جولائی ۲۰۲۱

فہرست مضامین

منزل ہے کہاں تیری!

پروفیسر خورشید احمد | جولائی ۲۰۲۱ | اشارات

ایک اچھی حکومت اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مخلص انتظامیہ، کسی قوم کے لیے قدرت کا قیمتی عطیہ ہوتی ہے۔ اچھی حکومت اسے کہتے ہیں جسے اپنے منصب اور منصبی ذمہ داریوں کا احساس ہو، جس میں قوم کو ساتھ لے کر چلنے اور قوم کے تمام طبقوں کی دست گیری کا احساس دامن گیر ہو۔یوں تو ہماری قومی زندگی بے شمار مسائل و مشکلات سے دوچار ہے، مگر یہاں ہم چندبنیادی اُمور کی طرف توجہ مبذول کرائیں گے، جن پر قرارواقعی توجہ دے کر قومی مشکلات کو کسی حد تک کم کرتے ہوئے درست سمت کی طرف سفر ممکن بنایا جاسکتا ہے:

معاشی بحران

  • سب سے پہلا مسئلہ ہماری قومی معاشی صورتِ حال کی ابتری کا ہے۔ بدقسمتی سے افراطِ زر پر قابو پانے کی اوّل تو کوئی بامعنی کوششیں دکھائی نہیں دیتیں، اگر کچھ کیا جاتا ہے تو وہ بھی پانی پر لکیر کھینچنے کی کوشش سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔

گذشتہ ماہ قومی پارلیمان میں ۲۰۲۱ء-۲۰۲۲ء کا سالانہ معاشی میزانیہ (بجٹ) پیش کیا گیا، لیکن جس انداز سے بجٹ پیش کرنے کی یہ مشق کی گئی اور خود پارلیمنٹ نے جس انداز سے بجٹ سیشن کو چلایا، واقعہ یہ ہے کہ اس نے صدمے اور شرمندگی کے احساس کو زیادہ گہرا کردیا۔ بجٹ قومی زندگی کی نہایت اہم دستاویز ہوتی ہے، جو محض حکومت کی کتاب نہیں ہوتی، بلکہ وہ پوری قوم کی زندگی کے نہایت اہم اُمور کو چلانے کا نقشۂ کار ہوتی ہے۔اسے پیش کرتے وقت اعداد و شمار میں صحت اور دیانت کو پیش نظر رکھنا حکومت کی ذمّہ داری ہے۔ قوم کو دھوکے میں رکھ کر کوئی کھیل کھیلنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی ذمّہ داری ہے کہ وہ سارا سال جس انداز سے سیاسی جنگ میں حکومت کے حملے اور زیادتیاں برداشت کرتی اور ان کا جواب دیتی رہی ہے، اسے بجٹ سیشن کو اس جنگ سے الگ رکھ کر، غیرمتعلق چیزوں کے ساتھ اس سیشن کو ضائع نہیں کرنا چاہیے تھا، بلکہ نہایت دل سوزی سے حکومتی معاشی پالیسی اور معاشی احوال پر تعمیری تنقید و رہنمائی کا فریضہ ادا کرنا چاہیے تھا۔ مگر گذشتہ کئی برسوں سے یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ سیشن شدید ہنگامہ آرائی اور الزام تراشی اور ذاتی حملوں کی نذر ہو جاتا ہے، اور حکومت جلد از جلد بجٹ منظور کرا لیتی ہے۔

موجودہ بجٹ کو پیش کرتے وقت حکومت کی جانب سے جس معمولی معاشی استحکام پر بڑے فخر کا اظہار کیا گیا ہے، اس کی بنیاد بہت کمزور ہے۔ اگر معاشی استحکام کے دیگر پہلو صحیح طریقے سے رُوبہ عمل نہیں آئیں گے، تو معاشی صورت حال مستحکم ہونے کے بجائے اور زیادہ خرابی کی طرف جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں تمام کوشش کے باوجود برآمدات (Exports) میں کمی اور درآمدات (Imports) میں اضافے نے بہتری کے امکانات کو مسلسل کمزور ہی رکھا ہے۔

بلاشبہہ، کورونا کے باعث دیگر ممالک کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے سے پاکستان کو ٹیکسٹائل کی صنعت میں خاطر خواہ سہارا ملاہے، مگر اس معاشی بہتری کی بنیاد بالکل عارضی ہے۔ چونکہ اس کے پس منظر میں مضبوط معاشی ، فلاحی، فنی اور پیداواری سہارا موجود نہیں، اس لیے یہ علامتی ترقی کسی بھی وقت انہدام سے دوچار ہوسکتی ہے۔ کپاس کی فصل میں خطرناک حد تک کمی نے کپڑے کی تجارت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود، ایک ڈیڑھ درجن سیاسی اور معاشی اجارہ داروں پر مشتمل ’شوگر مافیا‘ نے کپاس کی پیداوار کے علاقے میں گنے کی کاشت سے، ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور اس سے حاصل ہونے والے زرِمبادلہ کے امکانات کو مسدود کرکے رکھ دیا ہے۔ گویا کہ سپریم کورٹ بے اثر اور سیاسی و معاشی سیٹھ، ناجائز معاشی فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرنے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

موجودہ حکومت کا یہ رویہ ا ب ایک ضدّی بچے کی سی صورت اختیار کرچکا ہے کہ موجودہ صورتِ حال پر بات کرنے کے بجائے سارا وقت رونے دھونے پر صرف کرتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کو تمام مسائل کا سبب اور ذمّہ دار قرار دینے کا وقت گزر چکا ہے۔ اُن حکومتوں کی بُری معاشی پالیسیوں کو بہتر بنانے کے لیے تین برس گزارنے کے بعد اب ذمّہ داری لینے اور بہتر  حکمت عملی پیش کرنے کا دور شروع ہونا چاہیے تھا۔ مگر اب تک کی صورتِ حال یہ ہے کہ قرضوں کے حصول میں بے پناہ اضافہ ہوتا جارہا ہے بلکہ ایئرپورٹ اور موٹرویز تک گروی رکھنے کی نوبت آگئی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی مرضی اور حکم کے مطابق قومی معاشی زندگی کی ترجیحات طے کرنے کے کھیل نے ملک کی آزادی اور مستقبل کو گہرے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ملک کی معاشی ترقی میں چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کے فروغ کے لیے مربوط اور مؤثر ٹکنالوجی کا فروغ،دیہی سطح پر زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات، کاشت کاری میں پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے شعور کی بیداری ، کھادوں اور اچھے بارآور بیجوں (seeds)کی بروقت فراہمی اور سہولیات دینے سے زرعی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ عملاً صورتِ حال  یہ ہے کہ گھریلو اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں بے حد اضافے کی طرح زرعی آلات و ضروریات کی قیمتوں میں بھی سو فی صد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔

اسی طرح ایک متعین وقت مقرر کرکے کمیشن بنایا جائے، جو پاکستان میں زرعی تحقیق کے اداروں کی کارکردگی اور قومی ضروریات پر بے لاگ تحقیقات کرکے قوم کو بتائے کہ یہ ادارے قوم کو کیا دے رہے ہیں؟ یہاں یہ حوالہ شاید زراعت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مفید ہوگا کہ اسرائیل نامی چھوٹے رقبے کی ناجائز ریاست نے ریگستانی اور پتھریلی زمینوں کے باوجود زراعت، پھلوں اور پھولوں میں حیران کن تحقیق و ترقی کی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کے پاس وسیع رقبے اور نہایت قیمتی آبی و پیداواری وسائل ہونے کے باوجود، آئے روز سبزیوں اور اناج کی پیداوار میں کمی کا سامنا رہتا ہے۔ اکثر خوردنی اشیا کی کمی کی شکایت پیدا ہوتی ہے، حالانکہ ہمیں یہ زرعی اشیا برآمد کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ ان قومی، زرعی اور معدنی وسائل کا درست استعمال ہی ترقی سے ہم آہنگ مستقبل دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بے روزگاری کو کم کیا جاسکتا ہے اور خودانحصاری پر مبنی معاشی و سماجی ترقی کو استحکام بخشا جاسکتا ہے۔

ملک کی معاشی زندگی میں ایک نہایت خطرناک مرض ضمنی بجٹ پر بڑا انحصار کرنا ہے۔  اب تو بدقسمتی سے عملاً سال بھر میں دو تین بجٹ بنانے کا کلچر رواج پکڑ رہا ہے۔ یہ چیز شہریوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بُری طرح پامال کر رہی ہے، مگر افسوس کہ کوئی اس غیراخلاقی رویے اور چلن سے چھٹکارے کی فکر نہیں کر رہا۔

سود پر مبنی معیشت نے ریاست کو قول و فعل کے تضاد سے دوچار کررکھا ہے۔ اس ظالمانہ نظامِ معیشت سے فائدہ طاقت وَر طبقوں کو پہنچ رہا ہے اور نقصان کروڑوں ہم وطنوں کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ سود کے مسئلے پر گذشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کا رویہ بھی تذبذب اور سودی معیشت کے حق میں ہے۔ یہ پالیسی ناقابلِ برداشت ہے۔سود کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، نہ کہ عدالتوں میں معاملات اُلجھا کر اسے طول دینے کے حیلے تلاش کرنے کا رویہ اختیار کرنا۔

سیاسی انتشار

  • دوسرا بڑا ہی اہم مسئلہ سیاسی قیادت کا ہے۔ سیاسی قیادت میں حکمران جماعتیں اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں شامل ہیں، مگر افسوس کہ یہ دونوں سیاسی گروہ جس غیرذمّہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور کلام و بیان کی جس گراوٹ کا شکار ہیں،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے  تباہی کی جانب لڑھک رہا ہے۔ پارلیمنٹ، قوم کے ضمیر اور فکر کی آئینہ دار ہوتی ہے، لیکن سچ بات ہے کہ ۲۰۰۸ء سے جمہوری عمل کی بحالی کے بعد، پارلیمان اپنی بلوغت اور وقار میں ترقی کی منازل طے کرنے کے بجائے ہرسال تنزلی کے اُلٹے سفر پر بھاگتی نظر آتی ہے۔قانون سازی نہ ہونے کے برابر ہے اور آرڈی ننس نافذ کرنے کی دھونس عروج پر ہے۔

 قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حزبِ اقتدار کا غیردانش مندانہ بلکہ کلامی فسطائیت پر مبنی رویہ اور جواب میں اپوزیشن کے رَدِّعمل پر مشتمل طریق کار، کسی اچھے مستقبل کی نوید نہیں دیتا۔ حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف جو غیرمعیاری بلکہ گندی زبان استعمال کرنے کے عادی (adict) ہوچکے ہیں، اس کا ایک نتیجہ تو یہ ہوگا کہ یہ رَدِّعمل ختم ہونے میں نہیں آئے گا۔ دوسرے یہ کہ خود عوام میں بدقسمتی سے پارلیمنٹ کا وقار جو پہلے ہی کم ہے، بالکل ختم ہوکر رہ جائے گا۔ تیسرے یہ کہ اس سسکتے جمہوری عمل کی زندگی کے خاتمے اور غیرجمہوری قوتوں کی پیش قدمی کا سبب بنے گا جس کے ذمّہ دار بنیادی طور پر حکومت اور حزبِ اختلاف ہوں گے۔

اخلاقی انحطاط

  • تیسرا اہم مسئلہ معاشرتی بگاڑ ہے، جو دھوکے، فریب، ملاوٹ اور بددیانتی میں پورے معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ وہ اب بداخلاقی اور اخلاقی بے راہ روی کی گہرائیوں میں اُترتا نظر آرہا ہے۔ بچوں سے جنسی زیادتی اور بالجبر زیادتی کے گھنائونے واقعات، ملک کے تمام حصوں میں بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ حیا اور شرم کا پردہ بالکل ہی چاک ہوا چاہتا ہے۔

اس بحرانی صورتِ حال میں سب سے بنیادی رہنمائی اور مؤثر عملی منصوبہ تو قرآن کریم، حدیث پاک اور سنت ِ نبوی سے ملتا ہے۔ کاش، ہمارے حاکم اور انتظامی افسران اس پر توجہ دیں اور اپنی ذمّہ داری ادا کریں۔ دوسرے یہ کہ اس ذمّہ داری کی ادائیگی کے لیے خود سیاسی اور دینی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی ذمّہ داری کا احساس ہونا چاہیے اور اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ ہرفرد کو سمجھناچاہیے کہ یہ آگ محض دوسرے کے گھر کو نہیں جلائے گی، بلکہ آج یا کل، یہ خود ہمارے  گھر کو بھی جلاکر راکھ کردے گی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ان تین بنیادی اُمور پر سوچ بچار کے لیے قوم کے تمام بااثر طبقوں کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور عملی طور پر اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔