مضامین کی فہرست


نومبر ۲۰۲۵

دین سے وابستگی اور دین کی خدمت کی توفیق، اللہ تعالیٰ کے بہترین انعامات میں سے ایک انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر میںبہت سے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ سعادت عطا فرمائی ہے۔ انھی خوش نصیب قافلوں میں ایک معتبر قافلے کا نام جماعت اسلامی ہے، جو دُنیا بھر میںمعروف ہے۔ 

جماعت اسلامی اپنی دعوت اور اپنی منزل کے حصول کی جدوجہد میں، انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قافلے کے اِتباع اور صلحائے امتؒ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنے والی ایک منظم تحریک ہے۔ 

جماعت اسلامی آج سے ۸۵ برس قبل ۲۶؍اگست۱۹۴۱ء کو لاہور میں قائم ہوئی تھی۔ آج یہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت پورے جنوب مشرقی ایشیا میں اپنا گہرا اثر و نفوذ رکھتی ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر اور ان کی قیادت میں جب اس قافلے نے سفر کا آغاز کیا تو اس میں صرف ۷۵ افراد شامل تھے۔ مگر ان کے خلوص اور دینی جذبے نے اس تحریک کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ رفتہ رفتہ یہ کارواں عالم گیر صورت اختیار کرتے ہوئے فکروعمل کی دُنیا میں گہرے نقوش ثبت کرتا آرہا ہے۔  

جماعت کی تاسیس کے وقت بمشکل ۷۴ روپے سے بیت المال قائم ہو سکا۔ مگر اس قافلے کی رفتارِکار کی راہ میں نہ مالی وسائل آڑے آئے اور نہ افرادی قوت کی کمی کوئی نفسیاتی رکاوٹ پیدا کرسکی۔ اسلام کے یہ جاں نثار پورے ہند میں پھیل گئے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کے متعین کردہ مقاصد کے شعور سے مالا مال اور حکمت عملی سے وابستہ کارکنان کی اجتماعیت دنیا کے مختلف حصوں میں مصروفِ عمل ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد کے ذریعے، اللہ کی رضا کے حصول اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں لاکھوں مرد و زن اور پیروجوان متحرک ہیں۔ 

جماعت اسلامی نے اسلام کی جو دعوت پیش کی اس کو قبول کرتے ہوئے ایک تعداد اس سے عملاً وابستہ ہوئی۔ دوسری بڑی تعداد نے اسے اچھا تو سمجھا، لیکن اس کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ نہ کرپائی۔ اسی طرح ایک تیسری تعداد نے اس کا راستہ روکنے کے لیے الزام تراشی، اِتہام بازی اور ظلم و زیادتی کا طرزِعمل اپنایا۔ ان سبھی کے لیے ہم خیروعافیت کی دُعا کرتے ہیں۔ بہرحال، زندگی کے ان مختلف دائروں کے پہلو بہ پہلو جماعت اسلامی آج دنیا میں ایک حوالہ ہے، خیر، تعمیر اور حق کی گواہی کا، خدمت، خلوص اور امانت داری کا۔ اسی جماعت کا کل پاکستان اجتماع عام ۲۱-۲۳ نومبر ۲۰۲۵ء کو لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔ 

مسلم اُمہ اس وقت جن مصائب، بحرانوں اور غلامی کی نئی قسموں سے دوچار ہے، ان میں یہ اجتماع، زندگی بخش راہوں کو کشادہ کرسکتا ہے۔ وطن عزیز جن اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے، اُن میں ہم آہنگ جذبۂ عمل دے سکتا ہے۔ سیاسی ابتری، معاشی فساد اور ماورائے دستور حکمرانی کی حقیقت کو آشکار کرسکتا ہے۔ مخصوص این جی اوز کے ذریعے ملک و ملّت کی فکری و نظریاتی تخریب کا جو سامان کیا جارہا ہے اور شریعت ِ اسلامی پر حملہ آور ہونے کے لیے جس ’میٹھے زہر‘ کو نام نہاد ’مذہبی اسکالروں اور اصلاح پسندوں‘ کی سرپرستی کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے، اس فکری ارتداد سے باخبر رہنے کا اسلوب دیا جاسکتا ہے۔ 

آنے والا کل جن فکری، علمی اور کلامی چیلنجوں کے ساتھ یلغار کرتا چلا آرہا ہے، اس تباہی کا احساس بیدار کرنا پہلی ضرورت ہے۔ اس کا جواب دینے کے لیے میدانِ عمل میں آنا دوسری ضرورت ہے، اور عمل و رَدعمل سے بڑھ کر مثبت انداز سے ایک نظامِ فکر اور لائحہ عمل پیش کرنا تیسری اور سب سے اہم ضرورت ہے۔  

جماعتوں اور پارٹیوں کے اجتماعات میں مذہبی یا سیاسی ہنگامے ہوتے ہیں، لیکن ان سب سے بالکل مختلف انداز اور امتیازی شان کے ساتھ جماعت اسلامی کا اجتماع عام منعقد ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیمی اور تحریکی زندگی میں مرکزی اجتماع کی کیا اہمیت ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں سے ۱۶۶کلومیٹر کے فاصلے پر دارالاسلام میں منعقد ہونے والے پہلے کُل ہند اجتماع میں ۱۹؍اپریل ۱۹۴۵ء کو فرمایا تھا: 

مختلف گوشوں سے، موجودہ زمانے کے پُر صعوبت سفر کی تکلیفیں برداشت کرکے یہاں جمع ہو کر آپ نے میری طاقت میں بھی اضافہ کیا ہے اور اپنی طاقت میں بھی۔ [اگر آپ] ایسا نہ کرتے تو میں اپنی جگہ کم زور ہو جاتا اور آپ اپنی جگہ۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہماری یہ تحریک جو ایک بڑے عزم کا اظہار ہے، آپ اپنی جگہ ٹھٹھر کر رہ جاتی۔ آپ جب کسی ایک شخص کو، ایک مقصدِ عظیم کے لیے خود اپنا امیر بناتے ہیں، تو اس کی اطاعت کر کے دراصل اپنی ہی طاقت کو مضبوط کرتے ہیں، اور جتنی کم اطاعت کا ا ظہار آپ سے ہوگا، اس کمزوری کی وجہ سے آپ کی جماعت کی طاقت ضعیف ہوگی۔ [مگر] اس کے برعکس جس قدر زیادہ آپ کے قلب و دماغ پر اپنا مقصد حاوی ہوگا، اور جتنا زیادہ اپنے مقصد کی خاطر اطاعتِ امر کا صدور آپ سے ہوگا، اُسی قدر زیادہ آپ کا مرکز قوی ہوگا اور آپ کی تنظیمی طاقت زبردست ہوگی۔ 

مولانا محترمؒ نے اپنے خطاب میں اس چیز کی طرف توجہ دلائی ہے کہ: lآپ نے مالی، سفری اور صحت کی مشکلات برداشت کرکے یہاں جمع ہونے کا قدم اٹھایا lاس طرح آپ نے نظم جماعت، جماعت اور خود اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے lیوںآپ نے مقصدِ عظیم سے وابستگی کا اظہار کیا ہے lاوراطاعتِ نظم کا قدم اٹھا کر مقصد کی قوت میں اضافہ کیا ہے ___ دراصل یہی ہے وہ روح، جس کے تحت جماعت کے نظم کی دعوت پر ہم تمام کارکنان لبیک کہتے ہوئے اس اجتماع میں شرکت کریں گے۔ اس طرح ہم نظم ہی کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی مضبوط بنائیں گے، ان شاء اللہ۔ 

جماعت اسلامی، قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر چھوٹے بڑے تنظیمی اجتماعات کا انعقاد معمول کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اور یہی ذیلی اجتماعات جماعت کی ہم آہنگی، ترقی، تربیت اور ہمہ پہلو پھیلائو کا ذریعہ ہیں۔ مگر قومی سطح پر بڑے اجتماع کا انعقاد فکری، تربیتی، روحانی اور تحریکی تجدید کا طاقت ور مظہر بھی ہوتاہے اور ذریعہ بھی۔ اس بڑے اجتماع سے متعدد فوائد حاصل ہونے کی اُمید ہوتی ہے: 

  • اجتماع کے اختتام کے بعد کارکنوں کی زندگی میں اخلاقی، روحانی ، عملی اور تحریکی پہلوئوں سے نمایاں تبدیلی رُونما ہوتی ہے۔ 
  • یہ اجتماع، خالقِ حقیقی سے تعلق کو گہرا اور نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے عہد کو تازہ و توانا بناتا ہے۔ 
  • اجتماع موجودہ حالات میں دعوت کی راہ میں پیش آنے والے چیلنجوں کے جواب کے لیے راہ نمائی ہوتی ہے۔ 
  • اجتماع اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹوں کی نشاندہی اور ممکنہ راستے تجویز کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ 
  • اجتماع میں کارکنوں کو قرآنی تعلیمات اور نبویؐ ہدایات کے زیرسایہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی یاددہانی کرائی جاتی ہے۔ 
  • اجتماع میں دعوتی ذمہ داریوں اور معاشرتی اصلاح و سدھار کے لیے کارکنوں اور ذیلی نظم کو عزم و عمل کی سرشاری عطا ہوتی ہے۔ 
  • اجتماع سے وحدتِ فکر اور اجتماعیت کی یکجہتی میں مضبوطی و توانائی آتی ہے۔ 
  • اجتماع میں خاندان، گلی ، محلے، قصبے، گائوںاور شہر سے نوجوان اور مردو زن شرکت کرتے اور دین، دعوت، تحریک اور ملت کےمستقبل کا سرمایہ بنتے ہیں۔ 
  • اجتماع میں مختلف فکری، معاشرتی اور پیشہ وارانہ طبقوں کے افراد آتے، باہم ملتے اور مستقبل کو سنوارنے کے لیے عزائم کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ 
  • یہ اجتماع قومی، ملّی اور عالمی منظرنامے میں تحریک کی راہ نمائی کا پیغام بن کر شرکا کو لائحہ عمل دیتا ہے، کیونکہ یہ اجتماع نہ تو رنگ و نسل سے منسوب ہوتا ہے اور نہ علاقوں اور قومیتوں تک محدود تنگ نظری سے آلودہ ہوتا ہے۔ 
  • یہ اجتماع سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے بالاتر رہتے ہوئے زندگی کی جامعیت کو حوالہ بناتا، اور فکر و عمل کے ہر پہلو پر برابر زور دینے اور معاملات کو سمجھنے، سمجھانے کا نقیب بنتا ہے۔ 
  • اجتماع: ایثار وقربانی، صبر و اخوت، ذکر و استغفار، بھوک پیاس اور تنگی ترشی میں وقار اور ربّ سے ملاقات کی تیاری کا سبق دیتا ہے۔ 

دوسرے لفظوں میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام کوئی روایتی میلہ یا جلسۂ عام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچر کا روحانی و انقلابی عکس ہوتا ہے۔ اس لیے ہر سطح کےکارکنوں پر لازم ہے کہ وہ اجتماع میں شرکت کے لیے خود بھی شعوری طور پر تیار ہوں، اور اپنے اہل خانہ ، خاندان اور قریبی لوگوں کو بھی تیار کریں۔ 

سیّد مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اپریل ۱۹۴۵ء میں اسی طرح کے ملکی اجتماع میں فرمایا تھا: 

آپ کے اجتماعات میں خواہ کتنا ہی بڑا مجمع ہو، مگر خیال رکھیے کہ بھیڑ اور ہڑبونگ، اور شوروہنگامہ کی کیفیت کبھی رونما نہیں ہونی چاہیے۔ 

جو کام ہم نے اپنے ہاتھ میںلیا ہے، یعنی اخلاقی اصولوں پر دنیا کی اصلاح کرنا، دنیا کے نظم کو درست کرنا، اس کا تقاضا ہے کہ اخلاقی حیثیت سے ہم اپنے آپ کو دنیا کا صالح ترین گروہ ثابت کر دکھائیں۔ 

جس طرح ہمیں دنیا کے بگاڑ پر تنقید کا حق ہے، اسی طرح دنیا کو بھی یہ دیکھنے کا حق ہے کہ ہم انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کیسے رہتے ہیں؟ کیا برتائو کرتے ہیں؟ کس طرح جمع ہوتے ہیں اور کس طرح اپنے اجتماعات کا انتظام کرتے ہیں؟ 

اگر دنیا نے یہ دیکھا کہ ہمارے اجتماعات میں بدنظمی ہے، ہمارے مجمعوں میں انتشار اور شوروغل ہوتا ہے۔ ہمارے رہنےا ور بیٹھنے کی جگہیں بدسلیقگی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اور جہاں مشورے کے لیے جمع ہوتے ہیں، وہاں مذاق، قہقہے اور جھگڑے برپا ہوتے ہیں، تو دنیا خدا کی پناہ مانگے گی۔ 

اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے اجتماعات کے دوران نظم، باقاعدگی، سنجیدگی و وقار، صفائی و طہارت اور حسنِ اخلاق اور خوش سلیقگی کا ایسا مکمل مظاہرہ کریں، جو دنیا میں نمونہ بن سکے.... ایک منظم گروہ کی طرح اٹھیے اور بیٹھیے، کھائیے اور جمع ہو جائیے اور منتشر ہو جائیے۔ 

جہاں آپ جمع ہوں، وہاں آپ کی دیانت و امانت بالکل ایک محسوس و مشہود شکل میں نظر آنی چاہیے۔ [وہاں]کسی شخص کو اپنے سامان کی حفاظت کے لیے کسی اہتمام کی ضرورت پیش نہ آئے۔ جس کا مال اور سامان جہاں رکھا ہو، بغیر کسی نگران اور محافظ کے محفوظ پڑا رہے۔ 

بانی ٔ جماعت کے ان الفاظ میں اجتماع اور شرکائے اجتماع کے اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی پہلو کو انفرادیت بخشنے کا بہترین سبق موجود ہے۔  

اسی طرح سیّد مودودی علیہ الرحمہ نے معاشرے، ماحول، سوچ کے زاویے اور عمل کی دُنیا کی تبدیلی کا درس دیتے ہوئے فرمایا تھا: 

اس وقت ہماری حقیقی ضرورت یہ ہے کہ وہ سارانظامِ زندگی تبدیل کیا جائے، جو انگریز نے سرمایہ داری، استعماریت اور مادہ پرستی کی بنیاد پر قائم کیا تھا اور جو آج بھی جوں کا توں ہمارے ملک پر قائم ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، کوئی تکلیف، کوئی شکایت اور کوئی خرابی کُلی طور پر رفع ہونا ممکن نہیں ہے۔ خرابیوں کا اصل علاج یہ ہے کہ سارا نظام اپنی نظریاتی اور اخلاقی بنیادوں کے ساتھ بدلا جائے اور اس کو اسلامی، اخلاقی و نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا جائے، جو اجتماعی انصاف کی ضامن ہوں۔ جب نظامِ زندگی بدلے گا تو عدل و انصاف خود قائم ہوجائے گا اور لوگوں کی مشکلات اور شکایات آپ سے آپ دُور ہوجائیں گی۔ 

اجتماع میں شرکت اور اجتماع کی تمام تر کارروائی اسی فرسودہ نظامِ کار کو بدلنے کی تمہید ہے۔ جب کہ اجتماع کے بعد کارکنوں اور شرکائے اجتماع کی اپنے اپنے مقامات پر واپسی ، ان شاء اللہ نظام کو بدلنے کی واضح حکمت عملی سے آگاہی اور جذبہ و تحرک کی سرشاری کا عنوان بنے گی۔ 

یہاں پر ہم ان پہلوئوں اور رویوں کو مختصر الفاظ میں زیر بحث لائیں گے، جو مسلم اُمت کے مختلف طبقوں اور معاشروں میں دینی امور کی نسبت سے پائے جاتے ہیں: 

ترجیحی توازن قائم کرنے کی ضرورت 

اگر ہم اپنی زندگی پر غور کریں اور مادی، معنوی، فکری، معاشی، معاشرتی، سیاسی یعنی ہر پہلو سے اس پر نظر ڈالیںتو معلوم ہوگا کہ ہمارے ہاں ترجیحات کا توازن بری طرح الٹ پلٹ ہوچکا ہے۔ تقریباً تمام مسلم ملکوں میں ایک عجیب طرح کی افراط وتفریط ہے۔ فن وتفریح کو تعلیم وتعلم پر ترجیح دی جاتی ہے۔ نوجوانوںکی سرگرمیوں میں جسمانی ورزشوں کو عقل وفکر اور روحانی تربیت پر مقدم رکھا جاتا ہے۔ گویا کہ نوجوانوں کی تربیت کا ایک ہی مطلب ہے کہ ان کو جسمانی ورزش کرائی جائے۔ کیا ’انسان‘ صرف جسم کا نام ہے یا جسم اور عقل کے مجموعے کو ’انسان‘ کہتے ہیں؟ 

کاش! یہ لوگ تفریح کی ان قسموں کا اہتمام کرتے، جن سے عوام زیادہ بڑے پیمانے پر استفادہ کر سکتے۔ مگر ان کی ساری توجہ کھیل کے مقابلوں کی طرف ہوتی ہے، خاص طور پر فٹ بال [اور کرکٹ]، جس میں چند کھلاڑی کھیلتے ہیں اور باقی کروڑوں محض تماشائی! 

معاشرے میں عزّت و شہرت عالموں، ادیبوں، سائنس دانوں اور اہلِ دین ودانش کو نہیں بلکہ اداکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کو حاصل ہے۔ اخبارات، ٹی وی اور ریڈیو کے مذاکروں کا موضوع بحث یہی لوگ ہوتے ہیں۔ میڈیا پر ان کے کھیلوںاور’ کارناموں‘ کی خبریں نشر ہوتی ہیں، خواہ وہ کتنی ہی غیراہم کیوں نہ ہوں۔ دوسرے لوگ [جوکوئی فائدے کا کا م کرتے ہیں] ان کا کسی پر سایہ بھی نہیں پڑنے دیا جاتابلکہ وہ فراموش کر دیے جاتے ہیں۔ 

اگر کوئی ’ادا کار‘ فوت ہوجائے تو تہلکہ مچ جاتاہے اور اُس کی تعریف وتوصیف کے دریا بہادیتے ہیں، مگر کوئی عالم، ادیب، یا کوئی بڑا ماہرِ فن وفات پا جائے تو کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ معاشی پہلو سے دیکھاجائے تو کھیل کود اور اداکاری کو فروغ دینے، اور حکمرانوں کی ذاتی حفاظت کے لیے تو بڑی بڑی رقمیں خرچ کی جاتی ہیں لیکن تعلیمی اور فلاحی ادارے، ہسپتال اورشفاخانے اور دعوتِ دین کی تحریکیں فنڈز کا رونا روتی رہتی ہیں۔ وہ جب اپنی ترقی اور عصری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئی مطالبہ کرتی ہیں تو ان سے معذرت کر دی جاتی ہے اور بہانے بناکر ان سے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ آدمی حیران ہوجاتاہے کہ اُدھر سخاوت کے دریا بہائے جاتے ہیں اور اِدھرایک گھونٹ کی بخیلی۔ 

دین دارطبقے کا رویہ 

یہ خرابی صرف عوام یا سیکولر طبقے میں نہیں در آئی، بلکہ خود مذہبی طبقہ بھی طرح طرح کی بے اعتدالیوں کا شکارہے۔ ان میں بھی معاملات کے درست فہم اور دین کے صحیح علم کی کمی پائی جاتی ہے۔ صحیح علم تو وہی ہوتاہے جو آدمی کے سامنے اہم اور کم اہم کو واضح کردے اوراس کے ذریعے معلوم ہوسکے کہ صحیح کیاہے اور غلط کیا، قابلِ قبول کیاہے اور قابلِ رَد کیا؟ وہ اسے بتاسکے کہ کون سی چیز ’سنت‘ ہے اور کون سی ’بدعت‘؟ اِسی طرح وہ شریعت کے مطابق ہرچیز کی اصل قدروقیمت کی پہچان کرائے۔ 

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ علم کی روشنی اور معاملات کی سمجھ سے محروم لوگ، مختلف امور کے  درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ چنانچہ وہ یا تو افراط سے کام لیتے ہیں یا تفریط کا شکارہوجاتے ہیں۔ ہم نے کئی بار دیکھا ہے کہ ایسے لوگ اپنے اخلاص کے باوجود زیادہ اہم اور زیادہ افضل سے غفلت برتتے اور کم افضل پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں۔ 

میں نے بہت سے نیک طبع مسلمانوں کو دیکھاہے کہ وہ کسی ایسے شہر میں مسجد کے لیے عطیہ دیتے ہیں، جہاں پہلے سے بہت سی مسجدیں موجود ہوتی ہیں اور اس پر پانچ دس لاکھ ڈالر یا اس سے بھی زیادہ رقم خرچ کرڈالتے ہیں۔مگر جب ان سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ آپ اس سے آدھی یا چوتھائی کے برابر رقم دعوتِ اسلام کی اشاعت میں، کفر والحاد کا مقابلہ کرنے میں یا اسلامی نظام کے نفاذکی خاطر جاری کوششوں میں، یا اس طرح کے دوسرے عظیم مقاصد میں خرچ کریں جن کے لیے بعض اوقات اہل افراد تو دستیاب ہوتے ہیں، مگر وسائل کی کمی ہوتی ہے، تو آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ وہ آپ کو کوئی مثبت جواب نہیں دیںگے۔ وہ اینٹوں اورپتھروں کی عمارتیں تعمیر کرتے ہیں، مگر انسانوں کی تعمیر ان کی نظر میں فضول کام ہے۔ 

ہرسال حج کے دنوں میں صاحبِ ثروت مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر بضد ہوتی ہے کہ وہ نفلی حج کریں گے، اور بہت سے لوگ رمضان کے مہینے میں عمرہ کرنا بھی اپنے اوپر لازم سمجھتے ہیں، اور کبھی کبھی اپنے خرچ پر دوست احباب کوبھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ مگر ان سے جب آپ کہتے ہیں کہ وہ یہ سالانہ اخراجات فلسطین میں یہودیوں کے مقابلے کے لیے، ہرذی گوونیا میں سربوں کے مقابلے کے لیے، یا انڈونیشیا، بنگلہ دیش یادوسرے ایشیائی اور افریقی ممالک میں عیسائی مبلغین کا مقابلہ کرنے کے لیے دے دیں، یا کوئی دعوتی اور تحریکی مرکز قائم کرنے کے لیے یا ایسے داعیوں کی تیاری کے لیے خرچ کریں، جو اس میں تخصص حاصل کرکے اپنے آپ کو اسی کام کے لیے وقف کریں، یا بلند پایہ تحقیق، تصنیف، تالیف، ترجمے یا دینی کتابوں کی اشاعت کا کوئی ادارہ قائم کرنے کے لیے عطیہ کردیں، تو سر جھٹک دیتے ہیں۔ یہ ہے لوگوں کی حالت! 

دوسری طرف قرآن سے یہ بات وضاحت کے ساتھ ثابت ہے کہ جہاد سے متعلقہ اعمال اُن اعمال سے افضل ہیں، جو حج سے متعلق ہیں: 

کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد ِحرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھیرالیاہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روزِ آخر پر اور جس نے جاںفشانی کی اللہ کی راہ میں؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ اللہ کے نزدیک تو انھی لوگوں کا درجہ بڑاہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان ومال سے جہاد کیا۔ وہی کامیاب ہیں۔ ان کا ربّ انھیں اپنی رحمت اور خوش نودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتاہے جہاں ان کے لیے پائے دار عیش کے سامان ہیں۔ (التوبۃ ۹: ۱۹-۲۱) 

۹۰ کے عشرے میںجب بوسنیا میں آزادی کی جدوجہد جاری تھی، ہمارے دوست اور معروف اسلامی اسکالر استاذفہمی ہویدی نے وضاحت کے ساتھ مسلمانوں سے یہ بات کہی تھی کہ ’بوسنیا کی آزادی فریضۂ حج پر مقد م ہے‘۔ جن لوگوں نے یہ مقالہ پڑھا، ان میں سے بہت سے لوگوں نے مجھ سے پوچھا: ’’یہ بات شرعی اور فقہی نقطۂ نظر سے کس حد تک درست ہے؟‘‘ میں نے ان حضرات کو کہا: ’’استاد ہویدی کی بات بالکل درست ہے اور فقہی لحاظ سے قابلِ اعتبار بھی ہے۔ شرعی طور پر یہ بات متعین ہے کہ جو فرائض فوری طور پر مطلوب ہوں، ان کو ایسے فرائض پر مقدم کیاجائے گا جن میں تاخیر کی گنجایش ہوتی ہے، اور فریضۂ حج میں تاخیر کی گنجایش موجود ہے۔ بعض ائمہ کے نزدیک یہ واجب عندالتراخی  ہے، یعنی اس میں ڈھیل ہوسکتی ہے۔ بوسنیا کے مسلمانوں کو جس موت، بھوک وافلاس، امراض، سردی اور اجتماعی ہلاکت کا سامنا ہے، انھیں اس سے بچانا، ایک فوری فریضہ ہے، جسے بروقت انجام دینے کی ضرورت ہے اوراس میں نہ تاخیر کی گنجایش ہے اور نہ ’تراخی‘ یعنی ’ڈھیل‘ کی۔ کیوں کہ یہ فریضۂ وقت ہے اور ساری اُمت پر آج کا اہم ترین واجب ہے‘‘۔ 

جولوگ ہرسال نفل حج ادا کرتے ہیں ان کی تعداد یقیناً بہت زیادہ ہوتی ہے___اسی طرح خصوصاً رمضان کے دنوں میں عمرہ کرنے والوں کی بڑی تعداد۔ کاش! وہ اپنے حج اور عمرے کی قربانی دیںاور یہ اخراجات اللہ کی راہ میں دے دیں۔ یعنی اپنے مال کو اپنے ان مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو نجات دلانے کے لیے خرچ کریں، جو مادی اور معنوی ہلاکت سے دوچارہیں، جنھیں بے انتہا ظلم وجبرکا سامنا ہے۔ ان کا دشمن ان کی جان ومال اور عزت کے درپے ہے، اور چاہتاہے کہ دُنیا سے ان کا نام ونشان مٹ جائے۔ 

ایک بار میں انڈونیشیا گیا تو میں نے وہاں دیکھا کہ عیسائی مشنری بڑے پیمانے پر اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان کے بالمقابل تعلیمی، طبی اور اجتماعی ادارے قائم کرنے کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ چنانچہ میں نے ان نیک طبع بھائیوں سے کہا: ’’اس سال آپ حج کا ارادہ ترک کردیںاور اس پر اُٹھنے والے اخراجات انڈونیشیا میں عیسائیت کے جواب میں خرچ کریں۔ اگر ایک سو افراد ہوں اور ایک فرد کا خرچہ دس ہزار روپیہ ہو تو اس کا کُل ۱۰ لاکھ روپیہ بنتاہے۔ اس رقم سے ایک بہت بڑے منصوبے کا آغاز کیاجاسکتا ہے۔ اگر ہم نے اس طرح کے کسی منصوبے کا آغاز کیا اور اس کی تشہیر کی تو دوسرے لوگ بھی ہماری تقلید کریںگے اور ان کے کام میں ہمیں بھی ثواب ملے گا‘‘۔ مگر ان دوستوں نے کہا: ’’جب بھی ذوالحجہ کا مہینہ آتاہے، تو ہم اپنے دل میں حج کا ایسا جذبہ محسوس کرتے ہیں، جس کا ہم کسی دوسری چیز سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔ جب وہاں حاضر ہوتے ہیں تو ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے‘‘۔ 

اگر فہم صحیح ہوتا اور مسلمانوں کے ہاں ترجیحات کے مسئلے کی اہمیت ہوتی تو یقیناً وہ اس سے زیادہ خوشی، سعادت اور روحانیت اس وقت محسوس کرتے، جب وہ اپنے حج وعمرے کے اخراجات کو کسی اسلامی منصوبے کا آغاز کرنے، یتیموں کی کفالت کرنے، بھوکوں کو کھانا کھلانے، ملک بدر لوگوں کو پناہ دینے، مریضوں کا علاج کرنے، اَن پڑھوں کو تعلیم دینے اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے میں صرف کردیتے۔ 

ایسے بہت سے نوجوان دیکھے ہیں، جو یونی ورسٹی کے میڈیکل، ایگری کلچر، انجینئرنگ، یاایجوکیشن کے شعبے میں یا دوسرے نظری یا سائنسی شعبوں میں اچھا بھلا پڑھتے اور دوسروں سے آگے تھے۔زیادہ عرصہ نہ گزرا ہوگا کہ انھوں نے اپنے اپنے شعبے کو یہ کہتے ہوئے خیرباد کہا کہ ’’ہم تو دعوت و تبلیغ کے لیے فارغ ہوںگے‘‘۔ لیکن اگر وہ اپنے تخصص کے شعبےہی میں کام کرتے، جو ایک فرض کفایہ تھا، تو وہ اچھی نیت سے اپنے کام کو پوری مہارت کے ساتھ انجام دیتے ہوئے اور اس میں حدود اللہ کی پابندی کرتے ہوئے اسے عبادت اور جہاد میں تبدیل کرسکتے تھے۔ 

اگر ہرمسلمان اجتماعی، تمدنی اور معاشرتی زندگی میں اپنے پیشے کو چھوڑ دے تو پھر اُمت کی ضروریات کون پوری کرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب منصب نبوت عطا ہوا تو صحابہ کرامؓ مختلف پیشوں سے وابستہ تھے۔ آپ ؐنے ان میں سے کسی سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اپنے پیشے کو چھوڑ کر اپنے آپ کو دعوت کے لیے فارغ کرلے۔ ہجرت سے پہلے بھی اور ہجرت کے بعد بھی یہی طریقہ رہا کہ سارے لوگ اپنے اپنے پیشے سے وابستہ رہے۔ مگر جب جہاد کا موقع آتا اور انھیں جہاد کے لیے بلایا جاتا تو سارے لوگ، خواہ ہلکے ہوتے یا بوجھل، میدانِ جہاد کی طرف نکل پڑتے اور اپنی جان ومال اللہ کی راہ میں قربان کردیتے تھے۔ 

امام غزالیؒ نے اپنے دور میں یہ بات ناپسند کی کہ اکثر طالب علم فقہ اور اس طرح کے دوسرے علوم کی طرف متوجہ ہوتے تھے، اور دوسری طرف مسلم ممالک میں کسی یہودی یا عیسائی طبیب کے علاوہ کوئی معالج نہ ہوتاتھا۔ وہ انھی سے اپنے مردوں اور عورتوں کا علاج کراتے تھے اور اپنے پردوں کو انھی کے سامنے کھولتے تھے۔ وہ انھی سے ایسے امور بھی معلوم کرتے تھے، جن کا تعلق شرعی احکام کے ساتھ ہوتاتھا۔ 

اسی طرح میں نے کچھ لوگوں کو دیکھاہے کہ وہ روزانہ ایسے معرکے گرم کرتے ہیں، جن کا مقصد جزئی یا اختلافی مسائل پر مناظرے کرنا ہوتاہے۔ وہ اس بنیادی اور اصولی بات کو بھول جاتے ہیں کہ ہمارا بڑا معرکہ ایسے دشمن کے ساتھ ہے جسے اسلام سے نفرت ہے،وہ اس کو کمزور کرنے اور نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ 

یہاں تک کہ امریکا، کینیڈا اور دوسرے یورپی ممالک میں رہایش پذیر مسلمانوں میں بھی ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں، جن کے ہاں سب سے اہم مسئلہ جو پوچھنے کے لیے رہ گیاہے وہ یہ ہے کہ گھڑی دائیں ہاتھ میں باندھی جائے یا بائیں ہاتھ میں، کوٹ پتلون کے مقابلے میں سفیدکرتاقمیص پہننافرض ہے یاسنت، اور عورتوں کا مسجد میں جانا جائز ہے یا ناجائز؟ اسی طرح کھانے کے لیے میز کرسی استعمال کرنا اور چھری کانٹے سے کھانا کیا کفار کی مشابہت ہے یانہیں؟ 

یہ اور اس طرح کے بے شمار مسائل ہیں جو ہمارے بہت سارے اوقات کو کھاجاتے ہیں، لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کردیتے ہیں، دلوں کو ٹکرے ٹکڑے کردیتے ہیںاور اس سے بہت سی محنتیں اور صلاحیتیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ کیوںکہ یہ ایسی کوشش ہے جس کا کوئی ہدف نہیں اور یہ ایسا ’نام نہاد جہاد‘ ہے، جو دشمن کے خلاف نہیں بلکہ اپنوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ 

میں نے بہت سے نوجوانوں کو دیکھاہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ اس لیے سختی سے پیش آتے ہیں کہ وہ گناہ گار ہیں اور دین سے منحرف ہیں۔ وہ نوجوان یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیاہے خواہ وہ مشرک ہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: 

اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مانو۔ البتہ دُنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتے رہو۔ (لقمان ۳۱:۱۵) 

اس طرح والدین کی طرف سے اس پُرزور دباؤ کے باوجود ___ جسے قرآن نے مجاہدہ علی الشرک کہاہے ___  اللہ تعالیٰ حکم دیتاہے کہ ان کے ساتھ معروف کے ساتھ پیش آیاجائے: 

میرا شکر کرو اور اپنے والدین کاشکر بھی بجالاؤ، میری ہی طرف تجھے پلٹ کر آنا ہے۔(لقمان۳۱:۱۴) 

اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔(النساء۴:۱) 

دور انحطاط کی روایات کو بدلنے کی ضرورت 

انحطاط کے دور میں مسلمان جن بُری عادات کا شکار ہوئے اور اب تک چلے آرہے ہیں، ان میں سے چندعادات یہ ہیں: 

۱- انھوں نے ایسے فرائضِ کفایہ کو بڑی حد تک چھوڑ دیاہے جن کا تعلق بحیثیت ِمجموعی پوری اُمت کے ساتھ تھا،مثلاً سائنسی، صنعتی اور عسکری برتری، جو اُمت کو اپنے اختیارات کا مالک بناتی ہے اور اسے صرف دعوؤں اور باتوں کی حد تک نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں دُنیا کی قیادت عطا کرتی ہے۔ مثلاً فقہی مسائل میں اجتہاد اور احکامِ شریعت کا استنباط، دعوتِ اسلامی کی نشرواشاعت، شوریٰ کے حکمِ ربانی کو بیعت او رآزادانہ اختیارات کی بنیادپرقائم کرنا، ظالم اور دین سے منحرف بلکہ دین دشمن حکمران کے خلاف جہاد کرنا وغیرہ۔ 

۲- انھوں نے ایسے امور کو بھی چھوڑدیاہے جوفرضِ عین کے درجے میں ہیں، یااگر چھوڑا نہیں تو کم از کم انھیں وہ مقام نہیں دیا جو اِن کو دیا جانا چاہیے تھا۔ جیسے امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ، جسے قرآن نے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے نماز اور زکوٰۃ سے بھی زیادہ اہمیت دی ہے:’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کاحکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں‘‘۔(التوبۃ۹:۷۱) 

اس فریضے کو اُمت مسلمہ کے بہترین اُمت ہونے کا سب سے پہلا سبب قرار دیاگیاہے: ’’اب دُنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت او راصلاح کے لیے میدان میں لایا گیاہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔ (اٰل عمرٰن۳:۱۱۰) 

۳- مسلمانوں نے بعض ارکانِ اسلام کو بعض دوسرے ارکان پر زیادہ اہمیت دی ہے، مثلاً نماز کے مقابلے میں روزے کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں دن کے وقت مسلمان بہت کم کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ اسی طرح خواتین، نماز میں غفلت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوںنے عمر بھر میں ایک مرتبہ بھی اللہ کے سامنے رکوع اور سجدہ کرنے کی زحمت نہیں کی ہوگی۔ بعض لوگ نماز کا تو بہت اہتمام کرتے ہیں، مگر زکوٰۃ کے معاملے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ۲۸ مقامات پر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیاہے۔ یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: ’’ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیاہے اور جو شخص زکوٰۃ نہیں دیتا اس کی نماز مقبول ہی نہیں‘‘۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایاتھا: وَاللّٰہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ ’’خدا کی قسم ! میں ان لوگوں کے خلاف ضرور لڑوںگا، جو نماز ا ورزکوٰۃ کے درمیان فرق روا رکھتے ہیں‘‘۔  

صحابہ کرامؓ، مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف جہادپراسی طرح متفق تھے جس طرح وہ نبوت کے جھوٹے دعوے داروںاور مرتدین کے خلاف متفق تھے۔ اس طرح گویا اسلامی حکومت روئے زمین کی پہلی حکومت تھی، جس نے غریبوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔ 

۴- بہت سے دین دار لوگ ذکرو اذکاراور تسبیحات و اورادکا بے حد اہتمام کرتے ہیں، مگر ان کے ہاں بعض فرائض کے بارے یہ اہتمام نظر نہیں آتا، خصوصاً معاشرتی فرائض جیسے والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی، پڑوسی کے ساتھ احسان، کمزوروں پر رحم کرنا،  یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھنا، منکر کو روکنا اور اجتماعی وسیاسی ظلم وجبر کے خلاف جہاد کرنا۔ 

۵- بعض اوقات انفرادی عبادات ،جیسے نماز اور ذکر وغیرہ کی بڑی پابندی کی جاتی ہے، مگر اجتماعی فرض عبادات، جن کا فائدہ دوسروں کو بھی پہنچتاہے، ان کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی، جیسے جہاد ، علم، اصلاح بین الناس،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون، صبر اور رحم کی تلقین، عدل وانصاف اور شوریٰ کے قیام کی دعوت، عمومی انسانی حقوق کی پاسداری اور خاص طورپر کمزور انسانوں کا خیال رکھنا۔ 

۶- بہت سے لوگ ’فروع‘ [ضمنی مسائل]کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں اور ’اصول‘ [بنیادی مسائل] کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ امام راغب کا قول ہے: مَنْ ضَیَّعَ الْأُصُوْلَ حُرِمَ الْوُصُوْلَ ’جس نے بنیاد کو چھوڑدیا وہ منزل پر نہیں پہنچ سکتا‘۔ مطلب یہ کہ اُنھوں نے عقیدۂ توحید، ایمان باللہ اور اخلاص فی الدین سے غفلت برتی ہے۔ 

۷- اسی طرح جن مسائل کے درمیان توازن میں خلل پیدا ہواہے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بہت سے لوگ مکروہات اور مشتبہ امور کے خلاف برسرپیکار ہیں، مگر انھوں نے کھلی حرام اشیاء کے بارے میں اتنی سرگرمی نہیں دکھائی، نہ ان واجبات کو قائم کرنے کا کوئی خاص اہتمام کیاہے، جنھیں لوگوں نے چھوڑ دیاہے۔ اسی طرح بعض لوگ ان اُمور پر اپنی زیادہ قوتیں صرف کرتے ہیں، جن کے حلال و حرام ہونے میں اختلاف پایاجاتاہے، مگر ان چیزوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے جن کی حُرمت قطعی اور یقینی ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہیں جنھوں نے اسی طرح کے اختلافی مسائل کو زندگی موت کا مسئلہ بنادیا ہے۔ جیسے تصویر، موسیقی، چہرے کاپردہ اور اس طرح کے دوسرے مسائل۔ دوسری طرف وہ بڑی فیصلہ کن لڑائیوں سے غافل ہیں جن کا تعلق اُمت کے وجود، اس کے انجام، اور دُنیا کے نقشے پر اس کی بقا کے ساتھ ہے۔ 

۸- اسی طرح کے مسائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض لوگ صغیرہ گناہوں کو ختم کرنے کے لیے توایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں، مگر تباہ کُن کبیرہ گناہوں کو نظرانداز کرتے ہیں، خواہ وہ دینی لحاظ سے ہلاکت میں ڈالنے والے ہوں، یامعاشرتی اورسیاسی طور پر ہلاکت سے دوچار کرنے والے ہوں۔ 

یہ ایک بہت بڑی بیماری ہے کہ بڑی چیز یا مسئلے کو چھوٹا بنا کرپیش کیاجاتاہے اور چھوٹی چیز یا مسئلے کو بڑا کرنے کا رجحان پروان چڑھایا جاتا ہے۔ رائی کو پہاڑ بنالیا جاتاہے اور ایک اہم ترین معاملے کو بالکل نظرانداز کر دیا جاتاہے۔ پہلے کو آخر پر رکھاجاتاہے اورآخری کو پہلے درجے پر لایا جاتاہے۔ اختلافی مسائل کے لیے میدانِ جنگ گرم کیاجاتا ہے۔ یہ ساری باتیں آج کے دور میں اُمت ِمسلمہ کو اس ضرورت کا احساس دلاتی، بلکہ شدت کے ساتھ اس بات کا محتاج بناتی ہیں کہ وہ چیزوں کی ترجیح کے مسئلے کو سمجھے، تاکہ وہ اس کی روشنی میں اپنے طریق کار کا نئے سرے سے جائزہ لے، اس کے بارے میںگفت وشنید کرے، افہام وتفہیم کرے اورہرایک اپنی بات سامنے رکھے۔ اس کے نتیجے میں، دلوں کو اطمینان ہوگا، بصیرت کو روشنی ملے گی اور اس کے بعد اُمت کے ارادے عملِ خیر اور خیرالعمل کی طرف متوجہ ہوںگے۔(جاری) 

میں قرآن مجید کا ایک حقیر طالب علم ہوں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ قرآنِ مجید روزانہ پڑھا جاتا ہے اور حسب توفیق بار بار اور زیادہ سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب آدمی کسی چیز کو حیرت سے دیکھتا ہے تو اس کا یہ تعجب ہمیشہ قائم نہیں رہتا، وہ زائل بھی ہوجاتا ہے ۔میں اپنا حال آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں، اور اسی سے میں نے اپنی بات کہنے کا مضمون اخذ کیا ہے، کہ جب میں قرآنِ مجید میں سورئہ انفال کی یہ آیت کریمہ پڑھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں: 

اِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَكُنْ فِتْنَۃٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ۝۷۳ (الانفال ۸:۷۳) (تو مومنو!) اگر تم یہ کام نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان مہاجرین اور انصار کو مخاطب فرمایا ہے، جو مشرف بہ اسلام تھے۔ جہاں تک ان مہاجرین کا تعلق ہے جو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آئے تھے، وہ چندسو کی تعداد میں تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہجرت کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے۔ ہجرت میں آدمی کو گھربار چھوڑنا پڑتا ہے، اعزّہ واقربا سے دُور ہونا پڑتاہے، اور ان سہولتوںکو خیرباد کہنا پڑتا ہے جو موروثی اور مقامی طور پر اس کو حاصل ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان مہاجرین کی تعداد محدود تھی، اور جن لوگوں نے مدینہ طیبہ میں اسلام قبول کیا تھا، ان کی تعداد بھی اس وقت تک کچھ زیادہ نہ تھی۔ حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تین مرتبہ مسلمانوں کو شمار کیا گیا، یعنی مردم شماری کی گئی۔ پہلی مرتبہ شمار کرنے میں مسلمانوں کی تعداد پانچ سو، دوسری مرتبہ چھ سو، سات سو کے درمیان تھی، اور تیسری مرتبہ شمار میں مسلمان ڈیڑھ ہزار تھے۔ اس تعداد پر مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اطمینان کا سانس لیا کہ اب ہم ڈیڑھ ہزار ہوگئے ہیں، اب ہمیں کیا ڈر ہے؟ ہم نے تو وہ زمانہ دیکھا ہے جب ہم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھتا تھا، پھر بھی دشمنوں کا ڈر لگا رہتا تھا(صحیح بخاری، ج۲،کتاب الجہاد، باب کتابۃ الامام للناس)۔ 

 گویا یہ مٹھی بھر انسانوں کی آبادی تھی، جس نے اسلام قبول کیا تھا، اور جس نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی کہ اس کے چاروں طرف انسانی آبادی کا جو سمندر پھیلا ہوا ہے، اس میں وہ ہدایت و تبلیغ کا کام کرے گی۔ اس کا آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ساری دُنیا میں زیادہ تر وہ لوگ تھے، جنھوں نے اسلام کا نام بھی نہیں سنا تھا، قبول کرنے کا کیا ذکر، پھر اُس وقت دُنیا کی دوعظیم الشان سلطنتیں تھیں جن کو Empire کہنا چاہیے۔ وہ صرف ایمپائر ہی نہیں تھیں، اور ان کی حیثیت محض انتظامیہ اور حکومت ہی کی نہیں تھی، ان کے ساتھ مستقل تہذیب تھی، مستقل تمدن، طرزِ زندگی اورمعیارواقدار تھے۔ متمدن دُنیا کا سب سے بڑا حصہ جس پر دونوں شہنشاہیاں بلاواسطہ یا بالواسطہ قابض تھیں، وہیں سےوہ تہذیب لیتے تھے، وہیں سے فیشن اخذ کرتے تھے، اور وہیں سے قانون لیتے تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ Roman Law (رومی قانون) دُنیا میں کتنی وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، اور ایرانی تہذیب ہندستان اور دُور دراز ملکوں تک پہنچ گئی تھی۔ 

میں جب اس آیت پر پہنچتا ہوں تو ہمیشہ تصویرِ حیرت بن کر رہ جاتا ہوں۔ سوچنے لگتا ہوں کہ یااللہ! یہ کس سے کہا جارہا ہے، کب کہا جارہا ہے، اور کہاں کہا جارہا ہے؟ یہ آخری مسلم شماری جس میں مسلمان ڈیڑھ ہزار نکلے، بعض شُرّاحِ حدیث اور محققین کی تحقیق میں جنگ اُحد کے موقعے پر ہوئی، جو تین ہجری میں پیش آئی اور بعض کے نزدیک جنگ ِ خندق (جس کو غزوۃ الاحزاب بھی کہا جاتا ہے) کے موقعے پر ہوئی جو پانچ ہجری میں پیش آئی۔ اس طرح یہ مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی ہوتی ہے، جس میں مسلمانوں کے شمار کرنے کا یہ کام ہوا ۔ اس طرح یہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دوہزار مسلمان تھے، جن سے کہا جارہا ہے کہ تم اپنی شیرازہ بندی کرو اور ایک نئی ’وحدت‘ (Unit) قائم کرو، جس کی اساس ایمان پر ہو، قرآن پر ہو، صحیح عقیدہ پر ہو اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سرپرستی میںہو۔ 

یہ ’وحدت‘ اس لیے قائم کرنے کے لیے کہا جارہا ہےکہ تم اس ’وحدت‘ کے ذریعے دُنیا میں اسلام کا پیغام پہنچائو اور دُنیا کو ’جاہلیت‘ (من مانی آزادی اور نفس پرستی) کی زندگی سے نکال کر اسلام (خدا پرستی اور کامل خود سپردگی) کی دعوت دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو دُنیا میں فتنۂ کبریٰ اور فسادِعظیم برپا ہوگا۔ 

میں اس موقعے پر سوچتا ہوں کہ جن سے کہا جارہا ہے اور جو اس آیت کے مخاطب ہیں، ان میں اور ان پر جس کام کی اور دُنیا کی جس آبادی کی ذمہ داری ڈالی جارہی ہے، دونوں میں کیا تناسب تھا؟ لیکن فارسی میں ایک محاورہ ہے، اور ہم اس کو عربی میں بھی ادا کردیا کرتے ہیں کہ ’’بقامت کہتر و بقیمت بہتر‘ یعنی قدوقامت کے لحاظ سے چھوٹا، لیکن قیمت کے لحاظ سے کہیں بڑا اور بہتر، یعنی العبرۃ بالقیمۃ لابالقامۃ ۔ یہ اس جماعت سے کہا جارہا ہے جو ’بقامت کہتر‘ تھی، لیکن ’بقیمت بہتر‘۔ اصل چیز جو فیصلہ کُن ہے وہ ’قیمت‘ ہے، ’قامت‘ نہیں۔ 

چنانچہ، اس کہتر قامت اور بہتر قیمت نے اپنی انقلاب انگیزی اور عہد آفرینی ثابت کردی۔ ایرانی سلطنت کا چراغ گُل ہوگیا۔ صرف سلطنت کا نہیں، ایرانی تہذیب کا، اُن کے معیاروں اور اُن کی قدروں (Ideals & Values) کا جو حقیقی طور پر حکومت کرتے اور زندگی کی تشکیل کرتے ہیں، جن کو عربی میں الْمُثُل وَالقیَم کہتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کی خلافت کے آخری دور یا زیادہ سے زیادہ خلافت ِ راشدہ کے اختتام تک دُنیا کا متمدن ترین حصہ جو مہذب اور ترقی پسند انسانوں کے لیے نمونہ اور معیار (Ideal) کا درجہ رکھتا تھا، وہ بدل گیا تھا یا برابر بدل رہا تھا۔ معیار بدل گئے، سوچنے کے طریقے بدل گئے تھے۔ لوگ ایران اور روم کی ذہنی و فکری غلامی سے آزاد ہورہے تھے۔ مہذب اور ترقی یافتہ کہلانا، احترام اور وقعت کی نگاہ سے دیکھا جانا معیار نہیں رہا تھا۔ حکمِ خداوندی کی تعمیل اور سنت ِ نبویؐ کی پیروی اور عہد ِ رسالت اور اس کے معتبر نمائندوں سے مشابہت، تہذیب میں، معاشرت میں، رسوم و عادات میں اور لباس و مظاہر میں تعریف اور قدر کی چیز سمجھی جانے لگی تھی۔ اس کی مثالیں آپ کو بڑے بڑے دولت مندوں اور بااقتدار لوگوں کی زندگی میں تاریخ کی کتابوں میں ملیں گی۔ 

آپ کو معلوم ہے کہ زندگی کے آلات و وسائل تو بدلتے رہتے ہیں، تمدن کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن ذلّت و عزّت کے پیمانے، علم و جہالت کے معیار اور علامتیں، بہت دیر اور بہت مشکل سے بدلتی ہیں۔ اس میں بعض اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں۔ اگر آپ انسانی تہذیب کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بعض پیمانے صدیوں تک حکومت کرتے رہے، لیکن یہاں سوچنے کے طریقے بدل گئے۔ کرنا تو الگ چیز ہے، کرنے میں تو بہت جلد تغیر آجاتا ہے، لیکن سوچنے کا طریقہ بہت بڑی طاقت ہے، اور وہی زندگی پر حکمرانی کرتا ہے۔ ہم بھی بہت سے اسلامی ممالک میں دیکھتے ہیں کہ مغربی اقتدار اور تہذیب کے اثر کے پیمانے نہیں بدلے، پیمانوں میں ناپنے والی چیزیں بدل گئیں۔ عزّت و شرافت، خوش نصیبی و بدنصیبی، علم و جہالت، ترقی و پس ماندگی کے وہی معیار ہیں جو باہر کی حکومت کرنے والی قوموں اور تہذیبوں نے عطا کیے ہیں۔ 

اب آپ ان حقائق کی روشنی میں دیکھیے کہ کس پر اور کس وقت ساری دُنیا میں انقلاب لانے کی اور اس کو خداپرستی ، خدا ترسی، انسان دوستی، ایثار و قربانی اور ہدایتِ ربانی کے راستے پر چلنے اور چلانے کی عالم گیر ذمہ داری ڈالی جارہی ہے؟ اور اس ذمہ داری کے ادا کرنے اور اس کے سلسلے میں کامیابی حاصل کرنے میں اس ’بقامت کہتر و بقیمت بہتر‘ جماعت کو کتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے لیے آپ چھٹی صدی عیسوی کے بعد کی مختلف زبانوں (اور خاص طور پر انگریزی) میں لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ فرمایئے۔ 

حضرات! میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ نے اس مرکز (Islamic Foundation) کے قیام کے لیے صحیح جگہ کا انتخاب کیا۔ اگر یہاں سے یا کسی بڑے مغربی ملک یا مغربی تہذیب کے بڑے مرکز سے انقلاب شروع ہوا تو وہ طاقت میں اور گہرائی میں، وسعت میں بھی، اور حجم میں بھی، قابلِ لحاظ ہوگا۔ خدا کرے وہ دن آئے کہ ان ملکوں میں بھی لوگوں میں حق کی طلب اور اپنی زندگی کے خلا کا احساس پیدا ہو، اور وہ یہ کہیں کہ آپ ہم کو اس تاریکی کی زندگی، نفس پرستی کی زندگی اور کوتاہ نظری کی زندگی سے نکالیے۔ یہاں پر یہ نکتہ یاد رہے کہ قرآنِ مجید میں تاریکی کے لیے اکثر جمع کا صیغہ ظلمات آتا ہے اور روشنی کے لیے واحد کا صیغہ النُّور آتا ہے۔ یُخْرِجُھُمْ  مِّنَ الظُّلُمَاتِ  اِلَی  النُّوْرِ وغیرہ وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ظلمتیں بے شمار ہیں اور نُور ایک ہے۔ اہلِ مغرب کہیں کہ ہمیں یہ دولت آپ ہی کے یہاں سے مل سکتی ہے۔ 

اگر آپ نے اس ملک میں رہتے ہوئے زندگی کا ایک نیا ماڈل، ایک نیا سانچا اور ایک نیا نمونہ پیش کیا، جس میں یہاں کی زندگی، طرزِ معاشرت، نفس پرستی اور دولت پرستی اور ہرقسم کی آزادی سے امتیاز ظاہر ہوا، تو لوگوں کے اندر اسلام کے مطالعے کا شوق پیدا ہوگا۔ وہ آپ کے یہاں آئیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں کوئی کتاب دیجیے جس سے ہم سمجھیں کہ اس انقلاب کا سرچشمہ کہاں ہے؟ کہاں سے یہ تبدیلی آئی اور آپ میں امتیاز پیدا ہوا؟ 

میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں خاص طور پر خورشیداحمد صاحب اور مناظر احسن صاحب اور سب حضرات اور اس ادارہ کے ذمہ داروں کا کہ آپ نے ہمارے ساتھ برادرانہ ہی نہیں کریمانہ اور فیاضانہ سلوک کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ توفیق دے کہ یہ مرکز زیادہ سے زیادہ ہدایت اور نفع کا سرچشمہ بنے۔ اللہ وہ دن ہمیں دکھائے کہ جیسے پہلے اس ملک سے دُنیا پرستی اور نفس پرستی اور مادّیت کی ہوا چلی تھی، الحاد اور لادینیت کا رجحان پیدا ہوا تھا، ویسے ہی یہاں سے اب ایمان کی، اخلاق کی، انسانیت اور شرافت کی اور ہدایت کی ہوا چلے۔ 

آخر میں اقبال کے ان چند اشعار پر اس خطاب کو ختم کرتا ہوں، جو اس مقام و ماحول، عہدوزمانہ اور مسلمانوں کے مقام و پیغام سے بھی خاص مناسبت رکھتے ہیں:  

ناموسِ اَزل را تو امینی تو امینی 
دارائے جہاں را تو یساری تو یمینی 

اے بندئہ خاکی تو زمانی تو زمینی 
صہبائے یقیں درکش و ازدیر گماں خیز 

از خوابِ گراں ، خوابِ گراں، خوابِ گراں خیز 
از خوابِ گراں خیز 

فریاد ز افرنگ و دلآویزیٔ افرنگ 
فریاد زشیرینی و پرویزیٔ افرنگ 

عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیٔ افرنگ 
معمارِ حرم! باز بہ تعمیرِ جہاں خیز 

از خوابِ گراں ، خوابِ گراں، خوابِ گراں خیز 
از خوابِ گراں خیز 

[زبورِ عجم، ص ۸۳] 

انبیائے کرام ؑ کی تمام تر جدوجہد کی منتہائے مراد یہ تھی کہ بنی نوع انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلامی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد بھی یہی تھا کہ روئے زمین پر اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ (الشورٰی ۴۲:۱۳)’ تاکید کے ساتھ قائم کرو، اس دین کو‘۔ چنانچہ آں حضوؐر کے برپا کردہ فکری اور ذہنی انقلاب کے ذریعے جاہلی معاشرے کی کایاپلٹ گئی۔ اسلام بساطِ عالم پر ایک غیرمعمولی قوت بن کر اُبھرا اور مشرق و مغرب کے باطل پرستوں کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔ 

مگر خلفائے راشدینؓ کے بعد مال و دولت کی فراوانی اور سلطنت و اختیار کی وسعت سے جاہلیت کی روح پھر سے بیدار ہونے لگی۔ نظمِ مملکت شاہانہ اور غیراسلامی بنیادوں پر استوار ہونا شروع ہوا۔ اس مرحلے پر مصلحین اُمت کو اصلاحِ احوال کی فکر دامن گیر ہوئی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے حقیقی معنوں میں احیائے اسلام کی سنجیدہ کوشش کی۔ 

آپ کے بعد امام احمد بن حنبل، امام غزالی، مجدد الف ثانی، اورنگ زیب عالم گیر، شاہ ولی اللہ، سیّداحمد شہید، شاہ اسماعیل شہید اور متعدد دیگر اکابر کی مختلف النوع تجدیدی کاوشیں، تاریخ تجدید و احیائے دین کا ایک روشن باب ہیں۔ بیسویں صدی میں اسلامی نشاتِ ثانیہ کے لیے جن اکابر نے تگ و دو کی، اُن میں علامہ اقبال کا نام بہت نمایاں ہے۔ 

علامہ اقبال کے اسلامی اور دینی مزاج کی تشکیل میں اُن کے آباواجداد کے متصوفانہ رجحانات، والدین کی دین داری، گھر کا اخلاقی ماحول اور علامہ سیدمیرحسن کی تعلیم و تربیت اور فیضانِ نظر کے علاوہ دو باتوں کو بنیادی دخل ہے___ اوّل: قرآنِ حکیم سے اُن کا گہرا شغف۔ دوم:آں حضوؐر کی ذاتِ گرامی سے والہانہ عقیدت۔ احیائے اسلام کے لیے علّامہ اقبال نے جو مختلف النوع کوششیں کیں، وہ انھی بنیادوں پر تشکیل پانے والے اُن کے دینی مزاج کا حصہ تھیں۔ 

جب علامہ اقبال نے شعور کی آنکھ کھولی تو اس وقت پورا عالمِ اسلام نہایت پیچیدہ مسائل کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ فکری اور سیاسی، دونوں اعتبار سے مغربی استعمار اس پر حاوی ہو چکا تھا۔ غلامی کے نتیجے میں مسلم معاشرہ جمود، تعصب اور تنگ نظری کا شکار تھا۔زوال پذیری کے ردِّعمل میں جو آوازیں بلند ہوئیں، اُن میں سب سے توانا اور بلند آہنگ آواز علامہ اقبال کی تھی جنھوں نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کی تلقین کی۔مقصود یہ تھا کہ غلامی سے نجات‘ احیائے اسلام کی تمہید بن سکے۔ 

تجدید و احیائے اسلام کی یہ تمنا بالکل ابتدائی زمانے ہی سے اُن کے ہاں موجود تھی اور یہ کبھی سرد نہیں ہوئی، بلکہ عمرکے ساتھ اس جذبے کی حرارت و شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ تجدید و احیائے دین کے لیے اقبال کی کاوشیں، ان کی طویل زندگی میں مختلف شکلوں میں اور کئی سطحوں پر سامنے آتی رہیں۔ ان کی اُردو فارسی شاعری، ان کی تمام نثری تحریریں، ان کا پورا نظامِ فکروفلسفہ، اُن کے جملہ تصورات و نظریات (مثلاً: ’خودی‘، ’بے خودی‘، ’فقر‘، ’عشق‘، ’مردِ مومن‘، ’عقل‘ وغیرہ) احیائے اسلام کے لیے اُن کی مساعی کے ساتھ بہت گہرے طور پر مربوط ہیں۔ 

اسلام کی سربلندی کے لیے اُن کے بے تاب جذبوں اور مضطرب تمنائوں کا راز اس امر میں پوشیدہ ہے کہ انھیں اسلام کی حقانیت کے ساتھ، اسلام کے روشن مستقبل پر بھی کامل یقین تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں، عالمِ اسلام ایک مایوس کن منظر پیش کر رہا تھا۔ ان حالات میں اقبال کی طرف سے غلبۂ اسلام کی یہ نوید سامنے آئی: 

آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش 
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی 

اس قدر ہوگی ترنم آفریں بادِ بہار 
نکہتِ خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی 

پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود 
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی 

شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے 
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے 

اُس وقت یہ نوید ایک خواب معلوم ہوتی تھی یا محض ایک شاعرانہ تعلّی--- مگر اقبال کو ایک عالم گیر اسلامی انقلاب پر کامل یقین تھا، جس کا واشگاف اظہار انھوں نے نثر میں بھی کئی جگہ کیا ہے، مثلاً: ’’اسلام ایک عالم گیر سلطنت کا یقینا منتظر ہے، جو نسلی امتیازات سے بالاتر ہوگی اور جس میں شخصی اور مطلق العنان بادشاہتوں اور سرمایہ داریوں کی گنجایش نہ ہوگی۔ دنیا کا تجربہ خود ایسی سلطنت پیدا کر دے گا۔ غیرمسلموں کی نگاہ میں شاید یہ محض خواب ہو، لیکن مسلمانوں کا یہ ایمان ہے‘‘۔ (گفتارِ اقبال،مرتبہ: ڈاکٹر رفیق افضل، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور، طبع دوم، نومبر۱۹۷۷ء، ص ۱۷۸) 

ایک اور موقعے پر فرمایا: اس وقت جو قوتیں دنیا میں کارفرما ہیں، اُن میں سے اکثر اسلام کے خلاف کام کررہی ہیں، لیکن لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ کے دعوے پر میرا ایمان ہے کہ انجام کار اسلام کی قوتیں کامیاب اور فائز ہوں گی‘‘۔ (گفتارِ اقبال، ص۱۹) 

تجدید و احیائے دین کے لیے علامہ اقبال کے مجموعی کام کو تین دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱- فرد کی تعمیر سیرت ۲- فکری اور علمی کاوشیں ۳- پاکستان کا تصور اور اس کے لیے عملی جدوجہد۔ 

فرد کی تعمیرِسیرت 

علامہ اقبال نے تاریخِ عالم کے مطالعے سے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب تک فرد اپنے اخلاق و اطوار اور سیرت و کردار میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا، معاشرے میں کسی بڑے انقلاب کی توقع عبث ہے۔ اقبال کے الفاظ میں: ’’دنیا میں کسی قوم کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس قوم کے افراد اپنی ذاتی اصلاح کی طرف توجہ نہ کریں‘‘۔(مقالاتِ اقبال،سیّد عبدالواحد معینی، ص ۹۰) 

اور: ’’کردار ہی وہ غیرمرئی قوت ہے جس سے قوموں کے مقدر متعین ہوتے ہیں‘‘۔ (شذراتِ فکراقبال، (مترجم) ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی، طبع اوّل، ۱۹۷۳، ص۱۲۴) 

مسلمان مجموعی اعتبار سے اخلاقی انحطاط کا شکار تھے۔ انھیں اس پستی سے نکالنے کے لیے اقبال ان کی اخلاقی تربیت کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ اخلاقی تربیت کے لیے: ’’سب سے زیادہ اہم فرض یہ ہے کہ آئندہ نسل کو دہریانہ مادیت کے چنگل سے محفوظ کریں___ [اس لیے] مذہب بے حد ضروری  ہے‘‘۔(گفتارِ اقبال، ص۲۵۵) 

اور مذہب کی مضبوط گرفت ہی ہمیں بھٹکنے اور گمراہ ہونے سے بچاسکتی ہے۔ اگر: ’’یہ گرفت ڈھیلی پڑی تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔ شاید ہمارا انجام وہی ہو جو یہودیوں کا ہوا‘‘۔ (شذراتِ فکراقبال، ص۸۵) 

 اقبال کے نزدیک انسانی کردار کی تعمیر میں قرآن حکیم اساسی حیثیت رکھتا ہے: 

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں 
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار 

ایک بار چند نوجوانوں سے مخاطب ہو کرکہا: ’’یاد رکھو، مسلمانوں کے لیے جائے پناہ صرف قرآنِ کریم ہے___ میں اس گھرکو صدہزار تحسین کے قابل سمجھتا ہوں، جس گھرسے علی الصبح تلاوتِ قرآن مجید کی آواز آئے‘‘ [مگر اس کے ساتھ ہی یہ نصیحت بھی کی]: قرآن مجید کا صرف مطالعہ ہی نہ کیا کرو بلکہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرو‘‘۔(گفتارِ اقبال، ص ۲۱۳) 

قرآنی تعلیمات کے حوالے سے اقبال نے افراد اُمت کو ارکانِ خمسہ کی پابندی (ملفوظاتِ  اقبال،(مرتبہ) محمود نظامی، لوہاری گیٹ، لاہور، طبع اوّل، ص۳۹)، اور فرائض کے ساتھ نوافل، شب بیداری، اور تہجد کے اہتمام کی طرف متوجہ کیا۔(اقبال نامہ، (مجموعہ مکاتیبِ اقبال)، مرتبہ: شیخ عطاءاللہ، ناشر:شیخ محمد اشرف، تاجر کتب ،کشمیری بازار، لاہور، طبع اول، ۱۹۵۱ء، ص۱۹۳) 

 یہ اہتمام مسلمان کے اندر اخلاقِ فاضلہ کا سبب بنتا ہے۔ 

علامہ اقبال، قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق آں حضورؐ کے اُسوئہ حسنہ کو بھی پیشِ نظر رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ اسوئہ حسنہ میں کلمۂ حق کے اعلان کو ایک نمایاں اور روشن باب کی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک حقیقی مسلمان کلمۂ حق کا اعلان و اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا، مگر سچائی کا اظہار خوداعتمادی کی بنا پر ہی ممکن ہے۔ فلسفۂ خودی کا پس منظر یہی ہے۔ 

اقبال کے فلسفۂ خودی کی تشکیل میں ’عشق‘ اور ’فقر‘ کو اہم عناصر کی حیثیت حاصل ہے۔ ’جذبۂ عشق‘ ایک غیرمعمولی قوت اور ’فقر‘ کی لازوال دولت بھی عشق سے کم اہم نہیں۔ جس قوم کو یہ دونوںقوتیں حاصل ہو جائیں، دنیا کی کوئی طاقت اس قوم کا راستہ نہیں روک سکتی: 

خوار جہاں میں کبھی ہو نہیں سکتی وہ قوم 
عشق ہو جس کا جسور‘ فقر ہو جس کا غیور 

اقبال، احیائے اسلام کے لیے جس انقلاب کے داعی ہیں، اُسے برپا کرنے کے لیے خودی، فقر اور عشق سے متصف ہونا ضروری ہے۔ فرد کے اندر یہ صفات پیدا ہو جائیں تو وہ ’مردِمومن‘ کا روپ اختیار کرلیتا ہے اور اس جدوجہد میں مردِ مومن کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ 

اُمت مسلمہ کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ ضعف ِاسلام کا بہت بڑا سبب اُمت کے اندر فروعی مسائل پر شدید اختلافات، اوراس بنیاد پر باہمی دشمنیاں اور مجموعی طور پر انتشار و افتراق کی افسوس ناک صورتِ حال رہی ہے۔ علامہ اقبال، غیر اسلامی اور عجمی تصوف کو خاص طور پر خرابیِ احوال کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔ ان کے خیال میں عجمی تصوف نے’’مسلمانوں کے زوال میں ایک اہم عنصر کے طور پر کام کیا ہے‘‘۔(اقبال نامہ، ج ۱،ص ۷۸) 

علمائے سوء اور نام نہاد مدعیانِ تصوف کے متعلق وہ بہت شدید جذبات رکھتے تھے۔ 

دوسرا طبقہ جس سے اقبال بطور خاص مخاطب ہوئے، نوجوانوں کا طبقہ تھا۔ اقبال کی نظر میں احیائے اسلام کی تحریک میں کامیابی کا انحصار بڑی حد تک نوجوان طبقے پر ہے۔ خود آںحضوؐر کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں اوّلیت کا شرف بھی نوجوان طبقے کو حاصل ہوا۔ اقبال، مسلم نوجوانوں کو تن آسانی اور عیش پسندی کے بجائے جفاکشی اور سخت کوشی کی تلقین کرتے ہیں: 

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے 
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند 

اس طرح احیائے اسلام کے سلسلے میں اوّلین سطح پر اقبال نے فرد کی انفرادی اصلاح اوراس کی تعمیرسیرت پر زور دیا اور پھر معاشرے کے دو اہم طبقوں‘یعنی علما و صوفیہ اورنوجوانوں کو متوجہ کیا کہ وہ آگے بڑھ کر اسلامی نشات ثانیہ کی تحریک میں اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔ 

فکری اور علمی کاوشیں 

مسلمان، انگریزوں کی سیاسی غلامی کے ساتھ، ذہنی اور فکری اعتبار سے بھی مغرب سے مغلوب ہو چکے تھے۔ اس مغلوبیت کی تین صورتیں تھیں: اوّل: نیشنلزم کا سراب ۔ دوم: دین و دنیا کی دوئی۔ سوم: مغربی تہذیب سے ایک مجموعی مرعوبیت۔ علامہ محمد اقبال نے ان تینوں تصورات پر کاری ضرب لگائی۔ 

اپنے فکری سفر کے آغاز میں اقبال خود بھی قوم پرست تھے مگر یورپ کو قریب سے دیکھنے پر انھیں نیشنلزم کے کھوکھلے پن کا احساس ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ قیامِ یورپ نے ان کے خیالات میں عظیم انقلاب پیدا کر دیا تھا۔ اقبال کے الفاظ ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ یورپ کی آب و ہوا نے مجھے مسلمان کر دیا‘‘۔(انوارِ اقبال، اقبال اکادمی، کراچی،طبع اوّل،۱۹۶۷ء، ص ۱۷۶) 

 وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر قوم پرستی کے ’فرنگی نظریۂ وطنیت‘ کی اشاعت کا مقصد ’’اسلام کی وحدتِ دینی کو پارہ پارہ کرنا ہے‘‘۔(حرفِ اقبال، المنار اکادمی، لاہور، ۱۹۴۵ء، ص۲۲۲) 

 اسی بنا پر عرب قوم پرستی کا فتنہ پروان چڑھا اور سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھرگیا۔ علامہ نے مغربی تصورِ قومیت کو ایک ’’روحانی بیماری‘‘ قرار دیتے ہوئے، اس کے خلاف عمربھرجہاد کیا۔ اقبال کے نزدیک انسانی اشتراک کا سب سے قوی رابطہ اور ان کے درمیان سب سے زیادہ مضبوط رشتہ کلمۂ توحید کا ہے۔ اسی بنیاد پر انھوں نے تصورِ ملت کی بازیافت کی: 

اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر 
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ 

اسی تصورِ ملّت نے آگے چل کر علامہ کے ہاں اتحادِ عالم اسلامی کی شکل اختیار کی:  ع 

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے 

مسلمانوں کے فکری و ذہنی انحطاط کا دوسرا نمایاں پہلو اُن کا محدود تصورِ دین تھا۔ شہنشاہیت نے اہل مذہب کو مساجد تک محدود کر دیا اور سیاست کی باگ ڈور خود سنبھال لی۔ دین و سیاست میں بُعد پیدا ہو گیا۔ اقبال کے نزدیک: ’’ازروئے شریعت محمدیہؐ مذہب و سیاست میں کوئی تفریق و تمیز نہیں‘‘۔(مقالاتِ اقبال، ص ۱۳۰) 

انھوں نے دین و سیاست کی علیحدگی پر سخت تنقید کی کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ خوں ریزی و چنگیزی اور عالم گیر تباہی کی شکل میں نکلتا ہے۔ 

درحقیقت احیائے اسلام کی تحریک میں کسی طرح کی پیش رفت اس کے بغیر ممکن ہی نہ تھی کہ دین و سیاست میں دوئی کی نفی کرکے، دین کا حقیقی اور (سیاست، تمدّن، معیشت، تعلیم، عمرانیات، قانون، غرض زندگی کے تمام شعبوں پر محیط) جامع تصور نہ پیش کیا جاتا۔ 

تجدید و احیائے دین کی راہ میں تیسری بڑی رکاوٹ مغرب سے ذہنی مرعوبیت تھی۔ علامہ اقبال مغرب اور مغربیت کا بذاتِ خود مشاہدہ کر چکے تھے۔ اس لیے انھوں نے نہایت واشگاف الفاظ میں اس کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا: 

یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہنر ہے 
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات 

فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب 
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف 

خطبات میں ایک جگہ کہتے ہیں: ’’یورپ سے بڑھ کر، آج انسان کے اخلاقی ارتقا میں بڑی رکاوٹ اور کوئی نہیں‘‘۔ (تشکیلِ جدید الہیاتِ اسلامیہ، ڈاکٹر محمد اقبال، ترجمہ: نذیر نیازی، لاہور، ۱۹۵۸ء، ص ۲۷۶) 

یہاں اس امر کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ فکرِمغرب کے جو ثمرات،سوشلزم اور نام نہاد جمہوریت اور سرمایہ داری کی شکل میںدنیا کے سامنے رونما ہوئے تھے، اقبال نے ان سب کو باطل اور بہرطور ناقابلِ قبول ٹھیرایا تھا۔ مغربی جمہوریت کو انھوں نے رد کر دیا، جس کی بنیاد مادر پدر آزادی ہے، کیونکہ: 

گریز از طرزِ جمہوری غلامِ پختہ کارے شو 
کہ از مغزِ دو صد خر فکرِ انسانی نمے آید 

(طرزِ جمہوری سے گریز کر، کسی مرد پختہ کار کا دامن پکڑ، کیونکہ دو سو گدھے مل کر بھی ایک انسان کی طرح نہیں سوچ سکتے۔) 

خیال رہے کہ سوشلزم اور اشتراکیت کے بارے میں اقبال کے خیالات میں ایک ارتقا ملتا ہے۔ پہلے پہل انھوں نے ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کو سراہا کیونکہ وہ مظلوموں کا حامی بن کر سامنے آیا تھا، مگر بہت جلد اس کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا۔ چنانچہ انھوں نے اس سے براء ت کا اعلان کرتے ہوئے تاریخ کی مادی تعبیر کو سراسر غلط قرار دیا۔(اقبال نامہ،ج ۱، ص۳۱۹) 

علامہ اقبال کا یکم جنوری ۱۹۳۸ء کا ریڈیائی پیغام،مغربی فکر اور سیاست پر ایک جامع تبصرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ فی الحقیقت انھوں نے جس طرح مغربی تہذیب اور فکروفلسفے پر تنقید کی، ہماری فکری تاریخ میں ان سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی اور یہ اُن کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی اس جرأت مندانہ تنقید کے نتیجے میں تعلیم یافتہ مسلمانوں میں مغرب سے مرعوبیت ختم ہونے لگی اور احیائے اسلام کے لیے فضا سازگار ہو گئی۔ 

علامہ اقبال کو اس امر کا بھی شدید احساس تھا کہ ہمارے علما ’اجتہاد‘ کی اہمیت سے غافل ہو چکے ہیں۔ فکری سطح پر علامہ اقبال کی ایک مثبت عطا یہ بھی ہے کہ انھوں نے عصرحاضر میں ’اجتہاد‘ کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے انگریزی خطبات میں چھٹا خطبہ الاجتہاد فی الاسلام کے موضوع پر ہے۔ اس سلسلے میں ایک بار فرمایا: آج اسلام کی سب سے بڑی ضرورت فقہ کی جدید تدوین ہے، جس میں زندگی کے ان سیکڑوں ہزاروں مسائل کا صحیح اسلامی حل پیش کیا گیا ہو، جن کو دنیا کے موجودہ قومی اور بین الاقوامی سیاسی، معاشی اور سماجی احوال و ظروف نے پیدا کر دیا ہے۔ (حیاتِ انور، (مرتبہ) سید محمد ازہر شاہ قیصر، شاہ منزل، دیوبند، ۱۹۵۵ء، ص ۱۶۵) 

’اجتہاد‘ پر یہ زور مسلم علما کے اندر صدیوں کے فقہی جمود کے خلاف ایک ردِّعمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ردِّعمل کا ایک مثبت پہلو، اقبال کا یہ احساس ہے کہ عصرِحاضر کے تقاضوں اور مسائل کی روشنی میں اسلامی فقہ کی ازسرنو ترتیب و تشکیل کی ضرورت ہے۔ 

ابتدا میں اقبال نے خود اس طرح کے کام کا آغاز کیا(اقبال نامہ، ج ۱، ص۳۲۰)۔ لیکن پھر یہ نازک ذمّہ داری کسی روشن دماغ عالم کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔غالباً اسی خیال کے پیشِ نظر انھوں نے مختلف اوقات میں مولانا شبلی نعمانی، سیدانورشاہ کاشمیری اور سید سلیمان ندوی کو پنجاب منتقل ہونے کی دعوت دی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ پٹھان کوٹ کا ادارہ دارالاسلام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ عبدالمجید سالک کے خیال میں اس ادارے کی غایت یہ تھی کہ دینی و دنیاوی علوم کے ماہرین ’’ایک گوشے میں بیٹھ کر، علامہ کے نصب العین کے مطابق، اسلام، تاریخِ اسلام، تمدنِ اسلام، ثقافت ِ اسلامی اور شرعِ اسلام کے متعلق ایسی کتابیں لکھیں جو آج کل کی دنیائے فکر میں انقلاب پیدا کر دیں‘‘۔(ذکرِاقبال، بزم اقبال، لاہور، ۱۹۹۳ء، ص۲۱۲-۲۱۳) 

علامہ اقبال ہی کے ایما اور مشورے پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، ۱۹۳۸ء کے اوائل میں حیدرآباد، دکن سے ہجرت کر کے جمال پور (پٹھان کوٹ) آگئے تھے۔ علامہ کا ارادہ تھا کہ وہ بھی ہر سال چند ماہ کے لیے وہاں آکر قیام کیا کریں گے، مگر افسوس کہ وہ جلد ہی خالقِ حقیقی سے جاملے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس ادارے نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اور اس نے آگے چل کر تجدید و احیائے دین کے لیے ایک عملی تحریک کی صورت اختیار کی۔ 

اسلامی ریاست (پاکستان) کا تصور 

ہندستان میں ایک علیحدہ اسلامی ریاست (جسے بعد میں پاکستان کا نام دیا گیا) کا تصور اور اس کے حصول و قیام کے لیے عملی کوششیں، احیائے اسلام کے لیے اقبال کی مساعی میں آخری سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے مغرب کے نظریۂ قوم پرستی کو ردّ کر کے اسلام کے تصورِ ملّت کو اُجاگر کیا۔ ہندستانی سیاست سے ان کی دل چسپی اسی حوالے سے تھی۔ اس سلسلے میں اقبال کی خواہش تھی کہ اوّل: ہندستان آزاد ہو۔ دوم: یہاں اسلامی حکومت قائم ہو۔ 

ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہونے کی حیثیت سے،اسلام ہمیشہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ و رائج کیا جائے۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور أَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ  کا مفہوم بھی یہی ہے مگر سیاسی قوت کے بغیر اقامت ِ دین ممکن نہیں۔ اقبال کا یہ معروف شعر اسی نکتے کی شعری تفسیر ہے: 

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم 
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد 

اقبال کے خیال میں باطل کی بیخ کنی بھی قوت ہی سے ممکن ہے: 

تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سحرِقدیم 
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیم 

یہاں اُن کا یہ قول لائق توجہ ہے: ’’مسلمانوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا حکم دیا گیا ہے [لیکن] بغیرطاقت کے امرونہی کیسے ممکن ہے؟ اگر مسلمان امرونہی کے فرائض ادا کرنا چاہتے ہیں تو اُن کے بازوئوں میں طاقت ہونا ضروری ہے‘‘۔(نقوش، اقبال نمبر، (مرتبہ: محمد طفیل) اوّل، ۱۹۷۷ء، ص ۴۰۷) 

برطانوی سامراج کی غلامی میں فوری طور پر قوت و طاقت اور اقتدار کا حصول آسان نہ تھا۔ اقبال نے مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کی بیداری پر پوری توجہ مرکوز کی۔ آزادیِ ہند سے متعلق کوئی معاملہ ہو یا مسلمانوں کا کوئی ملّی مسئلہ، وہ برابر کوشاں رہے کہ مسلمان مستقبل کے منظرنامے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔ سیاسی سطح پر اقبال نے ہمیشہ مسلمانوں کی علیحدہ قومیت پر زور دیا اور مخلوط انتخاب کی مخالفت کی۔ 

مسلمانوںکے ملّی تشخص کی خاطر جداگانہ اصولِ انتخاب پر اقبال کا اصرار،آگے چل کر ایک علیحدہ مسلم مملکت کے تصور کی شکل میں سامنے آیا۔ اقبال کا خیال تھا کہ انگریز کے رخصت ہونے کے بعد، اصولِ جمہوریت کے تحت ہندستان کا اقتدار ہندوئوں کو منتقل ہو جائے گا اور اکھنڈ بھارت میں مسلمانوں کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ اس لیے انھوں نے دسمبر ۱۹۳۰ء میں ہندستانی مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کا تصور پیش کیا۔(دیکھیے:علامہ محمد اقبال کا خطبۂ الٰہ آباد) 

جس موقعے پر اقبال نے ایک ’منظم اسلامی ریاست‘ کا تصور پیش کیا‘ مسلمان شدید انتشار اور مایوسی کا شکار تھے۔ محمد علی جناح ہندستانی سیاسیات سے بددل ہو کر لندن جا بسے تھے اور مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت بقول سیّد نوراحمد: ’’مسلم لیگ کا پلیٹ فارم طفلانہ حرکتوں کا میدان بن گیا تھا‘‘۔(مارشل لا سے مارشل لا تک، سید نور احمد، ص۱۴۱) 

 اس مایوس کن صورت حال میں اقبال کی پیش کردہ اسلامی ریاست کی تجویز، مسلمانوں کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوئی۔ 

مسلمانوں کے مسائل سے ان کی دل چسپی اور ان کے مستقبل کے بارے میں فکرمندی، قائداعظم کے نام ان کے خطوط سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ خطوط، اسلامی نشاتِ ثانیہ کے لیے اقبال کے ولولوں، اُمنگوں اور مضطرب جذبوں کا خوب صورت اظہار ہیں۔ اقبال تو ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو اپنے ربّ سے جا ملے، مگر ۱۹۴۰ء کی قراردادِ پاکستان کے سات سال بعد، ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان، دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کی حیثیت سے، کرئہ ارض پر نمودار ہوا۔ 

بلاشبہ پاکستان کا قیام اسلامی نشاتِ ثانیہ کی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے مگر علامہ اقبال کے خوابوں کی حقیقی تعبیر اُس وقت سامنے آئے گی، جب پاکستان میں اسلامی قانون اور شریعت ِ محمدیہؐ کا مکمل اور نتیجہ خیز نفاذ ہوگا اور پاکستان، دنیا میں اسلام کے احیا اورمسلمانوں کی سربلندی کی علامت بن جائے گا۔ 

احیائے اسلام کے لیے علامہ اقبال کی اس جدوجہد میں اسلام اور ملّت ِ اسلامیہ کے لیے ان کے انتہائی خلوص، دردمندی اور دل سوزی کے جذبات بہت نمایاں ہیں۔ اُن کا یہ شعر اسی کیفیت کا آئینہ دار ہے: 

اسی کش مکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں 
کبھی سوز و سازِ رومی، کبھی پیچ و تابِ رازی 

پھر اپنی ساری مساعی میں حبِ رسولؐ، اقبال کے لیے سب سے بڑا source of inspiration رہا۔آں حضوؐر کی ذات اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ کارزارِ حیات میں اقبال کے لیے روحانی تائید کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ایک صاحب نے علامہ سے ذکر کیا کہ انھوں نے خواب میں حضورؐ رسالت مآب کو جلالی رنگ میں یا سپاہیانہ لباس میں دیکھا ہے ۔ اس پر علامہ نے انھیں لکھا: ’’میرے خیال میں یہ علامت احیائے اسلام کی ہے‘‘۔(انوارِ اقبال، ص۲۱۶) 

تجدید و احیائے دین کے لیے اقبال کی اس ساری تگ و دو اور جدوجہد کا مقصد بھی سنت ِ رسولؐ کی پیروی ہے۔ اقبال کے نزدیک، ایک مسلمان کی جملہ مساعی کا محور یہی ہونا چاہیے: 

بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست 
اگر بہ او نہ رسیدی‘ تمام بولہبی ست 

اُن کے خیال میں آں حضوؐر کی ذاتِ گرامی سے تعلق خاطر، نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی مومن کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ احیائے اسلام اور تجدید و احیائے دین کے لیے کی جانے والی کوششوں اور کاوشوں کا منتہائے مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے قلوب حبِ رسولؐ کی سچائی، روشنی اور حرارت سے منور ہوکر جگمگا اُٹھیں: 

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں 

تجدید و احیائے دین کے لیے علامہ اقبال کے ایمان افروز مشن کی داستان، اقبال کے نام لیوائوں اور عقیدت مندوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے نشاتِ ثانیہ کے لیے عمربھر جو کاوشیں کیں، ابھی ان کی تکمیل ہونا باقی ہے۔ علامہ اقبال کا یہ شعر دنیا بھر کے مسلمانوں کو اُن کا فرض یاد دلا رہا ہے: 

وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے 
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے 

تہذیب کے پھیلائو کا اندازہ اس کی سلطنت کی وسعت، اس کی تعمیر کردہ یادگاروں کی بلندی یا اس میں ٹکنالوجی کی ترقی سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس کی ایسی صلاحیت کی پرکھ سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے کے اندر اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن کو کیسے پروان چڑھاتی ہے۔ نوربرٹ ایلیاس کے نظریے کے مطابق، تہذیبی عمل خود پر قابو، ہمدردی اور سفارت کاری کے اندرونی جذب کا ایک تدریجی عمل ہے ۔یہ وہ اخلاقی ذرائع ہیں جو جارحیت کو دباتے ہیں اور انسانی بقائے باہمی کو ایک مشترکہ اخلاقی کوشش میں بدل دیتے ہیں۔ 

تاریخی طور پر، فلسفیوں نے امن کو ایک غیر فعال حالت کے طور پر نہیں، بلکہ عقل اور اخلاقی ارتقاء کی سب سے اعلیٰ شکل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ ایمانوئل کانٹ نے اپنی کتاب دائمی امن (۱۷۹۵ء) میں آزاد ریاستوں کے ایک اتحاد کا تصور پیش کیا، جو فتح کے بجائے قانون سے بندھا ہو، یہ استدلال کرتے ہوئے کہ اصلی تہذیب اسی وقت اُبھرتی ہے، جب ’عقل غلبے کے جذبات پر غالب آتی ہے‘۔ ٹوئن بی نے اپنی کتاب تاریخ کا مطالعہ میں بھی یہی بات کہی: تہذیبیں اخلاقی تخلیقی صلاحیت سے عروج پاتی ہیں اور جب وہ عسکریت پسندی کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہیں تو زوال پذیر ہوتی ہیں۔ 

یہ سبق لازوال ہے کہ جارحیت، خواہ اسے تحفظ کے نام پر کتنا ہی جواز دیا جائے، آخرکار انھی نظریات کو کھوکھلا کر دیتی ہے جو تہذیب کو برقرار رکھتے ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے خبردار کیا تھا، ’’جنگیں پُرامن مستقبل کو تراشنے کا ناقص ذریعہ ہیں‘‘۔ اور: ’’کسی قوم یا خطّے کا استحکام اس کی فوجوں کی طاقت پر نہیں، بلکہ اس کے اخلاقی تخیل کی قوت پر منحصر ہے‘‘۔ 

تہذیب کے لیے اندرونی اور بیرونی امن دونوں ضروری ہیں، اسی طرح اندرونی ہم آہنگی اور بیرونی سفارت کاری بھی۔ امن کا اندرونی پہلو انصاف، مساوات اور اس یقین دہانی پر منحصر ہے کہ شہری خوف یا جبر کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ سچا انصاف صرف قانون کی حکمرانی کے تحت ممکن ہے، جب کوئی فرد، کوئی حکمران اور کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہ ہو۔ قانون کی حکمرانی وہ غیر مرئی ڈھانچا ہے جس پر انسانی وقار کی عمارت استوار ہوتی ہے، اور جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر اور جواب دہ ہیں۔ تاریخ بار بار دکھاتی ہے کہ جہاں قانون طاقت کے آگے جھکتا ہے، وہاں امن، ظلم میں بدل جاتا ہے۔ 

اس اخلاقی ڈھانچے کے لیے انسانی حقوق کی شناخت بھی اسی قدر ضروری ہے۔ یہ حقوق وہ مراعات نہیں جو ریاست عطا کرتی ہے، بلکہ انسانیت کے ناقابلِ تنسیخ اوصاف ہیں۔ آزادانہ سوچنے، کھل کر بولنے اور بغیر خوف کے اختلاف کرنے کا حق تہذیب یافتہ نظام کی جان ہے۔ وہ معاشرہ جو فکر اور اظہار کی آزادی کو دباتا ہے، وہ تہذیب کے ضمیر کو رفتہ رفتہ قتل کر دیتا ہے۔ بدقسمتی سے، ایک ایسی دنیا میں جہاں آمرانہ پاپولزم تیزی سے غالب آ رہا ہے، یہ آزادی خطرے میں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگوں کی قیادت میں دنیا نے پریس، فکری اختلاف اور تکثیریت کے خلاف عدم برداشت اور دشمنی میں اضافہ دیکھا ہے۔ ان آزادیوں کا زوال نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتا ہے بلکہ پُرامن بقائے باہمی کے جذبے کو بھی زہر آلود کرتا ہے، کیونکہ جہاں فکر زنجیروں میں جکڑی ہو اور خوف گفتگو پر حاوی ہو، وہاں مکالمہ پنپ نہیں سکتا۔ 

بیرونی طور پر، امن سفارت کاری کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ جبر اور غلبے کا۔ نیلسن منڈیلا، جن کی زندگی مصالحت کی گواہی ہے، نے ایک بار کہا تھا، ’’اگر آپ اپنے دشمن سے امن قائم کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنے دشمن کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، پھر وہ آپ کا شراکت دار بن جاتا ہے‘‘۔ یہ فلسفہ عملیت پسندی پر مبنی ہے اور تہذیبی ترقی کا راستہ ! 

جدید دنیا، اپنی تمام تکنیکی ترقی کے باوجود، اس تہذیبی وعدے کو پورا نہیں کر سکی۔ بیسویں اور اکیسویں صدی عسکریت پسندی اور طاقت کی دھونس سے داغ دار چلی آرہی ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ کوفی عنان نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ’’ہم نے بیرونی خلا کو فتح کیا ہوگا، لیکن اندرونی خلا کو پُرنہیں کیا۔ ہم نے اپنی دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے بہت کچھ کیا، مگر پھر بھی ہم خود سے محفوظ نہیں ہیں‘‘۔ جنگ، اکثر مسخ شدہ قوم پرستی یا نظریاتی خوف کے ذریعے جواز کے طور پر پیش کی جاتی ہے، اورحب الوطنی کے رُوپ میں پیش کی جاتی ہے، حالانکہ یہ اس اخلاقی ڈھانچے کو توڑتی ہے جو معاشروں کو جوڑتا ہے۔ 

جنوبی ایشیا میں یہ تضاد کہیں زیادہ واضح ہے، جہاں تاریخی شکایات اور سیاسی ہیرا پھیری نے بار بار امن کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں۔ پاکستان کا تجربہ ایک سبق آموز حقیقت پیش کرتا ہے۔ فوجی حکمرانوں ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کا تعلق مہم جوئی سے رہا ہے۔ مکالمے اور مصالحت کو نظرانداز کرنے والی سویلین حکومتیں تصادم کی راہ پر چلنے کے سبب ناکام ہوئیں۔ 

یہ نمونہ واضح ہے: جب جمہوری عمل دبائے جاتے ہیں، جنگجوئی کی آواز بلند ہوتی ہے، جب جمہوریت سانس لیتی ہے، تو سفارت کاری پنپتی ہے۔ برٹرینڈ رسل نے کہا تھا: ’’جنگ یہ طے نہیں کرتی کہ کون صحیح ہے، صرف یہ کہ کون باقی بچتا ہے‘‘۔ ایک ریاست کی سلامتی اس کی حملہ کرنے کی صلاحیت میں نہیں، بلکہ تنازعات کو مذاکرات، ہمدردی اور قانون کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ اس لحاظ سے، قانون کی حکمرانی نہ صرف اندرونی ضرورت ہے بلکہ ایک بیرونی حکمت عملی بھی ہے، یہ قوموں میں تحمل اور تنازعات کے پُرامن حل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان المناک تعلق اس نکتے کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ مشترکہ مذہب، ثقافت اور جغرافیہ کے باوجود، دونوں ممالک قربت کو شراکت داری میں بدلنے میں ناکام رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کی ابتدائی مخالفت، جو ڈیورنڈ لائن کے غیر حل شدہ مسئلے پر مبنی تھی، نے عدم اعتماد کے بیج بوئے جو کبھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئے۔ اس کے بعد کے عشروں میں مداخلت اور الزام تراشی کے تذکرے گردش میں چلے آرہے ہیں۔ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں سوویت یونین کی افغانستان میں بھرپور مداخلت کے جواب میں جہاد اور اس میں پاکستان کی شمولیت، اور نائن الیون کے بعد سرحد پار عسکریت پسندی کے الزامات تک، پھر حالیہ  فوجی آپریشنز، فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں نے دشمنیوں کو مزید گہرا کیا ہے۔ 

ایسی محاذ آرائیاں دونوں ممالک کے مفادات میں نہیں ہیں۔ یہ سرحدی شہریوں کو غریب بناتی ہیں، نظم و نسق کو غیر مستحکم کرتی ہیں اور اس ’خواب و خیال‘ کو برقرار رکھتی ہیں کہ ’طاقت ہی سفارت کاری کا متبادل ہو سکتی ہے‘۔ حالانکہ تاریخ کا سبق اس کے برعکس ہے: ہر پائیدار امن، یورپ کی جنگ کے بعد کی مصالحت سے لے کر جنوبی افریقہ کے نسل پرستی سے جمہوریت کی طرف منتقلی تک مذاکرات کے ذریعے ہی ابھرا ہے، نہ کہ جبر کے ذریعے۔ پاکستان اور افغانستان کے لیے آگے کا راستہ مکالمے، اعتماد سازی اور ادارہ جاتی تعاون میں مضمر ہے، نہ کہ طاقت کے مظاہرے میں۔ 

فلسفی رین ہولڈ نیبور نے اس تضاد کو اخلاقی درستی کے ساتھ یوں بیان کیا: ’’انسان کی انصاف کی صلاحیت جمہوریت کو ممکن بناتی ہے، لیکن انسان کا ناانصافی کا رجحان جمہوریت کو ضروری بناتا ہے‘‘۔ یہی بات قوموں کے لیے بھی سچ ہے۔ ان کی ہمدردی کی صلاحیت امن کو ممکن بناتی ہے، لیکن ان کا غلبے کی طرف میلان امن کو نازک بناتا ہے۔ تہذیب کو برقرار رکھنے کے لیے، قوموں کو وہ اخلاقی نظم و ضبط پیدا کرنا ہوگا جو تباہی پر مکالمے، جبر پر قائل کرنے اور انتقام پر انصاف کو ترجیح دے۔ 

بالآخر، امن اور تہذیب لازم و ملزوم ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا پروان چڑھ نہیں سکتا۔ مؤرخ ول ڈیورانٹ نے تاریخ کے سبق میں درست کہا تھا، ’’تہذیب ایک ندی ہے جس کے کنارے ہیں۔ ندی کبھی کبھار خون سے بھر جاتی ہے، لیکن کنارے تہذیب ہیں اور ان کے بغیر ندی جلد خشک ہوجائے گی‘‘۔ یہ کنارے انصاف سے بنتے ہیں، جمہوریت سے سہارا پاتے ہیں، قانون کی حکمرانی سے مضبوط ہوتے ہیں اور اخلاقی جرأت سے تقویت پاتے ہیں۔ 

اگر انسانیت کو ایک اور صدی کے تنازعات سے بچنا ہے، تو اسے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ مکالمے کے اداروں میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی، دیواروں میں نہیں، بلکہ پل بنانے میں اور جبر میں نہیں بلکہ رضامندی میں۔ ایک مضبوط جمہوریت جو انصاف، قانون کے سامنے سب کی برابری اور ایک آزاد نظام عدل پر مبنی ہو امن کی سب سے یقینی ضمانت ہے۔ صرف جہاں پر فکر اور اظہار کی آزادی محفوظ ہو، جہاں انسانی حقوق کی عزّت کی جاتی ہو، اور جہاں طاقت عوام کے سامنے جواب دہ ہو، تہذیب یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس نے وحشت پر فتح حاصل کی۔ کیونکہ جب انصاف غالب آتا ہے، قانون حکمرانی کرتا ہے، اور ضمیر آزاد ہوتا ہے، تب امن تہذیب کا محض خواب نہیں رہتا، یہ اس کی روشن حقیقت بن جاتا ہے۔(انگریزی سے ترجمہ: س م خ) 

۵؍اکتوبر۲۰۲۵ء کو ’الجزیرہ‘ نے اپنی ویب سائٹ پر غزہ میں اسرائیلی فوج کی درندگی، قتل و غارت اور ظلم و سفاکی سے ہونے والی تباہی و بربادی کو اعداد و شمار کی صورت میں شائع کیا ہے۔ یہ رپورٹ غزہ کے سرکاری میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی ہے، جو بے گناہ شہریوں اور نہتے عوام پر اسرائیل کے اندھے اور بے حدوحساب بارود برسانے کی المناک صورتِ حال کو بیان کرتی ہے۔ سرکاری میڈیا کے دفتر نے بتایا ہے کہ ۶۷ ہزار سے زائد افراد شہادت سے سرفراز ہوئے۔ یہ اُن لوگوں کی تعداد ہے جن کو ہسپتالوں تک پہنچایا گیا اور ان کا ہسپتال کے ریکارڈ میں اندراج موجود ہے، جب کہ ۱۰ ہزار افراد کا اَتا پتا نہیں۔ ان میں سے کئی ملبے تلے دب گئے اور کئی نامعلوم صورتِ حال سے دوچار ہوئے۔ 

اس رپورٹ کے مطابق ۲۰ ہزار سے زائد بچّے شہید ہوئے، جن میں ایک ہزار ابھی دودھ پیتے بچّے تھے اور ۵ سو کے قریب وہ شیرخوار تھے جو پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ناموافق حالات سے دوچار ہونے کی بنا پر انتقال کر گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق اندراج میں موجود شہید عورتوں کی تعداد ۱۰ ہزار سے زائد ہے۔ 

اس سرکاری بیان کے مطابق مکانوں، دکانوں اور مارکیٹوں ، پلازوں کی تخریب و تباہی کے تخمینے کا گراف ۹۰ فی صد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تمام تباہی راکٹوں، میزائلوں، گولہ و بارود اور ڈرون ٹکنالوجی سے برسائی گئی آگ کا نتیجہ ہے۔ اسرائیلی جنگی جنون نے ان دو برسوں میں دو لاکھ ٹن بارود غزہ کی بے گناہ آبادی پر برسایا ہے۔ یہاں اس رپورٹ کی تفصیل درج کی جارہی ہے: 

آبادیاتی اعداد و شمار 

۲۵ لاکھ کے قریب غزہ کے رہائشی انسان قتل و غارت، نسل کشی اور جبری قحط و بھوک کا شکار ہوئے۔ اجتماعی نسل کشی اور تباہی کا یہ اسرائیلی عمل ۷۳۰ دن (دو برس) تک مسلسل جاری رہا۔ ۹۰فی صد عمارتیں مکمل طور پر تباہ و برباد کردی گئیں۔ غزہ کے ۸۰ فی صد رقبے پر غاصب نے اپنا کنٹرول حاصل کرلیا تھا جہاں بے دریغ طریقے سے بارود برسایا، شہریوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا اور ظلم و عدوان کا کھلا مظاہرہ کیا۔  

شہداء، لاپتا افراد اور قتل عام 

مجموعی طور پر ۸۶ ہزار سے زائد افراد شہادت، لاپتا او ر قتل عام کا شکار ہوئے۔ شہداء کی ۶۷ہزار تعداد تو صرف وہ ہے جن کا ہسپتالوں میں اندراج ہوسکا۔ لاپتا افراد کی تعداد ساڑھے۹ہزار سے زائد ہے۔ ان میں وہ شہداء بھی شامل ہیں جو ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، یا ان کا کوئی اتاپتا نہیں۔ ۲۰ہزار سے زائد شہداء تو بچّے ہیں اور ان میں ۱۹ہزار سے زائد بچّے وہ ہیں جو ہسپتالوں کے ریکارڈ میں آئے ہیں۔ ساڑھے ۱۲ہزار سے زائد عورتیں شہید ہوئی ہیں۔ ان میں بھی ۱۰ہزار سے زائد کا اندراج موجود ہے۔ ۹ہزار سے زائد مائیں شہید ہوئیں۔ ۲۲ہزار سے زائد باپ شہادت کا رُتبہ پاگئے۔ ایک ہزار سے زائد اُن شہید بچوں کی تعداد ہے جن کی عمر ابھی ایک برس سےکم تھی۔ ۳۵ ہزار کے قریب بچّے پیدائش کے بعد شہید ہوگئے۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد، طبّی عملے کے افراد کو غاصب فوج نے قتل کردیا اور انھوں نے شہادت پائی۔ ڈیڑھ سو کے قریب شہری دفاع کے افراد تہہ تیغ کیے گئے۔ ڈھائی سو سے زائد صحافی شہید ہوئے۔ ۲سو سے زائد بلدیاتی ملازمین کو شہید کردیا گیا جن میں چار بلدیات کے صدور تھے۔ ۸سو کے قریب پولیس کے سپاہی اور امدادی سامان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ ۹سو افراد ہلال احمر کی تنظیموں کے شہید کیے گئے، ۳ہزار کے قریب گھرانے اور خاندان بالکل ختم کر دیے گئے جن کا اندراج شہری ریکارڈ سے ختم کردیا گیا ہے۔ یہ ساڑھے۸ہزار شہداء میں سے ہیں۔ ۶ ہزار سے زائد وہ خاندان ہیں جومکمل طور پر ختم ہوگئے اور ان کا صرف ایک ایک فرد زندہ بچا۔ یہ تعداد ۱۳ ہزار کے قریب شہداء میں سے ہے۔ شہداء میں ۵۵ فی صد سے زائد تعداد بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی ہے۔ ۵ سو کے قریب شہداء کی وہ تعداد ہے جو بھوک اور ناکارہ غذا کے سبب شہید ہوگئے۔ ان میں بھی ڈیڑھ سو سے زائد بچّے ہیں۔ اسی طرح فضائی ذرائع سے گرائی گئی امداد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ۲۴ کے قریب ہے۔ ۴۰ فی صد سے زائد لوگ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوکر جان سے گزر گئے کیونکہ انھیں مناسب اور ضروری غذا اور علاج کی سہولت نہ مل سکی۔ ۱۲ہزار سے زائد حاملہ خواتین ناقص غذا اور صحت کی سہولت کی عدم دستیابی کے باعث اسقاطِ حمل کا شکار ہوئیں۔ ۲۵۰ کے قریب شہری سردی کی شدت کے سبب خیموں میں دم توڑ گئے۔ان میں بھی زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ 

زخمی، گرفتاریاں اور انسانی صورتِ حال 

اس دو برس کی بمباری، ڈرون گردی اور میزائل حملوں سے زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد پونے دو لاکھ کے قریب ہے۔ ۱۹ہزار سے زائد زخمی وہ ہیں جن کو بحالی میں ایک طویل مدت درکار ہوگی۔ ۵ہزار کے قریب زخمیوں کے اعضاء کاٹ دیے گئے ہیں جن میں ۱۸ فی صد تعداد بچوں کی ہے۔ ۱۲ سو فالج کے کیس ، اتنے ہی بینائی کی کمی کے کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ۴سو سے زائد صحافی زخمی ہیں۔ ۷ہزار کے قریب شہری گرفتار ہوئے۔۴سو کے قریب تو میڈیکل عملے کے لوگوں کی تعداد ہے جو گرفتار ہوئے۔ ایک سو کے قریب صحافی اور شہری دفاع سے متعلقہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ۲۱ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں اور ۵۶ ہزار سے زائد بچّے یتیم ہوئے۔ ان میں دونوں ماں باپ یا ایک کی شہادت کی صورت میں یتیم ہونے والے بچّے شامل ہیں۔ ۲۰لاکھ سے زائدافراد جبری نقل مکانی کے نتیجے میں متعدی امراض کا شکار ہوگئے۔ ۷۰ہزار سے زائد افراد یرقان کے مرض میں مبتلا ہوئے۔ 

صحت کے شعبے کی صورتِ حال 

۴۰ کے قریب ہسپتال حملہ آوروں نے تو بالکل تباہ کر دیے یا انھیں کام کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایک سو کے قریب مراکز صحت ملیامیٹ کر دیے یا برباد کر دیے یا انھیں کام کے قابل نہیں رہنے دیا۔ ۲سوکے قریب ایمبولینسوں کو ظالموں نے نشانہ بنایا۔ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات، سہولیات، گاڑیوں اور سپلائی چینوں پر ۸سو کے قریب حملے کیے گئے۔ ۶۰ سے زائد سرکاری فائربریگیڈاور شہری دفاع کے شعبے کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

تعلیم اور تعلیمی ادارے 

غزہ کی ۹۵ فی صد اسکول عمارات کو سخت نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ۹۵ فی صد سے زائد اسکولوں کی عمارتیں نئے سرے سے تعمیر ہوں گی یا اُن کا بڑا حصہ تعمیر کرنا پڑے گا۔ ۷سو کے قریب اسکول عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ یہ مدارس کی مجموعی تعداد کا ۸۰ فی صد ہے۔ ۲سو کے قریب اسکول، یونی ورسٹیاں اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔ ۴سو کے قریب اسکول،یونی ورسٹیاں اور تعلیمی ادارے جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ ساڑھے ۱۳ ہزار سے زائد طلبہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے۔ ۸ لاکھ کے قریب طلبہ کو سفاک دشمن نے تعلیم سے محروم کردیا۔ ۸سو سے زائد اساتذہ اور تعلیمی و تربیتی شعبوں کے افراد اس جنگ میں اسرائیلی ظلم سے شہید ہوگئے۔ اسی طرح ۲ سو کے قریب علما، دانش ور اور محقق اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہوئے۔ 

عبادت گاہوں اورقبرستانوں کی صورت حال 

ساڑھے ۸سو کے قریب مساجد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ ۲سو کے قریب مساجد  جزوی طور پر منہدم ہوئیں۔ تین گرجوں کو بھی ایک سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ ۶۰ میں سے ۴۰قبرستانوں کو بلڈوز کر دیا گیا۔ اڑھائی ہزار کے قریب فوت شدگان اور شہداء کی لاشیں قبروں سے غائب کردی گئیں۔ سات اجتماعی قبریں ہسپتالوں کے اندر ہی بنائی گئیں۔ ۵ سو سے زائد افراد کو سفاک دشمن نے قتل کیا اور پھر ان کی لاشیں اجتماعی قبروں سے بھی نکال کر لے گئے۔ 

مکانات، جبری نقل مکانی اور پناہ گزین کیمپ 

قابض و جابر اور غاصب ظالم نے پونے تین لاکھ رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ کے قریب رہائشی یونٹس کو شدید نقصان پہنچایا جو رہائش کے قابل نہیں رہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس کو جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا۔ تین لاکھ کے قریب فلسطینی خاندان بے گھر ہوئے۔ سوا لاکھ سے زائد خیموں کو مکمل طور پر ناکارہ کر دیا گیا جو استعمال کے قابل نہ رہے۔ ۲۰لاکھ کے قریب شہری جبری نقل مکانی کے باعث بے گھر ہوئے۔ سو کے قریب پناہ گاہوں اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں قائم ہونے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ 

امداد و علاج کی روک تھام اور مسلط کردہ بھوک  

۲۲۰ دن تک غزہ کی پٹی کی تمام گزرگاہوں کو مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ سوا لاکھ انسانی امداد اور ایندھن وغیرہ کے ٹرکوں کو غزہ میں داخل نہ ہونے دیا گیا۔ فلسطینی شہریوں کو بھوک سے مارنے کی پالیسی کے تحت ۵۰ کے قریب کھانے کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح امداد اور خوراک کی تقسیم کے ۶۰ سے زائد مراکز کو بھی اسی پالیسی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ امدادی کاموں میں حصہ لینے والے ساڑھے ۵سو افراد کو شہید کردیا گیا۔ ۱۲۸ مرتبہ امدادی قافلوں اور انسانی وفود کو نشانہ بنایا گیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد شہید اور ۱۹سو سے زائد زخمی موت کے جال میں گم ہوگئے۔ ان کو ’اسرائیلی امریکی امدادی مراکز‘ کہا جاتا ہے اور ’مستحقین امداد کے متلاشی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ ساڑھے ۶لاکھ بچّے غذائی قلّت، بھوک اور خوراک کی کمی کے باعث موت کے خطرے سے دوچار تھے۔ ۴۰ ہزار شیرخوار (ایک سال سے کم عمر) دودھ کی نایابی کے سبب موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ دودھ کے اڑھائی لاکھ پیکٹ اسرائیلی فوج نے غزہ کے معصوموں تک پہنچنے سے روکے رکھے۔ 

بنیادی ڈھانچہ اور عوامی سہولیات کی تباہی 

۷سو سے زائد پانی کے مرکزی کنوئیں اسرائیل نے تباہ کردیے اور انھیں ناکارہ بنادیا۔ میٹھے پانی کے ۱۳۴ منصوبوں کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا اور اس کے دوران ساڑھے  ۹ہزار کے قریب شہادتیں ہوئیںجن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ ۵ہزار سے زائد کلومیٹر بجلی کے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا۔ سوا دو لاکھ سے زائد بجلی میٹر اسرائیلی تباہی کا نشانہ بن کر ختم ہوگئے۔ ۲ہزار ارب کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی کی مقدار سے غزہ کی پٹی کو محروم رکھا گیا۔ ۷لاکھ میٹر پانی کے پائپ، نیٹ ورک کو اسرائیل نے تباہ کردیا۔ ۳۰ لاکھ میٹر سڑکوں کے نیٹ ورکس کو برباد کر دیا گیا۔ اڑھائی سو کے قریب سرکاری عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ۳سو کے قریب پارکس، کھیل کے گرائونڈ اور اسپورٹس ہال تباہ کر دیے گئے۔ ۲سو سے زائد قومی و ثقافتی ورثے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ 

زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کی بربادی 

۹۴ فی صد زرعی اراضی کو اسرائیلی فوج نے تباہ کردیا ہے جو اصل میں ایک لاکھ ۷۸ہزار دونم ہے۔ ایک ہزار سے زائد زرعی کنوئوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ ۷سو کے قریب گائے، بھیڑبکری اور مرغی فارموں کو جنونی اسرائیلیوں نے برباد کردیا۔ سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال ہونے والی اراضی ۹۳ دونم سے کم ہوکر صرف۴ ہزار دونم رہ گئی ہے۔ غزہ کی پٹی کے زیرانتظام ۸۴ فی صد زرعی سہولیات تباہ کردی گئی ہیں۔ سبزیوں کی سالانہ پیداوار ساڑھے ۴۵ لاکھ ٹن سے کم ہوکر صرف ۲۸ہزار ٹن رہ گئی ہے۔ ماہی گیری کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے یہ شعبہ سوفی صد متاثر ہوا ہے۔ 

پانچ اہم شعبہ ہائـے حیات کے نقصانات 

اجتماعی نسل کشی کے باعث ۷۰؍ارب ڈالر ابتدائی نقصان ہے۔ ۵؍ ارب ڈالر صحت کے شعبے،۴؍ارب ڈالر تعلیمی شعبے، ۳؍ارب ڈالر کے قریب ہائوسنگ سیکٹر، ایک ارب ڈالر مذہبی اُمور کے شعبے، ساڑھے ۴؍ارب ڈالر کے قریب زرعی شعبے، ۴؍ ارب ڈالر گھریلو سامان کے ضمن میں، ۳؍ارب ڈالر مواصلات اور انٹرنیٹ کے شعبے میں، ۲؍ارب ڈالر کے قریب نقل و حمل اور مواصلات کے شعبے میں، ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب بجلی کے شعبے اور ۶؍ارب ڈالر شہری سہولیات اور بلدیاتی کاموں کے شعبے میں نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 

جنگ بندی کے بعد کی صورتِ حال 

۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو دو برس کی بے رحم اسرائیلی حملوں سے غزہ کی خوفناک تباہی کے بعد امریکا اور چند اسلامی ممالک کی مشاورت کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا جس کے پہلے مرحلے میں دونوں اطراف کے جنگی قیدیوں کی واپسی طے پائی۔ غزہ میں امداد و خوراک کی بندش کو کھولنے پر اتفاق ہوا۔ غزہ کی بحالی کے لیے کاوشوں کی بات کی گئی۔ مگر اسرائیل اور وزیراعظم اسرائیل نے ہٹ دھرم طبیعت اور سرشت کی اپنی تاریخی روایات پر قائم رہتے ہوئے معاہدے کی ان شرائط اور نکات کی ذرا پروانہ کی۔ غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جنگی کارروائیاں اور حملے مزید قبضے کی کوششیں اور غزہ پر مکمل قبضے کی دھمکیاں، زیتون کے درختوں کی تباہی جیسے پرانے ہتھکنڈوں سے ہاتھ نہ روکا۔ غزہ سے رابطے کی سات کراسنگ میں سے صرف دو کرم ابوسالم اور کیہوویم سے امدادی ٹرکوں کے گزرنے کی اجازت دی۔ باقی پانچ گزرگاہوں کو حسب سابق بند رکھا ہوا ہے۔ رفح کراسنگ جو غزہ کے لیے زیادہ قابلِ رسائی گزرگاہ ہے، اس کو نہ کھولنے کا بار بار اعلان کیا۔ غزہ کی مقامی انتظامیہ کی اطلاعات کے مطابق ۱۸ہزار امدادی ٹرکوں میں صرف۱۸ سو ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ملی جن میں سے صرف ساڑھے ۶ سو ٹرک، ۱۲ اور ۱۳؍اکتوبر کو داخل ہوسکے۔ یہ بھی اقوام متحدہ کے مطالبے پر ممکن ہوسکا۔ اس دوران فلسطینیوں کو مارنے، ان پر میزائل پھینکنے کا عمل جاری رہا۔ ادھر اسرائیلی اسمبلی ’کینسٹ‘ میں غزہ پر مکمل قبضے کی قرارداد بھی منظور کرالی گئی۔ امریکی صدر اور اس کے نمائندے کہتے ہیں کہ ایسا نہ ہوگا مگراس کی کوئی ضمانت نہیں۔ اس دوران اسرائیل آبادکاری میں توسیع اور قبضہ گیری میں مسلسل پیش قدمی کرتا رہا۔ اب تو باقاعدہ پیلی لکیر کھینچی جارہی ہے جہاں تک اسرائیل کے قبضے کی حدود ہوں گی۔ اس میں رفح کا بہت سا رقبہ بغیر حدود کے اپنے اندر شامل کر رہا ہے۔ اسرائیل نے اس لائن پر ساڑھے ۳میٹر اُونچی کنکریٹ کی دیواربنانا شروع کر دی ہے۔ ۱۰؍اکتوبر کے بعد سے اب تک ایک سو سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید کیے گئے اور اڑھائی سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ 

اسرائیل کا مذہبی عقیدہ اور جنگی جنون 

غزہ کی اس خوفناک تباہی کے پیچھے کیا ذہنیت اور عقیدہ کام کرتا ہے؟ اس کومعروف مصری عالم اور محقق و مصنف پروفیسر محمد عمارہ (۱۹۳۱ء-۲۰۲۰ء)نے یوں بیان کیا ہے:اسرائیل کی ۱۹۴۸ء سے لے کر آج تک تمام جنگوں میں ایک مظاہرہ خاص طور پر ہوتا رہا کہ وہ اپنے جنگی اہداف کو نشانہ بنانے کے دوران صرف انھی اہداف تک محدود نہیں رہتا بلکہ قتل و غارت اور تباہی و بربادی سے بلاامتیاز کام لیتا ہے۔ کسی بچے پر ترس کھاتا ہے، نہ کسی عورت کا لحاظ رکھتا ہے۔ کسی مجاہد اور شہری میں کوئی فرق نہیں کرتا، کسی جنگجو اور غیر جنگجو کو نہیں چھوڑتا۔ ۱۹۴۸ء کی جنگ میں اس کی فوج نے سیکڑوں فلسطینی دیہات تباہ کیے، نہ مسجدوں کو چھوڑا نہ گھروں اور قبرستانوں کو۔ بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور پُرامن شہریوں تک کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ۱۹۷۸ء میں تو اس نے قیدیوں کے بھی قتل سے دریغ نہ کیا۔ ساحل پر موجود شہروں کو تباہ کر دیا، شہری آبادی کو نشانہ بنا کر مٹا دیا۔ اسرائیل نے اس تباہ کن ذہنیت کا غزہ اور لبنان کے خلاف ہر لڑائی میں مظاہرہ کیا۔ اس ہمہ گیر تباہی میں اسکول، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام اسکولوں کو بھی نہ چھوڑا۔ مساجد اور ہسپتالوں کو تباہ کر دیا، حتیٰ کہ ایمبولینسیں بھی اس کے حملوں سے محفوظ نہ رہیں۔صہیونیت کا یہ مسلسل اور عجیب و غریب مظاہرہ جس میں جنگی قواعد و ضوابط کا ذرا لحاظ نہیں رکھا جاتا، اس کا سبب کیا ہے؟ تجزیہ نگار، صحافی اور سیاست دان اس کو ’اجتماعی سزا‘ کا نام دیتے ہیں جو بین الاقوامی قانون جنیوا معاہدے کی روح سے جرم ہے لیکن کوئی تجزیہ کار، صحافی یا سیاست دان اس طرف متوجہ نہیں ہوتا کہ اس کا سبب ایک دینی حکم کی بجا آوری ہے جس کا متن تلمود میں موجود ہے۔ یہودی علما ’حاخامات‘ نے عہد نامۂ قدیم میں اس کو درج کیا ہے اور یہودی علما اس حکم کی تعلیم صہیونی فوج کی یونٹوں میں دیتے ہیں۔ فوج کا یہ جنگی عقیدہ عربوں کی نسل کشی اور ان کا خاتمہ ہے۔ یہودیوں کے نزدیک موجودہ عرب قدیم عمالقہ کا نمونہ ہے جن کے بارے میں کتاب مقدس کے سفر الخروج کے باب ۱۴:۱۷ میں کہا گیا ہے: 

رب نے موسیٰ سے کہا : یہ بات کتاب میں بطور یادداشت لکھ اور یشوع کو بھی سنادے ، کیونکہ میں عمالیق کا نام آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالوں گا۔ 

 فوج جو انسانوں اور مکانوں کو نیست و نابود کر دیتی ہے، بستیوں اور شہروں کو ملبے کے ڈھیر بنا دیتی ہے دراصل وہ یہ تعلیم کتاب مقدس کے باب ۱۳: ۱۲ ، ۱۵ - ۱۷ سے پاتی ہے جو اس کے رب کی زبان سے اس کی پسندیدہ قوم کے لیے آیا ہے: 

اگر تو ان شہروں میں سے کسی کے بارے میں، جو تیرا رب تجھے عطا کرے کہ تو ان میں رہے، کوئی بات سنے تو اس شہر کے باشندوں کو تلوار کی دھار سے کاٹ کر رکھ دے اور ہرجانور چوپایا جو اس شہر میں ہے اسے بھی تلوار سے ختم کر دے۔ اس شہر کے تمام ساز و سامان کو ایک میدان میں اکٹھا کر اور آگ لگا کر اس شہر اور اس کے سارے سامان کو جلا کر رکھ دے تاکہ یہ شہر ایک ٹیلا بن کر رہ جائے ، دوبارہ تعمیر نہ ہو سکے۔ 

یہ تو ان شہروں کی سزا ہے جو پُرامن ہیں، لڑائی میں حصہ نہیں لیتے، نہ اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اس متن میں ’کوئی بات‘ کا مطلب ہے کہ وہ اپنی سرزمین اسرائیل کے لیے چھوڑنے اور خالی کرنے سے انکار کریں۔اسرائیل جب اپنی تمام جنگوں میں تشدد و ہلاکت کی انتہا تک جاتا ہے۔ بچوں کے ساتھ کوئی شفقت کرتا ہے، نہ عورتوں پر ترس کھاتا ہے اور نہ کسی معاہدے اور پیمان کا پاس رکھتا ہے، تو وہ اسی جنگی عقیدے کا نفاذ عمل میں لاتا ہے جو اس کی فوج اپنی مقدس مذہبی کتب سے اپنے علما سے سیکھتی ہے۔ یہ عقیدہ انھیں دیگر تمام قوموں کو ختم کر ڈالنے بلکہ کسی ترس اور عہد کا لحاظ رکھے بغیر تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس عقیدے کے مطابق وہی مقدس قوم ہیں اور ہر قوم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ سفر التثنیہ میں ہی ہے: 

جب خداوند تیرا خدا ان سات قوموں کو، جو تجھ سے بڑی اور طاقت ور ہیں، تیرے سامنے سے ہٹا دے اور تو انھیں شکست دے تو انھیں مکمل طور پر تباہ کر دینا۔ ان کے ساتھ کوئی عہد نہ کرنا اور نہ ہی ان پر رحم کرنا۔ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرنا۔ کیونکہ تو ایک مقدس قوم ہے۔ خداوند تیرے خدا نے تجھے زمین کی تمام قوموں میں سے چُن لیا ہے تاکہ تو اس کی خاص قوم ہو۔ تو تمام قوموں سے زیادہ بابرکت ہو گا اور تو ان سب قوموں کو تباہ کر دے گا، اور تو ان پر رحم نہ کرنا۔ 

اسی طرح صہیونی جب مقبوضہ زمین سے باقی عربوں کے نکل جانے کی بات کرتے ہیں تاکہ یہودی اپنی خالص یہودی ریاست وہاں قائم کر سکیں، تو یہ بھی ان کا دینی عقیدہ ہے۔ سفر العدد  ۳۳:۵۰-۵۱، ۵۵- ۵۶ میں یہ آتا ہے: 

۴- اور خداوند نے موآب کے میدانوں میں یردن کے کنارے یریحو کے مقابل موسٰی سے کہا: بنی اسرائیل سے کہو: تم یردن پار کر کے ملک کنعان میں جاؤ گے، اور تم اس ملک کے تمام باشندوں کو اپنے سامنے سے نکال دو گے، اور اس ملک کو اپنا بنا لو گے اور اس میں بس جاؤ گے۔ لیکن اگر تم اس ملک کے باشندوں کو اپنے سامنے سے نہ نکالو گے، تو جو لوگ تم میں سے باقی رہ جائیں گے وہ تمھاری آنکھوں میں کانٹے اور تمھاری پسلیوں میں خار بن جائیں گے، اور وہ اس ملک میں جہاں تم رہتے ہو تمھیں تنگ کریں گے۔ 

ان متون سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینیوں اور عربوں پر بے دردی کے ساتھ مسلط کی گئی اسرائیل کی جنگ ان کا محض سیاسی تصادم نہیں بلکہ ایک دینی فریضے اور حکم کی تکمیل ہے جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہے۔ 

معصوم شہریوں کو قتل کرنا فرض ہـے 

اسرائیلی فوج کے یونٹوں میں جو یہودی علما تعینات ہوتے ہیں، ان کو عسکری رینک دیے جاتے ہیں جن کی ڈیوٹی فوجیوں کو مذکورہ عقیدے کی تعلیم دینا ہے۔ فلسطینیوں پر ظلم و تشدد اور تباہی و بربادی کے ذریعے وہ اس عقیدے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ یہودی علما کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں جن کو بڑی تعداد میں طبع کر کے فوج میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ علماء جنگی عقیدے سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ تلمود میں اس سوچ کو ’اسلحہ کی صفائی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔اسرائیلی فوج نے وسطی علاقے میں جو کہ اس کی مقبوضہ زمین کے مغربی کنارے پر واقع ہے، ایک حاخام برگیڈیئر فیضان زیمبل کا فتویٰ شائع کیا۔ اس میں اس حاخام نے معصوم فلسطینی شہریوں کے قتل کو فرض قرار دیا کیونکہ یہودی قانون ’ہلاکات‘ [ہلاخات]کی روشنی میں یہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔اسرائیلی کاتب ’اسرائیل شاحاک‘ نے اس فتوے کو اپنی کتاب ’یہودی مذہب اور غیر یہودیوں کے بارے میں اس کا موقف‘ میں شامل کیا ہے۔ شاحاک اس کتاب میں لکھتا ہے: جنگ کے دوران افواج کا شہریوں سے آمنا سامنا ہو جانے کی صورت میں یا سخت جارحانہ حملے یا مدافعانہ حملے کی صورت میں ہماری افواج کے پاس شہریوں کو تکلیف پہنچانے کی کوئی دلیل نہیں ہے، تاہم انھیں قتل کرنے کا امکان موجود ہے کیونکہ انھیں قتل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ یہودی قانون ’ہلاکات‘ تو معصوم شہریوں کو قتل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ 

حاخام شمعون وائزر، تو اسرائیلی فوجی موشی جو ۱۹۶۰ء میں مقبوضہ فلسطین میں خدمات انجام دے رہا تھا کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے جس میں موشی پوچھتا ہے کہ کیا ہم عربوں کے ساتھ عمالقہ جیسا معاملہ کریں یعنی ان کو قتل کر دیں تاکہ ان کا ذکر زمین سے ختم ہوجائے جیسا کہ سفرالتثنیہ ۲۵:۱۹ میں آیا ہے: ’’تاکہ تم آسمان کے نیچے عمالقہ کا ذکر ہی ختم کر دو‘‘۔ ہم اس پر عمل کریں یا عادلانہ قوانین جنگ کا اطلاق کریں جن کے مطابق صرف محارب (جنگجو) کو قتل کیا جاتا ہے اور کیا ہتھیار ڈال دینے والے عربی کو پانی پیش کرنا میرے لیے جائز ہے؟ 

اس خط کا جواب دیتے ہوئے حاخام شمعون وائزر، یہودی شریعت ’ہلاکات‘ کا حکم واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں تمھارے سامنے بعض دانشوروں کے اقوال رکھتا ہوں اور ان کی وضاحت کرتا ہوں: یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب میں جنگ کے مخصوص قوانین ہیں جس طرح فٹ بال اور باسکٹ بال کے قوانین ہوتے ہیں مگر ہمارے دانش وروں کے مطابق جنگ ہمارے نزدیک کھیل نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت ہے اور صرف ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس کو نافذ کرنے کی صورت حال کے بارے میں سوچنا ضروری ہے۔ غیر یہودی کو قتل کر دو، اس کا سرقلم کردو۔ یہی ’ہلاکات‘ کے مطابق ’قانون اسلحہ صفائی‘ ہے۔اسرائیلی فوجی موشی نے اس خط کا جواب اپنے ساتھی فوجیوں کو بھی پڑھ کر سنایا تاکہ وہ اپنی شریعت کا وہ قانون جان لیں جس کے مطابق بہترین غیر محارب [غیرجنگجو]،بے گناہ اور معصوم فلسطینی کا قتل لازمی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ وہ غیریہودی ہے، وہ سانپ ہے جس کا سر کچلنا ضروری ہے۔موشی نے حاخام شمون وائزر کو جوابی خط لکھا کہ مجھے آپ کا خط مل گیا ہے۔ میں نے اس کو یوں سمجھا ہے کہ میرے لیے زمانۂ جنگ میں ان عرب مرد و عورت کو قتل کرنا نہ صرف جائز ہے جو اچانک میری زد میں آجائیں بلکہ میرا یہ فریضہ ہے کہ اس قانون کو نافذ کر کے رہوں۔ 

نسل پرست قبضہ گیر نوآبادیات 

اسرائیل نو آبادیاتی اور نسلی امتیاز کے استعمار کی آخری نشانی ہے۔ سفید فاموں نے اپنے زوال سے قبل یہ نظام جنوبی افریقہ میں اس نسل پرستی کی بنیاد پر نافذ کیا جس کے مطابق سفید فام تمام نوع انسانی سے برتر مخلوق ہیں۔ ادھر صہیونیت نے سرزمین فلسطین میں اسی نسلی برتری کا امتیاز قائم کرنے کا کھیل کھیلا ہے۔ صہیونیت اس کو اپنا دین بنائے ہوئے ہے کیونکہ یہ عہد نامہ قدیم اور اس کی شرح تلمود کی تعلیمات ہیں۔اسرائیل شاحاک (۱۹۳۳ء-۲۰۰۱ء) اپنی مذکورہ کتاب میں اس نسلی برتری کے عقیدے سے متعلق متعدد مثالیں پیش کرتا ہے۔ ان کے ہاں ’نفس‘ لفظ کا مطلب یہودی ہے وہ اس میں غیر یہودیوں اور کتوں کو بالکل شامل نہیں کرتے۔ آرتھوڈوکس یہودی اپنی نوخیز عمری ہی سے مقدس تعلیمات میں یہ عقیدہ بھی سیکھ لیتا ہے کہ غیر یہودی کتوں کے برابر ہیں اور ان کو اچھا سمجھنا گناہ ہے۔ 

’کتاب تربیت‘ جس پر حکومت اسرائیل نے ایک بڑی رقم خرچ کر کے طبع کرایا ہے اور اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور یہ اسرائیل کی قومی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کے آغاز ہی میں لکھا ہے: غیر یہودی غلام کو تاحیات غلام رکھنا واجب ہے اور یہودی غلام کو آزاد کردینا واجب ہے۔ اس لیے کہ یہودی کائنات کے افضل ترین انسان ہیں۔ وہ اس لیے پیدا کیے گئے تاکہ خالق کو پہچانیں اور اس کی عبادت بجا لائیں۔ بندوں کو غلام بنانا ان کا حق ہے اور جب ان کے پاس دیگر قوموں کا فرد غلام نہ ہو تو پھر وہ اپنی ہی قوم کے فرد کو غلام بنانے پر مجبور ہوں گے، جو اپنے ربّ کی خدمت نہ کرپائیں گے۔ یہی اس آیت کا مقصد ہے: 

تم اپنے بھائیوں کو جو سب رب کی عبادت کے لیے تیار ہو رہے ہیں دُور نہیں کرو گے۔(سفراللاویین ۲۵-۲۶) 

ان کی کتاب مقدس (عہد نامہ قدیم) کی وصیت یہ ہے کہ تم کسی ایسی شے کو زندہ نہ چھوڑو جو سانس لیتی ہو(سفر التثنیہ۶۰، ۶۱)،تو یہ آیت اسرائیلی افواج کے لیے ایسا تربیتی لیکچر بن جاتی ہے جو مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، جس لیکچر میں کہا جاتا ہے کہ فلسطینی عمالقہ کی مانند ہیں اور عمالقہ کا ذکر آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالو(سفرالتثنیہ ۲۵:۹)۔ اور جو فلسطینی عمالقہ جیسے انجام سے بچ جائے، اس کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جائے۔ 

موسیٰ بن میمون فلسفی (۱۱۳۵ء-۱۲۰۴ء)کو یہودی سیّدنا موسٰی جیسا بلند مقام سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ موسٰی کے بعد موسٰی جیسا کوئی نہیں آیا سوائے موسی (بن میمون) کے۔ یہ یہودی فلسفی عہد نامہ قدیم کے اسفار کی شرح و تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے: غیر یہودی بلند دینی قیمت تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ رب کی حقیقی عبادت کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی طبیعت ہی بے زبان حیوانوں کی طرح ہے۔ وہ کائنات میں ادنیٰ ترین انسان ہیں، بندروں سے کچھ اوپر کا درجہ رکھتے ہیں۔ 

 یہودی عورت کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے ماہوار غسل طہارت کے بعد مذہبی حمام سے واپسی پر چار شیطانی اشیاء کا سامنا کرنے سے پرہیز کرے: کسی غیر یہودی سے، کسی خنزیر سے، کسی کتے سے اور کسی گدھے سے۔ اگر ان میں سے کسی سے بھی اس کا سامنا ہو جائے تو وہ دوبارہ غسل کرے۔ 

اسرائیل نے درجنوں قوانین ایسے بنا رکھے اور جاری کر رکھے ہیں جو فلسطین کی سرزمین پر یہودی نوآبادیاتی نظام میں نسلی برتری کے امتیاز کے مظہر ہیں۔ اس امتیازی یہودی نظام اور نسلی برتری قائم کرنے والے یہودی نظام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والوں نے کیا کبھی ان حقائق پر بھی توجہ کی؟ کیا مسیحی تہذیب کے فرزندوں نے جو کہ عربوں اور مسلمانوں کے خلاف صہیونیت کے اتحادی ہیں موسیٰ بن میمون کے بیان کو پڑھا ہے؟ اس نے تورات شفاہیہ (تورات کی شفوی تشریح) میں سیّدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے اور ہر یہودی کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ جب یسوع کا نام سنے تو کہے اللہ تعالیٰ شریر نام کو ہلاک کرے تاکہ یہ شریر نام یسوع ناصری اور اس کے شاگردوں کو مبتلائے مصیبت کرے۔ یہ یہودی دیگر انسانوں کو نہ انسان سمجھتے ہیں اورنہ اُنھیں زمین پر زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار ہیں۔ 

یہ اعتقاد رکھنا ایمان کے نہایت سادہ وسطحی معانی میں سے ہے کہ جب مومن احکامِ الٰہی کی پابندی کرے اور گناہوں سے اجتناب کرے تو اس دُنیا میں اس کی زندگی کا سفر پھولوں کی سیج پر گزرے گا۔ اس کی دُعائیں رَد نہیں ہوں گی، اسے بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، اس کا رزق تنگ نہیں کیا جائے گا، اور وہ ظالموں کے ظلم کا شکار نہیں ہوگا۔ 

حقیقت یہ ہے کہ دُنیا دارالامتحان ہے، دارالجزا نہیں۔ یہ بیج بونے کی زمین ہے، فصل کاٹنے کا کھیت نہیں، جہد و سعی کا راستہ ہے، منزلِ مقصود نہیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ مومن کی خوش بختی اور سعادت اُس کے اس تسلیم و رضا کے رویے سے پھوٹتی ہے کہ اللہ کا ہر فیصلہ خیر ہوتا ہے، خواہ اس کی حکمتیں ہماری نظروں سے اوجھل ہی ہوں۔ اللہ کی تقدیر جاری اور نافذ ہوکر رہتی ہے۔ کوئی ناراضی و رضامندی اُسے روک نہیں سکتی، بلکہ ناراض ہونے اور شکایت کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اور رضامندی کا اظہار کرنے والا اجر اور سعادت کا حق دار قرار پاتا ہے۔ 

کائنات میں جاری قوانینِ قدرت کا فہم رکھنے والا صاحب ِ عقل اس بات سے ناواقف نہیں ہوتا کہ اللہ کی فرماں برداری کا معاملات کی آسانی میں ایک اثر ضرور ہوتا ہے، اور معاملات کو اُلجھانے اور بگاڑنے میں گناہوں کا اثر۔مگر دُنیا کی ہر آزمائش و امتحان کو اس اصول سے مربوط کردینا اور اسے ایک مستقل قانون مان لینا ایمان کا سطحی مفہوم ہے بلکہ سیکڑوں دلائل و شواہد اس بات کو یقینی ٹھیراتے ہیں کہ اہل ایمان کو پہنچنے والی بیشتر تکلیفوں کا سبب اُن کا حق پر ثابت قدم رہنا ہوتا ہے نہ کہ باطل پر ہونا۔ یعنی یہ تکلیفیں اُن پر اس لیے آئیں کہ وہ اللہ کی فرماں برداری کے راستے پر تھے، معصیت و گمراہی کے راستے پر نہیں۔ 

فرعون نے اپنی بیٹی کی خادمہ کے بچوں کو یکے بعد دیگرے، کھولتے ہوئے تیل میں محض اس لیے پھینکا کہ وہ اطاعتِ الٰہی کی راہ پر تھیں، اس لیے نہیں کہ وہ معصیت کے راستے پر تھیں۔ اور پھر خود اُس خاتون کو بھی جب تیل میں پھینکا گیا تو صرف اس وجہ سے کہ اُس نے اپنی اولاد کے عوض اپنے ایمان و عقیدے کا سودا کرنے سے انکار کردیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس ظالم فرعون کو اُس خاتون کے گناہوں کے سبب اُس پر نہیں مسلط کیا تھا، بلکہ یہ تو حق و باطل کی کش مکش تھی۔ 

اسی طرح جب ظالم بادشاہ نے خندقیں کھدوا کر اُن میں اہل ایمان کو پھینک کر آخری فرد تک کو ہلاک کر دیا تو یہ اُن اہل ایمان کے گناہوں کے باعث نہیں ہوا تھا بلکہ اُن کے ایمان کی وجہ سے ہوا تھا۔ایک بچّے کے ساتھ ملاقات سے چند ہی گھڑیاں پہلے یہ لوگ محفوظ و مطمئن تھے کیونکہ اس وقت شرک پر تھے لیکن خندقوں کی آگ نے انھیں اس لیے بھسم کیا کہ وہ ایمان کے راستے پر آچکے تھے۔ 

یہ ظالم ان لوگوں پر اُن کے گناہوں کے سبب مسلط نہیں ہوا تھا بلکہ یہ حق و باطل کا ٹکرائو تھا۔ جب جادوگروں کی جماعت فرعون کی عزّت کی خاطر حضرت موسٰی کو زیر کرنے آئی تھی تو وہ فرعون کے ہاں بڑی معزز و مکرم جماعت تھی۔ اُس نے انھیں انعامات و اکرامات سے نوازنے اور اپنا مقرب بنانے کے وعدے بھی کیے تھے اور یہ سب کچھ اُس وقت تک تھا جب تک وہ شرک پر تھے۔ مگر اس نے ان کے ہاتھ پائوں الٹی سمتوں سے کاٹ دیئے، اور انھیں کھجور کے بلند تنوں پر پھانسی چڑھا دیا، اس لیے کہ اُس وقت وہ شرک کی راہ چھوڑ کر شاہراہِ ایمان پر آچکے تھے۔یہ ظالم، اُن جادوگروں کے گناہوں کی بنا پر اُن کے اُوپر مسلط نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ حق اور باطل کا تصادم تھا۔ 

جب سیّدنا زکریا علیہ السلام کو آرے سے چیرا گیا تو اُن کے گناہوں کی بنا پر نہیں بلکہ اُن کی اطاعت ِ خداوندی کے باعث، لہٰذا بہت سادہ بات ہے کہ یہ حق و باطل کی کش مکش تھی۔ 

اسی طرح جب سیّدنا یحییٰ علیہ السلام کا سر قلم کیا گیا اور ایک فاحشہ عورت کو بطورِ مہر پیش کیا گیا تو سیّدنا یحییٰ ؑ پر یہ ظلم اُن کی گنہگاری کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ کی فرماں برداری کا اعلان کرنے اور ظالم کی بے حیائیوں پر اُسے ٹوکنے کے باعث ڈھایا گیا!___ ظاہر ہے کہ یہ حق و باطل کے ٹکرائو کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ 

جب قریش مکہ نے سیّدہ سمیہؓ کو زمین میں گاڑا تو یہ اُن کے غیرمتزلزل ایمان کے باعث ہوا۔ جب ابوجہل نے انھیں اپنا نیزہ مارا، جب کہ وہ زمین میں گڑی ہوئی تھیں، تو اس ظلم کا سبب سیّدہ سمیہؓ کی گنہگاری نہیں بلکہ ایمان سے وفاداری تھی۔ جب اس ظالم نے اُن کے عقیدے کا سودا کرنا چاہا تو اُنھوں نے اس کے منہ پر تھوک دیا جو اس بات کا اعلان تھا کہ میرا ایمان قابلِ فروخت نہیں___کوئی شک نہیں کہ یہ حق و باطل کا ٹکرائو تھا۔ 

اسی طرح جب سیّدنا یاسرؓ کو سیّدنا عمارؓ کی نظروں کے سامنے سولی پر چڑھایا گیا تو یہ اُن کے گناہوں کی سزا نہیں تھی،بلکہ یہ کائنات میں جاری قوانین الٰہی میں سے ایک قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اس کے ایمان کی بناپر کافر کے کفر کے ذریعے مبتلائے آزمائش کرتا ہے___ یقینی بات ہے کہ یہ کش مکشِ حق و باطل ہے۔ 

جب صحابہ کرامؓ کو مکہ مکرمہ سے اجنبی سرزمین حبشہ کی طرف جانے پر مجبور کیا گیا تو قریش نے ان کی نافرمانیوں کی بنا پر ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ اس ہجرت کا سبب صحابہؓ کا پختہ عقیدئہ ایمان تھا، جس کو متزلزل کرنے میں قریش ناکام رہے تھے۔صحابہ کرامؓ ایمان کے اُس عظیم مقام پر تھے جس نے ان کے وطن و قبیلے اور اہل و عیال پر ایمان کو اُن کے لیے مقدم بنا دیا تھا۔ 

امام بخاری کی روایت کردہ حدیث خباب بن ارتؓ کے مطابق: ہم نے رسولؐ اللہ سے شکوہ کیا اور اُس وقت آپؐ کعبہ کے سایے میں چادر کا تکیہ بنائے آرام فرما تھے۔ ہم نے عرض کیا: کیا آپؐ ہمارے لیے مدد و نصرت نہیں مانگیں گے؟ کیا ہمارے لیے دُعا نہیں فرمائیں گے؟ 

آپؐ نے فرمایا: تم سے پہلے جو تھے، اُن میں سے تو کسی کو پکڑا جاتا، اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور اس میں اُسے گاڑ دیا جاتا۔ پھر آرا لایاجا تا، اس کے سر پر رکھا جاتا اور اس کو دوحصوں میں چیر دیا جاتا۔ لوہے کی کنگھیوں سے اُس کا گوشت نوچ کر ہڈیوں سے الگ کر دیا جاتا۔ مگر یہ ظلم بھی اُس کو اُس کے دین سے باز نہ رکھ سکا۔ 

بخدا، اللہ تعالیٰ اس معاملے کو مکمل کر کے رہے گا یہاں تک کہ سوار صنعاء سے چلے گا اور حضرموت تک آجائے گا کہ اُس کو اللہ کے خوف کے علاوہ کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ ہاں بھیڑبکریوں پر بھیڑیے کا خوف ہوسکتا ہے مگر تم جلدبازی سے کام لے رہے ہو! 

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ مفہوم کی گہرائی کا اندازہ کیجیے کہ یہ ظلم بھی انھیں اُن کے دین سے باز نہ رکھ سکا۔یہ صاحبانِ ایمان نہایت بُری طرح قتل کیے گئے اور صرف اس لیے کہ دین پر پختگی سے قائم تھے۔ اگر اُن میں سے کوئی دین کو چھوڑ دیتا تو قتل کا آلہ اُسی وقت اُس کے سرسے ہٹا لیا جاتا۔یہ ظالمانہ اور بہیمانہ قتل کوئی گناہوں کا خمیازہ نہیں تھا، بلکہ یہ حق و باطل کی کش مکش کا نتیجہ تھا۔ 

جب سیّدنا حمزہ ؓ کو نیزہ مارا گیا تو محض اس لیے کہ وہ ایمان لاچکے تھے۔ جب اُن کا سینہ چاک کیا گیا اور جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے تو اس لیے کہ صرف اُن کے قتل سے دشمنوں کے سینے ٹھنڈے نہ ہوئے تھے۔ سیّدنا حمزہؓ انھیں غزوئہ بدر میں غیرمعمولی تباہی کا مزہ چکھا چکے تھے۔ 

ذرا سوچیے، اس کا سبب کیا تھا؟ کفروشرک نہیں بلکہ توحید کا عقیدہ و ایمان! 

سیّدنا مصعب بن عمیرؓ، قریش کے جوانِ رعنا کے قتل کا منظر بھی دیکھیے کہ غزوئہ اُحد میں ان کے دونوں بازو کاٹ دیئے گئے، سبب کیا تھا؟ گناہ نہیں ایمان! 

جب وہ شرک پر تھے تو قریش کے سب سے وجیہ اور نمایاں نوجوان تھے مگر جب ایمان قبول کرچکے تو قریش ہی نہیں، بلکہ حقیقی ماں بھی خلاف ہوگئی۔ یہ اصل میں حق و باطل کا معرکہ ہے۔ 

قرآن کریم کی جمع و تدوین کا سبب جنگِ یمامہ کے روز شہید کیے جانے والے حفاظ صحابہؓ کا قتل بنا۔ مسلمانوں کو خدشہ لاحق ہوا کہ قرآن کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے والے صحابہؓ کی شہادتوں سے کہیں قرآن مجید ہی ناپید نہ ہوجائے۔کیونکہ یہی صحابہؓ قرآن کے حافظ تھے، اور یہی سرحدوں کے مجاہد اور محافظ! 

ان عظیم انسانوں کو محض اس لیے قتل کیا گیا کہ یہ اسلام کے علَم بردار تھے۔ میدانِ جہاد میں موجود تھے، ان کو گناہوں کے سبب قتل نہیں کیا گیا، بلکہ یہ ایمان تھا جس پر استقامت ان کے قتل کا سبب بنی۔ 

چلیے فرض کر لیتے ہیں کہ گنہگار مسلمان پر ہی کافر اور فاجر مسلط ہوتا ہے ، لیکن یہ کون کہتا ہے کہ بے گناہ اور نیک و پرہیزگار انسان بیٹھے رہیں اور یہ موقع اور حالات فراہم کرتے رہیں کہ اُسے قتل کر دیا جائے؟

وہ ریاست جو عالمی جنگ کی راکھ پر قائم ہوئی تھی، اور جسے لامحدود عرب حمایت حاصل تھی، وہ اس تاریک لمحے تک بھی پہنچ جائے گی؟ میں واضح الفاظ اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہتا ہوں، کیا اسرائیل تھوڑی مدت کے اندر اندر گر جائے گا۔ 

آج ہم جس چیز کا سامنا کر رہے ہیں وہ محض ’سیکورٹی کا بحران‘ یا ’سیاسی ناکامی‘ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زلزلہ ہے جو صہیونی منصوبے کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ 

تحریک حماس نے نہ صرف میدانِ جنگ میں فتح حاصل کی، بلکہ اس نے ’ناقابل تسخیر ریاست‘ کے افسانے کو بھی تباہ کر دیا، اور دنیا کے سامنے ہماری کمزوری کو بے نقاب کر دیا۔ 

ہم خون بہا رہے ہیں، مگر ہمارے لوگ بھاگ رہے ہیں۔یورپ، امریکا اور کینیڈا کی پروازیں مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں، سفارت خانے ہجرت کی درخواستوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ 

خاندان خاموشی سے اپنی جائیدادیں بیچ رہے ہیں، والد اپنے بیٹوں کو واپس نہ آنے کے ارادے سے بیرون ملک تعلیم کے لیے بھیج رہے ہیں۔ ہم کوئی ہجرت نہیں کر رہے… بلکہ ہم بھاگ رہے ہیں، ہاں، ہم ڈوبتے ہوئے جہاز سے چوہوں کی طرح بھاگ رہے ہیں۔ 

ذلّت کے مناظر روزانہ کا معمول بن گئے ہیں۔ 

کیمروں کے سامنے روتے ہوئے فوجی۔ 

زبردستی کے آبادکار شمال اور جنوب سے بھاگ رہے ہیں۔ 

وزیر چیخ رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں  ___ مگر کوئی فائدہ نہیں۔ 

اور پوری قوم کو سکون آور گولیوں پر رکھا جا رہا ہے۔ 

یہ کیسی ریاست ہے جو اپنے دارالحکومت اور اپنی بستیوں پر روزانہ بمباری ہوتی دیکھتی ہے اور جواب نہیں دے سکتی؟ 

یہ کیسی فوج ہے جو ہزاروں ٹینکوں کے باوجود ’غزہ کو گھٹنے ٹیکنے‘ میں ناکام ہو جاتی ہے؟ 

یہ کیسی قیادت ہے جو فتح کی بات کرتی ہے، جب کہ اندرونی طور پر ہم تباہ ہو رہے ہیں؟ 

حماس کی تحریک نے سب کچھ بے نقاب کر دیا۔ 

ہماری نسل نے فخر کیا، اور اس نفرت کی چنگاریوں کو بھڑکایا جو ہمیں اندر سے کھا رہی ہے۔ اندرونی سطح پر انتفاضہ قریب ہے، عرب خود پر اعتماد بحال کر رہے ہیں۔ 

اور ہم؟ ہم بکھرے ہوئے، خوف زدہ، اور اندر سے کھوکھلے ہیں۔ 

آج ہم ایک ایسی ہستی ہیں جس کا کوئی منصوبہ نہیں، کوئی سمت نہیں، کوئی جواز نہیں۔ ایک ایسی ریاست ہیں جس کی کوئی اخلاقیات نہیں، جو عام شہریوں کو قتل کرتی اور بچوں کو گرفتار کرتی ہے، اور پھر دنیا سے اس کے لیے تالی بجانے کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ 

مستقبل قریب میں اسرائیل اس طرح نہیں رہے گا جیسا کہ ہم آج اسے جانتے ہیں۔ 

شاید یہ ’محصور قلعوں کی ریاست‘ بن جائے، یا ایک ’مسلح یہودی علاقہ‘ جو امریکی تحفظ کے ٹکڑوں پر زندہ رہے۔ 

اور شاید مکمل طور پر اس کا سقوط ہو جائے، اور زمین اس کے مالکان کو واپس مل جائے۔ 

کیا میں مبالغہ کر رہا ہوں؟تاریخ سے پوچھو، ہر وہ استعماری منصوبہ جو قتل اور جھوٹ پر مبنی تھا، وہ مٹ گیا۔ ہر وہ ہستی جو ظلم پر قائم تھی، وہ تباہ ہو گئی۔ 

گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے۔ 

اور جب اسرائیل گرے گا … اور یہ ضرور گرے گا … تو دنیا اس لمحے کے بارے میں بات کرے گی جب ایک جوہری ریاست نے اپنی انسانیت کو ترک کر دیا تھا اور سب کچھ کھو دیا تھا۔ 

اور ہم، اگر ہم اب بھی بیدار نہیں ہوئے، تو ہمیں ایک ایسی احمق قوم کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو طاقت کے وہم میں جی رہی تھی،جب کہ دُنیا اسے گرتے ہوئے دیکھ رہی تھی! 

بے حُرمتی کا شکار فلسطینی لاشیں ’تشدد‘ کے عقوبت خانے سے منسلک! 

دنیا کہاں ہے؟ ہمارے تمام قیدی تشدد زدہ، ٹوٹی ہڈیوں اور کچلے اعضاء کے ساتھ واپس آئے، ایک فلسطینی مقتول کی والدہ۔ 

غزہ کی وزارتِ صحت کے حکام نے دی گارڈین کو بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے واپس کی گئی کم از کم ۱۳۵ مسخ شدہ فلسطینی قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے ایک ایسے بدنام زمانہ حراستی مرکز میں رکھی گئی تھیں، جو پہلے ہی تشدد اور حراست میں ہلاکتوں کے الزامات کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ 

وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البُرش اور خان یونس کے ناصر ہسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ ہر لاش کے تھیلے کے اندر ایک دستاویز موجود تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام لاشیں ’سدی تیمن‘ (Sde Teiman) نامی فوجی اڈے سے آئی ہیں، جو نیگیو صحرا میں واقع ہے۔ 

دی گارڈین کی جانب سے گذشتہ سال شائع کی گئی تصاویر اور عینی شہادتوں کے مطابق، فلسطینی قیدیوں کو وہاں پنجرے نما خیموں میں رکھا گیا تھا، آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں، ہاتھ پاؤں زنجیروں سے جکڑے گئے، ہسپتال کے بستروں سے باندھ دیا گیا اور ڈائپر پہننے پر مجبور کیا گیا۔ 

ڈاکٹر البُرش کے مطابق:’’لاشوں کے تھیلوں میں موجود ٹیگ عبرانی زبان میں تھے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ باقیات سدی تیمن میں رکھی گئی تھیں۔ کچھ کے بارے میں تو ڈی این اے ٹیسٹ کے ریکارڈ بھی وہاں کے تھے‘‘۔ 

گذشتہ سال اسرائیلی فوج نے سدی تیمن میں حراست میں ۳۶ قیدیوں کی ہلاکتوں کی تفتیش شروع کی تھی جو ابھی جاری ہے۔ 

امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ کے جنگ بندی معاہدے کے تحت، حماس نے جنگ کے دوران مرنے والے چند اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کیں، جب کہ اسرائیل نے اب تک ۱۵۰ فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی ہیں، جو ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد قید میں مارے گئے تھے۔ 

دی گارڈین کو دکھائی گئی فلسطینی لاشوں کی کچھ تصاویر [تشدد] کی خوفناک نوعیت کی وجہ سے شائع نہیں کی جاسکتیں۔ ان میں کئی مقتولین کی آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ پیچھے بندھے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تصویر میں ایک شخص کی گردن کے گرد رسی بندھی نظر آتی ہے۔ 

خان یونس کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ’’لاشیں دیکھنے سے واضح ہے کہ اسرائیل نے کئی فلسطینیوں کے خلاف قتل، فوری پھانسیاں اور منظم تشدد کے اقدامات کیے ہیں‘‘۔ ان شواہد میں شامل ہے کہ متعدد لاشوں پر نزدیکی فائرنگ کے نشانات اور ٹینکوں کے نیچے کچلے جانے کے آثار پائے گئے ہیں‘‘۔ 

ایاد برہوم، ناصر میڈیکل کمپلیکس کے انتظامی ڈائریکٹر، نے کہا کہ لاشوں پر نام نہیں بلکہ صرف کوڈ درج تھے اور شناختی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ 

اگرچہ کئی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان میں سے بیش تر فلسطینی قیدیوں کو قتل کیا گیا ہے، مگر یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ انھیں کہاں مارا گیا؟ سدی تیمن ایک ایسا مقام ہے جہاں غزہ سے لائی گئی لاشیں رکھی جاتی ہیں، لیکن یہ ایک قید خانہ بھی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ جاننے کے لیے تفتیش کی جائے کہ آیا ان میں سے کتنے افراد وہیں مارے گئے تھے؟ 

محمود اسماعیل شباط، عمر ۳۴ سال، شمالی غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی لاش پر گردن میں پھانسی کے نشانات اور ٹینک کے نیچے کچلے جانے کے آثار پائے گئے۔ اس کے بھائی رامی شباط نے اسے سر کی پرانی سرجری کے نشان سے پہچانا اور کہا:’’سب سے زیادہ دکھ یہ تھا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور جسم پر واضح تشدد کے نشانات تھے‘‘۔ 

اس کی والدہ نے کہا:’’دنیا کہاں ہے؟ ہمارے تمام قیدی تشدد زدہ ، ٹوٹی ہڈیوں اور کچلے جسموں کے ساتھ واپس آئے ہیں‘‘۔ 

کئی فلسطینی ڈاکٹروں کے مطابق: بہت سی لاشوں پر پٹیاں اور بندھے ہوئے ہاتھ اس بات کا اشارہ ہیں کہ انھیں سدی تیمن میں تشدد کے بعد قتل کیا گیا جہاں اسرائیلی میڈیا اور قیدخانے کے محافظوں کی شہادتوں کے مطابق، غزہ کے تقریباً ۱۵۰۰ فلسطینیوں کی لاشیں رکھی ہوئی ہیں‘‘۔ 

ایک گواہ نے دی گارڈین کو بتایا:’’میں نے دیکھا کہ غزہ سے ایک زخمی قیدی لایا گیا جس کے سینے میں گولی لگی تھی، آنکھوں پر پٹی، ہاتھ بندھے ہوئے، اور وہ بے لباس تھا۔ ایک اور مریض، جس کی ٹانگ پر گولی لگی تھی، بالکل اسی حالت میں پہنچا‘‘۔ 

دوسرے گواہ نے بتایا:’’ تمام مریض بستروں سے ہتھکڑیوں سے بندھے، بے لباس اور ڈائپر پہنے ہوئے، آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی حالت میں تھے۔ان میں سے کئی کو غزہ کے ہسپتالوں سے گرفتار کیا گیا تھا جب وہ علاج کروا رہے تھے۔ ان کے زخم گل سڑ گئے تھے، وہ درد سے کراہ رہے تھے‘‘۔ 

اس کے مطابق: ’’اسرائیلی فوج کے پاس ان فلسطینی قیدیوں کے حماس کے رکن ہونے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ بعض تو بار بار پوچھتے تھے کہ انھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟ ایک قیدی کا ہاتھ ہتھکڑی کے زخموں کے باعث گل گیا جسے کاٹنا پڑا‘‘۔ 

شادی ابو سیدو، فلسطینی صحافی (فلسطین ٹوڈے) نے بتایا: ’’مجھے ۱۸ مارچ ۲۰۲۴ء کو الشفاع ہسپتال سے اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا اور ۲۰ ماہ بعد رہا کیا ‘‘۔انھوں نے بتایا:’’مجھے ۱۰گھنٹے تک سردی میں بالکل ننگا رکھا گیا۔ پھر سدی تیمن منتقل کیا گیا، جہاں میں ۱۰۰ دن تک  آنکھوں پر پٹی اور ہتھکڑیوں میں قید رہا۔بہت سے قیدی مر گئے، کئی پاگل ہو گئے، کچھ کے اعضا کاٹ دیے گئے، ان پر جنسی و جسمانی تشدد کیا گیا۔ انھوں نے کتوں کو ہم پر چھوڑ دیا جو پیشاب کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ مجھے کیوں گرفتار کیا گیا ہے، تو انھوں نے کہا: ’’ہم نے تمام صحافیوں کو ماردیا، وہ ایک بار مرے۔ لیکن تم یہاں مرے بغیر سو بار مرو گے‘‘۔ 

نجی عباس، فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل (PHR) کے قیدیوں کے شعبے کے ڈائریکٹر نے کہا:’’تشدد اور بدسلوکی کے جو آثار اسرائیل کی جانب سے واپس کی گئی فلسطینی لاشوں پر پائے گئے ہیں، وہ ہولناک ہیں مگر حیران کن نہیں۔یہ اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں جو ہماری تنظیم نے گذشتہ دو برسوں میں بار بار بتائی ہے، خصوصاً سدی تیمن کیمپ میں جہاں فلسطینیوں کو منظم تشدد اور قتل و غارت کا سامنا رہا‘‘۔ 

’فزیشن فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق: اسرائیلی حراست میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد، تشدد اور طبّی غفلت سے اموات کے مصدقہ شواہد پیش کرتی ہے۔ اور اب واپس کی گئی لاشوں کے معائنے، سب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آزاد بین الاقوامی تحقیق فوری طور پر شروع کی جائے، تاکہ اسرائیل میں ذمہ داروں کا احتساب کیا جا سکے‘‘۔ 

دی گارڈین نے لاشوں کی تصاویر ایک اسرائیلی ڈاکٹر کو دکھائیں جنھوں نے سدی تیمن کے فیلڈ ہسپتال میں قیدیوں کے علاج کے حالات دیکھے تھے۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:’’ایک تصویر میں نظر آتا ہے کہ آدمی کے ہاتھ ممکنہ طور پر زپ ٹائیز سے بندھے تھے۔ بازوؤں اور ہاتھوں کے رنگ میں فرق ظاہر کرتا ہے کہ سخت بندش کی وجہ سے خون کی روانی رُک گئی تھی۔ یہ شخص زخمی حالت میں قید میں ہلاک ہو سکتا ہے یا گرفتاری کے بعد تشدد سے جان دی ہوگی‘‘۔ 

ڈاکٹر مورس ٹڈبال بنز، اقوام متحدہ کے فرانزک ماہر، نے کہا:’’ضرورت ہے کہ آزاد اور غیر جانب دار فرانزک ماہرین کی مدد سے ان لاشوں کا معائنہ اور شناخت کی جائے‘‘۔ 

جب اسرائیلی فوج سے تشدد کے الزامات پر پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’ اسرائیل کے محکمہ جیل خانہ سے تفتیش کا کہا گیا ہے‘‘۔ مگر اسرائیلی محکمہ جیل نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جب کہ اسرائیلی فوج کا موقف رہا کہ وہ قیدیوں کے ساتھ ’’مناسب اور احتیاط سے برتاؤ کرتی ہے‘‘ اور یہ کہ ’’بدسلوکی کے کسی بھی الزام کی تحقیقات کی جاتی ہیں، اور مناسب صورتوں میں فوجی پولیس مقدمات کھولتی ہے‘‘۔ 

اقوام متحدہ کے مطابق:’’ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد ۷۵ سے زیادہ فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں مارے جا چکے ہیں‘‘۔(روزنامہ گارڈین، لندن، ۲۱؍اکتوبر ۲۰۲۵ء) 

عزّت سے جئے تو جی لیں گے، یا جامِ شہادت پی لیں گے 

بروز جمعہ، ۱۸ ربیع الثانی ۱۴۴۷ھ کو پورے دو سال بعد غزہ کی جنگ کا ایک مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ دنیا کے لیے یہ دو سال صدیوں پر بھاری تھے اور حساس دل والوں کے لیے اس قدر تکلیف دہ تھے، جیسے خود ان کے اپنے سینوں میں خنجر گھونپ دیئے گئے ہوں۔ ان دو برسوں میں دنیا نے اپنی آنکھوں سے جو ہولناک مناظر دیکھے ،ان کے لیے انھیں بیان کرپانا مشکل ہے اوراپنے کانوں سے جو رپورٹس سنیں ان پریقین کرنا ناممکن ہے ۔ لوگوں نے غزہ میں ایسے ہولناک مناظر دیکھے جو بچوں کو بوڑھا کردیں، پہاڑوں کو متزلزل کردیں اور کمزور دل والوں کی دھڑکنیں بند کردیں۔ ان دوبرسوں میں پورا غزہ قتل کا میدان، موت کی وادی اور قیامت خیز حشرسامانی کا میدانِ کارزار بنارہا۔ 

لوگوں نے غزہ میں قتل وغارت گری اور قحط سامانی وفاقہ کشی جیسے ہولناک مناظر دیکھے۔ ایسے مناظر اس سے پہلے شاید ہی کبھی کسی نے دیکھے ہوں گے۔ اگر اہل غزہ کے جسموں میں ایسی روح نہ ہوتی جسے موت بھی آسانی سے نہیں مارسکتی، ایسا عزم نہ ہوتا جسے مہلک ہتھیاروں سے مغلوب نہیں کیاجاسکتا، اور اگروہ ایسے عزائم کے مالک نہ ہوتے جو ذلت وتسلط کو ناپسند کرتے ہیں اور غلامی کی زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں، تو شاید اس درندگی و بہیمیت کے ہاتھوں کچلے جانے والے دلوں میں اُمیدوں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ جاتے اورلوگوں کے دلوں سے رحم کا مطلب ہمیشہ کے لیے محو ہوجاتا۔ 

جب مجھے خبرملی کہ غزہ میں جنگ کے شعلے سرد پڑ گئے ہیں، تومیرے دل میں غزہ کا دورہ کرنے کاخیال پیدا ہوا۔ اس لیے نہیں کہ میں غزہ کے کھنڈرات دیکھنا چاہتا تھا، بلکہ اس لیے کہ غزہ کے نوجوانوں کے چہرے دیکھنا چاہتا تھا، ان کی زبانوں سے صبر وعزیمت کی داستانیں سننا چاہتا تھا۔ میں یہی آرزو لیے غزہ میں داخل ہوا۔ یہاں میں نے ایسی تباہی دیکھی جو عظمتوں کے قصے سناتی تھی، ایسے کھنڈرات دیکھے جو ایسی زبان میں بات کررہےتھے، جسے صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو آزاد اورباعزت زندگی کی اہمیت کو جانتے اور سمجھتے ہوں۔میں نے دیکھا کہ غزہ کی گلیوں سے ابھی تک بارود کی بُو اٹھ رہی ہے، غیر آباد اور ٹوٹے پھوٹے گھروں سے ابھی بھی دھوئیں کے مرغولے بلند ہورہے تھے، لیکن یہ عجیب بات تھی کہ اہل غزہ کے چہروں پر غموں کی پرچھائیاں نہیں تھیں۔ ان کے چہرے اور لب مسکراہٹوں سے سجے ہوئے تھے، جیسے وہ موت کی گھاٹی سے نکل کر خوابوں سے سجی زندگی کی روپہلی وادی میں آگئے ہوں، پہلے سے زیادہ تازہ دم اور پہلے سے زیادہ زندہ دلی کے ساتھ۔ 

میں نے یہاں لوگوں کوسراٹھاکر چلتے ہوئے دیکھا، جیسے وہ اس سرزمین کے بادشاہ ہیں۔ میں نے دیکھا کہ خواتین درد اور تکلیف کے باوجود خوشی سے جھوم رہی ہیں اور بچے ملبے کے درمیان ایسے دوڑتے پھررہے ہیں جیسے وہ جنت کے باغوں میں ہوں۔ میں نے دیکھا کہ لوگ خوشی سے مسرور ہیں۔ گویا ان پر کبھی کوئی مصیبت آئی ہی نہیں ، نہ انھیں محصور کیا گیا،نہ ان پر بمباری کی گئی اور نہ انھوں نے اپنے پیاروں اور جنت کے پھول جیسے بچوں کو کھویا ہے۔ میں نے ان کے درمیان چلتے ہوئے حیرت زدہ ہوکر ان کی آنکھوں میں دیکھا، ان میں فتح کی روشنیاں جگمگارہی تھیں۔ان کی آواز بلند اور پُرجلال تھی۔ میں نے ان کی زبانوں سے ایسا پُرکیف نغمہ سنا کہ میرا سینہ تشکر سے بھرگیا اور وجود اندر تک ہل گیا:’’ہم وہ قوم ہیں جو درمیان کی کوئی راہ نہیں جانتے،یا تو سربلند رہیں گے یا پھر شہادت کی موت مرجائیں گے‘‘۔ 

میرے قدم رُک گئے ، میں ان کے نغمات کو شوق وجستجو کے ساتھ سننے لگا۔ 

میں نے اپنے دل میں کہا: ’’اے دنیا کے بہادر ترین لوگو! سچ کہا تم نے ، واللہ! سچ کہاتم نے۔ تم نے عظمتوں کی راہ میں اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈالا۔بے شک جو جنتوں کے باغات کی تلاش میں ہوگا، انھیں یہ قیمت زیادہ نہیں معلوم ہوگی۔ تم دنیا میں سب سے بہادر قوم ہو،تمھارا مقام دنیا کے تمام لوگوں سے بلند ہے ، تم زمین پر چلنے والے ہر شخص سے زیادہ عظیم ہو۔ یہ تم ہی ہو جو خوفناک وادیوں میں بھی بے خوف وخطر کود پڑے۔ تم بھوکے پیاسے رہے یہاں تک کہ ٹینک، میزائل اور قیامت برساتی بندوقیں خون سے سیراب ہوگئیں۔ تم فاقہ کش رہے اور بھیڑیے اور گِدھ شکم سیر ہوتے رہے۔ 

تم سے کہا گیا کہ ’’ہتھیار ڈال دو یا ہجرت کرجاؤ ، یا پھر بے موت مارے جاؤگے‘‘۔ اورتم نے ڈرے اور ہچکچائے بغیر خطرات کا راستہ چُنا۔ تم عزیمت کی راہوں پر، جس میں قدم قدم پر موت گھات لگائے بیٹھی تھی، اس طرح خوشی خوشی اور ہنستے مسکراتے دوڑنے لگے جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کی طرف دوڑتا بھاگتا ہے۔ تمھیں یہ الزام دیا گیا کہ ’تم نے امن کے بدلے موت کو خرید لیا ہے‘، تو تم نے اس کا جواب دیا: ’خدا کی قسم! ہم نے خسارے کا سودا نہیں کیا‘۔ 

یارو! تم کیسے لوگ ہو آخر؟ تمھارے سینوں میں کیسے دل ہیں؟ واللہ ! میں نے اپنی زندگی میں ایسی قوم نہیں دیکھی، جو اپنے شہر کے کھنڈرات پر بھی فخر کے ساتھ کھڑی ہوسکے۔تمھارے روح ودل زخمی ہیں مگرتم خوشی کے ترانے گارہے ہو۔تمھارے اندرون میں آنسو ٹپ ٹپ گر رہے ہیں مگر تمھارے چہروں پر بشاشت اور مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے۔ تم زخموں سے نڈھال ہو مگرتمھارے چہروں پر کامرانی کا جوش وخروش ہے۔ 

 اے غزہ کے لوگو! تم نے صرف عسکری فتح حاصل نہیں کی ہے، تم نے ناقابلِ یقین کہانی تخلیق کرڈالی ہے، جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ تم نے دنیا کو بتایا ہے کہ عزت سے جینا کسے کہتے ہیں؟ اور انسانوں کو سمجھایا ہے کہ انسانیت کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ 

بے شک تم انسانیت کا سرمایہ اور فخر ہو۔دنیا تمھیں یاد کرے گی جب جب بھی وہ سنجیدہ ہوگی۔ جب دنیا پر یاس وغم کے بادل چھاجائیں گے تو وہ تمھارے اجلے اور روشن کردار سے روشنی حاصل کرے گی۔ دنیا جب جب فتنوں اور آزمائشوں سے بھر جائے گی اور لوگ مضطرب اور بے حال ہوجائیں گے، تو تم ان کے لیے اس چاند کی طرح ہو گےجس کے نکلنے کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے۔ تم نے دنیا کو بتادیا کہ آزادی بھیک میں نہیں ملتی بلکہ اسے زور بازو سے حاصل کیا جاتا ہے۔  تم نے دکھا دیا کہ عزیمت سے خالی زندگی ذلت کی موت کی طرح ہے اور یہ کہ فتح مصائب کی کوکھ سے ہی جنم لیتی ہے۔ 

اے غزہ کے لوگو! تمھاری ہمت وبہادری کو سلام، تم نے خش وخاشاک سے شرافت کے مینار قائم کردیے ہیں۔ تم نے بہتے زخموں سے لازوال نغمے تخلیق کرڈالے ہیں اور تم نے اپنے خونِ جگر سے ایسے قصیدے لکھ ڈالے ہیں جنھیں آسمان کی بلندیوں پر آویزاں کیا جائے گا۔  

اے غزہ کے لوگو! تمھارے صبر واستقامت کو سلام! تمھارا صبر بے مثال ہے۔ تمھاری عزیمتوں کو سلام! جو عزیمتوں سے بھی بلند تر اور ذیشان ہیں۔ 

اے غزہ کے جگرپارو! یہ تم ہی ہو جو شکست وہزیمت کے وقت ثابت قدمی اورپامردی کی زندہ علامت بن گئے اور جنھوں نے اپنے نحیف ونزار جسموں سے شرف و عزیمت کے فسانے لکھ ڈالے۔ روئے زمین پر تمھاری بہادری کی داستانیں نسل در نسل سنائی جاتی رہیں گی اور تمھارے ترانے آزاد وزندہ لوگوں کی زبانوں پر ہمیشہ اسی طرح جاری ر ہیں گے۔ کیا ہی خوب ترانہ ہے: ’’عزت سے جئے تو جی لیں گے، یا جام شہادت پی لیں گے ‘‘۔ 

 اے غزہ کے لوگو! یہ بس تمھارا ہی حوصلہ اور تمھارا ہی جگر ہے کہ تم نے ذلت وخواری کے بجائے سربلندرہنا پسند کیا ، یا پھر شہادت کی موت کی تمنا کی۔ جھکنے کے بجائے عزت نفس کے ساتھ رہنا پسند کیا اور باعزّت زندگی کو،گرچہ وہ مشکل ہو، ذلت آمیز عیش کوشی پر ترجیح دی۔ تمھیں اور تمھارے کردار کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وقت خواہ کتنا بھی طویل ہوجائے، مگر تاریخ یاد رکھے گی کہ غزہ میں ایک ایسی قوم آباد تھی، جو سر اٹھاکر جینا جانتی تھی اور جس نے یہ کرکے دکھا دیا۔ یہ تمھاری ہی شان ہے کہ تم نے ایک آواز کے ساتھ ایسا نعرہ دیا، جو کبھی بھلایا نہ جاسکے گا:’’ دیکھو! ہم یہاں ہیں، ہم صرف دو ہی باتیں جانتے ہیں، عزت کی زندگی یا پھرشہادت کی موت:  

’’عزّت سے جئے تو جی لیں گے، یا جام شہادت پی لیں گے‘‘۔