے والی پیش رفت میں زکوٰۃ، صدقات اور انفاق سے متعلق تعلیمات کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے تنظیموں کا قیام اہم ہے۔ یہ پیش رفت اسلام کی عصری تشکیل کے معاشی پہلو کی آئینہ دار ہے۔ تاہم، مولانا مودودی زور دے کر کہتے ہیں کہ یہ ساری کوششیں ایک بڑی تبدیلی، یعنی سماجی، معاشی اور سیاسی منظرنامے کی جامع تبدیلی کے لیے محض ایک نقطۂ آغاز ہیں۔

پھرمولانا مودودی کا اثر پالیسی سازی کے میدان میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے معاشی فیصلہ سازی کے ہر مرحلے پر فرد، کاروباری اداروں،معاشرے اور ریاست کے حوالے سےپورے منظرنامے کو نئے سرے سے تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔ ان سب کا مقصد ایک عادلانہ معاشرے کا قیام ہونا چاہیے۔ مسلم ممالک کے وہ دساتیر جو مولانا مودودی کے اصل عرصۂ تصنیف و تحقیق سے قبل لکھے گئے تھے، ان کا موازنہ اسلامی احیا کی تحریکوں کے زیر اثر بننے والے دساتیر سے کیا جائے تو حیرت انگیز مشاہدات سامنے آئیں گے۔ اگر صرف تین مثالیں مقصود ہوں تو پاکستان، ایران اور سوڈان کے دساتیر میں ریاستی پالیسی کے لیے وضع کردہ رہنما اصول، اسلام کے سماجی و معاشرتی معیارات اور احکام پر مبنی اس نئی معاشی فکر کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم پاکستان کا ۷۵واں یومِ آزادی منا رہے ہیں۔ ملت ِاسلامیہ پاکستان کے لیے ۱۴؍اگست کا دن بھی اللہ کی ایک نشانی ہے۔ صرف سات سال کی بھرپور اور پُرامن جدوجہد کے نتیجے میں دنیا کے سیاسی نقشے پر، اور وہ بھی ایک ایسے سیاسی نقشے پر جس کے سبھی نقش مغربی تہذیب، مادیت، سیکولرزم اور لبرلزم کے رنگوں سے آلودہ تھے، عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر ایک ریاست کا قیام ایک تاریخی کرشمے سے کم نہ تھا۔ تحریکِ پاکستان کی اصل بنیاد اور روح ہی یہ تھی کہ برعظیم ہند میں مسلمان محض دوسری اکثریت نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوم ہیں۔ ان کا مقصد صرف یورپی استعمار سے آزادی ہی نہیں، توحید اور رسالت ِ محمدیؐ کی بنیاد پر ایک نئے سیاسی اور اجتماعی نظام کا قیام ہے۔ جو بہرحال وقت کے غالب تصورات سے بغاوت اور ایک نئے نظریاتی مستقبل کی تعمیر کے عزم سے عبارت تھا۔ آزادی کا حصول اس اصل مقصد کے لیے تھا۔ ان دونوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ تھا، جسے علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے ۱۹۳۰ء کے خطبے اور پھر قائداعظم محمدعلی جناحؒ کے نام اپنے خطوط میں بہت صاف الفاظ میں بیان کردیا تھا:

  • سیاسی مطمح نظر کی حیثیت سے مسلمانانِ ہند، ملک میں جداگانہ سیاسی وجود رکھتے ہیں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اندرون اور بیرونِ ہند دنیا کو بتا دیا جائے کہ ملک میں صرف اقتصادی مسئلہ ہی تنہا ایک مسئلہ نہیں ہے، اسلامی نقطۂ نگاہ سے ثقافتی مسئلہ ہندستان کے مسلمانوں کے لیے اپنے اندر زیادہ اہم نتائج رکھتا ہے۔
  • اسلامی قانون کے طویل و عمیق مطالعے کے بعد مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس نظامِ قانون کو اچھی طرح سمجھ کر نافذ کیا جائے، تو ہرشخص کے لیے کم از کم حقِ معاش محفوظ ہوجاتا ہے، لیکن شریعت اسلام کا نفاذ اور ارتقا ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کے بغیر اس ملک میں ناممکن ہے۔ سالہا سال سے میرا یہی عقیدہ رہا ہے۔
  • مسلم ہندستان کے ان مسائل کا حل آسان طور پر کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کو ایک یا ایک سے زیادہ مسلم ریاستوں میں تقسیم کیا جائے، جہاں پر مسلمانوں کی واضح اکثریت ہو۔ کیا آپ کی رائے میں اس مطالبے کا وقت نہیں آپہنچا؟

انگریزوں سے آزادی اور حصولِ ملک برائے قیامِ نظامِ اسلامی‘ ہی تحریکِ پاکستان کی امتیازی خصوصیت ہے اور قائداعظم کی قیادت میں جو تاریخی کامیابی قیامِ پاکستان کی شکل میں حاصل ہوئی، اس کا سہرا اسی تصور اور اس تصور کی خاطر برعظیم کے مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے سر ہے۔ ۱۴؍اگست کی اصل اہمیت ہی یہ ہے کہ یہ تاریخ ہرسال پوری قوم کو تحریکِ پاکستان کے اصل مقصد اور ہدف و منزل کی یاددہانی کراتی ہے، اور ہمیں اس امر پر سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ  سات سال میں کیا کچھ اس قوم نے حاصل کرلیا تھا پھر آزادی کے چھے عشروں میں اس اصل مقصد سے غفلت اور بے وفائی کا راستہ اختیار کیا، تو اب ٹامک ٹوئیاں مارنے کے نتیجے میں موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا ہیں، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اللہ کی اس نشانی سے سبق سیکھتے ہوئے راہِ راست کی طرف آنے کی کوشش اور جدوجہد نہیں کررہے۔

آزادی کی ۷۵ویں سالگرہ کے موقعے پر ہم قوم کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس عظیم موقعے کو محض چند روایتی اور نمایشی کارروائیوں کی نذر کرنا ایک سنگین مذاق اور بڑا المیہ ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری دیانت داری کے ساتھ اس عظیم دن کی اصل نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ پھر اس سبق اور پیغام کو حرزِ جاں بنایا جائے، جس کی نشانی (آیت) ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء، ۲۷رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ ہے۔

 تحریکِ پاکستان کی اساس

پاکستان کا قیام ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ اس ملک کے قیام کی جدوجہد جہاں زوال پذیر برطانوی استعمار اور اُبھرتے ہوئے ہندو سامراج کی گرفت سے آزادی کی تحریک تھی، وہیں اس سے زیادہ یہ ایک نظریاتی اور تہذیبی احیا کی تحریک تھی۔ اس کا اصل مقصد برعظیم کے ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے، وہاں کے لوگوں کو اپنے دین، ایمان، تصورِ حیات، روایات اور ملّی عزائم کی روشنی میں آزاد فضا میں ایک روشن مستقبل کی تعمیر کا موقع فراہم کرنا تھا۔ سیاسی آزادی اور دینی و تہذیبی تشکیلِ نو کا مقصد اور عزمِ تحریکِ پاکستان کے دو اہداف تھے، جو ایک ہی تصویر کے دو رُخ کی حیثیت رکھتے ہیں___ ان دونوں کا ناقابلِ انقطاع تعلق اسلامیانِ پاکستان کی قوت کا راز ہے اور ان میں تفریق اور امتیاز بگاڑ اور خرابی کی اصل وجہ ہے۔

تحریکِ پاکستان کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے برعظیم کے مسلمانوں کو ان کی قومی شناخت دی اور اس شناخت کی بنیاد پر ایک آزاد مملکت کے قیام کے لیے ان کو سرگرم اور متحرک کردیا، جس کا نتیجہ تھا کہ سات سال کی مختصر مدت میں برعظیم کے دس کروڑ مسلمانوں نے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند اپنی آزادی اور دین کے تحفظ کی جنگ لڑی اور بلالحاظ اس کے کہ پاکستان کے قیام سے کس کو کیا فائدہ پہنچے گا اور کس کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی، ایک نظریاتی جنگ کے نتیجے میں ایک آزاد ملک قائم کیا۔

تحریکِ پاکستان کی بنیاد اسلام کا تصورِ قومیت ہے جس کی روشنی میں قوم کی آزادی اور آزادی کے سایے میں قوم کی اجتماعی زندگی کی تشکیل نو کے لیے مملکت کا حصول عمل میں آیا۔ لیکن پاکستان کے ساتھ یہ المیہ رُونما ہوا کہ وہ قوم جسے مختصر ترین وقت میں یہ مملکت ِ خداداد ملی تھی، اسی قوم کے اہلِ حل و عقد اسلامی قومیت کی بنیاد پر ملک کی تعمیر سے غافل ہوگئے۔ نظریاتی شناخت اور بنیاد سے ہٹ کر ملک کو ’ترقی یافتہ‘ بنانے کی سعی لاحاصل میں ملک کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔ جس کانتیجہ ہے کہ صرف ۲۴برس بعد ۱۹۷۱ء میں ملک عزیز دولخت بھی ہوگیا اور آج جو کچھ موجود ہے، اس کی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ آج جس حقیقت کے اِدراک اور اقرار کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام اور پاکستان کے وجود،بقا اور ترقی کا انحصار اس نظریے پر ہے، جو تحریک کی روح اور کارفرما قوت تھی۔ قائداعظم نے ایک جملے میں اس حقیقت کو بیان کردیا تھا:

اسلام ہمارا بنیادی اصول اور حقیقی سہارا ہے۔ ہم ایک ہیں اور ہمیں ایک قوم کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔ تب ہی ہم پاکستان کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔

لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ قائد کے اس انتباہ کو ہم نے بحیثیت قوم نظرانداز کیا۔

۱۴؍اگست ایک عظیم یاددہانی ہے، اور یہ ایک انتباہ بھی ہے کہ اگر ملک اور نظریے کے رشتے کو نظرانداز کیا گیا تو ملک کا وجود بھی معرضِ خطر میں ہوگا (یوں تو اس وقت بھی معرضِ خطر ہی میں ہے) ۔ ہم قیامِ پاکستان کی ۷۵ویں سالگرہ کے موقعے پر اسی بنیادی نکتے پر قوم کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں کہ ملک آج جن مشکلات میں پھنسا ہوا ہے، ان سے نکلنے کے لیے اس بنیاد کی طرف لوٹ کر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، جو تحریکِ پاکستان کی اساس ہے، جو ہماری قوت کا اصل منبع ہے، جس کے ذریعے ہم یہ ملک حاصل کرسکے اور جس کے بغیر ہم اس کو نہ قائم رکھ سکتے ہیں اور نہ ترقی دے سکتے ہیں۔

آج سب سے بڑی ضرورت قوم اور ملک کے اس تعلق کو سمجھنے اور اس پر سختی سے قائم رہنے میں ہے کہ اللہ کی سنت یہ بھی ہے کہ اگر ایک فرد یا قوم اس کی نعمتوں پر شکر کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس کے انعامات میں بیش بہا اضافہ ہوتا ہے اور اگر وہ کفرانِ نعمت کرتے ہیں تو پھر اس کی پکڑ بھی بہت ہی شدید ہے___ اور ناشکری کے نتیجے میں جو بگاڑ اور تباہی رُونما ہوتی ہے، اس کی ذمہ داری صرف اور صرف فرد اور قوم کے اپنے رویے اور کرتوتوں پر ہوتی ہے:

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ  لَشَدِیْدٌ o (ابراہیم ۱۴:۷) اور یاد رکھو، تمھارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر تم شکرگزار ہو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔

اور یاد رکھو:

وَ مَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرٰٓی  اِلَّا وَ اَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ o(القصص ۲۸:۵۹) اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجائیں۔

 قیامِ پاکستان کے اصل محرکات

جیساکہ ہم نے عرض کیا کہ پاکستان کا قیام ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ جس میں ہمیں آزادی کی نعمت حاصل ہونے کے ساتھ یہ موقع بھی ملا کہ آزاد فضا میں اپنے تصورات کے مطابق نئی زندگی تعمیر کریں۔ لیکن افسوس کہ ابتدائی چند برسوں کے بعد ہی جو عناصر قیادت پر قابض ہوگئے تھے، انھوں نے نہ صرف ان مقاصد کو فراموش کیا، بلکہ ملک کو انھی باطل نظریات اور مفادات کے حصول کی بھٹی میں جھونک دیا، جن سے نکلنے کے لیے تحریکِ پاکستان برپا کی گئی تھی۔ وہ یک سوئی جو تحریکِ پاکستان کا طرئہ امتیاز تھی، ختم ہوگئی اور ملک اندرونی کش مکش اور بیرونی سازشوں کی آماج گاہ بن گیا اور آج ہماری آزادی بھی معرضِ خطر میں ہے اور ملک بھی معاشی، سیاسی، ثقافتی، اخلاقی، غرض ہراعتبار سے تنزل کا شکار نظر آتا ہے۔

۱۴؍اگست ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ ان اصل مقاصد کی نشان دہی کریں جو قیامِ پاکستان کی جدوجہد کا محرک اور اس تحریک کی امتیازی خصوصیت تھے اور پھر اس بگاڑ کی نشان دہی کریں جس نے ہمیں تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے۔ اس تجزیے کی روشنی میں ایک بار پھر اس راستے اور منزل کی نشان دہی کریں جو اس تباہی سے بچنے اور اصل مقاصد کے حصول کی طرف پیش قدمی کا راستہ ہے۔

  •  تحریکِ پاکستان کا پہلا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے دورِحاضر میں برعظیم کے مسلمانوں نے اپنی خودی کو پہچانا اور اس طرح اپنے حقیقی وجود کو پایا۔ تحریکِ پاکستان نے پاکستانی قوم کو اس کا اصل تشخص دیا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس اور سامراجی قوتیں جو خطرناک کھیل کھیل رہی تھیں، وہ ناکام ہوئیں اور مسلمانوں نے اپنے اصل تشخص کی بقا اور استحکام کے لیے جان کی بازی لگادی۔ انھوں نے بھی جن کو اس جدوجہد کے نتیجے میں سیاسی آزادی ملی اور انھوں نے بھی جو جانتے تھے کہ سامراج کے رخصت ہونے کے بعد بھی وہ خود حقیقی آزادی کی روشن صبح سے محروم رہیں گے۔ انھیں یہ یقین تھا کہ مسلمانوں کی ایک ایسی آزاد مملکت قائم ہوگی، جو اسلام کا مظہر اور سارے مظلوم انسانوں کا سہارا ہوگی۔ نظریاتی وطن کے قیام کی اس کامیاب جدوجہد نے مغرب کی لادینی قومیت کے بت کو پاش پاش کردیا اور پاک و ہند کی ملتِ اسلامیہ نے اقبال کا ہم زباں ہوکر انسانیت کے لیے ایک نئے روح پرور تشخص کی یافت سے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

قیامِ پاکستان کا یہی وہ پہلو ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد پوری مسلم دنیا میں اسلامی ریاست اور اسلامی تہذیب کے احیا کی لہریں بار بار اُٹھ رہی ہیں اور سارے نشیب و فراز کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گا۔

  • قیامِ پاکستان کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایک طرف اہلِ پاکستان نے غلامی کی زنجیریں توڑیں، دوسری طرف برعظیم کے مسلمانوں کو امن کی جگہ میسر آئی۔ برعظیم کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ’’ہے ترکِ وطن سنت محبوب الٰہی‘‘ پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھربار چھوڑ کر اس نئے ملک کی تعمیر کے لیے سرگرمِ عمل ہوگئی۔ جس جذبے اور جن عزائم سے یہ ترک و اختیار،  واقع ہوئے، وہ ہماری تاریخ کا نہایت ایمان افروز اور روشن باب ہے۔ یہی وہ جذبہ تھا، جس نے پاکستان کو ان اولیں ایام میں ایسے تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے لائق بنایا، جو اس نوزائیدہ ملک کو درپیش تھے اور جن حوادث کا ہدف اس غنچے کو پھول بننے سے پہلے ہی مَسل دینا تھا۔ آزادی خود ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا پورا اِدراک انھی لوگوں کو ہوسکتا ہے، جنھوں نے غلامی کی تاریک رات کی صعوبتوں کو برداشت کیا ہو۔ آزادی کی شکل میں جو نعمت آج اہلِ پاکستان کو حاصل ہے،  وہ ہر دوسری نعمت سے زیادہ قیمتی اور حیات افروز ہے۔
  • اس تحریک کا تیسرا پہلو یہ تھا کہ یہ ایک عوامی اور جمہوری تحریک تھی۔ قائداعظمؒ نے مسلمان قوم کو بیداراور منظم کیا اور سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے عوامی قوت اور تائید کے ذریعے سات سال کی قلیل مدت میں وہ کام کردکھایا، جسے دوسرے، سالہا سال میں بھی انجام نہ دے سکے۔ تحریکِ پاکستان ایک عوامی تحریک تھی۔ جن کی نظر تحریکِ پاکستان کی تاریخ پر ہے، وہ جانتے ہیں کہ ہندومسلم سیاسی اشرافیہ (elites) نے کس کس طرح اس تحریک کاراستہ روکنے کے لیے سازشوں کے جال بُنے۔ لیکن اللہ کے فضل سے قائداعظمؒ کی قیادت اور عوام کی تائید و اعانت نے اس تحریک کو آزادی کی منزل سے ہم کنار کیا۔
  • اس تحریک کاچوتھا پہلو یہ تھا کہ قیامِ پاکستان ،اس تحریک کی آخری منزل نہیں تھا بلکہ پہلا سنگِ میل تھا۔ اصل ہدف ایک ایسے معاشرے اور ریاست کا قیام تھا، جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی سچی وفادار اور ان تعلیمات کی آئینہ دار ہو، جو انھوں نے انسانیت کو عطا کی ہیں۔ جس میں اخلاقی اقدار کو بالادستی حاصل ہو، جہاںفرد کے حقوق کی پوری حفاظت ہو، جہاں ہر مرد اور ہرعورت کی جان، مال اور آبرو محفوظ ہو۔ جہاں تعلیم کی روشنی سے بلاتخصیص مذہب و عقیدہ ہرفرد نورحاصل کرسکے۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ جہاں حلال رزق اور معاشی ترقی کے مواقع تمام انسانوں کو حاصل ہوں۔ جہاں عدلِ اجتماعی کا بول بالا ہو، اور جہاں ریاست اور اس کے کارپرداز عوام کے خادم ہوں۔ اسلام اور اس کے دیے ہوئے جمہوری اور عادلانہ نظام کا یہ تصور تھا، جس نے مسلمانوں کو اس تحریک میں پروانہ وار شریک کیا تھا اور وہ برملا کہتے تھے کہ ہمیں ایک بار پھر اس دور کا احیا کرنا ہے، جس کی مثال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفائے راشدینؓ نے قائم کی تھی۔

آیئے، قیامِ پاکستان کے ان مقاصد اور عزائم کے پس منظر میں اپنی قومی زندگی کے اس نئے سال کے آغاز پر اس امر کاجائزہ لیں کہ پاکستانی قوم اور اس کی قیادتوں نے کہاں تک ان اہداف کی طرف پیش قدمی کی اور ملک عزیز کو آج کون سے مسائل، خطرات اور چیلنج درپیش ہیں؟ نیز ان حالات میں اصل منزل کی طرف پیش رفت کے لیے صحیح حکمت عملی اور لائحہ عمل کیا ہے؟

ملک کا اصل المیہ

تحریکِ پاکستان اور تاریخ ِ پاکستان کے معروضی تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قیامِ پاکستان کا اصل سہرا اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص کے بعد اگر کسی کے سر جاتا ہے تو وہ قائداعظمؒ کی فراست و قیادت اور مسلمان عوام کا جذبہ اور قربانی ہے۔ آزادی کے فوراً بعد ان کی بیماری اور وفات نے ایک ایسی صورت حال پیدا کردی، جس میں وہ کھوٹے سکّے، جو ان کے گرد جمع ہوگئے تھے، اقتدار پر قبضہ جماکر ریاست کی مشینری کو بالکل دوسرے ہی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔

پہلے وزیراعظم کو گولی کا نشانہ بنا کر قومی منظر سے ہٹا دیا گیا، دوسرے وزیراعظم کو برطرفی کی تلوار کے بل پر نکال باہر کیا گیا اور ان کے مخلص ساتھیوں کو سازشوں کے ذریعے غیر مؤثر بنادیاگیا، اور چند ہی برسوں میں بساط سیاست ایسی اُلٹی کہ اصل نقشہ درہم برہم کرکے یہ مخصوص ٹولہ اقتدار کے ہرمیدان پر قابض ہوگیا۔قانون اور ضابطے کا احترام ختم ہوگیا۔ منتخب دستور ساز اسمبلی کو بار بار توڑ دیا گیا۔ انتظامیہ اور پولیس کو سیاسی قیادت نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، جو بالآخر انھی کے ہاتھوں اسیر ہوکر رہ گئی۔ فوج کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور پھر فوج نے اپنے لیے سیاسی کردار حاصل کرلیا۔ عدلیہ نے کچھ مزاحمت کی، لیکن اسے بھی زیردام لانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔

 نوسال بعد پہلا دستور بنا، جسے دوہی سال کے بعد توڑ دیا گیا، اور دستور شکنی کی ایک ایسی ریت چل پڑی، جس کے مذموم اثرات کی گرفت میں ملک و قوم زبوں حال ہیں۔ جس احساس تشخص نے قوم کو جوڑا تھا، اس پر ہر طرف سے تیشہ چلایا گیا، لادینی نظریات، علاقائیت، لسانیت، برادری کا تعصب، قبائلیت، غرض کون سا تیشہ ہے جو اس پر نہ چلایا گیا ہو۔

آزادی کے بعد۲۳سال تک بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخاب نہ کرائے گئے اور پھر دسمبر ۱۹۷۰ء میں انتخابات منعقد ہوئے تو وہ دھونس، دھاندلی اور بدعنوانی کا شاہ کار رہے کہ عوامی مینڈیٹ ایک مذاق بن گیا۔ سیاسی جماعتوں میں ذاتی بادشاہت، خاندانی قیادت اور علاقائی اور لسانی تعصبات کا غلبہ رہا اور حقیقی جمہوریت کے فروغ کا ہر راستہ بند کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں علاقائی تعصبات نے سیاست کو آلودہ کیا اور قومی سیاست کی گاڑی پٹڑی سے اُتر گئی۔ مغربی اور ہندو تہذیب کو رواج دینے کی دانستہ کوشش کی گئی۔

معاشی ترقی کا وہ راستہ اختیار کیا گیا جس نے ملک کو ایک طرف طبقاتی تصادم میں مبتلا کیا تو دوسری طرف مغرب کے سودی سامراج کے چنگل میں اس طرح گرفتار کردیا کہ آج ملک اندرونی اور بیرونی قرضوں کے پہاڑ جیسے بوجھ تلے سسک رہاہے۔

پاکستان کا اصل المیہ ہی یہ ہے کہ اصل اقتدار اور اختیار آج تک عوام کی طرف منتقل نہیں ہوا، اور سارے وسائل پر ایک طبقہ قابض ہے جس کا تعلق سیاسی، انتظامی اور عسکری اشرافیہ سے ہے اور جو باری باری اقتدار پر براجمان ہوکر ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے۔ قومی دولت کا ۸۰فی صد آبادی کے اُوپر کے ۱۰ فی صد کے پاس ہے۔ ۱۰/۱۲ہزار بڑے خاندان ہیں جو زراعت، صنعت اور تجارت پر مکمل تصرف رکھتے ہیں اور یہی خاندان سیاست پر بھی چھائے ہوئے ہیں، پارٹی خواہ کوئی بھی ہو۔ سول بیوروکریسی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ بھی اس گٹھ جوڑ کا اہم حصہ ہیں۔

دستور موجود ہے مگر کبھی فوج کے ہاتھوں او ر کبھی سول حکمرانوں کے ہاتھوں اس کا بڑا حصہ عملاً معطل رہا ہے۔ قانون صرف کتاب قانون کی ’زینت‘ ہے، اور عملاً قانون، ضابطے اور میرٹ کا کوئی احترام نہیں۔ پولیس سیاسی قیادت کی آلۂ کار بنی ہوئی ہے۔ ہرسمت کرپشن کا دور دورہ ہے ۔ عوام کے مسائل اور مشکلات کا کسی کو درد نہیں اور نہ کوئی ان کا پُرسانِ حال ہے۔ عدالت، خصوصیت سے اعلیٰ عدالت نے کچھ آزادی حاصل کی ہے مگر اس کے فیصلوں اور احکام کو بھی کھلے بندوں نظرانداز کیا جاتا ہے، یا عملاً انھیں غیرمؤثر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ بجلی،گیس اور پانی کے بحران نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور لاقانونیت اور دہشت گردی کے سبب عوام کی جان، مال اور عزت، سب معرضِ خطر میں ہیں۔

اندرونی انتشار اور بیرونی مداخلت

ان حالات کو اور بھی سنگین بنادینے والے چند پہلو اور بھی ہیں، جن کا اِدراک ضروری ہے۔

 ملک کے معاملات میں بیرونی قوتوں اور خصوصیت سے امریکا اور مغربی اقوام کی دراندازیاں سب سے اہم مسئلہ ہے۔ یہ سلسلہ توملک غلام محمد اور جنرل ایوب خان کے دور ہی سے شروع ہوگیا تھا، مگر جنرل پرویز مشرف کے اَدوار میں یہ اپنے عروج کو پہنچ گیا اور یہی اُلٹا سفر آج بھی جاری ہے۔

معاشی اعتبار سے بھی انھی قوتوں کی گرفت ہماری معیشت پر مضبوط تر ہورہی ہے اور سیاسی اعتبار سے بھی اندرونی معاملات کی باگ ڈور انھی کے ہاتھوں میں نظر آرہی ہے۔ سول اور فوجی تعلقات کے نشیب و فراز کے نتائج قوم بھگت رہی ہے۔ معاشی پالیسیوں کی صورت گری جس طرح عالمی بنک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے اشاروں پر کی جارہی ہے اور سیاسی اُفق پر تبدیلیوں کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس نے آزادی اور قومی خودمختاری کی حقیقت کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

اس پر مستزاد وہ نظریاتی انتشار ہے جو ملک و قوم اور خصوصیت سے نئی نسلوں پر مسلط کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ بھی آج متنازع موضوع بنایا جارہا ہے۔ قراردادِ مقاصد ہدف تنقید و ملامت ٹھیری ہے۔ تاریخ کے قتل کا ہوّا دکھا کر تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ ریاست اور مذہب کے تعلق تک کو زیربحث لایا جا رہا ہے۔

ایک فی صد سے بھی بہت کم تعداد رکھنے والا سیکولر اور لبرل طبقہ ہے جو میڈیا پر قابض ہے، اور آزادیِ فکر کے نام پر قومی زندگی کے مسلمات کو چیلنج کر رہا ہے اور ملک و قوم میں فکری انتشار اور خلفشار پیدا کرنے اور بھارت اور مغربی اقوام کے سامراجی ایجنڈے کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ان ۷۵برسوں میں جو طبقہ حکومت، معیشت اور سیکورٹی کے نظام پر قابض رہا ہے وہ یہی سیکولر گروہ ہے جو کبھی سوشلزم کے نام پر، کبھی سرمایہ داری کے نام پر، اور کبھی ’روشن خیال جدیدیت‘ کے نام پر حکمران رہا ہے اور سارے بگاڑ کا سبب رہا ہے۔ ملّا کو گالی دینا اور ہر خرابی کو جنرل ضیاء الحق کے سر تھوپنا تو اس کا وتیرا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ غلام محمد کے دور سے لے کر مشرف اور زرداری کے دور تک اقتدار اگر کسی طبقے کے ہاتھوں میں رہا ہے تو وہ یہی سیکولر مراعات یافتہ اشرافیہ ہے۔ سول دور ہو یا عسکری ، اس دوران میں یہی سیکولر طبقہ حکمران رہا ہے، اور ساری خرابیوں کی جڑ، اس کا ملک کے اجتماعی معاملات میں کردار ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں کچھ چیزیں اسلام کے احکام کے مطابق ضرور ہوئیں، لیکن بحیثیت مجموعی اس دور میں بھی اصل فکر اور اصل کارفرما ہاتھ بہت مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ آزادی کے سات عشروں میں اگر کوئی فکر اور کوئی طبقہ حکمران رہا ہے تو وہ یہی سیکولر فکر اور سیکولر طبقہ ہے۔ چند مغربی محققین نے بھی اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اور عرب ممالک میں خود مسلمانوں کی مغرب زدہ سیکولر قیادت ہے جو ناکام رہی ہے اور بگاڑ کی بھی  بڑی حد تک ذمہ دار یہی بدعنوان اور نااہل قیادت ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر ولفریڈ کینٹ ول اسمتھ اور پروفیسر کیتھ کیلارڈ نے بہت صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ ان ممالک میں آج جو بھی حالات ہیں وہ مذہبی قوتوں کے پیدا کردہ نہیں ہیں، بلکہ ان ممالک میں مغرب نواز سیکولر قیادتیں ان کی ذمہ دار ہیں۔

انھی حالات کا نتیجہ ہے کہ پاکستان آج صرف سیاسی اور معاشی بحران ہی کا شکار نہیں، نظریاتی، اخلاقی اور تہذیبی انتشارمیں بھی مبتلا ہے۔ حالات کی اصلاح کے لیے اس طرح کی ایک ہمہ جہتی نظریاتی تحریک اور جدوجہد کی ضرورت ہے، جیسی برعظیم کے مسلمانوں کو برطانوی اور برہمن سامراج سے نجات دلانے کے لیے اقبال کی فکری اور قائداعظم کی سیاسی رہنمائی میں برپا کی گئی تھی۔

اس ہمہ گیر بگاڑ کے تین بڑے تشویش ناک پہلو ہیں:

  • پہلا اخلاقی بگاڑ جو خود سرکاری سرپرستی میں منظم اور ہمہ گیر کوششوں کے نتیجے میں بد سے بدتر صورت اختیار کررہا ہے اور ظلم اور بداخلاقی اس نشان کو چھو رہی ہے جہاں کارواں کے دل سے احساسِ زیاں بھی رخصت ہوتا نظر آتا ہے۔ ہرسُو بدعنوانی کا دور دورہ ہے جو تقریباً ہرسطح پر طرزِحیات بنتی جارہی ہے، حتیٰ کہ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کو دنیا کے دو یا تین سب سے زیادہ بدعنوان ملکوں میں شامل کر رہے ہیں۔ ملکی اور عالمی ذرائع ابلاغ سبھی اسلامی شعائر اور معاشرے کی مسلّمہ اقدار و آداب کو پامال کرنے میں مصروف ہیں۔ تعلیم کے نظام نے صرف علم ہی کی رسوائی کا سامان نہیں کیا ہے، بلکہ اخلاق کا بھی جنازہ اُٹھا دیا ہے۔ روایات کے بندھن کھل رہے ہیں اور اباحیت پسندی اور آزاد روی کا سیلاب اُمڈ رہا ہے اور بچشم سر دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
  • دوسرا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ افراد کے اس اخلاقی بگاڑ کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کے ہر اس ادارے کو تباہ کیا جا رہا ہے، جو قوم کی کشتی کو لنگر کی طرح تھامتا ہے۔ دستور ہو یا قانون، پارلیمنٹ ہو یا انتظامیہ، عدلیہ ہو یا پولیس، سول سروس ہو یا بلدیاتی نظامِ حکومت، تعلیم ہو یا ذرائع ابلاغ، حتیٰ کہ قوم کا آخری سہارا، یعنی خاندان___ ہر ایک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ جن اداروں کو بڑی محنت اور قربانی سے استعمار کے اقتدار کے باوجود محفوظ رکھا گیا تھا، آج ان کی چولیں بھی ہل گئی ہیں اور دیواریں گر رہی ہیں۔
  • بگاڑ کا تیسرا پہلو پالیسی سازی کے سارے عمل اور فیصلہ کرنے والے اداروں اور افراد کا بیرونی اثرات کے تابع ہونا ہے، جس سے ملک کی سیاسی اور نظریاتی آزادی خطرے میں پڑگئی ہے۔ معاشی پالیسیاں بیرونی ساہوکاروں کے ہاتھوں گروی رکھ دی گئی ہیں اور اب عالمی بنک اور  عالمی مالیاتی فنڈ کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا ہے کہ ملک کا بجٹ ملک کی پارلیمنٹ نہیں، ان اداروں کے احکام کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود وزیراعظم کے معاشی مشیر تاجروں اور صنعت کاروں سے کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ کو اپنی سفارشات کو منظور کرانا ہے تو آئی ایم ایف کے کارپردازوں سے بات کریں۔

یہی حال قانون سازی کا ہے۔ قانون بناتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ ملک و ملّت کا مفاد کیا ہے یا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟ بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ امریکا اور مغرب کس بات پر خوش ہوں گے؟ اور کس پر نکتہ چیں؟ چونکہ مغرب نے آج کل فنڈامنٹلزم اور تشدد کا ہوّا کھڑا کر رکھا ہے، اس لیے ہماری قومی قیادت کی جانب سے نہ صرف قسمیں کھائی جارہی ہیں کہ ہم فنڈامنٹلسٹ نہیں ہیں بلکہ ہرقانون اور اخلاقی قدر کو پامال کر کے واشنگٹن اور اس کے گماشتوں کے آگے ناک رگڑی جارہی ہے اور انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ان بھیڑیوں اور درندوں کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ خود اقتدار میں آنے اور اقتدار میں رہنے کے لیے عوام اور پارلیمنٹ کے بجاے واشنگٹن کی خوش نودی حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

غرض سیاست، معیشت اور ثقافت و تمدن، ہر میدان میں ہم اپنی آزادی اور حاکمیت پر سمجھوتے کر رہے ہیں اور جو کچھ مسلمانانِ پاک و ہند نے اپنی جان، مال اور آبرو کی قربانی دے کر حاصل کیا تھا، اسے چند طالع آزما اپنے مفاد کی خاطر مسلسل دائو پر لگاتے چلے آرہے ہیں۔

یہ ہے وہ حالت ِزار جس میں، آزادی کے ۷۵سال کے بعد ماضی کے کچھ فوجی اورماضی اور حال کی کچھ نام نہاد جمہوری قوتوں کی حکمرانی کے طفیل پاکستان اور اہلِ پاکستان مبتلا ہیں۔ وہ ملک جو پوری ملت اسلامیہ کے لیے نئی اُمیدوں اور ایک روشن مستقبل کا پیغام لے کر سیاسی اُفق پر نمودار ہوا تھا، اسے ان اتھاہ تاریکیوں میں پہنچا دیا گیا ہے اور بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔

تبدیلی کا لائحہ عمل

صورتِ حال کا بگاڑ اور تاریکی کی شدت کا انکار ، دراصل حقیقت کے انکار اور عاقبت نااندیشی کے مترادف ہوگا۔ اس کے باوجود ہماری نگاہ میں مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لیے بھی کہ مایوسی کفر ہے، اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حالات کیسے ہی خراب کیوں نہ ہوں، مومن کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا (لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط)۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مخلص انسانوں کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گا، جن کے خون اور عصمتوں کی قربانی سے یہ ملکِ عزیز وجود میں آیا ہے۔ اس لیے بھی کہ تاریخ کا یہی فیصلہ ہے کہ بگاڑ کی قوتیں ایک خاص حد پر پہنچنے کے بعد شکست و ریخت کا نشانہ بنتی ہیں اور خیر اور صلاح کی قوتیں بالآخر غالب ہوتی ہیں۔ جس طرح زوال اور انتشار ہماری تاریخ کی ایک حقیقت ہے، اسی طرح تجدید اور احیا بھی ایک درخشاں حقیقت ہیں:   ؎

گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہرشب کے سحر ہوتی ہے

سوال یہ ہے کہ اصلاح کا راستہ کیا ہے؟ ہماری نگاہ میں نہ فوج کی مداخلت حالات کو درست کرسکتی ہے اور نہ تشدد کی سیاست۔ ملکی سیاست میں تصادم اور تلخی جس حد کو پہنچ گئی ہے،    اس سے صرف سیاست ہی نہیں ملک کا وجود بھی خطرے میں ہے، جس کی بڑی وجہ حکومتوں کی آمرانہ روش، تنگ دلی اور تنگ نظری ہے۔ اگر ایک طرف معاشی بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے اور وسائلِ حیات کی قلت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے تو دوسری طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ یہی وہ حالات ہیں جو تشدد کی سیاست کو جنم دیتے ہیں۔

اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ملک کے وہ تمام عناصر جو حالات سے غیرمطمئن ہیں، بگاڑ کے اسباب پر متفق ہیں اور جو اصلاح کے خواہاں ہیں، وہ مل جل کر مؤثر سیاسی جدوجہد کے ذریعے نظام کو بدلنے کی جدوجہد کریں۔ بگاڑ کے ایک ایک سبب کو دُور کرنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایک نئی قیادت اُبھرے جس کا دامن پاک ہو ، جو عوام میں سے ہو اور جو عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔

  • سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے اصل مقاصد، اس کی منزل اور ترجیحات کے بارے میں یکسوئی ہو۔ وہ تمام دینی اور سیاسی عناصر جو اسلام، جمہوریت، عدلِ اجتماعی اور خودانحصاری پر یقین رکھتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے قریب آئیں اور اصولوں پر پختہ ایمان رکھنے والی باکردار قیادت کو قوم کے سامنے لائیں۔

قائداعظمؒ نے اپنا مقدمہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور روایتی سیاست کاروں کے سامنے نہیں، برعظیم کے مسلم عوام کی عدالت میں پیش کیا تھا۔ ان کو بیدار اور متحد کرتے ہوئے ایک ایسی عوامی اور جمہوری لہر پیدا کی تھی کہ روایتی قیادتیں اس سیلاب کے آگے بہہ گئیں۔ آج پھر اس کی ضرورت ہے کہ جمہوری ذرائع سے جمہور کو بیدار اور منظم کیا جائے اور قیامِ پاکستان کے مقاصد کے لیے ان کو متحرک کیا جائے۔ ملکی اور غیرملکی سازشی عناصر کا اصل توڑ عوام کی بیداری اور ان کی منظم قوت ہے۔

  • دوسری بنیادی چیز قیادت کا صحیح معیار ہے۔ قوم نے بہت دھوکے کھائے ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ نئی قیادت عوام میں سے اُبھرے اور اپنے اخلاق اور کردار کے اعتبار سے دستورِپاکستان میں مرقوم معیار (دفعہ ۶۲، ۶۳) پر پوری اُترے۔ عوام اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار ملنا چاہیے جیساکہ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ وہ ان دفعات کو عملاً نافذ کرسکیں۔ یہ وہ چھلنی (filter) ہے، جس سے بہتر قیادت رُونما ہوسکتی ہے۔

خودقائداعظم نے اپنی ۱۹۳۶ء کی ایک تقریر میں قیادت کے لیے بڑے نپے تلے انداز میں مطلوبہ معیار کی نشان دہی کی تھی، جس پر آج ہمیشہ سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔ طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا: ’’ملکی حالات کا بغور مطالعہ کیجیے، تجزیہ کیجیے اور سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ اس بات کو یقینی بنایئے کہ مقننہ (Legislature) میں دیانت دار، حقیقی، مخلص اور محب ِ وطن نمایندے پہنچیں‘‘۔

  • تیسری ضرورت آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل اور اس کی مؤثر تنفیذ ہے ۔ امریکا اور مغربی اقوام سے محتاجی کا جو رشتہ قائم کیاگیا ہے، وہ اب صرف پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک طرح کا انتظامی تعلق (structural relationship) بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں سیاسی، عسکری، معاشی، تعلیمی، ابلاغی اور تہذیبی ہر میدان میں بیرونی ممالک اور قوتوں کااثرو نفوذ بڑھ کر اس مقام پر پہنچ چکا ہے، جہاں وہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور نظریاتی شناخت کو متاثر کررہا ہے۔ بڑے پیمانے (macro) کی سطح پر اثرات سے آگے بڑھ کر بات اب جزوی انتظام و انصرام (micro-management ) تک پہنچ چکی ہے۔ اس لیے نئی آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل اب ملک کی آزادی اور سلامتی کے لیے ازحد ضروری ہوگئی ہے۔

اس کے لیے ایک طرف امریکا کے اعلان کردہ دبائو سے ہمارانکلنا ضروری ہے، تو دوسری طرف ملکی وسائل کی بنیاد پر معاشی ترقی کا نقشۂ کار بنانا ضروری ہے۔ عسکری میدان میں بھی پہلے قدم کے طور پر اسلحے کے نظام اور خریداری میں مختلف ممالک سے رابطوں کی ضرورت ہے تو دوسری طرف جو حکمت عملی ۱۹۷۰ء میں بنیادی صنعتوں کے قیام اور فروغ کے سلسلے میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور اسٹیل ملز کے قیام کی صورت میں اختیار کی گئی تھی، اسے نئے حالات کی روشنی میں ایک نئے انداز میں فروغ دینا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں بھارت سے تعلقات کے باب پر بھی جامع نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ملکی مفاد کا تقاضا ہے کہ جزوی اُمور میں اُلجھنے کے بجاے اصل بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جائے اور اس کے لیے فوری اور دیرپا دونوں نوعیت کی پالیسیاں بنائی جائیں۔ کشمیر اور پانی کے مسئلے کے حل ہی پر بھارت سے سیاسی اور معاشی تعلقات کا دیرپا بنیادوں پر فروغ ممکن ہے۔   ان اساسی پہلوئوں کو نظرانداز کرکے محض ’اعتماد سازی‘ کے اقدامات اور تجارت کا راستہ اختیار کرنا سیاسی اور معاشی ہردوپہلو سے مہلک ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایک آزاد اور حقیقی معنی میں پاکستانی مفادات اور ترجیحات پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کی جائے اور اس کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاکستانی عوام کے حقیقی جذبات اور خطوطِ کار میں بُعدالمشرقین ہے۔ تمام عوامی سروے اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم امریکا اور بھارت کو اپنا دوست نہیں سمجھتی اور ان کی پالیسیوں کو ملک کے لیے سب سے اہم خطرہ شمار کرتی ہے، جب کہ جنرل مشرف دور سے اب تک حکومت کی پالیسی اور ترجیحات عوام کے جذبات اور خواہشات کی ضد ہیں۔

  • چوتھی چیز ایک ملّی ضابطۂ اخلاق کی تشکیل ہے جس کی پابندی تمام سیاسی جماعتوں، پریس اور میڈیا پر لازم ہو۔ اسے افہام و تفہیم سے مرتب کیا جانا چاہیے۔ اس ذیل میں بہت کام ماضی میں ہوا ہے۔ خود دستورِ پاکستان میں بھی اس سلسلے میں بڑی رہنمائی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر نیا اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور اس کے نفاذ کے لیے کوئی مؤثر نظام بنایا جائے، خواہ عدلیہ اس کام کو انجام دے یا کوئی اور نیا قومی ادارہ۔
  • پانچویں چیز نظامِ انتخاب کی اصلاح ہے۔ انتخابی کمیشن حکومت اور حزبِ اختلاف کے باہم مشورے اور اتفاق رائے سے مقرر ہونا چاہیے۔ پاکستان کے حالات میں انتخابات نگران حکومت کے تحت ہونے چاہییں، جس کے بغیر منصفانہ انتخابات کی توقع عبث ہے۔ اس امر پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ اسمبلی کی مدت پانچ سال سے کم کر کے ۴سال کردی جائے تاکہ احتساب کم وقفے میں ہوسکے۔
  • چھٹی چیز ایک اعلیٰ اور خودمختار احتسابی کمیشن کا قیام ہے، جس کا مطالبہ جماعت اسلامی پاکستان اوّل روز سے کر رہی ہے، اور جس کا وعدہ خود پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کرچکے ہیں۔ گویا کہ یہ ایک متفقہ قومی مطالبہ ہے۔ پھر اس سے فرار کیوں؟ یہ مستقل کمیشن ایسا ہوناچاہیے جو حکومت، حزبِ اختلاف یا کسی بھی شہر ی یا متاثر ہونے والے فرد کی طرف سے تمام منتخب اور دوسرے ذمہ دار افراد کا احتساب کرسکے۔ اس ادارے کو یہ اختیار حاصل ہو کہ جس نے بھی اپنی سرکاری حیثیت کو ذاتی نفع کے لیے استعمال کیا ہو، اسے قرارواقعی سزا دے سکے اور عوامی وسائل ان سے واپس لے کر سرکاری خزانے میں لائے۔
  •  ساتویں چیز دستور کے مطابق صوبائی اور لوکل باڈی کی سطح پر اختیارات کی منتقلی ہے اور ان میں ضروری صلاحیت کار پیدا کرنا ہے۔ سینیٹ کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بنانا بھی اس سلسلے میں بڑا مفید ہوسکتا ہے۔
  • آٹھویں چیز عدلیہ کی آزادی، اس کی انتظامیہ سے علیحدگی اور عدلیہ کے فیصلوں کی بلاامتیاز تنفیذ ہے۔
  • نویں چیز سول انتظامیہ اور پولیس کا ایسا انتظام ہے، جو ان کی آزاد اور غیر سیاسی حیثیت کو مستحکم کرسکے۔ ملکی، سول انتظامیہ اور پولیس، ریاست کے ادارے تو ہوں، مگر حکمران پارٹی کے سیاسی آلۂ کار نہ ہوں۔ اس کے لیے ان کو دستوری تحفظ دیا جائے، نیز ان کی تربیت اور وسائل دونوں کا اہتمام کیا جائے۔
  • دسویں چیز قومی زندگی سے کرپشن کا خاتمہ اور اس کے لیے ہرسطح پر مؤثر مہم ہے۔
  • آخری اور بہت ہی ضروری چیز ایک نئی سماجی اور معاشی پالیسی ہے، جس کا ہدف صحیح تعلیم کا فروغ، علاج کی سہولتوں کی فراہمی ، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ اور روزگار کے مواقع کی فراہمی اور ایسی معاشی اصلاحات ہیں، جن سے سود، قمار اور ہر طرح کے استحصال کا خاتمہ ہو، دولت کی تقسیم منصفانہ ہوسکے اور تمام انسانوں کو زندگی کی جائز ضروریات مل سکیں۔

یہ وہ بنیادی نکات ہیں، جن پر عمل کر کے قوم ایک بار پھر اسلام کے حیات بخش نظام کے قیام کے لیے متحد اور سرگرمِ عمل ہوسکتی ہے اور چمن میں اس کی روٹھی ہوئی بہار واپس آسکتی ہے۔

دنیا بھر کے مسلم اہلِ علم و فضل نے یہ اہم سوال اُٹھایا ہے کہ مسلم اُمہ کے ساتھ اصل مسئلہ کیا ہوا ہے؟ کیا معاذاللہ، اسلام ہی غیر متعلق ہوگیا ہے یا کیا اسلام کو اور تاریخ میں اس کے کردار کو سمجھنے کے لیے مسلم طرزِ فکر میں کوئی خامی ہے؟ مغربی استعمار کے شکنجے سے آزادی کی جدوجہد میں اسلام کو مؤثر ترین شکل دینے کی ترکیب کیا ہو، تاکہ مسلم معاشرت کو خود اسی کی بنیادوں پر استوار کیا جاسکے ؟

غوروفکر اور بحث و مباحثے کی ان ساری کوششوں کا مقصد امت کو تجدید اور تشکیل نو کے راستے پر ڈالنا تھا۔ جمال الدین افغانی، امیر شکیب ا رسلان، حلیم پاشا، بدیع الزماں سعید نورسی، مفتی محمد عبدہٗ، ڈاکٹر محمد اقبال، رشید رضا ،حسن البنا، ابوالکلام آزاد، سیّد قطب شہید،سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مالک بن نبی اور متعدد دیگر مفکرین ومصلحین نے انھی سوالات پر غور کیا، اور اُمہ جس دلدل میں دھنس چکی تھی، اس سے اُمت کو نکالنے کے لیے اپنے اپنے فہم کے مطابق مثبت راہیں متعین کیں۔بلاشبہہ مختلف حالات اور الگ الگ پس منظر میں، ان رجالِ کار کی بعض آرا سے اختلاف کی گنجایش موجود ہے، مگر مجموعی طور پر درست سمت کے تعین کے لیے، ان سبھی نے دردِ دل سے کاوشیں کی ہیں، جن کی قدر کی جانی چاہیے، اور منزل تک پہنچنے کے لیے دینی، فکری، تحقیقی، علمی،سیاسی اور اجتماعی جدوجہد کرنی چاہیے۔

مفکرین اور مصلحین کی اس کہکشاں میں سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء- ۱۹۷۹ء) کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ اس گھٹاٹوپ فضا میں ۱۹۲۰ء کے زمانے میں صرف ۱۷ سال کی عمر میں انھوں نے مسلم امہ کی تعمیرِنو کا بیڑا اٹھایا ۔دس سال کی صحافتی زندگی کے بعد انھوں نے خود کو مسلم فکر کی تشکیل نو کے جاں گسل کام کے لیے وقف کر دیا اور مسلم دُنیا میں سیاسی و سماجی تبدیلی کے لیے اور اُمت مسلمہ کی رہنمائی کی خاطر ایک تحریک بپا کی۔ جس کا مقصد امت کے احیا کے لیے راہیں متعین کرنا تھا، ایک ایسا راستہ جو پوری امت کے لیے ایک نعمت ثابت ہو۔

اخبار الجمعیۃ میں اسلام کا سرچشمۂ قوت کے حوالے سے سلسلۂ مضامین لکھنے کے بعد، ۱۹۲۷ء میں سیّدمودودی نے اسلام پر اعتراضات کی بوچھاڑ کا جواب دینے کے لیے ایک طویل تحقیقی سلسلۂ مضامین شروع کیا، جو کتابی شکل میں ڈھل گیا۔ ۱۹۳۰ء میں الجہاد فی الاسلام کی صورت میں ان کی یہ پہلی باقاعدہ کتاب دارالمصنّفین، اعظم گڑھ سے شائع ہوئی۔اس کے بعد ۲۲ستمبر۱۹۷۹ء کو اپنی وفات تک انھوں نے اسلام پر ۱۴۰کتب اور متعدد علمی مقالے لکھے، جن میں مذکورہ فکرمندی اور تاریخی تجربے کے تقریباً ہر پہلو کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان کی نمایاں ترین علمی خدمت چھ جلدوں پر مشتمل قرآن کی تفسیر تفہیم القرآن 'ہے جو ساڑھے چار ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔

اسلامی فکر کی وضاحت اور تشکیل جدید کے ساتھ ساتھ سید مودودی نے مسلم معاشرے کا تنقیدی جائزہ لیا، اور ان اسباب و عوامل کی نشاندہی کی، جو اس کے تنزل اور انتشار و زوال کا باعث بنے۔ انھوں نے مغربی تہذیب پر اور دنیا، انسان، معاشرت و معیشت سے متعلق اس کے تصورات اور اس کی خوبیوں اور خامیوں پر بھی جامع،علمی، منصفانہ اور مبنی برحقائق تنقید کی۔ وہ نہ تو مغربی تہذیب کے روشن پہلوؤں سے بے خبر تھے اور نہ اس کی کوکھ سے جنم لینے والے کج رو نظریات اور تحریکوں سے ناواقف تھے۔ وہ اس کے فکری مغالطوں، انسان، مذہب اور معاشرے کے بارے میں اس کے ناقص تصور ،اس کے اخلاقی الجھاؤ، سیاسی و سماجی کجی اور معاشی ناانصافیوں اور استحصال کے شاکی بھی تھے۔ سیّد مودودی کے افکار نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی بلامبالغہ تین نسلوں کو متاثر کیا۔ ان کی تصانیف پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں ۔ بجا طور پرانھیں جدید اسلامی احیا کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔

سیّد مودودی بیک وقت ایک عالم دین، ایک سماجی مفکر اور سیاسی رہنما تھے۔ ان کا اوّلین اور نمایاں ترین کارنامہ اسلامی فکر کی تشکیل نو ہے، جس کا ماخذ تو دین کی اصل نصوص ہیں، تاہم ان کا انداز ہمارے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ انھوں نے اسلام کو ایک مکمل ضابطہٴ حیات کے طور پر پیش کیا۔ جس کا پیغام انسان میں باطنی تبدیلی پیدا کر کے اس کی روحانی اور اخلاقی تطہیر ہے۔ ان کے پیش نظر یہ ہے کہ ان تبدیل شدہ حضرات و خواتین کو متحرک کرکے نہ صرف ان کی زندگیوں کی تعمیر کی جائے بلکہ الہامی رہنمائی اور اللہ کے رسولوں بالخصوص خاتم الانبیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ میں فراہم کردہ نظریۂ حیات، اقدار ، اصولوں اور خیالات کے مطابق انسانی معاشرے اور تہذیب کی بھی تشکیل نو کی جائے۔

 سید مودودی نے اسلامی فکر کے تقریباً تمام ہی پہلوؤں پر قلم اٹھایا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات کے طور پر انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ اسلام ایک آفاقی دین ہے اور مسلم اُمہ ایک عالمی برادری ہے۔ ایمان اس کی بنیاد ہے اور اسی پر اسلام کی اصل فطرت، ثقافت اور تہذیب استوار ہے ۔ بالفاظِ دیگر مسلم اُمہ ایمان کی بنیاد پر قائم ایک عالم گیر برادری ہے۔ توحید کے تصور نے انسان کو اس کائنات کی یک رنگی اور انسانیت کی یگانگت کی بنیاد پر یہ سبق دیا ہے کہ زندگی کو خانوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی توحیدکے دیے ہوئے قوانین اور اقدار اپنی آفاقیت کے ساتھ ان اُمور کا احاطہ کرتے ہیں۔

پھر یہ کہ اسلام کسی خاص قوم، برادری، نسل، علاقے یا زبان تک محدود نہیں ہے۔ یہ تو انسانوں کے خالق کی طرف سے اس کے رسولوںؑ کے ذریعے بھیجی گئی رہنمائی ہے،جس کا آغاز زمین پر زندگی کی ابتدا سے ہی ہو گیا تھا،یعنی اسلام تمام انبیا علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کا دین ہے۔ اس لیے مسلمان، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیا ـؑپر ایمان رکھتے ہیں۔

’ اسلام‘ کا لغوی مفہوم ’سلامتی اور تسلیم‘ کا ہے۔اسلام یہ بتاتا ہے کہ صرف اللہ ہی لائق عبادت و اطاعت ہے۔ اور یہ کہ اس کے نبی کو فکر و عمل کے لیے نمونہ اور ہدایت کا سرچشمہ تسلیم کیا جائے۔ یہ اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خدا کی مرضی اور رہنمائی کو مان کر زندگی گزاریں۔ ’شریعت‘ (لغوی معنی: راستہ) ایسے معیارات، اقدار اور قوانین کا مجموعہ ہے، جو مل کر اسلامی طرزِ زندگی تشکیل دیتے ہیں۔

اسلام انسان کے اختیار و انتخاب کی آزادی پر یقین رکھتا ہے اور ایمان و عقیدے کے حوالے سے کسی جبر کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ انسانوں کے لیے ایسی مذہبی اور ثقافتی ترتیب فراہم کرتا ہے، جو فی الحقیقت تکثیریت پر مبنی ہے۔ نظریاتی سرحدوں کو عبور کرنے کے لیے آزادانہ مرضی اور دلیل ہی واحد راستہ ہے۔ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ اسلام کا تعلق زندگی کے ہر پہلو سے ہے: ایمان اور عبادت، روح اور مادیت، شخصیت و کردار، فرد اور معاشرہ، معیشت اور معاشرت، قومی و بین الاقوامی اُمور۔

 تاہم، زندگی اور کائنات سے متعلق اسلام کا اخلاقی طرز فکر سب پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہر مادی شے کو بھی روحانیت اور تقدیس کی چھتری تلے جمع کردیا گیا ہے۔ اس سے نہ تو دنیاوی پہلو خارج ہیں اور نہ اسلام زندگی کے غیرمذہبی پہلووٴں کو مذہبی مراسم سے متصادم سمجھتا ہے، بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں کو ایک اخلاقی و روحانی نظام کے تابع کرتا ہے ۔

اس لیے اسلام بنیادی طور پر ایمان، رنگ، عقیدے، زبان اور علاقے سے قطع نظر تمام انسانوں کے لیے ایک اخلاقی اور نظریاتی طرزِ فکر ہے۔ یہ ثقافتوں اور مذاہب کے تنوع کی حقیقت تسلیم بھی کرتا ہے اور ان کا احترام بھی کرتا ہے۔ مسلم اُمہ میں بھی تنوع موجود ہے ۔اسلام مصنوعی اتحاد، جبری اطاعت یا تضادات کے اجتماع کا حامی نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ بقائے باہمی اور باہمی تعاون کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔

اسلام میں ایمان و تہذیب کا ایک اہم پہلو ان اقدار کا فروغ ہے، جو قطعی اور عالم گیر ہیں۔  ان کے ساتھ وہ اس پر زور دیتا ہے کہ ایسے بنیادی اداروں کی تشکیل کی جائے، جو اس نظام کو مضبوطی اور پاے داری دیتے ہیں۔ پھر اس احساس کو بھی زندہ و توانارکھتاہے کہ زندگی کا ایک بڑا میدان ایسا ہے، جس میں موجود لچک، وقت کے بدلتے تقاضوں سے نباہ کر سکتی ہے۔ اسلامی اقدار کا ڈھانچا (Islamic System of Values) انسانی فطرت اور عالم گیر حقائق، پر استوار ہے، جس میں یہ شعور بھی موجود ہے کہ ان اقدار کے اطلاق کے لیے باریکیاں اور طریق کار بدلتے ہوئے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حالات کے مطابق اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

اسلام ایک عمومی ضابطہ بندی ضرور کرتا ہے، لیکن یہ انسانی افعال و کردار کے لیے سخت گیر ہدایات سے احتراز برتتا ہے ۔یہ ایک فرد کو معاشرے، بلکہ تمام مخلوقات میں بنیادی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔ ہر فرد انفرادی طور پر خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس طرح انسان کی حیثیت سماجی مشینری میں محض ایک پرزے کی نہیں ہے۔ معاشرہ، ریاست، قوم اور انسانیت سب ہی اہم ہیں اور ہر ایک کا ایک خاص کردار ہے۔ تاہم، زندگی کے اختتام پر حتمی جواب دہی فرد ہی کی ہوگی ۔اس طرح اسلامی نظام میں فرد کی مرکزیت لازم ٹھیرتی ہے۔ یوں فرد کا ربط معاشرے اور اس کے اداروں سے بھی جوڑا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک متوازن تعلق بھی قائم کیا گیا ہے۔

اسلامی اخلاقیات، زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنے کے تصور پر مبنی ہیں، نہ کہ زندگی کے انکار پر۔ اخلاقی ضابطے کی پاسداری کرکے انسانی افعال کے تمام پہلوؤں کو نیکی کا درجہ مل جاتا ہے۔ فرد کی سطح پر تقویٰ اور معاشرے میں اخلاقیات ایسی مطمئن زندگی تشکیل دیتے ہیں، جس میں ذاتی اوراجتماعی فلاح اور ہر ایک کی بہبود و ترقی محفوظ ہے۔ دولت کوئی مذموم شے نہیں بلکہ مال کمانے کی ترغیب دی گئی ہے بشرطیکہ اخلاقی اقدار اور معاشرتی حقائق کی پاس داری کی جائے۔ ایک اچھی زندگی انسانی کوشش کا ایک بڑا ہدف ہے ۔

اس دنیا کی بھلائی اور آخرت کی بھلائی کا باہم براہ راست تعلق ہے کیونکہ یہ دونوں زندگی ہی کے دو رخ ہیں۔ زندگی کے غیر مذہبی امور کو بھی روحانیت سے استوار کرکے اور دنیاوی زندگی کی ہرشکل اور فعل کو اخلاقی نظام کا حصہ بنا کر، انسان کو یہ صلاحیت بخش دی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ضروریات کو پورا کرنے کا سامان کرے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایسا معاشرہ بھی تشکیل دے، جس میں  سب کی ضروریات پوری کرنے کا سامان ہو۔

انفرادی آزادی، ملکیت کا حق اور مالی سرگرمی کا حق، کاروبار کے ضوابط اور وسائل و مواقع کی عادلانہ تقسیم، اسلام کے معاشی نظام کے لازمی عناصر ہیں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ، ہرسطح پر اخلاقی چھلنیاں موجود ہیں۔ فرد کی نیت، ذاتی طرزِ عمل، معاشرتی رواج اور چلن، آجر اور اجیر کا رویہ اور فرد وریاست کا تعلق، ان سب کی تہذیب معاشی ضابطوں کو ایک ایسے مجموعی نظام کا حصہ بناتی ہے، جس سے انصاف اور سماجی فلاح یقینی ہو جائے۔ اس میں ریاست کا بھی ایک مثبت کردار ہے بالخصوص نگرانی، رہنمائی اور ضروری قواعد کی تشکیل کے ذریعے۔ تاہم، اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ آزادی، معاشی مواقع کے حصول اور حق ملکیت کا تحفظ کرے۔

  اسلام کے طرزِ فکر میں ضروریات کے حصول کو اہمیت حاصل ہے اور یہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے، جس میں تمام انسانوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہو، اور جس کا بنیادی ذریعہ فرد کی محنت اور کمائی کے لیے عمل اور جدوجہد ہے۔ اس نظام میں ایسا ماحول تشکیل دیا جاتا ہے جس میں نادار افراد کو بھی باعزّت زندگی گزارنے اور معاشرے کا مؤثر کردار بننے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ جیساکہ ہم نے پہلے یہ کہا ہے کہ اسلام دولت کمانے کی ہرگز نفی نہیں کرتا بلکہ اسے اللہ کا فضل قرار دے کر تلاش کرنے پر اُبھارتا ہے لیکن اس کا اصل ہدف اخلاقی بہتری اور روحانی مسرت کا حصول اور عدل و مساوات پر مبنی معاشرے کا قیام ہے، جس میں تمام افراد کے لیے مواقع یکساں دستیاب ہوں۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ معاشی اور سماجی اعتبار سے اپنے کمزور افراد کے لیے مؤثر مدد فراہم کرے۔

اس مقصد کے لیے خاندان کے ادارے، معاشرے اور ریاست کے دیگر ستونوں کا کردار تشکیل دیا گیا ہے۔ ’علم معاشیات‘ میں اسلام کا امتیاز آزادی و فرائض میں اور استعداد و انصاف میں متوازن تعلق قائم کرنا ہے۔ انصاف، اسلام کی اقدار میں سے ایک کلیدی تصور ہے اور عدل کا قیام اللہ کی طرف سے انبیا علیہم السلام کی بعثت کا ایک مقصد بتایا گیا ہے ۔ ہدایت کا تعلق صرف انسان کے اپنے معبود سے روحانی تعلق تک محدود نہیں ہے، بلکہ انسان کا دوسرے انسانوں اور دیگر مخلوقات سے تعلق بھی اسی طرح سنجیدگی سے لازم ہے۔

یہ اس طرزِ فکر اور انسان و معاشرت سے متعلق تصور کا مختصر بیان ہے، جس میں معیشت اور معاشیات سے متعلق سیّد مودودی کے طرزِ فکر کو سمجھا جاسکتا ہے۔ سیّد مودودی معروف معنوں میں معیشت کے میدان کے ماہر تو نہ تھے، تاہم معاشی موضوعات پر ان کی تحریروں نے معیشت کے بارے میں ایک منفرد طرزِ فکر کی بنیاد ضرور ڈالی ہے، جسے اب ’اسلامی معاشیات‘ کہا جاتا ہے۔

سیّد مودودی نے نہ صرف قرآن اور سنت میں موجود معاشی تعلیمات کو خوب تفصیل سے بیان کیا ہے بلکہ انھوں نے مجموعی تہذیبی پس منظر میں ایک فرد کی معاشی مشکلات کا حل بھی تجویز کیا ہے۔ انھوں نے خاصی وضاحت سے بتایا ہے کہ ایک جامع انداز میں ان مشکلات کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے کہ معاشی زندگی کے اخلاقی تقاضوں کی پاسداری بھی ہو اور مادی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکے۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ ’اسلامی معاشیات‘ کے فلسفے کو دو ٹوک انداز میں اور پوری وضاحت سے بیان کرنا ہے۔

 ممتاز برطانوی ماہر معیشت اور ڈرہم یونی ورسٹی میں مرکز برائے مشرق وسطیٰ اور اسلامی علوم کے ڈائرکٹر پروفیسر روڈنی ولسن(Rodney Wilson) کا کہنا ہے :

[سیّد مودودی کی] تحریروں اور تقریروں نے برصغیر میں ماہرین معیشت کی جدید نسل پر گہرے اثرات مرتب کیے،جنھوں نے اسلامی تعلیمات کو ان خیالات و تصورات کے ساتھ ملا کر دیکھنے کی کوشش کی، جو انھوں نے اپنی تربیت کے دوران سیکھے تھے۔ اگرچہ ’اسلامی معاشیات‘ کی اصطلاح سیّدمودودی نے ایجاد کی تھی، لیکن اس شعبۂ علم نے ایک درسی مضمون کی شکل ۱۹۷۰ء میں اختیار کرنا شروع کی ۔ (مقالہ: The Development of Islamic Economics، مشمولہ: Islamic Thought in the Twentieth Century، (لندن:۲۰۰۴ء) ، ص ۱۹۶-۱۹۷)

 جدہ، سعودی عرب میں اسلامی ترقیاتی بنک کے اسلامی تحقیق و تربیت کے ادارے (IRTI) کے ریسرچ ایڈوائزر ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا نے لکھا ہے:

پیشہ ور ماہر معیشت نہ ہونے کے باوجود اسلامی معاشیات کے میدان میں سیّدمودودی کی خدمات بہت نمایاں ہیں۔ انھیں تاریخ میں ایسے عظیم مفکرین میں شمار کیا جائے گا، جنھوں نے جدید دور میں اس شعبے کی تشکیل کے لیے بنیاد رکھی تھی۔ ہندوپاک میں اور دیگر مسلم ممالک میں اس میدان میں لکھی گئی تقریبا ًتمام تحریروں پر ان کی چھاپ ہے اور وہ انھی کی مرہون منت ہیں ۔(The Muslim World، (اپریل ۲۰۰۰ء) میں مقالہ Mawdudi's Contribution to Islamic Economics، ص ۱۶۳-۱۸۰)

سیّدمودودی نے ’اسلامی معاشیات‘ کے فلسفے، اس کی بنیادوں، اس کے منہج اور ایک اسلامی معاشی نظام کے اداروں کے خدوخال بیان کرکے بڑی بنیادی خدمت سرانجام دی ہے۔ انھوں نے روایتی معاشیات میں اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنے والے فرد(Homo economicus) کے مقابلے میں ایک ایسے انسان کا تصور دیا ہے، جو اسلام کی بنیاد پر غوروفکر کرنے والا ایک ایسا  ذمہ دار فرد ہے جسے اپنے افکار و خیالات اور فیصلوں کا آخرت میں جواب بھی دینا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بیان کرنا بھی دلچسپ ہے کہ جدید معاشیات کے دو بڑے مکاتب فکر کے بانی ایڈم سمتھ [م:۱۷۹۰ء] اور کارل مارکس [م: ۱۸۸۳ء] بھی بنیادی طور پر کوئی ماہرین معاشیات نہ تھے، لیکن کلاسیکی اور اشتراکی مکاتبِ فکر کی بنیاد ان دونوں مفکرین کے تصورات اور تصانیف پر کھڑی ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ۲۰۰۹ء میں پروفیسر الینور اوسٹروم (Elinor Ostrom -انڈیانا یونی ورسٹی) نے معاشیات کا ’نوبیل پرائز‘ حاصل کیا، حالانکہ یہ خاتون، معروف پیشہ ورانہ بنیادوں پر ماہر معاشیات نہیں ہیں۔

ہم متوجہ کرتے ہیں کہ ماہرین سماجیات و سیاسیات اور سماجی و سیاسی جدوجہد سے وابستہ کارکنان، مولانا مودودیؒ کی تصانیف کو غور سے پڑھیں۔ اس سے اُنھیں ایسا وژن اور بصیرت حاصل ہوگی، جس کی روشنی میں موجودہ سماجی ومعاشی فساد سے معاشرے کو پاک کرنے اور معاشی عدل کی تعمیر کے مؤثر طریقے اپنا سکیں گے۔(جاری)

کیا مسئلہ کشمیر ، یوں ہی سلگ سلگ کر، سامراجیت کی نذر ہوجائے گا؟

یہ اذیت ناک سوال جموں و کشمیر اور پاکستانی عوام کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست ہے، اور ہرآنے والا دن اس کرب میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایک طرف بھارت میں حکومت، فوج، حزبِ اختلاف تینوں ہی یکسوئی کے ساتھ، کشمیر میں انسانیت کے قتل پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں، اور دوسری جانب پاکستان میں حکومت، حزبِ اختلاف اور فوج مسئلہ کشمیر کے حل کی جدوجہد کے لیے یکسو اور متحد دکھائی نہیں دیتے۔

اگر حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ برس فروری میں اچانک کمانڈروں کی سطح پر فائربندی کی یادداشت پر دستخطوں نے تو ہر کسی کو حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا تھا۔ جنگی صورتِ حال سے دوچار ملکوں کے درمیان ایسے سنگین معاملات حکومتی سطح پر طے کیے جاتے ہیں، لیکن یہاں پر عسکری سطح پہ مذاکرات اور معاملہ فہمی کی گئی۔

ہم نے اسی وقت خبردار کیا تھا کہ یہ محض بھارتی چال ہے، جس سے وہ پاکستان کے اندر غلط فہمی کو ہوا دے گا اور وقت گزاری کے بعد، برابر اپنے ایجنڈے پر نہ صرف قدم آگے بڑھائے گا بلکہ جب چاہے گا کشمیر میں قتل و غارت سے دریغ نہیں کرے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ،اپریل ۲۰۲۱ء کے بعد خاص منصوبے کے تحت انسانیت کی تذلیل پر مبنی نام نہاد سول اقدامات پر عمل جاری رہا۔ حتیٰ کہ اسی سال یکم ستمبر ۲۰۲۱ء کو جموں و کشمیر کے عظیم رہنما سیّد علی گیلانی صاحب کے انتقال کے موقعے پر بھارتی حکومت کی جانب سے بدترین ظلم و زیادتی کا ارتکاب کیا گیا ۔ گیلانی صاحب کی تجہیزو تدفین توپ و تفنگ کے زیرسایہ جبری طور پر من مانے طریقے سےکی گئی، اوراہلِ خانہ تک کو شرکت سے محروم رکھا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان فروری ۲۰۲۱ء کی نام نہاد ’فوجی معاملہ فہمی‘ کے صرف تین ماہ بعد پاکستان کے سپہ سالار صاحب نے بھارت کے ساتھ ’ماضی کو بھلا کر‘ معاملات میں آگے بڑھنے کا نظریہ (doctrine) پیش کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سے ’ماضی کو بھلا کر؟‘ یعنی یہ ماضی کہ: بھارت نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد اسے ناکام بنانے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کیا، اور بڑے پیمانے پر مسلسل پاکستان کی تخریب کا سامان کر رہا ہے، ۱۹۷۱ء میں پاکستان توڑا، پاکستان میں بار بار مداخلت اور تنگ نظر قوم پرستوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں دہشت گردی کرائی، افغانستان سے پاکستان کی تباہی کا سامان مہیا کیا اور جموں و کشمیر میں مسلسل قتل و غارت اور درندگی و بہیمیت کا ارتکاب کیا ہے اور مسلسل کیے جا رہا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا، جب معصوم کشمیری نوجوان شہید نہ ہورہے ہوں، اور کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے اور اسے ہندو اکثریت کا ایک خطہ بنانے کےمذموم منصوبے پر عمل نہ ہورہا ہو۔

ہماری دانست میں بھارت سے تعلقات پر بات کرتے وقت یہی اذیت ناک ماضی سامنے آتا ہے۔ کیا یہ ماضی یک طرفہ طور پر بھلا دینا اور ان اسباب و علل کو نظرانداز کرنا کوئی واقعی سوچی سمجھی حکمت عملی اور دانش مندی ہے؟ پھر یہ کہ ریاست کے مستقبل سے منسوب معاملات کی پالیسی بنانا کیا عوام کے منتخب نمایندوں کا کام ہے یا طاقت کے کسی ایک یا دو مراکز کے پاس اس نوعیت کے ڈاکٹرائن پیش کرنے اور واپس لینے کا اختیار ہے؟ اسی طرح یہ بات واضح ہے کہ خود عمران خاں حکومت کا رویہ بھی مسئلہ کشمیر پر چند روایتی تقاریر اور بیانات تک محدود رہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح ان کی ’کشمیر کمیٹی‘ بھی نہایت نچلے درجے پر محض خانہ پُری اور بے عملی کی تصویر بنی رہی۔

اب جیسے ہی اپوزیشن پارٹیوں کی صورت میں شہباز شریف حکومت برسرِاقتدار آئی تو اُس نے کشمیر کے مسئلے کو اپنی توجہ کا اس طرح موضوع بنایا ہے کہ بھارت کے تمام منفی اقدامات کو نظرانداز کرکے، اس سے تجارتی تعلقات پروان چڑھانے کے لیے کمرشل اتاشی مقرر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اگرچہ تنقید کے بعد حکومت کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ ’’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تجارتی تعلقات قائم کیے جارہے ہیں‘‘۔ اگر واقعی تجارتی تعلقات قائم نہیں کیے جارہے تو کمرشل اتاشی کیا سیاحت کے لیے دہلی بھیجے جارہے ہیں؟ تاہم، یہ وضاحت اقتدارو اختیار کے سرچشموں پر فائز افراد کی جانب سے عوام کو اندھیرے میں رکھنے کی ایک حرکت لگتی ہے۔ اس خدشے کی بنیاد ایک تو شریف حکمرانی میں بنیادی اُمور کو نظرانداز کرکے بھارت سے تعلقات بڑھاتے وقت بزعم خود معاشی پہلو کو مرکزیت دینا ہے اور دوسری طرف طاقت ور ادارے بھی وقتاً فوقتاً اس نوعیت کے خیالات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

چند لمحوں کے لیے یہ مان لیا جائے کہ بھارت سے تجارت کھول دی جائے، تو اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ بھارت نے پاکستانی درآمدات پر دو سو فی صد ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے۔ ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ بھارت کو پاکستانی برآمدات کا حجم، بھارت سے درآمدات کا صرف پانچواں حصہ رہا ہے، اور اس طرح ہم بھارت کی معاشی قوت کو بڑھانے کا ذریعہ بنتے رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ اس پیش قدمی سے پاکستان کی گھریلو صنعت اور زراعت پر شدید منفی اثرات پڑیں گے، کیونکہ بھارت میں شعبہ زراعت سے متعلق طبقوں کو پانی اور بجلی کے سستے فلیٹ ریٹ پر فراہمی کے نتیجے میں پاکستان کے مقابلے میں بہت کم معاشی دبائو کا سامنا ہے۔ یہ حقائق نظرانداز کرکے بھلا ہمارے حکمت کار کس طرح دوطرفہ تجارت کے نام پہ، عملاً یک طرفہ تجارت کو پاکستان کے حق میں قرار دیتے ہیں؟ اس تمام پس منظر میں پاکستانی زرِمبادلہ کا بہائو بھارت ہی کے حق میں ہوگا، نہ کہ پاکستان کی جانب۔خیر، یہ تو جملہ معترضہ ہے، وگرنہ ہمارے نزدیک پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ ، مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ تجارت، تعلیم، ثقافت، ثانوی اُمور ہیں، جن کی بنیاد پر اصل مسئلے کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا اور نہ قالین کے نیچے دھکیلا جاسکتا ہے۔

مسئلہ کشمیر ایک عالمی مسئلہ ہے، جو دو ملکوں کے درمیان زمین کا کوئی تنازعہ نہیں ہے، بلکہ ڈیڑھ دو کروڑ انسانوں کی زندگی، تہذیب اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ اس طرح جموں و کشمیر کسی بھی اصول کے تحت نہ بھارت کا حصہ ہے اور نہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔

مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی ۱۷ سے زیادہ قراردادیں، عالمی برادری کی فکرمندی کی گواہ ہیں،  اور اس پس منظر میں دوایٹمی طاقتیں ہروقت جنگ کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ خدانخواستہ معمولی سی بے احتیاطی پوری انسانیت کے مستقبل کو بربادی کے جہنّم میں دھکیل سکتی ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ بڑی طاقتیں محض بھارت کی مارکیٹ میں حصہ پانے سے دلچسپی رکھتی ہیں اور اپنے ایک ’پسندیدہ‘ ملک کے جرائم پر پردہ ڈال کر غیرانسانی اور غیراخلاقی جرم کا ارتکاب کررہی ہیں۔ اب رفتہ رفتہ پاکستان کی حکومتوں کی طرف سے بھی کچھ ایسے ہی اشارے مل رہے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہیں۔

جموں و کشمیر کے مستقبل کا مسئلہ، تقسیم ہند کے طے شدہ ضابطے کے تحت، وہاں کے لوگوں کے حقِ خود ارادیت کا مسئلہ ہے، جسے بار بار اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے تسلیم کرتے ہوئے ، اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری پر زور دیا ہے۔ ان تمام وعدوں اور اتفاق رائے کی بنیادوں پر یہ امر بالکل شفاف انداز سے سامنے آتاہے کہ مسئلہ کشمیر نہ تو وہاں بسنے والے لوگوں کے صرف انسانی حقوق کی پاس داری کا معاملہ ہے اور نہ داخلی سیاسی حقوق کے بندوبست کا کوئی معاملہ ہے۔ بلاشبہہ یہ تمام مسائل اپنی جگہ اہم اور حل طلب ہیں، لیکن اصل مسئلہ براہِ راست حقِ خود ارادیت کے نتیجے میں وہاں کے لوگوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، جسے بھارتی حکومتیں بہت ڈھٹائی کے ساتھ ٹالتی چلی آرہی ہیں اور اس کے ساتھ وہاں بسنے والے مردوں، عورتوں اور بچوں پر انسانیت سوز مظالم کا ارتکاب کررہی ہیں۔

۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو بھارت کی فسطائی حکومت نے عالمی سطح پر منظور کردہ حدود پامال کرتے ہوئے ایک غیر آئینی اقدام سے اس مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے۔ اس طرح بھارتی دستور کی دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو ختم کر کے کشمیر کی مقامی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مذموم عمل کا آغاز کر دیا ہے۔

برطانوی سامراجی حکومت کے زمانے سے جموں و کشمیر کے مسلمان ایک وحشیانہ ریاستی جبر کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور تھے، اور جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر وہاں سے نقل مکانی کرکے، امرتسر، سیالکوٹ، گجرات، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور لاہور کی جانب مہاجرت پر مجبور کردیے گئے تھے۔ پھر اگست ۱۹۴۷ء میں بھارت اور پاکستان کی شکل میں دو ریاستیں وجود میں آنے کے فوراً بعد اکتوبر ۱۹۴۷ء میں جموں میں مسلمانوں کی بدترین نسل کشی کی گئی۔ پھر وقفے وقفے سے بھارتی ریاست نے جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو پے درپے انسانیت سوز مظالم، عورتوں کی بے حُرمتی، قتل و غارت اور سالہاسال تک جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید کرکے نوجوانوں کو مارڈالنے اور زندگی بھر کے لیے معذور بنادینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں گذشتہ تین عشروں کے دوران ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ جہاں پر ناجائزقبضہ ہوگا، وہاں مزاحمت ہوگی۔ سامراجی اور غاصب قوتوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے آزادی حاصل کرنا، انسانیت کا بنیادی حق ہے، جسے کوئی سلب نہیں کرسکتا۔ آج دُنیا کے نقشے پر موجود دو سو ممالک میں ۱۵۵  سے زیادہ ملکوں نے اپنے حقِ خودارادیت کی بنیاد پر آزادی حاصل کی ہے۔ کہیں مذاکرات سے، کہیں انتخاب سے اور کہیں مسلح مزاحمت سے یہ منزل حاصل کی گئی ہے۔ خود مقبوضہ برطانوی ہند نے بھی انھی ذرائع کو استعمال کرکے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی ہے، جسے کوئی فرد نہیں جھٹلا سکتا۔ اسی بنیاد پر کشمیر میں بھی مظلوموں کے ایک حصے نے قلم اور دلیل سے، دوسرے طبقے نے مکالمے اور سیاسی و سفارتی میدان میں، اور تیسرے حصے نے عملی مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ تینوں راستے درست بھی ہیں اور ایک ہی منزل کی طرف بڑھنے کا سامان کرتے ہیں۔

یہ ایک ہمہ گیر اور مربوط جدوجہد ہے، جس میں عالمی ضمیر کو جگانے، ابلاغ عامہ کے اداروں کو جھنجھوڑنے اور حکمرانوں کی یادداشت کو تازہ رکھنے کے لیے پاکستانی حکومت کو مربوط کاوشیں کرنی چاہییں، نہ کہ زندگی اور موت کے اس مسئلے کو ابہام اور تضادات کے گرداب میں گم کرنے کا سامان!

 

برادرم اسماعیل الفاروقی نے کینیڈا اور امریکا میں قیام کے دوران بحیثیت مسلمان اپنی ہستی پر غور کرنے اور اپنی اصل شناخت کو دریافت کرنے پر پوری توجہ دی۔ ان کو صہیونی غاصبوں کے ہاتھوں اپنے گھربار اور مادرِوطن کو چھوڑنا پڑا تھا۔ انھوں نے جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیل اور مغربی طاقتوں کی یلغار کے دوران اُردن، شام اور مصر کی شکست، بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے اور عرب قومیت کے شرمناک زوال کا مشاہدہ کیا تھا۔

غریب الوطنی کے اس زمانے میں الفاروقی نے آزادی کے ان مواقع کی قدر کی، جن سے وہ مغرب کی علمی دُنیا سے استفادہ کررہے تھے۔ پھر فکری، ثقافتی، سیاسی اور سامراجی جبر کی ناقابلِ قیاس گرفت اور اُمت مسلمہ اور دوسری متاثرہ اقوام پر کثیرجہتی غلامی کے تباہ کن اثرات کا بھی قریب سے مشاہدہ کیا۔ وہ سامراجی طاقتوں کے دُہرے معیارات کو پردۂ سیمیں کے پیچھے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ پھر انھوں نے امریکا میں تعلیم کی غرض سے آنے والے نوجوان مسلمانوں [مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن-  MSA : ۱۹۶۲ء] کے انقلابی تصورات سے حرارت لی۔ اس طرح مسلمانوں اور انسانیت کے نئے مستقبل کی تعمیر کی منظم کوششوں کے حلقۂ اُلفت سے وہ وابستہ ہوئے۔

اسماعیل الفاروقی نے نوجوانوں کی اس روح پرور دنیا [MSA]میں، خود کو بڑا بے تکلف اور بہت آسودہ خاطر محسوس کیا۔ وہ ان میں سے ایک ہوگئے اور ان نوجوانوں نے بھی جذبۂ سپاس سے انھیں ایک شفیق معلّم اور دُور اندیش قائد کی حیثیت سے دیکھا۔ میں یہ لکھ کر کوئی انکشاف نہیں کروں گا، اگر اپنے دو عزیز ترین بھائیوں ڈاکٹر احمد توتونجی [پ: ۱۹۴۱ءعراق] اور ڈاکٹر عبدالحمید ابوسلیمان [م:۱۸؍اگست ۲۰۲۱ء] کے کردار کو ضبط تحریر میں لائوں۔ ان دو قیمتی ساتھیوں کی دل سوزی نے اس عمل کو باثمر بنایا۔ الفاروقی کے لیے فی الواقع یہ رفاقت بڑی رحمت و برکت کا ذریعہ بنی۔ وہ اب اس دنیا میں مضبوط قدموں سے واپس آگئے تھے کہ جس دنیا سے ان کا ازلی تعلق تھا۔ زندگی کے آخری دو عشروں کے دوران انھوں نے ایک پختہ کار اسلامی اسکالر، اسلامی تعلیمات کے ایک محترم استاد، ایک منفرد داعی اور اسلام کے ایک سچے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انھوں نے شعوری اور روحانی تبدیلی کے اس سفر کو ان خوب صورت الفاظ میں بیان کیا ہے:

میری زندگی میں ایک وقت تھا… جب مجھے فکری سطح پر یہ ثابت کرنا تھا کہ میں اپنی جسمانی اور شعوری بقا، مغرب سے جیت سکتا ہوں۔ لیکن جب اس مقصد میں قدرے کامیابی حاصل کرلی، تو پھر یہ ہدف بھی میرے لیے بے معنی ہوکر رہ گیا۔

میں نے خود سے سوال کیا:

’میں کون ہوں؟ ایک فلسطینی، ایک فلسفی یا ایک آزاد خیال انسانیت کا حامل؟ ‘

میرے داخلی وجود نے جواب دیا:

’مَیں مسلمان ہوں‘۔

 برادرم الفاروقی اس داخلی تبدیلی کو، دوسرے انداز میں اپنے دوست کے نام ایک خط میں، جو انھوں نے اپنی شہادت سے صرف ۲۶دن قبل یکم مئی ۱۹۸۶ء کو لکھا، یوں بیان کرتے ہیں:

بیروت کی امریکی یونی ورسٹی سے گریجویشن کے بعد میں نے فلسطین میں ’عرب کوآپریٹو سوسائٹیز‘ میں رجسٹرار، اور پھر گلیلی کے صوبے میں انتظامی افسر کی حیثیت سے کام کیا۔ جب جیش الانقلابی قائم کی گئی، تب میں شمالی خطے میں انتظامی گورنر کی حیثیت سے کام کررہا تھا، جو اس وقت تک دشمنوں کے ہاتھوں سے محفوظ تھے۔

اسی دوران مزید پڑھائی کے لیے امریکا چلا گیا۔ مغربی فلسفے میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد میں اسلامی علوم کے ورثے سے دُوری اور اپنی جاہلیت کی کیفیت سے آگاہ ہوا۔ چنانچہ واپسی پر الازہر یونی ورسٹی میں نئے سرے سے سیکھنے کے لیے داخلہ لیا۔ لیکن  یہ بہت ہی خصوصی تیز تر پروگرام تھے، گویا کہ ان تین برسوں پر پھیلا وقت، جو الازہر کے کیمپس میں گزار رہا تھا، اس میں ایک مزید ڈاکٹریٹ کر رہا تھا۔ اس کے بعد مختلف یونی ورسٹیوں میں مطالعہ اسلامی میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمت کی۔ اسی دوران امریکا میں طلبہ کی اسلامی تحریک  [یعنی MSA]سے وابستگی نے مجھے وہ سوچ عطا کی، جس کا مقصد امریکا میں مسلمان نوجوانوں کے اخلاق و کردار کی تربیت اور ان کے اسلامی تصورات کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ اسلامی فکر کی ترویج اور اس کا فروغ تھا۔ یہی ہے وہ سرگرمی ،جس میں، الحمدللہ آج تک مصروفِ عمل ہوں۔

اطالوی نژاد امریکی پروفیسر ڈاکٹر جان ایل ایسپوزیٹو [پ:۱۹۴۰ء] جو اسماعیل راجی الفاروقی کے براہِ راست شاگرد بھی رہے، وہ الفاروقی کی زندگی کے اس پہلو کو یوں بیان کرتے ہیں:

وہ ایک مرکز کے گرد متحرک، تخلیقی مفکر، مقابلہ کرنے والے دل آویز فرد اور میدانِ کار میں لگن سے کام کرنے والے انسان تھے۔ اسلام اور اسلام کی تعلیمات کا جوہر ان کے عقیدے، پیشے اور صلاحیت میں رَچ بس گیا تھا۔ ان کی زندگی کو اختصار سے بیان کرنا اور اس کا تجزیہ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ محتاط لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق مطلوب مسلمان وہ ہے، جو سرتسلیم خم کرکے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے زندگی بھر جدوجہد کرے۔ اسماعیل الفاروقی واقعی ایک مجاہد تھے۔

پروفیسر اسپوزیٹو کے گراں قدر الفاظ میں صرف یہ اضافہ کروں گا:

اسماعیل راجی الفاروقی نے اپنی علمی زندگی کا آغاز ایک مسلمان عرب قوم پرست کی حیثیت سے کیا، الحمدللہ، آخرکار وہ ایک اسلامی داعی کی حیثیت میں دُنیا سے رخصت ہوئے۔وہ ایک ثابت قدم مجاہد کے طور پر زندہ رہے اور اسی مشن سے وابستگی کی وجہ سے شہادت پائی۔

تریپولی میں ملاقات کے بعد ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ سرگرم رابطہ ۲۷مئی ۱۹۸۶ء کی اس رات تک رہا کہ جب وہ اور ان کی اہلیہ امریکی ریاست پنسلوینیا کے شہروینکوٹ میں ایک قاتل کی خنجرزنی کے زخموں کی تاب نہ لاکر ربّ کے حضور پیش ہو گئے۔

میں دی اسلامک فائونڈیشن، لیسٹر اور ’اسلامک کونسل آف یورپ‘ میں سرگرم تھا۔ انھوں نے اسلامی دعوت کی اساس اور حرکیات پر کانفرنسوں اور سیمی ناروں کے ایک سلسلے کی نہ صرف کامیاب منصوبہ بندی کی، بلکہ اس کی تنظیم میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے کے توسیعی منصوبۂ عمل کے تحت: اسلام میں بنیادی حقوق کے اعلامیے کی تیاری، ایک مثالی اسلامی دستور کے بنیادی خدوخال اور اسلام اور مسئلۂ فلسطین کی وضاحت کے باب میں گراں قدر حصہ ڈالا۔

عیسائی مسلم مکالمے کے لیے کوششیں

جون ۱۹۷۶ء سے عیسائی مشن کی تنظیمChambesy Dialogue Consultation  اور اسلامی دعوۃ کے موضوع پر ہم نے ایک ساتھ کام کیا۔’ورلڈ کانگریس آف چرچز‘ (WCC) جنیوا ،  دی اسلامک فائونڈیشن لسٹر(برطانیہ) اور ’مطالعہ برائے اسلام اور عیسائی مسلم تعلقات‘ سیلیوک کالج برمنگھم (برطانیہ) نے اس منصوبے پر مشترکہ کاوش کی تھی۔ اس مشاورت کا مَیں شریک چیئرمین تھا۔ اسماعیل الفاروقی اس تاریخی مشاورت میں ایک محور کی حیثیت رکھتے تھے۔ عیسائی اخلاقیات پر اسماعیل الفاروقی  کی کتابChristian Ethics کو عیسائی اسکالروں نے ’’ایک متاثر کن شاہکار قرار دیا‘‘۔

اس مشاورت کا حتمی اعلامیہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ اعلامیہ ایک صاحب ِ فکروعمل مسلمان کی سوچ کا مظہر تھا، جسے زیادہ تر الفاروقی ہی نے لکھا تھا اور جس کو حتمی اعلامیے کی بنیاد کے طور پر دونوں مذاہب کے علما نے قبول کیا تھا۔ ’مسلم ،عیسائی مکالمے‘ کی عالمی تحریک میں یہ پہلا ٹھوس قدم تھا کہ جس میں مسلمانوں کا نقطۂ نظر اتنے مؤثر طریقے سے اور کسی عصبیت کے بغیر اور حقیقت پسندانہ انداز میں اتنے بڑے فورم پر پیش کیا گیا تھا۔ اس دستاویز کو دی اسلامک فائونڈیشن لسٹر نے ۱۹۸۲ء میں شائع بھی کیا تھا۔

افسوس کہ اس تاریخی دستاویز کو مستقبل کے ’مسلم، عیسائی مکالمات‘ کی بنیاد نہیں بنایا جاسکا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دونوں مذاہب کی برادریوں کی توجہ اصل مسائل اور تشویش کے اُمور سے ہٹ گئی، اور پوری قوت محض بے جان مذہبی لفاظی، بے معنی تواضع اور نمائشی خوش خلقی کی طرف مڑگئی۔ الفاروقی بھائی نے بڑی جرأت سے مشاورت میں اپنا نقطۂ نظر ان الفاظ میں بیان کیا تھا:

یہ درست ہے کہ نوآبادیاتی نظام اور توسیع پسندانہ ذہنیت ایک منفی قوت ہے۔ اس مشاورت میں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی طاقت کے دائروں کے اندر بات کرنے کے وہ طریقے اور ذرائع دریافت کریں، اور یہ دیکھیں کہ ہم کیا حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں؟ میں ذاتی طور پر اس شخص کے ساتھ بحث کرنے کو تیار نہیں ہوں، جو یہ دلیل دیتا ہے کہ ’آج کل انڈونیشیا میں کوئی نوآبادتی جبر نہیں ہے‘۔ میں یہاں پر اپنی اس تشویش کا برملا اظہار کرتا ہوں کہ انڈونیشیا میں عیسائی مشنری تحریک اور نوآبادتی جبر کے درمیان گہرے رابطے موجود ہیں۔ اگر آپ کو یہ منظر دکھائی نہیں دیتا کہ تنزانیا اور انڈونیشیا میں سامراجی طاقتیں عیسائیوں کو کس انداز سے استعمال کر رہی ہیں تو پھر ہمیں مکالمہ جاری رکھنے کی کوئی ٹھوس بنیاد اور ضرورت دکھائی نہیں دیتی ہے۔

ڈاکٹر اسماعیل الفاروقی نے مزید کہا:

عیسائی مبلغین کے طرزِعمل کا ضابطہ تیار کرنا پہلی چیز نہیں ہے کہ جس پر ہمیں تشویش ہو، یہ دوسرے مرحلے کا تقاضا ہے۔ پہلا مرحلہ لازمی طور پر باہمی اعتماد کا فہم ہے۔ یہ بات عیسائی مبلغین سے، جو مسلمانوں کے مقابلے میں تبلیغی سرگرمیوں میں بہت آگے رہے ہیں اور جن کی مشنری سرگرمیوں کی تاریخ گذشتہ کئی عشروں کے دوران ایسے واقعات و حادثات سے بھری پڑی ہے، کہ وہ مسلمانوں کی نظروں میں شکوک پیدا کرتی ہیں۔ اس تاریخ کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ پھر اس عزم کا بھی اظہار کریں کہ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے آیندہ مثبت قدم اُٹھایا جائے گا۔ یہ کام مسلمانوں کے ساتھ تعاون کے اصول و ضوابط مرتب کرنے اور طریق کار کی تیاری کے لیے مل بیٹھنے سے قبل ہونا چاہیے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ بین المذاہب کانفرنسوں کے اس حتمی بیان میں مسلمانوں کی تشویش کو واضح الفاظ میں یوں منظور کیا گیا تھا:

  • کانفرنس، عیسائیوں اور مسلمانوں کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کے نظام کو اپنے مذہبی اصولوں اور قوانین کے مطابق تشکیل دیں، اور تمام ضروری اداروں کو مذہبی اصولوں اور قوانین کے مطابق برابر کے شہریوں کی حیثیت سے قائم اور برقرار رکھیں۔
  • عیسائی شرکا اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ان اخلاقی غلطیوں کے حوالے سے پوری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، جن کی وجہ سے نوآبادیاتی طاقتوں اور ان کے ہمراہیوں کے ہاتھوں [مسلم آبادیوں کو] مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کانفرنس پر یہ حقیقت واضح ہے کہ بداعتمادی اور خوف کی وجہ سے ’مسلم عیسائی تعلقات‘ متاثر ہوئے ہیں۔ مشترکہ اچھائی کے لیے باہمی تعاون کرنے کے بجائے مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا اور ایک دوسرے سے بیگانہ ہی رہے ہیں۔
  • نوآبادیاتی نظام کے ایک صدی سے زیادہ عرصے کے بعد بھی متعدد عیسائی مشنری، نوآبادیاتی طاقتوں کے مفادات کے لیے جان بوجھ کر یا غیرشعوری طور پر کام کرتے رہے ہیں، اور مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرنے میں بے دلی محسوس کرتے رہے ہیں، اور انھیں ظالموں کا ایجنٹ تصور کرتے ہوئے ان سے لڑتے رہے ہیں۔ اگرچہ اب اس تعلق میں یقینی طور پرکچھ تبدیلی کا آغاز ہوا ہے۔ تاہم، مسلمان اس کے باوجود کوئی بھی قدم اُٹھانے سے اس لیے گریزاں ہیں کہ عیسائیوں کی نیت پر ان کو شک ہے۔ اس کی وجہ یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج کے عیسائی مشنریوں کی متعدد سرگرمیاں مخصوص مفادات کے لیے عمل میں لائی جاتی ہیں۔
  • اس ضمن میں مسلمانوں کی بے خبری، مسلمانوں کی تعلیم، صحت، ثقافتی اور معاشرتی خدمات، مسلمانوں کی سیاسی پریشانیوں اور بحرانوں، ان کے معاشی انحصار، سیاسی تقسیم اور عمومی ضعف کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے، ان [مسیحی]مبلغین نے مذہب کی تبدیلی میں وسعت لانے اور عیسائیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ دوسرے مقاصد کے لیے کام کیا۔ حال ہی میں بعض بڑی طاقتوں کے خفیہ اداروں سے ان کے خدمتی تعلق کے انکشاف نے ان خدشات کی تصدیق کرکے موجودہ خراب صورت حال کو مزید خراب کردیا ہے۔
  • کانفرنس کے مسیحی ارکان، عیسائیت کے نام پر ہر ایسی خدمت سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں، جس نے اللہ اور ہمسائے سے محبت کے سوا کوئی اور مقصد اختیار کرکے اس کے مقصد کی اہمیت کو کم کردیا۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ ایسی کوئی بھی خدمت جو کسی مذموم مقصد کے لیے کی جائے، وہ پراپیگنڈے کا ہتھیار ہے اور خدا اور ہمسائے سے محبت نہیں ہے۔ انھوں نے اتفاق کیا کہ وہ اپنی پوری طاقت اور ان کے اختیار میں جو بھی ذرائع ہوں گے، انھیں استعمال کرتے ہوئے عیسائی گرجاگھروں اور مذہبی تنظیموں کو اس صورت حال سے مناسب طور پر آگاہ کریں گے۔ کانفرنس بڑے دکھ کے ساتھ عیسائی مشن کے بارے میں مسلمانوں کے ان رویوں سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے، جو خدمت کے غلط استعمال سے متاثر ہوئے، عیسائی گرجاگھروں اور مذہبی تنظیموں پر زور دیتی ہے کہ وہ مسلم دُنیا میں ایسی مذموم خدمات کو معطل کردیں۔
  • یہ بنیادی اقدام مسلم عیسائی تعلقات کی فضا کو سازگار بنانے اور باہم تعاون کے فروغ میں اضافے کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گا۔ کانفرنس واضح الفاظ میں زور دیتی ہے کہ گرجا گھروں اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے عطاکردہ امدادی مال و اسباب کو، ان ممالک کی مقامی آبادی کے لوگوں کے تعاون کے ذریعے تقسیم کیا جائے، کہ جہاں یہ امداد دینے کا ارادہ ہو اور اس طرح متعلقہ لوگوں کی عزت ، وقار اور تشخص کا احترام کیا جائے۔

علمی و فکری خدمات

اس مشاورت میں مسلمان مندوبین نے بڑی لگن کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا، لیکن جناب اسماعیل الفاروقی کی خدمات فیصلہ کن تھیں۔ الفاروقی نے ۲۵ کتابیں تصنیف کیں، اور ایک سو سے زیادہ تحقیقی مقالات لکھے۔ لیکن میری نظر میں ان کا ممتاز ترین اور ہمیشہ زندہ رہنے والا کارنامہ  ان کی تین کتب ہیں:

  • Tawhid: Its Implications for Thought and Life [توحید، نظریہ اور زندگی کے لیے اس کی دلالت ] (انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ ورجینیا، یوایس اے ۱۹۸۲ء/
  • The Cultural Atlas of Islam [اسلام کا ثقافتی نقشۂ جہان]، لویس لمیاء الفاروقی کے ساتھ (میک ملن، نیویارک ۱۹۸۶ء)/
  • Islam and The Problem of Israel [اسلام اور اسرائیل کا مسئلہ] (اسلامک کونسل آف یورپ، لندن، ۱۹۸۰ء) ۔

برادرم الفاروقی شہید، اسلامی روح کا لب ِ لباب چند الفاظ میں اس طرح بیان کرتے ہیں: ’’اس میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا کہ اسلامی تہذیب کا جوہر اسلام ہے، اور اسلام کی روح التوحید ہے۔ یہ التوحید ہی ہے جو اسلامی تہذیب کو اس کی ثقافت دیتی ہے‘‘۔ (التوحید،ص ۱۷)

اسماعیل الفاروقی کے ہاں اسلام کا تصور، ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر ہی ہے، جو آئینے کی طرح صاف دکھائی دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اسلام، دنیا میں زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ اسلام کا اس کے سوا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے کہ زندگی اللہ کی مرضی کے تحت، اپنے اور معاشرے کے ساتھ احساسِ ذمہ داری کے ساتھ گزاری جائے‘‘۔

اسلامی تاریخ اور اسلامی قانون کے کردار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسماعیل الفاروقی لکھتے ہیں: ’’انھوں نے مسلم دنیا کو ادارے، اخلاق، طرزِزندگی اور کلچر دیا۔ انھوں نے تمام نسلوں اور ثقافتوں کے مسلمانوں کو ایک ہی نظریے کے تحت تعلیم دی اور ایک ہی نصب العین کے تحت ایک برتر قوت میں باہم جوڑ دیا۔ اسلامی قوانین کی بنیادی قوت نے کامیابی کے ساتھ اتحاد کو فروغ دیا اور تفریق کے ان تمام خطرات کو روک دیا، جن میں مسلم تاریخ کی چودھویں صدی میں غیرملکی طاقتوں کی فتوحات بھی شامل ہیں۔ یہ بجا ہے کہ شریعت یا اسلامی قانون دونوں ہی دنیا بھر میں مسلمانوں کے اتحاد میں ہراول دستے اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی ہے وہ حقیقت، جو اُمت مسلمہ کو عالم گیر اخوت بنادیتی ہے‘‘۔

برادرم الفاروقی کے ہاں اُمت کا نصب العین بڑا واضح ہے: ’’ظاہری طور پر اُمت کی نشوونما کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ اس کا وجود اللہ تعالیٰ کی مرضی کے اظہار کا ذریعہ ہے، جس کا مقصد  اس اُمت کے ذریعے زمان و مکان کی حقیقت کی تلاش ہے اور دُنیا کے سامنے اس حقیقت کا اظہار ہے، جو اللہ تعالیٰ کی حتمی وحی کی بنیاد، اس کی مرضی کے ذریعے اس نکتے کی تشکیل کرتی ہے، اور جہاں خدائی کائنات رضائے الٰہی کے اظہار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ جیساکہ قرآن میں اُمت مسلمہ کے وجود کا مقصد بیان کیا گیا ہے: ’’تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو‘‘۔

برادرم الفاروقی، اسلام کے اداراتی کردار اور اسلام کے مستقبل کی وضاحت کرتے ہیں:

اسلام وہ واحد مذہب ہے ، جس نے زیادہ تر مذاہب کا مقابلہ انھی کے مضبوط مراکز اور ماحول میں کیا، خواہ یہ مقابلہ افکار و خیالات کے میدان میں تھا یا تاریخ کے میدانِ جنگ میں۔ اسی طرح اسلام ان تمام معرکوں میں شریک رہا، خواہ وہ روحانی تھے یا سیاسی۔ یوں اسلام نے اپنے نظام کو مکمل کیا ، اور یہ آج بھی تمام محاذوں پر بڑی مضبوطی کے ساتھ معرکہ آرا ہے۔ مزیدبرآں اسلام وہ واحد مذہب ہے، جس نے یہودیت، عیسائیت، ہندومت اور بدھ مت کے ساتھ بین المذہبی اور بین الاقوامی آویزش کے تمام معرکوں میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی، جو ان مذاہب کے ساتھ برپا ہوئے۔

یہ واحد مذہب ہے، جس نے دنیابھر میں مغربی نوآبادیاتی نظام اور سامراجیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تمام کوششوں کو جھونک دیا، جس کے نتیجے میں یہ نوآبادیاتی نظام ٹکڑے ٹکڑے ہوا۔اسلام آج بھی فکری سطح پر ترقی کر رہا ہے اور دعوت وتبلیغ کے ذریعے سے پھیل رہا ہے، اور کسی بھی دوسرے مذہب کے مقابلے میں اس میں شامل ہونے والوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ یہی وہ مذہب ہے، جس کے دشمنوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح یہی وہ مذہب ہے جس کو سب سے زیادہ غلط سمجھا گیا ہے۔

اسماعیل الفاروقی نے دسمبر ۱۹۸۱ء میں کوالالمپور میں منعقدہ ۱۵ویں صدی ہجری کانفرنس میں اپنے مقالے Dawah in the West: Promise and Trial میں یہ پُرجوش اپیل کی:

آج ہجری صدی کو منانے کا مقصد، درحقیقت انسانیت کو اس تہذیب کی طرف متوجہ کرنا ہے، جو فطرت سے بغاوت کے نتیجے میں خوار و زبوں ہے۔ چودہ سوسال قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور ایک صحت بخش  عالمی نظام (World Order) عطا کیا۔ آج تڑپتی انسانیت کو اس الٰہی نظامِ جہاں سے زیادہ کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے....  مسلمان بھائی پہلے اس کو قائم کریں اور اس کے بعد انسانیت سے اپیل کریں کہ وہ ان کی صفوں میں شامل ہوجائیں، تاکہ امن اور انصاف، تقویٰ اور نیکی کے نئے عالمی نظام کے لیے جدوجہد ثمربار ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ، دلیل اور مثال کے ساتھ عمل کا حکم دیتا ہے۔ ہم سب اس ربِ ذوالجلال کی وحی کے قابل خود کو ثابت کیوں نہیں کرسکتے؟

برادرم اسماعیل الفاروقی مستقبل بین اور مستقبل ساز سوچ کے مالک تھے۔ وہ کسی پُرسکون لائبریری کے اسکالر نہیں تھے۔ اپنی زندگی کے آخری دو عشروں میں وہ جس تبدیلی کے خواہش مند تھے، اس کا انھیں پورا شعور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم دُنیا کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے  متحرک رہے۔ اُمت کے پاس موجودہ تمام وسائل، خاص طور پر نوجوانوں کو بروئے کار لانے کے لیے اور اسلامی نظامِ جہاں کے قیام کے لیے وہ شب و روز اور مسلسل جدوجہد میں مصروف رہے۔  وہ مسلمانوں کی ان قومی، سیاسی قیادتوں کے بھی نقاد تھے، جنھوں نے اس کردار اور ذمہ داری کی ادائی سے مجرمانہ حد تک پہلوتہی برتی تھی، وہ بنیادی ذمہ داری کہ جو دین اور تاریخ نے ان پر ڈالی تھی۔ الفاروقی نے بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا:

عالم اسلام کی قومی حکومتوں نے (جو خواہ دستوری بادشاہتیں ہوں، جمہوری یا فوجی آمرانہ حکومتیں ہوں) جتنی بھی حالیہ زمانے میں اصلاحات کی ہیں، وہ زیادہ تر ریت پر تعمیر کی گئی ہیں۔ مسلم دُنیا میں ’جدیدیت‘ اس لیے ناکام ہوگئی کہ یہ مغرب زدہ تھی اور جو مسلمانوں کو ان کے ماضی سے الگ کررہی تھی، اور ہم وطن مسلمانوں کو مغربی انسان کی بگڑی ہوئی صورت (caricature) میں ڈھالنا چاہتی تھی۔

اُمت مسلمہ کی موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے ان کا نسخہ بڑا سادہ اور تیربہدف ہے۔ انھوں نے مکمل تبدیلی پر زور دیا، لیکن اس طریق کار کی کلید ان کے نزدیک دعوت، تعلیم اور اس میں بھی زیادہ اہم کام علم (knowledge)کو اسلامی رنگ میں رنگنا ہے:

اسلام کی عالمی اُمت اس قوت سے دوبارہ نہیں اُٹھ پائے گی، یا اُمت ِ وسط نہیں بنے گی جب تک وہ ا پنے مقصد ِ زندگی، اس کے کردار، اس کی تقدیر، یعنی اسلام پر عمل نہیں کرے گی۔ یہ اُمت صرف اللہ کا خلیفہ بن کر اور اسلام کے صحیح تصور کے ساتھ وابستگی ہی سے گردوپیش میں پھیلے ہوئے چیلنج کا جواب دے سکتی ہے۔

برادرم اسماعیل الفاروقی نے جس لائحہ عمل کی نشان دہی کی ہے، اس کے اہم اجزائے ترکیبی میں تعلیم کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنا، کردار سازی کی طرف متوجہ ہونا، خاندان کی حفاظت کرنا، معیشت کی مضبوطی و خودانحصاری، معاشرے اور طرزِحکومت کے اداروں کی شریعت کے اصولوں اور تعلیمات کے مطابق اصلاح اور تعمیر کرنا شامل ہے۔ اسی طرح ہرسطح پر دعوتِ حق اس مشن کے لیے لازمی طاقت، روحانی زندگی کا حصول، اخلاقیات کی قوت، مادی وسائل کے تمام ذرائع کا استعمال اور ان کی نشوونما میں تیزی لانا شامل ہے۔

چونکہ اس تبدیلی کے لیے انھوں نے خود جدوجہد کی ہے، اسی لیے ان کا لائحہ عمل ہمہ پہلو ہے، جیساکہ انھوں نے توحید: نظریہ اور زندگی کے لیے اس کی دلالت  میں بیان کیا ہے۔   وہ اپنی زندگی کے آخری چند برسوں میں شعوری انقلاب کے لیے خاص طور پر یکسو اور وقف تھے۔ ایسا شعوری انقلاب جو مکمل تبدیلی کے لیے عمل کی قوت سے سرشاری عطا کرتا ہے۔ اس ضرورت کا احساس بیدار کرنے کے لیے انھوں نے مسلم دنیا کے تمام دانش وروں سے دل سوز اپیل کی تھی، جو ان کی شہادت کے بعد امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائنسز (AJISS)میں شائع ہوئی:

ہمارے سامنے انتہائی اہم کام ایک ہے اور وہ یہ کہ ہم کب تک اپنے آپ کو روٹی کے  ان چند ٹکڑوں پر راضی اور مطمئن رکھیںگے، جو مغرب ہماری طرف پھینک رہا ہے۔  آج یہی وقت ہے کہ ہم اپنا اصل کردار سمجھیں اور اسے ادا کریں۔ صحت مند اور عادل معاشرے کی تشکیل کے ماہرین کی حیثیت سے ہمیں اپنی ترتیب اور تربیت کا جائزہ لینا اور اُسے قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ہمارے اجداد نے تاریخ، قانون اور ثقافت میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ مغرب نے اس ورثے کو ہم سے عاریتاً لیا اور اس کو سیکولر قالب میں ڈھال دیا۔ کیا اس کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت ہے کہ ہم آگے بڑھ کر اس کو حاصل کریں اور پھر اسی طرح اس کو اسلامی بنادیں؟

مختصر ترین الفاظ میں برادرم اسماعیل راجی الفاروقی کی یہی وصیت ہے۔ میں دعا اور اُمید کرتا ہوں کہ مسلم دانش ور، ان کی پیشہ ورانہ تنظیمیں اور عام طور پر اسلامی تحریکیں، وقت کی اس فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لازماً پہل کریں گی۔


(انگریزی سے ترجمہ: عارف الحق عارف / سلیم منصور خالد)

انسانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو دو کردار واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں :

  • ایک وہ لوگ جو موجود حالات پر مطمئن رہتے ہیں اور وقت کے دھارے کے ساتھ ہی چلتے ہیں۔ اس طرح انھی افراد کے خیالات، نمونے اور طرزِعمل کو اختیار کرتے ہیں، جو اس راستے کی ترغیب دیتے اور اس کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں۔
  • دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو موجود حالات کو چیلنج کرتے ہیں اور غالب خیالات اور روّیوں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں ، ان کی جگہ متبادل خیالات پیش کرتے اور روشن راستے تلاش کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ اس طرح وہ مثبت تبدیلی کے نقیب بن جاتے ہیں۔

ممکن ہے کہ مؤخرالذکر افراد، تعداد میں کم، بظاہر غیرمؤثر اور بے اختیار ہوں، بلکہ ان کو ایذا رسانی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہو، لیکن بالآخر یہی وہ لوگ ہوتے ہیں، جو مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے، اور تہذیبی تبدیلی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایسی تبدیلی کہ جس سے انسانی خیالات، معاشرے، ثقافت اور تاریخ کی صحت مند صورت گری ہوتی ہے۔

برادرم اسماعیل راجی الفاروقی، اس دوسرے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں اسلامی فکرودانش کے آسمان پر جلوہ افروز ہوئے۔ نوجوانی ہی میں انھوں نے اسلامی علوم میں اعلیٰ فراست رکھنے والے ایک دانش ور اور بلندپایہ عالم کی حیثیت سے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ ایسے بلندمرتبت فاضل تھے، جو ایک طرف اسلامی فکر، تہذیب اور ثقافت کے قدیم اور جدید مستند مآخذ سے واقف تھے۔ اس کے پہلو بہ پہلو انھوں نے خداداد صلاحیت کے بل پر مغربی فلسفے، معاشرتی علوم کی ترتیب، تقابل مذاہب اور تاریخ کے میدان میں گہری تجزیاتی بصیرت بھی حاصل کی تھی۔ یہ چیز فی الحقیقت ایک نادر خوبی ہے۔

اسماعیل فاروقی زبان و بیان پر مضبوط گرفت رکھنے، جذبات کے غلبے سے آزاد اور  متحمل و منصف مزاج مقرر تھے۔ وہ ایسے مؤثر نثرنگار تھے، جنھوں نے اپنے نتائجِ فکر اور خیالات سے بڑی وضاحت اور مضبوط استدلال کے ساتھ عہدِحاضر کی فکرودانش کو مخاطب کیا۔ ان کی تقریروں اور تحریروں نے علمی پختگی، سائنسی اپروچ، معقولیت پسندی، ادبی چاشنی اور ہوش مندی سے آراستہ جوش و جذبے کے بل پر نوجوانوں اور حق کی متلاشی دو نسلوں کو متاثر کیا۔ انھوں نے ایک علمی شخصیت، ایک شفیق استاد، ایک راست فکر مفکر اور ایک مستقبل بین مبلغ کی حیثیت سے اپنے اعلیٰ فکروفن کا لوہا منوایا۔ الفاروقی کی جامع علمی خدمات کو دیکھتے ہوئے میں انھیں امریکا اور یورپ میں اسلامی احیا کا معمار سمجھتا ہوں۔ اس امتیازی حیثیت اور رہنمائی کے منصب تک پہنچنے کے لیے انھیں ایک بڑا طویل سفر کرنا پڑا۔

اسماعیل راجی الفاروقی، یکم جنوری ۱۹۲۱ء کو فلسطین کے تاریخی اور ثقافتی شہر جافا کے ایک علم دوست گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے خاندان کے گہوارے میں حاصل کی۔ ان کے والد گرامی فلسطین میں ایک قابلِ احترام شخصیت اور عالم فاضل قاضی تھے۔ الفاروقی کی شخصیت پر والدصاحب کی عظمت نے پہلا اور گہرا تاثر قائم کیا۔ ان کی شخصیت کی تعمیر میں اسلامی تربیت کے روایتی دانش کدوں، یعنی مسجد اور مدرسے نے نوجوانی میں اسلامی اقدار سے اُن کی وابستگی پختہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی دُنیوی تعلیم کا آغاز ایک فرانسیسی کیتھولک تعلیمی ادارے ’کالج ڈیسس الفریر [تاسیس: ۱۸۸۲ء] سے ہوا، جب کہ اعلیٰ تعلیم امریکن یونی ورسٹی بیروت [تاسیس: ۱۸۶۶ء]، اور پھر امریکا کی انڈیانا یونی ورسٹی [تاسیس: ۱۸۲۰ء] اور ہارورڈ یونی ورسٹی [تاسیس: ۱۶۳۶ء] سے تکمیل کو پہنچی۔

الفاروقی نے علومِ اسلامیہ کی تعلیم الازہر یونی ورسٹی قاہرہ [تاسیس:۹۷۲ء]سے بھی حاصل کی۔ بعدازاں میکگل یونی ورسٹی، مانٹریال [تاسیس: ۱۸۲۱ء] کی علومِ الٰہیات فیکلٹی میں عیسائیت اور یہودیت پر ایک ریسرچ فیلو کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس طرح انھوں نے دونوں طرح کے نظام ہائے تعلیم (مغربی اور اسلامی) سے یکساں طور پر استفادہ کیا۔ فلسفہ، مذاہب اور تاریخ کا تقابلی موازنہ اور اسلامی علوم میں تحقیق، ان کی زندگی کا مقصد اور ان کی مہارت کے شعبے بن گئے۔ امریکا میں انھوں نے ۶۴-۱۹۶۳ء تک شکاگو یونی ورسٹی میں، ۱۹۶۴-۱۹۶۸ء کے دوران سایراکیوز یونی ورسٹی اور آخر میں [۱۹۶۸-۱۹۸۶ء] ٹیمپل یونی ورسٹی فلاڈلفیا میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔

اسماعیل الفاروقی نے فلسفہ اور تقابل مذاہب اور تاریخ کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرکے انسانی افکار سے آگہی اور ثقافت کے مطالعے کو یہ سمت عطا کرنے کی کوشش کی کہ، اسلام کے اعلیٰ مقاصد، بہترین اقدار اور اصولوں کی روشنی میں ثقافتی تشکیل نو کی جانی چاہیے، تاکہ دنیا میں امن اور عدل کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس منزل کے حصول کے لیے انھوں نے نظامِ عالم (World Order) کو اسلامی تصور میں ڈھالنے کے لیے جدوجہد کی۔ عظیم مہم جوئی پر مبنی یہ کام انھوں نے ایک اسلامی اسکالر کی حیثیت سے کرنے کا بیڑا اُٹھایا اور پورے عزم سے وہ جانب ِ منزل رواں رہے۔

اسلامی احیا کے لیـے فکرمند

برادرم الفاروقی کے ساتھ میرا شعوری ربط و تعلق ۱۹۶۱ء میں اس وقت قائم ہوا، جب انھوں نے ایک نوجوان اسکالر اور ایک مہمان فیلو کے طور پر ڈاکٹر فضل الرحمٰن [م: ۲۶جولائی ۱۹۸۸ء] کے ساتھ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، کراچی سے وابستگی اختیار کی۔

اسلامک آئیڈیالوجی کونسل کے قیام [۱۹۶۲ء] سے قبل پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی [م: ۲۳جنوری ۱۹۸۱ء] کی سربراہی میں اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کراچی یہ خدمات انجام دے رہا تھا۔ قریشی صاحب کراچی یونی ورسٹی کے وائس چانسلر بھی تھے اور میں اس وقت وہاں معاشیات کی تدریس سے وابستہ تھا۔ ڈاکٹر قریشی ہی کی دعوت پر ہماری پہلی ملاقات ہوئی۔ پھر یہ رابطہ زندگی بھر شعوری تعاون، ذاتی دوستی بلکہ صحیح معنوں میں حقیقی برادرانہ رشتے میں ڈھل گیا۔ الحمدللہ، ۳۵  برس سے زیادہ عرصے تک پھیلا رہا۔

کراچی میں الفاروقی کا قیام ۱۹۶۱ء سے۱۹۶۳ء تک رہا۔ تب ہم تقریباً ہرہفتے ملاقات کرتے، جو اکثر ڈاکٹر فضل الرحمٰن صاحب کے ہاں ہوتی۔ ہم دونوں نے ڈاکٹر صاحب سے اپنے نقطۂ نظر میں اختلاف کے باوجود، مسلسل شعوری رابطے، باہمی اعتماد، احترام اور ہم نشینی میں یہ زمانہ بسر کیا۔  ڈاکٹر فضل الرحمٰن صاحب تو تیزی سے اس سمت میں رواں دواں رہے، جس کو مستشرقین ’اسلامی جدیدیت‘ کہتے ہیں۔ دوسری جانب اسماعیل الفاروقی معقولیت اور جدیدیت کے طاقت ور اثر میں سانس لینے کے باوجود، اسلامی احیا کے شان دار دور کی بازیافت کے لیے کوشاں نظر آتے تھے۔ یہ صاف دکھائی دیتا تھا کہ وہ خود کو دو دنیائوں کے درمیان بٹا ہوا پاتے ہیں۔

اس بات کو قدرے وضاحت کے ساتھ یوں پیش کیا جاسکتا ہے، کہ اسلام ہمارا مشترکہ بندھن ہے، مگر برسرِ زمین دیکھیں تو اُمت کا حال اور مستقبل: پریشانی، بدحالی اور انتشار کا عکس پیش کرتا ہے۔ اس لیے فطری سی بات تھی کہ عصرِحاضر میںمسلمانوں کی پریشان کن صورت حال کے مختلف مظاہر، علمی، سماجی، دفاعی، ثقافتی اور سیاسی پہلو ہمارے بحث مباحثوںکے مرکزی موضوعات ہوا کرتے تھے۔ اسماعیل الفاروقی اپنی تعمیر کے اس شعوری مرحلے میں اسلامی  مآخذ سے پختہ وابستگی کے باوجود وہ ’عربیت‘ (Arabism) اور ’مسلم جدیدیت‘ کی لہر کے زیراثر بھی تھے۔ ایک طرف اسلام کے ساتھ ان کی وفاداری ظاہر تھی، اور دوسری طرف اُمت مسلمہ کی حالت زار کا منظرنامہ انھیں تڑپاتا تھا۔ تاہم، وہ محض نوحہ خوانی کرنے اور پھر مایوسی کی چادر اُوڑھ کر سوجانے والوں میں سے نہ تھے، بلکہ مسلم ملت کے شعوری دیوالیہ پن اور روحانی تنزل کے اس کہرام کی تشخیص کے لیے فکرمند تھے۔ نوآبادیاتی طاقتوں کے غلبے، مغربی سوچ اور خیالات کے مقابلے میں قابلِ عمل متبادل پیش کرنے میں دل چسپی رکھتے تھے۔ وہ مسلم دانش وروں اور رہنمائوں کی ناکامی پر کڑھتے اور مضطرب رہتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ہماری یہ سماجی اور مکالماتی مجلسیں انھی موضوعات کے دائرے میں گھومتیں۔ ہم ان اُمور اور ان سے پیدا ہونے والی تشویش پر مدلل منطقی اسلوب میں اور بعض اوقات جذباتی انداز میں بھی بحث کرتے۔ الفاروقی، مسلم عرب پس منظر اور نوجوانی کے جوش و ولولے میں، اور مَیں تجدید ِاسلام کے ایک صورت گر اور آج کی نام نہاد اصطلاح میں ’بنیاد پرست‘ کے رُوپ میں اس مکالمے کا حصہ دار ہوتا تھا۔ الفاروقی کے ’عروبہ‘ کا تصور مغربی سیکولر قومیت سے مغلوب نہیں تھا۔ یہودیت اور عیسائیت کے مطالعے نے ان کو اسلامی سوچ کے ساتھ مربوط کردیا تھا۔ تاہم، محسوس ہوتا کہ بعض اوقات ’عرب ازم‘ کا حوالہ ان کے جذبات کو گرفت میں لے ہی لیتا تھا۔ ان پُرجوش بحثوں میں مجھے، جو ڈاکٹر فضل الرحمٰن صاحب اور الفاروقی بھائی سے عمر میںچھوٹا تھا، نہ صرف برداشت کیا جاتا بلکہ بعض مواقع پر بحث میں میرے رویّے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ فکری اختلاف نے ہمارے شعوری رابطوں کو کبھی ختم نہ ہونے دیا۔ یہاں تک کہ بحث مباحثے کا ٹکرائو بھی ہمارے دوستانہ اور نیازمندانہ تعلقات کو شاہراہ سے نہ اُتار سکا۔ ان فکری پنجہ آزمایوں نے درحقیقت ہماری دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط بنایا، اور مختلف زاویۂ نظر رکھنے کے باوجود ہمیشہ مکالمہ جاری رکھنے کو خوشی خوشی قبول کیا کہ ہمارے درمیان زیربحث موضوعات پر بہت مشترک اور وسیع بنیادیں تھیں۔

کچھ عرصہ گزرا تو برادرم اسماعیل الفاروقی واپس کینیڈا چلے گئے۔ ڈاکٹرفضل الرحمٰن صاحب اسلام آباد منتقل ہوگئے اور جدیدیت کی طرف آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔ تقریباً ۱۰سال تک میرا اور الفاروقی کا آپس میں براہِ راست رابطہ نہ رہا۔ حتیٰ کہ ۱۹۷۳ء میں تریپولی (لیبیا) میں مسلم نوجوانوں کے بارے میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقعے پر اچانک ہماری ملاقات ہوگئی۔

واقعہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر محبت اور یگانگت کے جذبات میں بے قابو ہوگئے۔ میں دوسرے مندوبین کے ساتھ تریپولی کے اس ہوٹل کی راہداری اور استقبالیے کے درمیان کھڑا تھا، جہاں ہم نے ٹھیرنا تھا۔ اچانک مَیں نے دیکھا کہ برادرم اسماعیل الفاروقی میری طرف چلے آرہے ہیں اور مجھے دیکھ کر وہ خوشی سے بلندآواز میں پکار اُٹھے: ’برادر خورشید‘ اور پھر وہ بغل گیر ہونے کے لیے دوڑ پڑے۔ یہ ایک ایسا جذباتی لمحہ تھا کہ ہم دونوں کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوگئیں۔ گرم جوشی اور خوشی کے اس بے ساختہ اور والہانہ اظہار نے راہداری میں موجود سبھی مندوبین کو بہت متاثر کیا۔ شیخ احمد صلاح جمجوم [م:۲۰۱۰ء] اس جذباتی مِلن سے اس قدر متاثر ہوئے کہ میں بعدازاں جب بھی ان سے ملا، انھوں نے ہمیشہ ’بھائی الفاروقی‘ کے الفاظ اور ’برادر خورشید‘ کو ان کے جذباتی لہجے کی ہوبہو نقل کرتے ہوئے دہرایا۔ وہ دن اور آج کا دن، یہ الفاظ میرے دل میں پیوست ہیں۔ یہ چیز ہمیشہ ایک خزانے کے طور پر میری یادداشتوں میں موجود رہے گی۔

یہ بھی یاد رہے کہ ہماری اس جذباتی ملاقات کے چند منٹ بعد قریبی مسجدسے مغرب کی اذان بلند ہوئی۔ خاص طور پر ہم میں سے ان لوگوں کی، جو یورپ اور امریکا سے آئے تھے، خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی، جنھوں نے دل کو پگھلا دینے اور نماز کی طرف دعوت دینے والی اس دل آویز آواز کو برسوں کے بعد سنا تھا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا کہ الفاروقی زاروقطار رو رہے ہیں۔ میری طرف دیکھتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں پکار اُٹھے: ’’اللہ کی قسم،اگر میں امریکا کا طویل سفر کرکے صرف یہی آواز سننے کے لیے آتا تو محسوس کرتا کہ مجھے اس مشقت کا بہت زیادہ پھل مل گیا ہے‘‘۔اس جملے کی ادائی، الفاظ کی ترتیب اور روحانی تڑپ نے اصل الفاروقی کے باطن کو ظاہر کردیا تھا۔ یہ تھی اسلام کے ساتھ ان کی گہری وابستگی اور اسلامی شعائر کے لیے ان کا جوش، ولولہ اور کشش۔ آنسوئوں کی برکھا میں ان کی آنکھیں روشنی اور خوشی سے دمک رہی تھیں۔ ان کا چہرہ روحانی مسرت سے جگمگا رہا تھا۔ اذان کا ہرلفظ ہمارے دلوں میں خوشبو اور زندگی کی طرح رَچ گیا تھا۔ کیسی یادگار تھی ہماری باہم ملاقات، اور اسی لمحے اذان کی اس پکار کا بلند ہونا، اللہ اکبر!

وہ چند دن جو تریپولی میں گزارے۔ انھوں نے ہمارے تعلق کو ایک نئی جہت عطا کی۔ اب ہم دونوں اسلامی احیا کے ایک ہی دھارے پر رواں دواں تھے۔ الفاروقی اُس مشکل دوراہے سے آگےنکل آئے تھے، اور اسلام کی وکالت میں ہم سے بھی آگے تھے۔ بعد کے برسوں میں ہمارا یہ قریبی تعلق ایک مشترک فکروعمل کی صراطِ مستقیم پر استوار تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غلبۂ اسلام کی تاریخی جدوجہد میں حقیقی شراکت دار اور ایک دوسرے کا مددگار بنادیا تھا۔ الفاروقی کا جو شعوری، روحانی اور نظریاتی سفر ’مسلم عرب‘ کی حیثیت سے شروع ہوا تھا، اس نے انھیں تاریخی تبدیلی کے ذریعے ’اسلامی عرب‘ میں بدل دیا تھا۔ امریکا میں ان کے قیام کے زمانے اور مغرب میں پھیلے ہوئے اسلاموفوبیائی تلخ مباحثوں نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا تھا، الحمد للّٰہ علٰی ذٰلک۔ (جاری)

(  انگریزی سے ترجمہ: عارف الحق عارف /  سلیم منصور خالد)