پروفیسر خورشید احمد


وطنِ عزیز کے موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات پر نظر ڈالیں تو سخت تشویش ناک منظر سامنے آتا ہے۔

۲۳ کروڑ آبادی کا ملک بے یقینی اور بداعتمادی کا شکار ہے۔ لاکھوں انسانوں کی کتنی عظیم قربانیوں کے بعد یہ وطن حاصل ہوا؟ یوں لگتا ہے کہ اس سوال کو پاکستان کی دوسری اور تیسری نسل کے ذہنوں سے کھرچ کر مٹا دیا گیا ہے۔ عوام بظاہر بے بس ہیں لیکن وہ اتنے بے گناہ بھی نہیں۔ آخری ذمہ داری بہرحال عوام کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بگاڑ کو فروغ دینے میں ہرکسی نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اخبار، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا اور سماجی محفلوں میں بیٹھیں تو تعمیر کی بات خال خال ہوتی ہے، اور تخریب، جنگ و جدل اور انتقام در انتقام کا تذکرہ ہرچیز پر حاوی ہوجاتا ہے۔ اور ایوانِ حکومت و سیاست کسی مچھلی منڈی کا منظر پیش کررہا ہے۔ اہلِ اختیار نے قوم کو ایک ایسی اندھی سرنگ میں دھکیل دیا ہے، جس کے دوسرے سرے پر روشنی کی کوئی کرن بمشکل نظر آتی ہے۔

ہم نہایت اختصار کے ساتھ، قارئین کے سامنے چند معروضات پیش کر رہے ہیں:

  • کچھ بھی کہا جائے، پاکستان کے حالات کو بگاڑنے میں کلیدی کردار اُن مؤثر سیاست دانوں نے ادا کیا، جنھوں نے ملازمینِ ریاست (سول اور فوجی) کو اپنی حدود سے باہر نکل کر اقتدار کے کھیل کا کھلاڑی بننے کا نہ صرف موقع دیا، بلکہ اس میں شریک رہے۔ اگر ہماری سیاسی قیادت اپنے وقتی اقتدار اور ذاتی و گروہی مفاد کی سطح سے بلند ہوکر، قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں آئین سازی پر توجہ مرکوز رکھتی، اور صحیح جمہوری اصولوں کے مطابق ملک کی نظریاتی بنیادوں کو معاشی و سماجی عدل کی بنیاد پر مستحکم کرتی، اور نظامِ حکومت کو اچھی کارکردگی کے ساتھ چلاتی تو عوامی اقتدار کے ایوانوں اور راہداریوں میں غیرسیاسی عناصر کے ناجائز تجاوزات کا وہ ہنگامہ برپا نہ ہوتا، جس کے نتائج قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ مراد یہ ہے کہ پہلے تو ہماری سیاسی قیادت نے دستور سازی میں غفلت برتی اور بعد میں صدقِ دل سے دستور پر عمل نہ کرکے عملاً دستور کو تسلیم کرنے سے نہ صرف پہلوتہی برتی بلکہ اس سے کھلم کھلا انحراف کیا۔

پھر انھی سیاست دانوں نے آنے والے اَدوار میں، اقتدار اور سیاست کو اعلیٰ قومی و تہذیبی  مقاصد و اہداف کے حصول کا ذریعہ بنانے کے بجائے، محض حصولِ اقتدار، جلب ِ زر اور اپنے سماجی رُتبے کی بلندی کا ذریعہ بنایا۔ قومی و عالمی حالات سے واقفیت، علم و دانش میں وسعت اور مسائل و معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت کو نچلی سطح سے بھی کم تر درجے کا مقام دیا گیا۔ اس طرح کی ناخواندہ اور اَن پڑھ سیاسی قیادت نے اپنے مقام و مرتبہ کو کچھ ملازمین کے ہاتھوں رہن رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ سیاسی قیادتوں کا اپنی پارٹیوں میں آمریت مسلط کرنا، میرٹ کے بجائے اقرباپروری اور خوشامد کو اوّلیت دینا، مشاورت کی روح کچلنا اور اپنے مفادات کے لیے دن رات وفاداریاں تبدیل کرتے رہنا___ ان علّتوں نے اعتماد اور تعاون کے سرچشموں کو گدلا کر کے رکھ دیا۔

  • دوسری ذمہ داری ہماری اعلیٰ فوجی قیادت پرآتی ہے، جس نے جنرل محمد ایوب خاں کے زمانے سے اقتدار میں بالواسطہ اور پھر بلاواسطہ دراندازی اختیار کی۔ پھر رفتہ رفتہ سیاسی پارٹیوں، صحافیوں اور سول ملازمین میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دی اور آخرکار اقتدار پر قابض ہوگئے۔ فوجی حکمران بظاہر تو چار اَدوار میں تقسیم ہیں، یعنی محمد ایوب خاں، آغا یحییٰ خان ، محمد ضیاء الحق، پرویز مشرف اور اقتدار شماری کے ۳۳برس___  مگر یہ گنتی حدرجہ غیرحقیقی ہے۔ حقائق کی دُنیا میں، براہِ راست اور بالواسطہ یہ اقتدار کم و بیش ۶۵برس پر پھیلا ہوا ہے۔ اس چیز نے ایک طرف وطن عزیز کی دفاعی صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب خود قومی فوج نہ صرف بار بار متنازع بنی بلکہ سول میدان میں تعامل کے نتیجے میں کئی خرابیوں سے بھی دوچار ہوئی۔ اگرچہ اسی فوج نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بڑے پیمانے پر پیش کیا ہے، اور بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جو ہماری تاریخ کا قابلِ فخر باب ہے۔ مگر سیاسی کھیل میں اس براہِ راست یا بالواسطہ شرکت نے مسلح افواج کے کردار کو گہنانے میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ چونکہ یہ بات ایک روشن سچ ہے اس لیے ہر آمر اور اس کے ساتھیوں نے وقت گزرنے کے بعد اس مہم جوئی کی مذمت ضرور کی۔
  • تیسری ذمہ داری ہماری اعلیٰ عدلیہ پر آتی ہے۔ ہرچند کہ عدلیہ نے بہت قابلِ ذکر خدمات انجام دی ہیں، مگر ملک کو دستور، اصول اور قاعدے کی پٹڑی سے اُتارنے اور ماورائے دستور حکمرانی کی افزایش میں اعلیٰ عدلیہ سے ایسے اقدام بھی سرزد ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں دستور و قانون کی بالادستی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔اسی طرح عدالتی فعالیت نے عوام کی داد رسی کم اور بیان بازی کے کلچر کو زیادہ فروغ دیا ہے۔ یہ سب چیزیں ہمارے عدالتی نظام کو ضُعف پہنچانے کا سبب بنی ہیں۔
  • چوتھی ذمہ داری اہلِ صحافت اور اصحابِ دانش پر عائد ہوتی ہے۔ کسی قوم کا حدردرجہ قیمتی طبقہ اس کے اہلِ صحافت اور دانش وروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد ہماری صحافت، گروہی تقسیم کی اُن گھاٹیوں میں گم ہوئی کہ عوام کو مبالغہ آمیزی کی خوراکیں دی گئیں، تسلسل کے ساتھ جھوٹ سنایا گیا، اور سچ کو بڑی عیّاری سے چھپایا گیا۔ چند قابلِ احترام صحافت کاروں کو چھوڑ کر، ہماری قومی اور علاقائی صحافت، پاکستان میں سیاسی و قومی تخریب کا ذریعہ بنی۔

اہلِ دانش، درحقیقت کسی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور اس کے مستقبل اور وقار کا تاج ہوتے ہیں۔ بلاشبہہ قدرتِ حق نے ہمیں دانش سے آراستہ افراد عطا کیے۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ پاکستان کے سادہ لوح شہریوں کو، جن میں تمام علاقوں کے لوگ شامل ہیں، انھی مؤثر دانش وروں نے لڑانے، نفرت کو بڑھاوا دینے اور تعمیر و ترقی کا راستہ روکنے میں وہ رویہ اختیار کیا، جس پر سوائے افسوس کے کیا کہا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فساد کی صورتِ حال میں وہ کوئی مؤثر قومی خدمت انجام نہ دے پائے۔

  • قومی تعمیر میں اساتذہ، بالخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کا کردار بڑا مرکزی ہوتاہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں یونی ورسٹی اساتذہ، قومی پالیسیوں کی تشکیل میں بہت قیمتی حصہ ڈالتے ہیں اور اس سے بڑھ کر وہ اپنے ہونہار شاگردوں کی صورت میں قوم کو ایسی ٹیم تیار کر کے دیتے ہیں، جو قدم قدم پر قوم کو رہنمائی دینے میں اہم حصہ ادا کرتی ہے۔مگر ہمارے اساتذہ کی اکثریت نے اپنے فرائض سے غفلت برتی۔ اسی لیے جب ہم اپنی اعلیٰ درس گاہوں کے احوال دیکھتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے۔ یہ درس گاہیں ڈگریوں کی افزائش میں تیز تر، لیکن اعلیٰ ذہن تخلیق کرنے میں سُست تر نظر آتی ہیں۔
  • چھٹی ذمہ داری سول ملازمین (بیوروکریسی) پر عائد ہوتی ہے، کہ ان میں بہت سے مؤثر ملازمین نے اقتدار پرست طبقوں کی ہوس پورا کرنے میں اُنھیں تحفظ دیا اور یوں قوم کو خوار کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ نوکر شاہی کے ان کارندوں نے فوجی اور سیاسی قیادت کو غیرقانونی افعال چھپانے کے گُر سکھائے۔ عوام سے غلاموں کا سا سلوک روا رکھا، اور زندگی کے معاملات مستعدی سے چلانے کے بجائے سُست روی کا رویہ اپنایا۔ یوں اپنے نوکر شاہانہ اقتدار کومستحکم کیا۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان چھے طبقوں کے نامناسب رویوں نے وہ صورتِ حال پیدا کردی ہے، جس سے ہم دن رات گزر رہے ہیں۔ اہلِ سیاست اور صاحب ِ اختیار گروہوں اور طبقوں کی نظر میں اگر کوئی سب سے زیادہ بے وزن چیز ہے تو وہ دستورِاسلامی جمہوریہ پاکستان اور پاکستانی عوام ہیں۔ انھیں اس چیز سے کچھ غرض نہیں کہ ان کی جنگ ِ اقتدار کے نتیجے میں ملک کا کتنا نقصان ہوتا ہے؟ انھیں کچھ فکر نہیں کہ ان کی ضد اور محض ہوس اقتدارکے نتیجے میں قوم کے مستقبل کی راہ میں کون کون سے ہمالہ کھڑے ہورہے ہیں؟ ہرگز نہیں! یہ تو بس یہ سمجھتے ہیں کہ ۲۳کروڑ عوام محض اُن کی غلامی کے لیے ان کو ورثے میں ملے ہوئے ہیں۔ انجامِ کار بدانتظامی، معاشی بے تدبیری ، قانونی شکنی اور نفرت آمیزی نے فساد کی آگ کو بھڑکا رکھا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اس طرح کی صورتِ حال میں پاکستان امن و سکون اور تعمیروترقی کا گہوارہ بن سکے۔ ذرا سوچیے تو!

انسان کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ ماہ و سال کا سفر اسے آخرت کا سبق بھی بھلا دیتا ہے، لیکن نہایت قریبی ساتھیوں، اور خاص طور پر لڑکپن کے زمانے سے ہمدرد اور ہمہ دم دوستوں کی رحلت، بڑی شدت سے آخرت کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔ برادرم محمدحاشرفاروقی کی جدائی (۱۱جنوری ۲۰۲۲ء) کے صدمے سے ابھی نہیں نکلا تھا کہ بھائی حسین خان کے انتقال کی خبر نے نڈھال کر دیا__ انا لِلّٰہِ  وانا الیہ رٰجعون

میری یادداشت کے سامنے وہ منظر تازہ ہوگیا کہ ۱۹۵۱ءمیں خالق دینا ہال میں مولانا مودودیؒ کی تقریر سننے کے بعد روشن چہرے اور پُرعزم جذبوں سے سرشار ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی، جو دل و جان سے جمعیت کے ساتھ وابستگی رکھنے اور دعوت کو سمجھنے کے لیے جوش و ولولہ لیے ہوئے تھا۔ اس نوجوان کا نام حسین خان تھا، جو حیدرآباد دکن سے ہجرت کرکے پچھلے ہی سال کراچی آئے تھے۔

چند ہی ملاقاتوں کے بعد میں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ نوجوان تعلیم میں بھی اچھے ہیں، مطالعے کا بھی بہترین ذوق رکھتے ہیں اور طلبہ سیاسیات کے رموز کو بھی بہت خوبی سے جانتے پہچانتے اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھ کر کام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ عبداللہ جعفر صدیقی بھائی نے ان کی تربیت پر حسب ِ ذوق خصوصی توجہ دی، یوں بہت جلد جمعیت کے رکن بنے اور کراچی جمعیت کےاہل الرائے رفقا میں شمار ہونے لگے۔

جب ۱۹۵۳ء سے ۱۹۵۵ء کے دوران میں ارکانِ جمعیت نے مجھے نظامت اعلیٰ کی ذمہ داری سونپی، تو میں نے حسین خان بھائی کو جمعیت کا مرکزی سیکرٹری (معتمدعمومی) مقرر کیا۔ انھوں نے بڑی دل جمعی کے ساتھ جمعیت کی تنظیم کو مضبوط بنانے اور مقامات سے رابطہ رکھنے اور اُمیدوارانِ رکنیت کی تربیت کانظام وضع کرنے کے لیے دن رات ایک کرکے اپنی بہترین صلاحیتیں لگادیں۔ اس طرح انھوں نے نظامت کی ذمہ داری میں شراکت کا حق ادا کیا۔

پھر میرے بعد اکتوبر ۱۹۵۵ء میں حسین خان اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے، اور اگلے سیشن کے لیے بھی ۱۹۵۶ء میں انھی کا انتخاب ہوا۔ لیکن انھوں نے جرأت مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے مرکزی شوریٰ کے سامنے یہ عرض داشت رکھی کہ مجھے نظامت ِاعلیٰ کی ذمہ داری سے فارغ کر دیا جائے، میں مشرقی پاکستان میں جاکر جمعیت کی دعوت و تنظیم کا کام کرنا چاہتا ہوں۔ دراصل انھوں نے ۱۹۵۶ء میں مشرقی پاکستان کے دورے کے دوران یہ دیکھا کہ تنگ نظر بنگلہ قوم پرستی اور سوشلسٹ تحریک کے بالمقابل، مختلف تعلیمی اداروں میں اُن کی تقاریر نے وہاں کے طلبہ پر اچھا نقش چھوڑا ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے گھربار کا آرام ترک کرنے اور تعلیم چھوڑ کر مشرقی پاکستان منتقلی کا فیصلہ کرکے شوریٰ کو اپنی رائے کی تائید پر قائل کرلیا۔ یوں مرکزی مجلس شوریٰ نے ان کی جگہ برادرم ابصار عالم کو ناظم اعلیٰ منتخب کرلیا اور یہ ڈھاکا چلے گئے۔

ڈھاکا پہنچ کر انھوںنے وہاں کے مقامی رفقا محمدعلی کو ناظم مشرقی پاکستان اور قربان علی کو معتمد صوبہ مقرر کرکے، ان کے ایک معاون کے طور پر کام شروع کر دیا، اور ترجیحی طور پر بنگلہ زبان سیکھنےپر توجہ دی۔ انھی کی تجویز پر ڈھاکا میں مستحق اور نادار طلبہ کے لیے ایک ہاسٹل قائم کیا گیا، جہاں سے جمعیت کو بڑے ہونہار کارکن ملے، جنھوں نے تحریک کے لیے شان دار خدمات انجام دیں۔

حسین خان کی ان روز و شب کی سرگرمیوں سے مشرقی پاکستان جمعیت کی جڑیں مضبوط ہوگئیں۔ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو ارکان نے لاہور میں سالانہ اجتماع کے دوران نظامت ِاعلیٰ کا انتخاب بھی عجیب صورت میں کیا۔ ۸؍اکتوبر کو پاکستان میں تو مارشل لا لگ گیا، مگر اپنے پروگرام کے مطابق ۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۳؍اکتوبر کے گیارھویں سالانہ اجتماع کے لیے کچھ ارکان لاہور پہنچ گئے۔ حالات کی سنگینی دیکھ کر، جمعیت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے حسین خان بھائی کو ناظم اعلیٰ منتخب کرلیا۔ ساتھ میں مارشل لا نے جمعیت پر پابندی عائد کردی، اور یہ پابندی کا دور جون ۱۹۶۲ء کو مارشل لا کے اختتام پر ختم ہوا، تب اکتوبر ۱۹۶۲ء کو شیخ محبوب علی جمعیت کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ یوں حسین خان نے ۱۹۵۸ء سے ۱۹۶۲ء تک پابندی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے بڑے کٹھن حالات میں یہ ذمہ داری ادا کی۔

عملی زندگی میں قدم رکھا تو انھوں نے چٹاگانگ کو اپنا مستقر بنایا۔ حسین خان بھائی کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کمیونسٹوں اور قوم پرستوں سے گریز کے بجائے، ان سے مکالمہ رکھنے، تعلقات بنانے، اپنی بات ان تک پہنچانے اور ان کی حکمت ِعملی کو سمجھ کر تحریک کے لیے راہیں کشادہ کرنے کی دُھن میں رہتے۔ اس لیے بلاشبہہ مشرقی پاکستان میں سب سے پہلے خواجہ محبوب الٰہی بھائی نے جمعیت کے کام کو آگے بڑھایا، لیکن اس کو مضبوط بنیادوں پر تناور درخت حسین بھائی نے بنایا۔

چٹاگانگ میں کاروں کی کمپنی کی ملازمت کے دوران بہت سے تحریکی رفقا کو ملازمتیں دلائیں اور چٹاگانگ میں تحریک کے کام پر اپنا گہرا نقش مرتسم کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ڈھاکا میں   خرم بھائی کی توجہ سے تحریک کے کارکنوں پر تربیت کا رنگ نمایاں تھا اور چٹاگانگ میں حسین بھائی کے ہاتھوں سیاسی اور اجتماعی اُمور میں آگے بڑھنے کا ذوق گہرا تھا۔ چٹاگانگ میں جماعت اسلامی کے فیصلے اور حسین خان بھائی کے ذوق کے مطابق انھیں مزدوروں میں کام کی ذمہ داری سونپی گئی، جہاں انھوں نے چٹاگانگ ریلوے میں کمیونسٹ مزدور یونین کو ۲۰برس بعد شکست سےدوچار کیا۔ بہرحال، ۱۹۶۵ء میں ٹوکیو یونی ورسٹی میں اکنامکس میں داخلہ لیا، اور پھر تادمِ آخر جاپان ہی کے ہوکر رہ گئے۔

جاپان میں ان سے قبل عبدالرحمٰن صدیقی صاحب اور عراق کے ڈاکٹر صالح مہدی سامرائی دعوتِ دین کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ یاد رہے صالح مہدی، زرعی کالج فیصل آباد میں زیرتعلیم تھے، اور یہیں سے میرے رابطے میں آئے،جنھیں مَیں عربی اور انگریزی میں مولانا محترم کی کتب بھیجتا رہا اور جب ’مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، جاپان‘ کی دعوت پر حسین بھائی ٹوکیو پہنچے، تو اب یہ قافلۂ راہِ حق تین ساتھیوں پر مشتمل ہوگیا۔

یہاں جاپان کے نومسلم حاجی عمرمیتا نے رسالہ دینیات کا جاپانی میں ترجمہ کیا، جو آج تک ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوچکا ہے۔ قبل ازیں قرآن کریم کے جاپانی زبان میں پانچ چھے غیرمستند ترجمے شائع ہورہے تھے۔حسین خان بھائی نے جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے صدر عبدالکریم سائتو اور حاجی عمرمیتا کے ساتھ مشورہ کیا کہ درست ترجمۂ قرآن شائع کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ہرہفتے اکٹھے ہوکر حسین بھائی، حاجی عمر مرحوم کو تفہیم القرآن سے جاپانی میں ترجمۂ قرآن کے لیے معاونت دیتے۔ یوں پانچ سال کی مسلسل کوشش کے بعد، فی الحقیقت مولانا مودودی کے ترجمۂ قرآن کو جاپانی میں رواں اور مستند ترجمۂ قرآن کا رُوپ دینے کا کارنامہ انجام دیا۔

گذشتہ کئی برسوں سے وہ کوشش کر رہے تھے کہ تفہیم القرآن کا جاپانی میں ترجمہ مکمل کرلیں۔ اس مقصد کے لیے جتنی پیش رفت ہوتی، اسے وہ شائع کر دیتے، مگر یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔

عزیزم سلیم منصور نے مجھے بتایا ہے کہ تین ماہ پہلے دسمبر میں حسین خان بھائی نے انھیں فون پر تاکید سے کہا کہ ’’پاکستان میں بی ایس، ایم اے، ایم ایس سی، ایم فل، پی ایچ ڈی اور ہائرایجوکیشن کے طلبہ و طالبات تک تفہیم القرآن پہنچانے کا بجٹ بتائیں اور ان تک پہنچانے کی اسکیم بنا کر بھیجیں‘‘۔ میں نے بتایا کہ یہ تعداد چار لاکھ نفوس تک ہے، اور اس مقصد کے لیے ڈھائی ارب روپے سے زیادہ اخراجات ہوں گے تو وہ کہنے لگے: ٹھیک ہے، مجھے متعلقہ پریس کی تفصیل بھیجیں کہ کہاں رقم بھجوائوں اور اس بجٹ میں جو رائلٹی بنتی ہے، سب سے پہلے وہ مولانا محترم کے بچوں کو دوں گا‘‘۔ انھیں کہا کہ ’’چین، ترکی یا بیروت سے کام ممکن ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان میں نہ تو کوئی پریس اتنا بڑا کام کرسکتا ہے اور نہ جلدبندی اور کاغذ کی فراہمی آسانی سے ممکن ہوگی‘‘ تو کہنے لگے: ’’میرے لیےان تینوں ملکوں میں معاملہ کرنا زیادہ آسان ہوگا‘‘۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ کام بڑا بھاری تھا، اور اس کے لیے نقشۂ کار اس سے بھی زیادہ کٹھن تھا۔ نتیجہ یہ کہ میں کچھ نہ کرسکا‘‘___ اس واقعے سے آپ ان کی لگن اور قرآن سےمحبت کا پیمانہ دیکھ سکتے ہیں۔

حسین خان، جاپان میں پاکستان کے عوامی سفیر تھے اور دعوتِ دین کے رہبر اور مسلم اُمہ کے مسائل و مشکلات کو پیش کرنے والے دلِ بے تاب۔ دسمبر ۱۹۶۸ء میں جب مَیں نے ماہ نامہ چراغِ راہ کراچی  سوشلزم نمبر شائع کیا تو اُس میں انھوں نے ایک علمی مقالہ ’سوشلزم اور معاشی ترقی‘ تحریر کیا۔ جسے مولانا مودودیؒ نے بہت مفید تحریر قرار دیا۔ وہ علمی کتب خریدنے، پڑھنے اور ان سے قیمتی نکات کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ آج اپنے مرحوم بھائی کو یاد کر رہا ہوں تو ۷۰برس کا سفر آنکھوں کے سامنے آگیا ہے۔ وہ ۲فروری ۱۹۳۳ء کو پیدا ہوئے اور ۱۹مارچ ۲۰۲۲ء کو زندگی کا سفر مکمل کرکے اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خطائوں کو معاف فرمائے اور صدقاتِ جاریہ میں برکت عطا فرمائے، آمین!

’ترقی کے تصور‘ کا بحران ایک اہم مسئلہ ہے، لیکن صرف یہی ایک پہلو نہیں ہے۔ اس بندگلی سے نکلنے کے لیے بنیادی راستہ یہ ہے کہ ترقی کے لیے روایتی مثالیے (Paradigm) کو تبدیل کیا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ اہم مسائل بھی ہیں، جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس موقعے پر ہم ان سے متعلقہ چنداُمور کی نشاندہی کریں گے:

            ۱-         حقیقی منصوبہ بندی اور دانش مندانہ اقتصادی پالیسی سازی کے لیے اگر ایک لازمی شرط مناسب تصوراتی ڈھانچے کی فراہمی اور پالیسی سازوں اور اقتصادی ماہرین کے درست ذہنی رویے (مائنڈسیٹ) ہیں۔ دوسری شرط کا تعلق قابلِ اعتماد اعداد و شمارکی فراہمی، فنی مہارت اور فیصلہ سازی کے مناسب نظام، پالیسی پرعمل درآمد، بروقت نگرانی کے بندوبست اور ناکامی، کوتاہی اور غلطی کے نتیجے میں درستی کے مؤثر عمل سے ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس سمت میں اس سب کے باوجود کوششیں ناکافی ہیں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ایک خودمختار اتھارٹی ہو، جسے اعلیٰ مہارت و دیانت کے حامل ماہرین چلائیں۔ یہ اتھارٹی اسمبلی کو براہِ راست جواب دہ ہو اور اس کی رپورٹیں اسمبلی میں باقاعدگی سے پیش ہوں جس طرح کہ اسٹیٹ بنک کی رپورٹیں پیش ہوتی ہیں۔

            ۲-         نئے ترقیاتی مثالیے کے لیے پلاننگ کمیشن کی تعمیرنو اور اصلاحی پروگرام ایک لازمی تقاضا ہے۔ منصوبہ بندی اور منصوبہ بندی کمیشن کا کردار واضح طور پر متعین ہونا چاہیے۔ اس کا تعلق معاشی اُمور میں ریاست کے کردار سے ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس حوالے سے بہت سا ابہام پایا جاتا ہے۔ ریاست کو مارکیٹ اکانومی کے متوازن بنانے میں فعال اور مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، بلکہ مارکیٹ کی ناکامی کے بارے میں بھی محتاط رہنا چاہیے اور اس بات پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ سماجی مقاصد پوری طرح سے بروئے کار لائے جارہے ہیں یا سماجی و معاشی زندگی کو روندا جارہا ہے؟ حکومت کی مداخلت واضح طور پر طے شدہ ضابطوں کے تحت ہونی چاہیے تاکہ یہ افسرشاہی کی بے جا مداخلت، سُست روی، رشوت ستانی اور سیاسی کھیل کا آلۂ کار نہ بن سکے۔ طریقِ کار شفاف ہونا چاہیے اور احتساب کے نظام کو پوری طرح مستحکم ہونا چاہیے۔

            ۳-         نظام کی ایک اور کمزوری کا تعلق معاشی پالیسی سازی کے لیے مختلف سطح پرتحقیق کی سہولت کا موجود نہ ہونا ہے۔ اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ آزادانہ تحقیق کو فروغ دیا جائے اور اس بات کا انتظام کیا جائے کہ اس تحقیق کے نتائج حکومت اور اس کی ایجنسیوں کو، تعلیمی، تحقیقی اور کاروباری اداروں کو آسانی سے دستیاب ہوں۔ کونسل آف اکنامکس ایڈوائزرز کے وفاقی اور صوبائی سطح پر قیام کے بارے میں بھی سوچا جانا چاہیے۔ یونی ورسٹیوں اور نجی سطح پر قائم تحقیقی اداروں کو بھی تحقیقات مصلحت بینی کے بغیر شائع کرنی چاہییں۔ پالیسی سازی کے معیار کی بہتری صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب ان اُمور کو اداراتی سطح پر انجام دیا جائے۔ پھر یہ بھی اہم ہے کہ بیرونی ماہرین پر انحصار کو کم کیا جائے اور پالیسی آپشن اور قدروقیمت کا اندازہ لگانے (evaluation) کے عمل میں اضافہ کیا جائے۔

            ۴-         ایک اہم مسئلہ فیصلہ سازی اور ترقیاتی عمل میں عوام کی شمولیت ہے۔ کچھ اقتصادی ماہرین کا مشورہ ہے کہ ترقیاتی اُمور تین سیکٹر میں باہمی تعاون کے ساتھ انجام دیے جانے چاہییں___ عوامی، نجی، اور عوام اور حکومت کے مابین سول سوسائٹی کے اداروں کی شراکت داری اور انتظام کے ذریعے۔ ایثارپیشہ سیکٹر ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسے ایک مناسب انداز میں ترقی، منصوبہ بندی اور انتظام و انصرام کے عمل سے مربوط کیا جاسکتا ہے۔ اس پہلو کو پوری طرح سے منظم اور مربوط کیا جائے۔

            ۵-         ایک بڑا پیچیدہ پہلو ریاست کے وفاقی کردار اور صوبائی اختیارات کے درمیان ابہام و اختلاف سے متعلق ہے۔ ترقی، منصوبہ بندی اور انتظامیہ اور ریاست کے مالیاتی ڈھانچے اور پالیسی سازی میں حد سے بڑھی مرکزیت (over- centralisation)پائی جاتی ہے۔ اس میدان میں تبدیلی کے لیے بنیادی فکر اور ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ بلاشبہہ یہ کام قومی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ اگر اس پہلو پر فوری طور پر توجہ نہ دی گئی تو اس کے ملک بالخصوص معیشت اور سیاسی اُمور پر سخت منفی اثرات مرتب ہوتے رہیں گے۔

            ۶-         عارضی (ایڈہاک ازم) اور قلیل مدت کے لیے منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے کلچر کا  مسلط رہنا بھی ایک چیلنج ہے۔ درمیانی مدت کی منصوبہ بندی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ملک زیادہ دیر تک اس طرزِعمل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

            ۷-         پاکستان کی ترقی کا مسئلہ شدید خسارے اور عدم توازن کے کچھ پہلوئوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ زراعت سے صنعت بشمول بھاری صنعت اور سروسز سیکٹر کی طرف ترقی کا سفر نشیب و فراز پر مبنی ہے۔ پاکستان کے سروسز سیکٹر میں توسیع نظر آتی ہے، لیکن یہ توسیع زراعت اورصنعتی سیکٹر میں متناسب توسیع اور معیار میں بہتری کے بغیر ہے۔ اشیا اور وسائل کے استعمال اور صَرف(consumption) کی اپنی حدود ہیں۔ اندرونِ ملک بچتوں (domestic savings) میں توسیع کے نتیجے میں لازماً سرمایہ کاری بڑھنی چاہیے،مگر اس میں شدید عدم توازن پایا جاتا ہے۔ پھر درآمد و برآمد میں عدم توازن کا مسئلہ بھی بُری طرح درپیش ہے۔ پائدار ترقی صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب پیداوار سیکٹر میں توسیع ہورہی ہو، پیداوار میں مسلسل اضافہ ہورہا ہو، ملکی بچت اور سرمایہ کاری پر زیادہ انحصار ہو، انفراسٹرکچر میں مناسب سرمایہ کاری کی جائے اور ملکی پیداوار کو بیرونِ ملک فروخت کیا جائے۔ پاکستان کی تجارت، ادائیگی میں عدم توازن، مالیاتی خسارہ، قرض کا بڑھتا ہوا بوجھ اور افراطِ زر کا دبائو، نظام میں شدید بگاڑ اور کمزوریوں اور خامیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔

            ۸-         سماجی شعبے کی ترقی، یعنی تعلیم، صحت، خوراک، مہارت کا فروغ اور انصاف کی فراہمی صحت مند اور پائدارترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ اسی قدر اہم ہے جیساکہ ترقی کی رفتار کی شرح اہم ہے۔ دراصل ان دونوں کے درمیان ایک باہمی تعلق پایا جاتا ہے اور یہ دونوں طرح سے کام کرتا ہے۔ معاشی ترقی، سماجی ترقی کے لیے وسائل فراہم کرتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ سماجی ترقی بھی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا بنیادی عنصر ہے۔ صحت، تعلیم، مہارت میں فروغ اور جدوجہد کے لیے سرگرم جذبہ ترقی کے فروغ کے لیے اہم عناصر ہیں۔ لہٰذا، نیامثالیہ جس کی سفارش کی جارہی ہے، یہ trickle-down ماڈل سے نمایاںفرق ظاہر کرتا ہے اور سماجی ترقی کو معاشی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مرکز بنا دیتا ہے۔

            ۹-         قومی خودانحصاری کا حصول اس بحث کا مرکزی پہلو ہے۔ خودانحصاری کا مطلب معاشی خودکفالت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کو بیرونی قوتوں اور بیرونی اداروں اور حکومتوں پرانحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کو اپنے قومی مقاصد اور اغراض کے پیش نظر اپنی ترجیحات اور پروگراموں کا تعین کرنا چاہیے۔ دوسروں پر انحصار کرنے کے مختلف پہلو ہیں جن میں فہم و دانش، سیاسی، اقتصادی، ٹکنالوجی اور ثقافتی پہلو شامل ہیں۔ یہ تمام پہلو آپس میں مربوط ہیں۔ عالم گیریت کا مطلب لازماً خودانحصاری کا نقصان یا نظریاتی اور ثقافتی تشخص سے محرومی نہیں ہے۔ یہ مکمل خودانحصاری کے ساتھ ایک ملک کا عالم گیریت کے اثرات سے مستفیدہونا اور اس کے مضر اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔ بیرونی سرمایے پر بہت زیادہ انحصار اور بڑےپیمانے پر بیرونی قرضوں کا حصول، خودانحصاری سے مطابقت نہیں رکھتا۔

                        پاکستان کے پاس ایک بہت اہم اثاثہ (resource) ہے، جسے قومی اقتصادی ترقی کے لیے پوری طرح سے استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ اثاثہ بیرونِ ملک موجود پاکستانی ماہرین، پاکستانی ذہانت (Intellect) اور جوہرِقابل ہے۔ اسی طرح بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلات (Remittences) ایک بہت قیمتی مالیاتی سرمایہ ہیں، جو بدقسمتی سے بڑی حد تک روزمرہ مصرف کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ حالانکہ ان کا ایک قابلِ ذکر حصہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہونا چاہیے، تاکہ بیرونِ ملک کام کرنے والوں اور ان کے خاندان کے لیے ایک مستقل آمدن کا ذریعہ بن سکے، اور ملک کی معاشی ترقی میں بیرونی قرض کی جگہ اپنے لوگوں کے وسائل استعمال ہوسکیں۔ ان خداداد اور قیمتی ذرائع سے مؤثر اور مفید انداز میں استفادے کے لیے مناسب حکمت عملی کی تیاری ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ایک تاریخ ساز موقع بھی۔

            ۱۰-       عوام کا معاشی اور سیاسی عمل میں شرکت ایک فیصلہ کن مسئلہ ہے، جسے ترقیاتی مساعی کے ایک لازمی حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اقتصادی ترقی، آزادی اور جمہوریت پوری طرح باہم مربوط ہیں۔ بھارتی نوبیل انعام یافتہ ماہرمعاشیات امریتاسین (Amartaya Sen) کا بنیادی کام اس ضمن میں بہت مناسبت رکھتا ہے۔ (دیکھیے: Development as Freedom، نیویارک، اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۹ء)

عوام کی شمولیت، آزادیِ اظہار ، اختلافِ رائے اور تنظیم اور پارلیمنٹ کی بالادستی ایک کامیاب ترقیاتی مثالیے کے بنیادی اجزا ہیں۔ عوام کی شرکت کا ایک اور اہم پہلو انھیں ترقیاتی عمل میں ایک حقیقی نگہدار (stakeholder) بناناہے۔ روزگار کی فراہمی، سیلف ایمپلائمنٹ کی تخلیق اور مفید روزگار کی فراہمی کے مواقع میں متواتر اضافہ، اس سکّے کا دوسرا رُخ ہے۔

پاکستان کی مستقبل کی معاشی ترقی کی حکمت عملی ان دس نکات کے تناظر میں بنائی جانی چاہیے۔ اس خواب کی تعبیر ایک نئے مثالیہ کی تشکیل اور اس کی ترویج کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس کے نتیجے میں قوم اس قابل ہوسکے گی کہ وہ اپنے ذرائع سے پوری طرح مستفید ہوسکے اور پاکستان جس مقصد کی تکمیل کے لیے قائم کیا گیا تھا، وہ پایۂ تکمیل کو پہنچ سکے۔

اقبال اور قائداعظم کا تصورِ معیشت

اس تناظر میں یہ مفید ہوگا کہ علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے تصورات کو ایک بار پھر تازہ کیا جائے۔اقبال کہتے ہیں:

چیست قرآں، خواجہ را پیغامِ مرگ
دست گیر بندۂ بے ساز و برگ

قرآن کیا کہتا ہے؟ یہ امیروں کے لیے، وہ امیر لوگ جنھوں نے دولت کو اپنا خدا بنا لیا ہے، موت کا پروانہ ہے۔ قرآن ان لوگوں کا مددگار ہے جو وسائل زندگی نہیں رکھتے۔ اس کا مشن غریبوں کو بلند کرنا اور ان کو طاقت ور بنانا ہے۔

کس نہ باشد درجہاں محتاج کس
نکتۂ شرع مبین ، این است و بس

اسلامی شریعت کا مقصد انسان کی دوسرے انسان پرمحتاجی کو ختم کرنا ہے۔ کسی کو دوسروں کا دست نگر نہ رہنا چاہیے۔ یہ وہ مقصد ہے جس کی تکمیل شریعت کے پیش نظر ہے۔

یہی وہ مشن تھا جس کی طرف علامہ اقبال نے قائداعظم محمدعلی جناح کو اپنے انتقال سے تقریباً ایک سال قبل خط میں متوجہ کیا۔ ۲۸مئی ۱۹۳۷ء کو انھوں نے اپنے اس خط میں قائداعظم کو لکھا:

ہمارے سیاسی اداروں نے عام مسلمانوں کی حالت بہتر بنانے اور ان کی فلاح و بہبود کی طرف کبھی غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ روٹی کا مسئلہ روز بروز نازک ہوتا جارہا ہے۔ مسلمانوں میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ گذشتہ دوسوسال سے وہ برابر تنزل کی طرف جارہے ہیں۔ عام مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا غربت کی وجہ ہندو کی سودخوری اور سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے۔ یہ احساس کہ غیرملکی حکومت بھی اس افلاس میں برابر کی حصہ دار ہے۔ ابھی پوری طرح ذہنوں میں نہیں اُبھرا، لیکن آخرکار ایسا ہو کر رہے گا۔ جواہر لال نہرو کی بے دین اشتراکیت مسلمانوں میں کبھی مقبول نہ ہوسکےگی۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی غربت کے اس مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے؟ مسلم لیگ کا سارا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا کوشش کرتی ہے؟ اگر اس امر میں مسلم لیگ نے کوئی اُمید نہ دلائی تو مجھے یقین ہے کہ مسلم عوام پہلے کی طرح اس سے بے تعلق رہیں گے۔ خوش قسمتی سے اسلامی قانون (شریعت) کے نفاذ سے اس مسئلے کا حل ہوسکتا ہے۔

اسلامی قانون کے طویل اور گہرے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس نظامِ قانون کو اچھی طرح سمجھ کر نافذ کیا جائے تو کم از کم ہرشخص کے لیے حقِ معاش محفوظ ہوجاتا ہے۔ لیکن جب تک اس ملک میں ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستیں معرض وجود میں نہیں آتیں، اسلامی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ سالہا سال سے یہی میرا عقیدہ رہا ہے اور اب بھی مجھے یقین ہے کہ مسلمانوں کی غربت اور روٹی کا مسئلہ اور ہند میں امن و امان کا قیام اسی سے حل ہوسکتا ہے۔ (اقبال اور قائداعظم ،مرتبہ: پروفیسر احمد سعید، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، ص۱۰۴-۱۰۵)

قائداعظم نے بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے تیسویں سالانہ اجلاس (۲۴؍اپریل ۱۹۴۳ء، دہلی) میں پاکستان کے پیش نظر اقتصادی امور کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر کہا:

میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو انتباہ کردینا چاہتا ہوں، جو ہمارا خون چُوس کر ایسے نظام کے تحت پلے بڑھے جو اس قدر خبیث اور اس قدر فاسد ہے، جو انھیں اس درجہ خودغرض بنادیتا ہے کہ ان کے ساتھ معقول بات کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عوام کا استحصال ان کی رگ و پے میں داخل ہوگیاہے، وہ اسلام کی بنیادی تعلیم کو فراموش کربیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کی حرص اور خودغرضی نے دوسروں کے مفادات کو اپنے تابع کرلیا ہے، تاکہ وہ موٹے ہوتے رہیں۔ یہ درست ہے کہ آج ہم اقتدار میں نہیں ہیں۔ آپ کہیں بھی دیہات کی طرف نکل جائیں۔ میں گائوں میں گیا ہوں۔ ہمارے لوگوں میں لاکھوں ایسے ہیں، جنھیں رات کو روٹی کھانا بھی نصیب نہیں ہے۔ کیا یہ تہذیب ہے؟ کیا پاکستان کا یہ مقصد ہے؟ کیا آپ یہ تصور کرسکتے ہیں کہ لاکھوں کا استحصال کیا گیا اور انھیں دن میں ایک بار بھی روٹی نہیں ملتی؟ اگر پاکستان کا تخیل یہ ہے تو میں ایسا پاکستان نہیں لوں گا۔ اگر ان میں عقل ہے تو انھیں خود کو زندگی کے نئے اور جدید حالات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھراللہ ہی ان کی مدد کرے تو کرے، ہم تو ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔ لہٰذا، ہمیں خود پر اعتماد ہونا چاہیے۔ ہمیں ڈگمگانا چاہیے اور نہ ہچکچانا، یہ ہماری منزل ہے، جسے ہمیں حاصل کرنا ہے۔(Speeches, Statements & Messages of The Quaid-e-Azam، جلد۲، مرتبہ: خورشیداحمد خاں یوسفی، بزمِ اقبال، لاہور)

قائداعظم نے قیامِ پاکستان کے بعدایک درجن سے زائد تقاریر میں سماجی انصاف کے حصول کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے اس قدر فکرمند تھےکہ  ۲۷ستمبر ۱۹۴۷ءکو ولیکا ٹیکسٹائل ملز کا سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے، انھوں نے صنعتی اور زرعی ترقی پر زور دیتے ہوئےواضح طور پر کہا:

اپنے ملک میں صنعت کاری کے ذریعے ہم اشیائے صرف کی فراہمی کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کم کرسکیں گے،لوگوں کو روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرسکیں گے اور مملکت کے وسائل میں بھی اضافہ کرسکیں گے۔ قدرت نے ہمیں صنعت و حرفت میں کام آنے والے بہت سے خام مال سے نوازا ہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اسے ملک اور عوام کے بہترین مفاد کے لیے استعمال کریں…مجھے یہ بھی اُمید ہے کہ آپ نے فیکٹری کا منصوبہ بناتے وقت کارکنوں کے لیے مناسب رہایش گاہوں اور دیگر سہولتوں کا بھی اہتمام کیا ہوگا کیونکہ مطمئن کارکنوں کے بغیر کوئی صنعت پنپ نہیں سکتی۔ (ایضاً، جلدچہارم، ص۲۶۲۲)

پاکستان کے اقتصادی مقاصد کے بارے میں ان کے وژن کا بڑا واضح اظہار، قوم سے ان کے آخری خطاب میں ہوتا ہے۔ یہی وہ موقع تھا، جب انھوں نے یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا۔ انھوں نے فرمایا:

حکومت پاکستان کی حکمت ِعملی یہ ہے کہ قیمتوں کو ایسی سطح پر مستحکم کردے جو تیار کنندہ اور صارف دونوں کے لیے منصفانہ ہو۔ مجھے اُمید ہے کہ اس اہم مسئلہ کو کامیابی کے ساتھ حل کرنے کے لیے آپ کی کوششیں اس پہلو کا لحاظ رکھیں گی۔

آپ کا تحقیقی شعبہ، بنکاری کے طور طریقوں کو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں جو کام کرے گا، میں اس کا دلچسپی کے ساتھ انتظار کروں گا۔ اس وقت مغربی اقتصادی نظام نے انسانوں کے لیے تقریباً ناقابلِ حل مسائل پیدا کردیے ہیں اور ہم میں سے اکثر کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی معجزہ ہی دُنیا کو اس بربادی سے بچاسکے، جس کا اسے اس وقت سامنا ہے۔ یہ افراد کے مابین انصاف کرنے اور بین الاقوامی سطح سے ناچاقی کو دُورکرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ اس کے برعکس گذشتہ نصف صدی میں دوعالمی جنگوں کی زیادہ تر ذمہ داری بھی اسی کے سر ہے۔ مغربی دنیا اس وقت اپنی میکانکی اور صنعتی اہلیت کے باوجود جس بدترین ابتری کی شکارہے، وہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہ ہوئی ہوگی۔ مغربی اقدار، نظریے اور طریقے خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا جس کی اساس انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچّے اسلامی تصور پر استوار ہو۔ اس طرح سے ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کرسکیں گے اور بنی نوع انسان تک پیغامِ امن پہنچا سکیں گے کہ صرف اسلام ہی اسے بچاسکتا ہے اور انسانیت کو فلاح و بہبود، مسّرت و شادمانی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ (The Civil & Military Gazette، ۲جولائی ۱۹۴۸ء، بحوالہ ایضاً، خورشیداحمد خاں یوسفی،بزمِ اقبال لاہور، جلدچہارم، ص ۲۷۸۵-۲۷۸۸)

دستورِ پاکستان کی دفعات

یہ اقتصادی تصورات اور تصورِ پاکستان، دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باب دوم میں درج ہیں اور پالیسی کے لیے اصول فراہم کرتے ہیں:

اسلامی طریق زندگی

دفعہ ۳۱  (۱) پاکستان کے مسلمانوںکو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انھیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جن کی مدد سے وہ قرآنِ پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔

(۲) پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی:

(الف) قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قراردینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لیے سہولت بہم پہنچانا، اورقرآنِ پاک کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا۔

(ب) اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینا، اور

(ج) زکوٰۃ، عشر ، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔

معاشرتی انصاف کا فروغ   اور معاشرتی بُرائیوں کا خاتمہ

دفعہ ۳۷، مملکت:(الف) پسماندہ طبقات یا علاقوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو خصوصی توجہ کے ساتھ فروغ دے گی۔

(ب) کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی اور مفت اور لازمی ثانوی تعلیم مہیا کرے گی۔

(ج) فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم کو عام طور پر ممکن الحصول اور اعلیٰ تعلیم کو لیاقت کی بنیاد پر سب کے لیے مساوی طور پر قابلِ دسترس بنائے گی۔

(د) سستے اور سہل الحصول انصاف کو یقینی بنائے گی۔

(ہ)منصفانہ اور نرم شرائط کار، اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے کہ بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے گا جو ان کی عمر یا جنس کے نامناسب ہوں، مقرر کرنے کے لیے، اور ملازم عورتوں کے لیے زچگی سے متعلق مراعات دینے کے لیے احکام وضع کرے گی۔

(و)مختلف علاقوں کے افراد کو تعلیم، تربیت، زرعی اور صنعتی ترقی اور دیگر طریقوں سے اس قابل بنائے گی کہ وہ ہرقسم کی قومی سرگرمیوں میں جن میں پاکستان میں ملازمت کی خدمت بھی شامل ہے، پورا پورا حصہ لے سکیں۔

عوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح و بہبود کا فروغ

دفعہ ۳۸، مملکت: (الف) عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بلند کرکے دولت اور وسائلِ پیداوار و تقسیم کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں اس طرح جمع ہونے سے روک کر کہ اس سے مفادِ عامہ کو نقصان پہنچے اور آجرو ماجور اور زمین دار اور مزارع کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلالحاظ جنس، ذات، مذہب یا نسل، عوام کی فلاح و بہود کے حصول کی کوشش کرے گی۔

(ب) تمام شہریوں کے لیے ملک میں دستیاب وسائل کے اندر معقول آرام و فرصت کے ساتھ کام اور مناسب روزی کی سہولتیں مہیا کرے گی۔

(ج) پاکستان کی ملازمت میں یا بصورتِ دیگر ملازم تمام اشخاص کو لازمی معاشرتی بیمہ کے ذریعے یا کسی اور طرح معاشرتی تحفظ مہیا کرے گی۔

(د) ان تمام شہریوں کے لیے جو کمزوری، بیماری یا بے روزگاری کے باعث مستقل یا عارضی طور پر اپنی روزی نہ کما سکتے ہوں، بلالحاظ جنس، ذات، مذہب یا نسل ، بنیادی ضروریاتِ زندگی مثلاً خوراک، لباس،رہایش، تعلیم اور طبّی امداد مہیا کرے گی۔

(د) ربا کو جتنی جلد ممکن ہو، ختم کرے گی۔

دستورِ پاکستان کے یہ واضح احکامات ہیں اور دستور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہرسال قومی اسمبلی کو بتایا جائے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے کیا پیش رفت ہوئی ہے اور کیا اقدامات اُٹھائے گئے ہیں؟ لیکن یہ وہ کام ہے جس کی حکومت کبھی فکر نہیں کرتی اور یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ پارلیمنٹ اس سلسلے میں مؤثر احتساب کے باب میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔

نئے مثالیـے کی تشکیل

یہاں پیش کی گئی سفارشات کی روشنی میں ہم اس بات کا مشورہ بھی دیں گے کہ نئے مثالیے میں درج ذیل باتوں کی طرف خاص طور پر توجہ مرکوز رکھی جائے:

            ۱-         قدرت نے انسان اور اس کے ماحول کو جو وسائل فراہم کیے ہیں، ان کی بہترین نشوونما کے ساتھ اُنھیں استعمال کیا جائے۔

            ۲-         ان کی اس طرح سے منصفانہ تقسیم اور استعمال ہو کہ تمام انسانی تعلقات کا فروغ اور تنظیم عدل اور احسان کی بنا پر ہو۔

            ۳-         متوازن اور پائدار ترقی، وسائل کے ضیاع اور غلط استعمال سے اجتناب، ظلم اور انسانوں کے استحصال کا خاتمہ کیا جائے۔ مالی اور قیمتوں میں استحکام کے ذریعے افراد کے درمیان، علاقوں کے درمیان، شعبہ جات کےدرمیان اور قومی سطح پر مساوات کا حصول ممکن بنایا جائے۔

            ۴-         خودانحصاری کے اعلیٰ مقام کا حصول بشمول اُمت کی اجتماعی خود انحصاری، حقیقی تکثیریت پر مبنی ایک عالمی نظام کا وژن، جس کے نتیجے میں تمام اقوام اور ثقافتوں کا مل جل کر رہنا ممکن ہو اور وہ ایک منصفانہ عالمی نظام میں باہمی مقابلے اور تعاون کے ساتھ رہ سکیں۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے ترقیاتی حکمت عملی کو درج ذیل اوصاف پر مشتمل ہونا چاہیے:

            ۵-         ترقیاتی حکمت عملی کو اخلاقی،روحانی اور مادی پہلوئوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔

            ۶-         ترقیاتی اہداف __ پیداوار میں اضافے کے لیے جدت و ندرت کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی سے کوشش اور اس بات کو پیش نظر رکھنا کہ اس سے تمام لوگوں کی ضروریات کی فراہمی اور بہتری یقینی ہو، اور ایک مضبوط، ترقی پذیر اورنشوونما پانے والی معیشت کا قیام عمل میں آئے۔

            ۷-         دُنیا میں اچھی زندگی کا حصول، آخرت میں ایک کامیاب زندگی کا وسیلہ ہونا چاہیے۔

            ۸-         محرک ___ اخلاقی محرکات مادی جزا و سزا کے ساتھ۔ ذاتی اصلاح سماجی و اخلاقی ذمہ داری اور جواب دہی کے ساتھ۔

            ۹-         اخلاقی فلٹر اور سماجی فلٹر کا نظام جو صَرف، پیداوار اور فیصلہ سازی کے تمام مراحل پر مارکیٹ کے نظام کو درست رکھنے کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کرے۔

            ۱۰-       فرد کی مرکزیت اور فلاح و بہبود کی حامل سوچ کارفرما ہونا، پیداوار اور صَرف کو مفید اور ثمرآور بنانا چاہیے۔ اجتماعی معاملات کا نظام ماحول دوست ہونا چاہیے۔

            ۱۱-       جائیداد بطورِ ٹرسٹ ___ نجی ملکیت کا حق اور منافع کا حصول، سماجی و اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ۔یہ ایک انقلابی تصور ہے، جو سرمایہ کاری کو سرمایہ پرستی سے محفوظ رکھتا ہے۔

            ۱۲-       مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل نو میں سود کا یقینی خاتمہ اور ارتکازِ دولت میں کمی۔

            ۱۳-انصاف کی فراہمی بشمول منصفانہ تنخواہ، آمدنی اور شراکت، رقم کی منتقلی اور مبنی بر عدل وراثت کی تقسیم۔

            ۱۴-حکومت کا مثبت اور بامقصد کردار۔

            ۱۵-معیشت اور اس سے متعلق اُمور کی اَزسرنو تشکیل، محض مالیاتی سیکٹر میں اصلاحات نہ ہوں۔

            ۱۶-       پاکستان کی خودانحصاری اور بحیثیت مجموعی اُمت کی خودانحصاری___ معاشی تعاون اور عالم گیریت کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے یک جہتی کا اظہار اور اس کے لیے مواقع کو استعمال کرنا۔

اُمید ہےکہ مندرجہ بالا اقدامات کی روشنی میں حکومت، تحقیقی اداروں اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے ایک نئی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے ایک سنجیدہ اور پائدار کوشش کی جائے گی تاکہ جس مقصدکے لیے یہ ملک قائم کیا گیا تھا، وہ پورا ہوسکے اور ہمارے عہد میں اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے لیے جدوجہد کو ایک نئی مہمیز دینے کا باعث بن سکے۔

پاکستان اپنی آزادی کے ۷۴ برس مکمل کرچکا ہے۔ اس موقعے پر اس کی معاشی کارکردگی کا جامع اور صحیح جائزہ و تجزیہ اور اس کی جانچ پڑتال انتہائی ضروری ہے۔

گذشتہ سات عشروں میں جو ترقیاتی منصوبے بنائے گئے، لگتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کھوچکے ہیں۔ دھندلے معاشی مستقبل میں وقتی راستے نکالنے، اور بظاہر ہوشیاری سے راستے نکالنے کی کوششوں کے باوجود امکان نہیں ہے کہ مزید ایسی پالیساں کامیابی سے ہم کنار ہوں۔ یہ اپنے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کے ساتھ پاکستانی معیشت کا مجموعی منظر نامہ ہے، جو قیامِ پاکستان کے مقاصد اور اس کے عوام کی ادھوری خواہشات کے تناظر میں تجزیے اور جائزے کا مستحق ہے۔ پے دَرپے اُلجھتے معاشی،انتظامی اور سیاسی تجربات کے نتیجے میں اُبھرنے والے ایک عظیم قومی خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دانش وروں اور آزاد تحقیقی اداروں کو چاہیے کہ ان معاشی کامیابیوں اور ناکامیوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر درپیش چیلنج کا جواب دیں اور پاکستانی عوام کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کےلیے متبادل حکمت عملی اور پالیسی کے امکانات کو واضح کریں۔

میں پچھلے سات عشروں میں معاشی کارکردگی کے بارے میں اپنے خیالات اور خدشات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، جو میری نظر میں چند مثبت کامیابیوں کے باوجود، لوگوں کی ضروریات، توقعات اور اُمنگوں سے بہت کم ہیں۔ سات دہائیوں کی ترقیاتی کوششوں اور بیرونی اور اندرونی بھاری قرضوں کو برداشت کرنے کے بعد، انصاف کے بغیر واضح طور پر متضاد رویوں پر کھڑے معاشی پالیسی سازی کے نظام کا خواب دیکھناایک بے کار حرکت ہے۔دولت، چندحلقوں میں مرتکز ہوگئی ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد وسیع پیمانے پر غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے محرومی اور بدحالی کا شکار ہے۔ ترقی کی جو حکمت عملیاں برسوں سے اپنائی گئیں، وہ بڑے پیمانے پر بیرونی صلاح کاری اور تجاویز اور عالمی مالیاتی اداروں کی حاکمانہ ہدایات پر مشتمل تھیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ اصل حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں بلکہ جمہور عوام کی اقدار اور اُمنگوں سے بھی یکسر متصادم تھیں۔ یہ بیش تر پالیسیاں جواز (legitimacy) اور اعتبار (credibility) دونوں سے خالی تھیں، اسی لیے بے ربط اور مسخ شدہ چلی آرہی ہیں۔ اکثر اوقات یہ پالیسیاں معمولی سیاسی فائدے حاصل کرنے کےلیے اور فوری یا مقامی اور غیر ملکی مفادات کو تحفظ دینے اور ان کے تقاضے پورے کرنے کےلیےاپنائی گئی تھیں۔

اگرچہ محضر توازن یا بیلنس شیٹ (balance sheet)کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں، جنھیں پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ لیکن اس بیلنس شیٹ کے کچھ بھیانک پہلو بھی ہیں جن پر بہ غور توجہ دیے بغیر بیلنس شیٹ متوازن نہیں رہے گی۔ اس بات پر بمشکل ہی کوئی اختلاف ہوگا کہ پاکستان کا مروج معاشی نظام اپنی حقیقی صلاحیتوں کو پورا نہیں کرسکا، جسے نرم سے نرم الفاظ میں اوسط درجے کا قرار دیا جاسکتا ہے،تاہم اس بناپر پاکستان کو ’ناکام ریاست‘ قرار دینا سخت مضحکہ خیز ہے، جیسا کہ ہمارے بعض کرم فرما اور نقاد مسلسل دُنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ بہرحال، اس نظام کو مارکیٹ اکانومی کے جادوئی منتر، لبرلائزیشن، ڈی ریگولیشن، نج کاری، بڑی صنعتوں کے استحکام کے نظریے اور عالم گیریت کی برکات کی وجہ سے کامیابی کی داستان کے طور پر پیش کرنا بھی غلط ہے۔؎۱

معاشی ترقی: تاریخی تناظر

پاکستان کی معاشی کارکردگی کو اس کے تاریخی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ متحدہ ہندستان کے مسلمانوں کا ۲۵ فی صد آبادی ہونے کے باوجود ملکی معیشت میں حصہ بمشکل پانچ سے آٹھ فی صد تھا۔ مسلم اکثریتی صوبوں، یعنی موجودہ پاکستان کی معیشت زیادہ تر زراعت پر منحصر تھی۔ کپاس کا ایک بڑا پیداآوری ملک ہونے کے باوجود، ۱۹۴۷ء میں پورے پاکستان میں صرف دو ٹیکسٹائل ملیں تھیں۔ سنہری ریشے (پٹ سن) کی صورت حال مشرقی پاکستان میں زیادہ قابل رحم تھی۔ پاکستان سنہری ریشہ پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں سے ایک تھا، حالانکہ آزادی کے موقعے پر اس میں سنہری ریشے کی کوئی ایک مِل(Mill) بھی نہیں تھی۔ ۱۹۴۷ء میں ہندستان کی صنعتی پیداوار میں اس خطے کاحصہ ناقابل یقین حد تک کم تھا، جوبمشکل ایک فی صد تھا۔ اس پس منظر میں سنگین ناکامیوں، ضائع ہونے والے مواقع، غلط ترجیحات اور منصفی کی اہم جہتوں کو ناقابل معافی حد تک نظر انداز کیے جانے کے باوجود، گذشتہ ۷۴ برسوں میں جو کچھ حاصل کیا گیا ہے، وہ اہم ہے۔ اگر مسلمان اپنا الگ وطن نہ بناتے تو جو کچھ حاصل کیا گیا ہے، یہ بھی حاصل نہ ہوتا۔ خود ہندستان نے ۱۹۴۷ءسے جو بھی معاشی ترقی کی ہے، وہ بھی ممکن نہ تھی، اگر یہ خطّہ دوبڑی قوموں کے درمیان خانہ جنگی (Civil war) کی حالت میں رہتا (اگرچہ دہلی کے حکمرانوں نے غاصبانہ طورپر مسئلہ کشمیر کھڑا کرکے اس پورے علاقے کو جنگی صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے)۔

پاکستان ان چند ترقی پذیر ممالک میں سے ایک ہے، جنھوں نے سات عشروں کے دوران اوسطاً ۵ فی صد کی شرح ترقی (growth rate)حاصل کی ہے۔ کچھ اہم معاشی ترقیاتی اشاریوں (indicators) پر نظر ڈالنے سے پیش رفت کا عمومی اندازہ ہوتا ہے۔ مجموعی ملکی پیداوار جو ۱۹۴۷ء میں صرف ۵۸ ؍ارب روپے تھی، ۲۰۲۱ء میں بڑھ کر تقریباً۴۶ہزار ۴سو ۶۴؍ ارب روپے ہو گئی ہے، یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں۔اوسط فی کس (per capita)سالانہ اضافہ ۲ فی صد سے زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں اس مدت کے دوران فی کس اوسط میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور جی ڈی پی (خالص قومی پیداوار) کے لحاظ سے اس کی ۴۴ویں بڑی معیشت ہے، جو قوتِ خرید کے برابری کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو دنیا کی ۲۸ویں بڑی معیشت بناتی ہے۔

تاہم، فی کس جی ڈی پی اور ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے حوالے سےاس کی پوزیشن واضح طور پر خراب ہے (بالترتیب ۲۰۳ ممالک میں ۱۶۴ واں اور ۱۹۰ ممالک میں ۱۴۷ واں نمبر)۔ سماجی شعبے میں ناکامی، وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ بنیادی طور پر گمراہ کن پالیسیوں کی وجہ سے ہے، جس کو عوام کی عدمِ شرکت اورعمومی احتساب کی عدمِ موجودگی نے بڑھاوا دیا ہے۔مزید برآں ورلڈبنک اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) جیسے عالمی سرمایہ دارانہ اداروں کی ہدایات پر ضرورت سے زیادہ انحصار رہا، جنھوں نے مغرب کےلیے بنے معاشی ترقی کے طریقوں کو تیسری دنیا کے ممالک پر چسپاں کرنے کی کوشش کی۔

معیشت کی بنیادی کمزوریوں اور ناکامیوں کا پتا پالیسی کی غلطیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ غلط ترجیحات، بیرونی آمرانہ پالیسیوں، بدانتظامی اور بدعنوانی کی وجہ سے معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ اشرافیہ ہی ہے جس نے عام آدمی کا حصہ غصب کرکے اپنی حد سے زیادہ منافع کمایا ۔ غربت کی سطح میں اتار چڑھاؤ آیا ہے جو اس وقت آبادی کے ۶ فی صد سے زیادہ ہے۔ البتہ مناسب زندگی گزارنے کی کم سے کم سہولتوں سے محروم لوگوں کی تعداد ۲۰فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح دولت کی تقسیم بھی دولت مندوں کے حق میں بڑھتی چلی جارہی ہے۔ غربت کے خاتمے میں ریاست کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ عالمی بنک کی ایک تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ غربت میں کمی لانے کےلیے زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے تقریباً ۲۸ فی صد پروگرام نجی سطح پر ہورہے ہیں، جن کی سالانہ لاگت تقریباً ۷۰ سے ۱۰۰؍ ارب روپے ہیں۔

مختلف اَدوار میں فوجی اور سول دونوں حکومتوں کی کچھ حقیقی لیکن بیش تر سطحی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے باوجود، معاشی بد حالی کی نوعیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی وجہ سنگین تصوراتی ابہامات ، معاشی حکمت عملیوں میں خامیاں، مسخ شدہ ترجیحات، سراسر نااہلی اور بدعنوانی تھی کہ معیشت ہموار نہ چل سکی اور بڑھوتری کی شرح برقرار نہ رہ سکی۔مزید برآں، معیشت کو وسائل کی بہت ہی غلط تقسیم سے زک پہنچی، جس کے نتیجے میں شدید عدم مساوات اور معاشی اور سماجی فوائد کے عدم توازن نے ملک کے مختلف خطوں کے درمیان منافرت، رقابت اور بے اعتمادی پیدا کی۔ پالیسی کی ان خامیوں اور کارکردگی میں ناکامیوں کی ذمہ داری ان تمام حکومتوں پر پوری پوری آتی ہے، جنھوں نے ان سات عشروں میں ملک پر حکمرانی کی ہے۔انصاف کو یقینی بنانے کےلیے سب کا مواخذہ ہونا چاہیے۔ بہر حال اندیشوں کے تمام اطراف کی نشان دہی ضروری ہے۔ ان اہم ترین اطراف کی جانب آنے سے قبل ضروری ہے کہ ۱۹۵۰ء کی دہائی سے جاری بحران اور الجھنوں سے متعلق سب سے بنیادی ایشو پر بات کی جائے۔ یہ ترقی کے تصور اور مطلوبہ معیشت کے وژن سے متعلق ہے۔

ترقی کا وژن: بنیادی اُمور

جن بیوروکریٹوں اور مقتدر جرنیلوں نے معاشی پالیسی کی تشکیل اور انتظام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور جن سیاست دانوں نےاس عمل میں حصہ لیا، ان کا زیادہ تر انحصار غیر ملکی مشوروں اور ان کے ساتھ آنے والے دباؤ پر تھا۔

 سیاست کے بانیوں کا ابتدائی وژن دھندلا گیا ، حتیٰ کہ غیر ملکی مشوروں اور عطیہ دینے والے اداروں کی ہدایات کی تعمیل میں انھیں پتا ہی نہ چلا کہ کدھر جانا ہے۔ سرمایہ دارانہ پیراڈائم (مثالیہ) پر مبنی ترقی کا ماڈل، جسے یورپ اور امریکا میں آزمایا گیا، خاص طور پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد ان کا ’مارشل پلان‘، ان کا ارفع معیار اور سکّہ رائج الوقت بن گیا۔ ہاروڈ ڈومر(Harrod-Domar) ماڈل اور اس کے متعلقات، جنھیں چینری(Chenery)، نرکسی (Nurkse)، آرتھر لیوس (Arthur Lewis)، کوزنیٹس(Kuznets)، روستو (Rostow) اور دیگر حضرات نے منظم کیا۔؎۲   ایک اہم نظریاتی سرچشمۂ فیض (inspiration)بن گیا ، جب کہ امدادی ایجنسیوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے تیار کردہ تجاویز، خاص طور پر ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف نے ترقیاتی حکمت عملیوں اور پالیسیوں کےلیے جو معیار اور ضابطے (parameters) مقرر کیے، انھی کو گذشتہ چھے عشروں سے مختلف حکومتیں اپناتی چلی آرہی ہیں ۔ کچھ کچے پکے تغیرات کے باوجودتقریباً تمام حکومتوں نے ترقی اور معاشی تبدیلی کے لیے سرمایہ داری کا تجویز کردہ راستہ ہی اختیار کیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سوشل ازم سے داغ دار نعرے بازی یا بیان بازی اور جنرل محمد ضیاء الحق کے دورِحکومت میں برائے نام اسلامی اقتصادی پالیسی بھی سرمایہ داری کے کردار کے اصل جوہر کو تبدیل نہ کرسکی۔

دوسرے خطوں کی طرح یہ ماڈل یہاں بھی ناکام ہورہا ہے۔ اسی لیے 'انسانی ضروریات کے لیے فکرمندی، 'غربت میں کمی، بڑے پیمانے پر معاشی استحکام اور اس طرح کی دیگر خصوصیات کا بظاہر اضافہ کیا گیا، لیکن اس کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔زمینی حقائق بہت کچھ بتا رہے ہیں۔پائدار اور جامع ترقی ایک سراب بنی ہوئی ہے،اور جو بھی ترقی ہوئی ہے، اس کے ساتھ سماجی تناؤ، بڑھتا ہوا اقتصادی فرق اور خلیج،زیادہ غیر ملکی انحصار، سیاسی خودمختاری کا خاتمہ، ماحولیاتی تباہی اور ثقافتی بحران میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نچلی سطح تک معاشی ترقیاتی فائدے پہنچانے کے جو خواب پیش نظر تھے، وہ سراب ثابت ہوئے ہیں۔اس کے بجائے وہی ممالک کامیاب ہوئے ہیں، جنھوں نے اپنی آزادانہ راہیں اختیار کیں، اور اس ماڈل کو اپنی بنیادی ضروریات اور حالات کے مطابق ڈھال لیا اور بیرونی دباؤ اور تجاویز کو آنکھیں بند کرکے قبول نہیں کیا۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک غیرمربوط سرمایہ داری کے راستے پر چل پڑا ہے۔ توازن کے ساتھ اس تجربے کا ایک ایمان دارانہ جائزہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ یہ ماڈل قومی خدمت اور قومی تعمیر کے امکانات روشن کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ اصل ضرورت اس مثالیے(Paradigm) کو علی الاطلاق تبدیل کرنے کی ہے ، اس کے اندر محض کچھ ترامیم سےکوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔آپ کسی خونخوار عفریت کے جسم پر انسانی ہمدردی کا نقاب نہیں چڑھا سکتے، اورنہ اس بلا سے کسی اچھے انسان کی طرح برتاؤ کی توقع کرسکتےہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام : چھے مہلک خامیاں

سرمایہ دارانہ ترقی کا پیراڈائم چھے مہلک خامیوں سے دوچار ہے، جنھیں لگی لپٹی بغیر سمجھنے کی ضرورت ہے:

  • سب سے پہلی خرابی یہ ہے کہ یہ معاشیات کو اخلاقیات، اخلاقی اقدار اور سماجی اور مساوی معیارات سے مکمل طور پر الگ کرتا ہے۔ انسان کی یہ تباہی دراصل سائنس اور اثباتیت (positivism)  کے نام پر ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صحیح اور غلط اور عدل اور ظلم کا تصور ترقی کی حرکیات کی زبان میں بےگانہ ہوگیا۔ 'معاشرتی ترقی کے بارے میں غور و فکر کرنا،اس کی شناخت اور اس کے بارے میں اخلاقی انتخاب (ethical choices) سے توجہ ، دوسرے تمام امور سے ہٹ کر جنون کے ساتھ مقدار اور قیمتوں(quantum and rates) کی بڑھوتری، سرمائے کی تشکیل، غیرملکی امداد اور وسائل کی تقسیم کی طرف منتقل ہوگئی۔اس کے نتیجے میں پورے عمل کو ایک قسم کی غیرانسانی شکل دے دی گئی۔جیسا کہ ڈینس گولیٹ (Denis Goulet)نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ترقی کا مطلب مطلق اقدار کو مادی بنانا اور ساختیاتی جبریت(structural determinism) کو تخلیق کرنا ہوگیا ہے۔؎۳ اس نقطۂ نظر کے کھوکھلے پن کا احساس تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔ ڈینس گولیٹ اس غیراقداری اور غیراخلاقی نقطۂ نظر سے مکمل طور پر نکلنے کی ضرورت پر اصرار کرتے ہیں:

زیادہ تر ترقیاتی پروگرام ثقافتی اقدار کو آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور انھیں محض ترقی کے ذرائع کے طور پر دیکھتے ہیں، یعنی ان اقدار کو اپنے ان مقاصد کے حصول میں معاون یا رکاوٹ سمجھتے ہیں جن کا اس اخلاقی نظام اور اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ترقی کو مجموعی اقتصادی ترقی، جدید اداروں کی تخلیق، اور صارفین کی خواہشات اور پیشہ ورانہ عزائم کے پھیلاؤ کے ساتھ موافق کرتے ہیں۔تاہم، بنیادی طور پر ان میں سے کوئی بھی ترقی نہیں ہے، بلکہ سماجی تبدیلیاں ہی بہتر طور پر حقیقی ترقی کے راستے ہموار کرسکتی ہیں۔ ترقی کے ایک بالکل مختلف تصور کی ضرورت ہے، جو قوموں کے متنوع اقدار ی نظام سے اخذ کیا گیا ہو۔ان اقدار اور معانی، وفاداریوں، اور طرزِ زندگی کے ان نیٹ ورکس سے ترقی کےمقاصد اور اس کے حصول کے لیے موزوں ترین ذرائع کو اخذ کرنا چاہیے۔

روایتی اقدار اکثر پنہاںحرکیات کا سہارا لیتی ہیں۔ انھیں ایسے طریقوں سے ترقیاتی تبدیلی لانے کے لیے متحرک کیا جا سکتا ہے، جو متعلقہ آبادیوں کی شناخت اور سالمیت کو کم سے کم نقصان پہنچائیں۔ صحیح ترقی کی بنیاد روایتی اور مقامی اقدار پر ہونی چاہیے کیونکہ بالآخر معاشی اور سماجی ترقی دونوں ہی ایک وسیع تر مقصد کے مطابق، انسانی ترقی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ تاہم، انسانی ترقی کا انحصار شناخت کے محفوظ احساس اور ثقافتی سالمیت کے علاوہ معانی کے اس نظام پر بھی ہے جس سے انسان جذباتی طور پر وفادار ہو سکتا ہے۔؎۴

  • سرمایہ دارانہ ترقی کے ماڈل کی دوسری بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ’معاشرے‘ کو ’معیشت‘ اور ’معیشت‘ کو ’مارکیٹ‘ کے ساتھ برابر کرتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کو ’معاشی جوش و خروش‘ '( ' economism)  کی فتح قرار دیا گیا ہے اور یہ ہمارے دور کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا میں معاشی اور سماجی بحران کی جڑ ہے۔ایک ڈچ ماہر اقتصادیات ڈیس گیپر(Des Gaper) نے اس تصور کا درج ذیل خلاصہ پیش کیا ہے:

’اکانومزم‘ ان خیالات کا نام ہے جن کے مطابق زندگی کی تفہیم، قیمت اور انتظام معاشی حساب سے کی جانی چاہیے، یا یوں کہہ لیں کہ معیشت ایک جداگانہ اور بنیادی نوعیت کا دائرہ ہے جس کواس کی اپنی آفاقی اور تکنیکی ضروریات کے مطابق چلانا چاہیے جہاں شرح نمو میں بڑھوتری ہی ترقی کا اصل جوہر ہے۔؎۵

اس نقطۂ نظر کا منطقی نتیجہ مارکیٹ کا تمام فیصلوں میں حتمی ثالت بننے اور فیصلہ کن قوت کی صورت میں نکلتا ہے، بالآخر وہ لوگ جن کے پاس قوتِ خرید (purchasing power) زیادہ ہوتی ہے، ان کا سکہ چلتا ہے اور تمام وسائل ان ہی کی طرف اکٹھے ہوتے ہیں۔ اشرافیہ، دراصل استحصالی اور غیر منصفانہ سوسائٹی کا فطری نتیجہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سرمایہ داری کے حامی بھی اب پوری انسانی حالت کے اس بالکل بدلی ہوئی شکل (metamorphosis) پر سراپا احتجاج ہیں۔ جارج سوروس (George Soros) اپنی کتاب On Globalization میں کہتے ہیں: ’’مارکیٹ کے طریقۂ کار پر حد سے زیادہ انحصار کرنا بہر صورت خطرناک ہے۔مارکیٹیں اس لیے تیار کی گئی ہیں کہ لوگوں کو رضامندی سے اشیا اور خدمات کے آزادانہ تبادلے کی سہولت فراہم کی جا سکے، لیکن وہ خود اس قابل نہیں ہیں کہ امن و امان جیسی اجتماعی ضروریات کی یا خود مارکیٹ میکانزم کی دیکھ بھال کر سکیں، نہ وہ عدل اجتماعی کو یقینی بنانے کی اہل ہیں۔ یہ مشترک ملکیت والی اشیا (public goods )صرف ایک سیاسی عمل کے ذریعے فراہم کی جاسکتی ہیں،لیکن معاشرہ صحیح اور غلط کی تمیز کے بغیر نہیں چل سکتا۔ جائز اور ناجائز کے اجتماعی فیصلے سیاست کے سپرد کیے گئے ہیں، جب کہ سیاست کی دنیا میں ایسے اجتماعی فیصلوں کا کوئی قوی اخلاقی ضابطہ وجودہی نہیں رکھتا‘‘۔؎۶

 ایک فرانسیسی ماہر اقتصادیات اگنیسی ساش (Ignacy Sachs)، اس تخفیف پسندانہ (reductionist) نقطۂ نظر کو چیلنج کرتے ہیں اور ترقی کے لیے زیادہ جامع اور انسانیت سے متصف نقطۂ نظر کی طرف ایک طاقتور استدعاکی تحریک دیتے ہیں۔معاشی بڑھوتری کے نظریات عام طور پر سرمایہ کاری سے پیداوار میں اضافے سے متعلق تخفیف پسند میکانکی پیراڈائم کواختیار کرتے ہیں۔ جہاں تک لفظ ’ترقی‘ کا تعلق ہے، اگر اسے نیچرل سائنس کےلیے اختیار کیا جائے تو یہ اس کی نامیاتی تشریح کے لیے پُر کشش ہوسکتا ہے۔ نامیاتی نشوونما مکمل طور پر جان دار کے جینیاتی کردار اور ماحولیاتی عوامل کے باہمی تعامل سے طے ہوتی ہے۔ یہ پیداوار (growth)، پختگی (maturation)،   گلنے سڑنے (decay) اور بکھرنے (decomposition) جیسے روایتی طریقے کو اختیار کرتاہے:

اس کے برعکس، سماجی و اقتصادی ترقی ایک کھلا تاریخی عمل ہے جس کا انحصار کم از کم جزوی طور پر انسانی تخیل، منصوبوں اور فیصلوں پر ہوتا ہے جو قدرتی ماحول کی مجبوریوں اور زندہ ماضی (تاریخ) کے بوجھ سے مشروط ہوتے ہیں۔ صرف ہماری انواع (species) اپنے مستقبل کو ایجاد کرنے اور اپنے ماحول کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں حقیقت پسندی اور ذمہ داری کے اصول کے مطابق رَدّ وبدل ہوتا ہے۔

اس طرح ترقی کو سماجی و اقتصادی ڈھانچے کی تبدیلی اور انتظام کے ایک دانستہ اور خو د اپنی رہنمائی کرنے والے عمل کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔جس کا مقصد تمام لوگوں کو باوقار ذریعۂ معاش کی فراہمی کے ذریعے مسلسل بہتری لا کر ایک مکمل اور باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنا ہے، چاہے مختلف ادوار میں مختلف معاشروں کی طرف سے ان اہداف کے لیے جو بھی ٹھوس اقدامات کیے گئے ہوں۔؎۷

یہ تخفیف پسندی (Reductionism)، معاشیات کے چند عظیم معماروں کے خیالات سے بھی مختلف ہے۔ الفریڈ مارشل (Alfred Marshall) معاشیات کو محض دولت کا مطالعہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس سے بڑھ کر وہ خود انسان کا مطالعہ سمجھتے ہیں۔ گالبریتھ (Galbraith) نے مارشل کا یہ اقتباس دُہرایا ہے: ’’ماہرمعاشیات کو بھی دوسروں کی طرح انسان کے حتمی مقاصد کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے‘‘۔؎۸

آر ایچ ٹانی (R.H. Tawny) نوحہ پڑھتے ہیں: ’’صنعت کار ان لوگوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جن کے لیے دولت حاصل کرنا چاہیے اور حصول دولت کے طریقوں میں ہی کھو جاتے ہیں‘‘۔؎۹

’معاشرے‘ کو ’معیشت‘ تک محدود کرنے اور معیشت کو صرف منڈی کا عمل بنانے کی یہ کوشش تمام فیصلہ سازی میں معاشی تحفظات کو فیصلہ کن عنصر بنادیتی ہے اور یہ سرمایہ دارانہ ماڈل کی سب سے مہلک خامی ہے۔

  • تیسری خامی یہ ہے کہ تبدیلی کے جعل ساز عمل (falsification) کا تعلق، ترقیاتی ماڈل کو اس کے تاریخی اور ثقافتی تناظر سے الگ کردیتا ہے۔ ترقی کو ایک تکنیکی مسئلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو معاشی پیرامیٹرز پر منحصر ہوتا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عالم گیر اعتبار کے حامل ہیں۔ اس فریم ورک میں ترقی سرمایے کی تشکیل، بچت اور سرمایہ کاری اور وسائل کی مؤثر تقسیم کا کام بن جاتی ہے۔ جن ممالک میں سرمائے کی کمی ہے، وہ بیرونی سرمایہ کاری اور بیرونی امداد حاصل کرکے اس کمی کو پورا کرتے ہیں۔ پیداوار کا حصول ہی معاشرے کا ہدف بن جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرے کی تبدیلی کا پورا عمل واقع ہوتا ہے۔ ترقی کا یہ عمل عالمی سرمایہ دارانہ عمل کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں مغربی طاقتیں بالا دستی حاصل کرتی ہیں۔
  • چوتھی خامی، بڑی کمزوری کا تعلق ادارہ جاتی عوامل کو تقریباً مکمل طور پر نظر انداز کرنے سے ہے، جو حقیقت میں معاشرے کی تبدیلی اور اس کے عمل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
  • پانچویں خامی، اس نقطۂ نظر کا مجموعی نتیجہ ہے کہ اس ماڈل میں ترقی، اپنے آپ میں ایک مطلوب بن جاتی ہے اور معاشرے کے فروغ کا ایسا ذریعہ نہیں بنتی جو معاشرے کے تمام افراد، قطع نظر نسل، رنگ، مذہب یا جنس کے، تمام لوگوں کے لیے انصاف کو یقینی بنائے۔ سرمایہ دارانہ ترقی کے ماڈل میں ’کارکردگی‘ کلیدی لفظ بن جاتاہے، ’انصاف‘ اور ’انسانی بھلائی‘ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ترقی اور فلاح کا رشتہ بلاواسطہ قائم نہیں ہوتا بلکہ بالواسطہ طور پر متوقع ہوتا ہے۔ اس طرح غربت میں کمی اور عوام کی فلاح و بہبود اوّلین مطلوب نہیں، بلکہ ضمنی نتیجہ کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں، جسے اصطلاح میں Trickle down کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماڈل میں  انسانی ترقی، غربت میں کمی اور روزگار پیدا کرنے کے نام پر، اصل توجہ جی ڈی پی اور اس کی شرح پیداوار پر ہے۔ لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور ڈی ریگولیشن صنعت کاری کی اس حکمت عملی کے اہم ستون ہیں۔
  • چھٹا، اور آخری نکتہ یہ ہے کہ یہ ماڈل کاروباری شخص، سرمایہ دار، سرمایہ کار کو کلیدی کردار تفویض کرتا ہے لیکن پھر بھی یہ اپنی فطرت میں اشرافیہ ہی رہتا ہے ۔ نجی شعبے کو اہم محرک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ریاست اور سول سوسائٹی کا کردار غیر اہم ہے۔ لوگوں کی شرکت اس نظام کے لیے اجنبی ہے۔

جمہوریت کے لیے تمام زبانی جمع خرچ کے باوجود، اس عمل میں سے عوام کا اخراج اور ان کی غیر موجودگی اس ماڈل کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔

سرمایہ دارانہ ماڈل کی یہ مہلک خامیاں تیسری دنیا کے لوگوں کو حقیقی ترقی اور فلاح و بہبود فراہم کرنے میں ناکامی کی جڑ ہیں، جو اپنی معاشی قسمت بدلنے کی لاحاصل کوششوں میں مصروف ہیں۔ مرکزی دھارے کے ماہرینِ اقتصادیات اور حکمت عملی ساز چاہے کچھ بھی بہانہ بنائیں، یہ احساس [مسلسل] بڑھتا جا رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ پیراڈائم کا ’دیوتا ناکام ہوچکا ہے‘۔نئے پیراڈائم کی تلاش اُفق پر امید کی حقیقی کرن ہے۔

عالمی ترقیاتی ادارے کی سفاکانہ پالیسیاں

پروفیسر ولیم ایسٹرلی (William Easterly) عالمی بنک کے سابق ماہر اقتصادیات نے اپنی کتاب The Elusive Quest for Growth میں عالمی ترقیاتی ادارے کا ایک ماہرانہ سروے کیا ہے۔ اس کے نتائج سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے مستحق ہیں:

۵۰برس پہلے، دوسری جنگ عظیم کے بعد، ہم ماہرین اقتصادیات نے وہ ذرائع دریافت کرنے کےلیے اپنی جرأت مندانہ جستجو کا آغاز کیا تھا کہ جن کی مدد سے منطقہ حارہ (tropics)کے غریب ممالک بھی یورپ اور شمالی امریکا کی طرح امیرممالک بن سکیں۔ ہمیں کئی دفعہ خیال ہوا کہ ہم کامیابی کی کلید کو پاگئے ۔ ہم نے جو قیمتی چیزیں پیش کیں ان میں غیر ملکی امداد سے لے کر مشینوں میں سرمایہ کاری تک، تعلیم کو فروغ دینے سے لے کر آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے تک، اصلاحات پر مشروط قرضے دینے سے لے کر قرضوں میں ریلیف کی مشروط فراہمی تک شامل تھیں مگر ہم نے ان میں سے کوئی بھی وعدہ وفا نہیں کیا ۔ جن غریب ممالک کا ہم نے مذکورہ نسخوں سے علاج کیا، حسب توقع وہ حقیقی ترقی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

جس خطے کی ترقی پر ہم نے سب سے زیادہ توجہ دی، وہ افریقا ہے جو مکمل طور پر ترقی کرنے میں ناکام رہا۔ لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ نے کچھ عرصے کے لیے ترقی کی، لیکن پھر ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کے عشروں میں یہ نمو تنزلی کی طرف بڑھ گئی۔ جنوبی ایشیا جو ماہرین اقتصادیات کی جانب سے گہری توجہ حاصل کر رہا ہے، بے ہنگم ترقی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے غریبوں کا بڑا حصہ جنوبی ایشیا میں ہے ۔ اور حال ہی میں مشرقی ایشیا کی، جس چمکتی کامیابی کا ہم نے بار بار جشن منایا، اس کی ترقی بھی گراوٹ کا شکار ہوگئی (جنوبی ایشیائی قوموں میں سے تمام تو نہیں، البتہ کچھ قومیں دوبارہ اُٹھ رہی ہیں)۔ منطقہ حارہ کا نسخہ ہم نے اس سے باہر کچھ سابق اشتراکی ممالک پر لاگو کرنے کی کوشش کی لیکن نتائج بہت مایوس کن نکلے۔؎ ۱۰

ولیم ایسٹرلی نے پچھلے چھے عشروں کے دوران اپنائی گئی ترقی کے راستوں سے بہت بنیادی انحراف تجویز کیا ہے ۔ وہ مفادِ عامہ پر مبنی نقطۂ نظر پر زور دیتا ہے۔ وہ جڑ سے حقیقی ترغیبات پر مبنی شرکت پر زور دیتا ہے، نہ کہ ڈیلیور کرنے میں ناکام ہونے پر اور پھر اُس کے اعادے پر۔

ورلڈ بنک کے ایک اور سابق سینئر ماہر اقتصادیات جان پرکنز (John Perkins) کی ایک دلچسپ اور آنکھیں کھول دینے والی کتاب آئی ہے ۔انڈونیشیا میں اپنے کچھ ساتھیوں کے کچھ واضح تبصروں پر غور کرتے ہوئے پرکنز نے Confessions of an Economic Hitman میں اعتراف کیا ہے:

امریکی خارجہ پالیسی اور اس کے کارپوریٹ مفادات کو فروغ دینے کے لیے ہم انڈونیشیا کی اکثریت کے لیے زندگی کو بہتر بنانے کی خواہش کے بجائے لالچ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ایک لفظ ذہن میں آیا: کرپٹو کریسی، مجھے یقین نہیں تھا کہ میں نے اسے پہلے سنا تھا یا ابھی ایجاد کیا ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ بالکل نئی اشرافیہ کی حقیقت واضح کرتا ہے جس نے کرۂ ارض پر حکمرانی کی کوشش کرنے کا خیال پال رکھا ہے۔ رابرٹ میکنامارا (McNamara)، فورڈ موٹر کمپنی کے صدر کے عہدے سے صدر کینیڈی اور جانسن کے ماتحت سیکرٹری دفاع کے عہدے پر چلے گئے تھے، اور اب دنیا کے سب سے طاقتور مالیاتی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ معیشت کی ترقی میں مدد کرنا صرف ان چند لوگوں کو اور بھی امیر بناتا ہے جو اہرام کے اوپر بیٹھے ہیں، جب کہ یہ نیچے والوں کے لیے سوائے نیچے کی طرف دھکیلنے کے کچھ نہیں کرتا۔ درحقیقت، سرمایہ داری کو فروغ دینے کا نتیجہ اکثر ایسے نظام کی صورت میں نکلتا ہے جو قرون وسطیٰ کے جاگیردارانہ معاشروں سے ملتا جلتا ہے۔؎ ۱۱

جان پرکنز نے ترقی پذیر دنیا میں میگا پراجیکٹس کی حقیقی حرکیات کو سامنے لاکر سعودی عرب میں امریکا کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:

امریکی فرموں کو زیادہ سے زیادہ ادائیگیاں کرنے سے سعودی عرب کے امریکا پر زیادہ سے زیادہ انحصار کی راہ ہموار ہو رہی ہے ۔ بہت جلد واضح ہوگیا کہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں۔ تقریباً تمام نئے منصوبوں میں پیش رفت اور ان کی دیکھ بھال کے لیے سعودیوں کو امریکا کی ضرورت ہوگی۔ یہ منصوبے اس قدر اعلیٰ تکنیکی ہیں کہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جن کمپنیوں نے انھیں تیار کیا ہے، صرف وہ ہی ان کو برقرار رکھنے اور جدید بنانے کی اہل اور ذمہ دار ہوں گی…ہر پراجیکٹ کے لیے جن دوفہرستوں کا میں نے تصور کیا: ایک ڈیزائن اور تعمیراتی معاہدوں کی، جن کی ہم توقع کرسکتے ہیں، اور دوسری طویل المدت سروس اور انتظامی معاہدوں کی فہرست۔ ان منصوبوں سے بہت سے امریکی انجینئر اور ٹھیکیدار آنے والے عشروں تک خوب فائدہ اُٹھائیں گے۔؎ ۱۲

پرکنز اس احساس جرم کی وجہ سے ہر وقت پریشان رہتا ہے۔وہ مستقبل کے بارے میں مایوسی کا شکار نہیں ہے بلکہ اس کی فکر وہ روایتی حکمت ہے جس کے ہم سب غلام بن چکے ہیں:

میں یہ بہت تفصیل سے بیان کرسکتا ہوں کہ آج ہمیں جو مسائل درپیش ہیں، وہ انھی بدخواہ اداروں کا نتیجہ نہیں ۔ نیز یہ اقتصادی ترقی کے بارے میں غلط تصورات سے وجود پذیر ہوئے ہیں۔ قصور خود اداروں میں نہیں ہے، بلکہ ان کے کام کرنے کے انداز اور ایک دوسرے کے ساتھ تعامل اور اس عمل میں ان کے منتظمین کے کردار کے بارے میں ہمارے تصورات میں ہے۔؎ ۱۳

اس کے باوجود وہ پُرامید اور پُراعتماد ہے کہ دنیا، تمام انسانوں کی مدد کر سکتی ہے مگر صرف اسی صورت میں جب ہم پیراڈائم تبدیل کریں اور اسے حقیقت میں بدلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ ایک نیا خواب ہوگا جو دُنیا کے استحکام اور سماجی طورپر مساوات کے اصولوں پر مبنی ہوگا۔

نوبیل انعام یافتہ جوزف اسٹگلٹز(Joseph Stiglitz)، جو بطورچیف اکنامسٹ اور ورلڈ بنک کے نائب صدر کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اپنی اہم تصنیف Globalization and Its Discontents میں اس موضوع پر عالمی مالیاتی اداروں میں پالیسی سازی کی اندرونی کہانی کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

آئی ایم ایف کی پالیسیاں، جزوی طور پر اس مضحکہ خیز مفروضے پر مبنی ہیں کہ مارکیٹیں، خود سے، مؤثر نتائج کا باعث بنتی ہیں لیکن آئی ایم ایف مارکیٹ کے اقدامات میں مطلوبہ حکومتی مداخلت کی اجازت دینے میں ناکام رہا حالانکہ یہ مداخلت اقتصادی ترقی کی رہنمائی کر سکتی تھی اور ہر ایک کو بہتر بنا سکتی تھی۔

فیصلے جس بنیاد پر کیے گئے، وہ نظریے اور خراب معاشیات کا ایک دلچسپ امتزاج نظر آتا تھا۔ یہ نظریاتی واہمہ کبھی کبھی خاص مفادات پر پردہ ڈالتا نظر آتا ہے۔ جب کسی ملک پر بحران آتا ہے، آئی ایم ایف ان ممالک کے لوگوں پر اپنی پالیسیوں کے اثرات پر غور کیے بغیر، پرانے، نامناسب [مگر بزعمِ خویش] 'معیاری حل تجویز کردیتا ہے۔ میں نے شاذ و نادر ہی اس بارے میں سنا ہے کہ پالیسیاں غربت کے لیے کیا کریں گی؟ شاذ و نادر ہی متبادل پالیسیوں کے نتائج کے بارے میں غور کیا گیا ہو یا ان پالیسیوں کا تجزیہ کیا گیا ہو۔ ہر بیماری کے لیے ایک ہی نسخہ تھا۔ کسی سے متبادل رائے نہیں مانگی گئی۔ آئیڈیالوجی گائیڈڈ پالیسی کا نسخہ تھماکر ممالک سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بغیر بحث کے آئی ایم ایف کے رہنما اصولوں پر عمل کریں۔ ان اصولوں نے اکثر خراب نتائج پیدا کیے کیوں کہ وہ اصول جمہوریت مخالف تھے۔

آئی ایم ایف کی ساختیاتی ایڈجسٹمنٹ کی پالیسیاں، وہ پالیسیاں جو کسی ملک کو بحرانوں  سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ مزید مستقل عدم توازن کو ایڈجسٹ کرنے میں مدد کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں، اُن کی وجہ سے بہت سے ممالک میں بھوک بڑھی اور فسادات ہوئے اور اگر ایک قلیل مدت کےلیے کوئی ملک ترقی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگیا، تب بھی اکثر فوائد غیرمتناسب طور پر امیروں ہی کو ملے ۔ نچلے طبقے کو کبھی اس سے بھی زیادہ غربت کا سامنا کرنا پڑا۔؎ ۱۴

مغرب کا دہرا معیار اور خود غرضی

جوزف اسٹگلٹز کے بین الاقوامی ’معاشی کھلاڑیوں‘ پر الزامات بہت سخت ہیں، لیکن سچی بات کی ہے:

عالم گیریت کے ناقدین بجاطور پر مغربی ممالک پر منافقت کا الزام لگاتے ہیں۔ مغربی ممالک نے تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے غریب ممالک کو تو مجبور کیا ہے، لیکن اپنے ہاں رکاوٹیں برقرار رکھی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنی زرعی مصنوعات برآمد کرنے سے روکتے ہیں اور اس لیے انھیں برآمدی آمدنی کی اشد ضرورت سے محروم کردیتے ہیں۔ بلاشبہہ ریاست ہائے متحدہ امریکا اہم مجرموں میں سے ایک بڑے مجرم کے طور پر چلاآرہا ہے، اور یہ ایک ایسا گمبھیر مسئلہ تھا جس کے بارے میں مَیں شدت سے محسوس کرتا ہوں۔ جب میں اقتصادی مشیروں کی کونسل کا چیئرمین تھا، تو میں نے اس منافقت کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ اس سے نہ صرف ترقی پذیر ممالک کو نقصان پہنچا ہے بلکہ اس سے امریکیوں کو بھی نقصان ہوا۔ صارفین کے طور پر، انھوں نے زیادہ قیمتیں ادا کیں، اور ٹیکس دہندگان کے طور پر، بھاری سبسڈی، اربوں ڈالر کی مالی اعانت کے لیے بھی خرچ کرنا پڑا۔ میری جدوجہد اکثر ناکام رہی۔ خصوصی تجارتی اور مالی مفادات غالب رہے۔

مغرب نے گلوبلائزیشن کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ ترقی پذیر دنیا کی قیمت پر فوائد کا غیر متناسب حصہ حاصل کرلے۔ یہ صرف اتنا ہی نہیں تھا کہ زیادہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے ترقی پذیر ممالک کے سامان کے لیے اپنی منڈیوں کو کھولنے سے انکار کر دیا۔ مثال کے طور پر، ٹیکسٹائل سے چینی تک بہت سی اشیا پر اپنا کوٹہ برقرار رکھا، جب کہ ان ممالک نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ اپنی منڈیوں کو ترقی پذیر ممالک کے لیے کھول دیں۔ دولت مند ممالک کے سامان؛  یہ صرف اتنا ہی نہیں تھا کہ ترقی پذیر ممالک نے زراعت پر ریاستی رعایت (سبسڈی) جاری رکھی، جس سے ترقی پذیر ممالک کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا، جب کہ ترقی پذیر ممالک صنعتی سامان پر اپنی سبسڈی ختم کرنے پر اصرار کرتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے کچھ کو درحقیقت بدتر بنا دیا گیا۔

مغربی بنکوں کو لاطینی امریکا اور ایشیا میں کیپٹل مارکیٹ کے نظام کے ڈھیلے ہونے سے فائدہ ہوا، لیکن ان خطوں کو اس وقت نقصان اٹھانا پڑا، جب قیاس آرائی پر مبنی بڑے پیمانے پر رقم (hot money)کی آمد ہوئی (وہ رقم جو کسی ملک کے اندر اور باہر آتی ہے، اکثر راتوں رات، اکثر اس بات پر شرط لگانے سے کچھ زیادہ ہوتی ہے کہ کرنسی ہے یا نہیں)۔ یہ کثیر سرمایہ جن ممالک میں ڈالا گیا تھا اچانک پلٹ گیا۔ پیسے کے اچانک اخراج نے کرنسیوں کو تباہ کردیا اور بنکنگ نظام کو کمزور کر دیا۔ اپنے قیام کے نصف صدی بعد یہ واضح ہے کہ آئی ایم ایف اپنے مشن میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس نے وہ نہیں کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا___ معاشی بدحالی کا سامنا کرنے والے ممالک کے لیے فنڈز فراہم کرنا، ملک کو اس قابل بنانے کے لیے فنڈز کی فراہمی کہ وہ مکمل روزگار کے قریب پہنچ سکے اور اس کو مالی بحران سے نکالنا۔ لیکن ایک بار جب کوئی ملک بحران کا شکار ہوگیا تو آئی ایم ایف کے فنڈز اور پروگرام نہ صرف اس کو مستحکم کرنے میں ناکام رہے، بلکہ صورتِ حال یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں حقیقت میں معاملات کو مزید خراب کردیا، خاص کر غریبوں کے لیے۔

جوزف اسٹیگلٹز کی جانب سے نج کاری کی پوری پالیسی اور اسے فروغ دینے کے لیے کی جانے والی زبردستی کی حکمت عملیوں پر کھلی تنقید بھی قابل غور ہے اور اس پر غور کیا جانا چاہیے:

بدقسمتی سے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے نج کاری کے مسئلے کو تنگ نظری سے دیکھا ہے۔ اس کی کوشش تھی کہ نج کاری کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہیے … آئی ایم ایف نے صرف یہ سمجھا کہ مارکیٹیں ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے پیدا ہوتی ہیں، جب کہ حقیقت میں، بہت سے حکومتی سرگرمیاں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ مارکیٹیں ضروری خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ نج کاری صرف صارفین کی قیمت پر نہیں بلکہ کارکنوں کی قیمت پر بھی آئی ہے… نج کاری اکثر نوکریاں پیدا کرنے کی بجائے موجود نوکریوں کو بھی تباہ کر دیتی ہے‘‘۔

اندھی نج کاری کے مزید دو پہلو قابل توجہ ہیں:

اس کے برعکس نج کاری نے معاملات کو اتنا بگاڑ دیا ہے کہ آج بہت سے ممالک میں نج کاری کو طنزیہ ’رشوت‘ کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی حکومت بدعنوان ہو تو اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ نج کاری سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ آخر کار جس بدعنوان حکومت نے فرم کو بدانتظامی سے چلایا، وہی نج کاری کی باگیں بھی سنبھالے گی۔ بیش تر ممالک میں یکے بعد دیگرے سرکاری حکام نے یہ یقین کرلیا ہے کہ نج کاری کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اب سالانہ منافع کی پستی (skimming )تک محدود رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی سرکاری ادارے کو مارکیٹ کی قیمت سے کم قیمت پر بیچ کر وہ اپنے لیے اثاثہ کی قیمت کا ایک اہم حصہ حاصل کر تے ہیں، بجائے اس کے کہ اسے بعد کے آفس ہولڈرز کے لیے چھوڑ دیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ دھاندلی زدہ نج کاری کے عمل کو اس لیے تیار کیا گیا تھا کہ اس سے حکومتی وزرا زیادہ رقم اپنے لیے مخصوص کریں، وہ رقم نہیں جو حکومت کے خزانے میں جمع ہوگی، معیشت کی مجموعی کارکردگی کی کوئی پروا کیے بغیر۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ روس کس طرح ہرصورت میں اس تباہ کن نج کاری کے نقصانات کا خصوصی مطالعہ پیش کرتا ہے‘‘۔

ڈونرز یا امداد دینے والوں نے کس طرح مغربی سخاوت حاصل کرنے والوں کے ہاتھ مروڑ دیے ہیں، اسٹیگلٹز کی جانب سے صرف دو مثالیں پیش خدمت ہیں:

شاید زیادہ تشویش کا باعث حکومتوں کا کردار رہا ہے، بشمول امریکی حکومت کے، جنھوں نے اقوام عالم کو ان معاہدوں پر عمل کرنے پر مجبور کیا، جو ترقی پذیر ممالک کے لیے انتہائی غیر منصفانہ تھے ، جس پر وہاں کی بدعنوان حکومتوں نے دستخط بھی کیے ۔ ایسے غیرمنصفانہ معاہدوں کی ایک طویل تاریخ ہے، جن کو نافذ کرنے کے لیے مغربی حکومتوں نے اپنی طاقت کا استعمال کیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے خلاف براہ راست جائز شکایات کی فہرست میں اور بھی بہت کچھ ہے۔ ایسی سرمایہ کاری اکثر صرف حکومت کی طرف سے حاصل کردہ خصوصی استحقاق کی وجہ سے پھلتی پھولتی ہے۔ اگرچہ معیاری معاشیات ان مراعات پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جو اس طرح کے استحقاق کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ گھناؤنا پہلویہ ہے کہ اس قسم کی بیشتر مراعات سرکاری افسران کی رشوت ستانی اور بد عنوانی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری صرف جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی قیمت پر آتی ہے۔ یہ خاص طور پر کان کنی، تیل اور دیگر قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری کے لیے درست ہے، جہاں غیر ملکیوں کو کم قیمتوں پر رعایتیں حاصل کرنے کی حقیقی ترغیب حاصل ہوتی ہے۔

اس تلخ کہانی کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ حالات تبھی بدل سکتے ہیں، جب بہت ہی بنیادی چیزوں میں تبدیلی لائی جائے۔ اس سلسلے میں اسٹیگلٹز کی اپنی تجاویز ایک نیا پیراڈائم (مثالیہ) بنانے سے متعلق ہیں:

یہ واضح ہے کہ اصلاحات کی ایک کثیر الجہتی حکمت عملی ہونی چاہیے۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنی فلاح و بہبود کی ذمہ داری خود لینی چاہیے۔ وہ اپنے بجٹ کا انتظام کرسکتے ہیں۔ اگرچہ یہ اپنےکم وسائل کے اندر رہ کر حفاظتی رکاوٹوں کو ختم کرکے صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔

انھیں بین الاقوامی برادری سے صرف اتنا ہی پوچھنا چاہیے کہ ان کے حق ضرورت اور انتخاب کو قبول کریں جس میں ان کے سیاسی فیصلوں کی عکاسی ہوتی ہو۔ مثال کے طور پریہ کہ کس کو کیا رسک لینا چاہیے؟ دیوالیہ پن کے قوانین اور ریگولیٹری ڈھانچے کو اپنے حالات کے مطابق بنانے اور ترقی یافتہ ممالک کے تیار کردہ سانچوں (Templates) کو قبول نہ کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ پائیدار، منصفانہ اور جمہوری ترقی کے لیے پالیسیاں ہیں۔ یہی ترقی کا راز ہے۔ترقی کا مطلب معاشروں کو تبدیل کرنا ، غریبوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے، جس سے ہرایک کو کامیابی، صحت کی سہولت اور تعلیم تک رسائی کا موقع ملے۔

چند لوگوں کی تحکمانہ پالیسیوں کا اتباع کرنے سے مذکورہ ترقی ممکن نہیں ہے۔ جمہوری فیصلے یقینی بنانے کا مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی پذیر ممالک ماہرین اقتصادیات، سرکاری افسران اور دیگر ماہرین کی ایک وسیع کھیپ کو اس بحث میں شامل کیا جائے۔ نیز اس کایہ مطلب بھی ہے کہ ان لوگوں کی شرکت اس قدر وسیع ہونا چاہیے، جو ماہرین اور سیاست دانوں سے بالاتر ہو۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود سنبھال لینی چاہیے۔ لیکن مغرب میں ہم اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔

پاکستان میں ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے، وہ ترقی کے اس ’پیراڈائم‘ (مثالیے)کا براہِ راست نتیجہ ہیں، جس کی ملک کی مختلف قیادتوں نے اپنی من مانی سے پیروی کی ہے۔ چند مثبت پہلوئوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن جب ہم اٹھائے جانے والے اخراجات، پیدا ہونے والی خرابیوں، ضائع ہونے والے مواقع اور لوگوں اور معاشرے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو بگاڑ اور معاشی تباہ کاریوں کے جلو میں ان کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔(جاری)

_______________

حواشی اور حوالہ جات

  1.  Pervez Hasan, Pakistan’s Economy at the Crossroads: Past Policies and Present Imperatives, Karachi, Oxford University Press, 1998.; Charles H. Kennedy and Cynthuia A. Botteron (eds), Pakistan 2005, Karachi, Oxford University Press, 2006.; Ishrat Hussain, Pakistan: The Economy of an Elitist State, Karachi, Oxford University Press, 1999. ; Shahrukh Rafi Khan (ed), 50Years of Pakistan’s Economy:Traditional Topics and Contemporary Concern, Karachi: Oxford University Press, 1999.  S. Akber Zaidi, Issues in Pakistani Economy, Second Edition, Karachi: Oxford University Press 2005.; Khalid Rahman and Abdullah Adnan, Special Issue Pakistan: Society and State The Muslim World, Hartford, Connecticut, Vol. 96, No. 2, April 2006.; Reports and Studies  of Pakistan  Institute of Development Economics, Islamabad and Social Policy and Development Centre, Karachi.

  2.  Hollis B. Chenery, Mon- tela S. Ahluwalia, C.L.G. Bell and Richard Jolly, Redistribution with Growth, London, Oxford University Press, 1974. ; Ragnar Nurkse, Problems of Capital Formation in Underdeveloped Countries, New York, Oxford University Press, 1953; W.W. Rostow, Stages of Economic Growth, Cambridge, Cambridge University Press, 1971. ; Simon Kuznets ‘Economic Growth and Income Inequality’ The American Economic Review, Vol. 45: 1 (1955)  W. Arthur Lewis, The Theory of Economic Growth, London, Unwin Press, 1955.

  3.  Denis Goulet, Development Ethics: A Guide to Theory and Practice, London, Zed Books, 1995, p 20.

4.    ibid, p. 141

  5.  Des Gasper, The Ethics of Development: From Economism to Human Development, New Delhi, Vistaar Publication, 2004, p xiii.

6.    George Soros, On Globalisation, New York, Public Affairs, 2002, p. 6-7.

 7.   Ignacy Sachs, Understanding Development: People, Markets and States in Mixed Economies, New Delhi, Oxford University Press, 2000, pp. 54-55.

  8.  John Kenneth Galbarith, The Affluent Society, Boston, Houghton Miffin Co. 1958.

  9.  R. H. Tawny, The Acquisitive Society, quoted in John Bartlett, Familiar Quotations, 15th edition, Boston, Little, Brown & Co., 1980, p 773.

  10. William Easterly, The Elusive Quest: Economists’ Adventures and Misadventures in the Tropics, Cambridge, The MIT Press, 2002 , p. 11-12.

  11. John Perkins, Confessions of an Economic Hitman, San Francisco, Barrett-Koehler Publishers, 2004, p 26.

  12. ibid.,  p 87.

  13. ibid.,  p 222.

14.    Joseph Stiglitz, Globalisation and Its Discontents, London, Allen Lane, 2002, p12. (آیندہ تمام اقتباسات اسی کتاب سے ماخوذ ہیں)

 اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے تحت زندگی دیتا اور اپنے طے شدہ قانون کے مطابق اس فانی زندگی کو واپس لے لیتا ہے۔ لیکن امر واقعہ ہے کہ کچھ سعید روحوں کی موت واقعی زندگی کو بے رنگ بناتی اور رنج وغم کی گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کی زندگیاں صرف اللہ کی راہ میں اور اللہ سے اپنے عہدو فا کو نبھانے میں گزرتی ہیں ۔ایسی ہی ایک نہایت پیاری شخصیت حاشربھائی بھی تھے، جو ۱۱ جنوری ۲۰۲۲ءکو ۹۲برس کی عمر میں ربّ کے حضور پیش ہو گئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

میرے شفیق بھائی حاشر فاروقی کا انتقال، جہاں مسلم اُمہ کے لیے ایسا بڑا نقصان ہے کہ جس کا عام لوگوں کو ادراک نہیں، وہیں میرے لیے ذاتی طور پر شدید صدمہ ہے کہ تقریباً ۷۰ برس پر پھیلے تحریکی زندگی اور ذاتی تعلقات کا ایک روشن باب ختم ہو گیا۔ وہ میرے بڑے بھائی کی طرح تھے۔ایک ہم دم دیرینہ تھے، علمی کاموں میں مدد کرنے والے شفیق مدد گار تھے، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی راہ میں اللہ کے لیے محبت کرنے اور دعائیں دینے والے فرد تھے۔

زندگی کے اتنے طویل سفر میں میں نے حاشر فاروقی بھائی کو اسلام کا انسانِ مطلوب، امت کا درد مندفرد اور ایک سچا پاکستانی پایا۔ وہ اپنی نوعیت کے ایک عظیم صحافی ہی نہیں تھے بلکہ ایک مفکر، علمی منصوبہ ساز ،حوصلہ بڑھانے والے دست گیر اور راہیں سُجھانے والے ہمدرد رہنما بھی تھے۔ اسلام کی صحیح ترجمانی کسی خوف اور مصلحت کے بغیر ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ انھوں نے اسلام کو اس رنگ میں پیش کیا جس میں قرآن، سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور علمائے سلف نے پیش کیا ہے اور لبرل طبقے کے انحرافات اور مغربی فکر کے تحت کیے جانے والے سمجھوتوں (Compromises) کا پردہ چاک کیا ۔ پھر اُمت مسلمہ کاہردُکھ اور اس کا ہر مسئلہ ان کا اپنا مسئلہ تھا اور وہ اس کے بے باک ترجمان تھے۔ ان کا عالم یہ تھا کہ دنیا کے کسی حصے میں بھی مسلمانوں پر کوئی ظلم ہوتا تووہ تڑپ اُٹھتے تھے اور ان کا قلم مظلوم کی دادرسی کے لیے تلوار کی کاٹ ثابت ہوتا تھا۔ امیرمینائی کے بقول:

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

میں گواہی دیتا ہوں اور ایک خلق اس پر گواہ ہے کہ دینِ اسلام سے ان کی وابستگی بدن میں دوڑنے والے خون کی مانند تھی۔ اسلامی نظریۂ حیات کی توضیح و تبلیغ اورمسلمانوں کے مقدمے کی پیش کاری کی خاطر وہ زندگی بھر جدوجہد کرتے رہے، اور اسی راستے پر چلتے ہوئے آخری سانس لیا:

مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَيْہِ۝۰ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ۝۰ۡۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا۝۲۳ۙ  (الاحزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

اسلام پر ہونے والے حملوں اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر وہ محض تڑپنے کی حد تک نہیں رہتے تھے، بلکہ اپنی اس تڑپ کو عمل اور تحریر میں ڈھال دیتے تھے۔ گویا کہ دیکھتے ،سنتے، دوا کرتے اور دعا دیتے ہوئے اپنا عملی حصہ ادا کرتے تھے۔ اور یہ سب کام نہایت قلیل مادی ومعاشی وسائل کے باوجود انجام دیتے تھے ۔ وہ اس انتظار میں نہیں رہتے تھے کہ کون کیا کرتا ہے، بلکہ اس بارے میں فکر مند ہوتے تھے کہ وہ اپنی قوت اورصلاحیت کس حد تک اس مقصد کے لیے نچوڑ دینے کے لیے کتنا وقت صرف کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے گذشتہ صدی کے اواخر میں سلمان رشدی کی شیطانی ہزلیات کا جس تحقیقی ،علمی، تحریکی، تنظیمی ،اور ابلاغی سطح پر حاشر بھائی نے تعاقب کیا، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک امڈتی ہوئی مغربی گستاخانہ لہر سے آگاہ کیا، اس کے ہم گواہ ہیں۔ یہ کوشش ان کے لیے صدقۂ جاریہ کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

حاشر بھائی زمانہ طالب علمی ہی سے مسلم کاز سے وابستہ تھے۔ علامہ اقبال ،حسن البنا شہید، قائد اعظم اور مولانا مودودی رحمہم اللہ کے افکار سے گہرے ربط وتعلق نے انھیں روحِ عصر سے جوڑدیا تھا۔اس فکر ی تعلق نے انھیں دین وملت سے مربوط کیا، اور غیرت وعمل سے سینچا۔ برطانیہ کے امپیریل کالج میں وہ علم الحشرات(Entomology) میں ڈاکٹریٹ کے لیے گئے، لیکن مسلمانوں کی حالتِ زار نے انھیں اپنا کیرئیر قربان کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کی خدمت ہی کو اصل کیریئر بنانے پر دل کی گہرائیوں سے مجبور کردیا۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے خاموش سپہ سالار بننے کی راہوں پر چلنے کے لیے یکسو ہوگئے۔ ابتداء میں برطانیہ آنے والے مسلمان طالب علموں سے ربط وتعلق بڑھایا اور انھیں علمی مہارت کے ساتھ ،امت اور اسلام سے وابستگی پر ابھارنے کے لیے تدابیر سوچنا شروع کیں۔ الحمد للہ ،اس ضمن میں ان کی کوششوں میں اللہ تعالیٰ نے برکت عطا کی۔ انھوں نے فیڈریشن آف اسٹوڈنٹس اسلامک سوسائٹی (FOSIS)، یوکے اسلامک مشن (UKIM)، مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ (MET)،مسلم ایڈ، دی اسلامک فائونڈیشن ،مسلم کونسل آف بریٹن (MCB) وغیرہ کی تنظیم وتوسیع کے لیے بہ یک وقت کارکن اور رہنما کا کردار ادا کیا۔

گذشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے میں اُمت مسلمہ پر دُنیا بھر کے اشتراکی،صہیونی، برہمن اور ملحدیلغار کرنے لگے تو فاروقی صاحب نے اُمت کے دفاع کے لیے سوچا کہ اُمتِ مسلمہ کے ان تمام مسائل کو، ایک جسد واحد کی طرح دیکھا اور پیش کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے تخلیقی ذہن، خوب صورت اسلوب تحریر، مستقبل بین نظر اور تحقیقی ذوق سے کام لیتے ہوئے  لندن سے ایک رسالہ نکالنے کا منصوبہ بنایا۔ مجھے یہ سعادت حاصل ہے کہ اس میدان میں  حاشربھائی کی غیرمعمولی فکر مندی اور عمل پسندی کا گواہ بھی ہوں اور ان کامعاون اور ساتھی بھی۔  مالی وسائل ،تحریر وتحقیق اور کتب ورسائل کی فراہمی کے لیے ہاتھ بٹا نے کا اللہ تعالیٰ نے مقدور بھر موقع دیا اور اس سلسلے میں خود مولانا مودودیؒ اور چودھری غلام محمدمرحوم کی تائید اور رہنمائی حاصل تھی۔ اس کے نتیجے میں ایک خواب مئی ۱۹۷۱ء میں پندرہ روزہ Impact International کے نام سے شرمندۂ تعبیر ہوا، اور بہت جلد، دنیا کے تقریباً اسّی ممالک میں متعارف ہوکر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ مگر وائے افسوس کہ ۳۵ برس تک جدوجہد کرنے کے بعدمالی مشکلات کے سبب یہ رسالہ بند ہو گیا۔

امپـیکٹ کسی حکومت یا جماعت کا ترجمان نہیں صرف اور صرف اسلام اور مسلم اُمت کا ترجمان تھا۔ اس کا اصل ہدف جہاں اسلام کو اس کی اصل شکل میں مغربی اور خصوصیت سے انگریزی دان دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا، وہیں مسلمانوں کے افکار و مسائل اور اُن پر کیے جانے والے مظالم کی بے باک ترجمانی تھا۔ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امپـیکٹ نے ’مسلم ویو پوائنٹ‘ کے مقابلے میں ہمیشہ ’مسلم ویو پوائنٹس‘ (Muslim View Points) کی اصطلاح استعمال کی، جو آزادیِ رائے اور افکار میں نظریاتی حدود کے اندر تنوع کی غمّاض تھی۔ یہ صحافت میں ایک بڑی روشن مثال تھی کہ صداقت و دیانت کے ساتھ حقیقی تنوع کا اظہار ہی زندگی کے ہمہ پہلوئوں کو اُجاگر کرسکتا ہے۔

۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان پر بھارتی یلغار نے انھیں مضطرب کیا، اور جب دسمبر میں پاکستان کا مشرقی بازو ٹوٹا تو اس کی ٹوٹ پھوٹ کو انھوں نے اپنی ذات میں اسی طرح محسوس کیا، جس طرح محسوس کرنے کا حق ہے۔ لیکن فاروقی بھائی نے اس مسئلے کے مابعد اثرات سے پاکستان کو نکالنے کے لیے اپنی ذمہ داری بھی ادا کی، اور مغربی دنیا کے مرکزی اخبار ات، ریڈیو سروسز کے ساتھ ساتھ یورپ اور بڑے ممالک کے پالیسی سازوں کے سامنے پاکستان کا کیس پیش کیا۔ یہ کام اداروں کے کرنے کا تھا، مگر فاروقی بھائی نے مختلف اوقات میں اپنے رفقا برادرم سلیم صدیقی، غزالی خاں، عبدالواحد حامداور اوصاف فاروقی وغیرہ کی مدد سے یہ کارنامہ انجام دیا۔ اس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی سچی تصویریں مضبوط دلائل وبراہین کے ساتھ پیش کیں۔

حاشر فاروقی بھائی ایک ایثار پیشہ ،قناعت پسند اور سچے صحافی تھے ۔مقصد کی لگن کا دوسرانام حاشر فاروقی تھا۔ ذاتی مفاد کی قربانی دینے کی ایک اعلیٰ مثال تھے، اور عملاً مغربی دنیا میں مسلم صحافت کے حدی خواں تھے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے جو راہیں دکھائیں اورجو نقشۂ کار پیش کیا ، آنے والی نوجوان نسل کا فرض ہے کہ وہ ان راستوں کو روشن کریں۔ ہم نے ایک حاشرفاروقی بھائی کی جدائی دیکھی ہے۔ اللہ کے کرم سے اگر درجن بھر حاشر فاروقی اس محاذ کو سنبھالنے کے لیے آمادۂ کار ہوجائیں تو ان شا ءاللہ ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے مسائل پوری قوت سے دنیا کے سامنے نہ صرف نمایاں ہونے لگیں گے بلکہ امت میں یکجہتی بھی پیدا ہوگی ۔ 

فرد ہو یا قوم، نظریے اور مقصود حیات کے بغیر اس کی ترقی اور استحکام ممکن نہیں۔ علامہ اقبال نے اس نکتے کو اسرار و رموز میں بڑے دل نشیں انداز میں بیان کیا ہے:

زندہ فرد از ارتباطِ جان و تن
زندہ قوم از حفظِ ناموسِ کہن

مرگِ فرد از خشکیِ رودِ حیات
مرگِ قوم از ترکِ مقصودِ حیات

(فرد کی زندگی جان و تن کے تعلق سے قائم ہے، اور قوم کی زندگی اپنی قدیم روایات کے تحفظ سے قائم رہتی ہے۔ فرد کی موت جوئے حیات خشک ہوجانے سے واقع ہوجاتی ہے، اور قوم کی موت مقصودِ حیات ترک کردینے سے ہے۔)

نظریۂ حیات کی اہمیت

فرد اور قوم دونوں ہی کی زندگی میں نظریہ، تصورِ حیات اورزندگی کے مقصود کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ قرآن نے انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہدایت کو قرار دیا ہے۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ اس کی سب سے بنیادی دعا ہے اور ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ اس دعا کا جواب ہے۔ قرآن پاک میں تخلیق آدم ؑکے واقعے کو جس طرح بیان کیا گیا ہے، اس کا مرکزی نکتہ انسان کا مقصدِ وجود ہے، یعنی خلافت اور نیابتِ الٰہی اور پورا قرآن اس ہدایت کا امین ہے جو انسان کو یہ کردار ادا کرنے کے لائق بناتا ہے۔

اس سلسلے کی سب سے پہلی چیز یہ ہے جس انسان کو اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا، اسے علم الاشیاء سے نوازا۔ اسے عقل، ارادے اور اختیار کی دولت سے مالا مال کیا۔ اس کے اندر خیر اور شر دونوں کا داعیہ رکھا: فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا o (الشمس ۹۱:۸)، اسے حق و باطل اور خیروشر میں تمیز کی صلاحیت سے نوازنے کے بعد، ہدایت سے بھی نوازا اور کامیابی کی شاہراہ کو روشن کرکے اسے بتادیا کہ جو ہدایت کی پیروی کرے گا وہی کامیاب ہے اور جو اس سے رُوگردانی کرے گا وہ ناکام و نامراد ہے:

فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ o وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَـآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج  ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ o (البقرہ ۲: ۳۸-۳۹) پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے تو جو لوگ اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا، اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسانی زندگی کی سب سے کارفرما قوت نظریہ اور ہدایت ہے۔ اس مثالیے (paradigm ) میں تین چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں:

       ۱-    علم الاشیاء، یعنی انسان کو اس کائنات کے وسائل اور خزانوں کا علم اور ادراک عطا کیا گیا ہے۔ اسی چیز نے انسان کو دوسری تمام مخلوقات پر فوقیت بخشی اور اسے نیابت و خلافت کا اہل بنایا۔

       ۲-    عقل اور انتخاب کی آزادی انسانوں کو عطا کی۔ فرشتوں نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’یہ فساد کرے گا‘‘۔ گویا رد وقبول کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کوجبر میں نہیں کسا بلکہ اس کو آزادی اور انتخاب کی صلاحیت بھی دی ہے۔ یہ دونوں چیزیں تو سیکولر سوچ اور دینی سوچ میں مشترک ہیں۔ البتہ اس سلسلے کی تیسری چیز (ہدایت) کے بارے میں (جو انسانی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے) سیکولر سوچ اور دینی سوچ میں بُعدالمشرقین نظر آتا ہے اور یہیں سے اختلاف کی بنیاد سامنے آتی ہے۔

       ۳-    ہدایت سے مراد اس زندگی کو گزارنے کا اسلوب ، احساس ذمہ داری کی میزان اور آخرت میں جواب دہی کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے انبیاورسل علیہم السلام کو بھیجا گیا، کتابوں اور ہدایت کی روشنی دی گئی اور خاتم الانبیا محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی اس ابدی ہدایت کی تکمیل کی۔

               فرمایا: اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ط کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ قف لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ قف وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا۝۰ۤۡ غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ o (البقرہ ۲:۲۸۵)’’رسولؐ اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں، انھوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں ، اور اس کی کتابوں، اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں، اور ان کا قول یہ ہے کہ : ’’ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک! ہم تجھ سے خطابخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے‘‘۔

مرادیہ ہے کہ ہدایت وہ چیز ہے جو مقصد تک پہنچنے کی تمام تر جدوجہد کو سہارا عطا کرتی ہے، علم کو انسانیت کے لیے نافع اور سودمند بناتی ہے، اور نیابت و خلافت کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے رہنمائی عطا کرتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں علم الاشیاء، آزادیِ انتخاب اور ہدایت کے تین ستونوں پر ہی نظریہ،  مقصد اور منزل کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر نہ زندگی میں انضباط پیدا ہوتا ہے، نہ اصل جوہرِ انسانیت کا اظہار ہوتا ہے، اور نہ تحریک و تحرک کو کوئی راستہ ہی ملتا ہے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے نظریہ ناگزیر ہے، اور یہ سبھی معاشروں اور انسانوں کے لیے ضروری ہے، جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے ہدایت، انسانی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے جس کے لیے   یہ اصول طے کر دیا گیا:

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ o صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ لا غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَo (الفاتحہ ۱:۵-۶)’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں‘‘۔

انسانی تہذیب کی تشکیل میں نظریہ کا کردار

انسانی زندگی اور انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ  جن قوموں اور انسانوں کے سامنے کوئی نظریہ اور منزل تھی، انھی نے اوراقِ تاریخ اور دامنِ تہذیب میں نام پیدا کیا۔ نظریہ غلط ہو یا درست، شر پہ مبنی ہو یا خیر کا علم بردار، دونوں ہی صورتوں میں وہ ہمیشہ زندگی کی نشوونما اور پیش رفت اور ترقی کے لیے، ایک بنیادی محرک رہا ہے۔ البتہ نظریہ اگر حق پر مبنی ہے تو اس سے انسانی زندگی اور دنیائے تہذیب میں خیر اور فلاح کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اگر وہ باطل پر مبنی ہے تو یہ جہان تگ و دو فساد کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔

تاریخ کے اس فتوے کو ایک طرف تو ابن خلدون[م:۱۴۰۶ء] نے اپنے انداز میں مقصد، شریعت اور عصبیت کے فریم ورک میں پیش کیا ہے، اور دوسری جانب خود دورِ جدید کے فلاسفۂ تاریخ نے شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر پی اے ساروکن [م:۱۹۶۸ء]، آرنلڈ جے ٹائن بی[م:۱۹۷۵ء] اور عصرِ حاضر کے دیگر ماہرین تاریخ نے بھی اپنے اپنے انداز میں اس موضوع پر لکھا ہے۔ ان سب کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ وہی قومیں انسانی تاریخ کے اسٹیج پر ابھری ہیں، جن کے سامنے ایک اعلیٰ نصب العین تھا، اور جو اس نصب العین اور نظریے کی بنیاد پر فکری، سماجی، معاشی اور نفسیاتی زندگی کے چیلنجوں کا جواب دینے کا داعیہ، صلاحیت اور جذبہ رکھتی تھیں۔ اس چیز کو گذشتہ ربع صدی کے ماہرین تہذیب و تاریخ: ’انسانی تہذیب کی تشکیل میں نظریے اور افکار کی فیصلہ کن کار فرمائی‘ کے جملے میں پیش کرتے ہیں۔ اس اصول کو ہمارے اہلِ دانش نے فکری و عملی جدوجہد سے مربوط کیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ [م:۱۷۶۲ء] نے اسے ’اجتہاد اور جہاد‘ سے تعبیر کیا ہے، اور شعرو ادب نے اسے ’قلم اور تلوار‘ کی علامات کی شکل میں پیش کیا ہے۔

یہ تاریخ انسانی کا نہایت صاف اور واضح فیصلہ ہے کہ تہذیبی تبدیلی کے لیے فیصلہ کن عامل قلم ہی ہے۔ قلم سے مراد ہے فکرو دانش اور اخلاق و اصول، جب کہ اس تبدیلی کو روبہ عمل لانے اور اس کی حفاظت کے لیے قوت، تنظیم اور تلوار کا وجود ناگزیر ہے۔ یوں قلم اور تلوار انسانی تاریخ، تہذیب اور زندگی کے لیے دست راست اور ایک دوسرے کے زبردست معاون اور پُشتی بان ہیں۔

۲۰ویں صدی ایک طرف بے خدا فلسفوں کے درمیان کش مکش اور دوسری طرف یورپی قوموں کے درمیان تجارتی و معاشی رقابت کی بنا پر خوں ریز تصادم کی صدی تھی___ اس سے ماقبل متصل ۱۹ویں صدی میں ایوان ترگینف [م:۱۸۸۳ء] نے نہل ازم ( Nihlism :’زندگی ایک   بے معنی اور محض وجودی چیز ہے‘) کے نظریے کو بڑے دعوے سے پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ گذشتہ  دو صدیوں میں جواب دہی کے تصور سے بالا انسان کی مزعومہ سوچ کا سرچشمہ اسی فکر سے پھوٹتا ہے۔ ۱۹ویں صدی کے اواخر میں اشتراکیت اور پرولتاری، یعنی مزدوروں کی آمریت کا نعرہ بلند ہوا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے وسیع حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کے افکار کو تہہ وبالا کر دیا، مگر اپنی غیر فطری بنیاد کے باعث ۷۰، ۸۰ سال کے بعد ہی اشتراکیت کا سورج ڈوب گیا۔اسی درمیان میں فسطائیت (Fascism) کا ڈنکا بھی بجا مگر ایک دوعشروں میں ہی، یہ انسانی تاریخ کی بدترین اصطلاح بن کر فنا کے گھاٹ اتر گیا۔ انسانیت کے ساتھ یہ کتنا بڑا مذاق ہے کہ وہی مغربی تہذیب جس نے ۲۰ویں صدی میں سائنسی ترقی کا سہارا لے کر دو عظیم جنگوں میں کروڑوں انسانوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا تھا، آج مسلمانوں کو امن کا درس دے رہی ہے؟ پھر سوویت یونین کے انہدام [۲۶دسمبر۱۹۹۱ء] کے بعد فرانسس فوکویاما [پ:اکتوبر ۱۹۵۲ء] نے End of the History میں گویا نظریاتی تاریخ کے خاتمے کا اعلان کیا  مگر چند ہی برسوں میں یہ فکر بھی پانی کے بلبلے کی طرح تحلیل ہوگئی۔

آج دنیا میں ایک بار پھر نظریات کی بالادستی، مقاصد اور ’اقدار بطور اصل کار فرما قوت‘ کے فہم اور حصول کی پیاس بڑھ رہی ہے۔ عصر حاضر میں پیدا شدہ عالمی، تہذیبی، معاشی، اخلاقی اور سیاسی بحران کا حل ایک بار پھر نظریاتی آدرشوں میں تلاش کیا جا رہا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اصل بحران،  اخلاقی بحران ہے، نظریاتی شعور کی پستی کا بحران ہے، جس نے انسانی زندگی اور اس کے مستقبل کو خوف ناک چیلنج سے دو چار کر دیا ہے۔

آج اہل فکر ونظر، اقدار اور اخلاق کی کارفرمائی کو زندگی کے فیصلہ کن مظہر کی صورت میں پیش کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ انسانیت کا مستقبل اسی وقت روشن قرار دیا جاسکتا ہے، جب ایک ایسا عالمی نظام معرض وجود میں آئے، جو احترامِ آدمیت، اخوت، حریت اور مساوات اور بے لاگ انصاف پر استوار ہو، جو استحصال سے پاک اور انسانوں کے درمیان محبت، امداد باہمی اور مؤدت کا داعی ہو۔ پاکستان کے فکری بانی علامہ محمد اقبال کہتے ہیں:

وحدت صرف ایک ہی معتبر ہے، اور وہ بنی نوع انسان کی وحدت ہے، جو نسل و زبان و رنگ سے بالاتر ہے۔ جب تک اس نام نہاد جمہوریت میں سے اس ناپاک قوم پرستی اور اس ذلیل ملوکیت کی لعنتوں کو پاش پاش نہ کر دیا جائے گا، جب تک انسان اپنے عمل کے اعتبار سے الخلق عیال اللہ کے اصول کا قائل نہ ہو جائے گا، جب تک جغرافیائی وطن پرستی اور رنگ ونسل کے اعتبارات کو نہ مٹایا جائے گا، اس وقت تک انسان اس دنیا میں فلاح و سعادت کی زندگی بسر نہ کر سکیں گے، اور اخوت، حریت اورمساوات کے شان دار الفاظ شرمندۂ معنی نہ ہو پائیں گے [یکم جنوری۱۹۳۸ء کو  سالِ نو کا پیغام، آل انڈیا ریڈیو، لاہور]

اسی طرح علامہ محمد اقبال ایک دوسرے موقع پر لکھتے ہیں:

جو کچھ قرآن سے میری سمجھ میں آیا ہے، اس کی رو سے اسلام محض انسان کی اخلاقی اصلاح ہی کا داعی نہیں، بلکہ بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے، جو اس کے قومی اور نسلی نقطۂ نظر کو یکسر بدل کر، اس میں خالص انسانی ضمیر کی تخلیق کرے… یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نوع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ دین نہ تو قومی ہے، نہ نسلی ہے، نہ انفرادی، نہ پرائیویٹ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے۔ اس کا مقصد، باوجود تمام فطری امتیازات کے عالمِ بشریت کو متحد و منظم کرنا ہے۔

۲۹ دسمبر ۱۹۳۰ء کو خطبہ الٰہ آباد میں علامہ اقبال نے یہ بھی فرمایا تھا:

اسلام، فرد کی زندگی کو دین اور دنیا کے الگ الگ خانوں میں نہیں بانٹتا۔ وہ مادے اور روح کی کسی ناقابلِ اتحاد ثنویت کا قائل نہیں ہے۔ اسلام کی رُو سے خدا اور کائنات، روح اور مادہ، کلیسا اور ریاست ایک ہی کُل کے جزو ہیں، اور ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ انسان اس آلایشوں سے لبریز اور ناپاک دنیا کا کوئی باشندہ ہے اور وہ اسے کسی دوسری دنیا کی خاطر ترک کردے، جہاں روح رہتی ہے۔ اسلام کے نزدیک مادہ روح کا وہ روپ ہے جو قیدمکان و زمان میں گھرا ہوا ہے۔ یورپ کی عیسائی ریاستوں کی زندگی سے مذہب عیسوی تقریباً خارج ہوگیا ہے… میری خواہش ہے [اور مجھے یقین ہے کہ] شمال مغربی ہندستان کے مسلمانوں کو ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی۔

گویا اسلام ان نسلی اور علاقائی امتیازات سے بلند ہو کر انسان کو اس کی فطرت کی جانب بلاتا اور اسے ایک تصور جہاں (World View) کی روشنی دیتا ہے کہ جس کی بنا پر منصفانہ نظامِ جہاں (World Order) نموپذیر ہوتا ہے۔

اس وقت جو لوگ نظریے کی کار فرمائی اور اس کی اہمیت کا انکار کر رہے ہیں، وہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ مقصد حیات، نظریے، اخلاقی اور سماجی اقدار سے کٹ کر، اور مفاد وعصبیت کی دلدل میں پھنس کر انسان حیوانیت کی سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ جتنا وہ نظریے اور اخلاق سے دُور ہوتا ہے، اتنا ہی وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے تباہی وبربادی کا سبب بنتا ہے۔نہ اس کی قوم پرستانہ جمہوریت، انسانیت کے لیے ہمدردیِ عمل کا پروگرام پیش کرتی ہے اور نہ ملوکیت یا ڈکٹیٹرشپ ہی انسانیت کے دکھوں کا مداوا کر پاتی ہے۔ ان طرزِ ہائے حکومت کی طرح معاملہ قوموں اور ملکوں کا بھی ہے۔

 تحریکِ پاکستان کی قوتِ محرکہ

پاکستان میں نظریہ پاکستان کو سمجھے بغیر تحریک پاکستان اور اس تحریک کی اصل قوتِ محرکہ کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ پاکستان کے وجود کو سمجھنے کی کنجی تحریک پاکستان کا نظریہ ہے۔ اس مناسبت سے سمجھنا چاہیے کہ مسلمان اور اسلام دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ اسلام ہی مسلمانوں کے تشخص کی علامت ہے اور مسلمان ہی اسلام کی پہچان ہیں۔ اس حوالے سے یہ نظریہ کہ’’ مسلمان ہونا تو ٹھیک ہے، مگر اس کا اسلامی ہونا کوئی ضروری تقاضا نہیں ہے‘‘، ایک احمقانہ اور تباہ کن تصور ہے۔ مسلمان اپنی تعریف کے اعتبار سے ایک اُمت کا حصہ ہے، ایک مشن اور مقصد کا علَم بردار ہے، جسے مسلمانیت کی پہچان نے ایک خاص ذمہ داری سونپ دی ہے۔ مسلمان گناہ گار ہو سکتا ہے، مگر وہ اسلام کے تصور جزا و سزا، اور اُخروی جواب دہی کے تصور سے اپنے آپ کو الگ کرلے یا اس کی مسلسل نفی کرے تو وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اس لیے عقیدہ ہی اول وا ٓخر مسلمان کی پہچان ہے۔

یہ عقیدہ انسان کے ذہن میںتین بنیادی تصورات راسخ کر دیتا ہے: lغیر اللہ سے بغاوتl اللہ پر ایمان اور اس کے سامنے مکمل سپردگیlزندگی گزارنے کے لیے اللہ، رسولؐ،  قرآن اور آخرت پر ایمان اور قرآن و سنت کی ہدایت کے مطابق زندگی کو ڈھالنے کی جدوجہد ___ یہ تینوں تصورات ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور یہی مسلم اُمت کی بنیاد ہیں، اور اسی مناسبت سے ہر مسلمان مرد اور عورت کی شناخت متعین ہوتی ہے۔

یہ وضاحت ضروری ہے کہ جس چیز کو ’دو قومی نظریہ‘ کہا جاتا ہے یہ ہندستانی مسلمانوں کی اختراع نہیں ہے، بلکہ وہ پہلے دن سے اسلام کے ایمانی، فکری، تہذیبی تصورات اور اہداف کو قائم کرنے والا نظریہ ہے۔ سورۂ فاتحہ دو قوموں اور دوامتوں کے خدوخال واضح کرتی ہے، فرمایا:

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ لا غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ o

قرآن کریم کا یہی افتتاحیہ اس دو قومی نظریے کو وجود بخشتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہمیشہ سے دوراستے متعین کرکے، انسانوں کو رد و قبول کا اختیار دے دیا گیا ہے، یعنی ایک سیدھا راستہ اور دوسرا اس کے برعکس اللہ کی ہدایت سے انحراف اور انکار کا راستہ۔ ایک راستہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے اصولوں سے تشکیل پاتا ہے، اور دوسرا راستہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے انکار، مخالفت یا اپنی خواہشات کی پیروی سے منسوب ہے۔ اس دو قومی نظریے میں جو بنیادی حقیقت بیان کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ انسانیت دراصل انھی دو بنیادی قافلوں پر مشتمل ہے۔ ان دونوں قافلوں میں فکر، صورت، ہیولا، شکل اور منزل جدا جدا ہے۔ ایک قافلہ انبیا علیہم السلام کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہا ہے اور دوسرا انحراف اور بغاوت کو اپنائے ہوئے ہے۔

اس نظریے کے تین مضمرات ہیں، جن کا سمجھنا از بس ضروری ہے:

  • پہلی بات یہ کہ افراد اور اقوام کو اس امر کی آزادی حاصل ہے کہ وہ کون سی منزل اور کس نظریے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسی انتخاب کے مطابق وہ اجتماعی زندگی میں نتائج بھگتیں گے اور انفرادی طور پر آخرت میں جواب دہ ہوں گے۔
  • دوسری یہ کہ ہر قوم کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے تصور اور منزل کے انتخاب کے مطابق اپنے تشخص اور تہذیبی اور معاشرتی دروبست کا انتظام و انصرام کرے، اور اس میں مسابقت و بہتری کے امکانات کو بروئے کار لائے۔
  • تیسری جہت، انسانی زندگی کے اُس پہلو سے وابستہ ہے، جس کا ذریعہ ہدایت الٰہیہ ہے۔ صرف اس ایک پہلو سے جو عقیدے پر مبنی ہے، اس میں تو لازماً یک رنگی ہے، تاہم احوال و ظروف اور زمان و مکان کی مناسبت سے، اس عقیدے کے تحت یک سو اور باہم مربوط ہوتے ہوئے، افراد اور ممالک کے لیے کثرتیت کی گنجایش پوری طرح موجود ہے۔ اسلام نے اس جزوی اختلاف اور تنوع کو اللہ اور اس کے آخری رسولؐ کے پیش کردہ ضابطے کے فریم ورک میں اختیار کرنے اور راستے نکالنے کی اجازت دی ہے۔

یہی چیز ہے دوقومی نظریے کی اساس اور وسیع تر بنیاد۔ اسی بنا پر ایک مسلمان کے لیے  لازم ہے کہ تصور حیات اور الہامی ہدایت کی بنیاد پر دنیا میں علم پھیلائے، رہنمائی دے اور دوسروں کے لیے قابل اتباع نمونہ پیش کرے۔ یہی حق دو قومی نظریہ دوسروں کو بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے تصورات و عقائد کے مطابق انفردی اور اجتماعی زندگی کے معاملات کو چلائیں۔ یہ نظریہ مغرب کے ’قومی ریاستوں‘ (Nation States) کے تصور سے بالکل مختلف سوچ کا حامل ہے۔ اس میں قومی ریاست کا نہیں، قوموں کی ریاست کا تصور ہے جس میں یہ اہتمام موجود ہے کہ ہر قوم کو اپنے تشخص کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، تاہم جس کو اکثریت حاصل ہے، اس کی یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ اپنے اصولوں اور اقدار کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کرے، وہیں اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اختلاف اور تنوع کا احترام کرے اور اقلیتوں کے لیے آسودگی پیدا کرے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اس فریم ورک کی مختلف اور متنوع صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں، مگر ان میں مسلمانوں کے لیے تین کو مرکزیت حاصل ہے:

۱- وہ ملک، جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے اور اس میں انھیں اقتدار بھی حاصل ہے۔

۲- وہ ملک، جس میں مسلمانوں کی اکثریت تو ہے، مگر اقتدار سے محروم ہیں۔

۳- وہ ملک، جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اورانھیں اقتدار بھی حاصل نہیں ہے۔

پہلی صورت میں اسلامی نظریے کا تقاضا یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کانظام، اسلام کی روشنی میں وضع کیا جائے جس میں اکثریت نظام زندگی اور منزل کو متعین کرے اور دوسری تمام اقوام کو انفرادی، تہذیبی اور اجتماعی حقوق حاصل ہوں، تاکہ وہ اس نظریاتی ریاست میں اپنے مذہبی اور نظریاتی تشخص کے لیے مناسب جگہ (space) پا سکیں۔ اس طرح اکثریت اور اقلیت، دونوں عدل و انصاف اور افہام و تفہیم کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

دوسری صورت میں مسلمانوں کی فطری طور پر خواہش اور کوشش ہوگی کہ وہ اپنی اکثریت کو اختیار اور اقتدار دلانے کے لیے جدوجہد کریں۔ یہ ان کاجائز حق ہے۔ اگر انھیں اس میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو وہ پہلی صورت میں آ جاتے ہیں، ورنہ جدوجہد کے مرحلے میں شامل رہتے ہیں۔

رہی تیسری صورت، تو اس میں اسلام نے یہ بات قبول کی ہے کہ جن کو اکثریت اور اقتدار حاصل ہے، انھیں اجتماعی زندگی میں انصاف اور دوسروں کے حقوق کی پاس داری کے ساتھ حکمرانی کا موقع ملنا چاہیے۔ دوسرے مذہبی اور تہذیبی تشخص کے حاملین کو قرار واقعی جگہ اور سہولت حاصل ہونی چاہیے، تاکہ وہ باوقار اور منصفانہ انداز سے زندگی گزار سکیں۔

مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں دو قومی نظریہ، انسانی تاریخ و تہذیب اور زندگی سے مطابقت رکھتا ہے، تاہم حالات کی مناسبت سے اس میں تقدیم و تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس نظریاتی فریم ورک میں برعظیم پاک و ہند کے حالات کا جائزہ لیں تو صاف نظر آتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ۹۰۰ سالہ دور حکمرانی میں اس بات کی پوری کوشش کی ہے کہ وہ بڑی حد تک شریعت کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک کار فرما قوت بنانے کا اہتمام کریں۔ انھیں اس میں کامیابیاں بھی ملیں اور ناکامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس طرز احساس کا منہ بولتا ثبوت اس خطۂ ارضی میں تجدیدِ دین اسلام کی متعدد تحریکیں ہیں، مگر اس تمام تر احساس کے باوجود خطۂ ہند کی تاریخ یہ ثبوت پیش نہیں کرتی کہ مسلمانوں نے جبر اور قوت کے ذریعے یہاں بسنے والی اکثریت کو اپنے مذہب، اپنی زبان اور اپنے تہذیب و تمدن کو تبدیل کرنے پر کبھی مجبور کیا ہو، بلکہ اس کے برعکس انھیں اس چھتری کے تحت پوری آزادی کے ساتھ اپنے عقیدے اور تہذیب کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا پورا موقع دیا گیا اور اجتماعی امور میں معاشرے کے تمام طبقوں کو برابر کے مواقع میسر رہے۔

مسلمانوں کی آمد سے پہلے کے ہندستان کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہندومت کے پیرو کاروں کو جب بھی اقتدار ملا، انھوں نے دوسرے مذہب کو نیست و نابود کیا۔ اس کے پیروکاروں کو ملک بدر کیا یا اپنے نظام میں تحلیل کرنے کے لیے ہر ناجائز کوشش کی، یا ان کی انفرادی شناخت کو ختم کرکے دم لیا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کی ۹۰۰سالہ حکمرانی کے زمانے کا ریکارڈ   پوری دنیا کے سامنے موجود ہے، اور ان لوگوں کے پاس بھی موجود ہے جنھیں ’ہندوسیکولرازم‘ میں ’روشن خیالی‘ کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔ اس زمانے کا ریکارڈ گواہی دیتا ہے کہ مسلمانوں نے سیاسی غلبے کے باوجود، دوسرے مذاہب کی شناخت کو ختم کرنے یا ان کے پیروکاروں کو اس مناسبت سے کبھی شہری حقوق سے محروم کرنے کی کوشش نہیں کی (البتہ متحارب اور جنگ میں مصروف عناصر کا معاملہ دوسرا ہے)۔ یوں سرزمین ہند پر مسلم دور حکومت میں تمام افکار و مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ، باغ کے مختلف اور رنگارنگ پھولوں کی طرح پھلتے پھولتے اور اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہے۔

بعدازاں برطانوی استعمار کے قبضے کے اولین دور میں شعوری طور پر، ہوشیاری اور  چابک دستی کے ساتھ، اس نو آبادیاتی طاقت نے کوشش کی کہ یہاں مسلمانوں کو کمزور اور غیر مؤثر بنادیں کیونکہ انھیں اصل چیلنج مسلمانوں سے تھا، جن سے انھوں نے اقتدار چھینا تھا اور اسی مناسبت سے ہندو نفسیاتی طور پر برطانوی استعمار کے حلیف تھے۔ اسی استعمار نے سیاسی، تہذیبی اور معاشی اعتبار سے اپنے ہم نوائوں کی ایک قوت تیار کی جس کے لیے عیسائی مشنری قوتوں، جدید تعلیم کی تحریک اور دوسرے تمام سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوئوں کی بالادست قوت کو ہرممکن سہولت مہیا کی۔ دوسری طرف مسلمانوں کا ایک مراعات یافتہ طبقہ   پیدا کیا، جو دور غلامی میں انگریزوں کا وفادار، اور مسلمانوں کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا رہا۔  قیامِ پاکستان کے بعد اس طبقے نے اپنے اس کردار کو پوری وفاداری سے انجام دے کر ملک کو نظریاتی کش مکش اور تہذیبی انتشار کی دلدل میں دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ہندستان میں چونکہ مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک چوتھائی تھی اور ہندوغالب اکثریت رکھتے تھے، اس لیے بھی ہندوئوں کو اجتماعی نظام میں بالادستی دی گئی۔ اس پس منظر میں تحریک آزادی اُبھری۔

انگریزوں کے اس دور حکمرانی میں جو پہلی عوامی تحریک زبان زدِ خاص و عام ہوئی، جس کی بازگشت سمندر پار بھی سنی گئی اور جس نے اہلِ ہند میں ایک عوامی شعور بیدار کیا، وہ تحریکِ خلافت تھی۔ اس تحریک کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی۔ تب مسلمان دو قومی نظریے کی روشنی میں اپنے سیاسی حقوق اور نظریاتی و تہذیبی تشخص کو ہندستان کے اجتماعی وجود ہی میں حاصل کرنے کی کوشش شروع کررہے تھے۔ اس ضمن میں ۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ کا قیام، مسلم شناخت کا تحفظ، حقوق کا حصول، سیاسی جدوجہد میں نظم و ضبط کا احساس اورتقسیم اختیارات بنیادی ستون کا درجہ رکھتے ہیں۔مسلم لیگ کے قیام ہی نے وفاقی اور صوبائی اختیارات کی بحث کو ایک رخ دیا۔ اس کے مقابلے میں انڈین نیشنل کانگریس اختیارات کی مرکزیت چاہتی تھی۔ سائمن کمیشن اور نہرو رپورٹ میں کانگریس کی اس سوچ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ۱۹۳۵ء کے ایکٹ کے تحت قائم شدہ کانگریس کی صوبائی حکومتوں نے مسلمانوں کا جو حشر کیا، وہ ٹھیک اسی طرز عمل کا ایک عکس تھا جسے اپنے دورِ اقتدار میں ہندوئوں نے جین مت اور بدھ مت کے ماننے والوں سے روا رکھا تھا۔

یہ تھا منظر نامہ تیسری صورت کے حوالے سے جسے مسلمانوں نے دوسری صورت میں ڈھالتے ہوئے آگے بڑھنے اور پھر نمبر ایک میں تبدیل کرنے کی منزل کا انتخاب کیا۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کی قرارداد لاہور (جسے ہندوئوں نے قرارداد پاکستان کا نام دیا) دراصل اُس راستے کا سنگ میل ہے، جس راستے کی طرف کانگریس کی تنگ نظری نے مسلمانوں کو دھکیلنے کے لیے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس چیزنے تہذیبی شناخت کے لیے دو قومی نظریے کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ مسلمانوں کے ذہنوں میں اتارا اور دلوں کی دھڑکن بنادیا۔

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ علامہ محمد اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد (۲۹دسمبر ۱۹۳۰ء) کو غور سے دیکھا جائے۔ ۱۹۳۰ء سے ۱۹۴۰ء کے زمانے میں مسلمان مفکرین، سیاست دان،  علمائے کرام اور دانش ور ایک گہرے اضطراب کا شکار تھے۔ پھر حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ   لے کر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کا ہدف محض برطانوی سامراج سے آزادیِ محض کا حصول نہیں ہے، بلکہ یہ آزادی وہ اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی    یہ آزادی دوسرے عقائد رکھنے والوں کے لیے بھی امن و آشتی کی نوید ثابت ہوگی۔

آزادی کے اس تصور کو ایک طاقت ور جذبے کی شکل ۱۹۰۶ء سے ۱۹۳۸ء کے درمیانی عرصے کے معروضی حالات نے دی۔ یہ بات طے ہوگئی کہ ایک تنگ نظر اکثریت سے آزادی حاصل کرکے مسلم ریاست کا قیام لازم ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظم ؒکے مابین جو خط کتابت ہوئی، اور ۱۹۳۰ء سے ۱۹۴۰ء کے درمیان آل انڈیا مسلم لیگ نے جو قرار دادیں منظور کیں، اور ان میں جو مسائل نمایاں کیے گئے، اگر دیانت داری سے ان کا مطالعہ کیا جائے تو صرف ایک ہی نتیجہ سامنے آتا ہے، اور وہ یہ کہ اپنے دینی، نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور معاشی تشخص اور مستقبل کو محفوظ کرنے اور اسے ترقی دینے کے لیے مسلمانوں کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ مسلم ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔یوں احساس اور سوچ جب عمل میں تبدیل ہونا شروع ہوئی تو پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔

قائداعظم کا وژن

قائداعظم محمد علی جناح نے ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۸ء تک اپنے ۱۰۰ سے زیادہ بیانات میں: اسلامی نظریے، اسلامی تہذیب، اسلامی قومیت، اسلامی تشخص، اسلامی قانون، اسلامی کلچر، اسلامی تاریخ اور اسلامی معاشرت کا ذکر کیا ہے۔

قائداعظم نے ہندو قوم پرست لیڈر گاندھی جی (م: ۱۹۴۸ء) کے نام اپنے ۱۰ستمبر ۱۹۴۴ء کے خط میں لکھا تھا:

قرآن مجید مسلمانوں کا ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں مذہبی، مجلسی، دیوانی، فوج داری، عسکری، تعزیری، معاشی، سیاسی اور معاشرتی، غرض یہ کہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ مذہبی رسوم سے لے کر روزانہ کے امورِ حیات تک، روح کی نجات سے لے کر جسم کی صحت تک، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرم تک، زندگی میں جزا اور سزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا تک___ یہ قول و فعل اور حرکت کے احکامات کا مجموعہ ہے۔

اس پس منظر میں ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کی تقریر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا اور اس کی بنیاد پر یک سر مختلف استدلال گھڑنا، قائداعظم کے ساتھ سخت ناانصافی اور علمی اعتبار سے سراسر بددیانتی ہے۔ خود قائد اعظم نے باانداز دگر اس تقریر کی تین مرتبہ وضاحت کی۔ ہم یہاں قائداعظم کا ایک بیان اور تین تقاریر پیش کر رہے ہیں۔بیان ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء سے ڈیڑھ ماہ قبل کا ہے اورتقریریں ۱۱؍اگست کے بعد کی ہیں۔

تحریک پاکستان کے زمانے میں کانگریس کے حامی، قیام پاکستان کے مخالف، متحدہ قومیت کے طرف دار اور روشن خیال، مسلمان رہنمائوں میں ایک نمایاں نام خان عبدالغفار خاں [م:۱۹۸۸ء]  کا تھا۔ انھوں نے ۳جون ۱۹۴۷ء کے اعلان تقسیم کے بعد اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے، ۲۳جون کو کہا تھا:

’جملہ پٹھانوں کے لیے ایک ’آزاد پٹھان ریاست‘ قائم کی جائے۔ اس ریاست کا دستور جمہوریت کے اسلامی تصورات، مساوات اور معاشرتی انصاف کے مطابق وضع کیا جائے۔ جملہ پٹھانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس محبوب منزل کے حصول کے لیے متحد ہو جائیں اور کسی غیر پختون غلبے کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں۔

 اس کے جواب میں ۲۸ جون ۱۹۴۷ء کو نئی دہلی سے قائداعظم نے ایک طویل بیان جاری کیا:

اس سے قبل اس نوع کا پرفریب اور عیارانہ مطالبہ خان برادران یا کسی اور کی جانب سے پیش نہیں کیا گیا کہ سارے پختونوں کے لیے آزاد ’پٹھان ریاست‘ قائم کی جائے۔ ان کا دوسرا نعرہ دو رنگا ہے، اور اس کا مقصد بھی پٹھانوں کو گمراہ کرنا ہے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مجوزہ ’پٹھانستان‘ کا دستور جمہوریت کے اسلامی تصورات، مساوات اور معاشرتی انصاف پر مبنی ہوگا، تو ان کا مطلب، مجلس دستور ساز پاکستان، جومسلمانوں کی عظیم اکثریت پر مشتمل ہوگی، پریہ بہتان طرازی کرنا ہے کہ وہ جمہوریت کے اسلامی تصوراتِ مساوات ومعاشرتی انصاف کو نظر انداز کر دے گی… یہ محض ایک عیارانہ حربہ ہے جس کا مقصد شمال مغربی سرحد کے مسلمانوں کو گمراہ کرنا ہے… خان عبدالغفار خاں جو سرحدی گاندھی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، ان کو اسلامی تصوراتِ مساوات و معاشرتی انصاف پر اجارہ داری حاصل نہیں ہے… یہ اچانک اور نئی قلابازی خالصتاً سیاسی عیاری اور ایک حربہ ہے … خاں برادران نے اخبارات میں ایک اور زہریلا نعرہ بلند کیا ہے کہ مجلس دستور ساز پاکستان، شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین کو نظرانداز کر دے گی۔ یہ بھی بالکل نادرست بات ہے۔ ۱۳ سے زیادہ صدیاں بیت گئیں، اچھے اور بُرے موسموں کا سامنا کرنے کے باوصف، ہم مسلمان نہ صرف اپنی عظیم اور مقدس کتاب قرآن کریم پر فخر کرتے رہے، بلکہ ان تمام ادوار میں جملہ مبادیات کو  حرز جان بنائے رکھا… معلوم نہیں کہ خان برادران کو اچانک اسلام اور قرآنی قوانین کی علَم برداری کا دورہ کیسے پڑا ہے، اور انھیں اُس ہندومجلس دستور ساز پر اعتبار ہے جس میں ہندوئوں کی ظالمانہ اکثریت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ صوبہ سرحد کے مسلمان واضح طور پر یہ سمجھ لیں کہ وہ پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں پٹھان‘‘۔ [قائداعظم: تقاریر و بیانات، ج۴، ترجمہ اقبال احمد صدیقی، بزم اقبال، لاہور، ص ۳۴۶-۳۴۷]

اس بیان میں قائداعظم نے خصوصاً دو چیزوں کو وضاحت سے نمایاں کیا ہے۔ ایک یہ کہ سیکولر، روشن خیال اور ’اکھنڈ بھارت‘ کے طرف دار پرلے درجے کے موقع پرست ہیں، اور دوسرا یہ کہ اسلام،نسلی اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہے۔ اسی لیے انھوں نے کہا کہ آپ پہلے مسلمان اور پھر پٹھان ہیں۔ یہی چیز دو قومی نظریے کی جان ہے۔

۲۵جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام میلاد النبیؐ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، قائداعظم نے فرمایا:

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگوں کا ایک طبقہ جو دانستہ طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے،  یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی، حالانکہ آج بھی اسلامی اصولوں کا زندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے، جس طرح تیرہ سو برس پیش تر ہوتا تھا… اسلام اور اس کے اعلیٰ نصب العین نے ہمیں جمہوریت کا سبق پڑھایا ہے۔ اسلام نے ہر شخص کو مساوات، عدل اور انصاف کا درس دیا ہے… رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم راہبرتھے، آپؐ ایک عظیم قانون عطاکرنے والے تھے،آپؐ ایک عظیم مدبر تھے، آپؐ ایک عظیم فرماں روا تھے، جنھوں نے حکمرانی بھی کی۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو بہت سے لوگ اس بات کو نہیں سراہتے… اسلام نہ صرف رسم و رواج، روایات اور روحانی نظریات کا مجموعہ ہے، بلکہ ہر مسلمان کے لیے ایک ضابطہ بھی ہے، جو اس کی زندگی اور اس کے رویے بلکہ اس کی سیاست اور اقتصادیات وغیرہ پر محیط ہے۔ یہ وقار، دیانت، انصاف اور سب کے لیے عدل کے اعلیٰ ترین اصولوں پر مبنی ہے۔ ایک خدا اور خدا کی توحید، اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ [ایضاً، ص ۴۰۲-۴۰۳]

اس خطاب میں قائداعظم نے برملا اعلان کیا ہے کہ جو لوگ، اسلامی نظریۂ حیات کے حوالے سے پاکستانی مسلمانوں کی یکسوئی کو ابہام و انتشار کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہ شر انگیز عناصر ہیں۔ وہ تیرہ صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی اسی طرح اسلام کے قانون شریعت کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے اس پر زور دے رہے ہیں___فروری۱۹۴۸ء میں امریکی عوام کے نام ریڈیو نشری پیغام میں قائداعظمؒ نے فرمایا:

مجلس دستور ساز پاکستان کو ابھی پاکستان کے لیے دستور مرتب کرنا ہے۔ مجھے اس بات کا تو علم نہیں کہ دستور کی حتمی شکل کیا ہوگی، لیکن مجھے اس امر کا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا، جس میں اسلام کے لازمی اصول شامل ہوں گے۔ آج بھی ان اصولوں کا عملی زندگی پر اطلاق ویسے ہی ہو سکتا ہے، جیسے کہ ۱۳ سو برس قبل ہو سکتا تھا۔ اسلام نے ہر شخص کے ساتھ عدل و انصاف کی تعلیم دی ہے۔ ہم ان شان دار روایات کے وارث ہیں، اور پاکستان کے آیندہ دستور کے مرتبین کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے باخبر ہیں۔ [ایضاً، ص۴۲۱-۴۲۲]

امریکی عوام کے نام اس نشریے میں وہ صاف لفظوں میں بتاتے ہیں کہ ۱۳سو برس قبل جس طرح اسلام کے اصولوں کا اطلاق ہوا تھا، ویسا ہی آج بھی ہو سکتا ہے، اور ریاستِ پاکستان کے دستور میں انھی اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے گا___یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا:

مغربی اقدار، نظریے اور طریقے___ ایک خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا، اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی اساس انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچے اسلامی تصور پر استوار ہو۔ اس طرح ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کر سکیں گے، اور بنی نوع انسان تک امن کا پیغام پہنچا سکیں گے۔[ایضاً،ص۵۰۱]

اس بیان میں انھوں نے مستحکم لہجے میں یہ حقیقت واضح کی ہے کہ مغربی دانش ہمارے مسائل کا حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس لیے اسلامی نظریے کی بنیاد پر ہمیں اپنا معاشی نظام بھی پیش کرنا ہوگا۔

آخر میں یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ ۱۱؍اگست کی تقریرمیں قائداعظم غیر مسلموں کے شہری حقوق کی بات کررہے تھے، نہ کہ تحریک پاکستان کے بنیادی استدلال اور موقف کی نفی کر رہے تھے۔ البتہ پاکستان کے سیکولر دانش وروں اور بھارت کے مصنفین نے قائداعظم کے تمام خطبات کو نظر انداز کرکے فقط اس ایک تقریر کو بنیاد بناکر اس سے بالکل ہی دوسرامفہوم اخذ کرلیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان ’روشن خیال‘ دانش وروں کو دیانت کا دامن تھامنا اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دینا چاہیے۔

قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں ہمیں ایک نظریاتی چیلنج درپیش تھا، آج پھر اس مسئلے کو زیادہ شدت کے ساتھ ابہام کا شکار کیا جا رہا ہے۔ کل اس کے علم بردار، خود پاکستان میں چند سیکولر اور اباحیت پسند لوگ تھے، اور آج بھارت سے لے کر امریکا تک اس منفی پروپیگنڈے کے     پشتی بان حضرات کی ایک فوج ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم پوری یک سوئی کے ساتھ اپنے نشانِ منزل پر نظریں جما کر اس منزل کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

کہا جاتا ہے کہ اس نظریاتی بحث میں پڑنے سے بھلا کون سا مسئلہ حل ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرلابی نے اسی دینی اور نظریاتی رشتے کو کمزور بنانے کے لیے وہ سارا جال بُنا جس کے نتیجے میں، پاکستان کی نظریاتی اساس سے ہاتھ دھونا کوئی بڑا خسارہ نہیں سمجھا جارہا۔ حالانکہ سیانا دشمن اسی جڑ پر تیشہ چلا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک پاکستان کے دینی اور آئینی رشتے کو نشانہ بناکر توڑ پھوڑ نہیں دیا جائے گا اس وقت تک، اس مملکت ِ خدادا د کی تخریب ممکن نہیں ہوگی۔ اندریں حالات تمام اہلِ وطن کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی اس پہچان اور رشتے کو سمجھیں، اس کی حفاظت کریں اور اس کی بنیادوں پر اپنے سماجی، تہذیبی، معاشی اور سیاسی مستقبل کی تعمیر کریں۔

یاد رہے کہ آج پاکستان جن مسائل میں گھرا ہوا ہے، اس کا واحد حل دو قومی نظریے کی بازیافت اور اسلامی نظریۂ حیات کے لیے مکمل یکسوئی میں پوشیدہ ہے۔ امریکا کی یلغار ،داخلی انتشار، بلوچستان کا قضیہ، مہنگائی کا عفریت اور سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحران، ان سب کا علاج اسی سے ممکن ہے۔ نیت ٹھیک نہ ہو تو اسے محض ایک نظری بات کہہ کر ٹالا جاسکتا ہے لیکن اگر نیت درست ہو تو اسلام کی یہ رہنمائی اور بانیانِ پاکستان علامہ اقبال و قائداعظم کی یہ پکار اُلجھی راہوں کو صراط مستقیم بنا دے گی۔

نائن الیون [۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء]کے افسوس ناک خونیں حملوں کے بعد امریکا نے عملاً پوری دُنیا اور اقوام متحدہ کو یرغمال بنا لیا۔ پھر انسانیت سے عاری جس تباہ کن مہم کا آغاز ’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام سے کیا، وہ مہم نہ منطقی تھی، نہ منصفانہ تھی، اور نہ انسانیت نواز تھی، بلکہ یہ خونیں مہم، خود اس یلغار کا حصہ بننے اور اس کی قیادت کرنے والوں کے خلاف ہی پلٹ کر ایک جنگ میں تبدیل ہوگئی۔

نائن الیون کے محرکات اور معاملات کو بڑے حُسنِ تدبیر کے ساتھ سمجھنے، ان کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لانے اور یوں تشدد کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے جن بنیادی اقدامات کی ضرورت تھی، ان اقدامات کے بجائے، دُنیابھر کی طاقتوں نے مجرمانہ حد تک آنکھیں بند کرکے لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کے لیے امریکا کا ساتھ دیا اور افغانستان کی قانونی حکومت کو بلاجواز خوفناک حملوں کے ساتھ ختم کر دیا گیا (حالانکہ نائن الیون حملوں میں کوئی بھی افغان ملوث نہیں تھا)، اس بے صبری اور بے تدبیری کے نتیجے میں دُنیا کو جھنجھوڑنے والے المیوں نے جنم لیا:

  • آج کی دُنیا، نائن الیون سے پہلے کی دُنیا سے کہیں زیادہ غیرمحفوظ بن کر رہ گئی ہے۔
  • بھارت نے کابل کی کٹھ پتلی امریکی حکومت کے زیرسایہ پاکستان کے خلاف سازشوں اور تخریب کاری کے لیے ۶۶تربیتی مراکز قائم کیے، جہاں سے پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گردی ہوتی رہی۔ جس میں ایک لاکھ کے قریب پاکستان کے دفاعی جوان، افسر اور عوام جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔
  • مسلم دنیا میں قیادت و سیادت کے سرچشموں پر مسلط غیرنمایندہ حکمرانوں نے، مسلم اُمہ کے بے پناہ مادی وسائل، اس قاتلانہ یلغار کے لیے یوں مختص کردیے کہ آج ان ممالک کی معیشتیں مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں گروی بن چکی ہیں۔ ریاستی بجٹ خسارے سے دوچار ہیں۔ خلیج و عرب کی سطحی خوش حالی، کاغذ کے محلات کی صورت میں زمین پر آن گری ہے۔
  • بعض عرب ممالک تو اب باقاعدہ امریکی اور نیٹو افواج کی چھائونیوں کے لیے بڑے بڑے رقبے دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ لیبیا، عراق اور شام جیسے باوسائل مسلم ممالک اور ان کی دفاعی صلاحیت بتاشے کی طرح بیٹھ گئی ہے۔ خون اور بارود کی بارش اور دلدل میں دھنسنے کے بعد ان تینوں ممالک کی حکومتوں اور سرحدوں کو پہچاننا ممکن نہیں رہا۔
  • بیس برس تک افغانستان کے جن طالبان کی بالفعل حکومت کو جبر کی قوت سے ملیامیٹ کیا گیا تھا، انھوں نے دُنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی مدد اور پشتی بانی کے بغیر (پاکستان نے بہت محدود اخلاقی مدد کی) دُنیا کی عظیم ترین جارحانہ جنگی ٹکنالوجی کا مقابلہ کیا اور آخرکار جارح امریکا ۲۰۲۰ء میں مذاکرات کی میز پر آیا اور طالبان سے معاہدہ کیا، جس کے تحت ۳۱؍اگست ۲۰۲۱ء تک افغانستان کو چھوڑ دینے کا وعدہ کیا گیا۔ تاہم، سالِ رواں ۱۵؍اگست کو امریکی، بھارتی کٹھ پتلی حکومت بدحواسی میں پسپا ہوگئی اور اس طرح طالبان پندرہ روز پہلے ہی کابل میں داخلے پر مجبور ہوگئے۔
  • طالبان کی یہ کامیابی کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں ہے، اور کسی جائز حکومت کے خلاف بغاوت بھی نہیں ہے بلکہ انھوں نے اپنی حکومت کے ناجائز خاتمے کو ۲۰برس بعد مشیت الٰہی سے پلٹ دیا ہے، جس پر افغانوں کو اور اُمت مسلمہ کو خدا کے حضور سجدہ ریز ہونا چاہیے۔
  • طالبان حکومت کی طرف سے، اپنے ہم وطن غداروں، قاتلوں، اپنے خلاف لڑنے والے کرائے کے فوجیوں اور جاسوسوں کے لیے عام معافی کے اعلان نے، عصرحاضر کی بین الاقوامی تاریخ میں ایک ناقابلِ فراموش مثال قائم کی ہے۔ یہ روایت فتح مکہ کی اتباع سے وابستہ ایک عظیم الشان تہذیبی قدم ہے، جس کی پوری دُنیا کی طرف سے قدر کی جانی چاہیے تھی، مگر افسوس کہ غیرمسلم ریاستیں تو ایک طرف، خود مسلم دُنیا پر مسلط حکمرانوں نے بھی اس کی قدر نہیں کی، جو باعث ِ ندامت ہے۔
  • پاکستان اور افغانستان، اسلام اور بھائی چارے کے جن گہرے رشتوں سے باہم جڑے ہوئے ہیں، ان میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات اور ذمہ داریاں، دُنیا کے دوسرے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ اہم، حددرجہ نازک اور فوری اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں۔
  • حکومتِ پاکستان کی یہ دینی، تہذیبی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کے عوام کی تاریخی جدوجہد کا احترام کرتے ہوئے، افغانستان میں امن و استحکام کو ترجیح اوّل قرار دے اور افغانستان کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کرے۔ اس ضمن میں حکومت ِ پاکستان کی تذبذب اور گومگو کی کیفیت قومی مفادات کے قطعی منافی ہے۔
  • طالبان کی حکومت بننے سے پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ ہوگئی ہیں۔ مگر بھارت اور امریکا کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان کی مغربی سرحد یں مسلسل سلگتی رہیں، اور پاکستان بدامنی و اضطراب کے چنگل میں اُلجھا رہے۔ اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی افغانستان میں نئی حکومت کو فوری تسلیم کرنا ضروری ہے۔
  • بھارت اور امریکا نے افغانستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کا جو زہر گھولا ہے، اس کا حل بھی افغانستان میں امن و آسودگی پیدا کرنے کے لیے، رفاہی کاموں میں افغان حکومت کا ہاتھ بٹانے سےممکن ہے۔
  • افغانستان کے مالی ذرائع پر امریکی پابندیوں اور عالمی سطح پر عملاً سوشل بائیکاٹ کے نتیجے میں افغانستان میں خوراک اور ادویات اور توانائی کی شدید کمی واقع ہوچکی ہے، جس نے روح فرسا انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی ہمدردی اور اسلامی اخوت کی بنیادوں پر خوراک، ادویات اور توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے پاکستان سے ممکن حد تک مدد فراہم کی جانی چاہیے۔
  • پہلے اشتراکی روسی فوجوں نے اور پھر افغان تنظیموں کی خانہ جنگی نے اور اس کے بعد امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان کے بچے کھچے نظامِ زندگی اور ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کی بحالی اور تعمیرنو کے لیے عالمی فنڈ قائم کیا جائے، تاکہ مواصلات، توانائی کے ذرائع، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی تعمیرو مرمت کا کام ہوسکے۔
  • سامراجی فوجوں کی واپسی کے بعد ، افغانستان کی نئی حکومت پر مختلف النوع ذمہ داریوں کا بہت زیادہ بوجھ بڑھ گیا ہے۔ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے افغان قیادت کو اللہ پر بھروسا رکھتے اور مشاورت کی روح کو زند ہ کرتے ہوئے، اَن تھک محنت، تدبر، دُوراندیشی کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو۔
  • افغانستان اور پاکستان میں امن ان دونوں ممالک کے باہمی تعلق اور اعتماد سے ممکن ہے۔ یہ ہونہیں سکتا کہ ان میں سے ایک ملک میں بدامنی ہو تو دوسرا ملک امن سے رہ سکے۔ اس لیے جس طرح طالبان نے ملک میں امن کی فضا پیدا کرنے کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے، اسی طرح حکومت ِ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ ان لوگوں کو عام معافی دے کر انھیں سماجی زندگی کا حصہ بننے کی اجازت دے، جنھوں نے ان ۲۰برسوں کے دوران غیرملکی فوجوں کے افغانستان پر قبضے کے خلاف جدوجہد میں کسی بھی صورت حصہ لیا تھا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ملک میں بے چینی کا ایک سبب قائم رہے گا، جسے دشمن ممالک گمراہ کن انداز سے برت سکتے ہیں۔ پاکستان کا یہ اقدام ایسے خدشات اور امکانات کو ختم کرسکتا ہے۔
  • دُنیا بھر کے مسلمانوں اور غیرمسلموں میں جو لوگ جنگ زدگی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، اور پُرامن شہری زندگی کے فروغ کے لیے دل و جان سے متحرک ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ بے لوث طریقے سے، سرزمین افغانستان کو امن و آسودگی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے مشورے، فنی سہولیات اور اموال و اشیا کے ذریعے موجودہ افغان حکومت کو مدد فراہم کریں(ہمیں اس بات پر اطمینان ہے کہ پاکستان کی ایک قابلِ قدر رفاہی تنظیم ’الخدمت فائونڈیشن‘ نے محدود وسائل کے باوجود افغانستان میں خوراک اور ادویات کی فراہمی کے لیے مقدور بھر عملی قدم اُٹھایا۔ اور ’الخدمت‘ یتیم بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے لیے افغان حکومت کا ہاتھ بٹانے کے لیے بھی کوشاں ہے)۔
  • افغانستان خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہے، جس کے لیے تجارت کا سب سے بڑا اور سستا راستہ پاکستان ہے۔ پاکستان نے اپنی بدترین مخالف افغان حکومتوں کے اَدوار میں بھی اس حق کو معطل نہیں کیا، مگر افسوس کہ آج یہ افغان تجارت بند ہے اور کروڑوں روپے کے پھل افغانستان میں تباہ ہورہے ہیں۔ جس سے افغان معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس زیادتی کا ازالہ ہونا چاہیے اور تجارتی آمدورفت کو فی الفور بحال کرنا چاہیے۔
  • حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان پی آئی اے کا کرایہ کو دو ڈھائی سو ڈالر سے بڑھا کر ڈھائی ہزار ڈالر تک کردیا گیا ہے جس نے بداعتمادی کو بڑھایا ہے۔ پھر یہ کہ طورخم بارڈر پر افغانستان سے آنے والے ٹرکوں اور ایمبولینسوں کی پندرہ پندرہ کلومیٹر طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں، جن میں مریض تڑپ رہے ہیں اور خوراک کو ترس رہے ہیں۔ معلوم نہیں قانونی طریقے سے آنے اور واپس جانے والے ان مستحق افراد کو کیوں خوار کیا جارہا ہے؟ حالانکہ ماضی میں ایسا کبھی نہیں کیا گیا۔
  • اسی طرح ہم بہت دل سوزی کے ساتھ دونوں برادر ملکوں کے سیکولر ہم وطنوں سے کہیں گے: (۱) اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان کوئی ایک باقاعدہ پارٹی نہیں بلکہ یہ عام افغان عوام کے جذبۂ حُریت و آزادی اور عزمِ دین و ترقی اور اجتماعی جدوجہد کا مظہر ہیں، پھر کسان، مزدور، نوجوان،تجارت پیشہ ،دینی تعلیم سے آراستہ اور جدید تعلیم یافتہ افغانوں کی ایک عظیم اکثریت ان کے ہم قدم ہے۔(۲) یہ کہ چالیس برس سے جنگ میں جھلستے اس ملک کے داخلی حالات خراب ہیں، اگر دین دار اور مغربی سامراجیوں کے خلاف لڑنے والوں کے گھر جلیں گے تو ان سامراجیوں کو خیر کی نظروں سے دیکھنے والوں کے گھر بھی تباہی سے نہیں بچ سکیں گے۔ اس لیے لبرل یا سیکولر ہم وطنوں کو سمجھنا چاہیے کہ طالبان نے اپنے ملک پر قابض ایک ناجائز سامراجی ٹولے کی حکمرانی سے نجات حاصل کی ہے، اپنے ملک پر کوئی قبضہ نہیں کیا، بلکہ سامراجیوں سے قبضہ چھڑایا ہے، جس میں مقابلے اور مذاکرات دونوں کا کردار ہے۔ اس لیے، وہ طالبان کے خلاف گھنائونے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو پروان چڑھانے کا بے فیض کام چھوڑ کر، معقول طریقے سے قومی تعمیروترقی میں ہاتھ بٹائیں۔
  • پاکستان کے اعلیٰ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ میڈیکل، انجینیرنگ، سائنس، ابلاغیات، انتظامیات، علومِ اسلامیہ اور سماجیات میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے افغانستان کے نوجوانوں کے لیے اسکالرشپ پر نشستیں مخصوص کریں، جنھیں میرٹ پر داخلہ اور تربیت دی جائے۔یوں مستقبل میں بھائی چارے میں اضافہ ہوگا، اور افغانستان کی ترقی میں پاکستان کے کردار سے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوتے جائیں گے۔
  • اس کے ساتھ پاکستان کے فیصلہ سازوں پر ہم یہ امر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ سرزمینِ پاکستان یا پاکستان کی فضائی حدود، امریکا یا نیٹو افواج کو افغانستان پہ حملے کرنے کے لیے کسی صورت مہیا نہیں کی جانی چاہیے۔ امریکا کے دبائو پر افغانستان کے خلاف کسی قسم کی راہداری دینا، قوم کے لیے بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ امریکا سے ہم مثبت تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، لیکن امریکا کے اور ہمارے مفادات اس پورے خطے (Region) میں کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔ ہمیں چین، روس اور ایران کے ساتھ مل کر علاقے اور اپنے ملک کے مفادات کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت سے مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ افغانستان کی تقویت اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسلم ممالک اور یورپی ملکوں کو بھی امریکا کے دبائو سے نکلنے اور آزاد پالیسی بنانے پر متوجہ کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ترکی اور قطر کا کردار بڑا مثبت ہوسکتا ہے۔ انھیں بھی اس تزویراتی ربط و تعلق میں ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ایک پختہ عزم اور ارادے کے ساتھ حکومت ِ پاکستان کو ان اُمور پر فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ وقت گزرنے کے بعدکیے گئے اہم ترین اقدامات بھی اپنی قدروقیمت کھو بیٹھتے ہیں۔ امریکی دبائو اور بلیک میلنگ میں آکر افغانستان کے حوالے سے تاخیری حربوں سے کام لینا،اس خطے کے لوگوں اور تاریخ و تہذیب سے انتہا درجے کی بے وفائی ہوگی۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ زندگی میں انسان بہت سے اُتارچڑھائو، صدمات اور خوشیوں کو قریب سے دیکھتا اور برداشت کرتا ہے۔ لیکن بعض واقعات اور حوادث اس قدر گہرے اور دُوررس اثرات کے حامل ہوتے ہیں کہ حیرت اور صدمے کے الفاظ ان کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ اس کیفیت میں بالخصوص اپنے دوستوں، رفیقوں اورمحترم شخصیتوں کی جدائی بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔

۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۱ء کو پاکستان کے مایہ ناز سائنس دان جناب عبدالقدیرخاں کا انتقال ہوا تو لوحِ ذہن پر واقعات و حوادث کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اُبھر آیا۔

یہ ۱۹۵۲ء کی بات ہے، جب میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کا ناظم تھا۔ تب، کھوکھراپار کے راستے، بے سروسامانی کے عالم میں بھوپال سے ہجرت کرکے آنے والے ایک درازقامت طالب علم سے ملاقات ہوئی۔ جس کی شرافت، نجابت اور شائستگی کا نقش پہلی ملاقات ہی میں ثبت ہوگیا۔ یہ نوجوان طالب علم ڈی جے سائنس کالج میں ایف ایس سی میں زیرتعلیم تھا اور والدین و اساتذہ کی دینی تربیت کے باعث، جمعیت کے رفقا سے قریب تر ہوگیا۔ آگے چل کر یہی نوجوان ڈاکٹر اے کیوخاں کے نام سے پاکستان کے جوہری پروگرام کا سرتاج بنا۔

اُس زمانے میں عبدالقدیر خاں کی وابستگی جمعیت کے اجتماعات میں شرکت، ہمارے ترجمان Student's Voice کی اشاعت و ترویج، مستحق طالب علموں کی تعلیمی مدد اور سماجی سرگرمیوں میں ہم قدم ہونے تک تھی۔ اسی دوران ایک روز انھوں نے مجھ سے کہا: ’’میں جمعیت کا رُکن بننا چاہتا ہوں‘‘۔ میں نے اُن کے ذوقِ مطالعہ کو جاننے کے باوجود یہ کہا کہ ’’نصاب رکنیت کی مزید کتب کا مطالعہ کرلیجیے‘‘۔ تاہم، بعد میں وہ تنظیم میں اور زیادہ آگے نہیں بڑھ سکے، لیکن جمعیت کی اجتماعی سرگرمیوں سے اپنے زمانۂ طالب علمی میں وابستہ رہے۔ تعلیم مکمل کرکے پہلے مقامی طور پر کراچی میں ملازمت کی اور بعد میں بیرونِ پاکستان چلے گئے۔

ڈاکٹر عبدالقدیرخاں کے احوالِ زندگی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ لیکن یہاں میں ان کے بارے میں ان کی زندگی کے چند ایسے اوراق پیش کرنا چاہتا ہوں ، جو لکھنے والوں کی نظروں سے بالعموم اوجھل رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سب سے پہلے ۲۰۰۱ء میں ڈاکٹر صاحب کو ایٹمی پروگرام سے متعلق قومی ادارے KRL کی سربراہی سے سبک دوش کرکے صدر کا مشیر مقرر کیا گیا۔ مگر ۳۱جنوری ۲۰۰۴ء کو انھیں اچانک اس منصب سے الگ کرکے نظربند کردیا گیا، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انھیں امریکا کے حوالے کیے جانے کی باتیں منظرعام پر آئیں۔

ڈاکٹرصاحب کو نظربند کرنے کے بعد، ان کے خلاف کردارکشی کی مہم چلائی گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ اور کیسے ہوا؟ چونکہ یہ معاملہ بہت نازک ہے، اس لیے اپنی روایت سے ہٹ کر، سینیٹ آف پاکستان میں اپنی چند تقریروں کے اقتباسات، سینیٹ کے ریکارڈ سے پیش کر رہا ہوں، جن سے معاملے کی نزاکت کی تفہیم ممکن ہوسکے گی۔


  • ۱۶ فروری ۲۰۰۴ء کو سینیٹ میں تقریرکرتے ہوئے میں نے کہا تھا: ’’یہ معاملہ محض چارفروری (۲۰۰۴ء) کو ڈاکٹر اے کیو خان کے ٹیلی وژن پر ’اعترافی بیان‘ کے عمل تک محدود نہیں ہے۔ آپ یہ دیکھیے کہ کس طرح ۲۰۰۱ء میں ڈاکٹر اے کیو خان کو ان کے منصب سے فارغ کرکے صرف مشیر کی نمایشی حیثیت دی گئی۔ تب یہ پہلا اشارہ تھا کہ ہوا کا رُخ کیا ہے۔ درحقیقت نائن الیون کی مناسبت سے معاملہ صرف یہی نہیں ہوا کہ اس کے چند روز بعد ہم نے اپنے ایئرپورٹ، زمینیں اور فضائیں امریکا کے لیے کھول دی تھیں بلکہ ہم نے امریکا کو موقع دیا تھا کہ ہماری ایٹمی صلاحیت کے بارے میں وہ جو کچھ ہم سے کہلوانا چاہتا ہے یا جہاں لے جانا چاہتا ہے، اس کے لیے ہم پر دبائو ڈال سکے۔

یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ اس سے قبل ’ڈی بریفنگ‘ (De-briefing) کا معاملہ شروع کیا گیا تھا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ڈی بریفنگ صرف جاسوسوں کی ہوتی ہے لیکن ہم نے اس اصطلاح کو اپنے ان محسنوں کے لیے استعمال کیا ہے، جو اس ملک کی سلامتی و خودمختاری اور اس کے دفاع کو مؤثر بنانے کے لیے ہرقیمت پر قربانی دیتے ہیں۔ پھر ’ڈی بریفنگ‘ کے اس نام نہاد عمل کو بھی ہم نے بالاقساط کیا۔ پہلے تو دو سائنس دانوں کو اُٹھایا اور کہا کہ ’’اے کیوخان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا‘‘۔ لیکن پھر جس شخص نے اس ملک پر سب سے بڑا احسان کیا اور جس نے اس کے لیے بڑی قربانیاں دیں، اس کو تسلسل سے تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ سارے اقدامات نہایت ہی اہانت اور ذلت آمیز طریقے سے کیے گئے۔ یہ مسئلہ اپوزیشن یا محض حکومت کا بھی نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ حکومت، فوج، پارلیمنٹ ہم سب کا مشترک معاملہ ہے۔ اس ملک کا تحفظ اور اس کی ایٹمی دفاعی صلاحیت کا تحفظ ہی نہیں اس صلاحیت کی ترقی بھی ہمارا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ اس لیے کہ دفاعی صلاحیت ایک منجمد نہیں بلکہ متحرک تصور ہے۔ اس پر حالات کی مناسبت سے نظرثانی کرنی پڑتی ہے، وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے ہوئے اس کے لیے تحقیق و ترقی کا انتظام ناگزیر اور ضروری ہے۔ ظاہر ہے اس کے لیے سائنس دانوں کا تعاون اور ضروری وسائل کی فراہمی اور وہ تمام طریقے اختیار کرنا ضروری ہیں، جو دُنیا کی پابندیوں کے باوجود ہم نے اپنی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ماضی میں بھی کیے ہیں اور آیندہ بھی کرنے پڑیں گے۔

یہ بڑی زیادتی اور بڑا ظلم ہے، جو آپ ان محترم سائنس دان کے ساتھ کر رہے ہیں۔ جو شخص باہر کی ایک بڑی تنخواہ چھوڑ کر اور اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ، اپنے ملک کو بچانے کے لیے آیا، وہ بلاشبہہ سائنس دانوں اور انجینیروں کی ایک ٹیم کا حصہ ہے۔ اس ٹیم میں جو جوہری قائد تھے، ان کا نام ڈاکٹر اے کیوخان ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ آپ ایک طرف اس کے منہ پر طمانچہ مارتے ہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ یہ میرا ’ہیرو‘ ہے۔ یہ کون سا طریقہ ہے؟

میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان اقدامات کے نتیجے میں فوجی قیادت اور عوام کے درمیان بے اعتمادی بڑھ رہی ہے۔ اے کیوخان اور ان کے ساتھی سائنس دان قوم کے ہیرو اور محسن ہیں۔ آج تک وژن یہ تھا کہ سائنس دان، اے کیوخان اور فوجی قیادت ساتھ ساتھ ہیں اور سب احترام کی نظر سے دیکھے جارہے تھے لیکن آج آپ نے ان کے درمیان ایک تصادم پیدا کرکے پوری قوم کے سامنے اس وژن کو منتشر کردیا ہے۔

  • ۲۹؍اکتوبر ۲۰۰۴ء کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا: ’’۲۸؍اکتوبر ۲۰۰۴ء کے روزنامہ پاکستان آبزرور ،[اسلام آباد] میں ڈاکٹر اے کیوخان پر فالج کے حملے کی بڑی پریشان کن خبر شائع ہوئی ہے اور جو تفصیلات ہمارے سامنے آئی ہیں، وہ یہ ہیں کہ عظیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر اے کیوخان متعدد خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں اور گذشتہ سات ماہ سے اپنے گھر پر نظربند ہیں۔ انتہائی ہائی بلڈپریشر اور شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں اور ان کا ۳۲پونڈ وزن کم ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خاں ایک قومی اثاثہ اور ہمارے محسن ہیں۔میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ ان پر کیا الزامات لگائے گئے ہیں اور ان الزامات کی حقیقت یا پس منظر کیا ہے اور کون کیا کھیل کھیل رہا ہے؟ اس وقت میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ وہ ہمارا ایک بہت بڑا قومی اثاثہ ہیں اور اس کو اس طریقے سے نظربند رکھنا اور معقول علاج معالجے کی سہولتیں نہ دینا، ایک قومی جرم ہوگا۔اس لیے دردمندی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم یہ مسئلہ پارٹی سیاست سے بالاتر ہوکر اُٹھائیں۔ بلکہ یہ کہوں گا کہ اسے پوری اُمت مسلمہ کے ایک مسئلے کے طور پر لیں، اس لیے کہ ڈاکٹر خان صرف پاکستان کا نہیں پوری اُمت مسلمہ کا اثاثہ ہیں۔

ماضی میں جو کچھ ہوا ، وہ اپنی جگہ ، لیکن ان کی جان بچانا، ان کو مناسب سہولتیں دینا، اور حبس اور گھٹن کی کیفیت سے نکالنا جس میں وہ گرفتار ہیں، ہماری ذمہ داری ہے۔ میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور قوم کے جذبات کا احترام کرے۔ بیرونی حکومتوں کے اپنے مفادات ہیں۔ جوہری افزدودگی کے حوالے سے کس کس نے کیا کیا ہے، یہ آپ کو معلوم ہے۔ اب تو یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ بھارت اس میں ملوث ہے۔ دوسری جانب آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ جنوبی کوریا اپنے وسائل سے اس کام کو کر رہا ہے لیکن ایک خاص سیکنڈل کے ذریعے جنوبی کوریا کے ساتھ ہمیں ملوث کیا جارہا ہے۔ تاہم، میں مطالبہ کروں گا کہ حکومت اس ایوان میں ہمارے سامنے سارے حقائق رکھے۔

  • ۱۲مئی ۲۰۰۶ء کو سینیٹ میں مَیں نے یہ بیان دیا: ’’میں ایک نہایت ہی اہم قومی مسئلے کے بارے میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اس مسئلے کا تعلق پاکستان اور اُمت مسلمہ کے محسن ڈاکٹر اے کیوخان سے ہے۔ اس سلسلے میں ان کو بار بار کی تفتیش، تذلیل اور سیکورٹی کے نام پر ان کے سماجی، خاندانی تعلقات، ان کی ملاقاتیں، حتیٰ کہ اپنی اولاد اور ان کی نواسیوں تک سے ملاقات کو روکا جارہاہے۔پھر یہ اطلاع آئی کہ ان کو دھمکایا گیا ہے کہ آپ کو قید تنہائی میں ڈال دیا جائے گا اور پھر گیسٹ ہائوس کے گیٹ کے پاس، ایک کمرہ خصوصیت سے اس طرح سے بنایا گیا کہ وہ کسی جیل خانہ سے کم نہیں۔ وہاں وہ اپنی بیوی کے ساتھ بھی نہیں رہ سکتے۔ یہ ساری چیزیں ہورہی تھیں کہ پھر یہ اطلاع آئی کہ ان کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ ’’ہم نے ڈاکٹر اے کیوخان کی رہایش کے باہر جو مشین لگائی ہے یہ ان کی حفاظت کے لیے ہے‘‘ اور یہ کہ ’’ان سے ملنے کے لیے کوئی نہیں آسکتا‘‘۔ مزید یہ کہ ’’بیوی اور شوہر وہاں رہ رہے ہیں اور ان سے صرف ان کی بیٹی مل سکتی ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ نواسی کو کیوں نہیں آنے دیا جاتا۔ کیا وہ اپنے نانا کو مارنے کے لیے کوئی اسلحہ، کوئی ہتھیار لائے گی؟ چلیے میں سیکورٹی کے لیے نگرانی کے ایک نظام کی ضرورت مان لیتا ہوں، لیکن مسئلہ ہے ملاقاتوں سے منع کرنے کا، ذہنی اذیت اور قید تنہائی کا اور طرح طرح کی ان دھمکیوں کا جو ڈاکٹر صاحب کو دی جارہی ہیں۔

یہاں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جناب جنرل پرویز مشرف نے دی گارڈین [لندن] کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں سرعام یہ بات کہی ہے کہ ’’اے کیوخان کا مسئلہ ختم ہوگیا‘‘۔ اس سے پہلے انھوں نے یہ بات کہی ہے کہ ’’ان پر صرف ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے، ملک میں نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے‘‘۔ [فوجی ترجمان]شوکت سلطان صاحب نے یہ بات بھی کہی ہے کہ ’’ان کے اعزہ ان سے مل سکتے ہیں‘‘ لیکن میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ان کے قریبی اعزہ، حتیٰ کہ ان کی بہن اور بھائی تک کو ملنے نہیں دیا گیا۔ گذشتہ دنوں جب ایک اور سائنس دان ڈاکٹر فاروق کو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت رہا کیا گیا ہے تو ان کو بھی اپنے گھر میں نظربند کردیا گیا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ’’اب یہ باب بند ہوچکا ہے‘‘، لیکن فی الحقیقت جو دبائو، اذیت اور جوسلوک ان لوگوں کے ساتھ کیا جارہا ہے وہ ایک قومی ذلّت ہے۔

بلاشبہہ ایٹمی ہتھیار کی تیاری ایک ٹیم کا کام تھا۔ اس میں کسی کو انکار نہیں ہے، سب کا حصہ ہے اور اسی لیے ہم تمام سائنس دانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ سب کارنامہ ڈاکٹر اے کیوخان کی سربراہی میں ہوا ہے۔ ہم اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتے کہ کس نے وہ نیا طریقہ ڈیزائن کیا اور اس ملک کو دیا۔ جس پروسیس کو امریکا نے اکیس سال میں حاصل کیا تھا، اس کی ٹیم نے سات سال میں کرکے اس قوم کو دے دیا۔ ایسے فرد اور اس جیسے افراد کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے اور کل بھی ہوگی۔

خدا کے لیے امریکا پربھروسا نہ کیجیے۔ امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزارائس نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے اپنے بیان کے اندر صاف الفاظ میں یہ کہا کہ ’’ہم نے یہ یقین کرلیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے کبھی بھی کسی ایسے ہاتھ میں نہیں جاسکتے، جو اسے غلط استعمال کرسکے‘‘۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ امریکا کو کیا حق ہے اس بات کا اور امریکا کا یہ دعویٰ کہ ’’ہم نے یہ یقینی بنایا‘‘۔ پاکستان کا اپنا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم‘ ہے اور وہ اچھا ہے اور اسے آیندہ بھی محفوظ ترین ہونا چاہیے لیکن امریکا کا یہ دعویٰ کرنا، بہت ہی خطرناک چیز ہے۔ ان حالات کے اندر میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر اے کیوخان کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے، وہ کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ خدا کے لیے وہ راستہ اختیار کیجیے جو قومی غیرت ہی نہیں قومی تحفظ اور سلامتی کا تقاضا ہے۔

میں یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اے کیوخان کو دی جانے والی سہولتوں کے بارے میں جو دعویٰ کیا گیا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔ اخبار میں جو خبر آئی ہے وہ کچھ اور بتاتی ہے۔ آج کے نوائے وقت میں حکومت کی طرف سے جو ایک سطری تردید دی گئی ہے کہ اے کیوخان پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے، میں اس کو چیلنج کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں جناب چیئرمین! کہ آپ کی سربراہی میں یا ڈپٹی چیئرمین کی سربراہی میں وسیم سجاد، ایس ایم ظفر، میاںرضا ربانی اور مجھے موقع دیا جائے کہ ایک وفد کی صورت میں ہم جاکر اے کیوخان سے ملیں اور پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے، اور اس ہائوس کو آکر بتائیں کہ صورتِ حال کیا ہے؟خبر کی جھوٹی تردید اسی طرح کی جارہی ہے، جس طرح امریکا نے وزیرستان پر حملہ کیا اور ہمارے ترجمان نے تحقیق کے بغیر یہ کہتے ہوئے تردید کردی کہ نہیں یہ پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہوا، جب کہ پولیٹیکل ایجنٹ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ پاکستان کی سرزمین پر ہوا ہے۔

یہی معاملہ اے کیوخان کے حوالےسے بھی ہورہا ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ تردید غلط ہے اور مطالبہ کرتا ہوں جناب چیئرمین، کہ آپ کی سربراہی میں ہم جانا چاہتے ہیں تاکہ انھیں ملیں اور دیکھیں کہ کیا پوزیشن ہے اور ایوان کو بتائیں اور اس طریقے سے اپنے ملک میں اپنے محسنین، اپنے سائنس دان جو پوری اُمت مسلمہ کا سرمایہ ہیں، ان کی حفاظت میں اپنا کردارادا کریں۔

  • ۲ جون ۲۰۰۶ء کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا: جناب چیئرمین! آپ کی اجازت سے میں اس اہم قرارداد کو پیش کر رہا ہوں۔ یہ قرارداد مشترکہ طورپر سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹروسیم سجاد، سینیٹرمشاہد حسین، سینیٹر میاں رضا ربانی، سینیٹرلیاقت بنگلزئی، اور میری [خورشیداحمد] طرف سے پیش کی جارہی ہے:

یہ ایوان امریکی ایوانِ نمایندگان کے بعض ممبروں کی اس غیرضروری رائے زنی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس میں انھوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پوچھ گچھ اور تفتیش کے لیے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو امریکا کے حوالے کیا جائے۔

ہم اس اقدام کو پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور اپنے معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کا جوہری پروگرام ہمارے دفاع کے لیے انتہائی ضروری ہے اور کسی کے خلاف نہیں ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور بین الاقوامی سیاست میں اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔

ہم ڈاکٹر عبدالقدیرخان اوردیگر سائنس دانوں کی کردارکشی کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جس کا مقصد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ پاکستانی قوم ایٹمی ٹکنالوجی، ہتھیاروں کی تیاری اور توانائی کی سیکورٹی کے میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کے لیے اپنے سائنس دانوں کی مقروض ہے۔ تمام پاکستانی، اپنے سائنس دانوں کو احترام اورقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

یہ پوری پاکستانی قوم کے جذبات ہیں اور میں اپنے تمام ساتھیوں کا بے حد ممنون ہوں کہ سینیٹ قوم کے ان جذبات کو زبان دے رہی ہے۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم دنیا کے تمام ممالک سے دوستی اور تعاون کا تعلق رکھنا چاہتے ہیں لیکن عزّت کے ساتھ اور اپنی آزادی اور اپنی ریاست کی خودمختاری کے مکمل تحفظ کے ساتھ۔

امریکا نے جو یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ وہ جس کی چاہتا ہے ٹانگ کھینچتا ہے، جس کی چاہتا ہے بے عزّتی کرتا ہے، جس ملک کی چاہتا ہے، خودمختاری کے خلاف اقدامات کرتا ہے اور پاکستان میں باجوڑ ہو یا ہمارے دوسرے علاقے ہوں، ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پاکستان پر دبائو ڈالتا ہے۔

اس قرارداد کی صورت میں سینیٹ ایک بہت بڑی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔ یہ اپنے سائنس دانوں کی عزّت، حفاظت اور اپنی خودمختاری کی حفاظت اور اعلان ہے کہ ہم ان معاملات کے اندر کسی کو مداخلت کرنے یا اپنے حقوق میں دست اندازی کرنے کا موقع نہیں دیں گے اور پوری دنیا کے مسلمان بلکہ پوری دنیا کے عوام اس استعماری کوشش کی مزاحمت کریں گے۔

سینیٹ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے، بلکہ میں کہوں گا کہ پورے ملک کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے میں نے اس قرارداد کو پیش کیا ہے۔

  • ۹؍اگست ۲۰۰۶ء کو سینیٹ میں، مَیں نے پھر توجہ دلائی:’’آج جس طرح امریکا کے کہنے پر ہم نے اپنے نیوکلیئر سائنس دانوں کو تنگ کیا ہے، وہ شرمناک حرکت ہے۔ ڈاکٹر اے کیوخان کے ساتھ جو مظالم کیے جارہے ہیں، یہ کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔ اور جناب والا! آپ کو یاد ہوگا کہ اسی ایوان میں، مَیں نے اور میرے ساتھیوں نے اس مسئلے کو اُٹھایا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہمارے وفد کو ڈاکٹر اے کیوخان سے ملنے کا موقع دیا جائے۔ لیکن آج تک یہ موقع نہیں دیا گیا۔ اس دوران اگرچہ دوبار میں اس کے لیے خط بھی تحریر کرچکا ہوں۔ اسی طرح ایران کو تنگ کیا جارہا ہے۔ یہ سارے کا سارا سامراجی کھیل ہے۔ اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ آج پوری دنیا میں امن کی جو تحریک ہے، وہ مکمل طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی تحریک ہے۔ اس پر عمل نہ ہو تو سب کو مواقع ملنے چاہییں اور کسی کی بالادستی اور اجارہ داری برقرار نہیں رہنی چاہیے۔
  • ۱۸ستمبر۲۰۰۶ء کو سینیٹ کے اجلاس میں، مَیں نے یہ اذیت ناک صورتِ حال بیان کی: ’’آغاخان ہسپتال کراچی میں، جہاں ڈاکٹر اے کیوخان کا آپریشن ہوا ہے، وہاں مجھے انھیں دیکھنے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں نے اجازت دینے سے انکار کیا۔ اگرچہ یقین دلایا گیا تھا کہ ڈاکٹرخان کو دیکھنے اور اپنی اور سینیٹ میں میرے ساتھیوں کی جانب سے دُعائیں اور نیک تمنائیں پہنچانے کے لیے خصوصی اجازت دے دی گئی ہے۔ اور یہ کہ میں ۱۴ستمبر کو صبح گیارہ بجے ڈاکٹرخان سے مل سکتا ہوں۔ میں گیارہ بجے سے دس منٹ قبل ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ یہاں استقبالیہ میں ایک گھنٹہ ۲۵منٹ میں نے انتظار کیا، لیکن اس عرصے میں سینیٹ سیکرٹریٹ کی کوششوں کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوا، اور مجھے ڈاکٹر خان کو محض پھولوں کا گلدستہ بھجوانے کے بعد واپس آنا پڑا۔بہرحال، میں نے ڈاکٹر خاں کی صاحبزادی سے ملاقات کرکے ان تک اپنی دُعائیں اور ساتھیوں کی نیک تمنائیں ڈاکٹر خان کے لیے پہنچائیں۔ ڈاکٹر خان کی صاحبزادی اور خود ڈاکٹرخان مایوس تھے، کیونکہ وہ مجھ سے ملاقات کی توقع کر رہے تھے۔یہ سلوک نہ صرف ایک ذہنی اذیت کا باعث ہے بلکہ اس کے ذریعے ان تمام انتظامات کو سبوتاژ کیا گیا، جو اس ملاقات کے لیے کسی اور کے نہیں بلکہ ملک کے قائم مقام صدر [محمدمیاں سومرو]کے تعاون سے کیے گئے تھے۔

جناب چیئرمین! میں اپنی اس تحریک استحقاق میں صرف اتنا اضافہ کروں گا کہ ڈاکٹر اے کیوخان میرے ذاتی دوست ہیں اور میرے ان کے اُس وقت سےروابط ہیں، جب وہ طالب علم تھے اور ہندستان سے آنے کے بعد میرے چھوٹے بھائی کی حیثیت سے ڈی جے کالج میں پڑھ رہے تھے۔ ان کے یورپ میں قیام، پاکستان واپسی اور پھر آنے والے دنوں میں اس ملک کے لیے انھوں نے جو عظیم خدمات انجام دیں، اس پورے زمانے میں ہمارے بڑے گہرے اور اعتماد کے مراسم رہے۔ اگر آپ نے آج کے اخبار The Nation میں جنرل زاہد کا مضمون پڑھا ہو تو انھوں نے ہماری ایٹمی صلاحیت کی پوری کہانی بیان کی ہے، اور یہ بھی کہا ہے کہ ’’ہمیں یہ جو استعداد حاصل ہوئی ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس شخص کو یہ توفیق نہ دیتا تو ہم کبھی حاصل نہیں کرسکتے تھے‘‘۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’میں (جنرل زاہد) اس پورے معاملے میں شروع سے لے کر آخر تک وابستہ رہا ہوں اور ان (ڈاکٹر عبدالقدیرخاں) پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں ، ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس ساری بات کو ہرہرمرحلے پر پیش نظر رکھنا انتہائی اہم ہے‘‘۔

اس وقت ہمارا وہ محسن [اے کیوخاں] کینسر کے مرض میں مبتلا ہے۔ اس ایوان نے ایک بار نہیں، کئی بار ان کی رہائی کا مطالبہ اور اس کی صحت یابی کے لیے دُعا بھی کی ہے۔ اسی پس منظر میں آپریشن کے بعد میں ان سے ملنے کے لیے جانا چاہتا تھا۔ میں چیئرمین سینیٹ،جناب محمد سومرو صاحب کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس سلسلے میں ذاتی دلچسپی لی اور خود ٹیلی فون کیا۔ لیکن جناب والا! اس موقع پر یہ سوا ل اُٹھانا ضروری ہے کہ ملک میں کس کی حکومت ہے؟ صدر کی یا ایجنسیوں کی؟ میری جانب سے درخواست کے بعد سینیٹ کا سٹاف چوبیس گھنٹے کوشش کرتا رہا اور یہ ایک اُمیدوبیم کی کیفیت تھی۔ بالآخر، رات سوا بارہ بجے مجھے ٹیلی فون آیا کہ ہم آپ کو ناوقت تکلیف دے رہے ہیں، ہمیں ابھی اطلاع ملی ہے کہ اجازت مل گئی ہے۔ آپ صبح چلے جایئے اور گیارہ بجے کے بعد آپ کی ملاقات ہوجائے گی۔ اور جیساکہ پہلے بھی بتاچکا ہوں کہ میں دس منٹ کم گیارہ پر وہاں پہنچ گیا اور ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کیا۔ دوسری جانب یہ اطلاع بھی موجود تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیرخاں میرا انتظار کر رہے تھے۔ان کی بیٹی میرے انتظار میں وہیں موجود تھی۔ اس کے ساتھ ہی جنرل چوہان بھی ان کے پاس بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے، لیکن ان متعلقہ ذمہ داران اور ان کے عملے نے ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرا کر بھی مجھے ملنے کا موقع نہیں دیا۔

جناب والا! میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی ذات کے بارے میں، اپنی سولہ سال کی سینیٹ کی ممبرشپ میں کبھی بھی میں نے کوئی تحریکِ استحقاق پیش نہیں کی ہے۔ اگر تحریکِ استحقاق پیش کی ہیں تو مسائل پر کی ہیں اور ان پر کی ہیں جن کی وجہ سے سینیٹ کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آج میں سینیٹ کے ساتھ ساتھ یہ ذاتی استحقاق کی خلاف ورزی بھی پیش کر رہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ سینیٹ کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ اس ایوان کی خودمختاری، اس کے وقار اور اس کے اختیار کا مسئلہ ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں یا ان کے بڑے ہوں یا چھوٹے، میں سب کی عزّت کرتا ہوں، لیکن اگر ان کا یہ اختیار ہے کہ وہ صدر کے احکام کو نہ مانیں، اجازت دینے کے بعد اس پر عمل نہ کریں، تو پھر کون کہاں سے انصاف حاصل کرے گا؟


سینیٹ کے ریکارڈ سے یہ جو چند اوراق پیش کیے گئے ہیں، ان میں جنرل پرویز مشرف کے عہد ِ حکومت کے کچھ پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب نے اپنی پوری زندگی پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کر دی، اور اتنی حساس ذمہ داری کی ادائیگی کے نتیجے میں اپنی آزادی سے دست بردار ہونا پسند کرلیا، مگر قوم کی آزادی کے تحفظ کے لیے ایٹمی پروگرام کو ایک رُخ دینے میں کامران رہے۔

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک المیہ تو یہ بھی ہوا کہ جب مئی ۱۹۹۸ء میں کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے تو اُس وقت وزیراعظم محمدنواز شریف صاحب نے اچانک انھیں پس پردہ دھکیل دیا، جس کا سبب ڈاکٹر صاحب کے خیال میں اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ نواز شریف صاحب نے محسوس کیا ہوگا یا اُن کے کسی مشیر نے ان کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی ہوگی کہ قوم مجھے متبادل لیڈر کے طور پر کہیں قبول نہ کربیٹھے۔ اسی حفظِ ماتقدم کے طور پر نوازشریف صاحب نے اچانک ڈاکٹر صاحب کا بلیک آئوٹ شروع کر دیا، جس پر قوم، ذرائع ابلاغ اور ہرسوچنے سمجھنے والا فرد حیران و پریشان تھا۔ بعدازاں، فوجی حاکم پرویز مشرف صاحب نے جو کچھ کیا، اس کا احوال اُوپر اشاروں کنایوں میں بیان کیا جاچکا ہے۔

زندگی کے آخری زمانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے اپنی پوری توجہ تعلیم، صحت اور رفاہِ عامہ کے کاموں کے لیے مختص کردی تھی۔ پھر حددرجہ افسوس ناک یہ منظر ہم نے دیکھا کہ اُن کے دمِ واپسیں صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کے چیف تک جنازے میں نہ آئے۔ اس طرزِعمل کا کیا مطلب لیا جائے؟ کیا ہم سوال کرسکتے ہیں کہ یہ کس کی ہدایت تھی یا کس کا خوف تھا؟

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ___ میرے نہایت ہی عزیز اور محترم بھائی سیّد علی شاہ گیلانی کا یکم ستمبر ۲۰۲۱ء کو انتقال ایک عظیم سانحہ ہے۔ موت ہرشخص کا مقدر ہے، لیکن کچھ افراد کی موت زندگی کا پیغام لے کر آتی ہے اور گیلانی صاحب کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔

سیّد علی شاہ گیلانی کی زندگی کا سب سے اہم پہلو مقصدیت اور یکسوئی ہے۔ جس چیز کو انھوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا، یعنی اسلام سے شعوری و عملی وابستگی، اس کی دعوت اور اقامت، کشمیر کی آزادی، اسلام کی تقویت کے لیے پاکستان اور کشمیر کی یک جہتی اور پھر جس یکسوئی،جس   بالغ نظری اور جس اعتماد کے ساتھ، عملی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے انھوں نے اس مقصد کے لیے کام کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ پوری زندگی پر پھیلی اس طویل اور جان لیوا جدوجہد کے دوران قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، برسوں جیل اور نظربندی میں گزارے۔ علاوہ ازیں انھوں نے صحافتی، تدریسی، پارلیمانی اور سیاسی محاذ پر بھرپور خدمات انجام دیں۔

پاکستان اور کشمیر کو وہ یک جان سمجھتے تھے۔ کشمیر کا مستقبل پاکستان اور صرف پاکستان سے وابستگی میں دیکھتے تھے، لیکن اس کی بنیاد علاقائیت نہیں بلکہ اسلام اور دو قومی نظریہ تھا۔ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو جس شخص نے سب سے زیادہ ہمت اور جرأت کے ساتھ چیلنج کیا، اور پھر اس کی آواز پر کشمیر کے نوجوانوں اور عوام نے اس کا ساتھ دیا، وہ علی گیلانی ہی تھے۔ یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں سیّد علی گیلانی سے بڑا لیڈر کوئی نہیں ہے۔ بلاشبہہ ایک زمانے میں شیخ عبداللہ کشمیر میں مقبول قائد تھے، لیکن بالآخر انھوں نے اپنی ذات، اپنی شہرت اور مناصب اور خاندان کے دُنیوی مستقبل کی خاطر ہندستان کے آگے سپر ڈال دی۔ شیخ صاحب نے جن کم سے کم مطالبات پر ہندستان سے معاملہ فہمی کی تھی، بعد میں خود ہی ان سب کو ترک کر دیا۔ اس طرح وہ ایک ناکام شخص کی حیثیت سے دُنیا سے رخصت ہوئے۔ سیّد علی گیلانی اگرچہ اپنے خواب کی حتمی تعبیر تو نہ دیکھ سکے، لیکن اس حیثیت سے وہ ایک کامیاب انسان کی طرح سے دُنیا سے رخصت ہوئے کہ انھوں نے آخری لمحے تک جس چیز کو مقصد ِ زندگی بنایا تھا، اس کے لیے جدوجہد کی ، قربانیاں دیں اور کبھی کمزوری نہیں دکھائی اور اس مقصد سے وابستگان کی ایک مستعد اور متحرک نسل چھوڑ کر گئے ہیں۔

اس معاملے میں پاکستان کے ساتھ بھی ان کے تعلق کی نسبت جرأت اور مقصدیت پر مبنی تھی۔ جب جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ مل کر استصواب رائے (Plebiscite) کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصول سے ہٹ کراپنے ایک منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اس کو روکنے کے لیے سب سے جان دار آواز سیّد علی گیلانی کی بلند ہوئی تھی۔ یہ شکر کا مقام ہے کہ جنرل مشرف سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جلد نجات دلا دی اوروہ نامراد منصوبہ خاک میں مل گیا۔ سیّد علی گیلانی نے محض اس لیے کہ وہ پاکستان کے سربرا ہ تھے، ان کے رُوبرو کلمۂ حق بلند کرنے میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ مراد یہ کہ جس طرح انھوں نے بھارت کی حکومت و قیادت کو چیلنج کیا، اسی طرح پاکستان کی قیادت کے پایۂ ثبات میں تزلزل پر اسے بھی برملا چیلنج کیا اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کی ترجمانی کی۔

سیّد علی گیلانی  __ ایک نظریہ، ایک تحریک

آج سیّد علی گیلانی محض ایک شخص کا نام نہیں، وہ سوا کروڑ مظلوم انسانوں کی پون صدی پر پھیلی ہوئی تاریخی جدوجہد کا عنوان اور سنہری علامت ہیں۔ انھوں نے ایک سرفروش قوم کی رہنمائی، اپنی آزادی کے حصول اور اپنے دین و ایمان اور اپنی روحانی اور تہذیبی شناخت کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک ایسی وحشی اور قابض قوت کے خلاف کم از کم ۷۶ برس سے پوری استقامت کے ساتھ یہ جدوجہد کی۔ ایسی قوت کہ جس نے عسکری یلغار اور سیاسی عیاری کے بل پر اہل جموں و کشمیر کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی، اور خود اپنے عہدوپیماں کو تار تار کرکے ان پر اپنا ظالمانہ تسلط قائم کر رکھا ہے۔

اس استبداد کے نتیجے میں کشمیری صرف اپنی آزادی اور حق خود ارادیت ہی سے محروم نہیں کردیے گئے، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کے جان ، مال، آبرو، اقدارِ حیات، تہذیبی اور نظریاتی تشخص، غرض ہرشے کو تہس نہس اور برباد کیا جارہا ہے۔ وہاں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی اور بستیوں اور کھیتوں اور کھلیانوں کی تباہی روزمرہ کا معمول بن گئی ہے۔  جموں و کشمیر کی سرزمین پر مسلمانوں کے خون کی اس ارزانی کی کیفیت کو نسل کشی (Genocide) کے سوا کسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ایک طرف ظلم کی نہ ختم ہونے والی خوں چکاں داستان ہے تو الحمدللہ، دوسری طرف ظلم کے اس نظام کو چیلنج کرنے اور تاریکیوں کا سینہ چاک کرکے آزادی کا پرچم لہرانے اور سرفروشی کے چراغوں کو روشن کرنے کی تابناک اور روزافزوں جدوجہد بھی جاری ہے، جو صبحِ نو کی آمد کی نوید دے رہی ہے۔

اس تاریکی میں علم و عمل کا نُور بکھیرتے رہنا سیّد علی گیلانی کی زندگی اور عصرِحاضر کا ایک جذبہ انگیز باب ہے، جس سے واقفیت پاکر ہر دل اپنے اندر ایک اُمنگ موج زن پاتا ہے۔ اس ضمن میں گیلانی صاحب کی خودنوشت ولّر کنارے میرے نزدیک ایک ایسی سوانح حیات ہے، جس میں سیّد علی گیلانی کی مقصدیت سے بھرپور مگر ہنگامہ خیز زندگی کی داستان رقم ہے۔ اس آئینے میں پوری کشمیری قوم کی روح پرور اور ایمان افروز مگر نشیب و فراز سے بھرپور زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ انھوں نے ہمیں اپنی زندگی سے روشناس کراتے ہوئے درس دیا ہے کہ :

جو غم ہمیں ملا ، غمِ دوراں بنا دیا

سیّد علی گیلانی ۳۳کتابوں کے مصنف ہیں، لیکن ان کی خود نوشت ایک منفرد علمی اور ادبی کاوش ہے۔امرواقعہ ہے کہ خود نوشت ایک سب سے زیادہ نازک ، حساس اور مشکل صنف ہے کہ اس میں کہیں پوری داستان ’در مَدح خود می گوید‘ کی گردان بن جاتی ہے اور کہیں کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں سب کچھ ہوتا ہے، مگر شخصیت کی اصل تصویر گم ہی رہتی ہے۔ لیکن سیّد علی گیلانی کی خودنوشت میں ان کی اصل شخصیت اپنی تمام تر تابانی کے ساتھ چلتی پھرتی دیکھی جاسکتی ہے۔  صرف ان کا ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن بھی کسی تصنع اور پردہ داری کے بغیر دیکھا اور پہچانا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی داستان کا اصل محور ان کی اپنی ذات نہیں بلکہ وہ مقصد ِ حیات ہے جس نے ان کی زندگی کو معنویت دی ہے۔ اس داستان کی بے ساختگی، ان کی زندگی کی سادگی، ظاہر اور باطن کی یکسانی، مصائب اور مشکلات پر صبرواستقامت، ورق ورق پر ثبت ہے۔ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے مقصد ِ حیات کی خدمت، اور زمانے کے تمام نشیب و فراز کا حکمت، دیانت، حلم اور توازن کے ساتھ سامنا ان کی شخصیت اور جدوجہد کو ایسا حُسن عطا کرتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام کہا جا سکتا ہے۔ خودپسندی، نفس کی پرستش، انتقام اور حُب ِ دُنیا کا کوئی شائبہ اس زندگی میں نظر نہیں آتا۔

ع        مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

مجھے محترم سیّد علی گیلانی سے صرف تین بار ملنے کا موقع ملا ہے۔ ایک بار کھٹمنڈو، نیپال میں ملا تھا۔ دوبار یہ سعادت حرمِ کعبہ کے زیرسایہ حاصل ہوئی، جس میں ایک مرتبہ عمرہ کے دوران اور دوسری بار حج بیت اللہ کے موقعے پر۔ ان ملاقاتوں میں گھنٹوں تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ان گفتگوئوں میں مَیں نے انھیں ایک بندۂ مومن، سچا انسان اور ایک مخلص رہنما پایا۔ ان کی تحریروں کا خاصا حصہ میری نظر سے گزرا ہے۔ اگرچہ ان کی تحریر اور تقریر دونوں اس پہلو سے متأثّر کن رہی ہیں کہ وہ فکری صحت کے ساتھ ساتھ حُسنِ خیال اور حُسنِ بیان کا بہترین مرقع ہیں۔ درحقیقت گیلانی صاحب کی زندگی ایک شخص کی زندگی کے آئینے میں ایک عہداور ایک عہدآفریں جدوجہد کی داستان ہے۔

دعوت اور داعی کی زندہ مثال

ان کی سادہ زندگی، اہلِ خانہ سے گہری محبت، خوش کن لمحات میں تشکر اور مصیبت اور رنج و غم کے موقعوں پر صبروتحمل، وسائل کی تنگی اور مشکلات کی یلغار کی صورت میں بھی مایوسی، غصے اور فرار سے گریز، اوقاتِ کار میں ڈسپلن اور تحریکی اور سیاسی مصروفیات کے ازدحام کے باوجود نجی معاملات میں دل چسپی اور ذمہ داری اور تعلقات کو نبھانے کی مسلسل سعی ___ یہ کردار کے وہ پہلو ہیں جو مسلم معاشرے کا طرئہ امتیاز رہے ہیں اور نئی نسلوں کی طرف ان کو منتقل کرنا گیلانی صاحب کی نسل کی ذمہ داری تھی، جسے انھوں نے بڑے سلیقے سے اس طرح پورا کیا ہے کہ وہ بہت کچھ جو ’حجاب‘ تھا ’پردہ ساز‘ بن کر جلوہ گر ہے۔

گیلانی صاحب کی شخصیت کا ایک بڑا متاثر کن پہلو ذاتی تعلقات اور انسانی بنیادوں پر دوست اور دشمن سبھی سے تعلق خاطر اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا خاص اہتمام ہے۔ مخالفین کی خوبیوں کا اعتراف اور اپنوں کی کمزوریوں پر بے جا پردہ ڈالنے یا ان کے دفاع کی کوشش سے اجتناب بڑا جان دار پہلو ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بے جا تجسس، چغلی، غیبت اور دوسروں پر اپنی برتری کے اظہار سے بھی ان کا دامن پاک رہا ہے۔

شیخ عبداللہ سے سیاسی اختلاف کو انھوں نے ذاتی مراسم میں بگاڑ کا سبب نہیں بننے دیا۔ گیلانی صاحب نے سیاسی اور نظریاتی میدان میں شیخ صاحب پر بھرپور تنقید کی ہے، مگر ان کے مثبت رویوں، ان کے ہاں مشرقی اور خاندانی روایات کے اہتمام کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح سخت شدید مخالفین کے غم اور دُکھ درد میں شرکت سے اپنے کردار کی عظمت کا ثبوت دیا ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس کی خود قرآن نے تلقین کی ہے، یعنی اخلاقِ نبویؐ ہے:

وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۝۳۴ (حم السجدہ ۴۱:۳۴) اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

قرآن سے گیلانی صاحب کا گہرا تعلق اور زندگی کے ہرمرحلے اور ہرموقعے پر قرآن کریم سے استشہاد کا نقش ان کی تحریر اور تقریر پر بڑا نمایاں ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کے بارے میں مولانا سیّد سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ الہلال نے ہم پر یہ راز فاش کیا کہ قرآن ہمارے دور کے ہر مسئلے کے بارے میں بھی ایسی رہنمائی دیتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے یہ ہدایت آج ہی نازل ہورہی ہے۔ گیلانی صاحب کی تحریر اور تقریر کا یہ کرشمہ ہے کہ ان میں ہرموقعے پر قرآن کی روشنی کا ہالہ نظر آتا ہے اور تفہیم القرآن کی تشریح اس کونُورٌ علٰی نُور کا رنگ دے دیتی ہے۔

فکری ترجمانی

سیّد علی گیلانی کی زندگی پر جن دو شخصیات کے اثرات سب سے زیادہ نمایاں ہیں، وہ علّامہ محمد اقبالؒ اور مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ ہیں۔ بجاطور پر یہ دونوں حضرات بیسویں صدی میں اسلامی احیا کے صورت گر ہیں۔ اقبالؒ نے فکر اور جذبہ دونوں کو صحیح راہ پر لانے کی تاریخ ساز کوشش کی اور سیّد مودودیؒ نے اسلام کے حقیقی وژن کو مسکت عصری دلائل کے ساتھ پیش کرکے نئی نسل کو اسلام کا صحیح شعور دیا اور اُن کو اسلام کے قیام کی جدوجہد کی انقلابی راہ بھی دکھائی۔ اس طرح نہ صرف فکری اور نظریاتی رہنمائی فراہم کی بلکہ اسلامی احیا کی جدوجہد کو برپا کرکے پوری اُمت کے لیے ایک روشن اور کشادہ شاہراہ کھول دی۔ سیّد مودودیؒ کی تحریریں زندہ اور جاوید اس لیے ہیں کہ ان کے پیچھے صرف فکر کی پختگی اور حُسنِ خیال کے ساتھ بلاغت اور اعجاز کا کمال ہی نہیں بلکہ کردار کی عظمت اور قول و فعل کی یکسانی بھی کارفرما ہے۔ ایسی تحریر اور تقریر نہ صرف زندہ رہتی ہے بلکہ دوسروں کو زندگی دیتی ہے اور مخالفت کے طوفان بھی نہ اسے محو کرسکتے ہیں اور نہ محدود۔

ایک روشن تحریکی زندگی

گیلانی صاحب کی زندگی کا ایک اور بڑا روشن پہلو یہ ہے کہ ان کے ہاں دعوتی اور تحریکی زندگی اور اس کے تقاضوں کا بڑا حسین امتزاج ہے۔ دعوتِ حق کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرنے اور تحریک کے نظم سے رشتہ استوار کرنے کے بعد انسان میں کیا تبدیلی آنی چاہیےاور اسے کس طرح زندگی کے پورے طول وعرض میں جاری و ساری ہونا چاہیے، خواہ وہ ایک کارکن کی ذمہ داری ادا کررہا ہو یا قائد کی۔ اس کے چار پہلو سیّد علی گیلانی صاحب کی زندگی اور جدوجہد میں نمایاں ہیں:

  • حصولِ علم کی نہ ختم ہو نے والی لگن جسے ذاتی تعمیروترقی بھی کہا جاتا ہے۔
  • ابلاغ اور دعوت کا اہتمام، خواہ کہیں بھی ہو اور موقع و محل کی مناسبت سے اپنے پیغام کو حکمت اور جرأت کے ساتھ بیان کرنا اور اس کا موقع نکالنا۔
  • حصولِ علم اور ابلاغ کے ساتھ خوش خُلقی، انسانی خدمت، دوسروں کے دُکھ درد میں شرکت اور ان کو مادی اور اخلاقی ہردواعتبار سے اُوپر اُٹھانے کی جدوجہد کی فکر اور اس میں انہماک۔
  • نوجوانوں میں دعوت و تربیت پر خصوصی توجہ کہ مستقبل کی طاقت کا وہی سرچشمہ ہیں۔

یہ چارعناصر انسان کو داعی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے پشتی بان

گیلانی صاحب نے اپنی ساری زندگی میں کشمیر کے مقدمے کو بڑے سلیقے اور محکم دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کا سیاسی اور دینی پہلو ان کے یہاں ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں، جن کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

کشمیر کے مقدمے کا بہترین مرقع گیلانی صاحب کا وہ خط ہے، جو انھوں نے بھارت کے ایک وزیراعظم وی پی سنگھ کو ۳۱دسمبر ۱۹۸۹ء کو لکھا تھا۔ یہ خط سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہے۔ کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے سے پہلے انھوں نے اسلام کی دعوت اور پیغام کو اختصار لیکن پوری دیانت اور حکمت سے بیان کیا ہے۔ اس میں بالکل وہی طریقہ اختیار کیا، جو حضرت یوسفؑ نے جیل میں خواب کی تعبیر بیان کرنے سے پہلے ربّ کی عظمت اور بندگی کی دعوت دی تھی۔ اسی طرح کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے ’مسلم متحدہ محاذ‘ کے نمایندے کے طور پر اپنے رفقا کے ساتھ جو استعفا انھوں نے ۳۰؍اگست ۱۹۸۹ء کو دیا تھا، وہ بھی ان کے موقف کی ترجمانی کا شاہ کار ہے۔ سیاسی میدان میں گیلانی صاحب نے جس حکمت اور فراست سے نازک ترین معاملات کو نبھایا ہے، اس کے اجروثواب کے لیے دل سے بہترین دُعائیں نکلتی ہیں۔

مقصد کی لگن اور ترجیحات کا صحیح ادراک کامیاب قیادت اور سیاست کے لیے ضروری ہے۔ مخالفین سے معاملہ کرنے سے بھی زیادہ مشکل کام ان لوگوں کے ساتھ چلنا اور ان کو اپنے ساتھ چلانا ہے، جو جزوی اتفاق کے ساتھ بڑے بڑے معاملات پر اختلافی رائے رکھتے ہیں۔ اس میں گیلانی صاحب ہراچھے سیاست دان کی طرح کبھی کامیاب ہوئے اور کبھی ناکام، لیکن جس طرح انھوں نے مشترکات کی خاطر دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ، وہ ایک قابلِ تقلید اور روشن مثال ہے۔

جمہوری عمل کی ناکامی کے بعد تحریکاتِ آزادی کا تحریک ِ مزاحمت میں تبدیل ہونا ایک بڑا نازک مسئلہ ہے۔ بنددروازوں کو توڑنے کے لیے قوت کے ناقابلِ تصور عدم تناسب کے باوجود کسی نہ کسی درجے میں متوازی قوت کا استعمال ایک حددرجہ حساس معاملہ ہے۔ بلاشبہہ اس سلسلے میں کم از کم دوسوسال کی تاریخ گواہ ہے کہ مغربی سامراج کے مقابلے میں ایک خاص مرحلے پر معروف جمہوری قوتوں اور تحریکات نے بھی مجبور ہوکر جمہوری طریقوں سے ہٹ کر ایک صحیح کاز اور حصولِ آزادی کے لیے راست اقدام اُٹھائے ہیں۔ خود برعظیم میں بھگت سنگھ [م: ۱۹۳۱ء]اور سبھاس چندر بوس [م: ۱۹۴۵ء]کی مثالیں آج بھی کانگریس کی تحریک ِ آزادی کی جدوجہد کا قابلِ فخر حصہ قرار دی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سو سے زیادہ رکن ریاستیں وہ ہیں، جن کی آزادی میں عسکری جدوجہدکا بھی حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری غلبے کے خلاف عسکری جدوجہد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ’دہشت گردی‘ (Terrorism) تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔لیکن حالیہ دور میں اور خصوصیت سے نائن الیون [۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء]کے بعد اس سلسلے میں جنگ ِ آزادی اور دہشت گردی کے درمیان تسلیم شدہ فرق کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

گیلانی صاحب نے کشمیر کی جدوجہد کے پس منظر میں اس نازک مسئلے پر بڑے اعتدال اور دانش مندی کا ثبوت دیا ہے۔ دونوں کے جوہری فرق کو دلیل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ جائز اور ناجائز حدود کی وضاحت کی ہے۔ ان اسباب کی نشان دہی کی ہے، جن کی وجہ سے آزادی کے متوالے دوسرا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پھر ان حدود کو بھی نمایاں کیا ہے جن کا احترام اس پُرخار راستے کو اختیار کرنے کے باوجود ازبس ضروری ہے۔ انھوں نے یہ سب اسلام کے تصورِجہاد اور آدابِ جہاد کے نظامِ فکر کی روشنی میں نمایاں کیا ہے، جس کا ادراک گیلانی صاحب کو نوجوانی ہی سے ہوگیا تھااور جس کا اظہار طالب ِ علمی کے دور میں ہی گاندھی جی کے عدم تشدد کے موضوع پر سری نگر میں منعقدہ ایک مباحثے میں انھوں نے کیا تھا۔

قیدوبند کی آزمایش

محترم گیلانی صاحب کو اپنی طویل تحریکی اور سیاسی جدوجہد میں مخالفت و مخاصمت، قیدوبند، تشدد اور تعذیب کے جن مراحل سے گزرنا پڑا، ان سب آزمایشوں میں اللہ کے فضل و کرم سے وہ جس صبروثبات سے اپنے موقف پر قائم رہے، حددرجہ ناسازگار حالات میں بھی دعوت کے لیے راستے تلاش کرتے رہے، وہ سیاست اور دعوت کے تمام طالب علموں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ان کے خلاف جسمانی تشدد سے لے کر نفسیاتی دہشت گردی تک کے تمام حربے اربابِ وقت اور سیاسی مخالفین نے آزما لیے۔ جب ظلم کے ہتھیار کارگر نہ ہوئے تو ترغیب کے حربے بھی استعمال کیے گئے اور وزارت اور ایک موقعے پر وزارتِ اعلیٰ تک کا لالچ بھی دیا گیا، مگر الحمدللہ، پوری زندگی میں ان کے پایۂ ثبات و استقلال میں کوئی ضُعف نہیں آیا۔

نئی نسل کے لیے ایک مثالی کردار

نئی نسل کے لیے گیلانی صاحب ایک رول ماڈل ہیں۔ تحریک ِ اسلامی کی نئی نسل کو دعوتِ حق کے مقاصد، مشن اور اس کے لائحۂ عمل اور مزاج سے روشناس کرانے کے لیے گیلانی صاحب کی حیات و خدمات کا مطالعہ ایک بہترین عملی ذریعہ ہے۔

ہمارے لیے زندگی گزارنے کا اصل نمونہ صرف رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک اور آپؐ کا اسوئہ مطہرہ ہے،لیکن یہ بھی اسی اسوۂ حسنہ کا کمال ہے کہ جس دور میں بھی جس نے آپؐ کے دامن سے نسبت کرلی، وہ خود بھی ایک روشن چراغ بن جاتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں کبھی کبھی بڑے نازک مقامات بھی آتے ہیں، ان میں کوئی بھی انسان سہووخطا سے پاک نہیں ہوسکتا لیکن بحیثیت مجموعی محترم گیلانی صاحب کی زندگی پوری یکسوئی اور تسلسل کے ساتھ، مقصد سے لگن اور وفاداری کے ساتھ بندھی نظر آتی ہے۔ اگر کہیں کوئی بھول چوک ہوئی ہے تو انھوں نے اسے درست کرنے کی مخلصانہ کوشش کی۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندے سیّد علی گیلانی صاحب کی مغفرت فرمائے۔ ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اُس کے پُر ہونے کا کوئی سامان پیدا کرے۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ جدوجہد جس کے لیے انھوں نے اپنی زندگی قربان کردی، وہ جدوجہد کامیاب ہو۔میں نے تاریخ کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس بنا پر میں کَہ سکتا ہوں کہ خصوصیت سے ۱۹۸۰ء کے بعد سے تحریکِ آزادیِ کشمیر جس طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے، وہ ان شاء اللہ کامیاب و کامران ہوگی اور بھارت کے تسلط سے ہمارے کشمیری بہن بھائی نجات پائیں گے اور پاکستان اور کشمیر یک جان ہوں گے۔

عالمِ اسلام میں ایک شدید کش مکش برپا ہے۔ مغربی تہذیب کے تین سو سالہ اثرات کے نتیجے میں دُنیا کے ہرخطّے میں ایک ایسا طبقہ رُونما ہوگیا ہے، جو ذہنی طور پر مغرب سے شکست کھاچکا ہے اور عملی طور پر اپنا اور اپنے گروہ کا مفاد مغربی طرزِ زندگی کی تقلید میں محفوظ سمجھتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ طبقہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اثرواقتدار کا مقام رکھتا ہے اور اپنے باطل تصورات کو پوری سوسائٹی پر مسلط کرنے کی جارحانہ کوشش میں مصروف ہے۔

دوسری طرف، آج اسلامی دنیا کے بعض اہم مراکز میں تحریک ِ اسلامی، ایک منظم طریقے پر دعوتِ دین اور تعمیر کردار سے منسوب خدمت انجام دے رہی ہے۔ وہ ممالک جہاں ریاستی جبروزیادتی اور پابندیاں اسے باقاعدہ نظم کے ساتھ کام کا موقع نہیں دیتیں، وہاں بھی فکری اور ثقافتی میدانوں میں اسلام کے یہ داعی: آزادی، مال، مستقبل، آبرو اور جان کی قربانی دے کر سرگرمِ عمل ہیں۔

خوش قسمتی سے پاکستان میں تحریک اسلامی، ایک تنظیم کی صورت میں کھلے بندوں کام کر رہی ہے اور زندگی کے ہر شعبے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تعمیرنو کرنے میں مصروف ہے۔یہ ایک ایسی سعادت ہے، جس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا، اور جس کا حق ادا کرنا پوری ملّت پر فرض ہے۔

تحریک اسلامی کا وجود، جہاں بہت بڑی سعادت ہے، وہیں ایک عظیم آزمایش بھی ہے۔ جن لوگوں نے اس کی راہ میں روڑے اٹکانے کا فیصلہ کرلیا ہے، ان سے ہمیں کچھ نہیں کہنا۔ لیکن جو اس تحریک کو حق اور خیر کا داعی سمجھتے ہیں، ان سے ہم ضرور عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ آج کے حالات میں، جب کہ زندگی کے ہر میدان میں معرکۂ حق و باطل برپا ہے، اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں؟ کیا وہ عملاً صرف خاموش تماشائی بن کر تو نہیں رہ گئے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ محض دُور ہی سے ’داد‘ دینے اور ’اتفاق‘ کا اظہار کرنے پر قانع ہوگئے ہیں، اور عالم یہ ہے کہ:

ع  دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خیروشر!

آج جو کش مکش بپا ہے، اس کے نتائج بڑے دُور رس ہوں گے۔ ہمارے اپنے ملک میں، عالمِ اسلام اور دنیائے انسانیت کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ انسانی اجتماعی زندگی  اسلام کے اصولوںاور احکامات کی روشنی میں مرتب و منظم ہو۔ آج تک جو تجربات بھی انسان نے اجتماعی زندگی کو چلانے کے لیے کیے ہیں، وہ بڑے تلخ رہے ہیں۔ ان تلخیوں کے نتیجے میں اب انسان اس مقام پر آگیا ہے کہ اگر کوئی صالح نظام قائم نہیں ہوتا تو خود انسانیت کا وجود خطرے میں ہے۔

ہم تاریخ کے گہرے مطالعے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل صرف اسلام کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر آج ہم اپنا فرض ادا کرتے ہیں تو کل ہماری نسلیں اور پوری انسانیت سُکھ اور چین کی زندگی گزاریں گی، اور اگر ہم کوتاہی کرتے ہیں تو خدا اور خلق دونوں کے مجرم ہوں گے۔

خود احتسابی کے احساس کے تحت، تحریک اسلامی کے ذمہ داران اور کارکنوں سے، ارکان اور حامیان سے، اور پھر ان سے بڑھ کر خود اپنی ذات سے ہم یہ سوال کرتے ہیں:

  • کیا ہم شہادتِ حق اور دعوتِ اسلامی کا حق پوری ذمہ داری سے ادا کر رہے ہیں؟
  • اس قافلۂ حق نے جو کارنمایاں ادا کیا ہے، اُس میں خود انفرادی طور پر ہمارا حصہ کتنا ہے؟
  • کیا ہم نے اپنے گھر، خاندان، برادری، گلی محلّے، گائوں اور شہر میں اس دعوتِ حق کو پھیلانے اور منظم کرنے کے لیے واقعی جان گھلائی ہے؟
  • کیا ہمیں اس بات کا پورا پورا احساس ہے کہ آج کا کفر، سیکولرزم کے نام پر ماضی میں کفر کی مختلف شکلوں کے برعکس کہیں زیادہ خوش نما رُوپ میں اور بے چہرہ بن کر ہماری دینی، فکری، انفرادی، اخلاقی اور عملی زندگی کے ہرموڑ پر جاہلیت کا پیغام اور پھندا لیے کھڑا ہے؟
  • کیا اس کش مکش کی وسعت، گرفت، گہرائی اور اثرپذیری کا واقعی ہمیں احساس ہے؟
  • کیا ہم نے اپنی ہمت اور صلاحیت کے مطابق پیش نظر چیلنج کا جواب دینے کے لیے علمی و فکری سطح پر، پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ تیاری کی ہے اور تیاری کر رہے ہیں؟
  • کیا ہم معاشرے کے معاشی، معاشرتی، تہذیبی اور عملی مسائل و معاملات میں اسلام اور کفر و جاہلیت کے تضادات کو سمجھنے کا شعور پروان چڑھانے کے لیے کوشاں ہیں؟
  • کیا ہم دینِ اسلام کے بنیادی احکامات پر عمل کرنے میں، معاشرے میں کردار کی بلندی کی جانب گامزن، ظلم و زیادتی کے بالمقابل برملا اور ثابت قدمی سے کھڑے ہونے کے تاثر کو حقیقی اور منفرد شان دینے میں کامیاب ہیں؟
  • کیا ہماری معاشی زندگی اور منصبی ذمہ داریاں، واقعی اللہ اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے احساسِ بندگی اور اجتماعی فلاح کے لیے عطا کردہ رہنمائی اور ہدایت کے تحت استوار ہیں؟
  • کیا ہمارا دل، مسلم اُمت کی تکلیفوں پر تڑپتا اور حق کے داعیوں کی تکالیف پر لرزتا ہے، یا  ہم ان اُمور سے لاتعلق ہیں؟
  • کیا تحریک کے نمایاں افراد اور متحرک کارکنان، روز مرہ زندگی میں درپیش سوالوں کا  شافی اور متوازن جواب دینے کے لیے دلیل اور علم کی قوت و صلاحیت پیدا کررہے ہیں؟
  • کیا تحریک کی صفوں میں نئی نسل کی قابلِ لحاظ تعداد شانہ بشانہ شامل ہو رہی ہے؟ اور انھیں تربیت اور ترقی کے مراحل سے منظم انداز میں گزارنے کے مواقع حاصل ہورہےہیں؟ کامیاب قیادت وہ ہے جو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرکے، ساتھ ہی ساتھ اپنی جگہ لینے والے تیار کرسکے، اورجو بارِ امانت ان کے ہاتھوں میں ہے، اسے نئی نسلوں کی طرف منتقل کرسکے۔ دیکھنا اور جائزہ لینا ہے کہ ہم اس ذمہ داری کا کتنا اہتمام کررہے ہیں؟

اگرواقعی ہمارا دل مطمئن ہے کہ شہادتِ حق کی ادائیگی، غلبۂ حق کی جدوجہد اور خدمت ِ انسانی کے کاموں میں اپنی قوت کی ہررمق جھونک دی ہے، تو اس کے لیے ربِّ کریم کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوکر شکر بجا لانا چاہیے۔ اور اگر ہمارا ضمیر یہ چبھن محسوس کر رہا ہے کہ ہم اپنا حق ادا نہیں کر رہے ہیں تو ابھی وقت ہے۔ آیئے اور حق کے لیے اپنی جان، مال، قوت، صلاحیت اور وقت کی بازی لگا دیجیے۔ موقع سے فائدہ اُٹھایئے، قبل اس کے کہ موقعے سے محروم کر دیے جائیں:

 ع   کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو صرفِ بہاراں ہوتے ہیں

ایک اچھی حکومت اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مخلص انتظامیہ، کسی قوم کے لیے قدرت کا قیمتی عطیہ ہوتی ہے۔ اچھی حکومت اسے کہتے ہیں جسے اپنے منصب اور منصبی ذمہ داریوں کا احساس ہو، جس میں قوم کو ساتھ لے کر چلنے اور قوم کے تمام طبقوں کی دست گیری کا احساس دامن گیر ہو۔یوں تو ہماری قومی زندگی بے شمار مسائل و مشکلات سے دوچار ہے، مگر یہاں ہم چندبنیادی اُمور کی طرف توجہ مبذول کرائیں گے، جن پر قرارواقعی توجہ دے کر قومی مشکلات کو کسی حد تک کم کرتے ہوئے درست سمت کی طرف سفر ممکن بنایا جاسکتا ہے:

معاشی بحران

  • سب سے پہلا مسئلہ ہماری قومی معاشی صورتِ حال کی ابتری کا ہے۔ بدقسمتی سے افراطِ زر پر قابو پانے کی اوّل تو کوئی بامعنی کوششیں دکھائی نہیں دیتیں، اگر کچھ کیا جاتا ہے تو وہ بھی پانی پر لکیر کھینچنے کی کوشش سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔

گذشتہ ماہ قومی پارلیمان میں ۲۰۲۱ء-۲۰۲۲ء کا سالانہ معاشی میزانیہ (بجٹ) پیش کیا گیا، لیکن جس انداز سے بجٹ پیش کرنے کی یہ مشق کی گئی اور خود پارلیمنٹ نے جس انداز سے بجٹ سیشن کو چلایا، واقعہ یہ ہے کہ اس نے صدمے اور شرمندگی کے احساس کو زیادہ گہرا کردیا۔ بجٹ قومی زندگی کی نہایت اہم دستاویز ہوتی ہے، جو محض حکومت کی کتاب نہیں ہوتی، بلکہ وہ پوری قوم کی زندگی کے نہایت اہم اُمور کو چلانے کا نقشۂ کار ہوتی ہے۔اسے پیش کرتے وقت اعداد و شمار میں صحت اور دیانت کو پیش نظر رکھنا حکومت کی ذمّہ داری ہے۔ قوم کو دھوکے میں رکھ کر کوئی کھیل کھیلنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی ذمّہ داری ہے کہ وہ سارا سال جس انداز سے سیاسی جنگ میں حکومت کے حملے اور زیادتیاں برداشت کرتی اور ان کا جواب دیتی رہی ہے، اسے بجٹ سیشن کو اس جنگ سے الگ رکھ کر، غیرمتعلق چیزوں کے ساتھ اس سیشن کو ضائع نہیں کرنا چاہیے تھا، بلکہ نہایت دل سوزی سے حکومتی معاشی پالیسی اور معاشی احوال پر تعمیری تنقید و رہنمائی کا فریضہ ادا کرنا چاہیے تھا۔ مگر گذشتہ کئی برسوں سے یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ سیشن شدید ہنگامہ آرائی اور الزام تراشی اور ذاتی حملوں کی نذر ہو جاتا ہے، اور حکومت جلد از جلد بجٹ منظور کرا لیتی ہے۔

موجودہ بجٹ کو پیش کرتے وقت حکومت کی جانب سے جس معمولی معاشی استحکام پر بڑے فخر کا اظہار کیا گیا ہے، اس کی بنیاد بہت کمزور ہے۔ اگر معاشی استحکام کے دیگر پہلو صحیح طریقے سے رُوبہ عمل نہیں آئیں گے، تو معاشی صورت حال مستحکم ہونے کے بجائے اور زیادہ خرابی کی طرف جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں تمام کوشش کے باوجود برآمدات (Exports) میں کمی اور درآمدات (Imports) میں اضافے نے بہتری کے امکانات کو مسلسل کمزور ہی رکھا ہے۔

بلاشبہہ، کورونا کے باعث دیگر ممالک کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے سے پاکستان کو ٹیکسٹائل کی صنعت میں خاطر خواہ سہارا ملاہے، مگر اس معاشی بہتری کی بنیاد بالکل عارضی ہے۔ چونکہ اس کے پس منظر میں مضبوط معاشی ، فلاحی، فنی اور پیداواری سہارا موجود نہیں، اس لیے یہ علامتی ترقی کسی بھی وقت انہدام سے دوچار ہوسکتی ہے۔ کپاس کی فصل میں خطرناک حد تک کمی نے کپڑے کی تجارت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود، ایک ڈیڑھ درجن سیاسی اور معاشی اجارہ داروں پر مشتمل ’شوگر مافیا‘ نے کپاس کی پیداوار کے علاقے میں گنے کی کاشت سے، ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور اس سے حاصل ہونے والے زرِمبادلہ کے امکانات کو مسدود کرکے رکھ دیا ہے۔ گویا کہ سپریم کورٹ بے اثر اور سیاسی و معاشی سیٹھ، ناجائز معاشی فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرنے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

موجودہ حکومت کا یہ رویہ ا ب ایک ضدّی بچے کی سی صورت اختیار کرچکا ہے کہ موجودہ صورتِ حال پر بات کرنے کے بجائے سارا وقت رونے دھونے پر صرف کرتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کو تمام مسائل کا سبب اور ذمّہ دار قرار دینے کا وقت گزر چکا ہے۔ اُن حکومتوں کی بُری معاشی پالیسیوں کو بہتر بنانے کے لیے تین برس گزارنے کے بعد اب ذمّہ داری لینے اور بہتر  حکمت عملی پیش کرنے کا دور شروع ہونا چاہیے تھا۔ مگر اب تک کی صورتِ حال یہ ہے کہ قرضوں کے حصول میں بے پناہ اضافہ ہوتا جارہا ہے بلکہ ایئرپورٹ اور موٹرویز تک گروی رکھنے کی نوبت آگئی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی مرضی اور حکم کے مطابق قومی معاشی زندگی کی ترجیحات طے کرنے کے کھیل نے ملک کی آزادی اور مستقبل کو گہرے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ملک کی معاشی ترقی میں چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کے فروغ کے لیے مربوط اور مؤثر ٹکنالوجی کا فروغ،دیہی سطح پر زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات، کاشت کاری میں پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے شعور کی بیداری ، کھادوں اور اچھے بارآور بیجوں (seeds)کی بروقت فراہمی اور سہولیات دینے سے زرعی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ عملاً صورتِ حال  یہ ہے کہ گھریلو اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں بے حد اضافے کی طرح زرعی آلات و ضروریات کی قیمتوں میں بھی سو فی صد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔

اسی طرح ایک متعین وقت مقرر کرکے کمیشن بنایا جائے، جو پاکستان میں زرعی تحقیق کے اداروں کی کارکردگی اور قومی ضروریات پر بے لاگ تحقیقات کرکے قوم کو بتائے کہ یہ ادارے قوم کو کیا دے رہے ہیں؟ یہاں یہ حوالہ شاید زراعت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مفید ہوگا کہ اسرائیل نامی چھوٹے رقبے کی ناجائز ریاست نے ریگستانی اور پتھریلی زمینوں کے باوجود زراعت، پھلوں اور پھولوں میں حیران کن تحقیق و ترقی کی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کے پاس وسیع رقبے اور نہایت قیمتی آبی و پیداواری وسائل ہونے کے باوجود، آئے روز سبزیوں اور اناج کی پیداوار میں کمی کا سامنا رہتا ہے۔ اکثر خوردنی اشیا کی کمی کی شکایت پیدا ہوتی ہے، حالانکہ ہمیں یہ زرعی اشیا برآمد کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ ان قومی، زرعی اور معدنی وسائل کا درست استعمال ہی ترقی سے ہم آہنگ مستقبل دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بے روزگاری کو کم کیا جاسکتا ہے اور خودانحصاری پر مبنی معاشی و سماجی ترقی کو استحکام بخشا جاسکتا ہے۔

ملک کی معاشی زندگی میں ایک نہایت خطرناک مرض ضمنی بجٹ پر بڑا انحصار کرنا ہے۔  اب تو بدقسمتی سے عملاً سال بھر میں دو تین بجٹ بنانے کا کلچر رواج پکڑ رہا ہے۔ یہ چیز شہریوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بُری طرح پامال کر رہی ہے، مگر افسوس کہ کوئی اس غیراخلاقی رویے اور چلن سے چھٹکارے کی فکر نہیں کر رہا۔

سود پر مبنی معیشت نے ریاست کو قول و فعل کے تضاد سے دوچار کررکھا ہے۔ اس ظالمانہ نظامِ معیشت سے فائدہ طاقت وَر طبقوں کو پہنچ رہا ہے اور نقصان کروڑوں ہم وطنوں کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ سود کے مسئلے پر گذشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کا رویہ بھی تذبذب اور سودی معیشت کے حق میں ہے۔ یہ پالیسی ناقابلِ برداشت ہے۔سود کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، نہ کہ عدالتوں میں معاملات اُلجھا کر اسے طول دینے کے حیلے تلاش کرنے کا رویہ اختیار کرنا۔

سیاسی انتشار

  • دوسرا بڑا ہی اہم مسئلہ سیاسی قیادت کا ہے۔ سیاسی قیادت میں حکمران جماعتیں اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں شامل ہیں، مگر افسوس کہ یہ دونوں سیاسی گروہ جس غیرذمّہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور کلام و بیان کی جس گراوٹ کا شکار ہیں،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے  تباہی کی جانب لڑھک رہا ہے۔ پارلیمنٹ، قوم کے ضمیر اور فکر کی آئینہ دار ہوتی ہے، لیکن سچ بات ہے کہ ۲۰۰۸ء سے جمہوری عمل کی بحالی کے بعد، پارلیمان اپنی بلوغت اور وقار میں ترقی کی منازل طے کرنے کے بجائے ہرسال تنزلی کے اُلٹے سفر پر بھاگتی نظر آتی ہے۔قانون سازی نہ ہونے کے برابر ہے اور آرڈی ننس نافذ کرنے کی دھونس عروج پر ہے۔

 قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حزبِ اقتدار کا غیردانش مندانہ بلکہ کلامی فسطائیت پر مبنی رویہ اور جواب میں اپوزیشن کے رَدِّعمل پر مشتمل طریق کار، کسی اچھے مستقبل کی نوید نہیں دیتا۔ حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف جو غیرمعیاری بلکہ گندی زبان استعمال کرنے کے عادی (adict) ہوچکے ہیں، اس کا ایک نتیجہ تو یہ ہوگا کہ یہ رَدِّعمل ختم ہونے میں نہیں آئے گا۔ دوسرے یہ کہ خود عوام میں بدقسمتی سے پارلیمنٹ کا وقار جو پہلے ہی کم ہے، بالکل ختم ہوکر رہ جائے گا۔ تیسرے یہ کہ اس سسکتے جمہوری عمل کی زندگی کے خاتمے اور غیرجمہوری قوتوں کی پیش قدمی کا سبب بنے گا جس کے ذمّہ دار بنیادی طور پر حکومت اور حزبِ اختلاف ہوں گے۔

اخلاقی انحطاط

  • تیسرا اہم مسئلہ معاشرتی بگاڑ ہے، جو دھوکے، فریب، ملاوٹ اور بددیانتی میں پورے معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ وہ اب بداخلاقی اور اخلاقی بے راہ روی کی گہرائیوں میں اُترتا نظر آرہا ہے۔ بچوں سے جنسی زیادتی اور بالجبر زیادتی کے گھنائونے واقعات، ملک کے تمام حصوں میں بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ حیا اور شرم کا پردہ بالکل ہی چاک ہوا چاہتا ہے۔

اس بحرانی صورتِ حال میں سب سے بنیادی رہنمائی اور مؤثر عملی منصوبہ تو قرآن کریم، حدیث پاک اور سنت ِ نبوی سے ملتا ہے۔ کاش، ہمارے حاکم اور انتظامی افسران اس پر توجہ دیں اور اپنی ذمّہ داری ادا کریں۔ دوسرے یہ کہ اس ذمّہ داری کی ادائیگی کے لیے خود سیاسی اور دینی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی ذمّہ داری کا احساس ہونا چاہیے اور اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ ہرفرد کو سمجھناچاہیے کہ یہ آگ محض دوسرے کے گھر کو نہیں جلائے گی، بلکہ آج یا کل، یہ خود ہمارے  گھر کو بھی جلاکر راکھ کردے گی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ان تین بنیادی اُمور پر سوچ بچار کے لیے قوم کے تمام بااثر طبقوں کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور عملی طور پر اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔

مسلم اُمہ کے مسائل اور بحران در بحران کیفیت میں ہرمسلمان اُلجھا ہوا ہے۔ اس کا بڑا سبب جہاں سامراجی قوتوں کی عالمی سیاسی و معاشی جتھہ بندی ہے، وہیں ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ خود مسلم ممالک میں سیاسی،فکری اور دفاعی سطح پر مقتدر اور بااختیار قیادتوں کا معاملہ سوالیہ نشان ہے۔ اس کیفیت میں مایوسی کا شکار ہونا اور حالات کے بے رحم دھارے کے سامنے سپرڈال دینا، عظیم اور ناقابلِ تلافی تباہی کا پیش خیمہ ہوگا۔ یہ بحران جس قدر شدید ہے، اور مسائل و مشکلات کی یلغار جتنی تباہ کن ہے، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے، اور ان آفتوں کے دبائو سے نکلنے کے لیے، کہیں زیادہ بڑھ کر عقل، دانش، فہم و فراست کی ضرورت ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ خوں ریزی ہمارے سامنے ہے، جہاں ہردوڈھائی برس کے بعد مظلوم فلسطینی بھائیوں پر خون، آگ اور بارود کی بارش ہوتی ہے۔ دوسری جانب کشمیر کے مظلوموں کو کچلنااور آزادی کی اُمنگوں کا قتل عام بھی پوری دُنیا کے سامنے ہے۔ اسرائیل اور بھارت بنیادی طور پر نسل پرست، فسطائی اور وحشی (Rogue) ریاستیں ہیں۔ ان کی چیرہ دستیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اُمت کے صاحب ِ ایمان اور صاحب ِ بصیرت افرادِ کار کو بھرپور طریقے سے حق کی گواہی دینا ہوگی۔ملّی یک جہتی کو زندہ کرنے کے لیے اپنے اپنے ملکوں اور معاشروں میں بیداری کی تحریکیں برپا کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مسئلہ کشمیر پر ، بالخصوص گذشتہ دو برسوں کے دوران جس انداز سے پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے وقتاً فوقتاً متضاد بیانات کا سلسلہ جاری ہے، اس نے بہت تکلیف دہ صورتِ حال پیدا کردی ہے۔

فروری ۲۰۲۱ء میں پاکستان اور بھارت کے فوجی کمانڈروں کی سطح پر اچانک مذاکرات کا اعلان، اور پھر اپریل میں ۲۵، ۳۰ صحافیوں سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب کی بظاہر ’آف دی ریکارڈ‘ (اور عملاً آن دی ریکارڈ) ملاقات میں بیان کردہ روایتوں اور حکایتوں نے گہری تشویش کا سامان فراہم کیا ہے۔ مذکورہ ملاقات میں جنرل صاحب کی طرف سے یہ کہا جانا کہ ’ہم بیک ڈور چینل (پس پردہ) مذاکرات کر رہے ہیں‘ اور یہ کہ ’ہمیں ماضی بھلاکر آگے بڑھنا ہے‘ دھماکا خیز خبر ہے۔ جب کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی صاحب کہتے ہیں کہ ’کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں ہورہے‘۔ گویا کہ حکومت اور مسلح افواج ایک انداز سے نہیں سوچ رہے۔ یہ متضاد اور متحارب اطلاعات اگر سول حکومت اور پارلیمان کی جگ ہنسائی کا ذریعہ ہیں تو دوسری جانب کشمیری عوام اور قوم میں اضطراب پیدا کرنے کا سبب بنی ہیں۔یاد رہے کہ نہ ماضی سے کٹا حال ہوتا ہے اور نہ ماضی سے کٹ کر مستقبل کی صورت گری ہوسکتی ہے۔

اسی مناسبت سے ہم چند معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

  • اس وقت شروع کیے جانے والے مذاکرات کا جو پہلو کھل کر سامنے آیا ہے، وہ یہ ہے کہ مذکورہ مذاکرات پاکستان کی طرف سے کسی پیشگی شرط اور کسی روڈمیپ کے تعین کے بغیر ہونے جارہے ہیں۔ حتیٰ کہ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی انتظامی وحدت پر سفاکانہ یلغار اور بین الاقوامی سطح پر عالمی برادری کے طے شدہ اُمور کی دھجیاں بکھیرنے والے اقدامات کی واپسی کا مطالبہ کیے بغیر، ان مذاکرات کا حصہ بناجارہا ہے۔ یاد رہے کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے اقدامات میں دفعہ ۳۵-اے کے خاتمے نے جموں و کشمیر میں آبادی کے توازن و تناسب کو تلپٹ کرکے دوسرا اسرائیل بنانے کا راستہ کھول دیا ہے۔ پھر مقبوضہ کشمیر میں ۸ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجیوں کی موجودگی، دُنیا بھر میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی کا بدترین نقشہ پیش کرتی ہے۔ بہت واضح ہے کہ ایسے غیرمشروط، اور وقت کی قید سے آزاد مذاکرات سے پاکستان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ بلکہ اس صورت میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ بھارتی حکومت کے تمام غیرانسانی اور غیرقانونی اقدامات کو پاکستان کی جانب سے عملاً تحفظ دیا جارہا ہے، جس کا کوئی مثبت نتیجہ قطعاً ناممکن ہے۔
  • یہ تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ بھارت نے جب بھی پاکستان سے مذاکرات کے لیے کھڑکی کھولی تو اس کا مقصد کبھی سنجیدہ، بامعنی اور اخلاص پر مبنی مذاکرات کا انعقاد نہیں تھا۔ بین الاقوامی دبائو سے نکلنے اور اندرونِ ملک مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے کاک ٹیل مذاکرات کا کھیل اس سے پہلے بھی ڈیڑھ سو مرتبہ کھیلا جاچکا ہے۔ اس لیے بے فیض نشست و برخاست سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔
  • ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر بامقصد بات چیت، مذاکرات اور مکالمے کے لیے تیار رہا ہے، اور آج بھی تیار ہے۔ مگر ان مذاکرات میں بھارت کی مخلصانہ شمولیت کا اندازہ لگانے کے لیے لازم ہے کہ پاکستان، مذاکراتی عمل میں (مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، بیرون پاکستان و بھارت) کشمیری نمایندگان کو ساتھ لے کرشریک ہو۔ اگر بھارت مسئلے کے اصل فریق کو مذاکرات میں شامل کرنے پر ٹال مٹول سے کام لیتا ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ بھارت مذاکرات کو محض وقت گزاری کے لیے استعمال کررہا ہے۔ اس کا مقصد کشمیریوں اور پاکستان میں غلط فہمی پیدا کرنا ہے، ساتھ ہی وہ پاکستان کے اصولی موقف میں دراڑ پیدا کرنے کے لیے ایسے بے معنی مذاکرات کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔
  • اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ پاک بھارت مذاکرات کا ایجنڈا، صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کو رُوبہ عمل لانے کی تفصیلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ یہ صرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے بنائے ہوئے کمیشن ہی کا تقاضا نہیں بلکہ خود بھارت نے بھی اسے تسلیم کیا ہے اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اس عہد وپیمان میں پوری دنیا شریک ہے۔نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲۵۷ میں بھی اسی حل کو واحد حل کی حیثیت سے طے کر دیا گیا ہے اور مسئلے کے منصفانہ، پایدار اور قانونی سلجھائو کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا فریم ورک نہیں ہوسکتا۔
  • کسی برادر مسلم یا غیرمسلم دوست ملک کے دبائو میں آکر اگر ہم اپنے اصولی موقف پر سمجھوتا کرتے ہوئے اور پسپائی اختیار کرنے کی راہ پر چل پڑے،اور خدانخواستہ اگر ’آؤٹ آف باکس‘ کوئی وعدہ کربیٹھے، تو یہ چیز، جدوجہد آزادیِ کشمیر کو برباد کرنے کا ذریعہ بنے گی، اور ایسا کرنے والوں کو پاکستانی اور کشمیری کبھی معاف نہیں کریں گے۔
  • کسی دوست ملک یا کسی طاقت کے دبائو میں آکر ثالثی کے پھندے کو قبول کرنا، کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستانیوں کی قربانیوںکو دریابرد کرنے کےمترادف ہوگا۔
  • اگرچہ موجودہ برسوں میں پاکستان کی معاشی حالت گوناگوں داخلی، خارجی اور انتظامی اسباب کے باعث تسلی بخش نہیں ہے، مگر اس کے باوجود کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی اخلاقی، قانونی، سیاسی اور بین الاقوامی پوزیشن بہت مستحکم ہے۔ اس لیے معاشی دبائو میں آکر اپنی اخلاقی اور قانونی پوزیشن کو قربان کرنے، اس پر سمجھوتا کرنے، دب کر بات کرنے اور موقف کو ضُعف پہنچانے سے ہرصورت میں بچنا چاہیے۔
  • اکتوبر ۲۰۲۰ء میں گلگت بلتستان کو عارضی صوبہ بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کو ہدایات دینا، مسئلہ کشمیر کی اصولی حیثیت کے لیے سخت نقصان دہ تھا۔ اسی لیے ہم نے ایسے کسی عمل سے برأت کا اعلان کرنے پر زور دیا تھا اور جموں و کشمیر کی وحدت برقرار رکھنے کا اعادہ کیا تھا۔
  • بہت واضح الفاظ میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب کے سامنے ہم یہ بات رکھیں گے کہ پاک بھارت مذاکرات، ہرصورت میں پاکستان کی منتخب حکومت اور دفترخارجہ کی ذمہ داری ہے، جسے مسلح افواج کے مشورے کی ضرورت ہرقدم پر رہے گی۔ لیکن خود افواجِ پاکستان کا ایسے بین الاقوامی مذاکرات کی ذمہ داری لینا، پاکستان، پاکستان کے موقف اور قومی اداروں کی ساکھ کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا۔
  • یہ بات ہمیں اس لیے کہنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سول حکومت کی موجودگی کے باوجود ۲۰۰۸ء سے لے کر اب تک پہلے جنرل پرویز کیانی ڈاکٹرائن، پھر جنرل راحیل شریف ڈاکٹرائن اور اب جنرل باجوہ ڈاکٹرائن پیش کرنے کا عمل اور اس کی تشہیر یا ذہن سازی ہرگز مناسب قدم نہیں ہے۔ مسلح افواجِ پاکستان کی خدمات، شجاعت اور لازوال قربانیوں کی قدر ہر پاکستانی کے دل و دماغ پر نقش ہے۔ ہرادارے کی حدود کار، دستورِ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں طے شدہ معاہدۂ عمرانی کے مطابق واشگاف ہیں۔ ان حدود سے تجاوز کرنے سے جہاں نظم و ضبط، فساد سے دوچار ہوتا ہے، وہیں پر قومی ساکھ کو صدمہ پہنچتا ہے، اور اس کی قیمت پوری قوم کی آیندہ نسلوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
  • ہمارے مقتدر اداروں اور میڈیا کو ایسے نیم دلانہ مذاکرات سے توقعات وابستہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ افسوس کہ مخصوص این جی اوز اور میڈیا پر کنٹرول رکھنے والی مخصوص لابی قوم کو اس اندھیری سرنگ میں دھکیلنے کے لیے پورا زور لگا رہی ہے۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ ایسے عناصر کی جانب سے کی جانے والی بے جا داد و تحسین کی حقیقت کو سمجھیں اور ایسے دام ہم رنگ میں اُلجھنے سے بچیں۔
  • پارلیمنٹ کی ’کشمیر کمیٹی‘ کی تشکیل نو کرتے ہوئے کمیٹی کی قیادت ذمہ دار، متحرک اور مسئلہ کشمیر کا درد رکھنے والے فرد کے سپرد کی جائے۔ جو متعلقہ معاملات پر پوری لگن اور تندہی سے ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے، سیاسی، سفارتی اور فکری قیادت کو ساتھ لے کر چلے۔ اس پلیٹ فارم کی تساہل پسندی کے نتیجے میں جو پہلے نقصان ہوچکا ہے، اس کا مداوا کرے۔

ہمیں مسئلہ کشمیرکے باب میں حکومت، حزبِ اختلاف، مسلح افواج اور میڈیا کے متعلقین کے اخلاص کے بارے میں شک نہیں۔ لیکن مخلص فرد بھی اگر درست چیز کو نامناسب انداز سے پیش کرے تو اس سے کئی بار ایسا نقصان پہنچتا ہے، کہ وہ دشمن کے حق میں بہت بڑا نفع بن جاتا ہے، اور پھر ہاتھ مَلنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔اسی لیے ہم: ’نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں‘۔