مضامین کی فہرست


دسمبر ۲۰۲۲

قومی و بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے مملکت خداداد پاکستان کے لیے ایک قومی لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میںہمیں اندرورنی و بیرونی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں ان کا مختصراً جائزہ پیش ہے:

  • عالمی حالات : سب سے پہلے بین الاقوامی حالات کو دیکھنا ضروری ہے۔ عالمی اسٹیج پر اگرچہ ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں نائن الیون کے سائے منڈلا رہے ہیں، لیکن اب اصل مسئلہ اس صورتِ حال سے باہر نکلنے اور آگے بڑھنے کا ہے۔ فریقین اس ضرورت کو تو محسوس کرتے ہیں لیکن باہر نکلنے کا راستہ ابھی واضح نہیں ہے۔ اس غیریقینی صورت اور بے عملی سے ہونے والے نقصانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آج تک کی صورتِ حال کے مطابق کچھ سنجیدہ کوششوں کے باوجود کوئی واضح حل سامنے نہیں آسکا۔ ایک طرف اس بحران کا حل تلاش کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ایک اور مسئلہ معاشی بحران کی شکل میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے۔

یہ مالیاتی بحران شروع تو ستمبر ۲۰۰۷ء میں ہوا لیکن بڑھتے بڑھتے آج ۲۰۲۲ء کے اختتام پر دُور دُور تک بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ اس مالیاتی بحران نے معیشت کے دوسرے شعبہ جات کو بھی متاثر کیا ہے اور اب یہ ایک کثیر الجہتی معاشی بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ بحران جو بنیادی طور پر نجی شعبے( بنکنگ، پراپرٹی، رئیل اسٹیٹ وغیرہ ) میں پیدا ہوا تھا، رفتہ رفتہ دوسرے شعبوں تک بھی پھیل گیا اور پیداوار، تجارت، عوامی قرضوں، روزگار، اور بجٹ خسارے وغیرہ پر بھی اس کے منفی اثرات مسلط ہوچکے ہیں۔ موجودہ نظام کو بچانے کے لیے ان حالات میں حکومتوں نے سرمایہ داروں کو جو معاشی سہارے (پیکج) دیے ہیں، انھوں نے اس سرمایہ داری نظام کے اندر ریاست کے کردار پر ہی سوال اٹھا دیے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بڑھتے بڑھتے قومی سطح پر معاشی بحرانوں کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ آج اس معاشی فساد سے کوئی یورپی ملک بھی محفوظ نہیں ہے۔ بے چینی اور اضطراب بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کو اب احساس ہو رہا ہے کہ یہ معاشی بحران، تہذیبی بحران میں بدل کر ہماری اخلاقی، سیاسی، انتظامی، اور اداراتی کمزوریوں کو سامنے لانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اس عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو بین الاقوامی سطح پر معاشی طاقت کا توازن بھی بدلتا جارہا ہے، جس میں ایشیائی اور لاطینی امریکی ممالک کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک بھی اپنے مسائل کے باوجود اس صورتِ حال میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یعنی پہلے جو بوجھ تھے وہ اب مضبوطی اور استقامت کی مثال سمجھے جا رہے ہیں۔ چین، جاپان، برازیل، بھارت، اور ترکیہ مستقبل کے اہم کھلاڑیوں کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ تو ہوا اس صورتِ حال کا ایک پہلو۔

 دوسرا پہلو جو ’بہار عرب‘ سے شروع ہوا تھا، اس نے یہ تصور اور گہرا کر دیا ہے کہ ساری دنیا تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں عوام اب اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے عوام ہی اس کی اصل طاقت ہوتے ہیں لیکن ماضی میں عوام کو اس حق سے محروم رکھا گیا اور اب وہ اس نظام میں تبدیلی کےخواہاں ہیں۔ خود نظریاتی میدان میں بھی اس سارے عمل کا ایک غیر متوقع نتیجہ برآمد ہوا ہے۔

اسلامی دنیا میں جب بھی کوئی حقیقی جمہوری عمل شروع ہوا ہے تو اس کے نتیجے میں مذہب خصوصاً اسلام کا رسوخ ہمیشہ بڑھا ہے۔ اس ضمن میں مجھے دو مغربی مفکرین کی رائے بڑی دانش مندانہ نظر آتی ہے، اگرچہ ان کا سیاق و سباق اور مقاصد مختلف ہیں۔ ولفریڈ کینٹ ویل سمتھ نے اپنی دو کتابوںاسلام تاریخِ جدید کے آئینے میں اور پاکستان بطور اسلامی ریاست میں کہا ہے کہ پاکستان یا دوسرے مسلم ممالک میں جب بھی جمہوری عمل مضبوط ہوگا، تو وہ اپنے ساتھ مذہبیت (اسلامائزیشن) ضرور لے کر آئے گا۔

۶۰ کے عشرے میں کی جانے والی اپنی تقریروں میں ڈاکٹر ہنری کسنجر نے بھی خوف میں لپٹے انھی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ عرب میں جمہوریت آنے سے اسلام کا سیاسی کردار مزید مضبوط ہو گا جو مغرب اور اس کے مفادات کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسے خدشات کے زیر اثر اس نے عرب ریاستوں کو مزید تقسیم کرنے اور یہاں نسلی و فرقہ وارانہ تحریکوں کو مضبوط تر کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ کسنجر کے خیال میں یہ حکمت عملی اسرائیل کے دفاع میں بھی کام آ سکتی ہے۔ کردوں، عربوں، ایرانیوں، اور ترکوں کے درمیان نسلی و فرقہ وارانہ تحریکوں کی حوصلہ افزائی اسی حکمت عملی کا ایک پہلو تھی۔ یہی کھیل اب عراق، افغانستان، پاکستان، ترکیہ اور عرب دنیا میں کھیلا جا رہا ہے۔ اپنے ملک کے لیے آیندہ کی حکمت عملی بناتے ہوئے عالمی منظر نامے کے ان پہلوؤں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

  • علاقائی تناظر: سوم یہ کہ ہمارے خطے کی صورتِ حال۔ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا پاکستان پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح عراق میں بدترین امریکی مداخلت اور بھارت کے ساتھ امریکا کی نئی صف بندی سے بھی ہم متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب چین بھی ایک محکم اور کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس کا اثر پاک چین تعلقات پر بڑا واضح ہے۔ ایک اُبھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اپنی سابقہ ترقیاتی حکمت عملی کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ، چین اب عالمی خصوصاً ایشیائی اور افریقی معاملات میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں ہمیں جو فوری چیلنج درپیش ہے وہ اگست ۲۰۲۱ء میں افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتِ حال کے حوالے سے ہے۔ اس مسئلے سے پہلو بچانا ہمارے لیے ممکن نہیں ، لیکن پھر بھی حالات جس طرف بڑھ رہے ہیں وہ انتہائی غیرمتوازن راستہ ہے۔ یہی معاملہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے تعلقات کا ہے، جن میں کوئی بھی خرابی مشرق وسطیٰ کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گی۔ ان حالات سے آنکھیں چرانا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ عالمی سطح پر امریکا اب چین کو اپنے مدِمقابل سے بھی زیادہ تصور کر رہا ہے، اور ایک نئے اقتدار کی جنگ کی طرف جارہا ہے، جس میں امریکا،چین کی قوت کو للکارنے کی راہ پر چلے گا۔

  • ملکی حالات: چہارم یہ کہ ہمارے ملکی حالات ہیں۔ زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو گذشتہ ۲۲برس بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس دورانیے کو دو اَدوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول، ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۸ء تک مشرف کا دور۔ دوسرا، ۲۰۰۸ء سے ۲۰۲۲ء تک زرداری، نواز اور عمران کا دورِحکومت۔ مشرف کا دور جمہوریت کے زوال، آمریت کے قیامِ نو، تمام ریاستی اداروں کے ایک فوجی حکمران کے سامنے سرنگوں ہونے، سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے فروغ، ملک کی نظریاتی سرحدوں کی کمزوری اور پاکستان کی آزادی و خودمختاری کے معاملے میں کچھ شدید قسم کے سمجھوتوں سے عبارت ہے۔

نائن الیون کے افسوس ناک واقعے اور اس کے بعد پاکستانی قیادت کے امریکا کے سامنے غیر مشروط طور پر سرنگوں ہو جانے سے نہ صرف پاکستان اور امریکا کے تعلقات بُری طرح متاثر ہوئے ہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری پر بھی سوال اٹھے اور ہمیں شدید جانی و مالی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑا ہے۔ پاک۔بھارت تعلقات میں بھی کچھ ایسی تبدیلیاں آئیں، جو پوری کی پوری بھارت کے مفاد میں گئی ہیں۔ ہمارے بنیادی مسائل یعنی مسئلۂ کشمیر اور مسئلۂ آب نظر انداز ہوگئے۔ ان مسائل کے لیے غیر روایتی حل بھی پیش کیے گئے لیکن وہ سب فریب ثابت ہوئے۔ مختصر یہ کہ پاکستان کو سیاست، معیشت، امن و امان، قومی یکجہتی، ثقافت اور نظریاتی سطح پر غرضیکہ ہرشعبے میں نقصان اٹھانا پڑا۔

۲۰۰۸ء کے انتخابات تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہو سکتے تھے۔ آغاز میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوام کو امید کی راہ دکھائی تھی، لیکن رفتہ رفتہ یہ امیدیں دم توڑ گئیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس نیم جمہوری دور میں زیادہ وقت حکومت اور اپوزیشن کے باہم جنگ و جدل اور فوج کی مداخلت نے پورا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ ہی ہلا کر رکھ دیا۔ اس صورتِ حال میں جس دانش مندی، دُوراندیشی اور صلاحیت کی ضرورت تھی، افسوس کہ فوجی اور سیاسی قیادت، دونوں نے عوام کو بُری طرح مایوس کیا۔

ان دو اَدوار میں ہونے والے واقعات کا نتیجہ اس بحران کی شکل میں برآمد ہوا ہے، جس سے آج ہمارا ملک گزر رہا ہے۔ موجودہ پارلیمان کی مدت ختم ہو رہی ہے اور نئے انتخابات کا شہرہ ہے۔ اس ملکی بحران کی نوعیت اور گہرائی کیا ہے؟ اس ضمن میںکچھ باتیں عرض ہیں:

  • اہلیت کا بحران: سب سے پہلے ہمارے سامنے قانونی اہلیت یا حکومت کے جواز کا بحران ہے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کے پاس حکومت کرنے کا ایک قانونی جواز موجود ہو۔ پہلے مشرف کے پاس یہ جواز موجود نہیں تھا۔ موجودہ حکومت اگرچہ منتخب حکومت ہے اور جمہوریت یا جمہوری اداروں کا ایک تاثر بھی موجود ہے، لیکن یہ حکومت بھی اخلاقی و سیاسی جواز سے عاری ہے۔ عوام اور قیادت، مختلف اداروں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ نظریۂ ضرورت کے تحت بنا ہوا ایک عارضی بندوبست ہے، نہ جس کے خیالات میں یکسانیت ہے اور نہ مقصد و عمل میں یک رنگی۔ جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہے وہ باہمی تعاون، اشتراک اور باہمی عمل کا جذبہ ہے۔ تمام بڑے ادارے یا تو ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں یا ایک مشکل قسم کے باہمی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کا حکومت اور حکومتی اداروں پر اعتماد اگر مکمل طور پر ختم نہیں بھی ہوا، تو کمزور ضرور ہوچکا ہے۔

اس ضمن میں صرف اعلیٰ عدلیہ کو کچھ استثنا حاصل ہے۔ میڈیا نے کچھ مثبت کردار ادا کیا ہے لیکن اس کا دائرہ بڑا محدود اور انتشار کا شکار ہے۔ فوج کو روایتی طور پر عوامی اعتماد حاصل رہا ہے لیکن اب ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں شمولیت اور سول ، سیاسی اور انتظامی اداروں میں  خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے دخل اندازی کے بعد یہ ادارہ بھی بُری طرح متنازع ہو چکا ہے۔ جواز کا یہ بحران انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگلے انتخابات جلداز جلد اور مکمل طور پر شفاف ہوں۔ لوگوں کا اعتماد رکھنے والی ایک نئی سیاسی قیادت ہی اس ملک کو کسی مثبت سمت میں لے جا سکتی ہے۔

  • دیانت  کا  بحران: معاملے کی دوسری جہت دیانت کا بحران ہے۔ یہ پہلے بحران سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اگرچہ عدم اہلیت کا بحران بھی بددیانتی کے ہی زمرے میں آتا ہے، لیکن یہ اس سے بڑا مسئلہ ہے۔ بات کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ دیانت کی بنیاد، دُور اندیشی، کردار ، اعتماد اور غیرمتزلزل ایمان داری پر استوار ہوتی ہے۔ موجودہ اتحادی حکومت سیاسی، نظریاتی اور اخلاقی میدان میں دیانت داری کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکمران طبقے کی دیانت پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر عوام کی اکثریت یہ یقین رکھتی ہو کہ فیصلے ان کے مفاد کے علاوہ کسی اور چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں، تو ان کی نظر میں حکومتی دیانت کا کیا تصور باقی رہ جائے گا؟ ہمارے خیال میں اس معاملے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ فوج کی قیادت بھی اپنی دیانت داری کے تصور کو تقریباً کھو چکی ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی فضا مضبوط ہورہی ہے۔اس کی سب سے خطرناک علامت یہ سامنے آئی تھی کہ مشرف کے دور میں فوج کو باقاعدہ حکم نامہ جاری کرنا پڑا کہ وردی میں ملبوس سپاہی عوامی ٹرانسپورٹ میں سفر نہ کریں۔ اس سے زیادہ خطرے کی بات کیا ہو سکتی ہے؟ آج شاید صورتِ حال اتنی خراب نہ ہو، لیکن اتنی اچھی پھر بھی نہیں۔ یقیناً یہ ایک بڑی خطرناک صورت ہے جس نے فوج کے وقار کو مجروح کیا ہے لیکن اس سے نپٹنے کے لیے حقیقت پسندانہ اور مفید طریقے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر ہم علامات کو ٹھیک کرنے کے بجائے بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کریں۔

اس معاملے میں امریکی کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کی طرح عسکری قیادت بھی امریکی اشاروں پر چلتی ہے۔ لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ہماری کوئی بھی پالیسی خالصتاً پاکستانی مفاد میں نہیں بنائی جاتی۔ چنانچہ اس طرح دیانت کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ متذکرہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں خوب غور و فکر کے بعد ایک سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو سیاسی قیادت میں تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ جب تک نئے تصورات رکھنے والی اور پاکستانی مفاد کو مدنظر رکھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل دینے والی ایک نئی قیادت سامنے نہیں آجاتی، ہمارا اس بحران سے نکلنا مشکل ہے۔

اس وقت سیاسی منظرنامہ پر تاریکی چھائی نظر آتی ہے لیکن کچھ پہلو اُمیدافزا بھی ہیں۔ تمام بڑے آئینی ادارے اگرچہ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں لیکن کم از کم چل تو رہے ہیں اور ان کی بساط میدان میں موجود ہے۔

اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کے معاملے میں بھی کچھ مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔اب اگرچہ عدلیہ آزاد ہو چکی ہے لیکن حکومت اور اس کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ بہت سے عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں ہوپاتا۔کچھ ایسے فیصلے ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت اور عدالتوں کے درمیان کوئی رسہ کشی چل رہی ہے۔ یہ ہمارے مستقبل کے لیے نیک شگون نہیںہے۔ حکومت، قانونی تقاضے پورے کرنے اور آئین کے اندر رہتے ہوئے ڈلیور کرنے میں ناکام ہو جائے تو عدالتی فعالیت (Judicial Activism) ضروری ہو جاتی ہے۔ عدلیہ کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے   ساتھ ساتھ حکومتی نا اہلی سے پیدا ہونے والے عوامی مسائل کے حل کی کوشش بھی کرنا پڑتی ہے۔ ان معاملات میں آئینی طور پر عدلیہ کو انسانی حقوق کی پاسبانی کا منصب دیا گیا ہے اور عدالتیں اس ذمہ داری کو اداکرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ معمول کی بات نہیں ہے بلکہ ملکی صورتِ حال میں پیدا ہونے والے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔

دوسری طرف عدالتی ضبط و تحمل (Judicial Restraint) بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی کہ عدالتی فعالیت اور ان دونوں کے درمیان ایک توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ ہمارے خیال میں ۱۹۷۳ء کے آئین میں دیا گیا بنیادی حقوق اور عدالت عظمیٰ کے ان کا پاسبان ہونے کا سارا تصور بڑا اہم ہے۔ اس کے پیچھے خیال یہ ہے کہ اگر غلط حکومتی اقدامات کے ذریعے عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جاتا ہے تو ان حقوق کی پاسبان ہونے کے ناطے یہ عدالت عظمیٰ ( صرف عدالت عظمیٰ) کا فرض ہے کہ وہ آگے آئے اور اپنا کردار ادا کرے۔ اس طرح ایک سیاسی مسئلہ بھی بنیادی حقوق کا مسئلہ بن سکتا ہے، اور جب ایسا ہوتا ہے تو یہ عدالت عظمیٰ کی عملداری میں آ جاتا ہے۔ آج سپریم کورٹ بار بار اپنا یہ حق استعمال کر رہی ہے کیونکہ حکومتیں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس عدالتی فعالیت کے اگرچہ مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن اگر یہ سب یونہی چلتا رہا تو مستقبل میںاداروں کے درمیان توازن بگڑنے کااندیشہ ہے۔ یہاں سے بات اچھی حکومت اور اچھے انتظام پر آ جاتی ہے۔ عدالتیں حکومت یا اس کے ذیلی اداروں کاکام نہیں کر سکتیں۔ یہ صرف نظام کے اندر رہتے ہوئے ہدایات دے سکتی ہیں، اور لاقانونیت کے خلاف تحفظ مہیا کر سکتی ہیں، حکومت کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔

تیسرا مثبت پہلو صحافتی آزادی اور میڈیا کا بڑھتا ہوا کردار ہے۔ ذرائع معلومات کے علاوہ میڈیا ایک ایسے پلیٹ فارم کا کردار بھی ادا کر رہا ہے، جس پر بحث و مباحث کے ذریعے پالیسی ساز اداروں پر کوئی اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ اسی طرح عوامی و سیاسی حلقوں میںشفافیت کو فروغ دینے میں بھی میڈیا کا ایک کردار ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ شعبہ بھی مفادپرستوں، زرپرستوں اور انتشار پسندوں کی دست برد سے محفوظ نہیں اور مختلف مقامی و بین الاقوامی لابیوں ، ثقافتی گروہوں، سیاسی دھڑوں اور طاقت ور اشرافیہ نے اسے بھی اپنے مقاصد پورا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس ضمن میں اشتہاروں کا لالچ بھی دیا جاتا ہے۔ ان کمزوریوں ، کوتاہیوں کے باوجود ایک آزاد میڈیا ملکی مفاد میں ہے، اور اس ضمن میں جو بھی بہتری ہوئی ہے اسے مثبت ہی سمجھنا چاہیے۔

  • گورننس، صلاحیت اور اعتماد کا بحران: تیسرا بڑا چیلنج جو ہمیں درپیش ہے وہ گورننس کا ایک بڑا بحران ہے جو تمام شعبوں میں واضح ہے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ آگے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اہلیت اور دیانت کے ساتھ ساتھ گورننس کا بحران ہمیں مدنظر رکھنا چاہیے۔

اہلیت اور دیانت اہم ہیں، لیکن صرف یہ دو خوبیاں کافی نہیں ہیں۔ اچھی گورننس کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اگر قیادت اور ادارے ڈلیور کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں تو اچھی گورننس کی امید رکھنا عبث ہے۔ اور جب صلاحیت کا یہ فقدان بدعنوانی کے ساتھ مل جائے تو بیڑا غرق سمجھیے۔ وطن عزیز میں گورننس کی ناکامی کی بہت سی وجوہ تلاش کی جا سکتی ہیں، مثلاً اہلیت، صلاحیت اور شفافیت کا فقدان، قانون کی عملداری نہ ہونا، میرٹ اور اصول و ضوابط کو نظرانداز کیا جانا، طاقت کا غلط استعمال اور دولت کی ہوس۔ کچھ قواعد و ضوابط یقیناً غلط ہو سکتے ہیں، لیکن اگر وہ قانونی طور پر موجود ہیں تو ان کا احترام بہرحال فرض ہے۔ اگر کھلے عام بار بار قانون کی خلاف ورزی کی جائے گی تو اچھی گورننس کی امید کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔ یہ اسی بدعنوانی اور نااہلی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں اچھی حکمرانی کی اُمید تقریباً ختم ہو چکی ہے اور یہ معاملہ پورے ملک کا ہے۔ اگر ہم کسی حقیقی تبدیلی کے امیدوار ہیں تو اس نا اہلی اور بدعنوانی کے خلاف سختی سے کارروائی کرنی ہوگی۔

 میں نا اہلی اور بدعنوانی کو جڑواں برائیاں سمجھتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں بدعنوانی کو اہلیت کے بالکل الٹ سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے اہلیت و صلاحیت کی تباہی کا نسخہ سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ یہ بھی بدعنوانی کی ایک نہایت کریہہ شکل ہے، لیکن بدعنوانی کو صرف مالی بے ضابطگی تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ طاقت کا ہر غلط اور بے جا استعمال بھی بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ بد عنوانی پورے ریاستی ڈھانچے کی تباہی کا باعث بنتی ہے اور کسی مؤثر قیادت کے ابھرنے کی ہر امید کو مسدود کردیتی ہے۔

چنانچہ اس لعنت کو اس کی جڑ (صلاحیت و دیانت کے فقدان) اور اس کے پھیلاؤ (لاقانونیت، اور بے ضابطگی) دونوں سطح پر ختم کرنا ضروری ہے۔ ایک ملک گیر سخت قسم کی مہم، پہلے مرحلے میں بدعنوانی میں کمی اور پھر رفتہ رفتہ اس کے مکمل خاتمے کا باعث ہو سکتی ہے۔ آیندہ قومی حکمت عملی میں اس پہلو کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

اس معاملے کا ایک اور پہلو جو مدنظر رہنا چاہیے وہ ہے ساکھ کا بحران۔ اہلیت یا ساکھ بنیادی طور پر ایک اخلاقی معاملہ ہے اور آدمی کے قول و عمل سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ معاملہ ریاستی انتظام کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ بہرحال ریاست کا انتظام افراد کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔

درج بالا مسائل اس وقت پاکستان کے لیے اہم ترین ہیں، لیکن ہمارا تجزیہ صرف انھی تک محدود نہیں رہنا چاہیے کیونکہ کچھ اور اہم مسئلے بھی ہماری توجہ کے متقاضی ہیں:

  • ہماری آزادی و خودمختاری : سب سے پہلے تو یہ بیان کر دیا جائے کہ متذکرہ بالا تمام خرابیوں کی موجودگی میں وطن عزیز کو اپنی بقا، آزادی و خودمختاری، قومی افتخار، اور اہم قومی مفادات کے دفاع کا مسئلہ درپیش ہے۔ ہماری آزادی، خودمختاری اور سالمیت خطرے میں ہے۔ اس تناظر میں آگے کی حکمت عملی بناتے ہوئے ہمیں ایک نیا دفاعی بندوبست بھی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اس دفاعی حکمت عملی کی بنیادہماری آزادی، خودمختاری، قومی وقار اور قومی مفادات کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔ ہمیں اس چیز کا احساس ہونا چاہیے کہ ہم کمزور ہوں یا طاقت ور، چھوٹے ہوں یا بڑے، چند قومی مفادات ایسے ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ملکی دفاع صرف عسکری دفاع تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی کئی جہتیں ہیں، جو سیاسی، انسانی، عسکری، ثقافتی، اور معاشی میدان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سیاق و سباق کو سامنے رکھتے ہوئے جو دفاعی حکمت عملی بنائی جائے، اس میں ملکی آزادی، خودمختاری اور سالمیت کو اولین اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
  • ثقافتی و نظریاتی شناخت: دوسرے اہم مسئلے کا تعلق ہماری نظریاتی، اخلاقی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ ہے۔ اس میدان میں بھی ہم کئی سمجھوتے کر چکے ہیں اور کئی دفعہ مار کھا چکے ہیں۔ کسی بھی قوم کے افراد سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ صرف چند سیاسی یا معاشی مفادات کی خاطر کوئی جدوجہد کریں اور اپنا سب کچھ قربان کردیں۔ لوگ اس سے بلند تر چیزوں کے لیے زندہ رہتے ہیں اور قربانیاں دیتے ہیں۔ چنانچہ دفاع و خودمختاری کے ساتھ ساتھ ہماری نظریاتی و ثقافتی شناخت بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی لیے اسلام بطور مذہبی شناخت ہمارے لیے نہایت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

موجودہ دور میں کئی مغربی مفکرین بھی اس بات کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ کسی بھی مسلم معاشرے کے لیے اس کا مذہب یعنی اسلام ایک جزو لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اسلام کو نظر انداز کر کے یا بگاڑ کر، معاشرے میں اندرونی و بیرونی امن کی امید رکھنا عبث ہے۔ سیکولر لابی یا مفاد پرست طبقہ جو بھی کہے، اس حقیقت کا ادراک کرنا ضروری ہے کہ اسلام ہی ہماری شناخت کی بنیاد ہے اور اگر اس بنیاد کو متزلزل کر دیا جائے تو عوام اور حکمران کبھی ایک صفحے پر نہیں آسکیں گے۔ چنانچہ یہ سمجھا جا سکتاہے کہ ایک ایسا ملک جو اندر سے ہی بے چینی کا شکار ہو، اچھی حکمرانی کی اُمید کیونکر ہو سکتا ہے؟

  • معاشی پہلو: تیسرا پہلو معیشت سے متعلق ہے۔ قوموں کی سیاسی و عسکری طاقت ان کی معاشی طاقت پر منحصر ہوتی ہے۔ آزادی و خودمختاری، قومی تشخص، قومی وقار، شخصی خوش حالی اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے معیشت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ دفاع اور معیشت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔فرد کی خوش حالی ہی کسی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے گذشتہ کچھ برسوں سے ہماری معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ تمام معاشی اشاریے منفی ہیں،لیکن اس کے باوجود اگر یہ ملک چل رہا ہے تو اسے اللہ کے خصوصی فضل اور عوامی استقامت کا پھل سمجھنا چاہیے۔ لوگوں کی ثابت قدمی اور ایک بڑی غیر منظم معیشت میں اپنے آپ کو بکھرنے سے بچانے کے عوامی جذبے نے ہمیں سنبھال رکھا ہے۔ یہی وجوہ ہیں کہ ہم غلط حکومتی پالیسیوں، توانائی کے بحران اور ہرطرف پھیلی بدعنوانی کے باوجود چلے جا رہے ہیں۔

معیشت کو جس طرح چلایا جا رہا ہے، اسے نا اہلی اور بد انتظامی کی بلندی کی آخری چوٹی ہی سمجھنا چاہیے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بے روزگاری اور غربت، اندرونی و بیرونی منڈیوں میں روپے کی گرتی ہوئی قدر، پیداوار میں کمی، سرمائے کی بیرون ملک منتقلی، بڑھتے قرضے اور ان پر بڑھتا سود،اور زر مبادلہ کے خالی ہوتے ذخائر ہماری معیشت کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں جس میں ملک کے معاشی دیوالیہ ہونے کا دھڑکا ہرآن لگا رہتا ہے۔ لوگ مشکل میں ہیں اور معیشت کا ہر شعبہ رُوبہ زوال ہے۔ صرف ایک مخصوص اشرافی طبقہ ہی خوش حالی اورامارت سے لطف اندوز ہو رہا ہے، جب کہ عوام تکلیف میں ہیں۔ سرکاری ادارے معیشت پر ایک مسلسل بوجھ بن چکے ہیں۔ ملکی قرضوں کی واپسی کے لیے کوئی سبیل بھی پیدا نہیں ہورہی ہے اور ان پر سود کی ادائیگی قومی بجٹ میں اولین نمبر پر آگئی ہے۔ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کے عشرے تک دفاعی اخراجات پر سب سے زیادہ رقم خرچ ہوتی تھی، اب قرضوں کی مد میں ادائیگیاں دفاعی اخراجات سے تقریباً دو،تین گنا ہو چکی ہیں۔

ترقیاتی اخراجات سے تقریباً تین گنا زیادہ رقم قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتی ہے۔ سماجی خدمات (Social Services) پر خرچ ہونے والی رقم اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ کسی بھی ملک کے لیے یہ انتہائی خراب صورتِ حال ہے اور اس صورتِ حال سے اسی صورت نپٹا جا سکتا ہے کہ اگر ملک کو ایک ایسی قیادت میسر آئے جو جانتی ہو کہ کیا کرنا ہے اور معیشت کو ٹھیک کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہو۔ اس وقت معیشت میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں پیداوار کو بڑھانے ، اپنے انسانی وسائل کو بہتر کرنے،بدعنوانی کے خاتمےاور اندرون ملک و بیرون ملک موجود وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ایک حکمت عملی تیار کرنا ہو گی۔ ان تمام تبدیلیوں کے ساتھ اچھی گورننس بھی ضروری ہے اور ہماری پالیسیوں کا رُخ بھی خود کفالت اور عوام کی طرف ہونا چاہیے کہ ان کے حق میں بہتر کیا ہے۔ ان بنیادی تبدیلیوں کے بغیر حالات کا بدلنا اور ہمارا اس بحران سے نکلنا تقریباً ناممکن ہے۔

  • وفاق اور صوبوں کے تعلقات : وفاق اور صوبوںکے درمیان اور پھر مقامی حکومتوں کے درمیان تعلق بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ اس وقت وفاق کی بنیاد وں کو کمزور کیے بغیر مقامی و صوبائی حکومتوں کی مضبوطی ہماری اہم ترین ضرورت ہے۔ اس شعبے میں آیندہ کے لیے ایک مکمل لائحہ عمل بنانا ضروری ہے، جس میں وفاق اور صوبوں خصوصاً بلوچستان کے خدشات کو بھی سامنے رکھا جائے۔ یہ لائحہ عمل ایسا ہونا چاہیے کہ تمام اسٹیک ہولڈر اس میں شامل ہوں، تا کہ اتفاق رائے سے معاملے کو سلجھایا جا سکے۔ ملک کے معاشی و مالیاتی نظام میں اگر کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہو تو وہ بھی کی جائیں،کیونکہ ہمارا موجودہ معاشی نظام، وفاقیت کے اصولوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ ملک میں اس وقت جو نظام موجود ہے، وہ کسی بھی لحاظ سے وفاقی نظام کی خصوصیات نہیں رکھتا۔

اس نظام میں بنیادی خامی یہ ہے کہ محصول اکٹھا کرنے کا سارا نظام وفاق کے پاس ہے۔ دوسری طرف اخراجات کے لیے ایک الگ نظام موجود ہےاور یہ نظام جن کے پاس ہے ان کا محصولات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ اس گورکھ دھندےکی وجہ سے معاشی نظام میں بہت سی خامیاں جنم لیتی ہیں۔ جب تک محصولات کے نظام کو بھی تقسیم نہیں کیا جاتا، معاشی ذمہ داری کے اصول کو پروان چڑھانا مشکل ہے۔ ملک کے معاشی ڈھانچے کو اَزسر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک اکٹھا کرنے کا اختیار وفاق کے پاس اور خرچ کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس رہے گا، بے ضابطگی پیدا ہوتی رہے گی۔ اس لیے ایک باقاعدہ اور منظم وفاقی نظام قائم کرنے کے لیے ملکی ڈھانچے میں کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔

  • نجی شعبے کا کردار: ان تمام معاشی مشکلات کے باوجود اگر ہم اپنی ترجیحات کو درست کرلیں اور اپنے وسائل کو خصوصاً سماجی اور سرکاری شعبے میںبہترین طریقے سے استعمال میں لے آئیں تو ہم ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے اہم کردار نجی شعبے کا ہو گا۔ تاریخ گواہی دے گی کہ جب بھی نجی شعبے کو پنپنے کا موقع ملا ہے، اس نے اپنا کردار مثبت اور تعمیری انداز میں ادا کیا ہے۔ تاہم بدعنوانی، مفادات کے ٹکراؤ، اچھی گورننس ، شفافیت اور احتساب کے فقدان کے باعث نجی شعبہ خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا ہے۔

ایک متوازن حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس کے تحت نجی شعبہ کو فعال اور سرکاری اداروں کو ذمہ داربنایا جائے۔ انفراسٹرکچر تیار کرنے،سماجی خدمات کی فراہمی اور معاشرے کے نچلے طبقوں کو معاشی نظام میں لانے کے لیے ریاست کا کرداربھی بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے دست کاروں ، کاشت کاروں، اور صنعت کاروں کو روزگار کی فراہمی بھی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ بڑی سطح پر معاشی استحکام کے علاوہ نچلے درجے پر معاشی ترقی اور معاشرے کے ہر فرد کو معاشی عمل میں شامل کرنے کے لیے ایک نیا معاشی ماڈل ضروری ہے اور اس ماڈل کی تیاری اس وقت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر بطور دانش وَر ہم اپنا کردار ادا کرتے ہوئے قومی مقاصد کی درست نشاندہی کے قابل ہو جائیں اور اپنے تصورات کو واضح انداز میں پیش کر سکیں تو شاید ہم آنے والی سیاسی قیادت کے لیے ایک لائحہ عمل متعین کر سکتے ہیں۔

بطور قوم ہم میں کسی صلاحیت کی کمی نہیں ۔ ہاں، سیاسی عزم، واضح مقصد، ایک سوچے سمجھے لائحہ عمل، اہل قیادت اور فعال اداروں کی کمی کا گلہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی قیادت کی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو معاشرے کی تعمیر میں اپنا متعین کردار ادا کرنے پر آمادہ کرسکے۔ چنانچہ آئیے ہم خود کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں اور پھر ان کے حل کے لیے کوششوں میں جت جائیں۔اگر ہم اگلے انتخابات میں نئی قیادت کو ایک قابل عمل لائحہ عمل فراہم کرسکیں تو میں سمجھوں گا کہ ہم اپنا تعمیری کردار ادا کرنےمیں کامیاب ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اب وقت آچکا ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ملک کو درپیش اہلیت، قیادت،گورننس اور صلاحیت کے بحران کو حل کرنے میں ہم اپنی قیادت کا ساتھ دیں تاکہ آیندہ دس سال پاکستان کے لیے ترقی و خوش حالی کے دس سال ثابت ہوں۔

بات ختم کرنے سے پہلے ہم چند دوسرے ضروری اُمورکی طرف بھی توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں۔

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پورے ملک میں کوئی مربوط معاشی پالیسی نہیں ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ مرکزی حکومت میں شامل جماعتوں، تحریک انصاف اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشترکہ معاشی پالیسی پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ ملک کی معیشت جن حالات سے دوچار ہے، اس میں ایک مربوط پالیسی وضع کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گئے ہیں، لیکن اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ملک کی سیاسی قوتوں کے درمیان دُوری، سیاسی تفریق کی شدت اور تصادم کی حددرجہ افسوس ناک فضا ہے، جسے حدود میں لانا ازبس ضروری ہے۔ اسی طرح اس امر کی بھی سخت ضرورت ہے کہ صوبوں میں ضلعی سطح پر بلدیاتی نظام کو دستور کے مطابق جلداز جلد وضع کیا جائے اور دستور کے مطابق وسائل کی تقسیم کے نظام کو بھی نچلی سطح پر انصاف اور حق کے مطابق فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ جب تک یہ چیزیں نہیں ہوتیں، قومی معیشت کو زمینی سطح پر درست کرنا محال ہے۔

پی ڈی ایم کی مشترکہ حکومت بھانت بھانت کا مجموعہ ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف، جماعتی مفاد سے بلند ہوکر قومی معیشت کی اصلاح کے لیے سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایک قومی حکمت عملی اختیار کریں۔

ہم بڑے دُکھ کے ساتھ یہ بات بھی کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی مباحثے کی سطح اتنی پست ہوگئی ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی یہ اتنی پست سطح پر نہیں گری تھی۔ قومی سطح پر یہ بڑے شرم کا مقام ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے ایک فطری امر ہے، لیکن جمہوریت میں اختلاف رائے کی معروف حدود ہیں۔ ہربات کو غداری اور ملک دشمنی کے رنگ میں پیش کرنا ملک و قوم کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ اس کی اصلاح کی بھی اشد ضرورت ہے:

زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا

ملک ہر اعتبار سے ایک نازک صورتِ حال سے دوچار ہے۔ دستور کی حدود کا احترام اور تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ نکالناوقت کی ضرورت ہے۔

وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۱۸۸ۧ  (البقرہ۲:۱۸۸) اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال نارواطر یقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمھیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصد اً ظالمانہ طریقے سے کھانے کومل جائے۔

عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍ وَ قَالَ ، قَالَ النَّبِیُ لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الرَّاشِیْ وَالْمُرْتَشِیْ وَفِیْ  رِوَایَۃٍ عَلَی الرَّائِشِ (بخاری، مسلم) حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رشوت دینے والے اور لینے والے پر اللہ کی لعنت ہے‘‘۔ایک روایت میں ہے کہ ان کے درمیان ’’دلالی کر نے والے پر بھی لعنت ہے‘‘۔

حرام کی کمائی کھانے والے دونوں جہانوں میں نقصان میں ہیں۔ آخرت کا نقصان تو آخرت میں ملے گا، لیکن اس دنیا میں بھی بجاطور پر نقصان ہوتا ہے۔اس کا کبھی انسان کو احساس ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ جیسے عوامی کہاوت ہے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ سب سے بڑا نقصان تو بے اطمینانی اور بے چینی کی صورت میں دامن گیر ہوتا ہے۔ کبھی مالی نقصان اورجانی نقصان ہوتا ہے اور کبھی اس دنیا میں انسان چھوٹ جا تا ہے، لیکن آخرت کی پکڑ باقی رہتی ہے۔

یہاں دو برائیوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے:ایک رشوت، دوسری ناجائز اور غلط سفارش۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے لفظ ’باطل‘ بیان کر کے تمام ناجائز طریقوں سے حاصل کیے ہوئے مالوں کو حرام قرار دیا ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (النساء۴:۲۹)اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ۔

lرشوت:معاشرے میں ایک دوسرے کے مال نا جائز اور حرام طریقے سے کھانے، لوگوں کے حقوق مارنے اور ایک دوسرے پر ظلم کرنے کا ایک عام طریقہ رشوت دینا اور رشوت لیناہے۔ ’رشوت‘ اس مال کو کہتے ہیں، جس کو کوئی شخص اپنی باطل غرض اور ناحق مطالبہ پورا کرنے کے لیے، کسی بااختیار شخص یا حاکم کو دے، تا کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے۔ اس طرح جو شخص کسی خدمت کا معاوضہ اور تنخواہ پا تا ہو وہ اس خدمت کے سلسلے میں لوگوں سے کسی نوعیت کا فائدہ حاصل کرے، جو اس خدمت سے متعلق ہو خواہ وہ لوگ برضاورغبت ہی اسے فائدہ پہنچائیں، بہرحال یہ بھی رشوت کے ضمن میں آتا ہے۔ اسی طرح اپنے عہدے اور ملازمت میں ہوتے ہوئے لوگوں سے ہدیے اور تحفے قبول کرنا، غیر معمولی اور غیر روایتی دعوتیں قبول کرنا یا دیگر غیر معمولی مراعات حاصل کرنا وغیرہ بھی رشوت ہی کی ایک قسم ہے۔

جس طرح رشوت لینا گناہ ہے، اسی طرح رشوت دینا بلکہ اس کام میں دلالی کرنا،رشوت لینے اور دینے میں مدد کرنا اور راشی ومرتشی کا کام آگے بڑھانا بھی گناہ ہے۔

رشوت کی ممانعت کے ساتھ ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکام کو تحفے تحائف اور ہدیے (Gifts) پیش کرنے اور حکام کو ان کے قبول کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

 ہَدَایَا الْعُمَّالِ غُلُوْلٌ، حکام جو ہدیے وصول کرتے ہیں یہ خیانت ہے۔

حدیث مبارک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتیہ نامی ایک شخص کو ’قبیلہ ازد‘ پر عامل بنا کر بھیجا۔ جب وہ وہاں سے سرکاری مال لے کر پلٹا تو اسے بیت المال میں داخل کرتے وقت اس نے کہا کہ ’’یہ تو ہے بیت المال کا اور یہ ہد یہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے‘‘۔ اس پر حضورؐنے ایک خطبہ ارشادفرمایا :

 تم میں سے ایک شخص کو اس حکومت کے کام میں جو اللہ نے میرے سپرد کی ہے عامل بناکر بھیجتا ہوں، تو وہ آ کر مجھ سے کہتا ہے کہ یہ تو ہے سرکاری مال اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ لوگ خود ہدیے دیتے ہیں تو کیوں نہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا کہ اس کے ہدیے وہیں پہنچتے رہتے؟(بخاری)

 ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ہم کسی سرکاری خدمت پر مقرر کریں اور اسے اس کام کی تنخواہ دیں، وہ اگر اس تنخواہ کے بعد اور کچھ وصول کرے تو یہ خیانت ہے۔ رشوت لینے اور دینے والے دونوں کے لیے رشوت کی سزا جہنم بتائی گئی ہے۔ فرمایا:

 الرَّاشِیْ وَالْمُرْتَشِیْ کِلَاہُمَا فِی النَّارِ (الحدیث)رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنم میں ہوں گے۔

حرام مال کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حرام مال کھا تا ہے اس میں برکت نہیں دی جاتی، اس کا صدقہ قبول نہیں کیا جا تا اور جو کچھ وہ پیچھے چھوڑ تا ہے، وہ اس کے لیے دوزخ کا ایندھن بنادیا جا تا ہے۔

ایک اور حدیث میں حضورؐ نے فرمایا: جس قوم میں سود پھیل جائے وہ قحط اور گرانی کی مصیبت میں ڈال دی جاتی ہے اور جس قوم میں رشوت پھیل جائے، اس پر رعب ڈالا جا تا ہے، یعنی ایسی قوم بز دل ہو جاتی ہے___ اپنے کسی ذاتی کام کے لیے بطور رشوت کوئی ہدیہ کسی کو دینا بھی اکلِ حرام میں شمار ہوتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ کسی آدمی نے کسی سے اپنی حاجت پوری کرنے کو کہا اور اس نے اس کی حاجت پوری کر دی، اور اُس نے ہد یہ بھیجا اور اس نے قبول کرلیا، تو یہ حرام ہے۔

رشوت اور ہد یہ وصول نہ کرنے کے بارے میں اسلام کا ایک ضابطہ ہے، اور اس کے تحت وہ کسی کو یہ وصول کرنے کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دیتا۔ آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ہمارا عامل ہے، وہ شادی کے اخراجات بیت المال سے حاصل کرے اور اگر اس کا نوکر نہ ہوتو اس کے لیے بھی وہ بیت المال سے رجوع کرے۔اگر رہنے کے لیے اس کا گھر نہ ہو تو اس کا انتظام بھی حکومت کے ذمے ہے۔اس کے علاوہ اگر وہ کچھ بھی حاصل کرے، تو خائن ہے یا چور ہے‘‘۔ یہی حکم ان حکام کا ہے جو معاملات میں ہدیہ اور تحفے لے کر کسی کی امداد یا اعانت کر یں، مثلاً بیع وشراء، اجارہ، مضاربت، مساقات اور مزارعت وغیرہ۔ اس قسم کے معاملات میں کسی قسم کا بھی ہدیہ اورتحفہ لے کر کام کریں تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ رشوت کا لین دین ہر حالت میں حرام ہے۔حتیٰ کہ کافر، مشرک، یہودی، ہندو کوئی شخص چاہے اپنا ہو یا پرایا، اس سے رشوت لینا یا اس کے ساتھ بے انصافی کرنا حرام ہے۔ اس سلسلے میں ایک ایمان افروز واقعہ سنیے:

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جنگ خیبر کے بعد وہاں کے یہودیوں سے زمین کی آدھی آدھی پیداوار پر مصالحت ہوئی تھی۔ جب پیداوار کی تقسیم کا وقت آتا تو آپ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو بھیجتے، وہ ایمان داری سے پیداوار کے دو حصے کر دیتے تھے اور کہہ دیتے تھے کہ ان دو میں سے جو چاہو لے لو۔ یہودیوں نے اپنی عادت یا قومی رواج کے مطابق ان کو بھی رشوت دینی چاہی۔ چنانچہ آپس میں چندہ کر کے اور اپنی عورتوں کے کچھ زیور جمع کیے اور کہا کہ یہ قبول کرو اور اس کے بدلے تقسیم میں ہمارا حصہ بڑھادو۔ یہ سُن کرعبداللہ بن رواحہؓ نے فرمایا: ’’اے یہودیو،خدا کی قسم! تم خدا کی ساری مخلوق میں مجھے مبغوض ہو۔ لیکن یہ مجھے تم پر ظلم کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتا اور جوتم نے رشوت پیش کی ہے وہ حرام ہے، ہم (مسلمان) اس کو نہیں کھاتے‘‘۔ یہودیوں نے ان کی تقریر سُن کر کہا کہ یہی وہ (انصاف) ہے، جس سے آسمان وزمین قائم ہیں۔ (مؤطا امام مالک)

حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں رشوت خوری کے لیے سخت سزا مقرر کر رکھی تھی، تاکہ اس بیماری کا پوری طرح سد باب ہو جائے۔اسی طرح رشوت کی روک تھام کے لیے انھوں نے دوسرے انتظامی ملازمین کی بڑی بڑی تنخواہیں مقرر کیں۔

lسفارش:دوسروں کے حقوق غصب کرنے کا ایک طریقہ سفارش ہے، جس کے لیے قرآن میں شفاعت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قرآن حکیم میں ہے:’’جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا‘‘۔ (النساء۴:۵۸)

اس آیت کریمہ میں شفاعت کی قسمیں بیان کی گئی ہیں:ایک یہ کہ جائز اور اپنے حق کے مطالبے کے لیے سفارش کی جائے۔ جب مطالبہ کرنے والا مجبوری کی وجہ سے خود بڑے بااثر لوگوں تک نہیں پہنچ سکتا تو یہ ایک جائز کام ہے۔لیکن اگر خلاف حق کے لیے سفارش کی جائے یا دوسروں کو اس کے قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، تو یہ نا جائز سفارش ہے۔اس لیے جو شخص کسی کے جائز حق اور جائز کام کے لیے سفارش کرے گا، تو اسے اس کا ثواب ملے گا، اور جوکسی ناجائز کام کے لیے سفارش کرے گا، تو اسے اس کا عذاب ملے گا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی کی سفارش کی اور اس پر اسے کوئی ہدیہ دیا، اور اس نے قبول کر لیا تو وہ سود کامرتکب ہوا‘‘۔

 ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا: جو شخص اپنی سفارش کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حدود (سزاؤں) میں سے کسی حد کے نفاذ کو روک دیتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے قانون کی مخالفت کرتا ہے۔

بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ قریش کو ایک مخدومی عورت کا بہت خیال تھا، اس نے چوری کی تھی۔ لوگوں نے کہا کہ کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کرے گا؟ بالآخر حضرت اسامہ بن زیدؓ نے رسولؐ اللہ سے اس بارے میں گفتگو کی۔ آپ ؐنے فر مایا:’’تم اللہ کی حدود میں سفارش کر تے ہو؟ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا: ’’اے لوگو، تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو وہ لوگ اسے چھوڑ دیتے تھے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اور قسم ہے خدا کی کہ اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتیں تو محمدؐ ان کے بھی ہاتھ کاٹ ڈالتے‘‘۔

حضرت امام مالکؒ اپنی موطا میں روایت کرتے ہیں کہ ایک جماعت نے ایک چور کو پکڑلیا، تا کہ اسے حضرت عثمانؓ تک پہنچا دیں۔ راستے میں حضرت زبیرؓ ملے۔ لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ حضرت عثمانؓ سے آپ اس کی سفارش کر دیں۔ حضرت زبیرؓ نے فرمایا: ’’جب حدود کا معاملہ سلطان تک پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ سفارش کرنے والے پر اور جس کے لیے سفارش کی جائے اس پر لعنت بھیجتا ہے۔ الغرض آج کی دنیا میں سارے فسادات کی جڑ رشوت خوری اور سفارش ہیں۔ جب تک حرام مال سے مسلمان اپنے آپ کو نہ بچائیں، ان کی باقی عبادات اور معاملات قابلِ قبول نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پرائے مال اور پرائے حق کی مغفرت اور بخشش نہیں ہوسکتی، جب تک صاحبِ مال اور صاحبِ حق خود معاف نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہر گناہ بالخصوص رشوت خوری اور نا جا ئز سفارش کی برائی سے نجات دلائے۔

ہوش مند اور باشعور مسلمان جو اپنے دین کے احکام کو اچھی طرح سمجھتا ہے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہترین معاملہ کرتا ہے۔ ان کے ساتھ سب سے زیادہ نیک برتائو اور اچھا سلوک کرتا ہے اور مہر بانی اور رحم وکرم کے ساتھ پیش آتا ہے۔ پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کے سلسلے میں وہ اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھتا ہے۔اس لیے وہ پڑوسی کے بارے میں اسلام کی بیش قیمت تعلیمات اور بے بہا وصیتوں کو اپنے ذہن میں ملحوظ رکھتا ہے اور باہمی تعلقات کا مرتبہ جو اسلام نے عطا کیا ہے اسے پیش نظر رکھتاہے۔ اسلام نے پڑوسی کو اتنا بلند مقام اور عالی مرتبہ عطا کیا ہے جتنا نہ اس سے پہلے کسی شریعت نے دیا، اورنہ اس کے بعد کوئی نظام ہی اس کی ہمسری کر سکا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتائو کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا۝۳۶ (النساء ۴:۳۶)اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئو، اور پڑوسی رشتہ دار سے ، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمھارے قبضے میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو۔ یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے۔

پڑوسی رشتہ دار سے مراد وہ شخص ہے جس کے ساتھ پڑوس کا تعلق ہونے کے ساتھ ساتھ نسب یا دین کا بھی رشتہ ہو، اور اجنبی ہمسایہ سے مراد وہ شخص ہے جس کے ساتھ نسب یا دین کا رشتہ  نہ ہو، اور پہلو کے ساتھی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو کسی اچھے کام میں شریک اور ہمراہ ہو۔

  • پڑوسی کا مقام: معلوم ہوا کہ جو شخص بھی تمھارے پڑوس میں ہے تم پر اس کا حقِ جوار ہے، خواہ تمھارے اور اس کے درمیان نہ کوئی نسب کا تعلق ہو اور نہ دین کا رشتہ ۔ اس میں پڑوسی کی تکریم اور اس کا احترام شامل ہے۔غور کرنے کا مقام ہے کہ اسلام کی تابناک شریعت نے پڑوسی کی کتنی عزّت افزائی کی ہے۔

اسی طرح بہت سی احادیث رسولؐ میں بھی بلا کسی تخصیص کے پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے، خواہ اس سے قرابت اور دین کا کوئی تعلق ہو یا نہ ہو، اور ان میں اسلام کے نزدیک پڑوسی کے تعلق کی اہمیت پرزور دیا گیا ہے۔ مثلاً: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

مجھے جبریلؑ برابر پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کا معاملہ کرنے کی وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میں یہ گمان کرنے لگا کہ وہ اسے وراثت کا مستحق قرار دے دیں گے۔(بخاری)

حضرت جبریل علیہ السلام کی وصیت کے بالمقابل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پڑوسی کے ساتھ اکرام واحترام کا معاملہ کرنے اور حُسنِ سلوک کا برتائو کرنے کی ترغیب دی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے حجۃ الوداع میں اپنے تاریخی خطبے میں (جس میں کہ ان تمام چیزوں کا خلاصہ پیش کر دیا تھا جن سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا تھا) پڑوسی کے بارے میں بھی وصیت فرمائی ، اور اس کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے پر زور دیا۔ آپؐ نے اس جانب اپنے صحابی حضرت ابو امامہؓ کو متوجہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی یہ سمجھنے لگے کہ آپؐ اسے وراثت کا حق دار قرار دے دیں گے۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ اس حالت میں مَیں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا:

’’(لوگو!) میں تمھیں پڑوسیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں‘‘۔آپؐ نے یہ اتنی بار فرمایا اور اتنا زو ر دے کر فرمایا کہ میں سمجھنے لگا کہ آپؐ اسے وراثت میںحق دار قرار دے دیں گے۔ (بخاری ،  مسلم)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنے اور اچھا برتائو کرنے کو اتنی اہمیت دی ہے کہ اس کے ساتھ اچھا برتائو کرنے اور اسے تکلیف نہ پہنچانے کو اللہ اور آخرت پر ایمان کی علامتوں میں سے ایک علامت اور اس کے بہترین نتائج میں سے ایک حتمی اور لازمی نتیجہ قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

جو شخص اللہ اور روز آخرپر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کرے، جو شخص اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے، جو شخص اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ خیر کے کلمات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔ (بخاری ،  مسلم)

’’جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے‘‘۔(بخاری)

  • پڑوسی کے ساتھ نرمی کا برتاؤ: اس میں کوئی تعجب نہیں کہ سچا مسلمان جو اس دین کی تعلیمات سے اپنے دل اور عقل کو روشن کرتا ہے، اپنے پڑوسی کے ساتھ نرم خو اور خوش خلق ہوتا ہے۔ رہن سہن میں بھلائی کے ساتھ پیش آتا اور معاملات میں نرمی برتتا ہے۔ اس کے پڑوسی کو اگر اس کے گھر سے کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو تو اسے روکتا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ’’کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے منع نہ کرے‘‘۔ (بخاری، مسلم)
  • پسند و ناپسند کی بنیاد:روشن بصیرت رکھنے والا اور اپنے دین کے نور سے رہنمائی حاصل کرنے والا مسلمان نرم دل ، بیدار مغز، خوش اخلاق اور ذکی الحس ہوتا ہے۔ اپنے پڑوسی کے احساسات میں شریک رہتا ہے۔ اس کی خوشی کو اپنی خوشی اور اس کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے۔ جو چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اس کے لیے پسند کرتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو اپنے لیے مشعل راہ بناتا ہے:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘۔

جب بھی اس کے گھر سے کسی چیز کے پکنے یا بھننے کی خوشبو آتی ہے تو وہ اپنے غریب پڑوسیوں کو فراموش نہیں کرتا بلکہ ان کا بھی خیال رکھتا ہے۔ اس پر شاق گزرتا ہے کہ اس کی ہانڈی کی خوشبو سے یا کسی چیز کے بھننے کی خوشبو سے اس کے تنگ دست پڑوسیوں کو تکلیف ہو کہ ان میں بھی لذیذ کھانے کی خواہش پیدا ہو اور وہ اپنی مفلسی اور تنگ دستی کی بنا پر اس کے حصول پر قادر نہ ہوں، جب کہ بسا اوقات ان میں ناسمجھ بچے، مفلس ، یتیم، مسکین، بیوہ اور بے بس بوڑھے ہوتے ہیں۔ چنانچہ سچا مسلمان ہمیشہ اجتماعی تکافل وتعاون کی اس روح کو بیدار رکھتا ہے جسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے نفس میں جاگزیں کیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا:’’اے ابو ذر !جب تم شور بے والی کوئی چیز پکائو تو اس میں شور با زیادہ کر دو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو‘‘۔(مسلم)

حضرت جابرؓ سے مروی ہے:’’اپنے پڑوسی کو اپنی ہانڈی کی خوشبو سے تکلیف نہ پہنچائو‘‘۔

سچے مسلمان کا وجدان یہ برداشت نہیں کرسکتا اور اس کی حس یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ اس کا پڑوسی تو تنگی ، فاقہ اور تنگ دستی میں ہو اور وہ فراخی ، خوش حالی اور عیش وآرام سے زندگی گزارے ۔ آخر وہ اپنے اور اپنے پڑوسی کے درمیان اس دوری کو کیسے گوارا کر سکتا ہے، جب کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنتا ہے:’’وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا جو آسودہ ہو کر سوئے اور اس کی بغل میں اس کا پڑوسی بھوکا ہو اور اسے معلوم بھی ہو‘‘۔(طبرانی،  بزار)

  • انسانیت کی بدبختی کا سبب:آج انسانیت جس شقاوت اور بدبختی میں گھری ہوئی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ سچا مسلمان زندگی کے میدان سے غائب ہے۔ اسلام کے عدل پر ور اصول ومبادی، خودساختہ اور پسماندہ اصولوں کے ڈھیر تلے چھپ گئے ہیں، جس سے انسانیت کو اس فضائی دور اور راکٹوں اور مصنوعی سیاروں کے عہد میں سوائے فقر وفاقہ، تنگ دستی وبدحالی، استحصال ، بھوک اور ننگے پن کے سوا کچھ نہ مل سکا، جب کہ انسان نے چاند پر بھی اپنی کمندیں ڈال دی ہیں۔

غور کرنے کا مقام ہے! کتنا زبردست فرق ہے اسلامی تہذیب میں (جس نے انسان کے لیے یہ تک پسند نہیں کیا کہ اس کی ہانڈی کی خوشبو سے اس کے پڑوسی میں لذیذ کھانے کی خواہش بھڑکے اور اسے تکلیف ہو) اور مغرب کی مادی تہذیب میں جس کی بدولت لاکھوں کروڑوں انسان بھوکوں مر رہے ہیں۔ مادی نظاموں کے پیچھے چل کر پریشان حال انسانیت کتنی بد بختی میں مبتلا ہو گئی ہے۔ مشرق و مغرب، ہر طرف انسانیت کس بے بسی کے عالم میں دم توڑ رہی ہے اور جاہلیت کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں بھٹک رہی ہے۔

ایسے میں مسلمان پر کتنی عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اُس نور کی مشعل کا حامل ہے جو نہ شر قی ہے نہ غربی ، کیونکہ اس سے جاہلیت کی تاریکیاں چھٹ سکتی ہیں اور صرف اسی کی روشنی سے دل و دماغ منور ہو سکتے ہیں اور انسانیت رشد وہدایت اور امن وسلامتی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔

پڑوسی کے ساتھ حتی الامکان نیک سلوک: دین حنیف کی تعلیمات کو سمجھنے والا مسلمان حتی الامکان اپنے پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی طرف سبقت کرتا ہے اور اپنے پڑوسی کو معمولی چیز ہدیہ کرنے کو بھی حقیر نہیں سمجھتا۔ جیسا کہ بعض ناسمجھ سمجھتے ہیں اور اسے حقیر سمجھ کر اپنے پڑوسی کو دینے سے گریز کرتے ہیں۔ چنانچہ خود بھی اجر سے محروم رہتے ہیں اور اپنے پڑوسی کو بھی خیر سے محروم رکھتے ہیں۔ اسی چیز کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر عورتوں کو متنبہ کیا ہے کیوںکہ بیشتر اوقات وہی اپنی پڑوسنوں کو کوئی معمولی ہدیہ دینے سے شرماتی ہیں۔ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا:’’اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو کوئی معمولی شے دینے میں حقارت نہ محسوس کرے خواہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو‘‘۔(متفق علیہ)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَيْرًا يَّرَہٗ۝۷ۭ  (الزلزال۹۹:۷) ’’پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جہنم کی آگ سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے‘‘ ۔(بخاری)

مذکورہ بالا حدیث کا سیاق عام ہونے کی وجہ سے اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معمولی چیز کو حقیر سمجھنے سے اس پڑوسن کو روکا جا رہا ہے، جس کو وہ چیز دی جائے۔ اس وقت اس حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ کوئی پڑوسن اس چیز کو حقیر نہ سمجھے جو اس کی پڑوسن نے اسے ہدیہ میں دی ہو خواہ وہ چیز قلیل اور معمولی ہی کیوں نہ ہو جیسے بکری کا کھر، بلکہ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس کا شکریہ ادا کرے۔ کیوںکہ ہدیہ پر شکر یہ ادا کرنے سے پڑوسیوں کے درمیان اُلفت بڑھتی ہے، اور ان کی زندگی میں باہمی تعاون اور باہمی ہمدردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہدیہ پر شکریہ ادا کرنا اسلامی اخلاق میں سے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تاکید فرمائی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے:’’جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کرتا‘‘۔(الادب المفرد)

  • حُسنِ سلوک میں مسلم اور غیرمسلم کی تفریق نہیں: باشعور مسلمان حُسنِ سلوک کو صرف قریبی یا مسلمان پڑوسیوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اس سے تجاوز کر کے وہ غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ بھی حُسنِ سلوک کا معاملہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام کی سماحت وفیاضی ، ادیان اور فرقوں کے اختلاف سے بالا ہو کرتمام انسانوں کے لیے عام ہے اور ان سب تک وسیع ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر وؓ کے یہاں جب بکری ذبح ہوتی ہے تو وہ اپنے غلام سے پوچھتے ہیں:کیا ہمارے یہودی پڑوسی کو ہدیہ کر دیا ہے؟کیوںکہ میں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:’’جبریلؑ مجھے پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کی برابر وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا کہ وہ اسے وراثت کا حق دار قرار دے دیںگے‘‘۔(احمد، ابوداؤد،  ترمذی)

اسی لیے مسلمانوں کے پڑوس میں اہل کتاب امن وسکون اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔انھیں اپنی جان ومال ،عزت وآبرو اور اعتقادات کے بارے میں کسی طرح کا خوف نہیں ہوتا تھا اور وہ حسن جوار،خوش معاملگی اور آزادیِ عقیدہ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۝۸ (الممتحنہ۶۰:۸) اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

قریب ترین پڑوسی کو مقدم رکھنا: اسلام نے پڑوسیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان ترتیب وتنظیم کا لحاظ رکھا ہے۔ چنانچہ اس نے پڑوسیوں کے درمیان اُلفت ومحبت اور اتحاد واتفاق برقرار رکھنے کے لیے دو قریبی اورملے ہوئے پڑوسیوں سے تعلق کی نوعیت کی رعایت کرتے ہوئے قریب ترین پڑوسی کو حُسنِ سلوک میں مقدم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان میں سے کس کو ہدیہ کروں؟ فرمایا: دونوں میں جس کا دروازہ قریب ہو‘‘۔(بخاری)

صحابہ کرامؓ نے پڑوسیوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں اس بلند نبویؐ ارشاد کو ذہن میں رکھا۔ چنانچہ وہ اپنے حُسنِ سلوک اور احسان واکرام میں دور کے پڑوسی کو قریب کے پڑوسی پر مقدم نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں:آدمی حُسنِ سلوک میں دور کے پڑوسی کو قریب کے پڑوسی پر مقدم نہ کرے بلکہ قریب کے پڑوس کو دُور کے پڑوسی پر مقدم رکھے (الادب المفرد)۔

پڑوسیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا معاملہ کرنے میں اس ترتیب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو پڑوسی مسلمان کے گھر سے دُور رہتے ہیں ان سے گردن موڑ لے اور صرفِ نظر کر لے، کیونکہ جو بھی اس کے گھر کے حلقے میں رہتا ہے وہ پڑوس کے رشتے میں داخل ہے اور حقِ جوار رکھتا ہے ۔ قریبی پڑوسی کو مقدم کرنے کی ترتیب محض تنظیمی ترتیب ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریبی پڑوسی کی نفسیات کی رعایت کی ہے۔ کیونکہ ان کے درمیان عام طور پر روابط، معاملات اور مستقل تعلقات رہتے ہیں۔ ورنہ پڑوس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ !میں بنی فلاح کے محلے میں رہنے لگا ہوں۔وہاں جس کا گھر میرے گھر سے سب سے زیادہ قریب ہے وہی مجھے سب سے زیادہ تکلیف پہنچاتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر ، عمر اور علی رضی اللہ عنہم کو بھیجا۔ وہ لوگ مسجد نبویؐ آئے۔پھر اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر زور سے اعلان کیا:

لوگو! جان لو کہ چالیس گھر تک پڑوس ہوتا ہے اور وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ اور مامون نہ ہو۔(طبرانی)

  • سچا مسلمان بہترین پڑوسی: پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک سچے مسلمان کی وجدان کی گہرائیوں میں پایا جانے والا ایک احساس ہے اور ایسا وصف ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں بھی فائق کرتا ہے اور لوگوں کے درمیان بھی امتیازی شان عطا کرتا ہے ، کیوںکہ سچا اور باشعور مسلمان جس نے اسلام کے شفاف سر چشمے سے سیرابی اور آسودگی حاصل کی ہو اور اس کی روشن تعلیمات اس کے دل میں جاگزیں ہو گئی ہوں، ساتھیوں میں بہترین ساتھی اور پڑوسیوں میں بہترین پڑوسی ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مصداق ہوتا ہے:’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو اور پڑوسیوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہو‘‘۔(ترمذی)

اسلام نے نیک پڑوسی کو مسلمان کے لیے سعادت قرار دیا ہے۔ اس کا پڑوس ، پڑوسی کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتا ہے اور سعادت وخوش بختی ، راحت، امن وسکون اور اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔ نیک پڑوسی کی عزت وتکریم اور عظمت ورفعت کے لیے یہی کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمان کی زندگی میں سعادت کا ایک رکن قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’مسلمان کی خوش بختی اور سعادت ان چیزوں میں ہے کہ اس کے پاس وسیع مکان ہو، نیک پڑوسی ہو اور آرام دہ سواری ہو‘‘۔(احمد ، حاکم)

نیک پڑوسی کا اسلاف کے نزدیک اس قدر عظیم مقام تھا کہ اس کے جوار کو وہ عظیم نعمت سمجھتے تھے جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ، اور اسے ایسی دولت سمجھتے تھے جس کے برابر دنیا کا کوئی سازو سامان نہیں ہو سکتا۔ حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے پڑوسی نے ایک لاکھ درہم میں اپنے گھر کا بھائو تائو کیا پھر خریدار سے کہا کہ یہ تو گھر کی قیمت ہے اور سعید کا پڑوس کتنے میں خریدو گے؟ جب حضرت سعید کو یہ معلوم ہوا تو انھوں نے اسے قیمت بھیج دی اور اسے وہیں باقی رکھا۔

یہ ہے اسلام میں پڑوسی کا مقام !اور یہ ہے نیک اور مسلمان پڑوسی کا روشن کردار! اب بداخلاق اوربدکردار پڑوسی سے متعلق احادیث بھی ملاحظہ کرتے چلیے۔

  • بُرا پڑوسی ایمان کی نعمت سے بے بہرہ: بُرا پڑوسی ایمان کی نعمت سے عاری اور محروم ہوتا ہے۔ ایمان مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس زندگی میں تمام فضائل کی اصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’اللہ کی قسم ! وہ شخص مومن نہیں ، اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ، اللہ کی قسم!وہ شخص مومن نہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کون؟ فرمایا: جس کا پڑوسی اس کے شرور (حدیث میں بوائق کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہیں دھوکے بازیاں اور شرارتیں) سے محفوظ نہ ہو‘‘۔(بخاری ، مسلم)

مسلم کی ایک روایت میں ہے:’’وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کا پڑوسی اس کے شر ور سے محفوظ نہ ہو‘‘۔

کتنا سنگین جرم ہے جس کا ارتکاب برا پڑوسی اپنے پڑوسی کے حق میں کرتا ہے۔  چنانچہ یہ جرم اسے ایمان کی نعمت سے عاری کر دیتا ہے اور دخولِ جنت سے محروم کر دیتا ہے۔

سچا، باشعور اور ہوشمند مسلمان ان نصوص کو کھلے دل اور بیدار ذہن کے ساتھ سنتا ہے۔ چنانچہ اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں کھٹکتا کہ وہ کبھی اپنے کسی پڑوسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرے، بغُض وعداوت رکھے اور مکروفریب سے کام لے، کیونکہ ایسا کرنے سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے اور آخرت میں ہلاکت مقدر ہو جاتی ہے۔ پھر کیا ایمان وآخرت کے خسارے سے بڑھ کر بھی کوئی خسارہ ہو سکتا ہے!یہ خیال آتے ہی متقی مسلمان کا دل لرزنے لگتا ہے۔

  • اعمال کا ضائع ہو جانا: پھر کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس کے بعد نصوص میں صراحت ہو کہ بُرے پڑوسی کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ اپنے پڑوسی کو اذیت وتکلیف پہنچانے کی صورت میں اس کی کوئی طاعت و بندگی اسے فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے نیک اعمال شرف قبولیت سے نہیں نوازے جاتے۔ کیوںکہ اسلام میں عمل صالح ہمیشہ ایمان کی بنیاد پر معتبر اور قابل قبول ہوتے ہیں اور گذشتہ حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ بُرے پڑوسی کا ایمان معتبر نہیں۔ چنانچہ خواہ وہ کتنے ہی اعمال کر ڈالے مگر وہ قابل قبول نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں ضائع کر دے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے بتلایا کہ اے اللہ کے رسولؐ! فلاں عورت رات میں نمازیں پڑھتی ہے اور دن میں روزہ رکھتی ہے۔ نیک اعمال کرتی ہے اور خوب صدقہ کرتی ہے مگر اپنی زبان درازی سے اپنے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس میں کوئی خیر نہیں، وہ اہل جہنم میں سے ہے‘‘۔

پھر لوگوں نے بتلایا کہ فلاں عورت صرف فرائض ادا کرتی ہے۔ پنیر(اس کے لیے حدیث میں اتوار کا لفظ آیا ہے) صدقہ کرتی ہے لیکن کسی کو اذیت نہیں پہنچاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’وہ جنتیوں میں سے ہے‘‘۔ اسے امام بخاری نے الادب المفرد میں روایت کیا ہے۔

بُرے پڑوسی کے بارے میں وعید سناتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین آدمیوں کے اعمال ضائع ہیں۔ ایک وہ امام جس کے ساتھ احسان کا برتائو کرو تو شکریہ نہیں  ادا کرتا اور کوئی غلطی سر زد ہو جائے تو معاف نہیں کرتا۔ دوسرا وہ پڑوسی جو اپنے پڑوسی میں کوئی خیر دیکھے تو خاموش رہے اور کوئی بُرائی دیکھے تو اس کا لوگوں میں چرچا کرے۔اور وہ بیوی جو شوہر کی موجودگی میں اسے تکلیف پہنچائے اور اس کی عدم موجودگی میں خیانت کرے۔(طبرانی)

اس طرح متقی اور باشعور مسلمان کے خیال میں بُرے پڑوسی کی گھنائو نی تصویر نقش ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہ اس سے دُور رہتا ہے۔

  • پڑوسی کے ساتھ گناہ سے بچنا:سچا مسلمان خاص طور پر اپنے پڑوسی کے ساتھ کسی گناہ یا خطا کا ارتکاب کرنے سے بچتا ہے۔ کیونکہ پڑوسی کے ساتھ کسی گناہ میں ملوث ہونا، دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بھیانک اور سنگین جرم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ آپؐ نے صحابہؓ سے زنا کے بارے میں سوال کیا۔صحابہؓ نے عرض کیا: حرام ہے۔ اللہ اور اس کے رسولؐ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:’’پڑوسی کی بیوی سے زنا دس عورتوں کے ساتھ زنا کے برابر ہے۔پھر آپؐ نے ان سے چوری کے بارے میں دریافت فرمایا:انھوں نے عرض کیا حرام ہے۔ اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا:’’آدمی دس گھروں سے چوری کرے، یہ آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ اپنے پڑوسی کے گھر سے چوری کرے‘‘۔(مسند احمد)

اسلام میں پڑوسی کی عزت وآبرو محفوظ ہوتی ہے، جب کہ دیگر قوانین اخلاق اور انسانی شریعتوں میں اس کا کوئی تصور ہی نہیں، بلکہ وہ خود ساختہ قوانین وشرائع سے پڑوسی کی عزت وآبرو سے کھیل کرنے کو آراستہ اور خوش نما بنا کر پیش کرتے ہیں کیوںکہ عموماً پڑوسی کی آبرو وعزت سے کھیلنا آسان اور سہل الحصول ہوتا ہے۔ اس میں زیادہ دِقّت اور دشواری نہیں ہوتی اور دوسروں کی آبرو سے کھیلنے کے مقابلے میں اس کے مواقع زیادہ ملتے ہیں۔ اس کا تصور جاہلیت کے زمانے میں بھی نہیں تھا، چہ جائیکہ اسلام میں۔ جاہلیت کا ایک عظیم اور غیرت مند شاعر کہتا ہے:

وَاَغُضُّ طَرفٰی مَا بَدَتْ لِیْ جَارَتِیْ
حَتّٰی یُوَارِیَ جَارِتِیْ مَا وَاھَا

( دیوان عنترہ)

[جب مجھے میرے پڑوسی کی بیوی دکھائی دیتی ہے تو میں اپنی نگاہیں جھکا لیتا ہوںاور اس وقت تک جھکائے رکھتا ہوں جب تک وہ اپنے گھر میں نہ پہنچ جائے۔]

اسلام نے اس پاکیزہ انسانی خصلت کو ہم میں پروان چڑھایا ہے۔ اس نے پڑوسی کا خیال رکھنے ، اس کی آبرو کی حفاظت کرنے، اس کے شرف کو محفوظ رکھنے، اس کے عیوب کو چھپانے ، اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے، اس کے محارم سے نگاہیں نیچی رکھنے اور اسے شک میں مبتلا کرنے والی اور ناگوار چیزوں سے دُور رہنے کا حکم دیا ہے۔

اس لیے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ برحق اور سچا مسلمان انسانی معاشروں میں بہترین پڑوسی کی حیثیت سے زندگی گزارتا ہے۔ بیدار ذہن اور روشن بصیرت رکھنے والے ذکی الحس اور پڑوسیوں کے بارے میں دین کے اخلاق اوراس کی بلند معاشرتی تعلیمات وارشادات کو یاد رکھنے والے مسلمان اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان اگر کبھی لڑائی جھگڑے کی نوبت آ جاتی ہے تو وہ اس کا ہزار بار حساب لگاتا ہے۔ کیوں کہ پڑوسیوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ برابر اس کے کانوں میں گونجتی رہتی ہے:’’قیامت کے روز سب سے پہلے جو دو جھگڑا کرنے والے پیش کیے جائیں گے، وہ دونوں پڑوسی ہوں گے‘‘۔(احمد، طبرانی)

  • خیر کا معاملہ کرنے میں کوتاہی نہ کرنا: راسخ الایمان مسلمان اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان اور خیر کا معاملہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ وہ اس کے لیے حفاظت ورعایت، محبت ومودت اور عزّت افزائی کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں کوتاہی نہیں کرتا اور ڈرتا ہے کہ کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان اس پر صادق نہ آ جائے جو آپؐ نے ناشکرے ، بخیل اور خیرو احسان کا معاملہ نہ کرنے والے پڑوسی کے بارے میں فرمایا ہے۔

قیامت میں بہت سے پڑوسی ایسے ہوں گے جو اپنے پڑوسی کو پکڑیں گے اور کہیں گے: اے رب!اس نے میرے لیے دروازہ بند رکھا اور خیرواحسان کا معاملہ کرنے سے باز رہا (الادب المفرد)۔ غور کیجیے کہ قیامت میں بخیل اور احسان نہ کرنے والے پڑوسی کا کیسی شرمندگی کا مقام ہوگا۔

 اسلام کی نظر میں مسلمان ایک بلند وبالا، پرشکوہ اور مضبوط عمارت کی طرح ہیں۔ اس امت کے افراد اس کی اینٹیں ہیں۔ ضروری ہے کہ اس کی ہر اینٹ مضبوط اور پیوستہ ہو اور دوسری اینٹوں سے مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی ہو تا کہ عمارت مستحکم ، راسخ اور مضبوط ہو، ورنہ عمارت میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔ وہ کمزور ہو جائے گی اور جلد ہی منہدم ہو جائے گی۔

اسلام نے اپنی اینٹوں کو مضبوط اور مستحکم تعلق سے پیوستہ رکھا ہے جس سے اینٹوں میں استحکام، مضبوطی اور پائیداری باقی رہتی ہے اور مسلمانوں کی عمارت انتہائی مستحکم اور مضبوط رہتی ہے، نہ وقتاً فوقتاًپیش آنے والے واقعات اسے متزلزل کر سکتے ہیں۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں مسلمانوںکے باہم اتحاد واتفاق، تعاون اور مواخات کی کتنی دل کش اور حسین تمثیل ہے:’’ایک مومن دوسرے مومن کے لیے مضبوط عمارت کی طرح ہے کہ بعض کو بعض سے مضبوطی اور استحکام حاصل ہوتا ہے‘‘۔ (بخاری)

دوسری جگہ ارشاد ہے:’’باہمی محبت ومودت ، لطف وکرم اور رحم وہمدردی میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کے کسی عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا بدن بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نیند اُچاٹ ہو جاتی ہے‘‘۔ (بخاری)

جو دین امت کے افراد کو اس حیرت انگیز حد تک باہم دگر متحد اور ایک دوسرے سے پیوستہ رکھتا ہے، اس کے لیے بدیہی ہے کہ وہ پڑوسیوں کے مابین بھی تعلقات کو مستحکم رکھے اور انھیں مودت ومحبت ، بِرّواحسان ، تکافل وتعاون اور خوش معاملگی کی مضبوط اور راسخ بنیادوں پر قائم کرے۔

  • لغزشوں اور اذیتوں پر صبر کرنا:ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے دین کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنے والا مسلمان اپنے پڑوسی کی نازیبا حرکتوں اور تکلیفوں پر صبر سے کام لیتا ہے۔ اگر اس سے کوئی کمزوری سر زد ہو تی ہے تو بھڑک نہیں اٹھتا ۔ اسی طرح اگر اس سے کوئی لغزش ہو جاتی ہے یا وہ کسی تقصیر میںمبتلا ہو جاتا ہے تو اس پر اس کی گرفت نہیں کرتا بلکہ عفوودرگزر سے کام لیتا ہے اور معاف کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ اللہ کی بار گاہ میں ثواب کی امید رکھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا عفو اور معافی اللہ کے یہاں ضائع نہیں ہوں گے بلکہ ان کے ذریعے اللہ کی محبت اور خوشنودی حاصل ہو گی۔

اس کی تصدیق حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث سے ہوتی ہے کہ جب ان سے حضرت مطرف بن عبداللہ کی ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا: اے ابوذرؓ!مجھے آپ کی یہ حدیث معلوم ہوئی تھی اور میں آپ سے ملنا چاہتا تھا۔ فرمایا: لوملاقات تو ہو گئی ۔ انھوں نے عرض کیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ سے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تین لوگوں سے محبت کرتا ہے اور تین لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔ حضرت ابو ذرؓ نے فرمایا:  میں نہیں سمجھتا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ رہا ہوں۔حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: وہ تین لوگ کون ہیں جن سے اللہ عزوجل محبت کرتا ہے؟ فرمایا: ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے جہاد کرے اور لڑتے لڑتے شہید ہو جائے۔ یہ چیز تو کتاب اللہ سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی): اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِہٖ صَفًّا كَاَنَّہُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ۝۴ (الصف۶۱:۴)’’اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا اور کون؟ فرمایا: دوسرا وہ شخص جس کا پڑوسی بداخلاق ہو اور اسے اذیتیں پہنچاتا رہتا ہو مگر وہ اس کی اذیتوں پر صبر کرے۔یہاں تک کہ اسے موت آ جائے....الخ( احمد ، طبرانی )

  • بُرائی کا جواب بُرائی سے نہ دینا:اس دین کی تعلیمات میں یہ بھی ہے کہ کوئی شخص پڑوسی کی برائی کا جواب برائی سے نہ دے، بلکہ اس کی اذیتوں پر جس حد تک صبر کر سکتا ہو کرے، یہاں تک کہ وہ اس سے باز آجائے اور تکلیفیں پہنچانا بند کردے۔ وہ جب اپنے پڑوسی کو دیکھے تو اس کی بُرائی کا جواب اس کے مثل برائی سے نہ دے، بلکہ صبر کرے، حلم وبردباری سے کام لے اور خوش معاملگی سے پیش آئے ، اور خدا کی قسم! یہ بلند ترین اخلاق اور پاکیزہ سیرت ہے اور نفوس سے برائی کی بیخ کنی کرنے کے لیے تربیت کا بہترین نفسیاتی اسلوب ہے۔

حضرت محمد بن عبداللہ بن سلامؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور  عرض کیا:مجھے میرے پڑوسی نے تکلیف پہنچائی ہے۔ فرمایا:صبر کرو۔وہ دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: مجھے میرے پڑوسی نے تکلیف پہنچائی ہے تو آپؐ نے فرمایا:اپنا سامان لے جاکر راستے میں ڈال دو اور جب کوئی شخص وہاں سے گزرے تو اس سے کہو کہ میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ اس طرح تمھارے پڑوسی پر لوگوںکی لعنت پڑے گی۔ جو شخص بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔(حیاۃ الصحابہ، ج ۴،ص۵۰)

  • پڑوسی کے حقوق پہچاننا:سچا مسلمان ہر لمحے اپنے پڑوسی کے حقوق پہچانتا ہے ، مصائب ومشکلات میں اس کی مدد کرتا ہے، اس کی خوش حالی میں خوشی ومسرت کا اظہار کرتا ہے ۔ اس کے رنج وغم اور خوشی وسرور میں شریک ہوتا ہے۔ اگر اس کا پڑوسی ضرورت مند اور محتاج ہوتا ہے تو اس کے ساتھ حُسنِ سلوک کرتا ہے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ۔ اگر اسے کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو اس کی عیادت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا اظہار کرتا ہے اور  بوقت ِضرورت اس کے کام آتا ہے ۔ اگر اس کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کے جنازے میںشریک ہوتا ہے۔ اس کے گھر والوں کو دلاسہ دیتا ہے اور اپنے خاندان کے احساسات کا لحاظ رکھتا ہے اور ان چیزوں سے احتراز کرتا ہے جن سے یہ احساس مجروح ہو یا کسی بھی حیثیت سے اسے ٹھیس لگے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:مجھ پر میرے پڑوسی کے کیا حقوق ہیں؟ فرمایا:

  • اگر بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو
  • اگر اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔
  • جب تم سے قرض مانگے تو اسے قرض دو اور جب کسی چیز کا ضرورت مند ہو تو اس کی ضرورت پوری کرو۔
  • جب اسے کوئی خیر حاصل ہو تو اسے تہنیت پیش کرو۔
  • جب اس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو اس کی تعزیت کرو،
  • بغیر اس کی اجازت کے اپنی عمارت کو اُونچی نہ کرو کہ اس کی ہوا رُک جائے۔ lاپنی ہانڈی کی خوشبو سے اسے تکلیف نہ پہنچائو اِلا یہ کہ اس میں سے اسے بھی کچھ دے دو۔
  • اگر کبھی پھل خریدو تو اسے بھی ہدیہ کرو۔ اگر ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو گھر میں خاموشی سے لے جائو اور احتیاط کرو کہ تمھارا بچہ اسے لے کر باہر نہ نکلے کہ اس کے بچے بھی اس کی ضد کرنے لگیں۔(طبرانی )

یہ ہے پڑوسی کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر!اور یہ ہیں اس کے بارے میں اسلام کی روشن اور عظیم تعلیمات !جن پر عمل کرنے کا اسلام ہر اس مسلمان سے مطالبہ کرتا ہے جو اسلام کی حقیقت کو سمجھتا ہو، اس سے پوری رہنمائی حاصل کرتا ہو، اور اس کے احکام وتعلیمات کو اپنے اُوپر اور اپنے خاندان پر منطبق کرنا چاہتا ہو۔

پھر کیا اس کے بعد بھی اس میں تعجب ہو سکتا ہے کہ بہترین مسلمان سچاپڑوسی ہو۔ ایسا پڑوسی جس کا کردار انسانی معاشروں میں سے سے افضل ، سب سے اعلیٰ اور سب سے نمایاں ہو!

حقائق، خدشات، حل

اس مضمون میں چند بڑے بنیادی سوال اُٹھائے گئے ہیں، جن پر ڈاکٹر شاہدحسن پہلے بھی متوجہ کرتے آئے ہیں۔ لیکن وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے، اور اس پر حکومت کی جانب سے عمل کی آمادگی نے اس ضرورت کو اور زیادہ بڑھایا ہے کہ ان کے اُٹھائے ہوئے سوالوں کا شافی جواب تلاش کیا جائے، اور موجودہ نظام کی خامیوں کو برقرار (perpetuate)نہ رکھا جائے، اور آگے بڑھنے سے قبل فوری طور پر ان کی اصلاح کی پختگی اور واضح شفافیت کے ساتھ تدابیر کی جائیں۔ اس لیے، اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ علما اور اسلامی معاشیات و مالیات کے ماہرین کا ایک بورڈ بنایا جائے، جو اس فیصلے کی روشنی میں درست طور پر اسلامی بنکاری نظام کے تمام خدوخال کو متعین کرے اور اس نظام کو محض وفاقی شرعی عدالت کی مبہم صورت سے نکال کر، حقیقی معنی میں ’شریعت کی بنیاد‘ (Shariah Based) بنائے۔ اس بورڈ کی رہنمائی اور اس کی تعمیل کا جائزہ پارلیمنٹ اور قوم کےسامنے وقتاً فوقتاً پیش کیا جائے۔ (ادارہ)

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ۹نومبر ۲۰۲۲ء کو یہ حیران کن بیان دیا کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان اور نیشنل بنک آف پاکستان وفاقی شرعی عدالت کے ۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء کےفیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ میں داخل کردہ اپیلیں فوری طور پر واپس لیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت سود کے خاتمے کے ضمن میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ جمعیۃ العلماء اسلام پاکستان، اسلامی نظریاتی کونسل اور چند ممتاز علمائے دین کی طرف سے اپیلیں واپس لینے کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ یاد رہے نجی شعبے کے تین بنکوں نے بھی وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔ اب تک ان بنکوں کی جانب سے اپیلیں واپس لینے کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔ چنانچہ انھی تین بنکوں کی اپیلوں کی وجہ سے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہوجائے گا۔ اس طرح اسٹیٹ بنک اور نیشنل بنک کی جانب سے اپیلیں واپس لینا ایک بے معنی مشق بن کر رہ جائے گا۔

اگر وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بنک کے دبائو پر نجی شعبے کے یہ تین بڑے بنک بھی اپنی اپیلیں واپس لیتے ہیں، تو اُس سے بھی ایک سنگین صورت پیدا ہوجائے گی، کیونکہ اپنے فیصلے میں وفاقی شرعی عدالت نے بغیرکسی تحقیق کے، اسلامی بنکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بنکوں میں رائج ڈیپازٹس، فنانسنگ اور سرمایہ کاری وغیرہ کی متعدد ایسی پراڈکٹس کو بھی شریعت کے مطابق قراردیا ہے، جو شرعی اصولوں سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتیں اور ان میں سود کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ اگر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی متعدد فاش غلطیوں کو سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کی جانب سے ٹھیک نہیں کیا جاتا، تو یہ دستورِ پاکستان کی شق ۳ اور ۳۸ (ایف) کی بھی خلاف ورزی ہوگی اور آیندہ کئی عشروں تک پاکستان میں ایک نہ ختم ہونے والی عدالتی کشاکش کے زیرسایہ رائج الوقت سودی نظامِ معیشت و بنکاری پوری آب و تاب سے پھلتا پھولتا رہے گا۔

اس تشویش ناک صورتِ حال کے پیش نظر ہم نے اسٹیٹ بنک اور بنکوں کی جانب سے اپیل دائر کرنے کے فیصلے کے فوراً بعد سپریم کورٹ کو خط لکھ کر استدعا کی تھی کہ ’’عدالت عظمیٰ ان اپیلوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرے اور وفاقی شرعی عدالت کے ۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء کے فیصلے میں اسلامی بنکوں کی شریعت سے متصادم بعض پراڈکٹس کو اسلامی اصولوں کے مطابق قرار دینے کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے‘‘۔

اب سے ۲۵برس قبل پاکستان کی وفاقی حکومت نے ۳۰جون ۱۹۹۷ء کو سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ سے استدعا کی تھی کہ ’’وفاقی شرعی عدالت کے ۱۹۹۱ء کے فیصلے کے خلاف ۱۹۹۲ء میں عدالت عظمیٰ میں دائر کردہ وفاقی حکومت کی اپیل واپس لینے کی اجازت دی جائے‘‘۔ شریعت اپیلیٹ بنچ نے حکومت کے سیاسی عزائم کو بھانپتے ہوئے اپیل واپس لینے کی وفاقی حکومت کی استدعا کو مسترد کر دیا تھا۔ اب ۲۵برس بعد تاریخ اپنے آپ کو دُہرا رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے ایما پر اسٹیٹ بنک اور نیشنل بنک نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیلیں واپس لینے کی جو استدعا کی ہے، اس کے مضمرات پر غور کرتے ہوئے اس درخواست کو مسترد کرکے ان اپیلوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔

وفاقی حکومت، اسٹیٹ بنک اور نیشنل بنک اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے (۲۸؍اپریل۲۰۲۲ء) میں متعدد سقم موجود ہیں۔ ان دونوں بنکوں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ ملک میں اسلامی نظامِ معیشت و بنکاری کے نفاذ میں ممکنہ حد تک تاخیر جاری رہے اور رکاوٹیں کھڑی رہیں، کیونکہ اس نظام سے طاقت ور اور مال دار طبقوں کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ یہ اپیلیں واپس لینے کے فیصلے سے موجودہ حکومت صرف سیاسی فائدہ حاصل کرناچاہتی ہے۔ ان اپیلوں کوواپس لینے کے باوجود متعدد وجوہ کی بناپر آنے والے برسوں میں معیشت سے سود کے خاتمے کے ضمن میں کسی معنی خیز پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان اپیلوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کو موقع ملے گا کہ وہ شرعی عدالت کے فیصلے میں پائے جانے والے سقم اور غلطیوں کو درست کرسکے۔

چند بنیادی  حقائق

مندرجہ بالا گزارشات کی مزید وضاحت کے لیے چند مزید حقائق پیش خدمت ہیں:

۱-    وفاقی شرعی عدالت نے اپنے ۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء کے فیصلے میں اسلامی بنکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بنکوں کی سود پر مبنی یا شریعت سے متصادم ڈیپازٹس اور فنانسنگ وغیرہ کی پراڈکٹس کو بلاتحقیق شریعت کے مطابق قراردیا ہے۔ چنانچہ، یہ اَزحد ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران ان پراڈکٹس کا باریک بینی سے جائزہ لے، خصوصی طور پراسپیشل مشارکہ پول، کرنسی سلم، کموڈیٹی مرابحہ، اور رننگ مشارکہ وغیرہ۔ اسلامی بنکوں کے نام سے کام کرنے والے اداروں میں رقوم جمع کرانے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی بنکوں کی جانب سے ان کی رقوم پر ملنے والا منافع حلال ہے، حالانکہ شریعت سے متصادم پراڈکٹس کی آمدنی سے جو منافع کھاتے داروں کو ملتا ہے، اس میں سود کی آمیزش ہوتی ہے۔

۲-    اسلامی بنک نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پرجمع کرائی گئی رقوم پر اپنے کھاتہ داروں کو منافع شرعی اصولوں کے مطابق نہیں دے رہے۔ ایک بنک کی جاری کردہ اسلامک بنکنگ آپریشنز کے شریعہ بورڈ کی رپورٹ میں یہ اعتراف موجود ہے کہ کھاتہ داروں کو منافع اسٹیٹ بنک کی ہدایات کے مطابق دیا جارہا ہے، یعنی شرعی اصولوں کے مطابق نہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ اسلامی بنک درحقیقت سودی بنکوں کے مقابلے میں بھی کم شرح سے منافع دے رہے ہیں،جب کہ ایکویٹی کے تناسب سے اسلامی بنکوں کی اوسط سالانہ شرح منافع، سودی بنکوں کی اوسط سالانہ شرح منافع سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ناانصافی اور استحصال کی واضح مثال ہے۔ اسلام میں سود کو حرام اس لیے بھی قرار دیا گیا ہے کہ ’’یہ ظلم و ناانصافی کا سبب بنتا ہے‘‘۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں اسلامی بنکوں کی اس پراڈکٹ کو شریعت کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کو اس بنیادی غلطی کو درست کرنا ہوگا۔

۳-اسٹیٹ بنک نے ۲۰۱۴ء میں جاری کردی سرکلر لیٹر نمبر۲ میں اسلامی بنکوں کو ’کرنسی سلم‘ یعنی کرنسیوں کی تاخیر یا مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر تبادلے کی اجازت دی ہوئی ہے، حالانکہ یہ ’ربا‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ اسٹیٹ بنک کے یہ احکامات اجماعِ اُمت کے خلاف ہیں۔ دُنیا بھر میں علما اس امر پر متفق ہیں کہ جس طرح سونے اور چاندی کے درمیان تبادلہ دست بدست ہونا چاہیے، اسی طرح دو مختلف کرنسیوں کے درمیان تبادلہ بھی دست بدست ہونا چاہیے۔ چنانچہ اگر یہ تبادلہ تاخیر سے ہو تو یہ ‘ربا‘ ہے۔

آج کل سودی بنکاری کے تحت دُنیامیں دو مختلف کرنسیوں کے تبادلے کثرت سے ہوتے ہیں، مثلاً ڈالر اور روپے کا تبادلہ اس طرح ہوتا ہے کہ ایک کرنسی کی سپردگی مستقبل کی کسی تاریخ میں ہوتی ہے۔ یہ ایک طرف سود کا دروازہ کھولتا ہے اور دوسری طرف سٹے بازی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ چنانچہ اسلامی بنکاری کے تحت سود سے بچنے کے لیے ان دونوں کرنسیوں کا تبادلہ دست بدست ہونا چاہیے۔ انٹرنیشنل فقہ اکیڈمی جدہ اور اسلامی مالیاتی اداروں کی اکائونٹنگ اور آڈٹنگ کی تنظیم (ایافی) کا بھی یہ متفقہ موقف ہے کہ ’’کرنسی میں مستقبل کے سودے نہیں ہوسکتے‘‘۔ چنانچہ کرنسی میں سلم اور مؤخر مرابحہ نہیں ہوسکتا۔ اصول یہ ہے کہ موجودہ زرنقدی (کاغذی کرنسی) پر وہی شرعی احکام لاگو ہوتے ہیں، جو سونے اور چاندی (دینار اور درہم) کے ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے (۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء) میں ’ربا‘ کی تین اقسام کا بھی ذکر کیا ہے، مثلاً گندم کا گندم سے تبادلہ، اگر برابر نہ ہو اور دست بدست نہ ہو تو وہ ’ربا‘ ہے۔ اسی طرح گندم کا جَو کے ساتھ مؤخر سپردگی کے ساتھ تبادلہ ’ربا‘ ہے۔ یہ اقسام اب دُنیا میں رائج نہیں ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت نے بہرحال یہ نہیں بتلایا کہ اگر روپے اور ڈالر یعنی دومختلف کرنسیوں کے درمیان تاخیر یعنی مؤخر سپردگی کی بنیادپر تبادلہ ہو تو یہ بھی ’ربا‘ ہے۔ اس طرح کرنسی سلم کو عملاً سند ِ جواز عطا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ کرنسی سلم کے تحت اسلامی بنکوں میں سودی کاروبار فروغ پاتارہے گا اور سودی کاروبار کی آمدنی سے اسلامی بنک اپنے کھاتے داروں کو منافع دیتے رہیں گے۔ سپریم کورٹ کے اپیلیٹ بنچ کو کرنسی سلم کی ممانعت کرنا ہوگی۔

۴-    سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے جون ۲۰۰۲ء میں ’ربا‘ کا مقدمہ وفاقی شرعی عدالت کے پاس واپس بھیجا تھا، اور یہ ہدایت بھی دی تھی کہ وہ بیرونی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور افراطِ زر کی روشنی میں انڈیکسیشن کے معاملے پر بھی فیصلہ دے۔ وفاقی شرعی عدالت نے اس حکم کی پابندی نہیں کی اور اس پیچیدہ مسئلے سے پہلو بچایا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران شریعت اپیلیٹ بنچ کو اس ضمن میں بھی فیصلہ دینا ہوگا، وگرنہ آنے والے برسوں میں یہ معاملہ پھر عدالتوں کے پاس جائے گا۔

۵-    سپریم کورٹ میں ۲۰۰۲ء میں سود کا مقدمہ زیرسماعت تھا، مگر فیصلہ اسلامی بنکاری کے نفاذ کا کیا گیا۔ اس پس منظر میں اب ۲۰۲۲ء میں بنکوں کی اپیلیں واپس لینے کا پُراسرار فیصلہ کیوں؟اب سے تقریباً ۲۰برس قبل جب سود کے مقدمے میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں زیرسماعت تھیں، تو ایک اعلیٰ اختیاراتی اجلاس کے فیصلے کے تحت اسٹیٹ بنک کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال ۰۲-۲۰۰۱ء میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ ’ربا‘ (سود) کا مقدمہ عدالت میں چلتا رہے گا، مگر اسٹیٹ بنک اسلامی بنکاری کے نظام کو سودی بنکاری کے ساتھ متوازی طور پر چلائے گا۔ علما و مفتی صاحبان یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بنکاری کا یہ متوازی نظام غیراسلامی ہے۔ یہ بات ہم نے اسی وقت بیان کردی تھی۔ اس متوازی نظام کو اسٹیٹ بنک کے شریعہ بورڈ کی آشیرباد حاصل ہی ہے۔ اس شریعہ بورڈکے سربراہ ڈاکٹر محمود احمد غازی اور مفتی تقی عثمانی بھی رہ چکے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ اب ۲۰۲۲ء میں بھی اسلامی بنکوں میں جو پراڈکٹس استعمال کی جارہی ہیں، ان میں سے کچھ میں سود کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے جس کی توثیق ۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں کردی گئی ہے۔

۶-    وفاقی شرعی عدالت نے ۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء کے فیصلے میں کہا ہے کہ کوئی بھی شخص یا ادارہ اگر یہ سمجھتا ہے کہ اسلامی بنکوں کی کوئی بھی پراڈکٹ شریعت کے مطابق نہیں ہے، تووہ کسی بھی وقت وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

اگر سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے وفاقی شرعی عدالت کے ۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء کے فیصلوں کی غلطیوں اور سقم وغیرہ کو درست نہیں کیا تو خدشہ یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں نیک نیتی یا بدنیتی سے کوئی بھی شخص یا ادارہ وفاقی شرعی عدالت میں اسلامی بنکوں کی متعدد پراڈکٹس کو غیراسلامی قرار دینے یا افراطِ زر اور انڈیکسیشن وغیرہ کے مسئلے کو اُٹھا کر، یا کسی اور متنازع معاملے کو جواز بنا کر وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ اور پھر اس مقدمے کا فیصلہ آنے میں برس ہا برس لگ سکتے ہیں، جب کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں بھی دائر کی جاسکتی ہے۔

اس سنگین صورتِ حال سے بچنے کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا شریعت اپیلیٹ بنچ ۲۸؍اپیل ۲۰۲۲ء کے فیصلے کے خلاف دوبنکوں کی اپیلوں کی واپسی کی استدعا مسترد کرکے ان کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرے اور ان ماہرین سے بھی معاونت طلب کرے، جنھوں نے ۱۹۹۹ء میں ’ربا‘ کے مقدمے میں اپنی گزارشات عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کی تھیں، تاکہ تمام متنازع اُمور نمٹا کر سود کے خاتمے کے ضمن میں حتمی اور جامع فیصلہ صادر کیاجاسکے۔

وفاقی حکومت کے کرنے کا اصل کام

آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شق ۳۸ (ایف) میں کہا گیا ہے: ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ (معیشت سے) جلد از جلد ربا کا خاتمہ کر دیا جائے۔ ہم تجویز پیش کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی منظوری سے اس شق میں یہ اضافہ کردیا جائے کہ ’’سود ہرشکل میں ربا کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔ اس کے بعد شرعی عدالتوں میں سود کے حرام نہ ہونے کا معاملہ زیربحث لایا ہی نہیں جاسکے گا۔

  • تنبیہہ :وفاقی وزیرخزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’’موجودہ حکومت وفاقی شرعی عدالت کے ۲۸؍اپریل ۲۰۲۲ء کے فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کرنے کی پوری کوشش کرے گی‘‘۔ اس کے تباہ کن مضمرات کا سوچ کر ہماری روح کانپ جاتی ہے کیونکہ اس سے ایک طرف اسلامی بنکاری کے نام پر سودی نظام فروغ پاتا رہے گا، اور دوسری طرف یہ حقیقی خطرہ موجود رہے گا کہ اسلامی بنکاری کے جھنڈے تلے رائج اس نظام کو آگےچل کر شرعی عدالتیں غیراسلامی اور سود پر مبنی قرار دے سکتی ہیں۔

زندگی اور موت، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اظہار کا ایک نہایت طاقت ور اور ہماری روزانہ مصروفیات میں بار بار سامنے آنے والا مظہر ہے۔ لیکن اللہ کی ان دونوں نشانیوں یعنی ’زندگی‘ اور ’موت‘ پر ہم غور نہیں کرتے۔ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بہت ہی قریبی رفیقوں کے ساتھ ربط و تعلق اور نامہ و پیام کی شاہراہ پر چلتے چلتے ان میں سے اچانک کسی ایک نہایت عزیز ہستی کے وجود کو موجود سے ناموجود بنتا دیکھتے ہیں۔ ۱۱نومبر ۲۰۲۲ء کو ہمیں اپنے نہایت عزیز، محترم، صاحبِ فہم و دانش بھائی ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے انتقال کی خبر سننا پڑی ___ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے چند ماہ کے اندر تحریکِ اسلامی نے پے درپے صدمات برداشت کیے ہیں، جن میں حاشرفاروقی، حسین خان، مولانا محمد یوسف اصلاحی، علامہ یوسف القرضاوی اور مولانا جلال الدین عمری نمایاں ہیں۔

نجات اللہ صدیقی کے پیکر میں ایک بڑے قیمتی انسان کو اللہ تعالیٰ نے اسلامی تہذیب اور تحریک اسلامی کے قافلے کا دل کش محور بنایا تھا۔وہ عمر میں مجھ سے تقریباً سات ماہ بڑے تھے [پ:۲۱؍اگست ۱۹۳۱ء] اور یہ اُن کی خوش قسمتی تھی کہ شروع ہی سے انھیں بہت اچھی تعلیمی سمت پر سفر کا آغاز کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ تعلیمی مواقع کوئی بڑے معروف اداروں یا بڑا باوسائل پس منظر نہیں رکھتے تھے۔ سائنس کی تعلیم کے ساتھ انھوں نے ۱۹۵۰ء سے ۱۹۵۳ء تک عربی زبان و ادب کا بھرپور فہم حاصل کیا۔ پھر مدرسۃ الاصلاح، اعظم گڑھ میں مولانا اختر احسن اصلاحی کی رہنمائی میں قرآن فہمی کی دولت پائی۔ ازاں بعد گریجوایشن اوّل پوزیشن میں پاس کی، اسی طرح ۱۹۶۰ء میں علی گڑھ یونی ورسٹی سے معاشیات میں ایم اے بھی اوّل پوزیشن ہی سے پاس کیا۔

۱۹۴۹ء میں علی گڑھ آئے تو مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال اورالبلاغ  کو پڑھا، پھر مولانا اشرف علی تھانوی کے بہشتی زیور کا بہت باریک بینی سے مطالعہ کیا۔ اسی دوران میں مولانا مودودی کے دو لیکچر ان کی نظر سے گزرے۔ پہلا لیکچر ’نیا نظامِ تعلیم‘ (۵جنوری ۱۹۴۱ء) ندوۃ العلماء لکھنؤ اور دوسرا وہ مضمون کہ جس میں مولانا نے علی گڑھ یونی ورسٹی کے نظامِ کار کی اصلاح کے لیے تجاویز دی تھیں۔ ان دو تحریروں نے نوعمر نجات اللہ کی زندگی کا دھارا بدل دیا اور انھیں زندگی بھر کے لیے تحریک ِ اسلامی سے وابستہ کر دیا۔

۱۹۵۵ء ہی سے میری اُن سے خط کتابت شروع ہوئی، جس میں اسلام اور تحریک اسلامی کے بڑے بنیادی مسائل پر تبادلۂ خیالات ہوتا رہا۔ اصل میں اُس وقت نجات اللہ صدیقی نے Islamic Thought کے نام سے ایک علمی پرچے کا آغاز کیا، جس نے اہلِ علم کی توجہ کھینچ لی۔ عمر اگرچہ اُس وقت اُن کی محض ۲۵برس تھی، لیکن دین اسلام کوپیش کرنے کے لیے ایک پُرجوش جذبہ ان کے پورے وجود میں موجزن تھا۔ اسی زمانے میں ہم یہاں کراچی سے Student's Voice کے بعد New Era اور Voice of Islam کی صورت میں پیغامِ حق کی وضاحت میں مصروف تھے، جس میں ظفر اسحاق انصاری اور مجھے، اہلِ علم کو اس جانب متوجہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بہرحال اسلامک تھاٹ کا ہمیں شدت سے انتظار رہتا تھا۔

مثال کے طور پر نجات اللہ صاحب کو اس بات کا شدت سے احساس تھا اور اس احساس میں، مَیں اُن سے متفق تھا کہ ہمیں اسلام کو پیش کرتے وقت قرآن و سنت اور سیرت و تاریخ اور عقل و فطرت، اور باہمی تجربات و مشاورت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے موجودہ حالات کا تجزیہ کرنا ہے۔ پھر آخرت کی جوا ب دہی کے کڑے معیار کو ہرلمحہ دل و دماغ پر تازہ رکھتے ہوئے، عصرحاضر میں معاملات کی باریکیوں کو سمجھنا ہے اور بہت سوچ سمجھ کر رائے دینا ہے، کیونکہ یہی تجدید دین کا راستہ ہے اور اسی راستے سے تحریک اسلامی، انقلاب کی راہیں کشادہ کرسکتی ہے، اور موجودہ زمانے میں دین کی مصلحت کو پیش کرسکتی ہے۔

ان موضوعات پر ہمارا یہ خیال اُس وقت بھی تھا اور آج بھی یہی خیال ہے کہ اگر ہم مذکورہ پیراڈائم (مثالیہ) کو اختیار کرنے کے بجائے روایتی طور پر روایتی علما ہی کی طرف رجوع کرتے رہے، یا اُسی طرزِ فکر کے سامنے ساکن کھڑے ہوکر رہ گئے تو دین کی فطری منشا اور دین کے حرکی و انقلابی پہلو کو مجروح کردیں گے یا کھو بیٹھیں گے۔ نجات اللہ کہا کرتے تھے کہ اسلامی تحریک، ایمان و ایقان کی بنیادوں پر ہرحال میں جم کر کھڑا رہنے کے بعد کسی ایک لگے بندھے لائحہ عمل کی پابند نہیں ہے۔ اس کے لیے اوّلین کام یہی ہے کہ وہ مقاصد ِ اسلام یا مقاصد ِ شریعت سے پختگی کے ساتھ وابستہ ہو۔ باہم مشاوت اور کھلے عالمی مکالمے کے بعد تجربات سے سیکھ کر اور کھلے دل و دماغ سے واقعات کا تجزیہ کرکے، نئے حالات میں، دینی روح کے مطابق اپنی بات کو نئے انداز سے، نئے مخاطبین کے سامنے رکھتے ہوئے حاضر دماغی، دانش مندی اور بھرپور فعالیت کو قدم قدم ساتھ رکھے۔

نجات اللہ اس احساس کے ساتھ کچھ تیزگام بھی تھے، جس کے نتیجے میں انھیں بعض صورتوں میں تنقید و احتساب کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے برعکس ہم ایک طرح کی احتیاط پسندی کے پابند رہے یا قدرے سُست گام۔

نجات اللہ بھائی جب بھی ملتے تو یہ پہلو زیربحث لاتے کہ مسلم معاشروں میں اصلاح کار کے لیے آواز بلند کرنے والے سبھی لوگ بدنیت اور دین کے دشمن نہیں ہیں۔ ہمیں ان کو دوطبقوں میں تقسیم کرکے دیکھنا چاہیے:

  • ان میں سے ایک بڑے طبقے میں تو قومی احساس کی جڑ بڑی گہری اور مضبوط ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ دین کےمطالعے کی کمی اور اسلامی تہذیبی اجتماعیت سے دُوری کے سبب دین کی مصلحت اور اس کے تقاضوں سے بے خبر ہے۔ اس طبقے کو اگر ہمدردی سے دین کی منشا سمجھائی جائے، تو وہ یقینا اپنے موقف کی خطرناکی اور ضرررسانی کو سمجھ جائیں گے اور اصرار نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ اس مقصد کے لیے ہمیں اُن سے مکالمے، گفتگو اور سماجی تعلقات میں گرم جوشی کا دروازہ ہروقت کھلا رکھنا چاہیے۔
  • تاہم، اس ’اصلاح کاری‘ کے نام پر مسلم معاشروں میں ایک دوسرا گروہ ایسا بھی موجود ہے کہ جو مسلمانوں کا نام استعمال کرتے، مسلمانوں کی بہبودی اور ترقی کا دم بھرتے ہوئے، خود اسلام اور مسلمانوں اور اسلامی تہذیب و تمدن پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس کی علامتوں پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے بلکہ ضربیں لگاتا چلا جاتا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ خطرناک طبقہ، بے خبر اصلاح کاروں کی پہلی قسم ہی سے گفتگو کا استدلال اُدھار لیتا ہے اور اسلامی تہذیب سے دشمنی کا اُدھار چکاتا ہے۔ اس لیے اس دوسرے طبقے کی زہرناکی کا توڑ کرنے کے لیے بھی ہمیں پہلی قسم کے بے خبر اصلاح کاروں کی طرف زیادہ فکرمندی سے دیکھنا اور انھیں سنبھالنا چاہیے۔

نجات اللہ صدیقی بھائی کو بجاطور پر یہ شکایت تھی کہ ہمارا طبقۂ علما، دین کو پیش کرتے وقت معاشرے اور اہلِ حل و عقد کی توجہ ان اُمور کی جانب مبذول نہیں کراتا، جن میں شامل ہیں: عدل کا قیام، عام سطح پر کفالت کا نظام، معاشی ترقی کا منصفانہ نظام، سود سے پاک اور قابلِ اعتماد معیشت کی اجتماعی اسکیمیں، زندگی کے اجتماعی نظام اور انتظام میں دیانت داری، دولت کی منصفانہ تقسیم، وراثت میں خاص طور پر خواتین کے معاشی مفادات کا تحفظ اور ہرفرد کا ہرسطح پر اعلیٰ کارکردگی دکھانا۔ ظاہر ہے کہ جب زندگی کے ان نہایت اہم اُمور کو نظرانداز کرکے محض لگی بندھی باتیں دُہرائیں گے تو انسانی معاشرے پر اسلام کی منشا و مرضی کے مطابق کوئی گہرا نقش مرتب نہیں کرسکیں گے۔

پھر نجات اللہ صدیقی، ظفراسحاق انصاری، خرم جاہ مراد، سعید رمضان، محمدعمر چھاپرا، اور ہمارے درمیان یہ پہلو بھی اکثر فکرمندی کا عنوان بنتا کہ مسلم معاشروں میں دین کے گہرے رُسوخ کو پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تحریک اسلامی کے کارکن لگے بندھے طریق کار پر جمود کا شکار ہونے کے بجائے نئی راہیں سوچیں۔ دوسروں سے چھوٹے اور جزوی اختلافات کو نظرانداز کرکے رواداری اور خوش خلقی کا راستہ اپنائیں، اوردین کے بڑے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے انسانیت کی خدمت، ترجیحات کی درستی اور تعمیری کردار کو گہرے علم اور معیاری عمل سے ترقی دیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ جدید بنکاری نظام کی سودی اجارہ داری کو چیلنج کرتے ہوئے جس پہلے شخص نے پوری ایمانی کمٹ منٹ اور تخلیقی دانش کے ساتھ بلاسودی بنکاری کے خدوخال پیش کیے، تو وہ شخصیت پروفیسر نجات اللہ صدیقی ہی ہیں، اور ان کی اسی تعمیری اور علمی کاوش کے اعتراف میں انھیں ۱۹۸۲ء میں ’بین الاقوامی فیصل ایوارڈ‘ ملا۔

انھوں نے چھوٹی بڑی ۶۳ کتب تحریر کیں، جن میں معاشیات کی اسلامی تشکیل پر ان کی تحقیقات و تخلیقات کلاسیک کا درجہ رکھتی ہیں۔ ۱۹۶۰ء میں انھوں نے امام ابویوسف کی بلندپایہ تاریخی اور ضخیم کتاب، کتاب الخراج کا عربی سے اُردو ترجمہ اسلام کا نظامِ محاصل کے نام سے کیا، اور پھر ۱۹۶۳ء میں سیّد قطب شہید کی معرکہ آرا کتاب العدالۃ الاجتماعیۃ کا عربی سے اُردو ترجمہ اسلام میں عدل اجتماعی کے عنوان سے کیا۔ ان دونوں کتابوں کے ترجمہ و تدوین کے ساتھ نہایت عالمانہ مقدمے تحریر کیے۔ مجھے افسوس ہے کہ ان تراجم سے اُردوخواں طبقے نے قرارواقعی استفادہ نہیں کیا۔

نجات اللہ صدیقی بنیادی طور پر استاد، محقق، مفکر اور تخلیقی ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے افسانے اور ادبی تنقید بھی لکھی۔ میری اُن سے پہلی ملاقات دہلی میں ۱۹۵۶ء میں ہوئی، اورپھر ملاقاتوں کا یہ سلسلہ عمربھر جاری رہا۔ ہمارے درمیان مختلف علمی موضوعات اور تدابیر پر اتفاق اور اختلافات بھی رہے، لیکن اسلامی معاشیات کی تشکیل نو میں جو خدمت انھوں نے انجام دی ہے، اس نے انھیں ہم میں سب سے ممتاز کردیا۔ اسلام کے مآخذ سے مکمل وفاداری کے ساتھ دورِحاضر میں ان کے اطلاق کے باب میں جدید تجربات وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ بلاشبہہ، تحریکِ اسلامی  کے مفکرین میں نجات اللہ بھائی کو اس کا شعور، میرے خیال میں سب سےزیادہ تھا۔ اس ضمن میں کبھی کبھار وہ اعتدال کی راہ سے کچھ ہٹتے تو دکھائی دیتے، لیکن الحمدللہ وہ کبھی اس سے دُور نہیں گئے۔

یہ بھی ایک حُسنِ اتفاق ہے کہ ۱۹۶۱ء میں پہلے میں، کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ معاشیات میں لیکچرر مقرر ہوا، اور پھر اسی سال نجات اللہ صدیقی، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے شعبہ معاشیات میں لیکچرر منتخب ہوئے۔ اسی طرح مجھے صدر ایوب کے دورِ حکومت میں ۶جنوری ۱۹۶۴ء کو، اور انھیں اندراگاندھی کی ’جمہوری آمریت‘ میں ۴جولائی ۱۹۷۵ء کو سنت ِ یوسفی کی سعادت نصیب ہوئی، اور ایک عرصہ جیل میں گزارا۔ ہمارے باہم تعلقات اور اسلامی معاشیات کو درپیش چیلنجوں سے جڑی نشستوں اور تحریک اسلامی کے مسائل سےوابستہ یادوں کا یہ گلدستہ ۱۱نومبر کو بکھر گیا۔ اللہ کریم ان کو کروٹ کروٹ جنّت نصیب فرمائے ، اور جو کام وہ چھوڑ گئے ہیں، اسے آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو سرگرمی سے خدمات انجام دینے کی توفیق بخشے، آمین! رہا معاملہ نجات اللہ بھائی کا تو ان کے لیے، ان کا کام ایک صدقۂ جاریہ ہے، اور ان شاء اللہ، ربِّ کعبہ ان کی اس خدمت پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتارہے گا۔

خاندان معاشرے کا سب سے اہم اور بنیادی عنصر ہے۔ معاشرے کی ترقی اور نشوونما کا انحصار جہاں خاندان پر ہے، وہاں معاشرے کی خرابی اور انتشار کا ایک بڑا سبب بھی خاندان ہی ہوتا ہے ۔ دراصل خاندان، معاشرے کی اساسی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی سے معاشرے وجود میں آتے ہیں۔ اس لیے جس قدر خاندان کی اکائی مضبوط اور مستحکم ہو گی، اسی قدر معاشرہ اور ریاست مضبوط اور مستحکم ہوں گے، اور جس قدر خاندان کا یونٹ خراب اور منتشر ہوگا، تو وہ معاشرہ بھی اسی قدر خرابی کا نمونہ ہوگا۔

خاندان کی اسی اہمیت کے باعث خاندان کی بقا اور تحفظ کو شریعت کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا ایک مکمل شعبہ عائلی نظام کے نام سے وجود میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں ایک بڑا حصہ عائلی نظام کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے رہنمائی دیتا ہے۔ ’خاندان‘ اسلامی تہذیب و معاشرت کا سب سے بڑا ادارہ ہے، جس کو مسلم معاشرے کے ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لیے ہمارے دشمن خاندان کے ادارے کی تباہی کے درپے ہیں۔

اسلام نے ہی یہ شعور دیا ہے کہ اولاد اگر صالح ہوتو یہ ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے۔ اسی مناسبت سے دین و شریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں، اسی طرح اولاد کے والدین پر حقوق ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے، ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے۔ اس کے برعکس ان کو زمانے کے رحم و کرم پر آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی برتنا اُمت کے مستقبل سے ایک بدترین خیانت ہے۔

 کتاب وسنت میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے، اور ان کے حقوق میں کوتاہیوں سے بچا جائے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت، اولاد بھی ہے ۔ اور پھر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے، تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑجائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے، تو وہی اولاد آزمایش بن جاتی ہے ۔اپنی اولاد کی تربیت کے معاملے میں سردمہری کا مظاہرہ کرنے والوں کو کل قیامت کے روز جوکربناک صورت حال پیش آسکتی ہے ، اس سے اہل ایمان کومحفوظ رکھنےکےلیے اللہ تعالیٰ نے متنبہ کردیا ہے، تاکہ وہ اپنی فکر کےساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال اوراپنی آل اولاد کوعذاب الٰہی میں گرفتار ہونے اور دوزخ کا ایندھن بننے سے بچانے کی بھی فکرکریں۔

اس یاد دہانی کی تو ضرورت ہی نہیں ہو نی چاہیے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے خاندان کے مقاصد بہت بلند اور اہم ہیں، اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نصف دین قرار دیا ہے۔ ہرمسلمان کو نیکی کی ابتدا اپنے گھر سے کرنے کی ہدایت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ  (التحریم۶۶:۶) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔

حضرت عبداﷲ ابن عمرؓ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، مفہوم:تم میں سے ہر شخص نگہبان اور ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کے زیرکفالت و زیرنگرانی افراد سے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔ امام بھی راعی اور ذمہ دار ہے۔ اور یہ کہ اس سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپُرس ہوگی۔ آدمی بھی اپنے گھر کا حاکم ہے اور اس سے بھی زیر دست افراد کے متعلق سوال ہوگا۔ عورت بھی اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے۔ اس سے بھی اس کے زیرنگرانی امور کے بارے میں بازپُرس ہوگی۔ (بخاری ،  مسلم)

  • بچّے کی پہلی درس گاہ: اسلام نے نکاح کو خاندان کی بنیاد بنایا ہے، کیوں کہ اسلام ایک خاندان کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا چاہتا ہے،چنانچہ وہ اس بنیاد کو خالصتاً خلوص، محبت، پاکیزگی، دیانت داری اور مضبوط معاہدے پر استوار کرنے کا حکم دیتا ہے۔سورۂ روم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْہَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً۝۰ۭ  (الروم۳۰: ۲۱)اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی ۔

معاشرے کی پہلی درس گاہ، پہلا ادارہ اور پہلا مدرسہ خاندان ہی ہوتا ہے، جہاں بچے اخلاق، اقدار، عادتیں اور روایات سیکھتے ہیں۔ یہاں بچوں کی منفی یا مثبت شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ بلاشبہہ معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ بچے ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا، اس سلسلے میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی تربیت ، ترقی، تعلیم اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے حتی الامکان کوششیں کریں۔ یقیناً ہر خاندان اپنے گھر کے بچوں کے حوالے سے فکر مند ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود بعض خاندانوں میں غفلت یا ناواقفیت کی وجہ سے بعض ایسی خامیاں رہ جاتی ہیں، جو بچوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لیے ان خامیوں کی جانب اشارہ کرنا ضروری ہے، تاکہ مسلم معاشرے کا ہر خاندان، مثالی خاندان ثابت ہو۔

چونکہ بچوں کی تربیت کے لیے پہلی درس گاہ ماں اور باپ ہوتے ہیں، اس لیے ان دونوں کا اس بات پہ متفق ہونا ضروری ہے کہ بچوں کے سامنے خود اُن دونوں کا باہم، ایک دوسرے کی عزّت کرنا ضروری ہے، اور ایک دوسرے کی بات سننا ضروری ہے۔ بچہ سب سے زیادہ دیکھ کر سیکھ رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا، پہلے تو والدین اور ساتھ رہنے والوں کو، جیسے مشترکہ خاندانی نظام ہے، اُس میں رہنے والے تمام بڑوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ بچہ وہی سب کچھ مستقبل میں کرے گا، جو وہ اُن کے عمل اور رویوں میں دیکھ رہا ہے۔ خواہ آپ اس کو کتنا بھی کسی بات سے کیوں نہ روک لیں، جو اس نے دیکھا ہے، وہی کرنا اس کی فطرت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ یوں بھی بچے کو، جس بات سے مسلسل روکا جارہا ہوتا ہے، وہ اس کے لیے تجسس کا سبب بن جاتی ہے اور وہ اپنے تجسس کی تسکین یا کھوج کے لیے اس عمل کو دہراتا ہے۔

بچوں کی تعلیم کا ایک اہم دائرہ وہ تربیت ہے، جو انھیں اپنے خاندان سے حاصل ہوتی ہے۔ اس تربیت کا اہم ترین پہلو بچوں (اولاد) کے ساتھ والدین، بالخصوص ماں کے طرزِ عمل سے متعلق ہے۔ اس ضمن میں چند اصولی نکات درج ذیل ہیں:

  • بنیادی دینی تعلیم : ابتدائی عمر ہی سے بچوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سے واقف کرایا جائے۔ قرآن مجید کی تعلیم کا شعوری انتظام اور حلال و حرام کے احکامات سے واقفیت دی جائے۔ سات سال کی عمر سے نماز کا، اور روزہ رکھنے کے قابل عمر کو پہنچنے پر روزے کا عادی بنایا جائے۔ بچوں میں بالکل ابتدا سے اللہ سے تقویٰ اور اس کے سامنے تمام کاموں (اعمال) کے لیے جواب دہ ہونے کا تصور پیدا کرنا، اور یہ احساس جگانا ضروری ہے کہ اللہ ہر وقت ان کی نگرانی کر رہا ہے۔
  • اخلاقی تربیت:بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی اعلیٰ اخلاق کا عادی بنانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ بچپن کی عادتیں بڑے ہونے پر پختہ ہوتی جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچپن ہی سے انھیں سچائی، امانت داری، بہادری، احسان، بزرگوں کی عزت، پڑوسیوں سے بہتر سلوک، دوستوں کے حقوق کی پاسداری اور مستحق لوگوں کی مدد جیسے اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا حامل بنایا جائے۔ پھر انھیں بُرے اخلاق مثلاً جھوٹ، چوری، گالی گلوچ اور بے راہ روی سے سختی سے بچایا جائے۔ اوائل عمر سے ہی محنت و مشقت کا عادی بنایا جائے اور آرام پسندی سے دُور رکھا جائے۔
  • اجتماع اہلِ خانہ: مثالی طرزِ عمل تو یہ ہے کہ والدین اہل خانہ کے ساتھ ہر روز آدھ گھنٹے سے ایک گھنٹہ تک کی نشست  رکھیں۔ اس میں قرآن، حدیث، سیرت اور اسلامی لٹریچر کا اس طرح احاطہ کیا جائے کہ اس میں ہر عمر کے اہل خاندان کا حصّہ ہو ۔ یک طرفہ تقریر، وعظ و نصیحت کے بجائے باہمی گفتگو اور مکالمہ کا ماحول زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ بچوں کو کھل کر اپنے شکوک و شبہات اور ذہنی الجھنوں کو پیش کر نے کا موقع دیا جائے۔ انھیں تحّمل اور افہام و تفہیم سے دُور کر نے کی کوشش کی جائے۔

اگر ہر روز نشست ممکن نہ ہو تو گھر میں ہفت روزہ اجتماع اہل خانہ کا تو لازما ًاہتمام کیا جائے اور اس میں کوشش کی جائے کہ ناغہ نہ ہو۔ جو بچے کسی وجہ سے کسی دوسرے شہر میں ہوں انھیں آن لائن یا فون کے ذریعے شریک کیا جائے۔

چار بنیادی باتیں جن سے والدین کے لیے پرہیز کرنا لازم ہے:

  • تحقیر آمیز سلوک:بچوں کی اصلاح و تربیت میں عجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے صبر و استقامت کے ساتھ یہ کام کیا جائے۔ بچوں کی بے عزّتی کرنے اور سخت سُست کہنے سے گریز کیا جائے۔
  • سزا میں بـے اعتدالی: بالکل سزا نہ دینا اور بہت زیادہ سزا دینا، دونوں غلط ہیں۔ بچوں کے ساتھ محبت و شفقت اور نرمی کا برتاؤ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے اور معقول حد تک سرزنش کا بھی ایک مقام ہے۔ ان دونوں روّیوں میں اعتدال لازم ہے۔
  • بـے جا لاڈ پیار: بچوں کی ہر خواہش کو پورا کرنا، غیر ضروری لاڈ پیار انھیں ضدی، باغی اور خود سر بناتا ہے۔ اس بے جا محبت کے اظہار میں اعتدال ضروری ہے۔
  • دوسرے پر ترجیح دینا: ایک ہی گھر میں دو بچوں یا لڑکوں اور لڑکیوں میں سے ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا غیر اسلامی رویّہ ہے۔ جس سے بہت سےبچے نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہوکر انتہا پسندی اور انتقام پسندی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

عملی اقدامات

ان اصولی نکات کے علاوہ چند عملی اقدامات جن پر والدین آسانی سے عمل کر سکتے ہیں:

۱- ا پنے خاندان میں، بالخصوص بچوں کے ساتھ ممکنہ حد تک زیادہ وقت گزارا جائے۔ اپنی معاشی جدوجہد و دیگر مصروفیات کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ لازماً کچھ وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارا جاسکے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری ہے، تربیت کا تمام تر بوجھ ماں پر ڈال دینا ایک نامناسب اور بڑا غیر عادلانہ طریقہ ہے۔ مدرسے میں بچوں کی مصروفیات، دوستوں کی صحبت وغیرہ سے واقفیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین ان کے ساتھ روزانہ کچھ نہ کچھ وقت گزاریں۔

۲- بچوں کو محنت کا عادی بنانے کے لیے انھیں ایک درمیانے معیار کی زندگی کا عادی بنایا جائے، تاکہ وہ ایک عام انسان جیسی پُر مشقّت زندگی کا تجربہ حاصل کرسکیں۔

۳- اگر بچوں کو جیب خرچ دیا جائے تو پھر انھیں ڈسپلن کا پابند بنایا جائے۔ بچوں سے اس رقم کا حساب بھی پوچھا جائے، تاکہ ان میں بچپن ہی سے کفایت شعاری، بچت اور غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کی عادت پروان چڑھے اور جواب دہی کا احساس پیدا ہو۔ والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو آرام پہنچانے کی خواہش بجا ہے، مگر ابتدا سے بغیر محنت کے آرام طلب بنانا، ان کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کے کپڑوں اور جوتوں پر اخراجات میں اعتدال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ تعلیمی ادارے میں مختلف معاشی و سماجی پس منظر رکھنے والے طلبہ و طالبات ہوتے ہیں، اس طرح ان میں غیرمطلوب مقابلہ آرائی کو روکا جاسکتا ہے۔

۴-  ابتدا ہی سے بچوں سے خود انحصاری یعنی اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرایا جائے۔ اگر معاشی وسائل میں وسعت بھی حاصل ہو، تب بھی بچوں کو اپنے کام کرنے، یعنی جوتے صاف کرنے، کمرے کو ترتیب دینے اور بستر درست کرنے کی عادت ڈالی جائے۔

۵- والدین کا فرض ہے کہ بچوں کو اپنے بزرگوں کی خدمت کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔

۶-  بچوں کی مصروفیات اور ان کے دوستوں کو جاننا ضروری ہے۔ جرائم کا ارتکاب اور نشہ آور چیزوں کا استعمال غلط صحبت کا نتیجہ ہوتا ہے، اس لیے بچے کے دوستوں پر گہری نظر رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے۔

۷- بچوں کے سامنے مدرسے یا اساتذہ یا دوسرے عزیزوں کی بُرائی نہ کی جائے۔ اگر جائز شکایت ہو تو متعلقہ ذمہ داران سے گفتگو کی جائے، مگر بچوں کے سامنے کبھی ان کے اساتذہ کی تحقیر نہیں ہونی چاہیے۔ والدین اپنے بچوں کے اساتذہ کی عزت کریں گے تو بچے بھی اس کا اچھا اثر قبول کریں گے۔

۸- اپنے بچوں کی غلطیوں اور جرائم کی صفائی نہیں پیش کرنی چاہیے۔ بچوں کو غلطی کا احساس دلانا اور حسب موقع تا دیب انھیں اصلاح کا موقع فراہم کرے گی اور وہ عدل، انصاف اور اعتدال کے تقاضوں سے واقف ہوں گے۔

۹- ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے حوالے سے متوازن رویہّ اپنانا ضروری ہے۔ اس کے لیے والدین کو خود اپنے آپ کو نظم کا پابند بنانا ہوگا۔ تعلیمی اور معلوماتی پروگرام سے استفادہ اور اچھے تفریحی پروگراموں پر بچوں سے تبادلۂ خیال کے ذریعے مثبت اور منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے۔ ٹی وی اور کمپیوٹر کو ایسی جگہ رکھنا چاہیے ، جہاں سب آتے جاتے ہوں، تاکہ لغو اور غیر اخلاقی پروگرام دیکھنے کا امکان نہ رہے۔

۱۰- ٹی وی اور کمپیوٹر کتابوں کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اچھی کتب اور رسالے، بچوں کی شخصیت سازی میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں، اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ والدین انھیں اچھی کتابیں اور رسائل فراہم کریں اور ان کے لیے ذاتی لائبریری بنائیں۔ ان کے نصاب کے مطالعے اور دیگر کتب کے مطالعے پر نظر رکھیں۔ خود بچوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنے جیب خرچ سے رقم پس انداز کرکے کتابیں خریدیں۔

۱۱- بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جائے، تاکہ ملک،ملّت اور انسانیت کو ان کی ذات سے فائدہ ہو۔ موجودہ دور میں ہر شخص اپنے حقوق کے بارے میں تو بہت حساس ہے، مگر اپنے فرائض کی ادائیگی کے بارے میں انجان بن جاتا ہے۔اس رویّے کو تبدیل کرنا ہوگا۔

۱۲- گھر میں ایک بہتر ماحول قائم کیا جائے۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ بالخصوص بچوں کے سامنے غصے اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں۔ خاندان کے بڑوں میں باہم میل جول، ایک دوسرے کی قدر و منزلت اور احترام بچوں پر خوش گوار اثر ڈالتا ہے۔

۱۳- قول و فعل میں تضاد سے پرہیز لازم ہے۔ بچے اپنے بڑوں کے اعمال سے غیر محسوس طریقے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ماں باپ اور دیگر بڑوں کا طرزِ عمل بچوں کی شخصیت کو بناتا ہے۔ والدین کوسچائی، امانت داری وغیرہ کے حوالے سے معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، اور بظاہر نقصان ہی ہوتا نظر آرہا ہو، اپنے عمل کو درست رکھنا چاہیے۔

۱۴- والدین عموماً اپنے بچوں سے اونچی توقعات وابستہ کرتے ہیں، مگر جب وہ اس معیار پر پورے نہیں اُترتے تو مایوس ہوجاتے ہیں اور بچوں سے ناراض ہوکر جھنجلاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح والدین اور بچے دونوں احساسِ کمتری اور چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک نامناسب رویہ ہے۔ بچوں سے توقعات وابستہ کرتے وقت ان کی صلاحیت، دلچسپی اور کمزوریوں کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے۔ اپنی خواہشات بچوں پر تھوپنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

۱۵- زندگی میں ہر فرد کو کسی نہ کسی بحران سے مقابلہ در پیش رہتا ہے۔ اس لیے نامطلوب حا لات سے مقابلہ کرنے کے لیے بچوں کی ذہن سازی ضروری ہے۔ انھیں مسائل سے فرار کے بجائے ان سے نبرد آزما ہونے کی تربیت دینی چاہیے۔

۱۶-بچوں کو اپنی زندگی کے مقصد کا شعور دیا جائے۔ مقصد زندگی کا واضح تصور انھیں دنیا میں اپنا مقام متعین کرنے میں مدد دے گا۔ مستقبل کے لیے بلند عزائم اور ان عزائم کی تکمیل کے لیے بچوں میں شوق، محنت اور جستجو کے جذبات پیدا کرنے میں والدین کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔

۱۷-بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین تدریج سے کام لیں اور اصلاح سے مایوس نہ ہوں۔

۱۸- بچوں کو نبی اکرمؐ کی سیرت سے واقف کرانا اور اسوۂ حسنہ ؐ کی پیروی کو جزو ایمان بنانا، اسی طرح سلف صالحین کی زندگیاں مشعل راہ کے طور پر بچوں کے سامنے لانا ضروری ہے۔

۱۹-گھر میں مطالعے کا وقت متعین کرکے، والدین اپنی نگرانی میں تعلیمی ادارے کا کام کرواتے ہوئے بچوں کی ترقی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

۲۰- وقت کی قدر اورتنظیم والدین خود بھی کریں اور بچوں کو ابتدا سے ہی وقت کے صحیح استعمال کی عادت ڈالیں۔ وقت جیسی قیمتی دولت کا بہترین استعمال کامیابی کی کلید ہے۔

۲۱-تعلیم و تربیت پر خرچ مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔ موجودہ دور کے نہایت مہنگے تعلیمی اخراجات کے پیش نظر مناسب ہوگا کہ ہر خاندان اپنی ماہانہ آمدنی کا ایک مقررہ حصّہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرے۔

ناکامی کے اسباب

بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت میں عموماً کیوں ناکامی ہوتی ہے؟اس کی درج ذیل وجوہ ہیں:

۱- تعلیم و تربیت بہت ہی صبر آزما اور پتّہ ماری کا کام ہے۔ یہ کام جتنی توجہ، دلسوزی چاہتا ہے، اس کے لیے عملاً کم ہی لوگ آمادہ ہوتے ہیں۔

۲-عام طور پر بچوں کی عمر اور صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ان سے توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں اور جب ان سے بار بار کوتاہیاں اور لغزشیں سرزد ہوتی ہیں اور رفتار ترقی بھی خلافِ توقع بہت سست دکھائی دیتی ہے، تو اصلاحِ حال کی طرف سے بد دل ہو کر لوگ عموماً نہ صرف اپنی کوششوں میں کمی کر دیتے ہیں، بلکہ اپنے رویّے اور برتاؤ سے خود بچوں کو بھی مایوسی اور بد دلی کا شکار بنا دیتے ہیں۔

۳- پورا معاشرہ بگڑا ہوا ہے۔ بڑوں کے غلط نمونے اور ہم عمروں کی بُری صحبت کے غیرمحسوس اثرات بچے برابر قبول کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اچھے بھلے والدین کے بچوں میں بھی غیرشعوری اور غیر ارادی طور پر طرح طرح کی خرابیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں۔

۴- ضروریاتِ زندگی اب محدود نہیں رہیں بلکہ ان کی فہرست بہت طویل ہوگئی ہے۔ معاشی ڈھانچا بھی روز بہ روز پیچ دار ہوتا جا رہا ہے۔ چنانچہ ضروریات کی تکمیل کے لیے دوڑ دھوپ سے فرصت نہیں ملتی۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دینے کی توفیق کہاں سے نصیب ہو۔

۵- مناسب تعلیم و تربیت کے لیے جس صلاحیت اور سلیقے کی ضرورت ہے، اکثر لوگ اس سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کی کوششیں بار آور ہونے کے بجائے بسا اوقات اُلٹی پڑتی ہیں۔

۶-والدین کے باہمی تعلقات کی ناخوشگواری، جدائی، موت، عدم موجودگی یا گھر سے دوری وغیرہ بھی بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت میں بہت زیادہ مزاحم ہوتی ہیں۔

۷- دولت پرستی ذہنوں پر اس قدر غالب آگئی ہے کہ بچوں کی دنیا سنوارنے اور ان کا مستقبل ’شان دار‘ بنانے کے لیے اچھے بھلے لوگ اپنے جگر گوشوں کے ایمان و اخلاق کو اپنے ہاتھوں شیطان کی بھینٹ چڑھا دینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔

۸-بچوں کو مصروف رکھنے اور ان کے فرصت کے اوقات کو کار آمد بنانے کے لیے دلچسپ تعمیری مشاغل یا موزوں کھیلوں وغیرہ کا کوئی معقول انتظام نہیں ہو پاتا۔ چنانچہ بچوں کی صلاحیتیں غلط رخ اختیار کر لیتی ہیں، وہ آوارہ گردی یا طرح طرح کی نازیبا حرکات کرنے لگتے ہیں۔

۹- معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی، اخلاقی بے راہ روی، فحش لٹریچر، گھناؤنے پوسٹرز کی فراوانی، مخرب اخلاق فلموں، افسانوں کی کثرت وغیرہ عموماً اصلاحی کوششوں پر پانی پھیر دیتی ہیں۔

اجتماعی جدوجہد کی ضرورت

صحیح تعلیم و تربیت پر صرف کی ہوئی قوت، محنت اور دولت ہر ایک کے حق میں نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہماری غفلتوں اور اربابِ سیاست کی کوتاہ اندیشیوں سے ساری دنیا پر ایک ایسا نظامِ تعلیم و تربیت مسلط ہو گیا ہے، جو اپنے گونا گوں مضامین و مشاغل، درسی و امدادی کتب، بیرونِ نصاب مصروفیات اور کلچرل پروگراموں وغیرہ کے ذریعے یا تو خداپرستی، احساسِ ذمہ داری اور اخلاقی قدروں کی پاسداری سکھانے کے بجائے خدا سے بے نیازی، آخرت کی باز پُرس سے بےخوفی اور اعلیٰ انسانی قدروں کی بے قدری سکھاتا ہے یا شرک و تو ہم پرستی، تعصب و تنگ نظری، ملکی و قومی عصبیت، خودغرضی و خودنمائی، عیاشی وتن آسانی وغیرہ میں مبتلا کرتا ہے، اور جو مادی ترقی اور معاشی خوش حالی کو تو آخری مقصود ٹھیراتا ہے، لیکن سیرت کو سنوارنے اور اخلاق کو سدھارنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔

ظاہر ہے اس نظام میں جب تک بنیادی تبدیلیاں نہ کی جائیں گی، اس کے تحت پروان چڑھنے والی نسلوں سے بحیثیت مجموعی کسی خیر کی توقع عبث ہے۔ البتہ شر کے اندیشے ہمیشہ لگے رہیں گے۔ رہے دینی ادارے جو صحیح تعلیم و تربیت کے علم بردار اور جہالت کی تاریکیوں میں روشنی کے مینار رہے ہیں اور جن سے ہدایت و رہنمائی کے سوتے پھوٹتے اور خلقِ خدا کو فیض پہنچتا تھا وہ بھی اب اپنی بے حسی، ملت کی عدم توجہی، پرایوں کی رقابت، باطل سے مرعوبیت، دینی غیرت وحمیت کے فقدان، ایثار و بے لوثی کے فقدان، اساتذہ کی علمی و عملی کوتاہیوں اور فنِ تعلیم و تربیت سے ناواقفیت، علوم میں دینی و دنیوی کی عملا ًتفریق اور اپنے یک رخے پن اور اذکارِ رفتہ نصاب و نظام وغیرہ کے باعث ٹھٹھر رہے ہیں اور روز بروز ان کی افادیت گھٹتی اور ان کا حلقۂ اثر سکڑتا جارہا ہے۔

اس صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ تمام افراد اور جماعتیں اصلاحِ اَحوال کی طرف توجہ دیں اور انفرادی و اجتماعی حیثیت سے جو کچھ کر سکتے ہیں، اس سے ہر گز دریغ نہ کریں۔ غیر معمولی جدوجہد اور پامردی و استقلال سے حالات کا مقابلہ کیا اور ان کا رُخ موڑا جا سکتا ہے۔

محترم حضرات! کلچر کے مسئلے پر علمی حیثیت سے بحث کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے ذہن اُلجھنوںسے محفوظ ہوں، اور ذہن میں غلط فہمیاں موجود نہ رہیں۔ اس قسم کے موضوع کو سمجھنے کے لیے صاف ذہن ضروری ہے۔ جہاں تک کلچر اور اسلامی کلچر کا تعلق ہے، یہ موضوع حقیقت میں ایک علمی موضوع ہے، لیکن نہ صرف اس موضوع کے متعلق، بلکہ اس قسم کے دوسرے موضوعات پر بھی بعض لوگوں کے ذہنوں میں اُلجھنیں موجود ہیں، مختصراً پہلے ان اُلجھنوں کو صاف کرنے کی کوشش کروں گا۔

  • ایک ضابطۂ اخلاق:ایک غلط فہمی عرصے سے مسلمانوں کے ذہن میں پرورش پارہی ہے کہ ’مسلمان‘ جو کچھ کرے، وہ ’اسلامی‘ ہے۔ پھر ایک ظلم یہ بھی ہے کہ مسلمان اکثر اپنے ہر اس فعل کو جو اس نے کسی بھی موقعے پر کیا، بے تکلفی سے ’اسلامی‘ قرار دینے کی غلطی کرتے ہیں۔

جہاں تک مسلمان ہونے کا تعلق ہے، خلفائے راشدینؓ ، عمر بن عبدالعزیز، خلفائے بنواُمیہ، تاناشاہ، واجد علی شاہ اور محمد شاہ رنگیلا یہ سب ہی مسلمان تھے، لیکن ان سب کے طرزِعمل کو یکساں طور پر ’اسلامی‘ سمجھنے کے معنی تو یہ ہوئے کہ اسلام سرے سے کسی اصول اور ضابطے کا قائل ہی نہیں ہے۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ جو فعل ایک مسلمان سے سرزد ہو، وہی ’اسلامی‘ ہے، مثال کے طور پر یہ کہ اگر ایک مسلمان شراب خانہ قائم کرے تو کیا یہ اسلامی شراب خانہ ہوگا؟ اس لیے یہ غلط فہمی دُور ہونی چاہیے اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام ایک ضابطۂ اخلاق کا نام ہے۔ اس لیے جو کچھ اس کے مطابق کیا جائے گا، وہی اسلامی ہوگا اور اس کی حدود سے باہر رہ کر جو کچھ کیا جائے گا وہ غیراسلامی ہوگا۔

اس سلسلے میں دوسری غلط فہمی جسے دُور کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ بعض مسلمان ایک مدت سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ جو چیز ان کے اندر کہیں سے آکر رواج پاجائے اور جسے وہ اپنے لیے دلچسپ، فائدہ بخش یا نفع بخش محسوس کریں، اسلام کا فرض ہے کہ وہ اسے ’اسلامی‘ تسلیم کرے اور اسے ’اسلامی‘ قرار دے کر اسے اس حیثیت میں پوری قوم پر مسلط کردیا جائے۔

ایسے لوگوں کی کوشش یہ ہے کہ اسلام نے جس چیز کو حلال قرار دیا ہے، وہ اسے اسلام ہی کا لبادہ اُوڑھ کر حرام قرار دیں اور جسے اسلام بُرا قرار دے، وہ اسے اسلام کی رُو سےجائز بلکہ لازمی قرار دے دیں۔ یہ چیز ہراعتبار سے غلط ہے۔ اس لیے سیدھی طرح یہ فیصلہ کیا جانا چاہیے کہ اگر  ہم خدا اور رسولؐ کی اطاعت نہیں کرنا چاہتے تو ایسی باتوں کو اسلام کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سمجھ کر ہی کیا جائے اور اپنی غیراسلامی حرکات کو مباح جاننے کی عادت کو ترک کیا جائے۔

  • واضح نصب العین: اسلام پر یہ ایک بہت بُرا دور آیا ہے کہ اس سے نسبت رکھنے والوں میں سے ایک قابلِ لحاظ تعداد حرام کو حلال ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کوئی شرمندگی اور ندامت محسوس نہیں کرتی۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے یہ بات تھی کہ مسلمان غیراسلامی حرکتوں کا ارتکاب کرتا تھا، مگر بے باکی سے اسے اسلامی بنانے کی سعی نہیں کرتا تھا۔ لیکن اب یہ شرمناک پہلو ہماری زندگی میں بہت نمایاں ہوگیا ہے۔

اس سلسلے میں تیسری چیز یہ ہے کہ ہم نے ترقی کا تصور مغربی افکار سے لیا ہے اور اپنے طور پر ’ترقی پسند اسلام‘ کو جنم دے رہے ہیں۔ مغرب سے اصلاح کا ایک اور تصور یہ بھی لیا گیا ہے کہ اہلِ مغرب نے جو کچھ اصول بنائے ہیں، وہ سب کے سب معیاری ہیں۔ اس غلط فہمی کو بھی رفع ہونا چاہیے۔

ترقی کے معاملے میں یہ ضروری ہے کہ ہمارا ایک واضح اور متعین نصب العین ہو، تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ کیا واقعی ہم اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں؟ اگر ہم اس منزل کی سمت بڑھ رہے ہیں تو یہ ہماری ترقی ہورہی ہوگی، ورنہ ہمارے قدم ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف اُٹھ رہے ہوں گے۔ اگر ہماری منزل کراچی ہے اور ہم لاہور سے چل کر اوکاڑہ اور منٹگمری [موجودہ نام: ساہیوال] پہنچ رہے ہیں تو یہ ترقی ہوگی، لیکن اگر منزل کراچی ہو اور ہم لاہور سے سیالکوٹ کی طرف جارہے ہوں تو یہ ترقی نہیں ہے۔

  • منزل:اسلام کے نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو ترقی اسی صورت میں ہوگی، جب ہم اسلامی منزل کی طرف بڑھیں گے۔ اگر ہمارے قدم اسلامی منزل کی طرف نہیں اُٹھ رہے تو یہ اسلامی نقطۂ نگاہ سے ترقی نہیں ہوگی بلکہ یہ مغربی نقطۂ نظر کی ترقی کہلائے گی۔ اسی طرح اسلام کے جو احکام ہیں، ان کی پابندی کرتے ہوئے زندگی میں جو تغیر و تبدل واقع ہو، یہ اصلاح ہوگی، لیکن اگر اسلامی قدروں کی خلاف ورزی کرکے اور دوسری جگہ سے اسلامی اصولوں کے بالکل برعکس اصول اور اقدار لے کر کوئی کام کیا جائے تو اسے Reformation [اصلاح کار] قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسلام اسے ہرگز اصلاح نہیں مانے گا۔

ان تمام باتوں کو نگاہ میں رکھ کر ہم کلچر کے مسئلے کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

  • کلچر کا ماخذ:حنیف ندوی صاحب نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ’کلچر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے‘۔ آیئے، ہم اس لفظ کی جڑ بنیاد پر غور کریں۔ یہ انگریزی زبان میں دراصل مستعار ہے اور یہ لفظ: Cultivation اور To Cultivate سے نکلا ہے۔ پھر نام ہے اس چیز کا کہ زمین تیار ہو۔ اس کے اندر جھاڑ جھنکار کو قبول نہ کریں۔ اس خاص فصل کے لیے زمین کو تیار کریں جسے ہم اُگانا چاہتے ہیں۔ پھر اسی مقصد کے لیے محنت اور توجہ سے کام کریں۔

 جہاں تک انسانی تمدن کا تعلق ہے۔ انسانی زندگیوں میں جو خوبیاں پیدا کرنا اور پروان چڑھانا مطلوب ہیں، ضرورت ہے کہ انسانی ذہن اور زندگی کو ان خوبیوں کے لیے تیار کیا جائے،اور جو بُرائیاں ان کی ضدپڑتی ہیں انھیں دبایا جائے۔ یہ کلچر کا مستعار اور مجازی مفہوم ہے۔ اسی طرح سے ثقافت ہے اور اسی طرح سے تہذیب۔ آپ ان کی بنیاد پر غور کریں تو لامحالہ آپ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جب تک ہمارے سامنے خوبی کا کوئی معیار نہ ہو، اور کوئی فلسفۂ حیات، بنیادی نقطۂ نظر اور کوئی فکر سامنے نہ ہو ، جس پر بُرائی اور خوبی کا فیصلہ کیا جاسکے، اس وقت تک تہذیب اور ثقافت وجود میں نہیں آتی۔

 ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ ہم آدمی کو کیا بناناچاہتے ہیں؟ اسے کن بُرائیوں سے بچانے کے خواہاں ہیں؟ پہلے یہ فیصلہ کیجیے تب کلچر کا مفہوم سمجھ میں آئے گا۔ دُنیا میں انفرادی سطح پر کبھی انسان کا ایک کلچر نہیں رہا اور نہ اب ہے۔ ہر انسان کو اپنا کلچر بھلائی یا بُرائی کے ایک معیار کے ضابطے میں لانا ہوتا ہے۔

  • بنیادی اقدار: دُنیا کی مختلف تہذیبوں میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اقدار مختلف ہیں۔ ان میں بُرائی اور بھلائی کا تصور مختلف ہے۔ اسی لیے آج تک کوئی عالمگیر کلچر پیدا نہیں ہوسکا۔ تمام کلچر اور تمدن ان بنیادی اقدار سے پیدا ہوتے ہیں جو کسی تہذیب کے امتیازی خصائص ہیں۔

کلچر کا جائزہ لیتے ہوئے تین بنیادیں ہیں:

اوّل یہ کہ آپ کا تصورِ حیات کیا ہے اور آپ انسان کو زمین پر اور کائنات کے نقشے میں کیا مقام دیتے ہیں؟

دوم یہ کہ آپ کا مقصد ِ حیات کیا ہے؟ یہ سوال تصورِ حیات کے تابع ہے۔ یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ آپ کی جدوجہد، کوششوں اور محنتوں کا مقصود کیا ہے؟

سوم یہ کہ کن اصولوں اور ضابطوں کے مطابق آپ اپنی زندگی تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور وہ کون سا اصول آپ کی زندگی میں کارفرما ہے جو بُرائی اور بھلائی کا فیصلہ کرتا ہے؟

یہ تین چیزیں مل کرانسانی تمدن کو معرضِ وجود میں لاتی ہیں اور تمدن کے گلِ سرسبزکا نام کلچر ہے۔

  • تمدن:اجتماعی زندگی میں اپنی ضروریات اور خواہشات کو کن ذرائع سے پورا کیا جائے؟ رہنا سہنا، مکان بنانا، مشینوں سے کام لینا، یونی ورسٹی، ٹرانسپورٹ غرضیکہ زندگی گزارنے کے جتنے ذرائع و وسائل آپ کے پاس ہیں، ان کے مجموعے کا نام تمدن ہے۔ اس میں روح کا کام تہذیب کرتی ہے۔ اس تمدن کی روحِ تہذیب ان چیزوں کا نام ،ہے جن پر ایک تمدن فخر کرتا ہے۔
  • تین تہذیبیں:آج دُنیا میں تین تہذیبیں موجود ہیں: ۱- مشرکانہ ۲- مادہ پرستانہ ۳-اسلامی۔
  • مشرکانہ تہذیب:جس میں بہت سے خدائوں اور دیوتائوں کو خوش اور راضی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کا مقصد ان دیوتائوں کی خوشنودی سے آخرت (اگر ان کے ہاں آخرت کا کوئی تصور موجود ہے، تو اس) کی کامیابی ہے۔ مشرکانہ تہذیب کے دیوی دیوتا عیاش ہوتے ہیں، اس لیے ان کی تہذیب کے اندر ناچ، راگ رنگ اور لہوولعب کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے ہاں شاید ہی کوئی ایسا ناچ ہو جس کا تعلق کسی نہ کسی طرح دیوتا سے نہ ہو۔ ان کے ہاں مجرد آرٹ نہیں ہے۔
  • مادہ پرستانہ تہذیب:اس میں انسان کا مقصد مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ ان کا کوئی تصورِ حیات و آخرت نہیں۔ ان کی مثال اس اُونٹ کی سی ہے، جسے کسی کھیت میں رسّی کے بغیر چھوڑ دیا جائے اور وہ جدھر سبز گھاس دیکھے، اس طرف چلا جائے۔ ان کا کوئی خدا، کوئی قائد اور ضابطہ نہیں ہے۔ ان کا سب سے بڑا مقصد مادی مفادات و وسائل میں تیزرفتار ترقی کے لیے بھرپور سائنسی کوششیں اور مادی ترقی کے لیے بے مہار جدوجہد ہے۔ دن بھر اس کے لیے ہاتھ پائوں مارنے کے بعد، اس تہذیب کے لوگوں کو ایسی تفریحات چاہییں جن سے وہ لذت اور لطف اُٹھا سکیں۔
  • اسلامی تہذیب:تیسری تہذیب اسلامی تہذیب ہے۔ اس میں زندگی کا ایک واضح نصب العین ہے کہ ہم جس زمین پر خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے مبعوث کیے گئے ہیں، اس زمین کا مالک ایک خدا ہے اور ہمارا مقصد اس خدا کی رضا و خوشنودی کا حصول ہے، تاکہ ہم خود کو اس کا ایمان دار، فرض شناس اور وفادار نائب ثابت کرسکیں۔ یہ کامیابی ہمارا مقصد ہے۔ ہمارے خدا نے اپنے آخری رسولؐ کے واسطے سے ہمیں واضح اصول دیے ہیں اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان اصولوں کے اندر رہ کر زندگی گزاریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ’’مومن کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے جو کھونٹے اور رسّی سے بندھا ہوا ہو۔ وہ وہیں تک جاسکتا ہے، جہاں تک اسے رسّی لے جائے‘‘۔

اسلامی تہذیب کے اصول و ضوابط، مشرکانہ اور مادہ پرستانہ تہذیب سے بہت مختلف ہیں۔ مقصد کے فرق کے لحاظ سے وہ شخص بڑا ناکام ہے، جو دوسری تہذیب کی چیز لے کر یہاں آئے اور اسے ’اسلامی‘ قرار دے کر فخر کرے۔گناہ تو گناہ ہے ہی مگر گناہ کو ثواب ثابت کرنا تو بہت ہی بڑا گناہ ہے۔

  • اسلامی کلچر کا  مظہر:اسلامی کلچر کا مظہر دیکھنا ہو تو حج پر جاکر دیکھیے، جہاں مساوات اور اخوت نے رئیس، حکمران اور غریب کو یکساں مقام دیا ہے اور گدا و شاہ ایک ہی لباس میں نظر آئیں گے۔ طواف کے موقعے پر کسی رئیس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے سے کمتر کو پیچھے ہٹاکر راستہ حاصل کرے۔ وہاں کوئی راستہ صاف کرنے والا اور ’ہٹ جائو پیچھے‘ کہنے والا نہیں ہے۔

اسلامی کلچر مسجدوں میں جاکر دیکھیے جہاں چپراسی، اعلیٰ حاکم سے اگلی صف میں کھڑے ہوکر نماز ادا کرتا ہے۔ مسلمانوں کے تہوار منانے کی بھی اپنی ایک شان ہے۔ عیدالفطر پر مسلمان سب سے پہلے فطرانہ کی رقم الگ کرتا ہے، تاکہ اس کے پڑوس میں کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔ پھر رنگ کی پچکاریاں پھینکنے اور شراب پینے کے بجائے وہ اپنے پروردگار کے حضور سجدئہ شکر بجا لاتا ہے اور دن بھر اپنے بزرگوں اور بھائیوں سے مل کر محبت کے رشتے استوار کرتا ہے۔

اس کے برعکس دوسری ثقافتوں میں بعض چیزیں ایسی ہیں، جنھیں اسلام جائز قرار نہیں دیتا۔ اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی عورت، مردوں کے سامنے رقص اور شرمناک حرکات کرے اور اپنے جسمانی اعضا کی نمایش کرے۔

چونکہ غنائیت کی طرف انسان کی فطری رغبت ہے، اس لیے اسلام نے ایک راستہ کھولا ہے اور یہ راستہ قراءت کی حوصلہ افزائی ہے۔ اسلام، انسان کے ذوق کی نفی نہیں کرتا۔ قراءت کے علاوہ گانے بجانے کی کوئی شکل مباح تو ثابت کی جاسکتی ہے مگر اسے اسلامی کلچر کا گُلِ سرسبد نہیں بنایا جاسکتا۔ اسلام نے کسی تان سین پر فخر نہیں کیا۔ اسے فخر و شرف ہے تو حضرت عمرفاروقؓ پر۔ مسلمانوں کے ہاں پائے جانے والے ذوقِ مصوری نے نقاشی، گلکاری اور خطاطی کی صورتیں اختیار کیں۔ مسلمانوں نے مجسمہ سازی کی بجائے سنگ تراشی کو رواج دیا۔ مسلمانوں نے بُت گری و بُت سازی کو کبھی جائز قرار نہیں دیا تھا۔ یہ اس صدی کی بدعت ہے کہ مجسمہ سازی کو مسلمانوں کے ہاں کلچر کا جزو بنایا جارہا ہے۔ مختصر یہ کہ اس سے آپ میرا مدعا اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اسلامی تہذیب کے امتیازی خصائص اور ضابطوں کے اندر رہ کر جو کچھ کیا جائے گا، وہی اسلامی ہے۔ اس کے باہر جو کچھ ہوگا وہ ہرگز اسلامی نہیں۔

سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کا معاملہ ہو تو یہ ہمارے ہاں قومی سیاسی موقف اور بحث کا محور بن جاتا ہے۔ لیکن سخت حیرت کی بات یہ ہے کہ پارلیمان سے لے کر صحافت تک کہیں یہ معاملہ زیربحث نہیں آ سکا کہ وفاقی شرعی عدالت اس وقت ۸ کے بجائے صرف دو ججز سے کام کررہی ہے اور ایک عرصے سے ججز کی آسامیاں خالی پڑی ہیں ۔

 سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے جب بنچ تشکیل دیے جاتے ہیں،تو ان کی خبریں ذرائع ابلاغ پر اہتمام سے شائع کی جاتی، لیکن اس نکتے پر کبھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی کہ سپریم کورٹ کا شریعت ایپلیٹ بنچ دوسال سے معطل ہے اور اس کے سامنے پچھلی صدی کے مقدمات زیر التواپڑے ہیں کہ بنچ بنے تو ان کی سماعت ہو۔

ریاست پاکستان جس کا مملکتی مذہب آئین کے آرٹیکل ۲ کے تحت اسلام ہے، اور جس کے آئین میں اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے، اور جس کے آرٹیکل ۳۱ کے تحت ریاست پابند ہے کہ ایسے اقدامات کرے، جن کے نتیجے میں لوگ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔اس کے ذمہ داران واقعتاً اپنا نظمِ اجتماعی قرآن وسنت کے مطابق مرتب کرنا چاہتے ہیں یا اسلام کی بات یہاں محض برائے وزن بیان کی جاتی ہے؟اگر عملی سطح پر اہلِ حل و عقد کا طرزِ عمل دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاملاتِ زندگی نو آبادیاتی دور غلامی کے قانونی ڈھانچے کے مطابق ہی چلانا چاہتے ہیں۔

یہاں سپریم کورٹ کا شریعت ایپلیٹ بنچ بنایا گیا اور طے کیا گیا کہ اس میں دو جید علما جج بھی شامل ہو ں گے۔ یہ دو جج وفاقی شرعی عدالت سے بھی لیے جا سکتے ہیں اور صدر مملکت چاہیں تو جناب چیف جسٹس کی مشاورت سے براہ راست علمائے کرام میں سے ان کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔لیکن ان علما ججوں کے ساتھ جو ’ حُسن سلوک‘ کیا جا رہا ہے، آئیے اس پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ آپ کو اس باب میں کوئی شک نہ رہے کہ ہمارا انتظامی ڈھانچا اور مقتدرہ ’ اسلامائزیشن ‘ کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔

سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی مجموعی تنخواہ دس لاکھ روپے سے زیادہ ہے، تقریباً ۱۳یا ۱۴لاکھ روپے ماہانہ۔ لیکن اسی سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے علما جج صاحبان کی تنخواہ مبلغ ۲ لاکھ۶۶ ہزار روپے ہے، جو ضلعی عدالت کے جج کی تنخواہ سے بھی شاید کچھ کم ہی ہے۔ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے علما جج صاحبان کو مراعات یعنی گاڑی ، ڈرائیور ، دفتر ، سٹاف وغیرہ کی سہولیات صرف اس دوران ملتی ہیں، جب وہ بنچ میں کسی مقدمے کی سماعت کر رہے ہوں۔ مقدمے کی سماعت کے دس دن ( اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن) بعد ان سے یہ تمام مراعات لے لی جاتی ہیں۔فیصلہ سازوں نے طے کر رکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے علما جج صاحبان کو میڈیکل الائونس بھی نہیں دینا، وہ بیمار ہوں تو ہوتے رہیں۔ اس ملک میں ایک چوکیدار کو بھی میڈیکل الائونس دیا جاتا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے علما جج صاحبان کو نہیں دینا۔ (سچ پوچھیں تو علما ججوں کے ساتھ اس سے بہتر سلوک ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور میں کیا گیا تھا)۔

 اب آئیے ملک کے نظام عدل کے اس اہم ترین اسلامی اور شرعی ستون کی فعالیت کا عالم دیکھ لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ شریعت ایپلیٹ بنچ ہی نے وہ مقدمات سننے ہوتے ہیں، جن کا تعلق اسلامی قانون کی تعبیر سے ہو۔ حتیٰ کہ اگر کسی کے خیال میں کوئی قانون اسلام سے متصادم ہے تو یہ مقدمہ بھی فیڈرل شریعت کورٹ سے پھر سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ میں آتا ہے۔

’رشیدہ پٹیل کیس‘ کا فیصلہ ۱۹۸۹ء میں وفاقی شرعی عدالت نے کیا۔ اس فیصلے میں لکھا گیا کہ ’زنا بالجبر کا جرم اصل میں حرابہ ہے‘ ۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل ہوئی اور شریعت ایپلیٹ بنچ نے ابھی تک اس پر فیصلہ نہیں کیا۔ ۳۲سال گزر گئے، فیصلہ معطل پڑا ہوا ہے۔ بنچ بنے گا اور بنچ کو کیس بھیجا جائے گا، تب بنچ فیصلہ سنائے گا۔ اس اپیل پر فیصلہ آ جاتا تو شاید جنرل پر ویز مشرف کو ویمن پروٹیکشن بل لانا ہی نہ پڑتا۔ یاد رہے کہ مشرف دور کی اس قانون سازی کے خلاف بھی وفاقی شرعی عدالت فیصلہ دے چکی ہے اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے پاس اپیل زیر التوا ہے۔ آخری مرتبہ اس بنچ نے ۲۰۱۰ء میں اس اپیل پر سماعت کی تھی۔ ۱۲ سال گزر گئے اپیل وہیں کی وہیں پڑی ہے۔ اب بنچ بنے گا اور بنچ کو کیس بھیجا جائے گا، تب بنچ فیصلہ سنائے گا۔

یہی معاملہ کورٹ فیس ایکٹ کے ساتھ ہوا۔ مغلوں کے زمانے میںیہ نہیں ہوتا تھا۔ برطانوی نو آبادیاتی دور غلامی میں رعایا سے کہا گیا: ’’انصاف لینے آتے ہو تو فیس بھی ادا کیا کرو‘‘۔ چنانچہ کورٹ فیس عائد کر دی گئی۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے ۱۹۹۴ء میں اس کورٹ فیس کے خلاف فیصلہ دیا کہ ’’یہ غیر اسلامی ہے اور انصاف کے لیے عدالت آنے والوں سے یہ فیس نہیں لی جا سکتی‘‘۔ لیکن اس فیصلے کے خلاف اپیل ہوئی اور اس اپیل پر آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ بنچ بنے گا اور بنچ کو کیس بھیجا جائے گا، تب بنچ فیصلہ سنائے گا۔ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ نے آخری سماعت ۵دسمبر ۲۰۲۰ء کو کی تھی۔پانچ دن سماعت ہوئی اور پھر بنچ ٹوٹ گیا۔یہیںیہ نکتہ بھی اہم ہے کہ پچھلے ۲۰،۳۰ سال میں شریعت ایپلیٹ بنچ کے سامنے ایسے کتنے مقدمات سماعت کے لیے رکھے گئے، جن کا تعلق قوانین کو اسلام کی رُو سے جانچنے سے تھا کیونکہ اس بنچ کا اصل مقصد تو یہی تھا۔

پارلیمان اگر آئین سے مخلص ہے ، اگر وہ واقعی آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، تو اسے اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کی عدم فعالیت کی وجوہ کیا ہیں اور اس سلسلے میں وہ ضروری قانون سازی کیوں نہیں کر پا رہی؟ مقدمات کب تک التوا میں رہیں گے اور بنچ کب تک نہیں بنیں گے؟ سماعت کب تک نہیں ہو گی؟ یہ سوالات اب معاشرے کے اجتماعی ضمیر کا رستا ہوا ناسور بن چکے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر قانو ن سازی کی ضرورت ہے تو کیوں نہیں کی جاتی؟ کم از کم اتنا قانونی ضابطہ تو بنا دیا جائے کہ یہ بنچ زیادہ سے زیادہ کتنے دن یا ہفتے یا مہینے یا سال غیرفعال رہ سکتا ہے اور اسے زیر التوا مقدمات کا فیصلہ کتنے عرصے میں کر دینا چاہیے۔ابھی تو کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ کب بنچ بنے گا اور کب سماعت ہو گی؟ کیا اسلامائزیشن اس طرح ہوتی ہے؟ 

عالمی سطح پر اُبھرنے والی چند شخصیات میں نیلسن منڈیلا [م:۵دسمبر ۲۰۱۳ء]کے بعد داتو سری انور ابراہیم [پ:۱۰؍اگست ۱۹۴۷ء]، موجودہ وزیراعظم ، ملایشیا، ایک ایسی شخصیت ہیں، جنھیں ہم تاریخ ساز اور سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے والی شخصیت کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ جنھوں نے ملایشیا کے نومبر۲۰۲۲ء میں منعقد ہونے والے ۱۵ویں عام انتخابات میں سب سے بڑی تعداد میں نشستیں جیتنے والے محاذ کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ انور ابراہیم کے محاذ کی یہ انتخابی کامیابی، دراصل ناانصافی کے خلاف عوام کا ردعمل ہے۔ تقریباً ۲۵سال کے طویل عرصے کے بعد انور ابراہیم کے ساتھ انصاف کیا گیا اور اُنھیں حکومت بنانے کے لیے مدعوکیا گیا۔ درحقیقت یہ انصاف کی کامیابی ہے۔

انورابراہیم جنھیں ۲۵ سال قبل ہی ملایشیا کےوزیراعظم بن جانا چاہیے تھا، لیکن ڈاکٹر مہاتیرمحمد سابق وزیراعظم ملایشیا کی پالیسی کے نتیجے میں انھیں نائب وزیراعظم کے عہدے سے محض اس بناپر علیحدہ کردیا گیا، کہ انھوں نے ملک میں برپا ہونے والی معاشی بدعنوانیوں اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اُٹھانا شروع کی تھی۔

ڈاکٹر مہاتیرمحمد نے اُنھیں نہ صرف برطرف کردیا بلکہ بے بنیاد الزامات لگاکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ ڈاکٹر موصوف کی اس ظالمانہ روش نے نہ صرف انورابراہیم کو نقصان پہنچایا، بلکہ خود ملک کو بھی نقصان پہنچایا۔ اگر ڈاکٹر مہاتیرمحمد اقتدار سے انور ابراہیم کو غیرفطری طریقے سے راستے سے نہ ہٹاتے تو آج ملایشیا، لاجواب ترقی کی منازل طے کرکے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں جگہ حاصل کرسکتا تھا۔

انورابراہیم نے مہاتیرمحمد کی جانب سے کی جانے والی ان تمام ناانصافیوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی اور ایک نئی سیاسی جماعت پیپلزجسٹس پارٹی (PKR) کے قیام کا اعلان کیا۔ جس کی قیادت اُن کی اہلیہ ڈاکٹر وان عزیزہ [پ:۱۹۵۲ء]نے سنبھال لی اور ایک تاریخ ساز شخصیت بن کر ملایشیا کے سیاسی اُفق پر نمودار ہوئیں۔ انورابراہیم جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی حالیہ کامیابی اور اُن کا وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونا دراصل ان کی اَن تھک جدوجہداور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ اسلام کے اجتماعی نظام کو پیش کرتے ہیں اور سیاسی نظام کی اصلاح چاہتے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، اُنھیں انورابراہیم کی جدوجہد سے سبق سیکھنا چاہیے، اور اپنے عمل کو جہد ِ مسلسل میں تبدیل کردینا چاہیے۔

انورابراہیم نے بحیثیت اسٹوڈنٹ لیڈر، ملایشیا کی سماجی زندگی میں ۱۹۷۱ء میں ABIM  (Muslim Youth Movement of Malaysia ) کے قیام کے ذریعے حصہ لیا اور پھر ۱۹۹۸ء تک مسلسل ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ملایشیا کی سیاست پر چھاگئے۔ اسلام سے اُن کی وابستگی اور اسلام کے آفاقی تصورنے اُنھیں ساری دُنیا میں جاری اسلامی انقلابی تحریک سے قریب کر دیا۔ وہ ملایشیا میں اسلامی جدوجہد کے طاقت ور نمایندے کی حیثیت سے اُبھرے اور ۱۹۸۲ء میں ملایشیا کی معروف سیاسی جماعت UMNO میں شریک ہوئے۔ پھر اسلامی سیاسی جماعت PAS کے ساتھ مل کر اسلامی نظامِ تعلیم کے لیے جدوجہد جاری رکھی، جس کے نتیجے میں ۱۹۸۳ء میں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔بحیثیت وزیرتعلیم انور ابراہیم نے اسلامی یونی ورسٹی کی ترقی میں زبردست کردار ادا کیا۔یہ یونی ورسٹی آج عالمِ اسلام کی ایک بہترین درس گاہ کی حیثیت سے ممتاز مقام رکھتی ہے۔

۲۴نومبر ۲۰۲۲ء، شام پانچ بجے ملایشیا کے بادشاہ کی جانب سے اُنھیں وزیراعظم کا حلف دلایا گیا۔ ملایشیا کے بادشاہ شاہ سلطان عبداللہ سلطان احمد شاہ نے انور ابراہیم کے حق میں فیصلہ کرنے سے پہلے ملک کے بہت سے لوگوں سے مشورہ کیا اور آخر میں ملایشیا کی تیرہ ریاستوں کے بادشاہوں سے بھی مشورہ کیا۔ سبھی لوگوں نے انورابراہیم کووزیراعظم کی حیثیت سے قبول کرتے ہوئے اپنا تعاون پیش کیا۔

 انورابراہیم کی پارٹی اور اُن کی اتحادی جماعتوں نے حالیہ انتخابات میں صرف ۸۲سیٹیں جیتی ہیں، اس لیے اُنھیں ملک کی مشہورومعروف سیاسی جماعت UMNO اور اُن کے محاذ، BN جنھوں نے ۳۰سیٹیں جیتی ہیں اور دیگرچھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا پڑی۔ اس طرح وہ ملک کے دسویں وزیراعظم بن کر سیاست کے ایوانوں میں شاندار طریقے سے واپس آئے ہیں۔ ۷۵سالہ سیاست دان انورابراہیم ملک کے تمام طبقوں اور نسلی گروپوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے سیاسی استحکام کے لیے جدوجہد کریں گے۔ اسی لیے کہہ رہے ہیں کہ اُن کی زیرقیادت حکومت کسی ایک سیاسی جماعت کی حکومت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ’متحدہ حکومت‘ ہے، جس میں کئی سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ سب کا مقصد ملک کی معیشت کو بہتر بنانا اور عوام کی مشکلات کو آسان کرنا ہے۔

انور ابراہیم ملک کو مالی بدعنوانی اور بدانتظامی سے نجات دلانا چاہتے ہیں اور اسلامی بنیادوں پر ملک کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ لوگ اُن سے یہی اُمید کرتے ہیں کہ وہ اسلامی بنیادوں پر ملک کی تعمیر و ترقی کےلیے کام کریں گے۔ حالیہ انتخابات میں پارٹی کی سطح پر اسلامی جماعت نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں۔ اس لیے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے نوجوانوں کی اکثریت اسلامی خطوط پر ملک کی تشکیلِ نو چاہتی ہے۔ انورابراہیم کے لیے بحیثیت وزیراعظم سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ کیا وہ اسلامی شناخت اور سب کے ساتھ مل کر ملک کو روحانی اور اخلاقی بنیادوں پر ایک منفرد مقام دلانے میں کامیاب ہوں گے؟ اس کام کے لیے اُنھیں ملک کی اسلامی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ انورابراہیم بحیثیت وزیراعظم ملایشیا میں کامیاب ہوں گے اور ملک کو معاشی اور سیاسی مسائل سے نجات دلا کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

’اسرائیل امریکن جیوش کمیٹی‘ کا ایک وفد بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ملاقات کرکے اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعاون کے نئے امکانات اور راستوں پر بات چیت کررہا تھا۔ اور دوسری طرف دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کا زرعی اتاشی یائر ایشیل کنڑول لائن کے قریب دو زرعی فارموں کا دورہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا:’’ اسرائیل [مقبوضہ] کشمیر میں بھارت اسرائیل زرعی منصوبے کے تحت دو سینٹر آف ایکسی لنس کھولنے کے لیے تیار ہے، ہم اپنی جدید ٹکنالوجی جموں و کشمیر کے کسانوں کو دینے کو تیار ہیں‘‘۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسرائیل کی طرف سے زرعی شعبے میں اس دلچسپی کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔

اگرچہ خفیہ طور پر تو پنڈت نہرو ہی کے زمانے میں بھارت اسرائیل تعلقات کا دورشروع ہوچکا تھا جس نے ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لیے اندرا حکومت کو معاونت بھی دی تھی۔ تاہم، ان تعلقات کا مسلسل انکار کیا جاتا رہا ، مگر اہلِ نظر جانتے تھے کہ ’بھارت اسرائیل تعلقات‘ ایک گہرے راستے پر گامزن ہیں۔ پھر اسرائیل اور بھارت کے درمیان کھلے تعلقات کا آغاز ۳۰سال قبل ہوا تھا، اور نریندر مودی کے دور میں یہ تعلقات بلندیوں کی انتہا پر پہنچ گئے۔ مودی نے ان تعلقات کو باضابطہ تسلیم کیا اور اپنی سرپرستی میں لیا۔ اس طرح وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم بنے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ نریندر مودی نے اس دورے میں فلسطینیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا اور راملہ کا دورہ کرنے سے احتراز کیا۔ یہ اس بات کا پیغام تھا کہ بھارت اب فلسطینی عوام کی تحریک اور مستقبل کے بارے میں اپنا عالمی سفارتی موقف بھی مکمل طور پر تبدیل کرچکا ہے، جس میں فلسطینیوں کی الگ حیثیت یا ریاست کا کوئی تصور نہیں۔

۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی الگ حیثیت پر شب خون مارا تو مغرب کی خاموش تماشائی کی حیثیت اور کردار کی سطحیں کھلنا شروع ہوگئیں۔ بھارت نے کشمیر کی مناسبت سے تمام قانونی اور آئینی جھوٹے سچّے پردے نوچ کر پھینک دیئے اور دنیا کے چند طاقتور ملکوں کو بتادیا کہ اب وہ اس حوالے سے کسی کی بات نہیں سنے گا۔ یہ پیغام دیتے وقت سرفہرست اسرائیل تھا، جب کہ عرب دنیا دوسرے نمبر پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ۵؍اگست کے بھارتی فسطائی قدم کے خلاف عرب دنیا نہ صرف خاموش رہی بلکہ پاکستان اور عمران خان کو بھی ایسے ہی ’صبر ‘کی تلقین کرتی رہی، جس ’صبر وتحمل‘ کا مظاہرہ انھوں نے فلسطین میں کیا تھا۔ صبر و تحمل کی اس ظالمانہ تلقین پر پاکستان اور عرب ملکوں کے درمیان تلخی کا ماحول بھی بنا اور پاکستان کے وزیراعظم نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہم خیال ملکوں کا اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سے ہٹ کر ایک نیا پلیٹ فارم بنانے کی دھمکی دی۔ عرب ملکوں کے پیروں تلے سے زمین سرکنے ہی لگی تھی، اور پھر پاکستان کو اندر سے مجبور کرکے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا۔

اسرائیل، فلسطینیوں کی زمین انچوں، گزوں اور ایکڑوں میں ہتھیانے کا مجرم ہے۔ اسرائیل نے پہلا کام ہی یہ کیا تھا کہ فلسطینیوں سے منہ مانگے داموں زمینیں خریدیں۔ جب یہودیوں کی آبادی ان علاقوں میں بڑھ گئی تو یہودی اکابرین کے’اعلانِ بالفور‘ پر عمل درآمد کے اگلے مرحلے کا آغاز ہوا اور باقاعدہ اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا، یعنی بین الاقوامی طاقتیں اسی موقعے کی تاک میں تھیں، انھوں نے بیرونی مدد کرکے اسرائیل کی ریاست قائم کردی۔ بعد میں فلسطینی در بہ در ہوتے چلے گئے اور ان کی زمینوں پر اسرائیلی بستیاں تعمیر ہوتی رہیں۔   آج مقبوضہ فلسطین میں خود فلسطین ایک نقطہ ہے اور اسرائیل ایک بڑا دائرہ۔

بھارت اور اسرائیل کے درمیان کھلے عام فوجی تعاون تو ۳۰برس سے جاری ہے، اور یہ تعاون ۱۹۹۰ء میں اُس وقت بے نقاب ہوا تھا جب کشمیری حریت پسندوں نے جھیل ڈل میں ایک شکارے پر حملہ کرکے اسرائیلی کمانڈوز کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ سیاحوں کے رُوپ میں کمانڈوز تھے جنھوں نے حریت پسندوں کو ٹف ٹائم دیا تھا۔ بعد میں یہ تعلق مختلف واقعات کی صورت میں عیاں ہوتا چلا گیا۔

اب بھارت نے کشمیریوں کی زمینیں ہتھیانے اور انھیں اقلیت میں بدلنے کے لیے اسرائیل کے تجربات سے استفادہ کرنا شروع کردیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کشمیریوں کی زمینیں عرب باشندوں کے ناموں سے یا انھیں آگے رکھ کر خریدی یا استعمال میں لائی جائیں، مگر اس کے پیچھے حقیقت میں اسرائیل اور بھارت ہی ہوں گے۔ بھارت نے ۵؍ اگست کے فیصلے کے ذریعے متروکہ املاک کے نام پر مختلف جنگوں اور دوسرے مواقع پر نقل مکانی کرنے والے مسلمانوں کی زمینوں کا کنٹرول اور حقِ ملکیت حاصل کرناشروع کیا ہے۔

فی الحال تو انھیں نئی زمینیں حاصل کرنے کی ضرورت نہیں، مگر وہ ان ہتھیائی گئی زمینوں کو ماڈل بستیاں یا باغ بنانے کے بعد کشمیر کے دوسرے زمین داروں کو بھی اپنی طرف دیکھنے اور شراکت داری قبول کرنے پر مجبور کریں گے۔ اسی لیے کشمیر کی سب سے بڑی صنعت سیب کے باغات کو حیلوں بہانوں سے تباہ کیا جارہا ہے، تاکہ ان باغوں کے مالکان ’نئے تجربات‘ کے نام پر بھارت اور اسرائیل کی شراکت داری قبول کرلیں۔اُونٹ کو خیمے میں سر دینے تک مشکل ہوتی ہے، یہ کام ایک بار ہوجائے تو پھر خیمہ اس کے سر پر ہوتا ہے۔

گذشتہ ماہ سے فلسطین کے قدیمی، تاریخی اور مزاحمتی روایات کے حامل شہر نابلس میں اسرائیلی قابض فوج نے سنگین ترین محاصرے کا آغاز کیا ہے۔رومی حکمرانوں کے دور میں قائم کیے گئے فلسطینی شہر نابلس کی کئی حوالوں سے شناخت ہے۔ یہ پہاڑوں کے درمیان آباد ہے۔ ایک زرعی شہر ہے۔ زیتون کے باغوں سے سرسبز و شاداب ہے۔ ڈیڑھ دو لاکھ کی آبادی کے اس شہر کی ایک شناخت یہ بھی رہی ہے کہ یہ بیرون ملک سے لا کر مسلط کردہ قوتوں کے خلاف مزاحمت کا مرکز بنتا رہا ہے۔

 نابلس کے آزادی پسند فلسطینیوں سے برطانوی قبضہ کاروں کو بھی مسائل رہے ہیں۔ آج امریکی سہولت کاری سے قائم ناجائز اسرائیلی قابض حکومت کے فوجی بھی اس شہر کے لوگوں سے خوش نہیں۔ اس لیے نابلس کے باسیوں کو اسرائیلی قابض فوج نے اور اس کے باغوں کو بیرونِ ممالک سے اکٹھے کیے گئے یہودی آباد کاروں نے ہمیشہ نشانے پر رکھا ہے۔

اسی سبب گذشتہ ماہ کے پہلے عشرے سے نابلس کا محاصرہ جاری ہے۔ اس دوران کئی فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے اور نابلس شہر کے باسیوں کے خلاف اسرائیلی قابض فوج کی کارروائیاں ہیں کہ مسلسل جاری ہیں۔گھروں سے نوجوانوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ چوک چوراہوں پر گولی چلائی جاتی ہے۔ زہریلی آنسو گیس کا اندھا دھند استعمال کیا جاتا ہے۔ بے گناہوں کو جیلوں میں نظر بند کیا جاتا ہے۔ لیکن عالمی ذرائع ابلاغ اور عالمی ضمیر دونوں ہیں کہ چین کی نیند سو رہے ہیں۔ جیسے یہ ’گلوبل ویلج‘[عالمی گائوں] کے نہیں ایک عالمی قبرستان کے مکین ہوں۔

نابلس سے ۱۱۰ کلومیٹر کے فاصلے پر غزہ کی پٹی ہے۔ ۲۰ لاکھ کی آبادی کی یہ بستی، بستے بستے بسنے والی اور بس بس کر اُجڑنے والی ایک فلسطینی بستی اسرائیلی قابض فوج کے ظالمانہ اور معلوم تاریخ کے طویل ترین محاصرے کی ایک مثال ہے۔ غزہ کے فوجی محاصرے کو ساڑھے ۱۵سال ہونے کو آئے ہیں۔ غزہ کے تین اطراف میں خشکی پر اسرائیلی فوجی ناکوں اور چیک پوسٹوں میں ہمہ وقتی گشت اور پہروں کی صورت موجود ہوتے ہیں، جب کہ چوتھی جانب سمندر میں اسرائیلی بحریہ کا محاصرہ موجود ہے۔ پھر فضائی نگرانی کے ہمہ وقت اہتمام کے علاوہ اسرائیل جب دل چاہے بم باری بھی کر لیتا ہے، تاکہ خوف کی کیفیت یہاں کے بچوں اور عورتوں پر ہروقت مسلط رہے۔

محاصرے کے ان مسلسل ساڑھے پندرہ برسوں نے غزہ کو دنیا کی ایک بدترین کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ اس کھلی جیل کا کسی ایک آدھے حوالے سے اگر کوئی تقابل ہو سکتا ہے تو وہ جنت نظیر وادیٔ کشمیر ہے۔ جنت ارضی کشمیرپر بھی پچھلے کئی عشروں سے سات لاکھ سے زیادہ بھارتی افواج نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ وہ بھی ایک کھلی جیل ہے۔

حالیہ برسوں کی ایک مثال برما کے روہنگیا مسلمانوں کی صوبہ اراکان بھی رہی ہے کہ انھیں بھی اسی طرح گھیر کر مارا گیا اور ان کے حالات میں ابھی تک کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی ہے۔

تاہم، غزہ کا معاملہ کئی حوالوں سے دیگر سب محاصروں سے زیادہ خوفناک اور المناک ہے۔ یہ ایک ہی بستی ہے۔ اس بستی کا رابطہ ہر دوسری بستی سے کاٹ دیا گیا ہے۔ یہ دنیا کی گنجان ترین آبادیوں میں سے ایک ہے۔ اس میں خوراک کی ضروریات سے لے کر لباس، رہایشی حاجات اور ادویات سمیت تقریباً ہر چیز کا انحصار دوسری جگہوں سے آنے پر ہے، جو مکمل ’بلاکیڈ‘ (محاصرے)کی وجہ سے ممکن نہیں رہا ہے۔

اس متواتر ’محاصرے‘ کی وجہ سے ۲۰ لاکھ کی آبادی میں سے کم از کم ۱۰ لاکھ کی آبادی کو صبح و شام سادہ سی خوراک بھی میسر آنا آسان نہیں رہا ہے۔ بھوک و افلاس اور خوراک کی قلت کے شکار ان اہل غزہ کے لیے ان کے اڑوس پڑوس کے لوگوں سمیت دنیا بھر کے انسانی حقوق اور عالمی برادری کے سب نعرہ باز، ظالمانہ حد تک خاموش ہیں۔

غزہ کے مسلسل اسرائیلی فوجی محاصرے کی وجہ سے یہ بستی عملاً بیروزگاروں کی غالب اکثریت کی بستی بن چکی ہے۔ غزہ سے باہر مزدوری کے لیے جانے کے حق سے بھی اہل غزہ کومحروم کر دیا گیا ہے اور حصولِ تعلیم کے لیے بھی غزہ سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔ حتیٰ کہ علاج معالجے کے لیے کسی ہسپتال اور مناسب علاج گاہ تک پہنچنا غزہ کے مکینوں کے لیے ناممکن ہے۔

صرف یہی نہیں، ان ساڑھے پندرہ برسوں کے دوران پانچ مرتبہ اسرائیل کی طرف سے دنیا کی اس کھلی جیل پر جنگی جارحیت مسلط کی جا چکی ہے۔ بار بار غزہ کے ٹوٹے پھوٹے ہسپتالوں اور ادھورے تعلیمی اداروں کو بمباری کا نشا نہ بنایا جا چکا ہے۔ گویا مہذب دنیا کی قیادت کرنے والی  نام نہاد ’مہذب‘ اور ’انسان دوست‘ عالمی طاقتوں کے سامنے ان فلسطینیوں کو باندھ کر مارا جا رہا ہے۔ دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے کہ اسرائیل اس محاصرے کو ختم کر دے گا۔

ستم بالائے ستم یہ کہ رفاہ کی راہداری ان اہل غزہ کے لیے اس محاصراتی زندگی میں سانس لینے کی واحد صورت ہے۔ اسے بھی مصر کے آمرمطلق جنرل سیسی جب چاہے بند کر دیتا ہے۔ بلاشبہہ اسرائیل سے دوستی اور محبت و سفارت کا بانی ہونے کی وجہ سے مصر کو اپنے دوست اسرائیل کے لیے وفا شعاری کا تقاضا نبھانا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے ادارے ’انروا‘ کی دو سال سے سرگرمیاں مالی مشکلات کی وجہ سے محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ’انروا‘ غزہ میں زیر محاصرہ انسانوں کے لیے ایک سہارا بن گیا تھا۔ یہ تعلیم و صحت کے معاملات میں بھی متحرک ہو گیا تھا۔ اس لیے غزہ پر جنگی جارحیت کے دوران غزہ کے تمام شہریوں کی طرح یہ ’انروا‘ بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

امریکا نے اقوام متحدہ کی امداد بند کر کے اس کا گلا بھی گھونٹ دیا ہے۔ اسرائیل کو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے فلسطینی پناہ گزینوں کی موجودگی بھی تکلیف دیتی ہے، جب کہ ’انروا‘ ان فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے لگا تھا۔

غزہ کی آبادی پر مسلسل فوجی محاصرہ ہونے کی وجہ سے اس کی پندرہ سال تک کی تقریباً ۴۵فی صد آبادی نے اسی محاصرے کے ماحول میں آنکھ کھولی ہے۔ یہ ۴۵ فیصد آبادی نہیں جانتی کہ غزہ کے باہر کی فلسطینی بستیاں اور دُنیا کیسی ہے؟ اگر یہ اسرائیلی محاصرہ اگلے پندرہ سال بھی جاری رہتا ہے تو بلاشبہہ غزہ کی آبادی کا ۶۰فی صد سے زیادہ حصہ وہ ہو سکتا ہے، جسے غزہ کی اس جیل سے باہر نکلنے ہی نہ دیا گیا ہو گا۔

اسرائیل کا منصوبہ پورے فلسطین کو جیل بنا دینے اور سارے ہی فلسطینی عوام کو اس طرح قید کر رکھنے کا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ۲۰۰۲ء میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے علاقے میں ایک دیوار کھڑی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ ۷۰۸کلومیٹر تک پھیلی دیوار ہے، جس نے مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان بھی رخنہ و رکاوٹ پیدا کی ہے اور خود مغربی کنارے میں آباد بستیاں بھی اسرائیل کی قائم کردہ اس دیوار کی زد میں ہیں۔شروع میں ۶۷ شہروں، قصبوں اور دیہات کو اس دیوار کی زد میں لانے کا منصوبہ تھا تاکہ انھیں اس دیوار کے ذریعے محاصرے میں لیا جا سکے۔

اسرائیل کی بنائی گئی اس دیوار کی لمبائی اس کی زد میں آنے والے بستیوں کے محاصرے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی بلندی نو فٹ سے لے کر ۳۰ فٹ تک ہے۔ بلاشبہہ یہ فلسطینیوں کے ہرطرح کے معاشی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی مقاطعے کے جملہ مقاصد پورے کرتی ہے۔ لیکن اس کی تعمیر میں اسرائیلی بدنیتی کا دائرہ اس سے بھی وسیع تر ہے۔

اسرائیل نے یہ بھی اہتمام کیا کہ جہاں بھی کسی فلسطینی بستی کے نزدیک کنواں، چشمہ، ندی یا پانی کسی بھی دوسرے امکان اور ذخیرے کی صورت موجود تھا۔ اسرائیل نے اس دیوار کے ذریعے اس بستی کو کاٹ کر اپنے ساتھ ملا لیا ہے تاکہ فلسطینی اور ان کی سرزمین پانی کو ترستی رہے۔

مگر فلسطینیوں نے اسرائیل کی اس دیوار کو اپنے لیے ’دیوار گریہ‘ نہیں بنایا کہ صدیوں سے روتے رہنے والی قوم کہلائیں۔ فلسطینیوں نے اسی دیوار کو اپنی آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور جگہ جگہ اس دیوار پر احتجاجی آرٹ کے نقوش و نگار بنا کر اس دیوار کو اسرائیل کے خلاف احتجاج کی گواہی بنا دیا ہے۔

اسی اسرائیلی دیوار پر فلسطینی نژاد امریکی صحافی خاتون شیریں ابو عاقلہ کی تصویر بنا دی گئی ہے کہ ابو عاقلہ نے اپنی جان پیش کر کے اپنی قوم کی آزادی کے لیے جدو جہد میں حصہ لیا تھا۔ اس کی تصویر بنانے والے فلسطینی مصور نے اسرائیلی دیوار پر بنائی گئی تصویر کے ساتھ لکھا ہے:

Live News, Still Alive۔ انگریزی میں لکھی گئی یہ تحریر درحقیقت فلسطینی جدوجہد کا وہ نوشتۂ دیوار ہے کہ جو بلند آہنگ سے کہہ رہا ہے کہ میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، نہ میری منزل کھوٹی کی جاسکتی ہے اور نہ مجھے جھکایا جاسکتا ہے، اور ان شاء اللہ یہ ستم کی دیوار گرا دوں گا!

برما (میانمار) کے مسلمانوں پر گذشتہ ۸۰برس سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، لیکن گذشتہ دس برسوں کے دوران اس ستم کاری اور بدھ مت کے پیروکاروں کی وحشت انگیزی میں بے پناہ شدت آئی ہے۔ مگر افسوس کہ نام نہاد عالمی ضمیر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔

’’روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ ایک نہایت خطرناک موڑ پر آچکا ہے۔اگر بین الاقوامی رہنماؤں نے فوراً کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا تو خدشہ ہے کہ مہاجرین کی واپسی کے تمام امکانات ختم ہوجائیں گے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ناروے کی مہاجرین کونسل کے سیکرٹری جنرل جان ایجی لینڈ نے ستمبر۲۰۲۲ء میں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران کیا۔

انھوں نے مزید کہا: ’’یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بنگلہ دیش میں مہاجر روہنگیا برادری ایک ایسے مقام تک پہنچ چکی ہے کہ اگر فوراً ان کی دربدری کا کوئی سدباب نہیں کیا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی۔ یہاں بسنے والے خاندان بنی نوع انسان کی بدترین بے حسی کے گواہ ہیں۔ اگر معاملات یونہی رہے تو ان کی میانمار میں اپنے گھروں کو واپسی ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جائے گی‘‘۔

اگست ۲۰۱۷ء میں میانمار میں تباہ کن مسلم کش فسادات شروع ہوئے تو ۱۰ لاکھ روہنگیا مہاجرین نے جان بچانے کے لیے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی اور تاحال یہیں مقیم ہیں۔ مکمل طور پر بیرونی امداد پر گزربسر کرنے والے ان مہاجرین کے لیے ۳۱ عارضی آبادیاں قائم کی گئیں، جنھیں مجموعی طور پر دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ کہا جاتا ہے۔

ان مہاجرین میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ کی تعداد میں بچے، نابالغ اور نوجوان شامل ہیں، جوشاید ایک ’گمشدہ نسل‘ کے طور پر پروان چڑھ رہے ہیں۔ عالمی برادری کی توجہ دوسرے بہت سے مسائل کی طرف بٹ رہی ہے اور امدادی فنڈز کی فراہمی میں مسلسل کمی ہو رہی ہے،ان حالات میں مہاجرین کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ 

مہاجرین کونسل ناروے نے ۳۱۷ روہنگیا نوجوانوں پر تحقیق کی، جس میں معلوم ہوا کہ ۹۵ فی صد نوجوان بے روزگاری کے سبب شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی روزگار ہے اور نہ زندہ رہنے کا وسیلہ۔ یہ قرض کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور دنیا سے مدد کا انتظار کر کے تھک چکے ہیں۔ شکستہ وعدوں اور مایوسی کے اندھیروں نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘‘ ۔ روہنگیا آبادی کی بحالی کا منصوبہ فنڈز کی مسلسل کمی کا شکار رہتا ہے۔ گذشتہ اگست تک درکار امداد کا صرف ۲۵ فی صد ہی مہیا ہو سکا۔ اب تک حاصل ہونے والی رقم ۳۵ سینٹ (۶۰روپے)  یومیہ فی مہاجر بنتی ہے۔

ایجی لینڈ نے کہا:’’میں بنگلہ دیش سے باہر بین الاقوامی قیادت کی اس مسئلے میں عدم دلچسپی دیکھ کر شدید مایوس ہوا ہوں۔ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے اور اس سیاسی بحران کو ختم کرنے کے بجائے ہماری قیادتوں کے درمیان بے حسی کا مقابلہ چل رہا ہے۔جو لوگ باہر کہیں پناہ ڈھونڈنے نکلتے ہیں انھیں اُلٹا زبردستی واپس دھکیل دیا جاتا ہے۔چین اور اس علاقے کے ممالک کو مل کر اس مسئلے کے حل پر غور کرنا چاہیے۔ روہنگیا مہاجرین ایک گہری کھائی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اگر ہم نے ان کا ہاتھ نہ تھاما اوراگر ہم اس ظلم کو یونہی خاموشی سے دیکھتے اور برداشت کرتے رہے تو آیندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ ہم کو جو کہنا چاہیے تھا، وہ نہیں کہا اور جو کرنا چاہیے تھا، وہ ہم نے نہیں کیا‘‘۔

بنگلہ دیش کی طرف روہنگیا مسلمانوں کی پہلی بڑی ہجرت ۱۹۷۸ء میں ہوئی۔اس کے بعد ۹۰ء کے عشرے کے آغاز میں اور پھر ۲۰۱۷ء میں بڑے پیمانے پر یہ ہجرت عمل میں آئی۔  روہنگیا مہاجرین کی اکثریت مسلمان ہے۔

روہنگیا آبادی ’راکھائن‘ کے علاقے سے سرحد کو پار کر کے اس طرف کاکس بازار میں آباد ہوئی ہے اور یہ شہر مہاجرین کی مسلسل آمد کے باعث آبادی کے بے پناہ دبائو کا شکار ہو چکا ہے۔ اب بنگلہ دیشی حکومت مہاجرین کو جزیرہ ’بھاشن چار‘ پر منتقل کرنے کا سوچ رہی ہے۔

۲۰۱۷ء کی بڑی نقل مکانی سے پہلے بھی کاکس بازار کے کیمپوں’کٹاپالونگ‘ اور’ نیاپرا‘ میں ہزاروں روہنگیا مہاجرین موجود تھے۔ اکثر فلاحی تنظیمیں مثلاً UNHCR وغیرہ چاہتی ہیں کہ روہنگیا برادری امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارے۔لیکن بنگلہ دیش کی کمزور معیشت اتنے مہاجرین کو سہارا دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ عالمی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق ڈھاکا میں غربت کی شرح ۳۵ فی صد ہے اور کاکس بازار میں۸۵ فی صد۔ اس پر مستزاد یہ خطہ قدرتی آفات مثلاً سیلاب اور سمندری طوفانوں کی زد میں رہتا ہے،جب کہ یہاں بنیادی صحت اور تعلیم کا نظام بھی موجود نہیں۔

اس وقت بنگلہ دیش میں بنیادی ضروریات کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ بالائی درمیانہ طبقہ بھی سخت متاثر ہو رہا ہے۔ بہت سے کاروبار بند ہو چکے ہیں اور بے روزگاری میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ ۲۰۱۹ء کی ۴ء۳ فی صد شرح بے روزگاری ۲۰۲۰ء میں بڑھ کر۵ء۳  فی صد ہو چکی ہے۔بہت سے کاروبار جو بند ہو گئے تھے وہ دوبارہ شروع نہیں ہو رہے، کیونکہ کوئی سرمایہ موجود نہیں ہے۔

کاروبار شروع یا بحال کرنے کے لیے بنکوں سے قرضہ لینا انتہائی مشکل ہے۔ اس کی ایک وجہ بنگلہ دیش میں ہر طرف پھیلی بدعنوانی ہے اور دوسری وجہ فرسودہ بنکاری نظام۔ پھر بیرونِ ملک سے ہونے والی ترسیلات زر (Remittances) میں کمی نے ہلاکر رکھ دیا ہے، جن پر بنگلہ دیشی معیشت بڑی حد تک منحصر ہے۔

سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ معاشی تباہی کے شکار روہنگیا مسلمانوں کی خواتین کے ایک حصے میں جسم فروشی زہر بن کر پھیل رہی ہے۔ اس موضوع پر شائع شدہ تحقیقی رپورٹوں میں اتنے شرمناک اعدادوشمار اور تفصیلات درج ہیں کہ ہم انھیں یہاں پر پیش کرنے کی ہمت نہیں پاتے۔

فی الحال اس سیاہ رات کے بعد کسی دن کا اُجالا نظر نہیںآتا۔ لاکھوں مہاجرین کو گن پوائنٹ پر واپس راکھائن کی طرف دھکیلنے کے بجائے اس مسئلے کا کوئی قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے۔

اس وقت کیفیت یہ ہے:

  • میانمار کے مختلف حصوں میں جاری شدید جھڑپوں کے بعد وہاں انسانی حقوق کی صورتِ حال دگرگوں ہو چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں شہریوں کی املاک کے مزید نقصان اور مزید نقل مکانی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔انسانی زندگی کو مزید خطرے درپیش ہیں اور پہلے سے خراب صورتِ حال مزید خراب ہو رہی ہے۔
  • پورے میانمار میں اس وقت تک مجموعی طور پر ۱۳ لاکھ سے زیادہ لوگ دربدر ہو چکے ہیں۔ اس میں گذشتہ سال ہونے والے فوجی شب خون کے بعد نقل مکانی کرنے والے ۸ لاکھ  ۶۶ہزار  لوگ بھی شامل ہیں۔
  • ایک کروڑ ۴۰ لاکھ سے زائد کی آبادی کو زندہ رہنے کے لیے ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔
  • اس صورتِ حال سے نپٹنے کے لیے جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کے لیے درکار رقم کا صرف ۱۷فی صد ہی مہیا ہو سکا ہے۔ مہاجرین کی مدد کے لیے پہنچنے کی راہ میں درپیش مشکلات کے باوجود، کئی فلاحی تنظیمیں شدید خطرات میں گھری آبادی کو انتہائی بنیادی ضروریات مہیا کرنے میں مصروف ہیں۔

(ریلیف ویب اور روزنامہ اسٹار، اور سودا دیس رائے کی معلومات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے)۔

یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ برطانوی شہر لیسٹر میں جب ستمبر میں اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار ’ہندو- مسلم فساد‘ برپا ہوا۔ اس سے قبل ہندوانتہا پسندوں کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ  (RSS) کے کئی لیڈروں نے برطانیہ کا دورہ کیا۔ یہ فساد ٹھیک اسی طرح کیا گیا، جس طرح عام طور پر بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کروانے کے لیے بہانہ سازی کی جاتی ہے ، یعنی یہ کہ مسلم علاقوں سے زبردستی جلوس نکال کر، اور جان بوجھ کر اشتعال انگیز نعرے بلند کرکے مسلمانوں کو رد عمل پر مجبور کیا جاتاہے۔ بھارت میں ہونے والے تقریباً تمام فسادات کی یہ کہانی ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ کبھی رام نومی، تو کبھی گنیش، تو بھی کسی اور جلوس کو زبردستی مسلم علاقوں سے گزارنا ، یا کسی مسجد کے پاس عین نماز کے وقت اس جلوس کو روک کر بلند آواز میں میوزک بجانا وغیرہ ۔ پھر ایسے جلوس یا فساد سے قبل اسی شہر یا علاقے میں آر ایس ایس یا اس سے وابستہ کسی تنظیم کا اجتماع ہوتا تھا اور واردات کے وقت پولیس دانستہ طور پر غائب ہوجاتی تھی، تاکہ فسادیوں کو کھل کھیلنے کا موقع دیا جائے ۔ پولیس کی آمد کا وقت بھی اس بات پر منحصر ہوتا ہے، کہ فساد میں کس کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے ، اور پھر موقع پر پہنچ کر پولیس اُجڑے پجڑے مسلمانوں ہی کو غضب کا نشانہ بناتی ہے ۔ ایک سینئر پولیس آفیسروبھوتی نارائین رائے نے فسادات میں بھارتی پولیس کے اس رویے پر ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔

بھارت میں ’جیتند نارائین کمیشن‘ سے لے کر ’سری کرشنا کمیشن‘ تک، یعنی فسادات کی تحقیق کےلیے جتنے بھی کمیشن یا کمیٹیاں آج تک بنی ہیں ،ان سب نے آر ایس ایس یا اس سے وابستہ کسی نہ کسی تنظیم کو قتل و غارت یا لوٹ مار کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے ۔ مگر دوسرے یورپی ممالک ویزا حاصل کرنے والے مسلمانوں سے لمبی چوڑی ضمانتیں اور بیان حلفی لیتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی انتہاپسند تنظیم یا کسی بنیاد پرست سوچ کی حامل تنظیم سے تو نہیں ہے؟ مگر دوسری طرف انھوں نے ہندو انتہاپسند تنظیموں کو اس زمرے سے خارج کیا ہوا ہے ۔ ایل کے ایڈوانی اور بی جے پی کے حامی تجزیہ کار بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جرمنی کی کرسچن ڈیموکریٹ یا برطانیہ کی ٹوری پارٹی سے تشبیہہ دیتے ہیں ۔ مگر یہ بات کہتے وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ بی جے پی کی کمان اس کے اپنے ہاتھوں میں نہیں ہے ، بلکہ اس کی طاقت کا اصل سرچشمہ اور نکیل ہندو قوم پرستوں کی سرپرست ایک فاشسٹ اور نسل پرست تنظیم آر ایس ایس کے پاس ہے۔ جو فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی خفیہ تنظیم ہے، جس کے مالی وانتظامی معاملات کے بارے میں بہت ہی کم معلومات منظر عام پر موجود ہیں ۔ چند برس قبل تو برطانیہ کی ہندو ممبر پارلیمنٹ پریتی پٹیل نے آرایس ایس کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری دتارے ہوشبولے کی برطانیہ آمد کے موقعے پر برطانوی حکومت سے درخواست کی تھی، کہ ان کا استقبال کیا جائے ۔ آر ایس ایس کی بیرو ن ملک شاخ ’ہندو سیوا سنگھ‘(HSS) نے ہوشبولے کو لندن میں ایک پروگرام RSS: A Vision in Action کی صدارت کےلیے مدعو کیا تھا ۔

 حیرت کا مقام ہے کہ مغرب نے جس فاشسٹ نظریے کو ۱۹۴۵ء میں شکست دے کر ایک جمہوری، لبرل اور تکثیری معاشرے کو تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی تھی، انھوں نے آخر کس طرح بھارت میں پروان چڑھتے وحشت ناک فاشز م سے نہ صرف آنکھیں بندکرلی ہیں ، بلکہ ا پنے ملکوں میں بھی اس نظریے کی اشاعت و تقویت کی اجاز ت دے کر اس سے وابستہ لیڈروں کو گلے بھی لگا رہے ہیں۔

برطانیہ میں رُونما ہونے والے ان فسادات سے عندیہ ملتا ہے کہ ’ہندو توا نظریے‘ نے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں میں جگہ بنا کر دُنیا کے مؤثر ممالک کی سرحدیں عبور کر لی ہیں ۔ برطانیہ میں بھارتی نژاد آبادی کل آبادی کا ۲ء۵ فی صد اور پاکستانی نژاد۵ء۱ فی صد ہے۔ امریکا میں ۲ء۷ملین بھارتی نژاد آبادی ہے ۔ میکسیکن کے بعد شاید تارکین وطن کی یہ سب سے بڑی آبادی ہے اور یہ خاصے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدوں پر براجماں ہیں ۔ آر ایس ایس کی دیگر شاخیں یعنی ’ویشوا ہندو پریشد‘ (VHP) بھی ان ملکوں میں خاصی سرگرم ہے۔ یاد رہے کہ یہ تنظیم ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت میں شامل تھی، جس کی وجہ سے اس پر بھارت میں کچھ سال تک پابندی بھی لگی تھی ۔ اس دوران جب پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں نے اس کے دفاتر کی دہلی اور دیگر شہروں میں تلاشی لی، تو معلوم ہوا کہ بابری مسجد کی مسماری کےلیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ یورپ اور خلیجی ممالک ہی سے آئی تھی۔

دراصل ونایک دمودر ساوارکر [م:۱۹۶۶ء] جو ’ہندو توا نظریہ‘ کے خالق ہیں ، انھوں نے ہندوؤں پر زور دیا تھا کہ وہ نئی زمینیں تلاش کرکے ان کو نو آبادیوں میں تبدیل کریں ۔ ان کو رہ رہ کر یہ خیال ستاتا تھا کہ مسلمان او ر عیسائی دنیا کے ایک وسیع رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہندو صرف جنوبی ایشیا میں بھارت اور نیپال تک ہی محدود ہوکر رہ گئے ہیں ۔ اپنی کتابEssentials of Hindutva میں وہ آر ایس ایس کے اکھنڈ بھارت کے فلسفے سے ایک قدم آگے جاکر عالمی ہندو نظام یا عالمی ہندو سلطنت کی وکالت کرتے ہیں ۔ ایک صدی بعد اس وقت آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں اس نظریے کو عملاً نافذ کروانے کا کام کررہی ہیں۔

اگرچہ یہ تنظیمیں یورپ میں ۱۹۶۰ء ہی سے کام کرتی آرہی ہیں، مگر ان کا دائرہ ۲۰۱۴ء میں مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بڑا وسیع اور فعال ہو گیا ۔ آر ایس ایس، ایچ ایس ایس اور دیگر تنظیمیں اب ۴۸ممالک میں سرگرم ہیں۔ امریکا میں ’ہندوسیوا سنگھ‘ نے ۳۲ریاستوں میں ۲۲۲شاخیں قائم کی ہیں اور اپنے آپ کو ہندو فرقہ کے نمائندہ کے بطور پیش کیا ہوا ہے ۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی وہ سرگرم ہیں ۔ ابھی حال ہی میں آر ایس ایس کے تھینک ٹینک ’انڈیا فاؤنڈیشن‘ کے ذمہ داروں نے ترکیہ کا دورہ کرکے وہاں حکومتی شخصیات اور تھینک ٹینک کے ذمہ داروں سے بات چیت کی، جو اپنی جگہ نہایت چونکا دینے والا واقعہ ہے اور اس کا نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے۔

آر ایس ایس افریقی ملک کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط پوزیشن اختیار کرچکی ہے ۔ کینیا میں اس کی شاخوں کا دائرۂ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ، یوگنڈا، موریشس اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے، اور وہ ان ممالک کے ہندوؤں پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔

حیران کن بات یہ کہ ان کی پانچ شاخیں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھی ہیں ۔ چوں کہ عرب ممالک میں جماعتی اور گروہی سرگرمیوں کی کھلی اجازت نہیں ہے، اس لیے وہاں کی شاخیں خفیہ طریقے سے گھروں تک محدود ہیں اور اکثر یوگا کے نام پر اجتماع منعقد کرتے ہیں ۔ فن لینڈ میں ایک الیکٹرونک شاخ ہے، جہاں ویڈیو کیمرے کے ذریعے بیس ممالک کے افراد جمع ہوتے ہیں ۔ یہ ممالک وہ ہیں جہاں پر آر ایس ایس کی باضابطہ شاخ موجود نہیں ہے ۔

امریکی تنظیم کی ایک رپورٹ Hindu Nationalist Influence in The US  میں بتایا گیا کہ ۲۰۰۱ءسے ۲۰۱۹ء تک آر ایس ایس سے وابستہ سات تنظیموں نے امریکا میں۱۵۸ء۹ ملین ڈالر اکٹھے کیے، جس میں اکثر رقم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر خرچ کی گئی۔ پھر ۱۳ ملین ڈالر ایک تنظیم Civilization Foundation کو دیئے گئے، تاکہ امریکی یونی ورسٹیوں میں تحقیقی کاموں پر اثر انداز ہوں ۔ ٹیکس گوشواروں کے مطابق ایک تنظیم ’اوبیرائی فاونڈیشن‘ نے امریکی ریاستوں میں نصابی کتابوں اور اساتذہ کی تربیت پر ۶ لاکھ ڈالر خرچ کیے، ان میں سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر کیلے فورنیا کے اسکولوں پر خرچ کیے گئے ۔ اسی تنظیم نے سان ڈیاگو اسٹیٹ یونی ورسٹی کو تحقیق کے لیے ایک بڑی بھاری رقم دی۔ جس میں سکھ مت، جین مت، بدھ مت اور ہندو مت کی چار دھرم روایات میں کام کرنے والے اسکالرزکے بارے میں معلومات کا ڈیٹا بیس بنانے کا ایک پروجیکٹ بھی شامل تھا ۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق کئی تنظیموں کو بھارتی حکومت نے ہرماہ ۱۵ہزار سے ۵۸ہزار ڈالر مختلف امریکی ادارو ں میں لابی کرنے کےلیے دیئے ۔ امریکا میں سرگرم آرایس ایس سے وابستہ ۲۴تنظیموں نے اپنے گوشواروں میں ۹۷ء۷ ملین ڈالر اثاثے ظاہر کیے ہیں ، جس میں ’ویشوا ہندو پریشد‘ کی امریکی شاخ کے پاس ۵ء۳ملین ڈالر تھے ۔ نومبر ۲۰۲۰ءکو سنگھ نے دیوالی منانے کےلیے ایک ورچوئل جشن منعقد کیا، جس میں سان فرانسسکو کے آٹھ میئرز اور دیگر منتخب افراد نے شرکت کی۔۲۰۰۱ء اور ۲۰۲۲ء کے دوران سنگھ سے منسلک پانچ اداروں: ’ایکل ودیالیہ فاوَنڈیشن آف یو ایس اے‘، ’انڈیا ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ‘، ’پرم شکتی پیٹھ‘، ’سیوا انٹرنیشنل‘، ’امریکا کی وشوا ہندو پریشد‘ کے ذریعے امریکا سے ۵۵ملین ڈالر بھارت منتقل کیے گئے ۔ یہ سبھی تنظیمیں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں اور سماجی خلیج وسیع کرنے کی ذمہ دار ہیں ۔

بھارتی تارکین وطن کا دوغلا پن اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن ممالک میں یہ رہتے ہیں وہاں پر تو وہ لبر ل اور جمہوری نظام کے نقیب اور اقلیتوں کے محافظ کے طورپر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، مگر بھارت میں ان کا رویہ اس کے برعکس رہتا ہے ۔ مغرب یا خلیجی ممالک میں وہ غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنے کی آزادی کے خواہاں ہیں ،مگر بھارت میں مودی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق و دیگر ۲۵۰غیرسرکاری تنظیموں پر بیرون ملک سے فنڈ حاصل کرنے پر پابندی لگانے کی حمایت کرتے ہیں ، حتیٰ کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے کے اثاثے بھارت میں منجمد کردیئے  گئے ہیں۔ کسی اور ملک میں اس طرح کا اقدام تو عالمی پابندیوں کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔ بھارتی تارکین وطن اور سفارت کار دنیا بھر میں مہاتما گاندھی کو اخلاقیات کے ایک اعلیٰ نمایندے کے طور پر پیش کرتے ہیں ، مگر اپنے ملک میں اسی گاندھی کے قاتل ناتھو را م گوڑسے اور اس قتل کے منصوبہ سازوں ، جن میں ویر ساواکر اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں ، ان کی پذیرائی کرتے ہیں ۔

کانگریس پارٹی کی بیرون ملک شاخ کے ایک لیڈر کمل دھالیوال کے مطابق جو طالب علم آج کل بھارت سے یورپ یا امریکا کی درسگاہوں میں آتے ہیں ، لگتا ہے کہ جیسے ان کا ’غسلِ ذہنی‘ (برین واشنگ) کی گئی ہو ۔ صحافی روہنی سنگھ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ نظریاتی طور پر ان کی پرورش ہندو قوم پرستی کے سخت خول میں ہوئی ہے اور وہ اس نظریے کو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں ، جس میں مسلمانوں کے ساتھ نفرت کا عنصر بڑا نمایا ں ہوتا ہے ۔ ان میں سے ہرفرد بھارت سے چلنے والے کسی نہ کسی ’وٹس ایپ گروپ‘ کا ممبر ہوتا ہے، جہاں اقلیتوں کے خلاف روزانہ شرمناک ہرزہ سرائی کی جاتی ہے ۔

معروف قانون دان اے جی نورانی نے اپنی ضخیم تجزیاتی اور تحقیقی کتابThe RSS: A Menace to India میں لکھا ہے کہ اس تنظیم کی فلاسفی ہی فرقہ واریت، جمہوریت مخالف اور فاشزم کی اشاعت و ترویج پر ٹکی ہے ۔ سیاست میں چونکہ کئی بار سمجھوتوں اور مصالحت سے کام لینا پڑتا ہے، اس لیے اس میدان میں براہِ راست کُودنے کے بجائے اس نے فرنٹ آرگنائزیشن کے طور پر پہلے۱۹۵۱ء میں جن سنگھ اور پھر ۱۹۸۰ء میں بی جے پی تشکیل دی ۔ بی جے پی پر اس کی گرفت کے حوالے سے نورانی کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ایما پر اس کے تین نہایت طاقت ور صدور ماولی چندر ا شرما، بلراج مدھوک اور ایل کے ایڈوانی کو برطرف کیا گیاتھا ۔ ایڈوانی کا قصور صرف یہ تھا کہ ۲۰۰۵ء میں کراچی میں اس نے بانی ٔپاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دے کر ان کو ایک عظیم شخصیت قرار دیا تھا ۔

۲۰۱۹ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو آر ایس ایس اور اس کے عزائم سے خبردار کیا تھا ۔ اس تقریر کے وسیع اثرات کو زائل کرنے کے لیے آرایس ایس کے سربراہ کو پہلی بار دہلی میں غیر ملکی صحافیوں کے کلب میں آکر میٹنگ کرکے وضاحتیں دینی پڑیں ۔ ورنہ آر ایس ایس کا سربراہ کبھی میڈیا کے سامنے پیش نہیں ہوتا۔ مگر شاید پاکستانی حکمرانوں کی تقدیر میں گفتار کے غازی کا ہوناہی لکھا ہے یا وہ صرف ایونٹ مینجمنٹ پر یقین رکھتے ہیں اور اس لیے ہمیشہ کی طرح تقریر کے بعد واہ واہ لوٹ کر خوش ہو جاتے ہیں ۔ اپنی تقریر کا فالو اَپ کرنے کی ان کو توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔ کیا وقت نہیں آیا ہے کہ مغرب کو بتایا جائے کہ جس فاشزم کو انھوں نے شکست دی تھی، وہ کس طرح ان کے زیرسایہ، خود اُن کی جھولی میں کس طرح دوبارہ پنپ رہا ہے، اورجو بہت جلد امن عالم کےلیے ایک شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے؟

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے حادثے کے بعد سے امریکی مراکز تحقیق نے مسلم ممالک میں رائے عامہ کے رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لینا شروع کر دیا تھا اور امریکی پالیسی سازوں کو مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے عوامی رجحانات پر کڑی نظر رکھنے کے لیے زور دینا شروع کیا تھا۔ مسلم ممالک میں رائے عامہ کا سروے اور جائزہ لینے والے اہم ترین اداروں میں سے ایک ادارہ ’گیلپ انٹرنیشنل‘ہے۔ اس سروے کمپنی کا ہیڈکوارٹر واشنگٹن میں ہے۔ دوسرا ادارہ مرکز ’پیو‘ (PEW سینٹر) بھی ہے۔  ان اداروں نے متعدد ممالک میں رائے عامہ جاننے کا کام کیا ہے۔

ان مراکز کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک کے بعد ایک سروے رپورٹیں یہ واضح کرتی ہیں کہ مسلم ممالک کے عوام کے ذہنوں میں امریکا کی تصویر منفی ہے۔ ’’پیو‘‘ سینٹر کی ۲۰۰۲ء کی سروے رپورٹ میں ۶۹ فی صد مصریوں ، ۷۵ فی صد اردنی، ۵۹ فی صد لبنانی، ۶۹فی صد پاکستانی اور ۵۵ فی صد ترکوں نے واضح انداز میں امریکی پالیسیوں سے اپنی مخالفت ظاہر کی ہے۔ اسی طرح رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت امریکی افکارو عادات کے بارے میں یہ خیال کرتی ہے کہ وہ ان کے معاشروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

  • امریکا اور دیگر ممالک کے حقیقی مفادات: امریکی مراکز تحقیق نے عوامی رجحانات پر امریکی خارجہ پالیسی کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے امریکا بے زاری کے عام رویے کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ان عوامل کو، جو اسلامی ممالک میں امریکی پالیسی سے عوامی مخالفت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، اس طرح مرتب کیا ہے:اسرائیل کے لیے امریکا کی مسلسل تائید و حمایت، فلسطینی عوام کے حقوق سے دانستہ غفلت، فلسطین میں غاصب افواج کو اسلحے کی فراہمی تاکہ یہ افواج فلسطینیوں کے خلاف قتل عام کا ارتکاب کر سکیں، امریکا کی طرف سے مسلم ممالک کے حقیقی مفادات سے لاپروائی، یہ احساس کہ امریکا اہل ثروت اور غریبوں کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے کا کام کرتا ہے، اور عالمی مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتا۔
  • عراق کے خلاف امریکی جارحیت کے اثرات: پہلے ۱۹۹۱ء میں اور پھر ۲۰۰۳ء میں عراق کے خلاف امریکی جارحیت کے بعد سے مسلم دُنیا میں امریکا دشمنی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ لہر مشرق وسطیٰ سے نکل کر خاص طور سے انڈونیشیا تک پہنچ گئی ہے، جہاں کے متعلق سروے رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ محض ۱۵ فی صد انڈونیشیائی عوام امریکی خارجہ پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔
  • گیلپ سروے: گیلپ انٹرنیشنل نے جو سروے کیا ہے وہ بھی یہ واضح کرتا ہے کہ عالم اسلام میں امریکا کی خارجہ پالیسی کو مسترد کرنے والوں کا تناسب ۳۳ اور ۷۰ فی صد کے درمیان ہے۔ مجموعی طور پر ۸۵ فی صد مسلمانوں نے امریکی پالیسی کو مسترد کرنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ امریکی حکومت اسلامی عقائد و اقدار کا احترام ملحوظ نہیں رکھتی اور نہ مسلمانوں کے ساتھ مبنی برانصاف معاملہ کرتی ہے۔

ادارہ ’زغبی‘ کے سروے نتائج بھی ’پیو‘ اور ’گیلپ‘ کے سروے نتائج ہی کی طرح کے ہیں۔ اس ادارے کے ذریعے کیے جانے والے سروے سے یہ واضح ہوا ہے کہ مسلم ممالک میں امریکی خارجہ پالیسی کو مسترد کرنے والوں کا تناسب ۴۸ اور ۸۷ فی صد کے درمیان ہے۔

  • پبلک ڈپلومیسی میں سرمایہ کاری: ان نتائج نے امریکی انتظامیہ کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس رقم میں اضافہ کرے جو اس نے این جی اوز کی سرگرمیوں کے لیے مخصوص کی ہے۔ اسی طرح اس نے اہل علم اور پالیسی سازوں کے درمیان اس موضوع پر مباحثے کرائے ہیں کہ عالم اسلام کی رائے عامہ پر ٹی وی خبروں کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ان مباحثوں میں امریکی محققین نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ امریکی اقدار کو پھیلاکر اور امریکی خارجہ پالیسی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرکے مسلم دُنیا کے عوام کو کیسے متاثر کیا جاسکتا ہے؟

اس صورت حال کی روشنی میں امریکا نے پبلک ڈپلومیسی کے لیے اپنا اسٹرے ٹیجک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کے لیے اس نے متنوع قسم کی تعلیمی، تدریسی، تحقیقی، ابلاغی اور ثقافتی سرگرمیوں کا سہارا لیا ہے۔ عوامی رجحانات پر اثرانداز ہونے کے ہدف کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے اندر بہت سا جھوٹا سچا مواد پھیلایا ہے اور ان کے ذہنوں میں امریکا کی مثبت تصویر کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے ان سرگرمیوں کو منظم کیا ہے۔ پبلک ڈپلومیسی ایجنسی اور امریکی انفارمیشن ایجنسی پر اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ پھر ایک کا م یہ کیا ہے کہ پبلک ڈپلومیسی سے متعلق انڈر سکریٹری کے درجے کا عہدے دار متعین کیا ہے اور مسلم دُنیا کی فکر و رائے پر اثر انداز ہونے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔

  • ذرائع ابلاغ اور امریکی صورت گری: اہم بنیادی کام جو امریکی حکمت عملی نے انجام دیے ہیں ، ان میں سے ایک عالم اسلام کے عوام تک براہ راست اور بالواسطہ پہنچنے کے لیے ذرائع ابلاغ کا استعمال ہے۔اس کے تحت اس نے ریڈیو اسٹیشن قائم کیے ہیں، ٹی وی چینل اور انٹرنیٹ پر ویب سائٹ بنائی ہیں۔ ایسی بہت سی فلمیں بنائی ہیں اور کثیر تعداد میں کتابیں اور مجلّوں کا اجرا کیا ہے۔ نوجوانوں، خاص طور سے کم عمر نوجوانوں کو ہدف بنا کر ثقافتی اور میڈیائی مواد تیار کیا ہے۔

اس منصوبے میں وہ سرگرمیاں بھی شامل ہیں، جن کا ہدف مسلم ممالک کے صحافیوں پر اثرانداز ہوکر انھیں امریکی نقطۂ نظر اختیار کرنے اور امریکی پالیسی کا دفاع کرنے کے ساتھ اس بات پر مجبورکرنا بھی ہے کہ وہ واقعات کی رپورٹنگ کے لیے امریکی مآخذ و مصادر پرانحصار کریں۔

مسلم ممالک کے عوام پر اثرانداز ہونے کی امریکی حکمت عملی کا ایک حصہ جدید وسائل ابلاغ، مثلاً ریڈیو ’سوا‘ اور ’الحرۃ‘ چینل کا قیام بھی ہے۔ البتہ رائے عامہ کو متاثر کرنے کی غرض سے مسلم عوام کو ہدف بنانے والے ذرائع ابلاغ میں امریکی سرمایہ کاری کے باوجود ایسے کئی سوالات موجود ہیں، جن کے جوابات تلاش کرنے کے لیے گہرے مطالعے اور جائزے کی ضرورت ہے۔ ایک اہم ترین سوال یہ ہے کہ مسلم دُنیا میں اپنی تصویر کو بہتر بنانے کے سلسلے میں امریکا کو کہاں تک کامیابی مل سکی ہے اور مسلم عوام سے اپنی خارجہ پالیسی کو قبول کروانے میں کس حد تک کامیاب ہوسکا ہے؟

  • میڈیائی ڈپلومیسی:خارجہ پالیسی کی مارکیٹنگ اور عالم اسلام کے ذہن میں اپنی مثبت تصویر بنانے کے لیے امریکا نے میڈیائی ڈپلومیسی کا سہارا لیا ہے۔ اس نے نوجوانوں اور خاص طور سے کم عمر بچوں کو ہدف بنایا ہے۔ اسی طرح عام ڈپلومیٹک سرگرمیوں اور میڈیائی ڈپلومیسی کے درمیان ربط قائم کرنے کا راستہ کھولا ہے۔

ایسے پہلو بڑے واضح طور پر سامنے ہیں، جن کے مطابق مسلم ممالک میں امریکی خارجہ پالیسی نے وہاں کے ذرائع ابلاغ پر اثر انداز ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے اور حالات و واقعات کی رپورٹنگ امریکی نقطۂ نظر کے مطابق کرنے کے سلسلے میں وہاں کے صحافیوں کو بھی اپنے زیر اثر لے لیا ہے۔

  •  نئے مطالعے و جائزے کی ضرورت:سوال یہ ہے کہ کیا امریکی حکمت عملی واقعی مسلم عوام کو متاثر کرنے اور ان کے ذہنوں اور دلوں کو اپنی مٹھی میں کر لینے میں کامیاب ہوئی ہے؟ اس جائزے کے لیے غیر امریکی محققین کی ضرورت ہے، جو بڑی حد تک آزادی اور مستقل مزاجی سے ہم آہنگ ہوں تاکہ مسلم ممالک کی رائے عامہ کے سلسلے میں تحقیقات کر سکیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس نوعیت کے رائے عامہ کے جائزے کےلیے کیے جانے والے سروے اور امریکی پراپیگنڈے کا تجزیہ کیا جائے۔
  • اسلامی اقدار سے دشمنی:گیلپ سروے کی جانب پلٹ کر دیکھیں تو یہ اہم نتائج سامنے آتے ہیں کہ ۸۵ فی صد عوام یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اسلامی عقائد و اقدار کا احترام نہیں کرتا ہے اور نہ مسلمانوں کے ساتھ مبنی برانصاف معاملہ کرتا ہے۔ یہ نتائج ممکن ہے کہ امریکا کو اپنی پالیسی اور عالم اسلام کے سلسلے میں اپنے موقف کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیں، اس لیے کہ اسلام کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا ہی وہ واحد راستہ ہے جو اسے مسلمانوں کے دلوں میں جگہ دے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ امریکا اپنے غرور اور جانب دارانہ رویے کو ترک کرے۔

لیکن اگر ہم امریکی ٹیلی ویژن چینلوں کے توسط سے پیش کیے جانے والے مواد کا تجزیہ کریں تو نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ یہ چینل، بالخصوص ’الحرۃ‘ ، ہنوز اسلامی عقیدے اور اسلامی اقدار کے خلاف نفرت کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ان چینلوں کے کچھ براڈکاسٹرز مستقل طور پر اسلام کے خلاف مسلسل حملہ آور رہتے ہیں۔اس طرح وہ امریکا کی تصویر یہ پیش کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دشمن ہے، اور یہ چیز مسلم ممالک میں امریکا کے خلاف دشمنی کو ہی ہوا دے گی۔

یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ امریکا ان چینلوں پر دل کھول کر خرچ کرتا اور تکنیکی صلاحیتیں فراہم کرتا ہے لیکن اتنا کافی نہیں ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سنت نبویؐ کی صحت پر شکوک و شبہات پیدا کرنے اور اسلامی عقائد و اقدار کا مذاق اڑانے والے پروگراموں کو دیکھ کر امریکا کے خلاف دشمنی میں اضافہ ہی ہوگا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا اوصاف ہیں جن کی بنیاد پر امریکا، مسلم دُنیا میں اپنی صورت گری کرنا چاہتا ہے؟ کیا وہ یہی چاہتا ہے کہ مسلم عوام کے سامنے خود کو اس حیثیت سے پیش کرے کہ وہ اسلام دشمن ہے؟اور کیا وہ یہی چاہتا ہے کہ وہ اپنے نبیؐ کی سنت سے پلہ چھڑا لیں؟

  • میڈیائی ڈپلومیسی کا مستقبل: اسی طرح رائے عامہ کا جائزہ لینے والے مراکز کو بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ عوام پرپڑنے والے ثقافتی اور میڈیائی مواد اور پروگراموں کے اثرات کے سلسلے میں حقائق کا پتہ لگانے کے لیے اپنے مطالعہ و جائزے اور اسلوب کو بہتر بنائیں۔ مثبت تصویر کی تشکیل محض ذرائع ابلاغ کی فراہمی پر ہی منحصر نہیں ہوا کرتی، نہ صرف مواد و مضمون کی تیاری میں جدید ترین ٹکنالوجی کے استعمال پر منحصر ہوا کرتی ہے، بلکہ اس کے لیے عوامی ضرورتوں اور رجحانات کا علمی جائزہ لینے اور عوام کے ساتھ احترام سے پیش آنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔

اور کیا معلوم کسی وقت امریکا پر یہ منکشف ہو جائے کہ ’الحرۃ‘ جیسے چینلوں نے براڈکاسٹر کو سنت نبویؐ پرحملہ آور ہونے ، اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور اسلام کو حقارت کے ساتھ پیش کرنے کی اجازت دے کر امریکا کی تصویر کو بگاڑنے اور اس کے خلاف عوام دشمنی میں اضافہ کرنے میں حصہ لیا ہے۔

پاکستان کے وسیع و عریض رقبے پر کھڑا سیلابی پانی اترنا شروع ہوچکا ہے۔ ہر طرف تباہی و بربادی کے افسانے بکھرے ہوئے ہیں۔ ڈیڑھ ہزار لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں،جب کہ ۳ء۳ کروڑ لوگ متاثر ہیں جن کے گھر، کھیت، کاروبار اور مال مویشی تباہ ہو چکے ہیں۔ اس سانحے نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ امسال سیلابوںنے جو تباہی مچائی ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ پچھلے دو عشروں میں بڑے پیمانے کے سیلابوں کی تعداد دگنا ہو چکی ہے۔ علاوہ بریں ماحولیاتی تبدیلی سے شدید تر متاثر ہونے والے ۱۰ میں سے ۸ ممالک ایشیا میں واقع ہیں۔ اگر اقوام عالم نے اس مسئلے کو سائنسی بنیادوں پر حل کرنے، محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور قومی استعداد کو بڑھانے کے لیے طویل المدت سرمایہ کاری نہ کی، تو موسمی شدت سے رُونما ہونے والے یہ واقعات بڑھتے ہی جائیں گے۔

ماحولیات کے شعبے میں ہونے والی تمام تر تحقیق اسی بات پر منتج ہوتی ہے کہ اگر انسانیت مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے: ’’عالمی سطح پر خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں کاربن کے اخراج کو کم سے کم کیا جائے‘‘۔

تاہم، سائنس دان ایسے کامیاب طریقے بھی وضع کر چکے ہیں، جنھیں بروئے کار لا کر پاکستان اور دوسرے معاشی پس ماندہ ممالک، ماحولیاتی آفات جیسے سیلاب،شدید گرمی اور خشک سالی کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ حادثات ترقی پذیر ممالک کے نظامِ خوراک، دیہی آبادی اور ماحول پر اثر انداز ہوتے ہوئے انھیں کئی دہائیاں مزید پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر اب ایسے خودکار نظام موجود ہیں جو موسمی حالات کا تجزیہ کرکے حکام کو بہت پہلے ہی کسی متوقع سیلاب سے خبردار کر سکتے ہیں۔یوں حکومت کے پاس لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور اہم شعبوں مثلاً زراعت میں ہنگامی اقدامات کرنے کے لیے زیادہ وقت ہو گا۔

عالمی ادارہ برائے انتظام آب (International Water Management Institute) اور اس کے اشتراک کاروں نے مل کر سیلاب سے متعلق ایسے ماڈل تشکیل دیے ہیں، جن سے  سیلاب کی شدت اور پھیلاؤ کو سمجھنے میں پیشگی مدد ملتی ہے۔

مزید برآں حکومتی مدد سے چلنے والی بیمہ سکیمیں بھی کسی حادثے کے بعد چھوٹے دکان داروں، کسانوں اور کم آمدنی والے گھرانوں کو نقصان سے نپٹنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے انتظام آب اور اس کے مددگار اداروں نے مل کر بنگلہ دیش میں ایسی اسکیمیں متعارف کروائی ہیں، جن کے تحت سیلاب یا مخصوص مقدار میں بارش کی صورت میں کسانوں کو رقم ادا کر دی جاتی ہے، جس سے دیہات میں بسنے والے افراد کی زندگیاں اور کاروبار بچانے میں مدد ملتی ہے اور نتیجتاً نظامِ خوراک اور دستیابی ٔ خوراک پر ان حادثات کا اثر کم ہو جاتا ہے۔۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۰ءتک اس سکیم کے ذریعے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ایک لاکھ ۵۰ ہزار ڈالر ادا کیے گئے اور اس رقم سے ۷ہزار خاندانوں نے فائدہ اُٹھایا۔

ایک اور طریقہ یہ ہے کہ سیلابوں سے نپٹنے کے لیے قدرت کے وضع کردہ نظام یا ماحول دوست انفراسٹرکچر کو استعمال کیا جائے۔ مثلاً مرطوب زمینی خطوں (Wetlands) میں پانی کو روکنے اورسیلابی پانی کو جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے، جسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ۱۹۹۱ء کے معاہدۂ تقسیم آب کی رو سے دریائے سندھ کے پانی پر تمام صوبائی حکومتوں کو مختلف شرح سے حق دیا گیا ہے۔ اسی معاہدے کے مطابق زائد سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کا اختیار بھی صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔تاہم، آج تک قدرتی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے کسی حکومت کی جانب سے پانی کو ذخیرہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

تاہم، حالیہ برسوں میں ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث ایسے بہت سے خطے تباہ ہو چکے ہیں۔ انھیں بحال کر کے آیندہ سیلابوں سے بچا جا سکتا ہے۔ جنگلات کی بحالی بھی ماحول کی پائیداری کو بڑھانے، زمینی کٹاؤ کو روکنے اور سیلاب کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ حکومت پاکستان کو واقعی ’بلین ٹری‘ کے نام سے جنگلات کی بحالی اور نئے جنگلات کی کاشت اور جنگلی حیات کی واپسی کا قابلِ عمل منصوبہ شروع کرنا چاہیے۔ساحلی علاقوں میں مینگروف (Mangrove) جنگلات کی کاشت سے ساحلی کٹاؤ سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

پانی سے متعلقہ منصوبوں کی ساخت اور تعمیر میں بھی سائنسی طور پر مصدقہ طریق کار کو استعمال کر کے ماحولیاتی حادثات کے خلاف تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے، مثلاً ڈیموں کا جدید خطوط پر انتظام۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع گومل زم ڈیم کو دیکھ لیجیے۔ انتظامِ آب میں پیش آنے والے مختلف مسائل اس منصوبے کو اپنی پوری استعدادتک پہنچنے سے روک سکتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے انتظامِ آب حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر پانی سے متعلقہ منصوبوں کے انتظام کو بہتر بنانے اور ان منصوبوں میں سائنسی معلومات کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح ذخیرۂ آب کے دیگر منصوبوں کا انتظام بہتر بنا کر ہم مقامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف بہتر تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف زرعی شعبے کو بھی ماحول دوست اقدامات کی تشکیل اور نفاذ کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تا کہ یہ شعبہ خشک سالی اور سیلاب کے نقصانات سے بہتر طور پر  عہدہ برآ ہو سکے۔ مثلاً فصلوں کی ایسی اقسام تیار کی جا سکتی ہیں جو شدید قسم کے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں تا کہ لوگوں کا روزگار اور خوراک کی دستیابی متاثرنہ ہو۔ اسی طرح زرعی پانی کے انتظام میں بھی جدت لائی جا سکتی ہے، یعنی بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے اور مصنوعی طور پر زیر زمین پانی کی سطح بحال کی جا سکتی ہے۔پاکستان میں یہ سیلاب یقیناً آخری سیلاب نہیں تھا۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ سائنسی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کا بندوبست کیا جائے تا کہ آیندہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

سورۃ الفاتحہ، قرآنِ مجید کی پہلی سورۃ ہے۔ دُنیا کی کئی زبانوں میں اور دُنیاکے کئی ملکوں کے سیکڑوںعلما نے اس کی تفسیر لکھی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد (وائس چانسلر رفاہ انٹرنیشنل یونی ورسٹی، اسلام آباد) نے عام ڈگر سے ہٹ کر سورئہ فاتحہ کے بنیادی موضوعات کو گہرائی اور گیرائی کے ساتھ سمجھانے کے لیے انگریزی داں نوجوان کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ مقالہ تحریر کیا ہے۔ یہ جہاں اسلام کو سمجھنے کے خواہش مند غیرمسلموں کے لیے بے حد مفید ہے، وہیں ہراُس مسلمان طالب علم کےلیے بھی مفید ہے، جو عربی اور اُردو سے بہت کم واقف اور انگریزی میڈیم کے مدارس کا تعلیم یافتہ ہے۔

ابتدا میں دس صفحات پر مشتمل ایک عالمانہ مقدمہ ہے، جو دوسرے مذاہب کی کتابوں کے مقابلے میں قرآن کی اصلی محفوظ زبان اور کلامِ الٰہی کی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے۔ پھرقرآنی اصطلاحات سےبحث کی گئی ہے۔ پہلی آیت کے سلسلے میں لفظ اِلٰہَ  کی وضاحت کی گئی ہے۔ اسلام میں خدا کے تصورکو دوسرے مذاہب کے تصورات سے موازنہ کرکے سمجھایا گیا ہے۔ قاری کو غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے: کیا ایک سے زیادہ خدا ہوسکتے ہیں؟ کیا خالق اور مخلوق برابرہو سکتے ہیں؟ کیا غیراللہ نے کوئی چیز پیدا کر کے دکھائی ہے؟توحید کی جامعیت کے تصور سے انسانی عقل و خرد پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

قرآن کا آغاز بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ سے ہوا ہے۔ اللہ کے نام سے ہر کام کا آغاز کرنے سے انسان کے عقل و شعور پر کیا کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ کس طرح اُس کی ذات میں عاجزی، انکساری اور شائستگی پیدا ہوتی ہے؟ کس طرح انسان اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوکر اُس سے اپنا گہرا تعلق قائم کرلیتا ہے؟ اسمِ مبالغہ الرَّحمٰن  اور اسمِ صفت الرَّحیم سے کس طرح اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوقات بالخصوص انسان سے اپنی لامحدودمحبت کا اظہار ہوتا ہے؟ کس طرح اللہ تعالیٰ سے ذہنی، قلبی اور جذباتی تعلق قائم ہوتا ہے؟ کس طرح انسان کے اندر ایک معتدل نفسیاتی کیفیت جنم لیتی ہے؟ اور کس طرح ایک متواضع شخصیت پروان چڑھتی ہے؟یہاں ایسے ہر سوال کا جواب ملتا جاتا ہے۔

ڈاکٹر انیس احمد ایک معلّم، ایک مربی اور ایک مزکی کی حیثیت سے، آہستہ آہستہ قاری کے دل میں بنیادی نکات اور فکر کو راسخ کرتے جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کا قاری پچھلی باتوں  اور نکات کو اچھی طرح سمجھ کر دل و دماغ میں بٹھاتا اور آگے بڑھتا جائے۔

الْحَمْدُلِلّٰہِ  کو وہ تعریف اور شکر کی ایک کامل ثقافت گردانتے ہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کئی خدائوں کے درمیان کوئی بڑا خدا نہیں ہے، بلکہ اَحَد   سب سے یگانہ، سب سے مختلف، ماورائے عقل طاقت ور خدا ہے، جس کا صحیح صحیح اِدراک علمِ وحی کے ذریعے دیئے گئے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ حسنیٰ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت ِ رحم کو اللہ تعالیٰ کی صفت ِ ربوبیت سے مربوط کر کے پیش کرتے ہیں۔ عبد اور معبود کے فرق کو واضح کر کے عبادت کا جامع مفہوم سامنے رکھتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عدالت کی تشریح کرتے ہیں۔ روزِ جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عدل کا لازمی مقتضا ہے۔ انصاف ہوکر رہے گا۔ اپنے قاری کو سمجھاتے ہیں کہ یہاں الدِّیْن  کا لفظ اگرچہ جزا و سزا اور روزِقیامت کےلیے استعمال ہوا ہے، لیکن یہ ایک ایسا نظامِ حیات ہے، جس کی تکمیل کی جاچکی ہے۔ سورۃ المائدہ کی تیسری آیت کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ اس مکمل دین میں کتربیونت نہیں ہوسکتی۔

پھر تین نکات میں خلاصہ اس طرح پیش کرتے ہیں: ۱-انسان کی اُخروی کا میابی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر عمل درآمد پر منحصر ہے۔ ۲- انسان کو خیروشر کی آزادی یعنی اخلاقی اختیار  سپرد کیا گیا ہے۔ ۳- خدائے رحمٰن و رحیم کے علاوہ کوئی اور قیامت کے دن فیصلہ نہ کرسکے گا۔

انسان کا یہ اَخلاقی اختیار، اُسے ایک ذمہ دار شہری بناتا ہے۔ عقیدئہ توحید کا عقلی تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت کرے۔ یہی سیدھا دین ہے۔ اُسی پروردگار سے ہدایت طلب کرے۔ اُسی کی بات مانے۔ وہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرسکتا ہے، جو خالق بھی ہے، ربّ بھی ہے، معبود بھی ہے اور حاکم بھی۔ پھر وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’عبودیت‘ دراصل    اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے اور توکّل کا نام ہے کہ تمام معاملات اپنے خالق کے سپرد کر دیئے جائیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ اللہ کے تمام انبیائے کرام علیہم السلام، اللہ کے ’عبد‘ ہوتے ہیں۔ وہ کوئی خدائی میں شریک نہیں ہوتے۔ یہاں وہ دیگر مذاہب کی افراط و تفریط کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ  کا مطلب شرک سے بے زاری ہے اور اس بات کا اقرار و اعتراف ہے کہ ہم اپنے تنہا خالق اور اپنے اکیلے ربّ کے علاوہ، کسی اور کی غلامی اور اطاعت اختیارنہیں کرسکتے۔

ڈاکٹرانیس احمد سوال اُٹھاتے ہیں کہ اپنی پانچوں نمازوں میں اپنے خدا کے سامنے اس بات کے بار بار اعتراف کے باوجود کہ ہم اُس کے غلام اور اُس کے وفادار ہیں، اُسی کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں۔ بھلا ہم کس طرح رنگ و نسل اور زبان وقوم کے نام نہاد دوسرے خدائوں کے وفادار ہوسکتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ یہاں قرآن انسانی عقل کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے ثقافتی بوجھ سے اپنے آپ کو آزاد کر کے دیکھے۔ عقل اور نری جذباتیت انسان کو سیدھا راستہ نہیں دکھا سکتی۔ یہ خدا ہی کا مقام و مرتبہ ہے کہ وہ ہدایت فراہم کرے۔ خدائی ہدایت ہی انسان کو ابدی حقیقتوں سے آشکار کرسکتی ہے۔

اپنے عقلی استدلال کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہدایت کا ماخذ و منبع صحیح اور مستند علم ہو۔ وہ علمِ الٰہی کی روشنی میں انسان کو ہدایت کے لیے ایک پوری ثقافت کی تلاش کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے، جو انسان کو خدائے علیم و خبیر کی وحی پر مشتمل اَبدی ہدایت اور توحید کا راستہ دکھاتا ہے۔

ڈاکٹر انیس احمد آخر میں دل سوزی سے سمجھاتے ہیں کہ دین ابتدا سے ایک ہی رہا ہے۔ اُس کی اَخلاقی بنیادیں اور معیار کبھی نہیں بدلے۔ یہ راستہ ہمیشہ سے روشن اور نمایاں رہا ہے۔ قرآنی آیات کی روشنی میں یہ بات سمجھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ لوگ کون رہے ہیں؟ اور کن قوموں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے؟ کتاب کے آخری حصے میں انھوں نے نو نکات پر مشتمل عملی تجاویز بیان کی ہیں: lانسان شکر کا رویہ اختیار کرے lاللہ کی ہدایت کو سامنے رکھتے ہوئے یک رنگی اختیار کرے lاللہ کی پیہم نوازشوں پر ہمیشہ شکر کی طرف مائل اور متوجہ رہےl اللہ تعالیٰ کی صفت ِ رحمانیت اور صفت ِرحیمیت پر مکمل اعتقاد بھی رکھے اور بھروسا بھی lاپنی توحید کی تصدیق اپنے رویوں سے ثابت کرے lانسانوں کے بنائے ہوئے خودساختہ نظریات سے اپنے آپ کو لاتعلق کرلے lموت کے بعد کی زندگی پر اپنے یقین اور اعتماد کی باربار تصدیق و تائید کرتا رہے lاللہ ہی  سے مسلسل ہدایت اور مدد طلب کرے lہر اُس کام سے دُور رہے ، جواللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے اور اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔

پروفیسر صاحب نے دین اسلام کے جامع تصورکو نہایت عمدگی کے ساتھ عصرحاضر کی زبان میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اُن نوجوانوں کے شکوک و شبہات کو دُور کرنے میں ان شاء اللہ ضرور مددگار ثابت ہوگی، جو آج اکیسویں صدی میں الحاد اور تشکیک و تذبذب میں گرفتار ہیں، یا پھر مذاہب ِ عالم کی افراتفری دیکھ کر حیران و پریشان ہیں۔

امریکا، کینیڈا، یورپ، جنوبی افریقا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی ہند وغیرہ جیسے ممالک میں اور جہاں جہاں مسلمانوں کے بچّے کالجوں میں اسلام کے اصلی ماخذ اور اصلی زبان سے محروم کر دیے گئے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب اسلام فہمی کا دروازہ کھولتی ہے اور ابتدا ہی میں اُن کو غلط فہمیوں سے دُور کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت کو اُن کے دل ودماغ پر نقش کر دیتی ہے۔

یہ کتاب Reflections on Surah Al-Fatihah کے عنوان سے (۶۸ صفحات) دی اسلامک فائونڈیشن لسٹر (برطانیہ) اور قرآن ہائوس نیروبی (کینیا) نے شائع کی ہے۔

امانت رکھنے کے اصول

سوال : امانت رکھنے اور رکھوانے والے کو کیا کیا اصول ملحوظ رکھنے چاہییں؟

جواب :امانت اصل میں دو آدمیوں کے درمیان باہمی اعتماد کی بنا پر ہوتی ہے۔ جو شخص کسی کے پاس کوئی امانت رکھتا ہے، وہ گویا اس پر یہ اعتماد کرتا ہے کہ وہ اپنی حد ِ استطاعت تک پوری ایمان داری کے ساتھ اس کی حفاظت کرے گا۔ اور جو شخص اس امانت کو اپنی حفاظت میں لینا قبول کرتا ہے، وہ بھی امانت رکھنے والے پر یہ اعتماد کرتا ہے کہ وہ ایک جائز قسم کی امانت اس کےپاس رکھ رہا ہے، کوئی چوری کا مال یا خلافِ قانون چیز نہیں رکھ رہا ہے، نہ اس امانت کے ذریعے سے کسی قسم کا دھوکا یا فریب کرکے اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پس دونوں پر اس کے سوا کسی اور چیز کی پابندی لازم نہیں ہے کہ وہ اس اعتماد کا پورا پورا حق ادا کریں۔ (اپریل ۱۹۴۶ء)


قرضِ حسن کے آداب

سوال : قرضِ حسن دینے اور لینے میں کن اُمور کا لحاظ ضروری ہے؟

جواب : قرض دینے اور لینے میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حتی الامکان فریقین کے درمیان شرائط ِقرض صاف صاف طے ہوں، مدت کا تعین ہوجائے، تحریر اور شہادت ہو۔ جوشخص قرض دے وہ اس قرض کے دبائو سےکسی قسم کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ مقروض کو احسان رکھ کر نہ ذلیل کرے اور نہ اذیت پہنچانے کی کوشش کرے۔ اور اگر مدت گزر جائے اور فی الواقع مقروض شخص قرضہ ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو اس کو جہاں تک ممکن ہو مہلت دے اور اپنے قرض کی وصولی میں زیادہ سختی نہ کرے۔ دوسری طرف قرض لینے والے کو لازم ہے کہ جس وقت وہ قرض ادا کرنے کے قابل ہو اسی وقت ادا کردے اور جان بوجھ کر ادائے قرض میں تساہل یا ٹال مٹول نہ کرے۔ (اپریل ۱۹۴۶ء)


حرام کام کرنے والے کے ساتھ کاروبار

سوال : مشترک کاروبار جس میں صالحین و فاجرین ملے جلے ہوں، پھرفاجرمیں شراب نوشی ، سودی کاروبار وغیرہ شامل ہوں، اس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟

جواب :تجارت اگر بجائے خود حلال نوعیت کی ہو اور جائز طریقوں سے کی جائے، تو  اس میں کسی پرہیزگار آدمی کی شرکت محض اس وجہ سے ناجائز نہیں ہوسکتی کہ دوسرے شُر کا اپنا مال حرام ذرائع سےکماکر لائے ہیں۔ آپ کا اپنا سرمایہ اگر حلال ہے، اور کاروبار حلال طریقوں سے کیا جارہا ہے، تو جو منافع آپ کو اپنے سرمایے پر ملے گا، وہ آپ کے لیے حلال ہوگا۔(فروری ۱۹۴۴ء)


کاسب ِ حرام کے ہاں ملازم رہنا

سوال : کاسب ِ حرام کے ہاں ملازم رہنا یا اس کے ہاں سے کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب : کاسب ِ حرام کی دو نوعیتیں ہیں: ایک تو وہ جس کا پیشہ فحشا کی تعریف میں آتا ہے، مثلاً زنان بازاری کا کسب۔ اس کے قریب جانا بھی جائز نہیں ، کجا کہ اس کے ہاں نوکر ہونا۔ دوسرا وہ کاسب ِ حرام ہے جس کا پیشہ حرام تو ہے ، مگر فحشا کی تعریف میں نہیں آتا، جیسے وکیل یا سودی ذرائع سے کمانے والا۔ اس کے کسی ایسے کام میں نوکری کرنا جس میں آدمی کو خود بھی حرام کام کرنے پڑتے ہوں، مثلاً سود خور کی سودی رقمیں فراہم کرنے کا کام یا وکیل کے محرّر کا کام، یہ حرام ہے۔ لیکن اس کے ہاں ایسے کام پر نوکری یا مزدوری کرنا جو بجائے خود حلال نوعیت کا ہو، مثلاً اس کی روٹی پکادینا یا اس کے ہاں سائیس یا ڈرائیور کا کام کرنا ہو، یا اس کا مکان بنانے کی مزدوری، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ رہا اس کے ہاں کھانا کھانا تو اس سے پرہیز ہی اولیٰ ہے۔(فروری ۱۹۴۴ء)

سیرۃ خیرالعباد ، منیراحمد خلیلی۔ ناشر: ادبیات پبلشرز، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۲۷۸۸-۰۴۲۔ صفحات(بڑاسائز): ۷۹۲ ۔ ہدیہ: ۱۸۰۰ روپے۔

سیرتِ طیبہ  کا مطالعہ سعادت ہے۔ اس موضوع پر دل کی حضوری، احتیاط پسندی اور آخرت میں جواب دہی کے کڑے احساس کے ساتھ لکھنا تو بڑے نصیب کی بات ہے۔ ہزاروں افراد نے سیرتِ پاکؐ پر لاکھوں صفحے لکھے ہیں۔ دُنیابھر کی زبانوں میں سیرت پاکؐ پر لکھا جارہا ہے۔ یہ سیرتِ پاکؐ کی معجزاتی کشش ہے کہ جو ایک نہ بجھنے والی پیاس کی مانند ہرصاحب ِ ایمان و قلم کو آمادہ کرتی ہے کہ آپؐ پر لکھ کر درود و سلام بھیجے۔

منیراحمد خلیلی ایک سنجیدہ دانش ور ہیں۔ انھوں نے لڑکپن ہی سے تحریک اسلامی سے وابستگی اختیار کی، اور آج تک، ملک میں ہوں یا بیرونِ ملک، دعوتِ دین کی خدمت سے اس عملی وابستگی کو تازہ دم رکھا ہے۔ زیرنظرکتاب ان کے جذبۂ محبت ِ رسولؐ کی مظہر ہے۔ کارِ دعوت میں اسوئہ حسنہؐ کو بنیادی ذریعہ بنانے کی ضرورت نے انھیں یہ کتاب لکھنے پر آمادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے وسیع مطالعے کے بعد یہ علمی کتاب شائع کی گئی ہے۔ (س م خ)


Witness to Carnage 1971 [۱۹۷۱ء کے قتل عام کی گواہی]، بریگیڈیئر (ر) کرّار علی آغا۔ ناشر: پرنٹ ایکس، اسلام آباد۔ صفحات: ۴۱۳۔ قیمت: درج نہیں۔

جب بھی دسمبرکا مہینہ آتا ہے تو سقوطِ مشرقی پاکستان کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ اُس سال پاکستان دو حصوں میں اس طرح تقسیم ہوا کہ اُس کی آبادی کے بڑے حصے پر، بھارت کی فوجی مدد اوربھارت کی پشت پناہی سے وہاں پر عوامی لیگ نے ایک قیامت برپا کی۔ مشرقی پاکستان میں ۳۴ہزار پاکستانی فوجی، چاروں طرف بھارتی یلغار سے گھرے، سپلائی لائن سے کٹے اور داخلی سطح پر عوامی لیگ کی تخریب کاری کا مقابلہ کرتے ہوئےساڑھے نو ماہ تک، ملک کے دفاع کے لیے میدان میں کھڑے رہے۔ افسوس کہ اُن کی شجاعت اور قربانیوں کا باب بھی آج تک تشنۂ تحریر ہے۔

اس جنگ کا یہ پہلو بڑا عبرت ناک ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی سرپرستی میں، پاکستان کے خلاف جو بھی زہریلا پروپیگنڈا گھڑا اور پھیلایا گیا، اس کو جانچنے کے بجائے، من و عن قبول کرلیا گیا۔ صرف دشمن ہی نے نہیں، بلکہ خود پاکستان کے بہت سے لکھنے، بولنے والوں نے بھی، نہ صرف دشمن سے بڑھ کر دشمن کاموقف قبول کیا بلکہ بلاتحقیق اسے  آگے پھیلایا۔ جس کا ایک شاخسانہ یہ الزام بھی ہے کہ ’’پاکستان کی فوج اور دفاعِ پاکستان کے لیے کھڑے محب ِ وطن پاکستانی بنگالیوں اور غیربنگالیوں نے، ’بنگالی عوام کا قتل عام‘ کیا‘‘۔ پھر یہی افسانہ، ’حقیقت‘ سمجھ کر قبولِ عام اختیار کرتا چلا گیا۔

عوامی لیگ اور اس کی مسلح تنظیم ’مکتی باہنی‘ نے حقیقی معنوں میں جس بڑے پیمانے پر غیربنگالی پاکستانیوں اور پاکستان کے دفاع کے لیے ثابت قدم بنگالیوں کا قتل عام کیا، اسے نہ کہیں بیان کیا گیا اور نہ شائع ہی کیا گیا۔ تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن قطب الدین عزیز صاحب نے بڑی محنت سے ۱۹۷۴ء میں ایک کتاب Blood and Tears میں یہ ہولناک حقائق قلم بندکیے تھے، مگر افسوس کہ اس کتاب کو بھی بڑے پیمانے پر قومی یادداشت کا حصہ نہیں بنایا گیا (۴۰ برس بعد ہم نے اس کتاب کا اُردو ترجمہ خون اور آنسوؤں کا دریا کے نام سے منشورات سے شائع کیا)۔

جناب بریگیڈیئر کرّار علی آغا اپنی زیرتبصرہ کتاب میں عوامی لیگی درندگی کے دوسرے نظرانداز شدہ رُخ کو سامنے لائے ہیں۔ انھوں نے نہایت ذمہ داری سے یہ پہلو بیان کیا ہے کہ مشرقی پاکستان کے کن کن علاقوں میں، کس کس انداز سے مارچ سے مئی ۱۹۷۱ء کے دوران، غیربنگالی پاکستانیوں کی نسل کشی کی گئی، مگر وہ ساری مظلومیت دشمن کے پراپیگنڈے تلے دب کر رہ گئی۔

ہمارے لیے یہ امر آج تک حیرانی کا باعث ہے کہ دشمن کے اس منفی پراپیگنڈا کا مدلل، شافی اور عادلانہ جواب دینے اور صریح جھوٹ پر مبنی:بھارتی، مکتی باہنی و عوامی لیگ کی ابلاغی مہم اور اُن کے انسانیت کش جرائم کی حقیقی تصویرپیش کرنے سے ہمارے تعلیمی، تحقیقی، دفاعی اور صحافتی ادارے کیوں خاموشی اور لاتعلقی کا شکار رہے ہیں؟ بریگیڈیئر کرّار علی آغا نے اپنی کتاب میں مصدقہ حقائق پیش کیے ہیں۔ اس کتاب کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) طاہرقاضی صاحب نے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔جس پر مصنف اور قاضی صاحب تحسین کے مستحق ہیں۔ اس کتاب کا اُردو اور بنگلہ میں ضرور ترجمہ شائع ہونا چاہیے۔ (س م خ)


1971:Facts and Fiction  [۱۹۷۱ء کے حوالے سے حقیقتیں اور افسانے]، افراسیاب مہدی ہاشمی۔ ناشر: سنٹر فار گلوبل اینڈ اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز، اسلام آباد۔ صفحات: ۷۱۰۔ قیمت: درج نہیں۔

مسلمانوں کے ساتھ عموماً اور پاکستان کے ساتھ خصوصاً یہ ناقابلِ تصور المیہ وابستہ دکھائی دیتا ہے کہ ان کے ہاں علم تاریخ کے باب میں لاتعلقی کا رویہ پایا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مخالف قوتیں بہت تیزی کے ساتھ، منفی اور جھوٹی چیزیں تھوپ دیتی ہیں اور پھر اگر کسی کو ہوش آئے تو و ہ محض وضاحتوں میں اُلجھ کر رہ جاتاہے۔ اس کی ایک بڑی مثال، مشرقی پاکستان میں ۱۹۷۱ء کے دوران بھارت نے اپنی مداخلت اوریلغار کو سہارا دینے کے لیے جس جھوٹے پراپیگنڈے کا سہارا لیا تھا، وہ سب کچھ آج تک، اسی طرح کی کذب بیانی کے ساتھ دُہرایا جارہا ہے، اور یہاں، وہاں اس پہ’اعتبار‘ بھی کیا جارہاہے۔

جناب افراسیاب ہاشمی، پاکستان کے سابق سیکرٹری وزارتِ خارجہ رہے اور ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمشنر کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ وہ اعلیٰ تحقیقی اور تصنیفی ذوق رکھتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کے حوالے سے منفی بھارتی اور عوامی لیگی پراپیگنڈے کے رَد کے لیے انھوں نے یہ کتاب مرتب کی ہے، جس میں علمی دیانت اور ادارتی خوب صورتی کے ساتھ، زیربحث موضوع کے حوالے سے جملہ اُمور پیش کر دیئے ہیں۔ اس ضمن میں منفرد کام یہ کیا ہے کہ بیش تر الزامات اور وضاحتی موقف کو بغیر کسی بحث کے من و عن پیش کیا ہے، جو تضاد کو بے نقاب کرنے کا معقول لوازمہ سامنے لاتا ہے۔

کتاب کا ہر باب انفرادیت کا حامل ہے:پہلا حصہ ۳۱۲  صفحات تک پھیلا ہوا ہے جس میں مذکورہ بالا اُمور ہیں: دوسرا حصہ ۳۱۳ سے ۴۳۹ تک ہے، اس میں تصاویر دی گئی ہیں ، جب کہ ضمیمہ جات کا حصہ ۴۴۱ سے ۶۶۱ تک محیط ہے۔ اس میں اہم دستاویزات کے متن ہیں۔ مثال کے طور پر سب سے پہلا اندراج ۱۶۰۰ء میں برطانوی ملکہ الزبتھ کی جانب سے ایسٹ انڈیا کمپنی کو چارٹر دینے کا ہے، اور آخر میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش سہ فریقی معاہدہ وغیرہ وغیرہ۔ کتاب کے آخری حصے میں (۶۶۳-۶۸۸) ان بنگلہ دیشی نوجوانوں کی یادداشتوں سے اقتباسات دیئے ہیں جنھوں نے پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد اپنے مشاہدات و تاثرات قلم بند کیے۔ پھر ۱۹۷۱ء کے واقعات کا شمار دنوں کی ترتیب سے یکجا کردیا ہے۔

قومی درد، سلیقے اور ندرتِ خیال سے مرتب کردہ یہ کتاب سانحۂ مشرقی پاکستان پر ایک ’ریفرنس بُک‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر معلوم نہیں کیوں، جناب افراسیاب ہاشمی نے اسے مارکیٹ کے لیے نہیں پیش کیا۔(س م خ)


لمحات، خرم مراد (مرتب: سلیم منصور خالد)۔ناشر: منشورات، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۵۵۱۔ قیمت، مجلد:۱۴۰۰ روپے۔ غیرمجلد:۱۱۰۰ روپے۔

قارئین ترجمان القرآن کے لیے خرم مراد کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ ۱۹۹۱ء میں انھیں ترجمان کا مدیر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ ’اشارات‘ لکھنے کے ساتھ بڑی محنت سے پرچے کی جملہ تحریروں کو منتخب اور مرتب کرتے تھے، جن سے ان کی بصیرت اور وسعت نظر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی زیرنظر آپ بیتی (ہرچند کہ وہ نامکمل ہے بایں ہمہ) اس سے اُن کے سوانح کے ساتھ ان کی شخصیت کی کچھ اور جہتیں سامنے آتی ہیں۔ بقول پروفیسر خورشیداحمد: ’’بلاشبہہ لمحات  خرم کی شخصیت اور زندگی کا آئینہ ہے‘‘۔

خرم صاحب، کتاب کے مرتب کے اصرار پر وفات سے قبل اپنی یادداشتوں کو کیسٹوں میں محفوظ کرگئے، جنھیں مرتب نے بڑی احتیاط سے کاغذ پر اُتارکر ، مرتب کیا ہے۔

لمحات کا یہ ساتواں ایڈیشن ایک طویل وقفے کے بعد شائع ہوا ہے۔ اسے پڑھنا شروع کریں تو جی چاہتا ہے پڑھتے چلے جائیں۔ قاری کے ذہن پر کسی طرح کا بار نہیں پڑتا۔ خرم صاحب کی کہانی (حقائق پر مبنی ہے مگر) ناول و افسانے کی طرح دل چسپ ہے۔ اس کتاب میں دعوتِ دین کے مرحلے اور پاکستان کی تاریخ کے نازک موڑ بڑی باریک بینی سے مرتب ہوئے ہیں۔ اسے منشورات نے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ آخر میں نہایت محنت سے مرتب کردہ اشاریے شامل ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)


آدابِ اختلاف اور اتحادِ اُمت، ڈاکٹر اختر حسین عزمی۔ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۲- ۳۵۲۵۲۵۰۱-۰۴۲۔ صفحات:۴۹۶۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

کتاب کے بیرونی سرورق پر درج عبارت [اتحاد اُمت کا قابلِ عمل راستہ] سے مصنف کے موضوع کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ مصنف نے دردمندی سے اختلافِ اُمت کے مثبت اور منفی پہلوئوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ تفصیل کا اندازہ ابواب کے عنوانات سے بھی لگایا جاسکتا ہے:فرقہ پرستی کے نقصانات، آدابِ اختلاف، حقیقت اختلاف و رواداری، شیعہ سُنّی اختلاف، علاج۔

 پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد یوسف خان کے بقول: ’’اس کتاب کو پڑھنے کے بعد واضح ہوگا کہ اختلاف نقصان دہ نہیں، مخالفت نقصان دہ ہے‘‘۔ مولانا زاہد الراشدی، مفتی محمد خان قادری،  علامہ ثاقب اکبر اور شیخ ارشادالحق اثری نے عزمی صاحب کی زیرنظر کاوش کی تحسین کی ہے۔ کتاب قدرے مختصر ہوتی تو قارئین کا دائرہ وسیع تر ہوتا۔ طباعت و اشاعت اطمینان بخش اور قیمت مناسب ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)

نور منارہ، لالہ صحرائی۔ ناشر: لالہ صحرائی فائونڈیشن، صادق آئی کلینک، خان میڈیکل سٹی، نشتر روڈ، ملتان۔فون : ۴۵۱۰۸۱۸-۰۶۱۔ملنے کا پتا: کتاب سرائے، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۲۳۹۔ قیمت: درج نہیں۔

محمد صلاح الدین شہید نے بجا طور پر لکھا ہے کہ بیسویں صدی سے تاحال احیائے اسلامی یا نفاذِ اسلام کے لیے دُنیا بھر میں جو جدوجہد ہورہی ہے، اس پر سیّد مودودی کے گہرے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے ’’فکری اثرات صدیوں تک زندگی کی تاریک راہوں میں  اُجالا بکھیرتے رہیں گے‘‘۔ (ص۱۲)

لالہ صحرائی کی معروف حیثیت ایک شاعر بلکہ ایک شاندار نعت گو کی ہے، مگر انھوں نے بڑا وقیع نثری ذخیرہ بھی یادگار چھوڑا ہے۔ زیرنظر کتاب سیّد مودودی پر ان کے درجن بھر مضامین کا مجموعہ ہے جو سیّد موصوف سے ان کی چالیس برسوں کی ملاقاتوں اور قربت کی یادوں کے تاثرات پر مبنی ہیں۔

مصنف نے واقعات و تاثرات ایسے دلچسپ اورخوب صورت اسلوب میں پیش کیے ہیں کہ قاری پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ مختلف پہلوئوں اور جہتوں سے اس کا مطالعہ کرنے اور مولانا کی عظمتوں کا انعکاس پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلاشبہہ زیرنظر کتاب سیّدمودودی کی پُرعظمت شخصیت کا بہترین مرقّع ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


جدید تحریک ِ نسواں اور اسلام، ثریا بتول علوی۔ ناشر: تنظیم اساتذہ پاکستان (خواتین)۔ تقسیم کار: منشورات، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۷۴۴۔ قیمت: ۱۲۰۰ روپے۔

خواتین کی حالت ِ زار، اور مختلف معاشروں میں ان کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک، کم و بیش ہزاروں برسوں سے ایک متنازع مسئلے کی حیثیت سے چلا آرہا ہے۔ ان تمام مباحث اور لکھنے والوں کی دماغی و قانونی ورزشوں کے باوجود، زمانے پر زمانے گزرنے کے بعد بھی، عورت کی مظلومیت میں کوئی بامعنی تبدیلی نہیں آئی۔ بلکہ عصرحاضر، جو عورت کی دستگیری کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتا ہے، اس میں تو یہ مظلومیت، جھوٹے نگوں کی سوداگری کے سوا کچھ نہیں۔

پروفیسر ثریا بتول علوی ، قدیم وجدید کا وسیع مطالعہ رکھتی ہیں، اور ایک قابلِ احترام استاد کے طور پر دین کی خدمت کے لیے ہمہ تن مصروف ِ کار ہیں۔ زیرنظر کتاب کے ۲۵ مضامین میں انھوں نے مغرب اور ہمارے معاشروں میں عورتوں کی زبوں حالی کو بڑی راست گوئی سے بیان کیا ہے۔ اس ظلم و زیادتی پر نقد و جرح کی ہے اور اسلام کی روشنی میں رہنمائی دی ہے کہ اسلامی تہذیب اور قانونِ معاشرت اور اسلامی عائلی نظام کس طرح عورت کے لیے رحمت کاسامان پیش کرتے ہیں۔ پھر یہ کتاب نام نہاد این جی اوز کی غوغا آرائی کا مسکت جواب بھی پیش کرتی ہے۔(س م خ)


تقویٰ - راہِ نجات، پروفیسر محمد حسین سومرو۔ ناشر: حی علی الفلاح پبلشرز، پرانی غلہ منڈی، بوہڑگیٹ، ملتان۔ فون: ۶۳۶۶۲۲۱-۰۳۰۰۔صفحات: ۸۸۔قیمت: درج نہیں۔

[تقویٰ کیا ہے؟اوراس کے پانچ تقاضے، تقویٰ کیا نہیں ہے، نفاق اور منافقین کا کردار اور علامتیں__ قرآن و حدیث، سیرت صحابہ کرامؓ اورعصرحاضر کے تقاضوں کی روشنی میں منظرکشی اس طرح سے کی گئی ہے کہ متقی اور منافق کا کردار چلتی پھرتی تصویروں کی طرح نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ اپنے موضوع پر جامع اورمختصر کتاب۔]

کتاب کے آغاز میں ایک مبسوط مقدمہ بھی درج ہے جس کا درج ذیل حصہ بڑی اہمیت رکھتا ہے: ’’محمد علی جناح، حیدرآباد دکن تشریف لائے تو چند نوجوانوں نے آپ سے کچھ سوالات کیے۔ یہ مکالمہ ’اورینٹ پریس‘ [نیوز ایجنسی]کی وساطت سے اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ اس کے چند اقتباسات بانی ٔ پاکستان کی بصیرتِ قلبی اور دُور رس نگاہ کی یاد تازہ کریں گے۔

آپ سے سوال کیا گیا: ’’مذہب اور مذہبی حکومت کے لوازم کیا ہیں؟‘‘

آپ [قائداعظم] نے فرمایا:

 ’’جب میں انگریزی زبان میںReligion (مذہب) کا لفظ سنتا ہوں تو اس زبان اور قوم کے محاورے کے مطابق لامحالہ میرا ذہن خدا اور بندے کی باہمی نسبت اور رابطے کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ لیکن میں بخوبی جانتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک ’مذہب‘ کا یہ محدود اور مقید مفہوم یا تصور نہیں ہے۔ میں نہ تو کوئی مولوی ہوں نہ مُلّا،  نہ مجھے دینیات میں مہارت کا دعویٰ ہے۔ البتہ میں نے قرآنِ مجید اور اسلامی قوانین کے مطالعے کی اپنے طور پر کوشش کی ہے۔ اس عظیم الشان کتاب کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے ہرباب کے متعلق ہدایات موجود ہیں۔

’’زندگی کا روحانی پہلو ہو یا معاشرتی، سیاسی ہو یا معاشی، غرض کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآنی تعلیمات کے احاطے سے باہر ہو۔ قرآن کی اصولی ہدایات اور سیاسی طریق کار نہ صرف مسلمانوں کے لیے بہترین ہیں بلکہ اسلامی حکومت میں غیرمسلموں کے لیے حُسنِ سلوک اور آئینی حقوق کا جو حصہ ہے اس سے بہتر تصور ناممکن ہے‘‘۔ (’ہمارے تعلیمی مسائل‘، مرتبہ: خلیفہ صلاح الدین ، ’مطبوعات‘، پروفیسر عبدالحمید صدیقی، ج۵۹، عدد۳،دسمبر ۱۹۶۲ء،ص ۵۸-۵۹)